text
string | timestamp
string | url
string | source
string |
|---|---|---|---|
موجودہ حکومت کے غریب عوام کے لیے اقدامات۔۔چوہدری محمد ایوب - مکالمہمکالمہ
ایک نجی بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہورہی تھی اور مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے شروع کیے گئے پروگرامز، لیپ ٹاپ، سستی روٹی،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا اب موجودہ گورنمنٹ کی طر ف سے شیلٹر ہومز اور لنگر خانے وغیرہ، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے عام آدمی کو تو شاید فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ان میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کرپشن ضرور ہو جاتی ہے اور بعد میں آنے والی حکومتیں پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔
ان تمام پروجیکٹس پر اربوں روپیہ خرچ کیا گیا لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ ان کی بجائے اگر گورنمنٹ ہر ضلع میں سرکاری اراضی پر 4 ۔ 5 ارب روپے لاگت سے ایک ایک بڑا صنعتی یونٹ لگائے تاکہ گورنمنٹ کے اثاثے بھی بن جائیں اور ہر ضلع میں 4 سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار بھی ملے اور وہ کما کر کھانے کے عادی ہوں ،نہ کہ مانگ کر۔
موجودہ حکومت شیلٹر ہومز کے نام سے نئی انویسٹمنٹ کرنے کی بجائے اوقاف کی پہلے سے موجود پراپرٹیوں کو خالی کروا کر وہاں پر مسافروں کے رات گزارنے کا بندوبست کرے اور ملک میں پہلے سے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کو وہاں پر کھانے کا بندوبست کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دے۔ گورنمنٹ کو قوم کا ایک ایک روپیہ بچانا چاہیے۔ اس طرح یہ حکومت آنے والے سالوں میں حزیمت سے بھی بچ جائیگی اور دوسری طرف یہی سرمایہ انڈسٹری میں لگا کر وہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرے گی ،جو اس حکومت کا وعدہ ہے۔
نئی انڈسٹریل سٹیٹس بنانے اور فارن انویسٹمنٹ لانے پر کام تو ہو رہا ہے ،لیکن اس پر مزید مربوط اقدامات کی ضرورت ہے، پہلے ہمیں ملک میں انڈسٹری کے لیے ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ کم از کم ان انڈسٹریل سٹیٹس میں انڈسٹری لگانے کے لیے بہت زیادہ اداروں سے سرٹیفکیٹس لینے کی ضرورت ہرگز نہیں ہونی چاہیے، مختلف دفاتر کے چکر لگوانے کی بجائے سٹیٹس کے دفتروں میں ہی ون ونڈو آپریشن ہونا چاہیے۔
ایک بہت اہم مسئلہ ہے، پاکستانیوں کا مزاج کبھی بھی ٹیکس دینے والا نہیں رہا، اکثریت کے پاس جو سرمایہ ہے وہ بلیک منی ہے اور وہ سارا منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ کاروباری حالات کی تنگی کا ذکر بھی اسی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اس سرمائے کو کیسے جائز کیا جائے؟ لوگوں کو رقوم باہر نکال کر ڈاکومنٹڈ بزنس میں انویسٹ کرنے پر آمادہ کیا جانا چاہیے۔ اس اہم ایشو پر حکومت کی طرف سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے۔
یقیناً بین الاقوامی معاملات کچھ اس طرح کے ہیں کہ خان صاحب کی ترجیح دوسرے فوری توجہ طلب امور کی طرف ہو سکتی ہے، لیکن خان صاحب نے حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد جو اقدامات کیے تھے اور مختلف محکموں کو جو جو احکامات دیئے تھے ان پر نظر رکھنے اور ان سے فیڈ بیک لیتے رہنے سے ہی معاملات آگے بڑھیں گے، ذرا سی نرمی ان اداروں کو دوبارہ غفلت کی نیند سلا دے گی اور پلک جھپکنے میں حکومت کے 5 سال گز جائیں گے۔
|
2021/09/18 22:52:48
|
https://www.mukaalma.com/87997/
|
mC4
|
''ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد'' | ابوعمار زاہد الراشدی
اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ
انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ''نادانی'' کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ''عدالت'' کے منصب پر فائز بیشتر حضرات کو سرے سے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی تبدیلی کا شکار ہو رہا ہے، اقدار و روایات الٹ پلٹ رہی ہیں اور مغرب و ہند نے اس کے لیے باقاعدہ ایجنڈا طے کر رکھا ہے جس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اس بات سے بھی بظاہر بے خبر دکھائی دیتے ہیں کہ جس قرآن و سنت کو اسی دستور میں قانون سازی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے جس کی پاسداری کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے، اس قرآن و سنت نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور معاشرتی کردار کے بارے میں بھی کچھ ہدایات دے رکھی ہیں، اور ان ہدایات کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام ہم سب کی ذمہ داری کے دائرہ میں آتا ہے۔
اس لاعلمی اور بے پرواہی کا تازہ ترین شاہکار لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا یہ فیصلہ ہے جو ایک شہری محمد مودی کی طرف سے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے سلسلہ میں دائر کردہ رٹ کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے صادر فرمایا ہے۔ درخواست گزار نے اپنی رٹ میں تقاضا کیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات کریں اور انتخابات نظام مصطفٰیؐ کے تحت کرائیں جسے فاضل جج نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ملک کے دستور میں نفاذ اسلام کے لیے بہت سی شقیں موجود ہیں، بہت سے اسلامی قوانین ملک میں نافذ ہیں، کسی کو نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں روکا جا رہا اور وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہیں اسلیے اب یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھالیں۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں یہ سوال بھی کیا ہے کہ
''ملک میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لیے حکومت کی طرف سے کون سی کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی اور اسلام کا کون سا مخصوص حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟''
اس فیصلہ کے بہت سے پہلوؤں کے بارے میں کچھ نہ کچھ عرض کرنے کی گنجائش اور ضرورت موجود ہے مگر ان میں سے صرف تین امور پر چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔
جہاں تک نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے کسی کو نہ روکنے کا تعلق ہے، فاضل عدالت سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ رکاوٹ برطانوی استعمار کے دور میں بھی موجود نہ تھی۔ مسجدیں آباد تھیں، روزے رکھے جاتے تھے، لوگ زکوٰۃ آزادانہ دیتے تھے، حج کے لیے جاتے تھے اور عبادات کے زمرہ کے دینی احکام پر کسی رکاوٹ کے بغیر عمل ہوتا تھا۔ بلکہ یہ سہولت اور آزادی تو آج عالم اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو فراہم کر رکھی ہے۔ تو کیا انہیں بھی یہی مشورہ دے دیا جائے کہ وہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کی اس آزادی پر قناعت کرتے ہوئے اس سے زیادہ کے لیے شور مچانا بند کر دیں ورنہ ان کی جدوجہد ''بے بنیاد'' قرار پائے گی؟
فاضل جج کا یہ ارشاد کہ حکومت نے اسلامی قوانین نافذ کر دیے ہیں اور ان پر عمل کرنا اب صرف عوام کی ذمہ داری ہے، بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مگر ان میں سے صرف ایک سوال ان کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ دستور و قانون کے اسلامی حصوں کے علاوہ ملک کے باقی مروجہ قوانین کے بارے میں بھی کیا وہ یہی ریمارکس دینے کے لیے تیار ہیں؟ ملک میں تمام متعلقہ اور ضروری معاملات کے لیے قوانین نافذ ہیں اور دستور و قانون میں عوام کی ذمہ داریاں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ اس لیے اگر انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت قوانین کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتی ہے اور ان پر عملدرآمد صرف عوام کی ذمہ داری قرار پاتا ہے تو فاضل جج کو اس بات کی بھی وضاحت کر دینی چاہیے کہ پھر انتظامیہ اور عدلیہ کی سرے سے ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ بلکہ خود حکومت کے وجود کا بھی کیا جواز باقی رہتا ہے؟
ہم فاضل عدالت کے اس سوال کے جواب میں بھی کچھ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام کا کون سا حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟ اس کے جواب میں اسلام کے ان حصوں کی فہرست تو طویل ہے جو صرف عملاً نہیں بلکہ دستور و قانون کے لحاظ سے بھی ملک میں نافذ نہیں ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا تذکرہ فاضل عدالت کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں اسلامی ریاست کے شہری کے طور پر قبول کیا تھا تو معاہدہ میں شرط لگا دی تھی کہ وہ اسلامی ریاست میں سودی کاروبار نہیں کریں گے ورنہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔ فاضل عدالت کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کا یہ حصہ نافذ نہیں ہے اور سود کا کاروبار صرف غیر مسلم نہیں بلکہ خود مسلمان اور حکمران بھی کر رہے ہیں۔ اور حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اسے ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں اپنے ایک صحابیؓ کو ننگے بدن پر چھڑی مار دی جس سے اس کے جسم پر خراش آگئی، اس نے بدلے کا مطالبہ کیا تو آنحضرتؐ نے کسی تکلف کے بغیر چھڑی اس کے ہاتھ میں دے کر اپنا بدن اس کے آگے کر دیا تاکہ وہ بدلہ لے سکے۔ مگر ہمارے ہاں پروٹوکول اور پرسٹیج کے عنوان سے حکومتی اور عدالتی مناصب پر فائز لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالتی احتساب سے بالاتر ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
بنو مخزوم کی فاطمہؓ نامی خاتون چوری میں پکڑی گئی اور جرم ثابت ہوگیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ بعض صحابہؓ نے سفارش کرنا چاہی کہ معزز خاندان کی عورت ہے، ہاتھ کاٹنے سے خاندان کی بدنامی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت غصے کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اگر خدانخواستہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی (نعوذ باللہ) چوری کرے تو اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔ مگر ہمارے ہاں قانون کی عملداری کا اطلاق سب لوگوں کے لیے یکساں نہیں ہے جو کہ ہر شخص کو نظر آرہا ہے۔ جس مجرم کو کوئی معقول سفارش میسر ہے یا جس میں ''ڈیل'' کی صلاحیت موجود ہے وہ جرم ثابت ہونے پر بھی سزا سے محفوظ رہتا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے اور بیت المال سے ان کی تنخواہ طے کرنے کا موقع آیا تو خلافت راشدہ کی مجلس شوریٰ نے یہ اصول طے کیا کہ انہیں مدینہ منورہ کی آبادی میں سے متوسط درجہ کے شہری کے معیار کے مطابق وظیفہ اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی چنانچہ اسی بنیاد پر ان کی تنخواہ طے کی گئی۔ مگر ہمارے ہاں معیار زندگی اور تنخواہوں میں ہوش ربا تفاوت ہے کہ ملک کے ایک شہری کو سرکاری خزانے سے دو ہزار روپے تنخواہ بھی نہیں ملتی جبکہ اسی ملک کا دوسرا شہری لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور اس سے کہیں زیادہ سہولتیں سرکاری خزانے سے وصول کرتا ہے جس سے معاشرہ خوفناک طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ زریں اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ بن الخطاب خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو حکم صادر فرمایا کہ ان کی حکومت کا کوئی گورنر یا افسر ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا، باریک لباس نہیں پہنے گا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا، اور اپنے دروازے پر ڈیوڑھی نہیں بنائے گا۔ ان ہدایات کا مطلب یہ تھا کہ گورنر سمیت تمام اہل کار عام آدمیوں جیسی زندگی بسر کریں گے، ان کے درمیان رہیں گے اور لباس، خوراک اور رہائش میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار نہیں کریں گے۔ ان احکامات کی خلاف ورزی پر حضرت عمرؓ اپنے افسروں کو سزا دیا کرتے تھے۔ ایک گورنر کے دروازے پر بنی ہوئی ڈیوڑھی کو آگ لگوا دی اور ایک گورنر کو باریک (امتیازی) لباس پہننے کے جرم میں بکری کے بالوں سے بنا ہوا لمبا چغہ ننگے بدن پر پہنا کر بیت المال کی بکریاں چرانے پر لگا دیا۔ ہمارے ملک میں حکمران کلاس اور رعیت کے درمیان رہن سہن، خوراک اور سواری کے معیار کا کھلم کھلا فرق اس اصول کے منافی ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھوک سے مر جائے تو اس کے بارے میں بھی عمرؓ مسئول ہوگا۔ مگر ہمارے ہاں انسان بھوکے مر رہے ہیں، خودکشی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور غریب آدمی زندگی کو عذاب سمجھنے لگا ہے مگر کوئی شخص یا طبقہ اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی اصلاح احوال کے کوئی دلچسپی کسی طبقے میں دکھائی دیتی ہے، اور اس طرح اسلام کا یہ سنہری اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنا دیا ہے اس لیے جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ، جو خود پہنو ان کو پہناؤ، ان کی طاقت سے زیادہ کام ان پر نہ ڈالو اور اگر کوئی کام ان کی طاقت سے زیادہ ہے تو خود ساتھ مل کر کام میں ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ ہمارے ہاں مالک اور غلام کا تو کوئی وجود نہیں ہے مگر افسر اور ماتحت، مالک اور ملازم، جاگیردار اور مزارع کا منظر اس سے کہیں زیادہ شرمناک ہے۔ کوئی افسر اپنے ماتحت کے لیے، کوئی مالک اپنے ملازم کے لیے اور کوئی زمیندار اپنے مزارع کے لیے وہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کی جناب رسول اکرمؐ نے ہدایت فرمائی ہے، اس لیے اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔
پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت کے پیشوا اور امام حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اصول بیان فرمایا ہے ''لا رضاء مع الاضطرار'' کہ مجبوری کی حالت میں رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں مجبوری اور اضطرار کی وجہ سے اپنے حق سے کم پر رضامند ہو جاتا ہے تو اس کی اس رضامندی کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے اور شرعی طور پر اس معاملہ میں اس کا وہی حق بنتا ہے جو اس کی محنت یا عمل کے لیے معروف طور پر ہونا چاہیے۔ مگر ہمارے ہاں سرکاری و غیر سرکاری اور قانونی و غیر قانونی ہر سطح پر اکثر و بیشتر معاملات کا دارومدار ہی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے پر ہے جو کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اور اس طرح اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔
ابھی ایسے معاملات کی فہرست طویل ہے، سردست ان چند امور پر اکتفاء کیا جا رہا ہے اس امید پر کہ فاضل عدالت ان کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اپنے مذکورہ فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرے گی۔
|
2022/05/21 21:52:00
|
http://zahidrashdi.org/1400
|
mC4
|
رحیم یارخان میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام محکمے الرٹ »
Rahimyar khan 21 ℃
مرکزی صفحہ/رحیم یارخان/رحیم یارخان میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام محکمے الرٹ
رحیم یار خان :ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام محکمے مکمل طور پر الرٹ اور مشینری کو فنکشنل حالت میں رکھیں۔
اسسٹنٹ کمشنرز اپنی تحصیلوں کے انہار افسران اور ایس ڈی پی اوز کے ہمراہ دریائی سندھ کے حفاظتی بند کا سروے کرتے ہوئے تجاوزات کا خاتمہ، حفاظتی بند پر جاری کام کی رفتار و معیار اور ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اہم دریائی بندو علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے پیشگی حکمت عملی مرتب کرکے ڈپٹی کمشنر آفس کو ارسال کریں۔
یہ ہدایات انہوں نے ضلعی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری اعتزاز انجم سمیت محکمہ انہار، ریسکیو1122، ایجوکیشن، ہیلتھ ، زراعت کے افسران موجود تھے جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز خانپور فاروق احمد، صادق آباد عامر افتخار اور لیاقت پور ارشد وٹو نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدیات کی کہ ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی تمام مشینری کو فنکشنل ہونا چاہیے جبکہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122تمام تحصیل کونسل، میونسپل و ٹاﺅن کمیٹیز کے چیف افسران نے مشینری فنکشنل ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
انہوں نے محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت کی کہ وہ دریائی بیلٹ میں موجود مویشیوں کی ویکسی نیشن کا عمل جلد مکمل کرے جبکہ محکمہ زراعت ممکنہ طور پر دریائی بیلٹ میں متاثر ہونے والے اجناس کا سروے کرتے ہوئے ریکارڈ مرتب کرے۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو1122ڈاکٹر عبدالستار نے بریفنگ دیتے ہوئے سابقہ سیلابی صورتحال سمیت پہنچنے والے نقصانات اور انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف اپریشن بارے شرکاءکو آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائی بیلٹ کے اندر اور ملحقہ91مواضعات جس میں سے 51جزوی اور44مکمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے
جبکہ پی ڈی ایم اے کے سروے کے مطابق ان مواضعات میں ممکنہ سیلابی صورتحال ہونے پر 3لاکھ25ہزار آبادی اور 4لاکھ85ہزار مویشیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے
جس کے لئے پیشگی حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے قبل عوام کو ان کے قیمتی سامان اور مویشیوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے
جس کے لئے ضلع بھر میں21ریلیف کیمپس قائم کئے جائیں گے۔محکمہ انہار کے افسران نے بتایا کہ دریائے سندھ کے حفاظتی بند پر تحصیل خانپور میں گدھ پور جبکہ صادق آباد میں بنگلہ دل کشا کے مقام پر کام جاری ہے
جس جلد مکمل کر لیا جائے گا۔دریں اثناءڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ضلع بھر کے ریونیو افسران سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مختلف مدات میں سرکاری بقایا جات کی وصولی کے اہداف کو یقینی بنایا جائے، سرکاری واجبات کی تاخیر پر متعلقہ افسران جوابدہ ہونگے۔
انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریونیو افسران کو فیلڈ میں نکالتے ہوئے روزانہ ہر ریونیو افسر کی انفرادی ریکوری رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس ارسال کریں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اہداف کے حصول میں سست روی یا ناقص کارکردگی دکھانے پر سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
|
2020/10/22 20:51:34
|
https://rahimyarkhan.net/flood-situation-in-rahim-yar-khan/
|
mC4
|
ونڈوز 8 کو تیز تر بنائیں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں
شروع » ونڈوز » ونڈوز 8 کو تیز تر بنائیں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں
کیا آپ کے ذاتی کمپیوٹر پر پہلے ہی ونڈوز 8 موجود ہے؟ اگر آپ نے کوئی اضافی ایپلی کیشنز انسٹال نہیں کی ہیں تو ، اس آپریٹنگ سسٹم کی ابتدا کی رفتار ہوگی اور کافی بڑے کام کی کارکردگی۔
ناشپاتیاں اگر ہم پہلے ہی ونڈوز 8 میں ایک خاص تعداد میں ایپلیکیشنز اور ٹولز انسٹال کر چکے ہیں تو کیا ہوگا؟ یہ صورتحال اس آپریٹنگ سسٹم کے ہر عمل اور ملازمت میں سست روی کا باعث بن سکتی ہے۔ نہایت ہی آسان اور آسان طریقہ سے ہم اس مضمون میں اس بات کی نشاندہی کریں گے ، جس طریقے سے آپ کچھ خاص پیرامیٹرز کا انتظام کرسکتے ہیں تاکہ آپریٹنگ سسٹم اپنی کام کی رفتار اور کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے برقرار رکھے ، جس پر بھی عمل درآمد ہوسکتا ہے۔ ونڈوز 8. 1.
بہتر کارکردگی حاصل کرنے کے لئے ونڈوز 8 میں ترمیم کرنے والے پیرامیٹرز
ہم نے ان پہلوؤں کا پہلے ہی تذکرہ کیا تھا کہ جب ہمیں بہتر کارکردگی حاصل کرنے کی بات کی جائے تو ہمیں ان پر عملدرآمد کرنا چاہئے ، حالانکہ یہ کام ونڈوز 7 کے لئے وقف ہیں۔ ونڈوز 8، جو کام ہم انجام دینے کی کوشش کریں گے ان میں مندرجہ ذیل ذکر کریں:
اثرات اور متحرک تصاویر کو غیر فعال کریں جو ہم استعمال نہیں کر رہے ہیں۔
ونڈوز کے ساتھ شروع ہونے والے ایپلیکیشن ٹولز کا نظم کریں۔
براہ راست ڈیسک ٹاپ پر لانچ کریں۔
آپ ہماری ہوم اسکرین کو دیکھنے کے انداز کو تبدیل کریں۔
اپنے پہلے مقصد کو پورا کرنے کے ل we ، ہمیں صرف سسٹم آف (سیکنڈ آف) پر جانا ہے ونڈوز 8، کچھ ہم حاصل کریں گے ڈیسک ٹاپ سے اور ہمارے کی بورڈ شارٹ کٹ Win + X کا استعمال کرتے ہوئے، جس وقت سیاق و سباق کے اختیارات ظاہر ہوں گے اور ہم کب سے منتخب کریں گے نظام.
ظاہر ہونے والی نئی ونڈو میں ، ہمیں صرف «اعلی درجے کی نظام کی تشکیل«، جو with کے ساتھ ایک نئی ونڈو کھولے گاسسٹم کی خصوصیات".
ہم جس ٹیب کو استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ خودبخود کود پڑے گے۔اعلی درجے کی اختیارات) ، بٹن پر کلک کرنا «کنفیگریشن»علاقے سے کارکردگی.
ہم اپنے آپ کو inبصری اثرات. ، جہاں ہم نچلے حصے میں تجویز کردہ ہر باکس کو دستی طور پر غیر فعال کرسکتے ہیں اور وہ ہمیں مختلف اقسام کے متحرک تصاویر دکھائے گا ، یا بالائی حصے میں موجود کسی بھی ڈیفالٹ پروفائلز کا انتخاب کریں گے۔
اگر آپ چاہتے ہو کہ اس میں اعلی کارکردگی ہو ونڈوز 8، پھر آپ تیسرا آپشن منتخب کرسکتے ہیں۔
شروع ہونے والی ایپلی کیشنز کا نظم کرنے کے لئے ونڈوز 8ہم ابتدائی طور پر ہم نے ونڈوز 7 کے لئے مذکور طریقہ کار پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ تاہم ، ایک آسان طریقہ کر کے ہے ٹول بار پر ہمارے ماؤس کے دائیں بٹن کے ساتھ کلک کریں ، یہ بعد میں منتخب کرنے کے لئے «ٹاسک مینیجر".
ظاہر ہونے والی نئی ونڈو سے ، ہمیں صرف وہ ٹیب منتخب کرنا پڑے گا جس میں saysشروع. ، ماحولیات جہاں وہ ظاہر ہوں گے ان سبھی ایپلی کیشنز اور ٹولز کی فہرست جن سے شروع ہوتا ہے ونڈوز 8; ان میں سے کسی کو بھی غیر فعال کرنے کے ل، ، ہمیں صرف ماؤس کے دائیں بٹن کے ساتھ منتخب کردہ ایک پر کلک کرنا ہوگا ، اور پھر ual سیاق و سباق کے مینو میں سے select منتخب کریںمستحکم".
اب شروع کرنے کے لئے ونڈوز 8.1 سیدھے ڈیسک ٹاپ پر ہم اس اختیار کو اسٹارٹ مینو X سے چالو کرسکتے ہیں، درخواست جو پہلے ہم نے خصوصی علاج دیا تھا۔ اگر ہمارے پاس یہ ٹول انسٹال نہیں ہے تو ہم دستی طریقہ اختیار کرسکتے ہیں۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں صرف کام کرنے کی ضرورت ہے ٹول بار پر دائیں کلک کریں ، بعد میں منتخب کرنے کے لئے havingپراپرٹیز«؛ بعد میں ہمیں ٹیب پر جانا پڑے گا «نیویگیشن«، ایک ایسی جگہ جہاں ہمیں کچھ اختیارات ملیں گے اور جہاں سے ہمیں وہ انتخاب کرنا پڑے گا جس میں saysجب سبھی ایپلیکیشنز میں لاگ ان ہوں یا بند ہوں…"سے"اسکرین شروع کر رہا ہے".
دوسرا آپشن جس کا ہم نے ایک مقصد کے طور پر ذکر کیا ہے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ونڈوز 8.1 وہی پچھلی ونڈو ملی ہے۔ ہمیں صرف اس باکس کو چیک کرنا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ «ایپلی کیشنز کو خود بخود دیکھیں ...اور ، اس کی مدد سے جو درخواستیں بطور فہرست دکھائی جائیں گی اور زیادہ ٹائپل کی طرح نہیں ہوگی جس کا ہم ابھی تک مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ان میں سے ہر ایک نکات جو ہم نے اس مضمون میں بیان کیا ہے ان لوگوں کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے جن کے پاس کم وسائل والا کمپیوٹر ہے ، جس میں بہت کم رام اور ویڈیو میموری بھی تجویز کیا جاتا ہے ، وہ عناصر جو اس آپریٹنگ سسٹم میں ایک موثر اور تیز رفتار کام کی پیش کش کرتے وقت بہت اہم ہیں۔ کے ونڈوز 8.
مزید معلومات - ونڈوز کے ساتھ شروع ہونے والی ایپلی کیشنز کو کیسے غیر فعال کیا جاسکتا ہے ، اسٹارٹ مینو X کے ساتھ ونڈوز 8.1 میں اسٹارٹ مینو کو بہتر بنائیں
|
2021/06/20 10:50:02
|
https://javimoya.com/ur/%D9%88%D9%86%DA%88%D9%88%D8%B2-8-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%DB%8C%D8%B2-%D8%AA%D8%B1-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%81-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA/
|
mC4
|
گراناز موسوی 2020/10/27 فاریکس ٹریڈنگ کا بنیادی
پرجیویوں سے متاثرہ پپیوں کی افزائش اور تاریک ہونا بند ہوجاتا ہے۔ پپو کے بِٹ کوائن تجارت اندر ایک ابر آلود بھوری رنگ کا مائع ہوتا ہے جس میں ایک خوشبو ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک کہنا مشکل ہے کہ میڈیکل کیئر برائے آل اور عوامی آپشن جیسے تجاویز امریکی صحت کی دیکھ بھال کے مستقبل میں کس طرح فٹ بیٹھتے ہیں ، لیکن ہم یہ دیکھتے رہیں گے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات اور اس سے آگے کے قریب پہنچتے ہی یہ مسائل کیسے تیار ہوتے ہیں۔
پہلے سے طے شدہ، Binance آپ کو EUR_ جوڑی پیش نہیں کرتا ہےUSDT تجارتی علاقے میں۔ لیکن آگاہ رہیں کہ یو آر ایل موجود ہے اور یہ تبادلہ ممکن ہے۔ صارف دستی ہائیڈرولک کھدائی کرنے والا 336 اگلی جنریشن ایکسیویٹرز کیٹ اگلا . صارف دستی ہائیڈرولک کھدائی کرنے والا 330 تکنیکی وضاحتیں ترتیب اور خصوصیات… 320 ہائیڈرولک کھدائی کرنے والا صارف دستی تکنیکی تصریحات کی تشکیلات بِٹ کوائن تجارت اور خصوصیات… 330 جی سی ہائیڈرولک ایکسیویٹر اگلی نسل… 336 ہائیڈرولک ایکسویٹر نردجیکات دستی - بہتر پی ڈی ایف 336 ہائیڈرولک… کٹی 307.5 مینی ہائیڈرولک کھدائی کرنے والی خصوصیات: کیٹ 307.5 مینی…
آپ کو اپنے بروکر کے ضوابط اور ضوابط کو قطعی طور پر جانچنا چاہئے یا ان سے براہ راست اس عنوان پر کوئی قطعی جواب طلب کرنا چاہئے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پیشہ ور تاجر کی حیثیت سے آپ کی حفاظت کیا ہے۔ خاص طور پر کیونکہ جیسا کہ اوپر دکھایا گیا ہے ، مختلف دائرہ اختیار میں مختلف قواعد عمل میں ہیں۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ بٹ کوائن نیٹ ورک کو طاقت بخش بنانے کے لئے استعمال ہونے والی برقی توانائی کا حساب کتاب کیسے کریں ، آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ بٹ کوائن تخلیق کیسے کام کرتا ہے۔ اس کو دیکھنے کا ایک طریقہ ، استعمال شدہ بجلی کی مقدار کے لحاظ سے ، یہ حساب کتاب بِٹ کوائن تجارت کرنا ہے کہ ہر سیکنڈ میں بٹ کوائن کے ریاضی کی پہیلیاں حل کرنے کے ل many کتنی رقم جمع کی جاتی ہے ، اور پھر یہ معلوم کرنا کہ ہر رقم میں کتنی برقی توانائی لیتی ہے۔
ذہن میں رکھیں ، ٹرینڈ لائن کو ایڈجسٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹرینڈ بدل گیا ہے۔ ایک اعلی درجے کی اونچائی اور اونچ نیچ کی طرف سے خصوصیات ہے ، اور جب تک یہ ہوتا رہتا ہے ، یہ اب بھی ایک اعلی درجہ بندی ہے۔ آپ کو مل سکتا ہے کہ آپ اپنے ٹرینڈ لائنوں کو بِٹ کوائن تجارت ایک ہی اپٹرینڈ میں متعدد بار ایڈجسٹ کریں۔
آیا شـود گـردد عیــان مـن کیستـم مـن کیستم. آپ کو پہلے اپنے آلہ کو پی سی سے منقطع کرنا ہوگا۔ پھر اس .zip فائل کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اسے نکالیں۔ اس فائل کو نکالنے کے ل You آپ کو Play Store سے ایک ایپ انسٹال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ آپ اس مقصد کیلئے پلے اسٹور پر دستیاب کسی ایک کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ایک بار ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد ، فائل کو دو بار تھپتھپائیں اور اسکرین ہدایات پر عمل کریں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ دستی طور پر تجارت کر رہے ہو یا EAs کے ساتھ۔ - یہ واقعی ناگزیر خرابی سے نمٹنے کے لئے ایک بہترین نظام ہے۔ جب تجارت خراب ہوجائے ، اس کے بجائے SL کو چالو کرنے اور نقصان کو بکنے کے منتظر رہنے کی بجائے ، بحالی کا طریقہ کار شروع کرنے کے لئے سسٹم کو صرف اس صورت بِٹ کوائن تجارت میں طے کریں کہ اگر تیرتی کمی کسی خاص سطح تک پہنچ جاتی ہے اور پھر آپ کے لئے مسئلہ حل کرنے کے ل. چھوڑ دیں۔ ایک اہم ترغیب یہ ہے کہ مصنف (سکندر) شے کی سرگرمی سے حمایت کرتا ہے اور اگر آپ کے سوالات ہیں تو وہ قابل رسا ہے۔
پیرابین فری ویگن ظلم سے پاک ہلکا پھلکا عام ، خشک اور تیل والے بالوں کے لئے مناسب ہے. دیگر عمومی قیمتوں کا تعین کی حکمت عملی. تاہم ، یقین دلاؤ کہ ابھی ، میں آپ کے ساتھ یہ بتادوں گا کہ مذکورہ بالا دو قسم کے چالوں کو کیسے پہچانا جائے اور ان سے کیسے بچایا جائے۔ مجھے امید ہے کہ یہ بِٹ کوائن تجارت علم آپ کو اس کا سامنا کرنے پر پیسہ نہیں کھونے میں مدد فراہم کرے گا۔
|
2021/12/07 12:16:49
|
https://xong.top/category-21/page-984988.html
|
mC4
|
ویٹی کن سٹی : کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم نے کہا ہے کہ انسانیت کو مسائل کے سمندر اور ناامیدی کے سامنے ہمت نہیں ہارنا چاہیے بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسٹر سنڈے کے مسیحی تہوار کے موقع پر ویٹیکن سٹی کے پیٹرز اسکوائر میں گزشتہ شب رات بارہ بجے ہزارہا مسیحی عقیدت مندوں سے اپنے خطاب میں پوپ فرانسس نے کہا کہ انسانیت کو اپنی توجہ صرف مسائل اور مشکلات پر ہی مرکوز نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ وہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بنی نوع انسان عدم اطمینان اور ناامیدی کے سامنے کبھی ہار نہ مانے۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں کلیسائے روم کے سربراہ نے کہا کہ ایسٹر کا تہوار امید کی وجہ بھی ہے، 82 سالہ پوپ فرانسس نے کہا کہ ہم جو قدم اٹھاتے ہیں، اکثر ان کے بارے میں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی کافی ثابت نہیں ہوں گے۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ پھر ذہن میں یہ سوچ بھی آتی ہے کہ زندگی کا ایک سیاہ ضابطہ یہ بھی ہے کہ ہر امید ناامیدی میں بدل جاتی ہے، لیکن اصل میں یہ شکوک و شبہات اور کم اعتمادی ہوتے ہیں، جو انسانی امیدوں کے راستے کی رکاوٹیں ثابت ہوتے ہیں۔
پاپائے روم نے اپنے اس خطاب میں مزید کہا کہ اگر انسان مسلسل یہی سوچتا رہے کہ سب کچھ غلط ہو جاتا ہے اور برائی کبھی ختم نہیں ہوتی، تو ہم بتدریج سنکی پن اور ایک بیمار کر دینے والی پڑمردگی کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہم ایک کے بعد ایک پتھر جوڑتے ہوئے اپنے عدم اطمینان کی ایک ایسی یادگار تعمیر کرنے لگتے ہیں، جس میں ہم بالآخر اپنی امیدوں کو دفن کر دیتے ہیں۔
پاپائے روم نے کہا کہ امید ایک ایسی چیز ہے، جسے کبھی دم نہیں توڑنا چاہیے اور انسانوں کو اپنی امیدوں کو دفنانا نہیں چاہیے کیونکہ اصل میں ایسٹر کے مسیحی تہوار کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے۔
پاپائے روم نے یہ باتیں اپنے جس خطاب میں اور جس موقع پر کہیں، وہ ایسٹر سنڈے کے آغاز کا وہ وقت تھا، جو مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح کے مصلوب ہو جانے اور پھر دوبارہ زندہ ہونے کی علامت ہے۔
اس موقع پر پہلے پوپ فرانسس نے اندھیرے میں ایک شمع جلائی، جس کے بعد ہزارہا مسیحی زائرین نے بھی شمعیں جلائیں اور یوں علامتی سطح پر یسوع مسیح کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی وجہ سے پھیلنے والی روشنی کو یاد کیا گیا۔
|
2019/10/15 21:26:16
|
https://urdu.arynews.tv/fight-the-problems-do-not-be-afraid-pope-francis/
|
mC4
|
نسوانیت کا دشمن ۔۔۔پی سی او ایس – Shifa News International
نسوانیت کا دشمن ۔۔۔پی سی او ایس
558 0 like
خواتین کی بیضہ دانیوں میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں ہوتے ہیں۔بعض اوقات بیضہ دانیوں میں بہت سی تھیلیاں تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں ۔اس مرض کو "پی سی او ایس " کہا جاتا ہے جو بے اولادی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے خواتین کے چہروں پر بال آجاتے ہیں' انہیں کیل مہاسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ موٹی بھی ہوجاتی ہیں۔ شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ امراض غدود کے سربراہ ڈاکٹرمحمد طیب بادشاہ سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر
جب کسی مرض کے ساتھ ' سینڈروم" کا لفظ آتاہے تواس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایک مرض نہیں بلکہ مجموعہ امراض ہے اور اس میں بیک وقت کئی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ پی سی اوایس (Polycystic Ovarian Syndrome) خواتین سے متعلق ایک سینڈروم ہے جس کا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔
"پی سی او ایس" کیا ہے
ہارمونز کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق جنس کے ساتھ ہوتا ہے۔پروجیسٹیرون (progesterone) زنانہ جبکہ اینڈروجن(androgen)مردانہ ہارمون ہے۔انہی ہارمونز کی وجہ سے لوگوں میں مردانہ اور زنانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردانہ ہارمونز کی کچھ تعداد خواتین اور زنانہ ہارمونز کی کچھ تعداد مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
اگرخواتین میں مردانہ ہارمونز کی تعداد ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے توان میں "پی سی او ایس" کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کئی طرح کے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے چہرے' چھاتی اورپشت پر بال آجاتے ہیں۔ اگر مرض شدید ہو جائے تو پیشانی کی جگہ سے ان کے بال جھڑ بھی سکتے ہیں۔ علاوہ ازیںانہیں کیل مہاسے (acne)بھی نکل آتے ہیں۔
بالغ خواتین کی بیضہ دانیوں (ovaries)میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں پائے جاتے ہیں۔اس بیماری کی صورت میں ان کی بیضہ دانیوں میںبہت سی تھیلیاں (polycysts) تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں۔ اس مرض کی وجہ تسمیہ یہی ہے جس کا ترجمہ بیضہ دانی میں بہت سے خالی تھیلیوں کا مرض کہا جا سکتا ہے۔
مذکورہ بالا علامات کے علاوہ کچھ اور پیچیدگیوں کا تعلق بھی اس سینڈروم کے ساتھ ہے ۔مثال کے طور پر ان میں وزن بڑھنے (over weight)یا فربہ (obese)ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے ۔ ان کے خون میں شوگر کی مقدارمیں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صورت حال قبل از ذیابیطس کی سطح پر پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں مکمل ذیابیطس بھی ہوجاتی ہے۔اسی طرح ان میں دل کے امراض کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔
.مرض کی تشخیص
بالعموم یہ مرض اسی عمر میں سامنے آجاتا ہے جب بچیوں میں ماہانہ ایام کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے' تاہم بعض اوقات یہ 17یا 18سال کی عمر میں یا اس کے بعد بھی پید اہو سکتا ہے۔ جب ماہانہ ایام کا نظام شروع ہوتا ہے تو اس میں بے قاعدگی ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ سلسلہ طویل ہو جائے یا اس کے ساتھ اس کی دیگر علامات(مثلاً موٹاپا' جسم پر بال یاکیل مہاسے) بھی سامنے آئیں تو اسے "پی سی او ایس " کے تناظر میں بھی دیکھ لینا چاہئے اور ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔
اس کی سب سے بڑی علامت ایام میں بے قاعدگی ہی ہے تاہم حتمی تشخیص کے لئے کچھ ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر خون میں مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون (testosterone) کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جن بچیوں کا وزن زیادہ ہو' ان میں بلڈگلوکوز اور انسولین کی سطح جاننے کے لئے بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انہیں خدانخواستہ شوگر، قبل از ذیابیطس یا انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ تو نہیں ہے۔
نقصانات کیا ہیں
اس کی وجہ سے پیداشدہ مسائل میں پہلا مسئلہ تو زیبائشی (cosmetic) ہے جس کے متعلق خواتین بہت حساس ہوتی ہیں۔ اگر ان کے چہروں پر بال یا کیل مہاسے ہوں یا ان کا وزن بڑھ جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔موٹاپے سے نہ صرف جسم کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ کچھ اور مسائل بھی جنم لے سکتے ہےں۔ اگر ان کے انڈوں کے اخرا ج میں رکاوٹ ہو توانہیں بے اولادی کاسامنا بھی کرناپڑسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ پی سی او ایس کی صورت میں تمام علامات بیک وقت سامنے آئیں لیکن ایسا ہوبھی سکتا ہے۔
دماغ میں پچوٹری گلینڈ نامی غدودایک ہارمون ایل ایچ (Luteinizing Hormone)خارج کرتا ہے۔ پی سی او ایس کاتعلق اس ہارمون کے بڑھ جانے سے ہے جس کی وجہ سے مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
اگرکسی لڑکی کی ماں یا بہن میں پی سی او ایس کا مسئلہ ہو تو اس میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا تعلق موروثیت کے ساتھ بھی ہے۔ اس کا تعلق ہمارے لائف سٹائل کے ساتھ بھی ہے' اس لئے کہ پی سی او ایس کی شکار نصف سے زیادہ خواتین موٹی ہوتی ہیں۔آج کل اکثر گھروں میں بچوں اور بچیوں کو کھانے میں گوشت'جنک فوڈ، اورتلی ہوئی چیزیں ہی پسند آتی ہیں جو وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ سبزیوں اور دالوں کی طرف بھی آئیں اور متوازن غذا استعمال کریں۔
یہ ایسا سینڈروم ہے کہ اگر ایک دفعہ کسی کو ہوجائے تو زیادہ تر صورتوں میں اس کا ایسامکمل علاج ممکن نہیں جس کے بعد اس مرض کا خاتمہ ہو جائے' تاہم احتیاطی تدابیر اور علاج کی مددسے اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو خواتین اپناوزن کم کر لیتی ہیں' ان میں اس مرض کی علامات کم ہو جاتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں دواﺅں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
جہاں تک ادویات کا تعلق ہے تو ان کے مقاصد مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر شادی سے پہلے زیادہ تر لڑکیوں کی خواہش کیل مہاسوں یاناپسندیدہ بالوں کاخاتمہ ہوتا ہے جس کے لئے انہیں کچھ دوائیں دی جاتی ہیں۔ایام کو باقاعدہ کرنے کے لئے جو دوائیں دی جاتی ہیں' ان سے بالوں کامسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے لیکن یہ لمبا علاج ہے اوراس کے لئے سالوں ادویات لینا پڑتی ہیں۔ جن شادی شدہ خواتین کوبچے کی طلب ہو ' انہیں ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو انڈوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں۔اس کے علاوہ اگرکوئی اور پیچیدگیاںہوں تو ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مرض کی ویکسی نیشن نہیں ، اس لئے کہ یہ متعد ی مرض نہیں ہے۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن والدین کی بچیاں بلوغت میں داخل ہو چکی ہوں اور ان کے ایام میں بے قاعدگی اور چہرے پر بال ہوں 'انہیں ایکنی کا مسئلہ ہو یا وہ ضرورت سے زیادہ موٹی ہوں' انہیں چاہئے کہ علاج میں پی سی او ایس کے امکان کو بھی مدنظر رکھیں اور کسی اینڈو کرائنالوجسٹ کو دکھائیں تاکہ اس کا بروقت علاج ہوسکے۔خواتین کو چاہئے کہ صحت مند طرززندگی اپنائیں' متوازن غذا کھائیں اوراپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔
|
2019/10/23 10:20:02
|
https://www.shifanews.com/pcos/
|
mC4
|
کابینہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافی چارج لگانے کی منظوری دے دی - Pakistan - Dawn News
کابینہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافی چارج لگانے کی منظوری دے دی
خلیق کیانیاپ ڈیٹ 16 دسمبر 2020
اس منظوری سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں بڑھے گا، سرکاری اعلامیہ - فائل فوٹو:اے ایف پی
اسلام آباد: حکومت نے ریونیو میں اضافے کے لیے صرف مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے اضافی ٹیرف کو 30 نومبر کو ختم کرنے کے بجائے اس میں توسیع کردی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطانق وزارت توانائی کے پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو تجویز پیش کی تھی کہ 29 نومبر 2019 کو ایس آر او کے ذریعے پہلے سے قابل اطلاق اضافی چارج سمیت ایک اضافی چارج لگایا جائے۔
وفاقی کابینہ نے 20-2019 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے بجلی کے نرخوں میں بقیہ ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیں: بجلی کے شعبے میں بڑی تبدیلوں کا منصوبہ
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس منظوری سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ہوگا۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ 20-2019 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹ 30 نومبر کو ختم ہوچکی تھی اور اب صارفین کو پہلے فراہم کی جانے والی رعایت پر اگلے 10 مہینوں کے لیے اس کے بدلے میں اس کے متبادل اضافہ کردیا گیا۔
کابینہ کو جمع کرائی گئی ایک سمری میں کہا گیا کہ '20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 0.1456/ کلو واٹ (قومی اوسط) کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی میعاد ختم ہوگئی'۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے سیکشن 31 (7) کے تحت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے متواتر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا تعین کیا ہے اور تمام صارفین کے لیے 1.627 روپے فی یونٹ کی مجموعی اوسط اضافہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا صنعتوں کے لیے بجلی کی 'پیک آور' قیمت ختم کرنے کا اعلان
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 30 ستمبر 2020 کو لائف لائن صارفین کو چھوڑ کر صارفین کے تمام کیٹییگریز کے لیے 1.627 روپے فی کلو واٹ کے ٹیرف اضافے کو نوٹیفائی کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔
وفاقی کابینہ نے 6 اکتوبر 2020 کو ای سی سی کے فیصلے کی اس ہدایت کے ساتھ توثیق کی تھی کہ تمام صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
کابینہ نے مزید ہدایت کی کہ رواں مالی سال کے دوران بجلی کے شعبے کو اضافی سبسڈی کے طور پر 14 ارب 38 کروڑ روپے کا فرق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
|
2021/04/19 19:28:22
|
https://www.dawnnews.tv/news/1149282
|
mC4
|
ثقلین مشتاق نے انگینڈ کی فتح کو اتحاد کی مرہون منت قرار دے دیا۔
سابق پاکستانی آف اسپنر ثقلین مشتاق بطور اسپن بولنگ کوچ فاتح انگلش ٹیم کا حصہ رہے، انھوں نے بتایاکہ ورلڈکپ جیتنے پر انگلینڈ میں جشن کا سماں ہے، میچ کے بعد رات گئے تک کھلاڑی لارڈز میں جشن مناتے رہے۔
ثقلین مشتاق نے کہا کہ انگلش ڈریسنگ روم کا ماحول بہت زبردست اور تمام کھلاڑی ہر وقت ایک دوسرے کی مدد کو تیار رہتے ہیں، میچ ٹائی ہوا تو سب لارڈز کی بالکونی سے نیچے گئے اور میچ کی حکمت عملی پر بات کی، ٹیم یکجا اور سب کا ایک ہی مقصد ٹائٹل جیتنا تھا، یہی وجہ ہے کہ فتح کے بعد وہ کھلاڑی بھی جشن میں پیش پیش رہے جو میچ میں شامل نہیں تھے، ایک دوسرے کی کامیابی سے خوش ہونا ہی چیمپئن ٹیم کی پہچان ہے، کوچ ٹریور بیلس نے سب کا بہت اچھے انداز میں خیال رکھا، انگلینڈ کی فتوحات میں ان کا اہم کردار ہے، وہ ایشز سیریز کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔
|
2022/01/18 18:57:06
|
https://www.bolnewsurdu.com/news/sports-news/Story/5657/
|
mC4
|
مگر عوام نے انہیں ووٹ کے قابل نہیں سمجھا ، آخر کیوں ؟ | Enlight News
مگر عوام نے انہیں ووٹ کے قابل نہیں سمجھا ، آخر کیوں ؟
لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے پاس یادوں کے انبار ہیں، جب عتیق سٹیڈیم میں پاکستان اسلامک فرنٹ بن رہا تھا تو اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے خول میں بند رہتی ہے مگر اب وہ سوسائٹی کے
اچھے لوگوں کو لے کر قوم کے سامنے انتخاب میں جائے گی تو کامیاب ہوگی مگر قوم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یہ بات نہیں کہ عمران خان یوتھ کو متحرک کرنے والے پہلے رہنما تھے، نہیں نہیں، وہ نہ نوجوانوں کی قیادت کا نعرہ لگانے والے پہلے رہنما تھے اور نہ ہی نواز شریف کے خلاف انتہا پر جانے والے۔ میں نے شباب ملی بھی بنتے ہوئے دیکھی اور ظالمو قاضی آ رہا ہے کے نعرے لگتے ہوئے بھی دیکھے۔ میں نے جاتی امرا کے باہرشریف فیملی کے مبینہ محلات کے خلاف اڈہ پلاٹ پر جلسے کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ یہ تینوں عوامل عمران خان نے استعمال کئے تو کامیاب ہو گئے مگر جماعت اسلامی نے استعمال کئے تو ناکام رہی، کیوں؟ جماعت اسلامی کو مشرف دور میں جو کامیابی ملی وہ شائدقاضی حسین احمد کی محنت سے زیادہ مولانا فضل الرحمان کے داؤ پیچ کی محتاج تھی۔میں ڈرائنگ روم کا صحافی نہیں ہوں اور نہ ہی جعلی قسم کی دانشوری مجھے آتی ہے ورنہ میں جماعت کی ناکامی کے ہزار اسباب بیٹھے بیٹھے لکھوا دوں۔ اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ قوم دیانتدار لیڈر چاہتی تھی اور اس لئے عمران خان کو چن لیا تومجھے کہنے دیجئے کہ قاضی حسین احمداورسراج الحق ان سے کہیں زیادہ باکردار اور ایماندار ہیں اور سید منور حسن کی خشیت الہٰی کی گواہی تو جماعت کا بدترین مخالف بھی دے گا۔ میں نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے اللہ کے خوف سے کانپتے ہوئے دیکھا ہے۔جما عت اسلامی کے دوست مجھے ایک سخت لفظ لکھنے پر معاف کریں،
بہت سارے کہتے ہیں کہ جماعت اس لئے مقبول نہیں کہ یہ منافق ہیں، توبہ توبہ، وہ لیڈر جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگائے اور خود ہر مرتبہ اپنی آمریت قائم کرنے پر حکومت سے نکالا جائے، وہ بندہ جو مدینہ کی ریاست کانعرہ لگائے اور یوٹرن کو اپنی فخریہ پالیسی قرار دے وہ منافق نہیں مگر وہ لوگ جو نماز، روزے کے پابند ہیں، زکواۃ دینے میں سب سے آگے ہیں، وہ جن کی الخدمت، الغزالی اور نجانے کون کون سی عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کرنے والی تنظیمیں ہیں وہ منافق ہیں۔میں آپ کو بتا رہا تھا کہ جماعت اسلامی نے لاہور کے مسائل کے حل کے لئے ریکارڈ مظاہرے کئے ہیں جبکہ اس شہر سے مقبولیت کا دعویٰ رکھنے والی نواز لیگ بھی مہنگائی کے خلاف جین مندر میں ایک ہی مظاہرہ کر کے تھک ہار کے بیٹھ گئی حالانکہ اس نے اس سے پہلے کنٹونمنٹ کے انتخابات میں کلین سویپ بھی کیا تھا اور اس کے بعد پرویز ملک مرحوم والی سیٹ بھی جیتی تھی۔ اب تیس دسمبر کو لاہوریوں کو درپیش ایشوز پر گجومتہ سے شاہدرہ تک روڈ مارچ بھی کیا جار ہاہے۔ جماعت اسلامی والے مقتدر حلقوں کے ساتھ بھی ہیں، وہ نواز شریف کے مخالف بھی ہیں، وہ متحرک اور دیانتدار بھی ہیں، ان کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبا کی صورت میں نوجوانوں کی ملک گیر واحد نمائندہ تنظیم بھی ہے، وہ عوام کی خدمت کا وہ ریکارڈ بھی رکھتے ہیں جو کسی دوسری سیاسی جماعت کے پاس نہیں توپھر عوام ان کو ووٹ کیوں نہیں دیتے، یہ دس کروڑ روپے انعام کا حامل سوال ہے۔ میں نے جناب لیاقت بلوچ سے ایک قومی انتخاب میں دو، اڑھائی ہزار ووٹ لینے پر سوال کیا تھا کہ کلفٹن کالونی والے گھر سے مسلم ٹاؤن والے گھر تک کا آپ کا سیاسی سفراورمحنت میرے سامنے ہے، آپ کو تو اتنے ووٹ بھی نہیں ملے جتنے آپ نے چالیس، پچاس برس کی سیاست میں حلقے میں جنازے پڑھ ڈالے ہوں، آپ ان کے لواحقین کے ووٹ تک نہیں لے سکے، کیوں؟
|
2022/05/22 11:50:06
|
https://enlightnews.site/%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85-%D9%86%DB%92-%D8%A7%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%A7/
|
mC4
|
اسلام کا نواں مہینہ رمضان | معاملات حیات و ممات
at Monday, July 23, 2012 Posted by Tariq Raheel 0 comments
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَان ج فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ط وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلـٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُاللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَوَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ز وَ لِتُکْمِلُواالْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلـٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (پارہ٢، سورۃ البقرہ ، آیت ١٨٥) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں ، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوںمیں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اسلئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو ۔ (کنزالایمان) یٰاَۤیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (پارہ٢، سورۃ البقرۃ ، آیت ١٨٣) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ (کنزالایمان) وجہ تسمیہ: رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رمضان ''رمض'' سے ماخوذ ہے اور رمض کا معنٰی ''جَلانا ''ہے۔ چونکہ یہ مہینہ مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے کہ یہ ''رمض'' سے مشتق ہے جس کا معنٰی ''گرم زمین سے پاؤں جلنا'' ہے۔ چونکہ ماہِ صیّام بھی نفس کے جلنے اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے لہٰذا اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا رمضان گرم پتھر کو کہتے ہیں۔ جس سے چلنے والوں کے پاؤں جلتے ہیں۔ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا تھا اس وقت بھی موسم سخت گرم تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ رمض کے معنی برساتی بارش ، چونکہ رمضان بدن سے گناہ بالکل دھو ڈالتا ہے اور دلوں کو اس طرح پاک کردیتا ہے جیسے بارش سے چیزیں دھل کر پاک و صاف ہو جاتی ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ، صفحہ ٣٨٣۔٣٨٤)
حدیث ١: اِنَّ الْجَنَّۃَ تَزَ حْرَفُ لِرَمْضَانَ مِنْ رَاسِ الََْحَوْلِ حَوْلٍ قَابِلٍ قَالَ فِاذَا کَانَ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ہَبَّتْ رِیْحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ عَلَی الْحُوْرِ الْعَیْنِ فَیَقُلْنَ یَا رَبِّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ عِبَادِکَ اَزْوَجًا تَقِرُّبِہِمْ اَعْیُنُنَا وَ تَقِرُّ اَعْیُنُہُمْ بِنَا ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔مشکــٰوۃ ص ١٧٤) بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔ حدیث ٢: نَادٰی مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی انْفِجَارِ الصُّبْحِ یَا بَا غِیَ الْخَیْرِ تَمِّمْ وَ اَبْشِرْ وَیَا باَغِیَ الشَّرِ اَقْصِرْ وَ اَبْصِرْ ہَلْ مَنْ مُّسْتَغْفِرٍ یَّغْفِرُ لَہ، ہَلْ مَنْ تَائِبٍ یُّتَابُ عَلَیْہِ ہَلْ مَنْ دَاعٍ یُّسْتَجَابُ لَہ، ہَلْ مَنْ سَا ئِلٍ یُّعْطٰی سُؤَا لَہ، فِطْرٍمِّنْ کُلِّ شَہْرِ رَمَضَانَ کُلَّ لَیْلَۃٍ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ سِتُّوْنَ اَلْفًا فَاِذَاکَانَ یَوْمُ الْفِطْرِ اَعْتَقَ فِیْ جَمِیْعِ الشَّہْرِ ثَلَا ثِیْنَ مَرَّۃً سِتِّیْنَ اَلْفًا۔ (زواجر جلد اول) رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتاہے جب عید کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہینہ میں آزاد فرماتا ہے۔ تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔(یعنی اٹھارہ لاکھ) حدیث ٣: یَغْفَرُ لِاُمَّتِہ فِیْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ اِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرُہ، اِذَا قَضــٰی عَمَلُہ، ۔ رواہ احمد (مشکوٰۃ ص١٧٤) رمضانِ پاک کی آخری رات میں میری امت کی بخشش کی جاتی ہے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ شبِ قدر ہے۔ فرمایا نہیں لیکن کام کرنے والے کا اجر پورا دیا جاتا ہے۔ جب کہ وہ اپنا کام ختم کرتا ہے۔ حدیث ٤: اُحْضِرُوْ الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا فَلَمَّاارْ تَقـٰی دَرْجَۃً قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـٰی الدَّرْجَۃَ الثّانِیَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـٰی الدَّرْجَۃَ الثَالِثَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْــئًا مَا کُنَّا نَسْمَعُہ، قَال اِنَّ جِبْرَئِیْلَ عَرَضَ لِیْ فَقَالَ بَعُد مَنْ اَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرُ لَہ، قُلْتُ اٰمِیْنَ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَہَ قَالَ بَعُدَ مَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ قُلْتُ اٰمِیْنَ۔ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَۃَ قَالَ بَعُدَ مَنْ اَدْرَکَ اَبَوَیْہِ عِنْدَہُ الْکِبَرُ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یُدْ خِلَا ہُ الْجَنَّۃَ قُلْتُ اٰمِیْنَ (زواجر جلد اول) تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبرکے پاس حاضر ہوئے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا''آمین''۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیل ں نے آکر عرض کی کہ ــ''بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی'' میں نے کہا ــ''آمین ''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ''وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے ''میں نے کہا ''آمین''جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ'' دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ''میں نے کہا ''آمین'' حدیث ٥: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عنہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَا لِہَا اِلـٰی سَبْعِ مِائَۃٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالـٰی اِلَّا الصَّوْمِ فَاِنَّہ، لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ یَدْعُ شَہْوَتُہ، وَطَعَا مُہ، مِنْ اَجْلِیْ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّہٖ وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَالصِّیَامُ جُنَّــۃٌ ۔ الحدیث رواہ البخاری و مسلم (مشکوٰۃ ١٧٣) سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ رسول خُدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''آدم کے بیٹے کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے ایک نیکی سے دس گنا سے سات سو تک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ''مگر روزہ کہ اس کا ثواب بے شمار ہے ، بے شک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔'' روزہ دار اپنی خواہش اور طعام میرے لئے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت۔ اور ایک خوشی دیدارِ الٰہی کے وقت ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور روزے ڈھال ہیں۔'' حدیث ٦: اِذَا دَخَلَ رَمَضَانَ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجِنَانِ وَ غُلِّقَتْ اَبْوَابُ الْجَہَنَّمِ وَسُلْسِلَۃِ الشَّیَاطِیْنَ (بخاری) جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
|
2018/06/23 00:46:45
|
http://tariqraheel.blogspot.com/2012/07/blog-post_23.html
|
mC4
|
بہرام بیزائی 2020/10/12 سر فہرست بروکرز
اگر آپ کے مالک ہونے کے دوران کرپٹو ٹاسٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو چارٹنگ اور تکنیکی اشارے ، آپ کو فائدہ ہوگا۔ تاہم ، اگر قیمت گرتی ہے تو ، آپ کو نقصان ہوگا۔ پبلک سوشل نیٹ ورک کی ایک قسم میں 18. سرمایہ کاری.
یہ سافٹ ویر گھر میں اور چلتے پھرتے بھی آلہ جات میں دستیاب ہے تاکہ آپ ایمیزون کی جدت کے برسوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اس ونڈوز آئیکن پر کلک کریں چارٹنگ اور تکنیکی اشارے ترتیبات . منتخب کریں کے بارے میں مینو بائیں طرف کی طرف.
اذیت پہنچانا نہیں روک سکتے تو کیا کریں؟ عمومی سلسلہ پیڈومیٹر عام طور پر پیڈومیٹر مارکیٹ کے لئے پیڈومیٹر قیمت وکر کے نچلے چارٹنگ اور تکنیکی اشارے سرے کا اعلی ترین معیار ہوتا ہے۔
EPS چارٹنگ اور تکنیکی اشارے کے لئے لازمی مساوات ہے.
Binomo کیا ہے ،Olymp Trade میں ٹرینڈ لیول سگنل حکمت عملی کے ساتھ تجارت
سینے کی نشوونما کی مشقیں آزمائیں. سگنل فراہم کرنے والے کو سبسکرائب کرنے کے بعد آپ کو ایک توثیق دیکھنا چاہئے کہ آپ کا سبسکرپشن کامیاب ہوگیا ہے اور سگنل فراہم کرنے والے کے کاروبار خود بخود آپ کے تجارتی اکاؤنٹ میں کاپی چارٹنگ اور تکنیکی اشارے ہوجائیں گے۔ 5. باورچی خانے کی تیار کردہ اشیاء جیسے لکڑی کے چمچ ، پیالے ، ہولڈر وغیرہ۔
اس مصنوع میں ایک بدیہی اور صارف دوست تھیم کے اختیارات ہیں جو تخصیص کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ بنیادی طور پر ، ہر صفحے کا عنصر آپ کے ماتحت ہوگا ، کیوں کہ آپ کو ایک انوکھی ویب سائٹ چارٹنگ اور تکنیکی اشارے ڈیزائن کرنے پر مل جاتی ہے۔ آپ کے تحریری مواد کے ل they ، انہوں نے 600 سے زیادہ گوگل فونٹس شامل کیے۔ تھیم کے اختیارات والے پینل تک رسائی حاصل کرکے ، آپ آسانی سے اپنے تعمیراتی صفحے کے سرخی ، باڈی ، ہیڈر اور مینو میں ترمیم کرسکتے ہیں۔ 1300 * 1220 * 600 ملی میٹر. روبوٹکس کے قوانین کی اشاعت کے آٹھ سال بعد ، 1950 میں ، عاصموف نے اس کام میں کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع کیا ، جس کا عنوان تھا۔ میں روبوٹ .
|
2021/11/29 18:40:34
|
https://qjxlt.space/category-1/page-919309.html
|
mC4
|
رضا رفیع 2020/04/1 تجارتی ٹپ
چین کے ذریعہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا ایک اور غیر منصفانہ کاروباری عمل ہے اس کی متعدد مصنوعات پر اس کی برآمد ٹیکس کی واپسی 15 فیصد ہے۔ اگر ایک چینی کمپنی ایک مہینے میں دس لاکھ ڈالر کا مال برآمد کرتی ہے تو اسے اگلے مہینے میں $ 150،000 ملیں گے۔ Krycek . اگر وہ ایریزونا میں کسی جگہ پوری طرح سے موت کے لپیٹ میں آنے کے بعد لون گن مین (اور انہیں ایک چھوٹے سے کیمو میں ضائع کردیں) اور سگریٹ تمباکو نوشی انسان واپس لاسکتے ہیں تو ، یقینی طور پر پیداوار نکولس لی کو پیشی کا راستہ تلاش کرسکتی ہے۔ اوہ ، شاید وہ وینکوور بی سی میں کہیں ولیم کو پال رہا ہے۔ یہ ایک موڑ ہوگا۔ واقعی ، اقتصادی کیلنڈر اگرچہ ، میں اس کے ساتھ ایک بھوت کھیل کر دوبارہ آباد ہوجاؤں گا۔ یا ایک مختلف کردار ، جیسے اپنے آپ کا کلون۔ کلون ایک چیز ہے ایکس فائلیں کائنات ، یاد رکھنا۔ اس مرحلے پر ، میں جانتا ہوں کہ شو خود کو کھانا کھلانا کرنے کے لئے بالکل بھی کچھ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ تو کیا اس کے ساتھ ساتھ وہاں زیادہ مداحوں کی خدمت کے قابل بھی ہوں گے ، ٹھیک ہے؟ اسے ہمارے وقت کے قابل بنائیں۔
آئی واٹر مارک اصل سے بڑا اپ گریڈ. کیا آپ مایوس ہوئے اور کام کی ایک مختلف لکیر کا تعاقب کیے بغیر اپنے کیریئر کے مقصد کے حصول میں برسوں گزارنے کو تیار ہیں؟ کیرول یقینی طور پر تھا۔ چھوٹی بچوں کی پہنچ سے دور ، پرانی بیٹری خارج کردیں۔ بیٹری نگلنا مہلک ہوسکتا ہے۔ اگر بیٹری نگل گئی ہے تو ، فوری طور پر ہسپتال سے رابطہ کریں تاکہ اسے ہٹا دیا جا.۔ بیٹری کو آگ میں ضائع نہ کریں کیونکہ یہ پھٹ سکتا ہے۔ بیٹری کے مناسب انداز کے ل please ، براہ کرم اپنے تصرف کے مقامی قوانین سے رجوع کریں۔
اور پھر آپ اپنی ویب سائٹ کے لنکس بھی شامل ہوں گے یا ایک لینڈنگ کا صفحہ بھی شامل کریں گے جو کہ آپ کو ایک نیوز لیٹر یا اپ ڈیٹس کے ساتھ ساتھ خصوصی پیشکش حاصل کرنے کے لۓ اپنی فہرست میں سائن اپ کرنے کے لۓ . یہ ضروری ہے کہ آپ انہیں سائن اپ کے لئے کچھ حوصلہ افزائی دیتے ہیں، جیسے مفت ای بک یا آپ کی جگہ سے متعلق خصوصی رپورٹ. ایکسل میں ایک فلوچارٹ گرڈ قائم کرنا.
گرم لیڈز: امکانات جو خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ گرم لیڈز: امکانات جو اہل ہیں ، لیکن خریدنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ سرد لیڈز: امکانات جو آپ کے مواد سے محبت کرتے ہیں (وہ آپ کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور ہمیشہ آپ کے ویبینرز کیلئے رجسٹر ہوتے ہیں) لیکن آپ سے کبھی نہیں خریدیں گے۔
سائبر جرائم سے متعلق تمام معاملات کے لئے تمام مقامی اور غیر ملکی تنظیموں کے لیے رابطہ کی سنگل پوائنٹ فراہم کررہا ہے۔ یہ ادارہ حکومت /نیم سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیم کے افراد کو تربیت اور سیکیورٹی سے متعلق تعلیم فراہم کررہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں سیمینار منعقد کئے گئے ، جن میں حساس سرکاری تنظیموں کی سینئر مینیجمنٹ کو ان کی معلومات کے وسائل پر سائبر حملوں کے بارے میں تربیت دی گئی معلومات خلاف اقتصادی کیلنڈر ورزی اور اس طرح کے تمام خطرات کے خلاف محفوظ نظام بنانے کے لئے۔سیمنار کی تفصیل درج ذیل ہے۔ اس مساوات کا پہلا حصہ، ( FV₁ = PV + INT) پڑھتا ہے، ایک سال کے اختتام پر مستقبل کی قیمت ( FV )، سبسکرپٹ خط by کی طرف سے نمائندگی ، موجودہ قیمت کے ساتھ ساتھ مخصوص سود کی شرح پر دلچسپی کے اضافی قیمت کے برابر ہے.
آپ کی کمپنی کے اسٹاک آپشنز کو ریٹائرمنٹ کی بچت کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنا ممکن ہے ، لیکن 401 (کے) یا آئرا میں آپ کی سرمایہ کاری جس طرح ہوگی اس سے وہ ٹیکسوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
کیا یہ آپ کا دلال ہے جو آپ کو اپنی تجارت کھو دیتا ہے؟ انٹرفیس حسب ضرورت ہے: آپ پینل کو منتخب کرسکتے ہیں ، اس کا مقام اور سائز تبدیل کرسکتے ہیں۔ ہاٹکی کے امتزاج کو ترتیب دے کر اور مسدود کرنے کے موڈ کو مرتب کرکے ، آپ پروگرام کے استعمال کو بہت آسان بنا سکتے ہیں۔ ہم جمع کئے جانے والے ڈیٹا کو مختلف مدتوں کیلئے اپنے پاس رکھتے ہیں جس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے، ہم اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں اور آپ اپنی ترتیبات کو کیسے کنفیگر کرتے ہیں:
ان حالات میں سے ہر ایک میں مستقل مزاجی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والے کسی بھی اقدام کے ل For ، چاہے اوپر ہو اقتصادی کیلنڈر یا نیچے ، فراہمی اور طلب میں ایک خاص تبدیلی ہونی چاہئے۔
پھیلاؤ کس چیز پر منحصر ہے :اقتصادی کیلنڈر
9۔ کریگ لسٹ ایک ایسا آن لائن مارکیٹ پلیس ہے جو محل وقوع کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے جہاں بزنس کی میعاد ختم ہونے والی کاروباری فہرست اور اشتہارات پوسٹ کر سکتے ہیں۔
این باعث می شود که خطاهای ناشی از تاثیر انسان بر وضعیت را از بین ببرد.
تاہم سایڈست کی شرح رہن، اس کے سودے کی شرح کو مخصوص وقفے پر ری سیٹ کرتا ہے اور گھر کے مالک کے لئے دماغ میں مخصوص اہداف کے ساتھ ایک طاقتور آلہ بن سکتا ہے.
مزید برآں ، نیم اسٹار لمیٹڈ ایسے گاہکوں کو قبول نہیں کرتا ہے جو رہائشی ہیں **: آخری بار کب کسی نے امریکی ڈالر درست کیا تھا؟ یو ایس ٹکسال ایک چکنا چکر بھی باہر نہیں لے سکتا (ماضی کا ایک مہنگا ، اناڑی شبیہہ)۔ آخر میں ہم اپنے تیار شدہ کراسبو کے ساتھ جانے کے ل some کچھ بولٹ بنائیں گے۔ وہ جنگل سے آدھا گھنٹہ چل رہا تھا جب اس نے ایک ایسے مہربان بوڑھے سے ملاقات کی جس نے اس کا استقبال کیا۔ اس کا ایک چھوٹا سا مکان تھا ، اور جب انہوں نے بڑھئی کو دیکھا تو اس نے اسے چائے کے لئے بلایا۔ اس نے بڑھئی کے چہرے پر پریشانی دیکھی اور اس سے پوچھا کہ کیا غلط ہے۔ چنانچہ ، بڑھئی نے اسے اپنی بد قسمتیوں کے بارے میں بتایا جبکہ بوڑھے نے قریب سے اور سکون سے اس کی بات سنی۔ آنصاری آن لائن کی جانب سے یہ آرٹیکل پرو ٹریڈرز کے لیے ہے۔ آرڈر بلاک کسے کہتے ہیں۔اور مارکیٹ میکر آرڈر بلاک کو کیسے استعما ل کرتے ہیں۔ اگر آپ تجارت میں نئے ہیں اور آپ کے پاس ٹریک ریکارڈ نہیں ہے تو ، آپ کا روزانہ اسٹاپ مسلسل تجارت میں کھوئے ہوئے فیصد ، یا فیصد کے نقصان پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ ان دونوں طریقوں کا استعمال مثالی ہے۔ لہذا ، اب آپ جانتے ہو کہ صبح کا ستارہ کس طرح کام کرتا ہے۔ اگر آپ کامیابی سے اپنے آپ کو اس نمونہ سے واقف کرنے کا انتظام کرتے ہیں تو آپ کو رجحان کے الٹ جانے کی نشاندہی کرنے میں زیادہ آسان وقت درکار ہوگا۔ مینوفیکچروں نے مخصوص قسم کے ہینڈلز کے ساتھ تھوڑی مقدار میں اشیاء بنائیں۔ نتیجے کے طور پر ، ہینڈلز کی کچھ اقسام گیجٹ کو زیادہ قیمتی بنا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، بہت سے جمع کرنے والے لال یا سبز رنگ کے لکڑی کے ہینڈل والی اشیاء تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ 1930 اور 1940 کی دہائی میں بہت مشہور تھے۔ کچھ ہندوستانی تاجر بھارت سے رقم کی منتقلی کے لئے اسکرل اور نٹلر جیسے ای بٹوے استعمال کرتے ہیں۔ ای ٹورو جیسے تجارتی پلیٹ فارم معیاری کے ساتھ تجارت کرنے کے لئے متعدد کرنسیوں کو امریکی ڈالر میں تبدیل کردیں گے (یہ 0.5 XNUMX تبادلوں کی فیس کے ساتھ آتا ہے)۔ فائدہ اٹھانے والے خریداری کی ایک اور عام وجہ سرکاری کمپنی کو نجی رکھنا ہے ، اکثر اس کمپنی کی انتظامی ٹیم کے اکسانے پر۔ اس کے علاوہ ، یہ کارپوریشن کے کچھ حصوں کو الگ کمپنیوں میں چھڑانے کے راستے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جمع شدہ آمدنی ہے کارپوریشن کا خالص منافع جو حصص یافتگان کو منافع کے طور پر نہیں دیا جاتا ہے۔ وہ کمپنی میں لگائے جاتے ہیں۔ اور.
کسی کمیونٹی اور مددگاروں کے ساتھ ، تاثرات جمع کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اگرچہ کچھ حامی اس مہم کے بارے میں آراء پیش کرسکتے ہیں ، دوسرے ، مصنوعات ، انعامات اور کمپنی کی پیش کش کو بہتر بنانے کے طریقے تجویز کرسکتے ہیں۔ تاجروں کو ہر خیال کو حل کرنے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن رائے دہندگان کے حامیوں کا ایک گروپ ہونا پیش کش کو بہتر بنانے اور مصنوعات اور مارکیٹ کے مناسب ہونے کی نشاندہی کرنے میں قیمتی ثابت ہوسکتا ہے۔ گویا نفی ذات کا پُل صراط عبور کرتے ہی فی الفور انسان اثباتِ ذات کی اس جنت میں داخل ہو جاتا ہے جس کا نام خودی ہے۔ جنت کی ہر شے عبادُالرحمن کے لیے مسخرّاور مطیع ہوگی۔ صاحبِ خودی (سحرخیز) انسان بھی حیات و کائنات کو اپنا مطیع و منقاد پاتا ہے۔ اسے ہر طرح کی قوت و سطوت، شان و شوکت اور عظمت حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے وہ مظاہر و مناظر، جن سے وہ رازِ کائنات پوچھتا پھرتا تھا، اب اسے اپنی گردِ راہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے نالۂ سحرگاہی اور فغانِ صبح گاہی میں ایک ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس سے نہ صرف فرد کی اپنی قسمت، بلکہ قوموں کی اجتماعی تقدیر بھی منقلب ہو سکتی ہے۔ علّامہ اقبال اپنی ہمشیرہ کریم بی بی کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ٹروکائوس ٹریل کی ایک خاص بات ، البغرق سے بہت دور نہیں ، ٹنکرٹاؤن میوزیم اور جائیداد ہے۔ مرحوم آرٹسٹ ، راس جے وارڈ ، نے آپ کے لطف سے لطف اندوز ہونے کے لئے چھوٹے اور بڑے دونوں ڈسپلے بناتے ہوئے سال گذارے۔ ٹنکر ٹاؤن نے تفصیل سے انکار کیا - آپ کو ابھی ملاحظہ کرنا ہوگا۔ فنکار نے اپنے کیریئر کا آغاز بڑے سرکس اور کارنیوال کے اشاروں سے ، اکثر ٹارپس اور کینوس پر کرتے ہوئے کیا۔ ٹنکر ٹاؤن کے نام سے موسوم اس نے آخر کار اپنے فن اور نقائص کے ساتھ ایک ٹریول شو پیش کیا۔ 1 - 4 ایچ ڈی ایم آئی 5 - 6 ایچ ڈی ایم آئی 7 - 8 ایچ ڈی ایم آئی 9 - 10 ایچ ڈی ایم آئی 11 - 12 ایچ ڈی ایم آئی.
ہاں یہ ہے۔ ایپوکسی رال کو پچاس سال کے قریب تیار کیا گیا ہے اور وہ پلاسٹک کنبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب رال اور ہارڈنر گھل مل جاتے ہیں تو ، کیمیائی رد عمل اور نتیجہ میں سخت ٹھوس مواد ملتا ہے۔ پالئیےسٹر رال اور ایپوکسی رال تھرمو سیٹنگ رال ہیں. سیکیورٹیز ، اجناس اور مالیاتی خدمات کے سیلز ایجنٹ ، بشمول اسٹاک تاجر $ 67،310 (2016) کی اوسط سالانہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ * اس میدان (2016) میں تقریبا 37 376،000 افراد کام کرتے ہیں۔ * سیکیورٹیز اور سرمایہ کاری فرمیں ان میں سے بیشتر کو ملازمت دیتی ہیں۔ مزدوری کے اعدادوشمار (بی ایل ایس) کے مطابق ، اس پیشہ میں ملازمت کا اچھا نظریہ ہے۔ 2016 اور 2026 کے درمیان تمام پیشوں کے لئے اوسطا اوسطا روزگار بڑھنے کا امکان ہے۔
ویگا ایک دلچسپ کردار ہے ، نہ صرف خوبصورتی کے ساتھ اس کے سحر کے لئے ، بلکہ اپنے جزبے پنجہ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے انوکھے انداز سے لڑنے کے انداز میں بھی۔ وہ ہتھیار لے جانے کے ل carry کچھ SF کرداروں میں سے ایک ہے۔ اس نے بیل فائٹنگ اور ننجوتسو سیکھا ، اور کیج فائٹر بن گیا۔ تمام بیماریاں یکساں طور پر قابل قدر نہیں ہیں.
یہاں ایک انٹری فیس ہے ، جتنا کم. 2۔ اس کے ساتھ ، آپ 1500 XNUMX کے بونس کی تلاش کر رہے ہیں۔ نیز ، داخل کرنے کے ل you ، آپ کو ورکنگ IQ آپشن اکاؤنٹ کی ضرورت ہے۔ . کرسنتیمم پھر تقسیم ہوجاتا ہے۔ جب یہ بصری تغیر پزیر ہوتا ہے تو ، آڈٹوری ہیلسیسیشن کا تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے ، جس کی خصوصیات شعلے کو پھٹنے سے ملتی ہے۔
جب ریورس ہوتا ہے تو تاجر بڑی پریشانی میں پڑ جاتے ہیں۔ ین لے جانے والی تجارت میں ، یہ اس وقت ہوتا ہے جب یا تو ین کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے یا ڈالر کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تاجروں کو جو قرضہ لیا ہے اس کو واپس کرنے کے لئے مزید ڈالر حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر فرق کافی ہے تو ، وہ دیوالیہ ہوسکتے ہیں۔ اگر میری اب تک کی گذارشات سے یہاں بیٹھے کالم نگار پہلو بدل رہے ہیں تو ان کے اطمینان کے لئے عرض کر دیتا ہوں کہ ڈاکٹر کے پاس جانے والا وہ کالم نگار میں ہی تھا۔
|
2022/01/24 18:06:20
|
https://hostclick.website/category-7/page-918332.html
|
mC4
|
منشا پاشا نے والد کی یاد میں کون سا یادگار کام کیا؟ – Khouj News
منشا پاشا نے والد کی یاد میں کون سا یادگار کام کیا؟
WebDesk3مئی 2, 2022
اداکارہ منشا پاشا نے بہنوں کے ساتھ مل کر اپنے والد ڈاکٹر طارق پاشا میمن کی یاد میں مسجد تعمیر کروائی ہے۔
انسٹاگرام پر مسجد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے مداحوں کو اس خوبصورت عمل کی اطلاع دی اور ایک پوسٹ شیئر کی۔شیئر کی گئی تصویر میں ' مسجد طارق' کے نام سے تعمیر کروائی گئی خوبصورت مسجد کو دیکھا جاسکتا ہے، ایک تصویر مسجد میں محمد طارق پاشا کی یاد میں لگائی گئی تختی کی ہے جس میں منشا پاشا اور ان کی بہنوں کے نام درج ہیں۔اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 'رمضان کے مقدس مہینے میں ہم کراچی سے 4 گھنٹے کی دوری پر ایک مسجد کی تعمیر مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں مسجد کی تعمیر کرنے والے مزدوروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہم بطور خاندان خاص طور پر ان تمام مزدوروں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اس مبارک مہینے میں اسے مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے، آپ کے تعاون، دعاؤں اور مہربان جملوں کے لیے آپ سب کا شکریہ۔
منشا پاشا نے یہ بھی لکھا کہ ہم ہمیشہ اللہ کے شکر گزار ہوں گے کہ اس نے ہمیں اس کام کو انجام دینے کا موقع اور اسباب عطا کیا۔
اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں مداحوں سے والد کے لیے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ برائے مہربانی میرے والد کے لیے دعا کریں کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
|
2022/05/28 11:41:18
|
https://www.khouj.com/entertainment/326302/
|
mC4
|
پنجابی بلوچ۔۔بھائی بھائی
مرزا نعیم الرحمن
Aug 25, 2020 | 17:54:PM
جس طرح پاک فوج سرحدوں کی محافظ ہے اور اندرون پاکستان عوام کی ہر مشکل میں مدد کیلئے کسی رنگ نسل اور علاقائی تقسیم کے بغیر اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے اسی طرح پاکستانی پولیس کم وسائل کے باوجود تمام صوبوں میں جرائم کے خلاف سینہ سپر ہے خیبر پختونخواہ ہو' یا سندھ' پنجاب ہو یا بلوچستان' پولیس کی اجتماعی کارکردگی کی بدولت آج ایک پر امن پاکستان دنیا بھر کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم کسی دہشت گری کو سپوٹ کرتی ہے بادی النظر میں پاکستان کے مختلف صوبوں میں جرائم کے مختلف طریقہ کار ہیں پنجاب میں زن' زر اور زمین کی لڑائی ہے تو خیبر پختونخواہ میں جرائم اس سے زیادہ مختلف نہیں افغانستان کے ساتھ سرحد ملنے کی وجہ سے اس صوبے کو بھی ماضی میں دہشت گردوں نے اپنے نشانے پر رکھا۔ سندھ میں پولیس پولیس وڈیرا ازم کا طلسم توڑنے کیلئے کوشاں ہے،ایک لسانی تنظیم کی ماضی کی دہشت گردی کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف بلوچستان پولیس کو دیگر صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔
بلوچستان میں لسانی اور علیحدگی کی تحریکیں پولیس کی شاندار قربانیوں اور کارکردگی دم توڑ رہی ہیں، ان تحریکوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی مکمل آشیر باد حاصل ہے، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان میں سرگرمیوں سے تمام ادارے مکمل طو رپر آگاہ ہیں جسے سزائے موت کی سزا کا سامنا ہے، جس میں بڑی حد تک اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے جبکہ عالمی دہشت گردی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی بلوچستان بالخصوص لورالائی ہے۔
پنجاب میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کرا کے کرائم فائٹر کا خطاب حاصل کرنے والے فخر پنجاب پولیس سید علی محسن کاظمی کو جو بلوچستان تعیناتی سے قبل پنجاب کے سب سے خطرناک ضلع گجرات کے ڈی پی او کے فرائض منصبی احسن طریقے سے سر انجام دے رہے تھے نے دوران تعیناتی کئی دہائیوں سے روپوش اور سرگرم عمل اشتہاری مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا کو ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی دیکر بلوچستان کی سب سے زیادہ خطرناک ڈویژن کا آر پی او مقرر کیا گیا۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس محسن حسن بٹ کی عقابی نگاہوں نے سید علی محسن کاظمی کی صلاحیتوں کو ایک ہی نظر میں پرکھ لیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان ملک کا بڑا صوبہ جسے وسائل دیگر صوبوں کی نسبت سب سے کم ہیں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کامیابی کسی کو طشتری میں رکھ کر نہیں ملتی قدم قدم پر خطرات اور پھر ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے وطن کی محبت میں سرشار بلوچستان پولیس کے افسران و ملازمین کی کارکردگی خراج تحسین کے قابل ہے۔
آر پی او لورا لائی سید علی محسن کاظمی نے لورالائی رینج کا چارج سنبھالتے ہی علاقے کو بلوچستان کا سب سے مثالی اور پر امن ڈویژن بنانے کا عہد کیا ،بلاشبہ یہ انتہائی مشکل تھا مگر جذبہ جوان اور توکل اللہ ارادہ مضبوط ہو تو کوئی کام ایسا نہیں جو ناممکن ہو۔ ان سطور میں اگر منشیات، اسلحہ وغیرہ کی ریکوری کا ذکر جائے تو یہ بھی اصطلاح ہر جگہ استعمال ہوتی ہے مگر سید علی محسن کاظمی نے تعیناتی کے بعد نہ صرف علاقہ کے سرداروں کے ساتھ تعلقات کو اس قدر خوشگوار اور خوبصورت ڈھانچے میں ڈال دیا کہ اسکی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے ۔پاکستانی زائرین بلوچستان کی اس ڈویژن لورالائی کے راستے ایران زیارت پر جاتے ہیں، ماضی میں دہشت گردوں نے سینکڑوں پنجابی زائرین کو بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا حتی کہ آر پی او کی رہائشگاہ کے اندر داخل ہو کر بھی متعدد پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا ،اس علاقے میں بطور اعلی پولیس آفیسر کے لیے تعیناتی ایک ڈراؤنا خواب سا تھا مگر ایمان مضبوط اور جذبہ جوان ہو تو مشکل راستے بھی سہل بن جاتے ہیں۔ دشوار گزار علاقے بھی آسان نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں بنیادی طو رپر پولیس کو تحفظ اور ان کے مسائل حل کر کے ہی ایک نئی اور مضبوط فورس تیار کی جاسکتی ہے ۔
سید علی محسن کاظمی کو انقلابی اقدامات کیلئے وزیر اعلی سے لیکر آئی جی بلوچستان کا مکمل اعتماد اور تعاون حاصل ہے، انہوں نے پولیس کے شہداء کے لواحقین کے سرپر دست پدری رکھا اور اقلیتوں کو احساس تحفظ دیا، یہی وجہ ہے کہ آج لورا لائی کے ہر شہر، گاؤں اور قصبہ کے رہائشی خود کو پولیس فورس کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں پنجابی زائرین کو ایران زیارات کیلئے جانے کے لیے جو احساس تحفظ آج ہے وہ پہلے نہیں تھا۔ بلوچ' پنجابی اتحاد کو سید علی محسن کاظمی نے اس قدر مضبوط بنا دیا ہے کہ اسکے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار جو بلوچستان اور پنجاب کی پٹی کے قریب آبائی گاؤں میں اکثر اوقات آتے جاتے رہتے ہیں، بلوچ عوام میں بھی اپنی معصومانہ قول وفعل اور غریب پروری کی وجہ سے انتہائی مقبول ہیں، بلوچ عوام کی خوشیوں اور مختلف تقریبات میں جاتے رہتے ہیں، اس علاقے کے بلوچ سردار انہیں بے حد پیار کرتے ہیں اور ان سے اکثر وہ امن و امان کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں، عوام اور سردار سبھی اس امر کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ جب سے سید علی محسن کاظمی جو پنجاب پولیس سے بلوچستان تعینات ہوئے ہیں نے علاقے کو امن کا گہوارہ بنادیا ہے ۔
سید علی محسن کاظمی کی کارکردگی کی بدولت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی اس علاقہ میں دستاربندی کے موقع پر سید علی محسن کاظمی آر پی او لورا لائی کی بھی دستار بندی کی گئی جو بہت بڑا اعزاز ہے، پنجاب کے ہردلعزیز اعلی پولیس آفیسر سید علی محسن کاظمی جو پنجاب میں عوامی نمائندوں کی طرح بے حد مقبول ہیں انکی بطور آر پی او لورا لائی کارکردگی پر بھی بے حد خوش و خرم ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ جہاں بھی تعینات رہیں عوام کے ہمدرد اور ظالموں کے لیے ننگی تلواراور قہر خداوند ی بن کر ٹوٹتے رہیں۔
|
2020/10/01 22:45:34
|
https://dailypakistan.com.pk/25-Aug-2020/1175178
|
mC4
|
علی محمد افغانی 2017/02/10 فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے
2012 میں ، فنرا بروکرچیک میں انکشافات میں اضافے پر غور کررہا ہے ، جیسے: سکن پرو سکین ٹیگ ہٹانے والا اور تل درست کرنے والا میڈیکل گریڈ 17٪ سیلیسیلک ایسڈ سے متاثر ہے۔ یہ سب سے تیزی سے کام کرنے والی جلد کے ٹیگ اور تل کو اتارنے والوں میں شامل ہے۔ بوتل میں ایک الٹرا فائبر برش ایپلیکیٹر ہوتا ہے۔ اس حل کو دن میں دو بار لگانے سے جلد کا ٹیگ خشک ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ٹیگ بارہ ہفتوں میں قدرتی طور پر گر جاتا ہے بغیر کسی تکلیف کے۔ محلول میں چائے کے درخت کا تیل جلد کی لالی اور سوجن کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ حل استعمال کرنا آسان ہے ، داغ کی تکلیف نہیں دیتا ہے ، اور فلیٹ موروں پر ایک اشیاء تجارت پر CFDs کنواں پر کام کرتا ہے۔ 2020 میں خریدنے کے لئے اون کے 13 بہترین دستانے.
اب ہم باقاعدہ موٹر وے پر سفر کر رہے تھے۔ ترکی میں صرف دو موٹر وے ہیں۔ اشیاء تجارت پر CFDs ایک استنبول اور انقرہ کے درمیان اور دوسری جنوب میں غازی انٹپ اور انطالیہ کے درمیان۔ اس موٹر وے کا معیار اچھا تھا مگر اس کے مقابلے میں ہماری موٹر وے کافی بہتر ہے۔ سڑک کے دونوں کناروں پر ایمرجنسی لین بہت ہی تنگ تھی جس کی وجہ سے تنگی داماں کا احساس ہو رہا تھا۔ سعودی عرب کی عام سڑکوں پر بھی تقریباً ایک لین کے برابر ایمرجنسی لین چھوڑی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھلے پن کا احساس ہوتا ہے۔ موٹر وے پر رات کی ڈرائیونگ میں مدد کرنے والے اسٹڈ نصب نہیں کیے گئے تھے۔ ہمارے ساتھ کھاتہ کھولنے کے ل you ، آپ کو اندراج کے عمل کی شناخت کے طریقہ کار کو ختم کرنے کی ضرورت ہوگی ، آپ کو ہمیں بین الاقوامی ذاتی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی ، یعنی۔ پاسپورٹ یا شناختی کارڈ. غیر منافع بخش اور منافع بخش مائیکرو فنانس کاروباری اداروں کے مابین تقسیم کے علاوہ ، دوسری تنقیدیں بھی موجود ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ انفرادی مائکروولین provide 100 کی آزادی فراہم کرنے کے لئے اتنے پیسے نہیں ہیں ، بلکہ ، وہ وصول کنندگان کو روزی کی سطح پر تجارت میں کام کرتے رہتے ہیں ، یا صرف بنیادی ضروریات کا احاطہ کرتے ہیں ، جیسے کھانا اور رہائش۔
اشانتی اشیاء تجارت پر CFDs مشرقی افریقہ کے گھانا میں رہتے ہیں۔ یہ ایک نسبتا new نیا قصبہ ہے جو 50 سال قبل تشکیل دیا گیا تھا ، جب اکانیس نسلی گروہ تقسیم ہوگیا تھا۔
اگر آپ عام طور پر ایک ٹانگ کو دوسرے کے پار عبور کرنے کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، خاص طور پر اگر یہ ٹانگ ایک ہی جگہ کے بجائے ایک ہی جگہ پر ہے ، تو آپ اپنے کولہے کے مشترکہ اور ساکروئلیک جوائنٹ پر مستقل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جب وہ جوڑ زیادہ لمبے دبے جاتے ہیں تو ، اس کے نتیجے میں بے حسی اور درد ہوتا ہے۔ اگر آپ کے ٹانگوں کو پار کرتے وقت آپ کے کولہے یا درد کی تکلیف زیادہ تر ایک طرف ہوتی ہے تو ، یہ علامت اسکیاٹیکا اشیاء تجارت پر CFDs کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آئیے ان میں سے کچھ پر ایک نظر ڈالیں آپ بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں کام کی جگہ پر صنفی مساوات اور دریافت کریں کہ ایسا کرنے سے آپ کے کاروبار کو کیا فائدہ ہوگا۔ اسٹاک مارکیٹ کے وسیع تر دائرہ کار کا جائزہ لیتے وقت ، سرمایہ کار معاشی عوامل کا جائزہ لینے کے لئے بنیادی تجزیہ کا استعمال کرتے ہیں ، جس میں معیشت کی مجموعی طاقت اور مخصوص صنعت کے شعبے کے حالات شامل ہیں۔
|
2022/05/25 16:45:16
|
https://cryptoawareness.space/category-17/page-461786.html
|
mC4
|
نئی تجارتی حکمت عملی ،قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی
فلیمک جنیڈی 2020/10/11 ٹریڈنگ ٹولز
یہ طویل مدتی آرڈرز ہیں ، آپ کو یقین ہوسکتا ہے کہ آپ کو چھوٹے اتار چڑھاو کا سامنا نہیں ہوگا ، اسی طرح قیمتوں میں ہیرا پھیری بھی ہوگی۔ قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی گیلری کے اشتہارات ایک ہیں سرچ اشتہار میں مربوط نیا اشتھاراتی فارمیٹ۔ وہ موبائل پر متحرک ہیں اور ان کے طول و عرض مشتھرین کو متن کے اشتہار سے پہلے اور یہاں تک کہ عمیق تجربات پیش کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ اثر انداز کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ انسانیت چھوٹے کاروباروں کے لئے ہوم بیس اور جب میں کام کرتی ہوں جیسے شیڈول تیار کرنا آسان بناتا ہے۔ ملازمین شفٹوں کی تجارت کرسکتے ہیں اور چھٹی کے وقت کی درخواست کرسکتے ہیں۔ شیڈولنگ کے دوران ، آپ اپنے کارکنوں کے ساتھ چیٹ ٹیکسٹ کرسکتے ہیں اور یہاں تک کہ کھلی شفٹوں کو بھی پوسٹ کرسکتے ہیں۔ ملازمین کہیں سے بھی اپنے نظام الاوقات دیکھ سکتے ہیں اور آزادانہ طور پر شفٹ ٹریڈز کی درخواست کرسکتے ہیں۔ انہیں شفٹ ریمائنڈر بھی ملیں گے جو آپ کو یاد دہانی کرنے والے فون کال کرنے سے بچاتے ہیں۔
اصل گرشام نه تنها در سيستم دو فلزي بلكه در صورت رواج اسكناس و مسكوك و در مورد ارزها وحتي در مورد يك نوع اسكناس نيز صادق است . مثلاً اگر ما در جيب خود دو اسكناس نو و كهنه يكصد ريالي داشته باشيم طبيعي كه اول اسكناس كهنه و پاره را خرج مي كنيم و سپس اسكناس نو و دست نخورده را به مصرف مي رسانيم . - ایم آر 1 وی قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی 2 ہوا ہوا کے چشموں کے ساتھ (125 ملی میٹر، 150 ملی میٹر، 165 ملی میٹر یا 190 ملی میٹر)
حوالہ جاتی کتب: 1۔ اے فرسٹ کورس ان دی فینیٹ ایلیمنٹ میتھڈز آتھر: ڈارلی لوگن ایئر پبلشڈ:2011 ایڈیشن: ففتھ ۔پبلشر: سینگیج لرننگ۔، بٹ کوائن ، دارالحکومت بی کے ساتھ ، دراصل اس ٹیکنالوجی سے مراد ہے جبکہ قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی چھوٹے حرف 'بٹ کوائن' سے مراد ایک قسم کی کریپٹوکرنسی ہے۔
بڑے عہدوں پر سوئچ کرنے پر تاجروں نے جو سب سے عام غلطی کی ہے وہ اچانک ہی سب سے زیادہ دستیاب قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی بیعانہ کا استعمال کررہی ہے۔ یہ کہنا ضروری نہیں ہے کہ اس قسم کی حکمت عملی سے بھاری نقصان ہوسکتا ہے۔
بہت سے مواقع پر ، اور یہ بہت ہی انسانیت کی بات ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے جب ہم یہ مانتے ہیں کہ کسی نے کچھ جیت لیا ہے جسے ہم بھی چاہتے تھے تو ہم خود اس شخص کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں۔ ہم ہر اس چیز کی تلاش شروع کرتے قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی ہیں جو سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہمارے اوپر کھڑا ہوتا ہے اور بدلے میں اور لاشعوری طور پر ہم خود کو کم سمجھتے ہیں۔ "ارغوانی رنگ! فوجی بچوں کے لئے "یوم کل - کل وہ دن ہے جس میں سب کے سب ملٹری سے منسلک طلبا کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کرنے کے لئے الگ ہوجاتے ہیں۔ APS پوری اسکول برادری کو ارغوانی رنگ کے لباس پہننے کی ترغیب دیتی ہے ، جو ہماری مسلح افواج کی پانچ شاخوں کے رنگ ملاوٹ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں آرلنگٹن میں ، ہمیں فخر ہے کہ وہ ایئر فورس ، آرمی ، کوسٹ گارڈ ، میرین کور ، نیوی ، نیشنل گارڈ اور ریزرو کنبوں کا گھر ہوں ، لہذا یہ موقع ہے کہ ہم اپنی یکجہتی اور تعاون کا مظاہرہ کریں۔ سوٹ ان ماڈیول ریپوسینٹ سور ان پلیٹفارم پبلیک پار لاکایل ٹرانزیرینٹ لیس فیکٹورز éمائز پار لیس انٹرپرائزز۔ C'est le Modèle ایکٹوئل کم فیکٹچر B2G ڈالیں۔
بخش 5: انتخاب یک کارگزار معاملات بزرگ فارکس استرالیا. جارحیت اور تحریک کے درمیان ربط. تاہم ان تمام اشاروں میں کوئی بھی ملک کی اقتصادی قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی ترقی کی شرح کے لیے اچھی خبر نہیں رکھتے ہیں۔
Paliperidone: سینٹ جان کی وورت Paliperidone کے سیرم حراستی کم کر سکتا ہے. تھراپی ترمیم پر غور کریں. اپریل 2014 میں، انوگا سوسٹینا نومبر 2014، انوگا ٹرینزا مئی 2015، اوو 2002، اسپینا 2000، ورمولین 2007، یاسو-فروروکی 2013. در فصل چهارم ساختار زمانی بازار مورد بررسی قرار میگیرد: اسکالپرها به انجامِ تعداد زیادی معامله، شهرت دارند. در یک نشست معاملاتی، یک اسکالپر می تواند به راحتی ۱۰ معامله انجام دهد. اذان، نماز اور قرآن کی زبان میں تبدیلی: 1933ء میں یہ حکم جاری کیا گیا کہ اذان ترکی زبان میں دی جائے اور قرآن مجید کی تلاوت ترکی زبان میں کی قلیل مدتی ٹائم فریم کیلئے تجارتی حکمت عملی جائے۔ نماز بھی ترکی زبان میں ادا کی جائے۔
|
2021/09/22 17:51:28
|
https://mp4adda.site/category-9/page-487519.html
|
mC4
|
سوال # 156526
حضرت، دو بچوں کے بعد اور حمل رکھنا نہیں چاہتا ہوں، اس کے لیے کیا صورت اپنانی چاہئے؟ براہ کرم! رہنمائی فرمائیں۔
جواب # 156526
Fatwa:277-254/L=3/1439
بغیر کسی مجبوری کے مانع حمل اشیاء کا استعمال مقصد شرع وشارع کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے؛ البتہ اگر عورت کی صحت خراب ہو، تکالیف حمل برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو، یا استقرار حمل میں ایسی تکالیف کا اندیشہ ہو جو ناقابل تحمل وبرداشت ہو، پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا خطرہ ہو تو ان صورتوں میں عارضی طور پر قوت وصحت کی بحالی کے لیے مانع حمل دوا مثلاً: کوپرٹی کے استعمال کرنے یا عزل (منی باہر خارج) کرنے، یا کنڈوم یا اور کوئی مانع حمل دوا استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی؛ البتہ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس کی وجہ سے دائمی طور پر قوت تولید ختم ہوجائے ناجائز اور حرام ہوگا؛ اس لیے اگر آپ کی اہلیہ کو یہ عوارض نہیں ہیں تو آپ کے لیے بلاوجہ عارضی طور پر منع حمل کا استعمال بھی مناسب نہیں اور اگر یہ نیت ہو کہ بچہ ہونے کی صورت میں ان کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا تو اس نیت سے استقرار حمل نہ ہونے دینا جائز نہیں قرآن شریف میں اس کی مذمت آئی ہے۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ "تم اپنے بچوں کو فقر وفاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی"۔
|
2019/01/22 12:34:19
|
http://darulifta-deoband.com/home/ur/Womens-Issues/156526
|
mC4
|
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے ن لیگ کا امیدوار متنازع تھا: بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کے پاس 26 امیدوار تھے جبکہ پیپلز پارٹی کو 21 سینیٹرز کے علاوہ اے این پی کے دو ممبرز، جماعت اسلامی کے ایک ممبر اور فاٹا کے دو امیدواروں کو ملاتے ہیں تو ہمارے پاس بھی 26 ممبرز بنتے تھے، سینیٹ رولز کے مطابق دو امیدواروں کے برابر ووٹ ہوں تو اس صورت میں زیادہ امیدوار والی جماعت ہی حق رکھتی ہے کہ قائد حزب اختلاف ان کا ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے سابق سینیٹر دلاور خان سے ہم نے رابطہ کیا تو انہوں نے ہمیں حمایت کا یقین دلایا اور پھر انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین آزاد سینیٹرز ان کے ساتھ ہیں، ان لوگوں نے ایک گروپ بنا رکھا ہے، میں اس فیصلے کا احترام کرتا ہوں کہ اگر حکومتی بینچز سے اٹھ کر لوگ اپوزیشن بینچز میں بیٹھ رہے ہیں تو ہمیں اسے سراہنا چاہیے، ہم حکومتی لوگوں کو توڑ کر ہی اس کٹھ پتلی حکومت کے خلاف پارلیمان میں جدوجہد کر سکتے ہیں۔
مریم نواز کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا چاہوں گا کہ پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار رہے کیونکہ اس کی بنیاد میں نے رکھی تھی، مریم نواز کی بہت عزت کرتا ہوں اور پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا اس لیے ان کے بیان پر ردعمل نہیں دوں گا، آپ لوگ اپوزیشن کو کیوں لڑوائی کرنا چاہتے ہیں۔
#سینیٹ #میں #اپوزیشن #لیڈر #کیلئے #لیگ #کا #امیدوار #متنازع #تھا #بلاول #بھٹو #زرداری
ہراسگی اور قتل کا الزام، صبا قمر کے ہونیوالے شوہر کا ردعمل سامنے آگیا
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سامنے پی سی بی کی کوتاہیوں کی داستانیں بیان ہونے لگیں، کچے چٹھے کھل گئے آئسولیشن کے مناسب انتظامات نہ تھے، ایونٹ سے قبل ویکسی نیشن کرانے کی تجویزنہ مانی :فرنچائزز
|
2021/06/13 17:11:32
|
https://hamidmirnews.com/1747/
|
mC4
|
اسلام آباد : پاکستان میں کورونا ویکسی نیشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کل سے ہوگا ، ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں سینئرسٹیزن کو ویکسین کیلئے ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ملک بھر میں ویکسینشن کا دوسرا مرحلہ 10 مارچ سے شروع ہوگا ، انشااللہ دوسرے مرحلے کا آغاز سینئر سٹیزن سے ہوگا ، جنہیں ویکسین کیلئے ایس ایم ایس بھیجا جائے گا۔
یاد رہے دو روز قبل این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ساٹھ سال سے زائد عمر کےافراد کی ویکسی نیشن دس مارچ سے شروع ہوگی، ویکسی نیشن ان افراد کی جائے گی جنہوں نے خود کو رجسٹرڈ کرایا ہے۔
واضح رہے تین فروری کو ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت کورونا ویکسی نیشن کا آغاز کیا گیا تھا، سندھ میں وزیراعلیٰ سندھ ، بلوچستان میں وزیراعلیٰ جام کمال اور خیبر پختونخواہ میں وزیراعلیٰ محمود خان نے ویکسی نیشن کا آغاز کیا۔
|
2021/04/17 21:27:48
|
https://urdu.arynews.tv/next-phase-of-covid-19-vaccination-starts-tomorrow/
|
mC4
|
عالمی مارکیٹ آرکائیوز - صفحہ 2 کا 14۔
روس کے قانون ساز کرپٹو کے لیے ریگولیٹری فریم ورک ، ڈیم انڈسٹری کو خطرناک سمجھتے ہیں۔
نئی رپورٹوں کے مطابق ، روس کی وفاقی اسمبلی کے ایوان زیریں ، اسٹیٹ ڈوما نے کرپٹو کرنسی کو ایک "خطرناک مالیاتی آلہ" نجی سرمایہ کاروں کے لیے اس نے کہا ، سرکاری بازو نے حال ہی میں ٹریڈنگ کرپٹو کے ارد گرد ایک ریگولیٹری فریم ورک کو نافذ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ، اناتولی اکساکوف - ڈوما کمیٹی برائے مالیاتی مارکیٹ کے سربراہ نے دلیل دی کہ اگرچہ کرپٹو کرنسی کچھ سرمایہ کاروں کے لیے اہم منافع پیدا کرتی ہے ، وہ اپنے صارفین کے لیے اہم خطرات لا سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ، روسی قانون ساز صنعت کے مخصوص قوانین کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، یہ کہتے ہوئے کہ:
ڈیجیٹل اثاثے ہماری قریبی توجہ کا موضوع ہیں ، اور یہاں ہم دیکھیں گے کہ ڈیجیٹل کرنسیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت اپنے شہریوں کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کیسے کی جائے کیونکہ ایک نیا ٹول ہے ، اور یہ ایک غیر ہنرمند سرمایہ کار کے لیے کافی مشکل ہے۔
ہمیں یقینی طور پر ایک غیر پیشہ ور سرمایہ کار کو ڈیجیٹل کرنسیوں میں غیر مناسب سرمایہ کاری سے بچانے کے لیے مخصوص قانون سازی کی ضرورت ہے۔
تاہم ، انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ کے ایک اعلیٰ ایگزیکٹو ، الیگزینڈر ابراموف نے قانون سازوں کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ابراموف نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں نے حالیہ برسوں میں مغربی منڈیوں کے لیے بے شمار فوائد فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ کرپٹو کرنسی مرکزی حکومت کے مالیاتی منصوبوں کے لیے ٹھوس مقابلہ بن چکی ہے ، جو حکومتوں کی طرف سے روکنے کی وضاحت کرتی ہے۔
حال ہی میں ، الور گروپ کے بانی اناتولی گیوریلینکو نے نوٹ کیا کہ اگر حکام کرپٹو پر پابندی لگاتے ہیں تو بھی عوام ہمیشہ ان کے حصول اور استعمال کے طریقے تلاش کرتے ہیں ، یہ بتاتے ہوئے کہ:
"کرپٹو کرنسی آزادی کی ایک خاص علامت ہے۔ مالی آزادی ، یہ تمام ریگولیٹرز کے لیے ایک اشارہ ہے کہ لوگوں کو کسی کونے میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ ہمیشہ ایسی چیز لے کر آئیں گے جو انہیں پابندیوں کو نظرانداز کرنے پر مجبور کرے گی۔
کرپٹو کے خلاف روس میں اپیکس بینک۔
بہر حال ، روس کے مرکزی بینک نے اثاثوں کی کلاس سے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جون میں ، روس کے مرکزی بینک کے سربراہ الویرا نبیولینا نے اس بات پر زور دیا۔ "کرپٹو میں سرمایہ کاری کسی بھی دوسری حکمت عملی سے زیادہ خطرناک ہے۔" اس نے مزید کہا کہ:
"قیاس آرائی کے اثاثے یقینا all سب سے خطرناک حکمت عملی ہیں۔ مرکزی بینک کبھی مشورہ نہیں دیتا کہ کہاں سرمایہ کاری کی جائے ، لیکن اس خاص معاملے میں - یہاں [ایک] یقینی طور پر [سرمایہ کاری] نہیں کرنا چاہیے۔
اس سب کے ساتھ ، قیاس آرائی کرنے والوں کو خدشہ ہے کہ روسی حکومت جلد ہی کرپٹو پر غیر دوستانہ موقف اختیار کر سکتی ہے۔
ٹیگز Cryptocurrency, خبریں, ریگولیشن, روس
ٹیگز بٹ کوائن, برازیل, Cryptocurrency, خبریں
بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ (بی آئی ایس) اور مرکزی بینکوں کے ایک گروپ کی جانب سے شائع کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی تیزی سے آبادکاری اور سستی منتقلی کو فروغ دے سکتی ہے۔
تقریبا two دو ہفتے قبل ، بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ (بی آئی ایس) انوویشن ہب کے سربراہ ، بینوٹ کورے نے کہا کہ مرکزی بینکوں کو مینڈیٹ اٹھانا چاہیے اور سنٹرل بینک سے جاری ڈیجیٹل کرنسیوں (سی بی ڈی سی) کو تیار کرنا چاہیے۔ کیوری نے رائے دی کہ ڈیجیٹل کرنسی اکانومی پہلے سے موجود ہے اور مرکزی بینک اس پر غور کر رہے ہیں۔ "CBDCs کو شروع ہونے میں برسوں لگیں گے۔"
بینک ایگزیکٹو کے ان تبصروں کے بعد ، بی آئی ایس نے متحدہ عرب امارات ، ہانگ کانگ ، چین اور تھائی لینڈ کے چار مرکزی بینکوں کے اشتراک سے ڈیجیٹل کرنسی کا تجربہ شروع کیا ہے۔
ایک پروٹو ٹائپ تیار کرنے اور جانچنے کے بعد "ایک سے زیادہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی برج پروجیکٹ (ایم برج) ،" گروپ نے کچھ دلچسپ نتائج شائع کیے۔ بی آئی ایس انوویشن حب کے ہانگ کانگ مرکز کے سربراہ بینیڈیکٹ نولینس نے وضاحت کی کہ ڈیجیٹل کرنسی بینکنگ انڈسٹری کے لیے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے اور عام طور پر معیشت کو بلند کرے گی۔
پیر کو شائع ہونے والے ایک بیان میں ، نولنس نے نوٹ کیا کہ: "تیزی سے اور سستی سرحد پار تھوک ادائیگیوں کو فعال کرنا ، بشمول ایسے دائرہ اختیارات جو متحرک نامہ نگار بینکاری نظام سے فائدہ نہیں اٹھاتے ، تجارت اور معاشی ترقی کے لیے مثبت ہوں گے۔"
بینک نے انکشاف کیا کہ ڈویلپرز نے ایتھریم کے ہائپرلیجر بیسو بلاکچین پر ایم برج پروٹوٹائپ لانچ کیا۔
ڈی ایل ٹی پر ڈیجیٹل کرنسی لین دین عام کراس بارڈر ادائیگیوں کے نظام سے 50 فیصد زیادہ موثر ہے۔
ٹیسٹوں کے مطابق ، تقسیم شدہ لیجر ٹیکنالوجی (DLT) سرحد پار لین دین کی لاگت کو 50 فیصد کم کر دیتی ہے ، اور بستیاں سیکنڈوں میں مکمل ہو جاتی ہیں۔
دریں اثنا ، گروپ نے اپنی توجہ قانونی مسائل اور دائرہ اختیار میں رکاوٹوں کی طرف مبذول کر لی ہے۔ "پیداوار کے لیے تیار ڈیجیٹل کرنسی حل۔" دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم برج پروجیکٹ ڈیجیٹل یوآن کی تیزی سے لانچ کے دوران آیا ہے ، جو تکمیل کے قریب ہے۔
ایم برج کا تعاون سب سے پہلے بینک آف تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ کی مانیٹری اتھارٹی نے عرف کے تحت شروع کیا۔ "پروجیکٹ انٹھانون-لائنروک۔"
انفراسٹرکچر بل: امریکی کانگریس جمعرات کو منظوری پر ووٹ دے گی۔
امریکی کانگریس جمعرات کو 1 ٹریلین ڈالر کے دو طرفہ انفراسٹرکچر بل پر ووٹ دے گی ، اور ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی کو یقین ہے کہ ایک فیصلہ منظور ہو جائے گا۔
اسپیکر آفس کی جانب سے کل جاری کردہ خط کے مطابق ، حتمی قانون سازی سے قبل چار روزہ مباحثہ ہوگا ، جس سے سڑکوں ، پلوں ، اسکولوں اور دیگر بہت سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ووٹ دینے میں مدد ملے گی۔ روئٹرز کی طرف سے شائع ہونے والے اس خط میں کہا گیا ہے کہ:
"کل ، ستمبر 27 ، ہم ایوان کے فرش پر دو طرفہ انفراسٹرکچر فریم ورک پر بحث شروع کریں گے اور جمعرات ، 30 ستمبر کو اس دن ووٹ دیں گے ، جس دن سطحی نقل و حمل کی اجازت ختم ہو جائے گی۔"
ماضی میں کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے لیے بل کا ایک اہم حصہ جو کرپٹو انڈسٹری سے منسلک تمام اداروں کے لیے ٹیکس رپورٹنگ کو لازمی قرار دیتا ہے۔
بل ، جو اگست کے اوائل میں ایوان سے منظور ہوا ، نے اس لفظ کا استعمال کیا۔ "دلال" کرپٹو تنظیموں اور سافٹ وئیر ڈویلپرز ، نوڈ ویلیڈیٹرز ، سٹیکرز ، مائنرز ، ہارڈ ویئر مینوفیکچررز اور پرس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی وضاحت کرنا۔
اس نے کہا ، اگر یہ بل قطعی الفاظ کے موقع کے بغیر گزر جاتا ہے تو ، مذکورہ بالا اداروں کو داخلی محصولات سروس (آئی آر ایس) کو لین دین کی اطلاع دینی ہوگی ، جو کرپٹو ٹیکس بیس کو بڑھانے کی خواہش رکھتی ہے تاکہ اضافی 28 بلین ڈالر کی آمدنی بڑھ سکے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فنڈ
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ موجودہ انفراسٹرکچر بل امریکی کرپٹو کمیونٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔
انا ایشو ، سنتھیا لمیس ، ران وائیڈن اور پیٹ ٹومی سمیت کئی امریکی قانون سازوں نے ہاؤس کی لابنگ کی ہے ، اس بات کو برقرار رکھتے ہوئے کہ بریکٹ کی اصطلاح بہت وسیع ہے اور اس شعبے میں جدت کو روک سکتی ہے۔
12 اگست کو ، نمائندہ انا ایشو نے پیلوسی کو ایک خط لکھا ، جس میں کہا گیا تھا کہ: "کرپٹو کرنسیوں کے وکندریقرت نظام میں ، یہ افراد اور ادارے نہیں جانتے کہ خریدار اور بیچنے والے کون ہیں اور بروکر کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہوں گے۔"
امریکی کرپٹو انڈسٹری کو دور رس جھٹکا لگے گا ، اور مستقبل کی اختراعات کا مطالعہ کیا جائے گا اگر مجوزہ بل اسی طرح منظور ہو جائے۔
کچھ قانون سازوں کے اصرار پر کہ جب تک کوئی جامع اقدام تیار نہ ہو ، بل کو روک دیا جائے ، ممکنہ اضافی التوا کی بازگشت ہے۔ تاہم ، امریکی حکومت کی طرف سے محرک اقدامات اور ممکنہ قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے امریکی خزانے کے پیسے ختم ہونے کے ساتھ ، بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ امریکی کرپٹو انڈسٹری پر ممکنہ اثرات سے قطع نظر ، بل فوری طور پر منظور ہو جائے گا۔
ٹیگز Cryptocurrency, انفراسٹرکچر بل۔, خبریں, امریکی کانگریس
امریکی محکمہ خزانہ ایکسچینجز لانڈرنگ رینسم ویئر پر پابندی عائد کرے گا
امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو نشانہ بناتے ہوئے کارروائیوں کا ایک نیا سیٹ شروع کیا ہے۔ "منی لانڈرنگ تاوان کے ذمہ دار" اس نے اسے رینسم ویئر حملوں کو روکنے کے لیے حکومت کا مکمل اقدام قرار دیا۔ تنظیم نے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کے دفتر (OFAC) کی خصوصی طور پر نامزد شہریوں کی فہرست میں اداروں کو شامل کیا۔ محکمہ خزانہ کی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:
"رینسم ویئر کا مقابلہ کرنے کی پوری حکومت کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ، امریکی محکمہ خزانہ نے آج مجرمانہ نیٹ ورکس کو روکنے اور تاوان کی منی لانڈرنگ کے لیے ذمہ دار مجازی کرنسی کے تبادلے پر توجہ مرکوز کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔"
اس اقدام کا مقصد نجی شعبے میں سائبر سیکورٹی کو تقویت دینا اور امریکی حکومت کے حکام ، یا تو ٹریژری یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رینسم ویئر کی ادائیگی کی رپورٹنگ کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2020 میں رینسم ویئر کی ادائیگی 400 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ، جو 2019 میں ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے۔ محکمہ خزانہ نے نوٹ کیا کہ: "کچھ ورچوئل کرنسی ایکسچینج اس ماحولیاتی نظام کا ایک اہم عنصر ہیں ، کیونکہ ورچوئل کرنسی رینسم ویئر کی ادائیگی اور منی لانڈرنگ سے متعلقہ سرگرمیوں کو آسان بنانے کا بنیادی ذریعہ ہے۔" اس میں یہ بھی تفصیل ہے کہ:
"اگرچہ زیادہ تر ورچوئل کرنسی کی سرگرمی لائسنس یافتہ ہوتی ہے ، ورچوئل کرنسیوں کو پیر ٹو پیر ایکسچینجرز ، مکسرز اور ایکسچینجز کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں پابندیوں سے بچنے کی سہولت ، رینسم ویئر سکیمیں اور دیگر سائبر کرائم شامل ہیں۔
نئے اقدامات کے مطابق کیے گئے فوری اقدامات میں سے ایک مدد کے لیے کرپٹو ایکسچینج سویکس کی منظوری تھی۔ ransomware اداکاروں کے لیے مالی لین دین۔ ٹریژری کے مطابق ، سویکس بہت سے ہدف میں سے پہلا ہے۔ "سائبر تاوان کی منی لانڈرنگ کے لیے۔"
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایکسچینج کی خصوصیات "جو کہ امریکی دائرہ اختیار سے مشروط ہیں بلاک ہیں ، اور امریکی افراد کو عام طور پر ان کے ساتھ لین دین کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔"
امریکی محکمہ خزانہ کی سیکریٹری جینٹ یلن کے تبصرے
ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے ، سیکریٹری خزانہ جینیٹ یلن نے کہا کہ: "رینسم ویئر اور سائبر حملے امریکہ بھر میں بڑے اور چھوٹے کاروباروں کو متاثر کر رہے ہیں اور ہماری معیشت کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ ہم بدنیتی پر مبنی اداکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھیں گے۔ یلن نے مزید کہا:
"چونکہ سائبر کرائمین تیزی سے جدید ترین طریقوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں ، ہم پابندیوں اور ریگولیٹری ٹولز کو شامل کرنے ، رینسم ویئر حملوں کو روکنے ، روکنے اور روکنے کے لیے اقدامات کی مکمل رینج استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"
|
2022/01/23 20:59:10
|
https://learn2.trade/ur/%D9%82%D8%B3%D9%85/%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%B1/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81/2
|
mC4
|
مہنگائی کیخلاف مشتعل مظاہرین نے وزیر خزانہ کے گھر دھاوا بول دیا
مہنگائی کیخلاف مشتعل مظاہرین کا وزیر خزانہ کے گھر پرحملہ
بیروت ( ویب ڈیسک ) اردن میں مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام نے وزیر خزانہ کے گھر اور مرکزی بینک پر دھاوا بول دیا ٗ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ۔
تفصیلات کے مطابق لبنان میں مشتعل مظاہرین نے ہوشربا مہنگائی کیخلاف دارالحکومت بیروت میں نگران حکومت کے وزیر تجارت و خزانہ رائول نہمے کے گھر پر دھاوا بول دیا ٗ اشرفی کے علاقے میں سینکڑوں مشتعل مظاہرین پولیس کے دھکیلتے ہوئے گھر کے احاطے میں داخل ہوگئے مگر وہ پولیس کا حفاظتی حصار توڑ کر گھر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مظاہرین اس دوران حکومت مخالف نعرے بازی اور مہنگائی کےخلاف اپنا احتجاج بلند کرتے رہے۔
لبنان خلع بوابة مصرف لبنان في #صيدا ودخول المحتجين إلى داخل المبنى والمظاهرات تتواصل pic.twitter.com/jhgbZLsFxy
— محمد السنيد- إعلامي (@AlSniad) June 26, 2021
مزید برآں مشتعل مظاہرین نے لبنان کے مرکزی بنک پر بھی حملہ کر دیا ٗ اس موقع پر مشتعل افراد نے عمارت پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس دوران کئی مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ڈالر کے مقابلے ان کے ان کی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اس کی وجہ یہ نااہل حکومت ہے۔
|
2021/12/07 21:01:58
|
https://publicnews.com/29603/
|
mC4
|
ہوں گے؟ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا''اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو تم اس میں سرخ یاقوت کے جس گھوڑے پر سوار ہونا چاہو گے( ہوجاؤ گے)اور جنت میں ( تمجہاں چاہو گے)وہ تمہیں اڑا کرلے جائے گا۔ایک اور آدمی نے پوچھا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا جنت میں اونٹ ہوں گے ؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے وہ جواب نہ دیاجو پہلے شخص کو دیا تھا بلکہ ارشاد فرمایا''اگر اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں لے جائے تو جو کچھ تمہارا جی چاہے گا اور جس چیز سے تمہاری آنکھوں کو لذت ملے گی تمہیں وہی کچھ ملے گا۔( ترمذی ، کتاب صفۃ الجنۃ ، باب ما جاء فی صفۃ خیل الجنۃ ، ۴ / ۲۴۳ ، الحدیث: ۲۵۵۲)
جنت میں داخلہ اللہ تعالٰی کے فضل سے ہو گا:
ان آیات سے معلوم ہو اکہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا اور ا س کے درجات کی تقسیم نیک اعمال کے مطابق ہو گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا''تم اللہ تعالیٰ کے معاف فرمانے سے پل صراط پار کرو گے،اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہو گے اور تمہارے اعمال کے مطابق(جنت کے) درجات تم میں تقسیم کئے جائیں گے۔( در منثور ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۷۲ ، ۷ / ۳۹۴)
{وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا: اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث بنایا گیا ہے۔} حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا'' تم میں سے ہر شخص کا ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں ہے،کافر جہنم میں مومن کے گھر کا وارث بن جاتا ہے اور مومن جنت میں کافر کے گھر کا وارث بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ا س فر مان کا یہی معنی ہے۔( ابن ابی حاتم ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۷۲ ، ۱۰ / ۳۲۸۶)
لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ(۷۳)
ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔
{لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ: تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہیں ۔} یعنی تمہارے لئے جنت میں کھانے اور شراب کے علاوہ طرح طرح کے بے شمار پھل ہوں گے جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔( روح البیان ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۷۳ ، ۸ / ۳۹۲)
جنت کے سدا بہار پھل:
جنت کے پھلوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
''وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ''(واقعہ:۲۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پھل میوے جو جنتی پسند کریں گے۔
''مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا''(رعد:۳۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری یں ، اس کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے۔
اورحضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: '' اگر اہل ِجنت میں سے کوئی شخص جنتی درخت سے ایک پھل لے گا تو درخت میں اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں گے۔(مسند البزار ، مسند ابی الدرداء رضی اللّٰہ عنہ ، ۱۰ / ۱۲۳ ، الحدیث: ۴۱۸۷)
معلوم ہوا کہ جنت کے درخت سدا بہار پھل دار ہیں ،ان کی زیب و زینت میں فرق نہیں آتا۔
اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ(۷۴) لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ(۷۵) وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ(۷۶)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آ س رہیں گے۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں وہ خود ہی ظالم تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے۔اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے۔
{اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ: بیشک مجرم۔} ایمان والے متقی لوگوں کے لئے جنت کے انعامات ذکر فرمانے کے بعد یہاں سے کفار کے لئے جہنم کی سزا بیان کی جا رہی ہے۔ اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک کافرجہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں کہ جیسے گناہ گار مسلمانوں کا عذاب ختم ہوجائے گا ویسے ان کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا۔وہ عذاب ان سے کبھی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں کمی کی جائے گی، وہ اس میں نجات ،راحت اورسزا میں کمی سے مایوس پڑے رہیں گے اور یہ عذاب دے کر ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے کہ سرکشی و نافرمانی کرکے اس حال کو پہنچے ہیں ۔( روح البیان ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۷۴-۷۶ ، ۸ / ۳۹۳)
یاد رہے کہ کفار کے لئے بیان کی گئی سزاؤں میں جہاں ان کے لئے وعید ہے وہیں ان میں مسلمانوں کے لئے بھی عبرت اور نصیحت ہے کیونکہ اس بات میں اگرچہ کوئی شک نہیں کہ ہم فی الوقت مسلمان ہیں ،لیکن ہم میں سے کسی کے پاس اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ مرتے دم تک مسلمان ہی رہے گا کیونکہ جس طرح بے شمار کفار خوش قسمتی سے مسلمان
|
2020/07/04 03:01:36
|
https://www.dawateislami.net/bookslibrary/3183/page/50
|
mC4
|
پی ایس ایل چھ میں چار فرنچائزڈ بشمول اسلام آباد یونائیٹڈ، ملتان سلطانز، پشاور زلمی اور کراچی کنگز نے کولیفائرز اور الیمینیٹرز تک رسائی حاصل کرلی۔ ہفتےتک کھیلے گئے لیگ میچز کے اختتام پر مسلسل چار شکستوں کا سامنا کرنے والی ٹیم لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرپلے آف مرحلے سے باہر ہو گئی ،کراچی کنگز کے بابراعظم نے 12 چھکوں، 50 چوکوں اور 6 نصف سینچریوں کی مدد سے 10 میچ کھیل کر 501 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں سرفہرست ہیںجبکہ 9 چھکوں، 54 چوکوں اور4 نصف سینچریوں کی مدد سے 470 بناکر ملتان سلطانز کے محمد رضوان دوسرے نمبر پر ہیں۔ سرفراز احمد تیسرے نمبر پر ہیں۔
ایونٹ میں دو سنچری اور48نصف سنچریاں بنی ہیں، سنچری شرجیل خان اور عثمان خواجہ نے بنائی ہیں۔بابراعظم 6 نصف سینچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیںجبکہ محمد رضوان نے 4، سرفراز احمد اور صہیب مقصود نے تین تین اورروی بوپارہ، محمد نبی،کولن منرو،شان مصعود، فخرزمان،کامران اکمل،محمد حفیظ،شرجیل خان، شعیب ملک نے دو دومرتبہ نصف سینچری اسکور کی ہیں۔ اسی طرح کرس گیل،حضرت اللہ زازئی،اسٹرلنگ،ڈےاے ملر،کلارک،کیڈمور،عثمان خواجہ، نجیب اللہ زدران،وینس،ایچڈیوڈ،عثمان خان،افتخاراحمد، آصف علی،بین ڈنک،حیدرعلی اور ردر فورڈ ایک ایک نصف سینچری بنائی ہے۔ لیگ میں 381 چھکے لگ چکے ہیں ۔
سب سے زیادہ 23 چھکے شرجیل خان نے لگائے ہیں اور 19 ردرفورڈ نے داغے ہیں۔878 چوکوں کی فہرست میں سب سے زیادہ 54 چوکے محمد رضوان اور 50 چوکے بابراعظم نے لگائے ہیں۔سیزن چھ کے لئے کھیلے گئے لیگ میچوں میں اسلام یونائیٹڈ کی ٹیم 10میں سے 8میچ جیت کر16 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پر ہے۔لیگ میں1132 اوورز میں مجموعی طور پر 9869رنزبنے ہیں۔ سب سے بڑا اسکور 26ویں میچ میں اسلام آباد نے زلمی کے خلاف صرف 2 وکٹوں پر 247رنز بنائے اور 248رنز کے حدف تعاقب میں زلمی نے 6 وکٹوں کے عوض 232 رنز بنائے۔پی ایس ایل کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا حدف تھا اور دوسری اننگز کا بھی یہ سب سے بڑا اسکور رہا۔ مجموعی طور پر 359 کھلاڑی آ ئوٹ ہوئے، صفر پر50 مرتبہ 41کھلاڑی پویلین واپس گئے جس میں موذا ربانی، پاریرا، زاہد محمود، ڈیلپورٹ،عمار وسیم، امام الحق، حیدرعلی،شعیب ملک اور سہیل اختر دو دومرتبہ صفر پر آئوٹ ہوئے۔لیگ میںکوئی بولر ہیٹ ٹرک نہ بناسکا لیکن راشد خان نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا ۔
سب سے زیادہ 20 وکٹ رائٹ آرم فاسٹ میڈیم بولر شاہ نواز دھانی نے حاصل کی ہیں، انہوں نے 9 میچ کھیل کر 33.2 اوورز میں273 رنز دئیے اور دو مرتبہ ایک اننگز میں 4 وکٹ لینے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ ان کی بہترین بولنگ 5 رنز کے عوض 4 وکٹ ہے۔ شاہین شاہ آفریدی 16 اور وہاب ریاض 14 وکٹیں حاصل کرکے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز کے رائٹ آرم فاسٹ میڈیم ڈینئل کرسچن کے تیسرے اور اننگز کے آخری ( بیسویں)اوور میں32 رنز بنے جو پی ایس ایل میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز دینے کا ریکارڈ ہے۔
فیلڈنگ کے دوران سب سے زیادہ 8 کیچ آئوٹ افتخار احمدنے کئے ، انہوں نے ایک میچ میں تین کیچ بھی پکڑے۔ اسی طرح وکٹ کیپنگ میں محمد رضوان نے 15 شکار کئے جس میں 14 کیچ اور ایک اسٹمپ شامل ہے، انہوں نے ایک میچ میں تین کیچ اور ایک اسٹمپ کر کے چار کھلاڑیوں کو وکٹ کے پیچھے آئوٹ کیا جو ان کی بہترین وکٹ کیپنگ ہے۔
سو رنز سے زائد پارٹنرشپ میںبابراعظم اور شرجیل خان کی پہلی وکٹ کی شراکت میں176 رنز، کولن منرو اورافتخاراحمد کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 150 رنز، عثمان خواجہ اور کولن منرو کی پہلی وکٹ کی شراکت میں 137 رنز، کامران اکمل اور ڈی اے ملر کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 125رنز، افتخار احمد اور آصف علی کی چھٹی وکٹ کی شراکت میں 123 رنز، فخرزمان اور بین ڈنک کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں119رنز، بابراعظم اور محمد نبی کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں118 رنز، بابراعظم اور نجیب اللہ زدران کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں 117 رنز، محمد رضوان اور صہیب مقصود کی دوسری وکٹ کی شراکت میں 116 رنز، فخرزمان اور محمد حفیظ کی دوسری وکٹ کی شراکت میں115رنز،محمدرضوان اور صہیب مقصود کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 110 رنز، سرفرازاحمد اور اعظم خان کی چوتھی وکٹ کی شراکت میں 105رنز،عثمان خواجہ اور بی اے کنگ کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 102 رنز جبکہ کرس گیل اور سرفرازاحمد کی تیسری وکٹ کی شراکت میں 101 رنز بنے۔شاہنواز دھانی، شاہین شاہ آفریدی اور راشد خان دو دو مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔
|
2021/10/28 12:16:09
|
https://jang.com.pk/news/946023
|
mC4
|
کرسٹیانو رونالڈو نے ڈیڑھ ارب روپے کی کار خرید لی > Urduvoz
پیرس(نیوزڈیسک)پرتگال اور جویئنٹس کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ڈیڑھ ارب روپے کی کار خرید لی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بگاٹی کمپنی کی لمیٹڈ ایڈیشن گاڑی جس کی مالیت 8.9 ملین ڈالر جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ایک ارب 47 کروڑ 29 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے۔کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے باعث کمپنی نے بگاٹی سینٹوڈیک نام کی محض دس کاریں ہی بنائی ہیں۔رپورٹ کے مطابق گاڑی منظر عام پر آنے سے قبل ہی اس کے دس یونٹ خرید لیے گئے اور رونالڈو کو شمار ان خوش قسمت خریداروں میں ہوتا ہے۔گاڑی کا ڈیزائن 1990 سیریز کی گاڑی ای بی 110 سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔
|
2020/06/02 00:30:00
|
https://www.urduvoz.com/Sports/2020/03/30/260642/
|
mC4
|
فاسٹ باؤلر محمد عامر کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
لاہور (پبلک نیوز) فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ محمد عامر ایک روزہ اور ٹی 20 کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ محمد عامر نے 2009 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ سے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ محمد عامر پاکستان کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔
محمد عامر کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے روایتی فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز تھا۔ میں آئندہ میچز اور آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹونٹی 2020 میں شرکت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس برقرارکھنے کی کوشش کروں گا۔ ٹیسٹ کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اپنے سینے پر گولڈن اسٹار لوگو لگانے کا موقع دیا۔
ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ محمد عامر کا شمار موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم گراونڈ اور ڈریسنگ روم میں محمد عامر کی کمی محسوس کرے گی۔
واضح رہے کہ محمد عامر نے جولائی 2009 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ محمد عامر نے 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔ اپریل 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میچ میں 44 رنز کے عوض 6 وکٹیں محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولنگ تھی۔
|
2020/08/08 15:37:54
|
http://publicnews.com/mohammad-amir-retired-from-test-cricket
|
mC4
|
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور دم توڑتا استحقاق۔۔۔۔عامر عثمان عادل | مکالمہ
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے جس میں اسمبلی کے منتخب نمائندے اور قیادت مل بیٹھ کر رواں اجلاس کے ایجنڈے یا کسی بھی اہم ایشو پر اتفاق رائے کا حصول یقینی بناتے ہیں جماعتی پالیسیوں پر بحث ہوتی ہے اور ممبران اپنے مسائل سے قیادت کو آگاہ کرتے ہیں۔
مڈل کلاس سے ابھرنے والا مجھ جیسا ایک ایسا ایم پی اے جو کبھی کونسلر بھی نہ بنا ہو زندگی میں پہلی بار پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بیٹھا ہونقوں کی مانند ادھر ادھر دیکھے جا رہا تھا۔
اس وقت چودھری پرویز الہی وزیر اعلی پنجاب تھے کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہوئے تو کاروائی کا آغاز ہوا، وزیر اعلی نے اراکین اسمبلی کو خوش آمدید کہا ،جماعت کی پالیسی واضح کی اور اسمبلی اجلاس میں متوقع قانون سازی پر روشنی ڈالنے کے بعد ہاوس کو اوپن کر دیا گیا اب تمام ممبران صوبائی اسمبلی اپنی اپنی باری پر سوال کرنے کو آزاد تھے۔
قصور سے ایک لمبے تڑنگے ایم پی اے گویا ہوئے
جناب وزیر اعلی آپ نے پہلے اجلاس میں فرمایا تھا کہ اب ہر ایم پی اے خود کو وزیر اعلی پنجاب ہی سمجھے کچھ دن قبل پولیس میرے حلقے کے میٹرک کے طالب علم کو تھانے اٹھا کر لے گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا میں آپ کے کہنے پر خود کو وزیر اعلی پنجاب سمجھ کر تھانے چلا گیا وہاں جاکر ایس ایچ او سے شکوہ کیا کہ آپ نے اس طالب علم پر چھترول کیوں کی تو تھانیدار بولا
کی ہویا چودھری صاحب جے دو لتریاں پے گیاں۔۔۔
جناب میری سخت توہین ہوئی ہے ایس ایچ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔
وزیر اعلی کی یقین دہانی پر موصوف بیٹھ گئے،
اب بہاولپور سے ایک ایم پی اے صاحب اٹھے اور فرمایا۔۔۔
جناب وزیر اعلی میں کسی کام کے سلسلہ میں ممبر ریونیو بورڈ سے ملنے چلا گیا ان کے دفتر گیا تو صاحب بہادر میز پر ٹانگیں رکھے سگار سلگائے نیم دراز تھے مجھے دیکھ کر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور الٹا بدتمیزی سے پیش آئے۔۔۔
جناب کیا ہم دفاتر میں ذلیل ہونے جاتے ہیں؟
وزیر اعلی پنجاب نے ان صاحب کو بھی یقین دہانی کرائی کہ آپ کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا۔
اب راولپنڈی سے ایک ممبر صوبائی اسمبلی اٹھے اور شکوے کے سے انداز میں کہنے لگے جناب وزیر اعلی مجھے فلاں ناکے پر پولیس نے روک لیا تعارف کرانے کے باوجود بد سلوکی سے پیش آئے
جناب میرے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے۔
بس پھر کیا تھا ایم پی ایز کو تو زبان مل گئئ سب ہی پولیس انتظامیہ اور افسران کے خلاف بھرے بیٹھے تھے وزیر اعلی کو پھر مداخلت کرنا پڑی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا
میں ایک کونے میں بیٹھا سب کچھ دیکھ اور سن کر ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش میں تھا
میرا گمان یہی تھا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایم پی ایز وزیر اعلی کی موجودگی میں عوامی مسائل کا رونا روئیں گے اپنے حلقوں کی محرومی کا ذکر کریں گے اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کیلئے آواز بلند کریں گے لیکن یہاں تو گنگا ہی الٹی بہنے لگی تھی۔
کسی ناکے پر روکا جانا کسی دفتر میں سرکاری افسر کی جانب سے پروٹوکول نہ ملنا یا پولیس افسران کا جی حضوری نہ کرنا یہ سب عوامی نمائندوں کی توہین کا باعث بنتا ہے۔
لیکن یہ استحقاق اس وقت مجروح کیوں نہیں ہوتا جب ان کے حلقے کے کسی بے گناہ انسان کو پولیس بری طرح ذلیل کرتی ہے توہین کا احساس اس وقت کیوں نہیں ہوتا جب ایک عام آدمی اپنے جائز کاموں کے لئے سارا دن دفتروں کی خاک چھانتا ہے؟
|
2020/03/29 01:58:52
|
https://www.mukaalma.com/67866/
|
mC4
|
انسان غلطی کا پتلا ہے -ایک زاہد اور متقی عالم کے بارے میں ایک زبردست واقعہ - IslamabadPoint
انسان غلطی کا پتلا ہے -ایک زاہد اور متقی عالم کے بارے میں ایک زبردست واقعہ –
کہتے ہیں ایک عالم تھا -وہ بہت متقی اور پرہیزگار تھا –
ایک دن اس نے ایک چوہے کو مارڈالا اور اس کو اچھی طرح مختلف چیزوں میں لپیٹ کر اپنے ساتھ سنبھال کے رکھ دیا –
بہت عرصہ گزر گیا – ایک دن وہ اپنے دوسرے عالم دوستوں کے ساتھ محفل میں بیٹھا تھا – یومے اخرت کے بارے میں باتیں ہو رہی تھی –
تو اس نے اپنی جیب سے وہ محفوظ شدہ چوہا نکالا ور کہا کہ میں اس لیے اس کو ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہوں –
جب روزے قیامت الله تعالی کے روبرو پیش ہونگا – تو الله تعالی سے کہوں گا کہ اسنے ساری عمر تیری عبادت کی ہے اور اپنی زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کی سواے اس کے کہ اس چوہے کو ہلاک کیا ہے – اس لیے اس کو جنت بھیج دیا جائے –
پاس ہی بیٹھے ایک دوسرے عالم دوست نے اس وقت اس کے کیے گۓ عبادات پر پانی پھیردیا- جب اس نے کہا کہ یہ ایک ناپاک چیز ہے جس کو تم نے اپنے پاس رکھا ہے -جس سے تمہاری کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی –
اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان غلطی کہ پتلا ہے -کبھی بھی اپنے اغمال کو بیان یا اس پر نازاں نہیں ہونا چاہیے نہ ہم الله تعالی کی نغمتوں کا صلا عبادات کی صورت میں پورا کر سکتے ہیں – بلکہ وہ ہمیں اپنی خاص رحمت و فضل کے ذریعہ جنت بھیجے گا –
|
2018/08/20 00:52:58
|
http://islamabadpoint.com/%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86-%D8%BA%D9%84%D8%B7%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%AA%D9%84%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C/
|
mC4
|
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت تمام جھولے سیل کر دیئے
ایبٹ آباد۔ 20 جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) صوبائی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت تمام جھولے سیل کر دیئے۔ ایڈیشنل اے سی نے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ چھ روز کے اندر سرٹیفکیٹ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کر دہ این او سی پیش کریں، جھولوں کے صحیح ہونے کا مکمل سرٹیفکیٹ پیش کریں، کسی بھی حادثہ کی صورت میں مالکان ذمہ دار ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق لیڈی گارڈن حادثہ میں تین قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں تمام جھولے سیل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ جب تک مالکان سیفٹی سرٹیفکیٹ اور بیان حلفی پیش نہیں کرتے ان کے تمام جھولوں کو سیل کیا جائے۔
اس سلسلہ میں گذشتہ روز ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے لوکل پولیس اور ٹی ایم اے سٹاف کے ہمراہ ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت ہرنو میں موجود تمام جھولوں کو سیل کرتے ہوئے مالکان کو ہدایات جاری کیں کہ جب تک سیفٹی سرٹیفکیٹ پیش نہیں کرتے اس وقت تک تمام جھولے مکمل طور پر سیل رہیں گے۔
مالکان اپنی جانب سے بیان حلفی پیش کریں کہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں تمام تر ذمہ داری جھولوں کے مالکان پر عائد ہو گی۔
|
2018/09/24 21:46:44
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-06-22/news-1573670.html
|
mC4
|
پی ٹی ایم پر پابندی ! اسلام آبادہائی کورٹ نےدرخواست پر بڑا حکم جاری کردیا
پیر 21 جون 2021 لاسٹ اپ ڈیٹڈ : 02:44
پیر 27 مئی 2019 | 13:14
اسلام آباد ( این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کرنے کی درخواست پر وزارت داخلہ سمیت تمام فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ ادارے اپنے قوانین سختی پر سے مکمل عمل درآمد کریں۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی ایم پر پابندی عائد کر نے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ درخواست گزار نے کہاکہ پی ٹی ایم ملکی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائیکررہی ہے۔درخواست گزار نے کہاکہ پی ٹی ایم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پی ٹی ایم پر
پابندی کے احکامات دے۔ عدالت نے محسن داوڑ،علی وزیر،پیمرا تمام فریقین کو نوٹس جاری جواب طلب کرلیا ۔ عدالت نے کہاکہ وزارت داخلہ، پی ٹی اے اور پیمرا اپنے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی ۔
|
2021/06/21 21:46:15
|
https://javedch.com/latest-news/2019/05/27/581096
|
mC4
|
خوبصورت خواتین کے بوسے لینے کا کام پھر شروع ۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنیت بے نقاب کردینے والی خبر
امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ووٹ بینک پکا کرنے کی جانب برک رفتاری سے گامزن نظر آتے ہیں جبکہ اسی سلسلہ میں ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا سے اپنی مہم کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کھلی جگہ پر ہونے والے جلسے میں شرکت کی اور اپنے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی پوری کوشش کی۔امریکی صدر نے ماسک کے بغیر ریلی میں شرکت کی اورکورونا وبا سے نمٹنے کی اپنی حکمت عملی کا دفاع کیا۔
انہوں نے سین فورڈ میں ایئرپورٹ ریلی میں داخل ہوتے وقت مجمے کی جانب ماسک اچھالے اور بار بار اپنے کورونا سے صحت یاب ہونے کے بارے میں بتایا۔ٹرمپ کے ہزاروں حامی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے جبکہ اکثرنے ماسک بھی نہیں پہن رکھا تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب میں اس میں سے گزر چکا ہوں،اب مجھے یہ بیماری نہیں لگ سکتی۔
میں اپنے اندر بڑی طاقت محسوس کر رہا ہوں،میں مردوں اور خوبصورت خواتین کے بوسے لوں گا،میں آپ کا بڑا سا بوسہ لوں گا'۔ امریکی صدر کے ناقدین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے انتخابی مہم کی تقاریب میں موجود حامیوں حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس کے عملے کی ماسک لگانے اور سماجی دوری کی پابندیوں پر عمل کے لیے حوصلہ افزائی نہ کر کے غلط کام کیا۔ اس ہفتے کے لیے طے شدہ چار ریلیوں میں سے پہلی ریلی سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد اپنی انتخابی مہم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
انہوں نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ 'اگر آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں تو جائیں'۔ ٹرمپ کی مخصوص انداز کی ریلیوں میں واپسی کے بعد الیکشن کے دن تک ان کی تین ہفتے کی انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب نئے انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے میدان جنگ کی حیثیت رکھنے والی دو ریاستوں میں تین نومبر کے مقابلے کے لیے ڈیموکریٹ حریف جوبائیڈن کو قدم مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے کم از کم 11 قریبی ساتھیوں کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جبکہ امریکہ میں 78 لاکھ سے زیادہ افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جب کہ دو لاکھ 14 ہزارہلاکتیں ہوئیں۔ ان کے انتخابی جلسے سے کئی گھنٹے پہلے وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا صدر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مسلسل دو دن منفی آیا ہے اوراب وہ دوسروں کو وائرس منتقل نہیں کر سکتے۔
|
2020/10/21 21:14:20
|
https://ch51.tv/world/4068-donald-trump-latest-updates-election-campaign-and-corona-effect
|
mC4
|
سعید پیردوست 2020/12/2 فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے
کریپٹو اسپاٹ ٹریڈنگ کیا ہے. امیٹیک ، 1.7 واٹر کارپوریشن ، 2.1 فلپ مورس ، 1.7 کنسلٹیشن برانڈز ، 1.8 لیمب ویسٹن ہولڈنگز ، 1.8 ڈی ویٹا ، 2.0 بایجن ، 1.8 کوپرٹ ، 1.4 میڈین آئی کیو آپشن سپورٹ ٹیم اسٹاک ، ٹوکیو میں 1.7 میڈین اسٹاک ، اینڈ پی 500 ، 2.6 *
18 کے تحت: 18 سال سے کم عمر افراد خود ہی بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے ہیں۔ اگر آپ نابالغ ہیں اور چیکنگ یا سیونگ اکاؤنٹ چاہتے ہیں تو ، 18 سال سے کم عمر افراد کے ل bank بینک اکاؤنٹ موجود ہیں ، لیکن آپ کو اس اکاؤنٹ میں بالغ شریک دستخط کرنے والے کی ضرورت ہوگی اور اسے ذاتی طور پر کسی برانچ میں جانے کی ضرورت ہوگی۔ ذیل میں ہم نے کم سے کم معیارات درج کیے ہیں جو ہم برطانیہ کے غیر ملکی کرنسی کے بروکر میں دیکھنے کی توقع کرتے ہیں۔ واقعہ جانے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ یہ صرف آدھے راستے کے بعد دلچسپ ہونا شروع ہوتا ہے۔ ایشلے O کو اس کی خالہ نے منشیات کے ذریعے کوما میں ڈال دیا ، حکام کو بتایا کہ اسے شیلفش سے الرجک ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ، ایک نئی ٹکنالوجی اس کی خالہ کو ایشلے او کے دماغ میں گانے نکالنے کی اجازت دیتی ہے ، یہاں تک کہ وہ کوما میں ہے ، لہذا اس کا کیریئر جاری رہ سکتا ہے۔ راہیل کے ایشلے ٹو روبوٹ نے اپنے اصلی الٹ انا کی کوما سے متعلق ایک خبر کو دیکھا ، نڈر ہوا اور بند ہوگیا۔ جیک روبوٹ کو ریبوٹ کرنے کا انتظام کرتا ہے ، صرف یہ جاننے کے لئے کہ ایشلے ٹو میں اصل میں ایشلے اے کی حقیقی یادداشت موجود ہے۔
آل ان ون ٹریڈ ٹکٹ آپ کو کسی بھی اثاثہ طبقے کے لئے تجارت بنانے کی سہولت دیتا ہے جس کے آپ مستحق ہیں. ویگا (V) کسی آپشن کی قیمت اور بنیادی اثاثہ کی مضمر اتار چڑھاؤ کے درمیان تبدیلی کی شرح کی نمائندگی کرتا ہے۔ اتار چڑھاؤ کے ل This آئی کیو آپشن سپورٹ ٹیم یہ آپشن کی حساسیت ہے۔ ویگا اس رقم کی نشاندہی کرتی ہے جس میں کسی آپشن کی قیمت میں تبدیلیوں کو مدنظر رکھے ہوئے اتار چڑھاؤ میں 1٪ کی تبدیلی دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ، 0.10 کی ویگا والا آپشن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر نافذ اتار چڑھاؤ میں 1٪ کی تبدیلی آ جاتی ہے تو آپشن کی قیمت میں 10 سینٹ تک تبدیلی متوقع ہے۔
سفارشات دیگری نیز بین کارگزاران وجود دارد که قابلیت های دیگری آئی کیو آپشن سپورٹ ٹیم را به معامله گر برای انجام معاملات ارائه می دهد مانند سفارش OCO (One cancel the other)، در این سفارش دو دستور به هم ربط پیدا می کنند. فعال شدن هر کدام بصورت خودکار دستور مرتبط را باطل می کند. نتیجہ آپ کے برابر ہے خالص آمدنی خود ملازمت سے خود اس کا حساب کتاب کرنے کے لئے ، اشاعت 560 کے باب 5 میں ملنے والی سیلف ایمپلائڈ کے لئے کٹوتی ورکشیٹ استعمال کریں۔ اگر آپ نے پہلے چھوڑنے کی کوشش کی ہے لیکن آپ کو مزید مدد کی ضرورت ہے تو ، میڈیکیئر سے منظور شدہ سگریٹ نوشی سے متعلق خاتمے کی مشاورت کے ساتھ چینٹیکس کی کوشش کرنا بھی آپ کے کام آسکتا ہے۔
مبینہ طور پر ، ڈیوڈ گیفن امریکی تفریحی صنعت کی ایک سب سے طاقتور شخصیت ہیں۔ 1994 میں ڈریم ورکس کی بنیاد رکھنے کے علاوہ ، اس نے ایلیوٹ رابرٹس کے ساتھ مل کر اسائلم ریکارڈز کی بنیاد رکھی۔ ۳) عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بی بی کے یہاں گئے اور اس بی بی کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں تھیں جن پر وہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھ رہیں تھیں۔ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا) جہاں تک ممکن ہو اسپاٹ لائٹ کو اپنے سے دور رکھیں۔
ریڈ سہ شاخہ میں جینیسٹین ، ڈائیڈزین ، اور بائیوکینن اے جیسے آئس فلاون شامل ہیں۔ اعتقاد کے برخلاف ، یہ انو شاید نہیں چھاتی کے کینسر کا خطرہ بڑھائیں۔ در حقیقت ، وہ کمزور ایسٹروجن ایگونسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور آئی کیو آپشن سپورٹ ٹیم آپ کو ایسے کینسروں سے بچاتے ہیں (6)
اگر آپ نے کبھی کسی رسالہ یا اخبار میں (یا بل بورڈ پر اور ہزار میں سے کسی ایک جگہ یا دوسرے مقامات پر) کوئی اشتہار دیکھا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کمرشل فوٹوگرافی کیا ہے۔ یہ زیادہ تر پروڈکٹ شاٹس ہوتے ہیں ، حالانکہ اس قسم کی فوٹو گرافی میں تخلیقی صلاحیتوں کے لئے کافی جگہ موجود ہے۔ تاہم ، خاص طور پر جو چیز مشکل ہے وہ یہ ہے کہ آپ ان تصویروں کے ل the اپنے موکل کے وژن پر قائم رہیں جو آپ نے لینے کی منصوبہ بندی کی ہیں۔
آبائی ڈیسک ٹاپ پر QBI انسٹال انسٹرومنٹ ڈاؤن لوڈ کریں اور .exe فائل کو محفوظ کریں۔ اب جیسے ہی پس منظر کے اندر سارے طریقے بند ہوچکے ہوں تو آلہ چلائیں۔ اس کامیابی میں کامیابی کے ل 20 20 منٹ یا اس سے زیادہ وقت لگے گا (وقت ویب کی رفتار اور مشین کی کارکردگی پر منحصر ہے جتنا ہوشیاری سے)۔ اب آپ بھی چلائیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ تمام حصے بہت کم جدید تھے۔ آخر میں ، پی سی کو دوبارہ شروع کریں. جنوری کینیا، تنزانیہ اور یوگینڈا میں سفاری وقت ہے. موسم عام طور پر خشک ہوتا ہے اور جانوروں کو مستقل پانی کی فراہمی کے ارد گرد گھنے کی تعداد میں جمع ہوجائے گا. ٹنزیا کے شمالی پارکوں میں خاص طور پر جنوبی نراتو اور سلی کے میدانوں میں نقل مکانی کرنے والی جنگلی آبائی، زبرا، اور جۓٔ.
2011 میں کازان فیڈرل یونیورسٹی (کازان) کی جیولوجیکل فیکلٹی کو جیولوجی اور آئل اینڈ گیس ٹیکنالوجیز میں انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس میں 7 محکمے ، ایک ارضیاتی میوزیم ، 3 تحقیقی تجربہ گاہیں اور روسی فیڈریشن کا قدیم ترین مقناطیسی رصد گاہ شامل ہے۔ . مثال کے طور پر، ای ای اے ریٹیل تاجر اس پلیٹ فارم پر بائنری آپشنز کی تجارت نہیں کر سکتے۔ تاہم،وہ پھر بھی فوریکس آپشنز کی تجارت کر سکتے ہیں جو بائنری آپشنز کی طرح ہی اونچے منافع فراہم کرتا ہے۔
|
2022/05/19 06:15:18
|
https://lateksii.xyz/category-25/page-597028.html
|
mC4
|
سولہ نومبر عالمی یوم برداشت کے موقع پر خصوصی تحریر – Punjnud.com
سولہ نومبر عالمی یوم برداشت کے موقع پر خصوصی تحریر
"برداشت"یعنی "حلم"اللہ تعالی کی ایک عالی شان صفت ہے جس کا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں متعدد مقامات پر ذکر کیاہے۔ایک مقام پر اللہ تعالی نے اپنے غفور ہونے کے ساتھ اپنی برداشت کا یوں ذکر کیاکہ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۳:۵۵۱)ترجمہ:بے شک اللہ تعالی بخشنے والا اور برداشت کرنے والاہے،ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے اپنی صفت علم کے ساتھ اپنی برداشت کاذکر کیا وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ(۴:۲۱) ترجمہ:اور اللہ تعالی بہت زیادہ علم والا اور برداشت والاہے۔ایک اور آیت میں اللہ نے اپنی بے نیازی کے ساتھ اپنی برداشت کا ذکر کیا وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ (۲:۳۶۲) ترجمہ:اور اللہ تعالی بے نیاز اور صاحب برداشت ہے۔قرآن مجید نے اللہ تعالی کی صفت قدردانی کے ساتھ بھی برداشت الہی کاذکرکیاہے ْ وَ اللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ(۴۶:۷۱)ترجمہ:اور اللہ تعالی بہت قدردان اور برداشت سے کام لینے والا ہے۔ان آیات کی تفسیر میں وادر ہوئی متعدد روایات میں بھی اللہ تعالی کی صفت برداشت کاکثرت سے ذکر ہے۔حقیقت یہی ہے عالم انسانیت کی بداعمالیوں اور طاغوتی طاقتوں کے ظلم و تعدی کے باوجود اس کرہ ارض پررزق کی کثرت،رحمت کی بارشوں کا نزول اور امن عافیت کی فراوانی کی وجہ محض،خالق کائنات کی صفت برداشت ہی ہوسکتی ہے۔وہ اپنی مخلوق سے بے حد پیارکرتاہے اور یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے گناہ جب اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ زمین بھی چینخ اٹھتی ہے کہ اے بارالہ مجھے اجازت دے کہ میں پھٹ جاؤں اور اس باغی اور سرکش کو اپنے اندر سمو لوں تو بھی اللہ تعالی کی برداشت آڑے آجاتی ہے اورحلم خداوندی کے باعث رسی مزید ڈھیلی کردی جاتی ہے تاکہ موت سے پہلے پہلے توبہ کے دروازے میں داخل ہونے کے امکانات باقی رہیں۔
قرآن مجید میں صفت حلم یعنی برداشت کی صلاحیت کاذکر متعدد انبیاء علیھم السلام کے ساتھ بھی کیاہے۔ وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ'ٓ اَنَّہ' عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ(۹:۴۱۱)ترجمہ:"حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والدبزرگوار کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جواس نے اپنے والد بزرگوارسے کیاتھا،مگر جب ان پر یہ بات کھل گئی کہ اس کاباپ خداکادشمن ہے تووہ اس سے بیزار ہوگئے،حق یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے خداترس اور صاحب برداشت آدمی تھے"۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہی صفت برداشت کاایک اور مقام پر بھی قرآن نے ذکر کیا اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ(۱۱:۵۷) ترجمہ:بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے نرم دل،ا للہ تعالی طرف رجوع کرنے والے اور صاحب برداشت انسان تھے"۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالی نے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی خوش خبری دی تو ساتھ کہا کہ وہ صاحب برداشت بیٹاہوگا وَ قَالَ اِنِّی ذَاہِبٌ اِلٰی َربِّیْ سَیَہْدِیْنِ(۷۳:۹۹) رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۷۳:۰۰۱) فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ(۷۳:۱۰۱) ترجمہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتاہوں،وہی میری راہنمائی کرے گا،اے پروردگارمجھے ایک بیٹاعطاکر جو صالحین میں سے ہو(اس دعاکے جواب میں)ہم نے اس کو ایک صاحب برداشت لڑکے کی خوش خبری دی"۔حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی انہیں برداشت والا کہاکرتی تھی قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبٰآؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلْ فِیْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا اِنَّکَ لَاَ نْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(۱۱:۷۸)ترجمہ:ان کی قوم نے کہااے شعیب علیہ السلام کیاتیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ داداکرتے تھے،یایہ کہ ہم کو اپنے مال میں سے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرنے کا اختیار نہ ہو،بس تو ہی ایک نیک اور صاحب برداشت آدمی بچ گیاہے۔"
اورجملہ انبیاء علیھم السلام کی طرح خاتم النبیین ﷺکی تو کل حیاۃ طیبہ برداشت سے ہی عبارت ہے۔یتیمی سے شروع ہونے والی برداشت کی زندگی،بس برداشت کی کٹھن سے کٹھن تروادیوں سے ہی ہو کر گزرتی رہی،کہیں رشتہ داروں کو برداشت کیاتو کہیں اہل قبیلہ کو،کہیں ابولہب جیسے پڑوسی کو برداشت کیاتوکہیں ابوجہل جیسے بدتمیزترین سردارکو برداشت کیااورطائف کی وادیوں میں تو برداشت کے سارے پیمانے ہی تنگ پڑگئے اور برداشت بذات خود اپنے ظرف کی وسعت لینے خدمت اقدس ﷺمیں حاضر ہوگئی۔محسن انسانیتﷺ کے مقدس ساتھیوں نے برداشت کو جس طرح اپنی ایمان افروز زندگیوں میں زندہ جاوید رکھااس سے سیرۃ و تاریخ کی کتب بھری پڑی ہیں،مکی زندگی میں کتنی ہی بار نوجوان اصحاب رسول خدمت اقدس ﷺمیں حاضر ہوئے کہ انہیں استعمارسے ٹکراکرلڑنے مرنے کی اجازر مرحمت فرمائی جائے،لیکن ہربار برداشت کے دروس سے آگاہی کے ساتھ لوٹادیے گئے۔حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھاجائے کہ امیہ بن خلف کو کیسے برداشت کیاجاتاہے اورآل یاسر سے کوئی تو دریافت کرے کہ ابوجہل کو برداشت کرنے کاکیامطلب ہوتاہے۔مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کوجس طرح برداشت کیاگیااس کی مثال شاید کل تاریخ انسانی میں نہ ملے،اس سے بڑھ کر اور کیاہوسکتاہے کہ دیگرصحابہ کرام کے ساتھ ساتھ اس غدارملت کا سگابیٹابھی ایک بار تو اپنے باپ کے قتل اجازت لینے پہنچ گیالیکن یہاں پھر "حلم نبویﷺ"یعنی محسن انسانیت ﷺکی قوت برداشت نے اپنا کام دکھایااورمزیدمہلت مل گئی۔
برداشت،علم نفسیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق اس دنیامیں وارد ہونے والا ہر فرد بالکل جدارویوں اور جداجداجذبات و احساسات و خیالات کا مالک ہوتاہے،اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوئے اسے اسکاجائزمقام دینا "برداشت"کہلاتاہے۔اس تعریف کی تشریح میں یہ بات کھل کرکہی جاتی ہے کہ دوسرے کے مذہب،اسکی تہذیب اور اسکی شخصی وجمہوری آزادی کومانتے ہوئے اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا "برداشت" کے ذیلی موضوعات ہیں۔دیگرماہرین نفسیات نے "برداشت"کی ایک اورتعریف بھی کی ہے،ان کے مطابق"دوسرے انسان کے اعمال،عقائد،اس کی جسمانی ظواہر،اسی قومیت اور تہذیب و تمدن کو تسلیم کرلینا برداشت کہلاتی ہے"۔برداشت کی بہت سی اقسام ہیں،ماہرین تعلیم برداشت کو تعلیم کا اہم موضوع سمجھتے ہیں،ماہرین طب برداشت کو میدان طب و علاج کا بہت بڑا تقاضاسمجھتے ہیں،اہل مذہب کے نزدیک برداشت ہی تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ ہے جسے آفاقی صحیفوں میں "صبر"سے موسوم کیاگیاہے اورماہرین بشریات کے نزدیک برداشت انسانی جذبات کے پیمائش کا بہترین اور قدرتی وفطری پیمانہ ہے۔ابتدامیں "برداشت"کو سمجھنے کے لیے جانوروں پر تجربات کیے جاتے تھے اور پہلے انفرادی طور پر اور پھر جانوروں کے مختلف گروہ بناکران کی برداشت کے امتحانات لیے جاتے تھے۔بعد میں اسی نوعیت کے تجربات تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات پر کیے جانے لگے اور پھر بالغ انسانوں پر بھی اس نوعیت کے تجربات کیے گئے لیکن غیر محسوس طور پر۔ان تجربات کے نتیجوں میں "برداشت"کے مختلف پیمانے میسرآئے اور جذباتی اعتبار سے انسانوں کی تقسیم کی گئی۔نتیجے کے طور ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ماحول کے اثرات کے طورپر انسانوں میں برداشت کامادہ پروان چڑھتاہے،وطنیت کا تعصب رکھنے والا اپنے وطن کے بارے کم تر برداشت کامالک ہوگالیکن اپنے حسب و نسب پرتنقیدوتنقیص برداشت کرلے گاجبکہ قومیت کے فخرمیں بھرے ہوئے شخص کی برداشت کا پیمانہ اس سے کلیۃ متضادہوگاوغیرہ۔
برداشت کے مقابلے میں متضادکے طور عدم برداشت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اس کامطلب،ظاہر ہے،برداشت کے الٹ ہے کہ برداشت نہ کرنا یا برداشت نہ کرسکنا۔انسانی رویوں میں بعض اوقات جب مدمقابل کے رویے سے مفاہمت ممکن نہ رہے تو عدم برداشت جنم لیتی ہے۔مدمقابل انسان یا غیرانسان کچھ بھی ہوسکتاہے۔ماہرین نفسیات کے نزدیک اور یہ عدم برداشت ارادی طورپربھی ہو سکتی ہے اور غیرارادی طور پر بھی ہوتی ہے۔مثلاََانسان ایک حد تک موسم کو برداشت کرتاہے لیکن جب حد گزرجائے تو موسم کی عدم برداشت انسان کوبیماری سے موت تک لے جاسکتی ہے۔پانی میں ڈوبتاہواانسان اپنے جسمانی قوی کے برداشت کی حد تک اپنی بقاکی جنگ لڑتاہے۔اسی طرح بھوک،پیاس،ننگ اور دیگر معاشرتی محرومیاں بھی انسان کی برداشت سے باہر ہو کر جب عدم برداشت کاروپ دھارلیتی ہیں تو چوری، ڈکیتی،قتل و غارت گری اور بعض اوقات بڑے بڑے سانحات وانقلابات جنم لیتے ہیں۔انفرادی عدم برداشت جمع ہوتے ہوتے اجتماعی عدم برداشت بن جاتی ہے اور ایک فردکو جذبہ انتقام پر مجبور کرنے کے بعد یہ عدم برداشت طبقاتی جنگ کی شکل میں انسانی تاریخ میں جنم لیتی رہی ہے۔عدم برداشت کے نتیجے میں جہاں دوافرادگتھم گتھاہوتے ہیں وہاں دوقوموں کے درمیان بھی میدان کارزارگرم ہوجاتاہے۔جب کہ نظریات کے درمیان تناؤتو روزازل سے تاابد جاری رہے گا۔برداشت اورعدم برداشت کے درمیان کوئی حدفاصل کھینچنا مطلقاََناممکن ہے۔ہردوطرح کے معاملات کے درمیان حدفاصل کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔کہیں محبت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے تو کہیں نفرت کاانجام عدم برداشت کی صورت میں نکلتاہے،کہیں آسودگی اور راحت اورصحت و شفایابی برداشت نہیں ہوتی تو کہیں عسرت،پریشانی اورمرض کی شدت برداشت کے سارے بندھن توڑ دیتے ہیں اور کہیں یہ آسمان شادی مرگ کامشاہدہ کرتاہے تو کہیں برستی اکھیاں کاسیلاب زمانے بھر کے بند توڑ کردنیائے انسانیت کوعدم برداشت کے دشت میں لے بھٹکاتاہے۔
عالم انسانیت کو برداشت کا بہت بڑادرس مذہب سے ملاہے۔انبیاء علیھم السلام اورآسمانی کتب نے عقیدہ آخرت کے پس منظر میں جو نظام عمل پیش کیاہے اس میں برداشت کاسبق بہت اہم ہے۔عقیدہ آخرت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی اوربدی کابدلہ صرف اللہ تعالی ہی دے گا۔پس یہی برداشت کا سب بڑادرس ہے کہ آخری عدالت تک تمام معاملات کواللہ تعالی کے سپرد کر کے خود برداشت کاخوگربنے رہنا۔انبیاء علیھم السلام نے اپنے سگے رشتہ داروں کے رویوں کوبھی فی سبیل اللہ برداشت کیایا معاف ہی کردیا۔مذہب کی تعلیمات کے مطابق جب بدلہ،اجروثواب،صلہ اورجزاوسزاسب کچھ اللہ تعالی کے دست قدرت میں ہے تو اسی ذات باری تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے برداشت کی عادت ڈالنااہل عزیمت کاہمیشہ سے شیوہ رہاہے۔اہل مذہب نے انسانی برداشت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں یہ آسمان بھی اس ششدرہے۔خاص طورپر صوفیائے کرام کے دروازے کل انسانیت کے لیے بلاتفریق رنگ و نسل و مذہب صباح و مساء کھلے رہتے تھے۔تاہم برداشت کی ایک حد تو مذہب بھی مقررکرتاہے۔انفرادی و اجتماعی معاملات میں جب برداشت کی حد گزر جائے تو جہاد اور قتال جیسے اسباق بھی مذہب سے ہی انسانیت کو مرحمت ہوئے ہیں۔یہ اس لیے کہ دنیامیں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک زبان پیارکی زبان ہے،جب تک پیارکی زبان اثرکرتی رہے تو یہ برداشت کی زبان ہے۔انسانوں میں سے کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیارکی زبان نہیں سمجھتے۔ان سے جب پیار اورمحبت کی زبان میں بات کی جائے تووہ اس کو کمزوری پر محمول کرتے ہیں اور سرپر جوتوں کی بارش کر دیتے ہیں۔یہاں مذہب کی برداشت بھی ختم شدہوجاتی ہے اورآسمانی صحیفہ ایسے طاغوت سے طاقت کی زبان سے گفتگوکرنے کا حکم صادرکرتاہے۔لیکن طاقت کی زبان صرف فسادکے خاتمے تک ہے،ذاتی عناد،وسعت سلطنت یاحرص و ہوس وغیرہ کے لیے طاقت کااستعمال دین اسلام کے ہاں مطلقاََناقابل برداشت ہے۔
اپنی قومیت کے لیے،نسلی اورلسانی مخاصمات کے لیے یاعلاقائی وفرقہ ورانہ اختلاقات کے نام پریاپھر معاشی مفادات کے تحفظ کی خاطر انسانیت کے نام نہادعنوان سے عدم برداشت کے میدان گرم کرنااور انسانی کشتوں کے پشتے لگانا سیکولرازم کی خون آشام روایات ہیں۔اس وقت سیکولرازم کے ہاتھوں انسانیت بدترین عدم برداشت کا شکار ہے۔صنعتی انقلاب کے بعد سے سیکولرازم نے پاؤں کی ٹھوکروں سے مذہب کو ریاستی واجتماعی ومعاشرتی اداروں سے دیس نکالادیااور جیسے جیسے مذہب سے انسانی بستیاں خالی ہوتی گئیں توگویا برداشت کامادہ بھی انسانوں کے ہاں سے رخصت ہوتاچلاگیااور انقلابات کے عنوان سے لاکھوں انسانوں کی قتل وغارت گری کے بعد سیکولرازم نے انسانیت کو دوایسے عالمی جھگڑوں میں جھونک ڈالاجس کاخونین مشاہدہ اس سے پہلے کے مورخ نے کبھی نہیں کیاتھا۔صد افسوس کہ عالمی جنگوں میں آبشاروں کی طرح بہنے والا انسانی خون بھی سیکولرازم کی پیاس نہ بجھاسکااورپردہ اسکرین پر ابھرنے والے عکسی کھیلوں کے نام پر "ماردھاڑ سسپنس اور ایکشن سے بھرپور"کہانیاں اوربرداشت سے کلیۃ عاری بدکردار"ہیرو"بناکرسیکولرممالک سے دوسری اور تیسری دنیاؤں میں برآمدکیے گئے۔ننگ نسوانیت و ننگ انسانیت سیکولرازم کا عدم برداشت کا شرمناک کھیل آج فلمی دنیاسے نکل کر نام نہاد مہذب ترین ممالک کے ایوان ہائے اقتدارمیں نظر آرہا ہے جہاں حرص و حوس کے سیکولرپجاری سرمایادارانہ سودی معیشیت کے تحفظ کے لیے ذرائع ابلاغ پر کذب و نفاق کے سہارے فصلوں اور نسلوں کی قتل و غارت گری کے عالمی منصوبے بناتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ دنیاکی آنکھوں میں قیام امن وحقوق انسانی نام پر دھول جھونک کر اپنی عدم برداشت کو برداشت کے جھوٹے پہناوے پہنا سکیں گے۔حالات کی بدلتی کروٹ کابغورمشاہدہ کرنے کے بعد سیکولرذہن نے بڑی چابکدستی سے اپنی عدم برداشت کاکیاچٹھا سب کچھ مذہب کے کھاتے میں ڈالنے کی بہت بھونڈی سی کوشش کی ہے۔ابلاغیات کے بے پناہ استعمال کے باوجود دنیاکا معتدل اوراکثریتی ذہن اب مذہب جیسے مقدس ورثے کے خلاف اس جھوٹ کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔تقدیس مذہب پر کوئی سمجھوتہ ہوا اور نہ ہی ہو گاکہ مذہب کی ادارے سے انسانیت کو ہمیشہ ٹھنڈی ہواکے جھونکے ہی میسرآئے ہیں۔اقوام متحدہ جیسے دیگرعالمی اداروں کوبھی اپنے سیاسی و عسکری عدم برداشت کا آلہ کار بناکرمذہب کے خلاف استعمال کرنے کاوطیرہ بھی اب دنیاکے سامنے اپنے حقائق سمیت آشکارہوچکاہے۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ صدی کے اختتام سے قبل ہی امت مسلمہ کے مایہ ناز سپوتوں کے قلم سے سیکولرمغربی تہذیب علمی میدان میں پسپائی سے دوچار ہوچکی تھی اور اب دنیابھرمیں وحشت و درندگی کا خون آشام کھیل کھیلنے والی سیکولرافواج اپنے نظریے کو ہمیشہ کی نیند سلانے کے لیے بڑی تندہی سے سرگرم عمل ہیں اور کرہ ارض کے کل باسیوں کا مستقبل بلآخر آفاقی نوشتوں سے ہی وابسطہ ہے،انشاء اللہ تعالی۔
|
2022/01/18 07:11:24
|
https://www.punjnud.com/16-november-alami-yom-e-bardasht-k-moqa-par-khasusi-tahreer/
|
mC4
|
پاکستان بنتا دیکھنے والے اوکاڑہ کے چند بزرگوں کی یادیں – Okara Diary
پاکستان بنتا دیکھنے والے اوکاڑہ کے چند بزرگوں کی یادیں
Qasim Ali اگست 14, 2018 August 14, 2018
آج ملک بھر میں یوم آزادی منایا جارہاہے اس روز کئی نوجوان لڑکے موٹرسائیکلوں سے سائیلینسر اتار کر ون ویلنگ کرنے کوہی آزادی کا جشن منانا سمجھتے ہیں مگریہ آزادی اتنی آسانی سے نہیں ملی کہ ان مناظر کو بھلایا جاسکے یا ایسی خرافات میں اس عظیم دن کو ضائع کیاجائے۔
اس وطن کے حصول کیلئے جن بزرگوں نے قربانیاں دیں یا جنہوں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھاان کیلئے 14اگست کا دن خوشی کاتو ہوتا ہی ساتھ میں ان کےکئی زخم بھی ہرے ہوجاتے ہیں ۔
ملک غلام محمدجٹ نوناری بھی ایسے ہی ایک پچاسی سالہ بزرگ ہیں ان کا کہنا ہے کہ آزادی کے وقت وہ ملیانوالہ(موجودہ رینالہ خورد)میں رہتے تھے اس وقت ان کی عمر سولہ سترہ سال ہوگی کہ اعلان ہوگیا کہ پاکستان اور ہندوستان الگ ہوگئے ہیں ۔اس وقت ہمارے گاؤں میں کئی سکھ اور ہندوگھرانے آباد تھے جنہوں نے سامان باندھنا شروع کردیا لیکن اس کیساتھ ہی وہ ہم سے جدائی پر افسردہ بھی تھے کیوں کہ ہمارے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے جس وقت وہ یہاں سے جانے لگے تو مجھے آج بھی یاد ہے کہ پورا گاؤں انہیں باہر چھوڑنے گیا تھا اور بار بار پیچھے مڑکر دیکھتے تھے ۔
ملک غلام محمد جٹ نوناری جو 90 کی دہائی میں دیپالپور بلدیہ کے وائس چیئرمین بھی رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ ہمارے طرف سے بھارت میں گئے تھے ان کی حفاظت کیلئے ہماری حکومت نے فوج ساتھ بھیجی تھی جو انہیں بحفاظت سرحدوں چھوڑ کر آئی تھی۔ان کے جانے کے بعد ہم کئی روز اس طرح پریشان رہے جیسے اپناکوئی عزیز ہم سے جدا ہوگیا ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حصول اس صدی کا بڑا کارنامہ تھا جسے قائداعظم نے ممکن بنایا مگر ان کے بعد پاکستان کو ایسا کوئی قابل لیڈر نہیں مل پایا جو قیام پاکستان کے مقاصد کو پورا کرتا جو بھی آیا اس نے اپنا ہی پیٹ بھرا قوم کا نہیں سوچااور ان بزرگوں کے مشن کا نہیں سوچا جو اس وطن کے حصول کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرگئے ۔
مینا بی بی کی عمر نوے سال ہے اور وہ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئی تھی اس دوران اسے کیا مشکلات پیش آئیں جب ہم نے اس بارے ان سے پوچھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے کچھ دیر بعد وہ گویا ہوئیں توان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کا پوراخاندان جو سترہ افراد پر مشتمل تھا جالندھرانڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان کیلئے روانہ ہوئے مگر وہاں سے لے کر لاہور تک ہمیں کئی جگہ ہندوؤں اور سکھوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہمارامکمل قافلہ ڈیڑھ سو کے قریب افراد پر مشتمل تھا جس میں پچاس مرد تھے اور باقی عورتیں اور بچے تھے مردآگے آگے چلتے جاتے تھے ان کے پاس برچھیاں ،درانتیاں اور چھریاں تھیں ایک دو پرانی بندوقیں بھی تھیں جن سے انہوں نے جنونی ہندوں کا مقابلہ کیا تاہم پاکستان پہنچنے تک بیس افراد ہماری آنکھوں کے سامنے شہید ہوگئے جن میں میرا بھی ایک بھائی شامل تھا ۔
مینا بی بی کا کہنا تھا اس وقت اتنی قتل و غارت ہوئی کہ ہم سوچتے تھے کہ کاش پاکستان الگ ہی نہ ہوتا ہم جہاں رہ رہے تھے وہاں بہت امن تھا ۔انہوں نے کہا کہ حکمران کو چاہئے کہ سب سے پہلے امن و امان کو ٹھیک کرے ورنہ ظلم تو بھارت میں بھی ہورہاہے۔
Rao mohammad umer khan muncharian depalpur
منچریاں کی رہائشی ایک اور بزرگ شخصیت راؤمحمد عمرخان نے کہا کہ 14اگست کو جھنڈیاں اور جھنڈے ضرور لگائیں ،بڑے بڑے سیمینار اور پروگرام بھی ضرور کرو مگر جو راہ حق میں مارے گئے ان کو بھی یاد کرلو کہ ان کیساتھ کیا بیتی ۔قائداعظم اورعلامہ اقبال نے پاکستان بنایا مگر ان کے علاوہ بھی لاکھوں نے جانیں دیں اور وہ اس لئے نہیں دیں کہ ہندوؤں سے ملک کو آزاد کروا کر جاگیرداروں اور وڈیروں کے حوالے کردیا جائے ۔ہم نے ملک اس لئے حاصل کیا تھا کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کو آزادی حاصل ہوگی اور انہیں انصاف ملے گامگر آج دیکھ لو کہ کیا حالت ہے پاکستان کی لوگ نسل در نسل انصاف کیلئے بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ہم نے انگریز سے نجات حاصل کرلی مگر نظام آج بھی اسی کا چل رہاہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ آزادی بڑی نعمت ہے مگریہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں آج تک وہ آزادی نظر نہیں آئی جس کیلئے ہم نے خون کی ندیاں پارکیں اور بیشمار قربانیاں دیں۔ان کا کہنا تھا کہ انگریزوں اور ہندوؤں نے تو چلیں ہم پر ظلم کیا ہے مگر ہمارے اپنے ہمارے ساتھ کیا کررہے ہیں یہ بھی تو دیکھیں۔اس پر انہوں نے ایک شعر کہہ کر اپنی بات ختم کی
|
2022/05/20 01:28:07
|
https://okaradiary.com/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D9%86%D8%AA%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%A7%D9%88%DA%A9%D8%A7%DA%91%DB%81-%DA%A9%DB%92-%DA%86%D9%86%D8%AF/
|
mC4
|
تفسیر ابن کثیر - سورة النِّسَاء ۴:۵۸
سورة النِّسَاء ۴:۵۷
سورة النِّسَاء ۴:۵۸
سورة النِّسَاء ۴:۵۹
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴿58﴾
[جالندھری] خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانیتں ان کے حوالے کر دیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک خدا سنتا (اور) دیکھتا ہے
امانت اور عدل و انصاف
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو تیرے ساتھ امانت داری کا برتاؤ کرے تو اس کی امانت ادا کر اور جو تیرے ساتھ خیانت کرے تو اس سے خیانت مت کر( مسند احمد و سنن) آیت کے الفاظ وسیع المعنی ہیں۔ ان میں اللہ تعالٰی عزوجل کے حقوق کی ادائیگی بھی شامل ہے جیسے روزہ نماز زکوۃ کفارہ نذر وغیرہ، اور بندوں کے آپس کے کل حقوق بھی شامل ہیں جیسے امانت دار کا حق اسے دلوایا جائے گا یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگوں والی بکری نے مارا ہے تو اس کا بدلہ بھی اسے دلوایا جائے گا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ شہادت کی وجہ سے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں مگر امانت نہیں مٹنے لگی کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تو اسے بھی قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کر وہ جواب دے گا کہ دنیا تو اب ہے نہیں میں کہاں سے اسے ادا کروں؟ فرماتے ہیں پھر وہ چیز اسے جہنم کی تہہ میں نظر آئے گی اور کہا جائے گا کہ جا اسے لے آ وہ اسے اپنے کندھے پر لاد کر لے چلے گا لیکن وہ گر پڑے گی وہ پھر اسے لینے جائے گا بس اسی عذاب میں وہ مبتلا رہے گا حضرت زاذان اس روایت کو سن کر حضرت براء رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس آ کر بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میرے بھائی نے سچ کہا پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ فرماتے ہیں ہر نیک و بد کے لئے پر یہی حکم ہے، ابو العالیہ فرماتے ہیں جس چیز کا حکم دیا گیا اور جس چیز سے منع کیا گیا وہ سب امانت ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت اپنی شرم گاہ کی امانت دار ہے، ربیع بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جو جو معاملات تیرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ہوں وہ سب اسی میں شامل ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ سلطان عید والے دن عورتوں کو خطبہ سنائے۔ اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اطمینان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں آئے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا۔ حجرا سود کو اپنی لکڑی سے چھوتے تھے اس کے بعد عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو کعبہ کی کنجی برادر تھے بلایا ان سے کنجی طلب کی انہوں نے دینا چاہی اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب یہ مجھے سونپئے تاکہ میرے گھرانے میں زمزم کا پانی پلانا اور کعبہ کی کنجی رکھنا دونوں ہی باتیں رہیں یہ سنتے ہی حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ طلب کی پھر وہی واقعہ ہوا آپ نے سہ بارہ طلب کی حضرت عثمان نے یہ کہہ کر دے دی کہ اللہ کی امانت آپ کو دیتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کا دروازہ کھول اندر گئے وہاں جتنے بت اور تصویریں تھیں سب توڑ کر پھینک دیں حضرت ابراہیم کا بت بھی تھا جس کے ہاتھ فال کے تیر تھی آپ نے فرمایا اللہ ان مشرکین کو غارت کرے بھلا خلیل اللہ کو ان سیروں سے کیا سروکار؟ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے کہا کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے وہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تام لشکروں کو اسی اکیلے نے شکست دی پھر آپ نے ایک لمبا خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کے تمام جھگڑے اب میرے پاؤں تلے کچل دئیے گئے خواہ مالی ہوں خواہ جانی ہوں بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب جوں کا توں باقی رہے گا اس خطبہ کو پورا کر کے آپ بیٹھے ہی تھے جو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آگے بڑھ کر کہا حضور چابی مجھے عنایت فرمائی جائے تاکہ بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا منصب دونوں یکجا ہو جائیں لیکن آپ نے انہیں نہ دی مقام ابراہیم کو کعبہ کے اندر سے نکال کر آپ نے کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھ دیا اور اوروں سے کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے پھر آپ طواف میں مشغول ہوگئے ابھی وہ چند پھیرے ہی پھرے تھے جو حضرت جبرائیل نازل ہوئیے اور آپ نے اپنی زبان مبارک سے اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میرے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں میں نے تو اس سے پہلے آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے نہیں سنا اب آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بلایا اور انہیں کنجی سونپ دی اور فرمایا آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہے یہ وہی عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ وہی ہیں جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آتی ہے یہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان اسلام لائے جب ہی خالد بن ولید اور عمرو بن عاص بھی مسلمان ہوئے تھے ان کا چچا عثمان بن طلحہ احمد کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ تھا بلکہ ان کا جھنڈا بردار تھا اور وہیں بحالت کفر مارا گیا تھا۔ الغرض مشہور تو یہی ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں اتری ہے اب خواہ اس بارے میں نازل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو بہرصورت اس کا حکم عام ہے جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کا قول ہے کہ ہر شخص کو دوسرے کی امانت کی ادائیگی کا حکم ہے پھر ارشاد ہے کہ فیصلے عدل کے ساتھ کرو حاکموں کو احکم الحاکمین کا حکم ہو رہا ہے کہ کسی حالت میں عدل کا دامن نہ چھوڑو ، حدیث میں ہے اللہ حاکم کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے جب ظلم کرتا ہے تو اسے اسی کا طرف سونپ دیتا ہے ، ایک اثر میں ہے ایک دن کا عدل چالیس سال کی عبادت کے برابر ہے، پھر فرماتا ہے یہ ادائیگی امانات کا اور عدل و انصاف کا حکم اور اسی طرح شریعت کے تمام احکام اور تمام ممنوعات تمہارے لئے بہترین اور نافع چیزیں ہیں جن کا امر پروردگار نے تمہیں دیا ہے ( ابن ابی حاتم) اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس آیت کے آخری الفاظ پڑھتے ہوئے اپنا انگوٹھا اپنے کان میں رکھا اور شہادت کی انگلی اپنی آنکھ پر رکھی (یعنی اشارے سے سننا دیکھنا کان اور آنکھ پر انگلی رکھ کر بتا کر) فرمایا میں نے اسی طرح پڑھتے اور کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، راوی حدیث حضرت ابو زکریا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے استاد مضری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طرح پڑھ کر اشارہ کر کے ہمیں بتایا اپنے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا اپنی دائیں آنکھ پر رکھا اور اس کے پاس کی انگلی اپنے داہنے کان پر رکھی ( ابن ابی حاتم) یہ حدیث اسی طرح امام ابو داؤد نے بھی روایت کی ہے اور امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں اسے نقل کیا ہے۔ اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے وارد کیا ہے، اس کی سند میں جو ابو یونس ہیں وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مولی ہیں اور ان کا نام سلیم بن جیر رحمۃ اللہ علیہ ہے۔
|
2021/10/17 13:44:59
|
https://urdupub.com/r-152-3546/%D8%AA%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%DA%A9%D8%AB%DB%8C%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%86%D9%91%D9%90%D8%B3%D9%8E%D8%A7%D8%A1-%DB%B4:%DB%B5%DB%B8/
|
mC4
|
''ہم کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں'' امریکہ اور یہ ملک تیار رہیں ۔۔شمالی کوریا نے آخری ایٹمی تجربے کے بعد بڑا اعلان کر دیا
جمعرات 04 جون 2020 لاسٹ اپ ڈیٹڈ : 04:32
''ہم کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں'' امریکہ اور یہ ملک تیار رہیں ۔۔شمالی کوریا نے آخری ایٹمی تجربے کے بعد بڑا اعلان کر دیا
منگل 20 ستمبر 2016 | 13:39
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق مصنوعی سیارے کو لانچ کرنے کے لیے ایک نئے راکٹ انجن کا زمین پر 'کامیاب' تجربہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ا?ن نے سائنس دانوں اور انجینیئرز سے کہا ہے کہ وہ سیٹلائٹ کو جلد سے جلد لانچ کرنے کی تیاریاں کریں۔کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ا?ن نے خود اس تجربے کی نگرانی کی۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق راکٹ انجن کے تجربے کی مدد سے ملک کے مختلف
قسم کے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کی صلاحیتوں میں قابل ذکر اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق شمالی کوریا آنے والے دنوں میں طویل فاصلے پر مار کرنے والا راکٹ کا تجربہ کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو شمالی کوریا نے ایک کامیاب جوہری تجربہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس کا پانچواں جوہری تجربہ ہے۔ دریں اثنا امریکہ اور چین نے شمالی کوریا کے پانچویں جوہری تجربے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں کیے جانے والے زیرِ زمین جوہری تجربے کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اب تک کیے جانے والے جوہری تجربات میں سب سے طاقتور تجربہ ہے۔ شمالی کوریا باقاعدگی سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرامز کی ترقی کے بارے میں دعوے کرتا رہتا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا ناممکن ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے نا معلوم سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اور چینی حکام نے شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔شمالی کوریا نے پانچویں مبینہ تجربے کے بعد امریکہ و جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ان پر حملہ کر سکتا ہے۔
|
2020/06/04 23:34:34
|
http://javedch.com/international/2016/09/20/188928
|
mC4
|
22اگست کے بعد بغیر ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سکول داخلے کی اجازت نہیں ہوگی – Public News
22اگست کے بعد بغیر ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سکول داخلے کی اجازت نہیں ہوگی
لاہور (پبلک نیوز) صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے اساتذہ اور سکولوں کے دیگر سٹاف کے لئے جلد از جلد کوورنا ویکسین لگوانے کے حوالے اہم پیغام جاری کیا ہے۔
ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ محمکہ تعلیم پنجاب کی جانب سے تمام نجی و سرکاری سکولوں کے اساتذہ، انتظامیہ، و دیگر سٹاف کے لئے کرونا ویکسین کو لازم قرار دیا جا چکا ہے۔ 22 اگست 2021 تک پنجاب کے تمام سرکاری و نجی سکولوں کے اساتذہ، انتظامی عملہ و دیگر سٹاف کے لئے ویکسینیشن لگوانا لازم ہے۔ اس مد میں محمکہ تعلیم پنجاب کی جانب سے نوٹیفکیشن 4 اگست 2021 کو جاری کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مراد راس کا کہنا تھا کہ 22اگست 2021 کے بعد کسی بھی فرد کو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر سکول میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ 22 اگست ک بعد محمکہ تعلیم پنجاب کی جانب سے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی چیکنگ کے لئے سکولوں کے دورے کئے جائیں گے۔ اساتذہ، انتظامیہ، یا دیگر سٹاف کی ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ سکول کو سیل کر دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرورنا وبا سے بچاو ایس او پیز پر عملدرآمد، مکمل اختیاط اور جلد از جلد ویکسینیشن کی بدولت ہی ممکن ہے۔
|
2022/06/28 09:40:04
|
https://publicnews.com/38204/
|
mC4
|
عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض | Shamma News | World News, Pakistan News, National News | Shamma News | World News, Pakistan News, National News عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض – Shamma News | World News, Pakistan News, National News
Home پاکستان عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض
عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض
کراچی (نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراضی کا اظہار کردیا، کہتے ہیں کہ مجھے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے فردوس عاشق اعوان اور علی زیدی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کی۔بحری امور کے وزیر علی زیدی نے چند ہفتوں قبل کلین کراچی مہم کا آغاز کیا تھا، عامر لیاقت نے شکوہ کیا کہ میں کراچی سے تعلق رکھتا ہوں اور اس شہر کیلئے بہت کچھ کرسکتا ہوں، لیکن مجھ سے اس حوالے سے پوچھا تک نہیں گیا، مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیوں استعمال نہیں کیا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ شاید علی زیدی کراچی کے میئر بننا چاہتے ہیں، عامر لیاقت نے یہ بھی کہہ دیا کہ علی زیدی اس عہدے کیلئے ایک اچھا انتخاب ہوں گے۔پارٹی چھوڑنے سے متعلق سوال پر وہ بولے کہ عمران خان میری محبت ہیں، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا، وہ میری زندگی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں درباری نہیں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے مجھے درس دیا ہے کہ جہاں بھی غلطیاں ہوں ان کی نشاندہی کریں، تاہم انہیں لگتا ہے کہ مرکزی قیادت انہیں نظر انداز کررہی ہے، اس بات کے اظہار کے بعد بھی عمران خان سمیت کسی پارٹی رہنماءنے رابطہ نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے کبوتر اب وزیراعظم ہاو¿س کی جانب نہیں جاتے، کوئی باز آکر انہیں لپک لیتا ہے۔
|
2020/09/28 18:09:20
|
https://shammanews.com/archives/11063
|
mC4
|
رویت هلال کے سلسلے میں حکم حاکم شرع کی اطاعت سب پرلازم ہے
06 September 2010 - 18:26
نیوز کوڈ: 1808
حجت الاسلام فلاح زاده:
رسا نیوزایجسنی - مرکزترویج احکام کے سربراہ نے کہا: اگررویت هلال کے سلسلے میں اختلاف پیش اجائے اوردوسرے راستوں کے ذریعہ رویت ھلال ثابت نہ ہوسکے مگر حاکم شرع ولی امر مسلمین کے نزدیک رویت ثابت ہوچکی ہوتو حکم حاکم شرع کی اطاعت سب پرلازم ہے۔
مرکزترویج احکام کے سربراہ ، حجت الاسلام محمد حسین فلاح زاده نے رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر سےگفتگو میں ماہ مبارک رمضان کے نزدیک ہونے کی بنیاد پرجن لوگوں پر روزہ واجب یا وہ لوگ جن پر روزہ واجب بھی نہی ہے رویت ھلال کی سفارش کرتے ہوئے کہا : رویت ھلال مستحب کام ہے لھذا جہاں تک ممکن ہو سبھی ھلال ماہ مبارک رمضان دیکھنے کی کوشش کریں ۔
انہوں نے رویت ھلال ماہ کو ذاتی بیان کرتے ہوئے کہا : انسان یا خود چاند دیکھے یا دو عادل گواہ دیں کہ ھم نے چاند دیکھا ہے یا کچھ لوگ کہیں ولو وہ عادل نہ ہوں کہ چاند دیکھا ہےاور اس سے اطمینان حاصل ہوجائے یا ماہ شعبان کے تیس دن گزر جائیں یا حاکم شرع رویت ھلال کے ثابت ہونے کا حکم دے دے ۔
حجتالاسلام فلاح زاده نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اثبات رویت ھلال ذاتی امر ہے اور اس سلسلے میں کسی کی تقلید نہی کی جاسکتی کہا : چاند کے اثبات کا طریقہ تقلیدی ہے کہ ھر انسان اپنے مرجع کی تقلید کے مطابق عمل کرے گا ولھذا اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مرجع کی نگاہ میں چاند کے اثبات کے راستے کیا ہیں۔
انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہ رویت ھلال ماہ حاکم شرع کی ذمہ داریوں میں سے نہی ہے بلکہ ھر انسان کا اپنا وظیفہ ہے کہا : حاکم شرع کا حکم کسی مخصوص انسان سے مربوط نہی ہے اور یہ رویت ھلال ماہ کے مانند نہی کہ ھر انسان خود جاکر چاند دیکھے ولھذا جب حاکم شرع رویت ھلال کے حوالے حکم دے دے تو سب پراس حکم کی اطاعت لازم ہے ۔
حجتالاسلام فلاحزاده نے یادہانی کی : مراجع تقلید میں سے جن بزرگان میں حکم حاکم شرع کو رویت ھلال کے طریقوں میں محسوب کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں نوٹ لگایا ہے کہ اگر کوئی مکلف مطمئن ہوجائے کہ حاکم شرع نے رویت ھلال کے سلسلے میں غلطی کی ہے تو اسے حق حاصل ہے کہ حاکم شرع کے حکم اطاعت نہ کرے مگر یہ بھی قابل ذکر ہےکہ اس بات کا انکشاف اسان نہی کہ ہے مکلف سمجھ سکے کہ حاکم شرع نے اعلان کرنے میں غلطی کی ہے ۔
حجتالاسلام فلاحزاده نے یہ کہتے ہوئے کہ حاکم شرع کا اعلان اس کے حکم کے معنی میں نہی ہے کیوں کہ حکم کے لئے ضرورکی ہے کہ حکام حکم ہونے پر تصریح کرے فقط یہ کہنا کہ ھمارے نزدیک ثابت ہوچکا ہے کہ حاک شرع کے حکم ہونے پر دلیل نہی ہے تاکید کی : پیغمبر اسلام (ص) کے فرمان کے مطابق ماہ رمضان ماہ ضیافت ومغفرت وبرکت ورحمت الھی ہے ھمیں اس ماہ سے اچھی طرح استفادہ کرنا چاھئے ۔
|
2021/04/14 05:32:22
|
https://ur.rasanews.ir/ur/news/1808/%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%AA-%D9%87%D9%84%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%AD%D8%A7%DA%A9%D9%85-%D8%B4%D8%B1%D8%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B7%D8%A7%D8%B9%D8%AA-%D8%B3%D8%A8-%D9%BE%D8%B1%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85-%DB%81%DB%92
|
mC4
|
مصلحت کے شہر میں انقلاب کی باتیں | Independent Urdu
ہوم پیچ » زاویہ » مصلحت کے شہر میں انقلاب کی باتیں
سیاست موضوع تھا کچھ انہوں نے اپنی سنائی کچھ آپ نے ان کی سنی۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔
جمعرات 24 ستمبر 2020 6:15
عسکری طاقتوں سے ملاقاتوں کے یہ سلسلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اساس کا ناقابل تردید حصہ ہیں۔(تصویر فائل)
شاعر عجیب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس شعر کہنے اور لفظوں سے کھیلنے کا ایک ہی تو فن ہوتا ہے۔ یہ انہی لفظوں سے خواب دکھاتے ہیں، کبھی نجومی بن کر مستقبل کا حال سناتے ہیں، کبھی دوست بن کر اپنے خیالات کا کندھا دیتے ہیں اور کبھی تلخ شاعری سے طعنے تشنے بھی دے جاتے ہیں۔
آج کل مرحوم راحت اندوری کے چاہنے والوں کی اک ہوا چل پڑی ہے۔ ایسے ہی افتخار عارف بھی ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت سنے دیکھے اور سیاسی حوالوں میں آ رہے ہیں۔ ان کے بارے میں پروفیسر فتح ملک کہتے ہیں کہ 'افتخار عارف کے ہاں سرفروشی کے بلند و بانگ مگر کھوکھلے دعووں کی بجائے جسم و جاں کے لیے مفاہمت پسندی پر ندامت کا جاں سوز احساس ملتا ہے۔' یہ تھوڑا مشکل ہوگیا؟ آئیں مثال سے سمجھیں، جیسے کہ
قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے
اسیروں کو خیال ِبال و پر شاید نہ آئے
بازاری (یا شاید ہماری پارلیمانی) زبان میں یہ شعر نظریہ مصلحت و منافقت کے پیروکاروں کو کہہ رہا ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ لیکن درباری زبان میں اسے سیاسی معاملہ فہم افراد سے جمہوری اختلاف کہا جائے گا۔ ہماری اپوزیشن ان دنوں ایسی ہی عجب اک صورت حال سے گزر رہی ہے۔
ہمیں چھٹی کے روز سہہ پہر میں ن لیگ کے لیڈر نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں، ریاست کے اوپر ایک ریاست ہے۔ ہم سمجھ گئے، ہم نے کہنے والے کی ہمت کو داد دی، ہمیں ریاست کے اوپر والی ریاست سے کچھ کچھ بےچینی سی ہونے لگی، اس سے پہلے کے ہم اپنے جنوں کو خرد پہ حاوی کرتے اور حد سے گزر جاتے ایک خبر آئی اور سارے بیانیے کو سرخ حاشیوں سے نشان زد کر دیا۔
خبر آئی کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر بات چیت کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو بلایا گیا۔ یہ ملنے چلے گئے۔ خبر تھی کہ یہ ملاقات ایک عسکری ادارے کے دیوان خاص میں ہوئی، جہاں کھانے کی پرشکوہ میز پر میں شکوہ جواب شکوہ ہوا۔ یوں ملاقات کی سن گن میاں صاحب کے تاریخ ساز خطاب کو نگل گئی۔
ایسے موقعوں کے لیے افتخار عارف صاحب کہتے ہیں:
خجل ہوئی ہیں قامتیں قیامتوں کے زعم میں
مذاق بن کے رہ گئی ہیں قد دراز کرکے بھی
وہ اہل انتظار جنہیں ایک تقریر نے پاکستان کے جمہوری مستقبل کے سارے جواب دے ڈالے تھے، پھر سے کئی سوالوں کے متضاد جوابات میں الجھ گئے۔ یہ الجھے لوگ یہاں وہاں ڈھونڈ رہے ہیں کہ وہ جو ریاست کے اوپر مسلط ریاست کو بس للکارنے ہی والے تھے وہ کیا ہوئے؟
اس ملاقات میں ن لیگی رہنما خواجہ آصف کی اس فون کال کا بھی چرچا ہوا جو بقول خواجہ آصف کے الیکشن کی رات بلکہ نیم شب کی تھی۔ اس کال میں خواجہ صاحب نے آرمی چیف سے دھاندلی کی شکایت کی تھی۔ ایک اور ن لیگی رہنما احسن اقبال بتاتے ہیں ملاقات میں عسکری قیادت کے سامنے نیب کا شکوہ بھی کیا۔
مریم نواز کہتی ہیں سیاست دانوں کو ایسی ملاقاتوں میں نہیں جانا چاہیے۔ لیکن احسن اقبال ان سے ذرا مختلف سوچتے ہیں وہ کہتے ہیں عسکری قیادت سے ملاقات میں کوئی حرج نہیں، بدگمانی ختم کرنا ان کا فرض ہے۔
ایک ہی جماعت کے رہنماؤں کے متضاد بیانات سے پھیلے ابہام کو تو رکھیں ایک طرف چلیں مان لیتے ہیں دعوت ملی آپ چلے گئے۔ آپ کو ویلکم کیا گیا، آپ سیر حاصل مل بھی لیے۔ آپ نے شکوے کیے انہوں نے سن بھی لیے۔ سیاست موضوع تھا کچھ انہوں نے اپنی سنائی کچھ آپ نے ان کی سنی۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔
عسکری طاقتوں سے ملاقاتوں کے یہ سلسلے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اساس کا ناقابل تردید حصہ ہیں۔ آپ پہلے ریاست کے اندر ریاست سے مصلحتوں کے رشتے بناتے رہے، اب ریاست کے اوپر جو ریاست ہے وہ آپ کی سہیلی۔ اس میں کچھ بھی تو نیا نہیں۔
ہاں اس بار جو کچھ نیا ہے تو وہ شعور ہے جو ابھی چار دن پہلے ہی میاں نواز شریف نے قوم کو دیا ہے۔ قوم ابھی ان اقوال زریں کے سحر میں گرفتار ہے اس لیے پوچھنے کی جرات کر رہی ہے کہ ڈیئر میاں صاحب آپ کی جماعت کے رہنماؤں کا اسی بالا دست ریاستی طاقت سے چھپ چھپ کے ملنا کون سے انقلاب کی ذیل میں آتا ہے؟
میاں نواز شریف عوام کو بتا رہے تھے کہ فوج کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ ان کی یہ بات پاکستانیوں نے پلو سے باندھ لی ہے اسی لیے اک سوال ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ آیا عسکری قیادت کے پاس جا کر نیب کے شکایتیں کرنا جمہوری انقلاب کی ابتدا ہے؟
میاں صاحب نے عوام کو یہ عقل دی کہ عمران خان کی حکومت عوام نہیں اسٹیبلشمنٹ، سلیکٹرز لائے ہیں۔ اسی عقلی دلیل کو بنیاد بنا کر عوام پوچھنا چاہتے ہیں گلگت بلتستان میں سکیورٹی، انتظامی اور آئینی امور پر عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھک لگانےسے کیا آپ کی جماعت انہی سلیکٹرز کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی؟ کیا یہ غور فکر کی نشست گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت سے نہیں ہونی چاہیے تھی؟
آل پارٹیز کانفرنس میں کشتیاں جلانے والی تقریر اب کانفرنس کے بعد درپیش صورت حال کے باعث جی جلانے والی تقریر بنتی جا رہی ہے۔ عوام کو جمہوری شعور دے کر طاقتوروں سے ساز باز کرنے والی یہ انقلابی ادا بھی خوب ٹھہری۔ جاتے جاتے افتخار عارف صاحب کو سنتے جائیں:
|
2020/10/26 06:48:07
|
https://www.independenturdu.com/node/48151
|
mC4
|
روسی صدر کےنمائندہ خصوصی پاکستان پہنچ گئے ، ذرائع
اسلام آباد ( 92 نیوز) روسی صدر کےنمائندہ خصوصی برائے افغانستان ، پاکستان پہنچ گئے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق زمیر کابلوو2 روزہ دورے پر رات گئے اسلام آباد پہنچے، وزارت خارجہ اور روسی سفارتخانہ کے اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔ روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوو نے وزارتِ خارجہ میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، افغان قیام امن سمیت مختلف علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور روس کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ضمیر کابلوو کا 2 روزہ دورہ روسی صدر کی خواہش پر ہو رہا ہے۔
|
2022/01/20 19:59:34
|
https://urdu.92newshd.tv/about/%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%92%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%AF%DB%81-%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86
|
mC4
|
شیخ سر عبدالقادرؒ کی یاد میں
شیخ سرعبدالقادرؒ برصغیر پاک و ہند اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے عظیم رہنماﺅں میں سے ایک تھے۔ وہ 1874ءمیں لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور 9فروری 1950ءکو رحلت پا گئے .... سرعبدالقادر کی وجہ شہرت ایڈیٹر رسالہ مخزن، ادیب، اردودان، مفکر، سیاست دان، وکیل، چیف جسٹس، وزیرتعلیم اور مسلمانوں کے عظےم قومی رہنما کی تھی۔آپ کا شمار مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، مولانا شبلی نعمانی، حفیظ جالندھری، مولانا ظفر علی خان، بابائے اردو مولوی عبدالحق ،سردار عبدالرب نشتر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، الطاف حسین حالی، داغ، اکبر الٰہ آبادی، عبدالمجید سالک، سجاد حیدر یلدرم، مولانا حسرت موہانی اور دیگر عظیم مسلمان رہنماﺅں کے انتہائی قریبی دوستوں میں ہوتا تھا۔ آپ ہی وہ واحد ہستی ہیں، جنہوں نے علامہ اقبالؒ کی شہرئہ آفاق کتاب "بانگ درا" اور خالقِ ترانہ پاکستان حفیظ جالندھری کے "شاہنامہ اسلام" کا دیباچہ لکھا....اردو زبان کے لئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور آبیاری کے لئے آپ کے رسالہ مخزن کا ذکر کئے بغیر اردو کی تاریخ نامکمل ہے۔ آپ کے زیر سایہ بہت سے عظیم شاعر، ادیب، مصنف، نظم و نثر نگار اور اردو کے بڑے نام منظر عام پر آئے اور آپ نے سب کی سرپرستی فرمائی۔
قیام پاکستان اور تحریک پاکستان کے لئے آپ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔سرسید احمد خان کے مکتب فکر اور تحریک علی گڑھ کے نامور زعماءمیں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ مسلمانوں کو پھلتا پھولتا، تعلیم یافتہ، تہذیب یافتہ، آزاد اور ترقی کرتے ہوئے خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی زبان، کلام، تحریر و تقریر غرض دامے درمے، سخنے ہر لحاظ سے آپ نے کام کیا۔شیخ عبدالقادر ایک بلند پایہ ءادیب، انشاءپرداز اور اخبار نویس تھے، جن کا سب کچھ وطن اور ملت کے لئے وقف تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم قصور سے لی، پھر ایف سی کالج سے گریجوایشن کیا۔1906ءمیں انگلستان سے بارایٹ لاءکیا۔ لاہور میں پریکٹس شروع کی۔وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج اور بہاولپور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے وزیر تعلیم بھی رہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔آپ کا شمار برصغیر کی عظیم ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔علامہ اقبال آپ کے ذاتی دوست تھے۔
1901ءمیں آپ نے لاہور سے اردو ادبی رسالہ "مخزن" جاری کیا، جو ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ 1927ءمیں اس وقت کی حکومت نے آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو "سر" کا خطاب دیا۔آپ نے بہت سارے مضامین کے علاوہ سفرنامہ یورپ اور ترکی کا سفرنامہ "دربارِ خلافت" کے نام سے لکھا۔آپ کو سیاحت کا بڑا شوق تھا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انگلستان، جرمنی، امریکہ، اٹلی، یورپ اور ترکی کے سفر کئے۔ آپ سیروسیاحت کی غرض سے ترکی بھی تشریف لے گئے۔ استنبول میں خلافت ِ عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی سے بھی ملے۔ترکی کی عظیم ہستیوں کے علاوہ شیخ الاسلام بڑے بڑے پاشاﺅں اور رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ سلطان خلیفہ الوقت شیخ سرعبدالقادر کی شخصیت ،علم دوستی اور قابلیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں تمغہ ءحمیدیہ بھی عطا فرمایا جو آپ کی خدمات کا ایک بڑا اعتراف بھی تھا۔
ساری زندگی آپ کی یہ خواہش رہی کہ مسلمانانِ برصغیر جاگ اٹھیں۔ان کی قسمت جاگے اور وہ بھی دنیا کی معزز اقوام میں برابر کی جگہ لیں۔ان کے دل میں ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور فارغ البالی کے لئے بے انتہا تڑپ، امنگ اور جستجو تھی۔وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے تھے کہ کاش میری قوم بھی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک پُروقار اور باعزت قوم کی حیثیت سے کھڑی ہو سکے۔ ہماری تعلیمی ،صنعتی، تجارتی ،تہذیبی و تمدنی ترقی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم بحیثیت قوم اپنی نوجوان نسل کو شیخ سر عبدالقادر جیسی عظیم شخصیت کے افکار و نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانے اور آگاہ کرنے کے لئے اقدامات کریں، تاکہ ہماری نوجوان نسل میں اپنے اسلاف کے بارے میں آگاہی پیدا ہو اور وہ حب الوطنی اور قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ سرکاری سرپرستی میں ادارے قائم کرے۔شیخ سر عبدالقادر کے افکار و خیالات پر مبنی آپ کی تحریروں، تقاریر، مضامین سفرنامے اور دیگر نگارشات کو شائع کروائے۔درسی کتب میں آپ کے بارے میں مضامین شامل ہوں۔آپ کی یادداشتوں کے کاغذات سے کئی صندوق بھرے پڑے ہیں۔اس حوالے سے آپ کے خاندان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ٭
|
2021/09/27 20:26:21
|
https://dailypakistan.com.pk/20-Nov-2013/61982
|
mC4
|
ایچ آئی وی کی کیا وجوہات ہوتی ہیں اور کیا اس کا علاج ممکن ہے؟ - Punjnud.com
از بلال حسین
ایچ آئی وی کی وجہ ایک بے معنی ترکیب ہے- ایچ آئی وی ایک وائرس کا نام ہے- وہ وائرس اگر کسی وجہ سے انسان کے خون میں داخل ہو جائے تو یہ جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کر دیتا ہے جس وجہ سے جسم میں عام جراثیم یا وائرس کے خلاف مدافعت کی قوت ختم ہو جاتی ہے- اس حالت کو AIDS یا Acquired Immune Deficiency Syndrome کہا جاتا ہے- اس صورت میں معمولی بیماری مثلاً نزلہ زکام وغیرہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں- اس وائرس کے خلاف دوا موجود ہے لیکن ابھی بھی بہت مہنگی ہے-
ایچ آئی وی انفیکشن اور ایڈز میں کیا فرق ہے؟
ایچ آئی وی کا میزبان میں موجود ہونا ایچ آئی وی انفیکشن کہلاتا ہے۔
ایچ آئی وی انفیکشن کے سپٹمز کے مراحل درج ذیل ہیں:
1۔ ایکیوٹ ایچ آئی وی انفیکشن
ایچ آئی وی میزبان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد تیزی سے اپنی کاپیاں بناتا ہے اور جسم میں ہر جگہ پھیل جاتے ہیں اور زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں یہ علامات انفیکشن کے 3 سے 4 ہفتوں بعد ظاہر ہوتی ہیں اس میں مریض سر درد اور بخار محسوس کرتا ہے۔ یہ ایچ آئی وی انفیکشن کی پہلی اسٹیج ہے۔اس مرحلہ میں خون میں وائرس کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور ایسے لوگ یہ وائرس دوسروں میں منتقل کرسکتے ہیں۔
2۔ کرانک ایچ آئی وی انفیکشن
اس مرحلہ میں وائرس اپنی کاپیاں خاموشی سے بناتا رہتا ہے اور اس مرحلہ میں کئی سالوں تک لوگوں میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔اسی لئے لوگ انجانے میں یہ وائرس دوسروں میں بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔انفیکشن کا علاج نہ کیا جائے تو یہ وائرس مدافعتی نظام کو خظرناک حد تک نقصان پہنچا چکا ہوتا ہے۔
3۔ ایڈز
اگر میزبان کے جسم میں سی ڈی 4 خلیات 200 Cells / mm3 سے کم ہوجائیں یا میزبان کچھ موقعہ پرست انفیکشن یا کینسر کا شکار ہوتو اُسے ایڈز کا مریض کہاجاتاہے۔اس مرحلہ میں مدافعتی نظام خطرناک حد تک تباہ ہوچکا ہوتا ہے اور مدافعتی نظام معمولی انفیکشن سے بھی لڑنے کے قابل نہیں رہتا۔
کیا ایچ آئی وی کا علاج ممکن ہے؟
ایچ آئی وی انفیکشن یا ایڈز کا مکمل علاج موجود نہیں لیکن ایسی ادویات ضرور موجود ہیں جو وائرس کی سرگرمیوں کو روک دیتی ہیں اور مریض کئی سالوں تک زندہ رہ سکتے ہیں ۔ایچ آئی وی انفیکشن / ایڈز کے لئے استعمال ہونے والی ادویات کو اے آر ٹی / اینٹی ریٹرو وائرل ڈرگز کہاجاتا ہے۔ان ادویات کے میکانزم کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
ایچ آئی وی انفیکشن / ایڈز کے علاج کے لئے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ وائرس کی لائف سائیکل کے مختلف مراحل کو متاثر کرتی ہیں۔
جب وائرس مدافعتی سیل پر حملہ کرتا ہے تو سی ڈی 4 ریسیپٹر پر اٹیچ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد سی ڈی 4 سیل کے کو-ریسیپٹر کیساتھ اٹیچ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔کو-ریسپٹر یا تو CCR5 ہوگا یا CXCR4
وائرس کو ان کو۔ریسیپٹرز کیساتھ اٹیچ ہونے سے روکنے کے لئے کچھ ادویات موجود ہیں
جو CCR5 یا CXCR4 کو بلاک کردیں گی اور وائرس اٹیچ نہیں ہوسکے گا۔ایسی ادویات سی سی آر فائیو بلاکرز کہلاتی ہیں ۔
نوٹ : کچھ لوگوں میں CCR5 یا CXCR4 بنانے والی جین میں نقص ہوتا ہے اس لئے یہ ریسیپٹرز نارمل نہیں ہوتے ایسے افراد میں یہ وائرس اثرانداز نہیں ہوپاتا کیونکہ وائرس ان ریسیپٹرز کیساتھ اٹیچ نہیں ہوپاتا اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں CCR5 یا CXCR4 بنانے والی جین میں جزوی نقص ہوتا ہے ایسے لوگوں میں یہ انفیکشن پھیلتا توہے لیکن بہت آہستہ آہستہ۔
اگر وائرس CCR5 یا CXCR4 کیساتھ اٹیچ ہوچکا ہے تو وائرس سی ڈی 4 سیل کی ممبرین میں فیوز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور فیوز کرنے میں کامیاب ہوجائے تو سیل میں داخل ہوجاتا ہے۔اس مرحلہ کو ناکام بنانے کے لئے بھی کچھ ادویات موجود ہیں۔یہ ادویات وائرس کو سی ڈی 4 سیلز میں داخل نہیں ہونے دیتیں ۔
ایسی ادویات جو وائرس کو میزبان کے مدافعتی سیلز (سی ڈی 4) کی ممبرین میں فیوز ہونے سے روکتی ہیں ایسی ادویات کو Fusion Inhibitors کہتے ہیں
کاپیاں بنانا
سیل میں داخل ہونے کے بعد وائرس یہاں ڈائریکٹلی پروٹین بنانے کی بجائے آر این اے کو ایک خامرہ (ریورس ٹرانس کرپٹیز) کی مدد سے پہلے ڈی این اے میں کنورٹ کرتا ہے۔یہاں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ جو بھی ڈی این اے کی کاپی بن رہی ہے یا جو بھی نیوکلیوٹائڈز کی چین بن رہی ہے اس کے ساتھ ہائڈروکسل یونٹ بھی ضرور موجود ہوگا جس کے ساتھ نیوکلیوٹائڈز جڑتے جائیں گے۔اس مرحلہ کو ناکام بنانے کے لئے بھی کچھ ایسی ادویات ہیں جن میں موجود مالیکیولز اس چین کے کچھ اجزاء کیساتھ مماثلت رکھتے ہیں اس لئے وائرس ان مالیکیولز کو اپنا سمجھ کر اپنی چین میں جوڑ لیتا ہے لیکن ان مالیکیولز میں چونکہ ہائڈروکسل یونٹ موجود نہیں ہوتا اس لئے یہ چین مکمل نہیں ہوپاتی اور کاپی بنانے کا عمل مزید جاری نہیں رہتا اور یہ مرحلہ یہیں اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔ایسی ادویات کو نیوکلیوٹائڈز یا نیوکلیو سائڈز ریورس ٹرانس کرپٹیز ان ہیبی ٹرز کہتے ہیں۔
اس مرحلہ میں وائرل ڈی این اے میزبان کے ڈی این کیساتھ جڑجاتا ہے اس مرحلہ میں ایک اور خامرہ (Integrase)فعالہوجات¬اہے جو وائرل ڈی این اے کو میزبان کے ڈی این اے کیساتھ جوڑ دیتاہے۔ایسی ادویات کو Integrase Inhibitors کہتے ہیں۔وائرس اس وقت تک نیا وائرس نہیں بناپاتا جب تک وہ اپنا ڈی این اے میزبان کے ڈی این کیساتھ نہ جوڑ دے۔اس مرحلہ کو روکنے کےلئے متذکرہ بالا ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے اگر یہ مرحلہ مکمل ہوجائے تو یہ ہمیشہ کے لئے میزبان کے ڈی این اے کا حصہ بن جائے گا ہمارے پاس اس وقت ایسی کوئی دوا نہیں جو اس وائرل ڈی این اے کو میزبان کے ڈی این اے سے الگ کرسکے۔اسی وجہ سے جو شخص ایک بار ایچ آئی وی پازیٹو ہوگیا وہ مرتے وقت تک ایچ آئی وی پازیٹو ہی رہے گا۔
کیا ایڈز زدہ مریض کا گلاس وغیرہ کے استعمال کرنےسے بھی ٹرانسفر ہوتا ہے؟
جی نہیں ایچ آئی وی محض برتن شیئر کرنے سے نہیں پھیلتا۔ایڈز اگر معدہ میں داخل ہو بھی جاۓ تو وہاں موجود تیزابی مادے اس کو خون کا حصہ بننے سے پہلے ہی ختم کر دیں گے، تھوک میں بھی ایڈز نہیں ہوتا۔ ایڈز یا ایچ آئی وی کھلی ہوا میں فوری ختم ہو جاتا ہے اور کسی سرنج سے صرف اس لیے جسم میں داخل ہو سکتا ہے کیوں کہ سرنج کی بناوٹ یا اس کا سسٹم کھلی ہوا یا آکسیجن کو اندر جانے سے روکتا ہے ۔۔۔ ایڈزکسی ریزر یا بلیڈ سے نہیں پھیلتا کیوں کہ وہ کھلی ہوا میں ہوتے ہیں بلکہ استعمال شدہ ریزر یا سرنج سے زیادہ خطرہ ہیپاٹایٹس پھیلنے کا ہوتا ہے جس کا متاثرہ خون کسی جاندار کے جسم سے نکل کر بھی کھلی ہوا میں تین سے چار دن تک اثر رکھتا ہے۔۔۔ ایڈز کے متاثرہ شخص کے خون اور ہر قسم کی جنسی رطوبت میں ایڈز ہوتا ہے لیکن ایڈز کے متاثرہ شخص کے ساتھ جنسی عمل سے اس لیے ایڈز پھیل سکتا ہے کیوں کہ کنڈوم وغیرہ کے بغیر یہ جنسی رطوبت کھلی ہوا کے بغیر دوسرے تک پہنچ جائے گی۔
|
2022/01/29 02:00:42
|
https://www.punjnud.com/hiv-ki-kya-wajoohat-hoti-hain-aur-kya-is-ka-ilaj-mumkin-hai/
|
mC4
|
جشنِ ولادت۔۔چند توجہ طلب پہلو | Jasarat Blog
ہمارے ایک صحافی دوست نے بہت ہی عجیب سی تحریر پوسٹ کی جو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے تھی وہ تحریر ہم یہاں بیان نہیں کرنا چاہتے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا لکھنے کا موقع دینے والے ہم خود ہیں ۔ہم نے متبرک اور انتہائی اہم دنوں کو بھی اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم نے کیونکہ ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھو لی تھی اس لئے ہما رے گھر میں ٹی وی کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں کوئی اتناشوق تھا مگر ہمارے والد محترم کو ہر مذہبی دن زبانی یاد ہوا کرتا تھا اور ہمارے گھر میں تمام اسلامی دن مذہبی جوش وخروش سے منائے جا تے تھے۔ ہر نیاز کا بہت اہتمام کیا جاتا تھا ہم اپنے پہلے ایک کالم میں شبِ برات کے حلوے کے بارے میں لکھ چکے ہیں اور اس دفعہ جب محلے کے گھر سے چکن اور بیف بریانی آئی توہم نے اپنے صاحبزادے کو کہا کہ ہم بچپن میں تو لوگوں کے گھر خود جا جا کر بانٹا کر تے تھے اور ربیع الاو ل میں تو ہمارے یہا ں عیدکا سماں ہو تا تھا ۔ہم پورا دن خوب کھاتے تھے اور خوب بانٹتے تھے مگر آ ج کا 12 ربیع الاول ہما رے 12 ربیع الاول سے مختلف ہے۔
اب لوگ چراغوں کے بجائے چا ئنالائٹ لگا تے ہیں جو کہ واقعی ایک خوب صورت منظر پیش کر تی ہیں ہم اپنے زمانے میں 12 ربیع الاول کی رات مسجد میں جا گتے تھے اور صبح تک عبا دت کرتے تھے اور مسجد میں ہی سحر ی کا انتظا م ہو تا تھا اور سحری کر کے گھر آتے تھے ،مگر اس مرتبہ 12ربیع الاول کی شان ہی نرالی ہے ہر طرف صبح بہاراں ہے، پورے کراچی کو دلہن کی طر ح سجایا گیا ہے ہر طرف نعتوں کی آواز یں اور یا رسول اللہﷺ کی صدائیں۔
ہم بھی اپنے دوست و احباب کے ساتھ چراغا ں دیکھنے نکلے اور بہت سی جگہوں پر گئے مگر ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ جس ڈھنگ سے کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ہرجگہ بڑی بڑی گا ڑیوں پر بڑے بڑے اسپیکرزرکھ کر نعتیں چلانا ،بر قی قمقمے اسطرح لگا نا کہ روڈ بند ہو جائے، لنگر اسطرح بانٹنا کے رزق کی بے حرمتی ہو،بے شک یہ دن ہرمسلمان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بطور امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں اس دن کے شایان شان ہمیں منانا چاہیے۔ اور اس دن کو منانے کے بہت سے اسلامی حوالے بھی ملتے ہیں جیسا کہ ابو لہب کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنی باندی ثوبیہ کو صرف اس بات پر آزاد کردیا تھا کہ اس نے محمدﷺ بن عبداللہ کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی ۔
ابو لہب کے انتقا ل کے بعدحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا اور پو چھا کہ تمہا رے ساتھ کیا سلو ک ہوا ؟ تواس نے بتایا کہ تم سے جدا ہو نے کے بعد عذا ب میں مبتلا ہو ں مگر ہر پیر کے دن ا نگلی سے ٹھنڈ ک ملتی ہے جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی باندی ثوبیہ کو محمدﷺ بن عبداللہ کی پیدائش پر آزادکر دیاتھا۔ غورطلب بات یہ ہے کہ جب ابو لہب جیسے دشمن رسول، کا فر کو اپنے بھتیجے محمدﷺبن عبداللہ کی ولادت کی خو شی منا نے پر جہنم میں را حت مل سکتی ہے تو ایک مسلمان کو محمدرسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے پر بے پایا ں اجر کیوں نہیں ملے گا؟۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے(صحیح بخاری:5101);علامہ ابوالقاسم لکھتے ہیں " ابلیس ملعون زندگی میں چار مرتبہ چیخ مار کر رویا۔پہلی مرتبہ جب وہ ملعون قراردیا گیا۔دوسری مرتبہ جب اسے بلندی سے پستی کی طرف دھکیلا گیا۔تیسری مرتبہ جب سرکار دو عالم نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی ،چوتھی مرتبہ جب سورة الفاتحہ (الحمد شریف) نازل ہوئی۔" (روضاالانف جلد اول)
ایک دفعہ آقا ئے دو جہاں سرورکون ومکاں کے گرد صحابہ کرام اس طرح جھرمٹ بنائے ہوئے بیٹھے تھے جیسے چاند کے گرد نور کا ہالہ ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسو ل االلہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ولادت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا " میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور حضرت عیسیٰ ؑکی بشارت ہوں"۔حضرت امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوائے وہ رات لیلةالقدرسے بھی افضل رات ہے۔ اس لئے کہ لیلةالمیلاد میں سرکار دو عالم کا ظہورہوا جبکہ لیلةالقدرتو آپ کو عطا ہوئی ہے۔ (سیرت محمدیہ ) میرے پیر و مرشد حضرت پیر سید فیروز شاہ قاسمی فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ کیلئے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی، اس سےبڑھ کر زیاد تی کیا ہوگی کہ محفل میلاد کو "بدعت " قرار دیا جا ئے اور ہمیں اہل بد عت کے نام سے پکا را جائے "ہما را مو قف بھی یہی ہے کہ میلاد النبیﷺ کے نام سے قا ئم مجا لس اور جلوسوں کو ہر قسم کی بد عات ،منکرات اور خرافات سے پاک ہو نا چاہئے تا کہ چند لو گو ں کی بے اعتدالیوں کی بنا پر ایک مستحسن امر کے خلا ف منفی پروپیگنڈے کاجواز نہ مل سکے ۔معروف اہلحد یث عالم علامہ وحید الزما ن لکھتے ہیں :"اس حدیث (یعنی رسول اللہ کا پیر کا رو زہ رکھنے )سے ایک جما عت علما ئےنے آپ کی ولادت کی خو شی یعنی مجلس میلاد کر نے کا جواز ثا بت کیا ہے۔اور حق یہ ہے کہ اگر اس مجلس میں آپ کی ولادت کے مقا صد اور دنیاکی رہنما ئی کے لئے آپ کی ضرورت اور امور پر ،رسالت کی حقیقت کو با لکل صحیح طر یقہ پر اس لئے بیان کیا جا ئے کہ لو گوں میں اس حقیقت کا چر چا ہواورسننے والے یہ ارداہ کر کے سنیں کہ ہم کو اپنی زند گیا ں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطا بق گزارنا ہیں اور ایسی مجالس میں کو ئی بد عت نہ ہو ،تو مبا رک ہیں ایسی مجالس اور حق کے طا لب ہیں، ان میں حصہ لینے والے نیک لوگ ہیں ،بہر حال یہ ضرورہے کہ یہ عہد صحا بہ میں نہ تھیں (لغات الحدیث،جلد3:ص:119 )یہ بات درست ہے کہ مو جو دہ ہیت پر جو مجا لس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد ہو تی ہیں یاجلوس کا شعار ہے 'یہ جدید دور کی معروف اقدار ہیں اور اپنایاہے مثلاً؛اذان میں الصلوة خیرہ من النوم ، مصحف مبارک میں سورتوں کے نام ،آیات کی علامات ،اعراب لگانا وغیرہ۔ کتب احادیث ،بھی دوسری صدی ہجری میں یا اس کے بعد مرتب ہوئیں۔
قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے تمام معاون علوم بعد میں ایجادہوئے اور کسی نظریے سے وابستگی کے اظہار کے لئے یا کسی غلط بات کے استر داداور اس پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے جلوس نکالنے کی روش قائم ہوئی۔تقریباًتمام مکاتب فکرنے دینی مقاصد کے لئے جلوس نکالنے ،مثلاً، شوکت اسلام ، نفاذ شریعت ،ناموس رسالت اور عظمت صحابہ وغیرہ کے نام پر جلوس نکالے جاتے رہے ہیں اور یہ تمام سر گرمیاں دین اور مقاصد دین سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں اس دور میں قبول عام مل چکا ہے۔اسی طرح دینی جماعتوں کا قیام تبلیغی اجتماعات کا انعقاد،افتتاح بخاری یا ختم بخاری کی تقریبات ، مدارس کے سالانہ جلسے یا پچاس سالہ اور ڈیڑھ سوسالہ جشن ، سیرت النبیﷺ کے جلسوں کا انعقاد، مقام حیرت ہے کہ اس طرح کی تمام سر گرمیوں پر کبھی کسی نے کوئی فتویٰ صادرنہیں کیا ، تو صرف محافل و جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہدف تنقید بنانا یا بد عت قرار دینا انتہائی زیادتی ہے۔میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بد عت قرار دینے والوں کا کام آسان ہے کہ وہ فتویٰ دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جا تے ہیں۔میر ی خواہش ہے کہ ان مجا لس کو دینی تعلیم و تر بیت کا مو ثر ذر یعہ بنا نا چا ہئے اور محبت رسول اللہ کا ثمر اطا عت واتباع نبو ی کی صو رت میں ظا ہر ہو نا چا ہئے۔پیشہ ور واعظین ،ومو ضوع روایات بیان کر کے لو گوں کی عقیدت کو اپنی دنیا سنوارنے کے لئے ابھارتے ہیں اور اسے روحا نی سرورکاذریعہ بنا لیا گیا ہے خیر کا کام اس انداز سے ہو نا چا ہئے کہ اس کے مثبت نتا ئج برآمدہو ں،لاوڈاسپیکر کااستعمال بقدرِضروت اور مناسب وقت تک ہو،یہ نہ ہو کہ لا وڈاسپیکر کے شور سے لو گو ں میں بیزاری اور نفرت پیداکی جا ئے کسی اور کی غلط روِش کو اپنے لئے جوازنہ بنایا جائے۔ چراغا ں کے لئے بجلی کا استعمال قانون کے دائرے میں ہو نا چا ہئے ،نا جائز طریقے اختیا ر کر کے اسے سعادت یا با عث اجر سمجھنا غیر شرعی فعل ہے۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ جل شانہ ہمیں وجہ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی اور حقیقی محبت عطا فرمائے۔۔
|
2019/01/22 19:14:00
|
http://blog.jasarat.com/2017/12/01/muzammil-ferozi-2/
|
mC4
|
مختصر مدت کی تجارت - Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟
اسداللہ اسماعیل زادh 2020/11/19 فاریکس ٹریڈنگ کا طریقہ کار
فرسودگی سے مراد اثاثوں کی قیمتوں کے ضیاع اور پہننے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اس قدر قدر کا کٹاؤ محض وقت گزرنے کی وجہ سے یا کسی اثاثہ کے فعال استعمال کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر مثالوں میں ، دونوں عوامل فرسودگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بالکل نئی گاڑی اپنی کچھ قیمت کھو دے گی یہاں تک کہ اگر اس پر کارآمد نہ ہو۔ کار پر میل طے کرنے سے ، یقینا ، گراوٹ کی شرح Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ میں تیزی آئے گی۔ سویڈن کی مضبوط اور بڑھتی ہوئی معیشت.
اگر آپ اس سے زیادہ قیمت پر سرمایہ کاری فروخت کرتے ہیں تو ، آپ کو منافع پر کیپٹل گین ٹیکس ادا کرنے کی Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ ضرورت ہوگی۔ نوٹس : ایک طریقہ کار یا فعل کی نشاندہی کرتا ہے جو سیورسائن انورٹر کے محفوظ اور مناسب عمل کیلئے اہم ہے۔
لہذا کارکن کی معاوضہ انشورنس کو قبول Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ کرنے کا انتخاب کرتے وقت آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو مناسب طریقے سے علاج کیا جائے گا؟
اگر آپ کو تھوڑا سا اضافی رس کی ضرورت ہو تو ، کار کا آڈیو کیپسیٹر بہتر انتخاب ہوسکتا ہے۔ اپنے پہلے قدم کی حیثیت سے مدمقابل کا تجزیہ کرنا آپ کے مستقبل میں وقت کی بہت بچت کرے گا، یہ جان کرکہ آپ کون سے ناموں سے بچیں اور یہ سمجھ کر کہ Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ آپ کے حریف کے لئے کاروباری نام کے الفاظ آپ کے اپنے کاروبار کا نام بنانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوں گے۔ حریفوں کا تجزیہ کرنے کے دوران سوچیں:: 12. دیکھو اور لیIAا نے موت کے ستارے کے چشمے کو عبور کیا… حقیقت میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا تھا اور تمام قرضے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے جس کی وجہ سے مالیاتی حجم میں شدید عدم توازن پیدا ہوا، Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 70 کھرب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔ کسی چیز کے توازن میں رہنے کے ل the ، اس شے پر عمل کرنے والی قوتوں کی تعداد اور ٹورکس دونوں کا صفر ہونا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھڑی کی سمت سب ٹورکس کو گھڑی کے مخالف ٹارکس کے ذریعہ بالکل متوازن ہونا چاہئے۔ بارڈر forsythia ایک باڑ کے متوازی. ڈیوڈ بیولیؤ.
2۔جس کی عمر 21 سے 65 سال ہے۔ اس سیکشن میں ایک استثنیٰ سوک کومینک ہے ، جو 75 سال سے کم عمر پنشنرز کو قرض فراہم کرتا ہے ، بشرطیکہ قرض کے معاہدے کے اختتام پر آپ کو مخصوص عمر سے زیادہ نہیں رہنا چاہئے۔ درخواست کے وقت ، آپ کو کم از کم 70 سال کا ہونا ضروری ہے اگر آپ 5 سال تک قرض لینے کی توقع کرتے ہیں ، اور اگر آپ تین سال تک قرض لے رہے ہیں تو 72 سال۔ وہ ایک دوسرے کو فرسودہ بھی کہتے ہیں۔ کتنی خوشی ہے۔ خودکار تجارتی سافٹ ویئر کچھ مختلف ناموں سے چلتا ہے ، جیسے ماہر مشیر (ای اے) ، روبوٹک ٹریڈنگ ، Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ پروگرام ٹریڈنگ ، خودکار تجارت یا بلیک باکس ٹریڈنگ۔
پلاٹو میں ان کے اعزاز میں. میک پر انسٹال کردہ ، بٹ ڈیفینڈر صرف ایک صارف اکاؤنٹ کو نہیں ، پورے آلے کو کنٹرول کرتا ہے۔ خود ہی ڈیوائس سے ، بٹ ڈیفینڈر سینٹرل میں لاگ ان کریں ، بچے کا پروفائل منتخب کریں ، تھری ڈاٹ مینو سے ڈیوائسز منتخب کریں ، اور آلہ شامل کریں پر کلک کریں۔ میک پر انسٹالیشن کے لئے اب ضرورت نہیں ہے کہ آپ میک کے لئے بٹ ڈیفینڈر اینٹی وائرس انسٹال کریں۔ آپ جواب کا اندازہ کرسکتے ہیں اور گفتگو کو کسی خاص مقصد کی سمت لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، اگر آپ کیا آپ اسکرپٹ بنانے کے خواہاں ہیں سے پوچھتے ہیں ، تو آپ جانچ سکتے ہیں کہ آیا جواب میں مطلوبہ الفاظ نہیں یا Forexمارکیٹ میں FBS وکی میں کیا فوائد ہیں؟ کوئی اور منفی شکل موجود ہیں یا نہیں ، اور پھر گفتگو کو سچے یا غلط کی سمت بھیج سکتے ہیں۔
|
2022/05/28 16:49:51
|
https://hayjamanc.site/category-1/page-184827.html
|
mC4
|
تمل ناڈو بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کو ملا صرف 1 ووٹ ، ٹویٹر پر #singlevotebjp ٹرینڈ پر | FikroKhabar
تمل ناڈو بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کو ملا صرف 1 ووٹ ، ٹویٹر پر #singlevotebjp ٹرینڈ پر
تمل ناڈو : 12اکتوبر2021 (فکروخبر/ذرائع)تمل ناڈو سے بی جے پی کے رکن جس نے حال ہی میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کیا تھا، اسے صرف ایک ووٹ ہی حاصل ہو اہے جس کے بعد شوشل میڈیا پر بی جے پی کے رہنما اور پارٹی دونوں کو خوب ٹرول کیا جا رہا ہے ، حیرانی کی بات یہ ہے کہ بی جے پی رکن ڈی کارتک کے اپنے خاندان میں پانچ ارکان ہونے کے باوجود انہیں صرف ایک ہی ووٹ ملا ہے ،جس پر ٹویٹر میں ٹویٹ کا ایسا سیلاب آیا ہوا ہے کہ بی جے پی کی پوری عزت ہی بہا لے گیا ،
بتادیں کہ ڈی کارتک نے کوئمبٹور ضلع کے پیریانیکن پالیم یونین میں وارڈ ممبر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑا تھا۔
ٹویٹر پر آج پورا دن SINGLEVOTEBJP# ٹرینڈ پر رہا ۔ اور صارفین نے مختلف ٹویٹ کر بی جے پی رہنما کو نشانہ پر لیتے رہے ،
مصنفہ اور کارکن مینا کنڈاسامی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ، "بی جے پی امیدوار کو بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ووٹ حاصل ہوا ،مجھے فخر ہے اس کے گھر کے چارووٹروں پر جنہوں نے دوسروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔
ایک اور ٹوئٹر صارف نے بتایا کہ کارتک کی جانب سے ان کے انتخابی پروپیگنڈے کے لیے جاری کیے گئے پوسٹروں میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور خود سمیت سات دیگر رہنماؤں کی تصویریں تھیں لیکن انہیں صرف ایک ووٹ ملا۔
دی نیو انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ، بی جے پی یوتھ ونگ کے ضلعی نائب صدر کارتک نے واضح کیا ، "میں نے بی جے پی کی طرف سے مقابلہ نہیں کیا تھا۔ میں نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں کار کے نشان پر الیکشن لڑا تھا۔ میرے خاندان کے چار ووٹ ہیں اور تمام ووٹ پنچایت کے وارڈ 4 میں ہیں۔ یہاں تک کہ میرے چار خاندان کے افراد اور میرے پاس 9 ویں وارڈ میں کوئی ووٹ نہیں ہے جہاں میں نے مقابلہ کیا تھا۔اس دوران ، ٹرولرز کی طرف سے سوشل میڈیا میں میرا غلط ذکر کیا جا رہا ہے کہ میں نے بی جے پی کی طرف سے الیکشن لڑا تھا اور یہاں تک کہ میرے خاندان کے رکن کا ووٹ بھی محفوظ نہیں کیا ، جو کہ درست نہیں ہے۔ "
ریاست میں بلدیاتی انتخابات 6 اور 9 اکتوبر کو ہوئے تھے ، مجموعی طور پر 27،003 عہدوں کے لیے 79،433 امیدواروں نے مقابلہ کیا تھا۔
|
2021/12/05 13:39:22
|
http://fikrokhabar.com/ur/content-details/77605/news/dehli-rakehs-asthana--news.html
|
mC4
|
کھانسی سے لیکر کینسر تک کا علاج ، یہ ایک پتہ آپ کو 80سال تک بیمار نہیں ہونے دے گا ! پاکستانی تو اس پتے کو کوڑے میں پھینک دیا کرتے تھے مگر اب سونے کے بھائو خریدیں گے - TechofileTechofile
کھانسی سے لیکر کینسر تک کا علاج ، یہ ایک پتہ آپ کو 80سال تک بیمار نہیں ہونے دے گا ! پاکستانی تو اس پتے کو کوڑے میں پھینک دیا کرتے تھے مگر اب سونے کے بھائو خریدیں گے
اگر آپ ہمیشہ صحت مند اور تندرست رہنا چاہتے ہیں اور بیماریوں سے اپنے جسم کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو زیادہ تردد کی ضرورت نہیں بس یہ ایک پتہ آپ کو 80سال تک بیمار نہیں ہونے دیگا۔
زمین پر ایک ایسا پودا بھی ہے جس کے پتے کا اگر آپ مسلسل استعمال کرتے ہیں تو 80سال تک آپ کو کوئی بھی بیماری نہیں لگے گی۔ اور اگر آپ بیمار ہیں تو اس پتے کے استعمال سےکھانسی سے لیکر کینسر تک خطرناک بیماریوں میں اس کے حیرت انگیز اثرات خود محسوس کر سکتے ہیں۔چند ہی دنوں میں خطرناک بیماریوں کو ختم کرنے کی اس میں حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے۔ یہ پودا تقریباََ ہر علاقے میں ہی پایا جاتا ہے، ہم بات کر رہے ہیں گلوئے کی،
گلوئے کی جڑ اور بیل جتنی مفید ہے اس کے پتے بھی ہماری صحت کیلئے ہزار گنا زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ عموماََ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ گلوئے کی جڑ کو تو استعمال کرتے ہیں تاہم اس کے پتے کو پھینک دیتے ہیں۔ مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ گلوئے کے پتوں میں ایسے فوائد پائے جاتے ہیں جس کے ذریعے آپ 80سال تک صحت مند رہ سکتے ہیں۔ گلوئے کے پتے کن امراض میں فائدہ مند اور اس کا استعمال کب اور کیسے کرنا ہےاس سوال کا جواب درج ذیل ہے۔ کینسر میں فائدہ مند ہوتا ہے:کینسر ایک نہایت خطرناک بیماری ہے ، گلوئے کے پتے مسلسل استعمال کرنے سے کینسر سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ گلوئے کے پتوں کا استعمال انسانی جسم میں کینسر کے سیلز کو ختم کر دیتا ہے جبکہ آئندہ کیلئے کینسر ہونے کے امکان کو بھی بالکل ختم کردیتا ہے ۔
اگر آپ کینسر جیسی خطرناک بیماری سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صبح سویرے گلوئے کے پتوں کا خالی پیٹ استعمال کریں،روزانہ ایک یا دو پتے کینسر کے خلاف نہایت مفید تصور کئے جاتے ہیں۔ موٹاپے کو کم کرتا ہے:موٹاپے سے پریشان افراداس سے نجات حاصل کرنے کیلئے تھکا دینے والی ورزشوں کے علاوہ خوراک میں کمی بھی کردیتے ہیں مگر پھر بھی موٹاپے سے نجات حاصل نہیں کر سکتے اور آخر میں پھر وہی بڑھا ہوا پیٹ اور فالتو چربی ان کا منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ اگر موٹاپے سےپریشان افراد اب تک اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکے تو انہیں گلوئے کے پتوں کا استعمال کرنا چاہئے جو کہ موٹاپے کے خلاف نہایت کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ صبح سویرے گلوئے کے دو پتے خالی پیٹ استعمال کرنے سے آپ کے جسم میں میٹابولزم کا عمل درست رہتا ہے اور جسم میں موجود سخت سے سخت چربی بھی پگھلنے لگتی ہے۔ اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو پھرگلوئے کے پتوں کے استعمال کے ساتھ دن میں تیس یا چالیس منٹ کی ایکسرسائز آپ کو آپ کے مطلوبہ اہداف پورے کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور ایک ماہ کے اندر ہی آپ کے سامنے حیرت انگیز نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
دل کے مریضوں کیلئے بھی مفید:دل کے مریضوں کیلئے گلوئے کے پتوں کو بہت مفید مانا جاتا ہے اور اسی لئے دل کے مریضوں کو ڈاکٹر حضرات گلوئےکی پودے کی جڑ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس طرح کرنے سے ہمارے جسم میں موجود کولیسٹرول کی مقدار کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور دل مضبوط رہتا ہے۔ خون کو بھی صاف کرتے ہیں:گلوئے کے پتوںایسے اجزا موجود ہوتے ہیں اور گلوئے کے پتوں کا استعمال کرنے سے یہ ایک بلڈ پیوریفائی کے طور پر کام کرتے ہوئے ہمارے خون میں موجود فاضل مادوںکو باہر نکالتے ہیں اور جسم میں تازہ اور صحت مند خون بناتے ہیں۔ اگر آپ اپنے خون کو صاف کرنا چاہتے ہیں یا آپ کے
جسم میں خون کی کمی ہے تو آپ گلوئے کے پتوں کا استعمال ضرور کریں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف خون میں فاضل مادوں کی وجہ سے چہرے اور جسم پر پیدا ہونے والے کیل مہاسے ختم ہو جائیں گے ۔کیل مہاسوں کی بنیادی وجہ خون میں موجود فاضل مادےاور قبض کا مسئلہ ہوتا ہے اور گلوئے کے پتے استعمال کرنے آپ کے یہ دونوں مسئلے حل ہو جائیں گے۔اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔
|
2021/10/26 06:42:48
|
https://techofile.site/6897/
|
mC4
|
ڈیلی نیوز! اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ گھر میں بھی بر کت ہی بر کت پیدا ہو جا ئے محتاجی ختم ہو جا ئے غربت ختم ہو جا ئے اور بیماریوں سے نجات مل جا ئے تو آج آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں پیارے آقا ﷺ کے ایسے فر مان کے بارے میں جا رہا ہوں کہ اگر آپ پیارے آقا کے اس فر مان پر عمل کر یں کہ جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فر ما یا کہ اس گھر میں بر کت ہی بر کت ہو جا تی ہے گھر میں محتاجی ہو
غربت سے پاک صاف ہو جا تا ہے جس گھر میں اس فرمان مبارک پر عمل کر لیا جا ئے آپ بہت سے وظائف کر تے ہیں اعمال کر تے ہیں عاملوں کے پاس جا تے ہیں بہت سے پیسے دیتے ہیں کہ کسی طرح سے گھر میں سکون پیدا ہو جا ئے گھر میں بر کت ہو جا ئے گھر کا ماحول جنت جیسا بن جا ئے گھر میں خوشیاں پیدا ہو جا ئیں لیکن اتنی محنت کرنے کے باوجود گھر کا ماحول خراب رہتا ہے ہر کام میں بے بر کتی رہتی ہے تو آج کی میری باتیں سننے کے بعد آپ میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جائے گی آپ کا گھر اتنی بر کت سے بھر جا ئے گا کہ لوگ آپ سے پوچھنے آ ئیں گے کہ آپ کون سا عمل کر تے ہو ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ حضور پاک ﷺ نے فر ما یا اکٹھے ہو کر کھا یا کرو۔ علیحدہ علیحدہ نہ کھاؤ
جب بھی کھا نا کھاؤ اکٹھے ہو کر کھا ؤ ایک جماعت کے ساتھ مل بیٹھ کر کھا نا کھا یا کرو آپ ﷺ فر ما تے ہیں کہ اللہ کو یہ بات سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ اپنے مومن بندہ کو بیوی اور بچوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے اور جب سب کھاتے ہیں اکٹھے ہو کر کھاتے ہیں دسترخوان پر تو اللہ ان کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے ان کے گ ن ا ہ وں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو بخش دیتا ہے۔ اکٹھے ہو کر مل بیٹھ کر کھانے میں ہی بر کت ہے اور کھانے سے پہلے بسم اللہ لازمی پڑھ لیا کر یں حضرت ابو ایوب انصاری فر ما تے ہیں ہم حضور پاک کی بارگاہ میں حاضر تھے شروع میں ہم نے بر کت کسی کھانے میں نہیں دیکھی جو بر کت ہم نے حضور پاک کے گھر میں دیکھی تھی۔
آپ ایک چھوٹا سا کام کر لیں وظیفوں کو سب کچھ چھوڑ کر آج ہی بازار چلے جا ئیں اور سرکہ لے کر اپنے گھر میں رکھ لیں گھر میں سرکے کا استعمال کیا کر یں گھر میں لا کر سرکے کو رکھ لیں پیارے آقا ﷺ کا فرمان مبارک کبھی بھی جھوٹا ثابت نہیں ہو
|
2021/12/08 15:24:13
|
https://updatenews.com.pk/13990
|
mC4
|
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مسلک کی بنیاد پر سروے علی گیلانی کا اظہار تشویش
حریت کانفرنس کے مطابق دیوبندیت، بریلویت یا سلفیت کی طرف لوگوں کو بلانے والے شعوری یا غیر شعوری طور دشمن کی مدد کررہے ہیں اور شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دینے والے ان کے خاکوں میں رنگ بھررہے ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ ایک اللہ اور ایک رسولؐ کو ماننے والی امت کو تقسیم درتقسیم کیا گیا ہے اور مساجد کی بھی الگ الگ شاخیں قائم کی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت اگرچہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم کرانے میں کلی طور پر ناکام ہوگیا ہے، البتہ اب وہ ان کو توڑنے کے لئے فرقہ واریت کا ہتھیار استعمال کرنے کے منصوبے پر عمل کررہا ہے اور اس سلسلے میں دلی والے ایک زر کثیر خرچ کررہے ہیں۔ اسلام کے روح سے بے بہرہ مولویوں کو یا تو براہِ راست اپروچ کیا جاتا ہے، یا بالواسطہ طور ان کے ساتھ رابطے بڑھائے جاتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کا فارم پُرکرتے وقت مسلک کے کالم میں صرف لفظ مسلم لکھیں اور حکومتِ ہندوستان کو پیغام بھیجیں کہ فرقہ اور مسلک کے نام پر کشمیریوں کو تقسیم کرانے اور لڑانے کے دن اب گزرگئے ہیں اور آج کی تاریخ میں پوری قوم بھارت کے قبضے کے خلاف یک آواز اور متحد ہے۔
بیان میں انتظامی اداروں پر زور ڈالا گیا کہ وہ فورا سے بیشتر اس عجیب وغریب سروے کے بارے میں وضاحت کریں کہ اس کا مقصد کیا ہے اور کسی شہری کے مسلک کے بارے میں جاننا حکومت کے لئے کیوں ضروری ہوگیا ہے۔ حریت نے خبردار کیا کہ دوسری صورت میں لوگ اس سروے کا بائیکاٹ کریں گے۔
ایران رواں سال 2 جوہری بجلی گھر تعمیر کریگا امریکی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا کسز میں ووٹنگ کا آغاز
|
2017/09/22 08:25:09
|
http://www.geourdu.com/in-occupied-kashmir-indian-army-base-survey-ali-gilani-expressed-concern/
|
mC4
|
شریفی خواجہ دہی مہدی 2018/04/5 فاریکس پر رقم کیسے کمائی جائے
کوششیں کی جارہی ہیں کہ اگلے سال کے اختتام تک انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس سپر وائزرز (آئی اے آئی ایس) کے بنیادی اصول برائے بیمہ (آئی سی پیز) پر پور Binomoتعلیم کی حدود ی طرح عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تاجروں کی طرف سے بہت کم دلچسپی لانے کے بعد نیامیکس نے تیل کے معاہدوں میں زمینی تجارت کو دوبارہ پیش کرنے کے اپنے منصوبے کو ترک کردیا۔
اسٹاک کی تجارت کیسے کی جائے ،Binomoتعلیم کی حدود
جہاں تک جمع کرنے اور واپس لینے کی فیسوں کا Binomoتعلیم کی حدود تعلق ہے ، کمپنی کی پالیسی کے مطابق ، گاہک بینک کے ذریعہ لگائے جانے والے تبادلوں کی فیس یا بینک کے ذریعہ وصول کی جانے والی کسی بھی دوسری فیس کے لئے ذمہ دار ہے ، جبکہ خود بروکر منتقلی کے لئے اضافی فیس نہیں لیتا ہے۔ کچھ مالی کنسلٹنٹس صرف افراد کی خدمت کرتے ہیں جبکہ دوسروں کو صرف پرچون زنجیروں یا اداروں جیسے کاروباری خدمات انجام دیتے ہیں.
اسٹاک بروکنگ کیا ہے - Binomoتعلیم کی حدود
آپ نے شاید اس سے پہلے ہلکی آلودگی کی اصطلاح سنی ہو گی ، لیکن آپ نے شاید ان تمام افادیتوں پر غور نہیں کیا ہوگا جو اس سے لوگوں Binomoتعلیم کی حدود ، ماحول اور معاشرے میں ہوسکتے ہیں۔ احکامات: اسکوائر آپ کو اپنے POS کو اپنے کاروبار میں اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی اجازت دیتا ہے ، اپنی تمام اشیاء کو شامل کرکے اور آسانی سے گاہک کے احکامات لے اور اس پر کارروائی کرسکتا ہے۔ آپ اپنے صارفین کو تجویز کردہ یا کسٹم ٹپ کے اختیارات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل یا پرنٹ کی رسیدیں بھی منتخب کرسکتے ہیں۔ مزید برآں ، آپ ٹیبس کو کھلا رکھ سکتے ہیں ، ٹیبز کو کارڈ کے ذریعہ تقسیم کرسکتے ہیں ، چھوٹ اور عمل کی واپسی کو شامل کرسکتے ہیں۔ دوسرا ، دوسرے ممالک ایسے بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کو تبدیل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے ہیں ، ہچکچاہٹ اور خوف سے۔ اسپین اس نوعیت کی ریاست کی واضح مثال ہے ، جس کا حوالہ تین انٹرویو کرنے والوں نے ایک ایسے خطے کے طور پر کیا ہے جس میں وسائل اور صلاحیت موجود ہے ، لیکن جس میں تمام فریقوں کے مابین اشتراک کے لئے آمادگی کا فقدان ہے۔
آنے والی کال کا جواب دینے کے لئے ایک بار MF بٹن Binomoتعلیم کی حدود دبائیں۔ (آنے والے کال کا خود بخود جواب دینے کے لئے ہیڈ فون اٹھائیں ، جب یہ چارج ہو رہا ہے۔) جسمانی اور دماغی صحت کے لئے سٹرابیری کے 15 فوائد. "اور حضور ﷺنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مدینے کے بازار پر نگران مقررفرمایا۔"
ادر اور جی ڈی آر کے مابین فرق (موازنہ چارٹ کے ساتھ) - 2021 - بلاگ. Micro-Semiconductor.com سے کم قیمت پر اعلی معیار کے الیکٹرانک اجزاء حاصل کریں. 40۔ ماہنامہ، جہد حق، ندیم فاضل، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ایوان جمہور، Binomoتعلیم کی حدود ٹیپو بلاک نیو گارڈن ٹاؤن، لاہور، ص14۔
|
2022/05/23 08:58:31
|
https://girlink.top/category-11/page-230554.html
|
mC4
|
عید ختم ہوتے ہی پھر لاک ڈاون؟ وفاقی حکومت کی وارننگ | اردو خبر
عید ختم ہوتے ہی پھر لاک ڈاون؟ وفاقی حکومت کی وارننگ
مئی 27 2020: (جنرل رپورٹر) کیا عید کے بعد پھر لاک ڈاون ہو گا؟وفاقی حکومت نے عوام کو ایک بار پھر وارننگ دے دی۔ کہا کہ احتیاط کریں ورنہ ایک بار پھر سخت لاک ڈاون کرنا ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے اپنے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ عید کے دنوں میں بےاحتیاطی کے ریکارڈ توڑے گئے، شاہنگ مالز میں جائیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وائرس ہے ہی نہیں حالانکہ دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اگر عوام نے احتیاط نا کی تو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا کہتے ہیں کہ اگر یہی حالات رہے اور احتیاط نا کی گئی تو بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہا، پاکستانی شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وائرس عید تک ہی تھا اب ختم ہو گیا۔ دیگر صوبوں کی حکومتوں نے بھی سخت لاک ڈاون کا عندیہ دے دیا کہا کہ مریضوں کی تعدد بڑھی تو لاک ڈاون میں نرمی ختم کر دیں گے۔
معاون خصوصی ظفر مرزا نے مزید کہا ہے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کورونا کب ختم ہو گا۔ عید پر اندازہ ہوا کہ ایس او پیز پر بلکل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ کورونا کو روکنے کا سب بنیں نا کہ کورونا پھیلانے کا۔
دوسری جانب پنجاب میں عید ختم ہوتے ہی کاروبار کے پہلے والے اوقات کار کر دئیے گئے ہیں جس کے مطابق دکانوں اور شاہنگ مالز کو صبح 10 سے رات 7 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت ہو گی۔
سندھ حکومت نے کہا ہے کہ ریل اور جہاز کی سفری آزادیاں ہماری محنت پر پانی بہا رہی ہیں۔ اگر کیسز بڑھے تو دوبارہ سے سخت لاک ڈاون کریں گے۔
وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ لاک ڈاون ختم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وائرس بھی ختم ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان میں دیگر ممالک جیسے حالات نہیں تو اس کا یہ مطکب نہیں کہ اب احتیاط کی ضرورت نہیں۔ عوام ایس او پیز پر عمل کرے تا کہ دوبارہ لاک ڈاون کی طرف نا جانا پڑے۔
دریں اثناء جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ یہی حالات رہتے ہیں تو آنے والے دنوں میں دو ہزار مزید وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہو گی جبکہ 1350 وینٹی لیٹرز کا آرڈر کر دیا ہے۔ فی الحال تو کسی بھی شہر میں پہلے سے موجود وینٹی لیٹرز بھی 50 فیصد سے زائد استعمال نہ ہوئے ہیں تاہم جون میں حالات خراب ہوتے ہیں تو 2 ہزار وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہو گی۔
|
2022/07/01 04:24:44
|
https://urdukhabar.com.pk/%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%D8%AE%D8%AA%D9%85-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%84%D8%A7%DA%A9-%DA%88%D8%A7%D9%88%D9%86%D8%9F-%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C-%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85/
|
mC4
|
ذرا زور سے تالیاں بجاؤ گوریو! - ۔آئی بی سی اردو
ذرا زور سے تالیاں بجاؤ گوریو!
Posted By: ٹیم آئی بی سی اردو نیوزon: March 04, 2017 In: تجزیے و تبصرےNo CommentsViews: 194 views
سلطان حسین بلاگر آئی بی سی اردو
ہر لفظ اپنے اندر ایک خاص معنی رکھتا ہے لیکن بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو کوزے میں دریا بند کرنے کے مترادف ہوتے ہیں ایسے الفاظ کی تشریح کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اب آپ ناک کو ہی لے لیجیے اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ یہ ہوگیا تو میری ناک کٹ جائے گی اگر وہ ہوگیا تو میری ناک کٹ جائے گی بات بات پہ ناک کٹنے کا خطرہ رہتا ہے
ناک کٹتی ہے یا نہیں کٹتی لیکن اس شخص کو اپنی عزت خطرے میں ضرور نظر آتی ہے جو ناک کٹنے کی بات کرتا ہے اور جسے بچانے کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر تل جاتا ہے انسان میں ایک ناک ہی ایسی ہے جس پر اس کی ساری زندگی کا درومدر ہوتا ہے
اس ناک سے انسان سانس بھی لیتا ہے اور اسی سانس کے بل بوتے پر اس کی گردن اکڑی رہتی ہے ناک سے جڑے جتنے بھی لفظ ہیں وہ سب خطرے سے خالی نہیں ہوتے ان سب کا یہی حال ہے مثال کے طور پر جیسے خوفناک ' عبرتناک 'خطرناک'تشویشناک 'شیش ناگ'انگریزی والا ناک وغیرہ وغیرہ
گذشتہ روز جب آرمی چیف نے اعلان کیا کہ اب کوئی رعایت نہیں ہوگی تو ہمارے سمیت زیادہ تر ہم وطنوں کو پہلی بار پہلے والے دو "ناک" کی خواہش پیدا ہوئی کیوںکہ کہتے ہیں تنگ آمد بجنگ آمد لیکن جو لوگ ایک آنکھ سے دنیا کو دیکھتے ہیں انہیں تیسری ناک محسوس ہوئی 'جو اس سے بھی خود کو زیادہ حساس سمجھتے ہیں انہیں چوتھا ناک نظر آنے لگا
تاہم پہلے والے دو"ناک" کے حمایتی جو تنگ آمد بجنگ آمد کے محاورے کے حق میں ہیں وہ آرمی چیف کے اعلان اور اس پر عمل کو انگریزی والے ناک کا پہلا "ناک"(دستک) بھی سمجھ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اب ان پر منحصر ہے جن کو یہ "ناک" دی گئی ہے کہ وہ احسان اتارتے ہیں یا بس اس بار بھی اپنی ناک کو موم کی طرح ٹیڑی ہی رکھتے ہیں
وہ جن کے ناک کی خاطر یہ سب کچھ کرتے ہیں وہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد نظر بھی نہیں آئیں گے جیسے ہمارے ساتھ دومرتبہ وہ کرچکے ہیں پچھلے چند دنوں سے باامر مجبوری موم کی اس ناک کی سرجری کی کوشش تو کی جارہی ہے لیکن اگر اس سرجری میں وہ خود ادھر ادھر والوں کو دیکھے بغیر خوش دلی سے حصہ لیں تو یہ دونوں کے حق میں بہتر ہوگا
بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے آپ تالی بجانے کی بہت کوشش کریں تالی نہیں بجے گی بلکہ ٹھس ٹھس کی آواز ہی آئے گی جب دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی جائے گی تو تب ہی تالی بجے گی اور اس کی آواز بھی زور سے آئے گی اسی لیے تو کہا جاتا ہے ۔۔ذرا زور سے تالیا ں بجاؤ گوریو۔یہ گھڑی ہے ملن کی ۔
اور اگر اس گھڑی کو ملن کی بنانا مقصود ہو تو زور سے تالیاں بجانی پڑیں گی تاکہ اس کی آواز دور دور تک سنی جائے ورنہ تو ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ان دو دوستوں کے ساتھ ہوا
کہتے ہیں دو دوستوں نے گھوڑے خریدے دونوں کی عمر ایک جیسی تھی اس لیے مسلّہ یہ درپیش ہوا کہ یہ کس طرح پتہ چلے کہ کونسا گھوڑا کس کا ہے ؟ ایک دوست نے کہا"یہ کون سا مشکل کام ہے میں اپنے گھوڑے کی دم کاٹ دیتا ہوں یہ نشانی رہے گی پس انہوں نے دونوں گھوڑے ایک ہی جگہ باندھے اور ایک کی دم کاٹ دی ۔ صبح اٹھے تو کسی ستم ظریف نے دوسرے گھوڑے کی بھی دم کاٹ دی تھی
اب فیصلہ کیا گیا کہ ایک گھوڑے کا کان کاٹ دیا جائے پھر ایسا ہی ہوا لیکن جب وہ اگلی صبح اٹھے تو دوسرے گھوڑے کا کان بھی کاٹا جا چکا تھا دونوں بڑے پریشان ہوئے آخر کا دونوں بڑی دیر تک سوچتے رہے اور پھر ایک دوست کے ذہن میں اس مسلّے کو حل کرنے کے لیے ایک تجویز آئی جس پر دونوں نے عمل کرنے کی ٹھان لی تاکہ مسلّہ حل ہو جائے
وہ تجویز کیا تھی جس پر دونوں کا اتفاق ہوا ایک دوست نے یہ تجویز پیش کی کہ " ایسا کرتے ہیں کہ تم یہ کالا والاگھوڑا لے لو اور میں سفید والاگھوڑا لے لیتا ہوں"اس سے پہلے کہ دوسرے "دونوں" کی مزید دم اور کان کاٹیں اب ایک کو کالاوالا اور دوسرے کو سفید والا گھوڑا لے لینا چاہیے اور اپنی دم اور کان مزید کاٹنے سے بچالینا چاہیے یہی دونوں کے حق میں بہتر رہے گا۔
|
2019/05/24 05:01:49
|
https://ibcurdu.com/news/40946
|
mC4
|
بارش سے متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا
بارش سے متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے' مزمل صابری
Jul 12, 2015 1:49 AM, July 12, 2015
اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) اسلام آباد کے بارش سے متاثرہ تاجروں کے ایک وفد نے آئی اینڈ ٹی سنٹر، جی ایٹ ون کی ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالغفار چوہدری کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور میٹرو بس پراجیکٹ کمیٹی کے چیئرمین جناب حنیف عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ دکانوں میں پانی گھسنے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور موڑ میٹرو بس سٹیشن کی تعمیر کے دوران جی ایٹ ون مارکیٹ کے نیچے سے گزرنے والا پانی کا نالہ بند ہو گیا تھا جس وجہ سے حالیہ بارش کے دوران مارکیٹ میں بہت پانی جمع ہو گیا جو دکانوں میں گھس گیا اور جس نے بہت سا تجارتی سامان بتاہ کر دیا۔ اس بنا پر انہیں بہت کاروباری نقصان ہوا ۔
تاجروں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مزمل حسین صابری نے میٹرو بس پراجیکٹ کمیٹی کے چیئرمین حنیف عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو متاثرہ تاجروں کے نقصانات کا جائزہ لے تا کہ حکومت ان کے نقصانات کا مناسب ازالہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے پشاور موڑ، سنٹارس، سیونتھ ایونیو، کچہری اور شہید ملت سمیت میٹرو بس کے بہت سے سٹیشنوں میں پانی گھس گیا جس وجہ سے مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس منصوبے پر اربوں روپے لاگت آئی لیکن پانی کی نکاسی کا کوئی بہتر بندوبست نہیں کیا گیا جو بارشوں کی وجہ سے ظاہر ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس اہم مسئلے کی طرف فوری توجہ دے اور تمام سٹیشنوں پر پانی کی نکاسی کے بہتر انتظامات یقینی بنائے تاکہ دکانداروں کواس بنا پا مزید نقصانات سے بچایا جا سکے اور عوام کو بھی کسی ناگہانی حادثے سے بچایا جا سکے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد نے بھی متاثرہ مارکیٹ کا دورہ کیا اور متاثرہ تاجروں کے اظہار ہمدری کیا۔ وفد میں زبیر احمد ملک، ظفر بختاوری، سعید بھٹی ، نوید ملک، باسر داؤد، نثار مرزا اور بابر چوہدری شامل تھے۔
|
2018/12/19 07:17:06
|
https://dailypakistan.com.pk/12-Jul-2015/244748
|
mC4
|
کیا واقعی ملتان میں زیر علاج چینی باشندہ کرونا وائرس سے متاثرہے؟ نشتر ہسپتال کے ایم ایس کا باقاعدہ بیان سامنے آگیا
ملتان کے نشتر ہسپتال میں کروناوائرس سے متاثرہ مریض کے زیرعلاج ہونے کے معاملے پر نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد بخاری کا بیان بھی آگیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا چینی مریض میں کوروناوائرس سے متعلق صرف شک ہے ۔ مریض میں کوروناوائرس سے متعلق ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔انہوں نے کہاخون کے نمونے ٹیسٹ کیلئے اسلام آبادبھیج دیئے ہیں۔ڈاکٹر شاہد کے مطا بق چینی باشندہ کچھ روز قبل چین سے پاکستان پہنچا۔ قبل ازیں جیو اور اے آر وائی نیوز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ تین روز قبل چین سے واپس آنے والے ایک چالیس سالہ چینی شہر کو اس مرض کے شبے میں ہسپتال میں لایا گیا ہے جہاں وہ آئسولیشن میں زیرعلاج ہیں۔کچھ اداروں نے اسے پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس بھی قرار دیا تاہم وزارت صحت نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی انتہائی خطرناک وبا پھیل گئی ہے جس کی وجہ سے ا ب تک پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاو¿ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھیلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاو¿ کا خدشہ ہے۔ ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔
ماشااللہ! پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ حافظ تیار کرنے والا ملک قرار
اوپر والا کپتان کے ساتھ ہے، خان صاحب اس وقت طاقت اور قسمت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں،ساری پریشانیاں ختم، ہر مسئلہ اوکے،...
ماشااللہ! پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ حافظ تیار کرنے والا...
Editorial Team - February 22, 2020
پاکستان کادنیا میں سب سے زیادہ حفاظ تیار کرنے کا اعزاز برقرار ہے، وفاق المدارس کے زیر اہتمام حالیہ تعلیمی سال...
اوپر والا کپتان کے ساتھ ہے، خان صاحب اس وقت طاقت...
پاک سوزوکی نے 200 لوگوں کو عمرہ پر بھیجنے کا اعلان...
'اس جگہ کا دروازہ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ...
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوامریکی وزیر دفاع کا ٹیلی فون، جنگ کے حوالے سے اہم فیصلہ
Editorial Team - January 8, 2020
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوامریکی وزیر دفاع کا ٹیلی فون ، امریکہ جنگ نہیں چاہتا ،ضرورت پڑ ی...
"میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے! " ہربھجن سنگھ کی عمران خان پر تنقید، وینا ملک نے لاجواب کردیا
Noman Ali - October 13, 2019
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے جہاں پاکستانیوں کے دل جیت لیے وہیں...
"میری خواہش ہے کہ شاداب خان کو قومی ٹیم کی قیادت کرتا دیکھوں" سعید اجمل ایسا کیوں چاہتے ہیں؟
Editorial Team - February 12, 2020
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ کی سب سے کامیاب فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ ایک مرتبہ پھر ٹائٹل...
|
2020/02/23 17:38:13
|
https://www.pnpnews.net/4808
|
mC4
|
اردن شامی مہاجرین کی امداد کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون طلب
عالمی خوراک پروگرام کا شامی مہاجرین کے لیے امداد کا وعدہ
پہلی اشاعت: 09 نومبر ,2012: 05:04 رات GST آخری اپ ڈیٹ: 09 نومبر ,2012: 07:04 رات GST
اردن نے اپنے سرحدی علاقے میں عارضی خیمہ بستیوں میں مقیم شامی مہاجرین کی مشکلات و مصائب کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے اور اس سلسلہ میں اردنی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے عرب ریاستوں کے لیے ترقیاتی پروگرام کے بیورو کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی ہے۔
اردنی وزیر خارجہ ناصر جودہ نے یو این ڈائریکٹر سے گفتگو کرتے ہوئے اردن کی مدد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کو خدمات کی فراہمی میں اپنی ذمے داریاں پوری کر سکے۔ واضح رہے کہ اس وقت اردن میں دو لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین نے پناہ لے رکھی ہے۔
ان کے علاوہ اردن کی شہزادی بسمہ نے عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرارتھرین کوسین سےملاقات کی ہے۔ وہ اردن کے بھوک اور کم خوراکی کے خلاف قومی اتحاد (نجمہ) کی صدر ہیں۔ انھوں نے دونوں اداروں کے درمیان امدادی سرگرمیوں کے ضمن میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔
مس کوسین نے اردنی شہزادی سے ملاقات میں ملک کے دوردراز علاقوں میں بھوک اور قحط سے نمٹنے کے لیے ایک سو روزہ مہم کے بارے میں بتایا۔ وہ شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کے دورے پر ہیں اور انھوں نے اردنی وزیرخارجہ سے بھی بھوک اور خشک سالی سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔
مس کوسین نے دارالحکومت عمان سے اسی کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر مفراق کے نزدیک واقع الزاتاری مہاجر کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں شامی مہاجرین کو مہیا کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انھوں نے بعض شامی مہاجرین سے گفتگو کی اور ان سے ان کی ضروریات اور درپیش مسائل کے بارے میں پوچھا۔
انھوں نے کیمپ میں نیوز کانفرنس بھی کی اور کہا کہ عالمی خوراک پروگرام کو بے گھر ہونے والے شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آٹھ کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہے اور اس میں سے اب تک صرف تین کروڑ تیس لاکھ ڈالرز دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عالمی خوراک پروگرام مستقبل قریب میں کیمپ میں اسکول جانے والے شامی مہاجر طلبہ کو کھانا مہیا کرے گا اور وہ تمام شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔
|
2021/08/05 20:22:22
|
https://urdu.alarabiya.net/middle-east/2012/11/09/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%86-%D8%B4%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D8%B7%D9%84%D8%A8
|
mC4
|
پاکستان کی آدھی شوگر انڈسٹری کے مالک حکومتی وزیر چینی کی قیمت میں مسلسل اضافے کی اصل شرمناک وجہ
پاکستان کی آدھی شوگر انڈسٹری کے مالک حکومتی وزیر، چینی کی قیمت میں مسلسل ...
Jan 22, 2020 | 16:06:PM
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے کئی بڑے شہرو ں میں چینی کی فی کلوگرام قیمت 80روپے تک جاپہنچی ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ،حکومت میں بیٹھے افراد ہی ملک کی تقریباً آدھی شوگرانڈسٹری کے مالکان ہیں،تاحال چینی کی قیمت میں اضافے پر تاحال حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی ذمہ داران کا کوئی تعین ہوسکا کہ کس نے کتنی رقم کھائی ؟
حکومت ہر مافیا سے لڑنے کے اعلانات پر ڈٹی ہے لیکن ایک کے بعد ایک مافیا نے عوام کیلئے جینا مشکل کررکھاہے، آٹے کے بحران کے بعد چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اور نجی ٹی وی چینل کی تحقیقات کے مطابق چینی کی انڈسٹری میں بڑا حصہ تحریک انصاف کے رہنما اوروزیراعظم عمران خان کے انتہائی قابل بھروسہ دوست جہانگیر خان ترین کا ہے ، جن کا شیئرتقریباً بائیس فیصد حصہ ہے، وہ 6ملوں کے مالک ہیں،خیبرپختونخوا کی تمام ملوں سے یہ ملیں بڑی ہیں۔ان کے بعد دوسرے نمبر پر شوگر انڈسٹری کے تقریباً 12فیصد حصے کے مالک وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار ہیں، این اے 131سے عمران خان کی چھوڑی گئی نشست سے الیکشن لڑنے والے ہمایوں اختر خان کی بھی 3شوگر ملیں ہیں اور وہ شوگر انڈسٹری کے تقریباً10فیصد حصے کے مالک ہیں، اسی طرح فیصل مختار، جہانگیر ترین کے کزن شمیم خان کی بھی چار شوگر ملز ہیں، مجموعی طورپر حکومت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر رکھنے والے افراد شوگر انڈسٹری کے 45فیصد حصے کے مالک ہیں ۔ سینئر صحافی زاہد گشکوری نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو 6ماہ سے قیمتوں میں اضافے کا پتہ تھا،اس وقت کے سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اسد عمر کی ہدایت پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اپنی رپورٹ میں بتادیا تھاکہ چینی کی قیمتوں میں بے ضابطگیاں دکھائی دیتی ہیں، اس رپورٹ کی روشنی میں نیشنل مانیٹرنگ پرائس کنٹرول کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ دیکھاجائے کہ کس طرح اتنی قیمتیں بڑھی ہیں، بے ضابطگیاں کیا ہیں؟ یہ کمیٹی وزارت خزانہ کے ماتحت کام کرتی ہیں،اس کمیٹی نے سی سی پی کو دوبارہ لکھا گیا کہ جب قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟آپ ماضی کے تجربات کی روشنی میں پروڈکشن کاسٹ بتائیں، اس کے بعد سی سی پی نے 2009ءکے بحران کی تحقیقات کی روشنی میں اندازہ لگایا ، جس کی رپورٹ متعلقہ وزارتوں اور وزیراعظم کو بھی دی گئی ، اس رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت 52روپے فی کلوگرام کے لگ بھگ بنتی ہے لیکن مارکیٹ میں اس کی قیمت 80روپے ہے ۔
جب وفاقی وزیر اور شوگر ملز کے مالک خسروبختیار سے چینی کی قیمت میں اضافے کے بارے میں سوال کیاگیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ طلب اور رسد کامعاملہ ہے ، ہول سیل اور ریٹیل قیمت میں بہت فرق ہے۔ماہر اجناس شمس الاسلام خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مکس اکنامی ہے ،اس میں گٹھ جوڑ بڑے پروان چڑھتے ہیں ہم کوئی بھی قدم لیتے ہیں اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے، ان کے روابط ہوتے ہیں البتہ چینی میں اتنی زیادہ قلت نہیں ۔
ادھر کچھ رپورٹس ایسی بھی ہیں کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت تجارت اور شوگر مشاورتی بورڈ کو چینی کی پیداواری لاگت کی رپورٹ دیدی ہے جس کے مطابق ملک کی 89 شوگر ملز کی موجودہ پیداواری لاگت 83 روپے فی کلو تک ہوگئی ہے۔ کسانوں سے شوگر ملیں 240 سے 250 روپے فی من گنا خریدنے پر مجبورہیں کیونکہ گنے کے کاشتکار حکومت کے مقرر کردہ ریٹ 190 روپے فی من پر گنا شوگر ملز کو فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ 83 روپے کلو کی پیداواری لاگت سے بنائی گئی چینی شوگر ملیں مزید کچھ ہفتے 72 روپے کلو ہول سیلرز کو نہیں دے سکیں گے اور وہ چینی کے ایکس مل ریٹ کو 83 روپے کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی وجہ سے ملک بھر میں چینی کے ریٹ میں اسی تناسب سے مزید اضافہ متوقع ہے ۔ اس ساری صورتحال میں یہ کہا جاسکتاہے کہ قوم مزید مہنگی چینی خریدنے کے لیے بھی تیار رہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذ کر ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی چینی مافیا متحرک رہا تھا اور قیمت 105روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی تھیں۔ لاہور کے چینی ڈیلروں نے بھی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں آئی تاہم شوگر ملز مالکان کو پتہ ہے کہ اس سال گنے کی پیداوار کم ہے۔
|
2020/12/01 20:22:25
|
https://dailypakistan.com.pk/22-Jan-2020/1082062
|
mC4
|
ضروری اقدامات میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے – Mashriq TV & Newspaper
ضروری اقدامات میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے
قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرحیات خان شیرپائو نے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میںکرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی، کرونا وائرس کے حوالے سیاست نہیںکرنا چاہتے مگر اس ضمن میں حکومت کی کوتاہیوں کو منظرعام پرلانے کی بہرحال ضرورت ہے۔ دریں اثنا ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابقخیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سٹیج ون سے براہ راست سٹیج تھری میں داخل ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں محکمہ صحت کی جانب سے حفاظتی سامان کی فہرست بھی کم پڑگئی ہے جبکہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے میڈیسن مارکیٹوں میں سینی ٹائزر اور این نائنٹی فائیو ماسک بھی نایاب ہوگئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اب تک کرونا وائرس کے پھیلائو کی صورتحال بظاہر اتنی سنگین نہیں لیکن جس قسم کی صورتحال کی نشاندہی ہورہی ہے اس سے اچانک اور شدید نوعیت کے وباء کے سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ صوبے میں کرونا وائرس کا ایک مرحلہ پھلانگ کر اگلے مرحلے میں نموداری اس امر کا غماز ہے کہ صوبے میں اس وباء سے نمٹنے اور اس کی روک تھام کیلئے اقدامات میں غفلت برتی گئی یاپھر انتظامات ہی سرے سے ناکافی تھے۔ سندھ حکومت کے اقدامات اور عوام کو آگاہی دینے کے حوالے سے جس طرح قصبات اور گائوں تک میں لوگوں کو خبردار کرنے اور ان کو خود حفاظتی یقینی بنانے کی تلقین ہورہی ہے یا پھر سرکاری سطح پر جو مختلف اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں اور فیصلے سامنے آرہے ہیں کیا وجہ ہے کہ پنجاب، بلوچستان اور پختونخوا میں وہی اقدامات اُٹھانے میں تاخیر ہورہی ہے۔اس سے ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک ایسا مرض جس کی روک تھام اور علاج دونوں ہی نہایت مشکل اور ناممکن کی حد تک ہو، اس حوالے سے جتنے سخت اور مشکل اقدامات لئے جائیں گے اس سے لوگوں کو تو بہر حال وقتی تکلیف کا احساس ہو لیکن ان کی زندگیاں بچانے کیلئے اور صحت کیلئے ناگزیر اقدامات میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ حکومت کے بتدریج اقدامات کا مقصد اگر سخت عوامی ردعمل کا خوف ہے تو یہ مصلحت پسندی بے جا ہے جو مناسب نہیں۔
قیدیوں کا معاملہ
خیبرپختونخوا میں وکلاء ہڑتال کے باعث ضمانت کی درخواستوں پرسماعت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے قیدیوں کو مزید دن جیل میں کاٹنی پڑے گی۔ ہڑتال کے باعث معمولی نوعیت کے جرائم میں قید ملزمان کی ضمانت درخواستوں پربھی پیش رفت نہ ہونے سے ان کا قانونی حق متاثر ہورہا ہے۔دوسری جانب جیلوں میں قیدیوںکے داخلے کے تسلسل سے قیدیوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے جس طرح دیگر شعبوں میں ہنگامی اقدامات کئے ہیں اسی طرح قیدیوں کے تحفظ اور معمولی نوعیت کے قیدیوں کی رہائی اور سزا معافی کے اقدامات کو بھی جلد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
مضر صحت اشیاء کی فروخت روکنے پر توجہ دی جائے
ایک ایسے وقت میں جبکہ صحت کے حوالے سے معاملات پر پوری توجہ دینے کا ماحول ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جہاں آلودہ پانی سے سیراب سبزیوں کی تلفی کی گئی وہاں ہر قسم کے مضر صحت اشیاء کیخلاف سخت مہم کی ضرورت ہے جن کے کھانے سے لوگوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ خاص طور پر بچوں کیلئے تیار کردہ خوردنی اشیاء میں جس طرح حفظان صحت کے اصولوں کی پامالی کی جاتی ہے اس ضمن میں وقتاً فوقتاً ناکام مہم چلتی رہتی ہے لیکن جاری صورتحال میں مزید غفلت کی گنجائش نہیں۔ہمارے تئیں صوبے میں بڑے پیمانے پر مضر صحت اشیاء تیار ہو کر مارکیٹ میں کھلے عام بک رہی ہیں حاص طور پر بچوں کیلئے تیار ہونے والی اشیاء کی جو صورتحال ہے وہ نہایت تشویشناک اور توجہ طلب ہے۔ جس بیمار بچے کو بھی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے ڈاکٹر کی سب سے پہلی بات ان مضر صحت اشیاء سے بچوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہوتا ہے۔ ان اشیاء کے استعمال سے بچوں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں مگر اس کے باوجود مارکیٹ میں ان اشیاء کی فروخت کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا قیام ہوا ہے گو کہ ادارہ عملہ کی تقرری کے مراحل میں ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان سے پرزور گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے اس امر پر توجہ دے تاکہ سب سے پہلے معصوم بچوں کو ایسی اشیاء کے استعمال سے ہر ممکن طور پر بچایا جاسکے جو مضر صحت ہوں۔
کرے کون۔۔۔؟
گزشتہ روز کی اشاعت میں صفحہ 2پر اندرون شہر خریدوفروخت کے مرکز اور مصروف ترین مارکیٹ کریم پورہ بازار میں تین تین ٹرانسفارمروں کے نیچے اور ساتھ پول پر جس طرح بجلی کے بے ہنگم اور ننگی تاروں کے جال کی تصویر شائع ہوئی ہے اُس پر مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی بجلی کے میٹر جس بے ہنگم انداز میں لگائے گئے ہیں اُس سے ایسا لگتا ہے کہ پیسکو حکام اور اہلکاروں کو عوام کے تحفظ کا کوئی احساس ہی نہیں، یہ صرف کسی ایک علاقے کی صورتحال نہیں بلکہ صوبے میں ہر جگہ تقریباً یہی صورتحال ہے۔ آئے روز حادثات کے خطرات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے، پیسکو حکام کے پاس اتنے وسائل اور عملہ تو موجود ہے، لائن مین ٹیلیفون کا ریسور نیچے رکھ کر کمپلینٹ آفس میں گپے ہانکتے رہتے ہیں، اُن سے روزانہ کی بنیاد پر کسی ایک کھمبے میں لٹکتے تاروں اور میٹروں کو محفوظ طریقے سے لگانے کا کام لیا جائے تو مہینے کے اندر اندر یہ مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔مگر کرے کون؟۔
|
2021/01/19 01:43:58
|
https://mashriqtv.pk/2020/03/19/%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D8%A7%D8%AE%DB%8C%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6/
|
mC4
|
عزت اللہ اللہ انتظامی 2020/12/25 فاریکس ٹریڈنگ پلیٹ فارم
گلابی شیٹ اسٹاک مختصر وقت میں بڑی شدت کے ذریعہ پورٹ فولیو منافع میں اضافے کے دلچسپ مواقع پیش کرتے ہیں۔ تاہم ، یہ مواقع اہم خطرات کے ساتھ آتے ہیں۔ ہر سرمایہ کاری کی تحقیق اور تجزیہ کے ساتھ سرمایہ کاروں کو انتہائی محتاط اور مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاری کے سخت رہنما ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں خطوط مرتب کریں اور تجارت کے وقت حد کے احکامات کا استعمال ممکنہ خطرات کو کم کردے۔ گلابی شیٹوں کی فہرست بہت سی بیکار کمپنیوں سے بھری ہوئی ہے ، جن میں سے کچھ خالص گھوٹالے ہیں۔ پوشیدہ جواہر کی تلاش مشکل ہے ، لیکن بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ بلو گنتی توقع سے ذرا کم ہے.
غیر پرچی سطح 1 سالہ فریم وارنٹی 90 دن کے حصوں کی وارنٹی مضبوط اسٹیل فریم سایڈست بیلٹ دوہری وزنی اڑنا 2 مائل پوزیشنیں ان بلٹ الیکٹرانک مانیٹر. # 7 - منظر اور حساسیت کا تجزیہ. جو یقینی طور پر جانا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ لوٹس فورچون کوکی کمپنی نے 1960 کی دہائی کے آخر میں مشین سے بنے خوردنی آوروں کو تھوکنا شروع کیا۔ 1993 میں اس ملک میں آنے تک چین کو خوش قسمتی کی کوکی کا ذائقہ نہیں ملا ، اسے حقیقی امریکی خوش قسمتی کوکیز کے نام سے فروخت کیا گیا ، اور اس طرح جعلی چینی زبان میں کوکی کی جگہ کو مستحکم کردیا گیا۔
تجارت میں خبریں eToro ،ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں
ڈیمو اکاؤنٹ کے ساتھ ٹریڈنگ جذبات کے بڑھنے یا کم ہونے سے عاری ہو سکتی ہے جو اصلی پیسوں کے کھو دینے یا کمانے کے ساتھ آتے ہیں۔ تاہم، یہ جاننے کا اب بھی ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ کیا حکمت عملیاں حقیقی زندگی کے منظر نامے میں کام کر سکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں گوشت کی کھپت میں کوتاہی اور قصائی کا کاروبار قائم کرنے میں بہت ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ آپ خراب گوشت کی صورت میں نقصان اٹھانا نہیں چاہتے ، کیا آپ؟
سوئی سیٹ ہیرے عام طور پر 6-10 تنصیبات پر مشتمل ہے. آلات کے 6 اجزاء کے webs کے صرف بنیادی فارم پر مشتمل ہے. ایک اصول کے طور پر، یہ پیشہ ورانہ اور گھریلو استعمال کے لیے نہیں ہے. 28 جولائی 2020 - حتمی نتائج. تاہم ، سیو بٹن پر کلک کرنے کے بعد ، ایک آخری مرحلہ ہوگا: آپ سے نقل و حمل کی درخواست کی درخواست کی جائے گی ، اور پھر آپ واپس لین دین ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں MIRO انوائس تخلیق پر جاسکتے ہیں!
. ایک مرئی واٹر مارک شامل کریں جو آپ کی تصویر پر نقش شدہ میٹا ڈیٹا کا انتخاب دکھاتا ہے۔ 3.
4- کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے مائیکرو مالی مداخلت کا منصوبہ. AOHua گاہک اور مارکیٹ کے تقاضوں سے منسلک رہنے ، کمپنی کے بنیادی ڈھانچے میں مستقل سرمایہ کاری ، پریمیم سپلائی چین حل کی تعمیر ، اور قیمتوں کو بہتر بنانے کے لئے .
Exness 2021 کے بہترین فاریکس ٹریڈنگ پلیٹ فارم کیا ہیں؟ :ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں
زیرو سب سے کمزور اسکور ہے ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسٹاک تکنیکی لحاظ سے گروپ میں اپنے ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں ساتھیوں کو شدید کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔
بیعانہ اور حاشیہ :LAMM اکاؤنٹ
لمبائی اور گھماؤ فراہم کرنے کے لئے یہ کلارینس کا نیا قیس ہے۔ اس کے اندر ہمیں ایک جدید کمپلیکس ملتا ہے جس میں ایک ایسا فارمولا شامل کیا جاتا ہے جو محرموں کو مضبوط کرتا ہے اور میٹرکائن ، ایک پیپٹائڈ کا شکریہ ادا کرتا ہے جو محرموں کی افزائش کے حامی ہے ، جو محرموں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔
میکسیکو پیسو ایکسچینج کی شرح. مطلوبہ الفاظ: آئی ایم آر تجزیہ کار - گیس لیک ڈٹیکٹر - فلو گیس تجزیہ کار - ہوا اور گیس کے اخراج مانیٹر - ایئر کوالٹی مانیٹر - سی ای ایم ایس - پورٹ ایبل گیس اور ایئر تجزیہ کار.
کیا متعدد زاویوں سے منڈی کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں؟ مختلف منٹ چارٹس کے ایک بہت بڑے انتخاب کے ساتھ، MT5 ڈے ٹریڈرز کیلئے ایک مثالی سولوشن ہے۔ کیا آپ سوئنگ ٹریڈر سے بڑھ کر ہیں؟ یہ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم کثیر گھنٹہ وار چارٹس کی پیشکش کرتا ہے جو آپ کے اسٹائل سے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ ہنر کا برکت: 1 باری کے لئے آپ کی زمین کی قسم یونٹ کی تحریک ڈبل. (X2)
زیادہ دلچسپی والا بچت اکاؤنٹ. . ٹکنالوجی: ایک ایک شو فلم: دنیا کافی نہیں ہے (1999)
چونکہ آپ غالبا ایک خوردہ تاجر ہیں ، خاص طور پر یہ سچ ہے۔ آپ کے پاس اتنے زیادہ جدید اوزار نہیں ہیں جو ٹیلیگرام فاریکس سگنل کیا ہیں آپ کے پاس موجود ہیں ۔ ہم اپنے مؤکل کے تجربے کے پابند ہیں اور اس لئے صارف دوست پلیٹ فارم تشکیل دے چکے ہیں ، جو کسی بھی صارف کو اپنی درخواست کو تیزی اور کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کنٹرولز ٹارگٹ ایکشن ڈیزائن کے نمونوں کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ، جو اس نمونہ ایپ میں استعمال ہوتا ہے جب آپ اس اعداد و شمار میں دکھائے گئے ٹیسٹ ڈرائیو کے بٹن کو چھوتے ہیں۔
|
2022/01/27 23:38:16
|
https://jp-watchblog2016.top/category-13/page-845987.html
|
mC4
|
مہدی سولتانی سروستانی 2020/12/16 فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے
فیئر ڈیبٹ کلیکشن پریکٹس ایکٹ. تاریخ باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: فیلڈ منتخب کریں اور سیل آرڈر کیلئے تاریخ کا انتخاب کریں۔
چھت سے ایک بلب لٹکتا رہتا۔ مجھے کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں تھی سوائے اس کے کہ جب مجھے باتھ روم جانا ہوتا تو میں دروازہ بجاتا اور مجھے آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ہال سے گزار کر باتھ روم لے جایا جاتا۔ ایک بار جب بلبلا مکمل طور پر ختم ہو گیا تو ، آسان پیسہ سوکھ گیا۔ اچھی قسمت اور وقت کے ذریعے منافع بخش افراد میں سے بہت سے لوگوں نے تجارت چھوڑ دی اور دوسرے کام کی تلاش میں رہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کسی دوسرے پیشے کی طرح اس دن کے کاروبار میں بھی روزگار کے حصول کے لئے تعلیم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجارتی سافٹ ویئر کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو احتیاط سے غور کرنا چاہئے کہ انہیں کیا خصوصیات کی ضرورت ہے۔ فعال تاجر جو خودکار تجارتی نظاموں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ کسی ایسے سرمایہ کار کے مقابلے میں بالکل مختلف تجارتی سافٹ ویئر کا انتخاب کرسکتے ہیں جو صرف تجارت کرنے کی صلاحیت کی تلاش میں ہے۔
اب ، تجارت کے لئے معلومات کے ذرائع کا جائزہ لیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو کیلنڈرز سے پیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، یہاں تک کہ اگر آپ کے پاس صرف ایک ہی فون ہے۔ یہ اس لئے کہ کسی بھی بنیادی تجزیہ کار کا ایک سب سے اہم ٹول اقتصادی کیلنڈر ہے۔ ٹھیک ہے ، یہ صرف ایک باقاعدہ کیلنڈر نہیں ہے۔ در حقیقت ، یہ سب سے اہم ریلیز اور واقعات کی فہرست ہے جو مارکیٹوں کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر اشارے کی پیش گوئی کی گئی ہے ، جو مختلف تجزیہ کاروں کی اوسط توقعات کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی بھی او ٹی سی بی بی (پیسہ اسٹاک) باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: کا کاروبار براہ راست بروکر کے ساتھ ہونا چاہئے۔
(*): میں M سے مخلصانہ شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ٹریسا اور جوانجو پیریز مارن ، راؤل والینٹے لوپیز اور ایوا م۔ پیرز اگلو؛ پروفیسروں کے ساتھ ساتھ ، ایف سی او زاویر منڈیز کیریلو اور جوس اولیویرس روڈریگس۔ وہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ کیوں؟
اب جبکہ ہم پیریریکون ایم ڈی کے بارے میں ایک برانڈ کی حیثیت سے سب جانتے ہیں ، آئیے ان تمام پروڈکٹس کو چیک کریں جو انہیں پیش کرتے ہیں۔ "وہ پوچھتے ہیں ، آپ جواب دیں ،" کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ، "آپ اپنے سفر کے راستے کے ہر قدم کو صحیح معنوں میں سمجھنا چاہتے باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: ہیں ، لہذا آپ کو ایک بڑی تصویر بنانے کی ضرورت ہے۔ آسان اور مستقل جگہ۔
زینگف اسٹریٹ فائٹر فین آرٹ (Giaci78 کے ذریعے) تیسری بات یہ ہے کہ جاوید صاحب کی نسبت سے تحقیق و تجزیہ کے جس بلندمعیار کا بہت شہرہ سنایا جاتا ہے، اس کہانی سے عام آدمی واقعی مرعوب ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے خان صاحب کی جس کتاب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں،اس کتاب پر ایک تبصرہ ہم آیندہ کسی اشاعت میں طبع کریں گے، جس سے موصوف کے ذوقِ مطالعہ اور تحقیقی معیار کی بلندی کے بارے میں خود قارئین اندازہ لگالیں گے۔
ایک اوسط ربن آپ کو کیا باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: بتاتا ہے؟
فیڈ ڈیمون وہاں پر سب سے زیادہ مشہور ڈیسک ٹاپ آر ایس ایس ریڈروں میں سے ایک ہے۔ بیشتر ڈیسک ٹاپ ریڈنگ سافٹ ویئر کی طرح ، اس میں فولڈر سپورٹ ، ٹیگنگ ، کلیدی لفظ انتباہات ، اور پوڈ کاسٹ سپورٹ جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ یہ آسانی سے ایک بہترین ڈیسک ٹاپ متبادل میں سے ایک ہے ، اگرچہ اس میں بصری پولش کی کمی ہے۔
تاہم بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ ماہ نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلقات کا انحصار اس پر ہے کہ دونوں ملک سرحد پر امن و استحکام کے قیام کے لیے ہونے والے معاہدوں پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ وہ سرمایہ کار جو حکمت عملی کا استعمال کرتے ہیں وہ انکم ٹیکس کی فراہمی سے فائدہ اٹھانے کے ل the کھوئے ہوئے اسٹاک کو ایک سال تک رکھنے سے پہلے فروخت کرتے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کو اپنے فوائد کو پورا کرنے کے لئے نقصانات کو استعمال کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ طویل باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: مدتی دارالحکومت منافع پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی سے فائدہ اٹھانے کے ل They ، وہ جیتنے والے اسٹاک کو ایک سال کے نشان کے بعد فروخت کرتے ہیں۔ پھر وہ دوبارہ سارے عمل شروع کردیتے ہیں۔ کمپنی کے میدان میں اس ایونٹ کی ترقی کے بارے میں تمام خبریں بتانا ایک بہت ہی قابل ذکر طریقہ ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں تمام نقطہ نظر سے بہتر پوزیشننگ کے ساتھ۔
اگر آپ بلیک ڈیکر یا ورلڈ میں شامل نہیں ہو تو کیا ہوگا؟ کاریگر نے یہ بے تار ماڈل تیار کیا ہے جو باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: ان کے وی 20 کورڈلیس سسٹم کے ساتھ بھی کام کرتا ہے! لیکن بین الاقوامی لائنوں کے مینوفیکچررز سے براہ راست سوورسنگ بہت زیادہ پیچیدہ ہے جیسے بی بی بیچنے والوں کو تصور کرنا شروع ہوتا ہے، کیونکہ وہ تیزی سے پتہ چلتا ہے جب وہ دراصل اس حجم میں خریدنے کی کوشش کرتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کرنا تھی اور اسے آمدن میں خسارے کا بھی سامنا تھا۔ اس کے لیے اسے شرح سود بھی بڑھانا پڑی اور ڈالر بھی مہنگا ہوا۔ اسی طرح بجلی بھی مہنگی ہوئی کیونکہ اس پر دی جانی والی چھوٹ حکومت نہیں اٹھا سکتی تھی۔
اول، می توانید تنظیمات ابزار خود را بدون کامپیوتر انجام دهید. این فرآیند بویژه با استفاده از نانو ایکس راحت است زیرا برخلاف نانو اس باتری خود را دارد و به صورت نیم شارژ از جعبه خارج می شود. بعلاوه، می توانید از سرور خصوصی الکتروم با یک لجر به عنوان یک ابزار امضاء استفاده کنید. اگرچه ایمنی از این طریق افزایش می یابد، ولی این آپشن برای استفاده کاربران پیشرفته مناسب است زیرا شما را در معرض سایر ریسک ها قرار می دهد. . کبھی کبھی تو مکمل بنا کوئی تصویر.
فاریکس ہیکڈ پرو کی طرف سےہر جوڑے کے لئے علیحدہ علیحدہ طور پر فاریکس ہیکڈ پرو روبوٹ کی سیٹنگ پیش کی گئی ہے۔ لیکن حقیقی ٹریڈنگ میں باقاعدہ تجارتی اکاؤنٹ: ڈویلپرز خطرے کو متنوع بنانے کے لیے تمام نو جوڑوں کے لیےتجویز کردہ ترتیبات سیٹ فائلوں کے ساتھ روبوٹ لگانے کی سفارش کرتے ہیں۔ یقینا اس سے کچھ معنی ملتا ہے کیونکہ بیک وقت سا رےجوڑے ایک ساتھ موو میں نہیں آتے ہیں۔جو گراف میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ فاریکس ہیک پرو مارٹنگیل کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے کام کرتا ہے۔ اور یہ بہت خطرناک ہے اور اس سےآکاونٹ کے ڈپازٹ کو مکمل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن بروقت انخلا کے منافع کے ساتھ کافی منافع بخش ہوسکتا ہے۔ ابتدائی جمع کے منافع کا بروقت واپسی خود بخود فاریکس ہیک پرو کی ساری ٹریڈز کو بند کردیتا ہے۔ براہ کرم نگرانی جاری رکھیں اے پی ایس اسکول سال 2020-21 ویب سائٹ دوبارہ کھولنے کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لئے۔ ہم اگلے تعلیمی سال میں ہر دن پانچ دن کے لئے دوبارہ کھلنے کے امکان کے بارے میں پرجوش ہیں اور دستیاب ہونے پر مزید معلومات کا اشتراک کریں گے۔ کیا میں اپنے اکاؤنٹ کی بیس کرنسی تبدیل کر سکتا ھوں؟
|
2022/01/19 16:51:32
|
https://ultrafilmesonline.xyz/category-2/page-511285.html
|
mC4
|
شہر - جہاں سبز بازیافت کی جنگ جیت یا ختم ہو جائے گی - بریتھ لیف2030
نیٹ ورک کی تازہ ترین معلومات / نروبی، کینیا / 2020-08-12
شہروں - جہاں سبز بازیافت کی جنگ جیت یا ختم ہوجائے گی:
کوویڈ 19 میں شہر سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ لیکن شہر وہ جگہیں بھی ہیں جہاں COVID-19 سے ہری بحالی کی جنگ جیت سکتی ہے۔
یہ ایک خصوصیت ہے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام.
شہروں کا گھر ہے 55 فی صد دنیا کی آبادی میں ، سبھی ایک ساتھ گال بہ بہ جول۔ تو تعجب کی بات نہیں ، کوویڈ 19 میں شہروں کو سب سے زیادہ مارا جارہا ہے: ایک اندازے کے مطابق 90 فی صد رپورٹ شدہ تمام معاملات شہری علاقوں میں ہوئے ہیں۔
لیکن لوگوں کی یہی حراستی شہروں کو وہ جگہیں بھی بنادیتی ہے جہاں COVID-19 سے سبز بازیافت کی جنگ - جو مستقبل کے وبائی خطرات کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لئے ضروری ہے۔
شہر نظریات کی افزائش کے میدان ہیں اور وہ جگہیں جہاں موسمیاتی تبدیلی ، آلودگی ، وسائل کے استعمال اور جیوویودتا میں کمی کو کم کرنے کی بہت سی نئی تکنیکیں شکل اختیار کررہی ہیں۔ CoVID-19 سے پہلے ، بہت سے شہروں نے پہلے ہی شہری زراعت ، ای نقل و حرکت ، غیر موٹرائیزڈ ٹرانسپورٹ کو اپنا لیا تھا ، اور صفر کے اخراج کی عمارات ، ضلعی توانائی اور غیر منسلک قابل تجدید توانائی کے نظام ، فطرت پر مبنی حل ، اور بازیافت منصوبوں کی تلاش کر رہے تھے۔
کوویڈ 19 کے بحالی پیکیج میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان اس طرح کی پیشرفت کو تیز کرسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک شہری میں COVID-19 سے متعلق ایک پالیسی بریف کے حالیہ آغاز کے موقع پر کہا ، "جب ہم وبائی مرض کا جواب دیتے ہیں اور بازیابی کی طرف کام کرتے ہیں تو ہم اپنے شہروں کو برادری ، انسانی جدت اور آسانی کا مرکز بنتے ہیں۔" جگہ. "اب وقت آگیا ہے کہ ... مزید مستحکم ، جامع اور پائیدار شہروں کی تعمیر کرکے بہتر صحت یاب ہوجائیں۔"
مستقبل میں رہنے والی معیشتیں
COVID-19 کی بازیابی مستقبل کی معیشتوں کو ایک موقع فراہم کرتی ہے: شہروں کے لئے اپنی ہوا صاف کرنا ، ان کی کھلی جگہوں کو سبز بنانا ، اور ماحولیات کے نظام پر وسائل کے استعمال اور اس سے متعلقہ اثرات کو مستعار بنانے اور ان سے نمٹنے میں مدد دینے کے لئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد فراہم کریں۔
شہری منصوبہ بندی اور ڈیزائن جو حکمت عملی سے گھنے شہروں کی تشکیل میں مدد کرتا ہے اور رہائش کو نقل و حمل اور توانائی کی منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑنے کے ساتھ ساتھ نیلے اور سبز رنگ کے انفراسٹرکچر کے ساتھ بھوری رنگت کو فطرت پر مبنی حلوں سے فائدہ اٹھانے کے ل. ، اہم ہوگا۔
اس پروجیکٹ کے ذریعہ ، یو این ای پی ، ایک ساتھ مل کر C40 شہروں، عالمی وسائل انسٹی ٹیوٹ اور ICLEI- استحکام کے ل Local مقامی حکومتیں، فریٹاؤن سمیت متعدد شہروں کے ساتھ مل کر مربوط طریقوں کی طرف راغب ہونے کے لئے کام کریں گے جس میں فطرت پر مبنی حل بھی شامل ہیں۔
UNEP اس کے ذریعے ، ICLEI کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے شہر بایوڈویورٹی سینٹر، لوگوں اور فطرت کے لئے ہمارے شہروں میں اور اس کے آس پاس ہم آہنگی سے زندگی بسر کرنے کے لئے کثیر سطح کی حکمرانی کی حمایت کرنا۔
گٹیرس نے کہا ، "ہمیں سبز ، لچکدار اور جامع معاشی بحالی کا پیچھا کرنا چاہئے۔" "اعلی ماحولیاتی تبدیلی اور ملازمت کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرکے ، محرک پیکیج ترقی کو کم کاربن ، لچکدار راستہ کی طرف بڑھا سکتے ہیں اور اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مستحکم ترقی کے مقاصد".
موسمیاتی تبدیلی: اگلا خطرہ
ایسی کارروائی کی اشد ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ کوویڈ ۔19 ابھی مرکز کا مرحلہ لے رہا ہے ، لیکن آب و ہوا میں بدلاؤ اب بھی منتظر ہے۔
ساحلی شہر پہلے ہی تباہ کن سیلاب ، ساحلی کٹاؤ ، سمندر کی سطح میں اضافے اور موسم کی تبدیلی سے منسلک موسم کے انتہائی واقعات برداشت کر رہے ہیں۔ غیر شہری علاقوں کی نسبت شہروں میں بھی درجہ حرارت زیادہ ہے۔ آج ، 200 سے زائد شہروں میں لگ بھگ 350 ملین شہر مکین گرمی کا درجہ حرارت 35 ° C (95 ° F) سے زیادہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ گرمی کے دباؤ سے دائمی طور پر متاثرہ شہروں کی تعداد 970 تک بڑھ کر 2050 ہونے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ ان تمام عوامل سے لوگوں کی صحت اور معاش اور پوری طرح ہماری معاشیات کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
جبکہ شہر موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہیں ، کچھ 75 فی صد عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج شہروں سے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مستعدی منتقلی کی کلید میئر اور سٹی کونسلرز کے پاس ہے۔ 70 تک کاربن غیرجانبداری کا ارتکاب کرنے والے 425 سے زیادہ بڑے شہر ، جس میں 2050 ملین افراد کی نمائندگی ہے ، یہ ایک آغاز ہے: 227 شہر سالانہ 10 ملین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ تیار کرتے ہیں۔ ہمیں درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ° C تک محدود کرنے کے لئے اخراج میں پانچ گنا کمی کی ضرورت ہے۔
کامیابی ممکن ہے۔ شہروں میں خود کو نوآباد کرنے کی ایک طویل روایت ہے ، کم سے کم پچھلے وبائی امراض کے جواب میں جو نکاسی آب کو بہتر بنانے اور زیادہ بھیڑ کو کم کرنے کے لئے گند نکاسی کے نظام ، عوامی پارکس اور ہاؤسنگ ریگولیشن متعارف کرایا تھا۔
فطرت ، آب و ہوا اور زمین کے استعمال کو مربوط کرنا
بینکاک کی چوللانگ کورن یونیورسٹی سینٹینری پارک صحت ، شہری لچک اور آب و ہوا کے اہداف کے سنگم پر فطرت پر مبنی حکمت عملی کی ایک بہترین مثال ہے۔ پارک کا جدید ڈیزائن پانی جذب اور ذخیرہ کرکے سیلاب کے خطرے کو کم کرتا ہے ، جو اس کے بعد خشک موسم میں آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
اس دوران کولمبیا میں میڈیلن نے اپنے 'گرین کوریڈورز' پروجیکٹ کے ذریعے فطرت کو ایک ٹھنڈک حل کے طور پر قبول کرلیا ہے ، جس نے 18 سڑکیں اور 12 آبی گزرگاہیں سرسبز و شاداب سبز ٹھکانوں میں تبدیل کردی ہیں۔ اس منصوبے نے میڈیلن میں سطح کے درجہ حرارت کو 2-3 XNUMX-XNUMX ° ° C تک کم کیا ہے جبکہ ہوا کے معیار اور جیوویودتا کو بہتر بنایا ہے۔
ملٹی لیول گورننس انتہائی ضروری ہے
فیصلے سازی پر کثیر سطح کی حکمرانی کے ذریعے شہر اور قومیں معاشی و اقتصادی بحالی پر تیزی سے مل کر کام کر رہی ہیں۔ وزراء اور میئر حال ہی میں ایک موسم میں آب و ہوا کے عمل کو تیز کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے تقریب UNEP ، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ، UN-ہیبی ٹیٹ ، میئرز کا عالمی عہد ، ICLEI اور متحدہ شہر اور مقامی حکومتیں (UCLG) کے زیر اہتمام۔
300 سے زائد شرکاء جن میں اٹلی ، انڈونیشیا ، آئیوری کوسٹ ، ایتھوپیا ، جنوبی افریقہ ، چلی ، اور 25 سے زائد میئرز اور گورنرز شامل ہیں - نے آب و ہوا میں تبدیلی ، خصوصا عمارتوں ، ٹرانسپورٹ ، زراعت اور کچرے کے انتظام جیسے اہم شعبوں میں ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا۔
محرک پیکجوں کے لئے سبز تار
چونکہ معاشی و اقتصادی بحالی کے لئے حکومت کی ہر سطح کے منصوبے ہیں ، محرک پیکیج شہروں کی سجاوٹ میں تبدیلی کی حمایت کرسکتے ہیں۔ شہری سرمایہ کاری کمپیکٹ ، مربوط ، مخلوط استعمال والے شہروں کو فروغ دے سکتی ہے جو کام کی جگہ اور رہائش کی جگہ کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں۔ سبز مقامات کی تخلیق نو ، شہری نقل و حرکت پر دوبارہ غور کرنا اور عوامی اور غیر موٹرسائیکل ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ، عدم مساوات کو کم کرنے کے لئے عمارتوں کی بحالی میں سرمایہ کاری سے خیریت کو بہتر بنانے اور مزید ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
یو این ای پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ، "شہر اثرات کے محاذ پر ہیں ، بلکہ ان کے حل بھی ہیں۔" "سرسبز و شاداب شہروں کو صحت سے متعلق فوائد ہیں ، آب و ہوا کے تخفیف اور موافقت میں مدد دیتے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔"
|
2021/09/24 18:04:14
|
https://breathelife2030.org/ur/news/cities-fight-green-recovery-will-won-lost/
|
mC4
|
کائنات کی تخلیق کا راز جاننے کیلئے طبیعات کا سب سے طاقتور تجربہ
پیرس (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین10ستمبر2008 )نیوکلیائی ریسرچ کے یورپی ادارے سرن کے زیر اہتمام دنیا میں طبیعات کا سب سے طاقتور تجربہ کیا گیا جس کا مقصد کائنات کی تخلیق کا راز جاننا ہے۔ اس تجربے کے دوران انجینئر ذرات کی ایک لکیرکو 27 کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ نما مشین سے گزارنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ اس تجربے کے بارے میں تین دہائی پہلے سوچا گیا تھا لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اسے عملی شکل دی جا رہی ہے۔
پانچ ارب پاوٴنڈ لاگت سے تیار ہونے والی اس مشین میں ذرات کو دہشت ناک طاقت سے آپس میں ٹکرایا جائے گا تاکہ نئی طبیعات میں تباہی کے علامتوں کو آشکار کیا جا سکے۔ اس تجربے کا بنیادی مقصد کائنات میں بِگ بینگ سے چند ثانیے بعد کے حالات کو از سرِ نو تخلیق کرنا ہے۔فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد کے نیچے کھودی گئی اس بہت بڑی سرنگ میں ایک ہزار سلنڈر کی شکل کے مقناطیسوں کو ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے۔
انہیں مقناطیسی سلنڈروں سے پروٹون ذرات کی ایک لکیر پیدا ہو گی جو 27 کلو میٹر تک دائرے کی شکل میں بنائی گئی سرنگ میں گھومے گی۔ سرنگ میں پروٹون ذرات کے ٹکرانے سے دو لکیریں پیدا ہوں گی جنہیں اس مشین کے اندر روشنی کی رفتار سے مخالف سمت میں سفر کرایا جائے گا۔ اس طرح ایک سیکنڈ میں یہ لکیریں گیارہ ہزار جست مکمل کریں گی۔ سرنگ کے اندر مقررہ جگہوں پر ذرات کی یہ لکیریں ایک دوسرے کا راستہ کاٹیں گی اور ان کے اس ٹکراوٴ کا مشاہدہ کیا جائے۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس تجربے کے دوران نئے سب آئٹم سامنے آئیں گے جن سے کائنات کی ہیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی معلومات حاصل ہوں گی۔ واضح رہے کہ سرن کے زیر اہتمام ہونے والے اس تجربے میں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے 2پاکستانی سائنسدان بھی شریک ہیں ۔
|
2019/01/21 19:53:51
|
https://www.urdupoint.com/health/news-detail/live-news-76477.html
|
mC4
|
ضرورت برائے اینکر پرسن – روزنامہ جدوجہد
21/09/2020 12:00 صبح by Adnan Farooq Views: 258
بول ٹی بی کو ایک عدد اینکر پرسن کی مزید ضرورت ہے۔
قابلیت: بالکل درکار نہیں ہے۔ ہسٹیریا کے مریضوں کو ترجیح دی جائے گی مگر امیدوار کے لئے ضروری ہے کہ خوف اور لالچ کی بنیاد پر تمام متعلقہ سرکاری اداروں کی عزت کرتا ہو۔
تجربہ: آن لائن چیخیں لگانے کی دس سالہ عادت۔ الزام تراشی کا کم از کم تین سالہ تجربہ۔ ضمیر فروشی اور دین فروشی وغیرہ اضافی خوبیاں تصور کی جائیں گی۔ گالیاں دینے کے علاوہ بوقت ضرورت ہاتھا پائی کی صلاحیت والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔
دیگر خصوصیات: اینکر پرسن کا اندھا ہونا ضروری نہیں مگر اس کا سچ بلائنڈ ہونا اضافی خصوصیت سمجھی جائے گی۔ چینل کی پالیسی کے مطابق اینکر پرسن کا بہرا ہونا لازمی ہے تاکہ وہ صرف چیخ سکتا ہو مگر کسی کی سنتا نہ ہو۔
|
2021/01/15 14:03:11
|
https://jeddojehad.com/?p=13028
|
mC4
|
این اے 249: بائیکاٹ کے باوجود آج 60 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی گنتی
کراچی میں قومی اسمبلی کے حقلہ این اے 249 میں سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود الیکشن کمیشن کے عملے کی جانب سے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کے دوران آج 60 پولنگ اسٹیشنز کی گنتی مکمل کی گئی، جبکہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی پوری گنتی ہونے میں مزید دو دن لگیں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق دوبارہ گنتی کے دوران این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے کامیاب امیدوار قادر مندوخیل کے اب تک 134 ووٹ مسترد ہوچکے ہیں۔
ای سی پی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسمعیٰل کے 194 ووٹ مسترد قرار دیے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار امجد آفریدی کے ووٹوں میں مزید 34 ووٹوں کا اضافہ ہوگیا۔
متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار حافظ مرسلین کے 108 ووٹ مسترد قرار دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ اس نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے عبدالقادر مندوخیل نے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ ان کے مقابل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتح اسماعیل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر مندوخیل اور ٹی ایل پی سمیت 2 آزاد امیدوار بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل میں موجود رہے۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق افطار سے پہلے اور پھر وقفے کے بعد دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی جبکہ آج صرف 60 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہوسکی۔
حکام الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں مزید 2 دن لگیں گے۔
الیکشن کمیشن کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کو نوٹس
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں سے ووٹوں کے گنتی کے عمل میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بائیکاٹ پر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کے باوجود گنتی کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن صرف درست اور مسترد ووٹوں کی گنتی کرنے کا پابند ہے، وہ ووٹوں کی گنتی کرے گا۔
الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ فیصلے کے مطابق ڈالے گئے اور مسترد شدہ ووٹ گننے کا حکم دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے باوجود جاری فیصلے کے مطابق دوبارہ گنتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ امیدواروں کی جانب سے ڈالے گئے تمام ووٹوں کا ڈیٹا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم امیدواروں کو کسی بھی قسم کا انتخابی ڈیٹا فراہم کرنا ممکن نہیں۔
کس نے بائیکاٹ کیا، کس نے نہیں؟
اس سے قبل کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی شروع ہو نے جا رہی تھی اور تمام جماعتوں کے امیدوار ڈی آر او آفس میں موجود تھے کہ ووٹوں کے بیگز پر سیل نہ ہونے کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کے سوا دیگر تمام جماعتوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا۔
سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کیئے جانے کے باعث ڈی آر او دفتر اور اس کے باہر کافی شور شرابہ ہوا ہے۔
دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کرنے والوں کے 2 ابتدائی اعتراضات سامنے آئے ہیں، پہلا اعتراض یہ ہے کہ پولنگ بیگ پر سیل نہیں ہے، دوسرا اعتراض ہے کہ فارم 46 مہیا نہیں کیا گیا۔
اس ضمن میں بائیکاٹ کرنے والے مسلم لیگ نون، ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پاسبان اور آزاد امیدواروں نے تحریری درخواست آر او کے پاس جمع کروا دی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہمیں فارم 46 نہیں دیئے گئے، بیلٹ بک کی کاؤنٹر فائل بھی موجود نہیں، پولنگ بیگ پر سیل بھی موجود نہیں، لہٰذا ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے۔
دوبارہ گنتی کیلئے کون کون پہنچا؟
اس سے پہلے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نون کے امیدوار مفتاح اسماعیل، پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالقادر مندوخیل، پی ٹی آئی کے امیدوار امجد آفریدی، پی ایس پی کے امیدوار حفیظ الدین ، پاکستان مسلم الائنس کے رہنما حضرت عمر اور 6 آزاد امیدواروں سمیت کل 16 امیدوار ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے سلسلے میں آر او آفس پہنچے تھے۔
مفتاح اسماعیل کی درخواست پر دوبارہ گنتی
29 اپریل کو ہونے والے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مسلم لیگ نون دوسرے نمبر پر آئی تھی۔
مسلم لیگ نون کے رہنما مفتاح اسماعیل نے نتیجے کو مسترد کر کے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور الیکشن کمیشن سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کی درخواست کی تھی۔
تحریک انصاف نے دوبارہ گنتی کے بجائے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا، الیکشن کمیشن نے نون لیگ کی درخواست مان لی تھی۔
حماد اظہر کی تقریر پر شہباز، بلاول ایوان سے چلے گئے
وفاقی وزیر حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں جیسے ہی تقریر شروع کی مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان سے چلے گئے۔
چیف جسٹس ہمارے حقوق کی انکروچمنٹ پر بھی فیصلہ دیں، خالد مقبول صدیقی
کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس سے اپیل ہے ہمارے حقوق کی انکروچمنٹ پر بھی فیصلہ دیں، کراچی والوں کو دیوار سے ہی نہیں لگایا، چن دیا گیا ہے۔
لاہور: رہائی پر ہوائی فائرنگ کرنے والا پھر گرفتار
لاہورمیں اپنی رہائی کی خوشی میں ملزم نے ہوائی فائرنگ کی جس پر پولیس نے اسے دوبارہ گرفتار کر لیا۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے بجٹ میں 18 کروڑ کا اضافہ ہوا: سینیٹر مشتاق احمد
جماعتِ اسلامی خیبر پختون خوا کے امیر اور سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے بجٹ میں سبسڈی سفید ہاتھیوں کے لیے دی، وزیرِ اعظم ہاؤس کے بجٹ میں 18 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
وزارت آئی ٹی نے موبائل کالز کے ٹیکس پر اعتراض اٹھایا تھا، امین الحق
وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام امین الحق کا کہنا ہے کہ بجٹ میں آئی ٹی کو انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے، موبائل کالز پر ٹیکس لگنے پر وزارت آئی ٹی نے اعتراض اٹھایا تھا۔
لاہور: 23 میں سے صرف 4سینٹرز پر ویکسی نیشن جاری
لاہور میں کورونا ویکسین کی صورت حال جوں کی توں برقرار ہے، ویکسین کی کمی کے باعث شہر کے 23 میں سے صرف 4 سینٹرز میں ویکسین لگائی جا رہی ہے، یومیہ 60 ہزار تک لگنے والی ویکسین کم ہو کر 35 ہزار پر آ گئی ہے۔
وزیرِ اعظم نے صرف 28 غیر ملکی دورے کیئے ہیں: اعجاز چوہدری
حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ اب تک وزیرِ اعظم عمران خان نے صرف 28 غیر ملکی دورے کیئے ہیں جن پرخرچہ صرف 1 اعشاریہ 3 ملین ڈالر آیا ہے۔
مفتی عزیز کی گرفتاری کیلئے چھاپہ، بیٹوں سمیت فرار
لاہور میں طالبعلم سے بدفعلی کے جرم میں نامزد ملزم مفتی عزیز الرحمٰن کی گرفتاری کے لئے ٹاؤن شپ کے علاقے میں پولیس کا چھاپہ، ملزم پہلے ہی فرارہوگیا۔
بلوچستان میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی کا کوئٹہ میں اسمبلی کے باہر مین گیٹ پر احتجاجی کیمپ چوتھے روز بھی جاری ہے جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے اسمبلی کےاحاطے میں داخلی دروازے پر دھرنا دے دیا ہے۔
معاون خصوصی اطلاعات پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو بہتر تعلیم کی فراہمی حکومت کا منشور ہے، صوبائی بجٹ میں تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 442 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل میمن کی اہلیہ صدف شرجیل کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا آئی جی صاحب اسلام آباد سے مخاطب ہو کر کہنا ہے کہ اسلام آباد کو منشیات سے پاک کر دیں، ہمارا مشن ہے کہ دارالحکومت میں جرائم ختم کریں۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ غربت میں تاریخی اضافہ، بے روزگاری میں تاریخی اضافہ، لیکن بینظیر انکم پروگرام میں معمولی اضافہ ہوا ہے ۔
عمران خان آنے والی نسلوں کا سوچ رہے ہیں، شہباز گِل
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل کا کہنا ہے کہ عمران خان اگلے الیکشن کا نہیں ،بلکہ آنے والی نسلوں کا سوچ رہے ہیں۔
پاکستان میں کورونا کیسز کی شرح 2 فیصد سےکم
سماجی فاصلے، ماسک کو نظر انداز کرنے اور ایس او پیز کی خلاف ورزیوں سے پاکستان میں کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 46 کورونا مریض انتقال کر گئے۔
حماد اظہر کی تقریر پر شہباز، بلاول چلےگئے
وفاقی وزیر حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں جیسے ہی تقریر شروع کی مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان سے چلے گئے۔۔
'بجٹ اور بجٹ سیشن دونوں غیرقانونی ہیں'
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ غربت میں تاریخی اضافہ، بے روزگاری میں تاریخی اضافہ، لیکن بینظیر انکم پروگرام میں معمولی اضافہ ہوا ہے ۔۔
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل میمن کی اہلیہ صدف شرجیل کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔۔
ہلدی صرف مسالہ نہیں ایک مکمل علاج ہے
قدرتی جڑی بوٹی کی جڑوں سے حاصل کی جانےوالا خوبصورت رنگ کا قدرتی مسالہ ہلدی ایک طاقتور اینٹی سیپٹک اور اینٹی انفلامینٹری جز ہے جس کے استعمال سے انسانی صحت اور خوبصورتی پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔۔
|
2021/06/18 09:43:55
|
https://jang.com.pk/news/922803
|
mC4
|
غداری کیس 6 سال چلا، 125سماعتیں، مشرف صرف ایک بار پیش ہوئے |
مسلم لیگ نے اپنی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں ہی ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ دائر کر دیا تھا، سابق وزیراعظم نوازشریف نے 26 جون 2013 کو انکوائری کیلیے وزارت داخلہ کو خط لکھا جس پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس نے16نومبر2013 کو رپورٹ جمع کرائی، لا ڈویژن کی مشاورت کے بعد13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس میں ان کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا بتایا گیا۔
خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کو بطور ملزم طلب کیا جبکہ31 مارچ 2014 کو ان پر آئین توڑنے، ججز کو نظربند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنے، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی۔
پرویزمشرف نے صحت جرم سے انکار کیا تو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا،18 ستمبر 2014 کو پراسیکیوشن نے پرویز مشرف کے خلاف شہادتیں مکمل کیں جس کے بعد پرویز مشرف کو بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا، انھیں مسلسل غیرحاضری پر پہلے مفرور اور پھر اشتہاری قرار دیا گیا۔
پرویز مشرف صرف ایک دفعہ عدالت میں پیش ہوئے اور پھر بیماری پر سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل ہوئے، 2016 میں ای سی ایل سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے، خصوصی عدالت کی متعدد دفعہ تشکیل نوکی گئی اور ججز بدلتے رہے، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس طاہرہ صفدر سمیت 7 ججز نے مقدمہ سنا۔
December 19, 2019 in News. Tags: 1999 military coup, Article 6 of the Constitution, Former Pakistan President Musharraf, Gen. Pervez Musharraf, lawyers' movement, Musharraf sentenced to death, prime minister nawaz sharif
|
2022/01/27 12:22:22
|
https://paktodays.com/2019/12/19/%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D8%B3-6-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%DA%86%D9%84%D8%A7%D8%8C-125%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D9%85%D8%B4%D8%B1%D9%81-%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%A7/
|
mC4
|
شرمیلا فاروقی نے مریم نواز کی 'متاثر کن' ڈریسنگ کی تعریف کی
شرمیلا فاروقی نے مریم نواز کی 'متاثر کن' ڈریسنگ کی تعریف کی
ستمبر 28, 2021 September 28, 2021 0 تبصرے
پاکستانی سیاستدان سورج کے نیچے کسی بھی مسئلے پر ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے رہتے ہیں – اور کئی سالوں سے یہی صورتحال ہے۔ تاہم ، عوامی تعریف کے ایک نادر مظاہرے میں ، ایک پیپلز پارٹی کے رہنما نے مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کی تعریف کی ہے-اس کے باوجود کہ دونوں جماعتیں ان کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ختم ہونے کے بعد دور ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے پیر کو مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ڈریسنگ سینس کی تعریف کی اور اسے "متاثر کن" قرار دیا۔
فاروقی نے ٹویٹر پر مریم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ، "فیصلہ نہیں کر سکتی کہ پہلے کون آیا؟ جوتا یا لباس لیکن بہت متاثر کن #جھگڑا۔"
Can't decide which came first ? The shoe 👠 or the dress 👗 but pretty impressive #swag pic.twitter.com/I2QT3uWEqS
— Sharmila Sahibah faruqui S.I (@sharmilafaruqi) September 27, 2021
مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر کو سفید اور سرمئی پھولوں والی چھپی ہوئی قمیض پہنے ہوئے پتلون ، سفید نقاب اور کچھ سرمئی سفید احاطہ کرتا جوتے نیلے رنگ کے پھولوں کی پرنٹ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
مریم جوتوں کی بہت بڑی پرستار لگتی ہیں کیونکہ اس کے جوتے ماضی میں بھی ٹاک آف دی ٹاؤن بن چکے ہیں۔ پچھلے سال ستمبر میں ، مریم نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کے دوران اپنے لباس سے ملنے کے لیے مشہور ہسپانوی ڈیزائنر ، منولو بلاہینک سے سبز "ساٹن جیول بکل خچر" کا انتخاب کیا تھا۔
جب مریم کے چاہنے والے اس کے جوتے کے انتخاب پر جھوم رہے تھے ، مخالفین مشتعل تھے کیونکہ اس وقت بلاہینک جوڑی کی قیمت $ 1،365 تھی۔ کچھ لوگوں نے مریم پر اپنی دولت ظاہر کرنے کے لیے "بے حس" ہونے کا الزام لگایا تھا ، جبکہ دوسروں نے کہا تھا کہ اس نے جوڑا "لوگوں کی لوٹی ہوئی رقم" سے خریدا ہے۔
|
2021/12/05 13:12:34
|
https://www.mehmoodch.com/latest-news/2021/09/28/1574/
|
mC4
|
جعفر ولی 2017/08/18 فاریکس مارکیٹ
انہوں نے کہا کہ مقامی قبائل کے تعاون کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ بھی اس کی بھر پور مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سنیچر کو بھی علاقے میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں قبائل نے ایکویفر کو پہنچنے والے نقصان دھمکی دی تھی کہ آپریشن کی صورت میں وہ پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں افغانستان کی طرف نقل مکانی کریں گے۔ ای ٹورو کو منتقلی کی درخواست پر کارروائی کرنے میں پانچ کاروباری دن لگ سکتے ہیں۔ اس لمحے سے جب درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے ، اس وقت تک سکے میں بٹوے میں ظاہر ہونے میں اضافی وقت بھی لگ سکتا ہے۔ نوٹ: درخواستوں پر ہفتے کے آخر اور / یا قومی تعطیلات پر کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ عام اور سیاہ چاک بیری؛ سفرجل؛ ناشپاتی؛ کلینہ؛ شہفنی.
تجارتی تجزیہ کے ٹولز کو تجارتی سمتوں کو چننے کے لئے کس طرح استعمال کریں ، معاشی تقویم کو کیسے پڑھیں ، احکامات کے ساتھ تجارت کی جائے ، بنیادی تجزیہ کیسے کیا جائے ، اور مزید… اب ، ہمارے پاس وہ تمام معلومات ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے-
ابھی حال ہی میں ، الپاری نے اپنے مختلف تجارتی اکاؤنٹس پر اس ترتیب کو جدید بنایا جو اسے استعمال کرتا ہے ۔ چاہے آپ ٹریڈنگ کے لئے نئے ہوں یا اپنے آپ کو ایک انتہائی تجربہ کار سرمایہ کار سمجھیں ، الپاری کے پاس آپ کے پاس اکاؤنٹ کی صحیح سطح ہے ۔ ان کے مرکزی اکاؤنٹس کو دو ایکویفر کو پہنچنے والے نقصان حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور آپ کی پسند کے پلیٹ فارم کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ دونوں قسمیں تجارت اور سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ امریکی سوسائٹی آف ہیٹنگ اینڈ ایئر کنڈیشنر انجینئرز کے مطابق ، اوننگس والے تاجر اپنے توانائی بلوں میں 25 فیصد تک کی بچت دیکھ سکتے ہیں۔ یہ موسم میں برقرار رہنے کے لئے بھی تعمیر کیے جاتے ہیں ، جس سے انہیں ایک طویل المیعاد انتخاب کیا جاتا ہے۔ ان کے ڈیزائن کی وجہ سے ، آپ اپنے کاروبار کا نام روشن اور بڑھتی ہوئی مرئیت کے سامنے اور اطراف میں رکھ سکتے ہیں۔
ایم 1 فنانس کے ساتھ کھاتہ کھولنا آسان اور سیدھا ہے۔ اپنا ای میل ایڈریس اور اپنا منتخب کردہ پاس ورڈ درج کریں ، اور آپ کو پائی بلڈنگ والی خصوصیت پر لے جایا جائے گا۔ ایم 1 پر کوئی خطرہ تشخیصی سوالنامہ موجود نہیں ہے۔
پیجلوٹ پر ہماری ٹیم کی طرف سے - ہم امید کرتے ہیں کہ ہر شخص محفوظ رہے اور ان تمام خوفناک کیو آر کوڈز کو اسکین کرنا جاری رکھے گا (معقول فاصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے)! صبح 9:30 بجے ای ٹی تک مارکیٹوں میں زندگی کی بہار آنے سے پہلے ، زیادہ تر دن کے تاجر رات میں ہونے والے کسی بھی واقعے پر ہاتھ میں کافی اور ناشتے کے ساتھ گرفت میں مصروف رہتے ہیں جو اس دن کے تجارتی اجلاس کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس میں متعدد اخبارات اور مالی ویب سائٹس کی کہانیاں پڑھنے کے ساتھ ساتھ ، مالی خبروں کے نیٹ ورکس ، جیسے سی این بی سی اور بلومبرگ کی تازہ کاریوں کو سننا بھی شامل ہے۔ غور کرنے سے اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایکویفر کو پہنچنے والے نقصان انسان کو جو فطری جذبہ پرستش پر مجبور کرتا ہے، اس کا اصل مقصد خدائے واحد ہی کی پرستش ہے۔ جب تک وہ اپنے اس معبود حقیقی کو نہیں پہنچ جاتا، مطمئن نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا۔ یہ دوسری بات ہے کہ عقل و فکر کی نارسائی، یا تعصب اور ہٹ دھرمی، یا آباو اجداد کی اندھی تقلید بعض افراد کو یہ بے اطمینانی محسوس نہ ہونے دے۔
سب سے پہلے ، ثالثی کی وضاحت آرٹیکل 2 میں ایک عمل کے طور پر کی گئی ہے جس میں فریقین کسی تیسرے شخص کی مدد سے اپنے تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے پاس حل ('ثالث') لگانے کا اختیار نہیں ہے۔ہے [36]
آپ کے تجارت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد کے ل H کئی ہک ریورسسل نشانیاں موجود ہیں جن کی آپ کو مدد مل سکتی ہے۔ وہ جسمانی یا ورچوئل سائٹس ہیں جہاں بیچنے والے دوسرے لوگوں کو مختلف قسم کی مصنوعات پیش کرنے کے لئے ملتے ہیں جن کو خریدار کہتے ہیں۔ جب آپ 2010 میں ایک ڈیٹا بیس کو ڈیزائن کرتے ہیں تو ، آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہر فیلڈ کی نوعیت کیا ہوگی۔ کس قسم کے فیلڈ کو استعمال کرنا ہے اس کے لئے یہاں اشارے ہیں۔
ایسی دنیا میں جہاں بہت ساری حکمت عملی سوئنگ ٹریڈنگ حکمت عملی کے مطابق ہوسکتی ہے ، صرف تین ہی سامنے آسکتے ہیں۔ تصدیق کے ل your آپ کے ایکویفر کو پہنچنے والے نقصان بنیادی تجزیہ اور دیگر تکنیکی اشارے کے ساتھ اچھی طرح سے ملا ہوا ، وہ واقعی آپ کو جھولنے میں مدد فراہم کریں گے trade ایک حامی کی طرح انہیں آج اپنے سوئنگ ٹریڈنگ میں لگائیں اور منافع سے لطف اٹھائیں۔
ننجا تھیوری کو مائیکرو سافٹ نے 2018 میں حاصل کیا تھا اور یہ ایکس بکس گیم اسٹوڈیوز کا ایک حصہ ہے۔ ننجا تھیوری نے گیم ایوارڈز 2019 میں سینوا کی ساگا: ہیلبلاڈ II کا اعلان کیا۔ تخلیقی ہدایت کار تمیم انتونیڈس نے شیئر کیا ہے کہ سینوا کا ساگا: ہیلبلاڈ II پہلے گیم سے دگنا زیادہ ڈویلپرز تیار کر رہا ہے۔ انتونیئڈس نے یہ بھی بتایا کہ سینوا کی ساگا: ہیلبلاڈ II کا مقصد اس بات پر توجہ مرکوز کرنا ہے کہ کس طرح مصائب سے دیوتاؤں ، خرافات اور مذہب کی تشکیل ہوتی ہے۔
معیشت میں 37،500 یا کاروباری طبقے ایکویفر کو پہنچنے والے نقصان میں 85،000 کے ل North امریکہ شمالی افریقہ. آپ سوچ سکتے ہو کہ یہ زندگی کا ایک آسان مقصد حاصل کرنا ہے کیونکہ چھوٹے بچے اسے آسانی سے کرسکتے ہیں۔ آپ دوبارہ سوچنا چاہیں گے! ایک پابندی حکومت کے حکم سے ایک یا زیادہ ممالک کے ساتھ تجارت یا تبادلے پر پابندی ہے۔ پابندی کے دوران ، کوئی سامان یا خدمات غیر قانونی ملک یا ممالک سے برآمد یا برآمد نہیں کی جاسکتی ہیں۔ فوجی ناکہ بندی کے برخلاف ، جنھیں جنگ کی کارروائیوں کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ، پابندیاں قانونی طور پر تجارت میں رکاوٹیں ہیں۔
1. مطالبہ کی قیمت میں لچک کیا ہے؟ - تعریف ، حساب کتاب کے لئے فارمولہ ، تعینات وغیرہ۔ . 3. پارلی کے طریقہ کار کی تجارت۔
|
2021/09/18 23:03:00
|
https://therateguide.website/category-11/page-226684.html
|
mC4
|
سوال # 176017
میرا سوال یہ ہے کہ میری اہلیہ دونوں پیروں سے معذور ہیں، ٹھنڈ کے دن چلنے کی وجہ سے اس کے ہاتھ اور پیر ٹھنڈے رہتے ہیں، حکیم نے کہا کہ اسے فالج کا خطرہ ہے، اس حالت میں اس کے لیے پانچوں وقت نماز کے لیے وضو کرنا بہت دشوار ہوتاہے، اور زخم بھی ہوجاتاہے، اوراسی وجہ سے غسل جنابت میں بھی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور اسی وجہ سے ہم رات ہمبستر نہیں ہوپاتے ہیں، جب کہ دن میں نوکری ہے، تو ایسی صورت میں کیا میری اہلیہ صرف تیمم کرکے نماز فجر پڑھ سکتی ہے؟اور کیاباقی نمازوں میں تیمم کرسکتی ہے؟ اگر جنابت کا غسل کرنا ضروری ہو تو ایسی صورت میں اس عذر شرعی ہے؟ اس صورت میں کیا سر کے بال نہ دھونے کی اجازت ہے ؟ براہ کرم، جواب دیں ۔
|
2020/04/06 01:25:30
|
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Taharah-Purity/176017
|
mC4
|
پرویز فرشچی 2020/12/8 فاریکس انڈیکیٹرز
جامد انسٹاگرام پوسٹس کے ساتھ ، آپ 30 ہیش ٹیگ استعمال کرسکتے ہیں۔ ہیش ٹیگ استعمال کرتے وقت ، نان فولرز بھی آپ کا مواد ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو نئے سامعین تک پہنچنے اور اپنی پیروی کو بڑھنے کی سہولت ملے گی۔ ہیش ٹیگ سے ، صارف آپ کی مصنوعات کو دریافت کرسکتے ہیں اور اگر آپ کو شاپ ایبل پنوں کو فعال کردیا جاتا ہے تو ایپ سے ہی خریداری کرسکتے ہیں۔ یہ مذہب جانوروں کے فرق پر مبنی تھا ، ان میں سے کچھ پروں کا ناگ کی خطا اور مارکٹ کی انتہا طرح لاجواب تھا۔ کچھ غاروں کو مقدس مقامات سمجھا جاتا تھا۔ کچھ پودوں سے حاصل شدہ ہالوسینوجینک دوائیوں کے استعمال کے ذریعہ ، پادریوں نے ٹرانس میں داخل ہوکر اپنے نظارے دیکھے۔ سیڑھی یا سیڑھی کے اختیارات.
بینک کی قبولیت پر ورزش کریں۔ 1. ادائیگی کا بیلنس کیا ہے؟ - تعریف ، ادائیگی کے بیلنس کا حساب کتاب کرنے کا فارمولہ. پڑھیں کہ یہ صارفین کے لئے کیا پیش کرسکتا ہے۔
آپ کو 24٪ کے بیک اپ ود ہولڈنگ ریٹ خطا اور مارکٹ کی انتہا پر فیڈرل ٹیکس روکنا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی ملازم کے ساتھ ، اس شخص کو مجموعی ادائیگی کریں اور ٹیکس لینے کے ل. اسے 24 ڈگری سے ضرب دیں۔ اور. پاکستانی ٹیم آئندہ ماہ تین ون ڈے اور تین ٹی 20 میچز کے لیے انگلینڈ کا دورہ کر رہی ہے تاہم سیریز کے نشریاتی حقوق بھارتی کمپنی کے پاس ہیں، جسے پاکستان میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔
کب جانا ہے: چرچل میں اکتوبر اور نومبر کا دیکھنے کا بہترین موسم ہے ، لیکن کچھ آپریٹر مارچ میں اپنے دور دراز کے لاجوں پر پیکیج پیش کرتے ہیں ، جب ماں کے ریچھ اپنے گائے کے ساتھ اپنے گدھوں سے نکلتے ہیں۔ ریچھ دیکھنا جولائی اور اگست میں بیلوگا وہیل دیکھنے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
ٹیوین میکس کے ساتھ مقابلہ خطا اور مارکٹ کی انتہا کرنا. مرحلہ 3. تنوع - اپنی سرمایہ کاری کو کیسے تقسیم کریں؟
اس کے بانی سولہویں صدی کے فرانسیسی مفکر جین بوڈن سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے یہ دیکھا کہ ان کے زمانے میں نئی دنیا سے یورپ میں چاندی اور سونے کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے ان قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ اور ایک ہی وقت میں ، باقی ہر چیز کی قدر بڑھ گئی ہے۔ لیکن اس کی جدید شکل میں ، رقم کے مقداری نظریہ کو ماہر معاشیات ارونگ فشر نے پیش کیا۔ انہوں نے ہی تبادلہ کی مساوات مرتب کی تھی۔
ہر بار جب آپ کو کچھ اضافی قدم چلنے کا موقع ملے تو اس کے بارے میں سوچیں ، چاہے وہ بلاک کے گرد چہل قدمی کرے ، سیڑھیاں اٹھائے ہوئے ہو ، یا مختصر سفر کا رخ کرے۔ انچ انچ ، ان اقدامات میں اضافہ اور فرق پڑتا ہے۔ سیاست میں اس کے اثرات ریاستہائے متحدہ امریکہ کی نسبت یورپ میں زیادہ نمایاں تھے۔ یہ بحران پوری دنیا میں پھیل گیا ، لیکن یہ یوروپی برصغیر پر تھا جہاں حکومتوں اور معیشت کے ذمہ داروں کے خلاف عدم اعتماد کا شدید رد عمل سامنے آیا۔ اور پھر ہیڈر کے نیچے ایک مارجن کے ساتھ تھوڑی سی جگہ شامل کریں۔
اسٹاک مارکیٹ میں بینکاری کا شعبہ ، خطا اور مارکٹ کی انتہا ایسا کیا ہے؟
کیا یہ Abbott کی اقدار اور ثقافت کی مطابقت میں ہے؟
اس مواد کی تلاش کے ل typ آپ کی ٹائپنگ میں آپ کا وقت بچ جاتا ہے۔ متعلقہ مواد جو سرچ باکس کے نیچے دکھاتا ہے اس سے یہ بھی عکاسی ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ کن کلیدی الفاظ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تانتر کی طرح ہی ، پارٹنر / جوڑے یوگا اپنے کرنسی ، دوست یا کنبہ کے ممبر کو بھی ایسی کرنسیوں میں شامل کرکے مشق کو گہرا کرتے ہیں جہاں سانس لینا اور ساتھ ساتھ چلنا اہم ہوتا ہے۔ اور ایکرو یوگا کی طرح ، جوڑوں کے یوگا میں ایک پریکٹیشنر شامل ہوتا ہے جو بیس کی حیثیت سے کام کرتا ہے ، اور دوسرا فلائر۔ یہ کردار مثالی طور پر ، تبادلہ کرنے والے ہیں۔
روسی فیڈریشن میں لیبر مارکیٹ میں شریک افراد کاروباری ، ملازمین اور ریاست بھی ہیں۔ اس کے کردار کی بہت زیادہ وضاحت کرنا مشکل ہے۔ ریاست کا اثر و رسوخ علاقائی ، وفاقی سرکاری اداروں ، نیز سیکیورٹی نظام اقتدار ، مقامی خود حکومت کی مدد سے پھیلتا ہے۔ لیبر مارکیٹ میں ریاست کو تفویض کردہ فرائض مندرجہ ذیل ہیں: . صنعت کار نے ٹریکٹر کے ڈیزائن اور راحت کے انتظام پر بڑی توجہ دی۔ زیادہ حد تک ، یہ کیبن کے ڈیزائن پر لاگو ہوتا ہے۔ وہ کشادہ ہو گئ۔ ایک آرام دہ اور پرسکون گرم کرسی اندر نصب ہے۔ ایسی سخت تکنیک پر بھی کام کرنا آسان ہوگا جب کہ سخت فراوسٹس میں بھی۔
وہ کاروبار کے ل audience بہترین سامعین ہیں کیونکہ ان کے پاس بلے سے ہی خریداری کی طاقت کی ایک بڑی رقم ہے۔ نوجوان نسل تفریحی مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کی تلاش میں ہے جو اپنے سوشل میڈیا فیڈ پر اشتراک کے لائق ہیں۔ اگر آپ اپنی مارکیٹنگ کو تفریح اور پُرجوش بناسکتے ہیں تو اس دہائی میں آپ کا عروج کا کاروبار ہوگا۔ نوجوانوں کو برقرار رکھنے کے رجحانات اور چیلنجوں کے ذریعہ سوشل میڈیا زمین کی تزئین کو یقینی بنائیں گے۔ کتاب ڈیزائن میں صفحے کی تشکیل کے کچھ باقاعدہ کینن پر مبنی طور پر جے وان وان گرے اور جان سچیچول کی طرف سے متاثر ہوئے ہیں، جن کے ذیل میں مرحلے ایک ہی صفحے کی ایک وسیع رینج پر متعدد صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں. کتابوں کے ڈیزائن اور کتابوں کے ساتھ ساتھ دیگر دستاویزات کے بارے میں مزید گہری نظر کے لئے، اس مضمون کے آخر میں مزید وسائل دیکھیں. وقت صحبت از بهترین راه سرمایه گذاری میشود ائلین چیزی که به ذهن میرسد امنیت بستر سرمایگذاری است. به جرات میتوان گفت امنیت شبکه بلاک چین که بیت کوین بر مبنای آن بنا شده به مراتب بالاتر از رمز نگاری برترین سیستم های بانکی جهان است. سیستم بلاک چین همان سیستمی است که برای تعیین موقعیت زیردریایی های حامل خطا اور مارکٹ کی انتہا موشکهای اتمی قارره پیما استفاده میشود. بنابراین امنیت خرید و فروش بیت کوین بسیار بالا و امکان هک شدن آن صفر است. تنها مسئله ای که در خرید و فروش بیتکوین باید رعایت شود امنیت کیف پول بیت کوین و همچنین معتبر بودن فروشنده بیتکوین میباشد.
|
2022/01/21 11:58:08
|
https://canberry.top/category-15/page-569399.html
|
mC4
|
آخری بار اپڈیٹ کیا گیا اگست 11, 2018
حکومت بنانے والی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کو تو جلد از جلد حلف لینے کا انتظار ہوتا ہی ہے، لیکن اس بار اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی جماعتوں کو بھی قومی اسمبلی کے اجلاس کا شدت سے انتظار ہے۔
سابق جکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور 2013ء سے 2018ء تک اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ متحدہ مجلسِ عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر ہم خیال جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف احتجاج کے لیے ہاتھ ملا چکی ہیں۔
تمام اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی جس کا فائدہ تحریکِ انصاف کو پہنچا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور سابق وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو دھاندلی شدہ مینڈیٹ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور پی ٹی آئی اب ان کے بقول چھانگا مانگا کی سیاست کر رہی ہے۔
مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتے ہی دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا جس کے ساتھ ہی تمام فرانزک شواہد اور کیمرہ کی فوٹیجز بھی پیش کی جائیں گی۔
مریم اورنگ زیب نے کہا کہ جب حکومت بن جائے گی تو دھاندلی کے خلاف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کریں گے جس کے ٹرمز آف ریفرینس بعد میں طے کیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد انتخابی دھاندلی کے خلاف ہے اور اس کا مقصد 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کی گئی دھاندلی کو بے نقاب کرنا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مشترکہ اپوزیشن کے اس پلیٹ فارم سے ان کی جماعت اور اس کے اتحادی پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتیں مل کر اسمبلیوں کے اندر اور باہر احتجاجی تحریک چلائیں گی۔
ان کے بقول جہاں ضرورت ہو گی وہاں اتحاد میں شامل جماعتیں مشترکہ حکمتِ عملی بنائیں گی اور ان کی کوشش ہو گی کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے الزام لگایا کہ اس بار دھاندلی بہت منظم انداز میں کی گئی جس کا ایک حصہ الیکشن سے پہلے تھا اور ایک الیکشن والے دن۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت بنانے والی جماعت بھی دھاندلی کا کہہ رہی ہے اور اس کی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور دیگر جماعتیں بھی دھاندلی کا شکوہ کر رہی ہیں۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نئے پاکستان بنانے کے دعویداروں نے عوام کو ایک کروڑ ملازمتیں دینے، 50 لاکھ گھر بنانے اور دیگر بہت سے خواب دکھائے ہیں جنہیں اب پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
حزبِ اختلاف کی جانب سے احتجاج کے اعلان پر پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان فواد احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو اب صبر سے کام لینا چاہیے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اب صرف احتجاج ہی کریں گی۔ ان کے بقول پاکستانی عوام نے ان جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر ہی عمران خان کے نظریے کو ووٹ دیے ہیں۔
قومی اسبلی کا افتتاحی اجلاس 13 اگست بروز پیر طلب کرلیا گیا ہے جس میں نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔ امکان ہے کہ متحدہ اپوزیشن اس موقع پر ایوان میں احتجاج کرے گی۔
چودہ اگست کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جائیں گے جب کہ 15 اگست کو اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔
16 اگست کو قائدِ ایوان کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوں گے۔
متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں نے تینوں عہدوں کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔
حزبِ اختلاف کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ اسپیکر جب کہ متحدہ مجلسِ عمل کے مولانا اسد الرحمان ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار ہوں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے پارٹی سربراہ عمران خان کو وزیرِ اعظم جب کہ سابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کو قومی اسمبلی کا نیا اسپیکر نامزد کیا ہے۔
|
2021/01/17 07:13:40
|
https://www.urduvoa.com/a/opposition-parties-chalk-out-their-strategy-for-na-meeting-11aug2018/4524167.html
|
mC4
|
بل ٹریپ کیا ہے
ناقابل اعتبار بل ٹریپ
ایک بل کا جال گردن میں ایک حقیقی درد کی مانند ہے کیونکہ یہ کافی مالی نقصانات پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ کے شرکاء کو کنگال کر دیتا ہے. بل کے جال اس وقت ہوتے ہیں جب قیمتیں اوپر کی طرف جانا شروع ہوتی ہیں، مگر پھر، کہیں سے بھی، تبدیلی اور گر جاتا ہے. یہ کاؤنٹر قیمت کی چال ایک جال بناتی ہے اور اکثر کافی فروخت میں کمی کا باعث بنتے ہیں. آپ اہم مزاہمت زون میں ان جالوں کا سامنا کر سکتے ہیں.
لہٰذا، چلیں اصل بات کی طرف آتے ہیں، ان جالوں کے وقوع پذیر ہونے کی پیشنگوئی کیسے کی جائے؛ ان کو کیسے پہچانا جائے ان کے پیدا ہونے کے ابتدائی مراحل میں ہی. یہاں پتا چلے گا کہ کیسے. تصور کریں، یہاں ایک اوپر کی طرف جاتا ہوا رجحان ہے؛ پھر آپ نوٹ کرتے ہیں کہ قیمت مزاحمتی سطح کی طرف جاتی ہے اور اس کو توڑ دیتی ہے؛ یہ وہاں رک نہیں جاتا اور جاری رہتا ہے تاکہ مزید اوپر جائے. پھر، کچھ مومبتیاں بعد میں، ریلی سے باہر نکلتا ہے، اور قیمتیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں. وہ مارکیٹ کے شرکاء جنہوں نے لمبی پوزیشنز کھولی تھیں (بلز) جیسا کہ وہ نوٹ کرتے ہیں مزاہمت کی ٹوٹ پھوٹ وہ پریشان ہو جاتے ہیں کیوں کہ ان کے نقصانات کی روک تھام ہٹ ہو رہی ہوتی ہے. لہٰذا، وہ جال میں پھنس گئے. عمومی بل کے جال کا نمونہ بل کی مومبتی ٹوٹتی ہے اور مزاحمتی سطح کے اوپر بند ہو جاتی ہے، مگر اگلے دو بارز بہت بد مزاج ہیں. دوسری مومبتی نمونے میں ایک بد مزاج پن بار کی طرح لگتی ہے.
بیل جال چارٹ انداز کا ایک اور ترجمه ایک بیل جال موم بتی مزاحمت کو توڑتا ہے اور اوپر جاتا ہے، لیکن پھر مزاحمت کی سطح کے نیچے بند کر دیتا ہے ایک مندموم بتی کی تشکیل ہوتی ہے.
بل ٹریپ چارٹ نمونوں کو تلاش کرنا اس کے ساتھ ساتھ اہم مزاحمتی زونز کافی مشکل بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نو آموز ٹریڈرز کے لیے. کبھی کبھار آپ مارکیٹ سے دھوکہ کھا سکتے ہیں. جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ نے بل کا جل تلاش کیا، اس کے نتیجے میں آگے بڑھنے کے لئے ایک حقیقی بریک آؤٹ ہو جائے گا. لہٰذا، ایک مضبوط مزاحمتی سطح تلاش کرنے کے لیے آپ کو منتقل ہونا چاہیے ہفتہ وار اور روز مرہ ٹائم فریمز (کوئی بھی ہائی ٹائم فریمز) اور چارٹس کو دیکھیں. کیا یہاں کوئی انتہا ہے جو کہ ٹریڈنگ چنیل سے نکلتی ہے؟ اگر یہاں کوئی انتہا ہے، یہ آپ کی مزاحمتی سطح ہے (اپنی مزاحمتی سطح کی تصدیق کرنے میں سستی کا مظاہرہ نہ کریں).
ٹریڈنگ حکمت عملی
اب جب آپ نے سیکھ لیا کہ بل جالوں کو کیسے تلاش کرنا ہے، ہم آپ کو تجویز کریں گے کہ بہت سی ٹریڈنگ حکمت عملیاں.
"اہم اجزاء"
کرنسی جوڑیاں - کوئی بھی.
ٹائم فریمز - گھنٹہ وار چارٹس ترجیحی ہیں، مگر آپ روز بھی استعمال کر سکتے ہیں. H4 بھی.
پس منظر - سیکھیں کہ بدمزاج بدلتی ہی مومبتیوں کو متعدد ٹائم فریمز پر کیسے پہچانا جاۓ.
تکنیکی آلات - کی ضرورت نہیں ہے.
"کھیل کے قواعد" 1. جب آپ قیمت کو مزاحمت کی سطح پر دیکھتے ہیں، تو آپ کو انتظار کرنا پچاہیے اور دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے جب یہ اس تک پہنچ جائے؛ 2. قیمت مزاحمت کے زون تک پہنچنے کے بعد، اور بیل جال چارٹ نمونے کا قیام شروع ہو چکا ہو تو آپ فروخت کے رکے ہوئے آرڈر کم سے کم 2 پیپس کو رکھ سکتے ہیں مومبتی کے کم کے نیچے جو کہ مزاہمت کے زون کو طور دیتا ہے؛ 3. پھر، نقصان کی روک تھام کو رکھیں کم سے کم 2 پیپس اس مومبتی کے ہائی سے اوپر؛ 4. منافع لینا پرانے اتار چڑھاؤ کم قیمت کی سطح پر رکھنا چاہیے ہے.
|
2020/02/18 19:57:36
|
https://fbsfx.pk/analytics/tips/%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D9%84-%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D9%BE-85
|
mC4
|
سی ڈی اے نے ا سلام آبادکو سبز ..
اسلام آباد ۔ 10 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست۔2016ء) وفاقی ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے نے یوم آزادی کو بھرپور طریقے سے منانے کے لئے تمام پبلک مقامات کو جھنڈیوں اور بینرز سے سجا دیا گیا ہے، اسی طرح یوم آزادی کے حوالے سے صفائی کے لئے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب میئر اسلام آباد شیخ انصرعزیز نے جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے تمام چیئرمینوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں لوگوں میں جھنڈے تقسیم کریں ۔
یوم آزادی کی تقریب 14اگست کو جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہو گی، یوم آزادی کو بھرپور طریقے سے منانے کے لئے سی ڈی اے دارالحکومت میں مختلف ثقافتی اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کرے گی۔ سی ڈی اے کے ممبر ماحولیات و فنانس ثناء اللہ امان نے بدھ کو "اے پی پی" کو بتایا کہ سی ڈی اے نے جشن آزادی کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔
دارالحکومت میں تمام پبلک مقامات کو سبز ہلالی پرچموں اور بینرز سے سجایا گیا ہے۔
اسی طرح روڈ کے کنارے گھاس کی کٹائی پر بھی کام جاری ہے تا کہ جشن آزادی کے حوالے سے دارالحکومت کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جناح کنونشن سنٹر میں یوم آزادی کی تقریب کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔ یوم آزادی کے حوالے سے سڑک کو سجایا گیا ہے۔ جگہ جگہ پر سبز ہلالی پرچموں سے سجایا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ صفائی کے بھی خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔ممبر ماحولیات نے کہا کہ سی ڈی اے یوم آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے مختلف ثقافتی اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
13 اور14 اگست کو لیک ویو کے مقام پر دو روزہ برڈ شوکا انعقاد کیا جائے گاجبکہ 13 اور14 اگست کو آرٹ اینڈ کرافٹ ویلج میں تصویروں کی نمائش کے علاوہ بچوں کے درمیان موسیقی اور مصوری کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ یوم آزادی کے موقع پر برڈ شو 13اور 14اگست کو لیک ویو پارک پارک، آزادی واک، 13اگست کو 5بجے لیک ویو پارک، شاندار کلچر شو، ملی نغمے، پینٹنگ کے مقابلے اور کرافٹ شو 14اگست کو آرٹ اینڈ کرافٹ ویلیج میں ہونگے۔ دوسری جانب میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز نے اسلام آباد کے تمام چیئرمینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جشن آزادی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے اپنے اپنے حلقوں میں جھنڈے تقسیم کریں۔
|
2017/09/22 11:48:15
|
https://m.urdupoint.com/daily/livenews/2016-08-10/news-700648.html
|
mC4
|
شیشہ یا ہیرا ، ایک انقلابی تحریر جو آپکی زندگی بدل دے گی - urdutvpak
Home سنہری باتیں شیشہ یا ہیرا ، ایک انقلابی تحریر جو آپکی زندگی بدل دے گی
,سنہری باتیں
دوستو آجکل ڈپریشن اور مایوسی کا لفظ بہت زیادہ سننے میں آتا ہے. لوگ بہت جلد ہمت ہار جاتے ہیں جس سے نہ صرف انکی ذاتی زندگی تباہ ہو جاتی ہے بلکہ ان کے اہل خانہ کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے .
آج کی اس پوسٹ کا مقصد نامید لوگوں کی زندگی میں امید کی روشنی پیدا کرنا ہے تا کہ وہ ناصرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا نے کا سبب بنیں.
میں آپکو ایک واقعہ سنانے والا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے.
.واقعہ کچھ یوں ہے کے ایک ملک کا بادشاہ بہت ذہین اور سمجھدار تھا ایک روز بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ دربان نے بتایا کہ ایک بزرگ آپ سے ملنا چاھتے ہیں . بادشاہ
نے کہا کہ ان کو بلا لو
بزرگ جب دربار میں پھنچے تو بادشاہ نے پوچھا کہ کیا معامله ہے آپ کیوں مجھ سے ملنا چاھتے ہیں تو بزرگ نے جواب دیا بادشاہ سلامت میں نے سنا ہے کہ آپ بہت ذہین اور سمجھدار ہیں . میں بہت سے ملکوں میں گیا اور وہاں کے بادشاہوں سے ایک سوال کرتا تھا اور ان سے کہتا کے اگر وہ میرے سوال کا جواب دے دن تو میں ان کو ایک بیش قیمت ہیرا دوں گا اور ناکام ہونے کی صورت میں مجھے انعام و اکرام سے نوازا جائے . سارے بادشاہ میرے سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے اور مجھے بہت سا مل انعام میں ملتا رہا لیکن میں ایسے بادشاہ کی تلاش میں ہوں جو میرے سوال کا جواب دے سکے.
بادشاہ نے جب یہ ماجرا سنا تو کہنے لگا کہ بتاؤ وہ کونسا سوال ہے جسکا جواب کوئی نہیں دے پایا . بزرک نے اپنی جب میں ہاتھ ڈالا اور جیب سے دو ہیرے نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیے اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت میرے ہاتھ پر موجود ایک ہیرا ہے جو بہت بیش قیمت ہے جبکہ دوسرا ایک شیشہ ہے اگر آپ نے اصلی ہیرا پہچان لیا تو یہ ہیرا میں آپکو دے دوں گا لیکن اگر آپ نہ پہچان پائے تو مجھے انعام دینا ہو گا.
بادشاہ صورتحال دیکھ کر پریشان ہو گیا کیونکہ شیشہ اور ہیرا جسامت،شکل و صورت میں بلکل ایک جیسے تھے اور ان میں فرق کرنا ناممکن نظر آتا تھا . نے بادشاہ نے پریشانی سے اپنے درباریوں کی طرف دیکھا تو سبھی وزیر و مشیر نظریں جھکا کر بیٹھے تھے اب بادشاہ کو سوال کا جواب دینا بھی ضروری تھا کیونکہ انعام دینے میں اسے کوئی دقت نہیں تھی بات عزت کی تھی کیونکہ بادشاہ اور اسکی رعایا بہت سمجھدار مشہور تھی . جب تھوڑی دیر گزری تو دربار میں سے ایک نابینا بزرگ بادشاہ کے قریب گئے اور اجازت مانگی کے اگر بادشاہ حکم دے تو وہ اس سوال کا جواب دے سکتے.
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ جب اتنے ذہین مشیر اور وزیر حتی کہ بادشاہ خود بھی ہیرا پہچاننے سے قاصر ہیں تو یہ نابینا بزرک کیسے ہیرے اور شیشے میں فرق کر پائے گا . بزرگ نے کہا کے جواب تو ویسے بھی کوئی نہی دے پائے گا تو مجھے موقع دینے میں کیا حرج ہے لہذا بادشاہ مان گیا..
بزرگ نے بادشاہ سے کہا کہ اس بوڑھے آدمی سے کہیں کہ یہ شیشہ اور ہیرا آپکو پکڑا دے اور آپ ان کو ایک پلیٹ میں رکھ کر باہر دھوپ میں رکھوا دیں اور کچھ دیر بعد اسے منگوا کر چھو کر دیکھیں جو شیشہ ہو گا وہ دھوپ سے گرم ہو جائے گا اور جو ہیرا ہو گا وہ اپنی اسی حالت میں رہے گا.
چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور دونوں کو دھوپ میں رکھوا دیا اور اس تھوڑی دیر بعد واپس منگواکر چھوا تو شیشہ واقعی گرم ہو چکا تھا اور ہیرا اپنی اسی حالت میں تھا بادشاہ نے مہمان بوڑھے کو بتایا کہ ان میں سے ہیرا کون سا ہے تو اس نے بادشاہ اور اسکی سمجھدار رعایا کی تعریف کی کہ جس سوال کا جواب کوئی نہیں دے پایا تھا وہ انہوں نے حل کر لیا.اور وہ ہیرا بادشاہ کو دے دیا
اس واقعہ سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے کہ جو شخص حالات کی سختی اور وقت کی تپش سے پریشان ہو جاتا ہے اور حوصلہ چھوڑ دیتا ہے وہ اس شیشے کی مانند ہے جو دھوپ میں گرم ہو گیا اور اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی جبکہ پریشانیوں کا ٹھنڈے مزاج اور حوصلے سے سامنا کرنے والا بیش قیمت ہیرے جیسا ہوتا ہے کیونکہ اس پر حالات کی گرمی کا اثر نہیں ہوتا.دوستو آپ بھی وقت کی گردش سے کبھی پریشان مت ہونا اوراپنی قدروقیمت ہیرے جیسی رکھنا. پوسٹ اچھی لگے تو دوستوں اور چاہنے والوں سے ضرور شئیر کریں.
|
2020/11/28 23:47:22
|
http://www.urdutvpak.tk/2017/12/blog-post_9.html
|
mC4
|
ستمبر 10: آج معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگاراور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش ہے - Bhatkallys.com
بنیادی صفحہ / مضامین / ستمبر 10: آج معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگاراور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش ہے
ستمبر 10: آج معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگاراور کالم نگار انیس ناگی کا یومِ پیدائش ہے
معروف شاعر، ادیب، نقاد، ناول نگار، کالم نگار انیس ناگی 10ستمبر 1939ء کو شیخوپورہ میں مولوی ابراہیم ناگی کے گھر پیدا ہوئے۔
انکا خاندانی نام یعقوب علی ناگی اور قلمی نام انیس ناگی تھا۔اردو کے معروف افسانہ نگار منٹو پر انکا بے شمار کام ہے اور انکے
ناولوں میں اہم ترین ناول ''زوال'' ہے جس میں ایک ڈھلتی عمر کے بیوروکریٹ کے بتدریج بے رحمانہ ذہنی اور جسمانی انتشار کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انکا دوسرا مقبول ناول ''دیوار کے پیچھے'' ہے جسے اردو میں ناول کی نئی روایت کا آغاز کہا جاتا ہے جس میں انسان کے وجودی کرب کا تخلیقی بیان ہے۔
انیس ناگی کی ایک اور اہم تخلیق''جنس اور وجود '' ہے ۔انیس ناگی نے ان آٹھ مضامین میں عورت کے حوالے سے ایسے موضاعات پر قلم اٹھایا ہے جن سے ہمارا اکثر بلایا بالواسطہ سامنا ہوتا ہے ۔ اور جن سے جوجوہ صرف نظر میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔
انیس ناگی کی یہ تحریریں احساس ہوتا ہے کہ بہت توجہ اور سنجیدگی سے لکھی گئی ہیں اور معیق ، بے حد تجزیاتی او رپر مغز ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے موضوعات پر کھلے اظہار کے یے ایک جرارت رندانہ درکار ہے جو شاید مصلحتا کم کم پائی جاتی ہے۔ ممتاز مفتی سے ضمیر الدین سے ہوتے ہوۓ ڈاکٹر سلیم اختر تک عورت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن محدود انداز میں جزویاتی ٹرلیمنٹ میں بعض کوششیں کامیاب رہی ہیں ۔ منٹو اپنے ویزن کے باعث یکتا ہے۔
انیس ناگی نے پاکستانی عورت کی جنسیات کوسمجھنے کے لیے کسی حد تک کلینکل انداز اختیار کیا ہے لیکن کہنے کی طرح اعدادو شمار کی بھر مار سے گریز کیا ہے۔ اپنے عمیق مطالعے اور زندگی کے معاملات کی گہری بصیرت کی وجہ سے انیس ناگی کے یہ مضامین اپنے میدان میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے وسیلے سے پاکستانی عورت کو سمجھا جاسکتا ہے اس اعتبار سے "جنس اور جود " اردو میں پہلی کتاب ہے جس میں پاکستان کی تمدنی حالت میں پاکستانی عورت کا وجودی مطالعہ کیا گيا ہے۔
بعض ایک این جی اوز حقوق نسواں کی پرسور و زور چمپیئن سمجھی جاتی ہیں لیکن شاید انہوں نے پاکستانی عورت کی مجموعی صورتحال کو گہرے تجزیاتی حوالوں سے سمجھنے سے گریز کیا ے کہ وہ تمام کاروائی مغربی طرز احساس کے تحت سر انجام دیتی ہیں ان کے مغربی ڈزنر ز کو بس اتنا ہی چاہیے ہے۔
انسان اعصابی تاروں میں گندھا ہوا ایک ایسا معجزہ ہے جس کی شخصیت کی تشکیل میں خاصے پیچیدہ عناصر اپنی تمامتر پیچیدگیوں سمیت بھر پور طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ بچپن کے تجربات ، ماحول ، معاشیات ، عمرانیات ، مذہب ، تاریخ اور پھر جینیز ۔۔ ۔ ۔ سب چگر سے بنتی ہے جو اس کے جنسی ، نفسیانی اور سماجی وجود کی تشکیل کرتی ہے۔
پاکستانی عورت دوہرے جبر اور استحصال کا شکار ہے۔۔ ۔اس کے اپنے کنبے ۔۔ ۔باپ بھائی ، خاوند، بیٹا اور دوسرے بیرونی عناصر کا استحصال جس کا مرد خود بھی شکار ہے۔
انیس ناگی پاکستانی عورت کی فارمولیسن میں خاصا کلیت کا شکار دکھائي دیتا ہے کہ اسے منزل مقصود کے حصول کے لیے سر توڑ جدوجہد کے امکانات نظر نہیں آتے۔ بعض جگہ اس کے ساتھ اختلاف کی گنجائش بھی ہے لیکن مجموعی طورپر یہ مضامین سوچ کی ایک نئی راہ کرتے ہیں ۔ مختصر اور کسے ہوۓ یہ مضامین "صاحب حال" لوگوں کے لیے کوزوں میں دریا بند ہیں ۔ صاحبان عمل کے لیے بھی دعوت او رٹیکٹکس کے دورازے وا کرتے ہیں او رصاحبان قلم کے لیے بھی دعوت عام ہیں کہ وہ ان مضامین سے شعر و ادب کے حوالے سے ادارک کی کس سطح پر استفادہ کرتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کتاب سے وابستگی کا ایسا عاشق کم پیدا ہوا ہو گا۔ ناول، شاعری، تنقید اور دستاویزی فلم، غرض کسی گھر بند نہیں۔ ترجمے پر اترے تو اردو دنیا کو سینٹ جان پرس، کامیو اور پابلو نرودا سے متعارف کرایا۔ اس پر بھی بیان مزید وسعت کا تقاضا کرے تو اپنا رسالہ نکال لیتے ہیں۔ چوٹ کرنے سے گھبراتے ہیں نہ چوٹ کھا کر بد مزہ ہوتے ہیں۔
سول سروس پر غالب گروپ سے اُن کے تعلقات عموماً اچھے نہیں رہتے تھے، مگر وہ جیسے تیسے نوکری کرتے رہے کہ غالباً اس کے علاوہ اُن کے پاس مادی حوالے سے کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔ محکمہ تعلیم میں وہ بحیثیت ڈپٹی سیکریٹری کافی مؤثر حیثیت کے مالک تھے ۔یہ حیثیت محکمۂ تعلیم سے وابستہ شاعروں ادیبوں (جو کہ زیادہ تر پروفیسر اور لیکچرر ہیں) کے لیے کافی تحریک آمیزتھی۔ انیس ناگی چوں کہ پرُ یقین تھے کہ وہ روزِ حشر ادیبوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے، لہٰذا اُنھوں نے اپنے دفتر میں آنے والے سبھی ادیبوں شاعروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ دَور حاضر کے کچھ جغادری ادیب اُس زمانے میں اُن کے دفتر میں بیٹھ کر اُن کی زیر طبع کتابوں کی '' پروف ریڈنگ'' کو کارِ ثواب سمجھتے تھے، مگر جب انیس ناگی اپنے مخصوص مزاج کی سزاکے طور پر اس پوسٹ سے ہٹا دیئے گئے ،تو وہی جغادری ادیب اُن سے کنی کترا کر گزر جاتے۔ پاک ٹی ہائوس گھر سے نزدیک ہونے کے باعث انیس ناگی کا مرغوب ٹھکانہ تھا ۔ایک روز، بعد دوپہر میَں نے اُنھیں غیر معمولی طور پر وہاں بے چین بیٹھے دیکھا۔ اُنھوں نے اپنے بال اورقلمیں بڑھائی ہوئی تھیں اور لباس پر بھی اُن کی توجہ زیادہ نہ تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسے ادیب کے انتظار میں بیٹھے ہیں، جو اُن سے ٹائم لے کر ملنے کو بے تاب رہا کرتا تھا۔ میَں نے اپنا حلیہ اس لیے تبدیل کیا ہے کہ میرا وجود میرے لیے اور اُس کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کردے کہ اب مجھے اس کے ساتھ تحقیقی کام ہے۔ وہ اپنے اور دوسروں کے بارے میں حد درجہ حساس تھے۔ دوسروں کے کام آنے میں طمانیت محسوس کرتے تھے ۔ضیادَور میں اُنھیں سرعام انسانی حقوق کی بات کرنے کی سزا کے طور پرڈھونڈ ڈھونڈ کر ''کھڈے لائن'' پوسٹوں پر لگایا گیا۔ انیس ناگی نے اپنے رسالے '' دانش وَر'' کو ون مین شو بنایا ہوا تھا ۔مضامین بھی خود لکھتے، ٹائپ بھی خود کرتے ، اشاعت کے اخراجات بھی خود برداشت کرتے، مگر اس خوبصورت جریدے میں چوں کہ وہ فرضی ناموں کے ساتھ نہایت بے لاگ تبصرے کیا کرتے تھے ،اس لیے توصیف پسند بڑے ادیبوں نے اس جریدے کا عملاً بائیکاٹ کررکھا تھا ،مگر وہ غیر ملکی بڑے ادیبوں کے خصوصی نمبر نکال کر اس بائیکاٹ کو ناکام بناتے اور ایڈیٹر کی کرسی کو مضبوط کرتے رہتے تھے۔ مقامی ادیبوں میں بھی جو اُنھیں پسند تھے، اُن کے خصوصی نمبر اپنی مثال آپ تھے۔ اُن میں منیر ؔنیازی ، ن- م راشدؔ اور صفدر میر شامل تھے
انیس ناگی نے تنقید میں بھی کام کیا اورنظمیں بھی لکھیں ان کے ہاں مکروہ ، ممنوع اور نامانوس الفاظ بکثرت نظر آتے ہیں ۔ ان کی نظم میں انتشار، بے سمتی ، اور ابہام سے پر تصورات موجود ہیں۔ انیس کی نظم کا کافرد بے سمتی کا شکار ہے۔اس طرح لسانی تشکیلات سے وابستہ دوسرے شعراءمیں سلیم الرحمن ، زاہد ڈار وغیرہ شامل ہیں۔
ہ جو کرسی پر بیٹھا تھا اب قبر میں لیٹا ہے وہ جو بے خوابی کے عالم میں رہتا تھا خود اک ایسا خواب بنا ہے جس کو شاید کوئی دیکھے! یہ انیس ناگی کی آخری نظم ہے، جو بعداز وفات اُن کی ڈائری میں سے دستیاب ہوئی
لگھ بھگ 50 کتابوں کے مصنف ،معروف شاعر،نقاد ، محقق اور ناول نگارانیس ناگی سات اکتوبر2010ء بروز جمعرات لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری میں دوپہر کے وقت کتابوں کے مطالعے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
|
2018/06/18 03:06:21
|
http://www.bhatkallys.com/ur/articles/abul-hasan-ali-bhatkali-article-on-anees-nagi/
|
mC4
|
شوہرے آگداشلو 2020/10/19 ویڈیو سبق
شعیب اپنے ترنگ میں آ چکا تھا اس نے تیسرا شعر سنانا شروع کیا. ہائپر انفلیشن: قیمت کی سطح میں اضافہ. اس طرح کی وابستہ مارکیٹنگ کو آپ سے زیادہ کام کی ضرورت نہیں ہوگی ، آپ کو ایمیزون ملحق پروگراموں کی طرح ملحق مارکیٹنگ بلاگ بھی ترتیب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پی پی سی مارکیٹنگ کی طرح ہے (ادائیگی کے مطابق کلیکشن) جہاں آپ صرف سائٹس پر وابستہ اشتہارات دکھاتے ہیں جو اس طرح کی مارکیٹنگ کی اجازت دیتے ہیں اور پھر ویب صارفین کے ذریعے eToro فیس اور کمیشن ہر کلک کے لئے ایک کمیشن حاصل کرتے ہیں۔
اخراجات اگر کسی کلائنٹ کی آمدنی ہوتی ہے تو ، ہم پروگرام کی فیسوں کی ادائیگی کی درخواست کرتے ہیں ، عام طور پر income / income / مہینہ کی ٹوپی کے ساتھ آمدنی eToro فیس اور کمیشن کا٪ 30٪۔ مارکیٹ کا درد ایک اعلی پیمائش کی عدم استحکام میں ظاہر ہوتا ہے. ایک ربڑ بینڈ کے طور پر قیمت پر سوچو. اگر یہ ایک سمت میں ایک طویل راستہ چلتا ہے اور آخر میں جاری کیا جاتا ہے، تو رجحان کی سمت میں آگے بڑھنے سے پہلے یہ ابتدائی نقطہ نظر کی طرف متوجہ کرے گا. مارکیٹ میں براہ راست لائن میں اضافہ یا معاہدے سے قطع نظر ہے؛ بلکہ، یہ عام طور پر ایک رجحان کے ساتھ چپکنے والی، یا تو زیادہ یا کم ہے، پیچھے پیچھے اور آگے بڑھ جاتا ہے.
Exness پر فاریکس ٹریڈنگ آلات کی اقسام ،eToro فیس اور کمیشن
میں نے غیر واضح eToro فیس اور کمیشن ممکنہ بیجوں میں سے کچھ درج کیے ہیں۔
کار ما ؛ کارخانه تولید و فروش نایلون و نایلکس هست. ورڈپریس ٹو لیڈ فار سیلزفورس سی آر ایم پلگ ان کی مدد سے آپ اپنے ورڈپریس سائٹ کے ذریعہ لیڈز اکٹھا کرسکتے ہیں اور انہیں براہ راست اپنے سیلزفورٹ اکاؤنٹ میں کھلا سکتے ہیں۔ پہلے ، صارفین کو ایک پروگرام سے دوسرے پروگرام میں معلومات کی کاپی کرنے اور eToro فیس اور کمیشن چسپاں کرنے کے مشکل کام کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ یہاں بنیادی خرابی یہ ہے کہ آپ کو CRM کے لئے دو اوزار استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ورڈپریس میں براہ راست کسٹمر کی معلومات کو محفوظ کرنا اور ان کا نظم کرنا مثالی ہوگا ، لیکن اس دوران میں یہ ایک عمدہ پہلا قدم ہے۔ لہذا اگر آپ کی اکثریت کی اصطلاحات تبدیل نہیں ہو رہی ہیں تو ، آپ غلط الفاظ پر بولی لگارہے ہیں۔
اپنے کاروبار کو شروع کرتے وقت گھر کو فلپنگ بزنس پلان بنانا پہلا قدم ہے۔ یہ آپ کے سارے نظریات اور اہداف کو کاغذ پر ڈالتا ہے اور آپ کو بتدریج بتاتا ہے کہ ان کو حاصل کرنے اور منافع کمانا شروع کرنے کے طریقوں پر ہے۔ شروع کرنے کے لئے ہمارے مفت کاروباری منصوبے کے سانچے کو ڈاؤن لوڈ کریں۔ لیکن اس کی خوشبو یا اس کے ذائقہ جیسی تمام خصوصیات سے لطف اندوز ہونے کے ل. ، یہ جاننا ضروری ہے کھلی اور بند ، شراب کی خصوصیات کو کھونے کے بغیر ، کس طرح محفوظ رکھنا ہے . اسے جلدی خراب کیے بغیر گھر پر رکھنے کے ل to آپ کو کچھ غور و فکر کرنا چاہ take اور جب بھی آپ چاہیں اس سے لطف اٹھائیں ، چاہے یہ کھلی بوتل ہو یا پھر بھی بند ہے۔ نوٹ کریں کہ یہ eToro فیس اور کمیشن آپ کی دلچسپی رکھتا ہے! آزمائشی معاشرتی ٹریڈنگ کے بہترین سسٹم.
|
2022/06/29 10:28:10
|
https://prokino.top/category-17/page-314122.html
|
mC4
|
اور آئینہ ٹوٹ گیا ( قسط ۱) سماویہ وحید - Daleel.Pk
شام کی اداس ہوائیں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی. عائشہ لاؤن میں بیٹھی.....ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے.....ھچائے کی چسکی لے رہی تھی. یکایک کسی نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا.....عائشہ نے مڑ کر دیکھا تو جمیل کا مسکراتا چہرہ اس کی آنکھوں میں جذب ہوگیا. عائشہ خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے جمیل کے گلے لگ گئی اور کہنے لگی جمیل میں نے آپ کا بہت انتظار کیا. مجھے یقین تھا آپ واپس ضرور آئیں گئے.
عائشہ جمیل کو دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو رہی تھی. جمیل آئیے بیٹھیں میں آپ کے لیے بھی چائے کا کپ لے کر آتی ہوں. (عائشہ نمی میں ڈوبی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے بولی)دور سے آتی نورِ سحر ماں کی عجیب و غریب حرکات دیکھ کر حیران ہوگئی. عائشہ جو اپنے آپ سے باتیں کرنے میں مشغول تھی نورِ سحر کی موجودگی کا احساس تک نہ کر سکی.امّی جان کیا ہوگیا ہے آپ کو؟؟ آپ کس سے باتیں کر رہی ہیں. آئیے اِدھر بیٹھ جائیے. (نورِ سحر پریشان ہوتے ہوئے بولی)کیا ہوا نور؟ تمھیں نظر نہیں آرہا تمھارے بابا آئیں ہیں. تم بھی ان سے ملو اور ہاں جا کر اپنے بابا کے لیے بھی چائے کا کپ لے کر آؤ. ( عائشہ نے نور کو تاکید کرتے ہوئے کہا)
لیکن امّی جان بابا تو اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں. آپ کو کیا ہوگیا ہے. آئیں اندر چلتے ہیں. آپ کو آرام کی ضرورت ہے. (نورِ سحر نے ماں کے نفسیاتی پن کو سمجھ لیا تھا) ہٹو یہاں سے پاگل تمھیں نظر نہیں آرہا. تمھارے بابا یہاں موجود ہیں اور تم الٹی سیدھی باتیں کر رہی ہو. وہ دیکھو میرے شیر جیسے جگر بھی آگئے ہیں. (عائشہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی)
امّی جان خدا کے لیے کیا ہوگیا ہے آپ کو. چلیں اندر چلتے ہیں. ردا اور صائم آچکیں ہیں. میں اپکو دوائی دے دوں.( نورِسحر روتے ہوئے ماں کو لپٹ گئی. ماں کی حالت اس سے دیکھی نہیں جارہی تھی)ماں کو کمرے میں بیٹھا کر, دوائی دے کر نورِ سحر کچن میں مصروف ہوگئی. عائشہ اپنا دماغی توازن آہستہ آہستہ کھوتی جا رہی تھی. تھوڑی تھوڑی دیر بعد ماں کی عجیب و غریب آواز سب بچوں کو چونکا دیتی تھی.
نورِ سحر نے حال ہی میں اسلامیات میں ماسڑ کیا تھا. باپ اور دو بھائیوں کا سایہ ایک ساتھ سر سے اٹھ جانا گویا دنیا کا اجڑ جانا تھا. والد کی وفات کے بعد گورنمنٹ پینشن کا آدھا حصہ دیتی تھی. لیکن اس مہنگائی کے دور میں اخراجات بہت ذیادہ تھے اور پیشن ناقابلِ قبول. نور سحر کے والد صاحب آرمی میں کپتان کا فریضہ انجام دیتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرگئے. جب کہ نور کے بھائی مجاہد کی حیثیت سے بھارت کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے. ماہ میں تین لاشیں ایک ساتھ جب جگر کو چیر دیتی ہے تو ماں کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے. یہی حال عائشہ کا بھی ہوا جو اپنے پیاروں کی ایک ساتھ خون میں لپٹی لاشیں دیکھ کر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی. نورِ سحرکے والد محمد اکرم نے اپنی جاب کے دوارن ہی اپنے ایک شاگرد سے اس کا رشتہ طے کردیا تھا. یوں گھر میں رشتے ناطے کی کوئی پریشانی نہیں تھی. لیکن اپنے باپ اور بھائیوں کی وفات کے بعد گھر کی ساری زمہ داریاں نورِ سحر کے سپرد ہوچکی تھی. ردا اور صائم کا خیال رکھنا اور ساتھ ہی ساتھ ایک معذور ماں کی دیکھ بھال کرنا اس کا نصب العین بن چکا تھا.
یاشہ بیٹی جلدی جلدی صفائی کرو. میرا بیٹا آنے ہی والا ہے. اور ہاں اُس کا کمرہ بھی ایک مرتبہ دیکھ لینا کوئی گند نہ ہو. میرا بیٹا بہت صفائی پسند ہے. میں نہیں چاہتی کہ وہ آتے کہ ساتھ ہی بیزار ہو. (حلیمہ اپنی کام والی لڑکی کو ایک لمبی نصیحت کرتے ہوئے کچن میں مصروف ہوگئی).جی خالہ جی میں نے سب صاف کردیا ہے. آپ بے فکر رہیں. (یاشہ, حلیمہ سے کہتی ہوئی چھت پر چلی گئ)
حلیمہ باورچی خانے میں مصروف طرح طرح کے خیالی پلاؤ بھی بنائے جارہی تھی......طرح طرح کے لذیذ لوازمات واقعی کسی خاص مہمان کے لیے بناۓ جارہے تھے اور وہ خاص مہمان کیسے نہ ہوتا......جو تین ماہ بعد گھر تشریف لارہا تھا. وہ جگر آج ماں کے لیے ایک ہیرے سے بھی بڑھ کر تھا. حلیمہ اپنے اکلوتے بیٹے حسن کا پُر جوشی سے استقبال کرنا چاہتی تھی. لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی چاند جیسی بیٹی کو بھی بہت یاد کر رہی تھی.
مناہل اپنے گھر کی ہوجانے کے بعد شوہر کی اطاعت کے لیے ایک جنتی بیوی ہونے کا کردار ادا کر رہی تھی. چونکہ مناہل کا شوہر کسی کامکے سلسلے سے سوات گیا ہوا تھا تو آج وہ اپنے اکلوتے بھائی سے ملنے نہیں آسکتی تھی. اس لیے حلیمہ اکیلے ہی سب کام سر انجام دے رہی تھی. حلیمہ کے شوہر اپنے بیٹے کو لینے ہوائی اڈے پر گئے ہوئے تھے. اس لیے حلیمہ پھرتی سے کام کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ کئی سوچیں اس کے ارد گرد منڈلا رہی تھی. یکایک دروازے پر ڈور بیل نے حلیمہ کو خیالی پلاؤ سے نکال کر اپنی طرف متوجہ کردیا.
حلیمہ دوڑی دوڑی,دوپٹہ سنبھالتے ہوئے, دروازے کی طرف لپکی. اتنی خوشی تھی کہ دروازے پر بغیر پوچھے کون ہے......ایک دم دروازہ کھول کر کھڑی ہوگئی. حیرانگی کے عالم میں حلیمہ سامنے کھڑے شخص کا منہ تکنے لگی...... (جاری ہے)
|
2020/10/25 10:50:09
|
https://daleel.pk/2020/09/26/147771
|
mC4
|
اینڈرائیڈ صارفین کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی – پاک نیوز
ایڈمن مارچ 2, 2021 March 21, 2021 0 تبصرے
گوگل نے اینڈرائیڈ فون کے صارفین کیلئے بہترین سہولت متعارف کرا دی، اب میسجز شیڈول کرنا ممکن ہوگیا۔
'گوگل میسجز' نے اپنے پلیٹ فارم میں ایس ایم ایس کو شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرا دیا، اینڈرائیڈ فون صارفین اس ایپ کے ذریعے اب کسی بھی وقت کا دورانیہ مقرر کرکے ٹیکسٹ میسجز بھیج سکیں گے۔
بہت سے صارفین اپنے عزیز واقارب کو بروقت سالگرہ کی مبارک باد یا کسی اور غرض سے اطلاع دنیا بھول جاتے ہیں اب ان کے لیے اس پریشانی کا حل نکل آیا، اینڈرائیڈ فون کے صارفین گوگل میسجز سے اب ایس ایم ایس کو شیڈول کرکے اپنی مرضی کے وقت اور تاریخ کو میسجز بھیج سکتے ہیں۔
گوگل انتظامیہ کافی عرصے سے اس سہولت کو اینڈرائیڈ فون میں متعارف کرانے کے لیے کوشاں تھی اور اس کی آزمائش گزشتہ سال سے جاری رہی۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے گوگل میسجز ایپ کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔
اگر آپ کے فون میں یہ ایپ نہیں تو فوراً ڈاؤن لوڈ کرکے بہترین فیچر سے فائدہ اٹھائیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گوگل میسجز فون کے ڈیفالٹ ٹیکسٹ میسج ایپ پر کام نہیں کرے گا۔ نئے فیچر میں میسج پریویو اور لکھے گئے پیغام کو بدلنے سمیت ڈیلیٹ کا آپشن بھی موجود ہے، گوگل میسجز میں صرف ٹیکسٹ ہی نہیں بلکہ تصاویر اور ویڈیوز کو بھی شیڈول کیا جاسکتا ہے۔
|
2022/05/25 09:26:26
|
https://paknewz.com/2021/03/02/4030
|
mC4
|
راہنورد زریاب 2017/09/15 کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم
آپ استعمال کرسکتے ہیں سب سے اوپر 8 عمدہ متن متبادل. NADEX کو بائنری اختیارات کے تبادلے کے لئے مقبول طور پر جانا جاتا ہے جو سی ایف ٹی ٹی کے ذریعہ باقاعدہ ہے. یہ مستقبل کی مارکیٹوں کے لئے دنیا کا پہلا آن لائن ریگولیٹری تبادلہ ہے. نڈیکس 2 ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے. نڈیکس ٹریڈنگ پلیٹ فارم ایک ویب پر مبنی پلیٹ فارم ہے اور کسی بھی براؤزر کے ساتھ رسائی حاصل ٹرسٹ سکور تجارت کی جا سکتی ہے جبکہ موبائل تاجر کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی حاصل ہے. چھتوں ، گٹروں اور ڈاون اسپاؤٹس کا معائنہ کریں.
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ۰ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ۱۷ (یونس۱۰:۱۷) پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا، جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے، یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ اٹلانٹا کی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے والے کے طور پر جانا جاتا ہے ، 44 سالہ ڈے تاجر مارک بارٹن 29 جولائی ٹرسٹ سکور تجارت 1999 کو اٹلانٹا میں قائم دو تجارتی فرموں: آل ٹیک انویسٹمنٹ گروپ اور مومنٹم سیکیورٹیز کے قتل پر آمادہ ہوا۔ درجہ بندی کے بارے میں ، وہ لوگ جنہوں نے سب سے زیادہ منافع بخش جیت حاصل کی۔ اس کے ل every ، ہر 15 منٹ میں واپسی کی تازہ کاری ہوگی۔ ایک اور اہم قاعدہ جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ انعام کے اہل ہونے کے لئے کم از کم پانچ تحریکیں چلانی چاہئیں۔
جب قیمت تیزی سے بڑھتی ہوئی تکنیکی حالت میں بڑھ رہی ہو تو باہر نکلیں۔ اس حد درجہ وسیع ریاست کی عموما the 60 منٹ کے چارٹ پر عمودی سلاخوں کی ایک سیریز سے پہچانا جاتا ہے۔ باری باری ، قیمت ٹرسٹ سکور تجارت اوپر یا نیچے 20 دن بولنگر بینڈ کے تیسرے یا چوتھے معیاری انحراف کو چھید سکتی ہے۔
کم اسپریڈز ،بولی کی قیمت
ایک بار کولنگ آف پیریڈ فنکشن فعال ہوجانے کے بعد ، آپ ایپ یا ڈیسک ٹاپ کے ذریعہ فیوچر سے متعلقہ تمام مصنوعات جیسے USDⓈ-M اور COIN-M فیوچرز ، گرڈ ٹریڈنگ ، آپشنز ، اور فیوچر بیٹل کی تجارت نہیں کرسکیں گے۔ نیٹ ڈینیا فاریکس اینڈ اسٹاکس. ملک بھر میں کورونا پھیلنے کی شرح میں کمی، این سی او سی کا اظہار اطمینان اسلام آباد: (دنیا نیوز) انسداد کورونا کے قومی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک بھر میں عالمی وبا کی صورتحال میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یہ ٹرسٹ سکور تجارت ابھی نئے ڈرامے کی سوچ میں ہے ۔ اس تصویر میں پاکستان کا نظام دکھ رہا ہے. ہر جگہ فوج عوامی اداروں میں parallel بیٹھی ہے.
|
2021/09/26 18:20:03
|
https://xong.top/category-16/page-412345.html
|
mC4
|
کانگریس کی طرف سے امیتابھ بچن کی توہین
بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن اگر اپنی فلموں کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے خبروں میں رہتے ہیں تو وہ ہے سیاست۔ یہ بات اور ہے کہ امیتابھ کو سیاست کبھی راس نہیں آئی۔ بدھ کی شام امیتابھ نے ریاست کی اتحادی حکمران جماعت کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دعوت نامے پر ممبئی میں باندرہ ورلی پل کے چار لِین کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیا کی کہ ممبئی سے لے کر دلی تک کے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی۔
بچن اور گاندھی اِن دو خاندانوں کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی سرد جنگ سے سبھی واقف ہیں۔ لیکن بالی وڈ کے اِس بڑے فن کار کو کانگریس پارٹی کی تقریب میں مدعو کرنے کے بعد یہ سوال کرنا کہ امیتابھ کو کس نے بلایا تھا، یہ سوال کچھ بے معنی سا لگتا ہے۔
خیال رہے کہ اخباروں میں شائع ہونے والے اشتہاروں میں بھی امیتابھ کا نام مہمانِ خصوصی کے طور چھاپا گیا تھا۔ اس کے باوجود ریاست کے وزیر اعلی اشوک چوان نے یہ بیان دیا کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ امیتابھ کو بھی پل کے افتتاح کے لیے بلایا گیا تھا۔
چند ماہ قبل ہی گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے امیتابھ کو گجرات میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ریاستی سفیر مقرر کیا تھا۔ اور بقول کانگریس اُسے ذاتی طور پر امیتابھ سے کوئی شکایت نہیں ہے پر امیتابھ کی مودی کے گجرات سے وابستگی سے پارٹی کو تکلیف ہے، اور اسی لیے بدھ کے روز سی لنک کی تقریب میں امیتابھ کی شمولیت پر کانگریسی لیڈروں کو ناراضی ہے۔
اِس پورے تنازعے پر برہم امیتابھ نے اپنے بلاگ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا ہے 'مجھے حکومت کے ایک وزیر نے مدعو کیا تھا اور اِسی لیے میں وہاں موجود تھا۔' امیتابھ نے مزید لکھا ہے کہ 'میں گجرات کے لیے ایسا کیا کروں گا جس سے حکومت کی سیاست پر بُرا اثر پڑے گا۔ میں سوم ناتھ مندر کے بارے میں بات کروں گا، گاندھی گرام، کَچھ کی سفید ریت، ہرپپا کی پرانی تہذیب، گِر میں شیروں کی گھٹتی تعداد کے تعلق سے بول کر زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو اِس شان دار سرزمین کی طرف راغب کرنے کی کوشش کروں گا۔ اِس میں موجودہ حکومت کی تعریف میں قصیدے پڑھنے کا سوال کہا سے آتا ہے؟'
واضح رہے کہ خود امیتابھ نے بھلے ہی سالوں پہلے سیاست سے سنیاس لے لیا ہو پر اُن کی اہلیہ جیا بچن آج بھی سماج وادی پارٹی کی پارلیمانی رکن ہیں۔ بوفورس تنازعے کے بعد سے کانگریس اور بچن خاندان کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ انہیں کم کرنا ایک معجزے سے کم نہیں ہو گا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق کانگریس پارٹی سے دوری نے سماج وادی پارٹی کے سابق رہنما امر سنگھ اور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کو امیتابھ کا دوست کیا بنایا، مانو کانگریس پارٹی امیتابھ کو ذہنی اذیت دینے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔
|
2018/12/11 23:27:16
|
https://www.urduvoa.com/a/congress-amitabh-bachchan-insult-25mar10-89135527/1140080.html
|
mC4
|
کمیونٹی ویلفیئر اتاشی عبدالشکور شیخ کی چار سالہ خدمات قابلِ تحسین ہیں: انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم – Gulf Urdu
کمیونٹی ویلفیئر اتاشی عبدالشکور شیخ کی چار سالہ خدمات قابلِ تحسین ہیں: انڈس …
ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سفارت خانہ پاکستان کے ویلفئیر اتاشی عبدالشکور شیخ کی سفارتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا.
سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی تقریب میں انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم کے ایگزیکٹو ممبران کی جانب سے سفارت خانہ پاکستان کے ویلفئیر اتاشی عبدالشکور شیخ کی ویلفئیر سیکشن میں چار سالہ خدمات کو سراہا گیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی فرض شناسی سے ویلفئیر سیکشن میں نئی جہت بخشی اور ہزاروں پاکستانی ورکرز کو درپیش مسائل کو حل کروانے میں اپنا کردار ادا کیا.
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے اس سپوت نے محبتوں اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے ساتھ دیارِ غیر میں اپنا آپ منوایا ہے پاکستانی کیمونٹی کی تمام تقریبات میں انہوں نے اپنی شرکت کو یقینی بنایا اور لوگوں کے درمیان باہمی روابط کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بنے.
سندھی کیمونٹی ان کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ ظرفی کے ذریعے سندھ کا نام روشن کیا اور پاکستان کا نام روشن کیا.
انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم کے صدر ڈاکٹر مصطفیٰ میمن نے کہا کہ عبدالشکور شیخ نے جہاں کیمونٹی مسائل کو حل کیا وہیں پر پاکستانی ثقافتی رنگوں کو اجاگر کرنے کے لئے بھی بھرپور کردار نبھایا اور سندھی کلچر کو سندھی کیمونٹی کے ہمراہ بھرپور انداز کے ساتھ اجاگر کیا ہم ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے.
ڈاکٹر مصطفیٰ میمن نے مزید کہا کہ انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم ناصرف سعودی عرب بلکہ اندرون سندھ کئی ایک فلاحی کاموں میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے فورم کے ذریعے جہاں بیرون ممالک مقیم افراد کو ہنر مند بنایا جا رہا ہے وہیں پر سندھ کے تعلیمی اداروں میں بھی انڈس کلچرل اینڈ سوشل فورم اپنی تکنیکی اور مالی سپورٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس میں بھی عبدالشکور شیخ نے جس طرح ہماری رہنمائی فرمائی ہے اسکو ہم مدتوں یاد رکھیں گے.
اس موقع پر عبدالشکور شیخ نے کہا کہ وہ یہاں سے بہت سا پیار اور محبت سمیٹ کر وطن واپس جا رہے ہیں اس دوران انکی ہمیشہ کوشش رہی کہ اپنی ذمے داری کو بہتر انداز کے ساتھ نبھا سکوں اور دیار غیر میں ورکرز کو درپیش مسائل کا حل کرنے میں کردار ادا کرسکوں کورونا وائرس کے دوران جس طرح کمیونٹی نے سفارت خانہ پاکستان کے ساتھ ملکر کام کیا اور مشکلات پر قابو پایا ہمیں ایسی یگانگت کو ہمیشہ قائم رکھنا ہے.
تقریب سے سفارت خانہ پاکستان کے منسٹر ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ اظہر داہر سمیت قاضی ذیشان میمن، عبدالقادر ملاح، انیس ملک، ڈاکٹر سعید منگی, حفیظ شیخ نے بھی اظہار خیال کیا.
|
2020/11/27 02:49:29
|
https://riz7.com/archives/32247
|
mC4
|
دو خواتین کا کام:ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبہ بند کر کے پھینک دی. - اردو بلیٹن
UrduBulletin فروری 25, 2022 February 25, 2022 0 تبصرے 35 مناظر
دو خواتین کا کام:ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبہ بند کر کے پھینک دی.ہمارا معاشرہ معلوم نہیں کس رخ پر چل نکلا ہے۔آئے روز گھریلو ملازموں پر تشدد، ظلم اور زیادتی کے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں اور صرف اس لئے کہ وہ غریب ہیں اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے ان کی نوک جھوک،ظلم اور زیادتی برداشت کر رہے ہیں۔
حال ہی میں لاہور میں پیش آنے والے واقعہ نے ایک بار پھر گھریلو ملازمین پر نظر ثانی کرنے کی طرف توجہ دلوائی ہے۔لاہور کے علاقے کاہنہ میں دو خواتین نے اپنی گھریلو ملازمہ کو قتل کر کے لاش ڈبے میں بند کر باہر پھینک دی ہے۔
پولیس کو اطلاع ملی کہ کچھ نامعلوم افراد گتے کا ایک ڈبہ چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ جس پر پولیس حرکت میں آئی اور اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئی۔ڈبہ کو قبضہ میں لے کر کھولا تو معلوم ہوا کہ ڈبہ کے اندر لاش ہے۔ لاش کی شناخت یاسمین کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام دو خواتین کا ہے۔شاید ان کا بھید بھید ہی رہتا لیکن علاقہ بھر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں سب کچھ واضح دیکھا جاسکتا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پورے واقعہ کا بھیدپوری طرح کھل چکا ہے اور قاتل خواتین کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قتل ہونے والی یاسمین دراصل بشری بی بی کے گھر ملازمہ تھی۔
عام طور پر یہ موت گلا دبانے سے لگتی ہے لیکن مقتولہ کے پیٹ میں چھری لگنے کا زخم بھی موجود ہے۔ تاہم لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد تمام صورتحال واضح ہو جائے گی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی بشری بی بی اور اس کی بیٹی ارم تاحال فرار ہیں جبکہ پولیس نے ان کے عزیز و اقارب کو حراست میں لے کر کاروائی شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر ان خواتین کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔
|
2022/05/19 09:50:08
|
https://urdubulletin.com.pk/maid-got-murdered/pakistan/
|
mC4
|
نوبیل انعام برائے ادب کی ''بے ادبی'' پر کڑھ رہا تھا کہ سمندر پار آباد ایک پاکستانی دوست نے پوچھا ''آپ اسٹیفن کنگ کب بن رہے ہیں؟''بس کیا بتائوں، کیسے دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔ دفعتاً انشاءللہ خان کا شعر یاد آیا ؎
بیرونِ ملک مقیم دوست دراصل اس مشہور زمانہ امریکی لکھاری کا حوالہ دے رہے تھے جنہیں ان کے پہلے ناول نے ہی کروڑ پتی بنا دیا۔
اسٹیفن کنگ جو کبھی ''کنگلا'' ہوا کرتا تھا، اسے پہلے ناول سے دو لاکھ ڈالر ملے اور اس کی زندگی سنور گئی۔
آج اسٹیفن کنگ کی دولت کا تخمینہ 400ملین ڈالر لگایا جاتا ہے۔ اسٹیفن کنگ بچپن میں دو بجے تک اسکول میں پڑھنے کے بعد تین بجے سے رات گیارہ تک فیکٹری میں مزدوری کیا کرتا تھا۔
ایک زمانے میں بارہ گھنٹے لانڈری پر کپڑے دھویا کرتا تھا، اس نے پیٹرول پمپ پر ملازمت کی اور پچیس سینٹ فی بوری کے حساب سے آلو کے کھیت میں کام کیا مگر آج اس کی ایک کتاب پر اسے ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقم ایڈوانس ملتی ہے اور اس کی کتابوں کی 400ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
اسٹیفن کنگ کی کہانیوں پر بیشمار فلمیں بنیں جن میں سے سب سے مشہور فلم شا شنک ری ڈیمپپشن ہے جس میں مورگن فری مین نے مرکزی کردار ادا کیا۔
اسٹیفن کنگ 21ستمبر 1947ء کو پورٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ وہ بہت چھوٹا تھا کہ اس کے والدین میں علیحدگی ہو گئی۔
اسٹیفن نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بطور ٹیچر کیریئر کا آغاز کیا، جلد ہی اس نے Tabitha Spruceسے شادی کرلی، اخراجات بڑھ رہے تھے، تنخواہ بہت کم تھی اس لئے لانڈری میں پارٹ ٹائم کام کرنا شروع کر دیا۔
ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے اسٹیفن بتاتا ہے کہ اس کے دو بچے تھے اور وہ اور اس کی بیوی دونوں کالج سے نئے نئے نکلے تھے۔ اس کی بیوی ٹیبی ایک ریسٹورنٹ پر جاب کرتی تھی جہاں شام کی شفٹ میں وہ بھی کام کرنے جاتا تھا۔
اس زمانے میں وہ بالغوں کے رسالوں کے لئے کہانیاں لکھ کر اپنے قلم سے تھوڑا بہت کمانے لگا تھا۔
اسٹیفن کی ماں کچھ کچھ بیمار رہنے لگی تھی۔ ایک روز جب وہ اپنے بچوں کو لے کر ماں سے ملنے گیا تو اس کی ننھی بیٹی کا جسم بخار سے تپ رہا تھا۔
اسے اور اس کی بیوی کو علم تھا کہ اسے اینٹی بایوٹک کی ضرورت ہے مگر ان کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ وہ واپس گھر پہنچے تو ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والا ایک لفافہ ان کا منتظر تھا۔
وہ بے ساختہ دعا کرنے لگا کہ یہ گیس یا بجلی وغیرہ کا بل نہ ہو کیونکہ بلوں کے علاوہ اسے ڈاک میں کچھ موصول نہیں ہوتا تھا۔ کوئی اسے خط کیوں لکھتا، سب اسے بھول چکے تھے۔ اس نے لفافہ کھولا تو ایک افسانے کے معاوضے کے طور پر اسے پانچ سو ڈالر کا چیک دکھائی دیا۔
جن دنوں کنگ نے اپنا پہلا ناول ''کیری'' لکھنا شروع کیا وہ لانڈری پر کام کرتا تھا۔ ان کے گھر میں فون نہیں تھا کیونکہ وہ بل ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اسٹیفن نے پہلے ناول کے چند صفحات ہی لکھے مگر پھر یہ سوچ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیئے، اس کی بیوی نے صفائی کرتے وقت ٹوکری میں یہ صفحات دیکھے اور ترتیب سے اس کی میز پر رکھ دیئے۔
ٹبیتھا نے ایک بار پھر اس کی ہمت بندھائی اور اسے اعتماد دیا کہ وہ ایک اچھا ناول لکھ سکتا ہے۔
اسٹیفن نے پہلا ناول مکمل کیا تو کالج کے زمانے کے دوست بل تھامسن کے ذریعے ایک پبلشر کو بھجوا دیا اور پھر بھول گیا کیونکہ اسے توقع ہی نہ تھی کہ یہ ناول قبول کر لیا جائے گا۔
ایک دن بچوں کو پڑھاتے وقت بتایا گیا کہ اس کی بیوی کی ٹیلیفون کال ہے۔ اس نے سوچا شاید کوئی بری خبر ہوگی مگر ٹبیتھا نے بتایا کہ اس کا ناول بک گیا ہے اور اسے رائلٹی کے طور پر ڈھائی ہزار ڈالر دیئے جائیں گے۔
اس زمانے میں بھی کتاب شائع ہونے کے بعد ہلکے کاغذ پر سستی کتابیں زیادہ تعداد میں شائع کی جاتی تھیں تاکہ کم استطاعت رکھنے والے افراد بھی یہ کتاب خرید سکیں۔
ان سستی کتابوں کو پیپر بیک ایڈیشن کہا جاتا۔ ٹبیتھا نے پوچھا کہ اگر وہ پیپر بیک ایڈیشن کے حقوق بیچ دے تو اسے کتنی رقم مل سکتی ہے۔
سننے میں آ رہا تھا کہ ماریو پوزو کو ناول گاڈ فادر کے پیپر بیک ایڈیشن کے چار لاکھ ڈالر ملے تھے لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ اتنی رقم ملنا تو کجا اس کا ناول پیپر بیک ایڈیشن میں چھپے گا بھی یا نہیں۔
ایک اتوار ٹبیتھا بچوں کو لے کر اپنے ماں باپ کے گھر گئی ہوئی تھی اسٹیفن گھر پر اکیلا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ بل تھامسن نے فون کیا تھا۔کیا تم بیٹھے ہوئے ہو؟ بل نے پوچھا۔نہیں! فون کچن کی دیوار پر نصب ہے اور میں دروازے میں کھڑا ہوں، کیا مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے؟ اسٹیفن نے جواب دیا۔ہاں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پیپر بیک ایڈیشن کے حقوق چار لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں۔ بل نے بتایا۔
اسٹیفن پر سکتہ طاری ہو گیا۔ وہ بات کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ بل نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ فون پر موجود ہے۔
اسٹیفن کو یقین نہیں آیا کہ اس نے ٹھیک سے سنا ہے۔ اس لئے اس نے تصدیق کرنے کیلئے ایک بار پھر پوچھا، کیا تم نے چالیس ہزار ڈالر کہا ہے؟بل تھامسن نے کہا، چالیس ہزار نہیں چار لاکھ ڈالر۔ اور معاہدے کے مطابق دو لاکھ ڈالر تمہارے ہیں۔ مبارک ہو۔
اسٹیفن کی ماں اس کے اچھے دن دیکھنے سے پہلے ہی کینسر کے ہاتھوں موت کی بازی ہار چکی تھی مگر اسٹیفن اب کنگ بن چکا تھا،King of Thrils and Chills۔
اس نے نئے ناول لکھنے کیلئے Richard Bachmanکا قلمی نام رکھ لیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ لوگ ایک ہی مصنف کے قلم سے ایک ہی سال میں دوسری کتاب کو پسند نہیں کریں گے۔ ہمارے ہاں لوگ اسٹیفن کنگ کیوں نہیں بنتے، اس حوالے سے آئندہ کالم میں بات ہوگی۔
|
2020/08/05 13:21:31
|
https://jang.com.pk/news/689621-muhammad-bilal-ghauri-column-15-10-2019
|
mC4
|
شیخوپورہ: گجیانہ نو میں سہ روزہ پیغامِ شہادتِ امام حسین علیہ السلام کانفرنسز - تحریک منہاج القرآن
شیخوپورہ: گجیانہ نو میں سہ روزہ پیغامِ شہادتِ امام حسین علیہ السلام کانفرنسز
تحریک منہاج القرآن گجیانہ نو (شیخوپورہ) کے زیرِاہتمام تین روزہ پیغامِ شہادتِ امام حسین علیہ السلام کانفرنسز منعقد ہوئیں۔ ان پروگراموں میں مرکزی نظامت دعوت سے علامہ محمد اعجاز ملک، علامہ شکیل احمد ثانی اور علامہ عدنان وحید قاسمی نے خطابات کیئے۔ اہل علاقہ سے بہت بڑی تعداد نے پروگراموں میں شرکت کی جبکہ مقامی علماء و مشائخ بھی معزز مہمانوں میں شامل تھے۔
مقررین نے شہداء کربلا کی عظیم قربانیوں، شجاعت، اور ثابت قدمی کو سلام پیش کرتے ہوئے واقعہ کربلا کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا کے ساتھ ہمیں شہادت امام حسین کے پیغام کو بھی عملا سمجھنا ہوگا۔ یزید کفر اور باطل کا نظام تھا، جو دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ یزید نے اسلامی اقدار کو مٹانے کی ناپاک کوشش کی، جس امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں نے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے تحریک منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں پیغام امن کو عام کیا ہے۔ منہاج القرآن نے عقیدے میں محبت اہل بیت کو ایمان کی مرکزیت قرار دیا ہے۔ آج ساری دنیا میں اس فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سے اتحاد بین المسالک قائم کیا جا سکتا ہے۔
|
2021/08/03 05:28:22
|
https://minhaj.org/urdu/tid/38727/%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD:-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD--%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD-%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD%EF%BF%BD.html
|
mC4
|
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی - Six NewzSix Newz
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی۔بیٹا پیدا ہوا تو بادشاہ کو یہ دیکھ کر چپ ہی لگ گئی کہ اس کے بیٹے میں ایک پیدائشی معذوری تھی اور وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے سارے وزیر بلوا بھیجے اور ان سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا۔
تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔ شہزادے کے سارے ہمجولی اور اس کے سامنے پلنے والی ساری نسل جب ایک کان والی ہوگی تو شہزادے کے دل میں کسی قسم کی محرومی کا احساس ہی نہیں پیدا ہوگا۔ حکم نافذ کر کے عملدرآمد شروع کرا دیا گیا، اگلے دسیوں سالوں میں مملکت میں ایک کان والی نسل دیکھنے کو ملی اور لوگ اس عادت اور تقلید میں رچ بس گئے۔ایک بار کہیں سے گھومتا پھرتا بھولا بھٹکا ایک نوجوان اس مملکت میں آن ٹپکا۔ لوگ دو کانوں والے لڑکے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے، بچے اس عجیب الخلقت نوجوان کے پیچھے پڑ گئے اور دو کانوں دو کانوں والا کہہ کر چھیڑتے۔ اس نوجوان کو بھی اپنا آپ ایک عجوبہ لگنا شروع ہو گیا، تاکہ وہ
ان لوگوں میں تماشہ بن کر نا رہے اس نے اپنا ایک کان ہی کٹوا لیا۔کیا ایسا ممکن ہے کہ پوری کی پوری خلقت ہی ایسی عقلی معذور بن جائے؟ جی، انسانی تاریخ میں ایسا ہزاروں بار ہو چکا ہے۔ لوگوں کی اسی کج فہمی اور ٹیڑھی عقلی معذوری کی اصلاح کیلیئے ہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بار بار اپنے نبی بھیجتے تھے جیسے:۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پوری قوم شرک کی معذوری کا شکار تھی، ایک اکیلا ابراہیم (علیہ السلام) ان میں اور ان کو بہت ہی عجیب دکھائی دیتا تھا۔ سیدنا لوط علیہ السلام کی پوری کی پوری قوم فطرت کی مخالف سمت میں چلنے والی تھی، ایک اکیلا لوط (علیہ السلام) ان میں عجیب دکھائی دیتا تھا کیونکہ وہ ان جیسا کام نہیں کرتا تھا۔سیدنا شعیب علیہ السلام کی پوری کی پوری قوم سود اور چور بازاری میں ایسی مبتلاء تھی کہ ان میں اکیلا شعیب (علیہ السلام) بہت ہی انوکھا نظر آتا تھا۔دیکھیئے: فقہ میں ایک بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ: سب لوگوں کا کسی ایک بات پر متفق ہوجانا اسے حلال نہیں بنا دیا کرتا۔ غلط ہمیشہ غلط رہے گا بھلے ساری مخلوق اسے کرنا شروع کردے اور صحیح ہمیشہ صحیح رہے گا بھلے مخلوق میں سے کوئی ایک بھی اسے کرنے پر آمادہ نا ہو۔بات کان کٹوا لینے کی نہیں ہے۔ اگر تجھے یقین ہے کہ تو ٹھیک ہے تو پھر ان کو راضی کرنے کیلیئے اپنے سچ سے نا پھر۔ اگر وہ اپنے غلط پر شرمندہ نہیں ہیں تو تو کاہے کو اپنے ٹھیک ہونے پر شرماتا ہے؟وہ جو کہتے ہیں ناں کہ سارے کے سارے لوگ ایسے کہتے ہیں جب بھی قران میں سارے کے سارے لوگوں کا کبھی ذکر آیا ہے ناں، تو ان "صفتوں" کو بتاتے ہوئے آیا ہے کہ:۔ وہ تو عقل ہی نہیں رکھتے۔ وہ تو علم ہی نہیں رکھتے۔ وہ تو شکر ہی نہیں ادا کرتے
|
2022/07/06 07:45:36
|
https://www.sixnewz.com/%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%81-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%AF/
|
mC4
|
فون سائٹس: اپنے فون کا استعمال کرتے ہوئے منٹوں میں سیلز فنل ویب سائٹس اور لینڈنگ پیجز بنائیں | Martech Zone
ہفتہ، نومبر 27، 2021 پیر کے روز، مئی 16، 2022 Douglas Karr
یہ واقعی میری صنعت میں کچھ لوگوں کو ناراض کر سکتا ہے، لیکن بہت سی کمپنیوں کے پاس ایسا ماڈل نہیں ہے جو بڑے پیمانے پر سائٹ کی تعیناتی اور مواد کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہو۔ میں بہت سے چھوٹے کاروباروں کو جانتا ہوں جو اب بھی گھر گھر جاتے ہیں یا متاثر کن کاروبار کی حمایت کے لیے منہ کی بات پر انحصار کرتے ہیں۔
فون سائٹس: منٹوں میں صفحات لانچ کریں۔
ہر کاروبار کو اپنے مالک کے وقت، کوشش اور سرمایہ کاری میں توازن پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ نیا کاروبار لانے کے لیے فروخت کا سب سے موثر عمل پیدا کیا جا سکے۔ بعض اوقات، کسی ویب سائٹ میں سرمایہ کاری اتنی ہی آسان ہوتی ہے جتنا کہ ڈومین کو حاصل کرنا اور صاف، سادہ، موبائل کے لیے جوابدہ، اور بہترین لینڈنگ پیج لگانا۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ فون سائٹس کے لیے ہے…
ایک ٹیمپلیٹ منتخب کریں یا شروع سے شروع کریں۔ پہلے سے تیار کردہ ٹیمپلیٹس 2 کلکس میں انسٹال ہو جاتے ہیں۔
صفحات بنانا شروع کریں۔ اپنے آسان ڈریگ اینڈ ڈراپ ایڈیٹر کے ساتھ متن، تصاویر اور ویڈیو شامل کرکے۔
سائٹ کو برانڈ کریں۔ اپنے حسب ضرورت ڈومین کا استعمال کرتے ہوئے اور کسی بھی فریق ثالث کے پلیٹ فارم کو جو آپ استعمال کر رہے ہیں انٹیگریٹ کریں۔
خودکار جوابات مرتب کریں۔ ای میل یا ایس ایم ایس فالو اپ کے ساتھ۔
اپنی پہنچ بڑھائیں۔ اشتہارات اور AI سے چلنے والی کاپی کے ذریعے۔
فون سائٹس مضبوط ٹیمپلیٹس، ڈیٹا اکٹھا کرنے، اور AI سے چلنے والے مواد کو یکجا کرتی ہیں تاکہ کاروباری اداروں یا ایجنسیوں کو منٹوں میں ہائی کنورٹنگ سیلز فنل سے چلنے والی سائٹس کو رول آؤٹ کرنے میں مدد ملے۔
فون سائٹس نے 10,000 سے زیادہ کاروباروں کو 1 ملین سے زیادہ لیڈز پیدا کرنے اور ان کو لاکھوں کی آمدنی میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے۔ فون سائٹس ایک بے درد ویب سائٹ اور لینڈنگ پیج بلڈر ہے جو آپ کو زیادہ لیڈز، زیادہ گاہک اور زیادہ سیلز پیدا کرے گی۔ فون سائٹس چھوٹے کاروباروں اور ایجنسیوں کو قابل بناتی ہیں:
صفحات شروع کریں۔ کسی بھی ڈیوائس پر منٹوں میں۔ ان کی ویب سائٹ بلڈر میں پہلے سے تعمیر شدہ، اعلیٰ تبدیلی والے ٹیمپلیٹس کی خصوصیات ہیں جنہیں آپ اپنی سائٹ کو چند منٹوں میں بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
لیڈز جمع اور بک اپائنٹمنٹس۔ ایسے آسان صفحات بنائیں جو آپ کے سیلز کے عمل میں قدم بہ قدم وزٹرز کی رہنمائی کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں تاکہ آپ فالو اپ کر سکیں۔
مواد بنائیں - آپ فون سائٹ کے AI رائٹر کے ساتھ صرف چند کلکس میں اعلیٰ تبدیلی والی مارکیٹنگ کاپی تیار کر سکتے ہیں۔
ای میل فالو اپس – ای میل پروگرام کی ضرورت نہیں، فون سائٹس بلٹ ان ای میل سسٹم آپ کو خود بخود فالو اپ بھیجنے دیتا ہے۔
مدد حاصل کریں۔ - 1-on-1 حکمت عملی کالوں، لائیو چیٹ، ایک نجی کمیونٹی، اور ہفتہ وار ورکشاپس میں مدد کرنے کے لیے ماہرین کی ٹیم میں ٹیپ کریں۔
کوئی بھی مواد کے انتظام کا نظام (CMS) خصوصیات اور فعالیت کو بڑھانے اور اضافہ کرنے کے لیے انضمام کی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ فون سائٹس مختلف نہیں ہیں، Zapier میں پروڈکٹائزڈ انضمام کے ساتھ، MailChimp کے, Stripe, Twilio, Vimeo, YouTube, Google ReCaptcha, Facebook Ads, Google Analytics, Hotjar, Calendly, and more.
اپنی مفت فون سائٹس کی آزمائش شروع کریں۔
انکشاف: میں اس سے وابستہ ہوں فون سائٹس اور میں اس مضمون میں اپنا وابستہ لنک استعمال کر رہا ہوں۔
ٹیگز: کیلنڈیایڈیٹر کو ڈریگ اور ڈراپ کریںفیس بک اشتہارات۔فارمگوگل کے تجزیات کاگوگل ری کیپچا۔ہاٹجرلینڈنگ پیج ویب بلڈرلینڈنگ پیجلیڈ مجموعہMailChimp کےفون سائٹسسیلز فارمسیلز فنل بلڈرسیلز فنل سائٹسپٹیTwiliovimeoویب سائٹ بلڈریو ٹیوب پرزپیئر
اسپاکٹ: اپنے ای کامرس پلیٹ فارم کے ساتھ ڈراپ شپنگ بزنس کو شروع کریں اور بغیر کسی رکاوٹ کے انضمام کریں۔
|
2022/05/25 14:09:47
|
https://ur.martech.zone/phonesites-sales-funnel-landing-page-builder/
|
mC4
|
بنیادی ٹریڈنگ - Poloniex کے پریوست
پورہوردی فاطمہ 2020/10/15 فاریکس ٹریڈنگ پلیٹ فارم
کوکی ایک چھوٹی فائل ہے جو آپ کے کمپیوٹر یا دوسرے آلے پر رکھی جاتی ہے جب آپ کسی ایسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں جس کوکی جاری Poloniex کے پریوست کرنے والی ویب سائٹ کے ذریعہ سمجھی جاسکتی ہے۔ ہم اور ہمارے شراکت دار (جیسا کہ اگلے حصے میں اس طرح کی اصطلاح کی وضاحت کی گئی ہے) کوکیز کے ذریعہ جمع کردہ معلومات کو یہ یاد رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور آپ کی ترجیحات آپ کو لاگ ان کرنے ہیں ، اپنی ضروریات یا مفادات کے مطابق مواد کی خدمت کیلئے اور ہماری ویب سائٹ کی جانچ کرنے کے ل to استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ اپنے براؤزر کی ترتیبات کے ذریعہ کوکیز کو قبول یا مسترد کرسکتے ہیں۔ مزید جاننے کے لئے ، براہ کرم اپنے مخصوص ویب براؤزر (زبانیں) میں دستیاب کوکی کی ترتیبات دیکھیں۔ شیڈول بی پر سوالات کے جوابات دینے کے لئے کچھ نکات: مزید پڑھیں. بدترین کیس کے منظر میں، ملازمتوں کو زبردست تبدیلیوں کو اپنانے سے انکار کر سکتا ہے اور اس طرح آپ کے تنظیم کو تصادم اور تنازعہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے .
مرحلہ 3 - کل آپریٹنگ اخراجات کا حساب لگائیں. ٹویٹر کے ایک ترجمان نے بھارتی میڈیا سے بات چیت میں کہا، "ہم ایسے کسی بھی اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جو ٹویٹر کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔ ہماری سروسز پر لوگوں کے آزادانہ اظہار خیال کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، تاہم جیسا کہ ہماری بدسلوکی سے متعلق پالیسی میں واضح کیا گیا ہے، آپ کسی کو ہدف بنا کر ہراساں کرنے میں ملوث نہیں ہو سکتے، نہ ہی آپ دوسرے لوگوں کو ایسا کرنے پر اکسا سکتے ہیں۔"
دوست # 2: یہ تم میں سے یولو ہے کیوں پارلیمانی حکومت زیادہ موثر ہوسکتی ہے.
ڪجهه خودمختياري واري طريقي جا مثال:
بینک اکاؤنٹ کی علیحدگی ، جسے بعض اوقات فنڈ علیحدگی کہا جاتا ہے ، کوئی نئی بات نہیں ہے - خصوصا financial مالی خدمات کے شعبے میں۔ CySEC کے لئے ، یہ قاعدہ صرف 2017 میں نافذ ہوا۔ اب قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کاری فرم جس کے پاس اپنے صارفین کی ملکیت میں سرمایہ ہوتا ہے اسے اپنی ذات سے دور ، مؤکل کی رقم کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ قدر کے بارے میں مفروضے مت کریں۔ تشخیص کرنے والوں کو بہت کچھ کے لئے صرف ایک Poloniex کے پریوست اضافی $ 10،000 مختص کیا جاسکتا ہے جو آپ سے 30٪ بڑا ہے۔
این ربات ها برای تجارت اساساً بر اساس روش تجزیه و تحلیل فنی برنامه ریزی شده اند. به عنوان مثال ، یک معامله گر می تواند ربات فارکس را تنظیم کند که معاملات را فقط زمانی آغاز کند که یک کراس اوور متوسط متحرک وجود دارد. ربات های معاملات فارکس می توانند تقریباً هر استراتژی معاملاتی را که خود معامله گر فارکس می خواهد استفاده کند ، خودکار کند. تا زمانی که معامله گر بتواند استراتژی خود را به درستی تعریف کند ، به احتمال زیاد می توان آن را در ربات فارکس برنامه ریزی کرد. دلیل استفاده از کلمه تقریبا این است که برخی تحلیل های اساسی وجود دارد که ممکن است ربات فارکس نتواند مانند انسان تجزیه و تحلیل کند. یک مثال کلاسیک درک تأثیر اخبار بازار است. ایکسیس ٹریڈر ایپ کا استعمال کرکے واپسی کرنے کے لئے یہاں ایک گائیڈ ہے۔
اگر آپ پریشانی کا شکار ہیں تو آپ اپنے بچوں کی مدد نہیں Poloniex کے پریوست کرسکتے ہیں.
اول با یک مثال شروع میکنم تصور کنید از طرف شخصی اطلاعاتی از وضعیت شرکت به دست شما میرسد که امکان دارد این خبر افزایش سرمایه یک شرکت یا افزایش سود شرکت یا … باشد.
تجارت Poloniex کے پریوست میں بیعانہ استعمال کرنا. کیا میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات لینے کے ساتھ گاڑی چلا سکتا ہوں یا مشینری آپریٹ کر سکتا ہوں؟ ترغیبات ومراعات کے وسائل وذرائع:
ممبران پارلیمنٹ بھی ای پی ڈبلیو کو کھانا کھلانے اور کپڑے پہننے کے ذمہ دار ہیں۔ اور کسی حملے کی صورت میں انہیں قیدیوں کا دفاع بھی کرنا ہوگا۔ میلے نے کہا ، ابو غریب تنازعہ کے بعد ای پی ڈبلیوز کے علاج پر فوج کی توجہ نہیں بدلی ہے۔ "نظریہ نہیں بدلا ہے۔ مشن تبدیل نہیں ہوا ، اور تربیت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ .بنیادی ٹریڈنگ نقصانات کو کم کرنے کے لئے اسٹاپ نقصان والے مقامات کا استعمال اور ساتھ ہی اپنے منافع کی حفاظت کے لئے ٹریلنگ اسٹاپس کا استعمال ٹریڈنگ میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کا ایک اور آسان طریقہ ہے۔
مثال کے طور پر ، فرض کیج El کہ ایلیٹ الیکٹرک کسی معاہدے پر دستخط کرتی ہے جس میں وہ فی وقوع پذیری میں ،000 500،000 اور عمومی مجموعی طور پر ،000 500،000 کی حدود میں بسی بلڈرز کی واجباتی بیمہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ ایلیٹ کی ذمہ داری کی پالیسی میں ان حدود میں سے ہر ایک کے لئے $ 1 ملین شامل ہیں۔ اضافی بیمہ دہندگی سے متعلق Poloniex کے پریوست ایک مقدمہ بسی بلڈرز کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ دعویدار ges 750،000 ہرجانے میں ڈھونڈتا ہے لیکن ایلیٹ الیکٹرک کا واجب الادا بیمہ دہندہ صرف ،000 500،000 کی ادائیگی کرتا ہے ، جو معاہدہ کے ذریعہ درکار ہے۔ کمپنی کی تفصیل: پر Pole Star ہم سمندری ٹکنالوجی تیار کرتے ہیں ، آپ کو سمندری بصیرت میں سب سے آگے رکھتے ہیں اور آپ کے حقیقی دنیا کے فیصلوں کو بااختیار بناتے ہیں۔ ہمیں سپلائی چین کے پار حکومتوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر ہے۔ ایک ساتھ مل کر ، ہم ایک شفاف ، محفوظ ، اور تعمیری آپریٹنگ ماحول پیدا کرنے میں ایک لازمی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے وسیع پیمانے پر حل خاص طور پر پیچیدہ اعداد و شمار کو قابل اطلاق مطابقت ، پابندیوں کی اسکریننگ ، تجارت کی تعمیل ، ٹریکنگ ، مانیٹرنگ اور جہاز کی حفاظت سے متعلق قابل بصیرت ڈیزائن کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا کوڈ 5 × 3 سائز کی ایک صف کیلئے میموری مختص کرتا ہے۔
کھلی دلچسپی بڑھانا ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ قیمتوں کے رجحان کے پیچھے بھی طاقت ہے ، کیوں کہ کھیل میں معاہدوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ سرگرمی بڑھ رہی ہے اور اس اقدام کے بارے میں جوش و خروش ہے۔ کھلی دلچسپی کم ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں کے موجودہ رجحان میں کمزور پڑ سکتا ہے۔ نئے تاجروں کے کھولنے سے زیادہ تیزی سے تاجر اپنی پوزیشنوں کو بند کررہے ہیں۔ .بنیادی ٹریڈنگ منافع کے ہدف میں سرمایہ کاری کے ل a ایک آسان تر نقطہ نظر میں ، ایک سرمایہ کار ایک مخصوص منافع کے ہدف کے انتظام کے ل profit معیاری منافع کی حد کا آرڈر استعمال کرنے کا انتخاب کرسکتا ہے۔ منافع کی حد کا آرڈر ایک فروخت کا آرڈر ہے جو عام طور پر منسوخ شدہ آرڈر (جی ٹی سی) تک ایک اچھے کے طور پر پروگرام کیا جاتا ہے۔ یہ مشروط آرڈر سیکیورٹی کو موجودہ ٹریڈنگ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا ہے۔ چکرمک حفاظت میں سرمایہ کاری کرتے وقت سرمایہ کار اس قسم کا آرڈر استعمال کرسکتے ہیں۔ بہت سے تاجر اسٹاک کی اعلی سطحی مزاحمت کی سطح پر مشروط منافع کی حد آرڈر ترتیب دینے کا انتخاب بھی کرسکتے ہیں۔
|
2022/01/24 23:30:37
|
https://pet-toys.top/category-14/page-400574.html
|
mC4
|
جو شخص دولت میں اضافہ چاہتا ہے تو یہ عمل کرے - ThinkNewsStory
Home/Uncategorized/جو شخص دولت میں اضافہ چاہتا ہے تو یہ عمل کرے
admin March 13, 2021 Uncategorized Leave a comment 209 Views
رسول الہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں برکت آئے اس کے مال میں فراوانی آجائے اس کو چاہئے کہ رشتے داروں سے اچھا برتاؤ کرے ہوسکتا ہے رشتہ دار آپ کو تکلیف دیں لیکن حکم کیا ہے سلما قطعک جو توڑتا ہے اس سے جوڑو وعفو عم من ظلمک جو ظلم کرتا ہے اسے معاف کرے جو آپ کو محروم کرتا ہے تم اسے عطا کیا کرو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رشتہ داروں کے بعد ایک سچے مسلمان کی ذمہ اری یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا ہے الرجل علی دین خلیلہ فالینظر الی من یخالف دوست اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ہر ایک کو چاہے کہ دوست بناتے وقت سوچ لیا کرے بلکہ اللہ کے رسول نے فرمایا لاتصاحب الا مؤمنا ساتھی اس کو بناؤ جو مومن ہو ولا یاکل الطعامک الا تقی تمہارا کھانا متقی کھائے دوستوں میں سے انسان نیک لوگوں کو استخلاص کریں ان کی سیلیکشن کرے عن المرء لا تسئل وسئل عن قرینہ وکل قرین بالمقارن یقتدی کسی کی بارےمیں پوچھنا ہو تو اس کے دوستوں کے بارے میں پوچھو اس کے دوست کیسے ہیں ہر بندہ اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے
جس کا اخلاق اچھا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
|
2021/10/18 17:52:49
|
https://thinknewsstory.com/%D8%AC%D9%88-%D8%B4%D8%AE%D8%B5-%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D9%81%DB%81-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D9%88-%DB%8C%DB%81-%D8%B9%D9%85%D9%84/
|
mC4
|
صعنت و تجارت – Page 8 – Daily Hareef
Home / صعنت و تجارت (page 8)
ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے کیلئے 5 سالہ منصوبہ تیار'وزارت تجارت
July 22, 2018 صعنت و تجارت 0
اسلام آباد(بیورو رپورٹ) وفاقی حکومت نے ادائیگیوں کے توازن میں خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے خسارے کو کنٹرول کرنے کیلئے 5 سالہ منصوبہ 2018-2023 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارت تجارتی حکام کے مطابق محکمے نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے 5سالہ بیلنس آف پیمنٹ پلان 2018-2023 کا …
خام تیل کی عالمی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کمی
کراچی(بیورو رپورٹ )خام تیل کی عالمی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کمی ہوئی۔نیویارک مرکنٹائل ایکس چینج میں ڈبلیوٹی آئی کی ستمبر میں فراہمی کیلئے قیمت 68.26 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی جبکہ لندن کی انٹرکانٹینینٹل ایکس چینج میں برینٹ نارتھ سی کروڈ کے ستمبر میں کیلئے سودے 73.07 ڈالر فی …
July 21, 2018 صعنت و تجارت 0
اسلام آباد(بیورو رپورٹ) گزشتہ ماہ جون کے دوران چاول کی ملکی برآمدات میں 2.58 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ جون 2018ءکے دوران چاول کی برآمدات 147.22 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ …
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مصنوعات سازی کی بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر پیداواری شرح 2.76 اضافہ دیکھنے میں آئی'مذکورہ اضافے کو 'معمولی بہتری' تصور کی گئی اور خدشے کا اظہار کیا گیا کہ بڑی صنعتوں میں …
July 20, 2018 اہم ترین, پاکستان, صعنت و تجارت 0
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 130 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور ڈالر کی قدر میں اضافہ …
July 19, 2018 صعنت و تجارت 0
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن خراب کارکردگی کی وجہ سے دنیا کی 100 بہترین ایئر لائنز کی فہرست میں بھی جگہ نہ بناسکی۔ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں، ایئرپورٹس اور فضائی مسافروں کی سہولیات پر کڑی نظر رکھنے والی کمپنی اسکائی ٹریکس نے ہرسال کی طرح امسال …
July 18, 2018 صعنت و تجارت 0
لاہور (کامرس رپورٹر)ڈالرکی قدر میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث مرکزی بینک نے درآمدی اشیا پرکیش مارجن 100فیصد کردیاجس کے بعد اشیا کی درآمد کے لیے بینک اکاﺅنٹ میں 100فیصد رقم ہونا ضروری ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جن اشیا کی درآمد پر100فیصد مارجن …
July 17, 2018 صعنت و تجارت 0
کراچی (بیورو رپورٹ) سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے)اور شاہین ایئرلائن انٹرنیشنل (سائی) کے مابین ادائیگیوں کے تنازع کے حوالے سے شکوک شبہات جنم لینے لگے اور شاہین ایئر کی پروازیں جزوی طور پر معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،شاہین ایئر کے سعودی عرب کے علاوہ دیگر عالمی …
سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اور پورے خطے میں ترقی کی نئی راہیںکھلیں گی،حکام
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) سی پیک کے تحت رواں سال بجلی اورانفراسٹرکچر کے متعدد منصوبوں کےساتھ ساتھ سب سے اہم گوادر عالمی ہوائی اڈے پر تعمیراتی کا م کا آغاز ہوجائےگا،سی پیک کے تحت شاہراہوں کے منصوبوں پر تسلی بخش انداز میں کام جاری ہے،ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل سے …
روپے کی بے قدری، ڈالر ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا
July 16, 2018 صعنت و تجارت 0
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر127 روپے 50 پیسے کی سطح تک پہنچ گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے اور انٹر بینک میں ایک …
|
2018/09/25 21:59:23
|
http://www.dailyhareef.com.pk/category/%D8%B5%D8%B9%D9%86%D8%AA-%D9%88-%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%AA/page/8/
|
mC4
|
ہائی سکیورٹی کے باوجود مشکو ک موٹرسائیکل سوار ایوان صدر کےمین گیٹ تک پہنچ گیا ،16اہلکار معطل
اسلام آباد(92نیوز)ہائی سکیورٹی کے باوجود مشکوک موٹر سائیکل سوار ایوان صدر کے مین گیٹ تک پہنچ گیا ،سکیورٹی میں غفلت برتنے پر 16اہلکاروں کو معطل کرکے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ تفصیلات کےمطابق ایس ایس پی سکیورٹی میر واعظ نے 92نیوز کو بتایا کہ تین روز قبل ایک موٹر سائیکل پر سوار شخص تمام سیکیورٹی بیریرز عبور کرتا ہوا ایون صدر کے مرکزی دروزے تک پنہچ گیا اور جب وہاں سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے چیک کرنے پر موٹر سائیکل سوار نے بتایا کہ وہ غلطی سے راستہ بھول کر ادھر آگیا تھا جس پر مشکوک شخص کے مکمل کوائف چیک کئے گئے اور مکمل چھان بین کے بعد اسے تو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تاہم سیکیورٹی میں غفلت کے مرتکب 16اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردئیے گئے ۔ ایس ایس پی سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتطامات کئے گئے ہیں لیکن یہ واقعہ انتہائی تشویش ناک ہے جس کی انکوائری جاری ہے ۔
|
2021/10/16 08:08:03
|
https://urdu.92newshd.tv/about/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%B3%DA%A9%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%88-%DA%A9-%D9%85%D9%88%D9%B9%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%8C
|
mC4
|
"پانچ دن گُڑ کھانے کے بعد کمال ہوگیا" - UrdunetUrdunet
اب اگر آپ نے ان دو تین کارنوں کو ہی ٹھیک کر لیا تو آپ کی باڈی سے ننانوے فیصد بیماریاں ٹھیک ہوجاتی ہیں اب ان دو تین وجوہات میں جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے ہماری باڈی میں خ و ن کی کمی کا ہونا مان لیجئے کوئی ایک گاڑی ہے اس میں اگر آپ انجن آئل کم ڈال دیں تو آپ سوچئے اس گاڑی کے انجن کا کیا حال ہوگاکم انجن آئل ڈالنے کی وجہ سے اس گاڑی کا انجن خراب ہوسکتا ہے ہماری اس جسمانی گاڑی کا انجن آئل ہمارا خ و ن ہے اگر ہماری باڈی میں خ و ن ہی کم ہے تو ہماری باڈی کام اچھے سے کر ہی نہیں سکتی اور ہم میں سے بہت زیادہ لوگوں کی باڈی میں خ و ن کی کمی ہی رہتی ہے دراصل خ و ن کی کمی ہمیں ایک چھوٹی سی پرابلم لگتی ہے لیکن اس سے کئی بیماریاں ہوتی ہیں اب اگر آپ کی باڈی میں خ و ن کی کمی ہے تو اس سے آپ کی باڈی میں سب سے بڑی جو پرابلم ہوگی وہ ہے
آپ کی باڈی میں ایکٹو نیس کی کمی ہوگی تھکان زیادہ رہے گی آپ کو نیند آتی رہے گی سستی پڑی رہے گی اس کے علاوہ آپ کے بال جھڑنے لگیں گے آپ کی آنکھوں کی روشنی کمزور ہونے لگے گی آپ کا خ و ن گندا ہونے لگے گا کیونکہ آپ کی کڈنی کی فنگشنیلٹی کم ہونے لگے گی آپ کی سکن ڈھیلی پڑنے لگے گی آپ کی سکن کالی ہونے لگے گی آپ کے سر میں درد رہنے لگے گا آپ کو چکر آسکتے ہیں اور بھی کئ مسائل ہیں جو صرف خ و ن کی کمی ہونے کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں آپ سب سے پہلے اپنا اور اپنی فیملی کے ہر فرد کا ہیمو گلوبن ٹیسٹ ضرور کروائیں کیونکہ اس سے آپیہ سمجھ پائیں گے کہ آپ کی باڈی میں آخر کار خ و ن کتنا ہے کیونکہ ہماری باڈی میں خ و ن کی کمی ہونے سے بہت سی بیماریاں ہوتی ہیں اور دوسری جو سب سے بڑی پرابلم ہے وہ ہے کونسٹیپیشن یہ دونوں ایسی وجوہات ہیں جب کے سبب سے انسان کو سوسے زیادہ بیماریاں ہوتی ہیں لیکن اگر آپ نے باڈی میں خ و ن کی کمی کو پورا کرلیا اور قبض کے مسائل کو دور کر لیا تو آپ کی ننا نوے فیصد بیماریاں ٹھیک ہوجائیں گی اب ان دونوں چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لئے یہ نسخہ ضرور آزمائیے۔ایک ایسی چیز ہے جو ایک دن کے پیدا ہوئے بچے کو بھی کھلائی جاسکتی ہے
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ اور نہیں دے سکتے لیکن صرف دو چیزیں ایسی ہیں جو صرف ایک دن کے پیدا ہوئے بچے کو بھی دی جاسکتی ہیں پہلا تو شہد اور دوسرا گُڑ ہے یعنی کہ جاگری گڑ ایک ایسی چیز ہے جسے آپ ایک دن کے پیدا ہوئے بچے کو دے سکتے ہیں اب وہ گڑ ہی وہ چیز ہے جو آپ کی باڈی میں خ و ن کی کمی کو دور کرتی ہے اور دوسرا آپ کے انڈائیجشن یا کونسٹیپیشن کو ختم کرتی ہے۔گڑ تو سبھی گھروں میں ہوتا ہے لیکن ہم لوگ اسے دودھ میں ڈال کر گڑ والا دودھ بنا کر پیتے ہیں یعنی کہ جاگری والا دودھ بنا کر پیتے ہیں لیکن کیاآپ کو یہ معلوم ہے کہ دودھ کے اندر کبھی بھی گڑ نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ اس سے دودھ اور گڑ دونوں کے ہی فائدہ مند اجزاء ختم ہوجاتے ہیں اس لئے آپ کو سمجھنا ہوگا کہ آپ کو دودھ میں کبھی بھی دودھ نہیں ڈالنا چاہئے آپ کو گڑ کو صبح گرم پانی کے ساتھ لینا ہے یعنی تھوڑا سا گڑ آپ صبح اٹھ کر خالی پیٹ کھائیں اوپر سے ایک گلاس گرم پانی کا پی لیجئے یہ چیز سب سے زیادہ ضروری ہے اس سے آپ کی باڈی میں کئی بدلاؤ آئیں گے اس سے آپ کو کئی ایسے فوائد ملیں گے جس سے آپ کی بہت سی بیماریاں جڑ سے ختم ہوجائیں گی ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین
|
2021/11/29 05:55:24
|
https://urdunet.site/2021/10/%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86-%D8%AF%D9%86-%DA%AF%D9%8F%DA%91-%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%927j56k5-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DB%81%D9%88%DA%AF%DB%8C%D8%A7/
|
mC4
|
بریکنگ نیوز:حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئی | Enlight News
بریکنگ نیوز:حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) آٓئی ایم ایف شرائط کے بعد منی بجٹ تیار،مہنگائی کا ایک اور طوفان سر پر آگیا، 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا پلان بن چکا ، موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئیٹمز بھی مہنگی ہونے کا مکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق منی بجٹ میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت ٹیکس چھوٹ و رعایات اورمراعات ختم کی جارہی ہیں۔ 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول 6 مکمل ختم یا ترامیم کی جارہی ہیں،چھٹے شیڈول کے خاتمے یا ترامیم سے 350 ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہو جائیں گی، اضافی ٹیکس لگنے کے بعد درآمدی گاڑیاں مہنگی ہو جائیں گی، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کی شرط پر ترمیمی بل تیار کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق منی بل آرڈیننس کےذریعے آئے گا یا پارلیمنٹ منظور کرے گی ، حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔منی بجٹ میں موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کئے جانے کابھی امکان ہے، نئے بجٹ میں جن اشیا پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم ہے ان پر بھی سیلز ٹیکس 17 فیصد تک کئے جانیکا امکان ہے،مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کرنے سے متعلق تیاری کی جا چکی ہے ۔ذرائع نے مزید کہا کہ منی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو واپس لیا جا رہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی،لگژری اشیاء کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے،درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش ہے،پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ریفائنری اسٹیج پر لاگو ہوگا،کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔واضح رہے پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔
|
2022/05/22 10:20:42
|
https://enlightnews.site/%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D9%86%DA%AF-%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B2%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA-%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D9%81-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%AC/
|
mC4
|
ایم کیو ایم کے وفاقی وزرا امین الحق اور فروغ نسیم وزارتوں سے مستعفی – Daily Jinnah
On مارچ 30, 2022 17 0
اسلام آباد: ایم کیو ایم کے 2 وفاقی وزرا اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے 2 وفاقی وزرا اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ وفاقی وزرا امین الحق اور فروغ نسیم نے اپنے استعفے وزیراعظم عمران خان کو بھیج دیے۔ استعفے قبول کرنے کا نوٹیفکیشن وزیراعظم کی منظوری سے جاری ہوگا۔
ذرائع ایم کیو ایم کے مطابق حکومت سے معاملات طے نہ پانے کی وجہ ان کی سست روی ہے، وزیراعظم عمران خان انا کا شکار رہے، وہ اپنے وزرا کو بھیجتے رہے لیکن خود نہیں آئے ، جبکہ اپوزیشن کی پوری قیادت ہمارے پاس بار بار آئی۔
ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب خود بھی آجائیں تو بہت دیر ہوچکی اور ہم فیصلہ کرچکے ہیں ، رابطہ کمیٹی صرف اپوزیشن سے تحریری معاہدہ کی روٹین کے مطابق توثیق کریگی۔
معاہدے کے مندرجات سامنے آگئے
متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کے مندرجات ایکسپریس نیوز سامنے لے آیا۔ معاہدے پر خالد مقبول صدیقی، بلاول بھٹو، شہبازشریف، مولانا فضل الرحمن، اخترمینگل، خالد مگسی نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت ایم کیوایم وفاقی کابینہ سےعلیحدگی اختیار کرے گی، جس کے بدلے میں بلدیاتی اداروں کےاختیارات میں اضافہ کیاجائےگا، سندھ میں جعلی ڈومیسائل کےاجرا کےلیے قانون سازی کی جائےگی، بلدیاتی قانون کو آئین کے آرٹیکل 140اے کے مطابق بنایا جائے گا، سندھ حکومت ایک ماہ میں بلدیاتی قانون میں ترامیم کا مسودہ سندھ اسمبلی میں پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی سے حکمران اتحاد کی تعداد 164 جبکہ متحدہ اپوزیشن کی تعداد 177 ہوجائیگی۔
|
2022/07/05 10:25:44
|
http://www.dailyjinnah.com/story/67996
|
mC4
|
تخت بھائی سرکل پولیس نے آخری عشرے کیلئے جامع سیکورٹی پلان تیار کرلیا
بدھ 6 جون 2018 17:56
مردان۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) تخت بھائی سرکل پولیس نے سماج دشمن عناصر کے خلاف آپریشن مزید تیز کرنے اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کیلئے جامع سیکورٹی پلان تیار کرلیاہے جبکہ ہوائی فائرنگ کی جان لیوا رسم کے تدارک کیلئے عوام میں شعور اجا گر کرنے کی خصوصی مہم بھی شروع کردی ہے ۔ سب ڈویژنل آفس تخت بھائی میں سرکل ایس ایچ او زکی کرائم میٹنگ کے موقع پر اے ایس پی محمد عثمان ٹیپو نے کہا کہ اشتہاری ملزمان، منشیات فروشوں اور سماج دشمن عناصر کے خلا ف جاری اپریشن میں مزید تیز ی لائی جائے ۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سرکل کے خارجی و داخلی روٹس ، مصروف بازار وں میں موبائل،، پیدل اور رائیڈر گشت بڑھائی جائے ، خصوصاًخواتین کی خریداری کے مراکز میں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جائیگی ۔ محمد عثمان ٹیپو نے کہا کہ چاند رات پر ہوائی فائرنگ کی غیر شرعی ، قانون کے منافی، غیر اخلاقی اور جان لیوا رسم کو ختم کرنے کے حوالے سے علماء ، مشائخ ، مساجد کے آئمہ کرام اور علاقہ عمائدین کی خدمات حاصل کی جائیگی ۔ اس سلسلے میں تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز اور چوکی انچارجز کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔
|
2018/09/24 23:29:28
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-06-06/news-1560276.html
|
mC4
|
ہفتہ, 05 جولائی 2014 08:57
اسلامی تاریخ اور شخصیات کے مجسمے
پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنی مرحوم لیڈر کی محبت میں مجبور ہوکر وہ کام بھی کر ڈالا جو 1400 سال کی اسلامی تاریخ میں آج تک نہ ہوا۔ جی ہاں، ان جیالوں نے اپنی محبوب رہنما کا ایک مجسمہ کراچی کے علاقے بے نظیر پارک (کلفٹن پارک) میں لگادیا ہے۔ یہ مجسمہ بے نظیر کی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر لگایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے مجسمہ بنانے والے کاریگر مبارک مہدی کو ایک لاکھ روپے کا انعام بھی دے دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سیاستدان کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔
یہ مجسمہ نصب ہونے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اسلامی تاریخ میں کتنے عظیم رہنما اور حکمران گزرے ہیں ،مشرق سے مغرب تک ان رہنماﺅں کی دھوم رہی لیکن کسی کا مجسمہ نہ بنا۔ سوچتے ہوئے میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں گیا، اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی فلاح کا ایک عظیم الشان سسٹم شروع ہوچکا ہے ۔ان کے بعد دیگر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا دور آتا ہے لیکن کہیں بھی مجسمہ سازی موجود نہ ہے۔ مسلمان جزیرہ نما ہسپانیہ میںداخل ہوچکے ہیں۔ مقامی آبادی کی فلاح جاری ہے لیکن یہاں بھی کسی مسلمان حکمران کا مجسمہ دیکھنے کو نہیں مل رہا۔مسلم سپین جو یورپ کے لئے ایک مثالی علاقہ بن چکا ہے، تعلیم اور سائنسی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، دنیا میں کہیں بھی کوئی کتاب لکھی جا رہی ہے وہ سپین کی لائبیریوں میں منگوا کر رکھی جا رہی ہے۔مسلمانوں نے تمام غیر مسلموں کو برابری کے حقوق دیئے ہوئے ہیں،آج بھی سپین جائیں تو آپ کو مسلم حکمرانوں کے نشانات محلات اور مساجد کی صورتوں میں ملیں گے لیکن کہیں بھی آپ کو کسی بھی حکمران کا بت نہیں ملے گا۔
دوسری جانب بغداد میں عباسی حکمران کام کررہے ہیں سائنسی تحقیقات جاری ہیں لیکن کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آرہا کہ اس کے چاہنے والے اس کا بت بنائیں۔
شام میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف تمام یورپ اکٹھا ہو چکا ہے اور پے در پے حملے کر رہا ہے لیکن آخر کار سلطان کو تمام یورپ کے خلاف فتح نصیب ہوئی ہے اور یروشلم میں مسلمانوں کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے لیکن پھر بھی کہیں آپ کو سلطان صلاح الدین ایوبی کا بت نظر نہیں آرہا۔
اب قسطنطنیہ (استنبول)چلتے ہیں جہاں مسلمانوں نے کامیاب حملہ کرتے ہوئے سلطان محمد فاتح کی قیادت میں قسطنطنیہ فتح کرلیا ہے۔ یہ وہی لشکر ہے جس کے جنتی ہونے کی بشارت نبی کریمﷺ نے دی ہے۔ سلطان محمد فاتح نے فتح کے بعد مسجد کی تعمیر شروع کروادی ہے۔ ان کے بعد ان کی نسل میں سلیمان خلیفہ بنا۔ یہ وہی عثمانی حکمران ہے جسے مغربی تاریخ دان سلیمان عالیشان کے نام سے جانتے ہیں لیکن آج تک پورے ترکی میں آپ کو کہیں بھی کسی بھی خلیفہ کا بت لگا ہوا نہیں ملے گا۔
اب برصغیر کی طرف آتے ہیں جہاں دہلی میں مسلمانوں نے حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مختلف مسلم خاندان سے ہوتا ہوا تاج دہلی اب سلطنت مغلیہ کے پاس ہے۔ جلال الدین محمد اکبر ہندوﺅں کے ساتھ بہت قریبی تعلق رکھتا ہے۔ ہندو اس کی پوجا خدا کی طرح کررہے ہیں لیکن یہ کیا، اکبر یا اس کے حامیوں نے کسی بھی طرح کے بت نہ بنائے ہیں۔
غرض کہ اسلامی تاریخ میں کہیں بھی آپ کو حکمرانوں کے مجسمہ (بت) نہیں ملیں گے اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ابتدا ہی سے بت بنانے اور انہیں پوجنے سے روک دیا گیا تھا۔ گو کہ جدید دور میں عراق میں سابق صدر صدام کے قد آور مجسمے لگائے گئے لیکن ان کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔
ماضی میں مسلمانوں نے تمام علوم پر خصوصی توجہ دی، آرٹ اور کلچر کو فروغ دیا لیکن کبھی بھی زندہ یا مرحوم حکمران کا بت بنانے کا سوچا بھی نہیں۔ وہ پاکستان جس کی بنیادقائداعظم محمد علی جناح نے رکھی لیکن ان کے بت یا مجسمے آپ کو کہیں نہ ملیں گے لیکن آج ایک دم ایسا کیا ہو گیا کہ اب پاکستان میں سیاستدانوں کے مجسمے لگنا شروع ہوگئے ہیں۔
ہفتہ, 07 جون 2014 10:29
شہد کی مکھیاں امراض کی تشخیص میں مددگار
خرم منصور قاضی
شہد کی مکھیاں اور امراض کی تشخیص ؟ ہے نہ حیرت انگیز بات مگر یہ سچ ہے ۔گزشتہ برس آئنڈہوون میں ''ڈچ ڈیزائن ویک'' کی تقریب کے دوران پرتگالی ڈیزائنر سوسن سوارز نے ایک آلہ متعارف کروایا جو شہد کی مکھیوں کے ذریعے کینسر اوردیگرامراض کی تشخیص میں مددکرسکتا ہے۔
دراصل شہد کی مکھیوں میں سونگھنے کی حس غیرمعمولی حدتک تیز ہوتی ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کو امراض سے متعلق جراثیم کی مخصوص خوشبو پہچاننے کیلئے بھی سدھایا جاسکتا ہے۔
مثلاً جلد ، پھیپھڑوں، لبلبے کا کینسر اور تپ دق وغیرہ۔ یہ آلہ دو خانوں پرمشتمل ہے۔ چھوٹے خانے کو تشخیصی خانہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں لوگ اپنا سانس سے بھرتے ہیں اورنمی کی صورت میں سانس شیشے کی دیواروں پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ بڑے خانے میں پہلے سے سدھائی ہوئی مکھیاں موجود ہوتی ہیں ۔
جو مخصوص خوشبو کو پہچان کر چھوٹے خانے کی طرف لپکتی ہیں۔ خمدار بیرونی ٹیوب مکھیوںکو اندرونی چیمبر سے پرے رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مکھیوں کو ''پیولو ریفلیکس'' کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 10منٹ کے قلیل عرصہ میں سدھایا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں مخصوص خوشبو کو پہچاننے پرمکھیوں کو چینی ملے پانی کا محلول بطورانعام دیا جاتا ہے۔ مکھیوں کیلئے یہ ایک ایسا انعام ہے کہ جس کو وہ اپنی چھ ہفتہ پرمشتمل زندگی میں ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔
سائنسدانوں کو یقین ہے کہ مکھیاں خاص طورپرانسانی صحت کا راز بتانے والے غدودوں سے خارج ہونے والے کیمیائی مواد اور کئی امراض کی ابتدائی علامات کی درست تشخیص کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ادویات کی دنیا میں میں شہد کی مکھیوں کو بطوربائیوسنسرز اورسکریننگ ٹیسٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
انجکشن کو خدا حافظ
یورپ کے متعدد ملکوں میں انجکشنوں کے ذریعے دو اکے استعمال کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین نے منہ کے ذریعے دوا کے استعمال کو زیادہ محفوظ قرار دیا ہے۔
لیبون مانیٹرنگ باڈی کے ایک تازہ سروے کے مطابق انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے کے رجحان میں کمی کی بڑی وجہ سرنجوں کے ذریعے HIV وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات ہیں۔ چنانچہ 2002ء سے لے کرآج تک انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور 10ممالک میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں نے انجکشن نسخوں میں لکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ یورپی یونین کے 12 ممالک میں بذریعہ سرنج انجکشن کا استعمال2.5فیصد کم ہو چکا ہے۔
اب نسخوں میں کیپسول اور گولیاں تجویز کی جانے لگی ہیں۔ سرنجوں کے ذریعے نشے اور دیگر غیر محفوظ ادویات کے استعمال کئے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انجکشنوں کو خیر باد کہنے کی سوچ اور علاج کا متبادل طریقۂ کار اپنا لیا ہے۔
بیکٹیریا کے خلاف مدافعت کرنے والے قدرتی اینٹی بائیوٹکس
سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928ء میں سب سے پہلے اینٹی بیکٹریل طاقت کو دریافت کیا، جو اس وقت ایک کامیاب فطری علاج تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ متعدد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ریسرچ سے اینٹی بائیوٹک دریافت کئے گئے لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی نئی تحقیق نے بیکٹریا سے لڑنے والے 6 طرح کے قدرتی اینٹی بائیوٹکس کا انکشاف کیا ہے ۔
جن کو اگر روز مرہ خوراک میں شامل کیا جائے توامراض کے خلاف یہ ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔ ویسے ان کا حصول روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء سے پہلے ممکن ہو رہا ہے۔
دنیا بھر میں کئی ہزارقبل سے آج تک لہسن کو مختلف امراض کے علاج و معالجہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
جدید تحقیق اس امر کی تصدیق کر رہی ہے کہ لہسن میں ایسے اینٹی بائیوٹک قدرتی طور پر شامل ہیں جو نہ صرف دشمن بیکٹیریا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
گل پنج بزاری (امریکی جڑی بوٹی)
صدیوں سے استعمال ہونے والی یہ جڑی بوٹی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ متعدد بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔
عام طور پر اس جڑی بوٹی کا استعمال زخموں کے بھرنے، ٹوٹی ہڈی جوڑنے، خون سے زہر چوسنے سمیت مختلف بیکٹیریا کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی نزلہ اور زکام کی صورت میں بھی نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔
قدرتی اینٹی بائیوٹک سے بھرپور ادرک کا استعمال تاریخی طور پر سانس لینے کے عمل میں انفیکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ منہ کی مختلف بیماریوں کے لئے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ مثلاً منہ سے آنے والی ناگوار بدبو دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے۔
دنیا بھر میں اینٹی بیکٹریل علاج کے لئے شہد کا استعمال اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب مارکیٹ میں مصنوعی اینٹی بائیوٹک دستیاب نہیں ہوتے تھے۔
شہد کے اندر موجود اینٹی بائیوٹک معدے کے السراور جگر سمیت متعدد بیماریوں کے لئے مفید اور اکثیر ہے۔
آج تک متعدد تحقیقات لیموں میں اینٹی بائیوٹک کی موجودگی کو ثابت کر چکی ہیں۔
برٹش جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق لیموں کا استعمال متعدد بیماریوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیتا ہے۔ لیموں ایک ایسا قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے جو علاج کے دوران اندرونی و بیرونی دونوں سطحوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
محمر غذاء
آج کل ڈاکٹروں کی ایک کثیر تعداد ایسی خوراک کے زیادہ استعمال پر زور دے رہی ہے، جو دوست بیکٹیریا میں اضافہ کا سبب بنے اور اس کے لئے محمر سبزیاں اور مشروبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔
آم کیوں کھائے جائیں
گرمیاں آ چکی ہیں اور بازار میں آم بھی دستیاب ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں پانچ ایسی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ ہم آم کیوں کھائیں؟۔
(1) آم مختلف قسم کے اینزائم پر مشتمل ہوتا ہے۔
جو پروٹین کی زیادتی کے عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ عام طور پر کھانے کے بعد آم کھاتے ہیں۔ مختلف وٹامنز، منرلز اور ریشوں سے بھرپور یہ پھل نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔
(2) آم میں موجود خاص غذائی جُز (گلاسیمک انڈکس) کھانا کھانے سے فوری بڑھنے والی شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے۔
(3) آم میں میں پایا جانے والا وٹامن سی اور سفیدہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
(4)آم کے اندر موجود وٹامن اے آنکھوں کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس پھل کے استعمال سے انسان ''رات کا اندھا پن'' جیسی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) آم میں قدرتی طور پر شامل وٹامن ای نظامِ تولید کی پختگی اور تحریک کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور یہ مرد و خواتین دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔
بصارت اور کینسر کی دوا
حالیہ تحقیق کے مطابق مختلف قسم کے سرطان سے محفوظ رکھنے والی دوا سے ضعیف العمر افراد کی بصارت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
مثلاً اولسٹن سے عمر رسیدگی کے باعث ہونے والے آنکھوں کے مہلک امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس دوا کو تاحال آنکھوں کے امراض کے علاج کے لئے باقاعدہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا تاہم بعض ڈاکٹر ان افراد کو یہ دوا تجویز کرنے لگے ہیں جن کی بینائی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ اسی دواء سے آنکھوں کے امراض سے تحفظ پایا جانا ممکن ہے۔ اس تحقیق میں لندن کے مور فلیڈآئی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے برطانیہ کے تین مزید آئی سنٹرز کے ماہرین کی معاونت میں طبی مطالعہ کیا جس میں انہوں نے 131 ایسے مریضوں کو زیر تحقیق رکھا جن کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں ۔ جن افراد کو اولسٹن کے انجکشن لگائے گئے تھے ان کی بصارت معمولی سی زائل ہوئی جبکہ بہت سے افراد کی بینائی تیز ہو گئی اور آئی ٹیسٹ کے دوران انہوں نے لفظوں کے چارٹ کو بالکل صحیح طریقے سے شناخت کیا۔
زیادہ دیر بیٹھناسگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کرسکتا ہے
پٹسبرگ میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے کی عادت انسانی صحت پر سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ عمومی طور پر مختلف دفاتر میں ایک ملازم 5گھنٹے اور 40 منٹ سیٹ پر ضرور بیٹھ کر کام کرتا ہے۔
یہ تحقیق ایک امریکی ڈاکٹر مائیکل جینسن اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق لوگوں کو چہل قدمی کی زیادہ ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جینسن کا کہنا ہے کہ ایک یا آدھے گھنٹے کے لئے جم جا کر ورزش کرنے سے زیادہ دیر تک بیٹھنے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ورزش آپ کو زیادہ دیر تک بیٹھنے سے پیدا ہونے والے موٹاپے کے مضر اثرات سے نہیں بچا سکتی۔
محقق کے مطابق زیادہ دیر کر بیٹھنے سے دل کی بیماری اور شوگر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بتاتے ہوئے ڈاکٹر جینسن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کام کے دوران چہل قدمی یا کھڑے ہو کر کام کرنے سے ہم زیادہ بیٹھنے کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے 49 ہزار اور بڑی آنت کے کینسر کے 43 ہزار کیسز کی وجہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنا ہے۔
ہفتہ, 07 جون 2014 09:53
(پاکستان ایک نظر میں)- ہائے یہ بجلی
رانا محمد ذیشان
ہائے بجلی سستی ہوگئی۔ وہ بھی پورے 1روپے 48 پیسے سستی ۔
یہ خبر سن کر مجھے افسوس ہوا کہ حکمراں بھی کیسے کیسے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔کبھی بجلی سستی تو کبھی پٹرول مہنگا۔ میرے خیال میں بجلی تو کبھی وقت پر آتی ہی نہیں ہے اس لئے عوام کو بجلی مہنگی یا سستی ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ہوگا۔
یہ خبریں صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی تو ہیں۔ بجلی ہو یا نہ ہو غریب عوام روز اول سے بل بھرتے چلے آرہے ہیں اور یقینی طور پر آئندہ بھی ایسے کرتے رہیں گے۔ ہر نئی آنے والی حکومت وعدہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمت بڑھا کر غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اور پھر چند روز بعد بجلی مہنگی ہونے کی خوشخبری سنا دیتی ہے۔ بچارے صارفین کے پاس سوائے اتنی مہنگی بجلی استعمال کرنے کے کوئی چارا بھی تو نہیں بچا۔ احتجاج کا لفظ تو بھول ہی جایئے ہم اور آپ آئے روز اخبارات میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجوں کی خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں لیکن کیا حکومت یا ایوانوں میں بیٹھے لوگوں پر کبھی اس احتجاج کا ثر ہوا ہے؟ نہیں۔
ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جو ملک توانائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور لوگ 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں وہاں واپڈا اہلکاروں کی پوری فوج کو کس خوشی میں بھاری بھرکم تنخواؤں کے علاوہ مفت بجلی کے یونٹ فراہم کئے جارہے ہیں؟ ۔ یہ لوگ خود تو مفت بجلی کے مزے اڑاتے ہیں لیکن ان کے بل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے آج تک اس بات کا حساب کتاب تک نہیں رکھا کہ پورے پاکستان میں واپڈا اہلکار کتنی بڑی تعداد میں یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کا بل کس کھاتے میں جاتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ فری یونٹ کا سلسلہ بند کردیا جائے توسب سے پہلے تو بچارے غریب عوام پر بلوں کا بوچھ کچھ کم ہوجائے گا، توانائی بحران کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، سب سے اہم بات تو یہ کہ واپڈ اہلکاروں کے بل ادا کرنے سے واپڈا کی اپنی آمدن میں اضافہ ہوگا اور وہ خود بھی کنجوسی سے بجلی استعمال کریں گے۔
صرف اربوں روپے کے انرجی سیور اور سولر لیمپ عوام میں تقسیم کرنے سے ملک کے اندھیرے ختم نہیں ہوسکتے۔ حکو مت اگر واقعی ملک کی ترقی اور قوم کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ماتحت محکموں کو نوازنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ میں جانتا ہوں صرف واپڈا اہلکاروں کو بل ادا کرنے کے احکامات جاری کرنے سے کچھ حاصل نہیں گا ۔ لیکن قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔
نوٹ: چارسده . نٹ اور اسکی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق هونا ضروری نهیں
اگر آپ بهی همارے بلاگ سیکشن میں لکهنا چارهتے هیں، تو قلم اٹهائے اور ۵۰۰ سے ۸۰۰ الفاظ پر مشتمل مضمون لکهکر اپنی مکمل تعارف، تازه تصویر، ای میل ایڈریس ، فون نمبر کیساته اس ای میل پر روانه کردیں
|
2018/06/23 10:26:30
|
http://charsadda.net/index.php/component/k2/itemlist/tag/blog
|
mC4
|
صوابی میں جج کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار – Fibro Check News
واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا، دونوں خاندانوں کی آپس میں سات آٹھ سال سے دشمنی چلی آ رہی ہیں، ڈی پی او صوابی۔ فوٹو:فائل
پشاور: ڈی پی او صوابی کا کہنا ہے کہ پولیس نے جج آفتاب آفریدی کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
|
2021/06/16 08:12:18
|
https://fibrocheck.com/%D8%B5%D9%88%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%AC-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%AA%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%84%D9%88%D8%AB-%D9%85%D9%84%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA/
|
mC4
|
عمران خان کی ٹرمپ سے تاریخی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم - Baaghi TV
عمران خان کی ٹرمپ سے تاریخی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مابین آج تاریخی ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی ہے، دونوں ملکوں کے سربراہان کے مابین پہلے ون آن ون ملاقات ہوئی جبکہ بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دو طرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے اور تجارتی روابط کے فروغ سمیت اہم معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،
عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیر اعظم، دورہ کی دعوت ملی تو پاکستان جاؤں گا، ٹرمپ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما اس کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ نے کہاکہ پاکستان میں اب ایک عظیم لیڈر ہے، افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں، افغان مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے ، میں عمران خان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں اب ہماری بہت مدد کر رہا ہے، دہشتگردی کیخلاف دونوں ملکوں نے مل کر جنگ لڑی، امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، پاکستان کیساتھ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات جاری ہے،
پاکستان کیلیے امریکا انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے، عمران خان
امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی قوم اور وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے، انھیں دورہ پاکستان کی دعوت دی گئی تو وہ اسے ضرور قبول کریں گے، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی کےمقابلے میں افغان مسئلےکےحل کیلیےامن معاہدےکےزیادہ قریب ہیں، امیدہےآنیوالے دنوں میں طالبان پرمذاکرات جاری رکھنے پرزوردینے کےقابل ہوں گے، ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کیلیے تیار ہیں، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سےامن معاہدہ ہے، امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھاکہ وہ افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کر رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ میری اور عمران خان کی نئی قیادت آئی ہے، پاکستان ماضی میں امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، بھارتی وزیر اعظم نےبھی مقبوضہ کشمیر کےتنازع کےحل کیلیے مجھ سے کہا ہے، امریکامسئلہ کشمیرپر پاک بھارت تعلقات بہترکرنے میں مدد کر سکتا ہے،
عمران خان سے ملاقات کوانتہائی خوشگواردیکھ رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ افغان مسئلے کے حل کیلیے امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے، پاکستان نےدہشتگردی کیخلاف جنگ میں 70ہزار جانوں کی قربانی دی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو150 ارب ڈالرکانقصان ہوا، صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا ،پاکستان اوربھارت کو قریب لاسکتا ہے،
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کاعہدہ سنبھالنے کےبعد مجھے شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا، پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا، پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کیخلاف امریکا کا ساتھ دیا، ہمیں سخت رویہ ختم کرکےجنوبی ایشیا میں امن و استحکام لانا چاہیے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلیے امریکی صدرکی ثالثی کی پیشکش کاخیرمقدم کرتےہیں، انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف ہم نے مشترکہ جنگ لڑی،پاکستان کےلیے امریکا انتہائی اہمیت کاحامل ملک ہے، برصغیرمیں امن کے لیے امریکی صدرسے کردارادا کرنے کی درخواست کریں گے، افغان تنازع میں پاکستان نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا، وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا،
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے، وزیر اعظم کی آج کی ملاقاتوں کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، وزیر اعظم آج اہم کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے، وہ پاک امریکا بزنس کونسل کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو بھی دیں گے،
|
2020/01/22 09:14:09
|
https://baaghitv.com/imran-khan-ke-trump-sai-tareekhi-mulaqat/
|
mC4
|
''قیادت'' اور خوداعتمادی
مئی 03, 2014 12:40 AM, May 03, 2014
اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان میں وفاق اور تمام صوبوں میں جو حکومتیں برسراقتدار ہیں ان سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے عبارت ہیں جن کو عوام نے عام انتخابات میں اپنے ووٹوں سے منتخب کیا تھا۔ ان تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل اپنے اپنے انتخابی منشور عوام کے سامنے پیش کئے گئے تھے، یقیناً عوام کی طرف سے ایسے منشوروں میں کئے گئے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اعتماد کے ساتھ انہیں حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا۔ اس عوامی مینڈیٹ کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہوں نے قیادت کا منصب سنبھالا، سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اکثریتی جماعت کی حیثیت سے وفاقی حکومت بنائی، وزارت عظمیٰ کا منصب ایک بار پھر اسکے سربراہ میاں نواز شریف نے سنبھالا۔
آخر وہ محرکات کیا تھے جن کے باعث پاکستان کے عوام نے قیادت کا تاج پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے منتخب کیا؟ اس حوالے سے اس جماعت کے ان وعدوں سے عبارت منشور کا ذکر کرنا ضروری ہے جو اسکے قائد میاں نواز شریف نے انتخابات سے قبل 7 مارچ 2103 کو ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں پیش کیا۔ اس منشور کا اولین نکتہ یہ تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اقتدار میں آنے کے بعد مزدور کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہوار کر دیگی۔ توانائی بحران کا دو سال کے اندر خاتمہ کرکے لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائیگی۔ برسراقتدار آنے کے چھ ماہ بعد بلدیاتی الیکشن کرائے جائینگے۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرینگے ہر ضلع میں تمام سہولتوں سے آراستہ ہسپتال قائم کئے جائینگے، انہوں نے یہ سلوگن بھی دیا ''ہم بدلیں گے پاکستان'' انہوں نے کہا کہ ہمارے منشور کا پہلا نکتہ معیشت کی بحالی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی شرح بے قابو ہو چکی ہے اس پر قابو پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 گھنٹے سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے صنعتی شعبے اور عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ بحران ناقابل علاج نہیں بلکہ حکومتی کرپشن (پیپلز پارٹی کی حکومت) اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے''۔ مہنگائی پر قابو پانے، مزدور کی تنخواہ کم از کم پندرہ ہزار روپے اور پالیسی بناتے وقت بانیؒ پاکستان کے وضع کردہ اصولوں سے رہنمائی یقیناً یہی وہ نعرے اور وعدے تھے۔ عوام نے جن کے دام فریب میں گرفتار ہو کر موجودہ برسراقتدار قیادت کو اپنے لئے اور ملک کیلئے چنا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس منتخب قیادت کو ملک کے سیاہ وسپید کا اختیار سنبھالے ابھی صرف ایک سال کا عرصہ ہوا اور اس عرصے کے دوران اسکے اپنے وعدے کے مطابق بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا جب کہ جہاں تک مزدور کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کے وعدہ کا تعلق ہے۔ وہ تو اس اعلان کے تین ہی ماہ بعد وفا نہ کیا گیا گویا انتخابی منشور پر عملدرآمد پر بسم اللہ نہ پڑھی جا سکی۔ یہ قیادت کی فروگزاشت نہیں تھی۔ درحقیقت اس وعدے کا ایفا نہ ہونا ''قیادت'' میں اعتماد کا فقدان تھا۔ ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، سربفلک سیکرٹریٹوں میں ترقی یافتہ ممالک کے دفاتر سے کہیں زیادہ لاگت کی تزئین آرائش، وسیع وعریض کابینہ کے ارکان کی بیش قیمت گاڑیوں، وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی اور اسی قسم کے غیر ضروری بھاری مشاہرہ پانے والے ملازمین کیلئے قومی خزانے سے مختص بھاری رقوم کو ختم کرکے مزدوروں کی تنخواہیں بڑھانے کا وعدہ پووا کیا جا سکتا تھا کم از کم قیادت کے وعدہ کی لاج ہی رکھ لی جاتی مگر مشیروں، وزیروں نے یقیناً ایسی دلیلیں دی ہونگی کہ قیادت کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔
انہیں یاد ہو گا کہ انہوں نے منشور پیش کرتے وقت کہا تھا کہ پالیسی وضع کرنے کے ہم بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے وضع کردہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کرینگے جس طرح پاکستان کی قیادت کی کرسی پر براجمان انہوں نے قوم سے کئے گئے دیگر وعدوں کو وفا کرنے میں تساہل سے کام کیا وہاں انہوں نے قائداعظمؒ کی ذات گرامی کی طرف بھی رہنمائی کیلئے خدا معلوم رجوع کرنے پر کیوں توجہ نہ دی؟
بانیؒ پاکستان نے عوام کے ایسے ہی مصائب ومسائل کے حوالے سے 1943ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنی تقریر میں فرمایا تھا… ''جمہوریت ہمارے خون میں رچی بسی ہوئی ہے یہ ہمارے رگ وریشے میں پیوست ہے صدیوں کے نامساعد حالات نے اس خون کو محض سرد کر دیا ہے اور وہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے اس لئے صرف آپ کی شریانیں کام نہیں کر رہی ہیں۔ یہاں میں ان زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کر دینا چاہتا ہوں جو ہماری وجہ ہی سے پھل پھول رہے ہیں یعنی ایک ایسے نظام کے ذریعے جو انتہائی ناقص اور غلط ہے اور جس نے انہیں اس قدر مطلبی اور مفاد پرست بنا دیا ہے کہ انکے ساتھ اب کسی قسم کی بحث وتمحیص بھی فضول ہے۔ انکے خون میں عوام کا استحصال رچ بس گیا ہے وہ اسلام کے سبق کو بھول چکے ہیں ہوس اور خودپرستی میں یہ صرف خود فائدہ اٹھا رہے ہیں اور دوسروں کے مفادات کو انہوں نے پوری طرح سے پس پشت ڈال دیا ہے… میں متعدد دیہات میں گیا… وہاں ہمارے لاکھوں لوگوں کو دن میں ایک وقت کی روٹی پیٹ بھر کر میسر نہیں ہوتی کیا اسی کا نام تہذیب ہے؟ پاکستان کی غرض وغایت کیا یہی ہے؟… اگر پاکستان کی غرض وغایت یہی ہے تو پھر ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے''۔
موجودہ ملکی منتخب قیادت کو بلاخوف وخطر خوداعتمادی کے جوہر کو ملک وقوم کی بہتری اور خوشحالی کیلئے استعمال میں لانا ہو گا۔ تبھی وہ حضرت قائداعظمؒ کے سیاسی وارث ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر اسکے زرعی میدانوں سے حاصل ہونیوالی اجناس کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں، غریبوں کے بچے ملک میں پیدا ہونے والے پھلوں کیلئے ترستے ہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کو ایک حد تک مٹا کر رکھ دیا ہے۔ یہ احساس جمہوری اداروں کے ارکان سمیت وزرائ، مشیروں، معاونین خصوصی قسم کی جو ''تکون'' کو نہیں ہو سکتا جو فاقہ کش غریب عوام کے ٹیکسوں سے عالیشان محل نما بنگلوں میں عیش وعشرت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ایسے مخصوص طبقے کو تو آٹا، چاول، دالوں اور سبزیوں وغیرہ کی ہوشربا گرانی کا بھی کوئی پتہ نہیں ہوتا کیونکہ انہیں سبھی کچھ عوام ہی کے ٹیکسوں کی بدولت حاصل ہو رہا ہے۔ ایسے حالات کا موجودہ منتخب قیادت کو ادراک ہونا اسکے اپنے مفاد میں ہے۔ قیادت ''خود اعتمادی'' کیلئے عوامی فلاح کے ایسے اقدامات اٹھانے کی طرف توجہ ہی نہ دے بلکہ عملی قدم اٹھائے۔ جو صحیح معنوں میں ملک کے عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کا موجب ہو۔ سرکاری محکموں سے کرپشن کی لعنت ختم ہو، عوام کے کام صرف ایک ٹیلی فون کال پر متعلقہ محکمہ انجام دینے کا پابند ہو کسی چاپلوس، خوشامدی اور خودغرض حاشیہ نشین سے مشوروں کا سلسلہ منقطع کرکے ہی قیادت عوامی معیار پر پورا اتر سکتی ہے، اور بابائے قوم کے وارث کے طور پر تاریخ میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
|
2018/12/16 07:46:59
|
https://www.nawaiwaqt.com.pk/03-May-2014/300159
|
mC4
|
نوکنڈی،پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس متفقہ طور پر ماہ اپریل و مئی کا نرخنامہ ترتیب دیا گیا
نوکنڈی،پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس
متفقہ طور پر ماہ اپریل و مئی کا نرخنامہ ترتیب دیا گیا
نوکنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 اپریل2018ء) پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت تحصیلدار قاضی پرویز منعقد ہوا جس میں رکن ضلع کونسل چاغی خان محمدآصف سنجرانی،مولانا محمد عالم، ملک محمد اعظم محمدزئی ،میر انور جان ایجباڑی،چوہدری روپ چند،حاجی عبدالسلام کشانی،انجمن تاجران کے واحد بخش شیرزئی،سیف اللہ نورزئی،عبداللہ ،حاجی یار محمد برہانزئی،سونو و دیگر نے شرکت کی جہاں متفقہ طور پر ماہ اپریل و مئی کا نرخنامہ ترتیب دیا گیا اس موقع پر تحصیلدار قاضی پرویز نے کہا کہ نرخنامہ تمام دکانداروں کو مہیا کی جائیگی جہاں انہیں واضح جگہ پہ آویزان کیا جائے اور صارفین کو نرخنامہ کے تحت سودا سلف دی جائے انہوں نے کہا کہ زخیرہ اندوزئی اور گرانفروشی کرنے اور نرخنامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کیساتھ کوئی نرمی نہیں ہوگی بلکہ آئنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا انہوں نے کہا کہ زائد المعیاد اشیاء رکھنے والے دکانداورں کو بھاری بھر جرمانہ سمیت سخت سزا دینے سے گریز نہیں کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ عوام گرنفروشوں اور زخیرہ اندوزی کرنے والوں کی نشاندہی کریں تاکہ انتظامیہ بروقت کاروائی کرکے صارفین کو ریلیف فرام کرسیکں اس موقع پر خان محمد آصف سنجرانی نے بازار میں گرانفروشی اور زائد المعیاد اشیاء رکھنے والے دکانداروں پہ چھاپے اور انہیں گرفتار کرنے پہ اے سی تفتان اور تحصیلدار کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ علاقے سے گرانفروشی اور زائد المعیاد اشیاء رکھنے والے دکانداروں کے خلاف انتظامیہ کے ہر عمل کی حمایت کرینگے اور زائد المعیاد اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں پہ چھاپے مار کر سخت سے سخت سزا دینے کی سفارش کرتے ہیں۔
|
2021/01/22 23:25:43
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-04-18/news-1494965.html
|
mC4
|
عمران خان کہتے ہیں سارا ملک رکا ہوا ہے، جج صاحبان پاناما کیس کا جلد فیصلہ سنائیں
اسلام آباد (92 نیوز) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ سے پانامہ کا فیصلہ جلد سنانے کی اپیل کر دی۔۔کہتےہیں ملک کا سارا نظام اسوقت رکا ہوا ہے۔۔۔ایل اوسی کی صورتحال لاہور کا سانحہ اور پورے ملک کے مسائل سب کے سامنے ہیں۔۔۔۔معزز ججز سے درخواست ہے پانامہ کا فیصلہ جلدی کر دیں۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سےپانامہ کا فیصلہ جلدی کرنے کی درخواست ہے ۔پوری قوم کو پانامہ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
عمران خان کا کہناتھا کہ ان کے لندن فلیٹ کا یہ لوگ اپنے اربوں کے محلات سے موازنہ کر رہے ہیں، کدھر 60 لاکھ کا فلیٹ اور کدھر حسین نواز کا ساڑھے چھ سو کروڑ کا گھر۔۔۔۔ معصوم شکلیں بناکردونوں بھائی قوم کو بیوقوف بناتے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے بعد وزراء کے اقاموں کے انکشافات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ حکومتی وزراء کا اقامہ ہولڈر نکلنا باعث ندامت ہے۔۔اور اب تحریک انصاف وزیراعظم کے بعد وفاقی وزراء کا اقامہ ہولڈروں کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہناتھا کہ اگرانھیں نااہل کیاگیاتویہ کرپٹ مافیاسےنجات کی بہت تھوڑی قیمت ہوگی۔ کپتان نے کہا کہ خورشید شاہ اور پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن سے نکل آئے ہیں۔ عمران خان نے راولپنڈی میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے اربوں روپے کا پلازہ بننے کا بھی انکشاف کیا۔
|
2022/01/17 20:10:32
|
https://urdu.92newshd.tv/about/%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D9%85%D9%84%DA%A9-%D8%B1%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%8C
|
mC4
|
بلدیاتی اداروں کے اختیارات، ایم کیو ایم سپریم کورٹ پہنچ گئی mqm-pakistan
کراچی : متحد ہ قومی مو ومنٹ (پاکستان) کی جانب سے بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دلوانے کے لیے عدالت عظمیٰ کے روبروآئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت آئینی درخواست دائر کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے عدالت میں بلدیاتی اداروں اختیارات دینے کے حوالے سے پٹیشن دائر کی ہے جس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت استدعا کی گئی ہے کہ سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کو بالعموم اور سندھ کے شہری علاقوں کو بالخصوص تفویض کیے اختیارات فوری طور پر سندھ حکومت سے تفویض کراوئے جائیں۔
درخواست کا متن
درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 7 کی رو سے بھی صوبائی حکومتیں اس امر کی پابند ہیں کہ جو اختیارات پاکستان کی پارلیمنٹ نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کیے ہیں وہ اختیارات صوبائی حکومت ضلع، تحصیل، تعلقہ اور یونین کمیٹی تک منتقل کئے جائیں تاکہ بلدیاتی اختیارات کے ثمرات اور اس کی حقیقی فوائد عوام تک پہنچائے جاسکیں۔
درخواست بیرسٹر فروغ نسیم کے توسط سے جمع کرائی گئی
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ میں یہ درخواست ایم کیوا یم (پاکستان) کے کنونیر ڈاکٹر فاروق ستار و اراکین رابطہ کمیٹی بشمول میئر کراچی وسیم اختر، میئر حیدرآباد طیب حسین، چیئرمین بلدیہ وسطی کراچی ریحان ہاشمی، چیئرمین بلدیہ کورنگی کراچی نیئر رضا، چیئر مین بلدیہ شرقی کراچی معید انور اور چیئرمین میرپور خاص فاروق جمیل درانی کی جانب سے معروف قانون دان بیرسٹر فروغ نسیم نے دائر کی۔
وفاق اور سندھ حکومت کو فریق بنایا گیا
خیال رہے کہ اس درخواست میں ایم کیو ایم (پاکستان) نے وفاق پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ، صوبائی حکومت سندھ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ، سیکریٹری سندھ اسمبلی، سیکریٹری لاء ڈپارٹمنٹ سندھ ، سیکریٹری مالیات سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمیٹیرن کو فریق بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو
ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس آئینی درخواست میں حکومت سندھ کی زیادتیوں سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے کہ پی پی نہ تو عوام کے مسائل حل کررہی ہے اور نہ ہی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کیلئے تیار ہے علاوہ ازیں اس آئینی درخواست کے ذریعے سندھ کے شہری علاقوں میں صحت و صفائی کی ناقص صورتحال، انفراسٹریکچر کی تباہی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس کے ذریعے سے کراچی کو پتھروں کے زمانے کے شہر میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں نہ تو صحت و صفائی کا کوئی نظام ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کا موثر انتظام ہے جس کے باعث پاکستان کا سب سے بڑا شہر جو کبھی اپنی روشنیوں سے پہنچانا جاتا تھا آج کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے درخواست کے متن سے آگاہ کیا
بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس آئینی درخواست میں آئین پاکستان کی ان تمام دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے جس کی حکومت سندھ کھلی خلاف ورزی کررہی ہے بالخصوص سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کی ان شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو نہ صرف آئین سے متصادم ہے بلکہ سیاسی و اخلاقی اعتبار سے بھی ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 میں کی جانے والی وہ ترامیم جو عددی اکثریت کی بنیاد پر خلاف قانون و آئین منظور کی گئی انہیں بھی کالعدم قرار دینے کی درخواست دی گئی ہے کیوں کہ یہ تمام ترامیم اور قانون سازی کے دوران تمام آئینی مسلمہ پارلیمانی و جمہوری روایات کی دھجیاں بھی اڑائی گئیں۔
میئر کراچی وسیم اختر کی میڈیا سے بات چیت
میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اس آئینی درخواست کے ذریعے ایم کیو ایم (پاکستان) نے سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی، حیدرآباد، میرپور خاس اور سکھر کا مقدمہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے روبرو رکھا ہے اور ایم کیو ایم (پاکستان) یقین رکھتی ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کا دفاع آئین و قانون کے مطابق کرنے میں کامیاب ہوگی۔
|
2018/12/17 02:14:56
|
https://urdu.arynews.tv/mqm-pakistan-in-supreme-court-over-local-bodies-power/
|
mC4
|
وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین لاھور کی جانب سے ایڈن ایونیو میں تین روزہ سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔لاھور کے علاقے ایڈن ایونیو میں منعقدہ سمر کیمپ ایم ڈبلیو ایم لاھور کی سیکرٹری جنرل محترمہ حنا تقوی ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل محترمہ عظمی نقوی ، محترمہ نجبہ اور محترمہ فرحانہ نے مختلف فقہی اور دینی موضوعات پر درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔
شرکا سے اپنے خطاب میں محترمہ حنا تقوی کا کہنا تھا کہ انسان کی حقیقی عزت و کامیابی اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ علم کے ذریعے اپنے رب کی معرفت حاصل کرے اور اسکے بتاے ہوے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کی دین سے آشنائ اور آگہی کے لیے اقدامات کرنا والدین کے اولین فرائض میں شامل ہے۔
|
2020/05/31 08:21:33
|
http://mwmpak.org/departments/2015-04-23-09-40-20/2019-07-15-18-15-25
|
mC4
|
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.