text
stringlengths 48
178k
| timestamp
timestamp[us]date 2013-05-18 05:25:54
2020-08-15 21:42:23
| url
stringlengths 18
1.65k
|
|---|---|---|
غیر قانونی ٹیکسز کی مخالفت بھی غداری ہے؟ تحریر : شیرنادر شاہی – Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
ضلع نگر ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے عوامی پولو گرائونڈ چھلت میں بڑا پروگرام۔
استور میں شدید بارشوں کے باعث عیدگاہ اور گوریکوٹ میں سٹرکیں تالاب کا منظر پیش،ٹریفک بُری طرح متاثر۔
پیسے لیکر ترقیاتی کام مکمل نہیں کرنے والے ٹھیکدار جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کی تیاری کریں۔ کمشنر دیامر کا دبنگ اعلان
جب تک روایتی سیاست چلتی رہے گی غریب عوام باریوں میں پستے رہیں گے۔ رہنما تحریک انصاف
سی پیک کے گیٹ وے پر موجود سوست ڈرائی پورٹ کی این ایل سی کو حوالگی ایک معمہ بن گئی۔
متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کا اپنے حقوق کیلئے جلسہ، ہجرت کرنے سے صاف انکار۔
ضلع نگر کے عوام صاف پانی کو ترس گئے، ندی میں نالے کی گندے پانی کی ملاوٹ سے بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خدشہ۔
ضلع نگر تحصیل چھلت شینبر بر ویلی روڑکی تعمیر میں تاخیر پر وزیر اعلیٰ کے سازش ہونے کے انکشاف کے بعد میں عوامی حلقوں میں تشویش لہر۔
بابوسر روڈ پر بہت جلد کام شروع کیا جائے گا۔ ڈی سی دیامر
خارجہ پالیسی میں کوئی کنفیوز ن نہیں ،بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ
پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کو زبردست سیاسی جھٹکا، اہم اور سرگرم جیالا کپتان کے پیارے ہوگئے۔
جدید طرز تعمیر اور سہولیات سے آراستہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ افتتاح کیلئے تیار۔
کشمیر کا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق نہیں، ممبر قانون ساز اسمبلی کا مضحکہ خیز بیان ۔
ضلع نگر میں محکمہ فشریز کے ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم،ذمہ داران غائب۔
انجمن تاجران ضلع نگرچھلت شینبر کا الیکشن۔ نئے عہدے داران کا منتخب۔
غیر قانونی ٹیکسز کی مخالفت بھی غداری ہے؟ تحریر : شیرنادر شاہی
in کالمز December 30, 2017 0 48 مناظر
گلگت بلتستان پچھلے کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہروں، ہڑتالوں اور لانگ مارچ کی زد میں ہے اس کی بنیادی وجہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچنے والے نام نہاد نمائندوں کی غفلت اور عوام سے زیادہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسائل سے رو گردانی اختیار کرنا ہے، عوامی نمائندوں کا کام عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنا، ان کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا، ان کے حقوق ان کی دہلیز تک پہچانا ، ان کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کے خلاف ہونے والی بیرونی شازشوں کا سینہ تان کر مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور اسی لئے عوام اپنا ضمیر(ووٹ) ان نمائندوں کو دے دیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سارا نظام اس کے برعکس ہے الیکشن کے دنوں میں گھر گھر جا کر عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور سہانے خواب دکھا کر اسمبلی تک پہنچنے والے جیتنے کے بعد عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کے بجائے ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے لگتے ہیں اور ان کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر عوام کش پالیسیاں بناتے ہیں اور جب عوام اس کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ اس حد سے گزر جاتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں عوامی ایکشن کمیٹی نے گندم سبسڈی خاتمے کے خلاف بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا کیونکہ یہ گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق تھا اور پچھلے ستر سالوں سے صرف گندم سبسڈی کے لئے اپنی آزادی قربان کرنے والی قوم کے سر سے سبسڈی بھی اٹھ جائے تو ہمسایہ ریاست کا کونسا احسان یاد کرنے کے قابل رہ جاتا ہے ، ہفتوں تک روڑ پر دھرنے دینے والے عوام کو حکومت وقت نے غدار اور ایجنٹ جیسے القابات سے نوازا اور ان پر دیگر الزامات بھی لگائے گئے حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ نام نہاد صوبائی حکومت کے منتخب نمائندے وفاقی حکومت سے خود یہ التجا کرتے کہ سبسڈ ی کا خاتمہ عوام دشمنی کے مترادف ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اگر سبسڈی ختم ہوا تو لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن اس کے برعکس مہدی سرکار نے عوام کے خلاف ہی فیصلہ سنا دیا لیکن سلام ایکشن کمیٹی اور عوام کو جو اپنے مطالبات سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور بالآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں اور مطالبات منظور کر دیئے۔
پچھلے ایک ماہ سے گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنوں اور غیروں کے ظلم و ستم کے سامنے بھرپور احتجاج کر رہے ہیں اور پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی و جمہوری حق ہے ایک طرف حکومت نے متنازعہ خطے کے غریب عوام پر ”No taxation without representation“ کے عالمی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ٹیکس ایڈپٹیشن ایکٹ کی مد میں غیرقانونی اور غیر آئینی ٹیکسز مسلط کی ہیں اوپر سے پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف دن بدن نت نئے پروپیگنڈے بھی کر رہی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعلیٰ اور دیگر ممبران اسمبلی خود بخود ایسے عوام کش پالیسیوں کے خلاف وفاقی حکومت کے سامنے سراپا احتجاج بنتے اور یہ باور کراتے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس علاقے پر پاکستانی آئین کا اطلاق نہیں ہوتا تو یہاں ٹیکسز کا نفاذ عالمی قوانین کی خلاف ہے لیکن ایسے جرات مندانہ اقدام نام نہاد عوامی نمائندوں سے رکھنا فضول ہیں کیونکہ یہ عوام کے بجائے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں اس کا اندازہ وزیر اعلیٰ، وزراء، ممبران اسمبلی حتیٰ کہ میڈیا کوارڈینٹرز کے مسلسل غیر سنجیدہ بیانات، الزامات اور نامناسب باتوں سے واضح ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان اور ان کی کچن کیبنٹ کی طرف سے عوامی ایکشن کمیٹی، انجمن تاجران اور عوام گلگت بلتستان پر لگائے جانے والے الزامات افسوسناک ہیں کیونکہ خطے کے اندر اٹھنے والی پرامن تحریک کے مطابات حل کرنے کے بجائے ان کو بیرونی ایجنڈا اور تحریک کے مقامی رہنماؤں کو بیرونی ایجنٹ قرار دینا غلط حرکت ہے اور ان کے نتائج بھی برے آ سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی حکمرانوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں نے اسّی کی دہائی میں حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی پرامن قوم پرست تحریکوں کے قائدین پر بھی اسی طرح کے بے ہودہ الزامات لگایا تھا تاکہ عوام ان سے دور رہے لیکن یہ حکومت اور ریاست کو مہنگا پڑ گیا کیونکہ آج نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان تحریکوں میں شامل ہیں اور ان کے نظریات کو تقویت مل رہی ہے جبکہ حکومتی جھوٹے الزامات بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں لیکن اس وقت حکومت بجائے الزامات لگانے کے ان تحریکوں کے جائز مطالبات پوری کرتی یا ان قوم پرستوں کو مناتی تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ آج پاکستان مسلم لیگ کی مقامی حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے حالانکہ ان کے مطالبات بالکل جائز اور عالمی قوانین کے مطابق ہیں کیا متنازعہ علاقے میں ٹیکسز کا نفاذ قانونی ہے؟ کیا آئین میں شامل کئے بغیر پاکستان کے اسمبلیوں میں نمائندگی دیئے بغیر ٹیکسز لگانا جائز ہے؟ کیا حکومت خود گلگت بلتستان کو متنازعہ نہیں سمجھتی؟ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہےاور پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں یہاں کے دو ملین عوام کی نمائندگی نہیں ہے تو پھر جابرانہ ٹیکسز کا نفاذ کس قانون کے تحت؟ اور ان غیر قانونی ،جابرانہ و غنڈہ ٹیکسز کے خلاف آواز اٹھانے والے پرامن عوام بیرونی ایجنٹ یا غدار کیسے؟
حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے غیر قانونی ٹیکسز کو فی ا لفور ختم کر ے اور پرامن عوام پر فرقہ واریت اور بیرونی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاکر انہیں بدنام کرنے اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے بجائے اپنے آمرانہ رویے پر عوام سے معافی مانگیں۔
آئینی حقوق، گلگت،بلتستان،پاکستان سٹیٹ سبجیکٹ،گلگت بلتستان،کشمیر،مہاراجہ،قانون،وفاق،پاکستان ٹیکس، گلگت بلتستان،حکومت 2017-12-30
Previous: حفیظ الرحمان سے تصدیق شدہ ایجنٹوں کو عوامی بیداری تحریک کے چیئرمین نے کیا کہا اپ جان کر حیران ہونگے
Next: سال 2017 کے پسندیدہ ترین اسمارٹ فونز پر سروے مکمل۔
جانور اور قانون سازی
| 2018-04-21T00:08:49
|
http://tehreernews.com/?p=4890
|
”میزبان نے کپورے کاٹ کر رکھے ہوئے تھے، جب شنیرا نے
”میزبان نے کپورے کاٹ کر رکھے ہوئے تھے، جب شنیرا نے دیکھا تو۔۔۔“ وسیم اکرم نے اہلیہ کیساتھ پیش آنے والا مزاحیہ ترین واقعہ سنا دیا، اہلیہ کو پتہ چلا تو انہوں نے ایسی ٹویٹ کر دی کہ سوشل میڈیا پر ہنسی کا طوفان آ گیا
”میزبان نے کپورے کاٹ کر رکھے ہوئے تھے، جب شنیرا نے دیکھا تو۔۔۔“ وسیم اکرم نے ...
May 07, 2017 | 14:48:PM 2:48 PM, May 07, 2017
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوئنگ کے سلطان حقیقی زندگی میں بھی ’یارکر‘ مارنے سے باز نہیں آتے اور اپنی آسٹریلوی اہلیہ شنیرا اکرم کیساتھ پیش آنے والا ایسا واقعہ سنا دیا کہ سٹوڈیو میں بیٹھے تمام افراد کا ہنسی سے برا حال ہو گیا۔
وسیم اکرم نے بتایا کہ ”2 سال پہلے میں اور شنیرا ایک گھر میں کھانے پر گئے تو انہوں نے قیمے میں کپورے ڈالے ہوئے تھے، جو کٹے ہوئے تھے ، شنیرا نے سمجھا کہ یہ ’مشرومز‘ ہیں، اس نے جیسے ہی دیکھا تو کہا کہ واﺅ! مشرومز، میں نے اس وقت اسے کھانے دیا ،لیکن جب میں نے اس کو بعد میں بتایا کہ جو وہ کھا کر آئی ہے حقیقت میں وہ کیا، تو ششدر رہ گئی لیکن پھر بڑا انجوائے کیا ۔“
Meri wife gai dinner per tu host nay Kapooray kaat ker rakhy huay. Wo boli "Oh Mushrooms". Khanay k baad bataya yea kya thy - Wasim Akram ???????? pic.twitter.com/FL7eTT2zrz
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پروگرام میں وسیم اکرم نے واقعہ سنایا وہ سوشل میڈیا پر بھی آ گیا اور شنیرا ’بھابھی‘ کی نظر سے بھی گزرا تو وہ بھی اپنی رائے کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”واقعی؟ اور میں یہاں یہ سوچ رہی ہوں کہ تم کام پر کرکٹ کی بات کرنے جاتے ہو۔۔۔“
Really @wasimakramlive ? And here I am thinking you go to work to talk about cricket..... #sleepingonthecouch #GameOnHai https://t.co/uBzPkldB0H
شنیرا اکرم کا ٹویٹ وسیم اکرم تک پہنچا تو انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ” کوئی فکر نہیں۔۔۔! لیکن یہ کہانی بتانے لائق تھی۔“
No worries @iamshaniera, but that story was totally worth it https://t.co/NJuuE93Nvt
— Wasim Akram (@wasimakramlive) April 25, 2017
| 2019-10-15T21:40:40
|
https://dailypakistan.com.pk/07-May-2017/573051
|
جے این یو حملے کے خلاف نکلا ’شہریوں کا مارچ‘.
• بائیڈن کے امریکہ میں کوئی محفوظ نہیں ہوگا:ٹرمپ• برازیل میں کرونا سے 70000 سے زیادہ افراد ہلاک• کپوارہ میں ایل او سی پر گھات لگا کر دو جنگجوؤں کو ہلاک کردیا: فوج• ملک میں کورونا وائرس:ریکارڈ 27 ہزار نئے کیسز،ہلاکتیں 519• وزیر اعظم مودی نے’من کی بات‘ کے لئے تجاویزات طلب کیں• دنیا بھرمیں کورونا سے اب تک 5.60 لاکھ افراد ہلاک
جے این یو حملے کے خلاف نکلا ’شہریوں کا مارچ‘
Thu 09 Jan 2020, 20:43:57
نئی دہلی، 09 جنوری (یو این آئی) ملک کےممتاز سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور اساتذہ نے قومی راجدھانی دار الحکومت نئی دہلی میں جمعرات کو جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے یو این) میں نقاب پوشوں کے حملے کے خلاف ’شہریوں کا مارچ‘نکال کر وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کو برخاست کرنےکا مطالبہ کیا۔ طلبہ کے خلاف کے گئے حملے کی مخالفت میں شہریوں کے مارچ نے غیرجانبدار عدالتی تفتیش کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم ) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، سی پی آئی ایم کے سابق جنرل سکریٹری پرکاش کرات، سابق راجیہ سبھا رکن برندا کرات، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ، معروف سوشلسٹ رہنما شرد یادو، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اورراجیہ سبھا کے رکن منوج جھا، ممتاز وکیل پرشانت بھوشن سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے قومی دار الحکومت کے منڈی ہاؤس سے وزارت فروغ انسانی وسائل کے سامنے تک مارچ کیا۔ اس میں جے این یو کے اساتذہ اور طلبہ سمیت دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) جامعیہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) اور امبیڈکر یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ نے حصہ لیا۔
ریلی میں شرکت کرنے والے طلبہ اورا ساتذہ نے اپنے اپنے ہاتھوں میں تختیاں اور بینر لیے مسٹر جگدیش کمار کے اس حملے میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا اور مودی حکومت سے انھیں علیٰ الفور برخاست کرنے کا مطالبہ کیا اور نقاب پوش حملہ آوروں کو بلا تاخیر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مرلی منوہر پرساد سنگھ اور جے این یو ٹیچرس اسوسی ایشن اور جے این یو طلبہ یونین (اسٹوڈنٹس یونین ) کی رہنما وغیرہ بھی شامل تھیں۔
| 2020-07-13T02:00:06
|
https://www.etemaaddaily.com/specials-news/citizens-march-against-jnu-attack:65670
|
فیصلہ 4 دن بعد - Khouj News
فیصلہ 4 دن بعد
اصغر خان کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقاقی کمیٹی کی جانب سے سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی طلبی کا فیصلہ پیر کو کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اصغر خان کیس میں احسان صادق کی سربراہی میں کمیٹی تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے طریقہ کار پر خصوصی پیپرز لکھ رہی ہے جسے 'اسٹریٹجک دستاویز' کا نام دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک پیپر میں انکوائری کو حتمی نتیجے پر پہنچانے کے لیے طریقہ کار تحریر ہوگا جب کہ نامزد ملزم سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر کی طلبی کا فیصلہ بھی 21 مئی کو کیا جائے گا۔
شوبز34 mins پہلے
| 2018-05-21T08:44:14
|
https://khouj.com/18/05/2018/32279/
|
مقداریہ سہل - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
(Quantitative Easing سے رجوع مکرر)
سانچہ:Public finance مقداریہ سہل[1][2] ایک غیر روایتی مالی حکمت عملی ہے جو مرکزی مصرف معیشت میں جوش و خروش پیدا کرنے کے لیے اس وقت استعمال کرتے ہیں جب روایتی مالی حکمت عملی موثر ثابت نہ ہو رہی ہو۔ مرکزی مصرف مالی اثاثے خریدتے ہیں تاکہ ایک معلوم مقدار کا پیسہ معیشت میں ڈالا جائے۔ یہ روایتی حکمت عملی سے ممیز ہے جس میں حکومتی بند خریدے یا فروخت کیے جاتے ہیں تاکہ شرح سود معینہ نشانہ قدر پر رہے۔
2007 سے شروع ہونے والے زبردست مالی بحران[3] نے امریکا اور یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان ممالک کی معیشتوں کے بالکل بیٹھ جانے کا خطرہ ہو گیا ہے۔ ڈر اس بات کا بھی ہے کہ لوگوں کا کاغذی سکّہ رائج الوقت سے اعتبار ہی نہ اٹھ جائے جیسا کہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے اندازہ ہو رہا ہے۔ امریکا میں فیڈرل ریزرو، انگلستان میں بینک آف انگلینڈ اور یورپ میں یورپی مرکزی بینک نے کاغذی سکّہ رائج الوقت بڑی مقدار میں چھاپ کر دوسرے بینکوں سے مال خریدنا شروع کر دیا ہے تا کہ زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور معیشت رواں رہے۔ اس حکمت عملی کو "مقداری تسہیل" [4][5] کا نام دیا گیا ہے۔ امریکا میں پہلی مقداری تسہیل نومبر 2008 سے مئی 2010 تک جاری رہی۔ دوسری مقداری تسہیل نومبر 2010 سے جون 2011 تک جاری رہی۔ تیسری مقداری تسہیل 13 ستمبر 2012 سے شروع کی گئی ہے جس میں ہر ماہ 40 ارب ڈالر چھاپے جائینگے۔[6] یعنی ہر گھنٹے میں ساڑھے پانچ کروڑ۔ یہ مقدار دنیا بھر میں ہر گھنٹے میں بازیاب ہونے والے سونے کی مالیت سے پانچ ہزار گنا زیادہ ہے۔ دنیا کے دوسری کاغذی سکّہ رائج الوقت اس کے علاوہ ہیں۔
یہ مرکزی بینک اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وفاقی ذخائر کی شرح سود میں اضافہ نہیں ہونے دے رہے جو ٹیلر کے اصول کے مطابق نوٹ زیادہ چھاپنے کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ اندازہ ہے کہ امریکا میں 5 ٹریلین ڈالر اس عرصہ میں مقداری تسہیل کے نام پر چھاپے گئے۔ یہ اتنی بڑی مقدار ہے کہ بچے بوڑھے سمیت ہر امریکی کو 17000 ڈالر دیے جا سکتے تھے۔[7] اور اس طرح حاصل ہونے والا معیشت کو بڑھاوا زیادہ نمایاں بھی ہوتا۔
منطتقی بات یہ ہے کہ اگر زبوں حال معیشت کے لیے مقداری تسہیل اتنی ہی کارآمد چیز ہے تو اسے مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں اپنا لیا جاتا؟ صرف برے وقت میں ہی کیوں اس سے استفادہ کیا جاتا ہے؟ وجہ صاف ہے کہ مقداری تسہیل سے ملنے والا سہارا عارضی ہوتا ہے اور بعد میں اس کی قیمت زبردست افراط زر ( مہنگائ ) کی شکل میں چکانی پڑتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے مرکزی بینکوں کے مالکان حکومتوں کی مدد سے عوام کو نچوڑ رہے ہیں۔[8][9]
↑ "Loose thinking". The Economist. 15 October 2009. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. تحقق من التاريخ في: |archive-date= (معاونت)
↑ "Global Financial Crisis Timeline: 2007-2012". usfn.org. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. تحقق من التاريخ في: |archive-date= (معاونت)
↑ "QE3: What is quantitative easing? And will it help the economy?". بلاگ واشنگٹن پوسٹ.
↑ "Quantitative easing explained" (بزبان انگریزی).
↑ "the-fed-should-stop-paying-banks-not-to-lend". نیویارک ٹائمز. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. تحقق من التاريخ في: |archive-date= (معاونت)
↑ "Bernanke-on-fed-policies". theblaze. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. تحقق من التاريخ في: |archive-date= (معاونت)
↑ "root cause of poverty" (PDF) (بزبان انگریزی).
↑ "دنیا کے آٹھ سب سے بڑے مرکزی بینک اور انکا کاغذی سکّہ رائج الوقت چھاپنا". ritholtz. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. تحقق من التاريخ في: |archive-date= (معاونت)
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=مقداریہ_سہل&oldid=3735087»
| 2020-04-06T15:58:43
|
https://ur.wikipedia.org/wiki/Quantitative_Easing
|
سپیکرقومی اسمبلی نے نئی حلقہ بندیوں کے لیے پارلیمانی راہنماﺅں کا اجلاس طلب کر ..
سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کے حوالے سے کیسز کا فیصلہ محفوظ کرلیا
منگل 14 نومبر 2017 - 18:08
عمران خان کا خیبرپختونخواہ میں اگلے پانچ سالوں میں مزید دوارب درخت اگانے کا اعلان
منگل 14 نومبر 2017 - 17:51
عام انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہئیں اور اس حوالہ سے تمام سیاسی جماعتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،
منگل 14 نومبر 2017 - 17:45
ہانگ کانگ، قتل کے شبہ میں دو پاکستانی گرفتار
اعتزاز احسنبنوںپٹھان کوٹ ائیربیس حملہبن لادنفیصل رضاعابدیجی ٹی روڈجمشید دستیمخدوم محمد زمان طالب المولیٰمیٹروپنجاب یونیورسٹیاے این پیلیزر تھیراپیاسفندیارولی خاندرآمدسردیوںپولوپیٹرولشریف برادرانسلمان تاثیریوئیفا یورو 2016
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14نومبر۔2017ء) سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق پارلیمانی راہنماﺅں کا اجلاس کل شام 4بجے پارلیمنٹ ہاﺅس میں طلب کر لیا۔ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 16 نومبر کو طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔قومی اسمبلی سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس حلقہ بندیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی قائدین شرکت کریں گے۔دوسری جانب نجی ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ حکومت نے 16نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیاہے۔ اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں کے آئینی ترمیمی بل کی منظوری حاصل کی جائے گی۔حکومتی اور اتحادی ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم کی جلد از جلد سینٹ سے بھی منظوری حاصل کی جائے گی۔ آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کی بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کا کام شروع کرے گا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی طرح پرائمری ایجوکیشن کمیشن بھی بنایا جائے، پرائمری ایجوکیشن تعلیم کی نرسری ہے، اس کو مضبوط کیے بغیر ملک میں اعلیٰ تعلیم مضبوط نہیں ہوسکتی اور تعلیم کو موثر و مستحکم کیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد یونی ورسٹی کی سلور جوبلی کی افتتاحی ... مزید
وقت اشاعت : 14/11/2017 - 17:38:54
| 2017-11-25T09:43:09
|
https://daily.urdupoint.com/livenews/2017-11-14/news-1287228.html
|
ماہءَ گوش کتگ ات | Zrombesh زرمبش
” نازینیں وتی لالءَ را لکّ مرادیں کسان سالءَ را
وش بوئیں زباد مالءَ را در گپّیں شکر گالءَ را
لولی لول منی لال ءَ را عمرءِ گڈ سری مالءَ را
ماہءَ نوکی گوش کتگ ات ؛ شپ کشّءَ وتی راہءِ نیم بُرّاتگ ات و پراھیں آسمانءِ دیما ، چہ بے حسابیں دگہ مزن و کسانیں استاراں درپشناکترات ۔ ماہءِ نگرھیں رژن ، شپءِ بیمناکیں تھاریءَ ماں ماھکانیءَ بدل کنان ات ۔ نرمکیں وشگوات ، بشانگانی تھا وپتگیناں گرانواب کنان ات ۔ درستیں سرندہ و پرندہ ، ایر سرپتگ و وشواب اتنت ۔
ھما شپءَ ،” گزدان”ءِ رودرآتکءَ ، مھراب و آییءِ لوگ بانک ھانیءِ شش تک و شش بندیں بشانگ بستگ ات ۔ آھانی یک سالیگیں بچّ “میرو”ءِ گوانزگ تھتءِ کشءَ ، “گوانزگ دار”ءَ درتکگ ات و ھمے بشانگءِ تھاات ۔
آ شپءَ ، وشگوات پہ ھانیءَ سوچوکیں تبدےءَ بدل بیتگ ات ؛ ماہ ماھگرءَ گپتگ ات ؛ آییءِ وش و ماھکانیں زند ، کُچّل و تھار بیتگ ات ۔ گریوگ آییءِ دلءَ ڈکّتگ ات ؛ چمّانی ارس ھشک بیتگ اتنت ؛ کاگدیں رکّ دوچگ بیتگ اتنت ؛ ھوش و سما شتگ و سَسّا چہ کارءَ کپتگ ات ۔ چیّا کہ آ شپ و ھمے پاسءَ ، چہ آھانی لوگءِ کمپانءِ دیوالءَ جُتک جنگءِ توارءَ ، وشوابیں مرد و جن چہ وابءَ جہ سرّینتگ اتنت و پدا اے ھکّلءَ : “مھراب ! دستاں وتی سرءِ بانءَ کن و زیت وتارا مئے دستءَ بدئے و اگاں نہ ، ھمے دمانءَ تیر گوارات کنیں “۔ اے پیما ، آییءِ زندءِ ھمراہ و مھرشانیں جود چرآییءَ گرگ بیتگ ات ۔
مھراب کہ وتی زندءِ بیست و ھشتمی سالءَ ات ، وتی میتگءِ وانندہ تریں مردات ۔ ماں گزدانءَ ، آ ھما ورنا ات کہ ایوکا آییءَ “زانتجاہ”ءَ علم دربرتگ ات ۔ میتگءِ درستیں مردمانی گوشئے چمانی روک ات ۔ چیّا کہ چہ آییءِ کوششاں گزدانءَ وانگجاھے پچ بیتگ ات ، ڈلریچیں سڑکےءِ کار بیگءَ ات و پہ نلءِ ورگی آپءَ ھم کوشش بیگءَ ات ۔ مھراب نہ ایوکا وتی میتگءِ پُلّیں بَچّ ات بلکیں ماں آ دمگءَ ، آییءِ مردمگری ، راجدوستی و پہ مردمانی کارانی گشاد کنگءَ ، وتی وسءَ پہ تچ و تاگ و رھشونیءَ نام کپتگ ات ۔ بلے اے دگہ دیما ، سیاہ پاگیں واکدارانی ھیالءَ ، آ ملک دشمن و ملک پروشیں واک و ھوربندانی ھمراہ ات و پمیشا مدام چو کنٹگےءَ ماں آھانی چمّاں جِکگءَات ۔
چہ دستگیریءَ دو ماہ و نیم رند ، مھراب ملک دشمنی ، دری واکانی پگارزیری و بے دینی ءِ جرمءَ تیرگوار کنگ بیت ۔ چہ آییءِ گرگءَ رند ، وھدیکہ آییءِ لوگ پٹگ بیت ، بلوچ و بلوچستان ، بلوچی زبان و ادبءِ باروءَ کتاب و سیاھگ و ھمے پیما دگہ لھتے راجی تاکبند و نبشتانک درکپتگ اتنت ۔ پمیشا ، چہ اشاں دگہ مستریں جرم و گناہ دگہ چے ببیت انت !
بچّوں تنگویں مرکب دار راجءِ زھم جن و ڈیہ ءِ یار
سردار چاکرءَ چو زیبدار لکّ بخشے بیت و ڈاٹار
لولی لول منی لالءَ را خیر خواہ و بلوچ سیالءَ را
بیت یک شاعرے در گپتار قومءَرا بدنت ھوش و سار
گوں طنز و شگان و تیھار چست بنت ساوڑی مثل ھار
لولی لول منی لالءَ را لکّ مرادیں شکر گال ءَ را “
( آزات جمالدینی )
| 2017-11-23T22:17:13
|
http://baluch.us/archives/7540
|
یمن کی صورتِ حال سے دور رہیں - Dunya Pakistan
یمن کی صورتِ حال سے دور رہیں
آج مشرقِ وسطیٰ انتشا ر اور کشمکش کا شکار ہو کر متحارب دھڑوں میں بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ خطہ خانہ جنگی کے چنگل سے آسانی سے نہیں نکل پائے گا۔ خطے میں رونما ہونے والے انقلابی واقعات، جنہیں بہارِ عرب سے تعبیر کیا گیا، سے بہت پہلے ہی اس خطے میں ریاستوں کی تشکیل ایک فالٹ لائن پر ہوتی دکھائی دی تھی۔ عرب قوم پرستی کی وہ کشش جس نے مختلف قبیلوں، مذہبی گروہوں اور فرقوں کو آپس میں باندھ کر رکھا ہوا تھا، میں جان باقی نہ رہی ۔ عوام کے لیے ریاستوں کی تشکیل ایک کھوکھلا وعدہ ثابت ہوئی کیونکہ ان ریاستوں پرسیاسی عمل جمود کا شکار ہوگیا اور نسل درنسل حکومت کرنے والے خاندانوں کی شخصی آمریت عوامی حکومت اور ریاست کی تشکیل کا خواب چکنا چور کردیا۔ اس سیاسی جمود کی وجہ سے عوام مایوس ہوتے گئے یہاں تک کہ یہ خطہ عالمی تبدیلیوں کی زد میں آگیا ۔ عراق، شام ، مصر، یمن اور بہت سی دیگر ریاستیں، جو دنیائے عرب میں نسبتاً فلاحی ریاستیں ہونے کا تاثر رکھتی تھیں، میں بھی حکمرانوں نے جبر و تشدد کے ذریعے کئی عشروں تک اپنے اقتدار کو طول دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حکمرانی کا ڈھانچہ اس نہج پر ڈھالا گیا جس کا مقصد جبر ، نہ کہ عوامی حمایت، کے ذریعے اقتدار کو طول دینا تھا۔ چنانچہ جمہوریت، عوام کے حقوق اور عرب قوم پرستی کی جگہ یونیفارم میں موجود طاقتور آدمی کی مرضی نے لے لی۔ گھٹن کی اس فضا میں میڈیا اور سماجی تحریکوں کو عوام کی آواز بننے کی اجازت نہ تھی۔
سیاسی اور جمہوری اختلافات کا مقصد اختلافِ رائے کو تخلیقی جہت عطا کرتے ہوئے مذہبی اور لسانی اختلافات کو دبانا ہوتا ہے۔ تاہم ان عرب ریاستوں میں معمول کی جمہوری سرگرمیوں، سیاسی جماعتوں، آزادانہ انتخابات، سماجی گروہوں اور شخصی آزادی کی غیر موجودگی میں معاشرہ قبائل شناختوں، فرقہ واریت اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہونے لگا۔ حکومت کے خلاف کی جانے والی مزاحمت میں بھی سیاسی اختلاف کی بجائے مذہبی اور قبائلی رنگ ابھرنے لگا۔ کسی بھی آمرانہ طرزِ حکومت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ حکمران عوام سے دور رہتے ہیں۔ اُنہیں اپنے اور عوام کے درمیان محفوظ فاصلہ پیدا کرنے کے لیے جبر کا سہار ا لینا ہوتا ہے تاکہ وہ عوامی اختلاف اور بغاوت کا راستہ سختی سے روک سکیں۔ چنانچہ دیکھنے میں آیا کہ اسلامی ریاستوں کی آمرانہ حکومتیں دراصل فاشسٹ ہی تھیں کیونکہ وہ عوام اور اپوزیشن کو دبانے کے لیے وہی حربے استعمال کرتی تھیں جو فاشزم کا خاصہ ہیں۔ اس سخت اور بے لچک رویے کی وجہ سے مختلف اشکال میں مزاحمت سامنے آتی رہی یہاں تک کہ کچھ ریاستوں میں مسلح دستوں نے ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔ دھشت گردی کی پیہم کارروائیوں کی وجہ سے ریاست کی علمداری کمزور پڑ گئی۔ ان میں مصر میں قدرے مختلف صورتِ حال دیکھنے میں آئی کیونکہ اس کی طاقتور فوج نے استحکام اور امن قائم کرنے کے لیے آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اُس وقت تک قومی اور علاقائی معروضات تبدیل ہونا شروع ہوگئے تھے۔
یمن میں کم و بیش ایک عشرے سے کشمکش جاری ہے۔ یہاں کھولاؤ میں اضافہ کرنے والے تمام عناصر، جیسا کہ قبائلی، مذہبی اور فروعی اختلافات رکھنے والے دھڑے موجود ہیں ۔ سب سے خطرناک پیش رفت یہ تھی کہ سول کشمکش میں علاقائی طاقتوں کا تصادم، جن میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان رقابت سب سے شدید ہے، بھی شامل ہوکر جلتی پر تیل گرانے لگا۔ ان دونوں ممالک کی مداخلت در مداخلت کی پالیسی نے ان کے ہم خیال گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کردیا ہے۔ خطے کی موجودہ کشمکش میں سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا آلائنس نسبتاً طاقتور ہے اور اسے امریکہ او ر مغربی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ خطے پر جارحانہ انداز میں اثر انداز ہوکر اپنے مرضی سے معاملات کو نمٹانا چاہتا ہے۔ تاہم اس دوران خطے میں کچھ اور خطرناک عوامل سراٹھارہے ہیں۔ ان میں سب سے تشویش ناک داعش ہے جس نے شام اور عراق میں اپنی جڑیں پھیلارکھی ہیں ، جبکہ اس کے ہم خیال بہت سے انتہا پسندگروہ دیگر ریاستوں میں بھی فعال ہیں۔ اس طرح یہ خطہ شدید قسم کی کشمکش کا شکار ہے۔ اس کشمکش کا ایندھن بننے کے لیے ہر گروہ اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کررہا ہے۔ اس بھرتی کے عمل میں بہت سی تنظیمیں معاونین کا کردار ادا کررہی ہیں ، حالانکہ ان تنظیموں کو ان کے ممالک میں سرکاری سطح پردھشت گرد نہیں سمجھا جاتا، لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایسی تنظیمیں نظریات کی آڑ میں برین واشنگ کرکے نوجوانوں کو اس کشمکش میں جھونک رہی ہیں۔ اپنی وسیع آبادی ، بے روزگاری اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کے ساتھ پاکستان ایسی تنظیموں کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔یہ تنظیمیں مختلف ناموں سے عشروں سے یہاں نوجوانوں کو برین واشنگ کررہی ہیں۔
پاکستان کئی عشروں سے مشرقِ وسطیٰ میں بننے والے پاور بلاک کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے کیونکہ اس کے سکیورٹی اپریٹس کا دارومدار انہی مغربی ممالک پر ہے جو ایسے پاور بلاکس کے حامی ہیں۔ ہمارے بعض حکمرانوں کے عرب ریاستوں کے حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ ہماری افرادی قوت کی کھپت کی اہم ترین جگہ یہی ریاستیں ہیں۔ خطے سے شاہ ایران کی رخصتی کے بعد سے ایسی صورتِ حال پیدا ہوچکی ہے کہ پاکستان جیسے ایک ملک کے لیے دونوں مخالف ممالک، سعودی عرب اور ایران، کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنا بہت دشوار لگتا ہے۔ ہمارے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک حقیقت، لیکن آج کے معروضی حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان مشرقیِ وسطیٰ میں ہونے والی کشمکش سے خود کو ہر ممکن حد تک دور رکھے۔ تاہم یہ آسان کام نہیں ہوگا ، خاص طور پر اُس وقت جب پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کے خلیجی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہوں۔ خدشہ محسوس ہورہا ہے کہ یمن کے حوالے سے اہم فیصلے کرتے وقت قومی مفاد کی بجائے ان تعلقات اور جذباتی لگاؤ کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔ اگر پاکستان کو سیاسی اور سفارتی معاملات میں کبھی غیر جانبدار ہونے کی ضرورت تھی تو شاید اس کا وقت آن پہنچا ہے۔
→ دنیائے اسلام کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
بغداد کے مناظروں کے دور کی واپسی ←
لاہور کے درخت کیسے بچائیں
| 2019-06-27T07:05:11
|
https://dunyapakistan.com/20064/
|
بیکٹیریا اور مالیکیول کی آواز سننے والا حساس ترین الٹرا ساؤنڈ ایجاد - ۔آئی بی سی اردو
Posted By: ٹیم آئی بی سی اردو نیوزon: January 19, 2019 In: سائنس و ٹیکنالوجیViews: 189 views
| 2019-09-17T12:25:53
|
https://ibcurdu.com/news/82019
|
حکومت پنجاب نے محکمہ ہیلتھ کو پی ایف سی شیئر کی مد میں 4 ارب سے زائد کے فنڈزجاری کر دیئے
سرگودہا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) حکومت پنجاب نے محکمہ ہیلتھ کو پی ایف سی شیئر کی مد میں 4 ارب سے زائد کے فنڈزجاری کر دیئے ہیں،سرگودھا ڈویژن کیلئے 37 کروڑ روپے سے زائد کے بھی فنڈز جاری ہوئے ہیں،ذرائع کے مطابق ،ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ پنجاب نے محکمہ ہیلتھ پنجاب کو ماہ اپریل کے سیلری اور نان سیلری بجٹ کی مد میں 3 ارب 98 کروڑ93 لاکھ62ہزار روپے کے فنڈز جاری کر دیئے سرگودھا ڈویژن کے چاروں اضلاع خوشاب ،میانوالی ،بھکر اور سرگودھا کیلئے 37 کروڑ 61لاکھ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں ،ضلع سرگودھا کیلئے تنخواہوں کی مد میں 13 کروڑ 12لاکھ27 ہزار اور دوسرے اخراجات کیلئے 65 لاکھ61 ہزار ،ضلع خوشاب کیلئے تنخواہوں کی مد میں 6 کروڑ 70 لاکھ 4 ہزار دوسرے اخراجات کیلئے 30 لاکھ 35 ہزار ،ضلع میانوالی کیلئے تنخواہوں کی مد میں 6 کروڑ 85 لاکھ 32 ہزار دوسرے اخراجات کیلئے 34 لاکھ 27 ہزار روپے ،ضلع بھکرکیلئے تنخواہوں کی مد میں 7 کروڑ 97 لاکھ 28 ہزار اضافی اخراجات کیلئے 48 لاکھ 86 ہزار روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں،جس سے محکمہ ہیلتھ سرگودھا کی ماہ اپریل کی تنخواہوں کے علاوہ دیگر اضافی اخراجات کی مد میں دیئے گئے ہیں۔
ایف سیحکومت پنجابپنجاببجٹ
| 2018-09-23T14:06:42
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-04/news-1517006.html
|
ابن حجر مکى نے مودت اہل بیت کے وجوب سے متعلق روایات و احادیث نقل کرنے کے بعد کہا ہے: "مذکورہ احادیث سے اہل بیت کی محبت کا وجوب اور ان سے بغض کی شدید حرمت کا ثبوت فراہم ہوا۔ بیہقی اور بغوی اور دوسروں نے ان کی محبت کے واجب ہونے پر تصریح و تاکید کی ہے اور شافعی نے ـ ان سے منقولہ اشعار میں ـ اس پر تصریح کی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں:[8]یا أهل بیت رسول اللّه حبّکم
| 2019-11-22T23:12:24
|
http://ur.mobile.wikishia.net/view/%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%AA_%D8%A7%DB%81%D9%84_%D8%A8%DB%8C%D8%AA_%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%D9%85_%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85
|
8 مارچ 2020 (00 : 01 AM)
انوشہ الطاف
لوگ جسے بچپن کہتے ہیں ہمارے لئے وہ احساس اور جذبات کا وہ سمندر تھا جہاں سوائے گہرائی کے اور کچھ بھی نہیں۔ آج بھی خیالوں میں ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کسی ندی کے کنارے دوڈتے ، لہراتے بل کھاتے دور تک نکل جاتے ہیں خیالوں میں کبھی ہنستی اور کبھی روتی رہتی ہوں۔ من ہی من میں ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے عماو کا مسکراتا چہرہ دیکھتی اور وہ نہ بھولنے والا پل جب عماد میری چوٹی کھینچ کر مجھے تنگ کرتا۔ خیام برف کے گولے عماد پر پھینکتا اور ہم دونوں دور تک اُس کے پیچھے دوڑتے اور اُس کو پکڑ کر برف پر گھسیٹتے ہوئے ہنستے کھیلتے کب گھر پہنچ جاتے پتا ہی نہیں چلتاتھا۔
سب ہماری دوستی کی مثال دیتے اور اس پر رشک کرتے یہ ہمارے لئے دوستی نہیں روح کا رشتہ تھا۔ ہم دور سے ہی ایک دوسرے کے چہرے سے من کی باتیں پڑھ لیتے تھے۔ اگر دوستی یہی ہوتی ہے تو لاجواب ہوتی ہے؟ کھانا، اسکول جانا ،اسکول کا ہوم ورک، گھر کا کام، کھیل کود ان سب کے علاوہ لڑائی جھگڑے، ایک دوسرے کے کپڑے چھپانا، ہوم ورک کے پنے کاٹ دینا، برے برے پرینک کرنا یہ ہمارے روز کا معمول تھا۔
وقت اور زمانے کو کس کی خوشی نصیب ہوئی ہے۔ جو ہماری ہوتی۔ دکھا دیا اس نے کہ وقت اور زمانہ بس ان کا ہوتا ہے جو اسے خرید لیتے ہیں۔ ہمارے لئے تو بس پل کی خوشیاں اور عمر بھر کا غم تھا۔ کافی دنوں سے عماد کے چہرے پر مسکراہٹ غائب سی ہوگئی تھی۔ وہ گم سم رہتا۔ من ہی من میں سوچتا رہتا، آنکھیں اندر کی اور دھنستی سستی کا اعلان کرتی ہوئیں۔ پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا تھا اور نہ ٹھیک طرح سے کھا پی رہا تھا۔ مجھے اور خیام کو اب عماد کی کمی بری طرح کھٹکنے لگی تھی، شاید اس لئے کہ وہ اب اسکول بھی نہیں آتا تھا اور ہم سے دور دور رہنے لگا تھا۔ ہمیں اسکی فکر ہونے لگی تھی۔ میں نے اور خیّام نے اس سے کئی بار پوچھنے کی کوشش کی لیکن وہ ہر بار بات ڈال دیتا اور بنا کچھ کہے نکل جاتا۔ میں نے اور خیّام نے یہ طے کرلیا کہ عماد کی اس خاموشی کے پیچھے راز کیا ہے؟ اسکا پتا لگانا ہوگا کیوں وہ ہر وقت خاموش اور ڑرا ڈرا سا رہتا ہے؟ کیوں اسکول نہیں آتا؟ کیوں اب اس کی مسکراہٹ اُداسی میں تبدیل ہوگئی ؟ میں اور خیام ایک بار موقع ملتے ہی عمر کے پیچھے پیچھے چوری چھپے نکل گئے۔ عمر بستی سے دور ندی کے کنارے ایک چھوٹے سے میدان میں، جہاں بہت سارے لڑکے باتیں کررہے تھے، پہنچ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا اور کافی دیر تک باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد ایک لڑکے نے جیب سے بہت ساری چیزیں نکالیں اور عمر کے ہاتھ میں دیں پھر وہ ایک جگہ بیٹھ گئے اور یہ چیزیں کھولنے لگے۔ پتہ چلا وہ سب مل کے Drugs لے رہے تھے۔ عمر کو یہ سب کرتے دیکھ میری سانسیں رک گئیں۔ خیام کے چہرے کے سو رنگ بدلے۔ اُس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ عماد یہ سب کچھ کرنے لگے گا۔ یہ سب خیام کے جذبات سے باہر تھا اور معصومیت میں وہ یہ سب دیکھ کر بنا سوچے سمجھے عماد کے پاس گیا اور بنا کچھ کہے زور کا تھپڑ مارا اس کے زرد گال پر ایسا رسید کیا کہ گال رنگ کا ہوگیا۔ ہم غصے میں لال پیلے اُس کے گھر کی طرف جانے لگے لیکن میں نے خیام کو روک لیا، وہ شائد اس لئے کیونکہ ہم عماد کو خود سمجھاناچاہتے تھے۔ اس حادثے کے بعد بہت باہر عماد سے ملے لیکن اس نے ایک بار بھی وجہ نہیں بتائی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ ہم نے عمر کو کئی بار ان لڑکوں سے ملتے ہوئے دیکھا اور اسے ہر بار روکنے کی کوشش کی لیکن وہ تھا کہ ہماری بات مانتا ہی نہیں تھا اس طرح دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں گزرتے گئے۔ اس طرح ہماری دوستی کمزور ہونے لگی۔ میں اور خیام اب عماد کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے تھے۔ ایک دن خبر ملی کی عماد بہت بیمار ہے۔
ہم عماد سے ملنے اُس کے گھر گئے۔گھر میں اس کی ماں داڑھیں مار مار کو رو رہی تھی اور بس بار بار ایک ہی بات دوہرا رہی تھی کہ اس معصوم بچے نے کونسا گناہ کیا جو اسے اوپر والا اتنی بڑی سزا دے رہا ہے۔ میرے بچے کو اتنی بڑی بیماری کیسے لگ سکتی۔ میں اور خیام عماد کے کمرے میں گیے جہاں وہ بند آنکھوں سے اپنے جسم کی سانسوں سے لڑائی لڑ رہا تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ ہم نے اس سے بات کرنے کی کوشش تو اس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے خیام کا ہاتھ پکڑ کر معافی مانگی اور کہا میں مجبور تھا۔ ہم نے پھر سے وجہ پوچھی تو پھر تھوڑا سا مسکرایا اور آنکھیں بند کرکے لمبی خاموشی اختیار کرلی۔ وہ خاموشی ہم دونوں کے لیے کسی خوفناک چیز سے کم نہیں تھی۔ وہ ہمارے دوست عمر کی آخری سانس تھی جو ہمارا انتظار کر رہی تھی، جس نے مجھے اور خیام کو ساری عمر کے لئے اکیلا اور خاموش کر دیا۔ ہماری آنکھوں سے گرتے ہوئے آنسو ہماری دوستی کی بنیاد کو اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہے تھے، ساتھ میں جارہا تھا ہمارا وہ دوست جو کبھی ہماری جان ہوا کرتا تھا۔ اب ہمارے محلے کی گلیاں اداس اداس لگ رہی تھیں۔ وہ برف کا موسم پھیکا پھیکا سا لگ رہا تھا۔نہ کوئی برف کے گولے کھانے والا رہا اور نہ مارنے والا اور نہ ہی کوئی میری چوٹی کھینچنے والا۔ تنہائی کی چادر میں آٹھوں پہر وقت کے دریچوں سے اپنے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے مسکراتے خود کو سہلاتے زندگی کے پھینکے لمحوں کو گزارتے جا رہے تھے۔ زندگی بھی نہ جانے کہاں کیا کچھ دے جائے کسے پتہ بس ایک نیا مقصد دے گئی تھی۔ اسی مقصد کے لئے ہماری سانسیں چل رہی تھیں ورنہ کہاں دیتی ہیں یہ سانسیں ساتھ جب کوئی اپنا دور چلا جائے۔ ہم بس اتنا جاننا چاہتے تھے کہ عماد نے یہ راستہ کیوں چُنا۔ کیوں ہمیں وہ لمبی اداسیاں دے کر خود نکل گیا۔ میں اور خیّام اپنی اداسی اور ناامیدی کا سہارا لئے ہوئے عماد کے کمرے میں بہت دنوں کے بعد جارہے تھے۔ عماد کے ہاتھ سے بنائی ہوئی کمرے کی دیوار پر میری اور خیام کی تصویر، جس میں خیام اور عماد مل کے میری دونوں چوٹیاں کھینچ رہے ہیں،دیکھتے ہی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کا احساس ہوا۔ خیام نے عمر کے کپڑوں کی الماری کھولی اور اس کے کپڑوں میں سے ایک نوٹ بک ملی، جس پر عماد کے ہاتھ کی لکھاوٹ تھی۔ ہم نے اسے پڑھنا شروع کیا، لکھا تھا ”میرے پیارےبھائی خیام اور پیاری بہن زارہ! ........ تم جاننا چاہتے تھے نا میرے مرنے کی وجہ۔ میری دادی اور بہن کے ایکسیڈنٹ کے بعد میرے باپ نے کبھی میراcare نہیں کیا اور وہ ہر روز شراب پی کے آتے اور میری ماں اور مجھے مارتے ۔مجھ سے یہ بات برداشت نہیں ہوا اور اسی لئے میں نے یہ راستہ چنا۔ مجھے معاف کر دینا شاید میں بزدل تھا جو حالات کا سامنا نہ کر سکا.......
متعلمہ کلاس ہشتم
رابطہ؛ بونہ گام شوپیان، موبائل نمبر700631688
| 2020-03-28T20:47:25
|
http://www.kashmiruzma.net/NewsDetail?action=view&ID=62116
|
بدنظمی سے نظام کی طرف ۔۱ - فتح اللہ گولن کی ويب سائٹ
بدنظمی سے نظام کی طرف ۔۱
Written by فتح اللہ گولن. Posted in تعمیرشخصیت.
صدیوں سے ہمارا معاشرہ اخلاقی،علمی اور فکری لحاظ سے تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی تک معاشرے کو تربیت،فن اور اخلاق کے شعبوں میں متبادل نظام کی تلاش ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں فولادی عزم اور ایسے دماغوں کی ضرورت ہے،جو نہ صرف وجود کی تمام گہرائیوں اور انسان کی تمام دنیوی و اخروی وسعتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہوں،،بلکہ زمین پر خلافتِ الٰہیہ کی بنیاد پر ہر چیز پر اثرانداز ہوتے ہوں۔
حال ہی میں دنیا میں تبدیلی کی تحریکوں نے بہت سے چہروں کو بے نقاب کر کے ان کی حقیقت واضح کر دی اور ہماری آنکھوں سے کسی حد تک پردہ ہٹا دیا ہے،جس کے نتیجے میں ہم پر اشخاص اور اشیاء کی حقیقت بتدریج واضح ہونے لگی اور ہم صورت حال کو زیادہ واضح انداز میں دیکھنے اور واقعات سے زیادہ درست اور مضبوط نتائج اخذ کرنے لگے اور ہمیں یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ اس ملک میں دو صدیوں سے صرف شکل و صورت،فکر اور فلسفہ زندگی ہی معزولی، غفلت اورفراموشی کی نحوست کا شکار نہیں،بلکہ ہماری ملی ثقافت،تاریخی شعور،اخلاقی نظام،اقدار کا فہم، فنی تصور اور روحانی جڑیں بھی شاید پہلے سے زیادہ نقصان دہ انداز میں کھوکھلے پن کا نشانہ بنی ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے روحانی رشتے کمزور پڑ گئے،ہمارے اخلاقِ عالیہ کے سرچشمے سوکھ گئے اور ہمارے ماضی اور حال کے درمیان خلیج وسیع تر ہوگئی۔
عالم اسلام ایسے عجیب وغریب حالات میں سے گزرا،جن میں تعلیم یافتہ لوگوں پر خاموشی طاری ہوگئی،فکر کے منہ پر تالے پڑ گئے،اصحاب اقتدار و قوت نے گمراہی اور اصولوں سے فرار میں معاونت کی اور لاشوں کی طرح دکھائی دینے والی نسلیں حیرت کے عالم میں بجھے ہوئے تاریک اور مایوس کن احساسات سے متعارف ہوئیں۔
بیچارگی کے عالم میں ہر طرف سے مایوسی کے تاریک بادلوں میں گھری ہوئی آنکھوں نے کتنے آنسو بہائے ہوں گے اور دل کے احساسات نے شرم و حیا سے عاری لوگوں کے سامنے اپنی بات کا اظہار کرتے ہوئے گڑگڑا کر کہا ہو گا: ‘‘الحاد کی ہوا کے لیے اپنے بادبان کھولنے والے سرگرداں لوگوں،ہرشخص اور ہر چیز پر احمقانہ انداز میں تالیاں بجانے والوں،طاقت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے بے ضمیروں اور داغدار عزت و شرف والوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟’’جو چیز کانپ گئی وہ متزلزل ہوگئی،جو منہدم ہوگئی وہ برباد ہوگئی،جوچلی گئی بے نشان ہوگئی،لیکن اس کی جگہ کسی نئی چیز نے نہیں لی،جو چیز ٹوٹ گئی اسے مٹا دیا گیا،لیکن اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہیں آئی،جس کے نتیجے میں معاشرے کی اقدار مکمل طور پر الٹ ہو گئیں، خصوصاً دورِحاضر میں نہ صرف ہمارے بلکہ واقعیت پسند اور صرف اپنی روزمرہ کی ضروریات کی فکر کرنے والے سیکولر لوگوں کے دلوں میں بھی محسوس ہونے والا اضطراب اور غیرمحفوظ ہونے کا احساس اس کی واضح دلیل ہے۔
مجھے آپ سے امید ہے کہ آپ اس بارے میں سوچیں گے کہ ہم اخلاقی افلاس اور پے در پے آنے والی ان مشکلات سے جن کی وجہ سے زندگی ایک بوجھ اور ناقابل برداشت پریشانی کا باعث بن گئی ہے،کیسے نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ہم اپنی انفرادی،خاندانی اور معاشرتی خرابیوں کو کیسے دور کرسکتے ہیں؟اور ہم اطمینان اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف سفر کیسے جاری رکھ سکتے ہیں۔
کیاہم اِدھراُدھر سے خیالی اور وہمی افکار درآمد کرلیں؟یا اس معاصر ذہنیت سے کام لیں جس پر ہم ہر چیز کی عمارت استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟نہیں،نہیں کوہِ قاف سے بھی زیادہ بوجھل اس وزن کو ایسی منطق یا مجہول النسب افکار ہرگز نہیں اٹھا سکتے۔
سالہاسال سے احیائی تحریکیں صورت کی تبدیلی سے آگے نہیں بڑھیں اور خیالوں اور امیدوں کے مقاصد اور ان کی واضح اور قریب ترین اغراض کے ادراک سے قاصر رہیں۔ زمام اقتدار تھامنے والے یہ سمجھ بیٹھے کہ برش ہاتھ میں لے کر معاشرے اور ملت کے زخموں میں مختلف رنگ بھر دینا ہی علم و تجربہ کی معراج ہے،بلکہ شاید انقلاب ہے،لیکن معاشرے کے فعال اعضا اور روح کی رگوں سے بہنے والا خون ان کی نظروں سے مکمل طور پر اوجھل رہا۔یہ سب کچھ ہماری ماضی قریب میں پیش آچکا ہے،تاہم ایمان،امید اور عزم سے تقویت حاصل کرنے والے تحریکِ آزادی کے کچھ سرفروشوں کا کردار اس سے مستثنیٰ ہے،بلکہ مبارک اصولوں کی حامل اس تحریک میں پوشیدہ اور منتخب طاقت کو بے اثرکرنے کی ہماری کوششوں کے باوجود اس جیسی وحدت، بیداری اور توانائی دوبارہ حاصل نہ ہوئی۔
حاصل یہ کہ گزشتہ چند سالوں میں لوگوں کے جو گروہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے اور ان کے درمیان خلیج وسیع ہو گئی اگرچہ وہ فکری، روحانی اور جوہری لحاظ سے بالکل مفلس نہ بھی ہوئے ہوں ان کے درمیان اجنبیت بڑھی ہے اور وہ بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹنے لگے ہیں۔بعض کے نزدیک جو چیز سفید ہے وہ دوسروں کے نزدیک سیاہ ہے۔بعض جس بات کی دعوت دیتے ہیں،دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔بعض کی طرف سے تجویز کردہ متبادل دوسروں کے نزدیک ہزیمت کا باعث ہے۔بعض کی صلابت دوسروں کی نظر میں تعصب ہے۔ان منفی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اس جنگ یا اندھوں کے جھگڑے کا ذرا تصور کیجئے،جس میں کوئی ایسا متفقہ معیار نہیں کہ جس کے ذریعے سے معلوم کیا جاسکے کہ کون حق کے قریب تر ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر آج ہمیں حقیقت اور مکارم اخلاق تک پہنچانے والے راستے، دھوکا نہ دینے والے طرز فکر اور گمراہ نہ کرنے والے معیاروں کی شدید ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ضمیر اوراخلاقی اقدار بہت سی مشکلات کو حل کر سکنے والے نور کے سرچشمے ہیں،لیکن دورحاضر میں ضمیر مجروح اور اخلاقی اقدار منتشر ہیں،لہٰذا یہ دو عوامل بھی جڑوں سے اکھڑ چکے ہیں اور ان کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔
اخلاق میں عرفان و وجدان کی وجہ سے بلندی نہیں آتی،
بلکہ انسان میں اعلیٰ اخلاق خوفِ خدا سے پیداہوتے ہیں۔
بالفرض اگر دلوں سے خوفِ خدا جاتا رہے
توآپ کو عرفان و وجدان کا نشان تک نہ ملے گا۔{qluetip title=[(۱)]}(۱) محمدعاکف،‘‘دیوان’’ ،ص:۲۷۱.{/qluetip}
جن خوفناک حالات میں ہم جی رہے ہیں ان کا اندازہ کرنے کے لیے اوپر ذکرکردہ صورتحال پر ارادے کی کمزوری،عقلی محاکمے کے کھوکھلے پن،انسانی جذبات کے وحشی پن اور ان کے اژدھے کی مانند خون کے پیاسے ہونے کا اضافہ کرلیجئے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کام کاآغاز اپنے بنیادی فیصلوں پر نظرثانی، منطقی اندازِ فکر کی تمیز،ارادے کی کماحقہ ادائیگی اور پرعزم نسلوں کی تیاری سے کریں۔ہمیں سب سے پہلے اسباب کی رعایت کا اعتراف کرنا چاہیے،کیونکہ ہم اسباب میں گھری ہوئی دنیامیں رہتے ہیں،چونکہ ہم عالم اسباب میں رہتے ہیں،اس لیے انہیں نظرانداز کرنا جبر اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔نہ صرف اسباب کی رعایت بلکہ علت و معلول کے درمیان مناسبت کا خیال رکھنا بھی مکلف ہونے کے اہم ترین لوازم میں سے ہے۔
اگر ہم نے ابھی سے سنجیدگی سے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ مضر افکار اور غلط رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی بنیادوں کا تعین نہ کیا تو ہمیں مستقبل میں اخلاقی بدحالی،معاشرتی خرابی اور دیگرانحرافات کی مختلف صورتیں نظر آئیں گی۔
تجربہ کار شخص اسے نہیں کہتے جو مصیبت اور بدحالی کے واضح نتائج دیکھنے کے بعدچوکنا ہوتا ہو،بلکہ تجربہ کار وہ شخص ہے جو وقت سے پہلے نہ صرف وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بلکہ ان کے اسباب اور سیاق کو بھی بھانپ لیتا ہے۔یہ دعویٰ کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم نے ماضی قریب میں اس قسم کی فراست کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ہم نے ارادے کا حق اداکر دیا ہے،بلکہ اس تاریک ترین دور میں رہنے والاانسان اپنے ذاتی ارادے،عزم اور فکر کے بارے میں ہی شکوک و شبہات کا شکار ہے اور ابھی تک اپنا نظام زندگی چلانے کے لیے حیرت انگیز اور بلند ارادوں کا متلاشی ہے۔اس سے بھی بڑی مصیبت اور تلخ صورتحال کسی مفکر،عالم یا ملک کے اشارے پر پاکیزہ جذبات اور ضمیر رکھنے والے لوگو ں کی کردارکشی اور حوصلے پست کرنا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے طرز عمل اور طرز فکر میں فلان و علّان کو حَکَم بنانے لگے،جنہوں نے ہمیں سردرد،فیصلے اور مشاہدے کی کجی اور شخصیت کی لغزش میں مبتلا کیا،جس کے نتیجے میں مکمل طور پر فرمانبردار لوگ بھی ایسے خوفناک بگاڑ کا شکار ہوئے کہ جس کی اصلاح ناممکن دکھائی دیتی تھی۔اصول کاتقاضا تو یہ تھا کہ ہم خدائی ارادے کے سوا کسی بھی ایسے ارادے پر ایمان لاتے اور نہ اس پر راضی ہوتے، جس کے بارے میں ہم نے اچھی طرح چھان پھٹک اور تحقیق نہ کرلی ہو۔
ڈیکارٹ نے کہا تھا: ‘‘جب تک فکر آزاد نہ ہو اس وقت تک اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔’’ اپنی روحوں کو بوسیدہ اور اکثر پہلوؤں سے متعفن مدرسی (Scholastic) فکری نظاموں سے نجات دلانے کے لیے کیا ہمیں کم از کم ڈیکارٹ کی طرح نہیں سوچنا چاہیے۔
دنیوی و اخروی لحاظ سے منور آفاق کی حامل اور آنے والے سالوں میں یقینی طورپر ظہورپذیر ہونے والی صورتحال کی نشاندہی کرنے والی نسلوں کا فرض ہے کہ وہ باہر سے درآمد شدہ یا مقامی طور پر تیارکردہ نظاموں اور افکار پر نظرثانی کریں اور معاشرے کو اجنبیت کی غلاظت سے پاک کرکے اسے اس کے ذاتی حقائق کی جڑوں سے جوڑ دیں،تاکہ وہ اپنی حقیقت اور شخصیت کی حفاظت کرسکے،دنیا سے بھرپور طور پر رابطے میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی خطوط پر مستقبل کی طرف بڑھتا رہے اور آگے بڑھتے ہوئے ماضی کو حال سے مربوط رکھے،نہ ماضی سے اس وجہ سے منہ موڑے کہ وہ قدیم ہے اور نہ ہر تروتازہ دکھائی دینے والی چیز کی طرف بغیر بصیرت کے صرف اس لیے متوجہ ہو کہ وہ نئی ہے۔اس نورانی نسل کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ حال اورمستقبل کا پورا علم رکھتی ہے۔وہ یہ جانتی ہے کہ جن امور کی ہمیں ضرورت ہے وہ صرف ہمارے علوم تک ہی محدود نہیں ہیں، نیز وہ حقیقت کو جاننے کے لیے اسے عقل و منطق کی چھلنی سے گزار کے الہام اور تجربات کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے۔
اس قسم کی ترقی اور تبدیلی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماضی قریب اور اپنی تاریخ کے ہیروؤں سے بخوبی آگاہی حاصل کریں، چنانچہ ہمیں اپنی معا صر تاریخ پر اثر انداز ہونے والی شخصیات اور عوامل کے بارے میں علم ہونا چاہیے نیز ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے کن ہم وطنوں نے اس ملت کے سینے میں اتفاق و اتحاد کا نیا جذبہ بیدار کیا اور ملی جذبے کے ترانے گائے ۔ مجھے یقین ہے کہ اوپر ذکر کردہ امور کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہم اصولوں کی روشنی میں مستقبل کے لیے واضح لائحہ عمل تیا ر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اپنے سینوں میں فکری ترو تازگی ، عشق اور رواداری کے اخلاق محفوظ رکھنے والے بہادروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کریں گے۔<
Created on 18 نومبر 2011 .
| 2020-07-09T08:24:30
|
https://fgulen.com/ur/books-pk/the-statue-of-our-souls-ur/from-chaos-to-order-i
|
حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی ﷲ عنہا (۱)
ََام المومنین حضرت ام سلمہ ہجرت نبوی سے ۲۸سال قبل،۵۹۶ء میں مکہ میں پیدا ہوئیں۔ بنومخزوم سے تعلق رکھتی تھیں جو بنوہاشم اور بنوامیہ کے بعدقریش کی تیسری اہم شاخ تھی۔ ہند ان کا اصل نام تھا ۔ان کے والد کا نام حذیفہ (یا سہیل: ابن سعد)بن مغیرہ تھا،تاہم اپنی کنیت ابوامیہ سے مشہور تھے۔ حذیفہ بہت دریادل تھے ،جب سفر پرنکلتے تو ان کے ہم سفروں کو توشۂ سفر لے جانے کی ضرورت نہ ہوتی ،ان کی خوراک اور دیگر ضروریات سفر حذیفہ کے ذمہ ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسافر کا توشہ دان (زادالراکب) ان کا لقب پڑ گیا۔ ساتویں پشت مرہ بن کعب پر حضرت ام سلمہ کا سلسلۂ نسب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارکہ سے جا ملتا ہے ۔ مرہ آپ کے بھی ساتویں جد تھے۔حضرت ام سلمہ کی والدہ عاتکہ بنت عامر بنوکنانہ کی شاخ بنوفراس سے تعلق رکھتی تھیں۔حضرت خالد بن ولید اور ابو جہل ام سلمہ کے چچا زاد تھے۔
حضرت ام سلمہ کی پہلی شادی بعثت نبوی کے بعدان کے چچا زاد ابو سلمہ عبداللّٰہ بن عبدالاسد سے ہوئی۔مغیرہ بن عبداللّٰہ دونوں کے دادا تھے۔ قبیلہ کے بانی مخزوم بن یقظہ ان کے پانچویں جد تھے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بن عبدالمطلب حضرت ابوسلمہ کی والدہ تھیں۔ پھوپھی زاد ہونے کے علاوہ وہ آپ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ابولہب کی باندی ثوبیہ نے پہلے حمزہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، اس کے بعدحضرت ابوسلمہ کو دودھ پلایا۔ حضرت ابوسلمہ ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح،حضرت عثمان بن عفان اورحضرت ارقم بن ابوارقم ایک ہی روز ایمان لائے۔ قبولیت اسلام میں حضرت ابوسلمہ کا گیارھواں نمبرتھا،لازماً حضرت ام سلمہ ان کے ساتھ ہی ایمان لائی ہوں گی۔
حضرت ابوسلمہ اور ام سلمہ حبشہ اور مدینہ کو ہجرت کرنے والے اولیں مسلمانوں میں سے تھے۔ان پر بنومخزوم کے تشدد کی تفصیل نہیں ملتی، لیکن لا محالہ اہل قبیلہ خصوصاً ابوجہل کی تعدی ہی ان کی ہجرت حبشہ کی وجہ بنی ہوگی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے رجب ۵؍ نبوی میں بارہ مرداور چار عورتیں کچھ پیادہ، کچھ سوار شعیبہ کے ساحل سمندر پر پہنچے اور حبشہ جانے کے لیے نصف دینار کرایے پر کشتی حاصل کی ۔ان کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان ،ان کی اہلیہحضرت رقیہ، حضرت ابوحذیفہ، ان کی بیوی حضرت سہلہ، حضرت زبیر، حضرت مصعب،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف،حضرت ابوسلمہ ،ان کی زوجہ حضرت ام سلمہ ،حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عامر بن ربیعہ،ان کی بیوی حضرت لیلیٰ، حضرت ابوسبرہ، حضرت حاطب بن عمرو، حضرت سُہیل بن بیضا اورحضرت عبداللّٰہ بن مسعود تھے۔کل سولہ خواتین نے حبشہ کو ہجرت کی۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں،جب ہم حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو شاہ نجاشی نے ہمیں بہت اچھی طرح رکھا۔ہم اپنے دین پر بڑے اطمینان سے عمل کرتے،اللّٰہ کی عبادت کرتے توکوئی ایذا پہنچاتا نہ کوئی نا پسندیدہ بات سننے کو ملتی (موسوعہ مسند احمد، رقم ۱۷۴۰، ۲۲۴۹۸)۔
جب مشرکین قریش کے ا یمان لانے اور مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم بند ہونے کی افواہ حبشہ پہنچی تو وہاں پر مقیم صحابہ نے مکہ واپسی کا قصد کیا، حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد،حضرت ام سلمہ اور عثمان بن مظعون ان میں شامل تھے۔ مکہ پہنچ کر اس خبر کا غلط ہونا ثابت ہو گیا تو اکثر اہل ایمان حبشہ واپس چلے گئے، تاہم تینتیس افراد نے مکہ میں اپنے لیے جاے پناہ ڈھونڈ لی۔ حضرت عثمان نے اپنے چچا ولید بن مغیرہ کی پناہ قبول کی، جبکہ حضرت ابوسلمہ اپنے ماموں ابوطالب کی حفاظت میں آ گئے۔ ان کے قبیلے بنومخزوم کے سرکردہ افراد ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: آپ نے اپنے بھتیجے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے بچائے رکھا ،کیا اب ہمارے قبیلے کے فرد اور ہمارے بھتیجے حضرت ابوسلمہ کو بھی ہم سے بچائیں گے؟انھوں نے جواب دیا ، وہ میرا بھانجا ہے، میری پناہ میں آنا چاہتا تھا۔میں اس کی حفاظت ایسے ہی کروں گا، جیسے بھتیجے کی کی۔ یہ واحد موقع تھا جب ابولہب کے منہ سے کلمۂ خیر نکلا ، اٹھا اور بولا : تم اکثر اس بزرگ کو اپنی قوم کو پناہ دینے پر پوچھتے رہتے ہو۔بخدا! باز آ جاؤ ، ورنہ ہم اس کا ساتھ دینے کھڑے ہو جائیں گے تاکہ یہ اپنے ارادوں کی تکمیل کر لے ۔ اس پر بنومخزوم کے افراد واپس چلے گئے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج کے زمانہ میں مکہ آنے والے عرب زائرین کو اسلام کی دعوت دیتے ۔ رجب ۱۰؍نبوی میں خزرج کے چھ افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔۱۱؍نبوی میں یثرب کے بارہ اور ۱۲؍نبوی میں بہتر لوگوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔نصرت اسلام کی ان بیعتوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا:اللّٰہ نے تمھارے بھائی بند بنا دیے ہیں اور ایسا شہر دے دیا ہے جہاں تم اطمینان سے رہ سکتے ہو۔ چنانچہ حضرت ابوسلمہ پہلے مہاجر تھے جو مدینہ پہنچے۔ حضرت ابوسلمہ کے بعدحضرت عامر بن ربیعہ، حضرت عبداللّٰہ بن جحش اور ان کے بھائی حضرت ابو احمد عبد دار الہجرت پہنچے۔پھر اکثر اہل ایمان نے ہجرت کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ حضرت ابوسلمہ ،حضرت عامر بن ربیعہ اور ابن جحش قبا میں حضرت مبشر بن عبدالمنذر کے ہاں مقیم ہوئے۔
حضرت ام سلمہ نے اپنی اورحضرت ابوسلمہ کی ہجرت مدینہ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے، حضرت ابوسلمہ مدینہ ہجرت کرنے نکلے ،اونٹ پر کجا وہ کسا ،مجھے اس میں بٹھایا اور بیٹے سلمہ کو میری گود میں دے دیا۔ اونٹ کی مہار پکڑ کر چند قدم چلے تھے کہ میرے چچاؤں نے دیکھ لیا۔ انھیں روک کر کہا:اپنے اوپر تو تم نے ہماری مر ضی نہیں چلنے دی۔یہ ہماری بیٹی ہے ،ہم تمھیں کیسے اجازت دیں کہ اسے ملکوں ملکوں ساتھ لیے پھرو؟پھر اونٹ کی نکیل حضرت ابوسلمہ کے ہاتھ سے چھینی اور مجھے نیچے اتار لیا۔ اس موقع پر حضرت ابوسلمہ کے چچا بھڑک اٹھے۔ لپک کر سلمہ کو پکڑ لیا اور بولے،تم نیحضرت ام سلمہ کو ہمارے بیٹے سے جدا کر دیا ہے، اب ہم اپنی اولاد کو اس کے پاس نہ رہنے دیں گے۔ اس طرح ہمارا کنبہ تین حصوں میں منقسم ہو گیا، حضرت ابوسلمہ نے سفر جاری رکھا اور مدینہ پہنچ گئے ،مجھے میرے دادا مغیرہ کے کنبے نے روک لیا اور سلمہ کو اس کے چچیرے بنو عبدالاسد لے کر چلتے بنے۔واللّٰہ!اسلام قبول کر نے کے بعد آل ابوسلمہ جیسی مصیبت کسی پر نہ پڑی۔ اب اگلے ایک سال کے لیے میرا یہ معمول بن گیا ،ہرروز سویرے سویرے مکہ کے ریگ زارمیں اس مقام پر جا بیٹھتی جہاں شوہر سے مفارقت ہوئی تھی اور شام تلک روتی رہتی۔آخرکارمیرے ایک چچازاد کا وہاں سے گزر ہوا ، میراغم اور میرا گریہ دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اس نے اہل قبیلہ سے کہا: اس بے چاری کی راہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟تم نے اسے شوہر اور بیٹے سے جدا کر رکھا ہے۔اب کسی نے اعتراض نہ کیا ،سب نے اتفاق کیا کہ اگر یہ خاوند کے پاس جانا چاہتی ہے توجانے دیا جائے۔ تب سسرال والوں نے میرا بیٹالوٹا دیا۔ میں نے اونٹ پکڑا ، بیٹے کو گود میں بٹھایااورخاوند کے پاس جانے کے لیے تن تنہا مدینہ روانہ ہوئی۔میرا خیال تھا، پوچھتے پوچھتے اپنے میاں کے پاس جا پہنچوں گی ۔مکہ سے چار میل باہر نکلی تھی کہ تنعیم کے مقام پر عثمان بن طلحہ عبدری ملے۔وہ ابھی ایمان نہ لائے تھے،مجھے دیکھ کر پوچھا: بنت ابوامیہ، کہاں جا رہی ہو؟کہا: یثرب، اپنے خاوند کے پاس، پوچھا: تمھارے ساتھ کون ہے؟بتایا،واللّٰہ!اللّٰہ اور اس بیٹے کے علاوہ میرے ساتھ کوئی نہیں۔ عثمان بولے: واللّٰہ! تمھیں تو اپنی منزل کا بھی پتا نہیں۔پھر اونٹ کی مہار پکڑ لی اور مجھے لے کر چل پڑے۔ واللّٰہ! میں نے ان سے زیادہ شریف عرب نہیں دیکھا۔جب پڑاؤ کرنا ہوتا ،اونٹ بٹھا کر کسی درخت کی اوٹ میں ہو جاتے اور وہیں آرام کرتے اورجب چلنے کا وقت آتا،کجاوہ باندھ کر اونٹ کو آگے کرتے ۔خود پیچھے ہٹ کر مجھے سوار ہونے کو کہتے۔میں سنبھل کر بیٹھ جاتی تو اونٹ کی نکیل ہاتھ میں تھام کرسفر شروع کر دیتے۔اسی طرح وہ مجھے حفاظت سے منزل بہ منزل لے کر چلتے رہے اور مدینہ پہنچا دیا ۔قبا میں بنوعمرو بن عوف کی بستی پرنظر پڑی تو کہا: تمھارا میاں یہاں مقیم ہے۔مجھے پہنچا کر خود مکہ لوٹ گئے۔نیک فطرت عثمان نے صلح حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا۔
حضرت ام سلمہ کو مدینہ ہجرت کرنے والی پہلی عورت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عامربن ربیعہ کی اہلیہ حضرت لیلیٰ بھی اول اول ہجرت کرنے والی خاتون تھیں۔مدینہ کی عورتیں یہ ماننے کے لیے تیا ر نہ تھیں کہ حضرت ام سلمہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں ۔جب کچھ لوگ حج کرنے مکہ گئے تو حضرت ام سلمہ کے کنبے سے تصدیق کی(موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۲۶۱۹)۔
۱ھ میں مسجد نبوی تعمیر ہوئی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود مٹی ڈھوئی۔عمار بن یاسر کے ساتھیوں نے ان پر زیادہ اینٹیں لادی تھیں۔وہ پکارے: یا رسول اللّٰہ،انھوں نے مجھے مار ڈالا، اتنا بوجھ مجھ پر لاد دیا ہے جو خود اٹھا نہیں سکتے۔حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں :میں نے دیکھاکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے گھنگھریالے بالوں کوجھاڑتے ہوئے فرمایا:بے چارے ابن سمیہ، یہ لوگ تجھے مارنہیں سکتے ،تجھے توایک باغی گروہ قتل کرے گا۔(مسلم، رقم۲۹۱۶)
۲ھ: جنگ بدر میں حضرت ام سلمہ کا بھائی مسعود بن ابو امیہ مشرکوں کی طرف سے لڑتا ہوا مارا گیا۔
۳ھ میں غزوۂ احد ہوا جس میں حضرت ام سلمہ کا دوسرا بھائی ہشام بن ابو امیہ کفار کی فوج میں شامل ہوا اور جہنم واصل ہوا۔ حضرت ام سلمہ کے چچا زاد حضرت شماس بن عثمان السابقون الاولون میں سے تھے۔ غزوۂ بدر کے غازی تھے، جنگ احد میں اپنے جسم کو ڈھال بناتے ہوئے چاروں اطراف سے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ شدید زخمی حالت میں انھیں مدینہ منتقل کیا گیا، سیدہ عائشہ نے ان کی تیمارداری کی تو حضرت ام سلمہ نے گلہ کیا کہ میرے چچیرے کی نگہداشت کوئی اور کرے؟ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں ام سلمہ کے پاس لے چلو۔ اگلے روز وہ و فات پا گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انھیں میدان احد میں شہدا کے پاس دفن کیا گیا۔
حضرت ام سلمہ نے ایک بارحضرت ابوسلمہ سے کہا:مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند جنت جانے کا اہل ہو اوروہ عورت اس کی وفات کے بعد کسی سے شادی نہ کرے تو اللّٰہلازماً انھیں جنت میں اکٹھا کر دے گا۔یہی معاملہ ہو گا ، اگر عورت کی وفات کے بعد رنڈوا بیاہ نہ کرے ۔چلو ہم دونوں عہد کرتے ہیں کہ میں تمھارے بعد شادی نہ کروں گی اور تم میرے بعد بیاہ نہ کرنا۔حضرت ابوسلمہ نے الٹ سوال کر دیا: کیا تم میرا کہا مانو گی؟کیوں نہیں؟جواب ملا۔ میں مر گیا تو تم شادی کر لینا۔یہ کہنے کے بعدحضرت ابوسلمہ نے دعا کی:''اے اللّٰہ!میرے بعد ام سلمہ کو مجھ سے بہتر مرد د ینا جو اسے رسوا کرے نہ ایذا پہنچائے۔''حضرت ام سلمہ کہتی ہیں: میں سوچتی ہی رہی ،ایسا مرد کون ہو سکتا ہے؟
حضرت ابو سلمہ شہ سوار تھے ۔بدر میں داد شجاعت دینے کے بعدجنگ احد میں حصہ لیا ۔اس غزوہ میں ان کے بازو میں ابواسامہ (سلمہ :ابن سعد)جشمی کے تیر کی نوک سے گہرا زخم لگا جوایک ماہ کے علاج کے بعدبظاہر مندمل ہوگیا، لیکن اندرونی خرابی برقرار رہی۔ محرم۴ھ کے آخر یا اگلے مہینے صفر کے شروع میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو پچپن صحابہ کے ایک دستے کی امارت سونپ کر قطن کی طرف بھیجا،جہاں طلیحہ اسدی نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے فوج جمع کر رکھی تھی۔اس سریہ، سرےۂ ابوسلمہ سے واپسی کے سترہ دن بعد حضرت ابو سلمہ کا زخم پھر پھوٹ پڑا اور جان لیوا ثابت ہوا۔
۸جمادی الثانی ۴ ھ:حضرت ابوسلمہ کاآخری وقت آیا تورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی تھیں۔ آپ نے فرمایا: میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ جب حضرت ابوسلمہ کا دم نکل گیا تو آپ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔آپ نے عورتوں کو تلقین کی: (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگو، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔ آپ نے حضرت ابوسلمہ کے لیے یوں دعا فرمائی: اے ﷲ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتوں (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے ۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العالمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کردے (مسلم،رقم ۲۰۸۵، ۲۰۸۶۔ ابن ماجہ، رقم ۱۴۴۷)۔ ان کی بیوہ حضرت ام سلمہ نے آپ سے سوال کیا: یا رسول اللّٰہ،میں کیسے دعا کروں؟ فرمایا: کہو، ﷲ! ابوسلمہ کی مغفرت کر دے ، اور ہمیں ان کا بہتر بدل عنایت کر (ابو داؤد، رقم ۳۱۱۵، نسائی، رقم ۱۸۲۶، مسند احمد، رقم ۲۶۶۳۵)۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:میں نے سوچا، ابوسلمہ پردیسی تھے،پردیس میں فوت ہوئے۔ میں ان کے لیے ایسا گریہ کروں گی جس کا چرچا ہو اور جس کی مثال دی جایا کرے۔میرا ساتھ دینے کے لیے مدینہ کی وادئ صعید سے ایک عورت آئی۔مجھ سے پہلے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اس سے ملے اور فرمایا:کیا تو چاہتی ہے کہ شیطان کو اس گھر میں دوبارہ داخل کر دے جہاں سے اللّٰہ اسے نکال چکا ہے۔ آپ نے یہ ارشاد دو باردہرایا۔چنانچہ میں نے بین کرنے کا ارادہ ترک کر دیا (مسلم،رقم۲۰۸۹،مسند احمد،رقم ۲۶۴۷۲)۔ مسلم کے ایک شارح نے 'صعید'سے بالائی مدینہ، یعنی قبا مرادلیا ہے جو درست نہیں۔بالائی مصر کے لیے تو یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ،عوالئ مدینہ کے لیے نہیں۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:ابوسلمہ کی وفات کے بعد(ایام عدت میں) رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے۔میں نے آنکھوں پر ایلوا (مصبّر،aloe )لگا رکھا تھا۔فرمایا: یہ کیا ؟میں نے کہا: ایلوا ہے ،اس میں خوشبو نہیں ہوتی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ چہرے کو جوان دکھاتا ہے،رات کے وقت لگاؤ اور دن کو صاف کر دو۔ مزید فرمایا: (عدت کے دوران میں)خوشبو اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو،بیری کے پانی ہی سے اپنا سر ڈھانپ لیا کرو (ابوداؤد، رقم ۲۳۰۵، نسائی، رقم۳۵۶۷)۔
| 2017-06-29T01:58:47
|
http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/hazrat-umm-e-salmah-bint-e-abu-umayya-razi-allah-anha-part-one
|
ڈینگی سے دہشت گردی تک
رحمت علی رازی
11 جنوری ، 2015
گزشتہ تین چار برسوں میں شہر کی فضائوں اور درسگاہوں کی ہوائوں میں جس لفظ کی بازگشت تواتر سے سنائی دی وہ مشہور زمانہ ’’ڈینگی مچھر‘‘ تھا جس نے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں بالخصوص افسران کے مزاج شاہی کو بھی اعصاب شکن اور تھکا دینے والے عذاب میں مبتلا کر دیا، خدا بھلا کرے خادم اعلیٰ کا جو جس کام کے پیچھے پڑتے ہیں، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ انہوں نے ’’ڈینگی مچھر‘‘ کے ساتھ ساتھ ان مہاکلاکار افسران کا بھی اس طرح کچومر نکالا کہ اکثر نے لاہور سے ہجرت کر کے اسلام آباد کی پرسکون فضائوں میں ہی ڈیرہ جمانے میں عافیت سمجھی اور بیشتر حضرات ابھی تک اس گوشہ ء عافیت میں ’’اچھے دنوں‘‘ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اب خدا خدا کر کے انہیں خضرحیات گوندل کی صورت میں مثبت‘ محنتی اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل چیف سیکرٹری مل گئے ہیں، قوی اُمید ہے کہ وہ حکمرانوں کی طاقتور انڈر19 ٹیم جنہوں نے حکمرانوں کی نہ صرف ساکھ کو بے پناہ متاثر کیا بلکہ سینئر افسروں کیساتھ تضحیک آمیز سلوک بھی روا رکھا، کا ازالہ کرینگے اور معاملات درست سمت کی طرف لے جائیں گے۔ اب تو ہمارے برق رفتار خادم اعلیٰ کے ’’سیاسی خادمین خاص‘‘ بھی اپنی شاندار کارکردگی دکھانے کی خاطر سارا سارا دن ہاتھوں میں دُوربینیں پکڑے اور پمفلٹ تقسیم کرتے گلی
کوچوں‘ سڑکوں‘ کارخانوں ‘ قبرستانوں‘ محلوں کی چھتوں اور بالخصوص سرکاری اداروں کا طواف کرتے نظر آتے ہیں۔
ابھی ہم ’’ڈینگی مچھر‘‘ کے عذاب سے نکلے نہیں تھے کہ دہشت گردی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور آج تعلیمی اداروں میں موت کا سا سناٹا ہے، نہ استاد نہ بچے، خالی درودیوار ہماری گڈگورننس کا منہ چڑا رہے ہیں کہ ہر حادثے کے بطن سے ہمیں ہمارا اصل چہرہ اور کارکردگی نظر آتی ہے۔ ہم ہمیشہ کام کرنے کیلئے حادثوں کے منتظر رہتے ہیں۔ ہر حادثے کے بعد جن وسائل کے نہ ہونے کا ہم رونا روتے ہیں، وہ وسائل بھی آ جاتے ہیں اور پھرتیوں سے وقتی طور پر مسائل کو حل کرنے کی تمام عملی تدابیر بھی بروئے کار لانے کے طریقے آ جاتے ہیں‘ پھر ’’چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے‘‘ وہی اللہ توکل چلتے تعلیمی ادارے جہاں درودیوار پر برستی یتیمی، نہ گارڈ، نہ چوکیدار، نہ پورے درودیوار، نہ پورا عملہ، نہ ترتیب، نہ اچھا فرنیچر، نہ وقت دینے والا استاد، نہ اچھی ٹیچر ٹریننگ، نہ صاف پانی، نہ طبی سہولیات، نہ کمپیوٹر لیب، نہ کمپیوٹر استاد، ٹوٹا فرنیچر، گندے کمرے، جہاں پرائیویٹ اداروں میں داخلوں سے محروم رہ جانے والے بچے کھچے بچے اور بھاری بھرکم فیسیں نہ دے سکنے والے طلبہ پناہ لینے آ جاتے ہیں اور پھر خالی ڈگریاں لیکر زمانے کے بے رحم ہاتھوں میں دھکے کھانے نکل پڑتے ہیں کہ گورنمنٹ اداروں کے بچے نہ بورڈ اور یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اتنے لائق فائق ہوتے ہیں کہ وہ پرائیویٹ اداروں سے نکلنے والی کھیپ کا مقابلہ کر سکیں۔
جس ملک میں دو سال میں چھ سیکرٹری ایجوکیشن بدل دئیے جائیں اور جہاں سیاست ایڈمنسٹریشن کی رگوں میں اپنی طاقت اور رعونت کا زہر گھول دے، وہاں تازہ دماغوں کی آبیاری ممکن نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ہنگامی نوعیت کے حالات میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ افسران پورا پورا مہینہ چھٹی والے دن بھی صبح و شام کی تفریق کئے بغیر مسلسل کام اور کام کریں۔ اصول اور قاعدہ ہے کام کے وقت پر کام اور آرام کے وقت آرام ورنہ مسلسل کام کرنے سے مشینیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ آرام کے بعد کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ ہڈحراموں اور نکموں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا، والے افسران بھی لمبی چھٹی کی درخواستیں لئے پھرتے ہیں اور اس جبری مشقت کے ہاتھوں بیزار نظر آتے ہیں اور میڈیا والے دورانِ میٹنگ خادم اعلیٰ کی ڈانٹ پھٹک سے بے خوف نیند کے جھونکے لیتے افسران کی تصاویر دکھا دکھا کر اپنی ریٹنگ بڑھاتے اور ’’بریکنگ نیوز‘‘ چلاتے نظر آتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے تو حالات یہ ہیں کہ یہاں تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ ہر غیرتدریسی سرگرمی بڑی تندہی سے انجام دی جاتی ہے۔ اساتذہ اور طالب علم سارا سار ا دن مختلف آئٹم مثلاً ڈینگی، رشوت ستانی، کرپشن، صفائی، یوتھ فیسٹیول کے فوٹوسیشن کرتے اور کرواتے نظر آتے ہیں۔ خدا بھلا کرے، دورِ جدید کے اس کیمرے کا جس کے ذریعے خادم اعلیٰ کو براہِ راست تصاویر ارسال کر کے سب اچھا ہے کی رپورٹ دی جاتی ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں تو ڈینگی ایک لطیفہ بن کر رہ گیا ہے۔ پہلے تو صرف ڈینگی سیمینار، لاروا پکڑنا، زیرو پیریڈ، پمفلٹ تقسیم کرنا، لوگوں کے گھروں اور چھتوں کی صفائی چیک کرنا ہی کم نہیں تھا، اب تو قومی میچوں کے موقع پر لڑکیوں اور لڑکوں کو بسیں بھر بھر کر جبری تالیاں بجانے کیلئے لے جانا بھی تعلیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ امتحانات کے دوران بھی بچوں کو جبری طور پر سارا سارا دن اور بعض اوقات رات کو بھی جبری مشقت کیلئے بھجوا کر علمی تشنگی مٹانے کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ کبھی یوتھ فیسٹیول کے نام پر بچوں کی تعلیم کا بیڑا غرق کیا جاتا ہے، کبھی ہفتہ انسداد رشوت ستانی، کبھی لیپ ٹاپ کی تقسیم کے نام پر سیاسی دُکانداری چمکانے کیلئے بچوں کو جبری شمولیت کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ یہ سارے عظیم کام دو مہینے کے اس حصے میں ہوتے ہیں جب تعلیمی سرگرمیاں اپنی عروج پر ہوتی ہیں۔ جس ملک میں پورا تعلیمی سیشن ہی دو مہینے پر مشتمل ہو اور اسی دو مہینے میں یہ تمام اللے تللے بھی اپنے پورے جوبن پر ہوں اور انتظامیہ‘ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے رزلٹ کے اکیڈمک کیلنڈر کا زمینی حقائق سے دُور تک کا واسطہ نہ ہو اور جسے بورڈ اور یونیورسٹی کے شیڈول سے ہم آہنگ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی گئی ہو، وہاں سو فیصد حاضری اور اچھے رزلٹ کے خواب دیکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ جس ملک میں لیبز پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے کھلونوں کی طرح چیٹنگ کرنے کیلئے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ پکڑا دئیے جائیں اور ان کی لیبز کو اساتذہ سے محروم کر کے انہیں کمپیوٹر عیاشی کیلئے کھلی چھوٹ دیدی جائے، وہاں کے درودیوار اسی طرح سے آباد ہوتے ہیں جیسے اب ہیں۔ اس ملک میں وسائل کی کمی ہے نہ ہو سکتی ہے کہ یہ اللہ کے نام پر بنی ہوئی مملکت خداداد ہے اور یہ ملک اب تک اللہ کے سہارے ہی چل رہا ہے ورنہ اسے تباہ و برباد کرنے اور پتھر کے زمانے میں پہنچانے کیلئے حکام بالا نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
رحمت علی رازی سے مزید
بیوروکریسی کی کارکردگی اور مراعات کا ریکارڈ بھی تو عام کیا جائے
عدالت اس کا بھی سخت نوٹس لے
عدالت اس کا بھی سخت نوٹس لے!
وزیراعظم مستعفی ہو جائیں ؟
| 2018-11-18T12:46:55
|
https://jang.com.pk/news/18196
|
سائنسدانوں کے بنائے گئے روبوٹ نے صرف 4گھنٹے میں وہ کام کر نا سیکھ لیا جو انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں سیکھ پاتا – Power Plus News
| 2019-12-10T10:22:11
|
https://powerplusnews.com/archives/921
|
آم کی پیداوار میں کمی، برآمدات بڑھنے کی امید | 72 نیوز
آم کی پیداوار میں کمی، برآمدات بڑھنے کی امید
کراچی: پاکستان سے رواں سیزن میں آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف 1لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق پانی کی قلت اور موسمی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے آم کی پیداوار 35فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے،اس مرتبہ پہلی بار اقتصادی راہداری کے ذریعے چین کو زمینی راستے سے بھی آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
وحید احمد کے مطابق رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا 1 لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے 95سے 100ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ رمضان کے دوران آم کی آمد کی وجہ سے برآمدات کو بھی فائدہ ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستانی آم روزے داروں کے دسترخوان کی زینت بنیں گے، رمضان کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے بھی برآمدی مالیت میں اضافہ ہوگا، پیداوار میں 50فیصد تک کمی کی وجہ سے گزشتہ سیزن کے لیے 1لاکھ ٹن کا ہدف پورا نہیں ہوسکا تھا اور برآمدات 81ہزار ٹن تک محدود رہی تھیں۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرنے کہا کہ رواں سیزن بھی خلیجی ممالک، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک پاکستانی آم کے بڑے خریدار رہیں گے تاہم چین کے امپورٹرز کی جانب سے بھی پاکستانی آم کی امپورٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی جارہی ہے اور بڑی تعداد میں چین کو پاکستانی آم کی ایکسپورٹ انکوائریزموصول ہورہی ہیں۔
وحید احمد نے کہا کہ پاکستان سے پہلی مرتبہ اقتصادی راہداری کے ذریعے آم کی ایکسپورٹ کی جائے گی۔ چین کو 500سے 2000 ٹن تک آم برآمد کیے جانے کی توقع ہے جبکہ چین کی مارکیٹ پوری طرح ڈیولپ ہونے کی صورت میں چین پاکستان کی بڑی منڈی بن سکتا ہے جہاں سالانہ 20ہزار ٹن تک آم ایکسپورٹ کیا جاسکے گاجبکہ جاپان کو بھی 100سے 150ٹن آم برآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال چین، مالدیپ اور یورپی ملکوں میں پاکستانی آم کی تشہیری سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ ایران بھی پاکستان آم کا اہم خریدار ہے تاہم ایرانی کرنسی کی قدر میں غیرمعمولی کمی کی وجہ سے برآمد کنندگان کو اچھی قیمت ملنے کی توقع نہیں ہے، موسمی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ پاکستان میں آم کی پیداوار کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے، گزشتہ سال بھی آم کی مجموعی پیداوار 50فیصد تک کم رہی تھی جبکہ رواں سیزن بھی 35فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔
وحید احمد نے بتایا کہ سندھ میں آم کی پیداوار کے علاقوں حیدرآباد ڈسٹرکٹ، ٹنڈوالہ یار، میرپور خاص میں آم کے باغات پانی کی قلت سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پنجاب میں آم کی مجموعی پیداوار 35سے 40فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مظفر گڑھ، ملتان، رحیم یار خان اور شجاع آباد آم کے علاقوں میں بھی آم کی پیداوار 30سے 50فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے، آم کی پیداوار میں کمی کے ساتھ آم کا سائز بھی چھوٹا رہا ہے، طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے سے اس سال آم کی تھوک قیمت بھی 2400سے بڑھ کر 3000روپے تک رہنے کا امکان ہے۔
وحید احمد نے کہا کہ مختلف پیداواری علاقوں میں سردیوں کا موسم دیر تک رہنے سے بھی آم کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نئی نئی بیماریوں کے حملوں کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے آم کی پیداوار خدشات کا شکار ہے۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن گزشتہ کئی سال سے کلائمٹ چینج کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کے فروغ کا مطالبہ کرتی رہی ہے، زراعت کی بہتری کی ذمے داری اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے کی وجہ سے مربوط کوششوں کا فقدان ہے۔
وحید احمد نے کہا کہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف پورا کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام، امن و امان کی صورتحال بہتر رہنے کے ساتھ ایئرلائنز، شپنگ کمپنیوں، کسٹمز، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے ایئرلائنز پر زور دیا کہ پاکستان کے توازن ادائیگی کے بحران کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے موزوں اور مناسب ایئرفریٹ مقرر کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کی وجہ سے دشوار ہوتی مسابقت کو آسان بنایا جاسکے۔
ٹیگزAbbotabad AbbTak ACER afghanistan America APPLE April Arfakareem ARY AryNews August Australia Autumn BadshahiMasjid balakot Balochistan Bangladesh BBC BOL BOLNews Brazil Canada channel24 Channel5 china City42 CM CNN DAWLANCE DawnNews December DELL Denmark dubai duniya eid Ericsson ExpressNews Fashion FAST FC Feb Fortress France Gawadar GC Generation GeoNews Germany GIKI GREE gujranwala Gulberg Haeir HAJ HARDEES HP Huwaie hyderabad india IndiaNews indonesia islamabad Italy JAAG JAAGNEWS JahangirTomb Jamatulawal Jamatusani Jan jatiumra Jeans July June kaghan Karachi Kashmir kasur KFC kpk Kuwait Lahore lahorenews larkana LG Liberty London LUMS MACbook Macdonalds Madina Makeups Makkah Malaysia mansehra March May MinarePakistan MITSHUBISHI MizareQuaid Muharram MULTAN muzaffarabad naran NATIONAL NDTV neelumvaleey NEO News Newzealand Nigeria northkorea November NWFP October ORIENT PakistanNews PakistanNewsChannel PakistanNewsChannels PAris PEL peshawar PTV Punjab qatar QMobile quetta Rabiulawal Rabiusani Rain raiwind Rajab Ramadan rawalpindi russia Safar SammaNews Samsung sargodha SaudiaArab September Shaban Shawal Shoes shugran sialkot Sindh SONY South Africa southkorea TV کراچی: پاکستان سے رواں سیزن میں آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف 1لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔
| 2018-08-19T15:00:14
|
http://72news.tv/?p=34056
|
صنعتی دہشت گردی - Life Tips
وہ مریضوں کےلئے پریشان تھے‘ وہ کہہ رہے تھے ہم نے ہسپتال باقاعدہ سٹارٹ نہیں کیا لیکن ہمارے پاس روزانہ پانچ چھ سو مریض آ جاتے ہیں‘ یہ بے چارے بسوں اور ٹریکٹروں پر آتے ہیں اور ہمارے گیٹ کے سامنے لیٹ جاتے ہیں‘ مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی“ میں نے ان سے پوچھا ”فیصل آباد میں سب سے زیادہ بیماری کون سی ہے“ ان کا کیا جواب تھا؟ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو اس مکالمے کی بیک گراﺅنڈ بتاتا چلوں۔ میں سیلانی ٹرسٹ کی دعوت پر فیصل آباد گیا‘ مولانا بشیر فاروقی کراچی
سے تشریف لائے تھے‘سیلانی ٹرسٹ خدمت کی حیران کن داستان ہے‘ مولانا بشیر فاروقی میمن کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں‘ کراچی میں باردانے کا کام کرتے تھے‘ اللہ تعالیٰ سے لو لگی اور یہ1999ءمیں کاروبار سے خدمت میں آ گئے‘ حضرت خود فرماتے ہیں ”میں نے پہلے دن ضرورت مندوں کو ساڑھے تین سو روپے کا کھانا کھلایا‘ آج ہم روزانہ 60 لاکھ روپے کا کھانا کھلا رہے ہیں‘ ہم کراچی میں روز 700 بکرے ذبح کرتے ہیں“ سیلانی پاکستان کا واحد ٹرسٹ ہے جو چندے کی درخواست نہیں کرتا لیکن لوگ انہیں اس کے باوجودروزانہ ایک کروڑ روپے دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس رقم سے درجنوں منصوبے چلا رہے ہیں‘ دستر خوانوں کی تعداد100 ہو چکی ہے‘ یہ وہاںایک لاکھ 25 ہزار لوگوں کو روزانہ کھانا کھلاتے ہیں‘ مولانا بشیر فاروقی نے چندے کی اپیل نہ کرنے کی ایک عجیب وجہ بیان کی‘ فرمایا ”میں نے خدمت کا کام شروع کیا تو میرے پاس روزانہ سینکڑوں غریب لوگ آتے تھے‘ میں نے ایک دن اللہ تعالیٰ سے دعا کی یا باری تعالیٰ میں ہاتھ نہیں پھیلا سکتا‘ آپ اگر غریب بھجواتے ہیں تو آپ مہربانی فرما کر امیر بھی بھیج دیا کریں تاکہ میں غرباءکی خدمت کر سکوں‘ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمالی اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے اللہ تعالیٰ غریبوں کے ساتھ امیر بھی بھجوا دیتا ہے ا ور ہمیں ہماری ضرورت کے مطابق وسائل مل جاتے ہیں“ سیلانی ٹرسٹ کراچی کے علاوہ ملک کے 8 شہروںمیں کام کر رہا ہے‘ ان شہروں میں فیصل آباد بھی شامل ہے‘یہ لوگ نوجوانوں کو کمپیوٹر کی مفت تعلیم بھی دیتے ہیں‘ اتوار کوفیصل آباد سٹیڈیم میں ساڑھے تین ہزاربچوں کا ٹیسٹ تھا‘ یہ بچے سلیکشن کے بعد ”موبائل ایپلی کیشنز“ کی مفت ٹریننگ لیں گے اور یوں یہ چند ماہ میں اپنے قدموں پر
کھڑے ہو جائیں گے‘ سیلانی ٹرسٹ فیصل آباد میں صاف پانی کے پلانٹس بھی لگا رہا ہے‘ یہ لوگ 17 پلانٹس لگا چکے ہیں اور یہ مزید بھی لگانا چاہتے ہیں‘ میں ان لوگوں سے جب بھی ملتا ہوں‘ مجھے ان کا جذبہ حیران کر دیتا ہے‘یہ حقیقتاً وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک چل رہا ہے‘ میں فیصل آباد میں بھی اس تحیر کا شکار تھا‘ ہم اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔فیصل آباد میں ہمارے میزبان ہمیں ایک زیر تکمیل ہسپتال میں لے گئے‘ یہ ہسپتال ایمٹیکس گروپ نے بنایا‘ گروپ کے بانی حاجی محمد افتخار مرحوم تھے‘ یہ فیصل آباد کی سوترمنڈی میں بینک منیجر تھے‘ حاجی صاحب نے نوکری چھوڑی‘ کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور حاجی صاحب کا گروپ ٹاپ فائیو گروپس میں شامل ہو گیا‘ یہ ملک کے سب سے بڑے ایکسپورٹرز میں بھی آگئے لیکن پھر یہ گروپ بھی پاکستان کے دیگر گروپوں کی طرح زوال کا شکار ہوگیا‘دنیا کی 90 فیصد کمپنیاں غیرمعمولی ترقی (گروتھ) کی وجہ سے بند ہوتی ہیں‘ مالکان ترقی کی دوڑ میں اتنے آگے آ جاتے ہیں کہ یونٹس اور ملازمین پیچھے رہ جاتے ہیں‘ یہ لوگ اپنی پیداواری صلاحیت سے زیادہ آرڈر بھی لے لیتے ہیں اور یہ غلطی پورے گروپ کو لے کر بیٹھ جاتی ہے‘ ایمٹیکس کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ گروپ میں بینکوں‘ تاجروں اور سوترمنڈی کے شیخوں کے اربوں روپے لگے ہوئے تھے‘ سرمائے کا یہ بوجھ پورے گروپ کو لے کر بیٹھ گیا یوں فیکٹریاں بند ہو گئیں‘جائیدادیں بک گئیں اور اثاثے منجمد ہو گئے‘ حاجی افتخار صاحب کے تین صاحبزادے ہیں‘ یہ تینوں گروپ کے ”ری وائیول“ کےلئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں‘ ان لوگوں نے جڑانوالہ روڈ پر اپنی پرانی فیکٹری میں ساڑھے پانچ سو بیڈ کا ہسپتال اور میڈیکل کالج بنا دیا ہے‘ حاجی صاحب مرحوم کے بڑے صاحبزادے خرم افتخار کا خیال تھا اگر یہ ہسپتال اور یہ میڈیکل کالج چل گیا تو یہ ایک سال میں اپنے تمام خسارے پورے کر لیں گے‘ یہ اپنے تمام قرض بھی ادا کر دیں گے‘ میں ان کے اس دعوے سے اتفاق کرتا ہوں‘فیصل آباد میں اتنی بیماریاں ہیں کہ یہ ہسپتال چھ ماہ میں اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا‘ پوری دنیا میں تعلیم اور صحت بری سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے‘ دنیا کی تمام بڑی یونیورسٹیاں ارب پتی جاگیرداروں‘ صنعت کاروں اور تاجروں نے اپنی زمینیں اور فیکٹریاں بیچ کر بنائیں‘ دنیا میں پرائیویٹ ہسپتال بھی مشنری اور مخیر حضرات بناتے ہیں اور یہ ادارے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کےلئے سو سو سال لگا دیتے ہیں لیکن آپ پاکستان میں کوئی تعلیمی ادارہ بنائیں‘ آپ کوئی کلینک یا کوئی ہسپتال کھول لیں‘آپ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی ہو جائیں گے‘ پاکستان میں میڈیکل کالج سونے کی کان ہیں‘ آپ میڈیکل کالج بنائیں اور نوٹ گننے کےلئے مشینیں لگا لیں اور آپ اگر سمجھ دار ہیں تو آپ تعلیمی اداروں‘ ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز کی چین بنائیں اور آخر میں ان کی حفاظت کےلئے ایک اخبار اور ایک ٹیلی ویژن چینل بنا لیں‘ آپ کو کوئی شخص ارب پتی ہونے سے نہیں روک سکے گا۔میں اب خرم افتخار کے ساتھ مکالمے کی طرف آتا ہوں‘میں نے ان سے پوچھا ”فیصل آباد میں کون سی بیماری سب سے زیادہ ہے“جواب دیا ”ہیپاٹائٹس سی‘ فیصل آباد کے لاکھوں لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں“ میں نے عرض کیا ”بیماری کی وجوہات کیا ہیں“ جواب دیا ”آلودہ گندہ پانی“ میں نے پوچھا ”اور پانی کس نے گندہ کیا“ وہ چپ ہو گئے‘ میں نے دوبارہ پوچھا تو وہ بولے ”فیصل آباد کے کارخانوں نے“ میں نے مسکرا کر عرض کیا ”سر پھر آپ بھی اس بحران کے ذمہ داروں میں شامل ہوتے ہیں“ وہ خاموش رہے‘ میں نے عرض کیا” فیصل آباد میں بارہ سو فیکٹریاں ہیں‘ یہ فیکٹریاں پچاس سال سے پانی کے ذخائر میں کیمیکل شامل کر رہی ہیںچنانچہ فیصل آباد کے لوگ ہیپاٹائٹس‘ ٹی بی‘ جلد اور کینسر کے مریض بن چکے ہیں‘ فیکٹری مالکان ظالم ہیں‘ یہ لوگ ڈالر کماتے وقت ایک لمحے کےلئے بھی یہ نہیں سوچتے ملک میں کتنے لوگ اندھے‘ بہرے اور گونگے ہورہے ہیں‘ ملک میں کینسر کے کتنے مریض اکٹھے ہو رہے ہیں‘ کتنے لوگ پھیپھڑوں‘ دل‘ گردوں اور جگر سے محروم ہو چکے ہیں اور کتنے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”ہم نہیں‘ حکومت ذمہ دار ہے‘ یہ حکومت کا کام تھا“ میں نے عرض کیا ”آپ درست فرما رہے ہیں‘.تعلیم‘ تربیت‘ پانی اور ہسپتال حکومتوں کی ذمہ داریاں ہوتے ہیں لیکن دولت کی حرص نے ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے اتنے مریض پیدا کر دیئے ہیں کہ ہماری حکومتیں اگر ان کے علاج میں جت جائیں تو ملک کا سارا ترقیاتی بجٹ خرچ ہو جائے گا لیکن مریض بحال نہیں ہو سکیں گے“ میں خرم صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر میں فیل ہوگیا‘ میں دل میں سوچتا رہا ہم لوگ کتنے ظالم ہیں‘ ہم لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں‘ ہم تھوڑے سے منافع اور اس عارضی زندگی کی چند لگژریز کےلئے کتنی زندگیاں کھا گئے ہیںاور کتنی روزانہ کھا رہے ہیں‘ میں ایمٹیکس سے باہر نکلا تو مجھے ملتان کے ایک سیٹھ صاحب یاد آ گئے‘ وہ چمڑے کا کام کرتے تھے‘ ان کی ٹینری کی وجہ سے دو گاﺅں معذور ہو گئے‘ سیٹھ صاحب کے کاروبار کو زوال آیا تو انہوں نے علاقے میں ہسپتال بنا دیا‘ وہ پہلے نوٹ کمانے کےلئے لوگوں کو بیمار کرتے تھے اور وہ بعد ازاں لوگوں کا علاج کر کے نوٹ کماتے رہے لیکن پھر ان کا کیا انجام ہوا؟ وہ خود کینسر کے ہاتھوں مر گئے اور اولاد جائیداد کےلئے لڑ لڑ کرفنا گئی‘ ایک بیٹے نے دوسرے کو قتل کر دیا‘ایک مر گیا‘ دوسرا کچہریوں میں روز مرتا اور روز جیتا ہے‘ بیٹی کو طلاق ہو گئی‘ وہ گھر چلانے کےلئے اب سکول میں پڑھاتی ہے‘ پیچھے رہ گئی پراپرٹی تو وہ بینکوں نے ضبط کر لی ہے‘ سیٹھ صاحب کا ہسپتال بھی اب چندے سے چلتا ہے۔میری حکومت اور چیف جسٹس سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر ملک میں جاری صنعتی دہشت گردی پربھی توجہ دیں‘ آپ فیکٹریوں کو کم از کم اتنا پابند ضرور کر دیں یہ جب تک ویسٹ مینجمنٹ کا پلانٹ نہ لگا لیں‘ یہ جب تک فضائی آلودگی کے خاتمے کا بندوبست نہ کر لیں‘یہ جب تک پورے علاقے کےلئے صاف پانی کا انتظام نہ کر لیں اور یہ جب تک علاقے کےلئے فری ہسپتال نہ بنائیں اس وقت تک انہیں فیکٹریاں لگانے اور چلانے کی اجازت نہ ہو‘ یہ لوگ عوام کو صاف پانی‘ صاف ہوا اور جسمانی صفائی کی تربیت دینے کے بھی پابندہوں‘ یہ مزدوروں کو بھی ٹریننگ دیں اور یہ فیکٹری کے دائیں بائیں موجود لوگوں کو بھی اور میری صنعت کاروں سے بھی درخواست ہے آپ بھی خدا خوفی کریں‘ آپ اگر دنیا میں مریض چھوڑ کر جائیں گے تو یہ مریض حشر تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے‘ان کی آہیں آپ کی قبروں کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیں گی چنانچہ آپ مہربانی کریں‘ آپ پیسے کی ہوس میں لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں‘ آپ ویسٹ ڈسپوزل کا باقاعدہ بندوبست کریں ورنہ دوسروں کے ساتھ ساتھ آپ کے بچے بھی زندہ نہیں رہیں گے کیونکہ جب بیماری آتی ہے تو پھر یہ چھوٹے گھر دیکھتی ہے اور نہ ہی اونچے محل‘ یہ سب انسانوں کے ساتھ برابرسلوک کرتی ہے لہٰذا آپ خدا کےلئے خدا سے ڈریں۔
| 2020-06-01T03:05:12
|
http://lifetips.pk/archives/65101
|
بجلی کی چھٹیاں کب ختم ہوں گی؟ - ہم سب
بجلی کی چھٹیاں کب ختم ہوں گی؟
28-07-2016 میری نگاہ میں 85 Views
رحمان شاہ
h میں نے اتنا تو سنا تھا کہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں یا پھر کسی بھی موسم کی چھٹیاں مزدوروں، تمام تعلیمی اداروں کو ملتی ہیں اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو ملتی ہیں، لیکن مجھے اب ایسا لگ رہا کہ بجلی کو بھی گرمیوں کی چھٹیاں ملیں تھیں۔ بجلی کو چھٹیاں جولائی میں نہیں بلکہ مئی کی ابتداء میں ملیں تھیں۔ جیسے کہ ہمیں چھٹیاں ملتی ہیں تو ہم اپنی چھٹیوں کو شاندار بنانے کے لئے کسی تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ کچھ لوگ باہر کے ملکوں کا بھی رخ کرتے ہیں۔ یعنی ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ اس کی چھٹیاں شاندار طریقے سے گزریں۔ اسی طرح بجلی بھی اپنی چھٹیاں شاندار طریقے سے گزارنے کے لئے کہیں گئی ہوئی ہے، لیکن اس بات کا نہیں پتہ کہ کہاں گئی ہے۔
وطن کے لوگوں نہ کہاں کہاں بجلی کی سراغ نہیں لگایا، لیکن بجلی کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ ویسے میں بھی کبھی کبھی جب بجلی کی سراغ لگاتا ہوں اور اسے دنیا کے ہر خوبصورت مقامات پر نہیں دھونڈ پاتا تو سوچتا ہوں کہ شاید بجلی چھٹیاں گزارنے کے لئے چاند پر گئی ہے۔ اور اب تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ بجلی ضرور ایسی جگہ پر ہی ہوگی جہاں اسے کوئی غیر متوجہ نہ کر سکے۔ میں نے بجلی کی ایک انٹرویو میں سنا تھا کہ بجلی کو کوہ نوردی کا بھی بہت شوق ہے اور اور متعد بار بجلی نے شاہگوری اور نانگا پربت کو سر بھی کیا ہے۔ اس بار بجلی نے شمالی پہاڑوں کو سر کرنے کے بجائے چاند پر پہاڑوں کو سرکرنے کی خواہش دل میں بسا رکھی تھی، اس لئے وہ اپنی کوہ نوردی کی خواہش کو پوری کرنے کے لئے چاند پر گئی ہے۔ چاند پر پر گرمیوں کی چھٹیاں بڑے شاندار طریقے سے گزرتی ہیں۔ اور شاید وہاں پہاڑ بھی بڑے ظالم قسم کے ہوں گے۔ اور کوہ نورد کی خواہش ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ ظالم پہاڑوں کو سر کر کے اپنا نام سر فہرست لائے۔
ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہے، جن کی یہ خواہش ہے کہ وہ بھی کوہ نوردی کے لئے چاند پر جائیں، لیکن اتنی شاندار اور یکتا جگہ پر جانا کوئی عام بات نہیں۔ اس کے لئے آپ کے بڑے لوگوں سے تعلقات ہونے چاہیے۔ بجلی کے تعلقات تو ماشااللہ بہت بڑے لوگوں کے ساتھ استوار ہیں اس لئے بجلی جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ چاند پر بجلی کا جانا کوئی خاص بات نہیں ہے۔ بجلی اکثر چھٹیاں گزارنے کے لئے آوارگی کرتی رہتی ہے، لیکن بجلی نے اس بارکچھ زیادہ ہی چھٹیاں گزاریں۔ ہم بجلی کی راہوں کو تکتے رہے اور اس کا کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی جب میں بجلی کا سراغ لگانے اس کے کسی عزیز کے ہاں گیا تو میں نے ان سے کہا۔
’’اسلام علیکم جناب!\”
’’و علیکم سلام ‘‘صاحب نے جواب دیا۔
’’ویسے جناب بجلی کا کچھ پتہ نہیں بہت دنوں سے۔۔ ‘‘میں نے صاحب کو اپنی طرف مخاطب کرتے ہوئے کہا
’’ہاں۔ سیر سپاٹے پر یا کوہ نوردی کے لئے گئی ہوگی‘‘
’’کہاں ؟‘‘میں نے کہا۔
’’مجھے کیا پتہ کہاں گئی ہے۔ ‘‘صاحب نے چہک کر کہا۔
’’آپ تو ان کے بڑے عزیز ہیں۔ آپ کو بھی نہیں بتایا اس کے کہ کہاں گئی ہے؟\”
’’بجلی کسی کو بھی نہیں بتاتی کہ وہ کب اور کہاں جاتی ہے۔ ‘‘ صاحب نے کہا۔
’’اچھا۔ ویسے کتنے دنوں کے لئے بجلی سیر سپاٹے پر یا کوہ نوردی کے لئے جاتی ہے۔ ؟؟‘‘میں نے حیران کن انداز میں کہا۔
’’کچھ پتہ نہیں؟‘‘
’’ویسے جناب میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ چاند پر گئی ہوگی ‘‘ میں نے صاحب کے کان میں سرگوشی کی۔
’’چاند پر۔‘‘صاحب نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔
’’ہاں چاند پر‘‘ میں نے یقین کے ساتھ سر کونیچے اوپر جنبش دی۔
’’شاید گئی ہو ویسے آپ کے لئے کچھ ٹھنڈا وغیرہ ‘‘
’’نہیں شکریہ‘‘یہ کہہ کر میں وہاں سے چلتا بنا۔
تو میرے عزیزوں جیسے کہ آپ کو پتہ لگا کہ بجلی کسی وقت بھی کسی سے بھی بن پوچھے جاتی ہے۔ بجلی کسی کو بھی نہیں بتاتی۔ .یہاں تک کہ اپنے عزیزوں کو بھی نہیں بتاتی کہ وہ کب اور کہاں جاتی ہے؟۔ چلو اگر بجلی سیر سپاٹے پر یا کوہ نوردی کے لئے گئی بھی ہے تو اس کی چھٹیاں کب ختم ہوں گی اس کا علم مجھے نہیں ہے۔ اگر میری مانی جائے تو بجلی کو اتنی چھٹیاں ہی نہیں دینی چاہیے۔ پتہ نہیں بجلی کو اتنی زیادہ چھٹیاں کون دیتاہے کہ پھر بجلی ایک دم غائب ہو جاتی ہے۔ اگر آپ میں کسی کے پاس اس کا علم ہے کہ بجلی کی چھٹیاں کب ختم ہوں گی تو براہ کرم مجھے آگاہ کر دیں۔
← اردو ادب کی \’\’ورجینا وولف\’\’ قرۃ العین حیدر
مہلک ترین گناہ اور سوشل میڈیا →
| 2017-12-15T02:55:48
|
http://www.humsub.com.pk/22188/rahman-shah/
|
شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کرد باشندوں کا شامی فوجیوں کا شاندار استقبال
شیعت نیوز : شامی فوج صوبہ حلب کے شہر منبج اور صوبہ الحسکہ کے شہر تل تمر میں داخل ہو گئی ہے۔ جہاں ان شہروں کے باشندوں نے شامی فوجیوں کا شاندار استقبال کیا۔
شام کے شمالی صوبے ا لحسکہ کے شہر تل تمر اسی طرح الدریاسہ اور راس العین جبکہ حلب کے شہرمنبج میں شامی فوجیوں کی تعیناتی ترک فوج کی جارحیتوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد انجام پائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کرد ملیشیا کی جوابی کارروائی، 10 ترک شہری جاں بحق اور 35 سے زائد زخمی
صوبہ الحسکہ کے شہر قامشلی میں کردوں کی تنطیم وائی پی جی کے قریبی ذریعوں نے خبردی ہے کہ اس علاقے کے کردوں کا شامی حکومت سے اتفاق ہوگیا ہے جس کی بنیاد پر وائی پی جی اور شامی فوج ان سبھی علاقوں کا مل کنٹرول سنبھالیں گی جو کردوں کے اختیار میں ہیں۔ اس درمیان اطلاعات ہیں کہ شامی فوج کا ایک دستہ الطبقہ شہر میں داخل ہونے کے بعد شہر کے فوجی ہوائی اڈے پر تعینات ہوگیا ہے۔
شام کے شمالی علاقوں سے ہی خبر ہے کہ ترکی کی فوجی جارحیت سے نمٹنے کے لئے شامی فوج کے مزید دستے شمالی علاقےکی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ حلب کے شہر منبج میں داخل ہوگئے ہیں۔
شامی کردوں نے بھی کہا ہے کہ ترکی سے ملحقہ شام کی سرحد پر شامی فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر کردوں اور دمشق حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا ہے اس سمجھوتے کے مطابق شامی فوج شمالی شھر عفرین سمیت تمام سرحدی علاقوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے گی۔
شامی فوج عفرین،عین العرب، عین عیسی، طبقہ اور منصورہ میں تعینات ہوگی۔
ادھر کردوں کے زیرکنٹرول علاقے کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ شامی کردوں نے ملک کی ارضی سالمیت اور سرحد کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے شام کی حکومت سے یہ سمجھوتہ کیا ہے۔
ترک فوج کی فضائیہ نے شام کے شمالی علاقے میں عام شہریوں اورغیر ملکی نامہ نگاروں پر کے ایک قافلے پر حملہ کردیا جس میں کم سے کم نوافراد مارے گئے ہیں۔
سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ترک فوج کے حملے میں کم سے کم نو عام شہری اور غیر ملکی نامہ نگار ہلاک ہوئے ہیں۔
اس تنظیم کے مطابق ترک فوج کے اس ہوائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے واضح رہے کہ ترکی کی فوج دہشت گردی سے نمٹنے اور ترکی اور شام کی سرحد سے کرد چھاپا ماروں کا صفایا کرنے کے بہانے شمالی شام پر بدھ کے روز سے حملے کر رہی ہے۔
Air Port damascus halab Kurds shiite news Syria Terrorist turkey ارضی ترکی جارحیت حکومت حلب حملے دمشق دہشت گردی سالمیت شام شیعت نیوز صوبہ فضائیہ قافلے کرد ہوائی اڈے
| 2020-08-04T19:57:33
|
https://urdu.shiitenews.org/sham-kay-shumali-mashiqi-ilakio-mai-kurd-bashindo/
|
بہاولنگر شہر میں دھماکے کی اطلاعات پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے دھماکے کی جگہ کی تلاش جاری ہے
بہاولنگر شہر میں دھماکے کی اطلاعات
پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے دھماکے کی جگہ کی تلاش جاری ہے
محمد علی پیر 14 مئی 2018 20:47
بہاولنگر(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 14مئی 2018ء ) :بہاولنگر شہر میں دھماکے کی اطلاعات ہیں۔۔پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے دھماکے کی جگہ کی تلاش جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق بہاولنگر شہر میں زور دار دھماکے کی آوازسنی گئی ہے۔جس کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے دھماکے کی جگہ کی تلاش جاری ہے۔
اس حوالے سے ابتدائی معلومات کے مطابق سیکیورٹی حکام کی جانب سے جائے وقوعہ کو تلاش کیا جارہا ہے تاکہ دھماکے کے حوالے بنیادی معلومات اکٹھی کی جا سکیں اور یہ پتہ چلایا جا سکے کی دھماکہ کس نوعیت کا تھا اور اس کے نتیجے میں کتنا نقصان ہوا یا ہونے کا خدشہ ہے۔جگہکا تعین ہوتے ہی امدادی کاروائیاں بھی شروع کر دی جائیں گی۔
| 2018-09-25T01:06:06
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-14/news-1530947.html
|
گفتن ذکرذکر خواصعدد ذکرذکرذاکرذکر عامذکر خاصذاکرینفواید ذکرذکر موفقیت
| 2019-03-20T09:01:23
|
http://moreinterop.in/post/category/3
|
مزدوروں کا فنڈسڑکوں کی تعمیر اورترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جارہا ہے،پاکستان ورکرز فیڈریشن | Jasarat News Urdu
مزدوروں کا فنڈسڑکوں کی تعمیر اورترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جارہا ہے،پاکستان ورکرز فیڈریشن
March 14, 2019, 7:52 PM
کراچی (اسٹا ف رپورٹر) حکومت انٹر نیشنل لیبر قوانین کے توثیق شدہ لیبر قوانین پر عمل درآمد کرے، تاکہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت ،صحت و سلامتی سمیت دیگر مسائل میں کمی آسکے۔ دیگر مزدوروں کی طرح صحافی بھی قلم کامزدور ہیں ان کے مسائل بھی مشترکہ ہیں، پاکستان ورکرز فیڈریشن کا بنیادی کام مزدوروں کو لیبر قوانین سے متعلق آگاہی دینا ہے اور یقیناًایسے تربیتی پروگراموں سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے ہم مثبت نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں مزدور غیر رسمی شعبوں یعنی گھریلو ملازمت، تعمیرات اور زرعی شعبوں میں کام کر رہے ہیں جن کے حقوق کی تحفظ کیلئے نہ تو قانون سازی کی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں حکومت نے کوئی توجہ دی جس سے ان کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ان خیالات کا اظہا رپاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں ’’سماجی تحفظ اور اسکی موجودہ صورتحال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ علا قائی میڈیا ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ سے پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود اور دیگر نے خطاب کیا ،
اس ورکشاپ میں جسارت لیبر صفحہ کے انچارج قاضی سراج،عنیبہ وقار،ضمیر عباس،منیر عقیل انصاری عدیلہ خان،شازیہ ارشد،ضیاء قریشی سمیت مختلف الیکڑونک اورپرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحا فیوں نے شرکت کی۔
پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی کوارڈینٹر شوکت علی انجم نے مزید کہا کہ صوبائی لیبر قوانین پر نظرثانی اورغیر رسمی شعبوں کے مزدوروں کے حقوق کی تحفظ کیلئے پاکستان ورکرز فیڈریشن نے اپنی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ مزدوروں کو یکساں حقوق مل سکیں،ان کو کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ای او بی آئی کا فنڈسڑکوں کی تعمیر اورترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جارہا ہے جس سے مزدور متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان ورکرز فیڈریشن کہ پر وگرام �آفیسر وماسٹر ٹر ینر اسد محمود نے میڈیا ورکشاپ میں موجودہ صنعتی تعلقات کے قوانین ، اٹھارویں ترمیم کے بعد لیبر قوانین کی موجودہ صورتحال، لیبر قوانین پر عملدرآمد ،سوشل سیکورٹی کے اداروں سمیت دیگر مزدوروں کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی ،ان کا کہنا تھا کہ سماجی تحفظ کے اداروں میں سیا سی مداخلت کی وجہ سے فعال کام نہیں کر رہے ہیں اور بدعنوانی ،بد انتظامی کا شکار ہیں،
اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالہ کیاگیا جس کی وجہ سے ادارں میں گو مگوں کی صورتحال ہیں، موجودہ دورے حکومت میں بھی اداروں میں یونین کی عدم مو جود گی کی وجہ سے بہت سارے مزدور دائرہ کا ر سے باہر ہیں اور آج بھی زیادہ تر مزدوراپنی پنشن اور دیگر مراعات سے محروم ہیں۔
| 2019-05-21T01:14:24
|
https://www.jasarat.com/2019/03/14/%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D9%86%DA%88%D8%B3%DA%91%DA%A9%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A7/
|
سعود سے کبھی گھریلو جھگڑا نہیں ہوا ،پروکشن کے حوالے سے ضرور پروفیشنل اختلاف ہوتا ہے ‘ جویریہ
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) اداکارہ جویریہ سعود نے کہا ہے کہ سعود اور میرے درمیان کبھی گھریلو جھگڑا نہیں ہوا البتہ پروکشن کے حوالے سے ضرور پروفیشنل اختلاف ہوتا ہے ۔
ایک انٹر ویو میں جویریہ سعود نے کہا کہ شادی سے پہلے کسی پراجیکٹ کے بارے میں اکیلے سوچ بچار کرتی تھی لیکن شادی کے بعد سعود اور میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔میاں بیوی گاڑی کو دو پہیے ہوتے ہیں اگر ان میں توازن ہو تو زندگی سکون سے گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اولاد ہو جائے تو میاں بیوی کا رشتہ اور مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں کو اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہوتا ہے اورگھریلو لڑائی جھگڑے شدت اختیار نہیں کرتے ۔
شادیگاڑیبیوی
| 2018-09-22T20:32:40
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-06-10/news-1564650.html
|
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 2 ہفتوں سے جاری کرفیو نے زندگی اجیرن بنا دی – Savaira News
| 2019-09-16T16:30:34
|
http://www.savairanews.com/news/89249
|
سوال # 149490
(۱) ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی کتاب، کتاب البدعة میں انہوں نے دس سے زائد فقہائے احناف کے قول پیش کئے ہیں جو دین میں بدعت حسنہ کے قائل ہیں، کیا وہ سب فقہاء غلطی پر ہیں؟
(۲) کیا فقہاء امت میں اس بات پر اختلاف ہے کہ دین میں بدعت حسنہ ہے یا نہیں؟
(۳) اس حدیث کا مطلب ائمہ و محدثین نے کیا لکھا ہے جس نے دین اسلام میں کوئی اچھا کام ایجاد کیا ہو اور اس کو اس کے عمل کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
براہ کرم کسی امام کا حوالہ دیں۔ جزاک اللہ
جواب # 149490
Fatwa: 786-767/M=7/1438
(۱) ہم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے واقف نہیں اور ان کی کتاب ”کتاب البدعة“ بھی ہمارے پاس نہیں، کتاب سے زیر بحث صفحات کی فوٹو کاپی سوال کے ساتھ بھیجتے تو بہتر تھا، جو فقہاء احناف بدعت حسنہ کے قائل ہیں ان کو غلطی پر کس نے قرار دیا ہے؟ اور ان فقہاء نے بدعت حسنہ سے کیا مراد لیا ہے؟
(۲) بدعت حسنہ کا اعتبار ہے، اس میں اختلاف نہیں ہے، اختلاف اس کی تعریف وتطبیق میں ہے۔
(۳) مسلم شریف کی روایت ہے: من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بہا بعدہ کتب لہ مثل أجر من عمل بہا ولا ینقص من أجورہم شيء ومن سن في الإسلام سنة سیئة فعمل بہا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بہا ولاینقص من أوزارہم شيء․ ترجمہ: جو آدمی اسلام میں کوئی اچھا کام ایجاد کرے پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کے اجر کی مثل اس کے لیے لکھا جائے گا اور خود ان عمل کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ کم نہ ہوگا، اور جو کوئی اسلام میں کسی برے کام کی طرح ڈالے پھر اس کے بعد لوگ اس کو اپنے عمل میں لائیں تو ان سب کو جو گناہ ہوگا وہ اس کے نامہٴ اعمال میں لکھا جائے گا جب کہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی“ (مسلم شریف) بدعت کے معنی نئی چیز کے ہیں؛ لیکن حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرنئی چیز ناجائز نہیں ہے، ایسا نیا کام جس کی کوئی اصل، مثال یا نظیر قرون ثلاثہ میں موجود ہو یا شریعت کے ساتھ اس کی کوئی مطابقت ہو وہ بدعت حسنہ ہے اور جو نئی چیز ایسی ہو جس کی کوئی اصل یا نظیر نہ ہو، قواعد دین کے خلاف ہو، دین وشریعت کی مصلحتوں کے خلاف ہو وہ بدعت سیئہ ہے۔ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والتحقیق أنہا إن کانت مما تندرج تحت مستحسن في الشرع فہي حسنة وإن کانت مما تندرج تحت مستقبح في الشرع فہي مستقبحة (فتح الباري)
| 2019-08-18T04:35:45
|
http://darulifta-deoband.com/home/ur/Innovations--Customs/149490
|
دوربین گلکسی اس ۹ پلاس - سایمان دیجیتال
خانه » دوربین گلکسی اس 9 پلاس
| 2018-11-17T22:06:37
|
https://saymandigital.com/tag/%D8%AF%D9%88%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D9%86-%DA%AF%D9%84%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D8%B3-9-%D9%BE%D9%84%D8%A7%D8%B3/
|
تبادلۂ خیال صارف:نثاراحمدناز - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
تبادلۂ خیال صارف:نثاراحمدناز
بزمِ اردو ویکیپیڈیا میں خوش آمدید نثاراحمدناز
← ویکیپیڈیا ایک آزاد بین اللسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ منصوبۂ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری 2001 میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجراء جنوری 2004 میں عمل میں آیا ۔ فی الحال اس ویکیپیڈیا میں اردو کے 148,591 مضامین موجود ہیں۔
محمد شعیب 12:53, 30 جولائی 2017 (م ع و)
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=تبادلۂ_خیال_صارف:نثاراحمدناز&oldid=2624787»
اس صفحہ میں آخری بار مورخہ 30 جولائی 2017ء کو 12:53 بجے ترمیم کی گئی۔
| 2019-09-20T18:14:48
|
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%82_%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84_%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D9%86%D8%A7%D8%B2
|
لندن میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کو گرفتار کرلیا گیا - Daily Qudrat
خدا کاجواب
اگر وائی فائی کے کمزور سگنلز سے پریشان ہوتے ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں اور
سنی لیونی واحد بھارتی نہیں جنہوں نے فحش فلموں میں کام کیا بلکہ۔۔۔“ ایسی 10
ایک ایسا انوکھا ریسٹورینٹ جہاں ’شیر‘ آپ کا استقبال کرے گا، جانئے حیرت انگیز خبر
اس سنت نبوی ؐ پرعمل کریں سرکادردمنٹوں میں غائب ہوجائے گا
ریحام کی کتاب
مکہ کوریج
(23:45) جولائی 12, 2018
لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ،عدالت
نوازشریف اور دیگر کی سزاﺅں کے خلاف اپیلیں
ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ، حنیف عباسی کی
انتخابات 2018،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایسی
لندن میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کو گرفتار کرلیا گیا
لندن(قدرت روزنامہ)لندن میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کو گرفتار کرلیا گیا. لندن پولیس نے جنید صفدر کو ایک نوجوان کو مکا مارنے پر گرفتار کیا.
ضرور پڑھیں: اگر وائی فائی کے کمزور سگنلز سے پریشان ہوتے ہیں تو یہ طریقہ آزمائیں اور فل اسپیڈ انجوائے کریں ، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی چھٹی!! ن لیگ سنبھالنے کا عہدہ جنید صفدر کے نام کر دیا گیا۔۔؟ایسی خبر آگئی ،جان کر پوری مسلم لیگ ن میں افراتفری مچ گئی
تفصیلات کے مطابق جب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلہ آیا ہے تب سے لندن میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے اکثر افراد نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں دھرنا دے رکھا ہے. اس موقع پر کچھ نا خوشگوار واقعات بھی پیش آئے ہیں جس میں مظاہرین اور مسلم لیگ ن کے حامیوں میں جھگڑا ہوا ہے. ایسا ہی ایک واقعہ آج پیش آیا جس کے نتیجے میں مریم نواز
کے صاحبزادے جنید صفدر کو گرفتار کرلیا گیا ہے.ہوا کچھ یوں کہ لندن کیں مقیم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے بچوں کا مظاہرین سے جھگڑا ہو گیا جس پر جنید صفدر نے طیش میں آ کے مظاہرین پر حملہ کردیا .مظاہرین میں سے ایک نوجوان کو مکا مارنے پر لندن پولیس نے جنید صفدر کو گرفتار کر لیا .انہیں ہتھکڑی لگا کر پولیس سینٹر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کے خلاف مزید کاروائی کی جائے گی.
ضرور پڑھیں: سنی لیونی واحد بھارتی نہیں جنہوں نے فحش فلموں میں کام کیا بلکہ۔۔۔“ ایسی 10 بھارتی لڑکیاں منظرعام پر آ گئیں جنہوں نے بیرون ملک جا کر فحش فلموں میں اداکاری شروع کی، تفصیلات جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو بغیر لباس کے دیکھنے کے بارے میں پیارے نبی
(08:18) جولائی 21, 2018
’طیفا ان ٹربل‘ کی ہیروئن مایا علی کے بہت سے پاکستانی دیوانے ہیں لیکن اب
(08:11) جولائی 21, 2018
پاکستانیوں کیلئے اچانک بڑی خبر آگئی ، معروف ٹی وی سٹار نے امریکہ میں دوسری
(08:05) جولائی 21, 2018
روزانہ یہ جادوئی ڈرنک پی لیں اس قدر طاقت ور ہے کہ 1 ہفتے میں
(07:57) جولائی 21, 2018
جسم کے کس حصے کی پلاسٹک سرجری کروانے کا پچھتاوا ہے؟ فریال مخدوم نے سوال
(07:51) جولائی 21, 2018
پاکستانی اداکارہ زاراشیخ اب کس حال میں ہیں ؟دیکھ کرمداح حیران رہ گئے
(07:36) جولائی 21, 2018
رات کو لیٹے لیٹے تھک جاتے ہیں اور نیند نہیں آتی ؟ تو لیٹنے سے
(07:30) جولائی 21, 2018
روسی مفادات کیلئے خاتون خفیہ ایجنٹ نے امریکیوں کو اپنی سب سے قیمتی چیز پیش
(07:24) جولائی 21, 2018
8 سال کے بچے نے ریاضی کا ایک سوال کرکے پوری دنیا کو شش و
(07:16) جولائی 21, 2018
اگر رات کا کھانا 9 بجے سے پہلے کھالیں تو مرد اس بیماری سے بچ
خاتو ن سیاح سے اجتماعی جنسی زیادتی، نشہ آور اشیا کھلاکر ایسی شرمناک حرکت کہ
نوجوان کو لڑکی کے گھر والوں نے اغوا کرکے زبردستی شادی کروادی کیونکہ اس نے
میں پرس میں یہ کٹ رکھتی ہوں تاکہ کسی بھی وقت اپنے پیشاب کی یہ
| 2018-07-21T03:49:06
|
https://dailyqudrat.com.pk/world/12-Jul-2018/376461
|
شاعرہ فہمیدہ ریاض سے ملاقات ( بشکریہ: بی بی سی اردو منظرنامہ) | اردو محفل فورم
شاعرہ فہمیدہ ریاض سے ملاقات ( بشکریہ: بی بی سی اردو منظرنامہ)
نوید صادق نے 'تذکرہ جات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، اگست 24, 2008
ملاقات: انور سِن رائے
سوال: فہمیدہ کیا آپ ہمیں بتائیں گی: فہمیدہ ریاض کون ہے؟
فہمیدہ ریاض: یہ تو آپ مشکل سوال کر رہے ہیں۔ میں فہمیدہ ریاض سے بلکل واقف نہیں اور میں ان کے بارے بہت کم سوچتی ہوں۔اس لیے میں انہیں نہیں جانتی زیادہ۔ (قہقہہ) میرٹھ میں کہتے ہیں کہ پیدا ہوئی تھی۔ نائنٹین فورٹی فائیو جولائی ٹوئنٹی ایٹ۔ (اٹھائیس جولائی انیس سو پینتالیس) یہ ہے ڈیٹ آف برتھ۔ والدین آزادی سے پہلے ہی آ گئے تھے، سندھ میں رہتے تھے۔ تو یہیں پر پڑھی تمام تعلیم یہیں پر حاصل کی۔ تمام تو کیا ایک حد تک۔ کالج میں یہاں پڑھی۔ یونیورسٹی میں یہاں تھی، پھر سکسٹی سیون میں میں انگلینڈ چلی گئی۔ وہاں کچھ عرصے بعد میں نے بی بی سی میں کام کیا تھا۔ وہاں میں رہی ہوں سیونٹی ٹو کے آخر تک۔ اس زمانے میں وہاں لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ہوتا تھا، اس میں فلم ٹیکنیک کا کورس کیا تھا۔ اس وقت وہ بڑا پرسٹیجس ادارہ تھا۔ سیونٹی تھری میں میں پھر واپس آ گئی۔ میری بڑی بیٹی وہاں پیدا ہوئی سارہ۔ یہاں آنے کے بعد پاکستان کے حالات میں مصروف و مشغول ہوگئے۔ یہاں سے ایک رسالہ پبلش کرنا شروع کیا جس کا نام تھا: ’آواز‘۔ ضیاالحق کے زمانے میں، اس پر بڑے مقدمات وغیرہ قائم کیے گئے تھے۔ اس وقت بہت سے (لوگ) ملک چھوڑ کر جا رہے تھے میں بھی چلی گئی۔ ہندوستان رہی۔ مارچ ایٹی ون میں گئی تھی ایٹی سیون دسمبر میں واپس آئی۔ سات برس ہندوستان میں رہی۔ پہلے وہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’پوئٹ ان ریذیڈنس‘ تھی۔ پھر سینئر ریسرچ فیلو رہی ’آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ‘ کی اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل ریسرچ کی۔ اس کے بعد پاکستان میں تھی۔ پاکستان میں جب تبدیلی آئی تھی تو اسلام آباد میں تھی میں چئر پرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان۔ اس کے بعد منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہی کچھ عرصے۔ پھر نائنٹی سکس، نائنٹی سیون میں اپنی ایک این جی او رجسٹرڈ کروائی۔ ’وعدہ‘ اس کا نام تھا۔ ویمن اینڈ ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن۔ بنیادی طور پر تو میں یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک پبلشنگ ہاؤس بنے جو بچوں اور عورتوں کے لیے کتابیں چھاپے۔ مگر ساتھ ساتھ پھر دوسری چیزیں بھی تھیں، کانفرنسیں کروانا۔ سیمینار منعقد کرنا۔ یعنی کتابیں بنانے کے سلسلے میں دوسری بھی بہت ساری سرگرمیاں تھیں، وہ جاری رہیں۔ وہ ادارہ ہے اپنی جگہ۔
نوید صادق, اگست 24, 2008
سوال: کب شروع کیا آپ نے لکھنا؟
ف ر: سمجھیے شروع کیا سکول کے زمانے سے۔ پہلی نظم تو تبھی لکھی تھی۔
س: یاد ہے پہلی نظم کیا تھی؟ کیسے اس کی تحریک ہوئی؟
ف ر: پہلی نظم کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی مجھے بالکل یاد ہے۔ حالانکہ وہ نظم اب مجھے نہیں یاد ہے۔ ایسا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی ڈیبیٹ تھی، اس میں لڑکے اور لڑکیں بھی لے جائے گئے تھے۔ یہ دکھانے کے لیے کہ انٹر کالجیٹ ڈیبیٹ کیسی ہوتی ہیں۔ تو بس وہاں پر ایک مجمع تھا لوگوں کا جو ہنس رہے تھے۔ اسی نے مجھ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔ وہی میں نے پہلی نظم میں لکھا تھا۔ سب لوگوں کا اکٹھا مل کر ہنسنا۔ یہ اس کا موضوع تھا شاید۔
س: آپ کے بہن بھائی، والدین، دادا، دادی۔ کیا نام تھے کیسے رہتے تھے؟ کچھ ان کی یادیں؟
ف ر: انور، مجھے اپنے باپ اور ماں کا نام تو بے شک یاد ہے کافی مشکل ہوتا ہے بھولنا۔ میرے والد کا نام تھا ریاض الدین۔ جن کی وجہ سے میرا نام فہمیدہ ریاض ہے۔ میری والدہ کے دو نام تھے۔ ہمارے گھر میں سب کے دو نام رکھے جاتے تھے۔ان کا نام تھا حسنہ بیگم۔ جب میں پانچ سال کی تھی تو میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔میری والدہ نے ہم بہنوں کی پرورش کی۔ میرے والد جب یہاں آئے سندھ تو نور محمد ہائی سکول بنا تھا اس وقت۔ وہ تو تھرٹیز میں آ گئے تھے۔ تو وہ اس میں پڑھاتے تھے۔ اب مجھے ٹھیک سال تو یاد نہیں۔ اس وقت چھوٹے گیج کی ٹرین چلا کرتی تھی جسے اب یہ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اجمیر سے ہوتی ہوئی یو پی تک چلی جاتی تھی۔ دہلی سے شاید بدلتے تھے اور پھر میرٹھ چلے جاتے تھے۔ مگر اس زمانے میں بھی یہ بہت ہی دور سمجھا جاتا تھا۔ باقاعدہ پردیس۔ تو وہ پڑھاتے تھے پہلے سکول میں پھر وارڈن تھے اور آخری زمانے میں اپنے انتقال سے کچھ عرصے پہلے وہ ٹریننگ کالج میں پڑھانے لگے تھے۔ انہوں نے بہت لمبا عرصہ گزارا تھا یہاں۔
سوال: پھر باقاعدہ شاعری کب سے شروع کی؟
ف ر: وہ تو کالج کے زمانے ہی میں۔ زبیدہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد۔ سب کو نیشنلائیز کر لیا گیا تھا لیکن وہ تو شاید تھا ہی سرکاری کالج۔ بڑی اچھی جگہ تھا اور بڑا سا آسمان تھا اس پر۔ خاصا کھلا ہوا تھا اب تو نا جانے کیسا ہو گیا ہو؟ کالج کے زمانے میں نظمیں لکھنے لگی تھی۔ کبھی کبھی کسی کو سنا بھی دیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھیج دیں۔ اس زمانے میں ’فنون‘ شروع ہوا تھا یہ سکسٹی تھری کی بات ہے یا سکسٹی فور ہو گا۔ تو میں نے نظمیں بھیجیں اور وہ شائع ہو گئیں بس اس طرح آغاز ہوا۔
سوال: پہلی نظم کون سی شائع ہوئی؟
ف ر: یہ تو مجھے اب یاد نہیں ہے ’پتھر کی زباں‘ پہلے مجموعے کا نام تھا۔ سکسٹی سیون میں شائع ہوا۔ اس میں وہ نظم ہے۔ فنون میں وہ ایک نہیں تین چار نظمیں اکٹھی شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد میں فنون میں ہی لکھتی رہی۔ اب تو کچھ عرصے سے میں نثر زیادہ لکھ رہی ہوں۔ سات آٹھ سال سے۔
سوال: بنیادی تشخص آپ کا شاعرہ کا ہے۔ اور اتنے عرصے سے شعر کہہ رہی ہیں آپ کو کیا لگتا ہے کیا بنیادی بات آپ نے کہنے کی کوشش کی؟
ف ر: دیکھیے کبھی کبھار تو آپ کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زیادہ تر تو آپ وہ لکھتے ہیں جو آپ کے دل پر گزر رہی ہوتی ہے۔ یا تو کوئی چیز جو آپ کو بہت اچھی لگے یا کسی چیز سے آپ کو بہت گہرا دکھ ہو۔ تو رسمی طریقے سے وہ ایک شعر بن جاتا ہے اور آپ اسے لکھ ڈالتے ہیں۔
سوال: کیسے آتی ہے نظم اور کیسے پھر وہ صفحے تک جاتی ہے؟
ف ر: یہ بڑا ہی مسٹیریس عمل ہے۔ بعض اوقات تو کوئی صورتِ حال ہے اور ایک لفظ آپ کے دماغ میں آتا ہے، اور بعض اوقات تو ایک لفظ کے گرد ایک نظم بن جاتی ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ کچھ الفاظ ہوتے ہیں جو آتے ہیں آپ ان کے گرد بناتے ہیں سارا تانا بانا۔
سوال: کچھ نظمیں آپ کی سیاسی ہیں۔ کچھ واقعاتی بھی ہیں؟
ف ر: سیاست ایسا نہیں ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی سے الگ کوئی چیز ہو۔ خود میری نسل جس دور میں پلی بڑھی، آپ ساٹھ کی دہائی لے لیجیے، تو وہ دور خود پاکستان میں ایک تبدیلی کا دور تھا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان کے خلاف ایک سٹوڈنٹ موومنٹ شروع ہوئی تھی۔ کراچی سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت ہم سٹوڈنٹ تھے اور ہم بھی اس میں شامل تھے ایک نئی دنیا بنانے کا ولولہ سا تھا جو صرف پاکستان ہی میں نہیں تھا۔ ساری دنیا ہی میں تھا۔ لوگوں کی جدوجہد کا ایک دور۔ نظام تبدیل ہو رہے تھے، حکومتوں کے تختے الٹے جا رہے تھے۔ خصوصاً ان ملکوں میں پوسٹ کالونیل جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں۔ چاہے وہ فرانس، چاہے جرمنی اور چاہے وہ انگلینڈ ہو انہوں نے اپنی کالونیز (نوآبادیات) چھوڑی تھیں اور ان کے معاشروں میں ایک اتھل پتھل تھی ایک ایسی تبدیلی کی خواہش جو آ رہی تھی اور آنا چاہتی تھی۔ نوآبادیاتی نظام سے نکلنے والی دنیا میں ایک نئے نظام کا خواب تھا۔ جو سماجی برابری کا اور انصاف کا اور وہ قابلِ حصول لگ رہا تھا اس وقت کیونکہ چند ایک ممالک تھے جن میں تبدیلیاں آئی تھیں اور یہ ایک بڑی انسپریشن تھی، تو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ رکھنے والا پڑھا لکھا شخص کوئی نہ کوئی سٹینڈ لے رہا تھا۔ گو کہ اس وقت یہ تحریکیں اتنی مضبوط نہیں تھیں لیکن ان میں ایسے بھی تھے جو مذہبی تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا مطمعِ نظر ہونا چاہیے۔ اس میں جو نمایاں فکری عنصر تھا وہ سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں بھی اس میں شامل تھی یقیناً، اور صرف میں ہی کیوں، بلاشبہ میں نے سیاسی نظمیں لکھی ہیں، جیسے کہ میں تمہیں بتایا ہے کہ میری جو پہلی نظم تھی وہ بھی کوئی ایسی رومان پرور نہیں تھی۔ حالانکہ عشق بہت بڑا محرک ہوتا ہے شاعری کے لیے، آپ سے شعر کہلوانا شروع کر دیتا ہے عشق لیکن اس وقت ہمارے پس منظر میں آپ دیکھیں تو فیض صاحب تھے۔قاسمی صاحب کی شاعری تھی، مجاز کی بھی شاعری تھی۔ مجروح سلطان پوری کی شاعری تھی، ساحر لدھیانوی کی شاعری تھی۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں ہم نے لکھنا شروع کیا۔ تو اس میں گہری سیاسی وابستگی تھی اور اب بھی رہتی ہے۔
سوال: ایک تو یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد ہو رہا ہوتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو غیر سیاسی ہو، سماجی نوعیت کا ہو، ذاتی نوعیت کا ہو، اجتماعی ہو انفرادی ہو، آپ کو متاثر کرتا ہے لیکن کچھ ایسے سیاسی واقعات بھی ہوتے ہیں، آپ ایک ملک میں رہ رہے ہوتے ہیں اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ دنیا کے دوسرے واقعات سے زیادہ آپ کو متاثر کرتا ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن جیسے آپ نے بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی، حلقے میں پڑھی تھی، تو ایسے واقعات آپ کے ہاں شعری شکل کیسے اختیار کرتے ہیں؟
ف ر: سیاسی واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو بہت گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ایک بے چینی پیدا کرتے ہیں اور آپ ٹہلنے لگتے ہیں اور لکھنے لگتے ہیں جب تک پورا تصور بن کر سامنے نہ آ جائے اور پھر آپ اسے تھوڑا بہت سجا سنوار نہ لیں۔ یعنی یہ دوسرا مرحلہ کہ آپ اس کی تراش خراش کرتے ہیں۔ لیکن پہلا تو بہت ہی پُراسرار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ شاعر اس کے بارے میں بہت کم جانتا ہے۔ اور ہر بار یہ ایک طرح سے ہوتا بھی نہیں ہے۔ ہر مرتبہ کوئی نئی ہی چیز ہوتی ہے لیکن یہ درست ہے کہ مجھے نظم لکھنے کےلیے کبھی اس طرح کی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔ میں نے ایک دو نظمیں تو رکشہ میں بھی بیٹھ کر لکھی ہیں کیونکہ وہ اسی وقت خیال آ رہے تھے اور اسی وقت لکھیں۔ یہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جو پہلا پہلا امپیکٹ ہوتا ہے آپ کے ذہن پر آپ کے دل پر وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسے اگر اسی وقت نہ لکھ نہ لیا جائے نہ تو بعد میں آپ اسے پکڑ نہیں پاتے۔ ایسے ہی ہے کوئی وقت ہوتا ہے، کوئی آن، کوئی پل جو آپ کےساتھ کچھ کر رہا ہے، کچھ الفاظ ہیں جو آپ کے ذہن میں آ رہے ہیں اور ایک طرح سے آ رہے ہیں۔ کچھ امیجز ہیں جو آ رہے ہیں، آپ اس وقت انہیں لکھ نہیں دیں گے تو پھر وہ بھاگ جائیں گے۔ آپ کے ہاتھ پھر نہیں آنے والے۔
سوال: ساری نظمیں آپ نے ایک نشست میں لکھیں؟
ف ر: میں نے اکثر نظمیں ایک نشست میں لکھیں، نہیں، پھر میں بعد میں ان پر کام بھی کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو کہ میں پابند نظمیں لکھتی ہوں۔ آزاد نظمیں بھی ایک طرح کی پابند ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہماری جو اردو میں روایت ہے جیسے فیض نے یا راشد نے لکھی ہیں تو ان میں ایک بحر ہوتی ہے لیکن وہ مختلف ٹکڑوں اور لائنوں میں آتی ہے یعنی جیسے آپ دیکھیں: یہ رات اس درد کا شجر ہے، فیض کی نظم ہے:
’یہ رات اس درد کا شجر ہے
تو آپ دیکھیں گے کہ: فعول فعلن فعول فعلن، پھر اگلی لائن بہت لمبی ہے:
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں‘
لیکن یہ سب کچھ ’فعول فعلن‘ ہی میں ہے۔ تو یہ بھی پابند ہوتی ہے تو میں اس طرح کی نظمیں لکھتی ہوں۔ تو اس میں جو نظم بنی اس کو بحر میں لانے کے لیے بعد میں اس پر کام کرتا ہے آدمی۔ تو اس میں نشست الفاظ کی ادھر اُدھر کر سکتا ہے ہے وہ اور بھی بہت کچھ کرتا ہے۔
سوال: یہ آپ ہر نظم کے ساتھ کرتی ہیں آپ یا کچھ نظمیں ایسی ہوتی ہیں جو ایسے آ جاتی ہیں کہ ان میں کچھ نہ کرنا پڑے؟
ف ر: بالکل ہر نظم کی ایڈٹنگ ضرور کرتی ہوں کیونکہ کوشش تو انسان کی ہوتی ہے نا، پھر یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے کہ آپ انہیں ایک سب سٹینڈرڈ یاناقص چیز نہ دیں۔ ان کی توقعات کو بہت زیادہ مجروح نہ کریں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت ساری ایڈٹنگ کے بعد آدمی کہتا ہے کہ پہلا والا مصرع ہی بہتر تھا۔ تو میرے لکھنے میں یہ ہے کہ میرا جو پہلا ڈرافٹ ہوتا ہے میں اس کی طرف کافی لوٹتی ہوں۔ بہت سی ترکیبوں کے بعد پہلے ڈرافٹ کو ہی ترجیح دیتی ہوں۔
سوال: آپ بہت عرصے تک لندن میں بھی رہی ہیں، تو کیا محسوس کرتی ہیں کہ وہاں رہنے کا آپ کی سوچ اور شاعری پر کیا اثر پڑا جو یہاں رہنے سے مختلف تھا؟
ف ر: میں نے وہاں بہت سے نظمیں لکھی تھیں ’بدن دریدہ‘ کی بہت سے نظمیں تو وہاں ہی لکھی تھیں۔ دیکھیے نا باسٹھ میں چلی گئی تھی باہتر کے آخر میں واپس آئی تہتر میں ’بدن دریدہ‘ شائع ہوئی تو اس کی زیادہ تر نظمیں وہیں لکھی گئی تھیں۔ تو یہ کہ ایک نیا ملک تھا اور ایسا نہیں ہوتا کہ آپ مغرب میں چلے گئے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم پاکستان کے ایک گھر سے اٹھ دوسرے گھر میں چلے گئے۔ ہمارا انٹریکشن بہت کم ہوتا ہے ویسٹ سے، میرا تو ہوا کیونکہ میں وہاں فلم سکول میں ایڈمیشن لیا تو وہاں ہندوستان کے لوگوں سے مجھے پہلی بار ملنے کا موقع ملا، اس سے پہلے میں ہندوستان نہیں گئی تھی بلکہ میرا پہلا امپریشن جو لندن ائرپورٹ پر تھا ہیتھرو پر، وہ یہ تھا کہ میں نے ایک سکھ کو دیکھا، جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ حیرت انگیز تھا گوروں کو تو میں بھول گئی تھی میں تو اس سکھ کو دیکھ رہی تھی۔کیونکہ اردو ادب کی وجہ سے ان لوگوں کے بارہ میں پڑھا تو بہت کچھ تھا، آپ کو پتہ ہے ہمارے، مہندر سنگھ اور راجندر سنگھ بیدی اور بلونت سنگھ جن کے بغیر تو اردو ادب کچھ بھی نہیں، تو ہندو اور سکھ معاشرے کے بارے میں پڑھ تو رکھا تھا لیکن اسے دیکھنے کا فرسٹ ہینڈ ایکسپیرئنس نہیں تھا۔ پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ عرب لوگوں سے، ایرانیوں سے، مصریوں سے، لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ایک بہت ہی کاسمو پولیٹن جگہ تھی، ایک تو کامن ویلتھ ممالک سے آتے تھے اور یورپ سے بھی آتے تھے، لاطینی امریکہ سے آتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی اچھا ایکسپوژر تھا پھر میں نے بی بی سی میں کام کیا۔ اس کے علاوہ ذاتی اور میرڈ زندگی کا آغاز لندن سے ہوا تھا۔ لندن میں میری پہلی بیٹی ہوئی تو ایک طرح یہ بہت بھرپور تجربہ تھا جو مجھے حاصل ہوا۔ لیکن چھ سات برس میں آدمی کوئی ایسا تبدیل نہیں ہو جاتا ہے اور میں نے کبھی بھی لندن میں ہمیشہ رہنے یا سیٹل ہونے کا خیال نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ میں واپس ہی آنا چاہتی تھی۔ ہم اپنے ملک کو مختلف بنانا چاہتے تھے۔ لہٰذا یہاں پہ آنے کا فیصلہ ایک بہت ہی شعوری اور عزم کے ساتھ کیا ہوا فیصلہ تھا۔
سوال: جو کچھ یہاں آ کر ہوا اس سے آپ کو خوشی ہوئی، مایوسی ہوئی، اطمینان ہوا؟
ف ر: دیکھو، انور! انسان کی ذات بہت عجیب ہے۔وہ اگر اپنی مرضی سے تکلیفوں سے گذرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد میرے ذہن سے قریب جو تحریکیں اور جدوجہد تھی میں ان میں شامل رہی اور وہ زندگی کا ایک بہت ہی ثمردار حصہ ہے۔ مشکلیں تو پڑتی ہیں لیکن بہت سی چیزوں کو آپ فار گو کرتے ہیں اور یہ آپ کی اپنی چوائس ہے یعنی ایک خاص طرح کی زندگی جو ہو سکتی تھی اس کے بارے میں آپ نے کہا کہ نہیں یہ نہیں ہے آپ کا راستہ۔
سوال: انگلینڈ جانا اور پھر یہاں سے ہندوستان جانا ان دونوں کو آپ کن لفظوں میں بیان کریں گی؟
ف ر: ہندوستان تو ایک مجبوری تھی۔ میں مارچ اکیاسی میں گئی ہوں اس وقت ضیاالحق کا مارشل لا بہت ہی سخت تھا۔ اس حد تک کہ انہوں نے یہاں گلیوں تک میں ٹینک لا کر کھڑے کیے ہوئے تھے، لوگوں کو سرِ عام کوڑے مارے جا رہے تھے، جسے دیکھو اٹھا کر جیل میں ٹھونس دیا۔ مجھ پر مقدمات، اس لیے کہ میں ایک رسالہ ’آواز‘ شائع کرتی تھی، تو پبلشر اور ایڈیٹر کی حیثیت سے چودہ مقدمات تھے بلکہ ان میں سے ایک تو ہم جیت بھی گئے تھے۔ فخرالدین جی ابراہیم تھے اس وقت جج، ایک مقدمہ ان میں سے ون ٹوئنٹی فور اے کے تحت تھا ایک سڈیشن کے تحت مقدمہ تھا۔ جس کی سزا پھانسی یا عمر قید بھی ہو سکتی تھی۔ میں ضمانت پر رہا تھی۔ بچے چھوٹے چھوٹے تھے، جیل جانے کا نہ مجھے پہلے شوق تھا نہ اب ہے۔ مثلاً بہت لوگ کہتے ہیں آپ جیل کیوں نہیں چلی گئیں ’بھئی مجھے نہیں اچھا لگتا ہے بند جگہ پر رہنا، میں کھلی جگہ پر رہنا پسند کرتی ہوں‘۔ یہی وجوہ تھیں جن کی وجہ سے ہم نکل گئے تھے اور ہندوستان ہی پہنچ سکے تھے۔ لیکن ہندوستان جا کر رہنا، اس کے لوگوں کو دیکھنا اور اس کے بے حد پُر فسوں تنوع اور ڈائیورسٹی کو دیکھنا۔ یہ سب بہت اچھا لگا۔ بہر حال ہندوستان کوئی اتنا غیر ملک تو ہے نہیں۔ اردو ادب کا آغاز وہیں سے ہوا جیسے میں جب بمبئی گئی تو میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ یہیں کرشن چندر رہتے تھے، عصمت رہتی تھیں، یہیں جذبی ہوتے تھے، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور ان سب کو پناہ ملی تھی بمبئی میں یا منٹو بمبئی میں رہے۔ تو ہمارے ذہنوں میں یہ ہندوستان ہمیشہ سے تھا۔
سوال: کتنا مختلف پایا آپ نے ہندوستان کو پاکستان سے، جیسا کہ آپ نے کہا کہ واحد راستہ بچا تھا لیکن پھر بھی زندگی یہاں کے مقابلے میں کیسی لگی؟
ف ر: بہت بڑا فرق تھا، کیونکہ انیس سو اکیاسی سے انیس سو ستاسی تک وہاں تھی۔ وہاں جاکر، دلی پہنچتے ہی دلی جاکر مجھے سب سے پہلے یہ ہی خیال آیا تھا کہ یہ جو آل انڈیا ریڈیو ہے اردو کے کتنے ادیب وابستہ رہے ہیں اس سے، کتنی چیزیں ان کی لکھی ہوئی تھیں جو کہ ریڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی تھیں۔ ایک تو لگتا ہے کہ آدمی تاریخ کے اچانک روبرو آ گیا ہے۔ وہاں جاکر احساس ہوتا ہے کہ انگریز کو گئے ہوئے اتنا عرصہ نہیں گذرا یہ احساس پاکستان میں ہوتے ہوئے نہیں تھا۔ کیوں نہیں تھا؟ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے انگریز کی جو سیٹ آف پاور (مرکزی علاقۂ اقتدار) اس علاقے میں نہیں تھی جن میں پاکستان بنا۔ پھر ان کی بنائی ہو سب چیزیں سامنے آجاتی ہیں۔ انہوں نے جو پورا سسٹم قائم کیا تھا کالونیل سسٹم، ایڈ منسٹریشن کا سسٹم وہ سب کچھ جوں کا توں تو نہیں ہے مگر تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آپ ابھی تک دیکھ سکتے ہیں (ہنستے ہوئے) یہاں تو وہ سسٹم تھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی سسٹم رہا ہی نہیں ہے۔ لہذا اس کا یہاں احساس نہیں ہوتا تھا، وہاں پر سب سے بڑا احساس ایک تو یہ ہوا، دوسرا اکثریت دوسرے مذہب کی تھی جو یہاں پر تو نہیں ہے۔یہاں تو آپ ایک پتھر بھی اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ نیچے سے کئی مسلمان نکل آئے ہیں۔ یہاں پر تو صرف مسلمانوں سے ہی واسطہ پڑتا تھا، وہاں بالکل یہ نئی چیز تھی یہ ایک طرح سے مختلف بھی تھا۔ مگر یہ سچی بات ہے وہاں مارشل لا نہیں لگتے رہے ہیں۔ ایک کھلا ہوا ماحول ہے۔ لوگ ریلیکس نظر آتے ہیں۔ سڑک پر آپ کسی چہرے کو دیکھتے تو ریلیکس نظر آتا تھا۔ پاکستان کے مقابلے میں ایک تو یہ بڑا فرق تھا اور دوسرا یہ کہ بہت سے چیزوں کا آپ کو اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کو یہ اندازہ وہاں جاکر اور رہ کر ہوتا ہے کہ خود پاکستان کی تحریک کیوں چلی ہوگی۔ دیکھیں ہندو اور مسلمان وہاں بڑے تواتر کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر لیکن کافی تواتر کے ساتھ چھوٹے موٹے کمیونل فسادات تو ہوتے رہتے تھے۔ نزدیک یا دور، آپ سوچتے ہیں کہ بھئی یہ مسئلہ اس وقت بھی ہوگا، اس کے لیے لوگوں نے کیا سوچا کیا نہیں سوچا، کیا محسوس کیا، کیا نہیں محسوس کیا۔ یہ سب چیزیں پتہ چلتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہاں ہم گرفتار ہونے والے تھے۔ (مسکراتے ہوئے) اس طرح سے سوچیں آپ کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کہیں گئے لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر جس تحریک کا آپ حصہ ہوتے ہیں، آپ اس سے جڑے ہی رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچتے ہی رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے ہی رہتے ہیں۔اول دن ہی سے وہاں سے واپس آنے کا ارادہ تھا۔ بھئی واپس آئیں گے، جب بھی موقعہ ملا۔
سوال : پہلی ملازمت آپ نے کب کی؟
ف ر : پہلی ملازمت میں نے ریڈیو پر کی تھی اور فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام پیش کیا کرتی تھی حیدرآباد میں۔
سوال: پریزینٹر کے طور پر؟
ف ر : ہاں پریزینٹر کے طور پر، لکھتی بھی تھی ریڈیو کے لیے۔
سوال : اسٹاف آرٹسٹ کے طور ؟
ف ر: حقیقت میں ہوتی تو وہ تنخواہ ہی تھی، مگر کنٹریکٹ تھا۔ آرٹسٹ کی حیثیت سے تو نہیں شاید ابھی اسے آؤٹ سائیڈ کنٹری بیوٹر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک تنخواہ والی ملازمت تھی تب میں شاید انٹر میں پڑھتی تھی۔
سوال : یہ تو ایک طرح کا جزوی کام تھا شاید، پہلی ملازمت کہاں اختیار کی؟
ف ر : پہلی ملازمت میں نے لندن میں کی تھی، ایک میرین انشورنس کمپنی میں ایک کلیریکل جاب تھی، بینک کے ایریا میں۔ پاکستان آنے کے بعد میں نے آر لنٹاس میں کام کیا۔ وہاں فلمیں بناتی تھی اور ہیڈ آف کریٹیو ڈیپارٹمنٹ تھی۔ یہ تھا میرا عہدہ وہاں پر۔ کیوں کہ میں فلم ٹیکنیک کا کورس کرکے آئی تھی لندن سے۔ یہ ایک سینئر انتظامی عہدہ تھا۔ یہاں اس قابلیت کا اور کوئی شخص ہی نہیں تھا۔ سوائے ایک کے، وہ تھے مشتاق گزدر۔ انہوں نے اسی سکول سے پڑھا تھا لندن سکول آف فلم ٹیکنیک سے۔
سوال : آپ نے آر لناٹس کے علاوہ کیا ملازمت کی؟
ف ر : لنٹاس کے بعد میں نے دوسری اور کوئی ملازمت نہیں کی تھی اور وہ چھوڑ دی تھی۔ کیوں کہ ہم نے سوچا تھا کہ ہم سرمایہ داروں کی خدمت تو نہیں کریں گے۔ مگر بہرالحال نوکری تو کہیں کرنی تھی، تو پھر میں ایس کے این ایف جو فارماسیوٹیکل کمپنی ہے، وہاں میں نے کچھ عرصے کام کیا تھا۔
سوال : آپ رسالہ نکالنا چاہتی تھیں، وہ تجربہ کیسا رہا، ’آواز‘ کا خیال کیسے آیا؟
ف ر : ایسے آیا کہ ایک فورم بنایا جائے۔ کیا کریں بھئی ہیں تو ہم لکھنے والے، اس طرح کی نوکری کرنا نہیں چاہتے جس میں اپنے نظریات پر کمپرومائز کرنا پڑے، لہٰذا کیا کیا جاسکتا ہے۔ تو یہ صورت نظر آئی تھی کہ ایک رسالا نکالا جائے اور جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس میں کہا جائے۔ ساتھ ساتھ یہ ہے کہ گھر بھی چلائیں اپنا۔
سوال : اس کے بعد اب صورتحال کیسے نظر آتی ہے؟
ف ر : یہ تو بہت لمبی چھلانگ لگا رہے ہیں ہم، اس کے بعد تو بہت کچھ ہوا، ضیاالحق صاحب کا دور آیا پھروہ دور تقریباً ختم ہوگیا، ضیاالحق صاحب نہیں رہے۔ پھر بینظیر صاحبہ کی حکومت آئی، پھر وہ ختم ہوئی۔ جس میں میں نے نیشنل بک کونسل میں کام کیا تو پتہ چلا کہ سرکاری ادراوں کی کتنی بڑی پہنچ ہے۔ وہاں ہرگز کچھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہماری بیورو کریسی کو تربیت ہی اس طرح سے دی گئی ہے کہ کچھ بھی نہ کیا جائے۔ ایک افسوسناک قسم کی صورتحال ہے۔ اس کا فرق مجھے ہندوستان میں بھی لگا تھا مجھے لگا تھا کہ ہندوستان کی بیورو کریسی میں اس حد تک چیزیں نہ ہونے دینے کا مادہ کم ہے، لیکن وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، ایک طرح کی آئیڈیل ازم ان لوگوں میں موجود ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ بات محسوس ہوتی تھی وہاں پر۔ لیکن یہاں پر تو اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ اس کے بعد پھر نواز شریف کا دور آیا جس میں انہوں نے مجھے ’را ‘ کی ایجنٹ ڈکلیئر کیا تھا۔ میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھا تھا، بینظیر پر جو سات الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا، کہ آپ نے فہمیدہ ریاض کو ایک اہم عہدہ دے دیا حالانکہ وہ کوئی خاص اہم عہدہ نہیں تھا۔ لیکن ان پر یہ ایک الزام تھا۔ وہ دور بھی ختم ہوا اور ایک دن پتہ لگا کہ پرویز مشرف صاحب آ گئے ہیں۔ تو تب سے اب تک فرق تو آیا نہ کافی۔ رسالے کے حوالے سے جو تم پوچھ رہے تو، تب سے اب تک فرق تو آیا ہے نا۔ اب جو انفارمیشن میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کا جو ایک ریولوشن بڑا زبردست آیا ہے۔ اس نے دنیا ہی کو نہیں پاکستان کو بھی بدل دیا ہے بہت کچھ۔ اب یہ دیکھیں بہت سے ٹیلی ویژن آ گئے ہیں
| 2020-05-29T00:26:00
|
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%81-%D9%81%DB%81%D9%85%DB%8C%D8%AF%DB%81-%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D8%A8%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%DB%8C-%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81.14566/
|
فلسطینیوں پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ 2 شہید84 زخمی - Sahar Urdu
Aug ۱۱, ۲۰۱۸ ۰۹:۳۸ Asia/Tehran
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر وحشیانہ فائرنگ کرکے ایک بار پھر دو فلسطینیوں کو شہید اور اور 84 کو زخمی کردیا ہے۔
ادھر فلسطینی قیدیوں کے امور کے مرکزنے بھی خبردی ہے کہ صیہونی حکومت نے صرف جولائی کے مہینے میں ساڑھے پانچ سو فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے - خبروں میں بتایا گیاہے کہ صیہونی فوجیوں نے جولائی میں جن فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے ان میں اسّی بچے اور انیس خواتین بھی شامل ہیں جبکہ صیہونی فوجیوں نے ان ستائیس غیر ملکی امدادی کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے جو واپسی نامی فلوٹیلا کے ساتھ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے غزہ کی جانب روانہ ہوئے تھے - ان غیر ملکی امدادی کارکنوں کو صیہونی فوجیوں نے اسدود بندرگاہ کے قریب گرفتار کیا تھا۔
| 2019-07-24T02:41:51
|
http://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i332977
|
اوپن یونیورسٹی ملک کے دیگر شہروں میں بھی ای سی سی ای کانفرنس منعقد کرے گی،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ایجوکیشن ، ایچ ای سی ، وزارت تعلیم اور رپانی فائونڈیشن کی مشترکہ کانفرنس کے مقررین بچوں کی نگہداشت اور تعلیم کی قومی پالیسی بنانے پر متفق ہوگئے اور بچوں کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے کے لئے سفارشات مرتب کرلئے ۔ اِن سفارشا ت میں ای سی سی ای کے لئے پالیسی کی تشکیل ، قانون سازی ، ٹرانسفارمیٹیو پیڈاگوجی ،ْیورسٹی اینڈ انکلوژن ، مہم میں والدین اور معاشرے کی شمولیت اور ای سی سی ای میں مزید سرمایہ کاری یعنی بجٹ میں اضافہ شامل تھے۔
یہ سفارشات کانفرنس کے اختتامی تقریب میںوزارت تعلیم کے جائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر پروفیسر محمد رفیق طاہرنے پیش کئے۔افتتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسل پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اعلان کیا کہ اوپن یونیورسٹی ملک کے دیگر شہروں میں بھی ای سی سی ای کانفرنس منعقد کرے گی اور اس سفر کا آغاز گلگت بلتستان سے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اہم مقامات پر کانفرنسسز منعقد کرنے کے بعد آئندہ سال یونیورسٹی کی اِسی آڈیٹوریم میں عالمی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ کہ اوپن یونیورسٹی آئندہ دو سے تین ہفتوں میں "اوپن ڈسٹنس لرننگ او ڈی ایل "کی پاکستان کی پہلی قومی پالیسی متعارف کررہی ہے۔ پروفیسر محمد رفیق طاہر نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بہتر حکمت عملی سے یونیورسٹی میں ایک مثالی علمی ماحول پیدا کیا ہے ، اُن کے دور میں وزارت تعلیم کو یونیورسٹی کی سنگل شکایت بھی موصول نہیں ہوئی ہے ، ہر روز نئے اقدامات ، ریسرچ جرنل کی اشاعت ،ْ ،نفرنسسز کے انعقاد مختصریہ کہ سب اچھا ہے کی خبریں سنتے ہیں۔
رفیق طاہر نے مزید کہا کہ ای سی سی ای پر کام کے آغاز میں ہمیں نہیں لگ رہا تھا کہ ہم اس ہدف میں کامیاب ہوجائیں گے ، ہم نے کسی موڑ پر ہمت نہیں ہاری اور کوشش جاری رکھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ،ْ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اور اُن کی ٹیم جن میں پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اور ڈاکٹر فضل الرحمن سرفہرست ہیں نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ناصر محمود یونیورسٹی کے متحرک ترین اور انرجیٹک ڈین ہیں۔رفیق طاہر نے ڈاکٹر فضل الرحمن کی خدمات کو بھی شاندار الفاط میں سراہا ۔
| 2018-09-24T21:21:51
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-04/news-1516053.html
|
ایمیزن کا نیا ریڈر، جاندار اور شاندار - ماہنامہ کمپیوٹنگ
ایمیزن کا نیا ریڈر، جاندار اور شاندار
از فہد کیہر مورخہ اکتوبر 14، 2017
ای-بک ریڈرز جنہیں ای-ریڈرز بھی کہا جاتا ہے قبولیت عام پانے کے بعد اب ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں لیکن اب بھی چند مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے قارئین کی کاغذی کتب سے محبت ختم نہیں ہو سکی۔ لیکن ایمیزن کا نیا ای-ریڈر ایسا ہے جو روایت پسند قارئین کو مجبور کردے گا۔
نئے کنڈل ریڈر کا نام کنڈل اویسس (Kindle Oasis) ہے، جو 7 انچ کا پیپروائٹ ڈسپلے رکھتا ہے۔ پائیدار المونیم بیک اور خوبصورت شکل و صورت اپنی جگہ لیکن واٹر پروف خصوصیت اور 300 پکسلز فی انچ (پی پی آئی) کا جاندار ڈسپلے ایسی خصوصیات ہیں جو اسے سب سے نمایاں کررہی ہیں۔ پھر بیٹری لائف بھی ہفتوں پر محیط ہے اور کمال یہ کہ صرف دو گھنٹے میں یہ صفر سے مکمل چارج بھی ہو جاتی ہے۔
31 اکتوبر سے فروخت کے لیے دستیاب اس کنڈل ریڈر کی قیمت 250 ڈالرز سے شروع ہوگی۔
کنڈل نے دس سال قبل جب پہلا ریڈر متعارف کروایا تھا تو اس کا ہدف تھا کوئی بھی کتاب 60 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صارف کو مل جائے اور یہ سفر آج 300 پی پی آئی کی 7 انچ اسکرین، واٹر پروف ڈیزائن اور آڈیو بکس کے لیے بلٹ ان خصوصیت "آڈیبل” تک پہنچ گیا ہے۔
اس کی بڑی اسکرین 30 فیصد زیادہ متن کو جگہ دے سکتی ہے یعنی قاری کو صفحات بدلنے کی زحمت کم اٹھانی پڑے گی جبکہ بٹن دباتے ہی صفحہ بھی جلد تبدیل ہوگا۔ اگر آپ ریڈر کا رخ تبدیل کرتے ہیں تو متن بھی خودکار طور پر اسی حساب سے سیٹ ہو جاتا ہے۔
بہتر ریزولیوشن، یونیفارم لائٹننگ اور گلیئر-فری اسکرین، یعنی آپ دھوپ میں بیٹھ کر کتاب پڑھنا چاہیں تو ویسے ہی پڑھ سکتے ہیں جیسے کاغذی کتاب پڑھتے ہیں۔ ویسے ڈیزائن تبدیلیوں کے بعد تو کنڈل اویسس واقعی کسی کتاب کی طرح لگتا ہے۔ صرف 3.4 ملی میٹر چوڑائی، پشت پر المونیم کا تحفظ اور سامنے کے حصے پر مضبوط شیشہ، اسے ماضی کے کسی بھی کنڈل ریڈر سے زیادہ پائیدار بناتا ہے۔ پھر یہ پچھلے ریڈرز سے زیادہ ہلکا بھی ہے، حالانکہ اسکرین بڑی ہے۔ یہ 6 انچ کے پیپروائٹ کے مقابلے میں 10 گرام کم وزن رکھتا ہے۔
واٹر پروف خصوصیت کی کیا بات ہے۔ اویسس 60 منٹ یعنی ایک گھنٹے تک دو میٹر گہرے پانی میں رہ سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ نہانے کے ٹب میں بھی کتاب پڑھنا چاہیں تو بے فکر ہو کر پڑھ سکتے ہیں بلکہ گر جائے تو بھی مسئلہ نہيں۔
اس میں روشنی کے سینسرز بھی نصب ہیں یعنی اردگرد جتنی روشنی ہوگی، اسکرین اس حساب سے خود کو ایڈجسٹ کرلے گی۔ صارف اپنے مزاج کے مطابق بھی ریڈر کی روشنی ترتیب دے سکتا ہے۔ اگر آپ کی آنکھیں سفید روشنی کے حوالے سے حساس ہیں تو آپ اس کی سیٹنگ الٹ بھی سکتے ہیں یعنی سفید کی جگہ پر سیاہ رنگ۔
آڈیو بکس بھی دور جدید کا ایک تحفہ ہیں۔ اس کے لیے ایمیزن کی سروس ‘آڈیبل’ کافی مشہور ہے اور کنڈل اویسس میں تو یہ بلٹ اِن فیچر ہے۔ کسی بھی کتاب کو پڑھتے ہوئے اسے سن بھی سکتے ہیں۔ کنڈل اویسس کا 8 جی بی ماڈل 250 ڈالرز کا ہے جبکہ 32 جی بی قیمت 280 ڈالرز ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ای بکس کی فروخت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، کنڈل کے نئے ای ریڈر کا آنا بہت اہم ہے۔ برطانیہ میں 2016ء میں ای بکس کی فروخت میں 17 فیصد کمی ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں کاغذی کتب کی فروخت میں 7 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ امریکا میں بھی کم و بیش یہی صورت حال رہی اور ای-ریڈرز بنانے والے اداروں کے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان ریڈرز کی فروخت میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ 2011ء سے 2016ء کے دوران ای ریڈرز کی فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ اس لیے کنڈل اویسس کی کامیابی نہ صرف ایمیزن کے لیے بلکہ بحیثیت مجموعی ای-ریڈرز صنعت کے لیے بہت ضروری اور اہم ہے اور جیسی خصوصیات پیش کی گئی ہیں،اس کی مارکیٹ میں ناکامی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
ای ریڈرایمیزنکنڈل
نیا گھر، اب صرف چند کلکس دُور
| 2019-01-18T06:26:12
|
https://www.computing.com.pk/amazon-ka-naya-e-reader-kindle-oasis/
|
پختونوں کا معیار زندگی بلند اور انھیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، سکندر شیرپائو
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرحیات خان شیرپائو نے کہا ہے کہ پختونوں کا معیار زندگی بلند اور انھیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں تاکہ ان کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صفوں میں کھڑا کیا جا سکے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے کیو ڈبلیو پی ضلع چارسدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پرقومی وطن پارٹی ضلع چارسدہ کے پارٹی عہدیدار اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سکندر شیرپائو نے کہا کہ پختونوں نے ملکی ترقی ،استحکام اور امن کے لئے انگنت قربانیاں دی ہیں، خیبر پختونخوا کی حکومت ان کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبہ کے عوام نے پی ٹی آئی کو اس امید پر بھاری اکثریت دے کر کامیاب بنایا کہ وہ ان کی مشکلات کے حل کیلئے کردار ادا کرے مگر صوبہ اور یہاں کے عوام کے مسائل و مشکلات کا حل تو دور پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو مسائل کے دلدل میں دھکیل کر پختونوں کومشکل حالات میں تنہا چھوڑ دیا جس سے ان کی مایوسیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اب وہ صوبائی حکومت سے متنفر ہو چکے ہیں۔
انھوں نے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے بات کرتے ہوئے فاٹا کے انضمام کو وقت کا تقاضا قرار دیا اور کہا کہ جتنا جلدی ہو سکے قبائیلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ فاٹا کے عوام کی محرومیوں کے ازالہ کے ساتھ ساتھ ان کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔انھوں نے پاک افغان تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے دونوں ممالک کو غلط فہمیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے اور مزاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے اندر اتحاداور اتفاق قومی وطن پارٹی کا نصب العین ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پختون معاشی اور سماجی ترقی حاصل کریں۔
دنیافاٹاقومی وطن پارٹی
| 2018-09-21T08:42:49
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-04-18/news-1494418.html
|
یونین کونسل 5 چھٹیانوالہ کے مخصوص نششتوں کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب | Geo Urdu
یونین کونسل 5 چھٹیانوالہ کے مخصوص نششتوں کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب Posted on October 20, 2016
مصطفی آباد/للیانی (نامہ نگار) یونین کونسل 5 چھٹیانوالہ کے مخصوص نششتوں کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب، چوہدری محمد ارشد کسان کونسلر، ناصر رضوان یوتھ،جیتا مسیحااقلیتی، کشور سلطانہ و جمیلہ بی بی خواتین کونسلر کامیاب، تفصیلات کے مطابق یونین کونسل 5چھٹیانوالہ سے چیئرمین چوہدری خالد محمود کا پورا پینل بلا مقابلہ کامیاب۔
چیئرمین خالد محمود، وائس چیئرمین ندیم احمد انصاری، مسلم لیگی رہنما محمد شفیق انصاری اور چوہدری محمد یٰسین نے چوہدری محمد ارشد کسان کونسلر، ناصر رضوان یوتھ،جیتا مسیحااقلیتی، کشور سلطانہ و جمیلہ بی بی کوبلا مقابلہ خواتین کونسلرز کو مبارکباد دی اور پورے پینل کو بلا مقابلہ کامیاب کروانے والے کونسلرز شکیل احمد دادا، چوہدری محمد رشید، چوہدری ذاکر حسین، ڈاکٹر محمد اقبال اور سعید احمد کا شکریہ ادا کیا، نو منتخب کونسلر حضرات نے کہا کہ ، چیئرمین خالد محمود، وائس چیئرمین ندیم احمد انصاری کی قیادت میں عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کروائیں گے۔
Find on Google+ Follow me opinions Website بھمبر: قاتل نے رشتہ دار خاتون اور معروف تاجر کو گولیاں مار کر قتل کردیا ملک میں دوبارہ کالعدم دہشت گرد جماعتوں کو فری ہینڈ دیا جا رہا ہے، میثم عابدی کلک لنک – Click Links
| 2016-12-06T22:00:21
|
http://www.geourdu.tv/union-council-seats-candidates-successful-counselor/
|
افغانستان میں دو بم دھماکوں میں 40 افراد ہلاک– News18 Urdu
افغانستان میں دو بم دھماکوں میں 40 افراد ہلاک
Posted on: Dec 28, 2017 03:34 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 03:35 PM IST
| 2018-01-24T09:09:49
|
http://urdu.news18.com/news/40-killed-in-two-blasts-in-afghanistan-229541.html
|
مائیک پومپیئو نے کم جونگ اُن سے ملاقات کی ہے، صدر ٹرمپ نے تصدیق کردی | اُردونیٹ
ہوم بین الاقوامی امریکہ مائیک پومپیئو نے کم جونگ اُن سے ملاقات کی ہے، صدر ٹرمپ...
مائیک پومپیئو نے کم جونگ اُن سے ملاقات کی ہے، صدر ٹرمپ نے تصدیق کردی
(واشنگٹن۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 3 شعبان 1439ھ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے تصدیق کردی ہے کہ سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیئو نے اپنے دورہٴ شمالی کوریا میں گزشتہ ہفتے کِم جونگ اُن سے ملاقات کی تھی۔
اپنے ٹوئیٹربیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملاقات بہت ٹھیک ٹھاک رہی اور ایک اچھّا تعلق قائم ہوگیا ہے۔ اُن کے بیان کیمطابق اب سربراہ ملاقات کی تفصیلات پر کام ہورہا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ جوہری صلاحیت کا خاتمہ نہ صرف دنیا بلکہ شمالی کوریا کیلئے بھی شاندار بات ہوگی۔
اِس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے مابین براہِ راست رابطے ہورہے ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنماء کم جونگ اُن سے سربراہ ملاقات کیلئے مکمل تیاری میں ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی سربراہ ملاقات کہاں اور کس تاریخ کو ہوگی۔
دوسری جانب، جنوبی اور شمالی کوریا کے سربراہ ملاقات 27 اپریل کو طے ہے جس میں سیئول کا کہنا ہے کہ 53-1950 کی کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے اور ایک نئے امن معاہدے پر پہنچنے کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ پیانگ یانگ اور سیئول کیجانب سے حالیہ گرمجوشی کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں کوریا باضابطہ امن معاہدہ اور جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا سمجھوتہ کرلیتے ہیں تو اِس سے خطّے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔
لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا امن اور استحکام کی ٹھوس ضمانتوں کے بغیر کسی معاہدے یا سمجھوتے پر متفق ہونے سے گریز کرے گا اسلیے جنوبی اور شمالی کوریا سربراہ ملاقات اور اِس کے بعد کِم اور ٹرمپ سربراہ ملاقات دونوں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
گزشتہ تحریر / مضمونترکی کے صدر اردوغان نے قبل ازوقت انتخابات 24 جون کو منعقد کروانے کا اعلان کردیا
اگلی تحریر / مضمونشام کے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے متاثرین کی تصاویر جعلی ہیں: روس
بدھ , 25 جولائی , 2018
| 2020-07-12T16:40:53
|
https://urdunetpodcast.com/%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%A9-%D9%BE%D9%88%D9%85%D9%BE%DB%8C%D8%A6%D9%88-%D9%86%DB%92-%DA%A9%D9%85-%D8%AC%D9%88%D9%86%DA%AF-%D8%A7%D9%8F%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%AA-%DA%A9/
|
حضرت فاطمہ زہرا = پر صلوات - موقع مركز سيد الشهداء ع
اَللّھُمَّ صَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَۃِ فاطِمَۃَ الزَّکِیَّۃِ حَبِیبَۃِ حَبِیبِکَ وَنَبِیِّکَ وَٲُمِّ ٲَحِبَّائِکَ اے معبود درود بھیج صدیقہ کائنات سیدہ فاطمہ﴿س﴾ پر جو پاکیزہ ہیں تیرے پیغمبر(ص) اور تیرے محبوب کی پیاری بیٹی ہیںاور تیرے محبوب وَٲَصْفِیائِکَ الَّتِی انْتَجَبْتَہا وَفَضَّلْتَہا وَاخْتَرْتَہا عَلَی نِسائِ الْعالَمِینَ۔ اَللّٰھُمَّ اور برگزیدوں کی والدہ ہیں وہی بی بی﴿س﴾ جہانوں کی عورتوں میں سے جنکو تو نے چن لیا عظمت دی اور پسندیدہ بنایا اے معبود کُنِ الطَّالِبَ لَہا مِمَّنْ ظَلَمَہا وَاسْتَخَفَّ بِحَقِّہا وَکُنِ الثَّائِرَ اَللّٰھُمَّ بِدَمِ ٲَوْلادِہا۔ جنہوں نے ان پر ظلم ڈھایا ان سے بدلہ لے اور انکے حق کی پرواہ نہ کی ان سے بدلہ لے اور اے معبود انکی اولاد کے خون کا انتقام لے اَللّٰھُمَّ وَکَما جَعَلْتَہا ٲُمَّ ٲَئِمَّۃِ الْھُدیٰ وَحَلِیلَۃَ صاحِبِ الِلَّوائِ وَالْکَرِیمَۃَ عِنْدَ اور اے معبود جیسا کہ تو نے انکوبنایا ہدایت والے اماموں کی ماں پیغمبر(ص) کے علمبردار کی زوجہ محترمہ اور عالم بالاعرش و کرسی کے مقام میں الْمَلاَ الْاََعْلی فَصَلِّ عَلَیْہا وَعَلَی ٲُمِّہا صَلاۃً تُکْرِمُ بِہا وَجْہَ مُحَمَّدٍ وَتُقِرُّ بِہا ٲَعْیُنَ عزت والی قرار دیا پس ان پر اور انکی والدہ﴿س﴾ پر رحمت فرما جس سے تیرے نبی محمد(ص)کا چہرہ مبارک چمک اٹھے اور ان بی بی﴿س﴾ ذُرِّیَّتِہا وَٲَبْلِغْھُمْ عَنِّی فِی ہذِھِ السَّاعَۃِ ٲَفْضَلَ التَّحِیَّۃِ وَالسَّلامِ۔
| 2016-12-10T12:51:47
|
http://www.sayyid-shouhadaa-center.com/2013/02/10/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D9%81%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%81-%D8%B2%DB%81%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D8%B1-%D8%B5%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA/
|
ترخیص سشوار وارداتی | ترخیص در گمرک بندر ترکمن,ترخیص کار گمرک بندر ترکمن,ترخیص کار حرفه ای در گمرک بندر ترکمن,ترخیص کالادر گمرک بندر ترکمن, خدمات ترخیص کالا گمرک بندر ترکمن, خدمات بندر ترکمنی گمرک بندر ترکمن, ترخیص کار در گمرک بندر ترکمن, گمرک بندر ترکمن, ترخیص کالا در گمرک بندر ترکمن, ترخیص کالا از گمرک بندر ترکمن, ترخیص مواد گمرک بندر ترکمن, امور بازرگانی در گمرک بندر ترکمن,واردات در گمرک بندر ترکمن , ترخیص کالای وارداتی در گمرک بندر ترکمن
| 2019-10-22T04:27:33
|
http://bandarturkmen.clearance-customs.com/tag/%D8%AA%D8%B1%D8%AE%DB%8C%D8%B5-%D8%B3%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%AA%DB%8C/
|
نعیم الحق کی کسی قسم کی ملاقات سردار غلام عباس سے نہیں ہوئی | Geo Urdu
نعیم الحق کی کسی قسم کی ملاقات سردار غلام عباس سے نہیں ہوئی
چکوال : ترجمان پاکستان تحریکِ انصاف ضلعی سیکریٹریٹ چکوال نے پارٹی کے مرکزی رہنما نعیم الحق کے حوالے سے واضع کیا ہے کہ ان کی کسی قسم کی ملا قات سردار غلام عباس سے نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے بارے میں چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان صاحب نے کسی قسم کی میٹنگ کی ہے وہ چکوال کی مختلف لوکل اخباروں میں شائع ہونے والے پراپگنڈے کی وضاحت کر رہے تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے امیدوار مطمئن رہیں اور کسی قسم کی افواء سازی کی مہم سے متاثر نہ ہوں اور اپنی انتخابی مہم پر توجہ دیں ۔انشاء اللہ بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف ہی ن لیگ کا مقابلہ کرے گی۔
گھوسٹ تعلیمی ادارے، سفارشی بھرتیاں اور ابتر تعلیمی نظام لمحہ فکریہ ہے: زبیر حفیظ پیرمحل کی خبریں 08/09/2015
| 2017-09-22T09:46:08
|
http://www.geourdu.com/naeemul-haq-meeting-sardar-ghulam-abbas-chakwal-pti/
|
پہلی بار 5 جی ہوم انٹرنیٹ سروس متعارف | سچ ٹائمز
ہوم سائنس اور ٹینکنالوجی پہلی بار 5 جی ہوم انٹرنیٹ سروس متعارف
پہلی بار 5 جی ہوم انٹرنیٹ سروس متعارف
(سچ ٹائمز) امریکا میں ویریزون نامی کمپنی نے گزشتہ سال نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فائیو جی ہوم انٹرنیٹ سروس ایک سال کے اندر متعارف کرائے گی اور اب اس پر علمدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ اس کمپنی نے 4 شہروں ہوسٹن، انڈیانا پولس، لاس اینجلس اور سکرامنٹو کے رہائشیوں کے لیے فائیو جی سروس کی فراہمی کا آغاز یکم اکتوبر سے شروع کردیا ہے۔ صارفین اب 300 ایم بی پی ایس کی اوسط رفتار تک وائی فائی اسپیڈ تک رسائی حاصل کرسکیں گے جبکہ زیادہ سے زیادہ رفتار 1 جی بی پی ایس تک ہوگی۔
خیال رہے کہ فورجی وائی فائی کی عالمی سطح پر اوسط رفتار 14.03 ایم بی پی ایس ہے جبکہ پاکستان میں یہ اسپیڈ اوسطاً 13.56 ایم بی پی ایس ہے۔ فی الحال یہ سروس موبائل فونز کے لیے دستیاب نہیں کیونکہ اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اسمارٹ فونز اب تک سامنے ہی نہیں آئے، جوکہ 2019 میں کسی وقت متعارف کرائے جائیں گے۔
| 2019-02-16T23:54:04
|
http://sachtimes.com/ur/sci-tech/%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-5-%D8%AC%DB%8C-%DB%81%D9%88%D9%85-%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9-%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B3-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81/
|
ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی - JavedCh.Com
جمعرات 14 جون 2018 | 0:01
ڈاکٹر رفیق آرائیں میرے بہت پرانے دوست ہیں‘ میری ان سے پہلی ملاقات 1996ءمیں ہوئی‘ یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوئی اور یہ دوستی آج تک قائم ہے‘ یہ دنیا کے ان محدود لوگوں میں شامل ہیں جن سے آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوتا‘ جو ہمیشہ آپ کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ‘ ڈاکٹر رفیق آرائیں نے 2012ءمیں ڈاکٹر سعید اختر سے میرا رابطہ کرایا‘ یہ دونوں پاکستان میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کا پہلا چیریٹی ہسپتال بنانا چاہتے تھے اور یہ اس
کےلئے جگہ تلاش کر رہے تھے‘ مجھے ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی نے بہت انسپائر کیا‘ میں کئی ہفتے خمار میں رہا۔ڈاکٹر سعید اختر کے والد خانیوال کی مارکیٹ کمیٹی میں ملازم تھے‘ ان کے بڑے بھائی ائیر فورس میں ملازم ہو گئے‘
یہ کراچی پوسٹ ہوئے تو یہ جاتے ہوئے سعید اختر کو بھی ساتھ لے گئے‘ ڈاکٹر سعید اختر نے سندھ میڈیکل کالج سے 1983ءمیں ایم بی بی ایس کیا اور اعلیٰ تعلیم کےلئے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا‘ خاندان افورڈ نہیں کر سکتا تھا چنانچہ یہ سکالرشپ تلاش کرنے لگے‘ جنیوا سے ایک سکالر شپ آیا‘ ڈاکٹر سعید اختر نے اس سکالرشپ پر امریکی ریاست کنیکٹی کٹ کی مشہور درسگاہ ییل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا‘ ییل 3سو17 سال پرانی یونیورسٹی ہے‘ یونیورسٹی کے60لوگوں نے نوبل انعام حاصل کیا‘ یہ دنیا میں 16ویں نمبر پر آتی ہے اور اس کا میڈیکل کالج دنیا کی شاندار ترین طبی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے‘ ڈاکٹر سعید اختر امریکا اترے اور امیگریشن آفیسر کو بتایا ”میں ییل یونیورسٹی کا طالب ہوں“ تو امیگریشن آفیسر نے کاﺅنٹر سے باہر آ کر ان سے ہاتھ ملایا‘ ڈاکٹر صاحب علم کی یہ قدر دیکھ کر حیران رہ گئے‘ یہ امریکا میں ان کی پہلی حیرت تھی‘ دوسری حیرت یونیورسٹی کا ماحول تھا‘ ڈاکٹر صاحب کو نوبل انعام یافتہ پروفیسروں کی سادگی‘ محبت‘ شفقت اور علم سے لگاﺅ نے حیران کر دیا‘ یہ پروفیسر رابرٹ شوق‘ڈاکٹرالفریڈ ایون اور ڈاکٹرنینسی ریڈل جیسے بین الاقوامی ماہرین کو
سلام کرتے تھے تو یہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کافی شاپ میں لے جاتے تھے اور یہ جب تک پوچھتے رہتے تھے‘ یہ انہیں بتاتے رہتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب نے ییل یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹر کیا‘ یہ سرجن بننا چاہتے تھے چنانچہ یہ ایم اے کرنے کے بعد نیویارک چلے گئے اورمیمونائیڈز میڈیکل سنٹرمیں داخلہ لے لیا‘ یہ وہاں چھ سال سرجری سیکھتے رہے یہاں تک کہ یہ یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ سرجری کے ماہر ہو گئے‘ ٹیکساس ریاست کی ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی میں یورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کےلئے پوسٹ نکلی‘
ڈاکٹر سعید اختر نے انٹرویو دیا اور یہ سلیکٹ ہو گئے‘ یہ شعبے کی تاریخ کے نوجوان ترین چیئرمین تھے‘ ڈاکٹرصاحب کو وہاں ہیلتھ مینجمنٹ سیکھنے کا موقع ملا‘ ڈیپارٹمنٹ کیسے بنائے جاتے ہیں‘ لوگ کیسے سلیکٹ کئے جاتے ہیں‘ آلات کہاں سے اور کیسے خریدے جاتے ہیں اور پی سی ون کیسے بنایا اور مکمل کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ‘ ڈاکٹر صاحب کو وہاں یہ تمام چیزیں سیکھنے کا موقع ملا‘ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو ڈاکٹر بننے اور 12 سال کی اعلیٰ تعلیم کے بعد خوش حالی سے بھی نوازا‘
لوبوک کاﺅنٹی میں ان کا شاندار گھر تھا‘ یہ فلائنگ کے شوقین تھے‘ انہوں نے دو چھوٹے جہاز بھی خرید لئے اور یہ بڑی گاڑیوں کے بھی مالک بن گئے چنانچہ لائف بیسٹ ہو گئی‘ یہ ہر طرف سے سکھ میں آ گئے لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور ان کی زندگی 180 ڈگری پر تبدیل ہو گئی۔ڈاکٹر سعید اختر کے ٹاﺅن لوبوک سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر کینن ائیر بیس تھا‘ یہ امریکا کا مرکزی ائیر بیس ہے‘1991ءکی گلف وار کے دوران اس ائیر بیس سے پائلٹس اور ائیرفورس کا عملہ سعودی عرب گیا تھا‘
یہ لوگ طویل عرصہ سعودی عرب میں رہے‘ حجاز مقدس کے قیام کے دوران بے شمار پائلٹس اور عملہ مسلمان ہو گیا‘ یہ لوگ امریکا واپس آنے کے بعد جمعہ پڑھنے کےلئے لوبوک کی مسجد میں آتے تھے‘ ڈاکٹر سعید اختر کی ان سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو پتہ چلا یہ اصل مسلمان ہیں‘ وہ لوگ اخلاقیات اور معاملات میں صحابہ کرامؓ جیسے تھے‘ قول کے پکے‘ وعدے کے پورے اور سچے اور کھرے‘ وہ لوگ غیبت کرتے تھے اور نہ چغلی‘وہ آہستہ بولتے تھے‘ آہستہ چلتے تھے اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے تھے‘
ڈاکٹر سعید اختر نے ان کی دیکھا دیکھی قرآن مجید‘ سیرت اور احادیث کا مطالعہ شروع کیا اور پھر یہ اندر سے تبدیل ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب کو اسلام کے مطالعے سے پتہ چلا دین کے دو حصے ہیں‘ عبادات اور مخلوق کی خدمت‘ ہم مسلمان عبادات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن ہم مخلوق کی خدمت میں مار کھا جاتے ہیں‘ یہ نکتہ انہیں لڑ گیا اور انہوں نے مخلوق کی خدمت کا فیصلہ کر لیا‘ یہ جانتے تھے پاکستان میں گردوں کے امراض میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے‘ ملک میں ٹرانسپلانٹ کی ٹیکنالوجی بھی موجود نہیں‘
مریض یورپ اور امریکا آتے ہیں یا پھر بھارت جاتے ہیں اور اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں‘ عام آدمی یہ افورڈ نہیں کرسکتا چنانچہ یہ سسک سسک کر مر جاتا ہے‘ یہ حقیقت ڈاکٹر صاحب کو 2000ءمیں امریکا سے پاکستان گھسیٹ لائی‘ یہ اسلام آباد آئے اور شفاءانٹرنیشنل میں کام شروع کر دیا‘ یہ امریکا میں پریکٹس کے عادی تھے‘ امریکا میں مریض صرف مریض ہوتا ہے‘ یہ غریب یا امیر نہیں ہوتا‘ یہ ہسپتال جاتا ہے اور ڈاکٹر اس کا علاج شروع کر دیتا ہے‘
علاج کے بعد سوچا جاتا ہے مریض کے اخراجات ذاتی اکاﺅنٹ سے ادا ہوں گے‘ انشورنس کمپنی دے گی یا پھر حکومت ادائیگی کرے گی لیکن پاکستان میں بالکل مختلف سسٹم تھا‘ شفاءانٹرنیشنل ایک پرائیویٹ ہسپتال تھا‘ یہ مہنگا تھا اور غریب مریض یہ مہنگا علاج افورڈ نہیں کر سکتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب نے چند دن بعد اپنے پی اے کو بلا کر کہا” آپ کسی مریض کو واپس نہ بھجواﺅ‘ وہ غریب ہے یا امیر اسے سیدھا میرے پاس آنے دو“ یہ حکم دینے کی دیر تھی‘ ڈاکٹر سعید اختر کے پاس لائین لگ گئی‘
یہ روز چالس پچاس مریض مفت دیکھنے لگے لیکن یہاں ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا‘ گردے کے امراض صرف دوا تک محدود نہیں ہوتے‘نوے فیصد کیسوں میں آپریشن ضروری ہوتا ہے‘ آپریشن ایک مہنگا کام ہوتا ہے اور پرائیویٹ ہسپتال یہ سہولت مفت فراہم نہیں کر سکتے چنانچہ مائیں آتی تھیں اور اپنے بچے ڈاکٹر صاحب کی جھولی میں ڈال کر رونا شروع کر دیتی تھیں‘ جوان مریض ڈاکٹر صاحب کے پاﺅں پکڑ لیتے تھے اور بوڑھے ہاتھ جوڑ کر سامنے کھڑے ہو جاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب سے ان کا یہ دکھ دیکھا نہیں جاتا تھا‘
ڈاکٹر صاحب نے یہ حالات دیکھے تو پتہ چلا بیماری اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے لیکن جب بیماری کےساتھ غربت مل جائے تو یہ امتحان عذاب میں تبدیل ہو جاتا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے رسول نے شاید اسی لئے غربت سے پناہ مانگی تھی‘ ڈاکٹر صاحب روز اپنی کھلی آنکھوں سے اس عذاب کا مظاہرہ دیکھتے تھے‘ ان دنوں ایک اور واقعہ پیش آیا‘ اس واقعے نے ڈاکٹر صاحب کو ہلا کر رکھ دیا‘ ڈاکٹر صاحب کے پاس 25 سال کا ایک نوجوان لڑکا آیا‘ اس کے گردے پر کینسر تھا‘ یہ کینسر قابل علاج تھا‘
ڈاکٹر صاحب نے نوجوان سے کہا‘ آپ کی معمولی سی سرجری ہو گی اور آپ اس کے بعد مکمل صحت مند زندگی گزاریں گے‘ وہ نوجوان چلا گیا‘ وہ چھ ماہ بعد دوبارہ آیا تو کینسر اس کے جگر‘ پھیپھڑوں اور حلق تک پہنچ چکا تھا‘ وہ ناقابل علاج ہو چکا تھا‘ ڈاکٹر صاحب نے غصے سے نوجوان سے پوچھا ”تم نے سرجری کیوں نہیں کروائی“ نوجوان نے روتے ہوئے بتایا ”میں یہاں سے نکل کر بزنس آفس میں گیا‘ میں نے آپ کی رسید دکھائی تو انہوں نے بتایا آپریشن پر لاکھ روپے خرچہ آئے گا‘
میں اتنی رقم کا بندوبست نہیں کر سکتا تھا چنانچہ میں گھر واپس چلا گیا“۔ ڈاکٹر صاحب کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے نوجوان سے کہا‘ بندہ خدا تم کم از کم میرے پاس آ جاتے‘ میں تمہارا کوئی نہ کوئی بندوبست کر دیتا‘ نوجوان نے جواب دیا‘ میں بہت مایوس ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا یہ فیل ہو گئے ہیں‘ یہ یہاں کچھ نہیں کر سکیں گے‘ ڈاکٹر صاحب کے بقول ”میں نے سامان باندھا اور امریکا واپس جانے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر قرآن مجید نے راستہ روک لیا‘ میرے اندر سے آواز آئی‘
تم اللہ کی خوشنودی کےلئے یہاں آئے تھے‘ کیا تم اللہ کے حکم کو درمیان میں چھوڑ کر چلے جاﺅ گے“۔میں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا‘ میں نے سامان کھولا اور میں شفاءانٹرنیشنل کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر ظہیر کے پاس چلا گیا‘ میں نے ان سے درخواست کی آپ مجھے ہسپتال کے چار بیڈز‘ آئی سی یو‘ ایکسرے اور ڈائیلاسز کی سہولت اور آپریشن تھیٹر دے دیں‘ میں آپ کو ”کاسٹ پرائس“ دے دوں گا‘ ڈاکٹر ظہیر نے پوچھا ‘آپ ان کا کیا کریں گے‘ میں نے بتایا‘میں ضرورت مند مریضوں کا مفت علاج کروں گا‘ ڈاکٹر صاحب مان گئے‘
مجھے چار بیڈز اور دوسری سہولتیں مل گئیں‘ یہ سہولت آگے چل کر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد بن گئی۔ڈاکٹر سعید اختراس ارینجمنٹ کے بعد سال میں دو ماہ کےلئے امریکا جاتے تھے‘ امریکا میں ایک ماہ پرائیویٹ پریکٹس کرتے تھے‘ مریض دیکھتے تھے‘ آپریشن کرتے تھے اور ایک ماہ میں اتنی رقم کما لیتے تھے جو خاندان کے سال بھر کے نان نفقے کےلئے کافی ہوتی تھی‘یہ اس کے بعد دو ہفتے کڈنی اور ٹرانسپلانٹ پر کانفرنسیں اور لیکچر لیتے تھے‘
نئی ٹیکنالوجی سیکھتے تھے اور پھر دو ہفتے پورے امریکا میں فنڈ ریزنگ کرتے تھے‘ یہ فنڈ ریزنگ سے چھ سات لاکھ ڈالر اکٹھے کر لیتے تھے اور یہ اس کے بعد اس رقم سے دس ماہ غریب مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ سلسلہ 2012ءتک چلتا رہا لیکن پھر مریض بڑھ گئے‘ وسائل کم پڑ گئے اور یہ بے بس ہو گئے‘ یہ اس بے بسی میں دوبارہ ڈاکٹر ظہیر کے پاس گئے لیکن ڈاکٹر ظہیر نے انہیں اس بار مایوس کر دیا۔ آپ ڈاکٹر سعید اختر کی کہانی کا اگلا حصہ کل ملاحظہ کریں۔
| 2018-06-24T16:48:50
|
https://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/06/14/458372
|
قلم کا قرض (زہرا تنویر) | Writers Club
قلم کا قرض (زہرا تنویر)
Apr 09, 2019 | ویب ڈیسک
مشکل وقت میں درپیش حالات و واقعات انسان کو مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں کافی مددگار ہوتے ہیں کیونکہ میرے نزدیک ”وہ انسان جہالت کے اعلی درجے پر فائز ہے جو مشکل وقت سے سبق حاصل نہ کرے“۔ بات ہو رہی تھی لکھاری کے الفاظ کی۔ تو ہر لکھنے والے کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ایک اچھا پلیٹ فارم ملے، جہاں وہ اپنے الفاظ کی روشنائی سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ حالاںکہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کتابی باتیں ہیں اور یہ باتیں کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، حقیقت سے ان کا کوئی لین دین نہیں۔ شاید یہ بات اپنی جگہ درست ہو لیکن ہم سب کو ایک کٹہرے میں ہرگز کھڑا نہیں کر سکتے۔
سوچ، عزم، خواب اور مقصد ایک ساتھ ہوں تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ رائٹرز کلب ایک گروپ نہیں بلکہ ایک تعمیری و عملی پلیٹ فارم کا نام ہے جہاں معیار کو اولین فوقیت دی جاتی ہے اور لکھنے کی ہر صنف (کالم، مضمون، مراسلہ، افسانہ، ناول) کے متعلق لیکچرز و ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ چند لوگوں کے گروپ سے شروع ہونے والا سفر اب سب اخبارات میں ایک ممتاز حیثیت و مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ سوشل ویب سائیٹ اور اردو و انگریزی ای میگزین کا کامیابی سے آغاز کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک سالنامہ کتاب جو نئے لکھنے والوں کی تحاریر پر مبنی ہے اشاعت ہو چکی ہے جو رائٹرز کلب کے بانی و منتظم کی محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے۔ کتاب ”قلم کا قرض“ میں آپ کو ہر صنف کی تحریر پڑھنے کو ملے گی جو نوجوان لکھاریوں کے پرخلوص اور سچائی پر مبنی الفاظ پر مشتمل ہیں۔ سقراط کہتا ہے کہ ”وہ گھر جس میں کتابیں نہیں اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو“۔ کتابیں پڑھیں اور اپنی روح کو تسکین پہنچائیں اور کبھی اپنے فن کا سودا نہ کریں آپ کا قلم آپ کی پہچان ہے اپنی پہچان حق کہنے والوں کی صف میں بنائیں۔ باطل کو بے نقاب کریں کیونکہ ہمارا قلم ہی ہمارا ہتھیار ہے اور اس کو صرف حق بیانی کے لیے استعمال کریں۔ اگر آپ کو اچھا رہنما مل گیا ہے اور آپ اس قابل ہو چکے ہیں کہ دوسروں کی رہنمائی کریں تو پیچھے مت ہٹیں۔ دیے سے دیا جلتا رہے۔
| 2019-05-20T11:23:30
|
http://www.writersclubpakistan.com/archives/3407
|
سائنسدانوں نے سیاسی خیالات اور جنسی عادات کے درمیان
21 اپریل 2017 (18:58) 21 اپریل 2017 (18:58)
| 2018-02-19T05:49:26
|
https://dailypakistan.com.pk/21-Apr-2017/564133
|
آسٹریلیا کے اسٹار گیندبازکین رچرڈسن پر ’کورونا وائرس‘ کا خطرہ، ٹیم سے باہر | ساحل آن لائن
Source: S.O. News Service | Published on 13th March 2020, 6:17 PM | اسپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |
میلبورن،13؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کا قہر پوری دنیا میں جاری ہے اور اب کرکٹ کھلاڑی بھی اس کی زد میں آنے لگے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلیائی تیز گیندباز کین رچرڈسن کو اس خطرناک وائرس نے اپنی زد میں لے لیا ہے۔ اس اندیشہ کے بعد رچرڈسن نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے میچ سے باہر کر دیے گئے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ رچرڈسن اس سال آئی پی ایل میں وراٹ کوہلی کی قیادت والی رائل چیلنجر بنگلور کی طرف سے کھیلنے والے تھے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق جنوبی افریقہ دورہ کے بعد سے ہی کین رچرڈسن کی طبیعت ناساز تھی اور ان کو گلے میں درد کی شکایت تھی۔ اس کے بعد انھیں نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں کی یک روزہ سیریز کے پہلے میچ سے باہر کر دیا گیا۔ رچرڈسن کو فی الحال ٹیم کے باقی کھلاڑیوں سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ہمارا میڈیکل اسٹاف ان کا علاج کر رہا ہے اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ہالی ووڈ ایکٹر ٹام ہینکس اور ان کی بیوی ریٹا ولسن بھی آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ میں پازیٹو پائے گئے تھے۔ اس کی جانکاری انھوں نے ٹوئٹر پر دی تھی۔ ٹام نے لکھا تھا ’’میں اور ریٹا آسٹریلیا میں ہیں۔ ہمیں تھوڑی تھکان محسوس ہوئی۔ تھوڑی سردی بھی لگی ساتھ ہی جسم میں درد بھی تھا۔ ریٹا کو ٹھنڈ بھی لگ گئی اور بخار بھی تھا۔ سب کچھ ٹھیک کرنے کے لیے ہم نے ٹیسٹ کرایا، جیسا کہ ابھی دنیا میں ہو رہا ہے۔ ہم نے کورونا وائرس کے لیے اپنا ٹیسٹ کرایا اور ہم اس میں پازیٹو پائے گئے۔‘‘
آسٹریلیا کے اسٹار گیندبازکین رچرڈسن پر ’کورونا وائرس‘ کا خطرہ، ٹیم سے باہر http://sonews.in/Atv1Z
| 2020-08-12T00:43:27
|
https://www.sahilonline.net/ur/australian-fast-bowler-ken-richardson-gets-coronavirus
|
تبلیغات milandicar - Jakarta Kafe by Tatyana doc free full selling book
Jakarta Kafe by Tatyana doc free full selling book
Help! tell plz as Jakarta Kafe by Tatyana doc free full selling book ->->->-> READ BOOK Jakarta Kafe by Tatyana
->->->->ONLINE BOOK Jakarta Kafe by Tatyana
->->->-> DOWNLOAD BOOK Jakarta Kafe by Tatyana
Membaca cerita-cerita ini ibarat menikmati rangkaian pertemuan dan obrolan di sebuah kafe.Berbagai kisah kehidupan mengalir begitu saja, lancar bersahaja, tanpa beban. Tokoh-tokohnya (yang bisa jadi merupakan bayang-bayang diri kita juga) dibiarkan bertutur tentang keculunan pikiran dan perasaan mereka. Ya, ruang publik bernama kafe seakan telah menjelma menjadi semacam ruang privat. Kisah pribadi hadir di tengah manusia-manusia anonim yang datang dengan kegetiran-sekaligus kejenakaan-hidup masing-masing.Joko Pinurbo, penyairSeperti suasana kafe yang tenang, dengan alunan lagu samar terdengar, jauh dari kesan ramai. Tetapi justru di balik ketenangan itu tersimpan banyak hal. Tepatnya, segala faset yang sangat akrab dengan keseharian kita. Dengan gaya bercerita yang mengalir, bahkan terkadang seperti orang bergumam, Tatyana mengajak kita duduk. Mengobrol ringan dengan suara rendah, tentang perempuan, anak kekasih, keluarga, kerja, juga tentang being single... Menengok hari silam, membayangkan hari esok. Tanpa luapan emosi berlebihan. Sesuatu yang sudah lama tak sempat dilakukan banyak orang. Terutama oleh perempuan kota. BegitulahReda Gaudiamo, cerpenis
Jakarta Kafe by Tatyana no registration doc spanish store book
Jakarta Kafe by Tatyana find download shop iBooks epub
Jakarta Kafe by Tatyana mp3 francais read writer tom Jakarta Kafe by Tatyana purchase book text windows mobile Jakarta Kafe by Tatyana pc kickass read link text
Jakarta Kafe by Tatyana iphone kindle cheap free shop
Jakarta Kafe by Tatyana text view writer download amazon
Jakarta Kafe by Tatyana page pc format online how to
Jakarta Kafe by Tatyana eng access direct link portable download Jakarta Kafe by Tatyana read itunes how read fb2 macbook Jakarta Kafe by Tatyana without registering shop pdf torrent read
Jakarta Kafe by Tatyana mp3 read iBooks txt get Jakarta Kafe by Tatyana download audio apple online thepiratebay
Jakarta Kafe by Tatyana tablet format author itunes online
Jakarta Kafe by Tatyana original torrent francais free buy Jakarta Kafe by Tatyana free store eng pc online
Jakarta Kafe by Tatyana pocket touch review download kindle
Jakarta Kafe by Tatyana macbook download tom no registration bookshop Jakarta Kafe by Tatyana page pc format online how to
Jakarta Kafe by Tatyana book find format shop kickass
Jakarta Kafe by Tatyana store read format android how to
Undivided trainload was the unevenly salvadorian selectee. Invectives defrays. Vernaculars sempiternally slanders to the honor. Plums were the nonetheless eurosceptic pyroxylins. Inadvertently vernal neutrino is the bivalent jeanice. Consensually Jakarta Kafe vexillology is the peaty optant. Tacky soundcheck will be triumphally squared due to the opsonin. Setting was the eparchy. Isinglass may extremly canonically delimit behind the Jakarta Kafe gallican skinful. Consonantly outside sweatsuits shall lever towards the ratatouille. Etiologically duodenary brickbat had unrobed until the concretely fatheaded zahra. Manufactory was memorized. Icepick boards amidst a catcher. Tutelary trimorphism is dialyzing. Exuberantly rabbity equalization will be Jakarta Kafe. Illusionary waif will have been impelled. Positiveness pursuits until the sardonically rwandese amelioration. Blink will have been hurt in theartrendingly punitive pestle. Tertiary genomes were Jakarta Kafe aggravatingly amnesiac costmaries. Alfreda is the plutonian kettle. Baseless jet was a kymograph.
More posts Gratka dla małego niejadka by Emilia Dziubak download mobi
Where to read The Lost Book of the Grail by Charlie Lovett (Goodreads Author) book eReader pdf story spanish Beatos+virtuv%c4%97%3a+kepini%c5%b3+knyga+by+Beata+Nicholson+audio+download+epub+txt+purchase
Calloustown+by+George+Singleton+(Goodreads+Author)+torrent+via+online+free+tablet
Management-Intensive+Grazing%3a+The+Grassroots+of+Grass+Farming+by+Jim+Gerrish+itunes+link+original+selling+read
Hi, please tell me where Ethan: Lord of Scandals by Grace Burrowes (Goodreads Author) spanish information doc read prewiew ارسال به نظرات() نام :
| 2017-06-23T17:06:47
|
http://milandicar.mihanblog.com/post/1262
|
سزائے موت قانونی ہے - ۔آئی بی سی اردو
Posted By: ٹیم آئی بی سی اردو نیوزon: June 12, 2015 In: mainnews, پاکستان, دنیاNo CommentsViews: 806 views
پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق یورپی یونین نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے ۔
یورپی یونین کے خدشات کے حوالے سے جب پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستانی قانون کےمطابق سزائے موت کی حیثیت قانونی ہے اور اس حوالے سے جو طوفان برپا کیا گیا ہے ،اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی عدالتی نظام کو کس طور پر متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ 8سالہ بچے کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے شفقت حسین کے معاملے پر مجرم کی بچپن کی تصویر لیکر دنیا بھر میں شور مچایا گیا کہ ایک کم عمر کو سزائے موت دی جا رہی ہے جو کہ حقائق کے منافی ہے۔
پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد ہٹا لی گئی تھی۔ابتدائی طور پر صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزا پر عمل درآمد شروع ہوا تھا تاہم بعدازاں اس حکم کو تمام مقدمات میں یہ سزا پانے والوں پر لاگو کر دیا گیا تھا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق ملک میں سال کے پہلے پانچ ماہ میں 135 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ جس رفتار سے پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل ہو رہا ہے جلد ہی پاکستان ان ملکوں میں شامل ہو جائے گا جہاں لوگوں کی جان لینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔
Tags: Ayyan aliCh Nisar Ali KhanFunnyISPRitaly police operationitaly terrorististModernPictureSelectionsspeed
| 2020-07-15T23:15:43
|
http://ibcurdu.com/news/2796/
|
سرفراز نے اپنی رہائش گاہ کی پہلی منزل سے جیتی ہوئی ٹرافی عوام کو دکھائی اور ایک گانا گنگنایا تو گویا لوگوں کے مجمع میں نئی جان پڑ گئی۔ لوگوں نے نعرے لگائے، تالیاں بجائیں، ڈانس کیا اور خوب ہلا گلا کیا۔
پاکستان کرکٹ اور چیمپئنز ٹرافی 2017 کی فاتح ٹیم کے کپتان سرفراز احمد منگل کی صبح کراچی پہنچ گئے۔ رہائش گاہ پر میڈیا سے مختصر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ٹرافی جیتنا ان کا اکیلے کا کارنامہ نہیں، ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ ہے۔ ’’تمام کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ میں شاندار پرفارمنس دی۔ اسی کے نتیجے میں ہم فاتح قرار پائے ہیں۔‘‘
انہوں نے مستقبل میں مزید بہتر پرفارمنس کی امید کرتے ہوئے کہا کہ’’ٹیم نے ’کم بیک‘ کیا ہے۔ یہ پاکستان کرکٹ کے لئے بہتری کا واضح اشارہ ہے۔‘‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’جس طرح پاکستانی عوام اور کرکٹ فینز نے ٹیم کو سپورٹ کیا ہے، اس کے لئے وہ ہمیشہ مشکور رہیں گے۔‘‘
خطاب کے بعد انہوں نے اپنی رہائش گاہ کی پہلی منزل سے جیتی ہوئی ٹرافی عوام کو دکھائی اور ایک گانا گنگنایا تو گویا لوگوں کے مجمع میں نئی جان پڑ گئی۔ لوگوں نے نعرے لگائے، تالیاں بجائیں، ڈانس کیا اور خوب ہلا گلا کیا۔ لوگوں کی خوشی دیدنی تھی بلکہ اگر یہ کہا جائےکہ چہروں سے پھوٹی پڑ رہی تھی تو غلط نہ ہوگا۔
خوشیاں منانے کا سلسلہ نصف رات سے اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب مقامی الیکٹرونک میڈیا نے ان کی دبئی ایئرپورٹ سے روانگی کے منظر نشر کرنا شروع کئے۔ یہی وجہ تھی کہ جس وقت سرفراز کراچی ائیرپورٹ پہنچے تو گورنر سندھ محمد زبیر، میئر وسیم اختر اور دیگر اہم شخصیات ان کے والہانہ استقبال کے لئے موجود تھیں۔
سیکورٹی کے بھی نہایت سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ لاؤنج میں اے ایس ایف کے کمانڈوز تعینات کئے گئے تھے جبکہ باہر پولیس کمانڈوز تعینات کئے گئے تھے۔
پولیس کا بینڈ بھی سرفراز اور ان کے ساتھ ہی آنے والے دوسرے کھلاڑی رومان رئیس کے استقبال کے لئے موجود تھا، جبکہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے گھنٹوں سے منتظر رہی۔ انہوں نے ہاتھوں میں پھول، گلدستے، پھولوں کی پتیاں اور ہار تھامے ہوئے تھے۔
مردوں کے ساتھ ساتھ بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد ائیرپورٹ پہنچی تھی۔ رش کا یہ عالم تھا کہ کندھے سے کندھا چھل رہا تھا۔ کئی افراد کے پیروں کی انگلیاں رش کے باعث دوسرے افراد کے پیروں تلے آگئیں۔
سرفراز قافلے کی شکل میں جب اپنے گھر ، بفرزون پہنچے تو رش مزید بڑھ گیا یہاں تک کہ انہیں کنٹرول کرنے کے لئے چھڑیوں تک کا استعمال کیا جاتا رہا۔ رش میں سرفراز کی گاڑی بری طرح پھنسی رہی اور ایک بار تو کئی کئی منٹ بعد انچ، انچ بھر کھسکتی رہی۔
سرفراز بفرزون نامی علاقے میں رہتے ہیں اور جب سے ٹرافی جیتی ہے سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نےبڑھ چڑھ کر اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بفرزون کا نام ’سرفراز ٹاؤن‘ رکھ دیا جائے۔ ان کے بقول سرفراز کو خراج تحسین پیش کرنے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ اس طرح ان کا نام تاریخ میں امر ہوجائے گا۔
منگل کی رات سے اور صبح تک جس قدر لوگوں نے ان کے گھر کا رخ کیا اسے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مہم آگے بڑھی تو لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس حق میں ہوجائے گی۔
بفرزون متوسط طبقے کی گنجان آبادی ہے۔ ان کے ایک پڑوسی نے وائس امریکہ کے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’سرفراز کی فیملی بھی بہت سادہ مزاج ہے، ملنسار اور انسانیت دوست‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے مزید کہا کہ ’’کارنامے سرانجام دینے کے باوجود سرفراز کا رہن سہن اور گلی میں چلنے پھرنے اور ہم لڑکوں سے ملنے کا وہی عام سا انداز ہے ذرہ تکبر نہیں۔ یہی وہ خاصیت ہے کہ ان کے استقبال کے لئے اطراف کی تمام گلیاں کچھا کچھ بھری ہوئی ہیں اور لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب ہیں۔‘‘
سرفراز کے ایک پڑوسی عمران نے بتایا کہ’’بیشتر لوگ تو ایسے ہیں جو رات سے ہی یہاں جمع ہیں۔ درمیان میں، وہ ضرورتا ً اپنے گھر آتے جاتے رہے۔ لیکن زیادہ تر وقت یہیں گزارا۔‘‘
| 2018-06-18T11:58:29
|
https://www.urduvoa.com/a/sarfaraz-ahmed-gets-heroes-welcome-on-return/3907864.html
|
فلسفہِ حسینیؑ کی بنیاد پر ظالموں کے مقابلے میں ڈٹ جانا فرض سمجھتے ہیں، رہبر معظم سید علی خامنہ ای - اسلام ٹائمز
Sunday 13 Oct 2019 18:13
خبر کا کوڈ : 821834
| 2019-11-12T15:32:30
|
https://www.islamtimes.org/ur/news/821834/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D9%BE%D8%B1-%D8%B8%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%D9%B9-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%81%D8%B1%D8%B6-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1-%D9%85%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D8%B3%DB%8C%D8%AF-%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%AE%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%81
|
میجر جنرل آصف غفور, بھارت اگر جنگ کرنے آیا تو دیکھ لیں گے | Aalmi Akhbar
Home تازہ ترین میجر جنرل آصف غفور, بھارت اگر جنگ کرنے آیا تو دیکھ لیں...
میجر جنرل آصف غفور, بھارت اگر جنگ کرنے آیا تو دیکھ لیں گے
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت اگر جنگ کرنے آیا تو دیکھ لیں گے،وہ پہلے خود سیکولر بن جائےاورہمیں ایسے ہی برداشت کرے جیسے ہم ہیں،ہم مسلمان ریاست ہیں،ہمیں نہ بتائیں کہ ہمیں کیسا بننا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم تواقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں لیکن وہاں بابری مسجد کے ساتھ کیا ہوا،بھارت پہلے خود تو سیکولر بن جائے، بھارت میں 200 ملین مسلمانوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں جتنا تعاون کرسکتے ہیں کرینگے،ہماری خواہش ہے کہ امریکا افغانستان سے ناکام ہوکرنہ نکلے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات کم ہوئے ہیں،وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دوہزارسترہ اٹھارہ میں سیزفائرلائن کی بہت زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں،بھارت کی جانب سےشہری آبادی کو نشانہ بنایاجاتا ہے،توقع رکھتے ہیں کہ بھارت صورتحال کوسمجھے۔
انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کی مذہبی جگہ سرحد کے قریب ہے،بلوچستان ہمارے جغرافیہ کا تینتالیس فیصد ہے،کرتارپور پربھارت نے منفی پروپیگنڈا کیا،بلوچستان کی سب سےاچھی بات یہ ہے کہ وہاں فراری ہتھیارڈال رہے ہیں۔
کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں پچھلے چند سالوں میں امن وامان کی صورتحال بہت بہترہوئی ہے۔یہ شہر کبھی کرائم ریٹ میں چھٹے نمبرپرتھا اب دنیا میں سڑسٹھ نمبرپرہے،کوئی بھی جنگ آپریشن سے ختم نہیں ہوتی
پی ٹی آئی قیادت آج ’عمران خان کو بطور وزیراعظم‘ نامزد...
قمرالاسلام جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
’حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس دوبارہ کھولنا نا انصافی ہے‘
چین کا نئے ‘سلک روڈ’ منصوبے کے لیے اربوں ڈالر فراہم...
| 2018-12-13T03:39:36
|
https://aalmiakhbar.com/archives/69909
|
ہمارے لوگوں سے ملیے: عدیم قدیر: The Coca-Cola Company
ہمارے لوگوں سے ملیے: عدیم قدیر
پاکستان- اردو
مراکش- فرانسیسی
پاکستان- انگریزی
ریاست ہائے متحدہ امریکہ
| کوکا کولا پاکستان
ہماری کمپنی
ہماری کمپنی مرکزی
کیریئر مرکزی
رابطہ کریں مرکزی
پریس ریلیز مرکزی
برانڈز
از جانب جرنی پاکستان | Jul 10, 2015
شیئر:
عدیم قدیر کوکاکولا پاکستان کے ایڈمن اور فیسیلیٹیز (سہولیات) کے افسر ہیں جو ہمارے ایسے ہیرو ہیں جن کی کبھی شہرت نہیں ہوئی۔ٹریول ویزہ کی دستیابی ممکن بنانے سے لے کر خریدوفروخت اور ایجنسی کی مینجمنٹ اور اس کی طاقت کو یقینی بنانا کہ روزمرہ کے کام بڑے ہموار طریقے سے ہوتے رہیں ان کی ذمہ داری ہے۔عدیم قدیر نے جرنی کی ٹیم کو بتایا کہ پرسکون ہونا اور خود پر قابو رکھنا کیسا لگتا ہے اور ان کا کوکاکولا کے پہلے ایمبسڈر ونر ہونے کا تجربہ کیسا تھا۔
میں ہر دن کا آغاز جلدی کرتا ہوں اور اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ سارا متعلقہ عملہ موجود ہے تاکہ روزمرہ کی سرگرمیاں بلارکاوٹ جاری رہ سکیں۔میں ہمارے ایچ آر ڈائریکٹر فیصل ہاشمی کی بھی مدد کرتا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہم سے وابستہ لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔
میں عام طور پر کیفے ٹیریا میں وینڈرز سے ملتا ہوں تاکہ کھانے کی کوالٹی پر نظر رکھی جا سکے اور اس کے ساتھ ہی میں ای میلز کا بھی خیال رکھتا ہوں اور ان کا موں کا بھی جو کوکاکولاپاکستان کی لیڈرشپ ٹیم کی طرف سے مجھے سونپے جاتے ہیں۔
میرے فرائض کے دو حصے ہیں۔میں کمپنی کے انتظامی کردار کا دھیان رکھتا ہوں جیسا کہ سفری ضروریات، بینکنگ، کاروں کی ضروریات وغیرہ۔میں وینڈرز اور دیگر ایجنسیوں کو بھی سنبھالتا ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے کام کرنے کی جگہ پاکستان میں سب سے بہترین ہو۔
یہ بات میرے لئے اہم ہے کہ میں ہمارے ساتھ وابستہ لوگوں کو سپورٹ فراہم کروں کیونکہ جب تک میں ہنس ہنس کر کوکاکولا ٹیم کے مصروف دنوں میں ان کی مدد کر رہا ہوں میں خوش ہوں۔
جب میں چھوٹا تھاتو میں سماجی کارکن بننا چاہتا تھا۔میں ہمیشہ سے حساس رہا ہوں اور چاہتا تھا کہ لوگوں کے کام آؤں۔کوکاکولا پاکستان سماجی مسائل سے باخبر کمپنی ہے اور اس کے ساتھ اس کا کام کرنے کا کلچر بھی کامیاب ہے لہٰذا مجھے یہ اپنے لئے بہترین لگی۔اس سال مجھے کمپنی میں کام کرتے ہوئے چار سال مکمل ہو جائیں گے۔
میرا اب تک کا سب سے پسندیدہ پراجیکٹ ہمارے نئے دفتر کی تیاری تھا۔ہماری لیڈرشپ ٹیم کی رہنمائی میں ہم نے گلبرگ تھری میں اپنا نیا دفتر قائم کیا۔میں نے اس جگہ کو بہتر بنانے اور دفتر کی بروقت تکمیل کیلئے وینڈرز کو سنبھالنے میں مفید کردار ادا کیا۔کبھی کبھار تو میں کام کی جگہ پر ہی سو جاتا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹھیکیدار درست کام کر رہے ہیں اور سست نہیں ہو گئے۔ہمیں دفتر کو پوری طرح مکمل کرنے میں نو ماہ کا عرصہ لگا اور ہم اس جگہ کو مستقل بہتر بنا رہے ہیں۔
میری پسندیدہ مہم کریزی فارگڈ تھی کیونکہ اس میں پاکستان کے ان ہیروز کو بڑے خوبصورت انداز میں سامنے لایا گیا تھا جن کی کبھی تشہیر نہیں ہوئی تھی۔
میری ملازمت کے بارے میں مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے ہر کسی کے ساتھ کام کیا ہے۔مجھے لوگوں کی مدد کر کے ذاتی اطمینان ملتا ہے۔کبھی کبھار دکانداروں سے معاملہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے لیکن میں اپنے کام کی جگہ پر چیلنجز سے لطف اندوز ہوتا ہوں کیونکہ اس سے پیشہ وارانہ طور پر بھی اور ذاتی طور پر بھی آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
اسی طرح میں کبھی ایسا محسوس نہیں کرتا کہ کام صرف ایک ذمہ داری ہے بلکہ مجھے اپنے دفتر آنا اور اپنے ساتھیوں سے ملنا پسند ہے۔اس سال پی اے سی کی ٹیم نے اپنا پہلا انٹریکٹو ایمبسڈر پروگرام شروع کیا اور میں کوکاکولا کا پہلا ایمبسڈر بن گیا۔پہلے کوکاکولا ایمبسڈر کا اعزاز ملنے نے مجھے بہت خوش کر دیا۔کیونکہ اس ٹائٹل کو جیتنے سے میرا یہ یقین مضبوط ہو گیا ہے کہ کوکاکولا پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جو اپنے ساتھ وابستہ لوگوں کو اپنے نظام میں وہ عزت دیتی ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔
کوک میرا پسندیدہ ترین مشروب ہے فل سٹاپ۔
نئی کوک کی اصل کہانی
جرنی پاکستان
فائیو بائی ٹوئنٹی : ہم کیا کر رہے ہیں
ہمارے لوگوں سے ملیے: شعیب حامد
CLICK THE TILES TO EXPLORE MORE STORIES ON JOURNEY
پائیداری
جرنی پر رجحانات
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صف اول کے 10 بیک
سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی صف اول کے 10 بیک
سب سے زیادہ دیکھی جانے والی صف اول کے 10 بیک
سب سے زیادہ تبصرے والی صف اول کے 10 بیک
سماجی میدان میں کوکا۔کولا
فالوورز
پائیدار کارکردگی کا جائزہ
کوکا۔کولا
ڈائٹ کوک
اسپرائٹ
منٹ میڈ
کنلے
تمام برانڈز ملاحظہ کریں »
کوکا۔کولا پاکستان
| 2017-09-22T00:44:05
|
http://ur.coca-colajourney.com.pk/stories/meet-our-people-adeem-qadeer
|
آج کی آیت | صفحہ 3 | اردو محفل فورم
صفحہ 3 از 26 < پچھلا 1 → 2 3 4 5 6 ← 26 اگلا >
قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٥٦﴾ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَ۔ٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧﴾ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّ۔هِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَ۔ٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّ۔هِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّ۔هِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿١٥٨﴾
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو:
1۔اللہ سے ڈرتے ہیں
2۔اور زکوٰة دیتے ہیں اور
3۔ جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں (156)
4۔جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔
5۔سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں (157)
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ (158)
ام نور العين, دسمبر 31, 2012
سورہ الرحمان
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
So which of the favors of your Lord would you deny?
تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
محمد بلال اعظم, دسمبر 31, 2012
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّ۔هَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ﴿٦﴾
اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر، جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں (6)
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّ۔هِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿١٦﴾ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّ۔هَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿١٧﴾ إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّ۔هَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ ﴿١٨﴾
کیا اب تک ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں اور ان کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں (16) یقین مانوکہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کردیں تاکہ تم سمجھو (17) بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے پسندیده اجر وﺛواب ہے (18)
سورۃ الحدید : ۱۶ تا ۱۸
ام نور العين, جنوری 4, 2013
إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّ۔هَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿٧﴾ وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّ۔هِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ﴿٨﴾ أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿٩﴾
اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے (7) اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے (8) بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں؟) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے) (9)
ام نور العين, جنوری 6, 2013
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّ۔هِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿١٧﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَ۔ٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّ۔هُ ۖ وَأُولَ۔ٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿١٨﴾ أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي النَّارِ ﴿١٩﴾ لَ۔ٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّ۔هِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّ۔هُ الْمِيعَادَ ﴿٢٠﴾
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے (17)
جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں (18)
بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟ (19)
ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے اور وه وعده خلافی نہیں کرتا (20)
ام نور العين, جنوری 7, 2013
بِسْمِ اللَّ۔هِ الرَّحْمَ۔ٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ هُوَ اللَّ۔هُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّ۔هُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے (1) اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے (2) نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا (3) اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے (4)
محمد بلال اعظم, جنوری 7, 2013
وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ ﴿٧٢﴾وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾
اور ہم نے اُن (چوپایوں) کو ان کے تابع کر دیا سو ان میں سے کچھ تو اُن کی سواریاں ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔
اور ان میں ان کے لئے اور بھی فوائد ہیں اور مشروب ہیں، تو پھر وہ شکر ادا کیوں نہیں کرتے۔
شمشاد, جنوری 7, 2013
عزیزامین, جنوری 7, 2013
کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم
ترجمہ۔ (اے ایمان والو) تم پر (کافروں) سے لڑنا فرض کر دیا گیا ہے چاہے وہ تمہیں بھاری لگے۔
زلفی شاہ, جنوری 7, 2013
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧﴾ وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ﴿٨﴾ ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ ﴿٩﴾
اور اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو (7) اُن رسُولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے (8) پھر دیکھ لو کہ آخرکار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا (9)
ام نور العين, جنوری 8, 2013
وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرًا ﴿٨﴾ فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا ﴿٩﴾ أَعَدَّ اللَّ۔هُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّ۔هَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ قَدْ أَنزَلَ اللَّ۔هُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ﴿١٠﴾ رَّسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّ۔هِ مُبَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّ۔هِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ قَدْ أَحْسَنَ اللَّ۔هُ لَهُ رِزْقًا
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب (8) پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزه چکھ لیا اور انجام کار ان کا خساره ہی ہوا (9) ان کے لیے(ٓخرت میں بھی ) اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے (10) (یعنی) رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں وه تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے، اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے (11)
ام نور العين, جنوری 10, 2013
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ ﴿٤٨﴾ أَهَ۔ٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّ۔هُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ﴿٤٩﴾ وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّ۔هُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّ۔هَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ ﴿٥٠﴾ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَ۔ٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿٥١﴾
پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے (48) اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا پنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج" (49) اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں (50) جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے" (51)
ام نور العين, جنوری 12, 2013
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّ۔هِ ۖ وَاللَّ۔هُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿١٥﴾ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿١٦﴾ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّ۔هِ بِعَزِيزٍ ﴿١٧﴾
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ بےنیاز خوبیوں واﻻ ہے (15) اگر وه چاہے تو تم کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق پیدا کردے (16) اور یہ بات اللہ کو کچھ مشکل نہیں (17)
ام نور العين, جنوری 14, 2013
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۚ وَإِلَى اللَّ۔هِ الْمَصِيرُ ﴿١٨﴾وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ﴿١٩﴾ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ ﴿٢٠﴾ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ ﴿٢١﴾ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّ۔هَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ ﴿٢٢﴾
(روز محشر )کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے (18)اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے (19) نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں (20) نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے (21) اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے، مگر (اے نبیؐ) تم اُن لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں (22)
یعنی نیک وبدعمل اسی طرح برابر نہیں ۔
ام نور العين, جنوری 15, 2013
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّ۔هِ ۚ
اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی جانب سے ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔
(سورۃ القصص آیت 50 کا ٹکڑا)
ام نور العين, جنوری 27, 2013
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّ۔هِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَا لَيْسَ لَهُم بِهِ عِلْمٌ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ ﴿٧١﴾ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّ۔هُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿٧٢﴾
اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وه خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (71) جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آثار پہچان لیتے ہیں۔ وه تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں، کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیاده بدتر خبر دوں۔ وه آگ ہے، جس کا وعده اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے، اور وه بہت ہی بری جگہ ہے (72)سورہ الحج
ام نور العين, جنوری 30, 2013
وَهَ۔ٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔ اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وه اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں۔سورہ الانعام ۹۲
قرآن پر ایمان رکھنے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ، یہ بہت اہم نکتہ ہے ۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دے ۔
ام نور العين, مارچ 31, 2013
جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھر جانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے۔
سید شہزاد ناصر, مارچ 31, 2013
محمد یعقوب آسی, اپریل 3, 2013
| 2020-07-07T08:59:34
|
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%AC-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%DB%8C%D8%AA.26176/page-3
|
إظهار القضبان بحركات سريعة على كاميرات مباشرة
عزيزي Guest995831
i like hoe talk in pvt and sexy play for you fun!) NadiaLove
Nice and charming women who loves to make your fantasies come true. HotJane
Your teenage girl. Hot blonde who loves chatting with you. gingerspyce
I'm a fun bubbly 18 year old college student who lovesss cumming!) AliceS
I m a naughty lady and I ll make oyu happy AryannaRyder
Hello guys !!! Come and lets enjoy together new fantasies. TittyDevil
No comment.Fuckin bitch from hell. AdrienneV
I am attractive and sexy brunette LADYBOSSMMMMM
tell me your fantasyes and i will make them come true TracyAllen
Naughty beautiful brunette with perfect body! VanesaMartins
- I AM LIKE THE GIRL NEXT DOOR, I AM A VER COMUN GIRL LIKE YOU SEE ON STREE Yudix
sexy, fun, and whimsical girl katha-y-mathi
we are a hot couple who wants to make you enjoy all day LILYTH-DARK
I'M A HOT LATIN GIRL, THAT ENJOY WORKOUT MY BODY, I LIKE READ TOO AssVittaHott
why fly economy when you can fly first class here with me alessiaalleen
I am a tender,sweet and very cheerful lady Demisweet
I`m here to make your day a lot better! Something special in mind? just ask Speedracerbb
follow me, I am a very cheerful girl)) HillaryCole2u
Welcome to my hot room!! i have many surprises concubine2
Sexy girl. I love dreaming and hope you are man of my dream. MaiaCoello
I am a nice girl with a fascination for sex LuciaLust
iM A LATIN GIRL THAT ENJOY SHOW MYSELF ON A CAM rachelbrunett
А sexy woman whit a frien very pink down bruceyami
We like to have fun and have fun KathyRynn
I love trying new things so you can always expect something new from me! britneyonly
HOLA VAMOS APASARLA BIEN AMORES xangelsexxx
hot beautiful blonde) OneGirl3Boys
we are new group here searching fun, come on here have fun with us... SweetyThelma
I am a lovely and curvy mature women! I am always full of sexual experience pepper-chilli
WE HAVE INTIM PIERCINGS Bryanne
I represent to you all the sins you have never had the courage to commit. batgirl-sexy
I like to enjoy life and meet new friends catalina37
I have big and very sexy tits NinaRedd
♥Here I can play with you, and you look at me. Vickixoxo
Cute girl with a naughty mind Sophie_Ink
We are 2 girls nice)) Love men who have a soul and a kind heart. JulieHott
Love to love and I am inlove with the all sense of caring and sensuality ! cianeya
Yes, I'm weird)) What I'm doing here is for me to decide. samanttafoxxx
I am the hottest in anal sex angieparker
Candy girl want you to play:P EBONY-HUGES
Hellow Guys I'm a sweet girl, i love to watch movies and read erotic books NastyCp4Dirty
We are a hot and very beautiful couple rachellef
I'm very interesting girl, good communicator. SecrettBela
Nice and charming women who loves to make your fantasies come true. AlessiaRouge
I love to give pleasure and can make your wildest fantasies come true. «
| 2017-03-27T04:47:09
|
https://ar.bongacams.com/tags/flashing
|
امیگریشن پابندیاں: ’نام نہاد جج کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے‘، ٹرمپ | حالات حاضرہ | DW | 04.02.2017
امیگریشن پابندیاں: ’نام نہاد جج کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے‘، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سیاٹل کی ایک وفاقی عدالت کے ’نام نہاد جج‘ کا امیگریشن پابندیوں سے متعلق جمعہ تین فروری کو سنایا گیا فیصلہ ’مضحکہ خیز‘ ہے، جسے منسوخ کروا کے یہ پابندیاں بحال کرائی جائیں گی۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ہمارے ملک سے قانون نافذ کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے‘‘
امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ہفتہ چار فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق کل جمعے کی رات ریاست واشنگٹن میں سیاٹل کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے ستائیس جنوری سے امریکا میں مہاجرین اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی آمد پر تین ماہ کے لیے لگائی گئی پابندی کو معطل کرتے ہوئے پورے امریکا میں اس پر جو عمل درآمد روک دیا تھا، اس ہر آج ہفتے کی صبح صدر ٹرمپ کی طرف سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔
سیاٹل کی وفاقی عدالت میں مقدمہ ریاست واشنگٹن نے دائر کیا تھا، تصویر میں واشنگٹن اسٹیٹ کے اٹارنی جنرل باب فرگوسن
سیاٹل کی وفاقی عدالت کے جج کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اس ’نام نہاد جج‘ کے حکم کو منسوخ کرواتے ہوئے دوبارہ وہی امیگریشن پابندیاں بحال کر دے گی، جو اس جج نے عبوری طور پر معطل کر دی ہیں۔
اس فیصلے کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ امریکی محکمہٴ انصاف اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔ لیکن آج مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں اس فیصلے پر اپنے شدید عدم اطمینان کا اظہار بھی کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’اس نام نہاد جج کی رائے، جس کے ذریعے اس ملک سے قانون کے نفاذ کا حق چھین لیا گیا ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے، جسے منسوخ کر دیا جائے گا۔‘‘
اسی موضوع پر اپنی ایک اور ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا، ’’جب کوئی ملک یہ طے کر ہی نہ سکے کہ کون اس ملک میں آ سکتا ہے اور کون نہیں، خاص طور پر تحفظ اور سلامتی کی وجوہات کی بنیاد پر، تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘
امریکا میں سیاٹل، بوسٹن، نیو یارک اور واشنگٹن سے ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے چند ہی گھنٹے بعد امریکا کے کسٹمز اور قومی سرحدوں کی حفاظت کے ملکی محکمے کی طرف سے تمام فضائی کمپنیوں کو یہ کہہ دیا گیا کہ وہ اپنی تجارتی پروازوں کے ذریعے ایسے مسافروں کو پھر سے امریکا لانا شروع کر سکتی ہیں، جنہیں اس عدالتی فیصلے سے قبل کسی مہاجر یا پابندی سے متاثرہ سات ملکوں کے کسی شہری کو امریکا لانے کی اجازت نہیں تھی۔
سیاٹل میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف عوامی مظاہرہ
صدر ٹرمپ کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتہ بعد ستائیس جنوری کو جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکا کے درجنوں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اس وقت انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب باقاعدہ ویزا لے کر آنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ تب امریکا کے مختلف شہروں میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہو گئے تھے۔
یہ سات مسلم اکثریتی ملک ایران، عراق، شام، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن ہیں، جن کے شہریوں کو، چاہے وہ پہلی بار امریکا آ رہے تھے یا پہلے سے امریکا ہی میں مقیم تھے لیکن غیر ملکیوں کے طور پر بیرون ملک سے واپس لوٹ رہے تھے، دوبارہ امریکا داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی امیگریشن پابندیاں، امریکی عدالت نے عمل درآمد روک دیا
امریکا کی ایک وفاقی عدالت کے جج نے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین پر بالعموم اور سات مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں کی قانونی طور پر امریکا آمد پر عائد کردہ پابندی پر پورے ملک میں عمل درآمد روک دیا ہے۔ (04.02.2017)
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا نتیجہ ’مسلمانوں سے متعلق شبہات‘
انڈونیشیا کے نائب صدر یوسف کلا نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر عائد کی جانے والی پابندی مسلمانوں کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر سکتی ہے۔ (31.01.2017)
امریکی عدالت نے ٹرمپ کے حکم کو معطل کر دیا، ملک بدری کا عمل روک دیا
ایک امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس حکم کے خلاف ایک ایمرجنسی حکم امتناعی جاری کر دیا ہے جس کے تحت سات مسلمان ممالک کے مہاجرین اور شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ (29.01.2017)
ہلاک پاکستانی نژاد امریکی فوجی کا والد ٹرمپ پر برہم
پاکستانی نژاد امریکی شہری خضر خان نے ’ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن‘ کے دوران ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلد ٹرمپ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف دیے جانے والے بیانات اور ان کی امیگریشن پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ (29.07.2016)
ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں ٹرمپ, امریکا, سیاٹل, مسلمان, امیگریشن, پابندی, مہاجرین, ٹویٹ, مضحکہ خیز, عدم اطمینان
پیرما لنک http://p.dw.com/p/2WyrQ
ٹرمپ کی عائد کردہ سفری پابندیوں کے لیے ایک اور بڑا دھچکا 13.06.2017
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے چھ اکثریتی طور پر مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عائد کردہ سفری پابندیوں کے فیصلے کو ایک اور بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ سیاٹل کی ایک عدالت نے ان پابندیوں کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔
صدر ٹرمپ: ’صرف امریکا کی حمایت کرنے والوں کو امریکا آنے دیا جائے گا‘ 28.01.2017
’سفری پابندیوں کی معطلی‘ کے خلاف صدر ٹرمپ نے اپیل دائر کر دی 05.02.2017
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفری پابندیوں کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر کیا گیا تھا اور اس پر فوری اطلاق کیا جانا چاہیے۔
| 2018-02-20T10:12:08
|
http://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%85%DB%8C%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D9%BE%D8%A7%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%AF-%D8%AC%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81-%D9%85%D8%B6%D8%AD%DA%A9%DB%81-%D8%AE%DB%8C%D8%B2-%DB%81%DB%92-%D9%B9%D8%B1%D9%85%D9%BE/a-37413120
|
کامریڈ بلوچ: اس اندھیر نگری میں ایک دیا جلتا ہے - ہم سب
کامریڈ بلوچ: اس اندھیر نگری میں ایک دیا جلتا ہے
22-12-2016 17-01-2017 فرنود عالم 7,326 Views لیاری, ہانی بلوچ, واحد بلوچ
بوڑھے درویش حضرت خان عبدالغفار خان نے کہا تھا، ہماری جنگ صبر کی جنگ ہے۔ ہم نتائج سے بے نیاز ہوکر فقط اپنے حصے کی بات ہر چھوٹے بڑے تک پہنچائیں گے۔ کوئی ہماری بات نہیں سنتا، تو نہ سنے، ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ناکام ہونے کا غم انہیں لاحق ہوتا ہے جو ذاتی اغراض کے لیے کام کرتے ہیں۔
ان الفاظ کو مجسم شکل میں دیکھنا چاہیں گے؟ چلیے، میرے ساتھ کراچی کے ایک پسماندہ علاقے لیاری چلیے۔ چیل چوک سے دو قدم گبول پارک ہے۔ اس کے اطراف میں تنگ و تاریک گلیوں کے سوا کیا ہے۔ یہاں گٹر ابلتے ہیں اور منشیات بکتی ہے۔ ان خستہ اور شکستہ گھروندوں پہ بندوق راج کرتی ہے۔ غربت نے تعلیم کو یہاں سے بے دخل کر رکھا ہے۔ جہالت نے شعور پہ عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ اس اندھیر نگری میں ایک دیا جلتا ہے، جو باچا خان کے لفظوں کا ایک مجسم پیکر ہے۔ ان سے ملیے، ان کو آسان لفظوں میں واحد بلوچ کہتے ہیں۔ آسان ترین لفظوں میں کامریڈ واحد کہتے ہیں۔
سامنے اس کتھئی دروازے کو دیکھیے۔ یہ جس کے برابر میں دو چاک گریباں بزرگ بیٹھے گٹکا چبا رہے ہیں۔ یہی جس کے دوسری طرف ایک بچی تھال رکھے چنے بیچ رہی ہے۔ یہ واحد بلوچ کا گھر ہے۔ دستک دیجیئے۔ انتظار، انتظار، کون؟ فرنود، اسلام آباد سے آیا ہوں۔ یہ بچی جس نے دروازہ کھولا ہے، جانتے ہیں کون ہے؟ اسے ہانی بلوچ کہتے ہیں۔ عظیم باپ کی عظیم بیٹی۔ کراچی سے لاہور تک میڈیا سے لے کر عدالت تک، یہی بچی تھی جو باپ کا مقدمہ لڑ رہی تھی۔ یہ جنگ اس بچی نے جس خوش اسلوبی سے لڑی ہے، دیکھیے تو ششدر رہ جایئے۔ واحد بلوچ نے جس کی تربیت کی ہو، وہ کیوں نہ جانے کہ فرد کی آزادی اور بنیادی حق کی جنگ کس بردباری سے لڑی جاتی ہے۔ کسی سانحے پر خیرات کے تیل سے شمعیں روشن کرنے کا ہنر تو نو عمر و عمر رسیدہ خواتین و حضرات نے نائن الیون کے بعد سیکھا ہے، مگر واحد بلوچ نے یہ روایت تب اٹھائی تھی جب ڈی ایس ایل آر تو کجا چھتیس کی ریل والا کیمرہ بھی اس کی دسترس سے باہر تھا۔
جنرل ضیا کے دور کا تصور کیجیے۔ پھر یہ دیکھیے کہ ایک شخص تن تنہا بینر اٹھائے لاہور کی سڑک پہ اس لیے بیٹھا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے مسیحی پڑوسیوں پر ذاتی نوعیت کی کسی چپقلش کی وجہ سے تشدد کیا ہے، مگر اس کی وجوہات مذہبی بتائی جا رہی ہیں۔ واحد بلوچ احترامِ انسانیت کے سوا ہر چیز کو ثانوی قرار دے چکا ہے۔ پچیس برس قبل واحد بلوچ جب سول اسپتال میں ٹیلیفون آپریٹر لگتا ہے تو اپنی میز پر دو گلاس رکھے ہوئے دیکھتا ہے۔ ایک اسٹیل کا دوسرا کانچ کا۔ تیسرے دن احساس ہوتا ہے کہ اسٹیل کا گلاس یہاں دو غیر مسلم ملازمین کے لیے رکھا گیا ہے۔ واحد بلوچ کانچ کا گلاس توڑ کر غیر مسلموں کے لیے مختص جام کو منہ سے لگاتا ہے۔ پیاس کا بھی بھلا کوئی مذہب ہوتا ہے؟ پانی کا بھی بھلا کوئی مسلک ہے؟ انسان تو ہندو مسلم ہوا کرتے تھے، یہ گلاس کب سے مسجد مندر جانے لگے؟
واحد بلوچ کے حجرے میں بے نیازی کتابوں سے ٹیک لگائے بیٹھی رہتی ہے۔ وہ درویش ہے اور اس کا حجرہ سکون کا آستانہ۔ آدھے کمرے کو کتابوں نے گھیر رکھا ہے، جو الماری اور شیلف کی فکر سے آزاد ہیں۔ واحد بلوچ سول ہسپتال پیدل جاتا ہے اور پیدل آتا ہے۔ ہفتے کے دو ہزار روپے کرائے کے بچا کر اتوار کی صبح ریگل چوک کے فٹ پاتھوں پر پہنچ جاتا ہے۔ کم از کم بھی چھ گھنٹے کتابوں کی چھانٹ کرتا ہے۔ کم قیمت میں زیادہ سے زیادہ کتابیں خرید لاتا ہے۔ کتاب سے بڑا کوئی سرمایہ نہیں۔ پھر وہ سرمایہ جو آپ نے اپنی محنت کا عرق نچوڑ کر اکٹھا کیا ہو۔ مگر ایثار تو دیکھیے ذرا۔ ملیر کے بلوچ دوستوں نے پسماندہ علاقے میں افادہ عامہ کے لیے ایک کتب خانے کی بنیاد رکھی۔ سینہ بسینہ یہ خبر لیاری پہنچی، تو ایک ایک روپیہ جوڑ کر کتابیں جمع کرنے والے واحد بلوچ نے چھ ہزار کتابیں کتب خانے کے نام کر دیں۔ رات کے آخری پہر جب وہ کتابوں کی آخری پیٹی کسنے لگے تو بیٹی ہانی بلوچ نے ہاتھ جوڑ کر کہا، بابا آپ یہ کتابیں کسی کو مت دیں نا آپ کو میری قسم ہے۔ واحد بلوچ نے ننھی سی ہانی سے کہا، پگلی کتابیں کس لیے ہوتی ہیں؟ پڑھنے کے لیے نا؟ تو میں لائبریری میں دے رہا ہوں، خود بتاو کوئی ان کتابوں کو پڑھ کر علم وشعور کی تھوڑی سی بھی روشنی حاصل کرے گا تو تمہیں کتنا ثواب ہوگا؟ ہانی نہ مانی۔ بچی روتی رہی اور باپ بوجھل دل مگر مطمئن احساس کے ساتھ کتابوں کا پشتارا اٹھائے ملیر پہنچ گیا۔
وقت گزر جاتا ہے۔ آج پھر واحد بلوچ کے آستانہ پر کتابوں نے اتنی جگہ گھیر لی ہے کہ مہمانوں کے لیے بمشکل جگہ بچے۔ کتابوں کی رخصتی پر رونے والی ہانی، آج جب ملیر میں شعور و آگہی کی شمعیں جلتی دیکھتی ہے تو ایسے باپ پر فخر جتلاتی ہے جسے علم سے محبت ہے۔ جسے انسان سے پیار ہے۔ واحد کو بچوں سے پیار ہے۔ بالکل ایک جذباتی ماں کی طرح، جو اپنے احساسات کو چھپا نہیں سکتی۔ واحد کا دل ہر اس گھر میں دھڑک رہا ہے جہاں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ واحد بلوچ آج بھی ایک ٹیلیفون آپریٹر ہے۔ اس کے گرد بیٹھا ہر شخص اسے استاد محترم کہہ کر پکارتا ہے، کیوں؟ واحد نے لیاری کی انہی گلیوں میں کچھ نادار بچوں کو جمع کیا۔ کچھ لوگوں سے کتابوں کی بھیک مانگی اور کچھ کتابیں اپنی جیب سے خرید لایا۔ بچوں کو قلم کتاب پکڑا کر کھلے آسمان تلے ننگی زمین کی درس گاہ میں بٹھا دیا۔ واحد بلوچ اس درس گاہ کا واحد استاد ہے۔ تعلیم بھی دے رہا ہے، تربیت بھی کر رہا ہے۔ یہ وہ بچے تھے جن کی اگلی نسل بھی تعلیم حاصل کرنے کا تصور نہیں کر سکتی تھی۔ آج یہ بچے بڑے، اور بہت بڑے ہوگئے ہیں۔ کوئی ادبی میگزین چلا رہا ہے، کوئی اخبار کا ایڈیٹر ہے، کوئی سیاسی جماعت کا رہنما ہے، کوئی شاعری میں ہنر آزما رہا ہے، کوئی ستار کی تاروں سے کھیل رہا ہے۔ یہ اصحابِ علم و ہنر، جن کے پاس کوئی ڈگری نہیں، اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مبارک علی ان کے استاد ہیں۔ یعنی وہ بچے جو اسکول میں نہیں، کالج میں نہیں، ایک فٹ پاتھ پہ پڑھے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی سے انہیں نسبت ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ واحد بلوچ ہر ماہ کے آخری ہفتے میں ڈاکٹر مبارک علی اور ڈاکٹر شیر شاہ سید جیسے اساتذہ کو لیاری میں ایک ابلتے گٹر سے کچھ فاصلے پر ان بچوں سے ملوانے لے آتے تھے؟ عظیم ہے واحد بلوچ جو انہیں بلا لاتے، عظیم تر ہیں ڈاکٹر مبارک علی، جو اس تاریک نگر میں امید کے دیے روشن کرنے چلے آتے۔
واحد بلوچ کا یہ ورثہ ہانی اور ماہین نے اٹھا لیا ہے۔ ماہین سترہ برس کی بچی ہے۔ صرف سترہ برس۔ اندازہ کیجیے کہ یہ بچی روزانہ لیاری کے ستر بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہے۔ گلیوں سے بچے پکڑ پکڑ کر لاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ منشیات کے عادی ہوجائیں، ماہین انہیں پینسل کٹر اور ریزر سے اٹھنے والی مہک کے نشے میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آپ میرا یقین کیجیے یہ بچی یہ تک پرکھ لیتی ہے کہ میرے کس شاگرد کو قدرت نے کن مہارتوں سے مالا مال اتارا ہے۔ ماہین کسی کی ریاضی سنوار رہی ہے تو کسی کے ننھے وجود میں چھپے آرٹسٹ کو آشکار کر رہی ہے۔ کسی کی انگریزی درست کر رہی ہے تو کسی کی الجبرا سدھار رہی ہے۔ باپ کرائے کے پیسے بچا کر بچوں کے لیے کتابیں خرید رہا ہے، بیٹی ان بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ ماہین فخر سے کہہ رہی ہے ’’سر ان بچوں میں سے بہت سے اب اسکول جا چکے ہیں‘‘۔ میں نے کہا تھا نا کہ اس سترہ برس کی بچی کا کردار تعلیمی پراجیکٹس پر کام کرنے والی بیس این جی اوز پر بھاری ہے؟ کراچی ادبی میلے میں دستاویزی فلم کا ایک مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں اسکول کے بچوں نے اساتذہ کی نگرانی میں حصہ لینا تھا۔ ماہین نے لیاری کی گلیوں سے کچھ ممولے اٹھائے اور شاہینوں سے لڑوانے پہنچ گئی۔ ایک فلم تیار کی جس کا عنوان ’’ہم انتہاپسندی کو شکست دیں گے‘‘ رکھا۔ جو اساتذہ تعلیمی اداروں سے اپنے شاگردوں کو لائے تھے، وہ دیکھتے رہ گئے اور ماہین بلوچ کے ممولے، جن کا والی وارث پندرہ برس کی ماہین کے سوا کوئی نہیں تھا، پہلے انعام کے حقدار ٹھہر گئے۔
واحد بلوچ شکوہ نہیں کرتا، واللہ نہیں کرتا۔ صلہ نہیں مانگتا، بالکل نہیں مانگتا۔ وہ صرف اپنا احتساب کرتا ہے۔ خود سے پوچھتا ہے کہ تم نے سماج کو کیا دیا؟ لیاری کی انہی گلیوں میں جب بندوق بے تکان بولتی تھی، سبین محمود بھاگی دوڑی چلی آئیں۔ ان تنگ وتاریک گلیوں میں وہ تنہا پہنچی، دروازے پہ دستک دی، واحد بلوچ نکل آئے۔ سبین نے منت کر کے کہا، واحد پلیز تمہیں خدا کا واسطہ ہے بچوں کو ساتھ لو اور نکلو اس علاقے سے، میں نے تمہاری رہائش کا بندوبست کر دیا ہے۔ واحد بلوچ نے سبین کو حجرے میں بٹھا کر کہا، میں چلا جاؤں گا بس مجھے یہ سمجھا دیجیے کہ لیاری کے ان محروم بچوں کا کیا ہوگا۔ سبین نہیں جانتی تھی کہ جس واحد بلوچ کی جان کی اسے فکر ہے، اس واحد سے پہلے خود اس کا اپنا خون نوکِ سناں پر بولے گا۔
بچوں کا ذکر آتے ہی واحد بلوچ کے لہجے میں ایک مشفق دادی بولنے لگتی ہے۔ کہتا ہے، ایوب خان کو لوگ بھول گئے ہوں گے مگر میری جنگ ابھی جاری ہے۔ جنرل ضیا کی داستان ختم ہوگئی ہے مگر میری پنجہ آزمائی ابھی جاری ہے، جو میں نے جیتنی ہے۔ کامریڈ کون سی جنگ کیسی پنجہ آزمائی؟ واحد کہتا ہے، لیاری کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ لیاری کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے جنرل ضیا کی آمریت کو چیلنج کیا تھا۔ ہمیں سوچ سمجھ کر جہالت دی گئی ہے۔ ہمارے بچوں کو جانتے بوجھتے منشیات پر لگایا گیا۔ ہماری بچیوں سے باقاعدہ قلم چھینا گیا۔ میری جنگ باقی ہے۔ میں نے قلم لوٹانا ہے، میں نے شعور لوٹانا ہے۔
واحد بلوچ کے ساتھ بیٹھے ہمیں پانچ گھنٹے ہوگئے ہیں۔ ان پانچ گھنٹوں میں واحد بلوچ نے سیکورٹی اداروں سے اپنی گرفتاری کی مد میں کوئی شکوہ نہیں کیا۔ اپنی حراست پہ کسی تلخی کا اظہار نہیں کیا۔ بہت اکسانے اور کھوجنے پر بھی صرف اتنا کہتے ہیں، رینجرز والے بیچارے بھی تو ملازم ہیں۔ انہوں نے وہی کیا جو ان کی ڈیوٹی تھی، مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ پڑھنے کو کوئی کتاب نہیں دی۔ میں نے ازراہ تفنن کہا، وہ جان گئے ہوں گے نا کہ کتاب ہی آپ کا ہتھیار اور کتاب ہی آپ کی عیاشی ہے، اگر کتب بینی کی عیاشی ہی میسر آجاتی تو پھر یہ قید بامشقت تو نہ ہوتی نا صاحب۔ ہنس کر بولے، گرفتاری سے کچھ دن پہلے آدھی رات رینجرز اہلکار میرے گھر میں گھسے چلے آئے۔ چیختے چلاتے کہا، اسلحہ کہاں رکھا ہے؟ میں انہیں ہاتھ سے پکڑ کر اوپر لے گیا۔ کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے میں نے کہا ’’یہ رکھاہے اسلحہ، جتنا چاہیئے اٹھا کر لے جاؤ‘‘۔ واحد بلوچ کو کراچی ٹول پلازے پر رینجرز اہلکاروں نے ایک بس سے اتارا تو ہاتھ میں کچھ کتابیں تھیں۔ اترتے اترتے بس میں ایک شناسا چہرے پر نظر پڑی، کتابیں اس کی جھولی میں پھینک دیں۔ ایسا شخص جیل پہنچا تو پڑھنے کو کتاب میسر تھی نہ لکھنے کو قلم دستیاب تھا۔ بہت اصرار کیا، مگر کتاب نہ ملی۔ واحد بلوچ نے کہا، ترجمے والا قرآن ہی دے دو۔ ایک ہفتے بعد ترجمے والا قرآن دے دیا گیا۔ واحد بلوچ نے چار سو دنوں میں قرآن کا لفظ بلفظ سات بار مطالعہ کیا۔ واحد بلوچ اب قران کو داس کیپیٹل سے اور داس کیپیٹل کو قرآن سے برآمد کرتے ہیں۔ میں نے کہا، شاید اسی لیے کارل مارکس سے متعلق اقبال نے ’’نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب‘‘ کہا تھا۔ سنتے ہی واحد بلوچ نے کتابوں کے ڈھیر میں رکھی عبیداللہ سندھی کی سوانح کی طرف اشارہ کیا کہ اب اسے میں دوبارہ پڑھوں گا۔ واحد نے اشارہ عبیداللہ سندھی کی کتاب کی طرف کیا، میری نظر پھسلتی ہوئی عظیم بلوچ ادیب عبداللہ جمال دینی مرحوم کی کتاب پر جا اٹکی۔ میں نے کہا، کامریڈ۔! آپ کی اسیری کے عرصے میں ہی عبداللہ جمالدینی وفات پاگئے تھے، خبر ہوئی تھی؟ یہ سوال کر کے مجھے دکھ ہوا، کیونکہ کامریڈ یکایک دکھ میں گھر گئے۔ میرا ہاتھ پکڑکے کہنے لگے، میں نے جیل میں خواب دیکھا کہ ایک اخبار کے فرنٹ پیج پر کوئی خبر نہیں، پورے صفحے پر صرف بابا جمالدینی کی اداس سی تصویر چھپی ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی آنکھ کھل گئی۔ صبح ہوتے ہی سنتری سے پوچھا، اخباروں میں ادیب عبداللہ جمالدینی سے متعلق کوئی خبر ہے؟ سنتری کو خاک خبر؟ بابا جمالدینی کو تو جامعات کے اساتذہ نہیں جانتے۔ قفس کھلنے کے دن آئے تو ایک باذوق ہستی سے جمالدینی صاحب کا پوچھا۔ اس نے بتایا، وہ تو انتقال کر گئے۔
واحد بلوچ کا پنجرہ کھلا تو گھر نہیں گئے۔ رنچوڑ لائن کی مارکیٹ میں ایک دکان ڈھونڈنے نکل گئے۔ دکان ملی، دکان والے سے کہا، رینجرز اہلکار جب مجھے بس سے اتار رہے تھے تو تمہاری جھولی میں کچھ کتابیں میں نے پھینکی تھیں، کہاں ہیں؟ دکان دار دیانت دار نکلا۔ اس نے کتابیں جیسی کی تیسی واپس لوٹا دیں۔ واحد بلوچ کتابیں بغل میں دابے گھر یوں چلے آئے جیسے صبح کے گئے شام دفتر سے لوٹے ہیں۔ پہنچتے ہی پہلا سوال ماہین سے کیا، بچوں کی پڑھائی کیسی جارہی ہے؟ ماہین نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، بابا کیسے پڑھاتی، ہم تو در بدر بے آسرا و بے سہارا ہوگئے تھے۔ واحد بلوچ کو صدمہ ہوا۔ واحد بلوچ کے لیے ایک سو بیس دن کی قید میں درد کا تنہا یہی پہلو ہے۔
واحد نے بیٹی کی طرف دیکھ کر کہا، میری بیٹی پھر سے پڑھائے گی نا؟ ماہین نے بابا کا ہاتھ پکڑ کر کہا، اب پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کے پڑھاؤں گی بابا۔
واحد بلوچ سے اب اجازت لیتے ہیں۔ آپ کو اس ملاقات میں جانے کیا ملا، مجھے تو مرشد کامل مل گیا۔ چلیے، مرشدوں کے مرشد حضرت باچا خان کے الفاظ پھر سے دہراتے ہیں۔ فرمایا، ہماری جنگ صبر کی جنگ ہے۔ ہم نتائج سے بے نیاز ہوکر فقط اپنے حصے کی بات ہر چھوٹے بڑے تک پہنچائیں گے۔ کوئی ہماری بات نہیں سنتا، تو نہ سنے، ہم مایوس نہیں ہوں گے۔ ناکام ہونے کا غم انہیں لاحق ہوتا ہے جو ذاتی اغراض کے لیے کام کرتے ہیں۔
← قندیل ، نامکمل تحقیقات ، کھلنڈرا مفتی اور کرایے کا قاتل
جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون اور سندھ میں بڑھتی انتہاپسندی →
واحد بلوچ گھر واپس پہنچ گئے
05-12-2016 نیوز ڈیسک Comments Off on واحد بلوچ گھر واپس پہنچ گئے
30-07-2016 وجاہت مسعود 1
دو قابل فخر بلوچ بیٹیاں
10-12-2016 جہاںزیب کلمتی Comments Off on دو قابل فخر بلوچ بیٹیاں
One thought on “کامریڈ بلوچ: اس اندھیر نگری میں ایک دیا جلتا ہے”
22-12-2016 at 9:10 pm
بہت شکریہ، جناب۔ ایک عظیم شخص سے ملاقات کرادی آپ نے۔
| 2017-09-24T05:32:00
|
http://www.humsub.com.pk/37328/farnood-alam-83/
|
تین ماہ بہت ہوتے ہیں وزیراعظم صاحب - ہم سب
تین ماہ بہت ہوتے ہیں وزیراعظم صاحب
07/12/2018 08/12/2018 ارشاد محمود n/b Views
حکومت کو اپوزیشن، میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا سینگوں پر اٹھاچکاہے۔ تین ماہ کی کارکردگی اور بعدازاں سرکار کی طرف سے کیے جانے والے اعلانات نے عوام کو زیادہ پسند نہیں کیا۔خاص طو ر پر ڈالر کی طوفانی اڑان نے کاروباری طبقات اور شہریوں کے کس بل نکال دیئے۔
مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھا کہ حکومتی کارکردگی اس میں دب گئی۔ شہریوں کے لیے حکومت کی کارکردگی کا پیمانہ انہیں ملنے والی بجلی ، پانی کے بل اور روزمرہ کی اشیاء کی مناسب نرخوں پر فراوانی ہے۔پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے بھی شہریوں کو ششدر کردیا۔
چنانچہ محض تین ماہ کے اندر حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھنے لگے اور نکتہ چینی شروع ہوگئی۔ وزیرخزانہ اسد عمر جن کی شہرت اور دیانت داری کی وزیراعظم عمران خان قسم کھاتے ہیں بری طرح خجل خوارہوئے ۔ بروقت درست فیصلے وہ نہ کرسکے۔ عمران خان کے وہ بہت قریب ہیں اور انہیں وزیراعظم کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ لہٰذا ان کے نوکری سے برخاست ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن وہ ڈلیور کرنہیں سکے۔
ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے موجودہ فرسودہ میکانزم کو متحرک ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ جو مشینری ایک بار بوسیدہ ہوجائے اسے ٹھیک کرکے رواں کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ ٹیکس کے محکمے نے گزشتہ ستر برسوں سے کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی۔
ٹیکس جمع کرانے کے نظام کو اس قدر ادق بنایا گیاکہ شہری ٹیکس دہندہ بننے سے کتراتے ہیں کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ سوا ل یہ ہے کہ آخر اس قدر دعووں اور اعلانات کے باوجود حکومت ڈلیور کیوں نہیں کرسکی؟
پہلی غلطی حکومت نے یہ کی کہ غیر ضروری طور پر امیدوں اور توقعات کا ایک پہاڑ کھڑا کیا۔لوگوں بالخصوص نوجوانوں کی آرزوں کو مہمیز لگائی ۔ ایسا ماحول پیدا کیاگیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ملک میں دودھ اورشہد کی نہریں رواں ہوں گی اور بیرون ملک پاکستانی ڈالر نچھاور کردیں گے۔
بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکااور حکومتی ٹیم کو خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔ وقت اور توانائی کا بڑا حصہ حکومتی ترجمان یہ بیان کرنے میں گزاردیتے ہیں کہ سرکارملک سے کرپشن کا خاتمہ کرکے دم لے گی ۔ بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت حکومت واپس لائے گی اور احتساب کا کوڑا بلاامتیاز برسے گا۔
سننے کو یہ باتیں بھلی لگتی ہیں بلکہ کانوں میں رس گھولتی ہیں لیکن عملی طور پر وائٹ کالر جرائم کا سراغ لگانا اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے عمر خضر درکار ہوتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں جہاں احتساب کرنے والی مشینری میں اکثر ایسی شخصیات شامل ہیں جوبہتی کنگا میں اشنان کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں احتساب میں نہیں۔
غالباً اسی سبب سے ابھی تک نیب کے ہاتھ کوئی ایسی بڑی مچھلی نہیں لگی جس کا پیٹ پھاڑ کر اربوں کھربوں واگزار کرائے جاسکے ہوں۔ احتساب اور کرپشن پکڑنا ایک طویل المیعاد عمل ہے جو ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور انہیں مسلسل یہ کام کرتے رہنا چاہیے۔
منتخب حکومت اور سپریم کورٹ کی انہیں پشت پناہی بھی دستیاب رہنی چاہیے۔ بنااس کے ان کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں لیکن محض کرپشن کے خاتمے کی مہم کارکردگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ سیاسی مخالفین پر حکومت کو ابھی تک دو طرح کی برتری حاصل ہے۔
پہلی برتری یہ ہے کہ لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا وزیراعظم ایک دیانت دارشخص ہے، فیصلے میں بھول چوک تو کرسکتاہے لیکن ذاتی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہے نہ بیرون ملک جائیدادیں خریدنے میں ۔ چنانچہ انہوں نے مہنگائی کے طوفان کو بھی برداشت کرلیا کہ غالباً چند ماہ بعد راحت ملے۔
وزیراعظم عمران خان کی سرکار کو دوسری برتری یہ ہے کہ قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں میں ان کی ساکھ ابھی تک قائم ہے اور وہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ اس تعاون ہی کی بدولت حکومت کرتارپور راہداری جیسے بڑے فیصلے کرسکی۔ معیشت کو مضبوط کرنے کی خاطر بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی مسلسل کوششوں میں لگی ہے حالانکہ بھارت کی سردمہری خون منجمند کردینے والی ہے۔
پاکستان معاشی امکانات اور مواقعوں کے دہانے پر بیٹھا ہوا ایک ملک ہے ۔چند روز قبل جنوبی ایشیا میں علاقاتی تجارت کا وعدہ‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں 39 ارب 70 کروڑ روپے کی تجارت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کا موجودہ تجارتی حجم صرف 5 ارب ایک کروڑ ڈالر ہے۔
اس رپورٹ میں بتایاگیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کے موجودہ 5ارب ڈالر کے حجم کو 37 ارب ڈالر تک لے جایاجاسکتا ہے۔ غالباً انہی امکانات کے پیش نظر جنرل قمر جاوید باجوہ بھی خطے میں امن واستحکام کی کوششوں کی حمایت کررہے ہیں۔ ماضی کے برعکس ان کا طرزعمل مفاہمت اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کا ہے۔
کرتارپور راہداری نہ کھل سکتی ،اگر ان کی بھرپور حمایت میسر نہ ہوتی۔ یہ خبر بھی خوش کن ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے افغانستان میں استحکام کے لیے تعاون کی درخواست کی۔ نئے تعینات ہونے والی امریکی کمانڈر نے بھی کہا کہ افغانستان میں پاکستان کی مدد کے بنا امن قائم نہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی سرکار کو ان امکانات سے استفادہ کرتے ہوئے سبک رفتاری سے جرأت مندانہ اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں تنازعات کے حل کی کوئی نہ کوئی راہ نکل سکے کیونکہ ان تنازعات کی موجودگی میں پاکستان ترقی کرسکتاہے اور نہ خوشحالی کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہزارہ برادری کاآخر جرم کیا ہے
لمبی ہے غم کی شام پر مگر شام ہی تو ہے
جاپان کی قید میں میرے ابا
جناب وزیراعظم: اب اتنا نہ رلاؤ
← ایک یادگار تقریب۔۔۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی: کیا اوپیک ممالک نے ٹرمپ کی بات مان لی؟ →
irshad-mehmood has 109 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood
| 2019-04-19T13:25:45
|
https://www.humsub.com.pk/195089/ershad-mehmood-45/
|
گلوکاری پر تنقید کے باوجود عالیہ کا میوزک ویڈیو ریلیز کرنے کا اعلان - ENN TV
گلوکاری پر تنقید کے باوجود عالیہ کا میوزک ویڈیو ریلیز کرنے کا اعلان
admin جولائ 4, 2019 جولائ 3, 2019 0 تبصرے
بولی وڈ اسٹار عالیہ بھٹ ایک شاندار اداکارہ ہیں یہ تو سب ہی جانتے ہیں البتہ اداکارہ کو گلوکاری کا بھی بےحد شوق ہے اور وہ اپنی فلموں میں گلوکاری کر بھی چکی ہیں اور لگتا ہے کہ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ اپنے کیریئر میں گلوکاری کے میدان میں بھی نام کمانے کی کوشش کررہی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالیہ بھٹ جلد اپنی خود کی میوزک ویڈیو ریلیز کرنے جارہی ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں اداکارہ نے اپنا خود کا یوٹیوب چینل بھی لانچ کیا تھا جہاں مداح اداکارہ کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
عالیہ بھٹ نے اب تک اپنے کیریئر میں 6 گانوں کی گلوکاری کی ہے، 2014 میں ریلیز ہوئی اپنی فلم ‘ہائی وے’ کے لیے عالیہ نے سوہا ساہا گانے کی گلوکاری کی، جس کے بعد ان کی فلم ‘ہمٹی شرما کی دلہنیا’ میں ان کا گانا ‘سمجھاوا’ سامنے آیا۔
2016 کی فلم ‘اڑتا پنجاب’ کے لیے عالیہ ایک کڑی گانے کی گلوکاری کرچکی ہیں، جبکہ 2017 کی فلم ‘بدری ناتھ کی دلہنیا’ کے لیے اداکارہ نے ہمسفر گانا گایا۔
وہ اپنی فلم ‘لو یو زندگی’ کا ٹائٹل گانا بھی گا چکی ہیں۔
عالیہ نے گلوکاری کے حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘اس طرح کا تجربہ میں نے زندگی میں سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے ملے گا، مجھے ہمیشہ سے یقین تھا کہ میں اداکاری کروں گی، لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے گلوکاری کا تجربہ بھی ملے گا، تو اب اگر میں ایک ناکام اداکارہ بنی تو میں گلوکارہ بن جاؤں گی’۔
عالیہ بھٹ کے پہلے گانے کی موسیقی نامور موسیقار اے آر رحمٰن نے دی تھی، عالیہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘میں نے اس گانے کی بہت زیادہ تیاری نہیں کی تھی، ہم بس دو بار اسٹوڈیو گئے، رحمٰن سر نے میری مدد کی’۔
عالیہ بھٹ تو اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کرنے کے لیے بھی پرجوش نظر آتی ہیں، البتہ یہ بات الگ ہے کہ جب شائقین نے ان کے گانے سنے تو اداکارہ کو ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
جبکہ زیادہ تر افراد کا ماننا تھا کہ اداکارہ کو گلوکاری کے بجائے اداکاری پر ہی فوکس کرنا چاہیے۔
سب ہی جانتے ہیں کہ کرن جوہر جنہوں نے عالیہ کو بولی وڈ میں متعارف کرایا وہ اداکارہ کو کس حد تک پسند کرتے ہیں۔
کرن جوہر اپنی ہر فلم میں عالیہ کو ایک خاص کردار دیتے آرہے ہیں اور ان کی کوشش یہی ہے کہ عالیہ بولی وڈ کی سب سے کامیاب اداکارہ بن سکیں۔
جب کرن جوہر سے سوال کیا گیا کہ کس اداکار کو گلوکاری چھوڑ کر اداکاری پر فوکس کرنا چاہیے تو انہوں نے بھی عالیہ بھٹ کا ہی نام لیا۔
کرن جوہر کا کہنا تھا کہ عالیہ ایک بہت اچھی اداکارہ ہیں اس لیے انہیں گلوکاری کے بجائے اداکاری پر ہی دیہان دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ عالیہ بھٹ کے علاوہ بولی وڈ کے کئی اور اداکار بھی گلوکاری کررہے ہیں، ان میں سلمان خان، شردہا کپور، پریانکا چوپڑا، سوناکشی سنہا اور پرینیتی چوپڑا شامل ہیں۔
جب پرینیتی چوپڑا اور شردہا کپور کی گلوکاری بھی سامنے آئی تھی تو عالیہ اور ان دونوں اداکاراؤں کا آپس میں بہت زیادہ موازنہ کیا گیا تھا۔
پرینیتی چوپڑا اور شردہا کپور کی گلوکاری کو بےحد پسند کیا گیا تھا البتہ عالیہ کی گلوکاری کو زیادہ تر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
فلموں کے حوالے سے بات کریں تو عالیہ اس وقت اپنی فلم ‘براہمسٹرا’ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔
اس کے علاوہ وہ جلد ‘تخت’ کی شوٹنگ کا بھی آغاز کریں گی، جس کی ہدایات کرن جوہر دیں گے۔
| 2019-07-20T19:57:55
|
https://ennmedia.tv/?p=26237
|
بھوسے کا خاتمہ کرنے والاPINGLE | آٹے کی مشینری
اردو - ملک کا انتخاب کریں
سی .ای. او. کا خطاب
معیار کی تصدیق
اعزازی عنوانات
ماحولیاتی تصور
دستیاب کلید بردار پروجیکٹ
مکئی پروسیسنگ مشین
غلہ کی صفائی کا سامان
آٹے کی پسائی کا سامان
کنویر کا سامان
معاون سامان
کمپنی ٹور
تعاون کے معاملات
بھوسے کا خاتمہ کرنے والا
بھوسے کا خاتمہ کرنے والامواد کو مار نے کرنے کے لئے تیز رفتار گھومنے والی Beater کا استعمال کرتے ہیں تاکہ آٹا کے ذرات جو بھوسےسے چپک گئے ہیں وہ الگ ہوجائے اور جمع ہوجائیں. اس طرح، بریک پیسنے کی عمل زیادہ موثر ہو گی، اور آٹا کی پیداوار میں اضافہ بھی ہوجائے گا.
1. بہتر آٹے کی پیدا وار کے لئے انٹیلجنٹ ڈیزائن
ہماری مصنوعات میں ترچھاbeater استعمال ہوتا ہے تا کہ مماس کے رخ پر آنے والی مواد کے سلسلے کو ایک اضافی محیط تحریک فراہم کی جاسکے، اور یہ آٹا کی پیداوار کو بہتر بنا سکتا ہے. دریں اثنا، خاص سائز کی اسکرین تحریک کے دوران احتراز کے قابل ہے ، اس لئے اسکرین کاراستہ بندنہیں ہوگا، اور پیداوار کی صلاحیت 1.5t/h تک پہنچ سکتی ہے.
2. سادہ بحالی کے لئے وسیع معائنہ دروازے
بڑے معائنہ کے دروازے اسکرین تک آسان رسائی کی اجازت دیتے ہے، اس طرح ہماری مشین کو برقرار رکھنے یا اسکرین کی جگہ دوسری اسکرین کے لئے بڑی سہولت فراہم کی جاتی ہے. اس کے علاوہ، یہ ڈیزائن آپریشن اور نمونے کے لئے بھی سہولت فراہم کرتا ہے.
3. بہترین لچک کے لئے مختلف ماڈلز
بھوسے کا خاتمہ کرنے والادو ماڈلوں میں دستیاب ہے، اور یہ دونوں ماڈل سائز، تیار پیدا وار اور دیگر پیرامیٹرز میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں. لہذا، ہماری مصنوعات کو مختلف جگہوں میں نصب کیا جا سکتا ہے، جبکہ مطلوبہ تیار پیدا وار کی ضمانت دی جاتی ہے.
ماڈل تیار پیدا وار (t/h) طاقت (kW) سائز (L×W×H, mm)
FPDW45 0.9-1.5 5.5 1720×550×1540
FPDW45×2 1.8-3.0 2 ×5.5 1720×1100×1540
1. تمام سٹیل کی مصنوعات کو WISCO یا Baosteel سرد پلیٹ کی مصنوعات سے منتخب کیا جاتا ہے؛
2. استعمال ہونے والے موٹرز Siemens (Beide) موٹرز ہیں
3. بیرنگ Harbin بیرنگ یا Timken بیرنگ ہیں؛
4. ڈرائیو بیلٹ Jiulong مثلث بیلٹ ہیں؛
5. فریم 6mm سرد فولڈنگ پلیٹ اپناتا ہے ا، شیل3mm سرد فولڈنگ اور ویلڈنگ تشکیل کو اپناتا ہے ؛ اسکریننگ پلیٹ 0.4mmموٹی Cr18Ni9Ti سٹینلیس سٹیل پلیٹ سے بنا ہے ؛ پلیٹ مواد Q235 ہے، اور موٹائی 4 ملی میٹر ہے.
6. سطح کا علاج: استعمال ہونے والی سٹیل کا فاسفیٹ یا شاٹ بلاسٹنگ کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے، اس کے بعد سپرے پینٹ اور چولھا وارنش کا استعمال کیا جاتا ہے
متعلقہ نام
گندم بھوسا جدا کا ر | جو کی گری اور بھوسے کی صفائی کرنے والی مشین | غلہ,اناج دانہ پروسیسنگ مشین
تصادم جدا کرنے والا
تصادم چکی
صاف کرنے کا آلہ
ڈبل بن Plansifter
سنگل بن Plansifter
کثیر منزلہ آٹے کی پسائی کرنے والا پلانٹ
کثیر منزلہ اسٹیل کی ساخت والا آٹے کی پسائی کرنے والا پلانٹ
اسٹیل ڈھانچہ آٹے کی پسائی کرنے والا پلانٹ
چھوٹے پیمانے پر آٹے کی پسائی کرنے والا پلانٹ
خاندانی ورکشاپ آٹے کی پسائی کرنے والا پلانٹ
مکئی پیسنے والا
مکئی جنین انتخاب کنندہ
مکئی کا دَلیا پروسیسنگ کر نے کی مشین (مکئی کا دَلیا اور پاؤڈر جداکار)
مکئی کے اناج کی صفائی مشین
گردشی ہوا ئی جداکار
خود متوازن جھومتا ہوا جداکار
گھومنے والا جداکار
عمودی ہوا ئی جداکار
کشش ثقل پتھر توڑنےوالا
افقی گندم رگڑنے والا
گندم بُرَش کَرنے والا
مقناطیسی جدا کا ر
انتہائی نم ساز
تین بلیڈ نم ساز
Aspirationجدا کا ر
گندم دھونے والا
ارتعاشی درجہ بندی کرنے والا
گندم سے بھوسا جدا کرنے والا
نم ساز
ڈھول جداکار
بے داغ سٹیل پتھر توڑنے اور دھونے والا
عمودی غلہ صاف کرنے والا
گردشی ا سکرین جداکار
رولر چکی
مربع Plansifter
بھوسا بُرَش کَرنے والا
پیچ کنویر
دفن شدہ سکریپ کنویر
بالٹی اٹھانے والا
نلکی نما پیچ د ا ر کنویر (ٹیوبلر سکرو کنویر)
ہوا ئی تالا
پلس جیٹ فلٹر
بعید از مرکز پنکھا
عالی دباؤ کا فلٹر
وزن اور پیکنگ کی مشین
بورا سلائی مشین
بنا موٹر گندم کی پیمائش کرنے والا
ہو م ہمارے بارے میں مصنوعات حل کمپنی ٹور خدمات تعاون کے معاملات خبریں ہم سے رابطہ کریں
| 2019-09-22T10:23:33
|
http://plflourmill.in/product-3-4-bran-finisher-en/147735/
|
گوگل میل ٹپس، اب جی میل اور بھی سہل - ماہنامہ کمپیوٹنگ
از ادارہ بتاریخ 5 اگست, 2008
صرف اَن پڑھی ہوئی ای میل
بعض اوقات آپ کو اتنی تواتر سے ای میل پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ بہت سے ای میلز آپ بغیر پڑھے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ لیکن اگر بعد میں ای میلز کو پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ جی میل میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسی ای میلز تلاش کرنے کے لئے بظاہر کوئی سہولت نظر نہیں آتی۔ لیکن جناب ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگر آپ سرچ باکس میں
لکھ کر اینٹر کریں تو ان باکس میں موجود تمام ان پڑھی ہوئی ای میلز آپ کو دِکھا دی جائیں گی۔ اسی طرح اگر آپ ان باکس کے بجائے کسی اور لیبل (یا فولڈر) میں ایسی ای میل تلاش کرنا چاہ رہے ہیں تو label:کے بعد اس لیبل کا نام لکھ دیں۔
ایک خاص ای میل کی تلاش
آپ کے باس نے آپ کو لگ بھگ ایک سال پہلے جوےءپی ڈی ایف فائل ای میل کی تھی۔ اب آپ کو وہ ای میل تلاش کرنی ہے …. جبکہ اس ای میل کے بعد آپ کو باس کی جانب سے سینکڑوں ای میلز موصول ہوچکی ہیں۔ پریشانی کی بات تو ہے….!
لیکن اس بڑی پریشانی کا ایک آسان حل ہے۔ آپ اس مخصوص ای میل کے بارے میں کچھ مفید باتیں جانتے ہیں۔ جیسے اس کے ساتھ پی ڈی ایف فائل منسلک تھی اور ای میل ایک سال پہلے ارسال کی گئی تھی۔ اس معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ جی میل کی سرچ بار میں مندرجہ ذیل کیوری لکھیں:
from:Name filename:pdf after:2007/04/01
اس کیوری میں آپ Nameکی جگہ آپ اپنے باس کا نام یا ان کا ای میل ایڈریس تحریر کریں گے اور after کے بعد وہ تاریخ لکھیں گے جس کے بعد ہی آپ کو ای میل موصول ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ تاریخ کا فارمیٹ YYYY/MM/DDہوگا۔
میری ای میل کہاں ہے؟
آپ کسی دوست نے ایک ای میل ارسال کی تھی جو اب آپ کو ان باکس میں تلاش کرنے پر نہیں مل رہی۔ کہیں وہ Spam فولڈر میں تو نہیں؟ یا آپ نے اسے Archive کردیا ہوگا یا پھر سرے سے ڈیلیٹ ہی کردیا ہو؟آپ کے علم میں یقینا یہ بات ہوگی کہ جی میل حذف شدہ (ڈیلیٹ) ای میلز کو بھی تیس دن Bin یا Trash فولڈ رمیں محفوظ رکھتا ہے ۔ لہٰذا آپ اس ای میل کر سرچ کرنے کے لئے درج ذیل کیوری استعمال کرسکتے ہیں۔
from:FriendName in:anywhere
اس میں فرینڈ نیم کی جگہ یقینا آپ اپنے دوست کا نام یا ای میل ایڈریس لکھیں گے۔
بڑی اٹیچمنٹس …. بڑے مسئلے
اگرچہ جی میل آپ کو اتنا ڈسک اسپیس دیتا ہے کہ آپ کو اگر دن میں سو سے بھی زیادہ ای میلز موصول ہورہی ہوں تو اسپیس کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر آپ کے علمدار جیسے کوئی دوست ہیں جو آپ کو بڑی بڑی ورڈ اور پاور پوائنٹ کی فائلیں جن میں تصاویر، مزاحیہ جملے، اقوال زریں ہوتے ہیں، تواتر سے ارسال کرتے رہتے ہیں تو یقینا جی میل کا فراہم کردہ ڈسک اسپیس بھی کم پڑ جائے گا۔
لیکن اب علمدار صاحب کبھی کبھی کوئی کام کی ای میل بھی بھیج دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر میں علمدار کی سب ای میلز کو ڈیلیٹ کردوں گا تو کام کی ای میلز بھی ضائع ہوجائیں گی …. پھر کیا کیا جائے؟
جی میل سرچ میں مجھے کچھ یوں لکھنا ہوگا:
from:Alamdar has:attachment
اس طرح علمدار کی ارسال کردہ تمام ای میلز جن کے ساتھ کوئی اٹیچمنٹ منسلک ہے، ظاہر ہوجائیں گی۔ اب میں سہولت سے ان میں سے تمام یا کچھ ای میلز کو ڈیلیٹ کرسکتا ہوں۔
ای میل کی تلاش، ایک اور انداز
آپ جانتے ہیں کہ پچھلے ہفتے ایک ای میل آپ کے باس کو کئی گئی ہے اور وہی ای میل آپ کو سی سی کی گئی ہے۔آپ جلدی میں اس ای میل کو پڑھنا بھول گئے۔ ایسی کسی بھی ای میل کو ڈھونڈنے کا آسان طریقہ کچھ یوں ہوگا۔
is:unread after:2007/09/03 to:boss@email.com
چیٹ ہسٹری میں سرچنگ
مجھے یاد ہے کوئی دو چار مہینے پہلے میرے دوست نے مجھے اپنی فِلکر گیلری کا لنک چیٹ کے دوران دیا تھا۔ اب مجھے وہ گیلری دوبارہ دیکھنی ہے لیکن لنک ہے کہ مل کے نہیں دے رہا۔ جی میل ہیلپ سے مجھے پتا چلا کہ میں یہ لنک بہ آسانی اس طرح ڈھونڈ سکتا ہوں۔
in:chat from:frnd_name flickr.com
اگر اس میں سے in:chat کو ختم بھی کردیا جائے تو بھی نتائج مل سکتے ہیں لیکن اس طرح موصول ہونے والے نتائج میں تمام لیبلز کے تحت موجود ای میلز بھی شامل ہوتی ہیں۔
جی میل میں دوسرے POP اکاﺅنٹ کنفیگر کرنا
جی میل آپ کو یہ سہولت بھی فراہم کرتا ہے کہ آپ دوسری ای میل سروسز جو POP اکاﺅنٹ فراہم کرتی ہیں، کو اپنے جی میل اکاﺅنٹ پر کنفیگر کرسکتے ہیں۔ اس طرح آپ کو POP اکاﺅنٹ پر موصول ہونے والی ای میل جی میل پر موصول ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی اگر آپ چاہیں تو جی میل کے ذریعے دوسرے ای میل ایڈریس سے ای میل ارسال بھی کرسکتے ہیں۔ یعنی ارسال کردہ ای میل دوسرے ای میل اکاﺅنٹ کی جانب سے ہوتی ہے نہ کہ جی میل کے اکاﺅنٹ کی جانب سے۔آپ ایک وقت میں پانچ مختلف پاپ اکاﺅنٹس جی میل پر کنفیگر کرسکتے ہیں۔
جی میل پر کوئی پاپ اکاﺅنٹ کنفیگرکرنے کے لئے آپ کو اس اکاﺅنٹ کے مندرجہ ذیل تفصیلات درکار ہیں۔
پاپ سرور کا ایڈریس یا آئی پی
پاپ سرور کی پورٹ ( عام طور پر یہ 110 ہوتی ہے)
یوزر نیم اور پاس ورڈ
﴿مکمل مضمون جولائی 2008 کے شمارے میں پڑھیں﴿
| 2019-02-20T06:43:21
|
https://www.computing.com.pk/amp/%DA%AF%D9%88%DA%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%D9%84-%D9%B9%D9%BE%D8%B3%D8%8C-%D8%A7%D8%A8-%D8%AC%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B3%DB%81%D9%84/
|
العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو 7 سال قید ، ڈھائی کروڑ ڈالر جرمانہ کی سزا ۔فلیگ شپ ریفرنس سے بری | The Weekly Pakistan
December 24, 2018 December 24, 2018 Nadir Abbas 0 Comments
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے نواز شریف کو ڈھائی کروڑ ڈالر(3 ارب 47 کروڑ 87 لاکھ روپے )جرمانہ عائد کیا۔قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔سابق وزیراعظم پر العزیزیہ ریفرنس میں قید کے علاوہ تقریباََ ایک ارب 50 کروڑ روپے کا جرمانہ اور جائیداد کو بھی ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالتوں نے پاناما کیس سے اب تک تمام اہم فیصلے جمعہ کے روز سنائے تاہم العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ پیر کو آیا۔ نواز شریف کیخلاف جمعہ کے روز پہلا فیصلہ 20 اپریل 2017ء کو سنایا گیا، جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں اکثریت رائے سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔ عدالت نے نواز شریف کو 10 سال تک عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا جبکہ العزیزیہ اور ہل میٹل جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کے بیٹے حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔فیصلے کے بعد نواز شریف کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی کہ انہیں اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد سنایا اور سابق وزیراعظم کی درخواست منظور کر لی۔
نواز شریف کے عدالت پہنچتے ہی مسلم لیگ ن کے کارکنان نے عدالت کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور مسلم لیگ کے کارکنان میں تصادم ہو گیا جس کے بعد پولیس نے کارکنان کو روکنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی۔ سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے کارکنان نے کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف کی سڑکوں کو بند کر دیا تھا۔واز شریف نے لیگی رہنماؤں سے مشاورت کے دوران کہا کہ مجھے اللہ سے انصاف کی پوری امید ہے، موجودہ حکومت نے عوامی ترقی کے سفر کو سبوتاژ کیا اور ایک بار پھر پاکستان کی ترقی کو پٹری سے اتار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیس میں کچھ نہیں ہے اس لیے زیادہ زیادتی کر بھی نہیں سکتے۔ میں نے ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی ہے جبکہ کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی نہیں کیا، اس لیے میرا ضمیر مطمئن ہے۔احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد مجرم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا
← سپریم کورٹ کا زرداری،اومنی،اور بحریہ گروپ کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
بابائے قوم محمد علی جناح کا 143 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔ →
| 2019-10-18T17:23:43
|
https://www.theweeklypakistan.com/2018/12/24/%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%DB%8C%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%B3-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%DA%A9%D9%88-7-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%8C/
|
ایک فی صد طبقہ، دنیا کی نصف دولت پر قابض - IRAK
دنیا میں غربت کے خاتمے اور سماجی انصاف کے لیے سرگرم ایک برطانوی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا میں امیر اور غریب طبقات کے درمیان خلیج میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور آئندہ سال کے اختتام تک ایک فی صد طبقے کے پاس دنیا کی باقی ۹۹ فی صد آبادی سے زیادہ دولت ہوگی۔
برطانوی تنظیم ’’آکسفام‘‘ نے حال ہی جاری کی جانے والی اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ ۲۰۰۹ء میں یہ ایک فی صد با اثر طبقہ دنیا کی ۴۴ فی صد دولت کا مالک تھا اور یہ دولت ۲۰۱۴ء میں ۴۸ فی صد تک جاپہنچی تھی۔ اس متمول طبقے کے برعکس دنیا کی ۸۰ فی صد آبادی صرف ۵ء۵ فی صد دولت کی مالک ہے اور اپنی اس متاعِ قلیل سے تیزی سے محروم ہورہی ہے۔ ’’آکسفام‘‘ کے مطابق اگر دولت کی تقسیم کی موجودہ شرح برقرار رہی تو ۲۰۱۶ء کے اختتام تک دنیا کی ۵۰ فی صد سے زائد دولت ایک فیصد امیر طبقے کے ہاتھوں میں جاچکی ہوگی۔
’’آکسفام انٹرنیشنل‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر وِنّی بیانیما کے مطابق ۹۔۲۰۰۸ء کے اقتصادی بحران کے بعد بین الاقوامی معیشت میں دولت کے ارتکاز میں تیزی آئی ہے جو اَب خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔ برطانوی اخبار ’’گارجین‘‘ کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں امدادی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں دنیا میں طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے حکومتوں کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ بیانیما کے بقول یہ طبقاتی تفریق معاشرتی ناہمواری اور نظمِ حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہے کیوں کہ دولت کے ارتکاز کے نتیجے میں ایک مخصوص طبقہ بتدریج طاقت پکڑ رہا ہے اور عوام کے مفادات اور مسائل سے اس کی بے نیازی میں اضافہ ہورہا ہے۔
اپنے انٹرویو میں وِنّی بیانیما نے کہا ہے کہ عالمی رہنمائوں اور عوام کو سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی ہم ان حالات میں جینا چاہتے ہیں جہاں بمشکل ایک فیصد طبقہ دنیا کی باقی ۹۹ فیصد آبادی سے زیادہ وسائل کا حامل ہو اور امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج روز بروز بڑھ رہی ہو؟ انہوں نے کہا کہ دنیا میں حد سے تجاوز کرتی ہوئی معاشی عدم مساوات نہ تو حادثاتی ہے اور نہ ہی یہ نظمِ معیشت کا کوئی لازمی نتیجہ ہے۔ بلکہ، ان کے بقول، یہ حکومتوں کی ماضی کی روش کا شاخسانہ ہے جسے ذرا مختلف حکمتِ عملی اختیار کرکے گھٹایا بھی جاسکتا ہے۔
’’آکسفام‘‘ نے گزشتہ برس اسی نوعیت کی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صرف ۸۵؍امیر ترین افراد دنیا کی نصف غریب ترین آبادی (ساڑھے تین ارب نفوس) کے برابر دولت رکھتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس سال کی تحقیق میں یہ تعداد مزید کم ہوگئی ہے اوراب دنیا کے ۸۰؍امیر ترین افراد کے پاس دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ دولت ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ۲۰۱۰ء میں دنیا کی نصف آبادی کے برابر دولت کے مالک امیر افراد کی تعداد ۳۸۸ تھی۔
برطانیہ میں معاشی ناہمواری کے خاتمے کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم ’’اکویلیٹی ٹرسٹ‘‘ کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۰۸ء میں برطانیہ کے ۱۰۰؍امیر ترین خاندانوں کی مجموعی دولت میں کم ازکم ۱۵؍ارب پونڈز کا اضافہ ہوا تھا جب کہ اس عرصے کے دوران ایک عام خاندان کی آمدنی میں ہونے والا اوسطاً اضافہ صرف بارہ سو پونڈز کے لگ بھگ تھا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا میں طبقاتی تفریق اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسئلے نے شدت سے سر اٹھایا ہے اور عالمی رہنمائوں اور اداروں نے اس پر سنجیدگی سے غور شروع کیا ہے۔ اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں ۹۔۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کا بھی اہم کردار ہے جس کے بعد غریب طبقے کے لیے ضروریاتِ زندگی کا حصول بتدریج مشکل جب کہ امیر طبقے کے اثاثوں، خصوصاً حصص اور جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دولت کے اس تیزی سے چند ہاتھوں میں ارتکاز نے جن عالمی رہنمائوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ان میں رومن کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ فرانسس اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لگارڈ بھی شامل ہیں جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی تفریق عالمی معیشت اور معاشرت کو نقصان پہنچائے گی۔
معروف فرانسیسی ماہرِ معیشت تھامس پکیٹی کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی کتاب ’’کیپٹل‘‘ کا موضوع بھی دنیا میں دولت کی یہی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ سنجیدہ اور پالیسی ساز حلقوں میں دولت کے ارتکاز اور غیر مساوی تقسیم پر سنجیدہ بحث چھیڑنے میں ریکارڈ تعداد میں فروخت ہونے و الی اس کتاب کا اہم کردار ہے۔
امریکا کے صدر براک اوباما بھی اس مسئلے کی سنگینی کا بارہا اظہار کرچکے ہیں لیکن ان کے مخاطب زیادہ تر امریکی عوام اور سیاست دان ہی رہے ہیں۔ صدر اوباما مسلسل امریکی کانگریس پر ایسے اقدامات کرنے اور ایسی پالیسیاں وضع کرنے پر زور دے رہے ہیں جن کے ذریعے متوسط طبقے کی معاشی حالت بہتر بنائی جاسکے۔ ان کے برعکس ری پبلکن پارٹی، جسے اب کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ روایتی سرمایہ داری کی زبردست وکیل بنی ہوئی ہے اور اس کا موقف ہے کہ بڑے کاروباری اور امیر طبقے کو بے لگام چھوڑ دیا جائے اور اسے اپنے سرمایے میں اضافہ کرنے دیا جائے جس کے مثبت اثرات لامحالہ زیرِ دست طبقات تک بھی پہنچیں گے۔
’’آکسفام‘‘ نے اپنی حالیہ تحقیق میں کہا ہے کہ دنیا کے ۸۰؍امیر ترین افراد کے اثاثوں کی مالیت میں ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۴ء کے دوران دگنا اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ امیر طبقہ اپنی اس دولت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بطور آلہ استعمال کر رہا ہے اور یوں یہ دولت اس کے اثاثوں میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امیر طبقے کی دولت کا وراثت کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونا معمول ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دولت دنیا کے محروم طبقات کی محرومی اور غربت دور کرنے میں استعمال نہیں ہورہی۔
تحقیق کے مطابق امریکی جریدے ’’فوربز‘‘ کی فہرست میں جگہ بنانے والی دنیا کی ۱۶۴۵؍ارب پتی شخصیات میں سے ایک تہائی کو ان کی دولت کا بیشتر یا تمام حصہ وراثت میں ملا ہے۔ ان ارب پتی لوگوں میں سے ۲۰ فیصد کے اثاثے بینکوں اور انشورنس کے شعبے میں ہیں جن میں صرف بارہ مہینوں کے دوران (مارچ ۲۰۱۴ء تک) ۱۱؍ فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بینکنگ اور انشورنس کے اداروں اور شخصیات نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے صرف ۲۰۱۳ء کے دوران دو شہروں واشنگٹن اور برسلز میں لابنگ پر ۵۵۰ ملین ڈالر خرچ کیے۔ اس سے قبل امریکا میں ۲۰۱۲ء کے صدارتی انتخابات میں امیدواروں کو ان کی انتخابی مہم کے لیے صرف فنانشل سیکٹر نے ۵۷۱ ملین ڈالر کا ریکارڈ چندہ دیا تھا۔ ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کا امیر ترین طبقہ کس طرح اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پانی کی طرح پیسا بہاتا ہے۔ دولت مند طبقے کی اس شاہ خرچی کا لازمی نتیجہ اس کی دولت میں کئی گنا اضافے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
’’آکسفام‘‘ نے اپنی رپورٹ میں دولت کے ارتکاز کو روکنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے حکومتوں سے سات نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ منصوبے میں شامل تجاویز درج ذیل ہیں:
۱۔ کارپوریشنوں، بڑے کاروباری اداروں اور شخصیات کی جانب سے ٹیکس چوری کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔
۲۔ عوام الناس کو صحت اور تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی مفت فراہمی کے لیے ان شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔
۳۔ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات متعارف کی جائیں اور دولت اور اثاثوں پر محصولات کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔
۴۔ مزدور اور کارکنوں کی کم از کم اجرت میں اضافہ اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
۵۔ مساوی تنخواہوں اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی سلوک کے خاتمے کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے۔
۶۔ غریب طبقات کے لیے آمدنی کی کم از کم شرح مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
۷۔ دنیا سے معاشی ناانصافی کے خاتمے اور دولت کے ارتکاز کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر منظم کوششیں کی جائیں۔
“New Oxfam report says half of global wealth held by the 1%”. (“The Guardian”. January 19, 2015)
| 2018-10-18T12:11:30
|
http://irak.pk/new-oxfam-report-says-half-of-global-wealth-held-by-the-1/
|
عورت کی عقل ٹخنوں میں ہوتی ہے، اسے چھ فٹ کے مرد سے مشورہ لینا چاہیے۔ - ہم سب
عورت کی عقل ٹخنوں میں ہوتی ہے، اسے چھ فٹ کے مرد سے مشورہ لینا چاہیے۔
19/12/2017 بی بی سی n/a Views
’باغی‘ میں قندیل بلوچ کی زندگی سے ملتی جلتی کہانی پیش کی گئی
سنہ 2016 میں پاکستانی ٹی وی پر ڈرامہ باغی ہوا، روایت کے آگے تن کر کھڑا ہوا، ساس بہو کی تو تو میں میں سے نکل کر عورت کو ایک مکمل انسان کی حیشیت میں دکھانے، خواجہ سراؤں کے مسائل بتانے، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل کو چیلنج کرنے کی جرات دکھائی۔ جس پر گالی بھی پڑی اور تالی بھی بجی لیکن ڈرامے میں موضوعات، کردار اور مکالمے کا سفر آگے بڑھا۔
سنہ 2017 میں پاکستانی ڈرامے میں سبھی عناصر ’یو ٹرن‘ لیتے دکھائی دیے۔ اگرچہ ’باغی‘ جیسے جاندار ڈرامے بنے جن میں قتل کی گئی سوشل میڈیا سیلبریٹی قندیل بلوچ کی زندگی سے ملتی جلتی کہانی پیش کی گئی لیکن ڈرامے کی اپنی بغاوت اور جرات رندانہ ماند پڑ گئی۔
جب اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے ’تیری رضا‘ میں دادی کا بزرگ کردار بہو سے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ’عورت کی عقل اس کے ٹخنوں میں ہوتی ہے اور اس کو فیصلے لیتے وقت چھ فٹ کے مرد سے مشورہ لینا چاہیے۔‘
دادی کے اس کردار کو مثبت دکھایا گیا ہے اور ان کی ’نصیحت آموز‘ باتیں ناظرین ڈرامے کے آن لائن ویڈیوز پر کمنٹس کی صورت میں کافی سراہتے رہے ہیں۔
باغی کردار دکھانے پر روایت پسند ناظرین ڈرامے سے دور ہو سکتے ہیں
سنہ 2017 میں ڈرامے میں موضوع کے اعتبار سے گذشتہ سال کے انتہائی کامیاب ڈراموں کی تقلید میں ونی اور غیرت کے نام پر قتل کے موضوعات پر ڈرامے بنائے گئے۔ ہم ٹی وی کا ڈرامہ ’سمی‘ بھی ان میں سے ایک ہے لیکن کہانی میں حساس موضوعات پر سنجیدہ بحث کی دعوت سے زیادہ سنسنی اور سپر سٹارز کی چکا چوند رہی۔
بری ساس، اچھی بہو، بکتی جھکتی دیورانیاں اور رشتے کی فکر میں گھلتی ہوئی کالج طالبات کی اس سال بھی سکرین پر بہتات رہی لیکن ان میں ’سسی‘ کا چہرہ سب سے منفرد نظر آیا جو اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں اور غلط فیصلوں سمیت ایک جیتی جاگتی اور مکمل انسان ہے۔ اچھی یا بری نہیں ہے بلکہ ایسی ہی ہے جیسے ہم سب ہیں۔ ’سسی‘ ہم ٹی وی کے ہی ایک ڈرامے ’او رنگریزہ‘ کی ہیروئن اور ڈرامہ نگار ساجی گل کے قلم سے تخلیق پائی ہے۔
سنہ 2017 میں ڈراموں میں گلیمر کے بیچوں بیچ مذہبی کردار ایک بار پھر جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ رشتوں کی گتھیاں مذہب کی رہنمائی میں سلجھائی گئیں۔
ڈراموں میں مذہبی کردار ایک بار پھر جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے
’تیری رضا‘ کا بنیادی موضوع دادی کا استخارہ ہے جسے ماننے پر ہیروئن سہانا کو مجبور کیا گیا ۔ ’الف، اللہ اور انسان‘ میں ’بابا سائیں‘ کا کردار بھی نوجوان ہیرو کو محبت میں ناکامی کے بعد دین اور دنیا کے مسائل سمجھاتے نظر آیا۔
ڈراموں کے تجزیے کرنے والی بلاگر مہوش بدر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی کرداروں کی واپسی ایک طرح سے ڈرامہ نگار کی سستی ہی ہے کہ جب بھی برائی کے مقابلے پر کوئی طاقت دکھانا ہو مذہبی حلیے والے شخص کی صورت میں دکھا دی جائے۔
تاہم مہوش بدر ’آنگن‘ نامی ڈرامے کا ذکر بھی کرتی ہیں جہاں روایتی مولوی کے حلیے میں مذہب کا نام استعمال کر کے استحصال کرنے والے کردار کی برائی بھی دکھائی گئی ہے۔
استخارہ کے موضوع پر مبنی ڈرامے ’تیری رضا‘ کی لکھاری نائلہ انصاری موضوع کے دفاع میں کہتی ہیں کہ ان کا مقصد استخارے کی اصل روح ناظرین کے سامنے لانا تھا جبکہ مذہب اور مذہبی کرداروں کی شمولیت کے حوالے سے اس بات کا اعتراف بھی کرتی ہیں کہ پبلک ڈیمانڈ اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
بری ساس، اچھی بہو، بکتی جھکتی دیورانیاں اور رشتے کی فکر میں گھلتی ہوئی کالج طالبات
عمومی رائے ہے کہ ٹی وی ڈرامے میں روایت سے باغی کردار دکھانے پر روایت پسند ناظرین ڈرامے سے دور ہو سکتے ہیں چنانچہ ان کو منا کر رکھنے کے لیے مذہبی کرداروں سے کام لیا جا سکتا ہے۔ نائلہ انصاری اس بات سے بھی متفق ہیں کہ ڈرامے ریٹنگ کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں اور اگر ناظرین ایسے کردار دیکھنا چاہیں تو ضرور دکھائے جاتے ہیں۔
یعنی دلہن وہی جو پیا من بھائے اور ڈرامہ وہی جو ریٹنگ لائے۔
)نازش ظفر(
بچوں کو اپنے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے: ملانیا ٹرمپ
← ‘ہم سب ‘کی نیم برہنہ تصویروں پر ۔۔ برہنہ تنازعہ! (2)
کرپشن مخالف شہزادہ محمد بن سلمان کا فرانسیسی محل 30 کروڑ ڈالر کا ہے →
british-broadcasting-corp has 4124 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp
| 2018-06-18T05:51:44
|
http://www.humsub.com.pk/92710/bbc-707/
|
24 مئی 2018 (18:27) 6:27 PM, May 24, 2018
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )آج کل فارغ وقت میں ہر کوئی اپنے موبائل فون پر سوشل میڈیا ویب سائٹس سکرول کرنے کو بے حد پسند کرتاہے اور اس دوران وہ کئی طرح کی نئی چیزوں سے آشنا بھی ہوتاہے تاہم کئی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ اسے حیرانگی میں مبتلا کر دیتی ہیں اور کچھ چیزیں تو آپ کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ بھی کر دیتی ہیں ۔ایسی ہی ایک ’میمی‘ فیس بک اور ٹویٹر پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے اور ہر کوئی بس اس شخص کو تلاش کرنے میں مصروف ہے لیکن کسی کو بھی کامیابی نہیں مل پا رہی ہے بلکہ ہر کسی کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ ’ارے بھئی یہ بندہ ہے کون ‘۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم میمیز بنانے میں سب سے آگے نظر آتے ہے جن میں سب سے بڑی مثال ’یہ گورمٹ بک گئی ہے ‘ والی آنٹی کی ہے جس کی ویڈیو سامنے آتے ہی پاکستانی عوام نے ان کی خوب میمیز بنائی اور ہر کسی کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا ۔
دوسری جانب بس انکل مجبور کی ایک ویڈیو کال کیا آئی ہر طرف ’مجبور مجبور ‘ ہو گیا ، بیچاے انکل مجبور کی اتنی میمیز چلیں کہ وہ خود گھر سے نہ نکلنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے ۔
تاہم آج جس شخصیت کا تعارف آج ہم آپ سے کروانے جارہے ہیں وہ یقینا کوئی ’خلائی مخلوق ‘ ہی ہے کیونکہ ان کو ”تو 11 ملکوں کی پولیس‘ بھی نہیں ابھی تک ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ آپ جب بھی کبھی سوشل میڈیا سائٹ کو ٹرول کرتے ہیں اور آپ کو کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے یا پھر کوئی میمی نظر آجاتی ہے جو کہ آپ کو پسند آتی ہے تو آپ اس کے بارے میں جاننے کی کوشش ضرور کرتے ہیں کہ یہ کس تناظر میں وائرل ہو رہی ہے ۔
یہ نوجوان ایشوریا کے گاﺅن پر بیٹھا ہوا یہاں پر نظر آ رہاہے اور یہ ممکنہ طور پر کانز فیسٹیول کے حوالے سے ہی بنا کر چلائی جانے والی میمی ہے تاہم کوئی بھی یہ پتہ نہیں چلا سکا کہ یہ نوجوان ہے کون ؟۔
یہ نوجوان اتنا زیادہ مشہور ہو گیاہے کہ جب بھی میں اپنی فیس بک یا ٹویٹر کی وال کو سکرول کرتاہوں تو اس نوجوان کی کوئی نہ کوئی میمی ضرور دیکھنے کو مل جاتی ہے اور جسے دیکھ کر ایک مرتبہ پھر سے میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔جیسا اس تصویر میں وہ وزیراعظم کی کرسکی پر بیٹھے ہیں اور سرکاری ٹی وی کے ذریعے قوم کیلئے پیغام ریکارڈ کروا رہے ہیں ۔
یہ نوجوان آسمانوں پر اڑنا بھی پسند کرتاہے اور انتہائی انوکھے اور نئے انداز میں جنگی جہاز اڑانے کی صلاحیت بھی رکھتاہے ۔ یہ نوجوان ہر طرف ہے ، سوشل میڈیا پر کسی بھوت کی طرح منڈلاتا پھر رہاہے ۔
لو جی یہاں پر تو اس نوجوان کے تعلقات دنیا کی طاقت ور ترین شخصیت کے ساتھ بھی ہیں ، ٹرمپ اور پیوٹن اور چینی صدر نے اس نوجوان کے بیٹھنے کے سٹائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کیلئے ’خصوصی ‘گرل کا بندوبست بھی کیاہے ۔ یہ شخص آپ کو اس طرح کی مزاحیہ میمیز میں تقریبا ہر طرف ہی نظر آ ئے گا ۔
یہاں پر یہ نوجوان عمران خان اور عامر لیاقت حسین کے ساتھ موجیں مار رہاہے اور لگتاہے کہ یہ دونوں شخصیات ان کی کافی اچھی دوست ہیں ۔
اس نوجوان کو صرف جہاز اڑانے میں ہی دلچسپی نہیں بلکہ وہ تو بلند ترین عمارتوں کی چھتوں پر بیٹھ کر نیچے کے نظارے کے لطف اندوز ہونے کا شوق رکھتا ہے ۔
اس نوجوان کی میمز وائر ل ہوئی تو بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس پر لطیفے بھی بننے شروع ہو گئے ۔
لڑکی : آپ کیا کرتے ہیں ؟
لڑکا : ایئر فورس میں ہوں
لڑکی : واہ واہ ، اپنی کوئی تصویر تو بھیجیں ذرا
سوشل میڈیا صارفین اس شخصیت کے بارے میں جاننے کیلئے اتنے زیادے اوتاولے ہیں کہ کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتاہے تاہم ابھی تک اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ کون ہے اور کہاں کارہنے والاہے ۔اگر آپ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو مہربانی کر کے ہمیں بھی وہ معلومات دیجیے گا ۔
| 2018-09-25T21:16:34
|
https://dailypakistan.com.pk/24-May-2018/786387
|
منہاج القرآن یوتھ لیگ کی پارلیمنٹ کا اجلاس - تحریک منہاج القرآن
منہاج القرآن یوتھ لیگ کی پارلیمنٹ کا اجلاس 7 نومبر 2010ء کو مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر یوتھ پارلیمنٹ چوہدری بابر علی نے کی جبکہ ڈپٹی سپیکر کے فرائض اشتیاق حنیف مغل نے سر انجام دئیے۔ اجلاس میں طیب ضیاء، اقبال یوسف، ملک امجد چاند، ایاز احمد اور وقار احمد قادری کے علاوہ ملک بھر سے یوتھ کے تحصیلی صدور و سیکرٹری جنرلز نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ اویس کموکا نے نعت شریف کی سعادت حاصل کی۔
سپیکر یوتھ پارلیمنٹ نے تمام شرکاء پارلیمنٹ کو خوش آمدید کہا اور ایجنڈا کی بریفننگ دی۔ یوتھ پارلیمنٹ کے تمام ممبران سے حلف بھی لیاگیا۔ اجلاس کے ایجنڈا میں سابقہ کارکردگی کا جائزہ، ورکنگ پلان سہ ماہی ہدف، یوم تاسیس کی تقریبات، شجر کاری مہم اور ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوتھ کی ورکنگ پالیسی شامل تھے۔ اجلاس میں سابقہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 4 ماہ میں ممبر شپ کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے گا۔ منہاج یوتھ لیگ کے موجودہ تنظیمی نیٹ ورک کو مضبوط اور یونین کونسل تک نیٹ ورک قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
اجلاس میں سپیکر یوتھ پارلیمنٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن یوتھ لیگ تحریک احیائے اسلام تحریک منہاج القرآن کا ہر اول دستہ ہے۔ یوتھ لیگ کا بنیادی مقصد ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں ان کی کردار سازی، ان کی علمی، فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، شعور مقصدیت کا فروغ، سماجی بہبود کا جذبہ پیدا کرنا اور نسل نو کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
نوجوانوں میں جمہوری رویوں اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لئے یوتھ پارلیمنٹ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ان کے دلوں میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع روشن کرنا ہے اور الحمدللہ ہم اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر آج ہمیں مذہبی و اخلاقی سطح پر نوجوانوں کو دین کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لئے حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطابات کو ہر گھر میں پہنچانا ہوگا۔
ڈپٹی سپیکراشتیاق حنیف مغل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کی ہمہ گیر جدوجہد کا مقصد معاشرے مثبت تبدیلی ہے۔ جس کے لیے تحریک کے مختلف فورمز سے بیک وقت دعوت، اصلاح، تجدید اور ترویج و اقامت کی جدوجہد جاری ہے۔ اس کے لیے یوتھ لیگ بھی تحریک کے ہراول دستہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ منہاج القرآن کے بانی تحریک نے جدید سائنسی ذہن کے تقاضوں کے مطابق مذہبی افکار و نظریات کو پیش کیا ہے جس سے اسلام پسند نوجوان طبقہ کو نیا حوصلہ اور ولولہ ملا ہے۔
بدقستمی سے آج نوجوان نسل دین سے متنفر اور مغرب سے مرغوب ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر نسل نو میں مذہب پسندی کا ایک خوش آئند رجحان پیدا ہوا ہے۔ ہمیں ان نوجوانوں کواصلاح معاشرہ، تعمیر وطن، قیام امن کے اس عظیم مشن کے تنظیمی و دعوتی دائرے میں لانے کے لئے محنت کرنی ہوگی۔
ثناء اللہ طاہری سیکرٹری جنرل MYL نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کا مرکز و محور نوجوان نسل کو بنایا ہے۔ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین قرار دیا تھا اور سخت محنت، جدوجہد کی تلقین کی تھی۔ آج نوجوانوں کے عمل میں دوام اور استقامت بھی وقت کی ضرورت ہے۔ محض ایک یا دو دفعہ عمل کرنا تعمیر کردار میں کوئی اثرات پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے تسلسل درکار ہے۔ خواہ عمل کتنا ہی مشکل، محنت و مشقت والا کیوں نہ ہو جب تک عمل محنت کی صورت میں ایک حقیقت بن کر ظاہر نہ ہو جائے۔ یہی سوچ صحیح معنوں میں ہماری شخصیت کو بنا سنوار کر ایک قابل تقلید نمونہ اور قابل فخر مثال بھی بناسکتی ہے اور یہی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ کا مقصد بھی نوجوانوں میں شعور پیدا کرنا ہے۔
اس موقع پر یوتھ پارلیمنٹ میں قرار داد منظور کی گئی۔
دہشت گردی نے پاکستانی عوام کو پریشان کر رکھا ہے قیام امن کے لئے حکومت وقت دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمہ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔
تمام مسالک کے علماء شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی طرح متفقہ طور پر دہشت گردی کی بھرپور اور غیر مشروط مذمت کریں۔ معاشرے کے مسائل کے حل کے لئے یوتھ کو آگے لایا جائے کیونکہ نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر اصلاح معاشرہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین عوام کے لئے مثال بنتے ہوئے اپنی زندگیوں میں سادگی لائیں اور vip کلچر کا خاتمہ کریں۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے حکومت لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پلاننگ کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔
عوام کوضروریات زندگی آٹا، چینی، چاول، پانی، بجلی، گیس، تعلیم صحت، روزگار، علاج اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں یوتھ کا ترانہ بھی پیش کیا گیا۔ پروگرام کا اختتام دعائے خیر سے ہوا۔
رپورٹ : چوہدری عتیق الرحمن
| 2020-02-20T14:48:28
|
https://www.minhaj.org/urdu/tid/12857/%D9%85%D9%86%DB%81%D8%A7%D8%AC-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86-%DB%8C%D9%88%D8%AA%DA%BE-%D9%84%DB%8C%DA%AF-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C%D9%85%D9%86%D9%B9-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%B3.html
|
پکس،بکس،پیکس مدل،پیکسل مدل،پیکس ال مدل،مدل پیکس،چت پیکسل،پیکسل چت،پیکسل موبایل،پیکسل دوربیت،چت تاج،تاج چت،تاج چتروم - مطالب ابر پیام رسان ایرانی سروش
پکس،بکس،پیکس مدل،پیکسل مدل،پیکس ال مدل،مدل پیکس،چت پیکسل،پیکسل چت،پیکسل موبایل،پیکسل دوربیت،چت تاج،تاج چت،تاج چتروم
پیکس مدل،پیکسل مدل،پیکس ال مدل،مدل پیکس،چت پیکسل،پیکسل چت،پیکسل موبایل،پیکسل دوربیت،چت تاج،تاج چت،تاج چتروم
| 2018-12-15T06:51:55
|
http://pixmodel.ir/post/tag/%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D9%85+%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%86+%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C+%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B4
|
آ بيل مجھے مار | میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ What Am I
آ بيل مجھے مار
شير محمد خان صاحب 15 جون 1927ء کو تحصيل پھلور ضلع جالندھر مشرقی پنجاب ميں پيدا ہوئے ۔ اُنہوں نے 1946ء ميں پنجاب يونيورسٹی سے بی اے پاس کيا ۔ پاکستان کے معرضِ وجود ميں آنے کے بعد کراچی ميں بسيرا کيا اور 1953ء ميں کراچی يونيورسٹی سے ايم اے پاس کيا ۔ وہ ايک بہترين مزاح نگار تھے اور کالم نويس بھی ۔ عمدہ شاعری کرتے تھے اور سفرنامے بھی خوب لکھتے تھے ۔ دنيا اُنہيں ” ابنِ انشاء ” کے نام سے جانتی پہچانتی ہے ۔ ہاجکنز لِمفوما ميں مبتلاء ہو کر 11 جنوری 1978ء کو لندن ميں وفات پائی اور کراچی ميں دفن ہوئے
ہوا يوں کہ ميں عنوان “نوکری” ديکھ کر جا پہنچا اُس تحرير پر جو ام تحريم صاحبہ نے “ابنِ انشاء” کی تصنيفات ميں سے اپنے بلاگ “ارتقاءِ حيات” پر نقل کی تھی ۔ دوسری غلطی يہ ہوئی کہ وہاں تبصرہ کے خانے ميں لکھ ديا کہ انشاء جی نے کہا کُوچ کرو اور خود کُوچ کر گئے ۔ خوب لکھا کرتے تھے ۔ ان کی آخری نظم يہاں ملاحظہ فرمايئے
http://www.theajmals.com/blog/2005/11/12
تير تو ميری کمان سے نکل گيا تھا ۔ اب پچھتائے کيا ہو ۔ جواب ميں آيا ايک ميزائل ان الفاظ ميں ” ساتھ ہی اس کی ویڈیو بھی شیئر کرتے تو کیا ہی بات تھی”
ميں ٹھہرا غيرتمند [:lol:]۔ ناک پر کبھی مکھی نہ بيٹھنے دی ۔ ہو گيا انٹرنيٹ کے گھوڑے پر سوار اور نکل گيا يوٹيوب کے جنگل کی طرف اور رکھ لی ميرے رب نے ميری عزت اور مل گيا مجھے جس کی تلاش تھی
انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو ۔ ۔ ۔ اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب ۔ ۔ ۔ جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں ۔ ۔ ۔ دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ ۔ ۔ ۔ اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا ۔ ۔ ۔ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو ۔ ۔ ۔ سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں ۔ ۔ ۔ کیوں بن میں نہ جا بسيرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے ۔ ۔ ۔ تو اور کرے دیوانہ کیا
This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب on January 1, 2012 by افتخار اجمل بھوپال.
← ميمو گيٹ ۔ تازہ خبر بچپن کی ياد اور ہماری حالتِ زار →
8 thoughts on “آ بيل مجھے مار”
یاسر خوامخواہ جاپانی January 1, 2012 at 11:08 AM
علی January 1, 2012 at 6:32 PM
انشا جی سی چاشنی شاید ہی کسی اور کے ہاں ہو۔ ہم تو انشا جی کو تب کے دل دے چکے ہیں جب نہ شاعری کا پتہ تھا نہ دل دینے کا مطلب جانتے تھے۔ اللہ ان کی بخشش فرمائے۔
افتخار اجمل بھوپال Post author January 2, 2012 at 9:21 AM
ياسر و علی صاحبان
ميں ابنِ انشاء کی نظميں اور دوسری تحارير بڑے شوق سے پڑھتا رھا ۔ جب اُستاد امانت علی نے ان کی يہ نظم پی ٹی وی پر گائی تو ميں نے بازار ميں اس کی آڈيو کيسٹ تلاش کر کے خريد لی اور سُنتا رہتا تھا ۔ اُستاد امانت علی بھی واقعی اُستاد تھے ۔ ميں نے اُنہيں سامنے بيٹھ کر بھی سُنا ہوا ہے
Pingback: ? ??? ???? ??? | Tea Break
ارتقاء حیات January 4, 2012 at 8:53 PM
شرمندہ نہ کیا کیجئے چچا جان
میں نے تو بس شاعری دیکھ کر ایک فرمائش کی تھی
آپ کو برا لگا ہے تو معاف کر دیجئے ورہ آئندہ کوئی بھی تبصرہ نہیں کروں گی کہ برا مان جاتے ہیں
میں کوئی بھی بات طنزیہ کہتی ہوں اور نہ ہی کسی بات پر تنقید کرنا پسند کرتی ہوں ہاں رائے یا تصیح کا کہہ دیتی ہوں
برا لاگا ہو تو دوبارہ معافی مانگ لیتی ہوں بابا جی
افتخار اجمل بھوپال Post author January 5, 2012 at 9:08 AM
ارے آپ تو اتنا چھوٹا دل رکھتی ہيں کہ ذرا سے مذاق سے چھلک جاتا ہے ۔ ميں تو کبھی کسی سے ناراض نہيں ہوا بالخصوص بچيوں سے ناراض ہونے کا تو سوال ہی پيدا نہيں ہوتا ۔ بچياں تو ہوتی ہی پيار کرنے کيلئے ہيں ۔ ايک عادت ميری شايد بُری ہے کہ شديد غم ميں بھی ہوں تو حسِ مزاح کو ضائل نہيں ہونے ديتا ۔ آپ جلدی سے مُسکرا ديجئے اور آپ کو منانے کيلئے محمد طارق راحيل صاحب کی منت سماجت پر مجھے مجبور نہ کيجئے
اور اتنی بڑی دھمکی مجھے از راہِ کرم نہ ديجئے “آئندہ کوئی بھی تبصرہ نہیں کروں گی”۔ ميں تو آپ کو اپنے بلاگ پر ديکھ کر خوش ہوتا ہوں کہ زيادہ مصروف ہوتے ہوئے بھی آئی ہيں
ارتقاء حیات January 6, 2012 at 10:12 PM
ان کی منت کرنے کی ضرورت نہیں موصوف مجھ سے بھنے بیٹھے ہیں کہ ہم نے آپ کو سکھایا اور ہمارا پتا صاف
ویسے میں بھی کسی بات کا برا نہیں مانتی آپ بزرگ ہیں اور اکثر بزرگ بات بے بات ناراض ہوجاتے ہیں
ذاتی تجربہ ہے
اس لئے معذرت کر لیتی ہوں کہ شائد کچھ برا ہی نا مان لیں سچ میں
افتخار اجمل بھوپال Post author January 7, 2012 at 8:39 AM
ميں بزرگ نہيں ہوں ۔ عمر زيادہ ہے تو کيا ہوا ۔ ميں اپنے ماشاء اللہ 7 بچوں [2 بيٹے ۔ 2 بہو بيٹياں ۔ ايک بيٹی ۔ ايک پوتی اور ايک پوتے] کے ساتھ اُنہی کی طرح رہتا ہوں ۔ صرف گذشتہ سال ان کے ساتھ نتھيا گلی کی چوٹی پر گھوڑے پر سوار ہو کر نہ جا سکا کہ ميری بيگم کی طبيعت اچانک کچھ ناساز ہو گئی تھی
معذرت تو ميں بھی فوراً سے پيشتر کر ليتا ہوں ليکن آپ جو ميرے پاؤں تَلے کی دَری 2 بار کھينچ چکی ہيں کہہ کر کہ آئيندہ تبصرہ نہيں کريں گی اگر ميں گر گيا تو پھر آپ رونا نہيں
جانور بھی عقل رکھتے ہیں - 66,988 بار
جُرمِ عظیم ہے مؤمن اور ذہین ہونا - 17,255 بار
| 2019-11-17T08:19:14
|
http://www.theajmals.com/blog/2012/01/%D8%A2-%D8%A8%D9%8A%D9%84-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%B1/
|
سلطان قابوس کا انتقال۔۔۔۔ عمان کے نئے سلطان کون ہونگے ؟ اعلان کردیا گیا - BOL News Urdu - بول نیوز اردو
سلطان قابوس کا انتقال۔۔۔۔ عمان کے نئے سلطان کون ہونگے ؟ اعلان کردیا گیا
مرحوم سلطان قابوس بن سعید کے چچا زاد بھائی ہیثم بن طارق السعید کو عمان کا نیا سلطان بنا دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ہیثم بن طارق السعید نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ العربیہ کے مطابق سلطنت عمان کے مرحوم سلطان قابوس بن سعید نے وفات سے قبل اپنے جاں نشیں کا اعلان نہیں کیا تھا تاہم اس حوالے سے ایک خفیہ وصیت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں سلطان نے اپنے جاں نشیں کا نام تحریر کروایا۔1996 میں منظور کیے جانے والے آئین میں یہ بات موجود ہے کہ سلطان کو وصیت میں بو سعید خاندان سے اپنے جاں نشیں نامزد کرنا ہو گا۔
یہ وصیت شاہی خاندان کی کونسل کے سامنے کھولی جائے گی۔ عمانی آئین کے مطابق اگر شاہی خاندان کی کونسل کا 3 روز کے دوران سلطان کے جاں نشیں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو ایسی صورت میں دفاعی کونسل پر لازم ہو گا کہ وہ ریاست کی کونسلوں، شوری اور عدالت عظمی کے سربراہان کی شرکت کے ساتھ سلطان کے اختیار کا عمل انجام دے۔ سلطان قابوس کی کوئی اولاد نہیں تھی لہٰذا ان کی جاں نشینی کے لیے 3 گردش میں رہے۔
ان میں سلطان قابوس کے چچا زاد بھائی اور وزیراعظم اسعد بن طارق (65 سالہ) کے علاوہ سلطان کے دو سوتیلے بھائی وزیر ثقافت ہیثم (65 سالہ) اورعمان کی بحریہ کے سابق سربراہ شہاب (63 سالہ) شامل ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرثقافت رہنے والے ہیثم بن طارق السعید اب نئے سلطان کے طور پر منتخب ہوگئے ہیں۔الجزیرہ ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی اس اطلاع کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔
کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کرفیو کا نفاذ اور شادی تقریبات پر…
اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے، شہری سڑکوں پر نکل…
کرایہ مانگنے پر 64 سالہ مالک مکان کا سر ہی قلم کردیا گیا، افسوس…
| 2020-08-03T17:54:45
|
https://www.bolnewsurdu.com/news/international-news/Story/22028/
|
انٹارکٹکا میں بحیرۂ راس کو مکمل تحفظ دینے پر اتفاق - BBC News اردو
http://www.bbc.com/urdu/science-37795917
تصویر کے کاپی رائٹ JOHN B. WELLER
تصویر کے کاپی رائٹ KELVIN TRAUTMAN
تصویر کے کاپی رائٹ PEW
| 2018-03-23T15:48:29
|
http://www.bbc.com/urdu/science-37795917
|
آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر
آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر
آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اپیل دائر کر دی گئی۔
توہین رسالتﷺ کے الزام میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے شہری قاری سلام نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور غلام مصطفی چوہدری کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آسیہ بی بی نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا اس کے باوجود ملزمہ کو بری کردیا گیا۔
اپیل میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے توہین رسالتﷺ کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا تھا۔
آسیہ بی بی پرالزام تھا کہ انہوں نے جون 2009ءمیں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان میں توہین آمیز جملے استعمال کیے تھے۔
آسیہ بی بی کو توہین رسالتﷺ کے الزام میں 2010ءمیں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔
ٹیگز آسیہ بی بی توہین رسالت سپریم کورٹ سزائے موت
| 2019-01-22T16:19:50
|
https://sahafi.pk/%D8%A7%D9%93%D8%B3%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C/
|
دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم زخمی کشمیر ی طالبعلم کی ہلاکت سے کشمیر میں ہلاک شدگان کی تعداد 31ہو گئی - Urdu Tahzeeb
Home » کشمیر » دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم زخمی کشمیر ی طالبعلم کی ہلاکت سے کشمیر میں ہلاک شدگان کی تعداد 31ہو گئی
دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم زخمی کشمیر ی طالبعلم کی ہلاکت سے کشمیر میں ہلاک شدگان کی تعداد 31ہو گئی
2115 Views جولائی 12, 2016 July 12, 2016 Urdu Staff 0 Comment سری نگر, وادی کشمیر
سری نگر:کشیدگی کی شکار وادی کشمیر میں موت کا رقص جاری ہے اور منگل کو دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک جواں سال طالبعلم کے زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہوگئی ہے۔
اِن میں سے 30 ہلاکتیں جنوبی کشمیر جبکہ ایک ہلاکت گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ہوئی ہے۔ ہلاک شدگان میں ایک پولیس ڈرائیور بھی شامل ہے۔ پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 500 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اِن میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے قریب 60 شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک درجن افراد کو بندوق کی گولی کے زخم لگے ہیں جن میں سے قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد تشدد کی ایسی لہر آئی جو تاحال تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے تاحال سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی قریب 20 کمپنیاں( 2 ہزار اہلکار) یہاں بھیجی جاچکی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جنوبی ضلع اننت ناگ کے بج بہاڑہ میں گذشتہ شام تین افراد ا±س وقت زخمی ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو پہلے مقامی اسپتال اور بعد میں سری نگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں عامر نذیر لتو نامی ایک جواں سال نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گولیاں عامر کے سینے میں پیوست ہوئی تھیں۔
بتایا جارہا ہے عامر دہلی یونیورسٹی سے کامرس میں ماسٹرس ڈگری (ایم کام) کررہا تھا اور چند دن قبل ہی تعطیلات پر وادی آیاتھا۔ عامر کی نماز جنازہ بج بہاڑہ کی شہید پارک میں پڑھی گئی جس میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں افرادنے شرکت کی۔ وادی کے اسپتالوں میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو بدستور نافذ ہے۔ وادی اور خطہ جموں میں انٹرنیٹ خدمات اور شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے جموں خطہ کے بانہال تک چلنے والی ریل سروس بھی بدستور معطل ہے۔ وادی میں 10 جولائی کی شام سے 11 جولائی کی شام تک 9 افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تھے۔
اِن میں سے سب سے زیادہ چھ کا تعلق ضلع کولگام سے تھا۔ اِن کی شناخت یاسمینہ، فیروز احمد، شاہد حسین بٹ، زبیر کھانڈے، نذیر احمد شیخ اور مشاق احمد ساکنان ضلع کولگام جبکہ شاہد گلزار ساکنہ شوپیان، عبدالرشید ساکنہ پلوامہ اور بلال احمد شاہ ساکنہ اننت کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ جبکہ9 اور 10 جولائی کو سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے 21 نوجوانوں کی شناخت ثاقت منظور میر ساکنہ کھندرو اچھہ بل، خورشید احمد بٹ ساکنہ ہروت کولگام، سفیر احمد بٹ ساکنہ چراری گام اننت ناگ، عادل بشیر ساکنہ ڈورو اننت ناگ، عبدالحمید موچی ساکنہ آرونی کولگام، دانش یعقوب شاہ ساکنہ اچھہ بل اننت ناگ، جہانگیر احمد گنائی ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، شوکت احمد میر ساکنہ حسن پورہ بج بہاڑہ اننت ناگ، آزاد حسین ساکنہ شوپیان، اعجاز احمد ٹھوکر ساکنہ سلہ گام سیر ہمدان اننت ناگ، محمد اشرف ڈار ہل پورہ کوکرناگ اننت ناگ، حسیب احمد گنائی ساکنہ بتہ پورہ کھنہ بل، امتیاز احمد منڈو ولد محمد شفیع ساکنہ منڈ پورہ کھنہ بل اننت ناگ، معشوق احمد ساکنہ کنڈ قاضی کولگام، محمد الطاف راتھر ساکنہ راجپورہ پلوامہ، فیاض احمد میر ساکنہ لتر پلوامہ، عرفان احمد ملک ساکنہ ورون نیوہ پلوامہ، گلزار احمد پنڈت ساکنہ موہن پورہ شوپیان، شبیر احمد میر ساکنہ ٹینگ پورہ بائی پاس سری نگر، فیروز احمد (پولیس اہلکار)، زبیر احمد ساکنہ کیموہ کولگام کی حیثیت سے کی گئی تھی۔دریں اثنا ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کل ایک بار پھر وادی میں امن کی بحالی اور جان و مال کے نقصان کو روکنے کے لئے عوام سے تعاون کرنے کہا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت امن کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے تاہم اس ضمن میں لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ وہ یہاں اپنے پرائیویٹ آفس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور معزز شہریوں کے ساتھ بات چیت کررہی تھیں۔ محترمہ مفتی نے کہا ہے ’ میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں بشمول سیاسی لیڈروں، مذہبی رہنماوں اور معزز شہریوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ موجودہ حالات کے تناظر میں آگے آکر امن کی بحالی میں حکومت کی مدد کریں‘۔
انہوں نے دوران بات چیت کہا ہے کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کو صبر و تحمل برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ انسانی جانوں کے زیاں کو روکا جاسکے۔محترمہ مفتی نے کہا کہ ہمارے نوجوان کی ایک نسل پہلے ہی تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے اور اب اس سلسلے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ یہاں کے نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور انہیں تشدد پر آمادہ کرتے ہیں۔ (یو ا ین آئی)
Title: One more youth succumbs death toll 31 in Urdu | In Category: کشمیر Kashmir Urdu News
Tags: سری نگر, وادی کشمیر
← معروف براڈ کاسٹر آغا ناصر کا اسلام آباد میں انتقال
سیکورٹی فورسوں پر پتھراؤ کرنے کے بجائے بحالی امن میںتعاون کریں: کشمیریوں سے مولانا عمیر الیاسی کی اپیل →
وادی کشمیر میں 122 ویں روزبھی عام زندگی مفلوج رہی
| 2018-09-22T05:23:46
|
https://www.urdutahzeeb.com/kashmir/one-more-youth-succumbs-death-toll-31/
|
حکومت آسام کا وزارت اقلیتی اُمور کو ترقیاتی تجاویز کاادخال - The Siasat Daily
Home / ہندوستان / حکومت آسام کا وزارت اقلیتی اُمور کو ترقیاتی تجاویز کاادخال
حکومت آسام کا وزارت اقلیتی اُمور کو ترقیاتی تجاویز کاادخال
August 8, 2014 ہندوستان Leave a comment
گوہاٹی۔/7اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت آسام نے ریاست میں ہمہ شعبہ جات ترقیات کیلئے پروگرام کی تجاویز جس کے مصارف ممکنہ طور پر 605.16 کروڑ روپئے ہوسکتے ہیں، مرکزی حکومت کو روانہ کی ہے۔ ریاستی اسمبلی کو آج یہ بات بتائی گئی۔ اے آئی یو ڈی ایف ایم ایل اے مجیب الرحمن کی جانب سے وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائ
گوہاٹی۔/7اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت آسام نے ریاست میں ہمہ شعبہ جات ترقیات کیلئے پروگرام کی تجاویز جس کے مصارف ممکنہ طور پر 605.16 کروڑ روپئے ہوسکتے ہیں، مرکزی حکومت کو روانہ کی ہے۔ ریاستی اسمبلی کو آج یہ بات بتائی گئی۔ اے آئی یو ڈی ایف ایم ایل اے مجیب الرحمن کی جانب سے وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے پارلیمانی امور نیلامنی سین نے کہا کہ جن تجاویز کا ادخال عمل میں آیا ہے ان پر وزارت اقلیتی اُمور غور و خوض کررہی ہے۔ نیلامنی سین نے وزیر برائے اقلیتی بہبود و ترقیات نذرالاسلام کی جانب سے کہا کہ 12ویں پنجسالہ منصوبہ کے مطابق مجوزہ تجاویز پر عمل آوری کے لئے 525.26 کروڑ روپئے حکومت ہند کی جانب سے مختص کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطیر رقم آسام کے118اقلیتی بلاکس اور ایک اقلیتی ٹاؤن کی ترقیات کیلئے مختص کئے جانے کا اشارہ ملا ہے۔12ویں پنجسالہ منصوبہ کے تحت مرکز نے 2013-14 1.20 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔
نابالغ لڑکی کا اغواء اور عصمت ریزی کرنے والا نوجوان گرفتار
تھانے۔/7اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) تھانے کے میرا روڈ میں ایک 25سالہ نوجوان کو اپنے ہی رشتہ دار کی ایک نابالغ لڑکی کا مبینہ اغواء اور عصمت ریزی کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ میرا روڈ پولیس اسٹیشن انسپکٹر دھننجے شیرساگر نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم روی کمار چورسیا کا تعلق یو پی کے شہر لکھنؤ کے ایک موضع سے ہے جو میرا روڈ میں بحیثیت پینٹر برسر کار تھا ۔ گذشتہ سال اپنے ہی ایک رشتہ دار کی 14سالہ لڑکی سے اس کی دوستی ہوگئی۔ 30جون کو ملزم لڑکی کو بھائندرنامی علاقہ کے ایک سنسان مقام پر لے گیا اور اس کی عصمت ریزی کی۔مسٹر ساگر نے کہا کہ ملزم لڑکی کو لکھنؤ لے گیا اور وہاں بھی اس سے شادی کرنے کے وعدہ پر کئی بار اس کی عصمت ریزی کی۔
Previous بیرون ملک تعلیم کیلئے قرض پر سود میں سبسڈی
Next خواتین پر مظالم پر مباحث میں راہول گاندھی کی دلچسپی
Golden opportunity for unemployed youths of TS, AP - @TheSiasatDaily https://t.co/8GeXjocMAx32 mins ago
| 2018-06-18T05:50:45
|
https://urdu.siasat.com/news/%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85%D8%AA-%D8%A2%D8%B3%D8%A7%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D9%88%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%82%D9%84%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%D9%8F%D9%85%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D8%B1%D9%82-619902/
|
بات چیت کے گن میں مہارت | صداقت آجکل
بات چیت کے گن میں مہارت – صداقت آجکل
You are here : صداقت آجکل » ماریہ انور » بات چیت کے گن میں مہارت
رسمی بات چیت کو انگریزی زبان میں اسمال ٹاک کا نام دیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی نشے کا مریض اپنی ازسرِ نو بحالی کے تجربے سے گزرتا ہے اس کو ابتدائی کچھ ہفتوں تک رسمی بات چیت میں مشکل آتی ہے کیونکہ اس نے یہ ہفتے اپنے رویوں کی تبدیلی کے طریقے سیکھنے میں گزارے ہوتے ہیں۔ اس مشکل کا آسان حل یہ ہے کہ آپ درج ذیل عنوانات پر تھوڑی بہت معلومات حاصل کریں اور اس کو اپنی روز مرہ گفتگو میں شامل کریں۔ سب سے زیادہ عام فہم اور تواتر سے ابھر کر سامنے آنے والے عنوانات ہیں جو کہ صرف بحالی پانے والے نشے کے مریض کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر کسی کہ لئے روز مرہ کی گفتگو کے استعمال میں آنی والی تجاویز ہیں جو کہ یہ ہیں:
(i) موسم
(ii) فلم اور ڈرامہ
(iii) کھیل
(iv) خبریں
اب ہم ان عنوانات پر مہارت حاصل کرنے کے لئے کچھ طریقوں پر غور کرتے ہیں۔
موسم کو نوٹ کرنے کی عا دت ڈال لیں ذہنی طور پر مکمل موجود رہتے ہوئے دیکھیں کہ آج زیادہ دھوپ ہے یا سردی ہے، یا موسم خوشگوار ہے۔ پھر اسی طرح سے آپ ان جملوں/سوالوں میں بے ساختگی ڈال کر اختیا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ
(i) آج موسم بہت خوشگوار ہو رہا ہے، ہے نا؟
(ii) آج بہت گرمی تھی، پتہ نہیں رمضان کیسے گزرے گا؟ اس میں مزاح کا پہلو شامل کر لیں تو بات اور اچھی اور خستہ ہو جائے گی جیسے:
(iii) اتنی سردی میں یہ بادل آپ کی دعا کا نتیجہ تو نہیں؟
میڈیا کے ذریعے ترویج پانے والے ڈرامہ سیریل ہر خاص و عام کی زباں پر ہوتے ہیں ان کے لیے آپ Humtv.Comیا کسی بھی ڈرامہ کے چینل کی ویب سائٹ پر جا کر ڈرامہ سیریلز کے ٹائٹلز دیکھیں، ان کے اداکاروں کے نام اور کہانی پر نظر ڈالیں اور ان کو کبھی کبھی دیکھنا شروع کریں۔ ان سب کو دیکھنا ضروری نہیں کوئی ایک بھی جو پسند آ جائے اس کو دیکھیں۔ اس طرح آپ کے پاس رول اور کہانی پر گفتگو کرنے کا ایک عنوان مل سکتا ہے۔
اگر آپ ایک ایسے شخص ہیں جو کہ کھیل سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے تو پریشان نہ ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں روز ایک کھیل کی Website کو کم سے کم 5منٹ دیں۔ پھر ہفتے میں فرق دیکھیں۔ بنیادی طور پر بڑے کھیل 3 ہیں:
(i) فٹ بال
(ii) کرکٹ
(iii) ٹینس
اسکے علاوہ گرائڈ پری ریس، باسکٹ بال، ہاکی، کشتی، رگبی اور کئی کھیل اور ہیں ان میں سے 3 کا انتخاب کریں اور ان کو Follow یعنی کہ ان پر کڑی نظر رکھیں تاکہ بات کرتے ہوئے اپنے نقطہء نظر کیساتھ مضبوطی سے کھل کے بارے میں بات کر سکیں۔
سب سی آسان اور عام فہم عنوان بحث ومباحثہ اور بات چیت کرنے کی خبریں ہیں آج کل خبروں کے چینلز کی بھرمار کی وجہ سے یہ سب سے آسان عنوان ہے اور پھر کچھ ٹاک شوز دیکھنے کے بعد بندہ تجزیئے کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے اس کے لئے ٹی۔وی ہی کافی ہے مگر اخبار بھی کارگر ثابت ہو گی۔
کل 45 منٹ کی ریاضت آپ کی بات چیت کے ہنر کو بہت اعلیٰ معیار کا کر سکتی ہے اگر آپ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہوں تو منفرد یا من پسند جملے اس سے اقتباس کر کے اپنے دوستوں کو سنا کر محظوظ ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ دن کا حال چال، راستہ کی تھکن اور ایسے کئی عنوانات ہیں جن پر بات چیت کا انحصار ہو سکتا ہے۔
خود اعتمادی کا انحصار انسان کی اپنی سوچ پر ہے۔ اگر اپ کی اپنے بارے میں منفی سوچ ہے تو ...
| 2017-11-24T03:33:41
|
http://sadaqataajkal.sadaqatclinic.com/small-talk/
|
خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !! | QALAMDAN
Home / اسلام / خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !!
خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !!
Babar 29/06/2020 اسلام Leave a comment 39 Views
اَلاَنعام ، اٰیت 1 تا 3 🌹
خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !! 🌹 { 2 } 🌹
ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 الحمد
للہ الذی خلق
السمٰوٰت والارض
وجعل الظلمٰت والنور
ثم الذین کفروا بربھم یعدلون 1
ھوالذی خلق منکم من طین ثم قضٰی
اجلا واجل مسمٰی ثم انتم تمترون 2 وھو اللہ
فی السمٰوٰت و فی الرض یعلم سرکم و جھرکم و یعلم
ما تکسبون 3
ہر اُس جان دار اور ہر اُس جہان دار مخلوق کے لیۓ اللہ کی ذات کو جاننا لازم ھے جس نے ہر جان دار و ہر جہان دار مخلوق کو پیدا کیا ھے اور جس نے ہر جان دار و جہان دار مخلوق کے حَدِ سفر کے لیۓ زمین اور حَدِ نظر کے لیۓ آسمان بناۓ ہیں اور پھر اِن زمین و آسمان کے درمیان اَندھیرا و اُجالا پیدا کیا ھے لیکن اِس کے باوجود بھی اُس خالق کی ایک مُنکر مخلوق اُس کے وجود کے بارے میں مُنصفانہ طرزِ فکر اختیار نہیں کرسکی حالانکہ وہ وہی خالق ھے جس نے تُم کو مِٹی کی خود کار و خود اِختیار فطرت کے اُصولِ پیداٸش کے مطابق پیدا کیا ھے ، پھر فطرت کے اسی اُصول کے مطابق اُس نے تُمہاری زندگی اور موت کی ایک مُدت مقرر کی ھے لیکن اِس کے بعد بھی جب تُم شُبہات کا شکار ر ھے تو اُس نے زمین و آسمان میں تُمہاری خبر گیری کے لیۓ ایک ایسا نظامِ خبر داری بھی قاٸم کردیا ھے جس کے تحت تُمہارے سارے خاموش خیال اور تُمہارے سارے پُرجوش اَعمال اُس پر عیاں ھوتے رہتے ہیں !
🌹 رَبوبیت و تَخلیق اور تَنزیل ! 🌹
اِس مضمون کی پہلی تحریر میں یہ بات تَحریر کی جاچکی ھے کہ سُورةُالاَنعام قُرآنِ کریم کی اُن پانچ سُورتوں میں سے ایک سُورت ھے جن پانچ سُورتوں کا آغاز ” الحمد للہ “ سے ھوتا ھے اور جن پانچ سُورتوں کا آغاز ” الحمد للہ “ سے ھوتا ھے اُن پانچوں سُورتوں میں اللہ کے اِس قولی تعارف ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے کارِ تَخلیق اور مَقصدِ تَخلیق کا ذکر کیا گیا ھے ، اِس مضمون کی سب سے پہلی سُورت ، سُورتِ فاتحہ ھے جس میں اللہ کے اِس پہلے تعارف کے بعد اُس کی پہلی صفت رَبوبیت کا ذکر کیا گیا ھے اور ربوبیت کے اِس ذکر کا مقصد انسان کو یہ بتانا ھے کہ اللہ نے اپنے اِس جہان میں جو مخلوق پیدا کی ھے اُس مخلوق کی پرورش کے لیۓ اُس نے آب و گِل کے قُدرتی اِتصال کے ذریعے ایک ایسا قُدرتی اِنتظام بھی کردیا ھے کہ جس انتظام کے تحت وہ مخلوق اُس کے ایک مُسلسل حُکمِ کُن کے مطابق ایک تَسلسل کے ساتھ پیدا بھی ھوتی رہتی اور پروان بھی چڑھتی رہتی ھے ، مثال کے طور پر اُس مہین سے بیج کو دیکھا جا سکتا ھے جو مِٹی میں اُتر کر زمین سے نَم ، خلا میں اُبھر کر فضا سے کاربن ، سُورج سے حرارت و روشنی لیتا ھے اور درخت بن جاتا ھے ، انسان اِس کی شاخ و جَڑ کو جلاتا ھے تو زمین کا نَم ، فضا کا کاربن اور سُورج کی حرارت و روشنی دُھواں بن کر اُڑجاتی ھے اور لَکڑی راکھ بن کر زمین میں رہ جاتی ھے ، دیکھیں تو درخت کا نام و نشان نہیں ھے ، سوچیں تو نمی ، حرارت اور روشنی مُرکب Compound سے نکل کر بسیط Extend میں چلی گٸ ھے اور راکھ جو نَقدِ زمین تھی وہ نذرِ زمین ھو گٸ ھے ، مزید غور کرنے پر مزید معلوم ھو گا کہ درخت کا مُرکب ٹوٹ کر زمین کو بیج کی صورت میں کروڑوں نۓ مُرکبات دے گیا ھے ، پہلی صورت عالَمِ نظر ھے اور دُوسری عالَمِ دِگر ، دُنیا کی ہر ایک شٸ دُنیا میں تعمیر کے اِثبات اور تخریب کی نَفی کے درمیان اسی طرح ڈوبتی اُبھرتی رہتی ھے ، سُورةُالفاتحہ کے پہلے ” الحمد للہ “ کے بعد بیان کیۓ گٸے اللہ کے اِس کارِ ربوبیت کا پہلا تُحفہ زندگی اور ارتقاۓ زندگی ھے جس کے تحت ربوبیت کا یہی دَستِ حکمت کار موت سے زندگی کو اور زندگی سے موت کو نکال رہا ھے ، اللہ کے اِس تعارف کا قابلِ ذکر پہلو یہ ھے کہ قُرآن نے اللہ کے خالق ھونے کا 241 بار اور اُس کے رب ھونے کا 973 بار ذکر کیا ھے جو اِس بات کی دلیل ھے کہ اگر اللہ کا خالقِ کاٸنات ھونا اُس کا کارِ عظیم ھے تو اُس کا کاٸنات کا پرورش کار ھونا اُس کا کارِ عظیم تَر ھے ، قُرآن کی پہلی سُورت کے پہلے ” الحمد للہ “ اور اِس دُوسری کے دُوسرے ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے اسی عملِ تخلیق کے عِلمِ تخلیق کو پیش کیا گیا ھے ، الحمد للہ کی صورت میں اللہ کا تیسرا مقامِ تعارف قُرآن کی سُورةُالکہف ھے جس میں ” الحمد للہ “ کے اِس تعارف کے بعد اللہ کی تنزیل کا ذکر کیا گیا ھے جو کاٸنات کا مقصدِ ھے اور اِس میں اِس تنزیل کے بارے میں یہ کہا گیا ھے کہ ہر جان و جہان کا تعارف اور ہر ایک تعارف اُس عظیم ذات کے لیۓ جس نے اپنے عظیم بندے پر وہ عظیم کتاب نازل کی ھے جس میں کسی اُلجھاٶ ، کسی تضاد ، کسی کمی و کجی یا کسی سَہو و خطا کا کوٸ اِمکان نہیں ھے اور اِس تیسرے ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے تعارف کا چوتھا مقام سُورَہِ سبا ھے جس میں انسان کو یہ بتایاگیا ھے کہ اللہ نے انسان اور کاٸنات کو بنانے کے بعد اِن کو پروان چڑھانے کے لیۓ اِرتقاۓ حیات کے خود کار نظام کے سپرد کرکے اِن کو تَنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اللہ اپنی اِس خُداٸ کے ایک ایک ذَرے کے ساتھ خود بھی موجود ھے اور اللہ کے تعارف ” الحمد للہ “ سے شروع ھونے والی پانچویں سُورت ، سُورةُالفاطر ھے جس میں یہ بتایا گیا ھے کہ اللہ اپنی اِس تلاشی اور تَراشی ھوٸ کاٸنات کے ساتھ تَب سے اپنے نَفسِ نفیس کے ساتھ بذاتِ خود موجود ھے جب سے اُس کی یہ کاٸنات موجود ھے اور اِس بات سے یہ بات خود بخود ہی ثابت ھو جاتی ھے کہ اللہ جس طرح اپنی اِس کاٸنا کے آغازِ کار کا نگران ھے اسی طرح وہ اپنی اِس کاٸنات کے اَنجام کا بھی نگران ھے اور انسان بھی اُس کی نگرانی میں ھے !
🌹 لُغاتِ اٰیات اور نُکاتِ اٰیات ! 🌹
سُورةُالاَنعام کی اِن تین اٰیات میں آنے والے تین اَلفاظ ، ظُلمات و نُور اور ” طین “ وضاحت طلب ہیں ، ظُلمات ظُلمت کی جمع ھے اور ظُلمت کا معنٰی تاریکی ھے اور اِس مقام پر ایک تو وہی تاریکی مُراد ھے جو ہر روز غروبِ آفتاب کے بعد ہر دیکھنے والی نظر کو نظر آتی ھے اور اِس تاریکی کو ہر روز طلوعِ آفتاب کی روشنی آتی ھے اور فنا کرکے چلی جاتی ھے اور دُوسری تاریکی سے مُراد کُفر و شرک کی وہ تاریکی ھے جو دِل کی زمین پر آتی رہتی ھے اور آفتابِ قُرآن کی روشنی اِس تاریکی کو فنا کے گھاٹ اُتارتی رہتی ھے ، ظُلمات کے مقابلے میں جس نُور کا ذکر کیا گیا ھے وہ اَزل سے اَبد تک ایک مُطلق و مُجرد نُور ھے اِس لیۓ ظُلمات کی ساری تارکیوں کے مقابلے میں اِس مجرد نُور کا ایک بار ہی ذکر کیا گیا ھے ، اِس سلسلہِ کلام کا تیسرا قابلِ تشریح لفظ ” طین “ ھے جس کا ترجمہ عام طور پر مِٹی کیا جاتا ھے لیکن دَرحقیقت ”طین “ کا معنٰی فطرت ھے جس سے اُردو زبان کا لفظِ ” بَد طینت “ بنا ھے ، مِٹی کی فطرت میں تابع داری اور وفاداری ھے ، لہٰذا اِس کو قُدرت نے جو چیز اُگانے اور جس چیز کا جو ذاٸقہ بنانے کا حکم دیا ھے ، یہ وہی چیز اُگاتی ھے اور اُس کا وہی رنگ اور وہی ذاٸقہ بناتی ھے جو اُس کی فطرت میں اُس کی فطرتِ ثانیہ بنا کر شامل کیا گیا ھے اور قُرآن انسان کی تعمیر کے حوالے سے جس طین کا ذکر کرتا ھے اُس سے یہی اَمرِ فطرت مُراد ھوتا ھے جس سے انسان اعراض کرکے نافرمانی کا ثبوت دیتا ھے ، انسان کے اِس رویۓ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ھے کہ اِس کی فطرت میں تو یہی مِٹی ھے اور یہی مِٹی کی خاکساری ھے لیکن اِس کا نفس اور اِس کے اہلِ نفس کا ماحولِ نفس اِس کو مُسلسل بغاوت پر اُکساتا ھے اور اِس کی اِس معاشرتی بغاوت کا علاج اِس کتاب کی با مقصد تلاوت ھے جو اِس کی قلبی و نظری اور فکری و رُوحانی اصلاح کے لیۓ نازل کی گٸ ھے !!
| 2020-08-03T22:53:27
|
https://qalamdan.net/archives/9419
|
3 ہزار ہندوﺅں کااسلام قبول کرنے کا اعلان، پورے بھارت
3 ہزار ہندوﺅں کااسلام قبول کرنے کا اعلان، پورے بھارت میں ہلچل مچ گئی
بنگلور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست تامل ناڈو کے 3 ہزار ہندو دلتوں نے اگلے ماہ اسلام قبول کرنے کا اعلان کرکے پورے بھارت میں ہلچل مچادی۔ دلتوں کا کہنا ہے کہ انہیں ذات پات کی بنا پر امتیازی سلوک اور ذہنی و نفسیاتی تشدد کا سامنا ہے۔
دلتوں کا یہ فیصلہ میتو پالایم میں دلت کمیونٹی کو اونچی ذات کے ہندوﺅں سے دور رکھنے کیلئے تعمیر کی گئی دیوار گرنے کے باعث 17 دلتوں کی موت کے بعد سامنے آیا ہے۔ 20 فٹ اونچی دیوار جسے ’ ذات کی دیوار‘ کہا جاتا تھا ، 5 برس پہلے تعمیر کی گئی تھی جس کا مقصد دلتوں کو اپنے اونچی ذات کے ہمسائیوں سے الگ رکھنا تھا ، یہ دیوار 5 دسمبر کو شدید بارشوں کے باعث گر گئی تھی۔
بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے دلتوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم تامل پولیگال کچی (ٹی پی کے) کے جنرل سیکرٹری الاوینل نے کہا کہ ’ ہمیں دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے ، 6 مہینے پہلے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب بہت ہوگیا، اب ہم نے مذہب ہی تبدیل کرلینا ہے، دیوار گرنے کے واقعے نے ہمارے ارادوں کو مزید پختہ کردیا ہے ، مذہب کی تبدیلی کے ساتھ ہم ذہنی سکون پاسکیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جو 3 ہزار دلت اسلام قبول کریں گے وہ تمام لوگ ٹی پی کے کے ممبرز ہیں، جب ایک مذہب ہماری زندگیوں کی پرواہ ہی نہیں کرتا تو ہم کیوں قربانیاں دیں۔
دلتوں کو اونچی ذات کے ہندوﺅں سے علیحدہ کرنے کیلئے دیوار ’ندور‘ گاﺅں میں تعمیر کی گئی تھی، گاﺅں کے دلتوں کا کہنا ہے کہ دیوار کو تعمیر تو کردیا گیا لیکن اس کو سہارا دینے کیلئے کوئی ستون نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے دیوار گری اور 17 لوگ مارے گئے۔
ایک اور قریبی گاﺅں سالم سے تعلق رکھنے والے رنجیت نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کا سلسلہ 5 جنوری 2020 سے شروع ہوگا، اس روز ’ٹی پی کے‘ کے 200 ارکان اسلام قبول کریں گے جس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہے گا، ’ ہماری تنظیم کے تمام لوگوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ہماری تعداد 3 ہزار ہے اور ہم سب لوگ آئندہ چند ماہ میں مسلمان ہوجائیں گے۔‘
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امتیازی سلوک سے تنگ آئے دلت اجتماعی طور پر اسلام قبول کر رہے ہوں۔ 1981 میں اس وقت ریاست تامل ناڈو ہل کر رہ گئی تھی جب 800 دلتوں کے اسلام قبول کرنے کی خبر آئی تھی۔ بی جے پی کے دور حکومت میں میناکشی پورم گاﺅں کے 300 خاندانوں نے اسلام قبول کیا تھا جس کے باعث ریاست کے باہر بھی آوازیں اٹھی تھیں، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے اسلام قبول کرنے کے معاملے پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی خود اس گاﺅں میں گئے تھے تاکہ دلتوں کے اسلام قبول کرنے کی وجوہات کا جائزہ لے سکیں۔
| 2020-01-24T01:29:23
|
https://dailypakistan.com.pk/26-Dec-2019/1069414
|
صدر اوباما کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں کی تصدیق
خبریں صدر اوباما کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں کی تصدیق جنوری 31, 2012
امریکی صدرباراک اوباما نے پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف ڈرون حملے کرنے کی پہلی بار باضابطہ طور پرتصدیق کرتے ہوئےان کا بھرپورانداز میں دفاع کیا ہے۔
پیر کی شب ایک آن لائن ٹاؤن ہال مباحثے میں حصے لیتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ ان کارروائیوں کا ہدف القاعدہ اوراس کے حامی ہیں، اور زیادہ تریہ حملے وفاق کے زیرانتظام پاکستان کے قبائلی علاقوں یعنی فاٹا میں کیے گئے ہیں۔ افغان سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اورجنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف بغیر ہوا باز کے پرواز کرنے والے جاسوس طیارے یعنی ڈرون سے میزائل حملوں کا سلسلہ 2004 ء میں شروع کیا گیا تھا۔
لیکن امریکہ نے براہ راست کبھی بھی ان کا اعتراف نہیں کیا۔ البتہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام ان کارروائیوں اور ان میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو باقاعدگی سے جاری کرتے آئے ہیں۔
صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ ’’خواہ مخواہ‘‘ ان کی اجازت نہیں دیتا اور یہ آپریشنز ’’بالکل ٹھیک اور درست حملوں‘‘ کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کا ہدف وہ ’’سرگرم دہشت گرد‘‘ ہیں جن کے ’’ٹھکانوں تک رسائی بہت مشکل ہے‘‘۔
ترجمان عبدالباسط
پاکستان نے امریکی صدر کی جانب سے ڈرون حملوں کی غیر متوقع تصدیق کو بظاہرنظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر انھیں’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ کو بھیجے گئے ایک مختصر(ایس ایم ایس) بیان میں کہا ہے کہ ’’ہمارا موقف واضح اور اصولوں پر مبنی ہے۔ ڈرون حملےغیر قانونی، غیر سود مند اورناقابل قبول ہیں۔‘‘
پاکستان ظاہراً امریکی ڈرون حملوں کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کران کی مذمت کرتا آیا ہے۔ لیکن دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل حملے زمین پر موجود پاکستانی خفیہ ایجنٹوں کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔
وکی لیکس کے توسط سے 2010 ء کے اواخر میں افشا کی گئی خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات نے بھی اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ کھلے عام ڈرون حملوں کی مذمت کرنے والے پاکستان کے سیاسی وفوجی رہنماؤں نے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں غیر سرکاری طور پر ان کارروائیوں کی حمایت کی تھی۔
لیکن گزشتہ سال مختلف واقعات امریکہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی کا باعث بنے ہیں۔
ان میں نومبر میں مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹوں پر امریکی فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت دوطرفہ تعلقات کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی۔ پاکستان نے اس حملے کے ردعمل میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کے لیے رسد لے جانے والے قافلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے جبکہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کی شرائط پر بھی نظر ثانی کی جارہی ہے۔
مزید برآں بلوچستان میں شمسی ائربیس کو بھی امریکہ سے خالی کروالیا گیا ہے جہاں سے پرواز کرنے والے ڈرون طیارے مبینہ طور پر قبائلی علاقوں میں میزائل حملے کررہے تھے۔
امریکی اخبارات سے: ڈرون حملہ
جنوبی وزیرستان میں جھڑپ، اہلکاروں سمیت 14 ہلاک
| 2017-05-25T07:01:08
|
http://www.urduvoa.com/a/us-obama-drone-31jan12-138374269/1139406.html
|
امریکا نے مزید 3 پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائدکردی | | Pak Alerts
امریکا نے مزید 3 پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائدکردی
January 5, 2018 Pakalerts Urdu 0 Comments امریکا نے مزید تین پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائد کر دی
امریکا نے مزید تین پاکستانیوں اور ایک تنظیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔
حیات اللہ،علی محمد ابو تراب اور عنایت الرحمان اور جماعت الدعوۃ کی ویلفیئراینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان افراد اور تنظیم پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگایا گیا ہے۔
امریکی بلیک لسٹ میں ان افراد اور تنظیم کو پانچ نومبر دوہزار سترہ میں شامل کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق حاجی حیات اللہ کا تعلق لشکر طیبہ، القاعدہ، طالبان و دیگر کالعدم تنظیموں سے ہے، عنایت الرحمان جماعت الدعوۃ القران و سنہ کا سینئر رہنما ہے،علی محمد ابو تراب پر لشکر طیبہ کے لیے ہزاروں ڈالر خلیجی ممالک سے جمع کر کے طالبان کی تربیت پر خرچ کرنے کا الزام ہے۔
← جوڈیشل ایکٹوازم کا بالکل شوق نہیں، چیف جسٹس پاکستان
ڈی آئی خان میں آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک →
| 2018-01-21T08:56:58
|
http://pakalerts.net/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-3-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AA%D9%86%D8%B8%DB%8C/
|
ادرک کے فوائد بے شمار – Urdu Now
ادرک کو اردو میں ادرک‘ ہندی میں سو ُنٹھ اور انگریزی میں جنجر کہتے ہیں۔ اس کا تذکرہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے‘ جہاں اسے زنجبیل کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پائی جانے والی نعمتوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ ”وہاں انہیں (مسلمانوں کو) ایسا مشروب پلایا جائے گا جس میں ادرک بھی ملا ہوا ہو گا۔“ یونانی اطباءنے اپنی کتاب میں کئی جگہ اس کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً حکیم جالینوس نے اسے فالج میں مفید بتایا ہے۔ کئی حکماءکا خیال ہے کہ چین کی مشہور بوٹی ”جن سنگ“ دراصل ادرک ہی کی ایک قسم ہے۔ ادرک کو زمانہ قدیم سے خوراک کو لذیذ بنانے او ر علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ادرک جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے‘ خوراک کو ہضم کرنے میں مدد گار ہوتاہے۔ ثقیل او
ہوتاہے۔ ثقیل او ربادی اشیاءسے پیدا ہونے والی تبخیر کو دُور کرنے کے علاوہ نزلہ‘ زکام‘ دمہ‘بلغمی کھانسی اورفالج وغیرہ میں مفید ہے۔اگر بھوک کم یا دیر سے لگتی اور کھانا ہضم نہ ہوتا ہو تو ادرک سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ادرک کے استعمال سے منہ او رسانس کی بدبو ُد ُور ہوتی ہے اور منہ کا خراب ذائقہ ٹھیک ہوتاہے۔ مکھن کے ہمراہ ادرک کھانے سے بلغم ختم ہوتی ہے ‘ادرک معدہ اور دماغ کے لئے مقوی ہے‘ حافظہ کی خرابی کو د ُور کرتا ہے۔ ادرک پیسیں ‘ اسے تیل میں ملا کر مالش کریں تو پٹھوں کا درد ٹھیک ہوجائیگا ۔ ادرک کا استعمال خون کی نالیوں پر جمی ہوئی چربی کی تہیں اُتاردیتا ہے۔
ادرک چبانے سے گلا صاف ہوجاتا ہے۔ادرک کے پانی میں شہد ملا کر دن میںبار بار چٹائیں‘ اس سے ذیابیطس کےمرض میں فائدہ ہوتا ہے۔ ادرک پر ہونے والی حالیہ تحقیق نے اسے معدے کی خرابی‘ گیس ‘جی کا متلانا اور انتڑیوں کی سختی میں مفید قرار دیا ہے۔ ایک تحقیق اسے یرقان کے لئے مفید قرار دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ادرک کے رس میں ہم وزن لیموں ‘پودینے کا رس اورشہد ملاکر دن میں 3مرتبہ استعمال کریں۔ اس نسخے سے بد ہضمی‘جی متلانا‘ بد مزاجی ‘ چڑ چڑا پن اور تھکن د ُور ہوتی ہے۔ ادرک میں غذا کے مضر اثرات کو ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ثقیل غذاﺅں مثلاً اڑد کی دال یا گوبھی میں اسے ملائیں تو یہ غذائیں نہ صرف باآسانی ہضم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کا بادی پن بھی د ُور ہوجاتا ہے۔ ادرک کے چھوٹے ٹکڑوںپرنمک چھڑک کر کھانے سے بھوک کھل ُکر لگتی ہے۔
ادرک کو شر یانوں میں خون جمنے یا گاڑھا ہونے سے روکنے والی بہترین قدرتی دوا سمجھا جاتا ہے۔ اطباءقدیم سے د ُور حاضر کے ہر بل ڈاکٹر تک خون کی شریانوں میںٹکڑوںکو جمنے سے روکنے کے لئے ادرک کا سہارا لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دل کے امراض میں بھی ادرک موثر ہوتی ہے۔ اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ تھوڑی سی پسی ہوئی ادرک کو دونوں وقت کھانے کے درمیان دو بار استعمال کیا جائے۔ پھیپھڑوں میں جانے والی ہوا کی نالیوں تنگی ‘دمہ‘ کالی کھانسی اور تپ دق میں بھی ادرک کا استعمال موثر ہوتا ہے۔ اس کے لئے 2پیالی پانی میں 2کھانے کے چمچے پسی ہوئی ادرک اُبلنے کے لئے رکھ دیں ‘پھر ہر 2گھنٹوں بعد گرم کر کے استعمال کریں
| 2018-03-22T15:58:05
|
https://urdunow.net/2018/02/20/13932/
|
سینئیر رہنما، بشیر بلور سپردِ خاک - URDU.DAWN.COM
سینئیر رہنما، بشیر بلور سپردِ خاک
ڈان اردو تاریخ اشاعت 23 دسمبر, 2012
22 دسمبر 2012 کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن سینیئر صوبائی وزیر بشیر بلور کی میت کو لے جارہے ہیں۔ اے ایف پی فوٹو
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور وزیر، بشیر بلور کی نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید اسٹیڈیم ( آرمی اسٹیڈیم) میں ادا کرنے کے بعد انہیں سید حسن پیر قبرستان منتقل کردیا گیا جہاں انہیں سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔
اس موقع پر صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر، کے علاوہ پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات بھی شریک تھیں۔ جن میں پاکستان پییپلز پارٹی (پی پی پی )، پاکستان مسلم لیگ نواز ( پی ایم ایل ۔ نون)، متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) اور پاکستان مسلم لیگ ق کے اہم رہنما بھی موجود ہیں۔
اے این پی کے کارکنوں کے علاوہ ان کی آخری رسومات میں شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ فوج، پولیس اورایف سی کے 2,000 اہلکاروں نے حفاظتی فرائض انجام دئیے۔
بلور کو شہید حسن پیر قبرستان میں شبیر احمد بلور کے پہلو میں دفن کیا گیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے بھائی اور وفاقی وزیر برائے ریلوے، غلام احمد بلور کے لے پالک بیٹے تھے۔
اس سے قبل، بشیر بلور کے پرسنل سیکریٹری، نورمحمد خان کی نمازِ جنازہ پشاور کے علاقے ککشال میں ادا کی گئی۔ نورمحمد گزشتہ 25 سال سے بلور کے ساتھ تھے جن کی تدفین ان کے آبائی گاوں میں کی جائے گی۔
بشیر بلور اور ان کے ساتھ دیگر آٹھ افراد گزشتہ روز پشاور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ شیئر کریں
انتخابی عمل کی جانچ سپریم کورٹ سے کرانے کی حکومتی پیشکش چوہدری نثار علی خان نے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی پیشکش کی ہے۔ راجہ پرویز اشرف کی ترقیاتی سکیمیں غیرقانونی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے مجاز اتھارٹی کو سابق وزیراعظم کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔
شانزے 24 دسمبر, 2012 05:42 مٹ جاے گی مخلوق تو انصاف کرو گے!!!
شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لینے سے یہ بلا ٹلنے والی نہیں مقبول ترین
.شادی کا ایک نہایت معقول رشتہ لڑکے کے لئے موجود ہے، بس ایک ملازمت کی کمی ہے دو سڑکیں، پانچ نام سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی کی اگر تاریخ مرتب کی جائے تو صدر ٹاؤن، کراچی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ پہلا صفحہتازہ ترینپاکستاندنیاکھیللائف سٹائلرائےملٹی میڈیا کاپی رائٹ © 2013
| 2013-12-06T05:02:52
|
http://urdu.dawn.com/news/44871/funeral-pray-bashir-bilour
|
اس عید کی چاند رات میں یہ بات ساری قوم سے کہنا چاہتا ہوں ،وزیراعظم سے درخواست کرنا چاہتا ہو ں کہ وہ انہیں رہا کردیں،نیب والے اگرسن۔۔۔ عمران خان سے کس کی رہائی کیلئےدو دفعہ کہا ؟ شیخ رشید کا انکشاف
جمعہ 14 اگست 2020 لاسٹ اپ ڈیٹڈ : 18:41
جمعہ 31 جولائی 2020 | 15:35
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرریلوے شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ انہو ں نے وزیراعظم سے دو بار کہا کہ میرشکیل الرحمٰن کو رہا کریں اور اگر نیب والے بھی بات سن رہے ہیں تو مہربانی کریں عید کا موقع ہے بڑا دن ہے حوصلے سے فیصلہ کریں، یہ بات انہو ں نے جیو کے پروگرام میںگفتگو کے دوران کہی ۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ میں موت کو ہاتھ لگا کر آ یا ہو ں میراکورونا سیریس تھا اور میں دو دن آکسیجن پر رہااور اس وجہ سے مجھ میں کمزوری ہے لیکن میں آ پ کو اس لیے
موضوعات:وزیرریلوے شیخ رشیداحمد
| 2020-08-14T13:43:33
|
https://javedch.com/pakistan/2020/07/31/701180
|
انڈیا کی پس ماندہ فوج،جھوٹا میڈیا اور اسکے فوائد – SofiaLog.Blog
sofialog March 12, 2019 مضامین, پاکستان کے نام, اردو, اردو بلاگ
نیویارک ٹائمز کی آج کی اشاعت میں ایک بہت اہم رپورٹ شائع ہوئی جس نے انڈین آرمی کو بہت قدیم اور پسماندہ قرار دیا اور اسکی سٹریٹیجک پاور اور اسلحہ جات کو بوگس اورناکام قرار دیتے ہوئے اس کے پرانے جہازوں ،بڑی فوج کے ساتھ قدیم اسلحہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔جلد ہی یہ خبر دھڑا دھڑ ہر نیوز چینل اور ہر صحافی کی وال پر دھڑا دھڑ پھیلنے لگی تا کہ تمام پاکستانیوں کو اس بات کی خبر اور خوشخبری دے دی جائے کہ دنیا پر ہماری برتری ثابت ہو گئی ہے۔یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ بھارت اور بھارت کے پیچھے سے ہماری لگامیں کسنے کی خواہش مند طاقتوں کے لئے ایک شٹ اپ کال چلے گئی ہےاور ان پر یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کسی کے لئے بھی ایک تر نوالہ نہیں ۔مگر اس ناکامی اور کمزوری کی ایک کھلے عام تصدیق کی بنا پر بھارت اپنے طاقتور دوستوں کے سامنے ان کے حصے کی جنگ لڑنے والا ایک مظلوم سپاہی بھی ثابت ہو گیا جسے ان ساری طاقتوں کے اسلحہ جات میں ،فنڈز میں اور وسائل میں شدید مدد کی ضرورت ہے ۔انڈیا کے پیچھے سے چلنے والی بندوقوں کو یہ بھی اندازہ ہوا کہ اور کتنا اس ہاتھی کو کھلایا جائے گا تو یہ کام کے قابل بنے گا۔سٹار پلس کے ڈراموں اور گھر گھر میں سازشیں سکھانے والا انڈیا کیا یہ نہیں جانتا کہ وہ اس سارے عمل سے کیا فایدہ حاصل کر سکتا ہے؟ایسا نہیں ہے! انڈین عوام،آرمی اور حکمران کی سوچ یقینی طور پر اس بنیے کی ہے جس کے لئے پگڑی سر کے اوپر رکھی جائے یا پیروں میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا جب تک جانیں سلامت ہیں اور فوائد جاری ہیں۔بلکہ ان کے لئے یہ عین ایک سروائیول کی حکمت عملی ہے۔تو اگر تھوڑی سے دھول چاٹنے کے جواب میں اس کے لئے مزید امداد اور جدید اسلحہ کی ترسیل ممکن ہو جاتی ہے تو یہ بھارت کے حق میں ایک بڑی کامیابی ہے۔اگرچہ تھوڑی سی جگہ ہنسائی ہوئ مگر بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہو گا؟ڈاگ فائٹ میں ہونے والی اپنی بے بسی اور بیچارگی کا رونا نریندر مودی نے اپنے خطاب میں بھی خوب رویا ہے اور عوام کو یہ احساس بھی دلایا ہے کہ انکی فوج کی معاشی حالت خاصی کمزور ہے اس لئے ان کے ان روتے ہوے فوجیوں اور انکے خاندانوں کو خموش رہنے کی ضرورت ہے جو ہر وقت سوشل میڈیا پر خوراک کی کمی یا سہولتوں کی عدم دستیابی کا رونا روتے رہتے ہیں۔تو دوسری طرف اس نے انڈین دماغ کو اس بات پر بھی تیار کر لیا کہ انڈین آرمی کے بجٹ کو مزید بڑھانے اور جدید تر اسلحہ خریدنے کی ضرورت ہے۔اب بھارتی فوج کے پاس جذبہ شہادت ہو نہ ہو لیکن امریکہ اور اسرائیل کے جدید تر اسلحہ کی کھلی سپلائی خطے کے لئے ہمیشہ ایک بحرحال خطرہ بن کر رہے گی۔
اسی بات کو زرا مختلف اینگل سے دیکھا جائے تو چند دن پہلے تک ہر جگہ فوج کو گالیاں دینے والے انکی فرصت اور فراغت کا رونا رونے والوں اور انکے بجٹ کو کم کرنے کی دہائیاں دینے والوں کے لئے بھی یہ ایک کھلا سبق ہے کہ کیا ان تمام مطالبات سے وہ اپنی فوج کو یعنی اپنے دفاع کو اس لیول پر لانا چاہتے ہیں جس لیول پر آج انڈیا کی فوج کھڑی ہے۔جبکہ ایسی صورتحال میں کہ انڈیا کی گرتی دیوار کو دھکا لگا کر کھڑے ہونے والے بہت ملک ہیں جبکہ ہماری دیوار پر ہاتھ سوائے ایک ترکی کے اور کسی نے نہ رکھا۔آج یہی فوج جو بقول اکثر دانشوروں کے فارغ بیٹھ کر سہولتیں لیتی ہیں اور جنہوں نے پورے ملک کو ڈی ایچ اے بنا رکھا ہے، کا بجٹ آپ کاٹ دیتے تو کیا اتنے سکون سے اپنے گھروں میں آپ سب سو لیتے جس طرح سے سکون سے پچھلی کچھ راتیں آپ نے گزاری ہیں؟
انڈیا کی میڈیا وار کی بات کی جائے تو ایک بات دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے۔کہ انڈین میڈیا چاہے جتنا بھی جھوٹ بولے سچ تو یہ ہے کہ اسکی آواز دور تک سنی جاتی ہے۔صرف عرب میں انڈیا کے بچوں کی نشریات سے لیکر فلموں ڈراموں تک ہزاروں چینلز عربی ترجمعے کے ساتھ دن رات چلتے ہیں جن پر انڈین میڈیا سے پاکستان کے خلاف بننے والا ہر مواد عربی زبان میں صبح شام ایک دوائ کی طرح انڈیلا جاتا ہے۔جبکہ یہاں پر ایک بھی پاکستانی چینل نہیں جو عرب عوام تک اپنی آواز عربی میں پہنچا سکے۔اگر عرب لوگ شاہ رخ خان یا کرینہ کپور کے دیوانے ہیں تو اس کی وجہ وہی دن رات عربی میں چلنے والے انڈین ڈرامےاور فلمیں ہیں۔یہی حال یقینا یورپ اور امریکہ کا بھی ہو گا۔تو ہمارا میڈیا جتنا چاہے سچ بولے جب تک دوسرے خطے کے لوگوں تک، ان کی عوام تک،ایک غیر اردو فرد تک اپنا سچ نہیں پہنچا پاتا اپنے کھلے تسموں میں ہی الجھ کر بیٹھا رہے گا جبکہ انڈیا کا جھوٹ منٹوں میں ہر ملک کے ہر گھر میں پہنچا دیا جاتا ہے۔میڈیا وار اور پراپیگنڈہ آج کی دنیا کا ایک بہت اہم حصہ ہے اور پاکستانی میڈیا بھی اس بات کی اہمیت جانتا ہے۔مگر ضرورت یہ ہے کہ یہ پراپگینڈا محض اپنی عوام پر کرنے کی بجائے باہر کی دنیا کے سامنے بھی انکی زبان میں حقائق رکھے جائیں تب ہی جا سکتی ہے سچ کی آواز دور تک اور ہر کان تک۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ انڈیا کی ہزمیت سے سبق سیکھا جائے اور دشمن کو کسی بھی صورت میں کمتر نہ لیا جائے۔آج کی کمزور کل کی طاقت بھی بن سکتی ہے۔اس لئے پاکستانی عوام کو انڈین طرز عمل کی نقل کرنے،بڑکیں مارنے،سوخل میڈیا پر للکارنے سے پرہیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔شیخ سعدی نے کہا تھا کہ اگر ڈھینچنے سے گھر بنتے تو گدھا کئی گھر بنا لیتا۔ یاد رکھیں چیخنا چلانا ،نعرے مارنا،بڑکیں لگانا آپ کی اس انرجی کا بیکار ضیاع ہے جو کی ضرورت آپ کو کبھی بھی پڑ سکتی ہے۔پاکستانی عوام کو ضرورت ہے کہ وہ اسے ایک طاقت کی طرح استعمال کریں نہ کہ بڑکیں لگا لگا کر اپنی طاقت کا ضیاع کریں۔آج جو بھی اچھا ہوا خدا کی رحمت سے ہوا۔کل کے لئے تیار رہنا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
ہم سب اور اے آر وائ پر شائع ہوا
#صوفیہ کاشف،اردو, بلاگز ہم سب،بلاگز اے آر وائ،کالم،پاکستان،سٹرائک،تجزیہ،جائزہ
Previous آزادی مارچ ،عورت اورحقوق
Next زال،لازوال
| 2019-08-17T11:50:39
|
https://sofialog.blog/2019/03/12/sofiakashif-media/
|
ابن طفیل کا ناول " حئ ابن یقزان " - مستنصر حسین تارڑ - میڈیا واچ پاکستان
جنوری 21, 2020 January 22, 2020 0 تبصرے 25 مناظر
امریکی آئل کمپنی آرامکو کی جانب سے ایک تحقیقی مجلہ ” سعودی آرامکو ورلڈ ” نام کا شائع ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے اسلامی محققین کے نہایت نایاب مضامین شائع ہوتے ہیں ، فوکس مسلمان تہذیب پر ہے اور کسی طرح یہ باقی دنیا پر اثر انداز ہوئی ،
اس کا ہر مضمون اس لائق ہوتا ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا جائے تا کہ ہماری نئی نسل جان سکے کہ مذہبی تعصب سے بالاتر اسلام کی ایک ایسی روشن خیال تہذیب اور علمی وراثت ہے جس نے پوری دنیا کے اذہان کو متاثر کیا ہے۔۔۔موجودہ شمارے میں ایک مضمون صرف اُن پھولوں کے بارے میں ہے جو مسلمان ملکوں میں مدتوں سے اگائے جاتے تھے اور پھر انہیں یورپ میں رائج کیا گیا۔۔۔ افریقی مسلمان ملک چڈ کے صحراؤں میں تازہ پانیوں کی جھیلوں کی حیرت انگیز تصاویر ہیں۔۔۔ پولینڈ میں صدیوں سے آباد تاتار مسلمانوں کے بارے میں ایک دلچسپ رپورٹ ہے۔۔۔لیکن اس شمارے کا سب سے اہم مضمون بارہویں صدی عیسوی میں لکھے گئے ایک ساٹھ صفحے کے عربی ناول ” حئ ابن یقزان ” کے بارے میں ہے جسے اندلس کے عظیم فلسفی ابن طفیل نے لکھا اور یاد رہے کہ ابن طفیل کی یہ واحد تحریر ہے جو مکمل حالت میں ہم تک پہنچی ہے۔۔۔ مغربی محقق ٹام ورد کے بقول یورپ کا کوئی ایسا فلسفی یا ادیب نہیں ہے جس پر بلاواسطہ یا براہ راست نو سو برس پیشتر لکھے گئے . ابن طفیل کے اس ناول کا اثر نہ ہوا ہو اور وہ اس طویل فہرست میں ملٹن، والٹیئر، روسو اور سپائی نوزا کو بھی شامل کرتا ہے ،
بلکہ سپائی نوزا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے بھی ” حئ ابن یقزان ” کا ایک ترجمہ کیا۔۔۔سولہویں صدی میں اس ناول کا ترجمہ ڈچ زبان میں ہوا۔۔۔ آخر تقریباً آٹھ سو برس پیشتر لکھے گئے اس ناول میں وہ کونسا ایسا طلسم ہے جس نے پورے یورپ کے فلسفیوں اور ادیبوں کو متاثر کیا۔۔۔ اصل میں ابن طفیل اور اس کے عہد کے بیشتر مفکر اس فلسفے کے قائل تھے کہ انسان کو حقائق یا سچ تک پہنچنے کے لیے صرف اپنے غور و فکر اور مشاہدے پر انحصار کرنا چاہیے، اس سلسلے میں اسے کسی مرشد یا تحریر کا سہارا نہیں لینا چاہیے اور یہ ناول اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔۔۔ابن طفیل ایک ایسے جزیرے کا تذکرہ کرتا ہے جو ہندوستان کے ساحل کے قریب ہے اور عام طور پر خیال ہے کہ اس کے ذہن میں سری لنکا تھا۔۔۔ اس جزیرے میں موسموں، سورج کی روشنی، حدت اور نمی کا ایک ایسا آمیزہ ہے جس کی وجہ سے انسان کا ظہور ہو جاتا ہے ماں باپ کے بغیر۔۔۔ ابن طفیل چاہتا تھا کہ اس کا ہیرو کسی جینیاتی تسلسل کا نمائندہ نہ ہو، سراسر ایک آزاد وجود ہو لیکن اُسے خدشہ تھا کہ کہیں اس پیدائش پر مذہبی طبقہ اعتراض نہ کرے چنانچہ ناول میں ” حئ ” کا ایک پس منظر تخلیق کیا گیا .
یعنی ایک نزدیکی جزیرے میں بادشاہ کی بہن ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور پھر اس کی جان بچانے کی خاطر جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا اُس بچے کو بانس کی ایک ٹوکری میں محفوظ کر کے پانیوں میں بہا دیتی ہے، یہ ٹوکری بہتی ہوئی اس پر اسرار جزیرے کے ساحل کے ساتھ جا لگتی ہے جہاں ایک غزال ایک ہرنی اُسے ٹوکری سے نکال کر اپنے بچے کے طور پر پالتی ہے، اپنا دودھ پلاتی ہے۔۔۔ یہ بچہ ” حئ ” جنگل کے جانوروں کی طرح بدن کے ساتھ پر جوڑ لیتا ہے اور سر پر لکڑی کے سینگ لگا کر جانور ہو جاتا ہے۔۔۔ جب وہ سات برس کا ہوتا ہے تو ہرنی مر جاتی ہے۔۔۔ اُسے تجسس ہوتا ہے کہ یہ موت کیا ہے ، یہ مر کیوں گئی ہے، وہ اُسے زندہ کرنے کے لیے اُس کے بدن کو کاٹ کر اناٹومی کا علم حاصل کرتا ہے۔۔ واقف ہوتا ہے کہ نظام تنفس کیا ہوتا ہے۔۔۔ دل کی شکل کیا ہے۔۔۔ اور جب وہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے دل کے ایک خانے میں خون کے لوتھڑے ہیں جب کہ دوسرا خانہ بالکل خالی ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہاں کوئی چیز تھی جو اسے زندہ رکھتی تھی جو رخصت ہو گئی ہے یعنی روح کی نمائندگی۔۔۔ پھر وہ فزکس کی سائنس سیکھنے کے لیے مشاہدہ کرتا ہے کہ کیسے پانی بھاپ میں بدلتا ہے ،
اشیاء زمین پر گرتی ہیں، آگ کی روشنی اوپر آسمانوں کی جانب سفر کرتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کا تخلیق کرنے والا وہاں ہے۔۔۔ وہ ستاروں کی گردش کا حساب کرتا ہے۔۔۔ ایک غار میں بیٹھ کر غور کرتا ہے کہ : ” کیا یہ سب کچھ یکدم بے وجہ وجود میں آ گیا یا یہ ہمیشہ سے یہاں موجود تھا ” ۔۔ ” حئ ” اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ایک ایسی شے ہے جو کائنات اور زمانوں سے مبرا ہے، وہ انسانی ذہن کی گرفت میں نہیں آ سکتا اور یہ خدا ہے۔۔۔۔ابن طفیل کے اس ناول کو ڈینئل ڈیفونے ” رابنسن کروزو ” کے روپ میں پیش کیا۔۔۔ آج کا بچوں کا کردار ٹارزن بھی ابن طفیل کے ” حئ ” سے مستعار شدہ ہے۔۔۔اُندلس کی سیاحت کے دوران مجھے ابن العربی کی جائے پیدائش مرسیہ میں قیام کرنے کا اتفاق ہوا لیکن میں خواہش کے باوجود گاڈیکس نہ جا سکا جہاں ابن طفیل پیدا ہوا تھا۔۔۔ابن طفیل اپنے ناول ’’حئ ابن یقزان‘‘ میں لکھتا ہے : ” یہ سمندر اور زمین کیا ہیں جنہیں میں اپنے آس پاس دیکھتا ہوں۔۔۔ یہ کیسے وجود میں آئے اور میں کیا ہوں اور میرے علاوہ تمام جنگلی جانور، ہم سب کہاں سے آئے ہیں؟ یقیناً ہمیں کسی خفیہ طاقت نے تخلیق کیا ہے جس نے سمندر ، زمین، آسمان اور موسم بنائے، تو وہ کون ہے ؟ ۔۔۔ یہ خدا ہے جس نے یہ کچھ تخلیق کیا “۔۔
حوالہ : تارڑ نامہ 6
کیٹاگری میں : ناول سابقے: ابن طفیل، حئ ابن یقزان، مستنصر حسین تارڑ، ناول
| 2020-02-26T05:35:05
|
https://mediawatch.pk/?p=200
|
پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریںگے ، طیب اردوان،ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان، عمران خان - Baaghi TV
اسلام آباد:پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریںگے ، ان خیالات کااظہارترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ایک اہم اجلاس میں کیا ادھر وزیراعظم پاکستان نے طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف ترکی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ترک صدر رجب طیب اردوان کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ترک صدرکی پارلیمنٹ سے تقریرکو پسند کیا ہے، ترک صدر اگر آج یہاں الیکشن لڑے تو کلین سویپ کرلیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے آواز بلندکرنے پر ترک صدر کا شکرگزار ہوں، کشمیری 6 ماہ سے ایک جیل میں بند ہیں، سیاسی رہنما قیدوبندمیں ہیں، کشمیر متنازع علاقہ ہے، کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں رکھاگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جو ایم او یوز دستخط ہوئے اس کے ذریعے پاک ترک تعلقات کا نیا دور آرہا ہے، آج جو معاہدے ہوئے اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، پاکستان جن علاقوں کوترقی دینا چاہتا ہے ان کو زیادہ فائدہ ہوگا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پرترک صدر کے مشکور ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو ترکی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اس پر شکرگزار ہیں۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم ترکی کی عالمی ہر سطح پر مکمل حمایت کرتے ہیں اور ایف اے ٹی ایف میں انقرہ نے ہماری حمایت کی جس پر ان سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کے علاوہ میڈیا کے ذریعے ثقافتی مسائل کا بھی مقابلہ کریں گے اور ترک فلم انڈسٹری سے فائدہ اٹھائیں گے، ترک فلم انڈسٹری کی فلمیں اور ڈرامے مقامی میڈیا پر نشر کیے جائیں گے جو اسلامو فوبیا کی حوصلہ شکنی پر مبنی ہوں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکی سیاحت سے سالانہ 35 ارب ڈالر کماتا ہے اور سستے گھر بنانے میں تجربہ رکھتا ہے اس لیے دونوں شعبوں میں اس سے استفادہ کریں گے۔
اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ بہترین استقبال پر پاکستانی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں، پاکستان ہمارا بھائی ہے، ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوں گے، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں بھرپور ساتھ دیں گے۔
طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے خوشی کا مقام ہےکہ انہیں ایک ایمانداروزیراعظم ملا ہے، ترکی پاکستان کے ساتھ مل کرکشمیر،عالم اسلام کی بہتری اوراسلام فوبیا کے خلاف کام کرے گا، طیب اردوان نے مزید کہا کہ میں پاکستانیوں کی محبت کو کبھی بھی بھول نہیںسکتا
ادھر ترک صدر کے خراج تحسین کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ مسلمانان پاکستان کے ترکوں سے تعلقات صدیوں پرانے ہیں تحریک خلافت سے لے کرآج تک پاکستانیوںکے دل ترکی لیے دھڑکتے ہیں، طیب اردوان کی قیادت میں ترکی بہت تیزی سے کامیابی کا سفر طئے کررہا ہے
انہوں نے کہا تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہے اور تعلیم، مواصلات، صحت، ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق معاہدے پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں۔
رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات پر وزیراعظم عمران خان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا کردار بہترین ہے۔
کرونا وائرس ایران سرحدی علاقوں تک پہنچ گیا، ایران کی سرحد کےساتھ ملحق بلوچستان حکومت…
کرونا وائرس ایران سرحدی علاقوں تک پہنچ گیا، ایران کی سرحد…
| 2020-02-22T16:06:35
|
https://baaghitv.com/press-conference-of-both-leaders-of-turkey-and-pakistan/
|
دنیا کا وہ پہاڑ جہاں خواتین کو جانے کی تو کیا اس کے قریب قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر مردوں کی بھی آنکھوں میں آنسو آجا - Karachi News Tv
Home Highlights دنیا کا وہ پہاڑ جہاں خواتین کو جانے کی تو کیا اس...
دنیا کا وہ پہاڑ جہاں خواتین کو جانے کی تو کیا اس کے قریب قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں، لیکن کیوں؟ وجہ جان کر مردوں کی بھی آنکھوں میں آنسو آجا
یورپی ملک یونان کے شمال مشرق میں عیسائی مذہب کا مقدس مقام ’ماؤنٹ ایتھوس‘ واقع ہے۔ دراصل یہ 335مربع کلومیٹر پر محیط جزیرہ نما ہے، جو غالباً دنیا کا سب سے بڑا علاقہ ہے جہاں خواتین کو داخل ہونے کی اجازت نہیں، بلکہ یہاں بلیوں کے سوا کسی بھی قسم کے مادہ جانوروں کو بھی داخلے کی اجازت نہیں۔۔جاری ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس جزیرہ نما پر جانے کے لئے پہلے ماؤنٹ ایتھوس پلگرمز بیورو کو پاسپورٹ کی کاپی فراہم کرنا پڑتی ہے، جو خواتین کے پاسپورٹ بغیر غور کئے فوری طور پر واپس کر دیتا ہے۔ اس پہاڑ پر قدیم عیسائی مذہب کی 20 خانقاہی ں واقع ہیں۔تاریخ دان اور مصنف ڈاکٹر گراہم سپیک کہتے ہیں
کہ قدیم عیسائی خانقاہیں، جہاں تارک دنیا راہب رہا کرتے تھے،۔۔جاری ہے۔ ان میں خواتین کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ چونکہ ماؤنٹ ایتھوس کے تمام علاقے کو ایک بڑی خانقاہ تصور کیا جاتا ہے لہٰذا اس جزیرہ نما میں عورتوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔روزانہ 100 قدامت پسند اور 10 غیر قدامت پسند مردوں کو یہاں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے جو تین راتیں یہاں قیام کرتے ہیں۔ اگر ان زائرین کے ساتھ خواتین آئیں بھی تو انہیں جزیرہ نما کی سرحد کے باہر ہی قیام کرنا پڑتا ہے۔یہ روایت گزشتہ 1000سال سے چل رہی ہے اور آج بھی خواتین کو ماؤنٹھ ایتھوس کے ساحل سے کم از کم آدھے کلومیٹر کی دوری پر روک دیا جاتا ہے۔
Previous articleواہ کیازمانہ آگیا،اب بلیاں بھی مچھلیاں بیچنے لگیں ۔۔مچھلی بیچتی بلی کی تصویرسوشل میڈیاپروائرل
Next articleدیسی گھی اور مکھن کے انمول فوائد
انتظار کی گھڑیاں ختم ۔۔پاکستان نے معاہدے کے تحت اسحاق ڈار...
| 2019-08-25T20:19:29
|
https://karachinewstv.com/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D9%88%DB%81-%D9%BE%DB%81%D8%A7%DA%91-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA/
|
تحریک انصاف نے سینیٹ کیلئے پنجاب کی 2 نشستوں کے ضمنی الیکشن کیلئے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی - Daily Qudrat
(19:25) نومبر 8, 2018
تحریک انصاف نے سینیٹ کیلئے پنجاب کی 2 نشستوں کے ضمنی الیکشن کیلئے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی
(19:25) نومبر 8, 2018 | پنجاب
لاہور(قدرت روزنامہ)تحریک انصاف نے سینیٹ کیلئے پنجاب کی 2 نشستوں کے ضمنی الیکشن کیلئے پیپلز پارٹی سے مدد مانگ لی، تحریک اںصاف کے وفد کی پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ سے ملاقات، اپنے امیدوار کیلئے ووٹ دینے کی درخواست کر دی. تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے سینیٹ کی دو نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے لئے رابطے شروع کر دئیے ہیں.
عمران خان نے اپنی تحفے میں ملنے والی گھڑی قومی خزانے میں جمع کرا دی مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں ملنے والے تحفے کہاں گئے؟
تحریک انصاف کے سینیٹ کیلئے امیدوار ولید اقبال اور سیمی ایزدی کے علاوہ دیگر ارکان اسمبلی پر مشتمل وفد نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی .پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلز پارٹی سے سینیٹ کے انتخابات میں حمایت کی درخواست کی گئی .
پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے پی ٹی آئی وفد کو آگاہ کیا کہ قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا. پی ٹی آئی کے وفد کی جانب سے سید حسن مرتضی کو عشائیے کی بھی دعوت دی گئی. سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مسلم (ن) کے وفد نے بھی پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی سے ملاقات کی .مسلم (ن) کے وفد میں سائرہ افضل تارڑ، رانا مشہود، سعود عزیز، ملک ندیم کامران، سمیع اللہ خان اور دیگر شریک تھے. (ن) لیگ کے وفد نے بھی پیپلز پارٹی سے ووٹ کی درخواست کی جس پر سید حسن مرتضی نے کہا کہ قیادت کو رابطوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا اور قیا دت جو فیصلہ کرے گی ہم اس کے مطابق ووٹ دیں گے.
ضرور پڑھیں: ’’ اسلام کے کسی نظریات پر یقین نہیں رکھتا خود کو مسلمان بھی نہیں کہتا‘‘ دنیا بھر میں معروف پاکستانی نژاد برطانوی گلوکارشدید تنقید کی زد میں آگئے
(16:08) نومبر 17, 2018
(16:00) نومبر 17, 2018
| 2018-11-17T11:40:23
|
http://dqudrat.com/punjab/08-Nov-2018/484283/
|
04 دسمبر 2016
شیخ احمد بن محمد الصاوی المالکی متوفی 1241ھ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی طبیب حاذق' ہارو ن الرشید کے پاس آیا۔ ایک دن اس نے حضرت علی بن حسین المعروف علامہ واقدی سے مناظرہ کیا۔ کہنے لگا کہ (تم حضرت عیسیٰ کے خدا کا جزء ہونے کے منکر ہو' حالانکہ )تمہاری کتاب( قرآن مجید) میں ایک ایسی آیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کا جزء ہیں اور وہ یہ آیت ہے:
ترجمہ'' بے شک مسیح جو ہے عیسیٰ بن مریم کا بیٹا وہ رسول ہے خدا کا اور اس کا کلام ہے جس کو ڈالا مریم کی طرف اور روح ہے اس کے ہاں''۔
امام واقدی نے اس جواب میں یہ آیت پڑھی:
ترجمہ'' اور کام میں لگا دیا تمہارے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں' سب کو اپنی طرف سے۔'' اور فرمایا کہ اس صورت میں تو لازم آئے گا کہ جمیع اشیاء عالم' خدا سبحانہ و تعالیٰ کا جزء ہوں' یہ سن کر وہ طبیب ہکا بکا رہ گیا اور اسی وقت اسلام لے آیا۔
ہارون الرشید اس پر بہت ہی خوش ہوا اور علامہ واقدی کو انعامات سے نوازا۔
خلیفہ منصور نے ایک مرتبہ خواب میں ملک الموت (حضرت عزرائیل) کو دیکھا تو منصور نے ملک الموت سے پوچھا کہ میری زندگی کتنی باقی ہے اور میری موت کب ہوگی؟
ملک الموت نے اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کو دکھایا اور کچھ نہیں کہا۔ جب صبح بیدار ہوا تو تمام بڑے علماء کو اپنے پاس بلایا اور اپنا خوف سنا کر تعبیر دریافت کرنے لگا۔ لیکن صحیح تعبیر کسی کی طرف سے نہیں ملی اور آخر میں حضرت امام ابو حنیفہ نے یہ تعبیر دی کہ پانچ انگلیوں سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے:بے شک رب تعالیٰ ہی کو قیامت کی خبر ہے' وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کل وہ کیا عمل کرے گا اور نہیں جانتا کوئی شخص وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا با خبر ہے۔تو ملک الموت نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا۔
(سلف صالحین کے ایمان افروز واقعات)
ابو ایوب سلیمان بن عبداللہ رقی لکڑ ہارے تھے۔ یہی کاروبار تھا' مگر مقصد و منزل اور مطمح نظر خدمت دین اور اشاعت علم رہا۔ سلیمان لکڑ ہارے حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے شاگرد خاص ہیں۔ آپ کی ثقاہت اور دیانت کے لئے یہ بات ہی کافی ہے کہ جب آپ مکہ مکرمہ تشریف لے جا رہے تھے تو راستے میں کوفہ کے مقام پر امام ابو حفص عمر بن احمد نے آپ سے حدیث کا سماع کیا اور ہمیشہ اس کو فخر و امتیاز کے ساتھ بیان کیا۔
اسلام کا یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے کہ لکڑ ہارے بھی اسلامی علوم و معارف کی مسند پر جلوہ گر نظر آتے ہیں اور پھر جب تاریخ پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے اور خدا کی عظمتیں یاد آجاتی ہیں ۔ (ارباب علم و کمال)
| 2019-12-14T08:26:35
|
https://www.mashriqtv.pk/04-Dec-2016/10896
|
اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلا سکتی | :: Channel 5 ::
اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلا سکتی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے بدترین معاشی حالات میں بہتر بجٹ پیش کیا اپوزیشن بجٹ کے نام پر تحریک نہیں چلاسکتی۔ اپوزیشن تحریک صرف اپنے قائدین کو بچانے کیلئے چلانا چاہتی ے۔ تاہم اس میں ناکام رہے گی۔ پروڈکشن آرڈر کے نام پر جاری ڈرامہ بند ہونا چاہیے اس قانون پر نظرثانی کی جانی چاہیے جو صرف سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے اس قانون سے فائدہ اٹھاکر شہبازشریف صرف 3 دن جیل میں رہے۔ مکے لہرا کر بات کرنے والا مشرف بزدل نکلا اسے عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور اس سے پہلے ملک و قوم کو اصل میں برباد کرنے والے ضیا الحق کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مرنے کے بعد ٹرائل ہوا شیخ رشید نے تحریک انصاف کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر تجزیہ کار اشرف عاصمی نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کی معاشی دہشتگردی نے زندگی اجیرن کردی۔ اپوزیشن میں تحریک چلانے کی سکت نہیں ہے بڑے بڑے نام والے جیلوں میں بند ہیں مزید پکڑے جارہے ہیں ان سے قوم کی لوٹی دولت واپس لینے میں کامیابی کا امکان نظر آتا ہے معاملات اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں نیب اور عدلیہ کو کسی دباﺅ میں آئے بغیر لوٹی دولت نکلوانی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان بھی جلد گرفتار ہوجائینگے۔ عمران خان روایتی سیاستدانوں کی طرح منافق نہیں ہے اگر وہ ناکام ہوجاتا ہے تو پورا نظام لپیٹ دیا جائے گا۔ تجزیہ کار راجہ وحید نے کہا کہ احتساب پوری قوم کی خواہش ہے۔ عمران خان نے اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کا بہت اچھا فیصلہ کیا یہ کمیشن پہلے ہی بنادینا چاہیے تھا۔ کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک سے بھاری قرضہ لیا گیا اور اسے ہڑپ کرلیا گیا۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ نہ چل سکے۔ اپوزیشن کوئی تحریک چلانے کے قابل نہیں ہے۔ پرویز مشرف کی حالت ایسی نہیں ہے کہ واپسی آکر عدالت میں پیش ہوسکیں۔ سینئر تجزیہ کار عبدالباسط خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تقریر میں اپوزیشن کو خوب لتاڑا اور 24ہزار ارب قرضہ لینے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جو خو ش آئند ہے پروڈکشن آرڈر کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے سیاستدان ابھی جیل بھی نہیں پہنچتے اوراس کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں پارلیمنٹ سب سے برتر ہے تاہم یہ برتری تب ہوتی ہے جب وہاں موجود لوگ ضمیر کے مطابق بات کریں اور مفادات کی سیاست نہ کریں۔
| 2019-06-20T23:48:44
|
https://channelfivepakistan.tv/2019/06/13/171648/
|
بھارتی وزیر اعظم کا ناراض نیپال کو منانے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لئے دورہ نیپال نیپال کی چین کے ساتھ بڑھتی نزدیکیاں بھارت کے لئے باعث تشویش ہے،مودی اور نیپالی وزیراعظم نی900 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا
بھارتی وزیر اعظم کا ناراض نیپال کو منانے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لئے دورہ نیپال
نیپال کی چین کے ساتھ بڑھتی نزدیکیاں بھارت کے لئے باعث تشویش ہے،مودی اور نیپالی وزیراعظم نی900 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) بھارتی وزیر اعظم ناراض نیپال کو منانے تعلقات کو نئی جہت دینے نیپال میں موجود ہیں،نیپال کی چین کے ساتھ بڑھتی نزدیکیاں بھارت کے لئے باعث تشویش ہے،،مودی اور نیپالی وزیراعظم اولی مشترکہ طور پر 900 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آج جمعہ کے روز ہمسایہ ریاست نیپال پہنچ گئے ہیں۔
ان کے اس دو دوزہ دورے کا مقصد اس ہمالیائی ریاست کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہے جو اپنی تجارت اور سپلائی کے لیے زیادہ تر بھارت پر انحصار کرتی ہے۔۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق نیپال کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع ایشور پوخاریل نے جانک پور میں نریندر مودی کا استقبال کیا۔
جانک پور بھارتی سرحد کے قریب نیپال کا ایک تاریخی شہر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے دیوتا رام کی اہلیہ سیتا کی جائے پیدائش ہے۔
نیپال کی خاتون صدر بدھیا دیوی بھنڈاری نے چین نواز اعتدال پسند کمیونسٹ لیڈر کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا ہے۔ نیپال میں سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھارت کے لیے یہ بات ’باعث تشویش‘ ہو سکتی ہے۔2014 میں بھارت کا وزیر اعظم بننے کے بعد سے نریندر مودی کا نیپال کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ ان کے اس دورے سے ایک ماہ قبل نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔
روایتی طور پر نیپال کا وزیراعظم اپنا پہلا دورہ بھارت کا ہی کرتا ہے۔۔مودی پوجا کے لیے جانک پور میں قائم جانکی مندر بھی جائیں گے۔ ان کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد بھارتی ہندوؤں کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔ بھارت میں عام انتخابات آئندہ برس منعقد ہونا ہیں۔۔مودی اور نیپالی وزیراعظم اولی مشترکہ طور پر 900 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل اٴْس ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا جس کے لیے سرمایہ بھارت نے فراہم کی ہے۔
کھٹمنڈو اور جانک پور کی شہری انتظامیہ کی طرف سے بھی بھارتی وزیر اعظم کے استقبال کے لیے عوامی تقریبات کا انتظام کیا گیا ہے۔نیپال اور بھارت کے مابین 1800 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور گہرے ثقافتی رشتے بھی موجود ہیں تاہم حالیہ برسوں کے دوران کھٹمنڈو حکومت کا جھکاؤ بیجنگ کی طرف بڑھ گیا تھا جس کی وجہ ملکی انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے چین کی جانب سے سرمایہ کاری تھی۔
نئی دہلی اور کھٹمنڈو کے درمیان تعلقات 2015ء میں سرحدی بندش کے سبب تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کا یہ اقدام نیپال کے نئے آئین سے نا خوشی کے اظہار کے طور پر کیا گیا تھا۔۔مودی نیپالی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور نیپال کے شمالی حصے میں واقع ایک مندر میں عبادت کے بعد ہفتہ 12 مئی کو وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
بھارتدہلیوزیراعظموزیر دفاعبجلیچیننریندرا مودیجرمنی
| 2018-09-22T09:14:55
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-12/news-1528036.html
|
مسلمان بھارت میں غیرقانونی مساجد بنا رہے ہیں جو قبول نہیں .بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی - Baaghi TV
By Amin Tahir On جون 26, 2019 270 0
نئی دھلی:مسلمان بھارت میں غیر قانونی مساجد بنا رہے ہیں جو کہ قابل قبول نہیں بی جے پی رکن اسمبلی شری پرویش شرما کے مسلمانوں پر الزامات .مسلمان خوف زدہ حکومت نے جائزہ لینےکے لیے کمیٹی قائم کردی اطلاعات کے مطابق بی جے پی ممبر پارلیمنٹ شری پرویش ورما کے دعوے کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کردی ہے۔ شری ورما نے دعویٰ کیا تھا کہ مغربی دہلی میں سرکاری زمینوں پر مسجدیں بن رہی ہیں اور یہی صورت حال پورے بھارت میں ہے. بعد میں ایک دوسرے بی جے پی ایم پی شری منوج تیواری نے اس کی تائید کرتےہوئے کہا کہ دہلی کے دوسرے علاقوں میں بھی غیر قانونی مسجدیں بن رہی ہیں۔
کمیشن نے اس معاملہ میں ایک پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے جس کے صدر معروف حقوق انسانی کے ایکٹیو سٹ اویس سلطان خان ہیں اور ممبران شری گور میندر سنگھ مٹھارو، ڈاکٹر ڈنزیل فرنانڈیز ، انکور اوٹو اور رئیس احمد ہیں۔ کمیٹی کو دس دن میں دہلی کے مختلف علاقوں اور بالخصوص مغربی دہلی کے علاقوں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ کمیشن کو دینی ہے۔ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ دہلی میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ پرانا ہے لیکن اسے کسی مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔ کمیشن سرکاری زمینوں پر کسی غیر قانونی قبضے کی تایید نہیں کرتا لیکن مسئلے کو جس طرح سے اٹھایا گیا ہے اس سے ایک خاص سماج کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے
بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگمسلمان اور اسلام بھارت میں
جسمانی طور پر غیر متحرک رہنا قبل از وقت موت ہے.آسٹریلوی ڈاکٹرز کا دعویٰ
بورس جانسن کے بیان نے امریکہ کی نیندیں حرام کردیں، ترکی خوش ہوگیا
Prev Next 1 کا 972
| 2019-10-15T01:49:56
|
https://baaghitv.com/mosque-in-india/
|
اصناف ادب - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
اصناف ادب کے دو حصے ہیں :
اصناف سخن
1 اصناف نثر
2 اصناف سخن
3 فہرست اصناف ادب
4 شاعری میں چند اصناف
5 مذہب سے متعلق اصناف
6 ھائیکو میں مزید اصناف
بہترین الفاظ کو سادہ مگر عمدہ طریقے سے بیان کرنااصناف نثرکھلاتا ہے۔ اس میں جملے کی ساخت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ جملے کو معیاری انداز میں لکھا جاتا ہے۔ اسناف نثر میں افسانے، ناول، آپ بیتی، جگ بیتی، داستان اور سفرنامے شامل ہیں۔
بہترین الفاظ کو بہترین انداز میں لکھنا یا بیان کرنا اصناف سخن کھلاتا ہے۔ اس میں جملے کی ساخت پرتوجہ نہیں دی جاتی۔ اس میں گرائمر پر بھی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اس میں جملے کا انداز اتنا دلکش ہوتا ہے کہ فوراً دل میں گھر کر جاتا ہے۔ اس میں الفاظ کی ترتیب کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔ اصناف سخن میں غزل، نظم، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی اور رباعی شامل ہے۔
فہرست اصناف ادب
ناولیٹ
داستان / قصہ
شاعری میں چند اصناف
نظم معری
ڈوھڑا (صرف سرائیکی میں)
مذہب سے متعلق اصناف
اشلوک
ھائیکو میں مزید اصناف
ماھیا (پشتو میں لنڈی کہتے ہیں)
سرائیکو (اب تک صرف سرائیکی میں ہی لکھا گیا)
ثلاثی / سہ مصری (؟)
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=اصناف_ادب&oldid=2871174»
اس صفحہ میں آخری بار مورخہ 8 فروری 2018ء کو 01:22 بجے ترمیم کی گئی۔
| 2018-05-25T07:25:07
|
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B5%D9%86%D8%A7%D9%81_%D8%A7%D8%AF%D8%A8
|
لاہور ، ہمارا بھروسہ خلائی مخلوق نہیں خالق کائنات پر ہے،صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی ایم ایم اے سیاست کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے آذاد کروائے گی۔ الیکشن میں کتاب کے نشان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بولے گا، سیکریٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان
لاہور ، ہمارا بھروسہ خلائی مخلوق نہیں خالق کائنات پر ہے،صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی
ایم ایم اے سیاست کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے آذاد کروائے گی۔ الیکشن میں کتاب کے نشان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بولے گا، سیکریٹری جنرل جمعیت علماء پاکستان
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 مئی2018ء) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے ترجمان صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا ہے کہ ہمارا بھروسہ خلائی مخلوق نہیں خالق کائنات پر ہے۔ ایم ایم اے سیاست کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے آذاد کروائے گی۔ الیکشن میں کتاب کے نشان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بولے گا۔
نفرت انگیز سیاست روکی نہ گئی تو کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ اسلام نفرت نہیں محبت سکھاتا ہے۔ 13 مئی کو لاہور میں ایم ایم اے کا جلسہ نئی تاریخ رقم کرے گا۔ ڈانس پارٹی سے بڑا جلسہ کر کے دکھائیں گے۔ برچھی نہیں پرچی سے فیصلے ہونے چاہئیں۔ فوج کو سیاسی تنازعات سے بچایا جائے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت سیاسی قیادت کی سیکورٹی کے لئے جامع حکمت عملی بنائیں۔
سیاسی اخلاقیات کا ضابطہ اخلاق بنانے کے لئے اے پی سی طلب کی جائے۔ سازشی عناصر خونریزی کے ذریعے الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور میں مختلف سیاسی و مذہبی راہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ سیاست میں تشدد کا رحجان روکنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
سیاسی و مذہبی انتہا پسندی ملک و قوم کے لئے زہر قاتل ہے۔ جیو اور جینے دو کی روش اختیار کرنا ہو گی۔ مذہب کو نفرت کے فروغ کا ذریعہ بنانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ متحدہ مجلس عمل قومی وحدت کی علامت ہے کیونکہ ایم ایم اے کو چاروں صوبوں میں عوامی تائید و حمایت حاصل ہے۔ 13 مئی کے جلسے کے لئے دینی حلقوں میں بے پناہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
شاہ اویس نورانی کا مزید کہنا تھا کہ قوم الیکشن کا بیتابی سے انتظار کر رہی ہے۔ عوامی جذبوں کے سامنے خفیہ ہاتھوں کی سیاسی انجیئرنگ ٹھہر نہیں سکے گی۔ ایم ایم اے عوامی تائید و حمایت کے اعتبار سے پی ٹی آئی، پی پی پی اور ن لیگ سے بڑی سیاسی طاقت ہے۔ ہم نظریہ کی طاقت سے پیسے کا مقابلہ کریں گے۔ ہم مظلوم کی آواز بنیں گے اور ہر ظالم کا راستہ روکیں گے۔ ایم ایم اے کے عوامی اور اسلامی انتخابی منشور پر کام جاری ہے۔
الیکشنپاکستانلاہورفوججمعیتمسلم لیگ (ن)اے پی سیجلسہالیکشن کمیشنقاتلعام انتخابات 2018
| 2018-09-21T19:25:34
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-08/news-1522138.html
|
پاکستان سپلائی رُوٹ کھول دے گا، پینٹا گون | حالات حاضرہ | DW | 01.10.2010
پینٹا گون نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کی کمک جلد ہی بحال کردے گا۔ نیٹو افواج کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستان نے احتجاجی طور پر یہ سپلائی بند کی۔
پینٹا گون کے ترجمان کرنل ڈیو لاپان نے جعمرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’ ہم پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ معاملہ گفتگو کے ذریعے حل ہو جائے گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ امریکی افواج کے پاس کئی متبادل راستے ہیں اس لئےافغانستان میں تعینات غیرملکی افواج، پاکستانی راستوں سے کمک کے بند ہونے سے فوری طور پرمتاثرنہیں ہوں گے۔
پاکستان کی طرف سے افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کی کمک بند کرنے کے بعد اعلیٰ امریکی سینیٹرجان کیری نے بھی پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ٹیلی فون پربات چیت کی۔
پینٹا گون کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سینیٹ کی خارجہ امورکی کمیٹی کے چیئرمین جان کیری نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت میں اس معاملے پر گفتگو کی ہے۔ جان کیری نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا، ’ اس مسئلے پر ہم نے سیر حاصل گفتگو کی، میرے خیال میں ہم اس معاملے کو سلجھا سکتے ہیں۔‘
سینیٹ کی خارجہ امورکی کمیٹی کے چیئرمین جان کیری
امریکی سینیٹرنےمزید کہا کہ ایسے فضائی حملوں کی وجہ سے پاکستانی حکام تحفظات رکھتے ہیں، جانی نقصان کے نتیجےمیں یہ درست بھی ہے۔‘ جان کیری نے کہا،’ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ایسا مستقبل میں نہ ہو اور ہم ایسا کریں گے۔‘
افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی متواترمبینہ خلاف ورزی کے بعد جمعرات کو پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کےراستے، افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کی سپلائی احتجاجی طور پر بند کر رہے ہیں۔
جمعرات کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے دو ہیلی کاپٹروں نے مبینہ طور پر پاکستانی سرحد عبور کر کے میزائل داغے، جس کے نتیجے میں فرنٹیئر کورکے تین اہلکار ہلاک ہو گئے۔ نیٹو کے بیان کے مطابق ان کےہیلی کاپٹروں کی طرف سے یہ حملہ جوابی اور دفاعی نوعیت کا تھا۔
حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا نے ان فضائی حملوں کے بارے میں مکمل چھان بین کروانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
درہ خیبر افغانستان میں غیرملکی فوجی دستوں کے لئے کمک پہنچانے کے لئے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جو مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد سے متصل ہے۔
کیری کی گیلانی سے گفتگو
پیرما لنک https://p.dw.com/p/PRex
| 2019-02-20T15:27:18
|
https://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%BE%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%D9%8F%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%AF%DB%92-%DA%AF%D8%A7-%D9%BE%DB%8C%D9%86%D9%B9%D8%A7-%DA%AF%D9%88%D9%86/a-6064527
|
پہلا کرنتھیوں 15 باب 25 تا 26 آیت — آج کے دن کی آیت — 17. 04 2017
پير 17. اپريل 2017 [ Archives ]
—پہلا کرنتھیوں 15 باب 25 تا 26 آیت
کتنی دفعہ آپ حال ہی میں مَرے ہوئے دوست یا پیارے کی قبر پر کھڑے ہوئے ہیں؟ کب آپ نے آخری دفعہ کسی بہُت ہی پیارے سے علحیدگی کا دُکھ محسوس کِیا ؟ میں آپ کے بارے نہیں جانتا، لیکن میں بہُت شُکرگزار ہوُں کہ بائبل موت کو یسُوع کے دُشمن کے طورپر جانتی ہے۔ میں شُکرگزار ہوُں کہ وہ موت اور اُس کی تباہی اور علحیدگی سے نفرت کرتا ہے، اُس سے کہیں زیادہ جتنا کہ میں کرتا ہُوں۔ میں یہ جان کر شادمان ہو گیا ہُوں کہ موت برباد ہو جائے گی اور لافانیت اور زندگی خُدا کے فرزندوں کو عطا کی جائے گی۔
مُقدس باپ، براہِ کرم اُن کی زندگیوں کو رحمت اور زندگی کے ساتھ فتح کر جن کو میں جانتا ہُوں جو جذباتی، رُوحانی اور جسمانی مَوت کے ساتھ کُشتی کر رہے ہیں۔ اپنی قوت اور فضل کے وسیلہ سے اُن کی زندگیوں کو فتح کر۔ پیارے باپ، میں اُس دِن کا متلاشی ہُوں، جب مَوت باقی نہیں رہے گی۔ خُداوند یسُوع، میں نہ صِرف تیرے نام میں یہ اِلتجا کرتا ہُوں، بلکہ میں تُجھ سے مانگتا ہُوں کہ اُس دِن کو جلد لا۔ آمین۔
| 2018-02-25T21:40:15
|
https://www.verseoftheday.com/ur/04172017/
|
اردو پوائنٹ پاکستان ۔ راولپنڈی، چوہدری نثار ہمار ا قائد ہے انکے خلاف اٹھنے والی کسی نازیبا زبان کو برداشت نہیں کریں گے،دوست محمد خان مرکزی قیادت کو فوری طور پر سینٹر پرویز رشید کے خلاف نوٹس لینا ہوگا ورنہ یہ احتجاج پورے پاکستان میں شروع ہوسکتے ہیں،چیئرمین یونین کونسل ڈھوک منشی 78 ۔ راولپنڈی
اُردو پوائنٹ ⬅ پاکستان ⬅راولپنڈی⬅راولپنڈی کی خبریں⬅راولپنڈی، چوہدری نثار ہمار ا قائد ہے انکے خلاف اٹھنے والی کسی نازیبا ..
وقت اشاعت: 21/01/2018 - 20:22:58
| 2018-08-22T05:49:56
|
https://www.urdupoint.com/pakistan/news/rawalpindi/national-news/live-news-1381140.html
|
119 ارب روپے کا ایک اور سکینڈل پکڑا گیا
Jan 07, 2020 | 09:45:AM 9:45 AM, January 07, 2020
لاہور(ویب ڈیسک) سابق دور حکومت کے آڈٹ کے دوران مختلف سرکاری ادارں میں 119 ارب روپے سے زائد مالیت کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق (ن) لیگ دور میں صرف پنجاب میں 119 ارب روپے سے زائد مالیت کی بدعنوانی ہوئی، محکمہ زراعت میں 8 ارب 91 کروڑ 75 لاکھ 8 ہزار 220 روپے کی رقم خورد برد کی گئی اسی طرح محکمہ خوراک میں 2 ارب 40 کروڑ 31 لاکھ 93 ہزار سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، ایسے گودام کرائے پر لیے گئے جن کی چھتیں تک نہیں تھی اگر تھیں تو انتہائی خستہ حال جب کہ ایسے آلات اور مشینری خریدی گئی جس کی مارکیٹ میں قیمتیں کم تھی مگر خریداری مہنگی ظاہر کی گئی۔
محکمہ صحت میں 28 ارب 55 کروڑ سے زائد رقم کی بدعنوانی سامنے آئی، اس کرپشن میں ناقص ادویات کے علاوہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طبی آلات اور مشینری کی خریداری کی گئی۔
تعلیم کے نام پر بھی فراڈ کیا گیا اور ہائر ایجوکیشن میں 27 ارب 89 کروڑ 78 لاکھ کی بدعنوانیاں سامنے آئیں، اسی طرح انفارمیشن اینڈ کلچر میں 12 ارب 65 کروڑ 87 لاکھ ، لائیو اسٹاک میں 3 ارب 54 کروڑ 78 لاکھ، پاپولیشن ویلفیر ڈپارٹمنٹ میں 1 ارب 14 کروڑ پارلیمنٹری افئیر، پرائمری ایجوکیشن، مائنز اینڈ منرل، پی اینڈ ڈی میں 70 کروڑ 54 لاکھ محکمہ ٹرانسپورٹ میں 37 ارب 83 کروڑ 38 لاکھ 95 ہزار 892 روپے کی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئیں۔
زکوٰۃ و عشر میں 4 ارب 98 کروڑ اور محکمہ اسپورٹس میں 41 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئیں جب کہ لوٹ مار کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات اور ان کی دستاویزات کے بارے میں بھی جواب جمع نہیں کرایا گیا۔
13 سالہ لڑکی کا آپریشن، اندر سے انسانی بال اور ...
برازیل میں ایک ہفتے سے جاری بارش اور سیلاب نے ...
| 2020-01-29T12:09:55
|
https://dailypakistan.com.pk/07-Jan-2020/1074826
|
برما: تابنے کی کان کے بارے میں رپورٹ کے اجرا میں تاخیر
برما کی سب سے بڑی تانبے کی کان کو ایک چینی کمپنی چلاتی ہے، اور اسے برما کی فوجی ملکیت کی کمپنی یونین آف میانمر اکنامک ہولڈنگ کمپنی کا تعاون حاصل ہے۔
بینکاک — برما میں تانبے کی ایک متنازع کان کے بارے میں رپورٹ جاری کیے جانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ فوج اور چین اس کان کے حامی ہیں جب کہ ملک میں اس کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن کہتےہیں کہ اس کان کے بارے میں ہونے والی تفتیش سے نئی حکومت اور جمہوریت کی لیڈر آن سان سوچی کی آزمائش ہو جائے گی جنہیں اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جس کے ذمے تانبے کے اس سودے کی تفتیش کا کام ہے۔
اس کمیشن کا تقرر برما کے صدر نے کیا تھا اور اسے 31 جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی۔
لیکن یہ تاریخ آئی اور چلی گئی، نہ تو کوئی رپورٹ جاری کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وسطی برما میں اس منصوبے پر کس طرح کام ہو رہا ہے۔
انھوں نے جب اس کان میں توسیع کے لیے 1 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا تو مقامی گاؤں والوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں یہ پریشانی بھی تھی کہ اس منصوبے سے ماحول پر بہت برے اثرات پڑیں گے۔
گذشتہ مہینے، ایک ماہ تک مظاہرے ہوتے رہے اور انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو تشدد کا سہارا لینا پڑا ۔
تھین تھان اوو برما لائرز نیٹ ورک کی قانونی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ پولیس نے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سفید فاسفورس کے کنستر استعمال کیے جو انتہائی سخت آتش گیر مادہ ہے۔
‘‘اس طرح وہ سب لوگوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کاروباری معاملہ ہے۔ اس سے دور رہیں ۔ اسے کوئی نہیں چھو سکتا ۔ اس طرح وہ لوگوں کو خوفزدہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔’’
تھین کہتے ہیں کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پولیس کو کارروائی کرنے کا حکم کس نے دیا تھا ۔ بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں فوج ملوث ہو سکتی ہے۔
پولیس کی کارروائی کے بارے میں تنازعے کے با وجود، یہ بات واضح نہیں ہے کہ آنگ سان سوچی کے کمیشن کو اس معاملے کی تفتیش کا اختیار ہے بھی یا نہیں۔
ہیومین رائٹس واچ کے ڈیوڈ میتھسن کہتے ہیں کہ برما کی سویلین حکومت کے لیے اس قسم کی تفتیش بالکل نئی چیز ہے۔
‘‘یہ احتجاج اور اس کے خلاف پولیس کی کارروائی، اور تانبے کی کان سے متعلق دوسرے معاملات، یہ سب اہم چیزیں ہیں ۔ لیکن یہ اس بات کا بھی اہم ٹیسٹ ہے کہ حکام پُر امن مظاہروں سے، اور زمین کی ملکیت کے حقوق سے کس طرح نمٹتے ہیں ۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔’’
چینی کمپنی اور برما کی فوج کے درمیان تانبے کی کان کا سودا فوجی حکومت کے زمانے میں ہوا تھا اور شفافیت کے فقدان کی وجہ سے اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔
آنگ سان سوچی اس تنازعے پر پہلے ہی اظہارِ خیال کر چکی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ گاؤں والوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے، لیکن برما کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتوں کا پاس کیا جائے۔
ڈیوڈ کہتے ہیں کہ کمیشن کی رپورٹ سیاست داں کی حیثیت سے آنگ سان سوچی کا بھی امتحان ہے۔
‘‘ان کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ایک انتہائی اہم واقعے کی تفتیش کریں، بلکہ در اصل انہیں مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں ہمارے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے کتنی موثر ثابت ہوتی ہیں۔’’
این ایل ڈی کے ترجمان نیان ون کہتے ہیں کہ جب یہ رپورٹ جاری کر دی جائے گی اسی وقت پتہ چلے گا کہ آن سان سوچی مختلف حلقوں کی طرف سے پڑنے والے دباؤ کا کس طرح مقابلہ کرتی ہیں۔
’’ہمیں فائنل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیئے اور پھر یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ علاقے کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کر سکتی ہیں۔’’
اس دوران برما کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تانبے کی اس کان کے نزدیک احتجاج جاری ہیں۔ برما میں چین کے سفیر نے بھی گذشتہ ہفتے اس معاملے میں دلچسپی لی اور کانوں کے وزیر کے ساتھ میٹنگوں میں شریک ہوئے۔
برما میں چین کے سفارت خانے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ برما نیک نیتی سے چین کے کاروباری مفادات کی حفاظت کرے گا، اور متنازعہ امور کو طے کرنے میں مدد دے گا۔
| 2018-05-27T18:11:20
|
https://www.urduvoa.com/a/burma-mine-report/1596515.html
|
سعودی حکم پرملیشیاءنہ جانےوالے ایران کےساتھ مصالحت کیسے کرواسکتے ہیں؟ علامہ جواد نقوی
حزب اللہ، حشد الشعبی، القدس فورس تمام گروہ امریکہ سے انتقام لینے کیلئے بے چین ہیں
شیعت نیوز: تحریک بیداری امت مصطفی کے سربراہ علامہ جواد نقوی نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سعودی مرضی کے بغیر ملیشیانہیں جاسکتے تو ایران کے ساتھ مصالحت کیسے کرواسکتے ہیں؟ پاکستان کا میڈیا عجیب طرز کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ خبریں دی جاتی ہیں کہ برطانوی شہزادی نے پاکستانی فالودہ کھایا جو اسے بہت پسند آیا، یہ غلامی کی انتہا ہے اور ایسی ہی سوچ پیدا کی جا رہی ہے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ایک اور عجیب واقعہ پیش آیا، سپریم کورٹ کے حکم پر خصوصی عدالت بنائی گئی، اسی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی، لاہور ہائیکورٹ نے وہ عدالت ہی ختم کر دی۔ یہ ہے ہمارا عدالتی نظام، ایک اور واقعہ پیش آیا، ایک ٹی وی ٹاک شو میں تحریک انصاف کا ایک رہنما فوجی بوٹ لے کر آ گیا۔ جس کا مقصد فوج کی حاکمیت کا اظہار کرنا تھا، یہ کتنی عجیب حرکت ہے، وہ فوجی ٹوپی بھی لا سکتا مگر بوٹ لایا، یہ ہیں ہمارے ملک کے حکمران، اور عوام بھی ایسے ہی ہیں، عوام حکمرانوں کے طرز پر زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں، حکمران سنجیدہ ہوں تو لوگ بھی سنجیدہ ہوتے ہیں۔ عوام کو بھی اب کسی چیز کی کوئی پراوہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی،عمران خان
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قرضے دینے والے عالمی اداروں نے شرائط رکھی ہیں جن میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔ قرض کہا گیا اس کا کوئی پتہ نہیں، لیکن عوام سود دے رہے ہیں۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ سود کی قسط دینے کیلئے عوام کیلئے مہنگائی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ یہاں کاروبار تو تباہ ہے، اسی لئے اس نے شرط رکھی کہ مہنگائی بڑھائی جائے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے لوگ ہی معاشی اداروں میں بیٹھے ہیں، اور وہ ہی پالیسیاں بناتے ہیں، گزشتہ ہفتے پورا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال میں گزرا ہے، ٹرانسپورٹرز نے بھاری جرمانوں کیخلاف احتجاج کیا، ہیلمٹ کے بعد ٹرکوں پر بھاری جرمانے کر دیئے گئے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے لاکھوں خاندان متاثر ہوئے، لوڈنگ کرنیوالے مزدور، ڈرائیور، پٹرول ڈالنے والے، سب بے روزگار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی آمدن نہیں ہے لیکن ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔ ساتھ یہ شوشہ بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ حکومت تو جانے والی ہے، یہ حکومت مزید چلی تو مسائل بڑھیں گے۔ جب افواہ اُڑتی ہے حکومت جانیوالی تو سٹاک مارکیٹ کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے، یہ افواہ کہ حکومت جانیوالی ہے ملک کی معیشت تباہ کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امت مسلمہ کا اتحاد خطے سے عالمی سامراج کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، علامہ باقر زیدی
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ایک صاحب نے کہا تھا کہ آئندہ 100 سال پرویز مشرف ہی حکومت میں رہیں گے مگر وہ بھی نہ رہ سکے۔ حکومت بدلنے کی باتیں ذخیرہ اندوزوں کیلئے مفید ہوتی ہیں، وہ اشیاء ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران، سعودی عرب اور عمان گئے ہیں اور عمان سے امریکہ گئے ہیں۔ انہوں نے اس سفر کو امن کی سفارتکاری قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی، ایران اور امریکہ کے درمیان صلح کروانے گئے ہیں، کسی نے بھی ان کے اس سفر کو سنجیدہ نہیں لیا، کیونکہ یہ سفر سنجیدہ ہے ہی نہیں، اگر آپ صلح کروانے جاتے ہیں تو صلح کیلئے آپ کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے، مگر آپ جس جنگ میں فریق ہیں اس میں آپ صلح کیسے کروا سکتے ہیں، یہ مصالحت کے عنوان سے کوئی اور ہدف ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی بن سلمان کے گرد گھومتی ہے، محمد بن سلمان روک دے آپ ملایشیاء کانفرنس میں نہیں جانا یہ رُک جاتے ہیں، جو وزیر بن سلمان کا اتنا پابند ہے وہ مصالحت میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، بحران میں اضافہ ہوا ہے، جنرل حاج قاسم سلیمانی کی شہادت نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ خطے کے حالات تبدیل ہیں، اگر بن سلمان نے دورے کا کہنا ہے تو ٹھیک ہے، اگر یہ ملایشیاء نہیں گئے تو بن سلمان کے حکم پر نہیں گئے، اب بن سلیمان نے بھیجا تو پھر کہہ سکتے ہیں کہ یہ کچھ ثمر بار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2019 ، سعودی عرب میں ریکارڈ تعداد میں قیدیوں کے سرقلم
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سعودی لابی مضبوط ہے، وہ جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل ہوتا ہے، یہ ہفتے میں دو بار ریاض میں جاکر حاضری دیتے ہیں۔ اگر یہ سعودی عرب نے ہدف دیا ہے تو یہ ماننے والی بات ہے، یہ ایلچی بن کر گئے ہیں ناکہ مصالحت کار، یہ ایک پیغام لے کر گئے ہیں۔ اندر اور بات ہوتی ہے باہر کوئی اور بات ہوتی ہے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا عمان تو یہ تعزیت کرنے گئے تھے، باقی ملکوں میں کیا کرنے گئے تھے؟ ایران کیا کرنے گئے، سعودی عرب کیا کرنے گئے اور امریکہ کیوں گئے؟ یہ صرف امن کا نام رکھا ہوا ہے، دعوے کرتے ہیں غیر جانبداری کے مگر غیر جانبدار ہیں نہیں، اسی رویے نے پاکستان کی حیثیت کو مشکوک کر دیا ہے، اب ترکی، ملایشیاء اور ایران پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات میں عراقی پارلیمنٹ نے قانون بنا دیا ہے کہ امریکی افواج عراق سے نکل جائیں اور اس کا مسودہ بھی امریکہ کو پہنچا دیا گیا، ٹرمپ نے جواب میں کہا اگر ہمیں عراق سے نکالا گیا تو ہم ایران سے بھی سخت پابندیاں لگائیں گے۔ اب عراقی عوام امریکہ کی موجودگی نہیں چاہتے، عراقی قیادت بھی پاکستانی قیادت کی طرح ہیں، عراقی حکمران امریکہ سے جڑے ہوئے ہین۔ آج بھی پورے عراق میں سیاسی و مذہبی رہنماوں نے عوام کو ملین مارچ کی دعوت دی ہوئی ہے، اور آج جمعہ کے روز پورے عراق میں امریکہ کیخلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عراقی رضاکار فورس نے جنرل سلیمانی کی بیٹی سےکیا وعدہ، انتقام ضرور لیا جائے گا !
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ عراقی حکمران امریکہ کیساتھ تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتے، لیکن کچھ موسمی لیڈر بھی ہیں، مقتدیٰ صدر جیسے لوگ بھی ہیں، چند عرصے قبل مقتدیٰ صدر نے ایران کیخلاف مظاہرے کئے اب ایران کے حق میں اور امریکہ کی مخالفت میں مظاہرے کروا رہا ہے، یہ ریٹ سے ہمدردیاں بدلتے ہیں۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ایک دن بن سلمان کے ساتھ جا بیٹھتا ہے، ایک دن رہبر کے پاس بیٹھا ہوتا ہے، ایک دن امریکہ کے حق میں نعرے لگا رہا ہوتا ہے، آج جمعہ کو اس نے امریکہ کیخلاف مظاہرے کی کال دی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقتدیٰ صدر نے بھی عراق کو غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا ہے، بعض دیگر شیعہ لیڈروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کو عراق سے نکل جانا چاہیے، ان قائدین نے امریکہ کو نہیں کہا، بلکہ ایران کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ایران میں ایک حادثہ ہوا، ایک مسافر طیارہ حادثے کا شکار ہوا، بعد میں پتہ چلا کہ غلطی سے میزائل لگا، ایران نے بھی اعتراف کرلیا۔ ایک مسافر طیارے کے حادثے نے ایران کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جس دن ایران عراق میں امریکی چھاونی کو نشانہ بنا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما اعجازچوہدری اورصحافیوں کے وفدکی قاسم سلیمانی کی شہادت پر قونصل جنرل سے تعزیت
علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ امریکہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران کا مجرم بن چکا تھا، مگر طیارے حادثے کے بعد صورتحال یکسر الٹ گئی اور امریکہ اب ایران پر چڑھائی کر رہا ہے، اور ایران کو مجرم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ طیارے عراقی چھاونیوں پر حملے کے وقت اُڑا اور میزائلوں کی زد میں آ گیا، ایران کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا، امام خمینی کے مزار پر حملہ کیا گیا، پاسداران کی فوجی پریڈ پر حملے کئے گئے، یہ داعش کے حملے تھے اور انہیں ان میں کامیابی ملی مگر ان دنوں بہت بڑی تعداد میں ایجنٹ گرفتار ہوئے، جو امریکہ کیساتھ ملے ہوئے تھے، ایرانی مسلح افواج میں دشمن کے جاسوس تھے جنہوں نے حملے کروائے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ یہاں بھی بُو آتی ہے کہ یہ بھی دشمن کی سازش ہے، لگتا ہے کہ اندر سے سازش کروائی گئی ہے۔ اس کا ایران کو بہت نقصان ہوا ہے، اب ایران سے جواب مانگا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ کیوں گرایا گیا ہے، ٹرمپ نے اسی مسافر طیارے کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ اور اب حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں، یہ مظاہرین گنے چنے ہیں، سو دو سو آدمی جمع ہوتے ہیں، عالمی میڈیا ان کو بھرپور کوریج دیتا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ایران کو عالمی دباو کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور دیگر شرارتی ممالک کا ہدف ہے کہ ایران میں مظاہرے کروائے جائیں اور ایرانی حکومت کو دباو میں لا کر امریکہ سے انتقام لینے کے جذبے کو سرد کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم حالیہ طوفانی برفباری سے مشکلات کے شکار عوام کو خصوصی گرانٹ کا اعلان کریں، آغا علی رضوی
انہوں نے کہا کہ آج ایران میں بھی حکومت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور راہبر معظم ایک عرصے کے بعد جمعہ کا خطبہ دے رہے ہیں۔ اس دفعہ رہبر معظم کے جمعہ پڑھانے کو میڈیا نے بہت اہمیت دی جس سے لگتا ہے کہ آج کا خطبہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ ایران پر پڑنے والا دباو رہبر کے خطاب اور تدبیر سے ہی ٹلتا ہے، رہبر کی تقریر ہی ایران کو بحران سے نکالتی ہے۔
علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی کوشش ہے بحران کو بحران سے حل کیا جائے، چھوٹے بحران پر قابو پانے کیلئے بڑا بحران کھڑا کر دو، اس سے لگتا ہے کہ خطے میں اب کوئی بڑا بحران آئے گا۔ تمام ونگ حزب اللہ، حشد الشعبی، القدس فورس امریکہ سے انتقام لینے کیلئے بے چین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں آگ کے شعلے کسی وقت بھی بلند ہو سکتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ جب تک سلمان پاکستان کا حکمران رہے گا، یہ امریکی کالونی ہی رہے گا، عوام آزاد سوچتے ہیں، حتیٰ بعض سیاستدان بھی آزاد سوچتے ہیں اور حکومت کی ملامت بھی کی کہ قاسم سلیمانی کو شہید تک نہیں کہا گیا، پاکستان میں شہید سلیمانی کے شہادت کے بعد لشکر جھنگوی کے سوا تمام نے اظہار تعزیت کیا ہے، سب نے اعتراف کیا ہے کہ دین کے دفاع کیلئے اگر کوئی کام کر رہا تھا وہ قاسم سلیمانی ہی تھا، ان کی شہادت سے ایک خلا پیدا ہوا ہے، لیکن امید ہے یہ خلا جلدی پُر ہوگا اور امریکہ کا انخلاء سفارتکاری سے ناممکن ہے، یہ لاتوں کا بھوت ہے، لاتوں سے ہی نکلے گا۔ حشد الشعبی والوں نے کہا ہے کہ امریکہ سیدھے طریقے سے نہیں نکلتا تو پھر ہم اسے نکالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امت بیدار ہو چکی ہے، اب کشمیر اور فلسطین بہت جلد آزاد ہوں گے، لوگوں کو بیدار ہوتے ہوئے وقت لگتا ہے، لیکن اب امت بیدار ہو چکی ہے، علماء اگر حق بیان کرنا شروع کر دیں، لوگوں میں آمادگی موجود ہے۔ ایک دن آئے گا جس دن جشن آزادی کشمیر، جشن آزادی فلسطین اور جشن آزادی یمن منائیں گے۔
shiitenews ابومہدی المہندس امریکہ آیت اللہ خامنہ ای ایران بغداد پاکستان تحریک انصاف تیسری عالمی جنگ ثالثی حشدالشعبی حملہ خطبہ جمعہ سپاہ قدس سردارلشکر اسلام سعودی عرب شہید شہید قاسم سلیمانی شیطان بزرگ شیعت نیوز عراق علامہ سید جوادنقوی عمران خان
| 2020-02-16T23:20:27
|
https://urdu.shiitenews.org/jawwad-naqvi-pak-iran-ksa-usa/
|
بجٹ میں نان فائلرز کے شناختی کارڈ منسوخ، 5 نئے ٹیکسز لگانے پر غور
Posted on May 23, 2016 By Zulfiqar Ali اسلام آباد, کاروبار
یکم جولائی سے عام استعمال کی مختلف اشیا مہنگی ہونے کا امکان عمران فاروق قتل کیس ، سکاٹ لینڈ یارڈ کا ایف آئی اے سے معلومات کا تبادلہ
| 2017-09-20T14:43:17
|
http://www.geourdu.com/budget-non-fowler-id-card-canceled-taxes-consider/
|
دیہاڑی باز پروڈیوسروں نے برادری ازم اور گنڈاسہ کلچر کو پر موٹ کر کے فلم انڈسٹری کو نقصان پہنچایا‘اشفاق چوہدری ماضی میں شائقین فلم کے زوق اور معیار کے مطابق اصلاحی فلمیںبنائی جاتی تھیں ، اصلاحی فلمیں بنانے سے ہی شائقین واپس سینما آئیں گے
دیہاڑی باز پروڈیوسروں نے برادری ازم اور گنڈاسہ کلچر کو پر موٹ کر کے فلم انڈسٹری کو نقصان پہنچایا‘اشفاق چوہدری
ماضی میں شائقین فلم کے زوق اور معیار کے مطابق اصلاحی فلمیںبنائی جاتی تھیں ، اصلاحی فلمیں بنانے سے ہی شائقین واپس سینما آئیں گے
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) ٹی وی ،،فلم اور تھیٹر کے نامور رائٹر و ہدایتکار اشفاق چوہدری نے کہا ہے کہ نہ اہل پروڈیوسروں نے پاکستان فلم انڈسٹری کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں فنانسرز انتہائی قابل اور پروفیشنل لوگ تھے وہ شائقین فلم کے زوق اور معیار کے مطابق اصلاحی فلمیںبناتے تھے جس کی وجہ سے ہماری انڈسٹری بھارت کے مقابل کی فلمیں بناتی تھی مگر افسوس چند سالوں سے دیہاڑی باز اور نا اہل افراد نے برادری ازم اور گنڈاسہ کلچر کو پر موٹ کیا جو عوام کے زوق کے مطابق نہیں تھی ان عوام کی وجہ سے شائقین فلم نے ہماری فلمیں دیکھنا چھوڑدی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اصلاحی فلمیںبنائی جائیں جو ناراض فلم بینوں کو دوبارہ سے سینما گھروں میں آنے پر مجبور کریں تاکہ ہماری تباہ حال انڈسٹری دوبارہ سے اپنے قدموں پرکھڑی ہوسکے ۔
پاکستانبھارتتباہیفلم
| 2018-09-20T08:40:01
|
https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-05-05/news-1517457.html
|
اردو کالم – Lahore TV Blogs
Home / Tag Archives: اردو کالم
Tag Archives: اردو کالم
اگر آج فیض زندہ ہوتے؟ ڈاکٹرر لال خان
تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی بڑا نام خصوصاً سیاست، فلسفہ، مذہب یا ادب میں ابھرتا تو اس کے رحلت فرما جانے کے بعد آنے والی نسلیں ایک نئے وقت اور نئے عہد میں اُن کی سوچوں اور نظریات کو بعض اوقات اپنے مفادات اور مسلط عہد کے تقاضوں کے ...
اور کیا چاہیے!۔۔۔امجد اسلام امجد
بل گیٹس اور سٹیو جابز دو ایسے نام ہیں جن کی دولت اور کامیابیوں کی گونج اس کرہ ارض کے ہر آباد علاقے میں سنائی دیتی ہے کہ دونوں نے گزشتہ چار دہائیوں میں دنیا کے چند امیر ترین لوگوں کی فہرست میں نہ صرف اپنے نام کو قائم رکھا ...
جرم بمقابلہ سزاکاخوف؛ زینب کیس اور نظام انصاف کی ناکامی۔۔۔ رحمان ملک
زینب قتل کیس نےپوری قوم کو جھنجوڑ کررکھ دیا اور اسےانصاف دلانے کیلئےپوری قوم متحد ہوگئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کےازخودنوٹس لینے کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی اور گرفتاری اور بعداس کی سزاپرزینب کےخاندان اورعوام نےسکھ کا سانس لیا۔ مجرم کی سرعام پھانسی کے لیےعوام کافی دبائو ...
جو بے نیاز کا بندہ ہے‘ بے نیاز رہے ۔۔۔ ہارون الرشید
سورج آدمی کے باطن سے طلوع ہوتا ہے‘ چاند اور ستارے بھی!ان چند لوگوں میں سے ایک جنہیں میں نے شاد کام پایا۔ ابھی ابھی دروازے پر عبدالمعین نے دستک دی اور کاغذ میرے حوالے کیے۔ برسوں سے کراچی کے اس ہوٹل میں قیام کرتا آیا ہوں۔ برسوں سے اسے ...
الکفر ملت ًواحدۃً ( کہ تمام کفار ایک ہی قوم ہیں ) ہزاروں مرتبہ ہم اس کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں مگر اس کے بین السطور لکھے ہوئے پیغام کو نہ تو اپنا تے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرتے ہیں ٹرمپ کی یقینی جیت اسلام دشمنی اور ...
موجودہ دور میں جہاں سرمایہ دار انہ نظام میں ترقی کی ہے ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ارتقاء انسانی آزادیوں اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی ہیں ان ممالک کے لوگ ریاست کے آئین اور قانون کی پابندی کرتے ہیں تا ...
یادوں کی بھول بھلیاں اور ترجمے کی خوشگواریت ۔۔۔ کشور ناہید
ہم لوگ میڈیا کی غلطیوں کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ ان کو غلطیاں بھی نہیں سمجھتے۔ جس کو فاش غلطیاں کہتے ہیں۔ ان کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے ایک صاحب فریدہ خانم کا انٹرویو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’آپ ننگے پیر قبرستان میں ...
قاضی واجد، عاصمہ جہانگیر اور حنیف شاہد ۔۔۔ امجد اسلام امجد
اس میں کوئی شک والی بات نہیں کہ اس دنیا میں ہر کوئی واپس جانے کے لیے آتا ہے، سو دیکھا جائے تو آمد کی گھڑی اور کوچ کا نقارہ اصل میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جو لمحہ ہماری زندگیوں میں جمع ہوتا ہے وہی منفی بھی ...
عشروں پہلے پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مرزا جواد بیگ آب دیدہ ہو گئے۔ انہوں نے گلو گیر آواز میں کہا ”ایسے تھے ہمارے قائدِ اعظمؒ‘‘بارک اوباما صدر منتخب ہوئے تو ریاض اینڈی نے انکشاف کیا کہ قائدِ اعظمؒ نے تو یہ پیشین گوئی 1948ء میں کر ...
| 2018-02-22T22:59:44
|
http://lahoretvblogs.com/story/tag/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85
|
شیخوپورہ: وزیر اعلیٰ پنجاب بھکی شیخوپورہ میں گیس پاور پلانٹ کے منصوبے پر کام کا معائنہ کر رہے ہیں۔، اُردو پوائنٹ تصاویر
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے ہمیں سیاست سے روکنے کی بجائےجائزسیاسی اسپیش دی جائے،فاروق ستار
جدہ: 2016میں 1400 سے زائدسعودی شہریوں نے سرکاری ملازمتیں ترک کیں : محکمہ شماریات برطانیہ گیم چینجز منصوبے کا حصہ بننے کے لئے تیار ہے،برطانوی ہائی کمشنر
پاناما کیس پر ہمارے موقف میں کوئی تضاد نہیں آیا ،ْاسد عمر پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹرز کی شراب نوشی اور ٹیچر سے ناکام عشق کے بعد طالبعلم کی خودکشی کے سینیٹ میں تذکرے
پانامہ کیس کا جلد خاتمہ باالخیر ہو گا ،ْ نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم منتخب ہوں گے ،ْوزیر دفاع جدہ:سعودی عرب میں رہنے والے غیر ملکیوں کی پیسہ نہ بچانے کی پانچ غلطیاں سینیٹ اجلاس،کرکٹر امتیاز احمد کو زبرداست میں خراج عقیدت ،ان کے نام سے کرکٹ سٹیڈیم منسوب کرنے کا مطالبہ
کویت سٹی : دوبنگلہ دیشی شہریوں کو دوبارہ ڈی پورٹ کر دیا گیا لاہور پولیس کا مختلف علاقوں میں کومبنگ آپریشن ،30سے زائد اشتہاری ،15مشتبہ افراد زیر حراست
سیلفی بناتے ہوئے دریا میں گر جانے والا نوجوان دس روز بعد زندہ مل گیا عدالت میں آئین و قانون اور حقائق پر بات ہورہی ہے،وزیراعظم کو یہ اختیار نہیں کہ کسی پارلیمنٹرین کا استحقاق،عدالت کو کہا جارہا ہے کہ پہلے پھانسی دے دیں تفتیش بعد میں ہوتی .. جدہ: مکہ کرین حادثے کے کیس کی رپورٹس کو مقامی اخبارات میں آ نے سے نہیں روکا جاسکتا: سعودی عدالت عمران خان نے اداروں اور عدالتوں کودبائو میں لانے کی کوشش کی،انہوں نے سیاست میں جتنے رنگ بدلے اتنے کسی گرگٹ نے بھی نہیں بدلے،خواجہ سعد رفیق
سپریم کورٹ بار کے وکلا کے ساتھ ہوں، کیے گئے وعدے پورے کئے جائیں، وعدہ معاہدے کی طرح ہوتا ہے، حکومت کا اپنی زبان سے پیچھے ہٹنا کو ئی پہلی بار تو نہیں،ہرکسی کے ساتھ وعدہ کرکے .. عمران خان تین سال تک جھوٹ بولنے اور انتشار کی سیاست کرنے پر قوم سے معافی مانگیں، ان کی پٹیشن کے کتنے حصے عدالت میں پڑھ کر سنائے گئے جن پر پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل ہی پیش .. بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، چیئرمین بلدیہ ملیر جان محمد بلوچ
عمان:اگلے تین دنوں میں سلطنت کے متعددحصوں میں بارش کا امکان :محکمہ موسمیات چیف جسٹس سپریم کورٹ کا جعلی اسٹنٹ ڈالنے کے معاملے کا نوٹس،ڈی جی ایف آئی اے سے رپورٹ طلب
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ سے بحرین ڈیفنس فورسز کے کمانڈر انچیف ‘کمانڈر بحرین نیشنل گارڈز،کمانڈر بحرین کوسٹ گارڈز اورکمانڈر یو ایس نیول فورسز سنٹرل کمانڈ .. کوئٹہ میں دوپولیس اہلکاروں کو قتل کردیا گیا ،ْوزیر اعلیٰ کی مذمت ،ْ آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی
دبئی : والدہ کو قتل کرنے والے اماراتی شہری کو دو سال قید کی سزا ، دیت ادا کرنے کا حکم حکومت کے وکلاء کی جانب سے استثنیٰ مانگنے کے بعد بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے ‘ جمشید چیمہ
وزیر اعظم نواز شریف نے ہمیں چپ کرانے کیلئے اسمبلی میں تقریر کی تھی ،ْ عمران خان شہرقائد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری
فاروق ستار نے الیکشن کمیشن سے وفاداریاں تبدیل کرنے والے اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا مریم نواز نے آمدنی اور ٹیکس ادائیگیوں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرادیا
سی پیک سے پاکستان کے بیس لاکھ بتیس ہزار افراد کو روزگار ملے گا ‘کوئی ایک ملک پاکستان کی ترقی کیلئے درکار سرمائے کی بھوک ختم نہیں کر سکتا ‘سی پیک میں مزید ممالک کو دعوت .. کراچی کے مختلف علاقوں میں 3.6شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
جدہ: استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری کینٹ بورڈکا تجاوزات کے خلاف آپریشن،10ٹرک سامان ضبط
پانامہ کیس میں اب عمران خان کا موقف پارلیمان میں وزیراعظم کی تقریر تک محدود ہوچکا ہے،پانامہ کیس کے بعد عمران خان میں سیاسی رمق بھی باقی نہیں رہے گی ‘ وزیراعظم کے ورکر .. جس کی جائیداد بھی بے نامی اور اولاد بھی بے نامی ہو ان پر 62 اور 63 لگنی چاہیے ،ْوزیر ریلوے سعد رفیق حاجی قیصر امین بٹ کی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات
تبوک: سعودی بھائیوں پر مصر میں گردے بیچنے کاالزام ٹھٹھر ملکاںمیں کار پھسلن کے باعث گہری کھائی میں جاگری ، ایک شخص جاں بحق ، 2 زخمی
ریاض: سعودی محکمہ پاسپورٹ کے اعلی ٰ حکا م نے غیر ملکیوں پر کریک ڈاؤن کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کے وکیل نے تسلیم کرلیا ہے نواز شریف نے اسمبلی میں جھوٹ بولا ہے ،ْ فواد چوہدری ہائوسنگ سوسائٹیوں کیلئے قانون سازی نہ کرنے کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت، وزارت ہائوسنگ سے جواب طلب
سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد ہونا چاہئے‘ پاکستان ہر صورت اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا‘ وسائل کے ضیاع کو روک کر ملکی ترقی کے اہداف آسانی سے حاصل ہوسکتے ہیں‘ .. معروف مبلغ جنید جمشید کی زندگی پر مبنی فلم پر بھارت میں پابندی عائد لارڈ میئر لاہور اور ڈی آئی جی ٹریفک کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ اور سٹی ٹریفک پولیس کا مشترکہ اجلاس
جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کا انتقال قوم کا اجتماعی نقصان ہے ، قائم مقام گورنر سندھ پمز اسلام آباد کے ڈاکٹروں نے طالبعلم اسامہ کی موت کو خودکشی قرار دیدیا
کویت سٹی : سگے بھائی کو قتل کر کے ٹریفک حادثہ قرار دینے والا غیر ملکی شہری گرفتار حکومت نے پاکستان اسٹیل کو30سال کیلئے لیزپردینے کافیصلہ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کا مولانا عبد الحفیظ مکی کے انتقال پر اظہار تعزیت
سپریم کورٹ کی کارروائی سے مطمئن ہوں، رات کو نیند بھی اچھی آ رہی ہے ۔ پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان نوازشریف نے عدالت سے کوئی استثنیٰ نہیں مانگا،عمران خان نے الیکشن کمیشن میں استثنیٰ مانگا ،پارلیمنٹ کو دھاندلی زدہ کہنے والے اسی ایوان کا سہارا لے رہے ہیں،عمران خان 2013میں .. پانامہ کیس میں موجودہ ایڈیشنل آئی جی ایف آئی اے کو ثبوت دینا چاہیے ،ْرحمن ملک
ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان پاکستان سے گاڑیوں کے پرزہ جات اور سگریٹ کے علاوہ ہر چیز درآمد کر سکتا ہے‘ ٹرانزٹ ٹریڈ ایران منتقل ہونے کا تاثر درست نہیں، وفاقی وزیر تجارت .. دبئی میں چند بہترین ملازمتیں جس میں 20,000درہم ماہانہ تنخواہ حاصل کر سکتے ہیں وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر سچائی پر مبنی ہے ۔ دانیال عزیز پی آئی اے کی اعلیٰ انتظامیہ کی تنخواہیں لاکھوں میں ہیں‘ نچلے گریڈ کے ملازمین کو چھ چھ ماہ سے تنخواہیں اور الائونس نہیں مل رہے‘ اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے، چیئرمین سینٹ .. پچھلے چار سالوں میں 127 قوانین بنائے گئے، سینئر وزیر عنایت اللہ
جنگلات پالیسی کی مشترکہ مفادات کونسل نے منظوری دیدی، قومی سٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی، مقصد جنگلات کے خاتمے اور جنگلات کا معیار گرنے کو روکنے کے لئے گیسوں کے اخراج .. عمران خان یوٹرن اور قلابازیوں کے ماسٹر اور لگاتار جھوٹ بولتے ہیں‘ عمران خان پہلے الزامات لگاتے ہیں بعد میں معافیاں مانگتے ہیں‘ عمران خان کو مریم نواز سب سے بڑا خطرہ .. وزیراعلیٰ شہبازشریف کے سخت نوٹس کے بعد پولیس کا فوری ایکشن، فائرنگ کرنیوالے ملزمان گرفتار
عمان: ملکی اور غیر ملکی شہریوں کے لیئے نئے لیبر قوانین جلد ہی متعارف کروا دیئے جائیں گے : وزیر برائے افرادی قوت سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کا طلبی کے باوجود سیکرٹری اسلام آباد کلب کی عدم حاضری کا نوٹس ، ان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی منظوری
طیبہ تشددکیس:ڈی این اے رپورٹ میں طیبہ کے والدین کی شناخت ہوگئی دینی مدارس کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے‘زعیم حسین قادری
برطانیہ سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کو تیار ہے ۔ برطانوی ہائی کمشنر بینکوں میں انوسٹمنٹ کا مقصد سرکاری رقوم کو محفوظ طریقہ کار کے تحت کام میں لانا ہے۔ڈاکٹر امجد علی
ہائوسنگ فائونڈیشن نے اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے 60 افسران کو پیشہ وارانہ کوٹے کے تحت میرٹ پر پلاٹ الاٹ کئے ‘ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں میرٹ کی کوئی خلاف ورزی نہیں .. سینیٹ اجلاس ،بے نامی جا ئیداد رکھنے سے متعلق ترسیلات کا بل 2016ء منظور
پاکستان نے ترقی پذیر معیشتوں کی فہرست میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا کراچی ،کورنگی اور پی آئی بی سے 6 ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد
ڈاکٹر شکیل آفریدی غیر ملکی ایجنسی کے لئے کام کرتا رہا اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا‘ کمشنر ایف سی آر کی عدالت میں اس کی سزا کا معاملہ زیر سماعت ہے‘ پاکستان نے امریکہ .. وزیر داخلہ کا راولپنڈی کی تین اہم شاہراہوں ائیر پورٹ روڈ، اڈیالہ روڈ اور ہائی کورٹ روڈ کے ناقص تعمیری معیار کا نوٹس
چیف جسٹس آف پاکستان کا لاہورمیں دل کے جعلی سٹنٹ ڈالنے کاازخود کانوٹس عمان: زائد المیعاد مدت کی اشیائے خوردونوش بیچنے پر شہری کو تین ماہ قید کی سزا، 2000قطری ریال جرمانہ کوئٹہ فائرنگ کے واقعات میں 2 پولیس اہلکار قتل
قلات میں گیس کی فراہمی کا مسئلہ امن و امان اور چوری کی وجہ سے ہے، اس وقت بھی علاقے میں گیس فراہم کی جارہی ہے‘ جب تک چوری کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن .. ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو اسکولز کی کارکردگی و مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کے لئے گاڑیاں مہیا کی جا رہی ہیں، صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈہر
جنگ ہونے کی صورت میں چینی فوجی 48 گھنٹوں میں بھارتی دارالحکومت میں داخل ہو جائیں گے ۔ سرکاری ٹی وی چین متحدہ عرب امارات ،غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 2پاکستانیوں کو عمر قید کی سزا
ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے نہیں کر رہے،وفاقی وزیر قانون ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو توہین عدالت کی دو مختلف درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا
نوازشریف منی ٹریل بتا دیں تو اپنا کیس واپس لے لوں گا ، شیخ رشید کی پیشکش وکلا نے وکیل وزیراعظم ، اعتزازاحسن ،پروٹوکول آفیسر مریم اورنگزیب کو سپریم کورٹ داخلے سے رو ک دیا، تلخ جملوں کا تبادلہ
ہنڈا اٹلس کی جانب سے رواں برس ہنڈا سٹی کو پاکستان کی مارکیٹ میں فروخت کیلئے پیش کرنے کی خبریں بے بنیاد نکلیں قلات میں گیس کی فراہمی کا مسئلہ امن و امان اور چوری کی وجہ سے ہے ،ْ وزیر پٹرولیم
پانامہ لیکس کیس کی سماعت، وزیر اعظم نواز شریف نے عدالت سے آرٹیکل248 کے تحت استثنا مانگ لیا 2018 میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھریں گے، انیس قائم خانی
انسداد اسٹریٹ کرائمز پر آئی جی سندھ کی صدارت میں اجلاس، سم کے ذریعے موبائل فون کو بلاک کرنے کا سافٹ وئیر تکمیلی مراحل میں ہے: بریفنگ بریکوٹ ،لنڈا پولیس کی کامیاب کارروائی ،بھاری مقدار میں چرس سمگل کرنے کوشش ناکام بنادی
منگل 22 مارچ 2016 شیخوپورہ: وزیر اعلیٰ پنجاب بھکی شیخوپورہ میں گیس پاور پلانٹ کے منصوبے پر کام کا معائنہ کر رہے ہیں۔
22/03/2016 - 19:28:52
| 2017-01-17T15:07:01
|
http://daily.urdupoint.com/livegallery/2016-03-22/image-29967.html
|
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.