File size: 67,561 Bytes
77baeb3
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
294
295
296
297
298
299
300
301
urdu_sample_0201|یاسین سے تعلق قطع ہونے پر زینت نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا بہت دنوں تک کوئی نئی بات وقو پذیر نہ ہوئی۔|ahmad
urdu_sample_0202|ایک دن ٹیلی فون کیا تو معلوم ہوا بابو گوپی ناتھ غلام علی اور غفار سائیں کے ساتھ لاہور چلا گیا ہے روپے کا بندوبست کرنے کیونکہ پچاس ہزار ختم ہو چکے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0203|جاتے وقت وہ زینت سے کہہ گیا تھا کہ اسے لاہور میں زیادہ دن لگیں گے کیونکہ اسے چند مکان فروخت کرنے پڑیں گے سردار کو مورفیہ کے ٹیکوں کی ضرورت تھی اور سینڈو کو پولسن مکھن کی۔|ahmad
urdu_sample_0204|چنانچہ دونوں نے متحدہ کوشش کی کہ زینت کو دوبارہ گندے ماحول میں لے جائیں۔|ahmad
urdu_sample_0205|میں نے ایک دن زینت سے کہا یہ تم کیا کر رہی ہو اس نے بڑے الہڑپن سے کہا۔|ahmad
urdu_sample_0206|مجھے کچھ معلوم نہیں ہے بھائی جان یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں مان لیتی ہوں جی چاہا تھا کہ دیر تک پاس بیٹھ کر سمجھاؤں کہ جو کچھ تم کر رہی ہو ٹھیک نہیں۔|ahmad
urdu_sample_0207|سینڈو اور سردار اپنا اللو سیدھا کرنے کے لیے تمہیں بیچ بھی ڈالیں گے مگر میں نے کچھ نہ کہا زینت اکتا دینے والی حد تک بے سمجھ، بے امنگ اور بے جان عورت تھی۔|ahmad
urdu_sample_0208|اس کمبخت کو اپنی زندگی کی کچھ قدر و قیمت ہی معلوم نہیں تھی واللہ مجھے بہت کوفت ہوتی تھی اسے دیکھ کر۔|ahmad
urdu_sample_0209|سگرٹ سے شراب سے کھانے سے گھر سے ٹیلی فون سے حتیٰ کہ اس صوفے سے بھی جس پر وہ اکثر لیٹی رہتی تھی اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔|ahmad
urdu_sample_0210|بابو گوپی ناتھ پورے ایک مہینے کے بعد لوٹا وہاں گیا تو وہاں فلیٹ میں کوئی اور ہی تھا۔|ahmad
urdu_sample_0211|سینڈو اور سردار کے مشورے سے زینت نے باندرہ میں ایک بنگلے کا بالائی حصہ کرائے پر لے لیا تھا بابو گوپی ناتھ میرے پاس آیا تو میں نے اسے پورا پتہ بتا دیا۔|ahmad
urdu_sample_0212|اس نے مجھ سے زینت کے متعلق پوچھا جو کچھ مجھے معلوم تھا میں نے کہہ دیا لیکن یہ نہ کہا کہ سینڈو اور سردار اس کو گڑھے میں گرا رہے ہیں۔|ahmad
urdu_sample_0213|بابو گوپی ناتھ اب کی دس ہزار روپے اپنے ساتھ لائے تھا جو اس نے بڑی مشکلوں سے حاصل کیا۔|ahmad
urdu_sample_0214|غلام علی اور غفار سائین کو وہ لاہور ہی میں چھوڑ آئے تھا ٹیکسی نیچے کھڑی تھی۔|ahmad
urdu_sample_0215|بابو گوپی ناتھ نے اسرار کیا کہ میں ابھی اس کے ساتھ چلوں قریباً ایک گھنٹے میں ہم باندرا پہنچ گئے۔|ahmad
urdu_sample_0216|پالی ہل پر ٹیکسی چڑھ رہی تھی کہ سامنے تنگ سڑک پر سینڈو دکھائی دیا بابو گوپی ناتھ نے زور سے بکارا سینڈو۔|ahmad
urdu_sample_0217|سینڈو نے جب بابو گوپی ناتھ کو دیکھا تو اس کے منھ سے صرف اس قدر نکلا دھرن تکتا۔|ahmad
urdu_sample_0218|بابو گوپی ناتھ نے اس سے کہا آؤ ٹیکسی میں بیٹھ جاؤ اور ساتھ چلو لیکن سینڈو نے کہا ٹیکسی ایک طرف کھڑی کیجئے مجھے آپ سے کچھ پرائیویٹ باتیں کرنی ہیں۔|ahmad
urdu_sample_0219|ٹیکسی ایک طرف کھڑی کی گئی بابو گوپی ناتھ باہر نکلا تو سینڈو اسے کچھ دور لے گیا۔|ahmad
urdu_sample_0220|دیر تک ان میں باتیں ہوتی رہیں جب ختم ہوئی تو بابو گوپی ناتھ اکیلا ٹیکسی کی طرف آیا۔|ahmad
urdu_sample_0221|ڈرائیور سے اس نے کہا واپس چلو بابو گوپی ناتھ خوش تھا ہم دادر کے پاس پہنچے تو اس نے کہا۔|ahmad
urdu_sample_0222|منٹو صاحب زینوں کی شادی ہونے والی ہے میں نے حیرت سے پوچھا کس سے بابو گوپی ناتھ نے جواب دیا۔|ahmad
urdu_sample_0223|حیدر آباد سندھ کا ایک دولت مند زمیندار ہے خدا کرے دونوں خوش رہیں۔|ahmad
urdu_sample_0224|یہ بھی اچھا ہے جو میں این وقت پر آپ پہنچا جو روپے میرے پاس ہیں ان سے زینوں کا جہیز بن جائے گا۔|ahmad
urdu_sample_0225|کیوں کیا خیال ہے آپ کا میرے دماغ میں اس وقت کوئی خیال نہیں تھا۔|ahmad
urdu_sample_0226|میں سوچ رہا تھا کہ یہ حیدر آباد سندھ کا دولت مند زمیندار کون ہے سینڈو اور سردار کی کوئی جال سازی تو نہیں۔|ahmad
urdu_sample_0227|لیکن بعد میں اس کی تصدیق ہو گئی کہ وہ حقیقتاً حیدر آباد کا متمول زمیندار ہے جو حیدر آباد سندھ ہی کے ایک میوزک ٹیچر کی معرفت زینت سے متعارف ہوا۔|ahmad
urdu_sample_0228|یہ میوزک ٹیچر زینت کو گانا سکھانے کی بے سود کوشش کیا کرتا تھا ایک روز یہ اپنے مربی غلام حسین یہ اس حیدرباد سندھ کے رئیس کا نام تھا۔|ahmad
urdu_sample_0229|کو ساتھ لے کر آیا زینت نے خوب خاطر مدارات کی غلام حسین کی پرزور فرمائش پر اس نے غالب کی غزل۔|ahmad
urdu_sample_0230|نکتہ چین ہیں غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے گا کر سنائی غلام حسین سو جان سے اس پر فریفتہ ہو گیا۔|ahmad
urdu_sample_0231|اس کا ذکر میوزک ٹیچر نے زینت سے کیا سردار اور سینڈوں نے مل کر معاملہ پکا کر دیا اور شادی تیہ ہو گئی۔|ahmad
urdu_sample_0232|بابو گوپی ناتھ خوش تھا ایک دفعہ سینڈو کے دوست کی حیثیت سے وہ زینت کے ہاں گیا۔|ahmad
urdu_sample_0233|غلام حسین سے اس کی ملاقات ہوئی اس سے مل کر بابو گوپی ناتھ کے خوشی دونی ہو گئی۔|ahmad
urdu_sample_0234|مجھ سے اس نے کہا منٹو صاحب خوبصورت جوان اور بڑا لائک آدمی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0235|میں نے یہاں آتے ہوئے داتا گنج بخش کے حضور جا کر دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی بھگوان کرے دونوں خوش رہیں۔|ahmad
urdu_sample_0236|بابو گوپی ناتھ نے بڑے خلوص اور بڑی توجہ سے زینت کی شادی کا انتظام کیا دو ہزار کے زیور اور دو ہزار کے کپڑے بنوا دیئے اور پانچ ہزار نکت دیئے۔|ahmad
urdu_sample_0237|محمد شفیق توسی، محمد یاسین پروپرائیٹر نگینہ ہوٹل، سینڈو میوزک ٹیچر، میں اور گوپی ناتھ شادی میں شامل تھے دلہن کی طرف سے سینڈو وکیل تھا۔|ahmad
urdu_sample_0238|اجاب و قبول ہوا تو سینڈو نے آہستہ سے کہا دھڑن تختہ غلام حسین سرج کا نیلا سوٹ پہنے تھا۔|ahmad
urdu_sample_0239|سب نے اس کو مبارک باد دی جو اس نے خندہ پیشانی سے قبول کی کافی وجیح آدمی تھا۔|ahmad
urdu_sample_0240|بابو گوپی ناتھ اس کے مقابلے میں چھوٹی سی بٹیر معلوم ہوتا تھا شادی کی دعوتوں پر خرد و نوش کا جو سامان بھی ہوتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0241|بابو گوپی ناتھ نے مہیا کیا تھا دعوت سے جب لوگ فارغ ہوئے تو بابو گوپی ناتھ نے سب کے ہاتھ دھلوائے۔|ahmad
urdu_sample_0242|میں جب ہاتھ دھونے کے لیے آیا تو اس نے مجھ سے بچوں کے ایسے انداز میں کہا منٹو صاحب ذرا اندر جائیے اور دیکھئے زینو دلہن کے لباس میں کیسی لگتی ہے میں پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔|ahmad
urdu_sample_0243|زینت سرخ زربفت کا شلوار کرتہ پہنے تھی دوپٹا بھی اسی رنگ کا تھا جس پر گوٹ لگی تھی۔|ahmad
urdu_sample_0244|چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ تھا حالانکہ مجھے ہونٹوں پر لپسٹک کی سرخی بہت بری معلوم ہوتی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0245|مگر زینت کے ہونٹ سجے ہوئے تھے اس نے شرما کر مجھے آداب کیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔|ahmad
urdu_sample_0246|مینے زینت سے کہا یہ کیا مسخراپن ہے؟ زینت نے میری طرف بالکل معصومیت سے دیکھا۔|ahmad
urdu_sample_0247|آپ مزاک کرتے ہیں بھائی جان اس نے یہ کہا اور آنکھوں میں آنسوں ڈبڈبائے۔|ahmad
urdu_sample_0248|مجھے اپنی غلطی کا احساس بھی نہ ہوا تھا کہ بابو گوپی ناتھ اندر داخل ہوا بڑے پیار کے ساتھ اس نے اپنے رومال کے ساتھ زینت کے آنسو پہنچے۔|ahmad
urdu_sample_0249|اور بڑے دکھ کے ساتھ مجھ سے کہا منٹو صاحب میں سمجھا تھا آپ بڑے سمجھدار اور لائک آدمی ہیں۔|ahmad
urdu_sample_0250|زینوں کا مزاک اڑانے سے پہلے آپ نے کچھ سوچ لیا ہوتا بابو گوپی ناتھ کے لہجے میں وہ عقیدت جو اسے مجھ سے تھی زخمی نظر آئی۔|ahmad
urdu_sample_0251|لیکن پہشتر اس کے کہ میں اسے معافی مانگوں اس نے زینت کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہا۔|ahmad
urdu_sample_0252|خدا تمہیں خوش رکھے یہ کہہ کر بابو گوپی ناتھ نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔|ahmad
urdu_sample_0253|ان میں ملامت تھی بہت ہی دکھ بھری ملامت اور چلا گیا۔ کاسموس از کارل ساگان۔|ahmad
urdu_sample_0254|چھٹا باب مسافر کہانیاں کیا بہت سے دنیایں موجود ہیں؟ یا صرف ایک ہی دنیا؟|ahmad
urdu_sample_0255|مطالعہ فطرت میں یہ عالی اور محذب ترین سوال ہے البرٹس میگنس تہرویں صدی عیسوی۔|ahmad
urdu_sample_0256|شاید ہم اس غیر دلچسپ کرۂ ارض سے اوپر اٹھیں اور اسے اوپر سے دیکھتے ہوئے اس بات پر غور کریں کہ کیا قدرت نے اپنی تمام تر قدر و قیمت اور آرائش و زیبائش۔|ahmad
urdu_sample_0257|گرد کے اس ایک ذرے پر ہی صرف کر دی ہے تب ہم دور افتادہ ممالک کے مسافروں کی طرح اپنے عرضی گھر کے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکنے کے قابل ہوں گے۔|ahmad
urdu_sample_0258|اور ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہر شے کا درست تخمینہ کیسے لگانا اور اس کے قدر کیسے مقرر کرنی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0259|جب ہم یہ جان لیں گے کہ ہماری جیسی زمینوں کا ایک امبوہ کثیر موجود ہونے کے ساتھ ساتھ آباد بھی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0260|تو ہم اس کو سراہنے پر کم مائل ہوں گے جسے یہ دنیا عظیم کہتی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0261|اور عآلا ظرفی سے اس شغل میلے کی مذمت کریں گے جو افراد کی اکثریت کو بہت عزیز ہے کرسچین ہویگنز۔|ahmad
urdu_sample_0262|سماوی دنیاؤں کی دریافت یہ وہ دور ہے جب انسانوں نے بحر خلا میں جہاز رانی شروع کر دی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0263|کیپلری مستدیر یا ٹراجیکٹریز حرکت پر چلنے والے جدید جہاز انسانوں کے بغیر ہیں نامعلوم دنیاؤں کی پڑتال کرنے والے ان نیم ذہین روبوٹوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0264|بیرونی نظام شمسی میں بھیج جانے والی مہمات کو کرۂ ارض پر واحد جگہ یعنی ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری۔|ahmad
urdu_sample_0265|یا جے پی ایل سے کنٹرول کیا جاتا ہے جو پیسر دینہ کیلیفورنیا میں واقع ہے۔|ahmad
urdu_sample_0266|نو جولائی انیسا ناسی کو وائجر ٹو نامی خلائی جہاز مشتری کے نظام میں داخل ہوا۔|ahmad
urdu_sample_0267|یہ تقریباً دو سال تک بین السیاراتی خلا میں جہاز رانی کرتا رہا تھا جہاز کو لاکھوں علیحدہ علیحدہ حصے جوڑ کر بنایا گیا۔|ahmad
urdu_sample_0268|تاکہ کوئی ایک ناکارہ ہو جائے تو باقی اس کا کام سنبھال لیں خلائی جہاز کا وزن صفر اشاری نو ٹن۔|ahmad
urdu_sample_0269|یا چودہ سو چالیس کلو گرام اور حجم ایک بڑے رہائشی کمرے جتنا ہے اس کا مشن اسے سورج سے اس قدر دور لے گیا کہ دوسرے خلائی جہازوں کی طرح اسے شمسی توانائی کے قوت سے نہیں چلائے جا سکتا۔|ahmad
urdu_sample_0270|اس کی بجائے وائجر کا انحصار ایک چھوٹے سے نیوکلئر پاور پلانٹ پر ہے جو پلٹونیم کی ایک گولی کے تابکاری انتشار سے سینکڑوں واٹ اخذ کرتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0271|اس کے تین مجتمع کمپیوٹر اور بیشتر اندرون خانہ وظائف مثلاً درجہ حرارت کنٹرول کرنے والا نظام وسط میں متعین ہے۔|ahmad
urdu_sample_0272|یہ کررہِ عرض سے احکامات وصول کرتا اور اپنی تحقیق و تفتیش کو تین اشاریہ سات میٹر کتر کے بہت پڑے انٹینہ کے ذریعے کررہِ عرض پر واپس ریڈیو کے ذریعے بھیجتا ہے اس کے زیادہ تر سائنسی اعلات۔|ahmad
urdu_sample_0273|ایک تجزیاتی چبوترے پر ہے جو اس وقت فوراً مشتری یا اس کے کسی ایک چاند کی طرف رخ کر لیتا ہے جب خلائی جہاز تیزی کے ساتھ ان کے پاس سے گزرتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0274|اس میں الٹرا وائلٹ اور انفراریڈ تیف پیما چارج پارٹیکلز اور مقناطیسی میدان۔|ahmad
urdu_sample_0275|اور مشتری سے ریڈیو اخراج ماپنے والے متعدد سائنسی آلات موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ مؤثر کردگی۔|ahmad
urdu_sample_0276|دو ٹیلی ویژن کیمروں نے دکھائی جنہیں بیرونی نظام شمسی میں سیاراتی جزیروں کی لاکھوں تصاویر لینے کے لیے بنایا گیا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0277|مشتری کے گرد باردار ذرات یا چارج پارٹیکلز کا ایک نظر نہ آنے والا لیکن انتہائی خطرناک اور زبردست۔|ahmad
urdu_sample_0278|توانائی والا خول ہے مشتری اور اس کے چاندوں کو قریب سے بغور دیکھنے۔|ahmad
urdu_sample_0279|اور زہل اور اس سے پرے اپنا مشن جاری رکھنے کے لیے خلائی جہاز کو اس تابکاری پٹی کے بیرونی کنارے میں سے ہو کر گزرنا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0280|لیکن یہ باردار ذرات حساس آلات کو تباہ اور الیکٹرانکس کو بھون کا رکھ سکتے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0281|مشتری ٹھوس ملبوں کے ایک حالے میں بھی گھرا ہوا ہے جسے وائجر ون نے چار ماہ قبل دریافت کیا۔|ahmad
urdu_sample_0282|اور وائجر ٹو کو اس میں سے ہو کر جانا تھا کسی چھوٹے سے پتھر کے ساتھ تصادم بھی۔|ahmad
urdu_sample_0283|خلائی جہاز کو قابو سے باہر کر سکتا تھا اس کا انٹینہ زمین پر پیغامات بھیجنے کے قابل نہ رہتا اور ڈیٹا ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتا۔|ahmad
urdu_sample_0284|اس حالے کے ساتھ دوچار ہونے سے کچھ پہلے مشن کے کنٹرولر بہت بیچین تھے کچھ خطرات اور ناگہانی صورتحال تھی۔|ahmad
urdu_sample_0285|لیکن کرۂ ارض پر موجود انسانوں اور خلا میں روبوٹوں کی ذہانت نے مل کر تباہی سے بچا لیا بیس اگست انیس سو ستتر کو روانگی کے بعد۔|ahmad
urdu_sample_0286|یہ خلائی جہاز ایک قوسی مستدیر خط حرکت یعنی آرکنگ ٹراجیکٹری سے سیارچوں کی پٹی سے ہوتا ہوا مریخ کو پیچھے چھوڑ کر مشتری کے نظام میں جانے اور اس سیارے اور اس کے کوئی چودہ چاندوں کے پاس سے ہو کر آگے جانے کے لیے بڑھا۔|ahmad
urdu_sample_0287|مشتری سے آگے جانے پر زہل کی قربت کے باعث وائجر کی رفتار بڑھ گئی۔|ahmad
urdu_sample_0288|زہل کی کشش ثقل اسے یورینس کی طرف دھکیلے گی یورینس کے بعد یہ نیپچون کو پیچھے چھوڑتا ہوا۔|ahmad
urdu_sample_0289|نظام شمسی سے باہر نکل کر بین السیاراتی خلائی جہاز بن جائے گا جس کے مقدر میں ستاروں کے درمیان بحر عظیم میں ہمیشہ کے لیے سرگرداں رہنا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0290|تفتیش و دریافت کے یہ سفر اس طویل سلسلے میں تازہ ترین ہیں جو انسانی تاریخ سے مخصوص اور اس کا طرہ امتیاز ہیں۔|ahmad
urdu_sample_0291|پندرہویں اور سولویں صدیوں میں آپ چودہ روز میں سپین سے ازورس تک سفر طے کر سکتے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0292|اب ہمیں کررہ ارز سے چاند تک کا راستہ طے کرنے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے تب بحر اوکیانوس کے عبور کر کے نئی دنیا یعنی امریکہ تک پہنچنے میں چند ماہ لگتے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0293|اب اندرونی نظام شمسی کی خلا پار کرنے اور مریخ یا زہرہ پر غوتہ لگانے میں چند ماہ کا عرصہ صرف ہوتا ہے حقیقی اور درست ترین معنوں میں۔|ahmad
urdu_sample_0294|مریخ اور زہرہ ہی ہماری منتظر نئی دنیایں ہیں سترویں اور اٹھارویں صدیوں میں آپ ایک یا دو سال میں ہارلینڈ سے چین جا سکتے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0295|اب وائجر کو کررہ ارز سے مشتری تک جانے میں اتنا وقت لگا ہے اس وقت اخراجات مقابلتا آج سے زیادہ تھے۔|ahmad
urdu_sample_0296|لیکن ہر دو صورتوں میں مجموعی خام قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی کم اپنے روبوٹ عملے کے ساتھ ہمارے موجودہ خلائی جہاز۔|ahmad
urdu_sample_0297|سیاروں کی جانب آئندہ انسانی مہمات کے نقیب ہیں پندرویں سے سترویں صدیوں کے دوران ہماری تاریخ میں ایک اہم موڑ نظر آتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0298|اسی دور میں یہ واضح ہوا کہ ہم اپنے سیارے کے تمام حصوں تک جا سکتے تھے کوئی نصف درجن یورپی قوموں کے دلیر بحری جہاز۔|ahmad
urdu_sample_0299|ہر سمندر میں پھیل گئے ان سفروں کے بہت سے محرکات تھے حرص قومی تفاخر مذہبی تعصب۔|ahmad
urdu_sample_0300|سائنسی تجسس قید کی معافیاں مہم جوئی کی تشنگی اور ایسٹرے مڈورہ میں موزوں روزگار کی ادم دستیابی۔|ahmad
urdu_sample_0301|ان مہمات میں بہتری کے ساتھ ساتھ برائی زیادہ تھی لیکن حتمی نتیجے کے طور پر انہوں نے کرۂ ارض کو یکجا علاقائیت پرستی کو کم انسانی نو کو متحد۔|ahmad
urdu_sample_0302|اور ہمارے سیارے اور اپنے بارے میں ہماری معلومات میں زبردست اضافہ کیا ستروی صدی کی انقلابی ڈچ جمہوریہ کے دریافت۔|ahmad
urdu_sample_0303|اور جہاز رانی کی مہمات کے دور کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس جمہوریہ نے اسی دور میں طاقتور سلطنت سپین سے آزادی کا اعلان کیا۔|ahmad
urdu_sample_0304|اس نے اپنے عہد کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں یورپی روشن خیالی کو زیادہ بھرپور طور پر گلے لگایا یہ ایک استدلالی۔|ahmad
urdu_sample_0305|منظم اور تخلیقی معاشرہ تھا ہم لیکن ڈچ جہاز رانی پر ہسپانوی بندرگاہوں اور بجروں کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے۔|ahmad
urdu_sample_0306|اس چھوٹی سی جمہوریہ کی اقتصادی زندگی کا ان ہزار تجارتی بحری جہاز بنانے اور ان کے لیے بہت بڑا بیڑا فراہم کرنے پر تھا۔|ahmad
urdu_sample_0307|ایک مشترکہ حکومتی اور نجی ادارے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کمیاب اشیاء دنیا بھر سے لاکر یورپ میں منافع پر فروخت کرنے کے لیے بحری جہاز روانہ کیے۔|ahmad
urdu_sample_0308|ایسے سفر ہی جمہوریہ کی زندگی تھے جہاز رانی کے نقشوں کو ریاستی رازوں کا درجہ دیا جاتا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0309|بحری جہاز اکثر و بیشتر مہربند احکامات کے تحت بھیجے جاتے تھے یکا یک ڈچ سارے سیارے پر موجود تھے۔|ahmad
urdu_sample_0310|بحرے اوکیانوس میں بحیرہ بیرنٹس اور آسٹریلیا میں تسمانیہ کے نام ڈچ بحری کپتانوں کی نسبت سے ہے۔|ahmad
urdu_sample_0311|یہ مہمات محض تجارتی مقاصد کے لیے ہی نہیں ہوتی تھی تاہم افراد انہی کی تھی۔|ahmad
urdu_sample_0312|ان میں سائنسی مہم جوئی کے طاقتور عناصر اور نئی زمین میں نئے نباتات و حیوانات نئے لوگ دریافت کرنے کا جذبہ بھی موجود تھا۔|ahmad
urdu_sample_0313|یعنی جستجوے علم براے علم ایمسٹرڈیم ٹاؤن ہال سترویں صدی کے ہالینڈ کا پر اعتماد اور سیکولر خاکہ پیش کرتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0314|اس کی تعمیر کے لیے سنگ مرمر بحری جہازوں پر لاد لاد کر لائے گیا اس عہد کے ایک شاعر اور سفارتکار۔|ahmad
urdu_sample_0315|کانسٹانٹائن ہائیگنز نے کہا تھا کہ ٹاؤن ہال نے کوتی یا گوتھک انداز تعمیر کے بھینگے پن اور بدبختی کو زائل کر دیا۔|ahmad
urdu_sample_0316|ٹاؤن ہال میں ایٹلس کا مجسمہ آسمانوں کو اٹھائے ہوئے آج بھی موجود ہے کوکبی جھرمٹوں سے مزین۔|ahmad
urdu_sample_0317|اس کے نیچے تلوار لہراتا ہوا اور ترازو بردار جسٹس موت اور تازیر کے درمیان کھڑا۔|ahmad
urdu_sample_0318|اور تاجروں کے دیوتاؤں تمع و حسد کو پاؤں تلے کچل رہا ہے ڈچ اقتصادیات کا انحصار نجی منافع پر تھا۔|ahmad
urdu_sample_0319|لیکن اس کے باوجود وہ یہ جانتے تھے کہ منافع کے لئے بے لگام جد و جہد۔|ahmad
urdu_sample_0320|قوم کی روح کے لیے خطرہ تھی ایٹلیس اور جسٹس کے نیچے ٹاؤن ہال کے فرش پر ایک کم مجازی علامت نظر آتی ہے۔|ahmad
urdu_sample_0321|یہ سترویں صدی کے اواخر یا اٹھارویں صدی کے عوائل کا پچی کاری سے بنایا گیا۔|ahmad
urdu_sample_0322|مغربی افریقہ سے بحر القاہل تک کا نقشہ ہے ساری دنیا ہارلینڈ کے کلم رو تھے۔|ahmad
urdu_sample_0323|اور اس نقشے پر ڈچ نے اپنے علاقے کو صرف قدیم لاطینی نام بیلجیم کے تحت خوشکن انکساری کے ساتھ ظاہر کیا۔|ahmad
urdu_sample_0324|سال میں متعدد بحری جہاز دنیا کے گرد آدھے راستے تک کا سفر کرتے تھے انہوں نے افریقہ کے مغربی ساحل کے نیچے جسے وہ ایتھوپیائی سمندر کہتے تھے سے ہو کر۔|ahmad
urdu_sample_0325|افریقہ کے جنوبی ساحل کے اردگرد مڈگاسکر کی آبناؤں میں اور ہندوستان کے مغربی کونے سے آگے تک جہاز رانی کی۔|ahmad
urdu_sample_0326|اور مسالحوں کے جزیرے موجودہ انڈونیشیا پر خصوصی توجہ دی وہاں سے کچھ مہماتی سفر نیو ہالنڈ نامی زمین تک کیے گئے جس کا موجودہ نام آسٹریلیا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0327|چند ایک سفر ملاقہ کی آبناوں کے راستے فلپائن سے آگے چین تک کیے گئے۔|ahmad
urdu_sample_0328|سترویں صدی کے وسط کی ایک تحریر سے ہم یہ جانتے ہیں کہ نیدرلینڈ کے یونائٹڈ پراوینسز کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے عظیم تاتاری شہنشاہ چین۔|ahmad
urdu_sample_0329|چیں کے لیے ایک سفارت خانہ موجود تھا ڈچ شہری، سفیر اور بحری کپتان۔|ahmad
urdu_sample_0330|پیکنگ کے شاہی شہر میں ایک تہذیب کے روبرو حیرت کے مارے آنکھیں پھیلائے کھڑے تھے تب کے بعد یا اس سے پہلے کبھی بھی ہالنڈ اتنی بڑی عالمی طاقت نہیں بنی جتنی اس وقت ہوا کرتی تھی۔|
urdu_sample_0331|اپنی زیر کی بل پر زندہ رہنے پہ قانع اس چھوٹے سے ملک کی خارجہ پالیسی میں مضبوط امن پسندانہ عنصر شامل تھا۔ غیر بنیاد پرستانہ آراء کے لیے اس کے رواداری کا باعث یہ ان دانشوروں کے لیے ایک جنت تھی۔|ahmad
urdu_sample_0332|جو یورپ میں کہیں بھی سینسرشپ اور سوچ پر پابندی سے بھاگ کر آتے تھے کافی حد تک اسی طور امریکہ نے انیس سو تیس کی دہائی کے وسط میں نازیوں کے زیر تسلط یورپ سے دانشوروں کی ہجرت سے بے انتہا فائدہ اٹھایا۔|ahmad
urdu_sample_0333|لہذا ستروی صدی کا ہالنڈ عظیم یہودی فلسفی سپینوزا جس کا آئنسٹائن بھی متعارف تھا ریاضی اور فلسفہ کی تاریخ میں ایک مرکزی شخصیت رینے ڈیکارٹ۔|ahmad
urdu_sample_0334|حمالٹن، آڈم، فرینکلن اور جیفرسن پر مشتمل فلسفیانہ رجحانات رکھنے والے انقلابیوں کے گروپ کو متاثر کرنے والے سیاسی سائنسدان جان لاک کا گھر تھا۔|ahmad
urdu_sample_0335|اس سے پہلے یا بعد میں ہالنڈ کبھی بھی فنکاروں اور سائنس دانوں فلسفیوں اور ماہرین ریاضی کے درخشان ستاروں کی کہکشان سے زیشان نہیں ہوا۔|ahmad
urdu_sample_0336|یہ رمبراند ورمیر اور فرانس حال جیسے استاد مصور ہوں خردبین کے موجد لیون ہوک۔|ahmad
urdu_sample_0337|بین الاقوامی قانون کے بانی گروٹیاس اور ان عطاف روشنی کا قانون دریافت کرنے والے ویل بارڈ نسیلیس کا دور تھا۔|ahmad
urdu_sample_0338|ازادی فکر کو بڑھاوا دینے کی ڈچ روایت کے مطابق یونیورسٹی آف لائیڈن نے گلیلیو نامی ایک اطالوی سائنس دان کو پروفیسری کی پیشکش کی جسے کیتھولک چرچ نے تشدد و اذیت کی دھمکی دے کر اپنے اس کافرانہ نظریے سے توبہ کرنے پر مجبور کیا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0339|کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے نہ کہ سورج زمین کے گرد ہالنڈ کے ساتھ گلیلیوں کے مضبوط بندھن تھے۔|ahmad
urdu_sample_0340|اس کی پہلی فلکیاتی دوربین ڈچ نمونے کی چھوٹی دوربین کی بہتر صورت ہی تھی اس دوربین کی مدد سے گلیلیوں نے شمسی دھبوں زہرہ کے مرحلہ وار ادوار۔|ahmad
urdu_sample_0341|چاند کے گڑھے اور مشتری کے چار بڑے چاند ریافت کیے جنہیں اب اس کی نسبت سے گلیلین سیارچے یا گلیلین مونز کہا جاتا ہے۔|ahmad
urdu_sample_0342|گلیلیو نے کلیسہ کی جانب سے ملنے والی اذیتوں کے بارے میں سن سولہ سو پندرہ میں گرینڈ ڈچس کرسٹینہ کے نام خط میں لکھا تھا جیسا کہ عالیہ حضرت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں نے افلاک میں بہت سی ایسی چیزیں دریافت کی ہیں جنہیں میرے دور سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0343|ان چیزوں کے انوکھے پن کے ساتھ ساتھ تعلیمی فلسفیوں میں عام طور پر متفقہ طبیعیاتی نظریات سے تضاد کی وجہ سے پیدا ہونے والے نتائج نے زیادہ تر کلیسائی۔|ahmad
urdu_sample_0344|کی خاصی تعداد کو میرے خلاف مشتعل کر دیا ہے کہ جیسے میں نے قدرت کو بے ترتیب کرنے اور سائنسوں کو الٹنے کے لیے ان چیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے رکھا تھا۔|ahmad
urdu_sample_0345|لگتا ہے وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ معلوم سچائیاں فنون کی تحقیق، ترویج اور ترقی کی مہمیز لگاتی ہیں اینڈ کو۔|ahmad
urdu_sample_0346|ہالنڈ بطور بحری طاقت اور ہالنڈ بطور فقری اور ثقافتی مرکز کے درمیان مضبوط تعلق تھا بحری جہازوں کی بہتری نے ہر قسم کی ٹیکنالوجی کی ہمت افزائی کی۔|ahmad
urdu_sample_0347|لوگ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے ایجادات کرنے پر انعامات دیے جاتے تھے۔|ahmad
urdu_sample_0348|ٹیکنالوجیکل ترقی کے لیے ہر ممکن آزادانہ جستجوہ علم کی ضرورت تھی اس لیے ہالنڈ دیگر زبانوں میں لکھی ہوئی کتابوں کے تراجم اور کسی بھی جگہ پر جلاوطن کی جانے والی کتابیں شائع کرنے کی اجازت دے کر یورپ میں سرکردہ پبلیشر اور کتب کا فروختکار بن گیا۔|ahmad
urdu_sample_0349|غیر ملکی سرزمینوں میں مہمات اور نرالے معاشروں کے ساتھ مڈبھیڑ نے تساحل کو جھنجوڑا اس وقت کی مقبول دانش پر نظر ثانی کرنے کے لیے اہل فکر کو دعوت مبارزت دی اور یہ دکھایا۔|ahmad
urdu_sample_0350|کہ ہزاروں سال سے درست تسلیم کیے جانے والے تصورات مثلاً جغرافیہ کے بارے میں بنیادی طور پر غلط تھے۔|ahmad
urdu_sample_0351|کسی بھی اور قوم کی نسبت ڈچ جمہوریہ میں عوام کا سب سے زیادہ اقتدار ایک ایسے دور میں قائم تھا جب زیادہ تر دنیا میں بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومتیں تھیں معاشرے کے کھلے پن اور ذہنی زندگی کے لیے اس کی حوصلہ افزائی۔|zain
urdu_sample_0352|اس کی مادی خوشحالی اور نئی دنیایں کھوجنے اور استعمال میں لانے کے لیے اس کی وابستگی نے انسانی مہم جوئی میں ایک پرمسررت اعتماد پیدا کیا۔|zain
urdu_sample_0353|یہ تحقیقی روایت اس عمر حقیقت کی وجہ بھی ہے کہ آج کے دور میں بھی ہالنڈ نے اپنے ممتاز ماہرین فلکیات کی وجہ سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل کی ہے ان ماہرین فلکیات میں جرارڈ پیٹر۔|zain
urdu_sample_0354|کوئے پر بھی شامل تھا جو انیس سو چالیس اور انیس سو پچاس کی دہائیوں میں دنیا کا واحد کلوقتی سیاراتی ماہر فلقی طبیعیات تھا۔|zain
urdu_sample_0355|اس دور میں زیادہ تر پیشاور ماہرین فلکیات کے خیال میں یہ موضوع کم از کم تھوڑا سا رسوا کن تھا لویل کی تجاوزات نے اس کو آلودہ کر دیا۔|zain
urdu_sample_0356|مے کوئی پر کا شاگرد بننے کے لیے احسان مند ہو میری خیال میں یہاں کوئی پر جو ہے یہ کوئی پر بیلٹ جو ہے اس کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔|zain
urdu_sample_0357|اٹلی میں گلیلیوں نے دیگر دنیاوں کی موجودگی کا اعلان کیا اور جورڈانو برونو نے دیگر صورت ہائے حیات کا خیال پیش کیا تھا۔|zain
urdu_sample_0358|اس کی خاطر انہیں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہالنڈ میں ان دونوں پر یقین رکھنے والے کرسٹین ہوئگنز نامی ماہر فلکیات پر کرم نوازیوں کی بارش کر دی گئی۔|zain
urdu_sample_0359|اس کا باپ کانسٹنٹائن ہوئگنز اس دور کا بہت بڑا سیاستدان عدیب شائر مغنی موسیقار۔|zain
urdu_sample_0360|انگریزی کے مشہور شاعر جان ڈان کا مترجم اور قریبی دوست اور ایک قدیم طرز کے بہت پڑے خاندان کا سربراہ تھا کانستان دینے۔|zain
urdu_sample_0361|مصور روبنز کی بہت تعریف کی اور ریمپرانٹ وان رائن نامی ایک نوجوان آرٹسٹ کو دریافت کیا جس کی تخلیقات میں وہ گاہے بگاہے دکھائی دیتا ہے۔|zain
urdu_sample_0362|ڈیکارڈ نے اپنی پہلی ملاقات کے بعد اس کے بارے میں لکھا مجھے یقین نہیں آتا کہ صرف ایک دماغ میں اتنا کچھ موجود ہو سکتا ہے۔|zain
urdu_sample_0363|اور وہ خود کو ان سب کے ساتھ اس قدر بہتر انداز میں آشنا کر سکتا ہے ویگنز کا گھر۔|zain
urdu_sample_0364|دنیا بھر کی چیزوں سے بھرا پڑا تھا دوسری قوموں کے ممتاز مفقر اکثر مہمان ہوتے تھے۔|zain
urdu_sample_0365|اس ماحول میں پرورش پا کر نوجوان کرسٹیان ہائگنز زبانوں، ڈرائنگ، کانون، سائنس، انجنیرنگ، ریاضی اور موسیقی میں بیق وقت ماہر ہو گیا اس کی دلچسپیوں اور عقیدت مندیاں بہت وسیع تھیں۔|zain
urdu_sample_0366|اس نے کہا دنیا میرا ملک اور سائنس میرا مذہب ہے روشنی اس دور کا بنیادی تصور تھا۔|zain
urdu_sample_0367|آزادی سوچ مذہب اور جغرافیائی دریافت کی روشن خیالی کا استعارہ۔|zain
urdu_sample_0368|اس دور کی پینٹنگز خصوصاً ورمیر کے نفیس کام میں سرائت کر جانے والی روشنی اور سائنسی تحقیق کا ایک مقصد بننے والی روشنی۔|zain
urdu_sample_0369|مثلا ان عطاف کے بارے میں سنیل کا مطالعہ لیون ہک کا دوربین اجاد کرنا اور ہائگنز کا اپنا روشنی کی امواج کا نظریہ۔|zain
urdu_sample_0370|یہ تمام سرگرمیاں باہم منسلک دیں اور ان کا مظاہرہ کرنے والے افراد آزادانہ طور پر ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔|zain
urdu_sample_0371|ورمیر کا گھر اندر سے جہاز رانی کے متعلق اشیاء اور دیواری نقشوں سے بھرا پڑا تھا خرد بینے ڈرائنگ روم کی انوکھی چیزیں تھیں۔|zain
urdu_sample_0372|لیون ہک ورمیر کی زمینداری کا مختار تھا اور ہوف وق میں ہائیگنز کے گھر اکثر بطور مہمان آتا رہتا تھا۔|zain
urdu_sample_0373|لیون ہک کے خطبین ان محدب عدسوں سے ارتقاء پذیر ہوئے جنہیں بزاز کپڑے کا میار جانچنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اس کی مدد سے اس نے پانی کی ایک بوند میں پوری کائنات دریافت کی۔|zain
urdu_sample_0374|جرسوں میں جن کو اس نے حیوانچے کہا اور انتہائی خوبصورت خیال کیا۔|zain
urdu_sample_0375|اولین خردبینوں کی تیاری میں ہائیگنز نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا اور ان کی مدد سے خود بھی متعدد دریافتیں کی لیونہوک۔|zain
urdu_sample_0376|اور ہائگنز انسانی تولیدی سل دیکھنے والے پہلے اشخاص تھے۔ یہ سیل ہی انسانی تولید کو سمجھنے کی بنیادی شرط ہے۔|zain
urdu_sample_0377|یہ وضاحت کرنے کے لئے کہ اُبالنے سے ناقابل تولید ہو جانے والے خردبینی نامیاتی اجسام۔|zain
urdu_sample_0378|کس طرح آہستہ آہستہ نمو پاتے ہیں ہائگنز نے تجویز پیش کی کہ وہ اس قدر چھوٹے ہیں کہ ہوا میں تیر سکتے ہیں اور پانی میں جگمگاہت پیدا ہونے پر اپنی تولید کرتے ہیں۔|zain
urdu_sample_0379|لہٰذا اس نے خود رو پیدائش کا ایک متبادل قائم کیا یہ نظریہ کہ حیات خمیر اٹھتے ہوئے انگوروں کے رس یا سڑے بسے گوشت میں پہلے سے موجود زندگی پر انحصار کیے بغیر پیدا ہو سکتی ہے۔|zain
urdu_sample_0380|دوسا دیوباد یعنی لوئی پاسچر کے دور تک ہائیگنز کا اندازہ درست ثابت نہیں ہو سکا تھا۔|zain
urdu_sample_0381|مریخ پر حیات کے لیے وائیکنگ کی تلاش کے ڈانڈے ماضی میں لیون ہک اور ہائیگنز کے ساتھ ملائے جا سکتے ہیں و دونو۔|zain
urdu_sample_0382|بیماری کے نظریہ جراسین کے موجد بھی ہیں یعنی جرم تھیوری اف ڈیزیز لہٰذا جدید طب کے مورے سے عالی بھی ہوئے۔|zain
urdu_sample_0383|لیکن ان کے ذہن میں کوئی عملی مقاصد موجود نہیں تھے وہ ایک ٹیکنالوجیکل معاشرے میں محض دفع الوقتی کے لیے کام کر رہے تھے۔|zain
urdu_sample_0384|ابتدائی سترویں صدی کے ہالنڈ میں بنائی جانے والی خردبین اور دوربین نے انسانی بسارت کو بہت خفیف اور بہت بڑی کلم راؤں میں وہ سر دی۔|zain
urdu_sample_0385|خلیوں اور کہکشاؤں میں ہمارے مشاہدات اسی زمان و مکان میں شروع ہوئے تھے کرسٹیان ہائگنز کو فلکیاتی دوربینو کے عد سے پیسنے اور پالش کرنے کا بہت شوق تھا۔|zain
urdu_sample_0386|اس نے خود بھی ایک پانچ میٹر لمبی دوربین بنائی اس دوربین کی مدد سے اس کی دریافتوں نے ہی انسانی ہنرمندی کی تاریخ میں اس کا مقام یقینی بنایا۔|zain
urdu_sample_0387|ایرٹیسٹنیز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کسی اور سیارے کا حجم مابنے مالا وہ پہلا شخص ہے اسی نے سب سے پہلے یہ اندازہ لگایا کہ وینس مکمل طور پر بادلوں میں ملفوف ہے۔|zain
urdu_sample_0388|اس کے علاوہ وہ مریخ کی سطح پر خط و خال کا نقشہ بنانے والا بھی پہلا شخص تھا اور سیارے کی گردش کے ساتھ ان خط و خال کے ظاہر اور غائب ہونے کا مشاہدہ کر کے۔|zain
urdu_sample_0389|اس نے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا کہ مریخ کا دن بھی ہمارے دن کی طرح تقریباً چوبیس گھنٹے کا ہے۔|zain
urdu_sample_0390|وہ یہ شناخت کرنے والا بھی پہلا شخص تھا کہ زہل کے گرد حلقوں کا ایک نظام ہے۔|zain
urdu_sample_0391|جو کسی بھی جگہ پر سیارے سے مس نہیں ہوتے اور وہ ٹائٹن کا دریافت کنندہ بھی تھا۔|zain
urdu_sample_0392|جو کہ زہل کا اور جیسا کہ اب ہمیں معلوم ہوا ہے نظام شمسی کا بھی سب سے بڑا چاند ہے غیر معمولی دلچسپی اور توقعات کے دنیا۔|zain
urdu_sample_0393|ان میں سے بیشتر دریافتیں اس نے بیس سے تیس سال کی عمر کے درمیان کی وہ علم نجوم کو بے اقلی بھی خیال کرتا تھا۔|zain
urdu_sample_0394|ہائیگنز یہیں پر ہی بس نہیں ہو گیا جہاز رانی کے لیے طول البلاد کا تائین کرنا اس دور میں سب سے بڑا مسئلہ تھا۔|zain
urdu_sample_0395|عرض البلد کا تعیون ستاروں کی مدد سے بہ آسانی کر لیا جاتا تھا جنوب میں آپ جتنا آگے جائیں گے اتنے ہی زیادہ جنوبی کواقبی جھرمت نظر آئیں گے۔|zain
urdu_sample_0396|لیکن طول البلد کے لیے وقت کا بلکل درست حساب رکھنے کی ضرورت تھی جہاز میں بلکل درست وقت بتانے والی یہ گھڑی۔|zain
urdu_sample_0397|آپ کے وطن کی بندرگاہ کا وقت بتاتی ہے سورج کا طلوع و غروب جہاز کا مقامی وقت بتاتا ہے۔|zain
urdu_sample_0398|اور ان دونوں کے درمیان فرق کی مدد سے آپ طول البلد کا اندازہ کرتے ہیں ہائیگنز نے پینڈولم گھڑی ایجاد کی۔|zain
urdu_sample_0399|قبل ازین گلیلیو اس کا اصول دریافت کر چکا تھا جسے چاہے پوری کامیابی کے ساتھ نہ سہی۔|zain
urdu_sample_0400|اس وقت عظیم بحر کے بیچ میں مقام کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا گیا اس کی کوششوں نے فلکیاتی اور دیگر بحری گھڑیوں میں۔|zain
urdu_sample_0401|بے مثال درستگی کو متعارف کروایا اس نے چکردار توازنی سپرنگ ایجاد کیا جو آج بھی گھڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔|zain
urdu_sample_0402|میکانیات مثلا مرکز گریز قوت کا حساب لگانے میں اور پانسوں کے کھیل کا مطالعہ کر کے نظریہ اضافت میں بنیادی حصہ ڈالا۔|zain
urdu_sample_0403|اس نے ہوائی پمپ کو ترقی دی جسے بعد میں کان کنی کی صنعت میں انقلاب بپا کرنا تھا اور جادو کی لال ٹین بھی بنائی جو سلائڈ پروجیکٹر کی مورث عآلآ ہے۔|zain
urdu_sample_0404|اس کے علاوہ اس نے بارودی انجن ایجاد کیا جس نے ایک اور مشین یعنی بھاب کے انجن کی ترقی پر اثر ڈالا۔|zain
urdu_sample_0405|ہائیگنز اس بات پر بہت شادا تھا کہ ہالنڈ میں عام لوگ بھی کپرنکس کے اس نظریہ کو قبول کرتے تھے کہ کررہ ایرز سورج کے گرد گھومتا ہوا ایک سیارہ ہے اس نے کہا کہ در حقیقت ان کے علاوہ سب ماہرین فلکیات نے تسلیم کیا۔|zain
urdu_sample_0406|جو کچھ کم فہم یا محض انسان اقتدار کی نافذ کردہ تواہمات پرستی کے زیر اثر تھے زمانہ وسطہ کے عیسائی مفقر یہ دلیل پیش کرنے کے بڑے شائق تھے کہ چونکہ افلاک دن میں ایک بار کرۂ ارض کا چکر لگاتے تھے۔|zain
urdu_sample_0407|اس لیے وہ اپنی وسعت میں بمشکل ہی لا محدود ہو سکتے تھے لہٰذا دنیاؤں کی لا محدود تعداد یا بہت بڑی تعداد۔|zain
urdu_sample_0408|یا ایک اور دنیا کا ہونا بھی ناممکن تھا آسمان کی حرکت کی بجائے زمین کی گردش کی دریافت نے زمین کے انوکھے پن اور کہیں اور بھی زندگی کے امکانات ہونے کے لیے اہم اشارے دیئے۔|zain
urdu_sample_0409|دوسرے سورجوں کے گرد دوسری دنیاؤں کی ایک بہت بڑی تعداد یقیناً لا محدود محو گردش ہونے کا تصور واضح کرنے والا پہلا شخص۔|zain
urdu_sample_0410|جارڈانو برونو لگتا ہے لیکن دیگر کا خیال ہے کہ دنیاؤں کی کثرت کا تصور۔|zain
urdu_sample_0411|کپرنیکس اور کیپلر کے تصورات کے فوراً بعد پیدا ہوا سترویں صدی کے اَوائِل میں رابرٹ میرٹن نے کہا تھا۔|zain
urdu_sample_0412|کہ سورج کی مرکزیت کا مفروضہ ہی دیگر سیاراتی نظاموں کے امبوہ کثیر پر دلالت کرتا ہے اور یہ استرداد۔|zain
urdu_sample_0413|کفیہ بسبوت حماقت ریڈکٹیو ایڈ افسرڈم کی قسم کی دلیل ہے یعنی مسئلے کا استرداد۔|zain
urdu_sample_0414|اس کے منطقی نتائج سے پہنچنے سے پہلے ہی ہو جاتا ہے اس نے ایک دلیل پیش کی۔|zain
urdu_sample_0415|جو کبھی افسردہ کن لگتی ہوگی اگر آسمان ایسے ہی ناقابل موازنہ بڑے پن والا ہوتا جس میں کپر نکس والے دیو رہتے تھے۔|zain
urdu_sample_0416|اتنا وسیع اور بے شمار ستاروں سے بھرپور ہوتا کہ اس کی وسط لا محدود ہے تو ہم نے یہ فرض کیوں نہیں کیا کہ آسمان میں نظر آنے والے وہ بے شمار ستارے مخصوص متعین مرکزوں والے سورج ہی ہوں گے؟|zain
urdu_sample_0417|کہ ان کے بھی ایسے ہی ماتحت سیارے ہیں جیسے سورج کے گرد ابھی تک رقصاں ہیں اور اس طرح نتیجتاً لا محدود آباد دنیایں بھی موجود ہیں رکاوٹ کس بات کی؟|zain
urdu_sample_0418|اگر ایک مرتبہ اس کی اجازت دے دی جائے جو کیپلر اور دیگر زمین کی حرکت کے بارے میں کہتے تھے تو یہ اور ایسی اور بھی گستاخ اور بہادر کوششیں۔|zain
urdu_sample_0419|حیرت انگیز ظاہری تناقضات اور استدلال پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے لیکن زمین حرکت کرتی ہے۔|zain
urdu_sample_0420|میرٹن اگر آج زندہ ہوتا تو اسے لا محدود آباد دنیاؤں کا نتیجہ تسلیم کرنا پڑتا ہائگنز اپنے نتیجے سے دست بردار نہیں ہوا۔|zain
urdu_sample_0421|اس نے اسے بخوشی گلے لگا لیا خلا کے سمندر سے پار ستارے دوسرے سورج ہیں۔|zain
urdu_sample_0422|لیکن اپنے نظام شمسی کے حوالے سے اندازہ لگاتے ہوئے ہوئیگنز نے منطق پیش کی کہ ان ستاروں کے اپنے سیاراتی نظام ہوں گے اور ان میں سے متعدد آباد بھی ہو سکتے ہیں۔|zain
urdu_sample_0423|قوٹ کیا ہمیں ان سیاروں کو وسیع و عریض سحراؤں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھنا چاہیے؟|zain
urdu_sample_0424|اور انہیں ان تمام مخلوقات سے محروم کر دیں جو اپنے الوہی معمار کی نشان دہی کرتی ہیں خوبصورتی اور وقار میں انہیں زمین سے کم تر درجہ دینا ایک نہائیت نامناسب بات ہے۔|zain
urdu_sample_0425|کچھ اور لوگ بھی ایسی ہی آرا رکھتے تھے یہ خیالات ایک فتح مندانہ عنوان کی حامل غیر معمولی کتاب میں پیش کیے گئے۔|zain
urdu_sample_0426|افلاکی دنیاؤں کی دریافت سیاروں میں دنیاؤں کے مکینوں نباتات و پیداوار کے بارے میں قیاسات۔|zain
urdu_sample_0427|یہ کتاب سن سولہ سو نوے میں ہائگنز کی وفات سے کچھ عرصے پہلے ہی ترتیب دی گئی تھی۔|zain
urdu_sample_0428|زار پیٹر اعظم سمیت بہت سونے اس کی تعریف کی پیٹر اعظم نے ہی اسے روس میں شائع ہونے والی مغرب کی پہلی سائنسی پیداوار کا درجہ دلوایا۔|zain
urdu_sample_0429|کتاب کا زیادہ تر حصہ سیاروں کی نوعیت یا ماحولیات کے بارے میں ہیں۔|zain
urdu_sample_0430|نفاست کے ساتھ شائع کیے گئے پہلے ایڈیشن میں ہمیں سورج اور دیوقامت سیاروں مشتری اور زہل کی پیمائش نظر آتی ہے لیکن اس کے مقابلے میں وہ کافی چھوٹے ہیں۔|zain
urdu_sample_0431|کتاب میں زمین کے بعد زہل کا ایک نقش بھی ہے ہمارا سیارہ ایک چھوٹا سا دائرہ ہے۔|zain
urdu_sample_0432|ہائگنز نے بھی کافی حد تک دوسرے سیاروں کے ماحول اور باشندوں کے بارے میں سترویں صدی کے ماحول اور باشندوں جیسا تصور ہی پیش کیا۔|zain
urdu_sample_0433|اس نے سوچا کہ سیارے والوں کا سارا جسم اور ہر ہر حصہ ہم سے بالکل مختلف ہونا بہت مضحکہ خیز رائے ہیں۔|zain
urdu_sample_0434|وہاں پر ہماری شکل و صورت کے علاوہ کسی اور طرح کی استدلالی ہستی کا آباد ہونا ناممکن ہے اس نے کہا کہ اگر آپ عجیب و غریب نظر آئیں تو پھر بھی دلکش ہو سکتے ہیں۔|zain
urdu_sample_0435|لیکن اس کے بعد اس نے یہ دلیل پیش کی کہ وہ بہت زیادہ عجیب و غریب نہیں ہوں گے لازماً ان کے ہاتھ پاؤں اور سیدھی چال ہوگی۔|zain
urdu_sample_0436|کہ ان کے پاس فن تحریر اور علم ہندسہ ہوگا اور یہ کہ مشرق کے چار گلیلین سیارچے مشتریآئی سمندروں میں جہاز رانی کرنے والے ملاحوں کو مدد مہیا کرنے کے لئے ہیں۔|zain
urdu_sample_0437|ظاہر ہے کہ ہائیگنز اپنے عہد میں زندہ تھا ہم میں سے کون نہیں ہے۔|zain
urdu_sample_0438|اس نے اپنا مذہب سائنس ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد دلیل پیش کی کہ سیارے ضرور آباد ہیں۔|zain
urdu_sample_0439|ورنہ خدا انہیں بلا مقصد نہ بناتا چونکہ وہ ڈاروین سے پہلے کا تھا اس لیے غیر ارضیاتی حیات کے بارے میں اس کے اندازے ارتقائی عمل کے پس منظر سے عآری ہیں۔|zain
urdu_sample_0440|لیکن وہ مشاہداتی بنیادوں پر جدید کائناتی پس منظر سے کافی قریب تر بات کہنے کے قابل تھا قوٹ۔|zain
urdu_sample_0441|کائنات کی عظیم وسعت کے لیے ہمارے پاس کیسی حیرت انگیز اور زبردست سکیم ہے؟ اتنے سارے سورج۔|zain
urdu_sample_0442|اتنی ساری زمینیں اور ان میں سے ہر ایک اتنی بہت سی جڑی بوٹیوں درختوں اور حیوانات سے بھرپور۔|zain
urdu_sample_0443|اتنے زیادہ سمندروں اور پہاڑوں کے ساتھ سجی ہوئی اور جب ہم نے وشال فاصلے اور ستاروں کی بلندی پر غور کیا۔|zain
urdu_sample_0444|تو ہماری حیرت اور مدح سرائی میں کتنا اضافہ ہوا وائجر خلائی جہاز انہی بحری مہمات اور کرسٹیان ہائیگنز کی سائنسی اور اندازے قائم کرنے کی روایت کا سلسلہ ہے۔|zain
urdu_sample_0445|وائجر ستاروں کے لیے روانہ ہونے والی بادبانی کشتیاں ہیں اور ان دنیاؤں کو ڈھوننے کے لیے آزم سفر۔|zain
urdu_sample_0446|جن سے ہائیگنز کی خاصی واقفیت اور محبت تھی کئی صدیوں پہلے کی ان مہمات کے ساتھ واپس آنے والی چیزوں میں ایک اہم شئے مسافروں کی کتھائیں تھی۔|zain
urdu_sample_0447|یعنی انجانی زمینوں اور اندیکھی مخلوقات کی کہانیاں جنہوں نے ہماری قوت تحریر کو ولولہ دیا اور آئندہ مہمات کا جذبہ پیدا کیا۔|zain
urdu_sample_0448|وہاں فلک بوس پہاڑوں اژدھاوں اور سمندری بلاؤں کھانے کے لیے روز مرہ استعمال کے تلائی برتنوں ایک جنگلی جانور جس کی ناک کی جگہ پر ایک بازو تھا۔|zain
urdu_sample_0449|پروٹسٹنٹ یا کیتھولک یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان عقائد کے جھکڑوں کو بے وقوفی خیال کرنے والے لوگوں۔|zain
urdu_sample_0450|ایک کالے پتھر کا جو جل گیا سرکٹے انسانوں کا جن کا منھ چھاتی پہ تھا اور درختوں پر اگنے والی بھیڑوں کا ذکر تھا۔|zain
urdu_sample_0451|ان میں سے کچھ کہانیاں سچی اور کچھ جھوٹی تھیں کچھ میں سچائی کا عنصر موجود تھا۔|zain
urdu_sample_0452|لیکن مسافروں یا راویوں نے غلط سمجھا اور مبالغے سے کام لیا مثلاً والٹیر۔| 
urdu_sample_0453|یا جانتن سویفٹ کے اختیار تحریر میں آنے پر ان تذکروں نے اس تنگ نظر دنیا پر نظر ثانی پر مائل کرتے ہوئے یورپی معاشرے کے سامنے ایک نیا پس منظر اجاگر کیا جدید وائجر بھی مسافر کتھائیں لے کر واپس آئے۔|zain
urdu_sample_0454|ایک بلوریں کرے کی طرح بکھری ہوئی دنیا ایک کررہ جس کی سطح ایک کتب سے لے کر دوسرے کتب تک مکڑی کے جالوں جیسی کسی شے میں ملفوف ہے۔|zain
urdu_sample_0455|آلو کی شکل جیسے چھوٹے چھوٹے چاند زیر سطح سمندر والی دنیا ایک دھرتی جس کی بو خراب انڈے جاسی۔|zain
urdu_sample_0456|اور دیکھنے میں پیزا کی ٹکیا جیسا ہے اور جہاں پگھلا ہوا سلفر۔|zain
urdu_sample_0457|اور آتش فشاں خلا میں براہ راس دھواں چھوڑ رہے ہیں ہمارے سیارے کو بے قدر کر دینے والا مشتری سیارہ۔|zain
urdu_sample_0458|اتنا بڑا کہ اس کے اندر ایک ہزار کرہ ارض سما جائیں گلیلین سیارچوں میں سے ہر ایک۔|zain
urdu_sample_0459|تقریباً عطارد جتنا بڑا ہے ہم ان کا حجم اور جسامت ماپ کر ان کی کثافت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔|zain
urdu_sample_0460|اس طرح ہمیں ان کی اندرونی حالت کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے ہم نے جانا کہ اندرونی دو سیارچوں ایو اور یوروپا کی کثافت ایک چٹان جتنی ہے۔|zain
urdu_sample_0461|بیرونی دو یعنی گائنی میڈ اور کیلسٹو کی کسافت ان کی نسبت کہیں کم ہے چٹان اور برف کی درمیانی سی کرہ ارض پر چٹانوں کی طرح۔|zain
urdu_sample_0462|ان دو بیرونی چاندوں کے اندر برف اور چٹانوں کے ملغوبے میں تابکار مادنیات کا شائبہ ضرور موجود ہوگا جو ان کے گرد و نواح کو گرم کرتا ہے عربوں سال سے اکٹھی کی ہوئی اس حرارت کے لیے کوئی مؤثر راہ نہیں ہے کہ یہ سطح تک پہنچے اور خلا میں نکل جائے۔|zain
urdu_sample_0463|اور گائنمیڈو اور کلیسٹو کے اندر تابکاری ضرور ان کے برفیلے اندرون کو پگھلا دیتی ہے ہم نے ان چاندوں میں پگھلی ہوئی برف اور پانی کے زیر سطح سمندروں کی پیش بینی کی۔|zain
urdu_sample_0464|گلیلین سیارچوں کی سطحوں کو قریب سے دیکھے جانے سے قبل ہی یہ اندازہ لگا لیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوں گے۔|zain
urdu_sample_0465|جب ہم نے وائجر کی نگاہوں کے توسط سے انہیں قریب سے دیکھا تو اس پیشین گوئی کی توثیق ہو گئی۔|zain
urdu_sample_0466|وہ آپس میں مشابہت نہیں رکھتے ہم نے آج تک جتنی بھی دنیایں دیکھی ہیں۔|zain
urdu_sample_0467|وہ ان سب سے قطعی مختلف ہیں وائجر ٹو خلائی جہاز کبھی زمین پر واپس نہیں آئے گا۔|zain
urdu_sample_0468|لیکن اس کی سائنسی تحقیقات اس کی داستانی دریافتیں اس کی مسافر کتھائیں واپس آتی ہیں نو جولائی انیس سو نواسی کو بطور مثال لیں۔|zain
urdu_sample_0469|پسیفک معیاری وقت آٹھ اشاریہ صفر چار پر ہمیں ایک نئی دنیا کی اولین تصاویر کرۂ ارض پر محصول ہوئیں۔|zain
urdu_sample_0470|اس دنیا کا نام ایک پرانی دنیا کے نام پر یوروپا رکھا گیا بیرونی نظام شمسی سے ایک تصویر ہم تک کیسے پہنچ جاتی ہے؟|zain
urdu_sample_0471|مشتری کے گرد مدار میں گرتش کرتے ہوئے یوروپا پر سورج کی روشنی پڑھ کر۔|zain
urdu_sample_0472|واپس خلا میں منعکس ہوتی ہے جہاں یہ وائجر کے ٹیلیویژن کیمروں کے فاس فورس سے ٹکراتی اور یوں شبیہ پیدا کرتی ہے۔|zain
urdu_sample_0473|وائجر کے کمپیوٹر اس شبیہ کو پڑھنے کے بعد پچاس کروڑ کلومیٹر کے بے پناہ فاصلے پر واقعے کرۂ ارض کے مرکزی سٹیشن کی ریڈی آئی دوربین میں ریڈیو کرتے ہیں ایک سٹیشن اسپین میں۔|zain
urdu_sample_0474|دوسرا جنوبی کالیفورنیا کے محاوی سحرا اور تیسرا آسٹریلیا میں ہے انیس سو نواسی کے ماہ جولائی کی صبح کو آسٹریلیا والی سٹیشن کا رخ مشتری اور یوروپا کی جانب تھا۔|zain
urdu_sample_0475|اس ٹیشن نے کرۂ ارض کے مدار میں موجود ایک مواصلاتی سیارچے کے ذریعے اطلاعات جنوبی کلیفورنیا کو نشر کی۔|zain
urdu_sample_0476|جہاں اسے مائیکرو ویو نشری ٹاورز کے ذریعے جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے کمپیوٹر میں بھیجا گیا اس لیبارٹری میں ان کا نتیجہ حاصل کیا گیا۔|zain
urdu_sample_0477|تصویر بنیادی طور پر ایک اخباری تار برقی تصویر ہے شاید دس لاکھ الیحدہ الیحدہ نقطوں سے بنی ہوئی۔|zain
urdu_sample_0478|جن میں سے ہر نکتے کی سرمئی رنگ میں مختلف کیفیت ہے یہ نکتے اتنے نزدیک نزدیک ہیں کہ کچھ دور سے دیکھنے پر نظر نہیں آتے۔|zain
urdu_sample_0479|ہم صرف ان کا مجموعی تاثر دیکھتے ہیں خلائی جہاز سے موصولہ اطلاعات اس بات کا تعین کرتی ہیں۔|zain
urdu_sample_0480|کہ ہر ہر نکتے کو کتنا تاریک یا روشن ہونا ہے پروسیسنگ کے بعد ان نکتوں کو گراموفون ریکارڈ جیسی ایک مقناطیسی ڈسک پر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔|zain
urdu_sample_0481|مشتری کے نظام میں وائجر ون کی لی ہوئی تقریباً اٹھارہ ہزار تصاویر اسی طرح مکنہ تیسی ڈسکوں پر محفوظ ہیں اور تقریباً اتنی ہی وائجر ٹو کی۔|zain
urdu_sample_0482|انجام کار روابط اور نشریات کی حیرت انگیز حتمی پیداوار چمکدار کاغذ کے ایک پتلے سے ٹکڑے پر لی گئی یوں نو جولائی انیس سو اناسی کو انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ عجیب و غریب یوروپا کی شبیہ بنا کر اس کی جانچ پڑتال کی گئی۔|zain
urdu_sample_0483|ان تصاویر میں ہمیں جو کچھ نظر آیا وہ قطعی حیران کن تھا وائجر ون نے پہلے تین گلیلین سیارچوں کی شاندار شبیہیں حاصل کی تھی۔|zain
urdu_sample_0484|لیکن یوروپا کی نہیں اس کی نزدیک سے تصاویر لینے کا کام وائجزر ٹو کے لیے رہ گیا۔|zain
urdu_sample_0485|ان تصویروں میں ہمیں صرف چند کلومیٹر چوڑی چیزیں نظر آئیں پہلی نظر میں یہ جگہ اس نہری جال کی طرح بلکل نہیں لگتی۔|zain
urdu_sample_0486|جو لوویل نے مریخ کی سجاوٹ تصور کیا تھا اور جن کے بارے میں خلائی گاڑیوں کی تحقیقات نے ہمیں بتایا کہ ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔|zain
urdu_sample_0487|ہم نے حیرت کے عالم میں یوروپا پر آڑی ترچھی اور کوسی لکیروں کا ایک الجھا ہوا جال دیکھا کیا ابھری ہوئی لکیریں پہاڑی سلسلے ہیں؟|zain
urdu_sample_0488|کیا نیچے دبی ہوئی لکیریں آب ریزیں ہیں؟ یہ کیسے بنی ہے؟ کیا وہ ایک تعمیری نظام کا حصہ ہے؟|zain
urdu_sample_0489|جنہیں شاید ایک پھیلتے یا سمٹتے ہوئے سیارے کی ٹوٹ پھوٹ نے پیدا کیا کیا ان کا تعلق۔|zain
urdu_sample_0490|کررہِ عرض پر سطحی ساختی تبدیلیوں سے ہے مشتریائی نظام کے دیگر سیارچوں پر وہ کیا روشنی ڈالتی ہیں؟|zain
urdu_sample_0491|دریافت کے وقت زبردست ٹیکنالوجی نے انگشت بدندان کر دیا تھا لیکن یہ ایک اور آلے۔|zain
urdu_sample_0492|یعنی انسانی دماغ پر منحصر تھا کہ وہ ان سے کیا نتائج اخذ کرتا ہے لکیروں کے یولیدہ جال کے باوجود۔|zain
urdu_sample_0493|یوروپا ایک بلیئرڈ کے گیند جتنا ہموار ظاہر ہوا تصادمی گڑھوں کی عدم موجودگی کی وجہ شاید حرارت اور گڑھے پر برف کی سطح بن جانا ہوگی۔|zain
urdu_sample_0494|لکیریں درادڑیں یا جھریاں ہیں ان کی اصلیت کے بارے میں مشن کے کافی عرصہ بعد بھی بحث جاری ہے۔|zain
urdu_sample_0495|اگر وائجر میں انسانی عملہ موجود ہوتا اور کپتان روزنامچہ رکھتا تو وائجر ون اور ٹو کے واقعات کو ملا کر اس میں کچھ یوں اندراجات ہوتے دن ایک۔|zain
urdu_sample_0496|آلات اور سامان کے متعلق کافی پریشانی کے بعد جو غلط کام کرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے ہم کامیابی کے ساتھ سیاروں اور ستاروں کی جانب تفیل سفر پر کیپ کناورل سے اوپر اٹھے دن دو۔|zain
urdu_sample_0497|سائنسی تقتیقار پلیٹ فارم کو سہارا دینے والی جوب کو براجمانے میں کچھ مسائل درپیش ہیں اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو ہماری زیادہ تر تصاویر اور سائنسی عداد و شمار ضائع ہو جائیں گے۔|zain
urdu_sample_0498|دن تیرا ہم نے پیچھے دیکھا ہے اور خلا میں دو اکٹھی دنیاؤں کے طور پر کرۂ ارض اور چاند کی اولین تصویر لی۔|zain
urdu_sample_0499|اے خوبصورت جوڑا دن ایک سو پچاس انجنوں نے راستے کے دوران مستدیری تصحیح یعنی ٹراجیکٹری کریکشن کے لیے فائر کیا۔|zain
urdu_sample_0500|ایک سو ساتر معمول کے وظائف بے واقعہ چند ماہ دن ایک سو پچاسی کامیابی کے ساتھ مشتری کی تصاویر لی گئیں۔|zain