[{"id": "urd_rec_00000", "text": "مصنوعی ذہانت (انگریزی: Artificial Intelligence) یا مختصرًا اے آئی (مذ) ایک ایسی شاخ ہے جو کمپیوٹر سائنس اور مشینیات کے میدان میں انسانی ذہانت کے اصولوں کو نقل کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مشینوں کو ایسی صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ انسانوں کی مانند سوچ سکیں، مسائل کا حل نکال سکیں اور فیصلہ کر سکیں۔ اے آئی طبیعیات کی طرح ایک نظم وضبط ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جو ذہین کارندوں کی تخلیق سے متعلق ہے، جو ایسے نظام ہیں، جو استدلال کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں اور آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00001", "text": "۔ بنیادی طور پر اے آئی کا تعلق ایسی مشینوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے نظریہ اور طریقہ کار سے ہے، جو انسانوں کی طرح سوچتے اور کام کرتے ہیں۔ اس نظم و ضبط میں مشین لرننگ ہے، جو مصنوعی ذہانت کا ایک ذیلی شعبہ ہے۔", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00002", "text": "تاریخ", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00003", "text": "آرٹیفشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت (AI) کا آغاز 1940ء کی دہائی میں ہوا جب ریاضیاتی استدلال یا لسان الاعداد (Digital Language) پر مبنی پروگرام کے مطابق چلنے والا ڈیجیٹل کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ 1950ء میں ایلن ٹورنگ نے ٹورنگ ٹیسٹ کی تجویز پیش کی تاکہ مشین کے ذہین رویے کو ظاہر کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے جو انسان سے مختلف نہیں ہوتا", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00004", "text": "۔ 1956ء میں ڈارٹ ماتھ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کی اصطلاح وضع کی گئی، جہاں جان میک کارتھی، مارون منسکی، نتھینیئل روچیسٹر اور کلاڈ شینن جیسے علمبرداروں نے انسانی ذہانت کی نقل کرنے کے لیے مشینوں کی صلاحیت پر بحث و مباحثہ اور تبادلۂ خیال کیا۔ 1960ء-1970ء کے دورانیہ میں ابتدائی مصنوعی ذہانت پر ہونے والی تحقیق علامات کی مدد سے وضع کیے جانے والے طریقوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر مرکوز تھی", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00005", "text": "۔ جس کے نتیجے میں ELIZA جیسے پروگرام (ایک ابتدائی قدرتی لینگویج پروسیسنگ سسٹم) نے اور مختلف مہارتیں رکھنے والے سسٹمز نے نمایاں پیشرفت کی۔", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00006", "text": "اقسام\nمصنوعی ذہانت کو عمومی طور پر چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:\n\nرد عمل مشینیں (Reactive Machines): یہ مشینیں مخصوص کاموں میں ماہر ہوتی ہیں اور ماضی کے تجربات کو یاد نہیں رکھتیں۔\nمحدود یادداشت (Limited Memory): یہ مشینیں ماضی کے تجربات کو مختصر مدت کے لیے یاد رکھ سکتی ہیں۔\nذہنی نظریہ (Theory of Mind): یہ مشینیں دوسروں کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔\nخود آگاہی (Self-awareness): یہ مشینیں خود شعور رکھتی ہیں اور اپنے وجود سے آگاہ ہوتی ہیں۔", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00007", "text": "استعمالات\nمصنوعی ذہانت کا استعمال مختلف شعبوں میں ہو رہا ہے، جیسے:\n\nطبی میدان: بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے منصوبے۔\nتعلیم: ذاتی نوعیت کے تعلیمی منصوبے۔\nصنعت: خود کار مشینیں اور روبوٹک نظام۔\nمالیاتی خدمات: دھوکا دہی کی شناخت اور خودکار سرمایہ کاری۔\n\nچیلنج\nمصنوعی ذہانت کے ساتھ کئی چیلنج وابستہ ہیں، جیسے:\n\nاخلاقی مسائل: مشینوں کی خود مختاری کے اثرات۔\nبے روزگاری: انسانوں کی جگہ مشینوں کا استعمال۔\nفیصلہ سازی میں تعصب: ڈیٹا کی بنیاد پر غلط نتائج۔", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00008", "text": "مستقبل\nمصنوعی ذہانت کا مستقبل روشن ہے، لیکن اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب آ سکتا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال سے خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔\n\nحوالہ جات\nبیرونی روابط\nمصنوعی ذہانت کو سمجھنے کے لیے آسان گائیڈ، بی بی سی اردو", "title": "مصنوعی ذہانت", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C_%D8%B0%DB%81%D8%A7%D9%86%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00009", "text": "مشین آموزی یا مشین لرننگ (انگریزی: machine learning) کمپیوٹر سائنس کی ایک شاخ ہے جس میں کمپیوٹر کے ان الگوردموں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو تجربہ کی بنیاد پر از خود خوب سے خوب تر شکل میں ڈھلتے ہیں۔ اسے مصنوعی ذہانت کی ذیلی اکائی بھی کہا جاتا ہے۔ مشین آموزی کے الگوردم ڈیٹا کے نمونوں کی بنیاد پر ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کرتے ہیں جسے تربیتی ڈیٹا کہا جاتا ہے، تاکہ اس ڈیٹا کی مدد سے مشین بغیر کسی تفصیلی پروگرامنگ کے از خود فیصلہ کرنے یا سوچنے کے قابل ہو جائے", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00010", "text": "۔ مشین آموزی کے الگورتھم ایپلیکیشنوں ای میل فلٹر اور کمپیوٹر ویژن وغیرہ میں خوب استعمال ہوتے ہیں کیونکہ ان کاموں کے لیے روایتی الگورتھم تیار کرنا تقریباً نا ممکن یا کم از کم ناقابل عمل ہے۔", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00011", "text": "مشین آموزی شماریاتی کمپیوٹنگ سے بہت قربت رکھتی ہے جس میں کمپیوٹر کی مدد سے آگے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ نیز ریاضیاتی کاملیت کا مطالعہ مشین آموزی کو مختلف طریقہ کار، نظریہ اور ایپلیکیشن ڈومین فراہم کرتا ہے۔", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00012", "text": "یہ ایک ایسا پروگرام ہے جو ڈیٹا کے ذریعے ایک ماڈل کوٹریننگ دیتا ہے جو ویب صفحات، مضامین کتابوں ، وغیرہ کے ذریعے بہ آسانی دستیاب ہے۔ وہ ٹریننگ یافتہ ماڈل نے یا پہلے کبھی نہ دیکھے گئے ڈیٹا کے لیے مفید پیش کش کر سکتا ہے۔ مشین لرننگ کے ماڈلوں کی سب سے عام کلاس سپروائزڈ لرننگ ہے۔ نگرانی شدہ ماڈلوں کی صورت میں ہمارے پاس لیبل دستیاب ہیں۔ لیبل شدہ ڈیٹا، وہ ڈیٹا ہوتا ہے جو نام قسم یا نمبر جیسے ٹیگ کے ساتھ ظہور میں آتا ہے", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00013", "text": "۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں کہ کسی کے پاس ریسٹورنٹ کے بل کی رقم اور آرڈر کی کا تاریخی ڈیٹا ہے اور آرڈر کی قسم کی بنیاد پر کتنے مختلف لوگوں نے ٹپ دیا ، جیسے کہ اسے پِک کیا یا ڈیلیور کیا گیا۔ نگرانی شده آموزش میں، ماڈل ماضی کی مثالوں سے سیکھتا ہے تا کہ اس صورت میں مستقبل کی معلومات کے بارے میں تجاویز کی پیشگوئی کی جاسکے۔ لہذا یہاں ماڈل بل کی کل رقم کا استعمال کرتا ہے تا کہ مستقبل کی ٹپ کی رقم کا اندازہ لگایا جاسکے کہ آرڈر لیا گیا تھا یا ڈلیور کیا گیا تھا۔", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00014", "text": "مزید دیکھیے\nمصنوعی ذہانت\nڈیپ لرننگ\n\nحوالہ جات\nبیرونی روابط\n\nانترنیشنل مشین لرننگ سوسائٹی\nmloss\nis an academic database of open-source machine learning software.\n\nMachine Learning Crash Course by گوگل۔ This is a free course on machine learning through the use of TensorFlow۔", "title": "مشین آموزی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%DB%8C%D9%86_%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00015", "text": "روبوٹکس روبوٹ کے ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور استعمال کا بین الضابطہ مطالعہ اور مشق ہے.\nمکینیکل انجینئرنگ میں، روبوٹکس روبوٹس کے جسمانی ڈھانچے کے ڈیزائن اور تعمیر پر مرکوز ہے، جبکہ کمپیوٹر سائنس میں، روبوٹکس روبوٹک آٹومیشن الگورتھمز پر توجہ دیتی ہے۔ روبوٹکس میں تعاون کرنے والے دیگر شعبوں میں الیکٹریکل، کنٹرول، سافٹ ویئر، انفارمیشن، الیکٹرانک، ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر، میکاٹرونک اور میٹریلز انجینئرنگ شامل ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00016", "text": "روبالیات کا مقصد زیادہ تر ایسی مشینیں ڈیزائن کرنا ہے جو انسانوں کی مدد اور معاونت کر سکیں. بہت سے روبوٹ ایسے کام کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں جو انسانوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں، جیسے غیر مستحکم کھنڈر میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنا اور خلا، کانوں اور جہاز کے ملبے کی تلاش کرنا. دیگر روبوٹ ایسے کاموں میں انسانوں کی جگہ لیتے ہیں جو بورنگ، دہرائے جانے والے یا ناخوشگوار ہوتے ہیں، جیسے صفائی، نگرانی، نقل و حمل اور اسمبلی. آج، روبوٹکس ایک تیزی سے بڑھتا ہوا میدان ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00017", "text": "، روبوٹکس ایک تیزی سے بڑھتا ہوا میدان ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی میں ترقی جاری ہے؛ نئے روبوٹ کی تحقیق، ڈیزائن اور تعمیر مختلف عملی مقاصد کے لیے کی جاتی ہے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00018", "text": "روبوٹکس کے پہلو\n١) مکینیکل تعمیر: ایک فریم، شکل یا ڈھانچہ جو کسی خاص کام کو انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر، ایک روبوٹ جو بھاری مٹی یا کیچڑ پر سفر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو، وہ کیٹرپلر ٹریکس استعمال کر سکتا ہے۔ اوریگامی سے متاثر روبوٹ انتہائی ماحول میں محسوس اور تجزیہ کر سکتے ہیں۔ روبوٹ کا مکینیکل پہلو زیادہ تر تخلیق کار کا حل ہوتا ہے تاکہ تفویض کردہ کام کو مکمل کیا جا سکے اور اس کے ارد گرد کے ماحول کی فزکس سے نمٹا جا سکے۔ شکل فنکشن کی پیروی کرتی ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00019", "text": "٢) الیکٹریکل اجزاء جو مشینری کو طاقت اور کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کیٹرپلر ٹریکس والے روبوٹ کو ٹریکس کو حرکت دینے کے لیے کسی قسم کی طاقت کی ضرورت ہوگی۔ یہ طاقت بجلی کی شکل میں آتی ہے، جو ایک تار کے ذریعے سفر کرے گی اور بیٹری سے نکلے گی، جو ایک بنیادی الیکٹریکل سرکٹ ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00020", "text": "۔ یہاں تک کہ پیٹرول سے چلنے والی مشینیں جو اپنی طاقت زیادہ تر پیٹرول سے حاصل کرتی ہیں، پھر بھی احتراق کے عمل کو شروع کرنے کے لیے برقی کرنٹ کی ضرورت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر پیٹرول سے چلنے والی مشینوں جیسے کاروں میں بیٹریاں ہوتی ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00021", "text": "۔ روبوٹ کے الیکٹریکل پہلو کو حرکت (موٹرز کے ذریعے)، سینسنگ (جہاں برقی سگنلز کا استعمال گرمی، آواز، پوزیشن اور توانائی کی حالت جیسی چیزوں کو ماپنے کے لیے کیا جاتا ہے) اور آپریشن (روبوٹس کو اپنے موٹرز اور سینسرز کو فعال کرنے اور بنیادی آپریشنز انجام دینے کے لیے کچھ سطح کی برقی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00022", "text": "٣) سافٹ ویئر: ایک پروگرام وہ طریقہ ہے جس سے روبوٹ فیصلہ کرتا ہے کہ کب یا کیسے کچھ کرنا ہے۔ کیٹرپلر ٹریک کی مثال میں، ایک روبوٹ جسے کیچڑ والی سڑک پر چلنے کی ضرورت ہے، اس کے پاس صحیح مکینیکل تعمیر اور بیٹری سے صحیح مقدار میں طاقت ہو سکتی ہے، لیکن بغیر کسی پروگرام کے جو اسے حرکت کرنے کا حکم دے، وہ کہیں نہیں جا سکے گا", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00023", "text": "۔ پروگرام روبوٹ کی بنیادی جوہر ہیں؛ اس کی مکینیکل اور الیکٹریکل تعمیر بہترین ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کا پروگرام خراب طریقے سے ترتیب دیا گیا ہو، تو اس کی کارکردگی بہت خراب ہوگی (یا وہ بالکل بھی کام نہیں کرے گا). روبوٹک پروگراموں کی تین مختلف اقسام ہیں: ریموٹ کنٹرول، مصنوعی ذہانت اور ہائبرڈ۔ ریموٹ کنٹرول پروگرامنگ والے روبوٹ کے پاس پہلے سے موجود کمانڈز کا ایک سیٹ ہوتا ہے جو وہ صرف اس وقت انجام دے گا جب اسے کنٹرول سورس سے سگنل ملے گا، عام طور پر ایک انسان جو ریموٹ کنٹرول کے ساتھ ہوتا ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00024", "text": "۔ یہ زیادہ مناسب ہے کہ ان آلات کو جو بنیادی طور پر انسانی کمانڈز کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں، آٹومیشن کے شعبے میں شمار کیا جائے نہ کہ روبوٹکس میں. مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے روبوٹ اپنے ماحول کے ساتھ خود بخود تعامل کرتے ہیں بغیر کسی کنٹرول سورس کے اور اپنے پہلے سے موجود پروگرامنگ کا استعمال کرتے ہوئے اشیاء اور مسائل کے رد عمل کا تعین کر سکتے ہیں۔ ہائبرڈ ایک پروگرامنگ کی شکل ہے جو ان میں AI اور RC دونوں افعال کو شامل کرتی ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00025", "text": "تحقیقِ روبالیات\nروبوٹکس میں زیادہ تر تحقیق مخصوص صنعتی کاموں پر نہیں بلکہ نئے قسم کے روبوٹ، روبوٹ کے بارے میں سوچنے یا ڈیزائن کرنے کے متبادل طریقے اور انھیں بنانے کے نئے طریقے تلاش کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ دیگر تحقیقات، جیسے MIT کا سائبرفلوورا پروجیکٹ، تقریباً مکمل طور پر تعلیمی نوعیت کی ہوتی ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00026", "text": "روبوٹ کی ترقی کی سطح کو بیان کرنے کے لیے “جنریشن روبوٹس” کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ اصطلاح پروفیسر ہانس موراویک، جو کارنیگی میلن یونیورسٹی روبوٹکس انسٹی ٹیوٹ میں پرنسپل ریسرچ سائنٹسٹ ہیں، نے روبوٹ ٹیکنالوجی کے قریب مستقبل کے ارتقا کو بیان کرنے کے لیے وضع کی ہے۔ ١٩٩٧ میں موراویک نے پیش گوئی کی تھی کہ پہلی نسل کے روبوٹ کی ذہنی صلاحیت شاید ایک چھپکلی کے برابر ہوگی اور یہ ٢٠١٠ تک دستیاب ہو جائیں گے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00027", "text": "۔ تاہم، چونکہ پہلی نسل کا روبوٹ سیکھنے کے قابل نہیں ہوگا، موراویک نے پیش گوئی کی کہ دوسری نسل کا روبوٹ پہلی نسل سے بہتر ہوگا اور ٢٠٢٢ تک دستیاب ہو جائے گا، جس کی ذہانت شاید ایک چوہے کے برابر ہوگی۔ تیسری نسل کے روبوٹ کی ذہانت شاید ایک بندر کے برابر ہوگی۔ اگرچہ چوتھی نسل کے روبوٹ، جو انسانی ذہانت کے حامل ہوں گے، پروفیسر موراویک کی پیش گوئی کے مطابق ممکن ہو جائیں گے، وہ اس کے ٢٠٤٠ یا ٢٠5٠ سے پہلے ہونے کی پیش گوئی نہیں کرتے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00028", "text": "ڈائنامک اور جنبشیات", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00029", "text": "حرکت کا مطالعہ دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: کائنیماٹکس اور ڈائنامکس۔ ڈائریکٹ کائنیماٹکس یا فارورڈ کائنیماٹکس اس وقت اینڈ ایفیکٹر کی پوزیشن، سمت، رفتار اور تیز رفتاری کا حساب لگانے کو کہتے ہیں جب متعلقہ جوائنٹ ویلیوز معلوم ہوں۔ انورس کائنیماٹکس اس کے برعکس ہے جس میں اینڈ ایفیکٹر کی دی گئی ویلیوز کے لیے مطلوبہ جوائنٹ ویلیوز کا حساب لگایا جاتا ہے، جیسا کہ راستہ منصوبہ بندی میں کیا جاتا ہے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00030", "text": "۔ کائنیماٹکس کے کچھ خاص پہلوؤں میں ریڈنڈنسی (ایک ہی حرکت کو انجام دینے کے مختلف امکانات)، تصادم سے بچاؤ اور سنگولیریٹی سے بچاؤ شامل ہیں۔ ایک بار جب تمام متعلقہ پوزیشنز، رفتاریں اور تیز رفتاریوں کا حساب کائنیماٹکس کے ذریعے لگایا جاتا ہے، تو ڈائنامکس کے میدان سے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ان حرکتوں پر قوتوں کے اثرات کا مطالعہ کیا جا سکے۔ ڈائریکٹ ڈائنامکس اس وقت روبوٹ میں تیز رفتاریوں کا حساب لگانے کو کہتے ہیں جب لاگو قوتیں معلوم ہوں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00031", "text": "۔ ڈائریکٹ ڈائنامکس روبوٹ کی کمپیوٹر سمولیشنز میں استعمال ہوتا ہے۔ انورس ڈائنامکس اس وقت ایکچوایٹر قوتوں کا حساب لگانے کو کہتے ہیں جو ایک مقررہ اینڈ ایفیکٹر تیز رفتاری پیدا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ معلومات روبوٹ کے کنٹرول الگورتھمز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00032", "text": "ہر مذکورہ بالا شعبے میں، محققین نئے تصورات اور حکمت عملیوں کو تیار کرنے، موجودہ کو بہتر بنانے اور ان شعبوں کے درمیان تعامل کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے، “بہترین” کارکردگی کے معیار اور روبوٹ کے ڈیزائن، ڈھانچے اور کنٹرول کو بہتر بنانے کے طریقے تیار اور نافذ کیے جانے چاہئیں.\nاوپن سورس روبالیات", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00033", "text": "اوپن سورس روبالیات\nاوپن سورس روبوٹکس تحقیق ایسے معیارات تلاش کرتی ہے جو روبوٹ کی تعریف، ڈیزائن اور تعمیر کے طریقے فراہم کریں تاکہ انھیں کوئی بھی آسانی سے دوبارہ بنا سکے۔ تحقیق میں قانونی اور تکنیکی تعریفیں شامل ہیں؛ اخراجات کو کم کرنے اور تعمیرات کو آسان بنانے کے لیے متبادل اوزار اور مواد کی تلاش؛ اور ڈیزائنز کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے انٹرفیس اور معیارات بنانا۔ انسانی استعمال کی تحقیق یہ بھی جانچتی ہے کہ تعمیرات کو بصری، متن یا ویڈیو ہدایات کے ذریعے بہترین طریقے سے کیسے دستاویزی بنایا جائے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00034", "text": "انسانی عوامل\nتعلیم و تربیت\nروبوٹکس انجینئر روبوٹ ڈیزائن کرتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ان کے لیے نئی ایپلی کیشنز تیار کرتے ہیں اور روبوٹکس کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تحقیق کرتے ہیں۔ روبوٹ کچھ مڈل اور ہائی اسکولوں میں، خاص طور پر امریکا کے کچھ حصوں میں اور متعدد یوتھ سمر کیمپوں میں ایک مقبول تعلیمی ٹول بن چکے ہیں، جس سے طلبہ میں پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں دلچسپی بڑھ رہی ہے.\nروزگار", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00035", "text": "روبوٹکس جدید مینوفیکچرنگ ماحول میں ایک لازمی جزو ہے۔ جیسے جیسے فیکٹریاں روبوٹ کے استعمال میں اضافہ کرتی ہیں، روبوٹکس سے متعلق ملازمتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور مسلسل بڑھتی ہوئی دیکھی گئی ہے۔ صنعتوں میں روبوٹ کے استعمال نے پیداواریت اور کارکردگی میں بچت کو بڑھایا ہے اور عام طور پر اسے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک مطالعہ میں پایا گیا کہ ٤٧ فیصد امریکی ملازمتیں “کسی غیر معینہ مدت کے دوران” آٹومیشن کے خطرے سے دوچار ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00036", "text": "۔ ان دعوؤں پر تنقید کی گئی ہے کہ بے روزگاری کی وجہ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ سماجی پالیسی ہے۔ ٢٠١٦ میں دی گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں، اسٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ “فیکٹریوں کی آٹومیشن نے پہلے ہی روایتی مینوفیکچرنگ میں ملازمتوں کو ختم کر دیا ہے اور مصنوعی ذہانت کا عروج اس ملازمت کی تباہی کو درمیانی طبقے تک بڑھانے کا امکان ہے، جس میں صرف سب سے زیادہ دیکھ بھال کرنے والے، تخلیقی یا نگرانی کے کردار باقی رہ جائیں گے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00037", "text": "گلوبل ڈیٹا کی ستمبر ٢٠٢١ کی رپورٹ کے مطابق، ٢٠٢٠ میں روبوٹکس انڈسٹری کی مالیت ٤5 ارب ڈالر تھی اور ٢٠٣٠ تک یہ ٢٩٪ کی کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (CAGR) کے ساتھ بڑھ کر 56٨ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو روبالیات اور متعلقہ صنعتوں میں ملازمتوں کو فروغ دے گی.\nپیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے مضمرات\nEU-OSHA کی ایک بحثی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ روبوٹکس کے پھیلاؤ سے پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت (OSH) کے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا ہوتے ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00038", "text": "روبوٹکس کے وسیع استعمال سے حاصل ہونے والے سب سے بڑے OSH فوائد غیر صحت مند یا خطرناک ماحول میں کام کرنے والے لوگوں کی جگہ لینا ہیں۔ خلا، دفاع، سیکیورٹی یا جوہری صنعت میں، بلکہ لاجسٹکس، دیکھ بھال اور معائنہ میں بھی، خود مختار روبوٹ خاص طور پر گندے، بورنگ یا غیر محفوظ کام انجام دینے والے انسانی کارکنوں کی جگہ لینے میں مفید ہیں، اس طرح کارکنوں کو خطرناک ایجنٹوں اور حالات سے بچاتے ہیں اور جسمانی، ایرگونومک اور نفسیاتی خطرات کو کم کرتے ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00039", "text": "۔ مثال کے طور پر، روبوٹ پہلے ہی بار بار اور یکسانی والے کام انجام دینے، تابکار مواد کو سنبھالنے یا دھماکا خیز ماحول میں کام کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں، زراعت، تعمیرات، نقل و حمل، صحت کی دیکھ بھال، آگ بجھانے یا صفائی کی خدمات جیسے مختلف شعبوں میں بہت سے دیگر انتہائی بار بار، خطرناک یا ناخوشگوار کام روبوٹ کے ذریعے انجام دیے جائیں گے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00040", "text": "مزید برآں، کچھ مہارتیں ایسی ہیں جن کے لیے انسان مشینوں سے بہتر ہوں گے اور سوال یہ ہے کہ انسانی اور روبوٹ کی مہارتوں کا بہترین امتزاج کیسے حاصل کیا جائے۔ روبوٹکس کے فوائد میں بھاری کاموں کو درستی اور تکرار کے ساتھ انجام دینا شامل ہے، جبکہ انسانوں کے فوائد میں تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی، لچک اور موافقت شامل ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00041", "text": "۔ اس بہترین مہارتوں کے امتزاج کی ضرورت نے تعاون کرنے والے روبوٹ اور انسانوں کو ایک مشترکہ کام کی جگہ میں قریب تر کر دیا ہے اور “انسان-روبوٹ انضمام” کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئے طریقوں اور معیارات کی ترقی کا باعث بنی ہے۔ کچھ یورپی ممالک اپنے قومی پروگراموں میں روبوٹکس کو شامل کر رہے ہیں اور بہتر پیداواریت کے حصول کے لیے روبوٹ اور آپریٹرز کے درمیان محفوظ اور لچکدار تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00042", "text": "۔ مثال کے طور پر، جرمن فیڈرل انسٹی ٹیوٹ فار اوکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ (BAuA) “انسان-روبوٹ تعاون” کے موضوع پر سالانہ ورکشاپس کا اہتمام کرتا ہے۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00043", "text": "مستقبل میں، روبوٹ اور انسانوں کے درمیان تعاون متنوع ہو جائے گا، روبوٹ اپنی خود مختاری میں اضافہ کریں گے اور انسان-روبوٹ تعاون بالکل نئی شکلیں اختیار کرے گا۔ موجودہ طریقوں اور تکنیکی معیارات کو، جو تعاون کرنے والے روبوٹ کے ساتھ کام کرنے کے خطرے سے ملازمین کی حفاظت کے لیے ہیں، نظر ثانی کرنا پڑے گا.\nصارف کا تجربہ", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00044", "text": "صارف کا تجربہ\nعمدہ صارف تجربہ ہر صارف گروپ کی ضروریات، تجربات، رویوں، زبان اور علمی صلاحیتوں اور دیگر عوامل کی پیش گوئی کرتا ہے۔ پھر یہ بصیرتیں استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا پروڈکٹ یا حل تیار کرتا ہے جو بالآخر مفید اور قابل استعمال ہو۔ روبوٹ کے لیے، صارف کا تجربہ روبوٹ کے مطلوبہ کام اور ماحول کو سمجھنے سے شروع ہوتا ہے، جبکہ اس بات پر بھی غور کیا جاتا ہے کہ روبوٹ کا انسانی آپریشنز اور اس کے ساتھ تعامل پر کیا ممکنہ سماجی اثر ہو سکتا ہے۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00045", "text": "یہ وضاحت کرتا ہے کہ مواصلات معلومات کی ترسیل کو سگنلز کے ذریعے بیان کرتا ہے، جو چھونے، آواز، بو اور نظر کے ذریعے محسوس کیے جانے والے عناصر ہیں۔ مصنف بیان کرتا ہے کہ سگنل بھیجنے والے کو وصول کنندہ سے جوڑتا ہے اور تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: خود سگنل، جس کا یہ حوالہ دیتا ہے اور مترجم۔ جسمانی پوسچر اور اشارے، چہرے کے تاثرات، ہاتھ اور سر کی حرکتیں سب غیر زبانی رویے اور مواصلات کا حصہ ہیں۔ جب انسان-روبوٹ تعامل کی بات آتی ہے تو روبوٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00046", "text": "۔ لہذا، انسان اپنی زبانی اور غیر زبانی رویوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خصوصیات کو بات چیت کرتے ہیں۔ اسی طرح، سماجی روبوٹ کو انسانی جیسے رویے انجام دینے کے لیے اس ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00047", "text": "کیریئر", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00048", "text": "روبوٹکس ایک بین الضابطہ میدان ہے، جو بنیادی طور پر مکینیکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کو یکجا کرتا ہے لیکن اس میں الیکٹرانک انجینئرنگ اور دیگر مضامین بھی شامل ہوتے ہیں۔ روبوٹکس میں کیریئر بنانے کا معمول کا طریقہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک قائم شدہ مضمون میں انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کی جائے، اس کے بعد روبوٹکس میں گریجویٹ (ماسٹرز) ڈگری حاصل کی جائے", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00049", "text": "۔ گریجویٹ ڈگریاں عام طور پر ان تمام شراکت دار مضامین سے آنے والے طلبہ کے ذریعہ شامل ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے متعلقہ انڈرگریجویٹ سطح کے مضمون سے واقفیت شامل ہوتی ہے، اس کے بعد خالص روبوٹکس کے موضوعات میں ماہر مطالعہ شامل ہوتا ہے جو ان پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایک بین الضابطہ مضمون کے طور پر، روبوٹکس کے گریجویٹ پروگرام خاص طور پر طلبہ کے ایک ساتھ کام کرنے اور سیکھنے اور اپنے ہوم ڈسپلن کی پہلی ڈگریوں سے اپنے علم اور مہارتوں کا اشتراک کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00050", "text": "روبوٹکس انڈسٹری میں کیریئرز عام طور پر اسی طرز پر چلتے ہیں، جہاں زیادہ تر روبوٹکس ماہرین مختلف شعبوں کے ماہرین کی بین الضابطہ ٹیموں کے حصے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد روبوٹکس کے گریجویٹ ڈگریاں آتی ہیں جو انھیں ایک ساتھ کام کرنے کے قابل بناتی ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00051", "text": "۔ کارکنان عام طور پر اپنے بنیادی شعبوں کے رکن کے طور پر شناخت کرتے رہتے ہیں جو روبوٹکس میں کام کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ‘روبوٹکس ماہر’ کہلائیں. اس ڈھانچے کو کچھ انجینئرنگ پیشوں کی نوعیت سے تقویت ملتی ہے، جو روبوٹکس کو مجموعی طور پر تسلیم کرنے کی بجائے بنیادی شعبوں کے ارکان کو چارٹرڈ انجینئر کا درجہ دیتے ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00052", "text": "روبوٹکس کے کیریئرز کی ٢١ویں صدی میں وسیع پیمانے پر ترقی کی پیش گوئی کی جاتی ہے، کیونکہ روبوٹ زیادہ دستی اور ذہنی انسانی کاموں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ وہ کارکنان جو روبوٹکس کی وجہ سے اپنی ملازمتیں کھو دیتے ہیں، اپنے مخصوص شعبے کے علم اور مہارتوں کا استعمال کرتے ہوئے ان روبوٹ کو بنانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے دوبارہ تربیت حاصل کرنے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00053", "text": "تاریخ\n١٩٤٨ میں، نوربرٹ وینر نے سائبرنیٹکس کے اصول وضع کیے، جو عملی روبوٹکس کی بنیاد ہیں۔", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00054", "text": "مکمل طور پر خود مختار روبوٹ صرف ٢٠ویں صدی کے دوسرے نصف میں ظاہر ہوئے۔ پہلا ڈیجیٹل طور پر چلنے والا اور پروگرام کے قابل روبوٹ، یونی میٹ، ١٩٦١ میں نصب کیا گیا تھا تاکہ ڈائی کاسٹنگ مشین سے گرم دھات کے ٹکڑوں کو اٹھا کر انھیں اسٹیک کیا جا سکے. آج تجارتی اور صنعتی روبوٹ وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں اور انسانوں کے مقابلے میں زیادہ سستے، زیادہ درست اور زیادہ قابل اعتماد طریقے سے کام انجام دیتے ہیں۔ انھیں ان ملازمتوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو انسانوں کے لیے بہت گندی، خطرناک یا بورنگ ہوتی ہیں", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00055", "text": "۔ روبوٹ وسیع پیمانے پر مینوفیکچرنگ، اسمبلی، پیکنگ اور پیکیجنگ، کان کنی، ٹرانسپورٹ، زمین اور خلا کی تلاش، سرجری، ہتھیار، لیبارٹری تحقیق، حفاظت اور صارفین اور صنعتی سامان کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں استعمال ہوتے ہیں.", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00056", "text": "،\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "روبوٹکس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D9%B9%DA%A9%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00057", "text": "ڈیٹا سائنس (انگریزی: Data science) ایک بین شعبہ جاتی مطالعہ ہے جس میں سائنسی طریقوں، الگوردم اور سسٹموں کے ذریعے کئی خاکہ بند اور غیر خاکہ بند مواد سے معلومات اور سمجھ حاصل کی جاتی ہے۔ ڈاٹا سائنس ڈیٹا مائننگ، ڈیپ لرننگ اور بگ ڈیٹا سے جڑا ہے۔\n\nمزید دیکھیے\nڈیٹا سائنس کورسز\nڈیٹا\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "ڈیٹا سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%88%DB%8C%D9%B9%D8%A7_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00058", "text": "شماریات وہ علم ہے جس میں دیٹا یا معلومات کو جمع کیا جاتا ہے، انھیں منظم کیا جاتا ہے، ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے اس سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں اور پھر مناسب انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس میں ڈیٹا یا معلومات کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی سے لے کر کر نتائج کو بیان کرنے تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔ یہ معلومات انسانوں، چیزوں غرض کسی چیز یا موضوع سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر سروے، تجربات اور منصوبہ بندی کے لیے شماریات کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00059", "text": "شماریات کو انگریزی میں Statistics اور عربی میں إحصاء کہتے ہیں۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00060", "text": "شماریات سائنس ہے افراد کے گروہوں سے متعلق یا تجرباتی عددی مطعیات کو موثر استعمال میں لانے کا۔ یہ اس کے تمام پہلوں سے متعلق ہے، نہ صرف اس ڈیٹا کا جمع، تحلیل اور تفسیر، مگر ڈیٹا کے جمع کرنے کی تدبیر، تجربات کے مساحہ اور طرحبندی میں۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00061", "text": "شماریاتگر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو احصائی تحلیل کے کامیاب اطلاق کے لیے سوچ بچار میں خاص اہلیت رکھتا ہو۔ اکثر اوقات ایسے افراد نے یہ قابلیت فہرست برائے شعبہ جات شماریات کے اطلاق میں سے کسی میں کام کر کے حاصل کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک شعبہ ریاضیاتی شماریات کا بھی ہے جو اس شعبہ کی نظریاتی اساس سے متعلق ہے۔\nلفظ شماریات سے مراد ریاضیات کا شعبہ ہے جو اس مقالہ میں زیر بحث ہے۔ یہ لفظ یا اس کی جمع، \"احصائیات\" سے مراد ایسی قدر بھی ہو سکتی ہے (جیسا کہ اوسط) جو ڈیٹا کے مجموعہ سے حسابگر کیا گیا ہو۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00062", "text": "دائرہ عمل\nشماریات کو کچھ ریاضیاتی سائنس سمجھتے ہیں جس کا تعلق ڈیٹا کا اکٹھا کرنا، تحلیل، تفسیر یا وضاحت اور پیشکش ہے، جبکہ دوسرے اسے ریاضیات کی شاخ کہتے ہیں جو ڈیٹا کے اکٹھے اور تفسیر کرنے سے متعلق ہے۔ اس کی تجریبی جڑوں اور اطلاقیات پر توجہ کی وجہ سے، شماریات کو عموماً ممیز ریاضیاتی سائنس سمجھا جاتا ہے بجائے کہ ریاضیات کی شاخ۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00063", "text": "شماریاتگر ڈیٹا کی کفیت کو بہتر بناتے ہیں تجربات کی طرحبندی اور ساحہ نمونہ گیری سے۔ شماریات پیشنگوئی اور ڈیٹا اور احصائی تمثیل کے ذریعہ پیشنگوئی کے آلات مہیا کرتی ہے۔ شماریات متنوع تعلیمی شعبوں میں کام آتی ہے جس میں فطرتی اور معاشرتی سائنس، حکومت اور کاروبار شامل ہیں۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00064", "text": "احصائی طرائق کو ڈیٹا کے مجموعہ کو بیان یا خلاصہ کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے؛ اس کو بیاناتی شماریات کہتے ہیں۔ یہ تحقیق میں کارآمد ہے جب تجربات کے نتائج کا واصلات کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا میں قرینوں کو اس طرح تمثیل کیا جاتا ہے جو مشاہدات میں تصادف یا لاتیقن کی وضاحت کرتے ہیں اور اس کو زیرمطالعہ عملیات یا آبادی کے بارے استنتاج نکالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؛ اسے استنتاجی شماریات کہتے ہیں", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00065", "text": "۔ سائنسی بڑھائی میں استنتاج حیوی رکن ہے، چونکہ یہ (ڈیٹا پر اساسی) پیشنگوئی فراہم کرتا ہے کہ نظریہ کس طرف منطقی طور پر لے جاتا ہے۔ رہبر نظریہ کو مثبوت کرنے کے لیے، ان استنتاج کو بھی پرکھا جاتا ہے، سائنسی طریقہ کار کے حصہ کے طور پر۔ اگر استنتاج درست نکلے، تو نئے ڈیٹا کے بیاناتی شماریات سے متعلقہ مفروضہ کے صحیح پن زیادہ ہو جاتا ہے۔ بیاناتی شماریات اور استنتاجی شماریات (جسے پیشنگوئی شماریات بھی کہتے ہیں) دونوں کو ملا کر اطلاقی شماریات بنتی ہے۔", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00066", "text": "مزید دیکھیے\nماہرین شماریات کی فہرست\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "شماریات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00067", "text": "ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ساختوں، اشکال اور تبدلات سے متعلق بحث بھی کی جاتی ہے۔ اس علم کے بارے میں گمان غالب ہے کہ اس کی ابتدا یا ارتقا دراصل گننے، شمار کرنے، پیمائش کرنے اور اشیاء کے اشکال و حرکات کا مطالعہ کرنے جیسے بنیادی عوامل کی تجرید اور منطقی استدلال (logical reasoning) کے ذریعہ ہوا۔", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00068", "text": "ریاضی داں ان تصورات و تفکرات کی جو اوپر درج ہوئے ہیں چھان بین کرتے ہیں اور ان سے متعلق بحث کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نئے گمان کردہ خیالات (conjectures) کے لیے صیغے (formulae) اخذ کرنا اور پھر احتیاط سے چنے گئے مسلمات (axioms)، تعریفوں اور قواعد کی مدد سے ریاضی کے اخذ کردہ صیغوں کو درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00069", "text": "اشتقاق\nریاضی کا لفظ ریاضت سے بنا ہے جس کا مطلب سیکھنا، مشق کرنا یا پڑھنا ہوتا ہے، جبکہ انگریزی میں بھی mathematics کا لفظ یونانی کے mathema سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سیکھنا یا پڑھنا ہے۔\n\nتاریخ", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00070", "text": "بنیادی قسم کی ریاضی کی معلومات کا استعمال زمانہ قدیم ہی سے رائج ہے اور قدیم مصر، بین النہرین اور قدیم ہندوستان کی تہذیبوں میں اس کے آثار ملتے ہیں", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00071", "text": "۔ آج دنیا بھر میں علم ریاضی کو سائنس، ہندسیات، طب اور معاشیات سمیت تمام شعبہ ہائے علم میں استعمال کیا جا رہا ہے اور ان اہم شعبوں میں استعمال ہونے والی ریاضی کو عموماً عملی ریاضی (applied mathematics) کہا جاتا ہے، ان شعبہ جات پر ریاضی کا نفاذ کرکے اور ریاضی کی مدد لے کر نہ صرف نئے ریاضیاتی پہلوؤں کی دریافتوں کا راستہ کھل جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ریاضی اور دیگر شعبوں کے ملاپ سے ایک بالکل نیا شعبۂ علم وجود میں آجانے کی مثالیں بھی موجود ہیں", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00072", "text": "۔", "title": "ریاضی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00073", "text": "علمِ کمپیوٹر یا کمپیوٹر سائنس (انگریزی: Computer Science) دراصل معلومات اور تخمین(computation) کے بارے میں نظری مطالعے اور نظامِ کمپیوٹر (computer system) میں ان کے اجرا اور نفاذ سے متعلق ہے۔ یہ علم اب یونیورسٹی کی سطح پر باقاعدہ ڈگری کی شکل میں پڑھایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس علم کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے اور پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس علم سے روزگار کا حصول کر رہی ہے۔", "title": "کمپیوٹر سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00074", "text": "اس علم کی بنیاد پروگرامنگ پر ہے۔ طلبہ کا زیادہ تر وقت پروگرامنگ سیکھنے اور اسے بہتر کرنے میں گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد علوم اس علم کے سیکھنے میں مدد ملتی ہے، جیسے ریاِضی، فزکس، مینجمنٹ، وغیرہ۔", "title": "کمپیوٹر سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00075", "text": "== حوالہ جات ==", "title": "کمپیوٹر سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1_%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00076", "text": "پروگرامنگ زبان (انگریزی: Programming language) سے مراد کوئی بھی ایسی زبان ہوتی ہے جس میں لکھی ہوئی ہدایات کو کمپیوٹر سمجھ سکے۔ پروگرامنگ زبان کے بارے میں درج ذیل باتیں ضرور مد نظر رکھیں کیونکہ پروگرامنگ زبانیں کئی لحاظ سے عمومی زبانوں سے مختلف ہوتی ہیں۔", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00077", "text": "پروگرامنگ زبان میں ہدایات لکھی جاتی ہیں۔\nعام زبانوں کے برخلاف ان میں کسی قسم کے حروف تہجی،جملے،فقرے یا پیراگراف وغیرہ نہیں ہوتے۔\nپروگرامنگ زبانوں میں ہمیشہ کمپیوٹر کے لیے ہدایات لکھی جاتی ہیں۔\nپروگرامنگ زبانوں کے باقاعدہ اصول و قواعد(Syntax) ہوتے ہیں۔\nپروگرامنگ زبانوں کے اصول قواعد میں کسی بھی قسم کی غلطی کی وجہ سے کمپیوٹر اس میں لکھی ہوئی ہدایات کو سمجھنے سے انکار کردیتا ہے۔\nاب تک بنائی جانے والی اکثر پروگرامنگ زبانیں انگریزی حروف تہجی کو استعمال کرتی ہیں۔", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00078", "text": "پروگرامنگ زبانیں کئی قسم کی ہیں جو اپنے استعمال،اپنے طریقہ کار اور مقاصد میں ایک جیسی بھی ہیں اور مختلف بھی۔\nعام طور پر پروگرامنگ میں کسی الگورتھم کو نافذ(Implement) کیاجاتا ہے تاہم کچھ زبانیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں اور ان میں الگورتھم کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00079", "text": "جماعت بندی\nبلحاظ طرز تحریر\nبلحاظ مقاصد\nبلحاظ طریقہ استعمال\nبلحاظ جائے استعمال\n\nبلحاظ طرز تحریر\nطرز تحریر کے لحاظ سے زبانوں کی دوبڑی اقسام ہیں", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00080", "text": "ٹیگ کی بنیاد پر لکھی جانے والی زبانیں\nیہ زبانیں باقاعدہ پروگرامنگ زبان نہیں کہلاسکتیں کیونکہ ان میں کسی قسم کی مرحلہ وار ہدایات نہیں ہوتیں۔ یہ زبانیں کمپیوٹر کی سکرین پر مواد کو دکھانے اور اس کی ترتیب کو قائم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔HTMLاس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے علاوہ XML میں بھی ٹیگ کی بنیاد پر کام ہوتا ہے۔ لیکن XML مواد کو ظاہر کرنے کے علاوہ معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00081", "text": "منطقی زبانیں\nیہ زبانیں خاص طور پرکسی نہ کسی منطقی مسئلے کو حل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ باقاعدہ پروگرامنگ زبانیں ہیں۔ ان میں بھی مواد کی ترتیب کے حوالے سے کچھ سہولیات ہوتی ہیں لیکن بہت ہی کم۔ اس کے برعکس یہ پیجیدہ ریاضیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔C/C++،جاوا،اسمبلی اس کی اہم مثالیں ہیں۔\nاس مضمون میں ہماری توجہ زیادہ ہ تر انھیں زبانوں پر رہے گی۔\n\nمزید دیکھیے\nکمپیوٹر پروگرامنگ", "title": "پروگرامنگ زبان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86%DA%AF_%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00082", "text": "== جاندار ==\nثُعبان، اَجگر، اَژدہا : Python\n\nکمپیوٹنگ\nپائتھون، ایک پروگرامنگ زبان۔\n\nبیرونی روابط\nگوگل ترجمہ پر ثُعبان کا انگریزی متبادل\nآن لائن اُردو لُغت پر لفظ ثُعبان کا مفہوم\nآن لائن اُردو لُغت پر لفظ اجگر کی تفصیل\nآن لائن اُردو لُغت پر لفظ اَژدہا کی تفصیل\nویبسٹر آن لائن انگریزی لُغت پر لفظ python کا مطلب\nانگریزی وِکی لُغت پر لفظ python کا صفحہ", "title": "پائیتھون", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%AA%DA%BE%D9%88%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00083", "text": "یہ مضمون بطور خاص انٹرنیٹ کے بارے میں ہے، دیگر جالکاری تصوّرارت کے لیے شمارندی جالکاری اور جالبینی جالکاری کے صفحات مخصوص ہیں۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00084", "text": "انٹرنیٹ (انگریزی: Internet)، باہم مربوط کمپیوٹر کا ایک عالمی جال (شمارندی جالِکار (Computer Network))", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00085", "text": "ہے جو عوامی یا اجتماعی سطح پر ہر کسی کے لیے قابل دسترس و رسائی ہے۔ کمپیوٹر کا یہ جال یا نظام جالبینی دستور (internet protocol) کا استعمال کرتے ہوئے رزمی بدیل (packet switching) کے ذریعہ سے مواد (data) کو منتقل یا ارسال کرتا ہے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00086", "text": "۔ انٹرنیٹ اصل میں خود لاتعداد چھوٹے چھوٹے جالاتِکار کا مجموعہ ہے جو علاقائی سطح پر پائے جاتے ہیں اور اس طرح یہ تمام یکجا ہو کر مختلف معلومات اور خدمات فراہم کرتے ہیں مثلاً برقی خط، آنلائن گفتگو (online chatting)، فائلوں کا تبادلہ و منتقلی، آپس میں مربوط ویب کے صفحات اور ایک عالمی دستاویزات کا نظام یعنی ورلڈ وائڈ ویب ۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00087", "text": "انٹرنیٹ اور حبالہ", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00088", "text": "یہ بات قابل توجہ ہے کہ عام سمجھ کے برعکس، انٹرنیٹ اور حبالہ یا ویب (Web) آپس میں مترادف یا ہم معنی نہیں : انٹرنیٹ دراصل آپس میں موبوط شمارندی جالاتِکار کا ایک مجموعہ ہے جن کو تانبے کی تاروں، بصری ریشوں (Optical fibers) اور لاسـلـکی یعنی بے تار رابطوں یا اتصالوں سے آپس میں جوڑا جاتا ہے ؛ جبکہ حبالہ دراصل آپس میں مربوط دستاویزات کا ایک مجموعہ ہے جن کو وراۓمتن اور URLs کے رابطوں یا اتصالوں سے آپس میں جوڑا جاتا ہے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00089", "text": "۔ حبالہ (ویب) تک رسائی جالِکار (انٹرنیٹ) کی مدد سے کی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ دیگر خدمات مثلاً برقی خط اور ملفی شراکت (file sharing) تک بھی رسائی انٹرنیٹ سے ہی ممکن ہوتی ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00090", "text": "تخلیق انٹرنیٹ", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00091", "text": "سویت یونین کے منصوبہ اسپاٹ نیک نے امریکا کو 1958 میں دوبارہ ٹیکنالوجی برتری حاصل کرنے کے لیے ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجینسی /ARPA (جو بعد میں ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجینسی کہلایا /DARPA) بنانے کی طرف راغب کیا۔ ARPA نے سیمی آٹومیٹک گراؤنڈ انوائرونمنٹ پروگرام کی تحقیق کے لیے ایک انفارمیشن پروسیسنگ ٹیکنالوجی آفس (IPTO) تخلیق کیا، جس نے پہلی بار ملک بھر میں پھیلے ہوئے ارسالوں کو ایک مشترک نظام میں مربوط کیا", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00092", "text": "۔ J.C.R. Licklider کو IPTO کی راہنمائی کے لیے منتخب کیا گیا جس نے ایک عالمی نظام نیٹ ورکی (نیٹ ورکنگ) کی ضرورت کو محسوس کیا۔ لکلائڈر نے Laurence Roberts کو جالِکار (نیٹ ورک) کو عمل میں لانے کی ذمہ داری سونپ دی، روبرٹ نے Paul Baran کے کام سے استفادہ کیا جس نے نظام نیٹ ورک میں ترقی اور امکانات میں تیزی سے اضافہ کی خاطر circuit switching پر رزمی بدیل (packet switching) کو ترجیح دی تھی", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00093", "text": "۔ خاصی تگ و دو کے بعد، 29 اکتوبر 1960 کو جامعہ کیلیفورنیا لاس انجلس (UCLA) سے براہ راست جاری ہوا جس کو ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی نیٹ ورک کہا گیا اور جو آج کے انٹرنیٹ یا انٹرنیٹ کی ابتدا کہا جا سکتا ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00094", "text": "پہلا وسیع TCP/IP جالِکار (نیٹ ورک) 1 جنوری 1983 میں اپنا کام شروع کرچکاتھا جب امریکی قومی ادارہ برائے سائنس (NSF) نے ایک نیٹ ورکِ جامعہ (University Network) کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا جو بعد میں NSFNet بنا۔ اور یہ تاریخ اکثر انٹرنیٹ کی فنی تاریخِ پیدائش کہلائی جاتی ہے۔ اس کے بعد 1985ء میں انٹرنیٹ کو کاروباری مقاصد کے لیے کھول دیا گیا۔ اور پھر دیگر اہم جالاتِکار مثلاً یوزنیٹ, Bitnet, X.25 اور JANET وغیرہ بھی USFNet میں ضم ہو گئے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00095", "text": "۔ Telenet (جو بعد میں Sprintnet کہلایا) وہ سب سے بڑا نجی سطح پر کام کرنے والا جالکار تھا جو 1970 سے امریکا کے شہروں میں سہولیات مہیا کر رہا تھا یہ بھی TCP/IP کے مقبول ہونے کے بعد رفتہ رفتہ 1990 تک دوسروں کے ساتھ مدغم ہو گیا۔ TCP/IP کی پہلے سے موجود ابلاغی شراکوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کی صلاحیت نے اس تمام کام کو بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔ اور یہی وہ وقت تھا جب ایک عالمی TCP/IP جالِکار کو بیان کرنے کے لیے انٹرنیٹ (اٹرنیٹ) کی اصطلاح مقبول ہوئی۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00096", "text": "جالِکار یا نیٹ ورک کو 1990ء کی دہائی میں اس وقت عوامی شناخت ملی جب یورپی تنظیم برائے مرکزی تحقیق (CERN) نے ٹـم بیرنر لی کے ورائےمتن زبان تدوین، HTTP اور پہلے صفحہ حبالہ کے منصوبوں کے دو سال بعد اگست 1991ء میں ورلـڈ وائـڈ ویـب کو عوامی سطح پر مشہور کیا۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00097", "text": "ابتدائی مقبول ہونے والا ویب براؤزر، ViolaWWW تھا جو ورق وراء (ہائپر کارڈ) پر بنیاد کرتا تھا۔ اس کے بعد موزیک نامی ویب براؤزر آیا جس کا پہلا نسخہ 1.0، قومی مرکز برائے فوق شمارندی نفاذ (National Center for Supercomputing Applications) نے جامعہ الینوئی (UIUC) میں 1993 میں جاری کیا اور 1994ء کے اوآخر تک یہ عوام کی بے پناہ دلچسپی حاصل کرچکا تھا۔ 1996ء تک لفظ انٹرنیٹ انتہائی مقبول ہو چکا تھا، مگر اس لفظ سے عموماً مراد ورلڈ وائڈ ویب ہوا کرتی تھی۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00098", "text": "اور ایک دہائی کے اندر انٹرنیٹ کامیابی کے ساتھ گذشتہ پائے جانے والے تمام شمارندی جالاتِکار (کمپیوٹرنیٹ ورکس) کو اپنے اندر سمو چکا تھا۔ چند ایک (مثلاً FidoNet) ہی ایسے تھے جو اپنا وجود الگ برقرار رکھے ہوئے تھے۔ انٹرنیٹ کی اس شاندار افزائش کی وجوہات، کسی مرکزی نگرانی کا نہ ہونا اور انٹرنیٹ پروٹوکولز کی غیر ملکیت (non-proprietary) بیان کی جاتی ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00099", "text": "آج کا انٹرنیٹ\nانٹرنیٹ کو بنانے والی تحتی ساخت (انفراسٹرکچر) کی پیچیدگیاں ایک طرف، بنیادی طور پر اِس کا انحصار دو یا کثیرفرقی کاروباری عہدناموں (مثلا کوئی ہم مرتب معاہدہ) اور تکنیکی و فنی اختصاصات یا دستوروں پر ہوتا ہے جو یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ایک جالِکار پر مواد (ڈیٹا) کا تبادلہ کیا جائے۔ یعنی فی الحقیقت، انٹرنیٹ کا دارومدار ان بین الروابط اور تبادلوں کی حکمت عملیوں پر ہی ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00100", "text": "امارہ عالم انٹرنیٹآرکائیو شدہ بذریعہ internetworldstats.com کے مطابق 30 جون 2006ء تک ایک ارب چار کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00101", "text": "انٹرنیٹ کے دستور (Protocols)\nانٹرنیٹ کے قواعد و ضوابط، جن کو دستور یا پروٹوکول کہا جاتا ہے کے تین درجات ہیں :", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00102", "text": "سب سے پہلا درجہ یا سطح IP کا ہے جو ان گراف مواد یا رزموں کا تعین کرتی ہے جو مواد کے قطعات (blocks) کو ایک عقدہ سے دوسرے عقدہ تک منتقل کرتے ہیں۔ آج کے شبکوں کی اکثریت IP دستور کا متن چہارم (IPv4) استعمال کرتی ہے۔ گو IPv6 کا بھی معیار مقرر ہو چکا ہے مگر ابھی تک اکثر انٹرنیٹ خدمت فراہم کنندہ اس کو شناخت نہیں کرتے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00103", "text": "اس کے بعد TCP اور UDP آتے ہیں جن کے ذریعہ ایک میزبان دوسرے کو مواد ارسال کرتا ہے۔ اول الذکر ایک طرح کا مجازی رابطہ بھی بنالیتا ہے جس کی وجہ اس پر انحصار نسبتاً یقینی ہوتا ہے جبکہ آخر الذکر ایک بلا رابط دستور ہے جس کی وجہ سے ترسیل کے دوران میں ضائع ہوجانے والے رزمے دوبارہ نہیں بھیجے جا سکتے۔\nاور سب سے بالائی درجہ پر نفاذی دستور آتے ہیں جو دراصل ان پیغامات اور مواد کی اقسام کا تعین کرتا ہے جو رابطہ کے دونوں سروں پر موجود کارگزار (applications) یعنی سوفٹ ویئر سمجھتے ہیں۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00104", "text": "پرانے ابلاغی نظامات کے برعکس انٹرنیٹ پروٹوکول سوٹ کو اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ یہ استعمال کیے جانے والے جسمانی واسطے سے بے نیاز ہے اور ہر وہ ابلاغی جالکار (سلکی یا لاسلکی) جو دو طرفہ رقمی معلومات لے جا سکتا ہو انٹرنیٹ کا ٹریفیک لے جا سکتا ہے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00105", "text": "۔ لہذا اسی وجہ سے انٹرنیٹ کے پیکیٹس ؛ وائرڈ نیٹ ورکوں ---- مثلاً تانبے کے تاروں، کوایکسیئل کیبیل، بصری ریشہ (Optical Fiber) وغیرہ اور وائرلیس نیٹ ورکوں ---- مثلاً وائی-فائی وغیرہ، دونوں پر باآسانی سفر کرتے ہیں کہ مشترکہ طور پر یہ تمام شراکے ایک ہی انٹرنیٹ کے ایک ہی دستور کی پیروی کرتے ہیں۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00106", "text": "جالبینی دستور کا منبع دراصل انٹرنیٹ انجینئرنگ ٹاسک فورس (IETF) اور اس کے ورکنگ گروپس کے درمیان میں ہونے والے تبادلہ خیالات پر ہے، جو شمولیت اور تجدید نظر کے واسطے عوام الناس کے لیے کھلی دستاویز ہے یعنی یہ انجمنیں ایسی دستاویزات بناتی ہیں جو جن کو، ڈاکیومنٹس فار کمینٹس (RFCs) دستاویزات کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جو مناسب ہوں ان کو IETF انٹرنیٹ اسٹینڈرڈ کا درجہ دے دیتی ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00107", "text": "دستور شبکی حزمہ میں چند انتہائی کثرت سے استعمال کیے جانے والے نفاذی دستورں میں، نظام اسم ساحہ، POP3، IMAP, SMTP, HTTPS, HTTPS اور فائل منتقلی پروٹوکول شامل ہیں۔ ان سب کی تفصیل کے لیے اور مزید دستوروں کے لیے ان کے مخصوص صفحات اور ان صفحات میں دی گئی فہرست دیکھیے۔ کچھ دستور ایسے بھی ہیں جو مندرجہ بالا IETF کے طریقہ کار سے نہیں بنے بلکہ ان کی ابتدا کسی نجی یا کاروباری ادارے کے تجرباتی نظام کی صورت میں ہوئی۔ جو بعد میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگے اور اپنی ایک مستقل حیثیت اختیار کر گئے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00108", "text": "۔ ان کی مثالیں IRC اور دیگر انسٹینٹ میسیجنگ و ھمتا بہ ھمتا اشتراک ملف (peer-to-peer file sharing) ہیں۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00109", "text": "جالِبین کی ساخت\nانٹرنیٹ اور اس کی ساخت کی تجزیہ کاری کئی انداز میں کی جاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ IP راؤٹنگ کی ترکیب اورورلڈ وائڈ ویب کے ہائپرٹیکسٹ لنکس دراصل اسکیل فری نیٹ ورکس ہیں۔ کاروباری شبکے، انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے ذریعہ مربوط ہوتے ہیں اور تحقیقی و علمی شراکوں میں بڑے ذیلی شراکوں کے ساتھ مربوط ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ مثلاً", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00110", "text": "GEANT\nGLORIAD\nInternet2\nJANET\nاگر ایک شبکی تخطیطی شکل کے طور پر ظاہر کیا جائے تو انٹرنیٹ کو ایک بادل سے تشبیہ دی جاتی ہے، بادل کو سروس پرووائڈر تصور کیا جاتا ہے اور اس میں مختلف نیٹ ورکس یا تو داخل ہو رہے ہوتے ہیں (یعنی مواد اس میں آ رہا ہوتا ہے) یا پھر اس سے خارج ہو رہے ہوتے ہیں (یعنی مواد اس سروس پرووائڈر سے ارسال کیا جا رہا ہوتا ہے)", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00111", "text": "شبکی جمیعت برائے متعین اسم و اعداد", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00112", "text": "شبکی جمیعت برائے متعین اسم و اعداد یا The Internet Corporation for Assigned Names and Numbers جس کا اوائل کلمات ICANN کیا جاتا ہے، دراصل ایک ادارہ ہے جو انٹرنیٹ یا انٹرنیٹ پر ڈومین نیم، انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس، پروٹوکول پورٹ اور پیرامیٹر نمبرز سمیت یو آر آئیوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ انٹرنیٹ کے درست طور پر کام کرنے کے لیے ایک یکساں اور عالمی فضائے نام (نیم اسپیس) کا ہونا لازمی ہے، یعنی ہر پتے یا ہر مواد کی جگہ کا نام ایسا ہو جو کسی دوسری جگہ نا پایاجاتا ہو", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00113", "text": "۔ ICANN کا مرکزالقیادہ (headquarter) تو کیلیفورنیا میں ہے مگر نگہداری ؛ انٹرنیٹ کے ماہرین، تجارتکار اور غیرتجارتکار حلقوں سے آنے والے مدیران (ڈائریکٹرز) کی ایک بین الاقوامی مجلس (بورڈ) کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ ڈمین نیم کی سب سے بالائی اور اہم ترین سطح کی ملف (فائل)، منطقہ جذر (root zone) میں تبدیلیوں کی تصویب میں امریکی حکومت اہم عمل دخل رکھتی ہے، یہ فائل، ڈومین نیم سسٹم کا قلب تصور کی جاتی ہے", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00114", "text": "۔ انٹرنیٹ یا انٹرنیٹ چوں کہ ایک منقسم جالکار ہے جو آپس میں جڑے ہوئے مختلف ارادی یا رضاکار شراکوں پر مشتمل ہے، لہذا مرکزی طور پر انٹرنیٹ پہ کسی حکمران یا نگراں ادارے کا تصور موجود نہیں۔ اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو صرف ICANN ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کو عالمی انٹرنیٹ پر ایک مرکزی عمل دخل رکھنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے، مگر اس کا اختیار شبکی نظام کے صرف ڈومین نیم، انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس، پروٹوکول پورٹ اور پیرامیٹر نمبرز تک ہی ہے۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00115", "text": "16 نومبر 2005 کو ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائیٹی نے تیونس میں انٹرنیٹ سے متعلق معاملات پر گفت وشنید کی خاطر ایک شبکی نگرانی دیوانخانہ (Internet Governance Forum) تشکیل دیا۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00116", "text": "ورلڈ وائڈ ویب (World Wide Web)\nاصل مقالہ: ورلڈ وائڈ ویب\nکلیدی تختے کے راستے، گوگل اور یاہو جیسے محرکۂ تلاش (سرچ انجن) استعمال کرتے ہوئے تلاش انٹرنیٹ نے لاتعداد افراد کو بہ یک لخت معلومات کے عظیم ذخیرے تک پہنچا دیا ہے جو وہ اپنے شمارندے کے سامنے پیٹھے آن لائن (آن لائن) حاصل کرسکتے ہیں۔", "title": "انٹرنیٹ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%B9%D8%B1%D9%86%DB%8C%D9%B9"}, {"id": "urd_rec_00117", "text": "ورلڈ وائڈ ویب، ایک عالمی (مشینی یا میکانیکی) جگہ یا فضاء ہے کہ جو قراء و تحریر (پڑھنے اور لکھنے) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے انگریزی متبادل کو world wide web کہا جاتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00118", "text": "جمع کو دستاویزات، تصاویر و عکس، کثیرالوسیط (multimedia) اور دیگر کئی اقسام کی معلومات کی نمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنکو مجموعی طور پر ذرائع (resources) کہا جاتا ہے۔ ذرائع کی ان تمام اقسام کو ویب پر مقرر کردہ مخصوص اور مختصر عالمی شناختگروں کے ذریعے شناخت کیا جاتا ہے، ان شناختگروں کو یو آر آئی یا Uniform Resource Identifiers (مخصراً URI) کہا جاتا ہے۔ ان URI کے ذریعے معلومات کی تلاش، ان تک رسائی اور ان کے متقاطع حوالہ جات (cross-referenced) میں آسانی ہوجاتی ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00119", "text": "اکثر ویب کو انٹرنیٹ کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے لیکن ویب دراصل انٹرنیٹ پر موجود معلومات کا ایک وسیلہ یا وسیط ہے جو انٹرنیٹ کی فضاء میں دستیاب ہے ایسے ہی جیسے برقی برید (ای میل یا برقی مراسلہ)۔ انٹرنیٹ اور ویب کے افتراق کے بارے میں مزید معلومات کے لیے انٹرنیٹ تاریک نامی صفحہ مخصوص ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00120", "text": "بنیادی اصطلاحات\nویب (ویب) کا تصور، چار بنیادی طرزافکار کے اشتراک کا نتیجہ ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00121", "text": "ہائپر ٹیکسٹ : یہ دراصل معلومات کی ایسی شکلبندی (formating) ہوتی ہے کہ جو کمپیوٹر کے ذریعے کسی بھی دستاویز (ڈاکیومنٹ) کے ایک حصے سے دوسرے حصے یا ایک دستاویز سے کسی دوسری دستاویز تک رسائی کو انٹرنیٹ کے بندھن استعمال کرتے ہوئے ممکن بنا دیتی ہے، ان بندھنوں کو ورائی ربط (hyperlinks) کہا جاتا ہے۔\nوسیلی شناختگر : ایسے مخصوص شناختگر (identifers) جو کسی خاص وسیلے (resource) مثلاً کمپیوٹرفائل یا دستاویز وغیرہ کا انٹرنیٹ پر محل وقوع متعین کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00122", "text": "کلائنٹ و سرور نمونہ : ایک ایسا نظام ہے جس میں عمیل سافٹ ویئر (client software) یا عمیل کمپیوٹر (client computer)، معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر فریاد طلب کی صدا بلند کرتا ہے جس کو سنتے ہوئے معیل سافٹ ویئر (server software) یا معیل کمپیوٹر (server computer)، اس کو طلب کی گئی معلومات (ڈیٹا اور فائل کی صورت میں) مہیا کردیتا ہے۔ client-server کو عام اور سادہ الفاظ میں وصول کنندہ-ارسال کنندہ بھی کہ سکتے ہیں۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00123", "text": "زبان تدوین : اصل متن کے ساتھ ساتھ مخفی نشانات اور حروف کے رمز (code) پر مشتمل ایک شمارندی زبان (کمپیوٹر لینگویج) ہے جو متن کی اس حالت کا تعین کرتی ہے جس میں وہ نمائش پر نظر آتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00124", "text": "ویب پر ایک عمیل برنامہ (کلائینٹ پروگرام) جس کو ویب ویب (ویب براؤزر) کہا جاتا ہے، معلوماتی وسیلوں مثلاً ویب صفحات اور کمپیوٹرفائلوں کو ویب سرور سے حاصل کرتا ہے۔ اور اس مقصد کی غرض سے ویب ویب ان وسیلوں (جن کو وہ وصول کرنا چاہتا ہو) کے یکساں وسیلی تعینگر (URL) کی مدد لیتا ہے اور ان معلومات کو حاصل کرنے کے بعد وہ ان کو کمپیوٹر کے مانیٹر پر پیش کردیتا ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00125", "text": "۔ جب ایک بار یہ معلومات کمپیوٹر کے مانیٹر پر آجائیں تو پھر ہائپر ٹیکسٹ کی مدد سے اسی سے متعلق دیگر وسیلوں یا معلومات تک بھی پہنچا جا سکتا ہے جو ویب ورلڈ وائڈ پر ہی موجود ہوں۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00126", "text": "اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ورائی ربط یا ہائپر لنک کے ذریعے کسی ورقہ (form) تک رسائی حاصل کر کے اس کو کمپیوٹر پر ہی بھر کر داخل بھی کر دیا جائے اور / یا کوئی معلومات واپس معیل کو برید (ارسال) کردی جائیں جو ان کو یا تو محفوظ رکھ لے یا پھر اس پر مزید تجزیاتی عمل کرلے۔ ایک ورائی ربط یعنی ہائپرلنک کے ذریعے انٹرنیٹ کے صفحات پر یوں سفر کرنے کے عمل کو ویب کا ویب (براؤزنگ) کرنا یا اس کی موجوں پہ سفر (سرفنگ) کرنا کہا جاتا ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00127", "text": "۔ ویب صفحات یا ویب پیجز کو عموماً اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ مطالقہ صفحات ایک مجمع کی صورت میں پائے جاتے ہیں جنکو ایک وقوع ویب (ویب گاہ) کہا جاتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00128", "text": "معروف کلمہ بندی یا عبارت، انٹرنیٹ کی موجوں پہ (surfing the internet) کی پہلی بار طباعتی مواد میں مشہوری جین آرمور نامی ایک امین کتبخانہ کی وجہ سے ہوئی، جس نے اسی نام سے مقالہ شائع کیا جو 1992 میں کتبخانہ ولسن سے جاری ہوا۔ یہ خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جین آرمور نے یہ کلمہ بندی بلا کسی پسمنظر کے بذات خود کی ہو لیکن اس سے ماضی قریب ہی میں ملتی جلتی اصطلاحات یوزنیٹ پر 1991 تا 1992 سامنے آچکی تھیں", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00129", "text": "۔ یہ تذکرے بھی زباں زد عام ہوئے ہیں کہ چند سال قبل ہی ساطور برادری اسی قسم کے ملتے جلتے الفاظ استعمال کر رہی تھی۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ جین تاریخ انٹرنیٹ میں ام الانٹرنیٹ (NetMom) کے نام سے مشہور ہے کہ اس نے اسی نام کا ایک وقوع ویب (ویب گاہ) کا اجرا بھی کیا۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00130", "text": "ویب (ویب) کیسے کام کرتا ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00131", "text": "جب کوئی ناظر ویب ورلڈ وائڈ پر موجود ایک صفحہ ویب (ویب پیج) یا کسی اور وسیلے (رسورس) تک رسائی چاہتا ہے تو عموماً وہ اس وقوع ویب (ویب گاہ) کا یکساں وسیلی تعینگر (URL) اپنے ویب ویب (ویب براؤزر) میں لکھ کر ابتدا کرتا ہے یا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ ایک وراۓ متن (ہائپر ٹیکسٹ) کے ربط سے اس صفحہ تک رسائی حاصل کرلے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00132", "text": "۔ اس تمام کارگذاری کے پس پشت بنیادی کام جو انجام دیا جا رہا ہوتا ہے وہ ہے، یوآرایل کے اسم معیل (server-name) والے حصے کا عالمی طور پر پھیلے انٹرنیٹ کے اساس مواد (ڈاٹا بیس) کی مدد سے ایک دستور شبکی پتا (IP address) میں تعین کرنا۔ انٹرنیٹ کی اس اساس مواد کو نظام اسم میدان (DNS) کہا جاتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00133", "text": "شبکی دستوری پتے کے تعین کے بعد دوسرا مرحلہ ویب معیل (ویب سرور) کو وراۓ متن انتقالی دستور کے لیے ایک درخواست بھیجنے کا آتا ہے، یہ درخواست مطلوب صفحہ کے لیے دی جاتی ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00134", "text": "۔ ایک مثالی ویب صفحے کی صورت میں درخواست کی جانے والی درکار معلومات میں ورئے متن زبان تدوین کی شکل بندی (فارمیٹنگ) میں صفحہ کا متن، نگاریت (گرافکس) اور دیگر وہ تمام معلومات شامل ہوتی ہیں جو اس صفحہ کو بنا رہی ہوں، اس درخواست کے بعد یہ تمام مواد سرعت کے ساتھ، عمیل (کلائینٹ) کے ویب ویب (ویب براؤزر) کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے اور یوں مطلوبہ صفحہ ذاتی کمپیوٹر پر آجاتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00135", "text": "اب اس کے بعد سے ویب ویب کا کردار اہم ہو جاتا ہے اب اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ HTML اور شَلاّلی ورق اسلوب (CSS) اور دیگر شکلبندیوں (فارمیٹس) مثلاً عکس، روابط (لنکس) وغیرہ کی صورت میں وصول ہونے والے ملفات (فائلوں) کی اس طرح جھزیابی (rendering) کرے کہ وہ روئے پردہ (آن اسکرین) ناظر کو صفحہ ویب کی صورت میں نظر آسکیں۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00136", "text": "مختلف معلوماتی وسیلوں کی اس ہ فراوانی کو ہی جن پر یکے بعد دیگرے ورائی روابط (ہائپر لنکس) کی مدد سے چھلانگیں لگائی جا سکتی ہیں، ویب (ویب) کہا جاتا ہے۔ اور انٹرنیٹ پر اس کو قابل دسترس بنادینے کے بعد ہی وہ انقلابی اور عالمی اصطلاح وجود میں آئی جس کو ٹم بیرنیر لی سے 1990 میں سب سے پہلے ---- ویب ورلڈ وائڈ (world wide web) کا نام دیا۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00137", "text": "ابطن گری", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00138", "text": "اگر ایک صارف کس ویب صفحہ (ویب پیج) پر دوبارہ واپس آتا ہے تو زیادہ امکان اسی بات کا ہوتا ہے کہ معیل (سرور) سے اوپر بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے مواد وصول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے۔ ایسا اس وجہ سے ممکن ہے کہ معینشد (ڈیفالٹ) طور پر ویب (براؤزر) میں تمام موصول شدہ وسائل کو اپنی محلی قرص (لوکل ڈسک) میں ابطن (cache) کرلینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00139", "text": "۔ صرف یہ ہوگا کہ ویب کی جانب سے ایک HTTP درخواست یہ پوچھنے کے لیے روانہ کی جائے گی کہ آیا اس صفحہ میں آخری بار زیراثقال (download) کرنے کے بعد سے اب تک کوئی تجدید (آپ ڈیٹنگ) ہوئی ہے کہ نہیں؟ اگر جواب نفی میں آئے تو پھر ابطن شدہ (cached) نسخہ ہی جھزیابی کے لیے دوبارہ استعمال کرلیاجائے گا۔ ابطنگری کا یہ طریقہ کار انٹرنیٹ کی راہوں پہ ویب کا ہجوم رفت و آمد کم سے کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00140", "text": "معلومات کی انقضاء (expiry) کا فیصلہ آزادانہ طور پر مختلف وسیلوں (عکس، ورق اسلوب، جاوا کتابت اور ومزت وغیرہ) کی شکلبندی (فارمیٹنگ) کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ اور انتہائی محرک اور کثیرپہلو (dynamic) وقوع ویب بھی اکثر بنیادی وسیلے، ایک نشست کے لیے ایک ہی بار مہیا یا ارسال کرتے ہیں", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00141", "text": "۔ لہذا یہ ایک ذہن نشین کرلینے والی بات ہے کہ کوئی بھی وقوعی طرح کار (site designer) تمام CSS اور جاوا کو وقوعے (سائٹ) کا احاطہ کرتی ہوئی (side wide) چند فائل (فائلیں) میں مجتمع کر دے تا کہ ان کو صارف کے ابطن میں ڈاؤنلوڈ کر کے رکھ لیا جائے اس طرح اس وقوعے (سائٹ) کو دیکھنے کے لیے زیراثقال (ڈاؤن لوڈ) وقت کم ہو جائے گا اور معیل پر بوجھ بھی۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00142", "text": "ویب (ویب) کے جزیات کو ابطن کرنے کے لیے ویب کے علاوہ بھی انٹرنیٹ کے کچھ حصے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اداروں وغیرہ کی سطح پر دیوارآتش (firewall) ہے جس میں کسی بھی ایک صارف کے استعمال کرنے کے بعد ویب کے مواد کو تمام صارفین کے لیے ابطن کرا جا سکتا ہے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00143", "text": "معیل ویب (ویب سرور) میں ایسی سہولیات ہوتی ہیں کہ جن سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کونسے صفحے کی کب تجدید (آپ ڈیٹنگ) کی گئی۔ اس کے علاوہ کسی کثیر الجہتی وقوع ویب کے طرح کار (ڈیزائنر) کے لیے بھی یہ ممکن ہے کہ وہ معیل کی جانب بھیجے جانے والے HTTP کے راس یا سروں کو اپنی مرضی کے مطابق قابو کرسکے اور اس طرح جب ابطن درکار نہ ہو (مثلا اخبار اور تجارتی اتار چڑھاؤ کے صفحات) تو مواد کو ابطن ہونے سے بچایا جا سکتا ہے تاکہ ہر بار صفحے پر آنے سے تازہ ترین مواد ہی کمپیوٹر پر نظر آئے۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00144", "text": "آغاز و بنیاد", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00145", "text": "ایک ویب (ویب) کے لیے دبی دبی خواہشوں اور خابوں کے اشارے 1980 کی دہائی سے ہی مل رہے تھے، جب ایک انگلستانی Tim Berners-Lee نے ایک ابتدائی شکل کا منصوبہ ENQUIRE کے نام سے بنایا جو بعد میں ویب (ویب) کی بنیاد بنا", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00146", "text": "۔ اس نے یہ نام 1856 میں شائع ہونے والی ایک کتاب بنام Enquire Within Upon Everything (اردو: جوچاہیں سو اس میں دیکھیں) سے متاثر ہوکر رکھا گو کہ ٹـم کا یہ ابتدائی نمونہ اس ویب سے بہت مختلف تھا جو آج استعمال میں ہے اس کے باوجود اس میں بنیادی طور پر وہ تصورات شامل تھے جو آج ویب (ویب) اور ویب کے بعد ٹـم کے ایک اور منصوبہ ویب معنائی (Semantic web) میں بھی نظر آتے ہیں۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00147", "text": "مارچ 1989 کو ٹـم نے انتظامیہ معلومات: کو ایک تجویزی چٹھی روانہ کی جس میں ENQUIRE کا حوالہ دیا اور اس کے زریعئے ایک جامع اور مفصل تنظیم معلومات کے نظام کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے بعد 12 نومبر 1990 کو اس نے Robert Cailliau کی معاونت سے ایک مرتبہ پھر ویب ورلڈ وائڈ کی رسمی تجویز کو شائع کیا۔ اور NeXTcube کو دنیا کے اولین معیل ویب (web server) کے طور پر اور دنیا کا پہلا ویب ویب (ویب براؤزر) تحریر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00148", "text": "1990 کے عید میلاد المسیح (Christmas) تک، ٹم نے وہ تمام ضروری آلات تیار کرلیے تھے کہ جو ایک ویب کو فعال کرنے کے لیے درکار ہوں، [1] : دنیا کا پہلا ویب ویب (جو ساتھ ہی محرر ویب بھی تھا)، پہلا معیل ویب اور پہلا صفحہ ویب جو منصوبہ کی تفصیل کے بارے میں تھا۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00149", "text": "6 اگست 1991 کو اس نے ایک خلاصہ ویب ورلڈ وائڈ کے بارے میں، alt.hypertext مجلس احداث کو ارسال کیا اور اسی تاریخ کو انٹرنیٹ (انٹرنیٹ) پر ویب (ویب) کی عوامی دستیابی کے آغاز کی علامتی تاریخ کا درجہ ملا۔ ویب کے پس پشت وراۓ متن کا کلیدی نظریہ، ماضی میں 1960 کی دہائی کے Project Xanadu اور oN-Line System کی بنیادوں پر قائم ہوا", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00150", "text": "۔ ان دونوں نظریات کے تخلیق کار بالترتیب، Ted Nelson اور ڈاوگ انجلبارٹ تھے اور ان دونوں نے وین ایور بش کے مائکروفلم کی بنیاد پر قائم memex سے راہنمائی حاصل کی، memex کے بارے میں بــش نے اپنا مـقـالـہ 1945 میں As We مئی Think (ترجمہ: جو ہم تصور کرسکیں) کے نام سے ایک ماہنامہ میں شائع کیا۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00151", "text": "ٹــم کی اس شاندار کامیابی کی سب سے اہم ترین وجہ، وراۓمتن اور انٹرنیٹ کا اشتراک یا ازدواج کو کہا جاتا ہے", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00152", "text": "۔ اپنی کتاب، Weaving The Web میں ٹــم کے مطابق، اس نے متعدد بار اس بات کے اشارے اور مشورے دیے کے ان دونوں طرزیات، (یعنی ورائے متن اور انٹرنیٹ) کا ازدواج ممکن ہے، مگر جب کسی کے کان پر جوں نہ رینگی تو اس نے خود ہی اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ویب یا انٹرنیٹ کی دیگر جگہوں پر موجود وسیلوں کے لیے ایک عالمی طور پر منفرد اور یگانہ شناختگروں (identifiers) کا نظام تخلیق کر دیا؛ یعنی یو آر آئی (Uniform Resource Identifier)۔", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00153", "text": "== حوالہ جات ==", "title": "ورلڈ وائڈ ویب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D8%B1%D9%84%DA%88_%D9%88%D8%A7%D8%A6%DA%88_%D9%88%DB%8C%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00154", "text": "برقیات یا الیکٹرانیات (Electronics) ہندسیات کی ایک شاخ ہے جس میں مختلف برقی جُزْیات (electric components) جیسے نیم موصل (semiconductor)، مزاحم (resistor)، امالہ گر (inductor)، برقی مکثفہ (capacitor)، قُزمہ-ساخات اور خلائی نلیوں (vacuum tube) میں برقی بار کے بہاؤ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ \nآج کل ہماری ارد گرد موجود تقریباً ہر مشین میں کوئی نہ کوئی برقی پرزہ ضرور موجود ہوتا ہے۔ مثلاً ریڈیو، ٹیلی وژن، موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ۔ اس وقت برقیاتی صنعت دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔", "title": "برقیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00155", "text": "مزید دیکھیے\nتعمیل تمثیلی اشارات\nشمارندی ہندسیات (computer engineering)\nبرقی ہندسیات (electrical engineering)\nتعمیل رقمی اشارات", "title": "برقیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00156", "text": "طبیعیات قدرتی سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں مادہ، ان کے بنیادی ذرات، زمان و مکاں میں ان کی حرکت اور رویوں اور توانائی اور قوت سے متعلق چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ طبیعیات کو پیمائش کی سائنس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ہر شے کے فاصلے، کمیت اور وقت کی بنیادی پیمائشوں کے مطالعے کا علم بھی ہے۔ طبیعیات سب سے اہم سائنسی مضامین میں سے ایک ہے، جہاں اس کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کائنات کام کیسے کرتی ہے۔ ایک سائنس دان جو طبیعیات کے شعبہ میں مہارت رکھتا ہو اسے طبیعیات دان کہتے ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00157", "text": "طبیعیات ایک قدیم تدریسی مضمون ہے اور اس میں فلکیات کو شامل کرنے سے شاید قدیم ترین۔ پچھلے دو ہزار سالوں سے طبیعیات، کیمیا، حیاتیات اور ریاضی کے کچھ شاخیں قدرتی فلسفے کا حصہ تھی، لیکن سترہویں صدی میں سائنسی انقلاب کے بعد قدرتی علوم اپنے حساب سے انوکھی تحقیقی کاوشوں کی صورت میں ابھرے۔ طبیعیات تحقیق کے بہت سارے بین الاختصاصاتی میدانوں سے ملتی ہے، جیسے کہ حیاتی طبیعیات اور مقداریہ کیمیا اور طبیعیات کے حدود کو سختی سے وضع نہیں کیا گیا", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00158", "text": "۔ طبیعیات میں نئے خیالات عموماً دیگر علوم سے مطالعہ شدہ طریقہ کار کو بیان کرتا ہے اور ان اور دیگر درسی علوم میں تحقیق کے نئے راستے تجویز کرتا ہے، جیسے کہ ریاضی اور فلسفہ۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00159", "text": "طبیعیات میں ترقی عموماً نئی ٹیکنالوجی کو ممکن بناتی ہے۔ مثلاً برقی مقناطیسیت، ٹھوس حالت اور جوہری طبعیات کی سمجھ میں بہتری براہ راست نئے مصنوعات کی تشکیل کا باعث بنی جس سے جدید دور کا معاشرہ تیزی سے بدلا ہے۔ جیسے کہ ٹی وی، کمپیوٹر، گھریلو آلات اور جوہری ہتھیار؛ حرحرکیات میں بہتری صنعت کاری کی ترقی کا باعث بنی؛ اور میکانیات میں بہتری پر احصا کی ترقی نے اثر ڈالا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00160", "text": "تاریخ\nقدیم فلکیات", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00161", "text": "فلکیات قدیم ترین قدرتی سائنسوں میں سے ایک ہے۔ 3000 قبل مسیح سے بھی پہلے کے ابتدائی تہذیبیں، جیسے کہ سمیریوں، قدیم مصریوں، وادیٔ سندھ کی تہذیب، کے پاس سورج، چاند اور ستاروں کی ایک پیشگویانہ علم اور ایک بنیادی آگاہی تھی۔ ستاروں اور سیاروں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دیوتاؤں کی نمائندگی کرتے ہیں، اکثر پوجی کی جاتی تھی", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00162", "text": "۔ اگرچہ ستاروں کے مشاہدہ شدہ مقامات کی وضاحتیں اکثر غیر سائنسی تھیں اور ان میں شواہد کی کمی تھی، لیکن ان ابتدائی مشاہدات نے بعد میں فلکیات کی بنیاد ڈالی، کیونکہ ستارے کو عظیم دائروں کے موازی آسمان سے گزرتے پائے گئے تھے، جو سیاروں کے مقامات کو واضع نہ کرسکے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00163", "text": "ایسگر آبوئی کے مطابق، مغریبی فلکیات کا آغاز بین النہرین، بالکل درست سائنسوں میں تمام مغریبی کاوشیں بین النہرین فلکیات کی تاریخ کے آخری دور سے نکلے تھے۔ مصری فلکیات دانوں نے ستاروں کے جھرمٹوں اور آسمانی اجسام کی حرکات کا علم ظاہر کرنے والی یادگاری عمارتیں چھوڑیں ہیں، جب کہ یونانی شاعر ہومر نے اپنی ایلیاڈ اور اوڈیسی میں مختلف آسمانی اشیاء کے بارے میں لکھا ہے۔ بعد میں یونانی فلکیات دانوں نے شمالی نصف کرہ سے نظر آنے والے بیشتر ستاروں کے جھرمٹوں کے لیے نام فراہم کیے، جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00164", "text": "قدرتی فلسفہ\nقدرتی فلسفے کی ابتدا یونان میں قدیم دور (650 قبل مسیح - 480 قبل مسیح) کے دوران میں ہوئی، جب تھیلز جیسے سقراط سے پہلے کے فلسفیوں نے قدرتی مظاہر کے لیے غیر قدرتی وضاحتوں کو مسترد کر دیا اور اعلان کیا کہ ہر واقعے کی ایک فطری وجہ ہوتی ہے۔ انھوں نے دلیل اور مشاہدے سے تصدیق شدہ نظریات تجویز کیے اور ان کے بہت سے مفروضے تجربے میں کامیاب ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر جوہریت کو لیوسیپس اور اس کے شاگرد دیموقراطیس کے تجاویز کردہ نظریہ تقریباً 2000 سال بعد درست پایا گیا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00165", "text": "قرون وسطی میں یورپی اور اسلامی سائنس\nپانچویں صدی میں مغربی رومن سلطنت کا زوال ہوا اور اس کے نتیجے میں یورپ کے مغربی حصے میں فکری تعاقب میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس، مشرقی رومن سلطنت (عام طور پر بازنطینی سلطنت کے نام سے جانا جاتا ہے) نے وحشیوں کے حملوں کی مزاحمت کی اور علم کے مختلف شعبوں کو آگے بڑھانا جاری رکھا، بشمول طبیعیات۔\nچھٹی صدی میں، میلٹس کے آئسڈور نے آرکیمیڈیز کے کاموں کی ایک اہم تالیف تخلیق کی جو آرکیمیڈیز پالمپسٹ میں نقل کی گئی ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00166", "text": "چھٹی صدی کے یورپ میں ایک بازنطینی عالم جان فلوپونس نے ارسطو کی طبیعیات کی تعلیم پر سوال اٹھایا اور اس کی خامیوں کو نوٹ کیا۔ اس نے اِمپیٹَس کا نظریہ پیش کیا۔ ارسطو کی طبیعیات کی جانچ اس وقت تک نہیں کی گئی جب تک کہ فلوپونس ظاہر نہ ہو جائے۔ ارسطو کے برعکس، جس نے اپنی طبیعیات کی بنیاد زبانی دلیل پر رکھی، فلوپونس نے مشاہدے پر انحصار کیا۔ ارسطو کی طبیعیات پرفیلوپونس نے لکھا:لیکن یہ مکمل طور پر غلط ہے اور ہمارا نظریہ کسی بھی قسم کی زبانی دلیل سے زیادہ مؤثر طریقے سے حقیقی مشاہدے سے ثابت ہو سکتا ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00167", "text": "۔ کیونکہ اگر آپ ایک ہی اونچائی سے دو وزن گرنے دیں جن میں سے ایک دوسرے سے کئی گنا زیادہ بھاری ہے، تو آپ دیکھیں گے کہ حرکت کے لیے درکار اوقات کا تناسب وزن کے تناسب پر منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ فرق ہے۔ وقت میں ایک بہت چھوٹا ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00168", "text": "۔ وقت میں ایک بہت چھوٹا ہے۔ اور اس طرح، اگر وزن میں فرق قابل غور نہیں ہے، یعنی ایک کا، ہم کہہ لیں، دوسرے سے دگنا، کوئی فرق نہیں ہوگا، ورنہ وقت میں ایک ناقابل تصور فرق، اگرچہ وزن میں فرق کوئی معنی نہ ہونے کے برابر ہے، جس میں ایک جسم کا وزن دوسرے سے دگنا ہے۔طبیعیات کے ارسطو کے اصولوں پر فلوپونس کی تنقید نے دس صدیوں بعد، سائنسی انقلاب کے دوران گیلیلیو گیلیلی کے لیے ایک تحریک کا کام کیا۔ گیلیلیو نے اپنے کاموں میں کافی حد تک فلوپونس کا حوالہ دیا جب یہ دلیل دی کہ ارسطو کی طبیعیات ناقص تھی", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00169", "text": "۔ 1300ء کی دہائی میں پیرس یونیورسٹی میں فنون کی فیکلٹی کے استاد جین بریڈن نے محرک کا تصور تیار کیا۔ یہ جڑت اور رفتار کے جدید نظریات کی طرف ایک قدم تھا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00170", "text": "اسلامی اسکالرشپ کو یونانیوں سے ارسطو کی طبیعیات وراثت میں ملی اور اسلامی سنہری دور کے دوران اسے مزید ترقی ملی، خاص طور پر مشاہدے اور ترجیحی استدلال پر زور دیتے ہوئے، سائنسی طریقہ کار کی ابتدائی شکلیں تیار کیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00171", "text": "اگرچہ ارسطو کے طبیعیات کے اصولوں پر تنقید کی گئی تھی، لیکن یہ ضروری ہے کہ ان شواہد کی نشان دہی کی جائے جن پر اس نے اپنے خیالات کی بنیاد رکھی۔ جب سائنس اور ریاضی کی تاریخ کے بارے میں سوچتے ہیں، تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرانے سائنسدانوں کے تعاون کو تسلیم کیا جائے۔ ارسطو کی سائنس آج اسکولوں میں پڑھائی جانے والی سائنس کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ ارسطو نے بہت سے حیاتیاتی کام شائع کیے جن میں ’جانوروں کے حصے (The Parts of Animals)‘ شامل ہیں، جس میں وہ حیاتیاتی سائنس اور قدرتی سائنس دونوں پر بھی بحث کرتا ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00172", "text": "۔ طبیعیات اور مابعدالطبیعات کی ترقی میں ارسطو کے کردار کا ذکر کرنا بھی لازمی ہے اور اس کے عقائد اور نتائج آج بھی سائنس کی کلاسوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ارسطو اپنے نتائج کے لیے جو وضاحتیں دیتا ہے وہ بھی سادہ ہے۔ عناصر کے بارے میں سوچتے وقت، ارسطو کا خیال تھا کہ ہر عنصر (زمین، آگ، پانی، ہوا) کا اپنا ایک قدرتی مقام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان عناصر کی کثافت کی وجہ سے یہ فضا میں اپنی مخصوص جگہ پر لوٹ جائیں گے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00173", "text": "۔ لہٰذا، ان کے وزن کی وجہ سے، آگ سب سے اوپر ہوگی، آگ کے نیچے ہوا، پھر پانی، پھر سب سے آخر میں زمین۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب ایک عنصر کی تھوڑی مقدار دوسرے کی قدرتی جگہ میں داخل ہوتی ہے تو کم وافر عنصر خود بخود اپنی قدرتی جگہ میں چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر زمین پر آگ لگتی ہے، تو شعلے اپنی قدرتی جگہ پر واپس جانے کی کوشش کے طور پر ہوا میں اوپر جاتے ہیں جہاں سے اس کا تعلق ہے۔ ارسطو نے اپنی مابعدالطبیعات کو \"پہلا فلسفہ\" کہا اور اسے \"وجود کے طور پر\" کے مطالعہ کے طور پر بیان کیا", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00174", "text": "۔ ارسطو نے حرکت کی تمثیل کو ایک وجود یا ہستی کے طور پر بیان کیا جو ایک ہی جسم میں مختلف علاقوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مقام (A) پر ہے تو وہ کسی نئے مقام (B) پر جا سکتا ہے اور پھر بھی اتنی ہی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ ارسطو کے عقیدے کے ساتھ شامل ہے کہ حرکت ایک تسلسل ہے۔ مادے کے لحاظ سے، ارسطو کا خیال تھا کہ کسی چیز کے زمرے (مثلاً جگہ) اور معیار (مثلاً رنگ) میں تبدیلی کو \"تبدیل\" کہا جاتا ہے۔ لیکن، مادہ میں تبدیلی مادے میں تبدیلی ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00175", "text": "۔ لیکن، مادہ میں تبدیلی مادے میں تبدیلی ہے۔ یہ بھی آج کے مادے کے خیال سے ملتا جلتا ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00176", "text": "اس نے حرکت کے اپنے قوانین بھی وضع کیے جن میں یہ شامل ہے کہ 1) بھاری اشیاء تیزی سے گریں گی، رفتار وزن کے متناسب ہے اور 2) گرنے والی چیز کی رفتار کا انحصار اس کثافت والی چیز پر ہے جس سے وہ گر رہی ہے (جیسے کثافت) ہوا) اس نے یہ بھی کہا کہ جب یہ پرتشدد حرکت (کسی چیز کی حرکت جب کسی دوسری چیز کے ذریعہ اس پر طاقت کا اطلاق ہوتا ہے) کی بات آتی ہے کہ جس رفتار سے چیز حرکت کرتی ہے وہ اتنی ہی تیز یا مضبوط ہوگی جتنی اس پر لاگو طاقت کی پیمائش", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00177", "text": "۔ یہ رفتار اور قوت کے اصولوں میں بھی دیکھا جاتا ہے جو آج فزکس کی کلاسوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ اصول وہی ہوں جو آج فزکس میں بیان کیے گئے ہیں لیکن، یہ زیادہ تر ملتے جلتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ یہ اصول دوسرے سائنس دانوں کے لیے اس کے عقائد پر نظر ثانی اور ترمیم کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00178", "text": "اسلامی اسکالرشپ کے تحت سب سے قابل ذکر ایجادات آپٹکس اور ویژن کے میدان میں تھیں، جو ابن سہل، الکندی، ابن الہیثم، الفاریسی اور ایویسینا جیسے کئی سائنسدانوں کے کاموں سے حاصل ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل ذکر تصنیف تھی بُک آف آپٹکس (جسے کتاب المنیر بھی کہا جاتا ہے) ابن الہیثم کی تحریر ہے، جس میں اس نے بصارت کے بارے میں قدیم یونانی نظریے کا متبادل پیش کیا", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00179", "text": "۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی کتاب المنیر میں، اس نے کیمرا اوبسکورا (پن ہول کیمرا کا اس کا ہزار سال پرانا ورژن) کے رجحان کا مطالعہ پیش کیا اور آنکھ کے کام کرنے کے طریقے کو مزید دریافت کیا۔ اس نے پچھلے علما کے علم کو استعمال کرتے ہوئے یہ بتانا شروع کیا کہ روشنی آنکھ میں کیسے داخل ہوتی ہے۔ اس نے زور دے کر کہا کہ روشنی کی کرن مرکوز ہے، لیکن اس کی اصل وضاحت کے لیے کہ کس طرح روشنی آنکھ کے پچھلے حصے تک پہنچتی ہے اس کے لیے 1604ء تک انتظار کرنا پڑا", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00180", "text": "۔ روشنی کے بارے میں ان کی کتاب نے فوٹو گرافی کی جدید ترقی سے سیکڑوں سال پہلے کیمرا اوبسکورا کی وضاحت کی۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00181", "text": "آپٹکس کی سات جلدوں پر مشتمل کتاب (کتاب المناثیر) نے 600ء سال سے زیادہ عرصے تک بصری ادراک کے نظریہ سے لے کر قرون وسطی کے آرٹ میں نقطہ نظر کی نوعیت تک، مشرق اور مغرب دونوں میں سوچ کو متاثر کیا۔ اس میں بعد کے یورپی اسکالرز اور ساتھی پولی میتھ شامل تھے، رابرٹ گروسیٹسٹ اور لیونارڈو ڈاونچی سے لے کر جوہانس کیپلر تک۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00182", "text": "’کتابِ بصارت (The Book of Optics)‘ کے ترجمے کا یورپ پر اثر پڑا۔ اس سے، بعد میں یورپی اسکالرز ایسے آلات بنانے میں کامیاب ہو گئے جو ابن الہیثم کے بنائے گئے آلات کو نقل کرتے ہیں اور بصارت کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھتے ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00183", "text": "کلاسیکی\nطبیعیات ایک الگ سائنس بن گئی جب ابتدائی جدید یورپیوں نے یہ دریافت کرنے کے لیے تجرباتی اور مقداری طریقے استعمال کیے جنھیں اب طبیعیات کے قوانین تصور کیا جاتا ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00184", "text": "اس دور میں ہونے والی اہم پیش رفت میں نظام شمسی کے جیو سینٹرک ماڈل کو ہیلیو سینٹرک کوپرنیکن ماڈل سے تبدیل کرنا، سیاروں کے اجسام کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے قوانین (کیپلر کے ذریعہ 1609 اور 1619ء کے درمیان طے کیے گئے)، دوربینوں پر گلیلیو کا اہم کام اور مشاہداتی فلکیات میں شامل ہیں۔ 16 ویں اور 17 ویں صدیوں اور آئزک نیوٹن کی تحریک اور عالمگیر کشش ثقل کے قوانین کی دریافت اور ان کا انضمام (جو اس کا نام لے کر آئے گا)", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00185", "text": "۔ نیوٹن نے کیلکولس بھی تیار کیا، جو مسلسل تبدیلی کا ریاضیاتی مطالعہ ہے، جس نے جسمانی مسائل کو حل کرنے کے لیے نئے ریاضیاتی طریقے فراہم کیے ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00186", "text": "تھرموڈینامکس، کیمسٹری اور برقی مقناطیسی میں قوانین کی دریافت صنعتی انقلاب کے دوران تحقیقی کوششوں کے نتیجے میں ہوئی کیونکہ توانائی کی ضروریات میں اضافہ ہوا۔ کلاسیکی طبیعیات پر مشتمل قوانین غیر رشتہ دارانہ رفتار سے سفر کرنے والے روزمرہ کے پیمانوں پر اشیاء کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے حالات میں قریب سے اندازہ لگاتے ہیں اور کوانٹم میکانکس اور نظریہ اضافیت جیسے نظریے اس پیمانے پر اپنے کلاسیکی مساوی کو آسان بناتے ہیں", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00187", "text": "۔ کلاسیکی میکانکس میں بہت چھوٹی چیزوں اور بہت زیادہ رفتار کے لیے غلطیاں 20ویں صدی میں جدید طبیعیات کی ترقی کا باعث بنیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00188", "text": "جدید", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00189", "text": "جدید طبیعیات کا آغاز 20ویں صدی کے اوائل میں میکس پلانک کے کوانٹم تھیوری اور البرٹ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت سے ہوا۔ یہ دونوں نظریات بعض حالات میں کلاسیکی میکانکس میں غلطیاں ہونے کی وجہ سے وجود میں آئے۔ کلاسیکی میکانکس نے پیشین گوئی کی کہ روشنی کی رفتار کا انحصار مبصر کی حرکت پر ہے، جسے میکسویل کی برقی مقناطیسیت کی مساوات سے پیش گوئی کی گئی مستقل رفتار سے حل نہیں کیا جا سکتا", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00190", "text": "۔ اس تضاد کو آئن سٹائن کے نظریہ خاص اضافیت سے درست کیا گیا، جس نے تیز حرکت کرنے والے اجسام کے لیے کلاسیکی میکانکس کی جگہ لے لی اور روشنی کی مستقل رفتار کی اجازت دی۔ بلیک باڈی ریڈی ایشن نے کلاسیکی طبیعیات کے لیے ایک اور مسئلہ فراہم کیا، جسے اس وقت درست کیا گیا جب پلانک نے تجویز پیش کی کہ مادّی دوغلوں کا جوش صرف ان کی تعدد کے متناسب مجرد مراحل میں ہی ممکن ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00191", "text": "۔ یہ، فوٹو الیکٹرک اثر اور الیکٹران مداروں کی مجرد توانائی کی سطحوں کی پیش گوئی کرنے والے ایک مکمل نظریہ کے ساتھ، بہت چھوٹے پیمانے پر کلاسیکی طبیعیات پر کوانٹم میکانکس کے نظریہ کو بہتر بنانے کا باعث بنا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00192", "text": "کوانٹم میکانکس کا آغاز ورنر ہائزنبرگ، ایرون شروڈنگر اور پال ڈیرک نے کیا تھا۔ اس ابتدائی کام اور متعلقہ شعبوں میں کام سے، پارٹیکل فزکس کا معیاری ماڈل اخذ کیا گیا تھا۔ 2012 ءمیں CERN میں ہگز بوسون سے مطابقت رکھنے والے خواص کے ساتھ ایک ذرہ کی دریافت کے بعد، معیاری ماڈل کے ذریعہ پیش گوئی کی گئی تمام بنیادی ذرات اور کوئی بھی، موجود دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم، معیاری ماڈل سے آگے کی طبیعیات، تھیوریوں جیسے سپر سمیٹری کے ساتھ، تحقیق کا ایک فعال شعبہ ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00193", "text": "۔ عام طور پر ریاضی کے شعبے اس شعبے کے لیے اہم ہیں، جیسے امکانات اور گروہوں کا مطالعہ۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00194", "text": "فلسفہ\nبہت سے طریقوں سے، طبیعیات قدیم یونانی فلسفہ سے نکلتی ہے۔ تھیلس کی مادے کی خصوصیت کی پہلی کوشش سے لے کر ڈیموکریٹس کی کٹوتی تک کہ مادے کو کرسٹل لائن کے بطلیما کے فلکیات میں تبدیل ہونا چاہیے اور ارسطو کی کتاب فزکس (طبیعیات پر ایک ابتدائی کتاب، جس میں حرکت کا تجزیہ کرنے اور اس کی تعریف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایک فلسفیانہ نقطہ نظر)، مختلف یونانی فلسفیوں نے فطرت کے اپنے اپنے نظریات کو آگے بڑھایا۔ 18ویں صدی کے آخر تک طبیعیات کو فطری فلسفہ کہا جاتا تھا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00195", "text": "19ویں صدی تک، طبیعیات کو فلسفہ اور دیگر علوم سے الگ ایک نظم و ضبط کے طور پر سمجھا گیا۔ طبیعیات، باقی سائنس کی طرح، طبیعی دنیا کے علم کو آگے بڑھانے کے لیے سائنس کے فلسفے اور اس کے \"سائنسی طریقہ کار\" پر انحصار کرتی ہے۔ سائنسی طریقہ کار ایک ترجیحی استدلال کے ساتھ ساتھ ایک پوسٹریری استدلال اور دیے گئے نظریہ کی درستی کی پیمائش کرنے کے لیے’حوالہِ بیشیئن( Bayesian inference)‘ کا استعمال کرتا ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00196", "text": "طبیعیات کی ترقی نے ابتدائی فلسفیوں کے بہت سے سوالات کا جواب دیا ہے اور نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ طبیعیات کے ارد گرد کے فلسفیانہ مسائل کا مطالعہ، طبیعیات کا فلسفہ، اسپیس اور ٹائم کی نوعیت، تعیینیت اور مابعد الطبیعیاتی نقطہ نظر جیسے تجرباتیت، فطرت پسندی اور حقیقت پسندی جیسے مسائل کو شامل کرتا ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00197", "text": "بہت سے طبیعیات دانوں نے اپنے کام کے فلسفیانہ مضمرات کے بارے میں لکھا ہے، مثال کے طور پر لاپلیس، جس نے کازل ڈیٹرمنزم کو چیمپیئن کیا اور ایرون شروڈنگر، جنھوں نے کوانٹم میکانکس پر لکھا۔ ریاضی کے ماہر طبیعیات راجر پینروز کو اسٹیفن ہاکنگ نے افلاطونسٹ کہا ہے، اس نظریے پر پینروز نے اپنی کتاب دی روڈ ٹو ریئلٹی میں بحث کی ہے۔ ہاکنگ نے اپنے آپ کو ایک \"بے شرم ریڈکشنیسٹ\" کے طور پر حوالہ دیا اور پینروز کے خیالات سے مسئلہ اٹھایا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00198", "text": "بنیادی نظریات", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00199", "text": "طبیعیات مختلف قسم کے نظاموں سے نمٹتی ہے، حالانکہ بعض نظریات تمام طبیعیات دان استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک تھیوری کو تجرباتی طور پر متعدد بار آزمایا گیا اور اسے فطرت کا مناسب انداز میں پایا گیا۔ مثال کے طور پر، کلاسیکی میکانکس کا نظریہ اشیاء کی حرکت کو درست طریقے سے بیان کرتا ہے، بشرطیکہ وہ ایٹموں سے کہیں زیادہ بڑی ہوں اور روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار سے چل رہی ہوں۔ یہ نظریات آج بھی فعال تحقیق کے شعبے ہیں", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00200", "text": "۔ یہ نظریات آج بھی فعال تحقیق کے شعبے ہیں۔ افراتفری کا نظریہ، کلاسیکی میکانکس کا ایک پہلو، نیوٹن (1642–1727ء) کی طرف سے کلاسیکی میکانکس کی اصل تشکیل کے تین صدیوں بعد، 20ویں صدی میں دریافت ہوا۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00201", "text": "یہ مرکزی نظریات زیادہ خصوصی موضوعات پر تحقیق کے لیے اہم اوزار ہیں اور کسی بھی ماہر طبیعیات سے، خواہ اس کی تخصص کچھ بھی ہو، ان میں خواندہ ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ ان میں کلاسیکی میکانکس، کوانٹم میکانکس، تھرموڈینامکس اور شماریاتی میکانکس، برقی مقناطیسیت اور خصوصی اضافیت شامل ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00202", "text": "کلاسیکی", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00203", "text": "کلاسیکی طبیعیات میں وہ روایتی شاخیں اور موضوعات شامل ہیں جو 20ویں صدی کے آغاز سے پہلے تسلیم شدہ اور اچھی طرح سے تیار کیے گئے تھے۔ جیسے کہ کلاسیکی میکانکس، صوتیات، آپٹکس، تھرموڈینامکس اور برقی مقناطیسیت", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00204", "text": "۔ کلاسیکی میکانکس کا تعلق ان اجسام سے ہے جن پر قوتیں اور جسم حرکت میں رہتے ہیں اور اسے سکونیات (کسی جسم پر موجود قوتوں کا مطالعہ یا کسی سرعت سے مشروط نہ ہو)، حرکیات (اس کی وجوہات کی پروا کیے بغیر حرکت کا مطالعہ) اور حرکیات (حرکت کا مطالعہ اور اس پر اثر انداز ہونے والی قوتیں)میں تقسیم کیا جا سکتا ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00205", "text": "۔ میکانکس کو ٹھوس میکانکس اور فلوئڈ میکانکس میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے (جنھیں ایک ساتھ کنٹینیوم میکانکس کہا جاتا ہے)، بعد میں ایسی شاخیں شامل ہیں جیسے ہائیڈرو سٹیٹکس، ہائیڈروڈائنامکس، ایروڈائینامکس اور نیومیٹکس۔ صوتیات اس بات کا مطالعہ ہے کہ آواز کس طرح پیدا، کنٹرول، منتقل اور وصول کی جاتی ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00206", "text": "۔ صوتیات کی اہم جدید شاخوں میں الٹراسونکس شامل ہیں، انسانی سماعت کی حد سے باہر بہت زیادہ تعدد والی آواز کی لہروں کا مطالعہ؛ بایوکاسٹکس، جانوروں کی کال اور سماعت کی طبیعیات اور الیکٹراکاؤسٹکس، الیکٹرانکس کا استعمال کرتے ہوئے قابل سماعت صوتی لہروں کی ہیرا پھیری۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00207", "text": "آپٹکس، روشنی کا مطالعہ، نہ صرف مرئی روشنی سے متعلق ہے بلکہ اورکت اور الٹرا وایلیٹ تابکاری سے بھی تعلق رکھتی ہے، جو مرئی روشنی کے تمام مظاہر کو ظاہر کرتی ہے سوائے مرئیت کے، مثلاً، انعکاس، اضطراب، مداخلت، تفاوت، بازی اور روشنی کی پولرائزیشن۔ . حرارت توانائی کی ایک شکل ہے، اندرونی توانائی جو ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جس سے کوئی مادہ بنتا ہے۔ تھرموڈینامکس گرمی اور توانائی کی دوسری شکلوں کے درمیان تعلقات سے متعلق ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00208", "text": "۔ 19ویں صدی کے اوائل میں ان کے درمیان گہرا تعلق دریافت ہونے کے بعد سے بجلی اور مقناطیسیت کا طبیعیات کی واحد شاخ کے طور پر مطالعہ کیا جاتا رہا ہے۔ ایک برقی رو ایک مقناطیسی میدان کو جنم دیتا ہے اور ایک بدلتا ہوا مقناطیسی میدان برقی کرنٹ کو جنم دیتا ہے۔ الیکٹرو سٹیٹکس آرام کے وقت برقی چارجز، حرکت پزیر چارجز کے ساتھ الیکٹروڈائینامکس اور مقناطیسی قطبوں کے ساتھ میگنیٹو سٹیٹکس آرام سے متعلق ہے۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00209", "text": "جدید", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00210", "text": "کلاسیکی طبیعیات کا تعلق عام طور پر مشاہدے کے عام پیمانے پر مادے اور توانائی سے ہے، جب کہ جدید طبیعیات کا زیادہ تر حصہ مادے اور توانائی کے انتہائی حالات میں یا بہت بڑے یا بہت چھوٹے پیمانے پر رویے سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر، جوہری اور جوہری طبیعیات کا مطالعہ سب سے چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے جس پر کیمیائی عناصر کی شناخت کی جا سکتی ہے۔ ابتدائی ذرات کی طبیعیات اس سے بھی چھوٹے پیمانے پر ہے کیونکہ اس کا تعلق مادے کی سب سے بنیادی اکائیوں سے ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00211", "text": "۔ فزکس کی اس شاخ کو ہائی انرجی فزکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ پارٹیکل ایکسلریٹر میں کئی قسم کے ذرات پیدا کرنے کے لیے انتہائی زیادہ توانائیاں ضروری ہیں۔ اس پیمانے پر، جگہ، وقت، مادہ اور توانائی کے عام، عام سینسیکل تصورات اب درست نہیں ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00212", "text": "جدید طبیعیات کے دو اہم نظریات کلاسیکی طبیعیات کے ذریعہ پیش کردہ جگہ، وقت اور مادے کے تصورات کی ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ کلاسیکی میکانکس فطرت کا تخمینہ لگاتار لگاتی ہے، جب کہ کوانٹم تھیوری کا تعلق جوہری اور ذیلی ایٹمی سطح پر بہت سے مظاہر کی مجرد نوعیت اور اس طرح کے مظاہر کی تفصیل میں ذرات اور لہروں کے تکمیلی پہلوؤں سے ہے۔ نظریہ اضافیت کا تعلق مظاہر کی وضاحت سے ہے جو ایک مبصر کے حوالے سے حرکت میں آنے والے حوالہ جات میں ہوتا ہے", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00213", "text": "۔ خاص نظریہ اضافیت کا تعلق کشش ثقل کے شعبوں کی عدم موجودگی میں حرکت سے ہے اور حرکت کے ساتھ اضافیت کا عمومی نظریہ اور اس کا کشش ثقل سے تعلق ہے۔ کوانٹم تھیوری اور تھیوری آف ریلیٹیویٹی دونوں جدید طبیعیات کے بہت سے شعبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00214", "text": "جدید طبیعیات میں بنیادی تصورات\nموجبیت (Causality)\nکوویریئنس (Covariance)\nایکشن(Action)\nفیلڈ(Field)\nسیمیٹری(Symmetry)\nشماریاتی اینسیمبل(Statistical Ensemble)\nکوانٹم(Quantum)\nلہر\nزرّہ", "title": "طبیعیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00215", "text": "سافٹ ویئر یا سافٹ ویئر کمپیوٹر کے ایسے پروگراموں اور ہدایات کا مجموعہ ہے جو ہارڈ ویئر کو مختلف اعمال انجام دینے کے لیے کنٹرول کرتے ہیں۔ سافٹ ویئر، کمپیوٹر کو مخصوص کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ ایپلیکیشن سافٹ ویئر اور آپریٹنگ سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔\n\nاقسام\nسافٹ ویئر کو بنیادی طور پر درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00216", "text": "آپریٹنگ سسٹم: یہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے مابین رابطہ فراہم کرتا ہے اور کمپیوٹر کی بنیادی خدمات کو منظم کرتا ہے۔\nایپلیکیشن سافٹ ویئر: یہ صارفین کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جیسے ورڈ پروسیسر، ویب براؤزر اور ملٹی میڈیا پلیئر۔", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00217", "text": "تاریخ\nلفظ سافٹ ویئر کا پہلا استعمال ریاضی دان جان وائلڈر ٹکی نے 1958ء میں کیا۔", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00218", "text": "پہلے پروگرام کیے جانے والے کمپیوٹرز 1940ء کی دہائی کے آخر میں منظر عام پر آئے۔ یہ کمپیوٹر مشینی زبان میں پروگرام کیے جاتے تھے۔ مشینی زبان کی خرابیوں کو درست کرنا مشکل تھا اور یہ مختلف کمپیوٹرز کے لیے قابلِ نقل نہیں تھی۔ ابتدا میں ہارڈویئر کے وسائل انسانی وسائل سے زیادہ مہنگے تھے۔ جیسے جیسے پروگرام پیچیدہ ہوئے، پروگرامر کی پیداواری صلاحیت ایک رکاوٹ بن گئی۔ 1958ء میں اعلیٰ سطح کی پروگرامنگ زبانوں کا تعارف ہارڈویئر کی تفصیلات کو چھپاتے ہوئے بنیادی الگورتھم کو کوڈ میں ظاہر کرتا تھا", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00219", "text": "۔ ابتدائی زبانوں میں فورٹران (Fortran)، لسپ (Lisp) اور کوبول شامل تھیں۔", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00220", "text": "جدید رجحانات\nکلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے سافٹ ویئر کی فراہمی کے نئے ماڈل، جیسے ”سافٹ ویئر ایز اَ سروس“ (SaaS)، متعارف ہوئے ہیں، جن میں ایپلیکیشنز انٹرنیٹ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔\n\nسافٹ ویئر کی تیاری\nسافٹ ویئر کی تیاری ایک منظم عمل ہے جس میں ڈیزائن، پروگرامنگ، ٹیسٹنگ اور نگہداشت شامل ہیں۔ جدید دور میں اوپن سورس اور ”کمرشل آف دی شیلف“ (COTS) سافٹ ویئر کا استعمال عام ہے۔", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00221", "text": "قانونی مسائل\nسافٹ ویئر پر کاپی رائٹ اور لائسنسنگ کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ زیادہ تر سافٹ ویئر صارفین کو محدود استعمال کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اوپن سورس سافٹ ویئر کو مفت اور آزادانہ طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔\n\nمزید دیکھیے\nہارڈویئر\nمالویئر\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "سافٹ ویئر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%B9_%D9%88%DB%8C%D8%A6%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00222", "text": "کمپیوٹر (اردو: کمپیوٹر) ایک مشین ہے جسے اس طرح پروگرام کیا جا سکتا ہے کہ وہ خودکار طور پر حسابی یا منطقی آپریشنز (حساب کتاب) کے سلسلے انجام دے سکے۔ جدید ڈیجیٹل الیکٹرانک کمپیوٹر عمومی نوعیت کے آپریشنز کر سکتے ہیں جنھیں پروگرامز کہا جاتا ہے۔ یہ پروگرام کمپیوٹرز کو مختلف قسم کے کام انجام دینے کے قابل بناتے ہیں", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00223", "text": "۔ کمپیوٹر سسٹم کی اصطلاح ایک مکمل کمپیوٹر کی طرف اشارہ کر سکتی ہے جس میں ہارڈ ویئر، آپریٹنگ سسٹم، سافٹ ویئر اور بیرونی آلات شامل ہوتے ہیں جو مکمل آپریشن کے لیے ضروری ہوتے ہیں؛ یا ایسے کمپیوٹرز کے گروپ کو بیان کر سکتی ہے جو آپس میں منسلک ہوں اور ایک ساتھ کام کرتے ہوں، جیسے کہ کمپیوٹر نیٹ ورک یا کمپیوٹر کلسٹر۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00224", "text": "کمپیوٹرز کنٹرول سسٹمز کے طور پر وسیع پیمانے پر صنعتی اور صارف مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں، جن میں خاص مقصد کے سادہ آلات جیسے مائیکروویو اوون اور ریموٹ کنٹرول اور صنعتی مشینیں جیسے کہ صنعتی روبوٹ شامل ہیں۔ کمپیوٹرز عمومی مقصد کے آلات کے مرکز میں ہیں جیسے کہ ذاتی کمپیوٹرز اور موبائل آلات جیسے اسمارٹ فونز۔ کمپیوٹرز انٹرنیٹ کو تقویت دیتے ہیں، جو اربوں کمپیوٹرز اور صارفین کو آپس میں جوڑتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00225", "text": "ابتدائی کمپیوٹرز کا مقصد صرف حساب کتاب کرنا تھا۔ سادہ دستی آلات جیسے اباکس قدیم زمانے سے لوگوں کو حساب کتاب میں مدد دیتے رہے ہیں۔ صنعتی انقلاب کے آغاز میں، کچھ میکانی آلات طویل اور مشکل کاموں کو خودکار کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، جیسے کہ لومز کے لیے پیٹرن گائیڈ کرنے کے لیے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں زیادہ جدید برقی مشینیں مخصوص اینالاگ حسابات کرنے کے لیے بنائی گئیں", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00226", "text": "۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران پہلے ڈیجیٹل الیکٹرانک حسابی آلات تیار کیے گئے، جو الیکٹرو مکینیکل اور تھرمونک والو (ٹرمک پلگ) استعمال کرتے تھے۔ 1940 کی دہائی کے آخر میں پہلے سیمی کنڈکٹر ٹرانزسٹرز کی ایجاد کے بعد 1950 کی دہائی کے آخر میں سلیکان پر مبنی MOSFET (MOS ٹرانزسٹر) اور مونو لیتھک انٹیگریٹڈ سرکٹ چپ ٹیکنالوجیز کی ترقی ہوئی، جس نے 1970 کی دہائی میں مائیکرو پروسیسر اور مائیکرو کمپیوٹر انقلاب کو جنم دیا", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00227", "text": "۔ تب سے کمپیوٹرز کی رفتار، طاقت اور ورسٹیلٹی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جس میں ٹرانزسٹرز کی تعداد تیزی سے بڑھتی رہی (مور کے قانون کے مطابق یہ تعداد ہر دو سال میں دوگنی ہوتی ہے)، جس سے بیسویں اور اکیسویں صدی کے اوائل میں ڈیجیٹل انقلاب برپا ہوا۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00228", "text": "روایتی طور پر، ایک جدید کمپیوٹر میں کم از کم ایک پروسیسنگ عنصر ہوتا ہے، جو عام طور پر ایک مائیکرو پروسیسر کی شکل میں مرکزی پروسیسنگ اکائی (م.پ.ا) ہوتا ہے، اس کے ساتھ کسی قسم کی کمپیوٹر میموری ہوتی ہے، جو عام طور پر سیمی کنڈکٹر میموری چپس پر مشتمل ہوتی ہے۔ پروسیسنگ عنصر ریاضیاتی اور منطقی آپریشنز انجام دیتا ہے اور ایک ترتیب اور کنٹرول یونٹ محفوظ شدہ معلومات کے مطابق آپریشنز کے ترتیب کو تبدیل کر سکتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00229", "text": "۔ اضافی آلات میں ان پٹ ڈیوائسز (کی بورڈز، ماؤس، جوئے اسٹکس وغیرہ)، آؤٹ پٹ ڈیوائسز (مانیٹرز، پرنٹرز وغیرہ) اور ان پٹ/آؤٹ پٹ ڈیوائسز شامل ہیں جو دونوں کام انجام دیتی ہیں (مثال کے طور پر ٹچ اسکرینز)۔ اضافی آلات بیرونی ذرائع سے معلومات کو حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور آپریشنز کے نتائج کو محفوظ اور دوبارہ حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00230", "text": "تعریف\nادارۂ فروغِ قومی زبان آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت کے مطابق کمپیوٹر کی تعریف یوں ہے:\n\nکمپیوٹر؛ ایک برقیاتی آلہ جو حساب کے سوال اور پیچیدہ شماریاتی مسئلے، مقررہ اور پروگرامی ہدایات کے مطابق، آسانی سے حل کر لیتا ہے، پھر ان حسابات کے نتائج یا تو ظاہر کر دیتا ہے یا اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00231", "text": "تعارف", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00232", "text": "کمپیوٹر یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کمپیوٹ کرنا یا حساب کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں اس لفظ کو حسابگر (انگریزی: Calculator) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکن حالیہ دور میں یہ اصطلاح ایک ایسے آلہ (انگریزی: Machine) کے لیے اختیار کی جاتی ہے جو معلومات کو اپنے اندر داخل کرنے کے بعد، ایک مقرر شدہ حکمت عملی کے مطابق انکا تجزیہ کر سکتا ہو", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00233", "text": "۔ یعنی اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوا کہ عموماً کمپیوٹر بذاتِ خود كچھ نہیں كرسكتا، بلكہ اسے بتانا اور سمجھانا پڑتا ہے كہ وہ ہماری بہم پہنچائی گئی معلومات اور ہدایات پر كیا اور كیسے كام كرے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00234", "text": "کمپیوٹر ہماری جانب سے بہم پہنچائی گئی معلومات کو اکھٹا کرتا ہے، انھیں ذخیرہ کرتا ہے اور آپس میں مربوط و ہم بستہ (انگریزی: correlate) کرتا ہے۔ حسابگر اور کمپیوٹر میں اہم ترین فرق یہ ہے کہ کمپیوٹر پیچیدہ کمپیوٹر پروگرام کو اپنے اندر ذخیرہ کر سکتا ہے اور اسی خصوصیت کے باعث انسان کی مدد کے بغیر منطقی تجزیات (logical analysis) انجام دینے کی اہلیت کا حامل ہوتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00235", "text": "کمپیوٹر وں نے کمپیوٹروں کے مانیٹر، کی بورڈ اور کیس کے تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔\nاگر اوپر کے بیان کو مختصر بیان کرکہ لب لباب پیش کرنے کی کوشش کی جائے تو کمپیوٹر کی دو اہم خصوصیات یوں بیان کی جا سکتی ہیں کہ\n\nیہ مخصوص انداز و ترتیب میں بہم پہنچائی گئی ہدایات یا پروگرامز پر اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے\nیہ ان ہدایات کی فہرست (یعنی ایک کمپیوٹر پروگرام) پر نتیجہ خیز طور پر کارموثر انجام دیتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00236", "text": "مثالی کمپیوٹر کے اجزاء\nایک مثالی کمپیوٹر میں بہت سے اجزاء ہوتے ہیں اور ان کو مختلف انداز میں ترتیب دے کر مطالعہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً ساخت کے لحاظ سے اور افعال کے لحاظ سے، دو ایسے طریقۂ مطالعہ ہیں کہ جن کی مدد سے ایک نئے شخص کے لیے کمپیوٹر کی ساخت و فعل کا ایک خاصا بہتر خاکہ ذہن میں آ سکتا ہے لہذا یہ دونوں ترتیب ذیل میں دی جا رہی ہیں۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00237", "text": "ساخت کے لحاظ سے\nظاہری ساخت کے لحاظ سے جو اجزاء ایک کمپیوٹر میں ہوتے ہیں ان کو بھی پھر دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جو اندرونی میں شمار ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو بیرونی شمار کیے جاتے ہیں۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00238", "text": "بیرونی اجزاء\nکمپیوٹر ڈسپلے، یہ ٹیلی وژن نما حصہ ہے جو مانیٹر (Monitor) بھی کہلاتا ہے (شکل ا: 1)\nصندوقچہ (case)، جو مانیٹر کے ساتھ ایک چھوٹے ڈبے یا صندوق کی شکل میں لیٹا یا ایستادہ ہوتا ہے\nکلیدی تختہ (keyboard) جو کمپیوٹر میں اطلاعات کو داخل (input) کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے (شکل ا: 9)\nماؤس (Mouse) یہ ایک چھوٹی سی اختراع ہے جو کمپیوٹر کے ساتھ تفاعل یا انٹرایکشن کے لیے کام میں لائی جاتی ہے (شکل ا: 10)", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00239", "text": "اندرونی اجزاء\nافعال کے لحاظ سے\nیوں تو یک کمپیوٹر کے وہ حصے جن کے ذریعہ وہ اپنے افعال انجام دیتا ہے وہ سارے اجزاء ہوتے ہیں جو ایک کمپیوٹر میں موجود ہوں۔ مگر بنیادی طور پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر کے اہم افعالی حصے وہ ہوتے ہیں کہ جن کی مدد سے مرکزی عملی اکائی (CPU) اندرونی طور پر اپنے افعال انجام دیتي ہے اور یاداشتی پتے (memory address) تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ ان فعالی اجزاء کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00240", "text": "عمارت ہدایتی مجموعہ (instruction set architecture) :\nخورد معماری (microarchitecture) :\nنظامی طرحبندی (system design) :\n\nکمپیوٹر کی تاریخ\nکمپیوٹر کی تاریخ پر تفصیلی مضمون کے لیے کمپیوٹر کی تاریخ", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00241", "text": "کسی بھی ایک اختراع یا ڈیوائس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کمپیوٹر کی پہلی شکل تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر کی تعریف تاریخ کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیل ہوتی رہی ہے اور اسی وجہ سے یہ ناممکن ہے کہ کسی ایک کمپیوٹر کو پہلا کمپیوٹر کہا جاسکے۔ مثلاً کئی اختراعات جن کو کبھی کمپیوٹر تسلیم کیا جاتا تھا آج وہ کمپیوٹر تسلیم نہیں کی جاتیں۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00242", "text": "اصل میں کمپیوٹر کی اصطلاح تو ایک ایسے شخص کے لیے استعمال کی جاتی تھی کہ جو حساب کتاب رکھ سکتا ہو (دیکھیےانسانی کمپیوٹر) اور اکثر وہ شخص ایسا کسی ریاضیاتی اختراع مثلاً حسابگر یا کسی اور بنیادی پیمائشی آلے وغیرہ کی مدد سے کرتا تھا یا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00243", "text": "کچھ میکانیکی اختراعات ایسی بھی استعمال کی جاتی رہی ہیں جن کو کمپیوٹر کی انتہائی ابتدائی شکل یا اس کی جانب پیش رفت تو کہا جا سکتا ہے مگر ان کو آج کی تعریف کے مطابق کمپیوٹر تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان میں کوئی قابل پروگرام (programmable) طرز ناپید تھی۔ ان کی مثالوں میں گنتارا (abacus)، حسابی پیمانہ (slide rule)، اسطرلاب، انٹیکتیرا آلیہ (antikythera mechanism) اور مسلمان سائنسدانوں کے بنائے ہوئے متعدد آلات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں، (دیکھیےمسلم سائنسدان)۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00244", "text": "ذخیرۂ پروگرام\nشمارندی برمجہ (computer programming) اور شمارندی برنامج (computer program)", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00245", "text": "ذخیرۂ پروگرام (program storage) کسی بھی کمپیوٹر کی ہدایات اور پروگرامز کو ذخیرہ کرنے کی استعداد کو کہا جاتا ہے اور ایک کمپیوٹر کی سب سے اہم خصوصیت ہی یہ تسلیم کی جاتی ہے کہ اس کو برمجہ (programmed) کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ ان آلات (کمپیوٹروں) میں ہدایات (پروگرامز) کی ایک فہرست کو ڈالا جا سکتا ہے اور یہ اس کو اپنے اندر ذخیرہ کرلیتے ہیں تاکہ مستقبل میں انھی کو استعمال کیا جاسکے اور بار بار یہ عمل دہرانا نہ پڑے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00246", "text": "ایک جانب تو اکثر کمپیوٹروں کو دی جانے والی یہ ہدایات سادہ اور عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں: مثال کے طور پر کسی ایک عدد میں کوئی عدد جمع کرنا، کوئی ایک بیان (data) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، کوئی ایک پیغام کمپیوٹر سے کسی بیرونی اختراع (device) تک بھیجنا وغیرہ۔ کمپیوٹر ان ہدایات کو کمپیوٹر یاداشت (memory) کی مدد سے پڑھتا ہے اور پھر انکا اسی ترتیب میں اجراء (execution) کرتا ہے جس میں ان کو دیا گیا ہو", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00247", "text": "۔ دوسری جانب کمپیوٹر کو دی جانے والی ایسی ہدایات اختصاصی نوعیت کی بھی ہوتی ہیں مثال کے طور پر برنامج یا پروگرامز میں ایسی ہدایات کہ جو کمپیوٹرکو پروگرام کے کسی ایک حصے سے چھلانگ (جست) لگا کر دوسرے حصے پر پہنچنے کا اور وہاں سے مزید کام شروع کرنے کا کہتی ہیں، ان کو جستی ہدایات (jump instructions) یا شاخیں (branches) کہا جاتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00248", "text": "۔ ایک اہم بات ان شاخوں میں یہ ہوتی ہے کہ یہ مشروط (conditional) ہوا کرتی ہیں یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہدایات کے مختلف متوالیات (sequences) کو اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ان کے فعل و نتائج کو گذشتہ کیے گئے تجزیات و حسابات یا کسی بیرونی واقعہ کے ساتھ مشروط کیا جا سکتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00249", "text": "۔ بہت سے کمپیوٹر براہ راست ذیلی معمول (subroutine) کو حمایت فراہم کرتے ہوئے اس مقام کو بھی یاد رکھتے ہیں کہ جہاں سے انھوں نے کسی برنامج میں جست (jump) لگائی ہو اور پھر وہ ہدایت بھی یاد رکھتے ہیں کہ کب انھیں اس مقام پر واپس آنا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00250", "text": "اوپر جست کے تصور کو آسان انداز میں سمجھنے کے لیے یوں کہا جا سکتا ہے کہ جیسے کوئی قاری ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا ہو، وہ اگر ضرورت پڑے تو جست لگا کر کسی پچھلے صفحے پر واپس بھی آ سکتا ہے اور اگر کتاب کا کوئی حصہ غیر متعلقہ محسوس ہو تو اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اگلے صفحات کی جانب بھی جست لگا سکتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00251", "text": "۔ بالکل اسی طرح ایک کمپیوٹر بھی برنامج کے کسی گذشتہ حصے پر واپس جست لگا سکتا ہے اور وہاں سے اپنے اجراء کو ایک بار پھر دہرا سکتا ہے اسے کمپیوٹر کی زبان میں کسی بھی برنامج کا روانِ کار (flow of work) کہا جاتا ہے اور اسی خصوصیت کے باعث ایک کمپیوٹر انسانی عمل دخل کے بغیر بھی کوئی طے شدہ کام انجام دیتا رہتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00252", "text": "۔ عام طور پر اگر کوئی سادہ سا حسابی عمل ہو تو اس کو تو حسابگر (calculator) کی مدد سے باآسانی کیا جا سکتا ہے لیکن اگر حسابی عمل طویل اعداد سے متعلق ہو تو پھر اس کو اگر حسابگر یا روایتی طریقہ سے کیا جائے تو بہت اضافی وقت درکار ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر 1 تا 1000 تمام اعداد کی جمع کا عمل ہو تو اس کے لیے قریبا ایک ہزار سے زائد بار تو حسابگر کی گھنڈیاں دبانی پڑیں گی اور وقت بھی زیادہ درکار ہوگا", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00253", "text": "، لیکن ایک کمپیوٹر کو اگر ایک بار اس عمل کا تجزیہ کرنے کی ہدایات فراہم کر دی جائیں تو وہ ان کو اپنے اندر ذخیرہ کر لیگا اور اگلی بار سے انہی کو استعمال میں لاکر یہ حسابی عمل انجام دے سکے گا جس میں چند لمحات ہی درکار ہوں گے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00254", "text": "۔ اس قسم کی ہدایات کا ایک نمونہ درج ذیل ہوگا۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00255", "text": "ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام سرعت اور حسن کار کے باوجود کمپیوٹ رہے ایک آلہ اور جو خود کار طور پر منطق بھی لاگو نہیں کر سکتا اور سوچ بھی نہیں سکتا۔ مثال کے طور پر اوپر والے کام کی ہدایات کو پاکر ایک کمپیوٹر اس حسابی عمل کو شائد ایک ثانیئے کے بھی کئی ہزار حصے سے قبل مکمل تو کردیگا مگر وہ کبھی اسی حسابی عمل کو کسی اور نسبتاً آسان انداز میں کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00256", "text": "۔ جبکہ اگر یہی کام ایک انسان کو دے دیا جائے تو وہ اپنی سوچ استعمال کرتے ہوئے یہی حسابی عمل کسی سہل طریقے سے انجام دینے کے بارے میں سوچ سکتا ہے، مثال کے طور پر وہ کوئی ریاضیاتی صیغہ استعمال کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے جس کو لاگو کر کہ یہی کام جلد اور سہولت سے انجام دیا جس کے، جیسے ایک انسان ہوگا تو وہ مندرجہ ذیل مساوات استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00257", "text": "1\n +\n 2\n +\n 3\n +\n .\n .\n .\n +\n n\n =\n \n \n \n n\n (\n n\n +\n 1\n )\n \n 2\n \n \n \n \n {\\displaystyle 1+2+3+...+n={{n(n+1)} \\over 2}}", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00258", "text": "اور اس متبادل راہ کے استعمال سے انسان وہی درست جواب (500500) نکال لیتا ہے جو کمپیوٹر اوپر دی گئی ہدایات سے نکالے گا۔ بس یہ فرق (سوچنے کا) کمپیوٹر اور انسان میں ایسا ہے جس کی بنا پر کمپیوٹر مکمل خود مختار نہیں ہوتے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00259", "text": "کمپیوٹر پروگرامکمپیوٹر پر ہم جو بھی کام کرتے ہیں اس کے پیچھے ایک کمپیوٹر پروگرام یا پروگرام موجود ہوتا ہے جس میں وہ ہدایات دی گئی ہوتی ہیں جن پر چل کر کمپیوٹر ہمارے مطلوبہ کام انجام دیتا ہے۔ یہ ہدایات مختصر یا درجن بھر سے ہزاروں تک ہو سکتی ہیں۔ عہد حاضر کا ایک کمپیوٹر ایک ثانیے میں ایک ارب ہدایات پر کام کر سکتا ہے یا انکا اجراء کر سکتا ہے اور برسوں اس عالجے (operation) میں کوئی ایک غلطی بھی نہیں کرتا۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00260", "text": "بڑے کمپیوٹر پروگرام کو تیار کرنے یا لکھنے میں شمارندی مبرمج (computer programmer) کی ایک پوری جماعت کو کام کرنا ہوتا ہے جس میں کئی سال لگ جاتے ہیں پھر بھی اس بات کا امکان باقی رہ جاتا ہے کہ شائد پروگرام توقعات کے مطابق کامل نہ ہو سکا ہو اور اس میں کوئی خامی رہ گئی ہو۔ اور اس طرح کی کوئی خامی جو کسی کمپیوٹر پروگرام میں اس کی تیاری کے دوران رہ گئی ہو اسے کھٹمل (bug) کہا جاتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00261", "text": "۔ بعض اوقات یہ کھٹمل ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی موجودگی کے باوجود پروگرام کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ایسے کھٹملوں کو حلیم (benign) کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت ایسے کھٹملوں کی ہوتی ہے کہ جن کی موجودگی کسی بھی پروگرام کو مکمل طور پر ناکارہ اور منہدم (crash) کردیتی ہے۔ کھٹمل، کمپیوٹر کی کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ یہ کمپیوٹر کمپیوٹر پروگرام میں رہ جانے والی کوئی خامی ہوتی ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00262", "text": "کمپیوٹر میں انفرادی ہدایات، ایک آلی رمز (machine code) کی صورت میں موجود ہوتی ہیں اس طرح کہ ہر ہدایت کو ایک مخصوص عدد دیا گیا ہوتا ہے جس کو اس کا عالجہ رمز (operation code) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دو اعداد کو جمع کرنے کی ہدایت کے لیے ایک الگ عالجہ رمز ہوگا اور ان کو آپس میں ضرب دینے کی ہدایت کے لیے ایک الگ عالجہ رمز ہوگا۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00263", "text": "چونکہ شمارندی یاداشت اعداد کو ہی ذخیرہ کرتی ہے اس لیے یہ ہدایات بھی اعداد میں ہی دی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے تمام شمارندی برنامج (یعنی ہدایات کا مجموعہ) دراصل ایک قسم کا اعدادی بیان ہی ہوتا ہے۔ کمپیوٹر میں یہ برنامجات کا ذخیرہ ان بیانات (data) کے ساتھ بھی رکھا جا سکتا ہے کہ جن پر عمل کر کہ وہ کمپیوٹر کام کرتا ہے اسے اِشکالِ فون نیومان (crux of the von Neumann) سے تشبیہ دیتے ہیں", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00264", "text": "۔ بعض اوقات ان برنامجات کے لیے بیانات سے الگ جگہ مخصوص ہوتی ہے اور ایسی صورت میں اسے ہاورڈ مارک 1 کمپیوٹر کی مناسبت سے تعمیر ہاورڈ (Havard architecture) کہا جاتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00265", "text": "گویا شمارندی برنامجات (کمپیوٹر پروگرامز) کو اعداد کی ایک طویل فہرست کی صورت میں بھی لکھا جا سکتا ہے جس کو مشینی زبان (machine language) کہتے ہیں اور ایسا پرانے کمپیوٹر میں کیا جاتا تھا", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00266", "text": "۔ مگر یہ ایک بہت تھکا دینے والا کام ہوتا ہے جسے آج کل کے پیچیدہ کمپیوٹر میں انجام دینا نہایت دشوار گزار ہے، اس مشکل پر قابو پانے کے لیے ایک اسم حفظی (mnemonic) کی طرز پر ایک طریقہ اپنایا گیا جس میں کسی بھی ایک قسم کی کمپیوٹر ہدایت کے لیے کوئی ایک لفظ چن دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر ADD, SUB اور JUMP وغیرہ کے اسم حفظی۔ اور ان اسماء حفظی کو جو شمارندی پروگرام لکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اجتماعی زبان (assembly language) کہا جاتا ہے", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00267", "text": "۔ اب اس کے بعد ہوتا یوں ہے کہ اجتماعی زبان میں برنامجات (programs) کو لکھ کر ایک سافٹ ویئر (software) کے ذریعہ مشینی زبان میں تبدیل کر لیا جاتا ہے تاکہ ایک کمپیوٹر اس کو سمجھ لے اور اس قسم کی تبدیلی کرنے والا پروگرام، اجتماع ساز (assembler) کہلایا جاتا ہے۔", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00268", "text": "== حوالہ جات و تبصرے ==", "title": "کمپیوٹر", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88%D9%B9%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_00269", "text": "علم (Science) ایک منظم دانش ہے جو دنیا کے بارے میں قابل آزمائش مفروضات اور پیش گوئیوں کی شکل میں علم کو بناتا اور منظم کرتا ہے۔ جدید علم کو عام طور پر دو یا تین بڑی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: قدرتی علوم (مثلاً، طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات)، جو مادی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں؛ اور رویے کے علوم (مثلاً، معاشیات، نفسیات اور سماجیات)، جو افراد اور معاشروں کا مطالعہ کرتے ہیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00270", "text": "۔ رسمی علوم (مثلاً، منطق، ریاضی اور نظریاتی کمپیوٹر علم)، جو رسمی نظاموں کا مطالعہ کرتے ہیں جو اصولوں اور قواعد کے تحت ہوتے ہیں، کو بھی کبھی کبھار علم کہا جاتا ہے؛ تاہم، انھیں اکثر ایک الگ میدان سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے بنیادی طریقہ کار کے طور پر علمی طریقہ یا تجرباتی شواہد کی بجائے استدلالی منطق پر انحصار کرتے ہیں۔ اطلاقی علوم وہ شعبے ہیں جو عملی مقاصد کے لیے علمی دانش کا استعمال کرتے ہیں، جیسے انجینئرنگ اور طب۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00271", "text": "علم کی تاریخ زیادہ تر تاریخی ریکارڈ پر محیط ہے، جس میں جدید علم کے قابل شناخت پیشروؤں کے ابتدائی تحریری ریکارڈز کانسی کے دور کے مصر اور میسوپوٹیمیا سے تقریباً 3000 سے 1200 قبل مسیح کے ہیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00272", "text": "۔ ان کی ریاضی، فلکیات اور طب میں شراکتیں یونانی قدرتی فلسفے کو تشکیل دینے میں داخل ہوئیں اور اس کی تشکیل کی، جس کے ذریعے کلاسیکی قدیم دور میں قدرتی اسباب کی بنیاد پر جسمانی دنیا میں واقعات کی وضاحت فراہم کرنے کی باضابطہ کوششیں کی گئیں، جبکہ مزید پیش رفتیں، بشمول ہندو-عربی عددی نظام کا تعارف، ہندوستان کے سنہری دور میں کی گئیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00273", "text": "۔ مغربی رومی سلطنت کے زوال کے بعد ابتدائی قرون وسطیٰ (400 سے 1000 عیسوی) کے دوران ان علاقوں میں علمی تحقیق خراب ہو گئی، لیکن قرون وسطیٰ کی نشاۃ ثانیہ (کارولنگین نشاۃ ثانیہ، اوٹونین نشاۃ ثانیہ اور 12ویں صدی کی نشاۃ ثانیہ) میں علم دوبارہ پھلنے پھولنے لگا", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00274", "text": "۔ کچھ یونانی مخطوطات جو مغربی یورپ میں کھو گئے تھے، اسلامی سنہری دور کے دوران مشرق وسطیٰ میں محفوظ اور وسعت دیے گئے، ساتھ ہی بازنطینی یونانی علما کی بعد کی کوششوں کے ساتھ جنھوں نے نشاۃ ثانیہ کے آغاز میں مرتے ہوئے بازنطینی سلطنت سے یونانی مخطوطات کو مغربی یورپ میں لایا۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00275", "text": "یونانی کاموں کی بازیابی اور اسلامی تحقیقات کو 10ویں سے 13ویں صدی کے دوران مغربی یورپ میں شامل کرنے سے \"قدرتی فلسفہ\" دوبارہ زندہ ہوا، جو بعد میں 16ویں صدی میں شروع ہونے والے علمی انقلاب کے ذریعے تبدیل ہو گیا کیونکہ نئے خیالات اور دریافتیں پچھلے یونانی تصورات اور روایات سے ہٹ کر سامنے آئیں۔ علمی طریقہ جلد ہی علم کی تخلیق میں ایک بڑا کردار ادا کرنے لگا اور 19ویں صدی تک بہت سے ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ خصوصیات کی تشکیل شروع نہیں ہوئی، ساتھ ہی \"قدرتی فلسفہ\" کو \"قدرتی علوم\" میں تبدیل کر دیا گیا۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00276", "text": "علم میں نیا دانش دانشدانوں کی تحقیق سے آگے بڑھتا ہے جو دنیا کے بارے میں تجسس اور مسائل حل کرنے کی خواہش سے متحرک ہوتے ہیں۔ جدید علمی تحقیق انتہائی تعاون پر مبنی ہوتی ہے اور عام طور پر تعلیمی اور تحقیقی اداروں، سرکاری ایجنسیوں اور کمپنیوں کی ٹیموں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ان کے کام کے عملی اثرات نے علم پالیسیوں کے ابھرنے کا باعث بنا ہے جو تجارتی مصنوعات، اسلحہ، صحت کی دیکھ بھال، عوامی انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی تحفظ کی اخلاقی اور اخلاقی ترقی کو ترجیح دے کر علمی ادارے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00277", "text": "لفظ سائنس کی اصل\nسائنس کا لفظ 14ویں صدی سے درمیانی انگریزی میں \"جاننے کی حالت\" کے معنی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ لفظ اینگلو-نارمن زبان سے بطور لاحقہ cience- لیا گیا تھا، جو لاطینی لفظ scientia سے لیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے \"علم، آگاہی، سمجھ\"۔ یہ لاطینی لفظ sciens کا ایک اسم مشتق ہے جس کا مطلب ہے \"جاننا\" اور بلا شبہ لاطینی لفظ sciō سے ماخوذ ہے۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00278", "text": "سائنس کے لفظ کی حتمی اصل کے لیے بہت سے مفروضے ہیں۔ مشیل ڈی وان، ڈچ ماہر لسانیات اور ہند-یورپی زبانوں کے ماہر, کے مطابق، sciō کی ابتدا پروٹو-اٹالک زبان میں لفظ skije- یا skijo- سے ہو سکتی ہے جس کا مطلب ہے \"جاننا\"، جس کی ابتدا پروٹو-انڈو-یورپی زبان کے لفظ skhio سے ہو سکتی ہے، جس کا مطلب ہے \"چھوڑنا\"۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00279", "text": "ماضی میں، سائنس اپنی لاطینی اصلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے \"علم\" یا \"مطالعہ\" کا مترادف تھا۔ ایک شخص جس نے سائنسی تحقیق کی اسے \"فطری فلسفی\" یا \"سائنس کا آدمی\" کہا جاتا تھا۔ 1834 میں، ولیم وہیل نے میری سومرویل کی کتاب آن دی کنیکشن آف دی فزیکل سائنسز کے جائزے میں سائنس کی اصطلاح متعارف کرائی، اس کا سہرا \"ذہین شریف آدمی\" (ممکنہ طور پر خود) کو دیا۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00280", "text": "قدرتی سائنس\nقدرتی سائنس فطرت اور طبعی دنیا کا منظم علم ہے۔ ان کا مطالعہ کرنے والی بہت سی شاخیں ہیں۔ درحقیقت سائنس کا لفظ تقریباً ہمیشہ قدرتی علوم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی تین اہم شاخیں ہیں: فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی وغیرہ۔\n\nسماجی سائنس\nسماجی سائنس انسانی معاشرے کی ساخت اور اس کے ارکان کی سرگرمیوں کا مطالعہ ہے۔ ان میں تاریخ، معاشیات، سماجیات وغیرہ شامل ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00281", "text": "کٹوتی کا طریقہ\nکٹوتی کا طریقہ ان مضامین کا ایک مجموعہ ہے جو منطق اور حساب کے اصولوں کو فلسفہ اور سائنس کے مضامین پر لاگو کرتا ہے۔ اس میں ریاضی اور منطق شامل ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00282", "text": "سماجی سائنس اور کٹوتی کے طریقوں کو اکثر سائنس نہیں سمجھا جاتا ہے۔\n‎سائنسی تاریخ\nوسیع معنوں میں سائنس جدید دور سے پہلے اور بہت سے تاریخی تہذیبوں میں موجود رہی ہے۔ جدید سائنس اپنے نقطہ نظراور کامیاب نتائج میں نمایاں ہے: کڑے نکتہ نظر کے لحاظ سے سائنس سے مراد 'جدید سائنس' ہی لی جاتی ہے۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00283", "text": "سائنس کے حقیقی معنی علم کے حصول کی بجاے علم کی ایک مخصوص قسم کے ہیں۔ خصوص یہ علم کی ان اقسام میں سے ایک ہے، جسے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، قدرتی چیزوں کے کام کے بارے میں علم درج شدہ تاریخ سے طویل عرصے سے پہلے جمع کیا گیا تھا اورجو پیچیدہ تجریدی سوچ کے ارتقا کا باعث بنا۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00284", "text": "‎سائنسی زمرے", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00285", "text": "سائنس کے میدان کو عام طور پر دو بنیادی خطوط پر اسطوار کیا جاتا ہے ایک تو وہ جو فطری مظاہرات سے متعلق ہوتے ہیں اور علوم فطریہ (natural sciences) کہلائے جاتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو انسانی سلوک (human behavior) اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور معاشرتی علوم (social sciences) کہلاتے ہیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00286", "text": "۔ سائنس کے ان دونوں ہی شعبہ جات کو تجربی (empirical) کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں ہی جو معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان میں انسانی تجربات اور مظاہر فطرت کے بارے میں شواہدات کا ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے، یعنی ان معلومات کو ایسا ہونا چاہیے جو فردی نہ ہوں بلکہ بعد میں آنے والے سائنس دان یا علما بھی ان کی صحت کی تصدیق کر سکیں اور ان کو اپنے مستقبل کے تجربات میں استعمال بھی کرسکیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00287", "text": "، ہاں یہ ہے کہ ایسا کرنے کے دوران میں (یعنی گذشتہ تجربی مشاہدات (سائنس) کی تصدیق کے دوران) وہی ماحول لازم ہو جس میں ان تجربات کو پیش کرنے والے نے کیا تھا۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00288", "text": "سائنس کے مندرجہ بالا دو گروہوں (علوم فطریہ اور علوم معاشرہ) کے علاوہ ایک اور گروہ بھی ہے جو سائنس کے ان دونوں گروہوں سے مطابقت کے مقامات کے ساتھ ساتھ کچھ افتراقات بھی رکھتا ہے اور اس گروہ کو قیاسی علوم (formal science) کہا جاتا ہے جس میں ریاضی (mathematics)، شمارندی علوم، نظریۂ اطلاعات اور احصاء (statistics) جیسے شعبہ جات شامل ہوتے ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00289", "text": "اسلوبِ سائنس\nاسلوب علم (scientific method) اصل سائنسی طریقۂ کار کو ہی کہتے ہیں جس میں فطرت (nature) کے اسرار و رموز اور مظاہر کو ایک قابل تکرار (replicable) انداز میں سمجھا جاتا ہے اور انکا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ پھر اس مطالعے کے بعد حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں پیشگوئیاں کی جاتی ہیں جو مستقبل کی راہ اور مزید تحقیق کے لیے معاون ثابت ہوتی ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00290", "text": "بعض اوقات کسی بھی ایک سائنسی مطالعے کے دوران میں عقلی طور پر کوئی ایک نتیجہ آنے کا امکان دوسرے کی نسبت زیادہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایسے مواقع پر اسلوب علم کی موجودگی کے باعث سائنس دان اس قدر باضمیر افراد کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی ذہنی لگاوٹ یا جذبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے تجربے یا اس کے نتیجے کو متاثر نہیں ہونے دیتے لہذا یہ اسلوب علم کی پیروی ہی ان کے کام کو قابل تکرار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00291", "text": "ذاتی لگاوٹ اور کسی بھی تعصب کے رجحانات کو ختم کردینا اسلوب علم کا ایک پہلو ہے، ساتھ ہی یہ تجربی نمونے (experimental design) میں بھی معاونت اور راہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایک آخری پیمانے کے طور پر اس میں نظرِ ھمتا (peer review) کی موجودگی ؛ تجربہ، تجربے کے طریقۂ کار، استعمال کیے جانے والے آلات و کیمیائی مرکبات اور حاصل شدہ نتائج تک ہر پہلو کو قابل اعتبار و تکرار بنانے میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00292", "text": "اسلوبات سائنس میں ایک بہت اہم اوزار، نمونوں (models) کی تشکیل ہوتی ہے جو کسی تصور یا منصوبے کی تصویرکشی یا وضاحت کرتے ہیں۔ سائنس دان اس نمونے کی تعمیر، جانچ پڑتال اور صحت پر بہت توجہ دیتے ہیں کیونکہ اس کی مدد سے ہی اصل تجربات ممکن ہوتے ہیں اور اسی کی مدد سے ایسی سائنسی پیشگوئیاں کی جا سکتی ہیں جو قابل تکرار ہوں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00293", "text": "۔ مفروضہ (hypothesis) اسلوبات سائنس میں ایک ایسی بات کو کہا جاتا ہے جس کو ابھی تک تائید کی ناقابل تردید تجربی شہادتیں بھی میسر نہ ہوئی ہوں اور دوسری جانب اس کے غلط ہونے کے بارے میں بھی کوئی گذشتہ حتمی تحقیق نا موجود ہو، ایسی صورت میں مفروضہ، نمونے کی تیاری میں مدد دیتا ہے", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00294", "text": "۔ نظریہ (theory) کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ یہ کئی مفروضات اور بیانات (اکثر عام طور پر مانے جانے والے) کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جن کو آپس میں منتطقی انداز میں جوڑا جا سکتا ہو یا جوڑا گیا ہو اور اس سے دیگر مظاہر فطرت کی وضاحت میں مدد حاصل ہوتی ہو، جیسے جوہری نظریہ", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00295", "text": "۔ طبیعی قانون (physical law) ایک ایسے سائنسی اصول کو کہا جاتا ہے کہ جو گذشتہ مفروضات کے بعد تجرباتی مراحل سے گذر چکا ہو اور اس کے حق میں ناقابل تردید تجربی (empirical) شواہد موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تکرار (replicable) شواہد بھی موجود ہوں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00296", "text": "سائنسی اسلوب میں ایک اور اہم پہلو اس میں تحریضی (inductive) کیفیت کا ہونا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس دنیا کے کسی مظہر کے بارے میں کسی بات کی جانب مائل کرتی ہے یا یوں کہ لیں کے اس کی ترغیب دیتی ہے اور اس کو تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سائنس کبھی کوئی مطلق دعویٰ نہیں کرتی اور ہمیشہ نئے شواہد و حقائق کے لیے اپنے اندر تحریف (falsification) کی گنجائش رکھتی ہے", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00297", "text": "۔ اور اس مقصد کے لیے اوپر بیان کردہ مُراجعۂ ثانی (peer review) نہایت اہم ہے جس کی خاطر تمام معلومات کا دائرۂ عام میں ہونا اور ہر کسی کی رسائی میں ہونا لازمی ہے۔ تاکہ نا صرف یہ کہ نظر ثانی (review) کیا جاسکے بلکہ ساتھ ساتھ ہی کسی ایک سائنس دان کے تجربے کو اس کا کوئی ھمتا (peer) دہرا کر اس کے قابل تکرار ہونے کا اندازہ کرسکے یا تصدیق کرسکے۔ ھمتا یا peer سے مراد یہاں ہم عصر سائنسدانوں سے ہے، یعنی کوئی ایسا سائنس دان جو اتنا ہی قابل ہو جتنا کہ تجربہ کرنے والا سائنس دان۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00298", "text": "ریاضی اور سائنس\nسائنس اور ریاضی (mathematics) آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں (خواہ اس کا تعلق طبیعیات سے ہو یا علم کیمیاء سے، حیاتیات سے ہو یا وراثیات سے ) جو ریاضی کی مدد کے بغیر چل سکتا ہو۔ جیسا کہ تعارف کے بیان میں ذکر آیا کہ عام طور پر ریاضی کو سائنس کے جس گروہ میں شامل کیا جاتا ہے اسے تشکیلی علوم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بعض ذرائع ریاضی کو بنیادی یا خالص سائنس میں بھی شمار کرتے ہیں", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00299", "text": "ریاضی کی ہر ایک شاخ ہی سائنس کے دیگر شعبہ جات میں کام آتی ہے جن میں احصاء (statistics)، حسابان (calculus) سمیت ریاضی کی وہ شاخین بھی شامل ہیں جنھیں عام طور پر خالص ریاضی میں شمار کیا جاتا ہے مثال کے طور پر نظریۂ عدد (number theory) اور وضعیت (topology) وغیرہ۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00300", "text": "جس طرح ایک طبیب ایک سائنس دان بھی ہو سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک ریاضی داں، بجا طور پر ایک سائنس دان ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان تمام تر اسلوب سائنس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جن کی مدد سے ہی سائنسی نمونے، تجربی نمونے، مفروضے اور سائنسی پیشگوئیاں ممکن ہوتی ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00301", "text": "فلسفۂ سائنس", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00302", "text": "فلسفۂ سائنس اصل میں سائنس کی بنیادوں، اس میں قائم مفروضات، اس کے تجربات کی حقیقت اور تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی حقیقت اور ان نتائج یا سائنس کے اخلاقی کردار اور زندگی میں اس کے اطلاقات جیسے موضوعات سے بحث رکھتا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر دو ذیلی شعبہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے، اول ؛ علمیات یا معلوماتشناسی جس کو انگریزی میں epistemology کہتے ہیں اور دوم ؛ مابعد الطبیعیات جسے انگریزی میں metaphysics کہا جاتا ہے", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00303", "text": "۔ ان میں علمیات تو علم (سائنس) کی حیققت کی تلاش کو کہتے ہیں جبکہ مابعد الطبیعیات پھر اس حقیقت کی فطرت کا کھوج لگانے کو کہا جاتا ہے، ان کی مزید تفصیل کے لیے ان کے صفحات مخصوص ہیں۔ فلسفۂ سائنس وہ مقام ہے کہ جہاں اکثر سائنس اور ناسائنس کے مابین حدود معدوم ہی ہوجاتی ہیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00304", "text": "فلسفۂ سائنس کے مطابق سائنس ایک ایسے تجزیات یا حقائق کا نام ہے کہ جنھوں نے شواہداتی بنیادوں پر ہماری حسوں کو تحریک دی ہو یعنی کسی بھی متعلقہ مظہر قدرت کو اس کے طبیعی شواہد کی بنا پر محسوس کیا گیا ہو۔ یہاں حس (مشاہدے) کا طبیعی یا فطری ہونا لازم ہے کیونکہ اگر کوئی چیز طبیعی کیفیات سے بلند ہو تو پھر اسے سائنس نہیں مافوق الفطرت (supernatural) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے اور تصوراتی سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کی انسانی سمجھ کے مطابق وجوہات اور اس کے وجود کی توجیہ کے بارے میں شواہد نا مل جائیں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00305", "text": "کئی راہنما اصولوں (جیسے تیغِ اوکام (Occam's razor) کا اصولِ بخل (parsimony)) سے استفادے کہ بعد سائنسی نظریات کو منطق اور توجیہات کے پیمانوں سے تراشہ جاتا ہے اور پھر کانٹ چھانٹ کے بعد وہی نظریات (یا نظریہ) قابل قبول حیثیت میں قائم رہ جاتا ہے جس کے بارے میں سب سے واضع اور ٹھوس شواہد میسر آچکے ہوں۔", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00306", "text": "سائنس کی شاخیں\nسائنس کی تقسیم مندرجہ ذیل اہم شاخوں میں کی جاتی ہے جو مزید چھوٹی چھوٹی کلاسوں میں تقسیم ہیں۔\n\nحیاتیات\nطبیعیات\nکیمیاء\nریاضی\nحیاتیاتی کیمیاء\nخرد حیاتیات\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "سائنس", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3"}, {"id": "urd_rec_00307", "text": "ٹیکنالوجی یا Technology، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے اور اس شعبہ علم کے دائرہ کار میں وہ تمام آلات بھی آجاتے ہیں اور وہ تمام دستورالعمل یا طریقۂ کار بھی کہ جو علمی معلومات کے عملی استعمال سے متعلق ہوتے ہیں", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00308", "text": "۔ ٹیکنالوجی یا ٹیکنالوجی کی اصطلاح عام طور پر طرازوں (techniques) کے ایک مجموعے کے لیے استعمال ہوتی ہے (مثال کے طور پر space technology) اور بعض اوقات اس کو ہندسیات (engineering) کی طراز یا ٹیکنیک استعمال کرتے ہوئے بنائی جانے والی کسی چیز (پیداوار یا پروڈکٹ) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کوئی تکنیکی کاروباری ادارہ اپنی بنائی ہوئی پیداوار کو ایک ٹیکنالوجی کہ سکتا ہے، مثلا ہٹاچی technology اور ABI technology وغیرہ وغیرہ۔", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00309", "text": "وجہ تسمیہ\nانگریزی میں ٹیکنالوجی کا لفظ بنیادی طور پر دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے\ntechno = ہنر، فن، طرحبند، وضع، طراز\nlogy = مطالعہ، علم، یات \nاردو میں ٹیکنالوجی کا لفظ بنیادی طور پر دو الفاظ کا مرکب ہے\nطرز = اسلوب، وضع، انداز، طریقہ، فن، ٹیکنیک \nیات = مطالعہ، علم، لوجی", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00310", "text": "بیان", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00311", "text": "ٹیکنالوجی ایک بہت وسیع اصطلاح ہے اور نوع انسان کا اس سے تعلق اس وقت سے ہی جاری ہے کہ جب سے اس نے قدرتی اسباب اور وسیلوں کو سادہ اوزاروں میں بدلنا سیکھا۔ زمانہ قبل از تاریخ کے ادوار میں حضرت انسان کا آگ لگانے کے طریقے کا دریافت کرنا اور کسی وزنی چیز کے نیچے کوئی گول چیز رکھ کر اسے دھکیلنا (جس سے پہیے کی ایجاد ہوئی) سب کچھ ٹیکنالوجی ہی کی ابتدائی اشکال ہیں", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00312", "text": "۔ اور موجودہ دور میں آئیں تو بہت سی ایسی ایجادات و تکنیکیں ہیں جنھوں نے اس دنیا کو ایک نئی شکل میں ڈھال دیا ہے، ان میں www اور اس کی بنیاد یعنی شمارندہ (computer) وغیرہ اہم ہیں۔ ایک اور پہلو یہ کہ تمام تر ٹیکنالوجی نے انسانی بھلائی کی جانب ہی رخ نہیں کیا بلکہ کثیر تعداد میں ایسی ٹیکنالوجی بھی تخلیق کی جاچکی ہے اور کی جا رہی ہے کہ جو انسانیت ہی کو مٹا دینے کی بھر پور صلاحیت سے مالا مال ہے اور ان کی چند مثالوں میں Atom bomb اور Neutron bomb جیسے مہیب ہتھیار شامل ہیں۔", "title": "ٹیکنالوجی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00313", "text": "انجینئری یا مہندسی کو انگریزی میں Engineering کہا جاتا ہے اور عربی میں ہندس یا الہندس جبکہ فارسی میں مہندسی کہتے ہیں۔ انجینئری دراصل روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے فنی مسائل کو حل کرنے کی غرض سے اور زندگی کو سہل اور آسان بنانے کی خاطر علمی اور تکنیکی (technical) معلومات کے نفاذ (application) کو کہتے ہیں۔ وہ افراد جو اس کام یا شعبہ علم میں مہارت رکھتے ہیں انھیں مہندس کہا جاتا ہے", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00314", "text": "۔ ایک انجینئر علم، طرزیات، ریاضی اور حسابیات کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بصیرت، پرواز تخیل اور اپنی صلاحیت تخمینہ کاری و تعین کے ذریعہ فنی مسائل کا عملی حل تلاش کرتا ہے۔ انجینئری کا نتیجہ عام طور پر ایک طرح (design) یا پیداوار (production) ہو سکتا ہے (مثلا بجلی کی پیداوار) اور یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی مفید شے (object) یا عمل (process) کی کارگذاری (operate) کی جاسکے (مثلا محرکیہ (engine) جس کی کارگذاری سے گاڑی چلائی جا سکتی ہے)۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00315", "text": "اسلوبیات", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00316", "text": "اسلوبیات انجینئری میں سب سے اہم ترین کارگذاری، ایک مہندس کی وہ منفرد اور یکتا ذمہ داری ہوتی ہے جس میں وہ کسی طرح (ڈیزائن) کے لیے امکانات یا محدودات یا محدویت (constraints) کی شناخت کرتا ہے اور اس کا خاکہ تیارکرتا ہے، پھر اس کا درست ادراک کرتا ہے اور پھر اس ان امکانات کو طرح یعنی ڈیزائن پر یکجا کرکے کامیاب اور مفید نتیجہ حاصل کرتا ہے", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00317", "text": "۔ محدودیت میں مختلف عوامل شامل ہوتے ہیں ہیں مثلا؛ موجود وسائل، طبعی (یعنی افرادی) اور تکنیکی (technical) کمی، مسقبل کی ضروریات سے مطابقت اور ضرورت پڑنے پر مزید اضافوں کی صلاحیت، لاگت، بازارپذیری (marketability)، پیداواریت (producibility) اور افادیت و کارآمدگی (serviceability) وغیرہ", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00318", "text": "۔ تمام محدودات کا اندازہ کرلینے کے بعد انجینئر، تخصیصات (specifications) کو حدود سے قریب تر کرتا ہے تاکہ مقصد کا حصول یا نتیجہ (کوئی طرح بندی یعنی ڈیزائنگ یا کوئی پیداوار یا پروڈکٹ)، اخذ کردہ اندازوں سے قریب تر حاصل کیا جاسکے", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00319", "text": "۔ آسان الفاظ میں اس کو یوں کہ سکتے ہیں کہ تخصیصات یعنی وہ خصوصیات جو بنائی جانے والی شے یا پیداوار میں مطلوب ہوں ان کو حقیقت پسندی سے موجود وسائل کے مطابق ڈھالا جائے اور محدودات (کوئی چیز بنانے کے لیے موجودہ وسائل یا امکانات) کو ممکنہ حد تک بہتر کرکہ تخصیصات کے حصول کے لیے موزوں تر بنایا جائے۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00320", "text": "مسائل سلجھانا\nایک انجینئر اپنی سائنس و ریاضی کی معلومات اور اپنے موزوں تجربے کی مدد سے کسی بھی درپیش مسئلہ کا حل تلاش کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر انجینئری میں کسی مسئلہ کا ایک موزوں ریاضیاتی نمونہ تیار کر لیا جائے تو نہ صرف یہ کہ اس مسلے کی تحلیل اور تجزیہ کاری (بعض اوقات کامل اور قطعی حد تک) کی جا سکتی ہے بلکہ ممکنہ حل کو آزما کر اس کی استعداد کا بھی اندازہ کرا جا سکتا ہے۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00321", "text": "عموما کسی مسلے کے ایک سے زائد حل نظر آتے ہیں، ایسی صورت میں انجینئر مختلف طرحی انتخابات میں سے ہر ایک کا تچزیہ اور تخمینہ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ کونسی طرح یا ڈیزائن مطلوبہ اختصاصات کے قریب تر ہے اور اسی کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔ انجینئری میں، بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے سے قبل اس بات کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ منتخب کردہ طرح یا ڈیزائن سے مطلوبہ اختصاصات حاصل ہونے کی کتنی توقع کی جا سکتی ہے", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00322", "text": "۔ اور اس مقصد کے لیے جن تکنیکوں (techniques) کی مدد لی جاتی ہے ان میں ؛ قسم اولیہ (prototype)، میقاسی نمونوں (scale models)، تشبیہ (simulations)، تخریبی آزمائشیں (destructive tests)، غیرتخریبی آزمائشیں (nondestructive tests) اور تناؤ کی آزمائش (stress test) وغیرہ شامل ہیں۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00323", "text": "ان آزمائشوں یا اختبارات سے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ بنائی جانے والی چیز یا پیداوار ممکنہ حد تک توقعات سے کے مطابق نتیجہ دے۔ انجینئری کے ان تمام مراحل کے دوران میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے ہے کہ پیداوار یا بنائی جانے والی شے، ماحول کے لیے خطرات نہ پیدا کرتی ہوئے نتائج مہیا کرے، اس مقصد کے لیے حفاظتی عوامل (factor of safety) کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور اسی حفاظتی عامل کی وجوہات کے باعث اکثر پیداور پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00324", "text": "کمپیوٹر اور انجینئری\nدیگر تمام شعبہ ہائے علم مثلا سائنس اور ٹیکنالوجی (technology) کی طرح، انجینئری میں بھی شمارندے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی مدد سے بنائے جانے والے اعدادی و ریاضیاتی طریقہ کار اور تشبیہات (simulations) کے ذریعہ آج ایک پیداوار یا طرح (ڈیزائن) کی کارکردگی کے بارے میں ماضی کی نسبت زیادہ صحت کے ساتھ پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00325", "text": "طرحبند بہ کمپیوٹر (computer-aided design / CAD) سافٹ ویئر یا سافٹ ویئر استعمال کرتے ہوئے ایک انجینئر نسبتا آسانی سے اپنے مطلوبہ تصمیم یا ڈیزائن کے خاکے اور نمونے تیار سکتا ہے۔", "title": "انجینئری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A6%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00326", "text": "حساب (عربی: حسابيات یا علم الحساب، فارسی: حساب، انگریزی: Arithmetic)، علمِ ریاضی کی سب سے سادہ ترین شکل ہے اور اس کا مفہوم گِننا یا عدد کا ہوتا ہے۔ گو کہ غلط ہے، پر اردو میں عموما حساب اور ریاضی کے الفاظ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ حساب میں گننے کے عمل میں روزمرہ کے سادہ سے حساب کتاب سے لے کر سائنسی اور تجارتی شعبہ جات تک کے تمام اقسام کی شمارکاری آجاتی ہے۔\n\nمزید\nالجبرا\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "حساب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00327", "text": "جبر کا لفظ اردو میں دباؤ ڈالنے اور مجبور کرنے زبردستی کرنے اور جفا کرنے وغیرہ جیسے افعال کے ليے بطور اسم آتا ہے۔ اس لفظ سے بنائے گئے چند الفاظ اس عام استعمال کے برعکس نفسانی جبر کے ليے بھی اختیار کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر مندرجہ ذیل الفاظ جو جبر سے ماخوذ ہیں۔", "title": "جبر (ضد ابہام)", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%D8%B1_(%D8%B6%D8%AF_%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%85)"}, {"id": "urd_rec_00328", "text": "مندرجہ ذیل الفاظ کے علاوہ نفسیاتی استعمال کے ليے دیکھیےوسواسی اجباری اضطرابات (obsessive compulsive disorders)۔\nجبر، بطور فعل، اسم اور مصدر (compulsion)\nمجبوری، بطور اسم و صفت (compulsive / compulsiveness)\nاجبار، بطور مصدر (compulsion)\nاجباری، بطور صفت (compulsive)\nمجبوراً، بطور فعل (compulsorily)\nجبراً، بطور فعل (compulsively)", "title": "جبر (ضد ابہام)", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%A8%D8%B1_(%D8%B6%D8%AF_%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%85)"}, {"id": "urd_rec_00329", "text": "ہندسہ، جس کو انگریزی میں جیومیٹری کہا جاتا ہے ایک ایسا شعبہ ریاضی ہے جس میں فضائی یا فاصلی (spatial) مقامات کے درمیاں روابط کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ بنیادی طور پر ہندسہ ایسے علم کو کہتے ہیں جس میں خطوط و اشکال (جو ظاہر کہ مرکوز و محدود نہیں بلکہ فاصلی یا اپنی ایک جگہ رکھنے والی ہوتی ہیں) کی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے", "title": "ہندسہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00330", "text": "۔ انگریزی میں یہ لفظ دو الفاظ کا مرکب ہے ؛ جیو = ارض اور میٹری = پیمائش اور اس حساب سے دیکھا جائے تو اس کی اردو ارض پیمائی کی جا سکتی ہے لیکن ارض پیمائی کا استعمال جیومیٹری کے لیے بہت ہی اجنبیت کا احساس پیدا کرتا ہے اس لیے اس کا اردو نام وہی اختیار کیا جا رہا ہے جو عربی اور فارسی میں مستعمل ہے۔", "title": "ہندسہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00331", "text": "یہاں فضائی یا spatial سے مراد کسی ایسی چیز، شکل یا عبارت یا وقوعہ یا حادثہ کی ہے جو کسی ایک مقام تک محدود نہ ہو بلکہ اپنے علاقے (جگہ یا فضا) کا مالک ہو۔", "title": "ہندسہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00332", "text": "ہندسہ ؛ زمانہ قبل از جدیدہ (pre-modern) کے ریاضی کی دو شاخو ں میں سے ایک ہے، دوسری مطالعہ اعداد (حساب) کو کہا جاتا ہے۔ عہد حاضر میں ہندسہ کا تصور اپنے استعمال میں عمومیت اختیار کرتے ہوئے تجرید (abstraction) اور پیچیدگیوں میں خاصی بلند سطح تک پہنچ چکا ہے اور یوں احصا (calculus) اور تجریدی الجبرا (abstract algebra) کے ماتحت ہوتے ہوئے کچھ اس طرح مدغم ہو چکا ہے کہ بننے والی اکثر شاخوں کے بارے میں یہ معلوم بھی نہیں ہوپاتا کہ یہ دراصل ہندسہ یا جیومیٹری کی ہی کے قبیلے کی کوئی شاخ ہے۔", "title": "ہندسہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00333", "text": "مَنطق صحیح سوچنے کے مطالعہ کا نام ہے۔ اس میں دونوں تشکیلی اور غیر تشکیلی منطق شامل ہیں۔ ریاضیاتی منطق درست نتیجہ اخذ کرنے یا منطقی حقائق کی سائنس ہے۔ یہ ایک تشکیلی علم ہے جہاں اس بات کی تفتیش کی جاتی ہے کہ نتائج، بنیاد سے کس طرح ایک غیر جانبدارانہ انداز سے بنائی جارہی ہے۔", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00334", "text": "منطق لفظ نطق کا مصدرمیمی ہے جس کے معنی ہے گفتگو کرنا۔ کیونکہ یہ علم، ظاہری اور باطِنِی نُطْقْ میں نکھار پیدا کرتا ہے اس لیے اسے منطق کہتے ہیں۔ نطقِ ظاہری (تکلّم) میں نکھار سے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا دوسروں کے مقابلے میں اچھے انداز سے گفتگو کر سکتاہے۔ اور نطق باطنی (ادراک) میں نکھارسے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا اشیاء کے حقائق یعنی ان کی اجناس اورفصول وغیرہ سے واقف ہو جاتا ہے۔", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00335", "text": "واضع\nعلم منطق کو سب سے پہلے ارسطو نے سکندر اعظم کے حکم سے وضع کیا۔\n\nعلمِ منطق کی تعریف\nمنطق کے لُغوی معنی گفتگو کرنا ہے جبکہ اصطلاح میں اس کی تعریف یہ ہے: \nمنطق ایسا قانونی آلہ ہے جس کا لحاظ اور رعايت ذہن کوغور و فکر میں غلطی سے بچا لے۔\n\nموضوع\nوہ معلومات تصوریہ اور معلومات تصدیقیہ جو مجہول تصوری اور مجہول تصدیقی تک پہنچا دیں۔ منطق کا موضوع معلومات تصوریہ اور معلو مات تصدیقیہ ہیں، معلومات تصدیقیہ کو حجت کہتے ہیں۔\nاس لیے علم منطق کے دو اہم باب ہیں:", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00336", "text": "باب تصورات جس میں مفردات کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔\nتصدیقات جس میں جملوں یا قضایا کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00337", "text": "تصورات\nتصورات کے اہم موضوعات دلالت، الفاظ کی تقسیمات، مفہوم کلی، نسب اربعہ اور تعریف ہیں تعریف کو قولِ شارح اور معرِّف بھی کہتے ہیں۔ تعریف یعنی معلوم تصوری سے مجہولِ تصوری کو حاصل کرنا۔ جیسے حیوانِ ناطق سے انسان کا علم حاصل ہوتا ہے۔ لہذا حیوانِ ناطق معرِّف اور انسان معرَّف ہے۔\nمزید وضاحت: تعریف یعنی کسی شے کا معرف وہ مفہوم ہوتا ہے جو اس شے پر محمول ہو، تاکہ اس شے کے تصور کا فائدہ دے۔ مثلاً حیوانِ ناطق، انسان کے لیے۔", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00338", "text": "تصدیقات\nاس باب میں قضیہ (جملہ) کی تعریف، اقسام اور استدلال یا استنتاج کی تعریف اور اس کے مختلف طریقوں کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اس باب کو باب حجت بھی کہاجاتا ہے۔ حجت یا احتجاج عربی زبان میں استدلال کو کہتے ہیں۔ استدلال کے تین طریقے ہیں:\n\nقیاس\nاستقراء\nتمثیل\n\nغرض وغایت\nکسی چیز میں غور و فکر کرتے وقت ذہن کو غلطی سے بچانا k۔\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "منطق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%86%D8%B7%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00339", "text": "اطلاعات (فارسی) یا معلومات (عربی) (انگریزی: Information) عام معنوں میں رموز کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو ایک پیغام کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔\n\nخبر؛ اطلاع جو زبانی یا تحریری طور پر پہنچائی جائے، حقائق اور معلومات، علم جو مطالعہ، تعلیم یا کسی اور طریقے سے حاصل کیا جائے۔ (قانون) کسی فوجداری جرم کا الزام جو گرینڈ جیوری کی بجائے کسی سرکاری افسر کی طرف سے عائد کیا جائے، وہ مقدار جو کسی خاص تجربہ کے نتیجے میں ممکن عددی بے یقینی کا اندازہ کرتی ہے۔\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "اطلاعات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00340", "text": "مواصلات سے مراد ایسا طریقہ کار ہے جس سے معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہو یا ایک ذریعہ سے دوسرے ذریعہ تک معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہو۔ موجودہ زمانے میں مواصلات نے بے انتہا ترقی کی ہے۔ چنانچہ معلومات کی ترسیل اور لوگوں میں پیاموں کے تبادلے کے مختلف ذرائع دیکھے گئے ہیں۔ ان کی کچھ تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔\n\nصوتی مواصلات\nاس طرح کے مواصلات میں صرف آواز کا تبادلہ ممکن ہے۔ روایتی طور ٹیلی فون اور موبائل فون سے یہ کام کا انجام پانا ممکن ہے۔", "title": "مواصلات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00341", "text": "متحرک تصویری مواصلات\nجدید طور پر کئی ذرائع موجود ہیں، جن کی مدد سے فوری طور پر دو مختلف جغرافیائی مقامات پر رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر بات کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر اور سیل فون پر اس کے لیے اسکائپ کا استعمال ممکن ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ، گوگل ہینگ آؤٹ اور ایمو سے بھی یہی کام ممکن ہے۔ اس طرح کے مواصلات میں بات کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں، اطراف کے ماحول کو جان سکتے ہیں اور پھر آواز سے گفتگو بھی کر سکتے ہیں۔", "title": "مواصلات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00342", "text": "متون کے مواصلات\nکئی سہولتیں موجود ہیں جن سے صرف متون کا تبادلہ بھی ممکن ہے۔ ان میں ای میل، چیاٹ وغیرہ جیسی آن لائن خدمات عام ہیں۔ اسی طرح ایس ایم ایس کی سہولت جو ہر موبائل فون میں ہوتی ہے، یہی کام دیتی ہے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں اب اور زیادہ تر حصوں میں کسی دور میں پیجر، فیکس اور ٹیلی گرام سے بھی یہی خدمات انجام پاتی تھی۔", "title": "مواصلات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00343", "text": "شعبہ ڈاک کی خدمات\nڈاک کا محکمہ لوگوں کے بیچ خطوں کا تبادلہ ممکن ہے۔ اس کے تحت لوگ کاغذ پر خط لکھا کرتے، لفافے میں بند کرتے ہیں ہیں اور درکار قیمت کا ڈاک ٹکٹ لگاتے ہیں تاکہ خطوط ایک جگہ سے دوسری جگہ روانہ کرتے ہیں۔ چوں کہ کی خدمات اکثر دیگر ڈرائع کے مطابق دھیمی ہوا کرتی ہیں۔ ڈاک کی خدمات آج کل بڑی حد تک کوریئر کمپنیاں بھی کر رہی ہیں۔ کوریئر کمپنی کو ہر خط یا پارسل پر وزن کے حساب سے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ یہ خط یا پارسل اس کوریئر کمپنیاں اپنے عملے کے ذریعے پہنچاتی ہیں۔", "title": "مواصلات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00344", "text": "انٹرانیٹ\nکسی ادارے کے اندر ہی فوری مواصلات کے لیے کئی بار انٹرانیٹ کا استعمال ممکن ہے۔ اس کے تحت کئی کمپیوٹروں کو لا سکی طور پر مربوط کیا جاتا ہے۔\n\nایکسٹرانیٹ\nاس مربوط نیٹ ورک نظام کے تحت ادارے دیگر اداروں سے خود کو مربوط کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ پیامات کا فوری تبادلہ ممکن ہے۔ اسی کی ایک مثال کمپنیوں اور ان کے خام مال فراہم کنندوں کا کے ایکسٹرانیٹ کے ذریعے مربوط تیادلہ پیام جس سے فوری ربط ممکن ہے۔\n\nحوالہ جات\n\nمواصلات کی تعریف", "title": "مواصلات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00345", "text": "برق یا بجلی (Electricity) مختلف فطری اور غیر فطری مظاہر کے لیے استعمال کی جانے والی ایک عمومی اصطلاح ہے، ایسے مظاہر کہ جن میں برقی باروں (electric charges) کا روان (فلو) ہو رہا ہو۔ اس اصطلاح یا مظہر کا، مقناطیسیت کے مظہر کے ساتھ شامل ہونے پر ایک بنیادی باہمی عمل (fundamental interaction) کی تشکیل ہوتی ہے جس کو برقناطیسیت (electromagnetism) کہا جاتا ہے۔\n\nمزید دیکھیے\nمینز برق بلحاظ ملک", "title": "برق", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82"}, {"id": "urd_rec_00346", "text": "نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے (بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00347", "text": "عام مفہوم میں نظام شمسی کا اچھی طرح معلوم مرسوم / charted حصہ سورج، چار اندرونی سیاروں، سیارچوں، چار بیرونی سیاروں اور کوئپر پٹی پر مشتمل ہے۔ کوئپر پٹی سے پرے کے کافی اجسام بھی نظام شمسی کا ہی حصہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00348", "text": "سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب یہ ہے: عطارد، زہرہ، ##زمین، ##مریخ، ###مشتری، #زحل، یورینس اور نیپچون۔ ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنھیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔ تین بونے سیاروں میں پلوٹو، کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم؛ سیرس، سیارچوں کے پٹی کا سب سے بڑا جسم؛ اور ایرس، جو کوئپر پٹی سے پرے واقع ہے؛ شامل ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00349", "text": "۔ پلوٹو کو 2006 میں سیارے کے درجہ سے معزول کر دیا گیا۔ دیکھیں۔ پلوٹو کا نظام شمسی سے اخراج", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00350", "text": "اصطلاحات\nسورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: سیارے، بونے سیارے (Dwarf planets) اور چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies)۔\nسیارہ سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے والے کسی ایسے جسم کو کہتے ہیں جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00351", "text": "اس کی کمیت کم از کم اتنی ہو کہ اپنی کشش ثقل کے باعث ایک کرے کی شکل اختیار کر لے\nاپنی کشش ثقل سے اپنے مدار اور اس کے آس پاس کے علاقے سے چھوٹے اجسام کو صاف کر چکا ہو\nتسلیم شدہ آٹھ سیارے یہ ہیں: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون\n24 اگست 2006 کو بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد (International Astronomical Union) نے پہلی بار سیارے کی تعریف کی اور پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ پلوٹو کو اب ایرس اور سیرس کے ساتھ بونے سیاروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00352", "text": "بونے سیاروں کے مدار کے آس پاس عموما دوسرے چھوٹے اجسام پاے جاتے ہیں کیونکہ ان کی کشش ثقل اتنی مضبوط نہیں ہوتی کے وہ اپنے پڑوس میں صفائی (Clearing the neighbourhood) کر سکیں۔ کچھ دوسرے اجسام جو مستقبل میں بونے سیارے قرار دیے جا سکتے ہیں ان میں اورکس، سیڈنا اور کواوار شامل ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00353", "text": "پلوٹو 1930ء میں اپنی دریافت سے 2006ء تک نظام شمسی کا نواں سیارہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں پلوٹو سے ملتے جلتے بہت سے دوسرے اجسام بیرونی نظام شمسی میں دریافت کیے گئے، خصوصاً ارس، جو جسامت میں پلوٹو سے بڑا ہے۔\nسورج کے گرد مدار میں باقی تمام اجسام چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies) کے زمرے میں آتے ہیں۔\nقدرتی سیارچے یا چاند وہ اجسام ہیں جو سورج کی بجائے دوسرے سیاروں، بونے سیاروں یا SSSBs کے گرد گردش کر رہے ہوں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00354", "text": "کسی بھی سیارے کا سورج سے فاصلہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا کیونکہ سیاروں کے مدار عموماً بیضوی ہوتے ہیں۔ کسی سیارے کے سورج سے کم سے کم فاصلے کو اس کا حضیض (perihelion) کہتے ہیں اور اس کے زیادہ سے زیادہ فاصلے کو اس کا اوج (aphelion) کہتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00355", "text": "ماہرین فلکیات عام طور پر اجرام فلکی کے باہمی فاصلوں کی پیمائش کے لیے فلکیاتی اکائیاں (Astronomical Unit یا AU) استعمال کرتے ہیں۔ ایک فلکیاتی اکائی( AU ) تقریباًً سورج سے زمین تک کے فاصلے کے برابر ہوتی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ تقریباًً 149598000 کلومیٹر یا 93000000 میل ہے۔ پلوٹو سورج سے 38 فلکیاتی اکائیوں (AU) جبکہ مشتری تقریباًً 5.2 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ ایک نوری سال، جو ستاروں کے مابین فاصلوں کی معروف ترین اکائی ہے، تقریباًً 63,240 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے برابر ہوتی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00356", "text": "غیر رسمی طور پر نظام شمسی کو الگ الگ مَناطِق (zones) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اندرونی نظام شمسی میں پہلے چار سیارے اور سیارچوں کی پٹی شامل ہے۔ بعض فلکیات دان بیرونی نظام شمسی میں سیارچوں سے پرے تمام سیاروں اور دوسرے اجسام کو شامل کرتے ہیں،\nجبکہ بعض کے نزدیک بیرونی نظام شمسی نیپچون کے بعد شروع ہوتا ہے اور مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک علاحدہ درمیانی مِنطقہ (zone) کا حصہ ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00357", "text": "سورج سے دوسرے سیاروں کا فاصلہ\nسورج اور سیاروں کی جسامت\nاس جدول سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایک بہت ہی بڑے تصوارتی سمندر میں چاند، سورج اور سب سیاروں کو پھینکا جائے تو صرف زحل تیرتا رہے گا باقی سب ڈوب جائیں گے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00358", "text": "مسطّر اور ساخت\nسورج، جو ایک main sequence G2 ستارہ ہے، نظام شمسی کا مرکزی جز ہے۔ سورج نظام شمسی کی معلوم کمیت میں سے 99.86 فیصد کا حامل ہے اور ثقلی طور پر دوسرے تمام اجسام پر حاوی ہے۔\nمشتری اور زحل، جو سورج کے گرد گردش کرنے والے سب سے بڑے سیارے ہیں، باقی ماندہ کمیت کے 90 فیصد کے حامل ہیں۔ اورت بادل میں بھی، جو فی الحال ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے، مادے کی کافی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00359", "text": "سورج کے گرد گردش کرنے والے سبھی سیاروں کے مدار (پلوٹو سیارہ نہیں ہے) زمین کے مدار کے تقریباًً متوازی ہیں یا اس سے بہت کم زاویہ بناتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دم دار سیاروں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں۔\nسورج کے گرد گردش کے ساتھ ساتھ تمام سیارے اپنے محور پر بھی گردش کرتے ہیں۔ اگر سورج کے قطب شمالی کے عین اوپر سے معائنہ کیا جائے تو ماسوائے چند اجسام کے، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، تمام سیارے اپنے محور کے گرد مخالف گھڑی وار سمت میں گردش کرتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00360", "text": "تمام اجسام سورج کے گرد کیپلر کے قانون کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ ہر جسم کا مدار بیضوی ہے اور اس بیضے کے ایک مرکز (focus) پر سورج واقع ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00361", "text": "سورج کے قریب والے اجسام دور والے اجسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ سیاروں کے مدار بہت کم بیضوی، بلکہ تقریباًً دائروی ہیں لیکن بہت سے دمدار سیاروں، سیارچوں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار انتہائی بیضوی ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00362", "text": "سیاروں کے مدار ایک دوسرے سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہیں اور دو مداروں کے درمیانی فاصلے میں تغیر بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ فاصلے نقشوں میں دکھانا کافی مشکل ہے اس لیے عموماً نظام شمسی کے نقشوں میں سیاروں کو ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر دکھایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، کچھ مثالوں کے سوا، کوئی سیارہ سورج سے جتنا دور ہے، اس کے مدار کا اپنے سے پہلے والے سیارے کے مدار سے فاصلہ اتنا ہی زیادہ ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00363", "text": "۔ مثال کے طور پر زہرہ کا مدار عطارد کے مدار سے 0.33 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے، جبکہ زحل مشتری سے 4.3 فلکیاتی اکائی (AU) دور ہے اور نیپچون یورینس سے 10.5 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ سائنسدانوں نے ان فاصلوں کا باہمی تعلق معلوم کرنے کی کچھ کوششیں تو کی ہیں لیکن اب تک کوئی نظریہ متفقہ طور پر قبول نہیں کیا جا سکا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00364", "text": "تشکیل", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00365", "text": "نظام شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیبولائی نظریے کے مطابق وجود میں آیا۔ یہ نظریہ عمانویل کینٹ نے 1755ء میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے ایک بہت بڑے مالیکیولی بادل کے ثقلی انہدام (gravitational collapse) کی وجہ سے نظام شمسی کی تشکیل ہوئی۔ یہ بادل شروع میں اپنی وسعت میں کئی نوری سال پر محیط تھا اور خیال ہے کہ اس کے انہدام سے کئی ستاروں نے جنم لیا ہو گا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00366", "text": "۔ قدیم شہابیوں میں ایسے عناصر کی معمولی مقدار/ذرات(traces) پائے گئے ہیں جو صرف بہت بڑے پھٹنے والے ستاروں (نجومِ منفجر (exploding stars)) میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی تشکیل ستاروں کے کسی ایسے جھرمٹ (خوشۂ انجم (star cluster)) میں ہوئی جو اپنے قریب کے کئی سپر نووا دھماکوں کی زد میں تھا۔ ان دھماکوں سے پیدا ہونے والی لہروں (shock waves) نے اپنے آس پڑوس کے نیبیولا کے گیسی مادے پر دباؤ ڈال کر زیادہ گیسی کثافت کے خطے پیدا کر دیے جس سے سورج کی تشکیل کی ابتدا ہوئی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00367", "text": "۔ ان کثیف خطوں میں قوت ثقلی کو بہتر طور پر اندرونی گیسی دباؤ پر قابو پانے کا موقع ملا اور پھر یہ کشش ثقل پورے بادل کے انہدام (collapse) کا باعث بنی۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00368", "text": "اس گیسی بادل کا وہ حصہ جو بعد میں نظام شمسی بنا، اپنے قطر میں قریباً 7,000 سے 20,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) پر محیط تھا اور اس کی کمیت سورج کی موجودہ کمیت سے کچھ زیادہ تھی۔ اسے ماہرین فلکیات قبل الشمس نیبیولا بھی کہتے ہیں۔ جیسے جیسے نیبیولا سکڑتا گیا، محافظۂ زاویائی معیار حرکت یعنی conservation of زاویائی معیار حرکت کے باعث اس کی گردش کی رفتار بڑھتی گئی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00369", "text": "۔ جوں جوں مادہ اس بادل کے مرکز میں اکٹھا ہوتا گیا، ایٹموں کے آپس میں ٹکرانے کی تکرار (تعدد (frequency)) بھی بڑھتی گئی اور اس وجہ سے مرکز میں درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ مرکز، جہاں پر اب زیادہ تر مادہ اکٹھا ہو چکا تھا، گرم سے گرم تر ہوتا چلا گیا اور اس کا درجہ حرارت باقی ماندہ بادل کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو گیا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00370", "text": "۔ گردش، کشش ثقل، گیسی دباؤ اور مقناطیسی قوتوں کے زیر اثر سکڑتا ہوا نیبیولا آہستہ آہستہ ایک گردش کرتی ہوئی قبل السیاروی طشتری میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا جس کا قطر تقریباًً 200 فلکیاتی اکائیاں (AU) تھا اور جس کے مرکز میں ایک گرم اور کثیف (dense) جنم لیتا ہوا ستارہ تھا۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00371", "text": "تقریباًً 10 کروڑ سال بعد اس سکڑتے ہوئے نیبیولا کے مرکز میں ہائڈروجن کی کثافت اور اس کا دباؤ اتنا ہو گیا کہ یہاں پر مرکزی ائتلاف کا عمل شروع ہو گیا۔ مرکزی ائتلاف کی رفتار اس وقت تک بڑھتی رہی جب تک آبسکونی توازن (hydrostatic equilibrium) حاصل نہیں ہو گیا۔ اس موقع پر مرکزی ائتلاف سے پیدا ہونے والی توانائی/دباؤ کی قوت کشش ثقل کے برابر ہو گئی اور مزید سکڑاؤ کا عمل رک گیا۔ اب سورج ایک مکمل ستارہ بن چکا تھا۔\nبادل کے باقی ماندہ گردوغبار اور گیسوں سے سیاروں کی تشکیل ہوئی۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00372", "text": "سورج\nسورج نظام شمسی کا مرکزی ستارہ اور اس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ کمیت میں زمین کی نسبت 332,946 گنا بڑا ہے۔ اس کی بھاری کمیت اسے اتنی اندرونی کثافت فراہم کرتی ہے جس سے اس کے مرکز میں مرکزی ائتلاف(nuclear fusion) کا عمل ہو سکے۔ مرکزی ائتلاف کے نتیجے میں بہت بڑی مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا زیادہ تر حصہ برقناطیسی لہروں (electromagnetic radiations) اور روشنی کی شکل میں خلا میں بکھر جاتا ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00373", "text": "ویسے تو ماہرین فلکیات سورج کو ایک درمیانی جسامت کا زرد بونا ستارہ شمار کرتے ہیں، لیکن یہ درجہ بندی کچھ گمراہ کن ہے، کیونکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے ستاروں کے مقابلے میں سورج نسبتاً بڑا اور چمکدار ہے۔ ستاروں کی درجہ بندی ہرٹزپرنگ-رسل نقشے(Hertzsprung-Russell diagram) کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس گراف میں ستاروں کی چمک کو ان کے سطحی درجہ حرارت کے مقابل درج (plot) کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر زیادہ گرم ستارے زیادہ چمکدار ہوتے ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00374", "text": "۔ اس عمومی خصوصیت کے حامل ستاروں کو رئیسی متوالیہ (main sequance) ستارے کہتے ہیں اور سورج بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ لیکن سورج سے زیادہ گرم اور چمکدار ستارے بہت کمیاب ہیں جبکہ سورج سے مدھم اور ٹھنڈے ستارے عام ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00375", "text": "سائنسدانوں کا خیال ہے کے اس وقت سورج اپنی زندگی کے عروج پر ہے اور ابھی اس میں جلانے کے لیے بہت ایندھن باقی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی چمک میں اضافہ ہو رہا ہے؛ ابتدا میں سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک کا صرف 75 فیصد تھی۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00376", "text": "سورج میں ہائڈروجن اور ہیلیم کے تناسب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ابھی اپنی عمر کے درمیانی حصے میں ہے۔ وقت کے ساتھ سورج کی جسامت اور چمک میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جائے گا اور رنگت سرخی مائل ہوتی جائے گی۔ تقریباً 5 ارب سال میں سورج ایک سرخ جن (giant) بن جائے گا۔ اس وقت سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو گی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00377", "text": "سورج اول آبادی (population I) کا ستارہ ہے؛ یہ کائناتی ارتقاء کے بہت بعد کے مراحل میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی ساخت میں دوم آبادی (population II) کے ستاروں کی نسبت بھاری عناصر کی مقدار زیادہ ہے۔ ان بھاری عناصر کو فلکیات کی زبان میں دھاتیں کہتے ہیں گو کہ علم کیمیا میں دھات کی تعریف اس سے مختلف ہے۔ ہائڈروجن اور ہیلیم سے بھاری عناصر قدیم پھٹنے والے ستاروں کے مرکز میں بنے تھے؛ اس لیے کائنات میں ان عناصر کی موجودگی کے لیے ستاروں کی پہلی نسل (generation) کا مرنا ضروری تھا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00378", "text": "۔ قدیم ترین ستاروں میں دھاتوں کی بہت کم مقدار پائی جاتی ہے جبکہ نئے ستاروں میں ان کی مقدار زیادہ ہے۔ ماہرین فلکیات کے خیال میں سورج کی اونچی دھاتیت اس کے گرد سیاروں کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم تھی کیونکہ سیارے دھاتوں کے ارتکام (accretion) سے ہی بنے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00379", "text": "اندرونی نظام شمسی\nاندرونی نظام شمسی اس خطے کا روایتی نام ہے جس میں سورج، پہلے چار سیارے اور سیارچے آتے ہیں۔ یہ سیارے اور سیارچے سلیکیٹ اور دھاتوں سے ملکر بنے ہیں اور سورج سے نسبتاً قریب قریب ہیں؛ اس پورے خطے کا رداس مشتری اور زحل کے مابین فاصلے سے بھی کم ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00380", "text": "اندرونی سیارے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00381", "text": "نظام شمسی کے چار پہلے سیارے اپنی ساخت کی بنا پر باقی سیاروں سے مختلف ہیں۔ ان کی سطح عموماً چٹانوں اور اونچا نقطۂ انجماد رکھنے والی معدنیات، مثلاً سلیکیٹ وغیرہ سے بنی ہے۔ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے انتہائی گرم اور نیم مائع مینٹل پایا جاتا ہے اور اس کا بھی غالب جز سلیکیٹ معدنیات ہی ہیں۔ ان کا مرکز لوہے اور نکل کا بنا ہوا ہے۔ چار میں سے تین سیاروں (زہرہ، زمین اور مریخ) میں کرہ ہوائی بھی موجود ہے۔ ان سب پر شہاب ثاقب ٹکرانے کی وجہ سے تصادمی گڑھے بھی پائے جاتے ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00382", "text": "۔ چونکہ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے مائع مینٹل زیر حرکت رہتا ہے، اس لیے ان کا سطحی قرش بھی وقتاً فوقتاً حرکت کرتا ہے۔ قرش کی اس حرکت کے باعث سطح پر آتش فشاں پہاڑ اور کھائیاں جنم لیتی ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00383", "text": "عطارد\nعطارد نظام شمسی کا سب سے چھوٹا (0.055 کمیت ارضی) اور سورج سے قریب ترین (0.4 AU) سیارہ ہے۔ عطارد کا کوئی چاند نہیں اور اس کا معمولی کرہ فضا زیادہ تر ان ایٹموں پر مشتمل ہے جو باد شمسی اس کی سطح پر سے اڑاتی ہے۔\nزہرہ", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00384", "text": "زہرہ حجم میں تقریباً زمین کے برابر ہی ہے(0.815 کمیت ارضی)۔ زمین کی طرح اس کا مرکز بھی فولادی ہے جس کے گرد ایک موٹی مینٹل کی تہ ہے جو سلیکیٹ کی بنی ہے۔ زہرہ پر اچھا خاصا کرہ فضا بھی موجود ہے۔ زہرہ کا موسم خشک اور فضا زمین کی نسبت نوے گنا زیادہ کثیف ہے۔ اس کی سطح پر اندرونی ارضیاتی فاعلیہ (geological activity) کے بہت سے آثار جیسے کہ آتش فشاں پہاڑ اور کہائیاں پائی جاتی ہیں۔ زہرہ کا کوئی بھی چاند نہیں ہے اور پورے نظام شمسی میں یہ سب سے گرم سیارہ ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00385", "text": "۔ اس کی سطح پر درجۂ حرارت اکثر 400 درجۂ صد (centigrade) سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس گرمی کی وجہ غالباً اس کی کثیف فضا اور اس میں موجود دفیئہ یا حبس المکاں (Green House) گیسیں ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00386", "text": "زمین", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00387", "text": "زمین اندرونی سیاروں میں سب سے بڑا اور کثیف سیارہ ہے۔ اندرونی سیاروں میں یہ واحد سیارہ ہے جس پر اب بھی ارضیاتی عمل ہو رہا ہے اور جس پر زندگی پائی جاتی ہے۔ اس کا مائع کرہ آبی تمام سیاروں میں یکتا ہے اور صرف زمین پر ساخت الطبقات (Plate Tectonics) دیکھنے کو ملتی ہیں۔ زمین کی فضا بھی باقی سب سیاروں سے بہت مختلف ہے؛ اس پر موجود جانوروں، پودوں اور خوردہ حیات نے فضا میں %21 فیصد آزاد آکسیجن پیدا کر دی ہے جو کسی اور سیارے پر نہیں پائی جاتی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00388", "text": "۔ زمین کا ایک چاند بھی ہے جو باقی اندرونی سیاروں کے چاندوں سے بڑا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00389", "text": "مریخ\nمریخ زمین اور زہرہ دونوں سے چھوٹا ہے (0.107 کمیت ارضی)۔ اس کی فضا کاربن ڈائی آکسائڈ پر مشتمل ہے۔ اس کی سطح پر بڑی تعداد میں آتش فشاں پہاڑ جیسے اولیمپس مونس اور کھائی نما وادیاں جیسے Valles Marineris پائی جاتی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کے ماضی قریب کے زمانے تک اس پر ارضیاتی فاعلیہ (geological activity) ہوتے رہے ہیں۔ مریخ کے دو بہت ہی چھوٹے چھوٹے چاند (Demios اور Phobos) ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دراصل سیارچے ہیں جو مریخ کے بہت قریب سے گزرتے ہوئے اس کی گرفت میں آ گئے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00390", "text": "سیارچوی پٹی\nمکمل مضمون کے لیے دیکھیے سیارچوی پٹی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00391", "text": "سیارچے عام طور پر چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جو چٹانوں، دھاتوں اور اس طرح کی دوسرے ناقابل تبخیر و تصعید (non-volatile) مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ سیارچوی پٹی مریخ اور مشتری کے درمیان، سورج سے 2.3 سے 3.3 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اجسام نظام شمسی کی تخلیق کے وقت مشتری کی ثقلی مداخلت کے باعث اکٹھے ہو کر ایک سیارہ بننے سے رہ گئے تھے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00392", "text": "سیارچے اپنی جسامت میں خوردبینی ذرات سے لے کر کئی سو کلومیٹر چوڑی دیوہیکل چٹانوں تک ہو سکتے ہیں۔ انتہائی بڑے سیارچوں، جیسے کہ سیرس، کے علاوہ تمام سیارچوں کو چھوٹے اجرام فلکی میں شمار کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں مزید تحقیق کے بعد کچھ اور بڑے سیارچوں، مثلاً 4 ویسٹا اور 10 ہائجیا، کو بھی بونے سیارے قرار دیا جا سکتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00393", "text": "سیارچوی پٹی میں ایسے ہزاروں اور ممکنہ طور پر لاکھوں، اجسام پائے جاتے ہیں جن کا قطر ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ سیارچوں کی پٹی کی کل کمیت زمین کی کمیت کے ہزارویں حصے سے زیادہ ہو۔ پٹی میں سیارچے ایک دوسرے سے کافی دور دور ہیں اور خلائی جہاز عموماً اس خطے سے کسی تصادم کے بغیر آسانی سے گذر جاتے ہیں۔ چھوٹے سیارچے، جن کا قطر 10 میٹر سے لے کر 1 ملی میٹر تک ہو، شہاب ثاقب کہلاتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00394", "text": "سیرس", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00395", "text": "سیرس سیارچوی پٹی کا سب سے بڑا جسم ہے اور اس میں پایا جانے والا واحد بونا سیارہ بھی۔ یہ سورج سے 2.77 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کا قطر 1000 کلومیٹر سے کچھ کم ہے جو اتنی کشش ثقل پیدا کرنے کے لیے کافی ہے جس کے زیر اثر یہ ایک کرے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب سیرس دریافت ہوا تو اسے ایک سیارہ سمجھا گیا لیکن 1850ء میں دوسرے سیارچوں کی دریافت کے بعد اس کا درجہ کم کر کے اسے سیارچوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00396", "text": "۔ 2006ء میں اس کا درجہ دوبارہ تبدیل کر کے اسے بونا سیارہ قرار دیا گیا۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00397", "text": "سیارچوی گروہ\nسیارچوں کو ان کی مداری خصوصیات کی بنا پر گروہوں اور خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیارچہ چاند وہ سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے سے بڑے سیارچوں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ یہ عام سیاروں کے چاندوں کی طرح آسانی سے نہیں پہچانے جا سکتے کیونکہ بعض اوقات اس جسم کے تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں جس کے گرد گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ سیارچوی پٹی میں کچھ دمدار سیارے (main-belt comets) بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اسی طرح کے سیارچوی پٹی کے دمدار سیاروں کی بدولت پہنچا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00398", "text": "وسطی نظام شمسی\nنظام شمسی کے وسطی حصے میں دیو ہیکل گیسی سیارے، ان کے بڑے بڑے چاند اور کم مدت کے دمدار سیارے پائے جاتے ہیں۔ اس حصے کا کوئی روایتی نام نہیں ہے؛ بعض اوقات اسے \"بیرونی نظام شمسی\" کہا جاتا ہے لیکن عصر حاضر میں یہ نام زیادہ تر نیپچون سے پرے کے حصے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00399", "text": "بیرونی سیارے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00400", "text": "سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام مادے میں سے 99 فیصد چار بیرونی سیاروں یا گیسی جنات، میں موجود ہے۔ مشتری کی فضاء زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ یورینس اور نیپچون کی فضاء میں مختلف برفانی مادوں، جیسے کہ پانی، امونیا اور میتھین، کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ ان برفانی مادوں کے باعث کچھ ماہرین فلکیات ان دو سیاروں کو ایک الگ ہی زمرے میں رکھتے ہیں جسے وہ \"یورانی سیارے\" یا \"برفانی جنات\" کہتے ہیں۔ ان چاروں سیاروں کے گرد حلقے ہیں لیکن صرف زحل کے حلقے زمین سے صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00401", "text": "مشتری", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00402", "text": "مشتری نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 318 گنا بھاری ہے اور سورج سے 5.2 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کی ساخت زیادہ تر ہائڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ مشتری کی اندرونی حرارت کی وجہ سے اس کی فضاء میں کچھ تقریباً مستقل خصوصیات پیدا ہو گئی ہیں، جیسے کہ بادلوں کے جمگھٹے اور عظیم سرخ دھبہ۔ مشتری کے تریسٹھ چاند ہیں۔ ان میں سے چار بڑے چاند، گینیمیڈ، کالیسٹو، آئی او اور یورپا بہت سی ایسی خصوصیات کے حامل ہیں جو اندرونی سیاروں میں پائی جاتی ہیں؛ مثلاً آتش فشانی اور اندرونی حرارت", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00403", "text": "۔ گینیمیڈ، جو نظام شمسی میں سب سے بڑا چاند ہے، حجم میں عطارد سے بھی بڑا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00404", "text": "زحل\nنظام شمسی کا چھٹا سیارہ زحل اپنے بکثرت حلقوں کے لیے مشہور ہے۔ زحل سورج سے 9.5 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 95 گنا بھاری ہے۔ یہ اپنی سطح اور فضاء کی ساخت میں مشتری سے کافی مماثلت رکھتا ہے گو کہ اس کی نسبت کافی ہلکا ہے۔ زحل کے چھپن چاند ہیں جن میں سے دو، ٹائیٹن اور انکلاڈس، ارضیاتی فاعلیہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اگرچہ یہ زیادہ تر برف سے بنے ہیں۔ ٹائیٹن حجم میں عطارد سے بھی بڑا ہے اور نظام شمسی کا واحد چاند ہے جس پر خاطر خواہ کرہ فضاء موجود ہے۔\nیورینس", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00405", "text": "یورینس سورج سے 19.6 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 14 گنا بھاری ہے۔ یہ چاروں بیرونی سیاروں میں سے سب سے کم کمیت کا حامل ہے۔ یورینس کی ایک منفرد بات اس کے محور کا اس کے مدار سے انتہائی ترچھا زاویہ ہے۔ اس کا محور سورج کے گرد اس کے مدار سے 98 درجے کا زاویہ بناتا ہے۔ اس منفرد زاویے کی وجہ سے یورینس پر دن اور رات کی تشکیل باقی سب سیاروں کی نسبت بالکل مختلف ہے۔ اس کے قطبین پر بھی یورینسی سال میں ایک بار سورج عین سر پر آجاتا ہے اور لمبے عرصے تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00406", "text": "۔ اس کا مرکز باقی گیسی جنات سیاروں کی نسبت ٹھنڈا ہے اور اس سے بہت کم حرارت خلا میں خارج ہوتی ہے۔ یورینس کے 27 چاند ہیں جن میں سے سب سے بڑے ٹیٹانیہ، اوبیرون، امبریل، ایریل اور میرانڈہ ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00407", "text": "نیپچون", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00408", "text": "نیپچون سورج سے 30 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 17 گنا بھاری ہے۔ یہ حجم میں یورینس سے چھوٹا مگر اس سے زیادہ کثیف ہے۔ یہ یورینس سے زیادہ حرارت بھی خارج کرتا ہے لیکن مشتری اور زحل کی نسبت اس کی حرارت کا اخراج کہیں کم ہے۔ نیپچون کے تیرہ چاند ہیں۔ ان میں سب سے بڑا، ٹرائٹن، ارضیاتی طور پر فعال ہے اور اس پر مائع نائٹروجن کے geysers پائے جاتے ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00409", "text": "۔ ٹرائیٹن نظام شمسی میں واحد بڑا چاند ہے جو اپنے سیارے کے گرد گھڑی وار سمت میں گردش کرتا ہے اور اس وجہ سے ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ نیپچون کا یہ چاند نظام شمسی کی ابتدا سے نیپچون کے گرد گردش نہیں کر رہا بلکہ یہ ایک سیارچہ ہے جو نیپچون کے قریب سے گزرتے ہؤے اس کی گرفت ثقل میں آ گیا ہے۔ نیپچون کے مدار میں کچھ دوسرے چھوٹے سیارے بھی گردش کرتے ہیں جنھیں نیپچون Trojans کہا جاتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00410", "text": "دم دار سیارے\nمکمل مضمون کے لیے دیکھیے دم دار سیارے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00411", "text": "دم دار سیارے چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جن کا قطر عموماً چند کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ مختلف قسم کے منجمد مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ ان کے مدار انتہائی بیضوی ہوتے ہیں؛ عموماً ان کا حضیض (perihelion) اندرونی سیاروں کے مداروں کے اندر ہوتا ہے اور ان کا", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00412", "text": "edabہوتا ہے۔ جب کوئی دم دار سیارہ اندرونی نظام شمسی کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو سورج کی حدت کے باعث اس کی سطح پر تصعید اور آئن سازی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بخارات اور ذرات دم دار سیارے سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور گرد اور بخارات پر مشتمل ایک لمبی سی دم بناتے ہیں جو برہنہ آنکھ سے بھی دکھائی دیتی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00413", "text": "کم دورانیہ/عرصہ مدت والے دم دار سیارے ہر دو سو سال یا اس سے بھی کم عرصے میں نمودار ہوتے ہیں جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے ہزاروں سال میں ایک بار دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم دورانیے والے سیارے، جیسے ہیلی کا دم دار سیارہ، کوئپر بیلٹ سے آتے ہیں، جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے، جیسے ہیل-باپ، اورٹ بادل سے آتے ہیں۔ دم دار سیاررں کے گروہ، جیسے کہ Kreutz Sungrazers، ایک سیارے کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00414", "text": "۔ کچھ انتہائی لمبے دورانیے کے سیاروں کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نظام شمسی کے باہر سے آتے ہیں، لیکن ان کے مداروں کا درست تعین مشکل ہے اس لیے یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ بعض پرانے دم دار سیارے بارہا سورج کے قریب سے گزرنے کے باعث اپنے منجمد مادے کھو چکے ہیں اور صرف ان کا چٹانی مرکز باقی بچا ہے۔ انھیں اکثر سیارچوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00415", "text": "عَبر نیپچون خطہ (Trans-Neptunian region)\nنیپچون سے پرے کا خطہ، جسے اکثر بیرونی نظام شمسی یا خطہ ماورا النیپچون بھی کہا جاتا ہے، زیادہ تر unexplored ہے۔ بظاہر یہ خطہ صرف برف اور چٹانی مادوں سے بنے چھوٹے اجسام پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ اس خطے میں اب تک دریافت شدہ اجسام میں سب سے بڑا جسم قطر میں زمین سے پانچ گنا چھوٹا اور کمیت میں ہمارے چاند سے بھی بہت کم ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00416", "text": "کوئپر پٹی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00417", "text": "کوئپر پٹی، جو اس خطے کے شروع میں واقع ہے، سیارچوی پٹی کی طرح گردوغبار اور ملبے کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے، لیکن سیارچوی پٹی کے برعکس یہ زیادہ تر برف پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ سورج سے 30 سے 50 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ کم مدت کے دمدار سیاروں، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، کا منبع خیال کیا جاتا ہے۔ اس پٹی کے بیشتر اجسام نظام شمسی کے چھوٹے اجسام کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان میں سے بعض بڑے اجسام، جیسے کواوار ،وارونا اور سیڈنا، کو مستقبل میں بونے سیارے بھی قرار دیا جا سکتا ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00418", "text": "۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق کوئپر پٹی میں 50 کلومیٹر سے زیادہ قطر والے ایک لاکھ سے زیادہ اجسام موجود ہیں، لیکن ان کے خیال میں اس پٹی کی مجموعی کمیت زمین کی کمیت کے دسویں یا ایک سویں حصے کے برابر ہے۔ اس پٹی کے اکثر اجسام کے ایک سے زیادہ چاند ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00419", "text": "کوئپر پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ روایتی پٹی اور گمگی پٹی (resonant belt)۔ گمگی پٹی کے اجسام نیپچون سے ایک گمگی رشتہ (resonance relationship) میں جڑے ہوئے ہیں؛ یعنی سورج کے گرد ان کی گردش کا وقت دوران نپچون کی کشش ثقل کے زیر اثر ہے۔ نیپچون کے اپنے مدار میں ہر تین چکر پورا کرنے پر یہ اجسام سورج کے گرد اپنے دو چکر پورے کرتے ہیں یا پھر اس کے ہر دو چکروں کے مقابلے میں ایک۔ گمگی پٹی نیپچون کے مدار کے اندر ہی سے شروع ہوتی ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00420", "text": "۔ روایتی پٹی کے اجسام کا نیپچون کی گردش دوران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پٹی تقریباًً 39.4 سے 47.7 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک پھیلی ہوئی ہے۔ روایتی پٹی کے اجسام کو کیوبیوانوز (cubewanos) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عجیب سا نام دراصل اس پٹی کے سب سے پہلے دریافت ہونے والے جسم کیو بی ون (QB1) کے نام پر رکھا گیا ہے جو 1992ء میں دریافت ہوا تھا۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00421", "text": "پلوٹو اور کیرون", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00422", "text": "پلوٹو جس کا سورج سے اوسط فاصلہ 39 فلکیاتی اکائیاں (AU) ہے، ایک بونا سیارہ اور کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم ہے۔ جب 1930 میں یہ دریافت ہوا تو اسے نظام شمسی کا نواں سیارہ گردانا گیا اور اس کی یہ حیثیت 2006ء میں بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد کی جانب سے سیارے کی ایک نئی تعریف پیش کیے جانے تک برقرار رہی۔ پلوٹو کا مدار کافی بیضوی اور ترچھا ہے؛ زمین کے مدار کے اس کا زاویہ 17 درجے ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00423", "text": "۔ اپنے اوج (aphelion) پر یہ سورج سے 49.5 فلکیاتی اکائیاں (AU) دور چلا جاتا ہے جبکہ اپنے حضیض (perihelion) پر سورج سے اس کا فاصلہ صرف 29.7 فلکیاتی اکائیاں (AU) رہ جاتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00424", "text": "کیرون پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ماہرین فلکیات کیرون کی درجہ بندی تبدیل کرکے اسے بھی بونا سیارہ قرار دے دیں۔ کیرون دراصل پلوٹو کے گرد گردش نہیں کرتا بلکہ یہ دونوں اجسام اپنے درمیان خلا میں ایک ثقلی نقطہ توازن کے گرد گردش کرتے ہیں اور جڑواں سیارے محسوس ہوتے ہیں۔ دو بہت چھوٹے چھوٹے سے چاند، نکس اور ہائڈرا، ان دونوں کے گرد گردش کرتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00425", "text": "پلوٹو گمگی پٹی (resonant belt) میں واقع ہے اور نیپچون کے اپنے مدار میں ہر تین چکر پورے کرنے پر یہ اپنے دو چکر پورے کرتا ہے۔ کوئپر پٹی کے وہ اجسام جو نیپچون کے ساتھ اسی تناسب میں سورج کے گرد گردش کرتے ہیں،پلوٹو کی مناسبت سے پلوٹینوز (plutinos) بھی کہلاتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00426", "text": "منتشر طشتری", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00427", "text": "منتشر طشتری کوئپر پٹی سے overlap کرتی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ منتشر طشتری کے اجسام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کے یہ دراصل کوئپر پٹی سے ہی آئے ہیں اور نیپچون کی ابتدائی زندگی میں جب اس کا مدار سورج سے دور جا رہا تھا تو اس کی کشش ثقل کے زیر اثر یہ اجسام بے ترتیب مداروں میں چلے گئے۔ زیادہ تر منتشر طشتری کے اجسام کا حضیض (perihelion) کوئپر پٹی کے اندر واقع ہے، جبکہ ان کے اوج (aphelion) کا سورج سے فاصلہ 150 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00428", "text": "۔ ان کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویہ بناتے ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار کے عموداً (90 درجے کے زاویہ پر) واقع ہیں۔ بعض فلکیات دان منتشر طشتری کو کوئپر پٹی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں اور اسے \"کوئپر پٹی کے منتشر اجسام\" کا نام دیتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00429", "text": "ارس", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00430", "text": "ارس منتشر طشتری کا سب سے بڑا معلوم جسم ہے۔ یہ سورج سے 68 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے اور پلوٹو سے کم از کم 5 فیصد بڑا ہے۔ اس کے قطر کا اندازہ 2,400 کلومیٹر یا 1500 میل ہے۔ ارس ماہرین فلکیات کے مابین اکثر بحث و مباحثے کی وجہ رہا ہے کیونکہ 2006 تک پلوٹو کو اس سے چھوٹا ہونے کے باوجود سیارے کا درجہ حاصل تھا جبکہ یہ اس اعزاز سے محروم تھا۔ اس کا ایک چاند ہے؛ ڈسنومیا۔ پلوٹو کی طرح اس کا مدار بھی بہت بیضوی ہے؛ اس کا حضیض (perihelion)", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00431", "text": "۔ 38.2 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے جو تقریباً پلوٹو کے سورج سے اوسط فاصلے کے برابر ہے اور اس کا اوج (aphelion)۔ 97.6 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کا مدار زمین کے مدار سے بہت ترچھا بھی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00432", "text": "خطہ ہائے بعید\nوہ نقطہ جہاں پر نظام شمسی ختم ہوتا ہے اور بین النجمی خلا (interstellar space) شروع ہوتی ہے کچھ ٹھیک طرح سے متعین نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ حد دو مختلف قوتیں طے کرتی ہیں: باد شمسی اور سورج کی کشش ثقل۔ باد شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پلوٹو کے مدار کے چار گنا فاصلے پر ختم ہو جاتی ہے لیکن سورج کی کشش ثقل اس سے ہزار گنا فاصلے پر بھی اثر رکھتی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00433", "text": "سکون شمسی", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00434", "text": "کرہ شمسی (heliosphere) کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ باد شمسی اپنی پوری رفتار سے تقریباً 95 فلکیاتی اکائیوں (AU) یا پلوٹو کے مدار سے تین گنا فاصلے تک، جاتی ہے۔ یہاں اس کا تصادم مخالف سمت سے آنے والی بین النجمی واسطے کی ہواؤں سے ہوتا ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں بادشمسی کی رفتار میں کمی آتی ہے، اس کے کثافت بڑھ جاتی ہے اور یہ مزید بے سکون (turbulent) ہو جاتی ہے۔ اس مقام تک کرہ شمسی ایک درست کرے کی شکل کا ہے لیکن اس سے آگے یہ ایک بیضے کی شکل کا ہو جاتا ہے جسے شمسی نیام (heliosheath) کہتے ہیں", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00435", "text": "۔ شمسی نیام کی شکل اور طرز عمل دونوں ایک دمدار سیارے کی دم کی طرح ہیں؛ یہ اس مقام سے کہکشاں میں سورج کی حرکت کی سمت میں تقریباً 40 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک جاتی ہے لیکن اس سے مخالف سمت میں اس سے کئی گنا زیادہ فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے۔ سکون شمسی، جو کرہ شمسی کی بیرونی حد ہے، وہ نقطہ ہے جہاں باد شمسی مکمل طور پر رک جاتی ہے اور بین النجمی خلا کا آغاز ہوتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00436", "text": "آج تک کوئی خلائی جہاز سکون شمسی سے آگے نہیں گیا اس لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ اس سے آگے خلا میں کیا حالات ہیں۔ یہ بھی بخوبی معلوم نہیں کہ کرہ شمسی نظام شمسی کو نقصان دہ کائناتی اشعاع (cosmic rays) سے کس حد تک بچاتا ہے۔ کرہ شمسی سے باہر کے حالات معلوم کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم زیر غور ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00437", "text": "اورت بادل", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00438", "text": "نظریاتی (hypothetical) اورت بادل کھربوں برفانی اجسام کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے جو نظام شمسی کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ یہ سورج سے 50,000 سے 100,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے اور خیال کیا جاتا ہے لمبے وقت دوران کے دمدار سیارے یہیں سے آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے زیادہ تر اجسام دمدار سیارے ہیں جو اندرونی نظام شمسی سے بیرونی سیاروں کی کشش ثقل کے باعث خارج ہو گئے تھے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00439", "text": "۔ اورت بادل کے اجسام بہت آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں اور ان کی حرکت میں کبھی کبھار ہونے والے واقعات جیسے کہ دوسرے اجسام سے تصادم، کسی گزرتے ہوئے ستارے کی کشش ثقل یا کہکشاں کے مدوجذر، آسانی سے خلل پیدا کر سکتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00440", "text": "سیڈنا اور اندرونی اورت بادل", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00441", "text": "90377 سیڈنا (Sedna) ایک سرخی مائل پلوٹو کی طرح کا جسم ہے جو سورج کے گرد ایک انتہائی بڑے مدار میں گردش کر رہا ہے۔ اس کا مدار انتہائی بیضوی ہے؛ اپنے حضیض (perihelion) پر یہ سورج سے 76 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہوتا ہے لیکن اپنے اوج (aphelion) پر سورج سے 928 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر چلا جاتا ہے۔ اسے سورج کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں 12,050 سال کا عرصہ لگتا ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00442", "text": "۔ مائک براؤن (Mike Brown)، جس نے سیڈنا کو 2003 میں دریافت کیا تھا، کا خیال ہے کہ سیڈنا کوئپر پٹی یا منتشر طشتری کا حصہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا اوج، نیپچون کی ہجرت کے زیر اثر آنے کے لحاظ سے بہت زیادہ فاصلے پر ہے۔ وہ اور کچھ دوسرے ماہرین فلکیات سیڈنا کو ایک بالکل الگ گروہ کا حصہ خیال کرتے ہیں جسے وہ \"اندرونی اورت بادل\" کا نام دیتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00443", "text": "غالب امکان یہ ہے کہ سیڈنا ایک بونا سیارہ ہے لیکن ابھی اس کی شکل وثوق سے معلوم نہیں ہو سکی ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00444", "text": "حدود", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00445", "text": "نظام شمسی کا ایک بڑا حصہ اب بھی نا معلوم ہے۔ سورج کی کشش ثقل کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ 2 نوری سال یا 125,000 فلکیاتی اکائیوں (AU)، کے فاصلے تک دوسرے ستاروں کی کشش ثقل پر حاوی ہے۔ اس کے مقابلے میں اورت بادل ممکنہ طور پر صرف 50,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔ سیڈنا جیسے اجسام کی دریافت کے باوجود کوئپر پٹی اور اورت بادل کے درمیان کا خطہ، جس کا رداس ہزاروں فلکیاتی اکائیوں پر محیط ہے، زیادہ تر غیر مرسوم (uncharted) ہے", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00446", "text": "۔ سورج اور عطارد کے درمیانی خطے پر بھی ابھی تحقیقات جاری ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00447", "text": "نظام شمسی کے غیر مرسوم حصوں میں نئے اجسام کی دریافت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00448", "text": "کہکشاں میں محل وقوع\nنظام شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے اس کا نام جادہ شیر (Milky Way) ہے۔ یہ ایک barred spiral کہکشاں ہے۔ اس کا قطر ایک لاکھ نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں 2 کھرب ستارے موجود ہیں۔\nہمارا سورج اس کہکشاں کے بیرونی بازؤں میں سے ایک اورائن بازو یا مقامی spur میں موجود ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00449", "text": "سورج سے ہماری کہکشاں کا مرکز تقریباً 25,000 سے 28,000 نوری سال کی دوری پر ہے اور یہ کہکشاں کے مرکز کے گرد تقریباً 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ اس رفتار سے اسے ایک چکر پورا کرنے میں اندازہً 22.5 سے 25 کروڑ سال لگتے ہیں۔ اس چکر کو نظام شمسی کا کہکشانی سال (galactic year) بھی کہتے ہیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00450", "text": "ماہرین کے خیال میں سورج کے اس محل وقوع کا زمین پر زندگی کے ارتقا میں بہت اہم کردار ہے۔ سورج کا مدار تقریباً دائروی ہے اور یہ اسی رفتار سے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردش کر رہا ہے جس رفتار سے کہکشاں کے بازو گردش کرتے ہیں۔ رفتار کی اس یکسانی کے باعث سورج ان بازؤں میں سے کبھی کبھار ہی گزرتا ہے۔ چونکہ ان بازؤں میں خطرناک سپر نووا کی کافی کثرت پائی جاتی ہے، سورج کا ان میں سے نہ گذرنا زمین کو ان خطرناک اثرات سے نسبتاً محفوظ رکھتا ہے اور زندگی کو ارتقا کا موقع فراہم کرتا ہے۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00451", "text": "سورج ستاروں کی گنجان آبادی والے مرکزی خطے سے بھی کافی فاصلے پر ہے۔ اگر سورج مرکز کے قریب واقع ہوتا تو دوسرے ستاروں کے قریب ہونے کے باعث ان کی کشش ثقل اورت بادل کے اجسام کو مسلسل ان کے مداروں سے ہٹا کر اندرونی نظام شمسی کی جانب بھیجتی رہتی۔ ان میں سے بہت سے اجسام زمین سے ٹکرا کر زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے۔ کہکشاں کے مرکز سے آنے والی برقناطیسی لہریں پیچیدہ جانداروں کے ارتقا میں خلل انداز بھی ہو سکتی تھیں۔", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00452", "text": "مزید دیکھیے\nاسکیپ ولاسٹی\nخلائی ملبہ\nاسپیکٹرل لائن\nسفید بونا\nمریخ کی آب و ہوا\nانسان کے چاند پر اترنے سے متعلق اختلافی نظریات\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "نظام شمسی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85_%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_00453", "text": "زمین سورج سے تیسرا سیارہ ہے اور واحد فلکیاتی جسم ہے جس پر زندگی موجود ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہے کہ زمین ایک سمندری دنیا ہے، جو نظام شمسی میں واحد ہے جو مائع سطحی پانی کو برقرار رکھتی ہے۔ زمین کے تقریباً تمام پانی اس کے عالمی سمندر میں موجود ہیں، جو زمین کی سطح کے 70.8% حصے کو ڈھانپتے ہیں۔ باقی 29.2% زمین کی سطح خشکی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ براعظمی خشک رقبہ کی شکل میں زمین کے نصف کرہ میں پایا جاتا ہے", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00454", "text": "۔ زمین کی زیادہ تر خشکی قدرے نم ہے اور نباتات سے ڈھکی ہوئی ہے، جبکہ زمین کے قطبی صحراؤں میں برف کی بڑی تہیں زمین کے زیرِ زمین پانی، جھیلوں، دریاؤں اور فضائی پانی سے زیادہ پانی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ زمین کی سطح آہستہ آہستہ حرکت کرنے والی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہے، جو پہاڑی سلسلے، آتش فشاں اور زلزلے پیدا کرنے کے لیے آپس میں تعامل کرتی ہیں۔ زمین کا ایک مائع بیرونی کور ہے جو ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے جو زیادہ تر تباہ کن شمسی ہواؤں اور کائناتی تابکاری کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے.", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00455", "text": "آبادی\nزمین کی انسانی آبادی سات ارب ساٹھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور انسان اس پر ہمہ وقت جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00456", "text": "تاریخ وار ترتیب\nنظام شمسی میں پائے جانے والے قدیم ترین مواد کی تاریخ 4.5672±0.0006 بلین سال قدیم ہے۔ آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی،", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00457", "text": "زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00458", "text": "پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پزیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک (self replicating) سالمہ (molecule) تقریباً 4 ارب سال قبل وجود میں آیا اور اس کے تقریباً 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00459", "text": "ضیائی تالیف کے ارتقا کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون (ozone) میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں ادغام سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں (eukaryotes) کہا جاتا ہے", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00460", "text": "۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لیے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقا ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون (ozone) نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00461", "text": "زمین کی عمر", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00462", "text": "اگرچہ کائنات کی عمر کے بارے میں سائنس دان متفق نہیں ہیں، تاہم زمین کی عمر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آج سے پانچ ارب سال پہلے گیس اور غبار کا ایک وسیع و عریض بادل کشش ثقل کے انہدام کے باعث ٹکروں میں تقسیم ہو گیا سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00463", "text": "۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے۔ سورج میں سارے نظام شمسی کا 99% فیصد مادہ مجتمع ہے۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے۔ باقی ماندہ ایک فی صدی سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہے بنے۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00464", "text": "نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے ایٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا اور ایٹمی دھماکے شروع ہوئے، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے، جن سے شدید حرارت پیدا ہوئی۔ زمین میں بھی انھی اصولوںکے تحت حرارت پیدا ہوئی۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00465", "text": "۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہو گئی۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00466", "text": "ارضیاتی تاریخ\nساخت اور ڈھانچہ\nزمین قطبین پر شلجم کی طرح تقریباً چپٹی گول شکل میں ہے۔ زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استوا کے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے اور اس کے قطبین یا پولز قدرے چپٹے ہیں۔ ان مرکز گریز اثرات ہی کی وجہ سے زمین کے اندرونی مرکز سے سطح کا فاصلہ خط استوا کے مقابلے میں قطبین پر 33 فیصد کم ہے۔ یعنی مرکز سے جتنا فاصلہ خط استوا کے مقامات پر زمین کی سطح تک ہے مرکز سے قطبین کی سطح کا فاصلہ اس سے لگ بھگ ایک تہائی کم ہے۔", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00467", "text": "کیمیائی ساخت\nحوالہ جات\nحواشی\nمزید دیکھیے\nکرہ ارض", "title": "زمین", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00468", "text": "یہ مقالہ زمین کے چاند کے متعلق ہے، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: قدرتی سیارچہ", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00469", "text": "چاند یا ماه ہماری زمین کا ایک سیارچہ ہے۔ زمین سے کوئی دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اس کا قطر 2163 میل ہے۔ چاند کے متعلق ابتدائی تحقیقات گلیلیو نے 1609ء میں کیں۔ اس نے بتایا کہ چاند ہماری زمین کی طرح ایک کرہ ہے۔ اس نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چاند پر پہاڑ اور آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے موجود ہیں۔ اس میں نہ ہوا ہے نہ پانی۔ جن کے نہ ہونے کے باعث چاند پر زندگی کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔ یہ بات انسان بردار جہازوں کے ذریعے ثابت ہو چکی ہے۔ دن کے وقت اس میں سخت گرمی ہوتی ہے اور رات سرد ہوتی ہے", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00470", "text": "۔ یہ اختلاف ایک گھنٹے کے اندر واقع ہو جاتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00471", "text": "چاند کا دن ہمارے پندرہ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ زمین کے گرد 29 یا 30 دن میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔ چاند کا مدار زمین کے اردگرد بڑھ رہا ہے یعنی اوسط فاصلہ زمین سے بڑھ رہا ہے۔ قمری اور اسلامی مہینے اسی کے طلوع و غروب سے مرتب ہوتے ہیں۔ چاند ہمیں رات کو صرف تھوڑی روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی کشش سے سمندر میں مد و جزر بھی پیدا ہوتا ہے۔ سائنس دان وہاں سے لائی گئی مٹی سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چاند کی ارضیات زمین کی ارضیات کے مقابلے میں زیادہ سادہ ہے۔ نیز چاند کی پرت تقریباً میل موٹی ہے", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00472", "text": "۔ نیز چاند کی پرت تقریباً میل موٹی ہے۔ اور یہ ایک نایاب پتھر اناستھرو سائٹ سے مل کر بنی ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00473", "text": "ابتدا\nچاند کی ہییت کے متعلق مختلف نظریات ہیں، ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایک سیارہ تھا جو چلتے چلتے زمین کے قریب بھٹک آیا اور زمیں کی کشش ثقل نے اسے اپنے مدار میں ڈال لیا۔ یہ نظریہ خاصہ مقبول رہا ہے، مگر سائنسدانوں نے اعتراض کیا ہے کہ ایسا ممکن ہونے کے لیے چاند کو ایک خاص سمتار سے زمین کے قریب ایک خاص راستے (trajectory) پر آنا ضروری ہو گا، جس کا امکان بہت ہی کم ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00474", "text": "موجودہ دور میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 4.6 بلین سال پہلے ایک دمدار ستارہ زور دار دھماکے سے زمین سے ٹکرایا، جس سے دمدارستارہ اور زمین کا بہت سا مادہ تبخیر ہو کر زمین سے نکل گیا۔ آہستہ آہستہ یہ مادہ زمین کے مدار میں گردش کرتے ہوئے اکٹھا ہو کر چاند بن گیا۔ پانی اور ایسے عناصر جو آسانی سے اُڑ سکتے تھے نکل گئے اور باقی عنصر چاند کا حصہ بنے۔ اس نظریہ کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ چاند کی کثافت زمین کی اوپر والی مٹی کی پٹیوں کی کثافت کے تقریباً برابر ہے اور اس میں لوہا کی مقدار بہت کم ہے", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00475", "text": "۔ کیونکہ دمدارستارے کا آہنی حصہ زمین میں دھنس گیا تھا جو زمین کا آہنی گودا بنا۔ کمپیوٹر پر تخروپن سے اس نظریہ کو تقویت ملی ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00476", "text": "چاند کی تسخیر\n20 جولائی 1969ء کو نیل آرم سٹرانگ وہ پہلے انسان تھے جس کے قدم چاند پر پڑے۔\nچاند کی حقیقت سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ عام نظریہ یہ ہے کہ یہ زمین سے جدا ہوا ہے۔ چاند پر ہوا اور پانی نہیں ہے۔ اور نہ وہاں سبزہ وغیرہ ہے۔ چاند پر سب سے پہلے اپالو 2 اتارا گیا تھا۔ اس کی سر زمین سے جو نمونے اکھٹے کیے گئے ان کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کی ان میں کثیر مقدار میں لوہا، ٹیٹانیم، کرومیم اور دوسری بھاری دھاتیں پائی جاتی ہیں۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00477", "text": "چاند پر کالونی\nامریکا 2025ء تک چاند کے جنوبی قطب پر جانے کا ارادہ رکھتا ہے جہاں ایک کالونی کے قیام کا ارادہ ہے۔ ناسا کے مطابق اس کا مقصد نظامِ شمسی کے بارے میں دریافتوں کی غرض سے مزید انسان بردار مشن روانہ کرنا ہے۔ 1972ء کے بعد یہ کسی انسان کو چاند کی سطح پر بھیجنے کا پہلا منصوبہ ہے۔ قومی ہوائی و خلائی انتظامیہ (ناسا) نے کہا ہے کہ یہ طویل المدتی منصوبہ دنیا کے 14 خلائی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00478", "text": "رضوان احمد حقانی کے مطابق \" اس بار چاند پر جانے کا تجربہ زیادہ دلچسپ اس لیے ہوگا کہ گذشتہ پانچ دہائیوں کے بنسبت انسان بہت ترقی کرچکا ہے اب جدید کیمروں کی موجودگی میں انسان کا چاند پر قدم رکھنا مزید دلچسپ ہوگا اور تحقیق و جستجو کے میدان میں مزید ترقی ہوگی", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00479", "text": "کر\n\nکشش ثقل\nاس کی کشش ثقل gravitational force زمین کی نسبت چھ گنا کم ہے۔ چودہ دنوں میں سورج اس پر چمکتا ہے تو اس کا درجہ حرارت 120 ڈگری فارن ہائیٹ پر جا پہنچتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00480", "text": "چاند زمین سے", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00481", "text": "زمین سے ہمیں ہمیشہ چاند کا ایک ہی رخ نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی محوری گردش اور چاند کے زمین کے اردگرد گردش کا دورانیہ ایک ہی ہے۔ ہمیں زمین سے کسی ایک وقت میں چاند کا تقریباًً 41 فی صد حصہ نظر آتا ہے اگر چاند پورا ہو۔ مگر یہ حصہ کچھ بدلتا ہے اور ہم مختلف اوقات میں چاند کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ملاحظہ کر سکتے ہیں جو 59 فی صد بنتا ہے مگر ایک وقت میں 41 فی صد سے زیادہ نظر نہیں آ سکتا۔ زمین سے چاند کا اوسط فاصلہ 385000 کلومیٹر ہے جو افزائشِ مدوجزری کی وجہ سے بڑھ رہا ہے", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00482", "text": "۔ اگر زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو جزوی یا مکمل چاند گرہن لگتا ہے۔ اس وقت چاند سیاہ یا سرخی مائل نظر آتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00483", "text": "اگر چاند سے زمین کو دیکھا جائے تو زمین ہمیشہ آسمان میں ایک ہی جگہ نظر آتی ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00484", "text": "چاند کا البیڈو اور حقیقی رنگ", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00485", "text": "چاند کی شکل اس کی عکاسی کی خصوصیات اور سطح کی ترکیب پر منحصر ہے۔ چاند کا البیڈو تقریباً 0.12 ہے، جو پرانے اسفالٹ کے برابر ہے۔ لہذا، اگرچہ یہ رات کے آسمان میں روشن دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں یہ نسبتاً تاریک ہے۔ یہ کم البیڈو چاند کے ریگولیٹھ کی وجہ سے ہے، جو باریک پتھروں کے ٹکڑوں کی ایک پرت ہے جو سیارچوں کے ٹکرانے سے بنی ہے۔ ریگولیٹھ میں روشنی کا پھیلاؤ \"اوپوزیشن سرج\" کے مظہر کو پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے چاند پورے چاند کی حالت میں چوتھائی مرحلوں کے مقابلے میں زیادہ روشن نظر آتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00486", "text": "چاند کا حقیقی رنگ، بغیر فضائی اثرات کے، ہلکا بھورا-سرمئی ہے۔ یہ ریگولیٹھ میں موجود سلیکیٹ معدنیات کی وجہ سے ہے، جس میں گہرے بیسلٹ میدانی علاقے (ماریا) اور ہلکے فیلڈسپار سے بھرپور اونچے علاقے شامل ہیں۔ ماریا، جو قدیم آتش فشانی بہاؤ سے بنی ہیں، میں زیادہ لوہا اور ٹائٹینیم ہوتا ہے، جو انھیں زیادہ گہرا رنگ دیتا ہے۔ زمین سے دیکھنے پر، چاند کا رنگ فضا کی وجہ سے بدل سکتا ہے، پورے چاند کے گرہن کے دوران سرخ یا کبھی کبھار آتش فشانی ذرات کی وجہ سے نیلا دکھائی دے سکتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00487", "text": "چاند میں ریٹرو-ریفلیکشن بھی موجود ہے، جو روشنی کو اس کے ماخذ کی طرف واپس پھینکتا ہے اور پوری ڈسک پر یکساں روشنی پیدا کرتا ہے بغیر کسی اہم کنارے کی تاریکی کے۔ اس کا ظاہر ہونے والا سائز اور روشنی اس کے بیضوی مدار کی وجہ سے بدلتی رہتی ہے، قریب ترین نقطہ (پیریجی) پر یہ دورترین نقطہ (اپوجی) کے مقابلے میں 30٪ زیادہ روشن اور 14٪ بڑا دکھائی دیتا ہے، اس مظہر کو \"سپر مون\" کہا جاتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00488", "text": "کبھی کبھار چاند سرخ یا نیلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پورے چاند کے گرہن کے دوران سرخ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ سورج کی سرخ روشنی زمین کی فضا سے چاند پر مڑ جاتی ہے۔ اس سرخ رنگ کی وجہ سے، چاند کے گرہن کو کبھی کبھار بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔ چاند کم زاویہ پر اور گھنی فضا کے ذریعے بھی سرخ دکھائی دے سکتا ہے۔\nچاند نیلا بھی دکھائی دے سکتا ہے، اگر ہوا میں کچھ مخصوص ذرات موجود ہوں، جیسے آتش فشانی ذرات، اس صورت میں اسے بلیو مون کہا جاتا ہے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00489", "text": "کیونکہ الفاظ \"ریڈ مون\" اور \"بلیو مون\" کبھی کبھار سال کے مخصوص پورے چاند کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہمیشہ سرخ یا نیلی چاندنی کی موجودگی کو ظاہر نہیں کرتے۔", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00490", "text": "مزید دیکھیے\nچاند کا مدار\nافزائش مدوجزری\nچاند کے ادوار\n\nمزید دیکھیے\nکیا انسان کبھی چاند پر اترا؟\n\nرویت ہلال\n\nحوالہ جات\nبیرونی روابط\nعلم الخلاء علم الہیئت، حیاتیات خلا (حیاتیات الفلک)، کم ثقلی (حالت بے وزنی)، سفر بین السیارہ، صاروخ (پرتابہ)", "title": "چاند", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00491", "text": "مشرق اور مغرب کی کائنات میں سپر کلسٹروں میں سے ایک کلسٹر کی ذیلی کہکشاں ملکی وے اور نظام شمسی کا ایک روشن ستارہ سورج، شمس یا خورشید ہے۔ جس کو انگریزی میں(Sun) کہتے ہیں۔ جبکہ ملکی وے میں ایسے بے شمار سورج موجود ہے میں یہ کہکشاں ایک لاکھ نوری سال پر محیط ہے۔ سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ستارہ ہے۔ زمین، دیگر سیارے، سیارچے اور دوسرے اجسام سورج ہی کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سورج کی حجم نظام شمسی کی کل کمیت کا تقریباً 99.86% ہے۔ ۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00492", "text": "سورج کا زمین سے اوسط فاصلہ تقریباً 14,95,98,000 کلومیٹر ہے اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ سال بھر یکساں نہیں رہتا۔ 3 جنوری کو یہ فاصلہ سب سے کم تقریباً 14,71,00,000 کلومیٹر اور 4 جولائی کو سب سے زیادہ تقریباً 15,21,00,000 کلومیٹر ہوتا ہے۔ دھوپ کی شکل میں سورج سے آنے والی توانائی ضیائی تالیف کے ذریعے زمین پر تمام حیات کو خوراک فراہم کرتی ہے اور زمین پر موسموں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00493", "text": "بناوٹ\nسورج کی سطح بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنی ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً 74% بلحاظ کمیت یا 92% بلحاظ حجم اور ہیلیم کا تناسب تقریباً %24 بلحاظ کمیت یا %7 بلحاظ حجم ہے ۔\nاس کے علاوہ دوسرے عناصر جیسے لوہا، نکل، آکسیجن، سیلیکان، سلفر، میگنیشیم، کاربن، نیون، کیلشیم اور کرومیم\nمعمولی مقدار میں موجود ہیں۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00494", "text": "خصوصیات", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00495", "text": "نجمی جماعت بندی میں سورج کا درجہ G2V ہے۔ G2 کا مطلب ہے کہ اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 5,780 کیلون (5,510 درجہ صد) ہے۔ سورج کا رنگ سفید ہے جو بالائی فضاء میں روشنی کے انتشار کے باعث زمین سے اکثر زردی مائل نظر آتا ہے۔ یہ روشنی کی کچھ طول موجوں کو منہا کرنے والا اثر ہے جس کے تحت روشنی میں سے چھوٹی طول موجیں، جن میں نیلی اور بنفشی روشنی شامل ہیں، نکل جاتی ہیں۔ باقی ماندہ طول موجیں انسانی آنکھ کو زردی مائل دکھائی دیتی ہیں۔ آسمان کا نیلا رنگ اسی الگ ہونے والی نیلی روشنی کے باعث ہے", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00496", "text": "۔ سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت جب سورج آسمان پر نیچا ہوتا ہے، تو روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لیے اور بھی زیادہ ہوا میں سے گذرنا پڑتا ہے جس کے باعث یہ اثر اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے اور سورج ہمیں نارنجی اور کبھی سرخ تک نظر آتا ہے ۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00497", "text": "سورج کے طیف میں سادہ اور تائین شدہ دھاتوں کی لکیریں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلیئم اور ہائیڈروجن کی کمزور لکیریں بھی موجود ہیں۔ اس کی درجہ بندی میں V اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ستاروں کی اکثریت کی طرح سورج بھی ایک main sequence ستارہ ہے۔ یہ ستارے اپنی زیادہ تر توانائی ہائیڈروجن کے نویاتی ائتلاف (فیوزن) سے پیدا کرتے ہیں جس سے ہیلیم کے نویے (مرکزے) پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری کہکشاں میں G2 جماعت کے تقریباً 10 کروڑ ستارے ہیں", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00498", "text": "۔ سورج کو پہلے ایک چھوٹا اور غیر اہم ستارہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ سورج ہمارے کہکشاں جادہ شیر کے 85% ستاروں سے، جن میں بیشتر سرخ بونے ہیں، زیادہ روشن ہے ۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00499", "text": "سورج کہکشاں جادہ شیر کے مرکز کے گرد تقریباً 24000–26000 نوری سال کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ یہ Cygnus جھرمٹ کی سمت میں گردش کر رہا ہے اور 22.5–25.0 کروڑ سالوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ اس دورانیے کو ایک کہکشائی سال کہتے ہیں۔ اس کی دوری رفتار (orbital speed) تقریباً 220±20 [[کلومیٹر فی سیکنڈ]] خیال کی جاتی تھی لیکن ایک نئے اندازے کے مطابق 251 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے ۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00500", "text": "اس طرح سورج تقریباً ہر 1190 سالوں میں ایک نوری سال یا ہر 7 دنوں میں ایک فلکیاتی اکائی (astronomical unit) کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ ہمارے موجودہ علم کے مطابق یہ پیمائشیں ہر ممکن حد تک درست ہیں لیکن مزید تحقیق کی بنیاد پر ان میں تبدیلیاں بھی آسکتی ہیں ۔\nہماری کہکشاں بھی cosmic microwave background radiation یا (CMB) کے مقابل 550 کلومیٹر فی سیکنڈ کی سمتار سے جھرمٹ Hydra کی سمت میں حرکت کر رہی ہے۔ اس کو ملا کر (CMB) کے مقابل سورج کی کل سمتار تقریباً 370 km/s جھرمٹ دہانہ (ارضیات) یا Leo کی جانب ہے", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00501", "text": "سورج ابھی جادہ شیر کے جس حصے سے گذر رہا ہے اس میں ہم سے قریب ترین 50 ستاروں میں، جو زمین سے 17 نوری سال (1.6E+14 کلومیٹر) کے فاصلے تک واقع ہیں، کمیت کے لحاظ سے اس کا نمبر چوتھا ہے ۔\nسائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا کو سورج کی سطح پر غیر معمولی سکون یا ٹھہراؤ کا سامنا ہے یا آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ سورج ابھی سو رہا ہے۔\nسائنسدانوں کے لیے یہ صورت حال انتہائی حیران کن ہے اور وہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ سورج پر آنے والے شمسی طوفانوں میں کمی کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00502", "text": "ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کبھی سورج پر شمسی طوفان آنا بند یا کم ہو جاتے تھے تو دنیا سردی کی لپیٹ (ice age) میں آ جاتی تھی۔\nاس مرتبہ سورج کی سطح پر شمسی طوفانوں میں کمی کا زمین کی سطح یا ’گلوبل وارمنگ‘ پر کیا اثر ہو گا اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔\nبی بی سی کی سائنس کی نامہ نگار ربیکا مورل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’شمالی روشنیاں‘ دنیا اور سورج کے درمیان انتہائی قریبی تعلق کی یادہانی کراتی رہتی ہیں۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00503", "text": "سورج کی شعائیں یا جنھیں ’سولر ونڈز‘ بھی کہا جاتا ہے جب زمین کے اردگرد کے ماحول سے ٹکراتی ہیں تو شمالی روشنایاں یا ’آرورا بوریالِس‘ بنتا ہے۔\nلیکن خدشہ ہے کہ جلد ہی یہ دلکش اور حیرت انگیز مناظر نظر آنا بند ہو جائیں گے۔\nیہ سب کچھ سورج کی سطح پر آنے والے تغیرات کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس کی سطح پر شمسی طوفان تیزی سے تھم رہے ہیں۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00504", "text": "ردر فورڈ اپلیٹن لیباٹری کے پروفیسر رچرڈ ہیرسن کا کہنا ہے کہ آپ جو کچھ بھی کر لیں ’سولر پیکس‘ میں کمی واقع ہو رہی ہے اور سورج کی سطح پر بلند ہونے والے شعلوں کی کمی سے یہ بات بالکل واضح ہے۔\nشمالی روشنیوں کا منظر بڑا دلکش ہوتا ہے\nیونیورسٹی کالج آف لندن کی ڈاکٹر لوسی گرین نے اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شمسی طوفانوں کے دورانیوں میں کمی ہو رہی ہے اور اس کا مطلب ہے سورج کی سطح پر جو ارتعاش ہے وہ بھی کم ہو رہا۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00505", "text": "سورج پر ہونے والی حرکت یا ایک مستقل طوفان کی سی کیفیت کی بہت مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں۔ سورج پر پائے جانے والے دھبے بہت زیادہ مقناطیسیت کے حامل ہوتے ہیں جو زمین سے دیکھیں تو سیاہ دھبوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔\nسورج کی شعائیں یا بنفشی شعاعیں زمین کی طرف منعکس ہوتی ہیں اور سورج کی سطح سے اٹھنے والے شعلے اربوں ٹن ’چارج پارٹیکلز‘ (یا برقی ذرات) خلاء میں بکھیر دیتے ہیں۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00506", "text": "سورج پر ہونے والا یہ ارتعاش ہر گیارہ برس میں کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سورج پر ارتعاش کی انتہا یا عروج کا زمانہ ہے جسے سائنسی اصطلاح میں ’سولر میکسیمم‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت سورج پر غیر معمولی ٹھراؤ ہے اور وہ سرگرمی نہیں ہے جو عام طور پر ہونی چاہیے تھی۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00507", "text": "پروفیسر رچرڈ ہیرسن نے جو تیس سال سے سولر سائنس دان ہیں بتایا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں ایسی صورت حال یا سورج کی سطح پر ٹھہراؤ نہیں دیکھا۔ اگر آپ ماضی پر نظر ڈالیں تو سو سال قبل اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان سے پہلی کی دو چار نسلوں نے اس طرح کی صورت حال نہیں دیکھی ہو گی۔\nسورج کی سطح پر دھبوں کی تعداد سائنسدانوں کی توقعات سے انتہائی کم ہے اور سورج کی سطح پر بلند ہونے والے شعلے متوقع تعداد سے آدھے ہیں۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00508", "text": "پروفیسر رچرڈ کا کہنا ہے کہ سترہویں صدی میں کئی دہائیوں تک سورج کی سطح پر پیدا ہونے والے دھبے غائب ہو گئے تھے جس کی وجہ سے کرۂ شمالی میں شدید سردی ہو گئی تھی اور لندن کا دریائے ٹیمز منجمد ہو گیا تھا۔\nربیکا مورل کے مطابق ست رہیوں کے اس دور کی پیٹنگز سے پتہ چلتا ہے کہ منجمد دریائے ٹیمز پر ’سرمائی بازار‘ لگا کرتے ہیں۔ سنہ سولہ سو چوراسی کے معروف ’گریٹ فروسٹ‘ میں دریا دو ماہ تک مسلسل منجمد رہا تھا اور اس پر ایک فٹ دبیز برف کی تہ جمی رہی تھی۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00509", "text": "یورپ کی تاریخ کے اس سرد ترین دور کو ’مونڈر منیمیم‘ کا نام اس سائنس دان کے نام پر دیا گیا تھا جس نے سورج پر ہونے والی سرگرمی میں کمی کا مشاہدہ کیا تھا۔\nمونڈر منیمیم کے دوران صرف دریائے ٹیمز ہی منجمد نہیں ہو گیا تھا بلکہ بحیرہ بالٹک بھی جم گیا تھا۔ شمالی یورپ میں فصلیں تباہ ہونے لگی تھی اور قحط آنا شروع ہو گئے تھے۔\nسورج پر سرگرمی میں کمی کا مطلب ہے آنے والی کئی دہائیوں میں زمین انتہائی سرد ہو سکتی ہے۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00510", "text": "ڈاکٹر لوسی گرین نے بتایا کہ سنہ 1609ء کے بعد سے مستقل سورج کے دھبوں یا اس پر اٹھنے والے شعلوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور دنیا کے پاس چار سو سال کے مشاہدات کا ذخیرہ موجود ہے۔\nبرف کی تہ میں دفن ذرات سے ماضی کے کئی دریچے کھلے ہیں\nانھوں نے مزید کہا کہ سورج کی اس وقت کیفیت اسی قسم کی ہے جو مونڈرم مینیمم آنے سے پہلے تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ سورج پر سرگرمی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔\nڈاکٹر لوسی گرین اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ اس صورت حال کا زمین کے موسم پر کس قسم کا اثر پڑے گا۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00511", "text": "ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا سورج سے آنے والے شعائیں جن میں مختلف قسم کی شعائیں ہوتی ہیں ان کا زمین کے اردگر کے ماحول پر کیا اثر پڑتا ہے سائنس ابھی اس کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکی ہے۔\nکچھ سائنس دان تحقیق کی جستجو میں کئی ہزار سال پیچھے چلے گئے ہیں اور انھوں نے برف کی تہ میں دبے ایسے ذرات کا مشاہدہ کیا ہے جو کبھی زمین کی فضا میں پائے جاتے تھے۔ ان ذرات سے سورج پر ہونے والی سرگرمی کے اتار چڑھاو کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00512", "text": "ایک اور سائنس دان مائک لویکورتھ جنھوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ دس ہزار سال میں پہلی مرتبہ سورج کی سرگرمی میں اتنی تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔\nانھوں نے کہا کہ برف کی تہ اور سورج پر سرگرمی میں واقع ہونے والی کمی کا مشاہدہ کیا جائے تو بیس سے تیس فیصد تک اس بات کا امکان موجود ہے کہ آئندہ چالیس برس میں دنیا مونڈر مینیمم کے حالات کا شکار ہو جائے گی۔\nسورج پر سرگرمی میں کمی کا مطلب ہے کہ سورج سے دنیا پر آنے والی بنفشی شعاعوں میں کمی اور اس وجہ سے ’جیٹ سٹریم‘ متاثر ہو سکتی ہے۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00513", "text": "مائک لویکورتھ کا کہنا ہے کہ جیٹ اسٹریم میں تبدیلی سے شمالی یورپ کو آنے والی گرم ہوائیں بند ہو سکتی ہیں۔\nسورج کی سطح کی گرمی تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک سورج ایک گیند جتنا چھوٹا نہیں ہو جاتا اور اس کی ساری ہائڈروجن ختم نہیں ہو جاتی۔", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00514", "text": "روابط\nحوالہ جات\nمزید پڑھیے\nM.J. Thompson (2004)۔ \"Solar interior: Helioseismology and the Sun's interior\"۔ Astronomy and Geophysics۔ ج 45 شمارہ 4: 21–25\n\nبیرونی روابط", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00515", "text": "بیرونی روابط\n\nNasa SOHO (Solar & Heliospheric Observatory) satellite\nNational Solar Observatoryآرکائیو شدہ بذریعہ nso.edu \nAstronomy Cast: The Sun\nA collection of spectacular images of the sun from various institutions (The Boston Globe)\nSatellite observations of solar luminosityآرکائیو شدہ بذریعہ acrim.com \nSun|Trek, an educational website about the Sun\nThe Swedish 1-meter Solar Telescope, SSTآرکائیو شدہ بذریعہ solarphysics.kva.se \n\nسانچہ:Sun spacecraft", "title": "سورج", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC"}, {"id": "urd_rec_00516", "text": "فلکیات (یعنی: سِتاروں کا قانون؛ انگریزی: astronomy)، قُدرتی علوم کی ایک ایسی مخصُوص شاخ ہے جس میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، شہابیے، کہکشاں، وغیرہ) اور زمینی کرۂ ہوا‎ کے باہر روُنما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اِس میں آسمان پر نظر آنے والے اجسام کے آغاز، ارتقا اور طبعی و کیمیا‎‎ئی خصوصیات کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ فلکیات کے عالم کو فلکیات دان کہا جاتا ہے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00517", "text": "۔ فلکیات کے عالم کو فلکیات دان کہا جاتا ہے۔ جہاں فلکیات محض اجرامِ فلکی اور دیگر آسمانی اجسام پر غور کرتی ہے، وہاں پوری کائنات کے سالِم علم کو علم الکائنات کہتے ہیں۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00518", "text": "اشتقاقیات\nاُردُو زبان میں فلکیات، دراصل لفظ فلک کا ماخذ ہے۔ فلک سے مرادزمین کے کرّہ کے گرد کی وسیع آسمانی چادر ہے، لہٰذا اِس چادر پر عیاں مختلف اجسام (چاند، سورج، ستارے، سیارے، وغیرہ) کی جانچ پڑتال بھی فلکیات کے علوم میں شامل ہوتی ہیں۔ انگریزی میں اِسے ”ایسٹرونومی“ (astronomy) کہا جاتا ہے، جو یونانی زبان کے الفاظ ”ایسٹرون“ (ἄστρον؛ یعنی، ستارہ) اور ”نوموس“ (νόμος؛ یعنی، قانون) سے مل کر بنتا ہے۔ چنانچہ، فلکیات کا مفہوم ”سِتاروں کے علم“ یا ”سِتاروں کے قانون“ کا ہے۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00519", "text": "تاریخچہ", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00520", "text": "قدیم زمانے میں فلکیات کی پہنچ صرف اُن اجرامِ فلکی تک ہی محدود تھی جنھیں آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مثلاً سورج، چاند اور ستارے۔ یہ قدیم ماہرین فلکیات اکثر اِن اجرام کے مشاہدوں پر مبنی پشِين گوئیوں کیا کرتے تھے۔ تاریخی ابواب میں ایسی کئی تہذیبوں کا ذِکّر ملتا ہے جو اِن اجرام کی پوُجا بھی کیا کرتے تھے اور اسٹون ہینج کے طرز پر بنی مَصنُوعات اِس بات کی طرف اِشارہ کرتی ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی حد تک اِن مرئی فلکی اجرام کے نظام سے واقف تھے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00521", "text": "۔ اِن قدیم تہذیبوں کے لیے اِس طرح کی مَصنُوعات دراصل ایک طرح کی رصدگاہ کا کام سر انجام دیا کرتی تھیں، جو نہ صرف مذہبی تہواروں کی نشان دہی کرتی تھیں بلکہ موسمی تبدیلیوں سے بھی اِنکو آراستہ رکھتی تھیں۔ ان پشِين گوئیوں کی مدد سے قدیم انسانی تہذیبیں سال کی طوالت کا اندازہ بھی لگایا کرتی تھیں اور فصلوں کی کاشت کے اوقات سے بھی بروقت آشنا رہتی تھیں۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00522", "text": "قدیم فلکی جائزے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00523", "text": "دوربین کی ایجاد سے قبل، سِتاروں کے مُطالعے کسی نہ کسی اونچی جگہ سے ہی مُمکن تھے اور یہ جائزے محض آنکھوں کی مدد سے ہی لیے جاتے تھے۔ جیسے جیسے تہذیبیں ترقی یافتہ ہوتی رہیں، ویسے ویسے بین النہرین، چین، مصر، یونان، ہند اور وسطی امریکہ کی قدیم تہذیبوں نے سِتاروں کے مطالعوں کے لیے مخصوص اور جدید رصدگاہوں کی تعمیر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ، اِن لوگوں میں کائنات کی مزید جانچ پڑتال کا تجسس پیدا ہوتا گیا؛ چنانچہ، اِس زمانے کے زیادہ تر فلکیاتی انکشافات، ستاروں اور سیاروں کی نقشہ بندی تک ہی محدود تھے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00524", "text": "۔ اِس علم کو نَجُوم پيمائی کہا جاتا ہے۔ اِن ابتدائی مطالعوں سے سیاروں کی حرکت؛ سورج، چاند اور زمین کی فطرت؛ اور ستاروں کے جمگھٹوں کے بارے میں بہت کُچھ معلوم کیا جا سکا۔ جب فلسفے کی مدد سے اِن فلکی اجرام کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تو کائنات کا ایک مرکزی تصّور اُبھر کر عیاں ہوا — اِن لوگوں کے مطابق زمین کائنات کا مرکز تھی؛ یعنی سورج، چاند اور ستارے زمین کے گرد گردش کیا کرتے تھے۔ اِس نظریے کو ارض مرکزی نظریہ کہا جاتا ہے جس کی بنیاد دوسری صدی عیسوی میں مشہور یونانی فلکیات دان بطلیموس نے ڈالی۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00525", "text": "بابل اور قدیم یونانی فلکیات\nسلطنتِ بابل کے فلکیات دان وہ پہلے لوگ تھے جنھوں نے ریاضی اور منطق کی مدد سے اِس بات کا اندازہ لگایا کہ چاند گرہن درحقیقت ایک تکراری واقعہ ہے اور اِس کی پيش گوئی قبل از وقت مُمکن ہے۔ گرہنوں کے اِس چکر کو ساروس کہا جاتا ہے۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00526", "text": "بابل کے اِن فلکیات دانوں کے بعد قدیم یونان اور ہیلینیہ کی تہذیبوں میں فلکیات کو پزیرائی ملنے لگی۔ یونانی فلکیات میں شُروع سے ہی اِس بات کا خیال رکھا گیا کہ دیگر اجرامِ فلکی اور آسمانی مظاہر کو طبعی وضاحت سے پیش کیا جائے اور منطق کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ آریستارخس ساموسی وہ پہلا یونانی فلکیات دان تھا جس نے تیسری صدی قبل مسیح میں زمین کے قطر کی پیمائش کی؛ سورج اور چاند کے فاصلوں کو دریافت کیا؛ اور نظام شمسی کے لیے شمس مرکزی نظریہ پیش کیا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00527", "text": "دوسری صدی قبل مسیح میں ہیپارکس نے بے دائریت دریافت کی اور چاند کا قطر اور اِس کا زمین سے فاصلہ بھی ناپا۔ ہیپارکس نے فلکیاتی پیمائش کے لیے اسطرلاب نامی ایک مخصوص آلہ بھی ایجاد کیا۔ ہیپارکس کی اَنتھک کاوشیں یہیں ختم نہ ہوئیں اور اِس نے شمالی نصف کرہ میں عیاں 1020 ستاروں کا فہرست نامہ بھی لِکھ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ اِن ستاروں کے یونانی نام ہی اکثر ہر جگہ استعمال میں آتے ہیں", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00528", "text": "۔ پہلی صدی میں ایجاد کردہ انتیکیتھرا میکانیہ دُنیا میں سب سے پہلے استعمال ہونے والا تماثلی اختراع تھا جس کی مدد سے سورج، چاند اور زمین کے مقام کا قبل از وقت ٹھیک ٹھیک اندازہ کسی بھی دی گئی تاریخ کے مطابق لگایا جا سکتا تھا۔ اِس طرح کے پیچیدہ اختراع بعد از چودہویں صدی میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، چنانچہ اِسکی دریافت سائنسدانوں اور ماہرینِ فلکیات کے لیے حیران کُن ہے۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00529", "text": "اِسلامی فلکیات دان", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00530", "text": "قُرُونِ وُسطیٰ میں جہاں یورپی مُمالک کے اکثر باسی علم النجوم اور فلکیات سے تیرہویں صدی تک فاسد رہے، وہیں اِسلامی سائنس دان اِس علم میں صدیوں پہلے مہارت حاصل کر چُکے تھے۔ اِسلامی دُنیا میں علم فلکیات کو اتنی پزیرائی ملی کہ نویں صدی کے اوائل میں مسلمان سائنسدانوں نے نہایت عالیٰ درجہ کی رصدگاہیں تعمیر کیں۔ 964ء میں عبدالرحمن الصوفی نے مقامی گروہ میں جادہ شیر کے ہمراہ 25 لاکھ نوری سالوں کی دوری پر ایک اور کہکشاں دریافت کیا — اِس کہکشاں کو آج ہم اینڈرومیڈا کے نام سے جانتے ہیں", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00531", "text": "۔ اِس کہکشاں کی نشان دہی الصوفی نے اپنی کتاب صورالکواکب میں ایک خلائی بادل کے طور پر کی۔ الصوفی نے سب سے پہلے درج شدہ صحابیہ اور سپر نووا کے بارے میں بھی اِس کتاب میں لکھا۔ اِس سپر نووا کو پہلی مرتبہ مصری فلکیات دان علی بن رضوان اور کُچھ چینی فلکیاتدانوں نے 1006ء میں اپنے روزنامچوں میں درج کیا تھا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00532", "text": "دیگر اور مسلمان فلکیاتدانوں میں جابر بن سنان البتانی، ثابت بن قرہ، ابومعشر بلخی، ابو ریحان البیرونی، ابراہیم بن یحییٰ الزرقالی، عبدالعلی بیرجندی اور مراغہ و سمرکنڈ کی رصدگاہوں میں مقیم فلکیات دان شامل ہیں۔ اِس دور کے متعارف کردہ ستاروں کے عربی نام اب بھی فلکیات میں زیرِ استعمال ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ عظیم زمبابوے اور ٹمبکٹو میں بھی مسلمانوں کی تعمیر کردہ کئی رصدگاہیں موجود تھیں۔ یہ قدیم رصدگاہیں اِس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ قُرُونِ وُسطیٰ کے افریقہ جنوب صحرا میں بھی علمِ فلکیات عروج پر تھا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00533", "text": "سائنسی انقلاب\nنشاۃِ ثانیہ میں نکولس کوپرنیکس نے ایک مرتبہ پھر شمس مرکزی نظریہ عام فلکیات میں مُتعارف کرایا۔ کیونکہ پچھلی چند صدیوں سے مسلمان فلکیاتدانوں نے ارض مرکزی نظریے کی طوالت میں بیشمار کام کر رکھا تھا، اس لیے کوپرنیکس کی اِس وضاحت کو ابتدائی طور پر رد کر دیا گیا۔ بعد از، گلیلیو اور کپلر نے جدید آلات کی مدد سے اِس نئے نظریے کی تائید کر ڈالی۔ صحیح اور درُست ناپ تول کے لیے گلیلیو نے پہلی دوربین بھی ایجاد کی۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00534", "text": "کپلر وہ پہلے سائنس دان تھے جنھوں نے شمسِ مَرکزی نظریے کو ایک مُکمل نظامِ شمسی میں ڈھالا اور طبعی وضاحت کو اِستعمال کرتے ہوئے سیاروں کی سورج کے گرد گردِش اور حرکت کو منطقی طور سے پیش کیا۔ تاہم کپلر اپنے اِس نظام کے لیے لازم قوانین کی ضابطہ بندی نہ کر سکے اور اِس کام کو بعد از آئزک نیوٹن نے اپنے فلکی میکانیات اور ثقالت سے متعلق قوانین میں سر انجام تک پہنچایا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00535", "text": "دوربین کے سائز اور معیار میں بہتری لانے کے علاوہ مزید اور بھی دریافتیں ہوتی رہیں۔ نکولاس لاکائی کی زیرِ نگرانی سِتاروں کی معیاری اور مُکمل فہرستیں چھپتی رہیں اور دوسری طرف ولیم ہرشل صحابیہ جات اور اِنکے دیگر مجموعوں کی فہرست تیار کرتے رہے۔ 1781ء میں ہرشل نے ایک نیا سیارہ بھی دریافت کیا جسے آج ہم یورینس کے نام سے جانتے ہیں۔ فریڈرک بیسل نے 1838ء میں نظامِ شمسی کے باہر پائے جانے والے پہلے سورج نُما ستارے سے زمین کا فاصلہ دریافت کیا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00536", "text": "اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دورانئے میں اویلر، کلیراٹ اور دالمبر نے جب سہ جسمی مسئلے کو سُلجھانے کی طرف دھیان دیا تو اِنکے اِس کام کے ذریعے چاند اور سیاروں کی حرکات کے بارے میں معیاری پيش گوئیاں مُمکن ہو گئیں۔ اس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے، لاگرانج اور لاپلاس نے چاند اور دیگر سیاروں کے اضطراب سے اِنکے وزن کا بھی ٹھیک اندازہ لگایا۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00537", "text": "وقت کے ساتھ ساتھ، فلکیاتی تجربوں کے لیے جدید ترین آلہ جات استعمال ہونے لگے، مثلاً طیف بینی اور عکاسی، وغیرہ۔ فراون ہوفر نے 1814ء تا 1815ء میں طیف بینی کے ذریعے سورج سے خارج ہونے والی روشنی میں 600 رنگوں کی پٹیاں دریافت کیں۔ بعد از، 1859ء میں کیرشھوف نے انکشاف کیا کہ اِن پٹیوں کا ہر رنگ کسی نہ کسی کیمیائی عنصر کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ کیرشھوف نے مُختلف کیمیائی عناصر کے مخصوص رنگوں کی ایک فہرست بھی بنا ڈالی تاکہ مُختلف سیاروی مادوں کے بارے میں اِنکے رنگوں سے معلوم کیا جا سکے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00538", "text": "۔ اِن ٹیکنالوجیوں کی بِنا پر جب سورج نُما دیگر اور ستارے دریافت کیے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ستارے سورج کی مانند تو ہیں ہی لیکن ہمارے مقامی ستارے کے برعکس یہ درجہ حرارت، کمیت اور قامت میں کافی مُختلف ہیں۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00539", "text": "زمین کے مقامی کہکشاں کو ایک متفرق مجمع النجُوم کی طرح صرف بیسویں صدی میں ہی دیکھا گیا جب دیگر اور کہکشاؤں کو دریافت کیا گیا۔ دوسرے کہکشاؤں کو زمین سے دور جاتے دیکھ کر یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ کائنات تسلسُل سے پھیل رہی تھی۔ دورِ جدید کی فلکیات میں دیگر اور اجرامِ فلکی بھی دریافت کیے گئے جن میں نابضات، کوازار، بلیزار اور ریڈیائی کہکشاں شامل ہیں۔ اِن نئے اجرام کی دریافت کے بعد دیگر طبعی نظریات مثلا ثقب اسود اور نیوٹرون ستاروں کے مزید شواہد سامنے آنے لگے", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00540", "text": "۔ علاوہ ازیں، خلائی دوربینوں کی مدد سے برقناطیسی طیف کے اُن حصّوں کی بھی جانچ کی جانے لگی جو زمینی کرۂ ہوا کی وجہ سے زمین تک پہنچ نہ سکتے تھے۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00541", "text": "فلکیاتی نظریات کی تقویم\nمزید مطالعہ کے لیے فلکیاتدان کا مضمون پڑھیں یا افکار کی تاریخ پر دیگر مضامین پڑھیں۔\nانسانی تاریخ میں زمینی سیارے کی شکل، کردار اور عمل پر مُختلف فلسفیوں اور فلکیاتدانوں نے مُختلف نظریات، افکار اور تصورات پیش کیے۔ اجرامِ فلکی کے بارے میں آج ہم جو جانتے ہیں، اِن جدید نظریات تک پہنچنے کے لیے کافی وقت لگا۔ دیگر فلسفیوں اور فلکیاتدانوں کے ممتاز ترین افکار و تصورات مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00542", "text": "مشاہداتی فلکیات\nفلکیات میں، اجرامِ فلکی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا مرکزی ذریعہ مرئی نور کا مشاہدہ یا برقناطیسی اشعاع کی جانچ ہی رہا ہے۔ چنانچہ مشاہداتی فلکیات کو برقناطیسی طیف کے مُختلف حصّوں کے مطابق دیگر ساحات میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جہاں اِس طیف کے کُچھ حصّوں کا زمین کی سطح سے جائزہ لیا جا سکتا ہے، وہاں دیگر حصّوں کو صرف اونچائی یا خلاء سے ہی پرکھا جا سکتا ہے۔ اِن ذیلی ساحات کے بارے میں مزید معلومات مندرجہ ذیل دی گئی ہیں۔\n\nریڈیائی فلکیات", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00543", "text": "ریڈیائی فلکیات\n\nریڈیائی فلکیات میں ایسی اشعاعی لہروں کا معائنہ کیا جاتا ہے جن کا طولِ موج تقریباًًًً ایک ملیمیٹر سے زیادہ ہو۔ یہ مشاہداتی فلکیات کی دوسری ساحات سے اِس طرح مُختلف ہے کہ اِس میں ریڈیائی امواج کے ساتھ موجوں جیسا سلُوک کیا جا سکتا ہے نہ کہ محض مجرَد نوریہ جیسا، چنانچہ اِن کا طور اور حیطہ آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے۔ یہ جائزہ چھوٹی طول کی امواج کے ساتھ اتنی آسانی سے مُمکن نہیں ہوتا۔\n\n\n== مزید دیکھیے ==", "title": "فلکیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00544", "text": "حیاتیات (انگریزی: biology) وہ فطری علم ہے جس میں حیات اور زندہ نامیات، بشمول ان کے طبیعی خدوخال، کیمیائی عوامل، سالماتی تعملات، فعلیاتی طریقہ کار، نشونما اور ارتقا کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00545", "text": "حیاتیات لفظ ’’حیات‘‘ (زندگی) اور یات (یاء نسبتی بشکل جمع یعنی زندگی سے متعلق چیزیں) کا مرکب ہے جسے بائلوجی اور بیالوجی کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ سائنس کی شاخوں میں سے ایک انتہائی اہم شاخ ہے جس میں اس عالم کے تمام تر جانداروں کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے اس میں جانداروں کی اشکال، حرکات، اندرونی و بیرونی اعضات، طب، علاجات وغیرہ کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00546", "text": "سائنس کی پیچیدگی کے باوجود کچھ ایسے یکساں تصورات بھی ہیں جو ان کو ایک شعبے میں میں مربوط کرتے ہیں۔ حیاتیات میں خلیہ، زندگی کی اور وراثہ، نسب کی بنیادی اکائی ہے۔ حیاتیات کی حرحرکیاتی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ ارتقا اس انجن کی ماند ہے جو جانداروں کے انواع کی تخلیق اور معدومیت کو دھکیل کر آگے بڑھتا ہے۔ زندہ نامیات وہ کھلے نظام ہیں جو اپنے توانائی کے انتقال اور مقامی انٹروپی کی کمی کی وجہ سے بقا رکھتے ہیں اور ایک مستحکم حیات بخش حالت یا خودکار حیاتیاتی نظام قائم کرتے ہیں۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00547", "text": "حیاتیات کی ذیلی شعبے تحقیقی طریقے اور نظام کی قسم کے مطابق اخذ کیے جاتے ہیں۔ نظریاتی حیاتیات میں ریاضیاتی طریقہ کار استعمال کر کے مقداری نمونہ جات تجویز کیے جاتے ہیں جبکہ تجرباتی حیاتیات میں عملی تجربات کر کے تجویز کردہ حیاتیاتی نظریات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس میں حیات کی اس طریقہ کار کو سمجھا جاتا ہے کہ کس طرح 4 ارب سال پہلے زندگی غیر جاندار مادے سے نمودار ہوئی اور ترقی کر کے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام میں تبدیل ہو ئی۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00548", "text": "اقسام\nحیاتیات کی تین تقسیمیں ہیں:\n\nحیوانیات (Zoology) یا زوالوجی : یہ وہ تقسیم ہے جس میں جانوروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\nخُلقیات (Ethology):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں حیوانی طرزِ عمل کا سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے.\n\nہوامیات (Herpetology):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں زمین پر رینگنے والے جانوروں، خزندوں اور جل تھلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nحشریات (Entomology):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جو حشرات کی ساخت، عادات اور درجہ بندی سے تعلق رکھتی ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00549", "text": "سمکیات (Ichthyology):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں مچھلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nمملیات (Mammalogy):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جس می ممالیہ یعنی دودھ پلانے والے جانداروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nطُیُّوریات (Ornitholog):\nحیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں پرندوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nنباتیات (Botany) یا بوٹینی :یہ وہ تقسیم ہے جس میں نباتات (پودوں) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\nاُشْنَیات (Phycology):\nنباتیات کی ایک ذیلی شاخ ہے جس میں طحالب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00550", "text": "فعلیاتِ نبات (Plant physiology):\nحیاتیات کے شعبہ نباتیات کی ذیلی شاخ ہے، جو نباتات کے افعال یا فعلیات سے متعلق ہے-\n\nخرد حیاتیات (Microbiology)یامائیکروبیالوجی : یہ وہ تقسیم ہے جس میں خوردبینی جانداروں (صغرات، چھوٹے جاندار جیسے بیکٹیریا، وائرس، وغیرہ) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\nجرثومیات (Bacteriology):\nخرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں جراثیم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nفُطریات (Mycology):\nخرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں فُطر (پھپھوند) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00551", "text": "طُفیلِیّات (Parasitology):\nخرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں طفیلیوں، اُن کے میزبانوں اور دونوں کے درمیان باہمی تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nعلم الوائرس (Virology):\nخرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں وائرس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nشاخیں\nتینوں ابواب کے ساتھ ساتھ حیاتیات کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔ وہ شاخیں یہ ہیں:\n\nشکلیات (Morphology)\nحیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کی شکل اور ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کی بناوٹی خصوصیات کا مطالعہ شامل ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00552", "text": "تشریح الاعضا (Anatomy)\nحیاتیات اور طب سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا علم ہے جس میں جاندار (حیوان اور نبات دونوں) کے جسم کی ساخت اور اس میں موجود مختلف اعضاء کی بناوٹ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n• تقابلی تشریح الاعضا (comparative anatomy)\nحیاتیات کے شعبہ تشریح الاعضا کی وہ شاخ ہے جس میں جانداروں کے مختلف انواع کے ارتقا کے دوران ان کی تشریح میں مماثلت اور اختلاف کا مطالعہ کیا جاتا ہےـ\n• نسیجیات (Histology)\nحیوانات اور نباتات کے نسیجات یا بافتوں کی خوردبینی تشریح کا مطالعہ ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00553", "text": "خلیائی حیاتیات (Cell biology)\nعلمِ حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں خلیہ کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nفعلیات (Physiology)\nجانداروں کے جسم، اعضاء اور خلیات کے میکانیکی و حیاتی کیمیائی افعال کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔\n\nوراثیات (Genetic)\nوراثوں (genes) کی ساخت، ان کے افعال اور ان کے رویے کے مطالعے کو کہا جاتا ہےـ\n\nتصنیفیات (Taxonomy)\nجانداروں کو نام دینے اور اُن کی جماعت بندی کرنے کا علم ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00554", "text": "رکازیات (Paleontology)\nاس علم میں قدیم اور کسی حد تک محفوظ شدہ حالت میں ملنے والی باقیات (رکاز) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nماحولیات (Ecology)\nحیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کا ایک دوسرے اور ماحول کے مابین تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nمعاشرتی حیاتیات (Sociobiology)\nحیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں ارتقائی حیاتیات کے اُصولوں کے مطابق انسانی اور حیوانی معاشرتی رَویّے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nحیاتی ٹیکنالوجی (biotechnology)\nٹیکنالوجی اور حیاتیات کے باھم اشتراک سے حاصل ہونے والا علم یا سائنس ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00555", "text": "مناعیات (Immunology)\nحیاتیات اور طب کی ایک وسیع شاخ ہے جس میں تمام جانداروں کے مدافعتی نظام کی تمام پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nعلم الادویہ (Pharmacology)\nایسا علم جس میں ادویات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nامراضیات (Pathology)\nطب کا ایک شعبۂ اختصاص (speciality) ہے جس میں امراض کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nفلکی حیاتیات (Astrobiology)\nیہ فلکیات، حیاتیات اور ارضیات کی معلومات کے مدغم استفادہ سے نمودار ہونے والا شعبہءِ علم ہے، جو بطورخاص زندگی کے آغاز، اس کے پھیلاؤ اور ارتقاع سے مطالق بحث کرتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00556", "text": "حیاتی ہندسیات (Biological engineering)\nیہ حیاتی طرزیات میں اصول حیاتیات اور انجینئری کے ادغام سے تشکیل پانے والا ایک ایسا شعبۂ علم ہے جس میں انجینئری کی تادیبات سے استفادہ کرتے ہوئے حیاتیاتی نظامات اور علم طب کے مسائل پر تحقیق کی جاتی ہے۔\n\nحیاتی کیمیا (Biochemistry)\nحیات کی کیمیائی ترکیب کا مطالعہ حیاتی کیمیا (Biochemistry) کہلاتا ہے۔\n\nحیاتی جغرافیہ (Biogeography)\nانواع حیات کی جغرافیائی طور پر ارضیاتی وقت میں ماحولیاتی خطہ کے مطابق تقسیم کا مطالعہ ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00557", "text": "حیاتی میکانیات (Biomechanics)\nاِس شعبۂ علم میں طبیعیاتی اور ہندسیاتی تصوّرات کے تحت جسمانی اعضاء کی حرکت اور اُن پر عمل کرنے والی قوّتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nطبی تحقیق (Biomedical research)\nحیاتی طبیعیات (Biophysics)\nایک متعدد الاختصاصات (interdisciplinary) علم ہے جو نظریہ جات اور طریقہ ہائے طبیعیات کو استعمال میں لاکر حیاتیاتی نظامات پر تحقیق کرتی ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00558", "text": "نشونمائی حیاتیات (Developmental biology)\nحیاتیات کا وہ شعبہ ہے جس میں اس عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے جانور اور پودے نشو و نما پاتے ہیں-\n• جنینیات (Embryology)\nنشونمائی حیاتیات کا ایک ذیلی شاخ جس میں جانداروں (نباتات و حیوانات) کے نئے بننے والے بچوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n• ضعیفیات (gerontology)\nنشونمائی حیاتیات کی ایک ذیلی شاخ جس میں جس میں ضعیفی (aging) سے وابستہ معاشری، نفسیاتی اور حیاتیاتی پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00559", "text": "ارتقائی حیاتیات (Evolutionary biology)\nحیاتیات کی ایک ذیلی شاخ ہے جس میں ان ارتقائی طریقہ ہائے کار کے اصول و قوانین مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nبحری حیاتیات (Marine biology)\nبحری حیاتیات کھارے اور میٹھے پانی میں پائے جانے والی حیات کے مطالعہ کو کہا جاتا ہے۔\n\nحیاتی اطلاعیات (Bioinformatics)\nیہ ایک نسبتاً نیا مگر انتہائی تیز رفتاری سے وسیع ہونے والا شبعہءِ علم ہے جس میں حیاتیاتی معلومات و مواد (data) کو شمارندی ٹیکنالوجی (computer technology) کی مدد سے ذخیرہ و تجزیہ کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00560", "text": "سالماتی حیاتیات (Molecular biology)\nحیاتیات کا سالماتی (molecular) سطح پر مطالعہ سالماتی حیاتیات کہلاتا ہے\n\nعلم الاعصاب (Neuroscience)\nاعصابی نظام (nervous system) کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔\n\nحیاتی نفسیات (Psychobiology)\nایک ایسا علم ہے جس میں حیاتیاتی اُصولوں کے مطابق ذہنی عمل و کارکردگی (نفسیات) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nساختی حیاتیات (Structural biology)\nسالماتی حیاتیات کی ایک شاخ جو بڑے حیاتیاتی سالمات کی شکل و طرزِ تعمیر کے مطالعہ سے متعلق ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00561", "text": "زمانی حیاتیات (Chronobiology)\nحیاتیات کی وہ شاخ ہے جس میں زندہ نامیات میں دَوری مظاہر کو جانچا جاتا ہے۔\n\nاِدراکی حیاتیات (Cognitive biology)\nحیاتیات کی شاخ جس میں انسان سمیت تمام جانداروں کے عقل و فہم کے حیاتیاتی افعال کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nبردی حیاتیات (Cryobiology)\nحیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں پر بہت گرے ہوئے درجہ حرارت یا بہت زیادہ سردی کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nبقائی حیاتیات (Conservation biology)\nجانداروں کے بقا اور معدومیت کا مطالعہ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00562", "text": "حیاتی لسانیات (Biolinguistics)\nوہ علم جس میں حیاتیات اور زبان کے ارتقا کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\n\nتفصیل", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00563", "text": "حیاتیات ایک قدرتی ان کی ساخت، تقریب میں، ترقی، اصل، ارتقا، تقسیم اور چننے سمیت زندگی اور زندہ حیاتیات، کے\nمطالعہ سے متعلق سائنس ہے۔ حیاتیات وسیع بہت سے تقسیم، موضوعات اور مضامین پر مشتمل موضوع ہے۔ سب سے زیادہ اہم موضوعات میں سے پانچ ایسی متحدہ اصول ہے کہ جدید حیاتیات کے بنیادی axioms ہونا نہیں کہا جا سکتا ہے۔\n1.Cells زندگی کی بنیادی اکائی ہیں\n2.New ذات اور وارث اوصاف ارتقا کی مصنوعات ہیں\n3.Genes آخونشکتا کی بنیادی شے ہیں", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00564", "text": "3.Genes آخونشکتا کی بنیادی شے ہیں\n4.An پیکر اپنے اندرونی ماحول کو تدبیر سے ایک مستحکم اور مستقل حیثیت برقرار رکھنے کے لیے\n5.Living حیاتیات اور توانائی تبدیل بسم۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00565", "text": "حیاتیات کے نائب مضامین کے پیمانے پر جو حیاتیات کا مطالعہ کیا اور طریقے ان کے مطالعہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کی بنیاد پر تسلیم کر رہے ہیں : حیاتی کیمیاء کی زندگی کے ابتدائی کیمیکل کی جانچ پڑتال، سالماتی حیاتیات کی تعلیم حیاتیاتی انووں کے نظام کی پیچیدہ گفتگو ؛ خلیاتی حیاتیات کی جانچ پڑتال کی بنیادی تمام زندگی، سیل کے عمارت کے ٹکڑے ؛ فیجیولاجی ؤتکوں", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00566", "text": "، سیل کے عمارت کے ٹکڑے ؛ فیجیولاجی ؤتکوں، اعضاء اور ایک پیکر کے اعضاء کے نظام کی جسمانی اور کیمیائی افعال کا جائزہ اور ماحولیات کا جائزہ کس طرح مختلف حیاتیات اور ان کے ماحول کے ساتھ شریک بات چیت۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00567", "text": "مواد (چھپانا)\n1 تاریخ\nجدید حیاتیات کے 2 بنیاد\n2.1 سیل اصول\n2.2 ارتقا\n2.3 جینیات\n2.4 استتباط\n2.5 توانائی\n3 تحقیق\nساختی 3.1\nفزیالوجیکل 3.2\n3.3 ارتقائی\n3.4 نظام\n3.5 پارستیتیکیی\nحیاتیات کے 4 شاخیں\n5 مزید دیکھیے\n6 نوٹس اور حوالہ جات\n7 مزید پڑھنے کی\n8 بیرونی روابط\nتاریخ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00568", "text": "7 مزید پڑھنے کی\n8 بیرونی روابط\nتاریخ\nارنسٹ ہے Haeckel زندگی کے اس درخت (1879) اس جدید معنوں میں یہ لفظ حیاتیات گیا کارل فریڈرک Burdach (1800)، Gottfried Reinhold Treviranus (Biologie oder Philosophie ڈیر lebenden Natur، 1802) اور جین Baptiste - Lamarck (Hydrogéologie کی طرف سے ہے آزاد پیش نظر، 1802) [4] [5]. یہ ایک کلاسیکی Greek لفظ βίος کی طرف سے حوصلہ افزائی صحن ہے، بایوس، \"زندگی\" اور - لاحقہ λογία، logia -، \"کا مطالعہ کیا۔\"", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00569", "text": "اگرچہ اس کی جدید شکل میں حیاتیات ایک نسبتاً حال ہی میں ترقی، متعلقہ اور کرنے کے اندر اندر اسے دیا گیا ہے قدیم دور کے بعد سے مطالعہ شامل سائنس ہے۔ فطری فلسفہ میسوپوٹامیا، مصر، بر صغیر اور چین کی قدیم تہذیبوں کے طور پر ابتدائی طور پر مطالعہ کیا گیا۔ تاہم، جدید حیاتیات کے ماخذ اور اس کی فطرت کے مطالعہ کرنے کے نقطہ نظر اکثر قدیم یونان میں واپس کر رہے ہیں پتہ لگایا [6] جب دوائی کی باقاعدہ مطالعہ Hippocrates واپس تاریخوں", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00570", "text": "۔ (ca. 460 قبل مسیح --. سیی 370 قبل مسیح)، یہ تھا ارسطو (384 قبل مسیح—322 قبل مسیح) جو بیالوجی کی ترقی میں سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر شراکت۔ خاص طور سے اہم ہیں جانور اور دوسرے کا کام ہے جہاں وہ پرکرتیوادی leanings اور بعد میں مزید آخباخت کا کام ہے کہ حیاتیاتی causation اور زندگی کے تنوع پر مرکوز دکھائی کی اس تاریخ ہیں۔ لائسیم، Theophrastus، یہاں تک کہ قرون وسطی میں نباتیات کہ پلانٹ کی سائنس کے دور کی سب سے اہم کردار کے طور پر بچ گیا پر کتابوں کی ایک سیریز لکھی، میں ہے ارسطو کے جانشین", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00571", "text": "۔ اس مطالعہ اور حیاتیات کی ترقی میں اہم پیش رفت اس طرح مسلمان ڈاکٹروں کی پرانیشاستر میں افریقی عرب عالم رحمہ اللہ تعالٰی نے Jahiz (781-869) کے طور پر کوششوں کے ذریعے فروغ دیا گیا [7] میں نے کرد جیواشتھانی امام Dinawari (828-896) نباتیات، [8] اور فارس کی اناٹومی اور فیجیولاجی میں ڈاکٹر Rhazes (865-925). یہ دارشنیکون پر وضاحت، وسیع اور Greek حیاتیاتی اصولوں اور systematics بہتر", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00572", "text": "۔ طبی خاص طور پر اچھی طرح سے اسلامی Greek فلسفی روایات میں کام کرنے والے علما کرام نے بیان کا مطالعہ کیا گیا، جبکہ قدرتی تاریخ Aristotelian سوچا پر بہت زیادہ خاص طور پر زندگی کا ایک مقررہ درجہ بندی کو برقرار رکھنے میں لوٹ گئے،، .", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00573", "text": "حیاتیات میں تیزی سے اور ینٹنی وین ہے Leeuwenhoek خوردبین کی ڈرامائی بہتری کے ساتھ ترقی کی ترقی شروع کیا۔ یہ تو تھا کہ علما کرام شکرانو، بیکٹیریا، infusoria اور خرد کی زندگی کے محض ویچترتا اور تنوع کی تلاش۔ جنوری Swammerdam کی طرف سے تحقیقات حشریات میں نئی دلچسپی کی وجہ سے اور خرد ویچرچھیدن اور کی بنیادی ٹیکنالوجی staining بنایا۔ [9]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00574", "text": "مائکروسکوپی میں پیشگی بھی حیاتیاتی پر گہرا اثر ہی سوچ رہا تھا۔ ابتدائی 19th صدی میں biologists کی ایک بڑی تعداد سیل کے مرکزی اہمیت کی طرف اشارہ کیا", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00575", "text": "۔ 1838 اور 1839 میں، Schleiden اور Schwann کے خیالات کو فروغ دے کہ (1) حیاتیات کے بنیادی یونٹ نے سیل ہے اور شروع (2) اس شخص کے خلیات اپنی زندگی کے سارے خصوصیات ہیں، حالانکہ وہ اس کے خیال کی مخالفت (3) تمام خلیوں میں آیا ہے کہ دیگر خلیات کی تقسیم سے . 1860s سب سے زیادہ biologists کی طرف سے رابرٹ Remak اور روڈولف Virchow کے کام بہر حال، کی وجہ سے جو سیل اصول کے طور پر نام سے جانا گیا کے تمام تین اصولوں کو قبول کیا۔ [10]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00576", "text": "دریں اثنا، چننے اور درجہ بندی کے قدرتی تاریخ کے مطالعہ میں ایک توجہ بن گئے۔ Carolus Linnaeus قدرتی دنیا کے لیے 1735 (مختلف حالتوں میں سے جس کے بعد سے استعمال میں دیا گیا ہے) میں ایک بنیادی اصول صنف بندی شائع کی ہے، 1750s میں اور اس کے تمام ذات کے لیے (11) جارج لوئس - Leclerc, Comte ڈی Buffon، . علاج پرجاتیوں سائنسی نام متعارف مصنوعی اقسام اور رہنے کے فارم کے طور پر جیسا کہ malleable سے بھی عام کے اترنے کا امکان تجویز", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00577", "text": "۔ تاہم انھوں نے ترقی کی مخالفت کی تھی، Buffon ارتقا کی تاریخ نے سوچا کہ میں ایک اہم شخصیت ہے اور اس کا کام دونوں Lamarck اور ڈارون کے ارتقا کے نظریات سے متاثر [12].", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00578", "text": "شدید ارتقا سوچ جین Baptiste - Lamarck کے کام کے ساتھ شروع ہوا۔ تاہم، اس نے برطانوی پرکرتیوادی ڈارون تھا، Humboldt, Lyell کے uniformitarian ارضیات کے biogeographical کے قریب جمع، آبادی میں اضافہ پر تھامس ہے Malthus تحریریں اور وہ اپنے ہی صرفی مہارت کہ ایک سے زیادہ کامیاب ارتقا کے قدرتی انتخاب کی بنیاد پر اصول پیدا کیا اسی طرح کی دلیل اور ثبوت الفریڈ رسیل والیس آزاد اسی نتیجہ تک پہنچنے کے لیے قیادت کی [13].", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00579", "text": "آخونشکتا کی جسمانی نمائندگی کی تلاش ارتقا کے اصولوں اور آبادی جینیات کے ساتھ آئے تھے۔ 1940s اور جلد 1950s میں تجربات گنسوتروں کی اتحادی ہے کہ جین منظم طور پر ڈی این اے کی طرف اشارہ کیا۔ نئی طرح ساتھ ڈی این اے کی 1953 میں ڈبل کنڈلت ڈھانچے کی دریافت سے وائرس اور بیکٹیریا، جیسا کہ ماڈل حیاتیات، پر توجہ مرکوز آناخت جینیات کے زمانے کی تبدیلی کا نشان لگا دیا۔ موجودہ وقت کو 1950s سے، حیاتیات گیا ہے vastly آناخت ڈومین میں توسیع", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00580", "text": "۔ جینیاتی کوڈ ہریانہ گووند Khorana، رابرٹ ڈبلیو Holley اور مارشل وارن Nirenberg کی طرف سے ٹوٹ کے بعد ڈی این اے codons کنٹرول کرنے کے لیے سمجھا گیا تھا۔ آخر میں، انسانی جینوم پروجیکٹ عام انسانی جینوم میپنگ کے مقصد کے ساتھ 1990 ء میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر 2003 میں مکمل کر لیا گیا، مزید تجزیہ کے ساتھ (14) آج بھی شائع کیا جا رہا ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00581", "text": "۔ انسانی جینوم پروجیکٹ ایک عالمی انسانی جسم کا ایک فعال، سالماتی تعریف اور دیگر حیاتیات کے جسم میں حیاتیات کی جمع علم کو شامل کرنے کی کوششوں میں سب سے پہلا قدم تھا۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00582", "text": "جدید حیاتیات کے جدید biologyMuch کی بنیاد پانچ ایسی متحدہ کے اصولوں کے اندر اندر ہو احاطہ میں لے رکھا کر سکتے ہیں :. سیل اصول، ارتقا، جینیات، استتباط، شمسی اور نیوکلیائی توانائی (2)\nسیل theoryMain مضمون : سیل اصول", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00583", "text": "ثقافت میں سیل، keratin (دھونک دھونک کر) اور ڈی این اے کے داغ (سبز رنگ) سیل اصول ریاستوں کہ سیل کی زندگی کا بنیادی یونٹ ہے اور جو تمام زندہ اجسام یا ایک سے زیادہ خلیے یا ان خلیات (گولوں مثال کے طور پر کی secreted مصنوعات پر مشتمل ہیں ). تمام خلیات کو سیل ڈویژن کے ذریعے دیگر خلیات سے اٹھتا۔ multicellular حیاتیات میں ہے پیکر جسم کے ہر خلیے ایک نشیچیت انڈے میں ایک خلیہ سے آخر حاصل ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00584", "text": "۔ سیل بھی کئی pathological عمل میں بنیادی شے [15] اس کے علاوہ، . توانائی کے بہاؤ کا عمل مراحل میں خلیات کے چیاپچی کے طور پر جانا جاتا تقریب کا حصہ ہیں میں پایا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے۔ آخر میں، خلیات ونشاخگت معلومات (ڈی این اے) کو جو سیل کی جانب سے خلیات کے خلیات کی تقسیم کے دوران منظور کیا جاتا ہے پر مشتمل۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00585", "text": "ارتقا\nسیاہ coloration.Main مضمون کے لیے آبادی کے قدرتی انتخاب : ارتقا", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00586", "text": "حیاتیات میں ایک مرکزی تنظیم کا مرکزی خیال ہے کہ زندگی میں تبدیلی ہے اور ارتقا کے ذریعے ترقی اور یہ کہ تمام زندگی معلوم فارم ایک عام اصل ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00587", "text": "۔ جین Baptiste - ڈی Lamarck کی طرف سے 1809 میں سائنسی ڈکشنری، [16] ارتقا ڈارون پچاس سال کی طرف سے قائم کی بعد میں کیا گیا ایک قابل عمل اصول کے طور پر جب اس نے اس کی اصل طاقت جوڑ میں متعارف کرانے :. قدرتی انتخاب [17] [18] (الفریڈ رسیل والیس ہے اس کے تصور کی سہ discoverer کے طور پر پہچان لیا ہے کیونکہ وہ ارتقا کے تصور کے ساتھ تحقیق اور تجربے کی مدد کی) [19] ارتقا اب زمین پر پایا زندگی کی سب سے بڑی تبدیلیوں کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00588", "text": "ڈارون theorized کہ ذات اور نسل کے گھوڑوں کو قدرتی انتخاب اور مصنوعی انتخاب یا مخصوص عمل کے عمل کے ذریعے تیار کیا [20] جینیاتی آلگائے کے اصول کے جدید ترکیب میں۔ ارتقا کی ترقی کی ایک اضافی نظام کے طور پر قبول کیا تھا۔ [21]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00589", "text": "ذات کا ارتقا کی تاریخ، جس میں مختلف ذات سے جس نے اسے ہر ہے اس phylogeny طور پر جانا جاتا نسل پر اس کے ونشاولی تعلقات کے ساتھ ساتھ، اترا کی خصوصیات کی وضاحت۔ بڑے پیمانے پر نقطہ نظر مختلف حیاتیات phylogeny کے بارے میں معلومات حاصل", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00590", "text": "۔ یہ ڈی این اے کی سالماتی حیاتیات یا جینومکس کے اندر اندر منعقد کی تسلسل کا آپس میں موازنہ اور fossils یا paleontology میں قدیم حیاتیات کے دیگر ریکارڈ کا آپس میں موازنہ شامل ہیں [22] Biologists اور phylogenetics, phenetics, cladistics اور سمیت مختلف طریقوں کے ذریعے ارتقا کے رشتے کا تجزیہ منظم۔ (زندگی کی ترقی میں اہم واقعات کا خلاصہ کے طور پر فی الحال biologists کو سمجھ، ارتقا کے ٹائم لائن ملاحظہ کریں۔)", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00591", "text": "ارتقا کے اصول postulates کہ زمین کے دونوں زندہ اور ختم، پر سب حیاتیات ایک عام اجداد یا ایک آبائی جین پول سے اترا ہے۔ تمام حیاتیات کی یہ آخری عالمی عام پرکھا 3.5 ارب سال پہلے شائع کی ہے خیال کیا جاتا ہے [23] Biologists عام طور پر عالمی عام کے اترنے کا اصول کے حق میں تمام بیکٹیریا، archaea کے لیے universality اور واضح دلیل کے طور پر جینیاتی کوڈ کا ubiquity سلسلے۔ اور (دیکھ : زندگی کا اصل) eukaryotes [24].\nGeneticsMain مضمون : جینیات", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00592", "text": "ایک Punnett دو مٹر (ب) جامنی رنگ اور سفید کے لیے heterozygous پودوں کے درمیان ایک حد سے تجاوز ظاہر مربع (ب) blossomsGenes سب حیاتیات میں وراثت کا بنیادی یونٹ ہے۔ ایک جین آخونشکتا کی ایک یونٹ ہے اور ڈی این اے کے ایک علاقے کہ مخصوص طریقوں سے ایک پیکر کی صورت یا کام کے اثرات سے میل۔ بیکٹیریا کی طرف سے سب جانوروں کو حیاتیات،، حصہ اسی بنیادی مشینری کہ کاپیاں اور پروٹین میں ترجمہ کیا ڈی این اے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00593", "text": "۔ سیل جین کی ایک آرینی ورژن میں ایک ڈی این اے جین نقل کرنا اور ایک وقت ribosome ترجمہ ایک پروٹین میں آر این اے، امینو ایسڈ کی ایک فہرست۔ آر این اے codon سے ترجمہ امینو ایسڈ کے لیے کوڈ کی سب سے زیادہ حیاتیات کے لیے ایک ہی ہے، لیکن کچھ کے لیے تھوڑا مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی این اے کا ایک سلسلہ ہے کہ انسلن کے لیے بھی انسانوں کوڈ میں انسلن جب ایسے پودے کے طور پر [25] [26]. دوسرے حیاتیات، میں درج کے لیے کوڈ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00594", "text": "ڈی این اے کی عام طور پر eukaryotes میں لکیری گنسوتروں اور prokaryotes میں سرکلر گنسوتروں کے طور پر پایا جاتا ہے۔ ایک گنسوتر ایک منظم ڈی این اے اور histones پر مشتمل ڈھانچہ ہے۔ ایک سیل اور کسی دوسرے ونشاخگت معلومات میں گنسوتروں کا قائم mitochondria, chloroplasts میں ملا یا دیگر مقامات پر اجتماعی اس کے جینوم کے طور پر جانا جاتا ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00595", "text": "۔ eukaryotes میں جینومک ڈیینی سیل مرکز میں ساتھ mitochondria اور chloroplasts میں تھوڑی مقدار کے ساتھ واقع ہے، . prokaryotes میں ڈی این اے cytoplasm میں ایک انیدوست سائز کا جسم کے اندر منعقد کیا جاتا ہے nucleoid بلایا [27] ایک جینوم میں جینیاتی معلومات ہے جین کے اندر منعقد کیا اور ایک پیکر میں اس کی معلومات کا مکمل مجموعہ اس جینوٹائپ کہا جاتا ہے 28. [.. ]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00596", "text": "HomeostasisMain مضمون : استتباط", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00597", "text": "hypothalamus CRH، جس کے پییوشکا غدود کی ہدایت ACTH چھپانا کو secretes. بدلے میں، ACTH ادورکک ایسے cortisol کے طور پر glucocorticoids، چھپانا کو پرانتستا ہدایت۔ جینٹلمین کیڈٹوں تو hypothalamus کی طرف سے سراو کی شرح اور پییوشکا غدود کو کم ایک بار جینٹلمین کیڈٹوں کے لیے کافی رقم جاری کی ہے [29] استتباط سے ایک کھلا نظام کی صلاحیت اپنے اندرونی ماحول کو ایک سے زیادہ متحرک کے ذریعے مستحکم حالات کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری ہے۔ توازن ایڈجسٹمنٹ interrelated ریگولیٹری نظام کے ذریعے کنٹرول کیا", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00598", "text": "۔ سب رہنے والے حیاتیات، unicellular یا multicellular، نمائش استتباط چاہے۔ [30]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00599", "text": "کرنے کے لیے متحرک توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر طریقے سے باہر کچھ کام کرنا ایک ایسا نظام کا پتہ لگانے اور perturbations کا جواب چاہیے۔ ایک perturbation کا پتہ لگانے کے بعد منفی رائے کے ذریعے ایک حیاتیاتی نظام عام طور پر جواب دینا ہے۔ یہ یا تو کم یا ایک عضو یا نظام کی سرگرمیوں میں اضافہ کے ذریعے حالات کو مستحکم کرنے کا مطلب ہے۔ اس کی ایک مثال glucagon جب شوگر کی سطح بہت کم ہیں کی رہائی ہے۔\nتوانائی", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00600", "text": "توانائی اور ایک پیکر کی انسانی life.The بقا کی بنیادی جائزہ توانائی کے مسلسل سرمایہ کاری پر انحصار کرتا ہے۔ کیمیاوی رد عمل ہے کہ اس کی ساخت اور کام کے لیے ذمہ دار ہیں عناصر کی طرف سے توانائی کو نچوڑ کر دیکھتے ہیں کہ اس کا کھانا اور کے طور پر کام ان کی مدد کے نئے خلیے فارم اور انھیں جاری رکھنے پر لوٹا", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00601", "text": "۔ اس عمل میں، کیمیائی مادہ کا مالیکیول ہے کہ کھانا کھیلنے دو کردار کی تشکیل، پہلی، وہ توانائی ہے کہ حیاتیاتی، کیمیاوی رد عمل کے لیے تبدیل کر سکتے ہیں پر مشتمل ؛ دوسرا، انھوں نے نئے آناخت biomolecules سے بنا ڈھانچے کی ترقی۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00602", "text": "ایک ماحول میں توانائی کے تعارف کے لیے ذمہ دار حیاتیات سازوں یا autotrophs کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ حیاتیات کی تقریباً تمام اصل میں سورج سے توانائی کی اپنی طرف متوجہ [31] پودے اور دیگر phototrophs ایک ایسی یٹیپی کے طور پر نامیاتی انو،، جن کی بانڈ توانائی کی رہائی کے لیے توڑ کیا جا سکتا ہے میں خام مال میں تبدیل سنشلیشن کے طور پر جانا جاتا عمل کے ذریعے شمسی توانائی کا استعمال کریں", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00603", "text": "۔ . [ 32) کچھ پارستیتیکی نظام، تاہم، متین، sulfides یا دیگر غیر luminal - توانائی کے ذرائع سے chemotrophs کی طرف سے نکالا توانائی کے بارے میں مکمل طور پر انحصار کرتے ہیں۔ 33 []", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00604", "text": "قبضہ انرجی کے کچھ زندگی برقرار رکھنے کے لیے اور اضافہ اور ترقی کے لیے توانائی فراہم بایڈماس پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس توانائی کے آرام کی اکثریت کی گرمی اور فضلات کے سالموں کے طور پر کھو دیا ہے۔ زندگی برقرار رکھنے کے لیے مفید توانائی میں کیمیائی مواد میں پھنس کر توانائی تبدیل کرنے کے لیے سب سے اہم عمل چیاپچی [34] اور سیلولر شوسن ہیں۔ [35]\nResearchStructural", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00605", "text": "ResearchStructural\nعام جانوروں کی مختلف organelles اور structures.Main مضامین ظاہر سیل کے یوجنابدق : سالماتی حیاتیات، سیل بیالوجی، جینیات اور ترقیاتی حیاتیات", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00606", "text": "سالماتی حیاتیات ایک آناخت سطح پر حیاتیات کا مطالعہ ہے۔ [36] یہ حیاتیات کے دوسرے علاقوں کے ساتھ میدان میں خاص طور سے جینیات اور حیاتی کیمیا کے ساتھ overlaps، . سالماتی حیاتیات بنیادی طور پر خود کو ایک سیل کے مختلف ڈی این اے، آر این اے کی interrelationship سمیت نظام اور پروٹین سنشلیشن اور سیکھنے کی کہ کس طرح یہ بات چیت کنٹرول کر رہے ہیں کے درمیان باہمی روابط کو سمجھنے کے ساتھ تشویش۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00607", "text": "سیل حیاتیات کی تعلیم کے خلیات کی ساخت اور نفسیاتی ان کے طرز عمل، بات چیت اور ماحول سمیت خصوصیات، . یہ اس صورت میں اسی طرح بیکٹیریا ایسے انسان کے طور پر multicellular حیاتیات میں خصوصی سیل کے طور پر دونوں ایک celled - حیاتیات کے لیے خرد اور سالماتی کی سطح پر کیا جاتا ہے۔ خلیات کی ساخت اور کام کی تفہیم حیاتیاتی سائنس کے سب سے بنیادی ہے۔ مماثلت اور خلیات کی اقسام کے درمیان اختلافات خاص طور پر سالماتی حیاتیات سے متعلق ہوتے ہیں۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00608", "text": "اناٹومی ایسے اعضاء اور اعضاء کے نظام کے طور پر macroscopic ڈھانچے کی فارم پر غور [37].", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00609", "text": "جینیات جین، آخونشکتا کی، سائنس اور حیاتیات کی تبدیلی ہے [38] [39] جین synthesizing پروٹین، (، بہت سے واقعات میں اگرچہ، تعین مکمل طور پر نہیں) ہے جس کے نتیجے میں متاثر کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کے لیے ضروری معلومات ضابطہ کاری کریں۔ حیاتیات کے آخری phenotype. جدید تحقیق میں جینیٹکس ایک خاص جین یا جینیاتی بات چیت کے تجزیہ کی تقریب کی تحقیقات میں اہم آلات فراہم کرتا ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00610", "text": "۔ حیاتیات کے اندر اندر، جینیاتی معلومات عام طور پر گنسوتروں، جہاں اسے خاص طور پر ڈی این اے انو کی کیمیائی ساخت میں نمائندگی کی ہے میں سوار کر لیا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00611", "text": "ترقیاتی حیاتیات کی تعلیم کے عمل کے ذریعے جو حیاتیات اور تیار ہو جاتے ہیں۔ برانناشتھان میں ابتدائی، جدید ترقیاتی حیاتیات کی تعلیم سیل میں اضافہ، فرق اور \"morphogenesis،\" جو اس عمل میں کرمک ؤتکوں، اعضاء اور اناٹومی کو جنم دیتی ہے کے جینیاتی کنٹرول", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00612", "text": "۔ ترقیاتی حیاتیات کے لیے ماڈل حیاتیات کا بھی طواف کرم Caenorhabditis elegans شامل ہیں، (40) درخت کے پھل کی Drosophila melanogaster پرواز، [41] zebrafish Danio rerio، [42] ماؤس کے قرآن musculus، [43] اور گھاس Arabidopsis thaliana. [44] [45] (ایک ماڈل پیکر ایک ذات ہے کہ بڑے پیمانے پر خاص طور سے حیاتیاتی واقعات کو سمجھنے کی تعلیم حاصل کی ہے امید ہے کہ اس پیکر میں نے تلاش دیگر حیاتیات کے کام کاج میں بصیرت مہیا کے ساتھ ہے، .) [46]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00613", "text": "PhysiologicalMain مضمون : فیجیولاجی", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00614", "text": "فیجیولاجی سمجھ میں کس طرح ڈھانچے کے سب ایک مکمل طور پر کام کرنے کی کوشش کر کے زندہ حیاتیات کی میکانی، جسمانی اور جیو کیمیائی عمل کے مطالعہ۔ کا موضوع \"ڈھانچہ تقریب میں\" حیاتیات کے مرکز میں ہے۔ نفسیاتی مطالعہ روایتی طور پر کیا گیا ہے پلانٹ فیجیولاجی اور جانور فیجیولاجی میں تقسیم کر دیا، لیکن فیجیولاجی کے کچھ اصول یونیورسل ہیں، کوئی بات نہیں خاص طور سے جو پیکر ہے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، خمیر کے خلیات کے فیجیولاجی انسانی خلیات کی درخواست بھی دے سکتے ہیں کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00615", "text": "۔ جانور فیجیولاجی کے علاقے آلات اور انسانی غیر انسانی نسل پر فیجیولاجی کے طریقوں میں لاگو ہو گا۔ پروگرام فیجیولاجی دونوں تحقیق علاقوں سے تراکیب لیتی۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00616", "text": "فیجیولاجی مطالعہ مثال کے طور پر عصبی، مائرکن، endocrine، سانس اور مواصلات کے نظام، کام اور کس طرح بات چیت۔ ان کے نظام کا مطالعہ اس طرح عصبی سائنس اور immunology کے طور پر طبی اعتبار سے مضامین کے ساتھ اشتراک کیا جاتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00617", "text": "EvolutionaryEvolutionary تحقیق ذات کے اصل اور اترنے کے ساتھ ساتھ وقت پر ان کی تبدیلی سے متعلق ہے اور بہت سے taxonomically پر مبنی مضامین سے سائنسدانوں پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر، یہ عام طور پر سائنسدانوں کو جو اس طرح mammalogy, ornithology، نباتیات یا herpetology کے طور پر خاص طور سے حیاتیات میں خصوصی تربیت ہے، لیکن نظام کے طور پر ان لوگوں کو حیاتیات ارتقا کے بارے میں عمومی سوالات کے جواب دینے کا استعمال شامل ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00618", "text": "ارتقائی حیاتیات جزوی طور پر paleontology، جو حیاتیاتی ریکارڈ کا استعمال کرتا ہے کے موڈ اور ترقی کی رفتار کے بارے میں سوالات کا جواب دینا اور جزوی طور علاقوں میں ایسی آبادی جینیات کے طور پر واقعات پر [47] کی بنیاد پر ہے [48] اور ارتقا کے اصول۔ ترقیاتی حیاتیات دوبارہ 1980s میں،، اس جدید اتفاق سے ابتدائی اخراج سے ارتقا کے ترقیاتی حیاتیات کے مطالعہ کے ذریعہ سے ارتقائی حیاتیات میں داخل [49] متعلقہ اکثر غور ارتقائی حیاتیات کے حصہ کے علاقوں phylogenetics, systematics اور چننے ہیں۔\nSystematics", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00619", "text": "Systematics\nتمام زندہ اجسام کی ایک phylogenetic درخت، rRNA جین ڈیٹا کی بنیاد پر، تین ڈومین بیکٹیریا، archaea کی علیحدگی دکھایا اور جیسا کہ کارل Woese کی طرف سے ابتدائی طور پر eukaryotes بیان کیا۔ درخت کی تعمیر کے ساتھ دوسرے جین عام طور پر ایک ہی ہے، اگرچہ وہ کچھ ابتدائی branching گروپ کی جگہ بہت مختلف طریقے سے، شاید تیزی سے rRNA ترقی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تین ڈومینز کے عین مطابق تعلقات اب بھی debated.Main مضمون کیا جا رہا ہے : Systematics", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00620", "text": "ایک سے زیادہ پرجاتیکرن واقعات پرجاتیوں کے درمیان تعلقات کے ایک درخت کا ڈھانچہ نظام تشکیل دیں۔ systematics کا کردار ان کے تعلقات اور اس طرح اختلاف ذات اور ذات کے گروہوں کے درمیان اور مماثلت کے مطالعہ کے لیے ہے [50] تاہم، systematics تحقیق کا ایک فعال میدان۔ تھے بہت پہلے ارتقا سوچ عام تھی", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00621", "text": "۔ تھے بہت پہلے ارتقا سوچ عام تھی۔ [51] درجہ بندی چننے کی اور حیاتیاتی حیاتیات کے nomenclature جانوروں، پودوں اور جراثیم کے لیے جانوروں کی Nomenclature، بین الاقوامی وانسپتیک Nomenclature کے کوڈ کے بین الاقوامی ضابطہ ہے اور بیکٹیریا کی Nomenclature کے بین الاقوامی ضابطہ کے زیر انتظام ہے، بالترتیب", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00622", "text": "۔ وائرس، viroids, prions اور دوسرے تمام ذیلی وائرل - ایجنٹ ہے کہ حیاتیاتی خصوصیات کا مظاہرہ کا درجہ بندی کے درجہ بندی کے بین الاقوامی ضابطہ وائرس کی اور nomenclature کی طرف سے کیا جاتا ہے [52] [53] [54] [55] تاہم کئی دوسرے وائرس کی درجہ بندی۔ نظام موجود ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00623", "text": ". ؛ Protista ؛ کوک ؛ Plantae ; Animalia [56] Monera : روایتی طور سے، زندہ اجسام دیا گیا ہے پانچ ریاستوں میں تقسیم کر دیا\nتاہم بہت سے سائنسدانوں کو ابھی غور یہ پانچ ریاست کا نظام فرسودہ۔ جدید متبادل کی درجہ بندی کا نظام عام طور پر تین ڈومین کے نظام کے ساتھ شروع : Archaea (اصل Archaebacteria) ؛ بیکٹیریا (اصل Eubacteria) ; Eukaryota (protists، کوک، پودوں اور جانوروں، بشمول) [57] یہ ڈومینز کی عکاسی ہے کہ خلیات ہے نابیک یا نہیں، سیل exteriors کی کیمیائی ساخت میں بھی فرق۔ [57]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00624", "text": "اس کے علاوہ، ہر ریاست نیچے تکراری طور پر ٹوٹ گیا ہے یہاں تک کہ ہر ذات الگ الگ درجہ بندی کی ہے۔ یہ حکم ہے : ڈومین ؛ برطانیہ ؛ Phylum ؛ کلاس ؛ آرڈر ؛ خاندان ؛ اجناس ؛ نوع۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00625", "text": "اس کے علاوہ ہے intracellular پرجیویوں ہے کہ \"زندگی کے کنارے پر\" کر رہے ہیں کا سلسلہ چیاپچی سرگرمی کے لحاظ سے (58)، جس کا مطلب ہے کہ بہت سے سائنسدانوں کا یہ ڈھانچے اصل کے طور پر نہیں کی درجہ بندی زندہ ہے، کی وجہ سے کم سے کم ایک یا ایک سے زیادہ ان کی کمی بنیادی کام ہے کہ زندگی کی وضاحت کریں۔ وہ وائرس، viroids, prions یا مصنوعی سیارہ طور پر درجہ بندی کر رہے ہیں۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00626", "text": "ایک پیکر کا سائنسی نام اس کی ذات اور ذات سے پیدا ہے۔ مثال کے طور پر، انسانوں sapiens ہوموسیکسال کے طور پر درج کر رہے ہیں۔ ہوموسیکسال پرجاتیوں جینس اور sapiens ہے۔ جب ایک پیکر کا سائنسی نام لکھا ہوا ہے، جینس کے پہلے حرف کو فائدہ کے لیے اور چھوٹے میں ذات کی تمام ڈال مناسب ہے۔ اس کے علاوہ، سارے لفظ یا اٹالک کردہ سکتا ہے پر زور دیا [59] [60].", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00627", "text": "غالب کی درجہ بندی کا نظام Linnaean چننے کہا جاتا ہے۔ یہ درجات اور دو رقمی nomenclature شامل ہیں۔ حیاتیات ہے ایسے وانسپتیک Nomenclature کے بین الاقوامی ضابطہ (ICBN)، بین الاقوامی پرانی Nomenclature کے کوڈ (ICZN) اور بین الاقوامی بیکٹیریا کی Nomenclature (ICNB) کے کوڈ کے طور پر بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے کنٹرول کس طرح کے نام ہیں۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00628", "text": "ایک ولی کا مسودہ، BioCode، ایک ان تین علاقوں میں nomenclature کے معیار کی کوشش میں 1997 میں شائع کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک باقاعدہ منظور کرنے [61] BioCode ڈرافٹ 1997 کے بعد سے بہت ہی کم توجہ حاصل کی ہے۔ . اس نے 1 جنوری کی اصل منصوبہ بندی کے عمل کی تاریخ 2000،، کسی کا دھیان نہیں گذر چکا ہے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00629", "text": "۔ تاہم، ایک 2004 سے cyanobacteria سے متعلق کاغذ ایک BioCode کے مستقبل کو اپنانے اور عبوری کوڈ کے درمیان اختلافات کو کم کرنے پر مشتمل اقدامات کی وکالت کرتا ہے [62] بین الاقوامی وائرس کی درجہ بندی اور (ICVCN) Nomenclature کے کوڈ BioCode سے باہر رہتا ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00630", "text": "ماحولیات\nجینس Amphiprion کی کلاؤنفش کے درمیان باہمی symbiosis کہ اشنکٹبندیی سمندر anemones کے tentacles میں رہنے والے ہیں۔ علاقائی مچھلی anemone کھانے کی مچھلی سے anemone کی حفاظت کرتا ہے اور میں anemone کے چوبنے tentacles باری اس predatorsMain مضامین سے جوکر مچھلی کی حفاظت : پارستیتیکیی، Ethology، رویہ اور Biogeography", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00631", "text": "ماحولیات کی تعلیم کی تقسیم اور زندہ حیاتیات کی کثرت اور حیاتیات اور ان کے ماحول [63] ایک پیکر کی رہائش گاہ کی جگہ ایسی آب و ہوا اور ماحول کے طور پر مقامی abiotic عوامل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ میں، دوسرے حیاتیات اور biotic عوامل کے درمیان بات چیت یہ حصہ اس کے ماحول۔ [64] اس کی ایک وجہ ہے کہ حیاتیاتی نظام مشکل سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے حیاتیات اور ماحول کے ساتھ بہت سے مختلف بات چیت ممکن ہو بھی کانٹے کا سب سے چھوٹا پر", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00632", "text": "۔ ایک خرد ایک مقامی چینی ڈھال کا جواب دینے کے جراثیم زیادہ کے طور پر ایک شعر اس ماحول کا جواب دینے کے جب اس نے افریقی savanna میں کھانے کے لیے تلاش کرتا ہے جیسا کہ اس کے ماحول کا جواب ہے۔ کسی بھی ذات کے لیے، رویے سہ آپریشن، ناگوار، پرجیوی یا سہجیوی کیا جا سکتا ہے۔ معاملات مزید پیچیدہ جب دو یا دو سے زیادہ مختلف پرجاتیوں ایک ماحول میں بات چیت ہو۔ اس قسم کا مطالعہ ماحولیات کے صوبے کے اندر ہو۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00633", "text": "ماحولیاتی نظام میں کئی مختلف سطحوں پر مطالعہ کیا جاتا ہے اور انفرادی سطح پر آبادی سے پارستیتیکی نظام اور biosphere سے . کی اصطلاح آبادی حیاتیات اکثر آبادی ماحولیات کے ساتھ interchangeably استعمال کیا جاتا ہے، تاہم آبادی حیاتیات کو زیادہ کثرت سے استعمال کیا جب مطالعہ کے امراض، وائرس اور جرثوموں، جبکہ آبادی کے ماحولیات سے زیادہ عام ہے جب پودوں اور جانوروں کا مطالعہ ہے۔ جیسا کہ surmised کیا جا سکتا ہے، ماحولیاتی ایک سائنس ہے کہ کئی امور پر لے کر لوٹے ہے۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00634", "text": "Ethology (خاص طور پر کہ اس طرح کی primates اور canids کے طور پر سماجی جانوروں کی) تعلیم جانوروں کے رویے اور ہے کبھی کبھی حیوانیات کی ایک شاخ تصور۔ Ethologists ہے خاص طور پر کیا گیا ہے رویے کی ترقی اور قدرتی انتخاب کے اصول کے لحاظ سے رویے کی سمجھ بوجھ کے ساتھ تعلق۔ ایک لحاظ سے، سب سے پہلے جدید ethologist ڈارون،، جن کی کتاب انسان اور جانور میں جذبات کی اظہار تھا، کو متاثر کیا بہت سے ethologists آنا۔ [65]", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00635", "text": "Biogeography زمین پر حیاتیات کے مقامی تقسیم مطالعہ، [66] پلیٹ tectonics، ماحولیاتی تبدیلی، بازی اور منتقلی اور cladistics جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی۔\nbiologyMain مضمون کی شاخیں : حیاتیات مضامین کی فہرست\n[67] [68] : یہ حیاتیات کے بنیادی شاخیں ہیں\nAerobiology—ہوائی نامیاتی ذرات کا مطالعہ\nزراعت—ملک سے فصلوں کی پیداوار کے عملی پروگرام پر زور دیا کے ساتھ مطالعہ،\nاناٹومی—فارم پودوں، جانوروں میں اور تقریب میں، کا مطالعہ اور دیگر حیاتیات یا خاص طور پر میں انسان", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00636", "text": "Astrobiology - ارتقا، تقسیم کا مطالعہ، exobiology, exopaleontology کے طور پر کائنات کو بھی - معلوم میں اور زندگی کے مستقبل اور bioastronomy\nحیاتی کیمیا—کیمیائی رد عمل کا مطالعہ کرنے کے لیے وجود میں زندگی اور تقریب میں، عام طور پر موبائل کی سطح پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے\nBioengineering—لاگو علم پر زور دینے کے ساتھ انجینئری کے ذریعہ سے حیاتیات کی تعلیم اور خاص طور پر جیو ٹیکنالوجی سے متعلق", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00637", "text": "Bioinformatics—جینومک اور دیگر حیاتیاتی اعداد و شمار کا مطالعہ، جمع اور محفوظ کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال\nBiomathematics یا ریاضیاتی حیاتیات—حیاتیاتی عمل کی مقدار یا حساب کا مطالعہ ماڈلنگ پر زور دینے کے ساتھ،\nBiomechanics—اکثر ادویات کی ایک شاخ تصور کیاجاتاہے، جاندار کے میکینکس کے prosthetics یا orthotics کے ذریعے درخواست کی استعمال پر زور دیا کے ساتھ مطالعہ،\nحیاتیاتی تحقیق—صحت اور بیماری میں انسان کے جسم کا مطالعہ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00638", "text": "Biophysics—طبیعیات کے ذریعے حیاتیاتی عمل کے مطالعہ کے اصولوں اور طریقوں کے اطلاق کی طرف سے روایتی طور پر جسمانی سائنس میں استعمال\nحیاتی ٹیکنالوجی—حیاتیات کی ایک نئی اور کبھی کبھی متنازع شاخ ہے کہ مطالعہ کے معاملے کو زندہ نہیں اور جینیاتی تبدیلی اور مصنوعی حیاتیات سمیت کی توڑ\nعمارتی حیاتیات—ڈور رہنے والے ماحول کا مطالعہ\nنباتیات—پودوں کا مطالعہ\nسیل حیاتیات—ایک مکمل اکائی کے طور پر سیل کا مطالعہ اور انو اور کیمیائی بات چیت ہے کہ ایک زندہ خلیات کے اندر اندر ہو", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00639", "text": "تحفظ حیاتیات—کے تحفظ کی حفاظت، کے مطالعہ یا قدرتی ماحول، قدرتی پارستیتیکی نظام، نباتات، سبزے کی بحالی اور جنگلات کی زندگی\nCryobiology—جانداروں پر عام طور پر ترجیح کا درجہ حرارت سے نیچے کے اثرات کا مطالعہ۔\nترقیاتی حیاتیات—عمل کا مطالعہ کیا ہے جس کے ذریعے ایک پیکر کے فارم، zygote سے مکمل ڈھانچہ\nماحولیات—ایک دوسرے کے ساتھ اور ان کے ماحول کی غیر رہتے عناصر کے ساتھ رہنے والے حیاتیات کے ساتھ روابط کا مطالعہ\nبرانناشتھان—برانن (fecundation سے جنم) کی ترقی کا مطالعہ۔ یہ بھی topobiology دیکھو۔", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00640", "text": "حشریات—کیڑوں کا مطالعہ\nماحولیاتی حیاتیات—قدرتی دنیا کا مطالعہ کیا، ایک مجموعی طور پر یا کسی خاص علاقے میں، خاص طور پر انسانی سے متاثر\nجانپدک—عوامی صحت کی تحقیق کا ایک اہم اتحادی، مطالعہ آبادی کی صحت پر اثر انداز عوامل\nEthology—جانوروں کے رویے کا مطالعہ\nارتقائی حیاتیات—اصل کے وقت پر اس مطالعہ اور ذات کا نزول\nجینیات—جین اور آخونشکتا کا مطالعہ\nHerpetology—رینگنے والے جانور amphibians کا مطالعہ\nHistology—سیلز اور ٹشوز کے مطالعہ، اناٹومی کا خرد شاخ\nIchthyology—مچھلی کا مطالعہ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00641", "text": "Ichthyology—مچھلی کا مطالعہ\nایکیکرت حیاتیات—پوری حیاتیات کا مطالعہ\nغدیریات—دیشی پانی کا مطالعہ\nMammalogy—ستنداری کا مطالعہ\nسمندری حیاتیات—سمندر پارستیتیکی نظام، پودوں، جانوروں کا مطالعہ کیا اور دوسرے جاندار\nٹھیک ٹھیک حیاتیات—خرد حیاتیات (microorganisms) اور دوسرے زندہ چیز کے ساتھ ان کی بات چیت کا مطالعہ\nسالماتی حیاتیات—آناخت سطح پر حیاتیات اور حیاتیاتی افعال کا مطالعہ کیا، حیاتی کیمیا کے ساتھ پر کچھ حد سے تجاوز\nMycology—کوک کا مطالعہ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00642", "text": "Mycology—کوک کا مطالعہ\nNeurobiology—اناٹومی فیجیولاجی اور اخترتیاشتھان سمیت عصبی نظام کا مطالعہ\nسمندر سائنس—سمندر کی زندگی، ماحول، جغرافیہ، موسم سمیت سمندر میں، کا مطالعہ اور دوسرے سمندر کو متاثر پہلو\nونکولاجی—وائرس یا اتپریورتن oncogenesis, angiogenesis اور ٹشوز remoldings سمیت کینسر کے عمل کو، کا مطالعہ\nOrnithology—پرندوں کا مطالعہ\nآبادی حیاتیات—conspecific حیاتیات کے گروپوں کا مطالعہ کیا، جس میں شامل\nآبادی ماحولیات—کا مطالعہ کیسے آبادی حرکیات اور ختم ہو جانے کے", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00643", "text": "آبادی آخونشکی—آبادیوں میں تبدیلی کے حیاتیات کے جین کی تعدد میں مطالعہ\nPaleontology—fossils کے مطالعہ اور پراگیتہاسک زندگی کا کبھی کبھی جغرافیائی ثبوت\nPathobiology یا اخترتی—امراض کا مطالعہ کیا اور وجہ سے، عمل، فطرت اور بیماری کی ترقی\nParasitology—پرجیویوں اور parasitism کا مطالعہ\nفارمیسی—مطالعہ اور تیاری کا استعمال کرتے ہیں، کا عملی کی درخواست اور ادویات اور مصنوعی دواؤں کے اثرات\nفیجیولاجی—زندہ حیاتیات اور اعضاء اور حیاتیات رہنے کے حصے کے کام کاج کا مطالعہ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00644", "text": "Phytopathology—پلانٹ کی بیماریوں کا مطالعہ (بھی کہا جاتا ہے پلانٹ پیتھالوجی)\nPsychobiology—نفسیات کی حیاتیاتی اڈوں کا مطالعہ\nSociobiology—اقبال عظیم کے حیاتیاتی اڈوں کا مطالعہ\nساختی حیاتیات—سالماتی حیاتیات، حیاتی کیمیا کی ایک شاخ ہے اور حیاتیاتی بڑے انووں کی سالماتی ساخت کے ساتھ تعلق biophysics\nوائرس سائنس—وائرس کا مطالعہ کیا اور کچھ دوسرے وائرس کی طرح کا ایجنٹ", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00645", "text": "حیوانیات—جانوروں کی درجہ بندی، فیجیولاجی، ترقی اور طرز عمل کو (بھی دیکھو، حشریات، Ethology, Herpetology, Ichthyology, Mammalogy اور Ornithology) بھی شامل ہے کا مطالعہ،", "title": "حیاتیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00646", "text": "کیمیا مادہ کے خواص اور رویے کا سائنسی مطالعہ ہے۔ یہ قدرتی سائنسوں میں طبعی سائنس ہے جو عناصر پر مشتمل مادے سے لے کر کیمیائی مرکبات کا احاطہ کرتا ہے جو جوہر، سالمہ اور آئون سے بنے ہیں: ان کی بناؤٹ، ساخت، خواص، رویہ اور تبدیلی کیمیائی شے سے تعامل کرنے سے گزرتے ہیں۔\n\nتعریف\nعلم کیمیا وہ علم/سائنس ہے جو موجود مرکبات و عناصر کی ترکیب و تعامل کی تحقیق اور قدرتی و مصنوعی یا ترکیبی مرکبات کے امتزاج کا مطالعہ کرتا ہے۔", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00647", "text": "سرخیاں\nپہلے زمانے میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں تمام اشیاء ایک از سو (1/100 گندم کے دانہ) کے برابر ایک چھوٹے سے ذرے سے بنے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور یہ بات ثابت کی کہ دنیا کا سب چھوٹا ذرہ یوں ہوتا ہے کہ اس کے درمیان میں مرکزہ (نیوکلس) ہوتا ہے اور اس میں برقیہ،اولیہ اور تعدیلہ ہوتے ہیں جن میں اولیہ اور تعدیلہ مرکزہ (یعنی نیوکلس) میں ہوتے ہیں اور برقیہ جو منفی (نیگٹیو) چارج رکھتا ہے اس مرکزہ کے ارد گرد گھومتے ہیں یا چکر لگاتے ہیں۔؎", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00648", "text": "تاریخ", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00649", "text": "ابتدائی تہذیبوں، جیسے کہ بابلی، مصری وغیرہ دھات کاری اور ظروف سازی کے ماہر تھے۔ لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ نظریہ نہ وضع کیا۔ ابتدائی کیمیائی مفروضہ، ارسطو نے چار عناصر کے نظریہ کی صورت میں پیش کیا جس کے مطابق ہر چيز پانی، ہوا، مٹی، اور آگ کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے مطابق ان چار عناصر کے مختلف تناسب سے ایک شے دوسری شے میں تبدیل ہو جاتی ہے", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00650", "text": "۔ شروع میں کیمیا گری، دھاتوں اور عناصر کو سونے میں تبدیل کرنے اور دائمی زندگی کے لیے اکسیر حاصل کرنے جیسے جادوئی اور پراسرار نظریات تک محدود تھی۔", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00651", "text": "دوری جدول\nدوری جدول ایک ایسا جدول ہوتا جس میں تمام طر عطوم یا جوہرات کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس ٹیبل کو ایک خاص اصول کے تحت تشکیل دیا گیا ہے ۔\n\nشا خیں\nکیمیا کی مندرجہ ذیل شا خیں ہیں:\n\nنامیاتی کیمیا\nآرگینک کیمسٹری، فحم اور ہائیڈروجن کے آب فحم (hydrocarbons) اور ان سے ماخوذ مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔\n\nغیر نامیاتی کیمیا\nان آرگینک کیمسٹری، غیر نامیاتی مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔\n\nطبیعی کیمیا\nفزیکل کیمسٹری مادے کی ترکیب اور طبیعی خواص کے درمیان تعلق اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہے۔", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00652", "text": "تجزیاتی کیمیا\nکیمیائی نمونے کے اجزا کی علیحدگی، ان کا تجزیہ اور پہچان اینالیٹیکل کیمسٹری کہلاتا ہے۔\n\nحیاتیاتی کیمیا\nکیمیا کی وہ شاخ جو جاندار اجسام میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی ساخت، ترکیب اور ان کے کیمیائی عمل کے مطالعہ سے متعلق ہے بائیو کیمسٹری کہلاتی ہے۔\n\nنیوکلیائی کیمیا\nنیوکلیئر کیمسٹری میں تابکاری، نوکلیائی عملیات اور نوکلیائی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00653", "text": "صنعتی کیمیا\nکیمسٹری کی وہ شاخ جس میں تجارتی پیمانے پر مرکبات بنانے کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، انڈسٹریل کیمسٹری کہلاتی ہے۔\n\nماحولیاتی کیمیا\nانوائرنمنٹل کیمسٹری، حیاتیاتی کیمیائی (biochemical) مظاہر جو قدرتی طور پر زمین پر رونما ہوتے ہیں کے مطالعہ سے متعلق ہے۔\n\nمزید دیکھیے\nکیمیا کے بنیادی مقالات کی فہرست* طبیعیات* حیاتیات\nفرہنگ اصطلاحات کیمیاء\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "کیمیا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_00654", "text": "علم طب؛ صحت سے متعلق معلومات کو کہا جاتا ہے اس شعبہ علم کا تعلق، سائنس و فن (Science and Art) دونوں سے ہے (وضاحت نیچے دیکھیے)۔ اس شعبہ علم میں تندرستی کی نگہداری و بقا اور بصورت ِمرض و ضرر، تشخیص اور معمول کی جانب جسم کی بحالی سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔ تاریخ طب کسی اور مضون میں درج کی جائے گی، اس مضمون میں صرف جدید طب کے موجودہ خدوخال پر نظر ڈالی گئی ہے۔", "title": "طب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00655", "text": "طب ایک سائنس بھی ہے کیونکہ اس کی عمارت، بادقت کیے گئے تجربات اور دقیق مطالعہ سے حاصل ہونے والی معلومات پر کھڑی ہے اور یہ ایک فـن بھی ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار طبیب کی ذاتی فہم اور مہارت ِعمل پر ہوتا ہے کہ وہ کس صلاحیت سے علم طب کی معلومات کو استعمال کرتا ہے۔\nبنیادی طور پر طب کو دو بڑی شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛", "title": "طب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00656", "text": "اساسی طب (Basic Medicine) جو تشریح، حیاتی کیمیاء اور فعلیات جسیے بنیادی مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین کا مرض یا مریض پر براہ راست عملی استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ اس عملی استعمال کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں\nسریری طب (Clinical Medicine) جس کو نفاذی طب بھی کہ سکتے ہیں کہ اس میں طبی معلومات کو علاج و معالجہ کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔ اس میں شامل اہم مضامین؛ طبی علاج، جراحی اور علم الادویہ ہیں جو اساسی طب کی بنیاد پر کھڑے ہوکر براہ راست علاج و معالجہ سے تعلق رکھتے ہیں۔", "title": "طب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00657", "text": "علم طب کو ایک اور طریقے سے بھی شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،یعنی معالجوی طب یا curative medicineجس میں کسی بھی بیماری کا علاج کیا جاتا ہے اور دوسرا وقائوی یا preventive medicine کہا جاتا ہے۔ طب کا شعبہ اس وقت انتہائی گہرا ہو چکا ہے باقی سائنسی علوم کی طرح اور اس شعبے کے اندر مزید ذیلی شعبے اور سپیشلٹی و سوپر اسپیشلسٹی یا تخصص کے وسیع شعبے وجود میں آچکے ہیں۔", "title": "طب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00658", "text": "مزید دیکھیے\nہومیوپیتھی\nایلوپیتھی\nطب یونانی", "title": "طب", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B7%D8%A8"}, {"id": "urd_rec_00659", "text": "جینیات یا وراثیات (انگریزی: Genetics) وراثوں (genes) کی ساخت، ان کے افعال اور ان کے رویے کے مطالعے کو کہا جاتا ہے اور یہ حیاتیات کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ اس کی تعریف ایک اور انداز میں یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ حیاتیات کی وہ شاخ ہے جس میں وراثوں کا مختلف پہلوؤں سے مطالعہ کیا جاتا ہے یعنی ان کے ذریعہ خواص کی اولاد میں منتقلی (طرزوراثی سے طرزظاہری کی تشکیل)، وراثوں میں ہونے والے طفرہ (mutation)، طفرہ سے ہونے والے امراض اور ان امراض کے معالجے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "جینیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00660", "text": "ابتدا میں دو اہم الفاظ کی وضاحت اور ان کے مفہوم کا فرق", "title": "جینیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00661", "text": "وراثی امراض (Genetic diseases) : یہ وراثوں میں پیدا ہونے والے مختلف نقائص کی وجہ سے نمودار ہونے والے امراض ہیں۔ یہ نقص، قبل از پیدائش یعنی وراثتی (heredity) بھی ہو سکتا ہے اور بعداز پیدائش یعنی حصولی (acquired) بھی۔\nوراثتی امراض (Hereditary diseases) : یہ وراثوں میں پیدا ہونے والے مختلف نقائص کی وجہ سے نمودار ہونے والے امراض ہیں۔ یہ نقص، قبل از پیدائش یعنی وراثتی (heredity) ہوتا ہے اور اسی ليے ان کو پیدائشی امراض بھی کہتے ہیں۔", "title": "جینیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%DB%8C%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00662", "text": "ارتقا (evolution) سے مراد علم حیاتیات میں ایک ایسے نظریے سے لی جاتی ہے جس کے تحت تمام جاندار اجسام، ماضی میں رہنے والے کسی ایک ہی جدِ امجد یا مورث (ancestor) کی ترمیم شدہ اشکال ہیں۔ ان ترامیم سے بنیادی طور پر مراد وراثی مادے میں ہونے والی ترامیم کی لی جاتی ہے؛ یعنی وراثوں میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں کہ جو ایک جاندار کی گذشتہ سے اگلی نسل کے درمیان واقع ہوں۔ چونکہ وراثے ہی لحمیات تیار کرتے ہیں جو کسی بھی جاندار کی طرزظاہری (phenotype) پر براہ راست اثر پیدا کرنے والے سالمات ہیں", "title": "نظریہ ارتقاء", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%A1"}, {"id": "urd_rec_00663", "text": "۔ گو چند نسلوں کے مابین، وراثی مادے میں ہونے والی یہ ترامیم بہت ہی قلیل اور ناقابلِ شناخت ہوتی ہیں لیکن ارتقا کے نظریات دانوں کے مطابق یہ ترامیم عرصۂ دراز گذرجانے پر مجتمع ہوکر طرز ظاہری پر نمایاں اثر پیدا کرتی ہیں اور جاندار کی جسمانی ساخت تبدیل کر کہ نئی انواع وجود میں لانے کا سبب بن سکتی ہیں اور یہ عمل جس میں نئی انواع نمودار ہوتی ہیں انتواع (speciation) کہلاتا ہے", "title": "نظریہ ارتقاء", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%A1"}, {"id": "urd_rec_00664", "text": "۔ ارتقا دانوں کے نزدیک نامیات (organisms) کے مابین پائی جانے والی ساختی مماثلت اس بات کی توثیق ہے کہ تمام انواع (یعنی تمام اقسام کے موجودہ جاندار) ایک نسبِ مشترک (common descent) سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدائی سطور میں آیا کہ جد امجد سے شروع ہوکر نسل در نسل منتقل ہونے والی ان تبدیلیوں میں اہم کردار وراثی مادے یعنی genes کی ترامیم کا سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے اس نسبِ مشترک کے تصور کو تالابِ وراثہ (gene pool) کی اصطلاح سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے", "title": "نظریہ ارتقاء", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%A1"}, {"id": "urd_rec_00665", "text": "لوئی ہیتھ لیبر (Louise Heath Leber) نے کہا ہے کہ ارتقا کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ گھر کا سب سے بڑا کمرہ ہے:", "title": "نظریہ ارتقاء", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%A1"}, {"id": "urd_rec_00666", "text": "یہ بھی پڑھیں\nنظریہ ارتقاء پر اعتراضات\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "نظریہ ارتقاء", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%DB%81_%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%A1"}, {"id": "urd_rec_00667", "text": "ماحولیات (عربی: علم البيئة، انگریزی: Ecology) حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کا ایک دوسرے اور ماحول کے مابین تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔", "title": "ماحولیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00668", "text": "اصطلاحات ’’ایکولوجی‘‘ (Ecology) اور ’’اینوائرونمنٹ‘‘ (Environment) کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کو کم و بیش تمام تر انگریزی اُردو لغات میں ’’ماحول‘‘ اور ’’ماحولیات‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں الفاظ (ایکولوجی اور اینوائرونمنٹ) ماحول ہی کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی دونوں میں فرق ہے۔ اینوائرونمنٹ سے مراد کوئی بھی ماحول ہو سکتا ہے: وہ خلاء بھی ہو سکتی ہے، زمینی فضا بھی ہو سکتی ہے اور کسی ستارے کا جھلساتا ہوا بیرونی حصہ بھی", "title": "ماحولیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00669", "text": "۔ یعنی اینوائرونمنٹ کے تحت بیان ہونے والے کسی بھی ماحول میں زندگی کی کوئی شرط نہیں۔ اس کے برعکس، ایکولوجی ایک وسیع البنیاد اصطلاح ہے۔ پینگوئن ڈکشنری آف سائنس (2009ء) کے مطابق، ایکولوجی سے مراد جانداروں کا ایسا مطالعہ ہے جو اِرد گرد کے ماحول (اور اس ماحول میں موجود دیگر جانداروں) سے اُن کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایکولوجی میں کئی ایک موضوعات شامل ہیں جن میں فعلیات (فزیالوجی) سے لے کر جینیات (جِنیٹکس) تک، کئی سائنسی شعبے شامل ہیں", "title": "ماحولیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00670", "text": "۔ اسی وجہ سے اینوائرونمنٹ اور ایکولوجی کو ’’ماحول‘‘ کی یکساں اصطلاح سے نہیں بیان کیا جا سکتا۔ چند سالوں سے سائنسی جرائد میں Environment (اینوائرونمنٹ) کے لیے ماحول اور ماحولیات، جبکہ Ecology (ایکولوجی) کے لیے ’’حیاتی ماحول‘‘ اور ’’حیاتی ماحولیات‘‘ کے اُردو مترادفات اختیار کیے جا رہے ہیں۔", "title": "ماحولیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00671", "text": "مزید دیکھیے\nقدرتی ماحول(Natural Environment)\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "ماحولیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00672", "text": "معاشیات یا اقتصادیات (Economics) معاشرتی علوم (Social Sciences) کی ایک اہم شاخ ہے جس میں قلیل مادی وسائل و پیداوار کی تقسیم اور ان کی طلب و رسد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں رائج اصطلاح اقتصادیات اردو میں معاشیات کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ معاشیات کی ایک جامع تعریف جو روبنز (Lionel Robbins) نے دی تھی کچھ یوں ہے کہ 'معاشیات ایک ایسا علم ہے جس میں ہم انسانی رویہ کا مطالعہ کرتے ہیں جب اسے لامحدود خواہشات اور ان کے مقابلے میں محدود ذرائع کا سامنا کرنا پڑے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00673", "text": "۔ جبکہ ان محدود ذرائع کے متنوع استعمال ہوں'۔ معاشیات آج ایک جدید معاشرتی علم بن چکا ہے جس میں نہ صرف انسانی معاشی رویہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ اور ممالک کے معاشی رویہ اور انسانی زندگی اور اس کی معاشی ترقی سے متعلق تمام امور کا احاطہ کیا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور انسانی فلاح جیسے مضامین بھی شامل ہیں جن کا احاطہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔ معاشیات سے بہت سے نئے مضامین جنم لے چکے ہیں جنھوں نے اب اپنی علاحدہ حیثیت اختیار کر لی ہے جیسے مالیات، تجارت اور انتظام", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00674", "text": "۔ معاشیات کی بہت سی شاخیں ہیں مگر مجموعی طور پر انھیں جزیاتی معاشیات (Microeconomics) اور کلیاتی معاشیات (Macroeconomics) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00675", "text": "تعریف\nمعاشیات سے مراد وہ سائنس ہے جو تبادلے سے متعلق قوانین کو کنٹرول کرتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ قوانین بنانے والے لین دین اور دولت کی منتقلی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔\n\nEconomics is the Science which treats of the Laws which govern the Relations of Exchangeable Quantities (Exchangeable Quantities means wealth)۔\nقانون حقوق متعین کرتا ہے۔ معاشیات حقوق کا تبادلہ طے کرتی ہے۔\n\nLaw is the Science of Rights. Economics is the Science of the Exchanges of Rights", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00676", "text": "مقاصد\nقدیم ادوار میں مالیاتی نظام حکومت کی ذمہ داریوں کی طرح سیدھا سادہ ہوتا تھا۔ عام طور پر حکومت کی ذمہ داریاں محدود ہوتی تھیں۔ اس لیے محصولات میں کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوتی تھیں۔ محصولات کا بڑا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00677", "text": "حصہ زمین کی لگان اور اس کے محصول پر مشتمل ہوتا تھا۔ جب کہ ذرخیز علاقوں پر عام طور زیادہ محصول ہوتا تھا یا ان پر کچھ خصوصی محصول کسی خاص مد میں لگائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جزیہ، تجارت اور وراثت پر بھی محصول لگائے جاتے تھے۔ جو کم و بیش روم، ایران و مصر اور دوسرے علاقوں میں قبل اسلام یہی محصولات مختلف شکلوں میں عائد کیے جاتے تھے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00678", "text": "قدیم زمانے میں ضرورتیں مختصر اور سادہ ہوا کرتی تھیں، لیکن تہذیب و تمد ن کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور نیرنگی پیدا ہوتی گئی۔ بنیادی طور پر ہمیں بھوک مٹانے کے لیے غذا، ،تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لیے مکان درکار ہے۔ لیکن اس کے علاوہ انسان کو بہت سی ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو آرام و آسائش بہم پہنچاتی ہیں اور تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ مثلأئ صوفہ، ریڈیو، ٹیلی ویژ ن، فریج، ایر کنڈیشنز، موٹر سائیکل اور کار وغیرہ ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00679", "text": "۔ چنانچہ ان حاجات کو پورا کرنے کے لیے انسان محنت کرتا ہے اور دولت کماتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتوں میں، مزدور کارخانوں میں، کلرک دفتروں میں سرگرم عمل ہیں۔ غرض ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل، دھوبی اور نائی ہر شخص اپنا کام کر رہا ہے تاکہ روپیہ حاصل کرکے ضرورت کی اشیاء حاصل کرسکے۔ انسان کی اس جدوجہد کا اور اس کی کوششوں کا تعلق معاشیات سے ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00680", "text": "دراصل انسان کی خواہشات بے شمار ہیں لیکن انھیں پورا کرنے کے ذرائع تھوڑے ہیں۔ لہذا اسے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس قلیل ذرائع سے کیسے پورا کرے۔ گویا اسے بے شمار خواہشات میں انتخاب اور ذرائع میں کفایت کرنی پڑتی ہے۔ انسانی طرز عمل کے اس پہلو کے مطالعہ کا نام معاشیات ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00681", "text": "حاجات کی کثرت اور وسائل کی قلت کے باعث دنیا کی بیشتر آبادی مسائل سے دوچار ہے۔ مثلا ئئغربت، جہالت، بیماری، قحط، بے روزگاری اور افراط زر وغیرہ ہیں۔ چنانچہ معاشی ماہرین ان مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں اور انھیں حل کرنے کے لیے معاشی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور معاشی ترقی پر زور دیتے ہیں، ایسی تجویزیں پیش کرتے ہیں جس سے ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھے، روزگار ملے اور لوگوں میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو، خوش حالی کا معیار بلند ہو اور ان کی ضرورتیں احسن طریقے سے پوری ہوں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00682", "text": "۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشیات کے جدید اصولوں اور نظریات سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی ترقی کے لیے کوشش کی جائے۔ تاکہ اشیاء کی پیداوار بڑھے، لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو ضرورت کی اشیاء ملیں اور معاشرہ خوش حالی کی طرف گامزن ہو۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00683", "text": "انسان کے معاشی مسئلہ کے مختلف پہلوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے کہ کس طرح تمام انسانوں کو ان کی ضروریات زندگی بہم پہچانے کا انتظام ہو اور کس طرح معاشرے میں ہر فرد اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق ترقی کرکے اپنی شخصیت کو نشوو نمادینے اور اپنی لیاقت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے مواقع حاصل کرے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00684", "text": "معاشی نظام کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو وہ بچہ ہو یا بوڑھا، عورت ہو کہ مرد بلا امتیاز و فرق کے کم از کم اپنا سامان حیات ضرور میسر ہو۔ جس کے بغیر عام طور پر ایک انسان اطمینان کے ساتھ زندہ نہیں ر ہ سکتا اور نہ اپنے فرائض و واجبات ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر سکتا ہے۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00685", "text": "۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے ہر ایک فرد کے لیے کسی نہ کسی درجہ میں خوراک لباس اور مکان کے علاوہ علاج، تعلیم اور روزگار کا مناسب انتظام ہو اور کوئی فرد ان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے اور یہی ایک اسلامی معاشرے کا مقصد ہے۔== مقاصد ==", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00686", "text": "قدیم ادوار میں مالیاتی نظام حکومت کی ذمہ داریوں کی طرح سیدھا سادہ ہوتا تھا۔ عام طور پر حکومت کی ذمہ داریاں محدود ہوتی تھیں۔ اس لیے محصولات میں کوئی پیچیدگیاں نہیں ہوتی تھیں۔ محصولات کا بڑا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00687", "text": "حصہ زمین کی لگان اور اس کے محصول پر مشتمل ہوتا تھا۔ جب کہ ذرخیز علاقوں پر عام طور زیادہ محصول ہوتا تھا یا ان پر کچھ خصوصی محصول کسی خاص مد میں لگائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جزیہ، تجارت اور وراثت پر بھی محصول لگائے جاتے تھے۔ جو کم و بیش روم، ایران و مصر اور دوسرے علاقوں میں قبل اسلام یہی محصولات مختلف شکلوں میں عائد کیے جاتے تھے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00688", "text": "قدیم زمانے میں ضرورتیں مختصر اور سادہ ہوا کرتی تھیں، لیکن تہذیب و تمد ن کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ اور نیرنگی پیدا ہوتی گئی۔ بنیادی طور پر ہمیں بھوک مٹانے کے لیے غذا، ،تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لیے مکان درکار ہے۔ لیکن اس کے علاوہ انسان کو بہت سی ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو آرام و آسائش بہم پہنچاتی ہیں اور تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ مثلأئ صوفہ، ریڈیو، ٹیلی ویژ ن، فریج، ایر کنڈیشنز، موٹر سائیکل اور کار وغیرہ ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00689", "text": "۔ چنانچہ ان حاجات کو پورا کرنے کے لیے انسان محنت کرتا ہے اور دولت کماتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتوں میں، مزدور کارخانوں میں، کلرک دفتروں میں سرگرم عمل ہیں۔ غرض ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل، دھوبی اور نائی ہر شخص اپنا کام کر رہا ہے تاکہ روپیہ حاصل کرکے ضرورت کی اشیاء حاصل کرسکے۔ انسان کی اس جدوجہد کا اور اس کی کوششوں کا تعلق معاشیات سے ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00690", "text": "دراصل انسان کی خواہشات بے شمار ہیں لیکن انھیں پورا کرنے کے ذرائع تھوڑے ہیں۔ لہذا اسے یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس قلیل ذرائع سے کیسے پورا کرے۔ گویا اسے بے شمار خواہشات میں انتخاب اور ذرائع میں کفایت کرنی پڑتی ہے۔ انسانی طرز عمل کے اس پہلو کے مطالعہ کا نام معاشیات ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00691", "text": "حاجات کی کثرت اور وسائل کی قلت کے باعث دنیا کی بیشتر آبادی مسائل سے دوچار ہے۔ مثلا ئئغربت، جہالت، بیماری، قحط، بے روزگاری اور افراط زر وغیرہ ہیں۔ چنانچہ معاشی ماہرین ان مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں اور انھیں حل کرنے کے لیے معاشی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور معاشی ترقی پر زور دیتے ہیں، ایسی تجویزیں پیش کرتے ہیں جس سے ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھے، روزگار ملے اور لوگوں میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو، خوش حالی کا معیار بلند ہو اور ان کی ضرورتیں احسن طریقے سے پوری ہوں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00692", "text": "۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشیات کے جدید اصولوں اور نظریات سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی ترقی کے لیے کوشش کی جائے۔ تاکہ اشیاء کی پیداوار بڑھے، لوگوں کو روزگار ملے اور لوگوں کو ضرورت کی اشیاء ملیں اور معاشرہ خوش حالی کی طرف گامزن ہو۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00693", "text": "انسان کے معاشی مسئلہ کے مختلف پہلوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے کہ کس طرح تمام انسانوں کو ان کی ضروریات زندگی بہم پہچانے کا انتظام ہو اور کس طرح معاشرے میں ہر فرد اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق ترقی کرکے اپنی شخصیت کو نشوو نمادینے اور اپنی لیاقت کو درجہ کمال پر پہنچانے کے مواقع حاصل کرے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00694", "text": "معاشی نظام کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو وہ بچہ ہو یا بوڑھا، عورت ہو کہ مرد بلا امتیاز و فرق کے کم از کم اپنا سامان حیات ضرور میسر ہو۔ جس کے بغیر عام طور پر ایک انسان اطمینان کے ساتھ زندہ نہیں ر ہ سکتا اور نہ اپنے فرائض و واجبات ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر سکتا ہے۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00695", "text": "۔ جو مختلف حیثیت سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے ہر ایک فرد کے لیے کسی نہ کسی درجہ میں خوراک لباس اور مکان کے علاوہ علاج، تعلیم اور روزگار کا مناسب انتظام ہو اور کوئی فرد ان بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے اور یہی ایک اسلامی معاشرے کا مقصد ہے۔]][[", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00696", "text": "معاشی ارتقا\nقدیم ادوار میں سونے اور چاندی کے سکے ہوتے تھے۔ جو دنیا میں محدود مقدار میں تھے، اس لیے زر Currencyکی قدر میں استحکام تھا اور اس وجہ سے دنیا ہمیشہ تفریق زر Deflation کا شکار رہی تھی۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00697", "text": "اس وقت جب کہ سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کر رہا تھا، تو اسلام نے ایک طرف زکواۃ کو فرض کر کے اور دوسرے طرف رضاکارانہ طور پر دولت پھیلانے کی تلقین کرکے سودIntrest پر ضرب لگائی۔ اس سے نہ صرف معاشرے میں دولت پھیل جاتی تھی بلکہ لوگوں کے پاس پیسہ آجانے سے تجارت و کاروبار میں ترقی ہوجاتی اور لوگوں کو روزگار مل جاتا تھا، جواب بھی نہایت راست ا قدام ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00698", "text": "مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور تیز رفتار ترقی کی وجہ سے دنیا تفریق زر اور کسادبازاری کا شکار ہونے لگی۔ کیوں کہ دنیا میں سونا محدود مقدار میں تھا، جس کی مقدار مزید بڑھ نہیں سکتی تھی اور اس کے متبادل کے طور پر کاغذی زر تخلیق کیا گیا۔ جو ابتدا میں سونے کے بدلے جاری کیا گیا تھا، اس لیے اس کی قدر مستحکم تھی۔ مگر جلد ہی اس کا تعلق سونے سے ٹورنا پڑا، اب اس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00699", "text": "دنیا میں جہاں مختلف میدانوں میں ترقی ہوئی ہے اور مختلف ارتقائی مراحل گذر ی ہے، وہاں آج کی معاشی دنیا بھی بدل چکی ہے۔ آج کی معاشی دنیا پہلے کی طرح سادہ نہیں رہی ہے۔ زماں اور مکاں اور عرف و عادۃ کی تبدیلوں کے ساتھ اس نے مختلف ارتقائی مرحلے طے کیے ہیں اور اب یہ عہد گذشتہ کی نسبت بہت زیادہ پیچیدہ اور تیز رفتار ہو گئی ہے۔ اس لیے آج معاشی دنیا کل کی نسبت بہت کچھ بدل چکی ہے۔ پہلے سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا تھا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00700", "text": "۔ پہلے سود معاشرے میں عدم توازن پیدا کرتا تھا۔ جب کہ آج کی جدید معشیت میں تیز رفتار ترقی اور وقت کے ساتھ گرتی قدر کی وجہ سے قرض لینے والا فائدے میں رہتا ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00701", "text": "آج کا معاشی نظام عہدوسطیٰ کے مقابلے میں بہت مختلف ہے۔ پہلے صرف سونے کو زر کی حیثیت حاصل تھی، مگر اب اس کی جگہ کاغذی زر نے لے لی ہے، جس کی قدر وقت کے ساتھ گرتی رہتی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے لوگ اپنا پیسہ جائداد یا اس طرح کی خریداری میں لگاتے ہیں اور کاروبار کے لیے قرض کو ترجیح دیتے ہیں اور واپسی کے وقت اصل کے مقابلے میں زائد رقم خوشی خوشی ادا کرتے ہیں، کیوں کہ قرض لیتے وقت جو زر کی قدر تھی وہ ادائیگی کے وقت گھٹ چکی ہوتی ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00702", "text": "۔ یہی وجہ ہے سود کے خلاف جتنے دلائل دیے جاتے تھے وہ جدید معاشی نظام پر صادق نہیں آتے ہیں۔ کیوں کہ زر کی وقت کے ساتھ گرتی قدر نے سود کے خلاف تمام دلائل بیکار کردیے ہیں اور سود پوری طرح معاشی معاشرے میں رائج ہو چکا ہے۔ آج ہم سود کے بغیرمعیشت کا سوچ ہی نہیں سکتے ہیں۔ حقیقت میں سودی نظام صرف بینکاریBanking کے امور تک محدود نہیں ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00703", "text": "۔ بلکہ دوسرے معاشیEcnomic & Manitry امور مثلأئ زر کی تخلیقCapital Formation، کاغذی زر، ادائیگیوں کا توازن Balance of Payments، قرضہ جات، معاشی حکمت عملیوں کے مطابق زر کو بازار میں پھیلانے اور کھینچنے اور روزگار وغیرہ بھی اس سے وابستہ ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00704", "text": "معاشیات کا ارتقا اور تاریخ", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00705", "text": "اگرچہ معاشیات کی تحریریں کافی قدیم زمانے سے ملتی ہیں مگر وہ کتاب جو باقاعدہ معاشیات کی پہلی طبع شدہ کتاب سمجھی جاتی ہے، آدم سمتھ (Adam Smith) کی مشہور کتاب 'دولتِ اقوام' (Wealth of Nations) ہے جو 1776 میں چھپی تھی۔ اس وقت معاشیات کو بطور علاحدہ مضمون کے شناخت نہیں کیا جاتا تھا مگر 1876ء سے بھی پہلے مختلف جریدوں میں معاشیات سے متعلق تحریریں موجود ہیں مثلاً تھامس من (Thomas Munn) کے بین الاقوامی تجارت سے متعلق مضامین کا تعلق سولہویں صدی سے ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00706", "text": "۔ معاشی نظریات اسلامی دور میں بھی موجود تھے اور یونانی دور میں بھی مگر علاحدہ مضمون کی حیثیت سے ترقی اسے اٹھارویں صدی میں ہی آ کر ہوئی۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00707", "text": "معاشیات کو اس کا علاحدہ نام (انگریزی میں Economics۔ فرانسیسی میں Sciences économiques) سنہ 1876ء کے کچھ بعد ملا۔ پہلی کتاب جو باقاعدہ اس نام کے ساتھ چھپی وہ الفرڈ مارشل (Alfred Marshall) کی کتاب اصولِ معاشیات (Principles of Economics ) تھی جو 1890ء میں طبع ہوئی۔ مگر معاشی نظریات کو ہم تین بنیادی ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلے دور میں عموماً یونانی، رومی اور عربی (اسلامی) نظریات شامل سمجھے جاتے ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00708", "text": "۔ دوسرے دور میں چودھویں صدی کے بعد سے اٹھارویں صدی کے نظریات کو داخل کیا جاتا ہے جیسے تاجرانہ نظریات (mercantilist views) اور تیسرے دور میں آدم سمتھ اور اس کے بعد کے نظریات کو شامل کیا جاتا ہے۔ تیسرا دور ہی اصل میں معاشیات کی صحیح معنیٰ میں ترقی کا دور ہے جس میں جدید معاشیات کی بنیاد پڑی اور معاشیات کو ایک الگ مضمون کی حیثیت دی گئی۔ اسی تیسرے دور میں مختلف مکاتبِ فکر ن جنم لیا مثلاً کلاسیکی، نو کلاسیکی وغیرo", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00709", "text": "معاشیات کی بنیادی شاخیں\nمعاشیات کے علم کو بطور مجموعی دو بنیادی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔\n\nجزیاتی معاشیات\nاس میں انفرادی درجہ پر معاشی تجزیہ کیا جاتا ہے جیسے کسی شخص، کارخانہ، شراکت، صارف یا گھر وغیرہ کا تجزیہ کیا جائے۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں مثلاً رویہ صارف، فلاحی معاشیات، تجارتی معاشیات، صنعتی تنظیم، معاشیاتِ خاندان وغیرہ۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00710", "text": "کلیاتی معاشیات\nاس میں معاشرہ کا اجتماعی درجہ پر تجزیہ کیا جاتا ہے جیسے کسی ملک کی آمدنی اور شرحِ نمو یا بین الاقوامی تجزیات وغیرہ۔ اس کی بہت سی شاخیں ہیں مثلاً معاشی ترقی، بین الاقوامی معاشیات، معاشیاتِ آبادی وغیرہ۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00711", "text": "اہم مکاتب فکر\nمعاشی نظریات کا تعلق نظریات کے ساتھ ہے وقت کے ساتھ نہیں مثلاً کلاسیکی معاشی نظریات دو سو سال پہلے بھی تھے اور آج بھی کوئی ویسے نظریات رکھے گا تو اسے کلاسیکی ماہرِ معاشیات ہی کہا جائے گا۔ نظریات کے لحاظ سے جدید دور کی معاشیات کو عموماً چند نظریاتی جماعتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00712", "text": "کلاسیکی معاشیات", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00713", "text": "اٹھارویں اور انیسویں صدی میں معاشیات کے بارے میں مخصوص نظریات رائج تھے۔ اس وقت معاشیات کو معیشتِ سیاسی (Political economy) کہا جاتا تھا۔ اس کے ابتدائیییییی دور میں یہ وہ وقت تھا جب معاشیات کو ابھی علاحدہ مضمون کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی اور معاشیات کے نئے نظریات دینے والوں میں نہ صرف معاشیات کے ماہر بلکہ فلسفی، ریاضی دان، علومِ سیاسیہ کے ماہر اور دیگر مفکرین شامل تھے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00714", "text": "۔ معاشی نظریات یہ تھے کہ معیشت کو منڈیاں چلاتی ہیں اور معیشت میں خود بخود ایک توازن پیدا ہو جاتا ہے یا متوازن کیفیت کی طرف معاشی متغیرات کا رحجان ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر چیز کی ایک قدر ہوتی ہے اور یہ قدر یا قیمت ہی ہے جس کی وجہ سے معیشت چلتی ہے اور یہی میکانیاتِ قیمت ہی ہے جس کی وجہ سے صرف، پیداوار، طلب و رسد جنم لیتی ہیں۔ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار جنم لے سکتا ہے اور رسد اپنی طلب خود پیدا کر لیتی ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00715", "text": "۔ بعض مفکرین یہ بھی سمجھتے تھے کہ اشیاء کی قیمتیں اس بات سے متعین ہوتی ہیں کہ ان پر محنت کے کتنے گھنٹے یا وقت صرف ہوا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ حکومت یا کسی بھی طاقت کی معیشت میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے اور معیشت کو مالیاتی تدابیر(Fiscal policy) کی نسبت قدری تدابیر (Monetary policy) سے اختیار میں لایا جا سکتا ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00716", "text": "کلاسیکی ماہرینِ معاشیات میں آدم سمتھ، جون سٹوارٹ مِل، تھامس مالتھس اور ڈیوڈ ریکارڈو جیسے نام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے مشہور کتاب آدم سمتھ کی 'دولتِ اقوام' کو سمجھا جاتا ہے جو1776ء میں چھپی تھی۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00717", "text": "نو کلاسیکی معاشیات", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00718", "text": "کلاسیکی معاشیات میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ بنیادی طور پر معاشیات دولت کا علم ہے مگر نو کلاسیکی معاشیات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاشیات دولت کا نہیں بلکہ انسانی رویہ سے تعلق رکھنے والا علم ہے۔ یہ انسان کے معاشی رویہ کا تجزیہ کرتا ہے جس میں انسان کی خواہشات بہت زیادہ ہوتی ہیں اور ان کو حاصل کرنے کے ذرائع کمیاب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان کو ان محدود ذرائع کے استعمال کو چننا ہوتا ہے۔ زیادہ اہم خواہشات یقیناً پہلے پوری ہوتی ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00719", "text": "۔ زیادہ اہم خواہشات یقیناً پہلے پوری ہوتی ہیں۔ یعنی دولت کو صرف اس لیے زیرِ بحث لایا جاتا ہے کہ وہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00720", "text": "جدید معاشیات کی بنیاد بھی انہی نوکلاسیکی معاشیاتی نظریات پر ہے جس میں وسائل و ذرائع کے مستعد ترین (efficient) استعمال پر بحث ہوتی ہے۔ یعنی انسانی فیصلے لاگت اور قیمت پر انحصار کریں گے۔ نوکلاسیکی نظریات کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ قیمت، پیداوار اور آمدنی کی تقسیم جیسے فیصلے رسد و طلب کی مدد سے ہوں گے۔ صارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور شرکت (Firm) کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00721", "text": "مجموعی طور پر نوکلاسیکی معاشیات کی بنیاد تین مفروضات پر ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00722", "text": "انسان عاقلانہ (Rationally) انداز میں اپنے فیصلے کرتا ہے۔ اور اس کے ذہن میں ان فیصلوں کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کچھ قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔\nصارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور شرکت (Firm) کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔\nانسان اپنے فیصلے آزادانہ طور پر متعلقہ مواد اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00723", "text": "نوکلاسیکی معاشیات دانوں میں ابتدائیییییی ناموں میں ولیم جیون (William Stanley Jevons)، کارل مینجر (Carl Menger)، لیوں والرس (Leon Walras)، جیریمی بینتہم (Jeremy Bentham) اور الفریڈ مارشل (Alfred Marshall) جیسے نام شامل ہیں۔\nفارش اے نورتاریخ دان اور ماہرِ سیاسیات ہیں۔ ان کا تعلق ملائشیا سے ہے اور وہ برلن کے زینٹرم ماڈرنر اوریئنٹ میں رہتے ہیں۔ وہ ایک تحقیقی ویب گاہ www.othermalaysia.org۔ کے بانیوں میں بھی شامل ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00724", "text": "اسلام اوراس دور میں تجارت کی بات کرنا تو جیسے فیشن بن گیا ہے۔ تاہم اسلام اور اقتصادیات، کاروبار، بنکاری، مالیات اور انٹرنیٹ (Internet) پر خصوصی طور پرمسلمانوں کے لیے بنائی گئی مصنوعات کی فروخت پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم تجارت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ پچھلے دو عشروں سے ہو رہا ہے اور شائد ہی کسی نے اس پر توجہ دی ہو۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00725", "text": "60ء کے عشرے میں مسلم دنیا کئی طرح کے احیاء کے تجربے سے گذر رہی تھی۔ بلا مبالغہ اس کرہ ارض پر موجود مسلم اکثریت والے ہر ملک کو نو آبادیاتی نظام کے بعد حکمرانی کے بحران سے گذرنا پڑا جب مسلم معیشتوں کو یہ احساس ہوا کہ انھیں ہر شے باہر سے درآمد کرنے والی نو آبادیاتی دور کی روش کوچھوڑنا ہوگا۔ چنانچہ نو آبادیاتی دور کے ترقیاتی ماڈل کو فی الفور ترک کر دیا گیا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00726", "text": "۔ 60ء کی دہائی ہی میں بیشتر مسلمان ملکوں کی حکومتوں کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ انھیں بین الاقوامی کاروباری شعبے کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں اپنے درمیان موجود نئے شہری حلقوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا تھا۔ اس اقتصادی، اداراتی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی کے ساتھ چلنے سے ایک نئی قوت ابھر کر سامنے آئی جسے سیاسی اسلام کہا جاتا ہے۔ مراکش سے انڈونیشیا تک مسلمان اسلام کے جھنڈے تلے ایک نئے حلقے کے طور پر اپنی سیاسی تنظیم کر رہے تھے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00727", "text": "۔ کچھ ملک تو ان نئے سیاسی حقائق کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل تھے لیکن شاہ کی زیرِ قیادت ایران جیسے بعض ممالک ایسے بھی تھے جنھوں نے کوشش کی کہ تبدیلی کے نئے راستے تو کھولے جائیں لیکن سیاسی نظام میں بنیادی اصلاحات کرنے کی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے، جس میں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00728", "text": "70ء کے عشرے کے اواخر اور 80ء کی دہائی میں سیاسی اسلام اپنے عروج پر تھا جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا اور پاکستان، سوڈان اور نائجیریا میں اسلمہ ﴿Islamization) کی گئی۔ مصر، مراکش اور تیونس جیسے ممالک کے زیادہ ترقی یافتہ شہری حلقوں میں مقبولیت کی بنا پر سیاسی اسلام کے حامیوں کو عرب دنیا میں بھی نظر انداز کرنا بہت مشکل تھا۔ ایشیا کے مسلمان ملکوں میں بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی جہاں پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اسلمہ ﴿Islamization) کا عمل پوری تندہی اور تیزی سے ہو رہا تھا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00729", "text": "۔ مثال کے طور پر 1980 ء کے عشرے نے دیکھا کہ ملائیشیا کی سیاسی معیشت کی تیزی سے تنظیم ِ نو کی گئی جب ریاست نے سیاسی اسلام کے حامیوں کو پزیرائی بخشی اور انھیں حکومتی مشینری کا حصہ بنایا۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00730", "text": "آج کل ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک اسلامی بنکاری اور فنانس سمیت بہت سے شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خصوصی طور پر مسلمانوں کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات کی کامیابی حیران کن ہے۔ اگر ہم مسلم ممالک میں تجارتی مراکز ﴿Super Markets) کا چکر لگائیں تو بڑی تعدادمیں ایسی اشیاء نظر آتی ہیں جن پر 'مسلم' کی چھاپ لگی ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00731", "text": "۔ ان میں مسلم کولا مثلاً زم زم یا مکّہ کولا سے لے کر مسلم جینز مثلاً القدس جینز تک بہت سی مصنوعات شامل ہیں جو مسلمانوں کے ذوق اور ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00732", "text": "ملائشیا میں ایک کار بھی تیار کی جا رہی ہے جوشائد اپنی قسم کی پہلی 'مسلم کار' ہوگی۔ اس کار میں مکّہ کی طرف اشارہ کرنے والا سمت نما اور قرآن رکھنے کے لیے خصوصی خانہ تیار کیا گیا ہے۔ عوامی تفریح اور پلاسٹک آرٹ جیسے شعبوں میں مقبول مسلم ثقافت اہم کاروبار بن گئی ہے اور ای ایم آئی جیسی بڑی کمپنیاں مسلمان پاپ گروپس کے ساتھ معاہدے کر رہی ہیں۔ تاہم ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ بھی ہم آج کی مسلم دنیا میں دیکھ رہے ہیں اسے انقلابی یا بنیاد پرستانہ نہیں کہا جا سکتا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00733", "text": "۔ اس ضمن میں بہت سے اہم نکات پرزوردینے کی ضرورت ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00734", "text": "اوّل: ہمیں باربار دوسروں کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اسلام کوئی ایسا مذہب یا عقائد کا نظام نہیں ہے جو کاروبار کے خلاف ہے۔ اسلام کے اخلاقی اصول کسی کو تجارت کرنے سے نہیں روکتے۔ خود حضرت محمدﷺ کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے تھا۔ اسلام آزادانہ کاروبار، نجی ملکیت اور دولت کے حصول کا دفاع بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔\nدوم: مسلم دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی انہونی چیز یا نئی اختراع نہیں ہے۔ مسلمان تو صرف کاروباری روایات اور طریقہ کار کو اپنی کمیونٹی کے لیے موزوں بنا رہے ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00735", "text": "تیسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے کاروباری شعبے کی ترقی سب کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ یہ سماج کو ترقی دینے، دولت کی پیداوار اور اس کی تقسیم کے ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔ بلکہ جب مغرب اور مسلمانوں کے درمیان میں تعلقات اتنے اچھے نہ رہیں جتناکہ وہ ہو سکتے تھے تو ایسے میں دونوں کے درمیان میں پُل کا کام بھی دیتا ہے۔ مسلم کولا، جینز یا کاروں کی تیاری اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ مسلمان ان اشیاء سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جو ایک طویل عرصے سے مغرب کے صنعتی سماج میں تیار ہو رہی تھیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00736", "text": "چنانچہ مسلم کامرس کے ابھرنے کو کسی طرح کی رکاوٹ نہیں سمجھناچاہیے بلکہ اس سے دنیا بھر کے کاروباری طبقوں کوایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک ایسی صارف منڈی دریافت کرنے، اسے ترقی دینے اور اس میں کام کرنے کے کاروباری امکانات اور مواقع میسر آئیں گے جو اپنے اقتصادی مقام اورموقع سے پوری طرح آگاہ ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00737", "text": "۔ ایک ایسے دور میں جب ذرائع ابلاغ تواتر کے ساتھ مصیبت زدہ معاشروں کی تصاویراور بین الثقافتی جھگڑوں اور تشدد کی داستانوں کی بوچھاڑ کیے ہوئے ہے، مغرب اور مسلم دنیا کے کاروباری منصوبے ثقافتوں کے درمیان میں خلیج کو پاٹنے اور ثقافتی کاروباری منصوبے بنانے جیسا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو معاشروں کو ایک دوسرے سے دورہٹانے کی بجائے قریب لانے کا باعث بنے گا۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00738", "text": "کینزی معاشیات", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00739", "text": "کینزی معاشیات جون مینارڈ کینز (John Maynard Keynes) کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس نظریہ کے حامل ماہرین قلیل عرصہ (Short run) کی کلیاتی معاشیات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں معاشی متغیرات بالکل لچکدار نہیں ہوتے اور ان کے تغیر میں کچھ رکاوٹیں بھی آسکتی ہیں۔ مثلاً جب قیمتیں بڑھ جائیں تو ان کو کم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ قیمت کی کمی کے حالات پیدا ہو جائیں، وہ اس آسانی سے کم نہیں ہوتیں جتنی آسانی سے بڑھتی ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00740", "text": "۔ اس کے علاوہ یہ لوگ بالکل آزاد معیشت (Free Economy) پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے خیال میں بعض صورتیں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں جس میں معاشی متغیرات میں مکمل طور پر توازن پیدا نہیں ہوتا اور وہ توازنی کیفیت کے علاوہ کہیں اور اٹکی رہ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں معیشت میں کسی طاقت مثلاً حکومت کی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔ یہ مداخلت مالیاتی حکمتِ عملی (Fiscal Policy) کے ذریعے سب سے بہتر نتائج دیتی ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00741", "text": "۔ کینزی معاشیات ایک آزاد معیشت یا ایک مکمل طور پر پابند معیشت (Controled economy) دونوں کی جگہ ایک ملی جلی معیشت (Mixed Economy) کا پرچار کرتی ہے جس میں حکومتی ادارے اور نجی شعبہ دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کلاسیکی معاشی نظریات کے برعکس یہ لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار اور توازن پیدا ہوگا۔ ان نظریات کا منبع کینز کی مشہور کتاب 'نظریہ عمومی' (General theory) ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00742", "text": "مارکسی معاشیات\nمزید تفصیل کے لیے دیکھیں مارکس کے معاشی نظریات", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00743", "text": "مارکسی معاشیات کی بنیاد کارل مارکس (Karl Marx) کے نظریات پر ہے جو بنیادی طور پر اس کی مشہور کتاب 'سرمایہ' (جرمن میںDas Kapital۔ انگریزی میں The Capital) سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ مارکس اقتصادی مسائل کو ایک طبقاتی تفاوت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ (capital) اور محنت (labor) کے درمیان میں دولت اور پیداوار کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی اور سرمایہ دار مزدور کا استحصال کرتا ہے اور یہی طبقاتی تفاوت کی بنیاد ہے", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00744", "text": "۔ ان خیالات کی بنیاد اس کی نظریہ قدر از محنت (labor theory of value) پر ہے جس کے مطابق اشیاء کی قدریں یا قیمتیں ان پر لگی ہوئی محنت (labor) سے متعین ہوتی ہیں۔ مزدور کی محنت اشیاء میں قدر پیدا کرتی ہے مگر اسے اس کا جائز حصہ نہیں ملتا اور پیداوار و منافع کا بیشر حصہ سرمایہ دار اینٹھ لیتا ہے۔ اس کے مطابق اس کی وجہ سے طبقاتی تفاوت بڑھتا چلا جائے گا اور تصادم ناگزیر ہو جائے گا۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00745", "text": "کارل مارکس پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ قیمت کا انحصار طلب (Demand) پر ہوتا ہے اور محنت پر نہیں ہوتا، بلکہ طلب ہی محنت کرنے پر اکساتی ہے۔ اگر کسی کو بھی مزدور کی محنت کی طلب نہ ہو تو محنت فضول ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00746", "text": "نقدی معاشیات", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00747", "text": "اس قسم کی معاشیات کا پرچار کرنے والے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ قومی آمدنی بڑھانے جیسے عوامل میں اصل حیثیت زر کی طلب و رسد کی قوتوں پر ہے۔ یہ زر کی رسد میں اتار چڑھاؤ سے معیشت کو اختیار میں لانے کے قائل ہیں۔ ان کے کچھ نظریات کلاسیکی معاشیات سے ملتے ہیں مگر کچھ نظریات بالکل الگ ہیں۔ ان نظریات کے حامل افراد میں ملٹن فریڈمین (Milton Friedman) جیسے لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو امریکا کی فیڈرل ریزرو سے بھی منسلک رہے ہیں", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00748", "text": "۔ یورپی مرکزی بنک بھی اکثر ان کی تجاویز کردہ حکمت عملی پر عمل کرتا ہے جس میں زر کی رسد کو ھدف بنایا جاتا ہے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00749", "text": "آسٹروی معاشیات\nاس قسم کے نظریات سے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بازار (Market) کی اصل قوت وہ لوگ ہیں جو خطرہ مول لے کر نئے کاروبار شروع کرتے ہیں اور یہی لوگ معاشی ترقی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس سے متعلق ماہرینِ معاشیات میں جوزف شمپیٹر (Joseph Schumpeter)، فریڈرک ہایک (Friedrich Hayek)، فریڈرک وون ویسر (Friedrich von Wieser)، آگن وون بوہم باورک (Eugen von Böhm-Bawerk) وغیرہ شامل ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00750", "text": "معروف ماہرین معاشیات\nحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم\nآدم سمتھ\nڈیوڈ ریکارڈو\nکارل مارکس\nالفریڈ مارشل\nجان مینارڈ کینز\nائردنگ فشر\nجان ہکس\nفریڈرک ہائک\nپاول سائمولسن\nرابرٹ سولو\nہربرٹ سائمن\nجان نیش\nامرتیا سین\nجوزف اسٹگلیز\nعلامہ محمد یوسف جبریل", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00751", "text": "اقتباس\n\"جتنا جھوٹ معاشیات میں شامل ہے اتنا کسی اور مضمون میں نہیں۔ اور یہ اتفاقیہ نہیں ہے\"\n\"Economics is haunted by more fallacies than any other study known to man. This is no accident.\" \nMiseducation on matters economic are commonplace today from the commanding heights to the lowest barrios.\nماہر معاشیات بہت سی باتیں جانتے اور سمجھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ کچھ کنفیوز رہتے ہیں۔ وہ مل کر کبھی کسی مالیاتی کرائسس کی پیشنگوئی نہیں کر سکے۔ اور اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ وہ شائید ان سازشوں میں شامل تھے۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00752", "text": "The [economics] profession knows and understands many things. Yet today we are in some disarray. We did not collectively predict the financial crisis and, worse still, we may have contributed to it...\nفائنینشیئل ٹائمز نے 103 سال بعد جھوٹ کا اعتراف کر لیا۔\n1980ء میں غریبوں کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ جبکہ 2014ء میں امیر ترین لوگوں کی آمدنی میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔\n\"حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا کی معیشت مرکزی بینکوں کا ایک کھیل بن چکی ہے\"", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00753", "text": "The truth is the global economy has become one giant central bank shell game\nمعاشیات کا پیشہ اس لحاظ سے عجیب ہے کہ جتنا آپ سمینار روم سے دور جاتے ہیں اتنی ہی باریکیاں کم ہوتی جاتی ہیں خاص طور پر تجارت کے معاملے میں۔۔۔ بیشتر معاشیات دان سچ بولنے کی بجائے گلوبلائزیشن کے حمایتی بن چکے ہیں۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00754", "text": "“The economics profession is strange in that the more you move away from the seminar room to the public domain, the more the nuances get lost, especially on issues of trade.”۔.۔“Rather than speaking truth to power, so to speak, many economists became cheerleaders for globalisation.” Dani Rodrik", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00755", "text": "Globalisation demands the separation of the public and private sectors, not just in the economy, but also in the political and social spheres.۔.", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00756", "text": "۔ but in the age of globalisation the individual also needs protection against threats from other sources than the state. In the age of globalisation the actual financial ‘voting’ power of ordinary citizens is negligible compared to that of large institutional investors. It is not exaggeration to talk of an increasing ‘anonymisation’ of capital — where the actual ‘owners’ of capital often act behind the mask of institutional investors. Anonymisation has become a general feature of advancing", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00757", "text": "has become a general feature of advancing globalisation — not just capital, but also the country of origin of products often remains concealed.", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00758", "text": "1933ء میں کینز نے لکھا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد آنے والا کیپیٹل ازم کا نظام کوئی کامیابی نہیں ہے، یہ دانش مندانہ نہیں ہے، یہ خوبصورت نہیں ہے، یہ منصفانہ نہیں ہے، یہ شفاف نہیں ہے اور اس میں بھلائی نہیں ہے۔ مختصر الفاظ میں ہم اسے پسند نہیں کرتے اور ہمیں اس سے نفرت ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ جہاں تک ممکن ہو استعمال کی اشیاء اپنے ملک میں ہی بنا لینی چاہیئں۔ لیکن 1940 کی دہائی میں کینز اور دوسرے آزاد خیال معیشت دانوں کا دین ایمان پھر چکا تھا۔", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00759", "text": "آزاد تجارت صرف داستان ہے۔ کلاس روم سے باہر اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔\nFree trade is a myth. It doesn’t exist outside classrooms.", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00760", "text": "مزید دیکھیے\nکاغذی کرنسی\nشرح سود\nسونے کی منڈیاں\nدولت\nجان مینارڈ کینز\nجوزف اسٹگلیز\nجان لا", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00761", "text": "حوالہ جات\nپروفیسر محمد منظور علی۔ کتاب معاشیات حصہ اول جولائی 1982ءٗ؁ مرکزی کتب خانہ، اردو بازار\nپروفیسررفیع اللہ شہاب۔ اسلامی ریاست کامالیاتی نظام۔ دسمبر1973؁ء، ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد (پاکستان)\nفیڈرک بینیم معاشیات (زر و بینکاری) ترجمہ عظمت اللہ خان فروری 1965 ؁ء سرسید بک کمپنی اردو بازار کراچی\nڈاکٹر زاہد علی: تاریخ فاطمین مصر؛ جلد اول، دوم، 1975ء؁ نفیس اکیڈمی کراچی\nڈاکٹر معین الدین: قدیم مشرق مکتبہ فریدی کراچی\n\nبیرونی روابط", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00762", "text": "بیرونی روابط\n\nhttp://www.repec.org\nhttp://www.introecon.com\nhttp://www.aeaweb.org\nhttp://www.economyprofessor.com", "title": "معاشیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00763", "text": "فلسفہ عام اور بنیادی سوالات جیسے وجود، منطق، علم، اقدار، من اور زبان کے منظم مطالعہ کو کہتے ہیں۔ یہ ایک عقلی اور تنقیدی تحقیق ہے جو اپنے طریقوں اور مفروضوں کی عکاسی کرتی ہے۔", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00764", "text": "تاریخی لحاظ سے، بہت سے انفرادی سائنسیں، جیسے طبیعیات اور نفسیات، فلسفے کا حصہ تھے۔ تاہم، اصطلاح کے جدید معنوں میں انھیں الگ الگ تدریسی مضمون سمجھا جاتا ہے۔ فلسفہ کی تاریخ میں متاثر کن روایات میں مغربی، عربی -فارسی، ہندوستانی اور چینی فلسفہ شامل ہیں۔ مغربی فلسفہ قدیم یونان میں شروع ہوا اور فلسفیانہ ذیلی شعبوں کے وسیع علاقے پر محیط ہے۔ عربی- فارسی فلسفہ میں ایک مرکزی موضوع عقل اور وحی کے درمیان تعلق ہے", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00765", "text": "۔ ہندوستانی فلسفہ روحانی مسئلہ کو ’کیسے حقیقت کی نوعیت کی کھوج اور علم تک پہنچنے کے طریقوں کے ساتھ روشن خیالی تک پہنچا جا سکتا ہے‘ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ چینی فلسفہ بنیادی طور پر صحیح سماجی طرز عمل، حکومت اور کاشتکاریِ خُودی کے سلسلے میں عملی مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00766", "text": "فلسفے کی بڑی شاخیں علمیات، اخلاقیات، منطق اور مابعداُلطبیعیات ہیں۔ علمیات ’علم کیا ہے اور اسے حاصل کیسے کیا جاتا ہے‘ کو مطالعہ کرتا ہے۔ اخلاقیات اخلاقی اصولوں اور صحیح طرز عمل کی تحقیقات کرتی ہے۔ منطق صحیح سوچنے کا مطالعہ ہے اور یہ دریافت کرتی ہے کہ اچھے دلائل کو برے دلائل سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے۔ مابعد الطبیعیات حقیقت، وجود، اشیاء اور خواص کی عمومی ترین خصوصیات کا جائزہ لیتی ہے", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00767", "text": "۔ دیگر ذیلی شعبوں میں جمالیات، فلسفہِ زبان، فلسفہِ ذہن، فلسفہِ مذہب، فلسفہِ سائنس، فلسفہِ ریاضی، فلسفہِ تاریخ اور سیاسی فلسفہ ہیں۔ ہر شاخ کے اندر، فلسفے کے مسابقتی مکاتبِ فکر ہیں جو مختلف اصولوں، نظریات یا طریقوں کو فروغ دیتے ہیں۔", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00768", "text": "فلسفی فلسفیانہ علم تک پہنچنے کے لیے بہت رنگ برنگیں طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں تصوراتی تجزیہ، عام فہم اور وجدان پر انحصار، فکری تجربات کا استعمال، عام زبان کا تجزیہ، تجربے کی وضاحت اور تنقیدی سوالات شامل ہیں۔ فلسفہ کا تعلق بہت سے دوسرے شعبوں سے ہے، بشمول سائنس، ریاضی، کاروبار، قانون اور صحافت۔ یہ ایک انٹرڈسپلنری نقطہ نظر فراہم کرتا ہے اور ان شعبوں کے دائرہِ کار اور بنیادی تصورات کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ ان کے طریقوں اور اخلاقی مضمرات کی بھی تحقیقات کرتا ہے۔", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00769", "text": "اشتقاق\nلفظ فلسفہ قدیم یونانی الفاظ φίλος (فیلوس: محبت) اور σοφία (سوفیا: حِکمت) سے آیا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح قبل از سوقراط فلسفی فیثاغورس نے ایجاد کی تھی، لیکن یہ یقینی نہیں ہے۔\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "فلسفہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%D9%84%D8%B3%D9%81%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00770", "text": "نفسیات انسانوں اور غیر انسانوں کے عقل اور رویہ کا سائنسی مطالعہ ہے۔ نفسیات میں احساسات اور خیالات سمیت شعوری اور بے شعوری مظاہر کا مطالعہ کرنا شامل ہے۔ یہ ایک بہت وسعت والا تدریسی مضمون ہے جو قدرتی اور معاشرتی علوم کے حدوں کو پار کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات، علم الاعصاب کو جوڑتے ہوئے، دماغوں کی ابھرتی ہوئی خاصیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرتی سائنس دانوں کی طرح، ماہرین نفسیات فردوں اور گروہوں کے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے ہیں", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00771", "text": "۔ یونانی لفظ 'Psyche' کے پہلے حروف تہجی Ψجہاں سے لفظ'Psychology' اخذ ہوا ہے کو عام طور پر سائنس سے جوڑا جاتا ہے۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00772", "text": "وسعت", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00773", "text": "اگر اوپر کی بنیادی تعریف کو بغور دیکھا جائے تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ عقل (mind) (عقلی زندگی) سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ بے انتہا وسیع اور ہمہ گیر ہے اور اس میں عقلی عملیت (mental processes) کے تمام پہلو مثلاً ؛ قیاس (perception)، ادراک (cognition)، جذبات (emotion)، شخصیت personality))، بین الاشخاصی روابط (interpersonal relationships) اور ظاہر ہے کہ رویہ بھی داخل مطالعہ ہوتے ہیں", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00774", "text": "۔ مزید یہ کہ نفسیات کو طبی اور معاشرہ سے متعلق دیگر شعبہ جات میں ایک کلیاتی علم (academia) کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفاذی علم کا درجہ بھی حاصل ہے۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00775", "text": "نفسیات، نفس اور روح", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00776", "text": "اردو ویکیپیڈیا پر soul سے مراد نفس کی لی گئی ہے اور یہ لفظ جیسا کہ روح (spirit) کے مضمون میں بھی ذکر آیا کہ بعض اوقات قرآن میں روح کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور علما کا ایک گروہ ان کو ایک ہی چیز کے دو متبادل نام تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ان کو دو الگ چیزیں شمار کرتا ہے ۔ ان کی مزید تفصیل کے لیے نفس اور روح کے صفحات مخصوص ہیں", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00777", "text": "۔ یہاں صرف اتنا ذکر ہے کہ spirit سے مراد اس شے کی ہے جو اللہ کی جانب سے جاندار کی تخلیق کے وقت اس کے جسم میں پھونکی جاتی ہے (عام طور پر اس پھونکی جانے والی چیز کو روح کہا جاتا ہے، واضع رہے کہ انگریزی کتب میں اس کے لیے soul کا لفظ بکثرت آتا ہے جبکہ spirit بھی کم مستعمل نہیں) اور اسی سے اس جاندار کی مکمل زندگی (جسمانی اور عقلی) کی ابتدا ہوتی ہے", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00778", "text": "۔ دوسرا گروہ (کثیرالتعداد) یہ کہتا ہے کہ روح اور نفس ایک ہی شے ہے وہ بھی یہ مانتا ہے کہ ان کے استعمال میں سیاق و سباق کا فرق موجود ہے، اس گروہ کی اکثریت کے نزدیک نفس بطور خاص اس وقت لاگو ہوتا ہے کہ جب وہ جسم کے ساتھ ہو (یعنی بحالت زندگی اور دنیا داری) جبکہ اگر اس کا جسم سے تعلق ختم ہو جائے تو روح کا لفظ لاگو ہوتا ہے۔ نفسیاتی اور طبی لحاظ سے روح وہ بنیادی شے ہے جس سے کسی جاندار کے جسم میں زندگی برقرار رہتی ہے جبکہ نفس اس روح (یا اس کی زندگی) کا جسمانی اور دنیاداری استعمال ہے", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00779", "text": "۔ اس کے علاوہ یہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں بھی لفظ نفس کو شخصیت یا ذات کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے ۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00780", "text": "اسلوب علم، رویہ اور عقلمضمون<\"font face=\"jameel noori nastaleeq> کی پہلی سطر میں نفسیات کی تعریف کے مطابق؛\nنفسیات، رویۓ (behavior) اور عقل (mind) کے سائنسی مطالعے کو کہا جاتا ہے۔اب اس مختصر سی مگر جامع تعریف میں تین انتہائی اہم عناصر شامل ہیں۔\nنفسیات ایک سائنسی مطالعہ (scientific study) ہے جس میں ایک منظم، بامقصد اور تجرباتی طریقے سے جاندار کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور معلومات کو اخذ کیا جاتا ہے۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00781", "text": "نفسیات میں رویۓ کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور رویئے کے دائرے میں جاندار کی زندگی کے تمام عمل اور رد عمل آجاتے ہیں (جیسا مضمون کی ابتدا میں مذکور ہیں)۔\nنفسیات میں عقل کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور عقل کے اس مطالعے میں عقل کی شعوری (conscious) اور لاشعوری (unconscious) دونوں حالتیں آجاتی ہیں۔ چونکہ ان میں سے کوئی بھی عقلی حالت طبیعیاتی طور پر نظر نہیں آتی اور یہاں سائنسی مطالعے سے مدد لے کر عقل کے مظاہر کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00782", "text": "آسان بیاننفسیات کے بارے میں عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نفسیات ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ان افراد کو معالجہ فراہم کیا جاتا ہے کہ جو ذہنی طور پر بیمار ہوں یا یوں کہـ لیں کے کمزور ہوں جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، نفسیات (جیسا کہ اب تک کے مضمون سے اندازہ ہو گیا ہوگا) ایک بہت وسیع علم ہے جو افرادی علاج معالجے تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسانی عقل و فطرت پر تحقیق کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں حسی ادراک حاصل کی جاتی ہے، اس کے ان رازوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے کہ جو اب تک نا معلوم رہے ہوں۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00783", "text": "علمِ نفسیات کے مقاصداپنے اور اس دنیا کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کے بہت سے طریقے ہے۔ ماہرین نفسیات کا دعوٰی ہے مشاہدے اور مطالعے کا بہت طریقہ سائنسی طریقوں کا استعمال ہے۔ نفسیات کو سائنس بنے کے لیے سائنسی طریقوں سے اپنا علم منظم کرنے کی ضرورت ہے چنان چہ نفسیات کو دو چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا:\nعلم کا منظم نظام", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00784", "text": "علم کا منظم نظام\nسائنسی طریقوں کا استعمالنفسیات کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ سائنسی طریقوں سے کردار اور ذہنی اعمال کے درمیان تعلق کو معلوم کرنا اور سمجھنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ماہرین نفسیات کو سائنس کے وہ قوانین سمجھنے چاہیے جو نفسیات کے موضوعے کے مطابق ہو، سائنسی قوانین سے مراد کسی موضوع کے متعلق وہ بیان ہے جس پر سائنس دان کو شواہد کے بنا پر سچ ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ ماہرین نفیسات کہیں سالوں میں حیوانی اور انسانی کردار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00785", "text": "لیکن اب بھی بہت سے ایسے معلومات ہیں جن کا حصول باقی ہے۔ اب تک حاصل شدہ تمام معلومات و حقائق بہت منظم ہیں۔ ماہرین نفیسات نے یہ معلومات سائنشی طریقوں کے استعمال سے حاصل کیے ہیں اور نفسیات کو سائنس کا مقام دلایا یہ سائنسی طریقے مشاہدہ، فہم، بیان، کنٹرول اور دوبارہ اطلاق کرنے کا سلسلہ اسالیب پر مشتمل ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ نفسیات کے دو باہم مربوط مقاصد ہیں۔ نامیات کے ذہنی اعمال اور کردار کے درمیان تعلق کو سمجھنا اور اس فہم کو حقیقی دنیا میں استعمال میں لانا", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00786", "text": "۔ ہف مین اور ورنوئی (Huffman and Vernoy) علم نفسیات کے چار مقاصد بیان کرتے ہیں جو یہ ہیں:", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00787", "text": "بیان کرنا: بہت سے نفسیات دان افراد کا مخصوص کردار سائنسی مشاہدہ کی مدد سے جانچ کر بیان کرتے ہیں یعنی وہ کردار کس نوعیت کا ہے۔\nوضاحت کرنا:ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کردار کی وجوہات کی تشخیص کرکے اس کی وضاحت کریں۔\nپیشنگوئی کرنا:وہ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنے تجربات، مشاہدات اور تحقیق کی روشنی میں حاصل کردہ معلومات اور نتائج کا تجزیہ کرکے افراد کے مستقبل کی پیشنگوئی کریں یعنی مستقبل میں افراد سے کس قسم کی کردار کی توقع ہوگی۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00788", "text": "کردار بدلنا:اپنے حاصل کردہ نتائج اور معلومات کی مدد سے وہ افراد کے ناپسندیدہ کردار یا ماحول میں تبدیلی لانی کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آئندہ زندگی میں ایسے افراد کو اپنے ماحول کے ساتھ مطابقت کرنے میں دقت پیش نہ آئے۔ چند تحقیقات میں ماہرین نفسیات سائنسی مشاہدے کی روشنی میں خاص کردار بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تجربات کے ذریعے کردار کو واضح کرنے کے بھی سعی و کوشش کرتے ہیں", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00789", "text": "۔ مستقبل میں کسی کردار کے وقوف پذیری کے لیے وہ تحقیق کرتے ہیں اور وہ ان تحقیقات کی روشنی میں ناپسندیدہ کردار یا صورت حال کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00790", "text": "== حوالہ جات ==", "title": "نفسیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00791", "text": "لسانیات ایک ایسا ضابطہ علم ہے جس میں انسانی زبانوں کا، زبانوں کی موجودہ صورت حال کا اور زبانوں میں وقت کے ساتھ ساتھ برپا ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس علم میں مختلف زبانوں کی آپس میں مشابہت کے بارے میں مطالعہ کے ساتھ ساتھ اس چیز کو بھی پرکھا جاتا ہے کہ انسانوں کی باہمی زبانوں کا، اس دنیا کی دیگر چیزوں کے ساتھ کیا تعلق ہے", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00792", "text": "۔ گویا لسانیات دراصل وہ علم ہے جس میں صرف انسانی زبان پر بحث کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسری نظام کا مطالعہ نہیں کیا جاتا۔لسانیات ایک ایسا لفظ ہے جس کی اکثر غلط تعریفیں ہوتی رہیں ہیں۔پہلی بار لفظ سن کر لوگ یہ نہیں کہتے کہ لسانیات کیا ہے۔بلکہ پوچھتے ہیں کہ لسانیات کیا چیزیں ہیں۔گویا یہ لفظ بہت سی اشیا کے مجموعے کا نام ہے جس کا باآسانی جائزہ لینے کی خاطر یکجا کر دیا گیا ہے۔جیسے نمائش کی تصاویر وغیرہ۔لسانیات کی کئی اقسام ہیں مثلاً عمومی لسانیات، تاریخی لسانیات، تقابلی لسانیات، تشریحی لسانیات", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00793", "text": "، تاریخی لسانیات، تقابلی لسانیات، تشریحی لسانیات، اطلاقی لسانیات، توضیحی لسانیات۔", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00794", "text": "وجہ تسمیہ", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00795", "text": "اردو میں اسم\" لسان\" کے ساتھ \"یات\" بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے لسانیات کی اصطلاح بنتی ہی۔ یہ اصطلاح اردو میں بطور اسم استعمال ہوتی ہے اور علم اللسان یا علمِ زبان کے معنوں میں مستعمل ہے۔ گویا یہ علم زبان کی تاریخ اور تشکیل کو موضوع گفتگو بناتا ہے۔ بالفاظ دیگر لسانیات میں زبان کا عمومی اور نظریاتی مطالعہ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زبان کیا ہے، زبان کا نظام اور اس کے اجزائے ترکیبی (Components) کس طرح کام کرتے ہیں اوران کا باہمی ربط و عمل کیا ہے", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00796", "text": "۔ اس نظریاتی مطالعے کا مقصد زبان کی مختلف سطحوں صوتیاتی، صرفی، نحوی اور معنیات کے بارے میں کُلّی (Universal) قواعد و اصول وضع کرنا ہے جن کا اطلاق دنیا کی زیادہ سی زیادہ زبانوں پر ہو سکے۔ جدید ماہرین لسانیات عہد حاضر کی لسانیاتی تحقیقات کی روشنی میں اب از سر نو زبان کی حقائق و معارف کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سی لسانیات کی وسعت اور مقبولیت میں بڑی تیزی سی ترقی ہو رہی ہے۔ ان تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائنسی طریقی سے زبان کا مطالعہ لسانیات کہلاتا ہے۔ لسانیات کی خاص شاخیں مندرجۂ ذیل ہیں:", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00797", "text": "ہم زمانی لسانیات\nخالص لسانیات میں زبان کا مطالعہ خالص لسانیاتی نقطہ نظر سے کیا جاتا ہے۔ اس کی کئی سطحیں ہیں جو درج ذیل ہیں:\n\nصوتیات ( فونیٹکس)\nصوتیات میں زبان میں آوازوں کی ادائیگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ آوازیں کیسے پیدا ہوتی ہیں اور ان کی درجہ بندی کس طرح کی جا سکتی ہے۔", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00798", "text": "صوتیہ شماری: ( فونالجی)\nصوتیہ شماری میں ان طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن سے کسی ایک زبان کی تخالفی اور امتیازی اصوات کی اکاییوں کو معلوم کیا جاتا ہے۔ صوتیہ سے امتیازی آوازوں کی وہ تعداد مراد ہے جو کسی بھی زبان میں محدود ہوتی ہے۔\n\nصرف (مارفالوجی)\nصرف میں کسی زبان میں موجود چھوٹی چھوٹی صرفی اکائیوں کا مطالعہ ہوتا ہے۔ اصل میں یہ لفظ کی سطح تک زبان کا صرفی مطالعہ ہے۔\n\nنحو: ( سنٹیکس)\nعلم نحو کسی زبان کے جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ ہے۔", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00799", "text": "علم المعانی: (سمینٹکس)\nعلم المعانی میں ان طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن سے زبان میں معنی سمجھنا مقصود ہو۔\n\nکتابیں\nگیلاد تسوکرمن Ghil'ad Zuckermann\nLanguage Contact and Lexical Enrichment in Israeli Hebrew. Palgrave Macmillan. 2003. ISBN 978-1403917232 [1].\nاس کے علاوہ بھی اس کے کئی حصے ہیں جن میں سے فونیات, فونیمیات, فونیم تقسیمات, مارفیمیات, مارفونیات, نحویات, معنیات, لغتیات وغیرہ قابلِ ذکر ہیں.", "title": "لسانیات", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AA"}, {"id": "urd_rec_00800", "text": "تاریخ جامع انسانی کے انفرادی و اجتماعی اعمال و افعال اور کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں گذشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے، تاکہ تمدن انسانی کا کارواں رواں دواں رہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس کے توسط سے افراد و اقوام ماضی کے دریچے سے اپنے کردہ اور نا کردہ اعمال و افعال پر تنقیدی نظر ڈال کر اپنے حال مستقبل کو اپنے منشا و مرضی کے مطابق ڈھال سکیں۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00801", "text": "تاريخ دان\nتاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذرائع معلومات کو اہميت دی گئی۔ تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ) لکھنے کے ہوتے ہیں۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00802", "text": "تصور تاریخ اتنا ہی قدیم ہے کہ جتنا تصور زماں و مکاں۔ آغاز تمذن سے اب تک تاریخ نے کئی روپ دھارے ہیں۔ قصے کہانیوں سے شروع ہو کر آج تاریخ اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اسے تمام علوم انسانی کی رواں دواں کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اجتماع انسانی کے شعبے مین کوئی واقعہ پیش آتاہے وہ کسی نہ کسی طرح کل کی یا تاریخ گذشتہ سے مربوط ہوتا ہے، اس لیے یہ کہا جائے کہ تاریخ سب کچھ ہے اور سب کچھ تاریخ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00803", "text": "نظریات", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00804", "text": "اناتول قراش کے خیال میں تاریخ گذشتہ حادثات و اتفاقات کے تحریری بیان سے عبارت ہے۔ ای ایچ کار کی رائے میں تحقیق شدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے۔ کارل بیکر کے نزدیک اقوال و افعال کا علم ہے۔ سیلی کی رائے میں تاریخ گذشتہ سیاست اور گذشتہ سیاست موجودہ تایخ ہے۔ اطخاوی کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کاموضع انسان زماں و مکاں ہے، جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے یہ ایک ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات واقعات کو موضع بحث دیتاہے", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00805", "text": "۔ ظہیر الدین مرغشی کے نزدیک یہ ایک ایسا علم ہے جو اگلے وقتوں کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد مکری کا قول ہے کہ تاریخ ایسا علم ہے جس میں کسی قوم یا فرد یا چیز کے گذشتہ حالات واقعات پر بحث کرتا ہے۔ آقائے مجید یکتائی کا کہنا ہے کہ اعصار و قرون کے ان احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے، جو ماضی سے آگئی و مستقبل کے لیے تنبیہ کا باعث بنتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔22)", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00806", "text": "حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا نظریات میں کتنا ہی اختلاف ہو، مگر اس حد تک سب متفق ہیں کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو عہد گذشتہ کے واقعات اور اُس زماں و مکاں کے بارے میں جس میں واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں، آئندہ نسلوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے تاریخ اتنی قدیم ہے کہ جتنی تحریر۔ یہ اور بات ہے تاریخ کی ابتدا اساطیر یا دیومالائی کہانیوں سے شروع ہوئی۔ گو تاریخ اور اساطیر مین فرق ہے۔ تاریخ کے کردار حقیقی اور زمان اور مکان متعین و مشخص ہوتے ہیں", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00807", "text": "۔ جب کہ اساطیر میں کردار مقوق الفطرت مسخ شدہ یا محض تخیل کی پیداوار اور زمان و مکان غیر متعین اور نامشخص ہوتے ہیں۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00808", "text": "تاریخ کی ابتدا", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00809", "text": "پروفیسر ہربرٹ اسپنر Hurbt Spenser اور گرانٹ ایلن Grant Ain کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انسان صرف اپنے اسلاف کا شعور رکھتا تھا، وہ اسلاف کے حقیقی اور فرضی کارناموں سے واقف تھا اور ان کو یاد کرتا رہتا تھا۔ امتتداد زمانہ کے ساتھ ان اسلاف کی حقیقی شخصیتیں روایتوں کے انبار تلے دب گئیں۔ رفتہ رفتہ حقیقت پر خرافات کی اتنی تہ جم گئیں کہ لوگ اسلاف کی حقیقی شخصیتوں کو بھول گئے اور افسانوی شخصیتوں کو دیوتا سمجھ کر ان کی پوجا کرنے لگے", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00810", "text": "۔ بہرحال اسلاف کی عظمتوں کے افسانوں نے دیوتا کا روپ دھار لیا ہو یا مظاہر قدرت کی فعالی اور صاحب ارادہ شخصیتوں کا تصور دیوتاؤں کے پیکر میں ڈھل گیا ہو، یہ حقیقت ہے کہ دیوتاؤں کی تخلق انسانی ذہن کی مرحون منت ہے، اگرچہ یہ تخلق کا عمل کئی مدارج سے گذرا ہے۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00811", "text": "مورخ کے فرائض", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00812", "text": "ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مورخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض نقال نہ ہو بلکہ تاریخ سے متعلقہ تمام علوم کو جانتا ہو", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00813", "text": "۔ اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی و سیاست کے قواعد کیا ہیں؟ موجودات کی طبعیت کس ڈھب کی ہے؟ مختلف قوموں کا مزاج کیا ہے؟ زمان ومکان کی بوقلمونی سے احوال و عوائد کے گوشے کیوں کر متاثر ہوتے ہیں؟ مختلف مذاہب میں فرق کیا اور حدود اختلافات کیا ہیں اور کہاں ان کے ڈانڈے ملتے ہیں؟ اس طرح یہ بھی جاننا حال کیا ہے اور اس میں اور ماضی اور کیا کیا چیزیں ملتی جلتی ہیں اور کن نکات پر اختلافات ہیں؟ تاکہ جو موجود ہیں ان کی مناسبتوں اور مشا بہتوں سے ماضی کے دندھلکوں کی تشریح کی جائے", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00814", "text": "۔ جو لوگ ان نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہیں، وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے ہیں کہ تاریخ کا ہر واقع ایک منفرد واقع نہیں ہوتا ہے، بلکہ اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے اور کئی سمتوں سے اس کی حقانیت پر روشنی پڑھ سکتی ہے، وہ ہولناک غلطیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور ایسے لاطائل قصے تاریخ کے باب میں پیش کرتے ہیں، جو قطعی مہمل اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00815", "text": "مورخ کی ذمہ داری\nمزید ابن خلدون کا کہنا ہے کہ ایک مورخ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تاریخ میں اگرچہ اس زمانے کے مخصوص لوگوں کا ذکر ہوتا ہے، متعین واقعات اور بڑے بڑے حوادث کی تفصیلات ہی بیان کی جاتی ہیں، تاہم اس عصر کے تمام حالات جغرافیہ اور جزئیات اس نوعیت کی ہو سکتی ہیں کہ جن سے ان کی توضیح ہو سکے۔ اس لیے ایک محقق کو ان حالات کو نظر انداز نہیں کرناچاہیے اور قدم انہی کی روشنی میں بڑھانا چاہیے، ورنہ لغزش کا سخت اندیشہ ہے۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00816", "text": "ابن خلدون مزید مسعودی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ قومیں مختلف سیاسی کروٹیں بدلتی ہیں اور ایک حالت پر قائم نہیں رہتی ہیں، ان کے مزاج عقائد اور رسمیات ان تبدیلوں سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ گویا ایک نئی قوم معرض وجود میں آگئی۔ اس لیے ایک مورخ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ کسی خاص حکومت کی تبدیلی سے قوم میں کیا کیا تغیرات رونما ہوتے ہیں اور عرف و اصطلاع کے کون کون سے قانون تغیر و تبدل کی نذر ہو چکے ہوتے ہیں", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00817", "text": "۔ تاریخی واقعات پیش کرنے میں ان تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھنا جائے اور ان اصولوں کی روشنی میں چھان نہیں کی جائے، تو امکان ہے کہ غلطیوں میں الجھ کر غیر صحیح اور غیر معقول افسانوں کو پیش کیا جائے گا۔ کیوں کہ انسانی فظرت کی یہ عام کمزوری ہے، وہ غیر معمولی باتوں کو ماننے میں بڑی دلچسپی اور لگاؤ کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس سے لاپروا اور بے خطر ان قصوں کو بیان کرتا ہے کہ حقیقت کیا ہے", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00818", "text": "۔ بہر کیف جھوٹے قصے اور عجیب مضحک داستانیں اس وقت تاریخ کے اوراق کی زینت بنتی ہیں کہ مورخ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ہے اور وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتا ہے کہ جو بات بیان کی گئی ہے اس کے تقاضے بھی ہیں یا نہیں اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں یاتصدیق۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00819", "text": "مورخ کی لغزش\nمزید ابن خلون کا کہنا ہے کہ ان اسباب کے علاوہ جو بیان کیے گئے ہیں کچھ اور عوامل بھی ہیں، جن کو وضع اور گھڑنت میں براہ راست دخل ہے۔ مثلاََ ایک بڑا سبب جعل وضع کا یہ ہو سکتا ہے کہ مورخ پہلے سے ایک عصبیت رکھتا ہو اور کسی خاص گروہ سے وابستہ ہو، اس کی کوشش حالات واقعات کے سلسلے میں ہمیشہ یہی رہے گی کہ کس طرح تاریخ سے اس کی رائے کی تائید ہو سکے اور دوسروں کی تردید، اس کی نظر واقعات و حلات کے متعلق بے لاگ اور منصفانہ نہیں ہو سکتی ہے۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00820", "text": "ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناقل کو یہ نہ معلوم ہو کہ خبر کے پیچھے کون سا مقصد پنہاں ہے اور خبر کو جیسا کہ اس کے گمان میں ہے محض اٹکل سے بیان کر دے۔\nتیسرا اہم سب یہ ہے کہ تطبیق احوال کی صلاحیت نہ ہو اور ناقل یہ نہ جان سکتا ہو کہ واقعات کی تہ میں تضع اور بناوٹ کی کارفرمائیوں کا کتنا حصہ ہے۔\nپانچواں سبب امرا و سلاطین کے قرب کی خواہش۔ اس راہ میں کذب و اخترا کو دخل کا اکثر موقع ملا ہے۔", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00821", "text": "تاريخ کی قسم بندی\nتاريخ ايک بہت وسيع موضوع ہے، اس لیے اس کی کئی طرح سے قسم بندی کی گئی ہے۔\n\nعلاقائی قسم بندی\nایشیا\nيورپ\nامريکہ\nافریقا\nآسٹریلیا\n\nادواری قسم بندی\nدور\nصدی\nعشرہ\nسال\n\nجامعاتی قسم بندی\nدور قديم کی تاريخ\nامريکہ کی تاريخ\nتاريخ يورپ\nتاريخ افريقہ\nمشرق وسطی کی تاريخ\nتاريخ ہند\nايشيا کی تاريخ\nآسٹريليا کا تاريخ\nاسلامی تاريخ\n\nديگر قسم بندياں\nتاريخ کا فلسفہ\nعلوم کی تاريخ\nفنون کی تاريخ\nادب کی تاريخ\nطب کی تاريخ\nفلسفے کی تاريخ\nموجودہ ممالک کی تاريخ\nمذاہب کی تاريخ\nتاريخدانی", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00822", "text": "حوالہ جات\nماخذ\nHistory & Mathematics: Historical Dynamics and Development of Complex Societies۔ Moscow: KomKniga, 2006.", "title": "تاریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_00823", "text": "جغرافیہ ‎(انگریزی: Geography)‎، جغرافیہ (یونانی: γεωγραφία) یونانی زبان کے الفاظ 'Geo' (زمین کا) اور 'Graphhien' (تفصیل) کا مجموعہ، جس کے معنی ہیں زمین کا بیان۔\"جغرافیہ وہ علم ہے، جس میں زمین، اس کی خصوصیات، اس کے باشندوں‎ ،‎اس کے مظاہر اور اس کے نقوش کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔\" جغرافیہ ایک ہمہ جہت نظم و ضبط ہے جو زمین اور اس کی انسانی اور فطری پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؛ نہ صرف یہ کہ اشیاء کہاں ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ کس طرح بدلی ہیں اور کیسے بنی ہیں", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00824", "text": "۔ حالآنکہ جغرافیہ زمین کے لیے مخصوص ہے، مگر اس کے بہت سے تصورات کو سیاروں کی سائنس کے میدان میں دیگر آسمانی اجسام پر زیادہ وسیع پیمانے پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ جغرافیہ کو \"قدرتی علوم اور سماجی علوم کے مضامین کے درمیان ایک پل\" کہا جاتا ہے۔", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00825", "text": "لفظ γεωγραφία کا پہلا ریکارڈ شدہ استعمال یونانی اسکالر اراستوستھینز (276–194 BC) کی ایک کتاب کے عنوان کے طور پر تھا۔ تاہم، قدیم بابل میں نویں صدی قبل مسیح میں دنیا کے نقشے کی کوشش کی ابتدائی مثال کے ساتھ، جغرافیہ کے تصورات (جیسے نقشہ نگاری) دنیا کو مقامی طور پر سمجھنے کی ابتدائی کوششوں سے تعلق رکھتے ہیں", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00826", "text": "۔ جغرافیہ کی تاریخ ایک نظم و ضبط کے طور پر ثقافتوں اور صدیوں پر محیط ہے، جو آزادانہ طور پر ایک سے زیادہ گروہوں کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور ان گروہوں کے درمیان تجارت کے ذریعے باہمی تفہیم کی گئی ہے۔ جغرافیہ کے بنیادی تصورات جو تمام طریقوں کے درمیان مطابقت رکھتے ہیں وہ جگہ، وقت اور پیمانے پر مرکوز ہیں۔", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00827", "text": "موجودہ دور میں، جغرافیہ متعدد نقطہ نظر اور طریقوں کے ساتھ ایک انتہائی وسیع نظم و ضبط ہے۔ نظم و ضبط کو منظم کرنے کی متعدد کوششیں، بشمول جغرافیہ کی چار روایات اور شاخوں میں تقسیم کے، کی گئی ہیں۔ استعمال کی جانے والی تکنیکوں کو عام طور پر مقدار اور معیار کے طریقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس میں بہت سے مطالعات مخلوط طریقے اختیار کرتے ہیں۔ عام تکنیکوں میں نقشہ نویسی، دور حساسیت remote sensing، انٹرویوز اور سروے شامل ہیں۔", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00828", "text": "تاریخ", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00829", "text": "ایراٹورتھینیس (‎ 276 سے 194 قبل مسیح)‎ وہ پہلا شخص تھا۔ جس نے لفظ جغرافیہ استعمال کیا۔ جغرافیہ کو زمین کی سائنس بھی کہا جاتا ہے۔ آج تک انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ وہ جغرافیہ کی ہی مرہون منت ہے۔ زمین انسان کا گھر ہے۔ اور اس گھر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے علم جغرافیہ انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ علم جغرافیہ پرانے زمانے میں بھی موجود رہا ہے۔ لیکن اس دور میں اس کی اہمیت بہت کم تھی۔ عموما دریاؤں، پہاڑوں، سمندروں اور مقامات کے نام یاد کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00830", "text": "۔ دوسرے علوم کی نسبت جغرافیہ میں بہت سست رفتاری سے ترقی ہوئی۔", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00831", "text": "زمانہ قدیم میں جغرافیہ کا تصور", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00832", "text": "اس علم کا آغاز بطور سائنس مصر و یونان میں ہوا۔ زمانہ قدیم کے جغرافیہ دانوں کی بعض تحریریں بڑی دلچسپ ہیں۔ مثلاً سٹرابو جو ایک اطالوی جغرافیہ دان تھا، اس خیال کا مالک تھا کہ سمندر کا پانی ایک بہت بڑے دریا کی طرح کسی ڈھلان پر بند رہتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ فضا سے ہوا زمین میں داخل ہو کر محبوس ہو جاتی ہے اور جب وہ فضا میں واپس جانے کے لیے جدوجہد کرتی ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر ان عجیب و غریب خیالات کے ساتھ ساتھ قدیم یونانیوں نے بعض حیرت انگیز دریافتیں بھی کیں", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00833", "text": "۔ مثلاً 200ق م کے قریب، ارسطاطالیس نے مصر کے مشرق و مغرب میں مدوجزر کی لہروں میں تناسب معلوم کرنے پر یہ اعلان کیا کہ بحر اوقیانوس اور بحر ہند آپس میں منسلک ہیں۔ اس کی ایک اور دریافت قابل ذکر ہے، جس کے مطابق اس نے بتایا کہ دور مغرب میں شمال سے جنوب تک کوئی ملک ضرور واقع ہے۔ اس کے 1700 سال بعد کولمبس نے اس ملک امریکا کو دریافت کیا۔جغرافیہ میں سب سے پہلے یونانیوں نے پیش رفت کرنا شروع کی۔ قرون وسطیٰ میں مسلم ممالک میں اس علم میں بہت پیش رفت ہوئی", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00834", "text": "۔ اس دور کے اہم ناموں میں ابن بطوطہ، ابن خلدون اور ادریسی شامل ہیں۔ مسلمانوں کے علمی زوال کے بعد یورپ میں اس مضمون پر بہت پیش رفت ہوئی۔", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00835", "text": "جغرافیہ کی شاخیں\nطبیعی جغرافیہ\nانسانی جغرافیہ\nتہذیبی جغرافیہ\nتاریخی جغرافیہ\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "جغرافیہ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%BA%D8%B1%D8%A7%D9%81%DB%8C%DB%81"}, {"id": "urd_rec_00836", "text": "پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00837", "text": "۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00838", "text": "پاکستان کئیی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، جن میں بلوچستان میں 8,500 سال پرانا نیا سنگی مقام مہرگڑھ، کانسی کے دور کی وادی سندھ کی تہذیب، اور قدیم گندھارا تہذیب شامل ہیں۔ جدید ریاست پاکستان کے علاقے متعدد سلطنتوں اور خاندانوں کے زیر اثر رہے ہیں، جن میں گندھارا، ہخامنشی، موریہ، کشان، پارتھی، پارتراجس، گپتا؛ جنوبی علاقوں میں اموی خلافت، ہندو شاہی، غزنوی، دہلی سلطنت، سما، شاہ میر، مغل، درانی، سکھ اور حال ہی میں 1858 سے 1947 تک برطانوی راج شامل ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00839", "text": "پاکستان تحریک کی بدولت، جو برطانوی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کی تلاش میں تھی اور 1946 میں آل انڈیا مسلم لیگ کی انتخابی کامیابیوں کے بعد، پاکستان نے 1947 میں برطانوی ہندوستانی سلطنت کی تقسیم کے بعد آزادی حاصل کی، جس نے اس کے مسلم اکثریتی علاقوں کو علاحدہ ریاست کا درجہ دیا اور اس کے ساتھ بے مثال بڑے پیمانے پر ہجرت اور جانوں کا ضیاع ہوا۔ ابتدائی طور پر برطانوی دولت مشترکہ کا ایک ڈومینین، پاکستان نے 1956 میں باضابطہ طور پر اپنا آئین تیار کیا اور ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر ابھرا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00840", "text": "۔ 1971 میں، مشرقی پاکستان کے علاقے نے نو ماہ طویل خانہ جنگی کے بعد بنگلہ دیش کے نئے ملک کے طور پر علیحدگی اختیار کی۔ اگلے چار دہائیوں میں، پاکستان کی حکومتیں، اگرچہ پیچیدہ تھیں، عام طور پر شہری اور فوجی، جمہوری اور آمرانہ، نسبتاً سیکولر اور اسلام پسند کے درمیان متبادل رہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00841", "text": "پاکستان کو ایک درمیانی طاقت والا ملک سمجھا جاتا ہے، جس کی دنیا کی چھٹی سب سے بڑی مسلح افواہج ہیں۔ یہ ایک اعلان شدہ جوہری ہتھیاروں والا ملک ہے اور ابھرتی ہوئی اور ترقی کی قیادت کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی ایک بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی متوسط طبقہ ہے۔ آزادی کے بعد سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نمایاں اقتصادی اور فوجی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے ادوار بھی شامل ہیں۔ یہ ایک نسلی اور لسانی طور پر متنوع ملک ہے، جس کی جغرافیہ اور جنگلی حیات بھی متنوع ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00842", "text": "۔ ملک کو غربت، ناخواندگی، بدعنوانی اور دہشت گردی جیسے چنوتیوں کا سامنا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اسلامی تعاون تنظیم، دولت مشترکہ، جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم اور اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد کا رکن ہے اور امریکا کی طرف سے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00843", "text": "اشتقاقیات", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00844", "text": "پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا، جو پاکستان تحریک کے ایک کارکن تھے۔ انھوں نے جنوری 1933 میں پہلی بار اسے (اصل میں “پاکستان” کے طور پر) ایک پمفلٹ “اب یا کبھی نہیں” میں شائع کیا اور اسے ایک مخفف کے طور پر استعمال کیا۔ رحمت علی نے وضاحت کی: “یہ ہمارے تمام وطنوں، ہندوستانی اور ایشیائی، پنجاب، افغانیا، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کے ناموں سے لی گئی حروف پر مشتمل ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00845", "text": "۔ ” انھوں نے مزید کہا، “پاکستان فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا لفظ ہے… اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کی سرزمین، روحانی طور پر پاک اور صاف۔ ” ماہرین لسانیات نوٹ کرتے ہیں کہ پاک فارسی اور پشتو میں ‘پاک’ ہے اور فارسی لاحقہ ـستان ‘زمین’ یا ‘جگہ’ کا مطلب دیتا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00846", "text": "رحمت علی کا پاکستان کا تصور صرف برصغیر کے شمال مغربی علاقے سے متعلق تھا۔ انھوں نے بنگال کے مسلم علاقوں کے لیے “بنگلستان” اور حیدرآباد ریاست کے لیے “عثمانستان” کا نام بھی تجویز کیا اور ان تینوں کے درمیان ایک سیاسی وفاق کی تجویز بھی دی تھی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00847", "text": "تاريخ\nوادی سندھ کی تہذیب", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00848", "text": "جنوبی ایشیا میں قدیم انسانی تہذیبوں میں سے کچھ موجودہ دور کے پاکستان کے علاقوں سے شروع ہوئیں۔ اس خطے کے ابتدائی معلوم باشندے سوانی تھے جو ابتدائی قدیم سنگی دور میں رہتے تھے، جن کے نوادرات پنجاب کی سوان وادی میں ملے ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00849", "text": "۔ انڈس علاقہ، جو موجودہ دور کے پاکستان کے زیادہ تر حصے پر محیط ہے، کئیی متواتر قدیم ثقافتوں کا مقام تھا جن میں نیے سنگی دور (7000–4300 قبل مسیح) کا مقام مہرگڑھ شامل ہے، اور جنوبی ایشیا میں شہری زندگی کی 5000 سالہ تاریخ وادی سندھ کی تہذیب کے مختلف مقامات تک پھیلی ہوئی ہے، جن میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ شامل ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00850", "text": "ویدک دور", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00851", "text": "وادی سندھ کی تہذیب کے زوال کے بعد، ویدک دور (1500–500 قبل مسیح) میں وسطی ایشیا سے ہجرت کی کئیی لہروں میں ہند-آریائی قبائل پنجاب میں داخل ہوئے، جو اپنے مخصوص مذہبی روایات اور رسومات کو ساتھ لائے جو مقامی ثقافت کے ساتھ مل گئیں۔ ہند-آریائی مذہبی عقائد اور رسومات، باختریا-مارگیانا ثقافت اور سابقہ وادی سندھ کی تہذیب کے مقامی ہڑپہ عقائد سے مل کر ویدک ثقافت اور قبائل کی بنیاد بنے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00852", "text": "۔ ان میں سب سے نمایاں گندھارا تہذیب تھی، جو ہندوستان، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر پھلی پھولی، تجارتی راستوں کو جوڑتی اور مختلف تہذیبوں سے ثقافتی اثرات جذب کرتی رہی۔ ابتدائی ویدک ثقافت ایک قبائلی، چرواہا معاشرہ تھا جو وادی سندھ میں مرکوز تھا، جو آج کے پاکستان کا حصہ ہے۔ اس دور میں ویدوں، جو ہندو مت کے قدیم ترین صحیفے ہیں، کی تخلیق ہوئی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00853", "text": "کلاسیکی دور", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00854", "text": "پاکستان کے مغربی علاقے تقریباً 517 قبل مسیح میں ہخامنشی سلطنت کا حصہ بن گئے۔ 326 قبل مسیح میں، سکندر اعظم نے مختلف مقامی حکمرانوں کو شکست دے کر اس علاقے کو فتح کیا، جن میں سب سے نمایاں راجا پورس تھے، جنھیں جہلم میں شکست دی گئی۔ اس کے بعد موریہ سلطنت کا دور آیا، جس کی بنیاد چندرگپت موریہ نے رکھی اور اشوک اعظم نے اسے 185 قبل مسیح تک وسعت دی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00855", "text": "۔ باختریا کے دیمتریوس (180–165 قبل مسیح) نے انڈو-یونانی سلطنت کی بنیاد رکھی، جس میں گندھارا اور پنجاب شامل تھے اور اس نے مینندر (165–150 قبل مسیح) کے دور میں اپنی عظیم ترین وسعت حاصل کی، جس سے اس علاقے میں یونانی-بدھ ثقافت کو فروغ ملا۔ ٹیکسلا میں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز میں سے ایک قائم ہوا، جو 6ویں صدی قبل مسیح میں ویدک دور کے آخر میں قائم ہوا تھا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00856", "text": "۔ اس قدیم یونیورسٹی کا ذکر سکندر اعظم کی افواہج نے کیا اور چینی زائرین نے 4ویں یا 5ویں صدی عیسوی میں بھی اس کا ذکر کیا۔ اپنے عروج کے دور میں، رائے خاندان (489–632 عیسوی) سندھ اور آس پاس کے علاقوں پر حکمرانی کرتا تھا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00857", "text": "اسلامی فتح", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00858", "text": "عرب فاتح محمد بن قاسم نے 711 عیسوی میں سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں کو فتح کیا۔ پاکستان کی حکومت کی سرکاری تاریخ کے مطابق، یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ابتدائی قرون وسطیٰ کا دور (642–1219 عیسوی) اس خطے میں اسلام کے پھیلاؤ کا گواہ ہے۔ 8ویں صدی کے آغاز میں اسلام کی آمد سے پہلے، پاکستان کا علاقہ مختلف مذاہب کا گھر تھا، جن میں ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور زرتشتیت شامل تھے۔ اس دور میں، صوفی مبلغین نے خطے کی اکثریتی آبادی کو اسلام قبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00859", "text": "۔ کابل وادی، گندھارا (موجودہ خیبر پختونخوا) اور مغربی پنجاب پر حکومت کرنے والی ترک اور ہندو شاہی سلطنتوں کی شکست کے بعد، کئیی متواتر مسلم سلطنتوں نے اس خطے پر حکومت کی، جن میں غزنوی سلطنت (975–1187 عیسوی)، غوری سلطنت اور دہلی سلطنت (1206–1526 عیسوی) شامل ہیں۔ دہلی سلطنت کی آخری لودی خاندان کو مغل سلطنت (1526–1857 عیسوی) نے تبدیل کیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00860", "text": "مغلوں نے فارسی ادب اور اعلیٰ ثقافت کو متعارف کرایا، جس سے اس خطے میں ہند-فارسی ثقافت کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ موجودہ دور کے پاکستان کے علاقے میں، مغل دور کے دوران اہم شہر ملتان، لاہور، پشاور اور ٹھٹھہ تھے، جنھیں شاندار مغل عمارتوں کے مقامات کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ 16ویں صدی کے اوائل میں، یہ علاقہ مغل سلطنت کے تحت رہا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00861", "text": "۔ 18ویں صدی میں، مغل سلطنت کے آہستہ آہستہ زوال کو مرہٹہ کنفیڈریسی اور بعد میں سکھ سلطنت کی ابھرتی ہوئی طاقتوں، نیز 1739 میں ایران سے نادر شاہ اور 1759 میں افغانستان کی درانی سلطنت کی یلغار نے تیز کر دیا۔ بنگال میں برطانوی سیاسی طاقت کی بڑھتی ہوئی قوت ابھی تک موجودہ پاکستان کے علاقوں تک نہیں پہنچی تھی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00862", "text": "نوآبادیاتی حکومت", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00863", "text": "یعنی جدید پاکستان کا کوئی حصہ 1839 تک برطانوی حکومت کے تحت نہیں تھا جب کراچی، جو ایک چھوٹا سا ماہی گیری کا گاؤں تھا جسے سندھ کے تالپوروں نے ایک مٹی کے قلعے کے ساتھ بندرگاہ کی حفاظت کے لیے حکومت کیا تھا، کو قبضے میں لے لیا گیا اور اسے پہلے افغان جنگ کے لیے ایک بندرگاہ اور فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا گیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00864", "text": "۔ باقی سندھ کو 1843 میں حاصل کیا گیا اور بعد میں، جنگوں اور معاہدوں کی ایک سیریز کے ذریعے، ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں، سپاہی بغاوت (1857–1858) کے بعد، برطانوی سلطنت کی ملکہ وکٹوریہ کی براہ راست حکومت کے تحت، اس خطے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا گیا۔ اہم تنازعات میں بلوچ تالپور خاندان کے خلاف جنگیں شامل تھیں، جو سندھ میں میانی کی جنگ (1843) کے ذریعے حل ہوئیں، اینگلو-سکھ جنگیں (1845–1849)، اور اینگلو-افغان جنگیں (1839–1919)", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00865", "text": "۔ 1893 تک، جدید پاکستان کا تمام حصہ برطانوی ہندوستانی سلطنت کا حصہ تھا اور 1947 میں آزادی تک ایسا ہی رہا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00866", "text": "برطانوی حکومت کے تحت، جدید پاکستان بنیادی طور پر سندھ ڈویژن، پنجاب صوبہ اور بلوچستان ایجنسی میں تقسیم تھا۔ اس علاقے میں مختلف ریاستیں بھی شامل تھیں، جن میں سب سے بڑی ریاست بہاولپور تھی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00867", "text": "برطانوی حکومت کے خلاف اس علاقے میں سب سے بڑی مسلح جدوجہد 1857 کی بغاوت تھی، جسے سپاہی بغاوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برطانوی ہندوستان میں ہندو مت اور اسلام کے درمیان تعلقات میں اختلافات نے اہم تناؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں مذہبی تشدد ہوا۔ زبان کے تنازعے نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ایک مسلم فکری تحریک، جس کی قیادت سر سید احمد خان نے کی، ہندو نشاۃ ثانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دو قومی نظریہ کی وکالت کی اور 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی راہ ہموار کی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00868", "text": "مارچ 1929 میں، نہرو رپورٹ کے جواب میں، پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے اپنے چودہ نکات پیش کیے، جن میں متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کے مفادات کے تحفظ کے لیے تجاویز شامل تھیں۔ ان تجاویز کو مسترد کر دیا گیا۔ 29 دسمبر 1930 کی اپنی تقریر میں، علامہ اقبال نے شمال مغربی ہندوستان میں مسلم اکثریتی ریاستوں، بشمول پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے انضمام کی وکالت کی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00869", "text": "۔ 1937 سے 1939 تک کانگریس کی قیادت میں برطانوی صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسلم لیگ کو نظر انداز کرنے کے تاثر نے جناح اور دیگر مسلم لیگ کے رہنماؤں کو دو قومی نظریہ اپنانے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں 1940 کی لاہور قرارداد کو اپنایا گیا، جسے شیر بنگال اے کے فضل الحق نے پیش کیا، جو پاکستان قرارداد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00870", "text": "1942 تک، برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران کافی مشکلات کا سامنا تھا اور ہندوستان کو جاپانی افواہج سے براہ راست خطرہ لاحق تھا۔ برطانیہ نے جنگ کے دوران حمایت کے بدلے ہندوستان کو رضاکارانہ آزادی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، اس وعدے میں ایک شق شامل تھی جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی ہندوستان کا کوئی حصہ نتیجے میں بننے والے ڈومینین میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جسے ایک آزاد مسلم قوم کی حمایت کے طور پر سمجھا جا سکتا تھا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00871", "text": "۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے برطانوی حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے “بھارت چھوڑو تحریک” شروع کی۔ اس کے برعکس، مسلم لیگ نے برطانیہ کی جنگی کوششوں کی حمایت کا انتخاب کیا، جس سے ایک مسلم قوم کے قیام کے امکان کو فروغ ملا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00872", "text": "آزادی\n1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے 90 فیصد مسلم نشستیں جیت لیں، جس میں سندھ اور پنجاب کے زمینداروں کی حمایت شامل تھی۔ اس نے انڈین نیشنل کانگریس کو، جو ابتدا میں مسلم لیگ کی نمائندگی پر شکوک و شبہات کا شکار تھی، اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ محمد علی جناح کی بطور بھارتی مسلمانوں کی آواز کے طور پر ابھرنے نے برطانوی حکومت کو اپنے موقف پر غور کرنے پر مجبور کیا، حالانکہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے۔ تقسیم کو روکنے کی آخری کوشش میں، انھوں نے کابینہ مشن پلان پیش کیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00873", "text": "جب کابینہ مشن ناکام ہو گیا، تو برطانوی حکومت نے جون 1948 تک حکومت ختم کرنے کے ارادے کا اعلان کیا۔ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن آف برما، آل انڈیا مسلم لیگ کے محمد علی جناح اور کانگریس کے جواہر لال نہرو کے درمیان سخت مذاکرات کے بعد، 3 جون 1947 کی شام کو ماؤنٹ بیٹن نے برطانوی ہندوستان کو دو آزاد ڈومینینز—یعنی پاکستان اور ہندوستان—میں تقسیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00874", "text": "۔ ماؤنٹ بیٹن کے اوول آفس میں، تقریباً ایک درجن بڑی ریاستوں کے وزرائے اعظم نے منصوبے کی کاپیاں حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے، اس کے عالمی نشریات سے پہلے۔ شام 7:00 بجے، آل انڈیا ریڈیو نے عوامی اعلان نشر کیا، جس کا آغاز وائسرائے کے خطاب سے ہوا، اس کے بعد نہرو اور جناح کی انفرادی تقریریں ہوئیں۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے اپنے خطاب کا اختتام نعرہ “پاکستان زندہ باد” (پاکستان پائندہ باد) کے ساتھ کیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00875", "text": "یونائیٹڈ کنگڈم کے ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہونے کے بعد، جدید ریاست پاکستان 14 اگست 1947 کو قائم ہوئی (اسلامی کیلنڈر کے مطابق 1366 ہجری کے رمضان کے 27ویں روز، جو اسلامی نقطہ نظر سے سب سے بابرکت تاریخ سمجھی جاتی ہے)۔ اس نئے ملک نے برطانوی ہندوستان کے مشرقی اور شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو یکجا کیا، جن میں بلوچستان، مشرقی بنگال، شمال مغربی سرحدی صوبہ، مغربی پنجاب اور سندھ کے صوبے شامل تھے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00876", "text": "پنجاب صوبے میں تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات میں، 200,000 سے 2,000,000 افراد ہلاک ہوئے، جسے بعض لوگوں نے مذاہب کے درمیان انتقامی نسل کشی قرار دیا ہے۔ تقریباً 50,000 مسلمان خواتین کو ہندو اور سکھ مردوں نے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ 33,000 ہندو اور سکھ خواتین کو مسلمانوں کے ہاتھوں اسی انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً 6.5 ملین مسلمان بھارت سے مغربی پاکستان منتقل ہوئے اور 4.7 ملین ہندو اور سکھ مغربی پاکستان سے بھارت منتقل ہوئے۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00877", "text": "۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی۔ جموں و کشمیر کی ریاست پر بعد میں ہونے والے تنازع نے بالآخر 1947–1948 کی پاک بھارت جنگ کو جنم دیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00878", "text": "آزادی کے بعد\n1947 میں آزادی کے بعد، مسلم لیگ کے صدر جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور پارلیمنٹ کے پہلے صدر-اسپیکر بنے، لیکن وہ 11 ستمبر 1948 کو تپ دق کی بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔ اس دوران، پاکستان کے بانیوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل لیاقت علی خان کو ملک کا پہلا وزیر اعظم مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ 1947 سے 1956 تک، پاکستان دولت مشترکہ کے اندر ایک بادشاہت تھا اور جمہوریہ بننے سے پہلے دو بادشاہوں کے تحت رہا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00879", "text": "پاکستان کی تخلیق کو بہت سے برطانوی رہنماؤں، بشمول لارڈ ماؤنٹ بیٹن، نے کبھی مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے مسلم لیگ کے پاکستان کے تصور پر اپنے عدم اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا۔ جناح نے ماؤنٹ بیٹن کی پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ جب کولنز اور لاپیئر نے ماؤنٹ بیٹن سے پوچھا کہ اگر انھیں معلوم ہوتا کہ جناح تپ دق سے مر رہے ہیں تو کیا وہ پاکستان کو سبوتاژ کر دیتے، تو انھوں نے جواب دیا 'بہت ممکن ہے'۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00880", "text": "مولانا شبیر احمد عثمانی، جو 1949 میں پاکستان میں شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز تھے اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے اسلامی آئین کے حق میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا مودودی نے اصرار کیا کہ دستور ساز اسمبلی “خدا کی اعلیٰ حاکمیت” اور پاکستان میں شریعت کی بالادستی کا اعلان کرے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00881", "text": "جماعت اسلامی اور علما کی کوششوں کے نتیجے میں مارچ 1949 میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ اس قرارداد کو لیاقت علی خان نے پاکستان کی تاریخ کا دوسرا سب سے اہم قدم قرار دیا۔ اس میں کہا گیا کہ \"کائنات کی مکمل حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور جو اختیار اس نے پاکستان کی ریاست کو اپنے لوگوں کے ذریعے دیا ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے\"۔ یہ قرارداد بعد میں 1956، 1962 اور 1973 کے آئین کے دیباچے میں شامل کی گئی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00882", "text": "جمہوریت کو اسکندر مرزا کے نافذ کردہ مارشل لا کی وجہ سے دھچکا لگا، جن کے بعد جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا۔ 1962 میں صدارتی نظام اپنانے کے بعد، پاکستان نے نمایاں ترقی دیکھی، لیکن 1965 کی دوسری جنگ کے بعد اقتصادی بحران اور 1967 میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ 1969 میں صدر یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا، لیکن مشرقی پاکستان میں ایک تباہ کن سائیکلون کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں 500,000 افراد ہلاک ہوئے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00883", "text": "1970 میں، پاکستان نے آزادی کے بعد اپنے پہلے جمہوری انتخابات کا انعقاد کیا، جس کا مقصد فوجی حکمرانی سے جمہوریت کی طرف منتقلی تھا۔ تاہم، جب مشرقی پاکستانی عوامی لیگ نے پاکستان پیپلز پارٹی پر فتح حاصل کی، تو یحییٰ خان اور فوج نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00884", "text": "۔ اس کے نتیجے میں آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا، جو ایک فوجی کریک ڈاؤن تھا اور بالآخر مشرقی پاکستان میں بنگالی مکتی باہنی فورسز کی طرف سے آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا، جسے مغربی پاکستان میں آزادی کی جدوجہد کی بجائے ایک خانہ جنگی کے طور پر بیان کیا گیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00885", "text": "آزاد محققین کے اندازے کے مطابق اس عرصے کے دوران 3 سے 5 لاکھ شہری ہلاک ہوئے جبکہ بنگلہ دیشی حکومت اس تعداد کو 30 لاکھ بتاتی ہے، جو اب تقریباً عالمی سطح پر حد سے زیادہ مبالغہ آمیز سمجھی جاتی ہے۔ کچھ ماہرین جیسے روڈولف رمل اور روناق جہاں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے نسل کشی کی؛ جبکہ دیگر جیسے رچرڈ سیسن اور لیو ای روز کا ماننا ہے کہ کوئی نسل کشی نہیں ہوئی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00886", "text": "۔ بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان میں بغاوت کی حمایت کے رد عمل میں، پاکستان کی فضائیہ، بحریہ اور میرینز نے بھارت پر پیشگی حملے کیے، جس کے نتیجے میں 1971 کی ایک روایتی جنگ کا آغاز ہوا جو بھارتی فتح اور مشرقی پاکستان کے بطور بنگلہ دیش آزاد ہونے پر ختم ہوئی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00887", "text": "جنگ میں پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد یحییٰ خان کی جگہ ذو الفقار علی بھٹو نے صدر کا عہدہ سنبھالا؛ ملک نے آئین کے نفاذ اور جمہوریت کی راہ پر چلنے کی کوششیں شروع کیں۔ 1972 میں پاکستان نے اپنی جوہری صلاحیت کو ترقی دینے کا ایک بلند ہمت منصوبہ شروع کیا تاکہ کسی غیر ملکی حملے کو روکا جا سکے؛ اسی سال ملک کا پہلا جوہری پاور پلانٹ بھی افتتاح ہوا۔ 1974 میں بھارت کے پہلے جوہری تجربے نے پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرنے کا اضافی جواز فراہم کیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00888", "text": "جمہوریت کا خاتمہ 1977 میں بائیں بازو کی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف ایک فوجی بغاوت کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق 1978 میں صدر بنے۔ 1977 سے 1988 تک صدر ضیاء کی کارپوریشن اور اقتصادی اسلامائزیشن کی پالیسیوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کر دیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00889", "text": "۔ ملک کے جوہری پروگرام کو ترقی دیتے ہوئے، اسلامائزیشن میں اضافہ اور ایک مقامی قدامت پسند فلسفے کے فروغ کے ساتھ، پاکستان نے سوویت یونین کی افغانستان میں کمیونسٹ مداخلت کے خلاف مجاہدین کے مختلف دھڑوں کو امریکی وسائل فراہم کرنے میں مدد دی۔ پاکستان کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) نے افغان مجاہدین کے لیے ایک مرکز کا کردار ادا کیا، جہاں کے بااثر دیوبندی علما نے 'جہاد' کو فروغ دینے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00890", "text": "صدر ضیاء 1988 میں طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے اور ذو الفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے بعد قدامت پسند جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) (پ۔ م۔ ل(ن)) نے اقتدار سنبھالا اور اگلی دہائی میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اقتدار کے لیے جدوجہد کی، ایک کے بعد ایک حکومت میں آتے رہے۔ اس دور کو طویل مدت کی افراط زر، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، بدانتظامی، بھارت کے ساتھ جغرافیائی تنازع اور بائیں بازو-دائیں بازو کی نظریاتی کشمکش کے لیے جانا جاتا ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00891", "text": "۔ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی تو نواز شریف نے بھارت کے مئی 1998 کے دوسرے جوہری تجربات کے جواب میں جوہری تجربات کی منظوری دی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00892", "text": "کارگل کے ضلع میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ 1999 کی کارگل جنگ کا سبب بنا اور سول-فوجی تعلقات میں کشیدگی نے جنرل پرویز مشرف کو ایک بے خون بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کا موقع دیا۔ مشرف نے 1999 سے 2002 تک چیف ایگزیکٹو اور 2001 سے 2008 تک صدر کے طور پر پاکستان پر حکومت کی—یہ دور روشن خیالی، سماجی لبرل ازم، وسیع اقتصادی اصلاحات اور امریکا کی زیر قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت کا تھا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00893", "text": "۔ اپنے مالی تخمینوں کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت نے 118 ارب ڈالر تک کی لاگت، اکیاسی ہزار سے زیادہ ہلاکتیں اور 18 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد کی مشکلات پیدا کی ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00894", "text": "قومی اسمبلی نے 15 نومبر 2007 کو تاریخی طور پر اپنی پہلی پانچ سالہ مدت مکمل کی۔ 2007 میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی (پ۔ پ۔ پ) نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور پارٹی کے رکن یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مواخذے کے خطرے کے باعث صدر مشرف نے 18 اگست 2008 کو استعفا دے دیا اور ان کے بعد آصف علی زردہری صدر بنے۔ عدلیہ کے ساتھ تصادم کے باعث گیلانی کو جون 2012 میں پارلیمنٹ اور وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00895", "text": "۔ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور عمران خان 22ویں وزیر اعظم بنے۔ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں پ۔ ت", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00896", "text": "۔ 2024 کے عام انتخابات میں پ۔ ت۔ ا کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سب سے بڑا بلاک بنے، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے اتحاد کے نتیجے میں شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00897", "text": "جغرافیہ", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00898", "text": "پاکستان کا متنوع جغرافیہ اور موسمی حالات مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ 881,913 مربع کلومیٹر (340,509 مربع میل) کے رقبے کے ساتھ پاکستان کا سائز فرانس اور برطانیہ کے مجموعی رقبے کے برابر ہے۔ یہ کل رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33واں بڑا ملک ہے، مگر کشمیر کی متنازع حیثیت کے سبب اس میں فرق آ سکتا ہے۔ پاکستان 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ساحلی پٹی پر محیط ہے جو بحیرہ عرب اور خلیج عمان سے ملتی ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00899", "text": "۔ اس کی زمینی سرحدیں مجموعی طور پر 6,774 کلومیٹر (4,209 میل) پر مشتمل ہیں، جن میں افغانستان کے ساتھ 2,430 کلومیٹر (1,510 میل)، چین کے ساتھ 523 کلومیٹر (325 میل)، بھارت کے ساتھ 2,912 کلومیٹر (1,809 میل) اور ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر (565 میل) شامل ہیں۔ اس کی بحری سرحد عمان کے ساتھ ملتی ہے اور واخان کوریڈور کے ذریعے تاجکستان سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00900", "text": "۔ جغرافیائی طور پر پاکستان انڈس-تسانگپو سچّر زون اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے، جہاں سندھ اور پنجاب کے علاقے اس پلیٹ کا حصہ ہیں جبکہ بلوچستان اور زیادہ تر خیبر پختونخوا یوریشین پلیٹ پر، خاص طور پر ایرانی سطح مرتفع پر ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بھارتی پلیٹ کے کنارے پر واقع ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقے شدید زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00901", "text": "پاکستان کے مناظر ساحلی میدانوں سے لے کر برف پوش پہاڑوں تک مختلف ہیں، جن میں صحرا، جنگلات، پہاڑیاں اور سطح مرتفع شامل ہیں۔ پاکستان کو تین بڑے جغرافیائی علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے: شمالی بلندیاں، دریائے سندھ کا میدان اور بلوچستان کا سطح مرتفع", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00902", "text": "۔ شمالی بلندیاں قراقرم، ہندوکش اور پامیر پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے کچھ واقع ہیں، جن میں چودہ میں سے پانچ ایسے پہاڑ شامل ہیں جن کی اونچائی 8,000 میٹر (26,250 فٹ) سے زیادہ ہے، جیسے کہ کے ٹو (8,611 میٹر یا 28,251 فٹ) اور نانگا پربت (8,126 میٹر یا 26,660 فٹ)۔ بلوچستان کا سطح مرتفع مغرب میں واقع ہے جبکہ مشرق میں تھر کا صحرا موجود ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00903", "text": "۔ 1,609 کلومیٹر (1,000 میل) لمبا دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا کشمیر سے بحیرہ عرب تک پاکستان کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہیں، جو پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں زرخیز میدانی علاقوں کو سیراب کرتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00904", "text": "پاکستان کا موسم استوائی سے معتدل تک مختلف ہوتا ہے، جبکہ ساحلی جنوبی علاقوں میں خشک حالات پائے جاتے ہیں۔ مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر سیلاب آتے ہیں، جبکہ خشک موسم میں بارش بہت کم یا بالکل نہیں ہوتی۔ پاکستان میں چار نمایاں موسم ہوتے ہیں: دسمبر سے فروری تک ٹھنڈا اور خشک سردی کا موسم؛ مارچ سے مئی تک گرم اور خشک بہار کا موسم؛ جون سے ستمبر تک برسات کا موسم یا جنوب مغربی مون سون کا دورانیہ؛ اور اکتوبر اور نومبر میں مون سون کا واپسی کا دور", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00905", "text": "۔ بارش کی مقدار سالانہ بنیادوں پر بہت زیادہ تبدیل ہوتی ہے اور سیلاب اور خشک سالی کے متبادل پیٹرن عام ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00906", "text": "نباتات اور حیوانات", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00907", "text": "پاکستان میں متنوع زمین اور آب و ہوا کی وجہ سے مختلف قسم کے درخت اور پودے پائے جاتے ہیں۔ شمالی پہاڑوں میں مخروطی درختوں جیسے اسپروس، پائن اور دیودار، سلیمان پہاڑوں میں پت جھڑ والے درختوں جیسے شیشم اور جنوبی علاقوں میں ناریل اور کھجور کے درخت ملتے ہیں۔ مغربی پہاڑوں میں صنوبر، تمر، کھردری گھاسیں اور جھاڑی دار پودے پائے جاتے ہیں۔ جنوبی ساحلی دلدلی علاقوں میں مینگروو جنگلات پھیلے ہوئے ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00908", "text": "۔ شمالی اور شمال مغربی بلند پہاڑی علاقوں میں مخروطی جنگلات 1,000 سے 4,000 میٹر (3,300 سے 13,100 فٹ) کی بلندی تک پھیلے ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے خشک علاقوں میں کھجور کے درخت اور افیڈرا کے پودے زیادہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے دریائے سندھ کے میدانوں میں استوائی اور نیم استوائی خشک اور مرطوب چوڑے پتوں والے جنگلات کے ساتھ ساتھ استوائی اور خشک جھاڑی دار علاقے بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا تقریباً 4.8% یا 36,845.6 مربع کلومیٹر (3,684,560 ہیکٹر) رقبہ 2021 میں جنگلات پر مشتمل تھا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00909", "text": "پاکستان کا جنگلی حیات اس کی متنوع آب و ہوا کا عکس ہے۔ ملک میں تقریباً 668 پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں کوا، چڑیا، مینا، باز، شاہین اور عقاب شامل ہیں۔ پالس، کوہستان میں مغربی ٹریگوپن پایا جاتا ہے اور یہاں یورپ، وسطی ایشیا اور بھارت سے آنے والے مہاجر پرندے بھی آتے ہیں۔ جنوبی میدانی علاقوں میں نیولا، بھارتی زبیلی بلی، خرگوش، ایشیائی گیدڑ، بھارتی چھلپانگو، جنگلی بلی اور ریتلی بلی پائی جاتی ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00910", "text": "۔ دریائے سندھ کے علاقے میں مگرمچھ پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے اردگرد کے علاقوں میں جنگلی سور، ہرن اور سیہ بھی ملتے ہیں۔ پاکستان کے وسطی ریتیلے جھاڑی دار علاقوں میں ایشیائی گیدڑ، دھاری دار لگڑبگڑ، جنگلی بلیاں اور تیندوا موجود ہیں۔ شمال کے پہاڑی علاقے مختلف قسم کے جانوروں کا مسکن ہیں جن میں مارکو پولو بھیڑ، اورئیل، مارخور، آئبیکس، ایشیائی کالا ریچھ اور ہمالیائی بھورا ریچھ شامل ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00911", "text": "پاکستان میں پودوں کی کمی، شدید موسم اور صحراوں میں چرنے کے اثرات نے جنگلی جانوروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چولستان میں چنکارا وہ واحد جانور ہے جو بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان-بھارت سرحد کے ساتھ اور چولستان کے کچھ حصوں میں چند نیل گائے بھی پائی جاتی ہیں۔ نایاب جانوروں میں برفانی چیتا اور اندھی دریائے سندھ کی ڈولفن شامل ہیں، جن کی تعداد تقریباً 1,816 سمجھی جاتی ہے اور یہ سندھ میں دریائے سندھ ڈولفن ریزرو میں محفوظ ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00912", "text": "۔ مجموعی طور پر پاکستان میں 174 قسم کے ممالیہ جانور، 177 قسم کے رینگنے والے جانور، 22 قسم کے ایمفیبین، 198 قسم کی تازہ پانی کی مچھلیاں، 668 قسم کے پرندے، 5,000 سے زائد قسم کے کیڑے اور 5,700 سے زائد قسم کے پودے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پاکستان کو جنگلات کی کٹائی، شکار اور آلودگی کا سامنا ہے اور 2019 میں فارسٹ لینڈ اسکیپ انٹیگریٹی انڈیکس میں اس کا اوسط اسکور 7.42/10 تھا، جس نے 172 ممالک میں سے عالمی سطح پر 41ویں درجہ دیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00913", "text": "حکومت اور سياست", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00914", "text": "پاکستان ایک جمہوری پارلیمانی وفاقی جمہوریہ کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے 1956 میں اپنا پہلا آئین اختیار کیا، جسے ایوب خان نے 1958 میں معطل کر دیا اور اس کے بعد 1962 میں دوسرا آئین نافذ کیا گیا۔ 1973 میں ایک جامع آئین سامنے آیا، جسے ضیاء الحق نے 1977 میں معطل کر دیا لیکن 1985 میں دوبارہ بحال کیا گیا، جو ملک کی حکومت کو شکل دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں فوج کا اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00915", "text": "۔ 1958-1971، 1977-1988 اور 1999–2008 کے دور میں فوجی بغاوتیں دیکھنے کو ملیں، جن کی وجہ سے مارشل لا نافذ ہوا اور فوجی رہنما غیر سرکاری طور پر صدارت کرنے لگے۔ اس وقت، پاکستان ایک کثیر الجماعتی پارلیمانی نظام میں کام کرتا ہے، جس میں حکومت کی شاخوں کے درمیان واضح چیک اور بیلنس موجود ہیں۔ پہلی کامیاب جمہوری منتقلی مئی 2013 میں ہوئی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00916", "text": "۔ پہلی کامیاب جمہوری منتقلی مئی 2013 میں ہوئی۔ پاکستانی سیاست سوشلزم، قدامت پسندی اور تیسری راہ کے مرکب کے گرد گھومتی ہے، جہاں تین اہم سیاسی جماعتیں ہیں: قدامت پسند پاکستان مسلم لیگ (ن)، سوشلسٹ پاکستان پیپلز پارٹی اور سنٹرل پاکستان تحریک انصاف۔ 2010 میں آئینی ترامیم نے صدارتی اختیارات کو کم کر دیا، جس سے وزیر اعظم کے کردار کو بڑھایا گیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00917", "text": "سربراہ مملکت: پاکستان کے سرکاری سربراہ اور شہری کمانڈر انچیف پاکستان کی مسلح افواہج کے صدر ہیں، جن کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے۔ وزیر اعظم صدر کو اہم تقرریوں پر مشورہ دیتا ہے، بشمول فوجی اور عدالتی عہدوں کے لیے اور صدر آئین کے تحت اس مشورے پر عمل کرنے کے لیے پابند ہے۔ صدر کے پاس معافی اور رحم کے اختیارات بھی ہوتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00918", "text": "قانون سازی: دو ایوانی مقننہ میں 96 رکنی سینیٹ (ایوان بالا) اور 336 رکنی قومی اسمبلی (ایوان زیریں) شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان کو قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر \"پہلا آنے والا، پہلے پایا\" کے اصول کے تحت منتخب کیا جاتا ہے۔ آئین کے تحت 70 نشستیں خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں، جو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00919", "text": "۔ سینیٹ کے ارکان کو صوبائی قانون سازوں کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، جو تمام صوبوں کے درمیان مساوی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00920", "text": "ایگزیکٹو: وزیر اعظم، جو عام طور پر قومی اسمبلی (ایوان زیریں) میں اکثریتی جماعت یا اتحاد کا قائد ہوتا ہے، ملک کے چیف ایگزیکٹو اور سربراہ حکومت کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں کابینہ کی تشکیل، انتظامی فیصلے کرنا اور سینئر سول سرونٹس کی تقرری شامل ہے، جس کے لیے ایگزیکٹو کی منظوری درکار ہوتی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00921", "text": "صوبائی حکومتیں: چاروں صوبے ایک جیسے طرز حکمرانی کے نظام کی پیروی کرتے ہیں، جس میں براہ راست منتخب ہونے والی صوبائی اسمبلی، عام طور پر سب سے بڑی جماعت یا اتحاد سے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے۔ وزرائے اعلیٰ صوبائی کابینہ کی قیادت کرتے ہیں اور صوبے کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ صوبائی بیوروکریسی کی سربراہی چیف سیکرٹری کرتا ہے، جسے وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کرتی ہیں اور صوبائی بجٹ کی منظوری دیتی ہیں، جو عام طور پر صوبائی وزیر خزانہ کی جانب سے سالانہ پیش کیا جاتا ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00922", "text": "۔ صوبوں کے رسمی سربراہ، صوبائی گورنر، وزیر اعظم کے لازمی مشورے پر صدر کی جانب سے مقرر کیے جاتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00923", "text": "عدلیہ: پاکستان میں عدلیہ دو حصوں پر مشتمل ہے: اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ۔ اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی شرعی عدالت اور پانچ ہائی کورٹس شامل ہیں، جن میں سپریم کورٹ سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ اس کا کام آئین کی حفاظت کرنا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اپنا عدالتی نظام ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00924", "text": "اسلام کا کردار", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00925", "text": "پاکستان، جو واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا، کو مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی، خاص طور پر ایسے صوبوں میں جیسے کہ متحدہ صوبہ جات، جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ مسلم لیگ، اسلامی علما اور جناح کی طرف سے پیش کردہ اس خیال نے ایک اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ جناح، جو علما کے ساتھ قریب سے وابستہ تھے، ان کے انتقال پر مولانا شبیر احمد عثمانی نے انھیں اورنگزیب کے بعد سب سے عظیم مسلمان قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلام کے تحت متحد کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00926", "text": "مارچ 1949 کی قراردادِ مقاصد نے اس مقصد کی جانب پہلا قدم اٹھایا، جس میں اللہ کو واحد حاکمِ اعلیٰ تسلیم کیا گیا۔ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری خلیق الزمان نے کہا کہ پاکستان تبھی حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ریاست بن سکتا ہے جب اسلام کے تمام ماننے والوں کو ایک سیاسی وحدت میں لایا جائے۔ کیتھ کالارڈ نے مشاہدہ کیا کہ پاکستانی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسلم دنیا کے مقاصد اور نقطۂ نظر میں بنیادی یکسانی ہے اور وہ توقع کرتے تھے کہ دنیا بھر کے مسلمان مذہب اور قومیت کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھیں گے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00927", "text": "پاکستان کی ایک متحد اسلامی بلاک، جسے اسلامستان کہا گیا، کے قیام کی خواہش کو دیگر مسلم حکومتوں کی حمایت حاصل نہیں تھی، تاہم فلسطین کے مفتی اعظم الحاج امین الحسینی اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں جیسے افراد پاکستان کی جانب مائل تھے۔ اسلامی ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے قیام کی پاکستان کی خواہش 1970 کی دہائی میں پوری ہوئی جب تنظیمِ اسلامی کانفرنس (ت۔ ا۔ ک) قائم کی گئی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00928", "text": "۔ ا۔ ک) قائم کی گئی۔ مشرقی پاکستان کے بنگالی مسلمان ایک اسلامی ریاست کے مخالف تھے اور ان کا مغربی پاکستانیوں سے اختلاف تھا جو اسلامی شناخت کی طرف مائل تھے۔ اسلامی جماعت، جماعتِ اسلامی نے ایک اسلامی ریاست کی حمایت کی اور بنگالی قوم پرستی کی مخالفت کی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00929", "text": "1970 کے عام انتخابات کے بعد، پارلیمنٹ نے 1973 کا آئین تشکیل دیا۔ اس آئین نے پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ قرار دیا، اسلام کو ریاست کا مذہب تسلیم کیا اور اس بات کا پابند کیا کہ تمام قوانین قرآن اور سنت میں دی گئی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں گے اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو ان احکامات کے منافی ہو۔ اس کے علاوہ، اس آئین نے اسلام کی تشریح اور نفاذ کے لیے ادارے جیسے شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل قائم کیے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00930", "text": "ذو الفقار علی بھٹو کو نظامِ مصطفیٰ (یعنی \"حکمِ رسول\") کے تحت ایک اسلامی ریاست کے مطالبے کی صورت میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹو نے کچھ اسلامی مطالبات تسلیم کیے، لیکن بعد میں انھیں ایک فوجی بغاوت میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00931", "text": "جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلامی ریاست کے قیام اور شریعت کے نفاذ کا عزم کیا۔ انھوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے شریعت عدالتیں اور عدالتوں میں شریعت بنچ قائم کیے۔ ضیاء نے دیوبندی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کی، جس سے شیعہ مخالف پالیسیوں کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00932", "text": "پیو ریسرچ سینٹر (PEW) کے ایک سروے کے مطابق، زیادہ تر پاکستانی شریعت کو سرکاری قانون کے طور پر پسند کرتے ہیں اور ان میں سے 94 فیصد اپنی شناخت مذہب کے حوالے سے زیادہ کرتے ہیں بنسبت قومیت کے، جو دیگر ممالک کے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00933", "text": "پولیس فورس میں ایک الگ شاخ بھی بنایا گیا ہے جسے پولیس قومی رضا کار کہا جاتا ہے، اس فورس کا مقصد تمام صوبوں میں جہاں ضرورت پڑے وہاں کام کرنا ہے۔ ایئرپورٹ پولیس کا کام ایئرپورٹ کے امور سر انجام دینا ہے اسی طرح موٹروے پولیس اور قومی شاہراہ پولیس کا کام سڑکوں کی حفاظت ہے۔\nتحقیقات کے لیے وفاقی ادارۂ تحقیقات‎ (ایف آئی اے) اور دیگر تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔ مخابرات اور ملک کے بیرون خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مخابراتی ادارے (جیسے آئی ایس آئی، وغیرہ) موجود ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00934", "text": "پاکستان ميں 5 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔ حال ہی میں پاکستانی پارلیمنٹ نے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت دے دی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00935", "text": "صوبہ جات کی تقسیم یکم جولائی 1970ء کو کی گئی۔ صوبہ بلوچستان کا کل رقبہ 347,190 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2011ء میں آبادی 79 لاکھ 14 ہزار تھی۔ صوبہ پنجاب کا کل رقبہ 205,344 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2013ء میں آبادی 10 کروڑ 10لاکھ تھی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کا کل رقبہ 74,521 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2012ء میں آبادی 2 کروڑ 20 لاکھ تھی۔ صوبہ سندھ کا کل رقبہ 140,914 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2012ء میں آبادی 4 کروڑ 24 لاکھ تھی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00936", "text": "۔ گلگت بلتستان (سابق شمالی علاقہ جات) کا کل رقبہ 72,496 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2008ء میں آبادی 18 لاکھ تھی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00937", "text": "انتظامی تقسیم\nمعيشت", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00938", "text": "پاکستان دنيا کا ايک ترقی پزیر ملک ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00939", "text": "۔ پاکستان کے سیاسی معاملات ميں فوج كى مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (Labor Camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کيلیے راہ کو کھلا رکھا جاسکے)", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00940", "text": "، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00941", "text": "۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانی کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا ۔ اِس وقت پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے ۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00942", "text": "۔ 2025 میں IMF کے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ (GCDA) کے ایک حصے کے طور پر 7 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان کے گورننس فریم ورک میں کمزوریوں کی نشان دہی کرنے اور ادارہ جاتی سالمیت اور احتساب کو بڑھانے کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے پر توجہ دی گئی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00943", "text": "اعداد و شمار\nپاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔\nپاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريباً 20 فيصد اہل تشیع، 77 فيصد اہل سنت اور تقریباً 3 فيصد ديگر فقہ سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريباً ایک فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب وسرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00944", "text": "پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، جبکہ زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئیی اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائیکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پہاڑی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00945", "text": "پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سرائیکی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر قوم ہيں، ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مابین فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00946", "text": "صحت عامہ\nدیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج درمیانے سے لے کر اعلیٰ طبقے کے ليے مخصوص ہے۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں ان کی حالت ابتر ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00947", "text": "تعطيلات\nقومی چیزیں\nقومی دن – یوم پاکستان، 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں منظور ہوا۔\nقومی شاعر – حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال\nقومی پرچم - اصل مضمون کے لیے دیکھیں قومی پرچم", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00948", "text": "قومی پرچم - اصل مضمون کے لیے دیکھیں قومی پرچم\nگہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی پٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947ء کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔\nقومی پھول - پاکستان کا قوی پھول چنبیلی (یاسمین) ہے۔ دیگر 45 پھولوں کے نام بھی جان سکتے ہیں۔\nقومی پھل - پاکستان کا قومی پھل آم ہے۔ دیگر 45 پھلوں کے نام بھی جان سکتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00949", "text": "قومی لباس - شلوار قمیض، جناح کیپ، شیروانی (سردیوں میں)\nجانور – مارخور قومی جانور ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں پائے جانے والے منفرد جانور نیل گائے، چنکارہ، کالا ہرن، ہرن، چیتا، لومڑی، مارکوپولو بھیڑ، سبز کچھوا، نابینا ڈولفن، مگرمچھ ہیں۔\nقومی پرندہ - پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے۔\nقومی مشروب – گنے کا رس\nقومی کھانا - غیر سرکاری طور پر نہاری۔\nقومی نعرہ - پاکستان کا مطلب کیا؟ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00950", "text": "یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران میں بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ (قابل اعتبار حوالہ درکار ہے) ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔\nقومی ترانہ - قومی ترانے کے لیے دیکھیں مضمون قومی ترانہ", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00951", "text": "ریاستی نشان\nریاستی نشان درج ذیل نشانات پر مشتمل ہے۔\nچاند اور ستارہ جو روایتی طور پر اسلام سے ریاست کی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔\nچوکور شیلڈ جس میں ملک کی چار اہم صنعتوں کی علامت کندہ ہے۔\nشیلڈ کے اردگرد پھول اور پتیاں بنی ہوئی ہیں جو وطن عزیز کے بھر پور ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔\nعلامت کے چاروں طرف بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا قول۔۔۔ اتحاد، ایمان، نظم تحریر ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00952", "text": "آبادیات\nآبادی\nپاکستان کی زیادہ تر آبادی ملک کی وسطی علاقوں میں ہے، ملک کے جنوب میں زیادہ آباد مقامات اکثر دریائے سندھ کے آس پاس پر واقع ہے جن میں سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ کراچی ہے جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00953", "text": "بلحاظ سال آبادی\nاقوام متحدہ کی اعداد و شمار\nزبانیں\nپاکستان آپسی محبت اور اتحاد کا ایک اعلیٰ مثال ہے کیونکہ یہاں پہ مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ متحد رہتے ہیں۔ جہاں پہ ہماری بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک ہماری قومی زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ چار صوبائی زبانیں اور بہت سے اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00954", "text": "پاکستان میں کئیی زبانیں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 65 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔\nپاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی صوبہ پنجاب، پشتو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھی صوبہ سندھ، بلوچی صوبہ بلوچستان اور شینا صوبہ گلگت بلتستان میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00955", "text": "پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، سرائیکی زبان، بدیشی، باگڑی، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا، گوورو، گجراتی، گوجری، گرگلا، ہزاراگی، ہندکو، جدگلی، جنداوڑا، کبوترا، کچھی، کالامی، کالاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کاٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اوڈ، اورمڑی، پوٹھواری، پھالولہ، سانسی، ساوی، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00956", "text": "، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00957", "text": "۔ ان زبانوں میں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں- ي سرا سنکے عمران خان سب سے اچھا ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00958", "text": "تعلیم یافتگی\nتعلیمی ادارے بلحاظ زمرہ جات\nاہم شہر", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00959", "text": "2017ء کی مردم شماری کے مطابق، دو بڑے شہر ہیں، جن کی آبادی دس ملین سے زیادہ ہے اور 100 شہر ہیں جن کی آبادی 100,000 یا اس سے زیادہ ہے۔ ان 100 شہروں میں سے 58 ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں، 22 سندھ میں، 11 خیبرپختونخوا میں، چھ بلوچستان میں، دو آزاد کشمیر میں اور ایک اسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان نے ابھی تک 2017ء کی مردم شماری کے کوئی نتائج عوامی طور پر جاری نہیں کیے ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00960", "text": "۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر گلگت تھا، جس کی آبادی 56,701 تھی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00961", "text": "ڈویژنل دار الحکومت", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00962", "text": "ثقافت\nتہذیب\nپاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبوں نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00963", "text": "پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک، ان سب کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00964", "text": "پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امرا اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جگہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکاؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00965", "text": "پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کینیڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہت سرمايہ کاری بھی کی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00966", "text": "پاکستان کا سب سے پسنديدہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدائش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھیلی جاتی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00967", "text": "لباس، فن اور فیشن\nپاکستان میں سب سے عام لباس شلوار قمیض ہے جس کو قومی لباس کا درجہ حاصل ہے، شلوار قمیص کو پاکستان کے چاروں صوبوں بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پہنا جاتا ہے۔ تاہم پھر ہر صوبے اور علاقے میں شلوار قمیص پہننے کا طرز تھوڑا مختلف بھی ہوتا ہے ہر کوئی اپنے مقامی انداز میں پہنتا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00968", "text": "شلوار قمیص کے علاوہ اور بھی بہت سے لباس پاکستان میں میں پہنے جاتے ہیں جن میں سوٹ اور نیکٹائی بھی عام ہے جن کا استعمال اسکول، کالج، جامعات، دفاتر، وغیرہ میں ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں شہروں کے بہ نسبت سوٹ اور ٹائی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ شیروانی کا استعمال خاص کر تقاریب اور خوشیوں کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔\nپاکستانی خواتین میں بھی شلوار قمیض کا استعمال ہوتا ہے تاہم خواتین شلوار قمیض کے علاوہ انارکلی، لہنگا، گاگرہ، وغیرہ بھی پہنتی ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00969", "text": "میڈیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00970", "text": "پاکستان میں بہت سے ذرائع ابلاغ موجود ہیں، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا دونوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے پی ٹی وی ملک کا واحد چینل نیٹ ورک ہوتا تھا اور حکومت پاکستان اس نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔ 2002ء کے بعد الیکٹرونک میڈیا نے ترقی کی اور پے در پے نئے نجی چینل آتے رہے۔ اس وقت پاکستان میں 50 سے بھی زیادہ صرف نجی چینلز موجود ہیں جن کی نشریات 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں نیوز، انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، علاقائی اور بہت سے چینلز موجود ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00971", "text": "۔ پاکستان میں زیادہ تر چینلز کے نشریات اردو میں ہوتے ہیں تاہم ملک کے علاقائی زبانوں (پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی وغیرہ) کے بھی ٹی وی چینلز موجود ہیں۔ پی ٹی وی ورلڈ پاکستان کا پہلا انگریزی چینل ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00972", "text": "اردو فلم انڈسٹری لالی وڈ کی صدر مقامات لاہور، کراچی اور پشاور میں واقع ہے۔ لالی وڈ نے اب تک بہت سے فلمیں ریلیز کی ہیں اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے عام اردو ڈراما سیریلز ہیں جو مختلف چینلز پر چلائے جاتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00973", "text": "فن تعمیرات", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00974", "text": "پاکستان کے فن تعمیرات ان مختلف عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی جو 3500 قبل مسیح تھا، موجودہ پاکستان کے علاقے میں شہری ثقافت کا ارتقا ہوا جس میں بڑی عمارتیں تھیں جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد گندھارا طرز کا بدھ طرز تعمیر آیا جس میں قدیم یونان کے اجزاء بھی شامل تہے۔ اس کے بقایا جات گندھارا کے صدر مقام ٹیکسلا میں دکھائی دیتے ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00975", "text": "۔ ان کے علاوہ پاکستان میں مغل اور انگریزی طرز تعمیر کی مثالیں بھی موجود ہیں جو نہایت ہی اہم ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00976", "text": "آزادی کے بعد کا فن تعمیر بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اپنی نئیحاصلکی گئی آزادی اور شناخت کو فن تعمیر کے ذریعے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان خود کو جدید عمارتوں میں ظاہر کرتا ہے مثلاً فیصل مسجد جو وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں واقع ہے اس مسجد کو 1960ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری عمارتیں بھی قابل ذکر ہیں جیسے مینار پاکستان، سفید ماربل سے بنا مزار قائد اعظم۔ یہ عمارتیں نئی ریاست کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00977", "text": "۔ ملکی دار الخلافہ اسلام آباد میں موجود قومی یادگار تہذیب، آزادی اور جدید فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00978", "text": "پاکستان میں اس وقت چھ (6) جگہیں ایسی ہیں جنھیں عالمی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00979", "text": "موہن جو دڑو کے اثریاتی کھنڈر\nتخت بائی اور پڑوسی شہر شہر بہلول کے بدھ مت کے کھنڈر\nشاہی قلعہ لاہور اور شالیمار باغ لاہور\nٹھٹھہ کی تاریخی یادگاریں\nقلعہ روہتاس\nٹیکسلا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00980", "text": "سیاحت", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00981", "text": "پاکستان اپنے نظاروں، لوگوں اور تہذیبوں کے حوالے سے ایک وسیع ملک ہے اور اسی وجہ سے سال 2012ء میں یہاں دس (10) لاکھ سیاح آئے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت 1970ء کے عشرے کے دوران میں عروج پر تھی جب یہاں ایک بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے۔ ان سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ قابل دلچسپی جگہیں خیبر پاس، پشاور، کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی تھیں۔ اس ملک کی حامل کشش جگہوں میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے کھنڈر سے لے کر کوہ ہمالیہ کے پہاڑی مقامات تک ہیں", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00982", "text": "۔ پاکستان 7000 میٹر سے زیادہ بلند کئیی چوٹیوں کا مسکن ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئیی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی غیر مسلم سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00983", "text": "پاکستان کے ثقافتی مرکز و صدر مقام لاہور میں مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جہانگیر اور قلعہ لاہور شامل ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ عالمی معاشی بحران سے پہلے پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ (5) لاکھ سیاح آتے تھے۔ تاہم سال 2008ء سے پاکستان میں اندرونی غیریقینی صورت حال کی وجہ سے یہ تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00984", "text": "اکتوبر 2006ءمیں کشمیر کے زلزلے کے بعد رسالہ دی گارڈین نے پاکستان کے پانچ مقبول ترین سیاحتی مقامات کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تاکہ پاکستان کی سیاحتی کی صنعت کی مدد کر سکے۔ یہ پانچ مقامات ٹیکسلا، لاہور، شاہراہ قراقرم، کریم آباد اور جھیل سیف الملوک تہے۔ عالمی معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات کا اعزاز عالمی ورثہ کے مقامات کے طور پر مقرر کیا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00985", "text": "۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادئ سندھ کی تہذیب کے موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے 5000 سال پرانے شہروں تک ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00986", "text": "خور و نوش\nپاکستانی کھانے جنوبی ایشیا کے مختلف علاقائی کھانوں کا حسین امتزاج ہیں۔ پاکستانی کھانوں میں شمالی ھندوستانی، وسط ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے کھانے شامل ہیں لیکن یہاں کے کھانوں میں گوشت کا استعمال زیادہ ہے۔ پاکستان میں اشیائے خور و نوش کے نام بہت آسان ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00987", "text": "پاکستان میں ایک علاقے کے کھانے دوسرے علاقے کے کھانوں سے قدرے مختلف ہوتے ہیں جس سے اس ملک کی ثقافتی اور لسانی تنوع جھلکتی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کھانے مصالحے دار ہوتے ہیں جو جنوبی ایشیا کے کھانوں کی خاصیت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے علاقوں کے کھانے مثلاً خیبر پختونخوا، بلوچستان، قبائیلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے کھانے بھی اپنی اپنی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اور ان پر بھی مختلف علاقائی رنگ غالب ہوتے ہیں۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00988", "text": "کھیل", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00989", "text": "پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انھیں ہندوستان میں متعارف کروایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کیے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔ تاہم، کرکٹ پاکستان کا سب سے زیادہ مشہور کھیل ہے", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00990", "text": "۔ تاہم، کرکٹ پاکستان کا سب سے زیادہ مشہور کھیل ہے۔ پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنھیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔ اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقا میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00991", "text": "۔ سال 2009ء کے مارچ کے مہینے میں دہشت گردوں نے سری لنکا کے کرکٹ ٹیم پر حملہ کر دیا جو پاکستان کے دورے پر لاہور میں موجود تھی اور اسی کے ساتھ پاکستان میں عالمی کرکٹ عارضی طور پر بند ہو گئی۔ تاہم چھ سالوں کے طویل انتظار کے بعد مئی 2015ء میں عالمی کرکٹ پاکستان میں اس وقت بحال ہوئی جب زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی۔ تمام مقابلے سخت حفاظتی حصار میں لاہور میں ہوئے اور تمام مقابلوں کے لیے ٹکٹ سارے بک چکے تھے اور کرسیاں ساری بھری ہوئی تھیں۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00992", "text": "۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی۔ اس نے دوسری ٹیموں کے آنے کے لیے بھی راہ ہموار کر لی۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00993", "text": "ورزشی کھیلوں میں عبد الخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کیے۔\nاسکواش میں پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی جہانگیر خان ہیں جن کو عالمی معیار کا کھلاڑی اور کھیلوں کی تاریخ میں عظیم کھلاڑی مانا جاتا ہے اور ساتھ ہی جانشیر خان ہیں جنھوں نے عالمی اسکواش کے مقابلوں میں کئیی بار پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00994", "text": "فہرست متعلقہ مضامین پاکستان\nحوالہ جات\n\n\n== بیرونی روابط ==", "title": "پاکستان", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86"}, {"id": "urd_rec_00995", "text": "اسلام آباد (انگریزی: Islamabad), پاکستان کا دار الحکومت ہے جو 14 اگست 1967ء کو کراچی سے 20 سال بعد اسلام آباد منتقل ہوا۔ مردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد کی آبادی تئیس لاکھ تریسٹھ ہزار 2٫363٫863 افراد پر مشتمل ہے۔ اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا۔ 1958ء میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے راولپنڈی کے قریب اس جگہ کا انتخاب کر کے یہاں نیا شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس نئے دار الحکومت کے لیے زمین کا انتظام کیا گیا جس کے لیے ضلع راولپنڈی صوبہ پنجاب سے زمین حاصل کی گئی", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00996", "text": "۔ عارضی طور پر دار الحکومت کو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا اور 1960ء میں اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کا آغاز شروع ہوا۔ شہر کی طرز تعمیر کا زیادہ تر کام یونانی شہری منصوبہ دان کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کیا، جس میں اس نے اسے آٹھ زونز میں تقسیم کیا۔ انتظامی، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، تعلیمی اور صنعتی شعبے، تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلدیہ عظمی اسلام آباد کے زیر انتظام دیہی اور سبز علاقے جو کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے ہیں۔ 1968ء میں دار الحکومت کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00997", "text": "۔ 1958ء تک پاکستان کا دار الحکومت کراچی رہا۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور معاشیات کی وجہ سے دار الحکومت کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کا سوچا گیا۔ اسلام آباد اپنے اعلیٰ معیار زندگی، حفاظت، صفائی ستھرائی اور وافر ہریالی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اسلام آباد مارگلہ ہل نیشنل پارک اور شکر پڑياں سمیت متعدد پارکوں اور جنگلات کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جس کی آبادی 1.2 ملین سے زیادہ ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00998", "text": "۔ فیصل مسجد جو دنیا کی پانچویں سب سے بڑی مسجد ہے اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔ دیگراہم مقامات میں پاکستان یادگار اور ڈی چوک شامل ہیں۔ دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی بھی کی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_00999", "text": "اسلام آباد میں 20 یونیورسٹیاں ہیں جن میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی شامل ہیں۔ اسلام آباد پاکستان کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اس میں تقریباً 2000 فعال سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01000", "text": "اسلام آباد کی وجہ تسمیہ\nاسلام آباد نام کا مطلب اسلام کا شہر ہے۔ یہ دو الفاظ سے ماخوذ ہے اسلام اور آباد۔ اسلام سے مراد مذہب اسلام، جو پاکستان کا ریاستی مذہب ہے اور آباد ایک فارسی لاحقہ ہے جس کا مطلب کاشت کی جگہ ہے، جو آباد جگہ یا شہر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسلام آباد کا نام عارف والا کے ایک اسکول ٹیچر قاضی عبدالرحمن امرتسری نے تجویز کیا تھا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01001", "text": "قدیم تاریخ\nاسلام آباد، شمالی پنجاب کے علاقے پوٹھوہار کے سطح مرتفع پر واقع ہے اور اسے ایشیا میں انسانی آبادکاری کے ابتدائی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ دریائے سواں سے برآمد ہونے والے ابتدائی پتھر سے برفانی دور میں ابتدائی انسانوں کی کوششوں کی گواہی دیتے ہیں۔ ماقبل تاریخ سے متعلق مٹی کے برتن اور برتنوں کی اشیاء ملی ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01002", "text": "ظہیر الدین بابر، چنگیز خان، تیمور اور احمد شاہ درانی نے برصغیر پاک و ہند پر اپنے حملوں کے دوران میں اس خطے کو عبور کیا۔ 2015–16 ء میں وفاقی محکمہ آثار قدیمہ نے ثقافتی ورثے کے لیے قومی فنڈ کی مالی مدد سے ابتدائی آثار قدیمہ کی کھدائی کی جس میں شاہ اللہ دتہ غاروں کے قریب بان فقیراں میں بدھسٹ اسٹوپا کی باقیات کا پتہ چلا، جو دوسری سے پانچویں صدی عیسوی تک کی تاریخ کے نشانات ہیں۔ اسلام آباد 10 ویں صدی سے لے کر جدید دور تک کی تہذیب اور فن تعمیر پر قائم ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01003", "text": "۔ اسلام آباد کے تاریخی نشانات ہندو تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔ سید پور گاؤں جو 16 ویں صدی میں آباد ہوا تھا اسلام آباد میں واقع ہے جو ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ہے یہاں ایک مندر بھی ہے جہاں ہندو مغل کمانڈر پوجا کیا کرتے تھے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01004", "text": "بری امام سرکار کا مزار مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے تعمیر کروایا تھا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01005", "text": "باغ کلاں\nاسلام آباد کی تاریخ میں باغ کلاں نامی گاؤں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد کی شروعات اسی گاؤں سے ہوئی۔ اسے باگاں بھی کہا جاتا تھا۔ اسی گاؤں میں سیکٹر جی سکس آباد ہوا۔ یہاں اسلام آباد کا سب سے پہلا کمرشل زون تعمیر کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کے لیے سب سے پہلے رہائشی کوارٹرز بھی اسی گاؤں میں تعمیر کیے گئے۔ ان ملازمین میں بڑی تعداد مشرقی پاکستان کے لوگوں کی تھی۔ ان میں سے عبد الواحد کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01006", "text": "والدین نے بیٹی کا نام ”آب پارہ “ رکھا۔ سی ڈی اے نے یہ مارکیٹ اسی سے منسوب کر دی جسے آج ہم آبپارہ مارکیٹ کہتے ہیں۔ انہی کوارٹرز میں اسلام آباد کا پہلا پولیس اسٹیشن اور پہلا بنک قائم کیا گیا تھا۔ باغ کلاں کا رقبہ 698 ایکڑ تھا اور اس کی آبادی 663 افراد پر مشتمل تھی۔ باگاں بعد میں دار الحکومت بن گیا مگر 1961ء کی مردم شماری تک یہ جی سکس نہیں، باغ کلاں تھا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01007", "text": "اسلام آباد کے پرانے دیہات\nاسلام آباد کو مملکتِ خداداد پاکستان کا دار الحکومت بنانے کا اعلان 1959ء میں ہوا۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے۔\nشہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاہدرہ، سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دے کر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس دیہی علاقے کا مجموعی رقبہ 38906 مربع کلومیٹر ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01008", "text": "سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں۔ سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک، بیچو، میرہ، ٹیمبا، بڑ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے، ٹیمبا میں پاکستان کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد قائم ہے موجودہ ایف 5 کا علاقہ ہے۔ سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی۔\nسیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاؤں آباد تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں۔ چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01009", "text": "راولپنڈی گزیٹئر 1884ء کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالکان گوجر تھے اور 62 دیہات گکھڑوں کی ملکیت تھے۔ سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔\nاسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی قدیم بستی واقع ہے۔ یہ گاؤں راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا۔ بعد ازاں اسے نیو ملپور کے نام سے بسایا گیا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01010", "text": "موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب ڈھوکری نام کا چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور کے نام سے مشہور تھا۔ راول ڈیم جسے کورنگ نالہ پر تعمیر کیا گیا ہے یہاں کئی گاؤں آباد تھے جن میں پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01011", "text": "فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی آباد تھی۔ موجودہ جناح سپر مارکیٹ کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی۔ موضع تمیر، کوری، کرور، کرپا بند بیگوال چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01012", "text": "جغرافیہ", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01013", "text": "اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھوہار کے شمالی کنارے اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں 33.43°N 73.04°E پر واقع ہے۔ اس کی بلندی 540 میٹر (1,770 فٹ) ہے۔ جدید دار الحکومت اور راولپنڈی شہر کو ملا کر انھیں عام طور پر جڑواں شہر کہا جاتا ہے۔ شہر کے شمال مشرق میں مری کا نوآبادیاتی دور کا ہل اسٹیشن واقع ہے اور شمال میں خیبر پختونخوا کا ضلع ہری پور واقع ہے۔ کہوٹہ جنوب مشرق میں، شمال مغرب میں ٹیکسلا، واہ کینٹ اور ضلع اٹک۔ جنوب مشرق میں گوجر خان، روات اور مندرہ۔ اور جنوب اور جنوب مغرب میں راولپنڈی کا شہر واقع ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01014", "text": "۔ اسلام آباد مظفرآباد سے 120 کلومیٹر (75 میل)، پشاور سے 185 کلومیٹر (115 میل) اور لاہور سے 295 کلومیٹر (183 میل) سے دور ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01015", "text": "اسلام آباد شہر کا رقبہ 906 مربع کلومیٹر (350 مربع میل) ہے۔ مزید 2,717 مربع کلومیٹر (1,049 مربع میل) رقبہ مخصوص علاقے کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں شمال اور شمال مشرق میں مارگلہ پہاڑیاں ہیں۔ شہر کا جنوبی حصہ ایک غیر منقسم میدان ہے۔ یہ دریائے کورنگ سے نکلتا ہے، جس پر راول ڈیم واقع ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01016", "text": "سیکٹرز", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01017", "text": "سیکٹر اے، بی اور سی ابھی تک ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ ڈی سیریز کے سات سیکٹر ہیں (ڈی-11 سے ڈی-17)، جن میں سے صرف ڈی-12 مکمل طور پر تیار ہے۔ ای سیکٹرز ای-7 سے ای -17تک ہیں۔ شہر کے نظرثانی شدہ ماسٹر پلان میں سی ڈی اے نے سیکٹر ای-14 میں فاطمہ جناح پارک کی طرز پر پارک تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکٹر ای-8 اور ای-9 میں بحریہ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کیمپس شامل ہیں۔ ایف اور جی کے سیکٹرز سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ ایف سیکٹر ز میں ایف -5 سے ایف-17 تک سیکٹرز پر مشتمل ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01018", "text": "۔ ایف-5 اسلام آباد میں سافٹ ویئر انڈسٹری کے لیے ہے اور یہاں دو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس واقع ہیں۔ ایف-9 سیکٹر مکمل طور پر فاطمہ جناح پارک پر مشتمل ہے۔ سینٹورس کمپلیکس ایف-8 سیکٹر کا اہم تجارتی مرکز ہے۔ جی سیکٹرز کو جی-5 سے جی-17 تک نمبر دیا گیا ہے۔ کچھ اہم مقامات میں جی-5 میں جناح کنونشن سینٹر اور سرینا ہوٹل، جی-6 میں لال مسجد اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، دار الحکومت کا سب سے بڑا میڈیکل کمپلیکس ہے جو جی-8 میں واقع ہے اور جی-9 میں کراچی کمپنی کا شاپنگ سینٹر ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01019", "text": "ایچ سیریز کو ایچ-8 سے ایچ-17 تک نمبر دیا گیا ہے۔ ایچ کے تمام سیکٹرز تعلیمی اور صحت کے اداروں کے لیے وقف ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سیکٹر ایچ-12 کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے۔ آئی سیکٹرز کو آئی -8 سے آئی -18 تک نمبر دیا گیا ہے۔ آئی -8 سیکٹر رہائشی علاقے پر مشتمل ہے۔ آئی -9 کے دو سب سیکٹر اور آئی -10 کا ایک سب سیکٹر صنعتی علاقوں پر مشتمل ہے۔ سی ڈی اے سیکٹر آئی -18 میں اسلام آباد ریلوے اسٹیشن اور سیکٹر آئی -17 میں انڈسٹریل سٹی قائم کر رہا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01020", "text": "۔ زون III بنیادی طور پر مارگلہ ہلز اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک پر مشتمل ہے۔ راول جھیل اسی زون میں ہے۔ زون IV اور V اسلام آباد پارک اور شہر کے دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ دریائے سواں زون V کے ذریعے شہر میں بہتا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01021", "text": "اسلام آباد کے سیکٹرز کی فہرست\nیہ تمام منصوبہ بند اور تعمیر شدہ سیکٹروں کی فہرست ہے۔\n\nآبادیات\nزبانیں\nمردم شماری پاکستان 2023ء کے مطابق اسلام آباد میں 1,154,540 افراد پنجابی، 415,838 پشتو، 358,922 اردو، 140,780 ہندکو، 51,920 کشمیری، 46,270 سرائیکی، 21,362 سندھی، 10,315 بلتی، 7,099 شینا، 5,016 کوہستانی، 4,503 بلوچی، 1,095 میواتی، 668 براہوی، 182 کلاشہ اور 64,734 افراد دیگر زبانیں بولتے ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01022", "text": "آبادی\nمذہب\nاسلام، اسلام آباد کا سب سے بڑا مذہب ہے، جس کی 95.43% آبادی اس کی پیروی کرتی ہے۔ عیسائیت دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے جس کی 4.34 فیصد آبادی پیروی کرتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق 0.04% آبادی ہندو مذہب کی پیروی کرتی ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01023", "text": "تعمیر و ترقی", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01024", "text": "اسلام آباد شہر کو جنوبی ایشیا کے عام شہروں سے یکسر مختلف بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور جنگل جیسی ترتیب میں وسیع و عریض راستے پیش کیے گئے تھے۔ تقسیم ہند سے پہلے متحدہ ہندوستان کا دار الحکومت دہلی تھا لیکن جب پاکستان نے 1947ء میں آزادی حاصل کی تو جنوبی بندرگاہی شہر کراچی اس کا عارضی قومی دار الحکومت بنا۔ 1958ء میں قومی دار الحکومت کے لیے راولپنڈی کے قریب ایک مناسب جگہ کا انتخاب کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01025", "text": "۔ جس میں دیگر خصوصیات کے ساتھ محل وقوع، آب و ہوا، رسد اور دفاعی ضروریات پر خاص زور دیا گیا۔ وسیع مطالعہ، تحقیق اور ممکنہ مقامات کے مکمل جائزے کے بعد، کمیشن نے 1959ء میں راولپنڈی کے شمال مشرق کے علاقے کی سفارش کی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01026", "text": "1960ء کی دہائی میں، اسلام آباد کو کئی وجوہات کی بنا پر ایک متبادل دار الحکومت کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ کراچی ملک کے جنوبی سرے پر واقع تھا اور بحیرہ عرب پر واقع ہونے سے ماضی میں حملوں کا شکار تھا۔ پاکستان کو ایک ایسے دار الحکومت کی ضرورت تھی جہاں سے ملک کے تمام حصوں سے باآسانی قابل رسائی ہو۔ کراچی جو ایک کاروباری مرکز تھا کو جزوی طور پر حکومتی معاملات میں کاروباری مفادات کی مداخلت کی وجہ سے بھی غیر موزوں سمجھا جاتا تھا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01027", "text": "۔ اسلام آباد کا نیا منتخب مقام راولپنڈی میں آرمی ہیڈ کوارٹر اور شمال میں کشمیر کے متنازع علاقے کے قریب تھا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01028", "text": "معماروں کی یونانی فرم، جس کی سربراہی کانسٹینٹ ٹینس اپوستولس ڈوکسڈز نے کی، شہر کے ماسٹر پلان کو گرڈ پلان کی بنیاد پر ڈیزائن کیا جو مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف اس کی چوٹی کے ساتھ تکون شکل کا تھا۔ دار الحکومت کو کراچی سے براہ راست اسلام آباد نہیں منتقل کیا گیا۔ اسے پہلے 1960ء کی دہائی کے اوائل میں عارضی طور پر راولپنڈی منتقل کیا گیا اور پھر 1966ء میں ضروری ترقیاتی کام مکمل ہونے پر اسلام آباد منتقل کیا گیا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01029", "text": "شہری انتظامیہ\nاسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) ایڈمنسٹریشن، جسے عام طور پر آئی سی ٹی ایڈمنسٹریشن یا اسلام آباد ایڈمنسٹریشن کے نام سے جانا جاتا ہے، سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت کی اہم امن و امان کا ادارہ ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01030", "text": "شہر کی لوکل گورنمنٹ اتھارٹی اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن (IMC) ہے جو کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (اسلام آباد) (CDA) کی مدد سے شہر کی منصوبہ بندی، ترقی، تعمیر اور انتظامیہ کی نگرانی کرتی ہے۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کو آٹھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے: انتظامی زون، کمرشل ڈسٹرکٹ، تعلیمی سیکٹر، انڈسٹریل سیکٹر، ڈپلومیٹک انکلیو، رہائشی علاقے، دیہی علاقے اور گرین ایریا۔ اسلام آباد شہر کو پانچ بڑے زونوں میں تقسیم کیا گیا ہے: زون I، زون II، زون III، زون IV اور زون V", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01031", "text": "۔ ان میں سے زون IV رقبے میں سب سے بڑا ہے۔ زون I بنیادی طور پر تمام ترقی یافتہ رہائشی شعبوں پر مشتمل ہے جبکہ زون II غیر ترقی یافتہ رہائشی شعبوں پر مشتمل ہے۔ ہر رہائشی شعبے کی شناخت حروف تہجی کے ایک حرف اور ایک عدد سے ہوتی ہے اور یہ تقریباً 2 کلومیٹر × 2 کلومیٹر (1+1⁄4 mi × 1+1⁄4 mi) کے رقبے پر محیط ہے۔ سیکٹرز کو A سے I تک لکھا گیا ہے اور ہر سیکٹر کو چار نمبر والے ذیلی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01032", "text": "فن تعمیر", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01033", "text": "اسلام آباد فن تعمیر جدیدیت اور پرانی اسلامی اور علاقائی روایات کا مجموعہ ہے۔ سعودی پاک ٹاور روایتی طرز کے ساتھ جدید فن تعمیر کی ایک مثال ہے۔ خاکستری رنگ کی عمارت کو جو اسلامی روایتی نیلے رنگ کے ٹائلوں سے تراشی گئی ہے اور یہ اسلام آباد کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اسلامی اور جدید فن تعمیر کی دیگر مثالوں میں پاکستان یادگار اور فیصل مسجد شامل ہیں۔ سیکرٹریٹ کمپلیکس جو جیو پونٹی نے ڈیزائن کیا تھا، مغل فن تعمیر پر مبنی ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01034", "text": "۔ وزیر اعظم ہاؤس اور ایڈورڈ ڈیوریل سٹون کی قومی اسمبلی بھی خوبصورت عمارتیں ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01035", "text": "پاکستان یادگار کی بڑی پنکھڑیوں کے اندر کی دیواریں اسلامی فن تعمیر پر مبنی ہیں۔ شاہ فیصل مسجد عصری فن تعمیر کا امتزاج ہے جس میں روایتی تکون نما نماز ہال اور چار مینار ہیں، جن کا ڈیزائن ترکی کے ماہر تعمیرات ویدات دلوکے نے بنایا تھا اور سعودی عرب کے شاہ فیصل کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ فیصل مسجد کا فن تعمیر غیر معمولی ہے کیونکہ اس میں گنبد کی ساخت نہیں ہے۔ یہ عربی، ترکی اور مغل تعمیراتی روایات کا مجموعہ ہے۔ سینٹورس اسلام آباد میں جدید فن تعمیر کی ایک مثال ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01036", "text": "۔ نو تعمیر اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کے ٹاورز شہر میں جدید طرز تعمیر کی ایک اور مثال ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01037", "text": "معیشت\nاسلام آباد میں دو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے ساتھ معلومات اور مواصلات ٹیکنالوجی کی قومی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی بڑی مقدار میں کام کر رہی ہیں۔ پی آئی اے، پی ٹی وی، پی ٹی سی ایل، او جی ڈی سی ایل اور زرعی ترقیاتی بینک کی طرح پاکستان کی کئی سرکاری کمپنیاں بھی اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اس طرح پی ٹی سی ایل، موبی لنک، ٹیلی نار، یوفون اور چائنا موبائل اور دیگر تمام اہم ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹرز کے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں واقع ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01038", "text": "وفاقی دار الحکومت میں متعدد میڈیا ہاؤسز یا پبلشنگ ہاؤسز بھی قائم ہیں۔ ان کے صدر دفاتر سمیت ملکی اور بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کے بیورو یا کنٹری آفسز بھی قائم ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2010ء کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کو پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کے لیے بہترین جگہ قرار دیا گیا تھا۔\nآئی ٹی پارک میں 36 آئی ٹی کمپنیاں ہیں، جبکہ ایویکیو ٹرسٹ میں 29 کمپنیاں ہیں۔ اسلام آباد کا تیسرا آئی ٹی پارک 2020ء میں جنوبی کوریا کے تعاون سے تعمیر کیا گیا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01039", "text": "اسلام آباد سٹاک ایکسچینج\nاسلام آباد سٹاک ایکسچینج کی بنیاد 1989ء میں رکھی گئی۔ یہ، کراچی اسٹاک ایکسچینج اور لاہور سٹاک ایکسچینج کے بعد پاکستان کی تیسری سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے جس کا اوسط یومیہ کاروبار 1 ملین حصص سے زیادہ ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01040", "text": "اسلام آباد ماڈل اسپیشل اکنامک زون", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01041", "text": "اسلام آباد ماڈل اسپیشل اکنامک زون ( آئی ایم ایس ای سی ) اسپیشل اکنامک زون ہے جو روات، اسلام آباد کے قریب واقع ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک ہے۔ یہ زون N-5 نیشنل ہائی وے اور اسلام آباد ایکسپریس وے کے سنگم پر پرائم انڈسٹریل ایریا کے 1,000 ایکڑ سے زیادہ کے رقبے پر محیط ہے۔ یہ 2.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تقریباً 1,000 ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی توقع ہے۔ مزید برآں، اس کے مقاصد میں سے ایک ملک میں کم کاربن فوٹ پرنٹ صنعتوں کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01042", "text": "ذرائع نقل و حمل\nپاکستان کے مروجہ نظام شاہرات کے تحت قائم بین الاضلاعی شاہرات کے ذریعے یہ شہر اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال، مری، گوجرخان، کوہاٹ، مظفر آباد، لاہور، پشاور اور ایبٹ آباد کے ساتھ متصل ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01043", "text": "اسلام آباد کو ٹرانسپورٹ کے نظام کے تحت اسے پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو بس سروسز، ریل گاڑیوں اور اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈا کے ذریعے جوڑتا ہے جو زیادہ تر پڑوسی شہر راولپنڈی سے چلتی ہیں۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی علاقائی شاہراہیں ان تمام عوامی شاہراہوں پر مشتمل ہیں جو اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے زیر انتظام ہیں۔ وزارت نقل و حمل کے تحت کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا انجینئری ونگ 2,000 کلومیٹر (6,600,000 فٹ) سے زیادہ اس کی دیکھ بھال کرتا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01044", "text": "۔ ان سڑکوں کو مختلف درجہ بندیوں میں ترتیب دی گئی ہے جو علاقوں (بنیادی طور پر اسلام آباد) سے گزرتی ہیں۔ ان کو قومی شاہراہوں کے ساتھ نہیں جوڑا گیا جو حکومت پاکستان اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام وفاقی سڑکیں ہیں۔ ان سڑکوں کی حفاظت کا انتظام اسلام آباد کی وفاقی حکومت کرتی ہے۔ اسلام آباد فیض آباد انٹرچینج کے ذریعے راولپنڈی سے منسلک ہے جہاں روزانہ تقریباً 48,000 گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01045", "text": "سڑکیں\nاسلام آباد کی مرکزی سڑکوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔\n\nقومی شاہراہیں\nقومی شاہراہ 5\nE75 ایکسپریس وے (پاکستان)\nقومی شاہراہ 80", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01046", "text": "میٹروبس", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01047", "text": "راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس جو 83.6 کلومیٹر (51.9 میل) بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے جو اسلام آباد-راولپنڈی میٹروپولیٹن ایریا میں کام کرتا ہے۔ میٹرو بس نیٹ ورک کا پہلا مرحلہ 4 جون 2015ء کو کھولا گیا تھا، اور یہ 22.5 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو پاک سیکرٹریٹ، اسلام آباد سے صدر راولپنڈی کے درمیان میں ہے۔ دوسرا مرحلہ پشاور موڑ انٹر چینج اور نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان میں 25.6 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا افتتاح 18 اپریل 2022ء کو کیا گیا تھا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01048", "text": "۔ 7 جولائی 2022ء کو گرین لائن اور بلیو لائنز کو اس میٹروبس نیٹ ورک میں شامل کیا گیا۔ یہ سسٹم ای ٹکٹنگ سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور اس کا انتظام پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کرتا ہے میٹرو بس نے راولپنڈی-اسلام آباد کے سفر اور راستے کو کم کر دیا ہے۔ اب اس بس سروس کو اسلام آباد کے مزید علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے جن میں G-13 اور H-12 کے قریب کے علاقے شامل ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01049", "text": "موٹروے\nاسلام آباد کو موٹروے ایم 1 موٹروے (پاکستان) اسلام آباد اور پشاور اور ایم 2 موٹروے (پاکستان) لاہور اور اسلام آباد سے ملاتی ہے۔ دونوں موٹرویز چھ لینوں پر مشتمل ہیں۔\nایم 1 موٹر وے جو خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملاتی ہے۔ گولڑہ موڑ کے ذریعے اسلام آباد میں داخل ہوتی ہے۔ یہ موٹر وے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم رابطہ سڑک بن چکی ہے۔ جبکہ ایم 2 موٹر وے جو اسلام آباد اور لاہور کو ملاتی ہے۔ یہ موٹر وے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا پاکستان کے تمام صوبوں کو آپس میں ملاتی ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01050", "text": "اسلام آباد کو پشاور سے موٹروے ایم 1 موٹروے (پاکستان) ملاتی ہے جو 155 کلومیٹر (96 میل) لمبی ہے۔ اور اسلام آباد کو لاہور سے ایم 2 موٹروے (پاکستان) ملاتی ہے 367 کلومیٹر (228 میل) لمبی ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01051", "text": "ہوائی نقل و حمل/ہوائی اڈا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01052", "text": "نیو اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈا دنیا بھر اور مقامی طور پر اہم مقامات سے جڑا ہوا ہے۔ اس ہوائی اڈا کو 400 ملین ڈالرز کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ،پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کی خدمت کرنے والا بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ ہوائی اڈا شہر سے 25 کلومیٹر (16 میل) جنوب مغرب میں واقع ہے اور سری نگر ہائی وے کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ اس ہوائی اڈے نے 6 مئی 2018ء میں مکمل طور پر کام شروع کیا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01053", "text": "۔ جس نے بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈا کی جگہ لے لی جو اب پی اے ایف بیس نور خان کا حصہ ہے۔ یہ رقبہ اور مسافروں کی گنجائش کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا کارگو ہوائی اڈا ہے، جو سالانہ 9 ملین مسافروں کی خدمت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مستقبل میں مزید توسیع سے اسے سالانہ 25 ملین مسافروں کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے بعد مسافروں کی آمدورفت کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01054", "text": "۔ ٹرمینل میں 15 دروازے، ڈیوٹی فری شاپس، ایک فوڈ کورٹ اور 42 امیگریشن کاؤنٹرز شامل ہیں۔ اس ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے علاوہ دیگر 25 ائیر لائنز اپنی خدمات سر انجام دیتی ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01055", "text": "پرائیویٹ ٹرانسپورٹ\nلوگ مقامی سفر کے لیے نجی ٹرانسپورٹ جیسے ٹیکسی، کریم، اوبر، بائیکیا، ان ڈرائیور اور ایس ڈبلیو وی ایل کا استعمال کرتے ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01056", "text": "اسلام آباد ریلوے اسٹیشن", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01057", "text": "اسلام آباد ریلوے اسٹیشن سابقہ نام مارگلہ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح 21 نومبر 1979ء کو ہوا۔ یہ ریلوے اسٹیشن سیکٹر 9-H اور I-9 کے درمیان واقع ہے۔ اس کا داخلی راستہ سیکٹر 9-H کی طرف سے ہے۔ گولڑہ شریف جنکشن ریلوے اسٹیشن، ترنول ریلوے اسٹیشن، نور (راولپنڈی) ریلوے اسٹیشن اور گولڑہ شریف ریلوے عجائب گھر اسلام آباد میں واقع ہیں۔ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اس اسٹیشن کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ یہاں سے ٹرینیں پاکستان کے مختلف شہروں کو جاتی ہیں جن میں راولپنڈی، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد ملتان اور بہاولپور ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01058", "text": "ریلوے کیرج فیکٹری ، اسلام آباد\nاستنبول-تہران-اسلام آباد ریلوے\nاسلام آباد–مظفر آباد برانچ ریلوے لائن\nگولڑہ شریف ریلوے عجائب گھر", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01059", "text": "سیاحتی بسیں\nٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب جو راولپنڈی کے علامہ اقبال پارک اور شمس آباد سے سیاحوں کی بسیں چلاتی ہے۔ یہ بسیں سیاحوں کو شکر پڑياں کے راستے شارع دستور تک لاتی ہے۔ بس روٹ کے اہم پرکشش مقامات میں فیصل مسجد، مرغزار چڑیا گھر، دامن کوہ، شارع دستور، لوک ورثہ عجائب گھر، پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری، شکر پڑياں، روز اینڈ جیسمین گارڈن، علامہ اقبال پارک اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم شامل ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01060", "text": "ثقافت", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01061", "text": "اسلام آباد پاکستان کے دوسرے خطوں سے آنے والے بہت سے تارکین وطن کا گھر ہے اور یہاں ثقافتی اور مذہبی تنوع کافی قدیم ہے۔ پوٹھوہار سطح مرتفع پر واقع ہونے کی وجہ سے، قدیم ثقافتوں اور تہذیبوں کی باقیات جیسے آریائی، سوانی اور وادی سندھ کی تہذیب اب بھی اس خطے میں پائی جا سکتی ہے۔ 15ویں صدی کا گکھڑ قلعہ پھروالہ اسلام آباد کے قریب واقع ہے۔ اس خطے میں راوت قلعہ گکھڑوں نے 16ویں صدی میں تعمیر کیا تھا اور اس میں گکھڑ کے سردار سلطان سارنگ خان کی قبر ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01062", "text": "۔ سید پور گاؤں کا نام قیاس کے مطابق سارنگ خان کے بیٹے سید خان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 500 سال پرانے گاؤں کو ایک مغل کمانڈر راجہ مان سنگھ نے ہندوؤں کی عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس نے کئی چھوٹے تالاب بنائے جن میں رام کنڈا، سیتا کنڈا، لکشمن کنڈا اور ہنومان کنڈا شامل تھے۔ اس علاقے میں ایک چھوٹا سا ہندو مندر ہے جو محفوظ ہے، جو اس خطے میں ہندو لوگوں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پیر مہر علی شاہ کا مزار گولڑہ شریف میں واقع ہے۔ بدھ دور کے آثار قدیمہ کے آثار بھی اس خطے میں پائے جاتے ہیں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01063", "text": "۔ امام بری کا مزار مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے بنوایا تھا۔ بری امام کے سالانہ عرس میں پاکستان بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ یہ تقریب اسلام آباد کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہے۔ 2004ء میں عرس میں 1.2 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اسلام آباد میں لوک ورثہ عجائب گھر پاکستان کی لوک اور روایتی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01064", "text": "۔ یہ شکر پڑياں پہاڑیوں کے قریب واقع ہے اور اس علاقے اور پاکستان کے دیگر حصوں سے کڑھائی والے ملبوسات، زیورات، موسیقی کے آلات، لکڑی کے کام، برتن اور لوک ثقافتی اشیاء کی ایک بڑی نمائش کا حامل ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01065", "text": "ادب\nاسلام آباد ادبی میلہ\nاسلام آباد لٹریچر فیسٹیول، ایک بین الاقوامی ادبی میلہ ہے جو ہر سال اسلام آباد، پاکستان میں منعقد ہوتا ہے۔ اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول کو 2013ء میں قائم کیا گیا۔ پہلا ادبی میلہ 30 اور 31 اپریل 2013ء کو منعقد ہوا۔ اور آخری میلہ 16 سے 19 مارچ 2023ء کو منعقد ہوا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01066", "text": "اکادمی ادبیات پاکستان\nاکادمی ادبیات، پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لیے قائم شدہ ادارہ ہے جس کا قیام یکم جولائی 1976ء میں رکھا گیا۔ اس کا دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستانی ادب کے فروغ کے سلسلہ میں مختلف موضوعات پر بہت سی ادبی و تحقیقی اور ترجمہ شدہ کتب شائع کی ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کا کتب خانہ چالیس ہزار سے زائد ذخیرہ کتب پر مشتمل ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01067", "text": "ادارہ فروغ قومی زبان\nادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان)، حکومت پاکستان کی قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، وفاقی وزارت تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، قومی ورثہ اور ثقافت کے ماتحت ادارہ ہے جس کا نصب العین ملک میں اردو زبان کی ترویج ہے۔ اس ادارہ کا قیام 4 اکتوبر 1979ء کو عمل میں آیا تاکہ قومی زبان 'اردو' کے بحیثیت سرکاری زبان نفاذ کیا جا سکے اور مختلف علمی، تحقیقی اور تعلیمی اداروں کے مابین اشتراک و تعاون کو فروغ دے کر اردو کے نفاذ کو ممکن بنایا جا سکے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01068", "text": "قومی کتب خانہ", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01069", "text": "قومى کتب خانہ پاکستان، ریڈ زون، اسلام آباد، میں واقع ہے۔ یہ ملک کی قدیمی ثقافتی ادارہ اور نئی معلومات کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ مشرقی فن تعمیر کے طرز پر تیار کردہ، لائبریری میں 500 قارئین کی گنجائش ہے، اس میں 15 تحقیقی کمرے، 450 نشستوں والا آڈیٹوریم ہے اور کمپیوٹر اور مائیکرو فلم کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ 1993 میں اپنے افتتاح کے وقت، لائبریری کے پاس 130,000 جلدوں اور 600 مخطوطات کا مجموعہ تھا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01070", "text": "۔ نیشنل لائبریری کا مشن خواندگی کو فروغ دینا اور ریاست کے دار الحکومت اسلام آباد کے لیے ایک متحرک ثقافتی اور تعلیمی مرکز کے طور پر کام کرنا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01071", "text": "فنون اور دستکاری\nجناح کنونشن سینٹر\nجناح کنونشن سینٹر (جسے نیشنل کنونشن سینٹر بھی کہا جاتا ہے) اسلام آباد میں واقع ایک نمائش اور کنونشن سینٹر ہے۔ اس کا نام محمد علی جناح کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام ہے اور اس میں 2,200 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ بنیادی طور پر حکومت پاکستان کی طرف سے قومی تقریبات کی میزبانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01072", "text": "قومی دفتر خانہ\nنیشنل آرکائیوز آف پاکستان، پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور ورثے پر اثر انداز ہونے والے سرکاری اور نجی ریکارڈ کو محفوظ کرنے اور دستیاب کرنے کے مقصد سے حکومت پاکستان کی طرف سے قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے۔ نیشنل آرکائیوز کا کام دستاویزات کا حصول، تحفظ، ریپروگرافی، بحالی، آٹومیشن، تقسیم اور رسائی ہیں۔ نیشنل آرکائیوز آف پاکستان، اہم ریاستی دستاویزات اور تاریخ کی فائلوں کو جمع کرنے کی سہولت کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01073", "text": "تہوار\nاسلام آباد میں پورے پاکستان کی طرح مذہبی اور قومی تہوار بھی جوش و جذبے سے منائے جاتے ہیں۔ درج ذیل چند اہم تہواروں کی ایک فہرست ہے۔\n\nقومی\nمذہبی\nانتظامی حکومت و سیاست\nمرکزی حکومت کے دفاتر\nمرکزی حکومت کے تمام دفاتر اسلام آباد کے پاکستان سیکرٹریٹ جو ریڈ زون میں واقع ہے موجود ہیں۔ درج ذیل میں تمام وفاقی وزارتوں کی فہرست ہے۔\n\nقومی اسمبلی پاکستان\nقومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جس کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01074", "text": "ناظم اسلام آباد\nناظم یا میئر اسلام آبادایک ناظم شہر (میئر) ہے جو اسلام آباد اور آس پاس کے دارالحکومت کے علاقے کی بلدیاتی انتظامیہ کا سربراہ ہے۔ ناظم بلدیہ عظمی اسلام آباد (ایم سی آئی) کی قیادت کرتا ہے جس کی ایگزیکٹو برانچ 77 منتخب عہدے داروں پر مشتمل ہے۔ ناظم کاعہدہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے مطابق بنایا گیا تھا، جسے 2015 میں قومی اسمبلی اور ایوان بالا پاکستان نے منظور کیا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01075", "text": "یونین کونسلیں\n2023ء کی نئی حلقہ بندیوں کے مطابق ضلع اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی تعداد125 ہو گئی ہے۔ 2022ء میں اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی تعداد 52 سے بڑھا کر 101کر دی تھی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01076", "text": "اسلام آباد/راولپنڈی میٹروپولیٹن علاقہ\n1960ء میں جب اسلام آباد کا ماسٹر پلان تیار کیا گیا تو اسلام آباد اور راولپنڈی کے ملحقہ علاقوں کو ساتھ ملا کر اسلام آباد/راولپنڈی میٹروپولیٹن ایریا کے نام سے ایک بڑا میٹروپولیٹن علاقہ بنایا جانا تھا۔ یہ علاقہ ترقی پزیر اسلام آباد، راولپنڈی اور آس پاس کے دیہی علاقوں کے پر مشتمل ہو گا۔ تاہم اسلام آباد شہر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کا حصہ ہو گا اور راولپنڈی ضلع راولپنڈی کا حصہ ہو گا جو صوبہ پنجاب کا حصہ ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01077", "text": "ابتدائی طور پر یہ تجویز کیا گیا تھا کہ تینوں علاقوں کو چار بڑی شاہراہوں سے ملایا جائے گا۔ جن میں مری ہائی وے، اسلام آباد ہائی وے، سواں ہائی وے اور کیپٹل ہائی وے شامل تھیں۔ مارگلہ ایونیو کی تعمیر کے منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔ اسلام آباد تمام سرکاری سرگرمیوں کا مرکز ہے جبکہ راولپنڈی تمام صنعتی، تجارتی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ دونوں شہروں کو جڑواں شہر کہا جاتا ہے اور یہ دونوں شہر ایک دوسرے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01078", "text": "بنیادی ڈھانچہ\nصحت", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01079", "text": "اسلام آباد میں ملک میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی سب سے کم شرح 38 فی ہزار پر ہے جبکہ قومی اوسط 78 اموات فی ہزار ہے۔ اسلام آباد میں سرکاری اور نجی دونوں طرح کے طبی مراکز ہیں۔ اسلام آباد کا سب سے بڑا ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال ہے۔ یہ 1985ء میں تدریسی اور ڈاکٹر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ ہسپتال خصوصی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ہسپتال میں 30 بڑے طبی شعبے ہیں۔ پمز کو پانچ انتظامی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01080", "text": "۔ پمز کو پانچ انتظامی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہسپتال 592 بستروں کی سہولت اور 22 طبی اور سرجیکل خصوصیات کے ساتھ عوام کی خدمت کر رہا ہے۔ چلڈرن ہسپتال 1985ء میں مکمل ہونے والا 230 بستروں کا ہسپتال ہے۔ اس میں چھ بڑی سہولیات ہیں: سرجیکل اور الائیڈ اسپیشلٹیز، میڈیکل اینڈ الائیڈ اسپیشلٹیز، تشخیصی سہولیات، آپریشن تھیٹر، کریٹیکل کیئر (این آئی سی یو، پی آئی سی یو، آئسولیشن اور ایکسیڈنٹ ایمرجنسی) اور ایک بلڈ بینک شامل ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01081", "text": "۔ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر ایک تربیتی ادارہ ہے جس میں 125 بستروں کا ایک ہسپتال ہے جو مختلف طبی اور آپریشنل خدمات فراہم کرتا ہے۔ پمز پانچ تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے: قائد اعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج، کالج آف نرسنگ، کالج آف میڈیکل ٹیکنالوجی، اسکول آف نرسنگ اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر شامل ہیں۔ جنرل ہسپتال اور تدریسی ادارہ، جو 2006ء میں قائم ہوا، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے منسلک ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01082", "text": "۔ ہسپتال 100 بستروں کی سہولت پر مشتمل ہے اور 10 بڑے شعبہ جات جن میں: دندان سازی، امراض نسواں، اطفال، جنرل میڈیسن، جنرل سرجری، شعبۂ انتہائی نگہداشت / کورونری کیئر یونٹ، آرتھوپیڈکس، اوپتھلمولوجی، پیتھالوجی، ریڈیولوجی ہیں۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کا ایک تدریسی ہسپتال ہے جس کی بنیاد 1987ء میں رکھی گئی اور 1989ء میں ایک پبلک کمپنی بن گئی۔ ہسپتال میں تقریباً تمام خصوصیات ہیں جن میں 70 مستند کنسلٹنٹس، 150 آئی پی ڈی بیڈز اور 35 مختلف اسپیشلائزیشنز میں او پی ڈی کی سہولیات ہیں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01083", "text": "۔ حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے وفاقی بیورو کے مطابق، 2008ء میں شہر میں 12 ہسپتال، 76 ڈسپنسریاں اور پانچ زچگی اور بچوں کی بہبود کے مراکز تھے جن کی کل تعداد 5,158 تھی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01084", "text": "اسلام آباد میں صحت عامہ کی اعلیٰ سہولیات میسر ہیں۔ درج ذیل اسلام آباد کے اہم ہسپتالوں اور طبی درس گاہوں کی فہرست ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01085", "text": "طبی درس گاہیں\nنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01086", "text": "ہسپتال\nکھیل\nاسلام آباد میں آبپارہ کے سامنے ایک سپورٹس کمپلیکس ہے۔ اس میں انڈور گیمز کے لیے لیاقت جمنازیم، مصحف اسکواش کمپلیکس اور آؤٹ ڈور گیمز کے لیے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم شامل ہیں جہاں باقاعدہ قومی اور بین الاقوامی کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیاقت جمنازیم میں 2004ء کے جنوب ایشیائی کھیل منعقد ہوئے۔ اسلام آباد کے دیگر کھیلوں کے مقامات میں ڈائمنڈ کلب گراؤنڈ، شالیمار کرکٹ گراؤنڈ اور اسلام آباد گالف کلب شامل ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01087", "text": "ایف سکس مرکز میں مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اسپورٹس کمپلیکس ہے۔ اس میں ٹینس کورٹ، فائبر گلاس بورڈز کے ساتھ باسکٹ بال کورٹ اور فٹسال گراؤنڈ ہے۔\nاسلام آباد کے کھیلوں میں کرکٹ، فٹ بال، اسکواش، ہاکی، ٹیبل ٹینس، رگبی اور باکسنگ شامل ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کرکٹ ٹیم نے 2016ء میں پہلی بار اور 2018ء میں دوسری بار پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل جیتا تھا۔ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر چڑھنے کے لیے مختلف ٹریک موجود ہیں۔ پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں بچوں کے لیے تین سوئمنگ پول ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01088", "text": "جناح اسپورٹس اسٹیڈیم\nجناح اسپورٹس اسٹیڈیم، ایک کثیر المقاصد اسٹیڈیم ہے۔ یہ اسٹیڈیم زیادہ تر فٹ بال میچوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اسٹیڈیم 1970 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کی گئی تھی اور اسے 2004 میں ایس اے ایف گیمز کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ اس اسٹیڈیم میں 48,000 افراد کی گنجائش ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01089", "text": "لیاقت جمنازیم\nلیاقت جمنازیم اسلام آباد، میں واقع ایک انڈور کھیلوں کا میدان ہے۔ میدان کی گنجائش 10,223 شائقین کی گنجائش ہے۔ یہ باسکٹ بال، بیڈمنٹن، باکسنگ اور پرو ریسلنگ جیسے اندرونی کھیلوں کے مقابلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیاقت جمنازیم کی تعمیر میں زلزلے سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01090", "text": "تعلیم\nاسلام آباد میں خواندگی کی شرح 98% ہے اور پاکستان کے جدید ترین تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے۔ دارالحکومت کے اعلیٰ تعلیمی ادارے یا تو وفاقی طور پر چارٹرڈ ہیں یا نجی اداروں کے زیر انتظام ہیں اور ان میں سے تقریباً سبھی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے تسلیم کیا ہے۔ ہائی اسکول اور کالج فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے وابستہ ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01091", "text": "اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 2009ء میں اسلام آباد میں کل 913 تسلیم شدہ ادارے تھے (31 پری پرائمری، 2 مذہبی، 367 پرائمری، 162 مڈل، 250 ہائی، 75 ہائیر سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کالجز اور 26۔ ڈگری کالجز )۔ اسلام آباد میں اساتذہ کی تربیت کے سات ادارے ہیں جن میں کل 604,633 طلبہ اور 499 فیکلٹی کا داخلہ ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01092", "text": "اسلام آباد میں صنفی برابری کا انڈیکس 0.95 قومی اوسط کے مقابلے میں 0.93 ہے۔ اسلام آباد میں لڑکوں کے لیے 178 ادارے اور لڑکیوں کے لیے 175 ادارے اور 551 مخلوط ادارے ہیں۔ تمام زمروں میں طلبہ کی کل تعداد 267,992 ہے۔ لڑکوں کے لیے 138,272 اور لڑکیوں کے لیے 129,720۔ اسلام آباد میں 16 تسلیم شدہ یونیورسٹیاں ہیں جن میں کل 372,974 طلبہ اور 30,144 اساتذہ شامل ہیں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01093", "text": "۔ زیادہ تر اعلیٰ درجہ کی یونیورسٹیاں؛ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کومسٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا صدر دفتر بھی دار الحکومت میں ہے۔ اندراج کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی جنرل یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی فاصلاتی تعلیم کے لیے اسلام آباد میں واقع ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01094", "text": "۔ دیگر یونیورسٹیوں میں ایئر یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی، سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان انجینئرنگ، فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ہمدرد یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز، کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، شفا تمیر شامل ہیں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01095", "text": "۔ ملت یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اقراء یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، محمد علی جناح یونیورسٹی، دی یونیورسٹی آف لاہور، اباسین یونیورسٹی اور دی ملینیم یونیورسٹی کالج شامل ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01096", "text": "بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01097", "text": "بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد 1980ء بمطابق 1400ھ میں قائم ہوئی۔ 1985ء بمطابق 1405ھ میں اسے قانونی طور پر بین الاقوامی حیثیت عطا کی گئی، جس کے بعد وہ پاکستانی آئین کے تحت انتظامی طور پر مستقل ادارے کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ پاکستانی آئین کے تحت پاکستان کے صدر مملکت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا بورڈ آف ٹرسٹیز عالم اسلام کی چوالیس معروف شخصیات پر مشتمل ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01098", "text": "۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 9 فیکیلٹیز، 39 شعبہ جات اور 6 اکیڈمیوں پر مشتمل ہے اور 131 تعلیمی پروگراموں میں دنیا کے پچاس سے زائد ممالک سے آنے والے 30 ہزار کے قریب طلبہ و طالبات کو زیورِتعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبہ عطا کیا گیا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01099", "text": "علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی\nعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں واقع ہے جو فاصلاتی نظام تعلیم کی ایشیا کی بڑی جامعات میں شمار کی جاتی ہے۔ اس یونیورسٹی کو 1974ء میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت پیپلز اوپن یونیورسٹی کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ 1977ء کواس یونیورسٹی کو علامہ اقبال کے اعزاز میں پیپلز اوپن یونیورسٹی سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نام دے دیا گیا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01100", "text": "وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی\nوفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی، سابق سربراہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاءالرحمن کی ذاتی کوششوں سے سابقہ وفاقی اردو کالج برائے سائنس، گلشن اقبال اور سابقہ وفاقی اردو کالج برائے فنون و تجارت (مولوی عبد الحق کیمپس) کو ترقی دے کر وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 13 نومبر 2002ء کو صدر پاکستان پرویز مشرف نے وفاقی اردو یونیورسٹی کی باضابطہ بنیاد رکھی۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01101", "text": "ذرائع ابلاغ\nاسلام آباد سے بہت سے روزنامے اردو، انگریزی اور مقامی زبانوں میں شائع ہوتے ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے اور ملک کے تمام اہم اخباروں کے صحافی اسلام آباد میں موجود رہتے ہیں۔\n\nانٹرنیٹ\nشہر میں انٹرنیٹ کے لیے براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور ویڈیو کانفرینسنگ کی سہولت دستیاب ہیں۔ گھریلو صارفین اور کارپوریٹ صارفین کے لیے اچھی رفتار کا براڈبینڈ انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہوتا ہے۔ شہر میں بہت سے انٹرنیٹ کیفے بھی موجود ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01102", "text": "اردو اخبارات\nاسلام آباد سے اردو اخبارات جو شائع ہوتے ہیں۔\n\nانگریزی اخبارات\nاسلام آباد سے انگریزی اخبارات جو شائع ہوتے ہیں۔\n\nریڈیو\nریڈیو پاکستان کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ یہاں میڈیم ویوز پر نشریات کی جاتی ہیں۔ اس وقت مندرجہ ذیل ریڈیو اسٹیشن چل رہے ہیں۔\n\nٹیلی ویژن/ فلم/ ڈراما\nپاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد سینٹر کی بنیاد 1967ء میں رکھی گئی۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔\n\nسینما گھر\nاسلام آباد میں درج ذیل سینما گھر ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01103", "text": "سینما گھر\nاسلام آباد میں درج ذیل سینما گھر ہیں۔\n\nڈاکخانہ\nجنرل پوسٹ آفس (General Post Office / GPO) اسلام آباد کا مرکزی ڈاک خانہ ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01104", "text": "سیاحت", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01105", "text": "اسلام آباد میں بہت سے سیاحی مقامات ہیں جن میں دامن کوہ، مارگلہ چڑیا گھر، پاکستان یادگار، فیصل مسجد اور راول بند قابل ذکر ہیں۔ فیصل مسجد شہر کا ایک اہم ثقافتی نشان ہے اور جو روزانہ بہت سے سیاحوں کو راغب کرتی ہے۔ فیصل مسجد 1986ء میں تعمیر کی گئی تھی، اس کا نام سعودی عرب کے بادشاہ فیصل بن عبدالعزیز کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس مسجد میں 24,000 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01106", "text": "۔ اس مسجد میں 24,000 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ فیصل مسجد جسے ترکوں نے ڈیزائن کیا ہے اور سعودی عرب کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے، مسجد کی دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی شامل ہے۔ سیاحوں کے لیے تاریخی مقامات میں سے ایک پاکستان یادگار ہے جو 2007ء میں تعمیر کی گئی۔ یہ سیاحتی مقام پاکستان کی حب الوطنی اور خود مختاری کی نمائندگی کرتا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01107", "text": "۔ ڈیزائن کو گنبد کی شکل دی گئی ہے جس میں پنکھڑیوں کی شکل کی دیواریں ہیں جو پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات جیسے بادشاہی مسجد، مینارِ پاکستان اور قلعہ لاہور کی تصویر کشی کرنے والے فنون سے کندہ ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01108", "text": "اسلام آباد میں پاکستان کے کچھ مشہور عجائب گھر ہیں جن میں لوک ورثہ عجائب گھر، انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج شکر پڑياں پارک اور نیشنل آرٹ گیلری شامل ہیں۔ اسلام آباد میوزیم میں گندھارا دور کے بہت سے آثار اور نمونے موجود ہیں، جو بدھ مت اور گریکو-رومن طرزوں پر مشتمل ہیں۔ اسلام آباد اور پاکستان کی ثقافت کو لوک ورثہ عجائب گھر کے ساتھ شکرپڑیاں پارک میں انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد 10ویں صدی سے لے کر جدید دور تک کی تہذیب اور فن تعمیر پر قائم ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01109", "text": "۔ چونکہ اسلام آباد سطح مرتفع پوٹھوہار پر واقع ہے، اس لیے پتھر کے زمانے کی تہذیب کی باقیات میں اچیولین اور سوانیائی روایات شامل ہیں اور یہ سیاحتی مقامات ہیں۔ اسلام آباد میں تاریخی نشانات ہندو تہذیب کی عکاسی کرتی ہے جس کی باقیات 16 ویں صدی سید پور گاؤں میں موجود ہے۔ سید پور میں مندر موجود ہے جہاں ہندو مغل کمانڈر پوجا کرتے تھے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01110", "text": "مارگلہ ہلز نیشنل پارک اسلام آباد کے شمالی سیکٹر میں واقع ہے اور ہمالیہ کے قریب ہے۔ نیشنل پارک میں دلکش وادیوں اور قدرتی پہاڑیوں پر مشتمل ہے جس میں مختلف جنگلی حیات جیسے ہمالیائی گورل، ہرن اور چیتے شامل ہیں۔ جنگلی حیات اور پودوں سے بھرے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں سیاحوں کے لیے رہائش اور کیمپنگ گراؤنڈ بھی شامل ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01111", "text": "لوک ورثہ عجائب گھر\nلوک ورثہ عجائب گھر، تاریخی آرٹ اور ثقافت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ عجائب گھر 1974ء میں کھولا گیا اور 2002ء میں یہ ایک خود مختار ادارہ بن گیا۔ عجائب گھر کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ یہ شکر پڑیاں کی پہاڑیوں اسلام آباد میں واقع ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01112", "text": "فیصل مسجد", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01113", "text": "فیصل مسجد، اسلام آباد میں قائم ایک عظیم الشان مسجدہے جسے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ عظیم مسجد اپنے انوکھے طرز تعمیر کے باعث تمام مسلم دنیا میں معروف ہے۔ مسجد کا سنگ بنیاد شوال 1396ھ مطابق اکتوبر 1976ء کو رکھا گیا اور تکمیل 1987ء میں ہوئی۔ سعودی حکومت کی مدد سے دس لاکھ سعودی ریال (کم و بیش ایک کروڑ بیس لاکھ امریکی ڈالر) کی لاگت سے 1976ء میں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا گیا", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01114", "text": "۔ تعمیری اخراجات میں بڑا حصہ دینے پر مسجد اور کراچی کی اہم ترین شاہراہ 1975ء میں شاہ فیصل کی وفات کے بعد ان کے نام سے موسوم کردی گئی۔ تعمیراتی کام 1987ء میں مکمل ہوا اور احاطہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بنائی گئی۔ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے مزار کی چھوٹی سی عمارت مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب واقع ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01115", "text": "پاکستان یادگار", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01116", "text": "پاکستان یادگار ایک قومی یادگار ہے جو ملک کے چاروں صوبوں اور تین علاقوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یادگارکھلے پھول کی شکل میں ایک تیزی سے ترقی پزیر ملک کے طور پر پاکستان کی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یادگار کی چار اہم پنکھڑیاں چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتی ہیں (بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ)، جبکہ تین چھوٹی پنکھڑیاں تین علاقوں کی نمائندگی کرتی ہیں (گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقہ جات )", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01117", "text": "۔ فضا سے یادگار ایک ستارہ (وسط میں) اور ایک چاند (پنکھڑیوں کی دیواروں سے بنا) کی طرح دکھتا ہے، جو پاکستانی پرچم میں ستارہ و ہلال کی نمائندگی کرتا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01118", "text": "شاہ اللہ دتہ کی غاریں", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01119", "text": "شاہ اللہ دتہ گاؤں ایک صدیوں پرانا گاؤں اور اسلام آباد کیپیٹل اتھارٹی کی یونین کونسل ہے۔ اس گاؤں کا نام ایک درویش کے نام پر رکھا گیا ہے جو مغل دور سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ گاؤں 650 سال پہلے آباد ہوا تھا۔ یہاں قدیم غاریں موجود ہیں جو پچھلی تہذیبوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں 2500 سال پرانی بدھ غاریں ٹیکسلا کے مغرب میں، اسلام آباد کے مشرق میں اور خان پور کے وسطی علاقے میں واقع ہیں۔ شاہ اللہ دتہ غاروں کے قریب ایک چشمہ، ایک تالاب اور ایک باغ اب بھی موجود ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01120", "text": "۔ باغ میں برگد کے کچھ درخت ہیں جبکہ باقی تمام پھل دار درخت ختم ہو چکے ہیں۔ اسی چشمے کا پانی غاروں سے ملحقہ باغ کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مغلیہ دور میں جب ہندوستان عرب اور وسطی ایشیا سے نکلنے والے تصوف کا مرکز تھا، شاہ اللہ دتہ نامی ایک ولی نے اس باغ میں قیام کیا اور یہاں ان کی تدفین ہوئی۔ وہ جگہ جو پہلے سادھوؤں، راہبوں یا جوگیوں سے منسوب تھی آج شاہ اللہ دتہ کے نام سے منسوب ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01121", "text": "۔ ان غاروں سے تھوڑے فاصلے پر کنتھیلا گاؤں میں ایک قدیم باولی بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے شیر شاہ سوری نے بنایا تھا۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01122", "text": "نیشنل آرٹ گیلری\nنیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد، پاکستان میں ملک کی پہلی قومی آرٹ گیلری ہے۔ جسے مجلس شوریٰ (پاکستان کی پارلیمنٹ) اور ایوان صدر (ایوان صدر) کے سامنے ایک چھوٹی پہاڑی پر بنایا گیا ہے۔ اسے 26 اگست 2007ء بروز اتوار کو عوام کے لیے کھولا گیا۔ نیشنل آرٹ گیلری، پاکستان ایک بڑی تنظیم کا حصہ ہے جسے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کہا جاتا ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01123", "text": "سید پور ویلج\nسید پور ویلج، مارگلہ کے دامن میں واقع ہے۔ اس گاؤں میں یونانی، گندھارا اور مغل دور کے آثار ملتے ہیں۔ 2006ء میں اس گاؤں کو ماڈل ولیج میں تبدیل کر دیا گیا۔ تمام تاریخی عمارتوں کی ازسرِنو آرائش کی گئی۔ یہاں پر مختلف ہوٹل اور آرٹ گیلریاں قائم کی گئیں ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01124", "text": "پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری\nپاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کا قیام 1976 ء میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر انتظام عمل میں لایا گیا، یہ 4 مختلف شعبہ جات پر مشتمل ہے،۔ جن میں نباتات، حیوانات، ارضیات اور عوامی خدمت شامل ہیں۔ پہلے تین شعبہ جات کا مقصد پاکستان میں موجود پودوں، جانوروں، معدنیات، چٹانوں اور فاسلز کے نمونے اکٹھے کرنا ان کی پہچان اور ان پر تحقیق کرنا ہے، جبکہ چوتھا شعبہ ترتیب و تشہیر سے متعلق ہے۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01125", "text": "ٹریل 3\nاسلام آباد کا سب سے مشہور اور قدیم ترین ہائیک ٹریک ٹریل 3 ہے۔ یہ سیکٹر F-6/3 میں مارگلہ روڈ سے شروع ہوتا ہے اور پیر سوہاوہ پر ختم ہوتا ہے۔ یہ ٹریک تقریباً 30 - 50 منٹ کا ٹریک ہوتا ہے۔ ویو پوائنٹ کے بعد یہ مزید 45-60 منٹ تک جاری رہتا ہے اور پیر سوہاوہ پہنچ جاتا ہے، جہاں کھانے کے دو ریستوراں مونال اور لا مونٹانا ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تقریباً ایک گھنٹہ تیس منٹ کی پیدل سفر ہے۔\n\nاہم سیاحتی مقامات\nاسلام آباد میں درج ذیل اہم سیاحتی مقامات ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01126", "text": "پارک\nمساجد ومزارات/عبادت گاہیں\nقبرستان\nحکومتی عمارتیں\nشاپنگ مالز کی فہرست\nقابل ذکر رہائشی\nمشاہیر\nمشہور شخصیات\nجڑواں شہر اور سفارت خانے\nاس وقت اسلام آباد کے سفارتی انکلیو میں مختلف ممالک کے سفارت خانے کام کر رہے ہیں۔\n\nسفارتخانے / ہائی کمیشن\nاسلام آباد کے جڑواں شہر\nیہ شہر اسلام آباد کے شراکت دار (Twin Cities) شہر ہیں۔", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01127", "text": "اسلام آباد - راولپنڈی جڑواں شہر", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01128", "text": "اسلام آباد اور راولپنڈی کو پاکستان کے جڑواں شہر کہا جاتا ہے۔ بلکہ بعض جگہوں پر آج بھی دونوں شہروں کے تھانوں کو مسئلہ ہوتا ہے کہ یہ حدود اسلام آباد کی ہے یا راولپنڈی کی۔ دو ہزار سال پہلے بھی گندھارا سندھ کی تہذیب کا ایک جیتا جاگتا مرکز تھا اور آج پھر تاریخ نے جو انگڑائی لی ہے اور اسلام آباد کو پاکستان کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں دنیا کی دو بڑی تجارتی شاہراہوں کا ملاپ ہو رہا ہے", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01129", "text": "۔ ایک چین کو مشرقِ وسطیٰ سے ملاتی ہے تو دوسری بھارت اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیاء کو کابل اور ماسکو تک لے جاتی ہے۔ ان دونوں شاہراہوں پر ابھی بین الاقوامی تجارت شروع نہیں ہوئی لیکن جب بھی ہو گی راولپنڈی اور اسلام آباد پاکستان کا سب سے بڑا شہری علاقہ بن جائیں گے۔ یہاں دنیا بھر سے تاجر اور سیاح آئیں گے.", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01130", "text": "شہر نتائج\nتصاویر\nمزید دیکھیے\nاسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ\nجغرافیہ اسلام آباد\nکیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (اسلام آباد)\nاسلام آباد کے مقامات کی فہرست\nبلدیہ عظمی اسلام آباد\nاسلام آباد کی شخصیات کی فہرست\nاسلام آباد کی یونین کونسلیں\nدارالحکومت انتظامیہ ، اسلام آباد\nاسلام آباد ٹریفک پولیس\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "اسلام آباد", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85_%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF"}, {"id": "urd_rec_01131", "text": "کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جسے ملک کے صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرۂ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں قائم ہیں۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01132", "text": "۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دار الحکومت منتخب کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی میں اُن علاقوں سے جو بھارت کا حصہ بن گئے تھے، لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے آئے۔ پاکستان کا دار الحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01133", "text": "۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01134", "text": "پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے 'چھوٹا پاکستان' بھی کہتے ہیں۔ ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی لسانی فسادات، تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا۔ بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے ليے پاک فوج کو بھی کراچی میں مداخلت کرنی پڑی", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01135", "text": "۔ اکیسویں صدی میں تیز قومی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ کراچی کے حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے کراچی کی امن عامہ کی صورتِ حال کافی بہتر ہوئی ہے اور شہر میں مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01136", "text": "شہر کراچی دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع ہے اور اس نے قدرتی بندرگاہ کے گرد وجود پایا۔ کراچی 52´ 24° شمال اور 03´ 67° مشرق پر واقع ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01137", "text": "تاریخ", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01138", "text": "قدیم یونانی کراچی کے موجودہ علاقہ سے مختلف ناموں سے واقف تھے: کروکولا، جہاں سکندر اعظم وادی سندھ میں اپنی مہم کے بعد، اپنی فوج کی واپس بابل روانگی کی تیّاری کے لیے خیمہ زن ہوا ؛ بندر مرونتوبارا (Morontobara)، (ممکنً کراچی کی بندرگاہ سے نزدیک جزیرہ منوڑہ جہاں سے سکندر کا سپہ سالار نییرچس(نیارخوس) واپس اپنے وطن روانہ ہوا ؛ اور بربیریکون(بارباریکون)، جو ہندوستانی یونانیوں کی باختری مملکت کی بندرگاہ تھی", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01139", "text": "۔ اس کے علاوہ، عرب اس علاقہ کو بندرگاہِ دیبل کے نام سے جانتے تھے، جہاں سے محمد بن قاسم نے 712ء میں اپنی فتوحات کا آغاز کیا۔ برطانوی تاریخ دان ایلیٹ کے مطابق موجودہ کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ، دیبل میں شامل تھے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01140", "text": "موجودہ نام کراچی سے پہلے کراچی کو مکران (بلوچستان) کے علاقے کولانچ کی ایک بلوچ مائی جو کولانچ سے ھجرت کر کے یہاں آباد ہوئی تھی کی نسبت سے مائی کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا جس کی تمام تر آبادی بلوچ تھی مائی کولاچی سے بعد میں کولاچی اور بگڑ کر انگریزوں کے دور میں کراچی ھو گئی 1772ء کو مائی کولاچی کو مسقط اور بحرین کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بندرگاہ منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے یہ گاؤں تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01141", "text": "۔ یوں مائی کولاچی میں بلوچوں کے علاوہ ہمسایہ علاقوں کی کمیونٹی بھی بڑی تعداد میں بس گئی بڑھتے ہوئے شہر کی حفاظت کے لیے شہر کی گرد فصیل بنائی گئی اور مسقط سے توپیں درآمد کرکے شہر کی فصیل پر نصب کی گئیں۔ فصیل میں 2 در تھے (بلوچی میں در گیٹ کو کہتے ہیں) ایک در (گیٹ) کا رخ سمندر کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں کھارادر (سندھی میں کھارودر) کہا جاتا اور دوسرے در (گیٹ) کا رخ لیاری ندی کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں میٹھادر (سندھی میں مٹھودر) کہا جاتا تھا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01142", "text": "1795ء تک کراچی (کولاچی) خان قلات کی مملکت کا حصہ تھا۔ اس سال سندھ کے حکمرانوں اور خان قلات کے درمیان میں جنگ چھڑ گئی اور کراچی پر سندھ کی حکومت کا قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد شہر کی بندرگاہ کی کامیابی اور زیادہ بڑے ملک کی تجارت کا مرکز بن جانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ اس ترقی نے جہاں ایک طرف کئی لوگوں کو کراچی کی طرف کھینچا وہاں انگریزوں کی نگاہیں بھی اس شہر کی طرف کھینچ لیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01143", "text": "انگریزوں نے 3 فروری 1839ء کو کراچی شہر پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ تین سال کے بعد شہر کو برطانوی ہندوستان کے ساتھ ملحق کرکے ایک ضلع کی حیثیت دے دی۔ انگریزوں نے کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو دریائے سندھ کی وادی کا اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے شہر کی ترقی پر اہم نظر رکھی۔ برطانوی راج کے دوران میں کراچی کی آبادی اور بندرگاہ دونوں بہت تیزی سے بڑھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں کراچی میں 21 ویں نیٹِو انفنٹری نے 10 ستمبر کو مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر سے بیعت کر لی", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01144", "text": "۔ انگریزوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور \"بغاوت\" کا سر کچل دیا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01145", "text": "1876ء میں کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت تک کراچی ایک ترقی یافتہ شہر کی صورت اختیار کر چکا تھا جس کا انحصار شہر کے ریلوے اسٹیشن اور بندرگاہ پر تھا۔ اس دور کی اکثر عمارتوں کا فن تعمیر کلاسیکی برطانوی نوآبادیاتی تھا، جو بر صغیر کے اکثر شہروں سے مختلف ہے۔ ان میں سے اکثر عمارتیں اب بھی موجود ہیں اور سیاحت کا مرکز بنتی ہیں۔ اسی دور میں کراچی ادبی، تعلیمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن رہا تھا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01146", "text": "کراچی آہستہ آہستہ ایک بڑی بندرگاہ کے گرد ایک تجارتی مرکز بنتا گیا۔ 1880 کی دہائی میں ریل کی پٹڑی کے ذریعے کراچی کو باقی ہندوستان سے جوڑا گیا۔ 1881 میں کراچی کی آبادی 73،500 تک، 1891 میں 105،199 اور 1901 میں 115،407 تک بڑھ گئی۔ 1899 میں کراچی مشرقی دنیا کا سب سے بڑا گندم کی درآمد کا مرکز تھا۔ جب 1911 میں برطانوی ہندوستان کا دار الحکومت دہلی بنا تو کراچی سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی۔ 1936 میں جب سندھ کو صوبہ کی حیثیت دی گئی تو کراچی کو اس کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01147", "text": "1947 میں کراچی کو پاکستان کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی صرف چار لاکھ تھی۔ اپنی نئی حیثیت کی وجہ سے شہر کی آبادی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا اور شہر خطے کا ایک مرکز بن گیا۔ پاکستان کا دار الحکومت کراچی سے راولپنڈی اور پھر اسلام آباد منتقل تو ہوا لیکن کراچی اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔ کراچی 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں تشدد، سیاسی اور سماجی ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا شکار بنا رہا", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01148", "text": "۔ موجودہ دہائی میں کراچی میں امن عامہ کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں بہت ترقی ہوئی۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01149", "text": "ابھی کراچی میں ترقیاتی کام بہت تیزی سے جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی ایک عالمی مرکز کی شکل میں ابھر رہا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01150", "text": "موسم، جغرافیہ اور محل وقوع", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01151", "text": "کراچی جنوبی پاکستان میں بحیرہ عرب کے عین شمال میں واقع ہے۔ شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ ہے جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں ہیں۔ شہر کے درمیان میں سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اور لیاری ندی۔ (سیلابی ند یاں) اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں)( اور برساتی نالے)گزرتی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ چونکہ بندرگاہ ہر طرف سے زمین سے گھری ہوئی ہے اس ليے اس کو ایک بہت خوبصورت قدرتی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01152", "text": "موسم\nساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم بہت معتدل ہے۔ شہر میں بارشیں کم ہوتی ہیں، سال میں اوسطا 250 ملی میٹر، جن کا زیادہ تر حصہ مون سون میں ہوتا ہے۔ کراچی میں گرمیاں اپریل سے اگست تک باقی رہتی ہیں اور اس دوران میں ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ رہتا ہے۔ نومبر سے فروری شہر میں موسم سرما مانا جاتا ہے۔ دسمبر اور جنوری شہر میں سب سے زیادہ آرام دہ موسم کے مہینے ہیں اور اس وجہ سے شہر میں انھی دنوں میں سب سے زیادہ تقاریب اورسیاحت ہوتی ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01153", "text": "اس شہر کا عام طور موسم سرما سے زیادہ واسطہ نہیں پڑتا اور یہاں کا موسم گرم مرطوب ہی رہتا ہے لیکن 21 جنوری 1934 میں کراچی والوں نے ایک ایسا دن دیکھا جب کراچی کا درجہ حرارت 0 ڈگری ہو گیا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01154", "text": "حکومت", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01155", "text": "کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں ہوا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی بنا دیا گیا۔ سن 2000ء میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 2001ء میں اس منصوبے کے نفاذ سے پہلے کراچی انتظامی ڈھانچے میں دوسرے درجے کی انتظامی وحدت یعنی ڈویژن، کراچی ڈویژن، تھا", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01156", "text": "۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع، ضلع کراچی جنوبی، ضلع کراچی شرقی، ضلع کراچی غربی، ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔سن 2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں جوڑ لیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01157", "text": "سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ\nٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن\nیونین کونسل ایڈمنسٹریشن\nضلع کراچی کو 18 ٹاؤن(بلدیات) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑے کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، باغات، ٹریفک سگنل (حمل و نقل کی ہم آہنگی) اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔ بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01158", "text": "یہ ٹاؤنز(بلدیات) مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یوسی ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبہ جات اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01159", "text": "2005ء میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں سید مصطفیٰ کمال نے کامیابی حاصل کی اور نعمت اللہ خان کی جگہ کراچی کے ناظم قرار پائے جبکہ نسرین جلیل شہر کی نائب ناظمہ قرار پائیں۔ مصطفیٰ کمال ناظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل صوبہ سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی تھے۔ ان سے قبل کراچی کے ناظم نعمت اللہ خان 2004ء اور 2005ء کے لیے ایشیا کے بہترین ناظمین میں سے ایک قرار پائے تھے۔ مصطفیٰ کمال نعمت اللہ خان کا شروع کردہ سفر جاری رکھتے ہوئے شہر میں ترقی میں کافی تیزی سے کام کیا", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01160", "text": "۔ لیکن 2010 کے بعد کراچی شہر میں بلدیاتی نظام کے خاتمے کے بعد سے کراچی شہر کی ترقی کافی حد تک رک سی گئی تھی لیکن 2015 میں عام انتخابات کے بعد سے نئی حکومتوں کے بعد شہر کی تعمیر و ترقی کا دوبارہ سے آغاز ہو چکا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01161", "text": "کراچی شہر مندرجہ ذیل قصبات میں تقسیم ہے:", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01162", "text": "واضح رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم ہے لیکن وہ کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01163", "text": "شہری انتظامیہ\nاعداد و شمار", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01164", "text": "گذشتہ 150 سالوں میں کراچی کی آبادی و دیگر اعداد و شمار میں واضح تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ غیر سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق کراچی کی موجودہ آبادی 24 ملین ہے۔ جو 1947ء کے مقابلے میں 37 گنا زیادہ ہے۔ آزادی کے وقت کراچی کی آبادی محض 4 لاکھ تھی۔ تقسیم ہند (1947) کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ ہجرت کر کے کراچی میں آ بسے۔ شہر کی آبادی اس وقت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جس میں اہم ترین کردار دیہات سے شہروں کو منتقلی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01165", "text": "۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01166", "text": "کراچی ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی بین الاقوامی شہر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 94 اعشاریہ 04 فیصد آبادی شہر میں قیام پزیر ہے۔ اس طرح وہ صوبہ سندھ کا سب سے جدید علاقہ ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01167", "text": "کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01168", "text": "۔ انڈیا سے آنے والے مہاجرین میں دہلی، یوپی، حیدرآباد دکن سے آنے والوں کے علاوہ گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجپوتانہ سے آنے والی ماڑواڑی، میمن، ملباری، باہری اور بعد میں مشرقی پاکستان سے آنے والی بہاری کمیونٹی قابل ذکر ہیں-", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01169", "text": "شہر کے دیگر باسیوں میں سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان، گجراتی، کشمیری، سرائیکی اور 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین شامل ہیں جو 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کے بعد ہجرت کرکے شہر قائد پہنچے اور اب یہاں کے مستقل باسی بن چکے ہیں۔ ان مہاجرین میں پختون، تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمان شامل تھے۔ ان کے علاوہ ہزاروں بنگالی، عرب، ایرانی، اراکانی کے مسلم مہاجرین (برما کی راکھائن ریاست کے ) اور افریقی مہاجرین بھی کراچی میں قیام پزیر ہیں", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01170", "text": "۔ آتش پرست پارسیوں کی بڑی تعداد بھی تقسیم ہند سے قبل سے کراچی میں رہائش پزیر ہے۔ کراچی کے پارسیوں نے شہر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اہم سرکاری عہدوں اور کاروباری سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے شامل رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ان کی اکثریت مغربی ممالک کو ہجرت کرگئی تاہم اب بھی شہر میں 5 ہزار پارسی آباد ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں گوا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک مسیحیوں کی بھی بڑی تعداد آبادی ہے جو برطانوی راج کے زمانے میں یہاں پہنچی تھی۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01171", "text": "1998ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی لسانی تقسیم اس طرح سے ہے:", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01172", "text": "اقتصادیات", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01173", "text": "کراچی پاکستان کا تجارتی دار الحکومت ہے اور جی ڈی پی کے بیشتر حصہ کا حامل ہے۔ قومی محصولات کا 65 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریباً تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ \"آئی آئی چندریگر روڈ\"(سابق میکلیوڈ روڈ) پر قائم ہیں۔دبئی کا معروف تعمیراتی ادارہ ایمار پراپرٹیز کراچی کے دو جزائر بنڈل اور بڈو پر 43 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت سے تعمیراتی کام کا آغاز کر رہا ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01174", "text": "۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ 20 ارب روپے کے ایک منصوبے پورٹ ٹاور کمپلیکس کا آغاز کر رہی ہے جو ایک ہزار 947 فٹ بلندی کے ساتھ پاکستان کی سب سے بلند عمارت ہوگی۔ اس میں ایک ہوٹل، ایک شاپنگ سینٹر اور ایک نمائشی مرکز شامل ہوگا۔ عمارت کی اہم ترین خوبی اس کا گھومتا ہوا ریستوران ہوگا جس کی گیلری سے بدولت کراچی بھر کا نظارہ کیا جاسکے گا۔ مذکورہ ٹاور کلفٹن کے ساحل پر تعمیر کیا جائے گا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01175", "text": "بینکنگ اور تجارتی دار الحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں پاکستان میں کام کرنے والے تمامبین الاقوامی اداروں کے بھی دفاتر قائم ہیں۔ یہاں پاکستان کا سب سے بڑا بازار حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی موجود ہے جو اب پاکستان اسٹاک ایکسچینج بن چکا ہے۔ اس نے 2005ء میں پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01176", "text": "انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹی)، الیکٹرانک میڈیا اور کال سینٹرز کا نیا رحجان بھی شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں (شرکتوں)کے کال سینٹرز کو ترقی کے ليے بنیادی ہدف قرار دیا گیا ہے اور حکومت نے آئی ٹی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ليے محصولات میں 80 فیصد تک کمی کے ليے کام کر رہی ہے [حوالہ درکار]۔ کراچی پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01177", "text": "۔ کراچی پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے۔ پاکستان کے کئی نجی ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں کے صدر دفاتر بھی کراچی میں ہیں جن میں سے جیو، اے آروائی، ڈان، ہم، ایکسپرس اور آج ٹی وی مشہور ہیں۔ مقامی سندھی چینل کے ٹی این، سندھ ٹی وی اور کشش ٹی وی بھی معروف چینل ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01178", "text": "کراچی میں کئی صنعتی زون واقع ہیں جن میں کپڑے، ادویات، دھاتوں اور آٹو موبائل کی صنعتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ مزيد برآں کراچی میں ایک نمائشی مرکز ایکسپو سینٹر بھی ہے جس میں کئی علاقائی و بین الاقوامی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔ ٹویوٹا اور سوزوکی موٹرز کے کارخانے بھی کراچی میں قائم ہیں۔ اس صنعت سے متعلق دیگر اداروں میں ملت ٹریکٹرز، آدم موٹر کمپنی اور ہینو پاک کے کارخانے بھی یہیں موجود ہیں۔ گاڑیوں کی تیاری کا شعبہ پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ابھرتی ہوا صنعتی شعبہ ہے جس کا مرکز کراچی ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01179", "text": "کراچی بندرگاہ اورمحمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں جبکہ جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔\n1960ء کی دہائی میں کراچی کو ترقی پزیر دنیا میں ترقی کا رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی کوریا نے شہر کا دوسرا پنج سالہ منصوبہ برائے 1960ء تا 1965ء نقل کیا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01180", "text": "تعمیرات\nپورٹ ٹاور کمپلیکس (مجوزہ)\nکریسنٹ بے (منظور شدہ)\nکراچی کریک مرینا (زیر تعمیر)\nڈولمین ٹاورز (زیر تعمیر)\nآئی ٹی ٹاور (منظور شدہ)\nبنڈل جزیرہ (منظور شدہ)\nبڈو جزیرہ (منظور شدہ)(اب کام رک چکا ہے)\nاسکوائر ون ٹاورز (زیر تعمیر)\nکراچی ماس ٹرانزٹ نظام\nانشاء ٹاورز (منظور شدہ)\nایف پی سی سی آئی ٹاور (مجوزہ)", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01181", "text": "ثقافت", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01182", "text": "کراچی پاکستان کے چند اہم ترین ثقافتی اداروں کا گھر ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد ہندو جیم خانہ میں قائم کردہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کلاسیکی موسیقی اور جدید تھیٹر سمیت دیگر شعبہ جات میں دو سالہ ڈپلوما کورس پیش کرتا ہے۔ آل پاکستان میوزیکل کانفرنس 2004ء میں اپنے قیام کے بعد سالانہ میوزک فیسٹیول منعقد کر رہا ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01183", "text": "۔ یہ فیسٹیول شہری زندگی کے ایک اہم جز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور 3 ہزار سے زائد شہری اس میں شرکت کرتے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے بھی مہمان تشریف لاتے ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01184", "text": "کوچہ ثقافت میں مشاعرے، ڈرامے اور موسیقی پیش کی جاتی ہے۔ کراچی میں قائم چند عجائب گھروں میں معمول کی بنیادوں پر نمائشیں منعقد ہوتی ہیں جن میں موہٹہ پیلس اور قومی عجائب گھر شامل ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر منعقدہ کارا فلم فیسٹیول میں پاکستانی اور بین الاقوامی آزاد اور دستاویزی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔ کراچی کی ثقافت مشرق وسطی، جنوبی ایشیائی اور مغربی تہذیبوں کے ملاپ سے تشکیل پائی ہے۔ کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی قیام پزیر ہے۔ کراچی صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01185", "text": "تعلیم\nپاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی کراچی شہر میں ہے جہاں کئی جامعات اور کالیجز قائم ہیں۔ کراچی اپنی کثیر نوجوان آبادی کے باعث ملک بھر میں جانا جاتا ہے۔ کراچی کی کئی جامعات ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہیں۔\nکراچی کے اہم تعلیمی ادارے درج ذیل ہیں؛", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01186", "text": "جامعہ کراچی\nاین ای ڈی انجینیئرنگ یونی ورسٹی\nڈائو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز\nداؤد انجینیئرنگ یونی ورسٹی\nجناح میڈیکل یونیورسٹی\nآغا خان یونی ورسٹی اینڈ اسکول آف نرسنگ\nکراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج\nانسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن\nانسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمینٹ اکاؤنٹس\nنیشنل انسٹیٹوٹ آف پرفارمنگ آرٹس\nسندھ لا یونیورسٹی", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01187", "text": "کھیل", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01188", "text": "کراچی کے مشہور کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، مکے بازی، فٹ بال اور گھڑ دوڑ شامل ہیں۔ بین الاقوامی مرکز نیشنل اسٹیڈيم کے علاوہ کرکٹ کے میچز(مقابلے) یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، اے او کرکٹ اسٹیڈیم، کے سی سی اے کرکٹ گراؤنڈ، کراچی جیم خانہ گراؤنڈ اور ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم پر منعقد ہوتے ہیں", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01189", "text": "۔ شہر میں ہاکی کے ليے ہاکی کلب آف پاکستان اور یو بی ایل ہاکی گراؤنڈ، باکسنگ کے ليے کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس، اسکواش کے ليے جہانگیر خان اسکواش کمپلکیس اور فٹبال کے ليے پیپلز فٹ بال اسٹیڈیم اور پولو گراؤنڈ، کراچی جیسے شاندار مراکز قائم ہیں۔ 2005ء میں شہر کے پیپلز فٹ بال اسٹیڈيم میں ساف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ منعقد ہوا۔ کشتی رانی بھی کراچی کی کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01190", "text": "کراچی جیم خانہ، سندھ کلب، کراچی کلب، مسلم جیم خانہ، کریک کلب اور ڈی ایچ اے کلب سمیت دیگر کھیلوں کے کلب اپنے ارکان کو ٹینس، بیڈمنٹن، اسکواش، تیراکی، دوڑ، اسنوکر اور دیگر کھیلوں کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ کراچی میں دو عالمی معیار کے گالف کلب ڈي ایچ اے اور اور کارساز قائم ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں چھوٹے پیمانے پر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی ہیں جن میں سب سے مشہور نائٹ کرکٹ ہے جس میں ہر اختتام ہفتہ پر چھوٹے موٹے میدانوں اور گلیوں میں برقی قمقموں میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01191", "text": "مراکز صحت\nکراچی میں بین الاقوامی معیار کی تقریباً تمام طبی سہولیات موجود ہیں- کراچی کے طبی اداروں میں جگر کی پیوندکاری، گردوں کی پیوندکاری، آنکھوں کی پیوندکاری سمیت دل کے بائی پاس اور انجیوگرافی کی سہولیات موجود ہیں- کراچی میں مندرجہ ذیل اہم طبی ادارے ہیں؛\n\nجناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر\nسندھ انسٹیٹوٹ آف یورینری ٹریکٹ\nکراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈس ایز\nاسپنسر آئی اسپتال\nآغا خان اسپتال\nلیاقت نیشنل ہسپتال\nقومی ادارہ برائے امراض قلب\nقومی ادارہ برائے صحت اطفال\nضیاء الدین ہسپتال", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01192", "text": "دلچسپ مقامات\nمزار قائد۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ\nکراچی یونی ورسٹی\nکوچہ ثقافت\nمسجد طوبٰی۔ واحد گنبد کی دنیا کی سب سے بڑی مسجد\nآئی آئی چندریگر روڈ۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ\nآغا خان یونیورسٹی ہسپتال\nکراچی چڑیا گھر (زولوجیکل اینڈ باٹنیکل گارڈن )\nباغ ابن قاسم، کلفٹن\nزیب النساء اسٹریٹ\nبرنس روڈ فوڈ اسٹریٹ\nطارق روڈ (خریداری کا مرکز)\nکیماڑی پائیر", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01193", "text": "ساحل کراچی\nمنوڑہ کا ساحل\nکلفٹن اور جہانگیر کوٹھاری پریڈ\nسی ویو، کلفٹن\nڈی ایچ اے مرینا کلب\nہاکس بے\nپیراڈائز پوائنٹ\nسینڈز پٹ بیچ\nفرنچ بیچ\nرشین بیچ\nپورٹ فاؤنٹین۔ 600 فٹ بلند فوارہ\nزمزمہ تجارتی مرکز۔ اپنے بوتیک اور کیفے کے ليے مشہور\nعبد اللہ شاہ غازی کا مزار\n\nعجائب گھر\nپاکستان ایئر فورس میوزیم\nقومی عجائب گھر\nموہٹہ پیلس، کراچی و خطے کی تاریخ کا عجائب گھر\nمیری ٹائم میوزیم\nاسٹیٹ بینک میوزیم\n\nبرطانوی راج کے دور کی عمارات\nایشیا بلڈنگ(سابق قید خانہ)\nایمپریس مارکیٹ\nپرانا الاکو ہاؤس", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01194", "text": "جہانگیرکوٹھاری پریڈ \nخالقدینا ہال\nڈی جے سائنس کالج\nڈنسوہال لائبریری \nسابق وکٹوریا میوزیم\nفیض حسینی بلڈنگ \nقائد اعظم ہاؤس میوزیم :کچہری\nکراچی پورٹ ٹرسٹ \nکراچی سٹی اسٹیشن\nکراچی کینٹونمنٹ سٹیشن1 \nکراچی کینٹونمنٹ سٹیشن2 \nکراچی مندر \nکراچی سٹی اسٹیشن\nفری میسن ہال\nکراچی میونسپل کارپوریشن بلڈنگ\nکرائسٹ دی کنگ یادگار\nسندھ کلب\nسندھ ہائی کورٹ \nسینٹ اینڈریوزچرچ\nشری لکشمی نرائن مندر \nسینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01195", "text": "فریئر ہال\nگورنر ہاؤس\nلوٹیا بلڈنگ \nلیڈی ڈفرین ہسپتال\nمیری ویدرٹاور\nمیولز مینشن\nدوا خانہ وزیرمینشن\nہندو جیم خانہ (اب نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے زیر استعمال ہے)\nہولی ٹرینیٹی کیتھیڈرل\n\nجزائر\nبنڈل\nبابابھٹ\nشمس پیرسینڈزپٹ\nکلفٹن آئسٹر روکس\nمنوڑہ", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01196", "text": "باغات\nآنٹی پارک (کلفٹن)\nباغ جناح (سابق پولوگراؤنڈ)\nالہ دین پارک (راشد منہاس روڈ)\nبارہ دری پارک (سابق پولوگراؤنڈ)\nبلوچ پارک\nامیر خسرو پارک ( کلفٹن)\nباغ ا بن قاسم (سابق کلفٹن پارک)\nبے دھاوارلائبریری پارک (پارسی کالونی)\nپرانی سبزی منڈی پارک (یونیورسٹی روڈ)\nتکون پارک\nجہا نگیر پارک (صدر)\nچھاؤنی پارک (ملیرچھاؤنی)\nڈولفن بیچ پارک(کلفٹن)\nسفاری پارک (یونیورسٹی روڈ)\nسہراب کٹرک پارک\nسند باد\nسی ویو پارک\nعزیز بھٹی پارک\nعسکری پارک\nشہید نثار پارک فیز 4 ڈیفنس\nفورم پارک(کلفٹن)\nکراچی چڑیا گھر (گاندھی گارڈن)", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01197", "text": "فورم پارک(کلفٹن)\nکراچی چڑیا گھر (گاندھی گارڈن)\nکشمیر پارک\nکھوڑی گارڈن\nگبول پارک\nگٹرباغیچہ\nمجاہد شہید ماڈل پارک\nمولانامحمدعلی جوہر پارک\nمولوی عثمان پارک\nمحمدی پارک\nنباتاتی باغ(یونیورسٹی روڈ)\nنثارشہید پارک\nہل پارک", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01198", "text": "کھیل کے میدان\nالجعفر پلے گراؤنڈ\n“ایف“ بلاک پلے گراؤنڈ\nبنگلورٹاون گراؤنڈ\nپاکستانی بہروں کا گراؤنڈ\nجناح گراؤنڈ\nریلوے گراؤنڈ\nزاہد گراؤنڈ\nشرف آباد کریکٹ گراؤنڈ\nفاتح باغ\nکے جی اے گراؤنڈ\nکراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ گراؤنڈ\nکوکن گراؤنڈ\nکھجی گراؤنڈ\n\nکشتزار (فارم ہاؤسز)\nجان فارم ہاؤس\nشمسی ریزورٹ(ملیرچھاؤنی)\nمیمن فارم ہاؤس\nولیج گارڈن\n\nمیلے (ریزورٹس)\nڈریم ورلڈ ریزورٹ\nریس کورس\nریس کورس یونیورسٹی روڈ", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01199", "text": "ایوان عکس (سینیما)\nکیپری سینما\nنشاط سینما ( بابری مسجد سانحہ کے بعد اسے مظاہرین نے جلا دیا )\nپرنس سینما\nیونیورس سنیپلیکس (کلفٹن)", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01200", "text": "شرب و طعام (فوڈ اینڈ ڈرنکس)\nحیدرآباد کالونی\nبرنس روڈ\nعلاوہ ازیں کلفٹن، ڈي ایچ اے، شارع فیصل، نارتھ ناظم آباد، کریم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر وغیرہ میں بھی کئی مراکز ہیں۔\nحسین آباد کو کو دوسرا برنس روڈ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیونکہ یہاں بھی بے شمار فوڈ اینڈ ڈرنکس کے مراکز ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01201", "text": "کلفٹن کا ساحل ماضی قریب میں دو مرتبہ تیل کی رسائی کے باعث متاثر ہو چکا ہے جس کے بعد ساحل کی صفائی کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں رات کے وقت تفریح کے ليے ساحل پر برقی قمقمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کراچی کی ساحلی پٹی کی خوبصورتی کے ليے کلفٹن میں بیچ پارک قائم کیا ہے جو جہانگیر کوٹھاری پیریڈ اور باغ ابن قاسم سے منسلک ہے۔ شہر کے قریب دیگر ساحلی تفریحی مقامات بھی ہیں جن میں سینڈزپٹ، ہاکس بے، فرنچ بیچ، رشین بیچ اور پیراڈائز پوائنٹ معروف ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01202", "text": "مزار قائد۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ\nکوچہ ثقافت\nمسجد طوبٰی۔ واحد گنبد کی دنیا کی سب سے بڑی مسجد\nآئی آئی چندریگر روڈ۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ\nآغا خان یونیورسٹی ہسپتال\n\nعلاقوں کے دلچسپ نام\nاس کے علاقوں کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ نام۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01203", "text": "خریداری کا مرکز", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01204", "text": "کراچی پاکستان میں خریداری کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ لاکھوں صارفین اپنی ضروریات کی اشیاء خریدتے ہیں۔ صدر، گلف شاپنگ مال، بہادر آباد، طارق روڈ، زمزمہ، زیب النساء اسٹریٹ اور حیدری اس حوالے سے ملک بھر میں معروف ہیں۔ ان مراکز میں کپڑوں کے علاوہ دنیا بھر سے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء حاصل کی جا سکتی ہیں۔ برطانوی راج کے زمانے کی ایمپریس مارکیٹ مصالحہ جات اور دیگر اشیاء کا مرکز ہے۔ صدر میں ہی قائم رینبو سینٹر دنیا میں چوری شدہ سی ڈیز کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01205", "text": "۔ دیگر اہم علاقوں میں پاپوش مارکیٹ اور حیدری شامل ہیں۔ ہر اتوار کو لیاقت آباد میں پرندوں اور پالتو جانوروں کے علاوہ پودوں کا بازار بھی لگتا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01206", "text": "کراچی میں جدید تعمیرات کے حامل خریداری مراکز کی بھی کمی نہیں ہے، جن میں پارک ٹاورز، دی فورم، ملینیم مال اور ڈولمین مال خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اس وقت زیر تعمیر ایٹریم مال، جمیرہ مال، آئی ٹی ٹاور اور ڈولمین سٹی مال بھی تعمیرات کے شاہکار ہیں۔\nاس کے علاوہ ٹائون اور اضلاع کی سطح پر بھی ملبوسات، زیورات اور اشیائے صرف کی خریداری کے مراکز ہیں-", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01207", "text": "جوڑیا بازار اور اس سے متصل صرافہ بازار اور کاغذی بازار بالترتیب اشیائے خورد، زیورات اور ملبوسات کے مرکزی بازار ہیں جہاں سے یہ شہر کے دوسرے بازاروں تک ان اشیاء کے پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہیں-\nلانڈھی کی بابر مارکیٹ، ملیر کی لیاقت مارکیٹ، واٹر پمپ مارکیٹ، ناظم آباد گول مارکیٹ، لیاقت آباد مارکیٹ، نیو کراچی کی کالی مارکیٹ، شاہ فیصل مارکیٹ، سولر بازار، رنچھوڑلین مارکیٹ، اورنگی میں پاکستان بازار اور کیماڑی کی جیکسن مارکیٹ اہم مقامی بازار ہیں-", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01208", "text": "ذرائع نقل و حمل\nفضائی\nکراچی ایک جدید بین الاقوامی ہوائی اڈے جناح انٹرنیشنل کا حامل ہے جو پاکستان کا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ شہر کا قدیم ایئرپورٹ ٹرمینل اب حج پروازوں، کارگو اور سربراہان مملکت کے ليے استعمال ہوتا ہے۔ نیا ہوائی اڈا 1993ء میں ایک فرانسیسی ادارے نے تیار کیا۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01209", "text": "بندر گاہ\nملک کی سب سے بڑی بندرگاہیں بھی کراچی میں قائم ہیں جو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کہلاتی ہیں۔ یہ بندرگاہیں جدید سہولیات سے مزین ہیں اور نہ صرف پاکستان کی تمام تجارتی ضروریات کے مطابق کام کرتی ہیں بلکہ افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی سمندری تجارت بھی انہی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01210", "text": "ریلوے\nکراچی پاکستان ریلویز کے جال کے ذریعے بذریعہ ریل ملک بھر سے منسلک ہے۔ شہر کے دو بڑے ریلوے اسٹیشن سٹی اور کینٹ ریلوے اسٹیشن ہیں۔ ریلوے کا نظام کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ملک بھر کو سامان پہنچانے کی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس وقت شہر میں بسوں اور منی بسوں نے عوامی نقل و حمل کا بیڑا اٹھارکھا ہے لیکن مستقبل میں شہر میں تیز اور آرام دہ سفر کے ليے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور ماس ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کا منصوبہ بھی موجود ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01211", "text": "کراچی شہر کو دنیا کے اور ممالک کی طرح نقل و حمل کے نئے طرز کے وسائل فراہم کرنے کے لیے اٹھارویں صدی کے اواخر میں ٹرام گاڑی چلانے کی تجویز پیش کی گئی، نتیجتاً اکتوبر 1884 میں اس پر کام شروع ہو گیا- ٹرامیں(1885–1975) سڑکوں پر باقائدگی سے یہ خدمت انجام دیتی رہی- لیکن سیاسی گٹھ جوڑکی وجہ سے اس سہولت کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر نہ بنایا جا سکا- جیسا کہ دنیا بھر کے اور شہروں میں ہوا ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01212", "text": "زمینی ملکیت", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01213", "text": "کراچی ساحل کے ساتھ نیم صحرائی علاقے پر قائم ہیں جہاں صرف دو ندیوں ملیر اور لیاری کے ساتھ ساتھ موجود علاقے کی زمین ہی زراعت کے قابل ہے۔ آزادی سے قبل کراچی کی اکثر آبادی ماہی گیروں اور خانہ بدوشوں پر مشتمل تھی اور بیشتر زمین سرکاری ملکیت تھی۔ آزادی کے بعد کراچی کو ملک کا دار الحکومت قرار دیا گیا تو زمینی علاقے ریاست کے زیر انتظام آ گئے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01214", "text": "۔ 1988ء میں کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 4 لاکھ 25 ہزار 529 ایکڑ (1722 مربع کلومیٹر) میں سے تقریباً 4 لاکھ ایکڑ (1600 مربع کلومیٹر) کسی نہ کسی طرح سرکاری ملکیت ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01215", "text": "۔ حکومت سندھ ایک لاکھ 37 ہزار 687 ایکڑ (557 مربع کلومیٹر)، کے ڈی اے ایک لاکھ 24 ہزار 676 ایکڑ، کراچی پورٹ ٹرسٹ 25 ہزار 259 ایکڑ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) 24 ہزار 189 ایکڑ، آرمی کنٹونمنٹ بورڈ 18 ہزار 569 ایکڑ، پاکستان اسٹیل مل 19 ہزار 461 ایکڑ، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی 16 ہزار 567 ایکڑ، پورٹ قاسم 12 ہزار 961 ایکڑ، حکومت پاکستان 4 ہزار 51 ایکڑ اور پاکستان ریلوے 12 ہزار 961 ایکڑ رقبے کی حامل ہے", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01216", "text": "۔ 1990ء کی دہائی میں کے ڈی اے کی غیر تعمیر زمین ملیر ڈيولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو منتقل کردی گئی۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01217", "text": "مسائل\nکراچی دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں سے ایک ہے اس ليے اسے بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک، آلودگی، غربت، دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کا سامناہے۔\nاس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہر سال 550 افراد ٹریفک حادثوں میں اپنی جان گنواتے ہیں۔ شہر میں کاروں کی تعداد سڑکوں کے تعمیر کردہ ڈھانچے سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹریفک کے ان مسائل سے نمٹنے کے ليے شہر میں نعمت اللہ خان کے دور میں کئی منصوبے شروع کیے گئے جن میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز شامل ہیں۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01218", "text": "بڑھتے ہوا ٹریفک اور دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو کھلی چھٹی کے باعث شہر میں آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ کراچی میں فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے متعین کردہ معیار سے 20 گنا زیادہ ہے۔ ٹریفک کے علاوہ کوڑے کرکٹ کو آگ لگانا اور عوامی شعور کی کمی بھی آلودگی کا بڑا سبب ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01219", "text": "ایک اور بڑا مسئلہ شاہراہوں کو چوڑا کرنے کے ليے درختوں کی کٹائی ہے۔ کراچی میں پہلے ہی درختوں کی کمی ہے اور موجود درختوں کی کٹائی پر ماحولیاتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ جس پر شہری حکومت نے ستمبر 2006ء سے تین ماہ کے ليے شجرکاری مہم کا اعلان کیا۔\nپاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کھلی جگہوں پر ناجائز تجاوازات تعمیر کا مسئلہ کراچی میں بھی عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے پریشان کن ہے۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01220", "text": "ان کے علاوہ فراہمی آب اور بجلی کی فراہمی میں تعطل شہر کے دو بڑے مسائل ہیں خصوصاً 2006 کے موسم گرما میں کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عالمی شہرت حاصل کی۔", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01221", "text": "مدارس\nدار العلوم کراچی، کورنگی\nدار العلوم امجدیہ\nدار العلوم نعیمیہ\nجامعہ اسلامیہ، نیو ٹاؤن\nجامعہ بنوریہ، سائٹ\nجامعات المدینہ و مدارس المدینہ دعوت اسلامی\nجامعہ فاروقیہ", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01222", "text": "شراکت دار شہر\nبیرونی روابط\nشہری حکومت کی آفیشل ویب گاہآرکائیو شدہ بذریعہ karachicity.gov.pk \nکراچی اسٹاک ایکسچینجآرکائیو شدہ بذریعہ kse.com.pk \nجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ\nکراچی بندرگاہ\nکراچی پورٹ ٹرسٹآرکائیو شدہ بذریعہ kpt.gov.pk \nکراچی کی سیٹیلائٹ تصویر\nکراچی آپ ڈیٹس کراچی کی تازہ ترین صورت حالآرکائیو شدہ بذریعہ karachiupdates.com \nکراچی کی تاریخ، شہر کی پرانی تصاویر کے ساتھآرکائیو شدہ بذریعہ historickarachi.com \nکراچی کی تصویری البم از علی عدنان قزلباش", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01223", "text": "کراچی کی تصویری البم از علی عدنان قزلباش\nکارا فلم فیسٹیولآرکائیو شدہ بذریعہ karafilmfest.com \nکراچی میں ٹرامیںآرکائیو شدہ بذریعہ historyrecall.blogspot.se", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01224", "text": "مزید دیکھیے\nپاکستان کے شہر\n\nلاہور\nاسلام آباد\nسکھر\nفیصل آباد\nملتان\nکوئٹہ\nپشاور\nایبٹ آباد\nگوادر\nقصور\nنوابشاہ\nعمرکوٹ\nمٹھی\nنوری آباد\nحیدرآباد\nکوٹری\nجامشورو\nسیالکوٹ\nجیکب آباد\nدادو\nبہاولپور\nبہاولنگر\nنارووال\nشیخوپورہ\nسوات\nآزاد ابن حیدر\nڈاکٹر محمد علی شاہ\nکانڈرا والا موٹرز\nشیخ عاطف احمد\n\nشہر نتائج\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "کراچی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01225", "text": "لاہور (پنجابی: لہور، گر مکھی: ਲਹੌਰ‎؛ عربی: لاهور؛ فارسی: لاهور‎؛ انگریزی: Lahore) صوبہ پنجاب، پاکستان کا دار الحکومت اور فہرست پاکستان کے گنجان آباد شہر سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز اور پاکستان کا دل اور باغوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع راجہ رام چندر کے بیٹے راجا لوہ کا بسایا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے اور یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01226", "text": "۔ زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01227", "text": "لاہور کی انتہائی قدیم تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ پرانوں کے مطابق رام کے بیٹے راجا لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک قلعہ بنوایا۔ دسویں صدی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرتسلط رہا۔ گیارہویں صدی میں سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا اور لاہور کو اسلام سے روشناس کرایا۔ شہاب الدین غوری نے 1186ء میں لاہور کو فتح کیا۔ بعد ازاں یہ خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01228", "text": "۔ بعد ازاں یہ خاندان غلاماں کے ہاتھوں میں آ گیا۔ 1290ء میں خلجی خاندان، 1320ء میں تغلق خاندان، 1414ء سید خاندان 1451ء لودھی خاندان کے تحت رہا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01229", "text": "ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں ابراہیم لودھی کو شکست دی جس کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت وجود میں آئی۔ مغلوں نے اپنے دور میں لاہور میں عظیم الشان عمارات تعمیر کروائیں اور کئی باغات لگوائے۔ اکبر اعظم نے شاہی قلعہ کو ازسرنو تعمیر کروایا۔ شاہجہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا جو اپنی مثال آپ ہے۔ 1646ء میں شہزادی جہاں آرا نے دریائے راوی کے کنارے چوبرجی باغ تعمیر کروایا جس کا بیرونی دروازہ آج بھی موجود ہے۔ 1673ء میںاورنگزیب عالمگیر نے شاہی قلعہ کے سامنے بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01230", "text": "1739ء میں نادر شاہ اور 1751ء میں احمد شاہ ابدالی نے لاہور پر قبضہ جمایا۔ بعد ازاں 1765ء میں سکھوں نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ سکھ دور میں مغلیہ دور کی کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انگریزوں نے 1849ء میں سکھوں کو شکست دیکر پنجاب کو برطانوی سلطنت میں شامل کر لیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01231", "text": "لاہور کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کے زیر صدارت قرارداد پاکستان منظور کی جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کو اپنا الگ آزاد ملک پاکستان حاصل ہوا۔ فروری 1974ء میں اس شہر نے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01232", "text": "قدیم لاہور شاہی قلعہ کے ساتھ واقع ہے جسے اندرون لاہور بھی کہا جاتا ہے۔ لاہور کے گرد ایک فصیل موجود تھی جس میں تیرہ دروازے تھے جو سکھوں کے دور تک غروب آفتاب کے ساتھ بند کر دیے جاتے تھے۔ ان میں سے کچھ دروازے اب بھی موجود ہیں۔ تیرہ دروازوں کے نام بھاٹی دروازہ، لوہاری دروازہ، شاہ عالمی دروازہ، موچی دروازہ، اکبری دروازہ، یکی دروازہ، شیرانوالہ دروازہ، کشمیری دروازہ، مستی دروازہ، دہلی دروازہ، روشنائی دروازہ، ٹکسالی دروازہ، موری دروازہ ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01233", "text": "بیسویں صدی میں قدیم لاہور کے مضافات میں کئی جدید بستیوں کا اضافہ ہوا جو اب بھی جاری ہے۔ اردو کے نامور مزاح نگار پطرس بخاری نے اپنے مضمون لاہور کا جغرافیہ میں اس کا حدود اربعہ یوں بیان کیا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01234", "text": "لاہور کے قریب شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع ہے جو سکھوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اس کے شمال اور مغرب میں ضلع شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہیں۔ دریائے راوی لاہور کے شمال مغرب میں بہتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01235", "text": "تاریخ\nاشتقاقیات", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01236", "text": "اس شہر کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں عوام میں مشہور ہے کہ رام چندر جی کے بیٹے لو نے یہ بستی آباد کی تھی۔ لیکن یہ روایت صرف سجان سنگھ نے خلاصتہ التواریخ میں درج کی کے اور باقی اب نے اسی سے نقل کی اور یہ معروف ہوگی. جبکہ صاحب تحفتہ الواصلین شیح احمد زنجانی نے اس روایت کا رد کیا ہے۔ قدیم ہندو \"پرانوں\" میں لاہور کا نام \"لوہ پور\" یعنی لوہ کا شہر ملتا ہے۔ راجپوت دستاویزات میں اسے \"لوہ کوٹ\" یعنی لوہ کا قلعہ کے نام سے پکارا گیا ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01237", "text": "۔ نویں صدی عیسوی کے مشہور سیاح \"الادریسی\" نے اسے \"لہاور\" کے نام سے موسوم کیا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01238", "text": "مختلف کتب میں لاہور کے درج ذیل نام ملتے ہیں.", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01239", "text": "-اس موضوع پر تفصیلی بحث ڈاکٹر محمد باقر صاحب نے کی اہل ذوق اس سے استفادہ کرسکتے ہیں.", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01240", "text": "ابتدائی لاہور\nلاہور کی ابتدائی تاریخ کا کوئی حتمی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور لاہور کے مبہم تاریخی پس منظر نے اس کے قیام اور تاریخ کے بارے میں مختلف نظریات کو جنم دیا ہے۔ ہندو روایات کے مطابق کینیکسن، سوریا ونش کا بانی، شہر سے ہجرت کر گیا تھا۔ لاہور کے ابتدائی ریکارڈ بہت کم ہیں، لیکن سکندر اعظم کے مورخین نے 326 قبل مسیح میں اس کے حملے کے دوران میں لاہور کے محل وقوع کے قریب کسی شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک شہر کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی یا یہ غیر قابل ذکر تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01241", "text": "زبانی روایات پر مبنی ایک افسانوی روایات کے مطابق لاہور، جو قدیم زمانے میں لاواپوری ( سنسکرت میں لاوا کا شہر) کے نام سے جانا جاتا تھا، کی بنیاد شہزادہ لاوا، سیتا اور رام کے بیٹے نے رکھی تھی۔ قصور کی بنیاد ان کے جڑواں بھائی شہزادہ کوشا نے رکھی تھی۔ آج تک، لاہور قلعے میں ایک خالی لاوا مندر ہے جو لاوا کے لیے وقف ہے (جسے لوہ بھی کہا جاتا ہے، لہذا لوہ آوار یا \"لوہ کا قلعہ\")۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01242", "text": "بطلیموس نے اپنے جغرافیہ میں دریائے چناب اور دریائے راوی کے قریب واقع لبوکلا کے نام سے ایک شہر کا ذکر کیا ہے جو قدیم لاہور کے حوالے سے ہو سکتا ہے یا اس شہر کا ایک ترک شدہ پیشرو تھا۔ چینی زائر ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے ہیون سانگ کا سفرنامہ ہند میں ایک بڑے اور خوش حال بے نام شہر کی واضح وضاحت کی جو لاہور ہو سکتا ہے جب اس نے 630 عیسوی میں ہندوستان کے دورے کے دوران میں اس خطے کا دورہ کیا تھا۔ \nہیون سانگ نے شہر کو، پھر تانک کے دور حکومت میں، ایک عظیم براہمن شہر کے طور پر بیان کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01243", "text": "پہلی دستاویز جس میں لاہور کا نام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے وہ حدود العالم (\"دنیا کے خطے\") ہے، جو 982 عیسوی میں لکھی گئی، جس میں لاہور کا ذکر ایک ایسے قصبے کے طور پر کیا گیا ہے جو \"متاثر کن\" تھا، جہاں مندر، بڑے بازار اور بڑے باغات\" موجود تھے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01244", "text": "لاہور کے بارے میں سب سے پہلے چین کے باشندے سوزو زینگ نے لکھا جو ہندوستان جاتے ہوئے لاہور سے 630 عیسوی میں گذرا۔ یہ قدیم حوالہ جات اس بات کے غماز ہیں کہ اوائل تاریخ سے ہی یہ شہر اہمیت کا حامل تھا۔ درحقیقت اس کا دریا کے کنارے پر اور ایک ایسے راستے پر واقع ہونا جو صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں کی رہگزر رہا ہے، اس کی اہمیت کا ضامن رہا ہے۔\"فتوح البلدان\" میں درج سنہ 664 عیسوی کے واقعات میں لاہور کا ذکر ملتا ہے جس سے اس کا اہم ہونا ثابت ہوتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01245", "text": "علامہ احمد بن یحییٰ بن جابر بلاذری اپنی کتاب فتوح البلدان میں تحریر کرتے ہیں:", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01246", "text": "قرون وسطی\nساتویں صدی عیسوی کے اواخر میں لاہور ایک گجر چوہان بادشاہ کا پایہ تخت تھا۔ فرشتہ کے مطابق 682ء میں کرمان اور پشاور کے مسلم پٹھان قبائل راجا پر حملہ آور ہوئے۔ پانچ ماہ تک لڑائی جاری رہی اور بالآخر سالٹ رینج کے گکھڑ راجپوتوں کے تعاون سے وہ راجا سے اس کے کچھ علاقے چھیننے میں کامیاب ہو گئے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01247", "text": "نویں صدی عیسوی میں لاہور کے ہندو راجپوت چتوڑ کے دفاع کے لیے مقامی فوجوں کی مدد کو پہنچے۔ دسویں صدی عیسوی میں خراسان کا صوبہ دار سبکتگین اس پر حملہ آور ہوا۔ لاہور کا راجا جے پال جس کی سلطنت سرہند سے لمگھان تک اور کشمیر سے ملتان تک وسیع تھی مقابلہ کے لیے آیا۔ ایک بھٹی راجا کے مشورے پر راجا جے پال نے پٹھانوں کے ساتھ اتحاد کر لیا اور اس طرح وہ حملہ آور فوج کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ غزنی کے تخت پر قابض ہونے کے بعد سبکتگین ایک دفعہ پھر حملہ آور ہوا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01248", "text": "۔ لمگھان کے قریب گھمسان کا رن پڑا اور راجا جے پال ملغوب ہو کر امن کا طالب ہوا۔ طے یہ پایا کہ راجا جے پال تاوان جنگ کی ادائیگی کرے گا اور سلطان نے اس مقصد کے لیے ہرکارے راجا کے ہمرکاب کیے۔ لاہور پہنچ کر راجا نے معاہدے سے انحراف کیا اور سبکتگین کے ہرکاروں کو مقید کر دیا۔ اس اطلاع پر سلطان غیظ و غضب میں دوبارہ لاہور پر حملہ آور ہوا۔ ایک دفعہ پھر میدانِ کارزار گرم ہوا اور ایک دفعہ پھر جے پال کو شکست ہوئی اور دریائے سندھ سے پرے کا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01249", "text": "۔ دوسری دفعہ مسلسل شکست پر دل برداشتہ ہو کر راجا جے پال نے لاہور کے باہر خود سوزی کر لی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سلطان کا مقصد صرف راجا کو سبق سکھانا تھا کیونکہ اس نے مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا اور 1008 عیسوی میں جب سبکتگین کا بیٹا محمود غزنوی ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو جے پال کا بیٹا آنند پال ایک لشکر جرار لے کر پشاور کے قریب مقابلہ کے لیے آیا۔ محمود کی فوج نے آتش گیر مادے کی گولہ باری کی جس سے آنند پال کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور ان کی ہمت ٹوٹ گئی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01250", "text": "۔ نتیجتاً کچھ فوج بھاگ نکلی اور باقی کام آئی۔ اس شکست کے باوجود لاہور بدستور محفوظ رہا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01251", "text": "آنند پال کے بعد اس کا بیٹا جے پال تخت نشین ہوا اور لاہور پر اس خاندان کی عملداری 1022ء تک برقرار رہی حتٰی کہ محمود اچانک کشمیر سے ہوتا ہوا لاہور پر حملہ آور ہوا۔ جے پال اور اس کا خاندان اجمیر میں پناہ گزین ہوا۔ اس شکست کے بعد لاہور غزنوی سلطنت کا حصہ بنا اور پھر کبھی کسی ہندو سلطنت کا حصہ نہیں رہا۔ محمود کے پوتے مودود کے عہدِ حکومت میں راجپوتوں نے شہر کو واپس لینے کے لیے چڑھائی کی مگر چھ ماہ کے محاصرے کے بعد ناکام واپس ہوئے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01252", "text": "۔ لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد محمود غزنوی نے اپنے پسندیدہ غلام ملک ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا جِس نے شہرکے گرد دیوار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قلعہ لاہور کی بھی بنیاد رکھی۔ ملک ایاز کا مزار آج بھی بیرون ٹکسالی دروازہ لاہور کے پہلے مسلمان حکمران کے مزار کے طور پر معروف ہے۔ غزنوی حکمرانوں کے ابتدئی آٹھ حکمرانوں کے دور میں لاہور کا انتظام صوبہ داروں کے ذریعہ چلایا جاتا تھا تاہم مسعود ثانی کے دور میں (1098ء۔ 1114ء) دار الحکومت عارضی طور پر لاہور منتقل کر دیا گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01253", "text": "۔ اس کے بعد غزنوی خاندان کے بارہویں تاجدار خسرو کے دور میں لاہور ایک دفعہ پھر پایہِ تخت بنا دیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1186ء میں غزنوی خاندان کے زوال تک برقرار رہی۔ غزنوی خاندان کے زوال کے بعد غوری خاندان اور خاندانِ غلامان کے دور میں لاہور سلطنت کے خلاف سازشوں کا مرکز رہا۔ درحقیقت لاہور ہمیشہ پٹھانوں کے مقابلہ میں مغل حکمرانوں کی حمایت کرتا رہا۔1241 عیسوی میں چنگیز خان کی فوجوں نے سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد کی فوج کو راوی کے کنارے شکست دی اور حضرت امیر خسرو کو گرفتار کیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01254", "text": "۔ اس فتح کے بعد چنگیز خان کی فوج نے لاہور کو تاراج کر دیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01255", "text": "خلجی اور تغلق شاہوں کے ادوار میں لاہور کو کوئی قابلِ ذکر اہمیت حاصل نہ تھی اور ایک دفعہ گکھڑ راجپوتوں نے اسے لوٹا۔ 1397ء میں امیر تیمور برصغیر پر حملہ آور ہوا اور اس کے لشکر کی ایک ٹکڑی نے لاہور فتح کیا۔ تاہم اپنے پیشرو کے برعکس امیر تیمور نے لاہور کو تاراج کرنے سے اجتناب کیا اور ایک افغان سردار خضر خان کو لاہور کا صوبہ دار مقرر کیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01256", "text": "۔ اس کے بعد سے لاہور کی حکومت کبھی حکمران خاندان اور کبھی گکھڑ راجپوتوں کے ہاتھ رہی یہاں تک کہ 1436ء میں بہلول خان لودھی نے اسے فتح کیا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ بہلول خان لودھی کے پوتے ابراہیم لودھی کے دورِ حکومت میں لاہور کے افغان صوبہ دار دولت خان لودھی نے علمِ بغاوت بلند کیا اور اپنی مدد کے لیے مغل شہزادے بابر کو پکارا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01257", "text": "تاریخ گواہ ہے کہ لاہور کو پہلے عروس البلد لاہور بھی کہتے تھے۔ اور یہ علاقہ ملتان کی عظیم سلطنت کا حصہ ہوتا تھا۔ اور اس وقت ملتان کی سرحدیں ساحل سمندر تک پھیلی ہوئی تھی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01258", "text": "مغلیہ دور\nبابر پہلے سے ہی ہندوستان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور دولت خان لودھی کی دعوت نے اس پر مہمیز کا کام کیا۔ لاہور کے قریب بابر اور ابراہیم لودھی کی افواج میں پہلا ٹکراؤ ہوا جس میں بابر فتحیاب ہوا تاہم صرف چار روز کے وقفہ کے بعد اس نے دہلی کی طرف پیشقدمی شروع کر دی۔ ابھی بابر سرہند کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اسے دولت خان لودھی کی سازش کی اطلاع ملی جس پر وہ اپنا ارادہ منسوخ کر کے لاہور کی جانب بڑھا اور مفتوحہ علاقوں کو اپنے وفادار سرداروں کے زیرِ انتظام کرکے کابل واپس ہوا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01259", "text": "اگلے برس لاہور میں سازشوں کا بازار گرم ہونے کی اطلاعات ملنے پر بابر دوبارہ عازمِ لاہور ہوا۔ مخالف افواج راوی کے قریب مقابلہ کے لیے سامنے آئیں مگر مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگ نکلیں۔ لاہور میں داخل ہوئے بغیر بابر دہلی کی طرف بڑھا اور پانی پت کی لڑائی میں فیصلہ کن فتح حاصل کرکے دہلی کے تخت پر قابض ہوا۔ اس طرح ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی ابتدا لاہور کے صوبہ دار کی بابر کو دعوت سے ہوئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01260", "text": "1540ء میں شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ نومبر 1556ء میں ہمایوں کے بیٹے اکبر کی افواج نے پانی پت کے میدان میں سوری افواج کو شکست دی اور پھر جلد ہی دہلی اور پھر آگرہ پر قبضہ کر لیا۔ \n1575ء میں اکبر کے قلعہ لاہور کی از سر نو تعمیر کی اور لاہور کو سلطنت کا دار الحکومت بنایا۔ اس کے بعد شاہجہان اور اورنگزیب عالمگیر نے بھی اپنے ادوار میں قلعے میں توسیع اور عمارات تعمیر کیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01261", "text": "1641ء میں شاہجہان نے شالامار باغ تعمیر کروایا۔ 1673ء اورنگزیب عالمگیر نے قلعہ لاہور کے سامنے عظیم الشان بادشاہی مسجد تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ مغل دور میں کئی عالی شان عمارات اور باغات لگوائے گئے۔\nاندرون لاہور جسے قدیم لاہور بھی کہا جاتا ہے کی حفاظت کے لیے شہر کے گرد ایک فصیل تعمیر کی گئی جس میں بارہ دروازے بنائے گئے۔ انگریزوں کے دور میں شہر اور قلعہ لاہور کے حفاظتی حصار کو ناکارہ بنا دیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01262", "text": "سترہویں صدی کے دوران میں مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ لاہور پر اکثر پر حملہ کیا جاتا رہا، حکومتی عملداری کا فقدان رہا۔ 1761ء تک احمد شاہ ابدالی نے مغلوں کی باقیات سے پنجاب اور کشمیر چھین لیا۔ پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر وارث شاہ نے اسی مناسبت سے کہا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01263", "text": "بعد ازاں سلطنت دہلی اور مغلیہ سلطنت کے آخری حکمران خطے کے مختلف حصوں کے حکمران رہے۔\nصوفیاء کی آمد کی وجہ سے لاہور کا علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ بن گیا۔\n1740ء کی دہائی افراتفری کی رہی۔ 1745ء سے 1756ء کے درمیان میں شہر کے نو گورنر رہے۔\n1756ء سے پانی پت کی تیسری لڑائی تک جو احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں درمیان میں ہوئی لاہور اور پشاور مرہٹوں کے قبضے میں رہے۔ تاہم مرہٹوں کو شکست دہنے کے بعد احمد شاہ ابدالی واپس افغانستان چلا گیا جس سے علاقے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01264", "text": "1801ء میں رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھوں کے بارہ مثل متحد ہو کر ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آئے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01265", "text": "درانی حملے\nافغان درانی سلطنت کے بانی احمد شاہ درانی نے جنوری 1748ء میں لاہور پر قبضہ کیا تھا۔ احمد شاہ درانی کی فوری پسپائی کے بعد، مغلوں نے لاہور کو معین الملک میر منوں کے حوالے کر دیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01266", "text": "احمد شاہ درانی نے 1751ء میں دوبارہ حملہ کیا، میر منوں کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس نے لاہور کو افغان حکمرانی کے حوالے کر دیا۔ مغل وزیر غازی دین عماد الملک نے 1756ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا، احمد شاہ درانی کو 1757ء میں دوبارہ حملہ کرنے پر اکسایا، جس کے بعد اس نے شہر کو اپنے بیٹے تیمور شاہ درانی کے ماتحت کر دیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01267", "text": "درانی حکمرانی میں اس وقت خلل پڑا جب 1758ء میں مرہٹوں نے افغانوں کے خلاف اپنی مہمات کے دوران رگھوناتھ راؤ کے تحت لاہور پر مختصر طور پر قبضہ کر لیا جس نے افغانوں کو بھگا دیا تھا۔ اگلے سال، ایک مشترکہ سکھ-مرہٹہ فورس نے جنگ لاہور (1759ء) میں ایک افغان حملے کو شکست دی۔ پانی پت کی تیسری جنگ کے بعد، احمد شاہ درانی نے مرہٹوں کو شکست دی اور لاہور پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ 1765ء میں درانیوں کے شہر سے دستبردار ہونے کے بعد، سکھ افواج نے جلدی سے شہر پر قبضہ کر لیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01268", "text": "۔ درانیوں نے شاہ زمان خان کے دور میں 1797ء اور 1798ء میں مزید دو بار حملہ کیا، لیکن دونوں حملوں کے بعد سکھوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01269", "text": "سکھ دور", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01270", "text": "شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں بھی سکھ مت اتنا واضح اور الگ مذہب نہیں بنا تھا لیکن آثار نمایاں ہونے لگے تھے کہ اب سکھ مغلیہ سلطنت کے مرکز برائے پنجاب یعنی لاہور کی بجائے امرتسر کی جانب دیکھنے لگے تھے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01271", "text": "۔ سکھ ذرائع کے مطابق شہنشاہ جہانگیر کے کہنے پر ادی گرنتھ میں ترامیم سے گرو ارجن کے انکار پر، اس نے خسرو کو امداد فراہم کرنے کا بہانا بنا کر ان کو قتل کروا دیا تھا اور اس بات نے ان کے بیٹے اور چھٹے گرو ہرگوبند (1595ء تا 1644ء) کو عسکری طاقت کی جانب مائل کر دیا تھا جس کے رد عمل کے طور پر جہانگیر نے ایک بار امرتسر سے ہرگوبند کو گرفتار بھی کیا لیکن پھر آزاد کر دیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01272", "text": "۔ ہرگوبند نے مغلیہ سلطنت کو ناجائز قرار دیکر اپنے پیروکاروں کو اسے تسلیم کرنے سے منع کر دیا تھا اور گرو کو خدا کی جانب سے دی جانے والی سلطنت کو جائز قرار دیا۔ شاہجہان کے دور (1628ء تا 1658ء) میں رام داس پور (امرتسر) پر حملہ کیا گیا اور ہرگوبند نے امرتسر سے بھاگ کر کرتار پور میں سکونت اختیار کی۔ اورنگزیب کے تبدیل ہوتے ہوئے کردار نے مختلف واقعات کو جنم دیا جن میں ایک سکھوں سے معاملات کا واقع بھی ہے جس میں محصول یا جزیہ پر ہونے والی معاشیاتی کشمکش کو مذہب اور خود مختاری سے جوڑ دیا گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01273", "text": "۔ تیغ بہادر کے قتل کو متعدد تاریخی دستاویزات میں سکھ مسلم ناچاقی یا نفرت کا آغاز کہا جاتا ہے ۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01274", "text": "اٹھارویں صدی کے اواخر میں مغلیہ سلطنت زوال پزیر تھی۔ درانی سلطنت اور مراٹھا سلطنت کی طرف سے بار بار حملے پنجاب میں اقتدار کے خلا کا باعث بنے۔ سکھ مثلوں کی درانی سلطنت سے جھڑپیں شروع ہو گئیں اور آخر کار بھنگی مثل لاہور پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ 1799ء میں زمان شاہ درانی کے حملے کے بعد خطہ مزید غیر مستحکم ہو گیا جس کے نتیجے میں رنجیت سنگھ کو اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے میں مدد ملی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01275", "text": "۔ رنجیت سنگھ کا زمان شاہ درانی کے ساتھ جھڑپوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں رنجیت سنگھ بھنگی مثل اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے کامیاب ہوا اور خطہ سکھوں کے زیر انتظام آ گیا۔ لاہور قبضہ کرنے کے بعد سکھ فوج نے فوری طور پر شہر میں لوٹ مار شروع کر دی جو رنجیت سنگھ کے باشاہ بننے کے اعلان تک رہی۔ اس کے بعد سے لاہور سکھ سلطنت کا دار الحکومت بنا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01276", "text": "مغلیہ دور کے لاہور کی عالی شان عمارات اٹھارویں صدی اواخر میں کھنڈر بن گئیں۔ سکھ حکمرانوں نے لاہور کی قیمتی مغل یادگاروں کو لوٹا اور قیمتی مرصع پتھر اور سفید سنگ مرمر اتار کر سکھ سلطنت کے مختلف علاقوں میں بھیج دیا۔ اس لوٹ مار کا شکار اہم یادگاروں میں مقبرہ آصف خان، مقبرہ انارکلی اور مقبرہ نور جہاں شامل ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01277", "text": "شالامار باغ کا تمام سنگ مرمر اتار کر امرتسر میں رنجیت سنگھ کے رام باغ محل کی تعمیر کے لیے بجھوا دیا گیا۔ باغات کا عقیق دروازہ لہنا سنگھ مجیٹھا جو سکھ دور کے لاہور کے گورنروں میں سے ایک تھا نے فروخت کر دیا۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے لاہور میں سب سے اہم مغل مساجد کی بے حرمتی بھی کی۔ بادشاہی مسجد کو ایک اسلحہ ڈپو اور رنجیت سنگھ کے گھوڑے کے اصطبل میں تبدیل کر دیا گیا۔\nاندرون لاہور کی سنہری مسجد کو ایک مدت کے لیے گردوارہ میں تبدیل کر دیا گیا، جبکہ مریم زمانی بیگم مسجد کو ایک بارود فیکٹری بنا دیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01278", "text": "سکھ سلطنت کے تحت تعمیر نو کا کام مغلوں سے متاثر ہو کر کیا گیا، رنجیت سنگھ خود لاہور قلعہ میں منتقل ہو گیا اور سکھ سلطنت کے انتظام کے لیے اسے مرکز بنایا۔ 1812ء تک سکھوں نے اکبر کے زمانے کی اصل دیواروں کے ارد گرد بیرونی دیواریں بنا کر شہر کا دفاع مضبوط بنایا۔ اس کے علاقہ شاہجہان کے تنزل پزیر شالامار باغ کو بھی جزوی طور پر بحال کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01279", "text": "سید احمد بریلوی نے 1821ء میں سکھ سلطنت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس کے نتیجے میں تحریک مجاہدین وجود میں آئی۔ سکھوں سے حاصل کردہ مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کیے۔ لیکن بالآخر 1831ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی افواج سے لڑتے ہوئے بالاکوٹ کے میدان میں سید صاحب اور ان کے بعض رفقا نے جامِ شہادت نوش کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01280", "text": "برطانوی دور", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01281", "text": "برطانوی راج کے آغاز میں لاہور کی آبادی کا تخمینہ 120،000 تھا۔ برطانوی قبضہ سے لاہور بنیادی طور پر شہر کے فصیل کے اندر اور کچھ نواحی میدانی علاقے کے بستیوں جس میں باغبانپورہ، بیگم پورہ، مزنگ اور قلعہ گجر سنگھ پر مشتمل تھا۔ برطانوی دور میں اندرون لاہور پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی او ان کی تمام تر توجہ لاہور کے مضافاتی علاقوں اور خطۂ پنجاب کے زرخیز دیہی علاقوں پرمرکوز رہی۔ انگریزوں نے اندرون شہر کی بجائے شہر کے جنوب میں ایک علاقے کو اپنا مرکز بنایا جسے \"سول اسٹیشن\" کہا جاتا تھا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01282", "text": "۔ اس کے علاوہ شہر کی فصیل اور قلعہ لاہور کی فصیل کو غیر موثر کر دیا تا کہ کوئی قلعہ بندی ممکن نہ رہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01283", "text": "ابتدائی برطانوی دور میں \"سول اسٹیشن\" میں واقع ممتاز مغل دور کی یادگاروں کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور کبھی کبھی ان کی بے حرمتی بھی کی گئی۔ مقبرہ انارکلی کو ابتدائی طور پر دفاتر کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ 1851ء میں اسے ایک گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی دور میںدائی انگہ مسجد کو ریلوے انتظامیہ کے دفاتر میں تبدیل کیا گیا۔ مقبرہ نواب بہادر خان کو ایک گودام میں اور مقبرہ میر مانو کو ایک شراب کی دکان میں تبدیل کر دیا گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01284", "text": "۔ اس کے علاوہ انگریزوں نے کئی دیگر عمارتوں کو سول سیکرٹریٹ، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ اور اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر کے لیے استعمال کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01285", "text": "1857ء کی جنگ آزادی جسے انگریز غدر قرار دیتے ہیں کے بعد شہر سے باہر لاہور ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا۔ اس کے ڈھانچے قلعے کے انداز میں موٹی دیواروں میں توپیں داغنے کے سوراخوں کے ساتھ دفاع حکمت عملی کے تحت تعمیر کیا۔ تا کہ مستقبل میں ممکنہ بغاوت کی صورت میں ایک محفوظ حصار کے طور پر کام آ سکے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01286", "text": "۔ برطانوی دور کے اہم سرکاری ادارے اور تجارتی مراکز سول اسٹیشن کے ڈیڑھ میل کے علاقے میں مرکوز رہے اور اسی کے پہلو میں مال روڈ بنائی گئی جہاں لاہور کے فوجی علاقوں کے برعکس برطانوی اور مقامی لوگوں کے اختلاط کی اجازت دی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01287", "text": "مال روڈ لاہور کی شہری انتظامیہ کے مرکز کے ساتھ جدید تجارتی علاقوں میں سے ایک ہے۔\nبرطانوی راج کے دوران میں مال روڈ پر کئی قابل ذکر ڈھانچے تعمیر کیے گئے جن میں منٹگمری ہال جو موجودہ دور میں قائداعظم لائبریری ہے اور لارنس گارڈنز اہم ہیں۔ باغات میںلندن کے رائل بوٹینک گارڈنز سے بھیجے گئے 600 سے زیادہ اقسام کے درخت اور پودے اگائے گئے۔ اس کے علاوہ انگریزوں نے وسیع علاقے پر لاہور کنٹونمنٹ کی بنیاد بھی رکھی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01288", "text": "1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر کئی اہم عمارات تعمیر کی گئیں جن میں لاہور عجائب گھر اور میو اسکول آف آرٹس سب سے اہم ہیں۔ دیگر اہم عمارات میں ایچیسن کالج، لاہور ہائی کورٹ اور یونیورسٹی آف پنجاب قابل ذکر ہیں۔ لاہور میں اس دور کی اہم عمارت کا ڈیزائن سر گنگا رام نے بنایا۔\n1901ء میں انگریزوں نے لاہور میں مردم شماری کروائی جس کے مطابق فصیل دار شہر میں 20،691 گھرتھے اور ایک اندازے کے مطابق 200،000 افراد لاہور میں مقیم تھے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01289", "text": "تحریک آزادی ہند میں لاہور کا بہت اہم کردار رہا۔ 1940ء میں محمد علی جناح کے زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہو جس میں قرارداد لاہور منظور کی گئی جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ وطن پاکستان کا مطالبہ کیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01290", "text": "تحریک آزادی میں کردار", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01291", "text": "لاہور کا کردار تحریک پاکستان اور تحریک آزادی ہند میں نمایاں رہا۔ 1929ء میں جواہر لعل نہرو کی قیادت میں کانگریس کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں \"مکمل آزادی\" کی قرارداد پیش کی گئی جسے 31 دسمبر 1929ء کی آدھی رات کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اسی موقع پر ترنگا (درمیان میں چکرا سمیت) کو بھارت کے معاصر قومی پرچم کے طور پر لہرا گیا جسے ہزاروں لوگوں نے سلامی دی۔ لاہور جیل آزادی کے لیے لڑنے والوں کو حراست میں رکھنے کی ایک جگہ تھی۔ انقلابی بھگت سنگھ کو بھی لاہور جیل میں پھانسی دی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01292", "text": "قائد اعظم محمد علی جناح کے زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 1940ء میں لاہور میں منعقد ہوا جس میں پہلی مرتبہ دو قومی نظریہ پیش کیا گیا اور قرارداد لاہور منظور کی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01293", "text": "قرارداد لاہور\n23 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01294", "text": "برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے اس دعویٰ کو شدید زک پہنچی تھی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01295", "text": "کانگریس کو مدراس، یو پی، سی پی، بہار اور اڑیسہ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، سرحد اور بمبئی میں اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01296", "text": "پنجاب میں البتہ سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کو جیت ہوئی تھی۔\nغرض ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ کو اقتدار حاصل نہ ہو سکا۔ ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھارے سے الگ ہوتی جارہی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01297", "text": "اس دوران میں کانگریس نے جو پہلی بار اقتدار کے نشے میں کچھ زیادہ ہی سرشار تھی، ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں خدشات اور خطرات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ مثلاً کانگریس نے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیا، گاؤ کشی پر پابندی عائد کردی اور کانگریسکے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دے دی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01298", "text": "اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ اس کی قیادت میں یہ احساس پیدا ہورہا تھا کہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بنا پر محروم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے۔ یہی نقطہ آغاز تھا مسلم لیگ کی قیادت میں دو جدا قوموں کے احساس کی بیداری کا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01299", "text": "اسی دوران میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان مناقشہ بھڑکا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی تو مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ' کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01300", "text": "اجلاس سے 4 روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت نے پابندی توڑتے ہوئے ایک عسکری پریڈ کی تھی جس کو روکنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی۔ 35 کے قریب خاکسار جاں بحق ہوئے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لاہور میں زبردست کشیدگی تھی اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت یونینسٹ پارٹی بر سر اقتدار تھی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ خاکسار کے بیلچہ بردار کارکن، مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ہونے دیں یا اس موقع پر ہنگامہ برپا کریں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01301", "text": "موقع کی اسی نزاکت کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی جناح نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا جس میں انھوں نے پہلی بار کہا کہ ہندوستان میں مسئلہ فرقہ ورارنہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ہے یعنی یہ دو قوموں کا مسئلہ ہے۔\nانھوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پور ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ ان کی علاحدہ مملکتیں ہوں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01302", "text": "دوسرے دن انہی خطوط پر 23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل الحق نے قرارداد لاہور پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی پلان نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01303", "text": "۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انھیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01304", "text": "مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01305", "text": "اپریل سنہ 1941ء میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔ لیکن اس وقت بھی ان علاقوں کی واضح نشان دہی نہیں کی گئی تھی جن پر مشتمل علاحدہ مسلم مملکتوں کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01306", "text": "آزادی کے بعد\nبرطانوی راج سے آزادی کے بعد نئی ریاست پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور لاہور اس کے صوبے پنجاب کا دار الحکومت بنا۔ آزادی کے موقع پر ہونے والے فسادات کی زد میں کئی لاہور کی کئی عمارات بھی آئیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01307", "text": "تقسیم ہند نے لاہور کی معیشت کو بہت کمزور کر دیا اور سماجی اور ثقافتی منظر نامے کو جو اس سے پہلے شہر کے ہندوؤں اور سکھوں نے تقویت بخشی تھی کافی حد تک معدوم کر دیا۔ \n1940ء کی دہائی کے آخر تک صنعتی پیداوار تقسیم سے پہلے کی سطح کے ایک تہائی تک گر گئی اور 1950ء تک اس کے صرف 27 فیصد مینوفیکچرنگ یونٹ کام کر رہے تھے اور عام طور پر صلاحیت سے بھی کم تھی۔ کیپٹل فلائٹ نے شہر کی معیشت کو مزید کمزور کر دیا جبکہ کراچی صنعتی اور خوش حال ہو گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01308", "text": "شہر کی کمزور معیشت اور بھارتی سرحد سے قربت کا مطلب یہ تھا کہ یہ شہر آزادی کے بعد پاکستانی دار الحکومت کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے کراچی کو تقسیم کے دور میں نسبتاً پر سکون، مضبوط معیشت اور بہتر انفراسٹرکچر کی وجہ سے دار الحکومت کے لیے منتخب کیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01309", "text": "آزادی کے بعد، لاہور نے آہستہ آہستہ مغربی پنجاب کے معاشی اور ثقافتی مرکز کے طور پر اپنی اہمیت دوبارہ حاصل کی۔ شاہ عالمی بازار کی تعمیر نو کا آغاز 1949ء میں ہوا، جو اندرون لاہور کا سابقہ تجارتی مرکز تھا، یہاں تک کہ یہ 1947ء کے فسادات میں تباہ ہو گیا۔ \nعلامہ اقبال کا مقبرہ 1951ء میں اس فلسفی شاعر کے اعزاز کے لیے بنایا گیا تھا جنھوں نے تحریک پاکستان کو روحانی تحریک فراہم کی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01310", "text": "1955ء میں لاہور کو تمام مغربی پاکستان کا دار الحکومت بنانے کے لیے منتخب کیا گیا جو 1970ء تک جاری رہنے والی واحد اکائی کی مدت میں تھا۔ اس کے فوراً بعد، لاہور کا مشہور مینار پاکستان 1968ء میں اس جگہ کو نشان زد کرنے کے لیے مکمل ہوا جہاں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی۔ \nاقوام متحدہ کی حمایت سے، حکومت پاکستان لاہور کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کامیاب رہی اور تقسیم کے فرقہ وارانہ تشدد کے زیادہ تر داغوں کو دور کر دیا گیا۔\nتنظیم تعاون اسلامی کے تحت دوسری سمٹ کانفرنس 1974ء کو لاہور میں منعقد ہوئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01311", "text": "1965ء میں پاک بھارت جنگ کے دوران میں لاہور بھی میدان جنگ بنا۔ 1996ء میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے ہونے والے کرکٹ عالمی کپ کا فائنل میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01312", "text": "فصیل کے اندر شہر جسے اندرون لاہور کہا جاتا ہے لاہور کا قدیم ترین اور تاریخی حصہ ہے۔ 2009ء میں عالمی بنک کی مدد کے ساتھ اندرون لاہور کی اصل صورت میں بحالی کے لیے کام شروع کیا گیا۔ 2012ء میں پائلٹ اربن کنزرویشن اینڈ انفراسٹرکچر امپروومنٹ پراجیکٹ — شاہی گزرگاہ پراجیکٹ حکومت پنجاب اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے شروع کیا جس نے شاہی گزرگاہ کے ایک حصے کو بحال کیا۔ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کے زیر انتظام وزیر خان مسجد اور دہلی دروازہ کے درمیان بحالی کا کام ہوا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01313", "text": "یہ منصوبہ 2015ء میں ناروے اور ریاستہائے متحدہ کی حکومتوں کے تعاون سے مکمل ہوا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01314", "text": "لاہور اعلامیہ\nلاہور اعلامیہ، ایک دو طرفہ معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین 21 فروری 1999ء کو طے پایا، اس معا یدے پر بھارت کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی جبکہ پاکستان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ لاہور میں تاریخی مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01315", "text": "لاہور اعلامیہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک میں ایٹمی تجربات کے بعد ہونے والا معاہدہ جو دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، گو کہ اس معاہدے کی اہمیت مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے تناظر میں نہایت واضع تھی لیکن مئی 1999ء میں شروع ہونے کارگل جنگ نے امن کے عمل کو دھچکا لگایا اور یہ اعلامیہ غیر موثر ہو کر رہ گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01316", "text": "جغرافیہ\nلاہور شہر کے شمال اور مغرب میں شیخوپورہ، مشرق میں واہگہ اور جنوب میں ضلع قصور واقع ہے۔ دریائے راوی شہر کے شمال میں بہتا ہے اور شہر کا کُل رقبہ 404 مربع کلومیٹر (156 مربع میل) ہے۔\n\nواہگہ\nواہگہ (انگریزی: Wahgah – ہندی : वाघा - مشرقی پنجابی : ਵਾਘਾ) بھارت اور پاکستان کے امرتسر، بھارت اور لاہور، پاکستان کے درمیان میں پار سڑک ہے۔ ہر شام یہاں پرچم اتارنے کے تقریب ہوتی ہے جسے واہگہ بارڈر تقریب کہا جاتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01317", "text": "دریائے راوی\nدریائے راوی کی اہمیت لاہور کے لیے اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ شہر اسی کے کنارے آباد کیا گیا۔ قدیم وقتوں میں یہ شہر کے بیت قریب تھا اور شاہی قلعہ کے ساتھ بہتا تھا۔ جبکہ اب یہ اپنا رخ تبدیل کرنے کے بعد قدیم شہر کچھ فاصلے پر بہتا ہے۔\n\nلاہور نہر\nبمباںوالی-راوی-بیدیاں نہر سے نکلتی ہے اور لاہور کے مشرق میں بہتی ہے۔ یہ 37 میل (60 کلومیٹر) طویل ہے۔ طویل آبی گذر گاہ ابتدائی طور پر مغلوں نے بنائی تھی جسے 1861ء میں انگریزیوں نے بہتر بنایا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01318", "text": "آب و ہوا\nلاہور کا موسم زیادہ تر نیم خشک ہوتا ہے، پورے سال گرم ترین مہینہ جون ہے جس میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر جاتی ہے۔ مون سون کا آغاز جون کے آخری ایام میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے پھر جولائی کے مہینے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سال کا سب سے ٹھنڈا مہینہ جنوری کا مہینہ ہوتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01319", "text": "شہر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 48 ڈگری 30 مئی 1944 کو اور 10 جون 2007 کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔ لاہور میں عام طور پر کبھی درجہ حرارت 0 ڈگری تک نہیں پہنچا لیکن 17 جنوری 1935 کے دن اس شہر کا درجہ حرارت منفی 2.2 ڈگری تک چلا گیا اور یہ لاہور کا اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت ہے جو ریکارڈ کیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01320", "text": "لاہور کے ہم نام دیگر جغرافیائی مقامات\nپاکستان\nنیا لاہور -پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک قصبہ\nلاہور، صوابی – پاکستان کی ایک آباد مقام خیبر پختونخوا میں واقع\nتحصیل لاہور – پاکستان کا ایک رہائشی علاقہ جو خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔ صدر مقام لاہور، صوابی\nلاہور، فاٹا – پاکستان کا ایک رہائشی علاقہ قبائلی علاقہ جات میں واقع", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01321", "text": "ریاستہائے متحدہ امریکا\nلاہور، ورجینیا – ریاستہائے متحدہ امریکا میں اورنج کاؤنٹی، ورجینیا میں ایک چھوٹا شہر ہے۔ اس کا نام پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدیم تاریخی شہر لاہور کے نام ہر ہے جو 1850ء کی دہائی میں رکھا گیا۔ لاہور کے طول بلد 38.198N اور عرض بلد -77.969W ہے۔ یہ مشرقی معیاری منطقہ وقت میں ہے۔ اس کی بلندی 364 فٹ (111 میٹر) ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01322", "text": "لوپ بوری\nلوپ بوری تھائی لینڈ کے صوبے لوپ بوری کا دار الحکومت ہے۔ اس کا اصل نام لوو یا لوپوری تھا جو جس کے معنی لو کا شہر ہے جو قدیم جنوب ایشیائی شہر لو پورہ کے حوالے سے ہے جس کا موجودہ نام لاہور ہے۔\n\nآبادیات\nاندازوں کے مطابق، 1700ء میں لاہور کی آبادی 400,000 سے زیادہ تھی، جب یہ مغلیہ سلطنت کا درجہ اول کا شاہی شہر تھا۔ یہ 1931ء تک دوبارہ اس سطح پر نہیں پہنچا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01323", "text": "آبادی\n1998ء کی مردم شماری کے مطابق لاہور کی آبادی 6،318،745 تھی۔ ایک اندازے کے مطابق جنوری 2015ء میں لاہور کی آبادی 10،052،000ہو گی۔\nخانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء کے نتائج نے لاہور کی آبادی کا تعین 11,126,285، کیا جس میں 1998ء سے 4.07 فیصد کی سالانہ شرح نمو ہے۔ صنفی لحاظ سے، آبادی کا 52.35% مرد، 47.64% خواتین اور 0.01% مخنث ہیں۔ \nلاہور آبادی کے لحاظ سے ایک نوجوان شہر ہے، اس کے 40% سے زیادہ باشندوں کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01324", "text": "مذہب\nخانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء کے مطابق، لاہور کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں (94.7%) پر مشتمل ہے، جو تقریباً 1998ء کی مردم شماری کے برابر ہے اور 1941ء میں 60% سے زیادہ ہے۔ دیگر مذاہب میں مسیحی (5.14) شامل ہیں۔ 1998ء میں 5.80 فیصد سے تھوڑا کم اگرچہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق، وہ دیہی آبادی کا تقریباً 9.0 فیصد بنتے ہیں۔) ، پارسی، سکھ، احمدی، بہائی اور ہندو بھی قلیل تعداد میں موجود ہیں۔ یہاں ایک چھوٹی لیکن دیرینہ زرتشتی کمیونٹی بھی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01325", "text": "چونکہ لاہور سکھ مت کے کچھ مقدس مقامات پر مشتمل ہے، یہ سکھوں کے لیے ایک اہم یاتری مقام ہے۔ لاہور کا پہلا چرچ شہنشاہ اکبر کے دور میں سولہویں صدی کے آخر میں تعمیر کیا گیا تھا، لیکن پھر اسے 1632ء میں شاہ جہاں نے مسمار کر دیا تھا۔ لاہور میں رہنے والے ہندوؤں کی چند تعداد کی وجہ سے، شہر میں صرف دو فعال ہندو مندر ہیں شری کرشن مندر اور والمیکی مندر۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01326", "text": "زبانیں\nپنجابی زبان لاہور میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان ہے، خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء کے مطابق 80% لاہور اسے اپنی پہلی زبان کے طور پر شمار کرتے ہیں۔ لاہور دنیا کا سب سے بڑا پنجابی بولنے والا شہر ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01327", "text": "اردو اور انگریزی کو سرکاری زبانوں اور ذریعہ تعلیم اور میڈیا انتظامیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، پنجابی گریجویشن کی سطح پر بھی پڑھائی جاتی ہے اور لاہور کے تھیٹروں، فلموں اور اخبارات میں استعمال ہوتی ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے کئی ممتاز تعلیمی رہنماؤں، محققین اور سماجی مبصرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجابی زبان کو پرائمری سطح پر ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے اور پنجاب صوبائی اسمبلی لاہور میں سرکاری طور پر استعمال کیا جائے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01328", "text": "لاہور کے ٹاؤنز\nلاہور کو انتظامی حوالہ سے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔\nجن میں تحصلیں۔ ٹاؤنز۔ یونین کونسلز اور دیگر انتظامی معاملات شامل ہیں۔\n1976سے پہلے لاہور تین تحصیلوں پر مشتمل تھا\n1۔ تحصیل لاہور\n2۔ تحصیل قصور\n3۔ تحصیل چونیاں\n1976ء میں جب قصور کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو چونیاں قصور کی تحصیل بن گیا\nاب لاہور شہر آبادی کے اعتبار سے پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے\n1۔ تحصیل چھاؤنی\n2۔ تحصیل شہر لاہور\n3۔ تحصیل ماڈل ٹاؤن\n4۔ تحصیل شالامار\n5۔ تحصیل رائے ونڈ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01329", "text": "4۔ تحصیل شالامار\n5۔ تحصیل رائے ونڈ\nاس کے علاوہ لاہور کو مزید انتظامی اعتبار سے دس یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جنھیں ٹاؤنز کہاجاتا ہے\n1۔ راوی ٹاؤن\n2۔ شالامار ٹاؤن\n3۔ عزیز بھٹی ٹاؤن\n4۔ داتا گنج بخش ٹاؤن\n5۔ سمن آباد ٹاؤن\n6۔ گلبرگ ٹاؤن\n7۔ واہگہ ٹاؤن\n8۔ علامہ اقبال ٹاؤن\n9۔ نشتر ٹاؤن\n10۔ چھاؤنی\nان دس ٹاؤنز کو مزید انتظامی سیاسی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جنھیں یونین کونسلز کہا جاتا ہے۔\nلاہور میں 2015کے بعد سے 274یونین کونسلز ہیں\n1۔ راوی ٹاؤن", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01330", "text": "1۔ راوی ٹاؤن\nضلعی حکومت نے جو دس ٹاؤن بنائے ہیں ان میں سب سے پہلا ٹاؤن راوی ٹاؤن ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ ٹاؤن زیادہ بڑا نہیں ہے\nراوی ٹاؤن میں 39 یونین کونسلز ہیں\n1۔ بیگم کوٹ شاہدرہ\n2۔ یوسف پارک\n3۔ کوٹ کمبوہ\n4۔ شمس آباد۔ شاہدرہ\n5۔ چاہ چھبے والا\n6۔ عزیز کالونی شاہدرہ\n7۔ لاجپت\n8۔ فیصل پارک\n9۔ جاوید پارک\n10۔ قیصر ٹاؤن\n11۔ مجید پارک\n12۔ قاضی پارک\n13۔ راوی کلفٹن کالونی\n14۔ لدھے شاہ\n15۔ قلعہ لکشن سنگھ\n16۔ اوقاف کالونی\n17۔ فاروق گنج\n18۔ حنیف پارک\n19۔ صدیق پورہ\n20۔ لاریکس پارک\n21۔ بدر کالونی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01331", "text": "19۔ صدیق پورہ\n20۔ لاریکس پارک\n21۔ بدر کالونی\n22۔ داتا نگر\n23۔ صدیقیہ کالونی\n24۔ بھگت پورہ\n25۔ جھگیاں\n26۔ اکرم پارک\n27۔ فضل پارک\n28۔ جہانگیر پارک\n29۔ عثمان گنج\n30۔ منظور آباد\n31۔ فیض باغ\n32موچی دروازہ\n33۔ اعظم مارکیٹ\n34۔ شاہ عالم مارکیٹ\n35۔ رنگ محل\n36۔ لوہاری دروازہ\n37۔ بھاٹی دروازہ\n38۔ شاہی قلعہ\n39۔ سوتر منڈی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01332", "text": "نقل و حمل\nلاہور پاکستان کے ان دو تین شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ٹرانسپورٹ کی سہولیات باآسانی میسر ہیں کوئی بھی شخص 24 گھنٹے ٹرانسپورٹ کا انتظام آسانی سے کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں اس طرح کی ٹرانسپورٹ سہولیات نہیں پائے جاتے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01333", "text": "لاہور میں نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کے بیشتر ذریعے موجود ہیں جن میں بس، رکشہ اور ٹیکسی شامل ہیں۔ تقریباََ 75 فیصد شہریوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس اپنی گاڑیاں موجود ہیں۔ لاہور میں زیادہ تر سڑکوں کا مسئلہ بھی نہیں ہوتا اور ٹریفک کے لیے بھی انتظامات موجود ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01334", "text": "لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کو 1984ء میں قائم کیا گیا تاکہ لوگوں کی ٹریفک مسائل کو حل کیا جاسکے۔ 2013ء میں لاہور میٹرو بس کا نظام بھی متعارف کرایا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو بہت سے سہولیات فراہم کیے گئے اور جس سے سفر میں بہت آسانی پیدا ہوئی۔ لاہور میں آنے والے سیاحوں بھی اس سے مستفید ہوئے۔ میٹروبس کا پہلا ٹریک 27 کلومیٹر طویل ہے اور یہ جاگوماتا سے شروع ہوکر شاہ درہ پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔ عموماََ یہ 27 کلومیٹر کا سفر تقریباََ 55 منٹ میں طے کیا جاتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01335", "text": "سڑکیں\nگرینڈ ٹرنک روڈ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01336", "text": "معروف طویل سڑک گرینڈ ٹرنک روڈ جو مشرق میں چٹاگانگ (بنگلہ دیش) سے شروع ہوکر مغرب میں کابل (افغانستان) پر ختم ہوتا ہے وہ بھی لاہور سے گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب موٹروے بھی بنایا گیا ہے جو لاہور کو پاکستان کے تمام بڑے شہروں (بشمول پشاور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، اسلام آباد) وغیرہ) سے ملاتا ہے۔ اسی لاہور سے سیالکوٹ تک ایک اور موٹروے زیر تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں مختلف انڈر پاس بنائے گئے ہیں تاکہ ٹریفک جام کے مسائل نہ ہو اور مسافروں کو سفر میں آسانی ہو", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01337", "text": "۔ ایک سرکاری ذرائع پاکستانی شہروں میں سب سے زیادہ انڈر پاس لاہور میں موجود ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01338", "text": "ایم 2 موٹروے\nایم 2 موٹروے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک موٹروے ہے۔ یہ 367 کلومیٹر طویل ہے اور یہ لاہور سے شروع ہوتی ہے۔ پھر یہ شیخوپورہ، پنڈی بھٹیاں، کوٹ مومن، سالم، لِلہ، کلر کہار، بلکسار اور چکری سے گزرنے کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے باہر ختم ہو جاتی ہے۔\n\nلاہور رنگ روڈ\nرنگ روڈ لاہور کے گرد ایک 85 کلومیٹر طویل 6 رویہ تیز رفتار محدود یا کنٹرول رسائی موٹروے ہے۔ یہ ایم 2 موٹروے اور این 5 نیشنل ہائی وے سے مربوط ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01339", "text": "لاہور میٹرو\nلاہور میٹرو یا لاہور ریپڈ ماس ٹرانزٹ سسٹم ایک ہلکی ریل نقل و حمل کا لاہور کے لیے نظام تھا۔ نظام پہلے 1991ء میں تجویز کیا گیا اور 1993ء میں اسے اپ ڈیٹ کیا گیا۔ منصوبے بعد ازاں 2005ء میں ترک کر دیا کیا۔ 2012ء میں حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میٹرو منصوبہ کو ترک کر دیا گیا اور اس کی جگہ لاہور میٹرو بس جس میں نسبتاً کم سومایہ کاری درکار تھی اپنایا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01340", "text": "2015ء میں حکومت پنجاب نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چینی معاونت سے 1.6 ارب ڈالر کا منصوبہ کے طور پر لاہور میٹرو کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اورنج لائن (لاہور میٹرو) 27.1 کلومیٹر (16.8 میل) طویل ہو گی جس میں اس کا 25.4 کلومیٹر (15.8 میل) حصہ مرتفع ہو گا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01341", "text": "اورنج لائن", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01342", "text": "اورنج لائن لاہور میں ایک خودکار عاجلانہ نقل و حمل کا نظام ہے۔ اورنج لائن لاہور میٹرو کے لیے مجوزہ تین مجوزہ ریل لائنوں میں سے پہلی ہے۔ 2020ء تک یہ شہر کی بنیادی میٹرو ریل لائن ہے۔ یہ لائن 27.1 کلومیٹر (16.8 میل) تک پھیلی ہوئی ہے، جس میں 25.4 کلومیٹر (15.8 میل) بلندی اور 1.72 کلومیٹر (1.1 میل) زیر زمین ہے، اور اس کی لاگت 251.06 بلین پاکستانی روپیہ (1.6 بلین امریکی ڈالر) تھی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01343", "text": "۔ یہ لائن 26 سب وے اسٹیشنوں (علی ٹاؤن اسٹیشن سے ڈیرہ گجراں اسٹیشن) پر مشتمل ہے اور اسے روزانہ 250,000 مسافروں کو لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سی آر آر سی ژوژو لوکوموٹیو نے 16 مئی 2017ء کو میٹرو کے لیے 27 میں سے پہلی ٹرینیں چلائیں۔ ٹرین کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ (50 میل فی گھنٹہ) ہے۔ بہتر پائیداری کے لیے، اس کی بوگیاں گرمی کے خلاف مزاحم ہیں، غیر مستحکم وولٹیج کا انتظام کر سکتی ہیں اور توانائی بچانے والی ایئر کنڈیشننگ کی خصوصیت رکھتی ہیں", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01344", "text": "۔ کامیاب ابتدائی ٹیسٹ ٹرائلز 2018ء کے وسط میں چلائے گئے، اور تجارتی آپریشنز 25 اکتوبر 2020ء کو شروع ہوئے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01345", "text": "بلیو لائن\nبلیو لائن چو برجی سے کالج روڈ ٹاؤن شپ تک 24 کلومیٹر (15 میل) کی مجوزہ لائن ہے۔ راستے میں یہ مزنگ چونگی، شادمان چوک، جیل روڈ، میاں بلیوارڈ گلبرگ، میاں بلیوارڈ گارڈن ٹاؤن اور فیصل ٹاؤن جیسے مقامات کو آپس میں جوڑے گا۔\n\nپرپل لائن\nپرپل لائن بھاٹی چوک سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک 19 کلومیٹر (12 میل) کی مجوزہ لائن ہے۔ راستے میں، یہ برانڈریتھ روڈ، ریلوے اسٹیشن، علامہ اقبال روڈ، دھرم پورہ اور غازی روڈ جیسے مقامات کو جوڑے گا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01346", "text": "بس\nشہر کے اندر\nلاہور میٹرو بس\nلاہور میٹرو بس پاکستان کے شہر لاہور میں تیز نقل و حمل کا ایک نظام ہے۔ ترکی فرم اولاسم اور نیسپاک منصوبے کے مشیر ہیں۔ میٹرو بس سروس 27 کلومیٹر طویل سڑک پر مشتمل ہے، جو گجومتہ سے شاہدرہ تک ہے۔ اس سے 27 کلومیٹر کا سفر ایک گھنٹے میں سمٹ آیا ہے۔۔ اس پر 27 بس اسٹیشن ہیں۔\n\nلاہور ٹرانسپورٹ کمپنی\nجسے عام طور اس کے مخفف ایل ٹی سی کے نام سے جانا جاتا ہے لاہور، پنجاب، پاکستان میں ایک منظم بس نظام ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01347", "text": "شہروں کے مابین\nڈائیوو ایکسپریس\nڈائیوو پاکستان ایکسپریس بس سروس لمیٹڈ یا ڈائیوو ایکسپریس شہروں کے مابین مسافر بس خدمت ہے۔ یہ پاکستان میں 30 سے زیادہ مقامات کی خدمت فراہم کرتی ہے اور اس کا صدر دفتر لاہور میں واقع ہے۔ یہ کوریائی کمپنی ڈائیوو کے زیر انتظام ہے۔\n\nنیازی ایکسپریس\nنیازی ایکسپریس شہروں کے مابین مسافر بس خدمت ہے۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں واقع ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01348", "text": "لاری اڈا\nلاہور کا لاری اڈا مینار پاکستان کے قریب واقع ہے۔ یہاں سے پنجاب کے تقریباً تمام شہروں اور اس کے علاوہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر شہروں کے لیے انٹرسٹی بسوں کے سفر کی سہولت موجود ہے۔ یہ برطانوی راج میں قائم ہوا۔ فی اوقت یہ بادامی باغ میں واقع ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01349", "text": "لاہور ڈرائی پورٹ\nلاہور ڈرائی پورٹ لاہور کی پہلی ڈرائی پورٹ تھی جو مغلپورہ میں قائم کی گئی۔ یہ 1973ء سے پاکستان ریلویز کے زیر انتظام تھی۔ 2008ء میں لاہور سے 48 کلومیٹر جنوب میں پریم نگر میں ایک نجی ڈرائی پورٹ کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔\n\nریلوے\nلاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن\nلاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن پاکستان کے صوبہ پنجاب، لاہور میں واقع ہے، جو برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا۔ یہ جنوبی ایشیا میں برطانوی طرز تعمیر کی ایک مثال ہے جو برطانوی راج کے دور میں تعمیر کیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01350", "text": "لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن\nلاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن لاہور کنٹونمنٹ، لاہور، پاکستان میں واقع ہے۔\nاس کے علاوہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن مندرجہ ذیل ہیں:\n\nبادامی باغ ریلوے اسٹیشن\nہربنس پورہ ریلوے اسٹیشن\nجلو ریلوے اسٹیشن\nکوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن\nمغل پورہ جنکشن ریلوے اسٹیشن\nوالٹن ریلوے اسٹیشن", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01351", "text": "پاکستان ریلویز صدر دفتر\nپاکستان ریلویز کا صدر دفتر لاہور میں ہے اور یہ وزارت ریلوے کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمد و رفت کی سستی تیز رفتار اور آرام دہ سہولیات فراہم کرتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01352", "text": "فضائی\nعلامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01353", "text": "لاہور میں پہلے ایک ہوائی اڈا موجود تھا لیکن وہ مسافروں کے لیے ناکافی تھا، لوگ زیادہ ہوتے اور ایئرپورت کا حجم اتنا نہ تھا اس لیے حکومتِ وقت نے لاہور میں 2003ء میں علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا تعمیر کیا، نئے ہوائی اڈے کو جدید طرز پر بنایا گیا اور جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ ایئرپورٹ کا نام پاکستان کے قومی شاعر جناب علامہ محمد اقبال کے نام پر رکھا گیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01354", "text": "۔ علامہ اقبال ایئرپورٹ لوکل اور بین الاقوامی دونوں سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس سے پرانا ہوائی اڈا حج و عمرے کرنے والوں کے لیے مختص کیا گیا ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں افراد حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01355", "text": "علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا، لاہور کو دنیا بھر کے بہت سے شہروں سے مسافروں اور کارگو پروازوں کے ذریعے جوڑتا ہے۔ مندرجہ ذیل ہوائی اڈے، علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا، لاہور سے براہ راست مربوط ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01356", "text": "راس الخیمہ بین الاقوامی ہوائی اڈا، گوانگژو بایئون بین الاقوامی ہوائی اڈا (آغاز 28 اگست 2018ء)، ارومچی دیوپو بین الاقوامی ہوائی اڈا، ابوظبی بین الاقوامی ہوائی اڈا، بارسلونا-ایل پرات ہوائی اڈا، بیجنگ دار الحکومت بین الاقوامی ہوائی اڈا، کوپن ہیگن ہوائی اڈا، شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈا، ڈیرہ غازی خان بین الاقوامی ہوائی اڈا، حمد بین الاقوامی ہوائی اڈا، دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈا، اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈا، شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا، جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01357", "text": "، جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا، کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ہیتھرو ایئرپورٹ، مانچسٹر ایئرپورٹ، شہزادہ محمد بن عبدالعزیز ہوائی اڈا، میلان مالپینسا ہوائی اڈا، ملتان بین الاقوامی ہوائی اڈا، مسقط بین الاقوامی ہوائی اڈا، اوسلو ہوائی اڈا، گاردرمون، شارل دے گول ہوائی اڈا، باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا، کوئٹہ بین الاقوامی ہوائی اڈا، شیخ زاید بین الاقوامی ہوائی اڈا، شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا، صلالہ بین الاقوامی ہوائی اڈا، ناریتا بین الاقوامی ہوائی اڈا، ٹورانٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01358", "text": "، ٹورانٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شہید ہاشمی نژاد مشہد بین الاقوامی ہوائی اڈا، سوورن بھومی بین الاقوامی ہوائی اڈا اور اسلام کریموف تاشقند بین الاقوامی ہوائی اڈا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01359", "text": "والٹن ہوائی اڈا\nوالٹن ہوائی اڈا ماڈل ٹاؤن میں واقع تھا۔ یہ ہوائی اڈا لاہور، پنجاب، پاکستان سے 10 کلومیٹر (6 میل) کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہ ہوائی اڈا ہوابازی کے لیے استعمال ہوتا تھا اور کئی فلائینگ کلبوں کے زیر استعمال تھا، تاہم اب اسے مسمار کر کے لاہور کا مرکزی کاروباری ضلع بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ والٹن ہوائی اڈا کو اسمارٹ سٹی لاہور کے قریب منتقل کر دیا گیا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01360", "text": "لاہور میں فضائی کمپنیوں کے دفاتر\nفن تعمیر\nلاہور میں مغلیہ سلطنت، سکھ سلطنت اور برطانوی راج کے دور کے متعدد یادگاریں موجود ہیں۔ اندرون لاہور میں مغلیہ طرز تعمیر کا گہرا اثر نظر آتا ہے جس میں بادشاہی مسجد، قلعہ لاہور سب سے زیادہ اہم ہیں۔ مغلیہ دور کی دیگر یادگاروں میں شالامار باغ، مقبرہ جہانگیر اور ملکہ نورجہاں انتہائی اہم ہیں۔\nبرطانوی دور کی عمارات میں لاہور عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس، جامعہ پنجاب وکٹورین فن تعمیر اور مسلم فن تعمیر کا حسین امتزاج ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01361", "text": "قیام پاکستان کے بعد لاہور پاکستان کے صوبہ پنجاب کا دار الحکومت بنا اور قیام پاکستان کے بعد کئی عمارتیں تعمیر ہوئی جو جدید فن تعمیر اور اسلامی فن تعمیر کا امتزاج ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01362", "text": "سکھ فن تعمیر", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01363", "text": "رنجیت سنگھ کی سمادھی سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مقبرہ ہے۔ یہ لاہور، پاکستان میں قلعہ لاہور اور بادشاہی مسجد کے قریب واقع ہے۔ اس کی تعمیر ان کے بیٹے، کھڑک سنگھ نے اس جگہ پر شروع کی تھی جہاں ان کی تدفین کی گئی تھی اور اسے ان کے سب سے چھوٹے بیٹے، دلیپ سنگھ نے 1848ء میں مکمل کیا تھا۔ یہ مقبرہ سکھ فن تعمیر کی مثال دیتا ہے، یہ سنہری بانسری والے گنبد اورچوٹی کے گرد ایک آرائشی بیلسٹریڈ ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01364", "text": "۔ رنجیت سنگھ کی راکھ کمل کی شکل میں سنگ مرمر کے کلش میں رکھی گئی ہے، جسے مقبرے کے بیچ میں پیٹرا دورا کے ساتھ جڑے ہوئے سنگ مرمر کے منڈپ کے نیچے پناہ دی گئی ہے۔ مرکزی مقبرے کے مغرب میں دو چھوٹی یادگاریں رنجیت سنگھ کے بیٹے کھڑک سنگھ اور پوتے نونہال سنگھ اور ان کی بیویوں کی یادگار ہیں۔ مذہبی ڈھانچہ گرودوارہ ہے۔ گردوارہ نہ صرف عقیدے کی سب سے اہم عمارت ہے، جیسا کہ اسلامی عقیدے کی مسجد اور ہندو مذہب کے مندر، بلکہ یہ اپنے اسلامی اور ہندو ہم منصبوں کی طرح، سکھ فن تعمیر کا کلیدی نشان بھی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01365", "text": "مغل فن تعمیر\nمغلوں نے غیر مسلموں کی اکثریت پر حکومت کی۔ مغل حکمرانوں نے مقامی مذاہب اور روایات کو برداشت کیا اور ان کا احترام کیا۔ انھیں مغل خاندان کے فنون، ادب، موسیقی اور فن تعمیر میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ مغلوں کے 300 سالہ دور حکومت میں مقامی ثقافتوں کے تئیں ان کا رویہ مختلف تھا۔ اکبر کی آمد کے ساتھ، ہندو اور مسلم طرزوں کا امتزاج ہوا اور ان کی مختلف تعمیراتی اختراعات میں تصویر کشی کی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01366", "text": "مغل فن تعمیر ہندوستانی، اسلامی، تیموری اور یہاں تک کہ یورپی طرز کی پیداوار تھا۔ مغل فنکاروں نے ان مستعار شکلوں کو علامت اور انداز کے لحاظ سے استعمال کیا تاکہ وہ اپنے مخصوص طرز تعمیر میں فٹ بیٹھ سکیں۔ ابوالفضل، درباری تاریخ ساز، کے مطابق، مغل قلعے اور محلات شاہی رہائش گاہوں سے کہیں زیادہ تھے، وہ طاقت اور دولت کے نشانات کے طور پر کام کرتے تھے، جو اپنے شہنشاہ کے درباروں میں حاضر ہونے والے مقامی راجاؤں کو حیران کرنے کے لیے بنائے گئے تھے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01367", "text": "۔ مغل شہنشاہوں نے اکثر نئی عمارتوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے پرانی تعمیرات کو منہدم کر دیا۔ اگرچہ انھیں اپنے ورثے پر فخر تھا، لیکن ہر ایک نے عدالت کو اپنے انداز میں ڈھالنے اور اپنے دور کو ایک منفرد کردار دینے کی کوشش کی۔ قلعوں اور محلات کے علاوہ مغل عمارات کی دو دیگر اہم ترین اقسام میں مساجد اور مقبرے تھے۔ دونوں کو مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01368", "text": "عظیم الشان اسلامی مقبرے مغلوں کے زمانے میں مشہور ہو چکے تھے۔ ان مقبروں میں عام طور پر بغیر دروازوں کے داخلی راستے ہوتے تھے، تاکہ اندرونی حصہ باہر کی ہوا کے لیے کھلا رہے اور یہ تجویز کیا گیا تھا کہ یہ انتظام قانون کے حقیقی معنی سے بچنے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ فنکارانہ صلاحیتوں کو مذہبی روایت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اس طرح کی کوششیں اسلام کو فنکارانہ خواہشات سے عاری کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ تعمیراتی نقطہ نظر سے، لہٰذا، لاہور بنیادی طور پر ایک مغل شہر ہے، اس کا سنہرا دور مغلیہ دور حکومت کا دور ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01369", "text": "۔ شہنشاہوں نے لاہور شہر میں بہت کچھ شامل کر کے اسے ایک خوبصورت اور تہذیب یافتہ شہر بنا دیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01370", "text": "برطانوی فن تعمیر", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01371", "text": "برطانوی حکمرانی (1849–1947) کے تحت، لاہور میں نوآبادیاتی فن تعمیر نے مغل، گوتھک اور وکٹورین طرز کو یکجا کیا۔ برطانوی دور حکومت میں سر گنگا رام نے جنرل پوسٹ آفس، لاہور میوزیم، ایچی سن کالج، میواسکول آف آرٹس (اب این سی اے)، گنگا رام ہسپتال، لیڈی میکلاگن گرلز ہائیاسکول، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری، کو ڈیزائن اور تعمیر کیا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01372", "text": "۔ میو ہسپتال کا البرٹ وکٹر ونگ، سر گنگا رام ہائیاسکول (اب لاہور کالج برائے خواتین) ہیلی کالج آف کامرس، راوی روڈ ہاؤس برائے معذور افراد، شاہراہ قائد اعظم پر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ اور لیڈی مینارڈ انڈسٹریلاسکول تعمیر کیے۔ اس نے ماڈل ٹاؤن بھی تعمیر کیا، جو ایک مضافاتی علاقہ ہے جو حال ہی میں لاہور کی بڑھتی ہوئی سماجی اقتصادی اشرافیہ کے لیے ثقافتی مرکز کے طور پر ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01373", "text": "لاہور میں جنرل پوسٹ آفس اور وائی ایم سی اے کی عمارتوں نے ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کی یاد منائی، یہ واقعہ پورے برٹش انڈیا میں کلاک ٹاورز اور یادگاروں کی تعمیر ہے۔ دیگر اہم برطانوی عمارتوں میں ہائی کورٹ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، میوزیم، سینٹ انتھونی کالج، نیشنل کالج آف آرٹس، منٹگمری ہال، ٹولنٹن مارکیٹ، پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) اور صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔ آج بھی مال روڈ برطانوی راج کے دوران میں تعمیر کی گئی گوتھک اور وکٹورین طرز کی متعدد عمارتوں کو برقرار رکھتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01374", "text": "دی مال کے ایک سرے پر یونیورسٹی ہے، جو پاکستان کی سب سے باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ انگریزوں نے 1924ء میں شہر کا پہلا گھڑ دوڑ کلب شروع کیا، اس روایت کا آغاز آج بھی لاہور ریس کلب میں جاری ہے۔ دیگر مشہور عمارتوں میں پنجاب اسمبلی ہال، لاہور ہائی کورٹ، جنرل پوسٹ آفس (جی پی او)، لاہور میوزیم، پنجاب یونیورسٹی، ٹولنٹن مارکیٹ اور لاہور ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01375", "text": "شہر کے چند اہم مقامات\nپارک اور باغات", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01376", "text": "لاہور شروع ہی سے اپنے خوبصورت باغات اور پارکوں کے لیے مشہور رہا ہے۔ راوی کے کنارے پر واقع اس کے مثالی مقام نے حکمرانوں اور حسن سے محبت کرنے والوں کو اپنے جمالیاتی ذائقے کو پورا کرنے کے لیے باغات کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مغل دور میں، زیادہ تر باغات کی منصوبہ بندی حکمرانوں یا سنتوں کے مقبروں کے ارد گرد کی گئی تھی یا شاہی درباریوں نے رکھی تھی۔ باغات کو بعض صورتوں میں فارم ہاؤسز یا موسم گرما کے سیرگاہوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01377", "text": "۔ بہت سے شہنشاہ ان باغات میں ڈیرے ڈالتے تھے جب وہ لاہور جاتے تھے یا جب وہ آمدورفت میں ہوتے تھے۔ ہمیں یقین نہیں ہے کہ آیا یہ باغات بھی اس وقت عوام کے زیر استعمال تھے یا نہیں۔ مغل دور میں لگائے گئے کچھ باغات جن میں دلکش باغ، شالیمار باغ، چوبزری باغ، حضوری باغ اور گلابی باغ شامل ہیں-", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01378", "text": "لارنس گارڈن (باغ جناح) 1862ء میں قائم کیا گیا تھا اور اصل میں اس کا نام سر جان لارنس کے نام پر رکھا گیا تھا، جو انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کے برطانوی وائسرائے تھے۔ سرکلر گارڈن، جو تین اطراف سے دیوار والے شہر کو گھیرے ہوئے ہے، 1892ء میں قائم کیا گیا تھا۔ بادشاہی مسجد سے متصل سابقہ پریڈ گراؤنڈ کا نام بھی انگریزوں کے دور میں منٹو پارک (اقبال پارک) رکھ دیا گیا، جس کی بحالی کے بعد اسے اقبال پارک کے نام سے دوبارہ قائم کیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01379", "text": "اسلامی مراکز\nلاہور کی مسجدیں، مزارات، مدرسے و اسلامی علوم کی درسگاہیں مشہور ہیں۔ ابتداسے ہی لاہور علم اور عمل کا مرکز رہا ہے۔ مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی بڑے بڑے علما اور مشایخ نے لاہور میں تبلیغ دین کے لیے سفر کیے۔ سید اسسرور بخاری، مثلاً سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا مزار داتا دربار بہت مشہور ہے۔\nاسلامی علوم کی درسگاہیں و جامعات بھی موجود ہیں مثلاً:", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01380", "text": "بادشاہی مسجد لاہور\nمرکزسراجیہ۔\nجامعہ اشرفیہ\nجامعہ نظامیہ\nمنہاج یونیورسٹی\nجامعیہ مدنیہ (کریم پارک)\nجامعہ ہجویریہ: داتا دربار کے ساتھ منسلک ایک مسجد و جامعہ\nجامعۃ المنتظر: اہل تشیع کی مرکزی مسجد و جامعہ\nجامعہ اسلامیہ رضویہ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01381", "text": "لاہور کے دروازے\nاندرون لاہور کو پرانا لاہور بھی کہا جاتا ہے برصغیر میں مغلیہ دور حکومت کے دوران میں دشمن کے حملوں سے بچاؤ اور شہر لاہور کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد دیوار تعمیر کر دی گئی تھی۔ اس دیوار میں 13 دروازے بنائے گئے۔ بسا اوقات موری دروازہ کو دروازہ تسلیم نہیں کیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ لاہور کے دراصل 12 دروازے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01382", "text": "ان کے علاوہ چٹا دروازہ (لغوی معنی سفید دروازہ) اندرون لاہور، پاکستان میں وزیر خان چوک پو ایک دروازہ ہے جو 1650ء میں تعمیر ہوا۔ یہ دروازہ لاہور کا اصل دہلی دروازہ اور شہر کی مرکزی داخلی دروازہ تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01383", "text": "تاریخی عمارات\nمذہبی\nمساجد\nبادشاہی مسجد\nدائی انگہ مسجد\nموتی مسجد\nصالح کمبوہ مسجد\nسردار خان مسجد\nبیگم پورہ مسجد\nدائی لاڈو مسجد\nنواب زکریا خان مسجد\nصالح سندھی مسجد\nسنہری مسجد\nوزیر خان مسجد\nقصاب خانہ مسجد\nمریم زمانی بیگم مسجد\nحامد قاری مسجد\nمحراب والی مسجد\nمسجد شہید گنج\nنیویں مسجد\nاونچی مسجد\nمسجد شب بھر\nمسجد ملا جیون\nمسجد بوکن خان\nمسجد پٹولیاں\nمسجد خراسیاں\n\nگرجا گھر\nسینٹ انتھونی چرچ\nکیتیڈرل چرچ\nسیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01384", "text": "سکھ مت\nسمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ\nگردوارہ ڈیرہ صاحب\nگردوارہ کانھ کاچھ\nگردوارہ شہید گنج\nجنم استان گرو رام داس\nشہید گنج گوردوارہ\nبھائی واسطی رام سمادھی\nناکائن کور، چند کور صاحب کور کی سمادھی\nبھائی تارو سنگھ سمادھی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01385", "text": "فری میسن\nمیسونک معبد لاہور، پاکستان کے چیئرنگ کراس کے قریب واقع ہے۔ یہ معبد پرنس البرٹ وکٹر لاج 2307 ای سی اور ہوپ اینڈ پرسیویرینس لاج نمبر 782 کی سابقہ قیام گاہ ہے؛ جو یونائیٹیڈ گرین لاج آف انگلینڈ سے منظور شدہ تھے۔\nجب سے اس وقت کے وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں پاکستان میں فری میسنری پر پابندی عائد کی تو اس کے بعد سے اس عمارت کو میسونک مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01386", "text": "مندر", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01387", "text": "کنہیالال لکھتا ہے کہ پرانی عمارات کے مندر اور ہندوءوں کی عبادت گاہیں بہت ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ چھوٹے چھوٹے شوالے و ٹھاکر دوارے و دیوی دوارے بے شمار ہیس۔ ان میں سے و جدید دونوں قسم کے ہیں۔ مگر سکھی عہد میں پرانی عمارات کے مندر بھی ازسر نو نباءے گءے تھے جن کی عمارات تازہ نظرآتی ہیں۔ بعض مندر جو اُن سے نامی گرامی ہیں اورخاص و عام وہاں جا کر پوجا کرتے ہیں اس قسم میں لکہے جاتے ہیں۔ مگریاد رہے کہ یہ کنہیالال نے 1882ء میں اپنی کتاب تاریخ لاہور میں لکھا تھا۔ اور آج بہت سہ مقامات ختم ہو چکے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01388", "text": "شوالہ باواٹھاکرگر\nشوالہ راجا دینا ناتھ راجا کلانور\nشوالہ بخشی بھگت رام\nمکان دھرم سالہ بابا خدا سنگھ\nٹھاکر دوارہ راجا تیجا سنگھ\nشوالے گلاب رائے جمعدار\nکرشن مندر\nوالمیکی مندر\n\nمزارات / مقبرے\nمزارات اولیا\nلاہور میں اولیا اکرام کے بے شمار مزارات ہیں۔\n\nعلی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش\nمیراں حسین زنجانی\nالشیخ طاہر بندگی مجددی نقشبندی\nشیخ سید طاہر علا الدین بغدادی\nعلامہ اقبال قادری\nآخوند زادہ مولانا پیر سیف الرحمن المبارک\nابو انجم احمد ایاز", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01389", "text": "حویلیاں\nحویلی نو نہال سنگھ\nنثار حویلی\nحویلی بارود خانہ\nسلمان سرہندی کی حویلی\nدینا ناتھ کی حویلی\nمبارک حویلی\nلال حویلی\nمغل حویلی\nحویلی سر واجد علی شاہ\nحویلی میاں خان\nحویلی راجہ دھیان سنگھ\n\nعجائب گھر\nلاہور عجائب گھر\nقومی عجائب گھر برائے سائنس و ٹیکنالوجی\nفقیر خانہ\nجاوید منزل\nشاکر علی عجائب گھر\nچغتائی عجائب گھر", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01390", "text": "دیگر متفرق عمارتیں و مقامات\nگورنر ہاؤس\nپنجاب صوبائی اسمبلی\nجنرل پوسٹ آفس\nلاہور ہائی کورٹ\nقائداعظم لائبریری\nدیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری\nپنجاب پبلک لائبریری\nشاہی حمام\nواپڈا ہاؤس\nچیرنگ کراس\nپاک ٹی ہاؤس\nالحمرا آرٹس کونسل\nزمزمہ\nٹولنٹن مارکیٹ\nچیرنگ کراس ( فیصل چوک)\nاسلامی سمٹ مینار\nباوا ڈنگہ سنگھ بلڈنگ\nشاہ دین بلڈنگ\nمیسونک معبد\n\nقبرستان\nلاہور کے ہر علاقے میں مقامی قبرستان موجود ہیں، تاہم مندرجہ ذیل قبرستان خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔\n\nمیانی صاحب قبرستان\nگورا قبرستان\nمومن پورہ قبرستان\n\nتفریحی مقامات\nتاریخی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01391", "text": "تفریحی مقامات\nتاریخی\n\nجدید", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01392", "text": "معیشت", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01393", "text": "2008ء تک مساوی قوت خرید کے ذریعے شہر کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 40 بلین امریکی ڈالر تھا جس کی متوقع اوسط شرح نمو 5.6 فیصد تھی۔ یہ پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کے برابر ہے، لاہور (جس کی نصف آبادی ہے) ایک ایسی معیشت کو فروغ دے رہا ہے جو کراچی کے حجم کا 51 فیصد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور قومی معیشت میں 11.5% اور پنجاب کی صوبائی معیشت میں 19% حصہ ڈالتا ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01394", "text": "۔ مجموعی طور پر، پنجاب کی معیشت 115 بلین امریکی ڈالر ہے، یہ پہلا (اور آج تک، صرف) پاکستانی سب ڈویژن ہے جس کی معیشت 100 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے، کراچی کی 5.5% کے مقابلے میں 5.6% سالانہ کی قدرے زیادہ شرح نمو کے ساتھ، جو 144 ویں نمبر پر ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01395", "text": "تقریباً 9,000 صنعتی اکائیوں کے ساتھ ایک بڑا صنعتی مجموعہ، لاہور حالیہ دہائیوں میں مینوفیکچرنگ سے سروس انڈسٹریز کی طرف منتقل ہوا ہے۔ اس کی تقریباً 42% افرادی قوت فنانس، بینکنگ، رئیل اسٹیٹ، کمیونٹی، ثقافتی اور سماجی خدمات میں کام کرتی ہے۔ یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا سافٹ ویئر اور ہارڈویئر بنانے کا مرکز ہے، اور کمپیوٹر اسمبلی کی بڑھتی ہوئی صنعت کی میزبانی کرتا ہے۔ شہر ہمیشہ اشاعتوں کا مرکز رہا ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01396", "text": "۔ شہر ہمیشہ اشاعتوں کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان کی 80% کتابیں لاہور میں شائع ہوتی ہیں اور یہ پاکستان میں ادبی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01397", "text": "ایکسپو سینٹر لاہور شہر کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور اس کا افتتاح 22 مئی 2010ء کو کیا گیا تھا۔ ڈیفنس رایا گالف ریزورٹ، جو زیر تعمیر ہے، پاکستان اور ایشیا کا سب سے بڑا گالف کورس ہوگا۔ یہ منصوبہ ڈی ایچ اے لاہور اور بی آر ڈی بی ملائیشیا کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ شہر میں اس طرح کے بڑے منصوبوں کی تیز رفتار ترقی سے ملک کی معیشت کو فروغ دینے کی امید ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01398", "text": "۔ لاہور کے مرکزی کاروباری ضلع کی فیروز پور روڈ میں کیرے انٹرنیشنل ہوٹل اور ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک سمیت بلند و بالا عمارتیں اور فلک بوس عمارتیں ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01399", "text": "لاہور سٹاک ایکسچینج\nلاہور سٹاک ایکسچینج (گارنٹی) لمیٹڈ اکتوبر 1970ء کو سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آرڈینینس 1969 کے تحت وجود میں آئی۔ آغاز میں اس کے ارکان کی تعداد 63 تھی جو اب بڑھ کر 650 ہو چکی ہے۔ لاہور سٹاک ایکسچینج نے فیصل آباد اور سیالکوٹ میں تجارت کے لیے اپنی برانچیں کھول رکھی ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01400", "text": "اہم تجارتی مراکز\nمال روڈ لاہور\nانارکلی بازار\nایم ایم عالم روڈ\nلبرٹی مارکٹ\nاکبری منڈی\nنولکھا بازار\nاچھرہ بازار\nشاہ عالمی بازار\nفورٹریس اسٹیڈیم\nایمپوریم مال\nپیکیجز مال\nمال آف لاہور\nہال روڈ\nاردو بازار\nفورٹریس اسکوائر\nمون مارکیٹ\nپیکیجز مال", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01401", "text": "کھیل\nلاہور کامیابی سے بہت سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے جن میں 1990ء کا ہاکی عالمی کپ اور 1996ء کا کرکٹ عالمی کپ کا فائنل شامل ہیں۔ اکثر بڑے کھیلوں کے ہیڈ کوارٹر مثلاً کرکٹ، ہاکی، رگبی، فٹ بال وغیرہ لاہور میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا صدر دفتر بھی لاہور میں واقع ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01402", "text": "لاہور میراتھن\nلاہور میراتھن ایک سالانہ سڑک میراتھن ہے جو 2005ء کے بعد لاہور، پاکستان میں منعقد ہونا شروع ہوئی۔ میراتھن کی اصل طوالت 42،195 کلومیٹر ہے تاہم اس میں دیگر دوڑیں جن میں 10 کلومیٹر ریس، 5 کلومیٹر \"فیمیلی فن رن\" اور جسمانی اور بصری خرابی والے لوگوں کے لیے 3 کلومیٹر ریس بھی شامل ہوتی ہے۔ 2007ء میں تقریباً 26،000 لوگوں نے لاہور میراتھن میں حصہ لیا، جس سے اس کا شمار دنیا کے بڑے میراتھن میں کیا جاتا ہے۔\n\nکھیلوں کے اہم میدان\nلاہور میں واقع کھیلوں کے اہم میدانوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01403", "text": "قذافی اسٹیڈیم\nقذافی اسٹیڈیم لاہور، پاکستان میں واقع سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ یہاں کرکٹ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اور لاہور کی مقامی کرکٹ ٹیمیں کھیلتی ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01404", "text": "یہ اسٹیڈیم 1959ء میں تعمیر ہوا اور اس کا ڈیزائن نصر الدین مراد خان نے مکمل کیا۔ اس میدان پر پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین سنہ انیس سو انسٹھ میں اکیس سے چھبیس نومبر کے دوران میں کھیلا گیا۔ اور اس میں 60 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جس کی بدولت یہ ملک کا سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ اس کا نام لیبیا کے صدر معمر قذافی کے نام پر رکھا گبا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01405", "text": "لاہور جمخانہ کلب\nلاہور جمخانہ کلب لاہور، پاکستان میں ایک سماجی اور کھیلوں کا کلب ہے۔ یہ مال روڈ لاہور پر واقع ہے۔ یہ 1 مئی، 1878ء کو قائم ہوا۔ اس کا رقبہ 117،03 ایکڑ (0.4736 کلومیٹر) ہے۔\n\nنیشنل ہاکی اسٹیڈیم\nنیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور، پاکستان میں ایک ہاکی اسٹیڈیم ہے۔ اسٹیڈیم میں 45،000 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01406", "text": "فورٹریس اسٹیڈیم\nفورٹریس اسٹیڈیم جسے مقامی طور پر فورٹریس بھی کہا جاتا ہے ایک کھلی جگہ پر مقبول خریداری مراکز، ریستوران، کیفے اور تفریحی پارک اور ایک اسپورٹس اسٹیڈیم پر مشتمل ہے۔ یہ لاہور کنٹونمنٹ، لاہور میں واقع ہے۔ فورٹریس اسٹیڈیم شہر کے سب سے زیادہ مصروف تجارتی علاقوں میں سے ایک ہے۔ اسٹیڈیم لاہور کے مشہور تہوار قومی میلہ موشیاں (نیشنل ہارس اینڈ کیٹل شو) کا مقام بھی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01407", "text": "ریس کورس\nجیلانی پارک سے ملحقہ ریس کورس گھڑ ڈور اور پولو کا میدان ہے۔ جیلانی پارک جسے عام طور پر ریس کورس پارک کہا جاتا ہے لاہور، پنجاب، پاکستان میں ایک تفریحی پارک ہے۔ یہ جیل روڈ پر سروسز ہسپتال کے سامنے واقع ہے۔ پارک میں ایک جھیل بھی موجود ہے۔\n\nلاہور رگبی فٹ بال کلب\nلاہور رگبی فٹ بال کلب لاہور، پاکستان میں واقع ایک رگبی کلب ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01408", "text": "لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن گراؤنڈ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01409", "text": "لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن گراؤنڈ (پرانا نام: پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن گراؤنڈ) لاہور، پاکستان کے مشہور اسٹیڈیم قذافی اسٹیڈیم کے بالمقابل ایک گراؤنڈ ہے۔ اس گراؤنڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ، لسٹ اے کرکٹ اور ٹوئنٹی/20 کرکٹ میچ کھیلے جاتے ہیں۔ یہ گراؤنڈ علاقائی کرکٹ ایسوسی ایشن لاہور کی زیر نگرانی ہے۔ علاقائی کرکٹ ایسوسی ایشن لاہور کے موجودہ صدر ایزد حسین سید ہیں۔ 1980ء سے نومبر 2012ء تک اس گراؤنڈ میں 265 فرسٹ کلاس کرکٹ میچ، 105 لسٹ اے کرکٹ میچ اور 12 ٹوئنٹی/20 کرکٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01410", "text": "کھیلوں کی ٹیمیں\nلاہور قلندرز\nلاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ میں ایک پاکستانی ٹوئنٹی/20 کرکٹ ٹیم ہے۔ ٹیم پنجاب کے دار الحکومت لاہور پر مبنی ہے۔ یہ ٹیم پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کے قیام کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ٹیم کے کپتان اظہر علی ہیں۔ یہ قطر لبریکنٹس کی ملکیت ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01411", "text": "لاہور لائینز\nلاہور لائینز لاہور، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک کرکٹ ٹیم ہے۔ اس ٹیم کی تاسیس لاہور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 2004/05 میں عمل میں آئی۔ اس ٹیم کا گھر میدان لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن گراؤنڈ ہے۔ مقامی سطح پر یہ ٹیم قومی ٹی/20 کپ میں حصہ لیتی ہے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا اعزاز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں کراچی ڈولفنز کو 37 سکور سے ہرا کر حاصل کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01412", "text": "لاہور ایگلز\nلاہور ایگلز لاہور، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک کرکٹ ٹیم ہے۔ یہ ٹیم قومی ٹی/20 کپ میں شرکت کرتی ہے۔ اس ٹیم نے کھیل کا آغاز 2006ء میں کیا اور اس کا گھر میدان قذافی اسٹیڈیم لاہور ہے۔ اس ٹیم کے منتظم نواب منصور حیات خان ہیں۔\n\nواپڈا ایف سی\nواپڈا ایف سی یا واپڈا فٹ بال کلب ایک پاکستانی فٹ بال کلب ہے جو پاکستان پریمیئر لیگ میں حصہ لیتا ہے۔ واپڈا 7 مرتبہ پاکستانی چیمپئن بن چکی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01413", "text": "لاہور بادشاہز\nلاہور بادشاہز انڈین کرکٹ لیگ کے 2008 اور 2008-09 کے کرکٹ سیزن میں کرکٹ کھیلنے والی ایک ٹیم تھی۔ اس ٹیم کے کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا آئی سی ایل میچ 11 مارچ 2008 کو سابقہ ٹورنامنٹ کی چیمپئن چنائی سپر سٹارز کے خلاف کھیلا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01414", "text": "لاہور سے پیشہ ورانہ کھیلوں کی ٹیمیں\nصحت\nلاہور چونکہ ابتدا سے ہی پنجاب کا دار الحکومت اور مرکز رہا ہے اس لیے دیگر سہولیات کی طرح یہاں صحت عامہ کی اعلیٰ سہولیات مسیر ہیں۔ درج ذیل لاہور کے اہم ہسپتالوں اور طبی درس گاہوں کی ایک فہرست ہے۔\n\nطبی درس گاہیں\nکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی\nعلامہ اقبال میڈیکل کالج\nپوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ\nامیر الدین میڈیکل کالج\nسروسز انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز\nیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور\nفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی\nچلڈرن ہسپتال لاہور\nپنجاب ڈینٹل ہاسپٹل", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01415", "text": "ہسپتال\nدرج ذیل لاہور کے بڑے اور قابل ذکر اور ہسپتال ہیں۔\n\nثقافت\nلاہور برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور ابتدا ہی سے اہم تجارتی گذر گاہ اور ثقافت کا مرکز رہا ہے، جس کا ماضی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی تعمیرات برصغیر کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں منفرد ہیں۔ پنے باغات اور قدرتی حسن کے باعث اسے عروس البلاد کہا جاتا رہا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01416", "text": "لاہور کے بارے میں دو کہاوتیں بہت مشہور ہیں۔\n\"جنے لہور نئیں ویکھیا اوہ جمیا ای نئیں\" (پنجابی)\nجس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔\n\"لہور لہور اے\" (پنجابی)\nلاہور لاہور ہے۔ یعنی لاہور لاثانی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01417", "text": "پکوان", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01418", "text": "لاہور خاص طور پر اپنے پکوانوں اور وہاں کے لوگ کھانے کے لیے مشہور ہیں۔ لاہوری کھانے یا جنھیں مقامی طور پر لاہوری کھابے بھی کہا جاتا ہے، سے مراد پاکستان کے شہر لاہور کے کھانے اور پکوان ہیں۔ یہ علاقہ پنجابی کھانوں کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ لاہور ایک ایسا شہر ہے جو خوش خوراکی ثقافت سے مالا مال ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01419", "text": "۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے لوگ کھانے سے پیار کرنے کے لیے پورے ملک میں مشہور ہیں. جنوبی ایشیا کے اندر اسلام کی آمد نے مقامی کھانوں کو کافی حد تک متاثر کیا کیونکہ مسلمانوں کو دوسرے نافذ کردہ اسلامی غذائی قوانین کے ساتھ سور کا گوشت کھانے یا شراب پینے سے منع کیا گیا ہے۔ پاکستانی کھانے کے دیگر شعبوں جیسے گائے کا گوشت، بھیڑ، چکن، مچھلی، دال اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ روایتی پھل اور دودھ پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ پاکستانی کھانے میں وسطی ایشیائی، شمالی ہندوستان اور مشرق وسطی کے کھانے کا اثر ہر جگہ موجود ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01420", "text": "۔ لاہور کا زیادہ تر کھانا مقامی پنجابی اور مغلائی کھانوں سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ روایتی مقامی کھانے کے ساتھ ساتھ، چینی، مغربی اور غیر ملکی کھانے پوری شہر میں مشہور ہیں اور بہتر ذائقہ پیدا کرنے کے لیے اکثر مقامی ترکیبیں استعمال کی جاتی ہیں۔ پاکستانی چینی کھانے بھی بڑی حد تک دستیاب ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01421", "text": "ذیل میں کچھ کھانے کی فہرست ہے جن میں سے لاہور منفرد ذوق رکھنے کے لیے مشہور ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01422", "text": "گوشت کڑاہی (ایک مرغی کی شکل والے پکوڑی کے برتن میں مسالا نما ٹماٹر پر مبنی گریوی کے ساتھ پکایا ہوا مرغی یا مٹن) جو لاہور کی ایک خصوصیت ہے۔\nدال گوشت (دالوں کے ساتھ پکا ہوا گوشت)\nمرغ چھولے / چنے (چکن کے ساتھ پکا ہوا چکن)\nمرغ مسلم (چاول اور خشک میوہ جات کے ساتھ پکا ہوا چکن اندر سے بھر جاتا ہے)\nسیخ کباب\nگول گپے\nدہی بھلے\nحلیم\nحلوہ پوری - لاہور کے ناشتے کی خصوصیت\nنہاری\nسموسہ\nکھیر\nپایا (ڈش)\nلاہوری فرائڈ فش\nدال چاول۔ مسالے ہوئے دال کے ساتھ ابلے ہوئے چاول لاہوری چنا چاٹ\nہریسہ\nتلی ہوئی مچھلی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01423", "text": "ہریسہ\nتلی ہوئی مچھلی\nبیف بونگ پائے - گائے کے گوشت کے پاؤں کے ساتھ پنڈلی", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01424", "text": "فلمیں\nلولی وڈ\nلولی وڈ پاکستانی فلمی صنعت کے مرکز کو کہا جاتا ہے۔ اس میں لولی - پاکستان کے شہر لاہور سے لیا گیا ہے جہاں یہ صنعت قائم ہے۔\n\nلاہور کے پس منظر میں بننے والی اہم فلمیں\nیہ لاہور کے پس منظر میں بننے والی اہم فلموں کی فہرست ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01425", "text": "تہوار\nبسنت پتنگ کا تہوار\nبسنت پتنگ کا تہوار بھارت اور پاکستان دونوں جانب کی پنجاب ریاستوں میں مقبول ہے۔ یہ تہوار تاریخی طور پر راجا رنجیت سنگھ کے دور میں بہار کا خیرمقدم کرنے کے لیے منائی جاتی تھی۔ تہوار کی تقریبات پر مذہبی رنگ غالب تھا۔ مہاراجا کا میلے میں باقاعدہ گرنتھ صاحب سننا اور گرنتھی کو تحائف دینا مذہبی رسومات کے زمرے میں آتا ہے۔ ہندو برہمنوں کو نذرانے دیتے ہیں تو سکھ گرنتھیوں کو تحائف دیتے ہیں۔ سکھ مذہب میں بسنتی یا زرد رنگ کو بھی ایک خاص تقدس کا مرتبہ حاصل ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01426", "text": "لاہور میں بسنت کا تہوار انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ ایک زمانہ میں بسنت لاہور میں اس طرح منایا جاتا تھا کہ پاکستان کے دور دراز سے دوست احباب و رشتہ دار صرف بسنت منانے لاہور آتے تھے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے بھی منچلے بسنت کی نیرنگیوں سے لظف اندوز ہونے کے لیے لاہور کھنچے آتے تھے۔ شہر کے ہوٹل اس موقع پر خاص طور پر بک ہوتے تھے۔ شہر کی تمام بلڈنگوں کی چھتوں پر بسنت پاٹیوں کا اہتمام ہوتا تھا", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01427", "text": "۔ لاہور شہر کا آسمان دہنک و رنگ و نور کا منظر پیش کرتا تھا اور ہر سو نغموں کی گونج ہوتی اور چھوٹے بڑے مختلف رنگوں کے پتنگ آسمان پر تیرتے نظر آتے تھے۔ پورا شہر رات کو جاگتا تھا موسیقی کی محفلوں اور بو کاٹا کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ بڑے بڑے لاوڈ سپیکروں کی مدد سے وہ اودہم مچتا کہ کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ منچلے چھتوں پر ڈہولچیوں کا بھی بنوبست کرتے اور بو کاٹا کے ساتھ رقص کرتے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01428", "text": "تاہم کئی ہوئی پتنگوں کی ڈور سے راہگیروں کے زخمی اور ہلاک ہونے کے نتیجے میں حکومت پنجاب نے بسنت کے تہوار پر پتنگ بازی کی ممانعت کر دی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01429", "text": "عرس داتا گنج بخش", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01430", "text": "سید ابو الحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری معروف بہ داتا گنج بخش کا لاہور کی تاریخ میں اہم مقام ہے۔ لاہور کو اسی مناسبت سے داتا کی نگری بھی کہا جاتا ہے۔ عرس داتا گنج بخش لاہور کا سب سے بڑا ثقافتی تہوار بھی سمجھا جاتا ہے۔ اتا صاحب کا عرس صفر کی اٹھارہ تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ روایتی میلہ داتا گنج بخش کے مزار اور قریبی مینار پاکستان کے تمام علاقے پر محیط ہوتاہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01431", "text": "۔ عقیدت مند مزار پر فاتحہ خوانی اور دعا اور میلہ میں خریداری کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں موجود تفریحی سہولتوں اور سرکس وغیرہ سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01432", "text": "۔ واضح رہے کہ داتا گنج بخش کی تین روزہ تقریبات ہوتی ہیں اور ان کے دوران میں مزار پر چادر پوشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، زائرین فاتحہ خوانی کرتے ہیں، سلام پیش کرتے ہیں، منتیں مانتے ہیں اور ساتھ ہی مزار سے متصل مسجد کے احاطے میں تینوں دن مجالسِ مذاکرہ منعقد ہوتی ہیں جن میں دین ِ اسلام اور تصوف کے موضوعات کے ساتھ ساتھ سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے سیرت وکردار پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01433", "text": "۔ مزار پر دودھ کی سبیل لگتی ہے اور تینوں دن سماع کی محفلیں ہوتی ہیں جن میں شرکت کرنا ہر قوال پارٹی اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01434", "text": "میاں میر کا عرس\nمیر محمد المعروف میاں میر پیر لاہوری ایک مسلم صوفی جو لاہور (موجودہ پاکستان) کے علاقے دھرم پورہ میں مقیم رہے۔ ملک کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں زائرین عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ مزار کے احاطے میں زائرین دیے روشن کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر قریبی علاقے میں کھانوں اور دیگر دکانیں سجائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ارد گرد کے علاقے میں ایک میلے کا سماں ہوتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01435", "text": "میلہ چراغاں\nمیلہ چراغاں یا میلہ شالامار دراصل پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین کے عرس کی تین روزہ تقاریب کا نام ہے۔ یہ تقاریب شاہ حسین کے مزار، جو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں واقع کے قریبی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں۔ باغبانپورہ کا علاقہ لاہور شہر کے باہر شالیمار باغ کے قریب واقع ہے۔ یہ تقاریب پہلے شالامار باغ کے اندر منعقد ہوا کرتی تھیں مگر صدر ایوب خان کے صدارتی حکم 1958ء کے بعد سے شالیمار باغ میں ان تقاریب کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01436", "text": "پہلے پہل یہ عرس پنجاب میں سب سے بڑی تقریب سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ بسنت کے بعد دوسرا بڑا ثقافتی تہوار ہے۔ ماضی قریب تک یہ میلہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا ثقافتی میلہ گردانا جاتا تھا۔۔ اب بسنت پر پابندی کے باعٹ یہ پھر بڑی تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01437", "text": "شاه جمال کا عرس\nشاه جمال درگاه لاہور، پنجاب، پاکستان میں واقع صوفی بزرگ بابا شاه جمال کا مقبرہ ہے۔ یہ فورمن کرسچین کالج کے بالمقابل مسلم ٹاؤن میں واقع ہے۔ مقبرے کے گرد ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے۔ اسلامی تقویم کے مہینے ربیع الثانی کی 3، 4 اور 5 تاریخ کو سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے۔ 2006ء میں 300،000 افراد نے 366 ویں سالانہ عرس میں حصہ لیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01438", "text": "قومی میلہ مویشیاں\nقومی میلہ مویشیاں یا ہارس اینڈ کیٹل شو فورٹریس اسٹیڈیم میں نومبر کے آخری ہفتے میں پانچ دنوں کے لیے منعقد ہوتا ہے۔ میلے کی سرگرمیاں میں مویشیوں کی دوڑیں، مویشی رقص، نیزہ بازی، ٹیٹو شو، لوک موسیقی،، رقص، بینڈ، ثقافتی فلوٹ ور لوک کھیل میں شامل ہوتے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01439", "text": "ورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹیول\nورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹیول الحمرا آرٹس کونسل میں ہر موسم خزاں (عام طور پر نومبر میں) منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ دس روزہ میلہ گانے کے پروگرام، تھیٹر، محافل موسیقی، رقص ور کٹھ پتلی شو پر مشتمل ہوتا ہے۔ تہوار میں بین الاقوامی اداکاروں کی طرف سے کارکردگی کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔ تہوار کے دوران میں اوسط 15-20 مختلف شوز میں فنکار اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01440", "text": "فیض انٹرنیشنل فیسٹول\nفیض بین الاقوامی میلہ موسیقی، فن اور ادب کا ایک سالانہ میلہ ہے جو فیض احمد فیض کی یاد میں ہر سال لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کو دورانیہ تین روز ہوتا ہے جس میں ملکی اور بین الاقوامی مایہ ناز فنکار اور ادیب شرکت کرتے ہیں۔\n\nلاہور محفل موسیقی\nلاہور محفل موسیقی ایک سالانہ دو روزہ میلہ ہے۔ ایل ایم ایم کا مقصد موسیقی کی صنعت سے متعلقہ افراد اور موسیقی کے تعلیمی ماہرین کو ایک جگہ جمع کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01441", "text": "لاہور ادبی میلہ\nلاہور ادبی میلہ یا لاہور لٹریری فیٹوللاہور، پنجاب، پاکستان میں سالانہ منعقد کیا جانے والا ایک بین الاقوامی ادبی میلہ ہے۔\n\nلاہور انٹرنیشنل بک فیئر\nلاہور انٹرنیشنل بک فیئر لاہور، پاکستان میں منعقد ہوانے والا ایک بڑا سالانہ بین الاقوامی کتاب میلہ ہے۔ یہ پانچ دن کے لیے ایکسپو سینٹر، جوہر ٹاؤن، لاہور میں منعقد ہوتا ہے جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01442", "text": "دیگر\nاس کے علاوہ پورے ملک کی طرح مذہبی اور قومی تہوار بھی جوش و جذبے سے منائے جاتے ہیں۔ درج ذیل چند اہم تہواروں کی ایک فہرست ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01443", "text": "قومی\nمذہبی\nہیرا منڈی\nمغل دور میں ہیرا منڈی رقص اور موسیقی کے لیے مشہور تھی۔ یہ شہر کے طوائفی ثقافت کا مرکز تھا۔ لوگ بصری تفریح اور موسیقی کے لیے یہاں جاتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں سکھ حکومت کے ہندو ڈوگرہ وزیر اعظم دھیان سنگھ کے بیٹے ہیرا سنگھ کی حویلی تھی ہیرا سنگھ مہاراجا رنجیت کا منہ بولا بیٹا بناہوا تھا۔ اپنے باپ دھیان سنگھ کی موت کے بعد وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس کی حویلی اور نام کی مناسبت سے لاہورشہر کا یہ حصہ ہیرا منڈی کہلاتا ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01444", "text": "برطانوی راج کے دوران میں برطانوی فوجیوں کی تفریح ​​کے لیے پرانی انارکلی بازار میں کوٹہے تیار کیے گئے۔ اس کے بعد انھیں لوہاری دروازہ اور پھر ٹکسالی دروازہ پر منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازیں انھیں موجودہ ہیرا منڈی کے مقام پر منتقل کر دیا گیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01445", "text": "لاہور کی مشہور شخصیات\nاداکار اور فلم ساز\nفنکار\nکھلاڑی\nصحافی\nموسیقی\nسیاست دان\nاسکالرز / علما\nادیب اور شاعر\nتعلیم", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01446", "text": "لاہور کا تعلیمی نظام مخصوص جدید، مذہبی، ثقافتی، سماجی، نفسیاتی، تجارتی اور سائنسی احکام کے ساتھ وضع کیا گیا ہے۔ لاہور پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، انجینئرنگ، طب، نیوکلیئر سائنسز، فارماکولوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، بائیو ٹیکنالوجی اور مائیکرو الیکٹرانکس کے شعبوں میں پیشہ ور افراد کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔ زیادہ تر معروف یونیورسٹیاں سرکاری ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں نجی یونیورسٹیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لاہور کی موجودہ شرح خواندگی 64% ہے", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01447", "text": "۔ لاہور کی موجودہ شرح خواندگی 64% ہے۔ معیاری قومی نظام تعلیم بنیادی طور پر برطانوی نظام سے متاثر ہے۔ اس نظام کا مقصد طلبہ میں پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے سے آگاہی کے ساتھ ایک سیکولر نقطہ نظر کو ابھارنا بھی ہے۔ لاہور میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ایک وسیع رینج ہے جو متنوع ندیوں کو پورا کرتی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01448", "text": "نظام کو پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ابتدائی (گریڈ ایک سے پانچ تک)؛ درمیانی (گریڈ چھ سے آٹھ)؛ ثانوی (گریڈ نو اور دس، سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ کی طرف جاتا ہے)؛ انٹرمیڈیٹ (گیارہویں اور بارہویں جماعت، ہائیر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ)؛ اور یونیورسٹی کے پروگرام جو گریجویٹ اور اعلی درجے کی ڈگریوں کا باعث بنتے ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01449", "text": "پاکستان کے بیشتر شہروں کی طرح لاہور میں بھی پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک سرکاری اور نجی دونوں طرح کے تعلیمی ادارے ہیں۔ زیادہ تر تعلیمی ادارے پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک صنفی بنیادوں پر ہیں۔\nتمام تعلیمی تعلیمی ادارے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہیں۔ وفاقی حکومت زیادہ تر نصاب کی ترقی، ایکریڈیٹیشن اور تحقیق کی کچھ مالی امداد میں مدد کرتی ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01450", "text": "مشہور تعلیمی ادارے\nلاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل لاہور کے اہم تعلیمی اداروں کی ایک فہرست ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01451", "text": "سیاست\nقومی اسمبلی پاکستان\nقومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے۔ لاہور سے قومی اسمبلی کی 13 نشستیں ہیں۔ جس کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01452", "text": "حکومت پنجاب\nحکومت پنجاب حکومت پاکستان کی ایک اکائی جس کی عملداری صوبہ پنجاب میں محدود ہے۔ اس کے سرکاری دفاتر لاہور میں واقع ہیں جو صوبہ پنجاب کا صدر مقام بھی ہے۔\n\nعہدے دار\nگورنر پنجاب: چودھری محمد سرور\nوزیر اعلیٰ پنجاب: سردار عثمان بزدار", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01453", "text": "پنجاب صوبائی اسمبلی\nپنجاب صوبائی اسمبلی پاکستان میں پنجاب کا قانون ساز ایوان ہے کو کہ لاہور میں واقع ہے۔ یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 106 کے تحت قائم کی گئی۔ اس ایوان کی 371 نشستیں ہیں جن میں سے 305 پر براہ راست انتخابات منعقد ہوتے ہیں جبکہ 66 نشستیں خواتین اور غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ لاہور سے پنجاب صوبائی اسمبلی کے لیے پچیس حلقے ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01454", "text": "انتظامی تقسیم\nلاہور ڈویژن\nلاہور ڈویژن پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک انتظامی تقسیم تھی۔ 2000 کی حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں اس تیسرے درجے کی تقسیم کو ختم کر دیا گیا۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پنجاب نے اس کے آٹھ ڈویژنوں کو بحال کر دیا۔\n\nانتظامیہ\nلاہور ڈویژن کے چار اضلاع مندرجہ ذیل ہیں۔\n\nضلع لاہور\nضلع شیخوپورہ\nضلع ننکانہ صاحب\nضلع قصور", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01455", "text": "ضلع لاہور\nضلع شیخوپورہ\nضلع ننکانہ صاحب\nضلع قصور\n\nضلع لاہور\nضلع لاہور پاکستان کے صوبہ پنجاب کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس کا مرکزی شہر لاہور ہے جو پنجاب کا دار الحکومت ہے۔ 1998ء کے میں کی آبادی کا تخمینہ 63٫18٫745 تھا۔ ضلع لاہور میں عمومی طور پر پنجابی، اردو وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 1772 مربع کلومیٹر ہے۔ لاہور کی سطح سمندر سے اوسط بلندی 217 میٹر (711.94 فٹ) ہے۔\n\nتحصیلیں\nاسے انتظامی طور پر دو بڑی تحصیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔\n\nتحصیل لاہور شہر\nتحصیل لاہور صدر", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01456", "text": "تحصیل لاہور شہر\nتحصیل لاہور صدر\n\nانتظامی ٹاؤن\nیونین کونسلیں\n2017ء کے مطابق لاہور میں 274 یونین کونسل موجود ہیں۔\n\nنواحی علاقہ جات\nصحافت\nلاہور چونکہ ابتدا ہی سے خطے کا انتظامی مرکز رہا ہے اس لیے ادبی اور صحافتی سرگرمیوں میں اس کا ایک منفرد مقام رہا ہے۔ تحریک آزادی ہند اس کا کردار بطور صحافت انتہائی اہم رہا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01457", "text": "کوہ نور\nکوہِ نور برطانوی ہندوستان کا اردو زبان کا سرکاری سرپرستی میں نکلنے والا ایک ہفت روزہ اخبار تھا جسے 1850ء میں منشی ہرسکھ رائے نے لاہور سے جاری کیا تھا۔ یہ اردو زبان کا پہلا اخبار ہے جو پنجاب سے جاری کیا گیا۔\n\nرفیق ہند\nرفیق ہند برطانوی راج میں اردو زبان کا ایک ہفت روزہ اخبار تھا۔ یہ اخبار 5 جنوری 1884ء کو منشی محرم علی چشتی نے لاہور سے جاری کیا ۔ منشی محرم علی چشتی نے ہفت روزہ کوہِ نور کی ادارت سے اپنی صحافت کا آغاز کیا تھا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01458", "text": "پیسہ اخبار\nپیسہ اخبار ایک اردو روزنامہ تھا، جسے منشی محبوب عالم نے جنوری 1887ء میں فیروزوالا سے جاری کیا۔ یہ ہفتہ وار اخبار آٹھ صفحات پر مشتمل تھا۔ قیمت فی پرچہ ایک پیسہ تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں لاہور منتقل ہو گیا جہاں بالاخر روزنامہ ہو گیا۔ مولانا ظفر علی خان کے ’’زمیندار‘‘ جاری کرنے پر اس کا ستارہ گردش میں آ گیا۔ 1900ء میں منشی محبوب عالم نے یورپ کا سفر کیا جس کی سرگزشت اخبار میں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی۔ بعد میں یہ حالات کتابی صورت میں شائع ہوئے جس پر حکومت نے چار سو روپے انعام دیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01459", "text": "زمیندار\nزمیندار اردو زبان میں ایک ہندوستانی مسلم اخبار تھا۔ اس کے بانی ایڈیٹر شاعر، مصنف اور مسلم قوم پرست ظفر علی خان تھے۔ ظفر علی خان تحریک پاکستان کے سرکردہ کارکنوں میں سے ایک اور آل انڈیا مسلم لیگ کے حامی تھے۔\nزمیندار اخبار 1920ء کی دہائی سے 1940ء کی دہائی تک ہندوستانی مسلمان، مسلمان قوم پرستوں اور تحریک پاکستان کا ترجمان تھا۔ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے زیادہ مقبول اخبار تھا اور پاکستان کی صحافتی روایات اور اردو زبان کی صحافت میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01460", "text": "مولانا ظفر علی خان کو پاکستان میں بابائے صحافت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ \nاخبار کا صدر دفتر لاہور میں تھا اور 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد بھی شائع ہوتا رہا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01461", "text": "الاصلاح\nاَلْاِصْلاح تحریک خاکسار کی جانب سے چھپنے والا ہفتہ وار اخبار تھا۔ اس کا آغاز تحریک کے بانی عنایت اللہ خاں مشرقی نے 1934ء میں کیا تھا۔ یہ اس زمانے میں لاہور سے چھپتا تھا اور مشرقی کی تقاریر اور تحریک خاکسار کے افکار اور پیامات کی نمائندگی کرتا تھا۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں اس اخبار نے نمایاں کردار نبھایا۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01462", "text": "روزنامہ نوائے وقت\nروزنامہ نوائے وقت، پاکستان کے شہروں اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملتان سے شائع ہونے والا اردو زبان کا ایک اہم روزنامہ ہے۔ نوائے وقت کا آغاز 23 مارچ 1940ء کو ہوا۔ پہلے یہ ہفت روزہ تھا بعد میں روزنامہ میں تبدیل ہو گیا۔ اخبار کی بنیاد حمید نظامی نے رکھی۔ تحریک پاکستان میں بھی روزنامہ نوائے وقت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کا صدر دفتر لاہور میں واقع ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01463", "text": "لاہور پریس کلب\nلاہور پریس کلب بنیادی طور پر یہ صحافیوں کی ایک تنظیم ہے لیکن اس میں لاہور، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم، کاروباری افراد اور عوامی خدمت کے ارکان شامل ہیں۔\n\nذرائع ابلاغ کی فہرستیں\nلاہور سے متعدد اخبار اور جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ذیل میں صرف ان اہم اخبارات، جرائد اور ٹی وی چینلوں کی فہرست ہے جن کے صدر دفاتر لاہور میں واقع ہیں۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01464", "text": "روزنامے\nجرائد\nٹی وی چینل\nلاہور تصویروں میں\nلاہور کی قدیم تصاویر\nجڑواں شہر\nلاہور میں قونصل خانے\nلاہور میں کئی ممالک کے قونصل خانے موجود ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01465", "text": "لائبریریاں\nلاہور میں سیکڑوں لائبریریز موجود ہیں۔ ان میں کچھ عوامی لائبریریز ہیں ادارہ جاتی لائبریریز ہیں نجی لائبریریز ہیں۔ حکومتی لائبریریز ہیں۔ تنظیمی لائبریریز ہیں۔ تعلیمی اداروں کی لائبریریز ہیں\nعوامی لائبریریز کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ لائبریریز میں مطالعہ کرنے کے لیے رکنیت کا ہونا لازمی ہے۔ لیکن کچھ ایسی ہیں جن میں آپ بغیر رکنیت کے استفادہ کرسکتے ہیں", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01466", "text": "لاہور پاکستان کے ان شہروں میں شامل ہے جن میں مطالعہ کرنے والوں کی تعداد نسبتاً بہتر ہے۔ پچھلے چند برسوں میں مطالعہ کی طرف راغب ہونے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔\nیہاں ان سطور میں لاہور کے ان کتب خانوں یعنی لائبریریز کا ذکر کیا جائے گا جہاں ایک عام شہری آسانی سے رسائی حاصل کرسکتا ہے اور اپنی علمی پیاس بجھا سکتا ہے۔\nان کتب خانوں میں عوامی یعنی پبلک لائبریریز۔ ادارہ جاتی کتب خانے اور تعلیمی کتب خانے شامل ہیں\nچند عوامی کتب خانے یہ ہیں:", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01467", "text": "مزید دیکھیے\nکتابیات\nتاریخ لاہور ازکنہیالال ص 109نا شر مشتاق بک کانر الکریم مارکٹ اُردو بازار لاہور\nتاریخ لاہور از سید محمد لطیف، ناشر تخلیقات\nواقعات لاہور از محمد نعیم مرتضی\nمادھو لال حسین، لاہور دی ویل از نین سکھ، نیولائن پبلشرز\nحدود العالم مصنف نامعلوم فارسی النسل", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01468", "text": "حدود العالم مصنف نامعلوم فارسی النسل\nSyad Muhammad Latif (1892)۔ Lahore: Its History, Architectural Remains and Antiquities, with an Account of Its Modern Institutions, Inhabitants, Their Trade, Customs Etc۔ New Imperial Press۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-11-01\nPran Neville۔ Lahore : A Sentimental Journey۔ Penguin Books۔ ISBN:978-0-14-306197-7\n1. City of Sin and Splendour: Writings on Lahore by Bapsi Sidhwa", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01469", "text": "2. Illustrated Views of the 19th Century by F.S. Aijazuddin\n3. Lahore: Portrait of a Lost City by Som Anand\n4. Lahore: A Memoir by Muhammad Saeed\n5. Lahore: A Sentimental Journey by Pran Neville\n6. Old Lahore by H.R. Goulding\n7. The Dancing Girls of Lahore: Selling Love and Saving Dreams in Pakistan’s Pleasure District by Louise Brown\n8. Amritsar to Lahore: A Journey Across the India-Pakistan Border by Stephen Alter\n9. Lahore District Flora by Shiv Ram Kashyap", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01470", "text": "9. Lahore District Flora by Shiv Ram Kashyap\n10. Beloved City Writings on Lahore by Bapsi Sidhwa", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01471", "text": "بیرونی روابط\nدفتری ویب سائٹ", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01472", "text": "کرلی (ڈی موز پر مبنی) پر لاہور\nلاہور کے تفریحی مقاماتآرکائیو شدہ بذریعہ ualberta.ca \nلاہور کا اردو نقشہآرکائیو شدہ بذریعہ mayrapakistan.com \nتاریخ و معلومات لاہورآرکائیو شدہ بذریعہ thelahorecity.com \nلاہور کی تفصیلات\nعلامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈا\nلاہور عدالت عالیہآرکائیو شدہ بذریعہ lhc.gov.pk \nتعلیمی بورڈ لاہور\nلاہور چیمبر آف کامرس\nلاہور سٹاک ایکسچینج\nحکومت پنجابآرکائیو شدہ بذریعہ pportal.punjab.gov.pk \nسٹی ٹریفک پولیس لاہورآرکائیو شدہ بذریعہ ctplahore.gop.pk", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01473", "text": "سکل ڈویلپمنٹ کونسل لاہورآرکائیو شدہ بذریعہ sdc.gov.pk \nمدنی دفاع لاہورآرکائیو شدہ بذریعہ civildefencelahore.gov.pk \nصوبائی اسمبلی پنجابآرکائیو شدہ بذریعہ pap.gov.pk \nMotor پنجاب نقل و حملآرکائیو شدہ بذریعہ mtmis.punjab.gov.pk \nلاہور\nلاہور میں وقت\nیونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ لاہور\nتاریخ لہور شہر از بھولا ناتھ وارثآرکائیو شدہ بذریعہ apnaorg.com", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01474", "text": "دستاویزی فلمیں\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "لاہور", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1"}, {"id": "urd_rec_01475", "text": "مریخ (علامت: ) نظام شمسی میں سورج سے فاصلے کے لحاظ سے چوتھا اور عطارد کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ قدیم رومی مذہب میں مریخ کو جنگ کا خدا کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ مریخ کی پرستش کرتے تھے۔ مریخ کی سرخ رنگت کی وجہ سے اسے سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ رنگ مریخ کی سطح پر آئرن آکسائڈ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ مریخ کی سرخی مائل رنگت اسے کھلی آنکھ سے نظر آنے والے دوسرے سماوی اجسام سے ممتاز کرتی ہے ۔ مریخ ایک زمین مماثل سیارہ ہے جو زمین کی نسبت ہلکا کرہ ہوائی رکھتا ہے", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01476", "text": "۔ اس کے سطح پر زمین کے چاند کی طرح شھاب ثاقب یا کسی دوسرے سماوی جسم کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے موجود ہیں اور اس کی سطح پر زمین کی طرح وادیاں اور صحرا بھی موجود ہیں۔ زمین کی طرح اس کے قطبین پر بھی برف جمی رہتی ہے۔ مریخ کا محوری گردش کا دورانیہ اور موسموں کی گردش زمین جیسی ہے اور زمین کی طرح اس کا محور بھی جھکا ہوا ہے جو موسموں کے تغیر کا باعث بنتا ہے", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01477", "text": "۔ مریخ پر ایک بہت بڑا آتش فشاں پہاڑ ہے جسے کوہ اولیمپس مونس کہتے ہیں یہ پہاڑ نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والے پہاڑوں میں سے سب سے بڑا پہاڑ ہے اور اس پر ایک بہت بڑی وادی جسے [[وادئ میرینرس] کہتے ہیں یہ وادی نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والی وادیوں میں سب سے بڑی وادی ہے۔ مریخ کے شمالی کرہ میں ایک ہموار طاس (جغرافیہ) ہے جسے بوریالس طاس کہتے ہیں یہ طاس مریخ کے 40 فی صد رقبے کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی سماوی جسم جیسے شھاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنا ہے", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01478", "text": "۔ مریخ کے دو چاند ہیں جنھیں فوبوس اور دیموس کہتے ہیں یہ چاند چھوٹے اور بے ترتیب شکل کے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارچے ہو سکتے ہیں جنھیں مریخ کی کشش ثقل نے پکڑ لیا ہو جس کی وجہ سے یہ مریخ کے گرد گھوم رہے ہیں -", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01479", "text": "مریخ کا ادبی روایت میں لقب \" جلادِ فلک\" ہے- اس سے جنگ اور خون آشامی کے تصورات اور افکار وابستہ ہیں- ۔\nمریخ پر سیاروی سکونت پذیریت پر تحقیقات ہو رہی ہیں جس میں ماضی میں مریخ پر زندگی کے آثار اور موجودہ دور میں مریخ پر حیات کے ممکنات پر تحقیقات شامل ہے۔ مستقبل میں مریخ پر فلکی حیاتیات کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے جن میں مریخ 2020 اور ایکسو مارس رور منصوبہ شامل ہے۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01480", "text": "مریخ کی سطح پر کم کرہ ہوائی دباؤ کی وجہ سے مائع پانی کا وجود نہیں ہے البتہ اس کے دونوں قطبین پر برف جمی ہے۔ اس کے جنوبی قطب پر برف کی اتنی مقدار ہے کہ اگر یہ برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہوجائے تو یہ 11 میٹر (36 فٹ) کی گہرائی تک پورے مریخ کی سطح کو گھیر لے گا۔ نومبر 2016 میں ناسا نے مریخ کے اتوپیا پلانیٹیا نامی علاقے میں بڑی مقدار میں زیر زمین برف دریافت کی اس کے پانی کے حجم کا اندازہ جھیل سپیریئر کے پانی کے برابر لگایا گیا ہے۔\nمریخ کو زمین سے عام انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01481", "text": "طبیعی خصوصیات\nمریخ کا قطر زمین کے قطر سے تقریباً آدھا ہے اور اس کا سطحی رقبہ زمیں کے کے خشک حصے کے کل رقبے سے تھوڑا سا کم ہے۔ مریخ زمین کی نسبت کم کثیف ہے اور یہ زمین کے حجم کا 15 فیصد، کیمیت کا 11 فی صد اور سطحی کشش ثقل کا 38 فی صد رکھتا ہے۔ اس کا سرخ نارنجی رنگ آئرن آکسائڈ کی وجہ سے ہے دوسرے عام سطحی رنگ جیسے سنہری بھورے اور سبزی مائل رنگ ان میں موجود معدنیات پر انحصار کر تے ہیں۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01482", "text": "اندرونی ساخت", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01483", "text": "زمین کی طرح مریخ کے اندرونی کثیف دھاتی مرکزہ کے اوپر کم کثیف دھاتی مرکزہ کا خول چڑھا ہوا ہے۔ اس کے اندرونی مرکزہ کا رداس 65 ± 1,794 کلومیٹر (1,115 ± 40 میل) ہے۔ جو بنیادی طور لوہے اور نکل سے بنا ہے اور اس میں 16 سے 17 فی صد گندھک کی آمیزش ہے۔ مریخ کے اس آئرن سلفائڈ مرکزہ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کے مرکزہ میں پائے جانے والے ہلکے عناصر کی نسبت دوگنے بھاری ہیں۔ مریخ کا مرکزہ کے گرد سلیکیٹ کا غلاف ہے جو سیارہ پر مختلف آتش فشانی اور ٹیکٹونک عمل سے بنا ہے لیکن یہ بے حس وحرکت نظر آتا ہے", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01484", "text": "۔ سلیکون اور آکسیجن کے علاوہ مریخ کا قشر میں لوہا، میگنیشیم، الومینیم، کیلشیم اور پوٹاشیم، کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ مریخ کے قشر کی اوسط موٹائی 50 کلومیٹر (32 میل) ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ موٹائی 125 کلومیٹر (78 میل) ہے جبکہ قشر الارض کی موٹائی 40 کلومیٹر (25 میل) ہے۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01485", "text": "گردش اور مدار\nمریخ کا سورج سے اوسط فاصلہ 230 ملین کلومیٹر (143,000,000 میل) ہے اور اس کی سورج کے گرد مداری گردش کا دورانیہ 687 (زمینی) دنوں کے برابر ہے۔ مریخ کا شمسی دن (سول) زمین کے شمسی دن سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے یعنی مریخ کا ایک شمسی دن (سول) 24 گھنٹے 39 منٹ اور 35.244 سیکنڈ کا ہوتا ہے جبکہ زمین کا ایک شمشی دن 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4.0916 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ مریخ کا ایک شمشی سال زمین کے 1.8809 سال کے برابر ہے یعنی مریخ کا ایک سال زمین کے 1 سال 320 دن اور 18.2 گھنٹوں کے برابر ہے۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01486", "text": "مریخ کا اس کے مستوی مدار سے محوری جھکاؤ 25.19 ڈگری ہے۔ جو زمین کے محوری جھکاؤ جیسا ہے جس کی وجہ سے مریخ پر موسم زمین جیسے ہیں لیکن موسم زمین کی نسبت تقریباً دوگنے ہیں کیونکہ ااس کک مداری دورانیہ طویل ہے۔ موجودہ دور میں مریخ کے شمالی قطب کا رخ ستاروں کے جھرمٹ ہنس (دجاجہ) کے ستارے دنب کی طرف ہے۔", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01487", "text": "تاریخ", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01488", "text": "مریخ پرانے زمانوں سے سرخ سیارے کے نام سے مشہور ہے۔ کیونکہ اس کی سطح سرخی مائل ہے۔ آج کل امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک، مریخ کی سطح پر اُتر کر اس کی تحقیق کرنے والے خلائی جہاز بھیج رہیں ہے۔ امسال 2004 میں امریکہ کے دو خلائی جہاز مریخ کی سطح پر اترے ج جبکہ ہندوستان کا ایک خلائی جہاز مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ جنھوں نے وہاں کی تاذہ ترین تصاویر اور اس کی مٹی کی مشاہدات زمین کو بھیجیں۔ اس تحقیق کا مقصد مریخ میں پانی اور زندگی کے آثار ڈھونڈنا ہے", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01489", "text": "۔ کیونکہ اکثر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر کسی زمانے میں زندگی موجود تھی۔ اس تحقیق اب تک یہی نتائج نکلے ہیں مریخ پر کسی زمانے میں پانی تو موجود تھا مگر اس میں زندگی نہ پیدا ہو سکی تھی۔ یورپ کے ممالک نے بھی اپنے تحقیقی خلائی جہاز مریخ پر بھیجے مگر وہ اس کی سطح پر اترنے سے پہلے ہی تباہ ہو گئے۔ امریکا میں اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا مریخ میں کسی انسان کو بھیجا جائے یا نہیں؟!", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01490", "text": "کشش ثقل\nمریخ کے 2 چاند ہیں جو باقی چاندوں کی طرح گول نہیں بلکہ بڑے بڑے پتھر ہیں جنھیں (Asteroids) کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے پتھر کسی زمانے میں مریخ اور مشتری کے درمیان واقع (Asteroid Belt) سے الگ ہو گئے تھے اور مریخ کی کشش ثقل میں آکر اس کے گرد چکر کاٹنا شروع کر دیا۔\n\n\n== حوالہ جات ==", "title": "مریخ", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AE"}, {"id": "urd_rec_01491", "text": "مشتری (انگریزی: Jupiter) ہمارے نظام شمسی کا سورج سے پانچواں اور سب سے بڑا سیارہ ہے۔ گیسی دیو ہونے کے باوجود اس کا وزن سورج کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم ہے لیکن نظام شمسی کے دیگر سیاروں کے مجموعی وزن سے زیادہ بھاری ہے۔ زحل، یورینس اور نیپچون کی مانند مشتری بھی گیسی دیو کی درجہ بندی میں آتا ہے۔ یہ سارے گیسی دیو ایک ساتھ مل کر جووین یعنی بیرونی سیارے کہلاتے ہیں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01492", "text": "قدیم زمانے سے لوگ مشتری کو جانتے تھے اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں مشتری کو نمایاں حیثیت دی گئی تھی۔ رومنوں نے اس سیارے کو اپنے دیوتا جیوپیٹر کا نام دیا تھا ۔ زمین سے دیکھا جائے تو رات کے وقت آسمان پر چاند اور زہرہ کے بعد مشتری تیسرا روشن ترین اجرام فلکی ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01493", "text": "مشتری کا زیادہ تر حصہ ہائیڈروجن سے بنا ہے جبکہ ایک چوتھائی حصہ ہیلیئم پر بھی مشتمل ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے مرکزے میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہوں ۔ تیز محوری حرکت کی وجہ سے مشتری کی شکل بیضوی سی ہے۔ بیرونی فضاء مختلف پٹیوں پر مشتمل ہے۔ انہی پٹیوں کے سنگم پر طوفان جنم لیتے ہیں۔ عظیم سرخ دھبہ نامی بہت بڑا طوفان سترہویں صدی سے دوربین کی ایجاد کے بعد سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ مشتری کے گرد معمولی سا دائروی نظام بھی موجود ہے اور اس کا مقناطیسی میدان کافی طاقتور ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01494", "text": "مشتری کے کم از کم 63 چاند ہیں جن میں چار وہ ہیں جو 1610 میں گلیلیو نے دریافت کیے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑا چاند عطارد یعنی مرکری سے بھی بڑا ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01495", "text": "مشتری پر خودکار روبوٹ خلائی جہاز بھیجے گئے ہیں جن میں سے پائینیر اور وائجر اہم ترین ہیں جو اس کے قریب سے ہو کر گذرے تھے۔ بعد میں اس پر گلیلیو نامی جہاز بھیجا گیا تھا جو اس کے گرد محور میں گردش کرتا رہا۔ اس وقت تک کا سب سے آخری جہاز نیو ہورائزن ہے جو فروری 2007 میں اس کے قریب سے گذرا تھا اور اس کی منزل پلوٹو ہے۔ مشتری کی کشش ثقل کی مدد سے اس جہاز نے اپنی رفتار بڑھائی ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں برف سے ڈھکے مائع سمندروں والے چاند یورپا کی تحقیق شامل ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01496", "text": "بناوٹ\nمشتری زیادہ تر گیسوں اور مائع جات سے بنا ہے۔ نہ صرف بیرونی چار سیاروں میں بلکہ پورے نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اس کے خط استوا پر اس کا قطر 1،42،984 کلومیٹر ہے۔ مشتری کی کثافت 1.326 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے جو گیسی سیاروں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے تاہم چار ارضی سیاروں کی نسبت یہ کثافت کم ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01497", "text": "ساخت", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01498", "text": "مشتری کی بالائی فضاء کا 88 سے 92 فیصد حصہ ہائیڈروجن سے جبکہ 8 سے 12 فیصد ہیلیئم سے بنا ہے۔ چونکہ ہیلیئم کے ایٹم کا وزن ہائیڈروجن کے ایٹم کی نسبت 4 گنا زیادہ ہوتا ہے اس لیے مختلف جگہوں پر یہ گیسیں مختلف مقداروں میں ملتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی فضاء کا 75 فیصد حصہ ہائیڈروجن جبکہ 24 فیصد ہیلئم سے بنا ہے۔ باقی کی ایک فیصد میں دیگر عناصر آ جاتے ہیں۔ اندرونی حصے میں زیادہ وزنی دھاتیں پائی جاتی ہیں اور ان میں 71 فیصد ہائیڈروجن، 24 فیصد ہیلیئم اور 5 فیصد دیگر عناصر بحساب وزن موجود ہیں", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01499", "text": "۔ فضاء میں میتھین، آبی بخارات، امونیا اور سیلیکان پر مبنی مرکبات ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن، ایتھین، ہائیڈروجن سلفائیڈ، نیون، آکسیجن، فاسفین اور گندھک بھی انتہائی معمولی مقدار میں ملتی ہیں۔ سب سے بیرونی تہ میں جمی ہوئی امونیا کی قلمیں ملتی ہیں۔ زیریں سرخ اور بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے کی گئی پیمائشوں میں بینزین اور دیگر ہائیڈرو کاربن بھی دیکھی گئی ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01500", "text": "ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی فضائی خصوصیات قدیم شمسی نیبولا سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ تاہم نیون گیس کی مقدار دس لاکھ اجزاء میں محض 20 ہے جو سورج پر موجود مقدار کا محض دسواں حصہ ہے۔ ہیلیئم کی مقدار بھی اب کم ہو رہی ہے تاہم اب بھی اس کی مقدار سورج کی نسبت محض 80 فیصد باقی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشتری کی فضاء میں انرٹ گیس کی مقدار سورج کی نسبت دو سے تین گنا زیادہ ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01501", "text": "سپیکٹرو سکوپی کے مشاہدے کی بنا پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیٹرن کی ساخت مشتری سے مماثل ہے لیکن دیگر گیسی دیو یورینس اور نیپچون پر ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی مقدار بہت کم ہے۔ تاہم چونکہ مشتری سے آگے کسی سیارے کی سطح پر مشاہداتی خلائی جہاز نہیں اتارے گئے اس لیے ان کی فضائی ساخت کے متعلق تفصیل سے کچھ بتانا مشکل ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01502", "text": "کمیت", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01503", "text": "مشتری کی کمیت نظام شمسی کے دیگر تمام سیاروں کے مجموعی وزن سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ زمین کی نسبت مشتری گیارہ گنا زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن اسی نسبت سے اگر وہ زمین جتنا بھاری ہوتا تو اسے زمین کی نسبت 1321 گنا زیادہ بھاری ہونا چاہیے تھا لیکن یہ سیارہ محض 318 گنا زیادہ بھاری ہے۔ مشتری کا قطر سورج کے قطر کا دسواں حصہ ہے, اور اس کی کمیت سورج کی کمیت کے صفر اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد کے برابر ہے۔ اس لیے سورج اور مشتری کی کثافت برابر ہے", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01504", "text": "۔ اس لیے سورج اور مشتری کی کثافت برابر ہے ۔ مشتری کی کمیت کو پیمائش کی اکائی بنا کر بین النظام الشمسی سیاروں اور بونے ستاروں کی پیمائش کی جاتی ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01505", "text": "مختلف سائنسی مفروضات کے مطابق اگر مشتری کی کمیت زیادہ ہوتی تو یہ سیارہ سکڑ جاتا۔ اگر مشتری کی کمیت میں معمولی سا بھی رد و بدل کر دیا جائے تو اس کے قطر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم اگریہ اضافہ ایک اعشاریہ چھ گنا ہو جائے تو مرکزہ اپنی کشش کے باعث سکڑ نے لگے گا اور کمیت میں اضافے کے باوجود سیارے کا قطر کم ہوتا جائے گا۔ نتیجتاً یہ کہا جاتا ہے کہ مشتری کی طرح کے سیارے دراصل زیادہ سے زیادہ مشتری جتنے ہی بڑے ہو سکتے ہیں", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01506", "text": "۔ تاہم اگر مشتری کی کمیت 50 گنا بڑھ جائے تو پھر یہ بھورا بونا ستارہ بن جائے گا جیسا کہ بعض کثیر الشمسی نظاموں میں ہوتا ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01507", "text": "اگرچہ مشتری کو ستارہ بننے کے لیے 75گنا زیادہ کمیت درکار ہوگی تاکہ وہ ہائیڈروجن کے ملاپ سے ستارہ بن سکے۔ سب سے چھوٹا سرخ بونا ستارہ دراصل مشتری کے قطر سے محض تیس فیصد بڑا ہے ۔ اس وجہ سے مشتری ہر سال دو سینٹی میٹر جتنا سکڑ رہا ہے۔ جب مشتری پیدا ہوا تھا تو بہت زیادہ گرم اور موجودہ حجم سے دو گنا بڑا تھا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01508", "text": "اندورنی ساخت", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01509", "text": "مشتری کے مرکزے میں مختلف عناصر پائے جاتے ہیں جن کے گرد دھاتی ہائیڈروجن بشمول کچھ ہیلیئم کے مائع شکل میں موجود ہے جس کے باہر مالیکیولر ہائیڈروجن ہے۔ اس کے علاوہ مزید باتیں ابھی یقین سے نہیں کہی جا سکتیں۔ مرکزے کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پتھریلا ہے لیکن مزید تفصیلات معلوم نہیں۔ 1997 میں کشش ثقل کی پیمائش سے مرکزے کی موجودگی کا ثبوت ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزہ زمین سے 12 تا 45 گنا زیادہ بھاری ہے اور مشتری کے کل کمیت کے 4 سے 14 فیصد کے برابر", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01510", "text": "۔ تاہم یہ پیمائشیں سو فیصد قابل اعتبار نہیں ہوتیں اور عین ممکن ہے کہ مرکزہ سرے سے ہو ہی نہ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01511", "text": "کرہ فضائی\nحجم کے اعتبار سے مشتری ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا کرہ فضائی رکھتا ہے جو 5000 کلومیٹر تک بلند ہے ۔\n\nبادلوں کی تہ\nمشتری پر امونیا کی قلموں یعنی کرسٹل اور ممکنہ طور پر امونیم ہائیڈرو سلفائیڈ کے بادل مستقل طور پر چھائے رہتے ہیں۔ بعض جگہوں پر 100 میٹر فی سیکنڈ یعنی 360 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی ہوا عام پائی جاتی ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01512", "text": "بادلوں کی یہ تہ تقریباً 50 کلومیٹر موٹی ہے اور اس میں دوتہیں ہیں۔ اوپری تہ ہلکی جبکہ نچلی تہ گہری اور بھاری ہے۔ مشتری پر چمکنے والی آسمانی بجلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بادلوں کی تہ کے نیچے پانی کے بادلوں کی بھی ہلکی تہ موجود ہوگی۔ یہ بجلی زمینی بجلی کی نسبت ہزار گنا زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے ۔ \nبادلوں کے رنگ نارنجی اور بھورے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جس مادے سے بنے ہیں، وہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں میں اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ بادل فاسفورس، گندھک اور شاید ہائیڈرو کاربن سے بنے ہوں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01513", "text": "مشتری اپنے محور کے گرد اس طرح گھومتا ہے کہ اس کے قطبین پر سورج کی روشنی نسبتاً کم پڑتی ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01514", "text": "عظیم سرخ دھبہ اور دیگر بھنور\nمشتری کا سب سے نمایاں نشان اس کا عظیم سرخ دھبہ ہے جو خط استوا سے 22 ڈگری جنوب میں موجود ایک اینٹی سائکلونک طوفان ہے اور اس کا رقبہ زمین سے بڑا ہے ۔ 1831 سے اس کے بارے معلومات ہیں اور عین ممکن ہے کہ اسے پہلی بار 1665 میں دیکھا گیا ہو۔ ریاضیاتی ماڈلوں سے پتہ چلتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ طوفان مشتری کی مستقل خاصیت ہو۔ 12 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ قطر کے عدسے والی دوربین سے اس طوفان کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01515", "text": "بیضوی جسم گھڑیال مخالف سمت گھومتا ہوا چھ دن میں ایک گردش مکمل کرتا ہے۔ عظیم سرخ دھبے کی لمبائی اور چوڑائی 24000 سے 40000 ضرب 12000 سے 14000 کلومیٹر ہے اور نزدیکی بادلوں کے بالائی سرے سے آٹھ کلومیٹر اونچا ہے ۔\nاس طرح کے طوفان دیگر گیسی دیوؤں پر بھی عام پائے جاتے ہیں۔ مشتری پر سفید اور بھورے طوفان بھی ہیں لیکن ان کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ طوفان نسبتاً ٹھنڈے بادلوں سے بنے ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01516", "text": "سیاروی حلقے\nمشتری کے گرد مدھم حلقے پائے جاتے ہیں جس کے تین حصے ہیں۔ ایک اندرونی، ایک درمیانی نسبتاً روشن اور ایک بیرونی ۔ یہ حلقے گرد سے بنے ہیں اور زحل کے حلقوں کی مانند سے برف سے نہیں بنے۔ اصل حلقہ شاید مشتری کے اپنے چاندوں ایڈریاسٹا اور میٹس سے خارج شدہ مادے سے بنا ہے۔ عام طور پر خارج ہونے والا مادہ جو واپس اسی چاند میں جا گرنا چاہیے، مشتری کی طاقتور کشش کی وجہ سے مشتری پر جا گرتا ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01517", "text": "مقناطیسی میدان\nمشتری کا مقناطیسی میدان زمین کی نسبت 14 گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس کی پیمائش 4.2 سے 10-14 گاز تک ہے۔ یہ مقدار ہمارے نظامِ شمسی میں سورج کے دھبوں کے بعد سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ مشتری کے چاند آئی او کے آتش فشاں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بہت بڑی مقدار خارج کرتے ہیں۔ \nمشتری کی 75 جسامتوں کے فاصلے پر اس کا مقناطیسی میدان اور شمسی ہوا ٹکراتے ہیں۔ مشتری کے چاروں بڑے چاند اس کے مقناطیسی میدان میں ہی حرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شمسی ہوا سے بچے رہتے ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01518", "text": "مدار اور گردش\nمشتری واحد سیارہ ہے جو سورج کے مرکزثقل سے صرف 7% دوری پر ہے، یہ سورج کے حجم کے باہر اس کے ساتھ ہے ۔ مشتری کا مدار سورج سے 77 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر دور ہے جو زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے کا 5 گنا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کے گرد اس کا ایک چکر 11.86 زمینی سالوں میں پورا ہوتا ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01519", "text": "مشتری کے محوری جھکاؤ نسبتاً چھوٹا ہے: صرف 3.13 °۔ جس کے نتیجے میں مشتری پر زمین اور مریخ کے برعکس زیادہ موسمی تبدیلیاں نہیں آتیں ۔ مشتری کی اپنے محور پر گردش پورے نظامِ شمسی میں سب سے تیز ہے جو دس گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتی ہے۔ زمین سے اچھی دوربین کی مدد سے مشتری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی شکل بیضوی ہے جس کی وجہ سے اس کا نصف قطر خطِ استوا پر قطبین کی نسبت بڑا ہے۔ اسی وجہ سے قطبین پر نصف قطر خطِ استوا کی نسبت 9275 کلومیٹر کم ہے", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01520", "text": "۔ کیونکہ مشتری ایک ٹھوس جسم نہیں ہے، اس کی بالائی فضا میں متفاوت گردش رونما ہوتی ہیں۔ مشتری کے قطبی فضا کی گردش استوائی فضا سے تقریباً 5 منٹ طویل ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01521", "text": "مشاہدہ\nمشتری آسمان پر سورج، چاند اور زہرہ کے بعد چوتھا روش ترین اجرام فلکی ہے۔ تاہم بعض اوقات مریخ اس سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ مشتری کے مقام کا دارومدار زمین کی نسبت سے ہے، اس کا وہ نظارہ جو نظر آتا ہے حقیقت میں اس سے مختلف ہو سکتا ہے، یہ سورج کے عطف سے−2.9 سے −1.6 تک نیچے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مشتری کے زاویاتی قطر 50.1 سے 29.8 آرک سیکنڈ پر مختلف ہوتی ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01522", "text": "زمین اپنے مدار میں گردش کرتے وقت ہر 398.9 دن بعد مشتری کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اس وجہ سے جب زمین آگے نکلتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے مشتری نے اچانک ہی اپنی حرکت کی سمت الٹ دی ہو۔ مشتری کی سورج کے گرد بارہ سال میں ایک چکر علم نجوم میں اہمیت رکھتا ہے اور شاید برجوں کا سلسلہ اسی کے مشاہدے سے شروع ہوا تھا۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01523", "text": "چونکہ مشتری کا مدار زمین کے مدار سے باہر کی جانب ہے، اس لیے مشتری ہمیشہ زمین سے روشن دکھائی دیتا ہے۔ خلائی جہاز سے کھینچی گئی تصویر میں مشتری ہلال کی شکل میں بھی دکھائی دے سکتا ہے ۔ ایک چھوٹی دوربین عام طور پر مشتری کی فضا میں، مشتری کے چار گلیلی چاند اور نمایاں بادلوں کی پٹی دکھائے گی ۔ جب کہ ایک بڑی دوربین مشتری کا عظیم سرخ داغ بھی دکھائے گی۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01524", "text": "تحقیق اور مہم جوئی\nماقبل دوربین", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01525", "text": "عہد بابل کے لوگوں نے 7ویں یا 8ویں صدی قبل مسیح میں مشتری کا مشاہدہ کیا تھا ۔ چینی فلکیاتی تاریخ دان ژی زیزنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک چینی فلکیات دان نے مشتری کے ایک چاند کو 362 ق م میں بغیر کسی آلے کے دریافت کر لیا تھا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو یہ دریافت گلیلیو کی دریافت سے 2000 سال پہلے ہوئی ہوگی ۔ دوسری صدی میں بقراط نے مشتری کا ماڈل بنایا تھا جس کے مطابق مشتری سورج کے گرد ایک چکر 11.86 سال میں پورا کرتا ہے", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01526", "text": "۔ 499 عیسوی میں آریا بھاتا نامی ہندوستانی فلکیات دان اور ریاضی دان نے بھی لگ بھگ یہی نتیجہ نکالا تھا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01527", "text": "ارضی دوربینی مشاہدات", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01528", "text": "1610 میں گلیلیو گلیلی نے دوربین کی مد سے مشتری کے چار بڑے چاند آئی او، یورپا، گائنامیڈ اور کالیسٹو (جنھیں گلیلین چاند بھی کہا جاتا ہے) دریافت کیے۔ دوربین کی مدد سے زمین کے علاوہ کسی بھی سیارے کے چاند کو پہلی بار تبھی دیکھا گیا تھا۔ گلیلیو کا یہ مشاہدہ ثابت کرتا تھا کہ کسی بھی اجرام فلکی کی حرکت اس حساب سے نہیں ہو رہی کہ زمین کو مرکز مانا جائے۔ کوپرنیکس کے نظریے کے حق میں یہ مشاہدہ بہت اہم ثابت ہوا۔ کوپرنیکس کے نظریے کی کھلی حمایت کی وجہ سے گلیلیو کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01529", "text": "1660 کی دہائی میں کسینی نے ایک نئی دوربین کی مدد سے مشتری پر دھبوں اور دیگر نشانات کو دریافت کیا اور بتایا کہ مشتری گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے اور اس کے قطبین نسبتاً پچکے ہوئے ہیں۔ 1690 میں کسینی نے دریافت کیا کہ مشتری کی پوری فضاء یکساں رفتار سے حرکت نہیں کرتی۔\nمشتری کا عظیم دھبہ جو مشتری کی اہم اور مستقل نشانی ہے، کو پہلی بار 1664 میں رابرٹ ہک نے اور پھر 1665 میں جیوانی کسینی نے الگ الگ دیکھا۔ 1831 میں فارماسیسٹ ہنرچ شوابے نے اس عظیم دھبے کی شکل پہلی بار بنا کر پیش کی ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01530", "text": "1665 سے 1708 کے دوران یہ دھبہ مشاہدے سے اوجھل رہا اور پھر 1878 میں پھر واضح دکھائی دینے لگا۔ 1883 اور پھر 20ویں صدی کے آغاز میں پھر یہ دھندلا ہوتا دکھائی دیا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01531", "text": "جیوانی بوریلی اور کسینی نے مشتری کے بڑے چاندوں کی گردش کے جدول بنائے کہ کب کون سا چاند مشتری کے سامنے آئے گا اور کب اس کے پیچھے چھپ جائے گا۔ تاہم 1670 میں جب یہ بات پتہ چلی کہ مشتری زمین سے سورج کی دوسری جانب ہے تو یہ حرکات توقع سے 17 منٹ زیادہ تاخیر سے ہوں گی، کیسنی نے پہلے ہی اسے مسترد کر دیا تھا. اور اس وقت کے اختلاف سے روشنی کی رفتار کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا گیا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01532", "text": "1892 میں برنارڈ نے 36 انچ دوربین کی مدد سے کیلیفورنیا کی لِک رصد گاہ سے مشتری کا پانچواں چاند دریافت کیا۔ اس چھوٹے چاند کو دیکھنے کی وجہ سے اس کی شہرت جلد ہی ہر طرف پھیل گئی۔ بعد میں اس چاند کو امالتھیا کا نام ملا ۔ براہ راست انسانی آنکھ سے دریافت ہونے والا یہ آخری سیاراتی چاند تھا ۔ دیگر آٹھ چاند وائجر اول کے 1979 کے چکر سے قبل دریافت ہو گئے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01533", "text": "1932ء میں، روپرٹ والڈ نے مشتری کے طیف میں امونیا اور میتھین کے بینڈ کی نشاہدہی کی ۔ 1938 سے تین اینٹی سائیکلون جنھیں سفید بیضے کہا جاتا تھا، مشتری پر دیکھے جاتے رہے اور کئی دہائیوں تک یہ ایک دوسرے کے قریب تو آتے رہے، لیکن ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوئے۔ اخرکار 1998 میں دو اور پھر 2000 میں تیسرا بھی ضم ہو کر ایک بڑا بیضہ بنے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01534", "text": "ریڈیائی دوربین سے تحقیق\n1955 میں برنارڈ برک اور کینیتھ فرینکلن نے مشتری سے 22.2 میگا ہرٹز کے سگنل وصول کیے جو اس کی محوری گردش کے ساتھ منسلک ہے۔ اسی کی بنیاد پر مشتری کی محوری گردش کی رفتار معلوم کی گئی ہے۔ یہ سگنل دو طرح کے دورانیئے کے ہوتے ہیں۔ لمبے سگنل کئی سیکنڈ تک جبکہ مختصر سگنل ایک سیکنڈ کے سوویں حصے سے بھی کم عرصے کے لیے آتے ہیں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01535", "text": "خلائی جہازوں سے تحقیق", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01536", "text": "1973 سے کئی خودکار خلائی جہاز مشتری تک پہنچ چکے ہیں جن میں سے پاینئر 10 سب سے زیادہ مشہور ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے مشتری کے قریب پہنچا تھا اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے کے بارے معلومات دی تھیں ۔ عموماً دوسرے سیاروں کو جانے والے راکٹوں پر توانائی پر سب سے زیادہ خرچہ آتا ہے۔ زمین کے نچلے مدار سے مشتری کو جانے کے لیے درکار رفتار 6.3 کلومیٹر فی سیکنڈ درکار ہوتی ہے جبکہ زمین کی کشش پر قابو پانے کے لیے خلائی جہازوں کو 9.7 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار درکار ہوتی ہے", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01537", "text": "۔ اس کے علاوہ گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک کی مدد سے دیگر سیاروں کی کشش سے رفتار کم کرتے ہوئے خلائی جہاز آسانی سے مشتری کو جا سکتے ہیں لیکن اس سے کل درکار وقت بہت بڑھ جاتا ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01538", "text": "فلائی بائی مشن\nپائینر 10 خلائی جہاز 3 دسمبر 1973 کو 130،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا\nپائینر 11 خلائی جہاز 2 دسمبر 1974 کو 34،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا\nوائجر 1 خلائی جہاز 5 مارچ 1979 کو 349،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا\nوائجر 2 خلائی جہاز 9 جولائی 1979 کو 570،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا\nاُلائیسس خلائی جہاز پہلی بار 8 فروری 1992 کو 408،894 کلومیٹر جبکہ دوسری بار 4 فروری 2004 کو 12،000،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا\nکسینی خلائی جہاز 30 دسمبر 2000 کو 10،000،000 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01539", "text": "نیو ہورائزنز خلائی جہاز 28 فروری 2007 کو 2،304،535 کلومیٹر سے گذرا\n1973 سے مختلف خلائی جہاز مشتری کے اتنے قریب سے گذرے ہیں کہ اس کا مشاہدہ کر سکیں۔ پاینئر مشن نے پہلی بار مشتری کی فضاء اور اس کے کئی چاندوں کی قریب سے کھینچی ہوئی تصویریں زمین کو بھیجی ہیں۔ انہی سے پتہ چلا ہے کہ مشتری کے قطبین پر موجود مقناطیسی میدان توقع سے کہیں زیادہ طاقتور ہے تاہم یہ جہاز بچ نکلنے میں کامیاب رہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01540", "text": "چھ سال بعد وائجر جہازوں کی وجہ سے مشتری کے چاندوں اور اس کے دائروں کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوا کہ عظیم سرخ دھبہ اینٹی سائیکلونک ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں لی گئی تصاویر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاینئر مشنز کے بعد سے اس دھبے کا رنگ بدل رہا ہے اور نارنجی سے گہرا بھورا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آئی او پر آتش فشاں بھی موجود ہیں جن میں سے کئی لاوا اگل رہے ہیں۔ مشتری کے پیچھے جب خلائی جہاز گئے تو تاریک حصے میں چمکتی آسمانی بجلیاں بھی دکھائی دی ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01541", "text": "مشتری کو جانے والا اگلا مشن الائسیس کا سورج کو جانے والا خلائی جہاز سورج کے گرد اپنا مدار قائم کرنے کے لیے مشتری کے پاس سے گذرا۔ چونکہ اس پر کوئی کیمرا نصب نہیں، اس لیے تصاویر نہیں لی جا سکیں۔ دوسری بار یہ خلائی جہاز چھ سال بعد بہت دور سے گذرا۔ پہلی بار گذرتے ہوئے اس خلائی جہاز نے مشتری کے مقناطیسی میدان پر کافی تحقیق کی ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01542", "text": "زحل کو جانے والا کسینی خلائی جہاز 2000 میں مشتری کے پاس سے گذرا اور اب تک کی بہترین تصاویر بھیجیں۔ 19 دسمبر 2000 کو اس نے ہمالیہ نامی چاند کی تصاویر لیں لیکن دھندلے ہونے کی وجہ سے سطح کے بارے کچھ خاص معلومات نہیں مل سکیں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01543", "text": "نیو ہورائزنز خلائی جہاز جو پلوٹو کو جا رہا ہے، گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک سے فائدہ اٹھانے مشتری کے قریب سے گذرا تھا۔ 28 فروری 2007 کو مشتری کے قریب سے گذرا اور اس نے آئی او کے آتش فشانوں اور دیگر چار بڑے چاندوں پر تحقیق کی اور بہت دور سے ہمالیہ اور ایلارا کی بھی تصاویر کھینچیں ۔ چار بڑے چاندوں کی تصویر کشی 4 ستمبر 2006 میں شروع ہوئی ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01544", "text": "گلیلیو مشن\nتاحال مشتری کے مدار میں پہنچنے والا واحد خلائی جہاز گلیلیو ہے۔ یہ جہاز 7 دسمبر 1995 کو مدار میں پہنچا اور سات سال تک کام کرتا رہا۔ اس نے کئی بار تمام چاندوں کے گرد بھی چکر لگائے۔ اسی خلائی جہاز کی مدد سے شو میکرِلیوی 9 نامی دمدار ستارے کو مشتری پر گرتے دیکھا گیا جو ایک انتہائی نادر واقعہ ہے۔ اگرچہ گلیلیو سے بہت قیمتی معلومات ملیں لیکن ایک خرابی کی وجہ سے اس کا اصل اینٹینا کام نہیں کر سکا جس کی وجہ سے ڈیٹا بھیجنے کا عمل سخت متائثر ہوا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01545", "text": "جولائی 1995 کو گلیلیو نے ایک مشین نیچے اتاری جو پیراشوٹ کی مدد سے 7 دسمبر کو مشتری کی فضاء میں اتری۔ اس نے کل 57.6 منٹ تک کام کیا اور 150 کلومیٹر نیچے اتری اور آخرکار انتہائی دباؤ کی وجہ سے ناکارہ ہو گئی۔ اس وقت اس پر پڑنے والا فضائی دباؤ زمین سے 22 گنا زیادہ اور درجہ حرارت 153 ڈگری سینٹی گریڈ تھا ۔ اندازہ ہے کہ پگھلنے کے بعد شاید تبخیر کا شکار ہو گئی ہو۔ 21 ستمبر 2003 کو گلیلیو کو بھی اسی مقصد کے لیے مشتری کے مدار سے سطح کی طرف گرایا گیا۔ اس وقت اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01546", "text": "۔ اس وقت اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ناسا نے یورپا کو کسی قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا تاکہ خلائی جہاز راستے میں ہی تباہ ہو جائے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یورپا پر زندگی کے امکانات ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01547", "text": "مستقبل میں بھیجی جانے والی اور منسوخ شدہ مہمات\nمشتری کے قطبین کے بہتر مطالعے کے لیے ناسا جونو نامی خلائی جہاز 2011 میں بھیجنے لگا تھا جو 2016ء میں واپس آتا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01548", "text": "یورپا جیوپیٹر سسٹم مشن ناسا اور یورپی خلائی ادارے کا مشترکہ منصوبہ ہے جس میں مشتری اور اس کے چاندوں کے لیے مہم بھیجی جائے گی۔ فروری 2009 میں ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے اعلان کیا کہ اس مہم کو ٹائٹن سیٹرن سسٹم مشن پر ترجیح دی ہے۔ یہ مہم 2020 کے آس پاس بھیجی جائے گی۔ اس مہم میں ناسا مشتری اور یورپا کے لیے جبکہ یورپی خلائی ادارہ مشتری اور گینی میڈ کے گرد گردش کرنے والا خلائی جہاز بھیجے گا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01549", "text": "چونکہ مشتری کے چاندوں یورپا، گینی میڈ اور کالیسٹو کی سطح پر مائع سمندر پائے جانے کا امکان ہے اس لیے ان کے تفصیلی مشاہدے کا منصوبہ ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے یہ منصوبے رکے ہوئے ہیں۔ ناسا کا جیمو یعنی جیوپیٹر آئسی مون آربیٹر مشن 2005 میں منسوخ ہو گیا ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01550", "text": "چاند\nمشتری کے 67 قدرتی چاند ہیں ۔ ان میں سے، 51 کا قطر 10 کلومیٹر سے چھوٹا ہے اور انھیں 1975 کے بعد دریافت کیا گیا ہے۔ چار بڑے چاند جنھیں گلیلین چاند کہا جاتا ہے، آئی او، یورپا، گینی میڈ اور کلیسٹو ہیں۔\n\nیورپا چاند\nماہر فلکیات کا خیال ہے کہ مشتری کے چاند یورپا کی برفانی سطح کے نیچے پانی کے ذخائر موجود ہیں جن میں زندگی کے آسار متوقع ہیں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01551", "text": "گلیلین چاند\nآئی او، یورپا، گینی میڈ اور چند دیگر بڑے چاندوں کی گردش میں لیپلاس ریزونینس پائی جاتی ہے۔ مثلاً آئی او کے مشتری کے گرد ہر چار چکر پر یورپا اس وقت میں پورے دو چکر کاٹتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گینی میڈ صرف ایک۔ اس وجہ سے ہر چاند دوسرے چاند کو ایک ہی مقام پر ملتا ہے جن کی باہمی کشش کی وجہ سے ان کے مدار گول کی بجائے بیضوی ہیں ۔\nمشتری کی کشش کی وجہ سے ان چاندوں کے اندر رگڑ کی وجہ سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور آئی او پر آتش فشاں کی یہی وجہ ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01552", "text": "چاندوں کی درجہ بندی\nوائجر مہمات سے قبل مشتری کے چاندوں کو ان کے مدار کی خصوصیات کی وجہ سے چار چار کے چار گروہوں میں رکھا گیا تھا۔ لیکن بے شمار چھوٹے چاندوں کی دریافت کے بعد یہ تقسیم درست نہیں رہی۔ اب چھ اہم گروہ ہیں لیکن اندازہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ گروہ بنیں گے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01553", "text": "ایک اور درجہ بندی یہ ہے کہ اندرونی آٹھ چاندوں کو ایک گروہ میں رکھا جائے جن کے مدار تقریباً گول اور خطِ استوا کے قریب ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مشتری کے ساتھ ہی پیدا ہوئے تھے۔ باقی سارے چاند ایک ہی درجہ بندی میں آتے ہیں اور خیال ہے کہ وہ شہابیئے ہیں جنھیں مشتری نے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ ان کی شکلیں اور مدار ایک جیسے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے چاند کے ٹوٹنے سے بنے ہوں ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01554", "text": "نظامِ شمسی کے ساتھ عمل دخل\nسورج کے ساتھ ساتھ مشتری کی کششِ ثقل کی وجہ سے ہمارے نظامِ شمسی کی شکل بنانے میں مدد ملی ہے۔\nاس کے علاوہ کوئیپر کی پٹی میں بننے والے دمدار ستارے بھی مشتری کی وجہ سے اپنا مدار چھوڑ کر نظامِ شمسی کے اندر کا رخ کرتے ہیں۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01555", "text": "ٹکراؤ", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01556", "text": "اپنی بہت زیادہ کششِ ثقل اور نظامِ شمسی کے اندر ہونے کی وجہ سے مشتری کو نظامِ شمسی کا ویکیوم کلینر یا جمعدار کہا جاتا ہے ۔ نظامِ شمسی کے سیاروں میں سب سے زیادہ اسی کے ساتھ دمدار ستارے اور شہابیئے ٹکراتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیارہ نظامِ شمسی کے اندرونی سیاروں کو شہابیوں سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے۔ تاہم حالیہ کمپیوٹر سمولیشن کی مدد سے پتہ چلا ہے کہ مشتری جتنے شہابیئے یا دمدار ستارے اپنے مدار میں کھینچتا ہے، اتنے ہی اس کی وجہ سے اپنے مدار سے نکل کر اندرونی نظامِ شمسی کا رخ کرتے ہیں", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01557", "text": "۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مشتری اوورت بادل سے آنے والے دمدار ستاروں سے بچاؤ کا کام کرتا ہے۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01558", "text": "16 جولائی سے 22 جولائی 1994 کے دوران شو میکر لیوی 9 دمدار ستارے کے 20 ٹکڑے مشتری کے جنوبی نصف کرے سے ٹکرائے تھے اور نظامِ شمسی میں ایسا پہلی بار دیکھا گیا کہ نظامِ شمسی کے دو اجسام ایک دوسرے سے ٹکرائے ہوں۔ اس ٹکراؤ کے مشاہدے سے ہمیں مشتری کی فضاء کے بارے قیمتی معلومات ملی ہیں ۔\n19 جولائی 2009 کو ایک جگہ دمدار ستارے کے ٹکراؤ کے نشان ملے تھے جسے زیریں سرخ روشنی سے دیکھنے پر پتہ چلا ہے کہ یہاں کا درجہ حرارت کافی بلند ہے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01559", "text": "اسی طرح کا ایک اور چھوٹا نشان آسٹریلیا کے شوقیہ فلکیات دان نے 3 جون 2010 کو دریافت کیا۔ اسے فلپائن میں ایک اور شوقین نے وڈیو پر ریکارڈ بھی کیا تھا ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01560", "text": "زندگی کے امکانات\n1953 میں ملر اُرے کے تجربات سے ثابت ہوا کہ اولین زمانے میں زمین پر موجود کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی کے ٹکراؤ سے جو آرگینک مادے بنے، انہی سے زندگی نے جنم لیا۔ یہ تمام کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی مشتری پر بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم تیز چلنے والی عمودی ہواؤں کی وجہ سے ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو سکا ہو ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01561", "text": "زمین جیسی زندگی تو شاید مشتری پر ممکن نہ ہو کیونکہ وہاں پانی کی مقدار بہت کم ہے اور ممکنہ سطح پر بے پناہ دباؤ ہے۔ تاہم 1976 میں وائجر مہم سے قبل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ امونیا اور پانی پر مبنی زندگی شاید مشتری کی بالائی فضاء میں موجود ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اوپر کی سطح پر سادہ ضیائی تالیف کرنے والے پلانکٹون ہوں اور سطح کے نیچے مچھلیاں ہو جو پلانکٹون پر زندہ ہوں اور اس سے نیچے مچھلیاں کھانے والے شکاری۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01562", "text": "مشتری کے چاندوں پر زیرِ زمین سمندروں کی موجودگی سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں زندگی کے پائے جانے کے بہتر امکانات ہوں گے ۔", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01563", "text": "اساطیر\nملاحظات\nحوالہ جات\nمزید پڑھیے\nF. Bagenal؛ T. E. Dowling؛ W. B. McKinnon، مدیران (2004)۔ 978-0-521-81808-7 Jupiter: The planet, satellites, and magnetosphere۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ ISBN:0-521-81808-7 {{حوالہ کتاب}}: |یوآرایل= پیرامیٹر کو جانچ لیجیے (معاونت)\nReta Beebe (1997)۔ Jupiter: The Giant Planet (Second ایڈیشن)۔ Washington, D.C.: Smithsonian Institution Press۔ ISBN:1-56098-731-6\n\nبیرونی روابط", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01564", "text": "Hans Lohninger؛ دیگر (2 نومبر 2005)۔ \"Jupiter, As Seen By Voyager 1\"۔ A Trip into Space۔ Virtual Institute of Applied Science۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-09 {{حوالہ ویب}}: Explicit use of et al. in: |مصنف= (معاونت)\nTony Dunn (2006)۔ \"The Jovian System\"۔ Gravity Simulator۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-09—A simulation of the 62 Jovian moons.", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01565", "text": "Seronik, G.; Ashford, A. R۔ \"Chasing the Moons of Jupiter\"۔ Sky & Telescope۔ 2007-07-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-09{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: متعدد نام: مصنفین کی فہرست (link)\nAnonymous (2 مئی 2007)۔ \"In Pictures: New views of Jupiter\"۔ BBC News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-05-02\nFraser Cain۔ \"Jupiter\"۔ Universe Today۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-04-01\n\"Fantastic Flyby of the New Horizons spacecraft (May 1, 2007.)\"۔ NASA۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-05-21", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01566", "text": "\"Moons of Jupiter articles in Planetary Science Research Discoveries\"۔ Planetary Science Research Discoveries۔ University of Hawaii, NASA\nJune 2010 impact video\nAmanda Bauer؛ Merrifield, Michael (2009)۔ \"Jupiter\"۔ Sixty Symbols۔ Brady Haran for the یونیورسٹی آف ناٹنگھم", "title": "مشتری", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01567", "text": "انسانی زندگی کی نقل و حرکت کا خاصا انحصار توانائی پر ہے۔ آج جس بڑے پیمانے پر توانائی کا استعمال ہو رہا ہے اس سے خدشہ یہ ہے کہ توانائی کے ذخائر بہت دنوں تک ہمارا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ توانائی کے یہ ذخائر اور ذرائع ماحول کو بھی آلودہ کر رہے ہیں۔ ہمیں توانائی کے نئے متبادل تلاش کرنے ہوںگے تاکہ توانائی کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی آلودگی سے بچایا جاسکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم تیل، کوئلہ، لکڑی اور گوبر کے علاوہ دھوپ، ہوا، پانی اور دیگر توانائی کے قدرتی ذرائع کا استعمال کریں", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01568", "text": "۔ مزید برآں شمسی توانائی جو کبھی نہ ختم ہونے والا ذریعہ ہے۔ روایتی توانائی کے ذرائع ہیں کوئلہ، معدنی تیل، لکڑی اور گوبر وغیرہ جب کہ غیر روایتی توانائی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں شمسی توانائی، آبی یا موجی توانائی، ہوائی توانائی،پودوں سے پٹرول کشید کرکے توانائی حاصل کرنا، جوہری توانائی، بائیو گیس اور ارضی حرارتی توانائی۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01569", "text": "کوئلہ، معدنی تیل اور برقاب— توانائی حاصل کرنے کے تین اہم وسائل ہیں جن میں جوہری توانائی کا اضافہ ابھی حال میں ہوا ہے۔ کوئلہ توانائی کے حصول یا صنعتی ایندھن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ کوئلے کی تین قسمیں ہیں۔ اینتھرا سائیٹ، بِیٹُومینس اور لگنائیٹ۔ ان سب میں سب سے عمدہ قسم اینھتراسائیٹ کی ہوتی ہے جس میں دھواں کم نکلتا ہے اور بہت گرمی دیتا ہے۔ دوسری قسم میں دھواں نسبتاً زیادہ نکلتا ہے مگر یہ بھی کافی گرمی دیتا ہے۔ تیسری قسم میں آنچ کم اور دھواں بہت ہوتا ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01570", "text": "۔ تیسری قسم میں آنچ کم اور دھواں بہت ہوتا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01571", "text": "کوئلے کے علاوہ قدرتی تیل یا پٹرولیم توانائی حاصل کرنے کا دوسرا ذریعہ ہے۔ اور یہ نہایت کار آمد ایندھن بھی ہے۔ کچے قدرتی تیل سے ہمیں مٹی کا تیل، ڈیزل، پٹرول، اسپرٹ، کھانا پکانے کی گیس وغیرہ حاصل ہوتی ہے۔ ہماری روزانہ کی زندگی میں قدرتی تیل اور اس سے بنی ہوئی اشیا کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اسکوٹر، موٹر سائیکل، کار، بسیں، ریل گاڑیاں، جہاز، ہوائی جہاز ملیں اور فیکٹریاں وغیرہ پٹرول اور ڈیزل سے چلتے ہیں۔ غرض یہ کہ قدرتی تیل یا پٹرولیم ہماری معاشی زندگی کی شہہ رگ ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01572", "text": "زمین کی گہرائیوں میں حرارت کا بے شمار خزانہ دفن ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق زمین کی اس پپڑی کے نیچے درجہ ¿ حرارت 7200oF یعنی 4000 سینٹی گریڈ ہے۔ حرارت اکثر آتش فشانو ں کے علاوہ زمین کے مختلف حصوں سے خارج ہونے والی بھاپ کی شکل میں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ 1904 میں Geo-Thermal Energy کو کام میں لانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ زمین کے اندر کی بھاپ کو پائپ کے ذریعے چرخاب تک لایا گیا اور اس سے بجلی پیدا کی گئی", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01573", "text": "۔ زمین اندر سے بہت گرم ہے اور اس میں جگہ جگہ پر گرم پانی کی دھار یا سوکھی بھاپ کی تیز دھار پھوٹتی رہتی ہے۔ اس حرارت کو اگر توانائی میں بدل دیا جائے تو ہزاروں سال تک توانائی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ کوئلہ سے پٹرول بنانے کا طریقہ جنوبی افریقہ میں شروع ہوا۔ وہاں کوئیلے کی کانیں وافر مقدار میں کوئلہ فراہم کر سکتی ہیں مگر یہ طریقہ بہت مہنگا ہے اور اس میں کوئلے کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کوڑا کرکٹ سے بھی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا میں سالانہ 25 کروڑ ٹن کوڑا پھینکا جاتا ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01574", "text": "۔ اس سے دس کروڑ ٹن کوئلے کے برابر توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پودوں سے بھی پٹرول حاصل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق گنے کے رس سے الکوہل (Alcohal) بنائی جاتی ہے اور اس الکوہل کو بطور پٹرول استعمال کرکے گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں پودوں سے الکوہل کا سب سے زیادہ ایندھن پیدا کرنے والا ملک برازیل ہے کیونکہ وہاں گنا بہت پیدا ہوتا ہے۔ اس تکنیک کا ہمارے ملک میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01575", "text": "عہد حاضر کے سائنس داں سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنے کے تجربات میں مصروف ہیں اور کافی حد تک انھیں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ہوا کی طاقت کا استعمال دنیا کے کچھ ممالک نے آٹے کی چکیوں کو چلاکر کیا ہے۔ بہتے ہوئے پانی کوباندھ کے ذریعے روک کر بہت اونچائی سے گرا کر بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اگر سائنسی ترقی اسی رفتار سے ہوتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب سورج کی روشنی سے طاقت حاصل کرکے ہر وہ کام کیا جائے گا جو آج قدرتی تیل سے ہو رہا ہے اور جس کے ذخائر محدود ہیں۔ شمسی توانائی کبھی نہ ختم ہونے والی توانائی ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01576", "text": "شمسی توانائی", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01577", "text": "سورج کی دھوپ اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ ہندوستان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے۔ دن میں سورج چاہے دس سے بارہ گھنٹے تک ہی ہمارے ساتھ رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ آلودگی۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہو سکتی ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01578", "text": "۔ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ سورج کی روشنی کرنوں کی شکل میں صرف چوتھائی حصہ ہی زمین پر آتی ہے اور تین چوتھائی حصہ کرہ ¿ باد میں ہی رہ جاتی ہے۔ سورج اپنی توانائی X-Ray سے لے کر Radio-Wave کے ہر Wave-Length پر منعکس کرتا ہے۔ اسپکٹرم (Spectrum) کے 40فیصد حصے پر یہ توانائی نظر آتی ہے اور 50 فیصد شمسی توانائی انفرا ریڈ (Infra-Red) اور بقیہ Ultra-Violet کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی ”سولر انرجی“ یا ”شمسی توانائی“ کہلاتی ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01579", "text": "۔ دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دھوپ قدرت کا عطیہ ہے، ہر روز دنیا پر اتنی دھوپ پڑتی ہے کہ اس سے کئی ہفتوں کے لیے بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01580", "text": "سورج زمین سے تقریباً 15کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ چونکہ آفتاب میں صرف تپتی ہوئی گیس پائی جاتی ہے، اس لیے اس کی کثافت (Density) کم ہے۔ اس کا وزن زمین سے سوا تین لاکھ گنا زیادہ ہے۔ سورج کی باہری سطح کا درجہ ¿ حرارت تقریباً 6ہزار ڈگری سیلسیس ہے۔ اس کے مرکزی حصے کا درجہ ¿ حرارت ایک کروڑ ڈگری Celcius ہے۔ اس کے چاروں طرف روشنی اور حرارت نکلتی رہتی ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01581", "text": "۔ اس کے چاروں طرف روشنی اور حرارت نکلتی رہتی ہے۔ سورج کی سطح کے فی مربع سینٹی میٹر سے پچاس ہزار موم بتیوں جتنی روشنی نکلتی ہے اور زمین سورج سے نکلی ہوئی طاقت کا محض دوسو بیس کروڑواں حصہ ہی اخذکر پاتی ہے۔ شمسی توانائی کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔ سبز پتیوں والے پودے اس طاقت کا استعمال کرتے ہیں جس کے باعث ان میں Photosynthesis کا عمل ہوتا ہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01582", "text": "استعمالات کے میدان", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01583", "text": "آج شمسی توانائی سے بہت سے کام لیے جا رہے ہیں۔ چاہے کھانا پکانا ہو، پانی گرم کرنا ہو یا مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنا ہو۔ فصلوں کے دنوں میں دھان سکھانا ہو یا پائپوں کے ذریعے سینچائی۔ دہلی کے نزدیک گوالی پہاڑی میں سورج سے بجلی کی توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک بجلی گھر بنایا گیا ہے جہاں پیداوار اور تحقیقی کام کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں Solar Photovoltaic Centres قائم کیے جا چکے ہیں جو ایک کلوواٹ سے ڈھائی کلوواٹ تک بجلی پیدا کرتے ہیں", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01584", "text": "۔ گھروں، ڈیریوں، کارخانوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں میں پانی گرم کرنے کے لیے ایسے آلات لگے ہیں جو 100 لیٹر سے لے کر سوا لاکھ لیٹر تک پانی گرم کر سکتے ہیں۔ شمسی چولھے کم سے کم دو کلو لکڑی کی بچت کر سکتے ہیں۔ ہندوستان میں اگر 17 کروڑ خاندان مان لیے جائیں تو روزانہ کم از کم 34 کروڑ کلو لکڑی کی بچت کی جا سکتی ہے", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01585", "text": "۔ ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک غیر روایتی توانائی کے میدان میں داخل ہو چکا ہے اورتوانائی حاصل کرنے کا مستقبل اب دھوپ، سمندر کے پانی اور ایک قسم کی ایٹمی توانائی جو Nuclear Fusion کہلاتی ہے، جیسے ذرائع سے وابستہ ہوتا جا رہاہے۔", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01586", "text": "مزید دیکھیے\nسولر پارک\nقائد اعظم سولر پارک\nوولٹیج کا ضارب\nبجلی گھر\nانورٹر\nبائنڈنگ انرجی\nایٹمی بجلی گھر\nگرین ہاوس\n\nلیڈ سیکشن\nحوالہ", "title": "شمسی توانائی", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%D9%85%D8%B3%DB%8C_%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C"}, {"id": "urd_rec_01587", "text": "آب و ہوا (انگریزی: Climate) کے معنی ہیں موسمی کیفیت، کسی مقام پر پانی اور ہوا کی تاثیر یا طبیعی اور جغرافیائی اثرات جو صحت، مرض اور پیداوار سے تعلق رکھتے ہیں۔ آب و ہوا کسی خطے میں طویل مدتی موسم کا نمونہ ہے جو عام طور پر 30 سال سے زیادہ ہوتا ہے۔ وسیع نقطہ نظر میں آب و ہوا مہینوں سے لاکھوں سالوں تک پھیلے ہوئے موسمیاتی تغیرات کا اوسط اور تغیر ہے۔ موسمیاتی متغیرات میں سے کچھ کو عام طور پر ماپا جاتا ہے جو درجہ حرارت، نمی، ماحولیاتی دباؤ، ہوا اور بارش ہیں", "title": "آب و ہوا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_01588", "text": "۔ وسیع تر معنوں میں آب و ہوا، آب و ہوا کے نظام کے اجزاء کی حالت ہے بشمول ماحول، ہائیڈروسفیئر، کرائیوسفیئر، لیتھوسفیئر اور بایوسفیئر اور ان کے درمیان تعامل۔ کسی مقام کی آب و ہوا اس کے عرض البلد، طول البلد، خطہ، اونچائی، زمین کے استعمال اور قریبی آبی ذخائر اور ان کے دھاروں سے متاثر ہوتی ہے۔", "title": "آب و ہوا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"}, {"id": "urd_rec_01589", "text": "بوٹولزم\n\nبیرونی روابط\nآب و ہوا کا خدماتی پورٹلآرکائیو شدہ بذریعہ climate.gov \nعالمی آب و ہوا\nدائرۃ المعارف آب و ہواآرکائیو شدہ بذریعہ atmosphere.mpg.de", "title": "آب و ہوا", "url": "https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%A8_%D9%88_%DB%81%D9%88%D8%A7"}]