[ { "text": "ريم\n\n \nاسلامی جمہوریہ پاکستان\nکا\nدستور\n\nاسلامی جمہوریہ پاکستان\nریمان\nصور\n \n( پچیسیویں ترمیم تک ترمیم شده )\nحکومت پاکستان\nوزارت قانون وانصاف\n۲٠۲۳ء\nشعبه ترجمه، وزارت قانون و انصاف اسلام آباد۔\n\nدیباچه\nیہ بارہواں ایڈیشن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کا ایک تازہ ترین متن ہے جس کے اندر تمام تازہ ترین\nترامیم شامل کی گئی ہیں۔ دستور کی یہ تازہ ترین اشاعت قانونی برادری اور عوام الناس کو بڑے پیمانے پر سہولت فراہم\nکرے گی۔\nمیں قانون وانصاف ڈویژن کے ان افسران کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس دستور کی\nطباعت میں اپنا کردارادا کیا ہے۔\nدستور کے متن کو تمام خامیوں سے پاک بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ تا ہم کسی بھی غلطی کی اطلاع کو\nسراہا جائے گا اور مناسب توجہ دی جائے گی۔\nاسلام آباد :\n۵/اکتوبر ۲۰۲۳ء\n \nراجہ نعیم اکبر\nسیکرٹری\nوزارت قانون و انصاف ڈویژن ۔\n\nآرٹیکل\nالف\nاسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور\nفہرست\nصفحہ\n۲۔\n۲۔\n۴۔\nحصہ اوّل\nجمہوریہ اور اس کے علاقہ جات ۔\nاسلام مملکتی مذہب ہوگا۔\nابتدائیہ\nالف۔ قرار داد مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہوگی۔\n\nاستحصال کا خاتمہ\nايم\nبمان\nافراد کا حق کہ ان سے قانون وغیرہ کے مطابق سلوک کیا جائے۔\nمملکت سے وفاداری اور دستو را در قانون کی اطاعت - \nسنگین غداری۔\nحصہ دوم\nبنیادی حقوق اور حکمت عملی کے اصول\nمملکت کی تعریف۔\nبابا۔ بنیادی حقوق\nبنیادی حقوق کے نقیض یا منافی قوانین کالعدم ہوں گے۔\nو۔\nفرد کی سلامتی ۔\n\n).\nآرٹیکل\n- 1 +\nگرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ ۔\n۱۰۔ الف۔ منصفانہ سماعت کا حق۔\nاا۔\n۱۲۔\n۱۴۔\n۱۵۔\nا۔\nا۔\nغلامی، بیگار وغیرہ کی ممانعت۔\nمؤثر به ماضی سزا سے تحفظ ۔\nدو ہری سزا اور اپنے کو ملزم گرداننے کے خلاف تحفظ ۔\nشرف انسانی وغیرہ قابل حُرمت ہوگا ۔\nنقل و حرکت و غیرہ کی آزادی۔\nاجتماع کی آزادی۔\nانجمن سازی کی آزادی۔\nتجارت ، کاروبار یا پینے کی آزادی۔\n۱۹۔\nتقریر وغیرہ کی آزادی۔\n۱۹۔ الف۔ حق معلومات۔\n۲۱۔\nمذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی۔\nکسی خاص مذہب کی اغراض کے لئے محصول لگانے سے تحفظ ۔\nمذہب وغیرہ کے بارے میں تعلیمی اداروں سے متعلق تحفظات \n۲۳۔\nجائیداد کے متعلق حکم ۔\n۲۴۔\nحقوق جائیداد کا تحفظ ۔\n۲۵۔\nشہریوں سے مساوات۔\n۲۵۔الف۔ تعلیم کا حق۔\n۲۶۔\nعام مقامات میں داخلہ سے متعلق عدم امتیاز ۔\n۲۷۔\nزبان، رسم الخط اور ثقافت کا تحفظ ۔\nملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ ۔\nصفحہ\n\nで\nآرٹیکل\nباب ۲۔ حکمت عملی کے اصول\nحکمت عملی کے اصول ۔\nحکمت عملی کے اصولوں کی نسبت ذمہ داری۔\nاسلامی طریق زندگی ۔\n۳۱۔\n۳۲۔\nبلدیاتی اداروں کا فروغ۔\n\nعلاقائی اور دیگر مماثل تعصبات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔\nقومی زندگی میں عورتوں کی مکمل شمولیت۔\n۳۵۔\nخاندان وغیرہ کا تحفظ ۔\n\nاقلیتوں کا تحفظ ۔\n\n۳۷۔\n۳۸۔\n۳۹۔\nلد\nمعاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ\nعوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ۔\nمسلح افواج میں عوام کی شرکت ۔ اکان\nعالم اسلام سے رشتے استوار کرنا اور بین الاقوامی امن کو فروغ دینا۔\n \n۴۱۔\n۴۲۔\nصدر کا حلف ۔\nصدر کے عہدے کی شرائط ۔\n۴۴۔\nصدر کے عہدے کی میعاد۔\nحصّہ سوم\nوفاق پاکستان\nباب ا۔ صدر\nصفحہ\n\nآرٹیکل\n۴۶۔\n۴۷۔\n۴۸۔\n۴۹۔\nصدر کا معافی وغیرہ دینے کا اختیار۔\nصدر کو آگاہ رکھا جائے گا۔\nصدر کی برطرفی یا مواخذہ ۔\nصدر مشورے وغیرہ پر عمل کرے گا۔\nچیئر مین یا اسپیکر قائم مقام صدر ہوگا، یا صدر کے کارہائے منصبی انجام دے گا۔\nباب ۲- مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کی ہیئت ترکیبی، میعاد اور اجلاس\nمجلس شوری ( یارلیمنٹ ) ۔\n\nقومی اسمبلی۔\nقومی اسمبلی کی میعاد\nصفحہ\n۵۳۔\n\n۵۷۔\n'\nقومی اسمبلی کا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کا اجلاس طلب کرنا اور برخاست کرنا۔\nاسمبلی میں رائے دہندگی اور کورم - \nصدر کا خطاب۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) میں تقریر کا حق ۔\nقومی اسمبلی کی تحلیل ۔\nسینٹ ۔\nچیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین۔\nٹ سے متعلق دیگر احکام ۔\nسینٹ ۔\nمجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے ارکان کی بابت احکام\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کی رکنیت کے لئے اہلیت۔\n\nآرٹیکل\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کی رکنیت کے لئے نا اہلیت۔\n۲۳ - الف انحراف وغیرہ کی بنیاد پر نا اہلیت۔\n۶۴۔\n\nنشستوں کا خالی کرنا۔\nارکان کا حلف۔\nارکان وغیرہ کے استحقاقات۔\nقواعد ضابط کار وغیرہ۔\nعام طریق کار\nمجلس شوری (پارلیمنٹ) میں بحث پر پابندی۔\nعدالتیں مجلس شوری ( بارلیمنٹ کی کارروائی کی تحقیقات نہیں کریں گی ۔\nقانون سازی کا طریقہ کار\nايما\nبل پیش کرنا اور منظور کرنا۔\nحذف کر دیا گی \nا۔\n۷۲۔\nمشترکہ اجلاس میں طریق کار۔\n۷۳۔\nمالی بلوں کی نسبت طریق کار ۔\n_20\n۔ مالی اقدامات کے لئے وفاقی حکومت کی مرضی ضروری ہوگی۔\nبلوں کے لئے صدر کی منظوری۔\nبل اسمبلی کی برخاستگی وغیرہ کی بناء پر ساقط نہیں ہوگا۔\nمحصول صرف قانون کے تحت لگایا جائے گا۔\nمالیاتی طریق کار\nوفاقی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب۔\n\nآرتیکل\nوے۔\n۱۔\n_\n۔ وفاقی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب کی تحویل وغیرہ۔\nسالانه کیفیت نامه میزانیہ۔\nوفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف۔\nسالا نہ کیفیت نامہ میزانیہ کی بابت طریق کار۔\nمنظور شدہ مصارف کی جدول کی توثیق۔\nضمنی اور زائد رقوم۔\nحساب پر رائے شماریا\nاسمبلی ٹوٹ جانے کی صورت میں خرچ کی\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سیکر ٹریٹ ۔\nدینے کا اختیار\nمالیاتی کمیٹی ۔\nآرڈ مینس\nصفحه\nصدر کا آرڈینینس نافذ کرنے کا اختیار۔\n اب ۳۔ وفاقی حکومت \nوفاقی حکومت ۔\n۹۱۔\nکا بینہ۔\n۹۲۔\nوفاقی وزراء اور وزرائے مملکت ۔\n۹۳۔\nمشیران\n۹۴۔\nوزیر اعظم کا عہدے پر برقرار رہنا۔\nوزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ۔\nتبدیلی کی رُو سے حذف کر دیا گیا۔]\n۹۷ ۔ وفاق کے عاملا نہ اختیار کی وسعت۔\nماتحت ہیئت ہائے مجاز کو کا رہائے منصبی کی تفویض۔\n\nآئیکل\n٩٩۔\n\nوفاقی حکومت کا انصرام کار۔\nاٹارنی جنرل برائے پاکستان۔\nگورنر کا تقرر\nحصہ چہارم\nصوبے\nبابا۔ گورنر\n١٠٢۔\nعہدے کا حلف۔\n\n۱۰۴۔\nا\nگورنر کے عہدے کی شرائط ۔\nاسپیکر صوبائی اسمبلی ، گورنر کی غیر موجودگی میں بطور گورنر کام ، یا کارہائے منصبی\nانجام دے گا۔\nگورنر مشورے وغیرہ پر عمل کر ۔\nنہ عمل کرے گا۔\n باب ۲۔ صوبائی اسمبلیاں \n١٠٦۔\nصوبائی اسمبلیوں کی تشکیل۔\n\nصوبائی اسمبلی کی میعاد۔\n۱۰۸۔\nاسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ۔\n\nصوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنا۔\nگورنر کا صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا اختیار ۔\nصوبائی اسمبلی میں تقریر کا حق\n۱۱۲۔\nصوبائی اسمبلی کی تحلیل ۔\n١١٣۔\nصوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لئے اہلیت اور نا اہلیت\nااله\nصوبائی اسمبلی میں بحث پر پابندی۔\nصفحہ\n\nارشکل\n۱۱۵۔\n۱۱۶۔\nا۔\nمالی امداد کے لئے صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہوگی۔\nبلوں کے لئے گورنر کی منظوری۔\nبل اجلاس کی برخاستگی وغیرہ کی بناء پر ساقط نہیں ہوگا۔\nمالیاتی طریق کار\n۱۱۸۔\nصوبائی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب۔\nباری حساب\nواا۔\n\n۱۲۱۔\n\nصوبائی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب کی تحویل وغیرہ۔\nسالانه کیفیت نامه میزانید.\nصوبائی مجموعی فنڈ پر واجب الا وا مصارف۔\nسالانه کیفیت نامہ میزانیہ کی بابت طریق کار\nمنظور شدہ خرچ کی جدول کی توثیق۔\n۱۲۳۔\n\nضمنی اور زائد رقم\n۱۲۵۔\n۱۲۷۔\nايما\nحساب پر رائے شماری۔\nاسمبلی ٹوٹ جانے کی صورت میں خرچ کی منظوری دینے کا اختیار\nقومی اسمبلی وغیرہ سے متعلق احکام صوبائی اسمبلی وغیرہ پر اطلاق پذیر ہوں گے۔\n\nآرڈینینس\nگورنر کا آرڈینینس نافذ کرنے کا اختیار۔\nباب ۳۔ صوبائی حکومتیں\n\nصوبائی حکومت۔\n۱۳۰۔\nکا بینہ۔\n۱۳۱۔\nگورنر کو آگاہ رکھا جائے گا۔\n\nآرٹیکل\n۱۳۲۔\nصوبائی وزراء۔\n۱۳۳۔\nوزیراعلیٰ کا عہدے پر برقرار رہنا۔\n۱۳۴۔\n[ حذف کر دیا گیا۔]\n۱۳۵۔\n[ حذف کر دیا گیا۔]\nوزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ۔\n۱۳۷۔\n۱۳۸۔\nصوبے کے عاملا نہ اختیار کی وسعت -\nماتحت ہیئت ہائے مجاز کو کارہائے منصبی کی تفویض\n۱۳۹۔\nصوبائی حکومت کے کاروبار کا انصرام ۔\nالده\nکسی صوبے کے لئے ایڈووکیٹ جنرل ۔\n۱۴۰۔ الف۔ مقامی حکومت ۔\n۱۴۱۔\n\n۱۴۴۔\n۱۴۵۔\nحصہ پنجم\nوفاقی اور صوبوں کے مابین تعلقات\nباب ا۔ اختیارات قانون سازی کی تقسیم\n \nوفاقی وصوبائی قوانین کی وسعت۔\nوفاقی وصوبائی قوانین کے موضوعات۔\nوفاقی وصوبائی قوانین کے مابین تناقض۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا ایک یا زیادہ صوبوں کی رضامندی سے قانون\nسازی کا اختیار۔\nباب ۲۔ وفاق اور صوبوں کے مابین انتظامی تعلقات\nصدر کا گورنر کو اپنے عامل کے طور پر بعض کا رہائے منصبی انجام دینے کا حکم دینے\nکا اختیار۔\n\nآرٹیکل\n۱۴۸۔\n۱۴۹۔\n۱۴۷۔\nوفاق کا بعض صورتوں میں صوبوں کو اختیارات وغیرہ تفویض کرنے کا اختیار۔\nصوبوں کا وفاق کو کارہائے منصبی سپرد کرنے کا اختیار ۔\nصوبوں اور وفاق کی ذمہ داری۔\nبعض صورتوں میں صوبوں کے لئے ہدایات۔\n۱۵۰۔\nسرکاری کارروائیوں وغیرہ کا پورے طور پر معتبر اور وقیع ہونا۔\n۱۵۱۔\nبین الصوبائی تجارت\n\nوفاقی اغراض کے لئے اراضی کا حصول۔\nباب ۳۔ خاص احکام\n۱۵۲_الف۔ [ حذف کر دیا گیا۔]\n۱۵۳۔\nمشترکہ مفادات کی کونسل ۔\n\nکارہائے منصبی اور قواعد ضابطہ کار\n۱۵۵۔\nآب رسانیوں میں مداخلت کی شکایات۔\n\nقومی اقتصادی کونسل\n \n۱۵۷۔\n۱۵۸۔\nقدرتی گیس کی ضروریات کی ترجیح ۔\n۱۵۹۔\nریڈیو اور ٹیلی ویثرن سے نشریات۔\nحصہ ششم\n_170\nمالیات، جائیداد، معاہدات اور مقدمات\nباب ا۔ مالیات\nوفاق اور صوبوں کے مابین محاصل کی تقسیم\nقومی مالیاتی کمیشن۔\nصفحہ\n\nارشکل\nمع\n\nقدرتی گیس اور برقابی قوت۔\nایسے محصولات پر جن میں صوبے دلچسپی رکھتے ہوں، اثر انداز ہونے والے\nبلوں کے لئے صدر کی ماقبل منظوری درکار ہوگی۔\nپیشوں وغیرہ کے بارے میں صوبائی محصولات ۔\nمجموعی فنڈ سے عطیات ۔\nمتفرق مالی احکام\nبعض سرکاری املاک کا محصول سے استنشی ۔\n۔ ۱۶۵۔ الف۔ بعض کارپوریشنوں وغیرہ کی آمدنی پر محصول عائد کرنے کا مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) کا اختیار۔\n\nباب ۲۔ قرض لینا و محاسبه\nوفاقی حکومت کا قرض لینا۔\nصوبائی حکومت کا قرض لینا۔\n \nپاکستان کا محاسب اعلیٰ ۔\nمحاسبه وحسابات\n۱۶۹۔\nمحاسب اعلیٰ کے کارہائے منصبی اور اختیارات۔\n۱۷۰۔\nحسابات کے متعلق ہدایات دینے کے بارے میں محاسب اعلیٰ کا اختیار۔\nا۔\nمحاسب اعلیٰ کی رپورٹیں۔\nباب ۳۔ جائیداد، معاہدات، ذمہ داریاں اور مقدمات\n۱۷۲۔\nلاوارث جائیداد ۔\n۱۷۳۔\nجائیداد حاصل کرنے اور معاہدات وغیرہ کرنے کا اختیار۔\n۱۷۴۔\nمقدمات و کارروائیاں۔\n\nآئیکل\nہفتم\nنظام عدالت\nباب ا۔ عدالتیں\n\n۱۷۵۔ عدالتوں کا قیام اور اختیار سماعت ۔\n۱۷۵ - الف۔ عدالت عظمیٰ، عدالت ہائے عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے جوں کا تقرر۔\nباب ۲۔ پاکستان کی عدالت عظمی\n\n۱۷۹۔\n_+\nعدالت عظمی کی تشکیل ہے\nعدالتِ عظمی کے جوں کا تقرر۔\n)\nعہدے کا حلف ۔ ہم\nفارغ الخدمت ہونے کی عمر ۔\nقائم مقام چیف جسٹس \nصفحہ\n\nم\nآرشیکل\nصفحہ\n۱۸۱۔\nقائم مقام حج ۔\n۱۸۲۔\n_\n۱۸۴۔\n۱۸۵۔\n_\nججوں\nکا وقتی طور پر بغرض خاص تقرر۔\nعدالت عظمی کا صدر مقام ۔\nعدالت عظمیٰ کا ابتدائی اختیار سماعت ۔\nعدالت عظمی کا اختیار ساعت مرافعہ ۔\nمشاورتی اختیار سماعت ۔\n۱۸۶۔ الف۔ عدالت عظمی کا مقدمات منتقل کرنے کا اختیار ۔\n۱۸۷۔\nعدالت ۔\nعظمیٰ کے حکم ناموں کا اجراء اور تعمیل .\nعدالت عظمیٰ کا فیصلوں یا احکام پر نظر ثانی کرنا\n_\n_19+\nعدالت عظمی کے فیصلے دوسری عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہیں ۔\nعدالت عظمی کی معاونت میں عمل 1\n۱۹۱۔\nقواعد طریق کار\nايم ن\nباب ۳۔ عدالت ہائے عالیہ\n \n۱۹۲۔\nعدالت عالیہ کی تشکیل۔\n۱۹۳۔\nعدالتِ عالیہ کے جوں کا تقرر۔\n۱۹۴۔\nعہدے کا حلف۔\n۱۹۵۔\nفارغ الخدمت ہونے کی عمر۔\n\nقائم مقام چیف جسٹس۔\n۱۹۷۔\nزائد حج۔\n۱۹۸۔\nعدالت عالیہ کا صدر مقام ۔\n۱۹۹۔\nعدالت عالیہ کا اختیار سماعت ۔\n\nآرٹیکل\nعدالت عالیہ کے جوں کا تبادلہ۔\nعدالت عالیہ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔\n۲۰۲۔\nقواعد طریق کار\n٢٠٣۔\nعدالت عالیہ ماتحت عدالتوں کی نگرانی کرے گی۔\nباب الف\nوفاقی شرعی عدالت\n۲۰۳۔الف۔ اس باب کے احکام دستور کے دیگر ادکام پر غالب ہوں گے۔\n۲۰۳۔ ب۔ تعریفات\n\n۲۰۳۔ ج۔ وفاقی شرعی عدالت\n۲۰۳ - ج ج- [ حذف کر دیا گیا۔]\n۲۰۳ و\nعدالت کے اختیارات، اختیار سماعت اور کا رہائے\nمنصبی -\n۲۰۳ دو\n۲۰۳۔۵۔\nعدالت کا اختیا ر سماعت نگرانی اور دیگر اختیار سماعت ۔\nعدالت کے اختیارات اور ضابطہ کار \n۲۰۳ و\nعدالت عظمی کو اپیل۔\nاختیار سماعت پر پابندی۔\n۲۰۳ زز عدالت کا فیصلہ عدالت عالیہ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔\n۲۰۳ - ح - زیر سماعت کا رروائیاں وغیر ہ جاری رہیں گی۔\n\n[ حذف کر دیا گیا۔]\n۲۰۳ی۔ قواعد وضع کرنے کا اختیار۔\nصفحہ\n\nآرٹیکل\n۲۰۴۔\n\nباب\nنظام عدالت کی بابت عام احکام\nتوہین عدالت ۔\nججوں کا مشاہرہ وغیرہ۔\n۲۰۶۔\nاستعفی۔\n۲۰۷۔\nج کسی منفعت بخش عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں ہوگا۔\n۲۰۸۔\nعدالتوں کے عہد یدار اور ملازمین۔\n۲۰۹۔\nاعلیٰ عدالتی کونسل -\nکونسل کا اشخاص وغیرہ کو حاضر ہونے کا حکم دینے کا اختیار۔\n۲۱۱۔\nامتناع اختیار سماعت ۔\n۲۱۲۔\nانتظامی عدالتیں اور ٹربیونلز\n۲۱۲۔ الف [ حذف کر دیا گیا ۔\n۲۱۲ - ب- [ منسوخ کر دیا گیا۔]\n \nحصہ ہشتم\nانتخابات\nہاب۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن\n\nچیف الیکشن کمشنر ۔\n\nکمشنر کے عہدے کا حلف ۔\n\nکمشنر کے عہدے کی میعاد۔\n۲۱۶۔\nکمشنر کسی منفعت بخش عہدے پر فائز نہیں ہوگا۔\n۲۱۷۔\nقائم مقام کمشنر ۔\nصفحہ\n\nآرشیکل\n۲۱۸۔\n۲۱۹۔\n\n۲۲۲۔\n\nالیکشن کمیشن۔\nکمشنر کے فرائض۔\nحکام عاملہ کمیشن وغیرہ کی مدد کریں گے۔\nافسران اور ملازمین ۔\nباب ۲۔ انتخابی قوانین اور انتخابات کا انعقاد\nانتخابی قوانین\nدوہری رکنیت کی ممانعت\nانتخاب اور منی انتخاب کا وقت ۔\n۲۲۴ الفـ کمیٹی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے قرارداد\n۲۲۵۔\nانتخابی تنازعه -\nانتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوں گے ۔\n\n۲۲۸۔\nحصہ نہم\n \nاسلامی احکام\nقرآن پاک اور سنت کے بارے میں احکام ۔\nاسلامی کونسل کی ہیئت ترکیبی وغیرہ۔\nاسلامی کونسل سے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) وغیرہ کی مشورہ طلبی۔\nاسلامی کونسل کے کارہائے منصبی ۔\n۲۳۰۔\n\nقواعد ضابطہ کار\nصفحہ\n\n(..\nآرٹیکل\n\nحصہ دہم\nہنگامی احکام\nجنگ، داخلی خلفشار وغیرہ کی بناء پر ہنگامی حالت کا اعلان ۔\nہنگامی حالت کی مدت کے دوران بنیادی حقوق وغیرہ کو معطل کرنے کا اختیار۔\nکسی صوبے میں دستوری نظام کے ناکام ہو جانے کی صورت میں اعلان\nجاری کرنے کا اختیار\n۲۳۵۔\nمالی ہنگامی حالت کی صورت میں اعلان ۔\n۲۳۶۔\n۲۳۷۔\nاعلان کی تنسیخ وغیرہ۔\nشوری (\n(\nمجد سیمنٹ ) بریت وغیرہ کے قوانین وضع کر سکے گی۔\nایمان\nحصہ یازدہم\nدستور کی ترمیم\nصفحہ\n۲۳۸۔\n \n۲۳۹۔\nدستور میں ترمیم کابل ۔\nحصہ دوازدہم\nمتفرقات\n\nباب ا۔ ملازمتیں\nپاکستان کی ملازمت میں تقر ر اور شرائط ملازمت۔\nموجودہ قواعد وغیرہ جاری رہیں گے۔\nپبلک سروس\nکمیشن۔\n\nآرٹیکل\n\n۲۴۴۔\n۲۴۵۔\nصفحہ\nباب ۲۔ مسلح افواج\nمسلح افواج کی کمان ۔\nمسلح افواج کا حلف۔\nمسلح افواج کے کارہائے منصبی ۔\nباب ۳۔ قبائلی علاقہ جات\n۲۴۶۔\nقبائلی علاقہ جات۔\n۲۴۷۔\n[ حذف کر دیا گیا۔]\nباب -۴- عام\n۲۴۸۔\nصدر، گورنر ، وزیر وغیرہ کا تحفظ ۔\n۲۴۹۔\nقانونی کارروائیاں۔\n- ۲۵۰\n\n۲۵۴۔\n\nصدر، وغیرہ کی تنخواہیں بھتہ جات وغیره \nقومی زبان۔\nبڑی بندرگا ہوں اور ہوائی اڈوں سے متعلق خاص احکام ۔\nجائیداد وغیرہ پر انتہائی تحدیدات۔\nوقت مطلوبہ کے اندر نہ ہونے کے باعث کوئی فعل کا لعدم نہ ہوگا۔\nعہدے کا حلف۔\nنجی افواج کی ممانعت۔\n۲۵۷۔\nریاست جموں و کشمیر سے متعلق حکم ۔\n\nصوبوں سے باہر کے علاقہ جات کا نظم ونسق ۔\nاعزازات۔\n\nآرٹیکل\n۲۶۰۔\nتعریفات۔\nق\nباب ۵ توضیح\nکسی عہدے پر قائم مقام کوئی شخص اپنے پیش روکا جانشین وغیرہ نہیں سمجھا جائے گا۔\n۲۶۲۔\nگریگری نظام تقویم استعمال کیا جائے گا۔\n۲۶۳۔\nمذکر و مؤنث اور واحد اور جمع ۔\n۲۶۴۔\nتنسیخ قوانین کا اثر\nباب ۶ - عنوان آغاز نفاذ اور تنسیخ\n۲۶۵۔\nدستور کا عنوان اور آغاز نفاذ -\n)\nتنیخ۔\nجله\n۲۶۷۔\n\nاب ۷ ۔ عبوری\nتان\nمشکلات کے ازالہ کے لئے صدر کے اختیارات۔\n۲۶۷۔ الف ز المشکلات کا اختیار \n۲۶۷۔ب۔\n۲۶۹۔\n۲۷۰۔\nازالہ شک۔\nبعض قوانین کے نفاذ کا تسلسل اور بعض قوانین کی تطبیق ۔\nقوانین اور افعال وغیرہ کی توثیق۔\nبعض قوانین وغیرہ کی عارضی توثیق۔\n۲۷۰۔ الف۔ فرامین صدر، وغیرہ کی توثیق۔\n٢٧٠ الف الفرد قوانین وغیرہ کا استقرار اور تسلسل۔\n٢۷۰ الف الف الف [ حذف کر دیا گیا۔]\n۲۷۰۔ب۔\n۲۷۰۔بب\nانتخابات دستور کے تحت منعقد شدہ متصور ہوں گے۔\nعام انتخابات ۲۰۰۸ء\n۲۷۰۔ ج ۔ [ حذف کر دیا گیا۔]\nصفحہ\n\nپہلی قومی اسمبلی۔\nآرٹیکل\n۲۷۲۔\nسینٹ کی پہلی تشکیل۔\n۲۷۳۔\nپہلی صوبائی اسمبلی۔\n۲۷۴۔\nجائیداد، اثاثہ جات، حقوق، ذمہ داریوں اور وجوب کا تصرف۔\n۲۷۵۔\nملازمت پاکستان میں اشخاص کا عہدوں پر برقرار رہنا، وغیرہ۔\nپہلے صدر کا حلف ۔\n۲۷۷۔\nعبوری مالی احکام\n۲۷۸۔\nحسابات جن کا یوم آغاز سے پہلے محاسبہ نہ ہوا ہو۔\n۲۷۹۔\nمحصولات کا سلسل۔\n۲۸۰۔\nہنگامی حالت کے اعلان کا تسلسل ۔\nايمار جدول و\nجدول اول۔ آرٹیکل ۸(۱) اور (۲) کے نفاذ سے متقی قوانین \nجدول دوم۔ صدر کا انتخاب۔\nجدول سوم - عہدوں کے حلف ۔\nجدول چہارم۔ قانون سازی کی فہرستیں ۔\nجدول پنجم جوں کے مشاہرے اور شرائط ملازمت۔\nجدول ششم - [ حذف کر دیا گیا ۔]\nجدول ہفتم ۔ [ حذف کر دیا گیا۔]\nصفحہ\n\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے )\nاسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور\n[۱۲ را پریل ۱۹۷۳ء ]\nچونکہ اللہ تبارک تعالی ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیر ے حاکم مطلق ہے، اور پاکستان کے جمہور کو جو\n\nاختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا ، وہ ایک مقدس امانت ہے؟\nاور چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے ؟\nجس میں مملکت اپنے اختیارات واقتدار کو جمہور کے منتخب کر وہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی ؟\nجس میں جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام\nنے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا \nجس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی\nکو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے،\nو\nترتیب دے سکیں ؛\nجس میں قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور\nان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں ؛\nجس میں وہ علاقے جو اس وقت پاکستان میں شامل یا ضم ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو بعد از میں\nپاکستان میں شامل یا ضم ہوں ایک وفاق بنائیں گے جس میں وحدتیں اپنے اختیارات واقتدار پر ایسی حدود اور\nپابندیوں کے ساتھ جو مقرر کر دی جائیں، خود مختار ہوں گی ؟\n\nجس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے تابع\nحیثیت اور مواقع میں مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال،\nاظہار خیال ، عقیده ، دین ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی ؟\nجائے گا ؟\nجس میں اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقوں کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا\nجس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی؟\nجس میں وفاق کے علاقوں کی سالمیت، اس کی آزادی اور زمین، سمندر اور فضاء پر اس کے حقوق\nمقتدر کے بشمول اس کے جملہ حقوق کی حفاظت کی جائے گی ؟\nتا کہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کر سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز اور ممتاز مقام حاصل کر\nسکیں اور بین الاقوامی امن اور بنی نوع انسان\nکی ترقی اور خوش حالی میں اپنا پورا حصہ ادا کر سکیں :\nبین مناور بن ترقی و خوش حال میں پرا صدا کرلیں:\nالہذا، اب ہم جمہور پاکستان ؛\nقادر مطلق اللہ تبارک و تعالی اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ؛\nپاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ ؟\nبانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدل عمرانی\nکے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی؟\nاس جمہوریت کے تحفظ کے لئے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم وستم کے خلاف عوام کی\nانتھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے؟ \nاس عزم بالجزم کے ساتھ کہ ایک نئے نظام کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشرہ تخلیق کر کے اپنی قومی\nاور سیاسی وحدت اور یک جہتی کا تحفظ کریں؟\nكتال\nبذریعہ ہذا، قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ دستور منظور کر کے اسے قانون کا درجہ دیتے\nہیں اور اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔\n\nحصہ اوّل\nابتدائیہ\n(1) مملکت پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا جسے جمہور یا اور اس کے\nبعد ازیں پاکستان کہا جائے گا۔\n۳ (۲) پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے۔۔۔۔\n(الف) صوبہ جات سے بلوچستان ] [ خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ ]؛\n(ب) دار الحکومت اسلام آباد کا علاقہ جس کا حوالہ بعد ازیں وفاقی دارالحکومت\nکے طور پر دیا گیا ہے؛ [اور]\n\"\n(ج) ایسی ریاستیں اور علاقے جو الحاق کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے پاکستان\nمیں شامل ہیں یا ہو جائیں۔\n(۳) ش مجلس شوری (پارلیمنٹ ) بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی\nقیود وشرائط پر داخل کر سکے گی جو وہ مناسب سمجھے !۔\nعلاقہ جات۔\nاسلام مملکتی مذہب ہوگا۔\n۲۔\nاسلام پاکستان\nکا مملکتی مذہب ہوگا۔\nقرار داد مقاصد مستقل\nالف۔\nضمیمہ میں نقل کر دو قرارداد مقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو بذریعہ ہذا دستور احکام کا حصہ ہوگی۔\nکردہ\n کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اوروہ بحر موثر ہوں گے \nدستور کے احکام، ماسوائے آرٹیکل ۶ ۷ ۸ تا ۲۸ ( دونوں شامل ہیں ) آرٹیکل ۱۰۱ کی شق ۲ اور (۲ الف ) ، آرٹیکل ۲۱۳۱۹۹ تا ۲۱۶\n( دونوں شامل ہیں ) اوره ۲۷ الف ، ار مارچ ، ۱۹۸۵ء سے بذریعہ الیں۔ آر۔ اونمبر ۲۱۲ (۱) ۸۵ تاریخ ، ار مارچ ، ۱۹۸۵ء جبریده پاکستان غیر معمولی، حصہ دوم صفحه ۲۷۹ مؤثر به عمل\nہیں اور مذکورہ بالا آرٹیکل، ۳۰ دسمبر ۱۹۸۵ء سے بذریعہ الیں۔ آر او نمبر۱۲۷۳ (۱) ۸۵ بتاریخ ۲۹ / دسمبر، ۱۹۸۵ ء جریدہ پاکستان غیر معمولی، حصہ دوم صفحہ۳۱۸۵، موئثر بہ عمل ہیں ۔\n۲ دستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ کی رو سے شقلات (۲)، (۳) اور (۴) کی بجائے تبدیل کیگئیں (نفاذ پذ یرازہ مئی ۱۹۷۴ء)\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے بلوچستان کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل \" شمال مغربی سرحد کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل \"سندھ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( پچیسیوں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ ء (نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ کی رو سے لفظ ”اور“ کو شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے’ پیرا گراف (ج )‘ کو حذف کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے ” پیرا گراف (د)‘ کو دوبارہ نمبر دیا گیا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nبحوالہ عین ماقبل نیا آرٹیکل ۲۔ الف ۔شامل کیا گیا۔\n\nاستحصال کا خاتمہ۔ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تحمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر\nکسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔\nافراد کا حق کہ ان سے ۴۔\n(1) ہر شہری کا خواہ کہیں بھی ہو، اور کسی دوسرے شخص کا جو فی الوقت پاکستان میں ہو، یہ\nقانون وغیرہ کے نا قابلِ انتقال حق ہے کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔\nمطابق سلوک کیا\nجائے۔\nمملکت سے وفاداری\nاور دستور اور قانون کی\nاطاعت ۔\nسنگین غداری\n(۲) خصوصاً۔۔۔۔۔\n(الف) کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جو کسی شخص کی جان، آزادی جسم ،شہرت یا املاک\nکے لئے مضر ہو ،سوائے جب کہ قانون اس کی اجازت دے؛\nکسی شخص کے کوئی ایسا کام کرنے میں ممانعت یا مزاحمت نہ ہوگی جو قانون ممنوع نہ ہو، اور\n(ج) کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا کرنا اس کے\nلئے قانوناً ضروری نہ ہو۔\n(1) مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔\n(۲) دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت\nپاکستان میں ہو ا واجب استعمیل ذمہ داری ہے۔\n(1) کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے دستور کی\nتنسیخ کرے تخریب کرے یا معطل کرے یا التواء میں رکھے یا اقدام کرے یا تنسیخ کرنے\nکی سازش کرے یا تخریب کرے یا معطل یا التواء میں رکھے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔]\n(۲) کوئی شخص جو شق (۱) میں مذکورہ افعال میں مدد دے گا یا معاونت کرے گا ہ یا شریک ہوگا ]\n(الف)\nاسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہو گا ۔ \nشق (۱) باشق (۲) میں درج شدہ سنگین غداری کا عمل کسی بھی عدالت کے ذریعے\nبشمول عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ جائز قرار\nنہیں دیا جائے گا۔]\n(۳) هم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) بذریعہ قانون ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی\nجنہیں سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی روسے ”بنیادی“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ کی رو سے شق (۱) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کئے گئے ۔\nبحوالہ عین ما قبل نئی شق ( ۲الف) شامل کی گئی۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے۔\n\nے۔\nحصہ دوئم\nبنیادی حقوق اور حکمت عملی کے اصول\nاس حصہ میں ، تا وقتیکہ سیاق و سباق سے کچھ اور مفہوم نہ نکلتا ہو، مملکت سے وفاقی حکومت، مملکت کی تعریف۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کوئی صوبائی حکومت کوئی صوبائی اسمبلی اور پاکستان میں ایسی مقامی\nہنیت ہائے مجاز مراد ہیں جن کو از روئے قانون کوئی محصول یا چونگی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو۔\nبابا۔ بنیادی حقوق\n(1) کوئی قانون، یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہوں، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہوگا جس بنیادی حقوق کے نقیض\nحد تک وہ اس باب میں عطاء کر دہ حقوق کا نقیض ہو۔\nیا منافی قوانین کا لعدم\nہوں گے۔ (۲) مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطاء کر دہ حقوق کو سلب یا کم کرے\nہر کیا\nاور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک\nکالعدم ہوگا۔\n(۳) اس آرٹیکل کے احکام کا اطلاق حسب ذیل پر نہیں ہوگا۔\n(الف) کسی ایسے قانون پر جس کا تعلق مسلح افواج یا پولیس یا امن عامہ قائم رکھنے کی\nذمہ دار دیگر جمعیتوں کے ارکان سے ان کے فرائض کی صحیح طریقے پر انجام دہی\n یا ان میں نظم وضبط قائم رکھنے سے ہو؛ یا \n(ب) ان میں سے کسی پر ۔۔۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی\nبجائے تبدیل کیے گئے ۔\nدستور ( ترمیم چہارم) ایکٹ ،۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ( نفاذ پذیر از ۲۱ نومبر ، ۱۹۷۵ء) کی رو سے اصل پیرا (ب)\nکی بجائے تبدیل کر دیا گیا جس میں قبل ازیں ایکٹ نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۳ ( نفاذ پذ سربازم مئی ۱۹۷۲ء) کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔\n\nفرد کی سلامتی ۔\nو۔\n(اول) جدول اوّل میں مصرحہ قوانین جس طرح کہ یوم نفاذ سے عین قبل\nنافذ العمل تھے یا جس طرح کہ مذکورہ جدول میں مصرحہ قوانین میں\nسے کسی کے ذریعے ان کی ترمیم کی گئی تھی ؟\n(دوم) جدول اوّل کے حصہ میں مصرحہ دیگر قوانین ؛)\nاور ایسا کوئی قانون یا اس کا کوئی حکم اس بناء پر کالعدم نہیں ہوگا کہ مذکورہ قانون یا حکم اس\nباب کے\nکسی حکم کے متناقض یا منافی ہے۔\n(۴) شق (۳) کے پیراگراف (ب) میں مذکورہ کسی امر کے باوجود، یوم آغاز سے دو سال کے اندر\nمتعلقہ مقنہ 7 جدول اول کے حصہ ۲ میں مصرحہ قوانین کو اس باب کی روے عطاء کردہ\nحقوق کے مطابق بنائے گی :\nمگر شرط یہ ہے کہ متعلقہ مقنہ قرارداد کے ذریعے دوسال کی مذکورہ مدت میں\nزیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کی توسیع کر سکے گی۔\nتشریح:- اگر کسی قانون کے بارے میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] متعلقہ مقننہ ہو\nتو مذکورہ قرار داد قومی اسمبلی کی قرارداد ہوگی۔\n(۵) اس باب کی رو سے عطاء کر دہ حقوق معطل نہیں کئے جائیں گے بجز جس طرح کہ دستور\nمیں بالصراحت قرار دیا گیا ہے۔\nایمان\nکسی شخص مان در سوائے جب کہ قانون اس کی\nکو ، زندگی یا سے محروم نہیں کیا\nاجازت \n 2 گرفتاری اور نظر بندی\n(1) کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتن جس قدر جلد ہو سکے ، آگاہ\nکی وجوہ\nسے تحفظ ۔\nا۔\nکئے بغیر نہ تو نظر بند رکھا جائے گا اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص سے مشورہ\nکرنے اور اس کے ذریعہ صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔\n(۲) ہر اس شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو اورنظر بند رکھا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹہ کے اندر\nکسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہو گا لیکن مذکورہ مدت میں وہ وقت شامل نہ ہوگا،\nدستور ( ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے ” جدول اوّل ، جو الیسا قانون نہ\nہو جو معاشی اصلاحات سے متعلق یا ان کے سلسلے میں ہو“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nجو مقام گرفتاری سے قریب ترین مجسٹریٹ کی عدالت تک لے جانے کے لئے درکار ہو اور ایسے\nکسی شخص کو کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر مذکور ہمدت سے زیادہ نظر بند نہیں رکھا جائے گا۔\n(۳) شقات (۱) اور (۲) میں مذکورہ کسی امر کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہو گا جسے امتناعی\nنظر بندی سے متعلق کسی قانون کے تحت گرفتار یا نظر بند کیا گیا ہو۔\n(۴) امتناعی نظر بندی کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا بجز ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی\nکرنے کے لئے جو کسی ایسے طریقے پر کام کریں جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت،\nتحفظ یا دفاع یا پاکستان کے خارجی امور یا امن عامہ یا رسد یا خدمات کے برقرار رکھنے\nکے لئے مضر ہو اور کوئی ایسا قانون کسی شخص کو تین ماہ سے زیادہ مدت تک نظر بند رکھنے\nکی اجازت نہیں دے گا تا وقتیکہ متعلقہ نظر ثانی بورڈنے ،اسے اصالتاً سماعت کا موقع\nمہیا کرنے کے بعد ، مذکورہ مدت ختم ہونے سے قبل اس کے معاملہ پر نظرثانی نہ کرلی ہواور\nیہ رپورٹ نہ دے دی ہو کہ اس کی رائے میں مذکورہ نظر بندی کے لئے وجہ کافی موجود ہے\nاور اگر تین ماہ کی مذکورہ مدت کے بعد نظر بندی جاری رہے تو ، تا وقتیکہ متعلقہ نظر ثانی\nبورڈ نے ، تین ماہ کی ہر مدت کے خاتمے سے پہلے ، اس کے معاملے پر نظر ثانی نہ کر لی ہو\nاور ہو یہ رپورٹ نہ دی ہو کہ اس کی رائے میں ایسی نظر بندی کی وجہ کافی موجود ہے۔\nتشریح اول :۔ اس آرٹیکل میں متعلقہ نظر ثانی بورڈ“۔\n(اول) کی وفاقی قانون کے تحت نظر بند کی شخص کے معاملے میں پاکستان\nکے چیف جسٹس کی طرف سے مقرر کر دہ کوئی بورڈ مراد ہے جو\nایک چیئر مین اور دوسرے دو\nر\nمشتمل ہو جن میں سے ہر ایک عدالت عظمی\nیا کسی عدالتِ عالیہ کا حج ہو یا رہا ہو؛ اور\n(دوم) کسی صوبائی قانون کے تحت نظر بند کسی شخص کے معاملے میں متعلقہ عدالت عالیہ\nکے چیف جسٹس کی طرف سے مقرر کردہ کوئی بورڈ مراد ہے جو ایک چیئر مین اور\nدوسرے دو اشخاص پر مشتمل ہو جن میں سے ہرا یک کسی عدالت عالیہ کا حج\nہو یا رہا ہو۔\nدستور (ترمیم سوم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر ۲۲ بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے ایک ماہ کی بجائے تبدیل کئے گئے\n( نفاذ پذیر از ۱۳ فروری ۱۹۷۵ء)۔\n\nتشریح دوم : کسی نظر ثانی بورڈ کی رائے کا اظہار اس کے ارکان کی اکثریت\nکے خیالات کے مطابق کیا جائے گا۔\n(۵) جب کسی شخص کو کسی ایسے حکم کی تعمیل میں نظر بند کیا جائے جو امتناعی نظر بندی کے حامل کسی\nقانون کے تحت دیا گیا ہو ، تو حکم دینے والا حاکم مجاز مذکورہ نظر بندی سے پندرہ دن\nکے اندر ] مذکورہ شخص کو ان وجوہ سے مطلع کرے گا جن کی بناء پر وہ حکم دیا گیا ہو اور\nاسے اس حکم کے خلاف عرضداشت پیش کرنے کا اولین مواقع فراہم کرے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی حکم دینے والا حاکم مجازان امور واقعہ کے افشاء سے\nانکار کر سکے گا، جن کے افشاء کو مذکورہ حاکم مجاز مفادِ عامہ کے خلاف سمجھتا ہو۔\n(۲) حکم دینے والا حاکم مجاز اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات متعلقہ نظر ثانی بورڈ کو فراہم\nکرے گا تا وقتیکہ متعلقہ حکومت کے کسی سیکرٹری کا دستخط شدہ اس مضمون کا\nتصدیق نامہ پیش نہ کر دیا جائے کہ کسی دستاویزات\nکا پیش کرنا مفاد عامہ میں نہیں ہے۔\n(4) امتناعی نظر بندی کے حامل کسی قانون کے تحت دیئے گئے کسی حکم کی تعمیل میں کسی شخص کو اس\nکی پہلی نظر بندی کے دن سے چویں ماہ کی مدت کے اندر، کسی مذکورہ حکم کے تحت امن عامہ\nکے لئے مصنر طریقے پر کوئی فعل کرنے پر نظر بند کئے جانے والے کسی شخص کی صورت میں\nآٹھ ماہ کی مجموعی مدت سے زیادہ اور کسی دوسری صورت میں بارہ ماہ سے زیادہ کے لئے\nماہ\nنظر بند نہیں رکھا جائے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہوگا جو دشمن کا ملازم ہو\nيا اس کے لئے کام کرتا ہو یا اس کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتا ہو ، یا جوکسی\nایسے طریقے سے کام کر رہا ہو یا کام کرنے کا اقدام کر رہا ہو جو پاکستان\nیا اس کے کسی حصے کی سالمیت ، تحفظ یا دفاع کے لئے مضر ہو یا جو کسی\nدستور (ترمیم سوم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر ۲۲ بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ کی رو سے جتنی جلد ہو سکے لیکن مذکورہ نظر بندی سے ایک ہفتہ\nسے زائد نہیں کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔ ( نفاذ پذیر از۱۳ار فروری, ۱۹۷۵ء)۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے اضافہ کئے گئے ۔\n\nا۔\nایسے فعل کا ارتکاب کرے یا ارتکاب کرنے کا اقدام کرے جو کسی وفاقی قانون میں درج شدہ\nتعریف کے مطابق کسی قوم دشمن سرگرمی کے مساوی ہو یا جو کسی ایسی جماعت کا رکن ہو\nجس کے مقاصد میں کوئی مذکورہ قوم دشمن سرگرمی شامل ہو یا جو اس میں ملوث ہو ]۔\n(۸) متعلقہ نظر ثانی بورڈ کسی نظر بند شخص کی نظر بندی کے مقام کا تعین کرے گا اور اس کے کنبے\nکے لئے معقول گزارہ الاؤنس مقرر کرے گا۔\n(1) اس آرٹیکل میں مذکورہ کسی امر ا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہوگا جو فی الوقت غیر ملکی دشمن ہو۔\n10 الف ۔ اس کے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین یا اس کے خلاف کسی بھی الزام جرم میں ایک منصفانہ سماعت کا حق۔\nشخص منصفانہ سماعت اور جائز عمل کا مستحق ہوگا۔]\n۱۲۔\n(1) غلامی معدوم اور ممنوع ہے اور کوئی قانون کسی بھی صورت میں اسے پاکستان میں رواج دینے غلامی، بیگار وغیرہ کی\nکی اجازت نہیں دے گا یا سہولت بہم نہیں پہنچائے گا۔\n(۲) بیگار کی تمام صورتوں اور انسانوں کی خرید و فرخت کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔\n(۳) چودہ سال سے کم عمر کے کسی بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پر خطر ملازمت میں نہیں رکھا\nجائے گا۔\n\n(۴) اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر اس لازمی خدمت پر اثر انداز متصور نہیں ہو گا ۔۔۔۔\n(الف) جوکسی قانون کے خلاف کسی جرم کی بناء پر سزا بھگتنے والے کسی شخص سے لی جائے ؛ یا\n(ب) جو کسی قانون کی رو سے غرض عامہ کے لئے مطلوب ہو:\n(1)\nمگر شرط یہ ہے کہ کوئی لازمی خدمت ظالمانہ نوعیت کی یا شرف انسانی کے مخالف\n \nکوئی قانون\nکسی شخص کو ۔۔۔۔\n(الف) کسی ایسے فعل یا ترک فعل کے لئے جو اس فعل کے سرزد ہونے کے وقت کسی\nقانون کے تحت قابل سزا نہ تھا سزا دینے کی اجازت نہیں دے گا؛ یا\n(ب) کسی جرم کے لئے ایسی سزا دینے کی جو اس جرم کے ارتکاب کے وقت کسی قانون\nکی رو سے اس کے لئے مقررہ سزا سے زیادہ سخت یا اس سے مختلف ہو،\nاجازت نہیں دے گا۔\nممانعت۔\nمؤثر به ماضی سزا سے\nتحفظ ۔\nنیا آرٹیکل ۱۰۔ الف ، دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\n(۲) شق (۱) میں یا آرٹیکل ۲۷۰ میں مذکور کوئی امر کسی ایسے قانون پر اطلاق پذیر نہ ہوگا جس کی رو\nسے تمھیں مارچ ، سن ایک ہزار نو سو چھپن سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل\nکسی دستور کی تنسیخ یا تخریب کی کارروائیوں کو جرم قرار دیا گیا ہو۔\nدوہری سزا اور اپنے کو\nملزم گرداننے کے\nکسی شخص ۔۔\n(الف) پر ایک ہی جرم کی بناء پر ایک بار سے زیادہ نہ تو مقدمہ چلایا جائے گا اور نہ سزا\nخلاف تحفظ ۔\nشرف انسانی وغیرہ ۱۴۔\nقابل حرمت ہوگا۔\nدی جائے گی ؟ یا\n(ب) کو ، جب کہ اس پر کسی جرم کا الزام ہو، اس بات پر مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ\nاپنے ہی خلاف ایک گواہ بنے۔\n(1) شرف انسانی اور قانون کے تابع ، گھر کی خلوت قابل حرمت ہوگی ۔\n(۲) کسی شخص کو شہادت حاصل کرنے کی غرض سے اذیت نہیں دی جائے گی۔\nنقل و حرکت و غیره ۱۵۔ ہر شہری کو پاکستان میں رہنے اور مفاد عامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعہ عائد کردہ کسی معقول پابندی\nکی آزادی۔ کے تابع ، پاکستان میں داخل ہونے اور اس کے ہر حصے میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے اور اس کے کسی حصے میں\nسکونت اختیار کرنے اور آباد ہونے کا حق ہوگا۔\nاجتماع کی آزادی۔ ۱۶۔\nامنِ عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کر وہ پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو پر امن طور پر اور\nاسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہوگا۔\nنظ\nاكت\nانجمن سازی کی ۱۷۔ (۱) پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ یا سالمیت امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں قانون کے\nآزادی۔\nذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو انجمنیں یا ہی نہیں بنانے کاحق حاصل ہو گا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ کی رو سے’ آرٹیکل ۱۷‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(۲) ہر شہری کو ، جو ملازمت پاکستان میں نہ ہو، پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ سالمیت کے مفاد میں\nقانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع کوئی سیاسی جماعت بنانے یا اس\nکا رکن بنے کا حق ہوگا اور مذکورہ قانون میں قرار دیا جائے گا کہ جب کہ وفاقی حکومت یہ\nاعلان کر دے کہ کوئی سیاسی جماعت ایسے طریقے پر بنائی گئی ہے یا عمل کر رہی ہے جو\nپاکستان کی حاکمیت علی یا سالمیت کے لئے مضر ہے تو وفاقی حکومت مذکورہ اعلان\nسے پندرہ دن کے اندر معاملہ عدالت عظمیٰ کے حوالے کر دے گی جس کا مذکورہ حوالے\nپر فیصلہ قطعی ہوگا۔\n(۳) ہر سیاسی جماعت قانون کے مطابق اپنے مالی ذرائع کے ماخذ کے لئے جواب دہ ہوگی۔ ]\n۱۸ ایسی شرائط قابلیت کے تابع ، اگر کوئی ہوں، جو قانون کے ذریعے مقرر کی جائیں ، ہر شہری کو کوئی جائز تجارت، کاروبار یا\nپیشہ یا مشغلہ اختیار کرنے اور کوئی جائز تجارت یا کاروبار کرنے کا حق ہوگا:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا ۔۔۔۔\n(الف) کسی تجارت یا پیشے کو اجرت نامہ کے طریقہ کار کے ذریعے منضبط کرنے میں ؛ یا\n(ب) تجارت، کاروبار یا صنعت میں آزادانہ مقابلہ کے مفاد کے پیش نظر اسے\nیا\nکرانے میں ؛ یا\n(ج) وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا کسی ایسی کارپوریشن کی طرف سے جو\nمذکورہ حکومت کے زیر نگرانی ہو، دیگر اشخاص کو قطعی یا جزوی طور پر خارج کر کے\nکسی تجارت ، کاروبار صنعت یا خدمت کا انتظام کرنے میں۔\nپیشے کی آزادی۔\n-۱۹ اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع ، غیر ممالک کے ساتھ تقریر وغیرہ کی\nدوستانہ تعلقات ، امنِ عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت کسی جرم کے ارتکاب ]\nیا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو تقریر اور\nاظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا ، اور پریس کی آزادی ہوگی۔\nآزادی۔\nدستور ( ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ \" کی رو سے ازالہ حیثیت عرفی“ کی بجائے تبدیل کئے گئے\nنفاذ پذیر از ۲۱ نومبر ، ۱۹۷۵ء)۔\n\nحق معلومات۔ ۱۹ ۔ الف ۔ قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں اور ضوابط کے تابع ہر شہری کو عوامی\nاہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہوگا۔]\nمذہب کی پیروی اور\nقانون امن عامہ اور اخلاق کے تابع ۔۔۔۔\nمذہبی اداروں کے\nانتظام کی آزادی۔\n(الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا\nحق ہوگا ؛ اور\n(ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے ، برقرار اور ان کا\nانتظام کرنے کا حق ہوگا۔\nکسی خاص مذہب کی ۲۱۔ کسی شخص کو کوئی ایسا خاص محصول ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کی آمدنی اس کے اپنے مذہب\nعلاوہ پر\nکے علاوہ کسی اور مذہب کی تبلیغ و ترویج پر صرف کی جائے۔\nاغراض کے لئے محصول\nلگانے سے تحفظ ۔\nمذہب وغیرہ کے\nبارے میں تعلیمی\nاداروں سے متعلق\nتحفظات\n۲۲۔\n(1)\nکسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی\nتقریب میں حصہ لینے باندہ ہی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اگر ایسی\nریب یا عبادت کا تعلق اس اس نے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔\n(۲) کسی مذہبی ادارے کے سلسلے میں محصول لگانے کی بابت استثناء یا رعایت منظور کرنے\nتعلیم\nمیں کسی فرقے کے خلاف کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔\nایمان\n(۳) قانون کے تابع ۔۔۔\n(الف) کی مذہبی فرق یا گروہ کسی تعلیمی ادارے میں جو کی طور پراس فرقے یا گروہ\n \nکے زیر اہتمام چلایا جاتا ہو، اس فرقے یا گروہ کے طلبا کو مذہبی تعلیم دینے کی\nممانعت نہ ہوگی ؛ اور\n(ب) کسی شہری کو محض نسل ، مذہب ، ذات یا مقام پیدائش کی بناء پر کسی ایسے تعلیمی\nادارے میں داخل ہونے سے محروم نہیں کیا جائے گا جسے سرکاری محاصل سے\nامداد ملتی ہو۔\nنیا آرٹیکل 19 الف دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ے کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\n(۴) اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر معاشرتی یا تعلیمی اعتبار سے پسماندہ شہریوں کی ترقی کے\nلئے کسی سرکاری ہئیت مجاز کر طرف سے اہتمام کرنے میں مانع نہ ہوگا۔\n۲۳۔ دستور اور مفاد عامہ کے پیش نظر قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ، ہر شہری کو جائیداد کے متعلق حکم ۔\nجائیداد حاصل کرنے ، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق ہوگا۔\n(1) کسی شخص کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جب کہ قانون اس کی حقوق جائیداد کا تحفظ ۔\nاجازت دے۔\n(۲) کوئی جائیدا دز بر دستی حاصل نہیں کی جائے گی اور نہ قبضہ میں لی جائے گی بجز کسی سرکاری\nغرض کے لئے اور بجز ایسے قانون کے اختیار کے ذریعے جس میں اس کے معاوضہ کا حکم\nدیا گیا ہو اور یا تو معاوضہ کی رقم کا تعین کر دیا گیا ہو یا اس اصول اور طریقے کی صراحت کی\nگئی ہو جس کے بموجب معاوضہ کا تعین کیا جائے گا اور اسے ادا کیا جائے گا۔\n(۳) اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر حسب\nکے جواز پر اثر انداز نہیں ہو گا۔۔\n(الف) کوئی قانون جو جان ، مال یا صحت عامہ کو خطرے سے بچانے کے لئے کسی\nجائیداد کے لازمی حصول یا اسے قبضے میں لینے کی اجازت دیتا ہو؛ یا\n(ب) کوئی قانون جو کسی ایسی جائیداد کے حصول کی اجازت دیتا ہو جسے کسی\nشخص نے کسی ناجائز ذریعے سے یا کسی ایسے طریقے سے جو خلاف قانون ہو\nالد\nحاصل کیا ہو یا جو اس کے قبضہ میں آئی ہو یا\n(ج) کوئی قانون جو کسی ایسی جائیداد کے حصول ، انتظام یا فروخت سے متعلق ہو جو\nکسی قانون کے تحت مترو کہ جائیداد یا دشمن کی جائیداد ہو یا متصور ہوتی ہو\n(جو ایسی جائیداد نہ ہو جس کا مترو کہ جائیداد ہونا کسی قانون کے تحت ختم ہو\nگیا ہو) ؛ یا\n\nشہریوں سے مساوات۔\n۲۵۔\n(1) کوئی قانون جو یا تو مفادِ عامہ کے پیش نظر یا جائیداد کا انتظام مناسب طور پر\nکرنے کے لئے یا اس کے ملک کے فائدے کے لئے ہمملکت کو محدود مدت\nکے لئے کسی جائیداد کا انتظام اپنی تحویل میں لے لینے کی اجازت دیتا ہو؟ یا\n(ہ) کوئی قانون جو حسب ذیل غرض کے لئے کسی قسم کی جائیداد کے حصول کے\nلئے اجازت دیتا ہو۔۔۔\n(اول) تمام یا شہریوں کے کسی مصرحہ طبقے کو تعلیم اور طبی امداد مہیا کرنے\nکے لئے ؛ یا\n(دوم) تمام یا شہریوں کے کسی مصرحہ طبقے کو رہائشی اور عام سہولتیں اور\nخدمات مثلاً سڑکیں، آب رسانی، نکاسی آب، گیس اور برقی قوت\nمہیا کرنے کے لئے ؛ یا\n(سوم) ان لوگوں کو نان نفقہ مہیا کرنے کے لئے جو بیروزگاری، بیماری،\nکمزوری یا ضعیف العمری کی بناء پر اپنی کفالت خود کرنے کے\nقابل نہ ہوں ؛ یا\n(و) کوئی موجودہ قانون یا آرٹیکل ۲۵۳ کے بموجب وضع کردہ کوئی قانون ۔\n(۴) اس آرٹیکل میں محولہ کسی قانون کی رو سے قرار دیئے گئے یا اس کی تعمیل میں متعین\nکئے گئے کسی معاوضہ کے کافی ہونے یا نہ ہونے کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں\n(٢)\nلایا جائے گا۔\n \n(1) تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔\n(۲) لے ، جنس کی بناء پر کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔\n(۳) اس آرٹیکل میں مذکور کوئی امر عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے لئے مملکت کی\nطرف سے کوئی خاص اہتمام کرنے میں مانع نہ ہوگا۔\nلفظ محض“ کو دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبر ۰ ۱ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸ کی رُو سے حذف کیا گیا۔\n\n۲۵۔ الف۔ ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مذکورہ طریقہ کار پر جیسا کہ تعلیم کا حق۔\nقانون کے ذریعے مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی ۔]\n۲۶۔\n۲۷۔\n(۱) عام تفریح گاہوں یا جمع ہونے کی جگہوں میں جو صرف مذہبی اغراض کے لئے مختص نہ ہوں، عام مقامات میں داخلہ\nآنے جانے کے لئے کسی شہری کے ساتھ محض نسل ، مذہب ، ذات ، جنس ، سکونت یا سے متعلق عدم امتیاز ۔\nمقام پیدائش کی بناء پر کوئی امتیاز روانہیں رکھا جائے گا۔\n(۲) شق (۱) میں مذکورہ کوئی امر عورتوں اور بچوں کے لئے کوئی خاص اہتمام کرنے میں مملکت کے مانع\nنہیں ہوگا۔\n(۱) کسی شہری کے ساتھ جو بہ اعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقر رکا اہل ہو، کسی ایسے ملازمتوں میں امتیاز\nکے خلاف تحفظ ۔\nتقرر کے سلسلے میں محض نسل ، مذہب ، ذات ، جنس ، سکونت یا مقام پیدائش کی بناء پر امتیاز\nروا نہیں رکھا جائے گا\nر\nشرط یہ ہے کہ ، یومِ آغاز سے زیادہ سے زیادہ ہم چالیس سال کی مدت\nتک کسی طبقے یا علاقے کے لوگوں کے لئے آسامیاں محفوظ کی جاسکیں گی تاکہ\nپاکستان کی ملازمت میں ان کو مناسب نمائندگی حاصل ہو جائے :\nمزید شرط یہ ہے کہ مذکورہ ملازمت کے مفاد میں مصرحہ آسامیاں یا ملازمتیں\nکسی ایک جنس کے افراد کے لئے محفوظ کی جاسکیں گی اگر مذکورہ آسامیاں یا ملازمتوں\nمیں ایسے فرائض اور کارہائے منصبی کی انجام دہی ضروری ہو جو دوسری جنس کے افراد کی جانب\nسے مناسب طور پر انجام نہ دیئے جا سکتے ہوں :\n مگر شرط یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ملازمت میں کسی بھی طبقے یا علاقے کی کم\nنمائندگی کی مذکورہ طریقہ کا ر پر تلافی کی جائے گی جیسا کہ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ )\nکے ایکٹ کے ذریعے تعین کرے]۔\nنیا آرٹیکل ۲۵الف دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ، ( نمبره ابایت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ 9 کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور (سولہویں ترمیم) ایکٹ، ۱۹۹۹ء (نمبرے بابت (۱۹۹۹ء) کی دفعہ کی رُو سے ہیں“ کی بجائے تبدیل کر دیا گیا اور ہمیشہ سے\nبایں طور تبدیل شدہ متصور ہوگا۔ قبل ازیں اسے فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے دس“ کی بجائے\nتبدیل کیا گیا تھا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل نیا فقرہ شرطیبہ شامل کیا گیا۔\n\n(۲) شق (۱) میں مذکور کوئی امر کسی صوبائی حکومت یا کسی صوبے کی کسی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز\nکی طرف سے مذکورہ حکومت یا ہیئت مجاز کے تحت کسی آسامی یا کسی قسم کی ملازمت کے\nسلسلے میں اس حکومت یا ہیئت مجاز کے تحت تقرر سے قبل، اس صوبے میں زیادہ سے زیادہ\nتین سال تک سکونت سے متعلق شرائط عائد کرنے میں مانع نہیں ہوگا۔\nزبان، رسم الخط اور ۲۸۔ آرٹیکل ۲۵۱ کے تابع ،شہریوں کے کسی طبقہ کو، جس کی ایک الگ زبان ، رسم الخط یا ثقافت ہو، اسے\nبرقرار رکھنے اور فروغ دینے اور قانون کے تابع ، اس غرض کے لئے ادارے قائم کرنے کا حق ہوگا۔\nثقافت کا تحفظ ۔\nحکمت عملی کے اصول۔\nحکمت عملی کے اصولوں\nکی نسبت ذمہ داری۔\n(1) _\nباب ۲۔ حکمت عملی کے اصول\n(1) اس باب میں بیان کردہ اصول حکمت عملی کے اصول کہلائیں گے اور مملکت کے ہر شعبے\nاور بیت مجاز کی اور ملکت کے کسی شعبے یا بیت مجاز کی طرف سے کارہائے منصبی انجام\nدینے والے ہر شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں کے مطابق ، جہاں تک کہ وہ\n\nاس شعبے یا ہیئت مجاز کے کارہائے منصبی سے تعلق رکھتے ہوں عمل کرے۔\n(۲) جہاں تک حکمت عملی کے کسی مخصوص اصول پر عمل کرنے کا انحصار اس غرض کے لئے\nوسائل کے میسر ہونے پر ہو تو وہ اصول ان وسائل کی دستیابی پر مشروط تصور کیا جائے گا۔\nپر ہوتو دستیابی\n(۳) ہر سال کی نسبت صدر وفاق کے امور کے متعلق ، اور ہر صوبے کا گورنر اپنے صوبے کے\nامور کے متعلق ، حکمت عملی کے اصولوں پر عمل کرنے اور ان کی تعمیل کرنے کے بارے\nمیں ایک رپورٹ تیار کرائے گا، اور مجلس شوری کا ہر ایک ایوان ( پارلیمنٹ ) آیا\nصوبائی اسمبلی کے سامنے جیسی بھی صورت ہو، پیش کرائے گا ، اور مذکورہ رپورٹ پر بحث\nکے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ یا صوبائی اسمبلی کے جیسی بھی صورت ہو، قواعد ضابطہ کار\nمیں گنجائش رکھی جائے گی۔\n(1) یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری کہ آیا مملکت کے کسی شعبے یا بحیت مجاز کا، یا ملکت کے کسی\nشعبے یا ہیئت مجاز کی طرف سے کام کرنے والے کسی شخص کا کوئی فعل حکمت عملی کے\nاصولوں کے مطابق ہے، مملکت کے متعلقہ شعبے یا ہئیت مجاز کی یا متعلقہ شخص کی ہے۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ا کی رُو سے قومی اسمبلی کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کیا گیا۔\n\n۳۱۔\n(۲) کسی فعل یا کسی قانون کے جواز پر اس بناء پر اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ وہ حکمت عملی\nکے اصولوں کے مطابق نہیں ہے اور نہ اس بناء پر مملکت مملکت کے کسی شعبے یا ہئیت مجاز یا\n(1)\nکسی شخص کے خلاف کوئی قانونی کارروائی قابل سماعت ہوگی ۔\nپاکستان کے مسلمانوں کو، انفرادی اور اجتماعی طور پر، اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اسلامی طریق زندگی۔\nاور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لئے اور انہیں ایسی\nسہولتیں مہیا کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت\nکے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔\n(۲) پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لئے کوشش کرے گی،\n(الف) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی\nحوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لئے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور\nکلا\nمن و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا ؛\n(ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی یا بندی کو فروغ دینا؛ اور\n(ج) زکوة، عشر، اوقاف اور مساجد کی با قاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔\nپر\n۳۲۔ مملکت متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل بلدیاتی اداروں کی حوصلہ\nاداروں میں کسانوں، مزدوروں اور عورتوں کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی۔\nسانی اور ایسے\nبلدیاتی اداروں کا فروغ۔\n۳۳۔ مملکت شہریوں کے درمیان علاقائی ، نسلی، قبائلی فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی علاقائی اور دیگر مماثل کو ای بی ای دارا اور وبائی وصالینی تعصبات کی حوصلہ شکنی\nکرے گی۔\nکی جائے گی۔\n۳۴۔ قومی زندگی کے تمام شعبوں میں عورتوں کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے قومی زندگی میں عورتوں\nجائیں گے۔\n۳۵۔ مملکت ، شادی ، خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت کرے گی۔\nکی مکمل شمولیت۔\nخاندان وغیرہ کا تحفظ ۔\n۳۶۔ مملکت، اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا، جن میں وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں ان کی اقلیتوں کا تحفظ ۔\nمناسب نمائندگی شامل ہے، تحفظ کرے گی۔\n۳۷۔\nمملکت ۔۔۔۔\nمعاشرتی انصاف کا\nفروغ اور معاشرتی\nبرائیوں کا خاتمہ۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\n(الف) پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات ، کو خصوصی توجہ کے\nساتھ فروغ دے گی ؟\n(ب) کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر نا خواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی\nثانوی تعلیم مہیا کرے گی ؛\n(ج) فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام طور پرممکن الحصول اور اعلی تعلیم کو لیاقت کی بنیاد پر\nسب کے لئے مساوی طور پر قابل دسترس بنائے گی ؟\n(1) ستے اور سہل الحصول انصاف کو یقینی بنائے گی ؟\n(ه) منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں\nسے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو اُن کی عمر یا جنس کے لئے نا مناسب\nكلاط\nہوں ، مقرر کرنے کے لئے ، اور ملازم عورتوں کے لئے زچگی سے متعلق\nمراعات دینے کے لئے ، احکام وضع کرے گی ؟ ۔\n(و) مختلف علاقوں کے افراد کو، تعلیم، تربیت ، زرعی اور صنعتی ترقی اور دیگر\nطریقوں سے اس قابل بنائے گی کہ وہ ہر قسم کی قومی سرگرمیوں میں ، جن میں\n(ز)\nملازمت پاکستان میں خدمت بھی شامل ہے، پورا پورا حصہ لے سکیں ؛\n(1) عصمت فروشی ، قمار بازی اور ضرر رساں ادویات کے استعمال بخش ادب، اور\nاشتہارات کی طباعت نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کرے گی ؟\n(ح) نشہ آور مشروبات کے استعمال کی ہوائے اس کے کہ وہ طبی اغراض کے لئے\n یا غیر مسلموں کی صورت میں مذہبی اغراض کے لئے ہو، روک تھام کرے گی ؛ اور\n(ط) نظم ونسق حکومت کی مرکزیت دُور کرے گی تا کہ عوام کو سہولت بہم پہنچانے اور ان کی\nضروریات پوری کرنے کے لئے اس کے کام کے مستعد تصفیہ میں آسانی پیدا ہو۔\nعوام کی معاشی اور ۳۸۔ مملکت ۔۔۔۔\nمعاشرتی فلاح و بہبود کا\nفروغ۔\n(الف) عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کر کے، دولت اور وسائل پیداوار و تقسیم کو چند\nاشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفادِ عامہ\nکو نقصان پہنچے اور آجر و ماجور اور زمیندار اور مزارع کے درمیان حقوق کی\nمنصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلالحاظ جنس ، ذات، مذہب یا نسل ، عوام کی\nفلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کرے گی ؟\n\n(ب) تمام شہریوں کے لئے ، ملک میں دستیاب وسائل کے اندر ، معقول آرام و فرصت\nکے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی ؟\n(ج) پاکستان کی ملازمت میں ، یا بصورت دیگر ملازم تمام اشخاص کو لازمی معاشرتی\nبیمہ کے ذریعے یا کسی اور طرح معاشرتی تحفظ مہیا کرے گی ؟\n(1) ان تمام شہریوں کے لئے جو کمزوری ، بیماری یا بیروزگاری کے باعث مستقل یا\nعارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں بلا لحاظ جنس ، ذات ، مذہب یا نسل ،\nبنیادی ضروریات زندگی مثلاً خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور طبی امداد\nمہیا کرے گی ؛\n(1) پاکستان کی ملازمت کے مختلف درجات میں اشخاص سمیت ، افراد کی آمدنی\nاور کمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی ، سکھے\n(و) زباء کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرے گی ہم ؛ اور ]\n(ز)\nتمام وفاقی ملازمتوں میں بشمول خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے جن کا\nقیام وفاقی حکومت کے ذریعے عمل میں آیا ہو، یا وفاقی حکومت کی زیر نگرانی ہوں،\nصوبوں کا حصہ یقینی بنایا جائے گا اور ماضی میں صوبوں کے حصوں کی تقسیم میں\nہونے والی فروگزاشت کو درست کیا جائے گا۔ ]\n۳۹۔ مملکت پاکستان کے تمام علاقوں کے لوگوں کو پاکستان کی مسلح افواج میں شرکت کے قابل بنائے گی۔ مسلح افواج میں عوام\nمملکت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد پر مسلم ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات\nکی شرکت ۔\nعالم اسلام سے رشتے\nکو برقرار رکھا جائے اور تحکم کیا جائے، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام کے مشترک مفادات کی حمایت استوار کرنا اور\nکی جائے ، بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دیا جائے ، تمام قوموں کے مابین خیر سگالی اور دوستانہ بین الاقوامی امن کو\nتعلقات پیدا کئے جائیں اور بین الاقوامی تنازعات کو پر امن طریقوں سے طے کرنے کی حوصلہ افزائی کی فروغ دینا۔\nجائے۔\nلفظ ” اور دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۲ کی رو سے حذف کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نیا پیرا گراف (1) کا اضافہ کیا گیا۔\n↓\n\n۴۱۔\nحصہ سوم\nوفاق پاکستان\nبابا۔ صدر\n(1) پاکستان کا ایک صدر ہوگا جو مملکت کا سر براہ ہوگا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔\n(۲) کوئی شخص اس وقت تک صدر کی حیثیت سے انتخاب کا اہل نہیں ہوگا تا وقتیکہ وہ کم از کم\nنالیس سال کی عمر کا مسلمان نہ ہو اور قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل نہ ہو۔\n(۳) سمجھ * * صدر جدول دوم کے احکام کے مطابق\nارکان کی طرف سے منتخب کیا جائے گا۔۔\n(الف) دونوں ایوانوں کے ارکان ؛ اور\n(ب) صوبائی اسمبلیوں کے ارکان -\nپر مشتمل انتخابی ادارے کے\n(۴) صدر کے عہدے کے لئے انتخاب ، عہدے پر فائز صدر کی میعاد ختم ہونے سے زیادہ\nسے زیادہ ساٹھ دن اور کم سے کم تمہیں دن قبل کرایا جائے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ انتخاب مذکورہ بالا مدت کے اندر اس لئے نہ کرایا جا سکتا\nہو کہ قومی اسمبلی توڑ دی گئی ہے، تو یہ اسمبلی کے عام انتخابات کے تمہیں دن کے اندر کر لیا جائے گا۔\n(۵) صدر کا خالی عہد و پر کرنے کے لئے انتخاب عہدہ خالی ہونے کے تمیں دن کے اندر کرایا انتخاب،عہدہ اندر\nجائے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ انتخاب مذکورہ بالا مدت کے اندر اس لئے نہ کرایا جاسکتا\nہو کہ قومی اسمبلی توڑ دی گئی ہے، تو یہ اسمبلی کے عام انتخابات کے تمہیں دن کے اندر کرایا\nجائے گا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبعض الفاظ کو دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۳ کی رُو سے حذف کیا گیا۔\nصدر۔\n\n(۲) صدر کے انتخاب کے جواز پر کسی عدالت یا دیگر بلیت مجاز کی طرف سے یا اس کے سامنے\nاعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n*\n*\n*\n*\n*\nصدر کا حلف ۔ ۴۲۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل ، صدر، پاکستان کے چیف جسٹس کے سامنے جدول سوم میں مندرج عبارت\nمیں حلف اُٹھائے گا۔\nصدر کے عہدے کی ۳۳ (۱) صدر پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدہ پر فائز نہیں ہوگا اور نہ کوئی دوسری\nشرائط ۔\nصدر کے عہدے کی\nمیعاد\nحیثیت اختیار کرے گا جو خدمات کے صلہ میں معاوضہ کے حق کی حامل ہو۔\n(۲) صدر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انتخاب\nکے لئے امیدوار نہیں ہوگا ؛ اور ، اگر نے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)] یا صوبائی اسمبلی\nکا کوئی رکن صدر کی حیثیت سے منتخب ہو جائے تو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] میں یا ،\nجیسی بھی صورت ہو، صوبائی اسمبلی میں اس کی نشست اس دن خالی ہو جائے گی جس\nدن وہ اپنا عہدہ سنبھالے گا۔\n۴۴۔ (۱) دستور کے تابع بصدر اس دن سے جس دن وہ اپنا عہدہ سنبھالے گا ، پانچ سال کی مدت\nتک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ صدر اپنی میعاد ختم ہو جانے کے باوجود، اپنے جانشین کے\nعہدہ سنبھالنے تک اس عہدے پر فائز رہے گا۔\n(۲) دستور کے تابع ، صدر کے عہدے پر فائز کوئی شخص ، اس عہدے کے لئے دوبارہ انتخاب\nکا اہل ہوگا لیکن کوئی شخص دو متواتر میعادوں سے زیادہ اس عہدے پر فائز نہیں ہوگا۔\n(۳) صدر قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی\nہو سکے گا۔\nشقات (۷) تا (۹) کو دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۳ کی رو سے حذف کیا گیا۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nدینے کا اختیار۔\n۴۵ صدر کو کسی عدالت ، ٹربیونل یا دیگر ہئیت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے ،ملتوی کرنے اور کچھ صدر کا معافی وغیرہ\nعرصے کے لئے روکنے، اور اس میں تخفیف کرنے ، اسے معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔\n۴۶۴۔ وزیر اعظم صدر کو بین الاقوامی اور خارجہ پالیسی کے ان تمام معاملات اور تمام قانونی تجاویز پر جو صدر کو آگاہ رکھا\nوفاقی حکومت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہو سے آگاہ رکھے گا۔]\n۴۷ (۱) دستور میں شامل کسی امر کے باوجود، صدر کو ، اس آرٹیکل کے احکام کے مطابق ، جسمانی یا صدر کی برطرفی\nدماغی نا اہلیت کی بنیاد پر اس کے عہدے سے برطرف کیا جا سکے گا یا دستور کی خلاف ورزی یا فاش یا مواخذہ ۔\nغلط روی کے کسی الزام میں اس کا مواخذہ کیا جا سکے گا۔\n(۲) کسی بھی ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم نصف ارکان قومی اسمبلی کے اسپیکر یا ، جیسی بھی\nصورت ہو، چیئر مین کو صدر کی برطرفی، یا جیسی بھی صورت ہو، اس کا مواخذہ کرنے کے\nلئے قرارداد کی تحریک کرنے کے اپنے ارادہ کا تحریری نوٹس دے سکیں گے؛ اور مذکورہ\nنوٹس میں اس\nکی نا اہلیت کے کوائف یا اس کے خلاف الزام کی وضاحت ہوگی ۔]\n(۳) اگر شق (۲) کے تحت کوئی نوٹس چیئر مین کو موصول ہو تو وہ اسے فوراً اسپیکر کو ارسال\nکر دے گا۔\nکی\nکی\n\n(۴) اسپیکر شق (۲) باشق (۳) کے تحت نوٹس موصول ہونے سے تین دن کے اندر نوٹس کی کے\nایک نقل صدر کو بھجوائے گا۔\n(۵) اسپیکر نوٹس موصول ہونے کے بعد کم از کم سات دن کے بعد اور چودہ دن سے پہلے\nدونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرے گا۔\n(1) مشترکہ اجلاس اس بنیاد یا الزام کی، جس پر نوٹس بنی ہو تفتیش کرے گا یا تفتیش کروائے گا۔\n(۷) صدر کو یہ حق حاصل ہوگا کہ تفتیش کے دوران ، اگر کوئی ہو، اور مشترکہ اجلاس کے سامنے\nحاضر ہواور اس کی نمائندگی کی جائے۔\nجائے گا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۴ کی رو سے آرٹیکل ۴۶‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شقات (۱) اور (۲) کی بجائے تبدیل کی گئیں۔\n\n(۸) اگر تفتیش کے نتیجہ پر غور و خوض کے بعد ، اگر کوئی ہو، مشترکہ اجلاس میں مجلسِ شوریٰ\n(پارلیمنٹ) کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں کے ذریعے اس مضمون کی قرارداد\nمنظور کر لی جائے کہ صدر نا اہلیت کی وجہ سے عہدہ سنبھالنے کا اہل نہیں ہے یا دستور کی خلاف ورزی\nیا صریح غلط روی کا مجرم ہے تو صدر قرار داد منظور ہونے پر فوراً عہدہ چھوڑ دے گا۔\nصدر مشورے وغیرہ، ۴۸ (۱) اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں ، صدر عمل \" اس پر اور ) کا بینہ یا وزیراعظم ]\nکے مشورے کی مطابقت میں کرے گا ]\nپر عمل کرے گا۔\nمگر شرط یہ ہے کہ پندرہ دنوں کے اندر ] صدر کا بینہ یا جیسی بھی صورت\nہو، وزیر اعظم سے ، یا تو عام طور پر یا بصورت دیگر، مذکورہ مشورے پر دوبارہ غور کرنے\nکے لئے کہہ سکے گا، دس دنوں کے اندر اور صدر مذکورہ دوبارہ غور کے بعد دیئے\nگئے مشورے کے مطابق عمل کرے گا۔]\n(۲) شق (۱) میں شامل کسی امر کے باوجود صد ر کسی ایسے معاملے کی نسبت جس کے بارے\nمیں دستور کی رو سے اسے ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اپنی صوابدید پر عمل کرے گا اور\nکسی ایسی چیز کے جواز پر جو صدر نے اپنی صوابدید پر کی ہو کسی وجہ سے خواہ کچھ بھی ہو\nاعتراض نہیں کیا جائے گا ۔\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n(۴) اس سوال کی کہ آیا کوئی ، اور اگر ایسا ہے تو کیا، مشورہ کا بینہ، وزیراعظم کسی وزیریا\nوزیر مملکت نے صدر کو دیا تھا، کسی عدالت ، ٹربیونل یا دیگر ہدایت مجاز میں یا اس کی طرف\nکے تفتیش نہیں کی جائے گی ۔ \n\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی\nبجائے تبدیل کئے گئے ۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۴۸‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور (ترمیم مشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ کی رو سے وزیر اعظم یا متعلقہ وزیر“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے ابتدائی فقرہ شرطیہ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شق (۳) حذف کی گئی۔\n\n۴۹۔\n(۵) جب کہ صدر قومی اسمبلی تحلیل کرے ، شق (۱) میں شامل کسی امر کے باوجود، وہ۔۔\n(الف) اسمبلی کے لئے عام انتخاب منعقد کروانے کے لئے ، کوئی تاریخ مقرر کرے گا جو\nتحلیل کئے جانے کی تاریخ سے نوے دن سے زیادہ نہیں ہوگی ؛ اور\n(ب) نگر ان کا بینہ کا آرٹیکل ۲۲۴ کے یا ، جیسی بھی صورت ہو، آرٹیکل ۲۲۴ الف\nکے احکامات کی مطابقت میں ] تقرر کرے گا۔]\n(1) اگر وزیر اعظم کسی بھی وقت قومی اہمیت کے کسی بھی معاملے میں ریفرنڈم کا انعقاد ضروری\nسمجھے تو وہ معاملے کو جلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس کے حوالے کرے گا اور\nاگر یہ مشترکہ اجلاس میں منظور ہوتا ہے تو وزیر اعظم اس معاملے کو ایسے سوال کی شکل میں جس\nکا جواب\nیا تو ” ہاں یا نہیں، میں دیا جا سکتا ہے ریفرنڈم کے حوالہ کرنے کا حکم دے گا ۔]\n(۷) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے ریفرنڈم منعقد کرنے اور ریفرنڈم کے\nنتیجہ کی تدوین اور اشتمال کا طریقہ کا ر مقرر کیا جا سکے گا۔\nوو\nچیئر مین یا اسپیکر قائم (1) اگر صدر کا عہدہ صدر کی وفات، استعفی یا بر طرفی کی وجہ سے خالی ہو جائے تو چیئر مین یا،\n(٢)\nمقام صدر ہوگا ، یا صدر\nاگر وہ صدر کے عہدے کے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو قومی اسمبلی کا اسپیکر کے، کارہائے منصبی\nاس وقت تک قائم مقام صدر ہو گا جب تک کہ دفعہ ام کی شق (۳) کے مطابق کوئی صدر انجام دے گا۔\nمنتخب نہ ہو جائے ۔\n(۲) جب صدر، پاکستان سے غیر حاضری یا کسی دیگر وجہ سے اپنے کارہائے منصبی انجام دینے\nسے قاصر ہو تو چیئر مین یا ، اگر وہ بھی غیر حاضر ہو یا صدر کے عہدے کے کارہائے منصبی\nانجام دینے سے قاصر ہو تو ، قومی اسمبلی کا اسپیکر صدر کے پاکستان واپس آنے تک یا\nقاصر ہوتو کا\nجیسی بھی صورت ہو ، اپنے کارہائے منصبی دوبارہ سنبھال لینے تک صدر کے کارہائے منصبی\nانجام دے گا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے ”شقات (۵)اور (۶)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nباب -۲- مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )]\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کی ہیئت ترکیبی ، میعاد اور اجلاس\nمجلس شوری (پارلیمنٹ) ۵۰۳۔ پاکستان کی ایک مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ہوگی جوصدر اور دو ایوانوں پر مشتمل ہوگی جو بالترتیب\nقومی اسمبلی اور سینٹ کے نام سے موسوم ہوں گے ۔]\nقومی اسمبلی۔ واه (۱) قومی اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کے لئے مخصوص نشستوں کے بشمول ارکان کی\nتین سو چھتیں نشستیں ہوں گی۔\n(۲) ایک شخص ووٹ دینے کا حقدار ہو گا اگر ۔۔\n(الف) وہ پاکستان کا شہری ہو؛\nکے\n(ب) وہ عمر میں اٹھارہ سال سے کم نہ ہو ؟\n\nو\n(ج) اس کا نام انتخابی فہرست میں موجود ہو؛ اور\n(1) اسے کسی با اختیار عدالت نے فاتر العقل قرار نہ دیا ہو۔ فائر\nهر (۳) شق (۱) میں محولہ قومی اسمبلی کی نشستیں ، ماسوائے جیسا کہ شق (۴) میں فراہم کیا گیا ہے،\nہر اوروفاقی\nہر ایک صوبے اور وفاقی دارالحکومت کے لئے حسب ذیل طور سے متعین کی جائیں گی:\nايم\n \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۵۰‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۶ کی رو سے آرٹیکل الل“ کی بجائے تبدیل کیا گیا اور ۲۱ راگست ۲۰۰۲ء سے ہمیشہ\nبایں طور پر تبدیل شدہ متصور ہوگا۔\nدستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ء (نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ ۳ کی رُو سے عبارت تین سو بیالیس کو عبارت ” تین سوچھتیں“ سے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے شق (۳)‘ کو تبدیل کیا گیا\n3)\n\nعام نشستیں خواتین کی نشستیں کل نشستیں\n\n[۳۲۶\n\n☆\n☆\nبلوچستان\nخیبر پختونخوا\nپنجاب\nسندھ\nوفاقی دارالحکومت\nکل\n☆\n☆ \n(۴) شق (۳) میں محولہ نشستوں کی تعداد کے علاوہ قومی اسمبلی میں غیر مسلموں کے لئے دس\nنشستیں مختص کی جائیں گی۔\n(۵) ۳- \" \"قومی اسمبلی ہم کی میں نشستیں سرکاری طور پر شائع شدہ گزشتہ آخری مردم شماری کے\nتمری طور مرد\nمطابق ہر ایک صوبے اور وفاقی دارالحکومت کے لئے آبادی کی بنیاد پر متعین کی جائیں گی :\nمگر شرط یہ ہے کہ ۲۰۱۸ ء میں منعقدہ اگلے عام انتخابات اور اس سے متعلقہ\nضمنی انتخابات کے لئے تعین ۲۰۱۷ ء کی مردم شماری کے عبوری نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا\nجسے وفاقی حکومت سرکاری جریدے میں شائع کرے گی ۔\n(1) قومی اسمبلی کے لئے انتخاب کی غرض سے 0\n(الف) عام نشستوں کے لئے انتخابی حلقے ایک رکنی علاقائی حلقے ہوں گے اور مذکورہ\nنشستوں کو پُر کرنے کے لئے ارکان بلا واسطہ اور آزادانہ ووٹ کے ذریعے\n۔ لئے\n قانون کے مطابق منتخب کئے جائیں گے ؟ \n(ب) ہر ایک صوبہ خواتین کے لئے مخصوص تمام نشستوں کے لئے جو متعلقہ صوبوں\nکے لئے شق (۳) کے تحت متعین کی گئی ہیں واحد حلقہ انتخاب ہوگا؟\nایکٹ ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء کی دفعہ کے تحت شامل کی گئی شق (الف)، عام انتخاب ۲۰۱۸ ء میں سابقہ فاٹا کے علاقہ جات سے اراکین کے انتخاب کے لیے مؤثر\nہوگی ۲۰۲۳۔۱۰۸ پر قومی اسمبلی کی تحلیل پر حذف شدہ سمجھی جائے گی۔\nدستور (چوبیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۷ء (نمبر ۳۸ بابت ۲۰۱۷ء) کی دفعہ ۲ کی رُو سے شق (۵)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء کی دفعہ ۳ کی رُو سے الفاظ بجز اس کے جیسا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کی بابت شق (۳) میں فراہم کیا گیا ہے“\nحذف کئے گئے ۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے لفظ ”میں“ کو لفظ کی“ سے تبدیل کیا گیا۔\n\n(ج) غیر مسلموں کے لئے مخصوص تمام نشستوں کے لئے حلقہ انتخاب پورا ملک ہوگا ؟\n(1) خواتین کے لئے مخصوص شدہ نشستوں کے لئے جو کسی صوبے کے لئے\nشق (۳) کے تحت مختص کی گئی ہیں ارکان قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں\nکے امیدواروں کی فہرست سے متناسب نمائندگی کے نظام کے ذریعے قومی\nاسمبلی میں متعلقہ صوبہ سے ہر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے حاصل کردہ\nعام نشستوں کی کل تعداد کی بنیاد پر منتخب کئے جائیں گے:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس پیراگراف کی غرض کے لئے کسی سیاسی جماعت\nکی طرف سے حاصل کر وہ عام نشستوں کی کل تعداد میں وہ کامیاب آزاد\nامیدوار شامل ہوں گے جو سرکاری جریدے میں کامیاب امیدواروں کے\nناموں کی اشاعت سے تین یوم کے اندر باضابطہ طور پر مذکورہ سیاسی جماعت\nمیں شامل ہو جائیں ؛ اور\n(1) غیر مسلموں کے لئے مخصوص نشستوں کے لئے ارکان قانون کے مطابق\nسیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی فہرست سے متناسب نمائندگی کے نظام\nکے ذریعے قومی اسمبلی میں ہر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے حاصل کردہ\n\nعام نشستوں کی کل تعداد کی بنیاد پرمنتخب کئے جائیں گے:\nای\nمگر شرط یہ ہے کہ اس پیراگراف کی غرض کے لئے کسی سیا۔\n جماعت کی طرف سے حاصل کردہ عام نشستوں کی کل تعداد میں وہ کامیاب\nآزاد امیدوار یا امیدواران شامل ہوں گے جو سر کاری جریدے میں کامیاب\nامیدواروں کے ناموں کی اشاعت سے تین یوم کے اندر باضابطہ طور پر\nمذکورہ سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں ۔]\n\n۵۲۔ قومی اسمبلی ، تا وقتیکہ قبل از وقت توڑ نہ دی جائے، اپنے پہلے اجلاس کے دن سے پانچ سال کی قومی اسمبلی کی میعاد۔\nمیعاد تک برقرار رہے گی اور اپنی میعاد کے اختتام پر ٹوٹ جائے گی۔\n۵۳۔ (۱) کسی عام انتخاب کے بعد قومی اسمبلی اپنے پہلے اجلاس میں اور با استثنائے دیگر کام، اپنے قومی اسمی کا اسپیکر اور اور ،\nارکان میں سے ایک اسپیکر اور ایک ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرے گی اور جتنی بار بھی اسپیکر یا ڈیٹی اوپیکر۔\nڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہو، اسمبلی کسی اور رکن کو اسپیکر یا جیسی بھی صورت ہو، ڈپٹی اسپیکر\nمنتخب کرے گی۔\n(۲) بطور اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر منتخب شدہ رکن ، اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل قومی اسمبلی کے سامنے\nجدول سوم میں مندرج عبارت میں حلف اُٹھائے گا۔\n(۳) جب اسپیکر کا عہدہ خالی ہو یا ، اسپیکر غیر حاضر ہو یا کسی بناء پر اپنے فرائض انجام دینے سے\nقاصر ہو تو ڈپٹی اسپیکر بطور پیکر کام کرے گا اور اگر اس وقت ڈپٹی اسپیکر بھی غیر حاضر ہو یا کسی\nبناء پر بطور اسپیکر کام کرنے سے قاصر ہو تو ایسار کن جس کا اسمبلی کے قواعد و ضابطہ کار کی رو\nسے قاصر رای\nسے تعین کیا جائے ، اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرے گا۔\n(۴) اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کے اجلاس کی صدارت نہیں کرے گا جب کہ عہدے سے اس کی\nبرطرفی کی قرار داد پر غور کیا جارہا ہو۔\n(۵) اسپیکر، صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے ، اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔\n(۲) ڈپٹی اسپیکر اسپیکر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے ، اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔\n(۷) اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہو جائے گا اگر \nمستعفی\n(الف) وہ اپنے عہدہ سے بھی ہو جائے ؟\n(ب) وہ اسمبلی کا رکن نہ رہے ؛ یا\n(ج) اسے عہدے سے اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے برطرف کر دیا جائے ،\nجس کا کم از کم سات دن کا نوٹس دیا گیا ہو اور جسے اسمبلی کی کل رکنیت کی\nاکثریت کے ووٹوں سے منظور کیا گیا ہو۔\n\n(۸) جب اسمبلی توڑ دی جائے، تو اسپیکر اس وقت تک اپنے عہدے پر برقراررہے گا جب تک\nکہ انگلی اسمبلی کی طرف سے اس عہدے کو پُر کرنے کے لئے منتخب شدہ شخص اپنا عہدہ نہ\nسنبھال لے۔\nمجلس شوری یم ۵ (۱) صدر، وقتا فوقتا کسی ایک ایوان یا دونوں ایوانوں کا یا تم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ] کا\nمشترکہ اجلاس ایسے وقت اور مقام پر طلب کر سکے گا جسے وہ مناسب خیال کرے اور اسے\n(پارلیمنٹ ) کا اجلاس\nطلب کرنا اور\nبرخاست کرنا۔\nبرخاست بھی کر سکے گا۔\n(۲) ہر سال قومی اسمبلی کے کم از کم تین اجلاس ہوں گے اور اسمبلی کے ایک اجلاس کی\nآخری نشست اور دوسرے اجلاس کی پہلی نشست کے لئے مقرر کردہ تاریخ کے درمیان\nایک سو بیس دن سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہوگا: كلاط\nمگر شرط یہ ہے کہ قومی اسمبلی ہر سال ایک سو تمہیں] ایام کار سے کم کے لئے\nاجلاس نہیں کرے گی ۔\nتشریح ۔ اس شق میں ایام کار میں کوئی دن جب مشتر کہ اجلاس\nہو اور کوئی مدت ، جو دو دن سے زائد نہ ہو، جس کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا\nجائے ، شامل ہے ۔\n(۳) قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی کم سے کم ایک چوتھائی تعداد کے دستخطوں کے مطالبہ پر قومی\nاسمبلی کا اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس اس مطالبہ کی وصولی سے چودہ دن کے اندر ، ایسے\nوقت اور مقام پر طلب کرے گا جسے وہ مناسب خیال کرے، اور جب اسپیکر نے اسمبلی کا\n\nاجلاس طلب کیا ہو تو صرف وہی اسے برخاست کر سکے گا۔\n۳۱ دسمبر ۱۹۷۳ء تک دفعہ ۵۴ کا نفاذ اس طرح ہوا تھا گویا اس کی شق (۲) کا فقرہ شرطیہ حذف کر دیا گیا ہو، دیکھئے فرمان ( قومی اسمبلی\nکے اجلاس ) ازالہ مشکلات ۱۹۷۳ء ( فرمان صدر نمبر ۲۳ مجریه ۱۹۷۳ء) آرٹیکل ۲۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”د“ کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔\nو\nدستور (ترمیم دہم) ایکٹ ۱۹۸۷ء (نمبر ابابت ۱۹۸۷ء) کی رو سے لفظ ساٹھ کی بجائے تبدیل کیا گیا جسے قبل از میں فرمان صدر\nنمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے تبدیل کیا گیا تھا۔\nدستور ( ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء ( نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ۶ کی رو سے تشریح کا اضافہ کیا گیا\nنفاذ پذیر از ۲۱ /نومبر ،۱۹۷۵ء)۔\n\n۵۵ (۱) دستور کے تابع ، اسمبلی کے تمام فیصلے حاضر اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت سے اسمبلی میں رائے دہندگی\nکئے جائیں گے لیکن صدارت کرنے والا شخص ووٹ نہیں دے گا ، سوائے اس صورت اور کورم ۔\nکے کہ ووٹ مساوی ہوں۔\n(۲) اگر کسی وقت قومی اسمبلی کے کسی اجلاس کے دوران صدارت کرنے والے شخص کی توجہ اس\nامر کی طرف مبذول کرائی جائے کہ اسمبلی کی کل رکنیت کے ایک چوتھائی سے کم ارکان\nحاضر ہیں تو وہ یا تو اسمبلی کو ملتوی کر دے گا یا اجلاس کو اس وقت تک کے لئے معطل کر\nدے گا جب تک کہ ایسی رکنیت کے کم سے کم ایک چوتھائی ارکان حاضر نہ ہو جائیں۔\n۵۶ (۱) صدر کسی ایک ایوان یا یکجا دونوں سے خطاب کر سکے گا اور اس غرض کے لئے ارکان کی صدر کا خطاب\nحاضری کا حکم دے سکے گا۔\n (۲) صدر کسی بھی ایوان کو، خواہ مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) میں اس وقت تک زیر غور کسی بل کی\nنسبت یا بصورت دیگر، پیغامات بھیج سکے گا، اور کوئی ایوان جسے کوئی پیغام بایں طور بھیجا\nجائے جملہ مناسب مستعدی کے ساتھ کسی ایسے معاملے پر غور کرے گا جس پر غور کرنے\nکے لئے پیغام کے ذریعے حکم دے دیا گیا ہو۔ کا\n(۳) قومی اسمبلی کے لئے ہر عام انتخاب کے بعد پہلے اجلاس کے آغاز پر اور ہر سال کے پہلے\nايم\nاجلاس کے آغاز پر صدر یکجا دونوں ایوانوں سے خطاب کرے گا اور مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) کو اس کی طلبی کی وجوہ سے آگاہ کرے گا ۔ \n(۴) کسی ایوان کے ضابطہ کار اور اس کی کارروائی کے انصرام کو منضبط کرنے کے لئے قواعد\nمیں صدر کے خطاب میں محولہ معاملات پر بحث کرنے کے لئے وقت کا تعین کرنے کے\nلئے حکم وضع کیا جائے گا۔]\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی رو سے دوبارہ نمبر لگایا گیا اور اضافہ کیا گیا۔\nدستور (ترمیم هشتم) ایکٹ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ کی رو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کی گئی۔\n\nمجلس شوری ۵۷ وزیر اعظم کسی وفاقی وزیر کسی وزیرمملکت اور اٹارنی جنرل کو کسی بھی ایوان یا ان کے کسی مشترکہ\nاجلاس یا ان کی کسی کمیٹی میں جس کا اسے رکن نامزد کر دیا جائے\n، تقریر کرنے اور بصورت دیگر اس کی\n(پارلیمنٹ ) ] میں تقریر کا\nحق۔\nکارروائی میں حصہ لینے کا حق ہوگا، لیکن اس آرٹیکل کی بناء پر ووٹ دینے کا حق نہیں ہو گا۔\nقومی اسمبلی کی تحلیل ۔ ۵۸۲ (۱) صدر قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکے گا اگر وزیراعظم اسے بایں طور پر مشورہ دے، اور قومی اسمبلی ،\nتا وقتیکہ اس سے قبل تحلیل نہ کر دی گئی ہو ، وزیر اعظم کی طرف سے بایں طور پر مشورہ دیئے جانے کے\nبعد اڑتالیس گھنٹوں کے خاتمے پر تحلیل ہو جائے گی۔\nتشریح:-\nاس آرٹیکل میں وزیر اعظم کے حوالے میں کسی ایسے وزیر اعظم کا جس کے\nخلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے لئے قرارداد کا نوٹس دے دیا\nگیا ہو لیکن اس پر رائے دہی نہ کی گئی ہو یا جس سے خلاف ایسی کوئی قرار داد منظور\nکی جاچکی ہو یا جو استعفیٰ دینے کے بعد یا قومی اسمبلی کے تحلیل ہو جانے کے بعد اس\nعہدے پر برقرار ہو حوالہ شامل نہیں سمجھا جائے گا۔\n(۲) آرٹیکل ۴۸ کی شق (۲) میں شامل کسی امر کے با وجود صدر بھی اپنی صوابدید پر قومی اسمبلی کو\nتحلیل کر سکے گا جب کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ منظور کیا جا چکا ہو کے بعد\nقومی اسمبلی کے کسی دوسرے رکن کا دستور کے احکام کے مطابق قومی اسمبلی کے ارکان کی\nمرد\nاکثریت کا اعتماد رکھنے کا امکان نہ ہو جس طرح کہ اس غرض سے طلب کردہ قومی اسمبلی\nکے اجلاس میں معلوم ہو ۔]\n \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۷ا کی رو سے’ آرٹیکل ۵۸‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n۵۹ (۱) سینٹ کو چھیانوے ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں\n(الف) چودہ ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے؟\n*\n*\n*\n*\n(ج) دو عام نشستوں پر اور ایک خاتون اور ایک ٹیکنو کریٹ بشمول عالم وفاقی\nدارالحکومت سے ایسے طریقے سے منتخب کئے جائیں گے جو صدر فرمان کے\nذریعے مقرر کرے؛\n(د) چار خواتین ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان\nمنتخب کریں گے؟\n(0) چار ٹیکنو کریٹ بشمول علماء ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے؛ اور\n(1) صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے :\nچار غیر\nمسلم ہر صوبے سے ایک\nمگر شرط یہ ہے کہ پیرا گراف (و) دستور (اٹھارویں ترمیم)\nایکٹ ، ۲۰۱۰ ء کے نفاذ کے بعد سینٹ کے اگلے الیکشن سے مؤثر ہوگا۔\n(۲) سینٹ میں ہر صوبے کے لئے متعین نشستوں کو پُر کرنے کے لئے انتخاب، واحد قابل انتقال\nووٹ کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق کیا جائے گا۔\n(۳) سینٹ تحلیل کے تابع نہیں ہوگی لیکن اس کے ارکان کی میعاد جو حسب ذیل سبکدوش ہوں\nگے چھ سال ہوگی:۔\n(الف) شق (۱) کے پیرا (الف) میں محولہ ارکان میں سے، سات پہلے تین سال\nکے اختتام کے بعد سبکدوش ہو جائیں گے اور سات اگلے تین سال کے اختتام\n کے بعد سبکدوش ہو جائیں : \n*\n*\n*\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۸ کی رو سے’ آرٹیکل ۵۹‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( پچیسویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۸ء ( نمبر۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ \" کی رُو سے الفاظ’ ایک سوچارڑ کو لفظ ”چھیانوے سے\nتبدیل کیا گیا\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے شق (۱) کے پیراگراف (ب)‘ کو حذف کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی رُو سے شق (۳) کے پیراگراف (ب) کو حذف کیا گیا۔\n\nچیئر مین اور ڈپٹی\nچیئر مین ۔\n(ج) مذکورہ بالاشق کے پیرا ( ج ) میں محولہ ارکان میں سے،۔۔۔\n(اول) عام نشست پر منتخب ہونے والا ایک رکن پہلے تین سال کے اختتام\nکے بعد سبکدوش ہو جائے گا اور دوسرا اگلے تین سال کے اختتام\nکے بعد سبکدوش ہو جائے گا ؛ اور\n(دوم) ٹیکنو کریٹ کی نشست پر منتخب ہونے والا ایک رکن پہلے تین سال کے\nاختتام کے بعد سبکدوش ہو جائے گا اور خواتین کے لئے مخصوص نشست\nپر منتخب ہونے والی ایک رکن اگلے تین سال کے اختتام پر سبکدوش\nہو جائے گی:\n(1) مذکورہ بالا شق کے پیرا (د) میں محولہ ارکان ، میں سے، دو پہلے تین سال کے\nاختتام پر سبکدوش ہو جائیں گے اور دوا گلے تین سال کے اختتام پر سبکدوش\nہو جائیں گے ؟\n(0) مذکورہ بالاشق کے پیرا (ہ) میں محولہ ارکان میں سے ، دو پہلے تین سال کے\nاختتام پر سبکدوش ہو جائیں گے اور دو اگلے تین سال کے بعد سبکدوش ہو\nپر\nجائیں گے؛ اور\n(و) مذکورہ بالاشق کے پیرا ( و ) میں محولہ ارکان میں سے، دو پہلے تین سال کے اختتام\nپر\nپر سبکدوش ہو جائیں گے اور دوا گلے تین سال کے اختتام پر سبکدوش ہو جائیں گے:\nمگر شرط یہ ہے کہ الیکشن کمیشن غیر مسلموں کی نشستوں کی پہلی\nمیعاد کے لئے قرعہ اندازی کرے گا کہ کون سا رکن پہلے تین سال کے بعد\nسبکدوش ہو جائے گا۔\n( الف ) شق (۱) کے پیراگراف (ب) اور شق (۳) کے پیراگراف (ب) کے حذف ہونے\nکے باوجود، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے سینیٹ کے موجودہ اراکین ا نہ عہدہ کی مدت\nکے انقضاء تک بدستور رہیں گے اور مذکورہ بالا مدت کے انقضاء پر یہ شق جذف شدہ سمجھی جائے گی ۔]\n(۴) کسی اتفاقیہ خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے منتخب محمد شخص کے عہدے کی میعاد اس رکن کی\nغیر منقضی میعاد ہوگی جس کی خالی جگہ اس نے پر کی ہو ۔]\n\n(1) سینٹ کی باضابطہ طور پر تشکیل ہو جانے کے بعد، یہ اپنے پہلے اجلاس میں اور با استثنائے دیگر\nکارروائی، اپنے ارکان میں سے ایک چیئر مین اور ایک ڈپٹی چیئر مین کا انتخاب کرے\nگی اور جتنی بار بھی چیئر مین یا ڈپٹی چیئر مین کا عہدہ خالی ہو جائے ، سینٹ ایک اور رکن کو\nچیئر مین یا جیسی بھی صورت ہو ، ڈپٹی چیئر مین کے طور پر منتخب کرے گی۔\nدستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ ، ( نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ کی روسے نئی شق ( الف ) کو شامل کیا گیا۔\n\n(۲) چیئر مین یا ڈپٹی چیئر مین کے عہدے کی میعاد اس دن سے تین سال ہو گی جس پر اس\nنے اپنی عہدہ سنبھالا ہو۔\nآرٹیکل ۵۳ کی شقات (۲) تا (۷)، آرٹیکل ۵۴ کی شقات (۲) اور (۳) اور آرٹیکل ۵۵ کے احکام\nسینٹ پر اسی طرح اطلاق پذیر ہوں گے جس طرح وہ قومی اسمبلی پر اطلاق پذیر ہوتے ہیں اور ،\nسینٹ پر اپنے اطلاق میں ، اس طرح مؤثر ہوں گے گویا کہ ان میں قومی اسمبلی ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر\nکے حوالہ جات بالترتیب سینٹ ، چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین کے حوالہ جات ہوں تم اور گویا کہ،\nآرٹیکل ۵۴ کی مذکورہ شق (۲) کے فقرہ شرطیہ میں الفاظ کر ایک سو اور تیں کی بجائے الفاظ\nایک سو اور دس ] تبدیل کر دیا گیا ہو ]۔\nھے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ارکان کی بابت احکام\nکوئی کار سخت ہونے نہ جانے ہوگا ۲۲۔ کوئی شخص مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کار کن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہوگا اگر ۔۔۔\n(الف) وہ پاکستان کا شہری نہ ہو؟\n(ب) وہ قومی اسمبلی کی صورت میں چھپیں سال سے کم عمر کا ہو اور کسی انتخابی فہرست میں ووٹر\nکی حیثیت سے،۔۔۔\n(اول) پاکستان کے کسی حصہ میں ، جہاں سے عام نشست یا اقلیتوں کے لئے مخصوص\nمانشست پر انتخاب کے لئے درج نہ ہو؛ اور\nنتخاب کے لئے درج :\nسینٹ سے متعلق\nدیگر احکام۔\nمجلس شوری\n(پارلیمنٹ) کی رکنیت\nکیلئے اہمیت۔\n \nدستور ( ترمیم هشتم) ایکٹ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ ے کی رو سے لفظ ” دو کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۵ کی رو سے اضافہ کئے گئے ( نفاذ پذیر از ۴ ارمئی ۱۹۷۴ء)۔\nدستور (ترمیم دہم) ایکٹ ۱۹۸۷ ( نمبر ابابت ۱۹۸۷ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے تبدیل کیا گیا جوقبل از میں فرمان صد نمبر ۲۴ مجربی۱۹۸۵ء\nکے آرٹیکل ۲ کی رو سے ترمیم کیا گیا تھا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۹ کی روسے نوے کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی\nبجائے تبدیل کئے گئے ۔\nدستور اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰) کی دفعہ ۲۰ کی رو سے’ آرٹیکل ۶۲‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\")\n\nمجلس شوری\n(پارلیمنٹ) کی رکنیت\nکیلئے نا اہلیت۔\n\n(دوم) کسی صوبہ کے ایسے علاقے میں جہاں سے وہ خواتین کے لئے\nمخصوص نشست پر انتخاب کے لئے رکنیت چاہتی ہو درج نہ ہو؟\n(ج) وہ سینٹ کی صورت میں تیس سال سے کم عمر کا نہ ہو اور کسی صوبے کے کسی\nعلاقے میں یا جیسی بھی صورت ہو ، وفاقی دارالحکومت * * * میں جہاں سے\nوہ رکنیت چاہتا ہو بطور ووٹر درج نہ ہو؟\n(1) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو ؟\n(ه) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا\nپابند نیز کبیرہ گنا ہوں سے مجتنب نہ ہو ؟\n(و) وہ سمجھدار، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو عدالت نے اس\nکے بر عکس قرار نہ دیا ہو۔\n() اس نے قیام پاکستان کے بعد.\n( ز ) اس نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریہ پاک\nکی مخالفت کی ہو ۔\nستان\n(۲) پیرا ( د ) اور (ہ) میں صراحت کر دو نا اہلیوں کا ایسے شخص پر اطلاق نہیں ہوگا جو غیر مسلم ہو، (د) کردہ\nلیکن ایسا شخص اچھی شہرت کا حامل ہوگا ۔\n۶۳۲ ۔ (۱) کوئی شخص مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن\nرہنے کے لئے نااہل ہوگا ، اگر ،۔۔۔\nنظ\nاک\n(الف) وہ فائر العقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسا قرار دیا گیا ہو؛ یا\nوہ ہواور\n(ب) وہ غیر برات یافتہ دیوالیہ ہو یا \n(ج) وہ پاکستان کا شہری نہ رہے اور کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے؛ یا\nدستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ء (نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ ۵ کی رُو سے الفاظ یا وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ\nجات حذف کئے گئے\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۱ کی رو سے ” آرٹیکل ۶۳‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ماسوائے ایسے\nعہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو جس پر فائز شخص\nنا اہل نہیں ہوتا ؛ یا\n(0) اگر وہ کسی آئینی ہیئت یا کسی ایسی ہئیت کی ملازمت میں ہو جو حکومت کی ملکیت\nیا اس کے زیر نگرانی ہو یا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو ؟ یا\n(و) شہریت پاکستان ایکٹ ، ۱۹۵۱ء (نمبر ۲ بابت (۱۹۵۱ء) کی دفعہ ۱۴اب کی وجہ\nسے پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے اسے فی الوقت آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی\nکے کارکن منتخب ہونے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا ہو؛ یا\n(ز) وہ کسی مجاز سماعت عدالت کی طرف سے کسی ایسی رائے کی تشہیر کے لئے\nسزایاب رہ چکا ہو یا کسی ایسے طہ میں کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان یا\nکستان کے اقتدار اعلی سلمیت یا سلامتی یا اخلاقیات، یا امن عامہ کے قیام یا\nپاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لئے مضر ہو، یا جو پاکستان کی مسلح\nافواج یا عدلیہ کو بد نام کرے یا اس کی تضحیک کا باعث ہو، تا وقتیکہ اس کو رہا\nہوئے پانچ سال کی مدت نہ گزرگئی ہو، یا\n(ح) وہ کسی بھی اخلاقی پستی کے جرم میں ملوث ہونے پر سزا یافتہ ہو جس کو کم از کم دو\nسال سزائے قید صادر کی گئی ہو، تا وقتیکہ اس کو رہا ہوئے پانچ سال کا عرصہ نہ\nگزر\nگیا ہو، یا\n) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت صوبائی حکومت یا کسی مقامی حکومت\nکی طرف سے قائم کردہ یا اس کے زیر اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی ملازمت\nسے غلط روی کی بناء پر برطرف کر دیا گیا ہو، تا وقتیکہ اس کی برطرفی سے پانچ\nسال کا عرصہ گزرنہ گیا ہو، یا\n\n(ی) وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت یا کسی مقامی حکومت\nکی طرف سے قائم کردہ یا اس کے زیر اختیار کسی کارپوریشن یا دفتر کی\nملازمت سے غلط روی کی بناء پر ہٹایا گیا ہو یا جبری طور پر فارغ الخدمت کر دیا\nگیا ہو ، تا وقتیکہ اس کو ہٹانے یا جبری طور پر فارغ الخدمتی کو ختم ہوئے تین سال\nکا عرصہ نہ گزر گیا ہو؛ یا\n(ک) وہ پاکستان کی یا کسی آئینی ہیت کی جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو\nیا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو، ملازمت میں رہ چکا ہو، تا وقتیکہ\nاس کی مذکورہ ملازمت ختم ہوئے دو سال کی مدت نہ گزرگئی ہو، یا\n(ل) وہ خواہ بذات خود یا اس کے مفاد میں یا اس کے فائدے کے لئے یا اس کے\nحساب میں یاکسی بند وغیر منقسم خاندان کے رکن کے طور پر کسی شخص یا اشخاص کی\nجماعت کے ذریعے کسی معاہدہ میں کوئی حصہ یا مفاد رکھتا ہو، جو انجمن امداد با بھی\nاور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو، جو حکومت کو مال فراہم کرنے\nکے لئے ، اس کے ساتھ کئے ہوئے کسی معاہدے کی تکمیل یا خدمات کی\nانجام دہی کے لئے ہو:\nکم\nمگر شرط یہ ہے کہ اس پہرے کے تحت نا اہلیت کا اطلاق کسی شخص پر\nنہیں ہوگا ۔۔\n(اول) جب کہ معاہدے میں حصہ یا مفاد اس کی وراثت یا جانشینی کے\n ذریعے یا موصی لہ، وصی یا مہتم ترکہ کے طور پر منتقل ہوا ہو، جب\nتک اس کو اس کے اس طور پر مستقل ہونے کے بعد چھ ماہ کا عرصہ\nنہ گزر جائے ؛\n(دوم) جب کہ معاہدے کمپنیات آرڈینینس ۱۹۸۴ء (نمبر ۴۷ مجریه ۱۹۸۴ء)\nمیں تعریف کردہ کسی ایسی کمپنی عامہ نے کیا ہو یا اس کی طرف سے\nکیا گیا ہو جس کا وہ حصہ دار ہو لیکن کمپنی کے تحت کسی منفعت بخش\nعہدے پر فائز مختار انتظامی نہ ہو؛ یا\n\n(سوم) جب کہ وہ ایک غیر منقسم ہندو خاندان کا فرد ہو اور اس معاہدے\nمیں ، جو خاندان کے کسی فرد نے علیحدہ کاروبار کے دوران کیا ہو،\nکوئی حصہ یا مفاد نہ رکھتا ہو؛ یا\nتشریح : اس آرٹیکل میں مال میں زرعی پیداوار یا جنس جو اس\nنے کاشت یا پیدا کی ہو یا ایسا مال شامل نہیں ہے جسے فراہم کرنا\nاس پر حکومت کی ہدایت یا فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت\nفرض ہو یا وہ اس کے لئے پابند ہو ؛ یا\n(م) وہ پاکستان کی ملازمت میں حسب ذیل عہدوں کے علاوہ کسی منفعت بخش\nعہدے پر فائز ہو، یعنی:۔\nكلاط\n(اوّل) کوئی عہدہ کل وقتی عہدہ نہ ہو جس کا معاوضہ یا تو تنخواہ کے ذریعے یا\nفیس کے ذریعے ملتا ہو؟\n(دوم) نمبر دار کا عہدہ خواہ اس نام سے یا کسی دوسرے نام سے موسوم ہو ؛\n(سوم) قومی رضا کار؛\n(چہارم) کوئی عہدہ جس پر فائز شخص مذکور و عہدے پر فائز ہونے کی وجہ\nسے کسی فوج کی تشکیل یا قیام کا حکم وضع کرنے والے کسی قانون کے\nتحت فوجی تربیت یا فوجی ملازمت کے لئے طلب کئے جانے کا\n\nتی\nمستوجب ہو؛ یا\n(ن) اس نے کسی بینک ، مالیاتی ادارے، کو آپریٹو سوسائٹی یا کو آپریٹو ادارے سے\nاپنے نام سے یا اپنے خاوند یا بیوی یا اپنے زیر کفالت کسی شخص کے نام سے دو\nملین روپے یا اس سے زیادہ رقم کا قرضہ حاصل کیا ہو جو مقررہ تاریخ سے ایک\nسال سے زیادہ عرصے کے لئے غیر ادا شدہ رہے یا اس نے مذکورہ قرضہ\nمعاف کرالیا ہو؛ یا\n(س) اس نے یا اس کے خاوند یا بیوی نے یا اس کے زیر کفالت کسی شخص نے اپنے\nکاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت چھ ماہ سے زیادہ کے لئے دس ہزار روپے\nسے زائد رقم کے سرکاری واجبات اور یوٹیلیٹی اخراجات بشمول ٹیلیفون ، بجلی ،\nگیس اور پانی کے اخراجات ادا نہ کئے ہوں ؛ یا\n\n(ع) وہ فی الوقت نافذ العمل قانون کے تحت فی الوقت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) یا\nکسی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کئے جانے یا چنے جانے کا نا اہل ہو۔\nتشریح : اس پیرا گراف کی اغراض کے لئے ” قانون میں آرٹیکل ۸۹ یا\nآرٹیکل ۱۲۸ کے تحت جاری کردہ کوئی آرڈینینس شامل نہیں ہوگا۔\n(۲) اگر کوئی سوال اُٹھے کہ آیا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کا کوئی رکن، رکن رہنے کے لئے\nنا اہل ہو گیا ہے، تو اسپیکر یا جیسی بھی صورت ہو ، چیئر مین ، تا وقتیکہ وہ فیصلہ کرے کہ مذکورہ\nکوئی امر وقوع پذیر نہیں ہوا، اس سوال کو ، مذکورہ سوال پیدا ہونے سے تمہیں دن کے اندر،\nا\nچیف کمشنر کو بھیجے گا اور اگر وہ مذکورہ بالا مدت کے اندر ایسا کرنے میں نا کام ہو جائے تو اس کو\nالیکشن کمیشن کو ارسال کردہ متصور کیا جائے گا۔ کا\n(۳) الیکشن کمیشن اس کا اس کی وصولی سے یا اس کو وصول کیا گیا متصور ہونے کے نوے دنوں\nکے اندر فیصلہ کرے گا اور اگر اس کی یہ رائے ہو کہ رکن نا اہل ہو گیا ہے تو ، وہ رکن نہیں\nرہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گی ۔]\nانحراف وغیرہ کی بنیاد پر ۶۳۔ الف (۱) اگر کسی ایوان میں کسی تنہاسیاسی جماعت پر مشتمل پارلیمانی پارٹی کا کوئی رکن ۔۔۔\nنا اہلیت۔\n(الف) اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت\nمیں شامل ہو جائے یا\nسے مستعفی ہو جائے یا کسی دوسری پارلیمانی پارٹی\n(ب) اس پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جس سے اس کا تعلق ہو جاری کردہ\n ذیل کے متعلق کسی ہدایت کے برعکس ایوان میں ووٹ دینے سے\nاجتناب کرے۔۔۔۔\n(اول) وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب؛ یا\n(دوم) اعتماد یا عدم اعتماد کے ووٹ ؛ یا\n(سوم) کسی مالی بل یا دستوری (ترمیمی) بل ؛\n\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۲ کی رو سے آرٹیکل ۶۳ الف“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nتو پارٹی کا سربراہ تحریری طور پر اعلان کر سکے گا کہ وہ اس سیاسی جماعت سے منحرف ہو گیا ہے، اور\nپارٹی کا سربراہ اعلان کی ایک نقل افسر صدارت کنندہ اور چیف الیکشن کمشنر کو بھیج سکے گا اور اسی طرح\nاس کی ایک نقل متعلقہ رکن کو بھیجے گا :\nمگر شرط یہ ہے کہ اعلان کرنے سے پہلے، پارٹی کا سر براہ مذکورہ رکن کو اس بارے میں\nاظہار وجوہ کا موقع فراہم کرے گا کہ کیوں نہ اس کے خلاف مذکورہ اعلان کر دیا جائے۔\nتشریح:- پارٹی کا سربراہ سے کوئی شخص ، خواہ کسی بھی نام سے پکارا جائے ، پارٹی کی\nجانب سے جیسا کہ مظہرہ ہومراد ہے۔\n(۲) کسی ایوان کا کوئی رکن کسی پارلیمانی پارٹی کارکن ہوگا اگر وہ ، ایسی سیاسی جماعت کے جو\nایوان میں پارلیمانی پارٹی تشکیل کرتی ہو، امیدوار یا نامزد کے طور پر منتخب ہو کر یا کسی\nسیاسی جماعت کے امیدوار یا نامزد کی حیثیت کے علاوہ بصورت دیگر منتخب ہوکر ، مذکورہ\nانتخاب کے بعد تحریری اعلان کے ذریعے مذکورہ پارلیمانی پارٹی کارکن بن گیا ہو۔\n(۳) شق (۱) کے تحت اعلان کی وصولی پر ، ایوان کا افسر صدارت کنندہ دو دن کے اندر وہ اعلان\nچیف الیکشن کمشنر کو بھیج دے گا ، اور اگر وہ ایسا کرنے میں نا کام ہو جائے تو یہ متصور کیا\nجائے کہ اس نے ارسال کر دیا ہے، جو اعلان کو الیکشن کمیشن کے سامنے اس کے بارے\nمیں چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے اس کی وصولی کے تین دن کے اندر اعلان کی توثیق\nکرتے ہوئے یا اس کے برعکس اس کے فیصلہ کے لئے رکھے گا۔\n(۴) جب کہ الیکشن کمیشن اعلان کی توثیق کر دے، تو شق (۱) میں محولہ رکن ایوان کا رکن نہیں\nکرہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گا \n(۵) الیکشن کمیشن کے فیصلہ سے ناراض کوئی فریق ، تمہیں دن کے اندر، عدالت عظمیٰ\nمیں اپیل داخل کر سکے گا جو اپیل داخل کرنے کی تاریخ سے نوے دنوں کے\nاندر اس معاملہ کا فیصلہ کرے گی۔\n\nنشستوں کا خالی کرنا۔\nارکان کا حلف۔\nارکان وغیرہ کے\n(1) اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کا کسی ایوان کے چیئر مین یا اسپیکر پر اطلاق نہیں ہوگا۔ میںشامل سیامک اس ایوان کے پیر میں یا پر نہیں\n(۷) اس آرٹیکل کی اغراض کے لئے ،۔۔۔۔\n(الف) ایوان سے وفاق کے تعلق سے قومی اسمبلی یا سینٹ اور صوبہ کے تعلق سے\nصوبائی اسمبلی مراد ہے، جیسی بھی صورت ہو ؟\n(ب) افسر صدارت کنندہ سے قومی اسمبلی کا اسپیکر ، سینٹ کا چیئر مین یا صوبائی\nاسمبلی کا اسپیکر مراد ہے، جیسی بھی صورت ہو۔\n(۸) مذکورہ بالا طور پر تبدیل کردہ آرٹیکل ۶۳ الف کا اطلاق اگلے عام انتخابات سے ہوگا جن کا\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء کے نفاذ کے بعد انعقاد ہو گا :\nمگر شرط یہ ہے کہ آرٹیکل ۶۳ الف جس کو مذکورہ بالا طور پر تبدیل کیا گیا ہے کے\nمؤثر ہونے تک موجودہ آرٹیکل ۶۳ الف کے احکامات بدستور نافذ رہیں گے۔]\n-۲۴ (۱) مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) کا کوئی رکن اسپیکر یا جیسی بھی صورت ہو، چیئر مین کے نام\nاپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنی نشست سے مستعفی ہو سکے گا اور اس کے بعد اس کی نشست\nخالی ہو جائے گی۔ \n(۲) کوئی ایوان کسی رکن کی نشست کو خالی قرار دے سکے گا اگر ، ایوان کی اجازت کے بغیر ، وہ ،\nاس کے اجلاسوں سے مسلسل چالیس روز تک غیر حاضر ہے\n-۶۵ کسی ایوان کے لئے منتخب شدہ کوئی شخص ، اس وقت تک نہ اپنی جگہ سنبھالے گا اور نہ ووٹ دے گا\nجب تک کہ وہ ایوان کے سامنے جدول سوم میں مندرج عبارت میں حلف نہ اُٹھا لے۔\n۲۲ (۱) دستور اور سلم مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے قواعد ضابطہ کار کے تابع بلم مجلس شوری\n(پارلیمنٹ ) میں تقریر کی آزادی ہوگی اور کوئی رکن ، سلم مجلس شوری پارلیمنٹ میں کی\nاستحقاقات۔\n\nبجائے تبدیل کئے گئے ۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی\n\nہوئی اپنی کسی تقریر یا دیئے ہوئے کسی ووٹ کی نسبت کسی عدالت میں کسی قانونی کارروائی کا\nمستوجب نہیں ہوگا اور کوئی شخص یا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )] کی طرف سے یا اس کے\nاختیار کے تحت کسی رپورٹ مضمون ، ووٹ یا کارروائی کی اشاعت کی نسبت بایں طور\nمستوجب نہیں ہوگا۔\nا\n(۲) دیگر لحاظ سے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اختیارات، تحفظات اور استحقاقات اور\nارکان مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے تحفظات اور استحقاقات وہ ہوں گے جو قانون\nکے ذریعے وقتاً فوقتاً متعین کئے جائیں اور بائیں طور متعین ہونے تک وہ ہوں گے جن\nسے قومی اسمبلی پاکستان اور اس کی کمیٹیاں اور اس کے ارکان یوم آغاز سے عین قبل\nمستفید ہورہے تھے۔\n(۳) کسی ایوان کی طرف سے ایسے اشخاص کو سزا دینے کے لئے قانون کے ذریعے حکم وضع کیا\nجا سکے گا جو اس ایوان کی کسی میٹی کے سامنے کوئی شہادت دینے یا کوئی دستاویز پیش کرنے\nسے انکار کر دیں جب کہ انہیں اس کمیٹی کے چیئر مین کی طرف سے باضابطہ طور پر ایسا\nکرنے کو کہا گیا ہو:\n\nمگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی قانون\n(الف) کسی عدالت کو یہ اختیار دے سکے گا کہ وہ ایسے شخص کو سزا دے جو شہادت\nدینے یا دستاویزات پیش کرنے سے انکار کرے؛ اور\n(ب) ایسے فرمان کے تابع موثر ہوگا جو صدر کی طرف سے ، خفیہ معاملات کو افشاء\n ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے بنایا گیا ہو۔ \n(۴) اس آرٹیکل کے احکام ان اشخاص پر جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)) میں تقریر کرنے یا\nبصورت دیگر اس کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق رکھتے ہیں اس طرح اطلاق پذیر ہوں\nگے جس طرح وہ ارکان پر اطلاق پذیر ہوتے ہیں۔\nاحیائے دستور ،۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nواله\nالله\nاكة\n(۵) اس آرٹیکل میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) سے کوئی ایوان یا مشترکہ اجلاس یا اس کی\nکوئی کمیٹی مراد ہے۔\nعام طریق کار\nقواعد ضابطہ کار وغیرہ۔ ۶۷۔ (۱) دستور کے تابع ، کوئی ایوان اپنے ضابطہ کار اور اپنی کا رروائی کے انصرام کو منضبط کرنے\nکے لئے سم قواعد بنا سکے گا اور اسے اس امر کے باوجود کام کرنے کا اختیار ہوگا کہ اس کی\nرکنیت میں کوئی جگہ خالی ہو، اور ایوان کی کوئی کارروائی اس بناء پر نا جائز نہیں ہوگی کہ کچھ\nاشخاص جو ایسا کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے، کارروائی کے دوران بیٹھے، ووٹ دیئے یا کسی\nاور صورت میں حصہ لیتے رہے۔\n(۲) شق (۱) کے تحت قواعد بننے تک کسی ایوان میں ضابطہ کا راور کارروائی کے انصرام کو صدر\nکے بنائے ہوئے قواعد ضابطہ کار کے تحت منضبط کیا جائے گا۔\nمجلس شوری ۲۸ م مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کے، اپنے فرائض کی کےکسی\nانجام دہی میں رویے کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوگی ۔\n(پارلیمنٹ ) میں بحث\nپر پابندی۔\nعدالتیں مجلس شوری\n(پارلیمنٹ) کی\nکارروائی کی تحقیقات\nنہیں کریں گی۔\n(۱) مجلس شوری ( پارلیمنٹ) میں کسی بھی کارروائی کے جواز پر ضابطہ کارکی کسی بے قاعدگی کی بناء پر\nاعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(۲) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کوئی افسر یار کن جسے دستور کی رو سے یا اس کے تحت\nام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں ضابطہ کا ریا انصرام کا رروائی کو منضبط کرنے یا نظم برقرار\nرکھنے کے اختیارات دیئے گئے ہوں ان اختیارات کے استعمال کی نسبت کسی عدالت\nکے اختیار سماعت کے تابع نہیں ہوگا۔\n(۳) اس آرٹیکل میں ہم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا وہی مفہوم ہو گا جو آرٹیکل ۶۶ میں ہے۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nسینٹ میں ضابطہ کار اور انصرام کارروائی کے قواعد کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء غیر معمولی ،حصہ دوم صفحات ۱۵۴۳ تا ۱۶۲۰۔\nقومی اسمبلی میں ضابطہ اور کار انصرام کارروائی کے قواعد کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء غیرمعمولی،حصہ دوم صفحات ۱۸۹۷ تا ۱۹۵۷۔\n\nولد\nلديك\nقانون سازی کا طریقہ کار\n(1) وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی امر کے بارے میں کسی بل کی ابتداء کسی بھی ایوان بل پیش کرنا اور منظور\nمیں ہو سکے گی اور ، اگر اسے وہ ایوان منظور کرے جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی ، تو اسے\nدوسرے ایوان میں بھیج دیا جائے گا؛ اور ، اگر دوسرا ایوان بھی اسے ترمیم کے بغیر منظور کر\nلے، تو اسے منظوری کے لئے صدر کو پیش کر دیا جائے گا۔\n(۲) اگر ذیلی شق (۱) کے تحت کسی ایوان میں کوئی ارسال کردہ بل ترمیم کے ساتھ منظور کر لیا\nجائے تو اس کو واپس اس ایوان میں بھیج دیا جائے گا جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی اور\nاگر وہ ایوان ان ترمیمات کے ساتھ منظور کر لے تو اسے منظوری کے لئے صدر کو پیش کر دیا\nجائے گا۔\n(۳) اگر شق (۱) کے تحت کسی ایوان کو ارسال کردہ کوئی بل مستر د ہو جائے یا اس سے پیش\nکرنے کے نوے دن کے اند ر منظور نہ کیا گیا ہو تو شق (۲) کے تحت ایوان کو ترمیمات\nکے ساتھ ارسال کردہ بل اس ایوان نے مذکورہ ترمیمات کے ساتھ منظور نہ کیا ہو تو ، بل،\nاس ایوان میں جس میں اس کی ابتداء ہوئی تھی، کی درخواست پر مشترکہ اجلاس میں زیر غور\nلایا جائے گا اور اگر موجودہ ارکان کی اکثریت رائے سے اور مشترکہ اجلاس میں\nرائے دہی سے منظور ہو جائے تو اسے منظوری کے لئے صدر کو پیش کر دیا جائے گا۔\n(۴) اس آرٹیکل اور دستور کے مابعد احکام میں وفاقی قانون سازی کی فہرست“ سے جدول\nچہارم میں وفاقی قانون سازی کی فنبرت \nاے مصالحت کمیٹی ( دستور اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ، ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۴ کی رو\nسے حذف کیا گیا جیسا کہ مختلف ترامیم کے ذریعے ترمیم کیا گیا۔\nکرنا۔\n-۷۲ (۱) صدر ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور چیئر مین سے مشورے کے بعد ، دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں\nمشترکہ اجلاس اور با ہمی رابطوں کی نسبت ضابطہ کار کے قواعد بنا سکے گا۔\nطریق کار۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۳ کی رو سے ” آرٹیکل، “ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nقواعد (مشترکہ اجلاس) پارلیمنٹ ۱۹۷۳ء کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء، غیر معمولی ،حصہ دوم صفحات ۱۹۵۷ تا ۱۶۷۲۔\n\nمالی بلوں کی نسبت\nطریق کار۔\nو ۴۵\n(۲) مشتر کہ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کا اسپیکر یا ، اس کی عدم موجودگی میں، ایسا شخص کرے\nگا جس کو شق (۱) کے تحت وضع شدہ قواعد کی رو سے متعین کیا جائے۔\n(۳) شق (۱) کے تحت وضع شدہ قواعد کو مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور مشترکہ\nاجلاس میں ان میں اضافہ کیا جا سکے گا، کمی بیشی کی جاسکے گی ،ترمیم کی جاسکے گی یا انہیں\nتبدیل کیا جا سکے گا۔\n(۴) دستور کے تابع ، کسی مشترکہ اجلاس میں تمام فیصلے حاضر اور رائے دینے والے ارکان کی\nاکثریت کے ووٹوں سے کئے جائیں گے۔\n(1) آرٹیکل ۷۰ میں مذکورہ کسی امر کے باوجود کسی مالی بل کی ابتداء قومی اسمبلی میں ہوگی:\nمگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی مالی بل بشمول سالانہ بجٹ کے گوشوارے پر مشتمل\nكلاط\nمالیاتی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے ، تو اس کے ساتھ ساتھ اس کی نقل سینٹ کو بھیجی\nجائے گی جو چودہ دن کے اندر اس کے بارے میں سفارشات قومی اسمبلی کو دے سکے گی ۔]\nا الف) قومی اسمبلی سینٹ کی سفارشات پر غور کرے گی اور اس کے بعد کہ اسمبلی کی طرف\nسے بل سینٹ کی سفارشات کو شامل کر کے یا شامل کئے بغیر منظور کر لیا گیا ہوا سے منظوری\nکے لئے صدر کو پیش کر دیا جائے گا۔]\n\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n(۲) اس باب کی اغراض کے لئے کسی بل یا ترمیم کو مالی بل تصور کیا جائے گا اگر اس میں\nحسب ذیل امور میں سے تمام یا کسی سے متعلق احکام شامل ہوں ، یعنی:۔\n(الف) کسی محصول کا عائد کرنا ، منسوخ کرنا ، اس میں تخفیف کرنا، ردو بدل کرنا یا\nاسے منضبط کرنا ؛\n(ب) وفاقی حکومت کی جانب سے رقم کا قرض لینا یا کوئی ضمانت دینا یا اس حکومت\nکی مالی ذمہ داریوں کی بابت قانون میں ترمیم ؛\n٣۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۵ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نئی شق (۱۔ الف ) کو شامل کیا گیا۔\nموجود و شق (۱) الف) دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰، ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجہ میں حذف شد و ظہرے گی ، دیکھئے دفعہ ۲۔\n\n(ج) وفاقی مجموعی فنڈ کی تحویل، مذکورہ فنڈ میں رقوم کی ادائیگی یا اس میں سے رقوم کا اجراء؛\n(و) وفاقی مجموعی فنڈ پر کوئی وجوب، عائد کرنا یا کسی مذکورہ وجوب کو منسوخ کرنا یا اس\nمیں کوئی ردو بدل کرتا ؟\n(ه) وفاق کے حسابات عامہ کی بابت رقوم کی وصولی ، مذکورہ رقوم کی تحویل یا ان\nکا اجراء؛\n(و) وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کے حسابات کا محاسبہ؛ اور\n(ز) ماقبل پیروں میں مصرحہ امور میں سے کسی سے متعلق کوئی ضمنی امر\n(۳) کوئی بل محض اس وجہ سے مالی بل متصور نہیں ہوگا کہ اس میں حسب ذیل امور کے بارے\nمیں احکام وضع کئے گئے ہیں۔\nكلاط\n(الف) کوئی جرمانہ یا دیگر مالی تعزیر کے عائد کرنے یا اس میں رد و بدل کرنے سے\nمتعلق یا کسی لائسنس فیس یا کسی انجام دی گئی خدمت کی فیس یا خرچ کے\nمطالبے یا ادائیگی سے متعلق ؛ یا\n(ب) مقامی اغراض کے لئے کسی مقامی بیت مجاز یا ادارے کی جانب سے کوئی\nمحصول عائد کرنے ، منسوخ کرنے ، اس میں تخفیف کرنے ، ردو بدل کرنے یا\nاسے منضبط کرنے سے متعلق\n۔ (۴) اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی بیل مالی بل ہے یا نہیں تو اس پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کا فیصلہ\nقطعی ہوگا۔\n(۵) صدر کو منظوری کے لئے پیش کئے جانے والے ہر مالی بل پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کی و تخطی\nایک سند ہوگی کہ یہ مالی بل ہے اور مذکورہ سند تمام اغراض کے لئے حتمی ہوگی اور اس پر کوئی\nاعتراض نہیں کیا جائے گا۔\nکوئی مالی بل یا کوئی بل یا ترمیم جسے اگر قانونی شکل دی جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے تو وفاقی مالی اقدامات کے لئے\nمجموعی فنڈ میں سے رقم خرچ کرنی پڑے یا وفاق کے حسابات عامہ میں سے\nرقم نکلوانی پڑے یا وفاقی حکومت کی مرضی\nضروری ہوگی۔\nپاکستان کے زرمسکو کہ یا کرنسی یا بینک دولت پاکستان کی تشکیل یا کارہائے منصبی پر اثر انداز ہو، بجز\n\nوفاقی حکومت کی طرف سے یا اس کی مرضی سے مجلس شوری ( پارلیمنٹ) میں پیش نہیں کی\nجائے گی اور نہ اس کی تحریک کی جائے گی۔\nبلوں کے لئے صدر کی ۷۵۲۔ (۱) جب کوئی بل منظوری کے لئے صدر کو پیش کیا جائے ، تو صدر ۳ دس دن کے اندر ۔۔۔\n(الف) بل کی منظوری دے دے گا؛ یا\nمنظوری۔\n(ب) کسی ایسے بل کی صورت میں جو مالی بل نہ ہو، بیل کو اس پیغام کے ساتھ مجلس شوری\n(پارلیمنٹ ) میں واپس کر دے گا کہ بل پر ، یا اس کے کسی مصرحہ حکم پر ، دوبارہ\nغور کیا جائے اور یہ کہ پیغام میں مصرحہ کسی ترمیم پر غور کیا جائے ۔\n(۲) جب کہ صدر نے کوئی بل مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کو واپس بھیج دیا ہو، تو اس پرمجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) مشتر کہ اجلاس میں دوبارہ غور کرے گی اور اگر اسے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)،\nكلاط\nدونوں ایوانوں کے موجود ارکان کی اکثریت رائے دہی اور رائے شماری سے ترمیم کے\nساتھ یا بلا ترمیم دوبارہ منظور کرلے تو اسے دستور کی اغراض کے لئے دونوں ایوانوں کی\nطرف سے منظور شدہ تصور کیا جائے گا اور اسے صدر کو پیش کیا جائے گا اور صدر اس کی\nمنظوری دس دنوں میں دے گا ، اس میں ناکامی پر مذکورہ منظوری دی گئی متصور ہوگی ۔]\n(۳) جب کہ صدر نے کسی بل کی منظوری دے دی ہوشم یا لی گئی منظوری متصور ہوگی تو وہ\nقانون بن جائے گا اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کا ایکٹ کہلائے گا۔\n(۴) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کوئی ایکٹ ، اور کسی ایسے ایکٹ کا کوئی حکم محض اس وجہ سے\nباطل نہیں ہوگا کہ دستور کے تحت مطلوبہ کوئی سفارش، ماقبل منظوری یا رضامندی نہیں دی\nگئی تھی ،اگر مذکورہ ایکٹ کی دستور کے مطابق منظوری دی گئی ہو ۔ \nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۷۵ کی بجائے تبدیل\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۶ کی رو سے تھیں“ کی بجائے تبدیل کیا\nبحوالہ عین ماقبل شق (۲) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل شامل کیا گیا۔\n\n(1) کسی بھی ایوان میں زیر غور کوئی بل اس ایوان کی برخاستگی کی بناء پر ساقط نہیں ہو گا۔ بل اسمبلی کی برخاستگی\n(۲) سینٹ میں زیر غور کوئی بل جسے قومی اسمبلی نے منظور نہ کیا ہو، قومی اسمبلی کے ٹوٹنے پر وغیرہ کی بناء پر ساقط\nساقط نہیں ہوگا۔\n، کے\n(۳) قومی اسمبلی میں زیر غور کئی بل یا کوئی بل جو قو می اسمبلی سے منظور ہو جانے پر سینٹ میں\nزیر غور ہو، قومی اسمبلی کے ٹوٹنے پر ساقط ہو جائے گا۔\nنہیں ہوگا۔\n-۷۷ بجربان مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے ذریعے یا اس کے اختیار کے تحت وفاق کی محصول صرف قانون\nاغراض کے لئے کوئی محصول نہیں لگایا جائے گا۔\nکے تحت لگایا جائے گا۔\nمالیاتی طریق کار\n۷۸ (۱) وفاقی حکومت کے وصول شدہ تمام محاصل، اس حکومت کے جاری کردہ جملہ قرضہ جات وفاقی مجموعی فنڈ اور\nاور کسی قرض کی واپسی کے سلسلے میں اسے وصول ہونے والی تمام رقوم ، ایک مجموعی فنڈ کا سرکاری حساب۔\nحصہ بنیں گی جس کا نام وفاقی مجموعی فنڈ ہوگا۔\n۔ (الف) جو وفاقی حکومت کو یا اس کی طرف سے وصول ہوں ؛ یا\n(ب) جو عدالت عظمی یا وفاق کے اختیار کے تحت قائم شدہ کسی دوسری عدالت کو\nوصول ہوں یا ان کے پاس جمع کرائی جائیں ؟\nوفاق کے سرکاری حساب میں جمع کی جائیں کی \n-۷۹۔ وفاقی مجموعی فنڈ کی تحویل ، اس فنڈ میں رقوم کی ادائیگی ، اس سے رقوم کی بازخواست ، وفاقی مجموعی فنڈ اور\nوفاقی حکومت کو یا اس کی طرف سے وصول شدہ دیگر رقوم کی تحویل ، وفاق کے سرکاری حساب میں ان کی سرکاری حساب کی\nتحویل وغیرہ۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nادائیگی ، اور اس میں سے بازخواست اور مذکورہ بالا امور سے متعلقہ یا ضمنی جملہ امور مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے یا ، اس بارے میں اس طرح احکام وضع ہونے تک ، صدر کے\nوضع کردہ کوائف کے بموجب منضبط ہوں گے۔\nسالانه کیفیت نامه ۸۰ (۱) وفاقی حکومت ہر مالی سال کی بابت ، وفاقی حکومت کی اس سال کی تضمینی آمدنی اور مصارف کا\nکیفیت نامه قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرائے گی، جس کا اس حصہ میں سالانہ کیفیت نامہ\nمیزانیہ۔\nوفاقی مجموعی فنڈ پر\nواجب الادا\nمصارف۔\nمیزانیہ کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔\n(۲) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ میں مندرجہ ذیل علیحدہ علیحدہ ظاہر کی جائیں گی۔۔۔\n(الف) ایسی رقوم جوان مصارف کو پورا کرنے کے لئے درکار ہوں جنہیں دستور میں\nوفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الا دا بیان کیا گیا ہے؛ اور\n(ب) ایسی رقوم جو ایسے دیگر مصارف کو پورا کرنے کے لئے درکار ہوں، جن کی\nوفاقی مجموعی فنڈ سے ادا ئیگی کی تجویز کی گئی ہو؟\nاور محاصل کے حساب میں سے ہونے والے مصارف اور دیگر مصارف میں تفریق رکھی جائے گی ۔\nمندرجہ بالا مصارف ، وفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف ہوں گے:۔\n(الف) صدر کو واجب الادا مشاہرہ اور اس کے عہدے سے متعلق دیگر مصارف ،اور مشاہرہ جو\nمندرجہ ذیل کو واجب الادا ہو گا۔۔۔\n(ایک) عدالت عظمی اور عدالت عالیہ اسلام آباد کے جج صاحبان ؛\n(دو) چیف الیکشن کمشنر\n(تین) چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین ؟ \n(چار) قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ؟\n(پانچ) محاسب اعلیٰ ؛\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nدستور ( انیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\n↓\n(ب) عدالت عظمی، عدالت عالیہ اسلام آباد، محاسب اعلیٰ کے محکمے اور چیف الیکشن\nکمشنر اور انتخابی کمیشن کے دفتر اور سینٹ اور قومی اسمبلی کے دفاتر کے انتظامی\nمصارف بشمول افسران اور سم عملہ ] کو واجب الادا مشاہرے کے؛ ]\n(ج) جملہ واجبات قرضہ جن کی ادائیگی وفاقی حکومت کے ذمے ہو، بشمول سود،\nمصارف ذخیرہ ادائی ،سرمائے کی باز ادا ئیگی یا بے باقی اور قرضوں کے حصول\nکے اور وفاقی مجموعی فنڈ کی ضمانت پر قرض کے معاوضے اور انفکاک کے سلسلے\nمیں کئے جانے والے دیگر مصارف ؛\n(د) کوئی رقوم جو پاکستان کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کے کسی فیصلے ، ڈگری یا\nفیصلہ ثالثی کی تعمیل کے لئے درکار ہوں ؛ اور\nکلاه (1) کوئی دیگر رقوم جن کو دستور یا تم مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے دیگر یا تم\nذریعے مذکورہ طور پر واجب الادا قرار دے دیا گیا ہو۔\n۸۲ (۱) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کے اس حصہ پر جو وفاقی مجموع فتنہ سے واجب الادا مصارف سالانه کیفیت نامه\nسے تعلق رکھتا ہو قو می اسمبلی میں بحث ہو سکے گی لیکن اسے قومی اسمبلی کی رائے شماری کے میزانیہ کی بابت\nلئے پیش نہیں کیا جائے گا۔\n(۲) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کا وہ حصہ جو دیگر مصارف سے تعلق رکھتا ہو مطالبات زر کی شکل میں نامه کاوہ\nقومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اسمبلی کو کسی مطالبے کو منظور کرنے یا منظور کرنے سے انکار\nکرنے یا کسی مطالبے کو اس میں مصرحہ رقم کی تخفیف کے تابع منظور کرنے کا اختیار ہوگا:\n مگر شرط یہ ہے کہ ، یوم آغاز سے دس سال کی مدت کے لئے یا قومی اسمبلی کے\nدوسرے عام انتخاب کے انعقاد تک، جو بھی بعد میں واقع ہو، کسی مطالبہ کا اس میں مصرحہ\nرقم میں کسی تخفیف کے بغیر منظور کیا جانا متصور ہوگا ، تا وقتیکہ ، اسمبلی کی کل رکنیت کی\nطریقہ کار۔\nدستور (انیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (بیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۶ء (نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے ملازمین کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nاکثریت کے ووٹوں کے ذریعے اسے مستر دنہ کر دیا جائے یا اسے اس میں مصرحہ رقم میں کسی\nتخفیف کے تابع منظور نہ کیا جائے۔\n(۳) وفاقی حکومت کی سفارش کے بغیر کوئی مطالبہ زر پیش نہیں کیا جائے گا۔\nمنظور شدہ مصارف کی ۸۳ (۱) وزیر اعظم اپنے دستخطوں سے ایک جدول کی توثیق کرے گا جس میں حسب ذیل کی جدول کی توثیق ۔\nضمنی اور زائد رقوم ۔\nتصریح ہوگی۔۔\n(الف) ان رقوم کی جو قومی اسمبلی نے آرٹیکل ۸۲ کے تحت منظور کی ہوں یا جس کا منظور\nکیا جانا متصور ہو؛ اور\n(ب) ان مختلف رقوم کی جو وفاقی مجموعی فنڈ سے واجب الادا مصارف کو پورا کرنے\nکے لئے مطلوب ہوں لیکن کسی رقم کی صورت میں، اس رقم سے متجاوز نہ ہوگی جو\nقومی اسمبلی میں اس سے قبل پیش کردہ کیفیت نامہ میں دکھائی گئی ہو۔\n(۲) بایں طور توثیق شدہ جد ول کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا لیکن اس پر بحث یا\nرائے شماری نہیں ہوگی ۔\n(۳) دستور کے تابع ، وفاقی مجموعی فنڈ سے کوئی مصارف با ضابطہ منظور شدہ متصور نہ ہوگا ، تا وقتیکہ\nبایں طور توثیق شدہ جدول میں اس کی صراحت نہ کر دی گئی ہو اور مذکورہ جدول کو شق (۲)\nکی رو سے مطلوبہ طور پر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہ کر دیا گیا ہو۔\n- کہ ۔۔\nاگر کسی مالی سال کی بابت یہ معلوم\n(الف) مجاز کردہ رقم جورواں مالی سال کے دوران کسی خاص خدمت پر صرف کی جانی\n تھی ، نا کافی ہے یا کسی ایسی نئی خدمت پر خرچ کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے جو\nاس سال کے سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ میں شامل نہیں ہے؛ یا\n۔ (ب) کسی مالی سال کے دوران کسی خدمت پر اس رقم سے زائد رقم صرف کر دی گئی\nہے جو اس سال کے واسطے اس خدمت کے لئے منظور کی گئی تھی ؟\nتو وفاقی حکومت کو اختیار ہوگا کہ وفاقی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے دے،خواہ وہ\nخرچ دستور کی رو سے مذکورہ فنڈ سے واجب الادا ہو یا نہ ہو، اور قومی اسمبلی کے سامنے\nایک ضمنی کیفیت نامہ میزانیہ یا جیسی بھی صورت ہو، زائد کیفیت نامہ میزانیہ پیش کرائے\nجس میں مذکورہ خرچ کی رقم درج ہو اور ان کیفیت ناموں پر آرٹیکل ۸۰ تا ۸۳ کے احکام کا\nشماری۔\nاطلاق اسی طرح ہو گا جیسا کہ ان کا اطلاق سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ پر ہوتا ہے۔\nمذکورہ بالا احکام میں مالی امور سے متعلق شامل کسی امر کے باوجود، قومی اسمبلی کو اختیار ہوگا حساب پر رائے\nکه و تضمینی خرچ کی بابت کسی رقم کی منظوری کے لئے آرٹیکل ۸۲ میں مقررہ رائے شماری\nکے طریقہ کار کی تکمیل اور خرچ کی بابت آرٹیکل ۸۳ کے احکام کے مطابق منظور شدہ خرچ\nکی جدول\nکی توثیق ہونے تک کسی مالی سال کے کسی حصے کے لئے ، جو چار ماہ سے زائد\nاس\nنہ ہو، مذکورہ منظوری پیشکی دے دے۔\nمذکورہ بالا احکام میں مالی امور سے متعلق شامل کسی امر کے باوجود، کسی وقت جب کہ قومی اسمبلی ٹوٹ جانے\nہو تخمینی خرچ کی بابت رقوم کی منظوری\nاسمبلی ٹوی نے آرٹیکل ۸۲ میں مقررہ\nرائے شماری کے طریقہ کار کی تکمیل اور خرچ کی بابت آرٹیکل ۸۳ کے احکام کے مطابق\nمنظور شدہ خرچ کی جدوں کی توثیق ہونے تک وفاقی حکومت کسی مالی سال کے کسی حصہ کے\nلئے جو چار ماہ سے زائد نہ ہو ، وفاقی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے سکے گی۔\n۸۷ (۱) پر ایوان کا سیکرٹریٹ الگ ہو گا : \nکی صورت میں خرچ\nکی منظوری دینے کا\nاختیار۔\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں مذکورہ کوئی امر دونوں ایوانوں کے لئے مشترک مجلس شوری\nاسامیاں وضع کرنے میں مانع نہ سمجھا جائے گا۔\n(پارلیمنٹ) کے\nسیکرٹریٹ ۔\n\n(۲) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)) قانون کے ذریعے کسی ایوان کے عملہ معتمدی میں بھرتی نیز\nمقرر کردہ اشخاص کی شرائط ملازمت کو منضبط کر سکے گی۔\n(۳) تا وقتیکه مجلس شوری ( پارلیمنٹ) شق (۲) کے تحت قانون وضع نہ کرے، اسپیکر یا،\nجیسی بھی صورت ہو ، چیئر مین ، صدر کی منظوری سے قومی اسمبلی یا سینٹ کے عملہ معتمدی\nمیں بھرتی اور مقرر کردہ اشخاص کی ملازمت کی شرائط کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع\nکر سکے گا۔\nمالیاتی کمیٹی ۔ ۸۸ (۱) منظور شده مد بندی کے دائرے میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے خرچ پر قومی اسمبلی یا ، جیسی\n۔ بھی صورت ہو، ہینٹ اپنی مالیاتی کمیٹی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کنٹرول کرے گی۔\n(۲) مالیاتی کمیٹی اسپیکر ، یا جیسی بھی صورت ہو، چیئر مین ، وزیر مالیات اور ایسے دیگر ارکان پر\nمشتمل ہوگی جنہیں اس کے لئے قومی اسمبلی یا جیسی بھی صورت ہو، سینٹ منتخب کرے۔\n(۳) مالیاتی کمیٹی اپنے طریقہ کار کے انضباط کے لئے قواعد وضع کرے سکے گی۔\nآرڈینینس\nصدر کا آرڈینینس نافذ ۸۹۔ صدر، سوائے جب کہ ہم سینٹ یا قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو، اگر اس بارے میں مطمئن ہو کہ\nایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی ضروری ہو گئی ہے تو وہ حالات کے تقاضے کے\nکرنے کا اختیار۔\nمطابق آرڈنینس وضع اور نافذ کر سکے گا۔\n \nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ءکا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nقواعد ( بھرتی) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ۱۹۷۳ء کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء غیر معمولی، حصہ دوم صفحات ۲۲۷۹۔۲۲۸۶۔\nقواعد ( بھرتی ) سینٹ سیکرٹریٹ کے لئے دیکھئے بحوالہ ماقبل صفحات ۲۳۰۱۔۲۳۰۷۔\nقواعد (مالیاتی کمیٹی ) قومی اسمبلی ۱۹۷۳ء کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء غیر معمولی ، حصہ دوم ،صفحات ۲۴۵۱-۲۴۵۴۔\nقواعد ( مالیاتی کمیٹی ) سینٹ ۱۹۷۳ء کے لئے دیکھئے بحوالہ عین ماقبل صفحات ۲۴۷۹-۲۴۸۲۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰، ( نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ ء ) کی دفعہ ۲۷ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nرح\n\n(۲) اس آرٹیکل کے تحت نافذ کردہ کوئی آرڈینینس وہی قوت و اثر رکھے گا جولم مجلس شوری\n(پارلیمنٹ) کے ایکٹ کا ہوتا ہے اور ویسی ہی پابندیوں کے تابع ہوگا جوار مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ )] کے اختیار قانون سازی پر عائد ہوتی ہیں لیکن ایسے ہر آرڈینینس کو ۔۔۔\n(الف) پیش کیا جائے گا۔۔۔۔\n(اول) قومی اسمبلی کے سامنے اگر اس میں آرٹیکل ۷۳ کی شق (۲) میں\nمصرحہ معاملات میں سے سب یا کسی سے متعلق احکام شامل ہوں ،\nايم\nاور وہ اپنے نفاذ سے ایک سو بیس دن] کے اختتام پر یا ، اگر اسمبلی\nاس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نامنظوری کی قرارداد پاس\nکر دے تو اس قرارداد کے پاس ہو جانے پر منسوخ قرار پائے گا ]\nهم\nخلاط\nمگر شرط یہ ہے کہ قومی اسمبلی قرارداد کے ذریعے\nآرڈینینس کی مزید ایک سو بیس یوم تک توسیع کر سکے گی اور اس\nکی سو ہیں یوم اور\nتوسیع شدہ مدت کے اختتام پر اس کو منسوخ سمجھا جائے گا ، یا ، اگر\nاسمبلی اس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نا منظوری کی\nقرارداد پاس کر دے تو اس قرارداد کے پاس ہو جانے پر منسوخ\nمتصور کیا جائے گا :\nمان\nمزید شرط یہ ہے کہ مزید مدت کے لئے توسیع ایک مرتبہ\nدی جائے گی۔\n (دوم) دونوں ایوانوں کے سامنے اگر اس میں سے ذیلی پیرا (اول) میں محولہ معاملات\nمیں سے کسی سے متعلق احکام شامل نہ ہوں اور وہ اپنے نفاذ سے ایک\nسو بیس دن کے اختتام پر یا ، اگر دونوں میں سے کوئی ایوان اس\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے۔\nدستور (ترمیم دوم) فرمان، ۱۹۸۵ء (فرمان صدر نمبر ۲۰ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے بعض الفاظ کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۷ کی رو سے چار ماہ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل وقفہ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نیا فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\n\nمدت کے اختتام سے قبل نا منظوری کی قراداد پاس کر دے، تو اس\nقرارداد کے پاس ہو جانے پر منسوخ قرار پائے گا :]\nمگر شرط یہ ہے کہ کوئی بھی ایوان قرارداد کے ذریعے اس\nکو مزید ایک سو بیس دن کے لئے توسیع کر سکے گا اور اس توسیع شدہ\nمدت کے اختتام پر اس کو منسوخ سمجھا جائے گا، یا ، اگر ایوان اس\nمدت کے اختتام سے قبل اس کی نا منظوری کی قرارداد پاس کر دے\nتو اس قرارداد کے پاس ہو جانے پر ، اس کو منسوخ متصور کیا جائے گا:\nمزید شرط یہ ہے کہ مزید مدت کے لئے توسیع ایک مرتبہ\nدی جائے گی ؛ اور )\n(ب) صدر کی جانب سے\nکسی وقت بھی واپس لیا جاسکے گا۔\n۳ (۳) شق (۲) کے احکامات سے متناقض ہوئے بغیر ۔۔۔\n(الف) شق (۲) کے پیراگراف (الف) کے ذیلی پیراگراف (اوّل) کے تحت\nآرڈینینس قومی اسمبلی میں متعارف کردہ بل متصور ہوگا ؛ اور\n(ب) شق (۲) کے پیراگراف (الف) کے ذیلی پیرا گراف (دوم) کے تحت\nدونوں ایوانوں کے سامنے پیش کردہ کوئی بھی آرڈینینس ایوان میں متعارف کردہ\nبل متصور ہو گا جب کہ یہ پہلی دفعہ پیش کیا گیا تھا ۔\n \nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲۷ کی رو سے ” ؛ اور‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل یا فقرہ شرطیبہ شامل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل کی دفعہ ۲۷ کی رو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nیا۔۳۔ وفاقی حکومت\nل ۹۰ (۱) دستور کے مطابق ، وفاقی حکومت کی جانب سے وفاق کا عاملانہ اختیار صدر کے نام سے وفاقی حکومت۔\nاستعمال کیا جائے گا، جو وزیر اعظم اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہوگا ، جو وزیر اعظم کے ذریعے\nکام کریں گے جو کہ وفاق کا چیف ایگزیکٹو ہو گا۔\n(۲) دستور کے تحت اپنے کارہائے منصبی کو وزیر اعظم خواہ بلا واسطہ یا وفاقی وزراء کے ذریعے\nبجالائے گا۔]\n[91 - (1) صدر کو اس کے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مرد اور مشورہ دینے کے لئے وزراء کی\nایک کا بینہ ہوگی جس کا سر براہ وزیر اعظم ہوگا۔\nکلام\n(۲) قومی اسمبلی کا اجلاس قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے اکیس دن بعد ہوگا،\nتا وقتیکہ اس سے پہلے صد را جلاس طلب نہ کر لے۔\nکی\nکی\n(۳) اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد ، قومی اسمبلی کسی بھی دوسری کا رروائی کو چھوڑ کر ،\nکسی بحث کے بغیر اپنے مسلم اراکین میں سے ایک کا وزیر اعظم کے طور پر انتخاب کرے گی۔\n(۴) وزیر اعظم قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریت رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حاصل نہ کر\nسکے تو ، پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دواراکین کے\nدرمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت\nرائے دہی حاصل کر لیتا ہے اس کا منتخب وزیر اعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا:\nکابینہ۔\n↓\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکلز ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۵،۹۴ اور ۹۶ کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۲۸ کی رو سے’ آرٹیکل ۹۰‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۲۹ کی رو سے آرٹیکل ۹۱ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ\nووٹ کی تعداد مساوی ہو جائے تو ، ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا\nتا وقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کر لے۔\n(۵) شق (۴) کے تحت نامز در کن کو صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی جائے گی\nاور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے، تیسرے جدول میں بیان کردہ طریقہ کار میں صدر کے\nرُوبرُ وحلف اٹھائے گا :\nمگر شرط یہ ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے لئے میعاد کی تعداد\nپر پابندی نہیں ہوگی۔\nکا اور کو (1) کا بینہ مع وزائے مملکت اجتماعی طور پر قومی اسمبلی اور سینٹ کو جواب دہ ہوگی۔\n(۷) وزیر اعظم صدر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا، لیکن صدر اس شق کے تحت\nاپنے اختیارات استعمال نہیں کرے گا تاوقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیر اعظم کو قومی\nاسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے، جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کو\nطلب کرے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔\n(۸) وزیر اعظم ، صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔\n(۹) کوئی وزیر جو کوئی وزیر\nمسلسل چھ ماہ کی مدت تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے ، مذکورہ مدت\nکے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ\nوزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تا وقتیکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہو جائے:\n مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں شامل کسی امر کا ایسے وزیر پر اطلاق نہیں ہوگا جو\nسینٹ کارکن ہو۔\n(۱۰) اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وزیر اعظم یا کسی دوسرے وزیر یا\nوزیر مملکت کو کسی ایسی مدت کے دوران جب کہ قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہو اپنے عہدے\nپر برقرار رہنے کا نا اہل قرار دے دیا جائے اور نہ ہی اس کی رو سے کسی ایسی مدت کے دوران\n\nکسی شخص کو بطور وزیر اعظم یا دیگر وزیر یا بطور وزیر مملکت مقرر کرنے کی ممانعت ہوگی۔]\nوزرائے مملکت ۔\n۹۲ (۱) آرٹیکل 91 کی شقات (۹) اور (۱۰) کے تابع ، صدر، وزیر اعظم کے مشورے پر مجلس شوری وفاقی وزراء اور\n(پارلیمنٹ ) کے ارکان میں سے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کا تقرر کرے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ ان وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تعداد جو سینٹ کے\nرکن ہوں کسی بھی وقت وفاقی وزراء کی ایک چوتھائی تعداد سے زیادہ نہیں ہوگی :]\nمزید شرط یہ ہے کہ کابینہ کی کل تعداد بشمول وزرائے مملکت مجلس شوری\n( پارلیمنٹ ) کے مجموعی ارکان کے گیارہ فیصد سے زائد نہیں ہوگی:\nمزید یہ بھی شرط ہے کہ مذکورہ بالا ترمیم اگلے عام انتخابات سے مؤثر ہوگی جس\nکا دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء کے نفاذ کے بعد انعقاد ہوگا ۔ ]\n،\nہوگا۔]\n(۲) عہدے پر فائز ہونے سے پہلے، کوئی وفاقی وزیر یا وزیر مملکت جدول سوم میں دی گئی\nعبارت میں صدر کے سامنے حلف اٹھائے گا۔\n(۳) کوئی وفاقی وزیر یا وزیرمملکت صدر کے نام اپنی دو تخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے\nمستعفی ہو سکے گا، یا صدر وزیراعظم کے مشورے پر اسے عہدے سے برطرف کر سکے گا۔\n(1) صدر، وزیر اعظم کے مشورے پر، ایسی شرائط پر جو وہ متعین کرے، زیادہ سے زیادہ پانچ\n(1)-94\nمشیر مقرر کر سکے گا۔\nمشیران۔\nبرقرار رہنا۔\n(۲) آرٹیکل ۵۷ کے احکام کا کسی مشیر پر بھی اطلاق ہوگا۔\n۹۴۔ صدر وزیر اعظم سے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے کہہ سکے گا جب تک کہ اس کا جانشین وزیر اعظم کا عہدے پر\nوزیر اعظم کے عہدے پر فائز نہ ہو جاۓ \n(1) وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قراداد جسے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم وزیر اعظم کے خلاف\nمیں فیصد نے پیش کیا ہو ، قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کی جاسکے گی۔\n۹۵۔ (۱)\n(۲) شق (۱) میں محولہ کسی قراداد پر اس دن سے تین دن کی مدت کے خاتمہ سے پہلے یا سات\nعدم اعتماد کا ووٹ ۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۰ کی روسے’ (۷) اور ( ۸ )‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل وقت کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\n\nدن کی مدت کے بعد ووٹ نہیں لئے جائیں گے جس دن مذکورہ قرار داد قومی اسمبلی میں\nپیش کی گئی ہو۔\n(۳) شق (۱) میں محولہ کسی قرار داد کو قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا جب کہ قومی اسمبلی\nسالانہ میزانیہ کے کیفیت نامے میں پیش کردہ رقوم کے مطالبات پر غور کر رہی ہو۔\n(۴) اگر شق (۱) میں محولہ قرارداد کو قومی اسمبلی کی مجموعی رکنیت کی اکثریت سے منظور کر لیا جائے\nتو وزیراعظم عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔]\n۔ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دوبارہ نمبر لگانے کے ذریعے بدلنے کی وجہ سے حذف کیا\nگیاد یکھئے فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء آرٹیکل ۲ اور جدول ۔\n٩٦ الف ۔ وزیر اعظم پر اعتماد کے لیے ریفرنڈم دستور (ساتویں ترمیم ) ایکٹ ، ۱۹۷۷ء (۲۳ بابت ]\n۱۹۷۷ء) کی دفعہ (۳) کی رُو سے ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء سے نافذ العمل نہیں رہی اور پہلے ایکٹ ۲۳ بابت ۱۹۷۷ء\nکی دفعہ ۲، کی رُو سے شامل کیا گیا تھا، اور ۶ امتی ۱۹۷۷ء کو نافذ العمل ہوئی۔\nوفاق کے عاملانہ اختیار ۹۷۔ دستور کے تابع ، وفاق کا عاملانہ اختیار ان امور پر حاوی ہو گا جن کے بارے میں مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) ] کو قوانین وضع کرانے کا اختیار ہے، جس میں پاکستان میں اور اس سے\nکی وسعت۔\nباہر کے علاقہ جات کے متعلق حقوق ، اقتدار اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لانا شامل ہے :\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ اقتدار، ماسوائے جیسا کہ دستور میں یا مجلس شوری ( پارلیمنٹ )]\nکے وضع کردہ کسی قانون میں بالصراحت موجود ہو، کسی صوبے میں کسی ایسے امر پر حاوی نہیں ہوگا\n!\nجس کے بارے میں صوبائی اسمبلی کو بھی قوانین وضع کرنے کا اختیار ہو۔\nماتحت ہیئت ہائے مجاز ۹۸۔ وفاقی حکومت کی سفارش پر سلم مجلس شوری (پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے وفاقی حکومت کے ماتحت کو کا رہائے منصبی کی\nعہد یداروں یا ہئیت ہائے مجاز کو کارہائے منصبی تفویض کر سکے گی۔\nتفویض۔\nوفاقی حکومت کا ۹۹ (۱) وفاقی حکومت کی کل عاملانہ کارروائیوں کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ وہ صدر کے نام\nانصرام کار۔\nسے کی گئی ہیں ۔\n(۲) وفاقی حکومت قواعد کے ذریعے ان احکام اور دیگر دستاویزات کی توثیق کے طریقے\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان، ۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل\nکئے گئے۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے’ آرٹیکل ۹۹‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ اس کی رو سے ”صدر“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nکی صراحت کرے گی جو صدر کے نام سے ) مرتب یا جاری کی گئی ہوں، اور اس طرح\nتوثیق شدہ کسی حکم یا دستاویز کے جواز پر کسی عدالت میں اس بناء پر اعتراض نہیں کیا جائے گا\nکہ اس کو صدر نے مرتب یا جاری نہیں کیا تھا۔\n(۳) وفاقی حکومت اپنے کام کی تقسیم اور انجام دہی کے لئے بھی قواعد مرتب کرے گی ۔]]\n۱ (۱) صدر کسی ایسے شخص کو جو عدالت عظمی کا جج بنے کا اہل ہو، پاکستان کا اٹارنی جنرل اٹارنی جنرل برائے\nمقرر کرے گا۔\n(۲) اٹارنی جنرل صدر کی خوشنودی حاصل رہنے تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا اور نجی\nپیشہ وکالت میں حصہ نہیں لے سکے گا جب تک وہ اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہے گا۔]\n(۳) اٹارنی جنرل کا یہ فرض ہوگا کہ وہ وفاقی حکومت کو ایسے قانونی معاملات پر مشورہ دے اور\nخلاط\nقانونی نوعیت کے ایسے دیگر فرائض انجام دے جو وفاقی حکومت کی طرف سے اسے\nحوالے کئے جائیں یا تفویض کئے جائیں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں اسے\nپاکستان کی تمام عدالتوں اور ٹربیونلوں میں سماعت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔\n(۴) اٹارنی جنرل صدر کے نام اپنی و تخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدہ سے مستعفی ہو سکے گا۔\nپاکستان۔\nایمان\n \nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ اس کی رو سے ”اس کے نام سے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ اس کی رو سے شق (۳)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی دفعہ ۳۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nحصہ چہارم\nصوبے\nبابا۔\nگورنر\n11 (1) ہر صوبے کے لئے ایک گورنر ہوگا، جسے صدر وزیر اعظم کے مشورے پر مقرر کرے گا۔] گورنر کا تقرر۔\n(۲) کسی شخص کو بجز اس کے کہ وہ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل ہو، اور پینتیس سال\nسے\nکم عمر کا نہ ہو، اور درج شدہ رائے دہندہ ہو اور متعلقہ صوبے کا رہائشی ہوا کسی\nصوبے کا گورنر مقرر نہیں کیا جائے گا [:]\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n(۳) گورنر، صدر کی خوشنودی حاصل رہنے تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا اور ایسے\nمشاہرے بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا جو صد متعین کرے۔\nاور جوصدرت\nکا حق ہو گا جوصد متعین کرے۔]\n(۴) گورنر ، صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے ، اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔\n۲ (۵) صدر کسی گورنر کے کارہائے منصبی کی سکے کسی ایسی اتفاقی صورت میں جس کی بابت اس ۴\nحصہ میں حکم وضع نہ کیا گیا ہو ) انجام دہی کے لئے ایسے احکام وضع کرے سکے گا جو وہ\nہوا لئے سے گا\nموزوں سمجھے ۔]\n \nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفہ ۳۳ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل اضافہ کیا گیا۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت (۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا\n۱۹۷۶ء(نمبر\n( نفاذ پذیر از ۱۳ ستمبر ، ۱۹۷۶ء)\nفقرہ شرطیہ اور شق (۲الف) ایکٹ نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء کی دفعہ 1 کی رو سے حذف کر دیئے گئے جس میں قبل ازیں\nایکٹ نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء کی دفعہ ۲ کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔\nدستور ( ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ کی رو سے اضافہ کئے گئے (نفاذ پذیر ازم مئی ۱۹۷۴ء)۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کئے گئے ۔\nدستور (ترمیم بهشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ کی رو سے اضافہ کئے گئے۔\n\nعہدے کا حلف۔ ۱۰۲۔ گورنر ، عہدے پر فائز ہونے سے قبل ، عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے سامنے جدول سوم میں\nدرج شدہ عبارت میں حلف اٹھائے گا۔\nگورنر کے عہدے کی ۱۰۳۔ (۱) گورنر پاکستان کی ملازمت میں کوئی منفعت بخش عہدہ یا کوئی دوسری ایسی حیثیت قبول\nشرائط\nنہیں کرے گا جو خدمات کی انجام دہی کے صلہ میں معاوضہ کے حق کی حامل ہو۔\n(۲) گورنر ہام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] یا کسی صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انتخاب\nکا امید وار نہیں ہوگا اور ، اگر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ] یا کسی صوبائی اسمبلی کے کسی\nرکن کو گورنر مقرر کیا جائے توسلم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا جیسی بھی صورت ہو، صوبائی\nاسمبلی میں اس کی نشست اس دن خالی ہو جائے گی جس دن وہ اپنے عہدے پر فائز ہوگا۔\nاسپیکر صوبائی اسمبلی ، ۱۰۴۳۔ جب گورنر ، پاکستان سے غیر حاضری کی صورت میں یا کسی دوسری وجہ سے، اپنے عہدے کے گورنر کی غیر موجودگی\nکارہائے منصبی کی انجام دہی کے قابل نہ ہو تو، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اس کی غیر حاضری میں کوئی بھی\nدوسرا شخص جیسا کہ صدر نامزد کرے گا جو گورنر کے کارہائے منصبی انجام دے گا تاوقتیکہ گورنر پاکستان\nمیں بطور گورنر کام، یا\nکارہائے منصبی انجام\nدے گا۔\nواپس آ جائے یا جیسی بھی صورت ہو، اپنے کارہائے منصبی سنبھال لے۔\nگورنر مشورے وغیرہ پر ۱۰۵۳۔ (۱) دستور کے تابع ، اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں، گورنر کا بینہ یا وزیراعلی کے\nعمل کرے گا۔\nمشورے پر اور اس کے مطابق عمل کرے گا :\nمگر شرط یہ ہے کہ ہر پندرہ دن کے اندرا گورنر کا بینہ یا جیسی بھی صورت ہو،\nايمار\nوزیر اعلیٰ کو مذکورہ مشورے پر ، عام طور پر یا بصورت دیگر ، دوبارہ غور کرنے کا حکم دے سکے\nگا، گورنر کے اندر مذکورہ دوبارہ غور کے بعد دیئے ہوئے مشورے کے\nور کرین و دو دن کے اندر ان کو دوبارہ نور کے دیے ہوے\nمیاں نواں\nمطابق عمل کرے گا۔]\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ کافرمان،۱۹۸۵ء (فرمان صد نمبر۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ در جدول کی روسے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۴ کی رو سے’ آرٹیکل ۱۰۴‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۱۰۵ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( ترمیم بہشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ ۱۲ کی رو سے فقرہ شرطیہ“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبره ابایت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۳۵ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور (ترمیم بشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ کی رو سے فقرہ شرطیہ کو حذف کیا گیا۔\n↓\n\n(۲) اس سوال کی کہ آیا کوئی، اور اگر ایسا ہے تو کیا، مشورہ وزیر اعلی سیم یا کا بینہ انے گورنر کو دیا\nتھا، کسی عدالت ، ٹربیونل یا دیگر بیت مجاز میں یا اس کی طرف سے تفتیش نہیں کی جائے گی۔\n(۳) جب کہ گوریز صوبائی اسمبلی کو تحلیل کر دے ، شق (۱) میں شامل کسی امر کے باوجو، گورنر ۔۔۔\n(الف) تحلیل کی تاریخ کے نوے دن کے اندر، اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے\nلئے ، تاریخ مقرر کرے گا ؛ اور\n(ب) مگر ان\nکا بینہ مقرر کرے گا۔]\n*\n*\n(۵) احکامات آرٹیکل ۴۸ کی شق (۲) کے کسی گورنر کے سلسلے میں اس طرح مؤثر ہوں گے\nوو\nگویا کہ ان میں صدر کا حوالہ \" گورنر کا حوالہ ہو ۔]\nباب ۲۔ صوبائی اسمبلیاں باب ۲۔صو\n۱۰۷۵۔ (۱) ہر صوبائی اسمبلی عام نشستوں اور خواتین اور غیر مسلموں کے لئے مخصوص نشستوں پر\n-1.47°\nہوگی جس طرح کہ ذیل میں صراحت کی گئی ہے۔\nعام شستیں\nبلوچستان\nپنجاب\nسندھ\n\nمشتمل\nپر\nکل\nخواتین غیر\nمسلم\n\nكيم\nصوبائی اسمبلیوں کی\nتشکیل۔\n\nكم\n(٢)\nی شخص کو ووٹ دینے کا حق ہو گا اگر ۔۔\n(الف) وہ پاکستان کا شہری ہو؛ \nدستور (ترمیم بہشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ۱۲ کی رو سے’ کابینہ یاکسی وزیر کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۵ کی رو سے شق (۳)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شق (۴) کو حذف کیا گیا۔\nدستور (ترمیم هشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ۱۲ کی رو سے’(۳)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، ۲۰۱۰ ( نمبر ۱ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۶ کی رو سے \" آرٹیکل ۶۰۶ کی بجائے تبدیل کیا گیا اور مورخہ\n۲۱ راگست ۲۰۰۲ء سے ہمیشہ بایں طور پر تبدیل شدہ متصور کیا جائے گا۔\nدستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ ( نمبر۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ کی رُو سے تبدیل کئے گئے ۔\nایکٹ نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء کی دفعہ کے تحت شامل کی گئی شقات (ا الف) خیبر پختونخواہ میں سابقہ فاٹا کے علاقہ جات کے انضمام\nکے بعد اور عام انتخابات ، ۲۰۱۸ء کے بعد ایک سال کے اندر اس علاقے سے اراکین کے انتخاب کے لیے مؤثر ہوگی ان انتخاب\nکے بعد حذف شدہ سمجھی جائیں گی۔\n\n(ب) وہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا نہ ہو؟\n(ج) اس کا نام صوبے میں کسی علاقے کی انتخابی فہرست میں درج ہو؛ اور\n(1) اسے کسی مجاز عدالت کی طرف سے فاتر العقل قرار نہ دیا گیا ہو۔\n(۳) کسی صوبائی اسمبلی کے انتخاب کی غرض کے لئے ،۔۔\n(الف) عام نشستوں کے لئے انتخابی حلقے ایک رکنی علاقائی حلقے ہوں گے اور مذکورہ\nنشستوں کو پڑ کرنے کے لئے ارکان بلا واسطہ اور آزادانہ ووٹ کے ذریعے\nمنتخب کئے جائیں گے؟\n(ب) شق (۱) کے تحت متعلقہ صوبوں کے لئے تعین کردہ خواتین اور غیر مسلموں کے\nلئے مخصوص تمام نشستوں کے لئے ہر ایک صوبہ واحد انتخابی حلقہ ہوگا؟\n(ج) شق (۱) کے تحت کسی صوبہ کے لئے تعین کردہ خواتین اور غیر مسلموں کے لئے\nمخصوص نشستوں کو پر کرنے کے لئے ارکان قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں\nکے امیدواروں کی فہرست سے متناسب نمائندگی کے نظام کے ذریعہ صوبائی\nاسمبلی میں ہر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے حاصل کردہ عام نشستوں کی کل\nتعداد کی بنیاد پرمنتخب کئے جائیں گے :\nمگر شرط یہ ہے کہ اس ذیلی شق کی غرض کے لئے کسی سیاسی جماعت\nکی طرف سے حاصل کردہ عام نشستوں کی کل تعداد میں وہ کامیاب آزاد\nامیدوار شامل ہوں گے جو سر کار می جریدے میں کامیاب امیدواروں کے\nناموں کی اشاعت کے تین یوم کے اندر با ضابطہ طور پر مذکورہ سیاسی جماعت\nمیں شامل ہو جائیں۔]\nصوبائی اسمبلی کی میعاد۔ ۱۰۷۔ کوئی صوبائی اسمبلی ، اگر وہ قبل از وقت تو ڑ نہ دی جائے ، اپنے پہلے اجلاس کی تاریخ سے پانچ سال\nکی میعاد تک برقرار رہے گی اور اپنی میعاد کے اختتام پر ٹوٹ جائے گی ۔\n\n-۱۰۸۔ کسی عام انتخاب کے بعد کوئی صوبائی اسمبلی اپنے پہلے اجلاس میں، بہ اخراج کسی دیگر کام کے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر۔\nاپنے ارکان میں سے ایک اسپیکر اور ایک ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرے گی ، اور جتنی بار بھی اسپیکر یا\nڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی ہو جائے، وہ اسمبلی کسی اور رکن کو بطور اسپیکر یا جیسی بھی صورت ہو، ڈپٹی اسپیکر\nمنتخب کرے گی۔\n۱۰۹۔ گورنر وقتا فوقتا۔۔۔۔\nصوبائی اسمبلی کا اجلاس\n(الف) صوبائی اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت اور مقام پر طلب کر سکے گا جسے وہ مناسب خیال طلب اور برخاست کرنا۔\nکرے؛ اور\n(ب) صوبائی اسمبلی کا اجلاس برخاست کر سکے گا۔\n۱۱۰۔ گورنر صوبائی اسمبلی سے خطاب کر سکے گا اور اس مقصد کے لئے ارکان کی حاضری کا حکم دے گورنر کا صوبائی اسمبلی\nسکے گا۔\nسے خطاب کرنے کا\nاختیار۔\nایڈووکیٹ جنرل کو صوبائی اسمبلی یا اس کی کسی کمیٹی میں ، جس کا اُسے رکن نامزد کر دیا جائے ، تقریہ صوبائی اسمبلی میں تقریر\nکرنے اور بصورت دیگر اس کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہوگا لیکن اس آرٹیکل کی رو سے وہ کا حق۔\nووٹ دینے کا مستحق نہ ہوگا۔\n۱۳ (۱) گورنر صوبائی اسمبلی کو تحلیل کر دے گا اگر وزیر اعلیٰ اسے ایسا مشورہ دے اور صوبائی اسمبلی ، کردے\nبجز اس کے کہ اس سے قبل تحلیل نہ کر دی گئی ہو، وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایسا مشورہ دیئے\nجانے کے بعد اڑتالیس گھنٹوں کے خاتمے پرتحلیل ہو جائے گی۔\nتشریح : اس آرٹیکل میں وزیر اعلی کے حوالے سے یہ معنی اخذ نہیں کئے جائیں گے\nکہ اس میں کسی ایسے وزیر اعلی کاحوالہ شامل ہے جس کے خلاف صوبائی اسمبلی میں عدم اعتماد\nکے ووٹ کی کسی قرار داد کا نوٹس دے دیا گیا ہو لیکن اس پر رائے دہی نہ کی گئی ہو یا جس\nکے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی کوئی قرار داد منظور ہوگئی ہو۔\n(۲) گورنر بھی اپنی صوابدید پر لیکن صدر کی ماقبل منظوری کے تابع ،صوبائی اسمبلی کو توڑ سکے گا،\nجب کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ منظور کئے جانے کے بعد ، صوبائی اسمبلی\nکے کسی رکن کے دستور کے احکام کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد\nرکھنے کا امکان نہ ہو جس طرح کہ اس غرض سے بلائی گئی صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں\nمعلوم ہوا ہو ۔]\nصوبائی اسمبلی کی\nحلیل\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر۰ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۷ کی رو سے’ آرٹیکل ۱۱۲‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nصوبائی اسمبلی کی رکنیت ۱۱۳۔ آرٹیکل ۶۲ اور ۶۳ میں مندرج قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے اہلیت اور نا اہلیت کا کسی صوبائی\nاسمبلی کے لئے بھی اسی طرح اطلاق ہو گا گویا کہ اس میں قومی اسمبلی کا حوالہ صوبائی اسمبلی\nکیلئے اہلیت اور نا اہلیت۔\nکا حوالہ ہو۔]\nصوبائی اسمبلی میں بحث ۱۱۴۔ کسی صوبائی اسمبلی میں عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کے اپنے فرائض کی انجام دہی پر پابندی۔\nمیں طرز عمل کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوگی۔\nمالی امداد کے لئے صوبائی ۱۱۵ (۱) کسی مالی بل، یا کسی بل یا کسی ترمیم کو جو اگر وضع اور نافذ العمل ہو جائے تو صوبائی مجموعی\nحکومت کی رضامندی\nضروری ہوگی۔\nفنڈ سے اخراجات یا صوبے کے سرکاری حسابات میں سے رقم کی بازخواست کا باعث\nہو صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا یا اس کی تحریک نہیں کی جائے گی بجز اس کے کہ\nصوبائی حکومت اسے پیش کرے یا اس کی تحریک کرے یا اس کی رضا مندی سے\nایسا کیا جائے ۔\n(۲) اس آرٹیکل کی اغراض کے لئے کسی بیل یا ترمیم کو مالی بل تصور کیا جائے گا اگر اس میں شامل\nاحکام کا تعلق مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک یا تمام معاملات سے ہو، یعنی :۔۔\n(الف) کسی محصول کا عائد کرنا ، منسوخ کرنا، اس میں تخفیف کرنا، کمی بیشی کرنا یا اسے\nمنضبط کرنا ؛\n(ب) صوبائی حکومت کی جانب سے رقم بطور قرض لینا یا کوئی ضمانت دینا یا اس\nحکومت کی مالی ذمہ داریوں کی بابت قانون میں ترمیم ؟\n(ج) صوبائی مجموعی فنڈ کی تحویل ، اس میں رقوم کی ادائیگی یا اس میں سے رقوم کا اجراء؛\n(ر) صوبائی مجموع فنڈ پر کوئی وجوب عائد کرنا یا کسی ایسے وجوب کو منسوخ کرنا یا اس\nمیں کوئی تبدیلی کرنا ؟\n(0) صوبے کے سرکاری حساب میں رقوم وصول کرنا ، ایسی رقوم کی تحویل یا ان کا\nاجراء؛ اور\n(1) ماقبل پیروں میں مذکورہ امور میں سے کسی سے متعلق کوئی ضمنی امر ۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۱۱۳ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(۳) کوئی بل محض اس وجہ سے مالی بل متصور نہیں ہوگا کہ اس میں حسب ذیل امور کے بارے\nمیں احکام وضع کئے گئے ہیں ۔۔۔۔\n(الف) کوئی جرمانہ یا دیگر مالی تعزیر عائد کرنے یا اس میں تبدیلی کرنے سے متعلق یا\nکسی لائسنس فیس یا کسی انجام دی گئی خدمت کی فیس یا خرچ کے مطالبے یا\nادائیگی سے متعلق ؛ یا\n(ب) مقامی اغراض کے لئے کسی مقامی ہیت مجاز یا ادارے کی جانب سے کوئی\nمحصول عائد کرنے منسوخ کرنے یا اس میں تخفیف کرنے ، کمی بیشی کرنے یا\nاسے منضبط کرنے سے متعلق۔\n(۴) اگر یہ سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی بل مالی بل ہے یا نہیں تو اس پر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا\nفیصد قطعی ہوگا۔\n(۵) گورنر کو منظوری کے لئے پیش کئے جانے والے ہر مالی بل پر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی ہر کی\nدستخط شدہ ایک سند ہوگی کہ یہ مالی بل ہے اور ایسی سند تمام اغراض کے لئے حتمی ہوگی اور\nاس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(1) جب صوبائی اسمبلی کسی بل کو منظور کرلے تو اسے گورنر کی منظوری کے لئے پیش کیا\nجائے گا۔\n(۲) جب کہ کوئی بل گورنر کو منظوری کے لئے پیش کیا جائے تو گورنر دس دن کے اندر۔۔۔\n(الف) بل کی منظوری دے دے گا ، یا\n(ب) کسی ایسے بل کی صورت میں جو مالی بل نہ ہو، بل کو اس پیغام کے ساتھ صوبائی\nاسمبلی کو واپس کر دے گا کہ بل پر ، یا اس کے کسی مصرحہ حکم پر ، دوبارہ غور کیا\nجائے اور یہ کہ پیغام میں مصرحہ کسی ترمیم پر غور کیا جائے۔\nبلوں کے لئے گورنر کی\nمنظوری۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۱۱۶ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۸ کی رو سے تھیں“ کی بجائے تبدیل\n\n(۳) جب کہ گورنر نے کوئی بل صوبائی اسمبلی کو واپس بھیج دیا ہو تو اس پر صوبائی اسمبلی دوبارہ نور\nکرے گی اور اگر صوبائی اسمبلی اسے صوبائی اسمبلی کے حاضر اور ووٹ دینے والے ارکان\nکی اکثریت کے ووٹوں سے ، ترمیم کے ساتھ یا بلا ترمیم ، دوبارہ منظور کرے، تو اسے\nدوبارہ گورنر کو پیش کیا جائے گا اور گورنر دس دنوں کے اند اس کی منظوری دے گا جس\nمیں ناکامی کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ منظوری ہو چکی ہے۔]\n(۴) جب کہ گورنر نے کسی بل کی منظوری دے دی ہو یا اس کی دی گئی منظوری متصور ہو ] تو\nوہ قانون بن جائے گا اور صوبائی اسمبلی کا ایکٹ کہلائے گا۔\n(۵) کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی ایکٹ ، اور کسی ایسے ایکٹ کا کوئی حکم محض اس وجہ سے باطل\nنہیں ہوگا کہ دستور کے تحت مطلوبہ کوئی سفارش ، ماقبل منظوری یا رضامندی نہیں دی گئی\nتھی اگر مذکورہ ایکٹ کے دستور کے مطابق منظوری دی گئی ہو ۔ ]\nبل اجلاس کی برخاستگی ۱۱۷۔ (۱) کسی صوبائی اسمبلی میں زیر غور کوئی بل ،اسمبلی کی برخاستگی کی بناء پر ساتھ نہیں ہوگا۔ کسی میں کی\nوغیرہ کی بناء پر ساقط\nنہیں ہوگا۔\nصوبائی مجموعی فنڈ اور\nسرکاری حساب۔\n_\n\n(۲) کسی صوبائی اسمبلی میں زیر غفور کوئی بل، اسمبلی کے ٹوٹ جانے پر ساقط ہو جائے گا۔\nايمار\nمالیاتی طریق کار\n(1) صوبائی حکومت کے وصول شدہ تمام محاصل، اس حکومت کے جاری کردہ جملہ قرضہ جات اور\nکسی قرض کی واپسی کے سلسلے میں اسے وصول ہونے والی تمام قوم، ایک مجموع فنڈ کا\nحصہ بنیں گی جس کا نام صوبائی مجموعی فنڈ ہوگا۔\n(۲) دیگر تمام رقوم جو ۔۔۔\n(الف) صوبائی حکومت کو یا اس کی طرف سے وصول ہوں ؛ یا\nدستور (ترمیم هشتم) ایکٹ ، ۱۹۸۵ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے شق (۳)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۸ کی رو سے ”اس کی منظوری نہیں رو کے گا“ کی بجائے\nتبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کیا گیا۔\n\n۱۱۹۔\n(ب) عدالت عالیہ یا صوبے کے اختیار کے تحت قائم شدہ کسی دوسری عدالت کو وصول\nہوں یا اس کے پاس جمع کرائی گئی ہوں ؟\nصوبے کے سرکاری حساب میں جمع کی جائیں گی۔\nصوبائی مجموعی فنڈ کی تحویل، اس فنڈ میں رقوم کی ادائیگی، اس سے رقوم کی بازخواست صوبائی حکومت صوبائی مجموعی فنڈ اور\nکو یا اس کی طرف سے وصول شدہ دیگر رقوم کی تحویل ،صوبے کے سرکاری حساب میں ان سرکاری حساب کی\nتحویل وغیرہ۔\nکی ادائیگی اور اس سے باز خواست ، اور مذکورہ بالا امور سے متعلقہ یا ضمنی جملہ امور،\nصوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے یا اس بارے میں اس طرح احکام وضع ہونے تک گورنر\nکے بنائے ہوئے قواعد کے بموجب منضبط ہوں گے۔\n۱۲۰ (۱) صوبائی حکومت، ہر مالی سال کی بابت صو بائی حکومت کی اس سال کی تضمینی آمدنی اور سالانه کیفیت نامه\nمصارف کا کیفیت نامہ صوبائی اسمبلی کی رائے گی جس کا اس باب میں\nسالانه کیفیت نامہ میزانیہ کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔\nدیا گیا ہے۔\n(۲) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ میں مندرجہ ذیل علیحدہ علیحدہ ظاہر کی جائیں گی۔۔۔\n(الف) ایسی قوم جوان مصارف کو پورا کرنے کے لئے درکار ہوں جنہیں دستور میں\nصوبائی مجموعی فنڈ پر واجب الادا بیان کیا گیا ہے، اور\n(ب) ایسی رقوم جو ایسے دیگر مصارف کو پورا کرنے کے لئے درکار ہوں جن کی\nرقوم جو\nصوبائی مجموعی فنڈ سے ادائیگی کی تجویز کی گئی ہو؟\nاور محاصل کے حساب میں سے ہونے والے مصارف اور دیگر مصارف میں تفریق رکھی\n \nمیزانیہ۔\nصوبائی مجموعی فنڈ پر\n۱۲۱۔ مندرجہ ذیل مصارف صوبائی مجموعی فنڈ پر واجب الا دا مصارف ہوں گے:۔\n(الف) گورنر کو قابل ادائیگی مشاہرہ اور اس کے عہدے سے متعلق دیگر مصارف اور مشاہرہ جو واجب الادا مصارف۔\nمندرجہ ذیل کو قابل ادائیگی ہوگا:۔\n(اول) عدالت عالیہ کے جج ؛ اور\n\nسالانه کیفیت نامه\nمیزانیہ کی بابت\nطریق کار۔\n(دوم) صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ؛\n(ب) عدالت عالیہ اور صوبائی اسمبلی کے دفاتر کے انتظامی اخراجات بشمول ان\nمشاہروں کے جوان کے عہدہ داروں اور ملازمین کو واجب الادا ہوں ؟\n(ج) جملہ واجبات قرضہ جن کی ادائیگی صوبائی حکومت کے ذمہ ہو، بشمول سود،\nمصارف ذخیرہ ادائی، سرمایہ کی باز ادا ئیگی یا بے باقی یا قرضوں کے حصول کے\nاور صوبائی مجموعی فنڈ کی ضمانت پر قرض کے معاوضے اور انفکاک کے سلسلے میں\nکئے جانے والے دیگر مصارف ؛\n(1) کوئی رقوم جو کسی صوبے کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کے کسی فیصلے، ڈگری\nیا فیصلہ ثالثی کی تعمیل کے لئے درکار ہوں ؛ اور\n(1) کوئی دیگر رقوم جن کو دستور کی رو سے یا صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے کودستور کی روسے یا\nاس طرح واجب الادا قرار دیا گیا ہو۔\n۱۲۲۔ (۱) سا لا نہ کیفیت نا مہ میزانیہ کے اس حصہ پر، جوصوبائی مجموعی فنڈ سے واجب الا دا\nمصارف سے تعلق رکھتا ہو ، صوبائی اسمبلی میں بحث ہو سکے گی لیکن اسے صوبائی اسمبلی کی\nرائے دہی کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا۔\n(۲) سالانه کیفیت نامہ میزانیہ کا وہ حصہ جو دیگر مصارف سے تعلق رکھتا ہو ، مطالبات زر کی شکل\nمیں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس اسمبلی کو کسی مطالبے کو منظور کرنے یا منظور\nکرنے سے انکار کرنے ، یا کسی مطالبے کو اس میں مصرحہ رقم کی تخفیف کے تابع منظور\nکرنے کا اختیار ہوگا: \n*\n*\n*\n*\n*\n*\n(۳) صوبائی حکومت کی سفارش کے بغیر کوئی مطالبہ زر پیش نہیں کیا جائے گا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳۹ کی رو سے فقرہ شرطیہ“ کو حذف کر دیا گیا۔\n\n۱۲۳۔ (۱) وزیر اعلیٰ اپنے دستخطوں سے ایک جدول کی توثیق کرے گا جس میں حسب ذیل تصریح منظور شدہ خرچ کی\nہوگی ۔۔۔۔۔\n(الف) ان رقوم کی جو آرٹیکل ۱۲۲ کے تحت صوبائی اسمبلی نے منظور کی ہوں یا جن کا\nمنظور کیا جانا متصور ہو؛ اور\n(ب) ان مختلف رقوم کی جو صوبائی مجموعی فنڈ سے واجب الادا مصارف کو پورا کرنے\nکے لئے مطلوب ہوں لیکن کسی رقم کی صورت میں ، اس رقم سے متجاوز نہ ہوگی\nجو اسمبلی میں اس سے قبل پیش کر دہ کیفیت نامہ میں دکھائی گئی ہو۔\n(۲) بایں طور توثیق شدہ جدول کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گالیکن اس پر بحث یا\nرائے شماری کی اجازت نہ ہوگی ۔\n(۳) دستور کے تابع ، صوبائی مجموعی فنڈ سے کوئی مصارف باضابطہ منظور شدہ متصور نہ ہوگا\n۔ ہواور\nتا وقتیکه بایں طور توثیق شدہ جدول میں اس کی صراحت نہ کر دی گئی ہو اور مذکورہ جدول کو\nشق (۲) کی رو سے مطلوبہ طور پر صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش نہ کر دیا گیا ہو۔\n۱۲۴۔\nاگر کسی مالی سال کی بابت یہ معلوم ہوا کہ۔۔\n(الف) مجاز کردہ رقم جو رواں مالی سال کے دوران کی خاص خدمت پر صرف کی جانی\nتھی نا کافی ہے یا کسی ایسی نئی خدمت پر خرچ کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے جو اس\nسال کے سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ میں شامل نہیں ہے؛ یا\n(ب) کسی مالی سال کے دوران کسی خدمت پر اس رقم سے زائد رقم صرف کر دی گئی ہے\n جو اس سال کے واسطے اس خدمت کے لئے منظور کی گئی تھی ؟\nتو صوبائی حکومت کو اختیار ہوگا کہ صوبائی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے دے، خواہ\nوہ خرچ دستور کی رو سے اس فنڈ سے واجب الادا ہو یا نہ ہو، اور صوبائی اسمبلی کے سامنے\nایک ضمنی کیفیت نامہ میزانیہ یا ، جیسی بھی صورت ہو ، ایک زائد کیفیت نامہ میزانیہ پیش\nکرائے گی جس میں مذکورہ خرچ کی رقم درج ہو، اور ان کیفیت ناموں پر آرٹیکلز ۱۲۰ تا\n۱۲۳ کے احکام کا اطلاق اسی طرح ہو گا جیسے ان کا اطلاق سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ\nپر ہوتا ہے۔\nجدول کی توثیق۔\nضمنی اور زائد رقم۔\n\nحساب پر رائے شماری۔ ۱۲۵۔ مذکورہ بالا احکام میں مالی امور سے متعلق شامل کسی امر کے باوجود، صوبائی اسمبلی کو اختیار ہوگا کہ وہ\nتخمینی خرچ کی بابت کسی رقم کی منظوری کے لئے آرٹیکل ۱۲۲ میں مقررہ رائے شماری کے طریقہ کار کی\nصورت میں خرچ کی\nمنظوری دینے کا اختیار۔\nتحمیل اور خرچ کی بابت آرٹیکل ۱۲۳ کے احکام کے مطابق خرچ کی جدول کی توثیق ہونے تک کسی\nمالی سال کے کسی حصہ کے لئے ، جو تین ماہ سے زائد نہ ہو، کوئی منظوری پیشگی دے دے\nے۔\nاسمبلی ٹوٹ جانے کی ۱۲۶ مذکورہ بالا احکام میں مالی امور سے متعلق شامل کسی امر کے باجود کسی وقت جب کہ صوبائی\nاسمبلی ٹوٹی ہوئی ہو تخمینی خرچ کی بابت رقم کی منظوری کے لئے آرٹیکل ۱۲۲ میں رائے شماری کے\nمقررہ طریقہ کار کی تعمیل اور خرچ کی بابت دفعہ ۱۲۳ کے احکام کے مطابق منظور شدہ خرچ کی جدول\nکی توثیق ہونے تک ، صوبائی حکومت کسی مالی سال میں کسی مدت کے لئے جو چار ماہ سے زائد نہ ہو،\nصوبائی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے سکے گی۔\nقومی اسمبلی وغیرہ سے\nمتعلق احکام صوبائی\nاسمبلی وغیرہ پر اطلاق\nپذیر ہوں گے۔\n۱۳۷ دستور کے تابع ، آرٹیکل ۵۳ کی شق (۲) تا (۸) ، آرٹیکل ۵۴ کی شق (۲) اور (۳) ، آرٹیکل ۵۵\nآرٹیکلز ۶۳ تا ۶۷، آرٹیکل ۶۹ ، آرٹیکل ۷۷، آرٹیکل ۷ ۸ اور آرٹیکل ۸۸ کے احکام کا کسی صوبائی\nاسمبلی یا اس کی کسی کمیٹی یا اس کے ارکان یا صوبائی حکومت پر اور اس سے متعلق اطلاق ہوگا لیکن اس\n\nطرح کہ۔۔۔\n(الف) ان احکام میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)، کسی ایوان یا قومی اسمبلی کا کوئی\nحوالہ صوبائی اسمبلی کے حوالے کے طور پر پڑھا جائے گا ؟\n(ب) ان احکام میں صدر کا کوئی حوالہ صوبے کے گورنر کے حوالہ کے طور پر پڑھا جائے گا ؟\n(ج) ان احکام میں وفاقی حکومت کا کوئی حوالہ صوبائی حکومت کے حوالہ کے طور پر\n پڑھا جائے گا؛ \n(و) ان احکام میں وزیر اعظم کا کوئی حوالہ وزیر اعلیٰ کے حوالہ کے طور پر پڑھا جائے گا؛\n(1) ان احکام میں کسی وفاقی وزیر کا کوئی حوالہ کسی صوبائی وزیر کے حوالہ کے طور پر\nپڑھا جائے گا :\n؟\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nلفظ اور دستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ے کی رو سے حذف کیا گیا ( نفاذ پذیر از سرمئی ۱۹۷۴ء)۔\n\n(و) ان احکام میں قومی اسمبلی پاکستان کا کوئی حوالہ یوم آغاز سے عین قبل موجود\nصوبائی اسمبلی کے حوالہ کے طور پر پڑھا جائے گا، اور ]\n(1) آرٹیکل ۵۴ کی مذکورہ شق (۲) اس طرح مؤثر ہوگی گویا کہ، اس کے فقرہ شرطیہ\nمیں ، الفاظ ایک سو میں\" کی بجائے لفظ ایک سو تبدیل کر دیا گیا ہو۔]\nآرڈیننس\n۱۲۸ (۱) گورنر ، سوائے جب کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو، اگر اس بارے میں مطمئن ہو کہ گورنر کا آرڈینینس نافذ\nایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی ضروری ہو گئی ہے تو وہ حالات کے کرنے کا اختیار۔\nتقاضے کے مطابق آرڈینینس وضع اور نافذ کر سکے گا۔\n(۲) اس آرٹیکل کے تحت نافذ کردہ کوئی آرڈینینس وہی قوت اور اثر رکھے گا جو صوبائی اسمبلی کے\nکسی ایکٹ کو حاصل ہے اور ویسی ہی پابندیوں کے تابع ہوگا جو صوبائی اسمبلی کے\nاختیار قانون سازی پر عائد ہوتی ہیں لیکن ایسے ہر آرڈنینس کو ۔ ۔۔۔\n(الف) صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ اپنے نفاذ سے نوے دنوں ]\nکے اختام پر، یا اگر اسمبلی اس مدت کے اختتام سے قبل اس کی نامنظوری کی\nقرارداد پاس کر دے تو اس قرار داد کے پاس ہونے پر منسوخ ہو جائے گا ]\nمگر شرط یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی قرارداد کے ذریعے آرڈینینس کو\nمزید نوے دنوں کے لئے ، تو سیع دے سکے گی، اور یہ توسیع شدہ مدت کے\nخاتمہ پر یا خاتمہ کی مدت سے قبل ازیں اسمبلی کی طرف سے اس کو نامنظور\nکرنے کی قرارداد منظور ہونے پر منسوخ شدہ سمجھا جائے گا:\nدستور (ترمیم اوّل) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ے کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا\n( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ۱۹۷۴ء)۔\nبحوالہ عین ماقبل پیرا ( ز ) کا اضافہ کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴ کی رو سے ”ستر“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ام کی رو سے تین ماہ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ما قبل لفظ \" اور \" کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\n\nمزید شرط یہ ہے کہ مزیدمدت کے لئے توسیع ایک دفعہ دی جائے گی ۔]\n(ب) گورنر کی جانب سے کسی وقت بھی واپس لیا جا سکے گا۔\n(۳) شق (۲) کے احکام پر اثر انداز ہوئے بغیر ، صوبائی اسمبلی کے روبرو پیش کئے جانے\nوالے ہر آرڈینینس کو صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ بل تصور کیا جائے گا۔\nباب ۳۔ صوبائی حکومتیں\nصوبائی حکومت۔ ۱۳۹۴ (۱) دستور کے تابع صوبے کے عاملانہ اختیارات صوبائی حکومت کی جانب سے گورنر کے نام\nسے استعمال کئے جائیں گے جو وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء پر مشتمل ہوگی ، جو وزیر اعلیٰ کے\nکابینہ\nذریعے کام کرائے گی۔\n(۲) دستور کے تابع اپنے کارہائے منصبی کی تعمیل میں ، وزیراعلی خواه بلا واسطه یا صوبائی وزراء\nکے ذریعے کام کرے گا۔]\n۱۳۰۔ (۱) گورنر کو اس کے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشورہ دینے کے لئے وزراء کی\nایک کا بینہ ہوگی جس کا سر براہ وزیر اعلی ہوگا۔\n(۲) صوبائی اسمبلی کا اجلاس اسمبلی کے عام انتخابات کے اکیس دن بعد ہوگا، تا وقتیکہ اس سے\nپہلے گورنر اجلاس طلب نہ کرلے۔\n(۳) اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلی کسی بھی دوسری کارروائی کو چھوڑ کر کسی\nبحث کے بغیر ، اپنے اراکین میں سے ایک کا وزیر اعلیٰ کے طو پر انتخاب کرے گی۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴۲ کی رو سے آرٹیکل ۱۲۹‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا .\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۴۳ کی رو سے آرٹیکل ۱۳۰‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(۴) وزیر اعلیٰ کو صوبائی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریتی رائے دہی کے ذریعے نامزد\nکیا جائے گا :\nمگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حاصل نہ\nکر سکے تو ، پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو\nاراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود\nاراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کر لیتا ہے اس\nکا منتخب وزیر اعلیٰ کے طور پر اعلان کیا جائے گا:\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ\nووٹ کی تعداد مساوی ہو جائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا\nتا وقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کر لے۔\n(۵) شق (۴) کریں\nنامزد رکن کو گورنر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی\nجائے گی اور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے، تیسرے جدول میں بیان کردہ طریقہ کار میں\n،\nگورنر کے روبرو حلف اٹھائے گا:\nہے لئے\nمگر شرط یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کے لئے میعاد کی تعداد پر\nپابندی نہیں ہوگی۔\n(۶) کا مبینہ اجتماعی طور صوبائی اسمبلی کو جواب دہ ہوگی اور کا بینہ کی کل تعداد پندرہ اراکین یا\nصوبائی اسمبلی کے کل اراکین کے گیارہ فیصد سے زائد نہیں ہوگی ، جو بھی زائد ہو:\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدا گلے عام انتخابات سے دستور ( اٹھارویں ترمیم )\nایکٹ ۲۰۱۰ ء کے آغاز نفاذ کے بعد موثر ہوگی \n(۷) وزیر اعلیٰ گورنر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا ،لیکن گورنر اس شق کے تحت\nاپنے اختیارات استعمال نہیں کرے گا تا وقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیراعلیٰ کو صوبائی\nاسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ صوبائی اسمبلی کو\nطلب کرے گا اور وزیر اعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔\n\n(۸) وزیر اعلیٰ گورنر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔\nو\n(۹) کوئی وزیر جو مسلسل چھ ماہ کی مدت کے لئے صوبائی اسمبلی کا رکن نہ رہے، مذکورہ مدت\nکے اختتام پر ، وزیر نہیں رہے گا، اور مذکورہ اسمبلی کے تحلیل ہو جانے سے قبل اسے دوبارہ\nوزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اس اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہو جائے۔\n(۱۰) اس آرٹیکل میں شامل کسی امر کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ، وزیر اعلیٰ یا کسی دوسرے وزیر کو کسی\nایسی مدت کے دوران جب کہ صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہو، اپنے عہدے پر برقرار\nرہنے کا نا اہل قرار دیا جائے یا نہ ہی اس کی رو سے کسی ایسی مدت کے دوران کسی شخص کو\nبطور وزیر اعلی یا دیگر وزیر مقرر کرنے کی ممانعت ہوگی ۔\n(11) وزیر اعلی پانچ سے زائد مشیران کا تقرر نہ کر سکے گا۔]\nگورنر کو آگاہ رکھا ۱۳۱ وزیر اعلی گورنر کو صوبائی انتظام سے متعلق امور اور تمام قانون سازی کی تجاویز جوصوبائی حکومت،\nصوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہو، سے آگا ہر کھے گا۔\nجائے گا۔\nصوبائی وزراء۔ ۱۳۲ (۱) آرٹیکل ۱۳۰ کی شقات (۹) اور (۱۰)] کے تابع ، گورنر وزیر اعلیٰ کے مشورے پر صوبائی\nاسمبلی کے ارکان میں سے صوبائی وزراء کا تقرر کرے گا۔\n(۲) عہدے پر فائز ہونے سے پہلے ، کوئی صوبائی وزیر جدول سوم میں دی گئی عبارت میں\nگورنر کے سامنا کیا۔\n(۳) کوئی صوبائی وزیر، گورنر کے نام اپنی تخطی تحریر کے ذریعے ، اپنے عہدے سے مستعفی ہو\nسکے گایا گورنر ، وزیر اعلیٰ کے مشورے پر اسے عہدے سے برطرف کر سکے گا۔\nوزیر اعلیٰ کا عہدے پر ۱۳۳ گورنر ، وزیر اعلی کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے کہہ سکے گا تا وقتیکہ اس کا جانشین وزیر اعلیٰ\nکے عہدے پر فائز نہ ہو جائے ۔]\nبرقرار رہنا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴۴ کی رو سے آرٹیکل ۱۳۱‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۱۳۲ او ۱۳۳‘ کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔\nایکٹ نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۴۵ کی رو سے ” ( ۷ ) اور ( ۸ )‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n۱۳۴۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے استعفی فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے\nحذف کیا گیا۔\n۱۳۵۔ صوبائی وزیر کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے فرائض کی انجام دہی] فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے\nآرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے حذف کیا گیا۔\n۱۳۹ (۱) وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرارداد جے صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم وزیر اعلیٰ کے خلاف\nہیں فیصد نے پیش کیا ہو ، صوبائی اسمبلی کی طرف سے منظور کی جاسکے گی۔\n(۲) شق () میں محولہ کسی قرار داد پر اس دن سے تین دن کی مدت کے خاتمہ سے پہلے یا سات دن\nکی مدت کے بعد ووٹ نہیں لئے جائیں گے جس دن مذکورہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی گئی ہو۔\n(۳) اگر شق (۱) میں محولہ قرارداد کو صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور کر لیا جائے،\nتو وزیر اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں رہے گا ۔]\nعدم اعتماد کا ووٹ ۔\n۱۳۷ دستور کے تابع ، صوبہ کا عاملانہ اختیار ان امور پر وسعت پذیر ہوگا جن کے بارے میں صوبائی اسمبلی صوبے کے عاملانہ\nکو قوانین بنانے کا اختیار ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ کسی ایسے معاملے، میں جس کے بارے میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )]\nاور کسی صوبے کی صوبائی اسمبلی دونوں کو قوانین بنانے کا اختیار ہو، صوبے کا عاملانہ اختیار اس عاملانہ\nاختیار سے مشروط اور محدود ہوگا جو دستور یا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)] کے بنائے ہوئے قانون\nاور جو\nاختیار وسعت ۔\nکے ذریعے وفاقی حکومت یا اس کی بنیت ہائے مجاز کو بالصراحت تفویض کیا گیا ہو۔\n۱۳۸۔ صوبائی حکومت کی سفارش پر صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے صوبائی حکومت کے ماتحت عہد یداروں ما تحت ہیئت ہائے مجاز\nکو کارہائے منصبی کی\nیا ہیئت ہائے مجاز کو کارہائے منصبی تفویض کر سکے گ تفویض۔\n۱۳۹۳ (۱) صوبائی حکومت کی تمام عاملانہ کارروائیوں کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ وہ گورنر کے نام صوبائی حکومت کے\nسے کی گئی ہیں۔\nکاروبار کا انصرام ۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے آرٹیکل ۱۳۶ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ،۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی\nبجائے تبدیل کئے گئے ۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی روے آرٹیکل ۱۳۹ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nکسی صوبے کیلئے\nایڈووکیٹ جنرل ۔\n(۲) صوبائی حکومت قواعد کے ذریعے اس طریقے کی صراحت کرے گی جس کے مطابق ہم گورنر\nکے نام سے وضع کئے ہوئے احکام اور تکمیل کی ہوئی دیگر دستاویزات کی توثیق کی جائے گی،\nاور اس طرح توثیق شدہ کسی حکم یادستاویز کے جواز پر کسی عدالت میں اس بناء پر اعتراض نہیں\nکیا جائے گا کہ اسے گورنر نے وضع یا مکمل نہیں کیا تھا۔\n(۳) صوبائی حکومت اپنے کام کی تقسیم اور انجام دہی کے لئے بھی قواعد وضع کرے گی ۔ ] ]\n[\n۱۴۰ (۱) ہر صوبے کا گورنر کسی ایسے شخص کو جو عدالت عالیہ کا جج بنے کا اہل ہو، صوبے کا ایڈووکیٹ\nجنرل مقرر کرے گا۔\n(۲) ایڈووکیٹ جنرل کا فرض ہوگا کہ وہ صوبائی حکومت کو ایسے قانونی معاملات پر مشورہ دے\nاور قانونی نوعیت کے ایسے دیگر فرائض انجام دے، جو صو بائی حکومت کی طرف سے اسے\nبھیجے جائیں یا اسے تفویض کئے جائیں۔\n(۳) ایڈووکیٹ جنرل گورنر کی خوشنودی حاصل رہنے تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا اور\nجب تک وہ ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہے نجی پیشہ وکالت میں حصہ نہیں لے\nسکے گا۔]\n\n(۴) ایڈووکیٹ جنرل گویند کے نام اپنی تخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔ کےنام وقتی\n*\n*\n*\n*\n*\nمقامی حکومت ۔ ۱۴۰ - الف (1) ہر ایک صوبہ، قانون کے ذریعے ، مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی ،\nانتظامی اور مالیاتی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کر دے گا۔\n(۲) مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔]\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴۶ کی رو سے گورنر کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل اس کے نام‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل \" شق (۳) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۷م کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nموجودہ آرٹیکل ۱۴۰ الف کا حذف (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰، ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجہ میں برقرار رہے گا، دیکھئے دفعہ ۲۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۴۸ کی رو سے نیا آرٹیکل ۱۴۰ الف شامل کیا گیا۔\n\nوفاق اور صوبوں کے مابین تعلقات\nباب اختیارات قانون سازی کی تقسیم\n۱۴۱ دستور کے تابع ہام مجلس شوری (پارلیمنٹ) پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے لئے قوانین وفاقی وصوبائی قوانین\n(جن میں بیرونِ ملک قابل عمل قوانین شامل ہیں) بنا سکے گی ، اور کوئی صوبائی اسمبلی اس صوبے یا اس کی وسعت۔\nکے کسی حصے کے لئے قوانین بنا سکے گی۔\n۱۴۔ دستور کے تابع ۔۔۔۔\nوفاقی اور صوبائی\n(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی امر کے قوانین کے\nكلاط\nبارے میں قوانین بنانے کا بلا شرکت غیرے اختیار ہوگا ؟\n:\n۳ (ب) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ اور کسی صوبائی اسمبلی کو بھی فوجداری قانون ، ضابطہ فوجداری اور\nشہادت کے بارے میں قوانین وضع کرنے کا اختیار ہوگا ؟ ]\n۳ (ج) پیرا (ب) کے مطابق کسی ایسے امر کے بارے میں جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں\nشامل نہیں ہے قوانین بنانے کا اختیار صوبائی اسمبلی کو ہوگا اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)\nکو نہیں ہوگا ؛ ]\n:\n(د) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کو تمام امور کے بارے میں وفاق کے ایسے علاقوں کے لئے\nقوانین بنانے کا بلا شرکت غیرے اختیار ہو گا جو کسی صوبے میں شامل نہیں ہیں ۔]\nموضوعات۔\n۱۳ اگر کسی صوبائی اسمبلی کے کسی ایکٹ کا کوئی حکم مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے وفاقی اور صوبائی\nکسی حکم سے منافی ہو جسے وضع کرنے کی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) مجاز ہو تو مجلس شوری قوانین کے مابین\nتناقص ۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴۹ کی رو سے پیراگراف (ب)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل ” پیرا گراف (ج)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل \" پیرا گراف (د)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۵۰ کی رو سے آرٹیکل ۶۱۴۳‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(پارلیمنٹ) کا ایکٹ خواہ وہ صوبائی اسمبلی کے ایکٹ سے پہلے منظور ہوا ہو یا بعد میں\nغالب رہے گا اور صوبائی اسمبلی کا ایکٹ تناقص کی حد تک باطل ہوگا۔]\nمجلس شوری ( پارلیمنٹ) ۱۴۴ (۱) اگر ایک یا زیادہ صوبائی اسمبلیاں اس مضمون کی قراداد میں منظور کریں کہ تم مجلس شوری\nکا ایک یا زیادہ\nصوبوں کی رضامندی سے\nقانون سازی کا اختیار۔\nصدر کا گورنر کو اپنے عامل\nکے طور پر بعض کا رہائے\nمنصبی انجام دینے کا حکم\nدینے کا اختیار۔\n(پارلیمنٹ ) کسی ایسے معاملے کو جدول چہارم کی وفاقی قانون سازی کی فہرست ]\nمیں درج نہ ہو قانون کے ذریعے منضبط کرے، تو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] کے لئے\nجائز ہوگا کہ وہ مذکورہ معاملے کو بحسبہ منضبط کرنے کے لئے ایک ایکٹ منظور کرے لیکن\nاس طرح منظور کردہ کسی ایکٹ میں ایسے صوبے کی بابت جس پر وہ اطلاق پذیر ہو، اس\nصوبے کی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے ترمیم یا تنسیخ کی جاسکے گی۔\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nباب ۲۔ وفاق اور صوبوں کے مابین انتظامی تعلقات\n۱۴۵ (۱) صدر کسی صوبے کے گورنر کو حکم دے سکے گا کہ وہ اس کے عامل کی حیثیت سے، یا تو\nبالعموم یا کسی خاص معاملے میں، وفاق کے ایسے علاقوں کی بابت جو کسی صوبے میں شامل\nنہیں ہیں ایسے کارہائے منصبی انجام دے جن کی حکم میں صراحت کی گئی ہو۔\n(۲) شق (۱) کے تحت گورنر کے کارہائے منصبی کی انجام دہی پر آرٹیکل ۱۰۵ کے احکام کا اطلاق\nنہیں ہوگا ۔ کردم\n \nوو\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ان کی رو سے دو“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ،۱۹۷۳ء کا فرمان، ۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی\nبجائے تبدیل کیے گئے ۔\nایکٹ نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۵۱ کی رو سے ہر دو فہرستوں“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (ترمیم بشتم ) ایک ۱۹۸۵۰ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ ۷ا کی رو سے شق (۲) حذف کر دی گئی۔\n\n۱۴۶۔ (۱) دستور میں شامل کسی امر کے باوجود، وفاقی حکومت کسی صوبے کی حکومت کی رضامندی وفاق کا بعض صورتوں\nمیں صوبوں کو\nسے کسی ایسے معاملے سے متعلق جو وفاق کے عاملانہ اختیار کے دائرہ میں آتا اختیارات وغیرہ\nاختیار ۔\nہو کا رہائے منصبی ، یا تو مشروط یا غیر مشروط طور پر اس حکومت کو یا اس کے تفویض کرنے کا\nعہدے داروں کے سپر دکر سکے گی۔\n(۲) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کا کوئی ایکٹ ، باوجود اس امر کے کہ اس کا تعلق کسی ایسے\nمعاملہ سے ہو جس کی بابت کسی صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہ ہو، کسی صوبے یا\nاس کے عہد یداروں اور ہئیت ہائے مجاز کو اختیارات تفویض کر سکے گا اور ان پر فرائض\n*\nعائد کر سکے گا۔\n(۳) جب کہ کسی صوبہ یا اس کے عہد یداروں یا ہیئت ہائے مجاز کو اس آرٹیکل کی رو سے\nاختیارات اور فرائض تفویض یا عائد کئے گئے ہوں، تو مذکورہ اختیارات کے استعمال یا\nمذکورہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں صوبے کی جانب سے برداشت کئے جانے والے\nکسی زائد انتظامی اخراجات کی بابت وفاق کی طرف سے صوبے کو ایسی رقم ادا کی جائے\nگی جو آ پس میں طے ہو جائے یا ، طے نہ ہونے کی صورت میں ، ایسی رقم جو چیف جسٹس\nپاکستان کے مقرر کردہ کسی ثالث کی طرف سے متعین کی جائے ۔\n۱۴۷ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود کسی صوبے کی حکومت، وفاقی حکومت کی رضامندی سے، کسی کارہائے منصبی سپرد\nایسے معاملے سے متعلق، جو صوبے کے عاملانہ اختیار کے دائرہ میں آتا ہو، کارہائے منصبی، یا تو\nمشروط یا غیر مشروط طور پر ، وفاقی حکومت یا اس کے عہد یداروں کے سپرد کر سکے گی :]\nمگر شرط یہ ہے کہ صوبائی حکومت کارہائے منصبی کو حاصل کرے گی جو اس طرح سپرد\nکئے گئے جن کی صوبائی اسمبلی ساٹھ دنوں میں توثیق کرے گی ۔]\n۱۳۸ (۱) ہر صوبے کا عاملانہ اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ اس سے ان وفاقی قوانین کی\nتعمیل کی ضمانت ملے جو اس صوبے میں اطلاق پذیر ہوں۔\n(۲) اس باب کے کسی دوسرے حکم پر اثر انداز ہوئے بغیر کسی صوبے میں وفاق کے عاملانہ\nاختیار کو استعمال کرنے میں اس صوبے کے مفادات کا لحاظ رکھا جائے گا۔\nصوبوں کا وفاق کو\nکرنے کا اختیار۔\nصوبوں اور وفاق کی\nذمہ داری۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ءکا فرمان ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۲ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل فقرہ شرطیہ کا اضافہ کیا گیا۔\n\n(۳) وفاق کا یہ فرض ہوگا کہ ہر صوبے کو بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار سے محفوظ رکھے اور\nاس بات کو یقینی بنائے کہ ہر صوبے کی حکومت دستور کے احکام کے مطابق چلائی جائے۔\nبعض صورتوں میں ۱۴۹۔ (۱) ہر صوبے کا عاملانہ اختیار اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ وہ وفاق کے عاملانہ اختیار میں\nصوبوں کے لئے\nہدایات۔\nحائل نہ ہو یا اسے نقصان نہ پہنچائے اور وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات\nپر وسعت پذیر ہو گا جو اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت کو ضروری معلوم ہوں ۔\n*\n*\n*\n*\n*\n(۳) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے ذرائع مواصلات کی تعمیر اور نگہداشت کے لئے\nہدایات دینے پر بھی وسعت پذیر ہوگا جنہیں ہدایت میں قومی یا فوجی اہمیت کا حامل قرار\nدیا گیا ہو۔\nكلاط\n(۴) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو ایسے طریقے کی بابت ہدایت دینے پر بھی وسعت پذیر\nہوگا ، جس میں اس کے عاملانہ اختیار کو پاکستان یا اس کے کسی حصے کے امن یا سکون یا\nاقتصادی زندگی کے لئے کسی سنگین خطرے کے انسداد کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہو۔\nکے سے جانا ہو۔\nسرکاری کارروائیوں ۱۵۰ ہر صوبے کی سرکاری کارروائیوں اور ریکارڈوں ، اور عدالتی کارروائیوں کو پاکستان بھر میں پوری\nوغیرہ کا پورے طور پر معتبر\nاور وسیع ہونا۔\nطرح معتبر اور وقیع سمجھا جائے گا۔\nبین الصوبائی تجارت ۔ ۱۵۱ (۱) شق (۲) کے تابع، پاکستان بھر میں تجارت، بیوپار اور رابطہ کی آزادی ہوگی ۔ ، بھر\n(۲) مجلس شوری ( پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے، ایک صوبہ اور دوسرے صوبے کے درمیان یا\nپاکستان کے اندر کسی حصے میں تجارت بیو پار یا رابطہ کی آزادی پر، ایسی پابندیاں عائد کر سکے گی\nجو مفاد عامہ کے لئے درکار ہوں۔ \nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ا بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۳ کی رو سے شق (۲) کو حذف کیا گیا۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء (فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\n(۳) کسی صوبائی اسمبلی یا کسی صوبائی حکومت کو اختیار نہیں ہوگا کہ۔۔\n(الف) کوئی ایسا قانون بنائے یا کوئی ایسی انتظامی کارروائی کرے جس میں اس\nصوبے میں کسی نوع یا قسم کی اشیاء کے داخلے یا اس صوبے سے ان کی برآمدگی\nممانعت یا تحدید کی گئی ہو، یا\n(ب) کوئی ایسا محصول عائد کرے جو اس صوبہ کی تیار کردہ یا پیدا کردہ اشیاء اور ویسی\nہی اشیاء کے درمیان جو اس کی اپنی تیار کردہ یا پیدا کردہ نہ ہوں، اور اوالذکر\nاشیاء کے حق میں امتیاز پیدا کرے، یا جو اس صوبہ سے باہر تیار کردہ یا پیدا کردہ\nاشیاء کے معاملہ میں، پاکستان کے کسی ایک علاقے میں تیار کردہ یا پیدا کردہ\nاشیاء اور کسی دوسرے علاقے میں ویسی ہی تیار کردہ یا پیدا کردہ اشیاء کے\nدرمیان امتیاز پیدا کرے۔\n(۴) کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی ایسا ایکٹ جو صحت عامہ، امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں ، یا\nجانوروں یا پودوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے یا اس صوبے میں کسی ضروری شئے کی شدید\nقلت کو روکنے یا کم کرنے کی غرض سے کوئی مناسب پابندی لگاتا ہو، نا جائز نہیں ہوگا ، اگر\nوہ صدر کی رضا مندی سے بنایا گیا ہو۔\n\nوفاقی اغراض کے لئے\n۱۵۲ اگر ، وفاق کسی ایسی اراضی کو جو صوبے میں واقع ہو کسی ایسے مقصد کے لئے جو کسی ایسے معاملے سے اگر\nمتعلق ہو جس کے بارے میں لا مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) ) کو قوانین وضع کرنے کا اختیار ہو، اراضی کا حصول۔\nحاصل کرنا ضروری خیال کرے تو وہ اس صوبے کو حکم دے سکے گا کہ وہ اس اراضی کو وفاق کی طرف سے\nاور اس کے خرچ پر حاصل کرے یا، اگر اراضی صوبہ کی ملکیت ہوتو اسے وفاق کے نام ایسی شرائط پر\nمنتقل کر دے، جو طے پاجائیں یا، طے نہ پانے کی صورت میں، چیف جسٹس پاکستان کے مقرر کردہ\nکسی ثالث کی طرف سے طے کی جائیں۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nمشترکہ مفادات کی\nکونسل ۔\nکارہائے منصبی اور\nقواعد ضابطہ کار۔\n\nباب ۳۔ خاص احکام\n۱۵۲۔ الف۔ قومی سلامتی کونسل ] دستور (سترہویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۰۳ء (نمبر۳ بابت ۲۰۰۳ء) کی\nدفعہ ۵ کی رو سے حذف کر دیا گیا، جو کہ قبل ازیں فرمان چیف ایگزیکٹو نمبر ۲۴ مجریہ ۲۰۰۲ء\nکے آرٹیکل ۳ اور جدول کی رو سے شامل کیا گیا تھا، جیسا کہ بعض وضع شدہ قوانین کی رو\nسے ترمیم کی گئی (دیکھئے آرٹیکل ۲۶۷ ب )\n۱۵۳ (۱) مشترکہ مفادات کی ایک کونسل ہوگی جسے اس باب میں کونسل کہا گیا ہے ، جس کا تقر رصدر کرے گا۔\n(۲) کونسل حسب ذیل پر مشتمل ہوگی ۔۔۔۔\n(الف) وزیراعظم جو کہ کونسل کا چیئر مین ہوگا ؟\n(ب) صوبوں کے وزراء اعلیٰ ؛ اور\nوزراءاعلیٰ\n(ج) وفاقی حکومت سے تین ارکان جن کو وقتا فوقتا وزیراعظم نامزد کرے گا۔]\n*\n*\n*\n*\n*\n(۴) کونسل مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے جواب دہ ہوگی اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)\nکے دونوں ایوانوں میں سالانہ رپورٹ پیش کرے گی۔ ]]\n۱۵۲ م (۱) کونسل ، وفاقی قانون سازی فہرست کے حصہ دوم میں معاملات کی نسبت پالیسی مرتب ش\nاور منضبط کرے گی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی اور کنٹرول کرے گی ۔]\nاور اور\n\n(۲) وزیر اعظم کا اپنے عہدے کا حلف لینے کے تمیں دنوں کے اندر کونسل کی تشکیل کی جائے گی۔\n(۳) کونسل کا ایک مستقل سیکرٹریٹ ہوگا اور کم از کم نوے ایام میں ایک بارا جلاس ہوگا:\nمزید شرط یہ ہے کہ وزیراعظم کسی ضروری معاملے میں کسی صوبے کی درخواست پر اجلاس طلب\nکر سکتا ہے۔]\n(۴) کونسل کے فیصلوں کا اظہارا اکثریت کی رائے کے مطابق ہوگا۔\n۵) تا وقتیکہ تم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)] اس بارے میں قانون کے ذریعے احکام وضع نہ\nکرے، کونسل اپنے قواعد ضابطہ کار وضع کر سکے گی۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۴ کی رو سے شق (۲)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شق (۳) حذف کی گئی۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ کا فرمان ۱۹۸۵ ( فرمان صد نمبر ۴ مجری ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۵۴ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۵۵ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۵۵ کی رو سے نئی شقات (۲) اور (۳) کو شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے شقات (۲)،(۳)،(۴) اور (۵) کو دوبارہ نمبر دیا گیا ہے۔\n\n(۶) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اپنی مشترکہ نشست میں، قرارداد کے ذریعے، وفاقی حکومت کے\nتوسط سے، کونسل کو عمومی طور پر، یا کسی خاص معاملے میں، ایسی کارروائی کرنے کے\nلئے جوس مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) مبنی بر انصاف اور مناسب خیال کرے، وقتاً فوقتاً\nہدایات جاری کر سکے گی اور کونسل ایسی ہدایات کی پابند ہوگی۔\n(۷) اگر وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت کونسل کے کسی فیصلے سے غیر مطمئن ہو، تو وہ اس\nمعاملے کو سر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کی مشترکہ نشست میں بھیج سکے گی جس کا فیصلہ\nاس بارے میں حتمی ہوگا۔\n۱۵۵۔ (۱) اگر کسی صوبے، وفاقی دارالحکومت * * * یا ان کے باشندوں میں سے کسی کے کسی قدرتی آب رسانیوں میں\nسر چشمہ آب رسانی سے پانی کے حصول آیا منبع کے مفادات پر مندرجہ ذیل امور کی مداخلت کی شکایات۔\nوجہ سے مضراثر پڑا ہو، یا پڑنے کا امکان ہو۔۔۔\n(الف) کوئی عاملانہ کارروائی یا قانون جو زیر عمل لائی گئی ہو منظور کیا گیا ہو، یا جس کے\nزیر عمل لائے جانے یا منظور کئے جانے کی تجویز ہو یا\n(ب) مذکورہ سر چشمے سے پانی کے استعمال اور تقسیم یا کنٹرول کے سلسلے میں کسی بہیت مجاز\nکی طرف سے اپنے اختیارات میں سے کسی کو بروئے کارلانے میں کوتاہی ہوئی ہو،\nتو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کونسل سے تحریری طور پر شکایت کر سکے گی ۔\nاسے گی ۔\n(۲) ایسی شکایت موصول ہونے پر، کونسل معاملے پر غور کرنے کے بعد، یا تو اپنا فیصلہ دے گی یا\nصدر سے درخواست کرے گی کہ وہ ایسے اشخاص پر مشتمل ایک کمیشن مقرر کرے جو آبپاشی ،\nانجینئری، انتظامیہ، مالیات یا قانون کے خصوصی علم و تجربے کے حامل ہوں جنہیں وہ موزوں\nخیال کرے، جس کا حوالہ بعد ازیں کمیشن کے طور پر دیا گیا ہے۔\n،\nدستور(اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۵ کی رو سے شقات (۲)،(۳)،(۴) اور (۵) کو دوبارہ نمبر دیا گیا۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کیا گیا۔\nنور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ء (نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ ے کی رُو سے الفاظ یا وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات\nحذف کئے گئے\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۵۶ کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\"\n\n(۳) تا وقتیکہ کے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اس بارے میں قانون کے ذریعے احکام وضع نہ\nکرے، کمیشن ہائے تحقیقات پاکستان ایکٹ ، ۱۹۵۶ء کے احکام کا جو یوم آغاز سے عین قبل\nنافذ العمل تھے کونسل یا کمیشن پر اس طرح اطلاق ہوگا گویا کہ کونسل یا کمیشن ایکٹ کے تحت\nمقرر کردہ کوئی کمیشن ہو جس پر اس کی دفعہ ۵ کے جملہ احکام کا اطلاق ہوتا ہو اور جسے اس کی\nدفعہ االف میں محولہ اختیار تفویض کیا گیا ہو۔\n(۴) کمیشن کی رپورٹ اور ضمنی رپورٹ پر، اگر کوئی ہو، غور کرنے کے بعد، کونسل کمیشن کو بھیجے\nگئے جملہ معاملات پر اپنا فیصلہ قلمبند کرے گی۔\n(۵) اس کے خلاف کسی قانون کے باوجود، لیکن آرٹیکل ۱۵۴ کی شق (۵) کے احکام کے تابع ،\nوفاقی حکومت اور متنازعہ معاملے سے متعلق صوبائی حکومت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ کونسل کے\nفیصلے کو وفاداری کے ساتھ لفظاً ومعنا نافذ کریں۔\n(1) کسی ایسے معاملے کے بارے میں جو کونسل کے سامنے زیر بحث ہو یا رہا ہو معاملہ کے کسی فریق کی\nتحریک پر یا کسی ایسے معاملے کے بارے میں، جو اس آرٹیکل کے تحت کونسل کے سامنے شکایت کا\nمناسب موضوع فی الواقع ہو، یار ہا ہویا ہوسکتا ہو یا ہونا چاہیے کسی بھی شخص کی تحریک پر کسی عدالت\nکے سامنے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔\nقومی اقتصادی کونسل ۔ ۱۵۶۴ (۱) صدر ایک قومی اقتصادی کونسل تشکیل دے گا جو ، حسب ذیل پر مشتمل ہوگی ۔۔\n(الف) وزیر اعظم ، جو کہ اس کونسل کا چیئر مین ہوگا ؟\n(ب) وزراء اعلیٰ اور ہر صوبے سے ایک رکن جسے وزیر اعلیٰ نامزد کرے گا ؛ اور\n(ج) چار دوسرے ارکان جن کو وز یر اعظم وقتا فوقتا نا مزد کرے گا۔\n(۲) قومی اقتصادی کونسل ملک کی مجموعی اقتصادی صورت حال کا جائزہ لے گی اور ، وفاقی حکومت\nاور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دینے کے لئے ، مالیاتی ، تجارتی ، معاشرتی اور\nل-\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ءکا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی\nبجائے تبدیل کئے گئے ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۷ کی روسے’ آرٹیکل ۱۵۶‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nاقتصادی پالیسیوں کے بارے میں منصوبے وضع کرے گی ، اور ایسے منصوبے وضع کرتے\nوقت دوسرے عوامل کے درمیان ، متوازن ترقی اور علاقائی نصفت کو یقینی بنائے گی اور وہ\nپالیسی کے ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرے گی جو حصہ دوم کے باب ۲ میں درج ہیں ۔\n(۳) کونسل کے اجلاس کو چیئر مین کونسل کے نصف ارکان کے مطالبہ پر طلب کر سکے گا۔\n(۴) کونسل کے سال میں کم از کم دو اجلاس ہوں گے اور کونسل کے اجلاس کے لئے کورم اس\nکے کل ممبران میں سے نصف ممبران کا ہوگا۔\n(۵) کونسل مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کو جواب دہ ہوگی اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ہر\nایوان کو اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرے گی ۔]\n۱۵۷۔ (۱) وفاقی حکومت کسی صوبے میں بجلی پیدا کرنے کی غرض سے برقابی یا حرارتی برقی تنصیبات یا گرڈ اسٹیشن\nتعمیر کر سکے گی یا کرا سکے گی اور بین الصوبائی ترسیلی تار بچھا سکے گی یا بچھوا سکے گی 1\nمگر شرط یہ ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی صوبے میں پن بجلی کا پاور اسٹیشن تعمیر\nکرنے کا فیصلہ کرنے یا تعمیر کرنے سے قبل، متعلقہ صوبائی حکومت سے مشاورت کرے گی ۔]\n(۲) کسی صوبے کی حکومت 1\n\n(الف) جس حد تک اس صوبے کو قومی گرڈ سے بجلی فراہم کی گئی ہو، یہ مطالبہ کر سکے گی\nکہ صوبے کے اندر ترسیل و تقسیم کے لئے بجلی تھوک مقدار میں فراہم کی جائے ؟\n(ب) صوبے کے اندر بجلی کے صرف پر محصول عائد کر سکے گی؟\n(ج) صوبے کے اندر استعمال کی غرض سے بجلی گھر اور گرڈ اسٹیشن تعمیر کر سکے گی اور\n ترسیلی تار بچھا سکے گی؛ اور \n(1) صوبے کے اندر بجلی کی تقسیم کے لئے نرخ نامے کا تعین کر سکے گی ۔\n(۳) کسی بھی معاملے میں اس آرٹیکل کے تحت وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے درمیان\nکسی بھی تنازعہ کی صورت میں ، مذکورہ حکومتوں میں سے کوئی بھی مشترکہ مفادات کونسل\nمیں تنازعہ کے تصفیہ کے لئے جاسکے گی۔\nدستور اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۸ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل نئی دفعہ (۳) کا اضافہ کیا گیا۔ ما\n\nقدرتی گیس کی ۱۵۸۔ جس صوبے میں قدرتی گیس کا کوئی سرچشمہ واقع ہو، اسے اس سرچشمہ سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں، ان\nپابندیوں اور ذمہ داریوں کے تابع ، جو یوم آغاز پر نافذ ہوں، پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح حاصل ہوگی۔\nضروریات کی ترجیح۔\nریڈیو اور ٹیلی ویژن ۱۵۹۔ (۱) وفاقی حکومت کسی صوبائی حکومت کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشریات کے بارے میں ایسے\nسے نشریات۔\nکا رہائے منصبی سپرد کرنے سے غیر معقول طور پر انکار نہیں کرے گی جو اس حکومت کے\nلئے اس غرض سے ضروری ہوں کہ وہ ۔۔۔\n(الف) صوبے میں ٹرانسمیٹر تعمیر اور استعمال کر سکے؛ اور\n(ب) صوبے میں ٹرانسمیٹروں کی تعمیر اور استعمال اور موصولی آلات کے استعمال\nکے بارے میں فیسوں کا انضباط عمل میں لا سکے اور انہیں عائد کر سکے:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں کسی امر سے یہ تعبیر نہیں لی جائے گی کہ\nیہ وہان\nسی وفاقی حکومت کو پابند کرتی ہے کہ وہ ان\nمیں اسے استعمال پر ، جو وفاقی حکومت یا\nوفاقی حکومت کے مجاز کرد و اشخاص کے تعمیر کردہ یا زیر تحویل ہوں، یا اس طرح\nمجاز کردہ اشخاص کی طرف سے موصولی آلات کے استعمال پر کوئی اختیارکسی\nصوبائی حکومت کے سپر دکر دے۔\n(۲) کوئی کارہائے منصبی جو بائیں طور کسی صوبائی حکومت کے سپرد کئے گئے ہوں ایسی شرائط\nکھو\nکے تابع انجام دیئے جائیں گے جو وفاقی حکومت عائد کرے، جس میں ، دستور میں شامل\nکسی امر کے باوجود، مالیات کے بارے میں شرائط شامل ہیں، لیکن وفاقی حکومت کے\nالى\nلئے کوئی ایسی شرائط عائد کرنا جائز نہ ہوگا جو ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر صوبائی حکومت کی طرف\nسے یا اس کے حکم سے نشر کردہ مواد کو منضبط کرتی ہوں ۔ \n(۳) ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کے بارے میں کوئی وفاقی قانون ایسا ہوگا جس سے اس\nامر کا اہتمام ہو کہ اس آرٹیکل کے مذکورہ بالا احکام کو نافذ کیا جا سکے۔\n(۴) اگر کوئی سوال پیدا ہو کہ آیا کوئی شرائط جو کسی صوبائی حکومت پر عائد کی گئی ہیں، جائز طور پر\nعائد کی گئی ہیں یا آیا کارہائے منصبی سپر د کر نے سے وفاقی حکومت کا کوئی انکار غیر معقول ہے،\nتو اس سوال کا تصفیہ کوئی ثالث کرے گا جسے چیف جسٹس پاکستان مقرر کرے گا۔\n(۵) اس آرٹیکل میں کسی امر سے یہ مراد نہیں لی جائے گی کہ اس سے پاکستان یا، اس کے کسی حصے\nکے امن یا سکون کو در پیش کسی سنگین خطرے کے انسداد کے لئے دستور کے تحت وفاقی حکومت\nکے اختیارات کی تحدید ہوتی ہے۔\n\nحصہ ششم\nمالیات، جائیداد، معاہدات اور مقدمات\nبابا۔ مالیات\nوفاق اور صوبوں کے مابین محاصل کی تف\n۱۶۰۔ (۱) یوم آغاز سے چھ ماہ کے اندر ، اور اس کے بعد ایسے وقفوں سے جو پانچ سال سے متجاوز نہ قومی مالیاتی کمیشن۔\nہوں، صدر ایک قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کرے گا جو وفاقی حکومت کے وزیر مالیات ،صوبائی\nحکومتوں کے وزرائے مالیات اور ایسے دیگر اشخاص پر مشتمل ہوگا جنہیں صدرصوبوں کے\nگورنروں سے مشورے کے بعد مقرر کرے۔\n(۲) قومی مالیاتی کمیشن کا فرض ہوگا کہ وہ صدر کو حسب ذیل کے بارے میں سفارشات پیش\nکرے ۔\n(الف) شق (۳) میں مذکور محصولات کی خالص آمدنی کی وفاق اور صوبوں کے مابین تقسیم ؛\n(ب) وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم دینا؟\n(ج) وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے قرضہ لینے کے ان اختیارات\nکا استعمال جواز روئے دستور عطاء ہوئے ہیں؛ اور\nايم\n(1) مالیات سے متعلق کوئی اور معاملہ جسے صدر نے کمیشن کو بھیجا ہو۔\n(۳) شق (۲) کے پیرا ( الف ) میں محولہ محصولات حسب ذیل محصولات ہیں جو\nکے مجلس شوری (پارلیمن) کے اختیار کے تحت وصول کئے جاتے ہیں یعنی ۔۔\nکئے\n(\nقومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کے اعلان کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۴ء غیر معمولی ، حصہ دوم، ۱۹۱ ۱۹۲۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریه ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\n(اول) آمدنی پر محصولات ، جس میں محصول کارپوریشن شامل ہے، لیکن وفاقی مجموعی\nفنڈ میں سے ادا شدہ معاوضے پر مشتمل آمدنی پر محصولات شامل نہیں ہیں ؟\n(دوم) درآمد شده، برآمد شده، پیدا کرده ، مصنوعہ یا صرف شدہ مال کی فروخت اور\nخرید پر محصول ؛ ]\n(سوم) کپاس پر برآمدی محصولات اور ایسے دوسرے برآمدی محصولات جن کی\nصراحت صدر کرے؛\n(چہارم) آبکاری کے ایسے محصولات جن کی صراحت صدر کرے؛ اور\n(پنجم) ایسے دوسرے محصولات جن کی صراحت صدر کرے۔\n(الف) قومی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ سابقہ ایوارڈ میں دیئے گئے\n(۳ب)\nسے کم نہ ہوگا۔\nوفاقی وزیر خزانہ اور صوبائی وزرائے خزانہ ایوارڈ کے تعمیل کی نگرانی کریں گے\nششماہی پرمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں اور صوبائی\nاور ہر\nاسمبلیوں کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں گے ۔\nکے سامنے اپنی\n(۴) قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات موصول ہونے کے بعد، جتنی جلد ہو سکے صدر ، فرمان\nکے ذریعے شق (۲) کے پیرا (الف) کے تحت کمیشن کی سفارشات کے مطابق شق (۳)\nمیں مذکور محاصل کی اصل آمدنی کے اس حصے کی صراحت کرے گا جو ہر صوبے کے لئے مختص\nکیا جائے گا، اور وہ حصہ متعلقہ صوبے کی حکومت کو ادا کر دیا جائے گا، اور آرٹیکل ۷۸ کے\nاحکام کے باوجود وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔ \n(۵) قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات ، ان پر کی جانے والے کارروائی کے بارے میں ایک\nوضاحتی یادداشت کے ہمراہ، دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کی\nجائیں گی۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے، اصل پیرا(دوم) کی بجائے تبدیل کیا گیا\n(نفاذ پذیر از ۱۳ ستمبر ، ۱۹۷۶ء)۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۵۹ کی رو سے نئی شقات (۳ الف) اور (سب) شامل کی گئیں ۔\nمذکورہ فرمان کے لئے دیکھئے فرمان تقسیم می اصل و امدادی رقوم ، ۱۹۷۵ء ( فرمان صدر نمبر ۲ مجریه ۱۹۷۵ء )\n\n(۱) شق (۴) کے تحت کسی فرمان کے صادر کرنے سے پہلے کسی بھی وقت صدر، فرمان کے\nذریعے ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان محاصل کی تقسیم کے بارے میں\nقانون میں کوئی ایسی ترمیم یا رد و بدل کر سکے گا جسے وہ ضروری یا قرین مصلحت سمجھے۔\n(۷) صدر، فرمان کے ذریعے امداد کے ضرورت مند صوبوں کے محاصل کے لئے امدادی رقوم\nدے سکے گا اور ایسی رقوم امدادی وفاقی مجموعی فنڈ سے واجب الادا ہوں گی۔\nآرٹیکل ۷۸ کے احکامات کے باوجود، ۔۔۔۔\n(الف) قدرتی گیس پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی خالص یافت جو اس کے اصل ماخذ پر\nعائد کی جاتی ہے اور وفاقی حکومت جمع کرتی ہے اور اس کی رائلٹی جو کہ وفاقی\nحکومت جمع کرتی ہے، وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گی اور اس صوبے کو ادا\nکی جائے گی جس میں وہ گیس کا ماخذ واقع ہے؟\n(ب) تیل پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی خالص یافت جو کہ اس کے ماخذ پر عائد کی جاتی\nہے اور وفاقی حکومت اکٹھا کرتی ہے، وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گی اور\nاس صوبے کو ادا کی جائے گی جس میں وہ تیل کا ماخذ واقع ہے۔]\n(۲) وفاقی حکومت یا کسی ایسے ادارے کی طرف سے جو وفاقی حکومت نے قائم کیا ہو یا اس\nکے زیر انتظام ہو کسی برقانی بجلی گھر سے بجلی کی تھوک مقدار میں پیداوار سے کمائے ہوئے\nاصل منافع جات اس صوبے کو ادا کر دیئے جائیں گے جس میں وہ برقابی بجلی گھر واقع ہو۔\nتشریح : اس شق کی اغراض کے لئے اصل منافع جات کا حساب، کسی برقابی بجلی\nگھر کی سنگم سلاخوں سے بجلی کی تھوک ہم رسانی سے حاصل ہونے والے محاصل میں سے\nبجلی گھر چلانے کے ایسے اخراجات منہا کر کے لگایا جائے گا، جن کی شرح کا تعین مشترکہ\nمفادات کی کونسل کرے گی ، جن میں سرمایہ کاری پر محصولات، ڈیوٹی ، سود یا\nحاصل سرمایہ کاری ، اور فرسودگی ، اور ترک استعمال کا عنصر ، اور بالائی اخراجات\nاور محفوظات کے لئے گنجائش کے طور پر واجب الا دار قوم شامل ہوں گی۔\nقدرتی گیس اور برقابی\nقوت۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء ( نمبر، ا بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۰ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n_171\n\nایسے محصولات پر جن ۱۶۲۔ کوئی ایسا بل یا ترمیم جس سے کوئی ایسا محصول یا ڈیوٹی عائد ہوتی ہو، یا تبدیل ہوتی ہو جس کی اصل میں صوبے دلچپسی\nآمدنی کلی یا جزوی طور پر کسی صوبے کو تفویض کی جاتی ہو یا جس سے زرعی آمدنی کی اصطلاح کا\nمفہوم تبدیل ہوتا ہو جو محصول آمدنی سے متعلق وضع کردہ قوانین کی اغراض کے لئے متعین کیا گیا ہے\nرکھتے ہوں، اثر انداز\nہونے والے بلوں\nکے لئے صدر کی ماقبل\nمنظوری درکار ہوگی۔\nیا جو ان اصولوں کو متاثر کرتی ہو جن پر اس باب کے مذکورہ بالا احکام میں سے کسی کے تحت رقوم\nصوبوں میں تقسیم کی جاتی ہوں یا کی جاسکتی ہوں ، صدر کی ماقبل منظوری کے بغیر نہ قومی اسمبلی میں پیش\nکی جائے گی نہ اس\nکی تحریک کی جائے گی۔\nپیشوں وغیرہ کے بارے ۱۶۳۔ کوئی صوبائی اسمبلی، ایکٹ کے ذریعے، ایسے محصولات جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] کی طرف\nسے ایکٹ کے ذریعے وقتا فوقتا مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کریں، ان اشخاص پر عائد کر سکے گی جو\nمیں صوبائی محصولات ۔\nپیشوں کا روبار کسب یا روزگار میں مصروف ہوں ، اور اس اسمبلی کے کسی ایکٹ سے آمدنی پر\nمحصول عائد کرنا متصور نہیں ہوگا۔\nمتفرق مالی احکام\nمجموعی فنڈ سے عطیات۔ ۱۶۴۔ وفاق یا کوئی صوبہ ، کسی غرض کے لئے عطیات دے سکے گا بلالحاظ اس کے کہ غرض وہ نہیں ہو جس کی بابت\nمجلس شوری ( پارلیمنٹ ) ) یا جیسی بھی صورت ہو، کوئی صوبائی اسمبلی قوانین وضع کرسکتی ہے۔\nبعض سرکاری املاک کا\nمحصول سے اسلئی۔\n(1) وفاقی حکومت پر، اس کی املاک یا آمدنی کی بابت کسی صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت کوئی\nمحصول عائد نہیں کیا جائے گا اور شق (۲) کے تابع کسی صوبائی حکومت پر ، اس کی املاک یا آمدنی\nکی بابت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ یا کسی دوسرے صوبے کی صوبائی اسمبلی کے\nایکٹ کے تحت کوئی محصول عائد نہیں کیا جائے گا۔\n(۲) اگر کسی صوبے کی حکومت کسی قسم کی تجارت یا کاروبار، اپنے صوبے سے باہر کرتی ہو، یا اس کی\nطرف سے کیا جاتا ہو، تو اس حکومت پر کسی ایسی املاک کی بابت ، جو اس تجارت یا کاروبار میں\nاستعمال کی جاتی ہو ، یا اس تجارت یا کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کی بابت\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ] کے ایکٹ کے تحت، یا جس صوبے میں وہ تجارت یا کاروبار\nکیا جاتا ہو، اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت محصول عائد کیا جا سکے گا۔\n(۳) اس آرٹیکل میں کوئی امر انجام دی گئی خدمات کی بابت فیس عائد کرنے میں مانع نہیں ہوگا۔\nبعض کارپوریشنوں وغیرہ ۱۶۵ - الف (۱) ازالہ شک کے لئے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ \" مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)) کوکسی\nکی آمدنی پر محصول عائد\nکرنے کا مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) کا اختیار۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان، ۱۹۸۵ء( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nفرمان دستور (ترمیمی) ۱۹۸۵ء (فرمان صد نمبر ۱۱ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\n↓\nوفاقی قانون یا کسی صوبائی قانون یا کسی موجودہ قانون کے ذریعے یا اس کے تحت قائم شدہ کسی کار پوریشن ،\nکمپنی یا دیگر ہئیت یا ادارے یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کے، خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ،\nزیر ملکیت یا زیر نگرانی کسی کار پوریشن، کمپنی یا دیگر بئیت یا ادارے کی آمدنی پر، مذکورہ آمدنی کی آخری\nمنزل مقصود سے قطع نظر، محصول عائد کرنے اور وصول کرنے کے لئے قانون وضع کرنے کا اختیار\nہے اور ہمیشہ سے اس اختیار کا ہونا متصور ہوگا۔\n(۲) کسی ہیئت مجاز یا شخص کی طرف سے صادر شدہ جملہ احکام، کی گئی کارروائیاں اور کئے گئے\nافعال، جو فرمان (ترمیم) دستور،۱۹۸۵ء کے آغاز نفاذ سے قبل ،شق (۱) میں محولہ کسی قانون\nسے اخذ کردہ اختیارات کے استعمال میں ، یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ\nاستعمال میں کسی ہئیت مجاز کی طرف سے صادر کردہ کسی احکام کی تعمیل میں ، صادر کئے گئے ہوں،\nکی گئی ہوں یا کئے گئے ہوں کسی عدالت یاٹر بیونل بشمول عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ،\nکے کسی فیصلے کے باوجود، جائز طور پر صادر کردہ ، کی گئی یا کئے گئے اور ہمیشہ سے جائز طور پر\nصادر کرده، کی گئی ، یا کئے گئے متصور ہوں گے اور ان پر کسی عدالت ، بشمول عدالت عظمی یا\nکسی عدالت عالیہ، میں کسی بھی بناء پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\nپر کیا\n(۳) کسی عدالت یا ٹربیونل ، بشمول عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ، کا ہر ایک فیصلہ یا حکم ، جو\nشق (۱) پاشق (۲) کے احکام کے خلاف ہو ا لعدم اور بغیر کسی بھی اثر کے ہوگا اور ہمیشہ سے\nکالعدم اور بغیر کسی بھی اثر کے متصور ہوگا ۔]\nاور\nباب ۲۔ قرض لینا و محاسبہ\nوفاق کا عاملانہ اختیار ، وفاقی مجموعی فنڈ کی ضمانت پر، ایسی حدود کے اندر، اگر کوئی ہوں، جو وفاقی حکومت کا قرض\nلے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے وقتا فوقتا مقرر کی جائیں، قرض لینے پر،\nاور اس طرح مقرر کردہ حدود کے اندر ، اگر کوئی ہوں ، ضمانتیں دینے پر ، وسعت پذیر ہوگا۔\nلینا۔\n۱۶۷ (۱) اس آرٹیکل کے احکام کے تابع ، کسی صوبے کا عاملانہ اختیار، صوبائی مجموعی فنڈ کی ضمانت صوبائی حکومت کا\nپر ایسی حدود کے اندر، اگر کوئی ہوں جو صوبائی اسمبلی کے کسی ایکٹ کے ذریعے وقتاً فوقتاً قرض لینا۔\nمقرر کی جائیں ، قرض لینے پر، اور اس طرح مقرر کردہ حدود کے اندر، اگر کوئی ہوں،\nضمانتیں دینے پر ، وسعت پذیر ہوگا۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\nاعلیٰ۔\n(۲) وفاقی حکومت، ایسی شرائط کے تابع ، اگر کوئی ہوں ، جنہیں وہ عائد کرنا مناسب سمجھے، کسی\nصوبے کو قرض دے سکے گی، جہاں تک کہ آرٹیکل ۱۶۶ کے تحت مقرر کردہ حدود سے\nتجاوز نہ ہو جائے ، ان قرضوں کے بارے میں، جو کوئی صوبہ حاصل کرے، ضمانتیں دے\nسکے گی ، اور وہ رقوم جو کسی صوبے کو قرض دینے کے لئے درکار ہوں وفاقی مجموعی فنڈ سے\nواجب الادا ہوں گی۔\n(۳) کوئی صوبہ، وفاقی حکومت کی رضامندی کے بغیر ، کوئی قرضہ حاصل نہیں کر سکے گا اگر اس\nکے ذمہ اس قرضے کا جو وفاقی حکومت کی طرف سے اس صوبے کو دیا گیا ہو، کوئی حصہ ابھی\nتک باقی ہو، یا جس کی بابت ضمانت وفاقی حکومت کی طرف سے دی گئی ہو ؟ اور اس شق\nکے تحت رضامندی ایسی شرائط کے تابع ، اگر کوئی ہوں، جنہیں عائد کرنا وفاقی حکومت\nمناسب سمجھے ، عطاء کی جا سکے گی۔\n(۴) صوبدا\nصوبہ اپنے لئے مقامی یا بین الاقوامی قرضہ اُٹھا سکتا ہے یا صوبائی مجموعی فنڈ کی سکیورٹی کی\nمذکورہ حدود کے اندر اور مذکورہ شرائط پر جس کا تعین قومی اقتصادی کونسل نے کیا ہو گارنٹی\nمحاسبه و حسابات\nپاکستان کا محاسب ۱۶۸۔ (۱) پاکستان کا ایک محاسب اعلیٰ ہوگا جس کا تقر رصدر کر\nکرے گا۔\n(۲) عہدہ سنبھالنے سے قبل، محاسب اعلی پاکستان کے چیف جسٹس کے سامنے اس عبارت\nمیں حلف اُٹھائے گا جو جدول سوم میں درج کی گئی ہے۔\n(٢)\n(۳) محاسب اعلی، تا وقتیکہ وہ شق (۵) کے مطابق پہلے ہی اپنے عہدے سے مستعفی یا ہٹایا نہ\nجا چکا ہو، وہ اپنا عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے چار سال کی مدت یا ۶۵ سال کی عمر کو پہنچنے\nتک، جو بھی پہلے ہو ، اپنے عہدے پر برقرار رہے گا۔]\n(۳) الف) محاسب اعلیٰ کی ملازمت کی دیگر شرائط مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )، کے ایکٹ کے ذریعے\nمتعین کی جائیں گی ، اور ، جب تک اس طرح متعین نہ ہوں، صدر کے فرمان کے ذریعے\nمتعین ہوں گی۔\n(۴) کوئی شخص ، جو محاسب اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکا ہو، اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد دو سال گزرنے\nسے قبل ، ملا زمت پاکستان میں مزید تقرر کا اہل نہیں ہوگا ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ا۶ کی رو سے نئی دفعہ (۴) شامل کی گئیں۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۶۲ کی رو سے شق (۳)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۶۲ کی رو سے نئی دفعہ (الف)‘ شامل کی گئی۔\n\n(۵) محاسب اعلیٰ کو اس کے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گاما سوائے ایسے طریقے سے اور ایسی وجوہ\nپر جو عدالت عظمی کے کسی جج کے لئے مقرر ہیں۔\n(1) کسی وقت جب کہ محاسب اعلیٰ کا عہدہ خالی ہو یا محاسب اعلیٰ موجود نہ ہو یا کسی وجہ سے اپنے عہدے\nکے کارہائے منصبی انجام دینے کے قابل نہ ہو، تو [ صدر محاسب اعلیٰ کے عہدے پر\nمتقدم ترین افسر کا تقرر کر سکے گا جو محاسب اعلیٰ کی حیثیت سے کام کرے گا اور\nاس عہدے کے کارہائے منصبی انجام دے گا۔\n۱۶۹۔ محاسب اعلیٰ ۔۔۔۔۔\n۔ رح\n☑\n(الف) وفاق اور صوبوں کے حسابات ؛ اور\n(ب) وفاق یا کسی صوبے کی قائم کردہ کسی بیت مجاز یا ادارے کے حسابات، کے سلسلے میں\nایسے کارہائے منصبی انجام دے گا اور ایسے اختیارات استعمال کرے گا جو مجلس شوری\n(پارلیمنٹ ) کے ایکٹ کے ذریعے یا اس کے تحت متعین کئے جائیں اور ،\n]\nجب تک اس طرح متعین نہ ہوں ، صدر کے کے فرمان کے ذریعے ہوں گے۔\n۱۷۰ (۱)) وفاق اور صوبوں کے حسابات ایسی شکل میں اور ایسے اصولوں اور طریقوں کے مطابق رکھے جائیں گے\nجنہیں محاسب اعلیٰ ، صدر کی منظوری سے ، مقرر کرے۔\n(۲) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے حسابات اور کر ، وفاقی یا\nیا\nیا\nمحاسب اعلیٰ کے کارہائے\nمنصبی اور اختیارات۔\nحسابات کے متعلق\nہدایات دینے کے\nبارے میں محاسب اعلیٰ\nصو بائی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی یا زیر نگرانی ہو، کے حسابات\nکا محاسبہ وفاقی یا کا اختیار۔\nصو بائی حکومت محاسب اعلیٰ کے ذریعے انجام دے گی ، جو کہ مذکورہ محاسبہ کی\nوسعت اور نوعیت کا تعین کرے \nرپورٹیں۔\n۱۷۱۔ وفاق کے حسابات سے متعلق محاسب اعلیٰ کی رپورٹیں صدر کو پیش کی جائیں گی جو انہیں محاسب اعلیٰ کی\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں ] کے سامنے پیش کرائے گا اور کسی\nصوبے کے حسابات سے متعلق محاسب اعلیٰ کی رپورٹیں اس صوبے کے گورنر کو پیش کی\nجائیں گی جو انہیں صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کرائے گا۔\nدستوراٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۲ کی رو سے بعض الفاظ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\nمذکورہ فرمان کے لئے دیکھئے فرمان (محاسبہ و حسابات) پاکستان ۱۹۷۳ء ( فرمان صد نمبر ۲۱ مجریه ۱۹۷۳ء)۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۳ کی رو سے دوبارہ نمبر (۱) لگایا گیا اور شق (۲) کا اضافہ کیا گیا۔\n\"\nبحوالہ میں ماقبل کی دفعہ ۶۴ کی رو سے قومی اسمبلی کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nباب ۳۔ جائیداد، معاہدات،ذمہ داریاں اور مقدمات\nلاوارث جائیداد ۔ ۱۷۲ (۱) ایسی کوئی جائیداد، جس کا کوئی جائز مالک نہ ہو، اگر کسی صوبے میں واقع ہو، تو اس صوبہ کی\nحکومت کی ، اور ہر دوسری صورت میں ، وفاقی حکومت کی ملکیت ہوگی۔\n(۲) تمام اراضیات، معدنیات، اور دوسری قیمتی اشیاء جو پاکستان کے براعظمی کنار آب کے\nاندر، یا پاکستان کے علاقائی سمندر کی حد پر سمندر کے نیچے ہوں، وفاقی حکومت کی\nملکیت ہوں گی۔\n(۳) موجودہ پابندیوں اور وجوب کے مطابق ، صوبے کے اندر معدنی تیل اور قدرتی گیس یا\nعلاقائی سمندر سے ملحق ہوں وہ اس صوبے اور وفاقی حکومت کو مشتر کہ اور مساوی طور پر\nتفویض کر دیئے جائیں گے۔]\nجائیداد حاصل کرنے ۱۷۳۔ (۱) وفاق اور کسی صوبے کا عاملانہ اختیار، متعلقہ مقننہ کے کسی ایکٹ کے تابع ، وفاقی حکومت کا\nاور معاہدات وغیرہ\nکرنے کا اختیار۔\nیا، جیسی بھی صورت ہو، کسی صوبائی حکومت کی ملکیت میں کسی جائیداد کے عطاء کرنے ،\nفروخت کرنے ، بذریعہ دستاویز منتقل کرانے یا رہن رکھنے اور اس کی طرف سے جائیداد\nدست بی یا\nکے خریدنے یا حاصل کرنے ، اور معاہدات کرنے پر وسعت پذیر ہوگا۔\n(۲) وفاق یا کسی صوبہ کی اغراض کے لئے حاصل کردہ تمام جائیداد، وفاقی حکومت یا جیسی بھی\nصورت ہو ، اس صوبائی حکومت کی ملکیت ہوگی ۔ 24\n(۳) وفاق یا کسی صوبہ کا عاملانہ اختیار استعمال کرتے ہوئے ، کئے گئے تمام معاہدات میں یہ\n\nاظہار کیا جائے گا کہ وہ صدر یا ، جیسی بھی صورت ہو، صوبہ کے گورنر کے نام سے کئے گئے\nہیں، اور مذکورہ اختیار استعمال کرتے ہوئے کئے گئے تمام معاہدات اور تکمیل کی گئی تمام\nدستاویزات جائیداد پر صدر یا گورنر کی جانب سے ایسے اشخاص دستخط کریں گے اور ایسے\nطریقے پر کئے جائیں گے جن کی وہ ہدایت کرے یا اجازت دے۔\n(۴) وفاق یا جیسی بھی صورت ہو، کسی صوبے کے عاملانہ اختیار استعمال کرتے ہوئے کئے گئے\nکسی معاہدہ یا تحمیل کرده کسی دستاویز جائیداد کے بارے میں نہ صدر اور نہ کسی صوبے کا\nگورنر ذاتی طور پر ذمہ دار ہوگا اور نہ کوئی ایسا شخص جو ان میں سے کسی کی جانب سے کوئی\nایسا معاہدہ کرے یاکسی دستاویز جائیداد کی تکمیل کرے اس سلسلے میں ذاتی طور پر ذمہ دار ہوگا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۵ کی رو سے ” کے اندر کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کی گئی ۔\n\n۱۷۴۔\n\n(۵) وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی طرف سے اراضی کے انتقال کو قانون کے ذریعے\nمنضبط کیا جائے گا۔\nوفاق کی جانب سے ، اور اس کے خلاف پاکستان کے نام سے مقدمہ دائر کیا جا سکے گا اور کسی صوبے مقدمات و\nکی جانب سے ، اور اس کے خلاف اس صوبہ کے نام سے مقدمہ دائر کیا جا سکے گا۔\nکارروائیاں۔\nایمان\n \n\n۱۷۵۔\n(1)\n(۲)\n(حصہ ہفتم)\nنظام عدالت\nباب ا۔ عدائیں\nپاکستان کی ایک عدالت عظمیٰ ، اور ہر صوبے کے لئے ایک عدالت عالیہ اور دارالحکومت اسلام آباد کے لئے عدالتوں\nکا قیام اور\nام\nایک عدالت عالیہ ] اور ایسی دوسری عدالتیں ہوں گی جو قانون کے ذریعے قائم کی جائیں گی۔ اختیار سماعت۔\nتشریح:۔ بجز اس کے کہ سیاق وسباق سے کچھ اور ظاہر ہو ، الفاظ ”عدالت عالیہ“ دستور\nمیں جہاں بھی آرہے ہوں میں ”عدالت عالیہ اسلام آباد“ شامل کر دیئے جائیں گے۔]\nکسی عدالت کو کوئی اختیار سماعت حاصل نہیں ہوگا ، ما سوائے اس کے جو دستور کی رو سے\nیا کسی قانون کی رو سے یا اس کے تحت اسے تفویض کیا گیا ہے یا کیا جائے۔\n(۳) عدلیہ کو یوم آغاز سے چودہ سال کے اندر انتظامیہ سے بتدریج علیحدہ کیا جائے گاتے ہیں\n☆\n☆\n۱۷۵۶۲۔ (الف) (۱) پاکستان کا ایک عدالتی کمیشن ہوگا، جس کا حوالہ بعد ازیں اس آرٹیکل میں بطور کمیشن دیا گیا ہے، عدالت عظمی،\nعدالت ہائے عالیہ اور وفاقی شرعی عدالت کے جوں کی تقرری کرے گا، جیسا کہ بعد از میں فراہم کیا گیا ہے۔\nعدالت عظمی کے ججوں کے تقرر کے لئے کمیشن حسب ذیل پر مشتمل ہوگا ۔۔\n()\n(اول) پاکستان کے چیف جنس\n(دوم)\n( دوم ) عدالت عظمی کے آجارا مقدم ترین بیج\n(سوم) پاکستان کی جسٹس یا جج جس\nکی\nلت عظمی کا ایک سابق چید\nکو پاکستان کا چیف جسٹس کا چار رکن جوں کی مشاورت\nسے دوسال کی مدت کے لئے نامزد کرے گا ؟\nچیئرمین\nاراکین\nعدالت عظمی عدالت ہائے عالیہ\nاور وفاقی شرعی عدالت کے\nزکن\nرُکن\n(چهارم) قانون وانصاف کے وفاقی وزیر؟\n(پنجم) پاکستان کے اٹارنی جنرل اورت ژن\nجوں کا تقرر۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۶ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور (انیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے تشریح کو تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی روسے پانچ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( تیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۷ء (نمبر ۲ بابت ۲۰۱۷ء) کی رو سے دو سالوں کے انقضاء پر ۶ /جنوری، ۲۰۱۹ء سے منسوخ شدہ\nسمجھا جائے۔\nبحوالہ معین ماقبل فقره شرطیہ اور وضاحت منسوخ شدہ سمجھی جائے گی۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۶۷ کی رو سے نیا آرٹیکل ۱۷۵ الف شامل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۱ء کی دفعہ کی رو سے \"دو\" کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(ششم) پاکستان کی عدالت عظمی کا ایک مقدم وکیل جسے پاکستان بار کونسل کی جانب\nسے دو سال کی مدت کے لئے نامزد کیا جائے گا۔\nرکن\n(۳) شق (۱) یا شق (۲) میں شامل کسی امر کے باوصف ،صدر عدالت عظمیٰ کے مقدم رکن ترین حج کا\nتقرر پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر کرے گا۔\n(۴) کمیشن اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کیے لئے قواعد وضع کرے گا۔\n(۵) عدالت عالیہ کے ججوں کے تقرر کے لئے کمیشن شق (۲) میں حسب ذیل کو بھی شامل\nکرے گا، یعنی:۔\n(اول) عدالت عالیہ کا چیف جسٹس جس کا تقرر کیا گیا ہے؟\n(دوم) اس عدالت عالیہ کا مقدم ترین جج ؛\n(سوم) صوبائی وزیر قانون ؛ اور\n(چہارم) ایک وکیل جو عدالت عالیہ میں پندرہ سال سے کم پریکٹس نہرکھتا ہو\nجسے متعلقہ بار\nکونسل دوسالہ مدت کتنے نامزد کرے:)\nرُکن\nرُکن\nرکن\nرکن\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے تقرر کے لئے پیراگراف ( دوم ) میں مذکور\nمقدم ترین بیج کمیشن کا رکن نہ ہوگا\nکارتن )\nم\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر کسی وجوہ کی بناء پر عدالت عالیہ کا چیف جسٹس دستیاب نہ ہو، تو اسے\nسابقہ چیف جسٹس یا اس عدالت کے سابقہ حج سے تبدیل کر دیا جائے گا ، جس کی نامزدگی چیف جسٹس\nپاکستان چار رکن حج صاحبان کی مشاورت سے کرے گا جوشق (۲) کے پیراگراف ( دوم ) میں مذکور ہے۔]\n(1) حالت عالیہ اسلام آباد کے ججوں کے تقرر کے لئے کمیشن شق (۲) میں حسب ذیل کو بھی\nشامل کرے گا ، یعنی:۔۔۔\nدستور (انیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ کی رو سے پیراگراف (چہارم) اور فقرہ ہائے شرطیہ تبدیل\nکیے گئے۔\n\n(اول) عدالت عالیہ اسلام آباد کا چیف جسٹس ؛ اور\n(دوم) اس عدالت عالیہ کا مقدم ترین حج\nرکن\nرکن\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس اور محولہ ] جوں کے ابتدائی تقریر کے\nلئے ، چاروں صوبائی عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس بھی کمیشن کے اراکین ہوں گے:\nمزید شرط یہ ہے کہ مذکورہ بالا فقرہ شرطیہ کے مطابق، عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس کے\nتقرر کی صورت میں شق (۵) کی دفعات کا اطلاق مناسب تبدیلیوں کے ساتھ کیا جائے گا۔\n(۷) وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کے تقرر کے لئے کمیشن شق (۲) میں وفاقی شرعی عدالت\nکے چیف جسٹس اور اس عدالت کے مقدم ترین جج کو بطور اس کے اراکین کے بھی شامل کرے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کے تقرر کے لئے ،شق (۵) کی شرائط کا\nاطلاق مناسب تبدیلیوں کے ساتھ کیا جائے گا۔\n(۸) کمیشن اپنے کل اراکین کی اکثریت سے پارلیمانی کمیٹی کے لئے ایک شخص کو بطور ،\nعدالت عظمیٰ ، عدالت عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت کی ہر ایک اسامی کے لئے نامزد کرے گا جیسی بھی صورت ہو۔\n(۹) پارلیمانی کمیٹی ، جس کا حوالہ بعد از میں اس آرٹیکل میں بطور کمیٹی کے دیا گیا ہے، حسب ذیل\nآٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی، یعنی\n:\n(اول) سینٹ سے چارا رامین ؛ اور\n(دوم) قومی اسمبلی سے چار اراکین :]\nسم مگر شرط یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے ، تو پارلیمانی کمیٹی کی تمام رکنیت\nپیراگراف (اول) میں مذکورہ صرف سینٹ کے اراکین پر مشتمل ہوگی اور اس آرٹیکل کے احکامات کا\nتغیرات مناسب اطلاق ہو گا ۔]\nدستور (انیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے فقرہ شرطیہ کو شامل کیا گیا۔\n\n(۱۰) کمیٹی کے آٹھ اراکین میں سے، چار حکومتی نشستوں، ہر ایوان سے دو اور چار حزب اختلاف، ہر\nایوان سے دو ہوں گے ، حکومتی نشستوں سے اراکین کی نامزدگی قائد ایوان اور مخالف\nبیچوں سے قائد حزب اختلاف کرے گا۔\n(۱۱) سینٹ کا سیکرٹری کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کرے گا۔\n(۱۲) کمیٹی کمیشن کی جانب سے نامزدگی موصول ہونے پر نامزدگی کی توثیق اپنی رکنیت کی\nمجموعی اکثریت سے چودہ دن کے اندر کرے گی، جس میں ناکام رہنے پر نامزدگی توثیق شدہ متصور ہوگی :\nمگر شرط یہ ہے کہ کمیٹی ، وجوہات کو قلمبند کرتے ہوئے ، مذکورہ مدت کے دوران اپنی مجموعی\nرکنیت کی تین چوتھائی اکثریت سے نامزدگی کی منظوری نہیں کر سکے گی : ]\nمزید شرط یہ ہے کہ کمیٹی اگر نامزدگی کی منظوری نہیں دیتی تو وہ اپنے فیصلے کو اس طرح وجوہات\nقلمبند کرتے ہوئے بذریعہ کمیشن وزیر اعظم کو ارسال کرے گی:\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر نامزدگی کی منظوری نہ ہو تو کمیشن ایک اور نامزدگی بھیجے گا۔ ]\n۱۳ (۱۳) کمیٹی اس کی جانب سے توثیق شدہ نامزد یا جو توثیق شدہ منصور ہو کا نام وزیر اعظم کو\nبھیجے گی، جو اس کو تقرر کے لئے صدر کو ارسال کرے گا ۔]\n(۱۴) کمیشن یا کمیٹی کی جانب سے اٹھایا گیا کوئی قدم یا کیا گیا کوئی فیصلہ باطل نہیں ہوگا یا اُس\nپر اعتراض نہیں کیا جائے گا صرف اس بناء پر کہ اس میں کوئی اسامی خالی ہے یا اس کے کسی بھی اجلاس سے\nگا\nکوئی بھی رکن غیر حاضر ہے۔\nاكتـ (۱۵) کمیٹی کے اجلاسوں کا انعقاد بند کمرے میں ہوگا اور اس کی کارروائیوں کا ریکارڈ\nايم\nبرقرار رکھا جائے گا۔ \n(۱۶) آرٹیکل ۶۸ کے احکامات کا اطلاق کمیٹی کی کارروائیوں پر نہیں ہوگا۔]\n(۱۷)] کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کر سکے گی۔]\nدستور ( انیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ (۴) کی رو سے فقرہ شرطیہ کو تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے فقرہ ہائے شرطیہ شامل کئے گئے۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے شق (۱۳)‘ کو تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی رُو سے نئی شقات (۱۵) اور (۱۲) کو شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے شق (۱۵) کوشق (۱۷) کے طور پر دوبارہ نمبر دیا گیا۔\n\nیاب ۲۔ پاکستان کی عدالت عظمی\nعدالت عظمیٰ ایک چیف جسٹس پر جسے چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا ، اور اتنے دیگر عدالت عظمی کی\nججوں پر\nر مشتمل ہو گی جن کی تعداد مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )] کے ایکٹ کے ذریعے\nمتعین کی جائے یا ، اس طرح تعین ہونے تک ، جو صدر مقرر کرے۔\nتشکیل۔\n۱۷۷) پاکستان کے چیف جسٹس اور عدالت عظمی کے دوسرے جوں میں سے ہر ایک کا تقرر عدالت عظمیٰ کے چوں\nصدر آرٹیکل ۱۷۵ الف کی مطابقت میں کرے گا۔]\n(۲) کوئی شخص عدالت عظمی کا حج مقرر نہیں کیا جائے گا ، تا وقتیکہ وہ پاکستان کا شہری نہ ہو اور ۔۔\n\n۱۷۹۔\n_.\n(الف) کم از کم پانچ سال تک یا مختلف اوقات میں اتنی مدت تک جو مجموعی طور پر پانچ\nسال سے کم نہ ہو، کسی عدالت عالیہ کا (جس میں کوئی ایسی عدالت عالیہ شامل ہے\nجو یوم آغاز سے قبل کسی وقت بھی پاکستان موجود تھی ) حج نہ رہا ہو، یا\n(ب) کم از کم پندرہ سال تک، یا مختلف اوقات میں اپنی مدت تک جو مجموعی طور پر پندرہ\nسال سے کم نہ ہو کسی عدالت عالیہ کا (جس میں کوئی ایسی عدالت عالیہ شامل ہے جو\nیوم آغاز سے قبل کسی وقت بھی پاکستان میں موجود تھی ) ایڈووکیٹ نہ رہا ہو۔\nکا تقرر۔\nعہدہ سنبھالنے سے قبل ، چیف جسٹس پاکستان ،صدر کے سامنے ، اور عدالت عظمی کا کوئی عہدے کا حلف۔\nدوسراج چیف جسٹس کے سامنے، اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم میں درج\nکی گئی ہے۔\nعدالت عظمی کا کوئی حج پینسٹھ سال\nکی عمر کو پہنچنے تک اپنے عہدہ پر فائز رہے گا ، بجز ا سکے کہ وہ فارغ الخدمت ہونے\nکی عمر۔\nقبل ازیں مستعفی ہو جائے یا اس دستور کے مطابق عبدہ سے بر طرف کر دیا جائے۔]\nکسی وقت بھی جب۔۔۔۔\n(الف) چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ خالی ہو؛ یا\nقائم مقام چیف\nجسٹس۔\n↓\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۸ کی رو سے شق (۱)‘‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nآرٹیکل ۱۷۹ ، دستور (سترہویں ترمیم ) ایک ۲۰۰۳، ( نمبر ۳ بابت ۲۰۰۳ء) کی دفعہ کی رو سے تبدیل کیا گیا جس میں قبل ازیں\nبعض وضع شدہ قوانین کی رو سے ترمیم کی گئی تھی ۔ (دیکھئے آرٹیکل ۲۶۷ب)\n\n(ب) چیف جسٹس پاکستان موجود نہ ہو یا کسی دیگر بناء پر اپنے کارہائے منصبی انجام دینے\nسے قاصر ہو،\nتو صدر عدالت عظمیٰ کے دوسرے بچوں میں سے مقدم ترین جج کو قائم مقام چیف جسٹس\nپاکستان کی حیثیت سے مقرر کرے گا۔\nقائم مقام حج ۔ ۱۸۱۔ (۱) کسی وقت بھی جو جب۔۔\nججوں\nکا وقتی طور پر\n۱۸۲۔\nبغرض خاص تقرر۔\n(الف) عدالت عظمیٰ کے کسی حج کا عہدہ خالی ہو یا\n(ب) عدالت عظمیٰ کا کوئی حج موجود نہ ہو یا کسی دیگر بناء پر اپنے کارہائے\nدینے سے قاصر ہو،\nمنصبی انجام\nتو صدر ، آرٹیکل ۱۷۷ کی شق (۱) میں مقررہ طریقے سے ، کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو جو\n\nاعظم\nعدالت عظمی کا حج مقرر کئے جانے کا اہل ہو، عارضی طور پر عدالت عظمی کے حج کی حیثیت سے کام\nکرنے پر مامور کر سکے گا۔\nتشریح : اس شق میں \" کسی عدالت عالیہ کے حج “ میں ایسا شخص شامل ہے جو کسی\nعدالت عالیہ کے جج کے طور پر فارغ خدمت ہو چکا ہو۔]\n(۲) اس آرٹیکل کے تحت تقرر اس وقت تک برقراررہے گا جب تک کہ صدر اس کو منسوخ نہ کردے۔\nاگر کسی وقت عدالت عظمی کے جوں\nکا کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس عدالت کا کوئی اجلاس\nمنعقد کرنا یا جاری رکھنا ممکن نہ رہے ، یا کسی دوسری وجہ سے یہ ضروری ہو کہ عدالت\nعظمی کے جوں کی تعداد میں عارضی طور پر اضافہ کیا جائے ، تو چیف جسٹس پاکستان ،\nجوڈیشل کمیشن کی مشاورت سے جیسا کہ آرٹیکل ۱۷۵الف کی شق (۲) میں فراہم کیا گیا\nہے، تحریری طور پر ،۔۔۔\n(الف) صدر کی منظوری سے کسی ایسے شخص کو جو اس عدالت کے جج کے عہدے پر فائز رہا\nہو اور اس کے مذکورہ عہدہ چھوڑنے کے بعد سے تین سال کا عرصہ نہ گزرا ہو ،\nدرخواست کر سکے گا یا\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے بعض الفاظ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nفرمان دستور (ترمیمی) ۱۹۸۲ء (فرمان صدر نمبر ۲ مجریه ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nدستور (انیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (ایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ۵ کی رو سے شامل کئے گئے ۔\n\n(ب) صدر کی منظوری سے اور کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کی رضا مندی سے، اس عدالت\nکے کسی ایسے حج کو جو عدالت عظمی کا حج مقرر کئے جانے کا اہل ہو ، حکم دے سکے گا ،\nکہ وہ عدالت عظمی کے اجلاسوں میں، اتنی مدت کے لئے جو ضروری ہو، بحیثیت جج بغرض خاص\nشرکت کرے اور اس طرح شریک اجلاس ہونے کے دوران، اس حج بغرض خاص کو وہی اختیار اور\nاختیار سماعت حاصل ہوگا جو عدالت عظمی کے کسی جج کو حاصل ہوتا ہے۔\n۱۸۳ (۱) شق (۳) کے تابع ، عدالت عظمیٰ کا مستقل صدر مقام اسلام آباد میں ہو گا۔\n(۲) عدالت عظمیٰ کا اجلاس وقتاً فوقتاً ایسے دوسرے مقامات پر ہو سکے گا جو چیف جسٹس عدالت عظمی کا صدر\nپاکستان ،صدر کی منظوری سے مقرر کرے۔\n(۳) جب تک اسلام آباد میں عدالت عظمی کے قیام کا انتظام نہ ہو جائے ، اس عدالت کا صدر\nمقام ایسے مقام پر ہوگا جوصدرت مقرر کرے۔\nمقام\n۱۸۴ (۱) عدالت عظمی کو به اخراج ہر دیگر عدالت کے کسی دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے درمیان کسی عدالت عظمیٰ کا\nتنازعہ کے سلسلہ میں ابتدائی اختیار سماعت حاصل ہوگا۔\nتشریح : اس شق میں حکومتوں سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مراد ہیں۔\nمیں سے مراد ہیں\n(۲) شق (۱) کی رو سے تفویض کردہ اختیار سماعت کے استعمال میں عدالت عظمیٰ صرف\nاستقراری فیصلے صادر کرے گی ۔\n(۳) آرٹیکل ۱۹۹ کے احکام پر اثر انداز ہوئے بغیر، عدالت عظمی کو، اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے بابا\nکے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی\nسوال در پیش ہے، مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔\nابتدائی اختیار سماعت۔\n۱۸۵۔ (۱) اس آرٹیکل کے تابع ، عدالت عظمیٰ کو کسی عدالت عالیہ کے صادر کردہ فیصلوں ، ڈگریوں، عدالت عظمی کا اختیار\nحتمی احکام یا سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے اور ان پر فیصلہ صادر کرنے کا سماعت مرافعہ۔\nاختیار ہوگا۔\nعدالت عظمی کے صدر مقام کے طور پر راولپنڈی کے تقرر کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۴ء حصہ دوم صفحہ ۱۳۸۷۔\n\n۱۰۵ نه\n(۲) کسی عدالت عالیہ کے صادر کردہ کسی فیصلے ، ڈگری ، حتمی حکم یا سزا کے خلاف اپیل\nعدالت عظمیٰ میں دائر کی جا سکے گی ۔۔۔\n(الف) اگر عدالت عالیہ نے اپیل پر کسی ملزم کے بری ہونے کے حکم کو بدل دیا ہو اور اسے\nسزائے موت یا جبس دوام به عبور دریائے شور یا عمر قید کی سزا دے دی ہو، یا نگرانی\nکی درخواست پر کسی سزا کو بڑھا کر مذکورہ بالا کسی سزا سے بدل دیا ہو؟ یا\n(ب) اگر عدالت عالیہ نے کسی ایسی عدالت سے جو اس کے ماتحت ہو، کسی مقدمہ کو اپنے\nروبر وسماعت کے لئے منتقل کر لیا ہو اور ایسی سماعت مقدمہ میں ملزم کو مجرم قرار دے\nدیا ہوا ور مذکورہ بالا کوئی سزا دے دی ہو ؛ یا\n(ج) اگر عدالت عالیہ نے کسی شخص پر عدالت\nعالیہ کی تو ہین کی بناء پر کوئی سزا عائد کی ہو؟\n(1) ارنس لامر نزاع کی رقم یا مالیت ابتدائی عدالت میں پچاس ہزار روپے سے کم نہ\nتھی ، اور اپیل نزاع میں بھی پچاس ہزار روپے سے، یا ایسی دوسری رقم سے، جس کی\nصراحت اس سلسلہ میں لا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کے ایکٹ کے ذریعے کی\n]-\nجائے ، کم نہ ہو اور جس فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی کے خلاف اپیل کی گئی ہو اس میں عین\nماتحت عدالت کے فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی کو بدل دیا گیا ہو یا منسوخ کر دیا گیا ہو؛ یا\nم\n(ه) اگر فیصلہ، ڈگری یا حکم حتمی میں بلا واسطہ طور پر اتنی ہی رقم یا مالیت کی جائیداد سے\nمتعلق کوئی دعوی یا امر تنقیح طلب شامل ہو اور اس فیصلے ، ڈگری یا حکم حتمی میں، جس\n کے خلاف کی گئی ہوں میں استعمال کا فیصلہ ڈگری یا حتی بدل دیا گیا\nہو یا منسوخ کر دیا گیا ہو،یا\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے۔\n\n(و) اگر عدالت عالیہ اس امر کی تصدیق کر دے کہ مقدمے میں دستور کی تعبیر کے\nبارے میں کوئی اہم قانونی مسئلہ درپیش ہے۔\n(۳) کسی ایسے مقدمے میں جس پر شق (۲) کا اطلاق نہ ہوتا ہو، کسی عدالت عالیہ کے کسی فیصلے ،\nڈگری حکم یا سزا کے خلاف عدالت عظمی میں کوئی اپیل صرف اسی وقت دائر کی جائے گی\nجب عدالت عظمی اپیل دائر کرنے کی اجازت عطاء کر دے۔\n۱۸۶ (۱) اگر کسی وقت ، صدر مناسب خیال کرے کہ کسی قانونی مسئلہ کے بارے میں جس کو وہ\nعوامی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہو، عدالت عظمی کی رائے حاصل کی جائے ، تو وہ اس مسئلے کو\nعدالت عظمیٰ کے غور کے لئے بھیج سکے گا۔\n(۲) عدالت عظمی بایں طور محولہ مسئلہ پر غور کرے گی اور صدر کو اس مسئلے کے بارے میں اپنی\nرائے سے مطلع کرے گی۔\nمشاورتی اختیار\nسماعت ۔\n١٨٦ الف عدالت عظمی، اگر وہ انصاف کے مفاد میں ایسا کرنا قرین مصلحت خیال کرے، کسی عدالت عظمیٰ کا مقدمات\nمقدمے ، اپیل یا دیگر کارروائی کو کسی عدالت عالیہ کے سامنے زیر سماعت ہو کسی دیگر منتقل کرنے کا اختیار۔\nعدالت عالیہ کو منتقل کر سکے گی ۔\n۱۸۷ (۱) آرٹیکل ۱۷۵ کی شق (۲) کے تابع ] عدالت عظمی کو اختیار ہوگا کہ وہ ایسی ہدایات ، احکام عدالت عظمی کے حکم\nیا ڈگریاں جاری کرے جو کسی ایسے مقدمہ یا معاملہ میں جو اس کے سامنے زیر سماعت ہو، ناموں کا اجراء اور\nمکمل انصاف کرنے کے لئے ضروری ہوں، ان میں کوئی ایسا حکم بھی شامل ہے جو کسی شخص\nکے حاضر کئے جانے ، یا کسی دستاویز کو برآمد کرنے یا پیش کرنے کے لئے صادر کیا جائے۔\n(۲) ایسی کوئی ہدایت ، حکم یا ڈگری ، پاکستان بھر میں قابل نفاذ ہو گی اور ، جب اس کی تعمیل کسی\nصوبہ میں، یا کسی ایسے قطعہ یا علاقہ میں کی جانی ہو جو کسی صوبہ کا حصہ نہ ہولیکن اس صوبے\nکی عدالت عالیہ کے دائرہ اختیار میں شامل ہو ، تو اس کی اسی طرح سے تعمیل کی جائے گی\nگویا کہ اس صوبہ کی عدالت عالیہ نے جاری کیا ہو۔\nتھیں۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے نیا آرٹیکل ۱۸۶۔ الف شامل کیا گیا۔\nدستور (ترمیم بینیم ) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء ( نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ سے کی رو سے تبدیل کیا گیا۔ نفاذ پذیر از۱۳ار تمبر، ۱۹۷۶ء)۔\n\nعدالت عظمیٰ کا فیصلوں\nیا احکام پر نظر ثانی کرنا۔\nعدالت عظمیٰ کے فیصلے\nدوسری عدالتوں کے\nلئے واجب التعميل\nہیں۔\nعدالت عظمی کی\nمعاونت میں عمل ۔\n_\n۱۸۹۔\n۱۹۱۔\nقواعد طریق کار۔\n(۳) اگر یہ سوال پیدا ہو جائے کہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت حکم یا ڈگری کو کونسی عدالت عالیہ نافذ\nکرے گی تو اس سوال کے بارے میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ قطعی ہوگا۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے اور عدالت عظمی کے وضع کردہ کسی قواعد\nکے احکام کے تابع ، عدالت عظمی کو اپنے صادر کردہ کسی فیصلے یا دیئے ہوئے کسی حکم پر\nنظر ثانی کرنے کا اختیار ہوگا۔\nعدالت عظمیٰ کا کوئی فیصلہ، جس حد تک کہ اس میں کسی امر قانونی کا تصفیہ کیا گیا ہو، یا وہ کسی\nاصول قانون پر مبنی ہو، یا اس کی وضاحت کرتا ہو ، پاکستان میں تمام دوسری عدالتوں کے\nلئے واجب التعمیل ہوگا۔\nپورے پاکستان کی عاملہ وعدلیہ کے تمام حکام، عدالت عظمی کی معاونت کریں گے۔\nدستور اور قانون کے تابع ، عدالت عظمیٰ ، عدالت کے معمول اور طریق کار کو منضبط کرنے\nکے لئے قواعد وضع کر سکے گی۔\nباب ۳۔ عدالت ہائے عالیہ\nعدالت عالیہ کی ۱۹۲۔ (۱) کوئی عدالت عالیہ ایک چیف جسٹس اور اتنے دیگر بچوں پرمشتمل ہوگی جن کی تعداد قانون جسٹس دیگر\nتشکیل۔\nکے ذریعے متعین کی جائے گی ، یا اس طرح متعین ہونے تک ، جو صدر مقرر کرے۔\n(۲) عدالت عالیہ سندھ و بلوچستان ، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں کے لئے مشترکہ\nعدالت عالیہ کے طور پر کام کرنا بند کر دے گی۔\n(۳) صدر قرمان کے ذریعے، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں سے ہر ایک کے لئے رس ،\nا اور فرمان میں دن رات کا کے مایہ کے صدر مقامات بیشتر کہ\nعدالت عالیہ کے ججوں کے تبادلے، دوعدالت ہائے عالیہ کے قیام سے عین قبل مشتر کہ\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\nدستور ( ترمیم پنجم ) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۸ کی رو سے اصل شقات (۲) تا (۴) کی بجائے تبدیل کی\nگئیں۔ ( نفاذ پذ یر از یکم دسمبر ۱۹۷۲ء)۔\nبلوچستان اور سندھ کے لئے عدالت ہائے عالیہ کے قیام کی نسبت مذکورہ فرمان کے لئے (دیکھئے فرمان صدر نمبر ۶ مجریہ ۱۹۷۶ء)\nمورخه ۲۹ نومبر ، ۱۹۷۶ء جریدہ پاکستان، ۱۹۷۶ء غیر معمولی،حصہ اوّل،صفحات،۵۹۵-۵۹۹۔\n\nعدالت عالیہ میں زیر سماعت مقدمات کے انتقال کے لئے اور ، عام طور پر ، مشترکہ\nعدالت عالیہ کے کام بند کرنے اور دو عدالت ہائے عالیہ کے قیام کے مستلزمہ یا ذیلی امور\nکے لئے ایسے احکام وضع کر سکے گا جو وہ موزوں سمجھے ۔]\n(۵) کسی عدالت عالیہ کے اختیار سماعت کو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] کے ایکٹ کے 1\nذریعے ، پاکستان کے کسی ایسے علاقے پر وسعت دی جا سکے گی جو کسی صوبے کا حصہ نہ ہو۔\n۱۹۳۔ (۱) عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اور دوسرے جوں میں سے ہر ایک کا تقرر صدر عدالت عالیہ کے\nآرٹیکل ۱۷۵ الف کی مطابقت میں کرے گا۔]\n(۲) کوئی شخص کسی عدالت عالیہ کا حج مقرر نہیں کیا جائے گا ، تا وقتیکہ وہ پاکستان کا شہری نہ ہو،\nکم از کم پینتالیس سال کی عمر کا نہ ہو اور ۔ ۔\n(الف) کم از کم دس سال تک یا مختلف اوقات میں اتنی مدت تک جو مجموعی طور پر دس سال\nنہ ہو، کسی عدالت عالیہ کا ایڈووکیٹ نہ رہا ہو (جس میں کوئی ایسی\nعدالت عالیہ جو یوم آغاز سے قبل کسی وقت بھی پاکستان میں موجود تھی ،شامل ہے ) یا\n(ب) وہ کسی ایسی سول ملازمت کا ، جو اس پیرے کی اغراض کے لئے قانون کی رو سے\nکا، کی رو سے\nمتعین کی گئی ہو، رکن نہ ہو، اور کم از کم دس سال کی مدت تک رکن نہ رہا ہو، اور کم از کم\nتین سال کی مدت تک پاکستان میں ضلع بیج کی حیثیت سے خدمات انجام نہ دے\nچکا ہو، یا اس کے کارہائے منصبی انجام نہ دے چکا ہو، یا\n(ج) کم از کم دس سال کی مدت تک پاکستان میں کسی عدالتی عہدہ پر فائز نہ رہ چکا ہو۔\nتشریح:۔ وہ مدت شمار کرنے میں جس کے دوران کوئی شخص عدالت عالیہ کا ایڈوکیٹ\nرہا ہو یا عدالتی عہدے پر فائز رہا ہو ، وہ مدت شامل کی جائے گی جس کے\nدوران وہ ایڈووکیٹ ہو جانے کے بعد عدالتی عہدے پر فائز رہا ہو یا ، جیسی\nبھی صورت ہو ، وہ مدت جس کے دوران وہ عدالتی عہدے پر فائز رہنے\nکے بعد ایڈووکیٹ رہا ہو۔]\nججوں کا تقرر۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۶۹ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل ” چالیس“ کی بجائے تبدیل کیا گیا اور ۲۱ اگست ۲۰۰۲ء سے ہمیشہ سے بایں طور پر تبدیل شدہ سمجھا جائے گا۔\nتشریح کا اضافہ دستور ( ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۸ کی رو سے کیا گیا ( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ۱۹۷۴ء)۔\n\nعہدے کا حلف۔\nفارغ الخدمت ہونے\nکی عمر۔\nقائم مقام چیف\nجسٹس\n۱۹۴۔\n_1901 = \"\n\n(۳) اس آرٹیکل میں ضلع حج سے ابتدائی اختیار سماعت کی حامل اعلی دیوانی عدالت کا حج مراد ہے۔\nاپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس گورنر کے سامنے ، اور عدالت\nکا کوئی دوسراج چیف جسٹس کے سامنے ، اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم\nمیں درج کی گئی ہے :]\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کا چیف جسٹس صدر کے سامنے حلف اٹھائے گا\nاور اس عدالت کے دوسرے حج عدالت عالیہ اسلام آباد کے چیف جسٹس کے سامنے حلف\nاٹھائیں گے۔]\nکسی عدالت عالیہ کا کوئی حج ۶۲ سال کی عمر کو پہنچنے تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا ، تا وقتیکہ\nوہ قبل ازیں مستعفی نہ ہو جائے یا دستور کے مطابق عہدہ سے برطرف نہ کر دیا جائے۔]\nکسی وقت بھی جبکہ۔\n(الف) کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہو؛ یا\n(ب) کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس موجود نہ ہو، یا کسی دیگر بنا ء پر اپنے عہدے کے\nکارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو،\nتو صدر چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کرنے کے لئے اس عدالت عالیہ کے دیگر جوں میں\nسے کسی کو مقرر کرے\nگا یا عدالت عظمی کے ججوں میں سے کسی سے درخواست کر سکے گا ۔ ]\nگا۔\nکسی وقت جبکہ۔۔۔\nزائد ج۔\n۱۹۷۔\n( الف ) کی عدالت عالیہ کے کسی حج کا عہدہ خالی ہو، یا\n \nدستور اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ے کی رو سے’وقف کامل‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل نیا فقرہ شرطیہ کا اضافہ کیا گیا۔\nآرٹیکل ۱۹۵ء دستور (سترہویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۰۳ء (نمبر ۳ بابت ۲۰۰۳ء) کی دفعہ ے کی رو سے تبدیل کیا گیا جس میں قبل ازیں\nبعض وضع شد و قوانین کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔ (دیکھئے آرٹیکل ۲۶۷ ب)۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے بعض الفاظ کی بجائے تبدیل کئے گئے ۔\n↓\n\n۱۹۸۔\n(ب) کسی عدالت عالیہ کا کوئی حج موجود نہ ہو یا کسی دیگر بناء پر اپنے عہدے کے\nکارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو ؛ یا\n(ج) کسی وجہ سے کسی عدالت عالیہ کے ججوں کی تعداد بڑھانا ضروری ہو،\nتو صدر آرٹیکل ۱۹۳ کی شق (۱) میں مقررہ طریقے سے کسی ایسے شخص کو جو عدالت عالیہ کا حج\nمقرر کئے جانے کا اہل ہو ، اس عدالت کے زائد جج کے طور پر اتنی مدت کے لئے مقرر\nکر سکے گا، جو صد متعین کرے، جو ایسی مدت سے ، اگر کوئی ہو، جو قانون کی رو سے مقرر کی\nجائے ، تجاوز نہ کرے۔\n(1) یوم آغاز سے عین قبل موجود، ہر عدالت عالیہ کا صدر مقام اس مقام پر رہے گا، عدالت عالیہ کا صدر\nجہاں اس کا مذکورہ مقام اس دن سے قبل موجود تھا۔\n(الف) دار الحکومت اسلام آباد کے علاقے کے لئے عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا۔]\n(۲) ہر ایک عدالت عالیہ اور جج صاحبان اور اس کی ڈویژنل عدالتیں اس کے صدر مقام پر\nاور اس کے بیچوں کے مقامات پر اجلاس کریں گی اور ، اپنے علاقائی اختیار سماعت کے اندر\nکسی مقام پر ، ایسے جوں پر مشتمل سرکٹ عدالتیں منعقد کر سکیں گی جس طرح کہ\nچیف جسٹس نامزد کرے\n۔ (۳) عدالت عالیہ لاہور کا ایک ایک پہینچ بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی میں ہوگا ؛ عدالت عالیہ\nسندھ کا ایک بینچ سکھر میں ہوگا؛ عدالت عالیہ پشاور کا ایک ایک بینچ ایبٹ آبادست ، مینگورہ ]\nاور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو گا اور عدالت عالیہ بلوچستان کا ایک بینچ سبی اور\nتربت امیں ہوگا۔ \n(۴) عدالت ہائے عالیہ میں سے ہر ایک ایسے دیگر مقامات پر بنچیں قائم کر سکے گی جس طرح کہ\nگورنر کا بینہ کی رائے سے اور عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے مشورے سے متعین کرے۔\n(۵) شق (۳) میں محولہ ، یا شق (۴) کے تحت قائم کردہ کوئی پیچ ، عدالت عالیہ کے ایسے ججوں\nپرمشتمل ہوگا جس طرح کہ چیف جسٹس کی طرف سے وقتا فوقتا کم از کم ایک سال کی مدت\nکے لئے نامزد کئے جائیں۔\nمقام\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی رو سے دوبارہ نمبر (۱) لگایا گیا اور اضافہ کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ اے کی رو سے نئی شق (۱۔ الف ) شامل کی گئی ۔\nبحوالہ میں ماقبل کی دفعہ اے کی رو سے شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\n(1) گورنر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے ساتھ مشورے سے حسب ذیل معاملات کا انتظام\nکرنے کے لئے قواعد وضع کر سکے گا ، یعنی:۔\n(الف) ایسا علاقہ تفویض کرنا جس کے تعلق سے ہر ایک بینچ عدالت عالیہ کو حاصل\nاختیار سماعت استعمال کرے گا ؛ اور\n(ب) تمام اتفاقی ضمنی اور مستلزمہ امور کے لئے ۔\nعدالت عالیہ کا 199۔ (۱) اگر کسی عدالت عالیہ کو اطمینان ہو کہ قانون میں کسی اور مناسب چارہ جوئی کا انتظام نہیں\nاختیار سماعت ۔\nہے تو وہ ، دستور کے تابع ،۔۔\n(الف) کسی فریق دادخواہ کی درخواست پر بذریعہ حکم ۔۔۔\n(اول) اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں وفاق کسی صوبے یا کسی مقام ہیئت مجاز\nکے امور کے سلسلے میں فرائض انجام دینے والے کسی شخص کو ہدایت دے سکے گی کہ\nوہ کوئی ایسا کام کرنے سے اجتناب کرے،جس کے کرنے کی اجازت اسے قانون\nنہیں دیتا ، یاوہ کوئی ایسا کام کرے جو قانون کی رو سے اس پر واجب ہے ؛یا\n(دوم) یہ اعلان کر سکے گی کہ عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں وفاق، کسی صوبے یا\nکسی مقامی بیت مجاز کے امور کے سلسلہ میں فرائض انجام دینے والے کسی شخص کی\nطرف سے کیا ہوا کوئی فعل یا کی ہوئی کوئی کارروائی قانونی اختیار کے بغیر کی گئی ہے\nاور کوئی قانونی اثر نہیں رکھتی ہے ، یا\n(ب) کسی شخص کی درخواست پر بذریعہ حکم ۔۔\n(اول) ہدایت دے سکے گی کہ اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں زیرحراست کسی\nشخص کو اس کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ عدالت ذاتی طور پر اطمینان کر سکے کہ\nاسے قانونی اختیار کے بغیر یاکسی غیر قانونی طریقے سے زیر حراست نہیں رکھا جارہا\nہے؛ یا\n\n( دوم ) کسی شخص کو ، جو اس عدالت کے علاقائی اختیار سماعت میں کسی سرکاری عہدے پر\nفائز ہو، یا جس کا فائز ہونا مترشح ہوتا ہو، حکم دے سکے گی کہ وہ ظاہر کرے کہ وہ کس\nقانونی اختیار کے تحت اس عہدے پر فائز ہونے کا دعویدار ہے؛ یا\n(ج) کسی فریق داد خواہ کی درخواست پر ، اس عدالت کے اختیار سماعت کے اندر کسی علاقے\nمیں ، یا اس علاقے کے بارے میں کسی اختیار کو استعمال کر نیوالے کسی شخص یا ہیت مجاز ،\nبشمول کسی حکومت کو ایسی ہدایات دیتے ہوئے حکم صادر کر سکے گی جو حصہ دوم کے بابا\nمیں تفویض کردہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے لئے موزوں ہوں۔\n(۲) دستور کے تابع ، حصہ دوم کے باب ا میں تفویض کر دہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے\nنفاذ کے لئے کسی عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا حق محدود نہیں کیا جائے گا۔\n(۳) شق (۱) کے تحت اس درخواست پر حکم صادر نہیں کیا جائے گا جو کسی ایسے شخص کی طرف\nسے یا اس کے بارے میں جو سح افواج پاکستان کا رکن ہو، یا جو فی الوقت مذکورہ افواج\nمیں سے کسی سے متعلق کسی قانون کے تابع ہو، اس کی شرائط ملازمت کی نسبت ، اس کی\nملا زمت سے پیدا ہونے والے کسی معاملے کی نسبت ، یا مسلح افواج پاکستان کے ایک\nرکن کے طور پر یا مذکورہ قانون کے تابع کسی شخص کے طور پر اس کے بارے میں کی گئی کسی\nمسلم\nکارروائی کی نسبت پیش کی گئی ہو ۔ ]\nایمان\n*\n*\n*\n*\n*\n(۴) جبک \n(الف) کوئی درخواست کسی عدالت عالیہ کو شق (۱) کے پیرا (الف) یا پیرا (ج) کے تحت\nکوئی حکم صادر کرنے کے لئے پیش کی جائے؛ اور\n(ب) کسی حکم عارضی کا اجراء کسی سرکاری کام کے انجام دینے میں مداخلت یا مضرت\nکے طور پر اثر انداز ہوتا ہو، یا بصورت دیگر مفاد عامہ آیا سرکاری املاک) کیلئے\nنقصان دہ ہو یا سرکاری محاصل کی وصولی یا تشخیص میں مزاحم ہونے پر منتج ہوتا ہو،\nدستور (ترمیم اول ) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ 9 کی رو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کی گئی ( نفاذ پذیر از\n۴ رمئی ۱۹۷۴ء)۔\nشقات (۳ الف)، (سب) اور (۳ ج) فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے حذف کر دی گئیں جن ر\nمیں قبل ازیں بعض وضع شدہ قوانین کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شامل کئے گئے ۔\nل-\n\nتو عدالت حکم عارضی جاری نہیں کرے گی ، تا وقتیکہ مقررہ افسر قانون کو درخواست کا نوٹس نہ دیا جا\nچکا ہو اور اس کو یا اس سلسلے میں اس کی طرف سے مجاز کردہ کسی دوسرے شخص کو سماعت کا موقع فراہم\nنہ کر دیا گیا ہواور عدالت، ایسی وجوہ کی بناء پر جوتحریری ریکارڈ کی جائیں، مطمئن نہ ہو کہ حکم عارضی۔۔\n(اول) مذکورہ بالا طور پر اثر انداز نہیں ہوگا ؛ یا\n(دوم) کسی ایسے حکم یا کارروائی کو معطل کرنے کا اثر رکھے گا جواز روئے ریکار ڈاختیار کے بغیر\nہے۔\n(الف) عدالت عالیہ کی طرف سے اسے پیش کردہ کسی ایسی درخواست پر جوکسی ہیئت مجازیا\nشخص کی طرف سے جاری\nکردہ کسی حکم کسی کاروائی یا کئے گئے کسی فعل کے جواز یا\nقانونی اثر پر اعتراض کرنے کے لیے ہو، جو جدول اوّل کے حصہ ا میں مصرحہ کسی\nقانون کے تحت جاری کیا گیا ہو، کی گئی ہو یا کیا گیا ہو یا جس کا جاری ہونا، کیا جانا یا\nکرنا مترشح ہوتا ہو یا جوسرکاری املاک یا سرکاری محاصل کی تشخیص با تحصیل سے\nمتعلق یا اس کے سلسلے میں ہو، صادر کر وہ کوئی حکم عارضی اس دن کے بعد ، جس کو وہ\nصادر کیا گیا، چھ ماہ کی مدت گزر جانے پر موثر نہیں رہے گا:\n، گزرجانے پرمویز\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت عالیہ کی طرف سے معاملہ کا قطعی فیصلہ اس تاریخ\nسے ، جس پر حکم عارضی صادر کیا جائے چھ ماہ کے اندر کر دیا جائے گا۔]\n(آب) ہر مقدمہ جس میں، ذیلی دفعہ(۱) کے تحت درخواست پر عدالت عالیہ نے کوئی\nحکم عارضی صادر کیا ہو تو عدالت عالیہ کی جانب سے چھ ماہ کے اندر میرٹ پر اس\nاریخ سے جس پر صادر کیا گیا تصفیہ کیا جائے گا، بتا وقتیکہ عدالت عالیہ کو معقول وجہ\nقلم بند کرتے ہوئے ایسا کرنے سے نہ روکا گیا ہو۔]\n(۵) اس آرٹیکل میں، بجز اس کہ سیاق وسباق سے کچھ اور ظاہر ہو، ۔۔۔\nشخص میں کوئی ہیئت سیاسی یا ہیئت اجتماعی ، وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی یا اس کے\nتحت کوئی ہیئت مجاز اور کوئی عدالت یا ٹربیونل شامل ہے، ماسوائے عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ یا\nکسی ایسی عدالت یا ٹربیونل کے جو پاکستان کی مسلح افواج سے متعلق کسی قانون کے تحت قائم کی\nگیا ہو؛ اور\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ، ( نمبر ه ا بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲ ے کی رو سے شق ( الف ) کی بجائے تبدیل کی گئی۔\nدستوراٹھارویں ترمیم ایکٹ ۲۰۱۰ء ( ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۲ کی رو سے شق (۴ ب) کو بحال کیا گیا\n\nمقررہ افسر قانون“\nझाल्य\n(الف) کسی ایسی درخواست کے سلسلے میں جو وفاقی حکومت پر ، یا وفاقی حکومت کی یا اس\nکے تحت کسی ہیئت مجاز پر اثر انداز ہوتی ہو، اٹارنی جنرل مراد ہے؛ اور\n(ب) کسی دوسری صورت میں ، اس صوبہ کا ایڈووکیٹ جنرل مراد ہے جس میں\nدرخواست دی گئی ہو۔\n-۲۰۰ (۱) صدر کسی عدالت کے کسی حج کا تبادلہ ایک عدالت عالیہ سے کسی دوسری عدالت میں کر سکے عدالت عالیہ کے جوں\nگا، لیکن کسی حج کا اس طرح تبادلہ نہیں کیا جائے گا بجز اس کی رضا مندی سے اور صدر کی کا تبادلہ۔\nطرف سے چیف جسٹس پاکستان اور دونوں عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس\nصاحبان کے مشورے سے لی آستان اور و\n*\n*\n*\n*\nتشریح : اس آرٹیکل میں بج میں کوئی چیف جسٹس شامل نہیں ہے کہ لیکن کوئی ایسا نی شامل\nہے جو فی الوقت کسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے کام کر رہا ہو ما سوائے\nعدالت عظمی کے کسی حج کے جو آرٹیکل ۱۹۶ کے پیرا (ب) کے تحت کی گئی درخواست کی ما درخواست کی\nتعمیل میں مذکورہ حیثیت سے کام کر رہا ہو ] - ]\n(۲) جبکہ کسی حج کا بایں طور تبادلہ کر دیا جائے یا اس کا حج کے عہدے کے علاوہ کسی عہدے پر\nعدالت عالیہ کے صدر مقام کے علاوہ کسی مقام پر تقرر کیا جائے ، تو وہ ، اس مدت کے\nدوران جس کے لئے وہ اس عدالت عالیہ کے بیج کے طور پر خدمت انجام دے جہاں اس\nکا تبادلہ کیا گیا ہو یا ند کورہ دیگر عہدے پر فائز ہو، اپنے مشاہرے کے علاوہ ایسے بھتوں اور\nمراعات کا مستحق ہوگا جس طرح کہ صدر، فرمان کے ذریعے متعین کرے۔]\nدستور ( ترمیم پنجم) ایکٹ ،۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۱۲ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا (نفاذ پذیر از\n۱۳ ستمبر ،۱۹۷۶ء)۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے فقرہ شرطیہ اور تشریح کا اضافہ کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳ے کی رو سے فقرہ شرطیہ کو حذف کیا گیا۔\nفرمان دستور (ترمیم سوم ) ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۲۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شق (۲) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\n(۳) اگر کسی وقت کسی وجہ سے عارضی طور پر کسی عدالت عالیہ کے جوں کی تعداد میں اضافہ\nکرنا ضروری ہو تو مذکورہ عدالت عالیہ کا چیف جسٹس کسی دوسرے عدالت کے کسی جج کو\nاتنی مدت کے لئے جو ضروری ہو، قبل الذکر عدالت عالیہ کے اجلاس میں شریک ہونے کا\nحکم دے سکے گا اور جب وہ اس عدالت عالیہ کے اجلاس میں بایں طور شریک ہوگا تو اس\nحج کو مذکورہ عدالت عالیہ کے کسی حج جیسا ہی اختیار اور اختیار سماعت حاصل ہوگا:\nمگر شرط یہ ہے کہ کسی حج کو کو بایں طور حکم نہیں دیا جائے گا بجز اس کی رضامندی سے اور\nصدر کی منظوری سے اور چیف جسٹس پاکستان اور اسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کے\nمشورے کے بعد جس کا وہ حج ہو۔]\nتشریح : اس آرٹیکل میں عدالت عالیہ میں کسی عدالت عالیہ کا کوئی بھینچ شامل ہے۔]\n*\n*\n*\n*\n*\nعدالت عالیہ کا فیصلہ ۲۰۱۔ آرٹیکل ۱۸۹ کے تابع کسی عدالت عالیہ کا کوئی فیصلہ ، جس حد تک کہ اس میں کسی امر قانونی\nماتحت عدالتوں کے لئے\nواجب التعمیل ہوگا۔\nقواعد طریق کار۔\nکا تصفیہ کیا گیا ہو یا وہ کسی اصول قانون پر مبنی ہو یا اس کی وضاحت کرتا ہو، ان تمام عدالتوں کے لئے\nواجب استعمیل ہو گا جو اس کے ماتحت ہوں ۔ ہوگا 11\n۲۰۲ دستور اور قانون کے تابع ، کوئی عدالت عالیہ اپنے ، یا اپنی کسی ماتحت عدالت کے ، معمول\nاور طریق کار کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کر سکے گی۔\nعدالت عالیہ ماتحت عدالتوں کی ۲۰۳۔ ہر عدالت عالیہ اپنی تمام ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور انضباط کرے گی۔\nباب ۳ الف۔ وفاقی شرعی عدالت\nنگرانی کرے گی۔\nاس باب کے احکام\nدستور کے دیگر احکام پر\nغالب ہوں گے۔\n۲۰۳ الف۔ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود اس باب کے احکام موثر ہوں گے ۔\nدم\nدستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ا کی رو سے شق (۳) کا اضافہ کیا گیا (نفاذ پذیراز) مئی ۱۹۷۴ء)۔\nتشریح کا اضافہ فرمان صدر نمبر ۱۳ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۳ے کی رو سے شق (۴) حذف کی گئی ۔\nفرمان دستور (ترمیمی )۱۹۸۰ء ( فرمان صد نمبرا مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے ”موجودہ باب ۳ الف“ کی بجائے تبدیل کیا\nگیا ( نفاذ پذیر از ۲۶ رمئی، ۱۹۸۰ء)۔\n\nआपके\n(الف)\n(ب)\nاس باب میں ، تا وقتیکہ کوئی امر موضوع یا سیاق و سباق کے منافی نہ ہو ۔۔۔۔\nچیف جسٹس سے عدالت کا چیف جسٹس مراد ہے؟]\nعدالت سے آرٹیکل ۲۰۳ ج کے بموجب تشکیل کردہ وفاقی شرعی عدالت مراد ہے؟\n(بب) \"حج\" سے اس عدالت کا حج مراد ہے؟]\n(ج)\n” قانون میں کوئی رسم یا رواج شامل ہے جو قانون کا اثر رکھتا ہو مگر اس میں دستور،\nمسلم شخصی قانون، کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطہ کار سے متعلق کوئی قانون یا،\nاس بات کے آغا ز نفاذ سے دس سال کی مدت گزرنے تک کوئی مالی قانونی\nیا محصولات یا فیسوں کے عائد کرنے اور جمع کرنے یا بینکاری یا بیمہ کے عمل اور\nطریقہ سے متعلق کوئی قانون شامل نہیں ہے؛ اور\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nتعریفات۔\n۲۰۳ ج ۔ (1) اس باب کی اغراض کے لئے ایک عدالت کی تشکیل کی جائے گی جو وفاقی شرعی عدالت وفاقی شرعی عدالت۔\nکے نام سے موسوم ہوگی۔\nهر (۲) عدالت چیف جسٹس اسمیت، زیادہ سے زیادہ آٹھ مسلم کے بچوں پرمشتمل ہوگی جن کا اور\nμ\nتقر ر صدر کو آرٹیکل ۱۷۵ - الف کی مطابقت میں کرے گا۔ ۔]\n،\n(۳) چیف جسٹس ایسا شخص ہو گا جو عدالت عظمی کا حج ہو، بارہ چکا ہو ، یا بنے کا اہل ہو یا جوکسی\nعدالت عالیہ کا مستقل حج رہ چکا ہو۔\n \nفرمان دستور ( ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء (فرمان صد ر نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے پیراگراف (الف)‘ کے لیے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ میں ماقبل شامل کیے گئے ۔\nفرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پانچ کی بجائے تبدیل کیے گئے جس میں قبل ازیں بعض وضع شدہ\nقوانین کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔\nفرمان صد ر نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے پیراگراف (د) حذف کر دیا گیا۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم ۱۹۸۸ ، ( فرمان صدر نمبر۷ مجریہ ۱۹۸۷ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شق (۲) کی بجائے تبدیل کئی گئی۔\nفرمان صد ر نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء کے آرٹیکل ۳ کی رو سے چیئر مین کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nبحوالہ عین ماقبل ارکان کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ے کی روسے شامل کیا گیا۔\nفرمان دستور (ترمیم سوم ) ۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۲۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۴ کی رو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کی گئی۔\n↓\nĥ\n\n(الف) ججوں میں سے زیادہ سے زیادہ چار ایسے اشخاص ہوں گے جن میں سے ہر ایک کسی\nعدالت عالیہ کا حج ہو یا رہ چکا ہو ، یا بننے کا اہل ہو اور زیادہ سے زیادہ تین علماء ہوں گے\nجو اسلامی قانون تحقیق یا تعلیم میں کم از کم پندرہ سالوں\nکا تجربہ رکھتے ہوں۔]\n(۴) چیف جسٹس ] اور کوئی سے حج ] زیادہ تین سال کی مدت کے لئے عہدے پر فائز\nرہے گا، مگر اسے ایسی مزید مدت یا مدتوں کے لئے مقرر کیا جا سکے گا جو صد متعین کرے:\nمگر شرط یہ ہے کہ جج کے طور پر کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کا تقرر\n*\n*\nنہیں کیا جائے گا ماسوائے اس کے کہ اس کی رضا مندی سے اور\nماسوائے جبکہ حج خود چیف جسٹس ہو، اس عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سے صدر\nکے مشورہ کے بعد کیا جائے۔\n(الف) چیف جسٹس ، اگر وہ عدالت عظمی کا حج نہ ہو، اور کوئی سم حج جو کسی عدالت عالیہ کا حج نہ\nو نام دستخطی\nہو ، صدر کے نام اپنی تخطی تحریر کے ذریعے، اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکے گا۔]\n(۴ب)\n(۴) ب) چیف جسٹس اور حج کو عہدے سے ہٹایا نہیں جا سکے گاما سوائے اس طریقہ کار اور ان\nوجوہات پر جیسا کہ عدالت عظمی کے بیج کو ۔ ؟\n*\n*\n*\n*\nایمان\n \nك\nدستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۴ ے کی رو سے بعض الفاظ تبدیل کیے گئے ۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء ( فرمان صدر نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے چیئر مین کی بجائے تبدیل کیے گے\nبحوالہ عین ماقبل \"ارکان \" کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ اے کی رو سے بعض الفاظ حذف کیے گئے\nدستور ( ترمیم سوم ) فرمان ،۱۹۸۵ء (فرمان صد ر نمبر ۲۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۴ کی رو سے ایک سال کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۰ء ( فرمان صدر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شامل کیے گئے۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم ) ایک ۲۰۱۰ ، ( نمبر، ابایت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ آے کی رو سے شق (آب) کی بجائے تبدیل کیا گیا جسے\nصدارتی فرمان نمبر ۴ بابت ۱۹۸۵ء کی رو سے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے حسب سابقہ شامل کیا گیا تھا\nبحوالہ معین ماقبل شقات (۴) ج) اور (۵) کو حذف کر دیا گیا۔\n\n(1) عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا، لیکن عدالت وقتا فوقتا پاکستان میں ایسے دیگر\nمقامات پر اجلاس کر سکے گی جو [ چیف جسٹس ] ،صدر کی منظوری سے، مقرر کرے۔\n(۷) عہدہ سنبھالنے سے قبل چیف جسٹس اور کوئی حج ] صدر یا اس کی طرف سے نامزد\nکردهہ کسی شخص کے سامنے اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جو جدول سوم میں درج کی گئی ہے۔\n(۸) کسی بھی وقت جب چیف جسٹس کوئی سے حج ] غیر حاضر ہو یا اپنے عہدے کے\nکارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو صدر چیف جسٹس ایا ، جیسی بھی صورت ہو ،\nجج کے طور پر کام کرنے کے لئے اس غرض کے لئے اہل کسی دوسرے شخص کا تقرر کرے گا۔\n۳ (۹) کوئی چیف جسٹس جو عدالت عظمی کا حج نہ ہو اسی مشاہرے، بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا\nجن کی عدالت عظمی کے کسی حج کے لئے اجازت ہے اور کوئی حج جو کسی عدالت عالیہ کا حج نہ\nہو اسی مشاہرے بھتوں اور مراعات کا مستحق ہوگا جن کی کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کے\nلئے اجازت ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ جبکہ کوئی حج ملازمت پاکستان میں کسی دوسرے عہدہ کے لئے پہلے ہی\nپنشن حاصل کر رہا ہو تو ، مذکورہ پنشن کی رقم اس شق کے تحت حسب قاعدہ پنشن سے منہا کر\nلی جائے گی ۔\n۲۰۳ ج ج - علماء کا چینل اور علماء ارکان فرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۱ء (فرمان صد ر نمبر۷\nمجریہ ۱۹۸۱ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے حذف کر دیا گیا جو قبل از میں فرمان صد ر نمبر ۵ مجریہ\n\n19 ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شامل کیا گیا تھا۔\n۱۲۰۳۔ (۱) عدالت، آیا تو خود اپنی تحریک پر یا ) پاکستان کے کسی شہری یا وفاقی حکومت یا کسی عدالت کے اختیارات،\nصوبائی حکومت کی درخواست پر اس سوال کا جائزہ لے سکے گی اور فیصلہ کر سکے گی کہ آیا اختیا ر سماعت اور\nکا رہائے منصبی ۔\nفرمان دستور ( ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء ( فرمان صد ر نمبر۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے چیئر مین“ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nبحوالہ معین ماقبل \"رکن\" کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ء (نمبر ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ آ ے کی رو سے شق (۹)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا اور ہمیشہ\nسے بایں طور پر تبدیل شدہ متصور ہوگا نفاذ پذیر از ۲۱ /اگست ۲۰۰۲ء۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم )۱۹۸۲ء ( فرمان صد ر نمبر ۵ مجر به ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۴ کی رو سے شامل کیے گئے۔\n\nکوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم ان اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں جس طرح کہ\nقرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ان\nکا تعین کیا گیا ہے جن کا حوالہ\nبعد ازیں اسلامی احکام کے طور پر دیا گیا ہے۔\nا الف) جبکہ عدالت شق (۱) کے تحت کسی قانون یا قانون کے کسی حکم کا جائزہ لینا شروع\nکرے اور اسے ایسا قانون یا قانون کا حکم اسلامی احکام کے منافی معلوم ہو،\n***\nتو عدالت ایسے قانون کی صورت میں جو وفاقی فہرست قانون سازی کے ... میں\nشامل معاملے سے متعلق ہو وفاقی حکومت کو یا کسی ایسے معاملے سے متعلق\nجو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں ] شامل نہ ہو ،صوبائی حکومت کو ، ایک\nنوٹس دینے کا حکم دے گی جس میں ان خاص احکام کی صراحت کی جائے گی جو\nاسے بایں طور منافی معلوم ہوں اور مذکورہ حکومت کو ، اپنا نقطۂ نظر عدالت کے\nسامنے پیش کرنے کے لئے مناسب موقع دے گی ۔\n(۲) اگر عدالت فیصلہ کرے کہ کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام کے منافی ہے تو وہ\nاپنے فیصلے میں بحسب ذیل بیان کرے گی:۔\n(الف) اس کے مذکورہ رائے قائم کرنے کی وجوہ؛ اور\nیمان\n(ب) وہ حد جس تک وہ قانون یا حکم بایں طور منافی ہے؟\nاور اس تاریخ کی صراحت کرے گی جس پر وہ فیصلہ موثر ہوگا \nمگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ ، اس میعاد کے گزرنے سے پہلے جس کے اندر\nعدالت عظمی میں اس کے خلاف اپیل داخل ہو سکتی ہو یا ، جبکہ اپیل بایں طور پر داخل کر دی گئی\nہو تو اس اپیل کے فیصلہ سے پہلے موثر نہیں ہوگا۔]\nفرمان دستور (ترمیمی) ۱۹۸۴ء ( فرمان صدر نمبر ا مجریہ ۱۹۸۴ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۷۵ کی رو سے الفاظ یا مشتر کہ فہرست قانون سازی“ کو حذف\nکیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل الفاظ ان فہرستوں میں سے کسی ایک میں تھی \" کو تبدیل کیا گیا۔\nفرمان دستور ( ترمیمی )۱۹۸۴ء (فرمان صد نمبرا مجریہ ۱۹۸۴ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل اور فقرہ شرطیہ کا\nاضافہ کیا گیا اور ہمیشہ سے بایں طور تبدیل شدہ اور اضافہ شدہ متصور ہوگا۔\n\n(۳) اگر عدالت کی طرف سے کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام کے منافی قرار دے\nدیا جائے تو ، ۔۔\n(الف) وفاقی فهرست قانون سازی کے\n*\n* میں شامل کسی امر کے\nسلسلے میں کسی قانون کی صورت میں صدر یا کسی ایسے امر کے سلسلے میں مذکورہ فہرست )\nمیں سے کسی میں بھی شامل نہ ہو کسی قانون کی صورت میں گورنر ، اس قانون میں\nترمیم کرنے کے لئے اقدام کرے گا تا کہ مذکورہ قانون یا حکم کو اسلامی احکام\nکے مطابق بنایا جائے؛ اور\n(ب) مذکورہ قانون یا حکم ، اس حد تک جس حد تک اسے بایں طور منافی قرار دے دیا\nجائے ، اس تاریخ سے جب عدالت کا فیصلہ اثر پذیر ہو، موثر نہیں رہے گا۔\n*\n*\n*\n*\n*\nعدالت کا اختیار\nسماعت نگرانی اور دیگر\n۲۰۳ رد (۱) عدالت حدود کے نفاذ سے متعلق کسی قانون کے تحت کسی فوجداری عدالت کی طرف اختیار سماعت ۔\nسے فیصلہ شدہ کسی مقدمے کا ریکارڈ اس غرض سے طلب کر سکے گی اور اس کا جائزہ لے\nسکے گی کہ مذکورہ عدالت کے قلمبند کردہ یا صادر کردہ کسی نتیجہ تفتیش حکم سزا یا حکم کی صحت ،\nقانونی جواز یا معقولیت کے بارے میں، اور اس کی کسی قانونی کارروائی کی باضابطگی کے\nبارے میں اپنا اطمینان کر سکے اور مذکورہ ریکارڈ طلب کرتے وقت یہ ہدایت دے سکے گی\nکہ جب تک اس ریکارڈ کا جائزہ نہ لے لیا جائے کسی حکم سزا کی تعمیل روک دی جائے اور ،\nاگر ملزم زیر رات ہوتی، اس کو ضمانت پر یا اس کے پنے ملک پر با کر دیاجا۔\nردیا جائے۔\n(۲) کسی ایسے مقدمے میں جس کا ریکارڈ عدالت نے طلب کیا ہو، عدالت ایسا حکم صادر کر\nسکے گی جو وہ مناسب خیال کرے اور سزا میں اضافہ کر سکے گی :\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجے میں الفاظ یا مشتر کہ فہرست قانون سازی“ کا حذف برقرار\nرہے گا، دیکھے دفعہ ۲۔\nبحوالہ عین ما قبل ” جوان فہرستوں میں سے“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان دستور ( ترمیم دوم ) ۱۹۸۰ء ( فرمان نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے شق (۴) حذف کی دی گئی۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم (۱۹۸۲ء (فرمان صد نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۵ کی رو سے آرٹیکل ۲۰۳ در‘ کی بجائے تبدیل کر دیا\nگیا جو قبل از میں فرمان صد ر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۰ء کے آرٹیکل ۳ کی رو سے شامل کیا گیا تھا۔\n\nمگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں کسی امر سے عدالت کو کسی تجویز بریت کو تجویز سزایابی\nمیں بدلنے کا مجاز کرنا متصور نہیں ہوگا اور اس آرٹیکل کے تحت کوئی حکم ملزم کی مضرت میں\nصادر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ اسے خود اپنی صفائی میں سماعت کا موقع فراہم نہ کر دیا جائے۔\n(۳) عدالت کو ایسا دیگر اختیار سماعت حاصل ہو گا جو اسے کسی قانون کے ذریعے یا اس کے تحت\nتفویض کر دیا جائے ۔]\nعدالت کے اختیارات ۵۲۰۳ (۱) اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی کی اغراض کیلئے ، عدالت کو حسب ذیل امور کی نسبت\nمجموعہ ضابطہ دیوانی ، ۱۹۰۸ء (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۹۰۸ء) کے تحت کسی مقدمہ کی سماعت\nاور ضابطہ کار۔\nکرنے والی کسی عدالت دیوانی کے اختیارات حاصل ہوں گے، یعنی:۔\n(الف) کسی شخص کو طلب کرنا اور اس کی حاضری نافذ کرنا اور اس کا حلفاً بیان لینا ؛\n(ب) کسی دستاویز کے انکشاف اور پیش سازی کا حکم دینا؛\n(ج) بیانات حلفی پر شہادت لینا ؛ اور\n(,)\nگواہوں یا دستا ویزات کے اظہار کے لئے کمیشن کا اجراء کرنا۔\n(۲) عدالت کو ہر لحاظ سے ایسی کارروائی کا اہتمام کرنے اور اپنے طریقہ کار کو مضبط کرنے کا\nاختیار ہوگا جیسا کہ وہ مناسب خیال کرے۔\n۔ (۳) عدالت کو خود اپنی توہین کی سزا دینے کیلئے عدالت عالیہ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔\n(۴) آرٹیکل ۲۰۳ د کی شق (۱) کے تحت عدالت کے سامنے کسی کارروائی کے کسی فریق کی\nنمائندگی کوئی ایسا قانون پیشہ شخص جو مسلمان ہو اور کم از کم پانچ سال کی مدت کے لئے کسی\nعدالت عالیہ کے ایڈووکیٹ کے طور پر یا عدالت عظمی کے ایڈووکیٹ کے طور پر درج\nفہرست رہ چکا ہو یا کوئی ایسا ماہر قانون کر سکے گا جسے اس غرض کے لئے عدالت کی طرف\nسے مرتب شدہ ماہرین قانون کی فہرست میں سے اس فریق نے منتخب کیا ہو۔\n\n(۵) شق (۴) میں محولہ ماہرین قانون کی فہرست میں اپنا نام درج کرائے جانے کا اہل ہونے\nکے لئے کوئی شخص ایسا عالم ہوگا جسے عدالت کی رائے میں ، شریعت پر عبور حاصل ہو۔\n(۶) عدالت کے سامنے کسی فریق کی نمائندگی کرنے والا کوئی قانون پیش شخص یا ماہر قانون اس\nفریق کی وکالت نہیں کرے گا بلکہ کارروائی سے متعلق اسلامی احکام کو جس حد تک اس کو ان\nکا علم ہو ، بیان کرے گا ، ان کی تشریح اور توضیح کرے گا ، اور مذکورہ اسلامی احکام کی مذکورہ\nتوضیح پر مبنی تحریری بیان عدالت کو پیش کرے گا۔\n(۷) عدالت پاکستان یا بیرون ملک سے کسی شخص کو جسے عدالت اسلامی قانون کا ماہر خیال کرتی\nہواپنے سامنے پیش ہونے اور ایسی اعانت کرنے کے لئے مدعو کر سکے گی جو اس سے\nطلب کی جائے۔\nکلاه\n(۸) آرٹیکل ۱۲۰۳) کے تحت عدالت کو پیش کی جانے والی کسی عرضی یا درخواست کی نسبت\nکوئی رسوم عدالت واجب الا دانہیں ہوں گی ۔\n(۹) عدالت کو اپنے دیئے ہوئے کسی فیصلے یا صادر کر وہ کسی حکم پر نظر ثانی کا اختیار ہوگا۔] کردہ\n۲۰۳ و (۱) آرٹیکل ۲۰۳ د کے تحت عدالت کے سامنے کسی کارروائی کا کوئی فریق جو مذکورہ کا رروائی میں عدالت عظمی کو اپیل۔\nعدالت کے قطعی فیصلہ سے ناراض ہو، مذکورہ فیصلہ سے ساتھ یوم کے اندر، عدالت عظمی\nمیں اپیل داخل کر سکے گا :)\nمگر شرط یہ ہے کہ وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے اپیل مذکورہ فیصلے سے چھ ماہ کے\nاندر داخل کی جاسکے گی۔]\n(۲) آرٹیکل ۲۰۳ د کی شقات (۲) اور (۳) اور آرٹیکل ۲۰۳ہ کی شقات (۴) تا (۸) کے\nفرمان دستور ( ترمیم دوم )۱۹۸۰ء ( فرمان صدر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۵ کی رو سے اس آرٹیکل کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nفرمان دستور (ترمیمی) ۱۹۸۱ء (فرمان صد نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۱ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے نئی شق (۹) کا اضافہ کیا گیا۔\nفرمان دستور (ترمیم سوم ) ۱۹۸۳ء ( فرمان صد نمبر ۹ مجریہ ۱۹۸۳ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل اور فقرہ شرطیہ کا\nاضافہ کیا گیا۔\n\nاحکام کا عدالت عظمی پر اور اس کے سلسلے میں اس طرح اطلاق ہوگا گویا کہ ان احکام میں\nعدالت کا حوالہ عدالت عظمی کا حوالہ ہو۔۔۔۔۔\n(الف) وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے، حکم قطعی یا سزا کے خلاف کوئی اپیل عدالت عظمیٰ میں\n(۳)\nقابل سماعت ہوگی۔۔\n(الف) اگر وفاقی شرعی عدالت نے اپیل پر کسی ملزم شخص کا کوئی حکم بر بیت منسوخ کر\nدیا ہو اور اسے سزائے موت یا عمر قید یا چودہ سال سے زائد مدت کے لئے\nسزائے قید دی ہو ، یا نظر ثانی پر ، مذکورہ بالا طور پر کسی سزا میں اضافہ کر دیا ہو؟ یا\n(ب) اگر وفاقی شرعی عدالت نے کسی شخص کو تو ہین عدالت پر کوئی سزا دی ہو۔\n(۲- ب) کسی ایسے مقدمہ میں جس پر ماقبل شقات کا اطلاق نہ ہوتا ہو، وفاقی شرعی عدالت\nکی کسی تجویز، فیصلے حکم یا سزا کے خلاف کوئی اپیل عدالت عظمی میں صرف اس وقت\nسزا\nقابل سماعت ہوگی جب عدالت معظمی اپیل کی اجازت عطاء کرے۔]\nاس آرٹیکل کی رو سے تفویض کردہ اختیار سماعت کے استعمال کی غرض کے لئے ،\nعدالت عظمی میں ایک بینچ تشکیل دیا جائے گا جو شریعت مرافعہ بیچ کے نام سے موسوم ہوگا\nاور حسب ذیل پر ستمل ہوگا۔۔۔\n(الف) عدالت عظمی کے تین مسلمان حج ؛ اور\n(ب) وفاقی شرعی عدالت کے جوں میں سے یا علماء کی ایسی فہرست میں سے جسے صدر\nچیف جسٹس کے مشورے سے مرتب کرے گا زیادہ سے زیادہ دو علماء جنہیں صدر\n بینچ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے بطور ارکان بغرض خاص مقرر کرے گا۔\n(۴) شق (۳) کے پیرا (ب) کے تحت مقرر شدہ کوئی شخص ایسی مدت کے لئے عہدہ پر فائز\nرہے گا جس طرح کہ صدر متعین کرے۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء ( فرمان صدر نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل کی رو سے نئی شقات (۲ الف) اور ( ۲ ب ) شامل کی گئیں۔\nفرمان دستور ( ترمیم سوم ) ۱۹۸۲ء ( فرمان صد ر نمبر۱۲ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شق (۳)‘ کی بجائے تبدیل کی گئی۔\n\nè\n\n(۵) شقات (۱) اور (۲) میں ”عدالت عظمی کے حوالے سے شریعت مرافعہ بینچ کے حوالہ کا\nمفہوم لیا جائے گا۔\n(1) شریعت مرافعہ بینچ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے ،شق (۳) کے پیرا (ب) کے تحت\nمقرر شدہ کسی شخص کو وہی اختیار اور اختیار سماعت حاصل ہوگا ، اور انہی مراعات کا مستحق ہو\nگا جو عدالت عظمیٰ کے کسی حج کو حاصل ہیں اور اسے ایسے بھتے ادا کئے جائیں گے جس\nطرح کہ صدر متعین کرے۔]\nبجز جیسا کہ دفعہ ۲۰۳ و میں مقرر کیا گیا ہے، کوئی عدالت یا ٹربیونل ، بشمول عدالت عظمیٰ اور اختیار سماعت پر\nکوئی عدالت عالیہ کسی ایسے معاملہ کی نیت کی کاروائی پر غور نہیں کرے گی یاکسی اختیار یا پابندی۔\nاختیار سماعت کا استعمال نہیں کرے گی جو عدالت کے اختیار یا اختیار سماعت میں ہو۔\nعدالت کا فیصلہ عدالت عالیہ\n۲۰۳ زز۔ آرٹیکل ۲۰۳ اور ۲۰۳ ۔ و کے تابع ، اس باب کے تحت اپنے اختیار سماعت کے استعمال ۲۰۲ اور ، کے اپنے\nمیں عدالت کا کوئی فیصلہ کسی عدالت عالیہ پر اور کسی عدالت عالیہ کی ماتحت تمام عدالتوں اور اس کے ماتحت عدالتوں\nکے لئے واجب التعمیل ہوگا۔\nکے لئے واجب التعمیل ہوگا ۔]\n۲۰۳ ۔ (۱) شق (۲) کے تابع ، اس باب میں کسی امر سے کسی ایسے کارروائی کو جو اس باب کے زیر ماعت کا رہائیاں ح\n، اسباب میں ام جہاں اب\nآغاز نفاذ سے فوراً قبل کسی عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت ہو ، یا اس کی ابتداء مذکورہ\nآغاز نفاذ کے بعد ہوئی ہو، صرف اس وجہ سے ملتوی یا موقوف کر دینا مطلوب متصور نہیں\n\nہو گا کہ عدالت کو اس امر کا فیصلہ کرے فرمان ہے کہ ایا مذکورہ کارروائی میں\nام تنقیح طلب کے فیصلے سے متعلق کوئی قانون یا قانون کا کوئی حکم اسلامی احکام کے منافی\nہے یا نہیں ؟ اور ایسی تمام کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان میں امر تنقیح طلب کا فیصلہ\nفى الوقت نافذ العمل قانون کی مطابقت میں کیا جائے گا۔\nوغیرہ جاری رہیں گی۔\nفرمان دستور ( ترمیم دوم )۱۹۸۲ء ( فرمان صد نمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکلے کی رو سے نیا آرٹیکل ۲۰۳ ز زشامل کیا گیا۔\n\n(۲) دستور کے آرٹیکل ۲۰۳ ب کی شق (۱) کے تحت ایسی تمام کارروائیاں جو اس باب کے\nآغا ز نفاذ سے فورا قبل کسی عدالت عالیہ میں زیر سماعت تھیں اس عدالت کو منتقل ہو جائیں\nگی اور یہ عدالت اس مرحلے سے کارروائی کرے گی جس سے وہ بایں طور منتقل کی گئی\nہوں ۔\n(۳) اس باب کے تحت اپنا اختیار سماعت استعمال کرتے وقت نہ اس عدالت کو اور نہ ہی\nعدالت عظمی کو کسی دوسری عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت کسی کارروائی کے سلسلے میں حکم\nامتناعی عطاء کرنے یا کوئی عبوری حکم جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔\nانتظامی اقدامات، وغیرہ] فرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء ( فرمان صدر نمبر ۵ مجریه\n۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۸ کی رو سے حذف کر دی گئی ۔\nقواعد وضع کرنے کا -۲۰۳ی (۱) عدالت ، سرکاری جریدہ میں اعلان کے ذریعہ ، اس باب کی اغراض کی بجا آوری\nکے لئے قواعد وضع کر سکے گی۔\nاختیار۔\n(۲) بالخصوص ، اور قبل الذکر اختیار کی عمومیت کو متاثر کئے بغیر ، مذکورہ قواعد میں مندرجہ ذیل\nجملہ معاملات یا ان میں سے کسی کی بابت حکم وضع کیا جا سکے گا، یعنی :-\n۔ (الف) ماہرین قانون ، ماہرین اور گواہوں کو جنہیں عدالت کی طرف سے طلب کیا گیا ہو ،\nایسے اخراجات اٹھانے کیلئے ، اگر کوئی ہوں ، اعزازیہ کی ادائیگی کے پیمانے ، جو\n(الف) ماہرین قانون، ماہر کے ، ادائیگی کے بیانی\nانہیں عدالت کے سامنے کارروائی کی اغراض کے لئے پیش ہونے میں برداشت\nکرنے پڑے ہوں بل*\n(ب) عدالت کے سامنے پیش ہونے والے ماہر قانون ، ما ہر یا گواہ سے لئے جانے\nوالے حلف کی شکل :\n(ج) عدالت کے اختیارات اور کارہائے منصبی جو چیف جسٹس کی تشکیل کردہ ایک یا زیادہ\nججوں پر مشتمل بینچوں کی طرف سے استعمال کئے جار ہے ہوں یا انجام دیئے\nجا رہے ہوں ؛\nفرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۰ء ( فرمان صد نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۶ کی رو سے لفظ ”اور حذف کر دیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nپیراگراف ( ج ) ، (د) اور (ه) فرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۰ء (فرمان صد نمبر ۴ مجریه ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل 4 کی رو سے اضافہ کئے گئے۔\n\n(1) عدالت کا فیصلہ جو اس کے جوں یا جیسی بھی صورت ہو، کسی بینچ میں شامل ججوں کی\nاکثریت کی رائے کی صورت میں سنایا جا رہا ہو؛ اور\n(ه) ان مقدمات کا فیصلہ جن میں کسی بینچ میں شامل جوں کی آراء مساوی ہوں ۔]\n(۳) جب تک شق (۱) کے تحت قواعد وضع نہ کر لئے جائیں، اعلیٰ عدالتوں کی شرعی بنچوں کے\nقواعد ، ۱۹۷۹ ، ضروری ترمیمات کے ساتھ اور جس حد تک وہ اس باب کے احکام سے\nمتناقض نہ ہوں، بدستور نافذ العمل رہیں گے۔\nایمان\n\nباب - ۴۔ نظام عدالت کی بابت عام احکام\nتوہین عدالت ۔ -۲۰۴ (۱) اس آرٹیکل میں عدالت سے عدالت عظمی یا کوئی عدالت عالیہ مراد ہے.\n(۲) کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا جو ۔۔۔۔۔۔\nججوں کا مشاہرہ\nوغیرہ۔\nستعفی۔\n\n(الف) عدالت کی قانونی کارروائی کی کسی طرح مذمت کرے، اس میں مداخلت\nیا مزاحمت کرے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرے؛\n(ب) عدالت کو بدنام کرے، یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرے جو اس عدالت یا عدالت\nکے جج کے بارے میں نفرت تضحیک یا تو ہین کا باعث ہو؟\n(ج) کوئی ایسا فعل کرے جس سے عدالت کے سامنے زیر سماعت کسی معاملے کا فیصلہ\nکرنے پر مضراثر پڑنے کا احتمال ہو؛ یا\nطاط\n(1) کوئی ایسا دوسر افعل کرے جو از روئے قانون توہین عدالت کا موجب ہو ۔\n(۳) اس آرٹیکل کی رو سے کسی عدالت کو عطاء کردہ اختیار قانون کے ذریعے اور قانون کے تابع ،\nعدالت کے وضع کردہ قواعد کے ذریعے منضبط کیا جا سکے گا۔]\nعدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ سے کسی حج کا مشاہرہ اور دوسری شرائط ملازمت وہ\nہوں گی جو جدول پنجم میں مذکور ہیں۔\n۲۰- ۳ (۱) عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی بی صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے\nعہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔\n(۲) کسی عدالت عالیہ کا کوئی حج جو عدالت عظمیٰ کے حج کی حیثیت سے تقر ر قبول نہ کرے اپنے\nعہدے سے فارغ الخدمت متصور ہوگا اور ، ایسی فارغ الخدمتی پر پنشن وصول کرنے کا\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲ ور جدول سے آرٹیکل ۲۰۴ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ کی رو سے آرٹیکل ۲۰۶ پر اس آرٹیکل کی شق (۱) کے طور پر\nدوبارہ نمبر لگایا گیا (نفاذ پذیر از ۳ ار ستمبر، ۱۹۷۶ء)۔\nبحوالہ میں ماقبل نئی شق (۲) کا اضافہ کیا گیا۔\n\nحقدار ہوگا جس کا شمار جج کے طور پر اس کے عرصہ ملازمت اور ملازمت پاکستان میں کل\nملازمت کی ،اگر کوئی ہو، بنیا د کیا جائے گا۔]\n۲۰۷ (۱) عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج ۔۔۔\nحج کسی منفعت بخش\n(الف) ملازمت پاکستان میں کوئی دیگر منفعت بخش عہدہ نہیں سنبھالے گا اگر اس کی وجہ عہدہ وغیرہ پر فائز نہیں\nسے اس کے مشاہرہ میں اضافہ ہو جائے ؛ یا\n(ب) کسی دوسرے منصب پر فائز نہیں ہوگا جس میں خدمات انجام دینے کے عوض تنخواہ\nدوسرے منصب پرفائز ہوگا خدمات دینے کے عوض\nوصول کرنے کا حق ہو۔\n(۲) کوئی شخص جو عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے جج کے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، اس عہدہ کو\nچھوڑنے کے بعد دو سال گزرنے سے قبل، ملازمت پاکستان میں کوئی منفعت بخش عہدہ\nجو عدالتی یا نیم عدالتی عہدہ یا چیف الیکشن کمشنر یا قانون کمیشن کے چیئر مین یا رکن ، یا اسلامی\nنظریاتی کونسل کے چیئر مین یار کن کا عہدہ نہ ہو نہیں سنبھالے گا۔\n(۳) کوئی شخص ۔\n(الف) جو عدالت عظمی کے مستقل حج کی حیثیت سے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو، پاکستان میں\nجو\nکسی عدالت یا کسی ہیئت مجاز کے روبر دوکالت یا کام نہیں کرے گا ؟\nسے عہدے پر فائز رہ چکا ہو، اس کے\n(ب) جو سی عدالت عالیہ کے مستقل حج کی حیثیت\nدائرہ اختیار کے اندر کسی عدالت یا کسی ہیئت مجاز کے رویر و وکالت یا کام نہیں کرے گا؛ اور\n(ج) جو عدالت عالیہ مغربی پاکستان کے ، جس طرح کہ وہ فرمان ( تنسیخ ) صوبہ\n مغربی پاکستان ، ۱۹۷۰ء کے نفاذ سے عین قبل موجود تھی مستقل حج کے عہدہ پر\nفائز رہ چکا ہو اس عدالت کے صدر مقام یا جیسی بھی صورت ہو، اس عدالت عالیہ\nکی مستقل بینچ کے، جس میں وہ مقرر کیا گیا تھا، دائرہ اختیار کے اندر کسی عدالت یا\nسی ہیئت مجاز کے روبر و وکالت یا کام نہیں کرے گا۔\nہوگا۔\n\nعدالتوں کے عہد یدار\nاور ملازمین۔\nعدالت عظمی اور وفاقی شرعی عدالت ،صدر کی منظوری سے اور کوئی عدالت عالیہ، متعلقہ\nگورنر کی منظوری سے ، عدالت کے عہدیداروں اور ملازمین کے تقرر اور ان کی شرائط\nملازمت کے بارے میں قواعد وضع کر سکے گی۔\nاعلیٰ عدالتی کونسل ۔ ۲۰۹ (۱) پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالتی کونسل ہوگی جس کا حوالہ اس باب میں کونسل کے طور پر دیا گیا\n(۲) کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگی۔۔۔\n(الف) چیف جسٹس پاکستان؛\n(ب) عدالت عظمی کے دو مقدم ترین حج ؛ اور\n(ج) عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹس۔\nتشریح: اس شق کی عمال کر چیف جسٹس صاحبان\nکا باہم دیگر\nکے لئے عدالت\nتقدم چیف جسٹس کے طور پر کم بجز بحیثیت قائم مقام چیف جسٹس ] ان کے\nتقرر کی تاریخوں کے حوالہ سے اور اگر ایسے تقریر کی تاریخیں ایک ہی ہوں،\nتو کسی عدالت عالیہ میں جوں کے طور پر ان کے تقرر کی تاریخوں کے\nحوالے سے متعین کیا جائیگا۔\n(۳) اگر کسی وقت کو نسل کسی ایسے حج کی اہمیت یا طرز عمل کی تحقیقات کر رہی ہو جو کونسل کا رکن اگر\nہو، یا کونسل کا کوئی رکن حاضر نہ ہو یا بوجہ علالت یا کسی دوسری وجہ سے کام کرنے کے قابل\nنہ ہوتو ۔۔۔\n(الف) اگر ایسار کن عدالت عظمی کا حج ہو، تو عدالت عظمی کا وہ حج جوشق (۲) کے پیرا (ب)\nمیں محولہ جوں کے بعد مقدم ترین ہو؛ اور\nفرمان دستور (ترمیم دوم ) ۱۹۸۲ء (فرمان صدرنمبر ۵ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل 9 کی رو سے شامل کئے گئے ۔\nدستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کئے گئے ( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ۱۹۷۴ء ) ۔\n\n(ب) اگر ایسار کن کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس ہو، تو کسی دوسری عدالت عالیہ کا وہ\nچیف جسٹس جو باقی عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس صاحبان سے مقدم ترین ہو،\nاس کی بجائے کونسل کے رکن کی حیثیت سے کام کرے گا۔\n(۴) اگر کسی ایسے معاملے پر جس کی تحقیق کونسل نے کی ہو، اس کے ارکان میں کوئی اختلاف\nرائے ہو، تو اکثریت کی رائے غالب رہے گی اور صدر کوکونسل کی رپورٹ اکثریت کے\nنقطہ نظر کے اعتبار سے پیش کی جائے گی۔\n(۵) اگر کسی ذریعے سے اطلاع ملنے پر ، کونسل یا صدر کی یہ رائے ہو کہ عدالت عظمی یا کسی\nعدالت عالیہ کا کوئی جج ۔۔۔\n(الف) جسمانی یا دماغی معذوری کی وجوہ سے اپنے عہدے کے فرائض منصبی کے مناسب\nانجام دہی کے قابل نہ رہا ہو؛ یا\n(ب) بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو،\nتو صدر کونسل کو ہدایت کرے گا، یا کونسل ، خود اپنی تحریک پر معاملے کی تحقیقات کر سکے گی ۔]\n(1) اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کور پورٹ پیش کرنے کہ اس کی رائے یہ ہے۔۔۔\n(الف) کہ وہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے ناقابل ہے یا بد عنوانی کا\nمرتکب ہوا ہے؛ اور\n(ب) کہ اسے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے،\nتو صدر اس حج کو عہدے سے برطرف کر سکے گا۔\n(۷) عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کو ، بجر جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا\nہے،عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔\n(۸) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی ، جس کو عدالت عظمی اور عدالت ہائے عالیہ کے\nج ملحوظ رکھیں گے۔\nکونسل کا اشخاص وغیرہ ۲۱۰ ۔ (۱) کونسل کو ، کسی معاملے کی تحقیقات کی غرض کے لئے ، وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو\nکو حاضر ہونے کا حکم\nدینے کا اختیار۔\nعدالت عظمی کو کسی شخص کو حاضر عدالت کرانے کے لئے یا کسی دستاویز کی برآمدگی یا اس کو\nپیش کرنے کے لئے ہدایات یا احکام جاری کرنے کے لئے حاصل ہیں ؛ اور کوئی ایسی\nل-\nہدایت یا حکم اس طرح قابل نفاذ ہوگا گویا کہ وہ عدالت عظمی کی جانب سے جاری ہوا ہو۔\n(۲) آرٹیکل ۲۰۴ کے احکام کا اطلاق کونسل پر اس طرح ہو گا جس طرح ان کا اطلاق\nعدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ پر ہوتا ہے۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۷۶ کی رو سے شق (۵)‘ کی بجائے تبدیل کی گئی۔\n\nامتناع اختیار سماعت ۔\nکونسل کے رویر و کارروائی پر صدر کو ارسال کردہ اس کی رپورٹ پر ، اور آرٹیکل ۲۰۹ کی\nشق (۶) کے تحت کسی حج کی برطرفی پر کسی عدالت میں کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\nانتظامی عدالتیں اور ۲۱۲ (۱) قبل از میں مذکورہ کسی امر کے باوجود، متعلقہ متقفنہ ایکٹ کے ذریعے حسب ذیل کی نسبت\nبلا شرکت غیرے اختیار سماعت استعمال کرنے کے لئے ایک یا ایک سے زیادہ انتظامی\nٹربیونل۔\nعدالتیں یا ٹربیونل کے قیام کے لئے حکم وضع کر سکے گی ۔۔۔\n(الف) ایسے اشخاص کی جو ملازمت پاکستان میں کم ہوں یا رہے ہوں ]\nشرائط ملازمت\nبشمول تادیبی امور سے متعلق امور ؛\n(ب) حکومت یا ملازمت پاکستان میں کسی شخص یا کسی ایسی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز کے کسی\nایسے ملازم کے جس کو قانون کی رو سے کوئی محصول یا وجوب عائد کرنے کا اختیار ہو اور\nکلام\nایسی ہیئت مجاز کے کسی ملازم کے جو کسی ایسے ملازم کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی\nانجام دے رہا ہو، افعال بے جاسے پیدا ہونے والے دعاوی سے متعلق امور بیا\n(ج) کسی ایسی جائیداد کے حصول انصرام اور تصفیہ سے متعلق امور، جوکسی قانون کے\nتحت دشمن کی جائیداد متصور ہوتی ہو۔\nایمان\n \nدستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۲ کی رو سے قائم کی بجائے تبدیل کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طور\nپر تبدیل شدہ متصور ہوں گے۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طور شامل کردہ متصور ہوں گے۔\n\n(۲) قبل ازیں مذکور کسی امر کے باوجود، جہاں کوئی انتظامی عدالت یا ٹربیونل شق (۱) کے تحت\nقائم کی جائے تو کوئی دوسری عدالت کسی ایسے معاملے کے متعلق جس کا اختیار سماعت\nایسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل کو حاصل ہو، کوئی حکم امتنائی جاری نہیں کرے گی ، کوئی حکم\nصادر نہیں کرے گی یا کسی کارروائی کی سماعت نہیں کرے گی ۔ اور کسی مذکورہ معاملے کی\nنسبت جملہ کارروائیاں جو اس انتظامی عدالت یا ٹربیونل کے قیام سے عین قبل ایسی دیگر\nعدالت کے روبر وزیر سماعت ہوں ، ما سوائے ایسی اپیل کے جو عدالت عظمی کے روبرو\nزیر سماعت ہوں ] مذکورہ قیام پر ساقط ہو جائیں گی :\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق کے احکام کا اطلاق کسی صوبائی اسمبلی کے کسی ایکٹ کے\nتحت قائم کی جانے والی کسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل پر نہیں ہوگا، تا وقتیکہ اس اسمبلی کی\nایک قرارداد کی شکل میں درخواست پر سم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے\nس\n]\nان احکام کو ایسی عدالت یا ٹربیونل پر وسعت نہ دے ید.\n(۳) کسی انتظامی عدالت یا ٹربیونل کے کسی فیصلے، ڈگری حکم یا سزا کے خلاف عدالت عظمی میں\nصرف اس صورت میں کوئی اپیل قابل سماعت ہوگی جب کہ عدالت عظمیٰ ، اس بات کا\nاطمینان کر لینے کے بعد کہ مقدمے میں عوامی اہمیت کا حامل کوئی اہم امر قانونی شامل ہے،\nاپیل دائر کرنے کی اجازت دے دے\n۲۱۲ الف۔ [فوجی عدالتوں اور ٹربیونلوں کا قیام۔ ایس آراو نمبر ۱۳۷۸(۱) ۸۵، مورخه ۳۰ دسمبر ، ۱۹۸۵ء\nکو مارشل لاء اٹھانے کے اعلان مورخہ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۵ء کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے\n \nدستور (ترمیم اول) ایکٹ ،۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۲ کی رو سے شامل کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طور شامل کردہ\nمتصور ہوں گے۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء ( نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے شامل کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طور\nشامل کردہ متصور ہوں گے ۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\nمذکورہ قانون کے لئے دیکھئے صوبائی ملازمت ٹربیونل (توسیع احکام دستور ) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۲ بابت ۱۹۷۴ء)۔\n\nدیکھئے جریدہ پاکستان ، ۱۹۸۵ء غیر معمولی ، حصہ اوّل ،مورخہ ۳۰ / دسمبر ،۱۹۸۵ء صفحات\n۴۳۲-۴۳۱ جس کا قبل از میل فرمان صدر نمبر ۲۱ مجریہ ۱۹۷۹ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اضافہ\nکیا گیا تھا۔\nسنگین جرائم کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتوں کا قیام۔ دستور (بارہویں ترمیم) ایکٹ،\n۱۹۹۱ء ( نمبر ۱۴ بابت (۱۹۹۱ء) کی دفعہ ا (۳) نفاذ پذیر از ۲۶ / جولائی ۱۹۹۴ء) کی رو\nسے منسوخ کر دیا گا جس کا قبل ازیں ایکٹ نمبر ۱۴ بابت ۱۹۹۱ء کی دفعہ ۲ کی رو سے اضافہ\nکیا گیا تھا نفاذ پذیر از ۲۷ / جولائی ، ۱۹۹۱ء)۔\nایمان\n\n۲۱۳۔\n\n>\n(1)\nصه بشم\nانتخابات\nبابا۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ]\nایک چیف الیکشن کمشنر ہو گا ، ( جسے اس حصہ میں کمشنر کہا جائے گا ) جس کا تقر ر صدر کے ہلا ہلا ہلا کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر ۔\n۱۳ (۲) کسی بھی شخص کا بطور کمشنر تقر ر نہیں کیا جائے گا تا وقتیکہ وہ عدالت عظمی کا حج رہ چکا ہو یا اعلیٰ حکومتی ملا زم یا\nٹیکنو کریٹ رہ چکا ہو اور اڑسٹھ سال کی عمر سے زائد نہ ہو ۔\nتشریح ا۔ اعلیٰ حکومتی ملازم سے ایسا شخص مراد ہے جو وفاقی یا صوبائی حکومت کے تحت بطور سرکاری ملازم کم از کم بیس سال تک خدمت\nانجام دے چکا ہو اور بی پی ایس ۔۲۲ یا اس سے بالا میں ریٹائر ہوا ہو۔\nتشری کو \" لیکو کرنے سے یہ شخص مراد ہے جو کم و کم سول میاں کی تعلیم کے نتیجے میں مطلوبہ ڈگری کا حامل ہو، جو اعلی تعلیمی کمیشن کی جانب سے\nتسلیم شدہ ہواور کم از کم ہیں سال کا تجربہ رکھتا ہو، جس میں قومی یا بین الاقوامی سطح پر کامیابیوں کا ریکارڈ شامل ہے ۔]\n(الف) وزیر اعظم قومی سمبلی میں قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کمشنر کے تقرر کے لئے تین نام پارلیمانی کمیٹی کوکسی بھی\nایک شخص کی سماعت اور توثیق کے لئے بھیجے گا من\nمگر شرط یہ ہے کہ اس صورت میں جب کہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوتو ، ہر ایک علیحدہ\nفہرستیں پارلیمانی کمیٹی کوغورو خوض کے لئے بھیجے گا جو کسی بھی ایک نام کی توثیق کر سکتی ہے ۔\n(۲) پارلیمانی کمیٹی اپنیکیر کی جانب سے تشکیل دی جائے گی جس میں پچاس فیصد اراکین حکومتی پہنچوں اور پچاس فیصد الے سے یا ای ای ای یو ای ای در این کرتی ہیں اور پچاس فیصد\nكم\nحزب اختلاف کی جماعتوں سے جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں ان کی تعداد کی بنیاد پر متعلقہ پارلیمانی قائدین کی\nجانب سے نامزد کیے جائیں گے، پرمشتمل ہوگی :\n*\n*\nايم\n*\n*\n*\nید شرط یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی مجموعی تعداد بارہ ممبران ہوگی جن میں سے ایک تہائی سینٹ سے ہوں گے: ]\nمزید:\nزمز یہ شرط ہے کہ جب قوی ۔\nاسمبلی تحلیل ہو اور چیف ا\nکر ہو تو پارلیمانی کمیٹی\nکی مجموعی رکنیت مشتمل ہوگی صرف سینٹ کے اراکین پر اور اس شق کے مناسب تبدیلیوں کے ساتھ ہوگا ۔]\nاحکامات کا\nکمشنر یار کن کے اختیارات اور کارہائے منصبی وہ ہوں گے جو اس دستور اور قانون کی رو سے اسے تفویض کئے جائیں۔\nدستور (ہائیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۶ء (نمبر۲۵ بابت ۲۰۱۶ء) کی دفعہ کی روسے کمشنر“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ے ے کی رو سے الفاظ اپنی صوابدید پر حذف کئے گئے۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ \" کی رو سے شق (۲)‘ کو تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۰ کی دفعہ ے کی رو سے نئی شقات (الف) اور (۲) شامل کی گئیں۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ کی رُو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے فقرہ شرطیہ کو شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے پہلے فقرہ شرطیہ کو حذف کیا گیا۔\nدستور ( انیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبرا بابت ۲۰۱۱ ء ) کی دفعہ کی رو سے فقرہ شرطیہ“ کو تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ ۴ کی رُو سے لفظ ” مزید“ کو حذف کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے لفظ ” بھی“ کو تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ابابت ۲۰۱۱ ء کی دفعہ کی رو سے الفاظ \"پارلیمانی کمیٹی مشتمل ہوگی“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\nید عہدے کا حلف ۔\n۲۱۴۔\nکمشنر اور اراکین] کے\nعہدے کی میعاد۔\n۲۱۵۔\nکمشت اور اراکین کسی\nمنفعت بخش عہدے پر\nفائز نہیں ہوگا۔\nقائم مقام کمشنر ۔\n۲۱۶۔\n(☑\n+) = ±\nکمشنر عہدہ سنبھالنے سے قبل چیف جسٹس پاکستان کے سامنے اور ایکشن کمیشن کارکن کمشنر کے سامنے اس عبارت میں حلف اٹھائے گا جوجد ول سوم\nمیں درج ہے۔\n(1)\nاس\nآرٹیکل کے تابع کمشنر اور رکن اپنا عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے پانچ سال کی مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ دواراکین اڑھائی سال کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے اردو اراکین اگلے اڑھائی سال کی انقضاء کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے:\nمزید شرط یہ ہے کہ کمیشن راکین کے عہدے کی پہلی مدت کے لئے قر عداندازی کرے گا کہ کون سے دوراکین نے پہلے اڑھائی سال کے بعد ریٹائر ہونا ہے:\nشرط یہ بھی ہے کہ اتفاقی اسامی پُر کرنے کے لئے تقرر کردہ رکن کی میعادر کن کی غیر اختتامی مدت ہوگی جس کی اسامی کو وہ پُر کر رہا ہے۔]\n()\n(۳)\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nکمشنر آیا رکن اپنے عہدے سے سوائے اس صورت کے نہیں ہٹیا جائے گا جو آرٹیکل 19 میں کسی حج کے عہدے سے علیحدگی کے لئے\nمقرر ہے اور اس شق کی اغراض کے لئے اس آرٹیکل کے اطلاق میں مذکورہ آرٹیکل میں حج کا کوئی حوالہ کمشنر آیا\nجیسی بھی صورت ہو ،رکن ] کےحوالے کے طور پر سمجھا جائے گا۔\nکمشنر آباد کن صدر کے نام اپی و کلی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔\n(۳) کمشنر یار کن کے عہدے کی اسامی پینتالیس ایام کے اندر پر کر دی جائے گی ۔\n(1)\n(۲)\n۲۱۷ ۔\nکوئی کمشنر یا رکن ]۔۔۔\n(الف) ملازمت پاکستان میں منفعت کا کوئی دوسرا عہدہ نہیں سنبھالے گا؟ یا\nکسی دوسرے منصب پر فائز نہیں ہوگا جس میں خدمات انجام دینے کے لئے معاوضہ وصول کرنے کا حق ہو۔\nہوا جسمیں کا\nیا کیا ہو، اس عہدے کو چھوڑنے کے بعد دو سال گزرنے سے قبل ملازمت\nکوئی شخص جو کمشنر آمار کن کے عہدے پر\nپاکستان میں کوئی منفعت بخش عہدہ نہیں سنبھالے گاما\n*\n*\n*\n*\nايم\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nکسی وقت جب کہ - \n\n( الف ) کمشنر کا عہدہ خالی ہو ؛ یا\n(ب) کمشنر غیر حاضر ہو یا دیگر کسی بناء پر اپنے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو ، تو\n۱۲ بلحاظ عمر الیکشن کمیشن کا مقدم ترین رکن ] کمشنر کی حیثیت سے کام کرے گا ۔\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء ( نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے لفظ ” کمشنر کے“ کو حذف کیا گیا ۔\nبحوالہ عین ماقبل کی روسے شامل کئے گئے ۔\nبحوالہ عین ماقیل کی دفعہ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے شامل کیا گیا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۷۸ کی رو سے تین کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( بائیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۶ء (نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء) کی دفعہ ۵ کی رو سے فقرہ ہائے شرطیہ کو تبدیل کیے گئے ۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۷۸ کی رو سے فقرہ شرطیہ کو حذف کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ ۵ کی رو سے نئی شق (۴) شامل کی گئی۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ 4 رو سے وقف کامل کو تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے فقرہ شرطیہ کو حذف کیا گیا۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ 9ے کی رو سے پیراگراف (ب) کو حذف کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء کی دفعہ ے کی رو سے بعض الفاظ کو تبدیل کیا گیا۔\n\n۲۱۹۔\n۲۲۰۔\n(1) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کی غرض کیلئے اور ایسے دیگر عوامی عہدوں کے انتخاب الیکشن کمیشن۔\nکے لیے جیسا کہ قانون کے ذریعے صراحت کر دی جائے ، اس آرٹیکل کے مطابق مستقل الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔]\n(۲) الیکشن کمیشن حسب ذیل پر مشتمل ہوگا۔۔۔۔\n(الف) کمشنر جو کہ کمیشن کا چیئر مین ہوگا ؛ اور\n(۳)\n(ب) چار اراکین ، ہر ایک صوبے سے ایک جن میں سے ہر ایک ایسا شخص ہوگا جو عدالت عالیہ کا حج رہ چکا ہو یا علی\nحکومتی ملازم رہ چکا ہو یا ٹیکنو کریٹ ہو اور پینسٹھ سال کی عمر سے زائد نہ ہو جس کا صدر کی جانب سے آرٹیکل ۲۱۳ کی\nشقات (۲الف) اور (۲) میں کمشنر کی تقرری کے لیے فراہم کردہ طریقہ کار کے مطابق تقرر کیا جائے گا۔\nتشریح علی حکومتی ملازم اور ٹیکنو کریٹ“ کا وہی مفہوم ہوگا جیسا کہ آرٹیکل ۲۱۳ کی شق (۲) میں دیا گیا ہے۔]\nمیں الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہوگا کہ وہ انتخاب کا انتظام کرے اور اسے منعقد کرائے اور ایسے انتظامات کرے جواس امر\nکے اطمینان کے لئے ضروری ہوں کہ انتخاب ایمانداری، حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہو اور یہ\nکہ بدعنوانیوں کا سدباب ہو سکے۔\nکلام\nکمیشن پر یہ فرض عائد ہوگا کہ وہ -- )\n[ (الف) قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے لیے انتخابی فہرستیں تیار کرنا اور مذکورہ فہرستوں کو تازہ ترین رکھنے\nکے لیے ان کی جد ولی نظر ثانی کرنا ؟\n(ب) سینٹ کے لئے یا کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی میں کسی اتفاقی خالی نشستوں کو پر کرنے کے لئے انتخاب کا انتظام\n(ج)\n()\nکرے اور اسے منعقد کرائے؛ اور\nك\nانتخابی ٹربیونل مقرر کرے :\n(د) قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے لئے عام انتخاب منعقد کرائے ، اور اے\nد نوین ما (کمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے کر دی گئی ہو ]]\nایسے دوسرے تمھیں انجام دے جن کی\nانگر شرط یہ ہے کہ اس وقت تک جیسا کہ کمیشن کے اراکین کی پہلی تقرری دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء\nکے بموجب آرٹیکل ۲۱۸ کی شق (۲) کے پیراگراف (ب) کے احکامات کی مطابقت میں کی گئی ہو ، اور اپنے\nا\nعہدے پر فائز ہوئے ہوں ، اس آرٹیکل کے پیرا گراف (الف ) ، (ب) اور ( ج ) میں بیان کردہ کا رہائے\nمنصبی بدستور کمشنر کی تحویل میں رہیں گے ۔]\n \nکمیشن کے فرائض۔\nفاق اور صوبوں کے کام کا مالک کا فرض ہوگا کہ کنز اور این بین کوس سے ان کے کارہائے نبی کی انجام دی میں حکام\nعاملہ کمیشن وغیرہ\nکی مدد کریں گے۔\nمددد ہیں ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ء (ایکٹ نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۰ کی رُو سے شقات (۱) اور (۲) تبدیل کی گئیں۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء کی دفعہ ۸ کی رُو سے پیراگراف (ب) کو تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ کی رُو سے الفاظ کسی انتخاب کے سلسلے میں تشکیل کردہ حذف کئے گئے۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ ۹ کی رُو سے کمشنر سے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۸۱ کی رُو سے کمشنر سے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء کی دفعہ 9 کی رُو سے پیراگراف (الف)‘ کو تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر، ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۸۱ کی رُو سے’وقف کامل‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی روسے نئے پیراگراف (د) اور (ہ) کا اضافہ کیا گیا۔\nدستور (بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ ے کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے فقرہ شرطیہ کو شامل کیا گیا۔\nم م م م م\nهم .\n\nافسران دور از حملہ ۲۲۱۔ جب تک کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) بذریعہ قانون بصورت دیگر قرار نہ دے ۳ الیکشن کمیشن ، صدر کی )، کی\nمنظوری سے، ایسے قواعد وضع کر سکے گا جوکہ کمشنر کی جانب سے افسران اور عملہ کا تقر فراہم کرتے ہوں\nجن کا تقرر شد\n*\n*\nالیکشن کمیشن کے کارہائے منصبی کے سلسلے میں کیا گیا ہے اور ان کی\nملازمت کی شرائط وضوابط کا تعین کر سکے۔\nایمان\n \nدستور (بائیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۶ء (نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء) کی دفعہ کی رو سے ملازمین کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ ء کا فرمان ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجری ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل\nکیے گئے۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۲ کی رو سے کمشنر کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ ا کی رو سے الیکشن کمیشن کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۸۲ کی رو سے الفاظ کمشنر یا کسی حذف کئے گئے ۔\n\nباب - انتخابی قوانین اور انتخابات کا انعقاد\n۲۲۲۔ اس دستور کے تابع ہے۔ مجلس شوری ( پارلیمنٹ قانون کے ذریعے حسب ذیل احکام وضع کر سکے گی ۔۔۔ انتخابی قوانینں۔\n(الف) قومی اسمبلی میں آرٹیکل ان کی شقات (۳) اور (۴) کی رو سے مطلوبہ طور پر نشستوں کا تعین ؟\n(ب) الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی حلقوں کی حد بندی و بشمول مقامی حکومتوں کے حلقوں کی حد بندی؛\n(ج) انتخابی فہرستوں کی تیاری کسی حلقہ انتخاب میں سکونت کے متعلق شرائط ، انتخابی\nفہرستوں کے بارے میں اور ان کے آغاز کے خلاف عذرداریوں کا تصفیہ؛\n(1) انتخابات اور انتخابی عذرداریوں کا انصرام انتخابات کے سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک\nاور تنازعات کا فیصلہ ؛\n(0) انتخابات کے سلسلے میں بدعنوانیوں اور دیگر جرائم سے متعلق امور ؛ اور\n(1) دونوں ایوانوں ، ہے، صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں ] کی با قاعدہ تشکیل\nسے متعلق تمام دیگر امور ؛\nلیکن کوئی مذکورہ قانون اس حصے کے تحت کمشنر یا تم وہ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں سے کسی اختیار کو سلب\nکرنے یا کم کرنے کے اثر کا حامل نہ ہوگا۔\n\nایمان\n \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nدستور (بائیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۶ء (نمبر ۲۵ بابت ۲۰۱۶ء) کی دفعہ کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ کی رُو سے شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے لفظ ” اور “ کو حذف کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی روسے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے لفظ ” کسی کو تبدیل کیا گیا۔\n(☑\n\n۲۲۳۔ (۱) کوئی شخص، بیک وقت حسب ذیل کا رکن نہیں ہو گا۔۔۔\n(الف) دونوں ایوان کا ؛ یا\n(ب) ایک ایوان اور کسی صوبائی اسمبلی کا بیا\n(ج) دو یا اس سے زیادہ صوبوں کی اسمبلیوں کا ؛ یا\n(د) ایک سے زیادہ نشستوں کی بابت ایک ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کا۔\n(۲) شق (۱) میں کوئی امرکسی شخص کے بیک وقت دو یادو سے زیادہ نشستوں کے لئے خواہ ایک ہی مجلس\nمیں یا مختلف مجالس میں، امیدوار ہونے میں مانع نہ ہوگا لیکن اگر وہ ایک سے زیادہ نشستوں پر\nمنتخب ہو جائے تو وہ مذکورہ نشستوں میں سے آخری نشست کے نتیجے کے اعلان کے بعد میں دن کی\nمدت کے اندر، اپنی نشستوں میں سے ایک کے علاوہ سب نشستوں سے استعفیٰ دے گا، اور اگر\nوہ اس طرح استعفیٰ نہ دے، تو مذکورہ تمہیں دن کی مدت گزرنے پر وہ تمام نشستیں جن پر وہ\nمنتخب ہوا ہو ما سوائے اس نشست کے خالی ہو جائیں گی جس پر وہ آخر میں منتخب ہوا ہویا،\nاگر وہ ایک ہی دن ایک سے زیادہ نشستوں کے لئے منتخب ہوا ہوتو ما سوائے اس نشست\nکے خالی ہو جائیں گی جن پر انتخاب کے لئے اس کی نامزدگی آخر میں داخل ہوئی ہو۔\n\nتشریح:۔ اس شق میں مجلس سے کوئی ایوان یا کوئی صوبائی اسمبلی مراد ہے۔\n(۳) کوئی شخص جس پر شق (۲) کا اطلاق ہوتا ہو، اس وقت تک کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی\nمیں اس نشست پر جس کے لئے وہ منتخب ہوا ہوں نہیں بیٹھے گا، جب تک کہ وہ اپنی نشستوں\nلئے گا، وہ\nمیں سے ایک\nے علاوہ سب کے\nمستعفی نہ ہو جائے۔\n(۴) شق (۲) کے تابع ، اگر کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی رکن کسی دوسری نشست کا\nامیدوار ہو جائے جو وہ شق (۱) کے بموجب، اپنی پہلی نشست کے ساتھ ساتھ نہ رکھ سکتا\nہو، تو اس کی پہلی نشست اس کے دوسری نشست پر منتخب ہوتے ہی خالی ہو جائے گی۔\nدوہری رکنیت کی ممانعت۔\n \n\nانتخاب اور ضمنی انتخاب ۲۲۴ (۱) قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا عام انتخاب اس دن سے فوراً بعد ساٹھ دن کے اندیر کرایا\nجائے گا جس دن اسمبلی کی میعاد ختم ہونے والی ہو ، بجز اس کے کہ اسمبلی اس سے پیشتر تحلیل\nکا وقت۔\nنہ کر دی گئی ہو، اور انتخاب کے نتائج کا اعلان اس دن سے زیادہ سے زیادہ چودہ دن کے\nاندر کر دیا جائے گا۔]\n(الف) اپنی مدت مکمل کرنے پر قومی اسمبلی کی تحلیل یا آرٹیکل ۵۸ یا آرٹیکل ۱۲ کے تحت تحلیل کی\nصورت میں ، صدر، یا گورنر جیسی بھی صورت ہو، نگران\nکابینہ کا تقرر کرے گا:\nمگر شرط یہ ہے کہ صدر نگران وزیر اعظم کا تقرر جانے والی قومی اسمبلی کے وزیر اعظم اور\nقائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کرے گا، اور نگران وزیر اعلیٰ کا تقر ر گورنر جانے والی\nصوبائی اسمبلی کے وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے کرے گا۔\nمگر مزید شرط یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم یا کوئی وزیر اعلیٰ اور ان کا متعلقہ قائد حزب اختلاف نگران وزیر اعظم\nیا نگران وزیر اعلی جیسی بھی صورت ہو ، کے طور پر کسی شخص کی تقرری پر متفق نہ ہوں تو ، آرٹیکل ۲۲۴ الف کے\nاحکامات کی پیروی کی جائے گی :\n[:\nیہ بھی شرط ہے کہ نگران وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارا کیس کا تقرر نگران وزیر اعظم یا\nنگران وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ہوگا ، جیسی بھی صورت ہو۔\n(اب) نگران کابینہ کے ارکان بشمول نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلی اور ان کے خاندان کے\nقریبی افراد مذکورہ اسمبلیوں کے فی الفور آنے والے الیکشنوں میں مقابلہ کرنے کے اہل نہ ہوں گے ۔\nتشریح:-\nاس شق میں قریبی خاندان کے افراد سے زوج اور بچے مراد ہیں ۔ ]\n(۲) جب قومی اسمبلی یا کوئی صوبائی اسمبلی توڑ دی جائے ، تو اس اسمبلی کا عام انتخاب اس کے توڑے جانے کے\nبعد نوے دن کی مدت کے اندر کرایا جائے گا اور انتخاب کے نتائج کا اعلان رائے دہی ختم ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ\nاندر\n(۳) سینٹ کی ان نشستوں کو رک کی میعاد کے اختتام پر خالی ہونے\nوالی ہوں ، انتخاب عین اس دن سے جس پر نشستیں خالی ہونے والی ہوں زیادہ سے زیادہ تمہیں دن پہلے منعقد ہوگا۔\n↓\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۳ کی رو سے شق (۱)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نئی شقات (ا۔ الف ) ، (ا۔ب) اور تشریح شامل کی گئیں ۔\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ ۸ کی روسے’چناؤ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے نیا فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے مزید کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nकालके\n(۴) جب قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے ٹوٹ جانے کے علاوہ، مذکورہ اسمبلی میں کوئی اہم تو\nاسمبلی کی میعاد ختم ہونے سے کم سے کم ایک سو میں دن پہلے خالی ہو جائے تو اس نشست کے پر کرنے کے\nلئے انتخاب اس نشست کے خالی ہونے سے ساٹھ دن کے اندر کرایا جائے گا۔\n(۵) جب سینٹ میں کوئی نشست خالی ہو جائے تو اس نشست کو پر کرنے کے لئے انتخاب اس کے خالی ہونے\nسے تمہیں دن کے اندر کرایا جائے گا۔\n(1) جب قومی یا کسی صوبائی اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کے لئے مختص نشست ، موت کی وجہ سے،\nاستعفی یا رکن کی نا اہلیت کی بناء پر خالی ہوگئی ہو، تو اسے اس سیاسی جماعت جس کے رکن کی موت کی وجہ سے\nوہ نشست خالی ہوئی ، کی جانب سے الیکشن کمیشن کو امید داران کی داخل کردہ فہرست میں سے بلحاظ اگلے\nمقدم ترین شخص سے پر کی جائے گی :\n:]]\nگرا رہی ہے کسی بیت ہوا\nمگر شرط یہ ہے کہ اگر کسی بھی وقت جماعتی فہرست ختم ہو جائے تو متعلقہ سیاسی جماعت کسی آسامی کے\nلئے نام جمع کرائے گی جو کہ اس کے بعد آئے گا ۔\n\nم\n*\n*\n*\n*\n۲۲۴ الف کمیٹی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے قرارداد۔ (۱) رخصت ہونے والی قومی اسمبلی\nکا وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا کسی شخص کے بطور نگران\nوزیراعظم تقرری پر اتفاق نہ ہونے کی\nصورت میں ، قومی اسمبلی کی تحلیل کے تین دنوں کے اندر ، وہ انفرادی طور پر نامزد کرده دو نام قومی اسمبلی\nکے اسپیکر کی جانب سے فوری طور پر تشکیل کردہ کمیٹی جو رخصت ہونے والی قومی اسمبلی یا سینٹ کے آٹھ\nاراکین پر مشتمل ہو کو ارسال کریں گے ، جو حکومتی اور حزب اختلاف کی مساوی نمائندگی کی حامل ہوگی ،\nجن کی وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے علی الترتیب نامزدگی کی جائے گی ۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ہ ا بابت ۲۰۱۰ ء ) کی دفعہ ۲ کی رو سے لفظ ” عام“ کو حذف کیا گیا ۔\nایکٹ ۲۰۱۰۷ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۳ کی رو سے نئی شق (۶) کو شامل کیا گیا اور ہمیشہ سے بایں طو پر شامل شدہ متصور ہوگی ، نفاذ پذیر از\n۲۱ را گست ۲۰۰۲ ء\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ ۸ کی رو سے’وقف کامل‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا ۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رو سے فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ء ( ۱۰ بابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجہ میں شق سے حذف شدہ سمجھی جائے گی ، دیکھیے دفعہ ۲ ۔\nایکٹ نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء کی دفعہ 9 کی رو سے نیا آرٹیکل ۲۲۴ الف شامل کیا گیا۔\n>\n\n(۲) رخصت ہونے والی صوبائی حکومت کے وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کا کسی شخص کے بطور نگران\nوزیر اعلی تقرری پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں، اس اسمبلی کی تحلیل کے تین دنوں کے اندر، وہ انفرادی طور پر\nنا مزد کردہ دو نام صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے فوری طور پر تشکیل کردہ کمیٹی جو رخصت ہونے والی\nصوبائی اسمبلی کے آٹھ اراکین پر مشتمل ہو کو ارسال کریں گے جو حکومتی اور حزب اختلاف کی\nمساوی نمائندگی کی حامل ہو گی ، جن کی وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے علی الترتیب\nنامزدگی کی جائے گی۔\n(۳) شق (۱) یا (۲) کے تحت تشکیل کردہ کمیٹی نگران وزیر اعظم یا نگران وزیر اعلیٰ ، جیسی بھی\nصورت ہو ، کے نام کو اس معاملہ کے بھیجوانے کے تین دنوں کے اند ر حتمی شکل دے گی:\nمگر شرط یہ ہے کہ کمیٹی کا مذکورہ بالا مدت میں معاملہ پر فیصلہ کرنے میں معذوری پر ،\nنامزدگان کے نام دو دنوں میں حتمی فیصلے کے لئے الیکشن کمیشن پاکستان\nکو بھجوائے جائیں گے۔\n(۴) عبده دار وزیر اعظم اورعہدہ دار وزیراعلی نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلی کے تقر رتیک\nاپنے عہدے پر فائز رہیں گے ۔\n\n(۵) شق (۱) اور شق (۲) میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر حزب اختلاف کے اراکین کسی بھی اسمبلی\nمیں پانچ سے کم ہوں\nتو وہ تمام مذکورہ بالاشقات میں بیان کردہ کمیٹی کے اراکین ہوں گے اور کمیٹی با ضابطہ تشکیل\nکردہ متصور ہوگی ۔\nريم\n \n\nانتخابی تنازعہ۔\n۲۲۵۔ کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کے کسی انتخاب پر اعتراض نہیں کیا جائے گا، بجز بذریعہ درخواست\nانتخابی عذرداری جو کسی ایسے ٹربیونل کے سامنے اور اس طریقے سے پیش کی جائے گی جو ام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ]\nکے ایکٹ کے ذریعے مقرر کیا جائے۔\n۲۲۶ ۔ دستور کے تابع تمام انتخابات ما سوائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خفیہ رائے دہی کے\nانتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوں گے]۔\nذریعے ہوں گے۔\nایمان\n \nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ ۸۴ کی رو سے’ آرٹیکل ۲۲۶‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nحصہ نہم\nاسلامی احکام\n۲۲۷ (۱) تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے قرآن پاک اور سنت\nگا ، جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے، اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا کے بارے میں احکام ۔\nجائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔\nتشریح کسی مسلم فرقے کے قانون شخصی پر اس شق کا اطلاق کرتے ہوئے ، عبارت\n\" قرآن وسنت سے مذکورہ فرقے کی کی ہوئی توضیح کے مطابق قرآن اور\nسنت مراد ہے گی ۔]\n(۲) شق (۱) کے احکام کو صرف اس طریقہ کے مطابق نافذ کیا جائے گا جو اس حصہ میں منضبط ہے۔\n(۳) اس حصہ میں کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے قوانین شخصی یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر\nاثر نہیں پڑے گا۔\n۲۲۸ (۱) یوم آغاز سے نوے دن کی مدت کے اندر اسلامی نظریاتی کونسل\nاس حصے میں بطور اسلامی کونسل حوالہ دیا گیا ہے۔\nتشکیل کی جائے گی جس کا\nاسلامی کونسل کی جیت\nترکیبی وغیرہ۔\n(۲) اسلامی کونسل کم از کم آٹھ اور زیادہ سے زیادہ ہیں ایسے ارکان پر مشتمل ہوگی جس طرح\nدیمان\nکہ صدران اشخاص میں سے مقرر کرے ، جنہیں اسلام کے اصولوں اور فلسفے کا جس طرح\nکہ قرآن پاک اور سنت میںان کا تعین کیا گیا ہےعلم ہو یا پاکستان کے اقتصادی، سیاسی،\nقانونی اور انتظامی مسائل کا فہم و ادراک ہو۔\nفرمان دستور ( ترمیم سوم) ۱۹۸۰ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریه ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے تشریح کا اضافہ کیا گیا۔\nاسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کے اعلان کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۴۰ء غیر معمولی، حصہ دوم صفحہ ۱۶۵۔\n( قواعد وشرائط ارکان ) اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۷۴ء کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۴ء غیر معمولی ، حصہ دوم صفحہ ۱۷۲۷۔\nفرمان دستور (ترمیم چهارم )۱۹۸۰ء ( فرمان صد نمبر ۱۶ مجریہ ۱۹۸۰ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے پندرہ\" کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nاسلامی کونسل سے\nمجلس شوری\n(پارلیمنٹ)] وغیرہ کی\nمشورہ طلبی۔\nاسلامی کونسل کے\nکارہائے منصبی ۔\n۲۲۹۔\n(۳) اسلامی کونسل کے ارکان مقرر کرتے وقت صدر ان امور کا تعین کرے گا کہ۔۔\n(الف) جہاں تک قابل عمل ہو کونسل میں مختلف مکاتب فکر کونمائندگی حاصل ہو ؟\n(ب) کم از کم دوارکان ایسے اشخاص ہوں جن میں سے ہر ایک عدالت عظمیٰ یا کسی\nعدالت عالیہ کا حج ہو یا رہا ہو؟\n(ج) کم از کم ایک تہائی ارکان ایسے ہوں جن میں سے ہر ایک کم سے کم پندرہ سال\nکی مدت سے اسلامی تحقیق یا تدریس کے کام سے وابستہ چلا آ رہا ہو ؛ اور\n(و) کم از کم ایک رکن خاتون ہو۔\n(۴) صدر اسلامی کونسل کے ارکان میں سے ایک کو اس کا چیئر مین مقرر کرے گا۔]\n(۵) شق (۶) کے تابع ، اسلامی کونسل کا کوئی رکن تین سال کی مدت کے لئے اپنے عہدے\nپر فائز رہے گا۔\n(1) کونسل کا کوئی رکن صدر کے نام اپنی تخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے\nگا ، یا اگر اسلامی کونسل کے کل ارکان کی اکثریت سے ایک قرارداد کونسل کے کسی رکن کی\nبرطرفی سے متعلق منظور ہو جائے تو صدر اس رکن کو برطرف کر سکے گا۔\nصدر یا کسی صوبے کا گورنر ، اگر چاہے یا اگر کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کا\nدو بٹا پانچ حصہ یہ مطالبہ کرے، تو کسی سوال پر اسلامی کونسل سے مشورہ کیا جائے گا کہ آیا\nکوئی مجوزہ قانون اسلام کے احکام کے منافی ہے یا نہیں۔\n\n۲۳۰ (۱) اسلامی کونسل کے کارہائے نبی حسب ذیل ہوں کس کو\n(الف) سم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی\nسفارش کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی\nطور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی\nترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے؛\nدستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۵ کی رو سے ”چار کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان دستور ( ترمیم سوم ) ۱۹۸۲ء (فرمان صد ر نمبر ۱۳ مجریہ ۱۹۸۲ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے شق (۴) کی بجائے تبدیل کی گئی۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\n\n(ب) کسی ایوان کسی صوبائی اسمبلی بصدر ریا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں\nمشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع کیا گیا ہو کہ آیا کوئی مجوزہ قانون\nاسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں ؟\n(ج) ایسی تدابیر کی جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا نیز\nان مراحل کی جن سے گزرکر محولہ تدابیر کا نفاذ عمل میں لانا چاہیے، سفارش کرنا؛ اور\n(1) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں کی رہنمائی کے لئے اسلام کے\nایسے احکام کی ایک موزوں شکل میں تدوین کرنا جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا\nجاسکے۔\n(۲) جب ، آرٹیکل ۲۲۹ کے تحت کوئی سوال کسی ایوان ، کسی صوبائی اسمبلی ، صدر یا کسی گورنر کی\nطرف سے اسلامی کونسل کو بھیجا جائے ، تو کونسل اس کے بعد پندرہ دن کے اندر اس ایوان،\nبعد پندرہ دن\nاسمبلی ، صدر یا گورنر کو جیسی بھی صورت ہو ، اس مدت سے مطلع کرے گی جس کے اندر وہ\nمذکورہ مشورہ فراہم کرنے کی توقع رکھتی ہوں\n(۳) جب کوئی ایوان ، کوئی صوبائی اسمبلی ، صدر یا گورنر جیسی بھی صورت ہو ، یہ خیال کرے کہ\nمفاد عامہ کی خاطر اس مجوزہ قانون کا وضع کرنا جس کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا مشورہ\nمجوزہ اٹھا\nحاصل ہونے تک ملتوی نہ کیا جائے تو اس صورت میں مذکورہ قانون مشورہ مہیا ہونے سے قبل\nایمان\nوضع کیا جا سکے گا:\nکت\n مگر شرط یہ ہے کہ جب کوئی قانون اسلامی کونسل کے پاس مشورے کے لئے بھیجا\nجائے اور کوسل یہ مشورہ دے کہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے تو ایوان ، یا جیسی بھی\nصورت ہو ، صوبائی اسمبلی، صدر یا گورنر اس طرح وضع کردہ قانون پر دوبارہ غور کرے گا۔\n(۴) اسلامی کونسل اپنے تقرر سے سات سال کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی،\nاور سالانہ عبوری رپورٹ پیش کیا کرے گی ، یہ رپورٹ ، خواہ عبوری ہو یا حتمی ، موصولی سے\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\n\nقواعد ضابطہ کار\n۲۳۱۔\n\nچھ ماہ کے اندر دونوں ایوانوں اور ہر صوبائی اسمبلی کے سامنے برائے بحث پیش کی جائے\nگی، اور ہم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) اور اسمبلی ، رپورٹ پر غور و خوض کرنے کے بعد حتمی\nرپورٹ کے بعد دو سال کی مدت کے اندر اس کی نسبت قوانین وضع کرے گی۔\nاسلامی کونسل کی کارروائی ایسے قواعد ضابطہ کار کے ذریعہ منضبط کی جائیگی جو کونسل صدر کی\nمنظوری سے وضع کرے۔\nایمان\n \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کیے گئے۔\nقواعد ( ضابطہ کار ) اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۷۴ء کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان، غیر معمولی ، حصہ دوم، صفحات ۷۷۱۔۷۷۳۔\n\nबालके\nحصہ دہم\nہنگامی احکام\nحالت کا اعلان۔\n۲۳۲ (۱) اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان ، یا اس کے کسی جنگ، داخلی خلفشار\nحصہ کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے، یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس وغیرہ کی بناء پر ہنگامی\nپر قابو پاناکسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے، تو ہنگامی حالت کا اعلان کر سکے گا :]\n۲ مگر شرط یہ ہے کہ داخلی خلفشار جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو کی\nوجہ سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے لئے ، اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی قرارداد در کار ہوگی:\nمگر مزید شرط یہ ہے کہ اگر صدر اپنے طور پر اقدام کرے تو ہنگامی حالت کے اعلان\nکو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)، کے دونوں ایوانوں سے ہر ایک ایوان کے روبرو دس دن کے اندر\nمنظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔]\n(۲) دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان زیر نفاذ ہو۔۔\n(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کے\nلئے کسی ایسے معاملے کی نسبت قوانین وضع کرے جو وفاقی قانون سازی کی\n*\n*\nفہرست میں درج نہ ہو ؟ )\n]\n(ب) وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت\nپذیر ہو گا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیار کو استعمال کیا جانا ہے؛ اور\nعالمانہ کیا\n(ج) وفاقی حکومت شفرمان کے ذریعے کسی صوبائی حکومت کے جملہ یا کوئی کارہائے\nمنصبی ، اور جملہ یا کوئی اختیارات جو صوبائی اسمبلی کے علاوہ اس صوبے کے کسی\n \nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۶ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نیا فقرہ شرطیہ شامل کیا گیا۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پیرا (الف) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ۰ ا بابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجے میں الفاظ یا مشتر کہ کہ قانون سازی کی فہرست“\nحذف شدہ ٹھہریں گے دیکھیے دفعہ ۲۔\nشمال مغربی سرحدی صوبے کی نسبت مذکورہ فرمان کے لئے دیکھئے ایس آر اور نمبر ۲۰۲ (۱)/۷۵،مورخه ۱۶/فروری، ۱۹۷۵ء جریده\nپاکستان ، ۱۹۷۵ء غیر معمولی، حصہ دوم، صفحہ ۳۲۹، جسے بعد میں ایس آراو نمبر ۵۲۲ (۱) /۷۵، مورخہ ۳ رمئی ،۱۹۷۵ء کے ذریعے\nمنسوخ کر دیا گیا دیکھئے جریدہ پاکستان ، ۱۹۷۵ء غیر معمولی ، حصہ دوم ،صفحہ ۷۲۷؛ اور\nصوبہ بلوچستان کی نسبت مذکورہ فرمان کے لئے دیکھئے ایس آراو نمبر ۶۴۱ (۱) (۷۶، مورخه / ۳۰ جون ، ۱۹۷۶ء جریدہ پاکستان،\n۱۹۷۶ء، غیر معمولی، حصہ دوم ، صفحہ ۱۲۰۷، جسے بعد میں ایس آراو نمبر ۱۱۶۱ (۱) /۷۶ ، مورخہ ۶/ دسمبر ، ۱۹۷۶ء کے ذریعے منسوخ کر دیا\nگیا ، دیکھئے جریدہ پاکستان، ۱۹۷۶ء، غیر معمولی، حصہ دوم صفحہ ۲۲۷۹۔\nمورخه ۲۸ رمئی ، ۱۹۹۸ء کو جاری کردہ مذکورہ اعلان کے لئے دیکھئے جریدہ پاکستان ، ۱۹۹۸ء غیر معمولی ، حصہ اوّل ، صفحہ ۳۲۔\n\nادارے یا ہیئت مجاز کو حاصل ہوں ، یا اس کے ذریعے قابل استعمال ہوں ، خود\nسنبھال سکے گی یا اس صوبے کے گورنر کو ہدایت کر سکے گی کہ وفاقی حکومت کی\nجانب سے سنبھال لے ، اور ایسے ضمنی اور ذیلی احکام وضع کر سکے گی جو اس کی رائے\nمیں اعلان کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ضروری یا مناسب معلوم ہوں ، ان میں\nایسے احکام شامل ہیں جن کی رو سے اس صوبے میں کسی ادارے یا ہیئت مجاز سے\nمتعلق دستور کے کسی احکام پر عملدرآمد کو کلی یا جزوی طور پر معطل کیا جا سکے:\nمگر شرط یہ ہے کہ پیرا (ج) میں کسی امر سے وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ\nایسے اختیارات میں جو کسی عدالت عالیہ کو حاصل ہیں یا جو کسی عدالت عالیہ کے ذریعے\nقابل استعمال ہیں کوئی اختیار خود اپنے ہاتھ میں لے لے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت\nکرے کہ وہ ان اختیارات میں سے کوئی اختیار اس کی جانب سے اپنے ہاتھ میں لے لے\nاور نہ یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ دستور کے کسی ایسے احکام پر عمل درآمد کو جن کا تعلق عدالت\nہائے عالیہ سے ہو ، کلی یا جزوی طور یہ معطل کردے۔\n(۳) کسی صوبے کے لئے کسی معاملہ کے بارے میں قوانین وضع کرنے کی بابت سے مجلس شوری\nپارلیمنٹ) کے اختیار میں وفاق یا وفاق کے افسروں اور حکام کو مذکورہ معاملے کے بارے\nدینے اور کا مجاز\nمیں اختیارات دینے اور فرائض عائد کرنے یا اختیارات اور فرائض عائد کرنے کا مجاز کرنے کا\nاختیار شامل ہوگا۔\nکت\n(۴) پر پابندی\nان اربیل میں کوئی امرسی صوبائی اسمبلی کے کوئی ایسا قانون ون تھا میں\nعائد نہیں کرے گا جس کو وضع کرنے کا اسے اس دستور کے تحت اختیار حاصل ہے، لیکن اگر\nکسی صوبائی قانون کا کوئی حکم لا مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے کسی ایکٹ کے کسی حکم کا نقیض\nہو جس کے وضع کرنے کالم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اس آرٹیکل کے تحت اختیار حاصل ہے\nتو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا وہ ایکٹ ، خواہ صوبائی قانون سے پہلے پاس ہوا ہو یا بعد\nمیں ، برقرار رہے گا اور صوبائی قانون، تناقض کی حد تک لیکن صرف اس وقت تک جب تک\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)] کا ایکٹ مؤثر رہے، باطل ہوگا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\n(۵) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کو وضع کردہ کوئی ایسا قانون جس کے وضع کرنے کا اختیار اس کو\nنہ ہوتا اگر ہنگامی حالت کا اعلان جاری نہ ہوا ہوتا ، اعلان کے نافذ العمل نہ رہنے کے چھ ماہ\nبعد اس حد تک غیر مؤثر ہو جائے گا جس حد تک کہ اما مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کو اس کے\nبنانے کا اختیار نہ تھا سوائے ان امور کی بابت جو مذکورہ مدت کے ختم ہونے سے قبل انجام پا\nچکے ہوں یا انجام دہی سے نظر انداز ہو گئے ہوں۔\n(1) جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو، تو سرم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) بذریعہ قانون\nقومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کر سکے گی اور وہ توسیع مذکورہ\nاعلان کے ساقط العمل ہو جانے کے بعد کسی صورت میں بھی چھ ماہ کی مدت سے زیادہ نہیں ہوگی۔\n(۷) ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صد ر اعلان کے جاری\nکئے جانے سے تمیں دن کے اندر طلب کرے گا اور وہ سکے\n(الف) دوماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہو جانے سے\nپہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعہ منظور نہ کر لیا گیا ہو اور\n(ب) پیرا (الف) کے احکام کے تابع ہمشترکہ اجلاس میں دونوں ایوانوں کی مجموعی\nرکنیت کی اکثریت کے ووٹوں سے ایک ایسی قرار داد منظور ہو جانے پر ساقط العمل\nہو جائے گا جس میں اس اعلان کو نامنظور کیا گیا ہو۔]\nريم\n \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\nمشتر کہ اجلاس میں ۵ ستمبر ۱۹۷۳ء کو حسب ذیل قرار داد منظور کی گئی:۔\nیہ کہ مشترکہ اجلاس دستور کے آرٹیکل ۱۲ کی شق (۷) کو اس کے آرٹیکل ۱۸۰ کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے ہر نومبر ۱۹۷۱ء کوجاری شدہ ہنگامی حالت کے\nاعلان کو، اور مذکورہ اعلان کو مذکورہ شق (ے) کے پیراگراف (الف) میں مذکور و مدت ختم ہو جانے کے بعد چھ ماہ کی مدت کے لئے بدستور\nنافذ العمل رہنے کو منظور کرتا ہے“۔\nمشترکہ اجلاس میں ۱۰رجون ، ۱۹۹۸ء کو حسب ذیل قرار داد منظور کی گئی :۔\n\nیہ کہ مشترکہ اجلاس دستور کے آرٹیکل ۲۳۲ کی شق (۷) کے تحت صدر کی طرف سے ۲۸ مئی ، ۱۹۹۸ء کو جاری شدہ ہنگامی حالت کے اعلان\nکو دستور کے آرٹیکل ۲۳۲ کی شق (۱) کے تحت منظور کرتا ہے دیکھئے جریدہ پاکستان ، ۱۹۹۸ء غیر معمولی ،حصہ سوم صفحہ ۶۴۷۔\nدستور (ترمیم سوم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر ۲۲ بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے اصل پیرا (ب) کی بجائے جو بحسب ذیل ہے تبدیل کیا\nگیا ( نفاذ پذیر از ۱۳ / فروری ۱۹۷۵ء)۔\n(ب) مشتر کہ اجلاس کی قرارداد کے ذریعے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لئے جاری رہ سکے گا“۔\nہنگامی حالت کے اعلان کے بدستور نافذ العمل رہنے کی منظوری دینے والے اصل پیرا (ب) کے تحت قرار داد کے لئے دیکھئے جریدہ\nپاکستان ۱۹۷۴ء۔ غیر معمولی ، حصہ سوم، صفحات ۳۴۳ اور بحوالہ عین ماقبل صفحه ۱۱۸۳۔\n\nہنگامی حالت کی مدت\nکے دوران بنیادی\nحقوق وغیرہ کو معطل\nکرنے کا اختیار۔\n\n(۸) شق (۷) میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر قومی اسمبلی اس وقت ٹوٹ چکی ہو جب ہنگامی\nحالت کا کوئی اعلان جاری کیا جائے تو وہ اعلان چار ماہ کی مدت کے لئے بدستور نافذ العمل\nرہے گا لیکن اگر اسمبلی کا عام انتخاب مذکورہ مدت کے اختتام سے پہلے منعقد نہ ہو، تو وہ اس\nگا ،\nمدت کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا، تاوقتیکہ اسے سینٹ کی ایک قرارداد کے ذریعے\nپہلے ہی منظور نہ کیا جا چکا ہو۔\n۲۳۳۔ (۱) آرٹیکلز ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ اور ۲۴ میں شامل کوئی امر ، جبکہ ہنگامی حالت کا اعلان\nنافذ العمل ہو، مملکت کے ، جیسا کہ آرٹیکلے میں تعریف کی گئی ہے، کوئی قانون وضع کرنے\nیا کوئی عاملا نہ قدم اٹھانے کے اختیار پر، جس کے کرنے یا اٹھانے کی وہ مجاز ہوتی اگر مذکورہ\nآرٹیکل میں شامل احکام نہ ہوتے ، پابندی عائد نہیں کرے گا ، مگر اس طرح وضع شدہ کوئی\nقانون ، اس وقت جبکہ مذکورہ اعلان منسوخ کر دیا جائے یا نافذ العمل نہ رہے ، اس\n،\nعدم اہلیت کی حد تک غیر مؤثر ہو جائے گا اور منسوخ شدہ متصور ہوگا۔\n(۲) جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو ، صدر بذریعہ فرمان یہ اعلان کر سکے\nگا کہ حصہ دوم کے باب اوّل کی رو سے عطاء کر وہ بنیادی حقوق میں سے ان کے نفاذ کے\nلئے جن کی فرمان میں صراحت کر دی جائے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق اور کسی\nعدالت میں کوئی کارروائی جو اس طرح مصرحہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کے لئے ہو یا\nجس میں ان حقوق میں سے کسی کی خلاف ورزی کے متعلق کسی سوال کا تعین مطلوب ہو ،\nہیں ہونے کے لئے معطل رہے گی جس کے دوران مذکورہ اعلان نافذ العمل رہے اور ایسا\nکوئی فرمان پورے پاکستان یا اس کے کسی حصہ کے بارے میں صادر کیا جا سکے گا۔\nبعض بنیادی حقوق کے نفاذ کے لئے کسی عدالت سے رجوع کرنے کے حق کو معطل کرنے کا فرمان جو جریدہ پاکستان ،۱۹۷۳ء\nغیر معمولی، حصہ اوّل، صفحہ ۶۰۲ کے ذریعے جاری کیا گیا تھا ایس آر او نمبر ۱۰۹۳ (۱) ۷۴ ، مورخ ۱۴ اگست ۱۹۷۴ء کی رو سے منسوخ کر\nدیا گیا ہے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۴ ء غیر معمولی، حصہ دوم صفحہ ۱۵۴۸۔\n\n(۳) اس آرٹیکل کے تحت صادر کردہ ہر فرمان ، جتنی جلد ممکن ہولم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کے\nدونوں ایوانوں میں علیحدہ علیحدہ سے منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا اور آرٹیکل ۲۳۲ کی\nشقات (۷) اور (۸) کے احکام کا اطلاق ایسے فرمان پر اس طرح ہوگا جس طرح اس کا\nاطلاق ہنگامی حالت کے اعلان پر ہوتا ہے۔\n۲۳۴ (۱) اگر صدر کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے کوئی رپورٹ موصول ہونے پر سکھو\n*\nمطمئن\nکسی صوبے میں\nدستوری نظام کے\nہو جائے کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبے کی حکومت دستور کے احکام کے نا کام ہو جانے کی\nمطابق نہیں چلائی جاسکتی ، تو صدر کو اختیار ہوگا یا اگر اس کے بارے میں ہر ایوان سے صورت میں اعلان\nعلیحدہ علیحدہ کوئی قرار داد منظور ہو جائے تو صدر کیلئے لازم ہوگا کہ، اعلان کے ذریعے۔۔۔ جاری کرنے کا اختیار۔\nکی حکومت سے کل یا بعض کا رہائے منصبی، اور ایسے کل یا بعض اختیارات\n(الف) اس\nجو صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے کسی با اختیار ادارے یا ہیئت مجاز کو حاصل ہوں\nیا جن کو وہ استعمال کر سکتے ہوں خود سنبھال لے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے\nکہ وہ صدر کی جانب سے انہیں سنبھال لے؛\nب یہ اعلان کر سکے کہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات کا استعمال @ مجلس شوری\n(پارلیمنٹ )] کرے گی یا اس کے حکم سے کیا جائے گا: اور\nایمان\nكتاب\nدستور ( اٹھارہ میں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ ( نمبرہ ابایت ۲۰۱۰ ، ) کی دفعہ ۷ ۸ کی رو سے مشترکہ اجلاس کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبنیادی حقوق کو معطل کرنے کا فرمان جو ۲۸ رمئی، ۱۹۹۸ء کو جاری ہوا کے لئے دیکھئے نوٹیفکیشن نمبر۷ ۹۸/۳ منسٹری آئی مورخہ ۲۸ رمئی\n۱۹۹۸ء جریدہ پاکستان، ۱۹۹۸ء حصہ اوّل ، صفحہ ۳۱۔\nمشترکہ اجلاس میں 4 ستمبر ۱۹۷۳ء کو حسب ذیل قرار داد منظور کی گئی:۔\nیہ کہ مشترکہ اجلاس دستور کے آرٹیکل ۲۳۲ کی شق (۷) کو اس کے آرٹیکل ۲۳۳ کی شق (۳) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے اس کے تحت، مذکورہ\nآرٹیکل ۲۳۳ کی شق (۲) کے تحت صادر کرده ۱۴ اگست ۱۹۷۳ء کے فرمان صدر کو آرٹیکل ۲۳۲ کی شق (۷) کے پیرالف میں مذکورہ مدت ختم ہونے\nکے بعد چھ ماہ کی مدت کے لئے مذکورہ فرمان کے بدستورنا فذ العمل رہنے کو منظور کرتا ہے“۔\nفرمان صدرمورخه ۱۴ اگست ۱۹۷۳ کومزید چھ ماہ کی مدت کے لئے بدستور نافذ العمل رہنے کی منظوری دینے والی قرارداد کے لئے دیکھئے\nجریدہ پاکستان، غیر معمولی ، حصہ سوم، صفحہ ۳۴۳۔\nمشترکہ اجلاس میں ۰ ارجون ، ۱۹۹۸ء کو حسب ذیل قرار داد منظور کی گئی:۔\nیہ کہ مشترکہ اجلاس ۱۸ مئی ۱۹۹۸ء کے فرمان صدر کو دستور کے آرٹیکل ۳۳ کی شق (۲) کے تحت منظور کرتا ہے دیکھئے جریدہ پاکستان، ۱۹۹۸ء حصہ سوم صفحہ ۶۴۷۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء کی دفعہ ۸۸ کی رو سے الفاظ یا بصورت دیگر کو حذف کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل \" مشتر کہ اجلاس میں\" کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء (فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کیے گے\n\n(ج) ایسے ضمنی اور ذیلی احکام وضع کرے جن کو صدر ، اعلان کی غرض وغایت کو عمل میں\nلانے کے لئے ضروری یا مناسب خیال کرے ، ان میں ایسے احکام بھی شامل ہیں\nجو صوبے کے کسی ادارہ یا ہیئت سے متعلق دستور کے کسی حکم پر عملدرآمد کو کلی یا جزوی\nطور پر معطل کرنے کے لئے ہوں:\nپر\nمگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں مذکورہ کوئی امر صدر کو اس بات کا اختیار نہیں دے گا کہ وہ\nان اختیارات کو جو کسی عدالت عالیہ کو حاصل ہوں یا جنہیں وہ استعمال کر سکتی ہو خود سنبھال\nلے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت کرے کہ وہ اس کی جانب سے مذکورہ اختیارات سنبھال\nلے اور نہ وہ عدالت ہائے عالیہ سے متعلق دستور کے کسی حکم کے عمل در آمد کو کلی یا جزوی طور\nپر معطل کرنے کا مجاز ہوگا۔\n(۲) آرٹیکل ۱۰۵ کے احکامات کا اطلاق شق (۱) کے تحت گورنر کے کارہائے منصبی کی بجا آوری\nیر نہیں ہوگا۔\n(۳) اس آرٹیکل کے تحت جاری شدہ اعلان ایک مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور\nدو ماہ کی مدت گزر جانے پر نافذ ا عمل نہیں رہے گا ، تا وقتیکہ مذکورہ مدت کے گزر جانے\nسے قبل اسے مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو اور ایسی ہی قرار داد\nکے ذریعے اسے ایسی مزید مدت کے لئے بڑھایا جا سکے گا جو دو ماہ سے زیادہ نہ ہو، لیکن\nبڑھایاجاسکے گا جودو ماہ زیادہ نہ\nایسا کوئی اعلان کسی بھی صورت میں چھ ماہ سے زیادہ تک نافذ العمل نہیں رہے گا۔\n(۴) شق (۳) میں شامل کسی امر کے باوجود، اگر قومی اسمبلی اس وقت ٹوٹ چکی ہو ، جب اس\nآرٹیکل کے تحت کوئی اعلان جاری کیا جائے تو وہ اعلان تین ماہ کی مدت کے لئے بدستور\nنافذ العمل رہے گا لیکن اسمبلی کا عام انتخاب مذکورہ مدت کے اختتام سے پہلے منعقد نہ ہو،\nتو وہ اس مدت کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اسے سینٹ کی ایک قرار داد\nکے ذریعے پہلے ہی منظور نہ کیا جا چکا ہو۔\n(۵) جب اس آرٹیکل کے تحت جاری شدہ کسی اعلان کے ذریعے اس امر کا اعلان کر دیا گیا ہو\nکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات کا استعمال سلم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کرے گی یا اس\nکے اختیار مجاز کے تحت ان کا استعمال کیا جائے گا تو ۔۔۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۳ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\n(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اختیار ہوگا کہ مشترکہ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے\nاختیار قانون سازی میں شامل کسی امر سے متعلق قوانین وضع کرنے کا اختیار صدر\nکے سپردکرے؛\n(ب) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا صدر کو، جب کہ اسے پیرا (الف)\nکے تحت مجاز کیا گیا ہو، اختیار ہو گا کہ وہ وفاق یا اس کے افسروں اور حکام مجاز کو\nاختیارات عطاء کرنے اور فرائض عائد کرنے یا اختیار عطاء کرنے اور فرائض\nعائد کرنے کا مجاز کرنے کے لئے قوانین وضع کرے؛\n(ج) صدر کو، جب ام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ] کا اجلاس نہ ہورہا ہو، اختیار ہوگا کہ\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایسے خرچ کی منظوری حاصل\nہونے تک ، صوبائی مجموع فنڈ سے ( 7 ) منظوری دے، خواہ یہ خرچ دستور کی رو\nاسے مذکورہ فنڈ سے واجب الادا ہو یا نہ ہو؛ اور\n(د) سام مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) کو مشترکہ اجلاس میں یہ اختیار ہوگا کہ قرارداد کے\nذریعے پیرا ( ج) کے تحت صدر کی طرف سے منظور کردہ خرچ کی اجازت دے۔\n(1) کوئی قانون جسے ہم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا صدر نے وضع کیا ہو جس کے وضع کرنے ایا\nکا اختیار ام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ایا صدر کو نہ ہوتا ، اگر اس آرٹیکل کے بموجب اعلان\nجاری نہ ہوا ہوتا ، تو وہ اس آرٹیکل کے تحت اعلان کی مدت ختم ہونے کے چھ ماہ بعد\nعدم اہلیت کی حد تک غیر موثر ہو جائے گا ، سوائے ان امور کے جو مذکورہ مدت کے ختم\nہونے سے قبل انجام پا چکے ہوں یا انجام دہی سے نظر انداز ہو گئے ہوں ۔\n۲۳۵۔ (۱) اگر صدر کو اطمینان ہو جائے کہ ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس سے پاکستان یا اس مالی ہنگامی حالت کی\nکے کسی حصہ کی اقتصادی زندگی ، مالی استحکام یا ساکھ کو خطرہ لاحق ہے ، تو وہ ، صوبوں کے صورت میں اعلان ۔\nگورنروں سے یا جیسی بھی صورت ہو ، متعلقہ صوبے کے گورنر سے مشورے کے بعد ، اس\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء (فرمان صد نمبر۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\n\nسلسلے میں فرمان کے ذریعے اعلان کر سکے گا، اور ، جب ایسا اعلان نافذ العمل ہو تو وفاق کا\nانتظامی اختیار کسی صوبے کو ایسی ہدایات دینے پر کہ وہ ان ہدایات میں متعین کردہ مالیاتی\nموزونیت کے اصولوں پر عمل کرے اور ایسی دیگر ہدایات دینے پر وسعت پذیر ہوگا جنہیں\nصدر، پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی اقتصادی زندگی، مالی استحکام یا ساکھ کے مفاد کی خاطر\nضروری سمجھے۔\n(۲) دستور میں شامل کسی امر کے باوجود، ایسی ہدایات میں ایسا حکم بھی شامل ہو سکے گا جس میں\nکسی صوبے کے امور کے سلسلہ میں ملازمت کرنے والے سب افراد یا ان کے کسی طبقے\nکی تنخواہ اور بھتہ جات میں تخفیف کا حکم دیا گیا ہو۔\n(۳) جب اس آرٹیکل کے تحت جاری کردہ کوئی اعلان نا فذ العمل ہو تو صدر وفاق کے امور کے\nسلسلہ میں ملازمت کرنے والے سب افراد یا ان کے کسی طبقہ کی تنخواہوں اور بھتہ جات\nمیں تخفیف کیلئے ہدایات جاری کر سکے گا۔\n(۴) آرٹیکل ۲۳۴ کی شقات (۳) اور (۴) کے احکام اس آرٹیکل کے تحت جاری کردہ کسی\nاعلان پر اسی طرح اطلاق پذیر ہوں گے جس طرح وہ مذکورہ آرٹیکل کے تحت جاری کردہ\nاعلان پر اطلاق پذیر ہوتے ہیں۔\nاعلان کی تنسیخ وغیرہ۔ ۲۳۶۔ (۱) اس حصہ کے تحت جاری ہونے والا کوئی اعلان بعد میں جاری ہونے والے اعلان سے\nکیا جاسکے گا یا منسوخ کیا جا سکے گا۔\nمجلس شوری\n(پارلیمنٹ) ] بریت\nوغیرہ کے قوانین وضع\nکر سکے گی۔\n(۲) اس حصہ کے تحت جاری کئے جانے والے کسی اعلان یا صادر کئے جانے والے کسی فرمان\nکے جواز پر کسی عدالت میں اعتراض نہیں کیا جا سکے گا۔ \nاس دستور میں کوئی امرام مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) ] کے لئے کسی ایسے شخص کی جو وفاقی حکومت یا\nکسی صوبائی حکومت کی ملازمت میں ہو، یا کسی دیگر شخص کی کسی ایسے فعل کی نسبت بریت\nسے متعلق قانون وضع کرنے میں مانع نہ ہوگا جو پاکستان کے کسی علاقے میں امن وامان\nبرقرار رکھنے اور اس کی بحالی کے سلسلے میں کیا گیا ہو۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر۱۴ مجریہ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nل-\n\nحصہ یازدہم\nدستور کی ترمیم\nاس حصے کے تابع ، اس دستور میں لا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)] کے ایکٹ کے ذریعے ترمیم دستور کی ترمیم۔\nکی جاسکے گی۔\n۲۳۹ (۱) دستور میں ترمیم کرنے کے بل کی ابتداء کسی بھی ایوان میں کی جاسکے گی اور ، جبکہ اس بل کو دستور میں ترمیم کا بل ۔\nایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور کر لیا جائے ، تو اسے دوسرے ایوان\nمیں بھیج دیا جائے گا۔\n(۲) اگر بل کو اس ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے بلا ترمیم منظور کر لیا جائے\nجسے شق (1) کے تحت اسے بھیجا گیا تھا ، تو اسے ، شق (۴) کے احکام کے تابع ، صدر کی تھا، تو اسے\nمنظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔\n(۳) اگر بل کو اس ایوان کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی دوٹوں سے ترمیم کے ساتھ منظور کیا\nجائے جسے شق (۱) کے تحت اسے بھیجا گیا تھا تواس پر وہ ایوان دوبارہ غور کرے گا جس میں تے (1) کے\nاس کی ابتدا ہوئی تھی، اور اگر بل کو جس طرح کہ اول الذکر ایوان میں اس میں ترمیم کی گئی تھی\nآخر الذکر ایوان کی طرف سے اس کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور کر لیا\nجائے تو اسے شق (۴) کے احکام کے تابع ، صدر کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔\n(۴) دستور میں ترمیم کے کسی بل کو جو کسی صوبے کی حدود میں ردو بدل کا اثر رکھتا ہو صدر کی\nمنظور کے لئے پیش نہیں کیا جائے گا تا وقتیکہ اسے اس صوبے کی صوبائی اسمبلی نے اپنی\nکل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور نہ کر لیا ہو۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nفرمان دستور (ترمیم دوم) ۱۹۸۵ء (فرمان صدر نمبر ۲۰ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۳ کی رو سے آرٹیکل ۲۳۹ کی بجائے تبدیل کیا گیا\nجسے قبل ازیں فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اصل آرٹیکل ۲۳۹‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا تھا۔\n\n@\nدستور میں کسی ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بناء پر چاہے جو کچھ ہو کوئی اعتراض نہیں کیا\nجائے گا۔\n(1) ازالہ شک کے لئے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ دستور کے احکام میں سے کسی میں ترمیم\nکرنے سے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے\nاختیار پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔]\nایمان\n\n۲۴۱۔\n\nحصہ دوازدہم\nمتفرقات\nباب ا۔ ملازمتیں\nدستور کے تابع ، پاکستان کی ملازمت میں افراد کا تقرر اور ان کی شرائط ملازمت کا تعین ۔۔۔ پاکستان کی ملازمت\n(الف) وفاق کی ملازمتوں، وفاق کے امور کے سلسلے میں آسامیوں اور کل پاکستان میں تقر اور شرائط\nملازمتوں کی صورت میں ہار مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے تحت یا اس\nکے ذریعے ہوگا؛ اور\nکاری\n(ب) کسی صوبے کی ملازمتوں اور کسی صوبے کے امور کے سلسلے میں آسامیوں کی\nصورت میں، اس صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت یا اس کے ذریعے ہوگا۔\nتشریح اس آرٹیکل میں کل پاکستان ملازمت سے وفاق اور صوبوں کی کوئی\nمشترک ملازمت مراد ہے جو یوم آغاز سے عین قبیل موجود تھی یا جسے لا مجلس\nشوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے وضع کیا جائے۔\nملازمت۔\nجب تک کہ متعلقہ مقننہ آرٹیکل ۲۴۰ کے تحت کوئی قانون نہ بنائے ، یوم آغاز سے عین قبل موجودہ قواعد و غیره\nنافذ العمل قواعد اور احکام ، جہاں تک وہ دستور کے احکام سے مطابقت رکھتے ہوں ، جاری رہیں گے۔\nنافذ العمل رہیں گے اور ان میں وفاقی حکومت یا جیسی بھی صورت ہو ، صوبائی حکومت\nوقتا فوقتا ترمیم کر سکے گی۔\n(1) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) وفاق کے امور سے متعلق اور کسی صوبے کی صوبائی اسمبلی اس پبلک سروس کمیشن ۔\nصوبے کے امور سے متعلق قانون کے ذریعے پبلک سروس کمیشن کے قیام اور تشکیل کے\nاحکام وضع کر سکے گی۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\nا۔ الف) وفاق کے امور سے متعلق تشکیل کردہ پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین کا تقر ر صدر\nوزیر اعظم کے مشورہ پر کرے گا۔ ]]\nا۔ب) صوبے کے امور سے متعلق تشکیل کردہ پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین کا تقرر\nگورنر وزیراعلیٰ کے مشورہ پر کرے گا۔]\n(۲) کوئی پبلک سروس کمیشن ایسے کارہائے منصبی انجام دے گا، جو قانون کے ذریعے مقرر کئے جائیں۔\nباب ۲۔ مسلح افواج\nمسلح افواج کی کمان ۔ ۲۴۳۔ (۱) وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول ہوگا۔\nمسلح افواج کا حلف۔\nمسلح افواج کے\nکارہائے منصبی ۔\n۲۴۴۔\n(۲) قبل الذکر حکم کی عمومیت پر اثر انداز ہوئے بغیر مسلح افواج کی اعلیٰ کمان صدر کے ہاتھ میں ہوگی۔\n(۳) صدر کو قانون کے تابع ، یہ اختیار ہوگا کہ وہ۔\n(الف) پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج اور مذکورہ افواج کے محفوظ دستے قائم کرے\nاور ان کی دیکھ بھال کرے؛ اور\nکی\n(ب) مذکورہ افواج میں کمیشن عطاء کر ہے۔\n\n(۴) صدر، وزیر اعظم کے ساتھ مشورہ پر ، ۔۔\n(الف) چیئر مین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی،\n(ب) چیف آف آرمی اسٹاف ؛\n(ج) چیف آف نیول اسٹاف ؛ اور کی\n(,)\nچیف آف ایئر اسٹاف ؛\nکا تقرر کرے گا اور ان کی تنخواہوں اور لا ونسوں کا تعین بھی کرے گا۔\nمسلح افواج کا ہر رکن جدول سوم میں دی گئی عبارت میں حلف اٹھائے گا۔\n-۲۴۵ ۴ (۱) مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت ، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شامل کی گئی۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۸۹ کی رو سے اس کی صوابدید پر “ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل نئی دفعہ (اب) شامل کی گئی۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۹۰ کی رو سے آرٹیکل ۲۴۳‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nدستور ( ترمیم ہفتم) ایکٹ ، ۱۹۷۷ء ( نمبر ۳ ۲ بابت ۱۹۷۷ء) کی دفعہ کی رو سے شق (۱) کے طور پر دوبارہ نمبر لگایا گیا ( نفاذ پذ یر از\n۲۱ راپریل، ۱۹۷۷ء)۔\n\nخلاف پاکستان کا دفاع کریں گی، اور ، قانون کے تابع ،شہری حکام کی امداد میں، جب ایسا\nکرنے کیلئے طلب کی جائیں ، کام کریں گی۔\n(۲) شق (۱) کے تحت وفاقی حکومت کی طرف سے جاری شدہ کسی ہدایت کے جواز کوکسی عدالت\nمیں زیر اعتراض نہیں لایا جائے گا۔\n(۳) کوئی عدالت عالیہ کسی ایسے علاقے میں جس میں پاکستان کی مسلح افواج ، فی الوقت ،\nآرٹیکل ۲۳۴۵ کی تعمیل میں شہری حکام کی مدد کے لئے کام کر رہی ہوں، آرٹیکل 199 کے تحت کوئی\nاختیا رسماعت استعمال نہیں کرے گی:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق کا اس دن سے عین قبل جس پر مسلح افواج نے شہری حکام کی مدد\nکے لئے کوئی کام کرنا شروع کیا ہو کسی زیر سماعت کا رروائی سے متعلق عدالت عالیہ کے\nاختیار سماعت کو متاثر کرنا متصور نہیں ہوگا۔\n(۴) شق (۳) میں محولہ کسی علاقہ سے متعلق کوئی کارروائی جسے اس دن یا اس کے بعد دائر کیا گیا ہو\nجبکہ مسلح افواج نے شہری حکام کی مدد کے لئے کام شروع کیا ہو اور جوکسی عدالت عالیہ میں\nزیر سماعت ہو، اس عرصے کے لئے معطل رہے گی جس کے دوران مسلح افواج بایں طور کام کر\nباب ۳۔ قبائلی علاقہ جات\nرہی ہوں ]\n۲۴۶۔ اس دستور میں،۔\n۔ ۔۔ ايما\n(الف) قبائلی علاقہ جات سے پاکستان کے وہ علاقہ جات مراد ہیں جو، یوم آغاز سے عین قبیل،\n قبائلی علاقہ جات تھے اور ان میں حسب ذیل شامل ہیں ۔\n(اول) بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقہ جات ؟ \"\nس\n(دوم) امب ، چترال، دیر اور سوات کی سابقہ ریاستیں ؛\n*\n*\nدستور ( ترمیم ہفتم) ایکٹ ، ۱۹۷۷ء (نمبر ۲۳ بابت ۱۹۷۷ء) کی دفعہ کی رو سے اضافہ کیا گیا ( نفاذ پذیراز ا۱۲ اپریل ۱۹۷۷ء) ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء ( نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۱ کی رو سے بلوچستان کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل شمالی مغربی سرحدی صوبے کی بجائے تبدیل کیا گیا\nبحوالہ معین ما قبل لفظ \" اور \" حذف کیا گیا۔\nدستور ( انیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ ( نمبر ابابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ے کی رو سے ذیلی پیراگراف (سوم) اور (چہارم ) کو حذف کیا گیا۔\nقبائلی علاقہ جات۔\n\n་\nकपाले\n(ب) صوبے کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے حسب ذیل مراد ہیں ۔۔۔۔\n(اول) چترال، دیر اور سوات ( جس میں کالام شامل ہے ) کے اضلاع\nضلع کوہستان\nکا قبائلی علاقہ مالا کنڈ کا محفوظ علاقہ ضلع مانسہرہ سے\nملحقہ قبائلی علاقہ اور امب کی سابق ریاست؛ اور\n( دوم ) ضلع ژوب ضلع لورالائی ( تحصیل ڈکی کے علاوہ ضلع چاغی کی تحصیل\nدالبندین اور ضلع سبی کے مری اور بگٹی قبائلی علاقہ جات ، ۳*\n\"\n(ج) وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں حسب ذیل شامل ہیں۔۔۔۔\n(اول) ضلع پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات ؛\nضلع کوہاٹ سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات ؛\n(دوم)\n(سوم) ضلع بنوں سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات ؛\n(سوم الف) ضلع لکی مروت سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات ؟]\n(چہارم) ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات؛\nچهارم الف) ضلع ٹانک سے ملحقہ قبائلی علاقہ جات ]\n(پنجم) با جوڑا جیسی\nپنجم الف) اورکزئی ایجنسی )\n(ہفتم)\nمہمندا جنسی؛\nخیبر ایجنسی؛\n(هشتم) کرم ایجنسی؛\n(نهم) شمالی وزیرستان ایسی ؛ اور\n(دہم) جنوبی وزیرستان ایسی ۴ ؛ اور ]\n۱ (۱) دستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ ء کے آغاز نفاذ پر اس میں مذکورہ علاقہ جات ، ۔۔۔ (د)\n(ب) میں\n(اول) پیرا میں انضمام شدہ سمجھا جائے گا؛ اور\nخیبر\n(الف) والی پیراگراف ( وال ) میں جو\n(ب) ذیلی پیراگراف ( دوم ) میں صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام شدہ سمجھا جائے گا؛ اور\n(رو) پیرا گراف (ج) میں صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام شدہ سمجھا جائے گا۔]۔\nدستور (ترمیم ششم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۸۴ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ \" کی رُو سے شامل کئے گئے اور بایں طور شامل شدہ متصور ہوں\nسے ( نفاذ پذ یر از یکم اکتوبر ، ۱۹۷۶ء)۔\nبحوالہ عین ماقبل ”ہزارہ کی بجائے تبدیل کیا گیا اور بائیں طور پر تبدیل شدہ متصور ہوگا۔\nدستور ( پچیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۸ء (نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ کی رُو سے لفظ ” اور “ کو حذف کیا گیا۔\nدستور ( انیسویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ا بابت ۲۰۱۱ء) کی دفعہ ے کی رُو سے نیا ذیلی پیراگراف (سوم الف) شامل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی رو سے نیا ذیلی پیراگراف (چہارم الف ) شامل کیا گیا۔\nدستور ( ترمیم ششم) ایکٹ ،۱۹۷۶ء (نمبر ۸۴ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ کی رو سے اصل ذیلی پیرا ( پنجم ) کی بجائے تبدیل کیے گئے\nاور بایں طور تبدیل شدہ متصور ہوں گے (نفاذ پذیر از یکم دسمبر ۱۹۷۳ء)۔\nایکٹ نمبر ۳۷ بابت ۲۰۱۸ء کی دفعہ ۸ کی رُو سے وقف کامل کو ، اور“ سے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل کی رُو سے’ نئے پیراگراف (د)‘ کا اضافہ کیا گیا۔\n\n=\n\n۲۴۷۔\nقبائلی علاقہ جات کا انتظام دستور ( پچیسیوں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۸ء (۳۷ بابت ۲۰۱۸ء) کی دفعہ ۹\nکی رُو سے حذف کیا گیا۔\nایمان\n \n\nباب ۴۔ عام\nصدر، گورنر، وزیر ۲۴۸ (۱) صدر، کوئی گورنر ، وزیر اعظم ، کوئی وفاقی وزیر، کوئی وزیرمملکت، وزیر اعلیٰ اور کوئی صوبائی وزیر اپنے\nوغیرہ کا تحفظ ۔\nمتعلقہ عہدے کے اختیارات استعمال کرنے اور ان کے کارہائے منصبی انجام دینے کی بناء پر ، یا\nکسی ایسے فعل کی بناء پر جوان اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اور کارہائے منصبی انجام دیتے\nہوئے کئے گئے ہوں یا جن کا کیا جانا مترشح ہو، کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں کسی امر سے کسی شخص کے وفاق یا صوبے کے خلاف\nمناسب قانونی کارروائیاں کرنے کے حق میں مانع ہونے کا مفہوم اخذ نہیں کیا جائے گا۔\nکاری\n(۲) صدر یا کسی گورنر کے خلاف ، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی\nفوجداری مقدمات نہ قائم کئے جائیں گے اور نہ جاری رکھے جائیں گے۔\nایمان\n \n\n(۳) صدر یا کسی گورنر کے عہدے کی میعاد کے دوران کسی عدالت کی طرف سے اس کی گرفتاری یا\nقید کے لئے کوئی حکم جاری نہیں ہوگا۔\n(۴) صدر یا کسی گورنر کے خلاف ، خواہ اس کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے یا بعد میں اس کی ذاتی حیثیت\nمیں کسی فعل کے کرنے یا نہ کرنے سے متعلق، اس کے عہدے کی میعاد کے دوران\nکوئی دیوانی مقدمہ\nجس میں اس کے خلاف دادرسی چاہی گئی ہو، قائم نہیں کیا جائے گا، تاوقتیکہ مقدمہ قائم ہونے سے\nکم از کم ساٹھ دن پیشتر اس\nکو تحریری نوٹس نہ دیا گیا ہو یا قانون کے ذریعے مقررہ طریقے کے مطابق\nنہ بھیجا گیا ہو جس میں مقدمہ کی نوعیت ، کارروائی کی وجہ اس فریق کا نام، کیفیت اور جائے رہائش\nجس کی جانب سے مقدمہ قائم ہونا ہے اور داوری جس کا دعویٰ وہ فریق کرتا ہے، درج ہو۔\n۲۴۹ (۱) کوئی قانونی کارروائی جو اگر دستور نہ ہوتا تو کسی ایسے معاملے کی بابت جو، یوم آغاز سے عین قبل، قانونی کارروائیاں۔\nوفاق کی ذمہ داری تھی اور جو دستور کے تحت کسی صوبے کی ذمہداری ہوگئی ہے، وفاق کی طرف سے\nیا اس کے خلاف کی جاسکتی تھی ، متعلقہ صوبے کی طرف سے یا اس کے خلاف کی جائے گی اور اگر\n؛\nیوم آغاز سے میں قبل کوئی مذکورہ قانونی کاروائی کسی عدالت میں تصفیہ طلب تھی تو اس صورت میں\nاس کارروائی میں اس دن سے وفاق کی بجائے متعلقہ صوبے کا تبدیل کیا جانا متصور ہوگا۔\n(۲) کوئی قانونی کارروائی جو اگر دستور نہ ہوتا تو کسی ایسے معاملے کی بابت جو یوم آغاز سے عین قبل\nصوبے کی ذمہ داری تھی اور جو دستور کے تحت ، وفاق کی ذمہ داری ہوگئی ہے کسی صوبے کی طرف\nسے یا اس کے خلاف کی جاسکتی تھی ، وفاق کی طرف سے یا اس کے خلاف کی جائے گی ؛ اور اگر\nیوم آغاز سے میں قبل کوئی مذکورہ قانونی کارروائی کسی عدالت میں تصفیہ طلب تھی تو اس صورت\nمیں اس کا رروائی میں اس دن سے اس صوبے کی بجائے وفاق کا تبدیل کیا جانا متصور ہوگا۔\n۲۵۰۔ (۱) یوم آغاز سے دوسال کے اندر اندر، صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی صدر، وغیرہ کی\nکے کسی رکن ، سینٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین اور کسی رکن ، وزیر اعظم کسی وفاقی وزیر کسی تنخواہیں بھتہ جات\n***\nوزیر مملکت پہلے * * * کسی وزیر اعلی کسی صوبائی وزیر اور چیف الیکشن کمشنر کی تنخواہیں،\nالفاظ اور سکنہ کوئی گورنر دستور (ترمیم اول) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۳ کی رو سے حذف کئے گئے\n( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ۱۹۷۴ء)۔\n\nبھتہ جات اور مراعات کا تعین کرنے کے لئے قانون کے ذریعے احکام وضع کئے جائیں گے۔\n(۲) جب تک کہ قانون کے ذریعے دیگر احکام وضع نہ کئے جائیں۔۔۔\n(الف) صدر، قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر یا کسی رکن کسی\nوفاقی وزیر، وزیر مملکت * * کسی وزیر اعلیٰ کسی صوبائی وزیر اور چیف الیکشن\nکمشنر کی تنخواہیں ، بھتہ جات اور مراعات وہی ہوں گی جن کا صدر ، قومی اسمبلی\nپاکستان یا کسی صوبائی اسمبلی کا اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر یا رکن ، کوئی وفاقی وزیر ، کوئی\nوزیرمملکت \" \" کوئی وزیر اعلی ، کوئی صوبائی وزیر ، یا جیسی بھی صورت ہو ، چیف\n*\nالیکشن کمشنر یوم آغاز سے عین قبل مستحق تھا؛ اور\n(ب) چیئرمین، ڈپٹی چیئر مین، وزیر اعظم اور سینٹ کے کسی رکن کی تنخواہیں بھتہ جات\nاور مراعات وہ ہوں گی جو صدر بذریعہ فرمان متعین کرے۔\n(۳) کسی شخص کی تنخواہ ، بھتہ جات اور مراعات میں، جو ۔۔۔\n(الف) صدر ؛\n(ب) چیئر مین یا ڈپٹی چیئر مین؟\n(ج) قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر ؛\n(1) کسی گورنر: اکتان\n \nچیف الیکشن کمشنر ؛ یا\nمحاسب اعلیٰ ،\n()\n(,)\nکے عہدہ پر فائز ہو، اس کی میعاد عہدہ کے دوران اس کے مفاد کے منافی تغیر نہیں کیا جائے گا۔\n(۴) کسی وقت جبکہ چیئر مین یا اسپیکر صدر کے طور پر فرائض انجام دے رہا ہو ، تو وہ ایسی تنخواہ،\nالفاظ اور سکتہ کوئی گورنر دستور (ترمیم اول) ایکٹ ، ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۳ کی رو سے حذف کئے گئے\nنفاذ پذیر از ۴ رمئی ۱۹۷۴۰ء)۔\n\nبھتہ جات اور مراعات کا مستحق ہوگا جس کا صدر ہے لیکن وہ چیئر مین یا اسپیکر بالا مجلس شوریٰ\n(پارلیمنٹ ) کے رکن کے فرائض منصبی انجام نہیں دے گا اور نہ وہ چیئر مین یا اسپیکر یا کسی\nمذکورہ رکن کی تنخواہ، بھتہ جات یا مراعات کا مستحق ہوگا۔\n-۲۵ (۱) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندراندر اس کو سرکاری و دیگر\nاغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظام کئے جائیں گے۔\n(۲) شق (۱) کے تابع ، انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جاسکے\nگی ، جب تک کہ اس کے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔\n(۳) قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعہ قومی زبان کے علاوہ\nکسی صوبائی زبان\nکی تعلیم ، ترقی اور اس کے استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکے گی۔\nقومی زبان۔\n۲۵۲ (۱) دستور یا کسی قانون میں شامل کسی امر کے باوجود، صدر عام اعلان کے ذریعہ، اس امر کی بڑی بندرگا ہوں اور ہوائی\nکر\nہدایت دے سکے گا کہ کسی مصرحہ تاریخ سے اس عرصہ تک جس کی میعاد تین ماہ سے زیادہ نہ ہو اڈوں سے متعلق خاص\nگی، کوئی مصرحه قانون ، خواہ وفاقی قانون ہو یا صوبائی قانون کسی مصرحہ بڑی بندرگاہ یا بڑے\nہوائی اڈے پر اطلاق پذیر نہ ہوگا یا کسی مصرحہ بڑی بندرگاہ یا بڑے ہوائی اڈے پر مصرحہ\nمستثنیات یا ترمیمات کے تابع اطلاق پذیر ہوگا۔\n(۲) اس آرٹیکل کے تحت کسی قانون کے متعلق کسی ہدایت کا اجراء ہدایت میں مصرحہ تاریخ سے\nپہلے اس قانون کے عملدرآمد پر اثر انداز نہ ہوگا۔\n۲۵۳ (۱) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) بذریعہ قانون ۔۔۔\n(الف) ایسی جائیداد یا اس کی کسی قسم کے بارے میں جو کوئی شخص ملکیت ،نصرف، قبضہ یا\nنگرانی میں رکھ سکے گا انتہائی تحدیدات مقرر کر سکے گی ؛ اور\n(ب) اعلان کر سکے گی کہ ایسے قانون میں مصرحہ کوئی کاروبار تجارت، صنعت یا خدمت،\nوفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت یا ایسی کسی حکومت کے زیر نگرانی کوئی\nکارپوریشن دیگر اشخاص کو مکمل یا جزوی طور پر خارج کر کے ، چلائے گی یا\nزیرملکیت رکھے گی۔\nاحکام\nجائیداد وغیرہ پر انتہائی\nتحدیدات۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ کا فرمان، ۱۹۸۵ ( فرمان صد نمبر ۳ مجری ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ\" کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\nوقت مطلوبہ کے اندر\nنہ ہونے کے باعث\nکوئی فعل کا لعدم نہ ہو\nگا۔\nعہدے کا حلف ۔\n\n(۲) کوئی قانون جو کسی شخص کو اس رقبہ اراضی سے زیادہ اراضی کی منفعتی ملکیت یا منفعتی قبضہ\nکی اجازت دے جو وہ یوم آغاز سے عین قبل جائز طور پر منفعتی ملکیت میں رکھ سکتا تھایا\nمنفعتی قبضہ میں لاسکتا تھا، کالعدم ہوگا۔\nجب کوئی فعل یا امر دستور کی رُو سے ایک خاص مدت میں کرنا مطلوب ہو اور اس مدت میں\nنہ کیا جائے تو اس فعل یا امر کا کر نا صرف اس وجہ سے کالعدم نہ ہوگا یا بصورت دیگر غیر مؤثر نہ\nہوگا کہ یہ مذکورہ مدت میں نہیں کیا گیا تھا۔\n۲۵۵۔ (۱) کوئی حلف جو دستور کے تحت کسی شخص سے لینا مطلوب ہو ترجیحاً اردو میں لیا ] جائے گا یا\nاس زبان میں جسے وہ شخص سمجھتا ہو۔\n(۲) جہاں دستور کے تحت کسی خاص شخص کے سامنے حلف اُٹھانا مطلوب ہو اور کسی وجہ سے ،\nکالا\nاس شخص کے سامنے حلف اٹھا نانا قابل عمل ہو تو وہ کسی ایسے شخص کے سامنے حلف اُٹھایا جا سکے\nگا جسے اس شخص نے نامزد کیا ہو۔\n(۳) جہاں دستور کے تحت کسی شخص کا اپنا عبد وسنجالنے سے پہلے حلف اٹھانا مطلوب ہوتو\nاس کا عہدہ سنبھالنا اس دن متصور ہوگا جس دن اس نے حلف اُٹھایا ہو۔\nنجی افواج کی ممانعت۔ ۲۵۶۔ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، اور ایسی بھی\nکوئی مذکورہ تنظیم خلاف قانون ہوگی۔\nسے متعلق حکم ۔\nریاست جموں وکشمیر ۲۵۷۔ جب ریاست جموں وکشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں، تو پاکستان اور مذکورہ\nریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے۔\nصوبوں سے باہر کے ۲۵۸۔ دستور کے تابع ، جب تک سلم مجلس شوری ( پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے بصورت دیگر حکم وضع نہ\nکرے،صدر ، فرمان کے ذریعے ، پاکستان کے کسی ایسے حصے کے امن وامان اور اچھے نظم ونسق کے\nعلاقہ جات\nکا نظم ونسق ۔\nلئے جو کسی صوبہ کا حصہ نہ ہو، حکم صادر کر سکے گا۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریه ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”میں لیا جائے“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ کا فرمان ۱۹۸۵۰ ( فرمان صد نمبر ۳ مجری ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\n۲۵۹۔ (۱) کوئی شہری وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی بیرونی ریاست سے کوئی خطاب، اعزاز یا اعزازات ۔\nاعزازی نشان قبول نہیں کرے گا۔\n(۲) وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت کسی شہری کو کوئی خطاب، اعزاز یا اعزازی نشان عطار نہیں\nکریگی لیکن صدر وفاقی قانون کے احکام کے مطابق شجاعت مسلح افواج میں قابل تعریف\nخدمت تعلیمی امتیاز یا کھیلوں یا نرسنگ کے میدان میں امتیاز کے اعتراف کے طور پر\nاعزازی نشانات عطاء کر سکے گا۔\n(۳) یوم آغاز سے پہلے شہریوں کو پاکستان کی کسی بھی ہیئت مجاز کی جانب سے عطاء کر دہ وہ تمام\nخطابات ، اعزازات اور اعزازی نشانات ماسوائے ان کے جو شجاعت مسلح افواج میں قابل\nتعریف خدمت یا تعلیمی امتیاز کے اعتراف کے طور پر دیئے گئے ہوں کالعدم ہو جائیں گے۔\nباب ۵- توضیح\n(1) _+\nدستور میں ، تا وقتیکہ سیاق و سباق عبارت سے کچھ اور مطلب نہ نکلتا ہو، مندرجہ ذیل الفاظ\nکے وہی معنی لئے جائیں گے جو بذریعہ ہذا ان کے لئے بالترتیب مقرر کئے گئے ہیں، یعنی:۔\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ سے وہ ایکٹ مراد ہے جو م مجلس شوری\n(پارلیمنٹ ) یا قومی اسمبلی نے منظور کیا ہو اور صدر نے اس کی منظوری دی ہو یا\nصدر کی طرف سے اس\nکا منظور شدہ ہونا متصور ہو؛\nصوبائی اسمبلی کے ایکٹ سے وہ ایکٹ مراد ہے جو کسی صوبے کی صوبائی اسمبلی\nای\nنے منظور کیا ہو اور گورنر نے اس کی منظوری دی ہو یا گورنر کی طرف سے اس کا منظور\n شدہ ہونا متصور ہو؛ / \nتعریفات۔\nدستور ( ترمیم اول ) ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۴ کی رو سے شامل کئے گئے ( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ، ۱۹۷۴ء)۔\nفرمان دستور (ترمیم سوم ) ۱۹۸۱ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۲ مجریہ ۱۹۸۱ء) کے آرٹیکل ۲ کی رو سے یا تعلیمی امتیاز کی بجائے تبدیل کیے گئے ۔\nدستور (ترمیم اول) ایکٹ ،۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۴ کی رو سے شامل کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طور پر شامل\nکردہ متصور ہوں گے ( نفاذ پذیر از ۴ رمئی ، ۱۹۷۴ء)۔\nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کیے گئے۔\n\n*\nزرعی آمدنی سے وہ زرعی آمدنی مراد ہے جس کی تعریف محصول\nآمدنی سے متعلق\nقانون کی اغراض کے لئے کی گئی ہے؟\n\"آرٹیکل سے دستور کا آرٹیکل مراد ہے؟\nقرض لینے میں رقوم سالیانے کے ذریعے رقوم حاصل کرنا شامل ہے اور\nقرضہ\" کے معنی بھی اس طریقے پر لئے جائیں گے؟\nچیئر مین سے سینٹ کا چیئر مین مراد ہے اور ، ماسوائے آرٹیکل ۴۹ میں، اس میں\nوہ شخص بھی شامل ہے جو سینٹ کے چیئر مین کے طور پر کام کر رہا ہو؟\nچیف جسٹس ، میں عدالت عظمیٰ اور کسی عدالت عالیہ کے سلسلے میں وہ حج بھی\nشامل ہے جو فی الوقت عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہا ہو ؟]\n\" شہری سے پاکستان کا وہ شہری مراد ہے، جس کی قانون کے ذریعے تعریف کی\nگئی ہے۔\nوشی سے اس آرٹیکل کی شق مراد ہے جس میں وہ واقع ہو ؟\n*\n*\n*\nکارپوریشن محصول سے آمدنی پر کوئی حصول مراد ہے، جو کمپنیوں کی طرف سے\nایمان\nواجب الادا ہو اور جس کی بابت حسب ذیل شرائط کا اطلاق ہوتا ہو:۔\n؟\n (الف) و محمول زرعی آمدنی کی باہت واجب الوصول نہ ہو ۔\n(ب) کمپنیوں کی طرف سے ادا کردہ محصول کی بابت کوئی تخفیف ، کسی\nقانون کی رو سے جس کا اطلاق اس محصول پر ہوتا ہو کمپنیوں کی\nطرف سے افراد کو واجب الادا منافع سے نہ کی جاتی ہو؟\nدستور ( ترمیم اوّل) ایکٹ ۱۹۷۴ء ( نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے شامل کئے گئے ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۲ کی رو سے \" عبارت مشاورت کی تعریف حذف کی گئی۔\n\n(ج) محصول آمدنی کی اغراض کے لئے مذکورہ منافع وصول کرنے والے افراد کی کل\nآمدنی شمار کرنے میں یا ایسے افراد کی طرف سے واجب الا دایا ان کو قابل\nواپسی محصول آمدنی شمار کرنے میں اس طرح ادا کر وہ محصول کو شامل کرنے\nکے لئے کوئی حکم موجود نہ ہو؛\nقرضہ میں وہ ذمہ داری شامل ہے جو کسی سرمایہ کی رقم کی بطور سالانہ بازادائی کے وجوب کے\nمتعلق ہو اور اس میں وہ ذمہ داری بھی شامل ہوگی جو کسی قسم کی ضمانت لینے کی وجہ سے پیدا ہو،\nاور اخراجات قرضہ کا مطلب اس لحاظ سے نکالا جائے گا ؟\nمحصول ترکہ سے وہ محصول مراد ہے جو ایسی جائیداد کی، جوکسی شخص کی وفات پر منتقل ہوئی ہو،\nمالیت پر یا اس کے حوالے سے تشخیص کیا جائے ؟\nموجودہ قانون سے وہی معنی مراد ہیں جو آرٹیکل ۲۶۸ کی شق (۷) میں دیئے گئے ہیں؟\nوفاقی قانون سے وہ قانون مراد ہے جو سم مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) ] کا بنایا ہوا یا اس\nکے اختیار کے تحت وضع کیا گیا ہو؟\n\"\nکلات\nمالی سال سے جولائی کی پہلی تاریخ سے شروع ہونے والا کوئی سال مراد ہے؟\nمال میں تمام مال و اسباب ، سامان اور اشیاء شامل ہیں :\nگورنر سے کسی صوبہ کا گورنر مراد ہے اور اس میں کوئی ایسا شخص شامل ہے جو فی الوقت\nصوبہ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے کام کر رہا ہو؛\n” ضمانت میں ہر وہ وجوب شامل ہے جو کسی کا روبار کے منافع کا کسی مصرحہ رقم سے گر جانے\nکی صورت میں ادائیگی کرنے کے لئے یوم آغاز سے قبل قبول کیا گیا ہو:\nایوان سے سینٹ یا قومی اسمبلی مراد ہے؟\nمشترکہ اجلاس سے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس مراد ہے؟\nحج میں عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کے سلسلے میں اس عدالت کا چیف جسٹس\nشامل ہے اور اس میں حسب ذیل بھی شامل ہیں۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان، ۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ ) کی بجائے\nتبدیل کئے گئے۔\n\n(الف) عدالت عظمی کے سلسلے میں، وہ شخص جو عدالت کے قائم مقام حج کی حیثیت\nسے کام کر رہا ہو ؛ اور\n(ب) عدالت عالیہ کے سلسلہ میں وہ شخص جو اس عدالت کا زائد جج ہو ؟\nمسلح افواج کے ارکان میں وہ افراد شامل نہیں، جو فی الوقت مسلح افواج کے ارکان سے متعلق کسی\nقانون کے تابع نہ ہوں ؛\nخالص آمدنی سے کسی محصول یا ڈیوٹی کے سلسلے میں وہ آمدنی مراد ہے جو وصولی کے اخراجات وضع\nکرنے کے بعد باقی بچے اور اس کی تحقیق و تصدیق محاسب اعلیٰ کی طرف سے کی جائے ؟\n\"\nو\nحلف میں اقرار صالح شامل ہے؛\nحصہ“ سے دستور کا حصہ مراد ہے؛\n\nکلاکا\nپنشن سے کسی بھی قسم کی پیشن مراد ہے خواہ وہ شرکتی ہو یا نہ ہو، جو کسی شخص کو یا اس کی بابت ادا کی\nجائے اور اس میں فارغ خدمت ہونے کی تنخواہ یا انعامی رقم ( گریجوایٹی ) شامل ہے جو مذکورہ طور پرادا\nکی جائے اور اس میں وہ رقم یا رقوم بھی شامل ہیں جو کسی سرمایہ کفالت میں جمع کئے ہوئے روپے\nکے سود کے ساتھ یا بلا سود یا کسی اضافہ کے ساتھ مذکورہ طور پر واپس ادا کی جائیں ؛\nوو\nشخص میں کوئی ہیئت سیاسی یا ہیئت اجتماعیہ شامل ہے؟\nصدر سے صدر پاکستان مراد ہے اور اس میں وہ شخص شامل ہے جو فی الوقت قائم مقام صدر\nپاکستان کی حیثیت سے کام کر رہا ہو، یا اس کے کارہائے منصبی انجام دے رہا ہو، اور کسی ایسے امر کے\nبارے میں جس کا دستور کے تحت یوم آغاز سے قبل کرنا ضروری تھا، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے\nعبوری دستور کے تحت صدر مراد ہے؟ \nجائیداد میں منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد پر کوئی حق ، استحقاق یا مفاد ، اور پیداوار کے کوئی ذرائع\nاور وسائل شامل ہیں؟\n\nصوبائی قانون سے صوبائی اسمبلی کا بنایا ہوا یا اس کے اختیار کے تحت وضع کردہ کوئی قانون\nمراد ہے؟\n”مشاہرہ میں تنخواہ اور پینشن شامل ہیں ؛\n\"جدول\" سے دستور کی جدول مراد ہے؟\nپاکستان کی سلامتی میں پاکستان اور پاکستان کے ہر حصے کا تحفظ ،فلاح و بہبود، استحکام\nاور سالمیت شامل ہے لیکن اس میں تحفظ عامہ اس حیثیت سے شامل نہیں ہو گا ؟\nملازمت پاکستان سے وفاق یا کسی صوبے کے امور سے متعلق کوئی ملازمت ، آسامی یا\nعہدہ مراد ہے، اور اس میں کوئی کل پاکستان ملا زمت ،مسلح افواج میں ملا زمت اور کوئی\nدوسری ملازمت شامل ہے جسے لا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کے کسی\nایکٹ کے ذریعے یا اس کے تحت ملازمت پاکستان قرار دیا گیا ہو ، لیکن اس میں آ\nڈپٹی اسپیکر، چیئرمین، ڈپٹی چیئر مین، وزیر اعظم ، وفاقی وزیر، وزیر مملکت، وزیر اعلی صوبائی وزیر،\n، ، و وزیراعلیٰ\nاٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل، پارلیمانی سیکر ٹری | یاس کسی قانون کمیشن کا\nچیئر مین یا رکن ، اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئر مین یا رکن ، وزیر اعظم کا خصوصی معاون،\nوزیر اعظم کا مشیر ، کسی وزیر اعلی کا خصوصی معاون ، کسی وزیر اعلی کا مشیر آیا کسی ایوان یا\nکسی صوبائی اسمبلی کا رکن شامل نہیں ہے؛\nاى\nپیکر قومی آمبلی یا کی صوبائی امی کا پیکر مرد ہے اوراس میں کوئی ایسا شخص شامل\nہے جو قائم مقام اسپیکر کی حیثیت سے کام کر رہا ہو؟\nمحصولات میں کوئی محصول یا ڈیوٹی عائد کرنا شامل ہے، خواہ وہ عام ہو ، مقامی ہو یا خاص\nہو، اور محصول لگانے کا مطلب اسی لحاظ سے نکالا جائے گا۔\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کافرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\nدستور ( ترمیم اول) ، ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۵ کی رو سے شامل کئے گئے نفاذ پذیرازہ مئی ۱۹۷۴ء)۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ 1 کی رو سے شامل کئے گئے ( نفاذ پذیر از۱۳ارتمبر، ۱۹۷۶ء)۔\nدستور (ترمیم ششم ) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۸۴ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کئے گئے (نفاذ پذیر از اس/دسمبر، ۱۹۷۶ء)۔\nرح\n\nآمدنی پرمحصول میں محصول زائد منافع یا محصول کاروباری منافع کی نوعیت کا محصول شامل ہے۔\n(۲) دستور میں ملا مجلس شوری ( پارلیمنٹ) کے ایکٹ یا وفاقی قانون یا صوبائی اسمبلی\n,,\nکے ایکٹ یا صوبائی قانون میں صدر یا ، جیسی بھی صورت ہو ، کسی گورنر کا\nجاری کردہ کوئی آرڈینینس شامل ہوگا۔\n۴ (۳) دستور اور تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں، تا وقتیکہ موضوع یا\nسیاق و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو، ۔۔۔\n۔ ط\n(الف) مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت وتوحید قادر مطلق\nاللہ تبارک و تعالیٰ،\nخاتم النبین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر\nمشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص\nپر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )\nکے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے\nکا دعویٰ کیا ہو یا جو دعوی کرے؛ اور\n(ب) ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی ،\nہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ، قادیانی گروپ\nیا لاہوری گروپ کا ( جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں )\nکوئی شخص یا کوئی بہائی ، اور جدو کی ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا\n \nاحیائے دستور ہ۱۹۷۳ء کا فرمان،۱۹۸۵ء ( فرمان در نمبر۴ مجری ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۱۲ار جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nفرمان دستور (ترمیم سوم )۱۹۸۵ء (فرمان صد ر نمبر ۲۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۶ کی رو سے شق (۳) کی بجائے تبدیل کی گئی جس کا اضافہ قبل\nازیں دستور (ترمیم ثانی ) ایکٹ ۱۹۷۴ء ( نمبر۴۹ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے کیا گیا تھا (نفاذ پذیرازے استمبر ۱۹۷۴ء)۔\n\nکسی عہدے پر قائم\nدستور کی اغراض کے لئے، کوئی شخص جو کسی عہدہ پر قائم مقامی کرے، وہ اس شخص کا جو اس مقام کوئی شخص اپنے\nسے پہلے مذکورہ عہدہ پر فائز تھا ، جانشین نہیں سمجھا جائے گا یا اس شخص کا پیشر نہیں سمجھا پیشرو کا جانشین و غیره\nجائے گا جو ا سکے بعد مذکورہ عہدہ سنبھالے۔\nنہیں سمجھا جائے گا۔\nدستور کی اغراض کے لئے کسی مدت کا شمار گریگری نظام تقویم کے مطابق کیا جائے گا۔ گریگری نظام تقویم\n۲۶۳۔\nاس دستور میں،۔۔۔۔۔\n۲۶۴۔\nاستعمال کیا جائے۔\nمذکر و مونث اور واحد\n(الف) وہ الفاظ جن سے صیغہ مذکر کا مفہوم نکلتا ہو، صیغہ مونث پر بھی حاوی سمجھے جائیں اور جمع ۔\nگے؛ اور\n(ب) صیغہ واحد کے الفاظ میں جمع کا اور صیغہ جمع کے الفاظ میں واحد کا صیغہ شامل سمجھا\nجائے گا لے\nجب کوئی قانون اس دستور کے ذریعے، اس کے تحت یا اس کی وجہ سے منسوخ ہو جائے یا تنسیخ قوانین کا اثر۔\nمنسوخ شدہ متصور ہو تو ، بجز اس کے کہ اس دستور میں بصورت دیگر مقرر ہو، مذکورہ\nتنيخ\n\n(الف) کسی ایسی چیز کا احیا نہیں کرے گی جو اس وقت نافذ العمل یا موجود نہ ہو جب تنسیخ عمل\nمیں آئے؟\n(ب) مذکورہ قانون کے سابقہ عمل پر یا اس کے تحت با ضابطہ کئے ہوئے کسی فعل پر یا\nبرداشت کردہ کسی نقصان پر اثر انداز نہیں ہوگی ؟\n(ج) مذکورہ قانون کے تحت حاصل شدہ کسی حق پر، پیدا شدہ کسی استحقاق پر عائد شده کسی\nوجوب یا ذمہ داری پراثر انداز نہیں ہوگی ؟\n( د ) مذکورہ قانون کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب\nکی بناء پر عائد شده کسی تاوان منبطی یا\nسز اپراثر انداز نہیں ہوگی ؛یا\n\n(1) کسی مذکورہ حق ، استحاق، وجوب ، ذمہ داری، جرمانہ ضبطی یا سزا کی بابت کسی تفتیش،\nقانونی کارروائی یا چارہ جوئی پر اثر انداز نہیں ہوگی ؛\nاور مذکورہ کوئی تفتیش ، قانونی کارروائی یا چارہ جوئی شروع کی جاسکے گی ، جاری رکھی جا سکے\nگی یا نا فذ کی جاسکے گی ، اور مذکورہ کوئی جرمانہ ضبطی یا سزا اس طرح عائد کی جاسکے گی گویا\nمذکورہ قانون منسوخ نہیں ہوا تھا۔\nباب ۶ عنوان ، آغاز نفاذ اور تنسیخ\nدستور کا عنوان اور ۲۶۵ ۔ (۱) یہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور کہلائے گا۔\nآغاز نفاذ۔\n(۲) شقات (۳) اور (۴) کے تابع ، یہ دستور چودہ اگست سن ایک ہزار نو سو تہتر یا اس سے قبل\nکی کسی ایسی تاریخ سے نافذ ہوگا جو صدر سر کاری جریدے میں اعلان کے ذریعہ مقرر\nکرے، دستور میں جس کا حوالہ \"یوم آغاز“ کے طور پر دیا گیا ہے ۔\n(۳) یہ دستور ، اس حد تک جو ذیل کے لئے ضروری ہو۔۔۔۔\n(الف) پہلی سینٹ کی تشکیل کے لئے :\n(ب) کسی ایوان یا کسی مشترکہ اجلاس کی منعقد ہونے والی پہلی نشست کے لئے ؟\n(ج) صدر اور وزیر اعظم کے ہونے والے انتخاب کے لئے ؛ اور\n(1) کسی ایسے دوسرے امر کی انجام دہی کو ممکن بنانے کے لئے جس کی انجام دہی ،\nدستور کی اغراض کے لئے ، یوم آغاز سے پہلے ضروری ہو،\nدستور کے وضع ہونے پر نافذ اعمل ہوگا لیکن صدر یا وز یر اعظم کی حیثیت -\nمنتخب شدہ شخص یوم آغاز سے پہلے اپنا عہدہ نہیں سنبھالے گا ۔\n\n(۴) جہاں دستور کے ذریعے اس کے کسی حکم کے نفاذ کے متعلق یا کسی عدالت یا دفتر\nکے قیام ، یا کسی حج یا اس کے ماتحت کسی افسر کے تقرر کے متعلق ، یا اس شخص کے\nجس کے ذریعے ، یا اس وقت کے جب ، یا وہ اس مقام کے جہاں ، یا اس طریقہ\nکے متعلق جس سے ، ایسے کسی حکم کے تحت کچھ کیا جانا ہو ، قواعد بنانے یا احکام\nصادر کرنے کا کوئی اختیار تفویض کیا جائے ، تو وہ اختیار دستور کے وضع ہونے\nاور اس کے آغا ز نفاذ کے درمیان کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکے گا ۔\n۲۶۶ - اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عبوری دستور مع ان ایکٹوں اور صدر کے فرامین کے جن کے ذریعے اس\nدستور میں محذوفات ، اضافے ، ردو بدل یا ترمیمات کی گئیں ، بذریعہ ہذا منسوخ کیا جاتا ہے۔\nباب ۷ ۔ عبوری\nتنیخ۔\nکے لئے صدر کے\nاختیارات۔\n۲۶۷ (۱) یوم آغاز سے قبل یا یوم آغاز سے تین ماہ کی مدت کے خاتمے سے پہلے کسی بھی وقت ،صدر، مشکلات کے ازالہ\nکسی مشکلات کے ازالہ کی غرض سے، یا دستور کے احکام کو موثر طور پر زیر عمل لانے کی\nغرض سے\n، فرمان کے ذریعے، ہدایت دے سکے گا کہ اس دستور کے احکام، ایسی مدت\nکے دوران جس کی صراحت اس فرمان میں کر دی گئی ہو، ایسی تطبیقات کے تابع ،موثر ہوں\nگے خواہ وہ رد و بدل کے ذریعے ہوں یا اضافہ و حذف کے ذریعے ، جس طرح وہ ضروری یا\nقرین مصلحت سمجھے۔\n(۲) شق (۱) کے تحت صادر شدہ کوئی فرمان بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے دونوں ایوانوں کے\nسامنے پیش کیا جائے گا ، اور اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک کہ ہر ایوان اسے\nنا منظور کرنے کی قرارداد منظور نہیں کرتا یا دونوں ایوانوں میں اختلاف کی صورت میں، اس\nوقت تک جب تک ایسی قرار داد مشتر کہ اجلاس میں منظور نہ ہو جائے۔\nمیری ایک ۲۱۰ ، سے احکامات کومنور\n۲۶۷ الف۔ () اگر دستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ\nمیں ، جس کا\nحوالہ بعد ازیں اس آرٹیکل میں بطور ا یکٹ دیا گیا ہے ، یا اس ایکٹ کے احکامات کو موثر\nطور پر زیر عمل لانے کے لیے کوئی مشکل وقوع پذیر ہوتی ہے، تو معاملے کومشترکہ اجلاس\nمیں دونوں ایوانوں کے روبرو پیش کیا جائے گا جو کہ قرار داد کے ذریعہ یہ ہدایت کرسکیں\nگے کہ ایکٹ کے احکامات ، مذکورہ مدت کے دوران جس کی صراحت قرار داد میں کر دی گئی\nہے، مذکورہ تطبیق کے تحت مؤثر ہوں گے ، خواہ وہ ترمیم ،اضافے یا حذف کے ذریعے ہو،\nجیسا کہ ضروری یا قرین مصلحت متصور کیا گیا ہو:\nمگر شرط یہ ہے کہ یہ اختیار اس ایکٹ کے آغا ز نفاذ سے ایک سال کی مدت تک میسر ہوگا۔\nازالہ مشکلات کا\nاختیار۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۳ کی رو سے نئے آرٹیکلز ۲۶۷ الف اور ۲۶۷ ب شامل کیے گئے ۔\n\nازالہ شک۔\n۲۶۷ ب۔ ازاله شک کے لئے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ آرٹیکل ۱۵۲ الف کو حذف اور\nآرٹیکل ۱۷۹ اور ۱۹۵ دستور (سترہویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۰۳ ء (ایکٹ نمبر ۳ بابت\n۲۰۰۳ء) کے ذریعے تبدل کر دیئے گئے ہیں ان کی تنسیخ کے باوصف ، ہمیشہ اسی طرح\nحذف شدہ اور تبدیل شدہ متصور ہوں گے۔]\nبعض قوانین کے نفاذ ۲۶۸ (۱) بجز جیسا کہ اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے، تمام موجودہ قوانین ، اس دستور کے تابع ، جس\nحد تک قابل اطلاق ہوں اور ضروری تطبیق کے ساتھ اس وقت تک بدستور نافذ رہیں گے\nکا تسلسل اور تطبیق ۔\nجب تک کہ متعلقہ مقننہ انہیں تبدیل یا منسوخ نہ کر دے یا ان میں ترمیم نہ کرے ۔\n*\n*\n*\n(۳) کسی موجودہ قانون کے احکام کو (اس دستور کے حصہ دوم کے علاوہ ) دستور کے احکام کی\nمطابقت میں لانے کی غرض سے، یوم آغاز سے دو سال کی مدت کے اندراندر، صدر\nبذریعہ فرمان ، خواه بطور ترمیم ، اضافه یا حذف ، ایسی تطبیق کر سکے گا جو وہ ضروری یا\nقرین مصلحت تصور کرے، اور اس طرح صادر شدہ کوئی فرمان ایسی تاریخ سے نافذ العمل\nہوگا جو یوم آغاز سے پہلے کی تاریخ نہ ہو اور جس کی صراحت فرمان میں کر دی جائے ۔\n(۴) صدر کسی صوبے کے گورنر کو اس صوبے کے سلسلے میں ان قوانین کی بابت جن کی بابت\nصوبائی اسمبلی کو قانون بنانے کا اختیار ہے ، ان اختیارات کے استعمال کا مجاز کر سکے گا جو\nہے،\nصدر کوشق (۳) کی رو سے عطاء کئے گئے ہیں ۔\n(۵) شقات (۳) اور (۴) کے تحت قابل استعمال اختیارات متعلقہ مقننہ کے کسی ایکٹ کے\nاحکام کے تابع ہوں گے ۔ \n(1) کوئی ایسی عدالت ٹربیونل، یا ہیئت مجاز جسے کسی موجودہ قانون کے نفاذ کا حکم یا اختیار دیا گیا\nہو، اس امر کے باوجود کہ شق (۳) یا شق (۴) کے تحت جاری کردہ کسی فرمان کے ذریعے\nمذکورہ قانون میں کوئی تطبیق نہ کی گئی ہو، اس قانون کی تعبیر ایسی جملہ تطبیقات کے ساتھ کرے\nگی، جو اسے اس دستور کے احکام کی مطابقت میں لانے کے لئے ضروری ہوں۔\n(۷) اس آرٹیکل میں موجودہ قوانین سے مراد جملہ قوانین ( بشمول آرڈنینس،\nاحکام با اجلاس کونسل، فرامین، قواعد، ذیلی قوانین ،ضوابط اور کسی عدالت عالیہ کے تشکیل\nدستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ ء ) کی دفعہ ۹۴ کی رو سے شق (۲) حذف کی گئی ۔\nمذکورہ اجازہ کیلئے دیکھئے جریدہ پاکستان ۱۹۷۳ء غیر معمولی ، حصہ دوم، صفحہ ۲۰۰۱ ۔\n\nکرنے والے لیٹرز پیٹینٹ اور کوئی اعلان اور قانونی اثر کی حامل دوسرے دستاویزات ) جو\nیوم آغاز سے عین قبل پاکستان میں یا پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں یا بیرونِ\nملک جواز رکھتے ہوں۔\nتشریح : اس آرٹیکل میں کسی قانون کے سلسلے میں نافذ العمل“ سے مراد قانون کی حیثیت سے\nموثر ہونا ہے خواہ اس قانون کو رو بہ عمل لایا گیا ہو یا نہ لایا گیا ہو ۔\n۲۶۹ ۔ (۱) ہیں، دسمبر سن ایک ہزار نو سوا کہتر اور ہیں ، اپریل سن ایک ہزار نو سو بہتر ( بشمول ہر دوروز ) قوانین اور افعال\nکے دوران جاری کرده تمام اعلانات، فرامین صدر ، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے وغیرہ کی توثیق۔\nاحکام اور دیگر تمام قوانین کے بارے میں بذریعہ ہذا اعلان کیا جاتا ہے کہ کسی عدالت کے\nکسی فیصلے کے باوجود، وہ حاکم مجاز کی طرف سے جائز طور پر جاری کئے گئے ہیں اور ان پر\nکسی بناء پر بھی کسی عدالت میں اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(۲) کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام ، کیگئی کارروائیاں اور کئے\nگئے افعال جو ہیں ، دسمبر سن ایک ہزار نو سو اکہتر اور ہیں ، اپریل سن ایک ہزار نو سو بہتر\n(بشمول ہر دو روز ) کے مابین کسی فرامین صدر ، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے\nاحکام ، موضوعه قوانین ، اعلانات ، قواعد ، احکام یا ضمنی قوانین سے حاصل شدہ اختیارات\nکے استعمال میں یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے\nوضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزاؤں کی تعمیل میں وضع کئے گئے تھے، کی گئی تھیں یا کئے گئے\nتھے یا جن کا وضع کیا جانا ، کی جانا یا کیا جاتا مترشح ہوتا ہو، کسی عدالت کے کسی فیصلے کے\nباوجود، جائز طور پر اور ہمیشہ سے جائز طور پر وضع شدہ کی گئی یا کئے گئے متصور ہوں گے\nاور ان پر کسی بناء پر بھی چاہے جو کچھ ہو کسی عدالت میں اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(۳) کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کے خلاف کسی وضع کردہ حکم ، کی گئی کارروائی یا کئے گئے فعل کے\nلئے یا اس کی بناء پر یا اس کی نسبت جو خواہ شق (۲) میں محولہ اختیارات کے استعمال میں یا\n\nعارضی توثیق۔\nمترشح استعمال میں یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مترشح استعمال میں وضع کردہ احکام یا\nصادر کر دہ سزاؤں کے استعمال یا تعمیل میں ہو ، کسی عدالت میں کوئی مقدمہ دائر نہیں کہ\nجائے گا یا دیگر قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔\nبعض قوانین وغیرہ کی ۲۷۰ (۱) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ، وفاقی فہرست قانون سازی کے حصہ اول میں شامل کسی امر\nکے لئے قانون سازی کے مقررہ طریقے کے مطابق وضع کردہ قانون کے ذریعے پچھیں\nمارچ سن ایک ہزار نو سو انہتر اور انیس دسمبر ہن ایک ہزار نو سوا کہتر (بشمول ہر دوروز) کے\nدرمیان وضع کرده تمام اعلانات، فرامین صدر، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام\nاور دیگر قوانین کی توثیق کر سکے گی۔\n(۲) کسی عدالت کے فیصلے کے باوجود شق (۱) کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے\nکالا\nوضع کردہ کسی قانون پر کسی عدالت میں کسی بناء پر چاہے کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(۳) شق (۱) کے احکام ، اور کسی عدالت کے اس کے بر خلاف کسی فیصلہ کے با وجود، یوم آغاز\nسے دو سال کے لئے ایسی تمام دستاویزات جن کا حوالہ شق (۱) میں دیا گیا ہے کے جواز کو\nکسی عدالت میں کسی بھی بنا ء پر چاہے کچھ ہو، زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔\n(۴) کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام، کی گئی کارروائیاں اور کئے گئے\nافعال جو پچھپیں مارچ سن ایک ہزار نو سو انہتر اور انیس دسمبر سن ایک ہزار نو سوا کہتر ( بشمول ہر\nدوروز ) کے مابین کسی فرامین صدر ، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام ،موضوعہ\nقوانین ، اعلانات ، قواعد، احکام یا منی قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کے استعمال میں یا\nمذکورہ بالا اختیارات کے استعمال میں کسی بئیت مجاز کی طرف سے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ\nسزاؤں کی تعمیل میں وضع کئے گئے تھے ، کی گئی تھیں یا کئے گئے تھے یا جن کا وضع کیا جانا، کی\nجانایا کیا جانا مترشح ہوتا ہوں کسی عدالت کے کسی فیصلہ کے باوجود جائز طور پر اور ہمیشہ سے جائز\nطور پر وضع شدہ کی گئی یا کئے گئے متصور ہوں گے، تاہم ایسے کسی حکم، کسی کا رروائی یا فعل کو\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان، ۱۹۸۵( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\n↓\n\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) ) یوم آغاز سے دو سال کے عرصہ کے اندر کسی وقت\nبھی ہر دو ایوانوں کی قرار داد کے ذریعے ، یا دونوں ایوانوں کے درمیان عدم اتفاق\nکی صورت میں ، کسی ایسی قرار داد کے ذریعے جو مشتر کہ اجلاس میں منظور کی گئی\nہو، نا جائز قرار دے سکتی ہے، نیز اس پر کسی عدالت کے سامنے کسی بھی وجہ سے، چاہے\nجو کچھ ہو، اعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n۲۷۰۳۴ - الف (۱) پانچ جولائی ، ۱۹۷۷ء کے اعلان ، تمام فرامین صدر، آرڈینینس، مارشل لاء کے ضوابط، فرامین صدر، وغیرہ کی\nمارشل لاء کے احکام، بشمول فرمان ریفرنڈم ، ۱۹۸۴ء (فرمان صد ر نمبر۱ مجریه ۱۹۸۴ء)،\nتوثیق۔\n* * * ہ۱۹۷۳ء کے دستور کی بحالی کے فرمان ، ۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریه ۱۹۸۵ء)،\nثانی)، ۱۹۸۵ء (فرمان ۲۰\nفرمان دستور کار ۱۹۳۳ء) ، فرمان دستور\n( ترمیم ثالث (۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۲۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) اور تمام دیگر قوانین کی جو\nپانچ جولائی ۱۹۷۷ء اور اس تاریخ کے درمیان وضع کئے جائیں جس پر یہ آرٹیکل نافذ العمل\nکے\nہو، بذریعہ بذا توثیق کی جاتی ہے، انہیں تسلیم کیا جاتا ہے اور قرار دیا جاتا ہے کہ وہ کسی عدالت\nکے کسی فیصلے کے باوجود، ہیئت مجاز کی طرف سے جائز طور پر وضع کئے گئے ہیں اور ، دستور\n،\nمیں شامل کسی امری\nاعتراض نہیں کیا جائے گا:\nوجود ، ان پرکسی عدالت میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو\nمگر شرط یہ ہے کہ ۱۳۰ ستمبر ۱۹۸۵ء کے بعد وضع کردہ کوئی فرمان صدر، مارشل لاء کا\nضابطہ یا مارشل لاء کا حکم محض ایسے احکام وضع کرنے تک محدود ہوگا جو پانچ جولائی ۱۹۷۷ء\nکے اعلان کی تنسیخ میں محمد ہوں ، یا اس کے ضمن میں ہوں۔ \nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء( فرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے پارلیمنٹ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nآرٹیکلز ۲۷۰ الف اور ۲۷۰ب فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے شامل کئے گئے۔\nآرٹیکل ۲۷۰ (الف) دستور ( ترمیم هشتم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء (ایکٹ نمبر ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی دفعہ ۱۹ کی رو سے آرٹیکل۰ ۲۷۔الف\nنفاذ پذیر از ۳۰ دسمبر ۱۹۸۵ء) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔ بذریعہ ایس۔ آر او نمبر ۱۲۷۹(۱) /۸۵، مورخه ۲۹ دسمبر ، ۱۹۸۵ء کو مارشل لاء\nاُٹھانے کے اعلان مورخہ ۳۰ دسمبر ، ۱۹۸۵ء کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے دیکھئے جریدہ پاکستان ، ۱۹۸۵ء غیر معمولی ، حصہ اوّل\nصفحات ۴۳۲/۴۳۱۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۵ کی رو بعض الفاظ حذف کیے گئے۔\nدستور ( آٹھویں ترمیم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء ( ۸ ا بابت ۱۹۸۵ء) کی رُو سے آرٹیکل ۲۷۰ الف کو تبدیل کیا گیا۔ جس نے ۱۹۸۵ء۔۱۱۔۰۹ کوصدر\nکی منظوری لی،۱۹۸۵ء۔۱۱۔۰۹ سے نافذ العمل ۔\nہے۔\n\n(۲) کسی بیت مجاز کی یا کسی شخص کی طرف سے تمام وضع کردہ احکام، کی گئی کاروائیاں اور کئے گئے\nافعال، جو پانچ جولائی ، ۱۹۷۷ء اور اس تاریخ کے درمیان جس پر یہ آرٹیکل نافذ العمل ہو، کسی\nاعلان ، فرامین صدر، آرڈینینس، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام ،موضوعہ قوانین ،\nاعلانات، قواعد، احکام یا ضمنی قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کے استعمال میں، یا مذکورہ بالا\nاختیارات کے استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزاؤس کی\nتعمیل میں وضع کئے گئے تھے، کی گئی تھیں یا کئے گئے تھے یا جن کا کرنا، کی جانایا کیا جانا مترشح ہوتا\nہو، کسی عدالت کے کسی فیصلے کے باوجود، جائز طور پر اور ہمیشہ سے جائز طور پر وضع شدہ ، کی گئی یا\nکئے گئے متصور ہوں گے اور ان پر کسی بھی عدالت میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں\nکیا جائے گا۔\n(۳) تمام فرامین صدر ، آرڈینینس، مارشل لاء کے ضوابط ، مارشل لاء کے احکام ،موضوعہ قوانین،\nاعلانات، قواعد،احکام پایمنی قوانین جواس تاریخ سے عین قبل نافذ العمل ہوں جس پر یہ آرٹیکل\nنافذ العمل ہو، نافذ العمل رہیں گے تاوقتیکہ بیت مجاز انہیں تبدیل منسوخ یا ترمیم نہ کردے۔\nوو\nتشریح اس شق میں بیت مجاز ہے۔\nآرڈینینس ، مارشل لاء کے\n(الف) فراملوا ، مارشل لاء کے احکام اور قوانین\nموضوع کی نسبت موزوں مقتہ مراد ہے؛ اور\n۔ (ب) اعلانات قواعد، احکام اور ضمنی قوانین کی نسبت وہ ہیئت مراد ہے جسے قانون کے تحت\nانہیں وضع کرنے تبدیل کرنے منسوخ کرنے یا ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہو۔\n(۴) کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کے خلاف کسی وضع کردہ حکم ، کی گئی کا رروائی یا کئے گئے فعل کیلئے یا\nاس کے سبب سے یا اس کی نسبت جو خواہ شق (۲) میں محولہ اختیارات کے استعمال یا\nمطلوبہ استعمال میں ہو یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں وضع کردہ\nاحکام یا صادر کردہ سزاؤں کے انصرام یا تحمیل میں ہو ، کسی عدالت میں کوئی مقدمہ یا دیگر\nقانونی کارروائی قابل سماعت نہیں ہوگی۔\nدستور ( آٹھویں ترمیم) ایکٹ ،۱۹۸۵ء ۱۸ بابت ۱۹۸۵ء) کی رُو سے آرٹیکل ۲۷۰ الف کو تبدیل کیا گیا۔ جس نے ۱۹۸۵ء۔۱۱۔۰۹ کوصدر\nکی منظوری لی،۱۹۸۵ء۔۱۱۔۰۹ سے نافذ العمل ہے۔\n\n(۵) شقات (۱)، (۲) اور (۴) کی اغراض کے لئے کسی ہیئت مجاز یا شخص کی طرف سے تمام\nوضع کردہ احکام ، کی گئی کارروائیاں ، کئے گئے افعال یا جن کا وضع کیا جانا ، کیا جانا یا کرنا\nمترشح ہوتا ہو، نیک نیتی سے اور اس غرض کے لئے جس کا پورا کرنا ان کے ذریعے مطلوب\nتھا وضع کردہ کی گئی یا کئے گئے متصور ہوں گے۔\n(4) شق (۱) میں محولہ قوانین میں متعلقہ مجلس قانون ساز اس طریقہ کار کے مطابق جو کہ مذکورہ\nقوانین کی ترمیم کے لیے فراہم کیا گیا ہے ترمیم کر سکے گی ۔\n۷۰۴۔ الف الف (۱) چودہ اکتوبر ، ۱۹۹۹ء کے ہنگامی حالت کے اعلان ، عارضی دستور فرمان نمبر ا مجریہ ۱۹۹۹ء قوانین وغیرہ کا\nفرمان ( حجج صاحبان ) عہدہ کا حلف ۲۰۰۰ء (نمبر ا مجریہ ۲۰۰۰ء)، چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر ۱۲ استقرار اور تسلسل\nمجریہ ۲۰۰۲ء ، چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر ۱۹ مجریہ ۲۰۰۲ء، قانونی ڈھانچہ فرمان ،۲۰۰۲ء\nکلاو\n(چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر ۲۴ مجریہ ۲۰۰۲ء) کے ذریعے دستور میں وضع کردہ ترمیم ،\nفرمان قانونی ڈھانچہ (ترمیم)، ۲۰۰۲ء ( چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر ۲۹ مجریہ ۲۰۰۲ء ) اور\nفرمان قانونی ڈھانچہ ( ترمیم دوم) ۲۰۰۲ ، (چیف ایگزیکٹو کا فرمان نمبر ۳۲\nمجریہ ۲۰۰۲ء) بلالحاظ کسی بھی عداق فیصلے کے بشمول عدالت عالیہ یا عدالت عظمی کے، بذریعہ ہذا\nاعلان کیا جاتا ہے کہ وہ بغیرکسی قانونی اختیار کے وضع کیے گئے تھے اور ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔\n(۲) ما سوائے شرائط اشق (1) کے اور دستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء کے احکامات کے\nمطابق ، تمام دوسرے قوانین بشمول صدارتی فرامین ، ایکٹس ، آرڈینٹسوں ، چیف\nایگزیکٹو کے فرامین ، ضوابط، وضع شده قوانین ، اعلانات ، قواعد ، احکام یا ذیلی قوانین جو\nبارہ اکتوبر انیس سو ننا نوے اور اکتیس دسمبر دو ہزار تین (بشمول ہر دو روز) کے اور\nابھی تک نافذ العمل ہیں ، نافذ العمل رہیں گے تا وقتیکہ ہیت مجاز کی طرف سے انہیں\nتبدیل منسوخ یا ترمیم نہ کر دیا جائے۔\n۔ م\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ۰ ا بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۵ کی رو سے شق (۶)‘‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی دفعہ ۹۶ کی رو سے \" آرٹیکل ۲۷۰ الف الف‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nتشریح ۔ شق (۲) اور شق (۶) کی اغراض کے لیے ” ہیت مجاز سے ۔۔۔\nفرامین صدر، آرڈینینس، چیف ایگزیکٹو کے فرامین اور تمام دوسرے قوانین کی نسبت\n(الف)\nمتعلقہ مقننہ مراد ہے؛ اور\n(ب) اعلانات، قواعد، احکام اور ذیلی قوانین کی نسبت وہ ہیئت مجاز مراد ہے جسے قانون کے تحت\nوضع کرنے یا تبدیل کرنے منسوخ کرنے یا ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہو؟\n(۳) بلا لحاظ اس امر کے کہ دستور میں یا شق (۱) میں یا کسی بھی عدالت کے فیصلہ میں بشمول\nعدالت عالیہ یا عدالت عظمی کے کوئی حکم موجود ہوں۔۔۔\nعطا\n(الف) عدالت عالیہ عدالت سمی اور وفاق شرعی عدالت کے جج صاحبان جو کے\nحج کے عہدہ پر فائز تھے ، یا جن کا مذکورہ طور پر تقرر کیا گیا ، اور جنہوں نے\nفرمان ( حج صاحبان ) عہدہ کا حلف ،۲۰۰۰ء ( نمبر ا مجریہ ۲۰۰۰ء) کے تحت\nحلف اٹھایا تھا ، آئین کے تحت وہ بطور حج اپنے عہدہ پر یا جن کا اس طرح\nتقرر کیا جا چکا ہو، جیسی بھی صورت ہو ، بدستور فائر متصور ہوں گے اور مذکورہ\nتقر ر یا فائز رہنا، بحسبہ مؤثر ہوگا۔\n(ب) عدالت عالیہ عدالت عظمیٰ اور وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان جنہوں\nنے فرمان ( جج صاحبان ) عہدہ کا حلف ۲۰۰۰ء (نمبرا مجریہ ۲۰۰۰ء) کے\nتحت حلف نہیں اٹھایا یا جن سے حلف نہیں لیا گیا یا جن کا حج کے عہدہ پر فائز\nرہنا ختم ہو گیا ہے ، صرف پنشن کے فوائد کی اغراض سے ، آئین کے تحت\n پیرانہ سالی کی تاریخ تک ان کا اپنے عہدہ پر فائز رہنا متصور ہوگا۔\n(۴) تمام وضع کردہ احکامات کی گئی کارروائیاں ، کیے گئے تقر ر بشمول مستعار الخدمیتاں\nاور عارضی تبادلے، اور کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کی طرف سے کئے گئے افعال ، جو\nبارہ اکتوبر انیس سوننانوے اور اکتیس دسمبر دو ہزار تین کے درمیان (بشمول ہر دو روز ) کے،\n\nشق (۲) میں محولہ کسی اتھارٹی یا قوانین سے حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے\nہوئے ، یا مذکورہ بالا اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں کسی ہیئت مجاز کی طرف\nسے وضع کردہ احکام یا صادر کردہ سزاؤں کی تعمیل میں وضع کیے گئے تھے، کی گئی تھیں یا\nکیے گئے تھے یا جن کا کرنا ، کی جانا یا کیا جانا مترشح ہو ،شق (۱) میں شامل کسی امر کے باوجود\nجائز طور پر متصور ہوں گے اور کسی بھی عدالت یا فورم میں کسی بھی بناء پر چاہے جو کچھ ہو\nاعتراض نہیں کیا جائے گا۔\n(۵) کسی ہیئت مجاز یا کسی شخص کے خلاف کسی وضع کردہ حکم ، کی گئی کارروائی یا کیے گئے فعل کے\nلئے یا اس کے سبب یا اس کی نسبت جو خواہ شق (۲) یا شق (۴) میں محولہ اختیارات کے\nاستعمال یا مطلو به استعمال میں ہو یا مذکورہ اختیارات کے استعمال یا مطلوبہ استعمال میں\nیا ہو،\nوضع کردہ احکام یا صادر کردہ احکام سزا کی بجا آوری یا تعمیل میں ہو، کسی عدالت یا فورم میں\nکوئی مقدمہ، استغاثہ یا دیگر قانونی کارروائی قابل سماعت نہیں ہوگی۔\n(۶) مشتر کہ قانون سازی کی فہرست کو دستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء سے حذف\nکرنے کے با وجود تمام قوانین جو کسی بھی معاملات کی نسبت مذکورہ فہرست میں شمار کیے\nگئے ہیں (بشمول آرڈینینس، فرامین ، قواعد ضمنی قوانین ضوابط اور اعلانات اور دوسری\nجو کہ ،\nدستاویزات جو کہ قانونی طاقت کی حامل ہیں ) دستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء\nکے آغاز نفاذ سے فی الفور قبل پاکستان میں یا اس کے کسی حصے میں نافذ العمل ہیں یا ان کا\nیا\nماورائے حدود نفاذ ہے وہ بدستور نافذ العمل رہیں گے تا وقتیکہ ہیئت مجاز کی طرف سے\nانہیں تبدیل، منسوخ یا ترمیم نہ کر دیا جائ \n(۷) دستور میں موجود کسی امر کے با وصف کسی بھی نافذ العمل قانون کے تحت تمام محاصل اور\nفیسیں جو کہ دستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء کے نفاذ سے فی الفور قبل عائد تھیں\nبدستور عائد رہیں گی تا وقتیکہ متعلقہ منہ کے ایکٹ سے انہیں تبدیل یا ختم کر دیا جائے۔\n\nنکو\nانتخابات دستور کے\nتحت منعقد شده متصور\nہوں گے۔\n(۸) مشتر که قانون سازی کی فہرست کے حذف پر مذکورہ فہرست میں مندرج صوبوں کو تفویض\nاختیارات کے معاملات کو تمیں جون دو ہزار گیارہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔\nا۔ب۔\n(۹) شق (۸) کے تحت تفویض اختیارات کے اغراض کے لئے دستور ( اٹھارویں ترمیم )\nایکٹ ، ۲۰۱۰ء کے آغاز نفاذ کے پندرہ ایام کے اندر وفاقی حکومت جیسا کہ وہ موزوں\nخیال کرے تعمیل کمیشن تشکیل کرے گی۔]\n۲۷۰ الف الف الف۔ قوانین وغیرہ کی جوازیت اور اقرار ]\nدستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، فرمان ( انتخابات ) ، ایوان ہائے ( پارلیمنٹ ) و\nصوبائی اسمبلیاں ، ۱۹۷۷ء اور عام انتخابات کے انصرام کا فرمان، ۲۰۰۲ء\nفرمان چیف ایگزیکٹ نمبرے مجرہ ۲۰۰۲ء) کے تحت منعقد شدہ ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں\nكلاط\nکے لئے انتخابات، دستور کے تحت منعقد شدہ متصور ہوں گے اور بحسبہ مؤثر ہوں گے۔]\nعام انتخابات ۲۰۰۸ء۔ ۲۷۰۳ ب ب - دستور یا فی الوقت نافذ العمل کسی قانون میں شامل کسی امر کے با وصف ،\nقومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات جو اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کو منعقد ہوئے\nپہلی قومی اسمبلی ۔\n(۱) ۲۷۱\nآئین کے تحت منعقد کر وہ منصور ہوں گے اور بحسبہ موثر ہوں گے ۔ ]\n*\n*\n*\n*\nدستور میں شامل کسی امر کے باوجود لیکن تم آرٹیکل ۶۳ آرٹیکل ۶۴ اور آرٹیکل ۲۲۳ کے تابع ، ۔۔۔\nریمار\n \nدستور (ترمیمی) فرمان ، ۲۰۰۷ء کے ذریعے آرٹیکل ۲۷۰ الف الف الف شامل کیا گیا ہے نفاذ پذیر از ۲۰ نومبر ، ۲۰۰۷ء\n(صدارتی فرمان نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۷ء ) جسے عدالت عظمیٰ پاکستان نے غیر قانونی بلا اختیار اور کالعدم از ابتداء قرار دیا تھا۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۹۷ کی رو سے شامل کیا گیا اور ہمیشہ سے بایں طور پر شامل شدہ\nمتصور ہوگا ، ( نفاذ پذیر از ۲۱ را گست ، ۲۰۰۲ ) ۔\nبحوالہ عین ماقبل کی دفعہ ۹۸ کی رو سے نیا آرٹیکل ۲۷۰ ب ب شامل کیا گیا ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ء ( نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کے نتیجے میں آرٹیکل ۲۷۰ ج حذف شدہ متصور ہوگا ، دیکھیے دفعہ ۲ اور\nآرٹیکل ۲۷۰الف الف ۔\n۲۷ /اکتوبر ،۱۹۷۳ء سے پانچ سال کی مدت کے دوران آرٹیکل ۲۷۱ اس طرح مؤثر ہوگا گویا کہ :\n( الف ) اس کی شق (۲) کے بعد حسب ذیل نئی شق شامل کر دی گئی ہو ، یعنی :\n\" ( ٢ الف ) شق (۲) میں محولہ کوئی شخص ار نومبر ۱۹۷۳ء کو یا اس سے قبل کسی وقت اپنی نشستوں میں سے کسی ایک سے استعفیٰ دے\nدے گا، اور اگر وہ ایں طور استعفیٰ نہ دے تو وہ نشست جس پر وہ پہلے منتخب ہوا تھا خالی ہو جائے گی اور\n(ب) اس کی شق (۳) میں الفاظ انتخابی عذرداری کے بعد الفاظ یا بصورت دیگر شامل کر دیئے گئے ہوں ، دیکھئے فرمان\nاز اله مشکلات ( دوہری رکنیت پر پابندی) ۱۹۷۳ء ( فرمان صدر نمبر ۲۲ مجری ۱۹۷۳ء)۔\nنه د\nدستور (ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ 9 کی رُو سے شامل کئے گئے ( نفاذ پذیر از ۲۱ نومبر ،۱۹۷۵ء)۔\n\n( الف ) پہلی قومی اسمبلی حسب ذیل پر مشتمل ہو گی ۔۔۔\nہوگی\n(اول) ان اشخاص پر جو یوم آغاز سے عین قبل موجود پاکستان کی قومی اسمبلی\nمیں حلف اٹھا چکے ہیں؛ اور\n(دوم) ان اشخاص پر جو آرٹیکل ۵۱ کی شق (۲ الف) میں محولہ نشستوں کو پُر\nکرنے کے لئے اسمبلی کے ارکان کی طرف سے قانون کے مطابق\nمنتخب کئے جائیں گے،\nور، تا وقتیکہ اسے اس سے قبل تو ڑ نہ دیا جائے، چودہ اگست سن انیس سوستر تک برقرار\nرہے گی ؛ اور دستور میں قومی اسمبلی کی گل رکنیت کے حوالے کا مفہوم بحسبہ لیا جائے گا ؟ ]\n(ب) پہلی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے اور رہنے کے لئے اہلیتیں اور نا اہلیتیں ،\nما سوائے یوم آغاز کے بعد اتفاقی طور پر خالی ہونے والی نشستیں پر کرنے والے\n، یا آرٹیکل ۵۱ کی شق ( الف ) میں محولہ زائد نشستوں کے لئے منتخب ہونے\nوالے ارکان کے ، وہی ہوں کی جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عبوری\nدستور کے تحت مقرر کی گئی تھیں:\nمگر شرط یہ ہے کہ ملازمت پاکستان میں کسی منفعت بخش عہدہ پر فائز کوئی شخص\nیوم آغاز سے تین ماہ کے ختم ہونے کے بعد پہلی قومی اسمبلی کا رکن برقرار نہیں رہے گا۔\n(۲) اگر شق (۱) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی شخص، یوم آغاز سے عین قبیل، کسی صوبائی اسمبلی کا\nبھی رکن ہو، تو وہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں سنبھالے گا تا وقتیکہ وہ\nاپنی کسی ایک نشست سے مستعفی نہ ہو جا 2 \n(۳) پہلی قومی اسمبلی میں کسی رکن کی وفات یا استعفیٰ کی وجہ سے یا اس کے نا اہل ہو جانے کے\nنتیجہ میں، یا کسی انتخابی عذرداری کے حتمی فیصلے کی بناء پر رکن نہ رہنے کی وجہ سے، اتفاقی طور\nپر خالی ہونے والی کسی نشست کو ، جس میں یوم آغاز سے قبل موجود پاکستان کی قومی اسمبلی\nکی کوئی ایسی خالی نشست بھی شامل ہے جو اس دن سے قبل پر نہیں کی گئی تھی ، اس طریقہ سے پڑ\nکیا جا سکے گا جس طریقے سے وہ یوم آغاز سے قبل پر کی جاتی ۔\nدستور (ترمیم چهارم) ایکٹ ۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کی گئی (نفاذ پذ سیاز ۱ نومبر ۱۹۷۵ء)۔\n\nسینیٹ کی پہلی\nتقلیل ۔\n(۴) شق (۱) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی شخص قومی اسمبلی میں نہ بیٹھے گا نہ ووٹ دے گا،\nتا وقتیکہ اس نے آرٹیکل ۶۵ کے تحت مقررہ حلف نہ اٹھالیا ہواور اگر ،ظاہر کردہ معقول\nوجوہ کی بناء پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے دی گئی اجازت کے بغیر ، وہ اسمبلی کے\nپہلے اجلاس کے دن سے اکیس دن کے اندر حلف اٹھانے سے قاصر رہے تو اس مدت\nکے اختتام پر اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔\n۲۷۲ محمد دستور میں شامل کسی امر کے باوجود لیکن ۳ آرٹیکل ۶۳ اور آرٹیکل ۲۳ کے تابع ۔۔۔\n(الف) سینیٹ ، دستور کے تحت پہلی قومی اسمبلی کا وجود برقرار رہنے تک، پینتالیس ارکان\nپر مشتمل ہو گی اور آرٹیکل ۵۹ کے احکام اس طرح مؤثر ہوں گے گویا کہ، اس کی\nوو\nوو\nشق (۱) کے پیرا (الف) میں لفظ ” چودہ\" کی بجائے لفظ ” دس“ اور مذکورہ شق\n\nدستور میں سینز کے حوالے کام کر دیا گیا ہو اور\nکے پیرا (ب) میں لفظ \" پانچ کی بجائے لفظ \" تین\"\nکل رکنیت بحسبہ کیا جائے گا؟\n(ب) سینیٹ کے منتخبہ یا چنے ہوئے ارکان کو قرعہ اندازی کے ذریعے دو گروہوں میں\nقسیم کیا جائے گا، پہلے گروہ میں ہر صوبے سے پانچ ارکان ، وفاق کے\nزیر انتظام قبائلی علاقوں سے دو ارکان اور وفاقی دارالحکومت سے ایک رکن\nشامل ہوگا اور دوسرے گروہ میں ہر صوبے سے پانچ ارکان ، مذکورہ علاقوں سے\nایک رکن اور وفاق دار الحکومت سے ایک رکن شامل ہوگا:\nأيمان\n \n۹ر جون ۱۹۷۳ ء اور ۱۴ اگست ۱۹۷۴ء کے درمیان آرٹیکل ۲۷۲ فرمان انتخاب سینٹ ۱۹۷۳ء ( فرمان صد نمبر ۸ مجریہ ۱۹۷۳ء) کی رو\nسے کی گئی مندرجہ ذیل تبدیلیوں کے تابع موثر ہوا تھا، یعنی:۔\nمذکورہ آرٹیکل میں شق (۱) کے بعد حسب ذیل نئی شق کا اضافہ کر دیا جائے گا، یعنی:\n()\"\nجب تک کہ پارلیمنٹ اس سلسلے میں قانون کے ذریعہ احکام وضع نہ کر دے، صدر سینٹ کی با قاعدہ تشکیل، اور اس کے لئے\nانتخاب ، کی اغراض کے لئے بذریعہ فرمان حسب ذیل محولہ معاملات میں سے کسی کے لئے احکام وضع کر سکے گا۔\n(الف) آرٹیکل ۶۳ کی شق (۱) کے پیرا ( د ) اور (ہ)؛\n(ب) آرٹیکل ۲۲۲ کے پیرا (د)، (ہ) اور (و)؛ اور\n(ج) آرٹیکل ۲۲۵۔\nدستور ( ترمیم اول)، ایکٹ ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۶ کی رو سے شامل کیا گیا، (نفاذ پذیراز ۴ مئی ۱۹۷۴ء)۔\nقوسین اور ہندسہ (۱) دستور ( ترمیم چہارم) ایکٹ ۱۹۷۵ء ( نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ ا کی رو سے حذف کئے گئے\n( نفاز پذیر از ۲۱ /نومبر ،۱۹۷۵ء)۔\nبحوالہ عین ماقبل شامل کئے گئے ۔\n\n(ج) پہلے گروہ اور دوسرے کے ارکان کی میعاد عبدہ بالترتیب دو سال اور چار سال ہوگی؛\n(1) سینٹ کے ارکان کی اپنی اپنی میعاد ختم ہونے کے بعد ان کی جگہ منتخب ہونے یا چنے\nجانے والے ارکان کے عہدے کی میعاد چار سال ہوگی ؟\n(0) اتفاقی طور پر خالی ہونے والی جگہ پر کرنے کے لئے منتخب ہونے یا چنے جانے\nوالے شخص کے عہدے کی میعاد اس رکن کی باقی ماندہ میعاد عہدہ کے برابر ہوگی\nجس کی جگہ پُر کرنے کے لئے وہ منتخب ہوا یا چنا گیا ہو؟\n(و) قومی اسمبلی کا پہلا عام انتخاب منعقد ہوتے ہی سینٹ کے لئے ہر صوبے سے\nچار مزید ارکان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے دو مزید ارکان منتخب\nوفاق کےئے\nکئے جائیں گے؛ اور\n(ز) پیرا (و) کے تحت منتخب ہونے والے ارکان میں سے نصف کی جن کا تعین\nبذریعہ قرعہ اندازی کیا جائے گا میعاد عہدہ پہلے گر وہ کے ارکان کی باقی ماندہ\nدر قرعہ اندازی کیا جا۔\nمیعاد عہدہ ہوگی اور دوسرے نصف کی میعاد عہدہ دوسرے گروہ کے ارکان کی\nباقی ماندہ میعاد عبدہ ہوگی۔\nہ\n۳ ۲۷ ۔ (۱) دستور میں شامل کسی امر کے باوجود ، لیکن [ آرٹیکل ۶۳ ، ] آرٹیکل ۶۴ اور پہلی صوبائی اسمبلی۔\nآرٹیکل ۲۲۳ کے تابع ، ۔۔\n۳ (الف) دستور کے تحت کسی صوبے کی پہلی اسمبلی حسب ذیل پر مشتمل ہوگی۔۔\n(اول) یوم آغاز سے عین قبل موجود اس صوبے کی اسمبلی کے ارکان پر ؛ اور\n(دوم) ان زائد ارکان پر جو آرٹیکل ۱۰۶ کی شق (۳) میں محولہ نشستوں کو پر کرنے\nکے لئے ارکان کی طرف سے قانون کے مطابق منتخب کئے جائیں گے،\n۲۷ اکتوبر ۱۹۷۳ء سے پانچ سال کی مدت کے دوران آرٹیکل ۲۷۳ اس طرح مؤثر ہو گا گویا کہ اس شق (۲) میں، الفاظ انتخابی\nعذرداری کے بعد الفاظ یا بصورت دیگر شامل کر دیئے گئے ہوں، دیکھئے فرمان ازالہ مشکلات ( دوہری رکنیت پر پابندی ) ۱۹۷۳ء\n( فرمان صد ر نمبر ۲۲ مجری ۱۹۷۳ء)۔\nدستور (ترمیم چہارم) ایکٹ ،۱۹۷۵ء (نمبر اے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ کی رو سے شامل کئے گئے نفاذ پذیر از ۲۱ رنومبر،۱۹۷۵ء)۔\nبحوالہ تعین ماقبل تبدیل کی گئی۔\n\nاور تاوقتیکہ اسے اس سے قبل توڑ نہ دیا جائے، چودہ اگست ہن انیس سوستر تک برقرار\nرہے گی اور دستور میں کسی صوبے کی اسمبلی کی کل رکنیت کا مفہوم بحسبہ لیا جائے گا؟]\n(ب) کسی صوبے کی پہلی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے اور رہنے کے لئے اہلیتیں اور\nنا اہلیتیں ، ماسوائے یوم آغاز کے بعد اتفاقی طور پر خالی ہونے والی نشستوں پر کرنے\nوالے لے یا آرٹیکل ۱۰۶ کی شق (۳) میں محولہ زائد کیلئے منتخب ہو نے\nوالے ارکان کے لئے ، وہی ہوں گی جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عبوری\nمتور کے تحت مقرر کی گئی تھیں:\nمگر شرط یہ ہے کہ ملازمت پاکستان میں کسی منفعت بخش عہدہ پر فائز\nکوئی شخص یوم آغاز سے تین ماہ کے اختتام کے بعد، اسمبلی کا رکن برقرار نہیں رہے گا۔\n(۲) کسی صوبے کی پہلی اسمبلی میں کسی رکن کی وفات یا استعفیٰ کی وجہ سے یا اس کے نا اہل ہو\nجانے کے نتیجہ میں، یا کسی انتخابی عذرداری کے حتمی فیصلے کی بناء پر رکن نہ رہنے کی وجہ سے،\nاتفاقی طور پر خالی ہونے والی کسی نشست کو ، جس میں یوم آغاز سے عین قبل موجود اس\nصوبے کی اسمبلی کی کوئی ایسی خالی نشست بھی شامل ہے جو اس دن سے قبل پر نہ کی گئی تھی،\nاسی طریقہ سے پر کیا جاسکے گا، جس طریقے سے وہ یوم آغاز سے عین قبل پر کی جاتی۔\n(۳) شق (۱) کے پیرا (الف) میں محولہ کوئی رکن صوبائی اسمبلی میں نہ بیٹھے گا نہ ووٹ دے گا،\nتا وقتیکہ اس نے آرٹیکل ۶۵ بشمول آرٹیکل ۱۲۷ کے تحت مقرر ہ حلف نہ اٹھا لیا ہو اور اگر ،\nظاہر کر دہ معقول وجوہ کی بناء پر صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے دی گئی اجازت کے\nبغیر وہ صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دن سے اکیس روز کے اندر اندر حلف لینے سے قاصر\nرہے، تو اس مدت کے اختتام پر اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔\nدستور (ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء (نمبراے بابت ۱۹۷۵ء) کی دفعہ لا کی رو سے شامل کئے گئے نفاذ پذیراز ۲ رنومبر ۱۹۷۵ء)۔\n\n(۱) ۲۷۴\nتمام جائیداد اور اثاثے جو یوم آغاز سے عین قبل صدر یا وفاقی حکومت کے تصرف میں تھے جائیداد، اثاثہ جات،\nحقوق، ذمہ داریوں\nیوم مذکورہ سے وفاقی حکومت کے تصرف میں رہیں گے تا وقتیکہ انہیں ایسی اغراض کے لئے اور وجوب کا تصرف۔\nاستعمال نہ کیا جاتا ہو، جو یوم مذکورہ پر کسی صوبے کی حکومت کی اغراض بن گئی ہوں ، تو ایسی\nصورت میں ، اس دن سے ، ان پر اس صوبے کی حکومت کا تصرف ہو جائے گا۔\n(۲) تمام املاک اور اثاثے جو ، یوم آغاز سے عین قبل ، کسی صوبے کی حکومت کے تصرف میں\nتھے ، یوم مذکورہ سے ، اس صوبے کی حکومت کے تصرف میں بدستور رہیں گے تا وقتیکہ انہیں\nایسی اغراض کے لئے استعمال نہ کیا جاتا ہو، جو یوم مذکورہ پر وفاقی حکومت کی اغراض بن گئی\nہوں تو ایسی صورت میں ، اس دن سے ، ان پر وفاقی حکومت کا تصرف ہو جائے گا۔\n(۳) وفاقی حکومت یا کسی صوبے کی حکومت کے جملہ حقوق ، ذمہ داریاں اور وجوب ، خواہ وہ کسی\nمعاہدے سے پیدا ہوئے ہوں یا بصورت دیگر ، یوم آغاز سے بالترتیب وفاقی حکومت یا اس\nصوبے کی حکومت کے حقوق ، ذمہ داریاں اور وجوب رہیں گے بجز اس کے کہ ۔۔۔۔\nکی مذمہ\n(الف) کسی ایسے معاملے سے متعلق جملہ حقوق ، ذمہ داریاں اور وجوب جو ،\nیوم مذکور سے عین قبل ، وفاق حکومت کی ذمہ داری تھی ، لیکن جو دستور کے\nتحت کسی صوبے کی حکومت کی ذمہ داری بن گئے ہیں ، اس صوبے کی\nحکومت کو منتقل ہو جائیں گے؛ اور کار\n(ب) کسی ایسے معاملے سے متعلق جملہ حقوق ،ذمہ داریاں اور وجوب جو ،\n کور سے عین قبل، کسی صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھے، لیکن جو دستور\nکے تحت ، وفاقی حکومت کی ذمہ داری بن گئے ، وفاقی حکومت کو منتقل ہو\nجائیں گے۔\n۲۵ (۱) دستور کے تابع اور آرٹیکل ۲۴۰ کے تحت قانون بننے تک ، کوئی شخص جو یوم آغاز سے ملازمت پاکستان میں\nاشخاص کا عہدوں پر\nعین قبل ملازمت پاکستان میں تھا، اس تاریخ سے انہی شرائط پر ملا زمت پاکستان میں برقرار رہنا، وغیرہ۔\n\nبرقرار رہے گا جن کا اس دن سے عین قبل اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عبوری دستور کے\nتحت اس پر اطلاق ہوتا تھا۔\n(۲) شق (۱) اس شخص کی بابت بھی اطلاق پذیر ہوگی جو یوم آغاز سے عین قبل حسب ذیل عہدہ\nپر فائز تھا۔۔۔۔\n(الف) چیف جسٹس پاکستان یاعدالت عظمی کا دیگر ج، یاکسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس یا\nدیگر جج\n(ب) کسی صوبے کا گورنر ؛\n(ج) کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ؟\n(1) قومی اسمبلی یا کسی صوبائی اسمبلی کا اسپیکر یاڈپٹی اسپیکر\n(1) چیف الیکشن کمشنر\n(1) پاکستان کا اٹارنی جنرل یاکسی صوبے کا یڈ وکیٹ جنرل نیا\n(ز) پاکستان کا محاسب اعلیٰ ۔\n(۳) دستور میں شامل کسی امر کے با وجود ، یوم آغاز سے چھ ماہ کی مدت کے لئے کوئی وفاقی وزیر یا\nکوئی وزیر مملکت یا کسی صوبے کا وزیر اعلی یا کوئی صوبائی وزیر ایسا شخص ہو سکے گا جو\nمجلس شوری ( پارلیمنٹ ) ) یا ، جیسی بھی صورت ہو ، اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کا رکن نہ\nہو ؟ اور ایسے وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر کو صوبائی اسمبلی میں یا اس کی کسی ایسی کمیٹی میں ، جس کا\nاسے رکن نامزد کیا جائے، تقریر کرنے اور بصورت دیگر کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہوگا،\nالبتہ اس شق کی رو سے وہ ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا۔\n(۴) کوئی شخص ، جو اس آرٹیکل کے تحت کسی ایسے عہدہ پر برقرار رکھا جائے جس کے لئے جدول\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ۱۹۸۵۰ء ( فرمان صد نمبر۴ مجری ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے پارلیمنٹ“ کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\n\nسوم میں حلف کی عبارت مقرر کی گئی ہے ، یوم آغاز کے بعد، جس قدر جلد ممکن اعمل ہو ،\nشخص مجاز کے سامنے مذکورہ عبارت میں حلف اٹھائے گا۔\n(۵) دستور اور قانون کے تابع ۔\n(الف) کل دیوانی ، فوجداری اور مال کی عدالتیں جو یوم آغاز سے عین قبل اپنا اختیار سماعت\nاستعمال کر رہی ہوں اور کارہائے منصبی انجام دے رہی ہوں، یوم مذکورہ سے اپنے اپنے\nاختیارات سماعت استعمال کرتی رہیں گی اور کارہائے منصبی انجام دیتی رہیں گی ؟ اور\n(ب) تمام پاکستان میں جملہ ہیئت ہائے مجاز اور افسران ( خواہ عدالتی ، انتظامی ،\nمال گزاری یا وزارتی ) یوم آغاز سے عین قبل ، جو کارہائے منصبی انجام دے رہے\nہوں، یوم مذکورہ سے اپنے کارہائے منصبی انجام دیتے رہیں گے۔\nدستور میں شامل کسی امر کے باوجود، پہلا صدر،\nآرٹیکل ۴۲ میں محولہ حلف قومی اسمبلی کے اسپیکر کے امیر میر حاضری میں،\nسکے گا۔\nپہلے صدر کا حلف ۔\n۲۷۷۔ (۱) تمھیں جون سن ایک ہزار نوسو چوہتر کو ختم ہونے والے مالی سال کے لئے صدر کی مصدقہ ، عبوری مالی احکام۔\nمنظور شدہ مصارف کی جدول ، اس سال کے لئے وفاقی مجموعی فنڈ سے خرچ کے لئے\nبدستوراختیار، جائز رہے گی۔\n\n(۲) صدر یکم جولائی سن ایک ہزار نو سو تہتر سے شروع ہونے والے مالی سال سے قبل کسی :\nمالی\nمالی سال کے لئے ، وفاقی حکومت کے خرچ ( جو اس سال کے لئے منظور شدہ خرچ سے\n، ۔\nزیادہ ہو)، کی بابت، وفاقی مجموعی فنڈ سے رقوم کی بازخواست کی منظوری دے سکے گا۔\n(۳) شق (۱) اور (۲) کے احکام کا کسی صوبے میر اور اس کی بابت اطلاق ہوگا، اور اس غرض کیلئے ۔۔۔۔\n(الف) ان احکام میں صدر کے لئے کسی حوالے کو اس صوبہ کے گورنر کے حوالے کے طور پر\nپڑھا جائے گا، اور\n\nحسابات جن کا\nیوم آغاز سے پہلے\nمحاسبہ نہ ہوا ہو۔\nمحصولات کا تسلسل ۔\nہنگامی حالت کے\nاعلان کا مسلسل۔\n\n_129\n(ب) ان احکام میں وفاقی حکومت کے لئے کسی حوالے کو اس صوبے کی حکومت کے\nحوالے کے طور پر پڑھا جائے گا؛ اور\n(ج) ان احکام میں وفاقی مجموعی فنڈ کے لئے کسی حوالے کو، اس صوبے کے صوبائی مجموعی فنڈ\nکے حوالے کے طور پر پڑھا جائے گا۔\nمحاسب اعلیٰ ان حسابات سے متعلق جو یوم آغاز سے قبل مکمل نہ ہوئے ہوں یا جن کا محاسبہ\nنہ ہوا ہو ، وہی کار ہائے منصبی انجام دے گا اور وہی اختیارات استعمال کرے گا جو دستور کی\nرو سے ، وہ دیگر حسابات کی بابت انجام دینے یا استعمال کرنے کا مجاز ہے اور آرٹیکل اےاء\nضروری تغیر وتبدل کے ساتھ ، بحسبہ اطلاق پذیر ہوگا۔\nدستور میں شامل کسی امر کے باوجود، یوم آغاز سے عین قبل نافذ العمل کسی قانون کے تحت\nعائد کردہ تمام محصولات اور فیسیں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک انہیں متعلقہ\nمقننہ کے ایک کے ذریعے تبدیل یا منسوخ نہ کر دیا جائے۔\nدیا\nتمھیں نومبر ایک ہزار نو سو اکہتر کو جاری کردہ ہنگامی حالت کا اعلان آرٹیکل ۲۳۲ کے تحت\nپنگای حالت\nجاری کر وہ ہنگامی حالت کا اعلان متصور ہوگا، اور اس کی شق (۷) اور شق (۸) کی اغراض\nجاری کردہ متصور ہو گا، اور اس اعلان کی رو سے کوئی قانون قاعدہ یا حکم\nکے لئے یوم اعلام جسر\nجو جاری کیا گیا ہو یا جس کا جاری کیا جانا مترشح ہوتا ہو ، جائز طور پر جاری کردہ متصور ہو گا\nسلم اور اس پر کسی عدالت میں حصہ دوم کے باب ا کی رو سے عطاء کر وہ حقوق میں سے کسی\nسے عدم مطابقت کی بنا پر اعتراض نہیں کیا جائے گا گا۔]\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر۱۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ کی رو سے اضافہ کئے گئے اور ہمیشہ سے بایں طوراضافہ شدہ متصور ہوں گے۔\n\nا ضمیمه\n( آرٹیکل ۲ الف )\nقرار داد مقاصد\nبسم الله الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nچونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو\nجو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے؟\nمجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے آزاد و خود مختار مملکت پاکستان کے لئے ایک\nدستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟\nجس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کر دہ نمائندوں کے ذریعے\nکردہ\nاستعمال کرے گی ؟\nکی ، مساوات،\nجس کی رو سے جمہوریت ، حریت ، مساوات ، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کو جس\nطرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پورے طور پر محوظ رکھا جائے گا؟\nجس کی رُو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو\nاسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق جس طرح کہ قرآن پاک دسنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب\nدے سکیں ؟\nجس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب\nپر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو آزادانہ ترقی دے سکیں ؟\nجس کی رُو سے وہ علاقے جواب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو گئے ہیں اور ایسے دیگر\nعلاقے جو آئندہ پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں ایک وفاقیہ بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ\nاختیارات واقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہوگی ؟\nم\nنیا ضمیمه فرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۱۲اور جدول کی رو سے شامل کیا گیا ۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم ) ایکٹ ، ۲۰۱۰ ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ ء ) کی دفعہ ۹۹ کی رو سے شامل کیا گیا ۔\n\nجس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک کہ قانون واخلاق\nاجازت دیں مساوات حیثیت و مواقع ، قانون کی نظر میں برابری ، عمرانی ، اقتصادی اور سیاسی انصاف،\nاظہار خیال، عقیدہ، دین ، عبادت اور شرکت کی آزادی شامل ہوگی ؟\nجائے گا ؟\nجس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا\nجس کی رُو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی ؟\nجس کی رو سے وفاقیہ کے علاقوں کی صیانت، اس کی آزادی اور اس کے جملہ حقوق کا جن میں\nاس کی خشکی وتری اور فضاء پر صیانت کے حقوق شامل ہیں تحفظ کیا جائے گا ؟\nتا کہ اہل پاکستان فلاح و بہبود حاصل کریں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام\nحاصل کر سکیں اور امن عالم برقرار رکھنے اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوش حالی کے لئے پوری کوششیں\nکرسکیں ۔]\nريم\n \n\n٢۔\n۴۔\n\n]\nجدول اوّل\n1 آرٹیکل ۸ (۳) (ب) اور (۴)]\nآرٹیکل ۸ (۱) اور (۲) کے نفاذ سے مستثنیٰ قوانین\nحصرا\nا۔ فرامین صدر\nفرمان (جائیداد ) انضمامی ریاست ، ۱۹۶۱ء (فرمان صد ر نمبر ۱۲ مجریه ۱۹۶۱ء)۔\nفرمان اقتصادی اصلاحات ،۱۹۷۲ء ( فرمان صد ر نمبرا مجریہ ۱۹۷۲ء ) ۔\nضابطہ اصلاحات اراضی ، ۱۹۷۲ء ۔\nضوابط\nضابطہ ( بلوچستان پٹ فیڈر کینال ( اصلاحات اراضی ، ۱۹۷۲ ء\nضابطہ ( صنعتوں کا تحفظ ) اقتصادی اصلاحات ، ۱۹۷۲ ء .\nضابطہ ( چترال ) تقسیم جائیداد ، ۱۹۷۴ء (نمبر ۲ مجریہ ۱۹۷۴ء) ۔\nایمان\nضابطہ چترال، تصفیہ تنازعات جائیداد غیر منقولہ ، ۱۹۷۴ء ( نمبر ۳ مجریہ ۱۹۷۴ء ) ۔\nضابطہ (ترمیمی) ( توارث و قسیم جائیداد اور تصفیہ تنازعات جائیداد غیر منقولہ ) دیر\nوسوات ، ۱۹۷۵ء ( نمبر ۲ مجریہ ۱۹۷۵ء ) ۔\nے۔ ضابطہ (ترمیمی) (چترال) تصفیہ تنازعات جائیداد غیر منقولہ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۲ مجریہ ۱۹۷۶ء)۔ ]۔\nجدول اوّل جس طرح کہ اس میں دستور ( ترمیم اوّل ) ایکٹ ،۱۹۷۴ء ( نمبر ۳۳ بابت ۱۹۷۴ء) کی دفعہ ۱۷\nنفاذ پذیر از ۴ رمئی ،۱۹۷۴ء) کی رو سے ترمیم کی گئی تھی دستور (ترمیم چہارم) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء ( نمبراے بابت\n۱۹۷۵ء) کی دفعہ ۱۲ ( نفاذ پذیر از ۲۱ / نومبر ، ۱۹۷۵ء) کی رو سے تبدیل کر دی گئی ۔\nاندراج ۷ کا دستور ( ترمیم پنجم ) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۱۸ کی رو سے اضافہ کیا گیا\nنفاذ پذیر از ۱۳ ستمبر ، ۱۹۷۶ء)۔\n\nا۔\n\n۳۔ وفاقی ایکٹ\nاصلاحات اراضی (ترمیمی) ایکٹ ، ۱۹۷۴ء (نمبر ۳۰ بابت ۱۹۷۴ء)۔\nاصلاحات اراضی (ترمیمی) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء ( نمبر ۳۹ بابت ۱۹۷۵ء ) ۔\n۳۱ - آٹا پینے کی ملوں کے انضباط اور ترقی کا ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۵۷ بابت ۱۹۷۶ء ) ۔\nچاول چھڑ نے کی ملوں کے انضباط اور ترقی کا ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۵۸ بابت ۱۹۷۶ء ) ۔\nکپاس بلینے کی ملوں کے انضباط اور ترقی کا ایکٹ ، ۱۹۷۶ء ( نمبر ۵۹ بابت ۱۹۷۶ء ) - ]۔\n*\n*\n*\n*\n*\nا۔\n- صدر کے جاری کردہ آرڈنینس\nآرڈنینس، ۱۹۷۵ ء\nاصلاحات اراضی می ۱۹۲۵ء (نمبر ۲۱ مزکورہ آرڈینینس کی جگہ لینے\nکے لئے وضع کردہ وفاقی ایکٹ۔\n۵۔ صوبائی ایکٹ\nاصلاحات اراضی (ترمیم بلوچستان) ایکٹ ۱۹۷۴ء ( بلوچستان ایکٹ نمبر ا ا بابت ۱۹۷۴ء)۔\nاصلاحات اراضی ( ضابطہ پٹ فیڈر کینال) (ترمیمی) ایکٹ ، ۱۹۷۵ء ( بلوچستان ایکٹ نمبرے بابت\n۱۹۷۵ء)۔\nايمار\n۶-۳- صوبائی آرڈنینس\n \nاصلاحات اراضی (پٹ فیڈر کینال) (ترمیمی) آرڈینینس ، ۱۹۷۶ء ۔]\nاندراج ۳ تا ۵ کا دستور ( ترمیم بینیم ) ایکٹ ،۱۹۷۶ء (نمبر۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۱۸ کی رو سے اضافہ کیا گیا ( نفاز پذیر از\n۱۳ ستمبر ، ۱۹۷۶ء)۔\nمندرجات اور ایکٹ ۲ بابت ۲۰۱۷ ء کی رو سے ۶ جنوری ۲۰۱۹ ء میں دو سالہ مدت کی انقضاء پر منسوخ شدہ سمجھے جائیں گے۔\nذیلی عنوان ۶ اور اندراج کا دستور ( ترمیم پنجم) ایکٹ،۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ ۱۸ کی رو سے اضافہ کیا گیا (نفاذ پذ سراز\n۱۳ ستمبر ۱۹۷۶ء)۔\n\nا۔\n٢۔\nا۔ فرامین صدر\nفرمان ( حصول و منتقلی ) معدنیات ، ۱۹۶۱ء ( فرمان صد رنمبر ۸ مجریہ ۱۹۶۱ء ) ۔\nفرمان (انتظامی ایجنسی اور انتخاب نظماً) کمپنیات ۱۹۷۲ء (فرمان صدر نمبر ۲ مجریه ۱۹۷۲ء)۔\nفرمان (اصلاحات) انجمن ہائے امداد باہمی ،۱۹۷۲ء ( فرمان صد ر نمبر ۹ مجریہ ۱۹۷۲ء)۔\nفرمان ( قومی تحویل میں لینا ) بیمہ زندگی ۱۹۷۲ء ( فرمان صد ر نمبر ۱۰ مجریه ۱۹۷۲ء)۔\nبر ۱ مجری فرمان ( زیر سماعت مقدمات ) مارشل لاء،۱۹۷۲ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریه ۱۹۷۲ء)۔\nے۔\n۴۔\n۔ ے۔\n-^\nحله طار\nفرمان ( تنسیخ صرف ہائے خاص و مراعات ) انضمامی ریاستوں کے حکمران ۱۹۷۲ء\nفرمان صد ر نمبر ۱۵ مجریه ۱۹۷۲ء)\nفرمان ( تنسیخ ) صنعتی منظور یاں اور اجازت نا ہے ۱۹۷۲ء (فرمان صدر نمبر ۱۶ مجریه ۱۹۷۲ء)۔ نامے\nفرمان ( خصوصی عدالت ) ترمیم قانون فوجداری ۱۹۷۲ء ( فرمان صد ر نمبر ۲۰ مجریه ۱۹۷۲) ۔\nايما\n۲ ضوابط\nضوابط\nضابطہ (تصرف جائیداد ) راولپنڈی، ۱۹۵۹ء۔\nضابطہ دار الحکومت پاکستان ، ۱۹۶۰ ء - \nضابطہ ( املاک متروکہ ) تنقیح دعاوی، ۱۹۶۱ء۔\nضابطہ ( گوشواروں اور غلط اظہار کی تصحیح محصول آمدنی ، ۱۹۲۹ء۔\nضابطہ ناجائز تصرف جائیداد ، ۱۹۶۹ء۔\nضابطہ (احکام خاص ) ملازمت سے برطرفی ، ۱۹۶۹ء۔\nضابطہ (سزا) ظاہری ذرائع سے بڑھ چڑھ کر زندگی گزارنا ، ۱۹۶۹ء۔\nضابطہ ( ناجائز قبضہ کی بازیافت ) سرکاری زرعی اراضی ، ۱۹۶۹ء ۔\n\nو۔\nاا۔\n۱۲۔\nضابطہ (دشمن کو واجب الا دار قم کی ادائیگی ) املاک دشمن ۱۹۷۰ء۔\nضابطہ ( بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں کی واپسی ، ۱۹۷۱ ء ۔\nضابطہ ( بازیافت) املاک متروکہ کی مالیت اور سرکاری واجبات ، ۱۹۷۱ء۔\nضابطہ (تصفیہ تنازعات ) ضلع پشاور اور قبائلی علاقہ جات ۱۹۷۱ء۔\n۱۳۔ ضابطہ ( فنڈز کی جانچ پڑتال ) کنونشن مسلم لیگ اور عوامی لیگ ، ۱۹۷۱ء۔\n۱۴۔\nضابطہ غیر ملکی زرمبادلہ کی واپسی ۱۹۷۲ ء ۔\n۱۵۔ ضابطہ (اظہار ) غیر ملکی اثاثہ جات ،۱۹۷۲ء۔\n۱۔ ضابطہ ( درخواست نظر ثانی ملازمت سے برطرفی ۱۹۷۲۰۔\nا۔\nضابطہ ( قبضہ ) نجی انتظام کے تحت اسکول اور کالج ۱۹۷۲ ء\n۱۸ ضابطه ( تنسیخ فروخت) املاک دشمن، ۱۹۷۲ء\nوا۔\n۲۰۔\n۲۱۔\n، -\nضابطہ ( توارث و تقسیم جائیداد ) دبیر سوات ۱۹۷۲ء)\nضابطہ ( تصفیہ تنازعات جائیداد غیر منقوله ) دیر سوات ،۱۹۷۲ء۔\nضابطه ( تنسیخ فروخت یا انتقال) مغربی پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن ۱۹۷۲۰ء۔\n۲۲۔ ضابطہ (متولیوں اور ناظموں کے بورڈ کی معطلی ) نیشنل پریس ٹرست ،۱۹۷۲ء۔\n-۲۳ ضابطہ ( پنجاب ) ( بازا دائی قرضہ جات ) بینک ہائے امداد با بھی ۱۹۷۲ء۔\n۲۴۔ ضابطہ (سندھ) ( بازا دائی قرضہ جات ) انجمن ہائے امداد باہمی ،۱۹۷۲ء۔\n۴۔\n۳۔ صدر کے جاری کردہ آرڈینینس\nانضباط جہاز رانی آرڈ مینس، ۱۹۵۹ء (نمبر ۱۳ مجریہ ۱۹۵۹ء)۔\nجموں و کشمیر ( انتظام جائیداد ) آرڈ نینس،۱۹۶۱ء (نمبر۳ مجریہ ۱۹۶۱ء)۔\nمسلم عائلی قوانین آرڈینینس،۱۹۶۱ء (نمبر ۸ مجریہ ۱۹۶۱ء)۔\nتحفظ پاکستان (ترمیمی) آرڈینینس ، ۱۹۶۱ء (نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۶۱ء)۔\n\n۲۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ( قبضہ ) آرڈینینس، ۱۹۶۱ء (نمبر ۲۰ مجریہ، ۱۹۶۱ء)۔\nتجارتی تنظیمیں آرڈنینس ،۱۹۶۱ء (نمبر ۴۵ مجریہ ۱۹۶۱ء)۔\n۴۔ وفاقی ایکٹ\nاحتساب فلم ایکٹ ۱۹۶۳ء (نمبر ۱۸ بابت ۱۹۶۳ء)۔\n-۵ سابق صوبہ مغربی پاکستان کے گورنر کے جاری کردہ آرڈنینس\nتعلیمی وتربیتی ادارہ ہائے حکومت مغربی پاکستان آرڈینینس، ۱۹۶۰ء ( مغربی پاکستان آرڈینینس نمبر 11\nمجریہ ۱۹۶۰ء)۔\nاملاک وقف مغربی پاکستان آرڈینینس، ۱۹۶۱ء ( مغربی پاکستان آرڈینینس نمبر ۲۸ مجریہ، ۱۹۶۱ء)۔\nرجسٹری انجمنان (ترمیم مغربی پاکستان ( آرڈنینس، ۱۱۹۶۲ مغربی پاکستان\nآرڈینینس نمبر ۹ مجریہ ۱۹۶۲ء ) ۔\nصنعت ہائے مغربی پاکستان (انضباط قیام و توسیع ) آرڈینینس ، ۱۹۶۳ء (مغربی پاکستان\nآرڈینینس نمبر ۴ مجریہ، ۱۹۶۳ء) ۔\n- شمال مغربی سرحدی صوبہ کے گورنر کے جاری کردہ آرڈینینس\nتعلیمی وتربیتی ادارہ ہائے حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ آرڈینینس ، ۱۹۷۱ ( شمال مغربی سرحدی صوبہ\nآرڈنینس نمبر ۳ مجریہ، ۱۹۷۱ ء ) ۔\nشمال مغربی سرحدی صوبہ چشمہ رائٹ بنک کینال پروجیکٹ (انضباط و انسدادسته بازی در اراضی)\nآرڈینینس ، ۱۹۷۱ء ( شمالی مغربی سرحدی صوبہ آرڈینینس نمبر ۵ مجریه ۱۹۷ء)۔\nشمال مغربی سرحدی صوبہ گومل زام پر وجیکٹ ( انضباط و انسداد سٹہ بازی در اراضی ) ، آرڈینینس ،\n۱۹۷۱ء ( شمال مغربی سرحدی صوبہ آرڈینینس نمبر ۸ مجریہ ا۱۹۷ء)۔]\n\n۴۔\nجدول دوم\n[ آرٹیکل ۴۱ (۳)]\nصدر کا انتخاب\nالیکشن کمیشن پاکستان صدر کے عہدے کے لئے انتخاب کا انعقاد اور انصرام کرے گا، اور مذکورہ\nانتخاب کے لئے کر چیف الیکشن کمشن افسر رائے شماری ( ریٹرنگ افسر ) ہوگا۔\nالیکشن کمیشن پاکستان مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے ارکان کے اجلاس اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان\nکے اجلاس کی صدارت کرنے کے لئے افسران صدارت کننده ( پریذائیڈنگ افسران ) کا تقرر\nکرے گا۔\nچیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لئے ، جانچ پڑتال\nکرنے کے لئے ، نام واپس لینے کے لئے ، اگر کوئی ہو ، اور انتخاب کے انعقاد کے لئے ، اگر\nضروری ہو، وقت اور مقام مقرر کرے گا۔\nکی دو\nنامزدگی کے لئے مقرر کردہ دن کی دوپہر سے پہلے مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا\nکوئی رکن نامزدگی کا ایک کاغذ جس پر بحیثیت تجویز کنندہ خود اس کے اور بحیثیت تا ئید کنندہ\nمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا جیسی بھی صورت ہو ، اسمبلی کے کسی دوسرے رکن کے دستخط ہوں اور\nیا ، ہو،\nجس کے ساتھ نامزد شخص کا ایک دستخط شدہ بیان منسلک ہو کہ وہ نامزدگی پر رضا مند ہے ، افسر\nصدارت کنندہ کو دے کر کسی ایسے شخص کو بحیثیت صدر کا انتخاب کے لئے نامزد کر سکے گا جو بحیثیت\nصدر انتخاب کا اہل ہو؟ \nمگر شرط یہ ہے کہ کوئی شخص تجویز کنندہ یا تائید کنندہ کی حیثیت سے کسی ایک انتخاب میں\nایک سے زیادہ کاغذ نامزدگی پر دستخط نہیں کرے گا۔\nفرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”جدول دوم تبدیل کی گئی۔\nدستور (بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ کی روسے الفاظ چیف الیکشن کمشنر کی بجائے تبدیل کئے گئے۔\nحوالہ عین ماقبل کی رو سے شامل کیا گیا۔\n\néò\nجانچ پڑتال چیف الیکشن کمشنر اس کی طرف سے مقر کر دہ وقت اور مقام پر کرے گا، اور اگر\nجانچ پڑتال کے بعد صرف ایک شخص جائز طور پر نا مزدورہ جائے ، تو چیف الیکشن کمشنر اس شخص کو\nمنتخب شدہ قرار دے دے گا ، یا اگر ایک شخص سے زیادہ جائز طور پر نا مزد رہ جائیں ، تو وہ ،\nعام اعلان کے ذریعے ، جائز طور پر نامزد اشخاص کے ناموں کا اعلان کرے گا جو بعد ازیں\nامیدوار کے نام سے موسوم ہوں گے۔\nکوئی امیدوار اس غرض کے لئے مقرر کر وہ دن کی دو پہر سے قبل کسی وقت ، اس افسر\nصدارت کنندہ کو جس کے پاس اس کا کاغذ نامزدگی داخل کرایا گیا ہو ، اپنا د تخطی تحریری نوٹس\nدے کر اپنی امیدواری سے دستبردار ہو سکے گا، اور کسی امیدوار کو جس نے اس پیرے کے تحت\nاپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہو ، مذکورہ نوٹس کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں\nدی جائے گی۔\nے۔ اگر ایک کے سوا باقی تمام امیدوار و تبر دار ہو گئے ہوں ، تو کمشنر اس ایک امیدوار کو تب قرار\nو۔\nدے دے گا۔\nاگر کوئی بھی دستبر دارنہ ہو نا یا اگر دستبر داریوں کے بعد ، دو یا زیادہ امیدوار رہ جائیں\nایمان\nتو چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے امیدواروں اور ان کے تجویز کنندہ گان اور\nتائید کنندہ گان کے ناموں کا اعلان کرے گا، اور مابعد پیروں کے احکام کے مطابق خفیہ رائے دہی\nکے ذریعے رائے دہی منعقد کرنے کی کارروائی کرئے گا۔\nاگر کوئی امیدوار جس کی نامزدگی درست پائی گئی ہونا مزدگی کے لئے مقرر کردہ وقت کے بعد فوت\nہو جائے ، اور رائے دہی کے آغاز سے قبل افسر صدارت کنندہ کو اس کی موت کی اطلاع مل\nجائے ، تو افسر صدارت کننده ، امیدوار کی موت کے امر واقعہ کے بارے میں مطمئن ہو جانے پر ،\nرائے دہی منسوخ کر دے گا اور اس امر واقعہ کی اطلاع چیف الیکشن کمشنر کو دے گا، اور اس انتخاب\nسے متعلق تمام کا رروائی ہر لحاظ سے اس طرح از سر نو شروع کی جائے گی گویا کہ نئے انتخاب کے\nلئے ہو:\n،\n\n۱۲۔\nمگر شرط یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کی صورت میں جس کی نامزدگی رائے دہی کی تنسیخ کے\nوقت جائز تھی ، مزید نامزدگی ضروری نہیں ہوگی:\nمزید شرط یہ ہے کہ کوئی شخص جس نے رائے دہی منسوخ ہونے سے پہلے اس جدول\nکے پیرا ۶ کے تحت اپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہو، مذکورہ تنسیخ کے بعد انتخاب\nکے لئے بحیثیت امیدوار نامزد کئے جانے کا نا اہل نہیں ہوگا۔\nرائے دہی کا انعقاد مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ہوگا ، اور\nمتعلقہ افسران صدارت کنندہ ایسے افسروں کی اعانت سے رائے دہی کا انصرام کریں گے جس\nطرح کہ وہ ، چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے علی الترتیب مقرر کریں ۔\n،\nمجلس شوری ( پارلیمنٹ ، اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے، ہر ایک رکن کو ، جوخود کومجلس شوری\n،\n(پارلیمنٹ ) یا ، جیسی بھی صورت ہو ، اس صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ووٹ ڈالنے کے لئے پیش\nکا تر\nکرے جس کا وہ رکن ہو ( جس کا حوالہ بعد ا ز میں ووٹ دینے والے شخص کے طور پر دیا گیا ہے )،\nایک انتخابی پرچی جاری کی جائے گی ، اور وہ اپنا ووٹ اصالتاً پرچی پر مابعد پیروں کے احکام کے\nمطابق نشان لگا کر استعمال کرائے گا ۔\nایمان\nرائے دہی خفیہ رائے دہی کے ذریعے ایسی انتخابی پرچیوں کی وساطت سے ہوگی جن پر ایسے تمام\nامیدواروں کے نام حروف تہجی کے لحاظ سے درج ہوں گے جو دسمبر دار نہ ہوئے ہوں ، اور کوئی\nووٹ دینے والا شخص اس شخص کے نام کے سامنے جسے وہ ووٹ دینا چاہتا ہونشان لگا کر ووٹ\nدے گا۔\nانتخابی پر چیاں مثنی کے ساتھ انتخابی پرچیوں کی ایک کتاب سے جاری کی جائیں گی ، ہرنی پر نمبر\nدرج ہوگا؛ اور جب کوئی انتخابی پر چی کسی ووٹ دینے والے شخص کو جاری کی جائے تو اس کا نام منی\nپر درج کیا جائے گا ، اور افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط کے ذریعے انتخابی پرچی کی تصدیق کی\nجائے گی۔\n\né·ò\n\nانتخابی پرچی پر نشان لگا دینے کے بعد ووٹ دینے والا شخص اسے انتخابی پرچی کے صندوق میں\nڈالے گا جو افسر صدارت کنندہ کے سامنے رکھا ہوگا۔\n۱۵۔ اگر کسی ووٹ دینے والے شخص سے کوئی انتخابی پر چی خراب ہو جائے تو وہ اسے افسر\nصدارت کنندہ کو واپس کر دے گا ، جو پہلی انتخابی پرچی کو منسوخ کر کے اور متعلقہ منی پر منسوخی کا\n۱۔\nنشان لگا کر اسے دوسری انتخابی پرچی جاری کر دے گا۔\nکوئی انتخابی پرچی نا جائز ہوگی اگر ۔۔۔۔۔۔\n(اول) اس پر کوئی ایسا نام، لفظ یا نشان ہو جس سے ووٹ دینے والے شخص کی شناخت ہو سکے؛ یا\n(دوم) اس پر افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط نہ ہوں ؛ یا\n(سوم) اس پر کوئی نشان نہ ہو گیا\n؛\n(چهارم) دو یا زیادہ امیدواروں کے نام کے سامنے نشان لگایا گیا ہو، یا\n\n(پنجم) اس امیدوار کی شناخت کے بارے میں تعین نہ ہو سکے گا جس کے نام کے سامنے نشان\nلگایا گیا ہو۔\n۔ رائے دہی ختم ہونے کے بعد ہر ایک افسر صدارت کنندہ ، ایسے امیدواروں یا ان کے کارندگان\nمجاز کی موجودگی میں جو حاضر رہنا چاہیں، انتخابی پرچیوں کے صندوقوں کو کھولے گا اور انہیں خالی\n\nکرے گا اور ان میں موجود انتخابی پرچیوں کی جانچ پڑتال کرے گا ، ایسی پر چیوں کو مستر دکرتے\nہوئے جو نا جائز ہوں، جائز انتخابی پرچیوں پر ہر ایک امیدوار کے لئے درج شدہ ووٹوں کی تعداد\nکا شمار کرے گا اور بائیں طور درج شدہ ووٹوں کی تعداد سے چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کرے گا۔\n۱ (۱) چیف الیکشن کمشنر انتخاب کا نتیجہ حسب ذیل طریقے سے متعین کرے گا، یعنی:۔\n(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے\nدوٹ شمار کئے جائیں گے؟\n\n۱۹۔\n۲۱۔\n(ب) کسی صوبائی اسمبلی میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی\nتعداد کو اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں فی الوقت\nسب سے کم نشستیں ہوں ضرب دیا جائے گا اور اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں\nکی مجموعی تعداد سے جس میں ووٹ ڈالے گئے ہوں تقسیم کیا جائے گا؟ اور\n(ج) شق (ب) میں محولہ طریقے سے شمار کردہ ووٹوں کی تعداد کو شق (الف) کے تحت\nشمار کردہ ووٹوں کی تعداد میں جمع کر دیا جائے گا۔\n\"\nتشریح: اس پیرے میں نشستوں کی مجموعی تعداد میں غیر مسلموں اور خواتیں کے\nلئے مخصوص نشستیں شامل ہیں۔\n(۲) کسی کسر کو قریب ترین کل میں بدل دیا جائے گا۔\nاس امیدوار کو جس نے پیرا ۱۸ میں مصرحہ طریقے سے مدون ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد\n\nحاصل کی ہو چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے منتخب قرار دے دیا جائے گا۔ اے\nجبکہ کسی رائے دہی میں کوئی سے دو یا زیادہ امید وار ووٹوں کی مساوی تعداد حاصل کریں ، تو منتخب\nکئے جانے والے امیدوار کا چناؤ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔\nجبکہ کسی رائے دہی کے بعد ، ووٹوں کا شمار مکمل ہو گیا ہو ، اور رائے شماری کا نتیجہ متعین ہو گیا ہو،\n\nچیف الیکشن کمشنر فی الفور ان کے سامنے جو موجود ہوں نتیجہ کا اعلان کرے گا، اور نتیجہ سے\nوفاقی حکومت کو مطلع کرے گا، جوفی الفور نتیجہ کو عام اعلان کے ذریعے مشتہر کرنے کا حکم دے گی ۔\n-۲۲ الیکشن کمیشن پاکستان، اعلان عام کے ذریعے صدر کی منظوری سے ، اس جدول کی اغراض کی\nبجا آوری کے لئے قواعد وضع کر سکے گا۔]\nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۲ء (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ کی رو سے الفاظ چیف الیکشن کمشنر سے تبدیل کئے گئے ۔\n\nجد دل سوم\nعہدوں کے حلف\nصدر\nآرٹیکل ۴۲)\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\n( شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ )\nمیں ، ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور\n، جن میں قرآن پاک خاتم الکتب ہے ، نبوت\nوحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ کتب\nحضرت محمد الله بحیثیت خاتم النبیین جن کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، روز قیامت اور قرآن پاک وسنت\nکی جملہ مقتضیات وتعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں :\nکہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفا دار ہوں گا:\nکہ بحیثیت صدر پاکستان ، میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری ، اپنی انتہائی صلاحیت\nاور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ\nپاکستان کی خود مختاری، سالمیت ، استحکام، بحجیتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں\nگا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nپر\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nکہ، میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف ورعایت اور بلا رغبت وعناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا:\nاور یہ کہ میں کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا اور نہ اسے ظاہر\nکروں گا جو بحیثیت صدر پاکستان میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے علم میں آئیگا\nبجز جب کہ بحیثیت صدرا اپنے فرائض کی کما حقہ، انجام دہی کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو ۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nپاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ، ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nوزیر اعظم\n[ آرٹیکل ۱ (۵)]]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ )\nمیں ، ۔۔ ۔۔۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھا تا ہوں کہ میں مسلمان\n،\nہوں اور وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ ، کتب الہیہ ، جن میں قرآن پاک خاتم الکتب ہے ، نبوت\nحضرت محمد رسول الله الله بحیثیت خاتم النبیین جن کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ، روز قیامت اور\nقرآن پاک وسنت کی جملہ مقتضیات و تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں کا\nکہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا:\nکہ بحیثیت وزیر اعظم پاکستان ، میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ایمانداری ، اپنی\nکارہائے\nانتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق ، اور\nاور\nہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت، استحکام پجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا ، اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔\nاور یہ کہ میں ، ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت وعناد،\nقانون کے مطابق انصاف کروں گا:\nاور یہ کہ میں کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا نہ اسے ظاہر کروں گا\nجو بحیثیت وزیر اعظم پاکستان میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے علم میں آئیگا\nبجز جب کہ بحیثیت وزیر اعظم اپنے فرائض کی کما حقہ، انجام دہی کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو۔\nسم اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰ کی رُو سے(۳) کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nوفاقی وزیر یا وزیرمملکت\n[ آرٹیکل ۹۲ (۲)]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں ، ------۔۔۔، صدق دل سے حلف اٹھا تا ہوں کہ میں خلوص نیت\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\nکہ بحیثیت وفاقی وزیر ( یا وزیر مملکت ) میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ایمانداری ، اپنی\nانتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق ،\nاور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ، استحکام ، بیجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nكت\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ کروں گا:\nکہ میں ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف درعایت اور بلا رغبت وعناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا:\nاور یہ کہ میں کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا نہ اسے ظاہر کروں\nگا جو بحیثیت وفاقی وزیر ( یا وزیر مملکت ) ، میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے علم\nمیں آئیگا ، بجز جب کہ بحیثیت وفاقی وزیر ( یا وزیر مملکت ) ، اپنے فرائض کی کما حقہ، انجام دہی کے\nلئے ایسا کرنا ضروری ہو یا جس کی وزیر اعظم نے خاص طور پر اجازت دی ہو۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ، ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمیں،\nقومی اسمبلی کا اسپیکر یا\nسینٹ کا چیئر مین\nآرٹیکل ۵۳ (۲) اور ۶۱]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\nصدق دل سے حلف اٹھا تا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ، پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ( یا سینٹ کے چیئر مین ) کی حیثیت سے اور جب کبھی مجھے\nبحیثیت صدر پاکستان کام کرنے کے لئے کہا جائے گا، میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ،\nایمانداری ، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ااور\nقانون کے مطابق ، اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے اسمبلی کے قواعد کے مطابق ( یا سینٹ\nمطابق اسپیکر\nکے چیئر مین کی حیثیت سے سینٹ کے قواعد کے مطابق ) اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ،\nسالمیت ،استحکام، یکجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nایمان\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nاور یہ کہ میں ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت وعناد ،\nقانون کے مطابق انصاف کروں گا۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمیں،۔۔\nقومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر یا\nسینٹ کا ڈپٹی چیئر مین\nآرٹیکل ۵۳ (۲) اور (۶)\nبسم الله الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ، جب کبھی مجھے بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی (یا چیئر مین سینٹ ) کام کرنے کو کہا جائے گا، میں\nاپنے فرائض و کار ہائے منصبی ایمانداری ، اپنی انتہائی صلا حیت اور وفاداری کے ساتھ ،\nاسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون اور اسمبلی ( یا سینٹ ) کے قواعد کے مطابق اور ہمیشہ\nپاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ، استحکام، جمتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nاور یہ کہ میں ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلا خوف ورعایت اور بلا رغبت وعناد،\nقانوں کے مطابق انصاف کروں گا۔\nايم\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nقومی اسمبلی کا رکن یا\nسینٹ کا رُکن\nآرٹیکل ۶۵)\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\n( شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں،۔۔۔\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\nصدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت رکن قومی اسمبلی ( یا سینٹ)، میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری ، اپنی\nانتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ، قانون اور اسمبلی\n( یا سینٹ ) کے قواعد کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ، استحکام ، پجہتی اور\nخوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nاور یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع\nکروں گا۔\n \nاللہ تعالیٰ میری مدداور رہنمائی فرمائے (آمین) \nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمیں ،۔\nصوبے کا گورنر\nآرٹیکل ۱۰۲]\nبسم الله الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت گورنر صوبہ۔۔۔۔ ۔۔۔ میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی\nانتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے\nمطابق ، اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ، استحکام ، جہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام\n،\nدوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nکہ میں ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ، بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد ، قانون\n،\nکے مطابق انصاف کروں گا:\n،\nاور یہ کہ کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی اطلاع نہ دوں گا اور نہ اس پر ظاہر کروں\nگا جو بحیثیت گورنر صوبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے علم\nیا\nمیں آئیگا بجز جب کہ بحیثیت گورنر اپنے فرائض کی کما حقہ، انجام دہی کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\n-م\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nوزیر اعلیٰ یا صوبائی وزیر\nآرٹیکل ۱۳۰۴ (۵)] اور ۱۳۲ (۲)]\nبسم الله الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں ،۔\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت وزیراعلی ( یا وزیر) حکومت صوبہ۔۔\n۔ ۔ میں اپنے فرائض اور\nکا رہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے\nدستور اور قانون کے مطابق، اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت، استحکام پجہتی اور خوشحالی کی\nخاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nکہ میں ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت وعناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا:\n \nاور یہ کہ، میں کسی شخص کو بلا واسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی اطلاع نہ دوں گا نہ اس پر ظاہر\nکروں گا جو وزیر اعلیٰ یا وزیر ) کی حیثیت سے میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائیگا یا میرے\nعلم میں آئیگا بجز جب کہ وزیر اعلی ( یا وزیر ) کی حیثیت سے اپنے فرائض کی کما حقہ، انجام دہی کے\nلئے ایسا کرنا ضروری ہو (یا جس کی وزیراعلیٰ نے خاص طور پر اجازت دی ہو ) ۔\nسم اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۰ کی رُو سے ۱۳۱ (۴)‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nکسی صوبائی اسمبلی کا اسپیکر\nآرٹیکل ۵۳ (۲) اور ۱۲۷]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں، ۔\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت اپیکرصوبائی سمبلی صوبہ۔۔۔۔۔ ۔۔ اور جب\nکبھی بھی مجھے بحیثیت\nگورنر کام کرنے کا کہا جائے گا تو میں اپنے فرائض اور کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت\nاور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ، قانون اور اسمبلی کے قواعد کے مطابق اور\nہمیشہ پاکستان کی خودمختاری ، سالمیت ، استحکام، یکجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں\nپر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nاور یہ کہ میں ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلا خوف درعایت اور بلا رغبت و عناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا۔\nم اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰ کی رو سے ” میں انجام دوں گا“ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nفرمان صد نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nکسی صوبائی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر\nآرٹیکل ۵۳ (۲) اور ۱۲۷]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں، ۔\n۔ ۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\nکہ، جب\nکبھی مجھے بحیثیت اسپیکر صوبائی اسمبلی صوبہ -\nکام کرنے کے\nلئے کہا جائے گا میں اپنے فرائض اور کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے\nساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور ، قانون اور اسمبلی کے قواعد کے مطابق ، اور ہمیشہ پاکستان کی\nخود مختاری ، سالمیت، استحکام، بہیجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nاور یہ کہ، میں ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف ورعایت اور بلا رغبت و عناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا ۔\n\nکسی صوبائی اسمبلی کا رکن\nآرٹیکل ۶۵ اور ۱۲۷]\nبسم الله الرحمن الرحیم\n( شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ )\nمیں ،۔۔\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ، بحیثیت رکن صوبائی املی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں، اپنے فرائض وکارہائے منصبی\nایمانداری ، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون\nاور اسمبلی کے قواعد کے مطابق، اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت، استحکام پیکجہتی اور خوشحالی کی\nخاطر انجام دوں گا:\nکہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے:\nرہوں جو بنیاد\nاور یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع\nکروں گا۔\nايم\nاللہ تعالی میری مدداور رہنمائی فرمائے (آمین) \nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمیں، ۔\nمحاسب اعلیٰ پاکستان\nآرٹیکل ۱۶۸ (۲)]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت محاسب اعلیٰ پاکستان میں ، اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ، ایمانداری ، اپنی\nانتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق\nاور اپنے بہترین علم و واقفیت، صلاحیت اور قوت فیصلہ کے ساتھ ، بلاخوف ورعایت اور بلا رغبت وعناد\nانجام دوں گا، اور یہ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکارمی کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز\nنہیں ہونے دوں گا۔\n\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nايما\n \nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nچیف جسٹس پاکستان یا کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس\nیا عدالت عظمی یا کسی عدالت عالیہ کا حج\nآرٹیکل ۷۸ اور ۱۹۴]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nمیں ،۔\nسے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nاٹھاتا\nکه، بحیثیت چیف جسٹس پاکستان ( یا جج عدالت عظمیٰ پاکستان ، یا چیف جسٹس یا حج عدالت عالیہ\nصوبہ یا صوبہ جات ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میں اپنے فرائض اور کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی\nصلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق انجام دوں گا :\nکہ میں اعلیٰ عدالتی کونسل کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کروں گا:\nکہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر اندار نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\nاور یہ کہ میں، ہر حالت میں، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلاخوف ورعایت اور بلا رغبت وعناد ، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\n:\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمیں، ۔\nوفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس یا جج\nآرٹیکل ۲۰۳ ج (۷)]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\nسے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا:\n۔ ۔۔ صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nکہ بحیثیت وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ( یا وفاقی شرعی عدالت کے جج )، اپنے\nفرائض و کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی بہترین صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان\nاور قانون کے مطابق ادا کروں گا اور انجام دوں گا۔\nکہ، میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا:\nکہ میں اعلیٰ عدالتی کونسل کے جار سبطہ اخلاق کی پابندی کروں گا:\nکہ میں دستور پاکستان کو برقرار رکھوں گا ، اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا:\n\nاور یہ کہ، ہر حالت میں ، ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ، بلا خوف درعایت اور بلا رغبت وعناد، قانون\nکے مطابق انصاف کروں گا۔ \nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ، بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۰ کی رُو سے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس یا حج کے\nحلف نامہ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n\nمیں ،\n\nچیف الیکشن کمشتر از بارکن الیکشن کمیشن پاکستان ]\nآرٹیکل ۲۱۴]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\nشروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔)\n، صدق دل سے حلف اٹھا تا ہوں کہ بحیثیت\nچیف الیکشن کمشنر یا جیسی بھی صورت ہو ، رکن الیکشن کمیشن پاکستان ] میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ،\nایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق\nاور بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد انجام دوں گا، اور یہ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے\nسرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے (آمین)۔]\nريم\n \nدستور ( بیسویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۲ء (نمبر ۵ بابت ۲۰۱۲ء) کی دفعہ کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل کی رو سے شامل کیا گیا۔\nفرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ ء کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا۔\n\nمسلح افواج کے ارکان\nآرٹیکل ۲۴۴]\nبسم اللہ الرحمن الرحیم\n( شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ )\nمیں،\nصدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت\nسے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی حمایت\nکروں گا جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے ، اور یہ کہ میں اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی سیاسی\nسرگرمیوں میں مشغول نہیں کروں\nگا اور یہ کہ میں مقتضیات قانون کے مطابق اور اس کے تحت\nپاکستان کی بری فوج ( یا بحری یا فضائی فوج ) میں پاکستان کی خدمت ایمانداری اور وفاداری\nکے ساتھ انجام دوں گا ۔\n\nاللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے ( آمین ) - ]\nايما\n \nفرمان صد ر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۱۲اور جدول کی رو سے اضافہ کیا گیا ۔\n\n۲۔\nجدول چهارم\n[ آرٹیکل ۷۰ (۴)]\nقانون سازی کی فہرستیں\nوفاقی قانون سازی کی فہرست\nحصہ اوّل\nامن یا جنگ میں وفاق یا اس کے کسی حصے کا دفاع ؛ وفاق کی بری، بحری اور فضائی افواج اور کوئی\nدوسری مسلح افواج جو وفاق کی طرف سے بھرتی کی جائیں یا رکھی جائیں ، کوئی مسلح افواج جو وفاق\nكلاط\nکی افواج تو نہ ہوں مگر جو وفاق کی مسلح افواج بشمول سول مسلح افواج سے منسلک ہوں یا ان کے\nساتھ مل کر کاروائی کر رہی ہوں ؛ وفاقی سررشتہ سراغ رسانی ؛ امور خارجہ، دفاع یا پاکستان یا اس\nکے کسی حصہ کی سلامتی سے متعلق ملکی مصلحتوں کی بناء پر امتناعی نظر بندی ؛ اشخاص جو اس طرح\nنظر بند کئے گئے ہوں؛ وہ صنعتیں جو وفاقی قانون کی رو سے دفاعی مقاصد کے لئے یا جنگ جاری\nرکھنے کے لئے ضروری قرار دی گئی ہور\nبری ، بحری اور فضائی فوج کی تعمیرات، چھاؤنی کے علاقوں میں مقامی حکومت خود اختیاری ، مذکورہ\nعلاقے میں چھاؤنی کے ادارہ ہائے مجاز کی بیت ترکیبی اور اختیارات ، مذکورہ علاقوں میں\nرہائشی جگہ کا انضباط اور ان علاقوں کی حد بندی۔\nامور خارجه؛ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلیمی اور ثقافتی معاہدوں اور سمجھوتوں کے بشمول ، عہد ناموں\nاور معاہدوں پر عمل درآمد کرنا تحویل ملزمان ، بشمول مجرمان اور ملزم اشخاص کو پاکستان سے باہر کی\nحکومتوں کے حوالہ کرنا۔\nقومیت ، شہریت اور عطائے حقوق شہریت۔\nکسی صوبے یا وفاق کے دارالحکومت سے یا اس میں نقل مکانی یا رہائش اختیار کرنا۔\nپاکستان میں داخلہ اور پاکستان سے ترک وطن اور اخراج، بشمول اس سلسلہ میں پاکستان میں\n\nو۔\nایسے اشخاص کی نقل وحرکت کے انضباط کے جو پاکستان میں سکونت نہ رکھتے ہوں؛ پاکستان سے\nباہر کے مقامات کی زیارات۔\nڈاک و تار بشمول ٹیلی فون لاسلکی نشریات اور مواصلات کے ایسے ہی دیگر ذرائع ؛ ڈاک خانے\nکا سیونگ بینک ۔\nکرنسی ،سکہ سازی اور زرقانونی ۔\nزرمبادلہ ؛ چیک، مبادلہ ہنڈیاں، پرونوٹ اور اسی طرح کی دیگر دستاویزات۔\n۱۰۔ وفاق کا سرکاری قرضہ، بشمول وفاقی مجموعی فنڈ کی کفالت پر رقم قرض لینا ؛ غیر ملکی قرضہ جات اور\n\n۱۲۔\nغیر ملکی امداد ۔\nوفاقی سرکاری ملازمتیں اور وفاقی پبلک سروس کمیشن۔\nوفاقی پنشیں ، یعنی وفاق کی طرف سے وفاقی مجموعی فنڈ سے واجب الادا پیشنیں\n۱۳۔ وفاقی محتسب۔\nوفاق کی رعایا کے لئے انتظامی عدالتیں اور ٹربیونلز\n۱۵۔ کتب خانے ، عجائب گھر اور اسی قسم کے ادارے جو وفاق کے زیرنگرانی ہوں یا اس کی طرف سے\n_17\nان میں سرمایہ لگایا جاتا ہو۔\nایمان\nحسب ذیل اغراض کے لئے وفاقی ایجنسیاں اور ادارے، یعنی تحقیقات کے لئے ، پیشہ وارانہ یا\nفنی تربیت کے لئے یا خصوصی تعلیم کی ترقی کے لئے \n۱۷۔ تعلیم ، جہاں تک کہ پاکستانی طلباء کے غیر ممالک میں ہونے یا غیر ملکی طلباء کے پاکستان میں\n۱۸۔\nہونے کا تعلق ہے۔\nجوہری توانائی ، بشمول ۔۔۔۔۔۔۔\n(الف) معدنی وسائل کے جو جوہری توانائی پیدا کرنے کے لئے ضروری ہیں ؟\n(ب) جو ہری ایندھن کی پیداوار اور جوہری توانائی پیدا کرنے اور استعمال میں لانے کے؛ اور\n(ج) شعاؤں کو برقانے کے م؛ اور ]\n(1) بوانکرز -\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبر ۰ ا بابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۱ کی رو سے وقف کامل کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقبل نئی ذیلی مندرج ( و ) کا اضافہ کیا گیا۔\n\n۱۹۔ بندرگا ہی قرنطینہ ، ملاحوں کے اور بحری ہسپتال اور بندرگا ہی قرنطینہ سے متعلق ہسپتال ۔\n۲۰۔ بحری جہاز رانی اور جہازوں کی آمد و رفت ، بشمول مدوجزری سمندروں کی جہاز رانی اور جہازوں\n۲۲۔\nکی آمد ورفت کے ؛ بحری اختیا ر سماعت ۔\n*\n*\n*\n*\nہوائی جہاز اور ہوا بازی ، ہوائی اڈوں کا اہتمام ؛ ہوائی جہازوں کی آمد ورفت اور\nہوائی اڈوں کا انضباط اور انتظام ۔\n۲۳۔ روشنی کے مینار ، بشمول ہادی جہاز ، اشارہ گاہیں اور بحری اور ہوائی جہازوں کی حفاظت کے لئے\nدیگر انتظامات ۔\n۲۴۔ بحری یا ہوائی راستوں سے مسافروں اور مال کی نقل و حمل ۔\n۲۵۔ حق تصنیف، ایجادات نمونے تجارتی نشانات اور تجارتی مال کے نشانات۔\n۲۶۔ افیون ، جہاں تک کہ برآمد کے لئے اس کی فروخت کا تعلق\n۲۷۔ وفاقی حکومت کی متعین کر وہ سرحدات کشم کے آر پار مال کی درآمد و بر آمد، بین الصوبائی تجارت و کاروبار،\n۲۸۔\nغیر ممالک کے ساتھ تجارت اور کاروبار پاکستان سے برآمد کئے جانے والے مال کا معیار خوبی ۔\n۔ بینک دولت پاکستان ؛ بینکاری ، یعنی ایسی کارپوریشنوں کی طرف سے بینکاری کے کاروبار کا\nانتظام جو ان کارپوریشنوں کے علاوہ ہوں جو کسی صوبے کی ملکیت یا نگرانی میں ہوں اور صرف\nاس صوبے کے اندر کا روبار کرتی ہوں ۔ \n۲۹۔ بیمہ کا قانون ، سوائے جبکہ اس بیمہ کے متعلق ہو جس کی ذمہ داری کسی صوبے نے لے لی ہو اور\nبیمہ کے کاروبار کے انتظام کو منضبط کرنا ، سوائے جبکہ اس کا روبار سے متعلق ہو جس کی ذمہ داری\nکسی صوبے نے لے لی ہو، سرکاری بیمہ ، سوائے جس حد تک کسی صوبے نے اس کی ذمہ داری\nصوبائی اسمبلی کے اختیار قانون سازی کے کسی امر کی وجہ سے لے لی ہو۔\n۳۰ اسٹاک ایکھینچ اور وعدہ بازار، جس کے مقاصد اور کاروبار ایک صوبے تک محدود نہ ہوں۔\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰ کی رو سے مندرج ۲۱ کو حذف کیا گیا۔\n\n۳۱ ۔ کارپوریشنوں ، یعنی تجارتی کارپوریشنوں بشمول بینکاری، بیمہ اور مالی کارپوریشنوں کی تشکیل\nکرنا ، انہیں منضبط کرنا اور ختم کرنا لیکن ان میں ایسی کارپوریشنیں جو کسی صوبے کی ملکیت یا نگرانی\nمیں ہوں اور صرف اس صوبے میں کاروبار کرتی ہوں ، یا انجمن ہائے امداد با ہمی شامل نہیں ہیں ،\nاور ایسی کارپوریشنوں کو تشکیل دینا، منضبط کرنا اور ختم کرنا، خواہ وہ تجارتی ہوں یا نہ ہوں ، جن کے\nمقاصد ایک صوبے تک محدود نہ ہوں، لیکن ان میں یو نیورسٹیاں شامل نہیں ہیں۔\n۳۲۔ بین الاقوامی معاہدات، کنونشنز اور اقرار نامے اور بین الاقوامی ثالثی ۔ ]\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n۳۴۔ قومی شاہرا ہیں اور کلیدی سڑکیں۔\n۳۵۔ وفاقی مساحت بشمول ارضیاتی مساحت کے اور وفاقی موسمیاتی تنظیمیں۔\n-۳۶- علاقائی سمندر سے باہر ماہی گیری اور ماہی گا ہیں۔\n۳۷۔ وفاق کی اغراض کے لئے حکومت کے تصرف یا قبضہ میں تعمیرات ، اراضی اور عمارت ( جو بری،\nبحری یا فضائی فوج کی تعمیرات نہ ہوں) لیکن کسی صوبے میں واقع جائیداد کے سلسلے میں ، ہمیشہ\n۴۱۔\nصوبائی قانون سازی کے تابع ، بجز جس حد تک وفاقی قانون بصورت دیگر حکم دے۔\nکے\n*\n*\n*\n*\n*\nناپ تول کے معیار قائم کر نا\n*\n*\n*\n*\n*\n*\nصدر کے عہدے، قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے انتخابات ؛ چیف الیکشن کمشنر\nاور الیکشن کمیشن۔\n۴۲۔ صدر ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ، سینٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین ، وزیر اعظم ،\nوفاقی وزراء، وزرائے مملکت کے مشاہرے، بھتہ جات اور مراعات ، سینٹ اور قومی اسمبلی کے\nدستور ( اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۱ کی رُو سے مندرج ۳۲ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\nبحوالہ عین ماقیل مندرجات ۳۳، ۱۳۸ اور ۴۰ حذف کر دی گئیں ۔\n\nارکان کے مشاہرے، بھتہ جات اور مراعات ؛ اور ان اشخاص کی سزا جو اس کی کمیٹیوں کے روبرو\nگواہی دینے یا دستاویزات پیش کرنے سے انکار کریں۔\n۴۳ محصولات کشم، بشمول برآمدی محصولات کے۔\n۲۲ محصولات آبکاری بشمول نمک پر محصولات کے لیکن ان میں الکحلی مشروبات ، افیون اور دیگر\n\nنشہ آور اشیاء کے محصولات شامل نہیں ہیں۔\n،\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n*\n۴۷۔ زرعی آمدنی کے علاوہ آمدنی پر محصول ۔\n۴۸۔ کارپوریشنوں پر محصول ۔\n۴۹۲- درآمد شده ، برآمد شده ، تیار کرده ، مصنوعه با صرف شدہ مال کی فروخت اور خرید پر محصولات\nماسوائے خدمات پر محصول فروخت کے۔ ]]\n***\n۵۰ غیر گے * * اثاثوں کی اصل مالیت پر محصول، جس میں غیر منقولہ جائیداد پر ۳ ۰ ۰ ۰ محصول شامل نہیں ہے۔\n-۵۱ جوہری توانائی پیدا کرنے کے لئے استعمال ہونے والے معدنی تیل ، قدرتی گیس اور دھاتوں\n\nپرمحصول۔\n۵۲۔ کسی پلانٹ مشینری منصوبہ، کارخانہ یا تنصیف کی پیداواری صلاحیت پر ان محصولات کی بجائے\nجن کی صراحت اندراجات ۴۴ ، ۴۷، ۴۸ اور ۴۹ میں کر دی گئی ہے یا ان میں سے کسی ایک یا ایک\nسے زائد کی بجائے محصولات ۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ،۲۰۱۰ء (نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۱ کی رو سے مندرجہ جات ۴۵ اور ۴۶ حذف کر دی گئیں۔\nدستور (ترمیم پنجم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ 19 کی رُو سے اصل اندراج ۴۹‘ کی بجائے تبدیل کیا گیا۔\n(نفاذ پذیر از ۱۳/ ستمبر ، ۱۹۷۶ء)۔\nایکٹ نمبرہ ابابت ۲۰۱۰ء کی دفعہ کی ۱۰۱ار و سے اضافہ کیا گیا۔\nبحوالہ معین ماقبل الفاظ \" اصل منافع پر حذف کر دئیے گئے ۔\nدم\n\n۵۳۔ ریل ، بحری یا ہوائی جہاز سے لے جانے والے مال یا مسافروں پر منتہائی محصولات ؛ ان کے\nکرایوں اور بار برداری پر محصولات؛\n۵۴۔ اس حصہ میں مندرجہ کسی امر کی بابت فیسیں ، لیکن ان میں کسی عدالت میں لی جانے والی فیس\nشامل نہیں ہے۔\n-۵۵ اس فہرست میں مندرجہ امور میں سے کسی کی بابت اور ، ایسی حد تک جس کی دستور کی رو سے یا اس\nکے تحت صریحاً اجازت دی گئی ہے ، عدالت عظمی کے سوا تمام عدالتوں کا اختیار سماعت اور\nاختیارات، عدالت عظمی کے اختیار سماعت میں توسیع کرنا ، اور اس کوزائد اختیارات تفویض کرنا۔\n۵۶ اس حصہ میں مندرجہ کسی امر سے متعلق قوانین کے خلاف جرائم کا\n۵۷ ۔ اس حصہ میں مندرجہ کسی امر کی اغراض کے لئے تحقیقات اور اعداد و شمار ۔\n۵۸۔ امور جو اس دستور کے تحت سلم مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ )] کے اختیار قانون سازی کے اندر ہیں یا\n۵۹۔\nوفاق سے متعلق ہیں۔\n\nاس حصہ میں مندرجہ کسی امر کے ضمنی یا ذیلی امو\nايم\nا۔\nریلوے \nمعدنی تیل اور قدرتی گیس ؛ مائعات اور مادے جن کی خطر ناک طور پر آتش گیر ہونے کا\n۲۔\nوفاقی قانون کے ذریعے اعلان کر دیا جائے ۔\nصنعتوں کی ترقی ، جبکہ وفاقی قانون کے ذریعے وفاقی نگرانی میں ترقی مفاد عامہ کی خاطر\nقرین مصلحت قرار دے دی جائے ؟ ایسے ادارے، کارخانے ،مجالس اور کار پوریشنیں جن کا انتظام\nاحیائے دستور ۱۹۷۳ء کا فرمان ،۱۹۸۵ء ( فرمان صدر نمبر ۱۴ مجریہ ۱۹۸۵ء) کے آرٹیکل ۲ اور جدول کی رو سے ”پارلیمنٹ“ کی بجائے\nتبدیل کئے گئے ۔\n\n♡ -\n۔ ۔ یا انصرام یوم آغاز سے عین قبل وفاق حکومت کرتی تھی ، بشمول کا پانی اور بجلی کا ترقیاتی ادارہ\nپاکستان اور صنعتی ترقیاتی کارپوریشن پاکستان ؛ مذکورہ اداروں ، کارخانوں ، مجالس اور\nکارپوریشنوں کے تمام منصوبہ جات ، پروجیکٹ اور اسکیمیں ہنعتیں ، پروجیکٹ اور منصوبے جو\nوفاق کی یا وفاق کی طرف سے قائم کردہ کارپوریشنوں کی کالیا یا جزواً ملکیت ہوں ۔\n۴۔ بجلی ۔\nبڑی بندرگا ہیں ، جیسے کہ مذکورہ بندگاہوں کا اعلان اور حد بندی اور اس بندرگاہ کی ہیئت ہائے مجاز\nکے اختیارات اور تشکیل۔\nوفاقی قانون کے تحت قائم کردہ تمام انضباطی بیت ہائے مجاز ۔\nقومی منصوبہ بندی اور قومی معاشی رابط وہی بشمول سائنسی اور تکنیکی ریسرچ کی منصوبہ بندی اور\nربط دہی کے۔\nسر کاری قرض کی نگرانی اور انصرام ۔\nو۔\nمردم شماری۔\n[Ñ\n۔ کی کے\nکسی بھی صوبے کی پولیس فورس کے اراکین کا کسی بھی دوسرے صوبے کے علاقہ میں عملداری اور\nاختیارات کی توسیع ، مگر اس قدر نہیں کہ ایک صوبے کی پولیس دوسرے صوبے میں اس کی\nصوبائی حکومت کی رضا مندی کے بغیر عملداری اور اختیارات عمل میں لائے کسی بھی صوبے کی\nپولیس فورس سے تعلق رکھنے والے اراکین کی عملداری اور اختیارات میں اس صوبے سے باہر\nا۔\nریلوے کے علاقے میں عملداری اور اختیارات میں توسیع ۔\nقانونی طبیعی اور دوسرے پیشے۔\n۱۲۔ اعلی تعلیمی اداروں ،تحقیقی ، سائنس اور تکنیکی اداروں کا معیار قائم کرنا۔\n۱۳ بین الصوبائی معاملات اور ربط دہی ۔]\nدستور (ترمیم پیم) ایکٹ ، ۱۹۷۶ء (نمبر ۶۲ بابت ۱۹۷۶ء) کی دفعہ 19 کی رو سے مغربی پاکستان کے پانی اور بجلی کا ترقیاتی ادارہ\nاور مغربی پاکستان کا صنعتی ترقیاتی کا رپوریشن کی بجائے تبدیل کر دیا گیا ( نفاذ پذیر از ۱۳ ، تمبر ، ۱۹۷۶ء)۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ اء ا کی رُو سے نئی مندرجات ۱۲،۱۱،۱۰،۹،۸،۷،۶،۵،۴ اور۱۳\nشامل کی گئیں ۔\n\n۱۴۴] مشترکہ مفادات کی کونسل ۔\n۱۵] اس حصہ میں مندرجہ کسی امر کی بابت فیس لیکن اس میں کسی عدالت میں لی جانے والی فیسیں شامل\nنہیں ہیں۔\n۱۶۴] اس حصہ میں مندرجہ کسی امر کے متعلق قوانین کے خلاف جرائم ۔\n1] اس حصہ میں مندرجہ کسی امر کی اغراض کے لئے تحقیقات اور اعداد و شمار ۔\n۱۸] اس میں مندرجہ کسی امر کے ضمنی یا ذیلی امور ۔\nچه کسی امر.\n*\n*\n*\nایمان\n*\n*\n \nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایک ۲۰۱۰ ، ( نمبر، ایابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ اء ا کی رو سے مندرجات ۴ ۵ ۶ ۷، اور ۸ کو دوبارہ نمبر لگایا گیا۔\nبحوالہ عین ماہ قبل مشتر کہ فہرست قانون سازی اور مندرجات ۱ تا ۴۷ حذف کر دی گئیں ۔\n\nا۔\nجدول پنجم\nآرٹیکل ۲۰۵]\nجوں کے مشاہرے اور شرائط ملازمت\nعدالت عظمیٰ\nچیف جسٹس پاکستان کو مبلغ ۹۹۰۰ ] روپے ماہوار تنخواہ ادا کی جائے گی ، اور عدالت عظمی کے ہر\nدوسرے حج کو مبلغ از ۹۵۰۰) روپے ماہوار تنخواہ یا ایسی اضافه شده تنخواه ، جیسا کہ صدر،\nوقتاً فوقتاً متعین کرے ] ادا کی جائے گی۔\nعدالت عظمی کا ہر حج ایسی مراعات اور بھتوں کا ، اور رخصت غیر حاضری اور پنشن کے بارے میں\nایسے حقوق\nکا تحق ہوگا جو صدر متعین کرے، اور اس طرح متعین ہونے تک ،ایسی مراعات بھتوں\nاور حقوق کا مستحق ہوگا، جن کے یوم آغاز سے عین قبل عدالت عظمی پاکستان کے حج مستحق تھے ۔\nعدالت عظمیٰ کے کسی فارغ الخدمت حج کو واجب الادا ماہوار پنشن اس کی اس عدالت یا کسی\nعدالت عالیہ میں ملازمت کی طوالت کے مطابق ذیل میں نقشہ میں مصرحہ رقم سے کم یا زیادہ نہیں ہوگی:\nمگر شرط یہ ہے کہ صدر وقتا فوقتا بایں طور مصرحہ پنشن کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ رقم کو بڑھا سکے گا:۔\nحج\nچیف جسٹس ۰۰۰، روپے\nزیادہ سے زیادہ رقم\n۸,۰۰۰روپے\nویر رنج ۲۰۲۵۰ روپی ۳۵ روپے\nنقاط پذیر یکم دسمبر ۲۰۰۱ ، صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے دیگر بچوں کو ماہوار تنخواہ کا تعین علی الترتیب ۵۵۰۰۰\nاور ۔ ۵۲۰۰۰ روپے کیا ہے ، ملا حظہ ہو فرمان صد ر نمبر ۲ مجر به ۲۱/۲۰۲۰۰۲ (۱) جس میں قبل از میں فرمان صد نمبر ۹\nمجریه ۱۹۹۱ ء فرمان صد ر نمبر ۳ مجریہ ۱۹۹۵ء اور فرمان صد ر نمبر ۴ مجریہ ۱۹۹۵ ء کی رو سے تبدیلی کی گئی تھی۔\nنفاذ پذیر از ۲۷ جولائی ، ۱۹۹۱ ء ) ملاحظہ ہو ( فرمان صد نمبر ۲ مجریہ ۱۹۹۷ء)، چیف جسٹس اور عدالت عظمی کا کوئی جج فارغ\nالخدمتی پر یا مستعفی ہونے پر پنشن کی کم از کم رقم جو چیف جسٹس یا ، جیسی بھی صورت ہو، کوئی حج اپنی ماہوار تنخواہ کے\n۷۰ فیصد کے مساوی جمع اس کی ملازمت کے مکمل شدہ ہر سال کے لئے ماہوار تنخواہ کا ۵ فیصد کا مستحق ہوگا خواہ وہ\nبطور چیف جسٹس ہو یا بطور جج لیکن یہ مذکورہ ماہوار تنخواہ کے ۸۵ فیصد کے مساوی زیادہ سے زیادہ پینشن کی رقم سے\nتجاوز نہ کرے ۔\nدستور (بارہویں ترمیم) ایکٹ ، ۱۹۹۱ء (نمبر ۱۴ بابت (۱۹۹۱ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے ۷۹۰۰ “ اور ” ۴۰۰ کی بجائے تبدیل کئے گئے\nجو قبل ازین فرمان صد ر نمبر ۶ مجری ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے تبدیل کئے گئے ( نفاذ پذیر از یکم جولائی ۱۹۸۳ء)۔\nبحوالہ عین ما قبل اضافہ کئے گئے ۔\nبحوالہ عین ماقبل پیراگراف ۳ کی بجائے تبدیل کیا گیا ۔\n۔ ۔ عدالت عالیہ کے کسی حج کی بیوہ حسب ذیل شرحوں پر پنشن کی حقدار ہوگی ، یعنی :۔\n(الف ) اگر حج فارغ الخدمتی کے بعد وفات پائے اسے واجب الادا خالص پنشن کا\n۵۰ فیصد ؛ یا\n(ب) اگر حج کم از کم پانچ سال بحیثیت حج خدمات انجام دینے کے بعد اور جب اسی\nحیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہو وفات پائے ، اسے کم سے کم شرح پر\nواجب الادا بنیشن کا ۵۰ فیصد ۔\nپنشن بیوہ کو تاحیات یا ، اگر وہ دوبارہ شادی کرلے ، تو اس کی شادی تک واجب الادا ہوگی۔\nاگر بیوہ وفات پا جائے تو ، پنشن بحسب ذیل واجب الادا ہوگی ۔\nکالا\n(الف) حج کے بیٹوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کے ہوں ، جب تک وہ اس عمر کو نہ پہنچ\nجائیں ؛ اور\n(ب) حج کی غیر شادی شدہ بیٹیوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کی ہوں ، جب تک وہ\nاس عمر تک نہ پہنچ جائیں یا ان کی شادی نہ ہو جائے ، جو بھی پہلے واقع ہو ۔]\n↓\nایمان\n \nفرمان صدر نمبر ۶ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا ( نفاذ پذیر از یکم جولائی ، ۱۹۸۱ء)۔\n\n۲۔\nعدالت عالیہ\nکسی عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کو مبلغ ۹۴۰۰ ] روپے ماہوار تنخواہ ادا کی جائے گی ، اور کسی\nعدالت عالیہ کے ہر دوسرے بیج کو مبلغام ۸۴۰۰] روپے ماہوار تنخواہ سر یا ایسی اضافه شده تنخواه\nجیسا کہ صدر ، وقتا فوقتا متعین کرے ) ادا کی جائے گی۔\nکسی عدالت عالیہ کا ہر حج ایسی مراعات اور بھتوں کا ، اور رخصت غیر حاضری اور پینشن کے بارے\nمیں ایسے حقوق کا مستحق ہوگا، جو صدر متعین کرے، اور اس طرح متعین ہونے تک ایسی مراعات،\nبھتوں اور حقوق کا مستحق ہوگا، جن کے یوم آغاز سے عین قبل عدالت عالیہ کے حج مستحق تھے۔\n۳۳۔ کسی عدالت عالیہ کے کسی حج کو جو مذکورہ بج کو جو د کورہ حج کی حیثیت سے کم از کم پانچ سال کی ملازمت کے\nبعد فارغ الخدمت ہو، واجب الا داما ہوار پیشن ، اس کے حج کی حیثیت سے ملازمت اور ملازمت\nپاکستان میں کل ملازمت کی ، اگر کوئی ہو، طوالت کے مطابق ذیل میں نقشے میں مصرحہ رقم سے کم یا\nزیادہ نہیں ہوگی:\nمگر شرط یہ ہے کہ صدر، وقتا فوقتا، بایں طور مصرحہ پینشن کی کم از کم یا زیادہ سے زیادہ رقم کو بڑھا سکے گا:۔\nحج\nکم از کم رقم\nچیف جسٹر ۶۴۰ ، ۵ روپے\nايم\nدیگر جج\n۵،۰۴۰ روپے\nزیادہ سے زیادہ رقم\n۷،۰۵۰ روپے\n۶،۳۰۰ روپے۔]\n \n/\nنفاذ پذیر کیم دسمبر ، ۲۰۰۱ صدر نے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اور عدالت عالیہ کے دیگر بچوں کی ماہوار تنخواہ کا تعین علی الترتیب - / ۵۱۰۰۰\nاور ۔ ۴۹۰۰۰ روپے کیا ہے ، ملا حظہ ہو فرمان صدر نمبر ۲ مجریہ ۲۰۰۲ ء پیرا ۲ (۲) جس میں قبل ازیں فر مان صدر نمبر ۹\nمجریه ۱۹۹۱ ، فرمان صد رنمبر ۳ مجریه ۱۹۹۵ء اور فرمان صد ر نمبر ۴ مجریه ۱۹۹۵ء کی رو سے ترمیم کی گئی تھی ۔ ( نفاذ\nپذیر از ۲۷ / جولائی ، ۱۹۹۱ ء ) ملاحظہ ہو ( فرمان صد ر نمبر ۳ مجریہ ۱۹۹۷ ء ) ، چیف جسٹس یا عدالت عالیہ کا کوئی حج\nاپنی فارغ الخدمتی پر یا مستعفی ہونے پر یا بر طرفی پر پنشن کے لئے ۵ سال کی بطور حج ملا زمت پوری کر کے ماہوار تنخواہ\nکے کم از کم ۷۰ فیصد کے مساوی پنشن کا مستحق ہوگا اور مابعد کی بطور چیف جسٹس یا جج کی ملازمت کے مکمل شدہ ہر\nسال کے لئے بشمول اس ملازمت کے اگر کوئی ہو ، مذکورہ ماہوار تنخواہ کا ۲ فیصد کی شرح سے اضافی پنشن کا بھی\nمستحق ہوگا زیادہ سے زیادہ پنشن ماہوار تنخواہ کے ۸۰ فیصد سے تجاوز نہ کرے ۔\n\nدستور (بارہویں ترمیم) ایکٹ ، ۱۹۹۱ء ( نمبر۴ ابابت ۱۹۹۱ء) کی دفعہ ۳ کی رو سے ۷۲۰۰‘ اور ۶۵۰۰‘ کی بجائے تبدیل کئے گئے\nجو قبل از این فرمان صد ر نمبر ۶ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے تبدیل کئے گئے ( نفاذ پذیر از یکم جولائی ۱۹۸۳ء)۔\nبحوالہ عین ما قبل اضافہ کئے گئے ۔\nبحوالہ عین ماقبل پیراگراف ۳ کی بجائے تبدیل کیا گیا ۔\n\n- عدالت عالیہ کے کسی حج کی بیوہ حسب ذیل شرحوں پر پنشن کی حقدار ہوگی ، یعنی :۔\n(الف ) اگر جج فارغ الخدمتی کے بعد وفات پائے اسے واجب الا دا خالص پنشن کا\n۔ ۵۰ فیصد ؛ یا\n(ب) اگر حج کم از کم پانچ سال بحیثیت حج خدمات انجام دینے کے بعد اور جب اسی\nحیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہو وفات پائے اسے کم سے کم شرح پر\nواجب الادا پینشن کا ۵۰ فیصد ۔\nپنشن بیوہ کو تاحیات یا ، اگر وہ دوبارہ شادی کر لے ، تو اس کی شادی تک واجب الا ادا ہوگی ۔\nاگر بیوہ وفات پا جائے تو ، پنشن بحسب ذیل واجب الادا ہوگی ۔۔۔\nکالا\n(الف) حج کے بیٹوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کے ہوں ، جب تک وہ اس عمر کو نہ پہنچ\nجائیں ؛ اور\n(ب) حج کی غیر شادی شدہ بیٹیوں کو جو اکیس سال سے کم عمر کی ہوں ، جب تک وہ اس عمر\nتک نہ پہنچ جائیں یا ان کی شادی نہ ہو جائے، جو بھی پہلے واقع ہو ۔ ]\nجدول ششم ) حذف کر دیا کیا گیا ہے۔\nشر جداول یعنی بند کر دیا کیا گیا ہے۔\nهفتم حذف\n \nفرمان صد ر نمبر ۶ مجریہ ۱۹۸۵ء کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اضافہ کیا گیا (نفاذ پذیر از یکم جولائی ،۱۹۸۱ء)۔\nدستور (اٹھارویں ترمیم) ایکٹ ، ۲۰۱۰ء (نمبر، ابابت ۲۰۱۰ء) کی دفعہ ۱۰۲ کی رو سے جدول ششم اور جدول ہفتم کو حذف کیا گیا۔", "meta": { "source": "0_administratorcurdua7f4f2b3b5b93d09a4aa12ab.pdf", "pages": 256 } }, { "text": "قانون شہادت\nفرمان صدر نمبر ۱۰ مجریه ۱۹۸۴ء\nترمیم شدہ لغایت ۰۱ جنوری ۲۰۲۴ء\nاور\nاُردو ترجمہ\nوزارت قانون و انصاف حکومت پاکستان\n \nشعبه ترجمه، وزارت قانون و انصاف اسلام آباد۔\n۲۰۲۴ء\n\nدفعات\nا۔\nمختصر عنوان ، وسعت اور آغا ز نفاذ\nقانون شہادت ۱۹۸۴ء\nفہرست\nعنوانات\nحصہ اول\nواقعات کا تعلق\nپہلا باب\nابتدائی\n\n۲۔\nشہادت کون دے سکتا ہے۔\nدوسرا باب\nگواہوں کے بارے میں\nججز اور مجسٹریٹ \n۴۔\n۔ ے۔\nباتیں جو زمانہ ازدواج میں کہی گئی ہوں۔\nامور مملکت کی نسبت شہادت ۔\nسرکاری اطلاعات ۔\nارتکاب جرم سے متعلق اطلاق۔\nو۔\nپیشہ ورانہ اطلاعات۔\n\nدفعات\n\nعنوانات\n۱۰۔\nا۔\n۱۲۔\nآرٹیکل ۹ تر جمانوں وغیرہ پر اطلاق پذیر ہوگا۔\nرضا کارانہ شہادت دینے سے حق زائل نہیں ہوتا۔\nقانون مشیروں کے ساتھ راز داری کی باتیں۔\n۱۳۔ ایسے گواہ کی دستاویز حقیت کی پیش سازی جو فریق مقدمہ نہ ہو۔\nالد\n\nایسی دستاویزات کی پیش سازی جن کے پیش کرنے سے ان پر قابض کوئی\nدوسراشخص انکار کرسکتا ہو۔\nگواہ کو اس بناء پر کسی سوال کا جواب دینے سے معاف نہیں کیا جا۔\nجائے گا\nکہ اس سے وہ مجرم ٹھہرے گا۔\nشریک جرم ۔\n۔ گواہوں کی اہلیت اور تعداد۔\nايم\nمان\nتیسرا باب\n واقعات کے متعلق ہونے کے بارے میں \n-۱۸ واقعات تنقیح طلب اور واقعات متعلقہ کے بارے میں شہادت دی جاسکتی ہے۔\n_19\n۲۱۔\nان واقعات کا متعلق ہونا جو ایک ہی معاملے کے جز ہوں۔\nواقعات جو واقعات تنقیح طلب کا باعث ، سبب یا نتیجہ ہوں۔\nمحرک ، تیاری اور سابقہ یا ما بعد طرز عمل۔\n۲۲۔ وہ واقعات جو واقعات متعلقہ کی تشریح کرنے یا ان کو پیش کرنے کے لیے ضروری ہیں۔\nالفاظ یا افعال اور سازش کرنے والا ارادہ مشترک کے بارے میں کہے یا کرے۔\n۲۴۔ کب ایسے واقعات جو بصورت دیگر واقعات متعلقہ نہ ہوں ، واقعات متعلقہ ہو\nجاتے ہیں۔\n\nدفعات\n۲۵۔\n۔ عنوانات\nنالشات ہرجہ میں ایسے واقعات ، واقعات متعلقہ ہیں جن سے عدالت\nزر ہرجہ کا تعین کر سکے۔\nواقعات متعلقہ جبکہ امر تحقیق طلب حق با رواج ہو۔\n۲۷۔ وہ واقعات جن سے حالت ذہنی یا جسمانی یا احساس جسمانی کا وجود\nظاہر ہوتا ہو۔\n۲۸۔ ایسے واقعات جن سے اس بات کا اظہار ہو کہ آیا کوئی فعل اتفاقی تھایا ارادی۔\n-۲۹ طریق کا روبار کا وجود کب واقعہ متعلقہ ہے۔\nاقبالات\n۳۰۔ اقبال کی تعریف۔\nفریق مقدمہ یا اس کے مختار کا اقبال ۔\n\n۳۱۔\n\nان لوگوں کا اقبال جن کی فریق مقدمہ سے معا ہے میں حیثیت ثابت کرنا ضروری ہو۔\n۳۳۔ ان اشخاص کا اقبال جن کا فریق مقدمہ بالتصریح حوالہ دے۔\n-۳۲ اقبال کرنے والے اشخاص کے خلاف اور ان کی طرف سے اصالتا یا وکالتا ثبوت اقبال۔\n۳۵ مشمولات دستاویزات سے متعلق زبانی اقبالات کب واقعہ متعلقہ ہوتے ہیں۔\n۳۶۔ مقدمہ دیوانی میں اقبالات کب واقعہ متعلقہ ہوتے ہیں \n۳۷ اقرار جو بذریعہ ترغیب ، دھمکی یا وعدہ کرایا جائے فوجداری مقدمے کب واقعہ غیر متعلقہ ہے۔\n۳۸۔ جو اقرار پولیس افسر کے روبرو کیا جائے وہ ثابت نہیں کیا جائے گا۔\n۳۹۔ جو اقرار ملزم نے پولیس کی حراست میں کیا ہو وہ اس کے خلاف ثابت نہیں کیا جائے گا۔\n۴۰۔ ملزم سے ملنے والی اطلاع کا کتنا حصہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔\n۴۱۔\nجوا قر ار اس اثر کے زائل ہو جانے کے بعد کیا جائے ، جوتر غیب ، دھمکی یا وعدہ کے\nباعث پیدا ہوا ہو، واقعہ متعلقہ ہے۔\n\nدفعات\nعنوانات\n\n۴۲۔ جو اقرار بصورت دیگر واقعہ متعلقہ ہو وہ اخفا وغیرہ کے وعدہ کے باعث غیر متعلق نہ ہوگا۔\n۴۳۔ ایسے ثابت شدہ اقرار کا لحاظ جو اقرار کنندہ اور ایسے دیگر افراد پر اثر انداز ہو جن پر ایک ہی\nجرم کی بناء پر مقدمہ چل رہا ہو۔\n-۴۴۔ ملزم اشخاص سوالات جرح کی مستوجب ہوں گے۔\n۴۵۔ اقبال ثبوت قطعی نہیں ہے مگر امر مانع تقریر مخالف ہو سکتا ہے۔\nان اشخاص کے بیانات جو بحیثیت گواہ طلب نہیں کیے جاسکتے\n- وہ صورتیں جن میں ایسے شخص کی طرف سے واقعہ متعلقہ کا بیان جو کہ انتقال کر چکا ہو یا جول\nنہ سکتا ہو، وغیرہ واقعہ متعلقہ ہے۔\n٤٦ الف - خود کارا نفاز میشن سسٹم کے ذریعے پیدا کرده، وصول کردہ یا ریکارڈ\nکردہ معلومات کا واقعہ متعلقہ ہونا\n۴۹۔\nکسی مابعد کارروائی میں بعض شہادت کا اس میں بیان شد و واقعات کی صحت ثابت\nکرنے کے لئے متعلق ہونا۔\nايم\nوہ بیانات جو خاص حالات میں دیئے جائیں\nیہی کھاتوں کے اندراجات کب واقعہ متعلقہ ہوتے ہیں - \nسرکاری ریکارڈ میں اس اندراج کا متعلق ہونا جو فرائض منصبی کی انجام دہی کیا جائے۔\n-۵۰ ایسے بیانات کا متعلق ہونا جو نقشوں، چارٹوں اور خاکوں میں کیسے جائیں ۔\nبعض ایکٹوں یا اعلانات میں شامل عام نوعیت کے واقعہ کے بیان کا متعلق ہونا۔\n\n۵۲ قانون کی کتابوں میں درج کسی قانون کے بارے میں بیانات کا متعلق ہونا۔\nبیان کا کس قدر حصہ ثابت کرنا چاہیے\n۵۳۔\nجب بیان کسی گفتگو، دستاویز، کتاب یا سلسلہ وار خطوط یا کاغذات کا جزو ہوتو کس قدر\nشہادت گزاری جائے گی ۔\nعدالت ہائے انصاف کے فیصلے کس وقت واقعات متعلقہ ہوتے ہیں\n-۵۴ سابقہ فیصلہ جات کسی نالش یا سماعت ثانی کے ممنوع السماعت کر دینے میں واقعات متعلقہ ہیں۔\n۵۵ بعض فیصلہ جات کا متعلق ہونا جو اختیار سند صداقت وغیرہ کی تعمیل میں صادر ہوں ۔\n\nدفعات\nعنوانات\n۵۶ ان فیصلہ جات، احکام یا ڈگریوں کا تعلق اور اثر جو ان کے علاوہ جن کا ذکر\nآرٹیکل ۵۵ میں ہے۔\n۵۷ فیصلہ جات وغیرہ جوان کے علاوہ ہوں جن کا ذکر آرٹیکل ۵۴ تا ۶ ۵ میں ہے ۔ کب واقعہ متعلقہ ہیں۔\n-۵۸ فریب یا سازش سے فیصلہ کا حاصل کرنا یا عدالت کا عدم اختیار ثابت کیا جاسکتا ہے۔\n۵۹۔ ماہرین کی آراء۔\nاشخاص ثالث کی آراء کب واقعہ متعلقہ ہے\n۶۰۔ ماہرین کی آراء سے نسبت رکھنے والے واقعات۔\n\nخط تحریر سے متعلق رائے کب واقعہ متعلقہ ہے۔\nحق یا رواج کے وجود کے بارے میں رائے کب واقعہ متعلقہ ہے۔\nمعمولات، عقائد وغیرہ کی نسبت رائے کب واقعہ متعلقہ ۔\n۶۴۔ قرابت داری کی نسبت رائے کب واقعہ متعلقہ ہے۔\n-۶۵۔ رائے کی وجوہات کب متعلقہ ہیں\n۔ ۔ چال چلن کب واقعہ متعلقہ ہے\nدیوانی مقدمات میں منسوب شدہ فعل ثابت کرنے کے لئے چال چلن واقعہ متعلق\n۶۷۔ فوجداری مقدمات میں سابقہ نیک چال چلن واقعہ متعلقہ\n۲۸- ما سوائے جواب میں سابقہ بد چلی واقعہ متعلقہ نہی \n\nچال چلن زر ہرجہ دلانے میں مؤثر ہے۔\nہے۔\nچوتھا باب\nزبانی شہادت کے بارے میں\n۷۰ زبانی شہادت کے ذریعے واقعات کا ثبوت۔\nاے۔\nزبانی شہادت کا بلا واسطہ ہونا ضروری ہے۔\n\nدفعات\n۷۲۔ مشمولات دستاویزات کا ثبوت۔\nعنوانات\nپانچواں باب\nدستاویزی شہادت کے بارے میں\n\nشہادت اصلی۔\n۷۴۔ شہادت منقولی۔\n-۷۵ شہادت اصلی کے ذریعے دستاویزات کا ثبوت ۔\nصورتیں جن میں دستاویزات سے متعلق شہادت منقولی پیش کی جاسکتی ہے ۔\n۷۷۔ دستاویز پیش کرنے کی اطلاع کی نسبت قواعد۔\n۷۸۔ ایسے شخص کے دستخط اور خط تحریر کا ثبوت جس کی نسبت یہ بیان کیا جائے کہ پیش کردہ دستاویز\nپر اس نے دستخط کیے ہیں یا اس نے تحریر کی ہے ۔\n۷۸ الف۔ الیکٹرانک دستخط اور الیکٹرانک دستاویز کا ثبوت\nایسی دستاویز کی تکمیل کا ثبوت جس کا مصدقہ ہونا از روئے قانون لازم ہو۔\n۱۔\nثبوت جب کہ کوئی گواہ دستاویز نیل سکے ۔\nمصدقہ دستاویز کے فریق کا اس کی تعمیل کی نسبت اقبال\n۸۲۔ ثبوت جبکہ گواہ دستاویز تکمیل سے منکر ہو۔\n \n۸۳ ایسی دستاویز کا ثبوت جس کا مصدقہ ہونا از روئے قانون ضروری نہ ہو۔\n-۸۴ دستخط تحریر یا مہر کا ایسے دوسرے دستخط تحریر یا مہر سے مقابلہ جو اقبال کردہ ثابت شدہ ہو۔\n۸۵ ۔ سرکاری دستاویزات۔\n۸۶ نجی دستاویزات -\n-۸۷ سرکاری دستاویزات کی مصدقہ نقول۔\n۸۔ مصدقہ نقول کی پیش سازی کے ذریعے دستاویزات کا ثبوت ۔\n۸۹ دیگر سر کاری دستاویزات کا ثبوت ۔\n\nدفعات\nعنوانات\n\nدستاویزات کے بارے میں قیاس\n-۹۰ مصدقہ نقول کی صداقت کے بارے میں قیاس۔\nشہادت کے ریکارڈ کے طور پر پیش کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں قیاس۔\n۹۱۔\n۹۲ دستاویزات کی صحت کی نسبت قیاس جو کسی قانون کے تحت رکھی گئی ہوں۔\n۹۳۔ ایسے نقشوں یا خاکوں کے بارے میں قیاس جو حکومت کے حکم سے تیار کیے جائیں۔\n۹۴۔ مجموعہ ہائے قوانین اور فیصلہ جات کی رپورٹوں کے بارے میں قیاس۔\n-۹۵ مختار ناموں کے بارے میں قیاس۔\n۹۶۔\nغیر ملکی عدالتی ریکارڈ کی مصدقہ نقول کے بارے میں قیاس۔\n۹۷۔ کتابوں ،نقشوں اور چارٹوں کے بارے میں قیاس ۔\n۹۸ پیغامات تار برقی کے بارے میں قیاس۔\nایسی دستاویزات\nکی باضابطہ تکمیل وغیرہ کے بارے میں قیاس جو پیش نہ کی جائیں۔\n۱۰۰ تیس سال پرانی دستاویزات کے بارے میں قیاس۔\n۱۰۱۔ تیس سال پرانی دستاویزات کی تصدیق شدہ نقول۔\n \nزبانی شہادت کے تحریری شہادت کے ذریعے اخراج کے بارے میں\n۱۰۲۔ معاہدات، عطیات اور دیگر انتقالات جائداد کی ایسی شرائط کی شہادت جو دستاویز کی\nصورت میں ضبط تحریر میں آئیں۔\n-۱۰۳۔ زبانی اقرار کی شہادت کا اخراج۔\n-۱۰۴ ایسی شہادت کا اخراج جو واقعات موجودہ پر دستاویز کے اطلاق کے خلاف ہو۔\n-۱۰۵ ایسی دستاویز کی نسبت شہادت جو موجودہ واقعات کے بارے میں بے معنی ہو۔\n۱۰۶۔ اسی عبارت کے اطلاق کی نسبت شہادت جس کا اطلاق کئی اشخاص میں سے صرف\nایک پر ہو سکتا ہے۔\n\nدفعات\n\nعنوانات\n۱۰۷۔ ایسی عبارت کے اطلاق کی نسبت شہادت جس کا اطلاق دو ایسے مجموعہ واقعات میں سے\nصرف ایک پر ہو سکتا ہے جن دونوں میں سے ایک پر عبارت\nکلیتہ صحیح طور پر اطلاق\nپذیر نہ ہو۔\n-۱۰۸۔ ان حروف وغیرہ کے معنی کی نسبت شہادت جو پڑھے نہ جاسکتے ہوں۔\n۱۰۹۔ دستاویز کی شرائط کے خلاف اقرار کی شہادت کون دے سکتا ہے۔\nوصیت نامہ جات سے متعلق قانون وراثت کے احکام کا استثناء۔\n\nصہ دوم\nثبوت کے بارے میں\nساتواں باب\nواقعات جن کا ثابت کرنا ضروری نہیں ہے\nا۔ اس واقعہ کا ثابت کرنا ضروری نہیں ہے جسے علم عدالت کے طور پر کام میں لایا جائے\n۱۱۲۔ واقعات جن کو علم عدالت کے طور پر کام میں لانا عدالت پر لازم ہے۔\nواقعات مسلمہ کا ثبوت در کار نہیں ہے۔ ۱۱۳۔\n۱۱۴۔ امر مانع تقریر مخالف۔\nآٹھواں باب\nامر مانع تقریر مخالف\n۱۱۵۔ کرایہ دار کا امر مانع تقریر مخالف ، اور اس شخص کا جو قا بض شخص کا اجازت یافتہ ہو۔\n۱۱۶۔ مبادلہ ہنڈی کے سکارنے والے، کسی تحویل دار یا اجازت یافتہ کا امر مانع تقریر مخالف۔\n\nدفعات\n\nعنوانات\nسوم\nشہادت کا پیش کیا جانا اور اس کا اثر\nنواں باب\nبار ثبوت کے بارے میں\n۱۱۷۔ بار ثبوت۔\n۱۱۸۔ بار ثبوت کس پر ہوتا ہے۔\n119۔ کسی خاص واقعہ کی نسبت بار ثبوت۔\n۱۲۰۔ ایسے واقعہ کا بار ثبوت جس کا اثبات شہادت کے ادخال کے لئے ضروری ہو۔\n۱۲۱ اس امر کا بار ثبوت کہ ملزم کا مقدمہ مستثنیات کے دائر میں شامل ہے۔\n۱۲۲۔ ایسے واقعہ کا با ثبوت جس سے ہاتخصیص واقفیت ہو ۔\n۱۲۳۔ ایسے شخص کی موت کا بار ثبوت جس کی نسبت معلوم ہو کہ وہ نہیں سال کے اندر زندہ تھا۔\n۱۲۴۔ اس امر کا بار ثبوت کہ وہ شخص زندہ ہے جس کی سات سال سے کچھ خبر نہ ملی ہو۔\n۱۲۵۔ شرکاء ، زمیندارا در مزارع، مالک اور کارندے کی صورتوں میں تعلقات کی نسبت بار ثبوت 1\n۱۲۶۔ ملکیت کی نسبت بار ثبوت۔\n۱۲۷۔ ایسے معاملات میں نیک نیتی کا ثبوت جن میں ایک فریق دوسرے کا معتمد علیہ ہو۔\n۱۲۸ ازدواج کے دوران پیدائش صحیح النسب ہونے کا قطعی ثبوت ہے۔\n۱۲۹۔ بعض واقعات جن کا وجود عدالت قیاس کر سکتی ہے۔\n\nدفعات\nعنوانات\nدسواں باب\nبیانات گواہان کے بارے میں\n۱۳۰۔ گواہوں کے پیش کیے جانے اور ان کے بیانات لینے کی ترتیب۔\n۱۳۱۔ اہلیت او خال شہادت کا فیصلہ حج کرے گا۔\n۱۳۲۔ سوال ابتدائی وغیرہ۔\n۱۳۳۔ ترتیب سوالات۔\n۱۳۴۔ دستاویز پیش کرنے کے لیے طلب کیے جانے والے شخص سے سوالات جرح ۔\n۱۳۵۔ چال چلن کے گواہ۔\n۱۳۶۔ ہدایتی سوالات ۔\n۱۳۷۔\nہدایتی سوالات کب نہیں پوچھے جا میں ہے\n۱۳۸ ہدایتی سوالات کب پوچھے جاسکتے ہیں۔۔\n۱۳۹ ۔ ان معاملات کی نسبت شہادت جو ضبط تحریر میں آئے ہوں۔\n-۱۴۰ سابقہ تحریری بیانات کی نسبت سوالات جرح ۔\n۱۴۱- سوالات جو سوالات جرح میں پوچھے جاسکتے ہی \n۱۴۲۔ کس وقت گواہ جواب دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔\n۱۴۳۔ اس کا تصفیہ عدالت کرے گی کہ کس وقت سوال پوچھا جائے اور کس وقت گواہ کو جواب\nدینے پر مجبور کیا جائے گا۔\n۱۴۴ معقول وجوہ کے بغیر کوئی سوال نہیں پو چھا جائے گا۔\n۱۴۵ معقول وجوہ کے بغیر کوئی سوال پوچھے جانے کی صورت میں عدالت کا ضابطہ کار۔\n-۱۴۶۔ ناشائستہ اور رسوا کن سوالات ۔\n۱۴۷- ازالہ حیثیت عرفی تحریری تو ہین اور توہین زبانی کے مقدموں میں عدالت کا طریقہ کار۔\n\nدفعات\nعنوانات\n\n۱۴۸۔ ایسے سوالات جن سے توہین کرنا یا رنج پہنچانا مقصود ہو۔\n۱۴۹۔ ایسی شہادت کا اخراج جو ایسے سوالات کے جوابات کی تردید کے لیے ہو جن سے صداقت\nکی جانچ مقصود ہو۔\n۱۵۰۔ سوالات جو فریق خود اپنے گواہ سے پوچھ سکتا ہے۔\n۱۵۱۔ گواہ کے اعتبار پر اعتراض کرنا۔\n۱۵۲ سوالات جن سے واقعہ متعلقہ کی شہادت کی تصدیق ہوتی ہو قابل ادخال ہیں۔\n۱۵۳۔ گواہ کے سابقہ بیانات اسی واقعہ کی نسبت بعد کی شہادت کی تائید میں ثابت کیے جاسکتے ہیں۔\n-۱۵۴ آرٹیکل ۴۶ یا ۴۷ کے تحت متعلقہ ثابت شدہ بیان کے سلسلہ میں کون سے امور ثابت\nکئے جاسکتے ہیں ۔\n۱۵۵۔ یادداشت کا تازہ کرنا۔\n۱۵۶۔ ان واقعات کی شہادت جو آر شکل ۱۵۵ میں مذکورہ دستاویز میں بیان کیے گئے ہوں۔\n۱۵۷ ایسی تحریر کی بابت فریق مخالف کا حق جو یادداشت تازہ کرنے کے لیے کام میں آئے\n۱۵۸۔ پیش سازی دستاویزات ۔\n۱۵۹۔ ایسی دستاویز بطور شہادت پیش کرنا جو بذریعہ نوٹس طلب اور پیش کی جائے \n۱۶۰۔ وہ دستاویز بطور شہادت کام میں لانے جیسے نوٹس پر پیش کرنے سے انکار کیا گیا ہو۔\n۱۶۱۔ سوالات کرنے یا پیش سازی کا حکم دینے کے بارے میں حج کا اختیار ۔\nگیارہواں باب\nبے جا ادخالی شہادت\nو نا منظوری شہادت کے بارے میں\n۱۶۲۔ بے جا ادخال یا نا منظوری شہادت کی وجہ سے از سر نو سماعت نہیں ہوگی ۔\n\nدفعات\n\nعنوانات\nبارہواں باب\nحلف نامہ کی بنیاد پر مقدمہ کا فیصلہ\n۱۶۳۔ حلف نامہ میں کیے گئے دعویٰ کی قبولیت یا اس سے انکار۔\nتیرہواں باب\nمتفرقات\n۱۶۴۔ ایسی شہادت کی پیش سازی جو جدید آلات اور انفارمیشن سٹم کی بدولت دستیاب ہوگئی ہے۔\n-۱۶۵ یہ فرمان دیگر قوانین پر غالب رہے گا۔ پی\n۱۲۶۔ تنسیخ ۔\n\nقانون شہادت ۱۹۸۴ء\nفرمان صدر نمبر ۱۰ مجریه ۱۹۸۴ء\n[۲۸ اکتوبر ۱۹۸۴ء]\nچونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ شہادت کے قانون کو اسلامی احکام کے مطابق بنانے کے لیے ، جس طرح کہ\nقرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، اس پر نظر ثانی کی جائے ، اس میں ترمیم کی جائے اور اُسے یکجا کیا جائے ؛\nلہذا ، اب ، پانچ جولائی ، ۱۹۷۷ ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلہ میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات\nاستعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل فرمان جاری کیا ہے:۔\nحصہ اول\nا۔\nواقعات کا متعلق ہونا\nپہلا باب\nابتدائیہ\nمختصر عنوان ، وسعت اور آغاز نفاذ (۱) یه فرمان قانون شہادت ۱۹۸۴ ء کے نام سے موسوم ہوگا۔\n(۲) یہ پورے پاکستان پر وسعت پذیر ہوگا اور اس کا اطلاق کسی عدالت ، بشمول کسی کورٹ مارشل کسی ٹربیونل ،\nايم\nدیگر جای مجاز میں جوعدالتی یا معداتی اختیار\nپر ہوگا، لیکن اس کا اطلا می رسماعت استعمال کر رہی ہو ، یا اس کے رو برو تمام عدالتی کارروائیوں\n\nثالث کے رو پر نہیں ہوگا۔\n(۳) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔\nتعبیر (1) اس فرمان میں ، تا وقتیکہ موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو،\n(الف) عدالت میں تمام حج اور مجسٹریٹ اور تمام اشخاص ماسوائے ثالثوں کے، جو شہادت لینے کے\nقانونی طور پر مجاز ہوں ، شامل ہیں؟\n\n(ب) دستاویز سے کوئی مواد مراد ہے جو کسی شے پر بذریعہ حروف، اعداد یا علامات ، یا ان میں سے ایک سے\nزائد ذرائع سے جن کا اس مواد کو قلم بند کرنے کی غرض کے لیے استعمال میں لانا مقصود ہو یا جو استعمال میں\nلائے جاسکتے ہوں ،ظاہر یا بیان کیا جائے ؛\n\nتحریر ایک دستاویز ہے؛\nچھپے ہوئے الفاظ ، پتھر کے ذریعے چھپے ہوئے الفاظ یا عکسی تصویری الفاظ ، دستاویزات ہیں ؛\nنقشہ یا خا کہ ایک دستاویز ہے؛\nکتبہ لوح فلتری پاسنگی ایک دستاویز ہے؛\nمضحک تصویر ایک دستاویز ہے؛\n(ج) ”شہادت“ میں شامل ہیں :۔\n(اول) زیرتحقیق امور واقعہ سے متعلق وہ جملہ بیانات جو گواہان عدالت کی اجازت یا حکم سے اس کے رو برو دیں ؛ ایسے بیانات کو\nزبانی شہادت کہتے ہیں؛ اور\n( دوم ) جملہ دستاویزات جو عدالت کے معائنہ کے لئے پیش ہوں ، ایسی دستاویزات کو دستاویزی شہادت کہتے ہیں؛\n()\nواقعہ میں شامل ہیں\n(اول) کوئی شے، کیفیت اشیاء یا اشیاء کے مابین ایسی نسبت جو حواس سے محسوس ہو سکتی ہو؟\n(دوم) کوئی ایسی ذہنی کیفیت جس کا کسی شخص کو شعور ہو۔\nتمثیلیں\n(الف) یہ کہ بعض اشیاء کسی مقام پر ایک خاص قرینے سے رکھی ہوئی ہیں، ایک واقعہ ہے۔\n(ب) یہ کہ کسی شخص نے کچھ سنایاد یکھا، ایک واقعہ ہے۔\n(ج) یہ کہ کسی شخص نے کچھ الفاظ کہے، ایک واقعہ ہے۔\n(1) یہ کہ کسی شخص کی کوئی خاص رائے ہے، وہ کوئی خاص ارادہ رکھتا ہے، نیک نیتی سے یا فریب سے کوئی فعل\nکرتا ہے، یا کوئی خاص لفظ کسی خاص مفہوم میں استعمال کرتا ہے، یا اسے کسی خاص وقت پر کسی خاص امر\nمحسوس کا شعور رہے یا تھا، ایک واقعہ ہے۔\n(0) ی کسی شخص کو کوئی خاص شہرت حاصل ہے، ایک واقعہ ہے۔\n[0] عبارت ” خودکار، الیکٹرانک انفارمیشن ، انفارمیشن سسٹم، الیکٹرانک دستاویز ،الیکٹرانک دستخط ، پیشگی\nالیکٹرانک دستخط اور سکیورٹی طریقہ کار الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈینینس ۲۰۰۲ء کے مفہوم کے حامل ہوں گے۔\n(,)\nعبارت ” سر ٹیفکیٹ جہاں سیاق و سباق اس طرح اجازت دے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈینینس ۲۰۰۲ء\nمیں دیا گیا مفہوم شامل ہے۔\nآرڈینینس نمبر ۵۱ مجریہ ۲۰۰۲ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n\n(۲) ایک واقعہ کسی دوسرے واقعہ سے اس وقت متعلق کہلائے گا جب وہ دوسرے واقعہ کے ساتھ ان طریقوں\nمیں سے کسی ایک کے مطابق نسبت رکھتا ہو جن کا اس فرمان کے ان احکام میں حوالہ دیا گیا ہے جو واقعات کے متعلق ہونے کی\nبابت ہیں۔\n(۳) عبارت ” واقعات تنقیح طلب میں کوئی ایسا واقعہ شامل ہے جس سے خواہ بنفسم یا دیگر واقعات کی نسبت\nسے، کسی ایسے حق ، ذمہ داری یا عدم قابلیت کا وجود ، عدم وجود، نوعیت یا حسد جس کا کسی نالش یا کارروائی دعوی یا انکار ہوا ہو،\nبالفور منتج ہوتی ہو۔\nتشریح:۔ جب کبھی ، ضابطہ دیوانی سے متعلق فی الوقت نافذ العمل قانون کے احکام کے تحت، کوئی عدالت کوئی واقعہ\nتنقیح طلب قلم بند کرے تو وہ واقعہ جس کا ایسی تنقیح کے جواب میں دعوی یا انکار ہونے والا ہو، واقعہ تنقیح طلب ہے۔\nالف پر ب\nکے قتل عمد کا الزام لگایا گیا ہے۔\nتمثیلیں\nاس کی سماعت مقدمہ میں درج ذیل واقعا شیح طلب ہو سکتے ہیں:۔\nمقدمہ میں ذیل واقع\nیہ کہ الف، ب کی موت کا باعث ہوا؟\nیہ کہ الف نے ب کی موت\nکا باعث ہونے کی نبیت کی تھی ؟\nیہ کہ الف کوب سے شدید اور نا گہانی اشتعال طبع پہنچا تھا ؟ کیا\nیہ کہ الف اس فعل کے ارتکاب کے وقت جوب کی موت کا باعث ہوا، فتور کی بنا پر اس کی نوعیت سے واقف ہونے کی\nصلاحیت نہیں رکھتا تھا \n\n(۴) کسی واقعہ کا ثابت شدہ ہونا اس وقت کہا جائے گا جب کہ عدالت ان امور پر غور و خوض کرنے کے بعد جو\nاس کے روبرو پیش ہوں یا تو اس کے وجود پر یقین کرے یا اس کے وجود کو اس قدر اغلب خیال کرے کہ اس خاص معاملے کے\nحالات کے تحت ایک عاقل شخص کو اس مفروضہ پر عمل پیرا ہونا چاہیے کہ اس کا وجود ہے۔\n(۵) کسی واقعہ کا مستر د ہونا اس وقت کہا جائے گا جب کہ عدالت ان امور پر غور خوض کرنے کے بعد جو اس\nکے روبرو پیش ہوں یا اس پر یقین کرے کہ اس کا وجود نہیں ہے یا اس کے عدم وجود کو اس قد راغلب خیال کرے کہ اس خاص\nمعاملے کے حالات کے تحت ایک عاقل شخص کو اس مفروضہ پر عمل پیرا ہونا چاہیے کہ اس کا وجود نہیں ہے۔\n(۶) کسی واقعہ کا نا ثابت شدہ ہونا اس وقت کہا جائے گا جب کہ نہ اس کا اثبات ہو اور نہ اس کی تردید ۔\n(۷) جب کہ اس فرمان کی رو سے یہ حکم دیا گیا ہو کہ عدالت کسی واقعہ کو قیاس کر سکتی ہے تو وہ ، جب تک کہ اور\nتا وقتیکہ اس کی تردید نہ ہو جائے یا تو مذکورہ واقعہ کو ثابت شدہ شمار کر سکے گی یا اس کی نسبت ثبوت طلب کر سکے گی۔\n(۸) جب کہ اس فرمان کی رو سے یہ ہدایت کی گئی ہو کہ واقعہ کا قیاس کر لینا عدالت پر لازم ہے تو عدالت مذکورہ\nواقعہ کو جب تک کہ اور تا وقتیکہ اس کی تردید نہ ہو جائے ،ثابت شدہ شمار کرے گی ۔\n(1) جب کہ اس فرمان کی رو سے ایک واقعہ کوکسی دوسرے واقعہ کا ثبوت قطعی قرار دیا گیا ہو عدالت ایک واقعہ\nکے ثابت ہو جانے پر دوسرے کو ثابت شدہ شمار کرے گی اور اس کی تردید کے لئے شہادت پیش کرنے کی اجازت نہیں دے\nگی۔\nريم\n\nدوسرا باب\nگواہوں کے بارے میں\nشہادت کون دے سکتا ہے۔ تمام اشخاص شہادت دینے کے اہل ہوں گے تاوقتیکہ عدالت یہ نہ سمجھے کہ وہ صغرسنی یا\nانتہائی ضعیف العمری یا علالت، خواہ جسمانی ہو یا دینی یا اسی قسم کے کسی اور سبب سے ان سوالات کے سمجھنے یا ان کا معقول جواب\nدینے سے معذور ہیں جو ان سے پوچھے جائیں؛\nمگر شرط یہ ہے کہ کوئی شخص شہادت دینے کا مجاز نہیں ہو گا اگر اسے کسی عدالت نے دروغ حلفی یا جھوٹی گواہی دینے\nکے لیے سزا دی ہو؛\nمزید شرط یہ ہے کہ پہلے فقرہ شرطیہ کے احکام کا اطلاق ایسے شخص پر نہیں ہوگا جس کے بارے میں عدالت کو اطمینان\nہو کہ وہ اس کہ بعد تائب ہو گیا ہے اور اس نے اپنے اطوار کی اصلاح کرلی ہے:\nمزید شرط یہ ہے کہ عدالت کسی گواہ کی اہلیت کا تعین کسی گواہ کے لیے احکام اسلام کی رو سے جس طرح کہ ان\nکا تعین\nقرآن پاک اور سنت میں کیا گیا ہے مقرر کردہ شرائط کے مطابق کرے گی: اور جب کہ ایسا گواہ موجود نہ ہو، عدالت ایسے گواہ کی\nشہادت لے سکے گی جو دستیاب ہو سکے۔\nتشریح:- مجنون شہادت دینے کے ناقابل نہیں ہے تا وقتیکہ وہ جنون کے باعث ان سوالات کے سمجھنے اور معقول\nجواب دینے سے معذور نہ ہو جو اس سے پوچھے جائیں۔\n \n۴۔ ججز اور مجسٹریٹ :۔ کوئی حج یا مجسٹریٹ ، ماسوائے کسی ایسی عدالت کے حکم خاص پر جس کا وہ ماتحت ہو،\nاپنے کسی ایسے طرز عمل کی نسبت جو بر سر اجلاس بحیثیت مذکورہ بیج یا مجسٹریٹ اس سے عمل میں آیا ہو یا کسی ایسے امر کی نسبت جو\nبحیثیت مذکورہ بیج یا مجسٹریٹ بر سر اجلاس اسے معلوم ہوا ہو، سوالات کا جواب دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گالیکن ایسے دیگر\nامور کی نسبت اس سے سوالات کیے جاسکتے ہیں جو اس کی موجودگی میں اس وقت وقوع پذیر ہوں جب کہ وہ بائیں حیثیت کام کر\nرہا تھا۔\n\nتمثیلیں\n(الف) الف نے عدالت سیشن کے روبرو اپنی سماعت کے دوران یہ کہا کہ مجسٹریٹ ب نے فلاں بیان نا جائز طور پر لیا تھا۔\nاعلیٰ عدالت کے حکم خاص کے بغیر ب کو اس نسبت جواب دینے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔\n(ب) الف پر عدالت سیشن کے روبرو اس بات کا الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مجسٹریٹ ب کے روبر وجھوٹی شہادت دی۔\nاعلی عدالت کے حکم خاص کے بغیر ب سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا ہے کہ الف نے کیا کہا تھا۔\n(ج) الف پر عدالت سیشن کے رو برو اس بات کا الزام عائد کیا گیا کہ جس وقت سیشن جج ب کے روبرو اس کی سماعت ہو\nرہی تھی تو اس نے ایک پولیس افسر کے قتل عمد کا اقدام کیا تھا ، جو کچھ وقوع پذیر ہوا اس کی نسبت ب سے سوالات کئے جاسکتے\nہیں۔\nباتیں جو زمانہ ازدواج میں کہی گئی ہوں۔ کسی ایسے شخص کو جو شادی شدہ ہو یا رہ چکا ہوکوئی\nایسی بات ظاہر کرنے پر مجبو نہیں کیا جائے گا جس سے اسے زمانہ ازدواج میں اس شخص نے جس کے ساتھ اس کا ازدواج قائم ہو\nیا قائم رہ چکا ہو مطلع کیا ہو ، نہ ہی اسے کوئی ایسی بات ظاہر کرنے کی اجازت دی جائے گی تا وقتیکہ وہ شخص جس نے اطلاع دی تھی\nیا اس کا قائم مقام مفاد اس پر رضامند نہ ہو سوائے ان مقدمات کے جو فریقین ازدواج کے مابین ہوں یا ایسی کارروائی میں جس\nمیں ایک فریق ازدواج پر دوسرے فریق کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کی بناء پر مقدمہ چلایا جائے۔\n۔ امور مملکت کی نسبت شہادت۔ کسی ایسے شخص کو کوئی ایسی شہادت دینے کی اجازت نہیں ہوگی\nجوامور ملک سے متعلق غیر شائع شدہ سرکاری ریکارڈسے حاصل ہوئی ہونا سوائے اس امر کی اجازت کے جمعتہ ملکہ کا حکم\nاعلیٰ ہو جسے اختیار ہو گا کہ جیسا مناسب سمجھے اجازت دے یا نہ دے۔\nتشریح:-\nاس آرٹیکل میں امور مملکت سے متعلق سرکاری ریکارڈ“ میں وفاقی حکومت یا کسی صوبائی\nحکومت یا مذکورہ حکومت کی قائم کردہ یا اس کے زیر نگرانی کسی آئینی ہیت یا کارپوریشن یا کمپنی کی ، خواہ بلاواسطہ یا بالواسطه،\nصنعتی یا تجارتی سرگرمیوں سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔\n\n۷۔ سرکاری اطلاعات: کسی سرکاری افسر کو اسی اطلاعات کے اظہار پر مجبور نہیں کیا جائے گا جو\nاسے با اعتبار عہدہ دی گئی ہوں جب کہ اس کے خیال میں ان کے اظہار سے سرکاری مفاد کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہو۔\nتشریح : اس آرٹیکل میں ” اطلاعات میں وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا مذکورہ حکومت کی قائم کردہ یا اس\nکے زیرنگرانی کسی آئینی حکومت یا کارپوریشن یا کمپنی کی ، خواہ بلا واسطہ یا بالواسطه صنعتی یا تجارتی سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات\nشامل ہیں ۔\n- ارتکاب جرم سے متعلق اطلاع کسی مجسٹریٹ یا پولیس افسر کو اس بات کے بتانے پر مجبور نہیں\nکیا جائے گا کہ اس کو کسی جرم کے ارتکاب کی اطلاع کہاں سے ملی اور نہ ہی کسی افسر مال کو اس بات کے بتانے پر مجبور کیا جائے گا\nکہ سرکاری محاصل کی نسبت کسی جرم کے ارتکاب کی اطلاع اسے کہاں سے ملی۔\nتشریح ۔ اس آرٹیکل میں افسر مال سے کوئی ایسا افسر مراد ہے جو سرکاری محاصل کے کسی شعبہ میں یا اس سے متعلق\nکسی کام پر مامور ہو۔\nو۔ پیشہ ورانہ اطلاعات۔ کسی وکیل کو ، تا وقتیکہ اس کے موکل کی صریح رضامندی سے نہ ہو، کسی\nوقت بھی کسی اطلاع کے اظہار کی اجازت نہ ہو گی جو اسے ایسے وکیل کی حیثیت سے اپنی ماموری کے دوران اور اس کی غرض\nہوگی جواسے\nسے اپنے موکل کی طرف سے کسی اور سے معلوم ہوئی ہو یا کسی ایسی دستاویز کے مشمولات یا کیفیت کے بیان کی اجازت نہ ہوگی\nجس سے وہ اپنی پیشہ ورانہ اموری کے دوران اور اس کی غرض سے مطلع ہوا ہو، یاکسی ایسے مشورہ کے اظہار کی اجازت نہ ہوگی جو\nمذکور موری کے دوران اور اس کی غرض سے اس نے اپنے موکل کو دیا ہو\nايم\nمگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل میں کسی امر کی رو سے حسب ذیل امور افشاء سے محفوظ نہ رہیں گے۔\n(1) ہر ایسی بات جو کسی غرض نا جائز کی پیش رفت کے لیے کی جائے ، یا\n(۲) ہر وہ واقعہ جس کو کسی وکیل نے بایں حیثیت اپنی ماموری کے دوران مشاہدہ کیا ہو جس سے یہ ظاہر ہو کہ اس\nکی ماموری آغاز کے بعد جرم کا فریب یا ارتکاب ہوا ہے، خواہ مذکورہ وکیل کی توجہ مذکورہ واقعہ کی طرف اس کے موکل نے یا اس\nکی طرف سے کسی اور نے مبذول کرائی تھی یا نہیں۔\nتشریح : اس آرٹیکل میں بیان کردہ پابندی ماموری ہو جانے کے بعد بھی قائم رہے گی۔\n\nتمثیلیں\n(الف) ایک موکل الف نے ایک وکیل ب سے کہا ” میں ایک جعلی دستاویز کے ذریعے جائداد کا قبضہ حاصل کرنا\nچاہتا ہوں جس کی بناء پر میں آپ سے نالش دائر کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔“\nچونکہ یہ اطلاع ایک غرض مجرمانہ کی پیش رفت کے لیے دی گئی ہے، لہذا یہ افشاء سے محدود نہیں ہے۔\n(ب) غبن کا الزام عائد کیے جانے کی بناء پر الف نے ایک وکیل ب کو اپنی طرف سے جواب دہی کرنے کے\nلیے مقرر کیا۔ مقدمہ کا کارروائی کے دوران سب نے دیکھا کہ الف کے بہی کھاتہ میں ایک رقم جس کا\nاندراج اس کی ماموری کی ابتداء کے وقت اس بہی کھاتہ میں نہیں تھا الف کے نام پر بقدر اس رقم کے\nدرج کر دی گئی ہے جس کا معین ہونا بیان کیا گیا ہے۔\nچونکہ یہ واقعہ اپنی ما موری کے دوران ب کے مشاہدہ میں آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ کی کارروائی\nکے شروع ہونے کے بعد فریب کا ارتکاب ہوا ہے لہذا یہ افشاء سے محفوظ نہیں ہے۔\n۱۰۔ آرٹیکل ۹ تر جمانوں وغیرہ پر اطلاق پذیر ہوگا: آرٹیکل 9 کے احکام تر جمانوں اور وکلاء کے محرروں یاملازموں\nپر اطلاق پذیر ہوں گے۔\nا۔\nرضا کارانہ شہادت دینے سے حق زائل نہیں ہوتا اگر کوئی فریق مقدمہ اپنی خوشی سے یا بصورت دیگر\nاس میں شہادت دے تو اس کے بارے میں یہ متصور نہ ہوگا کہ اس نے اس امر کے ذریعے ایسے افشاء کی رضامندی دے دی\nہے جس کا ذکر آرٹیکل 9 میں ہے؛ اور اگر کسی مقدمہ یا کارروائی کا کہ کہ فریق کسی مذکورہ وکیل کو بطور گواہ پیش کرے تو مذکورہ افشاء\nکے لئے اس کا راضی ہونا محض اس صورت میں متصور کیا جائے گا جب وہ اس وکیل سے ایسے معاملات کی نسبت سوال کرے جن\nکا افشاءوہ نہ کر سکتا اگر مذکورہ سوال نہ پوچھا جاتا۔\n۱۲۔ قانونی مشیروں کے ساتھ راز داری کی باتیں : کوئی شخص عدالت ، ٹربیونل یا دیگر ہیئت مجاز میں جو عدالتی یا نیم\nعدالتی اختیارات یا اختیار سماعت استعمال کر رہی ہو میں کسی ایسی بات کے ظاہر کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا جو اس کے اور اس\nکے پیشہ ور قانونی مشیر کے مابین در پر وہ ہوئی ہو، تا وقتیکہ وہ اپنے آپ کو بطور گواہ پیش نہ کرے، جس صورت میں وہ کسی ایسی بات\nکے افشاء پر مجبور کیا جا سکے گا جو عدالت کو اس کی ایسی شہادت کی تشریح کے لیے ضروری معلوم ہو جو اس نے دی ہو لیکن دوسری\nکے لیے نہیں۔\n\n$22\n۱۳۔ ایسے گواہ کی دستاویز حقیت کی پیش سازی جو فریق مقدمہ نہ ہو: کوئی گواہ جو فریق مقدمہ نہ ہو کسی جائداد\nسے متعلق اپنی دستاویزات حقیت یا کوئی ایسی دستاویز جس کی بدولت وہ کسی جائداد پر بطور گر و دار یا مرتہن قابض ہو یا کوئی ایسی\nدستاویز جس کی پیش سازی اس کے مجرم ٹھہرنے کا باعث ہو سکے، پیش کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا تا وقتیکہ اس نے بذریعہ تحریر\nان کے پیش کرنے کا اقرار کسی ایسے شخص سے نہ کر لیا ہوجو مذکورہ دستاویزات کو پیش کرنا چاہتا ہو یا کسی ایسے شخص سے جس کے\nذریعے وہ دعویدار ہو۔\n۱۴۔ ایسی دستاویزات کی پیش سازی جن کے پیش کرنے سے ان پر قابض کوئی دوسرا شخص انکار کر سکتا ہو:\nکسی شخص کو ایسی دستاویزات کی پیش سازی پر مجبور نہیں کیا جائے گا جن کے پیش کرنے سے انکار کرنے کا کسی دوسرے شخص کو\nحق ہوتا اگر وہ ان پر قابض ہوتا تا وقتیکہ آخر الذکر شخص ان کے پیش کرنے پر راضی نہ ہو۔ یہ\n۱۵ گواہ کو اس بناء پر کسی سوال کا جواب دینے سے معاف نہیں کیا جائے گا کہ اس سے وہ مجرم ٹھہرے گا:\nکسی گواہ کو کسی مقدمہ میں یا دیوانی یا فوجداری کارروائی میں کسی امر فضیح طلب سے متعلق کسی معاملہ کی نسبت کسی سوال کا جواب\nیا\nدینے سے اس بناء پر معاف نہیں کیا جائے گا کہ مذکورہ سوال کا جواب دینے سے مذکورہ مجرم ٹھہرے گایا بلا واسطہ یا بالواسطہ اس\nکے مجرم ٹھہرائے جانے کا باعث ہو سکے گایا یہ کہ مذکورہ گواہ کسی قسم کی سزایا ضبطی کا مستوجب کرے گا یا بلا واسطہ یا بالواسطہ اس\nکے سزا یا ضبطی کے مستوجب ہونے کا باعث ہو سکے گا:\nايما\nکمر شرط یہ ہے کہ ایسے جواب سے، جس کے دینے کے لیے کسی گواہ کو مجبور کیا جائے گا، اسے کسی گرفتاری یا قانونی\nکارروائی کا مستوجب قرار نہیں\nنہیں دیا جائے گایا اسے کسی فوجداری کا روائی میں اس کے خلاف ثابت نہیں کیا جائے گا بجز ایسی\nقانونی کارروائی کے جو مذکورہ جواب کے ذریعہ جھوٹی گواہی دینے کی بناء پر کی جائے۔\n\n۱۲ شریک جرم کوئی شریک جرم، کسی ملزم شخص کے خلاف شہادت دینے کا اہل ہوگا، بجز ایسے جرم کی صورت\nمیں جوحد کا مستوجب ہو؛ اور کوئی سزایابی محض اس بناء پر نا جائز نہیں ہے کہ وہ کسی شریک جرم کی غیر موید شہادت کی بناء پر صادر\nہوئی ہے۔\n۱۷۔ گواہوں کی اہلیت اور تعداد: (1) شہادت دینے کے لیے کسی شخص کی اہلیت اور کسی مقدمے میں\nمطلوبہ گواہوں کی تعداد احکام اسلام کے مطابق متعین کی جائے گی جس طرح کہ قرآن پاک اور سنت میں ان\nکا تعین کیا گیا ہے۔\n(۲) تا وقتیکہ نفاذ حدود سے متعلق کسی قانون یا کسی دیگر خصوصی قانون میں بصورت دیگر قرار نہ دیا گیا ہو؟۔۔۔\n(الف) مالیاتی یا آئندہ وجوب سے متعلق معاملات میں ، اگر ان کو ضبط تحریر میں لائے جائے ، دستاویز\nکلام\nدو مردوں کی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ہوگی تاکہ اگر ضروری ہو، ایک دوسری کو یاد دہانی کرا سکے،\nاور شہادت بحسبہ پیش کی جائے گی ؟ اور\n(ب) تمام دیگر معاملات میں، عدالت ، ایک مرد یا ایک عورت یا ایسی دیگر شہادت قبول کر سکے گی یا\nاس پر عمل کر سکے گی جس تقاضا کریں۔\nکہ مقدمہ کے حالیہ\nایمان\n\nتیسرا باب\nواقعات کے متعلق ہونے کے بارے میں\n۱۸۔ واقعات تنقیح طلب اور واقعات متعلقہ کے بارے میں شہادت دی جاسکتی ہے۔ کسی نالش یا\nکارروائی میں ہر تنقیح طلب واقعہ اور ایسے دیگر واقعات کے وجود یا عدم وجود کے بارے میں شہادت دی جاسکے گی جو بعد از میں\nواقعات متعلقہ قرار دیئے گئے ہیں اور دیگر واقعات کے بارے میں نہیں۔\nتشریح یہ آرٹیکل کسی شخص کو کسی ایسے واقعہ کے بارے میں شہادت دینے کا اہل قرار نہیں دے گا جس کے ثابت\nکرنے کا وہ ضابطہ دیوانی سے متعلق فی الوقت نافذ العمل قانون کے حکم کی رو سے استحقاق نہ رکھتا ہو۔\nتمثیلیں\n(الف) الف کے خلاف ب کے قتل عمد کی بناء پر مقدمہ چلایا گیا جسے اس نے مار ڈالنے کی نیت سے لاٹھی\nمارا تھا۔\nسے\nالف کے مقدمہ کی سماعت میں درج ذیل واقعات تنقیح طلب ہیں ۔ الف کاب کو لاٹھی سے مارنا ؛ اس\nطرح مارنے سے الف کاب کی موت کا باعث ہونا ؟\nالف کاب کی موت کا باعث ہونے کی نیت رکھنا۔\n(ب) ایک مدعی ایک ایسا تمسک جس پر وہ تکیہ کرتا ہے پہلی سماعت مقدمہ پر اپنے ساتھ نہیں لایا اور اُسے پیش\nکرنے کے لئے اپنے پاس نہیں رکھا یہ آرٹیکل اسے ضابطہ دیوانی سے متعلق فی الوقت نافذ العمل کسی\n \nقانون کی رو سے مقررہ شرائط کی مطابقت کے علاوہ مقدمہ کے کسی بعد کے مرحلے پر تمسک پیش کرنے یا\nاس کے مشمولات کو ثابت کرنے کا اہل قرار نہیں دیتا ہے۔\n۱۹۔ ان واقعات کا متعلق ہونا جو ایک ہی معاملے کے جزو ہوں۔ ایسے واقعات ، جوا اگر چہ تنقیح طلب نہ\nہوں، کسی تنقیح طلب واقعہ سے اس قدر علاقہ رکھتے ہوں کہ اسی معاملے کے جزو ہوں تو واقعات متعلقہ ہیں خواہ وہ ایک ہی\nوقت اور مقام پر یا مختلف اوقات اور مقامات پر وقوع پذیر ہوئے ہوں۔\n\nتمثیلیں\n(الف) الف پر الزام لگایا گیا کہ وہ ب کو مار کر اس کے قتل عمد کا مرتکب ہوا ہے ۔ جو کچھ بھی الف یاب یا پاس\nکھڑے ہوئے لوگوں نے مار پیٹ کے وقت یا اس سے اس قدر پہلے یا بعد میں کیا ہو یا کیا ہو کہ وہ اس\nمعاملے کا جزو بن جائے ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ب) الف پر ایک ایسی مسلح بغاوت میں شریک ہو کر پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جس\nمیں املاک کو نقصان پہنچایا گیا، سپاہ پرحملہ کیا گیا ، اور جیل خانوں کے دروازے توڑ ڈالے گئے ۔ ایسے\nواقعات کا وقوع اس لئے واقعہ متعلقہ ہے کہ یہ ایک ہی معاملہ عام کے جزو ہیں گوالف ان سب میں موجود\nنہ رہا ہو۔\n(ج) الف نے ایک خط میں شامل توہین آمیز تحریر کی بابت جو ایک مراسلت کا جزو ہے، ب کے خلاف نالش کی۔\nوہ تمام خطوط جو فریقین کے درمیان اس امر کے بارے میں جس سے تو ہین بذریعہ تحریر کا اظہار ہوا ہو اور جو\nاس مراسلت کا جزو ہوں جس میں عبارت مذکورہ درج ہے، واقعات متعلقہ ہیں گوان میں توہین آمیز تحریر\nبذانہ درج نہ ہو۔\n(1) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا کچھ مال جس کی فرمائش ب سے ہوئی تھی الف کے حوالے ہو یا نہیں ۔ مال ہوئی ہوا یا\nیکے بعد دیگرے چند درمیانی اشخاص کے حوالے ہوا۔ ہر حوالگی واقعہ متعلقہ ہے۔\n۲۰۔ واقعات جو واقعات تنقیح طلب کا باعث ، سبب یا نتیجہ ہوں : ایسے واقعات جو واقعات متعلقہ یا\nواقعات تنقیح طلب کا فوری یا بصورت دیگر، باعث سب یا نتیجہ ہوں یا وہ کیفیت حال تشکیل کرتے ہوں جس کے تحت وہ وقوع\nیڈر ہوئے ہوں یا جن سے ان کے وقوع یا معاملہ کا موقع پیدا ہوا ہو، واقعات متعلقہ ہیں۔\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف نے ب کا سرقہ بالجبر کیا یا نہیں۔\nیہ واقعات، که ب سرقہ بالجبر سے کچھ دیر پہلے اپنے ساتھ رقم لے کر ایک میلے میں گیا تھا اور یہ کہ اس نے\nدیگر اشخاص کو وہ رقم دکھائی تھی یا اس واقعہ کا ذکر کیا تھا کہ اس کے پاس رقم ہے، واقعات متعلقہ ہیں۔\n\n(ب) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف نے سب کو قتل کیا یا نہیں۔\nاس مقام پر یا اس کے نزدیک جہاں\nقتل کا ارتکاب کیا گیا ہو، زمین پر پائے جانے والے\nکشمکش کے\nنشانات واقعات متعلقہ ہیں۔\n(ج) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف نے بکوز ہر دیایا نہیں ۔\nزہر کھانے کی مبینہ علامات کے ظاہر ہونے سے پیشتر ب کی صحت کی جو کیفیت تھی اور ب کی وہ عادات جو\nالف کو معلوم تھیں ، جن سے اسے زہر کھلانے کا موقع ملا، واقعات متعلقہ ہیں۔\n:\n۲۱۔ محرک، تیاری اور سابقہ یا ما بعد طرز عمل (۱) کوئی واقعہ متعلقہ ہے جس سے کسی واقعہ\nتنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ کے محرک یا تیاری کا اظہار ہوتا ہو یا اس کی تشکیل ہوتی ہو۔ ا\n(۲) کسی نالش یا کارروائی کے کسی فریق یا کسی فریق کے کسی کارندے کا مذکورہ نالش یا کارروائی سے\nمتعلق یا اس میں اس سے متعلق کسی واقعہ تنقیح طلب کے بارے میں طرز عمل اور کسی ایسے شخص کا طرز عمل جس کے خلاف کوئی\nجرم بنائے کارروائی ہو، واقعہ متعلقہ ہے، اگر مذکورہ طرز عمل کسی واقعہ نقیح طلب یا واقعہ متعلقہ کو متاثر کرے یا اس سے متاثر ہو\nاور خواہ اس سے قبل یا بعد میں وقوع میں ایران و جملے میں بیانات شامل نہیں ہیں، تا وقتیکہ وہ بیانات، بیانات\nتشریح :۔\nکے علاوہ افعال کے ساتھ نہ ہوں اور ان\nکی تشریح نہ کرتے ہوں مگر یہ تشریح اس فرمان کے کسی دوسرے آرٹیکل کے تحت\nبیانات کے متعلق ہونے پر اثر انداز نہ ہوگی۔\nپر\nتشریح\nجب کسی شخص کا طرز عمل واقعہ متعلقہ ہو تو کوئی بیان جو اسے یا اس کی موجودگی میں اور\nاسے سنا کر دیا جائے ، جس سے مذکورہ طرز عمل متاثر ہو، واقعہ متعلقہ ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) الف پر ب کے قتل عمد کی بناء پر مقدمہ چلایا گیا۔\nیہ واقعہ کہ الف نے ج کو قتل کیا تھا، یہ کہ ب جانتا تھا کہ الف نے حج کو قتل کیا تھا اور یہ کہ رب نے الف کو\nافشائے راز کی دھمکی دے کر اس سے جبر ارقم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ، واقعات متعلقہ ہیں ۔\n\n(ب) الف نے سب کے خلاف تمسک کی بنیاد پر قم کی ادائیگی کے لیے نالش کی ب کہتا ہے کہ اس نے تمسک\nنہیں لکھا۔\nیہ واقعہ کہ جس وقت تمسک حسب اظہار تحریر پایا تھا کو ایک خاص غرض کے لئے رقم در کارتھی، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ج) الف پر ب کو زہر دے کر قتل کرنے کی بناء پر مقدمہ چلایا گیا۔\nیہ واقعہ، کہ ب کی موت سے پیشتر ، الف نے اسی قسم کا زہر حاصل کیا تھا جوب کو دیا گیا، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(د) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں دستاویز الف کا وصیت نامہ ہے یا نہیں۔\nیہ واقعات کہ مظہرہ وصیت نامہ کی تاریخ سے تھوڑا ہی عرصہ پیشتر الف نے ان امور کی تحقیق کی تھی جن\nسے مظہرہ وصیت نامہ کی شرائط متعلق ہیں، یہ کہ اس نے وصیت نامہ تحریر کرنے کے سلسلے میں وکلاء سے\nمشورہ کیا تھا اور یہ کہ اس نے دوسرے ایسے وصیت ناموں کے مسودات تیار کر وائے تھے جنہیں اس نے\nتھا یہکہ ایڈ\nپسند نہیں کیا تھا ، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(1) الف پر ایک جرم کا الزام لگایا گیا۔\nیہ واقعات\nکہ مظہرہ جرم کے خواہ قبل ا بر وقت یا بعد میں الف نے ایسی شہادت\nبہم پہنچائی جس سے\nواقعات مقدمہ کی صورت اس کے مفید مطلب ہو سکے ، یا یہ کہ اس نے شہادت کو تلف کیا یا پوشیدہ رکھا یا ان\nلوگوں کو جو گواہ ہو سکتے تھے حاضر ہونے سے باز رکھایا غیرحاضر کرایا یا اس مقدمہ میں جھوٹی گواہی دینے\nکے لئے لوگوں کو راضی کیا ، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(1) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا کہ الف نے بے کا سرقہ بالجبر کیا یا نہیں۔ \nیہ واقعات کرب کے سرقہ بالجبر کے بعد ج نے الف کی موجودگی میں یہ کہا کہ پولیس اس شخص کی تلاش\nمیں آ رہی ہے جس نے ب کا سرقہ بالجبر کیا ہے اور یہ کہ اس کے فوراً ہی بعد الف بھاگ گیا ، واقعات\nمتعلقہ ہیں۔\n\n(ز) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کے ذمہب کے ۱۰،۰۰۰ روپے ہیں یا نہیں۔\nیہ واقعات، کہ الف نے ج سے رقم قرض مانگی اور یہ کہ دنے ج سے الف کی موجودگی میں اور اسے سنا کر\nیہ کہا کہ : میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ الف پر اعتبار نہ کرنا کیونکہ اس کے ذمہب کے ۰،۰۰۰ اروپے ہیں“۔\nاور یہ کہ الف کوئی جواب دیئے بغیر چلا گیا ، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(ح) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کسی جرم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔\nیہ واقعہ کہ الف ایک خط وصول کرنے کے بعد جس سے متنبہ کیا گیا تھا کہ مجرم کے بارے میں تحقیقات\nہو رہی ہے، فرر ہو گیا اور اس خط کے مشمولات، واقعات متعلقہ ہیں۔\n،فرر\n(ط) الف پر کسی جرم کا الزام لگایا گیا۔\nیہ واقعات کہ مظہرہ جرم کے ارتکاب کے بعد وہ فرار ہوگیا ، یاوہ مال کو پامال کی آمدنی کو جو اس جرم کے\nذریعے حاصل ہوا تھا اپنے قبضے میں رکھتا تھا یا یہ کہ اس نے ایسی چیزوں کو چھپانا چاہا جو ارتکاب جرم میں\nاستعمال ہوئیں یا ہو سکتی تھیں، واقعات متعلقہ ہیں ۔\n(ی) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کی عصمت دری کی گئی یا نہیں ۔\nیہ واقعات کہ مظہرہ زنا بالجبر کے تھوڑی دیر بعد اس نے اس جرم کے بارے میں نالش کی تھی ، اور وہ حالات جن\nمیں اور وہ الفاظ جن سے مذکورہ نالش کی گئی تھی ، واقعات متعلقہ ہیں۔\nیہ واقعہ کہ اس نے بغیر نالش کیے یہ کہا تھا کہ اس کی عصمت دری کی گئی تھی ، اس آرٹیکل کے تحت طرز عمل\nکے طور پر واقعہ متعلقہ نہیں ہیں گو یہ آرٹیکل ۴۶ کے پیرا (۱) کے تحت بطور، بیان بوقت مرگ یا آرٹیکل ۱۵۳\nکے تحت بطور شہادت تائیدی، واقعہ متعلقہ ہوسکتا ہے۔\n(ک) امر\nتحقیق یہ ہے کہ آیا الف کا سرقہ بالجبر ہوایا نہیں ۔\nیہ واقعہ کہ مظہرہ سرقہ بالجبر کے فورا بعد اس نے جرم کے بارے میں نالش کی تھی اور وہ حالات جن میں اور\nوہ الفاظ جن سے نالش کی گئی تھی، واقعات متعلقہ ہیں۔\n\nیہ واقعہ کہ اس نے بغیر نالش کیسے یہ کہا تھا کہ اس کا سرقہ بالجبر ہوا ہے، اس آرٹیکل کے تحت طرز عمل کے طور\nپر واقعہ متعلقہ نہیں ہے گو یہ آرٹیکل ۴۶ کے پیرا (۱) کے تحت بطور بیان بوقت مرگ یا آرٹیکل ۱۵۳ کے تحت\nبطور شہادت تائیدی، واقعہ متعلقہ ہوسکتا ہے۔\n۲۲۔ ایسے واقعات جو واقعات متعلقہ کی تشریح کرنے یا ان کو پیش کرنے کے لیے ضروری ہیں۔\nایسے واقعات جو کسی واقعہ نقیح طلب یا واقعہ متعلقہ کی تشریح کرنے یا اس کو پیش کرنے کے لیے ضروری ہوں یا جو کسی واقعہ تنقیح طلب\nیا واقعہ متعلقہ سے پیدا شدہ کسی قیاس کی تائید یا تردید کریں جن سے کسی ایسی شے یا ایسے شخص کی شناخت کا اثبات ہو جس کی\nشناخت واقعہ متعلقہ ہو یا جوکسی واقعہ تنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ کے وقوع کے وقت اور مقام کا تعین کریں ، یا جن سے ان فریقین کا\nتعلق ظاہر ہو جن سے کوئی مذکورہ واقعہ ہوا ہو، جہاں تک وہ مذکورہ غرض کے لئے ضروری ہوں، واقعات متعلقہ ہیں۔\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں دستاویز الف کی وصیت ہے یا نہیں۔\nمظہر ہ وصیت کی تاریخ تحریر پر الف کی جائداد اور اس کے خاندان کی حالت ، واقعات متعلقہ ہو\nسکتے ہیں۔\n(ب) الف ایک ایسی توہین آمیز تحریر کی بابت ب پر نالش کرتا ہے جس سے الف پر معیوب طرز عمل کا اتہام لگتا\nہے؛ب اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ مواد جسے توہین آمیز تحریر بیان کیا جاتا ہے، سچ ہے۔\nتو اس وقت جب کہ توہین آمیز تحریر مشتہر ہوئی تھی فریقین کی حیثیت اور تعلقات واقعات تنقیح طلب کی\nتمہید کے طور پر واقعات متعلقہ ہو سکتے ہیں \nالف اورب کے درمیان ایک ایسے جھگڑے کی تفصیلات جو کسی ایسے معاملے میں ہوا ہو جو مظہرہ توہین آمیز\nتحریر سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو، واقعہ متعلقہ نہیں ہیں گو یہ واقعہ کہ کوئی جھگڑا ہوا تھا اس حالت میں واقعہ متعلقہ\nہو سکتا ہے جب کہ الف اور ب کے باہمی تعلقات اس سے متاثر ہوئے ہوں ۔\n(ج) الف پر کسی جرم کا الزام لگایا گیا۔\n\nیہ واقعہ کہ ارتکاب جرم کے فوراًبعد الف اپنے گھر سے فرار ہو گیا، آرٹیکل ۲۱ کے تحت اس لحاظ سے واقعہ متعلقہ\nہے کہ وہ ایک ایسا طرز عمل ہے جو واقعات تنقیح طلب کے بعد اور ان کے اثر سے وقوع میں آیا ہے۔\nیہ واقعہ کہ جس وقت وہ گھر سے روانہ ہوا تھا اس وقت اسے اس مقام پر جہاں وہ گیا تھا، اچانک اور\nضروری کام تھا، اس لیے واقعہ متعلقہ ہے کہ اس میں اس کے اچانک گھر چھوڑنے کی توجیہہ پائی جاتی ہے۔\nاس کام کی تفصیلات جس کے لیے وہ گھر سے روانہ تھا متعلقہ نہیں ہیں ماسوائے اس حد تک کہ اس بات کے\nاظہار کے لئے ضروری ہوں کہ وہ کام اچانک پیش آیا تھا اور ضروری تھا۔\n(د) الف نے ب کے خلاف اس لیے نالش کی کہ اس نے ج کو اس امر کی ترغیب دی کہ وہ اس معاہدہ خدمت\nکو تو ڑ ڈالے جو اس نے الف کے ساتھ کیا تھا۔ ج نے الف کی خدمت ترک کرتے وقت الف سے کہا\nتھا۔ ” میں تمہارے پاس سے جارہا ہوں کیوں کہ ب نے مجھے بہتر پیش کش کی ہے یہ بیان واقعہ متعلقہ\nہے کیوں کہ اس سے ج کے طرز عمل کی تشریح ہوتی ہے جو کہ بحیثیت واقعہ منفیح طلب واقعہ متعلقہ ہے۔\n(1) الف جس پر سرقہ کا الزام لگا ہے مال مسروقہ ۔\n(1) الف جس پر سرقہ کا الزام لگایا ہے مال مسروقہ ب کے حوالے کرتے ہوئے دیکھا گیا جو اسے الف کی زوجہ\nکے حوالے کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ ب نے مذکورہ مال حوالے کرتے وقت یہ کہا کہ \" الف نے کہا ہے کہ تم\nاسے چھپا کر رکھو ۔‘ب کا بیان واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے ایک ایسے واقعہ کی تشریح ہوتی ہے جو اس\nمعاملہ کا ایک جزو ہے ۔ یمان\n(و) الف پر بلوہ کی بنا پر مقدمہ چلایا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ وہ ایک انبوہ کا سردار بن گیا تھا۔ انبوہ کا شور غل واقعہ متعلقہ\nہے کیونکہ اس سے معاملہ کی نوعیت کی تشریح ہوتی ہے \n۲۳۔ الفاظ یا افعال جو سازش کرنے والا ارادہ مشترک کے بارے میں کہے یا کرے۔\nجب اس امر کے باور کرنے کی معقول وجہ ہو کہ دو یا زیادہ اشخاص نے کسی جرم یا کسی فعل بے جا قابل چارہ جوئی کے ارتکاب\nکے لیے باہم سازش کی ہے تو اس وقت کے بعد جب کہ مذکورہ ارادہ ان اشخاص میں سے کسی شخص نے پہلے پہل کیا ہو، ان میں\nسے کسی ایک نے مشترکہ ارادے کے بارے میں جو کوئی بات کہی ہو، جو کوئی فعل کیا ہو یا جو کوئی چیز لکھی ہو ، وہ ہر اس شخص کے\nخلاف جس کا بایں طور اس سازش میں شریک ہونا باور کیا جاتا ہو، وجود سازش کے ثبوت کی غرض سے نیز یہ ظاہر کرنے کی غرض\nکے لیے کہ مذکورہ شخص اس میں شریک تھا ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n\nتمثیلیں\nیہ باور کرنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ الف پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کی سازش میں شریک ہوا ہے ۔\nیہ واقعات کہ ب نے سازش کی غرض سے یورپ میں اسلحہ حاصل کیا ، ج نے اسی مقصد سے پشاور میں\nروپیہ جمع کیا ، دنے کراچی میں لوگوں کو سازش میں شریک ہونے کی ترغیب دی ، ہ نے ملتان میں غرض مقصود کے\nحق میں مضامین شائع کیے اور ونے وہ رقم لاہور سے کابل میں ز کے پاس منتقل کر دی جوج نے پشاور میں جمع کی\nتھی اور ایک خط کے مشمولات جوح نے سازش کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا،سازش کے وجود اور اس\nمیں الف کی شرکت دونوں کے ثبوت کے لیے الگ الگ واقعات متعلقہ ہیں اگر چہ وہ ان سب سے ناواقف رہا\nہو، اور اگر چہ وہ سب لوگ جن سے مذکورہ افعال سرزد ہوئے ہوں اس کے لیے اجنبی ہوں اور اگر چہ وہ اس کے\nسازش میں شریک ہونے سے قبل یا اس کی سازش سے الگ ہو جانے کے بعد وقوع پذیر ہوئے ہوں۔\n۲۴۔ کب ایسے واقعات جو بصورت دیگر واقعات متعلقہ نہ ہوں، واقعات متعلقہ ہو جاتے ہیں۔\nواقعات جو بصورت دیگر واقعات متعلقہ نہ ہوں، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(۱) اگر وہ کسی واقعہ تنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ سے غیر مطابق ہوں ؟\nریمان\n(۲) اگر ان سے بنفسہ یا دیگر واقعات سے مل کسی واقعہ منشیح طلب یا واقعہ متعلقہ کا وجود یا عدم\nوجود نہایت ہی اغلب یا غیر اغلب ہو جائے ۔ \nتمثیلیں\n(الف) امر تنقیح طلب یہ ہے کہ آیا الف نے فلاں روز پشاور میں جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں۔\nیہ واقعہ کہ الف اس روز لا ہور میں تھا واقعہ متعلقہ ہے۔\n\nیہ واقعہ کہ اس وقت کے قریب جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا، الف اس مقام سے جہاں اس کا ارتکاب کیا گیا\nتھا اتنے فاصلے پر تھا کہ جہاں سے اس کا ارتکاب جرم کرنا گونا ممکن نہیں تا ہم نہایت ہی غیر اغلب ضرور\nہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ب) امر تنقیح طلب یہ ہے کہ آیا الف نے جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں ۔\nحالات ایسے ہیں کہ جرم کا ارتکاب الف، ب، ج یا د سے ضرور ہوا ہوگا۔ ہرایسا واقعہ جو یہ ظاہر کرے کہ\nجرم کا ارتکاب کسی دوسرے شخص سے نہیں ہوسکتا تھا اور یہ کہ جرم کا ارتکاب ب ، ج یا دنے نہیں کیا ، واقعہ\nمتعلقہ ہے۔\n۲۵۔ نالشات ہرجہ میں ایسے واقعات ، واقعات متعلقہ ہیں جن سے عدالت زر ہرجہ کا تعین کر سکے ۔ ایسی نالشات\nمیں جن میں ہرجہ کا دعوی کیا گیا ہو ، کوئی ایسا واقعہ، جس سے عدالت یہ متعین کر سکے کہ کتناز ر ہرجہ دلانا مناسب ہے، واقعہ متعلقہ\nہے۔\n-۲۶ واقعات متعلقہ جبکہ امر حقیق طلب حق یا رواج ہو: جب کہ امر تحقیق طلب کسی حق یا رواج کے وجود\nکے بارے میں ہو تو درج ذیل واقعات متعلقہ ہیں کا\n(الف) کوئی معاملہ جس سے\nمتنازعہ حق یا رواج پیدا ہوا تھا، اس کا دعوی کیا گیا تھا، اس میں ترمیم کی گئی تھی ، اسے\nتسلیم کیا گیا تھا، اس کا اظہار کیا گیا تھا یا اس سے انکار کیا گیا تھا یا جو اس کے وجود کے غیر مطابق تھا؟\n(ب) وہ خاص نظائر جن میں مذکورہ حق یا رواج کا دعویٰ کیا گیا تھا، اسے تسلیم کیا گیا تھا یا اس کا استعمال کیا گیا تھا\nیا یا جن میں اس کے استعمال پر اعتراض کیا گیا تھا، اس\nکا اظہار کیا گیا تھا یا اس سے انحراف کیا گیا تھا۔\nتمثیلیں\nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف ایک ماہی گاہ کا حقدار ہے یا نہیں ۔ کوئی دستاویز جس کی رو سے وہ ماہی گاہ الف کے\nآبا ؤ اجداد کو عطا ہوئی تھی ، اس ماہی گاہ کو اس کے باپ کا کسی کے پاس رہن رکھنا، بعد ازاں الف کے باپ کا اس ماہی گاہ کور بہن\nکے منافی عطا کر دینا ، وہ خاص مثالیں جن میں الف کے باپ نے اس حق کو استعمال کیا یا جن میں الف کے ہمسایوں نے اسے\nمذکورہ حق استعمال کرنے سے روکا ہو، واقعات متعلقہ ہیں۔\n\n۲۷۔ ایسے واقعات جن سے حالت ذہنی یا جسمانی یا احساس جسمانی کا وجود ظاہر ہوتا ہو ۔ اسے واقعات جن\nسے کسی حالت ذہنی مثلاً اراده، علم ، نیک نیتی ، غفلت، ناعاقبت اندیشی ، کسی خاص شخص کی نسبت دشمنی یا دوستی کا وجود ظا ہر ہو یا\nجن سے کسی حالت جسمانی یا احساس جسمانی کا وجود ظاہر ہو، اس صورت میں واقعات متعلقہ ہیں جب کسی مذکورہ حالت ذہنی یا\nجسمانی یا احساس جسمانی کا وجود واقعہ تنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ ہو۔\nتشریح ۔ اس واقعہ متعلقہ سے جس سے متعلقہ حالت ذہنی کا وجود ظاہر ہوتا ہو یہ ضرور ر ظاہر ہونا چاہیے کہ\nحالت ذہنی عموما نہیں بلکہ خاص امر تحقیق طلب سے متعلق موجود ہے۔\nتشریح ۲۔ مگر جب کہ کسی ایسے شخص کی سماعت مقدمہ پر جس پر کسی جرم کا الزام لگایا گیا ہوملزم کا کسی جرم کا\nسابقہ ارتکاب اس آرٹیکل کے مفہوم میں واقعہ متعلقہ ہو تو ایسے شخص کی سابقہ سال تھے تو متعلقہ ہوگی۔\nشیلیں\n(الف) الف پر الزام لگایا گیا کہ اس نے مال مسروقہ کو مال مسروقہ جان کر لیا یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایک خاص\nمسروقہ شے اس کے قبضے میں تھی یہ واقعہ کہ اس وقت اس کے قبضہ میں بہت سی دوسری مسروقہ اشیاء بھی\nتھیں، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ ہر شے اور تمام اشیاء جو اس کے\nقبضہ میں تھیں، مسروقہ تھیں۔\nريم\nب) الف پر الزام لگا یا کہ اس نے فریب سے ایسا جعلی سکہ کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا جسے وہ بوقت\n۔ یہ واقعہ کہ اس کی حوالگی کے وقت الف کے قبضہ میں بہت سے دوسرے جعلی\nحوالگی جانتا تھا ج \nسکے تھے واقعہ متعلقہ ہے۔\nیہ واقعہ کہ الف اس امر کے لیے پہلے سزایاب ہو چکا تھا کہ اس نے ایک جعلی سکہ یہ جانتے ہوئے کہ جعلی ہے\nاصلی سکہ کے طور پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا تھا، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ج) الف نے اس نقصان کی بابت ب کے خلاف نالش کی جو اسے ب کے اس گتے سے پہنچا جسے ب جانتا تھا\nکہ خونخوار ہے۔\nیہ واقعات کہ اس کتے نے پہلے خ، ذ اورض کو کاٹا تھا اور ہ یہ کہ انہوں نے سب سے شکایات کی تھیں واقعات\nمتعلقہ ہیں ۔\n\n€34\n(1) امر تحقیق طلب یہ ہے آیا الف جو کہ ایک مبادلہ ہنڈی کا سکارنے والا ہے یہ جانتا تھایا نہیں کہ وصول کنندہ کا\nنام فرضی ہے۔ یہ واقعہ کہ الف نے ہنڈیوں کو جو اسی طرح تحریر پائی تھیں قبل اس کے اگر وصول کنندہ اصل\nشخص ہوتا تو انہیں اس کے پاس بھیج سکتا، سکارا تھا، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الف\nجانتا تھا کہ وصول\nکنندہ ایک فرضی شخص ہے۔\n(0) الف پر الزام لگایا گیا کہ وہ ب کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے ایک ہتک آمیز مضمون شائع\nکر کے اس کے ازالہ حیثیت عرفی کا باعث ہوا۔\nیہ واقعہ کہ الف نے ب کی نسبت پہلے بھی ایسے مضامین شائع کئے تھے جن سے الف کی ب کے ساتھ دشمنی\nظاہر ہوتی تھی، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الف نے یہ خاص متنازعہ مضمون ب کی\nشہرت کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے شائع کیا۔ یہ واقعات کہ الف اورب کے درمیان پہلے کوئی\nجھگڑا نہیں تھا اور یہ کہ الف نے اس مضمون کو جس کے خلاف نالش ہوئی جیسا سنا تھا ویسا ہی بیان کر دیا،\nواقعات متعلقہ ہیں کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الف کاب کی شہرت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا۔\n(و) ب نے الف کے خلاف اس وجہ سے نالش کی کہ الف نے از راہ فریب یہ بات کہی تھی کہ ج مالدار ہے اور\nاس وجہ سے سب نے ج پر جو کہ دیوالیہ تھا، اعتماد کیا اور نقصان اٹھایا۔\nیہ واقعہ کہ جب الف نے ج کو مالدار کہا تھا اس وقت ج کے پڑوسی اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ کاروبار\nکرتے تھے اسے مالدار سمجھتے تھے، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الف نے نیک نیتی\nسے وہ بات کہی تھی۔ \n(ز) ب نے الف کے خلاف اس کام کی اُجرت کی بابت جو اس نے الف کی ملکیت ایک مکان پر ایک ٹھیکیدار\nج کے حکم سے کیا تھا، نالش کی ۔\nالف کا جواب یہ ہے کہ ب کے معاہدہ ج کے ساتھ تھا، یہ واقعہ کہ الف نے زیر بحث کام کے لیے ج کو\nروپے دیئے ، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الف نے نیک نیتی سے زیر بحث کام\nکا اہتمام ج کے ذمہ لگایا تھا، اس طرح ج ، ب کے ساتھ اپنے نام سے نہ کہ الف کے کارندے کی حیثیت\nسے معاہدہ کرنے کا اہل تھا۔\n\n(ح) الف پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ بددیانتی سے اس مال کو تصرف بے جا میں لایا ہے جو اسے ملا تھا اور امر\nتحقیق طلب یہ ہے کہ آیا جب وہ اسے تصرف میں لایا تھا وہ نیک نیتی سے یہ باور کرتا تھایا نہیں کہ\nاس کا اصل مالک نہیں مل سکتا۔\nیہ واقعہ کے مال مذکورہ کے گم ہو جانے کی عام اطلاع اس مقام پر دی گئی تھی جہاں الف\nموجود تھا ، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الف نیک نیتی سے یہ باور نہیں کرتا تھا\nکه مال مذکورہ کا اصل مالک نہیں مل سکتا ۔\nیہ واقعہ کہ الف کو یہ معلوم تھا یا وہ یہ باور کرنے کی وجہ رکھتا تھا کہ ج جس نے مذکورہ مال کے\nگم ہو جانے کی خبر سنی تھی اور اس کی نسبت جھوٹا دعوی قائم کرنا چاہتا تھاوہ اطلاع از راه فریب دی\nتھی، واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کہ الف کو مذکورہ اطلاع کی خبر تھی الف\nکے نیک نیتی کی تردید نہیں کرتا تھا۔\n(ط) الف پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے سب کو مارڈالنے کی نیت سے اس پر گولی چلائی۔ الف کی نیت\nکے اظہار کے لیے کہ یہ واقعہ کہ الف نے پہلے بھی ب پر گولی چلائی تھی ، ثابت کیا جاسکتا ہے۔\n(ی) الف پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے سب کو دھمکی آمیز خطوط بھیجے ۔\nوہ دھمکی آمیز خطوط جوالف نے اس سے پہلے سب کو بھیجے تھے، ثابت کیے جاسکتے ہیں کیونکہ ان سے\nان خطوط کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔ \n(ک) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ الف اپنی زوجہ ب پر بے رحمی کرنے کا مجرم ہے یا نہیں۔\nایسے الفاظ جن سے مظہرہ بے رحمی سے ذرا پہلے یا بعد ایک دوسرے کی نسبت جذبات کا اظہار\nہوتا ہو، واقعات متعلقہ ہیں۔\n\n(ل) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کی موت زہر کھانے سے واقع ہوئی یا نہیں۔\nایسی باتیں جو الف نے اپنی علالت کے دوران علامات مرض کے بارے میں بیان کی تھیں، واقعات\nمتعلقہ ہیں۔\n(م) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ جس وقت الف کی زندگی کا بیمہ کیا گیا تھا اس وقت اس کی صحت کی\nکیفیت کیا تھی۔\nایسی باتیں جو الف نے زیر بحث وقت پر یا اس کے قریب اپنی صحت کی کیفیت کے بارے\nمیں بیان کی ہوں ، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(ن) الف نے بے پر اس امر کی نالش کی کب نے از راہ غفلت اسے ایک اسی گاڑی کرایہ پر ہیا\nکی جو معقول طور پر استعمال کے قابل نہ تھی جس کی وجہ سے الف زخمی ہو گیا۔\nیہ واقعہ کہ اس خاص گاڑی کے نقص کی طرف دیگر موقعوں پرب کی توجہ مبذول کرائی\nگئی تھی ، واقعہ متعلقہ ہے۔\nیہ واقعہ کہ ب ان گاڑیوں کی نسبت جنہیں\nوہ کرایہ پر دیتا تھا، عادتاً غافل رہتا تھا،\nايمان\nواقعہ غیر متعلقہ ہے۔\nکت\n(س) الف پرب کے قتل کے بارے میں اس بناء پر مقدمہ چلایا گیا کہ اسنے عمدا گولی چلا کر اسے مارڈالا۔\nیہ واقعہ کہ الف نے دیگر موقعوں پر ب پر گولی چلائی تھی واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس\nسے اس کاب کو گولی مارنے کا ارداہ ظاہر ہوتا ہے۔\nیہ واقعہ کہ الف عاد تا لوگوں\nکو قتل کرنے کے ارادے سے ان پر گولی چلایا کرتا تھا،\nواقعہ غیر متعلقہ ہے۔\n(ع) الف پر ایک جرم کی نسبت مقدمہ چلایا گیا۔\nیہ واقعہ کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی تھی جس سے اس خاص جرم کے ارتکاب کا ارادہ ظاہر ہوتا تھا\nواقعہ متعلقہ ہے۔\n\nسیہ واقعہ کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی تھی جس سے اس قسم کے جرائم کے ارتکاب کا عام میلان پایا\nجاتا تھا، واقعہ غیر متعلقہ ہے۔\n۲۸۔ ایسے واقعات جن سے اس بات کا اظہار ہو کہ آیا کوئی فعل اتفاقی تھایا ارادی :۔ جب امر تحقیق طلب یہ ہو\nکہ آیا کوئی فعل تھا یا ارادی، یا خاص علم یا ارادہ سے کیا گیا تھا تو یہ واقعہ کہ مذکورہ فعل اس طرح کے سلسلہ افعال کی ایک\nکڑی تھی جن میں سے ہر ایک فعل کرنے والا شخص تعلق رکھتا تھا، واقعہ متعلقہ ہے۔\nتائیں\n(الف) الف پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اپنے مکان کو اس غرض سے آگ لگاری کہ اسے وہ رقم مل جائے جس\nکے لئے اس کا بیمہ کرایا گیا تھا۔\nیہ واقعات کہ الف یکے بعد دیگر کئی مکانوں میں رہا جن سے ہر ایک کا اس نے بیمہ کرایا ، جن\nمیں سے ہر ایک میں آگ لگی اور ہر ایک کے جل جانے کے بعد الف کو مختلف بیمہ کمپنیوں سے رقم ملی ،\nواقعات متعلقہ ہیں کیوں کہ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آتشزدگیاں اتفاقی نہ تھیں۔\n(ب) الف کوب کے قرضداروں سے روپیہ وصول کرنے پر مامور کیا گیا۔ الف کا فرض یہ ہے کہ وہ جو روپیہ\nوصول کرے اس کا اندراج ایک بہی کھاتے میں کرے۔ اس نے ایک اندراج کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا\nہے کہ ایک خاص موقع پر جس قد ر روپیہ در حقیقت اس نے وصول کیا تھا اس سے کم وصول ہوا۔\nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ یہ غلط اندران اتفاقی تھالیا رادی\nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ یہ غلط اندراج اتفاقی تھایا ارادی ، یہ واقعات که دیگر اندراجات جوالف\nنا اتفاقیتهای می دیگر\n\nنے مذکورہ بہی کھاتے میں کئے بغلط ہیں اور یہ کہ غلط اندراج الف کے حق میں ہے، واقعات متعلقہ ہیں۔\n(ج) الف پر الزام لگایا گیا کہ اس نے فریب سے جعلی روپیہب کے حوالے کیا۔\nامر\nتحقیق طلب یہ ہے کہ آیا اس روپے کی حوالگی اتفاقی تھی یا نہیں۔\nیہ واقعات کہ ب کو حوالگی سے تھوڑی دیر پیشتر یا تھوڑی دیر بعد الف نے جعلی روپے ج، داورہ کے بھی حوالے\nکیے تھے واقعات متعلقہ ہیں کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ب کو یہ حوالگی اتفاقی نہیں تھی۔\n\n۲۹۔ طریق کا روبار کا وجو د کب واقعہ متعلقہ ہے جب امر تحقیق طلب یہ ہو کہ آیا کوئی خاص فعل کیا گیا تھایا نہیں\nتو کسی ایسے طریق کاروبار کا وجود جس کے بموجب وہ فعل لازمی طور پر کیا جاتا ہو، واقعہ متعلقہ ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا ایک خاص خط ارسال کیا گیا تھایا نہیں ۔\nیہ واقعات کہ معمولی طریق کا روبار یہ تھا کہ تمام خطوط جو ایک خاص جگہ پر رکھ دیئے جاتے تھے ڈاک میں ڈال\nدیئے جاتے تھے اور یہ کہ وہ خاص خط اسی جگہ رکھا گیا تھا، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ب) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا ایک خاص خط الف کو پہنچا تھایا نہیں۔\nیہ واقعات کہ وہ حسب معمول ڈاک دیا گیا تھا اور لاپتہ خطوط کے دفتر سے واپس نہیں کیا گیا تھا، واقعات متعلقہ ہیں۔\nاقبالات\n۳۰۔ اقبال کی تعریف: اقبال ایسا زبانی یا تحریری بیان ہے جو کسی واقعہ تنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ کے بارے میں کسی\nمنطقی نتیجہ کی طرف راجع ہو، اور جوان اشخاص میں سے کسی شخص نے اور ان حالات میں دیا ہو جو بعد ازیں مذکور ہیں :]\nکوائف جوخود کار انفارمیشن سسٹم کے ذریعے پیدا کیے گئے ہوں اس شخص سے منسوب کیے\nتشریح۔\nجاسکتے ہیں جو ند کورہ انفارمیشن سسٹم پر اختیار اور کنٹرول رکھتا ہو۔]\n۳۱۔ فریق مقدمہ یا اس کے مختار کا اقبال (1) ایسے بیانات اقبال ہیں جو کوئی فریق مقدمہ یا مذکورہ فریق\nکا کوئی ایسا مختار دے جس کو عدالت حالات مقدمہ کے تحت فریق مذکور کی طرف سے ان کے دینے کا صراحتہ یا کنایت‎\nمجاز سمجھے۔\n \n(۲) مقدمہ کے ان فریقوں کے بیانات جو بحیثیت قائم مقام کسی نائش میں مدعی یا مد عاعلیہ ہوں، اقبال\nنہیں ہیں تا وقتیکہ وہ اس وقت نہ دیئے گئے ہوں جب کہ ان کے دینے والے فریق کو مذکورہ حیثیت حاصل تھی۔\n(۳) بیانات جو ۔۔۔۔\n(الف) ان اشخاص نے دیئے ہوں جو شے متنازعہ مقدمہ میں کوئی مالکانہ یا مالی مفادر کھتے ہوں اور\nجو بایں طور مفادر کھنے والے اشخاص کی حیثیت سے مذکورہ بیان دیں، یا\nآرڈینینس نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۲ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے تبدیل کیا گیا اور اضافہ کیا گیا۔\n\n(ب) ان اشخاص میں نے دینے ہوں جن سے فریق مقدمہ نے شے متنازعہ مقدمہ میں اپنا مفاد حاصل کیا\nہو، اقبال ہیں، اگر وہ بیان دینے والے اشخاص کے مفاد کے دوران تسلسل دیئے گئے ہوں ۔\n۳۲۔ ان لوگوں کا اقبال جن کی فریق مقدمہ کے مقابلے میں حیثیت ثابت کرنا ضروری ہو۔ ایسے اشخاص کے\nبیانات جن کی حیثیت یا ذمہ داری کسی فریق مقدمہ کے مقابلے میں ثابت کرنا ضروری ہو ، اقبال ہیں، اگر مذکورہ بیانات ان\nطرف سے یا ان کے خلاف دائر کیے گئے مذکورہ حیثیت یا ذمہ داری کی نسبت مقدمہ میں مذکورہ اشخاص کے خلاف واقعات\nمتعلقہ ہوتے اور اگر وہ اس وقت دیئے جائیں جب کہ بیان دینے والا شخص مذکورہ حیثیت\nرکھتا ہو یا مذکورہ ذمہ داری کا پابند ہو۔\nتھیلیں\nالف نے سب کے لیے لگان وصول کرنے کا ذمہ لیا۔\nب نے الف کے خلاف ج کی طرف سے سب کو اوجب الا دالگان وصول نہ کرنے کی بناء پر نالش کی ۔\nالف اس بات سے انکار کرتا ہے کہ ج کی طرف سے ب کو لگان واجب الادا تھا۔\nج کا یہ بیان کہ وہ لگان کی نسبت ب کا قرض دار ہے، اقبال ہے، اور الف کے مقابلے میں واقعہ متعلقہ\nہے اگر الف اس بات سے انکار کرے کہ ج ب کا قرض دار تھا۔\n۳۳۔ ان اشخاص کا اقبال جن کا فریق مقدمہ بالتصریح حوالہ دے: ایسے اشخاص کے بیانات جن کا کسی فریق مقدمہ نے کسی\nامر متنازع فیہ کے دریافت حال کے لئے بالتصریح حوالہ دیا ہو، اقبال ہیں۔\nتمثیل\n \nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا وہ گھوڑا جس کو الف نے ب کے ہاتھ فروخت کیا، بے عیب ہے یا نہیں۔\nالف ب سے کہتا ہے : ” جاؤ اور ج سے پوچھو، ج کو اس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ ج کا بیان اقبال ہے۔\n\n۳۴۔ اقبال کرنے والے اشخاص کے خلاف اور ان کی طرف سے اصالتاً یا وکالتا ثبوت اقبال۔\nاقبالات واقعات متعلقہ ہیں اور اقبال کنندہ شخص یا اس کے قائم مقام مفاد کے خلاف ثابت کیے جاسکتے ہیں ،مگران\nکو اقبال کنند شخص یا اس کی طرف سے کوئی شخص یا اس کا قائم مقام مفاد ماسوائے درج ذیل صورتوں کے ثابت نہیں کر سکتا:۔\n\n(1) اقبال کو اقبال کنند شخص ثابت کر سکتا ہے یا اس کی طرف سے ثابت کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ ایسی\nنوعیت کا ہو کہ اگر اقبال کرنے والے شخص کا انتقال ہو جاتا تو وہ آرٹیکل ۴۶ کے تحت اشخاص غیر موجود کے مابین واقعہ\nمتعلقہ ہوتا ۔\n(۲) اقبال کو اقبال کنند مشخص ثابت کر سکتا ہے یا اس کی طرف سے ثابت کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ ایسے\nپر مشتمل ہو جو کسی ایسی ذہنی یا جسمانی حالت کے وجود کی بابت ہو جو واقعہ متعلقہ یا تنقیح طلب ہو اور مذکوہ ذہنی یا\nجسمانی حالت کی موجودگی کے زمانہ میں یا اس کے قریب قریب دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا طرز عمل ہو\nجس سے اس کی عدم صحت بعید از قیاس ہو جائے۔\nبیان پر\nکلام\n(۳) اقبال کو اقبال کنندہ شخص ثابت کر سکتا ہے یا اس کی طرف سے ثابت کیا جاسکتا ہے اگر وہ اقبال کے\nعلاوہ اور حیثیت سے واقعہ متعلقہ ہو گے\nتمثیلیں\n(الف) الف اور ب کے مابین امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں دستاویز جعلی ہے یا نہیں ۔ الف کہتا ہے کہ\nوہ اصلی ہے ، ب کہتا ہے کہ وہ جعلی ہے۔\nالف دستاویز کے اصلی ہونے کے بارے میں ب کے ایک بیان کا ثبوت پیش کر سکتا ہے\nاور ب دستاویز کے جعلی ہونے کے بارے میں الف کے ایک بیان کا ثبوت پیش کر سکتا ہے ،مگر\nالف اپنے اس بیان کو ثابت نہیں کر سکتا کہ وہ دستاویز اصلی ہے اور نہ ہی ب اپنے اس بیان کو ثابت\nکر سکتا ہے کہ دستاویز جعلی ہے۔\n(ب) ایک جہاز کے کپتان الف پر اس بناء پر مقدمہ چلایا گیا کہ اس نے بے راہ چلا کر جہاز تباہ کر دیا۔\nاس امر کے اظہار کے لئے شہادت پیش کی گئی کہ جہاز راہ راست چھوڑ کر اور طرف چلا گیا تھا۔\nالف نے ایک ایسا رجسٹر پیش کیا جس کو وہ اپنے معمولی طریق کا روبار کے سلسلے میں روز مرہ کے\nمشاہدات کے اظہار کے لیے رکھا کرتا تھا اور جو یہ ظاہر کرتے تھے کہ جہاز راہ راست چھوڑ کر اور طرف نہیں\nچلا یا گیا تھا۔ الف ان بیانات کو ثابت کر سکتا ہے کیونکہ یہ بیانات ،اگر اس کا انتقال ہو جا تا تو\nآرٹیکل ۴۶ کے پیرا (۲) کے تحت تیسرے فریقوں کے مابین قابل قبول ہوتے ۔\n\n۳۵۔\n(ج) الف پر پشاور میں ایک جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا گیا۔\nوہ ایک خود نوشتہ خط پیش کرتا ہے جو اسی تاریخ کو مع تاریخ لاہور سے لکھا گیا تھا اور جس پر لا ہور کے\nڈاکخانے کی اسی دن کی مہر ثبت تھی۔\nاس خط کی تاریخ کا بیان قابل قبول ہے کیونکہ اگر الف کا انتقال ہوجاتا تو یہ آرٹیکل ۴۶ کے پیرا (۲)\nکے تحت قابل قبول ہو جاتا۔\n(1) الف پر مال مسروقہ جانتے ہوئے لینے کا الزام لگایا گیا۔\nوہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے مذکورہ مال کم قیمت پر فروخت کرنے سے انکار کیا تھا۔\nالف ان بیانات کو ثابت کر سکتا ہے، گو وہ اقبالات ہیں، کیونکہ ان سے ایسے طرز عمل کی توضیح ہوتی\nہے جو واقعات منفیح طلب سے متاثر ہوا تھا۔\n(1) الف پر ایک جعلی سکے کو جعلی جانتے ہوئے فریب سے اپنے قبضے میں رکھنے کا الزام لگایا گیا۔\nوہ بیہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے ایک ماہر شخص سے مذکورہ سکہ پر کھن کو کہا تھا کیونکہ اس کو اس سکہ\nکے جعلی یا اصلی ہونے کی بابت شبہ تھا، اور یہ کہ مذکورہ شخص نے اسے پرکھا تھا اور اسے بتایا تھا کہ وہ\nايما\nاصلی ہے۔\nالف ان واقعات کو آخری ماقبل تمثیل میں بیان کردہ کی بناء پر ثابت کر سکتا ہے۔\nمشمولات دستاویزات سے متعلق زبانی اقبالات کب واقعات متعلقہ ہوتے ہیں ۔ مشمولات دستاویز\nسے متعلق زبانی اقبالات واقعات متعلقہ نہیں ہیں تا وقتیکہ اور جب تک کہ ایسا فریق جوان مشمولات کو ثابت کرنا چاہتا ہو\nیہ ظاہر نہ کرے کہ وہ بعد ازیں شامل قواعد کے تحت مذکورہ دستاویز کے مشمولات کی نسبت شہادت منقولی دینے کا مستحق\nہے یا تا وقتیکہ پیش شدہ دستاویز کی اصلیت زیر بحث نہ ہو۔\n۳۶ مقدمات دیوانی میں اقبالات کب واقعات متعلقہ ہوتے ہیں: مقدمات دیوانی میں کوئی اقبال واقعہ\nمتعلقہ نہیں ہے، اگر وہ یا تو کسی ایسی صریح شرط پر کیا جائے کہ اس کی شہادت پیش نہیں کی جائے گی یا ایسے حالات میں کیا جائے\nجس سے عدالت یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہو کہ فریقین اس بات پر باہم متفق ہو گئے ہیں کہ اسکی شہادت پیش نہ کی جائے۔\n\nتشریح اس آرٹیکل میں کسی امر سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ کوئی وکیل کسی ایسے معاملے میں شہادت دینے سے مستثنیٰ\nکیا گیا ہے جس میں وہ آرٹیکل 9 کے تحت شہادت دینے ہر مجبور کیا جاسکتا ہے۔\n۳۷ اقرار جو بذریعہ ترغیب ، دھمکی یا وعدہ کرایا جائے فوجداری مقدمہ میں کب واقعہ غیر متعلقہ ہے:\nفوجداری مقدمہ میں کسی ملزم شخص کا اقرار واقعہ غیر متعلقہ ہے اگر عدالت کو یہ معلوم ہو کہ مذکورہ اقرار کسی ایسی ترغیب\nدھمکی یا وعدہ کے ذریعے کرایا گیا ہے جس کی کسی ذی اختیار شخص کی طرف سے ملزم شخص کے خلاف الزام کے حوالے سے تحریک\nہوئی ہے اور جو عدالت کی رائے میں ملزم شخص کے دل میں ایسی وجوہات پیدا کرنے کے لئے کافی ہو اس کے نزدیک یہ قیاس\nکرنے کے لئے معقول ہوں کہ اس اقرار کے کرنے سے اس کو اس کا رروائی سے متعلق جو اس کے خلاف عمل میں آئی ہے کوئی\nدنیاوی فائدہ پہنچے گایا وہ کسی دنیاوی ضرر سے محفوظ رہے گا۔\n۳۸۔ جو اقرار پولیس افسر کے روبرو کیا جائے وہ ثابت نہیں کیا جائے گا: جو اقرار کسی پولیس افسر کے روبرو کیا\nجائے وہ کسی ایسے شخص کے خلاف جس پر کس جرم کا الزام لگایا گیا ہو، ثابت نہیں کیا جائے گا۔\n۳۹۔ جو اقرار ملزم نے پولیس کی حراست میں کیا ہو وہ اس کے خلاف ثابت نہیں کیا جائے گا۔ آرٹیکل ۴۰ کے\nتابع جو اقرار کسی شخص نے اس وقت کیا ہو جب کہ وہ کسی پولیس افسر کی حراست میں ہو، مذکورہ شخص کے خلاف ثابت نہیں کیا\nجائے گا تا وقتیکہ وہ کسی مجسٹریٹ کے مین روبرو نہ کیا جائے۔\nتشریح : اس آرٹیکل میں مجسٹریٹ میں گاؤں\nکا نمبر دار شامل نہیں ہے، جو مجسٹریٹ کے فرائض انجام دیتا ہو\nتا وقتیکہ مذکورہ نمبردار ایسا مجسٹریٹ نہ ہو جو مجموعہ ضابطہ فوجداری، ۱۸۹۸ (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء)\nکے تحت مجرات کے اقتصاد اختیارات استعمال کرتا ب \n۴۔ ملزم سے ملنے والی اطلاع کا کتنا حصہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جب کسی واقعہ کی نسبت یہ گواہی دی\nجائے کہ وہ اس اطلاع کی بدولت دریافت ہوا ہے جو کسی جرم کے ملزم ایسے شخص سے ملی ہے جو کسی پولیس افسر کی\nحراست میں ہے تو مذکورہ اطلاع کا اتنا حصہ ثابت کیا جا سکتا ہے جس قدر اس کے ذریعے دریافت ہونے والے واقعہ\nسے نمایاں طور پر متعلق ہو، خواہ وہ اقرار کی حد کو پہنچتا ہو یا نہ پہنچتا ہو۔\n\n۴۱۔ جو اقر ار اس اثر کے زائل ہو جانے کے بعد کیا جائے ، جو ترغیب، دھمکی یا وعدے کے باعث پیدا ہوا ہو،\nواقعہ متعلقہ ہے۔ اگر آرٹیکل ۳۷ میں محولہ اقرار اس وقت کیا جائے جبکہ عدالت کی رائے میں کسی مذکورہ ترغیب ، دھمکی\nیا وعدہ کا اثر پوری طرح زائل ہو چکا ہوتو وہ واقعہ متعلقہ ہے۔\n۴۲۔ جو اقرار بصورت دیگر واقعہ متعلقہ ہو وہ اخفاء وغیرہ کے وعدہ کے باعث غیر متعلق نہ ہوگا ۔ اگر مذکورہ اقرار\nبصورت دیگر واقعہ متعلقہ ہو تو وہ محض اس وجہ سے واقعہ غیر متعلقہ نہیں ہو جاتا ہے کہ وہ اخفائے راز کے وعدہ پر یا اسے حاصل\nکرنے کی غرض سے ملزم شخص کے ساتھ کیے گئے فریب کے نتیجہ میں یا اس وقت جب کہ وہ حالت نشہ میں تھا، کیا گیا تھایا\nاس کے لئے کہ وہ ایسے سوالات کے جواب میں کیا گیا تھا، جن کا جواب دینا اس کے لئے ضروری نہ تھا، خواہ ان سوالوں\nکی صورت کچھ بھی رہی ہو، یا اس لیے کہ اسے اس بات سے خبر دار نہیں کیا گیا تھا کہ وہ مذکورہ اقرار کرنے کا پابند نہیں ہے\nاور یہ کہ اس کی شہادت اس کے خلاف گزاری جاسکے گی:\nمگر شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل کے احکام نفاذ حدود سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت میں اطلاق\nپذیر\nنہیں ہوں گے۔\n۴۳۔ ایسے ثابت شدہ اقرار کالحاظ جو اقرار کندہ اور ایسے دیگر افراد پر اثر انداز ہوجن پر ایک ہی جرم کی بناء پر مقدمہ\nچل رہا ہو۔ جب ایک ہی جرم کی بناء پر ایک سے زیادہ اشخاص کی سماعت مقدمہ ایک ساتھ ہواوران میں سے\nایک جرم میں\nکسی ایک شخص کا اقرار ثابت ہو جائے ،۔۔۔\n(الف) مذکورہ اقرار اس شخص کے خلاف ثبوت ہوگا جس نے وہ اقرار کیا ہو؟ اور\n(ب) عدالت مذکورہ اقرار پر مذکورہ دوسرے شخص کے خلاف قرا یمنی شہادت کے طور پر غور کر سکے گی۔\nتشریح جرم میں جس طرح کہ وہ اس آرٹیکل میں استعمال ہوا ہے اعانت جرم یا اقدام\nدو\nارتکاب جرم شامل ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) الف اورب پرج کے قتل عمد کی بناء پر ایک ساتھ مقدمہ چلایا گیا یہ ثابت ہوا کہ الف نے\nکہا تھا کہ \"ب اور میں نے حج کو قتل کیا عدالت ب کے خلاف اس اقرار کے اثر پر غور کر سکتی ہے۔\n\n$44\n(ب) الف پرج کے قتل عمد کی بناء پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس بات کے اظہار کے لیے شہادت موجود ہے کہ\nج، الف اور ب کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ اور یہ کہ ب نے کہا تھا کہ الف اور میں نے ج کو قتل کیا\nعدالت الف کے خلاف اس بیان پر غور نہیں کرسکتی کیونکہ ب پر الف کے ساتھ مقدمہ نہیں چل رہا ہے۔\n۴۴ ملزم اشخاص سوالات جرح کے مستوجب ہوں گے : تمام ملزم اشخاص بشمول شریک جرم سوالات جرح کے\nمستوجب ہوں گے۔\n۴۵- اقبال ثبوت قطعی نہیں ہے مگر امر مانع تقریر مخالف ہو سکتا ہے: اقبالات ایسے امور میں ثبوت قطعی نہیں ہیں\nجن کا اقبال کر لیا گیا ہومگر وہ بعد ازیں مشمولہ احکام کے تحت امر مانع تقریر مخالف ہو سکتے ہیں۔\nان اشخاص کے بیانات جو بحیثیت گواہ طلب نہیں کیے جاسکتے\n۴۶۔ وہ صورتیں جن میں ایسے شخص کی طرف سے واقعہ متعلقہ کا بیان جس کا انتقال ہو چکا ہو یا جول نہ سکتا ہو، وغیرہ،\nواقعہ متعلقہ ہے:۔ واقعات متعلقہ کے تحریری بیانات جو ایسے شخص نے کیے ہوں جس کا انتقال ہو چکا ہو یا جول نہ سکتا ہویا\nجوایسے نے کیے ہوں جس ہوچکا یا نہ\nجو شہادت دینے کے قابل نہ رہا ہو یا جو اس قدر تاخیر یا خرچ کے بغیر حاضر نہ کیا جا سکتا ہو جو حالات مقدمہ کے تحت\nعدالت کو نا مناسب معلوم ہو، مندرجہ ذیل صورتوں میں نفسہ واقعات متعلقہ ہیں:۔\n(1) جبکہ وہ باعث موت سے متعلق ہو۔ ایسی صورتوں میں جن میں مذکورہ شخص کی موت کا باعث\nسال\nزیر بحث ہو، جب مذکورہ بیان کسی شخص نے اپنی موت کے باعث یا اس معاملہ کے حالات میں سے\nکسی کے بارے میں کیا ہو جو اس کی موت پر منتج ہوا ہوں۔ مذکورہ بیانات واقعہ متعلقہ ہیں خواہ بیان\nکنند شخص اس وقت جبکہ مذکورہ بیانات کئے ہیں ہوں گئے ہوں اندیشہ موت میں مبتلا تھایا نہیں ،اور\nخواہ اس کا رروائی کی نوعیت جس میں اس کی موت کا باعث زیر بحث آئے\n، کسی قسم کی بھی ہو۔\n(۲) یا سلسلہ کا روبار میں کیا جائے:۔ جب کہ مذکورہ شخص نے وہ بیان اپنے معمولی سلسلہ کاروبار\nمیں کیا ہو اور بالخصوص جب کہ وہ بیان کسی ایسے اندراج\nیا یادداشت پر مشتمل ہو جسے اس نے بہی کھاتوں\nمیں درج کیا ہو جو وہ اپنے معمولی سلسلہ کاروبار میں یا پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی میں رکھتا ہو؟\nیاز رنقد، مال، کفالت المال یا کسی قسم کی جائداد کی وصولی کی ایسی رسید پر مشتمل ہو جو اس نے لکھی ہو\nیا جس پر اس نے دستخط کیے ہوں، یا تجارت میں استعمال ہونے والی دستاویز پر مشتمل ہو جو اس نے لکھی ہو\nیا جس پر اس نے دستخط کئے ہوں، یا کسی خط یا کسی اور دستاویز کی تاریخ پر مشتمل ہو جس پر حسب معمول\nتاریخ لکھی جاتی ہو جو اس نے لکھی ہو یا جس پر اس نے دستخط کیسے ہوں۔\n\n(۳) یا بیان کنندہ کے مفاد کے خلاف ہو:۔ جب کہ وہ بیان، بیان کنندہ کے مالی یا مالکانہ مفاد کے خلاف\nہو، یا جب کہ درست ہونے کی صورت میں ، وہ اسے مقدمہ فوجداری یا نالش ہرجہ کا مورد ٹھہرائے یا ٹھہراتا۔\n(۴) یا استحاق عامہ یا رسم و رواج، یا مفاد عام کے معاملات کی نسبت اظہار رائے ہو۔\nجب کہ وہ بیان کسی استحقاق عامہ یا رسم و رواج ، یا مفاد عامہ کے معاملات کے وجود کی نسبت کسی مذکورہ\nشخص کی رائے کا اظہار ہو جس کے وجود سے، اگر اس کا وجود ہوتا ، وہ شخص غالباً واقف ہوتا اور جب کہ\nمذکورہ بیان اس استحقاق رسم و رواج یا معاملہ کی نسبت کسی نزاع کے پیدا ہونے سے قبل کیا گیا ہو۔\n(۵) یا رشتہ داری کے وجود سے متعلق ہو:۔ جب کہ وہ بیان کسی ایسی رشتہ داری کے وجود سے متعلق ہو جو\nبذریعه شرکت خون ، ازدواج یا تبنیت ایسے اشخاص کے مابین ہو جن کی رشتہ داری بذریعہ شرکت خون ،\nازدواج یا تبنیت کی نسبت بیان کنندہ کو واقف ہونے کے خاص ذرائع حاصل رہے ہوں اور جب کہ\nبیان زیر بحث امر متنازع فیہ کے پیدا ہونے سے قبل کیا گیا ہو۔\n(1) یا وصیت نامہ میں یا خاندانی امور سے متعلق کسی دستاویز میں کیا گیا ہو ۔ جب کہ وہ بیان\nمتوفی اشخاص کے مابین بذریعہ شرکت خون، ازدواج یا تبنیت رشتہ داری کے وجود سے متعلق ہو اور کسی\nایسے وصیت نامہ یا دستاویز میں درج ہو جو اس خاندان کے امور کے بارے میں ہو جس سے مذکورہ متوفی\nیا دستاویز میں درج ہو\nشخص کا تعلق تھا یا کسی خاندانی نسب نامہ میں یا کسی لوح مزار یا خاندانی تصویر یا دیگر کسی چیز پرتحریر کیا گیا ہو\nا پر عا م ور پر ایسے بیانات کریر سے جاتے ہیں اور جب کہ دورہ بیان زیر جت ام\nپر ایسے بیانات تحریر کئے جاتے ہیں اور جب کہ مذکورہ بیان زیر بحث امر متنازع فیہ کے\nجس\n\nہونے سے قبل کیا گیا ہو۔\n\n(۷) یا ایسی دستاویز میں کیا گیا ہو جو ایک ایسے معاملہ سے متفق ہو جو آرٹیکل ۲۶ کے پیرا (الف) میں\nمذکور ہے۔ جب وہ بیان کسی وثیقہ، وصیت نامہ یا اور کسی دستاویز میں شامل ہو جو کسی ایسے\nمعاملے سے متعلق ہو جو آرٹیکل ۲۶ کے پیرا (الف) میں مذکور ہے۔\n(۸) یا چند اشخاص نے کیا ہو اور اس سے ایسے دلی جذبات کا اظہار ہوتا ہو جو معاملہ متنازع فیہ کی\nنسبت واقعہ متعلقہ ہے:۔ جب وہ بیان چند اشخاص نے کیا ہوا اور اس سے ان کے ایسے\nاحساسات یا خیالات کا اظہار ہوتا ہو جو امر متنازع فیہ کی نسبت واقعہ متعلقہ ہیں۔\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ ب نے الف کے قتل عمد کا ارتکاب کیا یا نہیں، الف ان ضربات سے مرجاتی\nہے جو اسے اس معاملہ میں آئیں جس کے دوران اس کی عصمت دری کی گئی تھی ۔ امر تحقیق طلب\nہے کہ آیاب نے جس کی عصمت دری کی تھی یا نہیں ،یا\nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کوب نے ایسے حالات میں قتل کیا جن میں الف کی\nبیوہ کی طرف سے ب پر مالش ہو سکتی ۔\nایسے بیانات جو اس مردالف یا اس عورت الف نے اپنی موت کے سبب کی نسبت\nعلی الترتیب قتل عمد ، زنا بالجبر اور زیر غور فعل بے جا قابل ارجاع نالش کے متعلق کیے ہیں ، واقعات\n :\nمتعلقہ ہیں۔\n(ب) امر تحقیق طلب الف کی تاریخ پیدائش ہے۔\nایک متوفی سرجن کے ایسے روزنامچے کا ایک اندراج جو وہ اپنے کاروبار کے دوران با قاعدہ رکھا کرتا\nتھا، جس میں لکھا تھا کہ اس نے فلاں روز الف کی والدہ کا معائنہ کیا اور اس کے یہاں وضع حمل میں\nبیٹا پیدا ہوا ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ج) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا (الف) فلاں تاریخ کو پشاور میں تھا یا نہیں۔\n\n( 47\nایک متوفی وکیل کے ایسے روزنامچے میں جو اپنے کاروبار کے دوران با قاعدہ رکھتا تھا، یہ بیان کہ وکیل فلاں روز\nفلاں مقام واقع پشاور میں الف کے پاس مصرحہ کام کے بارے میں مشورہ کی غرض سے گیا تھا، واقعہ متعقلہ ہے۔\n(د) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا ایک جہاز فلاں تاریخ کو کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا یا نہیں۔\nاس تجارتی فرم کے ایک شریک متوفی کی طرف سے جس نے اسے کرایہ پر لیا تھا، لندن میں ان آڑھتیوں\nکے نام جن کے پاس مال بھیجا گیا تھا، مضمون کا خط کہ جہاز مصرحہ تاریخ کو کراچی کی بندرگاہ سے\nروانہ ہوا تھا، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(0) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں اراضی کا لگان الف کو ادا کر دیا گیا تھا یا نہیں ۔\nالف کے متوفی کارندہ کا الف کے نام اس مضمون کا ایک خط کہ اس نے الف کے نام سے لگان\nوصول کیا اور اسے الف کے حکم سے اپنے پاس رکھا ، واقعہ متعلقہ ۔\nہے\n(1) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کی ب کے ساتھ جائز شادی ہوئی یا نہیں۔\nایک متوفی پادری کا یہ بیان کہ اس نے ان کی شادی ایسے حالات میں کی تھی جن میں اس رسم کی ادائیگی جرم\nہوتی ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ز) امر تحقیق طلب یہ ہے\nکہ آیا ایک شخص الف نے جس کا پتا نہیں چل سکا فلاں تاریخ کو ایک خط لکھا تھا\nیا نہیں ۔ یہ واقعہ کہ اس کے لکھے ہوئے خط پر وہی تاریخ ثبت ہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ح) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ فلاں جہاز کی تباہی کا باعث کیا تھا۔ ایک تحریری احتجاج جو اس کے\nکپتان نے کیا ہو، جسے اب حاضر نہیں کیا جا سکتا، واقعہ متعلقہ ہے \n(ط) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا مصرحہ سڑک شارع عام ہے یا نہیں ۔ گاؤں کے ایک متوفی نمبر دارالف\nکا یہ بیان کہ وہ سڑک شارع عام ہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ی) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ مصرحہ تاریخ کو کسی خاص منڈی میں غلہ کا نرخ کیا تھا۔ ایک متوفی بننے کا\nایک ایسا بیان جو اس نے نرخ کی بابت اپنے معمولی کا روبار کے دوران دیا تھا، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ک) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف جو فوت ہو چکا ہے، ب کا والد تھایا نہیں ۔\nالف کا یہ بیان کہ ب اس کا بیٹا ہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ل) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ الف کی ولادت کی تاریخ کیا تھی۔\nالف کے متوفی والد کا ایک خط جس میں اس نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا کہ الف فلاں تاریخ کو\nپیدا ہوا ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n\n(م) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف اور ب کی شادی ہوئی یا نہیں اور تو کب ہوئی۔\nب کے متوفی والدج کا اپنی یا داست کی کتاب میں ایک مصرحہ تاریخ کوالف کے ساتھ اپنی بیٹی کی\nشادی کے بارے میں اندراج، واقعہ متعلقہ ہے۔\n(ن) الف نے بے پر ایک ایسی توہین آمیز تحریر کی نالش کی جو ایک ایسی مضحک تصویر کی صورت میں ہے جو\nایک دکان کی کھڑکی میں رکھی ہوئی ہے ۔ امر تحقیق طلب مضحک تصویر کی مشابہت اور اس کا\nتوہین آمیز ہونا ہے۔ ان امور کی نسبت تماشائیوں کے ہجوم آراء بطور ثبوت پیش کی جاسکتی ہیں۔\n٤٦ الف - خود کار انفارمیشن سسٹم کے ذریعے پیدا کرده ، وصول کردہ یا ریکارڈ کردہ معلومات کا واقعہ\nمتعلقہ ہونا:۔\nالیکٹرانک دستان میں خود کار انفارمین سٹور سے پیدا کرده، وصول کردہ یا\nکی\nریکارڈ کردہ بیانات جبکہ وہ درست حالت میں ہو، متعلقہ حقائق ہیں۔\n۴۷۔ کسی مابعد کارروائی میں بعض شہادت کا اس میں بیان شدہ واقعات کی صحت ثابت کرنے کے لیے\nمتعلق ہونا:۔ وہ شہادت جو کسی گواہ نے کسی عدالت کارروائی میں یا کسی ایسے شخص کے روبرو جسے اس شہادت کے\nیا\nلینے کا از روئے قانون اختیار ہو، دی ہو، بعد کی کسی عدالتی کارروائی میں یا اسی عدالتی کارروائی کے کسی بعد کے مرحلہ میں\nان واقعات کی صحت ثابت کرنے کے لیے جو اس میں بیان کیے گئے ہوں، واقعہ متعلقہ ہے جب کہ گواہ کا انتقال ہو چکا\nہو یا وہ مل نہ سکتا ہو یا شہادت دینے کے قابل نہ ہو یا فریق مخالف نے اسے دور رکھا ہو یا اگر اس کا حاضر کرنا ایسی تاخیر یا\nخرچ کے بغیر مکن نہ ہوجو حالات مقدمہ کے پیش نظر عدالت کی رائے میں نامناسب ہو۔\nمگر شرط یہ ہے کہ۔۔۔۔\nکارروائی انہی فریقین یا ان کے قائم مقامان مفاد کے مابین ہو؛\n\nپہلی کارروائی میں فریق مخالف کو جرح کرنے کا استحقاق اور موقع حاصل رہا ہو ؟\nتشریح:۔\nفوجداری مقدمہ کی سماعت یا تحقیقات اس آرٹیکل کے مفہوم میں مدعی اور مدعا علیہ کے\nما بین کارروائی متصور ہوگی۔\nآرڈینینس نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۲ ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے شامل کیا گیا۔\n\nوہ بیانات جو خاص حالات میں دیئے جائیں\n۴۸۔ بہی کھاتوں کے اندراجات کب واقعہ متعلقہ ہوتے ہیں:۔ ان بہی کھاتوں کے اندراجات جو\nکاروبار کے دوران باقاعدہ مرتب رہتے ہوں ، واقعہ متعلقہ ہیں جب وہ کسی ایسے معاملہ سے متعلق ہوں جس کی تحقیقات\nعدالت کو کرنی ہو ، مگر محض مذکورہ بیانات ہی کسی شخص پر ذمہ داری عائد کرنے کے لیے ثبوت کافی نہیں ہوں گے ۔\nتمثیل\nالف نے ب پر ۱۰۰۰ روپے کی نالش کی اور اپنے بہی کھاتوں کے ایسے اندراجات دکھائے جن سے یہ ظاہر ہوتا\nہے کہ ب اس کا اتنے روپے کا مقروض ہے۔ یہ اندراجات واقعہ متعلقہ ہیں مگر کسی دوسری شہادت کے بغیر قرض ثابت\nکرنے کے لیے ثبوت کافی نہیں ہیں ۔\n۴۹ سرکاری ریکارڈ میں اس اندراج کا متعلق ہونا جوفرائض منصبی کی انجام دہی میں کیا جائے : وہ اندراج نفسم\nواقعہ متعلقہ ہے جو کسی سرکاری یا دیگر دفتر سے متعلق کتاب، رجسٹر یا ریکارڈ میں کوئی واقعہ تنقیح طلب یا واقعہ متعلقہ بیان کرتے\nہوئے کیا گیا ہو اور کسی سرکاری ملازم نے اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں یا کسی دوسرے شخص نے اس فرض کی تعمیل\nمیں کیا ہو جس کے لیے اس ملک کے قانون کی رو سے جس میں مذکورہ کتاب، رجسٹر یا ریکارڈ مرتب رہتا ہو، خصوصی طور\nپر حکم دیا گیا ہو۔\n۵۰۔ ایسے بیانات کا متعلق ہونا نقشوں ، چارٹوں اور خاکوں میں کیے جائیں ۔ واقعات تنقیح طلب\nیا واقعات متعلقہ کے بیانات، جوان شائع شدہ نقشوں یا چارٹوں میں کئے جائیں جو عموماً عام فروخت کے لیے پیش کیے\nجاتے ہیں یا جو ان نقشہ جات یا خاکہ جات میں کیے جائیں جو وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کے حکم سے تیار ہوتے\nہیں ، ان امور کی نسبت جو معمولاً مذکورہ نقشوں ، چارٹوں یا خاکوں میں ظاہر یا بیان کیے جاتے ہیں ، خود واقعات متعلقہ\nہیں۔\nايمار\n۵۱۔ بعض ایکٹوں یا اعلانات میں شامل عام نوعیت کے واقعہ کے بیان کا متعلق ہونا :۔ جب عدالت کو کسی\nعام نوعیت کے واقعہ کے وجود کی بابت رائے قائم کرنی ہو تو اس کا کوئی بیان ، جو مرکزی مقننہ کے ایکٹ\n\nیا پاکستان میں کسی دیگر بیئت قانون ساز کے ایکٹ میں شامل کسی تمہیدی بیان میں یا حکومت کے کسی ایسے اعلان میں کیا\nگیا ہو جوسر کاری جریدہ میں شائع ہوا ہو، واقعہ متعلقہ ہے۔\n۵۲ قانون کی کتابوں میں درج کسی قانون کے بارے میں بیانات کا متعلق ہونا:۔ جب عدالت کو کسی ملک\nکے قانون کے بارے میں رائے قائم کرنی ہو تو مذکورہ قانون کا کوئی بیان جو کسی ایسی کتاب میں درج ہو جس سے یہ\nمترشح ہوتا ہو کہ وہ مذکورہ ملک کی حکومت کے اختیار کے تحت طبع یا شائع ہوئی ہے اور کسی مذکورہ قانون پر مشتمل ہے اور\nمذکورہ ملک کی عدالتوں کے ایسے فیصلے کی کوئی رپورٹ ، جو ایسی کتاب میں درج ہو جس سے مترشح ہوتا ہو کہ وہ مذکورہ\nفیصلہ جات کی رپورٹ ہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\nبیان کا کس قدر حصہ ثابت کرنا چاہیئے\n۵۳۔ جب بیان کسی گفتگو ، دستاویز، کتاب یا سلسلہ وار خطوط یا کاغذات کا جزو ہو تو کس قدر شہادت گزاری\nجائے گی۔ جب کوئی بیان جس کی نسبت شہادت پیش کی گئی ہو، کسی طویل بیان یا کسی گفتگو یا ایک علیحدہ دستاویز\nکا جزو ہو یا اس دستاویز میں شامل ہو جو کسی کتاب یا خطوط یا کا غذات کے مربوط سلسلہ کا جزو ہو، تو شہادت اس بیان ، گفتگو ،\nدستاویز، کتاب یا خطوط یا کاغذات کے سلسلے کے صرف اس تک کا اس سے زیادہ کی نسبت نہیں گزاری جائے\nگی جس قدر کہ عدالت اس خاص مقدمہ میں مذکوہ بیان کی نوعیت اور تا شیر اور وہ حالات جن میں وہ\nکیا گیا تھا، کما حقہ دریافت کرنے کی غرض سے ضروری سمجھے \nعدالت ہائے انصاف کے فیصلے کس وقت واقعات متعلقہ ہوتے ہیں\n-۵۴ سابقہ فیصلہ جات کسی نالش یا سماعت ثانی کے ممنوع السماعت کر دینے میں واقعات متعلقہ ہیں: کسی\nایسے فیصلہ حکم یا ڈگری کا وجود جو قانون کی رو سے کسی عدالت کے کسی نالش کی سماعت کرنے یا انعقاد سماعت میں مانع ہو\n، اس واقعہ متعلقہ ہے جب کہ امر تحقیق طلب یہ ہو کہ آیا مذکورہ عدالت کو اس نالش کی سماعت کرنا یا مذکورہ سماعت کا انعقاد\nعمل میں لانا چاہیے یا نہیں۔\n\n۵۵۔ بعض فیصلہ جات کا متعلق ہونا جو اختیار سند صداقت وغیرہ کی تعمیل میں صادر ہوں۔ وہ قطعی فیصلہ، حکم یا\nڈگری جو کسی عدالت مجاز نے اختیار صیغه سند وصیت، ازدواج، بحریہ یا دیوالیہ استعمال کرتے ہوئے صادر کی ہو ، جو کسی\nخاص شخص کے خلاف نہیں بلکہ مطلقاً کسی شخص کوکوئی حیثیت قانونی عطا کرتی ہو یا اس سے محروم کرتی ہو یا جوکسی شخص کو کسی\nمذکوہ حیثیت کا مستحق قرار دیتی ہو یا کسی مصرحہ شئے کا مستحق قرار دیتی ہو اس وقت واقعہ متعلقہ ہے جب کہ کسی مذکوہ\nحیثیت قانونی کا وجود یا کسی مذکورہ شخص کی کسی مذکورہ شئے کی نسبت حقیت، واقعہ متعلقہ ہو۔\n**\nمذکورہ فیصلہ حکم یا ڈگری ان باتوں کا ثبوت قطعی ہے۔\nکہ کوئی حیثیت قانونی جو اس کی رو سے عطا کی گئی ہے مذکورہ فیصلہ حکم یاڈگری کے نافذ العمل ہونے کے وقت\nحاصل ہوئی ؛\nکوئی کاکوئی اسکی رویے دیا\nکہ کوئی حیثیت قانونی جس کا کوئی مذکورہ شخص اس کی رو سے ستحق قرار دیا گیا ہو، اس شخص کو اس وقت حاصل\nہوئی جب مذکورہ فیصلہ حکم یا ڈگری کی روسے اس کا اس شخص کو حاصل ہونا قرار پائے ؟\nکہ کوئی حیثیت قانونی جس سے مذکورہ شخص اس کی رو سے محروم کر دیا گیا ہو اس وقت موقوف ہوئی جس وقت\nسے مذکورہ فیصلہ، حکم یاڈگری کی رو سے قرار پایا کہ وہ حیثیت موقوف ہوگئی ہے یا موقوف ہونی چاہیے؟\nاور یہ کہ کوئی شے جس کا کوئی شخص اس کی رو سے بایں طور مستحق قرار دیا گیا ہو اس وقت سے مذکورہ شخص کی\nملکیت ہوئی جس وقت سے مذکورہ فیصلے حکم یا ڈگری کی رو سے قرار پایا کہ مذکورہ شے اس شخص کی ملکیت تھی یا ملکیت\nہونی چاہیئے ۔\n\n۵۶۔ ان فیصلہ جات ، احکام اگر اس سے تعلق اور اثر جوان کے علاوہ ہوں جن کا ذکر آرئیل ۵۵ میں ہے:۔\nفیصلہ جات، احکام یا ڈگریاں جو ان کے علاوہ ہوں جن کا ذکر آرٹیکل ۵۵ میں کیا گیا ہے ، واقعہ متعلقہ ہیں اگر ان کا تعلق\nعام نوعیت کے ایسے امور سے ہو جو تحقیقات سے متعلق ہوں، مگر مذکورہ فیصلہ جات، احکام یا ڈگریاں ان امور کے ثبوت\nقطعی نہیں ہیں جو ان میں مذکور ہوں ۔\nتمثیلیں\nالف نے سب کے خلاف اپنی زمین میں مداخلت بے جا کرنے پر نالش کی ہے ، ب اس\nکی زمین پر عام حق راہ\nگزار کے وجود کی دلیل پیش کرتا ہے، جس سے الف انکار کرتا ہے۔\n\nاس ڈگری کی موجودگی میں جو مدعا علیہ کے حق میں اس نالش میں صادر ہوئی ہو جو الف نے ج کے خلاف\nمداخلت بے جاپر کی تھی اور جن میں ج نے ویسے ہی حق راہ گزر کے وجود کی دلیل پیش کی تھی، واقعہ متعلقہ ہے مگر یہ اس\nبات کا ثبوت قطعی نہیں ہے کہ حق راہ گزر موجود ہے۔\n۵۷۔ فیصلہ جات وغیرہ جوان کے علاوہ ہوں جن کا ذکر آرٹیکل ۵۴ تا ۶ ۵ میں ہے، کب واقعات متعلقہ ہیں:۔\nفیصلہ جات، احکام یا ڈگریاں ، جو ان کے علاوہ ہوں جن کا ذکر آرٹیکل ۵۵٬۵۴ اور ۵۶ میں کیا گیا ہے،\nواقعات غیر متعلقہ ہیں تا وقتیکہ مذکورہ فیصلہ حکم یا ڈگری کا وجود واقعہ نقیح طلب نہ ہو یا اس فرمان کے کسی اور حکم کے تحت\nواقعہ متعلقہ نہ ہو۔\nتمثیلیں\n(الف) الف اور ب نے ایک تہمت آمیز تحریر کی نسبت جو ان میں سے ہر ایک پر عائد ہوتی ہے ج کے\nخلاف الگ الگ نالش دائر کی ، ج ہر مقدمہ میں یہی کہتا ہے کہ مظہرہ تہمت آمیز بات درست ہے\nاور حالات ایسے ہیں کہ یہ بات غالبا دونوں میں سے ہر ایک مقدمہ میں صیح ہے، یاکسی میں بھی نہیں۔\nالف نے ج کے خلاف ہرجہ کی ایک ڈگری اس بنیاد پر حاصل کی کہ ج اپنی حرکات کا جواز ثابت نہ کر\nسکا۔ یہ واقعات ب اور ج کے مابین واقعہ غیر متعلقہ ہے۔\n(ب) الف نے بے پر اس بنا پر نالش کی کہ اس نے الف کی زوجہ ج سے زنا کیا۔ ب کہتا ہے کہ ج ، الف کی\nزوجہ نہیں ہے، مگر عدالت نے سب کو زنا کا ملزم ٹھہرایا۔\nبعد ازیں ج کے خلاف نالش کی گئی کہ اس نے الف کی زندگی ہی میں سب سے نکاح کر لیا۔\nج کہتی ہے کہ وہ کبھی الف کی زوجہ نہیں تھی ۔\nوہ فیصلہ جوب کے خلاف صادر ہوا تھاج کے خلاف واقعہ غیر متعلقہ ہے۔\n(ج) الف نے سب کے خلاف اس کے قبضہ سے گائے چرانے کی بناء پر نالش کی۔ب سزایاب ہوا۔\nبعد از میں الف نے ج پر اسی گائے کی بابت جوب نے اپنی سزایابی سے قبل ج کے ہاتھ بیچ ڈالی تھی\nنالش کی۔ وہ فیصلہ جوب کے خلاف صادر ہوا تھا الف اور ج کے مابین واقعہ متعلقہ ہے۔\n(د) الف نے ب کے خلاف قبضہ اراضی کی ڈگری حاصل کی ۔ اس کے نتیجے میں ب کے بیٹے ج نے\nالف کو قتل کر دیا۔\n\nاس فیصلے کا وجود واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے جرم کی وجہ تحریک ظاہر ہوتی ہے۔\n(0) الف پر سرقہ کا الزام لگایا گیا اور یہ کہ وہ پہلے بھی سرقہ کی بنا پر سزایاب ہو چکا ہے۔ سابقہ سزایابی\nبطور واقعہ تنقیح طلب واقعہ متعلقہ ہے۔\n(1) الف پر ب کے قتل عمد کی بنا پر مقدمہ چلایا گیا یہ واقعہ ک ب نے الف پر ایک تہمت آمیز تحریر کی بابت\nنالش کی تھی اور یہ کہ الف مجرم قرار پایا تھا اور اس کے خلاف حکم سزا صادر ہوا تھا، آرٹیکل ۲۲ کے تحت\nواقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے واقعہ تنقیح طلب کی وجہ تحریک ظاہر ہوتی ہے۔\n۵۸۔ فریب یا سازش سے فیصلہ کا حاصل کرنا یا عدالت کا عدم اختیار کیا جاسکتا ہے:۔ کسی نالش یا دیگر قانونی\nکارروائی کا کوئی فریق یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ کوئی فیصلہ حکم یا ڈگری جو آرٹیکل ۵۵٬۵۴ یا ۵۶ کے تحت واقعہ متعلقہ ہے اور\nجسے فریق مخالف ثابت کر چکا ہے، ایک ایسی عدالت نے صادر کی تھی جس کو اس کے صادر کرنے کا اختیار نہ تھا یا وہ فریب\nیا سازش سے حاصل کی گئی تھی۔\nاشخاص ثالث کی آرا کب واقعہ متعلقہ ہیں۔\n۵۹۔ ماہرین کی آراء:۔ جب عدالت کو سی غیر ملکی قانون یا سائنس ، یا آرٹ یا بم ڈسپوزل] کے مسئلہ پر یا خط\nتحریر یا نشانات انگشت کی شناخت سے آیا جیسا کہ انفارمیشن سسٹم سے یا اس کے ذریعے سے وضع کردہ الیکٹرانک\nسٹم سے\nدستاویزات کی صداقت اور کلیت کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنی ہو تو اس مسئلہ میران اشخاص کی آراء جو مذکورہ\nغیر ملکی قانون ، سائکس یا آرٹ یا بم ڈسپوزل ] میں یا خط تحریر کی شناخت یا نشانات انگشت سے متعلق سوالات میں\nریا\nخاص مہارت رکھتے ہوں یا جیسا کہ انفارمیشن سسٹمز کے افعال، تفصیلات، پروگرامنگ اور آپریشن، واقعات متعلقہ ہیں]۔\nایسے اشخاص ماہرین کہلاتے ہیں۔\nایکٹ نمبر ۳۹ بابت ۲۰۲۳ ء کی دفعہ کی رُو سے شامل کیا گیا۔\nآرڈنینس نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۲ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے شامل اور تبدیل کیے گئے ۔\n\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کی موت زہر دینے کے باعث واقع ہوئی یا نہیں۔\nاس زہر کی علامات کی نسبت جس سے الف کا ہلاک ہونا متصور کیا جاتا ہے ۔ ماہرین کی آراء،\nواقعات متعلقہ ہیں۔\n(ب) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ جب الف نے فلاں فعل کیا تھا۔ تو آیا وہ فنتور عقل کے باعث مذکورہ فعل کی\nنوعیت یا اس امر کے جاننے کی صلاحیت رکھتا تھایا نہیں کہ جو فعل وہ کر رہا ہے وہ یا تو بے جا ہے یا\nخلاف قانون ۔\nاس امر کی نسبت ماہرین کی آراء کہ آیا وہ علامات جو الف سے ظاہر ہوئیں معمولاً فتور عقل کی ہوتی\nہیں یا نہیں اور آیا مد و کر وفتور عقل سے لوگ اکثر اس بات کے جاننے کے ناقابل ہو جاتے ہیں کہ ان\nسے سرزد ہونے والے افعال کس نوعیت کے ہیں یا یہ کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں یا تو بے جا ہے یا خلاف\nیہ\nقانون، واقعہ متعلقہ ہیں۔\n(ج) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں دستاویز الف کی لکھی ہوئی ہے یا نہیں ۔ ایک دوسری دستاویز پیش کی\nگئی ہے جسے الف کی تحریر کردہ ثابت یا تسلیم کیا گیا ہے۔\nاس سوال کے بارے میں ماہرین کی آراء کہ آیا دونوں دستاویزات ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں یا\nالگ الگ اشخاص کی ، واقعہ متعلقہ ہیں۔\n۶۰۔ ماہرین کی آراء سے نسبت رکھنے والے واقعات واقعات و اصل واقعات ، جو بصورت دیگر واقعات متعلقہ نہ ، جو بصورت و دیگر واقعات متعلقہ نہ\nہوں ، واقعات متعلقہ ہیں۔ اگر وہ ماہرین کی آراء کی جب کہ مذکورہ آراء واقعات متعلقہ ہوں ، تائید کرتے ہوں یا ان\nکے متناقص ہوں ۔\nتمثیلیں\n(الف) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف کو فلاں زہر دیا گیا یا نہیں یہ واقعہ کہ دیگر اشخاص میں جن کو ویساہی\nزہر دیا گیا تھا، ایسی علامتیں ظاہر ہوئی تھیں جن کو ماہرین اس زہر کی علامتیں کہتے یا نہیں کہتے ہیں،\nواقعہ متعلقہ ہے۔\n(ب) امر تحقیق یہ ہے کہ آیا فلاں بندرگاہ میں فلاں سمندری پشتہ کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔\nیه واقعه که دیگر بندرگاہوں میں جو اور لحاظ سے اسی طرح واقع ہیں ،مگر جہاں ویسے سمندری پشتے نہیں\nہیں، قریب قریب اسی وقت رکاوٹ پیدا ہونے لگی، واقعہ متعلقہ ہے۔\n\n۶۱۔ خط تحریر سے متعلق رائے کب واقعہ متعلقہ ہے:۔ جب عدالت کو یہ رائے قائم کرنی ہو کہ کوئی\nدستاویز کس شخص کی لکھی ہوئی یا دستخط کی ہوئی ہے، تو کسی ایسے شخص کی رائے جو اس شخص کا خط تحریر پہچانتا ہو جو اس کا تحریر\nکنندہ خیال کیا جاتا ہے، کہ یہ مذکورہ شخص کی تحریر شدہ ہے یا نہیں ، واقعہ متعلقہ ہے۔\nتشریح: کوئی شخص دوسرے کا خط تحریر پہچاننے والا کہلاتا ہے جبکہ اس نے مذکورہ شخص کو لکھتے ہوئے دیکھا ہویا\nجبکہ اس نے ایسی دستاویزات وصول کی ہوں جن سے یہ مترشح ہوتا ہو کہ مذکورہ شخص کے نام بھیجی ہیں یا جب کہ اس کے\nروبرو کا روبار کے عام معمول میں ایسی دستاویزات معمولاً پیش ہوتی رہی ہوں جن سے مترشح ہوتا ہو کہ مذکورہ شخص کے\nہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں ۔\nتمثیلیں\nامر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا ایک مصرحہ خط لندن کے ایک تاجر الف کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے یا نہیں۔\nب پشاور کا ایک تاجر ہے ، جس نے الف کے نام خطوط لکھے ہیں اور جواب میں ایسے خطوط وصول کیے ہیں\nجن سے مترشح ہوتا ہے کہ اس کے لکھے ہوئے ہیں۔ ج ، ب کا کلرک ہے جس کا کام یہ تھا کہ وہب کے خطوط دیکھ کر تھی\n\nکر دیا کرے ۔ د، ب کا دلال ہے جس کو ب اس بارے میں اس سے مشورہ لینے کے لیے معمولاً وہ خطوط دکھایا کرتا تھا\nجن سے مترشح ہوتا تھا کہ الف کے لکھے ہوئے ہیں۔\nاس امر تحقیق طلب کے بارے میں کہ آیا مذکورہ خط الف\nکی تحریر میں ہے یا نہیں ب ، ج ، اور دکی آراء واقعہ\nمتعلقہ ہیں، اگر چوب، ج یا دانے الف کو کبھی خط لکھتے ہوئے نہیں \n۶۲- حق یا رواج کے وجود کے بارے میں رائے کب واقعہ متعلقہ ہے:۔ جب عدالت کو کسی عام\nرواج یا حق کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنی ہو تو مذکورہ رواج یا حق کے وجود کے بارے میں ان اشخاص کی\nآراء جو، اگر اس کا وجود ہوتا تو غالباً اسکے وجود سے واقف ہوتے ، واقعہ متعلقہ ہیں۔\n\nتشریح:- عبارت عام رواج یا حق میں وہ رواج یا حقوق شامل ہیں جو اشخاص کے کسی کثیر التعداد طبقہ میں\nجاری ہوں۔\nتمثیل\nکسی خاص گاؤں کے رہنے والوں کا کسی خاص کنویں کا پانی استعمال کرنے کا حق اس آرٹیکل کے مفہوم میں\nایک عام حق ہے۔\n۶۳۔ معمولات، عقائد وغیرہ کی نسبت رائے کب واقعہ متعلقہ ہے:۔ جب عدالت کو حسب ذیل کی نسبت\nرائے قائم کرنی ہو ۔۔۔۔۔\nرائے کے واقع\nاشخاص کی کسی جماعت یا خاندان کے معمولات اور عقائد،\nکسی مذہبی یا خیراتی ادارہ کی ترکیب اور اس کا انتظام ، یا\nان الفاظ یا اصطلاحات کے معنی جو خاص اضلاع یا لوگوں کے خاص طبقات میں مستعمل ہوں،\nتو ان اشخاص کی آراء جوان امور سے واقف ہونے کے خاص ذرائع رکھتے ہوں، واقعات متعلقہ ہیں۔\n۶۴ واقعہ ہے۔ قرابت داری کی نسبت رائے کب واقعہ متعلقہ ہے :۔ جب عدالت کو ایک شخص کی دوسرے شخص سے\nقرابت داری کی نسبت رائے قائم کرنی ہو تو وہ رائے جو مذکورہ قربت داری کے وجود کی بابت کسی خاندان کا فرد ہونے\nکی حیثیت سے یا بصورت دیگر ، اس موضوع سے واقف ہونے کے خاص ذرائع رکھتا ہو ، واقعہ متعلقہ ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ رائے قانون طلاق نمبر ۴ بابت ۱۸۶۹ء) کے تحت مقدمات میں یا\nمجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی دفعات ۴۹۴ یا ۴۹۵ کے تحت قانونی کارروائیوں میں شادی\nکے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہوگی۔\nتمثیلیں\n(الف) ام مر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف اور ب کی شادی ہوئی تھی یا نہیں یہ واقعہ کہ ان کے دوست ان کو\nشوہر اور بیوی سمجھ کر ان سے عموماً ملا کرتے تھے اور ایسا ہی برتاؤ کرتے تھے ، واقعہ متعلقہ ہے۔\n\n(ب) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف، ب\nکا جائز بیٹا ہے یا نہیں ۔ یہ واقعہ کہ اس خاندان کے لوگ ہمیشہ\nاس کے ساتھ جائز لڑکے ایسا برتاؤ کرتے تھے ، واقعہ متعلقہ ۔ ہے۔\n۶۵ ۔ رائے کی وجوہات کب واقعہ متعلقہ ہیں :۔ جب کسی زندہ شخص کی رائے واقعہ متعلقہ ہو تو وہ وجوہ بھی ہیں:۔\nجن پر مذکورہ رائے بنی ہو، واقعہ متعلقہ ہیں۔\n\nتمثیل\nکوئی ماہر شخص ان تجربات کی کیفیت بتا سکتا ہے جو اس نے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے کیے ہوں۔\nدیوانی مقدمات میں منسوب شدہ فعل ثابت کرنے کے لیے چال چلن واقعہ متعلقہ نہیں ہے ۔ دیوانی\nہ\nمقدمات میں یہ واقعہ کہ کسی متعلقہ شخص کا چال چلن ایسا ہے کہ اس سے اس فعل کا صاور ہونا جو اس سے منسوب کیا جاتا\nہے اغلب ہے یا غیر اغلب ہے، واقعہ متعلقہ نہیں ہے ماسوائے جبکہ مذکورہ چال چلن ان واقعات سے ظاہر ہو جو بصورت\nدیگر واقعات متعلقہ ہوں۔\n\n-۶۷ فوجداری مقدمات میں سابقہ نیک چال چلن واقعہ متعلقہ ہے:۔ فوجداری مقدمات میں یہ واقعہ کہ ملزم\nشخص کا چال چلن نیک ہے، واقعہ متعلقہ ہے۔\n۔ ماسوائے جواب میں سابقہ بد چلنی واقعہ متعلقہ نہیں ہے :۔ فوجداری مقدمات میں یہ واقعہ کہ ملزم می\nچال چلن خراب ہے واقعہ معلقہ نہیںہے تاوقتیکہ یہ شہادت نہ گزاری گئی ہو کہ اس کا چال چلن اچھا ہے، جس صورت میں\nشخص کا\nیہ واقعہ متعلقہ ہو جاتا ہے۔\nتشریح : اس آرٹیکل کا اطلاق ان مقدمات پر نہیں ہوتا جن میں کسی شخص کا خراب چال چلن ، نفسم\nاقعہ منفیح طلب ہو۔\nتشریح ۲: سابقہ سزایابی خراب چال چلن کی شہادت کے طور پر واقعہ متعلقہ ہے۔\n\nچال چلن زرہرجہ دلانے میں مؤثر ہے: دیوانی مقدمات میں یہ واقعہ کہ کسی شخص کا چال چلن ایسا\nہے کہ زرہرجہ کی اس رقم پر اثر انداز ہو جو ا سے ملنی چاہیے، واقعہ متعلقہ ہے۔\nتشریح۔ آرٹیکل ۶۶، ۶۷، ۶۸ اور ۶۹ میں لفظ ” چال چلن میں نیک نامی یا بد نامی اور افتاد مزاج دونوں\nشامل ہیں لیکن ماسوائے اس صورت کے جو آرٹیکل ۶۸ میں مذکور ہے ، شہادت محض عام نیک نامی یابد نامی اور عام افتاد\nمزاج کی نسبت ہی دی جاسکتی ہے، اور ان خاص افعال کی نسبت نہیں جن سے نیک نامی یا بدنامی یا افتاد مزاج کا اظہار\nہوتا تھا۔\nایمان\n\nچوتھا باب\nزبانی شہادت کے بارے میں\n۷۰۔ زبانی شہادت کے ذریعے واقعات کا ثبوت مشمولات دستاویزات کے سوا تمام واقعات ، زبانی\nشہادت کے ذریعے ثابت کیے جاسکتے ہیں۔\nا۔ زبانی شہادت کا بلا واسطہ ہونا ضروری ہے زبانی شہادت کا، تمام صورتوں میں ، خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو\nبلا واسطہ ہونا ضروری ہے، یعنی:۔\nاگر وہ کسی ایسے واقعہ کی بابت ہو جس کا دیکھنا ممکن ہے، تو ایسے گواہ کی شہادت ہونی چاہیے جو یہ کہے کہ اس نے\nاسے اپنی آنکھوں سے دیکھا؟\n\nاگر وہ کسی ایسے واقعہ کی بابت ہو جس کا سٹنا ممکن ہے، تو ایسے گواہ کی شہادت ہونی چاہیے جو یہ کہے کہ اس نے\nاسے اپنے کانوں سے سنا؛\nاگر وہ کسی ایسے واقعہ کی بابت ہو جو کسی اور قوت حسی سے یا کسی دیگر طریقے سے محسوس ہوسکتا ہو، تو ایسے گواہ کی\nاگروہ\n \nشہادت ہونی چاہیے جو یہ کہے کہ اس نے اسے اس قوت حسی کے ذریعے سے یا اس طریقے سے محسوس کیا ؟\nاگر وہ کسی رائے یا ان وجوہات کی بابت ہو جن کی بناء پر مذکورہ رائے قائم کی گئی ہو، تو ایسے گواہ کی شہادت ہونی\nچاہیے جو ان وجوہات کی بناء پر مذکورہ رائے رکھتا ہو:\nمگر شرط یہ ہے کہ ماہرین کی آراء جو کسی ایسے رسالہ میں ظاہر کی گئی ہوں جو عام طور پر فروخت ہوتا ہو اور وہ\nوجوہات جن پر مذکورہ آرا پینی ہوں ، مذکورہ رسالہ پیش کر کے ثابت کی جاسکتی ہوں، اگر مصنف کا انتقال ہو چکا ہو یا مل نہ\nسکتا ہو یا شہادت دینے کے قابل نہ رہا ہو یا اس قدر تاخیر یا خرچ کے بغیر جو عدالت کی دانست میں نامناسب ہو، گوائی\nدینے کے لئے طلب نہ کیا جا سکتا ہو:\n\n+60 +\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر زبانی شہادت دستاویز کے علاوہ کسی مادی شے کے وجو دیا اس کی حالت کی بابت ہو ، تو\nعدالت، اگر وہ مناسب سمجھے، مذکورہ ماڑی شے کو ملاخطہ کے لیے پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے:\nمزید شرط یہ ہے کہ اگر گواہ وفات پاچکا ہو، یا دستیاب نہ ہو سکتا ہو، یا شہادت دینے کے قابل نہ رہا ہو یا اس قدر\nتاخیر یا خرچ کے بغیر جو حالات کے تحت عدالت کے خیال میں نامناسب ہو ، پیش نہ کیا جا سکتا ہو، تو فریق کو اس بات کا\nحق حاصل ہوگا کہ حدود کے مقدمہ کے ماسواء ”شہادت علی الشہا دتہ پیش کرے جس کے ذریعے گواہ اپنی طرف سے\nشہادت دینے کے لیے دو گواہوں کو مقرر کر سکتا ہے۔\nپانچواں باب\nدستاویزی شہادت کے بارے میں\n۷۲۔ مشمولات دستاویزات کا ثبوت مشمولات دستاویزات شہادت اصلی یا شہادت منقولی کے ذریعے\nثابت کیے جاسکتے ہیں۔\n\n۷۳۔ شہادت اصلی: ”شہادت اصلی سے وہ اصل دستاویز مراد ہے جوعدالت کے ملاحظہ کے لیے پیش کی\nجائے۔\nايمار\nتشریح ا۔ کسی دستاویز کی تکمیل کئی حصوں میں ہو تو ہر حصہ دستاویز کی شہادت اصلی ہے۔\nجب دستاو پرانی کی صور میں تشکیل پانی ہواور ہرنی کی فریقین میں سے ایک یا چھ انا تحمیل کریں تو ہرتی اسکی\nتکمیل کرنے والے اشخاص کے خلاف شہادت اصلی ہے۔\nشنی\nتشریح ۲: جب چند دستاویزات یکساں طریقہ پر تیار ہوں، مثلاً چھاپے ہنگی چھاپے یا عکسی تصویر کی\nصورت میں، تو ہر ایک باقی دستاویزات کے مشمولات کی نسبت شہادت اصلی ہے ، مگر جب وہ تمام ایک ہی اصل کی\nنقلیں ہوں تو وہ اصل کے مشمولات کی نسبت شہادت اصلی نہیں ہیں۔\n\nتشریح خود کار انفارمیشن نظام کا پرنٹ آؤٹ یا مطبوعہ نقل کی کوئی دیگر صورت محض اس بناء پر\nابتدائی شہادت کی حیثیت کو رد نہیں کر سکتی کہ اسے پیدا کیا گیا تھا، بھیجا گیا تھا، وصول کیا گیا تھا یا الیکٹرانک صورت\nمیں ذخیرہ کیا گیا تھا اگر خود کار انفارمیشن کا نظام تمام اہم اوقات میں درست حالت میں تھا، اور اس کی اغراض کے\nلیے، اس کے برعکس شہادت کی عدم موجودگی میں، یہ قیاس کیا جائے گا کہ خود کار انفارمیشن سسٹم تمام اہم اوقات میں\nدرست حالت میں تھا۔\n:\nتشریح ۴ الیکٹرانک دستاویز کا پرنٹ آؤٹ یا باز تخلیق کی کوئی بھی دوسری صورت ، علاوہ ازیں\nاس دستاویز کے جو بالا تشریح ۳ میں بیان کی گئی ہے، الیکٹرانک صورت میں پہلی پیدا کردہ بھیجی گئی یا الیکٹرانک\nصورت میں ذخیرہ کردہ کو ابتدائی شہادت کے طور پر لیا جائے گا جہاں اس پر جس وقت کہ وہ پیدا کی گئی ، وصول کی\nگئی یا ذخیرہ کی گئی سکیورٹی طریقہ کار کا اطلاق ہوگا ۔\nتمثیل\nیہ ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص کے قبضہ میں چند اشتہارات تھے جو ایک ہی اصل سے ایک ہی وقت میں چھپوائے\nگئ تھی ۔ مذکورہ اشتہارات میں سے کوئی ایک کسی دوسرے کے مشمولات کی نسبت شہادت اصلی ہے مگر ان میں سے کوئی\nایک اصل اشتہار کے مشمولات کی نسبت شہادت اصلی نہیں ہے \n-۷۴۔ شہادت منقولی: ”شہادت منقولی سے حسب ذیل مراد اور اس میں شامل ہیں۔\n(1) وہ مصدقہ نقول جو بعد از میں مشمولہ احکام کے تحت دی جائیں ؟\n(۲) وہ نقول جو اصل سے ایسے میکانکی طریقوں سے تیار کی جائیں جو نبفسہ نقل کی صحت کی ضمانت ہوں،\nاور وہ نقول جو مذکورہ نقول کے ساتھ مقابلہ کی جائیں ؛\nآرڈینینس نمبر ۵۱ مجریہ ۲۰۰۲ ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n\n(۳) وہ نقول جو اصل سے تیار کی جائیں یا اس سے مقابلہ کی جائیں ؟\n(۴) دستاویزات کے مثنی بمقابلہ فریقین کے جنہوں نے ان کی تکمیل نہ کی ہو؟\n(۵) کسی دستاویز کے مشمولات کا بیان زبانی جو ایسا شخص کرے جس نے بذات خودا سے دیکھا ہو۔\nتمثیلیں\n(الف) کسی اصل کی عکسی تصویر اس کے مشمولات کی شہادت منقولی ہے، اگر چہ ان دونوں کا\nمقابلہ نہ کیا گیا ہو، اگر یہ ثابت کیا جائے کہ وہ شے جس کی عکسی تصویر لی گئی ، اصل تھی ۔\n(ب) ایسی نقل جو کسی خط کی ایسی نقل کے ساتھ مقابلہ کی گئی ہو جو قفل گیرمشین کے ذریعے لی گئی ہو، خط کے\nمشمولات کی شہادت منقولی ہے؛ اگر یہ ظاہر کیا جائے کہ وہ نقل جونقل گیر مشین کے ذریعے\nلی گئی ، اصل سے لی گئی تھی۔\n(ج) ایسی نقل جو کسی نقل سے لی گئی ہو لیکن بعد ازاں اس کا مقابلہ اصل سے کر لیا گیا ہو،\nشہادت منقولی ہے، لیکن جس نقل کا بایں طور مقابلہ نہ کیا گیا ہو، اصل کی شہادت منقولی\nنہیں ہے، اگر چہ اس نقل کا جس سے اس کی نقل کی گئی اصل سے مقابلہ کیا گیا ہو۔\n(1) نہ تو ایسی نقل کا بیان زبانی جس کا اصل کے ساتھ مقابلہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اصل کی عکسی\nتصویر یا مشینی نقل کا بیان زبانی، اصل کی شہادت منقولی ہے۔\n-۷۵۔ شہادت اصلی کے ذریعے دستاویزات کا ثبوت: ما سوائے ان صورتوں کے جو بعد ازیں مذکور ہیں ،\nدستاویزات کو شہادت اصلی کے ذریعے ثابت کرنا چاہیے۔\n۷۶۔ صورتیں جن میں دستاویزات سے متعلق شہادت منقولی پیش کی جاسکتی ہے: جسب ذیل صورتوں میں کسی\nدستاویز کے وجود، احوال یا مشمولات کی نسبت شہادت منقولی پیش کی جاسکتی ہے:۔\n(الف) جب ظاہر کیا جائے یا معلوم ہو کہ اصل دستاویز ایسے شخص کے قبضہ یا اختیار میں ہے جس کے خلاف اس دستاویز\nکا ثابت کرنا مطلوب ہو یا کسی ایسے شخص کے قبضہ یا اختیار میں ہے جو اس عدالت کے حکم نامہ کی دسترس سے\nباہر ہو یا اس کے تابع نہ ہو یا کسی ایسے شخص کے قبضہ یا اختیار میں ہے جواز روئے قانون اسے پیش کرنے کا\nپابند ہو، اور جب کہ آرٹیکل ےے میں مذکورہ نوٹس کے بعد ، مذکورہ شخص اسے پیش نہ کرے؛\n\n(ب) جب اس شخص کی طرف سے جس کے خلاف وہ ثابت ہو چکی ہو یا اس کے قائم مقام مفاد\nکی طرف سے اصل کے وجود، احوال یا مشمولات\nکا تحریری طور پر تسلیم کیا جانا ثابت ہو جائے ؟\n(ج) جب کہ اصل دستاویز تلف ہو جائے یا گم ہو جائے ، یا جب اس کے مشمولات کی شہادت\nپیش کرنے والا فریق کسی اور وجہ کے باعث جو خود اس کی کوتاہی یا غفلت کا نتیجہ نہ ہو، اس\nکومناسب وقت کے اندر پیش نہ کر سکتا ہو ؟\n(1) جب کہ اصل دستاویز کی ضمانت با جسامت کی وجہ سے، مائکرو فلم یا دیگر جدید اختراعات\nکے ذریعے اس کی نقل حاصل کر لی گئی ہوں ؟\n(1) جب کہ اصل دستاویز ایسی نوعیت کی ہو کہ اس کی نقل وحرکت با آسانی ہو سکتی ہو؟\n(و) جب کہ اصل دستاویز آرٹیکل ۸۵ کے مفہوم میں ایک سرکاری دستاویز ہو؟\n(ز) جب اصل دستاویز ایک ایسی دستاویز ہو جس کی مصدقہ نقل شہادت میں پیش کرنے کی اس\nفرمان کی رو سے یا پاکستان میں نافذالعمل کسی دوسرے قانون کے تحت اجازت ہو؟\n \n(ح) جب اصل دوستا و میزات ایسے متعددحسابات اور دیگر دستاویزات پرمشتمل ہوں جن کا\nدستاویزات\nمعائنہ عدالت میں آسانی سے نہ ہوسکتا ہو اور وہ واقعہ جس کا ثبوت مد نظر ہو گل مجموعہ کا\nایک نتیجہ عام ہو ؛\n(ط) جب کہ کوئی اصل دستاویز جو عدالتی ریکارڈ حصہ ہو دستیاب نہ ہو اور صرف اسکی ایک تصدیق شدہ\nنقل دستیاب ہو تو اس کی تصدیق شدہ فقل بھی بطور شہادت منقولی قابل قبول ہوگی ؛\nصورت ہائے (الف)، (ج)، (د) اور (ہ) میں دستاویز کے مشمولات کی کوئی شہادت\nمنقولی قابل ادخال ہے۔\nصورت (ب) میں تحریری اقبال قابل قبول ہے۔\nصورت ( د ) یا ( ز ) میں ، دستاویز کی مصدقہ نقل لیکن شہادت منقولی کی کوئی دوسری قسم\nنہیں ، قابل قبول ہے۔\nصورت ( ح ) میں، دستاویزات کے نتیجہ عام کی نسبت ہر ایسا شخص جس نے ان\nکا معائنہ کیا ہو اور جو\nمذکورہ دستاویزات کا معائنہ کرنے میں مہارت رکھتا ہو ، شہادت دے سکتا ہو۔\n\n۷۷۔ دستاویز پیش کرنے کی اطلاع کی نسبت قواعد آرٹیکل 4ے کے پیرا (الف) میں محولہ دستاویزات کے مشمولات\nکی شہادت منقولی پیش نہیں کی جائے گی تا وقتیکہ وہ فریق جو مذکورہ شہادت منقولی پیش کرنا چاہتا ہو اس فریق کو جس کے قبضہ یا اختیار\nمیں وہ دستاویز ہو یا اس کے وکیل کو اسے پیش کرنے کی ایسی اطلاع پہلے سے نہ دے چکا ہو جواز روئے قانون مقررہ ہو، اور اگر قانون\nکی رو سے کوئی اطلاع مقرر نہ ہو تو پھر ایسی اطلاع جو حالات مقدمہ کے تحت عدالت کی نظر میں مناسب ہو:\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ اطلاع شہادت منقولی کو قابل ادخال گرداننے کے لیے حسب ذیل صورتوں میں سے\nکسی صورت میں یا کسی دوسری صورت میں جس میں عدالت اس سے درگزر کرنا مناسب سمجھے ،ضروری نہیں ہوگی :۔\n(1) جب کہ دستاویز جس کا ثبوت درکار ہو، نبفسہ اطلاع نامہ ہو؛\n(۲) جب کہ مقدمہ کی نوعیت سے فریق مخالف کو یہ معلوم کرنا لازم ہو کہ اسے اس کو ضرور پیش کرنا ہوگا؟\n(۳) جب یہ معلوم ہو یا ثابت کیا جائے کہ فریق مخالف نے اصل دستاویز کا قبضہ فریب یا جبر حاصل کیا ہے؟\n(۴) جب کہ فریق مخالف یا اس کے کارندہ نے اصل دستاویز عدالت میں رکھی ہو؟\n(۵) جب کہ فریق مخالف یا اس کے کارندہ نے اس دستاویز کا کم ہونا تسلیم کر لیا ہو؟\n(1) جب کہ ایسا شخص جس کے قبضہ میں دستاویز ہو حکم نامہ عدالت کی دسترس سے باہر ہو یا\nاس کے تابع نہ ہو۔ کا\n۷۸۔ ایسے شخص کے دستخط اور خط تحریر کا ثبوت جس کی نسبت یہ بیان کیا جائے کہ پیش کردہ دستاویز پر اس نے\nدستخط کیے ہیں یا اس نے تحریر کی ہے۔ اگر کسی دستاویز کے بارے میں یہ بیان کیا جائے کہ اس پر کسی شخص نے دستخط\nکیے ہیں یا اسے کلیتہ یا جز و تحریر کیا ہے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ دستخط یا اس قدر دستاویز کا خط تحریر جس کے متعلق یہ\nبیان کیا گیا ہو کہ وہ مذکورہ شخص کے خطا تحریر میں ہے ، اسی شخص کے خط تحریر میں ہے ۔\n[۷۸ الف۔ الیکٹرانک دستخط اور الیکٹرانک دستاویز کا ثبوت:۔ اگر ایک الیکٹرانک\nدستاویز از روئے دعوئی دستخط کی گئی ہے یا کسی بھی شخص کی جانب سے کلی یا جزوی طور پر انفارمیشن سسٹم کے استعمال کے\nذریعے پیدا کی گئی ہے، اور جہاں مذکورہ الزام سے انکار کیا جاتا ہے، تو دستخط یا الیکٹرانک دستاویز کے لیے سکیورٹی کے\nطریقہ کار کے اطلاق کو لازمی ثابت کیا جائے ۔]\nآرڈینینس نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۲ ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے شامل کیا گیا۔\n\n۷۹۔ ایسی دستاویز کی تکمیل کا ثبوت جس کا مصدقہ ہونا از روئے قانون لازم ہو: اگر کسی دستاویز کا مصدقہ\nہونا از روئے قانون لازم ہو تو وہ اس وقت تک بطور شہادت مستعمل نہیں ہوگی جب تک کہ کم از کم دو گواہان دستاویز اس\n، نہ\nکی تکمیل ، ثابت کرنے کی غرض سے طلب نہ کئے جائیں، بشرطیکہ دو گواہان دستاویز بقید حیات ہوں ، اور حکم نامہ عدالت\nکے تابع اور شہادت دینے کے قابل ہوں:\nمگر شرط یہ ہے کہ کسی گواہ دستاویز کو کسی ایسی دستاویز کی ، جو وصیت نامہ نہ ہو، تکمیل کے ثبوت کے لیے طلب\nکرنا ضروری نہ ہوگا، جس کی رجسٹری قانون رجسٹری ، ۱۹۰۸ء ( نمبر ۶ ابابت ۱۹۰۸ء) کے احکام کے مطابق ہوگئی ہو،\nتا وقتیکہ وہ شخص جس کی طرف سے اس کی تکمیل کرنا مترشح ہوتا ہو اس کی تکمیل سے صریحاً انکار نہ کر دے۔\n۸۰ ثبوت جب کہ کوئی گواہ دستاویز نہ مل سکے: اگر کوئی مذکورہ گواہ دستاویز نہ مل سکے تو یہ ثابت کرنا ضروری\nہوگا کہ گواہان یا تو وفات پاچکے ہیں یا دستیاب نہیں ہیں اور یہ کہ دستاویز کی تعمیل اس شخص نے کی تھی جس کے متعلق اس\nکی تکمیل کرنا مترشح ہوتا ہے۔\n۸۱۔ مصدقہ دستاویز کے فریق کا اس کی تکمیل کی نسبت اقبال کسی مصدقہ دستاویز کے فریق کا یہ اقبال کہ اس\nکی تکمیل خود اس نے کی ہے ، اس کی تکمیل کے بارے میں اس کے خلاف ثبوت کافی ہوگا اگر چہ وہ ایسی دستاویز ہو جس کا\nمصدقہ ہونا از روئے قانون ضروری ہے۔ ماں\n۸۲ ثبوت جب کہ گواہ دستاویز تکمیل سے منکر ہو: اگر گواہ دستاویز ، دستاویز کے تکمیل پانے سے انکار کرے یا\nاسے یاد نہ ہو تو اس کا تکمیل پانا دوسری شہادت کے ذریعے ثابت کیا جاسکتا \nایسی دستاویز کا ثبوت جس کا مصدقہ ہونا از روئے قانون ضروری نہ ہو : ایسی مصدقہ دستاویز جس کا مصدقہ\nہونا از روئے قانون ضروری نہ ہو اس طرح ثابت کی جاسکتی ہے کہ گویا وہ مصدقہ نہیں ہے۔\n۸۴ دستخط تحریر یا مہر کا ایسے دوسرے دستخط تحریر یا مہر سے مقابلہ جو اقبال کردہ یا ثابت شدہ ہو: (۱) اس\nامر کے دریافت کرنے کے لیے کہ آیا کوئی دستخط تحریر یا مہر اسی شخص کی ہے جس کی لکھی ہوئی یا بنائی ہوئی وہ مترشح ہوتی\nہے، کسی دستخط تحریر یا مبر کا جو مذکورہ شخص کی لکھی ہوئی یا بنائی ہوئی تسلیم کر لی گئی ہو یا عدالت کے اطمینان کی حد تک ثابت\nہو چکی ہو، مقابلہ اس کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جسے ثابت کرنا ہو ، اگر چہ مذکورہ دستخط تحریر یا مہر کسی دوسری غرض کے لیے\nپیش یا ثابت نہ کی گئی ہو۔\n\n(۲) عدالت حاضر عدالت کسی شخص کو ایسے الفاظ یا ہند سات اس غرض سے لکھنے کا حکم دے سکتی ہے کہ عدالت بایں\nطورتحریر کردہ الفاظ یا ہند سات کا ایسے الفاظ یا ہند سات کے ساتھ مقابلہ کر سکے جو اس شخص کے لکھے ہوئے بیان کیے گئے ہوں۔\n(۳) اس آرٹیکل کا اطلاق ، ضروری ترامیم کے ساتھ نشانات انگشت پر بھی ہوتا ہے۔\n-۸۵ سرکاری دستاویزات حسب ذیل دستا ویزات ، سرکاری دستاویز ہیں۔\nپرست\n(1) دستاویزات جو حسب ذیل کے افعال یا یاد داشت افعال پر مشتمل ہوں۔\n(اول) مقتد را علی\n(دوم) سرکاری اداروں اور ٹربیونل ؛ اور کا\nجاری\n(سوم) پاکستان کے\nکسی حصے کی یاکسی غیرملک کی متفقہ عدلیہ اورانتظامیہ کے سرکاری عہد یداران ؛\n(۲) نجی دستاویزات کا سرکاری ریکارڈ جو پاکستان میں موجود ہو ؟\n(۳) دستاویزات جو عدالتی کارروائی کے ریکارڈ کا حصہ ہوں ؟\n(۴) دستاویزات جن کا کسی قانون کے تحت کسی سرکاری ملازم کی طرف سے رکھا جانا مطلوب ہو؛ اور\n(۵) رجسٹری شده دستا ویزات جن کی تعمیل متنازعہ نہ ہو ؟ تکمی\n(1) الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈینینس ۲۰۰۲ء کے احکامات کی پیروی میں مخون میں ٹریفکیٹ جمع کرنا ۔ ]۔\n- نجی دستاویزات دوسری تمام دستاویزات نجی دستاویزات ہیں۔ \n۸۷۔ سرکاری دستاویزات کی مصدقہ نقول : ہر سرکاری عہدیدار جس کی تحویل میں ایسی سرکاری دستاویز ہو\nجس کا معائنہ کرنے کا کوئی شخص استحقاق رکھتا ہو، عند الطلب ایسے شخص کو اس کی نقل اس کے لیے رسوم قانونی کی ادائیگی\nپر ایک ایسے تصدیق نامہ کے ہمراہ دے گا جو مذکورہ نقل کے حاشیہ پر تحریر ہو گا کہ وہ مذکورہ دستاویز یا اس کے جزو کی جیسی\nبھی صورت ہو، بیج نقل ہے اور مذکورہ عہد یدار مذکورہ تصدیق نامہ پر تاریخ درج کرے گا اور اپنے نام اور سرکاری عہدہ\nکے ساتھ دستخط کرے گا اور جب کبھی مذکورہ عہدیدار کوئی مہر استعمال کرنے کا از روئے قانون مجاز ہو تو اس پر مہر ثبت کی\nجائے گی اور ایسی نقول جو بائیں طور تصدیق کی جائیں ، مصدقہ نقول کہلائیں گی۔\nآرڈینینس نمبر ۵ مجریہ ۲۰۰۲ء کی دفعہ ۲۹ اور جدول کی رُو سے اضافہ کیا گیا۔\n-✓\n\nتشریح کوئی عہدیدار، جو سر کاری فرض منصبی کے معمولی طریق کار کی رو سے مذکورہ نقول دینے کا مجاز ہو، وہ\nاس آرٹیکل کے مفہوم میں مذکورہ دستاویزات کا محافظ متصور ہوگا۔\n-۸۸ مصدقہ نقول کی پیش سازی کے ذریعہ دستاویزات کا ثبوت۔ اسی مصدقہ نقول ان سرکاریدستاویزات\nیا سرکاری دستاویزات کے اجزاء کے مشمولات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں جن کی وہ نقول معلوم ہوتی ہوں۔\n۸۹ دیگر سرکاری دستاویزات کا ثبوت:۔ درج ذیل سرکاری دستاویزات بحسب ذیل ثابت کی جاسکتی ہیں:۔\n(1) قوانین، احکام یا اعلانات جو وفاقی حکومت کے کسی محکمہ سے یا کسی صوبائی حکومت سے یا\nکسی صوبائی حکومت کے کسی محکمہ سے صادر ہوئے ہوں ان محکمہ جات کے ریکارڈ کے\nذریعے جو علی الترتیب مذکورہ محکمہ جات کے سربراہوں کا تصدیق شدہ ہو، یاکسی دستاویز\nکے ذریعہ جس سے یہ مترشح ہوتا ہوکہ وہ کسی مذکورہ حکومت کے حکم سے طبع ہوئی ہے؟\n(۲) مجالس مقننہ کی کارروائیاں ۔۔۔ علی الترتیب ان مجالش کے روزنامچوں کے ذریعہ،\nیا شائع شدہ قوانین یا خلاصہ جات کے ذریعہ یا ایسی نقول کے ذریعے جو متعلقہ حکومت\nکے حکم سے طبع کی ہوئی مترشح ہوتی ہوں؟\n(۳) کسی غیر ملک کی انتظامیہ کے فرامین یا مجلس مقففہ کی کارروائیاں،۔۔۔۔ایسے روزنامچوں\nکے ذریعے جو ان کے حکم سے شائع ہوئے ہوں یا جن کو اس ملک میں عام طور پر ایسا سمجھا\nجاتا ہو، یا ایسی نقل کے ذریعے جو اس ملک یا اس کے مقتدر اعلیٰ کی مہر کے تحت مصدقہ ہو،\nیا ان کی ایسی منظوری کے ذریعے جو کسی وفاقی ایکٹ میں دی گئی ہو؟\n(۴) پاکستان میں کسی بلدیاتی ادارہ کی کارروائیاں ۔۔۔۔۔ مذکورہ کا رروائیوں کی ایسی نقل\nکے ذریعے جس کی تصدیق ان کے قانونی محافظ نے کی ہو، یا کسی ایسی مطبوعہ کتاب کے\nذریعے جو مذکورہ ادارہ کے حکم سے شائع کی ہوئی مترشح ہوتی ہو؟\n\n(۵) کسی غیر ملک کی کسی دوسری قسم کی سرکاری دستاویزات،۔۔۔۔اصل دستاویز کے ذریعے،\nیا اس کی ایسی نقل کے ذریعہ جو مذکورہ دستاویز کے قانونی محافظ کی تصدیق شدہ ہو، جس\nکے ہمراہ نوٹری پبلک کی ، یا پاکستان کے کسی قونصل یا سفارتی نمائندہ کی مہر کے تحت ایسا\nتصدیق نامہ ہو کہ یہ قتل با ضابطہ طور پر اس عہدیدار کی تصدیق شدہ ہے جو اصل دستاویز کا\nقانونی محافظ ہے، اور اس غیر ملک کے قانون کے مطابق دستاویز کی حیثیت کا ثبوت گزار\nسے جانے پر ۔\nدستاویزات کے بارے میں قیاس\n-۹۰ مصدقہ نقول کی صداقت کے بارے میں قیاس۔ (1) عدالت ہر ایسی دستاویز کو اصل قیاس\nکرے گی جس سے مترشح ہوتا ہو کہ وہ ایک تصدیق نامہ، مصدقہ نقل ، یا ایسی دیگر دستاویز ہے جو از روئے قانون کسی\nخاص واقعہ کی شہادت کے طور پر قابل ادخال قرار دی گئی ہے اور جس سے مترشح ہوتا ہے کہ ایسے عہدیدار نے جس کا تعلق\nوفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت سے ہے اس کے صحیح ہونے کی باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ دستاویز در حقیقت اس شکل کے مطابق ہو اور اس طریقہ پر تکمیل یافتہ معلوم ہوتی ہو\nجس کی اس سلسلے میں قانون کی رو سے ہدایت دی گئی ہو۔\n(۲) عدالت یہ بھی قیاس کرے گی کہ کوئی عہدیدار جس کی طرف سے مذکورہ دستاویز دستخط شده یا تصدیق شده\nگئی\nمترشح ہوتی ہو، اس پر دستخط کرتے وقت اس سرکاری منصب پر فائز تھا جو اس نے مذکورہ دستاویز تحریر کیا۔\n۹۱۔ شہادت کے ریکارڈ کے طور پیش کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں قیاس:۔ جب کبھی کوئی\nایسی دستاویزہ کسی عدالت میں پیش کی جائے جس سے یہ مترشح ہوتا ہو کہ وہ اس شہادت یا جز و شہادت کا ریکارڈ یا یا داشت\nہے جو کسی گواہ نے کسی عدالتی کارروائی میں یا کسی ایسے عہدیدار کے رو برودی ہے جواز روئے قانون مذکورہ شہادت لینے\nکا مجاز تھایا یہ مترشح ہوتا ہو کہ وہ کسی قیدی یا ملزم شخص کا بیان یا اقرار ہے جو قانون کے مطابق لیا گیا ہے اور جس سے\nمترشح ہوتا ہے کہ اس پر کسی حج یا مجسٹریٹ یا کسی ایسے عہدیدار کے دستخط ہیں جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے، تو عدالت یہ\nقیاس کرے گی۔۔۔۔۔۔\n\n+ 09 →\n\nکہ دستاویز اصلی ہے؛ کہ ان حالات کے بارے میں جن کے تحت وہ قلمبند کی گئی ہو کوئی بیانات جو اس پر دستخط\nکنندہ شخص کے دیئے ہوئے مترشح ہوتے ہوں ہیچ ہیں اور یہ کہ مذکورہ شہادت، بیان یا اقرار با ضابطہ طور پر لیا گیا تھا۔\n۹۲۔ دستاویزات کی صحت کی نسبت قیاس جو کسی قانون کے تحت رکھی گئی ہوں :۔ عدالت ایسی دستاویز کو صحیح\nقیاس کرے گی جو ایسی دستاویز مترشح ہوتی ہو جس کے کسی شخص کے پاس رہنے کی کسی قانون کی رو سے ہدایت کی گئی ہو،\nبشرطیکہ ایسی دستاویز در حقیقت ایسے طریقہ پر رکھی گئی ہو جو قانون کی رو سے متعین ہو اور تحویل جائز سے پیش کی جائے۔\n۹۳ ۔ ایسے نقشوں یا خاکوں کے بارے میں قیاس جو حکومت کے حکم سے تیار کیے جائیں :۔ عدالت قیاس کرے\nگی کے ایسے نقشہ جات یا خاکہ جات جو کہ وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کے حکم سے تیار کیے ہوئے مترشح ہوتے\nہوں ، بایں طور پر تیار کیے گئے تھے اور صیح ہیں ۔ لیکن نقشہ جات یا خاکہ جات جو کسی مقدمہ کی غرض کے لیے تیار کیے\nجائیں ان کی صحت ثابت کرنا پڑے گی۔\n۹۴ مجموعہ ہائے قوانین اور فیصلہ جات کی رپورٹوں کے بارے میں قیاس:۔ عدالت قیاس کرے گی کہ ہر\nایسی کتاب جس سے مترشح ہوتا ہو کہ وہ کسی ملک کی حکومت کے حکم سے طبع یا شائع ہوئی ہے اور اس میں اس ملک کا کوئی قانون درج\n\nہے اور ہر ایسی کتاب جس سے مترشح ہوتا ہوکہ اس میں مذکورہ ملک کی عدالتوں کے فیصلہ جات کی رپورٹیں درج ہیں صیح ہے۔\n۹۵۔ مختار ناموں کے بارے میں قیاس: عدالت قیاس کرے گی کہ ہر ایسی دستاویز سے مترشح ہوتا ہو کہ وہ مختار\nنامہ ہے، اور کسی نوٹری پبلک یا کسی عدالت ، بج، مجسٹریٹ ، پاکستانی قونصل یا نائب قونصل یا وفاقی حکومت کے نمائندہ\nکے رو بر وتحمیل شدہ اور اس کی تصدیق شدہ ہے، بایں طور تکمیل شدہ اور تصدیق شدہ ہے \nسے\n۹۶ غیر ملکی عدالتی ریکارڈ کی مصدقہ نقول کے بارے میں قیاس:۔ (۱) عدالت قیاس کر سکتی ہے کہ\nکوئی دستاویز جس سے مترشح ہوتا ہو کہ وہ کسی ایسے ملک کے عدالتی ریکارڈ کی مصدقہ نقل ہے جو پاکستان کا حصہ نہیں ہے،\nاصلی اور صحیح ہے، بشرطیکہ دستاویز سے یہ مترشح ہو کہ وہ اس طریق پر تصدیق شدہ ہے جس کی وفاقی حکومت کے کسی نمائندہ\nنے جو مذکورہ ملک میں ہو یا اس سے متعلق ہو ایسا طریق ہونے کی تصدیق کی ہو جو عدالتی ریکارڈ کی نقول کی تصدیق کے\nلیے مذکورہ ملک میں عموماً استعمال کیا جاتا ہے۔\n\n(۲) کوئی ایسا عہد یدار جو کسی ایسے علاقہ یا مقام کے سلسلے میں جو پاکستان کا حصہ نہ ہو، قانون عبارتِ عامہ،\n۱۸۹۷ء ( نمبر، ابابت ۱۸۹۷ء) کی دفعہ ۳ کی شق (۴۰) میں کی گئی تعریف کے مطابق اس کے لیے پولیٹکل ایجنٹ ہو،\nشق (۱) کی اغراض کے لیے مذکورہ علاقہ یا مقام پر مشتمل ملک میں یا اس کے لیے وفاقی حکومت کا نمائندہ متصور ہوگا۔\n-۹۷ کتابوں ،نقشوں اور چارٹوں کے بارے میں قیاس: عدالت قیاس کر سکتی ہے کہ کوئی ایسی کتاب جس\nکی طرف وہ اغراض سرکاری یا اغراض عام سے متعلق امور کی دریافت کے لیے رجوع کرے، اور یہ کہ کوئی شائع شدہ\nنقشہ یا چارٹ جس کے بیانات واقعات متعلقہ ہوں اور جو اس کے معائنے کے لیے پیش کیا جائے ، اسی شخص کا اور اسی\nزمانہ اور مقام میں تحریر شدہ اور شائع شدہ ہے جس کا اور جس میں\nوہ تحریر شدہ اور شائع شدہ مترشح ہوتا ہے۔\n۹۸۔ پیغامات تار برقی کے بارے میں قیاس: عدالت قیاس کر سکتی ہے کہ وہ پیغام جو کسی تار گھر سے کسی\nایسے شخص کو بھیجا گیا ہو جس کے نام اس پیغام کا بھیجا جانا مترشح ہوتا ہو اس پیغام کے مطابق ہے جو ترسیل کے لیے اس\nدفتر میں حوالہ کیا گیا تھا جہاں سے اس پیغام کا ارسال کیا جاتا مترشح ہوتا ہو ، مگر عدالت ایسے شخص کے بارے میں کوئی\nقیاس نہیں کرے گی جس نے مذکورہ پیغام ترسیل کے لیے حوالہ کیا تھا۔\n۹۹۔ ایسی دستاویزات کی باضابطہ تکمیل وغیرہ کے بارے میں قیاس جو پیش نہ کی جائیں :۔ عدالت قیاس\nکرے گی کہ ہر دستاویز جو طلب کی گئی ہو اور طلبی کے اطلاع نامہ کے بعد پیش نہ کی گئی ہو، قانون کی رو سے مطلوبہ طریقے\nپر تصدیق شدہ ، اشکام شدہ اور تکمیل شدہ ہے۔\nجانا ۔\n-۱۰۰ تمہیں سال پرانی دستاویزات کے بارے میں قیاس : جب کہ کوئی ایسی دستاویز جس سے مترشح ہوتا ہو\nیا جس کی نسبت ثابت ہو کہ وہ میں سال پرانی ہے کسی ایسی تحویل سے جسے عدالت اس خاص مقدمہ میں مناسب تصور\nکرے، پیش کی جائے تو عدالت قیاس کر سکتی ہے کہ دستخط اور مذکورہ دستاویز کا ہر دوسراجز و جو کسی خاص شخص کے خط تحریر\nمیں مترشح ہوتا ہو، اسی شخص کے خط تحریر میں ہے، اور تکمیل شدہ یا تصدیق شدہ دستاویز کی صورت میں یہ کہ پیدا نہی اشخاص\nکی باضابطہ طور پر تکمیل شدہ اور تصدیق شدہ ہے جن کی تکمیل شدہ اور تصدیق شدہ وہ مترشح ہوتی ہے۔\n\nتشریح:۔ دستاویزات کو اس وقت مناسب تحویل میں کہہ سکتے ہیں اگر وہ اس جگہ اور اس شخص کی تحویل میں\nہوں جہاں اور جس کے پاس ان کو لا محالہ ہونا چاہیے ، لیکن کوئی تحویل غیر مناسب متصور نہیں ہوگی اگر یہ ثابت کر دیا\nلا\nجائے کہ وہ بنائے جائز پر بنی تھی یا یہ کہ اس خاص مقدمہ کے حالات سے مذکورہ بنائے جائز کاظن غالب پیدا ہوتا ہے۔\nتتلیں\n(الف) الف زمانہ دراز سے ایک جائداد مشتمل به اراضی پر قابض ہے۔ وہ اس زمین سے متعلق چند دستاویزات\nاپنی تحویل سے پیش کرتا ہے جن سے اس پر اس کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تحویل مناسب ہے۔\n(ب) الف ایک جائداد مشتمل بر اراضی سے متعلق جس کا وہ مرتہن ہے دستاویزات پیش کرتا ہے ، راہن\nاس پر قابض ہے۔ یہ تحویل مناسب ہے۔\n۱۰۱۔\n(ج) ب کا ایک قرابت دار، الف اس اراضی سے متعلق جس پرب قابض ہے ایسی دستاویزات پیش کرتا\nہے جوب نے اس کے پاس بغرض تحویل محفوظ ، امانت رکھی تھیں۔ یہ تحویل مناسب ہے۔\nتمیں سال پرانی دستاویزات کی تصدیق شدہ نقول : آرٹیکل ۱۰۰ کے احکام مذکورہ آرٹیکل میں محولہ کسی\nدستاویزات کی کسی ایسی نقل پر اطلاق پذیر ہوں گے۔ جو آرٹیکل ۸۷ میں مقرر کردہ طریقے پر تصدیق شدہ ہے اور کم از کم\nتمہیں سال پرانی ہے؛ اور مذکورہ تصدیق شدہ فقل اس دستاویز یا اس دستاویز کے جزو کے مندرجات کے ثبوت میں پیش\nکی جاسکے گی جس کی یہ نقل مترشح ہوتی ہے \nہے۔\n\n$72\nچھٹا باب\nزبانی شہادت کے تحریری شہادت\nکے ذریعے اخراج کے بارے میں\n۱۰۲۔ معاہدات ، عطیات اور دیگر انتقالات جائداد کی ایسی شرائط کی شہادت جو دستاویز کی صورت میں ضبط\nتحریر میں آئیں :۔ جب کسی معاہدہ کی یا کسی عطیہ کی یا کسی دیگر انتقال جائداد کی شرائط دستاویز کی صورت میں ضبط\nتحریر میں آچکی ہوں ، اور ایسی تمام صورتوں میں جن میں کسی معاملہ کا از روئے قانون دستاویز کی صورت میں ضبط تحریر\nمیں لایا جانا مطلوب ہو تو مذکورہ معاہدہ ، عطیہ یا دیگر انتقال جائداد کی شرائط کو یا مذ کورہ معاملہ کو ثابت کرنے کے لیے ،خود\nاس دستاویز یا ایسی صورتوں میں جن میں منقولی شہادت قبل ازیں مذکورہ احکام کے تحت قابل ادخال ہو تو اس کے\nمشمولات کی منقولی شہادت کے علاوہ کوئی شہادت ثبوت میں پیش نہیں کی جائے گی۔\nاستثناء ا:۔ جب از روئے قانون کسی سرکاری عہد یدار کا تقرر تحریری طور پر مطلوب ہو اور جب یہ ظاہر کیا جائے\nکہ کسی خاص شخص نے مذکورہ عہدیدار کی حیثیت سے کام کیا ہے تو اس تحریر کو ثابت کرنا ضروری نہیں جس کی رو سے وہ مقرر ہوا تھا۔\nاستثناء ۲: وصیت نامہ جات جن کی سند وصیت پاکستان میں عطا کی گئی ہوسند وصیت کے ذریعے\nثابت کیے جاسکتے ہیں۔\nتشریح : یہ آرٹیکل ایسی صورتوں میں مساوی طور پر اطلاق پذیر ہوگا جن میں محولہ\nمعاہدات، عطیات انتقالات جائداد ایک دستاویز میں مندرج ہوں اور ایسی صورتوں میں بھی جن میں وہ ایک سے زیادہ\nدستاویزات میں مندرج ہوں۔\nتشریح ۲ جب ایک سے زیادہ اصل دستاویزات ہوں تو صرف ایک ہی اصل دستاویز کا ثابت کرنا\nضروری ہے۔\nتشریح : کسی بھی دستاویز میں ایسے واقعہ کا بیان جو اس آرٹیکل میں محولہ واقعات کے علاوہ ہو، اسی\nواقعہ سے متعلق شہادت زبانی کے ادخال میں مانع نہ ہوگا۔\n\nتمتلیں\n(الف) اگر کوئی معاہدہ کئی خطوط میں مندرج ہو تو ان تمام خطوط کا ثابت کرنا ضروری ہے جن میں\nوہ مندرج ہو۔\n(ب) اگر کوئی معاہدہ کسی مبادلہ ہنڈی میں مندرج ہو تو اس مبادلہ ہنڈی کا ثابت ضروری ہے۔\n(ج) اگر کسی مبادلہ ہنڈی کے تین پرت ہوں تو صرف ایک ہی پرت کو ثابت کرنا پڑے گا۔\n(1) الف نے نیل کی حوالگی کے لیے چند شرائط پرب کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ\nمیں یہ مذکور ہے کہ سب نے الف کو دوسرے نیل کی قیمت ادا کر دی تھی ، جس کی بابت کسی\nاور وقت زبانی معاہدہ ہوا تھا۔\nاس امر کی زبانی شہادت پیش کی گئی کہ دوسرے نیل کی بابت کوئی ادا ئیگی نہیں ہوئی ہے۔\nیہ شہادت قابل ادخال ہے۔\n(1) الف نے سب کو اس رقم کی رسید دی جوب نے ادا کی تھی۔\nادائیگی کی بابت زبانی شہادت پیش کی گئی ۔\nیہ شہادت قابل ادخال ہے۔\n۱۰۳۔ زبانی اقرار کی شہادت کا اخراج: جب کسی مذکورہ معاہدہ ، عطیہ یا دیگر انتقال جائداد یا کسی معاملہ کی\nشرائط جن کا از روئے قانون دستاویز کی صورت میں ضبط تحریر میں آنا ضروری ہو ، آخری آرٹیکل کے مطابق ثابت ہو\nجائیں تو کسی مذکورہ دستاویز کے فریقین یا ان کے قائم مقامان مفاد کے مابین ایسے زبانی اقرار یا بیان کی بابت کوئی\nشہادت قابلِ ادخال نہیں ہوگی جو اس کی شرائط کی تردید، تبدیلی یا ان میں اضافہ یا کمی کی غرض سے ہو :\nفقرہ شرطیہ (۱) ہرایسا واقعہ ثابت کیا جاسکتا ہے جو کسی دستاویز کو باطل گردانے یا جو کسی شخص کو اس سے\nمتعلق کسی ڈگری یا حکم کا مستحق ٹھہرائے ؛ مثلا فریب تخویف ، عدم جواز قانونی ، عدم تکمیل جائز ، کسی فریق معاہدہ کی عدم\nحیثیت ، بدل کا عدم وجود یا عدم ادائیگی یا واقعہ یا قانون کی نسبت غلطی ۔\n\nفقره شرطیہ (۲) کسی ایسے معاملے کی نسبت کسی علیحدہ زبانی اقرار کا وجود، جس کا دستاویز میں\nذکر نہ ہو اور جو اس کی شرائط کے خلاف نہ ہو، ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اس بات پر غور کرنے میں آیا یہ فقرہ شرطیہ اطلاق پذیر\nہے یا نہیں ، عدالت یہ امرلو ظ ر کھے گی کہ دستاویز کسی حد تک باضابطہ ہے۔\nسے متعلق شرط مقدم پر\nفقره شرطیه (۳): کسی مذکورہ معاہدہ ، عطیہ یا انتقال جائداد کے تحت کوئی ذمہ داری عائد کرنے\nمشتمل\nکسی علیحدہ زبانی اقرار کا وجود ثابت کیا جاسکتا ہے۔\nفقرہ شرطیہ (۴): کسی مذکورہ معاہدہ، عطیہ یا انتقال جائداد کی تنسیخ یا ترمیم کے لیے کسی مابعد صریح\nزبانی اقرار کا وجود ثابت کیا جاسکتا ہے ، ماسوائے ان صورتوں کے جن میں مذکورہ معاہدہ ، عطیہ یا انتقال جائداد کا\nاز روائے قانون ضبط تحریر میں آنا لازمی ہو یا دستاویزات کی رجسٹری سے متعلق فی الوقت نافذ العمل قانون کے مطابق\nرجسٹر کیا گیا ہو۔\nفقره شرطیہ (۵): کوئی رسم یا رواج ، جس سے وہ اوازم جو کسی معاہدے میں صراحنا درج نہ ہوتے\n\nہوں عموماً اس قسم کے معاہدات میں الحاق کیے جاتے ہوں ، ثابت کیا جا سکتا ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ لوازم کا الحاق معاہدہ کی صریح شرائط کے منافی یا متناقض نہ ہو۔\nفقره شرطیہ (۶): کوئی ایسا واقعہ ثابت کیا جا سکتا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی دستاویز کی عبارت\nواقعات موجودہ سے کیا علاقہ رکھتی ہے۔\n \n(الف) اس مال پر جو جہازوں میں کراچی سے لندن روانہ کیا گیا بیمہ کی پالیسی حاصل کی گئی۔\nمذکورہ مال ایک خاص جہاز پر لا دا گیا جو تباہ ہو گیا ۔ یہ واقعہ کہ وہ خاص جہاز سند بیمہ سے\nاز روئے معاہدہ زبانی مستثنیٰ کر دیا گیا تھا ، ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔\n(ب) الف نے بذریعہ تحریر اس امر کا اقرار قطعی کیا کہ یکم مارچ ۱۹۸۴ ۱۰۰۰ روپے ادا کرے گا۔\nیہ واقعہ کہ اسی وقت ایک اقرار زبانی ہوا تھا کہ رقم اکیس مارچ تک ادا نہیں کی جائے گی ،\nثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔\n\n(ج) ایک املاک جو کہ خان پور کی املاک“ کہلاتی ہے ایک ایسی دستاویز کے ذریعے جس میں\nفروخت شدہ جائداد کا ایک نقشہ شامل ہے، فروخت کی گئی ہے ۔ یہ واقعہ کہ وہ اراضی جو\nنقشہ میں شامل نہیں ہے ہمیشہ اساملاک\nکا جزو مجھی گئی ہے اور اس دستاویز کے ذریعہ اس\nکا بھی منتقل ہونا مراد تھا، ثابت نہیں کیا جاسکتا۔\n(1) الف نے بعض ایسی کانوں کو کام میں لانے کے لیے جوب کی ملکیت ہیں، بعض شرائط پر\nب کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا ۔ الف کو ان کی مالیت کے بارے میں ب کی دروغ\nبیانی کے ذریعہ ایسا کرنے کی ترغیب دی گئی تھی ۔ یہ واقعہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔\n(ه) الف نے ایک معاہدہ کی تعمیل مختص کے لیے ب کے خلاف نالش دائر کی ، اور یہ استدعا\nبھی کی کہ مذکورہ معاہدہ کی ایک شرط میں ترمیم کی جائے کیونکہ وہ شر غلطی سے اس میں\nشامل کی گئی تھی ۔ الف یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس قسم کی غلطی سے اس میں شامل کی گئی تھی۔\nالف یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس قسم کی غلطی ہوئی تھی جو قانون کی رو سے اسے معاہدہ کی\nاصلاح کا مستحق قرار دیتی ہے۔\n(1) الف نے ایک ایسے خط کے ذریعے سب سے مال بھیجنے کی فرمائش کی جس میں ادائیگی\nکے واقت کا ذکر نہیں ہے اور حوالگی پر مال قبول کر لیا۔ ب نے الف پر قیمت کی بابت\nنالش دائر کی۔ الف یہ صفائی پیش کر سکتا ہے کہ وہ مال ایک ایسی مدت کے لیے قرض پر بہم\nپہنچایا گیا تھاجو بھی ختم نہیں ہوئی ہے - \n(ز) الف نے ب کے پاس ایک گھوڑا فروخت کیا اور اس امر کی زبانی ذمہ داری لی کہ وہ\nبے عیب ہے ۔ الف نے سب کو ان الفاظ پر مشتمل ایک پر چہ لکھ کر دیا کہ ” میں نے گھوڑا\nالف سے مبلغ ۵۰۰ روپے میں خریدا ہے ۔ ب اس زبانی ذمہ داری کو ثابت کر سکتا ہے۔\n(ح) الف نے ب کے اقامتی کمرے کرایہ پر لیے اور اس کا ایک ایسا کارڈ دیا جس پر لکھا ہوا تھا\nکمرے ، ۲۰۰ روپے ماہوار “ الف ایک زبانی اقرار کر سکتا ہے کہ ان شرائط میں کچھ کھانا\nشامل ہے۔\n\nالف نے ب کے اقامتی کمرے ایک سال کے لیے کرایہ پر لیے اور ان کے مابین ایک\nبا قاعدہ اسٹام شدہ کاغذ ایک اقرار نامہ وکیل کے قلم سے تحریر ہجیا ۔ اس میں طعام کا ذکر\nنہیں ہے۔ الف ثابت نہیں کر سکتا کہ زبانی گفتگو کی رو سے کرایہ میں طعام شامل تھا۔\n(ط) الف نے ب کو رقم کی رسید بھیج کر اس قرض کا تقاضا کیا جو الف کی طرف سے\nواجب الوصول تھا۔ ب نے رسید رکھ کی اور رقم نہ بھیجی ۔ اس رقم کی بابت نالش میں الف\nیہ ثابت کرسکتا ہے۔\n(ی) الف اور ب نے ایک تحریری معاہدہ کیا جو کسی خاص امر آئندہ کے وقوع پذیر ہونے پر مؤثر\nہوتا ۔ تحریر مذ کو رب کے پاس رہی ، جس نے اس کی بنا پر الف کے خلاف نالش دائر کر دی۔\nالف ان حالات کو ظاہر کر سکتا ہے جن کے تحت وہ تحریر حوالہ کی گئی تھی۔\n۱۰۴ ۔ ایسی شہادت کا اخراج جو واقعات موجودہ پر دستاویز کے اطلاق کے خلاف ہو: جب دستاویز میں استعمال\nشدہ عبارت بنفسم واضح ہوا اور جب وہ واقعات موجود ہ سے یہ صحت تمام مناسب رکھتی ہو تو اس امر کے اظہار کے لیے\nشہادت نہیں دی جاسکتی ہے کہ اس کا مذکورہ واقعات پر اطلاق مراد نہ تھا۔\nتمثیلیں\nالف نے سب کے ہاتھ اپنی املاک واقع رنگپور جو ایک سونگھے پر مشتمل ہے ایک دستاویز کے\nذریعے فروخت کر دی۔ الف کی املاک جو ایک سو چکھے پر مشتمل ہے رنگور میں واقع ہے۔ اس امر کی\nشہادت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ املاک جس کی فروخت مقصود تھی ایسی تھی جوکسی دوسری جگہ واقع تھی\nاور اس سے مختلف سائز کی تھی۔\n-۱۰۵۔ ایسی دستاویز کی نسبت شہادت جو موجودہ واقعات کے بارے میں بے معنی ہو :۔ جب دستاویز میں\nاستعمال شده عبارت بنفسه واضع ہو لیکن موجودہ واقعات کے بارے میں بے معنی ہو تو اس امر کے اظہار کے لیے شہادت\nدی جاسکتی ہے کہ وہ ایک خاص معنی میں استعمال ہوئی ہے۔\nتمثیلیں\nالف نے اپنا مکان واقع کراچی ایک دستاویز کے ذریعے ، ب کے ہاتھ فروخت کیا۔ الف کا کراچی میں\nکوئی مکان نہ تھا لیکن یہ معلوم ہوا کہ اس کا ایک مکان کیماڑی میں تھا۔ جس پر ب\nزمانہ تکمیل دستاویز سے قابض تھا۔\n\nسیہ واقعات اس امر کے اظہار کے لئے ثابت کیے جاسکتے ہیں کہ دستاویز اس مکان سے\nمتعلق ہے، جو کیماڑی میں واقعہ ہے۔\n۱۰۶۔ ایسی عبارت کے اطلاق کی نسبت شہادت جس کا اطلاق کئی اشخاص میں سے صرف ایک پر ہو سکتا ہے:۔\nجب واقعات ایسے ہوں کہ استعمال شدہ عبارت کا اطلاق متعدد اشخاص یا اشیاء میں سے صرف کسی ایک پر\nمراد ہو سکتا ہو اور ایک سے زیادہ پر اطلاق ہو نا مراد نہ ہو سکتا ہو تو ایسے واقعات کی شہادت دی جاسکتی ہے جس\nظاہر ہو سکے کہ ان اشخاص یا اشیاء میں سے کسی شخص یا شے پر اس کا اطلاق پذیر ہونا مقصود تھا۔\nتمثیلیں\nسب\n(الف) الف نے سب کے ہاتھ اپنا سفید گھوڑا ۱۰۰۰ روپے میں بیچنے کا اقرار کیا۔ الف کے پاس\nدوسفید گھوڑے ہیں۔ ان واقعات کی شہادت دی جاسکتی ہے جن سے یہ ظاہر ہو سکے کہ\nان میں سے کون سا گھوڑ ا مر ا د تھا۔\n(ب) الف نے سب کے ساتھ حیدر آباد جانے کا اقرار کیا ۔ ان واقعات کی شہادت دی جاسکتی\nہے جن سے یہ ظاہر ہو سکے کہ آیا حید را آباد سے ولن کا حیدر آباد مراد تھا یا سندھ کا\nدکن\nحیدر آباد دم\nبمـ\n۱۰۷۔ ایسی عبارت کے اطلاق کی نسبت شہادت جس کا اطلاق دو ایسے مجموعہ واقعات میں سے صرف ایک پر\nہوسکتا ہو جن دونوں میں سے کسی ایک پر عبارت کلیتہ صحیح طور پر اطلاق پذیر نہ ہو۔ جب کہ استعمال شدہ\nعبارت جزوی طور پر ایک مجموعہ واقعات موجودہ پر اور جزوی طور پر دوسرے مجموعہ واقعات موجودہ پر اطلاق پذیر ہو، مگر\nکلیتہ کسی پر بھی صحیح طور پر اطلاق پذیر نہ ہوتی ہو، تو اس امر کے اظہار کے لیے شہادت دی جاسکتی ہے کہ دونوں میں سے\nکسی کے لیے اس کا اطلاق پذیر ہونا مراد تھا۔\nتمتلیں\nالف نے ب کے ہاتھ اپنی زمین جو کہ مقام خ میں واقع ہے اور ز کے\nقبضہ میں ہے فروخت کرنے کا اقرار کیا ۔\n\nالف کی زمین مقام خ میں واقع ہے لیکن وہ ذ کے تصرف میں نہیں ہے اور ذ کے تصرف میں اس\nکی زمین ہے مگر وہ مقام خ میں نہیں ہے ، ان امور کی شہادت دی جاسکتی ہے جن سے یہ ظاہر ہو کہ\nاس کا ارادہ کسی زمین کی فروخت کا تھا۔\n۱۰۸۔ ان حروف وغیرہ کے معنی کی نسبت شہادت جو پڑھے نہ جاسکتے ہوں:۔ ان حروف کے معنی کی نسبت\nجو پڑھے نہ جاسکتے ہوں یا عموماً سمجھے نہ جاتے ہوں اور عبارتوں کے معنی کی نسبت جو غیر ملکی متروک ،فنی ، مقامی اور صوبائی\nہوں اور اختصارات کے اور ایسے الفاظ کے معنی کی نسبت جو کسی خاص معنی میں مستعمل ہوں ،شہادت دی جاسکتی ہے۔\nتمثیلیں\nایک سنگ تراش الف نے اپنے تمام مجھے اور مجسمہ سازی کے آلات ب کے ہاتھ فروخت کرنے\nکا اقرار کیا۔\nالف کے پاس مجھے اور مجسمہ سازی کے آلات دونوں موجود ہیں۔ اس امر کے اظہار کے لیے\nشہادت دی جاسکتی ہے کہ اس کا ارادہ ان میں سے کس کی فروخت کا تھا۔\n۱۰۹۔ دستاویز کی شرائط کے خلاف اقرار کی شہادت کون دے سکتا ہے:۔ وہ اشخاص جو فریقین دستاویز یا ان\nے قائم ہیں۔ دے سکتے ہیں جو معمر اقرار خلاف شرائط دستاویز پر\nکے قائم مقامان مفاد نہیں ہیں ۔ ایسے واقعات کی نسبت شہادت دے سکتے ہیں جو ہم عصر اقرار خلاف شرائط دستاویز پر\nدلالت کریں۔\n \nالف اور ب نے ایک تحریری معاہدہ کیا کہ اب الف کے پاس فلاں کپاس فروخت کرے گا جس کی\nقیمت بوقت حوالگی ادا کی جائے گی۔ اس وقت ان کے درمیان ایک زبانی اقرار ہوا کہ الف کو تین\nماہ کا ادھار دیا جائے گا۔ الف اور ب ایک دوسرے کے مقابلے میں اسے ثابت نہیں کر سکتے لیکن\nاگر اس سے اس کے مفادات متاثر ہوتے ہوں تو ج اس کو ثابت کرسکتا ہے۔\n\nا۔\nوصیت نامہ جات سے متعلق قانون وراثت کے احکام کا استثناء:۔ اس باب میں شامل کوئی امر قانون\nوارثت ، ۱۹۲۵ء ( نمبر ۳۹ بابت ۱۹۲۵ء) کے وصیت نامہ جات کی تعبیر سے متعلق احکام میں سے کسی پر موثر نہیں سمجھا جائے گا۔\nایمان\n\nحصہ دوم\nثبوت کے بارے میں\nساتواں باب\nواقعات جن کا ثابت کرنا ضروری نہیں ہے\nا۔ اس واقعہ کا ثابت کرنا ضروری نہیں ہے جسے علم عدالت کے طور پر کام میں لایا جائے : کسی ایسے واقعہ کا\nثابت کرنا ضروری نہیں ہے جسے عدالت علم عدالت کے طور پر کام میں لائے جان\n۱۱۲ واقعات جن کو علم عدالت کے طور پر کام میں لانا عدالت پر لازم ہے: (۱) عدالت پر لازم طور پر پر لازم ۔\nہے کہ حسب ذیل واقعات کو علم عدالت کے طور پر کام میں لائے:۔\n(الف) جملہ قوانین پاکستان؛\n(ب) مسلح افواج کے ضوابط جنگ\n(ج) مرکزی مجلس مقننہ اور کسی مجلس مقننہ کا ضابطہ جو پاکستان میں فی الوقت\nنافذ العمل کسی قانون کے تحت قائم کی گئی ہو؟\n(1) تمام عدالت ہائے پاکستان کی ، اور جملہ عدالت ہائے بیرون پاکستان کی\n اس جو وفاقی حکومت با سرکاری نمائندہ کے حکم سے قائم ہوئی ہوں ؛ عدالت\nہائے بحریہ وعلاقہ بحری کی اور صاحبان نوٹری پبلک کی مُہر میں اور وہ تمام مہر میں\nجو کوئی شخص کسی ایکٹ یا ضابطہ کی رو سے جو پاکستان میں قانون کا حکم رکھتا ہو،\nاستعمال کرنے کا مجاز ہو؟\n(0) ایسے اشخاص کا کسی عہدے پر فائز ہونا ، ان کے اسماء عہدے، کارہائے منصبی\nاور دستخط جو فی الوقت پاکستان میں کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوں، اگر مذکورہ\nعہدے پر ان کا تقرر سر کاری جریدہ میں مشتہر کر دیا جائے؟\n\n(و) ہر ایسی مملکت یا مقتدر اعلیٰ کا وجود، خطاب اور قومی پرچم جسے وفاقی حکومت نے\nتسلیم کیا ہو؟\n(ز) تقسیم زماں ، کرہ ارض کی جغرافیائی تقسیم، اور عام تہوار روزے اور تعطیلات جو\nسرکاری جریدہ میں مشتہر ہوئی ہوں؟\n(ح) قلم رو پاکستان کے تحت علاقہ جات ؟\n(ط) پاکستان اور کسی دوسری مملکت یا اشخاص کی جماعت کے مابین جنگ وجدل کا\nآغاز تسلسل اور اختتام؛ کل اطلا\n(ی) اراکین و عہدیداران عدالت اور ان کے نائب اور ماتحت عہد یداران اور\nمددگاروں کے نام ، اور ایسے تمام عہدیداران کے نام بھی جو اس کے حکم ناموں\nکی تعمیل میں کارگزار ہوں اور تمام وکیلوں اور دیگر اشخاص کے نام جواز روئے\n\nقانون عدالت میں حاضر ہونے یا اس کے رو بر وسوال و جواب کرنے کے مجاز ہوں ۔\n(ک) خنشلی یاتری پر شارعاتی قاعدہ۔\n(۲) ان تمام صورتوں میں جن کا حوالہ شق (۱) میں دیا گیا ہے اور تاریخ عام، ادب ، سائنس یا\nفنون کے متعلق جملہ امور پر بھی عدالت کو دریافت حال کے لیے مناسب کتب یا دستاویزات حوالہ سے مدد لینے کا اختیار\nہوگا۔\n \n(۳) اگر کوئی شخص عدالت سے استدعا کرے کے کسی واقعہ کو علم عدالت کے طور پر کام میں لایا\nجائے ، تو اسے ایسا کرنے سے انکار کرنے کا اختیار ہے تاوقتیکہ اور جب تک کہ مذکورہ شخص ایسی کوئی کتاب یا دستاویز\nپیش نہ کرے جسے وہ ایسا کرنے کے لیے ضروری سمجھتی ہو۔\n۱۱۳ واقعات مسلمہ کا ثبوت درکار نہیں ہے :۔ کسی قانونی کارروائی میں کسی ایسے واقعہ کا ثابت کرنا\nضروری نہیں ہے جسے فریقین مقدمہ یا ان کے کارندے بوقت سماعت مقدمہ تسلیم کرنے پر متفق ہو جائیں یا جسے\n\nوہ\nوہ تسلیم کرنے کا اقرار وہ اپنی سماعت سے قبل اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے کر لیں یا جو اس وقت نافذ العمل کسی قاعدہ یا\nبیانات فریقین کی رو سے ان کے بیانات کے ذریعہ ان کا تسلیم شدہ متصور ہو؛\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت اپنی صوابدید کے مطابق ، مسلمہ واقعات کی بابت مذکورہ تسلیم کے علاوہ اور ثبوت\nطلب\nکر سکتی ہے۔\nایمان\n \n\n€ 83\nآٹھواں باب\nامر مانع تقریر مخالف\n۱۱۴ امر مانع تقریر مخالف : جب کسی شخص نے اپنی اظہار فعل یا ترک فعل سے عمدا کسی دوسرے شخص کو یہ باور\nکرایا ہو یا باور کر نے دیا ہو کہ کوئی چیز صحیح ہے اور اس یقین پر عمل بھی کرنے دے تو اسے یا اس کے قائم مقام کو اس بات\nکی اجازت نہ ہوگی کہ کسی نالش یا کارروائی میں جو اس کے اور مذکورہ شخص یا اس کے قائم مقام کے مابین ہو اس بات کی\nصداقت سے انکار کرے۔\nتمثیل\nالف نے عمداً اور دروغ بیانی سے ب کو یہ باور کرایا کہ فلاں اراضی الف کی ملکیت ہے اور اس کے\nذریعہب کو مذکورہ اراضی خریدنے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی ترغیب دی۔\nبعد ازاں مذکورہ اراضی الف کی ملکیت میں آگئی اور الف نے بیج مذکور کو اس بناء پر منسوخ کروانا چاہا\nکہ بیچ کے وقت وہ اس پر کوئی استحقاق نہیں رکھتا تھا۔ وہ اپنے عدم استحقاق کے بارے میں ثبوت\nپیش نہیں کر سکتا ہے۔\n۱۱۵ کرایہ دار کا امر مانع تقریر مخالف ، اور اس شخص کا جو قابض شخص کا اجازت یافتہ ہو:۔ جائیداد غیر منقولہ کا\nکوئی کرایہ یا وہ شخص جو مذکورہ کرایہ دار کے ذریعے دعویدار ہو، کرایہ داری کے دوران تسلسل اسبات سے انکار کرنے کا\nمجاز نہ ہوگا کہ مذکورہ کرایہ دار کا مکان دار کرایہ داری کی ابتدا سے مذکورہ جائیداد غیر منقولہ پر استحقاق رکھتا تھا، اور کوئی شخص\nجو کسی جائیداد غیر منقولہ پر اس پر قابض شخص کی جانب سے اجازت نامہ کے ذریعہ قابض ہوا ہو اس امر سے انکار\nکرنے کا مجاز نہ ہوگا کہ وہ شخص مذکورہ اجازت نامہ دیتے وقت مذکورہ استحقاق قبضہ رکھتا تھا۔\n۱۱۶۔ مبادلہ ہنڈی کے سکارنے والے کسی تحویل دار یا اجازت یافتہ امر مانع تقریر مخالف: کسی مبادلہ ہنڈی کا\nسکار نے والا اس امر سے انکار کرنے کا مجاز نہ ہوگا کہ مذکورہ ہنڈی کا لکھنے والا اس کے لکھنے کا یا اس پر عبارت ظہری تحریر\nکرنے کا اختیار رکھتا تھا نہ ہی کوئی تحویل دار یا اجازت یافتہ اس امر سے انکار کرنے کا مجاز ہوگا کہ تحویل کنندہ یا اجازت\nدہندہ بوقت ابتدائے امانت یا اجازت مذکورہ تحویل میں رکھنے یا مذکورہ اجازت دینے کا اختیار رکھتا تھا۔\n\nتشریح نمبر 1: مبادلہ ہنڈی کا سکارنے والا اس امر سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ مبادلہ ہنڈی حقیقت میں\nاس شخص کی لکھی ہوئی ہے جس کی لکھی ہوئی وہ مترشح ہوتی ہے۔\nتشریح نمبر ۲: اگر کوئی تحویل دار تحویل شدہ مال کو کسی ایسے شخص کے حوالے کر دے جو تحویل کنندہ کے\nعلاوہ ہو تو وہ ثابت کر سکتا ہے کہ مذکورہ شخص تحویل کنندہ کے مقابلے میں اس استحقاق رکھتا تھا۔\nایمان\n \n\nحصہ ہو تم\nشہادت کا پیش کیا جانا اور اس کا اثر\nنواں باب\nبار ثبوت کے بارے میں\n۷ بار ثبوت: (۱) جو کوئی شخص کسی ایسے قانونی حق یا ذمہ داری کی نسبت ، جو ان واقعات کے وجود پر مبنی ہو\nجن کا وہ دعوی کرے، کسی عدالت کا فیصلہ چاہتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان واقعات کا وجود ثابت کرے۔\n(۲) جب کسی شخص پ کسی واقعہ کے وجود کا ثابت کرنا لازم آتا ہو، تو کہا جاتا ہے کہ بار ثبوت اس شخص پر کرنالازم کہا\nہے۔\nتنقیدیں\n(الف) الف نے ایک عدالت سے یہ فیصلہ صادر کرنے کی درخواست کی کہ ب کو اس جرم کی بناء\nکو\nپر جس کا الف اس کو مرتکب کہتا ہے ، سزا دی جائے۔\nالف پر یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ ب نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔\n(ب) الف نے ایک عدالت سے یہ فیصلہ صادر کرنے کی درخواست کی کہ وہ فلاں اراضی کا جو\nب کے قبضہ میں ہے ایسے واقعات کی بناء پر حق دار ہے جن کے صحیح ہونے کا اسے دعویٰ\nہے اور بکو انکار ہے۔\nالف پر لازم ہے کہ وہ ان واقعات کا وجود ثابت کرے۔\n۱۱۸ بار ثبوت کس پر ہوتا ہے کسی نالش یا کارروائی میں بار ثبوت اس شخص پر ہوتا ہے جو فریقین میں سے کسی\nطرف سے مطلقاً کوئی شہادت نہ گزارے جانے کی صورت میں ہار جاتا۔\n\n+ 866\nتمثیلیں\n(الف) الف نے سب پر ایسی اراضی کی بابت نالش کی جوب کے قبضے میں ہے اور جو ،\nالف کے بیان کے مطابق، ب کے باپ ج کی وصیت کی رو سے اسے دی\nگئی تھی اگر فرقین کی طرف سے کوئی شہادت نہ گزرتی توب اپنا قبضہ قائم\nرکھنے کا مستحق ہوتا۔\nلہذا با رثبوت الف پر ہے۔\n(ب) الف نے سب کے خلاف زر تمسک کی بابت نالش کی۔\nتحمیل تمسک کا اقبال کیا گیا لیکن کہتا ہ سے حاصل کیا گیا تھا جس سے\nوہ فریب\nالف کو انکار ہے۔\nاگر فریقین کی طرف سے کوئی شہادت نہ گزرتی تو الف مقدمہ میں کامیاب ہوتا کیونکہ\nتمسک امر متنازعہ نہیں ہے اور فریب ثابت نہیں کیا گیا ۔\nام متنازعہ نہیں ہے اور فریب ثابت نہیں کیا گیا۔\n۱۱۹۔ کسی خاص واقعہ کی نسبت بارثبوت: کسی خاص واقعہ کی نسبت بارثبوت اس شخص پر ہوتا ہے جو عدالت کو دیمان\nاس کا وجود باور کرانا چاہتا ہوتا وقتیکہ کسی قانون کی رو سے یہ حکم نہ دیا گیا ہو کہ مذکورہ واقعہ کا ثبوت کسی خاص کے ذمہ ہوگا۔\nتمثیلیں\n \n(الف) الف نے سب کے خلاف سرقہ کی بابت نالش کی ، اور عدالت کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ\nب نے ج کے پاس سرقہ کا اقبال کیا ہے۔ الف پر لازم ہے کہ اس کو ثابت کرے۔\n(ب) ب عدالت کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ وقت زیر بحث پر کہیں اور تھا۔ اس پر لازم\nہے کہ اسے ثابت کرے۔\n۱۲۰۔ ایسے واقعہ کا بار ثبوت جس کا اثباب شہادت کے ادخال کے لیے ضروری ہو:۔ کسی ایسے واقعہ کا بار ثبوت\nکرنا کسی شخص کو کسی دوسرے واقعہ کی نسبت شہادت دینے کے قابل بنانے کے لیے ضروری ہو ، اس شخص پر ہے جو\nمذکورہ شہادت دینا چاہتا ہو۔\n\nشتیائیں\n(الف) الف یہ چاہتا ہے کہ ب کے بیان نزع کو ثابت کرے، الف پر ب کی موت\nثابت کرنا لازم ہے۔\n(ب) الف چاہتا ہے کہ منقولی شہادت کے ذریعے ایک گمشدہ دستاویز کے مشمولات\nثابت کرے۔\nالف پر یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ دستاویز کم چکی ہے۔\n۱۲۱۔ اس امر کا بار ثبوت کہ ملزم کا مقدمہ مستثنیات کے دائرے میں شامل ہے:۔ جب کسی شخص پر کسی جرم کا\nالزام عائد کیا جائے تو ایسے حالات کے وجود کا بار ثبوت جن کے باعث وہ مقدمہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر\n۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی عام مستثنیات کے دائرے میں یا اسی مجموعہ قوانین کے کسی دوسرے حصہ میں شامل کسی استثنائے یا\nخاص یا فقرہ شرطیہ کے دائرے میں یا جرم کی تعریف کرنے والے کسی قانون کے دائرے میں آجائے میں آجائے ،اس\nیافت دائرے میں یا جس کی میں\nشخص پر ہوگا اور عدالت مذکورہ حالات کا عدم وجود قیاس کرے گی ۔\nتمتلر\n(الف) الف، جس پر قتل عد کا الزام لگایا گیا ہے، بیان کرتا ہے کہ وہ فتو عقل کی بناء پر\nفعل کی نوعیت نہیں جانتا تھا۔\nبار ثبوت الف پر ہے۔\n(ب) الف جس پرقتل عد کا الزام عائد کیا گیا ہے، بیان کرتا ہے کہ ش شدید اور اچانک\nاشتعال طبع کے باعث وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔\nبار\nثبوت الف پر ہے۔\n(ج) مجومعه تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی دفعہ ۳۲۵ میں یہ\nمذکور ہے کہ جو بھی ، بجز اس صورت کے جس کا ذکر دفعہ ۳۳۵ میں کیا گیا ہے،\nبالا رادہ ، ضرر شدید کا باعث ہو وہ فلاں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔\nالف پر دفعہ ۳۲۵ کے تحت بالا رادہ ضرر شدید پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔\n\nایسے حالات کا بار ثبوت مقدمہ ۳۳۵ کے تحت آتا ہو ، الف پر ہے۔\n۱۲۲۔ ایسے واقعہ کا بار ثبوت جس سے با تخصیص واقفیت ہو ۔ جب کوئی شخص کسی واقعہ سے بالتخصیص واقف ہو\nتو اس واقعہ کا بار ثبوت اسی پر ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) جب کوئی شخص کوئی فعل کسی ایسے ارادہ سے کرے جو اس کے علاوہ ہو جس کا اظہار اس فعل کی نوعیت اور\nحالات سے ہوتا ہو تو اس ارادہ کا بار ثبوت اسی پر ہے۔\n(ب) الف پر یہ الزام لگایا کہ اس نے ریل پر بغیر ٹکٹ سفر کیا۔ اس امر کا بار ثبوت کہ اس کے پاس ٹکٹ تھا،\nاسی پر ہے۔\n۱۲۳۔ کا جو ہوتی کےاندر تھا۔ ۱۴\n۔ ایسے شخص کی موت کا بار ثبوت جس کی نسبت معلوم ہو کہ وہ تیس سال کے اندر زندہ تھا۔ آرٹیکل ۱۲۴ کے\nتابع ، جب امر تحقیق طلب یہ ہو کہ آیا کوئی شخص زندہ ہے یا وفات پاچکا ہے اور یہ ثابت کیا جائے کہ وہ اس وقت سے تمہیں\nسال کے اندر زندہ تھا تو اس امر کا بار ثبوت کہ وہ فوت ہو چکا ہے اس شخص پر ہے جو اس پر اصرار کرے۔\nپر\n۱۲۴۔ اس امر کا بار ثبوت کہ وہ شخص زندہ ہے جس کی سات سال سے کچھ خبر نہ ملی ہو۔ جب امر تحقیق طلب یہ ہو\nکہ آیا فلاں شخص زندہ ہے یا وفات پاچکا ہے اور یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی کچھ خبر سات سال سے ان لوگوں کو نہیں ملی\nہے جن کو فطری طور پر اس کے زندہ ہونے کی صورت میں اس کی خبر ضرور ملتی تو اس امر کا با رثبوت کہ وہ زندہ ہے اس شخص\nکے ذمہ ہو جائے گا جو یہ بیان \n۱۲۵ شرکاء زمیندار اور مزارع، ملک اور کارندہ کی صورتوں میں تعلقات کی نسبت بار ثبوت :۔ جب امر تحقیق\nطلب یہ ہو کہ آیا اشخاص ایک دوسرے کے شریک، زمیندار اور مزارع یا مالک اور کارندے ہیں یا نہیں اور یہ اظہار ہو چکا\nہو کہ وہ بایں طور کام کرتے رہے ہیں تو اس امر کا ثبوت کہ ان کے مابین علی الترتیب وہ تعلقات نہیں ہیں یا ختم ہو چکے\nہیں، اس شخص پر ہے جو یہ بیان کرے۔\n\n€ 89☀\n۱۲۶۔ ملکیت کی نسبت بار ثبوت:۔ جب امر تحقیق طلب یہ ہو کہ کوئی شخص کسی ایسی شے کا مالک ہے جس پر اس کا\nقابض ہونا ظاہر کیا گیا ہے تواس سرکاب ثبوت کہ دھمالک نہیں ہے اس شخص پر ہے جو یا ظہار کرے کہ ممالک نہیں ہے۔\n۱۲۷۔ ایسے معاملات میں نیک نیتی کا ثبوت جن میں ایک فریق دوسرے کا معتمد علیہ ہو۔\nجب امر تحقیق طلب ان فریقین کے مابین معاملہ کی نیک نیتی کے بارے میں ہو جن میں سے ایک فریق دوسرے کا\nمعتمد علیہ ہو تو معاملہ کی نیک نیتی کا بار ثبوت اس فریق پر ہے جو معتمد علیہ ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) ایک بیع کی راست معاملگی جو ایک موکل نے وکیل کے ہاتھ کی موکل کی طرف سے دائر شدہ نالش ہیں\nہے۔\nامر تحقیق طلب ہے۔ راست معاملگی کا با رثبوت وکیل پر\nمعاملگی جو ہی میں سن\n(ب) ایک بیع کے جو حال ہی پر پہنچا ہے باپ کے ہاتھ کی\nتھی، فرزند کی طرف سے دائر شدہ نالش میں امر تحقیق طلب ہے۔ راست معاملگی کابار ثبوت باپ پر ہے۔\n۱۲۸ ازدواج کے دوران پیدائش صحیح النسب ہونے کا قطعی ثبوت ہے۔ (۱) یہ واقعہ کہ کوئی شخص اپنی\nوالدہ اور کسی مرد کے درمیان ازدواج جائز کے دوران اور شادی کی تاریخ سے کم از کم چھ قمری ماہ ختم ہونے کے بعد یا اس\nکے انفساخ سے دو سال کے اندر ، جبکہ والدہ غیر شدہ رہی ہو، پیدا ہوا تھا، اس امر کا قطعی ثبوت ہوگا کہ وہ اس شخص کا صحیح\nالنسب بچہ ہے ، سوائے اس کے کہ ۔۔۔\n(الف) شوہر بچے کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکا ہو یا انکار کر دے \n(ب) بچہ اس تاریخ سے چھ قمری ماہ ختم ہونے کے بعد پیدا ہوا ہو جس پر عورت نے تسلیم کیا تھا کہ عدت کی\nمدت ختم ہو چکی تھی۔\n(۲) شق (۱) میں شامل کسی امر کا اطلاق کسی غیر مسلم پر نہیں ہوگا اگر یہ اس کے عقیدے سے متناقض ہو۔\n۱۲۹۔ بعض واقعات جن کا وجود عدالت قیاس کر سکتی ہے۔ عدالت کسی ایسے واقعہ کا وجود قیاس کر سکتی ہے\nجس کا وقوع میں آنا اس کی دانست میں قرین قیاس ہو مگر معمولی اتفاقات زمانہ رویہ انسانی اور سرکاری اور نجی معاملات\nکا اس خاص مقدمہ کے واقعات کی نسبت سے لحاظ رکھنا چاہیے۔\n\nتشیلیں\nعدالت قیاس کر سکتی ہے۔۔۔\n(الف) کہ وہ شخص جس کے قبضہ میں سرقہ کے تھوڑی دیر بعد مال مسروقہ ہو، یا تو خود چور ہے یا اس نے وہ مال\nمال مسروقہ جانتے ہوئے لیا ہے تا وقتیکہ وہ مال مذکورہ کے اپنے قبضہ میں آنے کی وجہ بیان نہ کر سکے؟\n(ب) کہ کسی شریک جرم کا قول قابل اعتبار نہیں تا وقتیکہ اہم تفصیلات سے اس کی تائید نہ ہو جائے؟\n(ج) کہ کوئی مبادلہ ہنڈی جسے سکارا گیا یا جس پر تحریر ظہری درج کی گئی ، مناسب بدل کے عوض سکاری گئی یا\nاس پر تحریر ظہری درج کی گئی ؟\nكلاط\n(د) کہ وہ شے یا حالت اشیاء ابھی موجود ہے جس کا وجود اس مدت کے اندر ثابت ہوا ہو جس میں مذکورہ\nاشیاء یا حالت اشیاء کا وجود عام طور پر ختم ہو جاتا ہے؟\n(ه)\nکہ کا رہائے عدالتی و سرکاری حسب ضابطہ انجام پائے ہیں؛\n(و) کہ خاص صورتوں میں معمولی طریق کار کی پیروی کی گئی ہے؟\n(ز) کہ وہ شہادت جو گزاری جاسکتی تھی لیکن نہیں گزاری گئی ہے؛\nاگر گزاری جاتی تو اس شخص کے خلاف ہوتی جس نے اسے باز رکھا؟\nیمان\n(ح) کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے سوال کا جواب دینے سے انکار کرے جس کا جواب دینا اس پر از روئے\nقانون لازم نہیں ہے، تو سوال مذکورہ کا جواب دینے سے ان معاملات میں اس کو نقصان پہنچتا؟\n(ط) کہ جب کوئی دستاویز جس سے کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہو ، معاہدہ کرنے والے کے قبضہ میں ہو تو\nذمہ داری ختم ہوگئی ۔\nلیکن عدالت اس امر کے غور کرنے میں کہ آیامذکورہ اصول اس خاص مقدمہ پر بھی اطلاق پذیر ہیں یا نہیں جو\nاس کے روبرو پیش ہے واقعات ذیل کا بھی لحاظ رکھے گی ؟\nتمثیل (الف) سے متعلق:۔ ایک دکان دار ایک نشان زدہ رو پید اس کے چوری ہونے کے\nفورا بعد اپنے گلہ میں رکھتا ہے اور\nبالصراحت میں نہیں بتا سکتا کہ وہ اس کے قبضہ میں کیسے آیا لیکن اس کے کاروبار کے رودان روپے اسکے پاس برابر آتے رہتے ہیں۔\n\nتمثیل (ب) سے متعلق ایک نہایت نیک نام اور معزز شخص الف پر اس بناء پر مقدمہ چلایا\nگیا کہ ایک مشینری کے لگانے میں اس سے ایسی غفلت ہوئی جو کسی شخص کی موت کا باعث ہوئی۔\nب نے جو ویسا ہی نیک نام اور معزز شخص ہے اور اس مشینری کے لگانے میں شریک تھا ، جو کچھ ہوا\nتھا بلا کم و کاسبت بیان\nکر دیا اور اپنی اور الف کی باہم غفلت کا اقبال کیا اور اس کی تشریح کی ؟\nتمثیل (ب) سے متعلق:۔ چند اشخاص ایک جرم کے مرتکب ہوئے۔ مجرموں میں سے تین\nاشخاص الف، ب اور ج موقع پر گرفتار ہو گئے اور ایک دوسرے سے الگ رکھے گئے ۔ ہر ایک نے\nجرم کا احوال بیان کرتے وقت دکو شریک جرم بتایا اور ان کے بیانات ایک دوسرے کی سچائی پر اس\nکلام\nطرح دلالت کرتے ہیں کہ مجرموں کا اس بارے میں پہلے سے اتفاق کرنا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔\nتمثیل (ج) سے متعلق ایک مبادلہ ہنڈی کا لکھنے والا الف، ایک کا روباری آدمی تھا۔\n:\n[\nاسے سکارنے والاب ، ایک کم سن اور نا آزمودہ شخص ہے اور مکمل طور پر الف کے زیر اثر ہے۔\nتمثیل (د) سے متعلق یہ ثابت ہوا کہ پانچ سال پیشتر ایک دریا ایک خاص راستے پر بہتا\nتھا، مگر معلوم ہوا کہ اس وقت سے ایسے سیلاب آتے رہے ہیں جن کے باعث اس کا راستہ بدل گیا تھا؟\nتمثیل (ہ) سے متعلق کوئی کار عدالت جس کا باضابطہ ہونا متنازعہ فیہ ہے، غیر معمولی حالات\nمیں انجام پایا\nتمثیل (و) سے متعلق امر تحقیق طلب یہ ہے کہ آیا فلاں خط موصول کیا گیا یا نہیں ۔ یہ ثابت\nہوا کہ وہ ڈاک میں ڈال دیا گیا تھا لیکن فسادات کی وجہ سے معمولی سلسلہ ڈاک میں خلل واقع ہوا تھا؟\nتمثیل (ز) سے متعلق ایک آدمی نے ایک ایسی دستاویز پیش کرنے سے انکار کیا جو ایک\nخفیف معاہدہ پر جس کی بنیاد پر اس پر نالش ہوئی ہے ، موثر ہوتی لیکن ساتھ ہی اس سے اس کے\nخاندان کے جذبات مجروح ہوتے اور ان کی نیک نامی میں فرق آتا ؛\n\nتمثیل (ح) سے متعلق ایک آدمی نے ایک ایسے سوال کا جواب دینے سے انکار کیا جس کا\nجواب دینا اس پر از روئے قانون لازم نہیں ہے مگر اس کا جواب دینے سے ان معاملات میں\nاس کو نقصان پہنچتا جو اس معاملہ سے علاقہ نہیں رکھتے ہیں جس کے تعلق یہ سوال کیا گیا ہے؛\nتمثیل (ط) سے متعلق ایک تمسک معاہدہ کرنے والے کے قبضہ میں ہے لیکن مقدمہ کے\nحالات ایسے ہیں کہ شاید اس نے اسے چرایا ہو۔\nایمان\n\nدسواں باب\nبیانات گواہان کے بارے میں\n۱۳۰۔ گواہوں کے پیش کیے جانے اور ان کے بیانات لینے کی ترتیب :۔ وہ ترتیب جس میں گواہوں کو پیش کیا\nجائے گا اور ان کے بیانات لئے جائیں گے علی الترتیب ضابطہ دیوانی اور فوجداری سے متعلق فی الوقت نافذ العمل\nقانون اور معمولی کی رو سے منضبط کی جائے گی ، اور کسی ایسے قانون کی عدم موجودگی کی صورت میں عدالت کی صوابدید\nکے مطابق ہوگی۔\n۱۳۱ ۔ اہلیت ادخال شہادت کا فیصلہ حج کرے گا: (۱) جب کوئی فریق کسی واقعہ کے بارے میں شہادت پیش کرنا\nچاہے تو جج کو اختیار ہوگا کہ فریق پیش کنندہ شہادت سے استفسار کرے کہ واقعہ مظہرہ ، ثابت ہو جانے کی صورت میں ،\nتو کو\nکس طرح واقعہ متعلقہ ہوگا؛ اور اگر حج کا یہ خیال ہو کہ وہ واقعہ ، ثابت ہونے کی صورت میں، واقعہ متعلقہ ہوگا تو شہادت\nلینا منظور کرے گا ورنہ نہیں۔\n(۲) اگر وہ واقعہ جس کا اثبات مقصود ہواس قسم کا ہو کہ جس کی شہادت صرف کسی دوسرے واقعہ کے ثابت\nال\nہونے پر قابل ادخال ہے تو اس آخر الذکر واقعہ کو اول الذکر واقعہ کا ثبوت پیش کرنے سے قبل ثابت کرنا لازم ہے،\nتا وقتیکہ وہ فریق مذکورہ واقعہ کا ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری نہ لے اور عدالت مذکورہ ذمہ داری سے مطمئن نہ ہو جائے۔\n(۳) اگر کسی مظہرہ واقعہ کے متعلق ہونے کا انحصار کسی دوسرے مظہرہ واقعہ کے پہلے ثابت ہونے پر ہو تو حج\nاپنی صوابدید کے مطابق یا تو دوسرے واقعہ کے ثابت ہونے سے قبل پہلے واقعہ کی نسبت شہادت پیش کرنے کی اجازت\nدے سکتا ہے یا پہلے واقعہ کی نسبت شہادت پیش ہونے سے قبل دوسرے واقعہ کی نسبت شہادت طلب کر سکتا ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) کسی واقعہ متعلقہ کی نسبت کسی ایسے شخص کا بیان ثابت کرنا مقصود ہے جس کے فوت ہو جانے کا\nاظہار کیا گیا اور جو بیان آرٹیکل ۴۶ کے تحت واقعہ متعلقہ ہے۔ یہ واقعہ کہ وہ شخص فوت ہو چکا ہے اس بیان\n\nکی نسبت شہادت پیش کیے جانے سے قبل اس شخص کی طرف سے جو مذکورہ بیان ثابت کرنے\nکا خواہش مند ہو، ثابت کیا جانا چاہیے۔\n(ب) ایک ایسی دستاویز کے مشمولات کو بذریعہ نقل ثابت کرنا مقصود ہے جس کا کھو جانا بیان کیا\nگیا ہے۔\nیہ واقعہ کہ اصل دستاویز کھوگئی ہے نقل پیش کرنے سے قبل اس شخص کی طرف سے ثابت کیا جانا\nچاہیے جو قل پیش کرنے کا خواہش مند ہو۔\n(ج) الف پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے مال مسروقہ کو مسروقہ جانتے ہوئے لیا۔ یہ ثابت کرنا مقصود\nہے کہ اس نے اس مال کے اپنے پاس ہونے سے انکار کیا۔\nاس انکار کا واقعہ متعلقہ ہونا اس مال کی شناخت پر منحصر ہے۔ عدالت کو اختیار ہے کہ اپنی\nصوابدید کے مطابق خواہ انکار قبضہ کے ثابت کرنے کی اجازت دے۔\nخواہ انکار قبضہ\n(1) ایک ایسے واقعہ (الف) کا ثابت کرنا مقصود ہے جو ایک واقعہ نقیح طلب کا باعث یا نتیجہ بیان\nکیا جاتا ہے۔ چند درمیانی واقعات (ب، ج اور د) ہیں جن کے وجود کا اظہار قبل از میں کہ\nواقعہ (الف) واقعہ تنقیح طلب کا باعث یا نتیجہ سمجھا جائے ضروری ہے۔ عدالت کو اختیار ہے کہ\nخواہب، ج یا د کے ثبوت سے پہلے الف کے ثابت کرنے کی اجازت دے یا الف کے\nثبوت کی اجازت دینے سے قبل ب ، ج اور دکا ثبوت طلب کرے۔\n۱۳۲ سوال ابتدائی، وغیرہ:۔ (۱) جو سوال فریق پیش کنندہ اپنے گواہ سے کرے وہ ابتدائی سوال\nکہلائے گا۔\n(۲) جو سوال فریق مخالف کسی گواہ سے کرے اس کو سوال جرح کہا جائے گا۔\n(۳) جو سوال فریق پیش کنندہ اپنے گواہ سے جرح کے بعد کرے وہ سوال مکر رکہلائے گا۔\n\n+95 +\n-۱۳۳۔ ترتیب سوالات (۱) گواہوں سے پہلے سوالات ابتدائی کیے جائیں گے، پھر (اگر فریق مخالف بائیں\nطور چاہے ) سوالات جرح ہوں گے، پھر (اگر اسے پیش کرنے والا فریق بایں طور چاہے ) سوالات مکرر کیے جائیں\nگے۔\n(۲) سوالات ابتدائی اور سوالات جرح واقعات متعلقہ کی بابت ہونے چاہئیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ\nسوالات جرح صرف ان واقعات کی بابت ہوں جن کی بابت گواہ نے سوال ابتدائی کے جواب میں گوائی دی ہو۔\n(۳) سوالات مکرران امور کی کی تشریح میں کیے جائیں گے جن کا ذکر سوالات جرح میں آیا ہو؛ اور اگر\nکوئی نیا امر سوالات مکرر میں عدالت کی اجازت سے پیش ہو تو فریق مخالف اس امر کی بابت مزید سوالات جرح کر سکتا\nہے۔\n۱۳۴۔ دستاویز پیش کرنے کے لیے طلب کیے جانے والے شخص سے سوالات جرح :۔ جو شخص کوئی دستاویز پیش\nکرنے کے لیے طلب کیا جائے محض اس بناء پر کہ اس نے اسے پیش کیا گواہ نہیں بنے گا اور اس سے سوالات جرح نہیں\nہو سکتے تا وقتیکہ اسے بحیثیت گواہ طلب نہ کیا جائے ۔\n\nچال چلن کے گواہ:۔ چال چلن کے گواہوں سے سوالات جرح اور سوالات مگر رکیے جاسکتے ہیں ۔\n۱۳۶۔ ہدایتی سوالات:۔ کوئی سوال جس سے یہ واضح ہو کہ اس کا پوچھنے والا کس طرح کا جواب چاہتا ہے یا اس کی\nامید رکھتا ہے، ہدایتی سوال کہلاتا ہے۔\n۱۳۷۔ ہدایتی سوالات کب نہیں پوچھے جائیں گے: (۱) اگر فریق مخالف اعتراض کرے تو سوالات\nابتدائی میں یا سوالات مکرر میں، ماسوائے عدالت کی اجازت کے، ہدایتی سوالات نہیں پوچھے جائیں گے۔\n(۲) عدالت ان امور کی نسبت ہدایتی سوالات کی اجازت دے گی جو تمہیدی یا غیر متنازع فیہ ہوں یا جو\nاس کی رائے میں پہلے سے بخوبی ثابت ہو چکے ہوں ۔\n۱۳۸ ہدایتی سوالات کب پوچھے جاسکتے ہیں:۔ ہدایتی سوالات سوالات جرح میں پوچھے جاسکتے ہیں۔\n۱۳۹ ۔ ان معاملات کی نسبت شہادت جو ضبط تحریر میں آئے ہوں:۔ کسی گواہ سے ، جبکہ اس سے سوالات کئے\nجارہے ہوں، یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا کوئی معاہدہ، عطیہ یا دیگر انتقال جائداد جس کی بابت وہ شہادت دے رہا ہے کسی\n\nدستاویز میں درج نہیں ہے اور اگر وہ کہے کہ وہ درج ہے یا اگر وہ کسی ایسی دستاویز کے مشمولات کی نسبت کوئی بیان دینے\nوالا ہو جو عدالت کی رائے میں پیش کی جانی چاہیے ، تو فریق مخالف مذکورہ شہادت کو اس وقت تک پیش کیے جانے پر\nاعتراض کر سکتا ہے جب تک کہ مذکورہ دستاویز پیش نہ کی جائے یا جب تک کہ وہ واقعات ثابت نہ ہو جائیں جن سے گواہ\nکو پیش کرنے والا فریق اس کی شہادت منقولی پیش کرنے کا مستحق ہو جائے۔\nتشریح:۔ کوئی گواہ ان بیانات کی بابت جو دیگر اشخاص نے دستاویزات کے مشمولات کی بابت دیئے ہوں\nزبانی شہادت دے سکتا ہے اگر مذکورہ بیانات بنفسہ واقعات متعلقہ ہوں۔\nتمثیل\nتحقیق طلب یہ ہے کہ آیا الف نے سب پر حملہ کیا یا نہیں ۔\nج یہ بیان دیتا ہے کہ اس نے الف کو دے یہ کہتے سنا۔۔۔’ب نے ایک خط میں مجھ پر سرقہ کا\nالزام لگایا ہے اور میں اس سے بدلہ لوں گا ۔ یہ بیان واقعہ متعلقہ ہے کیونکہ اس سے الف کے حملے کی\nوجہ تحریک ظاہر ہوتی ہے اور اس بات کی شہادت دی جاسکتی ہے ، اگر چہ اس خط کے بارے میں کوئی\nدوسری شہادت نہ دی جائے ۔\n:-\nسے\n۱۴۰۔ سابقہ تحریری بیانات کی نسبت سوالات جرح کسی گواہ سے سابقہ بیانات کی بابت جو اس نے تحریری طور\nپر دیئے ہوں یا جو ضبط تحریر میں لائے گئے ہوں اور جو امور متنازعہ سے متعلق ہوں، اسے مذکورہ تحریر دکھائے یا ثابت کیے\nبغیر سوالات جرح کیے جاسکتے ہیں ؛ لیکن اگر اس تحریر کے ذریعہ اس گواہ کی بات کی تردید مقصود ہو تو تحریر ثابت کرنے سے\nقبل اس کی توجہ اس تحریر کے ان حصوں کی طرف مبذول کرانی چاہیے جن کے ذریعہ اس\nکی تردید کرنی مقصود ہو۔\n۱۴۱۔ سوالات جو سوالات جرح میں پوچھے جاسکتے ہیں:۔ جب کسی گواہ پر سوالات جرح کیے جائیں تو اس\nسے ان سوالات کے علاوہ جن کا قبل ازیں حوالہ دیا گیا ہے، کوئی ایسا سوال پوچھا جاسکتا ہے جس سے۔۔۔\n(۱) اسکی صداقت کا امتحان ہو،\n(۲) یہ معلوم ہو کہ وہ کون ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے، یا\n(۳) اسکے کردار پر تہمت لگا کر ، اس کے اعتبار میں خلل ڈالنا مقصود ہو، اگر چہ ایسے سوالات\n\nکا جواب بلا واسطہ یا بالواسطہ گواہ کے مجرم ٹھہرنے کا باعث ہو سکے یا اس پر کوئی سزا یا تاوان عائد\nکر سکے یا بلا واسطہ سز ایا تا وان عائد ہونے کا باعث ہو سکے۔\n۱۴۲۔ کس وقت گواہ جواب دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے:۔ اگر کوئی مذکورہ سوال ایسے معاملہ کی بابت ہو جو مقدمہ یا\nکارروائی سے متعلق ہو تو اس پر آرٹیکل ۱۵ کے احکام اطلاق پذیر ہوں گے۔\n۱۴۳۔ اس کا تصفیہ عدالت کرے گی کہ کس وقت سوال پوچھا جائے اور کس وقت گواہ کو جواب دینے پر مجبور کیا جائے گا:۔\nاگر کوئی مذکورہ سوال کسی ایسے امر کی بابت ہو جو بجز اس کے کہ اس گواہ کے کردار پر تہمت لگا کر اس کے اعتبار\nمیں خلل ڈالے، مقدمہ یا کارروائی سے متعلق نہ ہو تو اس امر کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ آیا گواہ کو اس کا جواب دینے پر\nمجبور کیا جائے گا یا نہیں اور اگر وہ مناسب خیال کرے تو گواہ کو خبر دار کر سکتی ہے کہ وہ اسکے جواب دینے کا پابند نہیں ہے،\nعدالت اپنی صوابدید کو عمل میں لانے میں مندرجہ ذیل امور کا لحاظ رکھے گی :-\n(1) ایسے سوالات مناسب ہیں اگر وہ اس نوع کے ہوں کہ اس اتہام کی صداقت جوان سے پایا جاتا ہو،\nاس معاملہ میں جس کی اس نے گواہی دی ہو، گواہ کے اعتبار کی نسبت عدالت کی رائے کو شدید طور پر\nمتاثر کرے گی ؟\n\n(۲) ایسے سوالات نا مناسب ہیں اگر وہ اتہام جو ان سے پایا جائے ، ایسے امور سے متعلق ہو جن کی قدامت ہ پایا\nزمان یا نوعیت ایسی ہو کہ اتہام کی صداقت اس معاملہ میں جس کی اس نے گواہی دی ہو، گواہ کے\nاعتبار کی نسبت ، عدالت کی رائے کو متاثر نہیں کرے گی یا خفیف طور پر متاثر کرے گی؟\n(۳) ایسے سوالات نا مناسب ہیں اگر اس انتہام کی وقعت میں جو گواہ کے کردار پر لگایا جائے اور اس کی\nشہادت کی وقعت میں بڑا فرق ہو؛\n(۴) عدالت کو اختیار ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھے، تو گواہ کے جواب دینے سے انکار سے یہ قیاس کر سکتی\nہے کہ جواب اگر دیا جاتا تو نا موافق ہوتا۔\n\n*98*\n۱۴۴۔ معقول وجوہ کے بغیر کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا: کوئی ایسا سوال جس کا حوالہ آرٹیکل ۱۴۳ میں دیا\nگیا ہے نہیں پوچھا جنا چاہیئے تاوقتیکہ اسکے پوچھنے والا شخص یہ سمجھنے کی معقول وجہ نہ رکھتا ہو کہ وہ انتہام جو اس سے پایا جاتا\nہے قومی بنیاد پر مبنی ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) کسی وکیل کو ایک اٹارنی کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ ایک اہم ڈاکو گواہ ہے۔\nیہ امر گواہ سے اس بارے میں سوال کرنے کی معقول وجہ ہے کہ کیا وہ ڈاکو ہے۔\n(ب) کسی وکیل کو حاضر عدالت ایک شخص سے یہ خبر لی کہ ایک اہم گواہ ڈا کو ہے۔ مخبر نے وکیل کے\nپوچھنے پر اپنے بیان کی اطمینان بخش وجوہ کیں ۔ یا مرگواہ سے اس بارے میں سوال کرنے کی\nمعقول وجہ ہے کہ کیا وہ ڈاکو ۔\nہے۔\n(ج) کسی گواہ سے جس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے، اتفاقا پو چھا گیا کہ کیا وہ ڈاکو ہے۔\nیہاں یہ سوال پوچھنے کی معقول وجوہ نہیں ہیں۔\n(1) ایک گواہ نے ، جس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے، اس کی بسر اوقات اور ذریعہ معاش کے\nبارے میں سوال پوچھے جانے پر غیر اطمینان بخش جواب دیا۔ یہ امر اس سے یہ سوال پوچھنے کی\nمعقول وجہ ہو سکتا ہے کہ کیا وہ ڈاکو ہے۔\n۱۴۵ معقول وجوہ کے بغیر کوئی سوال پوچھے جانے کی صورت میں عدالت کا ضابطہ کار: اگر عدالت کی یہ رائے ہو\nکہ کوئی مذکورہ سوال معقول وجہ کے بغیر پوچھا گیا ہے، تو وہ، اگر وہ کسی وکیل نے پوچھا ہو، اس مقدمہ کی کیفیت عدالت عالیہ\nیا ایسی دیگر ہیئت مجاز کو بھیج سکتی ہے جس کا مذکورہ، وکیل اپنے پیشہ کی بجا آوری میں تابع ہو۔\n۱۴۶۔ ناشائستہ اور رُسواکن سوالات :- عدالت ایسے سوالات یا استفسارات کی ممانعت کر سکتی ہے جنہیں وہ\nناشائستہ یا رُسوا گن سمجھتی ہو۔ اگر چہ مذکورہ سوالات یا استفسارات عدالت کے روبر وامور متنازع سے کچھ تعلق رکھتے\nہوں ، تا وقتیکہ ان کا تعلق ایسے امور تنقیح طلب یا ایسے معاملات سے نہ ہو جن کا جاننا یہ فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہو کہ\nامور تنقیح طلب کا وجود ہے یا نہیں ۔\n\n۱۴۷ ازالہ حیثیت عرفی تحریری تو ہین اور تو ہین زبانی کے مقدموں میں عدالت کا طریقہ کار :۔ جب کسی شخص پر\nہتک آمیز ، توہین آمیز یا افتر اپردازانہ نوعیت کا اتہام لگانے یا شائع کرنے کے لیے استغاثہ دائر کیا جائے یا مقدمہ چلایا\nجائے ، تو عدالت ، امور تنقیح طلب کے بارے اپنے نتائج قلم بند کرنے سے پہلے کہ آیا مذکورہ شخص نے مذکورہ اتہام لگایا\nتھا یا شائع کیا تھا اور یہ کہ آیا مذکورہ اتہام سچ ہے، کسی گواہ سے ایسا سوال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو کسی ایسے شخص\nکے کردار کو جس کے خلاف مذکورہ اتہام لگایا گیا ہو یا لگانے کا الزام لگایا گیا ہو یا کسی ایسے شخص کے کردار کو خواہ زندہ ہو یا\nوفات پاچکا ہو جس وہ دلچسپی رکھتا ہوضرر پہنچانے کی غرض سے ہو ، ما سوائے اس حد تک کہ مذکورہ سوال اس اتہام کی سچائی\nمتعین کرنے کی اغراض کے لیے ضروری ہو جس کو لگانے یا شائع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔\n۱۴۸۔ ایسے سوالات جن سے توہین کرنا یا رنج پہنچانا مقصود ہو:۔ عدالت کو لازم ہو گا کہ کسی ایسے سوال کی ممانعت\nکرے جو اس کی دانست میں تو ہین کرنے یا رنج پہنچانے کی نیت سے پوچھا جائے ، یا جواگر چہ بنفسہ مناسب ہو، مگر\nاپنے طرز سے عدالت کو بلا ضرورت باعث رنجش خاطر معلوم ہو۔\n۱۴۹۔ ایسی شہادت کا اخراج جو ایسے سوالات کے جوابات کی تردید کے لیے ہو جن سے صداقت کی جانچ مقصود ہو:۔\nجب کسی گواہ سے کوئی ایسا سوال پوچھا گیا ہو اور اس نے اس کا جواب دیا ہو جو تحقیقات سے صرف اس حد تک\nتعلق رکھتا ہو کہ اس گواہ کے کردار پر تہمت لگا کر اس کے اعتبار میں خلل پیدا کرنے کی طرف راجع ہو تو اس کی تردید میں\nکوئی شہادت نہیں گزاری جائے گی ، لیکن ، اگر وہ جھوٹ جواب دے تو بعد ازاں اس پر جھوٹی شہادت دینے کا الزام\n، ،\nعائد کیا جا سکتا ہے۔ \nاستثناء ا: اگر کسی گواہ سے یہ پوچھا جائے کہ آیا وہ پہلے کسی جرم میں سزا یاب ہوا ہے یا نہیں اور وہ اس\nسے انکار کرے تو اس کی سابقہ سزایابی کی شہادت گزاری جاسکتی ہے۔\nاستثناء ٢: اگر کسی گواہ سے ایسا سوال پوچھا جائے جس سے اس کی غیر جانب داری پر حرف آتا ہو اور\nوہ ان واقعات سے جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہوا نکار کرتے ہوئے جواب دے تو اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔\n\nتمثالیں\n(الف) ایک بیمہ کنندہ کے خلاف ایک دعوی کے جواب میں کہا گیا کہ وہ فریب پر مبنی ہے۔\nمدعی سے پوچھا گیا کہ آیا اس نے پہلے کسی معاملے میں فریبانہ دعوی کیا تھا یا نہیں۔ اس نے اس سے\nانکار کیا۔\nیہ ظاہر کرنے کے لیے شہادت پیش کی گئی کہ اس نے ایسا دعویٰ کیا تھا۔\nشہادت نا قابل ادا خال ہے۔\n(ب) ایک گواہ سے پوچھا گیا کہ آیا بد دیانتی کی بناء پرکسی ملازمت سے موقوف کیا گیا تھا یا نہیں۔\nاس نے اس سے انکار کیا۔\nیہ ظاہر کرنے کے لیے شہادت پیش کی گئی کہ اسے بد دیانتی کی بناء پر موقوف کیا گیا تھا۔\nشہادت نا قابل ادخال ہے۔\nต่าง\n(ج) الف نے اس بات کی توثیق کی کہ فلاں دن اس نے بے کو لاہور میں دیکھا تھا۔\nالف سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ بذات خود اس روز فیصل آباد میں تھا یا نہیں ۔\nاس نے اس سے انکار لیا۔\nیہ ثابت کرنے کے لیے شہادت گزاری گئی کہ الف اس دن فیصل آباد میں تھا۔\nشہادت قابل ادخال ہے لیکن اس بناء پر نہیں کہ اس سے الف کی اس واقعہ کی نسبت تردید ہوتی ہے\nجو اس کے اعتبار پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس بناء پر کہ اس سے اس مظہر ہ واقعہ کی تردید ہوتی ہے کہ\nب زیر بحث دن کو لاہور میں دیکھا گیا تھا۔\nان صورتوں میں سے ہر ایک میں گواہ پر ، اگر اس کا انکار جھوٹا ہو، جھوٹی شہادت دینے کا الزام عائد\nہوسکتا ہے۔\n(د) الف سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اس کے خاندان اور ب کے خاندان میں جس کے خلاف اس نے\nشہادت دی ہے قدیم دشمنی ہے یا نہیں ؟\n\nاس نے اس سے انکار کیا، اس کی اس بناء پر تردید کی جاسکتی ہے کہ یہ سوال اس غیر جانبداری میں\nشک ڈالتا ہے۔\n۱۵۰۔ سوالات جو فریق خود اپنے گواہ سے پوچھ سکتا ہے۔ عدالت اپنی صوابدید پر اس شخص کو جو کوئی گواہ\nپیش کرے ، اس سے ایسے سوالات پوچھنے کی اجازت دے سکتی ہے جو سوالات جرح میں فریق مخالف کی طرف سے\nپوچھے جا سکتے ہیں۔\n۱۵۱۔ گواہ کے اعتبار پر اعتراض کرنا ۔ گواہ کے اعتبار پر فریق مخالف کی طرف سے یا عدالت کی منظوری\nسے فریق پیش کنندہ کی طرف سے حسب ذیل طریقوں سے اعتراض کیا جا سکتا ہے:۔\n(1) ان اشخاص کی شہادت کے ذریعے جو اس بات کی گواہی دیں کہ وہ اس گواہ کی بابت جو\nکچھ جانتے ہیں اس کی بناء پر اسے غیر معتبر سمجھتے ہیں؟\n(۲) اس ثبوت کے ذریعے کہ گواہ کو رشوت دی گئی ہے یا وہ رشوت کی پیش کش قبول کر چکا ہے،\nیا شہادت دینے کے لیے اس کو کوئی دیگر نا جائز تر غیب دی گئی ہے؟\n(۳) سابقہ بیانات کے ثبوت کے ذریعے جو اس کی ایسی شہادت کے کسی جزو سے متناقص\nہوں جو قابل تردید ہے؛\n☆\n☆ ☆↓\n☆\nتشریح:- جب کوئی گواہ کسی دوسرے گواہ کو نا قابل اعتبار ظاہر کرے تو اسے اختیار ہے کہ سوال ابتدائی کے\nوقت اپنے یہ باور کرنے کی وجہ بیان نہ کرے لیکن سوال جرح میں اس سے اس کی وجوہ پوچھی جاسکتی ہے اور جو جوابات\nوہ دے ان\nکی تردید نہیں ہو سکتی اگر چہ ان کے جھوٹ ہونے کی صورت میں اس پر بعد ازاں جھوٹی شہادت دینے کا الزام\nعائد ہوسکتا ہے۔\nتمثیلیں\n(الف) الف نے اس مال کی قیمت کی بابت ب کے خلاف نالش کی جو اس نے ب کے ہاتھ فروخت کیا اور اس کے\nحوالے کر دیا۔ ج نے کہا کہ الف نے مال ب کے حوالے کیا۔\nآرٹیکل ۱۵۱ کی شق (۴) کو ایکٹ نمبر ۴۴ بابت ۲۰۱۶ ء کی دفعہ ۱۶ کی رو سے حذف کیا گیا۔\n\n→ 102\nاس امر کے ثبوت کے لیے شہادت پیش کی گئی کہ کسی سابقہ موقع پر اس نے کہا تھا کہ اس\nنے مال ب کے حوالے نہیں کیا تھا۔\nشہادت قابل ادخال ہے۔\n(ب) الف پر ب کے قتل عمد کا مقدمہ چلایا گیا۔\nج نے کہاب بوقت مرگ یہ بیان کیا تھا کہ جس زخم سے اس کی موت واقع ہوئی وہ الف\nنے لگا یا تھا۔ اس امر کے ثبوت کے لیے شہادت پیش کی گئی کہ پہلے کس موقع پر ج نے کہا تھا کہ زخم\nنہ الف نے لگایا اور نہ اس کی موجودگی میں لگایا گیا۔\nشہادت قابل ادخال ہے۔\n-۱۵۲۔ سوالات جن سے واقعہ متعلقہ کی شہادت کی تصدیق ہوتی ہو ، قابل ادخال ہیں:۔ جب کوئی گواہ جس کی\nشہادت کا اثبات مراد ہے کسی واقعہ متعلقہ کی شہادت دے، تو اس سے ایسے دیگر حالات کی نسبت سوالات پوچھے جاسکتے\n\nہیں جو اس نے مذکورہ واقعہ متعلقہ کے وقوع کے وقت یا مقام پر یا اس کے قریب دیکھے ہوں بشرطیکہ عدالت کی رائے یہ\nہو کہ مذکورہ حالات ، ثابت ہونے کی صورت میں، اس واقعہ متعلقہ کی بابت گواہ کی شہادت کی تائید کریں گے جس کی\nجاس نے گواہی دی ہو۔ أيمار\nتمثیل\nایک شریک جرم الف نے ایک ایسے سرقہ بالجبر کا حال بیان کیا جس میں وہ شریک تھا۔ اس نے مختلف\nواقعات بیان کیے جو سرقہ بالجبر سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں مگر اس مقام کی راہ میں جہاں اس کا ارتکاب کیا\nگیا اس کے آنے اور جانے کے وقت وقوع پذیر ہوئے تھے۔\nخودسرقہ کے بارے میں اس کی شہادت کی تائید کی غرض سے مذکورہ واقعات کی علیحدہ شہادت گزاری\nجاسکتی ہے۔\n\n۱۵۳۔ گواہ کے سابقہ بیانات اسی واقعہ کی نسبت بعد کی شہادت کی تائید میں ثابت کیے جاسکتے ہیں : کسی گواہ کی\nشہادت کی تائید کے لیے اسی واقعہ سے متعلق مذکورہ گواہ کا دیا ہوا کوئی سابقہ بیان جو اس نے اس وقت یا اس وقت کے\nقریب جبکہ وہ واقعہ وقوع پذیر ہوا ہو یا کسی ایسی ہیئت مجاز کے سامنے دیا ہو جو از روئے قانون اس واقعہ کی تحقیقات کی\nمجاز ہو، ثابت کیا جا سکتا ہے۔\n۱۵۴۔ آرٹیکل ۴۶ یا ۴۷ کے تحت متعلقہ ثابت شدہ بیان کے سلسلہ میں کون سے امور ثابت کیے جاسکتے ہیں:۔\nجب کوئی بیان جو آرٹیکل ۴۶ یا ۴۷ کے تحت واقعہ متعلقہ ہو، ثابت ہو جائے تو ، خواہ اس کی تردید یا اس کی تائید\nکی غرض سے یا اس شخص کے اعتبار کی نسبت اعتراض کرنے یا اس کی توثیق کرنے کی غرض سے جس نے وہ بیان دیا ہو،\nوہ جملہ امور ثابت کیے جاسکتے ہیں جو مذکورہ شخص کو بطور گواہ طلب کیے جانے اور سوال جرح کے وقت اس امر کی صداقت\nسے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو، انکار کی صورت میں ثابت کیے جاسکتے ہیں۔\n۱۵۵ یادداشت کا تازہ کرنا (1) (1) گواہ کو اختیار ہے کہ دوران شہادت اپنی یادداشت تازہ کرنے کے\nلیے کسی ایسی تحریر سے رجوع کرے جو خود اس نے اس معاملہ کے وقت جس کی بابت اس سے سوال کیا جائے یا اس قدر\nقلیل عرصہ کے بعد تحریر کی ہو کہ عدالت کی دانست میں غالباً اس وقت وہ معاملہ اس کو خوب یاد ہوگا۔\n(۲) گواہ کو ایسی تحریر سے رجوع کرنے کا بھی اختیار ہو گا جو کسی دوسر\nزمانہ قبل الذکر کے اندر پڑھا ہو،اگر اسے پڑھتے وقت وہ اس\nکو صحیح جانتا تھا۔\nشخص نے تحریر کی ہو اس گواہ نے\n(۳) جب کوئی گواہ کسی دستاویز سے رجوع کر کے اپنی یادداشت تازہ کر سکتا ہوتو وہ ، عدالت کی اجازت\nسے، مذکورہ دستاویز کی نقل سے رجوع کر سکتا ہے:\nمگر شرط یہ ہے کہ عدالت کو اس امر کا اطمینان ہو کہ اصل کے پیش نہ کرنے کی وجہ کافی ہے۔\n(۴) کوئی ماہر فن اپنی یادداشت تازہ کرنے کے لیے پیشہ ورانہ کتب سے رجوع کر سکتا ہے۔\n۱۵۶۔ ان واقعات کی شہادت جو آرٹیکل ۱۵۵ میں مذکورہ دستاویز میں بیان کیے گئے ہوں:۔ کوئی گواہ کسی ایسی دستاویز\nمیں مذکورہ واقعات کی بابت بھی شہادت دے سکتا ہے جس کا ذکر آرٹیکل ۱۵۵ میں کیا گیا ہے، اگر چہ وہ واقعات اسے\nخاص کر یاد نہ ہوں، بشرطیکہ اسے یقین ہو کہ وہ واقعات اس دستاویز میں صحیح طور پر تحریر پائے ہیں ۔\n\n+ 104 →\nتمثیل\nکوئی روز نامچہ نویس ایسے واقعات کی بابت شہادت دے سکتا ہے جو اس نے بہی کھاتوں میں درج\nکیے ہوں جو دوران کا روبار حسب ضابطہ رکھے جاتے ہوں، اگر وہ جانتا ہو کہ بہی کھاتوں میں صحیح اندراجات ہوتے رہے\nہیں۔ اگر چہ وہ درج شدہ خاص معاملات فراموش کر چکا ہو۔\n۱۵۷۔ ایسی تحریر کی بابت فریق مخالف کا حق جو یادداشت تازہ کرنے کے لیے کام میں آئے۔ اگر فریق مخالف\nچاہے تو ایسی کوئی تحریر جس کا حوالہ آخری دو ماہ قبل آرٹیکل کے احکام کے تحت دیا گیا ہے ، پیش کی جائے گی اور اسے\nتو گواہ سے اس کی بابت\nدکھلائی جائے گی : مذکورہ فریق کو اختیار ہے کیا کرے۔\nكلاط\n۱۵۸ پیش سازی دستاویزات:۔ (۱) کوئی گواہ جو کوئی دستاویز پیش کرنے کے لیے طلب کیا جائے اسے\nلازم ہے کہ اگر وہ اس کے قبضہ یا اختیار میں ہے تو اسے عدالت میں لے آئے باوجود یکہ اس کے پیش کرنے یا اس کے\nقابل ادخال ہونے کی نسبت کوئی اعتراض بھی نہ ہو۔ مذکورہ اعتراض کے جواز کا فیصلہ عدالت کرے گی۔\n(۲) عدالت کو اختیار ہے کہ اگر مناسب سمجھے تو دستاویز کا معائنہ کرے، تا وقتیکہ وہ معاملات مملکت سے\nمتعلق نہ ہو، یا اس کے قابل ادخال ہونے کی بابت اپنی رائے قائم کرنے کے لیے دیگر شہادت لے۔\n(۳) اگر مذکورہ غرض کے لیے کسی دستاویز کا ترجمہ کرانا ضروری ہو تو عدالت کو اختیار ہے کہ اگر مناسب سمجھے تو\nمترجم کو اس کے مشمولات مخفی رکھنے کا حکم دے، تاوقتیکہ دستاویز شہادت میں پیش نہ کی جانے والی ہو: اور اگر مترجم مذکورہ ہدایت\nکی خلاف ورزی کرے تو وہ مجموعہ تعزیرات پاکستان (نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی دفعہ ۱۲۶ کے تحت جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔\n۱۵۹۔ ایسی دستاویز بطور شہادت پیش کرنا جو بذریعہ نوٹس طلب اور پیش کی جائے۔ جب کوئی فریق کو کوئی ایسی\nدستاویز طلب کرے جس کے پیش کرنے کے لیے اس نے دوسرے فریق کو نوٹس دیا ہو اور مذکورہ دستاویز پیش کی جائے\nاور وہ فریق اس کا معائنہ کرے جس نے اسے طلب کیا ہو تو اگر فریق پیش کنندہ اس سے ایسا کرنے کا مطالبہ کرے تو وہ ا\nس کو بطور شہادت پیش کرنے کا پابند ہے۔\n۱۶۰۔ وہ دستاویز بطور شہادت کام میں لانا جسے نوٹس پر پیش کرنے سے انکار کیا گیا ہو۔ جب کوئی فریق ایسی\nدستاویز پیش کرنے سے انکار کرے جس کے پیش کرنے کا اسے نوٹس ملا ہو تو وہ اس دستاویز کو بعد ازاں دوسرے فریق\nکی رضامندی یا عدالت کے حکم کے بغیر بطور شہادت کام میں نہیں لاسکتا۔\n\nتمثیل\nالف نے سب کے خلاف ایک اقرارنامہ کی بابت نالش کی اور ب کو اس کے پیش کرنے کا نوٹس دیا۔\nبوقت سماعت الف نے وہ دستاویز طلب کی اور ب نے اسے پیش کرنے سے انکار کیا۔ الف نے اس کے مشمولات کی\nشہادت منقولی پیش کی ۔ سب نے چاہا کہ الف کی گزاری ہوئی شہادت منقولی کی تردید کے لیے یا یہ ظاہر کرنے کے لیے\nکه اقرار نامہ اسٹام شدہ نہیں ہے اصل دستاویز پیش کرے۔ وہ ایسا کرنے کا مجاز نہیں ہے۔\n۱۔ سوالات کرنے یا پیش سازی کا حکم دینے کے بارے میں حج کا اختیار:۔ حج کو اختیار ہے کہ واقعات\nمتعلقہ کا مناسب ثبوت دریافت کرنے یا حاصل کرنے کی غرض سے جو سوال چاہے، کسی طور پر کسی وقت کسی گواہ یا\nفریقین مقدمہ سے کسی واقعات متعلقہ یا غیر متعلقہ کی بابت پوچھ سکتا ہے اور کسی دستاویز یا شے کے پیش کرنے کا حکم\nدے سکتا ہے : اور نہ تو فریقین مقدمہ کو نہ ان کے کارندگان کو کسی مذکورہ سوال یا حکم پر اعتراض کرنے کا اور نہ ہی ، عدالت\nکی اجازت کے بغیر کسی گواہ کے جواب پر ، جو کسی مذکورہ سوال کے جواب میں دیا گیا ہو ،سوالات جرح کرنے کا حق ہوگا:\nمگر شرط یہ ہے کہ فیصلہ کا ایسے واقعات پر بنی ہونا ضروری ہے جو اس فرمان کی رو سے واقعات متعلقہ قرار دیئے\nگئے ہوں اور باضابطہ ثابت شدہ ہوں :\nنیز شرط یہ ہے کہ اس آرٹیکل کی رو سے کسی حج کو اختیار نہ ہوگا کہ کسی گواہ کو کسی ایسے سوال کا جواب دینے یا کوئی\nایسی دستاویز پیش کرنے پر مجبور کرے جس کا جواب دینے سے یا جس کے پیش کرنے سے انکار کا حق ، آرٹیکل ۴ تا ۱۴،\nبشمول ہر دو کے تحت اسے حاصل ہوتا ، اگر فریق مخالف نے وہ سوال پوچھا ہوتا یا دستاویز طلب کی ہوتی ، نہ ہی حج کوئی\nایسا سوال پوچھے گا جس کا پوچھنا آرٹیکل ۱۴۳ یا ۱۴۴ کے تحت کسی دوسرے شخص کے لیے نا مناسب ہو ، نہ ہی وہ کسی\nدستاویز کی شہادت اصلی کو مستثنیٰ قرار دے گا بجز ان صورتوں کے جو قبل از میں مستثنی کی گئی ہیں۔\n\nگیارہواں باب\nبے جا ادخال شہادت و نا منظوری کی شہادت کے بارے میں\n۱۶۲۔ بے جا ادخال یا نا منظوری شہادت کی وجہ سے از سر نو سماعت نہیں ہوگی : کسی شہادت کا بے جا ادخال یا\nنامنظوری نبفسه کسی مقدمہ کی از سر نو سماعت یا فیصلہ کے استرداد کی وجہ نہ ہوگی ، اگر اس عدالت کو جس کے رو برو مذکورہ\nاعتراض پیش کیا جائے ، یہ معلوم ہو کہ بلحاظ اس شہادت کے جس پر اعتراض کیا گیا اور جو منظور کی گئی کسی فیصلہ کے جائز\nقرار دینے کے لیے شہادت کافی موجود تھی یا یہ کہ اگر نا منظو شدہ شہادت منظور کر لی جاتی تو اس کے فیصلے میں کچھ فرق نہ\nآتا ۔\nایمان\n \n\n+107☀\nبارہواں باب\nحلف نامہ کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ\n(1) جب کوئی مدعی اپنے دعوی کی\n۱۶۳۔ حلف نامہ میں کیے گئے دعوی کی قبولیت یا اس سے انکار:۔\nتائید میں حلف اٹھائے ، تو عدالت مدعی کی درخواست پر ، مدعا علیہ کو طلب کر کے دعوئی سے حلفاً انکار کرنے کو کہے گی۔\n(۲) عدالت خرچہ اور دیگر معاملات سے متعلق ایسے احکام جاری کر سکے گی جو وہ مناسب سمجھے۔\n(۳) اس آرٹیکل میں کوئی امرنفاذ حدود یا دیگر فوجداری مقدمات سے متعلق قوانین پر اطلاق پذیرنہیں ہوگا۔\nایمان\n\nتیرہواں باب\nمتفرقات\nٹیم\n۱۲۴۔ ایسی شہادت کی پیش سازی جو جدید آلات اور انفارمیشن سٹم، وغیرہ کی بدولت دستیاب ہوگئی ہے۔\nمقدمہ اور حالات کی نوعیت کے اعتبار سے، عدالت اگر مناسب خیال کرے، تو جدید آلات اور تلنکس کے\nذریعے عدالت کی جانب سے ریکارڈ کردہ کسی بھی شہادت یا گواہان کو پیش کرنے کی اجازت دے سکتی ہے،جس میں\nویڈیو کال، وائبر ، ایمو، واٹس ایپ، فیس بک میسنجر ، لائن کالر اور ویڈیو کانفرنس وغیرہ شامل ہیں۔\nیہ فرمان دیگر قوانین پر غالب رہے گا: اس فرمان کے احکام فی الوقت نافذ العمل کسی دیگر قانون میں شامل\n\nکسی امر کے باوجود موثر ہوں گے۔\n-۱۲۶ تنسیخ قانون شہادت ۱۸۷۲ء ( نمبر ابابت ۱۸۷۲ء) بذریعہ منسوخ کیا جاتا ہے۔\nایمان\n \nایکٹ ۳۸ بابت ۲۰۲۳ ء کی دفعہ ۱۲، کی رُو سے تبدیل کیا گیا۔", "meta": { "source": "1_administratorcurdua7f4f2b3b5b93d09a4aa34cd.pdf", "pages": 108 } } ]