text
stringlengths
419
582k
[Wikipedia:ur] جغرافیہ جغرافیہ ‎‎، جغرافیہ (یونانی: γεωγραφία) یونانی زبان کے الفاظ 'Geo' (زمین کا) اور 'Graphhien' (تفصیل) کا مجموعہ، جس کے معنی ہیں زمین کا بیان۔"جغرافیہ وہ علم ہے، جس میں زمین، اس کی خصوصیات، اس کے باشندوں‎ ،‎اس کے مظاہر اور اس کے نقوش کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔" جغرافیہ ایک ہمہ جہت نظم و ضبط ہے جو زمین اور اس کی انسانی اور فطری پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؛ نہ صرف یہ کہ اشیاء کہاں ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ کس طرح بدلی ہیں اور کیسے بنی ہیں۔ حالآنکہ جغرافیہ زمین کے لیے مخصوص ہے، مگر اس کے بہت سے تصورات کو سیاروں کی سائنس کے میدان میں دیگر آسمانی اجسام پر زیادہ وسیع پیمانے پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ جغرافیہ کو "قدرتی علوم اور سماجی علوم کے مضامین کے درمیان ایک پل" کہا جاتا ہے۔ لفظ γεωγραφία کا پہلا ریکارڈ شدہ استعمال یونانی اسکالر اراستوستھینز (276–194 BC) کی ایک کتاب کے عنوان کے طور پر تھا۔ تاہم، قدیم بابل میں نویں صدی قبل مسیح میں دنیا کے نقشے کی کوشش کی ابتدائی مثال کے ساتھ، جغرافیہ کے تصورات (جیسے نقشہ نگاری) دنیا کو مقامی طور پر سمجھنے کی ابتدائی کوششوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جغرافیہ کی تاریخ ایک نظم و ضبط کے طور پر ثقافتوں اور صدیوں پر محیط ہے، جو آزادانہ طور پر ایک سے زیادہ گروہوں کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور ان گروہوں کے درمیان تجارت کے ذریعے باہمی تفہیم کی گئی ہے۔ جغرافیہ کے بنیادی تصورات جو تمام طریقوں کے درمیان مطابقت رکھتے ہیں وہ جگہ، وقت اور پیمانے پر مرکوز ہیں۔ موجودہ دور میں، جغرافیہ متعدد نقطہ نظر اور طریقوں کے ساتھ ایک انتہائی وسیع نظم و ضبط ہے۔ نظم و ضبط کو منظم کرنے کی متعدد کوششیں، بشمول جغرافیہ کی چار روایات اور شاخوں میں تقسیم کے، کی گئی ہیں۔ استعمال کی جانے والی تکنیکوں کو عام طور پر مقدار اور معیار کے طریقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس میں بہت سے مطالعات مخلوط طریقے اختیار کرتے ہیں۔ عام تکنیکوں میں نقشہ نویسی، دور حساسیت remote sensing، انٹرویوز اور سروے شامل ہیں۔تصغیر|بائیں|300px|‎زمین کی اپالو 17سے لی گئی تصویر ‎ تصغیر|بائیں|250px|‎طوفان‎ تصغیر|میپ تاریخ ایراٹورتھینیس (‎ 276 سے 194 قبل مسیح)‎ وہ پہلا شخص تھا۔ جس نے لفظ جغرافیہ استعمال کیا۔ جغرافیہ کو زمین کی سائنس بھی کہا جاتا ہے۔ آج تک انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ وہ جغرافیہ کی ہی مرہون منت ہے۔ زمین انسان کا گھر ہے۔ اور اس گھر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے علم جغرافیہ انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ علم جغرافیہ پرانے زمانے میں بھی موجود رہا ہے۔ لیکن اس دور میں اس کی اہمیت بہت کم تھی۔ عموما دریاؤں، پہاڑوں، سمندروں اور مقامات کے نام یاد کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے علوم کی نسبت جغرافیہ میں بہت سست رفتاری سے ترقی ہوئی۔تصغیر|بائیں|300px|‎زمین اور چاند‎ تصغیر|250px|بائیں|‎ملکہ پربت‎ زمانہ قدیم میں جغرافیہ کا تصور اس علم کا آغاز بطور سائنس مصر و یونان میں ہوا۔ زمانہ قدیم کے جغرافیہ دانوں کی بعض تحریریں بڑی دلچسپ ہیں۔ مثلاً سٹرابو جو ایک اطالوی جغرافیہ دان تھا، اس خیال کا مالک تھا کہ سمندر کا پانی ایک بہت بڑے دریا کی طرح کسی ڈھلان پر بند رہتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ فضا سے ہوا زمین میں داخل ہو کر محبوس ہو جاتی ہے اور جب وہ فضا میں واپس جانے کے لیے جدوجہد کرتی ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر ان عجیب و غریب خیالات کے ساتھ ساتھ قدیم یونانیوں نے بعض حیرت انگیز دریافتیں بھی کیں۔ مثلاً 200ق م کے قریب، ارسطاطالیس نے مصر کے مشرق و مغرب میں مدوجزر کی لہروں میں تناسب معلوم کرنے پر یہ اعلان کیا کہ بحر اوقیانوس اور بحر ہند آپس میں منسلک ہیں۔ اس کی ایک اور دریافت قابل ذکر ہے، جس کے مطابق اس نے بتایا کہ دور مغرب میں شمال سے جنوب تک کوئی ملک ضرور واقع ہے۔ اس کے 1700 سال بعد کولمبس نے اس ملک امریکا کو دریافت کیا۔تصغیر|بائیں|250px|‎پہاڑ‎جغرافیہ میں سب سے پہلے یونانیوں نے پیش رفت کرنا شروع کی۔ قرون وسطیٰ میں مسلم ممالک میں اس علم میں بہت پیش رفت ہوئی۔ اس دور کے اہم ناموں میں ابن بطوطہ، ابن خلدون اور ادریسی شامل ہیں۔ مسلمانوں کے علمی زوال کے بعد یورپ میں اس مضمون پر بہت پیش رفت ہوئی۔ جغرافیہ کی شاخیں * طبیعی جغرافیہ * انسانی جغرافیہ * تہذیبی جغرافیہ * تاریخی جغرافیہ حوالہ جات زمرہ:بنیادی موضوع قسم بندی زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:درسی علوم زمرہ:زمینیات زمرہ:معاشرتی علوم زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:انیسویں صدی میں سائنس زمرہ:جرمن ایجادات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] پاکستان پاکستان، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پانچواں سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 2023 کے مطابق 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے۔ اسلام آباد اس کا دار الحکومت ہے، جبکہ کراچی اس کا سب سے بڑا شہر اور مالیاتی مرکز ہے۔ پاکستان رقبے کے لحاظ سے 33واں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ جنوب میں بحیرہ عرب، جنوب مغرب میں خلیج عمان اور جنوب مشرق میں سر کریک سے متصل ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ خلیج عمان میں عمان کے ساتھ سمندری سرحد بھی رکھتا ہے اور شمال مغرب میں افغانستان کے تنگ واخان راہداری کے ذریعے تاجکستان سے جدا ہوتا ہے۔ پاکستان کئیی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے، جن میں بلوچستان میں 8,500 سال پرانا نیا سنگی مقام مہرگڑھ، کانسی کے دور کی وادی سندھ کی تہذیب، اور قدیم گندھارا تہذیب شامل ہیں۔ جدید ریاست پاکستان کے علاقے متعدد سلطنتوں اور خاندانوں کے زیر اثر رہے ہیں، جن میں گندھارا، ہخامنشی، موریہ، کشان، پارتھی، پارتراجس، گپتا؛ جنوبی علاقوں میں اموی خلافت، ہندو شاہی، غزنوی، دہلی سلطنت، سما، شاہ میر، مغل، درانی، سکھ اور حال ہی میں 1858 سے 1947 تک برطانوی راج شامل ہیں۔ پاکستان تحریک کی بدولت، جو برطانوی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کی تلاش میں تھی اور 1946 میں آل انڈیا مسلم لیگ کی انتخابی کامیابیوں کے بعد، پاکستان نے 1947 میں برطانوی ہندوستانی سلطنت کی تقسیم کے بعد آزادی حاصل کی، جس نے اس کے مسلم اکثریتی علاقوں کو علاحدہ ریاست کا درجہ دیا اور اس کے ساتھ بے مثال بڑے پیمانے پر ہجرت اور جانوں کا ضیاع ہوا۔ ابتدائی طور پر برطانوی دولت مشترکہ کا ایک ڈومینین، پاکستان نے 1956 میں باضابطہ طور پر اپنا آئین تیار کیا اور ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر ابھرا۔ 1971 میں، مشرقی پاکستان کے علاقے نے نو ماہ طویل خانہ جنگی کے بعد بنگلہ دیش کے نئے ملک کے طور پر علیحدگی اختیار کی۔ اگلے چار دہائیوں میں، پاکستان کی حکومتیں، اگرچہ پیچیدہ تھیں، عام طور پر شہری اور فوجی، جمہوری اور آمرانہ، نسبتاً سیکولر اور اسلام پسند کے درمیان متبادل رہیں۔ پاکستان کو ایک درمیانی طاقت والا ملک سمجھا جاتا ہے، جس کی دنیا کی چھٹی سب سے بڑی مسلح افواہج ہیں۔ یہ ایک اعلان شدہ جوہری ہتھیاروں والا ملک ہے اور ابھرتی ہوئی اور ترقی کی قیادت کرنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی ایک بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی متوسط طبقہ ہے۔ آزادی کے بعد سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نمایاں اقتصادی اور فوجی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے ادوار بھی شامل ہیں۔ یہ ایک نسلی اور لسانی طور پر متنوع ملک ہے، جس کی جغرافیہ اور جنگلی حیات بھی متنوع ہیں۔ ملک کو غربت، ناخواندگی، بدعنوانی اور دہشت گردی جیسے چنوتیوں کا سامنا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اسلامی تعاون تنظیم، دولت مشترکہ، جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم اور اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد کا رکن ہے اور امریکا کی طرف سے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اشتقاق پاکستان کا نام چودھری رحمت علی نے تجویز کیا تھا، جو پاکستان تحریک کے ایک کارکن تھے۔ انھوں نے جنوری 1933 میں پہلی بار اسے (اصل میں “پاکستان” کے طور پر) ایک پمفلٹ “اب یا کبھی نہیں” میں شائع کیا اور اسے ایک مخفف کے طور پر استعمال کیا۔ رحمت علی نے وضاحت کی: “یہ ہمارے تمام وطنوں، ہندوستانی اور ایشیائی، پنجاب، افغانیا، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کے ناموں سے لی گئی حروف پر مشتمل ہے۔ ” انھوں نے مزید کہا، “پاکستان فارسی اور اردو دونوں زبانوں کا لفظ ہے… اس کا مطلب ہے پاک لوگوں کی سرزمین، روحانی طور پر پاک اور صاف۔ ” ماہرین لسانیات نوٹ کرتے ہیں کہ پاک فارسی اور پشتو میں ‘پاک’ ہے اور فارسی لاحقہ ـستان ‘زمین’ یا ‘جگہ’ کا مطلب دیتا ہے۔ رحمت علی کا پاکستان کا تصور صرف برصغیر کے شمال مغربی علاقے سے متعلق تھا۔ انھوں نے بنگال کے مسلم علاقوں کے لیے “بنگلستان” اور حیدرآباد ریاست کے لیے “عثمانستان” کا نام بھی تجویز کیا اور ان تینوں کے درمیان ایک سیاسی وفاق کی تجویز بھی دی تھی۔ تاريخ وادی سندھ کی تہذیب تصغیر|upright=0.75|موہنجوداڑو کے پجاری-بادشاہ () جنوبی ایشیا میں قدیم انسانی تہذیبوں میں سے کچھ موجودہ دور کے پاکستان کے علاقوں سے شروع ہوئیں۔ اس خطے کے ابتدائی معلوم باشندے سوانی تھے جو ابتدائی قدیم سنگی دور میں رہتے تھے، جن کے نوادرات پنجاب کی سوان وادی میں ملے ہیں۔ انڈس علاقہ، جو موجودہ دور کے پاکستان کے زیادہ تر حصے پر محیط ہے، کئیی متواتر قدیم ثقافتوں کا مقام تھا جن میں نیے سنگی دور (7000–4300 قبل مسیح) کا مقام مہرگڑھ شامل ہے، اور جنوبی ایشیا میں شہری زندگی کی 5000 سالہ تاریخ وادی سندھ کی تہذیب کے مختلف مقامات تک پھیلی ہوئی ہے، جن میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ شامل ہیں۔ ویدک دور تصغیر|ایستادہ|شمشان گھاٹ، گندھارا قبر ثقافت، وادی سوات، |بائیں وادی سندھ کی تہذیب کے زوال کے بعد، ویدک دور (1500–500 قبل مسیح) میں وسطی ایشیا سے ہجرت کی کئیی لہروں میں ہند-آریائی قبائل پنجاب میں داخل ہوئے، جو اپنے مخصوص مذہبی روایات اور رسومات کو ساتھ لائے جو مقامی ثقافت کے ساتھ مل گئیں۔ ہند-آریائی مذہبی عقائد اور رسومات، باختریا-مارگیانا ثقافت اور سابقہ وادی سندھ کی تہذیب کے مقامی ہڑپہ عقائد سے مل کر ویدک ثقافت اور قبائل کی بنیاد بنے۔ ان میں سب سے نمایاں گندھارا تہذیب تھی، جو ہندوستان، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر پھلی پھولی، تجارتی راستوں کو جوڑتی اور مختلف تہذیبوں سے ثقافتی اثرات جذب کرتی رہی۔ ابتدائی ویدک ثقافت ایک قبائلی، چرواہا معاشرہ تھا جو وادی سندھ میں مرکوز تھا، جو آج کے پاکستان کا حصہ ہے۔ اس دور میں ویدوں، جو ہندو مت کے قدیم ترین صحیفے ہیں، کی تخلیق ہوئی۔ کلاسیکی دور تصغیر|upright=0.75|دائیں|گندھارا سے کھڑا بدھا (پہلی سے دوسری صدی عیسوی) پاکستان کے مغربی علاقے تقریباً 517 قبل مسیح میں ہخامنشی سلطنت کا حصہ بن گئے۔ 326 قبل مسیح میں، سکندر اعظم نے مختلف مقامی حکمرانوں کو شکست دے کر اس علاقے کو فتح کیا، جن میں سب سے نمایاں راجا پورس تھے، جنھیں جہلم میں شکست دی گئی۔ اس کے بعد موریہ سلطنت کا دور آیا، جس کی بنیاد چندرگپت موریہ نے رکھی اور اشوک اعظم نے اسے 185 قبل مسیح تک وسعت دی۔ باختریا کے دیمتریوس (180–165 قبل مسیح) نے انڈو-یونانی سلطنت کی بنیاد رکھی، جس میں گندھارا اور پنجاب شامل تھے اور اس نے مینندر (165–150 قبل مسیح) کے دور میں اپنی عظیم ترین وسعت حاصل کی، جس سے اس علاقے میں یونانی-بدھ ثقافت کو فروغ ملا۔ ٹیکسلا میں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز میں سے ایک قائم ہوا، جو 6ویں صدی قبل مسیح میں ویدک دور کے آخر میں قائم ہوا تھا۔ اس قدیم یونیورسٹی کا ذکر سکندر اعظم کی افواہج نے کیا اور چینی زائرین نے 4ویں یا 5ویں صدی عیسوی میں بھی اس کا ذکر کیا۔ اپنے عروج کے دور میں، رائے خاندان (489–632 عیسوی) سندھ اور آس پاس کے علاقوں پر حکمرانی کرتا تھا۔ اسلامی فتح عرب فاتح محمد بن قاسم نے 711 عیسوی میں سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں کو فتح کیا۔ پاکستان کی حکومت کی سرکاری تاریخ کے مطابق، یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ابتدائی قرون وسطیٰ کا دور (642–1219 عیسوی) اس خطے میں اسلام کے پھیلاؤ کا گواہ ہے۔ 8ویں صدی کے آغاز میں اسلام کی آمد سے پہلے، پاکستان کا علاقہ مختلف مذاہب کا گھر تھا، جن میں ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور زرتشتیت شامل تھے۔ اس دور میں، صوفی مبلغین نے خطے کی اکثریتی آبادی کو اسلام قبول کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کابل وادی، گندھارا (موجودہ خیبر پختونخوا) اور مغربی پنجاب پر حکومت کرنے والی ترک اور ہندو شاہی سلطنتوں کی شکست کے بعد، کئیی متواتر مسلم سلطنتوں نے اس خطے پر حکومت کی، جن میں غزنوی سلطنت (975–1187 عیسوی)، غوری سلطنت اور دہلی سلطنت (1206–1526 عیسوی) شامل ہیں۔ دہلی سلطنت کی آخری لودی خاندان کو مغل سلطنت (1526–1857 عیسوی) نے تبدیل کیا۔ تصغیر|بائیں|بادشاہی مسجد، لاہور مغلوں نے فارسی ادب اور اعلیٰ ثقافت کو متعارف کرایا، جس سے اس خطے میں ہند-فارسی ثقافت کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ موجودہ دور کے پاکستان کے علاقے میں، مغل دور کے دوران اہم شہر ملتان، لاہور، پشاور اور ٹھٹھہ تھے، جنھیں شاندار مغل عمارتوں کے مقامات کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ 16ویں صدی کے اوائل میں، یہ علاقہ مغل سلطنت کے تحت رہا۔ 18ویں صدی میں، مغل سلطنت کے آہستہ آہستہ زوال کو مرہٹہ کنفیڈریسی اور بعد میں سکھ سلطنت کی ابھرتی ہوئی طاقتوں، نیز 1739 میں ایران سے نادر شاہ اور 1759 میں افغانستان کی درانی سلطنت کی یلغار نے تیز کر دیا۔ بنگال میں برطانوی سیاسی طاقت کی بڑھتی ہوئی قوت ابھی تک موجودہ پاکستان کے علاقوں تک نہیں پہنچی تھی۔ نوآبادیاتی حکومت یعنی جدید پاکستان کا کوئی حصہ 1839 تک برطانوی حکومت کے تحت نہیں تھا جب کراچی، جو ایک چھوٹا سا ماہی گیری کا گاؤں تھا جسے سندھ کے تالپوروں نے ایک مٹی کے قلعے کے ساتھ بندرگاہ کی حفاظت کے لیے حکومت کیا تھا، کو قبضے میں لے لیا گیا اور اسے پہلے افغان جنگ کے لیے ایک بندرگاہ اور فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ باقی سندھ کو 1843 میں حاصل کیا گیا اور بعد میں، جنگوں اور معاہدوں کی ایک سیریز کے ذریعے، ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں، سپاہی بغاوت (1857–1858) کے بعد، برطانوی سلطنت کی ملکہ وکٹوریہ کی براہ راست حکومت کے تحت، اس خطے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا گیا۔ اہم تنازعات میں بلوچ تالپور خاندان کے خلاف جنگیں شامل تھیں، جو سندھ میں میانی کی جنگ (1843) کے ذریعے حل ہوئیں، اینگلو-سکھ جنگیں (1845–1849)، اور اینگلو-افغان جنگیں (1839–1919)۔ 1893 تک، جدید پاکستان کا تمام حصہ برطانوی ہندوستانی سلطنت کا حصہ تھا اور 1947 میں آزادی تک ایسا ہی رہا۔ برطانوی حکومت کے تحت، جدید پاکستان بنیادی طور پر سندھ ڈویژن، پنجاب صوبہ اور بلوچستان ایجنسی میں تقسیم تھا۔ اس علاقے میں مختلف ریاستیں بھی شامل تھیں، جن میں سب سے بڑی ریاست بہاولپور تھی۔ برطانوی حکومت کے خلاف اس علاقے میں سب سے بڑی مسلح جدوجہد 1857 کی بغاوت تھی، جسے سپاہی بغاوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برطانوی ہندوستان میں ہندو مت اور اسلام کے درمیان تعلقات میں اختلافات نے اہم تناؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں مذہبی تشدد ہوا۔ زبان کے تنازعے نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ایک مسلم فکری تحریک، جس کی قیادت سر سید احمد خان نے کی، ہندو نشاۃ ثانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دو قومی نظریہ کی وکالت کی اور 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی راہ ہموار کی۔ مارچ 1929 میں، نہرو رپورٹ کے جواب میں، پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے اپنے چودہ نکات پیش کیے، جن میں متحدہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کے مفادات کے تحفظ کے لیے تجاویز شامل تھیں۔ ان تجاویز کو مسترد کر دیا گیا۔ 29 دسمبر 1930 کی اپنی تقریر میں، علامہ اقبال نے شمال مغربی ہندوستان میں مسلم اکثریتی ریاستوں، بشمول پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے انضمام کی وکالت کی۔ 1937 سے 1939 تک کانگریس کی قیادت میں برطانوی صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسلم لیگ کو نظر انداز کرنے کے تاثر نے جناح اور دیگر مسلم لیگ کے رہنماؤں کو دو قومی نظریہ اپنانے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں 1940 کی لاہور قرارداد کو اپنایا گیا، جسے شیر بنگال اے کے فضل الحق نے پیش کیا، جو پاکستان قرارداد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ 1942 تک، برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران کافی مشکلات کا سامنا تھا اور ہندوستان کو جاپانی افواہج سے براہ راست خطرہ لاحق تھا۔ برطانیہ نے جنگ کے دوران حمایت کے بدلے ہندوستان کو رضاکارانہ آزادی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، اس وعدے میں ایک شق شامل تھی جس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی ہندوستان کا کوئی حصہ نتیجے میں بننے والے ڈومینین میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جسے ایک آزاد مسلم قوم کی حمایت کے طور پر سمجھا جا سکتا تھا۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے برطانوی حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے “بھارت چھوڑو تحریک” شروع کی۔ اس کے برعکس، مسلم لیگ نے برطانیہ کی جنگی کوششوں کی حمایت کا انتخاب کیا، جس سے ایک مسلم قوم کے قیام کے امکان کو فروغ ملا۔ آزادی تصغیر|upright=1.2|ہندوستان کی تقسیم: سبز علاقے 1948 تک پاکستان کا حصہ تھے اور نارنجی علاقے بھارت کا حصہ تھے۔ گہرے رنگ والے علاقے پنجاب اور بنگال کے صوبے ہیں جو ریڈکلف لائن کے ذریعے تقسیم کیے گئے تھے۔ سرمئی علاقے کچھ اہم ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو بالآخر بھارت یا پاکستان میں شامل ہو گئیں۔ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے 90 فیصد مسلم نشستیں جیت لیں، جس میں سندھ اور پنجاب کے زمینداروں کی حمایت شامل تھی۔ اس نے انڈین نیشنل کانگریس کو، جو ابتدا میں مسلم لیگ کی نمائندگی پر شکوک و شبہات کا شکار تھی، اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ محمد علی جناح کی بطور بھارتی مسلمانوں کی آواز کے طور پر ابھرنے نے برطانوی حکومت کو اپنے موقف پر غور کرنے پر مجبور کیا، حالانکہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے حق میں نہیں تھے۔ تقسیم کو روکنے کی آخری کوشش میں، انھوں نے کابینہ مشن پلان پیش کیا۔ جب کابینہ مشن ناکام ہو گیا، تو برطانوی حکومت نے جون 1948 تک حکومت ختم کرنے کے ارادے کا اعلان کیا۔ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن آف برما، آل انڈیا مسلم لیگ کے محمد علی جناح اور کانگریس کے جواہر لال نہرو کے درمیان سخت مذاکرات کے بعد، 3 جون 1947 کی شام کو ماؤنٹ بیٹن نے برطانوی ہندوستان کو دو آزاد ڈومینینز—یعنی پاکستان اور ہندوستان—میں تقسیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ ماؤنٹ بیٹن کے اوول آفس میں، تقریباً ایک درجن بڑی ریاستوں کے وزرائے اعظم نے منصوبے کی کاپیاں حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے، اس کے عالمی نشریات سے پہلے۔ شام 7:00 بجے، آل انڈیا ریڈیو نے عوامی اعلان نشر کیا، جس کا آغاز وائسرائے کے خطاب سے ہوا، اس کے بعد نہرو اور جناح کی انفرادی تقریریں ہوئیں۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے اپنے خطاب کا اختتام نعرہ “پاکستان زندہ باد” (پاکستان پائندہ باد) کے ساتھ کیا۔ یونائیٹڈ کنگڈم کے ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہونے کے بعد، جدید ریاست پاکستان 14 اگست 1947 کو قائم ہوئی (اسلامی کیلنڈر کے مطابق 1366 ہجری کے رمضان کے 27ویں روز، جو اسلامی نقطہ نظر سے سب سے بابرکت تاریخ سمجھی جاتی ہے)۔ اس نئے ملک نے برطانوی ہندوستان کے مشرقی اور شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو یکجا کیا، جن میں بلوچستان، مشرقی بنگال، شمال مغربی سرحدی صوبہ، مغربی پنجاب اور سندھ کے صوبے شامل تھے۔ پنجاب صوبے میں تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات میں، 200,000 سے 2,000,000 افراد ہلاک ہوئے، جسے بعض لوگوں نے مذاہب کے درمیان انتقامی نسل کشی قرار دیا ہے۔ تقریباً 50,000 مسلمان خواتین کو ہندو اور سکھ مردوں نے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ 33,000 ہندو اور سکھ خواتین کو مسلمانوں کے ہاتھوں اسی انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً 6.5 ملین مسلمان بھارت سے مغربی پاکستان منتقل ہوئے اور 4.7 ملین ہندو اور سکھ مغربی پاکستان سے بھارت منتقل ہوئے۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی۔ جموں و کشمیر کی ریاست پر بعد میں ہونے والے تنازع نے بالآخر 1947–1948 کی پاک بھارت جنگ کو جنم دیا۔ آزادی کے بعد تصغیر|بائیں|upright=0.8|لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 1947 میں آزادی کے بعد، مسلم لیگ کے صدر جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور پارلیمنٹ کے پہلے صدر-اسپیکر بنے، لیکن وہ 11 ستمبر 1948 کو تپ دق کی بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔ اس دوران، پاکستان کے بانیوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل لیاقت علی خان کو ملک کا پہلا وزیر اعظم مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ 1947 سے 1956 تک، پاکستان دولت مشترکہ کے اندر ایک بادشاہت تھا اور جمہوریہ بننے سے پہلے دو بادشاہوں کے تحت رہا۔ پاکستان کی تخلیق کو بہت سے برطانوی رہنماؤں، بشمول لارڈ ماؤنٹ بیٹن، نے کبھی مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے مسلم لیگ کے پاکستان کے تصور پر اپنے عدم اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا۔ جناح نے ماؤنٹ بیٹن کی پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ جب کولنز اور لاپیئر نے ماؤنٹ بیٹن سے پوچھا کہ اگر انھیں معلوم ہوتا کہ جناح تپ دق سے مر رہے ہیں تو کیا وہ پاکستان کو سبوتاژ کر دیتے، تو انھوں نے جواب دیا 'بہت ممکن ہے'۔ تصغیر|1950 میں پاکستان پر بننے والی امریکی سی آئی اے کی فلم میں پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، جو 1949 میں پاکستان میں شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز تھے اور جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے اسلامی آئین کے حق میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا مودودی نے اصرار کیا کہ دستور ساز اسمبلی “خدا کی اعلیٰ حاکمیت” اور پاکستان میں شریعت کی بالادستی کا اعلان کرے۔ جماعت اسلامی اور علما کی کوششوں کے نتیجے میں مارچ 1949 میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی۔ اس قرارداد کو لیاقت علی خان نے پاکستان کی تاریخ کا دوسرا سب سے اہم قدم قرار دیا۔ اس میں کہا گیا کہ "کائنات کی مکمل حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور جو اختیار اس نے پاکستان کی ریاست کو اپنے لوگوں کے ذریعے دیا ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے"۔ یہ قرارداد بعد میں 1956، 1962 اور 1973 کے آئین کے دیباچے میں شامل کی گئی۔ جمہوریت کو اسکندر مرزا کے نافذ کردہ مارشل لا کی وجہ سے دھچکا لگا، جن کے بعد جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا۔ 1962 میں صدارتی نظام اپنانے کے بعد، پاکستان نے نمایاں ترقی دیکھی، لیکن 1965 کی دوسری جنگ کے بعد اقتصادی بحران اور 1967 میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ 1969 میں صدر یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا، لیکن مشرقی پاکستان میں ایک تباہ کن سائیکلون کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں 500,000 افراد ہلاک ہوئے۔ 1970 میں، پاکستان نے آزادی کے بعد اپنے پہلے جمہوری انتخابات کا انعقاد کیا، جس کا مقصد فوجی حکمرانی سے جمہوریت کی طرف منتقلی تھا۔ تاہم، جب مشرقی پاکستانی عوامی لیگ نے پاکستان پیپلز پارٹی پر فتح حاصل کی، تو یحییٰ خان اور فوج نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا، جو ایک فوجی کریک ڈاؤن تھا اور بالآخر مشرقی پاکستان میں بنگالی مکتی باہنی فورسز کی طرف سے آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا، جسے مغربی پاکستان میں آزادی کی جدوجہد کی بجائے ایک خانہ جنگی کے طور پر بیان کیا گیا۔ تصغیر|ایستادہ|تاشقند اعلامیہ پر دستخط 1965 میں تاشقند، سوویت یونین میں بھارت کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس موقع پر صدر ایوب خان کے ساتھ بھٹو (درمیان میں) اور عزیز احمد (بائیں جانب) بھی موجود تھے۔ آزاد محققین کے اندازے کے مطابق اس عرصے کے دوران 3 سے 5 لاکھ شہری ہلاک ہوئے جبکہ بنگلہ دیشی حکومت اس تعداد کو 30 لاکھ بتاتی ہے، جو اب تقریباً عالمی سطح پر حد سے زیادہ مبالغہ آمیز سمجھی جاتی ہے۔ کچھ ماہرین جیسے روڈولف رمل اور روناق جہاں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے نسل کشی کی؛ جبکہ دیگر جیسے رچرڈ سیسن اور لیو ای روز کا ماننا ہے کہ کوئی نسل کشی نہیں ہوئی۔ بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان میں بغاوت کی حمایت کے رد عمل میں، پاکستان کی فضائیہ، بحریہ اور میرینز نے بھارت پر پیشگی حملے کیے، جس کے نتیجے میں 1971 کی ایک روایتی جنگ کا آغاز ہوا جو بھارتی فتح اور مشرقی پاکستان کے بطور بنگلہ دیش آزاد ہونے پر ختم ہوئی۔ جنگ میں پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد یحییٰ خان کی جگہ ذو الفقار علی بھٹو نے صدر کا عہدہ سنبھالا؛ ملک نے آئین کے نفاذ اور جمہوریت کی راہ پر چلنے کی کوششیں شروع کیں۔ 1972 میں پاکستان نے اپنی جوہری صلاحیت کو ترقی دینے کا ایک بلند ہمت منصوبہ شروع کیا تاکہ کسی غیر ملکی حملے کو روکا جا سکے؛ اسی سال ملک کا پہلا جوہری پاور پلانٹ بھی افتتاح ہوا۔ 1974 میں بھارت کے پہلے جوہری تجربے نے پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام کو تیز کرنے کا اضافی جواز فراہم کیا۔ جمہوریت کا خاتمہ 1977 میں بائیں بازو کی جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف ایک فوجی بغاوت کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق 1978 میں صدر بنے۔ 1977 سے 1988 تک صدر ضیاء کی کارپوریشن اور اقتصادی اسلامائزیشن کی پالیسیوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کر دیا۔ ملک کے جوہری پروگرام کو ترقی دیتے ہوئے، اسلامائزیشن میں اضافہ اور ایک مقامی قدامت پسند فلسفے کے فروغ کے ساتھ، پاکستان نے سوویت یونین کی افغانستان میں کمیونسٹ مداخلت کے خلاف مجاہدین کے مختلف دھڑوں کو امریکی وسائل فراہم کرنے میں مدد دی۔ پاکستان کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) نے افغان مجاہدین کے لیے ایک مرکز کا کردار ادا کیا، جہاں کے بااثر دیوبندی علما نے 'جہاد' کو فروغ دینے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر ضیاء 1988 میں طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے اور ذو الفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے بعد قدامت پسند جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) (پ۔ م۔ ل(ن)) نے اقتدار سنبھالا اور اگلی دہائی میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اقتدار کے لیے جدوجہد کی، ایک کے بعد ایک حکومت میں آتے رہے۔ اس دور کو طویل مدت کی افراط زر، سیاسی عدم استحکام، کرپشن، بدانتظامی، بھارت کے ساتھ جغرافیائی تنازع اور بائیں بازو-دائیں بازو کی نظریاتی کشمکش کے لیے جانا جاتا ہے۔ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی تو نواز شریف نے بھارت کے مئی 1998 کے دوسرے جوہری تجربات کے جواب میں جوہری تجربات کی منظوری دی۔ بائیں|تصغیر|صدر مشرف نے 2004 میں اسلام آباد میں 12ویں سارک سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم واجپائی سے ملاقات کی۔ کارگل کے ضلع میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ 1999 کی کارگل جنگ کا سبب بنا اور سول-فوجی تعلقات میں کشیدگی نے جنرل پرویز مشرف کو ایک بے خون بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کا موقع دیا۔ مشرف نے 1999 سے 2002 تک چیف ایگزیکٹو اور 2001 سے 2008 تک صدر کے طور پر پاکستان پر حکومت کی—یہ دور روشن خیالی، سماجی لبرل ازم، وسیع اقتصادی اصلاحات اور امریکا کی زیر قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت کا تھا۔ اپنے مالی تخمینوں کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت نے 118 ارب ڈالر تک کی لاگت، اکیاسی ہزار سے زیادہ ہلاکتیں اور 18 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد کی مشکلات پیدا کی ہیں۔ قومی اسمبلی نے 15 نومبر 2007 کو تاریخی طور پر اپنی پہلی پانچ سالہ مدت مکمل کی۔ 2007 میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی (پ۔ پ۔ پ) نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور پارٹی کے رکن یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مواخذے کے خطرے کے باعث صدر مشرف نے 18 اگست 2008 کو استعفا دے دیا اور ان کے بعد آصف علی زردہری صدر بنے۔ عدلیہ کے ساتھ تصادم کے باعث گیلانی کو جون 2012 میں پارلیمنٹ اور وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور عمران خان 22ویں وزیر اعظم بنے۔ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں پ۔ ت۔ ا کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سب سے بڑا بلاک بنے، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے اتحاد کے نتیجے میں شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ جغرافیہ تصغیر|upright=1.35|پاکستان کی کوپن آب و ہوا کی درجہ بندی پاکستان کا متنوع جغرافیہ اور موسمی حالات مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن ہیں۔ 881,913 مربع کلومیٹر (340,509 مربع میل) کے رقبے کے ساتھ پاکستان کا سائز فرانس اور برطانیہ کے مجموعی رقبے کے برابر ہے۔ یہ کل رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33واں بڑا ملک ہے، مگر کشمیر کی متنازع حیثیت کے سبب اس میں فرق آ سکتا ہے۔ پاکستان 1,046 کلومیٹر (650 میل) لمبی ساحلی پٹی پر محیط ہے جو بحیرہ عرب اور خلیج عمان سے ملتی ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں مجموعی طور پر 6,774 کلومیٹر (4,209 میل) پر مشتمل ہیں، جن میں افغانستان کے ساتھ 2,430 کلومیٹر (1,510 میل)، چین کے ساتھ 523 کلومیٹر (325 میل)، بھارت کے ساتھ 2,912 کلومیٹر (1,809 میل) اور ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر (565 میل) شامل ہیں۔ اس کی بحری سرحد عمان کے ساتھ ملتی ہے اور واخان کوریڈور کے ذریعے تاجکستان سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم ہے۔ جغرافیائی طور پر پاکستان انڈس-تسانگپو سچّر زون اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے، جہاں سندھ اور پنجاب کے علاقے اس پلیٹ کا حصہ ہیں جبکہ بلوچستان اور زیادہ تر خیبر پختونخوا یوریشین پلیٹ پر، خاص طور پر ایرانی سطح مرتفع پر ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بھارتی پلیٹ کے کنارے پر واقع ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقے شدید زلزلوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔ تصغیر|upright=0.8|پاکستان کے زمینی خدوخال کو دکھانے والی سیٹلائٹ تصویر۔ پاکستان کے مناظر ساحلی میدانوں سے لے کر برف پوش پہاڑوں تک مختلف ہیں، جن میں صحرا، جنگلات، پہاڑیاں اور سطح مرتفع شامل ہیں۔ پاکستان کو تین بڑے جغرافیائی علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے: شمالی بلندیاں، دریائے سندھ کا میدان اور بلوچستان کا سطح مرتفع۔ شمالی بلندیاں قراقرم، ہندوکش اور پامیر پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں، جہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں سے کچھ واقع ہیں، جن میں چودہ میں سے پانچ ایسے پہاڑ شامل ہیں جن کی اونچائی 8,000 میٹر (26,250 فٹ) سے زیادہ ہے، جیسے کہ کے ٹو (8,611 میٹر یا 28,251 فٹ) اور نانگا پربت (8,126 میٹر یا 26,660 فٹ)۔ بلوچستان کا سطح مرتفع مغرب میں واقع ہے جبکہ مشرق میں تھر کا صحرا موجود ہے۔ 1,609 کلومیٹر (1,000 میل) لمبا دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا کشمیر سے بحیرہ عرب تک پاکستان کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہیں، جو پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں زرخیز میدانی علاقوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پاکستان کا موسم استوائی سے معتدل تک مختلف ہوتا ہے، جبکہ ساحلی جنوبی علاقوں میں خشک حالات پائے جاتے ہیں۔ مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کی وجہ سے اکثر سیلاب آتے ہیں، جبکہ خشک موسم میں بارش بہت کم یا بالکل نہیں ہوتی۔ پاکستان میں چار نمایاں موسم ہوتے ہیں: دسمبر سے فروری تک ٹھنڈا اور خشک سردی کا موسم؛ مارچ سے مئی تک گرم اور خشک بہار کا موسم؛ جون سے ستمبر تک برسات کا موسم یا جنوب مغربی مون سون کا دورانیہ؛ اور اکتوبر اور نومبر میں مون سون کا واپسی کا دور۔ بارش کی مقدار سالانہ بنیادوں پر بہت زیادہ تبدیل ہوتی ہے اور سیلاب اور خشک سالی کے متبادل پیٹرن عام ہیں۔ نباتات اور حیوانات پاکستان میں متنوع زمین اور آب و ہوا کی وجہ سے مختلف قسم کے درخت اور پودے پائے جاتے ہیں۔ شمالی پہاڑوں میں مخروطی درختوں جیسے اسپروس، پائن اور دیودار، سلیمان پہاڑوں میں پت جھڑ والے درختوں جیسے شیشم اور جنوبی علاقوں میں ناریل اور کھجور کے درخت ملتے ہیں۔ مغربی پہاڑوں میں صنوبر، تمر، کھردری گھاسیں اور جھاڑی دار پودے پائے جاتے ہیں۔ جنوبی ساحلی دلدلی علاقوں میں مینگروو جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ شمالی اور شمال مغربی بلند پہاڑی علاقوں میں مخروطی جنگلات 1,000 سے 4,000 میٹر (3,300 سے 13,100 فٹ) کی بلندی تک پھیلے ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے خشک علاقوں میں کھجور کے درخت اور افیڈرا کے پودے زیادہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے دریائے سندھ کے میدانوں میں استوائی اور نیم استوائی خشک اور مرطوب چوڑے پتوں والے جنگلات کے ساتھ ساتھ استوائی اور خشک جھاڑی دار علاقے بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا تقریباً 4.8% یا 36,845.6 مربع کلومیٹر (3,684,560 ہیکٹر) رقبہ 2021 میں جنگلات پر مشتمل تھا۔ تصغیر|مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔ پاکستان کا جنگلی حیات اس کی متنوع آب و ہوا کا عکس ہے۔ ملک میں تقریباً 668 پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں کوا، چڑیا، مینا، باز، شاہین اور عقاب شامل ہیں۔ پالس، کوہستان میں مغربی ٹریگوپن پایا جاتا ہے اور یہاں یورپ، وسطی ایشیا اور بھارت سے آنے والے مہاجر پرندے بھی آتے ہیں۔ جنوبی میدانی علاقوں میں نیولا، بھارتی زبیلی بلی، خرگوش، ایشیائی گیدڑ، بھارتی چھلپانگو، جنگلی بلی اور ریتلی بلی پائی جاتی ہیں۔ دریائے سندھ کے علاقے میں مگرمچھ پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے اردگرد کے علاقوں میں جنگلی سور، ہرن اور سیہ بھی ملتے ہیں۔ پاکستان کے وسطی ریتیلے جھاڑی دار علاقوں میں ایشیائی گیدڑ، دھاری دار لگڑبگڑ، جنگلی بلیاں اور تیندوا موجود ہیں۔ شمال کے پہاڑی علاقے مختلف قسم کے جانوروں کا مسکن ہیں جن میں مارکو پولو بھیڑ، اورئیل، مارخور، آئبیکس، ایشیائی کالا ریچھ اور ہمالیائی بھورا ریچھ شامل ہیں۔ پاکستان میں پودوں کی کمی، شدید موسم اور صحراوں میں چرنے کے اثرات نے جنگلی جانوروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چولستان میں چنکارا وہ واحد جانور ہے جو بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان-بھارت سرحد کے ساتھ اور چولستان کے کچھ حصوں میں چند نیل گائے بھی پائی جاتی ہیں۔ نایاب جانوروں میں برفانی چیتا اور اندھی دریائے سندھ کی ڈولفن شامل ہیں، جن کی تعداد تقریباً 1,816 سمجھی جاتی ہے اور یہ سندھ میں دریائے سندھ ڈولفن ریزرو میں محفوظ ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان میں 174 قسم کے ممالیہ جانور، 177 قسم کے رینگنے والے جانور، 22 قسم کے ایمفیبین، 198 قسم کی تازہ پانی کی مچھلیاں، 668 قسم کے پرندے، 5,000 سے زائد قسم کے کیڑے اور 5,700 سے زائد قسم کے پودے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ پاکستان کو جنگلات کی کٹائی، شکار اور آلودگی کا سامنا ہے اور 2019 میں فارسٹ لینڈ اسکیپ انٹیگریٹی انڈیکس میں اس کا اوسط اسکور 7.42/10 تھا، جس نے 172 ممالک میں سے عالمی سطح پر 41ویں درجہ دیا۔ حکومت اور سياست پاکستان ایک جمہوری پارلیمانی وفاقی جمہوریہ کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے 1956 میں اپنا پہلا آئین اختیار کیا، جسے ایوب خان نے 1958 میں معطل کر دیا اور اس کے بعد 1962 میں دوسرا آئین نافذ کیا گیا۔ 1973 میں ایک جامع آئین سامنے آیا، جسے ضیاء الحق نے 1977 میں معطل کر دیا لیکن 1985 میں دوبارہ بحال کیا گیا، جو ملک کی حکومت کو شکل دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں فوج کا اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے۔ 1958-1971، 1977-1988 اور 1999–2008 کے دور میں فوجی بغاوتیں دیکھنے کو ملیں، جن کی وجہ سے مارشل لا نافذ ہوا اور فوجی رہنما غیر سرکاری طور پر صدارت کرنے لگے۔ اس وقت، پاکستان ایک کثیر الجماعتی پارلیمانی نظام میں کام کرتا ہے، جس میں حکومت کی شاخوں کے درمیان واضح چیک اور بیلنس موجود ہیں۔ پہلی کامیاب جمہوری منتقلی مئی 2013 میں ہوئی۔ پاکستانی سیاست سوشلزم، قدامت پسندی اور تیسری راہ کے مرکب کے گرد گھومتی ہے، جہاں تین اہم سیاسی جماعتیں ہیں: قدامت پسند پاکستان مسلم لیگ (ن)، سوشلسٹ پاکستان پیپلز پارٹی اور سنٹرل پاکستان تحریک انصاف۔ 2010 میں آئینی ترامیم نے صدارتی اختیارات کو کم کر دیا، جس سے وزیر اعظم کے کردار کو بڑھایا گیا۔ * سربراہ مملکت: پاکستان کے سرکاری سربراہ اور شہری کمانڈر انچیف پاکستان کی مسلح افواہج کے صدر ہیں، جن کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے۔ وزیر اعظم صدر کو اہم تقرریوں پر مشورہ دیتا ہے، بشمول فوجی اور عدالتی عہدوں کے لیے اور صدر آئین کے تحت اس مشورے پر عمل کرنے کے لیے پابند ہے۔ صدر کے پاس معافی اور رحم کے اختیارات بھی ہوتے ہیں۔ * قانون سازی: دو ایوانی مقننہ میں 96 رکنی سینیٹ (ایوان بالا) اور 336 رکنی قومی اسمبلی (ایوان زیریں) شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان کو قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر "پہلا آنے والا، پہلے پایا" کے اصول کے تحت منتخب کیا جاتا ہے۔ آئین کے تحت 70 نشستیں خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں، جو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہیں۔ سینیٹ کے ارکان کو صوبائی قانون سازوں کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، جو تمام صوبوں کے درمیان مساوی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔ * ایگزیکٹو: وزیر اعظم، جو عام طور پر قومی اسمبلی (ایوان زیریں) میں اکثریتی جماعت یا اتحاد کا قائد ہوتا ہے، ملک کے چیف ایگزیکٹو اور سربراہ حکومت کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں کابینہ کی تشکیل، انتظامی فیصلے کرنا اور سینئر سول سرونٹس کی تقرری شامل ہے، جس کے لیے ایگزیکٹو کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ * صوبائی حکومتیں: چاروں صوبے ایک جیسے طرز حکمرانی کے نظام کی پیروی کرتے ہیں، جس میں براہ راست منتخب ہونے والی صوبائی اسمبلی، عام طور پر سب سے بڑی جماعت یا اتحاد سے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے۔ وزرائے اعلیٰ صوبائی کابینہ کی قیادت کرتے ہیں اور صوبے کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ صوبائی بیوروکریسی کی سربراہی چیف سیکرٹری کرتا ہے، جسے وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیاں قانون سازی کرتی ہیں اور صوبائی بجٹ کی منظوری دیتی ہیں، جو عام طور پر صوبائی وزیر خزانہ کی جانب سے سالانہ پیش کیا جاتا ہے۔ صوبوں کے رسمی سربراہ، صوبائی گورنر، وزیر اعظم کے لازمی مشورے پر صدر کی جانب سے مقرر کیے جاتے ہیں۔ * عدلیہ: پاکستان میں عدلیہ دو حصوں پر مشتمل ہے: اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدلیہ۔ اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی شرعی عدالت اور پانچ ہائی کورٹس شامل ہیں، جن میں سپریم کورٹ سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ اس کا کام آئین کی حفاظت کرنا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اپنا عدالتی نظام ہے۔ اسلام کا کردار پاکستان، جو واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا، کو مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی، خاص طور پر ایسے صوبوں میں جیسے کہ متحدہ صوبہ جات، جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ مسلم لیگ، اسلامی علما اور جناح کی طرف سے پیش کردہ اس خیال نے ایک اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ جناح، جو علما کے ساتھ قریب سے وابستہ تھے، ان کے انتقال پر مولانا شبیر احمد عثمانی نے انھیں اورنگزیب کے بعد سب سے عظیم مسلمان قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلام کے تحت متحد کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ مارچ 1949 کی قراردادِ مقاصد نے اس مقصد کی جانب پہلا قدم اٹھایا، جس میں اللہ کو واحد حاکمِ اعلیٰ تسلیم کیا گیا۔ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری خلیق الزمان نے کہا کہ پاکستان تبھی حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ریاست بن سکتا ہے جب اسلام کے تمام ماننے والوں کو ایک سیاسی وحدت میں لایا جائے۔ کیتھ کالارڈ نے مشاہدہ کیا کہ پاکستانی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسلم دنیا کے مقاصد اور نقطۂ نظر میں بنیادی یکسانی ہے اور وہ توقع کرتے تھے کہ دنیا بھر کے مسلمان مذہب اور قومیت کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھیں گے۔ پاکستان کی ایک متحد اسلامی بلاک، جسے اسلامستان کہا گیا، کے قیام کی خواہش کو دیگر مسلم حکومتوں کی حمایت حاصل نہیں تھی، تاہم فلسطین کے مفتی اعظم الحاج امین الحسینی اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں جیسے افراد پاکستان کی جانب مائل تھے۔ اسلامی ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے قیام کی پاکستان کی خواہش 1970 کی دہائی میں پوری ہوئی جب تنظیمِ اسلامی کانفرنس (ت۔ ا۔ ک) قائم کی گئی۔ مشرقی پاکستان کے بنگالی مسلمان ایک اسلامی ریاست کے مخالف تھے اور ان کا مغربی پاکستانیوں سے اختلاف تھا جو اسلامی شناخت کی طرف مائل تھے۔ اسلامی جماعت، جماعتِ اسلامی نے ایک اسلامی ریاست کی حمایت کی اور بنگالی قوم پرستی کی مخالفت کی۔ 1970 کے عام انتخابات کے بعد، پارلیمنٹ نے 1973 کا آئین تشکیل دیا۔ اس آئین نے پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ قرار دیا، اسلام کو ریاست کا مذہب تسلیم کیا اور اس بات کا پابند کیا کہ تمام قوانین قرآن اور سنت میں دی گئی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں گے اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو ان احکامات کے منافی ہو۔ اس کے علاوہ، اس آئین نے اسلام کی تشریح اور نفاذ کے لیے ادارے جیسے شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل قائم کیے۔ ذو الفقار علی بھٹو کو نظامِ مصطفیٰ (یعنی "حکمِ رسول") کے تحت ایک اسلامی ریاست کے مطالبے کی صورت میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹو نے کچھ اسلامی مطالبات تسلیم کیے، لیکن بعد میں انھیں ایک فوجی بغاوت میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلامی ریاست کے قیام اور شریعت کے نفاذ کا عزم کیا۔ انھوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے شریعت عدالتیں اور عدالتوں میں شریعت بنچ قائم کیے۔ ضیاء نے دیوبندی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کی، جس سے شیعہ مخالف پالیسیوں کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پیو ریسرچ سینٹر (PEW) کے ایک سروے کے مطابق، زیادہ تر پاکستانی شریعت کو سرکاری قانون کے طور پر پسند کرتے ہیں اور ان میں سے 94 فیصد اپنی شناخت مذہب کے حوالے سے زیادہ کرتے ہیں بنسبت قومیت کے، جو دیگر ممالک کے مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پولیس فورس میں ایک الگ شاخ بھی بنایا گیا ہے جسے پولیس قومی رضا کار کہا جاتا ہے، اس فورس کا مقصد تمام صوبوں میں جہاں ضرورت پڑے وہاں کام کرنا ہے۔ ایئرپورٹ پولیس کا کام ایئرپورٹ کے امور سر انجام دینا ہے اسی طرح موٹروے پولیس اور قومی شاہراہ پولیس کا کام سڑکوں کی حفاظت ہے۔ تحقیقات کے لیے وفاقی ادارۂ تحقیقات‎ (ایف آئی اے) اور دیگر تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔ مخابرات اور ملک کے بیرون خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی مخابراتی ادارے (جیسے آئی ایس آئی، وغیرہ) موجود ہیں۔ پاکستان ميں 5 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔ حال ہی میں پاکستانی پارلیمنٹ نے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت دے دی ہے۔ صوبہ جات کی تقسیم یکم جولائی 1970ء کو کی گئی۔ صوبہ بلوچستان کا کل رقبہ 347,190 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2011ء میں آبادی 79 لاکھ 14 ہزار تھی۔ صوبہ پنجاب کا کل رقبہ 205,344 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2013ء میں آبادی 10 کروڑ 10لاکھ تھی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کا کل رقبہ 74,521 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2012ء میں آبادی 2 کروڑ 20 لاکھ تھی۔ صوبہ سندھ کا کل رقبہ 140,914 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2012ء میں آبادی 4 کروڑ 24 لاکھ تھی۔ گلگت بلتستان (سابق شمالی علاقہ جات) کا کل رقبہ 72,496 مربع کلومیٹر ہے جبکہ 2008ء میں آبادی 18 لاکھ تھی۔ انتظامی تقسیم معيشت پاکستان دنيا کا ايک ترقی پزیر ملک ہے۔ پاکستان کے سیاسی معاملات ميں فوج كى مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (Labor Camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کيلیے راہ کو کھلا رکھا جاسکے)، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانی کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا ۔ اِس وقت پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے ۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ 2025 میں IMF کے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ (GCDA) کے ایک حصے کے طور پر 7 بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان کے گورننس فریم ورک میں کمزوریوں کی نشان دہی کرنے اور ادارہ جاتی سالمیت اور احتساب کو بڑھانے کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے پر توجہ دی گئی۔ اعداد و شمار پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريباً 20 فيصد اہل تشیع، 77 فيصد اہل سنت اور تقریباً 3 فيصد ديگر فقہ سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريباً ایک فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب وسرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، جبکہ زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئیی اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائیکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پہاڑی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔ پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سرائیکی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر قوم ہيں، ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مابین فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ صحت عامہ دیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج درمیانے سے لے کر اعلیٰ طبقے کے ليے مخصوص ہے۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں ان کی حالت ابتر ہے۔ تعطيلات تصغیر|318x318پکسل|پاکستان کی قومی یادگار قومی چیزیں * قومی دن – یوم پاکستان، 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں منظور ہوا۔ * قومی شاعر – حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال * قومی پرچم - اصل مضمون کے لیے دیکھیں قومی پرچم :گہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی پٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947ء کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔ * قومی پھول - پاکستان کا قوی پھول چنبیلی (یاسمین) ہے۔ دیگر 45 پھولوں کے نام بھی جان سکتے ہیں۔ * قومی پھل - پاکستان کا قومی پھل آم ہے۔ دیگر 45 پھلوں کے نام بھی جان سکتے ہیں۔ * قومی لباس - شلوار قمیض، جناح کیپ، شیروانی (سردیوں میں) * جانور – مارخور قومی جانور ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں پائے جانے والے منفرد جانور نیل گائے، چنکارہ، کالا ہرن، ہرن، چیتا، لومڑی، مارکوپولو بھیڑ، سبز کچھوا، نابینا ڈولفن، مگرمچھ ہیں۔ * قومی پرندہ - پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے۔ * قومی مشروب – گنے کا رس * قومی کھانا - غیر سرکاری طور پر نہاری۔ * قومی نعرہ - پاکستان کا مطلب کیا؟ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ : یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران میں بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ (قابل اعتبار حوالہ درکار ہے) ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ * قومی ترانہ - قومی ترانے کے لیے دیکھیں مضمون قومی ترانہ ریاستی نشان 100px|بائیں|پاکستان کا ریاستی نشان|متبادل= ریاستی نشان درج ذیل نشانات پر مشتمل ہے۔ چاند اور ستارہ جو روایتی طور پر اسلام سے ریاست کی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چوکور شیلڈ جس میں ملک کی چار اہم صنعتوں کی علامت کندہ ہے۔ شیلڈ کے اردگرد پھول اور پتیاں بنی ہوئی ہیں جو وطن عزیز کے بھر پور ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ علامت کے چاروں طرف بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا قول۔۔۔ اتحاد، ایمان، نظم تحریر ہے۔ آبادیات آبادی 300px|تصغیر|پاکستان کی آبادی کا کثافت پاکستان کی زیادہ تر آبادی ملک کی وسطی علاقوں میں ہے، ملک کے جنوب میں زیادہ آباد مقامات اکثر دریائے سندھ کے آس پاس پر واقع ہے جن میں سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ کراچی ہے جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ بلحاظ سال آبادی اقوام متحدہ کی اعداد و شمار زبانیں پاکستان آپسی محبت اور اتحاد کا ایک اعلیٰ مثال ہے کیونکہ یہاں پہ مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ متحد رہتے ہیں۔ جہاں پہ ہماری بہت سے زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک ہماری قومی زبان اردو ہے۔ اس کے علاوہ چار صوبائی زبانیں اور بہت سے اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کئیی زبانیں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 65 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ پاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی صوبہ پنجاب، پشتو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھی صوبہ سندھ، بلوچی صوبہ بلوچستان اور شینا صوبہ گلگت بلتستان میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔ پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، سرائیکی زبان، بدیشی، باگڑی، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا، گوورو، گجراتی، گوجری، گرگلا، ہزاراگی، ہندکو، جدگلی، جنداوڑا، کبوترا، کچھی، کالامی، کالاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کاٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اوڈ، اورمڑی، پوٹھواری، پھالولہ، سانسی، ساوی، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں۔ ان زبانوں میں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں- ي سرا سنکے عمران خان سب سے اچھا ہے تعلیم یافتگی تعلیمی ادارے بلحاظ زمرہ جات اہم شہر 2017ء کی مردم شماری کے مطابق، دو بڑے شہر ہیں، جن کی آبادی دس ملین سے زیادہ ہے اور 100 شہر ہیں جن کی آبادی 100,000 یا اس سے زیادہ ہے۔ ان 100 شہروں میں سے 58 ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں، 22 سندھ میں، 11 خیبرپختونخوا میں، چھ بلوچستان میں، دو آزاد کشمیر میں اور ایک اسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ میں واقع ہے۔ گلگت بلتستان نے ابھی تک 2017ء کی مردم شماری کے کوئی نتائج عوامی طور پر جاری نہیں کیے ہیں۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر گلگت تھا، جس کی آبادی 56,701 تھی۔ * * * ڈویژنل دار الحکومت ثقافت تہذیب پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبوں نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔ پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک، ان سب کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امرا اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جگہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکاؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔ پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کینیڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہت سرمايہ کاری بھی کی ہے۔ پاکستان کا سب سے پسنديدہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدائش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھیلی جاتی ہے۔ لباس، فن اور فیشن 150px|تصغیر|خواتین کا بلوچی علاقائی لباس پاکستان میں سب سے عام لباس شلوار قمیض ہے جس کو قومی لباس کا درجہ حاصل ہے، شلوار قمیص کو پاکستان کے چاروں صوبوں بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پہنا جاتا ہے۔ تاہم پھر ہر صوبے اور علاقے میں شلوار قمیص پہننے کا طرز تھوڑا مختلف بھی ہوتا ہے ہر کوئی اپنے مقامی انداز میں پہنتا ہے۔ شلوار قمیص کے علاوہ اور بھی بہت سے لباس پاکستان میں میں پہنے جاتے ہیں جن میں سوٹ اور نیکٹائی بھی عام ہے جن کا استعمال اسکول، کالج، جامعات، دفاتر، وغیرہ میں ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں شہروں کے بہ نسبت سوٹ اور ٹائی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ شیروانی کا استعمال خاص کر تقاریب اور خوشیوں کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔ پاکستانی خواتین میں بھی شلوار قمیض کا استعمال ہوتا ہے تاہم خواتین شلوار قمیض کے علاوہ انارکلی، لہنگا، گاگرہ، وغیرہ بھی پہنتی ہیں۔ میڈیا پاکستان میں بہت سے ذرائع ابلاغ موجود ہیں، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا دونوں میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے پی ٹی وی ملک کا واحد چینل نیٹ ورک ہوتا تھا اور حکومت پاکستان اس نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔ 2002ء کے بعد الیکٹرونک میڈیا نے ترقی کی اور پے در پے نئے نجی چینل آتے رہے۔ اس وقت پاکستان میں 50 سے بھی زیادہ صرف نجی چینلز موجود ہیں جن کی نشریات 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں نیوز، انٹرٹینمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، علاقائی اور بہت سے چینلز موجود ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر چینلز کے نشریات اردو میں ہوتے ہیں تاہم ملک کے علاقائی زبانوں (پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری، سرائیکی وغیرہ) کے بھی ٹی وی چینلز موجود ہیں۔ پی ٹی وی ورلڈ پاکستان کا پہلا انگریزی چینل ہے۔ اردو فلم انڈسٹری لالی وڈ کی صدر مقامات لاہور، کراچی اور پشاور میں واقع ہے۔ لالی وڈ نے اب تک بہت سے فلمیں ریلیز کی ہیں اور کر رہا ہے۔ پاکستان میں سب سے عام اردو ڈراما سیریلز ہیں جو مختلف چینلز پر چلائے جاتے ہیں۔ فن تعمیرات پاکستان کے فن تعمیرات ان مختلف عمارات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ وادئ سندھ کی تہذیب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی جو 3500 قبل مسیح تھا، موجودہ پاکستان کے علاقے میں شہری ثقافت کا ارتقا ہوا جس میں بڑی عمارتیں تھیں جن میں سے کچھ آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد گندھارا طرز کا بدھ طرز تعمیر آیا جس میں قدیم یونان کے اجزاء بھی شامل تہے۔ اس کے بقایا جات گندھارا کے صدر مقام ٹیکسلا میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان میں مغل اور انگریزی طرز تعمیر کی مثالیں بھی موجود ہیں جو نہایت ہی اہم ہیں۔ آزادی کے بعد کا فن تعمیر بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اپنی نئیحاصلکی گئی آزادی اور شناخت کو فن تعمیر کے ذریعے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان خود کو جدید عمارتوں میں ظاہر کرتا ہے مثلاً فیصل مسجد جو وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں واقع ہے اس مسجد کو 1960ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری عمارتیں بھی قابل ذکر ہیں جیسے مینار پاکستان، سفید ماربل سے بنا مزار قائد اعظم۔ یہ عمارتیں نئی ریاست کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ملکی دار الخلافہ اسلام آباد میں موجود قومی یادگار تہذیب، آزادی اور جدید فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔ پاکستان میں اس وقت چھ (6) جگہیں ایسی ہیں جنھیں عالمی ورثہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، ان کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ * موہن جو دڑو کے اثریاتی کھنڈر * تخت بائی اور پڑوسی شہر شہر بہلول کے بدھ مت کے کھنڈر * شاہی قلعہ لاہور اور شالیمار باغ لاہور * ٹھٹھہ کی تاریخی یادگاریں * قلعہ روہتاس * ٹیکسلا سیاحت پاکستان اپنے نظاروں، لوگوں اور تہذیبوں کے حوالے سے ایک وسیع ملک ہے اور اسی وجہ سے سال 2012ء میں یہاں دس (10) لاکھ سیاح آئے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت 1970ء کے عشرے کے دوران میں عروج پر تھی جب یہاں ایک بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے۔ ان سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ قابل دلچسپی جگہیں خیبر پاس، پشاور، کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی تھیں۔ اس ملک کی حامل کشش جگہوں میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے کھنڈر سے لے کر کوہ ہمالیہ کے پہاڑی مقامات تک ہیں۔ پاکستان 7000 میٹر سے زیادہ بلند کئیی چوٹیوں کا مسکن ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئیی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی غیر مسلم سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔ پاکستان کے ثقافتی مرکز و صدر مقام لاہور میں مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جہانگیر اور قلعہ لاہور شامل ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ عالمی معاشی بحران سے پہلے پاکستان میں سالانہ تقریباً پانچ (5) لاکھ سیاح آتے تھے۔ تاہم سال 2008ء سے پاکستان میں اندرونی غیریقینی صورت حال کی وجہ سے یہ تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ اکتوبر 2006ءمیں کشمیر کے زلزلے کے بعد رسالہ دی گارڈین نے پاکستان کے پانچ مقبول ترین سیاحتی مقامات کے نام سے ایک مضمون شائع کیا تاکہ پاکستان کی سیاحتی کی صنعت کی مدد کر سکے۔ یہ پانچ مقامات ٹیکسلا، لاہور، شاہراہ قراقرم، کریم آباد اور جھیل سیف الملوک تہے۔ عالمی معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات کا اعزاز عالمی ورثہ کے مقامات کے طور پر مقرر کیا۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادئ سندھ کی تہذیب کے موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے 5000 سال پرانے شہروں تک ہے۔ خور و نوش پاکستانی کھانے جنوبی ایشیا کے مختلف علاقائی کھانوں کا حسین امتزاج ہیں۔ پاکستانی کھانوں میں شمالی ھندوستانی، وسط ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے کھانے شامل ہیں لیکن یہاں کے کھانوں میں گوشت کا استعمال زیادہ ہے۔ پاکستان میں اشیائے خور و نوش کے نام بہت آسان ہیں۔ پاکستان میں ایک علاقے کے کھانے دوسرے علاقے کے کھانوں سے قدرے مختلف ہوتے ہیں جس سے اس ملک کی ثقافتی اور لسانی تنوع جھلکتی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کھانے مصالحے دار ہوتے ہیں جو جنوبی ایشیا کے کھانوں کی خاصیت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے علاقوں کے کھانے مثلاً خیبر پختونخوا، بلوچستان، قبائیلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے کھانے بھی اپنی اپنی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اور ان پر بھی مختلف علاقائی رنگ غالب ہوتے ہیں۔ کھیل تصغیر|305x305پکسل|بیجنگ میں 2008 کے سمر اولمپکس میں پاکستانی ٹیم۔ تصغیر|304x304پکسل|پاکستان 2005 میں ارجنٹائن کے خلاف کھیلتے ہوئے۔ پاکستان میں کھیلے جانے والے بیشتر کھیلوں کا آغاز برطانیہ میں ہوا اور برطانویوں نے انھیں ہندوستان میں متعارف کروایا۔ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ اس نے 1960ء، 1968ء اور 1984ء میں کھیلے گئے اولمپک کھیلوں میں تین سونے کے طمغے حاصل کیے ہیں۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ بھی چار بار جیتا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ 1971ء، 1978ء، 1982ء اور 1994ء میں جیتا ہے۔ تاہم، کرکٹ پاکستان کا سب سے زیادہ مشہور کھیل ہے۔ پاکستان کرکٹ کے ٹیم، جنھیں شاہین کہا جاتا ہے، نے 1992ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ 1999ءمیں شاھین دوسرے نمبر پر رہے۔ اور 1987ء اور 1996ء میں عالمی کپ کے مقابلے جزوی طور پر پاکستان میں ہوئے۔ پاکستان ٹی 20 قسم کے کھیل کے پہلے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے جو سال 2007ء میں جنوبی افریقا میں کھیلا گیا تھا۔ اور سال 2009ء میں اسی قسم کے کھیل میں پہلے نمبر پر رہے اور عالمی کپ جیتا جو برطانیہ میں کھیلا گیا تھا۔ سال 2009ء کے مارچ کے مہینے میں دہشت گردوں نے سری لنکا کے کرکٹ ٹیم پر حملہ کر دیا جو پاکستان کے دورے پر لاہور میں موجود تھی اور اسی کے ساتھ پاکستان میں عالمی کرکٹ عارضی طور پر بند ہو گئی۔ تاہم چھ سالوں کے طویل انتظار کے بعد مئی 2015ء میں عالمی کرکٹ پاکستان میں اس وقت بحال ہوئی جب زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی۔ تمام مقابلے سخت حفاظتی حصار میں لاہور میں ہوئے اور تمام مقابلوں کے لیے ٹکٹ سارے بک چکے تھے اور کرسیاں ساری بھری ہوئی تھیں۔ یہ ایک تاریخی کامیابی تھی۔ اس نے دوسری ٹیموں کے آنے کے لیے بھی راہ ہموار کر لی۔ ورزشی کھیلوں میں عبد الخالق نے سال 1954ء اور سال 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں حصہ لیا۔ اس نے 35 سونے کے طمغے اور 15 عالمی چاندی اور پیتل کے طمغے پاکستان کے لیے حاصل کیے۔ اسکواش میں پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی جہانگیر خان ہیں جن کو عالمی معیار کا کھلاڑی اور کھیلوں کی تاریخ میں عظیم کھلاڑی مانا جاتا ہے اور ساتھ ہی جانشیر خان ہیں جنھوں نے عالمی اسکواش کے مقابلوں میں کئیی بار پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ فہرست متعلقہ مضامین پاکستان * فہرست متعلقہ مضامین پاکستان * پاکستان کے صدر * عسکریہ پاکستان * پاکستان کے وزیراعظم * پاکستان کی سیاسی جماعتیں * پاکستان کے اضلاع * پاکستان کے اخبار * پاکستان کے ٹی وی چینل * پاکستان کے نیشنل پارک * قومی ترانہ * اہم پاکستانی ایام * محمد علی جناح * محمد اقبال * تحریک پاکستان * قیام پاکستان * مینار پاکستان * قرارداد پاکستان * نظریہ پاکستان * آل انڈیا مسلم لیگ * پاکستان کی بادشاہت * فہرست پاکستان کے جزائر حوالہ جات بیرونی روابط زمرہ:اردو بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:اسلامی جمہوریتیں زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:انگریزی بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:ایشیائی ممالک زمرہ:بحیرہ عرب زمرہ:برطانیہ کی سابقہ مستعمرات زمرہ:پاکستان کی سرحدیں زمرہ:پاکستان میں 1947ء کی تاسیسات زمرہ:پشتو زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:پنجابی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:ترقی پذیر 8 زمرہ:ترقی پزیر 8 زمرہ:ترقی پزیر 8 زمرہ:جنوب ایشیائی ممالک زمرہ:دولت مشترکہ جمہوریتیں زمرہ:دولت مشترکہ کے رکن ممالک زمرہ:سارک کے رکن ممالک زمرہ:شنگھائی کارپیریشن آرگنائیزیشن کے ارکان زمرہ:علامت کیپشن یا ٹائپ پیرامیٹرز کے ساتھ خانہ معلومات ملک یا خانہ معلومات سابقہ ملک استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:مؤتمر عالم اسلامی کے رکن ممالک زمرہ:وفاقی جمہوریتیں زمرہ:ویڈیو کلپس پر مشتمل مضامین زمرہ:ویکی منصوبہ پاکستان کے مضامین زمرہ:ہریانوی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:1947ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
[Wikipedia:ur] تاریخ تاریخ جامع انسانی کے انفرادی و اجتماعی اعمال و افعال اور کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں گذشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے، تاکہ تمدن انسانی کا کارواں رواں دواں رہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس کے توسط سے افراد و اقوام ماضی کے دریچے سے اپنے کردہ اور نا کردہ اعمال و افعال پر تنقیدی نظر ڈال کر اپنے حال مستقبل کو اپنے منشا و مرضی کے مطابق ڈھال سکیں۔ تاريخ دان تاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذرائع معلومات کو اہميت دی گئی۔ تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ) لکھنے کے ہوتے ہیں۔ تصور تاریخ اتنا ہی قدیم ہے کہ جتنا تصور زماں و مکاں۔ آغاز تمذن سے اب تک تاریخ نے کئی روپ دھارے ہیں۔ قصے کہانیوں سے شروع ہو کر آج تاریخ اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اسے تمام علوم انسانی کی رواں دواں کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اجتماع انسانی کے شعبے مین کوئی واقعہ پیش آتاہے وہ کسی نہ کسی طرح کل کی یا تاریخ گذشتہ سے مربوط ہوتا ہے، اس لیے یہ کہا جائے کہ تاریخ سب کچھ ہے اور سب کچھ تاریخ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ نظریات اناتول قراش کے خیال میں تاریخ گذشتہ حادثات و اتفاقات کے تحریری بیان سے عبارت ہے۔ ای ایچ کار کی رائے میں تحقیق شدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے۔ کارل بیکر کے نزدیک اقوال و افعال کا علم ہے۔ سیلی کی رائے میں تاریخ گذشتہ سیاست اور گذشتہ سیاست موجودہ تایخ ہے۔ اطخاوی کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کاموضع انسان زماں و مکاں ہے، جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے یہ ایک ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات واقعات کو موضع بحث دیتاہے۔ ظہیر الدین مرغشی کے نزدیک یہ ایک ایسا علم ہے جو اگلے وقتوں کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد مکری کا قول ہے کہ تاریخ ایسا علم ہے جس میں کسی قوم یا فرد یا چیز کے گذشتہ حالات واقعات پر بحث کرتا ہے۔ آقائے مجید یکتائی کا کہنا ہے کہ اعصار و قرون کے ان احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے، جو ماضی سے آگئی و مستقبل کے لیے تنبیہ کا باعث بنتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔22) حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا نظریات میں کتنا ہی اختلاف ہو، مگر اس حد تک سب متفق ہیں کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو عہد گذشتہ کے واقعات اور اُس زماں و مکاں کے بارے میں جس میں واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں، آئندہ نسلوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے تاریخ اتنی قدیم ہے کہ جتنی تحریر۔ یہ اور بات ہے تاریخ کی ابتدا اساطیر یا دیومالائی کہانیوں سے شروع ہوئی۔ گو تاریخ اور اساطیر مین فرق ہے۔ تاریخ کے کردار حقیقی اور زمان اور مکان متعین و مشخص ہوتے ہیں۔ جب کہ اساطیر میں کردار مقوق الفطرت مسخ شدہ یا محض تخیل کی پیداوار اور زمان و مکان غیر متعین اور نامشخص ہوتے ہیں۔ تاریخ کی ابتدا پروفیسر ہربرٹ اسپنر Hurbt Spenser اور گرانٹ ایلن Grant Ain کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انسان صرف اپنے اسلاف کا شعور رکھتا تھا، وہ اسلاف کے حقیقی اور فرضی کارناموں سے واقف تھا اور ان کو یاد کرتا رہتا تھا۔ امتتداد زمانہ کے ساتھ ان اسلاف کی حقیقی شخصیتیں روایتوں کے انبار تلے دب گئیں۔ رفتہ رفتہ حقیقت پر خرافات کی اتنی تہ جم گئیں کہ لوگ اسلاف کی حقیقی شخصیتوں کو بھول گئے اور افسانوی شخصیتوں کو دیوتا سمجھ کر ان کی پوجا کرنے لگے۔ بہرحال اسلاف کی عظمتوں کے افسانوں نے دیوتا کا روپ دھار لیا ہو یا مظاہر قدرت کی فعالی اور صاحب ارادہ شخصیتوں کا تصور دیوتاؤں کے پیکر میں ڈھل گیا ہو، یہ حقیقت ہے کہ دیوتاؤں کی تخلق انسانی ذہن کی مرحون منت ہے، اگرچہ یہ تخلق کا عمل کئی مدارج سے گذرا ہے۔ مورخ کے فرائض ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مورخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض نقال نہ ہو بلکہ تاریخ سے متعلقہ تمام علوم کو جانتا ہو۔ اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی و سیاست کے قواعد کیا ہیں؟ موجودات کی طبعیت کس ڈھب کی ہے؟ مختلف قوموں کا مزاج کیا ہے؟ زمان ومکان کی بوقلمونی سے احوال و عوائد کے گوشے کیوں کر متاثر ہوتے ہیں؟ مختلف مذاہب میں فرق کیا اور حدود اختلافات کیا ہیں اور کہاں ان کے ڈانڈے ملتے ہیں؟ اس طرح یہ بھی جاننا حال کیا ہے اور اس میں اور ماضی اور کیا کیا چیزیں ملتی جلتی ہیں اور کن نکات پر اختلافات ہیں؟ تاکہ جو موجود ہیں ان کی مناسبتوں اور مشا بہتوں سے ماضی کے دندھلکوں کی تشریح کی جائے۔ جو لوگ ان نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہیں، وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے ہیں کہ تاریخ کا ہر واقع ایک منفرد واقع نہیں ہوتا ہے، بلکہ اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے اور کئی سمتوں سے اس کی حقانیت پر روشنی پڑھ سکتی ہے، وہ ہولناک غلطیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور ایسے لاطائل قصے تاریخ کے باب میں پیش کرتے ہیں، جو قطعی مہمل اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ مورخ کی ذمہ داری مزید ابن خلدون کا کہنا ہے کہ ایک مورخ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تاریخ میں اگرچہ اس زمانے کے مخصوص لوگوں کا ذکر ہوتا ہے، متعین واقعات اور بڑے بڑے حوادث کی تفصیلات ہی بیان کی جاتی ہیں، تاہم اس عصر کے تمام حالات جغرافیہ اور جزئیات اس نوعیت کی ہو سکتی ہیں کہ جن سے ان کی توضیح ہو سکے۔ اس لیے ایک محقق کو ان حالات کو نظر انداز نہیں کرناچاہیے اور قدم انہی کی روشنی میں بڑھانا چاہیے، ورنہ لغزش کا سخت اندیشہ ہے۔ ابن خلدون مزید مسعودی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ قومیں مختلف سیاسی کروٹیں بدلتی ہیں اور ایک حالت پر قائم نہیں رہتی ہیں، ان کے مزاج عقائد اور رسمیات ان تبدیلوں سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ گویا ایک نئی قوم معرض وجود میں آگئی۔ اس لیے ایک مورخ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ کسی خاص حکومت کی تبدیلی سے قوم میں کیا کیا تغیرات رونما ہوتے ہیں اور عرف و اصطلاع کے کون کون سے قانون تغیر و تبدل کی نذر ہو چکے ہوتے ہیں۔ تاریخی واقعات پیش کرنے میں ان تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھنا جائے اور ان اصولوں کی روشنی میں چھان نہیں کی جائے، تو امکان ہے کہ غلطیوں میں الجھ کر غیر صحیح اور غیر معقول افسانوں کو پیش کیا جائے گا۔ کیوں کہ انسانی فظرت کی یہ عام کمزوری ہے، وہ غیر معمولی باتوں کو ماننے میں بڑی دلچسپی اور لگاؤ کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس سے لاپروا اور بے خطر ان قصوں کو بیان کرتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ بہر کیف جھوٹے قصے اور عجیب مضحک داستانیں اس وقت تاریخ کے اوراق کی زینت بنتی ہیں کہ مورخ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ہے اور وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتا ہے کہ جو بات بیان کی گئی ہے اس کے تقاضے بھی ہیں یا نہیں اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں یاتصدیق۔ مورخ کی لغزش مزید ابن خلون کا کہنا ہے کہ ان اسباب کے علاوہ جو بیان کیے گئے ہیں کچھ اور عوامل بھی ہیں، جن کو وضع اور گھڑنت میں براہ راست دخل ہے۔ مثلاََ ایک بڑا سبب جعل وضع کا یہ ہو سکتا ہے کہ مورخ پہلے سے ایک عصبیت رکھتا ہو اور کسی خاص گروہ سے وابستہ ہو، اس کی کوشش حالات واقعات کے سلسلے میں ہمیشہ یہی رہے گی کہ کس طرح تاریخ سے اس کی رائے کی تائید ہو سکے اور دوسروں کی تردید، اس کی نظر واقعات و حلات کے متعلق بے لاگ اور منصفانہ نہیں ہو سکتی ہے۔ ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناقل کو یہ نہ معلوم ہو کہ خبر کے پیچھے کون سا مقصد پنہاں ہے اور خبر کو جیسا کہ اس کے گمان میں ہے محض اٹکل سے بیان کر دے۔ تیسرا اہم سب یہ ہے کہ تطبیق احوال کی صلاحیت نہ ہو اور ناقل یہ نہ جان سکتا ہو کہ واقعات کی تہ میں تضع اور بناوٹ کی کارفرمائیوں کا کتنا حصہ ہے۔ پانچواں سبب امرا و سلاطین کے قرب کی خواہش۔ اس راہ میں کذب و اخترا کو دخل کا اکثر موقع ملا ہے۔ تاريخ کی قسم بندی تاريخ ايک بہت وسيع موضوع ہے، اس لیے اس کی کئی طرح سے قسم بندی کی گئی ہے۔ علاقائی قسم بندی * ایشیا * يورپ * امريکہ * افریقا * آسٹریلیا ادواری قسم بندی * دور * صدی * عشرہ * سال جامعاتی قسم بندی * دور قديم کی تاريخ * امريکہ کی تاريخ * تاريخ يورپ * تاريخ افريقہ * مشرق وسطی کی تاريخ * تاريخ ہند * ايشيا کی تاريخ * آسٹريليا کا تاريخ * اسلامی تاريخ ديگر قسم بندياں * تاريخ کا فلسفہ * علوم کی تاريخ * فنون کی تاريخ * ادب کی تاريخ * طب کی تاريخ * فلسفے کی تاريخ * موجودہ ممالک کی تاريخ * مذاہب کی تاريخ * تاريخدانی حوالہ جات ماخذ * History & Mathematics: Historical Dynamics and Development of Complex Societies۔ Moscow: KomKniga, 2006. زمرہ:اردو ادب کی اصطلاحات زمرہ:انسانیات زمرہ:بنیادی موضوع قسم بندی زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:تاریخ کے معاون علوم زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:یونانی مستعار الفاظ زمرہ:تاریخ زمرہ:تاریخ نگاری زمرہ:ثقافتی علوم
[Wikipedia:ur] لسانيات لسانيات ايک ايسا مضمون ہے جس ميں انسانی زبانوں کا مطالعہ کيا جاتا ہے۔ زبانوں کی موجودہ صورت کا مطالعہ کيا جاتا ہے۔ زبانوں ميں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبديليوں کا مطالعہ کيا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں کی آپس ميں مشابہت کے بارے ميں مطالعہ کيا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس چيز کا بھی مطالعہ کيا جاتا ہے کہ زبانوں کا اس دنيا کی ديگر چيزوں کے ساتھ کيا تعلق ہے۔ مزید دیکھیے * زبانیں * لہجہ (لسانيات) * اردو * ف کی بولی زمرہ:علم ادراک زمرہ:زبان زمرہ:معاشرتی علوم
[Wikipedia:ur] اردو اُردُو، برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان بھارت میں 5.01 فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے ہی بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان 9.25 فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔ زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کی بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے 1846ء اور پنجاب میں 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد و شمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔ اردو زبان کو کئی ہندوستانی ریاستوں میں سرکاری حیثیت بھی حاصل ہے۔ نیپال میں، اردو ایک رجسٹرڈ علاقائی بولی ہے اور جنوبی افریقہ میں یہ آئین میں ایک محفوظ زبان ہے۔ یہ افغانستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتی زبان کے طور پر بھی بولی جاتی ہے، جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ 1837ء میں، اردو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرکاری زبان بن گئی، کمپنی کے دور میں پورے شمالی ہندوستان میں فارسی کی جگہ لی گئی۔ فارسی اس وقت تک مختلف ہند-اسلامی سلطنتوں کی درباری زبان کے طور پر کام کرتی تھی۔ یورپی نوآبادیاتی دور میں مذہبی، سماجی اور سیاسی عوامل پیدا ہوئے جنھوں نے اردو اور ہندی کے درمیان فرق کیا، جس کی وجہ سے ہندی-اردو تنازعہ شروع ہوا۔ اٹھارویں صدی میں اردو ایک ادبی زبان بن گئی اور اس کی دو معیاری شکلیں دہلی اور لکھنؤ میں وجود میں آئیں۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سے پاکستانی شہر کراچی میں ایک تیسرا معیار پیدا ہوا ہے۔ دکنی، ایک پرانی اردو کی شکل ہے جو دکن میں استعمال ہوتی تھی، سولہویں صدی تک دکن سلاطین کی درباری زبان بن گئی۔ اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو زبان سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ اردو زبان دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے کے باوجود اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ خاص کر جنوب ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ تسمیہ تصغیر|بائیں|150px|اردو اور ہندوستانی یہ دو الفاظ 20ویں صدی کی پہلی تین دشکوں تک ہم معانی ہوئی کرتی تھیں. اردو کا نام سب سے پہلے شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس ہندوستانی زبان کے لیے استعمال کیا تھا۔ حالانکہ اس نے خود بھی اپنی شاعری میں زبان کی تعریف کے لیے ہندوی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اردو کا مطلب ترک زبان میں فوج ہے۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں، اسے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کا مطلب بلند کیمپ کی زبان ہے۔ پہلے اسے ہندوی، ہندی، ہندوستانی اور ریختہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاریخ تصغیر|280px|نستعلیق خطاطی پر لشکری زبان کا عنوان اردو ہندی زبان کی طرح فارسی، عربی، ترک زبان کی ایک قسم ہے۔ یہ شورسینی زبان (یہ زبان وسطی ہند آریائی زبان تھی جو موجودہ کئی زبانوں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، ان میں پنجابی زبان بھی شامل ہے) کی ذیلی قسم کے طور پر اپ بھرنش سے قرون وسطٰی (چھٹی سے تیرھویں صدی) کے درمیان وجود میں آئی۔ اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ ہریانوی زبان سے شروع ہوئی۔ تیرھویں صدی سے انیسویں صدی کے آخر تک اردو زبان کو بیک وقت ہندی، ہندوستانی اور ہندوی کہا جاتا تھا۔ اگرچہ لفظ اردو بذات خود ترک زبان کے لفظ اوردو (لشکر، فوج) یا اوردا سے نکلا ہے، اسی سے انگریزی لفظ horde کا ظہور ہوا، تاہم ترک زبان سے اردو میں کم ہی الفاظ آئے ہیں۔ عرب اور ترک الفاظ اردو میں پہنچ کر فارسی قسم کے بن گئے ہیں، جیسے ة کو اکثر اوقات ہ میں بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً عربی تائے مربوطہ (ة) کو (ہ) یا (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔ بھلے آج کے دور میں اردو کو ایک مستقل زبان کی شناخت حاصل ہے لیکن عظیم اردو قلمکار اُنیسویں صدی کی کچھ ابتدائی دہائیوں تک اردو زبان کو ہندی یا ہندوی کی شکل میں ظاہر کرتے رہے ہیں۔ جیسے غلام حمدان مصحفی نے اپنی ایک شاعری میں لکھا ہے: - اور شاعر مير تقی میر نے کہا ہے: تصغیر|خط نستعلیق|نستعلیق رسم الخط میں لکھا ہوا جملہ زبانِ اردو مُلّا ("بلند کیمپ زبان") اردو زبان کو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ منصوب کیا جاتا ہے اور اسی حوالے سے کئی نظریات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ممتاز محقق حافظ محمود شیرانی کے نزدیک یہ زبان محمود غزنوی کے حملہ ہندوستان کے ادوار میں پنجاب میں پیدا ہوئی، جب فارسی بولنے والے سپاہی پنجاب میں بس گئے، نیز ان کے نزدیک یہ فارسی متکلمین دہلی فتح کرنے سے قبل دو سو سال تک وہیں آباد رہے، یوں پنجابی اور فارسی زبانوں کے اختلاط نے اردو کو جنم دیا، پھر ایک آدھ صدی بعد جب اس نئی زبان کا آدھا گندھا خمیر دہلی پہنچا تب وہاں اس نے مکمل زبان کی صورت اختیار کی، اس حوالے سے انھوں نے پنجابی اور اردو زبان میں کئی مماثلتیں بھی پیش کی ہیں۔ شیرانی کے اسی نظریہ کو پنجاب میں اردو نامی مقالے میں لکھا گیا، جس نے اردو زبان دانوں میں کافی شہرت پائی اور اسی کو دیکھ کر بہت سے محققین نے اردو کے آغاز کو مسلمانوں کی آمد سے جوڑنا شروع کر دیا، اس طرح "دکن میں اردو"، "گجرات میں اردو"، "سندھ میں اردو"، "بنگال میں اردو "حتیٰ کہ "بلوچستان میں اردو" کے نظریات بھی سامنے آنے لگے۔ (حقیقتاً شیرانی سے قبل بھی سنیت کمار چترجی، محی الدین قادری زور جیسے بعض محققین اردو پنجابی تعلق کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے تھے، البتہ اسے ثابت کرنے میں وہ دوسروں سے بازی لے گئے) حافظ شیرانی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والوں میں مسعود حسین خان اور سبزواری جیسے محققین شامل ہیں، جنھوں نے ان کے نظریے کو غلط ثابت کیا۔ برطانوی راج میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا تھا۔ انھوں نے خود اپنی شاعری میں زبان کی تعریف کے لیے ہندوی لفظ بھی استعمال کیا۔ تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر ہندی ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے، جیسے ہندوی، ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی، پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی، تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ فارسی رسم الخط کی بجائے اس زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں بہار میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردو (برائے مسلم) اور ہندی (برائے ہندو) میں تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا (اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو زبان سے جڑے رہے، جن میں معروف منشی پریم چند، گلزار، گوپی چند نارنگ اور آزاد وغیرہ شامل ہیں۔) ابتدائی تاریخ تصغیر|غالب کے اردو دیوان کے ابتدائی صفحات، 1821 ہندوستان کے دہلی کے علاقے میں مقامی زبان کھوری بولی تھی، جس کی ابتدائی شکل پرانی ہندی (یا ہندوی) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا تعلق وسطی ہند آریائی زبانوں کے مغربی ہندی زبان سے ہے۔ دہلی جیسے شہروں میں، قدیم ہندی اور فارسی کا اثر و رسوخ تھا اور اسے "ہندوی" اور بعد میں "ہندوستانی" بھی کہا جانے لگا۔ ہندوی کی ایک ابتدائی ادبی روایت کی بنیاد امیر خسرو نے تیرھویں صدی کے آخر میں رکھی تھی۔ دکن کی فتح کے بعد اور اس کے بعد عظیم مسلم خاندانوں کی جنوب میں ہجرت کے بعد، زبان کی ایک شکل قرون وسطی کے ہندوستان میں شاعری کے طور پر پروان چڑھی۔ اور اسے دکنی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں تیلگو زبان اور مراٹھی زبان کے الفاظ شامل ہیں۔ تیرھویں صدی سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جو زبان اب اردو کے نام سے جانی جاتی ہے اسے ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دہلوی، لاہوری اور لشکری کہا جاتا تھا۔ دہلی سلطنت نے فارسی کو ہندوستان میں اپنی سرکاری زبان کے طور پر قائم کیا، یہ پالیسی مغل سلطنت کی طرف سے جاری رہی، جس نے سولہویں سے اٹھارویں صدی تک شمالی جنوبی ایشیا کے بیشتر حصوں میں توسیع کی اور ہندوستانی پر فارسی اثر کو مضبوط کیا۔ خان آرزو کے نوادر الفاز کے مطابق، "زبانِ اردو شاہی" کو عالمگیر کے زمانے میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ 1700ء کی دہائی کے اوائل میں اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت کے اختتام تک، دہلی کے آس پاس کی عام زبان کو زبانِ اردو کہا جانے لگا، یہ نام ترک زبان کے لفظ اوردو (فوج) یا اوردا سے ماخوذ ہے اور کہا جاتا ہے۔ "کیمپ کی زبان" کے طور پر پیدا ہوا ہے یا زبانِ اردو کا مطلب ہے: "اونچے کیمپوں کی زبان" یا مقامی طور پر "لشکری زبان" کا مطلب ہے " فوج کی زبان"؛ اگرچہ اردو کی اصطلاح مختلف ہے۔ اس وقت کے معنی یہ ریکارڈ کیا گیا ہے کہ اورنگزیب عالمگیر ہندوی زبان میں بولتا تھا، جو غالباً فارسی زبان میں تھی، کیونکہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ہندوی اس دور میں فارسی رسم الخط میں لکھی گئی تھی۔ اس عرصے کے دوران اردو کو "مورس" کہا جاتا تھا، جس کا مطلب صرف مسلمان تھا، یورپی مصنفین نے جان اوونگٹن نے 1689ء میں لکھا:موروں کی زبان ہندوستان کے قدیم اصلی باشندوں سے مختلف ہے لیکن اپنے کرداروں کے لیے ان غیر قوموں کی پابند ہے۔ کیونکہ اگرچہ مورز بولی اپنے لیے مخصوص ہے، پھر بھی اس کے اظہار کے لیے خطوط سے محروم ہے۔ اور اس لیے، اپنی مادری زبان میں اپنی تمام تحریروں میں، وہ اپنے خطوط ہیتھنز یا فارسیوں یا دیگر اقوام سے مستعار لیتے ہیں۔1715 میں ریختہ میں ایک مکمل ادبی دیوان نواب صدرالدین خان نے لکھا۔ ایک اردو فارسی لغت خان آرزو نے 1751ء میں احمد شاہ بہادر کے دور میں لکھی تھی۔ اردو کا نام سب سے پہلے شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس متعارف کرایا تھا ایک ادبی زبان کے طور پر اردو نے درباری، اشرافیہ کے ماحول میں شکل اختیار کی۔ جبکہ اردو نے مقامی ہندوستانی بولی کھڑ بولی کی گرامر اور بنیادی ہند آریائی الفاظ کو برقرار رکھا، اس نے نستعلیق تحریری نظام کو اپنایا – جسے فارسی خطاطی کے انداز کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ دیگر تاریخی نام اردو زبان کی پوری تاریخ میں، اردو کو کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا گیا ہے: ہندی، ہندوی، ریختہ، اردو-ملا، دکھینی، مورس اور دہلوی وغیرہ۔ 1773 میں سوئس فرانسیسی سپاہی اینٹون پولیئر نے نوٹ کیا کہ انگریزوں نے اردو کے لیے "مورس" کا نام استعمال کرنا پسند کیا:مجھے ہندوستان کی عام زبان کے بارے میں گہرا علم ہے، جسے انگریز مورس کہتے ہیں اور اس سرزمین کے باشندے ہیں۔اشرف جہانگیر سمنانی جیسے صوفی مصنفین کی کئی تخلیقات نے اردو زبان کے لیے اسی طرح کے نام استعمال کیے ہیں۔ شاہ عبدالقادر رائے پوری پہلے شخص تھے جنھوں نے قرآن مجید کا اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ جہاں کے زمانے میں دار الحکومت کو دہلی منتقل کر دیا گیا اور اس کا نام شاہجہان آباد رکھا گیا اور اس قصبے کے بازار کا نام اردوئے معلیٰ رکھا گیا۔ نوآبادیاتی دور میں اردو نوآبادیاتی انتظامیہ میں اردو کو معیاری بنانے سے پہلے، برطانوی افسران اکثر اس زبان کو "مُور" کہتے تھے۔ جان گلکرسٹ برطانوی ہندوستان میں پہلے شخص تھے جنھوں نے اردو پر ایک منظم مطالعہ شروع کیا اور "ہندوستانی" کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی جسے یورپیوں کی اکثریت "مُور" کہتی تھی۔ بعد میں برطانوی پالیسیوں کے ذریعے نوآبادیاتی ہندوستان میں اردو کو فروغ دیا گیا تاکہ فارسی پر سابقہ زور کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نوآبادیاتی ہندوستان میں، "انیسویں صدی میں متحدہ صوبوں میں عام مسلمان اور ہندو یکساں طور پر ایک ہی زبان بولتے تھے، یعنی ہندوستانی، خواہ اس نام سے پکارا جائے یا ہندی، اردو یا برج یا اودھی جیسی علاقائی بولیوں میں سے ایک۔" مسلم برادریوں کے اشراف کے ساتھ ساتھ ہندو اشراف کی ایک اقلیت، جیسا کہ ہندو نسل کے منشی، نے عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں فارسی عربی رسم الخط میں زبان لکھی، حالانکہ ہندو بعض ادبیات میں دیوناگری رسم الخط کو استعمال کرتے رہے۔ اور مذہبی سیاق و سباق۔ انیسویں صدی کے آخر تک، لوگ اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، حالانکہ شہری علاقوں میں، معیاری ہندستانی زبان کو تیزی سے اردو کہا جاتا تھا اور فارسی عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اردو اور انگریزی نے 1837ء میں ہندوستان کے شمالی حصوں میں فارسی کو سرکاری زبانوں کے طور پر بدل دیا نوآبادیاتی ہندوستانی اسلامی اسکولوں میں، مسلمانوں کو ہند اسلامی تہذیب کی زبانوں کے طور پر فارسی اور عربی پڑھائی جاتی تھی۔ انگریزوں نے ہندوستانی مسلمانوں میں خواندگی کو فروغ دینے اور انھیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے ان سرکاری تعلیمی اداروں میں فارسی عربی رسم الخط میں لکھی ہوئی اردو پڑھانا شروع کی اور اس وقت کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں اردو کو بطور خاص نظر آنے لگا۔ شمال مغربی ہندوستان میں ہندوؤں نے، آریہ سماج کے تحت فارسی عربی رسم الخط کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور دلیل دی کہ زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے، جس نے دیوناگری میں لکھی گئی ہندی کے استعمال کو جنم دیا۔ انجمن اسلامیہ لاہور دیوناگری رسم الخط میں ہندی اور فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی گئی اردو نے مسلمانوں کے لیے "اردو" اور ہندوؤں کے لیے "ہندی" کی فرقہ وارانہ تقسیم قائم کی، یہ تقسیم تقسیمِ ہند کا باعث بھی بنی، جس کے بعد مسلمانوں کا ایک نیا ملک پاکستان، وجود میں آیا جس کی قومی زبان اردو بنی (حالانکہ ایسے ہندو شاعر اب بھی ہیں جو اردو میں لکھتے رہتے ہیں، مثلاً گوپی چند نارنگ اور گلزار)۔ تقسیم کے بعد بائیں|تصغیر|متحدہ عرب امارات میں عربی، انگریزی اور اردو میں سہ زبانی سائن بورڈ۔ اردو جملہ انگریزی کا براہ راست ترجمہ نہیں ہے ("آپ کا خوبصورت شہر آپ کو اسے محفوظ رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔" ) یہ کہتا ہے، "اپنی شہر کی خوشصورتی کو برقرار رکھیے یا "براہ کرم اپنے شہر کی خوبصورتی کو محفوظ رکھیں۔" اردو کو بمبئی پریزیڈنسی، بنگال، صوبہ اڑیسہ، اور ریاست حیدرآباد کے نوآبادیاتی ہندوستانی مصنفین کے لیے بطور ادبی ذریعہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 1973 میں، اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور اس کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد کے بعد جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، نے بھی ہندی-اردو میں عبور حاصل کر لیا۔ ہندوستانی میڈیا خاص طور پر ہندی-اردو بالی ووڈ فلمیں اور گانے اردو زبان میں ہوتے ہیں۔ اردو کو پراکرت اور سنسکرت کے مقامی الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ہندی کو فارسی کے الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے - نئی لغت بنیادی طور پر فارسی اور عربی سے اردو کے لیے اور سنسکرت سے ہندی سے نکالی گئی ہے۔ انگریزی نے ایک مشترکہ سرکاری زبان کے طور پر دونوں پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ بروس (2021ء) کے مطابق، اٹھارویں صدی سے اردو نے انگریزی الفاظ کو ڈھال لیا ہے۔ پاکستان میں 1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے ایک اردو کی ہائپر فارسائزیشن کی طرف ایک تحریک ابھری جو ہندوستان میں ابھرنے والی ہائپر سنسکرت زدہ ہندی کی طرح "مصنوعی" ہے۔ ہندی کے بڑھتے ہوئے سنسکرتائزیشن سے کچھ حد تک اردو کی ہائپر فارسائزیشن کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ پاکستان میں روزمرہ کی بنیاد پر بولی جانے والی اردو کا انداز غیر جانبدار ہندستانی کے مشابہ ہے جو برصغیر کے شمالی حصے کی زبان ہے۔ 1977 کے بعد سے، صحافی خشونت سنگھ جیسے کچھ مبصرین نے اردو کو "مرتی ہوئی زبان" قرار دیا ہے، حالانکہ دیگر، جیسے کہ ہندوستانی شاعر اور مصنف گلزار (جو دونوں ممالک میں مقبول ہیں، نے اس تشخیص سے اختلاف کیا اور کہا کہ اردو ہندوستان میں "سب سے زندہ زبان ہے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے"۔ یہ رجحان دیگر زبانوں کے بولنے والوں کے مقابلے میں مقامی اردو بولنے والوں کی نسبتاً اور مطلق تعداد میں کمی سے متعلق ہے۔ اردو کے فارسی عربی رسم الخط، اردو ذخیرہ الفاظ اور گرامر کے بارے میں کم ہوتی ہوئی (جدید) علم؛ اردو سے اور ادب کے ترجمے اور نقل کا کردار۔ اردو کی بدلتی ثقافتی تصویر اور اردو بولنے والوں کے ساتھ منسلک سماجی و اقتصادی حیثیت (جس سے دونوں ممالک میں خاص طور پر ان کے روزگار کے مواقع پر منفی اثر پڑتا ہے)، اردو کی قانونی حیثیت اور حقیقی سیاسی حیثیت، اردو کو تعلیم کی زبان کے طور پر کتنا استعمال کیا جاتا ہے اور طلبہ نے اعلیٰ تعلیم میں اس کا انتخاب کیا ہے، اور کس طرح اردو کی دیکھ بھال اور ترقی کو حکومتوں اور این جی اوز کی مالی اور ادارہ جاتی مدد حاصل ہے۔ ہندوستان میں، اگرچہ اردو صرف مسلمانوں کے ذریعہ استعمال نہیں کی جاتی ہے اور نہ کبھی ہوتی ہے (اور ہندی کبھی خصوصی طور پر ہندوؤں کے ذریعہ نہیں)، جاری ہندی-اردو تنازعہ اور دونوں مذاہب کے ساتھ ہر زبان کی جدید ثقافتی وابستگی کی وجہ سے بہت کم اضافہ ہوا ہے۔ ہندو اردو استعمال کرتے ہیں۔ 20ویں صدی میں، ہندوستانی مسلمانوں نے بتدریج اجتماعی طور پر اردو کو اپنانا شروع کیا (مثال کے طور پر، ' بہار کی آزادی کے بعد کی مسلم سیاست نے اردو زبان کے ارد گرد ایک متحرک دیکھا جو اقلیتوں کو بااختیار بنانے کے آلے کے طور پر خاص طور پر کمزور سماجی و اقتصادی پس منظر سے آنے والی ہے'۔ )، لیکن 21 ویں صدی کے اوائل میں ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے سماجی و اقتصادی عوامل کی وجہ سے ہندی کو تبدیل کرنا شروع کیا، جیسے کہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں اردو کو تدریسی زبان کے طور پر چھوڑ دیا گیا، ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 2001ء اور 2011ء کے درمیان 1.5 فیصد کم ہوئی (اس وقت 5.08 ملین اردو بولنے والے تھے)، خاص طور پر سب سے زیادہ اردو بولنے والی ریاستوں اتر پردیش (c. 8% سے 5%) اور بہار (c. 11.5% سے 8.5%)، حالانکہ ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اسی عرصے میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ 21 ویں صدی کے اوائل کے ہندوستانی پاپ کلچر میں اردو اب بھی بہت نمایاں ہے، بالی ووڈ سے لے کر سوشل میڈیا تک، اردو رسم الخط اور اردو میں کتابوں کی اشاعت میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ چونکہ پاکستانی حکومت نے تقسیم کے وقت اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا، اس لیے ہندوستانی ریاست اور کچھ مذہبی قوم پرستوں نے جزوی طور پر اردو کو ایک 'غیر ملکی' زبان کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ ہندوستان میں اردو کے حامی اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اسے دیوناگری اور لاطینی رسم الخط ( رومن اردو ) میں لکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ وولہ بھائی آفتاب نے دلیل دی کہ اردو اصل میں روشن خیالی، ترقی اور آزادی کی ایک بہترین اشرافیہ زبان ہے، جس نے تحریک آزادی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن 1947ء کی تقسیم کے بعد، جب اسے پاکستان کی قومی زبان کے طور پر منتخب کیا گیا، تو اسے بنیادی طور پر بنگالی سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا (جو کل آبادی کا 56 فیصد بولی جاتی ہے، زیادہ تر مشرقی پاکستان میں۔ آزادی کے حامی دونوں اشرافیہ جنھوں نے پاکستان میں مسلم لیگ اور ہندوستان میں ہندو اکثریتی کانگریس پارٹی کی قیادت کی تھی، برطانوی نوآبادیاتی دور میں انگریزی میں تعلیم حاصل کی گئی تھی اور انگریزی میں کام کرتے رہے اور اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھیجتے رہے۔ اگرچہ پاکستان میں اشرافیہ نے مختلف درجات کے ساتھ تعلیم کی اردوائزیشن کی کوششیں کی ہیں، لیکن سیاست، قانونی نظام، فوج اور معیشت کو اردو میں کرنے کے لیے کوئی بھی کامیاب کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ جنرل ضیاء الحق کی حکومت (1977-1988)، جو ایک متوسط پنجابی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدائی طور پر پاکستانی معاشرے کی تیز اور مکمل اردوائزیشن کی بھرپور حمایت کرتے تھے (انھیں 'سرپرست اردو' کا اعزازی خطاب دیا گیا تھا۔ 1960ء کی دہائی سے، اردو پاکستان میں اردو زبان مذہبی اسلام پسندی اور سیاسی قومی قدامت پرستی (اور آخر کار نچلے اور نچلے متوسط طبقے، علاقائی زبانوں جیسے کہ پنجابی، سندھی اور بلوچی) کے ساتھ منسلک رہی ہے، جبکہ انگریزی۔ بین الاقوامی سطح پر سیکولر اور ترقی پسند بائیں بازو (اور آخر کار بالائی اور اعلیٰ متوسط طبقے) سے وابستہ رہی۔ آبادیاتی اور جغرافیائی تقسیم ہندوستان اور پاکستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 100 ملین سے زیادہ ہے۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 50.8 ملین تھی (کل آبادی کا 4.34%)۔ 2023 میں پاکستان میں تقریباً 23.2 ملین برطانیہ، سعودی عرب، امریکا اور بنگلہ دیش میں بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم، اردو زبان بہت وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے، جو دنیا میں مینڈارن چینی اور انگریزی کے بعد تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ نحو (گرامر)، اردو اور ہندی کے بنیادی الفاظ بنیادی طور پر یکساں ہیں - اس طرح ماہر لسانیات انھیں عام طور پر ایک زبان کے طور پر شمار کرتے ہیں، جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ انھیں سماجی و سیاسی وجوہات کی بنا پر دو مختلف زبانوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ دوسری زبانوں کے ساتھ تعامل کی وجہ سے، اردو جہاں کہیں بھی بولی جاتی ہے، بشمول پاکستان میں مقامی ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اردو میں تبدیلیاں آئی ہیں اور اس نے علاقائی زبانوں کے بہت سے الفاظ کو شامل کیا ہے۔ اسی طرح، ہندوستان میں بولی جانے والی اردو کو کئی بولیوں میں بھی پہچانا جا سکتا ہے جیسے کہ لکھنؤ اور دہلی کی معیاری اردو کے ساتھ ساتھ جنوبی ہندوستان کی دکنی بولی وغیرہ۔ اردو کی ہندی سے مماثلت کی وجہ سے، دونوں زبانوں کے بولنے والے آسانی سے ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اردو بائیں|تصغیر|خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء|پاکستان کی 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ہر پاکستانی ضلع میں ان کی [[مادری زبان اردو والے لوگوں کا تناسب]] اردو پورے پاکستان میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، لیکن پاکستان کی 9.25 فیصد آبادی اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر بولتی ہے۔ پاکستان میں پچیس سال سے زائد عرصے تک رہنے والے مختلف نسلی (جیسے پشتون، تاجک، ازبک، ہزاروی اور ترکمان ) کے تقریباً تیس لاکھ افغان مہاجرین میں سے زیادہ تر اردو زبان بولتے ہیں۔ یہ مدرسوں میں اعلیٰ ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نے ایسے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کر دیے ہیں، جن کی مادری زبان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی، سرائیکی اور چترالی وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے۔ پاکستان میں اردو میں بہت سے اخبارات شائع ہوتے ہیں جن میں روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ ملت شامل ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا ویب سائٹس جیسا کہ ڈیلی پاکستان اور اردو پوائنٹ اردو زبان میں مواد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی خطہ اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال نہیں کرتا۔ پاکستان کی پنجابی اشرافیہ نے اردو کو مادری زبان کے طور پر اپنایا ہے اور وہ اردو بولنے والے کے ساتھ ساتھ پنجابی شناخت دونوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ اردو کو 1947ء میں پاکستان کی نئی ریاست کے لیے اتحاد کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان کے تمام صوبوں/علاقوں میں لکھی، بولی اور استعمال کی جاتی ہے۔ انگریزی اور اردو دونوں میڈیم اسکولوں میں ہائر سیکنڈری اسکول تک اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے، جس نے لاکھوں دوسری زبان کے بولنے والوں کو اردو سکھائی۔ جبکہ کچھ اردو الفاظ کو پاکستان کی علاقائی زبانوں نے بھی ضم کر لیا ہے۔ 8 ستمبر 2015ء بروز منگل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر سرکاری دفاتر میں اردو بطور سرکاری زبان کے نفاذ کے لیے حکم دے رکھا ہے۔ بھارت 250px|تصغیر|بائیں|بھارت اور [[پاکستان میں اردو بولنے والے علاقے۔ ]] بھارت میں، اردو ان جگہوں پر بولی جاتی ہے جہاں بڑی مسلم اقلیتیں یا شہر ہیں جو ماضی میں مسلم سلطنتوں کے علاقے تھے۔ ان میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش، بہار، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹرا (مراٹھواڑہ اور کونکنی)، کرناٹک اور حیدرآباد، لکھنؤ، دہلی، ملیرکوٹلہ، بریلی، میرٹھ، سہارنپور، مظفر نگر، روڑکی، مورا آباد، اعظم گڑھ، بجنور، نجیب آباد، رام پور، علی گڑھ، الہ آباد، گورکھپور، آگرہ، فیروز آباد، کانپور، بدایوں، بھوپال، حیدرآباد، اورنگ آباد، سمستی پور، بنگلور، کولکاتا، میسور، پٹنہ، دربھنگہ، مدھوا، سمبھوانی، گانو پور سہرسہ، سپول، مظفر پور، نالندہ، مونگیر، بھاگلپور، ارریہ، گلبرگہ، پربھنی، ناندیڑ، مالیگاؤں، بیدر، اجمیر اور احمد آباد جیسے شہر شامل ہیں۔ بھارت کے تقریباً 800 اضلاع میں ایک بہت بڑی تعداد میں اردو بولنے والی اقلیت میں ہیں۔ ارریہ ضلع، بہار میں، اردو بولنے والوں کی کثرت ہے اور حیدرآباد ضلع، تلنگانہ (43.35 فیصد تلگو بولنے والے اور 43.24 فیصد اردو بولنے والے) میں تقریباً کثرت ہے۔ کچھ بھارتی مسلم اسکول (مدرسہ) اردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھاتے ہیں اور ان کا اپنا نصاب اور امتحانات ہوتے ہیں۔ درحقیقت بالی ووڈ فلموں کی زبان میں فارسی اور عربی الفاظ کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے اور اس طرح اسے ایک لحاظ سے "اردو" سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر گانوں میں۔ بھارت میں 3,000 سے زیادہ اردو اشاعتیں ہیں جن میں 405 روزانہ اردو اخبارات بھی شامل ہیں۔ اخبارات جیسے کہ نشاط نیوز اردو، سہارا اردو، روزنامہ سالار، ہندوستان ایکسپریس، روزنامہ پاسبان، روزنامہ سیاست، روزنامہ منصف اور انقلاب بنگلور، مالیگاؤں، میسور، حیدرآباد اور ممبئی میں شائع اور تقسیم کیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک جنوبی ایشیا سے باہر، یہ خلیج فارس کے ممالک کے بڑے شہری مراکز میں نقل مکانی کرنے والے جنوب ایشیائی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ذریعہ بولی جاتی ہے۔ برطانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا، جرمنی، نیوزی لینڈ، ناروے اور آسٹریلیا کے بڑے شہری مراکز میں بڑی تعداد میں تارکین وطن اور ان کے بچے بھی اردو بولتے ہیں۔ عربی کے ساتھ ساتھ، کاتالونیا میں سب سے زیادہ بولنے والے تارکین وطن کی زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔ سرکاری حیثیت پاکستان میں تصغیر|پاکستان ریلویز صدر دفتر کے اوپر لکھی ہو اردو تحریر اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ تعلیم، اَدب، دفتر، عدالت، وسیط اور دینی اِداروں میں مستعمل ہے۔ یہ ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ ہے۔ اردو پاکستان میں واحد قومی زبان ہے اور پاکستان کی دو سرکاری زبانوں میں سے ایک (انگریزی کے ساتھ)۔ یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، جبکہ ریاستی زبانیں (مختلف خطوں میں بولی جانے والی زبانیں) صوبائی زبانیں ہیں، حالانکہ صرف 9.25 فیصد پاکستانی اپنی پہلی زبان کے طور پر اردو بولتے ہیں۔ اس کی سرکاری حیثیت کا مطلب یہ ہے کہ اردو دوسری یا تیسری زبان کے طور پر پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ یہ تعلیم، ادب، دفتر اور عدالت کے کاروبار میں استعمال ہوتا ہے، حالانکہ عملی طور پر حکومت کے اعلیٰ عہدوں میں اردو کی بجائے انگریزی استعمال ہوتی ہے۔ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 251(1) میں کہا گیا ہے کہ اردو کو حکومت کی واحد زبان کے طور پر لاگو کیا جائے، حالانکہ پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر انگریزی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔ بھارت میں بائیں|تصغیر|180px|نئی دہلی ریلوے اسٹیشن میں ہمہ زبانوں میں لکھا ہوا بورڈ۔ اردو بھارت میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے اور اسے بھارتی ریاستوں آندھرا پردیش، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، تلنگانہ اور قومی دار الحکومت دہلی میں "اضافی سرکاری زبان" کا درجہ بھی حاصل ہے۔ جموں و کشمیر کی پانچ سرکاری زبانوں میں سے ایک کے طور پر بھی ہے۔ بھارت نے 1969ء میں اردو کے فروغ کے لیے سرکاری بیورو قائم کیا، حالانکہ سنٹرل ہندی ڈائریکٹوریٹ اس سے قبل 1960ء میں قائم کیا گیا تھا اور ہندی کی ترویج کے لیے بہتر مالی امداد اور زیادہ ترقی دی گئی ہے، جب کہ فروغ سے اردو کی حیثیت کو نقصان پہنچا ہے۔ اردو کی نجی بھارتی تنظیمیں جیسے انجمنِ طریقت اردو، دینی علمی کونسل اور اردو مصحف دستہ اردو کے استعمال اور تحفظ کو فروغ دیتی ہیں، انجمن نے کامیابی کے ساتھ ایک مہم کا آغاز کیا جس نے 1970ء کی دہائی میں بہار کی سرکاری زبان کے طور پر اردو کو دوبارہ متعارف کرایا۔ سابقہ جموں و کشمیر ریاست میں، کشمیر کے آئین کے سیکشن 145 میں کہا گیا ہے: "ریاست کی سرکاری زبان اردو ہوگی لیکن انگریزی زبان جب تک قانون سازی کے ذریعہ دوسری صورت میں فراہم نہیں کرتی، ریاست کے تمام سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہے گی۔ وہ ریاست جس کے لیے اسے آئین کے آغاز سے فوراً پہلے استعمال کیا جا رہا تھا۔ بولیاں تصغیر|276x276پکسل|مینار پاکستان پر مختلف زبانوں میں تحریر اردو میں چند تسلیم شدہ بولیاں ہیں، جن میں دکھنی، ڈھاکیہ، ریختہ اور ماڈرن ورناکولر اردو (دہلی کے علاقے کی کوروی بولی بولی پر مبنی) شامل ہیں۔ دکنی، جنوبی ہندوستان کے علاقے دکن میں بولی جاتی ہے۔ یہ مراٹھی اور کوکنی زبان کے الفاظ کے مرکب کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور چغتائی کے الفاظ کے مرکب سے الگ ہے جو اردو کی معیاری بولی میں نہیں ملتی۔ دکھنی مہاراشٹر، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کے تمام حصوں میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ اردو ہندوستان کے دوسرے حصوں کی طرح پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ ان ریاستوں میں اردو کے کئی روزنامے اور کئی ماہانہ رسائل شائع ہوتے ہیں۔ ڈھاکیہ اردو بنگلہ دیش کے پرانے ڈھاکہ شہر کی ایک بولی ہے جو مغل دور سے شروع ہوتی ہے۔ تاہم، اس کی مقبولیت، یہاں تک کہ مقامی بولنے والوں میں بھی، 20ویں صدی میں بنگالی زبان کی تحریک کے بعد سے بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ اسے بنگلہ دیش کی حکومت نے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی بولی جانے والی اردو اس بولی سے مختلف ہے۔ اردو کی وہ بولیاں جن کی شناخت کی گئی ہے، یہ ہیں: * دکنی - اس کو دکھنی، دیسیا، مرگان نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ زبان دکن بھارت میں بولی جاتی ہے۔ مہاراشٹر میں جائیں تو مراٹھی اور کونکنی زبانوں کا اثر ملے گا، آندھرا پردیش جائیں تو تیلگو کا اثر ملے گا۔ * ریختہ * کھری بولی: (کھڑی بولی) پاکستان میں اردو پر پشتو، پنجابی، سرائیکی، بلوچی، سندھی زبانوں کا اثر پایا جاتا ہے، مقامی زبانوں کے اثر کی وجہ سے اردو کے حروف تہجی عربی اور فارسی سے زیادہ ہیں، بنیادی طور پر پاکستان کی اردو پر فارسی اور عربی کا اثر نمایاں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ہندی کے ساتھ موازنہ تصغیر|ہندوستان میں سڑک کے نشان پر اردو اور ہندی۔ اردو ورژن انگریزی کا براہ راست ترجمہ ہے۔ ہندی ایک حصہ نقل حرفی ہے ("پارسل" اور "ریل") اور جزوی ترجمہ "کاریالے" اور "ارکشن کیندر" معیاری اردو کا اکثر معیاری ہندی سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ اردو اور ہندی دونوں، جو ایک ہی زبان، ہندوستانی کے بنیادی الفاظ اور گرامر کا اشتراک کرتے ہیں۔ مذہبی انجمنوں کے علاوہ، اختلافات زیادہ تر معیاری شکلوں تک ہی محدود ہیں: معیاری اردو روایتی طور پر فارسی حروف تہجی کے نستعلیق انداز میں لکھی جاتی ہے اور فنی اور ادبی الفاظ کے ماخذ کے طور پر فارسی اور عربی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جبکہ معیاری ہندی روایتی طور پر دیوناگری میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت سے عبارت ہے۔ تاہم، دونوں مقامی سنسکرت اور پراکرت سے ماخوذ الفاظ کی بنیادی ذخیرہ الفاظ اور عربی اور فارسی کے الفاظ کی ایک خاصی مقدار کا اشتراک کرتے ہیں، ماہرین لسانیات کے اتفاق کے ساتھ کہ وہ ایک ہی زبان کی دو معیاری شکلیں ہیں اور فرق پر غور کریں۔ سماجی لسانی ہونا؛ کچھ ان کی الگ الگ درجہ بندی کرتے ہیں۔ دونوں زبانوں کو اکثر ایک زبان (ہندوستانی یا ہندی-اردو) سمجھا جاتا ہے جس میں فارسی سے لے کر سنسکرت کے الفاظ تک کے تسلسل میں بولی جاتی ہے، لیکن اب وہ سیاست کی وجہ سے الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مختلف ہیں۔ پرانی اردو لغات میں سنسکرت کے زیادہ تر الفاظ اب ہندی میں موجود ہیں۔ صوتیاتی سطح پر، دونوں زبانوں کے بولنے والے اپنے الفاظ کے انتخاب کی فارسی-عربی یا سنسکرت کی اصل سے اکثر واقف ہوتے ہیں، جو ان الفاظ کے تلفظ کو متاثر کرتا ہے۔ اردو بولنے والے اکثر سنسکرت کے الفاظ میں پائے جانے والے حرفوں کے جھرمٹ کو توڑنے کے لیے حرف داخل کرتے ہیں، لیکن عربی اور فارسی کے الفاظ میں ان کا صحیح تلفظ کریں گے۔ برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد سے مذہبی قوم پرستی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجے میں، ہندی اور اردو دونوں کے مقامی بولنے والے اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ الگ الگ زبانیں ہیں۔ اردو بولنے والے ممالک درج ذیل فہرست میں کچھ ممالک میں اردو بولنے والوں کی تعداد دکھائی گئی ہے۔ ذخیرہ الفاظ سید احمد دہلوی، انیسویں صدی کے ایک لغت نگار جنھوں نے فرہنگِ آصفیہ اردو لغت مرتب کی، اندازہ لگایا کہ 75% اردو الفاظ کی جڑیں سنسکرت اور پراکرت میں ہیں، اور تقریباً اردو کے 99% فعل کی جڑیں سنسکرت اور پراکرت میں ہیں۔ اردو نے فارسی سے الفاظ مستعار لیے ہیں اور کچھ حد تک عربی فارسی کے ذریعے، تقریباً 25% اردو کی ذخیرہ الفاظ کا 30% تک۔ چیپل ہل میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے ماہر لسانیات افروز تاج کی طرف سے بیان کردہ جدول اسی طرح ادبی اردو میں سنسکرت سے ماخوذ الفاظ کے فارسی ادھار کی مقدار کو 1:3 کے تناسب پر مشتمل بیان کرتا ہے۔"فارسیائزیشن کی طرف رجحان" 18ویں صدی میں اردو شاعروں کے دہلی اسکول سے شروع ہوا، حالانکہ دیگر مصنفین، جیسے میراجی، نے زبان کی سنسکرت شکل میں لکھا۔ 1947 کے بعد سے پاکستان میں ہائپر فارسائزیشن کی طرف پیش قدمی جاری ہے، جسے ملک کے بیشتر مصنفین نے اپنایا ہے۔ اس طرح، کچھ اردو عبارتیں 70% فارسی-عربی قرضوں پر مشتمل ہو سکتی ہیں جس طرح کچھ فارسی متن میں 70% عربی الفاظ ہو سکتے ہیں۔ کچھ پاکستانی اردو بولنے والوں نے ہندوستانی تفریح کی نمائش کے نتیجے میں ہندی الفاظ کو اپنی تقریر میں شامل کیا ہے۔ ہندوستان میں ہندی سے اردو اتنی نہیں بدل گئی جتنی پاکستان میں ہے۔ اردو میں زیادہ تر مستعار الفاظ اسم اور صفت ہیں۔ عربی اصل کے بہت سے الفاظ فارسی کے ذریعے اختیار کیے گئے ہیں، اور عربی کے مقابلے میں مختلف تلفظ اور معنی اور استعمال کی باریکیاں ہیں۔ پرتگالیوں سے ادھار کی تعداد بھی کم ہے۔ اردو میں مستعار پرتگالی الفاظ کے لیے کچھ مثالیں چابی ("chave": key)، گرجا ("igreja": church)، کمرہ ("cámara": room)، قمیض ("camisa": shirt) ہیں۔ اگرچہ اردو کا لفظ ترکی کے لفظ ordu (army) یا orda سے ماخوذ ہے، جس سے انگریزی horde بھی ماخوذ ہے، اردو میں ترک ادھار کم سے کم ہے اور اردو کا تعلق جینیاتی طور پر بھی ترک زبانوں سے نہیں ہے۔ چغتائی اور عربی سے نکلنے والے اردو الفاظ فارسی سے مستعار لیے گئے تھے اور اس لیے یہ اصل الفاظ کے فارسی نسخے ہیں۔ مثال کے طور پر، عربی ta' marbuta ( اس میں تبدیلیاں ( > ) یا te ( )۔ بہر حال، عام خیال کے برخلاف، اردو نے ترکی زبان سے نہیں لیا، بلکہ چغتائی سے لیا، جو وسطی ایشیا کی ایک ترک زبان ہے۔ اردو اور ترکی دونوں عربی اور فارسی سے مستعار ہیں، اس لیے بہت سے اردو اور ترکی الفاظ کے تلفظ میں مماثلت ہے۔ رسمیت اردو کو اس کے کم باضابطہ رجسٹر میں ریختہ| ( ، ) کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "کھردرا مرکب"۔ اردو کے زیادہ باضابطہ رجسٹر کو بعض اوقات ( )، "بلند کیمپ کی زبان" کہا جاتا ہے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے فوج میں مقامی یا لاشری کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ʃkəɾi ]) یا صرف لشکری۔ اردو میں استعمال ہونے والے لفظ کی تشبیہات، زیادہ تر حصے کے لیے، فیصلہ کرتی ہیں کہ کسی کی بات کتنی شائستہ یا بہتر ہے۔ مثال کے طور پر، اردو بولنے والے اور آب کے درمیان فرق کریں گے، دونوں کے معنی "پانی" کے ہیں: سابقہ بول چال میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی سنسکرت کی اصل ہے، جب کہ مؤخر الذکر فارسی نژاد ہونے کی وجہ سے رسمی اور شاعرانہ طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر کوئی لفظ فارسی یا عربی زبان کا ہو تو تقریر کی سطح زیادہ رسمی اور عظیم تر سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح، اگر فارسی یا عربی گرامر کی تعمیرات، جیسے کہ اِضافات، کو اردو میں استعمال کیا جائے، تو تقریر کی سطح بھی زیادہ رسمی اور عظیم تر سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی لفظ سنسکرت سے وراثت میں ملا ہے تو تقریر کی سطح کو زیادہ بول چال اور ذاتی سمجھا جاتا ہے۔ تحریری نظام تصغیر|اردو خط نستعلیق|نستعلیق حروف تہجی، دیوناگری اور رومن رسم الخط میں ناموں کے ساتھ اردو کا تحریری نظام فارسی حروف تہجی کی توسیع ہے جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے اور یہ نظام خود عربی حروف تہجی کی توسیع ہے۔ اردو کا تعلق فارسی خطاطی کے نستعلیق طرز سے ہے، جب کہ عربی عام طور پر ناسخ یا رقہ کے انداز میں لکھی جاتی ہے۔ نستعلیق کو ٹائپ سیٹ کرنا بدنام زمانہ مشکل ہے، لہٰذا 1980ء کی دہائی کے آخر تک اردو اخبارات کو خطاطی کے ماہروں کے ہاتھ سے لکھا جاتا تھا، جنھیں کاتب یا خُوش نویس کہا جاتا تھا۔ ایک ہاتھ سے لکھا ہوا اردو اخبار، دی مسلمان، اب بھی چنئی میں روزانہ شائع ہوتا ہے۔ دائیں|تصغیر|ٹیکسلا کے قریب [[سرکپ کے آثار قدیمہ کے مقام پر انگریزی-اردو دو لسانی نشان۔ اردو کہتی ہے: (دائیں سے بائیں) ، dō sarōñ wālé uqāb kī shabīh wāla mandir۔ "دو سروں کے ساتھ عقاب کی تصویر والا مندر۔"]] اردو کی ایک انتہائی فارسی اور تکنیکی شکل بنگال اور شمال مغربی صوبوں اور اودھ میں برطانوی انتظامیہ کی قانونی عدالتوں کی زبانی تھی۔ 19ویں صدی کے آخر تک، اردو کے اس رجسٹر میں تمام کارروائیاں اور عدالتی لین دین سرکاری طور پر فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ 1880ء میں، نوآبادیاتی ہندوستان میں بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر سر ایشلے ایڈن نے بنگال کی عدالتوں میں فارسی حروف تہجی کے استعمال کو ختم کر دیا اور اردو اور ہندی دونوں کے لیے استعمال ہونے والی مقبول رسم الخط کیتھی کے خصوصی استعمال کا حکم دیا۔ صوبہ بہار میں عدالتی زبان اردو تھی جو کیتھی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ کیتھی کا اردو اور ہندی کے ساتھ تعلق بالآخر ان زبانوں اور ان کے رسم الخط کے درمیان سیاسی مقابلے کے باعث ختم ہو گیا، جس میں فارسی رسم الخط کو یقینی طور پر اردو سے جوڑا گیا تھا۔ حال ہی میں ہندوستان میں، اردو بولنے والوں نے اردو رسالوں کی اشاعت کے لیے دیوناگری کو اپنایا ہے اور دیوناگری میں اردو کو دیوناگری میں ہندی سے الگ نشان زد کرنے کے لیے نئی حکمت عملیوں کو اختراع کیا ہے۔ ایسے ناشرین نے اردو الفاظ کی فارسی عربی تشبیہات کی نمائندگی کرنے کے مقصد سے دیوناگری میں نئی آرتھوگرافک خصوصیات متعارف کروائی ہیں۔ ایک مثال ہندی آرتھوگرافک قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ( 'عین ) کے سیاق و سباق کی نقل کرنے کے لیے حرفی علامات کے ساتھ ا (دیوناگری a ) کا استعمال ہے۔ اردو پبلشرز کے لیے، دیوناگری کا استعمال انھیں زیادہ سامعین فراہم کرتا ہے، جب کہ آرتھوگرافک تبدیلیاں انھیں اردو کی ایک الگ شناخت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ بنگال کے کچھ شاعروں، یعنی قاضی نذر الاسلام، نے تاریخی طور پر بنگالی رسم الخط کو اردو شاعری لکھنے کے لیے استعمال کیا ہے جیسے پریم نگر کا ٹھکانہ کرلے اور میرا بیٹی کی خیلہ، نیز دو لسانی بنگالی اردو نظمیں جیسے الگا کورو گو کھوپر بندھن، جبوکر چھولونا اور میرا دل بیت کیا۔ ڈھاکہ اردو اردو کی ایک بول چال کی غیر معیاری بولی ہے جو عام طور پر نہیں لکھی جاتی تھی۔ تاہم، بولی کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے والی تنظیموں نے بولی کو بنگالی رسم الخط میں نقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اردوحروف تہجی ادب تصغیر|160 px|بائیں|حضرت امیر خسرو کی فارسی شاعری۔ (1253–1325)۔ اردو ادب نے حالیہ صدیوں میں حقیقی مقام پایا، اس سے کئی صدیوں پہلے تک سلاطین دہلی پر فارسی کا غلبہ تھا۔ فارسی کی جگہ اردو نے بڑی آسانی سے پالی اور یہاں تک کہ لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ فارسی کبھی سرکاری زبان تھی بھی کہ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اردو کے مصنفین اور فنکار ہیں۔ نثری ادب مذہبی اردو زبان میں اسلامی ادب اور شریعت کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم، احادیث، فقہ، تاریخ اسلام، روحانیت اور صوفی طریقہ کے بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈت روپ چند جوشی نے اٹھارویں صدی میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام لال کتاب ہے۔ اس کا موضوع فالنامہ ہے۔ یہ کتاب برہمنوں کے اُن خاندانوں میں جہاں اردو عام زبان تھی، کافی مشہور کتاب مانی گئی۔ ادبی تصغیر|160 px|بائیں|میر تقی میر (1723–1810) مغل سلطنت کے دور میں 18 ویں صدی میں اودھ کے نوابی دور کے مشہور شاعر۔ غیر مذہبی ادب کو پھر سے دو اشکال میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکشن ہے تو دوسرا غیر فکشن۔ * فکشن اصناف: افسانہ نگاری کافی مشہور صنف تسلیم کی گئی۔ افسانہ لکھنے والے کو افسانہ نگار کہتے ہیں۔ ان افسانہ نگاروں میں مشہور منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، غلام عباس، بلونت سنگھ، ممتاز مفتی، خواجہ احمد عباس، انتظار حسین اور احمد ندیم قاسمی شہرت یافتہ ہیں۔ * اردو ناول بھی کافی مشہور صنف ہے۔ اردو کے مشہور ناولوں میں اُمراؤ جان ادا، آگ کا دریا، بستی، اداس نسلیں، خدا کی بستی، آخر شب کے ہم سفر، راکھ، بہاؤ، شامِ اودھ، کئی چاند تھے سرِ آسماں، جانگلوس، گریز، آنگن، علی پور کا ایلی، ضدی، ٹیڑھی لکیر، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب شہرت رکھتے ہیں۔ ** سفر نامہ، مضمون، سرگزشت، انشائیہ، مراسلہ، خود نوشت وغیرہ دیگر اصناف میں سے ہیں۔ نظم بائیں|تصغیر|220 px| مرزا غالب کی ایک یادگار تصویر۔ تصغیر|160 px|بائیں|علامہ اقبال۔ ادب کی دوسری قسم نظم ہے۔ نظم کے معنی موتی پرونا ہے۔ یعنی کلام کو ایک ترتیب وار ہیئت کے ساتھ پیش کریں تو وہ صنف نظم کہلاتی ہے۔ اس ادب کو اردو نظمی ادب کہتے ہیں۔ لیکن آج کل اس کو اردو شاعری یا شاعری کے نام سے بھی جانا جانے لگا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اردو ایک اہم زبان ہے۔ بالخصوص نظم میں اردو کے مقابلہ میں دوسری زبان نہیں۔ اردو کی روایات میں کئی اصناف ہیں جن میں غزل نمایاں ترین حیثیت کی حامل ہے۔ نظمی اردو (اردو شاعری) میں ذیل کے اصناف ہیں: * نظم: مربوط اور مکمل شاعرانہ کلام۔ * غزل: دو مصرعوں پر مشتمل مکمل، بامعنی اور جداگانہ اشعار کی لڑی * مثنوی: ایک لمبی نظم جس میں کوئی قصہ یا داستان کہی گئی ہو۔ * مرثیہ: شہیدوں کے واقعات کو بیان کرنے والی نظم۔ بالخصوص شہیدانِ کربلا کی شہادت کو بیان کرنے والی نظم۔ * قصیدہ: قصیدہ اردو نظم کی وہ صنف ہے جسے کسی کی تعریف میں کہی گئی نظمی شکل کہہ سکتے ہیں۔ اس کے چار اقسام ہیں * حمد: اللّٰہ کی تعریف میں کہا گیا قصیدہ۔ * نعت: پیغمبر اسلام حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔ * منقبت: بزرگوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔ * مدح: بادشاہوں، نوابوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔ * نوحہ: معرکۂ کربلا میں ہوئے شہیدوں کے واقعات کو بیان کرنے والی صنف نوحہ ہے۔ مرثیہ اور نوحہ لکھنے میں شہرت یافتہ شعرا میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر ہیں۔ مزید دیکھیے * پاکستان کی زبانیں * اردو ہندی تنازع * اردو زبان کی ابتدا کے متعلق نظریات * اردو ادب * اردو ابجد * اردو تحریک * اردو زبان کے شاعروں کی فہرست * اردو زبان کے مصنفین کی فہرست * اردو تحریک * فارسی اور اردو * اردو بولنے والوں کے ذریعہ ہندوستان کی ریاستیں۔ * برطانیہ میں اردو * اردو شاعری * کھری بولی * اردو ویکیپیڈیا * اردو کی بورڈ * رومن اردو بیرونی روابط * لہجہ * ترتیب وڈیزائننگ ایم پی خاؿ اردولشکری زبان * انگریزی سے اردو آف لائن اور editable ڈکشنری ڈاون لوڈ کریں * لشکری زبان * علوی نستعلیق یونیکوڈ فونٹ ڈاون لوڈ کریں * اردو كى پيدائش * اردو حروفِ تہجی کی کہانی * ہندوستان میں اردو * ايتھنولوگ کی اردو پر رپورٹ * (جلد اول) بنيادی اردو * رومن حروف تہجی کا قاعدہ حوالہ جات زمرہ:آندھرا پردیش کی زبانیں زمرہ:اتر پردیش کی زبانیں زمرہ:اردو زبان اردو کی بولیاں زمرہ:اشتقاقی زبانیں زمرہ:ایتھنولوگ کے علاوہ دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آیزو زبان کے مضامین زمرہ:بھارت کی زبانیں زمرہ:بھارت کی سرکاری زبانیں زمرہ:بہار (بھارت) کی زبانیں زمرہ:پاکستان کی زبانیں زمرہ:پنجاب (پاکستان) کی زبانیں زمرہ:پیشہ ہائے اردو زبان زمرہ:تاریخ زبان اردو زمرہ:تلنگانہ کی زبانیں زمرہ:ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی زبانیں زمرہ:جھاڑکھنڈ کی زبانیں زمرہ:جموں و کشمیر کی زبانیں زمرہ:زبان بمقابلہ لہجہ زمرہ:زبانیں زمرہ:سندھ کی زبانیں زمرہ:فاعلی مفعولی فعلی زبانیں زمرہ:کرناٹک کی زبانیں زمرہ:گجرات (بھارت) کی زبانیں زمرہ:مدھیہ پردیش کی زبانیں زمرہ:معیاری زبانیں زمرہ:مغربی بنگال کی زبانیں زمرہ:مہاراشٹر کی زبانیں زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:ہند۔آریائی زبانیں زمرہ:ہندوستانی زبان زمرہ:ہندی کی بولیاں زمرہ:اردو زمرہ:اردو بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:بھارت میں اسلام زمرہ:پاکستان میں اسلام
[Wikipedia:ur] تاریخ ہند جدید علم جینیات کی رو سے بالاتفاق برصغیر کی سرزمین پر تہتر ہزار برس پہلے سے پچپن ہزار برس قبل کی درمیانی مدت میں انسانوں کی آمد کا سراغ ملتا ہے جو افریقا سے وارد ہوئے تھے، لیکن اثریاتی نقطۂ نظر سے جنوبی ایشیا میں انسانی وجود کے اولین آثار تیس ہزار برس پرانے ہیں جبکہ خوارک کی فراہمی، کاشت کاری اور گلہ بانی وغیرہ کے ہنگاموں سے معمور باقاعدہ انسانی زندگی کا آغاز سات ہزار ق م کے آس پاس ہوا۔ مہر گڑھ کے مقام پر جو اور گیہوں کی پیداوار کے آثار ملتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے قرائن بھی پائے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معاً بعد بھیڑ بکریوں اور گائے بیل وغیرہ مویشیوں کے پالنے کا رجحان پیدا ہو چکا تھا۔ پینتالیس سو ق م تک انسانی زندگی مختلف شعبوں تک پھیل گئی اور بتدریج وادیٔ سندھ کی تہذیب کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھری۔ اس تہذیب کا شمار عہد قدیم کی اولین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ یہ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کی تہذیبوں کی ہم عصر تھی۔ وادی سندھ کی تہذیب 2500 ق م سے 1900 ق م تک برصغیر کے اُس خطہ میں پھلتی پھولتی رہی جو آج پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان میں واقع ہے۔ شہری منصوبہ بندی، پکی اینٹوں کے مکانات، نکاسیِ آب کا پختہ بندوبست اور آب رسانی کا عمدہ نظم اس تہذیب کی خصوصیات میں داخل ہیں۔ قبل مسیح کے دوسرے ہزارے کے اوائل میں مسلسل قحط اور خشک سالی نے وادی سندھ کی آبادی کو منتشر ہونے پر مجبور کر دیا اور یہاں کے باشندے متفرق طور پر بڑے شہروں سے دیہی مقامات پر منتقل ہو گئے۔ عین اسی دور میں ہند۔آریائی قبائل وسط ایشیا سے نکل کر خطۂ پنجاب میں وارد ہوئے۔ یہاں سے ویدک دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس عہد کا قابل ذکر انسانی کارنامہ ویدوں کی تدوین ہے جن میں ان قبیلوں کے دیوی دیوتاؤں کی حمدیہ نظمیں مرتب کی گئی ہیں۔ ان قبیلوں میں وَرَن کا نظام بھی رائج تھا جو آگے چل کر ذات پات کی شکل میں سامنے آیا۔ اس نظام کے تحت ہند۔ آریائی قبیلوں نے ہندوستانی معاشرے کو پنڈتوں، جنگجوؤں (سرداروں) اور کسانوں (عوام) میں بانٹ دیا جس کے بعد مقامی آبادی کو ان کے پیشے کے ناموں سے بلایا اور حقیر سمجھا جانے لگا۔ یہ عقل مند بہادر طاقتور اور مہذب ہند آریائی قبائل پنجاب سے بڑھ کر دریائے گنگا کے میدانی علاقہ تک پھیل گئے اور کاشت کاری کی غرض سے اس خطہ کے جنگلوں کو مسطح میدانوں میں تبدیل کر دیا۔ ویدک متون کی تدوین تقریباً 600 ق م تک انجام کو پہنچی اور اسی کے ساتھ ایک نئی بین علاقائی ثقافت کا ظہور ہوا۔ چھوٹے چھوٹے سردار (یا جن پد) آپس میں مل کر بڑی ریاستوں (یا مہا جن پد) کی شکل اختیار کرنے لگے اور یوں وادی سندھ کی تہذیب کے خاتمہ کے بعد دوبارہ برصغیر میں شہری آبادکاری کا آغاز ہوا۔ دوسری طرف اسی دور میں متعدد مذہبی تحریکیں برپا ہوئیں جن میں جین مت اور بدھ مت قابل ذکر ہیں۔ ان تحریکوں نے برہمنیت کے بڑھتے اثرات کی سخت مخالفت کی اور ان ویدک رسوم کی افضلیت پر سوال اٹھانے لگے جنھیں صرف برہمن پنڈت کے ہاتھوں انجام دیا جاتا تھا۔ برصغیر کے معاشرہ میں ان تحریکوں کے مخالفانہ افکار کا نفوذ بڑھا تو نئے مذہبی تصورات پروان چڑھنے لگے اور ان کی کامیابی نے برہمنیت کو برصغیر میں پہلے سے موجود ثقافتوں اور تہذیبوں کو باہم ملا کر ایک نیا آمیزہ تیار کرنے پر مجبور کر دیا جو آگے چل کر ہندومت کہلایا۔ تصغیر|ہندوستان کے تمدنی اثرات (عظیم تر ہندوستان|ہندوستانِ عظمیٰ) چوتھی اور تیسری صدی ق م کے دوران میں برصغیر ہند کے بیشتر حصہ کو آریائی نسل موریا سلطنت نے فتح کر لیا۔ تیسری صدی ق م سے شمالی ہندوستان میں پراکرت اور پالی ادب کا اور جنوبی ہند میں تمل اور سنگم ادب کا ارتقا شروع ہوا اور ان زبانوں کا ادب اپنے جغرافیائی سرحدوں سے نکل کر ممالکِ غیر تک جا پہنچا۔ کلاسیکی عہد میں اگلے پندرہ سو برس تک ہندوستان کے مختلف خطوں پر متفرق بادشاہوں کا تسلط رہا جن میں گپتا سلطنت کا عہد گوناگوں وجوہ سے ممتاز ہے۔ اس عہد میں ہندو مت اور اس کے مفکرین از سر نو ابھر کر سامنے آئے، ان کی سرگرمیاں بڑھیں اور برہمنیت کو پھر سے فروغ نصیب ہوا۔ انھی وجوہ سے یہ دور "ہندوستان کا عہد زریں" کہلاتا ہے۔ اسی عہد میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور مذہب و تمدن کے مختلف پہلوؤں سے ایشیا کا بڑا خطہ متعارف ہوا، نیز جنوبی ہند کی مملکتوں نے بحری راستوں کے ذریعہ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ روم سے اپنے تجارتی روابط قائم کیے۔ چنانچہ اب جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہونے لگا اور اسی صورت حال نے آگے چل کر جنوب مشرقی ایشا میں خالص ہندوستانی مملکتوں (ہندوستانِ عظمیٰ) کے قیام کی راہ ہموار کی۔ ساتویں اور گیارھویں صدی عیسوی کے درمیان میں پیش آنے والے حوادث و واقعات میں سب سے اہم واقعہ سہ گانہ مقابلہ ہے جس کا مرکز قنوج تھا۔ یہ مقابلہ پال سلطنت، راشٹر کوٹ سلطنت اور گرجر پرتیہار سلطنت کے مابین دو صدیوں سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔ پانچویں صدی عیسوی کے وسط سے جنوبی ہند مختلف شاہانہ رزم آرائیوں کا مرکز توجہ بن گیا جن میں بالخصوص چالوکیہ، چول، پَلّو، چیر، پانڈیہ اور مغربی چالوکیہ قابل ذکر ہیں۔ گیارھویں صدی عیسوی میں چول حکمران جنوبی ہند فتح کرنے کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کے بعض حصوں سمیت سری لنکا، مالدیپ اور بنگال پر بھی حملہ آور ہوئے۔ قرون وسطیٰ کے اوائل میں ہندوستانی ریاضیات (ہندی -عربی نظام عدد) نے عرب دنیا میں جاری فلکیات اور ریاضیات کی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آٹھویں صدی کے آغاز میں برصغیر میں عربوں کی آمد ہوئی اور انھوں نے افغانستان اور سندھ میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ پھر دسویں صدی کے اواخر اور گیارھویں صدی کے اوائل میں محمود غزنوی کا ورود ہوا۔ سنہ 1206ء میں وسط ایشیائی ترکوں نے سلطنت دہلی کی بنیاد رکھی اور چودھویں صدی عیسوی کے اوائل تک شمالی ہند کے ایک بڑے حصہ پر اپنا اقتدار مستحکم کر لیا لیکن چودھویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے ان کا زوال شروع ہو گیا۔ سلطنت دہلی کے زوال سے دکن سلطنتیں ابھریں۔ سلطنت بنگالہ بھی ایک اہم قوت کے طور پر نمودار ہوئی اور تین صدیوں تک مسلسل تخت اقتدار پر متمکن رہی۔ سلطنت دہلی کے اسی عہد زوال میں وجے نگر سلطنت اور مملکت میواڑ کے پہلو بہ پہلو دیگر مختلف طاقت ور ہندو اور راجپوت ریاستیں بھی قائم ہوئیں۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سکھ مت کا ظہور ہوا۔ سولھویں صدی عیسوی سے عہد جدید کی ابتدا ہوتی ہے جب مغلیہ سلطنت نے برصغیر ہند کے بڑے رقبہ کو اپنے زیر نگین کر کے دنیا میں صنعت کاری کے ابتدائی نمونے پیش کیے اور عالمی سطح پر عظیم ترین معیشت بن گئی۔ سلطنت مغلیہ کے عہد میں ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار دنیا کی چوتھائی گھریلو پیداوار تھی جو یورپ کی کل گھریلو پیداوار سے زیادہ ہے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل میں مغلوں کا تدریجاً زوال شروع ہوا جس کی بنا پر مرہٹوں، سکھوں، میسوریوں، نظاموں اور نوابان بنگالہ کو برصغیر ہند کے بہت بڑے رقبے پر زور آزمائی کا موقع مل گیا اور جلد ہی متفرق طور پر ان کی علاحدہ علاحدہ ریاستیں وجود میں آگئیں۔ اٹھارویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر بتدریج ایسٹ انڈیا کمپنی قابض و متصرف ہو گئی جسے سلطنت برطانیہ نے ہندوستان کی سرزمین پر اپنا خود مختار عامل و نائب قرار دے رکھا تھا۔ لیکن ہندوستان کے باشندے کمپنی راج سے سخت بے زار اور بد دل تھے۔ نتیجتاً 1857ء میں تحریک آزادی کی زبرست لہر اٹھی اور شمالی ہند سے لے کر وسطی ہند تک اس لہر نے حصول آزادی کی روح پھونک دی لیکن یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد سلطنت برطانیہ نے کمپنی کو تحلیل کر دیا اور ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے ماتحت آگیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد( چوہدری رحمت علی) محمد علی جوہر، ابو الکلام آزاد، موہن داس گاندھی اور دیگر ہندو مسلم رہنماؤں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور رسائل و جرائد کے ذریعہ پورے ہندوستان میں حصول آزادی کی تحریک چھیڑی۔ اول اول تحریک خلافت نے، پھر انڈین نیشنل کانگریس نے ہندوستان کے باشندوں کے اس جذبہ کو ایک مہم کی شکل میں مہمیز کیا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس جد و جہد میں آل انڈیا مسلم لیگ بھی شامل ہو گئی۔ تھوڑی ہی مدت گذری تھی کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بوجوہ علاحدہ مسلم اکثریتی ریاست کا مطالبہ رکھا اور آہستہ آہستہ یہ مطالبہ زور پکڑتا چلا گیا۔ بالآخر کانگریسی قیادت کی رضامندی کے بعد سلطنت برطانیہ نے ہندوستان کو دو لخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے نتیجے میں ہندوستان بھارت ڈومینین اور ڈومنین پاکستان کے ناموں سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اسی کے ساتھ ہندوستان نے برطانوی استعمار سے نجات پائی۔ ماقبل تاریخ کا عہد (تقریباً 3300 ق م تک) قدیم سنگی دور جب براعظم افریقہ سے انسان نما انواع کا پھیلاؤ شروع ہوا تو ایک اندازے کے مطابق انھوں نے تقریباً بیس لاکھ یا شاید بائیس لاکھ برس ق ح برصغیر ہند کی زمین پر قدم رکھا۔ ان اندازوں کی بنیاد وہ دریافتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑے آدمی کی نسل انڈونیشیا میں اٹھارہ لاکھ برس قبل اور مشرقی ایشیا میں تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار برس قبل موجود تھی۔ نیز رائیوات میں واقع وادی سوانی اور موجودہ پاکستان میں واقع پبی پہاڑیوں سے ملنے والے سنگی آلات بھی کھڑے آدمی کی موجودگی کا پتا دیتے ہیں۔ یہ سنگی آلات نسل انسانی کے بالکل ابتدائی ایام کے ہیں۔ گو کہ بعض مزید پرانے انکشافات بھی ہوئے ہیں اور ان کی مدد سے آبی رسوبات کی بنیاد پر زمانے کا تعین کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے لیکن دیگر آزاد ذرائع سے ان کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی۔ برصغیر ہند ميں پائے جانے والے انسان نما انواع کے قدیم ترین متحجرات یا ڈھانچے کھڑے آدمیوں یا ہائیڈل برگ انسانوں کے ہیں۔ یہ متحجرات وسطی ہندوستان میں واقع وادی نرمدا سے ملے ہیں اور تخمیناً پانچ لاکھ برس پرانے ہیں۔ نیز ایسے متحجرات بھی ملے ہیں جن کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ متحجرات سے زیادہ قدیم ہیں لیکن یہ دعویٰ قابل اعتبار نہیں ہے۔ اثریاتی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سات لاکھ برس پہلے تک برصغیر ہند میں یہ انواع کہیں کہیں آباد تھیں اور اندازہً ڈھائی لاکھ برس قبل تک یہ برصغیر کے بڑے رقبے پر پھیل گئیں۔ چنانچہ اسی عہد سے قدیم انسانوں کے وجود کی اثریاتی شہادتیں بھی وافر تعداد میں ملتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کی آبادیات کے ایک ماہر جِم ڈائسن لکھتے ہیں: مائیکل پیٹراگلیا اور بریجٹ آلچن لکھتے ہیں: اور جنوبی ایشیا کے ماحولیاتی تاریخ دان مائیکل فشر کے الفاظ میں: اثریاتی شہادتوں سے بھی یہ مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی گئی کہ برصغیر ہند میں نسل انسانی کی موجودگی کے آثار اٹھہتر ہزار سے چوہتر ہزار برس قبل کے ہیں لیکن یہ مفہوم ہنوز متنازع ہے۔ جنوبی ایشیا میں ابتداً انسانی قافلے انفرادی طور پر شکار کی تلاش میں آئے اور پھر یہیں آباد ہو گئے۔ خطہ میں ان کی آمد اور سکونت نے لمبے عرصہ کے بعد زبردست تنوع پیدا کر دیا۔ اس نوع کی رنگا رنگی افریقا کے بعد جنوبی ایشیا ہی میں پائی جاتی ہے۔ ٹم ڈائسن رقم طراز ہے: نیا سنگی دور آہستہ آہستہ یہ انسانی قافلے آوارہ گردی ترک کر کے کسی خطے میں مقیم ہونے لگے اور باقاعدہ بود و باش اختیار کر لی۔ یہاں سے نئے سنگی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ برصغیر میں اندازہً نو ہزار برس قبل دریائے سندھ کے مغربی کناروں پر انسانی آبادی کی ابتدا ہوئی اور یہی آبادی بڑھتے بڑھتے قبل مسیح کے تیسرے ہزارے کی وادی سندھ کی تہذیب کی شکل میں نمودار ہوئی۔ چنانچہ ٹم ڈائسن لکھتے ہیں: "سات ہزار برس پہلے بلوچستان میں کاشت کاری کی مضبوط بنیاد پڑ چکی تھی اور اگلے دو ہزار برسوں میں مشرق کی طرف وادی سندھ میں آہستہ آہستہ اس کا رواج بڑھنے لگا۔" مائیکل فشر لکھتے ہیں: برنجی دور – پہلی شہر کاری (تقریباً 3300 ق م تا 1800 ق م) وادی سندھ کی تہذیب تصغیر|بائیں|وادی سندھ کی تہذیب کا ایک شہر دھولویرا جس میں پانی کی سطح تک پہنچنے کے لیے [[باؤلی کی سیڑھیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔]] تصغیر|بائیں|لوتھل کے مقام پر ایک غسل خانہ میں نکاسی آب کے نظام کے باقیات 3300 ق م کے آس پاس برصغیر میں برنجی دور کا آغاز ہوا۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے خطوں کے ساتھ ساتھ وادی سندھ کا خطہ بھی انسانی تہذیب کے تین اولین گہواروں میں سے ایک ہے اور ان تینوں میں وادی سندھ کی تہذیب سب سے زیادہ وسيع رقبے پر پھيلی ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے دور عروج میں یہاں پچاس لاکھ افراد بستے تھے۔ دریائے سندھ کی وادی اس تہذیب کا مستقر بنی، پھر مشرقی پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان کے دریائے گھگر کی ترائی تک یہ پھیل گئی۔ 2600 ق م سے 1900 ق م تک اس تہذیب کے عروج کا دور ہے اور یہیں سے برصغیر ہند میں تمدنی زندگی کی بنیاد پڑتی ہے۔ پاکستان میں واقع ہڑپہ، گنیریوالا اور موہن جو دڑو، نیز ہندوستان میں موجود دھولویرا، کالی بنگا، راکھی گڑھی اور لوتھل اس تہذیب کے اہم مقامات تھے۔ قدیم وادی سندھ کے باشندے ہڑپہ نے دھات کاری اور دست کاری (سنگ یمانی کی مصنوعات اور مہر تراشی) کے نئے نئے اطوار ایجاد کیے اور تانبا، کانسی، سیسہ اور ٹین تیار کیے۔ مزید برآں ان لوگوں نے اینٹوں سے مکانات بنائے، نکاسی آب کا بہترین نظام قائم کیا اور متعدد منزلہ عمارتیں کھڑی کیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے ہاں کسی طرز کا بلدیاتی نظم بھی پایا جاتا تھا۔ وادی سندھ کی تہذیب کے سقوط کے بعد اس کے باشندے دریائے سندھ اور دریائے کھگر کی وادیوں سے نکل کر گنگا جمنا کی ترائی میں ہمالیہ کی نیچی پہاڑیوں کی جانب ہجرت کر گئے۔ گیرو رنگ کے برتنوں کی ثقافت تصغیر|سنولی رتھ، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے یہ تصویر کھینچی ہے۔ قبل مسیح کے دوسرے ہزارے کے دوران میں گنگ و جمن کے دو آبہ میں گیرو رنگ کے برتنوں کی ثقافت ابھری۔ یہ دیہاتوں کے باشندے تھے اور شکار و کاشت کاری ان کا ذریعۂ معاش تھا۔ وہ تانبے کے آلات جیسے کلہاڑی، تیر و تلوار اور نیزے وغیرہ استعمال کرتے اور مویشیوں میں گائے بیل بھینس، بھیڑ بکری، گھوڑے، کتے اور خنزیروں کو پالتے۔ سنہ 2018ء میں برنجی دور کے بنے ہوئے مضبوط پہیوں کے چھکڑے دریافت ہوئے جن کے متعلق بعضوں کا کہنا ہے کہ ان رتھوں کو گھوڑے کھینچتے تھے۔ اس دریافت کے بعد محققین کی توجہ مذکورہ مقام کی جانب مبذول ہوئی۔ آہنی دور (1500 ق م تا 200 ق م) ويدک دور (تقریباً 1500 ق م تا 600 ق م) وادی سندھ کی تہذیب کے آخری دنوں ميں يا اس کے کچھ عرصہ بعد وسط ایشیا سے ہند آریائی قبائل بر صغير ميں داخل ہوئے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ميل جول ہوا اور ايک ن‏‏ئی تہذيب نے جنم ليا۔ اسی دور ميں ويد لکھے گئے جن میں آریائی قبائل کے خداؤں کی حمدیہ نظمیں اکٹھا کی گئی ہیں۔ اس عہد کو ویدک دور کہا جاتا ہے۔ البتہ ویدک تہذیب کا دائرہ فقط ہندوستان کے شمال مغرب تک محدود تھا اور ہندوستان کے بقیہ خطے اپنی جداگانہ ثقافتی شناخت رکھتے تھے۔ اس تہذیب کو ویدوں میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ وید ویدک سنسکرت میں لکھے گئے ہیں اور آج بھی ہندوؤں کی مقدس کتابوں میں شامل ہیں۔ نیز یہ ہندوستان کے ان قدیم ترین متون میں سے ہیں جو دست بردِ زمانہ سے محفوظ رہے۔ ویدک عہد کا دورانیہ 1500 ق م سے 500 ق م تک ہے۔ ہندوستانی ثقافت کی تشکیل میں اس عہد کا خاصا اہم کردار رہا اور ہندوستان کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کی بنیاد اسی عہد میں رکھی گئی۔ علاوہ بریں برصغیر ہند کے بہت سے علاقے اس عہد میں سنگی و برنجی دور سے آہنی دور میں داخل ہوئے۔ ویدک معاشرہ تصغیر|بائیں|دیوناگری رسم الخط میں [[رگ وید کا ایک مخطوطہ جو انیسویں صدی عیسوی کے اوائل کا ہے۔ رگ وید کے متعلق ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ کتاب من و عن سینہ بسینہ منتقل ہوئی ہے۔]] خطۂ پنجاب اور گنگا کے بالائی میدان میں ویدک معاشرہ کے خد و خال کو واضح کرنے کے لیے مورخین ویدوں کا سہارا لیتے ہیں۔ بیشتر مورخین کا کہنا ہے کہ اس عہد میں شمال مغرب سے ہند آریائی قبائل نے متفرق طور پر بڑی تعداد میں ہندوستان کا رخ کیا اور پھر یہیں آباد ہو گئے۔ اتھرو وید کے زمانہ تک پیپل کے درخت اور گائے مقدس سمجھے جانے لگے تھے۔ ہندوستانی فلسفہ کے بہت سے تصورات (مثلاً دھرم) کی اصل اسی ویدک دور میں ملتی ہے۔ ابتدائی ویدک معاشرہ کو رگ وید میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ رِگ وید قدیم ترین ویدک متن ہے اور کہا جاتا ہے کہ قبل مسیح کے دوسرے ہزارے میں برصغیر کے شمال مغربی خطہ میں یہ مدون ہوا۔ اُس وقت کا آریائی معاشرہ ہڑپہ کی شہری تہذیب سے یکسر مختلف، قبیلوں میں منقسم اور دیہی طرز معاشرت کا عادی تھا۔ ہڑپہ کا تمدن رخصت ہو چکا تھا اور اس کی جگہ دیہی زندگی نے لے لی تھی۔ اثریاتی تناظر میں ہند۔ آریائی قبائل غالباً جزوی طور پر ابتدا میں گیرو رنگ کے برتنوں کی ثقافت سے مشابہ نظر آتے ہیں۔ ریگ ویدک دور کے اختتام پر آریائی معاشرہ نے برصغیر ہند کے شمال مغربی خطہ سے آگے بڑھ کر دریائے گنگا کے مغربی میدانی علاقہ کی جانب پھیلنا شروع کیا۔ انھوں نے بڑی سرعت سے کاشت کاری کو پیشہ بنایا اور اپنے معاشرے کو چار ورنوں میں تقسیم کر کے ایک مخصوص طبقاتی نظام کے تحت اسے منظم کر لیا۔ اس سماجی ڈھانچے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اسے شمالی ہندوستان کے مقامی تمدن سے ہم آہنگ رکھا گیا تھا لیکن آخرکار یہ ہم آہنگی برقرار نہیں رہی اور باہر سے آنے والے یہ آریہ قبائل مقامی قوموں کو حقیر اور ان کے پیشوں کو ذلیل سمجھنے لگے۔ اس عہد میں چھوٹے چھوٹے قبیلوں اور سرداروں نے آپس میں مل کر جن پد قائم کرنا شروع کیا۔ جن پد تصغیر|بائیں|ویدک دور کے اواخر کا نقشہ جس میں شمالی ہندوستان کے جن پدوں کے ساتھ ساتھ [[آریہ ورت کی سرحدیں بھی دکھائی گئی ہیں۔ یہ ہندوستان میں آہنی دور کی مملکتوں – کرو، پانچال، کوشل، وِدیہ – کا آغاز ہے۔]] برصغیر ہند میں 1200 ق م سے چھٹی صدی ق م کا درمیانی عرصہ آہنی دور کہلاتا ہے۔ یہ عہد جن پدوں کے عروج کا ہے جو دراصل مختلف سرداروں اور قبیلوں کے اتحاد سے بننے والی قلمرو، جمہوریے اور بادشاہتیں تھیں۔ ان جن پدوں میں کرو، پانچال، کوشل اور وِدیہ مملکتیں ممتاز ہیں۔ کرو مملکت کا عہد تقریباً 1200 ق م سے 800 ق م تک تھا جو ویدک عہد میں صوبائی سطح کا پہلا معاشرہ نظر آتا ہے۔ اسی کے پہلو بہ پہلو اتھرو وید کی ترتیب و تدوین بھی جاری تھی۔ چنانچہ اس عہد کے یہ دونوں واقعات شمال مغربی ہندوستان میں آہنی دور کا نقطۂ آغاز سمجھے جاتے ہیں۔ اتھرو وید ہندوستان کی سب سے پہلی کتاب ہے جس میں "شیام آیَس" (سیاہ دھات) کے نام سے لوہے کا ذکر ملتا ہے۔ کرو مملکت نے ویدک عہد کی نظموں کو مرتب کیا اور سماجی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے شَرَوت کی رسم ایجاد کی۔ پرکشت اور اس کے جانشین جن مے جے اس سلطنت کے عظیم بادشاہ گذرے ہیں جنھوں نے اپنی سلطنت کو چھوٹی قلمرو سے نکال کر اسے آہنی دور کے شمالی ہندوستان کی ایک با اثر سیاسی، سماجی اور تہذیبی طاقت بنا دیا تھا۔ کرو سلطنت کے زوال کے بعد ویدک تہذیب کا مرکز اس کی مشرقی ہمسایہ ریاست پانچال منتقل ہو گیا۔ منقش خاکستری برتنوں کی ثقافت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ کرو اور پانچال سلطنتوں کی ہم عصر تھی اور 1100 ق م سے 600 ق م تک ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں رائج رہی۔ ویدک عہد کے اواخر میں ویدک تہذیب کے نئے مرکز کے طور پر ودیہ مملکت ابھر کر سامنے آئی۔ یہ مملکت مشرق کے اس خطہ میں قائم تھی جو اب نیپال اور بہار کا حصہ ہے۔ ودیہ بادشاہ جنک کے عہد میں برہمن پنڈتوں اور یاگیہ ولکیہ، آرونی، واچکنوی گارگی جیسے فلسفیوں کو شاہی دربار کی سرپرستی حاصل رہی اور یہی اس سلطنت کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس دور کے آخری دنوں میں پورے شمالی ہندوستان میں مذکورہ جن پد سلطنتوں سے بڑی ریاستیں اور مملکتیں قائم ہونے لگیں جنھیں مہا جن پد سے موسوم کیا گیا۔ دوسری شہر کاری (600 ق م تا 200 ق م) تصغیر|دائیں|پہلی صدی ق م کے سانچی استوپ 1 کے جنوبی دروازے کا سر ستون جس میں پانچویں صدی ق م کے شہر کشی نگر کی نقاشی کی گئی ہے۔ 800 ق م سے 200 ق م کے درمیان میں شَرَمَن تحریک کی بنیاد پڑی اور اس کے بطن سے جین مت اور بدھ مت کا ظہور ہوا۔ نیز اسی عہد میں اولین اپنیشدیں بھی لکھی گئیں۔ 500 ق م کے بعد برصغیر نے وادی سندھ کی تہذیب کے سقوط کے بعد پہلی دفعہ اُس شہری تمدن کا پھر سے مشاہدہ کیا جسے تاریخ کے اوراق میں "دوسری شہر کاری" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گنگا اور بالخصوص وسطی گنگا کے میدانوں میں نئے شہر آباد ہوئے۔ درحقیقت دوسری شہر کاری کی بنیادیں 600 ق م سے پہلے ہی دریائے گھگر اور بالائی گنگا کے میدان میں رکھ دی گئی تھیں جو منقش برتنوں کی تہذیب کا علاقہ تھا۔ گرچہ ابتدا میں اس تہذیب کے بیشتر مقامات کسانوں کے چھوٹے چھوٹے گاؤں کی شکل میں تعمیر ہوئے لیکن یہی گاؤں آگے چل کر بڑے قصبات میں بدل گئے۔ ان میں سب سے بڑے قصبے کے گرد خندقیں کھودی گئی تھیں اور لکڑی کے جنگلے لگا کر ریت کے تودوں سے بند بنائے گئے تھے۔ گو کہ یہ انتظام اُن قلعہ بند، مستحکم اور بڑے شہروں کے مقابلہ میں مختصر اور بہت سادہ ہے جو 600 ق م کے بعد سیاہ قلعی دار شمالی برتنوں کی ثقافت کے عہد میں تعمیر کیے گئے۔ دوسری شہر کاری کے عہد میں وسطی گنگا کا میدان ایک نمایاں تہذیبی خطہ تھا۔ اسی خاک سے مگدھ مہا جن پد کو عروج ملا جو آگے جا کر عظیم الشان موریہ سلطنت کی بنیاد بنا اور 500 ق م کے بعد اسی خطہ میں نئی ریاستیں قائم ہوئیں۔ یہ علاقہ ویدک ثقافت سے متاثر ضرور ہوا لیکن یہ کرو پنچال کے خطہ سے بہت مختلف تھا۔ نیز "تا حال دریافت شدہ آثار کی رو سے جنوبی ایشیا میں یہ پہلا خطہ ہے جہاں سب سے پہلے چاول کی فصل اگائی گئی اور 1800 ق م تک یہ چراند اور چیچر نامی مقامات سے منسوب نئے حجری دور کی ترقی یافتہ آبادی کا مسکن رہا"۔ اسی سرزمین میں شَرَمَن روایت کا شجر ثمر دار پروان چڑھا اور پھر جین مت اور بدھ مت کی شاخیں پھونٹیں۔ بدھ مت اور جین مت 800 ق م سے 400 ق م تک ابتدائی اپنیشدیں مدوّن ہوتی رہیں جنھوں نے ہندو مت کی نظریاتی اساس کا کام کیا۔ ان کتابوں کو ویدانت (یعنی ویدوں کا ماحصل) بھی کہا جاتا ہے۔ ساتویں اور چھٹی صدی ق م کے ہندوستان میں ایک جانب شہر کاری فروغ پا رہی تھی تو دوسری طرف شَرَمَن تحریکیں بھی انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی تھیں۔ ان تحریکوں نے برہمنیت کے تسلط کو للکارا اور قدیم رسم و رواج کے زور کو توڑنے کی کوشش کی۔ جین مت کے تیر تھنکر مہاویر (تقریباً 549 ق م تا 477 ق م) اور بدھ مت کے بانی گوتم بدھ (تقریباً 563 ق م تا 483 ق م) اس تحریک کی نمایاں ترین شخصیات گذری ہیں۔ ان تحریکوں نے بد حال ہندوستانی معاشرے کو سنسار (تناسخ) اور موکش (نجات) کے نئے تصورات عطا کیے۔ گوتم بدھ نے ایک درمیانی راستہ بھی کھوج نکالا تھا جس کی مدد سے شرمن مذاہب کی کڑی ریاضتوں اور زہدِ بے جا کو قابو میں کیا گیا۔ عین اسی دوران میں (جین مت کے چوبیسویں تیرتھنکر) مہاویر نے بعض مذہبی عقائد کی تبلیغ شروع کی اور یہی عقائد آگے چل کر جین مت کی شکل میں سامنے آئے۔ تاہم راسخ العقیدہ جینیوں کا ایمان ہے کہ تیر تھنکروں کی تعلیمات وقت سے پہلے ہی دے دی جاتی ہیں۔ محققین لکھتے ہیں کہ جین مت کے تیئیسویں تیر تھنکر پارشوناتھ (تقریباً 872 ق م تا 772 ق م) کی شخصیت تاریخی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ویدوں میں بھی بعض تیر تھنکروں اور شرمن تحریک سے مشابہ درویشانہ تصورات کا ذکر ملتا ہے۔ سنسکرت کے رزمیے تصغیر|بائیں|250پک|مخطوطہ جس میں معرکہ کروکشیتر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ سنسکرت زبان کی شہرہ آفاق رزمیہ داستانیں راماین اور مہا بھارت اسی عہد کی یادگار ہیں۔ مہا بھارت دنیا کی طویل ترین نظم سمجھی جاتی ہے۔ انھی دو نظموں کی بنا پر مورخین اس عہد کو "مہا کاویہ عہد" سے موسوم کرتے تھے لیکن اب تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ نظمیں (جو ایک دوسرے سے بڑی حد تک مشابہ ہیں) صدیوں تک ارتقا کے مختلف مراحل سے گذر کر موجودہ شکل کو پہنچی ہیں۔ بر سبیل مثال مہا بھارت شاید (1000 ق م کی) کسی معمولی جھڑپ کے واقعات پر مبنی ہے جسے شاعروں اور رزمیہ نگاروں کے بے لگام تخیل نے عظیم الشان معرکہ میں تبدیل کر دیا۔ آثار قدیمہ سے اب تک کوئی ایسا حتمی ثبوت دریافت نہیں ہوا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ مہا بھارت کی داستان تاریخی واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ ان رزمیہ داستانوں کے حالیہ متن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ویدک عہد کے بعد تقریباً 400 ق م سے 400 عیسوی کے درمیان میں وجود میں آئے۔ مہا جن پد تصغیر|مہا جن پد اس دور کی سولہ سب سے طاقتور اور وسیع مملکتیں اور جمہوریتیں تھیں جو بنیادی طور پر سندھ و گنگ کے میدانی علاقوں میں واقع تھیں۔ چھٹی صدی ق م سے تیسری صدی ق م تک مہا جن پد کے عروج کا دور ہے۔ مہا جن پد ان سولہ طاقت ور حکومتوں اور چند سری جمہوریتوں کو کہا جاتا ہے جو شمال مغرب میں گندھارا سے لے کر مشرق میں بنگال تک پھیلی ہوئی تھیں اور ما ورائے وندھیاچل کے بعض علاقے بھی اس کے زیر نگین تھے۔ قدیم بودھ گرنتھوں انگُتّر نکائے وغیرہ میں ان سولہ ریاستوں کا کثرت سے تذکرہ ملتا ہے۔ یہ سولہ ریاستیں حسب ذیل تھیں: انگ، اشمک، اَوَنتی، چیدی، گاندھار، کاشی، کمبوج، کوشل، کرو، مگدھ، ملّ، متسیہ، پاں چال، شورسین، وِرِجّی اور وتس۔ وادی سندھ کی تہذیب کے خاتمہ کے بعد اسی عہد میں پہلی بار ہندوستان میں بڑے بڑے شہر بسائے گئے۔ شاکیہ، کولی، ملّ اور لچھوی وغیرہ گن سنگھوں میں جمہوری نظام حکومت رائج تھا اور یہ گن سنگھ کہلاتے تھے۔ بعض گن سنگھ مثلاً ملّ، جس کا دار الحکومت کشی نگر تھا اور وَجّی، جس کا پایۂ تخت ویشالی تھا، وغیرہ چھٹی صدی ق م کے اوائل میں ہی قائم ہو چکے تھے اور کچھ خطوں پر چوتھی صدی عیسوی تک ان کی حکمرانی برقرار رہی۔ وجی مہا جن پد کے تخت اقتدار پر لچھوی سب سے معروف قبیلہ گذرا ہے۔ سیاہ قلعی دار شمالی برتنوں کی ثقافت کا زمانہ بھی یہی ہے۔ گرچہ اس ثقافت کا مرکز گنگا کا وسطی میدان تھا لیکن وسطی اور شمالی ہندوستان کے خاصے وسیع رقبے پر اس کے اثرات موجود تھے۔ اس ثقافت کے زیر اثر بڑے بڑے شہر قائم ہوئے اور ان کے گرد مضبوط شہر پناہیں تعمیر کی گئیں، آبادی میں زبردست اضافہ ہوا، متعدد سماجی طبقات ابھرے، تجارت کا دائرہ بڑھا، مفاد عامہ کی تعمیرات وجود میں آئیں، آب رسانی کا نظام قائم ہوا، ہاتھی دانت، سنگ تراشی اور دیگر صنعتوں کے مختلف کارخانے قائم ہوئے، وزن کا نظام طے کیا گیا، آہت سکے ڈھالے گئے اور براہمی اور خروشٹھی رسم الخط ایجاد ہوئے۔ اس عہد میں عوام الناس کی زبان سنسکرت تھی، ہاں البتہ شمالی ہندوستان کی عوامی زبانوں کو پراکرت کہا جاتا ہے۔ 500 یا 400 ق م یعنی گوتم بدھ کے عہد تک مذکورہ سولہ مہا جن پد چار بڑی ریاستوں میں ضم ہو گئے۔ یہ چار ریاستیں تھیں: وَتس، اَوَنتی، کوشل اور مگدھ۔ گوتم بدھ کے حالات زندگی انھی چار ریاستوں کے گرد گھومتے ہیں۔ مگدھ کا دور اول سلطنتِ مگدھ سولہ مہا جن پدوں میں سے ایک تھی اور دریائے گنگا کے جنوب میں واقع بھارت کا صوبۂ بہار اس کا مرکز تھا۔ ابتدا میں راجگیر پایۂ تخت رہا لیکن بعد میں پاٹلی پتر (موجودہ پٹنہ) منتقل ہو گیا۔ لچھوی اور انگ کو یکے بعد دیگرے فتح کر لینے کے بعد بہار و بنگال کے بیشتر علاقوں پر اور بعد ازاں مشرقی اتر پردیش و اڑیسہ پر بھی سلطنت مگدھ قابض و متصرف ہو گئی۔ جین اور بودھ گرنتھوں میں مگدھ کی اس قدیم سلطنت کا بارہا ذکر آیا ہے۔ نیز راماین، مہا بھارت اور پرانوں میں بھی اس کا مذکور ملتا ہے۔ مگدھ کا سب سے قدیم تذکرہ اتھرو وید میں ہے، اس میں انگوں، گندھاروں اور مُجوَتوں کے ساتھ مگدھ کے لوگوں کا نام بھی لیا گیا ہے۔ جین مت اور بدھ مت کے فروغ میں سلطنت مگدھ کا خاصا اہم کردار رہا۔ مگدھ کے دائرۂ اقتدار میں بعض جمہوری برادریاں مثلاً راج کمار برادری وغیرہ بھی شامل تھیں۔ علاوہ بریں مگدھ کے زیر نگین گاؤں کی اپنی پنچایتیں ہوتی تھیں جن کا مکھیا انھی میں سے ایک ہوتا اور وہ گرامک کہلاتا۔ سلطنت کا نظم و انصرام عاملہ، عدلیہ اور فوج کے شعبوں میں منقسم تھا۔ پالی گرنتھوں، جین آگموں اور ہندو پرانوں وغیرہ قدیم مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ مگدھ پر کوئی 200 برس تک (تقریباً 600 ق م تا 413 ق م) ہَریَک خانوادہ حاکم رہا۔ اس خانوادے کا بادشاہ بمبی سار توسیع پسندانہ عزائم رکھتا تھا اور اسی بنا پر بمبی سار نے انگ پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا تھا۔ انگ کا علاقہ اب مشرقی بہار اور مغربی بنگال میں پڑتا ہے۔ بمبی سار کو اس کے بیٹے اجات شترو نے تخت سلطنت سے بے دخل کر کے قتل کر دیا اور خود حکمران بن کر اپنے باپ کی توسیع پسندانہ مہمات کو جاری رکھا۔ یہی دور ہے جس میں گوتم بدھ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مگدھ سلطنت میں گزارا۔ انھیں بودھ گیا میں نروان حاصل ہوا، سارناتھ میں اپنا پہلا خطہ دیا اور راج گرہ میں پہلی بودھ سنگتی منعقد ہوئی۔ ہریک خانوادہ کے بعد شی شو ناگ خانوادہ تخت سلطنت پر متمکن ہوا۔ 345 ق م میں آخری شی شو ناگ بادشاہ کالا شوک مہا پدم نند کے ہاتھوں مارا گیا۔ کالا شوک کے مرتے ہی شی شو ناگ خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور مگدھ کے افق پر نندوں کا آفتاب طلوع ہوا۔ مہا پدم نند نو نندوں میں سے پہلا تھا اور اس کے بعد اسی کے آٹھ بیٹے نند کہلائے۔ نند سلطنت اور سکندر کی مہم نند سلطنت کی سرحدیں بنگال سے پنجاب تک اور جنوب میں وندھیاچل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ نند سلطنت کے عروج کا زمانہ تھا اور اس کی ثروت اور دولت مندی کے چرچے ہر طرف تھے۔ ہَریَک اور شی شو ناگ خانوادوں نے جس سلطنت کی بنیادیں اٹھائی تھیں، نند کے دور میں وہ بڑھتے بڑھتے شمالی ہند کی پہلی عظیم الشان سلطنت بن گئی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے زبردست فوج بنائی جس میں (کم ترین اندازے کے مطابق) 2 لاکھ پیادے، 20 ہزار سوار، 2 ہزار جنگی رتھ اور تین ہزار جنگی ہاتھی تھے۔ یونانی مورخ پلو ٹارک لکھتا ہے کہ نند افواج میں 2 لاکھ پیادے، اسی ہزار سوار، آٹھ ہزار جنگی رتھ اور چھ ہزار جنگی ہاتھی تھے۔ دھنا نند کے عہد میں سکندر شمال مغربی ہندوستان پر حملہ آور ہوا لیکن نند افواج کو سکندر اعظم سے مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ دریائے بیاس پر یونانی افواج نے سکندر کے خلاف بغاوت کر دی اور مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ سکندر کو پنجاب اور سندھ کے میدانوں سے واپس لوٹنا پڑا۔ موریا سلطنت بر صغير سے سکندر اعظم کے جانے کے بعد نند سلطنت کی بساط الٹ گئی اور موريا دور کا آغاز ہوا۔ برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسی عظیم الشان اور مستحکم سلطنت قائم ہوئی تھی۔ موریا سلطنت (322 ق م تا 185 ق م) نے اپنے عہد عروج میں ہندوستان کے بیشتر خطوں کو اپنی سلطنت کے حدود میں شامل کر لیا تھا۔ چنانچہ اس کی حکومت شمال میں ہمالیہ سے جنوب میں کرناٹک تک اور مشرق میں آسام سے مغرب میں کوہ ہندوکش سے پرے افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ سکندر کی واپسی کے بعد چانکیہ (کوٹلیہ) کی مدد سے چندرگپت موریا نے مگدھ (موجودہ بہار) میں نند سلطنت کا تختہ پلٹا اور موریا سلطنت کی بنیاد رکھی۔ چندر گپت نے اپنے دشمنوں کو زیر کرتے ہوئے بڑی سرعت سے مغربی ہند سے وسطی ہند تک اپنا اقتدار قائم کر لیا اور 317 ق م تک پورا شمال مغربی ہندوستان اس کے ما تحت آچکا تھا۔ بعد ازاں سلوقی موریا جنگ کے میدان میں اس نے سلوقی اول کو شکست دی جو سلوقی سلطنت کا بانی اور سکندر کا دوست تھا۔ اس جنگ میں فتح پانے کے بعد دریائے سندھ کا مغربی خطہ بھی اس کی حکومت میں شامل ہو گیا۔ چندر گپت کے بعد اس کا بیٹا بندو سار 297 ق م کے آس پاس تخت سلطنت پر بیٹھا۔ اس کی وفات تک (تقریباً 272 ق م) برصغیر ہند کا بڑا رقبہ موریا سلطنت کے حدود میں شامل ہو چکا تھا۔ البتہ کلنگ کا علاقہ (موجودہ اڈیشا) اس کے دائرۂ اقتدار سے باہر رہا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جنوب سے کلنگ کے تجارتی روابط مضبوط تھے۔ تصغیر|دائیں|200پک|لومس رشی کی غار کا موریا عہد کا تراشا ہوا دروازہ جو [[برابر غاروں میں سے ایک ہے (تقریباً 250 ق م)۔]] بندو سار کے بعد سلطنت کی باگ ڈور اشوک کے ہاتھوں میں آئی۔ اشوک نے 232 ق م میں اپنی وفات تک تقریباً 37 برس حکومت کی۔ تخت نشینی کے کچھ عرصہ بعد 260 ق م کے آس پاس اشوک بھاری فوج لے کر کلنگ پر قبضہ کے ارادے سے نکلا۔ گھمسان کی جنگ ہوئی، لاکھوں آدمی مارے گئے لیکن کلنگ کا راجا اتنی بڑی فوج کے سامنے ٹک نہ سکا اور میدان اشوک کے ہاتھ رہا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب اشوک میدان کارزار کا معائنہ کر رہا تھا تو انسانی لاشوں کے انبار، زخموں سے چور فوجیوں اور جا بجا کٹے ہوئے سروں اور بریدہ ہاتھ پاؤں کو دیکھ کر اس کی طبیعت سخت متوحش ہوئی اور شدید احساس ندامت نے اسے آگھیرا۔ اس منظر نے اشوک کے وجود کو اندر سے ہلا ڈالا تھا۔ بالآخر اس نے زور و تشدد کی راہ ترک کر دی اور بدھ مت قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اشوک کے عہد حکومت میں بدھ مت سارے ہندوستان میں پھیل چکا تھا۔ اشوک خود بدھ مت کا مبلغ بن کر تبلیغی دورے کرتا، اپنی رعایا سے ملتا اور انھیں بدھ مت کی تعلیم دیتا۔ اشوک کی وفات کے بعد سلطنت کا زوال شروع ہوا اور آخری موریا بادشاہ برہ دَرَتھ کو اس کے برہمن سالار پشیہ متر شونگ نے قتل کر کے آپ مگدھ کے تخت پر قابض ہوا اور یوں شونگ سلطنت کی ابتدا ہوئی۔ اس دوران میں اور اس کے بعد بھی يونانيوں اور کشانوں کا اثر برقرار رہا۔ کشان راجا گجر قوم سے تھا جس کا پورا نام مہاراجا کنشک کسانہ ہے اور اس کی اولاد آگے چل کر کسانہ کہلائی۔ اس کا دار الخلافہ قنوج تھا جس کے کھنڈر آج بھی شمالی بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ چندر گپت موریہ اور اس کے جانشینوں کے دور میں کاشت کاری اور اقتصادی سرگرمیاں سارے ہندوستان میں تیز تر ہو گئی تھیں اور مقامی و بیرونی تجارت خوب پھل پھول رہی تھی۔ اس ترقی اور خوش حالی کی وجہ موریا سلطنت کا وہ مستحکم اور متحدہ نظام تھا جو مالی، انتظامی اور حفاظتی شعبوں میں رائج تھا اور اسی بہترین نظم نے سارے ہندوستان کو ایک سرے سے دوسرے تک ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ موریا حکمرانوں نے گرینڈ ٹرنک روڈ تعمیر کی جو ایشا کی قدیم ترین اور طویل ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے اور برصغیر ہند کو وسطی ایشیا سے جوڑتی ہے۔ جنگ کلنگ کے بعد تقریباً نصف صدی تک سلطنت میں ہر طرف امن و امان کا راج رہا۔ یہ عوام کی فلاح و بہبود، سماجی ہم آہنگی، مذہبی تبدیلی اور علوم و فنون کی ترقی کا زمانہ تھا۔ چندر گپت کے جین دھرم کو اختیار کر لینے کے بعد ہندوستانی معاشرے میں سماجی اور مذہبی تبدیلیوں اور اصلاحات کا آغاز ہوا تھا۔ جبکہ اشوک کی تبدیلی مذہب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ نے ہندوستانی معاشرے کی سماجی و سیاسی بُنت میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور سارا ہندوستان عدم تشدد، امن و امان اور بے مثال نظم و ضبط کا گہوارہ بن گیا۔ اشوک نے حکومت کے سفیروں کی بجائے ملکوں ملکوں بدھ مت کے مبلغین بھیجے جنھوں نے گوتم بدھ کے پیغام کو عام کیا۔ چنانچہ اس کے مبلغین سری لنکا، جنوب مشرقی ایشیا، مغربی ایشیا، شمالی افریقا اور یورپ کے بحیرۂ روم تک پہنچے اور ان مقامات کو بدھ مت کی تعلیمات سے رو شناس کیا۔ ارتھ شاستر اور اشوک کے کتبے موریا دور کے احوال و وقائع کے اولین مآخذ ہیں۔ اثریات کی رو سے یہ سیاہ قلعی دار شمالی برتنوں کی تہذیب کا زمانہ تھا۔ موریا سلطنت کی بنیادیں اپنے عہد کی ترقی یافتہ معیشت اور ہنر مند سماج پر استوار تھیں۔ گرچہ اس عہد میں سامان تجارت کی خریداری کا سارا نظام حکومت کے متعینہ اصول و ضوابط کے تحت ہی انجام پاتا تھا لیکن معاشرے میں بنکاری کا سراغ نہیں ملتا اور شرح سود بندھے ہوئے سماجی چلن کے مطابق ہی لی اور دی جاتی تھی۔ انسانی غلامی کی شہادتیں بڑی تعداد میں ملتی ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ موریا معاشرے میں غلاموں کا چلن عام تھا۔ اسی عہد میں شمالی ہندوستان میں ایک قسم کا نہایت معیاری فولاد تیار کیا گیا جسے ووٹز فولاد کہتے ہیں۔ یہ فولاد چین اور عرب تک جاتا تھا۔ سنگم عہد تیسری صدی ق م سے چوتھی صدی عیسوی تک کا زمانہ سنگم عہد کہلاتا ہے۔ یہ تمل ادب کے فروغ کا زمانہ ہے اور اسی عہد میں تین تمل شاہی خانوادوں چیر، چول اور پانڈیہ نے جنوبی ہند کے مختلف علاقوں پر حکمرانی کی۔ یہ تینوں شاہی خانوادے تمل اکام کے تاجوران ثلاثہ کہلاتے ہیں۔ سنگم عہد کے ادیبوں نے اپنی تخلیقات میں اس دور کے وقائع و تواریخ، سیاسیات اور جنگوں اور تمل قوم کی تہذیب و ثقافت کو بڑی وضاحت اور تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان ادیبوں کا تعلق کسی مقتدر خانوادے سے نہیں تھا، بلکہ سماج کے معمولی گھروں میں ان کا جنم ہوا اور عوام الناس کے درمیان میں پرورش پائی۔ ان کے مسائل کا بچشم خود مشاہدہ کیا اور ان کے درد و کرب کو محسوس کیا۔ گو کہ ان ادیبوں کو شاہانہ سرپرستی حاصل تھی، لیکن انھوں نے راجوں مہاراجوں کی قصیدہ نگاری کی بجائے سماج کے عام طبقات کی زندگی اور ان کے روزمرہ مسائل کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ سنسکرت مصنفین کے برعکس جو بالعموم برہمن ہوا کرتے تھے، سنگم ادب کے تخلیق کاروں کا تعلق مختلف سماجی طبقوں سے تھا، وہ متنوع پس منظر کے حامل اور بیشتر غیر برہمن تھے۔ ان کا دھرم مختلف اور پیشے جدا جدا تھے۔ ان میں کاشت کار بھی تھے، دست کار بھی تھے، دکان دار، تاجر اور پروہت بھی تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں اور شاہزادے بھی تھے۔ تقریباً 300 ق م سے 200 عیسوی تک پَتو پاٹّو، ایٹو توگئی اور پَتی نَینکل کنکّو لکھے جاتے رہے۔ پَتو پاٹّو اوسط لمبائی کی دس نظموں کا مجموعہ ہے اور سنگم ادب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایٹو توگئی میں آٹھ منتخب مجموعہ ہائے کلام کو یکجا کیا گیا ہے اور پَتی نَینکل کنکّو اٹھارہ مختصر نظموں کا مجموعہ ہے۔ نیز تمل زبان کے گرامر کی قدیم ترین کتاب تولکا پیئم بھی اسی دوران میں تصنیف کی گئی۔ علاوہ بریں سنگم عہد میں تمل ادب کے پانچ عظیم رزمیے (ائیم پیروم کاپّی یَنکَل) بھی تخلیق کیے گئے۔ سیلاپتی کارم کو ایلانگو ادیگل نے لکھا جو ایک غیر مذہبی رزمیہ ہے۔ اس رزمیہ کا مرکزی کردار کن نکی نامی ایک خاتون ہے جس کے ساتھ پانڈیہ دربار میں نا انصافی ہوتی ہے اور وہ اپنے شوہر سے علاحدہ ہو جاتی ہے۔ اس ظلم پر کن نکی کا جذبۂ انتقام بیدار ہوتا ہے اور سلطنت سے بدلہ لینے کی ٹھان لیتی ہے۔ سیتَلئی ساتّنار نے منی میکالئی تصنیف کی جو دراصل سیلاپتی کارم ہی کا تسلسل ہے۔ اس میں کوولن کی بیٹی مادھوی کی کہانی نظم کی گئی ہے جو بودھ بھکشونی بن جاتی ہے۔ کلاسیکی اور اوائل قرون وسطی کے ادوار (200 ق م تا 1200ء) تیسری صدی عیسوی سے چھٹی صدی عیسوی کا درمیانی عرصہ ہندوستان کا کلاسیکی دور کہلاتا ہے۔ یہ عہد موریہ سلطنت کے زوال سے شروع ہو کر گپت سلطنت کے زوال تک جاری رہا۔ اس دور کو مزید مختلف ذیلی ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں شونگ اور ساتواہن سلطنتوں کو عروج حاصل ہوا۔ چوتھی صدی عیسوی سے چھٹی صدی عیسوی تک گپت سلطنت قائم رہی۔ گپت سلطنت کا یہ دور ہندومت کی تاریخ کا عہد زریں سمجھا جاتا ہے۔ کلاسیکی عہد کی اس پوری مدت میں مذکورہ سلطنتوں کے علاوہ ہندوستان کے مختلف خطوں پر دیگر متعدد سلطنتیں بھی حکمران رہیں اور انھوں نے پوری خود مختاری سے اپنی ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔ علاوہ بریں تیسری صدی ق م سے تیسری صدی عیسوی تک جنوبی ہندوستان میں سنگم ادب بھی نکھرتا اور ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔ اس پورے عرصہ میں یعنی پہلی صدی عیسوی سے 1000 عیسوی تک ہندوستانی کی معیشت دنیا کی کل دولت کا ایک تہائی سے ایک چوتھائی حصہ رہی، اس لحاظ سے اُس وقت ہندوستان کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی۔ ابتدائی کلاسیکی دور (تقریباً 200 ق م تا تقریباً 320 عیسوی) شونگ سلطنت شونگ مگدھ سے اٹھے اور برصغیر ہند کے مشرقی اور وسطی علاقوں تک اپنی سلطنت قائم کر لی۔ ان کا عہد سلطنت تقریباً 187 ق م سے 78 ق م تک رہا۔ پشیہ متر شونگ نے موریا سلطنت کے آخری بادشاہ کو تخت و تاج سے بے دخل کر کے اس سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس کا دار السلطنت پاٹلی پتر تھا لیکن آگے چل کر بعض شونگ بادشاہوں مثلاً بھگ بھدر وغیرہ نے ودیشا میں بھی اپنا دربار کیا جو اُس وقت بیس نگر کہلاتا تھا اور مشرقی مالوہ میں واقع تھا۔ پشیہ متر شونگ نے 36 برس حکومت کی۔ بعد ازاں اس کا بیٹا اگنی متر اس کا جانشین ہوا۔ کل دس شونگ بادشاہ گذرے ہیں لیکن اگنی متر کی وفات کے بعد سلطنت کا شیرازہ تیزی سے بکھرنے لگا۔ اس عہد کے کتبات اور سکوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی اور وسطی ہندوستان میں چھوٹی چھوٹی متعدد سلطنتیں اور بھی موجود تھیں جو شونگ کی بالادستی سے مکمل آزاد اور خود مختار تھیں۔ شونگ سلطنت اپنے دور حکمرانی میں بیرونی اور اندرونی دونوں طاقتوں سے نبرد آزما رہی۔ چنانچہ کلنگ کی مہامیگھ واہن سلطنت، دکن کی ساتواہن سلطنت، ہند یونانیوں اور غالباً پانچال اور متھرا کی متر سلطنت سے ان کی کئی جنگیں ہوئیں۔ فنون لطیفہ اور فلسفہ کی مختلف شکلیں اور تعلیم و تعلم کے دیگر وسائل بھی اس عہد میں پروان چڑھے جن میں کھپریلوں پر شبیہ سازی، پتھروں کے دیو ہیکل مجسمے اور تعمیراتی یادگاریں بھرہوت اور سانچی کے معروف استوپ وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ شونگ بادشاہوں نے فنون لطیفہ اور تعلیم کے فروغ کے لیے شاہی وظیفہ بھی جاری کیا اور اس روایت کو قائم کرنے میں ان کا بڑا حصہ رہا۔ امور سلطنت میں جس رسم الخط کو استعمال کیا جاتا تھا، وہ براہمی رسم الخط کی ایک شکل تھی جس میں سنسکرت لکھی جاتی۔ شونگ سلطنت نے ایسے وقت میں ہندوستانی ثقافت کے فروغ میں مربیانہ کردار نبھایا جب ہندو افکار میں بعض اہم ترین تغیرات رونما ہو رہے تھے۔ اس نے سلطنت کو پھلنے پھولنے اور اقتدار حاصل کرنے میں خاصی مدد کی۔ ساتواہن سلطنت ساتواہن سلاطین اصلاً دکنی تھے، اسی بنا پر وہ "آندھرا سلاطین" بھی کہلاتے ہیں۔ آندھرا پردیش کا مقام امراوتی ان کا دار السلطنت تھا لیکن مختلف ادوار میں ان کا پایۂ تخت تبدیل ہوتا رہا، کبھی جنر (پونہ) ان کا مستقر رہا، کبھی پرٹسٹھان (پئے ٹھن)، مہاراشٹر ان کا صدر مقام بنا۔ پہلی صدی ق م میں ان کی سلطنت کی بنیاد پڑی اور رفتہ رفتہ انھوں نے ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ پہلے یہ موریا سلطنت کے باج گزار تھے لیکن اس کے زوال کے بعد اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا اور دکن کے نصف بالائی حصہ پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک قابض ہو گئے۔ ساتواہن سلاطین ہندومت اور بدھ مت کے بڑے سرپرست اور مربی گذرے ہیں۔ ان کی اسی سرپرستی کا نتیجہ ہے کہ آج ایلورا سے امراوتی تک بدھ مت کی متعدد یادگاریں پائی جاتی ہیں۔ ساتواہن ان اولین ہندوستانی ریاستوں میں سے ہے جنھوں نے اپنے سکوں پر سلاطین کی شبیہ بنائی۔ نیز ان سلاطین نے سندھ و گنگ کے میدان اور جنوبی ہندوستان میں ایک تہذیبی پل کا کام کیا جس کی مدد سے شمالی ہند کے افکار و تصورات جنوب تک پہنچے۔ علاوہ بریں ساتواہن نے ان دونوں خطوں میں تجارتی روابط کے استحکام میں بھی خاصا اہم اور فعال کردار نبھایا۔ ساتواہن کو اپنے اقتدار کے استحکام کی خاطر شونگ اور مگدھ کی اُس وقت کی کَنَو سلطنت سے معرکہ آرائی بھی کرنا پڑی۔ آگے چل کر یہی سلطنت ہندوستان پر بیرونی حملوں کے سامنے مضبوط فصیل ثابت ہوئی اور ہندوستان کے بڑے حصے کو خارجی عناصر مثلاً شکوں، یونانیوں اور پہلووں کے ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رکھا۔ بالخصوص مغربی شترپوں سے ان کی کشمکش طویل عرصہ تک جاری رہی۔ اور بالآخر ساتواہن سلاطین گوتمی پتر شاتکرنی اور یگیہ شری شاتکرنی جیسے بیرونی حملہ آوروں کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ تیسری صدی عیسوی میں ساتواہن سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا اور وہ متعدد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی۔ ہندوستان کی تجارت اور سیاحت تصغیر|بائیں|شاہراہ ریشم اور [[مسالوں کی تجارت کے قدیم تجارتی راستے جو ہندوستان کو قدیم دنیا سے جوڑتے تھے؛ ہندوستان اور عالمِ قدیم کی تہذیبوں کے درمیان میں افکار و اشیا کا تبادلہ بھی انھی راستوں سے ہوا کرتا تھا۔ زمینی راستے سرخ رنگ میں اور آبی گذر گاہیں نیلے رنگ میں دکھائی گئی ہیں۔]] * کیرالا کی مسالوں کی تجارت قدیم دنیا کے تاجروں کو کھینچ کھینچ کر ہندوستان لا رہی تھی۔ چنانچہ نئے سنگی دور کے نقوش و کتبات میں ایسے قرائن ہاتھ آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کا جنوب مشرقی ساحل موزریز تین ہزار ق م تک مسالوں کی تجارت کا عظیم الشان مرکز بن چکا تھا۔ نیز 562 ق م تک کوچی، کیرالا کی بندرگاہ پر اترنے والے سمیریوں اور یہودیہ سے آنے والے یہودی تاجروں کا باضابطہ تحریری سراغ ملتا ہے۔ * پہلی صدی عیسوی کے آس پاس توما رسول بحری راستے سے ہندوستان پہنچا اور موزریز ساحل پر اترا۔ یہاں پہنچ کر توما نے سات گرجا گھروں کی بنیاد رکھی۔ * پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں بدھ مت شاہ راہ ریشم سے چل کر چین میں داخل ہوا اور دونوں تہذیبوں کے میل جول سے متعدد چینی سیاحوں اور سادھوؤں کے دلوں میں ہندوستان کی سیاحت کا داعیہ پیدا ہوا۔ ہندوستان کی سیاحت کرنے والے چینیوں میں فاہیان، یی جنگ، سونگ یون اور ہیون سانگ قابل ذکر ہیں۔ ان سیاحوں نے برصغیر ہند کی سیاحت کے مفصل سفرنامے لکھے جن میں اس خطہ کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ * جنوب مشرقی ایشا میں قائم ہندو اور بدھ مت کے مذہبی ادارے بھی تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں شریک نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے سرپرستوں نے ان کے تصرف میں خطیر رقمیں اس غرض سے دی تھیں کہ وہ اس سرمایہ کے ذریعہ مقامی معیشت کو پروان چڑھائیں اور اسے تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ خصوصاً بدھ مت نے بحری تجارت کی گذر گاہوں سے خوب سفر کیا اور سکوں، فنون لطیفہ اور تعلیم و تعلم کے نظام کو فروغ دیتی رہی۔ مسالوں کے ہندوستانی تاجر اپنے ہندوستانی پکوانوں کو جنوب مشرقی ایشیا پہنچا آئے اور مقامی باشندوں کے درمیان میں جلد ہی یہ مسالے اور ان سے تیار کی جانے والی ترکاریاں ہاتھوں ہاتھ لی جانے لگیں۔ * روم و یونان نے شاہراہ بخور اور ہند رومی شاہراہوں کے ذریعہ اپنی تجارت جاری رکھی۔ دوسری صدی ق م میں عدن وغیرہ کے عرب ساحلوں پر یونان اور ہندوستان کے بحری تاجروں کا آمنا سامنا ہوا اور باہمی تجارتی روابط استوار ہوئے۔ پہلے ہزارے میں ہندوستان کی آبی گذرگاہوں کا انتظام ہندوستانیوں اور حبشیوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتا ہے جو اس وقت بحیرہ احمر کی سمندری تجارت کا اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔ کُشان سلطنت کُجُل کڈفِسیس کشان سلطنت کا پہلا فرماں روا تھا۔ تقریباً پہلی صدی عیسوی کے وسط تک اس نے اپنی سلطنت کے رقبہ کو موجودہ افغانستان سے باہر برصغیر ہند کے شمال مغرب تک پھیلا دیا تھا۔ کشانیوں کے متعلق یہ گمان ہے کہ وہ تشاری زبان بولنے والے اور یوہژی اتحاد کے پانچ ارکان میں سے ایک تھے۔ کجل کڈفسیس کے پوتے کنشک اعظم کے دور حکومت تک افغانستان کے بیشتر حصہ پر کشان قابض ہو چکے تھے۔ پھر سلطنت کی فتوحات کا دائرہ شمالی ہندوستان کے خطے ساکیت اور وارانسی کے قریب واقع سارناتھ تک وسیع ہو گیا۔ شہنشاہ کنشک بدھ مت کا بڑا مربی تھا۔ لیکن جب کشان جنوب کی طرف بڑھے تو ان کے دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں میں نئی ہندو اکثریت کا عکس نمایاں ہونے لگا۔ اس کے باوصف بدھ مت کے استحکام میں کشانیوں کے غیر معمولی کردار کو فراموش نہیں جا سکتا۔ ہندوستان سے وسط ایشیا تک اور چین کی سرزمین پر بدھ مت کا استحکام انھی کشانیوں کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ مورخ ونسنٹ اسمتھ کنشک کے متعلق لکھتا ہے: علاوہ بریں کشانی فرماں رواؤں نے بحر ہند کی سمندری تجارت کو وادی سندھ کے ذریعہ شاہراہ ریشم کے کاروبار سے جوڑا اور دور دراز کے ممالک سے تجارت کی سرپرستی کی، بالخصوص چین اور روم کے مابین تجارت کی خوب ہمت افزائی کی۔ اس عہد میں گندھارا اور متھرا کے فنون بھی بہار دکھانے لگے تھے۔ ان میں نئے شگوفے کھلے، نئے غنچے چٹخے، نئے رجحان سامنے آئے اور یہ فنون اپنی جوبن پر آگئے۔ ہیو جارج رالنسن رقم طراز ہے: تیسری صدی عیسوی تک پہنچتے پہنچتے کشانوں کی سلطنت بکھرنے لگی۔ ان کا آخری قابل ذکر بادشاہ واسو دیو اول تھا۔ کلاسیکی دور (320 عیسوی - 650 عیسوی) گپت سلطنت گپت سلطنت کے عہد حکومت کو تہذیبی اور ثقافتی شعبوں خصوصاً ادب، فن تعمیر، سنگ تراشی اور نقاشی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس عرصہ میں کالی داس، آریہ بھٹ، وراہ مہیر، وشنو شرما اور وتسیہ یان جیسی ذی علم ہستیاں ابھریں جنھوں نے علوم و فنون کے مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے اور اپنے دیرپا نقوش چھوڑے۔ انھی وجوہ سے گپت عہد کو ہندوستانی ثقافت کی تاریخ کا اہم ترین موڑ سمجھا جاتا ہے۔ گپت سلاطین نے اپنی حکمرانی کو تقویت بخشنے اور ہندوؤں کی نگاہ میں اسے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے ایک طرف ویدک امور انجام دیے اور دوسری جانب انھوں نے بدھ مت کو بھی اپنا سایۂ عاطفت عطا کیا جو برہمنی عقائد کے بالمقابل ایک متبادل نظام فکر کے روپ میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ نیز گپت سلطنت کے ابتدائی تین سلاطین چندر گپت اول، سمدر گپت اور چندر گپت دوم کے عہد میں ہونے والی لشکر کشی سے ہندوستان کا بڑا حصہ گپت سلطنت کے زیر نگین آگیا۔ اس عہد میں علوم و فنون اور سیاسی انتظام و انصرام نے نئی چوٹیاں سر کیں۔ مضبوط تجارتی تعلقات نے بھی اِس خطے کو ایک اہم تہذیبی مرکز بنانے میں خاصا بڑا کردار نبھایا اور قریبی ریاستوں اور حکومتوں مثلاً سمندری جنوب مشرقی ایشیا (برونائی، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور اور مشرقی تیمور)، نیز ہند چینی (کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، تھائی لینڈ اور ویت نام) وغیرہ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور گپت سلطنت کی مدت حکمرانی امن و سکون اور چین و سلامتی میں ضرب المثل بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے چہرے پر اس عہد کو گپت سلطنت کا بوسۂ امن قرار دیا جاتا ہے۔ بعد میں آنے والے گپت سلاطین الچون ہن کی آمد تک اپنی سرحدوں کا کامیاب دفاع کرتے رہے۔ پانچویں صدی عیسوی کے نصف اول میں الچون ہن افغانستان کی سرزمین پر ابھرے اور بامیان کو اپنا دار الحکومت بنا کر گپت سلطنت کی شمال مغربی سرحدوں پر حملہ آور ہوئے۔ تاہم شمال کی اس شورش سے دکن سمیت جنوبی ہندوستان کے اکثر حصے عام طور پر محفوظ رہے۔ واکاٹک سلطنت تیسری صدی عیسوی کے وسط میں دکن کی سرزمین سے واکاٹک سلطنت ابھری۔ کہا جاتا ہے کہ اس سلطنت کے حدود شمال میں مالوہ کی جنوبی سرحدوں اور گجرات سے جنوب میں تنگ بھدرا ندی تک اور مغرب میں بحیرہ عرب سے مشرق میں چھتیس گڑھ کے اطراف تک پھیلی ہوئی تھیں۔ واکاٹک دکن میں ساتواہن سلطنت کے اہم ترین جانشین اور شمالی ہندوستان کی گپتا سلطنت کے ہم عصر تھے۔ آگے چل کر وشنوکنڈن سلطنت کے بادشاہوں نے ان خطوں پر حکمرانی کی۔ تاریخ کے صفحات میں واکاٹک سلطنت کے حکمران فنون لطیفہ، فن تعمیر اور علم و ادب کے مربی کی حیثیت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ چٹانوں کو تراش کر بنائے جانے والے بودھ وِہار اور اجنتا غاروں کے چیتیا اسی سلطنت کے ایک حکمران ہری سین کی سرپرستی میں تعمیر کیے گئے تھے۔ کاماروپا سلطنت ہرش سلطنت ابتدائی قرون وسطی کا دور (وسط چھٹی صدی تا 1200 عیسوی) گرجر پرتیہار سلطنت چولا سلطنت قرون وسطی کا آخری دور (1200ء تا 1526ء) سلطنت دہلی تيرہويں صدی ميں شمالی ہند ميں دہلی سلطنت قائم ہوئی۔ اس کا آغاز خاندان غلاماں نے رکھا۔ اس کے بعد شمالی ہند کا تاج خلجی، تغلق، سيد اور پھر لودھی خاندانوں کے پاس گيا۔ اس دوران میں جنوبی ہند ميں باہمنی اور وجے نگر سلطنتیں قائم تھيں۔ وجے نگر سلطنت بھکتی تحریک اور سکھ مت دورِ جدید کی ابتدا (1526ء تا 1858ء) مغلیہ سلطنت سن 1526ء ميں شہنشاہ بابر نے دہلی پر قبضہ کر کے بر صغير ميں مغل سرکار کی بنياد رکھی۔ اس کے بعد تاج ہمايوں، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزيب کے پاس گيا۔ يہ دو سو سال بر صغير کا ايک سنہرا دور تھا۔ اس دور ميں علم و ادب اور فن نے بہت ترقی کی۔ اس دوران میں جنوبی ہند ميں ايک ايک کر کے مغلوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر ليا۔ مرہٹے اور سکھ مرہٹہ سلطنت سکھ سلطنت یورپی نوآبادیاتی دور ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج بر صغير ميں یورپی اثر سولہويں صدی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ انگريزوں نے کئی علاقوں ميں حکومت کرنا شروع کر دی تھی۔ سن 1857ء ميں بر صغير کے لوگوں نے انگريزوں کے خلاف سب سے پہلی جنگ آزادی لڑی جس ميں وہ ہار گئے۔ سنہ 1947ء ميں برطانوی ہند کی تقسیم کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان کو آزادی ملی۔ 1971ء ميں بنگلہ ديش پاکستان سے عليحدہ ہو گيا۔ 1972ء ميں سری لنکا کو مکمل آزادی مل گئی۔ جدید دور اور آزادی (1850 عیسوی کے بعد) جنگ آزادی ہند 1857ء اور نتائج برطانوی راج (1858-1947ء) ہندوستانی نشاۃ ثانیہ قحط پہلی جنگ عظیم دوسری جنگ عظیم ہندوستانی تحریک آزادی (1885-1947ء) دوسری جنگ عظیم کے بعد (1946–1947) تصغیر|150px|بحریہ کی بغاوت کا مجسمہ، کولابا، ممبئی آزادی اور تقسیم (1947 تا حال) تاریخ نگاری حالیہ دہائیوں میں تاریخ نگاری کے چار اہم مکاتب ہیں کہ مورخین کس طرح ہندوستان کا مطالعہ کرتے ہیں: کیمبرج، نیشنلسٹ، مارکسی اور سبالٹرن۔ ایک زمانے میں عام "مشرقی" نقطہ نظر جس کی اپنی حس، عسیر الفہم اور مکمل روحانی ہندوستان کی تصویر تھی، سنجیدہ علمی وظائف میں ختم ہو چکی ہے۔ "کیمبرج مکتب فکر" جس کی قیادت انیل سیل، گورڈن جانسن، رچرڈ گورڈن اور ڈیوڈ اے واشبروک، کر رہے ہیں، نظریات کی نفی کرتے ہیں۔۔ تاہم تاریخ نگاری کے اس مکتب پر مغربی تعصب یا یورو سینٹرزم کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔ "نیشنلسٹ مکتب فکر" نے کانگریس، گاندھی، نہرو اور اعلیٰ سطح کی سیاست پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس نے 1857ء کے بغاوت کو آزادی کی جنگ کے طور پر اجاگر کیا اور 1942ء میں شروع ہونے والی گاندھی کی تحریک 'ہندوستان چھوڑ دو' کو تاریخی واقعات کی وضاحت کے طور پر لکھا۔ تاریخ نگاری کے اس مکتب کو اشرافیت پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ "مارکسی مکتب فکر" نے نوآبادیاتی دور میں معاشی ترقی، زمین کی ملکیت اور طبقاتی کشمکش اور نوآبادیاتی دور میں غیر صنعتی ہونے کے مطالعے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ مارکسیوں نے گاندھی کی تحریک کو بورژوا اشرافیہ کے آلہ کار کے طور پر پیش کیا تاکہ مقبول، ممکنہ طور پر انقلابی قوتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ایک بار پھر، مارکسیوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی طور پر "بہت زیادہ" متاثر ہیں۔ "سبلٹرن مکتب فکر" کی شروعات 1980ء کی دہائی میں رنجیت گوہا اور گیان پرکاش نے کی تھی۔ یہ اشرافیہ اور سیاست دانوں سے ہٹ کر "نیچے سے تاریخ" کی طرف توجہ مرکوز کرتا ہے، کسانوں کی لوک داستانوں، شاعری، پہیلیوں، کہاوتوں، گانوں، زبانی تاریخ اور بشریات سے متاثر طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ 1947ء سے پہلے کے نوآبادیاتی دور پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور عام طور پر ذات پات اور طبقے کو کم کرنے پر زور دیتا ہے، تاکہ سبلٹرن مکتب فکر کو ناگواری ہو۔ ابھی حال ہی میں ہندو قوم پرستوں نے ہندوستانی معاشرے میں ہندوتوا کو اپنے مطالبات کی حمایت کے لیے تاریخ کا ایک نسخہ تیار کیا ہے۔ یہ مکتب فکر ابھی ترقی کے مراحل میں ہے۔ مارچ 2012ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں تقابلی مذہب اور مطالعہ ہند کی پروفیسر، ڈیانا ایل۔ ایک نے اپنی کتاب "ہندوستان: ایک مقدس جغرافیہ" (India: A Sacred Geography) میں لکھاہے کہ "ہندوستان کا تصور انگریزوں یا مغلوں سے بہت پہلے کا ہے۔ یہ صرف علاقائی شناختوں کا ایک جھرمٹ نہیں تھا اور یہ گروہی یا نسلی نہیں تھا۔" مزید دیکھیے * آدی واسی * جمہوریہ ہند کی تاریخ * بھارت کے خارجہ تعلقات * قدیم ہندوستان * تاریخ ہند کا خط زمانی حوالہ جات حواشی حوالہ جات زمرہ:تاریخ جنوبی ایشیا زمرہ:تاریخ جنوبی ایشیا بلحاظ ملک زمرہ:تاریخ ہندوستان زمرہ:جنوبی ایشیا زمرہ:غیرموجود آئی ایس بی این کے ساتھ صفحات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] نيا صفحہ نيا صفحہ کس طرح شروع کيا جا سکتا ہے۔ ايک اہم بات یہ ديکھ ليں کہ صفحہ پہلے سے موجود تو نہيں۔ نئے صفحے نيا صفحہ شروع کرنے کے طريقے۔ موجودہ لنک سے نيا صفحہ ويکيپيڈيا پڑھتے ہوئے آپ ايسی 'لنکس' پر پہنچيں گے جو لال رنگ کی ہيں۔ جيسے کہ لال لنک کی مثال يہ وہ لنکس ہيں جن کے مضمون ابھی لکھے نہيں گئے۔ اس لنک پر کلک کرنے سے آپ ايک نئے صفحے پر جاءيں گے جہاں لکھا ہو گا کہ :آپ ايک ايسے صفحے پر ہيں جسے ابھی تشکيل نہيں کيا گيا۔ :صفحہ شروع کرنے کے لیے نيچے والے خانے ميں لکھنا شروع کر ديں۔ ايڈٹ خانے ميں لکھنا شروع کر ديں۔ جب لکھ ليں تو اسے 'محفوظ' کر ليں۔ دوسرے صفحات کی لنکس بنانا جب آپ کوئی صفحہ لکھ رہے ہوں اور آپ کو لگے کہ کسی لفظ يا فقرے کا اپنا صفحہ ہونا چاہیے تو اس کے دونوں طرف دہرے بريکٹ لگا ديں۔ جيسا کہنئ لنک۔ اس طرح آپ کی اس صفحے تک لنک يو آر ايل کے ضريعے نيا صفحہ کسی بھی نئے صفحہ کے يو آر ايل پر جاءيں۔ :http://ur.wikipedia.org/wiki/نيا_صفحہ نيا_صفحہ کی جگہ اپنے مضمون کا نام لکھيں، مثلا کراچی کے لیے :http://ur.wikipedia.org/wiki/کراچی آپ کو خالی صفحہ ملے گا جس کو آپ 'صفحے ميں ترميم کريں' کے ضريعے پر کر سکتے ہيں۔ زمرہ:نامعلوم
[Wikipedia:ur] الجزائر الجزائر جسے انگریزی میں الجیریا بھی کہتے ہیں، شمالی افریقہ میں واقع ایک ملک ہے۔ رقبے کے اعتبار سے بحیرہ روم پر واقع سب سے بڑا، عرب دنیا اور افریقی براعظم میں سوڈان کے بعد سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا میں اس کا 11واں نمبر ہے۔ الجزائر کے شمال مشرق میں تیونس، مغرب میں مراکش، جنوب مغرب میں مغربی صحارا، موریتانیا اور مالی ہیں۔ جنوب مشرق میں نائجر جبکہ شمال میں بحیرہ روم واقع ہیں۔ اس کا رقبہ تقریباً 24 لاکھ مربع میل جبکہ آبادی 3 کروڑ 57 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ الجزائر کے دار الحکومت کا نام بھی الجزائر ہے۔ الجزائر عرب لیگ، اقوامِ متحدہ اور اوپیک کا رکن ہے۔ وجہ تسمیہ ملک کا نام اس کے شہر الجزائر سے نکلا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ یہ لفظ "جزائر بنی مازغان" کی مختصر شکل ہے۔ تاریخ قبل از تاریخ پرانے دور میں الجزائر کو سلطنتِ نومیڈیا کہا جاتا تھا۔ اس کے لوگ نومیڈین کہلاتے تھے۔ اس سلطنت کے تعلقات اس دور کے قدیم یونان اور رومن اقوام کے ساتھ تھے۔ اس علاقے کو زرخیز علاقے کے طور پر جانا جاتا تھا اور یہاں کے لوگ گھڑ سواری کے ماہر تھے۔ شمالی افریقہ کے مقامی لوگ بالاخر بربر بنے۔ 1000 ق م میں قرطاجنہ قبائل نے ساحل کے ساتھ ساتھ آبادیاں بسانا شروع کر دیں۔ بربر قبائل نے موقع پا کر قرطاجنوں سے آزادی پا لی اور بربر ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ 200 ق م میں اس علاقے پر رومن سلطنت نے قبضہ کر لیا۔ تاہم جب 476 عیسوی میں مغربی رومن ریاست کا زوال ہوا تو بربر پھر سے آزاد ہو گئے۔ بعد میں یہاں وندال قبائل نے قبضہ کر لیا جو بازنطینیوں کی آمد تک قائم رہا۔ بازنطینی یہاں 8ویں صدی عیسوی تک موجود رہے پھر عرب یہاں قابض ہو گئے۔ قرونِ وسطٰی بربر قبائل قرونِ وسطٰی کے دوران زیادہ تر مغرب کے علاقے پر قابض رہے۔ بربر قبائل بذاتِ خود کئی قبائل پر مشتمل تھے۔ قرونِ وسطٰی میں مغرب، سوڈان، اٹلی، مالی، نائجر، سینیگال، مصر اور دیگر نزدیکی جزائر پر بربروں کے مختلف قبائلوں نے اپنی سلطنتیں قائم کیں۔ ابنِ خلدون نے ان قبائل کی کل تعداد 12 بیان کی ہے۔ اسلام کی آمد جب مسلمان عرب 7ویں صدی کے وسط میں یہاں پہنچے تو مقامی افراد کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ عرب امیہ سلطنت کے 751 عیسوی میں زوال کے بعد بہت ساری مقامی بربر سلطنتیں قائم ہوئیں جن میں الغالبہ، الموحدون، عبد الودید، زیریون، رستمیوں، حمیدیوں اور فاطمی وغیرہ اہم ہیں۔ ہسپانوی علاقے ہسپانویوں کی شمالی افریقہ میں توسیع پسندوں نے کیتھولک بادشاہ اور ملکہ کی مدد سے آئبیرین کے جزیرہ نما پر قبضہ کر لیا۔ الجزائر کے ساحل پر بہت سارے قصبوں اور بیرونی چوکیوں پر ہسپانویوں نے قبضہ کر لیا۔ 15 جولائی 1510 کو الجزائر کے بادشاہ کو زبردستی ہسپانوی بادشاہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1516 کو 1٫300 ترک سپاہیوں اور 16 بحری جہازوں کی مدد سے یہاں قبضہ کر کے الجزائر کو سلطنت عثمانیہ سے ملا دیا گیا۔ عثمانی دور الجزائر کو خیرالدین بابروسا اور اس کے بھائی عروج نے 1517 میں سلطنتِ عثمانی سے جوڑ دیا۔ سنہ 1541ء میں مقدس رومن سلطنت کے بادشاہ چارلس پنجم نے الجزائر پر 65 بحری جنگی جہازوں اور 23٫000 فوجیوں کی مدد سے حملہ کر دیا۔ اس فوج میں 2٫000 گھڑ سوار بھی شامل تھے۔ تاہم انھیں بدترین شکست ہوئی اور الجزائر کے رہنما حسن آغا کو قومی رہنما مان لیا گیا اور الجزائر بہت بڑی فوجی قوت بن کر ابھرا۔ عثمانیوں نے الجزائر کی موجودہ سرحدیں شمال میں قائم کر دیں۔ عثمانی جہادیوں کے لیے الجزائر کے ساحل پڑاؤ کا کام کرنے لگے۔ 17ویں صدی میں عثمانیوں کے بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے پہلی اور دوسری بربر جنگیں ہوئیں۔ دونوں اطراف کی فوجیں دشمنوں کو پکڑنے کے بعد غلام بنا دیتی تھیں۔ ان لوگوں کے گہرے اثر و رسوخ کی بنا پر اس علاقے کو بربری ساحل کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اکثر یورپی ساحلوں پر حملہ کر کے مسیحیوں کو غلام بنا کر ترکی، مصر، ایران، الجزائر اور مراکو کے بازاروں میں بیچ دیتے تھے۔ رابرٹ ڈیوس کے مطابق 16ویں سے 19ویں صدی کے دوران دس لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ یورپیوں کو غلام بنا کر بیچا گیا۔ ان لوگوں کی اکثریت اٹلی، سپین اور پرتگال کی ساحلی بستیوں کے علاوہ فرانس، انگلینڈ، آئرلینڈ، ہالینڈ، جرمنی، پولینڈ، روس، سکینڈے نیویا، آئس لینڈ، ہندوستان، جنوبی مشرقی ایشیا اور شمالی امریکا سے پکڑی گئی تھی۔ ان حملوں کا اثر تباہ کن تھا۔ فرانس، انگلینڈ اور سپین کے ہزاروں بحری جہاز تباہ ہوئے اور سپین اور اٹلی کے ساحلوں کا بہت بڑا حصہ غیر آباد ہو گیا۔ 19ویں صدی تک انہی بحری قزاقوں کی وجہ سے ساحلی علاقے غیر آباد رہے۔ 1609 سے 1616 تک انگلینڈ کے 466 تجارتی بحری جہاز تباہ ہوئے۔ شمالی افریقہ کے شہروں پر طاعون کا بہت برا حملہ ہوا۔ اندازہ ہے کہ الجزائر ہی میں طاعون کی مختلف وباؤں سے 30٫000 سے 50٫000 شہری ہلاک ہوئے۔ فرانسیسی دورِ حکومت اپنے سفیر کی بے عزتی کے پیشِ نظر فرانسیسیوں نے 1830 میں حملہ کر کے الجزائر پر قبضہ کر لیا۔ تاہم یہ جنگ بہت طویل تھی اور بہت خون خرابا ہوا۔ 1830 سے 1872 تک مقامی آبادی جنگوں اور بیماریوں کی وجہ سے ایک تہائی کم ہو گئی۔ 1825 سے 1847 تک 50٫000 سے زیادہ فرانسیسی الجزائر منتقل ہوئے۔ تاہم یہ منتقلی بہت آہستگی سے ہوئی کیونکہ مقامی آبادی نے اس کے خلاف بہت جد و جہد کی۔ قبضے کے بعد فرانس نے ہر ممکن کوشش کر کے الجزائر کو فرانس کا اٹوٹ انگ بنایا۔ فرانس، سپین، اٹلی اور مالٹا سے ہزاروں میں آبادکار الجزائر منتقل ہوئے اور الجزائر کے ساحلی میدانوں پر کاشتکاری کے علاوہ شہروں کے اہم حصوں پر بھی قابض ہو گئے۔ ان آبادکاروں کو حکومتِ فرانس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ 19ویں صدی کے اواخر سے الجزائر میں آباد یورپی النسل افراد اور الجزائرئی یہودیوں کو فرانس کا شہری تسلیم کر لیا گیا۔ الجزائر کی 1962 میں آزادی کے بعد یہاں یورپی النسل افراد کو کالے پیروں والے کہا جانے لگا کیونکہ آبادکار کالے بوٹ پہنتے تھے۔ تاہم یہ نام محض ہتک کے لیے لیا جاتا تھا۔ تاہم مسلمان الجزائرئی باشندوں کی بہت بڑی اکثریت کو بشمول پرانے فوجیوں کے، فرانسیسی شہریت اور ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا۔ بعد از آزادی 1954 میں نیشنل لبریشن فرنٹ نے الجزائر کی جنگِ آزادی شروع کی جو گوریلا جنگ تھی۔ اس جنگ کے اختتام پر صدر نے اپنے مشہور خطاب میں عوام سے کہا کہ "میں نے آپ کی بات سمجھ لی ہے "۔ عوام سمجھے کہ صدر نے الجزائر کے فرانس کا حصہ رہنے کے بارے اعلان کیا ہے۔ ریفرنڈم کے انعقاد کے بعد بہت بھاری اکثریت سے عوام نے آزادی کا انتخاب کر لیا۔ دس لاکھ سے زیادہ افراد فرانس منتقل ہو گئے۔ الجزائر کے پہلے صدر احمد بن بلا تھے جنھیں ان کے ہی معتمد اور سابقہ حلیف بومدین نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ احمد بن بلا کے دور میں حکومت کا رحجان سوشلسٹ اور آمرانہ تھا۔ ان کے بعد یہ رحجان جاری رہا۔ تیل نکالنے کے پلانٹوں کو قومیا لیا گیا۔ اسی دور میں زراعت کو انفرادی سطح سے اجتماعی سطح پر لایا گیا اور صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم اس کے نتیجے میں تیل پر انحصار بڑھ گیا اور 1980 کی دہائی میں تیل کی گرتی قیمتوں سے ملکی معیشت بیٹھ گئی۔ الجزائر کے خارجہ تعلقات مغربی ہمسائے مراکو سے اچھے نہیں۔ اس کی وجوہات میں مراکو کا الجزائر کے کچھ علاقوں پر قبضہ اور الجزائر کی طرف سے مراکو کے علیحدگی پسندوں کی حمایت وغیرہ اہم ہیں۔ الجزائر میں اختلافِ رائے کی گنجائش نہیں ہے اور حکومت زیادہ تر میڈیا پر قابض ہے۔ 1976 کے آئین کے تحت ایک کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ 1978 میں بومدین کا انتقال ہوا اور ان کے جانشین شاذلی بن جدید نسبتاً کھلے ذہن کے مالک تھے۔ ان کے دور میں افسرِ شاہی کا غلبہ ہوا اور رشوت ستانی عام ہو گئی۔ جدت پسندی کی وجہ سے الجزائر کی آبادی کی خصوصیات میں کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ دیہاتوں کی شکل و صورت بدلنے لگی اور شہروں کی طرف منتقلی کا رحجان بڑھ گیا۔ نت نئی صنعتیں قائم ہوئیں اور زراعت میں لوگوں کی توجہ کم ہو گئی۔ ملک بھر میں تعلیم عام ہو گئی اور شرحِ خواندگی 10 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک جا پہنچی۔ فی عورت بچوں کی اوسط 7 سے 8 ہو گئی۔ 1980 سے 1988 تک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین کی مسلط کردہ جنگ کے دوران الجزائر نے ایران کا ساتھ دیا اور امریکی ایما پر لڑی جانے والی اس جنگ کو عرب اور عجم یا شیعہ سنی کی جنگ قرار دینے کی مذموم کوشش کوناکام بنادیا۔ 80 کے عشرے میں ملک میں نوجوانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ نتیجتاً دو مختلف گروہ پیدا ہوئے۔ پہلے گروہ میں بربر بھی شامل تھے جو کمیونسٹ رحجان رکھتے تھے جبکہ دوسری طرف اسلام پسند تھے۔ دونوں گروہ ہی یک جماعتی قانون کے خلاف تھے لیکن ایک دوسرے سے بھی لڑتے رہے۔ تاہم انہی کے احتجاج کے باعث 1988 میں بن جدید نے یک جماعتی قانون کو ختم کر دیا۔ الجزائر کے سیاسی واقعات (1991 تا 2002) 1991 میں الجزائر میں انتخابات منعقد ہونے تھے۔ دسمبر 1991 میں اسلامک سالویشن فرنٹ نے انتخابات کا پہلا مرحلہ جیتا تو فوج نے مداخلت کی اور دوسرا مرحلہ منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد فوج نے اس وقت کے صدر بن جدید کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور مذہب کی بنیاد پر بننے والی ہر سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا۔ سیاسی چپقلش پیدا ہوئی اور خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 1٫60٫000 سے زیادہ افراد 17 جنوری 1992 سے جون 2002 کے دوران مارے گئے۔ ان کی اکثریت شہریوں کی تھی۔ مبصرین کے بقول حکومت نے اپنی فوج اور غیر ملکیوں کی مدد سے شہریوں کو ہلاک کر کے ذمہ داری مختلف اسلامی گروہوں پر ڈال دی۔ 1995 میں انتخابات بحال ہوئے اور 1998 میں جنگ ختم ہو گئی۔ 27 اپریل 1999 کو عبد العزیز بوتفلیقہ کو فوج نے صدر چن لیا۔ جنگ کے بعد 2002 تک زیادہ تر چھاپہ مار گروہ یا تو ختم کر دیے گئے تھے یا پھر ہتھیار ڈال کر عام معافی پا چکے تھے۔ تاہم کچھ علاقوں میں لڑائی اور دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ الجزائر کا زیادہ تر حصہ اب بحالی کی راہ پر چل رہا ہے اور ملکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تیل اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نئی حکومت کو ملکی ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں مدد مل رہی ہے۔ جغرافیہ الجزائر کا زیادہ تر ساحلی علاقہ پتھریلا اور چٹانی ہے اور کہیں کہیں پہاڑ بھی ملتے ہیں۔ تاہم یہاں کئی قدرتی بندرگاہیں بھی موجود ہیں۔ ساحل سے لے کر اطلس التلی تک کا علاقہ زرخیز ہے۔ اطلس التلی کے بعد کا علاقہ گھاس کے وسیع و عریض میدانوں پر مشتمل ہے جو کوہ اطلس کے مشرقی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بعد صحرائے اعظم کا علاقہ ہے۔ ہوگر کے پہاڑ دراصل وسطی صحارا کے بلند علاقے ہیں جو دار الحکومت سے 1٫500 کلومیٹر جنوب میں ہیں۔ الجزائر، وہران، قسطنطین، تیزی وزو اور عنابہ بڑے شہر ہیں۔ جولائی، 2011ء میں سوڈان سے جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد الجزائر افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ موسم الجزائر کا موسم عموماً سال بھر گرم رہتا ہے۔ تاہم سورج غروب ہونے کے بعد خشک اور صاف ہوا سے گرمی جلد ہی ختم ہو جاتی ہے اور راتوں کو درجہ حرارت گر جاتا ہے۔ سرکاری طور پر سب سے زیادہ گرمی عین الصلاح میں پڑی جو 50.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی۔ بارش زیادہ تر ساحلی علاقوں میں ہوتی ہے اور بارش کی مقدار مغرب کے مقابلے میں مشرقی حصوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ جبکہ شمال مشرقی الجزائر میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ الجزائر میں ریت کی پہاڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ سیاست صدر ملک کا سربراہ ہوتا ہے جو پانچ سال کے لیے چنا جاتا ہے۔ 2008 کے قانون سے قبل ہر صدر زیادہ سے زیادہ دو بار منتخب ہو سکتا تھا۔ 18 سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق ملتا ہے۔ صدر وزراء کی کونسل اور ہائی سکیورٹی کونسل کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدر وزیرِ اعظم کا تقرر کرتا ہے جو حکومت کے سربراہ کا کام کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم وزراء کی کونسل کا تقرر کرتا ہے۔ الجیریا کی پارلیمان دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوانِ زیریں کو نیشنل پیپلز اسمبلی کہتے ہیں جس کے 380 اراکین ہوتے ہیں۔ ایوانِ بالا جسے کونسل آف نیشن کہتے ہیں کے 144 اراکین ہوتے ہیں۔ ایوانِ زیریں کے لیے ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ 1976 کے آئین کے مطابق ملک میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں بنائی جا سکتی ہیں تاہم ان کی منظوری وزیرِ داخلہ سے ضروری ہوتی ہے۔ اس وقت ملک میں 40 سے زیادہ سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ آئین کے مطابق مذہب، زبان، نسل، جنس یا علاقائی بنیادوں پر سیاسی جماعت بنانا ممنوع ہے۔ فوج الجیریا کی فوج بری، بحری، ہوائی اور علاقائی ائیر ڈیفنس فوجوں پر مشتمل ہے۔ فوج کا سربراہ ملک کا صدر ہوتا ہے جس کے پاس ملکی وزیرِ دفاع کا عہدہ بھی ہوتا ہے۔ کل فوجیوں کی تعداد 1٫47٫000 ہے۔ ریزرو فوجیوں کی تعداد 1٫50٫000 جبکہ نیم فوجیوں کی تعداد 1٫87٫000 ہے۔ 19 سے 30 سال تک کی عمر کے نوجوان مردوں کے لیے فوجی خدمات لازمی ہیں جو ڈیڑھ سال پر محیط ہوتی ہیں۔ اس میں چھ ماہ تربیت اور ایک سال شہری منصوبوں پر کام کرنا شامل ہے۔ 2006 کے تخمینے کے مطابق الجزائر اپنی فوج پر کل قومی آمدنی کا 2.7 فیصد سے 3.3 فیصد تک خرچ کرتا ہے۔ الجزائر زیادہ تر روسی اور چینی ساخت کا اسلحہ استعمال کرتا ہے جو فوجی تجارت کے معاہدوں کے تحت خریدا جاتا ہے۔ الجزائر کی ہوائی فوج نے 2007 میں روس سے 55 مگ 29 جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جو تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت الجزائر روس کو پرانے جہاز بھی واپس کرے گا جو اس نے سابقہ سوویت یونین سے خریدے تھے۔ روس الجزائر کے لیے دو ڈیزل آبدوزیں بھی بنا رہا ہے۔ اکتوبر 2009 میں مبینہ اسرائیلی پرزوں کو شامل کرنے کے امکان کے پیشِ نظر الجزائر نے فرانس سے ہونے والا فوجی معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ صوبے اور اضلاع الجزائر میں 48 صوبے، 553 اضلاع اور 1٫541 بلدیات ہیں۔ ہر صوبے، ضلع اور بلدیہ کا نام عموماً اس کے سب سے بڑے شہر پر رکھا جاتا ہے۔ آئین کے مطابق ہر صوبے کو کسی حد تک معاشی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ پیپلز پراونشل اسمبلی صوبے پر حکومت کرتی ہے۔ اس کا اپنا صدر ہوتا ہے جسے اسمبلی کے اراکین چنتے ہیں۔ اسمبلی کے اراکین کو 5 سال کی مدت کے لیے عام انتخابات سے چنا جاتا ہے۔ والی یعنی گورنر بھی ہر صوبے کے لیے الگ موجود ہوتا ہے۔ والی کو ملک کا صدر مقرر کرتا ہے۔ معیشت معدنی تیل ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے اور کل قومی آمدنی کا 30 فیصد سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ مقدار برآمدات کے 95 فیصد پر مشتمل ہے۔ تیل کے ذخائر کے حوالے سے الجزائر کا 14واں نمبر ہے۔ یہاں کل 11.8 ارب بیرل کے ذخائر کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے تاہم اصل مقدار اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے محکمے کی 2005 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الجزائر میں 160 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں جو دنیا بھر میں 8ویں نمبر پر آتے ہیں۔ معدنی تیل اور گیس کے علاوہ ملکی آمدنی 2003 سے 2007 تک 6 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی ہے۔ بیرونی قرضے تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور حکومت نے تیل کی آمدنی سے فنڈ قائم کیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح پورے خطے میں سب سے کم ہے اور 2003 سے 2007 تک محض 4 فیصد رہی ہے۔ الجزائر کے معاشی اور مالی اشاریئے 1990 کی دہائی کے وسط سے بہتر ہونے لگے تھے۔ اس کی اہم وجہ پیرس کلب کے قرضوں کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے ری شیڈیولنگ تھی۔ 2000 اور 2001 میں الجزائر کی آمدنی پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حکومت کی سخت مالیاتی پالیسیوں سے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے تجارتی سرپلس اور فارن کرنسی میں اضافے کے علاوہ بیرونی قرضے میں کمی ہوئی۔ تاہم حکومت کی جانب سے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں توانائی کے علاوہ دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے سے بے روزگاری کی شرح کم نہیں ہوئی۔ 2001 میں الجزائر کی حکومت نے یورپی یونین سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت مصنوعات کی قیمتیں کم اور کل تجارت بڑھ جائے گی۔ 2004 میں روس نے الجزائر کے ذمے 4.74 ارب ڈالر مالیت کا پرانا قرضہ معاف کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے الجزائر کے صدر نے روس سے 7.5 ارب ڈالر مالیت کے جنگی جہاز، فضائی دفاع کے آلات اور دیگر اسلحہ جات خریدنے کا اعلان کیا۔ 2006 میں الجزائر نے پیرس کلب کا 8 ارب ڈالر کا قرضہ قبل از وقت واپس کر دیا ہے جس سے ملکی معیشت بہتر ہوئی ہے اور اس کے بعد بیرونی قرضے محض 5 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔ زراعت الجزائر ہمیشہ سے ہی اپنی زرخیز زمین کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔ کل آبادی کا چوتھائی حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ امریکا کی خانہ جنگی کے دوران یہاں کپاس کی کاشت بہت بڑھ گئی تھی۔ 20ویں صدی کے اوائل میں زراعت پر پھر سے زور دیا جانے لگا تھا۔ بونی کھجوروں کی بہت بڑی تعداد ان کے پتوں کے حصول کے لیے کاشت کی گئی ہے۔ زیتون اور تمباکو بھی کامیاب ترین فصلوں میں سے ہیں۔ 30٫000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ غلے کی پیداوار کے لیے مختص ہے۔ اطلس التلی کا علاقہ غلے کے لیے مخصوص ہے۔ دیگر فصلوں میں گندم، جو اور اوٹ اہم ترین ہیں۔ پھلوں بالخصوص رس دار پھلوں اور سبزیوں کی کاشت بھی عروج پر ہے اور بیرون ملک برآمد کیے جاتے ہیں۔ الجزائر کی برآمدات میں انجیر، کھجوریں اور کاک شامل ہیں۔ آبادی کی خصوصیات 2010 کے تخمینے کے مطابق الجزائر کی آبادی 3٫48٫95٫000 افراد پر مشتمل ہے جس میں 99 فیصد عرب یا بربر النسل ہیں۔ الجزائر کے 90 فیصد سے زیادہ باشندے شمالی ساحلی علاقوں پر رہتے ہیں۔ آبادی کا کچھ حصہ صحرائے صحارا میں بھی رہائش پزیر ہے۔ آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ 15 سال سے کم عمر ہے۔ تقریباً 83 فیصد آبادی الجزائری عربی بولتی ہے جبکہ 15 فیصد کے قریب لوگ بربر لہجے کو اپناتے ہیں۔ فرانسیسی کو بھی بڑے پیمانے پر سمجھا جاتا ہے۔ یورپی النسل افراد کل آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم ہیں اور تقریباً تمام تر ہی بڑے شہروں میں رہتے ہیں۔ آبادی کے مکانات اور صحت کی سہولیات کی کمی ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے جو بہت بڑی تعداد میں آبادی کے شہروں کی طرف رخ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ الجزائر کے وکلا میں سے 70 فیصد اور ججوں میں سے 60 فیصد خواتین ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی خواتین کی اجارہ داری ہے۔ گھریلو آمدنی میں مردوں کی نسبت عورتوں کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں 60 فیصد خواتین طالبات ہیں۔ نسلی گروہ الجزائر کے عرب اکثریتی گروہ ہیں جبکہ بربر قبائل آبادی کا چوتھائی ہیں۔ زبانیں الجزائر کی سرکاری زبان عربی ہے جو 1963 کے آئین میں واضح کی گئی ہے۔ 8 مارچ 2002 کو آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے بربر زبان کو بھی "قومی" زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ عربی اور بربر زبانیں کل آبادی کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ بولتا ہے۔ فرانسیسی کو سرکاری درجہ حاصل نہیں لیکن آبادی کی اکثریت فرانسیسی کو سمجھ اور بول سکتی ہے۔ عربی زبان الجزائر کا عربی کے لیے اپنا لہجہ ہے جو 78 فیصد سے زیادہ افراد بولتے ہیں۔ 5 فیصد افراد عام عربی بولتے ہیں۔ تاہم سرکاری اور اہم مواقع پر عام عربی استعمال ہوتی ہے۔ بہت سارے بربر الجزائری عربی کو ثانوی زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ عربی کو واحد سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ بربر زبان بربر زبان کو کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ بولتا ہے۔ آئین میں ہونے والی حالیہ ترمیم سے بربر کو قومی زبان تسلیم کیا گیا ہے۔ فرانسیسی زبان فرانسیسی بطور غیر ملکی زبان کے سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے اور الجزائری باشندوں کی اکثریت اسے سمجھ اور بول سکتی ہے۔ تاہم روزمرہ استعمال میں نہیں آتی۔ مذہب 99 فیصد آبادی کا مذہب اسلام ہے۔ تقریباً سارے ہی افراد سنی العقیدہ مسلمان ہیں۔ الجزائر میں اڑھائی لاکھ مسیحی بھی ہیں۔ 1960 کے عشرے تک الجزائر میں یہودیوں کی آبادی کافی تھی۔ تاہم بعد میں یہودی یہاں سے دیگر ملکوں کو منتقل ہو گئے۔ صحت 2002 میں الجزائر میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دندان سازوں کی تعداد آبادی کے اعتبار سے انتہائی کم تھی۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی 92 فیصد شہری اور 80 فیصد دیہاتی افراد تک محدود تھی۔ عموماً غریبوں کو صحت کی سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ تعلیم 6 سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم لازمی ہے۔ بالغ آبادی کا 5 فیصد ان پڑھ ہے۔ الجزائر میں 46 یونیورسٹیاں، 10 کالج اور 7 ادارے اعلٰی تعلیم دیتے ہیں۔ الجزائر میں تعلیمی نظام بنیادی، جنرل سیکنڈری اور ٹیکنیکل سیکنڈری اسکولوں پر مشتمل ہے۔ بنیادی اسکول 9 سالہ تعلیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ جنرل سیکنڈری 3 سالہ ہوتا ہے۔ ٹیکنیکل سیکنڈری 3 سالہ تعلیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ فہرست متعلقہ مضامین الجزائر * فہرست متعلقہ مضامین الجزائر * الجزائر کا جغرافیہ * الجزائر کی انتظامی تقسیم * الجزائر کے صوبے * الجزائر کے شہر * الجزائر کی بلدیات کی فہرست * الجزائر کےشہروں کے پوسٹل کوڈ * الجزائر کی سیاست حوالہ جات زمرہ:اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک زمرہ:افریقا میں 1962ء کی تاسیسات زمرہ:افریقی اتحاد کے رکن ممالک زمرہ:افریقی ممالک زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:الجزائر میں 1962ء کی تاسیسات زمرہ:اوپیک کی رکن ریاسات زمرہ:بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:بیسویں صدی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:جمہوریتیں زمرہ:جنوبی بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:سابقہ فرماں روائیاں زمرہ:شمال افریقی ممالک زمرہ:عرب جمہوریتیں زمرہ:عرب لیگ کی رکن ریاسات زمرہ:عربی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:علامت کیپشن یا ٹائپ پیرامیٹرز کے ساتھ خانہ معلومات ملک یا خانہ معلومات سابقہ ملک استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:گروہ 15 کے ممالک زمرہ:مؤتمر عالم اسلامی کے رکن ممالک زمرہ:مسلم اکثریتی ممالک زمرہ:مغربی افریقی ممالک زمرہ:مغربی ممالک زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:ویکیپیڈیا مضامین مع GND شناخت کنندگان زمرہ:1962ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:الجزائر زمرہ:صحارائی ممالک
[Wikipedia:ur] کراچی کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جسے ملک کے صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کی اہمیت بھی حاصل ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرۂ عرب کے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں قائم ہیں۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دار الحکومت منتخب کیا گیا، جس کی وجہ سے کراچی میں اُن علاقوں سے جو بھارت کا حصہ بن گئے تھے، لاکھوں مہاجرین ہجرت کرکے آئے۔ پاکستان کا دار الحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے 'چھوٹا پاکستان' بھی کہتے ہیں۔ ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی لسانی فسادات، تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا۔ بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے ليے پاک فوج کو بھی کراچی میں مداخلت کرنی پڑی۔ اکیسویں صدی میں تیز قومی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ کراچی کے حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے کراچی کی امن عامہ کی صورتِ حال کافی بہتر ہوئی ہے اور شہر میں مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ شہر کراچی دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع ہے اور اس نے قدرتی بندرگاہ کے گرد وجود پایا۔ کراچی 52´ 24° شمال اور 03´ 67° مشرق پر واقع ہے۔ تاریخ قدیم یونانی کراچی کے موجودہ علاقہ سے مختلف ناموں سے واقف تھے: کروکولا، جہاں سکندر اعظم وادی سندھ میں اپنی مہم کے بعد، اپنی فوج کی واپس بابل روانگی کی تیّاری کے لیے خیمہ زن ہوا ؛ بندر مرونتوبارا (Morontobara)، (ممکنً کراچی کی بندرگاہ سے نزدیک جزیرہ منوڑہ جہاں سے سکندر کا سپہ سالار نییرچس(نیارخوس) واپس اپنے وطن روانہ ہوا ؛ اور بربیریکون(بارباریکون)، جو ہندوستانی یونانیوں کی باختری مملکت کی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ، عرب اس علاقہ کو بندرگاہِ دیبل کے نام سے جانتے تھے، جہاں سے محمد بن قاسم نے 712ء میں اپنی فتوحات کا آغاز کیا۔ برطانوی تاریخ دان ایلیٹ کے مطابق موجودہ کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ، دیبل میں شامل تھے۔ موجودہ نام کراچی سے پہلے کراچی کو مکران (بلوچستان) کے علاقے کولانچ کی ایک بلوچ مائی جو کولانچ سے ھجرت کر کے یہاں آباد ہوئی تھی کی نسبت سے مائی کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا جس کی تمام تر آبادی بلوچ تھی مائی کولاچی سے بعد میں کولاچی اور بگڑ کر انگریزوں کے دور میں کراچی ھو گئی 1772ء کو مائی کولاچی کو مسقط اور بحرین کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بندرگاہ منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے یہ گاؤں تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ یوں مائی کولاچی میں بلوچوں کے علاوہ ہمسایہ علاقوں کی کمیونٹی بھی بڑی تعداد میں بس گئی بڑھتے ہوئے شہر کی حفاظت کے لیے شہر کی گرد فصیل بنائی گئی اور مسقط سے توپیں درآمد کرکے شہر کی فصیل پر نصب کی گئیں۔ فصیل میں 2 در تھے (بلوچی میں در گیٹ کو کہتے ہیں) ایک در (گیٹ) کا رخ سمندر کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں کھارادر (سندھی میں کھارودر) کہا جاتا اور دوسرے در (گیٹ) کا رخ لیاری ندی کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں میٹھادر (سندھی میں مٹھودر) کہا جاتا تھا۔ 1795ء تک کراچی (کولاچی) خان قلات کی مملکت کا حصہ تھا۔ اس سال سندھ کے حکمرانوں اور خان قلات کے درمیان میں جنگ چھڑ گئی اور کراچی پر سندھ کی حکومت کا قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد شہر کی بندرگاہ کی کامیابی اور زیادہ بڑے ملک کی تجارت کا مرکز بن جانے کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ اس ترقی نے جہاں ایک طرف کئی لوگوں کو کراچی کی طرف کھینچا وہاں انگریزوں کی نگاہیں بھی اس شہر کی طرف کھینچ لیں۔ انگریزوں نے 3 فروری 1839ء کو کراچی شہر پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ تین سال کے بعد شہر کو برطانوی ہندوستان کے ساتھ ملحق کرکے ایک ضلع کی حیثیت دے دی۔ انگریزوں نے کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو دریائے سندھ کی وادی کا اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے شہر کی ترقی پر اہم نظر رکھی۔ برطانوی راج کے دوران میں کراچی کی آبادی اور بندرگاہ دونوں بہت تیزی سے بڑھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں کراچی میں 21 ویں نیٹِو انفنٹری نے 10 ستمبر کو مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر سے بیعت کر لی۔ انگریزوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور "بغاوت" کا سر کچل دیا۔ 1876ء میں کراچی میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت تک کراچی ایک ترقی یافتہ شہر کی صورت اختیار کر چکا تھا جس کا انحصار شہر کے ریلوے اسٹیشن اور بندرگاہ پر تھا۔ اس دور کی اکثر عمارتوں کا فن تعمیر کلاسیکی برطانوی نوآبادیاتی تھا، جو بر صغیر کے اکثر شہروں سے مختلف ہے۔ ان میں سے اکثر عمارتیں اب بھی موجود ہیں اور سیاحت کا مرکز بنتی ہیں۔ اسی دور میں کراچی ادبی، تعلیمی اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن رہا تھا۔ کراچی آہستہ آہستہ ایک بڑی بندرگاہ کے گرد ایک تجارتی مرکز بنتا گیا۔ 1880 کی دہائی میں ریل کی پٹڑی کے ذریعے کراچی کو باقی ہندوستان سے جوڑا گیا۔ 1881 میں کراچی کی آبادی 73،500 تک، 1891 میں 105،199 اور 1901 میں 115،407 تک بڑھ گئی۔ 1899 میں کراچی مشرقی دنیا کا سب سے بڑا گندم کی درآمد کا مرکز تھا۔ جب 1911 میں برطانوی ہندوستان کا دار الحکومت دہلی بنا تو کراچی سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی۔ 1936 میں جب سندھ کو صوبہ کی حیثیت دی گئی تو کراچی کو اس کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔ 1947 میں کراچی کو پاکستان کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی صرف چار لاکھ تھی۔ اپنی نئی حیثیت کی وجہ سے شہر کی آبادی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا اور شہر خطے کا ایک مرکز بن گیا۔ پاکستان کا دار الحکومت کراچی سے راولپنڈی اور پھر اسلام آباد منتقل تو ہوا لیکن کراچی اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔ کراچی 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں تشدد، سیاسی اور سماجی ہنگامہ آرائی اور دہشت گردی کا شکار بنا رہا۔ موجودہ دہائی میں کراچی میں امن عامہ کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے شہر میں بہت ترقی ہوئی۔ ابھی کراچی میں ترقیاتی کام بہت تیزی سے جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی ایک عالمی مرکز کی شکل میں ابھر رہا ہے۔ موسم، جغرافیہ اور محل وقوع کراچی جنوبی پاکستان میں بحیرہ عرب کے عین شمال میں واقع ہے۔ شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ ہے جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں ہیں۔ شہر کے درمیان میں سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اور لیاری ندی۔ (سیلابی ند یاں) اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں)( اور برساتی نالے)گزرتی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ چونکہ بندرگاہ ہر طرف سے زمین سے گھری ہوئی ہے اس ليے اس کو ایک بہت خوبصورت قدرتی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ موسم ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم بہت معتدل ہے۔ شہر میں بارشیں کم ہوتی ہیں، سال میں اوسطا 250 ملی میٹر، جن کا زیادہ تر حصہ مون سون میں ہوتا ہے۔ کراچی میں گرمیاں اپریل سے اگست تک باقی رہتی ہیں اور اس دوران میں ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ رہتا ہے۔ نومبر سے فروری شہر میں موسم سرما مانا جاتا ہے۔ دسمبر اور جنوری شہر میں سب سے زیادہ آرام دہ موسم کے مہینے ہیں اور اس وجہ سے شہر میں انھی دنوں میں سب سے زیادہ تقاریب اورسیاحت ہوتی ہے۔ اس شہر کا عام طور موسم سرما سے زیادہ واسطہ نہیں پڑتا اور یہاں کا موسم گرم مرطوب ہی رہتا ہے لیکن 21 جنوری 1934 میں کراچی والوں نے ایک ایسا دن دیکھا جب کراچی کا درجہ حرارت 0 ڈگری ہو گیا۔ فائل:PK Chaukhandi Necropolis near Karachi asv2020-02 img08.jpg|alt=|15 ویں 18 ویں صدی میں چوکھنڈی مقبرے کراچی کے مشرق میں 29 کلومیٹر (18 میل) دور واقع ہیں۔ فائل:Manora Beach, Karachi Pakistan.jpg|alt=|منورہ قلعہ، جو کراچی کے دفاع کے لیے 1797 میں تعمیر کیا گیا تھا، 3 فروری 1839 کو انگریزوں نے قبضہ کر لیا اور 1888–1889 میں اپ گریڈ کیا۔ فائل:Karachi1889.jpg|alt=|کراچی کی ایک قدیم تصویر 1889ء فائل:St Joseph Convent School Karachi in 1910.jpg|alt=|پرانی کراچی فائل:A street in Old Town, Karachi, India. Photograph, 1897. Wellcome V0029261.jpg|alt=|میٹھادر میں کراچی کی رامپارٹ رو گلی کی ایک تصویر (1897) فائل:Karachi Municipal Corporation (KMC) Head Office at M.A Jinnah Road - Photo By Aliraza Khatri.jpg|alt=|کراچی میں نوآبادیاتی دور کی ہند-سراسینک فن تعمیر کی متعدد مثالیں پیش کی گئی ہیں، جیسے کے ایم سی بلڈنگ۔ فائل:Karachi Frere Hall.jpg|فریئر ہال، برطانوی راج کے دوران میں ان کے طرز تعمیر کی ایک مثال فائل:Karachi, civic centre.jpeg|سوک سینٹر، شہری حکومت کا دفتر فائل:Karachi ali 2010008 lrg.jpg|alt=|سیٹللائٹ سے کراچی کا ایک منظر فائل:HawkesBay.jpg|alt=|ہاکس بے فائل:Karachi beach panorama.jpg|alt=|بحیرہ عرب نے کراچی کی آب و ہوا کو متاثر کیا ہے، جس سے صوبہ داخلہ سندھ کے مقابلے میں شہر کو زیادہ اعتدال پسند درجہ حرارت ملتا ہے۔ فائل:Kharachi Port.JPG|alt=|کراچی پورٹ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اور مصروف گہرے پانی کی بندرگاہ ہے۔ حکومت کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں ہوا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی بنا دیا گیا۔ سن 2000ء میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 2001ء میں اس منصوبے کے نفاذ سے پہلے کراچی انتظامی ڈھانچے میں دوسرے درجے کی انتظامی وحدت یعنی ڈویژن، کراچی ڈویژن، تھا۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع، ضلع کراچی جنوبی، ضلع کراچی شرقی، ضلع کراچی غربی، ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔ فائل:Karachi, civic centre.jpeg|alt=سوک سینٹر|سوک سینٹر، شہری حکومت کا دفتر فائل:Karachi Chamber of Commerce.jpg|alt=کراچی چیمبر آف کامرس بلڈنگ|کراچی چیمبر آف کامرس بلڈنگ۔ وسطی کراچی میں اس طرح کی متعدد عمارتیں نوآبادیاتی دور سے ملتی ہیں فائل:Karachi Municipal Corporation Headoffice.jpeg|alt=کے ایم سی|کراچی میونسپل کارپوریشن کا صدر دفتر سن 2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں جوڑ لیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔ * سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ * ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن * یونین کونسل ایڈمنسٹریشن ضلع کراچی کو 18 ٹاؤن(بلدیات) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑے کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، باغات، ٹریفک سگنل (حمل و نقل کی ہم آہنگی) اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔ بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔ یہ ٹاؤنز(بلدیات) مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یوسی ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبہ جات اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔ 2005ء میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں سید مصطفیٰ کمال نے کامیابی حاصل کی اور نعمت اللہ خان کی جگہ کراچی کے ناظم قرار پائے جبکہ نسرین جلیل شہر کی نائب ناظمہ قرار پائیں۔ مصطفیٰ کمال ناظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل صوبہ سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی تھے۔ ان سے قبل کراچی کے ناظم نعمت اللہ خان 2004ء اور 2005ء کے لیے ایشیا کے بہترین ناظمین میں سے ایک قرار پائے تھے۔ مصطفیٰ کمال نعمت اللہ خان کا شروع کردہ سفر جاری رکھتے ہوئے شہر میں ترقی میں کافی تیزی سے کام کیا۔ لیکن 2010 کے بعد کراچی شہر میں بلدیاتی نظام کے خاتمے کے بعد سے کراچی شہر کی ترقی کافی حد تک رک سی گئی تھی لیکن 2015 میں عام انتخابات کے بعد سے نئی حکومتوں کے بعد شہر کی تعمیر و ترقی کا دوبارہ سے آغاز ہو چکا ہے۔ کراچی شہر مندرجہ ذیل قصبات میں تقسیم ہے: واضح رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم ہے لیکن وہ کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔ شہری انتظامیہ اعداد و شمار تصغیر|320px|کراچی کی آبادی 1860 ۔ 2006 گذشتہ 150 سالوں میں کراچی کی آبادی و دیگر اعداد و شمار میں واضح تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ غیر سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق کراچی کی موجودہ آبادی 24 ملین ہے۔ جو 1947ء کے مقابلے میں 37 گنا زیادہ ہے۔ آزادی کے وقت کراچی کی آبادی محض 4 لاکھ تھی۔ تقسیم ہند (1947) کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ ہجرت کر کے کراچی میں آ بسے۔ شہر کی آبادی اس وقت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جس میں اہم ترین کردار دیہات سے شہروں کو منتقلی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ کراچی ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی بین الاقوامی شہر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 94 اعشاریہ 04 فیصد آبادی شہر میں قیام پزیر ہے۔ اس طرح وہ صوبہ سندھ کا سب سے جدید علاقہ ہے۔ کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی۔ انڈیا سے آنے والے مہاجرین میں دہلی، یوپی، حیدرآباد دکن سے آنے والوں کے علاوہ گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجپوتانہ سے آنے والی ماڑواڑی، میمن، ملباری، باہری اور بعد میں مشرقی پاکستان سے آنے والی بہاری کمیونٹی قابل ذکر ہیں- شہر کے دیگر باسیوں میں سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان، گجراتی، کشمیری، سرائیکی اور 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین شامل ہیں جو 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کے بعد ہجرت کرکے شہر قائد پہنچے اور اب یہاں کے مستقل باسی بن چکے ہیں۔ ان مہاجرین میں پختون، تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمان شامل تھے۔ ان کے علاوہ ہزاروں بنگالی، عرب، ایرانی، اراکانی کے مسلم مہاجرین (برما کی راکھائن ریاست کے ) اور افریقی مہاجرین بھی کراچی میں قیام پزیر ہیں۔ آتش پرست پارسیوں کی بڑی تعداد بھی تقسیم ہند سے قبل سے کراچی میں رہائش پزیر ہے۔ کراچی کے پارسیوں نے شہر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اہم سرکاری عہدوں اور کاروباری سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے شامل رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ان کی اکثریت مغربی ممالک کو ہجرت کرگئی تاہم اب بھی شہر میں 5 ہزار پارسی آباد ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں گوا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک مسیحیوں کی بھی بڑی تعداد آبادی ہے جو برطانوی راج کے زمانے میں یہاں پہنچی تھی۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی لسانی تقسیم اس طرح سے ہے: اقتصادیات کراچی پاکستان کا تجارتی دار الحکومت ہے اور جی ڈی پی کے بیشتر حصہ کا حامل ہے۔ قومی محصولات کا 65 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریباً تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ "آئی آئی چندریگر روڈ"(سابق میکلیوڈ روڈ) پر قائم ہیں۔ فائل:Karachi downtown.jpeg|alt=|کراچی کی بلند عمارات کا ایک منظر فائل:Karachi City view towards port.jpeg|پاکستان کی وال اسٹریٹ "آئی آئی چندریگر روڈ"، رات کے وقت فائل:Charminar-Bahadurabad, Karachi.jpg|alt=|چارمینار بہادر آباد، کراچی فائل:Bahria Icon Karachi 1.jpg|alt=|300 میٹر (980 فٹ) کی بلندی پر، بحریہ آئکن ٹاور پاکستان کی بلند ترین فلک بوس عمارت ہے۔ فائل:Old building of State Bank of Pakistan, Now its known as State Bank Museum.jpg|alt=|اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابقہ عمارت نوآبادیاتی دور کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔ فائل:Creek Vista towers, Karachi.jpeg|کریک ٹاورز (زیر تعمیر) فائل:Lucky One Mall.jpg|alt=|لکی ون مال پاکستان کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ہے جس کا رقبہ لگ بھگ 3.4 ملین مربع فٹ ہے دبئی کا معروف تعمیراتی ادارہ ایمار پراپرٹیز کراچی کے دو جزائر بنڈل اور بڈو پر 43 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت سے تعمیراتی کام کا آغاز کر رہا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ 20 ارب روپے کے ایک منصوبے پورٹ ٹاور کمپلیکس کا آغاز کر رہی ہے جو ایک ہزار 947 فٹ بلندی کے ساتھ پاکستان کی سب سے بلند عمارت ہوگی۔ اس میں ایک ہوٹل، ایک شاپنگ سینٹر اور ایک نمائشی مرکز شامل ہوگا۔ عمارت کی اہم ترین خوبی اس کا گھومتا ہوا ریستوران ہوگا جس کی گیلری سے بدولت کراچی بھر کا نظارہ کیا جاسکے گا۔ مذکورہ ٹاور کلفٹن کے ساحل پر تعمیر کیا جائے گا۔ بینکنگ اور تجارتی دار الحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں پاکستان میں کام کرنے والے تمامبین الاقوامی اداروں کے بھی دفاتر قائم ہیں۔ یہاں پاکستان کا سب سے بڑا بازار حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی موجود ہے جو اب پاکستان اسٹاک ایکسچینج بن چکا ہے۔ اس نے 2005ء میں پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹی)، الیکٹرانک میڈیا اور کال سینٹرز کا نیا رحجان بھی شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں (شرکتوں)کے کال سینٹرز کو ترقی کے ليے بنیادی ہدف قرار دیا گیا ہے اور حکومت نے آئی ٹی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ليے محصولات میں 80 فیصد تک کمی کے ليے کام کر رہی ہے [حوالہ درکار]۔ کراچی پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے۔ پاکستان کے کئی نجی ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں کے صدر دفاتر بھی کراچی میں ہیں جن میں سے جیو، اے آروائی، ڈان، ہم، ایکسپرس اور آج ٹی وی مشہور ہیں۔ مقامی سندھی چینل کے ٹی این، سندھ ٹی وی اور کشش ٹی وی بھی معروف چینل ہیں۔ کراچی میں کئی صنعتی زون واقع ہیں جن میں کپڑے، ادویات، دھاتوں اور آٹو موبائل کی صنعتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ مزيد برآں کراچی میں ایک نمائشی مرکز ایکسپو سینٹر بھی ہے جس میں کئی علاقائی و بین الاقوامی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔ ٹویوٹا اور سوزوکی موٹرز کے کارخانے بھی کراچی میں قائم ہیں۔ اس صنعت سے متعلق دیگر اداروں میں ملت ٹریکٹرز، آدم موٹر کمپنی اور ہینو پاک کے کارخانے بھی یہیں موجود ہیں۔ گاڑیوں کی تیاری کا شعبہ پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ابھرتی ہوا صنعتی شعبہ ہے جس کا مرکز کراچی ہے۔ کراچی بندرگاہ اورمحمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں جبکہ جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں کراچی کو ترقی پزیر دنیا میں ترقی کا رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوبی کوریا نے شہر کا دوسرا پنج سالہ منصوبہ برائے 1960ء تا 1965ء نقل کیا۔ تعمیرات پورٹ ٹاور کمپلیکس (مجوزہ) کریسنٹ بے (منظور شدہ) کراچی کریک مرینا (زیر تعمیر) ڈولمین ٹاورز (زیر تعمیر) آئی ٹی ٹاور (منظور شدہ) بنڈل جزیرہ (منظور شدہ) بڈو جزیرہ (منظور شدہ)(اب کام رک چکا ہے) اسکوائر ون ٹاورز (زیر تعمیر) کراچی ماس ٹرانزٹ نظام انشاء ٹاورز (منظور شدہ) ایف پی سی سی آئی ٹاور (مجوزہ) ثقافت تصغیر|250px|ہندو جیم خانہ (ناپا) کراچی پاکستان کے چند اہم ترین ثقافتی اداروں کا گھر ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد ہندو جیم خانہ میں قائم کردہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کلاسیکی موسیقی اور جدید تھیٹر سمیت دیگر شعبہ جات میں دو سالہ ڈپلوما کورس پیش کرتا ہے۔ آل پاکستان میوزیکل کانفرنس 2004ء میں اپنے قیام کے بعد سالانہ میوزک فیسٹیول منعقد کر رہا ہے۔ یہ فیسٹیول شہری زندگی کے ایک اہم جز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور 3 ہزار سے زائد شہری اس میں شرکت کرتے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے بھی مہمان تشریف لاتے ہیں۔ کوچہ ثقافت میں مشاعرے، ڈرامے اور موسیقی پیش کی جاتی ہے۔ کراچی میں قائم چند عجائب گھروں میں معمول کی بنیادوں پر نمائشیں منعقد ہوتی ہیں جن میں موہٹہ پیلس اور قومی عجائب گھر شامل ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر منعقدہ کارا فلم فیسٹیول میں پاکستانی اور بین الاقوامی آزاد اور دستاویزی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔ کراچی کی ثقافت مشرق وسطی، جنوبی ایشیائی اور مغربی تہذیبوں کے ملاپ سے تشکیل پائی ہے۔ کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی قیام پزیر ہے۔ کراچی صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے۔ تعلیم تصغیر|250px|فاسٹ انسٹی ٹیوٹ۔ نیشنل یونیورسٹی کا کراچی کیمپس 250px|بائیں|بائی ویربائیجی سوپریوالا (B.V.S.) پارسی ہائی اسکول پاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی کراچی شہر میں ہے جہاں کئی جامعات اور کالیجز قائم ہیں۔ کراچی اپنی کثیر نوجوان آبادی کے باعث ملک بھر میں جانا جاتا ہے۔ کراچی کی کئی جامعات ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہیں۔ کراچی کے اہم تعلیمی ادارے درج ذیل ہیں؛ * جامعہ کراچی * این ای ڈی انجینیئرنگ یونی ورسٹی * ڈائو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز * داؤد انجینیئرنگ یونی ورسٹی * جناح میڈیکل یونیورسٹی * آغا خان یونی ورسٹی اینڈ اسکول آف نرسنگ * کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج * انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن * انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینیجمینٹ اکاؤنٹس * نیشنل انسٹیٹوٹ آف پرفارمنگ آرٹس * سندھ لا یونیورسٹی کھیل تصغیر|250px|کراچی میں بین الاقوامی کرکٹ کا مرکز، نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے مشہور کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، مکے بازی، فٹ بال اور گھڑ دوڑ شامل ہیں۔ بین الاقوامی مرکز نیشنل اسٹیڈيم کے علاوہ کرکٹ کے میچز(مقابلے) یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، اے او کرکٹ اسٹیڈیم، کے سی سی اے کرکٹ گراؤنڈ، کراچی جیم خانہ گراؤنڈ اور ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم پر منعقد ہوتے ہیں۔ شہر میں ہاکی کے ليے ہاکی کلب آف پاکستان اور یو بی ایل ہاکی گراؤنڈ، باکسنگ کے ليے کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس، اسکواش کے ليے جہانگیر خان اسکواش کمپلکیس اور فٹبال کے ليے پیپلز فٹ بال اسٹیڈیم اور پولو گراؤنڈ، کراچی جیسے شاندار مراکز قائم ہیں۔ 2005ء میں شہر کے پیپلز فٹ بال اسٹیڈيم میں ساف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ منعقد ہوا۔ کشتی رانی بھی کراچی کی کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ تصغیر|250px|کراچی کارساز گالف کلب کراچی جیم خانہ، سندھ کلب، کراچی کلب، مسلم جیم خانہ، کریک کلب اور ڈی ایچ اے کلب سمیت دیگر کھیلوں کے کلب اپنے ارکان کو ٹینس، بیڈمنٹن، اسکواش، تیراکی، دوڑ، اسنوکر اور دیگر کھیلوں کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ کراچی میں دو عالمی معیار کے گالف کلب ڈي ایچ اے اور اور کارساز قائم ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں چھوٹے پیمانے پر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی ہیں جن میں سب سے مشہور نائٹ کرکٹ ہے جس میں ہر اختتام ہفتہ پر چھوٹے موٹے میدانوں اور گلیوں میں برقی قمقموں میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ مراکز صحت کراچی میں بین الاقوامی معیار کی تقریباً تمام طبی سہولیات موجود ہیں- کراچی کے طبی اداروں میں جگر کی پیوندکاری، گردوں کی پیوندکاری، آنکھوں کی پیوندکاری سمیت دل کے بائی پاس اور انجیوگرافی کی سہولیات موجود ہیں- کراچی میں مندرجہ ذیل اہم طبی ادارے ہیں؛ * جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر * سندھ انسٹیٹوٹ آف یورینری ٹریکٹ * کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈس ایز * اسپنسر آئی اسپتال * آغا خان اسپتال * لیاقت نیشنل ہسپتال * قومی ادارہ برائے امراض قلب * قومی ادارہ برائے صحت اطفال * ضیاء الدین ہسپتال دلچسپ مقامات 200px|بائیں|تصغیر|مزار قائد۔ بابائے قوم [[محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ]] * مزار قائد۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ * کراچی یونی ورسٹی * کوچہ ثقافت * مسجد طوبٰی۔ واحد گنبد کی دنیا کی سب سے بڑی مسجد * آئی آئی چندریگر روڈ۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ * آغا خان یونیورسٹی ہسپتال * کراچی چڑیا گھر (زولوجیکل اینڈ باٹنیکل گارڈن ) * باغ ابن قاسم، کلفٹن * زیب النساء اسٹریٹ * برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ * طارق روڈ (خریداری کا مرکز) * کیماڑی پائیر ساحل کراچی تصغیر|600px 500px|تصغیر|سی ویو روڈ ، کراچی تصغیر|250px|ڈی ایچ اے مرینا کلب |350px|بائیں|ڈی ایچ اے ، کراچی میں ایک مسجد |350px|بائیں|جنوبی ہندوستان میں حیدرآباد سے آنے والے مہاجرین اور مہاجروں کی بڑی تعداد میں کراچی واقع ہے ، جس نے کراچی کے بہادر آباد علاقے میں حیدرآباد کی مشہور چارمینار یادگار کی ایک چھوٹی سی نقل تیار کی تھی۔ * منوڑہ کا ساحل * کلفٹن اور جہانگیر کوٹھاری پریڈ * سی ویو، کلفٹن * ڈی ایچ اے مرینا کلب * ہاکس بے * پیراڈائز پوائنٹ * سینڈز پٹ بیچ * فرنچ بیچ * رشین بیچ * پورٹ فاؤنٹین۔ 600 فٹ بلند فوارہ * زمزمہ تجارتی مرکز۔ اپنے بوتیک اور کیفے کے ليے مشہور * عبد اللہ شاہ غازی کا مزار عجائب گھر * پاکستان ایئر فورس میوزیم * قومی عجائب گھر * موہٹہ پیلس، کراچی و خطے کی تاریخ کا عجائب گھر * میری ٹائم میوزیم * اسٹیٹ بینک میوزیم برطانوی راج کے دور کی عمارات * ایشیا بلڈنگ(سابق قید خانہ)تصغیر|250px|ایشیا بلڈنگ * ایمپریس مارکیٹ * پرانا الاکو ہاؤس تصغیر|250px|پرانا الاکو ہاؤس تصغیر|250px|ایمپریس مارکیٹ * جہانگیرکوٹھاری پریڈ تصغیر|250px|[جہانگیرکوٹھاری پریڈ * خالقدینا ہالتصغیر|250px|خالقدینا ہال * ڈی جے سائنس کالجتصغیر|250px|ڈی جے سائنس کالج * ڈنسوہال لائبریری تصغیر|250px|ڈنسوہال لائبریری * سابق وکٹوریا میوزیم * فیض حسینی بلڈنگ تصغیر|250px|فیض حسینی بلڈنگ * قائد اعظم ہاؤس میوزیم :کچہریتصغیر|250px|کچہری * کراچی پورٹ ٹرسٹ تصغیر|250px|کراچی پورٹ ٹرسٹ * کراچی سٹی اسٹیشن * کراچی کینٹونمنٹ سٹیشن1 تصغیر|250px|کراچی کینٹونمنٹ * کراچی کینٹونمنٹ سٹیشن2 250px|بائیں|کراچی کینٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن شہر کا ایک بنیادی ٹرانسپورٹ مرکز ہے۔ * کراچی مندر تصغیر|250px|شری سوامی نارائن مندر * کراچی سٹی اسٹیشن * فری میسن ہال * کراچی میونسپل کارپوریشن بلڈنگ * کرائسٹ دی کنگ یادگارتصغیر|250px|کرائسٹ دی کنگ یادگار * سندھ کلب * سندھ ہائی کورٹ تصغیر|250px|سندھ ہائی کورٹ * سینٹ اینڈریوزچرچتصغیر|250px|سینٹ اینڈریوزچرچ * شری لکشمی نرائن مندر تصغیر|250px|شری لکشمی نرائن مندر * سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل تصغیر|250px|سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل * فریئر ہال * گورنر ہاؤس * لوٹیا بلڈنگ تصغیر|250px|لوٹیا بلڈنگ * لیڈی ڈفرین ہسپتالتصغیر|250px|لیڈی ڈفرین ہسپتال * میری ویدرٹاورتصغیر|250px|میری ویدرٹاور * میولز مینشنتصغیر|250px|میولز مینشن * دوا خانہ وزیرمینشنتصغیر|250px|وزیرمینشن * ہندو جیم خانہ (اب نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے زیر استعمال ہے) * ہولی ٹرینیٹی کیتھیڈرل تصغیر|250px|آٹھویں صدی کے صوفی ، عبد اللہ شاہ غازی ، کراچی کے سرپرست بزرگ ہیں تصغیر|250px|شمالی کراچی کا ایک اہم چوراہا ناگن چورنگی ہے۔ جزائر * بنڈل * بابابھٹ * شمس پیرسینڈزپٹ * کلفٹن آئسٹر روکس * منوڑہ باغات * آنٹی پارک (کلفٹن) * باغ جناح (سابق پولوگراؤنڈ) * الہ دین پارک (راشد منہاس روڈ) * بارہ دری پارک (سابق پولوگراؤنڈ) * بلوچ پارک * امیر خسرو پارک ( کلفٹن) * باغ ا بن قاسم (سابق کلفٹن پارک) * بے دھاوارلائبریری پارک (پارسی کالونی) * پرانی سبزی منڈی پارک (یونیورسٹی روڈ) * تکون پارک * جہا نگیر پارک (صدر) * چھاؤنی پارک (ملیرچھاؤنی) * ڈولفن بیچ پارک(کلفٹن) * سفاری پارک (یونیورسٹی روڈ) * سہراب کٹرک پارک * سند باد * سی ویو پارک * عزیز بھٹی پارک * عسکری پارک * شہید نثار پارک فیز 4 ڈیفنس * فورم پارک(کلفٹن) * کراچی چڑیا گھر (گاندھی گارڈن) * کشمیر پارک * کھوڑی گارڈن * گبول پارک * گٹرباغیچہ * مجاہد شہید ماڈل پارک * مولانامحمدعلی جوہر پارک * مولوی عثمان پارک * محمدی پارک * نباتاتی باغ(یونیورسٹی روڈ) * نثارشہید پارک * ہل پارک کھیل کے میدان * الجعفر پلے گراؤنڈ * “ایف“ بلاک پلے گراؤنڈ * بنگلورٹاون گراؤنڈ * پاکستانی بہروں کا گراؤنڈ * جناح گراؤنڈ * ریلوے گراؤنڈ * زاہد گراؤنڈ * شرف آباد کریکٹ گراؤنڈ * فاتح باغ * کے جی اے گراؤنڈ * کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ گراؤنڈ * کوکن گراؤنڈ * کھجی گراؤنڈ کشتزار (فارم ہاؤسز) * جان فارم ہاؤس * شمسی ریزورٹ(ملیرچھاؤنی) * میمن فارم ہاؤس * ولیج گارڈن میلے (ریزورٹس) * ڈریم ورلڈ ریزورٹ * ریس کورس * ریس کورس یونیورسٹی روڈ ایوان عکس (سینیما) * کیپری سینما * نشاط سینما ( بابری مسجد سانحہ کے بعد اسے مظاہرین نے جلا دیا ) * پرنس سینما یونیورس سنیپلیکس (کلفٹن) شرب و طعام (فوڈ اینڈ ڈرنکس) * حیدرآباد کالونی * برنس روڈ علاوہ ازیں کلفٹن، ڈي ایچ اے، شارع فیصل، نارتھ ناظم آباد، کریم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر وغیرہ میں بھی کئی مراکز ہیں۔ حسین آباد کو کو دوسرا برنس روڈ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیونکہ یہاں بھی بے شمار فوڈ اینڈ ڈرنکس کے مراکز ہیں۔ کلفٹن کا ساحل ماضی قریب میں دو مرتبہ تیل کی رسائی کے باعث متاثر ہو چکا ہے جس کے بعد ساحل کی صفائی کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں رات کے وقت تفریح کے ليے ساحل پر برقی قمقمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کراچی کی ساحلی پٹی کی خوبصورتی کے ليے کلفٹن میں بیچ پارک قائم کیا ہے جو جہانگیر کوٹھاری پیریڈ اور باغ ابن قاسم سے منسلک ہے۔ شہر کے قریب دیگر ساحلی تفریحی مقامات بھی ہیں جن میں سینڈزپٹ، ہاکس بے، فرنچ بیچ، رشین بیچ اور پیراڈائز پوائنٹ معروف ہیں۔ * مزار قائد۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ * کوچہ ثقافت * مسجد طوبٰی۔ واحد گنبد کی دنیا کی سب سے بڑی مسجد * آئی آئی چندریگر روڈ۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ * آغا خان یونیورسٹی ہسپتال علاقوں کے دلچسپ نام اس کے علاقوں کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ نام۔ # پاپوش نگر (یعنی جوتوں کا علاقہ ) # انڈا موڑ (نارتھ کراچی) # کریلا موڑ ( نارتھ کراچی ) # بھائی جان چوک (فیڈرل بی ایریا) # چیل چوک (لیاری) # مچھر کالونی (دو ہیں۔ گل بائی/الآصف) # پرفیوم چوک (گلستان جوہر) # بھینس کالونی (لانڈھی) # ناگن چورنگی (نارتھ کراچی) # کالا پل (ڈیفنس) # کنواری کالونی (منگھوپیر) # 2 منٹ چورنگی ( نارتھ کراچی) # فقیر کالونی # خاموش کالونی # فیوچر کالونی # پٹھان کالونی # گٹر باغیچہ # ناصر جمپ # خدا کی بستی # رنچھوڑ لائن # قلندریہ چوک # گل بائی # مینٹل چوک (لانڈھی) # نانک واڑہ # بھیم پورہ # مرغی خانہ ( قائد آباد) # لنڈی کوتل (نارتھ ناظم آباد) # کٹی پہاڑی # مکا چوک # دو اور تین تلوار (کلفٹن) # کالا بورڈ (ملیر/ جوہرآباد) # پٹیل پاڑہ # گیدڑ کالونی # کمھار واڑہ # بندر روڈ # 24 مارکیٹ (بلدیہ ٹاون) # اچانک چوک # انگارہ گوٹھ # گولیمار # 100 کوارٹر (کورنگی) # برزٹہ لائن # لائینز ایریا # سنگھو لائین # رامسوامی # چمڑا چورنگی # ڈولی اور گاڑی کھاتہ # بادل نالہ # دنبہ گوٹھ (گڈاپ ملیر) # چاکی واڑہ # کھوڑی گارڈن # دوپٹہ گلی # ٹوکن اسٹاپ (ملیر) # بوتل گلی # پریشان چوک # یوپی موڑ # نالہ اسٹاپ ( نیوکراچی ) # کچھی گلی (میڈیسن مارکیٹ) # ڈھائی نمبر (کورنگی) # دولت رام ( پرانی سبزی منڈی) # ساڑھے 3 نمبر۔ (کورنگی) # تین ہٹی # پیتل گلی # پہلوان گوٹھ # چنیسر ہالٹ # آدم بستی # کوڑھی گارڈن # مٹکے والی پلیہ کورنگی (دو مقامات) # انجام کالونی (بلدیہ) # 13 ڈی (گلشن) # کھڈا مارکیٹ # تاج کالونی # آگرہ تاج کالونی # جیکسن مارکیٹ # نیٹی جیٹی پل # دعا چوک # نورانی کباب۔(طارق روڈ) # بمبئ بازار # فوارہ چوک # انچولی۔ (گلبرگ) # 10 نمبر۔ (لالو کھیت) # چاندنی چوک # خلافت چوک # بڑا میدان، چھوٹا میدان # بھنگی پاڑہ # برف خانہ # کلّو چوک ( کورنگی نمبر 4) # انکوائری # محبت نگر۔ (ملیر) # سخی حسن # شیش محل (ملیر ) # موسمیات # چورنگی (ناظم آباد) # اچھی قبر # نیوچکی # نیو چالی # اللہ والا ٹاون # ڈالمیا # بے روزگار چوک # ایٹی نائن (داؤد چورنگی) # بکرا پیڑی (ملیر) اور (لیاری) خریداری کا مرکز تصغیر|250px|اتوار بازار میں کپڑوں کی فروخت کراچی پاکستان میں خریداری کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ لاکھوں صارفین اپنی ضروریات کی اشیاء خریدتے ہیں۔ صدر، گلف شاپنگ مال، بہادر آباد، طارق روڈ، زمزمہ، زیب النساء اسٹریٹ اور حیدری اس حوالے سے ملک بھر میں معروف ہیں۔ ان مراکز میں کپڑوں کے علاوہ دنیا بھر سے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء حاصل کی جا سکتی ہیں۔ برطانوی راج کے زمانے کی ایمپریس مارکیٹ مصالحہ جات اور دیگر اشیاء کا مرکز ہے۔ صدر میں ہی قائم رینبو سینٹر دنیا میں چوری شدہ سی ڈیز کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ دیگر اہم علاقوں میں پاپوش مارکیٹ اور حیدری شامل ہیں۔ ہر اتوار کو لیاقت آباد میں پرندوں اور پالتو جانوروں کے علاوہ پودوں کا بازار بھی لگتا ہے۔ کراچی میں جدید تعمیرات کے حامل خریداری مراکز کی بھی کمی نہیں ہے، جن میں پارک ٹاورز، دی فورم، ملینیم مال اور ڈولمین مال خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اس وقت زیر تعمیر ایٹریم مال، جمیرہ مال، آئی ٹی ٹاور اور ڈولمین سٹی مال بھی تعمیرات کے شاہکار ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائون اور اضلاع کی سطح پر بھی ملبوسات، زیورات اور اشیائے صرف کی خریداری کے مراکز ہیں- جوڑیا بازار اور اس سے متصل صرافہ بازار اور کاغذی بازار بالترتیب اشیائے خورد، زیورات اور ملبوسات کے مرکزی بازار ہیں جہاں سے یہ شہر کے دوسرے بازاروں تک ان اشیاء کے پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہیں- لانڈھی کی بابر مارکیٹ، ملیر کی لیاقت مارکیٹ، واٹر پمپ مارکیٹ، ناظم آباد گول مارکیٹ، لیاقت آباد مارکیٹ، نیو کراچی کی کالی مارکیٹ، شاہ فیصل مارکیٹ، سولر بازار، رنچھوڑلین مارکیٹ، اورنگی میں پاکستان بازار اور کیماڑی کی جیکسن مارکیٹ اہم مقامی بازار ہیں- ذرائع نقل و حمل تصغیر|250px|جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ فضائی 250px|بائیں|کراچی کا جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا پاکستان کا سب سے مصروف اور دوسرا بڑا ہوائی اڈا ہے۔ کراچی ایک جدید بین الاقوامی ہوائی اڈے جناح انٹرنیشنل کا حامل ہے جو پاکستان کا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ شہر کا قدیم ایئرپورٹ ٹرمینل اب حج پروازوں، کارگو اور سربراہان مملکت کے ليے استعمال ہوتا ہے۔ نیا ہوائی اڈا 1993ء میں ایک فرانسیسی ادارے نے تیار کیا۔ بندر گاہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہیں بھی کراچی میں قائم ہیں جو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کہلاتی ہیں۔ یہ بندرگاہیں جدید سہولیات سے مزین ہیں اور نہ صرف پاکستان کی تمام تجارتی ضروریات کے مطابق کام کرتی ہیں بلکہ افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی سمندری تجارت بھی انہی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔ ریلوے کراچی پاکستان ریلویز کے جال کے ذریعے بذریعہ ریل ملک بھر سے منسلک ہے۔ شہر کے دو بڑے ریلوے اسٹیشن سٹی اور کینٹ ریلوے اسٹیشن ہیں۔ ریلوے کا نظام کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ملک بھر کو سامان پہنچانے کی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس وقت شہر میں بسوں اور منی بسوں نے عوامی نقل و حمل کا بیڑا اٹھارکھا ہے لیکن مستقبل میں شہر میں تیز اور آرام دہ سفر کے ليے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور ماس ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کا منصوبہ بھی موجود ہے۔ بائیں|250px|کراچی سرکلر ریلوے روٹ بائیں|250px|کراچی سرکلر ریلوے کراچی شہر کو دنیا کے اور ممالک کی طرح نقل و حمل کے نئے طرز کے وسائل فراہم کرنے کے لیے اٹھارویں صدی کے اواخر میں ٹرام گاڑی چلانے کی تجویز پیش کی گئی، نتیجتاً اکتوبر 1884 میں اس پر کام شروع ہو گیا- ٹرامیں(1885–1975) سڑکوں پر باقائدگی سے یہ خدمت انجام دیتی رہی- لیکن سیاسی گٹھ جوڑکی وجہ سے اس سہولت کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر نہ بنایا جا سکا- جیسا کہ دنیا بھر کے اور شہروں میں ہوا ہے۔ زمینی ملکیت کراچی ساحل کے ساتھ نیم صحرائی علاقے پر قائم ہیں جہاں صرف دو ندیوں ملیر اور لیاری کے ساتھ ساتھ موجود علاقے کی زمین ہی زراعت کے قابل ہے۔ آزادی سے قبل کراچی کی اکثر آبادی ماہی گیروں اور خانہ بدوشوں پر مشتمل تھی اور بیشتر زمین سرکاری ملکیت تھی۔ آزادی کے بعد کراچی کو ملک کا دار الحکومت قرار دیا گیا تو زمینی علاقے ریاست کے زیر انتظام آ گئے۔ 1988ء میں کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 4 لاکھ 25 ہزار 529 ایکڑ (1722 مربع کلومیٹر) میں سے تقریباً 4 لاکھ ایکڑ (1600 مربع کلومیٹر) کسی نہ کسی طرح سرکاری ملکیت ہے۔ حکومت سندھ ایک لاکھ 37 ہزار 687 ایکڑ (557 مربع کلومیٹر)، کے ڈی اے ایک لاکھ 24 ہزار 676 ایکڑ، کراچی پورٹ ٹرسٹ 25 ہزار 259 ایکڑ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) 24 ہزار 189 ایکڑ، آرمی کنٹونمنٹ بورڈ 18 ہزار 569 ایکڑ، پاکستان اسٹیل مل 19 ہزار 461 ایکڑ، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی 16 ہزار 567 ایکڑ، پورٹ قاسم 12 ہزار 961 ایکڑ، حکومت پاکستان 4 ہزار 51 ایکڑ اور پاکستان ریلوے 12 ہزار 961 ایکڑ رقبے کی حامل ہے۔ 1990ء کی دہائی میں کے ڈی اے کی غیر تعمیر زمین ملیر ڈيولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو منتقل کردی گئی۔ مسائل تصغیر|250px|آئی آئی چندریگر روڈ پر ٹریفک جام کا ایک منظر کراچی دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں سے ایک ہے اس ليے اسے بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک، آلودگی، غربت، دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کا سامناہے۔ اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہر سال 550 افراد ٹریفک حادثوں میں اپنی جان گنواتے ہیں۔ شہر میں کاروں کی تعداد سڑکوں کے تعمیر کردہ ڈھانچے سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹریفک کے ان مسائل سے نمٹنے کے ليے شہر میں نعمت اللہ خان کے دور میں کئی منصوبے شروع کیے گئے جن میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز شامل ہیں۔ بڑھتے ہوا ٹریفک اور دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو کھلی چھٹی کے باعث شہر میں آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ کراچی میں فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے متعین کردہ معیار سے 20 گنا زیادہ ہے۔ ٹریفک کے علاوہ کوڑے کرکٹ کو آگ لگانا اور عوامی شعور کی کمی بھی آلودگی کا بڑا سبب ہے۔ ایک اور بڑا مسئلہ شاہراہوں کو چوڑا کرنے کے ليے درختوں کی کٹائی ہے۔ کراچی میں پہلے ہی درختوں کی کمی ہے اور موجود درختوں کی کٹائی پر ماحولیاتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ جس پر شہری حکومت نے ستمبر 2006ء سے تین ماہ کے ليے شجرکاری مہم کا اعلان کیا۔ پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کھلی جگہوں پر ناجائز تجاوازات تعمیر کا مسئلہ کراچی میں بھی عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے پریشان کن ہے۔ ان کے علاوہ فراہمی آب اور بجلی کی فراہمی میں تعطل شہر کے دو بڑے مسائل ہیں خصوصاً 2006 کے موسم گرما میں کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عالمی شہرت حاصل کی۔ مدارس * دار العلوم کراچی، کورنگی * دار العلوم امجدیہ * دار العلوم نعیمیہ * جامعہ اسلامیہ، نیو ٹاؤن * جامعہ بنوریہ، سائٹ * جامعات المدینہ و مدارس المدینہ دعوت اسلامی * جامعہ فاروقیہ شراکت دار شہر * مشہد، ایران * قم، ایران * تیانجن، چین * Ürümqi، چین بیرونی روابط شہری حکومت کی آفیشل ویب گاہ کراچی اسٹاک ایکسچینج جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی بندرگاہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کراچی کی سیٹیلائٹ تصویر کراچی آپ ڈیٹس کراچی کی تازہ ترین صورت حال کراچی کی تاریخ، شہر کی پرانی تصاویر کے ساتھ کراچی کی تصویری البم از علی عدنان قزلباش کارا فلم فیسٹیول کراچی میں ٹرامیں مزید دیکھیے پاکستان کے شہر * لاہور * اسلام آباد * سکھر * فیصل آباد * ملتان * کوئٹہ * پشاور * ایبٹ آباد * گوادر * قصور * نوابشاہ * عمرکوٹ * مٹھی * نوری آباد * حیدرآباد * کوٹری * جامشورو * سیالکوٹ * جیکب آباد * دادو * بہاولپور * بہاولنگر * نارووال * شیخوپورہ * سوات * آزاد ابن حیدر * ڈاکٹر محمد علی شاہ * کانڈرا والا موٹرز * شیخ عاطف احمد شہر نتائج حوالہ جات زمرہ:ایشیا میں 1729ء کی تاسیسات زمرہ:بحر ہند کی بندرگاہیں زمرہ:پاکستان کے آباد مقامات زمرہ:پاکستان کے بندرگاہ شہر اور قصبے زمرہ:پاکستان کے دارالحکومت زمرہ:پاکستان کے ریلوے اسٹیشن زمرہ:پاکستان کے ساحلی شہر اور قصبہ جات زمرہ:پاکستان کے شہر زمرہ:پاکستان کے میٹروپولیٹن علاقہ جات زمرہ:سابقہ قومی دار الحکومت زمرہ:سندھ کے آباد مقامات زمرہ:سندھ کے شہر ضلع کراچی زمرہ:ملین آبادی کے شہر زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:یونیورسٹی شہر زمرہ:1729ء میں آباد ہونے والے مقامات زمرہ:کراچی
[Wikipedia:ur] فلکیات تصغیر|230px|ہبل دوربین کی مدد سے دریافت ہونے والا [[سحابیۂ سرطان دراصل ایک ستارے کے پھٹنے کے بعد کے سوپر نووا کا تلچھٹ مادہ ہے۔]] فلکیات (یعنی: سِتاروں کا قانون؛ انگریزی: astronomy)، قُدرتی علوم کی ایک ایسی مخصُوص شاخ ہے جس میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، شہابیے، کہکشاں، وغیرہ) اور زمینی کرۂ ہوا‎ کے باہر روُنما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اِس میں آسمان پر نظر آنے والے اجسام کے آغاز، ارتقا اور طبعی و کیمیا‎‎ئی خصوصیات کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ فلکیات کے عالم کو فلکیات دان کہا جاتا ہے۔ جہاں فلکیات محض اجرامِ فلکی اور دیگر آسمانی اجسام پر غور کرتی ہے، وہاں پوری کائنات کے سالِم علم کو علم الکائنات کہتے ہیں۔ __TOC__ اشتقاقیات اُردُو زبان میں فلکیات، دراصل لفظ فلک کا ماخذ ہے۔ فلک سے مرادزمین کے کرّہ کے گرد کی وسیع آسمانی چادر ہے، لہٰذا اِس چادر پر عیاں مختلف اجسام (چاند، سورج، ستارے، سیارے، وغیرہ) کی جانچ پڑتال بھی فلکیات کے علوم میں شامل ہوتی ہیں۔ انگریزی میں اِسے ”ایسٹرونومی“ (astronomy) کہا جاتا ہے، جو یونانی زبان کے الفاظ ”ایسٹرون“ (ἄστρον؛ یعنی، ستارہ) اور ”نوموس“ (νόμος؛ یعنی، قانون) سے مل کر بنتا ہے۔ چنانچہ، فلکیات کا مفہوم ”سِتاروں کے علم“ یا ”سِتاروں کے قانون“ کا ہے۔ تاریخچہ تصغیر|230px|اسٹون ہینج کی بناوٹ میں استعمال ہونے والے جسیم پتھر سورج کے نظام کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ قدیم زمانے میں فلکیات کی پہنچ صرف اُن اجرامِ فلکی تک ہی محدود تھی جنہیں آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مثلاً سورج، چاند اور ستارے۔ یہ قدیم ماہرین فلکیات اکثر اِن اجرام کے مشاہدوں پر مبنی پشِين گوئیوں کیا کرتے تھے۔ تاریخی ابواب میں ایسی کئی تہذیبوں کا ذِکّر ملتا ہے جو اِن اجرام کی پوُجا بھی کیا کرتے تھے اور اسٹون ہینج کے طرز پر بنی مَصنُوعات اِس بات کی طرف اِشارہ کرتی ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی حد تک اِن مرئی فلکی اجرام کے نظام سے واقف تھے۔ اِن قدیم تہذیبوں کے لیے اِس طرح کی مَصنُوعات دراصل ایک طرح کی رصدگاہ کا کام سر انجام دیا کرتی تھیں، جو نہ صرف مذہبی تہواروں کی نشان دہی کرتی تھیں بلکہ موسمی تبدیلیوں سے بھی اِنکو آراستہ رکھتی تھیں۔ ان پشِين گوئیوں کی مدد سے قدیم انسانی تہذیبیں سال کی طوالت کا اندازہ بھی لگایا کرتی تھیں اور فصلوں کی کاشت کے اوقات سے بھی بروقت آشنا رہتی تھیں۔ قدیم فلکی جائزے دوربین کی ایجاد سے قبل، سِتاروں کے مُطالعے کسی نہ کسی اونچی جگہ سے ہی مُمکن تھے اور یہ جائزے محض آنکھوں کی مدد سے ہی لیے جاتے تھے۔ جیسے جیسے تہذیبیں ترقی یافتہ ہوتی رہیں، ویسے ویسے بین النہرین، چین، مصر، یونان، ہند اور وسطی امریکہ کی قدیم تہذیبوں نے سِتاروں کے مطالعوں کے لیے مخصوص اور جدید رصدگاہوں کی تعمیر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ، اِن لوگوں میں کائنات کی مزید جانچ پڑتال کا تجسس پیدا ہوتا گیا؛ چنانچہ، اِس زمانے کے زیادہ تر فلکیاتی انکشافات، ستاروں اور سیاروں کی نقشہ بندی تک ہی محدود تھے۔ اِس علم کو نَجُوم پيمائی کہا جاتا ہے۔ اِن ابتدائی مطالعوں سے سیاروں کی حرکت؛ سورج، چاند اور زمین کی فطرت؛ اور ستاروں کے جمگھٹوں کے بارے میں بہت کُچھ معلوم کیا جا سکا۔ جب فلسفے کی مدد سے اِن فلکی اجرام کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تو کائنات کا ایک مرکزی تصّور اُبھر کر عیاں ہوا — اِن لوگوں کے مطابق زمین کائنات کا مرکز تھی؛ یعنی سورج، چاند اور ستارے زمین کے گرد گردش کیا کرتے تھے۔ اِس نظریے کو ارض مرکزی نظریہ کہا جاتا ہے جس کی بنیاد دوسری صدی عیسوی میں مشہور یونانی فلکیات دان بطلیموس نے ڈالی۔ بابل اور قدیم یونانی فلکیات تصغیر|230px|سولہویں صدی میں استعمال ہونے والا ایک خوش نما [[اسطرلاب۔ اسطرلاب کی مدد سے سورج، چاند اور زمین کے مقام اور گردش کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔]] سلطنتِ بابل کے فلکیات دان وہ پہلے لوگ تھے جنھوں نے ریاضی اور منطق کی مدد سے اِس بات کا اندازہ لگایا کہ چاند گرہن درحقیقت ایک تکراری واقعہ ہے اور اِس کی پيش گوئی قبل از وقت مُمکن ہے۔ گرہنوں کے اِس چکر کو ساروس کہا جاتا ہے۔ بابل کے اِن فلکیات دانوں کے بعد قدیم یونان اور ہیلینیہ کی تہذیبوں میں فلکیات کو پزیرائی ملنے لگی۔ یونانی فلکیات میں شُروع سے ہی اِس بات کا خیال رکھا گیا کہ دیگر اجرامِ فلکی اور آسمانی مظاہر کو طبعی وضاحت سے پیش کیا جائے اور منطق کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ آریستارخس ساموسی وہ پہلا یونانی فلکیات دان تھا جس نے تیسری صدی قبل مسیح میں زمین کے قطر کی پیمائش کی؛ سورج اور چاند کے فاصلوں کو دریافت کیا؛ اور نظام شمسی کے لیے شمس مرکزی نظریہ پیش کیا۔ دوسری صدی قبل مسیح میں ہیپارکس نے بے دائریت دریافت کی اور چاند کا قطر اور اِس کا زمین سے فاصلہ بھی ناپا۔ ہیپارکس نے فلکیاتی پیمائش کے لیے اسطرلاب نامی ایک مخصوص آلہ بھی ایجاد کیا۔ ہیپارکس کی اَنتھک کاوشیں یہیں ختم نہ ہوئیں اور اِس نے شمالی نصف کرہ میں عیاں 1020 ستاروں کا فہرست نامہ بھی لِکھ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ اِن ستاروں کے یونانی نام ہی اکثر ہر جگہ استعمال میں آتے ہیں۔ پہلی صدی میں ایجاد کردہ انتیکیتھرا میکانیہ دُنیا میں سب سے پہلے استعمال ہونے والا تماثلی اختراع تھا جس کی مدد سے سورج، چاند اور زمین کے مقام کا قبل از وقت ٹھیک ٹھیک اندازہ کسی بھی دی گئی تاریخ کے مطابق لگایا جا سکتا تھا۔ اِس طرح کے پیچیدہ اختراع بعد از چودہویں صدی میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، چنانچہ اِسکی دریافت سائنسدانوں اور ماہرینِ فلکیات کے لیے حیران کُن ہے۔ تصغیر|230px|1577ء میں [[استنبول کے ایک اِسلامی فلکیات دان، تقی الدين شامی، کی رصدگاہ کا ایک منظر۔]] اِسلامی فلکیات دان قُرُونِ وُسطیٰ میں جہاں یورپی مُمالک کے اکثر باسی علم النجوم اور فلکیات سے تیرہویں صدی تک فاسد رہے، وہیں اِسلامی سائنس دان اِس علم میں صدیوں پہلے مہارت حاصل کر چُکے تھے۔ اِسلامی دُنیا میں علم فلکیات کو اتنی پزیرائی ملی کہ نویں صدی کے اوائل میں مسلمان سائنسدانوں نے نہایت عالیٰ درجہ کی رصدگاہیں تعمیر کیں۔ 964ء میں عبدالرحمن الصوفی نے مقامی گروہ میں جادہ شیر کے ہمراہ 25 لاکھ نوری سالوں کی دوری پر ایک اور کہکشاں دریافت کیا — اِس کہکشاں کو آج ہم اینڈرومیڈا کے نام سے جانتے ہیں۔ اِس کہکشاں کی نشان دہی الصوفی نے اپنی کتاب صورالکواکب میں ایک خلائی بادل کے طور پر کی۔ الصوفی نے سب سے پہلے درج شدہ صحابیہ اور سپر نووا کے بارے میں بھی اِس کتاب میں لکھا۔ اِس سپر نووا کو پہلی مرتبہ مصری فلکیات دان علی بن رضوان اور کُچھ چینی فلکیاتدانوں نے 1006ء میں اپنے روزنامچوں میں درج کیا تھا۔ دیگر اور مسلمان فلکیاتدانوں میں جابر بن سنان البتانی، ثابت بن قرہ، ابومعشر بلخی، ابو ریحان البیرونی، ابراہیم بن یحییٰ الزرقالی، عبدالعلی بیرجندی اور مراغہ و سمرکنڈ کی رصدگاہوں میں مقیم فلکیات دان شامل ہیں۔ اِس دور کے متعارف کردہ ستاروں کے عربی نام اب بھی فلکیات میں زیرِ استعمال ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ عظیم زمبابوے اور ٹمبکٹو میں بھی مسلمانوں کی تعمیر کردہ کئی رصدگاہیں موجود تھیں۔ یہ قدیم رصدگاہیں اِس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ قُرُونِ وُسطیٰ کے افریقہ جنوب صحرا میں بھی علمِ فلکیات عروج پر تھا۔ سائنسی انقلاب تصغیر|230px|فراون ہوفر ایک [[طیف بین کا مظاہرہ کروا رہے ہیں۔]] نشاۃِ ثانیہ میں نکولس کوپرنیکس نے ایک مرتبہ پھر شمس مرکزی نظریہ عام فلکیات میں مُتعارف کرایا۔ کیونکہ پچھلی چند صدیوں سے مسلمان فلکیاتدانوں نے ارض مرکزی نظریے کی طوالت میں بیشمار کام کر رکھا تھا، اس لیے کوپرنیکس کی اِس وضاحت کو ابتدائی طور پر رد کر دیا گیا۔ بعد از، گلیلیو اور کپلر نے جدید آلات کی مدد سے اِس نئے نظریے کی تائید کر ڈالی۔ صحیح اور درُست ناپ تول کے لیے گلیلیو نے پہلی دوربین بھی ایجاد کی۔ کپلر وہ پہلے سائنس دان تھے جنھوں نے شمسِ مَرکزی نظریے کو ایک مُکمل نظامِ شمسی میں ڈھالا اور طبعی وضاحت کو اِستعمال کرتے ہوئے سیاروں کی سورج کے گرد گردِش اور حرکت کو منطقی طور سے پیش کیا۔ تاہم کپلر اپنے اِس نظام کے لیے لازم قوانین کی ضابطہ بندی نہ کر سکے اور اِس کام کو بعد از آئزک نیوٹن نے اپنے فلکی میکانیات اور ثقالت سے متعلق قوانین میں سر انجام تک پہنچایا۔ دوربین کے سائز اور معیار میں بہتری لانے کے علاوہ مزید اور بھی دریافتیں ہوتی رہیں۔ نکولاس لاکائی کی زیرِ نگرانی سِتاروں کی معیاری اور مُکمل فہرستیں چھپتی رہیں اور دوسری طرف ولیم ہرشل صحابیہ جات اور اِنکے دیگر مجموعوں کی فہرست تیار کرتے رہے۔ 1781ء میں ہرشل نے ایک نیا سیارہ بھی دریافت کیا جسے آج ہم یورینس کے نام سے جانتے ہیں۔ فریڈرک بیسل نے 1838ء میں نظامِ شمسی کے باہر پائے جانے والے پہلے سورج نُما ستارے سے زمین کا فاصلہ دریافت کیا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دورانئے میں اویلر، کلیراٹ اور دالمبر نے جب سہ جسمی مسئلے کو سُلجھانے کی طرف دھیان دیا تو اِنکے اِس کام کے ذریعے چاند اور سیاروں کی حرکات کے بارے میں معیاری پيش گوئیاں مُمکن ہو گئیں۔ اس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے، لاگرانج اور لاپلاس نے چاند اور دیگر سیاروں کے اضطراب سے اِنکے وزن کا بھی ٹھیک اندازہ لگایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، فلکیاتی تجربوں کے لیے جدید ترین آلہ جات استعمال ہونے لگے، مثلاً طیف بینی اور عکاسی، وغیرہ۔ فراون ہوفر نے 1814ء تا 1815ء میں طیف بینی کے ذریعے سورج سے خارج ہونے والی روشنی میں 600 رنگوں کی پٹیاں دریافت کیں۔ بعد از، 1859ء میں کیرشھوف نے انکشاف کیا کہ اِن پٹیوں کا ہر رنگ کسی نہ کسی کیمیائی عنصر کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ کیرشھوف نے مُختلف کیمیائی عناصر کے مخصوص رنگوں کی ایک فہرست بھی بنا ڈالی تاکہ مُختلف سیاروی مادوں کے بارے میں اِنکے رنگوں سے معلوم کیا جا سکے۔ اِن ٹیکنالوجیوں کی بِنا پر جب سورج نُما دیگر اور ستارے دریافت کیے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ستارے سورج کی مانند تو ہیں ہی لیکن ہمارے مقامی ستارے کے برعکس یہ درجہ حرارت، کمیت اور قامت میں کافی مُختلف ہیں۔ زمین کے مقامی کہکشاں کو ایک متفرق مجمع النجُوم کی طرح صرف بیسویں صدی میں ہی دیکھا گیا جب دیگر اور کہکشاؤں کو دریافت کیا گیا۔ دوسرے کہکشاؤں کو زمین سے دور جاتے دیکھ کر یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ کائنات تسلسُل سے پھیل رہی تھی۔ دورِ جدید کی فلکیات میں دیگر اور اجرامِ فلکی بھی دریافت کیے گئے جن میں نابضات، کوازار، بلیزار اور ریڈیائی کہکشاں شامل ہیں۔ اِن نئے اجرام کی دریافت کے بعد دیگر طبعی نظریات مثلا ثقب اسود اور نیوٹرون ستاروں کے مزید شواہد سامنے آنے لگے۔ علاوہ ازیں، خلائی دوربینوں کی مدد سے برقناطیسی طیف کے اُن حصّوں کی بھی جانچ کی جانے لگی جو زمینی کرۂ ہوا کی وجہ سے زمین تک پہنچ نہ سکتے تھے۔ تصغیر|230px|فلکیات دان از جیریٹ ڈاؤ، [[1650ء — 1655ء۔]] فلکیاتی نظریات کی تقویم : مزید مطالعہ کے لیے فلکیاتدان کا مضمون پڑھیں یا افکار کی تاریخ پر دیگر مضامین پڑھیں۔ انسانی تاریخ میں زمینی سیارے کی شکل، کردار اور عمل پر مُختلف فلسفیوں اور فلکیاتدانوں نے مُختلف نظریات، افکار اور تصورات پیش کیے۔ اجرامِ فلکی کے بارے میں آج ہم جو جانتے ہیں، اِن جدید نظریات تک پہنچنے کے لیے کافی وقت لگا۔ دیگر فلسفیوں اور فلکیاتدانوں کے ممتاز ترین افکار و تصورات مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔ مشاہداتی فلکیات فلکیات میں، اجرامِ فلکی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا مرکزی ذریعہ مرئی نور کا مشاہدہ یا برقناطیسی اشعاع کی جانچ ہی رہا ہے۔ چنانچہ مشاہداتی فلکیات کو برقناطیسی طیف کے مُختلف حصّوں کے مطابق دیگر ساحات میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جہاں اِس طیف کے کُچھ حصّوں کا زمین کی سطح سے جائزہ لیا جا سکتا ہے، وہاں دیگر حصّوں کو صرف اونچائی یا خلاء سے ہی پرکھا جا سکتا ہے۔ اِن ذیلی ساحات کے بارے میں مزید معلومات مندرجہ ذیل دی گئی ہیں۔ ریڈیائی فلکیات تصغیر|230px|امریکا کی ریاست [[نیو میکسیکو میں ریڈیائی دوربینوں کا ایک مرکز جسے عظیم مصفف رصدگاہ (Very Large Array) بھی کہا جاتا ہے۔]] ریڈیائی فلکیات میں ایسی اشعاعی لہروں کا معائنہ کیا جاتا ہے جن کا طولِ موج تقریباًًًً ایک ملیمیٹر سے زیادہ ہو۔ یہ مشاہداتی فلکیات کی دوسری ساحات سے اِس طرح مُختلف ہے کہ اِس میں ریڈیائی امواج کے ساتھ موجوں جیسا سلُوک کیا جا سکتا ہے نہ کہ محض مجرَد نوریہ جیسا، چنانچہ اِن کا طور اور حیطہ آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے۔ یہ جائزہ چھوٹی طول کی امواج کے ساتھ اتنی آسانی سے مُمکن نہیں ہوتا۔ مزید دیکھیے زمرہ:علوم طبیعیہ زمرہ:فلکی طبیعیات زمرہ:نظام شمسی
[Wikipedia:ur] زبانیں زبانوں کی یہ فہرست ان کے اردو ناموں کے مطابق ہے۔ ایتھونولوگ (Ethonologue) کے مطابق دنیا میں تقریباً 6،800 زبانیں اور تقریباً 41،000 مختلق لہجے اور بولیاں ہیں۔ اس فہرست میں صرف بولی جانے والی زبانیں شامل ہیں۔ زبانیوں کی مزید اقسام کے لیے درج ذیل صحفات ملاحظہ فرمایئے۔ *زبان (زبانوں کے بارے میں عمومی معلومات کے لیے) *پروگرامنّگ لینگوجیز کی فہرست آ * آرمینی * آسامی * آسیری * آسٹریائی * آویستی * آذربائیجانی * آئس لینڈی * آئرش * آکسیڈنٹل * آکسیٹن * آماگوا * آریا * آرموری * آسیٹک ا * افریقی * آئنو * اکادی * البانی * ایلیوٹ * ایلگونقوئن * الاسٹی * امہری * انگریزی قدیم(انگلو-سیکسون) * اپاچی * اے-پکیوار * اراگونی * ارامائی * اکسپریسو * انگریزی * ایرزیا-موردوی * ایسپرینٹو * اسٹونی * ایٹروسکن * ایونک * ایڈو * ایلیریائ * ایلوکانو * ایلوکو * ایلونگو * انوپیاک * اسان * اسٹرو رومانی * انڈونیشیائ * ارکٹ * اطالوی * ابیخ * اردو * اتے * ازبک ب * بلوچی * بمبارا * باوبری * ‎ * بلارسی * بِمبا * بنگالی * بربر * بََیٹے * بِھلّی * بیافران * بہاری * بیکیا * بوسنیائ * بلیک فٹ * براہوی * بریتھاناچ * بریٹن * بریتھینگ * بلگاریائ * برمی * بین‌لاقوامی * بین‌لاقوامی پ * پہلوی * پالی * پاپیامینٹو * پاراچی * پشتو *پنجابی زبان * پاساماقوڈی * پینسلوینیا جرمن * پِکٹی * پِراہا * پلاڈائٹز * پولش * پرتگالی * پوتیگوارا * پرووِنقل ت * تاگالوگ * تاجک * تالوسن * تالََش * تامل * تِِلِِگو * تھائ * تھارو * تھرائیکائ * تبتی * تکوندِِروگا * تِگرے * تِگرینیا * تسمشیان * تسوانا * ترک * ترکمانی ٹ * ٹاہیٹی * ٹٹ * ٹٹر * ٹیوناہٹ * ٹِگرگنن * ٹوچاریائ الِف اور ب * ٹوک پسن * ٹوکی‌پونا * ٹونگن * ٹوپینمبا * ٹوپنکن * ٹوالی * ٹوان ث ج * جاپانی * جاوانی * جدائیو-سپینش * جارجیئن * جومن چ * چاگاتائ * چیچن * چیچیوا * چورسمیاں * چکچی ح * حوپی خ * خندیشی * خمِِر * خوَیری د * دوالا ڈ * ڈالمائ * ڈینش * ڈارگستانی * ڈاری * ڈیڈا * ڈِویہی * ڈنگن * ڈچ ذ٭ * ذہوانگ ر * راجستانی * راپاہانوک * رومانش * رومانی * رومانیکا * رومانے * روسِنورسک * روسی ڑ ز٭ * زیپوٹک * زازاکی * زولو * زنی ژ * ژام * ژہوسہ * !ژو س * سامی * سالش * سنسکرت * ساراماکن * ساردونی * سکاٹ (لالن) * سیلونی * سیمینول * سرب * سربو کروشیائ * سنڈےبےلے * سنڈرن * سندہی * سنہالی * سیاکس * سلاوک * سلوینی * سلویا * سولریسل * سوربی * سپینش * سرانن * سومیری * سوابی * سواہیلی * سویڈش * سوس‌جرمن * سوڈووی * سنڈانی * سرائیکی ش * شینا * شونا ص * صومالی ض ط ع * عربی * علامائیٹ غ ف * فریگی * فیروئ * فارسی * فلپائنی * فنش * فلیمی * فرنچ کروئلے * فرانسیسی * فریسیائ * فریلویائ * فورو ق * قبائلی * قاناڈا * قدیم چرچ سلوانی * قدیم فرنچ * قدیم نارس * قدیم پروسائ ک * کلوریا ٹویَر * کامونک * کھوار * کالاشہ * کامویری * کنٹنی * کارب * کاٹالن * کاٹاوبا * کائوگا * کوکوما * کورنی * کورسیکن * کروشیائ * کمبرک * کرونی * کافیری * کنکونیئن * کیونڈے * کشمیری * کاشوبی * کاوی * کازاخ * کیلن * کٹ * کنیارواندا * کسواہیلی * کلنگون * کونکنی * کوریئن * کوروائ * کرمچک * کردش * کرغیز گ * گےلک * گالیکی * گھروالی * گاؤلی * گایو * گییز * گیلاکی * گوتھک * گوراگنگا * گورانی * گجراتی * گلیاک ل * لادان * لادن * لاہنڈہ * لاخوٹا * لاؤ * لاطینی * لاٹویائ * لینی لیناپ * لیتھوانیائ * لیوانیائ * لاگلان * لاجبان * لوزی * لنڈا * لویلی * لائدیان م * میکےڈونی * میکیڈورومانی * ماکاسر * مالاگاسی * مالائالم * مالٹی * ملائ * منچوری * منڈرن * مینکس * میوری * مراٹھی * مائا * مازاندارانی * مینکیےلی * میگلینو رومانی * میچیف * مینانگ‌کاباؤ * موبیلی * موہاک * مون * منگول ن * ناہوٹل * ناروان * ناواجو * نیپالی * نیو کیپچک * نہنگیٹو * نائجیرئن پڈگن * نیوان * نارن * نارویجن * نوویال * این/یو * نیانجا و * ویپس * وردوری * ویت‌نامی * وولاپک * واکھی * والون * ویلش * وینیڈک * وولوف ہ * ہیٹی کروؤلے * ہاؤسا * ہوائ * ہزاراگی * ہیبرو (عبرانی) * ہندی * لٹٹی * ہنگیرائی * ہٹرائٹ جرمن ء ی، ے * یونانی * یواتاکاسی * یوکرائنی * یاغنوبی * یاکوت * یازگولامی * یددی * یوروبا اس صفحہ پر ذ اور ز سے شروع ہونے والی صرف چند زبانیں دی گئی ہیں۔ تقریباً 50 مزید زبانوں کے لیے ذ اور ز سے شروع ہونے والی زبانوں کی فہرست دیکھیں۔ زمرہ:زبانیں
[Wikipedia:ur] دوسرا ہزارہ اس سے مراد وہ دور ہے جو 1 جنوری 1001 سے شروع ہوا اور 31 دسمبر 2000 کو ختم ہوا۔ : اس صفحہ پر درج علامات کا مفہوم یوں ہے * د = دہائی * بم = بعد از مسیح ملینیم 1 بعد از مسیح - ملینیم 2 بعد از مسیح - ملینیم 3 بعد از مسیح 11 صدی بم 1000دبم 1010دبم 1020دبم 1030دبم 1040دبم 1050دبم 1060دبم 1070دبم 1080دبم 1090دبم 12 صدی بم 1100دبم 1110دبم 1120دبم 1130دبم 1140دبم 1150دبم 1160دبم 1170دبم 1180دبم 1190دبم 13 صدی بم 1200دبم 1210دبم 1220دبم 1230دبم 1240دبم 1250دبم 1260دبم 1270دبم 1280دبم 1290دبم 14 صدی بم 1300دبم 1310دبم 1320دبم 1330دبم 1340دبم 1350دبم 1360دبم 1370دبم 1380دبم 1390دبم 15 صدی بم 1400دبم 1410دبم 1420دبم 1430دبم 1440دبم 1450دبم 1460دبم 1470دبم 1480دبم 1490دبم 16 صدی بم 1500دبم 1510دبم 1520دبم 1530دبم 1540دبم 1550دبم 1560دبم 1570دبم 1580دبم 1590دبم 17 صدی بم 1600دبم 1610دبم 1620دبم 1630دبم 1640دبم 1650دبم 1660دبم 1670دبم 1680دبم 1690دبم 18 صدی بم 1700دبم 1710دبم 1720دبم 1730دبم 1740دبم 1750دبم 1760دبم 1770دبم 1780دبم 1790دبم 19 صدی بم 1800دبم 1810دبم 1820دبم 1830دبم 1840دبم 1850دبم 1860دبم 1870دبم 1880دبم 1890دبم 20 صدی بم 1900دبم 1910دبم 1920دبم 1930دبم 1940دبم 1950دبم 1960دبم 1970دبم 1980دبم 1990دبم اہم وافعات - اسلامی سنہری دور - منگولوں کے حملے - یورپی رینیزانس - مغل دور اور ہندوستان میں سنہری دور۔ - صنعتی انقلاب کا آغاز - قوم کا نظریہ اور قومی ریاستیں - نو آبادیاتی نظام کا پھیلاؤ - دو جنگ عظیم اور اس کے بعد اقوام متحدہ کا جنم لینا۔ اہم شخصیات - جلال الدین محمد رومی، مفکر - چنگیز خان، منگول بادشاہ - کرسٹوفر کولمبس، امریکا دریافت کیا - مارٹن لوتھر، یورپ میں ریفارمیشن کی شروعات کی۔ - جلال الدین محمد اکبر، ہندوستانی شاہنشاہ - نپولین بوناپارت، فرانسیسی بادشاہ - اوٹو وان بسمارک، ڈوئچ (جرمن) چانسلر - ایلبرٹ آئنسٹائن، سائنس دان اہم دریافتیں - جھاپا خانہ - تخلیقیات (وراثیات) - بھاپ ایندھن - کیلگیولس - انسانی پرواز - جوہری طاقت - خلا نوردی - سرمایہ داری اور اشتراکیت (سنشلزم) - حاسب اور بین الشبکہ زمرہ:دوسرا ہزارہ زمرہ:ہزارسالہ زمرہ:ہزاریہ زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 0000مقم : اس صفحہ پر درج علامات کا مفہوم یوں ہے * د = دہائی * قم = قبل از مسیح ملینیم 2 قبل از مسیح - ملینیم 1 قبل از مسیح - ملینیم 1 بعد از مسیح 1 صدی قم 0000دقم 0010دقم 0020دقم 0030دقم 0040دقم 0050دقم 0060دقم 0070دقم 0080دقم 0090دقم 2 صدی قم 0100دقم 0110دقم 0120دقم 0130دقم 0140دقم 0150دقم 0160دقم 0170دقم 0180دقم 0190دقم 3 صدی قم 0200دقم 0210دقم 0220دقم 0230دقم 0240دقم 0250دقم 0260دقم 0270دقم 0280دقم 0290دقم 4 صدی قم 0300دقم 0310دقم 0320دقم 0330دقم 0340دقم 0350دقم 0360دقم 0370دقم 0380دقم 0390دقم 5 صدی قم 0400دقم 0410دقم 0420دقم 0430دقم 0440دقم 0450دقم 0460دقم 0470دقم 0480دقم 0490دقم 6 صدی قم 0500دقم 0510دقم 0520دقم 0530دقم 0540دقم 0550دقم 0560دقم 0570دقم 0580دقم 0590دقم 7 صدی قم 0600دقم 0610دقم 0620دقم 0630دقم 0640دقم 0650دقم 0660دقم 0670دقم 0680دقم 0690دقم 8 صدی قم 0700دقم 0710دقم 0720دقم 0730دقم 0740دقم 0750دقم 0760دقم 0770دقم 0780دقم 0790دقم 9 صدی قم 0800دقم 0810دقم 0820دقم 0830دقم 0840دقم 0850دقم 0860دقم 0870دقم 0880دقم 0890دقم 10 صدی قم 0900دقم 0910دقم 0920دقم 0930دقم 0940دقم 0950دقم 0960دقم 0970دقم 0980دقم 0990دقم اہم واqعات - یورپ میں آہنی دور کا آغاز - یونان میں سنہری دور - بدھ مت کا آغاز - ہندوستان میں موریا دور - روم کا آغاز اہم شخصیات چانک جی مہاراج فلسفى قانون ساز بادشاه گر (هندوستانى) - داؤد علیہ السلام، بنى اسرائیل کے نبی اور بادشاہ - سائرس، بابل پر قبضہ کیا اور پارس کی بنیاد رکھی - بدھا، مذہبی راہنما اصلى نام سدهارت كپل وستو كا شاه زاده بده مت كے بانى - کنفوشس، چینی فلسفی - ارسطو، یونانی فلسفی - سکندر اعظم، یونانی فاتح - اشوک، ہندوستانی شاہنشاہ اہم دریافتیں - لوہے کا استعمال عام ہوا - فلسفہ زمرہ:ہزاریہ
[Wikipedia:ur] آج کا دن ماضی میں ہر تاریخ پر ہونے والے واقعات (یہ فہرست ابھی مکمل نہیں ہے) بیرونی روابط * ڈیلی کانٹنٹ آرکیو * ورلڈ ہسٹری ڈیٹا بیس * آج کے دن * برطانوی تاریخ میں آج کا دن * ہسٹری چینل (امریکا): آج کا دن کی تاریخ * ہسٹری چینل (برطانیا): تاریخ میں یہ دن * دا نیو یارک ٹائم: آج کا دن * آج کا دن ڈاٹ کام * انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس: فلمی تاریخ میں یہ دن * برطانوی نشریاتی ادارہ: آج کا دن * امریکی نیوی کی تاریخ میں ایام * آسٹریلوی تاریخ میں آج کا دن * نیووی لینڈ تاریخ میں آج کا دن * ایرانی تاریخ میں آج کا دن * کتب خانہ کانگریس امریکن میموری کی آج کے دن کی تاریخ * کمپیوٹر ہسٹری میوزیم تاریخ میں یہ دن * ہسٹری پوڈ زمرہ:ایام سال زمرہ:تاریخ سے متعلقہ فہرستیں زمرہ:حوالہ جاتی مواد کی فہرستیں زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:سالگرہوں کے دن
[Wikipedia:ur] دوسرا ہزارہ قبل مسیح دوسرا ہزاریہ یا ہزارہ قبل مسیح میں 11 صدی قبل مسیح سے 20 صدی قبل مسیح کی دس صدیاں شامل ہیں۔ اہم وا قعات * عراق ميں ار کا سنہری دور۔ * بابل کا پہلی شاہی گھرانہ۔ * مصر کے تيسرے اور چوتھے شاہی گھرانے۔ * سندھ طاس تہذيب کا سنہری دور۔ * گيزا والے احرام مصر کی تعمير۔ اہم شخصيات * سارگون، اکاد اور سميريا کی سلطنتوں کی بنياد رکھی۔ اہم دريافتيں * وسطی ايشيا ميں گھوڑے کو پالتو بنا ليا گيا * بادبان کا استعمال شروع ہو گيا * مشرق وسطی ميں تامبے کے دور کا آغاز ہو گيا۔ صدیاں * گیارہویں صدی ق م * بارہویں صدی ق م * تیرہویں صدی ق م * چودہویں صدی ق م * پندرہویں صدی ق م * سولہویں صدی ق م * سترہویں صدی قبل مسیح * اٹھارویں صدی قیل مسیح * انیسویں صدی قبل مسیح * بیسویں صدی قبل مسیح حوالہ جات زمرہ:دوسرا ہزارہ ق م زمرہ:ہزارسالہ زمرہ:ہزاریہ زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] تیسرا ہزارہ قبل مسیح تیسرا ہزاریہ یا ہزارہ قبل مسیح، 21 صدی قبل مسیح سے 30 صدی قبل مسیح کی دس صدیوں پر مشتمل ہے۔ اہم وافعات * مصر ميں ايک متحدہ مملکت بنی۔ * عراق ميں دواب ميں شہری رياستيں وجود ميں آئیں۔ * صحارہ کا علاقہ ريگستان بننا شروع ہوا۔ * ہندوستان ميں چھوٹے شہر وجود ميں آئے۔ اہم شخصيات اہم دريافتيں * شہری آبادی کا آغاز۔ * مصر اور عراق ميں لکھائی کا آغاز۔ صدیاں * 30 صدی قبل مسیح * 29 صدی قبل مسیح * 28 صدی قبل مسیح * 27 صدی قبل مسیح * 26 صدی قبل مسیح * 25 صدی قبل مسیح * 24 صدی قبل مسیح * 23 صدی قبل مسیح * 22 صدی قبل مسیح * 21 صدی قبل مسیح حوالہ جات زمرہ:تیسرا ہزارہ ق م زمرہ:ہزارسالہ زمرہ:ہزاریہ زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] بھارت بھارَت (ہندی: भारत، انگریزی: India), جسے عموماً ہندوستان یا ہند کہا جاتا ہے اور رسمی طور پر جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچنے بسنے کا موقع ملا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے اس وقت سب سے بڑا ملک بن گیا ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان اور جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا، مالدیپ سے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور انڈمان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سمندری حدود سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کے بعض مغربی علاقے زمانہ قدیم میں وادی سندھ کے مراکز میں شامل تھے جو تجارت اور نفع بخش سلطنت کے لیے قدیم زمانے سے ہی دنیا میں مشہور تھی۔ چار مشہور مذاہب جن میں ہندومت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت نے اسی ملک میں جنم لیا جبکہ، جودھامت، مسیحیت اور اسلام اپنے ابتدائی دور میں ہی یہاں پہنچ گئے تھے، جس نے یہاں کے علاقے کی تہذیب و ثقافت پر انمٹ نقوش مرتب کیے۔ اس علاقے پر آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط 18ویں صدی میں شروع ہوئی جبکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہاں برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی۔ فی الحال بھارت کی معیشت عمومی جی ڈی پی کے لحاظ سے ساتویں بڑی اور قوت خرید (پی پی پی) کے لحاظ سے تیسری بڑی معیشت ہے۔ 1991ء کے معاشی اصلاحات نے اسے دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں لا کھڑا کیا ہے اور یہ تقریباً صنعتی ملک کا درجہ حاصل کرنے والا ہے۔ بہرحال اس کے باوجود یہ ملک غربت، کرپشن، خوراک اور صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس یہ ملک خطے کا ایک طاقتور ملک ہے اس کی فوج بلحاظ تعداد دنیا کی تیسری بڑی قوت ہے اور دفاعی خرچ کے لحاظ سے یہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ بھارت ایک وفاقی جمہوریہ ہے جو پارلیمانی نظام کے تحت 29 ریاستوں اور 7 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ بھارت ایک کثیر لسانی، مذہبی، ثقافتی اور نسلی معاشرہ ہے۔ نیز یہ ملک کئی انواع و اقسام کی جنگلی حیات سے بھی مالا مال ہے۔ نام کی بنیاد دریائے سندھ کے مشرق میں واقع علاقہ کا نام عرب تاریخ نگاروں کے یہاں ہند تھا۔ علامہ اقبال کامشہور قومی نغمہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا ایک اور نام انڈیا ہے۔ انڈس دریا سے نام انڈیا پڑا۔ ماضی میں اس خطے کو عموماً ہندوستان یا بھارت کہا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد ملک کا سرکاری نام بھارت رکھا گیا، تاہم تمام عالمی زبانوں میں اس کا انگریزی نام انڈیا ہی مستعمل ہے۔ تاریخی اعتبار سے بھارت کو کرما بھومی، تپو بھومی اور پُنیا بھومی جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ تاریخ برصغیر پاک و ہند صرف تین ادوار میں ایک ملک رہا۔ ایک تو چندرگپت موریا کے عہد میں اور دوسرے مغلیہ دور میں اور تیسرے انگریزوں کے زمانے میں۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت نسبتاً سب سے بڑی تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں سلطنت مغلیہ دور سے قدرے کم تھی۔ ان تین ادوار کے علاوہ ہندوستان (موجودہ بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، مالدیپ، سری لنکا اور پاکستان) ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بے شمار ریاستوں میں بٹا رہا۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے بیشتر دور میں ہندوستان چھوٹی ریاستوں ہی میں بٹا رہا ہے۔ بھارت میں پتھروں پر مصوری کی شروعات 40،000 سال پہلے ہوئی۔ سب سے پہلی مستقل آبادیاں 9،000 سال پہلے وجود میں آئیں۔ ان مقامی آبادیوں نے ترقی کر کہ سندھ طاس تہذیب کو جنم دیا۔ یہ تہذیب چھبیسویں صدی قبل از مسیح سے لے کر انیسویں صدی قبل از مسیح تک اپنے عروج پر تھی اور اس زمانے کی سب سے بڑی تہذیبوں میں شامل ہوتی تھی۔ مگر اس زمانے میں بھی اسے کبھی ہند نہیں کہا گیا بلکہ سندھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ برصغیر بہت عرصہ تک سندھ اور ہند میں منقسم رہا۔ اس کے بعد آنے والے دور کے بارے میں دو نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ ماکس مولر نے پیش کیا۔ اس کے مطابق تقریباً پندرہویں صدی قبل از مسیح میں شمال مغرب کی طرف سے آریاؤں نے ہندورستان میں گھسنا شروع کر دیا۔ آریا حملہ آور بن کر آئے تھے اور طاقت کے استعمال سے پھیلے۔ مگر گنتی کے چند آریا طاقت کا استعمال کیے بغیر آہستہ آہستہ اس علاقے میں پھیلے اور آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے درمیان میں ہونے والے تعلق اور تبادلۂ خیالات سے ویدک تہذیب نے جنم لیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آریا / ویدک لوگ ہندوستان کے مقامی لوگ تھے جو دراوڈ تہذیب ختم ہونے کے بعد عروج پزیر ہوئے۔ ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور عربوں کے قابض ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔ انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 1857ء کے غدر کے بعد حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876ء کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سنبھالنے کے لیے‎ برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔ برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہن داس کرم چند گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، ابوالکلام آزاد، بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندر بوس کی قیادت میں بھارت نے 1947ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم ہو کر دو نئے ملک پاکستان اور بھارت بن گئے۔ 1962ء میں بھارت کی متنازع علاقوں پر چین سے جنگ ہوئی۔ 1965ء میں کشمیر پر بھارت کی پاکستان سے جنگ ہوئی۔ 1971ء میں پاکستان میں خانہ جنگی ہوئی اور اس میں بھارتی مداخلت بھی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ گذشتہ کچھ عرصہ میں بھارت کی سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کے سامنے بنیادی مسائل، پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازع، آبادی کا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی، غربت، مذہبی اور نسلی اختلاف ہیں۔ سیاست بھارت ایک جھوٹھی جمہوریت والا ملک ہے۔ جمہوریت بس نام کے لیے ہے، کاموں میں اس کا کوئی دخل نہیں بھارت اپنی 29 ریاستوں (صوبہ جات) اور مرکزی زیرِ حکومت علاقوں کا یونین (اتحاد) ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی ہے۔ بھارت کی ریاست کا سربراہ صدر بھارت ہے۔ صدر اور نائب صدر بھارت پانچ سالہ عرصے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ بھارت میں انتظامی طاقت کابینہ کے پاس ہے۔ کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ صدر ان کو وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں جن کو پارلیمان کی اکثریتی جماعت/ جماعتوں نے نامزد کیا ہوتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی صلاح پر دوسرے وزراء مقرر ہوتے ہیں ذیلی علاقہ جات بھارت ایک ملک ہے جو 28 ریاستوں اور 8 مرکزی زیر اقتدار علاقوں پر مبنی ہے۔۔ 1956 کے سٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت، اتحادی علاقے مرکزی حکومت کے زیر اقتدار آتے ہیں۔ ریاستورں کو لسانی بنیاد پر تشکیل کی گئی۔ ہر ریاست یا اتحادی علاقہ اضلاع میں تقسیم کیا گیا اور اضلاع تحصیلوں میں۔ حکومت کی آخری انتظامی اکائی کے طور پر گاؤں/پنچایت تشکیل پائے گئے۔ ریاستیں # آندھرا پردیش # اروناچل پردیش # آسام # بہار # چھتیس گڑھ # گوا # گجرات # ہریانہ # ہماچل پردیش # جھارکھنڈ # کرناٹک # کیرلا # مدھیہ پردیش # مہاراشٹر # منی پور # میگھالیہ # میزورام # ناگالینڈ # اوڈیشا # پنجاب # راجستھان # سکم # تمل ناڈو # تلنگانہ # تریپورہ # اتر پردیش # اتراکھنڈ # مغربی بنگال مرکزی زیر انتظام علاقے فوجی طاقت تصغیر|اے جے ایل ٹی: جو ایک ہلکا بھارتی سپرسونك لڑاکا طیارہ ہے। 1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے بھارت نے زیادہ تر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم رکھا ہے۔ 1950ء کی دہائی میں بھارت نے بھرپور طریقے سے افریقہ اور ایشیا میں یورپی ممالک سے آزادی کی حمایت کی اور غیر وابستہ تحریک میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 1980ء کے دہائی میں بھارت نے پڑوسی ممالک کی دعوت پر دو ممالک میں مختصر فوجی مداخلت کی۔ مالدیپ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں آپریشن کے دوران میں بھارتی امن فوج بھیجی۔ جبکہ، بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ ایک کشیدہ تعلق شروع سے برقرار رہا اور دونوں ملک تین بار جنگوں ( 1965ء، 1971ء اور 1999ء میں) میں مدمقابل آئے۔ تنازع کشمیر ان جنگوں کی بڑی وجہ تھی۔ 1971ء کو چھوڑ کر کہ وہ جنگ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شہری کشیدہ حالات کے لیے کی گئی تھی۔ 1962ء کی بھارت - چین جنگ اور پاکستان کے ساتھ 1965ء کی جنگ کے بعد بھارت نے اپنی فوجی اور اقتصادی حالت میں ترقی کرنے کی کوشش کی۔ سوویت یونین کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے سنہ 1960ء کی دہائی میں، سوویت یونین بھارت کا سب سے بڑا ہتھیار فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ آج روس کے ساتھ دور رس تعلقات کو جاری رکھنے کے علاوہ، بھارت اسرائیل اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، بھارت نے علاقائی تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے لیے ایک جنوب ایشیائی ایسوسی ایشن میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے اب تک 10،000 متحدہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے ذریعے چار براعظموں میں پینتیس اقوام متحدہ امن کارروائیوں میں خدمات فراہم کی ہیں۔ بھارت بھی مختلف بین الاقوامی مقام، خاص طور پر مشرقی ایشیا کی سربراہ اجلاس اور جی -85 اجلاس میں ایک سرگرم رکن رہا ہے۔ اقتصادی شعبے میں بھارت نے جنوبی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے ترقی پزیر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ اب بھارت نے "آگے کی طرف دیکھو پالیسی" میں بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ "آسیان" ممالک کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے امور کا معاملہ ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی مدد کی ہے۔ یہ خاص طور پر اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کی کوشش ہے۔ 1974ء میں بھارت نے اپنے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں زیر زمین تجربات کیے۔ بھارت کے پاس اب انواع و اقسام کے جوہری ہتھيار ہیں۔ بھارت اب روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیارے تیار کر رہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں، بھارت کا امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، وسیع تر باہمی مفاد اور دفاعی تعاون بڑھ گیا ہے۔ 2008ء میں، بھارت اور امریکا کے درمیان میں غیر فوجی جوہری تعاون کے معائدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار تیار تھا اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں نہیں تھا۔ گو اس کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے اور نیوکلیئر سپلائر گروپ سے چھوٹ حاصل ہے۔ اسی معاہدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ بھارت دنیا کا چھٹا ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بن گیا ہے۔ نیوکلئیر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہے۔ تقریباً 1.3 ملین سرگرم فوجیوں کے ساتھ، بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ بھارت کے صدر بھارتی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔ سال 2011ء میں بھارتی دفاعی بجٹ 36.03 ارب امریکی ڈالر رہا (یا خام ملکی پیداوار کا 1.83%)۔ 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت خریدنے کی طاقت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر رہے۔ سال 2011ء میں بھارتی وزارت دفاع کے سالانہ دفاعی بجٹ میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ رقم حکومت کی دیگر شاخوں کے ذریعے فوجی اخراجات کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتی۔ حالیہ سالوں میں، بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ بن گیا ہے۔ آبادیات بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر دنیا کی آبادی کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان چھ حصوں میں سے ایک حصہ آبادی بھارت کی ہے۔ بھارت میں کُل دنیا کے 17.5 فیصد لوگ آباد ہیں۔ آبادی کی مختلف شماریات اور تناسبات کو دیکھ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025ء تک بھارت دنیا کا پہلا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور اس کی آبادی چین سے زیادہ ہو جائے گی۔ بھارت کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی جن کی عمر 25 سال سے کم ہے۔ بھارت میں 1 سال سے 35 سال تک عمر والے افراد پورے بھارت کی 65 فیصد آبادی ہے۔ زبانیں بھارت میں 1000 سے زائد نسلی گروہ ہیں جو ہزار سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔۔ دنیا کے چاروں بڑے خاندانہائے زبان (دراوڑی زبانیں، ہند-یورپی زبانیں، جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی۔تبتی زبانیں) بھارت میں موجود ہیں۔ بھارت دو اہم زبانی خاندان (ہند آریائی زبانیں اور دراویدی زبانیں) کی جائے پیدائش ہے۔ اول کو 74 فیصد اور دوم کو 24 فیصد آبادی بولتی ہے۔ دیگر زبانوں میں جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی تبتی زبانیں جیسے لسانی خاندان شامل ہیں۔ ہندی زبان سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ انگریزی زبان کو ملک بھر میں اچھی حیثیت حاصل ہے۔ تجارت، تعلیم اور انتظامیہ میں انگریزی زبان کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہب بھارت میں مذہب مذہبی عقائد و اعمال کے تنوع کی خصوصیات رکھتا ہے۔ آئین میں 1976ء میں کی جانے والی 42 ویں ترمیم کے مطابق بھارت ایک لادینی ریاست ہے، اس کا مطلب ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے گی۔ برصغیر کئی بڑے مذاہب کا پیدائشی وطن ہے; یعنی ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت۔ بھارت کی پوری تاریخ میں، مذہب ملکی ثقافت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ مذہبی تنوع اور مذہبی اعتدال دونوں ملک میں بذریعہ قانون اور رسوم کے قائم ہوئے; بھارت کا آئین صاف الفاظ میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ آج، پوری دنیا کی کل ہندو آبادی کا 90% بھارت میں ہے۔ زیادہ تر ہندو سمادھیاں اور مندر بھارت میں ہیں، اسی طرح یہ زیادہ تر ہندو سنتوں کی جنم بھومی ہے۔ الٰہ آباد دنیا کی سب سے بڑی مذہبی زیارت، کمبھ میلہ کی میزبانی کرتا ہے، جہاں پر دنیا بھر کے ہندو بھارت کے تین مقدس دریاؤں دریائے گنگا، دریائے جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر غسل کے لیے آتے ہیں۔ مغرب میں بھارتی تارکین وطن نے ہندو فلسفہ کے کئی پہلؤوں کو عام کیا ہے جیسے یوگا، مراقبہ، آیور ویدک، کہانت، کرم اور تناسخ وغیرہ کے نظریات۔ 2011ء میں بھارت میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق کل آبادی کا 79.8% ہندو اور 14.2% مسلمان ہیں، جب کہ 6% دیگر مذاہب جیسے مسیحیت، سکھ مت، بدھ مت، جین مت وغیرہ ہیں۔ مسیحیت بھارت کا تیسرا بڑا مذہب ہے۔ پارسی اور یہودی قدیم بھارت میں آباد تھے، آج کے دور میں ان کی تعداد محض ہزاروں میں ہے۔ ثقافت بھارت کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، اس وجہ ایک جغرافیائی خطہ ہو کر بھارت میں کافی ننوع دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارت کی آبادی کی غالب اکثریت ہندو مت کی پیروکار ہے۔ تاہم کوئی ایک تعریف کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ ہندو کون ہے۔ آریہ سماج کے کئی لوگ بت پرستی کو نہیں مان کر بھی ہندو ہے۔ برہمو سماج کے لوگ توحید کا عقیدہ رکھ کر بھی ہندو ہیں۔ ہندو دھرم کے زیادہ تر لوگ کثرت الوہ اور بت پرستی کے قائل ہیں، مگر وہ ان لوگوں کو بھی اپنے میں قبول کرتے ہیں۔ حد یہ کہ خدا کو نہیں ماننے والے ملحد بھی ہندو ہیں۔ ماضی میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو ملحد تھے، 2013–18 تک کرناٹک ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارمیا معلنہ طور پر ملحد رہے۔ اس وجہ یہاں کا دایاں محاذ ہر بھارتی کو ہندو مانتا ہے لفظ ہندو کو بھارتی کے معنوں میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اس بات سے ہر کوئی متفق نہیں ہے۔ اس کے باوجود بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں جس طرح منادر جگہ جگہ موجود ہیں، اسی طرح مساجد، گرجا گھر اور گرودوارے ہیں۔ ملک میں کچھ وقت پہلے ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام صدر جمہوریہ تھے جو ایک مسلمان تھے۔ اسی طرح گیانی ذیل سنگھ سکھ ہو کر بھی بھارت کے صدر جمہوریہ تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی سکھ تھے اور بھارت میں دس سال تک وزیر اعظم تھے۔ اسی طرح سے بھارت میں کئی زبانیں اور بولیاں موجود ہیں، مگر ملک میں وفاقی حکومت کی سرکاری زبان ہندی کو قرار دینے کے باوجود اسے قومی زبان کا درجہ نہیں دے پائے ہیں۔ اس کی وجہ غالبًا یہ ہے کہ ہم زبان اور بولی میں حد فاصل کیسے قائم کریں، یہ طے نہیں ہے۔ لوگ جدید طور پر بھوجپوری زبان بولتے ہیں جو ہندی زبان سے کافی مشابہ ہے اور دونوں زبان کے لوگ ایک ہی انداز میں بات کرتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ تاہم بھوجپوری لوگ اپنی زبان کو ہندی سے الگ ماننے لگے ہیں۔ یہی حال راجستھانی زبان اور کچھ اور بولیوں کا ہے۔ ہندی کے خلاف سے سب زیادہ احتجاج جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ریاست کے زیادہ تر مدارس میں لوگ ہندی نہیں پڑھاتے۔ بھارت میں مرکزی اور ریاستی زبانوں کے جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔ اور اس کے علاوہ اردو زبان کو اس کا مستحقہ مقام دینے کا مسئلہ ایسا رہا ہے، جس پر سیاسی حلقے سنجیدگی سے کام نہیں کرتے۔ پھر بھی بھارت ایک ہمہ لسانی ملک کے طور عالمی پہچان بنا چکا ہے۔ اس کے کئی بین الاقوامی مطالعے بھی ہو چکے ہیں۔ بھارتی ثقافت میں نرینہ اولاد کو سبقت دینے کی وجہ سے مادہ اسقاط حمل کے رواج سے نر اور مادہ بچوں کے تناسب میں انتشار پیدا ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ادب بھارت میں قدیم دور میں تحریری روایتوں کی کمی رہی ہے۔ ہندو میں مذہبی طور پر مقدس چار وید زبانی روایتوں کے ذریعے فروغ پائے۔ بعد کے دور میں ان سے متاثر ہو کر کئی اور کتابیں وجود میں آئی ہیں۔ جیسے کہ اپنشد، اپ وید، پران، برہمنا، اتہاس وغیرہ شامل ہیں۔ قدیم راجگان اور مہاراجگان کے دور سے لے مسلمان سلاطین اور مغلوں کے دور میں درباری شاعر اور مؤرخوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔ ہندوستان کے کچھ حصے پر فاتح محمود غزنوی نے اپنے درباری شاعر فردوسی کو اپنی خود کی تاریخ بہ عنوان شاہنامہ لکھنے پر مامور کیا۔ جب فردوسی نے پوری ایمان داری سے شاہ نامہ لکھ دیا، تب باد شاہ نے وعدہ شدہ انعام دینے سے انکار کر دیا۔ ایسے میں فردوسی بد دل ہو کر دربار سے رخصت ہوا۔ وہ یہ باور کرنے لگا کہ محمود میں شاہی خون کی کمی ہی شاید رہی ہے کہ وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی اپنے کیے پر نادم ہوتا ہے اور وعدہ شدہ رقم فردوسی کے گھر پہنچاتا ہے۔ مگر تب تک وہ انتقال کر جاتا ہے۔ اس کی بیٹی نے یہ کہہ کر انعامی رقم لینے سے انکار کر دیا کہ جب جس سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ نہیں رہے، تو یہ رقم لینے سے کیا حاصل۔ مغل بادشاہوں میں اکبر نے کئی اہل قلم کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد کے دور میں یہ حوصلہ افزائی اور بھی بڑھی ہوئی ہونے لگی۔ آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر خود ایک شاعر تھے۔ انھوں نے استاد ذوق اور مرزا غالب جیسے کئی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی تھی جو اصحاب قلم شاعر تھے۔ برطانوی ہند میں ربندرناتھ ٹیگور گیتانجلی لکھے تھے، جس کے لیے انھیں نوبل انعام ملا تھا۔ آزاد ہندوستان میں بھی کئی اہل قلم بھارت میں گذرے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایک تاریخی دستاویز Discovery of India لکھے تھے۔ مشہور مصنفہ اروندھتی رائے سسکتے لوگ نامی ناول لکھا تھا، جس کے لیے اسے بکر انعام دیا گیا تھا۔ حقوق مراقبت بھارتی سرکار کی طرف سے غیر پسندیدہ طباعت پر پابندی لگانے کی روایت ہے۔ اکانمسٹ کے 2011ء شمارے میں کشمیر کا نقشہ متنازع علاقہ لکھنے پر بھارت نے نقشہ پر سفید دھبہ لگانے کے بعد فروخت کی اجازت دی۔ کھیل دنیا بھر میں ناپید ہونے والے قدیم کھیل بھارت میں اب بھی مشہور ہیں اور کھیلے جاتے ہیں جیسے کبڈی، کھو کھو، پہلوانی اور گلی ڈنڈا۔ ایشیائی مارشل آرٹ کی کچھ اقسام جیسے کالا رلیتتو، موستی یوددا، سلمبم اور مارما ادی بھارت کی ہی پیداوار ہیں۔ شطرنج کو عام طور پر بھارت میں ایجاد ہوا کھیل مانا جاتا ہے اورآج کل دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور بھارتی گرانڈ ماسٹر کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ و334وو335و پاششچی جلال الدین اکبر کے دربار میں ایک بڑے سے ماربل کا منقش تھا۔ بھارت سے متعلقہ مضامین * حکومت ہند * فہرست متعلقہ مضامین بھارت * بھارت کے شہر * بھارت کے شہر بلحاظ آبادی * بھارت کے اضلاع * بھارت میں زراعت حوالہ جات زمرہ:آزاد خیال جمہوریتیں زمرہ:اردو بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:انگریزی بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:ایشیائی ممالک زمرہ:ایشیا میں 1947ء کی تاسیسات زمرہ:بحر ہند کے ممالک زمرہ:برطانیہ کی سابقہ مستعمرات زمرہ:بی آر آئی سی ایس اقوام زمرہ:ٹائٹل اسٹائل میں بیک گراؤنڈ اور ٹیکسٹ الائن دونوں کے ساتھ ٹوٹنے والی فہرست کا استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:جمہوریتیں زمرہ:جنوب ایشیائی ممالک زمرہ:جی 20 اقوام زمرہ:جی 20 ممالک زمرہ:دولت مشترکہ جمہوریتیں زمرہ:دولت مشترکہ کے رکن ممالک زمرہ:سارک کے رکن ممالک زمرہ:شنگھائی کارپیریشن آرگنائیزیشن کے ارکان زمرہ:علامت کیپشن یا ٹائپ پیرامیٹرز کے ساتھ خانہ معلومات ملک یا خانہ معلومات سابقہ ملک استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:گروہ 15 کے ممالک زمرہ:مضامین مع صوتی تلفظ زمرہ:نئے صنعتی ممالک زمرہ:وفاقی آئینی جمہوریتیں زمرہ:وفاقی جمہوریتیں زمرہ:وفاقی ممالک زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:ویکیپیڈیا جغرافیائی تصویر نقشے زمرہ:ہندوستانی بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:1947ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:بھارت
[Wikipedia:ur] چھٹا ہزاریہ قبل مسیح : اس صفحہ پر درج علامات کا مفہوم یوں ہے * د = دہائی * قم = قبل از مسیح ملينيم 8 قبل از مسيح - ملينيم 7 قبل از مسيح - ملينيم 6 قبل از مسيح اہم واقعات - يورپ کی وادی ميں زراعت کا آعاز - سونے اور تانبے کا استعمال - بلوچستان ميں مہر گڑھ ميں زراعت اور آبادی - انگلش چينل بن گيا - عراق ميں پہلے مٹی کے برتن - مشرق وسطی ميں گائے پالتو بنا لی گئی زمرہ:ساتواں ہزارہ ق م زمرہ:ہزارسالہ زمرہ:ہزاریہ زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] آٹھواں ہزاریہ قبل مسیح : اس صفحہ پر درج علامات کا مفہوم یوں ہے * د = دہائی * قم = قبل از مسیح ملينيم 10 قبل از مسيح - ملينيم 9 قبل از مسيح - ملينيم 8 قبل از مسيح اہم وافعات - جريکو ميں بستی - عراق ميں زراعت - تير کمان کی ايجاد - چين ميں ثوئر کو پالتو بنا ليا گيا - مشرق وسطی ميں بکری اور بھيڑ کو پالتو بنا ليا گيا زمرہ:درمیانی سنگی دور زمرہ:ہزارسالہ زمرہ:ہزاریہ زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:زرخیز ہلال
[Wikipedia:ur] ف کی بولی برصغیر کی عوامی غیر منضبط زبانوں میں ایک زبان ف کی بولی کے نام سے مشہور ہے۔ عموماً یہ زبان والدین اس وقت استعمال کرتے ہیں جب انھیں بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے کچھ کہنا ہوتا ہے، جسے وہ بچوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔ اس زبان میں عموماً حساس معاملات پر گفتگو ہوتی ہے مثلاً پیسہ، موت، لڑائی جھگڑا یا جنسی معاملات یا ان جیسے دیگر معاملات۔ قواعد زبان کا استعمال نہایت آسان ہے، ہر لفظ کے ہر جُز کے درمیان حرف ف داخل کر دیا جائے۔ مثلاً اتنے پیسے کہاں خرچ ہو گئے؟ کو "ف کی بولی" میں یوں کہا جائے گا: افتنفے پفیسفے کفہفاں خفرچ ہفو گفئے؟ یہ بولی لڑکیوں اور نوعمر خواتین میں بہت مقبول ہے، عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بیشتر لڑکے اس سے نابلد ہیں۔ ف کی بولی کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے اردو کے قریباً ہر حرف سے اس کی بولی بنائی جا سکتی ہے جیسے ب کی بولی، ج کی بولی، ڈ کی بولی وغیرہ۔ زمرہ:اردو زمرہ:بولیاں زمرہ:پاکستانی تفریحی کھیل زمرہ:زبانوں کے کھیل
[Wikipedia:ur] فہرست ممالک بلحاظ آبادی مزید دیکھیے: فہرست ممالک بلحاظ آبادی 2005، فہرست ممالک بلحاظ آبادی 1907 تصغیر یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ممالک کی فہرست ہے۔ اس فہرست میں دنیا کے آزاد ممالک اور دوسرے ممالک کے زیر انتظام وہ علاقے شامل ہیں جنھیں داخلی خود مختاری حاصل ہے۔ جہاں بھی ممکن ہوا، اعدادوشمار ممالک کے اپنے مردم شماری کے اداروں کے تازہ ترین تخمینوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ بصورت دیگر، اقوام متحدہ کے 2007ء کی آبادی کا تخمینہ درج کیا گیا ہے۔ چونکہ تمام ممالک میں مردم شماری ایک وقت میں نہیں ہوتی اور نہ ہر جگہ ایک سی احتیاط برتی جاتی ہے، ذیل میں دیے گئی درجہ بندی () میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ تقابلے کے لیے کچھ نیم خود مختار علاقوں کو یہاں شامل تو کیا گیا ہے، لیکن درجہ بندی صرف خود مختار ممالک کی کی گئی ہے۔ ممالک اور ان کے ماتحت علاقوں کی آبادی کے لحاظ سے فہرست مزید دیکھیے * فہرست افریقی ممالک بلحاظ آبادی * فہرست ممالک شمالی و جنوبی امریکا بشمول جزائر بلحاظ آبادی * فہرست عرب ممالک بلحاظ آبادی * فہرست ایشیائی ممالک بلحاظ آبادی * فہرست کیریبین جزائر ممالک بلحاظ آبادی * فہرست یورپی ممالک بلحاظ آبادی * فہرست یورپی یونین رکن ممالک بلحاظ آبادی * فہرست لاطینی امریکا ممالک بلحاظ آبادی * فہرست ممالک اراکین دولت مشترکہ بلحاظ آبادی * فہرست مشرق وسطی ممالک بلحاظ آبادی * فہرست شمالی امریکا ممالک بلحاظ آبادی * فہرست اوقیانوسیہ ممالک بلحاظ آبادی * فہرست جنوبی امریکا ممالک بلحاظ آبادی * فہرست ممالک بلحاظ آبادی - ماضی و مستقبل * فہرست ممالک بلحاظ آبادی - ماضی (اقوام متحدہ) * فہرست ممالک بلحاظ آبادی 2000 * فہرست ممالک بلحاظ آبادی 2010 * فہرست یوریشیائی ممالک بلحاظ آبادی * فہرست شہر بلحاظ آبادی حوالہ جات * CIA, 1 اگست، 2003. زمرہ:بشری شماریات زمرہ:فہارست ممالک بلحاظ آبادی زمرہ:معاشیاتِ آبادی آبادی زمرہ:ممالک کی فہرستیں بلحاظ براعظم زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:افریقا زمرہ:براعظم امریکا زمرہ:یوریشیا زمرہ:بشری شماریات کی فہرستیں زمرہ:آبادیات بلحاظ ملک
[Wikipedia:ur] مذہب تصغیر|380px|اہم مذاہب کو ظاہر کرنے والا دُنیا|دنیا کا نقشہ۔ تصغیر| مذہب کا لفظی مطلب راستہ یا طریقہ ہے۔ انگریزی لفظ Religion کا مادہ لاطینی لفظ religio یعنی امتناع، پابندی ہے۔ ویبسٹر کی انگریزی لغت میں Religion کی جو تعریف کی گئی ہے اس سے ملتا جلتا مفہوم مقتدرہ قومی زبان کی انگریزی اردو لغت میں بھی دیا گیا ہے، جو یوں ہے: بہ الفاظ دیگر کسی مخصوص علاقے کی مذہبی روایات میں وہاں کے لوگوں کا اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز کار فرما ہوتا ہے۔ مثلاً زراعتی معاشروں میں بارش کا دیوتا ہوتا ہے تو خانہ بدوش معاشروں میں شکار کا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مذہب اپنے سے متعلقہ علاقہ کے لوگوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا چاہیے کہ کسی خطہ کے لوگ اپنے روحانی تقاضے پورے کرنے کے لیے جو امتناعات، پابندیاں، اُصول و قوانین، ضوابط وغیرہ عائد کرتے ہیں اُن کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے۔ مذہب کی تعریف اس کا واضح تعین اتنا آسان نہیں جتنا ہادی النظر میں معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب کوئی یک جہتی مظہر نہیں ہے۔ مذہب کے نام کے ساتھ ہی پہلا تصور ہمارا مذاہب کی طرف جاتا ہے کیونکہ مذہب سے سابقہ ہم کو ایک تاریخی مظہر کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب انسانی تہذیب کا ایک جز ہیں اور ان عظیم مذاہب کے ساتھ ساتھ ایسی چھوٹی مذہبی جماعتیں ہیں جن کی اپنی خصوصیات ہیں اور جن کی مذہبی انفرادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ایک مذہب کے محقق کا یہ کہنا کسی حد تک صحیح ہے کہ ہم مذہب کو مذاہب ہی کے اندر ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہر مذہب کے اندر مختلف قسم کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ جن کا تعلق عقائد کے تعین و توضیح اور ان عقائد پر مبنی مذہبی اعمال و رسوم سے ہوتا ہے جب ہم کسی آدمی کو مذہبی کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہی ہوتی ہے کہ وہ ان احکام و اعمال پر سختی سے کاربند ہے۔ جو اس مذہب سے وابستہ ہیں جس میں اس نے نشو و نما پائی ہے اور جن کو اس نے شعوری یا غیر شعوری طور پر قبول کر لیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک طرف تو مذہب کچھ متعین عقائد پر دلالت کرتا ہے جیسے وجود خدا پر ایقان، آخرت پر عقیدہ، جزا و سزا پر ایمان وغیرہ۔ دوسری طرف اس کا اظہار مقررہ عبادات کے مخصوص طریقوں پر بجا لانے اور اخلاقی اوامر و نواہی کی تکمیل میں ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم مذہب پر زیادہ غائر نظر ڈالیں اور ہماری نگاہ صرف اس مذہب تک محدود نہ ہو جس میں ہم پیدا ہوئے ہیں تو ہم کو ان اختلافات کا بھی شدت سے احساس ہوتا ہے جو تاریخی مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔ اور ان اشتراکات کا بھی جو ان اختلافات کے باوجود مختلف مذاہب میں موجود ہوتے ہیں تو پھر یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا عنصر ہے جو تمام مذاہب میں مشترک ہے اور جس کی بنا پر ہم مذہب کے اس مظہر کو، جہاں شخصی ذاتِ مطلق کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے (جیسے یہودیت، مسیحیت، و اسلام) اور اس مظہر کو بھی جس کی اساس محض غیر شخصی حقیقت ہے اور جس کا صرف سلبی طور پر اظہار ممکن ہے (جیسے کہ بدھ مت)، مذہب کا نام دیتے ہیں۔ دنیا کے چند اہم مذاہب ابراہیمی مذاہب * اسلام * یہودیت * عیسائیت مشرقی ایشیائی مذاہب * تاؤ مت * کنفیوشس مت * چینی لوک مذہب ہندوستانی مذاہب * ہندو مت * جین مت * بدھ مت * سکھ مت * قادیانیت علاقائی اور لوک مذاہب * شمن پرستی * روحیت * اجداد پرستی روایتی افریقی مذاہب * روایتی بربر مذہب * قدیم مصری مذہب * اکان مذہب * داهومیائی مذہب * سریر مذہب * یوروبا مذہب * ڈنکا مذہب * بوشمن مذہب * سانٹریا * کانڈومبلے * وڈوون * امبینڈا * میکمبا ایرانی مذاہب * زرتشتیت * یارسانیت * یزدانی * یزیدیت * سامریت * مندائیت * بابیت * بہائیت * ازلیت * دروز * راستفاری آبادیاتی صنف بندی مزید دیکھیے * مذاہب بلحاظ ملک حوالہ جات مذہب زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:ثقافت زمرہ:ذاتی زندگی زمرہ:روحانیت زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] اسلام اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے، حضرت محمد ﷺ کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریبا 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فرد واحد (محمد ) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے، جس کے پیروکاروں کا تخمینہ تعداد 1.9 بلین افراد یا زمین کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا بڑا مذہب ہے اور پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے توقع ہے کہ اکیسویں صدی کے آخر تک یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ 49 ممالک میں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت ہے۔ زیادہ تر مسلمان دو فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن میں اہل سنت والجماعت (85-90%) ہیں اور اہل تشیع (10-15%) ہیں۔ تقریباً 13% مسلمان انڈونیشیا میں رہتے ہیں، جو سب سے بڑامسلم اکثریتی ملک ہے۔ 31% مسلمان جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں، یہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد والا خطہ ہے۔ 20 % مسلمان مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جہاں یہ غالب مذہب ہے، اور 15% سب صحارا افریقہ میں۔ امریکہ، قفقاز، وسطی ایشیا، چین، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا، فلپائن اور روس میں بھی بڑی مسلم کمیونٹیاں آباد ہیں۔ اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا بڑا مذہب ہے۔ لغوی معنی لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔ * سَلم جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔ * سِلم جس کے معنی اطاعت، داخل ہو جانے اور بندگی کے آتے ہیں۔ قرآنی حوالہ * اسلام کا ماخذ سَلم اپنے امن و صلح کے معنوں میں قرآن کی سورت الانفال کی آیت 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسا کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)۔ * سلم (silm) کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت البقرہ کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قدم پر بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے)۔ اسلامی نظریات اور عقائد تصغیر|مدینہ منورہ|مدینہ میں [[مسجد نبوی]] قرآن کے مطابق مسلمان خدا، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے جس نے کائنات کو اس میں موجود ہر چیز کے ساتھ پیدا کیا اور جبرائیل کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا اور ان کا عقیدہ ہے کہ یہ ان سے پہلے کے انبیا کے بھیجے گئے پیغامات کا آخری پیغام ہے۔ انبیا وہ انسان ہیں جنھیں خدا نے اس کے رسول ہونے کے لیے چنا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انبیا انسان ہیں نہ کہ خدا، حالانکہ ان میں سے بعض کو خدا نے اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے معجزات کرنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔ اسلامی عقیدے میں انبیا کو انسانوں کی طرف سے کمال کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے اور وہ وہی ہوتے ہیں جو براہ راست خدا کی طرف سے یا فرشتوں کے ذریعے الہامی وحی حاصل کرتے ہیں۔ قرآن میں متعدد انبیا کے ناموں کا ذکر ہے جن میں آدم ، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر شامل ہیں۔ قرآن کے مطابق، تمام انبیا اسلام کی دعوت دینے والے مسلمان تھے، لیکن مختلف قوانین کے ساتھ۔ اسلام کی تعریف قرآن میں "خدا کی فطرت جس پر انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے" کے طور پر کیا گیا ہے:, مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حنیفیت مذہب ابراہیم کی بنیاد ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ابراہیمی مذاہب کے درمیان فرق صرف شریعت میں ہے نہ کہ مسلک میں اور یہ کہ اسلام کی شریعت اس سے پہلے کے قوانین کو منسوخ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی مذہب عقیدہ اور قانون پر مشتمل ہے۔ جہاں تک ایمان کا تعلق ہے، یہ اصولوں کا ایک مجموعہ ہے جس پر ایک مسلمان کو ایمان لانا چاہیے اور یہ طے شدہ ہے اور مختلف انبیا کے مطابق مختلف نہیں ہے۔ جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، یہ ان عملی احکام کا نام ہے جو مختلف رسولوں کے مطابق مختلف ہیں۔ خدا تصغیر|170x170پکسل|آیا آیا صوفیہ|صوفیہ، [[استنبول میں خدا کی روایتی اسلامی تصویر کشی]] اسلام کی بنیاد ایک اللہ پر یقین ہے۔ اور یہ کہ وہ ازلی ہے، زندہ ہے، نہیں مرتا، غفلت نہیں کرتا، عدل ظلم نہیں کرتا، اس کا کوئی شریک یا مماثلت نہیں، اس کا کوئی باپ یا بیٹا نہیں، وہ نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ گناہوں کو بخشتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے اور لوگوں میں فرق نہیں کرتا سوائے اس کے ان کے اچھے اعمال سے وہ کائنات کا خالق ہے اور اس کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اسے کنٹرول کرتا ہے۔ اسلامی عقیدہ میں وہ اپنی تمام مخلوقات سے بالکل مختلف اور انسانی تصورات سے بہت دور ہے، اس لیے اس کی کوئی تصویر یا بشری تصویر نہیں ہے، لیکن مسلمان اس کے وجود پر یقین رکھتے ہیں اور اسے دیکھے بغیر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ . جس طرح اسلام میں خدا ایک ہے، اسی وجہ سے مسلمان مسیح کی الوہیت کو رد کرنے کے علاوہ، تین افراد میں خدا کے وجود کے ساتھ تثلیث کے عیسائی نظریے کو مسترد کرتے ہیں، جو اسلامی عقیدے میں ایک انسانی رسول ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ عربی لفظ "اللہ" جو اسلام میں ایک ہی خدا کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، دو حصوں پر مشتمل ہے: " دی " اور " خدا "، جب کہ دوسرے کہتے ہیں کہ لفظ " الوہا " کی وجہ سے اس کی جڑیں آرامی ہیں۔ اسلام میں، قرآن میں خدا کے متعدد نام مذکور ہیں اور ایسے ننانوے نام ہیں جو سنی مسلمانوں کے لیے " خدا کے سب سے خوبصورت نام " کے نام سے مشہور ہیں، جو حمد اور تسبیح کے نام ہیں۔ وہ خدا جس کا ذکر قرآن میں یا کسی ایک رسول نے سنی عقیدے کے مطابق کیا ہے، : بادشاہ مقدس، امن پسند، وفادار، غالب، گرفت کرنے والا، توسیع دینے والا، نگہبان، پہلا، رحم کرنے والا، عظمت اور عزت کا مالک اور دیگر۔ بعض نے تجویز کیا کہ یہ تعداد ننانوے ہے، بخاری کی ایک حدیث کے مطابق جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خدا کے ننانوے نام ہیں، جو ان کو شمار کرے گا جنت میں داخل ہو جاؤ۔" فرشتے تصغیر|جبرائیل|جبریل کے نام کا ایک خاکہ، جس کا مطلب ہے "خدا کا آدمی،" یا "خدا کی طاقت" یا [[عبرانی زبان میں "خدا کی طاقت"]] فرشتوں پر ایمان اسلام کی بنیادوں میں سے ہے۔ قرآن کے مطابق، فرشتے خدا کی فرماں برداری، اس کی تسبیح اور اس کے احکام کو بجا لانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ فرشتوں کے کاموں میں وحی نازل کرنا، خدا کا تخت اٹھانا، خدا کی تسبیح کرنا، انسان کے اچھے اور برے اعمال لکھنا، موت کے وقت اس کی روح قبض کرنا اور دیگر شامل ہیں۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا جس طرح اس نے جن کو آگ سے پیدا کیا اور اس نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور ان کے پر ایسے ہیں جن سے وہ اڑتے ہیں تاکہ وہ جلدی سے ان کاموں تک پہنچ سکیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے اور فرشتے "دو، تین اور چار" ہیں اور ان میں سے بعض اس سے بھی زیادہ ہیں، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کی رات جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر ہیں۔ اسی طرح، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ تمام مخلوقات فرشتوں کو دیکھتے ہیں سوائے انسان کے ان فرشتوں میں سے جن کا ذکر قرآن میں ان کے ناموں سے کیا گیا ہے: جبرائیل اور میکائیل اور یہ سورۃ البقرہ میں ہے:اور ہاروت اور ماروت ایک ہی سورہ میں ہیں:اور موت کا فرشتہ جس کا کوئی اور نام قرآن مجید میں نہیں آیا، سورۃ السجدہ میں:. جن دوسرے فرشتوں کا قرآن میں نام کے بغیر ذکر آیا ہے ان میں سے: اسرافیل، رضوان، الزبانیہ، عرش کے حامل، محافظ اور معزز مصنفین ہیں۔ مسلمان نہ صرف فرشتوں کو ان کے ناموں سے ان کی تعظیم کے لیے نشان زد کرتے ہیں، بلکہ وہ ان کی تسبیح کرتے ہیں اور انھیں سلام کرتے ہیں، اس لیے وہ کہتے ہیں، مثال کے طور پر: "جبرائیل" یا "جبرائیل علیہ السلام۔" مقدس کتابیں تصغیر|سورہ فاتحہ|سورۃ الفاتحہ، قرآن کی پہلی سورت، عثمانی خطاط "عزیز افندی" کی طرف سے۔ مسلمان قرآن کو خدا کا لفظی لفظ سمجھتے ہیں۔ اور یہ کہ اس کی آیات واضح عربی زبان میں ہیں، قرآن جبرائیل کے ذریعے محمد پر خدا کی طرف سے نازل ہوئیں، جو 610 عیسوی شروع ہوا اور 8 جون 632 کو ان کی وفات تک کئی مواقع پر نازل کیا گیا۔ قرآن کو محمد کے کچھ ساتھیوں نے ان کی زندگی کے دوران مرتب کیا تھا، لیکن اس وقت اسے کسی ایک کتاب میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر الصدیق کے دور میں قرآن کو پہلی بار ایک کتاب میں جمع کیا گیا، پھر اسے کئی نسخوں میں نقل کیا گیا اور تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے دور میں مختلف مسلم ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور خدا نے اس کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ اب تک اس کی ایک ہونے پر تمام فرقوں کے مسلمان متفق ہیں۔ قرآن کو 114 سورتوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس میں 6236 آیات ہیں۔ قرآن میں مکی اور مدنی آیات ہیں۔ جہاں تک مکہ کا تعلق ہے، یہ وہی تھا جو ہجرت سے پہلے نازل ہوا تھا اور اس نے بنیادی طور پر عقیدہ اور ایمان کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی مسائل پر توجہ مرکوز کی تھی۔ جہاں تک بعد کی تہذیبی آیات کا تعلق ہے تو وہ ہجرت کے بعد نازل ہوئیں اور ان کا تعلق قانون سازی اور احکام سے ہے اور ان کا تعلق مسلم معاشرہ اور بالعموم انسانی معاشرہ کی تعمیر کے لیے ضروری معاشرتی اور اخلاقی مسائل پر ہے۔ قرآن قانونی ہدایات سے زیادہ اخلاقی رہنمائی میں مصروف ہے اور اسے "اسلامی اصولوں اور اقدار" کے لیے حوالہ کتاب سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر مسلمان سنت کے ساتھ ساتھ قرآن کو اسلامی قانون کے دو اہم ماخذ مانتے ہیں۔ قرآن کا لفظ "پڑھنا" سے ماخوذ ہے۔ قرآن پڑھنا اسلام میں سب سے اہم عبادتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ قرآن عربی میں پڑھا جاتا ہے اور عبادت کے لیے اس کی کسی دوسری زبان میں تلاوت جائز نہیں ہے۔ اگرچہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمہ شدہ نسخے موجود ہیں، لیکن انھیں "قرآن" نہیں کہا جاتا اور یہ دوسری زبانوں میں قرآن کے معانی کی محض تشریحات سے زیادہ نہیں ہیں۔ جس طرح مسلمان قرآن پر یقین رکھتے ہیں، اسی طرح وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن کے نزول سے پہلے کی کتابیں خدا کی طرف سے بعض انبیا پر نازل ہوئیں، جیسے تورات جو موسیٰ پر نازل ہوئی تھی، زبور جو حضرت داؤد پر نازل ہوئی تھی۔ اور انجیل جو عیسیٰ ابن مریم پر نازل ہوئی، ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ان کتابوں کے موجودہ نسخوں میں تحریف کی گئی ہے، ان کتابوں پر ایمان رکھنا شرط ہے۔ مسلمانوں میں اور جو ان کی وحی کا انکار کرتا ہے وہ کافر سمجھا جاتا ہے۔ اس کی دلیل کے طور پر مسلمان جو آیات استعمال کرتے ہیں ان میں سورۃ المائدۃ میں مذکور آیات ہیں: رسول اور انبیا تصغیر|لفظ انبیا کی ترتیب کو "صلی اللہ علیہ وسلم" کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اسلام میں انبیا کی تعریف ایسے لوگوں کے طور پر کی گئی ہے جن کو خدا نے لوگوں کے لیے اس کے رسول کے طور پر منتخب کیا ہے، خدا انھیں اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے معجزات کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، مثال کے طور پر، حضرت سلیمان کا معجزہ پرندوں کی زبان میں اور جنوں کو دیکھنا اور مسیح عیسیٰ ابن مریم کا معجزہ، بغیر باپ کے پیدا ہونا، بیماروں کی شفایابی اور مُردوں کا اٹھانا اور اس کے الفاظ جب وہ ابھی شیرخوار تھے اور محمد کا معجزہ خود قرآن ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیا دین اسلام کی طرف بلا رہے تھے، لیکن مختلف پیغامات کے ساتھ، یعنی انھوں نے انہی اصولوں کی طرف بلایا جن کی طرف اسلام بلاتا ہے، لیکن اپنے زمانے کے حالات کے مطابق جس کی دعوت دی گئی تھی۔ ان کے لوگ اور ان میں سے آخری پیغام محمد بن عبد اللہ کا پیغام تھا، جسے مسلمان آخری پیغام سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور محمد اسلام کے پیغمبر ہیں اور مسلمان انھیں کسی نئے مذہب کے بانی کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ اصل اسلام کی بحالی اور تجدید اور توحید کے عقیدہ کو دیکھتے ہیں جو خدا نے آدم، ابراہیم ،موسیٰ، عیسیٰ، اور دیگر انبیا پر نازل کیا تھا۔۔ اسلامی روایت میں، محمد کو آخری اور عظیم ترین نبیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری تئیس سالوں تک، چالیس سال کی عمر سے شروع ہونے والے، محمد کو خدا کی طرف سے حضرات جبرائیل نے قرآن کے ذریعے وحی ملی اور اسے ان کے پیروکاروں نے حفظ کیا۔ جس طرح مسلمان محمد کو مانتے ہیں، اسی طرح وہ آدم ، نوح، ابراہیم، موسیٰ، داؤد ، سلیمان ، عیسیٰ مسیح اور دیگر کو خدا کے نبیوں کو بھی مانتے ہیں۔ قرآن میں پچیس انبیا کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں سے بعض کا تذکرہ بائبل اور تورات میں اسی نام سے کیا گیا ہے، جیسے کہ حضرت ابراہیم ، اسحاق، یعقوب ، یوسف اور آدم اور بعض کا تذکرہ دوسرے ناموں جیسے کہ حضرت یحییٰ، جنھیں بائبل میں " جان دی بپٹسٹ " کہا جاتا ہے اور ان میں سے کچھ کا ذکر ان کتابوں میں کیا گیا ہے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، بلکہ حدیث نبوی میں ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ دانیال نبی۔ مسلمان انبیا کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کو سلام کرتے ہیں اور ان کی تعظیم و توقیر میں انھیں ان کے تجریدی ناموں سے نہیں پکارتے، مثال کے طور پر، وہ کہتے ہیں: "محمد" خدا کی دعائیں اور سلام ہو، "یسوع مسیح" ان پر سلام ہو۔ "ہمارے باپ آدم" آپ پر سلام ہو، یہ مانتے ہوئے کہ آدم بنی نوع انسان کے باپ ہیں جیسا کہ بائبل میں بھی مذکور ہے۔ سنی مسلمان کسی بھی شکل میں انبیا اور رسولوں کی تصویر کشی کرنے سے انکار کرتے ہیں، خواہ وہ کسی خاکے میں ہو یا مجسمہ یا کسی نمائندہ عمل میں ان کی شخصیت کا ازسر نو جنم، جب کہ شیعہ انبیا کی تصویر کشی کی اجازت دیتے ہیں اور محمد کی کئی فارسی خاکے ہیں، ائمہ اور فرشتے. کچھ احادیث آئی ہیں جن میں بعض انبیا کے جسم کا ذکر ہے۔ قیامت تصغیر|280x280پکسل|اسلام بلحاظ ملک|پوری دنیا میں اسلام یومِ قیامت، یومِ جزا، یومِ آخر یا قرآن میں مذکور دیگر نام، اسلامی عقیدے میں یومِ جزا ہے۔ اور اسی میں دنیا کا خاتمہ ہے اور خدا تمام لوگوں کو جمع کرتا ہے تاکہ ان سے ان کے اعمال کا محاسبہ کرے اور پھر ان کا ٹھکانہ جنت یا جہنم ہو گا۔ اگر اس کے اعمال اچھے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا جو اسلامی عقیدے میں نعمت ہے۔ اور جو دنیا کی زندگی میں برے اعمال کرتا تھا اسے جہنم میں عذاب دیا جائے گا جو اسلام میں جہنم ہے۔ قرآن اور احادیث میں قیامت کے واقعات اور ہولناکیوں اور اس کے قریب آنے کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جیسا کہ اس میں جنت کی نعمتوں اور وہاں کی لذتوں کو بیان کیا گیا ہے، اسی طرح جہنم کے عذاب اور اس کے گنہگاروں کی تکالیف کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی نہیں جانتا اور یہ کہ قیامت کسی کی توقع کے بغیر اچانک آجائے گی۔ قرآن نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کیا ہے، بشمول سورت تکویر میں آیا ہے:, اور سورۃ الانفتار۔ تقدیر اور تخلیق سنی مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر چیز انسان کے خالق کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے اور تمام تقدیر خدا نے تخلیق یا آدم کی تخلیق سے پہلے محفوظ شدہ تختی میں لکھی تھیں۔ اور یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کی تقدیر اور مرضی سے ہوتا ہے، اس کے مطابق جو کتاب و سنت میں بیان کیا گیا ہے اور اسلامی مذہبی علما نے جو قیاس کیا ہے۔ اگرچہ واقعات پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں، لیکن انسان کے صحیح اور غلط کے درمیان انتخاب ہے اور اس لیے وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ سورۃ تکویر میں فرمایا:اور یہ کہ انسان کی مرضی اور طاقت خدا کی طاقت اور مرضی سے باہر نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے انسان کو یہ عطا کیا اور اسے فہم و فراست پر قادر کیا جیسا کہ پچھلی آیت کی درج ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے:. دوسری طرف تقدیر کے بارے میں شیعہ فہمجیسا کہ اسے عدل کہا جاتا ہے، انسان کے اپنے اعمال کی ذمہ داری کے گرد گھومتا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ بعض معاملات میں بھی رہنمائی کرتا ہے جو اس پر عائد ہوتے ہیں، جیسے کہ جنس۔، جائے پیدائش، وغیرہ۔ اسلام کیا ہے؟ یہاں وضاحت، اسلام کیا ہے؟ کو دوبارہ درج کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس کا جواب مضمون کے ابتدائیہ میں آچکا ہے۔ جہاں تک رہی بات اس سوال کی کہ اسلام ہے کیا؟ یعنی وہ کیا اجزاء ہیں کہ جو اسلام کی تشکیل کرتے ہیں؟ تو اس وضاحت کی الگ سے ضرورت مختلف خود ساختہ فرقوں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک درکار لازم حیثیت رکھتی ہے۔ ماسوائے چند (جیسے اھل القرآن) تمام فرقے قرآن اور سیرت النبی (سنت) ہی کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرار دینے پر نا صرف اجتماع رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور اس پر قائم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جیسے اھل سنت۔ اور اھل حدیث وغیرہ۔ یہی دعویٰءِ اصلِ اسلام، اھل تصوف سے متعلق کتب و دستاویزات میں بھی دیکھا جاتا ہے اھل تشیع فرقے والے سنت پر ایک خاص اور محتاط نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور سنیوں کے برعکس ان کے نزدیک جو سنت (حدیث)، اھل بیت سے منحرف ہوتی ہو وہ مستند نہیں، مزید یہ کہ اس فرقے میں قرآن اور سنت کی بجائے قرآن اور اھل بیت کا تصور بھی ملتا ہے۔ قرآن مذکورہ بالا قطعے میں متعدد الانواع --- اھلوں --- کے تذکرے کے بعد یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اسلام ایک کتابی مذہب ہے یعنی اس پر عمل کرنے والے اھل کتاب کہلائے جاتے ہیں۔ قرآن خود اپنی حیثیت کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے ایک راہنما (النساء 174)، ایک ہدایت (البقرہ 2) اور اچھے برے کی تمیز بتانے والی (البقرہ 185) کتاب ہے ۔ محمد پر وحی (610ء) کی صورت میں نازل ہونے سے لے کر عثمان کے زمانے میں کتاب کی شکل اختیار کرنے (653ء) سے قبل بھی قرآن اپنے لیے کتاب کا لفظ ہی استعمال کرتا ہے۔ قرآن کے ناقابل تحریف و فسخ ہونے اور اس کی ابتدائی زمانے میں کامل ترین طور پر حفاظت کیے جانے کے تاریخی شواہد موجود ہیں ؛ مسلمانوں کا یہ غیر متزلزل ایمان ہے کہ قرآن کے ایک نقطے میں نا تو آج تک تحریف ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ سنت سنت، عربی کا لفظ ہے اور اس کے بنیادی معنی، روش یا راہ کے ساتھ دیگر معنی بھی ہوتے ہیں لیکن اسلامی دستاویزات میں اس سے عام طور پر مراد حضرت محمد کی اختیار کردہ روش حیات یا طریقۂ زندگی کی ہی لی جاتی ہے۔ 569ء سے 632ء تک جو عرصہ محمد نے اس دنیا میں انسانوں کے سامنے کتاب کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے گزارہ وہ سنت کہلاتا ہے۔ خاتم الانبیا ہونے کی وجہ سے محمد کی وفات نے آخری کتاب کے بعد، اسلام کی تکمیل کرنے والے دوسرے منبع پر بھی اختتام کی مہر ثبت کردی۔ اس وقت سے لے کر آج تک مسلمان اسلام کے ان دو بنیادی ماخذ، قرآن اور سنت، کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اجزائے ایمان اجزائے ایمان سے مراد ان عقائد کی ہوتی ہے کہ جن پر کامل اعتقاد اسلام میں ایمان (اللہ پر یقین) کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتا ہے، عام طور ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے جن کا تمام مسلمان اقرار کرتے ہیں۔ بالائی جدول میں بیان کردہ ان اجزا کے لیے چھ کا عدد ناقابل تحریف نہیں ہے یعنی اجزائے ایمان میں وہ تمام اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو کسی شخص کو دل اور زبان سے اللہ کا اقرار کرنے میں معاون ہوں۔ مثال کے طور پر مشہور کلمہ، ایمان مفصل (عکس 1) میں ان کی تعداد چھ کی بجائے سات ہو جاتی ہے۔ دائیں|تصغیر|400px|عکس 1۔ ایمان کے اجزا (بالائی سرخ لکیر) کو بیان کرنے والا ایک مشہور کلمہ جسے ایمان مفصل کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کلمۂِ طیّب سمیت چھ بنیادی کلمات کی طرح ایمان مفصل اور ایمان مجمل بھی ایسے کلمات ہیں کہ جو ایمان کے بنیادی اجزائے ترکیبی کو آسانی سے یاد رکھنے میں مدد دے سکیں اور یہ کسی ایک عبارت کی صورت میں قرآن یا حدیث میں نہیں ملتے البتہ ان کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ ارکانِ اسلام ارکان اسلام کو اعتقادات دین یا دیانہ (creed) سمجھا جا سکتا ہے، یعنی وہ اطوار کہ جو عملی زندگی میں ظاہر ہوں ؛ بعض اوقات ان کو دین کے پانچ ستون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بشری شماریات (demography) کے اندازوں کے مطابق 85 فیصد (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی زیادہ) مسلم افراد، پانچ (5) ارکانِ اسلام پر ہی یقین رکھتے ہیں جبکہ 15% (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی کم) ایسے ہیں جو اس 5 کے عدد سے انحراف کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا سطور میں شماریاتی تناسب سے حوالۂ مقصود بالترتیب، سنی اور شیعہ تفرقوں کی جانب ہے۔ شیعہ اثناء عشر کے نزدیک اس کی پھر دو قسمیں ہیں۔ جنھیں اصول دین اور فروع دین کہتے ہیں۔ اصول دین کا تعلق عقیدہ و ایمان سے ہے جس میں توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت شامل ہیں۔ فروع دین کا تعلق عمل سے ہے جس میں کل 10 چیزیں یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خمس، جہاد، تولا، تبرا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شامل ہیں۔ اسماعیلی شیعاؤں میں ان کی تعداد 5 ارکان میں سے شہادت نکال کر اور ولایۃ (اماموں کی جانثاری و سرپرستی) اور طھارت جمع کر کہ 7 اپنا لی جاتی ہے۔ شیعوں ہی سے نکلنے والا ایک اور فرقے، دروز، والے اسماعیلیوں کی ولایۃ کو تسلیم کہتے ہیں جبکہ نماز کو صدق اللسان کہہ کر عام مسلمانوں کی طرح نماز اور روزے کو ترک عبادت الاثوان قرار دے کر عام مسلمانوں کی طرح روزہ ادا نہیں کرتے، ان لوگوں میں زکوت بھی مختلف اور انفرادی طور پر ہوتی ہے جبکہ حج نہیں ہوتا۔ تاریخِ اسلام 610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا۔ خلافت راشدہ 632ء میں عبداللہ ابن ابی قحافہ کے انتخاب پر خلافت راشدہ کا آغاز ہوا، انھوں نے حروب الردہ کے بعد سلطنت ساسانیان اور سلطنت بازنطینی کی جانب پیشقدمیاں کیں۔ 634ء میں ابوبکر کے انتقال کے بعد عمر بن الخطاب خلیفۂ دوم ہوئے، کچھ لوگ اس انتخاب پر علی بن ابی طالب کے حق میں تھے۔ عمر فاروق نے ساسانیوں سے عراق (بین النہرین)، ایران کے علاقے اور رومیوں سے مصر، فلسطین، سوریا اور آرمینیا کے علاقے لے کر اسلامی خلافت میں داخل کیے اور عملی طور پر دونوں بڑی سلطنتوں کا خاتمہ ہوا۔ 638ء میں مسلمان بیت المقدس میں داخل ہو چکے تھے۔ 644ء میں ابولولو فیروز کے خنجر سے عمر فاروق کی شہادت کے بعد عثمان ابن عفان خلیفۂ سوم منتخب ہوئے اور 652ء تک اسلامی خلافت، مغرب کی حدوں (جزیرۃ الاندلس) میں پہنچ گئی۔ اگر تفصیل سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ وہ عرصہ تھا کہ گو ابھی شیعہ و سنی تفرقے بازی کھل کر تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن تیسرے خلیفہ عثمان ابن عفان کے انتخاب (644ء تا 656ء) پر بہرحال ایک جماعت اپنی وضع قطع اختیار کر چکی تھی جس کا خیال تھا کہ علی بن ابی طالب کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس جماعت سے ہی اس تفرقے نے جنم لیا جسے اور مختصرا شیعہ کہا جاتا ہے۔ عثمان غنی کی شہادت کے بعد اب خلافت راشدہ کا اختتام قریب قریب تھا کہ جب علی المرتضیٰ خلیفہ کے منصب پر آئے (656ء تا 661ء)۔ لوگ فتنۂ مقتل عثمان بن عفان پر نالاں تھے اور علی بن ابی طالب پر شدید دباؤ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ڈال رہے تھے جس میں ناکامی کا ایک خمیازہ امت کو 656ء کے اواخر میں جنگ جمل کی صورت میں دیکھا نصیب ہوا؛ پھر عائشہ بنت ابی بکر کے حامیوں کی شکست کے بعد دمشق کے حاکم، معاویہ بن ابو سفیان نے علی بن ابی طالب کی بیت سے انکار اور عثمان بن عفان کے قصاص کا مطالبہ کر دیا، فیصلے کے لیے میدان جنگ چنا گیا اور 657ء میں جنگ صفین کا واقعہ ہوا جس میں علی المرتضیٰ کو فتح نہیں ہوئی۔ معاویہ بن ابو سفیان کی حاکمیت (660ء) مصر، حجاز اور یمن کے علاقوں پر قائم رہی۔ 661ء میں عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے حملے میں علی بن ابی طالب شہید ہوئے۔ یہاں سے، علی بن ابی طالب کے حامیوں اور ابتدائی سنی تاریخدانوں کے مطابق، خلافت راشدہ کے بعد خلیفۂ پنجم حسن ابن علی کا عہد شروع ہوا۔ 661ء تا 1258ء حسن بن علی کی دستبرداری پر معاویہ بن ابو سفیان نے 661ء میں خلافت بنو امیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک بار پھر قبل از اسلام کے امرائی و اعیانی عربوں کا سا انداز حکمرانی لوٹ آیا۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے، یزید بن معاویہ (679ء) نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی کو 680ء میں جنگ کربلا میں شہید کر دیا اور سنی، شیعہ تفرقوں کی واضح بنیاد ڈالی۔ 699ء میں فقہی امام ابو حنیفہ کی پیدائش ہوئی۔ بنو امیہ کو 710ء میں محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور 711ء میں طارق بن زیاد کی فتح اندلس (یہی امام مالک کی پیدائش کا سال بھی ہے) کے بعد 750ء میں عباسی خلافت کے قیام نے گو ختم تو کر دیا لیکن بنو امیہ کا ایک شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل فرار ہو کر 756ء میں اندلس جا پہنچا اور وہاں خلافت قرطبہ کی بنیاد رکھی، یوں بنو امیہ کی خلافت 1031ء تک قائم رہی۔ ادھر عباسی خلافت میں کاغذ کی صنعت، بغداد کے بیت الحکمۃ (762ء) جیسے شاہکار نظر آئے تو ادھر اندلس میں بچی ہوئی خلافت امیہ میں جامع مسجد قرطبہ جیسی عمارات تعمیر ہوئیں۔ 767ء میں فقہی امام شافعی اور 780ء امام حنبل کی پیدائش ہوئی۔ 1258ء میں شیعیوں کی حمایت سے ہلاکو کے بغداد پر حملے سے آخری خلیفہ، موسیقی و شاعری کے دلدادہ، معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندا گیا اور خلیفۃ المسلمین و امیرالمومنین کی صاحبزادی کو منگولیا، چنگیز خان کے پوتے مونکو خان کے حرم بھیج دیا گیا، مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوئے ہلاکو نے اہم شیعہ عبادت گاہوں کو اپنے سپاہیوں سے بچانے کی خاطر پہرے دار مقرر کر دیے تھے ؛ یوں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا۔ عباسیہ عہد ہی میں اسلامی تاریخ کو کوئی 700ء سے شروع ہونے والے اسلامی عہدِ زریں کا دیکھنا نصیب ہوا اور مسلم سائنسدانوں کی متعدد عظیم کتب اسی زمانے میں تخلیق ہوئیں اور اسی زمانے میں ان کی سیاہی کو دجلہ کا پانی کالا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ خلافت تا خلافتیں کہنے کو 1924ء تک گھسٹنے والی خلافت، لغوی معنوں میں 632ء تا 1258ء تک ہی قائم سمجھی جا سکتی ہے۔ جبکہ فی الحقیقت اس کا عملی طور پر خاتمہ 945ء میں بنی بویہ کے ہاتھوں ہو چکا تھا ادھر ایران میں سامانیان (819ء تا 999ء) والے اور ایران کے متعدد حصوں سمیت ماوراء النہر و موجودہ ہندوستان کے علاقوں پر پھیلی غزنوی سلطنت (963ء تا 1187ء) والے، عباسی خلافت کو دکھاوے کے طور برائے نام ہی نمائندگی دیتے تھے۔ فاطمیون (909ء تا 1171ء)، تیونس میں عباسی خلافت کو غاصب قرار دے کر اپنی الگ خلافت (920ء) کا دعویٰ کر چکے تھے اور اسپین میں عبد الرحمن سوم، 928ء میں اپنے لیے خلیفہ کا لقب استعمال کر رہا تھا۔ یہ وہ سماں تھا کہ ایک ہی وقت میں دنیا میں کم از کم تین بڑی خلافتیں موجود تھیں اور ہر جانب سے خلیفہ بازی اپنے زوروں پر تھی، یہ بیک وقت موجود خلافتیں ؛ خلافت عباسیہ، خلافت فاطمیہ اور خلافت قرطبہ (اندلسی امیہ) کی تھیں۔ 1169ء میں نور الدین زنگی نے شیر کوہ کے ذریعے مصر اپنے تسلط میں لے کر فاطمیہ خلافت کا خاتمہ کیا۔ صلاح الدین ایوبی (1138ء تا 1193ء) نے 1174ء میں ایوبی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اور 1187ء میں مسیحیوں کی قائم کردہ مملکت بیت المقدس سے بیت المقدس کو آزاد کروا لیا۔ 1342ء میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور مملوک (1250ء تا 1517ء) حکومت کے قیام سے قبل اس سلطنت میں ایک خاتون سلطانہ، شجر الدر (1249ء تا 1250ء) نے بھی ساتویں صلیبی جنگوں کے دوران میں قیادت کی طوائف الملوک تا استعماریت 1258ء میں چنگیز کے پوتے سے بچ نکلنے والے عباسیوں نے مصر میں مملوکوں کی سلطنت (1250ء تا 1517ء) میں خلفیہ کا لقب اختیار کر کے عباسی (فرار ہوجانے والی) خلافت کو مملوکوں کی عثمانیوں کے سلیم اول کے ہاتھوں شکست ہونے تک (1517ء) نام دکھاوے کی طرح قائم رکھا اور پھر سلیم اول نے آخری مصری عباسی خلیفہ، محمد المتوکل ثانی (1509ء تا 1517ء) کے بعد خلیفہ کا لقب اس سے اپنے لیے حاصل کر لیا۔ ھاشم ثانی کے بعد خلافت قرطبہ (756ء تا 1031ء) ختم ہوئی اور الاندلس چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔ دولت مرابطین کے یوسف بن تاشفین نے 1094ء میں اسے پھر متحد کیا لیکن اس کے بعد دولت موحدون آئی اور معرکہ العقاب (1212ء) میں ان کی شکست پر دوبارہ اندلس کا شیرازہ بکھر گیا اور 1492ء میں ابو عبد اللہ اندلس کو مسیحیوں کے حوالے کر کہ مراکش آگیا۔ ادھر مشرق کی جانب مملوکوں سے سلطنت غزنویہ (986ء تا 1186ء) اور سلطنت غوریہ (1148ء تا 1215ء) نے خلافت کو طوائف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کے بعد خلجی خاندان اور تغلق خاندان آئے اور 1526ء میں سلطنت دہلی، سلطنت مغلیہ بن گئی۔ اسلام و دیگر مذاہب * اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبہ کے حوالے سے رہنمائی کرتا ہے یعنی صرف عبادات نہیں بلکہ معیشت، تجارت، اخلاقیاف ہر حوالے سے رہنمائی دیتا ہے۔ اسلام میں سود حرام ہے، اسلام میں بحیثیت انسان سب برار ہے، اسلام لوگوں کو ایک وحدت میں پروتا ہے اور کہتا ہے کہ سب آدم کی اولاد ہیں، اسلام میں غریبوں کا بڑا خیال رکھا گیا ہے زکوہ کا نظام قائم کر کے غرباء کی مدد کی جاتی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ سب کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہو۔ اسلام میں حقیقی بھائی بہن سے نکاح حرام ہے۔ اسلام کسی غیر محرم پر نظر اٹھانے سے بھی منع کرتا ہے۔ کسی کا مال ناحق کھانے کی ممانعت ہے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔ اسلام میں عورت کو بڑی عزت دی جاتی ہے اس کو وراثت میں حصہ ملتا ہے اس کے کھانے پینے، پہننے، رہائش کی زمہ داری مرد پر ہوتی ہے، اسلام میں ہر انسان کا خون قیمتی ہے کسی غیر مسلم کو ناحق قتل نہیں کیا جا سکتا اسلام باہمی ہمدردی، اخوت کا درس دیتا ہے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری پیغمبر ہیں۔ یہ دنیا فانی ہے موت کے بعد اللہ اس زندگی کا حساب لے گا اور جنھوں نے اچھے اعمال کیے ہوں گے انھیں جنت میں داخل کرے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں ڈالے گا، اسلام میں مسلمان دن میں پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں، سال بھر میں ایک مہینہ روزے رکھتے ہیں، سال میں ایک مرتبہ اپنے اضافی مال میں سے اڑھائی فیصد غریبوں کو دینا فرض ہے، زندگج میں ایک مرتبہ اگر استطاعت ہو تو بہت اللہ کا حج فرض ہے۔ اسلام میں جھوٹ بولنے، ناپ تول میں کمی کرنے کی سخت ممانعت ہے، غصہ، لالچ، تکبر، شہوت حسد، غیبت ان تمام برائیوں سے اسلام روکتا ہے ہے۔ اسلام کا سارا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے، بڑوں کی عزت کرنا، پڑوسی کا خیال رکھنا، اولاد کی اچھی تربیت کرنا اسلامی تعلیمات میں شامل ہیں۔ از روئے قرآن، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے قبل جتنے بھی مذاہب اس دنیا میں آئے وہ فی الحقیقت اسلام تھے اور جو عقائد محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے انسانوں کو سکھائے گئے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے گذشتہ تمام انبیا نے بھی انھی عقائد کی تبلیغ کی تھی۔ سورت النساء میں درج ہے ؛ * بے شک ہم نے وحی بھیجی ہے تمھاری طرف جیسے وحی بھیجی تھی ہم نے نوح علیہ السلام اور ان نبیوں کی طرف جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ہم نے علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام اور اوالاد یعقوب علیہ السلام کی طرف اور عیسیٰ علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یونس علیہ السلام ہارون علیہ السلام اور سليمان علیہ السلام کی طرف اور دی ہم نے داؤد علیہ السلام کو زبور۔ قرآن 04:163 مذکورہ بالا آیت سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔ اسلام میں انبیا قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیائے کرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، قطعہ بنام اجمالی جائزہ میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک حدیث بھی مسند احمد بن حنبل اور فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آتی ہے جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔ ؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر ذو الکفل علیہ السلام (الانبیاء آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور kifl اصل میں سنسکرت کے لفظ (Kapilavastu) کو تشبیہ ہے، گو یہ خیال سنی اور شیعہ کے علاوہ خود بدھ مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے شریعت اور اسلامی فقہ تصغیر|350x350پکسل|وہ ممالک جہاں اسلامی قانون کا اطلاق مختلف شکلوں میں ہوتا ہے اسلامی قانون قرآن ، احادیث نبوی، صالحین کے اقوال یا شیعوں کی رائے میں اہل بیت اور اسلامی مذہبی علما کی فقہ کے ذریعہ نافذ کردہ قوانین کا مجموعہ ہے، جو انسان کی تعریف کرتا ہے۔ خدا، لوگوں، معاشرے اور کائنات کے ساتھ تعلق کی وضاحت کرتا ہے کہ کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں کیا جا سکتا۔ ان قوانین میں سب سے اہم اسلام کے پانچ ستون ہیں۔ اسلامی قانون میں شامل دفعات کو تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: * عقائدی احکام : ان میں خدا کی ذات، صفات اور اس پر ایمان سے متعلق تمام احکام شامل ہیں جنھیں الوہیت کہا جاتا ہے، ان احکام میں رسولوں سے متعلق تمام احکام، ان پر ایمان اور ان پر نازل ہونے والی کتابیں بھی شامل ہیں۔ اور اسی طرح، جو پیشین گوئی کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ نظریاتی احکام ایک سائنس کے ذریعہ متحد ہیں جسے " توحید کی سائنس " یا " سائنس آف تقریر " کہا جاتا ہے * الاحکام التہبیب : یہ وہ احکام ہیں جو نیکی اور برائی کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں، ان فضائل کی وضاحت سے متعلق احکام ہیں جن کا انسان میں ہونا ضروری ہے، جیسے کہ دیانت، دیانت، ہمت، وفاداری، صبر وغیرہ۔ خیانت وغیرہ اور یہ نظم و ضبط کے احکام ایک سائنس کے ذریعہ متحد ہیں جسے " اخلاقیات کی سائنس " یا " تصوف کی سائنس " کہا جاتا ہے۔ * عملی احکام : یہ وہ احکام ہیں جن کا تعلق انسانی عمل یا انسانی عمل سے ہے۔ یہ احکام اسلامی فقہ میں زیر مطالعہ ہیں۔ اسلام پسند اسلامی قانون کے مطابق ملک پر حکمرانی اور نظم و نسق کی ضرورت کو دیکھتے ہیں اور اس کا اطلاق مسلمانوں اور ان کے زیرِ حراست افراد پر ہوتا ہے ، جیسے کہ ذمّہ کے لوگ، عہد اور امانت دار۔ وہ اس مسلمان پر حد کے نام سے جانے والی سزا کو نافذ کرنے کی ضرورت کو بھی دیکھتے ہیں جو شریعت کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور جس چیز سے منع کرتا ہے اس کا ارتکاب کرتا ہے ۔ جیسے کسی عورت پر بغیر ثبوت کے زنا کا الزام لگانا یا کسی بے گناہ پر غیرت یا بہادری کو متاثر کرنے والے الزامات کا الزام لگانا۔، جیسے چوری اور بغیر ثبوت کے اعتماد کی خلاف ورزی، شراب پینا، چوری، بدکاری، لڑائی، قتل اور ارتداد۔ کسی شخص پر عائد کی گئی سزا اس کے ارتکاب کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ تصغیر|350x350پکسل|اسلامی ممالک اور وہ کس حد تک شریعت کا اطلاق کرتے ہیں اسلامی شریعت کو یکے بعد دیگرے اسلامی ممالک میں بنیادی قانون کے طور پر لاگو کیا گیا، لیکن آج چند ممالک اسے ریاست کے واحد قانون کے طور پر لاگو کرتے ہیں، یعنی سعودی عرب، جو سلفی طریقہ کار پر شریعت کا اطلاق کرتا ہے، ایران بارہ کے طریقہ کار پر اور صومالیہ۔ اسلامی عدالتوں اور مجاہدین یوتھ موومنٹ کے زیر کنٹرول علاقوں میں نصاب سے دو مختلف طریقوں پر سنی۔ جب کہ دوسرے ممالک اسے اپنے قانونی قوانین کے علاوہ لاگو کرتے ہیں، دوسرے اسے صرف ذاتی حیثیت کے معاملات میں لاگو کرتے ہیں۔ جہاں تک اسلامی فقہ کا تعلق ہے تو یہ ان عملی شرعی احکام کا علم ہے جو تفصیلی شواہد سے اخذ کیے گئے ہیں اور یہاں سے مراد فہم ہے اور عملی شرعی احکام میں قانون دینے والے کے خطوط ہیں جو اعمال و افعال سے متعلق ہر چیز کو ترتیب دیتے ہیں۔ بندوں میں سے اور قیاس سے مراد وہ ہے جو ثبوت سے لیا گیا ہو اور تفصیلی شواہد سے کیا مراد ہے: قرآن، سنت رسول، شرعی علماء کا اجماع اور قیاس پر مبنی ہے۔ پہلے سے معلوم معاملات، مروجہ رواج، منظوری اور دیگر ثبوت یا اسلامی فقہ کے ذرائع۔ اسلامی فقہ کو کئی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تعریف اور شمار میں فقہا کا اختلاف ہے، لیکن انھیں چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: * عبادات : یہ وہ احکام ہیں جو انسان کے رب کے ساتھ تعلق کو منظم کرتے ہیں، جیسے نماز، زکوٰۃ ، روزہ ، حج ، جہاد، نذر وغیرہ۔ * لین دین : یہ وہ رشتے ہیں جو کسی فرد کے اس کے انفرادی بھائی کے ساتھ تعلقات کو منظم کرتے ہیں، جیسے کہ انسان کے بنائے ہوئے معاہدوں سے متعلق دفعات جیسے فروخت کا معاہدہ، لیز، قرض، امن، تحفہ، جمع، قرض، ضمانت اور دیگر معاہدے * شرعی سیاست : یہ وہ دفعات ہیں جو افراد یا دیگر ممالک کے ساتھ ریاست کے تعلقات کو منظم کرتی ہیں۔ ان کی مثالیں وہ دفعات ہیں جو خزانے کے وسائل اور اس کے جائز اخراجات کے بارے میں بات کرتی ہیں، ان دفعات کے علاوہ جو عدلیہ کے بارے میں بات کرتی ہیں اور وہ دفعات جو جرائم اور سزاؤں کو ظاہر کرتی ہیں، چاہے وہ حدود ہوں یا کمک۔ * خاندانی دفعات : اس قسم میں ایسی دفعات شامل ہیں جو شادی، طلاق، بچوں کے حقوق، وراثت، وصیت اور دیگر چیزوں کو منظم کرتی ہیں جنھیں اصطلاح "ذاتی حیثیتوں" کہا جاتا ہے۔ یہ دفعات وہ ہیں جو ذاتی حیثیت کے قوانین میں شامل ہیں۔ اسلامی قانون سازی کے ذرائع تصغیر|مسلمانوں کے لیے قرآن میں احکام کی حتمی اہمیت کی سب سے نمایاں مثال وہ ہے جو النور|سورۃ النور میں زانی اور زانی کی سزا کے بارے میں بیان ہوئی ہے، جہاں یہ آیا ہے:یہ آیت نمبروں کے لحاظ سے یا ایک خاص مقدار کے لحاظ سے قطعی ہے جو اس میں موجود ہے، کیونکہ اس میں موجود الفاظ بغیر کسی اضافے یا چھوٹ کے صرف ایک ہی معنی کے حامل ہو سکتے ہیں۔ 1۔ قرآن : یہ خدا کی طرف سے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے اور یہ قانون سازی کا پہلا ذریعہ ہے اور یہ وہی ہے جو اس کا لفظ اور معنی خدا کی طرف سے عربی الفاظ میں پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے اور خدا نے اس کی حفاظت کا عہد کیا ہے۔ یہ تبدیلی اور تحریف سے۔ جدید دور میں، ایک اقلیت نمودار ہوئی جو کہتی ہے کہ قرآن اسلامی قانون کا واحد ماخذ ہے، وہ بعد میں قرآن پرست کہلانے لگے۔ اور مسلمانوں کے لیے، قرآن پہلی قانون سازی کی اصل اور بنیاد ہے اور یہ شریعت کی بنیادیں اور اس کی خصوصیات کو عقائد، عبادات اور لین دین میں، تفصیلات اور خلاصوں کے درمیان دکھا سکتا ہے۔ اور قرآن، شرعی علما کے نزدیک، قطعی ہے، جہاں تک احکام کی طرف اشارہ ہے، یہ قطعی یا مفروضہ ہو سکتا ہے اور یہ اس صورت میں قطعی ہے جس الفاظ میں حکم کا صرف ایک معنی ہو۔ 2. سنت نبوی : قرآن کہتا ہے کہ رسول محمد بن عبداللہ کے احکامات پر عمل کرنا واجب ہے اور اسلامی علما کہتے ہیں کہ رسول کی پیروی سنت نبوی کی پیروی پر مشتمل ہے، جو ہر قول، فعل یا رپورٹ کو جاری کیا گیا ہے۔ رسالت اسلامی قانون سازی کا دوسرا ذریعہ ہے اور علما نے سنت نبوی کو کتابوں کے ایک گروپ میں جمع کیا ہے جیسے کہ صحیح البخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر کتب۔ سنت کو اس کی سند کے مطابق، یعنی اس کی روایت کو احناف کے نزدیک تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: متواتر سنت، مشہور سنت اور واحد سنت۔ جہاں تک متواتر سنت کا تعلق ہے تو یہ وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کی ایک جماعت نے نقل کی ہے جن کی ملی بھگت سے جھوٹ بولنا عموماً ناممکن ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ معروف سنت وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہو، ایک یا دو یا صحابہ کی ایک جماعت جو تعدد کی حد کو نہ پہنچی ہو اور عام طور پر جھوٹ بولنے میں ان کی ملی بھگت کو روکتی نہیں، پھر اسے روایت کیا گیا۔ ان کی طرف سے پیروکاروں کے ایک گروہ نے جن کی ملی بھگت سے جھوٹ بولنا ناممکن ہے، پھر اسے پیروکاروں کے ایک گروہ نے روایت کیا جن کا عام طور پر جھوٹ بولنے پر اتفاق کرنا ناممکن ہے۔ یکطرفہ سنت وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یا دو نے روایت کی ہو یا صحابہ کی ایک جماعت جو تعدد کی حد کو نہ پہنچی ہو اور یہ عام طور پر جھوٹ بولنے میں ان کی ملی بھگت سے نہیں روکتی، پھر اسے پیروکاروں کے ایک گروہ نے روایت کیا ۔ تابعین کے پیروکار جو تعدد کی حد کو بھی نہیں پہنچے اور احادیث واحد کی سند پر اہل سنت میں اختلاف ہے، اس لیے وہ دیکھتا ہے کہ مخاطبین احادیث کو ایمان کے معاملے میں مدنظر نہیں رکھتے، جب کہ علماء کرام شافعی اور احمد بن حنبل سمیت احادیث اور آثار قدیمہ کے، دیکھیں کہ وہ مستند ہیں۔ 4. اجماع : یہ کسی خاص مسئلے کے حکم پر اہل علم کے ایک عظیم اجتماع کا اجماع ہے جو اس میں موجود نصوص سے دلیل ہے۔ اجماع اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ درج ذیل امور حاصل نہ ہو جائیں: یہ کہ حکم کا اتفاق مجتہدوں کے درمیان ہے جو اہل سنت کے درمیان اجتہاد کے درجے کو پہنچ چکے ہیں اور شیعوں کے درمیان ائمہ کے بارے میں، اور اسی وجہ سے دوسروں کا اتفاق ہے۔ عام لوگوں میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی طرح تمام مجتہدوں کا متفق ہونا ضروری ہے، اس لیے ان میں سے کوئی بھی انحراف نہیں کرتا اور اگر ان میں سے کوئی اختلاف کرے تو صحیح ترین قول کے مطابق اجماع نہیں ہوتا۔ نیز مجتہدوں کا امت محمدیہ میں سے ہونا ضروری ہے، اس لیے اس امت کے علاوہ کسی اور کے مجتہد کے معاہدے کا کوئی لحاظ نہیں ہے، اور مجتہدوں کا معاہدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہونا چاہیے، کیونکہ ان کی زندگی میں کوئی اتفاق رائے نہیں تھا کیونکہ ان کے دور میں قانون سازی کے ذرائع صرف قرآن و سنت تک محدود تھے۔ آخر میں، قانونی حکم پر اتفاق اجتہاد کے ساتھ مشروط ہونا چاہیے، جیسے کہ کسی چیز کے واجب، حرام، مستحب، وغیرہ پر اتفاق۔ اجماع کی دو قسمیں ہیں: صریح اجماع، جو زمانے کے مجتہد کسی خاص واقعہ کے شرعی حکم پر متفق ہو جائیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی رائے کا اظہار واضح طور پر کرے اور خاموش اجماع، جو اس وقت ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں بعض مجتہد کسی خاص واقعہ کے متعلق شرعی حکم کی بات کرتے ہیں اور باقی مجتہدوں کو اس کے بارے میں علم ہوتا ہے اسی زمانے میں بغیر اظہار منظوری یا اختلاف کے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ 5۔ قیاس : یہ ایک ایسے حکم کو شامل کرنا ہے جس کا حکم قرآن، سنت یا اجماع میں متعین نہیں ہے، کسی دوسرے معاملے میں جس کا حکم قرآن، سنت یا اجماع میں متعین ہے، کیونکہ یہ دونوں مشترک ہیں۔ حکم کی وجہ. مشابہت کی ایک مثال شراب کی حرمت کے ساتھ مشابہت سے شراب کی حرمت ہے جیسا کہ سورۃ المائدۃ میں مذکور ہے کہ شراب کا حکم حرمت ہے اور اس کی حرمت کی وجہ نشہ ہے، اور یہی وجہ شراب میں بھی موجود ہے، اس لیے علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے شراب کا شرعی حکم ہے۔ 6۔ اجتہاد : یہ کسی عالم یا علما کی جماعت کی رضامندی سے کسی ایسے مسئلہ کا حکم اخذ کرنا ہے جس میں کوئی خاص عبارت نہ ہو۔ جیسے ٹیکنالوجی کی جدید چیزیں اور دیگر۔ سائنسدانوں نے مستعدی کے حقداروں کے لیے شرائط رکھی ہیں۔ فقہ کے بڑے مکاتب تصغیر|250x250پکسل|دنیا بھر میں اسلامی فقہ کے مختلف مکاتب فکر کا پھیلاؤ۔ فقہی مکاتب فکر میں یہ شامل ہے کہ انفرادی کیا ہے اور کیا اجتماعی ہے اور انفرادی عقائد سے مراد وہ عقائد ہیں جو کسی ایک مجتہد یا فقیہ کے اقوال اور اقوال سے تشکیل پاتے ہیں اور ان عقائد کے پیروکار اور طلبہ نہیں ہوتے تھے جو ان کو مرتب کرتے اور شائع کرتے، لہذا وہ مکمل طور پر بعد کی عمروں میں منتقل نہیں ہوئے تھے۔ جہاں تک فقہ کے اجتماعی مکاتب فکر کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ مکاتب ہیں جو مجتہد ائمہ کے اقوال و اقوال کے علاوہ ان کے شاگردوں اور پیروکاروں کی آراء سے تشکیل پاتے ہیں۔ فقہ کے سب سے مشہور مکاتب فکر میں سے چار مشہور مکاتب فکر ہیں، جو تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں: حنفی مکتبہ فکر مکتبہ مالکی ، شافعی مکتب فکر، مکتب حنبلی فکر کا اور ظاہر مکتبہ فکر۔ حنفی مکتب فکر اس مکتب فکر کے مالک امام ابو حنیفہ النعمان بن ثابت ہیں، جنہیں فارسی نژاد "سب سے بڑا امام" کہا جاتا ہے۔ وہ سنہ 80 ہجری کے مطابق 699 ء میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے اور 150 ہجری کے مطابق 767ء میں بغداد میں وفات پائی۔ بعض مؤرخین اور علما کا کہنا ہے کہ ابو حنیفہ کو " پیروی " میں شمار کیا جاتا ہے، یعنی اس نسل سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کے ساتھ رہی، کیونکہ انھوں نے ذاتی طور پر انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث نقل کی ہیں، دیگر صحابہ کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ. جب کہ دوسرے مورخین کا کہنا ہے کہ وہ "پیروکاروں کے پیروکاروں" میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ تصغیر|250x250پکسل|بغداد، [[عراق میں عظیم امام ابو حنیفہ النعمان کی مسجد]] ابوحنیفہ کے فقہی نقطہ نظر کی بنیاد قرآن کو اپنانا، پھر صحیح سنت نبوی، خلفائے راشدین اور عام صحابہ کے احکام کو اپنانا اور پھر تشبیہ کا سہارا لینا ہے۔ لیکن اس نے پیروکاروں کے خیالات کی پابندی نہیں کی، "وہ مرد ہیں اور ہم مرد ہیں،" وہ کہتے ہیں۔ ابوحنیفہ حدیث کے معاملے میں انتہائی سخت تھے، اس لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حدیث کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک کہ اسے کسی گروہ کی طرف سے روایت نہ کیا جائے۔ یا وہ حدیث تھی جس پر علاقوں کے فقہا نے عمل کرنے کا اتفاق کیا۔ یا کسی صحابی نے ان کی ایک مجلس میں اسے روایت کیا اور کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی احادیث اور واحد احادیث کو بھی رد کرتے تھے اور متواتر حدیث میں یہ شرط لگاتے تھے کہ راوی اس کے راوی کو جانتا ہے، اس کے ساتھ رہتا ہے اور اس کی ثقہ کا یقین رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر، ابوحنیفہ نے غیر معتبر حدیث پر تشبیہ کو ترجیح دی اور ایک دوسرے کے خلاف ناپی جانے والے مسائل کے درمیان مشترک سبب کو اخذ کرنے کے لیے رائے کے استعمال کو وسعت دی۔ ابوحنیفہ ان اصولوں کو مدنظر رکھتے تھے جو کسی بھی قانونی نصوص سے متصادم نہ ہوں اور ان پر عمل کرنے کا پابند ہو، خاص طور پر تجارت کے شعبے میں جس کا انھیں وسیع تجربہ تھا۔ چنانچہ ابوحنیفہ کی فقہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ’’زندگی کے ساتھ چلتے ہیں اور اس کے مختلف مسائل کو مدنظر رکھتے ہیں‘‘۔ مالکی مکتب فکر اس مکتب فکر کے امام مالک بن انس ہیں، جنھیں " شیخ اسلام " اور " حجۃ الجماعۃ" کا لقب دیا جاتا ہے۔ اور ان کی وفات سنہ 179 ہجری کے مطابق 795ء میں ہوئی۔ ملک کے لیے قانون سازی کی بنیاد قرآن اور سنت نبوی ہے۔ شہر میں بہت سے بولنے والے تھے اور وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ تاہم، مالک نے تشبیہ کو رد نہیں کیا، یعنی ان سے ان کے مشابہات پر احکام وضع کرنا جن پر اہل مدینہ متفق تھے اور خلفائے راشدین اور باقی صحابہ کے فتاویٰ کا اثر، بشرطیکہ اس میں تضاد نہ ہو۔ ایک دلچسپی جو شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔ ملک نے مرسل مفادات یا "نظر ثانی" کے اصول کو کہا جو "منظوری" کے اصول کے قریب ہے۔ اس میں یہ بھی شرط ہے کہ یہ مفادات شریعت کے مقاصد اور اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔ تجدید سے مراد ایک ایسے واقعے میں فیصلے کا نفاذ ہے جس میں کوئی متن یا اتفاق نہ ہو، ایک بھیجے گئے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس کے اثبات یا تردید کی نشان دہی کرنے والے متن کے ذریعہ محدود نہیں ہے، لہذا یہ اس طرح ایک متبادل ہے۔ قیاس اس صورت میں کہ مؤخر الذکر اس کے خلاف ماپا جانے والے اصل فیصلے کے کھو جانے کی وجہ سے ناممکن ہے۔ اور مالک نے اہل مدینہ کے کام کو ایک قانون سازی کی دلیل سمجھا جو خبر اور تشبیہ سے پہلے ہے۔ اور جب اس کے لیے کوئی مشکل پیش آتی تھی تو وہ agnosticism کی بات کرتا تھا تاکہ حرام چیزوں میں نہ پڑ جائے۔ اس کی بے باکی نے اسے بعض اوقات حکام کے ساتھ جھڑپوں تک پہنچایا۔ فرمایا: مجبور کرنے والے کی بیعت نہیں ہے۔ خلیفہ ابو جعفر المنصور نے ان الفاظ کو اپنی خلافت پر حملہ سمجھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عارضی شادی قانونی نہیں ہے، اس لیے بعض عباسی اس کے مخالف تھے۔ مالکی مکتب کے پیروکار اپنی نماز میں باقی اسلامی مکاتب فکر کے پیروکاروں سے کھڑے ہونے اور ہاتھوں کی پوزیشن کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ شافعی مکتب فکر تصغیر|295x295پکسل|ایک ڈرائنگ جس میں ایک مسلم فقیہ کو اپنے کچھ طلبہ کے ساتھ بحث کے سیشن میں دکھایا گیا ہے۔ اس مکتب فکر کے بانی امام محمد ابن ادریس الشافعی ہیں، وہ غزہ میں سنہ 767 عیسوی میں پیدا ہوئے سنہ 150 ہجری کے مطابق اور سن 204 ہجری کے مطابق سن 820 عیسوی میں وفات پائی۔ . وہ مدینہ میں امام مالک کے ساتھ رہے اور کتاب الموطہ حفظ کر لی، اس لیے وہ بغداد میں "ناصر الحدیث" کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس نے عراق کے ائمہ مثلاً امام الشیبانی کی بھی پیروی کی اور ان سے فقہ کی تعلیم حاصل کی، پھر اس نے مصر کا سفر کیا اور وہاں ان کا عقیدہ پھیل گیا اور وہ "دو مکاتب کے مالک" کے طور پر جانے جاتے تھے۔ شافعی کے نزدیک قانون سازی کی بنیاد قرآن و سنت ہے۔ حدیث کا متواتر ہونا ضروری نہیں۔ بلکہ وہ واحد لوگوں کی احادیث کو قبول کرتا ہے، بشرطیکہ راوی سچے اور معتبر ہوں، جس طرح شافعی صحابہ اور اہل مدینہ کے اجماع کو قبول کرتے ہیں، لیکن وہ تمام خطوں کے علما کے اجماع کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ ملک کے اتحاد اور مفاد کا زیادہ ضامن ہے اور اسی کو توسیعی اتفاق رائے کہا جا سکتا ہے۔ پھر قیاس آتا ہے، پھر اجتہاد، اگر قیاس پر مبنی ہو۔ لہذا، الشافعی نے اس منظوری سے انکار کیا جو تشبیہ سے بالاتر ہے اور اس وجہ سے موضوعی عنصر سے متاثر ہے۔ بلکہ، وہ منظوری کے مقابلے میں مشابہت کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ یہ اس کی اصل یا اجماع کی بنیاد پر پچھلے احکام کو اپنانے کی وجہ سے احکام کی قانونی حیثیت کی زیادہ ضمانت ہے۔ اصل کی طرف لوٹنا جائز انصاف کے حصول کے لیے زیادہ ہے۔ شافعی اپنی نماز کی شکل میں باقی فرقوں سے کچھ معاملات میں مختلف ہیں، جیسے کھڑے ہونے اور رکوع کے وقت ہاتھوں کی پوزیشن اور شہادت کی انگلی کو سلام تک اٹھائے رکھنا۔ حنبلی مکتب فکر اس مکتب فکر کے مالک امام احمد بن حنبل ہیں، وہ سنہ 780 ہجری بمطابق 164 ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے اور وہیں سنہ 12 ربیع الاول کو وفات پائی۔ 855ء سال 241 ہجری کی مناسبت سے۔ وہ شافعی کا شاگرد ہے۔ اس نے بات کرنے کا رجحان لیا. وہ عباسی دور میں پیدا ہوا اور زندہ رہا، جس میں بہت زیادہ زبانی اور فقہی تنازع تھا اور اس نے اس تنازع میں قانونی سچائی سے انحراف دیکھا۔ اور احادیث کی تالیفات نے من گھڑت رجحان کو ختم کر دیا تھا، اس لیے حدیث پر بھروسا ایک ضامن معاملہ بن گیا۔ چنانچہ احمد بن حنبل نے ان پر بھروسا کیا اور ان کا عقیدہ قدامت پسند کے طور پر جانا جاتا تھا۔ احمد بن حنبل نے حدیث پر انحصار کیا اور اسے قرآن کے بعد قانون سازی کے لیے عام طور پر کافی سمجھا۔ اس سے صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین کے فتاویٰ بھی مراد ہیں، بشرطیکہ وہ کسی حدیث کے منافی نہ ہوں۔ اور وہ حدیث جو ضعیف زنجیروں کے ساتھ منقطع ہو چکی ہو، احادیث احادیث اور قیاس سے منقطع حدیث پیش کرتے تھے۔ وہ شاذ و نادر کے علاوہ تشبیہ کا سہارا نہیں لیتے، اس لیے ان میں سے بعض نے اسے حدیث کا آدمی سمجھا، فقہ کا آدمی نہیں۔ جعفری مکتب فکر تصغیر|250x250پکسل|مدینہ منورہ|مدینہ میں البقی قبرستان جہاں امام جعفر الصادق مدفون ہیں۔ اس مکتب فکر کے سربراہ امام جعفر بن محمد الصادق ہیں۔ آپ 80 ہجری کے مطابق 702ء میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں سن 148 ہجری کے مطابق 765ء میں وفات پائی اور البقیع میں دفن ہوئے۔ وہ مذہبی علوم میں دلچسپی کے علاوہ فلسفہ میں بھی دلچسپی رکھتے تھے اور وہ ایک ممتاز فقہی حوالہ تھے۔ ان کی مجلس میں ابو حنیفہ اور مالک جیسے بزرگ علما نے شرکت کی، اور وہ بارہ اماموں کے سلسلے میں چھٹے امام ہیں۔ امام جعفر الصادق کا مستعد طریقہ کار بنیادی معاملات میں سنی علما کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم، وہ اس میں شیعوں کے لیے ایک ضروری امر کا اضافہ کرتے ہیں، جو امامت کا عقیدہ ہے اور اس کے نتیجے میں صحابہ کی تشخیص، ان کے فتاویٰ، ان کی احادیث اور اہل بیت کے بارے میں ان کے موقف کے مطابق ان کی تشریحات ہیں۔ یہ امامت کے شیعہ تصور سے امام کی عصمت کہنے کی پیروی کرتا ہے۔ امام کی فقہ اپیل کے تابع نہیں تھی، کیونکہ وہ غلطی، بھول اور نافرمانی سے عاری تھے۔ بلکہ اس کے اقوال اور فقہ سنت کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہر فرد کے لیے قرآن کے چھپے ہوئے معانی کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ بلکہ یہ معاملہ صرف ائمہ کا ہے، کیونکہ ان کی فقہ شریعت کے مقاصد سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ شیعہ قیاس کے معاملے میں بہت سخت ہیں، اس لیے قیاس اس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک کہ اس کے خلاف فیصلہ کسی مقررہ وجہ سے درست نہ ہو۔ جہاں تک قیاس کا تعلق ہے جس میں کوئی دلیل نہ ہو تو وہ رائے بن جاتی ہے اور فقہ رائے کے اعتبار سے رد ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ایک انسانی فعل ہے جس کی کوئی قانونی ضمانت نہیں ہے۔ جعفری فقہ کو متفقہ طور پر لیا جاتا ہے، بشرطیکہ اسے شیعہ ائمہ نے جاری کیا ہو۔ جہاں تک عام صحابہ کا اجماع ہے تو یہ اس وقت تک دلیل نہیں ہے جب تک کہ شیعوں کے پہلے امام علی بن ابی طالب اس کے فریق نہ ہوں۔ اجماع معصوم اماموں کا حق ہے، لیکن عام اجماع کو رد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ قانونی ضمانت بھی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کے مفاد کو محفوظ بنانے کے لیے جب قرآن و سنت یا ائمہ کا اجماع نہ ہو تو خالص عقل کی کوشش کرنا اور اس کا سہارا لینا ضروری ہے۔ لیکن مستعدی تمام لوگوں کے لیے نہیں ہے، یہ سب سے پہلے معصوم اماموں کے لیے ہے اور پھر نیک محنتی علما کے لیے، بشرطیکہ وہ اپنی مستعدی سے اس بات کے خلاف نہ ہوں جس کے ساتھ معصوم امام آئے تھے۔ اور اگر مجتہد اپنی غلطی کو درست کرنے اور قوم کو صراط مستقیم پر رکھنے کے لیے غلطی کریں تو امام پیش ہونے کے لیے تیار ہے۔ دوسرے عقائد تصغیر|284x284پکسل|امام الاوزئی مسجد، بیروت کے جنوب میں، جہاں امام عبد الرحمٰن الاوزئی کا مزار واقع ہے۔ مذکورہ بالا پانچ مکاتب فکر کو سب سے زیادہ پھیلے ہوئے اسلامی مکاتب فکر میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے علاوہ چند دوسرے مکاتب فکر بھی ہیں جو کم پھیلے ہوئے ہیں اور ختم ہو چکے ہیں۔ ان فرقوں میں سے: زیدی فرقہ اور ادارہ امام زید بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب جو سنہ 80 ہجری میں پیدا ہوئے اور سنہ 122 ہجری میں قتل ہوئے۔ زیدی مکتبہ فقہ اپنے فقہی احکام میں اہل سنت کے مکاتب فکر بالخصوص حنفی مکاتب فکر کے قریب ہے اور اس قربت کی وجہ زید کا عراق کے فقہا کے ساتھ رابطہ ہے اور اس نے انھیں ان سے لیا اور انھوں نے انھیں ان سے لیا خاص طور پر مکتب فکر کے امام ابو حنیفہ النعمان۔ قرآن کو زیدیوں کے لیے احکام کی تخفیف کا پہلا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد سنت نبوی کی امامت ہے۔ انھوں نے رائے کے اعتبار سے مستعدی پر بھی بھروسا کیا اور ان کے اصولوں میں سے ایک اصول ائمہ میں مستعدی کا تقاضا ہے اور وہ مسلمانوں پر مستعدی کو واجب قرار دیتے ہیں۔ زید کی سب سے مشہور کتابوں میں سے: کتاب المجموۃ الفقہی الکبیر اور کتاب الجماعۃ والقلعۃ۔ عبادی مکتب فکر اور اس کے بانی امام جابر بن زید العزدی بھی ہیں اور یہ مکتب اہل سنت کے عقائد کے قریب ہے اور اس کے ائمہ کے ماخذ اہل سنت کے منابع سے احکام اخذ کرنے میں شاید ہی مختلف ہوں۔ عام طور پر مکاتب فکر اور اسی وجہ سے ان میں اور اہل سنت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے سوائے بعض احکام کے جن میں وارث کو وصیت کی اجازت شامل ہے۔ اس کے علاوہ تین صورتیں ہیں جن میں ان کا قول ہے۔ آخرت کے بارے میں خدا کی نظر کو جھٹلانے کا مسئلہ، یہ کہنا کہ قرآن کو تخلیق کیا گیا ہے اور فاسق کے لیے جہنم میں ہمیشہ رہنے پر یقین کرنا اگر وہ توبہ نہیں کرتا ہے۔ یہ سب مصنف کی ناقابل تردید کتاب احمد بن حمد الخلیلی میں واضح ہو چکا ہے۔ امام داؤد بن علی بن خلف الاصفہانی کی طرف سے قائم کردہ ظہری مکتب بھی ہے، جو احکام اخذ کرنے میں کتاب و سنت کے نصوص کے مظاہر پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے داؤد الظہری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ الظہری شروع میں ایک شافعی مکتب فکر تھا لیکن اس کے بعد اس نے اپنے لیے ایک خاص مکتب فکر اختیار کیا جس میں اس نے نصوص کے مظاہر کو لیا اور تشبیہ کا انکار کیا جب تک کہ وجہ بیان نہ کی جائے اور یہ وجہ شاخ میں پائی گئی۔ . بعد میں ایک اور عالم پیدا ہوا جس نے اس عقیدہ کو مرتب کیا، اسے پھیلایا اور اس کی وضاحت کی، تو اس نے اسے ظاہری مکتب فکر کا دوسرا بانی کہا اور یہ امام ابن حزم الاندلسی ہیں۔ اخذ کردہ احکام میں مجازی نظریے کی ابتدا قرآن اور پھر سنت نبوی ہے اور یہ نظریہ سنت، پھر اجماع، لیکن اجماع کے تصور کے ساتھ کام کرنے میں سب سے زیادہ وسیع عقائد میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ظاہری دوسروں کے بغیر صرف صحابہ کے اجماع تک محدود تھا اور مجازی عقیدہ نے مشابہت نہیں لی اور اس کے ساتھ کام کرنے اور رائے کا انکار کیا سوائے ضرورت کے اس صورت میں جب نصوص اس کی مدد نہیں کرتی تھیں اور اسے قیاس یا ثبوت کہا جاتا تھا۔ نہ اس نے منظوری لی، نہ حیلے بہانوں سے روکا، نہ بھیجے گئے مفادات۔ امام الظہری کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں شامل ہیں: کتاب ابطلال قیاس اور کتاب ابتال الاقلاد۔ جن فرقوں کا زندہ رہنا مقدر میں نہیں تھا ان میں الاوزائی مکتبہ بھی شامل ہے، جس کی بنیاد امام ابو عمرو عبدالرحمٰن بن عمرو بن یحمد الاوزاعی کے ہاتھوں رکھی گئی تھی، جو لبنان کے شہر بعلبیک میں پیدا ہوئے تھے۔ سنہ 707 عیسوی میں، سن 88 ہجری کے مطابق اور جو 157 ہجری کے مطابق سن 774 عیسوی میں بیروت میں فوت ہوئے۔ الاوزاعی ان اہم ترین فقہا میں سے ایک تھے جنھوں نے شام اور اندلس میں اسلامی فقہ کو خاص طور پر متاثر کیا، کیونکہ دمشق اور آس پاس کے ملک کے لوگ تقریباً دو سو بیس سال تک ان کے عقیدہ پر قائم رہے۔ پھر اس کا نظریہ اندلس منتقل ہوا اور وہاں ایک مدت تک پھیل گیا، پھر اس کے معاملات لیونٹ میں شافعی مکتب فکر کے سامنے کمزور پڑ گئے اور اندلس میں ملک مکتب فکر کے سامنے بھی کمزور پڑ گئے، جس کے حامی اور طلبہ مل گئے۔ اندلس میں، جب کہ الاوزاعی کے اسکول کو حامی اور طلبہ نہیں ملے۔ امام لیث بن سعد المصری کے عقیدہ کا بھی یہی حال تھا۔ اسلامی معاشرہ پھیلاؤ ربط=https://ar.wikipedia.org/wiki/ملف:World_Muslim_Population_(Pew_Forum).svg|تصغیر|300x300پکسل|فیصد کے حساب سے دنیا میں مسلم آبادی. دو سو بتیس ممالک اور خطوں کے 2009 کے ایک جامع مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا 23% یا تقریباً 1.6 بلین لوگ مذہب اسلام کو قبول کرتے ہیں۔ سنی فرقے کو ماننے والوں کی شرح 87% اور 90% کے درمیان ہے، اور شیعہ فرقے کے ماننے والوں کی حد 10% اور 13% کے درمیان ہے، باقی کے لیے۔ فرقوں، وہ لوگوں کی ایک اقلیت کی طرف سے قبول کر رہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا کے تقریباً 50 ممالک میں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریت ہے، اور یہ کہ عرب دنیا کے مسلمانوں کا 20% ہیں۔ زیادہ تر مسلمان براعظم افریقہ اور ایشیا میں رہتے ہیں، اور ان میں سے تقریباً 62% آخری براعظم میں رہتے ہیں، جہاں انڈونیشیا ، پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں 683 ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں، ترکی اور ایران دو سب سے بڑے غیر عرب ممالک ہیں جن کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ افریقہ میں مصر اور نائیجیریا سب سے بڑے اسلامی ممالک ہیں۔ 73% مسلمان مسلم اکثریتی ممالک میں رہتے ہیں جبکہ 27% مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں۔ ہندوستان میں مسلم اقلیت دنیا کی سب سے بڑی مسلم اقلیت ہے، جو کل آبادی کا 14% (یعنی؛ 176 ملین افراد) بنتی ہے۔ اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین میں مسلمانوں کی تعداد 20 سے 30 ملین کے درمیان ہے (کل آبادی کا 1.5% اور 2% کے درمیان)۔ تاہم اسٹیٹ یونیورسٹی کے مردم شماری مرکز کی طرف سے یو ایس کو فراہم کردہ ڈیٹا چین مسلمانوں کی تعداد 65.3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ترکی کے علاوہ پورے یورپ میں مسلمانوں کی تعداد 44 ملین تک پہنچ گئی ہے جو یورپ کی کل آبادی کا تقریباً 6%۔ زیادہ تر یورپی ممالک میں اسلام کو عیسائیت کے بعد دوسرا سب سے زیادہ پھیلایا جانے والا مذہب سمجھا جاتا ہے، اور امریکہ (4.2 ملین یا کل آبادی کا 1.1%) میں اسی مقام پر قابض ہونے کے راستے پر ہے، جہاں امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف، بعض ذرائع کے مطابق 2,454,000 اور 7 ملین کے درمیان ہے۔ 2015 میں پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا بڑا مذہبی گروہ ہے، جس کی بنیادی وجہ "مسلمانوں کی کم عمر اور دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں میں زرخیزی کی شرح زیادہ ہے۔ نتیجے کے طور پر، یہ توقع کی جاتی ہے کہ 21 ویں صدی کے آخر تک عیسائیت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ مطالعہ نوٹ کرتا ہے کہ مذہب کی تبدیلی کا مسلمانوں کی آبادی میں اضافے پر کوئی خالص اثر نہیں پڑتا کیونکہ "اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد تقریباً اسلام چھوڑنے والے لوگوں کی تعداد کے برابر ہے"۔ جہاں تک آبادی کے لحاظ سے پندرہ بڑے اسلامی ممالک کا تعلق ہے، وہ یہ ہیں: عبادت کی جگہیں تصغیر|استنبول کی سلطان احمد مسجد جو دنیا کی سب سے بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ اسلام میں بہت سی عبادات ہیں اور ان میں سے اکثر کے لیے حج کے علاوہ کسی خاص جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی (جس کے لیے مقدس مقامات کی زیارت کی ضرورت ہوتی ہے)۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے، جابر کی حدیث کے مطابق زمین کو مسلمانوں کے لیے مسجد بنا دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا ہر ٹکڑا (سوائے ان کے جو حرام ہیں) انفرادی اور اجتماعی طور پر نماز پڑھنے کے لیے موزوں ہے۔ مسلمان ایک خاص جگہ مختص کرتے ہیں جسے مساجد (واحد مسجد ) کہا جاتا ہے جو انھیں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے جمع کرتے ہیں۔ "مسجد" کا نام لفظ "سجدہ" سے لیا گیا ہے، کیونکہ اسلامی نماز سجدہ اور رکوع پر مشتمل ہے۔ عظیم مساجد کو "جماعت" یا "جامع مسجد" بھی کہا جاتا ہے۔ مساجد ایسی جگہیں ہیں جہاں مسلمان نماز کے علاوہ علم حاصل کرنے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے آتے ہیں، حالانکہ ان کا کردار فی الحال مسلمانوں کو نماز پڑھنے اور یاد کرنے کے لیے جمع کرنے تک محدود ہے۔ مسجد میں ادا کی جانے والی نمایاں نمازوں میں سے: جمعہ کے دن ظہر کی نماز، کیونکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ مسجد میں باجماعت ادا کرے اور امام کا خطبہ سنے۔ مساجد کی تعمیر کا انداز اسلام کی پہلی مسجد قبا مسجد کی تعمیر کے بعد سے اب تک بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے، اور مساجد کے لیے کئی طرز تعمیر ہیں، جن میں خاص طور پر: عثمانی طرز، فارسی طرز، مراکش سٹائل اور دیگرہیں۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق گرجا گھر میں اس صورت میں نماز پڑھنا جائز ہے کہ کوئی مسجد یا چیپل نہ ہو اور جن لوگوں نے اس کی اجازت دی: امام حسن بن علی بن ابی طالب، عمر بن عبدالعزیز، امام الشعبی، امام اوزاعی اور سعید بن عبد العزیز اور اسے عمر بن الخطاب اور ابو موسیٰ اشعری سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ تاہم، علما کا کہنا ہے کہ یہ صرف ضرورت کے معاملات میں محدود ہے، تاکہ اس سے اسلام کی شبیہ مسخ نہ ہو اور غیر مسلموں کو یہ خیال نہ ہو کہ یہ غیر واضح خصوصیات والا مذہب ہے۔ خاندان خاندان اسلامی معاشرے کی مرکزی اکائی ہے اور اسلام نے اس کے ہر فرد کے کردار کو متعین کیا ہے اور انھیں کچھ حقوق اور فرائض تفویض کیے ہیں۔ اسلام میں خاندان کی حفاظت اور دیکھ بھال کا بنیادی ذمہ دار باپ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اس لیے اس کے اخراجات، جیسے کھانے پینے، دوائی، لباس وغیرہ کا خیال رکھنا فرض ہے۔ قرآن نے اسلام میں وراثت کے اسباب کو واضح طور پر بیان کیا ہے، جو جاہلیت کی تردید کرتی ہیں، جو نکاح رشتہ داری اور وفاداری ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لیے کچھ شرائط بیان کی ہیں جن کا وراثت کے درست ہونے کے لیے پورا ہونا ضروری ہے۔ جس کے بغیر کوئی رکاوٹ قائم نہیں رہتی اور اسلام میں وراثت میں عورت کا حصہ بعض صورتوں میں مرد کا نصف حصہ ہے اور بعض صورتوں میں عورت وراثت میں مرد کے برابر ہے اور بعض صورتوں میں اس کا حصہ زیادہ ہے۔ آدمی کا حصہ. اسی طرح قرآن میں یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے آیا ہے جو مرنے والوں کے لیے ان کے رشتہ داروں کے درجے کے مطابق جائداد اور ان کے درجات کے حقدار ہیں اور مسلمان اس کی دلیل کے طور پر جو آیات استعمال کرتے ہیں ان میں سے سورۃ النساء میں آیا ہے۔ -نساء :. جہاں تک اسلام میں شادی کا تعلق ہے، اسے ایک شہری معاہدہ سمجھا جاتا ہے جس میں دوسرے معاہدوں کے تمام عناصر دستیاب ہوتے ہیں، جیسے پیشکش اور قبولیت، دو فریقوں کے درمیان جن کے پاس اس کو انجام دینے کے لیے ضروری ذہنی اور قانونی صلاحیت ہے اور دو کی موجودگی میں۔ مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ اسلامی شادی کا معاہدہ شرعی عدالت میں عام طور پر شرعی جج کے سامنے کیا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ نے شادی کرنے والے کے لیے کئی باتوں کی رہنمائی کی ہے جو اسے شادی کرنے والے کے لیے پیش کرنے والے کے لیے پیش نظر رکھنی چاہئیں، جیسے مذہبی ہونا، خوبصورت ہونا، اچھا نسب ہونا اور دوسری چیزیں اور یہی بات نکاح پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ لڑکی، لہذا اسے اس آدمی میں انہی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے جو اسے تجویز کرتا ہے۔ اسلام شوہر سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو عقد نکاح کے مطابق مہر ادا کرے۔ تصغیر|حجاب کے مختلف ماڈل علاقے اور اسلامی فرقے کے مطابق مختلف ہوتے ہیں جس کی عورت پیروی کرتی ہے۔ اسلام میں ایک مرد کے لیے 4 عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے، اس شرط پر کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ جبکہ مسلمان عورت صرف ایک شوہر کی حقدار ہے۔ قرآن نے اسی سورت میں عورتوں کی وضاحت کی ہے جو مردوں کے لیے حرام ہیں، جہاں یہ کہتا ہے:. ایک مسلمان مرد کو اہل کتاب میں سے کسی عورت سے شادی کرنے کا حق ہے، یعنی عیسائی، یہودی، صابی یا حنیف عورت اور اس پر لازم ہے کہ وہ اسے اپنے مذہب کی رسومات پر عمل کرنے سے نہ روکے، جبکہ مسلمان عورت کو مسلمان مرد کے علاوہ کسی سے شادی کرنے کا حق نہیں ہے۔ اسلام میں طلاق شرعی طور پر جائز ہے لیکن اس شرط پر کہ میاں بیوی کے درمیان مشترکہ زندگی کسی وجہ سے نا ممکن ہو جائے اور طلاق اس وقت واقع ہو جاتی ہے جب مرد اپنی بیوی سے کہے کہ تمھیں طلاق ہو گئی ہے۔ قرآن مردوں اور عورتوں کے درمیان غیر قانونی اختلاط سے منع کرتا ہے اور قرآنی آیات میں عورتوں کو پردہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اپنی شرمگاہ کو کسی ایسے مرد کے سامنے ظاہر نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے جو ان سے اجنبی ہو۔ ٹھوڑی اور کانوں کی دونوں وادیوں کے درمیان، تاکہ بال، بالیاں یا گردن میں سے کچھ نظر نہ آئے اور لباس سے نیچے کی چیز ظاہر نہ ہو۔ اس کی دلیل کے طور پر مسلمان جو آیات استعمال کرتے ہیں ان میں سے سورۃ النور میں آیا ہے:. جہاں تک مردوں کا تعلق ہے، قرآن نے ان کے لیے کوئی مخصوص لباس نہیں بتایا، لیکن یہ ضروری ہے کہ لباس ان کی شرمگاہوں کو ڈھانپے۔ بہت سے مسلمان مرد داڑھی بڑھاتے ہیں اور ان میں سے کچھ اپنی مونچھیں منڈواتے ہیں اس حدیث کی پیروی کرتے ہوئے: ہجری کیلنڈر تصغیر|138x138پکسل|چاند کا کردار ، ہجری کیلنڈر کی بنیاد۔ اسلامی کیلنڈر یا ہجری کیلنڈر کا انحصار اس قمری کیلنڈر پر ہے جو اسلام سے پہلے عربوں نے استعمال کیا تھا اور اس وقت کے عرب سالوں کو شمار نہیں کرتے تھے، لیکن ہر سال کا ایک نام ہوتا تھا جو اسے باقی سالوں سے ممتاز کرتا تھا۔ ہجری کیلنڈر۔ اور اس میں پہلا سال وہ سال بنایا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی، لیکن عرب مہینوں کے ناموں یا ان کی ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ہجری مہینے ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الاول۔ -ثانی، جمادی الاول، جمادۃ الآخرہ، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ۔ قمری مہینہ دو ہلالوں کے درمیان کی مدت ہے اور عصری فلکیاتی اظہار میں یہ وہ دور ہے جس کے دوران چاند زمین کے گرد ایک مکمل چکر مکمل کرتا ہے۔ اس کا دورانیہ فلکیاتی طور پر 29.530588 دن ہے، اس لیے ہجری مہینے کبھی 30 دن کے ہوتے ہیں اور کبھی 29 دن کے۔ علما مسلمان علما جو مذہب اور عبادات کے معاملات کو سمجھتے ہیں انھیں "علما" یا "فقیہ" کہا جاتا ہے اور ان میں سے جو بھی علم کے اعلیٰ درجے پر پہنچ جاتا ہے اور ابھرتے ہوئے مسائل پر فتویٰ جاری کرتا ہے جو اس کے سامنے لایا جاتا ہے اسے "مفتی" کہا جاتا ہے۔ مسلم علما کو کئی اور نام دیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں: مولا، شیخ اور مولوی۔ شیعہ ایسے علما کو کہتے ہیں جن کا سلسلۂ نسب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاتا ہے اور واحد لفظ "ماسٹر" ہے۔ ڈروز بزرگ علما کو "عقل کے شیخ" بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ مذہب کے معاملات کو سمجھتے ہیں اور ان میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب مسلمان دو آیات پر غور کرتے ہیں۔ اور آیتاور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ (قرآن؛ 35:24) تقدم زمانی کے لحاظ سے تمام توحیدیہ مذاہب میں جدید ترین کتاب ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے قرآن قدیم ترین الہامی کتاب سمجھی جاتی ہے اور عرب و عجم سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں میں عربی ہی میں اسے پڑھا جاتا ہے، جبکہ اس کے متعدد لسانی تراجم کو (ساتھ درج عربی کے لیے) محض تشریح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اسلام میں جن باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے انکا ذکر اجزائے ایمان کے قطعے میں آچکا ہے، ان کے علاوہ توحید (شرک سے پرہیز) اور تخلیق بھی ان اجزاء میں بیان کیے جا سکتے ہیں۔ عبادات میں نمازِ پنجگانہ و نمازِ جمعہ کے علاوہ عید و بقرعید وغیرہ کی نمازیں قابلِ ذکر ہیں ؛ نمازوں کے علاوہ تمام ارکانِ اسلام عبادات میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اہم تہواروں میں عیدالفطر و عید الاضحٰی شامل ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اسلامی آداب زندگی پر قائم رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں معاشرے کے مختلف افراد کے حقوق، مناسب لباس، بے پردگی سے بچاؤ اور آداب و القاب کا خیال رکھا جاتا ہے ؛ خرد و نوش میں حلال و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ ایمان، سچائی اور دیانت ہر شعبۂ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے ؛ کام کاج اور فرائض منصبی کو درست طور پر ادا کرنا اور محنت کی عظمت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں۔ مزید دیکھیے * انتقاد بر اسلام * تاریخ اسلام * اسلام اور دیگر مذاہب * اسلام بلحاظ ملک * اسلامی ادب * مسلمانوں میں تفرقات * اسلامیات * نومسلم شخصیات * مسلمان شخصیات کی فہرستیں * بڑے مذہبی گروہ * عالم اسلام * تبدیلی مذہب#اسلام * اسلامی تاریخ کا خط زمانی * اسلام میں ملنساری حوالہ جات ملاحظات کتابیات * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * Siljander, Mark D. and John David Mann. A Deadly Misunderstanding: a Congressman's Quest to Bridge the Muslim-Christian Divide۔ First ed. New York: Harper One, 2008. ISBN 978-0-06-143828-8 * * * * * * * * * * دائرۃ المعارف * * * * * * * * * * * * مزید پڑھیے * Abdul-Haqq, Abdiyah Akbar (1980)۔ Sharing Your Faith with a Muslim۔ Minneapolis: Bethany House Publishers. N.B۔ Presents the genuine doctrines and concepts of Islam and of the Holy Qur'an, and this religion's affinities with Christianity and its Sacred Scriptures, in order to "dialogue" on the basis of what both faiths really teach. ISBN 0-87123-553-6 * * * Cragg, Kenneth (1975)۔ The House of Islam, in The Religious Life of Man Series۔ Second ed. Belmont, Calif.: Wadsworth Publishing Co.، 1975. xiii, 145 p. ISBN 0-8221-0139-4 * Hourani, Albert (1991)۔ Islam in European Thought۔ First pbk. ed. Cambridge, Eng.: Cambridge University Press, 1992, cop. 1991. xi, 199 p. ISBN 0-521-42120-9; alternative ISBN on back cover, 0-521-42120-0 * * A. Khanbaghi (2006)۔ The Fire, the Star and the Cross: Minority Religions in Medieval and Early Modern Iran۔ I. B. Tauris. * Khavari, Farid A. (1990)۔ Oil and Islam: the Ticking Bomb۔ First ed. Malibu, Calif.: Roundtable Publications. viii, 277 p., ill. with maps and charts. ISBN 0-915677-55-5 * * * * * * * * * * * بیرونی روابط ;تعلیمی وسائل * Patheos لائبریری – اسلام * جامعہ جنوبی کیلیفورنیا میں مسلم متون کے خلاصے * اسلام میں شاخیں ;آن لائن مآخذ * اسلام، پر مقالہ دائرۃ المعارف بریطانیکا * ;ڈائریکٹریاں * اسلام (کتابوں کی الماری) در پروجیکٹ گٹنبرگ * اسلام از یوسیبی لائبریریاں GovPubs زمرہ:ابراہیمی مذاہب زمرہ:توحیدی مذاہب زمرہ:610ء کی تاسیسات زمرہ:ساتویں صدی میں اسلام زمرہ:اسلام
[Wikipedia:ur] عمر بن خطاب ابوحفص عمر فاروق بن خطاب عدوی قرشی (586ء/590ء، مکہ - 6 نومبر 644ء، مدینہ) ابوبکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، کے سسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں۔ مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں۔ بعض روایات جو کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علمائے اسلام نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود قرار دیا ہے۔ نام و نسب عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔ آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خاندان ایام جاہلیت سے نہایت ممتاز تھا، آپ کے جدا علیٰ عدی عرب کے باہمی منازعات میں ثالث مقرر ہوا کرتے تھے اور قریش کو کسی قبیلہ کے ساتھ کوئی ملکی معاملہ پیش آجاتا تو سفیر بن کر جایا کرتے تھے اور یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلا بعد نسل چلے آ رہے تھے ددھیال کی طرح عمر ننھیال کی طرف سے بھی نہایت معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ ختمہ، ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور مغیرہ اس درجہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی قبیلہ سے نبرد آزمائی کے لیے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام انھی کے متعلق ہوتا تھا۔ ابتدائی زندگی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے چالیس برس پہلے پیدا ہوئے، ایام طفولیت کے حالات پردہ خفا میں ہیں؛بلکہ سن رشد کے حالات بھی بہت کم معلوم ہیں، شباب کا آغاز ہوا تو ان شریفانہ مشغلوں میں مشغول ہوئے جو شرفائے عرب میں عموماً رائج تھے، یعنی نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور خطابت میں مہارت پیدا کی، خصوصاً شہسواری میں کمال حاصل کیا، اسی زمانہ میں انھوں نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا؛چنانچہ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان میں سے ایک عمر بن خطاب بھی تھے۔ تعلیم و تعلم سے فارغ ہونے کے بعد فکر معاش کی طرف متوجہ ہوئے، عرب میں لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر تجارت تھا، اس لیے انھوں نے بھی یہی شغل اختیار کیا اور اسی سلسلہ میں دور دور ممالک کا سفر کیا، اس سے آپ کو بڑے تجربے اور فوائد حاصل ہوئے، آپ کی خودداری بلند حوصلگی، تجربہ کاری اور معاملہ فہمی اسی کا نتیجہ تھی اور انھی اوصاف کی بنا پر قریش نے آپ کو سفارت کے منصب پر مامور کر دیا تھا، قبائل میں جب کوئی پیچیدگی پیدا ہو جاتی تھی تو آپ ہی سفیر بن کر جاتے تھے اور اپنے غیر معمولی فہم و تدبر اور تجربہ سے اس عقدہ کو حل کرتے تھے۔ عمر بن خطاب کا ستائیسواں سال تھا کہ ریگستان عرب میں آفتاب اسلام روشن ہوا اور مکہ کی گھاٹیوں سے توحید کی صدا بلند ہوئی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے یہ آواز نہایت نامانوس تھی اس لیے سخت برہم ہوئے، یہاں تک جس کی نسبت معلوم ہو جاتا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس کے دشمن بن جاتے، ان کے خاندان کی ایک کنیز بسینہ نامی مسلمان ہو گئی تھی، اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے، بسینہ کے سوا اور جس جس پر قابو چلتا زدو کوب سے دریغ نہیں کرتے تھے؛لیکن اسلام کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اتر جاتا، ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بددل نہ کرسکے۔ اسلام قریش کے سربرآوردہ اشخاص میں ابو جہل اور عمر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ انھی دونوں کے لیے اسلام کی دعا فرمائی :اللہم اعزالاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام و اما عمر بن الخطاب یعنی خدایا اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب سے معزز کر، مگر یہ دولت تو قسام ازل نے عمر بن خطاب کی قسمت میں لکھ دی تھی، ابو جہل کے حصہ میں کیونکر آتی؟ اس دعائے مستجاب کا اثر یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا، یعنی عمر بن خطاب کا دامن دولت ایمان سے بھر گیا""تاریخ و سیرت کی کتابوں میں عمر کی تفصیلاتِ قبولِ اسلام میں اختلاف ہے۔ ایک مشہور واقعہ جس کو عام طور پر ارباب سیر لکھتے ہیں، یہ ہے کہ جب عمر اپنی انتہائی سختیوں کے باوجود ایک شخص کو بھی اسلام سے بددل نہ کرسکے تو آخر کار مجبور ہوکر (نعوذ باللہ) خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار کمر سے لگا کر سیدہے رسول اللہ کی طرف چلے راہ میں اتفاقاً نعیم بن عبداللہ مل گئے، ان کے تیور دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے؟ بولے"محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں، انھوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو خود تمھاری بہن اور بہنوئی اسلام لا چکے ہیں" فوراً پلٹے اور بہن کے یہاں پہنچے، وہ قرآن پڑھ رہی تھیں، ان کی آہٹ پاکر چپ ہوگئیں اور قرآن کے اجزاء چھپالئے؛لیکن آواز ان کے کان میں پڑ چکی تھی، بہن سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ بولیں کچھ نہیں، انھوں نے کہا میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو، یہ کہہ کر بہنوئی سے دست وگریباں ہو گئے اور جب ان کی بہن بچانے کو آئیں تو ان کی بھی خبر لی، یہاں تک کہ ان کا جسم لہو لہان ہو گیا؛لیکن اسلام کی محبت پر ان کا کچھ اثر نہ ہوا "بولیں عمر جو بن آئے کرلو ؛لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا "ان الفاظ نے عمر بن خطاب کے دل پر خاص اثر کیا، بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا، ان کے جسم سے خون جاری تھا، اسے دیکھ کر اور بھی رقت ہوئی، فرمایا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی سناؤ، فاطمہ ؓ نے قرآن کے اجزاء سامنے لاکر رکھ دیے، اٹھاکر دیکھا تو یہ سورۃ تھی: "سَبَّحَ لِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِo وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ" "زمین وآسمان میں جو کچھ ہے سب خدا کی تسبیح پڑھتے ہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔" ایک ایک لفظ پر ان کا دل مرعوب ہوتا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے: "اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ" خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تو بے اختیار پکاراٹھے "اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً عبدُہُ وَ الرَّسُوْلُ" یہ وہ زمانہ تھاجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارقم ؓ کے مکان پر جو کوہ صفا کے نیچے واقع تھا پناہ گزین تھے، عمر بن خطاب نے آستانہ مبارک پر پہنچ کر دستک دی، چونکہ شمشیر بکف تھے، صحابہ کو تردد ہوا؛ لیکن حضرت حمزہ ؓ نے کہا آنے دو، مخلصانہ آیا ہے تو بہتر ہے ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کردوں گا، عمر نے اندر قدم رکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر فرمایا"کیوں عمر!کس ارادے سے آئے ہو؟ نبوت کی پر جلال آواز نے ان کو کپکپا دیا، نہایت خضوع کے ساتھ عرض کیا ایمان لانے کے لیے !آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ساختہ اللہ اکبر کا نعرہ اس زور سے مارا کہ تمام پہاڑیاں گونچ اٹھیں۔ یہی روایت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ دارقطنی، ابویعلیٰ، حاکم اور بیہقی میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے، دونوں میں فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلی میں سورہ حدید کی آیۃ ہے، دوسری میں سورۂ طہٰ کی یہ آیت ہے: "" "میں ہوں خدا کوئی نہیں معبود ؛لیکن میں، تو مجھ کو پوجو اور میری یاد کے لیے نماز کھڑی کرو"۔ جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار لا الہ الا اللہ پکار اٹھے اور دراقدس پر حاضری کی درخواست کی ؛لیکن یہ روایت دو طریقوں سے مروی ہے اور دونوں میں ایسے رواۃ ہیں جو قبول کے لائق نہیں؛چنانچہ دارقطنی نے اس روایت کو مختصراً لکھا ہے کہ اس کا ایک راوی قاسم بن عثمان بصری قوی نہیں۔ذہبی نے مستدرک حاکم کے استدلال میں لکھا ہے کہ روایت واہی و منقطع ہے ان دونوں روایتوں کے مشترک راوی اسحاق بن یوسف، قاسم بن عثمان، اسحاق بن ابراہیم الحسینی اور اسامہ بن زید بن اسلم ہیں اور یہ سب کے سب پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ ان روایتوں کے علاوہ مسند ابن حنبل میں ایک روایت خود عمر سے مروی ہے، جو گو ایک تابعی کی زبان سے مروی ہے تاہم اس باب میں سب سے زیادہ محفوظ ہے، عمر فرماتے ہیں کہ ایک شب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑنے نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھ کر مسجد حرام میں داخل ہو گئے اورنماز شروع کردی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ الحاقہ تلاوت فرمائی، میں کھڑا سنتارہا اورقرآن کے نظم واسلوب سے حیرت میں تھا، دل میں کہا جیسا قریش کہا کرتے ہیں، خدا کی قسم یہ شاعر ہے، ابھی یہ خیال آیا ہی تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: "" "یہ ایک بزرگ قاصد کا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، تم بہت کم ایمان رکھتے ہو۔" میں نے کہا یہ تو کاہن ہے، میرے دل کی بات جان گیا ہے، اس کے بعد ہی یہ آیت پڑھی: "" "یہ کاہن کا کلام بھی نہیں تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو، یہ تو جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے"۔ آپ نے یہ سورۃ آخر تک تلاوت فرمائی اور اس کو سن کر اسلام میرے دل میں پوری طرح گھر کرگیا۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری میں خود عمر کی زبانی یہ روایت ہے کہ بعثت سے کچھ پہلے یا اس کے بعد ہی وہ ایک بت خانہ میں سوتے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک بت پر ایک قربانی چڑھائی گئی اور اس کے اندرسے آواز آئی، اے جلیج ایک فصیح البیان کہتا ہے: لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللہ، اس آواز کا سننا تھا کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ؛لیکن میں کھڑا رہا کہ دیکھوں اس کے بعد کیا ہوتا ہے کہ پھر وہی آواز آئی، اس واقعہ پر تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ لوگوں میں چرچا ہوا کہ یہ نبی ہیں، (باب بنیان الکعبہ باب اسلام عمر ؓ)اس روایت میں اس کا بیان نہیں ہے کہ اس آواز کا عمر پر کیا اثر ہوا۔ پہلی عام روایت بھی اگر صحیح مان لی جائے تو شاید واقعہ کی ترتیب یہ ہوگی کہ اس ندائے غیب پر عمرنے لبیک نہیں کہا اور اس کا کوئی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی بشارت سے وہ نہ پیدا کرسکے کہ اس میں ان کی رسالت اور نبوت کا کوئی ذکر نہ تھا تاہم چونکہ توحید کا ذکر تھا اس لیے ادھر میلان ہوا ہوگا؛لیکن چونکہ ان کو قرآن سننے کا موقع نہیں ملا، اس لیے اس توحید کی دعوت کی حقیقت نہ معلوم ہو سکی، اس کے بعد جب انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الحاقہ جس میں قیامت اور حشر ونشر کا نہایت موثر بیان ہے، نماز میں پڑھتے سنی تو ان کے دل پر ایک خاص اثر ہوا جیسا کہ اس فقرے سے ظاہر ہوتا ہے وقع الاسلام فی قلبی کل موقع، یعنی اسلام میرے دل میں پوری طرح بیٹھ گیا تاہم چونکہ وہ طبعاً مستقل مزاج اور پختہ کار تھے اس لیے انھوں نے اسلام کا اعلان نہیں کیا ؛بلکہ اس اثر کو شاید وہ روکتے رہے ؛لیکن اس کے بعد جب ان کی بہن کا واقعہ پیش آیا اور سورۂ طہٰ پر نظر پڑی جس میں توحید کی نہایت مؤثر دعوت ہے تو دل پر قابو نہ رہا اور بے اختیار کلمہ توحید پکار اٹھے اور دراقدس پر حاضری کی درخواست کی۔ اور اگر وہ پہلی روایت صحیح تسلیم نہ کی جائے تو واقعہ کی سادہ صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اس ندائے غیب نے ان کے دل میں توحید کا خیال پیدا کیا لیکن چونکہ تین برس دعوت محدود اور مخفی رہی تھی اس لیے ان کو اس کا حال نہ معلوم ہو سکا اور مخالفت کی شدت کے باعث کبھی خود بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جانے اور قرآن سننے کا موقع نہ ملا پھر جب رفتہ رفتہ اسلام کی حقیقت کی مختلف آوازیں ان کے کانوں میں پڑتی گئیں تو ان کی شدت کم ہوتی گئی، بالآخر وہ دن آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کو سورۃ الحاقہ سننے کا موقع ملا اور وہ لبیک کہتے ہوئے اسلام کے آستانہ پر حاضر ہو گئے۔ زمانۂ اسلام عام مورخین اور ارباب سیر نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کا زمانہ؁ 7 نبوی مقرر کیا ہے اور لکھا ہے کہ آپ چالیسویں مسلمان تھے۔ (آج کل کے ایک نوجوان خوش فہم صاحب قلم نے تمام گذشتہ روایات کو ایک سرے سے ناقابل التفات قرار دے کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نہایت قدیم الاسلام تھے، شاید مقصود یہ ہو کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ وغیرہ کے بعد ہی ان کا شمار ہو، اس مقصد کے لیے انھوں نے تنہا بخاری کو سند قرار دیا ہے، چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کی تمہید میں وہ لکھتے ہیں کہ: اسی فطرت سلیمہ کی بنا پر ان (عمر ؓ ) کو اسلام سے ہمدردی پیدا ہوئی؛چنانچہ ان کی ہمشیرہ اور سعید بن زید نے اسلام قبول کیا تو گووہ مسلمان نہیں ہوئے تھے تاہم لوگوں کو اسلام پر قائم رہنے کی تاکید کیا کرتے تھے؛چنانچہ سعید نے اس واقعہ کو ایک موقع پر بیان کیا ہے۔" کان عمر بن الخطاب ؓ یقیم علی الاسلام اناواختہ وما اسلم "یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ کو اور اپنی بہن کو اسلام پر مضبوط کرتے تھے حالانکہ خود نہیں اسلام لاتے تھے"۔ اس حدیث میں اپنے موافق مطلب تحریر کرنے کے بعد وہ فرماتے ہیں:"اس حدیث کا بعض لوگوں نے اور بھی مطلب بیان کیا ہے اور قسطلانی نے اس کی تردید کی ہے۔"اس کے بعد بت خانہ میں ندائے غیب سننے کے واقعہ کا ذکر کیا۔ پہلی حدیث سے عمر بن خطاب کی اسلام کے ساتھ ہمدردی اور دوسری میں ہاتف غیب کی آواز سننے کا ذکر ہے، ان دونوں باتوں کو ملا کر انھوں نے فوراً عمر بن خطاب کے آغاز اسلام ہی میں مسلمان ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیا اور اسی واقعہ کو ان کے فوری اسلام کا سبب قرار دیدیا، اس کے بعد ایک اور شہادت پر مصنف کی نظر پڑی کہ مرض الموت میں ایک نوجوان نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے یہ الفاظ کہے:"اے امیر المومنین:خدا نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور سبقت کے ذریعہ سے (جس کو آپ جانتے ہیں) جو بشارت دی ہے اس سے آپ خوش ہوں"اس قدر شواہد اور اتنے دلائل کے بعد فاضل مصنف ناظرین سے داد طلب ہیں کہ: "ایک طرف تو صحیح بخاری کی مستند روایات ہیں جو عمر کی فطری سلامت روی اور حق پرستی کو ظاہر کرتی ہیں، دوسری طرف مزخرفات کا یہ دفتر بے پایاں ہے جو ان میں گذشتہ اوصاف سے متعارض صفات تسلیم کراتا ہے، ناظرین انصاف کریں کہ ان میں سے کس کو صحیح تسلیم کیا جائے؟ ’’ افسوس مصنف کو دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی متعدد مسامحات میں گرفتار ہونا پڑا ہے، ہم ناظرین کو مصنف کے ابتدائی دلائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں، مصنف نے سب سے پہلے اسلام کے ساتھ عمر بن خطاب کی ہمدردی میں سعید بن زید ؓ کی یہ روایت پیش کی ہے: کان عمر بن الخطاب یقیم علی الاسلام انا واختہ وما اسلم "یعنی عمر مجھ کو اور اپنی بہن کو اسلام پر مضبوط کرتے تھے حالانکہ خود مسلمان نہیں ہوئے تھے۔" اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا بعض لوگوں نے ایک اور مطلب بھی بیان کیا ہے اور قسطلانی نے اس کی تردید کی ہے، یہاں پر مصنف نے اپنا مطلب ثابت کرنے کے لیے بڑی جسارت سے کام لیا ہے، اول توحدیث کے لفظ میں صریح تحریف کی ہے اور تحریف بھی ادب عربی کے خلاف ہے، پھر حدیث میں "یقیم" کی بجائے "موثقی"ہے، جس کے معنی باندھنے کے ہیں نہ کہ مضبوط کرنے اور قائم رکھنے کے یہ عربی کا محاورہ ہے اور قسطلانی نے باندھنے کے معنی لیے ہیں اور مصنف کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ قسطلانی سے مصنف کے بیان کردہ معنی کی تائید ہوتی ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے، ہذا بہتان عظیم؛چنانچہ قسطلانی کے الفاظ یہ ہیں، ( بجبل اوقد کالا سیر تضییقا واھانۃ، یعنی موثقی سے مراد رسی یا تسمہ سے قیدی کی طرح تنگ کرنے اور ذلیل کرنے کے لیے باندھنا ہے، البتہ قسطلانی نے مصنف کے اختیار کردہ غلط معنی کی تردید کی ہے جس کو بعض خوش فہموں نے اختیار کرنا چاہا تھا۔ دوسری حدیث جو مصنف نے عمر کے اسلام کے باب میں پیش کی ہے، یعنی ہاتف غیب کی آواز، اس روایت میں کوئی ایسا فقرہ نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ عمر بن خطاب اس کو سن کر متاثر ہوئے اور فوراً اسلام لے آئے، اس قصہ کے آخر میں یہ صاف مذکور ہے کہ اس کے بعد تھوڑے ہی دن گذرے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا شہرہ ہوا، اس لیے یہ بالکل ہی آغاز اسلام کا واقعہ ہوگا، اگر اسی وقت حضرت عمر ؓکا اسلام لانا ثابت ہو جائے تو اس سے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ولادت سے پہلے ہی آپ مسلمان ہو چکے تھے جو قطعی غلط ہے، جیسا کہ آگے ثابت ہوگا۔ آئیے اب ہم صحیح بخاری ہی کے ارشادات پر چل کر عمرکے اسلام کی تاریخ تلاش کریں، عمرکے اسلام کے واقعہ کے بیان میں حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب ؓ کے یہ الفاظ بخاری میں ہیں:"حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا، مشرکین بکثرت ان کے مکان پرجمع ہو گئے اورکہنے لگے صبا عمر، عمر بے دین ہو گئے، حضرت عمرؓ بن خطاب خوف زدہ گھر کے اندر تھے اور میں مکان کی چھت پرتھا۔" اس روایت سے ظاہر ہے کہ عمر کے اسلام کے وقت نہ صرف یہ کہ وہ پیدا ہو چکے تھے ؛بلکہ سن تمیز کے اس درجہ پر پہنچ چکے تھے کہ ان کو لڑکپن کے واقعات وضاحت سے یادرہ گئے اورتجربہ اس کا شاہد ہے کہ 5، 6 سال کابچہ واقعات کو اس طرح سے محفوظ نہیں رکھ سکتا، آگے چلئے، 3ھ یعنی بعثت کے سولہویں سال غزوہ ٔاحد ہوا، بخاری میں خود حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اس وقت ان کی عمر 14 سال تھی اس لیے چھوٹی عمر کے بچوں کے ساتھ چھانٹ دیے گئے تھے اور مجاہدین میں نہیں لیے گئے، اس حساب سے بعثت کے دوسال بعد آپ کی پیدائش ماننی پڑے گی، اورکم از کم پانچ سال کی عمر واقعات محفوظ رہنے کے لیے ماننی ہوگی توپانچ سال یہ اور دو سال بعد بعثت کے کل سات سال ہوجاتے ہیں، لہذا خود صحیح بخاری کی تائید سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمر کا زمانہ اسلام؁ 7ھ بعثت ہو گا، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ ہاتف غیب کی آواز سننے کے سات سال بعد اسلام لائے۔) عمرکے مسلمان ہوجانے سے اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہو گیا، اس وقت تک چالیس یا اس سے کچھ کم وبیش آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے ؛لیکن وہ نہایت بے بسی ومجبوری کے عالم میں تھے، علانیہ فرائض مذہبی ادا کرنا تو درکنار اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا بھی خطرہ سے خالی نہ تھا اور کعبہ میں نماز پڑھنا تو بالکل ناممکن تھا، عمر کے اسلام لانے سے دفعتاً حالت بدل گئی، انھوں نے علانیہ اپنے اسلام کا اظہار کیا، صرف اتنا ہی نہیں ؛بلکہ مشرکین کو جمع کرکے بآواز بلند اپنے ایمان کا اعلان کیا، مشرکین نہایت برافروختہ ہوئے ؛لیکن عاص بن وائل نے جو رشتہ میں عمر بن خطاب کے ماموں تھے، ان کو اپنی پناہ میں لے لیا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے پہلے اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کی مظلومیت کا تماشا دیکھتے تھے اس لیے شوق مساوات نے اسے پسند نہ کیا کہ وہ اسلام کی نعمت سے متمتع ہونے کے بعد عاص بن وائل کی حمایت کے سہارے اس کے نتائج سے محفوظ رہیں، اس لیے انھوں نے پناہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور برابر ثبات و استقلال کے ساتھ مشرکین کا مقابلہ کرتے رہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ برابر کعبہ میں جاکر نماز اداکی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حق، باطل کے مقابلہ میں سر بلند ہوا اور عمر کو اس صلہ میں دربار نبوت سے فاروق کا لقب مرحمت ہوا۔ ، ہجرت مکہ مکرمہ میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد بڑہتی گئی، اسی قدر مشرکین قریش کے بغض و عناد میں بھی ترقی ہوتی گئی، اگر پہلے وہ صرف فطری خونخواری اور جوش مذہبی کی بناپر مسلمانوں کو اذیت پہنچاتے تھے تو اب انھیں سیاسی مصالح نے مسلمانوں کے کامل استیصال پر آمادہ کر دیا تھا، سچ یہ ہے کہ اگر بلا کشان اسلام میں غیر معمولی جوش ثبات اور وارفتگی کا مادہ نہ ہوتا ایمان پر ثابت قدم رہنا غیر ممکن تھا۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ 7 نبوی میں اسلام لائے تھے اور 13 نبوی میں ہجرت ہوئی، اس طرح گویا انھوں نے اسلام لانے کے بعد تقریباً 7،6 برس تک قریش کے مظالم برداشت کیے، جب مسلمانوں کو مدینہ کی جانب ہجرت کی اجازت ملی تو عمر بن خطاب بھی اس سفر کے لیے آمادہ ہوئے اور بارگاہ نبوت سے اجازت لے کر چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور اس شان کے ساتھ روانہ ہوئے کہ پہلے مسلح ہوکر مشرکین کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، نہایت اطمینان سے طواف کیا، نماز پڑھی، پھر مشرکین سے مخاطب ہوکر کہا جس کو مقابلہ کرنا ہو وہ مکہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرلے ؛لیکن کسی کی ہمت نہ ہوئی اوروہ مدینہ روانہ ہو گئے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچ کر قبا میں رفاعہ بن عبدالمنذر کے مہمان ہوئے، قبا کا دوسرانام عوالی ہے؛چنانچہ صحیح مسلم میں ان کی فرودگاہ کا نام عوالی ہی لکھا ہے، عمرکے بعد اکثر صحابہ نے ہجرت کی یہاں تک کہ 622ء میں خود آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ کی گھاٹیوں سے نکل کر مدینہ کے افق سے ضوافگن ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد غریب الوطن مہاجرین کے رہنے سہنے کا اس طرح انتظام فرمایا کہ ان میں اور انصار میں برادری قائم کردی، اس موقع پر انصار نے عدیم النظیر ایثار سے کام لے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو مال واسباب میں نصف کا شریک بنالیا، اس رشتہ کے قائم کرنے میں درجہ و مراتب کا خاص طور پر خیال رکھا گیا تھا یعنی جو مہاجر جس رتبہ کا تھا اسی حیثیت کے انصاری سے اس کی برادری قائم کی گئی تھی؛چنانچہ عمر ؓ کے برادر اسلام حضرت عتبہ بن مالک قرار پائے تھے جو قبیلہ بنی سالم کے معزز رئیس تھے۔ مدینہ کا اسلام مکہ کی طرح بے بس و مجبور نہ تھا؛بلکہ اب آزادی اور اطمینان کا دور تھا اور اس کا وقت آگیا تھا کہ فرائض وارکان محدود اور معین کیے جائیں نیز مسلمانوں کی تعداد وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی تھی اور وہ دور دور کے محلوں میں آباد ہونے لگے تھے، اس بنا پر شدید ضرورت تھی کہ اعلان نماز کا کوئی طریقہ معین کیاجائے؛چنانچہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اسی کا انتظام کرنا چاہا، بعض صحابہ کی رائے ہوئی کہ آگ جلا کر لوگوں کو خبر کی جائے، بعض کا خیال تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح بوق و ناقوس سے کام لیا جائے، عمر بن خطاب نے کہا کہ ایک آدمی اعلان کے لیے کیوں نہ مقرر کیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند آئی اور اسی وقت حضرت بلال ؓ کو اذان کا حکم دیا گیا، اس طرح اسلام کا ایک شعار اعظم عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے موافق قائم ہوا، جس سے تمام عالم قیامت تک دن اور رات میں پانچ وقت توحید ورسالت کے اعلان سے گونجتا رہے گا۔ . غزوات نبوی میں شرکت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔ ،، غزوۂ بدر مدینہ میں سب سے پہلا معرکہ بدر کا پیش آیا، عمراس معرکہ میں رائے، تدبر جانبازی اورپامردی کے لحاظ سے ہر موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو رہے، عاص بن ہشام ابن مغیرہ جو رشتہ میں ان کا ماموں ہوتا تھا، خود ان کے خنجر خاراشگاف سے واصل جہنم ہوا یہ بات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں قرابت ومحبت کے تعلقات سے مطلقاً متاثر نہیں ہوتے تھے، آپ کے ہاتھوں عاص کا قتل اس کی روشن مثال ہے۔ بدر کا میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا، غنیم کے کم وبیش ستر آدمی مارے گئے اور تقریباً اسی قدر گرفتار ہوئے ؛چونکہ ان میں سے قریش کے اکثر بڑے بڑے معزز سردار تھے، اس لیے یہ بحث پیدا ہوئی کہ ان کے ساتھ کیاسلوک کیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ ؓ سے رائے لی، لوگوں نے مختلف رائیں دی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے ہوئی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، عمر نے اختلاف کیا اور کہا کہ ان سب کو قتل کردینا چاہیے اور اس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیز کو قتل کرے، علی، عقیل کی گردن ماریں اور فلاں جو میرا عزیز ہے اس کا کام میں تمام کردوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے پسند کی اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا، بارگاہ الہی میں یہ چیز پسند نہ آئی اس پر عتاب ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی: مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ "کسی پیغمبر کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ خونریزی نہ کرلے۔" حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے گریہ وزاری کی۔ غزوہ احد واقعہ بدر کے بعد خود مدینہ کے یہودیوں سے لڑائی ہوئی اور ان کو جلاوطن کیا گیا اسی طرح غزوہ سویق اور دوسرے چھوٹے چھوٹے معرکے پیش آئے، سب میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سرگرم پیکار رہے، یہاں تک کہ شوال 3ھ میں احد کا معرکہ پیش آیا، اس میں ایک طرف تو قریش کی تعداد تین ہزار تھی جس میں دو سو سوار اور سات سو زرہ پوش تھے، ادھر غازیان اسلام کی کل تعداد صرف سات سو تھی جس میں سوزرہ پوش اور دو سو سوار تھے، 7 شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیرؓ کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ فوج کے عقب میں متعین کر دیا تھا کہ ادھر سے کفار حملہ نہ کرنے پائیں۔ مسلمانوں نے غنیم کی صفیں تہ وبالا کر دیں، کفار شکست کھاکر بھاگے اور غازیان دین مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہو گئے، تیر اندازوں نے سمجھا کہ اب معرکہ ختم ہو چکا ہے، اس خیال سے وہ بھی لوٹنے میں مصروف ہو گئے، تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)دفعتہ عقب سے زور و شور کے ساتھ حملہ کر دیا، مسلمان چونکہ غافل تھے اس لیے ناگہانی ریلے کو روک نہ سکے، یہاں تک کہ کفار نے خود ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر یورش کردی اور اس قدر تیروں اور پتھروں کی بارش کی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے، پیشانی پر زخم آیا اور رخساروں میں مغفر کی کڑیاں چبھ گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گر پڑے اور لوگوں کی نظروں سے چھپ گئے۔ جنگ کا زور وشورجب کسی قدر کم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تیس فدائیوں کے ساتھ پہاڑ پر تشریف لائے، اسی اثنا میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ فوج کے ساتھ اس طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ خدایا یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند مہاجرین اور انصار کے ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا اور ان لوگوں کو ہٹادیا۔ ابو سفیان سالار قریش نے درہ کے قریب پہنچ کر پکارا کہ اس گروہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ کوئی جواب نہ دے، ابو سفیان نے پھر عمر اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا نام لے کر کہا، یہ دونوں اس مجمع میں ہیں یا نہیں؟ اور جب کسی نے جواب نہ دیا تو بولا کہ ضرور یہ لوگ مارے گئے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا، پکار کر کہا:او دشمن خدا!ہم سب زندہ ہیں، ابوسفیان نے کہا"اعل ھبل" یعنی اے ہبل بلند ہو، (ہبل ایک بت کا نام تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب سے فرمایا جواب دو، اللہ اعلیٰ واجل یعنی خدا بلند وبرتر ہے۔ غزوہ احد کے بعد 3ھ میں حضرت عمر بن خطاب کو یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کی صاحبزادی حضرت حفصہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں، ؁ 4ھ بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث مدینہ سے جلاوطن کیا گیا، اس واقعہ میں بھی حضرت عمرؓ بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک رہے، غزوہ خندق 5ھ میں غزوہ خندق پیش آیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے باہر نکل کر خندق تیار کرائی، دس ہزار کفار نے خندق کا محاصرہ کیا، وہ لوگ کبھی کبھی خندق میں گھس کر حملہ کرتے تھے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے ادھر ادھر کچھ کچھ فاصلے پر اکابر صحابہ کو متعین فرمادیا تھا کہ دشمن ادھر سے نہ آنے پائیں، ایک حصہ پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ متعین تھے؛چنانچہ یہاں پر ان کے نام کی ایک مسجد آج بھی موجود ہے، ایک دن کافروں کے مقابلہ میں ان کو اس قدر مصروف رہنا پڑا کہ عصر کی نماز قضا ہوتے ہوتے رہ گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ آج کافروں نے نماز پڑھنے تک کا موقع نہ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی، کامل ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد مسلمانوں کے ثبات واستقلال کے آگے کافروں کے پاؤں اکھڑ گئے اور یہ میدان بھی غازیوں کے ہاتھ رہا۔ بیعت الرضوان اور صلح حدیبیہ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت کعبہ کا ارادہ فرمایا اور اس خیال سے کہ کسی کو لڑائی کا شبہ نہ ہو، حکم دیا کہ کوئی ہتھیار باندھ کر نہ چلے، ذوالحلیفہ پہنچ کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ دشمنوں میں غیر مسلح چلنا مصلحت نہیں ہے؛چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کے موافق مدینہ سے اسلحہ منگوا لیے، مکہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش نے عہد کر لیا ہے کہ مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں قدم نہ رکھنے دیں گے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑنا مقصود نہیں تھا اس لیے مصالحت کے خیال سے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو سفیر بناکر بھیجا، قریش نے ان کو روک رکھا جب کئی دن گذر گئے تو یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر صحابہ ؓ جو تعداد میں چودہ سو تھے، ایک درخت کے نیچے جہاد پر بیعت لی؛چنانچہ قرآن مجید کی اس آیت میں "لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"، اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیعت سے پہلے ہی لڑائی کی تیاری شروع کردی تھی، ہتھیار سج رہے تھے کہ خبر ملی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے ہیں، اسی وقت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور جہاد کے لیے دست اقدس پر بیعت کی۔ قریش مصر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے، آخر بڑے ردو قدح کے بعد ایک معاہدہ پر طرفین رضا مند ہو گئے، اس معاہدہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر قریش کا کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چلا جائے تو اس کو قریش کے پاس واپس کر دیا جائے گا؛لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی شخص قریش کے ہاتھ آ جائے تو ان کو نہ واپس کرنے کا اخیتار ہوگا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی غیور طبیعت اس شرط سے نہایت مضطرب ہوئی اور خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوکر دریافت کیا کہ جب ہم حق پر ہیں تو باطل سے اس قدر دب کر کیوں صلح کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں خدا کا پیغمبر ہوں اور خدا کے حکم کے خلاف نہیں کرتا، اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی یہی گفتگو کی، انھوں نے بھی یہی جواب دیا، بعد کو حضرت عمرؓ بن خطاب کو اپنی گفتگو پرندامت ہوئی اور اس کے کفارے میں کچھ خیرات کی۔ غرض معاہدہ صلح لکھا گیا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس پر اپنے دستخط ثبت کیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کا قصد کیا، راہ میں سورہ "اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا"نازل ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر سنایا اور فرمایا کہ آج ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھ کو دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔ . غزوہ خیبر 7ھ میں واقعہ خبیر پیش آیا، یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے مضبوط قلعے تھے جن کا مفتوح ہونا آسان نہ تھا، پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالار ہوئے، ان کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خدمت پر مامور ہوئے؛ لیکن یہ فخر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے مقدر ہو چکا تھا چنانچہ آخر میں جب آپ کو علم مرحمت ہوا تو آپ کے ہاتھوں خیبر کا رئیس مرحب مارا گیا اور خبیر مفتوح ہوا، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی زمین مجاہدوں کو تقسیم کردی؛چنانچہ ایک ٹکڑا ثمغ نامی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آیا، انھوں نے اس کو راہ خدا میں وقف کر دیا، اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا وقف تھا جو عمل میں آیا۔ فتح مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریش کے درمیان میں حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا خیبر کے بعد قریش نے اس کو توڑدیا، ابوسفیان نے پیش بندی کے خیال سے مدینہ آکر عذر خواہی کی؛لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس لیے وہ اٹھ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا کہ وہ اس معاملہ کو طے کرا دیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل نا امید ہو گیا، غرض نقض عہد کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ رمضان 8ھ میں مکہ کا قصد فرمایا، قریش میں مقابلہ کی طاقت نہ تھی، اس لیے انھوں نے کوئی مزاحمت نہ کی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت جاہ و جلال کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور باب کعبہ پر کھڑے ہوکر نہایت فصیح وبلیغ تقریری کی جو تاریخوں میں بعینہ مذکور ہے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مقام صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لیے تشریف لائے لوگ جوق درجوق آتے تھے اور بیعت کرتے جاتے تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ؛لیکن کسی قدر نیچے بیٹھے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے گانہ عورتوں کے ہاتھ مس نہیں کرتے تھے، اس لیے جب عورتوں کی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ تم ان سے بیعت لو؛چنانچہ تمام عورتوں نے انھی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد اسی سال ہوازن کی لڑائی پیش آئی جو غزوہ حنین کے نام سے مشہو رہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جنگ میں بھی نہایت ثابت قدمی اور پامردی کے ساتھ شریک کار زار رہے، پھر 9ھ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو تیاری کا حکم دیا اورجنگی تیاریوں کے لیے زر ومال سے اعانت کی ترغیب دلائی، اکثر صحابہ نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر اپنے تمام مال و املاک کا آدھا حصہ لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ غزوہ تبوک اسلحہ اور سامان رسد مہیا ہو جانے کے بعد مجاہدین نے مقام تبوک کا رخ کیا، یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی، اس لیے چند روز قیام کے بعد سب لوگ واپس آگئے۔ حجۃ الوداع 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے، حضرت عمرؓ بن خطاب بھی ہمرکاب تھے، اس حج سے واپس آنے کے بعد ابتدا ماہ ربیع الاول دوشنبہ کے دن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور دس روز کی مختصر علالت کے بعد 12 ربیع الاول دوشنبہ کے دن دوپہر کے وقت آپ کا وصال ہو گیا، عام روایت یہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ازخود رفتہ ہوکر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اعلان کیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس کو قتل کر ڈالوں گا۔ شاید اس میں یہ بھی مصلحت ہو کہ منافقین کو فتنہ پردازی کا موقع نہ ملے، پھر بھی فتنہ سقیفہ بنی ساعدہ کھڑا ہی ہو گیا، اگر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہوقت پر پہنچ کر اپنے ناخن عقل سے اس گتھی کو نہ سلجھاتے تو کیا عجب تھا کہ یہی فتنہ شمع اسلام کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیتا لیکن انصار کے ساتھ بہت بحث و مباحثہ کے بعد حضرت عمرؓ بن خطاب نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اوراس کے بعد اور لوگوں نے بیعت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت صرف سوا دو برس رہی ان کے عہد میں جس قدر بڑے بڑے کام انجام پائے سب میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شریک رہے، قرآن شریف کی تدوین کا کام خاص ان کے مشورہ اور اصرار سے عمل میں آیا، غرض حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے عہد خلافت میں تجربہ ہو چکا تھا کہ منصب خلافت کے لیے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص موزوں نہیں ہو سکتا؛چنانچہ انھوں نے وفات کے قریب اکابر صحابہ سے مشورہ کے بعد ان کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کیا اور آئندہ کے لیے مفید مؤثر نصیحتیں کیں جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے نہایت عمدہ دستور العمل ثابت ہوئیں۔ خلافت حضرت ابوبکر صدیق ؓ تریسٹھ سال کی عمر میں اواخر جمادی الثانی دوشنبہ کے روز وفات پائی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے، خلیفۂ سابق کے عہد میں مدعیان نبوت، مرتدین عرب اور منکرین زکوٰۃ کا خاتمہ ہو کر فتوحات ملکی کا آغاز ہو چکا تھا، یعنی 12ھ میں عراق پر لشکر کشی ہوئی اور حیرہ کے تمام اضلاع فتح ہو گئے، اسی طرح 13ھ میں شام پر حملہ ہوا اور اسلامی فوجیں سرحدی اضلاع میں پھیل گئیں، ان مہمات کا آغاز ہی تھا کہ خلیفہ وقت نے انتقال کیا، حضرت عمرؓ بن خطاب نے عنان حکومت ہاتھ میں لی تو ان کا سب سے اہم فرض انھی مہمات کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔ ہاتھ میں لی تو ان کا سب سے اہم فرض انھی مہمات کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔ فتوحات عراق سیرت صدیق ؓ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہو چکا ہے کہ عراق پر حملے کے کیا وجوہ واسباب تھے اور کس طرح اس کی ابتدا ہوئی، یہاں سلسلہ کے لیے مختصراً اس قدر جان لینا چاہیے کہ خالد بن ولید بانقیا، کسکر اور حیرہ کے اضلاع کو فتح کر چکے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حکم سے مثنی بن حارثہ کو اپنا جانشین کرکے مہم شام کی اعانت کے لیے ان کو شام جانا پڑا، حضرت خالد بن ولید ؓ کا جانا تھا کہ عراق کی فتوحات دفعۃ رک گئیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسند نشین خلافت ہوئے تو سب سے پہلے مہم عراق کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوئے، بیعت خلافت کے لیے عرب کے مختلف حصوں سے بے شمار آدمی آئے تھے، اس موقع کو غنیمت سمجھ کر مجمع عام میں آپ نے جہاد کا وعظ کیا؛لیکن چونکہ عام خیال تھا کہ عراق حکومت فارس کا پایہ تخت ہے اور اس کا فتح ہونا نہایت دشوار ہے اس لیے ہر طرف سے صدائے برنخاست کا معاملہ رہا، عمر نے کئی دن تک وعظ کہا ؛لیکن کچھ اثر نہ ہوا، آخر چوتھے دن ایسی پر جوش تقریر کی کہ حاضرین کے دل دہل گئے مثنی شیبانی نے کہا کہ"مسلمانو! میں نے مجوسیوں کو آزما لیا ہے وہ مرد میدان نہیں ہیں، ہم نے عراق کے بڑے بڑے اضلاع فتح کرلئے ہیں اور عجمی اب ہمارا لوہا مان گئے ہیں، اسی طرح قبیلہ ثقیف کے سردار ابو عبیدہ ثقفی نے جوش میں آکر کہا "انالھذا"یعنی اس کے لیے میں ہوں، ابو عبیدہ کی بیعت نے تمام حاضرین کو گرما دیا اور ہرطرف سے آوازیں اٹھیں کہ ہم بھی حاضر ہیں، عمر نے مدینہ اور اس کے مضافات سے ایک ہزار اور دوسری روایت کے مطابق پانچ ہزار آدمی انتخاب کیے اور ابو عبید کو سپہ سالار مقرر کرکے روانہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد میں عراق پر جو حملہ ہوا اس نے ایرانیوں کو بیدار کر دیا تھا؛چنانچہ پوران وخت نے جو صغیر السن یزد گرد شاہِ ایران کی متولیہ تھی فرخ زاد گورنر خراسان کے بیٹے رستم کو جو نہایت شجاع اور مدبر تھا دربار میں طلب کرکے وزیر جنگ بنایا اور تمام اہل فارس کو اتحاد و اتفاق پر آمادہ کیا، نیز مذہبی حمیت کا جوش دلا کر نئی روح پیدا کردی، اس طرح دولت کیانی نے پھر وہی قوت پیدا کرلی جو ہر مزپرویز کے زمانہ میں اس کو حاصل تھی۔ رستم نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کے پہنچنے سے پہلے ہی اضلاع فرات میں غدر کرا دیا اور جو مقامات مسلمانوں کے قبضہ میں آ چکے تھے وہ ان کے قبضہ سے نکل گئے، پوران وخت نے ایک اور زبردست فوج رستم کی اعانت کے لیے تیار کی اور نرسی و جابان کو سپہ سالار مقرر کیا یہ دونوں دو راستوں سے روانہ ہوئے، جابان کی فوج نماز ق پہنچ کر ابو عبیدہ بن جراح ؓ کی فوج سے بر سر پیکار ہوئی اور بری طرح شکست کھا کر بھاگی، ایرانی فوج کے مشہور افسر جوشن شاہ اور مروان شاہ مارے گئے، جابان گرفتار ہوا مگر اس حیلہ سے بچ گیا جس شخص نے اس کو گرفتار کیا تھا وہ پہچانتا نہ تھا، جابان نے اس سے کہا کہ میں بڑھاپے میں تمھارے کس کام کاہوں، معاوضے میں دو غلام لے لو اور مجھے چھوڑ دو، اس نے منظور کر لیا، بعد کو معلوم ہوا کہ یہ جابان تھا، لوگوں نے غل مچایا کہ ایسے دشمن کو چھوڑنا نہیں چاہیے ؛لیکن ابو عبیدہ ؓ نے کہا کہ اسلام میں بدعہدی جائز نہیں۔ ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے جابان کو شکست دینے کے بعد سقاطیہ میں نرسی کی فوج گراں کو بھی شکست دی، اس کا اثریہ ہوا کہ قرب و جوار کے تمام رؤسا خود بخود مطیع ہو گئے، نرسی وجابان کی ہزیمت سن کر رستم نے مروان شاہ کو چار ہزار کی جمعیت کے ساتھ ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کے مقابلہ میں روانہ کیا، ابو عبیدہ ؓ نے فوجی افسروں کے شدید اختلاف کے باوجود فرات سے پار اتر کر غنیم سے نبرد آزمائی کی چونکہ اس پار کا میدان تنگ اور ناہموار تھا، نیز عربی دلاورں کے لیے ایران کے کوہ پیکر ہاتھیوں سے یہ پہلا مقابلہ تھا، اس لیے مسلمانوں کو سخت ہزیمت ہوئی اور نوہزارفوج میں سے صرف تین ہزار باقی بچی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس شکست نے نہایت برافروختہ کیا، انھوں نے اپنے پرجوش خطبوں سے تمام قبائل عرب میں آگ لگادی، ان کے جوش کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ نمرو تغلب کے سرداروں نے جو مذہباً عیسائی تھے اپنے قبائل کے مسلمانوں کے ساتھ شرکت کی اور کہا کہ آج عرب وعجم کا مقابلہ ہے، اس قومی معرکہ میں ہم بھی قوم کے ساتھ ہیں، غرض عمرؓ بن خطاب ایک فوج گراں کے ساتھ جریر بجلی کو میدان رزم کی طرف روانہ کیا، یہاں مثنیٰ نے بھی سرحد کے عربی قبائل کو جوش دلا کر ایک زبردست فوج تیار کرلی تھی۔ پوران وخت نے ان تیاروں کا حال سنا تو اپنی فوج خاصہ میں سے بارہ ہزار جنگ آزما بہادر منتخب کرکے مہران بن مہرویہ کے ساتھ مجاہدین کے مقابلہ کے لیے روانہ کیے حیرہ کے قریب دونوں حریف صف آرا ہوئے، ایک شدید جنگ کے بعد عجمیوں میں بھگدڑ پڑ گئی، مہران بن تغلب کے ایک نوجوان کے ہاتھ سے مارا گیا، مثنی نے پل کا راستہ روک دیا اور اتنے آدمیوں کو تہ تیغ کیا کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے، اس فتح کے بعد مسلمان عراق کے تمام علاقوں میں پھیل گئے۔ حیرہ کے کچھ فاصلہ پر جہاں آج بغداد آباد ہے وہاں اسی زمانہ میں بہت بڑا بازار لگتا تھا، مثنی نے عین بازار کے دن حملہ کیا بازاری جان بچا کر بھاگ گئے اور بے شمار دولت مسلمانوں کے ہاتھ آئی، اسی طرح قرب و جوار کے مقامات میں مسلمانوں کی پیش قدمی شروع ہو گئی، سورا، کسکر، صراۃ اور فلالیح وغیرہ پر اسلامی پھر یرا لہرانے لگا، پایہ تخت ایران میں یہ خبریں پہنچیں تو ایران قوم میں بڑا جوش وخروش پیدا ہو گیا، حکومت کا نظام بالکل بدل دیا، پوران وخت معزول کی گئی، یزد گرد جو سولہ سالہ نوجوان اور خاندان کیانی کا تنہا وارث تھا تخت سلطنت پر بٹھا دیا گیا، اعیان واکابرملک نے باہم متفق ومتحد ہوکر کام کرنے کا ارادہ کیا، تمام قلعے اور بفوجی چھاؤنیوں کو مستحکم کر دیا گیا، اسی کے ساتھ کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کے مفتوحہ مقامات میں بغاوت پھیلائی جائے، ان انتظامات سے سلطنت ایران میں نئی زندگی پیدا ہو گئی اور تمام مفتوحہ مقامات مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے، مثنی مجبور ہوکر عرب کی سرحد میں ہٹ آئے اور ربیعہ اور مضر کے قبائل کو جو اطراف عراق میں پھیلے ہوئے تھے، ایک تاریخ معین تک علم اسلامی کے نیچے جمع ہونے کے لیے طلب کیا، نیز دربار خلافت کو اہل فارس کی تیاریوں سے مفصل طور پر مطلع کیا۔ عمر نے ایرانیوں کی تیاریوں کا حال سن کر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو جو بڑے رتبہ کے صحابی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں تھے، بیس ہزار مجاہدین کے ساتھ مہم عراق کی تکمیل پر مامور کیا، اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس میں تقریباً سترہ صحابی تھے جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں جوہر شجاعت دکھا چکے تھے، تین سو وہ تھے جو فتح مکہ میں موجود تھے اور سات سو ایسے تھے جو خود صحابی نہ تھے ؛لیکن ان کی اولاد ہونے کا فخر رکھتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے شراف پہنچ کر پڑاؤ کیا، مثنی آٹھ ہزار آدمیوں کے ساتھ مقام ذی قار میں اس عظیم الشان کمک کا انتظار کر رہے تھے کہ اس اثناء میں ان کا انتقال ہو گیا، اس لیے ان کے بھائی مغنی شراف آکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ملے اور مثنی نے جو ضروری مشورے دیے تھے ان سے بیان کیے۔ عمر نے ایام جاہلیت میں نواح عراق کی سیاحت کی تھی اور وہ اس سرزمین کے چپہ چپہ سے واقف تھے اس لیے انھوں نے خاص طور پر ہدایت کردی تھی کہ فوج کا جہاں پڑاؤ ہو وہاں کے مفصل حالات لکھ کر آپ کے پاس بھیجے جائیں؛چنانچہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے اس مقام کا نقشہ، لشکر کا پھیلاؤ، فرودگاہ کی حالت اور رسد کی کیفیت سے ان کو اطلاع دی، اس کے جواب میں دربار خلافت سے ایک مفصل بیان آیا جس میں فوج کی نقل وحرکت حملہ کا بندوبست، لشکر کی ترتیب اور فوج کی تقسیم کے متعلق ہدایتیں درج تھیں، اسی کے ساتھ حکم دیا گیا کہ شراف سے بڑھ کر قادسیہ کو میدان کا رزار قراردیں اور اس طرح مورچے جمائیں کہ فارس کی زمین سامنے ہو اور عرب کا پہاڑ حفاظت کا کام دے۔ حضرت سعد ؓ نے دربار خلافت کی ہدایت کے مطابق شراف سے بڑھ کر قادسیہ میں مورچہ جمایا اور نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چودہ نامور اشخاص کو منتخب کر کے دربار ایران میں سفیر بنا کر بھیجا کہ شاہ ایران اور اس کے رفقا کو اسلام کی ترغیب دیں ؛لیکن جو لوگ دولت و حکومت کے نشہ میں مخمور تھے، وہ خانہ بدوش عرب اور ان کے مذہب کو کب خاطر میں لاتے چنانچہ سفارت گئی اور ناکام واپس آئی۔ اس واقعہ کے بعد کئی مہینے تک دونوں طرف سے سکوت رہا، رستم ساٹھ ہزار کے فوج کے ساتھ ساباط میں پڑا تھا اور یزدگرد کی تاکید کے باوجود جنگ سے جی چرا رہا تھا اور مسلمان آس پاس کے دیہات پر چڑھ جاتے تھے اور رسد کے مویشی وغیرہ حاصل کر لاتے تھے جب اس حالت نے طول کھینچا مجبور ہوکر رستم کو مقابلہ کے لیے بڑھنا پڑا اور ایرانی فوجیں ساباط سے نکل کر قادسیہ کے میدان میں خیمہ زن ہوئیں۔ رستم قادسیہ میں پہنچ کر بھی جنگ کو ٹالنے کی کوشش کرتا رہا اور مدتوں سفراء کی آمدورفت اور نامہ وپیام کا سلسلہ جاری رکھا ؛لیکن مسلمانوں کا آخری اور قطعی جواب یہ ہوتا تھا کہ اگر اسلام یا جزیہ منظور نہیں ہے تو تلوار سے فیصلہ ہوگا، رستم جب مصالحت کی تمام تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو سخت برہم ہوا اور قسم کھا کر کہا"آفتاب کی قسم!اب میں تمام عربوں کو ویران کردوں گا۔" . قادسیہ کی فیصلہ کن جنگ اورغضب ناک ہوکر فوج کو کمر بندی کا حکم دے دیااورخود تمام رات جنگی تیاریوں میں مصروف رہا، صبح کے وقت قادسیہ کا میدان عجمی سپاہیوں سے آدمیوں کا جنگل نظر آنے لگا جس کے پیچھے پیچھے ہاتھیوں کے کالے کالے پہاڑ عجیب خوفناک سماں پیدا کر رہے تھے۔ دوسری طرف مجاہدین اسلام کا لشکرِ جرار صف بستہ کھڑا تھا، اللہ اکبر کے نعروں سے جنگ شروع ہوئی، دن بھر ہنگامہ محشر برپا رہا، شام کو جب تاریکی چھاگئی تو دونوں حریف اپنے اپنے خیموں میں واپس آئے، قادسیہ کا یہ پہلا معرکہ تھا اور عربی میں اس کو یوم الارماث کہتے ہیں۔ قادسیہ کی دوسری جنگ معرکہ اغواث کے نام سے مشہور ہے، اس معرکہ میں مہم شام کی چھ ہزار فوج عین جنگ کے وقت پہنچی اور عمر کے قاصد بھی جن کے ساتھ بیش قیمت تحائف تھے عین جنگ کے موقع پر پہنچے اور پکارکرکہا"امیر المومنین نے یہ انعام ان کے لیے بھیجا ہے جو اس کا حق ادا کریں"اس نے مسلمانوں کے جوش و خروش کو اور بھی بھڑکا دیا تمام دن جنگ ہوتی رہی شام تک مسلمان دو ہزار اور ایرانی دس ہزار مقتول ومجروح ہوئے ؛لیکن فتح و شکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ تیسرا معرکہ یوم العماس کے نام سے مشہور ہے، اس میں مسلمانوں نے سب سے پہلے کوہ پیکر ہاتھیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی، کیونکہ ایرانیوں کے مقابلہ میں مجاہدین اسلام کو ہمیشہ اس کالی آندھی سے نقصان پہنچا تھا، اگرچہ قعقاع نے اونٹوں پر سیاہ جھول ڈال کر ہاتھی کا جواب ایجاد کر لیا تھا، تاہم یہ کالے دیو جس طرف جھک پڑتے تھے صف کی صف پس جاتی تھی، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ضخم وسلم وغیرہ پارسی نومسلموں سے اس سیاہ بلا کے متعلق مشورہ طلب کیا، انھوں نے کہا کہ ان کی آنکھیں اور سونڈ بے کار کر دیے جائیں، سعد ؓ نے قعقاع ؓ، جمال اور ربیع کو اس خدمت پر مامور کیا، ان لوگوں نے ہاتھیوں کو نرغے میں لے لیا اور برچھے مار مار کر آنکھیں بے کار کر دیں، قعقاع ؓ نے آگے بڑھ کر پیل سفید کی سونڈ پر ایسی تلوار ماری کہ مستک الگ ہو گئی، جھر جھری لے کر بھاگا، اس کا بھاگنا تھا کہ تمام ہاتھی اس کے پیچھے ہولئے، اس طرح دم کے دم میں یہ سیاہ بادل چھٹ گیا۔ اب بہادروں کو حوصلہ افزائی کا موقع ملا، دن بھر ہنگامہ کار زار گرم رہا، رات کے وقت بھی اس کا سلسلہ جاری رہا اور اس زور کارن پڑا کہ نعروں کی گرج سے زمین دہل اٹھتی تھی، اسی مناسبت سے اس رات کو لیلۃ الہریر کہتے ہیں، رستم پامردی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا؛لیکن آخر میں زخموں سے چور ہوکر بھاگ نکلا اور ایک نہر میں کود پڑاکہ تیر کر نکل جائے گا، بلال نامی ایک مسلمان سپاہی نے تعاقب کیا اور ٹانگیں پکڑ کر نہر سے باہر کھینچ لایا اور تلوار سے کام تمام کر دیا، رستم کی زندگی کے ساتھ سلطنت ایران کی قسمت کا بھی فیصلہ ہو گیا، ایرانی سپاہیوں کے پاؤں اکھڑ گئے، مسلمانوں نے دور تک تعاقب کرکے ہزاروں لاشیں میدان میں بچھا دیں۔ قادسیہ کے معرکوں نے خاندان کسریٰ کی قسمت کاآخری فیصلہ کر دیا، درفش کاریانی ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہو گیا اور اسلامی حلم نہایت شان وشوکت کے ساتھ ایران کی سرزمین پر لہرانے لگا، مسلمانوں نے قادسیہ سے بڑھ کر آسانی کے ساتھ بابل، کوثی، بہرہ شیر اورخود نوشیروانی دار الحکومت مدائن پر قبضہ کر لیا، ایرانیوں نے مدائن سے نکل کر جلولا کو اپنا فوجی مرکز قرار دیا، اس دوران میں رستم کے بھائی خرندانے حسن تدبیر سے ایک زبردست فوج جمع کرلی، سعد نے ہاشم بن عتبہ کو جلولا کی تسخیر پر مامور کیا، جلولا چونکہ نہایت مستحکم مقام تھا، اس لیے مہینوں کے محاصرہ کے بعد مفتوح ہوا، یہاں سے قعقاع ؓ کی سپردگی میں ایک جمعیت حلوان کی طرف بڑھی اور خسرووشنوم کو شکست دے کر شہر پر قابض ہو گیا۔ قعقاع ؓ حلوان میں قیام کیا اور عام منادی کرادی کہ جو لوگ اسلام یا جزیہ قبول کر لیں گے وہ مامون و محفوظ رہیں گے، اس منادی پر بہت سے امرا اور رؤسا برضاورغبت اسلام میں آگئے یہ عراق کی آخری فتح تھی، کیونکہ یہاں اس کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ تسخیر عراق کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی دلی خواہش تھی کہ جنگ کا سلسلہ منقطع ہوجائے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ" کاش!ہمارے اور فارس کے درمیان میں آگ کا پہاڑ ہوتا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کرسکتے نہ ہم ان پر چڑھ سکتے"لیکن ایرانیوں کو عراق سے نکل جانے کے بعد کسی طرح چین نہیں آتا تھا؛چنانچہ یزد گرد نے معرکہ جلول کے بعد مرو کو مرکزبناکر نئے سرے سے حکومت کے ٹھاٹھ لگائے اورتمام ملک میں فرامین ونقیب بھیج کر لوگوں کو عربوں کی مقاومت پر آمادہ کیا۔ یز گرد کے فرامین نے تمام ممالک میں آگ لگادی اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کا ٹڈی دل قم میں آکر مجتمع ہوا، یزدگرد نے مروان شاہ کو سرلشکر مقرر کرکے نہادندکی طرف روانہ کیا، اس معرکہ میں درفش کاویانی جس کو عجم نہایت متبرک سمجھتے تھے، فال نیک کے خیال سے نکالا گیا اور جب مروان شاہ روانہ ہوا تو یہ مبارک پھر یرا اس پر سایہ کرتا جاتا تھا۔ ایرانیوں کی ان تیاریوں کا حال سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ اس ایرانی طوفان کو آگے بڑھنے سے روکنے کا حکم دیا نہاوند کے قریب دونوں کی فوجیں سرگرم پیکار ہوئیں اور اس زورکا رن پڑا کہ قادسیہ کے بعد ایسی خونزیز جنگ کوئی نہیں ہوئی تھی، یہاں تک کہ اس جنگ میں خود اسلامی سپہ سالار نعمانی ؓ شہید ہو گئے، ان کے بعد ان کے بھائی نعیم بن مقرن نے علم ہاتھ میں لے کر بدستور جنگ جاری رکھی اور رات ہوتے ہوتے عجمیوں کے پاؤں اکھڑ گئے، مسلمانوں نے ہمدان تک تعاقب کیا، اس لڑائی میں تقریباً تین ہزار عجمی کھیت رہے، نتائج کے لحاظ سے مسلمانوں نے اس کا نام "فتح الفتوح" رکھا، فیروز جس کے ہاتھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت مقدر تھی، اسی لڑائی میں گرفتار ہوا تھا۔ عام لشکر کشی واقعہ نہاوند کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیال پیدا ہوا کہ جب تک تخت کیانی کا وارث ایران کی سر زمین پر موجود ہے، بغاوت اور جنگ کا فتنہ فرونہ ہوگا، اس بنا پر عام لشکر کشی کا ارادہ کیا اور اپنے ہاتھ سے متعدد علم تیار کرکے مشہور افسروں کو دیے اور انھیں خاص خاص ممالک کی طرف روانہ کیا، چنانچہ 21ھ میں یہ سب غازیان اسلام اپنے اپنے متعینہ ممالک کی طرف روانہ ہو گئے اور نہایت جوش و خروش سے حملہ کرکے تمام ممالک کو اسلام کا زیرنگیں کر دیا اور صرف ڈیڑھ دو برس کے عرصہ میں کسریٰ کی حکومت نیست ونابود ہو گئی۔ خاندان کیانی کا آخری تاجدار ایران سے بھاگ کر خاقان کے دربار میں پہنچا، خاقان نے اس کی بڑی عزت وتوقیر کی اورایک فوج گراں کے ساتھ یزد گرد کو ہمراہ لے کر خراسان کی طرف بڑھا اور خاقان نے احنف بن قیس کے مقابلہ میں صف آرائی کی ؛لیکن صفائی کے دوہی ہاتھ نے اس کے عزم واستقلال کو متزلز ل کر دیا اور اس کے ذہن نشین ہو گیا کہ ایسے بہادروں کو چھیڑنا مصلحت نہیں؛چنانچہ اسی وقت کوچ کا حکم دے دیا اور اپنے حدود میں واپس چلا گیا۔ یزد گرد کوخاقان کے واپس جانے کی خبر ملی تو مایوس ہوکر خزانہ اور جواہرات ساتھ لیے ترکستان کا عزم کیا، درباریوں نے دیکھا کہ ملک کی دولت ہاتھ سے نکلی جاتی ہے تو روکا، اس نے نہ مانا تو مقابلہ کرکے تمام مال واسباب ایک ایک کرکے چھین لیا، یزد گرد بے سروسامان خاقان کے پاس پہنچا اور خدا تعالی کی نافرمانی کے باعث مدتوں فرغانہ کی گلیوں میں خاک چھانتا رہا۔ "اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاءُoوَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُo بِیَدِکَ الْخَیْرُ" "خدایا تو ہی ملکوں کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔" احنف بن قیس نے بارگاہِ خلافت میں نامۂ فتح روانہ کیا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام آدمیوں کو جمع کرکے یہ مژدہ جانفزا سنایا اور ایک مؤثر تقریر کی، آخر میں فرمایا کہ آج مجوسیوں کی سلطنت برباد ہو گئی اور اب وہ کسی طرح اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے؛لیکن اگر تم بھی صراط مستقیم پر قائم نہ رہے تو خدا تعالی تم سے بھی حکومت چھین کر دوسروں کو دے دیگا۔ فتوحاتِ شام ممالک شام میں سے اجنادین، بصریٰ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مقامات عہد صدیقی رضی اللہ عنہ میں فتح ہو چکے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے تو دمشق محاصرہ کی حالت میں تھا، خالد بن ولید سیف اللہ ؓ نے رجب 14ھ میں اپنے حسن تدبیر سے اس کو مسخر کر لیا۔ رومی دمشق کی شکست سے سخت برہم ہوئے اور ہرطرف سے فوجیں جمع کرکے مقام بیسان میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع ہوئے، مسلمانوں نے ان کے سامنے فحل میں پڑاؤڈالا، عیسائیوں کی درخواست پر معاذ بن جبل ؓ سفیر بن کر گئے؛لیکن مصالحت کی کوئی صورت نہ نکلی، آخر کار ذوقعدہ 14ھ میں فحل کے میدان میں نہایت خونزیز معرکے پیش آئے خصوصاً آخری معرکہ نہایت سخت تھا، بالآخر یہ میدان بھی مسلمانوں کے ہاتھ رہا غنیم کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان اردن کے تمام شہر اور مقامات پر قابض ہو گئے، رعایا ذمی قراردی گئی اور ہرجگہ اعلان کر دیا گیاکہ"مقتولین کی جان ومال، زمین، مکانات، گرجے اور عبادت گاہیں سب محفوظ ہیں" دمشق اور اردن مفتوح ہو جانے کے بعد مسلمانوں نے حمص کا رخ کیا، راہ میں بعلبک، حماۃ، شیراز اور معرۃ النعمان فتح کرتے ہوئے حمص پہنچے اور اس کا محاصرہ کر لیا، حمص والوں نے ایک مدت تک مدافعت کرنے کے بعد مصالحت کرلی سپہ سالار اعظم ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ کو وہاں متعین کرکے لاذقیہ کا رخ کیا اور ایک خاص تدبیر سے اس کے مستحکم قلعوں پر قبضہ کر لیا۔ حمص کی فتح کے بعد اسلامی فوجوں نے ہر قل کے پایہ تخت انطاکیہ کا رخ کیا ؛لیکن بارگاہ خلافت سے حکم پہنچا کہ اس سال آگے بڑھنے کا ارادہ نہ کیاجائے، اس لیے فوجیں واپس آگئیں۔ ، میدان یرموک اور شام کی قسمت کا فیصلہ دمشق، حمص اور لاذقیہ کی پیہم اور متواتر ہزیمتوں نے قیصر کو سخت برہم کر دیا اور وہ نہایت جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے اپنی شہنشاہی کا پورا زور صرف کرنے پر آمادہ ہو گیا اور انطاکیہ میں فوجوں کا ایک طوفان امنڈآیا، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ نے اس طوفان کو روکنے کے لیے افسروں کے مشورہ سے تمام ممالک مفتوحہ کو خالی کرکے دمشق میں اپنی قوت مجمتع کی اور ذمیوں سے جو کچھ جزیہ وصول کیا گیا تھا سب واپس کر دیا گیا، کیونکہ اب مسلمان ان کی حفاظت کرنے سے مجبور تھے اس واقعہ کا عیسائیوں اور یہودیوں پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے تھے کہ خدا تم کو جلد واپس لائے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مفتوحہ مقامات سے مسلمانوں کے ہٹ آنے کی خبر ملی تو پہلے وہ بہت رنجیدہ ہوئے ؛لیکن جب معلوم ہوا کہ تمام افسروں کی یہی رائے تھی تو فی الجملہ تسلی ہو گئی اور فرمایا خداکی اسی میں مصلحت ہوگی، سعید بن عامر ؓ کو ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدد کے لیے روانہ کیا اور قاصد کو ہدایت کی کہ خود ایک صف میں جاکر زبانی یہ پیغام پہنچانا: "الاعمر یقرئک الاسلام ویقول لکم یا اھل السلام اصدقوااللقاء وشدو اعلیہم مثداللیوث ولیکونوااھون علیکم من الذر فاناقد علمنا انکم علیہم منصورون" ترجمہ: اے برادران اسلام! عمر بن خطاب ؓ نے بعد سلام کے تم کو یہ پیغام دیا ہے کہ پوری سرگرمی کے ساتھ جنگ کرو اور دشمنوں پر شیروں کی طرح اس طرح حملہ آور ہو کہ وہ تم کو چیونٹیوں سے زیادہ حقیر معلوم ہوں، ہم کو یقین کامل ہے کہ خدا کی نصرت تمھارے ساتھ ہے اور آخر فتح تمھارے ہاتھ ہے" اردن کی حدود میں یرموک کا میدان ضروریات جنگ کے لحاظ سے نہایت باموقع تھا، اس لیے ا س اہم معرکہ کے لیے اسی میدان کو منتخب کیا گیا، رومیوں کی تعداد دولاکھ تھی، اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تیس بتیس ہزار تھی؛لیکن سب کے سب یگانۂ روز گار تھے، اس فوج کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار ایسے بزرگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال مبارک دیکھا تھا، سو وہ تھے جو غزوہ بدر میں حضور خیر الانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب رہ چکے تھے، عام مجاہدین بھی ایسے قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو اپنی شجاعت اورسپہ گری میں نظیر نہیں رکھتے تھے۔ یرموک کا پہلا معرکہ بے نتیجہ رہا، پانچویں رجب المرجب 15ھ کو دوسرا معرکہ پیش آیا، رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لی تھیں کہ بھاگنے کا خیال تک نہ آئے، ہزاروں پادری اوربشپ ہاتھوں میں صلیب لیے آگے آگے تھے اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نام لے کر جوش دلاتے تھے، اس جوش واہتمام کے ساتھ رومیوں نے حملہ کیا، فریقین میں بڑی خونریز جنگ ہوئی ؛لیکن انجام کار مسلمانوں کی ثابت قدمی اور پامردی کے آگے ان کے پاؤں اکھڑ گئے، تقریباً ایک لاکھ عیسائی کھیت رہے اور مسلمان کل تین ہزار کام آئے، قیصر کو اس ہزیمت کی خبر ملی تو حسرت وافسوس کے ساتھ شام کو الوداع کہہ کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو گیا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مژدہ فتح سنا تو اسی وقت سجدہ میں گرکر خداکا شکر اداکیا۔ فتح یرموک کے بعد اسلامی فوجیں تمام اطراف ملک میں پھیل گئیں اور قنسرین، انطاکیہ، جومہ، سرمین، توزی، قورس، تل غرار، ولوک، رعیان وغیرہ چھوٹے چھوٹے مقامات نہایت آسانی کے ساتھ فتح ہو گئے۔ بیت المقدس فسلطین کی مہم پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مامور ہوئے تھے، انھوں نے نابلس، لد، عمواس، بیت جبرین وغیرہ پر قبضہ کر کے 6ھ میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا، اس اثناء میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ بھی اس مہم سے فارغ ہوکر ان سے مل گئے، بیت المقدس کے عیسائیوں نے کچھ دنوں کی مدافعت کے بعد مصالحت پر آمادگی ظاہر کی اور اپنے اطمینان کے لیے یہ خواہش ظاہر کی کہ امیر المومنین خود یہاں آکر اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبردی گئی، انھوں نے اکابر صحابہ ؓ سے مشورہ کرکے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو نائب مقرر کیا اور رجب 16ھ میں مدینہ سے روانہ ہوئے۔ بیت المقدس کا سفر حضرت عمرؓ بن خطاب کا یہ سفر نہایت سادگی سے ہوا، مقام جابیہ میں افسروں نے استقبال کیا اور دیر تک قیام کرکے بیت المقدس کا معاہدہ صلح ترتیب دیا، پھر وہاں سے روانہ ہوکر بیت المقدس میں داخل ہوئے، پہلے مسجد میں تشریف لے گئے پھر عیسائیوں کے گرجا کی سیر کی، نماز کا وقت ہوا تو عیسائیوں نے گرجا میں نمازپڑھنے کی اجازت دی ؛لیکن حضرت عمرؓ بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس خیال سے کہ آئندہ نسلیں اس کو حجت قراردے کر مسیحی معبدوں میں دست اندازی نہ کریں، باہر نکل کر نماز پڑھی، بیت المقدس سے واپسی کے وقت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام ملک کا دورہ کیا، سرحدوں کا معائنہ کرکے ملک کی حفاظت کا انتظام کیا اور بخیر وخوبی مدینہ واپس تشریف لائے۔ متفرق معرکے اور فتوحات بیت المقدس کی فتح کے بعد بھی متفرق معرکہ پیش آئے، اہل جزیرہ کی مستعدی اورہر قل کی اعانت عیسائیوں نے دوبارہ حمص پر قبضہ کی کوشش کی ؛لیکن ناکام رہے، فلسطین کے اضلاع میں قیساریہ نہایت آباد اور پر رونق شہر تھا، 13ھ میں عمرو بن العاص ؓ نے اس پر چڑھائی کی، 18ھ ء تک متواتر حملوں کے باوجود فتح نہ ہو سکا، آخر 18ھ کے اخیر میں امیر معاویہ ؓ نے ایک یہودی کی مدد سے قلعہ پر قبضہ کر لیا اور شہر پر اسلامی پرچم لہرانے لگا، جزیرہ پر 16ھ میں عبد اللہ بن الغنم نے فوج کشی کی، تکریت کا ایک مہینہ تک محاصرہ رہا اور چوبیس دفعہ حملے ہوئے، آخر میں حسن تدبیر سے مسخر ہوا، باقی علاقوں کو عیاض بن غنم نے فتح کیا، اسی طرح 16ھ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خوزستان پر حملہ کیا، 17ھ میں وہ معزول ہوئے اور ان کی جگہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے، انھوں نے نئے سروسامان سے حملہ کیا اور اہواز، مناذر، سوس، رامہرز کو فتح کرتے ہوئے خوزستان کے صدر مقام شوستر کا رخ کیا، یہ نہایت مستحکم اور قلعہ بند مقام تھا؛لیکن ایک شخص کی راہنمائی سے مسلمانوں نے تہ خانہ کی راہ سے گھس کر اس کو مسخر کر لیا، یہاں کا سردار ہر مزان گرفتار ہوکر مدینہ بھیجا گیا، وہاں پہنچ کر اس نے اسلام قبول کیا، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت خوش ہوئے، خاص مدینہ میں رہنے کی جازت دی اور دو ہزار سالانہ مقرر کر دیا۔ . فتوحات مصر حضرت عمرو بن عاص ؓ نے بہ اصرار فاروق اعظم ؓ سے اجازت لے کر چار ہزار فوج کے ساتھ مصر پر حملہ کیا اور فرما، بلیبس، ام ونین وغیرہ کو فتح کرتے ہوئے فسطاط کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو امدادی فوج کے لیے لکھا، انھوں نے دس ہزار فوج اور چار افسر بھیجے، زبیر بن العوام ؓ، عبادہ بن صامت ؓ، مقداد بن عمرو ؓ، سلمہ بن مخلد ؓ، حضرت عمرو بن العاص ؓ نے حضرت زبیرؓ بن عوام کو ان رتبہ کے لحاظ سے افسر بنایا سات مہینے کے بعد حضرت زبیر بن عوام ؓ کی غیر معمولی شجاعت سے قلعہ مسخر ہوا اور وہاں سے فوجیں اسکندریہ کی طرف بڑھیں، مقام کربوں میں ایک سخت جنگ ہوئی، یہاں بھی عیسائیوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اسکندریہ پہنچ کر دم لیا اور چند دنوں کے محاصرہ کے بعد اس کو بھی فتح کر لیا، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مژدۂ فتح سنا تو سجدہ میں گرپڑے اور خدا کا شکر اداکیا۔ فتح اسکندریہ کے بعد تمام مصر پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اور بہت سے قبطی برضاو رغبت حلقہ بگوشہ اسلام ہوئے۔ شہادت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے ایک پارسی غلام فیروز نامی نے جس کی کنیت ابولولو تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی، شکایت بے جا تھی، اس لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ صبح کی نماز میں خنجر لے کر اچانک حملہ کر دیا اور متواتر چھ وار کیے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدمے سے گر پڑے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ یہ ایسا زخم کاری تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہو سکے، لوگوں کے اصرار سے چھ اشخاص کو منصب خلافت کے لیے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہو جائے اس منصب کے لیے منتخب کر لیا جائے، ان لوگوں کے نام یہ ہیں، علی بن ابی طالب ؓ، عثمان بن عفان ؓ، زبیر بن عوام ؓ، طلحہ بن عبیداللہ ؓ، سعد بن ابی وقاص ؓ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، اس مرحلہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن ہونے کی جازت لی۔ اس کے بعد مہاجرین انصار، اعراب اور اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہو اگر وہ میرے متروکہ مال سے ادا ہو سکے تو بہتر ہے، ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر ان سے نہ ہو سکے تو کل قریش سے ؛لیکن قریش کے سوا اورکسی کو تکلیف نہ دینا۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بدھ کے روز حملہ کیا گیا اور جمعرات کے روز جان بحق نوش کرگئے۔ ابن اثیرؒ کے مطابق "سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہو گئی تھی، 26 ذوالحجه کو حملہ ہوا حملے کے بعد 29 ذوالحجۃ تک زندہ رہے اور 1 محرم الحرام کو وفات پائی اور دفنایا گیا " نظام خلافت اسلام میں خلافت کا سلسلہ گو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد سے شروع ہوا اور ان کے قلیل زمانہ خلافت میں بھی بڑے بڑے کام انجام پائے ؛لیکن منتظم اور باقاعدہ حکومت کا آغاز عمر بن خطاب کے عہد سے ہوا، انھوں نے نہ صرف قیصر وکسریٰ کی وسیع سلطنتوں کو اسلام کے ممالک محروسہ میں شامل کیا؛بلکہ حکومت و سلطنت کا باقاعدہ نظام بھی قائم کیا اوراس کو اس قدر ترقی دی کہ حکومت کے جس قدر ضروری شعبے ہیں، سب ان کے عہد میں وجود پزیر ہو چکے تھے؛لیکن قبل اس کے کہ ہم نظام حکومت کی تفصیل بیان کریں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس حکومت کی ترکیب اور ساخت کیا تھی؟ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت جمہوری طرز حکومت سے مشابہ تھی، یعنی تمام ملکی و قومی مسائل مجلس شوریٰ میں پیش ہوکر طے پاتے تھے، اس مجلس میں مہاجرین و انصار ؓ کے منتخب اور اکابر اہل الرائے شریک ہوتے تھے اوربحث ومباحثہ کے بعد اتفاق آراء یا کثرت رائے سے تمام امور کا فیصلہ کرتے تھے، مجلس کے ممتاز اور مشہور ارکان یہ ہیں: حضرت عثمان ؓ، حضرت علی ؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ، حضرت ابی بن کعب ؓ، حضرت زید بن ثابت ؓ۔ مجلس شوریٰ کے علاوہ ایک مجلس عام بھی تھی جس میں مہاجرین و انصار کے علاوہ تمام سرداران قبائل شریک ہوتے تھے، یہ مجلس نہایت اہم امور کے پیش آنے پر طلب کی جاتی تھی، ورنہ روز مرہ کے کاروبار میں مجلس شوریٰ کا فیصلہ کافی ہوتا تھا، ان دونوں مجلسوں کے سوا ایک تیسری مجلس بھی تھی جس کو ہم مجلس خاص کہتے ہیں، اس میں صرف مہاجرین صحابہ شریک ہوتے تھے۔ مجلس شوریٰ کے انعقاد کا عام طریقہ یہ تھا کہ منادی"الصلاۃ جامعۃ" کا اعلان کرتا تھا لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے تھے، اس کے بعد ہر ایک کی رائے دریافت کرتے تھے، جمہوری حکومت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے حقوق کی حفاظت اور اپنی رائے کے علانیہ اظہار کا موقع دیا جائے، حاکم کے اختیارات محدود ہوں اوراس کے طریق عمل پر ہر شخص کو نکتہ چینی کا حق ہو، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت ان تمام امور کی جامع تھی، ہرشخص آزادی کے ساتھ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا تھا اور خلیفہ وقت اختیارات کے متعلق خود حضرت عمؓر نے متعدد موقعوں پر تصریح کر دی تھی کہ حکومت کے لحاظ سے ان کی کیا حیثیت ہے، نمونہ کے لیے ایک تقریر کے چند فقرے درج ذیل ہیں: "وإنما أنا ومالكم كولي اليتيم إن استغنيت استعففت، وإن افتقرت أكلت بالمعروف، لكم علي أيها الناس خصال فخذوني بها، لكم علي أن لا أجتبي شيئا من خراجكم و مما أفاء اللہ عليكم إلا من وجهہ لكم علي إِذَا وقع فِي يدي أن لا يخرج مني إلا فِي حقہ ومالكم علي أن أزيد أعطياتكم وأرزاقكم إن شاء اللہ وأسد ثغوركم، ولكم علي أن لا ألقيكم فِي المهالك" "مجھ کو تمھارے مال میں اسی طرح حق ہے جس طرح یتیم کے مال میں اس کے مربی کا ہوتا ہے، اگر میں دولتمندہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اور اگر صاحب حاجت ہوں گا تو اندازہ سے کھانے کے لیے لوں گا، صاحبو! میرے اوپر تمھارے متعدد حقوق ہیں جن کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے، ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بے جاطورپر صرف نہ ہونے پائے، ایک یہ کہ تمھارے روزینے بڑھاؤں اورتمہاری سرحدوں کو محفوظ رکھوں اور یہ کہ تم کو خطروں میں نہ ڈالوں مذکورہ بالاتقریر صرف دلفریب خیالات کی نمائش نہ تھی ؛بلکہ عمر بن خطاب نہایت سختی کے ساتھ اس پر عامل بھی تھے، واقعات اس کی حرف بحرف تصدیق کرتے ہیں، ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ آپ کی صاحبزادی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ یہ خبر سن کر کہ مال غنیمت آیا ہے حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئیں اور کہا کہ امیر المومنین !میں ذوالقربی میں سے ہوں، اس لیے اس مال میں سے مجھ کو بھی عنایت کیجئے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ" بے شک تم میرے خاص مال میں حق رکھتی ہو؛لیکن یہ تو عام مسلمانوں کا مال ہے، افسوس ہے کہ تم نے اپنے باپ کو دھوکا دینا چاہا، وہ بے چاری خفیف ہوکر چلی گئیں، ایک دفعہ خود بیمار پڑے لوگوں نے علاج میں شہد تجویز کیا، بیت المال میں شہد موجود تھا ؛لیکن بلا اجازت نہیں لے سکتے تھے، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جا کر لوگوں سے کہا کہ" اگر آپ اجازت دیں تو تھوڑا سا شہد لے لوں" ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں جب عمر کی احتیاط کا یہ حال تھا تو ظاہر ہے کہ مہمات امور میں وہ کسی قدر محتاط ہوں گے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو احکام پر نکتہ چینی کرنے کی ایسی عام آزادی دی تھی کہ معمولی سے معمولی آدمیوں کو خود خلیفۂ وقت پر اعتراض کرنے میں باک نہیں ہوتا تھا، ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار عمر کو مخاطب کرکے کہا"اتق اللہ یاعمر" حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکنا چاہا، عمر بن خطاب نے فرمایا"نہیں کہنے دو، اگریہ لوگ نہ کہیں گے تو یہ بے مصرف ہیں اورہم نہ مانیں تو ہم"یہ آزادی صرف مردوں تک محدود نہ تھی؛بلکہ عورتیں بھی مردوں کے قدم بہ قدم تھیں۔ ایک دفعہ عمر مہر کی مقدار کے متعلق تقریر فرما رہے تھے، ایک عورت نے اثنا ئے تقریر ٹوک دیا اور کہا"اتق اللہ یاعمر!"یعنی اے عمر ؓ !خدا سے ڈر!اس کا اعتراض صحیح تھا عمر نے اعتراف کے طور پر کہا کہ ایک عورت بھی عمر ؓ سے زیادہ جانتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور مساوات کی یہی عام ہوا تھی جس نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو اس درجہ کامیاب کیا اور مسلمانوں کو جوش استقلال اور عزم و ثبات کا مجسم پتلا بنادیا۔ خلافت فاروقی رضی اللّٰہ عنہ کی ترکیب اور ساخت بیان کرنے کے بعد اب ہم انتظامات ملکی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دکھانا چاہتے ہیں کہ فاروق اعظم نے اپنے عہد مبارک میں خلافت اسلامیہ کو کس درجہ منظم اور باقاعدہ بنادیا تھا اور کس طرح حکومت کی ہرشاخ کو مستقل محکمہ کی صورت میں قائم کر دیا تھا۔ نظام حکومت کے سلسلہ میں سب سے پہلا کام ملک کا صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم ہے، اسلام میں سب سے پہلے حضرت عمرؓ نے اس کی ابتدا کی اور تمام ممالک مفتوحہ کو آٹھ صوبوں پر تقسیم کیا، مکہ، مدینہ منورہ، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین، ان صوبوں کے علاوہ تین صوبے اور تھے، خراسان، آذر بائیجان، فارس، ہر صوبہ میں مفصلہ ذیل بڑے بڑے عہدہ دار رہتے تھے، والی یعنی حاکم صوبہ، کاتب یعنی میر منشی، کاتب دیوان یعنی فوجی محکمہ کا میر منشی، صاحب الخراج عینی کلکٹر، صاحب احداث یعنی افسر پولیس، صاحب بیت المال، یعنی افسر خزانہ، قاضی یعنی جج چنانچہ کوفہ میں عمار بن یاسر ؓ والی، عثمان بن حنیف ؓ کلکٹر، عبد اللہ بن مسعود ؓ افسر خزانہ، شریح ؓ قاضی اور عبد اللہ بن خزاعی کاتب دیوان تھے۔ بڑے بڑے عہدہ داروں کا انتخاب عموماً مجلس شوریٰ میں ہوتا تھا، عمر کسی لائق راستباز اورمتدین شخص کا نام پیش کرتے تھے اور چونکہ عمر میں جوہر شناسی کا مادہ فطرتاً تھا اس لیے ارباب مجلس عموماً ان کے حسن انتخاب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس شخص کے تقرر پر اتفاق رائے کرلیتے تھے؛چنانچہ نہاوند کی عظیم الشان مہم کے لیے نعمان بن مقرن کا اسی طریقہ سے انتخاب ہوا تھا۔ احتساب خلیفہ وقت کا سب سے بڑا فرض حکام کی نگرانی اور قوم کے اخلاق و عادات کی حفاظت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فرض کو نہایت اہتمام کے ساتھ انجام دیتے تھے، وہ اپنے ہر عامل سے عہد لیتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا، باریک کپڑے نہ پہنے گا، چھنا ہوا آٹانہ کھائے گا، دروازہ پر دربان نہ رکھے گا، اہل حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا، اسی کے ساتھ اس کے مال و اسباب کی فہرست تیار کرا کے محفوظ رکھتے تھے اور جب کسی عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی اضافہ کا علم ہوتا تھا تو جائزہ لے کر آدھا مال بٹا لیتے تھے اور بیت المال میں داخل کر دیتے تھے، ایک دفعہ بہت سے عمال اس بلا میں مبتلا ہوئے، خالد بن صعق نے اشعار کے ذریعہ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی، انھوں نے سب کی املاک کا جائز ہ لے کر آدھا آدھا مال بٹا لیا اور بیت المال میں داخل کر لیا، موسم حج میں اعلان عام تھا جس عامل سے کسی کو شکایت ہو وہ فوراً بارگاہ خلافت میں پیش کرے، چنانچہ ذراذرا سی شکایتیں پیش ہوتی تھیں اور تحقیقات کے بعد اس کا تدارک کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے شکایت کی کہ آپ کے فلاں عامل نے مجھ کو بے قصور کوڑے مارے ہیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مستغیث کو حکم دیا کہ وہ مجمع عام میں اس عامل کو کوڑے لگائے، حضرت عمروبن العاص ؓ نے التجا کی کہ عمال پر یہ امر گراں ہوگا، عمر نے فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ میں ملزم سے انتقام نہ لوں، عمرو بن العاص ؓ نے منت سماجت کرکے مستغیث کو راضی کیا کہ ایک ایک تازیا نے کے عوض دو دو اشرفیاں لے کر اپنے حق سے باز آئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اپنی جانبازی اور شجاعت کے لحاظ سے تاج اسلام کے گوہر شاہوار اور اپنے زمانہ کے نہایت ذی عزت اور صاحب اثر بزرگ تھے محض اس لیے معزول کر دیے گئے کہ انھوں نے ایک شخص کو انعام دیا تھا، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ہوئی تو انھوں نے حضرت ابو عبیدہ ؓ سپہ سالار اعظم کو لکھا کہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ انعام اپنی گرہ سے دیا تو اسراف کیا اور بیت المال سے دیا تو خیانت کی، دونوں صورت میں وہ معزولی کے قابل ہیں۔ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بصرہ کے گورنر تھے، شکایتیں گزریں کہ انھوں نے اسیران جنگ میں سے 60 رئیس زادے منتخب کرکے اپنے لیے رکھ چھوڑے ہیں اور کاروبار حکومت زیاد بن سفیان کے سپرد کررکھا ہے اور یہ کہ ان کے پاس ایک لونڈی ہے جس کو نہایت اعلیٰ درجہ کی غذا بہم پہنچائی جاتی ہے جو عام مسلمانوں کو میسر نہیں آسکتی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مواخذہ کیا تو انھوں نے دو اعتراضوں کا جواب تشفی بخش دیا، لیکن تیسری شکایت کا کچھ جواب نہ دے سکے؛چنانچہ لونڈی ان کے پاس سے لے لی گئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے کوفہ میں ایک محل تعمیر کرایا جس میں دیوڑھی بھی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے کہ اہل حاجت کو رکاؤ ہوگا محمد بن مسلمہ ؓ کو حکم دیا کہ جاکر ڈیوڑھی میں آگ لگادیں ؛چنانچہ اس حکم کی تعمیل ہوئی اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموشی سے دیکھتے رہے۔ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ عامل مصر کی نسبت شکایت پہنچی کہ وہ باریک کپڑے پہنتے ہیں اور ان کے دروازہ پر دربان مقرر ہے، عمر نے محمد بن مسلمہ ؓ کو تحقیقات پر مامور کیا، محمد بن مسلمہ ؓ نے مصر پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازہ پر دربان تھا اور عیاض باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس ہیئت اور لباس کے ساتھ لے کر مدینہ آئے، عمر بن خطاب نے ان کا باریک کپڑا اتراوادیا اور بالوں کا کرتا پہنا کر جنگل میں بکری چرانے کا حکم دیا، عیاض ؓ کو انکار کی مجال نہ تھی، مگر بار بار کہتے تھے، اس سے مرجانا بہتر ہے، عمر بن خطاب نے فرمایا کہ یہ تو تمھارا آبائی پیشہ ہے، اس میں عار کیوں ہے؟ عیاض نے دل سے توبہ کی اور جب تک زندہ رہے اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔ حکام کے علاوہ عام مسلمانوں کی اخلاقی اور مذہبی نگرانی کا خاص اہتمام تھا، عمر جس طرح خود اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ تھے، چاہتے تھے کہ اسی طرح تمام قوم مکارم اخلاق سے آراستہ ہو جائے، انھوں نے عرب جیسی فخار قوم سے فخر وغرور کی تمام علامتیں مٹادیں، یہاں تک کہ آقا اورنوکر کی تمیز باقی نہ رہنے دی، ایک دن صفوان بن امیہ نے ان کے سامنے ایک خوان پیش کیا، عمر بن خطاب نے فقیروں اور غلاموں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور فرمایا کہ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جن کو غلاموں کے ساتھ کھانے میں عار آتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت ابی بن کعب ؓ جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے، مجلس سے اٹھتے تو لوگ ادب اور تعظیم کے خیال سے ساتھ ساتھ چلتے اتفاق سے عمر بن خطاب آنکلے، یہ حالت دیکھ کر ابی بن کعب ؓ کودرہ لگایا، ان کو نہایت تعجب ہوا اور کہا خیر تو ہے؟ عمر بن خطاب نے فرمایا: اوما تری فتنۃ للمتبوع ومذلۃ للتابع۔ "تمھیں معلوم نہیں ہے کہ یہ امر متبوع کے لیے فتنہ اور تابع کے لیے ذلت ہے"۔ شعر و شاعری کے ذریعہ ہجوو بدگوئی عرب کا عام مذاق تھا، عمر بن خطاب نے نہایت سختی سے اس کو بند کر دیا، حطیہ اس زمانہ کا مشہور ہجو گوئی شاعر تھا، عمر نے اس کو قید کر دیا اورآخر اس شرط پر رہا کیا کہ پھر کسی کی ہجو نہیں لکھے گا، ہواپرستی، رندی اور آوارگی کی نہایت شدت سے روک تھا م کی، شعرا کو عشقیہ اشعار میں عورتوں کا نام لینے سے قطعی طور پر منع کر دیا، شراب خوری کی سزا سخت کردی، چالیس درے سے اسی درے کر دیے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا بڑا خیال تھا کہ لوگ عیش پرستی اور تنعم کی زندگی میں مبتلا ہو کر سادگی کے جوہر سے خالی نہ ہو جائیں، افسروں کو خاص طور پر عیسائیوں اور پارسیوں کے لباس اور طرز معاشرت کے اختیا ر کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے، سفر شام میں مسلمان افسروں کے بدن پر حریر دیباکے حلے اور پر تکلف قبائیں دیکھ کر اس قدر خفا ہوئے کہ ان کو سنگریزے مارے اور فرمایا تم اس وضع میں میرا استقبال کرتے ہو۔ مسلمانوں کو اخلاق ذمیمہ سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق کی بھی خاص طور پر تعلیم دی، مساوات اور عزت نفس کا خاص خیال رکھتے تھے اور تمام عمال کو ہدایت تھی کہ مسلمانوں کو مارانہ کریں اس سے وہ ذلیل ہو جائیں گے۔ ملکی نظم و نسق شام و ایران فتح ہوا تو لوگوں کی رائے ہوئی کہ مفتوحہ علاقے امرائے فوج کی جاگیر میں دے دیے جائیں، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کہتے تھے کہ جن کی تلواروں نے ملک فتح کیا ہے انھی کا قبضہ بھی حق ہے، حضرت بلال ؓ کو اس قدر اصرار تھا کہ عمر بن خطاب نے دق ہو کر فرمایا"اللہم اکفنی بلالا" لیکن خود عمر کی رائے تھی کہ زمین حکومت کی ملک اور باشندوں کے قبضہ میں رہنے دی جائے، حضرت علی ؓ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت طلحہ ؓ بھی عمر کے ہم آہنگ تھے، غرض مجلس عام میں مسئلہ پیش ہوا اور بحث ومباحثہ کے بعد فاروق اعظم ؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا۔ عراق کی پیمائش کرائی، قابل زراعت اراضی کا بندوبست کیا، عشرو خراج کا طریقہ قائم کیا، عشرکا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ میں جاری ہو چکا تھا ؛لیکن خراج کا طریقہ اس قدر منضبط نہیں ہوا تھا، اسی طرح شام و مصر میں بھی لگان تشحیص کیا ؛لیکن وہاں کا قانون ملکی حالات کے لحاظ سے عراق سے مختلف تھا، تجارت پر عشر یعنی چنگی لگائی گئی، اسلام میں یہ خاص عمر کی ایجاد ہے اور اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ مسلمان جو غیر ممالک میں تجارت کے لیے جاتے تھے ان کو دس فیصد ٹیکس دینا پڑتا تھا، عمر کو معلوم ہوا تو انھوں نے بھی غیر ملکی مال پر ٹیکس لگا دیا، اسی طرح تجارتی گھوڑوں پر بھی زکوٰۃ خاص عمر کے حکم سے قائم کی ورنہ گھوڑے مستثنی تھے، اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ نعوذ باللہ عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ فرمائے تھے اس سے بظاہر سواری کے گھوڑے مفہوم ہوتے ہیں، اس لیے تجارت کے گھوڑے مستثنی کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ حضرت عمر بن خطاب نے تمام ملک میں مردم شمار کرائی، اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں قائم کیں، محکمۂ قضا کے لیے اصول و قوانین بنائے، قاضیوں کی بیش قرار تنخواہیں مقرر کیں تاکہ یہ لوگ رشوت ستانی سے محفوظ رہیں؛چنانچہ سلمان ؓ، ربیعہ ؓ اور قاضی شریح ؓ کی تنخواہیں پانچ پانچ سو درہم ماہانہ تھی۔ اور امیر معاویہ ؓ کی تنخواہ ایک ہزار دینار تھی، حل طلب مسائل کے لیے شعبہ افتاء قائم کیا، حضرت علی ؓ، حضرت عثمان ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ، حضرت ابی بن کعب ؓ، حضرت زید بن ثابت ؓ اور حضرت ابودرداءؓ اس شعبے کے ممتاز رکن تھے۔ ملک میں امن وامان قائم رکھنے کے لیے عمر نے احداث یعنی پولیس کا محکمہ قائم کیا، اس کے افسر کا نام "صاحب الاحداث" تھا، حضرت ابوہریرہ ؓ کو بحرین کا صاحب الاحداث بنا دیا تو ان کو خاص طور پر ہدایت کی کہ امن وامان قائم رکھنے کے علاوہ احتساب کی خدمت بھی انجام دیں، احتساب کے متعلق جو کام ہیں، مثلاً دکان دار ناپ تول میں کمی نہ کریں، کوئی شخص شاہراہ پر مکان نہ بنائے، جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے، شراب علانیہ نہ بکنے پائے، اس قبیل کے اور بہت سے امور کی نگرانی کا جن کا تعلق پبلک مفاد اور احترام شریعت سے تھا اور پورا انتظام تھا اور صاحبان احداث (افسران پولیس) اس خدمت کو انجام دیتے تھے۔ عہد فاروقی رضی اللہ عنہ سے پہلے عرب میں جیل خانوں کا نام ونشان نہ تھا، عمر بن خطاب نے اول مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کا مکان چار ہزار درہم پر خریدکر اس کو جیل خانہ بنایا، پھر اور اضلا ع میں بھی جیل خانے بنوائے، جلاوطنی کی سزا بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی کی ایجاد ہے؛چنانچہ ابو محجن ثقفی کو بار بار شراب پینے کے جرم میں ایک جزیرہ میں جلاوطن کر دیا تھا۔. بیت المال خلافت فاروقی سے پہلے مستقل خزانہ کاوجود نہ تھا ؛بلکہ جو کچھ آتا اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا تھا، ابن سعد کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک مکان بیت المال کے لیے خاص کر لیا تھا ؛لیکن وہ ہمیشہ بند پڑا رہتا تھا اور اس میں کچھ داخل کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی؛چنانچہ ان کی وفات کے وقت بیت المال کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک درہم نکلا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تقریباً 15ھ میں ایک مستقبل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلسِ شوریٰ کی منظوری کے بعد مدینہ منورہ میں بہت بڑا خزانہ قائم کیا، دار الخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اورصوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے جدا گانہ افسر مقرر ہوئے، مثلاً اصفہان میں خالد بن حارث ؓ اور کوفہ میں عبد اللہ بن مسعود خزانہ کے افسر تھے، صوبہ جات اوراضلاع کے بیت المال میں مختلف آمدنیوں کی جو رقم آتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعد اختتام سال پر صدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں منتقل کردی جاتی تھی، صدر بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ دار الخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے، صرف اس کی تعداد تین کروڑ درہم تھی، بیت المال کے حساب کتاب کے لیے مختلف رجسٹرڈ بنوائے، اس وقت تک کسی مستقل سنہ کا عرب میں رواج نہ تھا، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 16ھ میں سنہ ہجری ایجاد کرکے یہ کمی بھی پوری کردی۔ تعمیرات اسلام کا دائرہ حکومت جس قدر وسیع ہوتا گیا، اسی قدر تعمیرات کا کام بھی بڑھتا گیا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں اس کے لیے کوئی مستقل صیغہ نہ تھا تاہم صوبہ جات کے عمال اور حکام کی نگرانی میں تعمیرات کا کام نہایت منتظم اور وسیع طور پر جاری تھا، ہر جگہ حکام کے بود وباش کے لیے سرکاری عمارتیں تیار ہوئیں، رفاہ عام کے لیے سڑک، پل اور مسجدیں تعمیر کی گئیں، فوجی ضروریات کے لحاظ سے قلعے چھاؤنیاں اوربارکیں تعمیر ہوئیں، مسافروں کے لیے مہمان خانے بنائے گئے، خزانہ کی حفاظت کے لیے بیت المال کی عمارتیں تیار ہوئیں، عمر تعمیرات کے باب میں نہایت کفایت شعار تھے ؛لیکن بیت المال کی عمارتیں عموماً ًشاندار اور مستحکم بنواتے تھے؛چنانچہ کوفہ کے بیت المال کو روزبہ نامی ایک مشہور مجوسی معمار نے بنایا تھا اور اس میں خسروان فارس کی عمارت کا مسالحۃ استعمال کیا گیا تھا۔ مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ میں جو خاص تعلق ہے اس کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ان دونوں شہروں کے درمیان میں راستہ سہل اور آرام دہ بنایا جائے، عمر بن خطاب نے17ھ میں اس کی طرف توجہ کی اور مدینہ سے لے کر مکہ معظمہ تک ہر ہر منزل پر چوکیاں، سرائیں اور چشمے تیار کرائے۔ ترقی زراعت کے لیے تمام ملک میں نہریں کھدوائی گئیں، بعض نہریں ایسی تھیں جن کا تعلق زراعت سے نہ تھا، مثلاً نہر ابی موسیٰ جو محض بصرہ والوں کے لیے شیریں پانی بہم پہنچانے کے خیال سے دجلہ کو کاٹ کر لائی گئی تھی، یہ نہر نو میل لمبی تھی، اسی طرح نہر معقل جس کی نسبت عربی ضرب المثل ہے اذاجاء نھر اللہ بطل نھرا لمعقل، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ گورنر کوفہ نے بھی ایک نہر تیار کرائی جو سعد بن عمرو بن حرام کے نام سے مشہور ہوئی، اس سلسلہ میں سب سے بڑی اور فائدہ رساں وہ نہر تھی جو نہر امیر المومنین کے نام سے مشہور ہوئی جس کے ذریعہ سے دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملادیا گیاتھا۔ مستعمرات مسلمان جب عرب کی گھاٹیوں سے نکل کر شام و ایران کے چمن زار میں پہنچے تو ان کو یہ ممالک ایسے خوش آئند نظر آئے کہ انھوں نے وطن کو خیر باد کہہ کر یہیں طرح اقامت ڈال دی اور نہایت کثر ت سے نوآبادیاں قائم کیں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جو شہر آباد ہوئے ان کی ایک اجمالی فہرست درج ذیل ہے۔ بصرہ 14ھ میں عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے اس شہر کو بسایا تھا، ابتدا میں صرف آٹھ سو آدمیوں نے یہاں سکونت اختیار کی ؛لیکن اس کی آبادی بہت جلد ترقی کر گئی، یہاں تک کہ زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد امارت میں صرف ان لوگوں کی تعداد جن کے نام فوجی اندراج میں درج تھے اسی ہزار اور ان کی آل و اولاد کی ایک لاکھ بیس ہزار تھی، بصرہ اپنی علمی خصوصیات کے لحاظ سے مدتوں مسلمانوں کا مایہ ناز شہر رہا ہے۔ کوفہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے عراق کے قدیم عرب فرمانروا نعمان بن منذر کے پایہ تخت کو آباد کیااوراس میں چالیس ہزار آدمیوں کی آبادی کے لائق مکانات بنوائے گئے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس شہر کے بسانے میں غیر معمولی دلچسپی تھی، شہر کے نقشہ کے متعلق خود ایک یادداشت لکھ بھیجی، اس میں حکم تھا کہ شارع ہائے عام چالیس چالیس ہاتھ چوڑی رکھی جائیں، اس سے کم کی مقدار 30، 30 ہاتھ اور 20، 20 ہاتھ سے کم نہ ہو، جامع مسجد کی عمارت اس قدر وسیع بنائی گئی تھی کہ اس میں چالیس ہزار آدمی آسانی سے نماز ادا کرسکتے تھے، مسجد کے سامنے دو سو ہاتھ لمبا ایک وسیع سائبان تھا جو سنگ رخام کے ستونوں پر قائم کیا گیا تھا، یہ شہر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے عہد میں اس عظمت و شان کو پہنچ چکا تھا کہ وہ اس کو راس اسلام فرمایا کرتے تھے، علمی حیثیت سے بھی ہمیشہ ممتاز رہا ہے، امام نخعی، حماد، امام ابو حنیفہ اور امام شعبی رحمہ اللہ علیہما اسی معدن کے لعل و گوہر تھے۔ فسطاط دریائے نیل اور جبل مقطم کے درمیان میں ایک کف دست میدان تھا، عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فاتح مصر نے اثنائے جنگ میں یہاں پڑاؤ کیا، اتفاق سے ایک کبوتر نے ان کے خیمہ میں گھونسلا بنالیا، عمرو بن العاص ؓ نے کوچ کے وقت قصداً اس خیمہ کو چھوڑ دیا کہ اس مہمان کو تکلیف نہ ہو مصر کی تسخیر کے بعد انھوں نے عمرکے حکم سے اسی میدان میں ایک شہر آباد کیا، چونکہ خیمہ کو عربی میں فسطاط کہتے ہیں، اس لیے اس شہر کا نام فسطاط قرار پایا، فسطاط نے بہت جلد ترقی کرلی اور پورے مصر کا صدر مقام ہو گیا، چوتھی صدی کا ایک سیاح ان الفاظ میں اس شہر کے عروج وکمال کا نقشہ کھینچتا ہے: "یہ شہر بغداد کا ناسخ، مغرب کا خزانہ اور اسلام کا فخر ہے، دنیائے اسلام میں یہاں سے زیادہ کسی جامع مسجد میں علمی مجلسیں نہیں ہوتی ہیں، نہ یہاں سے زیادہ کبھی ساحل پر جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں۔" موصل یہ پہلے ایک گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو ایک عظیم الشان شہر بنادیا۔ ہرثمہ بن عرفجہ نے بنیاد رکھی اور ایک جامع مسجد تیار کرائی اور چونکہ یہ مشرق ومغرب کو آپس میں ملاتا ہے اس لیے اس کا نام موصل رکھا گیا۔ جیزہ فتح اسکندریہ کے بعد عمرو بن العاص ؓ اس خیال سے کہ رومی دریا کی سمت سے حملہ نہ کرنے پائیں، تھوڑی سی فوج لب ساحل مقرر کر دی تھی، ان لوگوں کو دریا کا منظر ایسا پسند آگیا کہ وہاں سے ہٹنا پسند نہ کیا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی حفاظت کے لیے 21ھ میں ایک قلعہ تعمیر کرادیا اور اس وقت سے یہاں ایک مستقل نوآبادی کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ فاروق اعظم نے مساوات کا کیسا سبق سکھایا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس نظام کو قریش وانصار سے وسعت دے کر تمام قبائل عرب میں عام کر دیا، پورے ملک کی مردم شماری کی گئی اور ہر ایک عربی نسل کی علی قدر مراتب تنخواہ مقرر ہوئی، یہاں تک کہ شیر خوار بچوں کے لیے وظائف کا قاعدہ جاری کیا گیا، گویا عرب کا ہر ایک بچہ اپنے یوم ولادت ہی سے اسلامی فوج کا ایک سپاہی تصور کر لیا جاتا تھا، ہر سپاہی کو تنخواہ کے علاوہ کھانا اور کپڑا بھی ملتا تھا، تنخواہ کی تقسیم کا طریقہ یہ تھا کہ ہر قبیلہ میں ایک عریف ہوتا تھا، اسی طرح ہر دس سپاہی پر ایک افسر ہوتا تھا جن کو امرا الاعشار کہتے ہیں، تنخواہیں عریف کو دی جاتی تھیں وہ امرائے عشار کی معرفت فوج میں تقسیم کرتا تھا، ایک ایک عریف کے متعلق ایک ایک لاکھ درہم کی تقسیم تھی، کوفہ اور بصرہ میں سو عریف تھے جن کے ذریعہ سے ایک کروڑ کی رقم تقسیم ہوتی تھی، حسن خدمت اور کار گزاری کے لحاظ سے سپاہیوں اور افسروں کی تنخواہوں میں وقتاً فوقتاً اضافہ بھی ہوتا رہتا تھا؛چنانچہ زہرہ، عصمہ اور ضبی وغیرہ نے قادسیہ میں غیر معمولی جانبازی کا اظہا رکیا تھا، اس صلہ میں ان کی تنخواہیں دو دو ہزار سے اڑھائی اڑھائی ہزار کردی گئیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا، انھوں نے نہایت تاکیدی احکام جاری کیے تھے کہ ممالک مفتوحہ میں کوئی شخص زراعت یا تجارت کا شغل اختیار نہ کرنے پائے، کیونکہ اس سے ان کے سپاہیانہ جوہر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، سرد اور گرم ممالک پر حملہ کرتے وقت موسم کا بھی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ فوج کی صحت اور تندرستی کو نقصان نہ پہنچے۔ قواعد کے متعلق چار چیزوں کے سیکھنے کی سخت تاکید تھی، تیرنا، گھوڑے دوڑانا، تیر لگانا اور ننگے پاؤں چلنا، ہر چار مہینے کے بعد سپاہیوں کو وطن جاکر اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی تھی، جفا کشی کے خیال سے حکم تھا کہ اہل فوج رکاب کے سہارے سے سوار نہ ہوں، نرم کپڑے نہ پہنیں، دھوپ سے بچیں حماموں میں نہ نہائیں۔ موسم بہار میں فوجیں عموماً سرسبز و شاداب مقامات میں بھیج دی جاتی تھیں، بارکوں اور چھاؤنیوں کے بنانے میں آب و ہوا کی خوبی کا لحاظ رکھا جاتا تھا، کوچ کی حالت میں حکم تھا کہ فوج جمعہ کے دن مقام کرے اور ایک شب وروز قیام رکھے کہ لوگ دم لیں، غرض عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیرہ سو برس پیشتر فوجی تربیت کے لیے اعلیٰ اصول وضع کر دیے تھے کہ آج بھی اصولی حیثیت سے اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ حسب ذیل مقامات کو فوجی مرکز قرار دیا تھا، مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق، حمص، اردن، فلسطین، ان مقام کے علاوہ تمام اضلاع میں فوجی بارکیں اور چھاؤنیاں تھیں، جہاں تھوڑی تھوڑی فوج ہمیشہ متعین رہتی تھی۔ فوج میں حسب ذیل عہدے دار لازمی طور پر رہتے تھے، خزانچی، محاسب، مترجم، طبیب، جراح اور جاسوس جو غنیم کی نقل وحرکت کی خبریں بہم پہنچایا کرتے تھے، یہ خدمت زیادہ تر ذمیوں سے لی جاتی تھی چنانچہ قیساریہ کے محاصرہ میں یوسف نامی یہودی نے جاسوسی کی خدمت انجام دی تھی، اسی طرح عراق میں بعض وفادار مجوسی اپنی خوشی سے اس خدمت کو انجام دیتے تھے، تاریخ طبری میں ہے: وکانت تکون لعمرالعیون فی کل جیش "ہر فوج میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جاسوس رہتے تھے۔" آلات جنگ میں تیغ وسنان کے علاوہ قلعہ شکنی کے لیے منجنیق اور دبابہ بھی ساتھ رہتا تھا چنانچہ دمشق کے محاصروں میں منجنیقوں کا استعمال ہواتھا۔ فوج حسب ذیل شعبوں میں منقسم تھی، مقدمہ، قلب، میمنہ، میسرہ، ساقہ، طلیعہ، سفرمینا، روایعنی عقبی گارد، شترسوار، سوار، پیادہ، تیر انداز گھوڑوں کی پرورش و پرداخت کا بھی نہایت اہتمام تھا، ہر مرکز میں چار ہزار گھوڑے ہر وقت سازو سامان سے لیس رہتے تھے، موسم بہار میں تمام گھوڑے سر سبز و شاداب مقامات پر بھیج دیے جاتے تھے، خود مدینہ کے قریب ایک چراگاہ تیار کرائی، اوراپنے ایک غلام کو اس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے مقرر کیا تھا، گھوڑوں کی رانوں پر داغ سے"جیش فی سبیل اللہ"نقش کیا جاتا تھا۔ عرب کی تلوار اپنی فتوحات میں کبھی غیروں کی ممنون احسان نہیں ہوئی ؛لیکن حریف اقوام کو خود انھی کے ہم قوموں سے لڑانا فن جنگ کا ایک بڑا اصول ہے، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو نہایت خوبی سے برتا، صدہا عجمی، یونانی اور رومی بہادروں نے اسلامی فوج میں داخل ہوکر مسلمانوں کے دوش بدوش نہایت وفاداری کے ساتھ خود اپنی قوموں سے جنگ کی، قادسیہ کے معرکہ میں دوران میں جنگ ہی میں ایرانیوں کی چار ہزار افواج حلقہ اسلام میں آگئی اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اسلامی فوج میں شامل کر لیا اور ان کی تنخواہیں مقرر کر دیں، یرموک کے معرکہ میں رومیوں کے لشکر کا مشہور سپاہی عین حالت جنگ میں مسلمان ہو گیا اور مسلمانوں کے دوش بدوش لڑکر شہید ہوا۔ . مذہبی خدمات مذہبی خدمات کے سلسلہ میں سب سے بڑا کام اشاعت اسلام ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس میں بہت انہماک تھا ؛لیکن تلوار کے زور سے نہیں؛بلکہ اخلاق کی قوت سے انھوں نے اپنے غلام کو اسلام کی دعوت دی، اس نے باوجود ترغیب وہدایت کے انکار کیا تو فرمایا لا اکراہ فی الدین یعنی مذہب میں جبر نہیں، حکام کو ہدایت تھی کہ جنگ سے پہلے لوگوں کے سامنے محاسن اسلام پیش کر کے ان کو شریعت عزا کی دعوت دی جائے، اس کے علاوہ انھوں نے تمام مسلمانوں کو اپنی تربیت اور ارشاد سے اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ بنادیا تھا، وہ جس طرف گذر جاتے تھے لوگ ان کے اخلاقی تفوق کو دیکھ کر خود بخود اسلام کے گرویدہ ہو جاتے تھے، رومی سفیر اسلامی کیمپ میں آیا تو سالار فوج کی سادگی اور بے تکلفی دیکھ کر خود بخود اس کا دل اسلام کی طرف کھینچ گیا اور وہ مسلمان ہو گیا، مصر کا ایک رئیس مسلمانوں کے حالات ہی سن کر اسلام کا گرویدہ ہو گیا اور دوہزار کی جمعیت کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔، وہ عربی قبائل جو عراق وشام میں آباد ہو گئے تھے، نسبتاً آسانی کے ساتھ اسلام کی جانب مائل کیے جا سکتے تھے، عمر کو ان لوگوں میں تبلیغ کا خاص خیال تھا چنانچہ اکثر قبائل معمولی کوشش سے حلقہ بگوش اسلام ہو گئے، مسلمانوں کے فتوحات کی بوالعجبی نے بھی بہت سے لوگوں کو اسلام کی صداقت کا یقین دلادیا؛چنانچہ معرکہ قادسیہ کے بعد دیلیم کی چارہزار عجمی فوج نے خوشی سے اسلام قبول کر لیا، اسی طرح فتح جلولا کے بعد بہت سے رؤسا برضاورغبت مسلمان ہو گئے جن میں بعض کے نام یہ ہیں: جمیل بن بصہیری، بسطام بن نرسی، رفیل، فیروزان، (ایضا فتح جلولا) عراق کی طرح شام ومصر میں بھی کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے؛چنانچہ شہر فسطاط میں ایک بڑا محلہ نو مسلموں کا تھا غرض عمر کے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا، اس سے بھی بڑ ھ کر یہ کہ آپ دین حنیف کی آئندہ کے لیے راستہ صاف کرگئے۔ اشاعت اسلام کے بعد سب سے بڑا کام خود مسلمانوں کی مذہبی تعلیم وتلقین اور شعار اسلامی کی ترویج تھی، اس کے متعلق عمر کے مساعی کا سلسلہ حضرت ابوبکر ؓ ہی کے عہد سے شروع ہوتا ہے، قرآن مجید جو اساس اسلام ہے عمر بن خطاب ہی کے اصرار سے کتابی صورت میں عہد صدیقی میں مرتب کیا گیا تھا، اس کے بعد انھوں نے اپنے عہد میں اس کے درس وتدریس کا رواج دیا، معلمین اور حفاظ اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، حضرت عبادہ بن الصامت ؓ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوالدردا کو جو حفاظ قرآن اور صحابۂ کبار میں سے تھے، قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے ملک شام میں روانہ کیا، قرآن مجید کو صحت کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے تاکیدی احکام روانہ کیے ابن الانباری کی روایت کے مطابق ایک حکم نامہ کے الفاظ یہ ہیں تعلموا اعراب القران کما تعلمون حفظہ، غرض عمر کی مساعی جمیلہ سے قرآن کی تعلیم ایسی عام ہو گئی تھی کہ ناظرہ خوانوں کا تو شمار ہی نہیں، حافظوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ صرف میری فوج میں تین سو حفاظ ہیں۔ اصول اسلام میں قرآن کے بعد حدیث کا رتبہ ہے، عمر نے اس کے متعلق جو خدمات انجام دیں ان کی تفصیل یہ ہے: احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نقل کرا کے حکام کے پاس روانہ کیا کہ عام طور پر اس کی اشاعت ہو، مشاہیر صحابہ کو مختلف ممالک میں حدیث کی تعلیم کے لیے بھیجا؛چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو ایک جماعت کے ساتھ کوفہ روانہ کیا، عبد اللہ بن مغفل، عمران بن حسین اور معقل بن یسار ؓ کو بصرہ بھیجا، حضرت عبادہ بن الصامت ؓ اور حضرت ابوالدردا ؓ کو شام روانہ کیا، اگرچہ محدثین کے نزدیک تمام صحابہ عدول ہیں؛لیکن عمر اس نکتہ سے واقف تھے کہ جو چیزیں خصائص بشری ہیں، ان سے کوئی زمانہ مستثنیٰ نہیں ہو سکتا ؛چنانچہ انھوں نے روایت قبول کرنے میں نہایت چھان بین اور احتیاط سے کام لیا، ایک دفعہ آپ کسی کام میں مشغول تھے، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ آئے اور تین دفعہ سلام کرکے واپس چلے گئے، عمر بن خطاب کام سے فارغ ہوئے تو ابو موسیٰ ؓ کو بلا کر دریافت کیا کہ تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین دفعہ اجازت مانگو اگر اس پر بھی نہ ملے تو واپس چلے جاؤ، عمر بن خطاب نے فرمایا، اس روایت کا ثبوت دو ورنہ میں تم کو سزا دو گا، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے حضرت سعید ؓ کو شہادت میں پیش کیا، اسی طرح سقط یعنی کسی عورت کا حمل ضائع کردینے کے مسئلہ میں مغیرہ ؓ نے حدیث روایت کی تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت طلب کی جب محمد بن مسلمہ ؓ نے تصدیق کی تو انھوں نے تسلیم کیا، حضرت عباس ؓ کے مقدمہ میں ایک حدیث پیش کی گئی تو عمر نے تائید ثبوت طلب کیا، جب لوگوں نے تصدیق کی تو فرمایا مجھ کو تم سے بدگمانی نہ تھی ؛بلکہ اپنا اطمینان مقصود تھا۔ عمر لوگوں کو کثرت روایت سے بھی نہایت سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے؛چنانچہ جب قرظہ بن کعب کو عراق کی طرف روانہ کیا تو خود دور تک ساتھ گئے اور سمجھا یا کہ دیکھو تم ایسے ملک میں جاتے ہو جہاں قرآن کی آواز گونچ رہی ہے، ایسا نہ ہو کہ ان کی توجہ کو قرآن سے ہٹاکر احادیث کی طرف مبذول کردو، حضرت ابوہریرہ ؓ بڑے حافظ حدیث تھے اس لیے وہ روایتیں بھی کثرت سے بیان کرتے تھے، ایک دفعہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ عمر کے عہد میں اس طرح روایت کرتے تھے؟ انھوں نے کہا کہ اگر اس زمانہ میں ایسا کرتا تو درے کھاتا، حدیث کے بعد فقہ کا درجہ ہے، عمر بن خطاب خود بالمُشافہ اپنے خطبوں اور تقریروں میں مسائل فقہیہ بیان کرتے تھے اور دور دراز ممالک کے حکام فقہی مسائل لکھ کر بھیجتے تھے، مختلف فیہ مسائل کو صحابہ ؓ کے مجمع میں پیش کرا کے طے کراتے تھے، اضلاع میں عمال اور افسروں کی تقرری میں عالم اور فقیہ ہونے کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، تمام ممالک محروسہ میں فقہا مقرر کیے تھے جو احکام مذہبی کی تعلیم دیتے تھے اور حسب بیان ابن جوزی عمر بن خطاب نے فقہا کی بیش قرار تنخواہیں مقرر کی تھیں، اس سے پہلے فقہا اور معلمین کو تنخواہ دینے کا رواج نہ تھا، غرض یہ کہ فاروق اعظم ؓ کے عہد میں مذہبی تعلیم کا ایک مرتب اور منظم سلسلہ قائم ہو گیا تھا جس کی تفصیل کے لیے اس اجمال میں گنجائش نہیں۔ عملی انتظامات کی طرف بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بڑی توجہ کی، تمام ممالک محروسہ میں کثرت سے مسجدیں تعمیر کرائیں، امام اور مؤذن مقرر کیے، حرم محترم کی عمارت ناکافی تھی، 17ھ میں اس کو وسیع کیا، غلاف کعبہ کے لیے نطع کی بجائے قباطی کا رواج دیا جو نہایت عمدہ کپڑا ہوتا ہے اور مصر میں بنایاجاتا ہے، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہایت وسعت دی، پہلے اس کا طول سو گز تھا انھوں نے بڑھا کر 140 گز کر دیا، عرض میں بھی 20 گز کا اضافہ ہوا، مسجد کے ساتھ ایک گوشہ چبوترا بنوا دیا جس کو بات چیت کرنا یا شعر پڑھنا ہو تو یہاں چلا آئے، مسجدوں میں روشنی اور فرش کا انتظام بھی عمر کے عہد سے ہی ہوا، حجاج کی راحت و آسائش کا بھی پورا انتظام تھا، ہر سال خود حج کے لیے جاتے تھے اور خبر گیری کی خدمت انجام دیتے تھے۔ متفرق انتظامات ملکی، فوجی اور مذہبی انتظامات کا ایک اجمالی خاکہ درج کرنے کے بعد اب ہم ان متفرق انتظامات کا تذکرہ کرتے ہیں جوکسی خاص عنوان کے تحت نہیں آتے۔ 18ھ میں عرب میں قحط پڑا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس مصیبت کو کم کرنے میں جو سرگرمی ظاہر کی وہ ہمیشہ یادگار زمانہ رہے گی، بیت المال کا تمام نقد وجنس صرف کر دیا، تمام صوبوں سے غلہ منگوایا اور انتظام کے ساتھ قحط زدوں میں تقسیم کیا لا وارث بچوں کو دودھ پلانے اور پرورش پرداخت کا انتظام کیا، غرباء و مساکین کے روز ینے مقرر کیے اور منبر پر اس کا اعلان فرمایا: انی فرضت لکل نفس مسلمۃ فی شہر مادی حنطۃ و قسطی خل۔ میں نے ہر مسلمان کے لیے فی ماہ دو مد گیہوں اور دو قسط سرکہ مقرر کیا۔" اس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا غلام کے لیے بھی؟ فرمایا ہاں غلام کے لیے بھی، لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عمر اس نکتہ سے بے خبر تھے کہ اس طرح مفت خوری سے لوگ کاہل ہو جائیں گے، درحقیقت انھوں نے انھی لوگوں کے روزینے مقرر کیے تھے جو یا تو فوجی خدمت کے لائق تھے یا ضعف کے باعث کسب معاش سے معذور تھے، ملکی حالات سے واقفیت کے لیے ملک کے ہر حصے میں پرچہ نویس اور واقعہ نگار مقرر کیے تھے جن کے ذریعہ سے ہر جزئی واقع کی اطلاع ہوجاتی تھی، مورّخ طبری لکھتے ہیں: وکان عمر لایخفی علیہ شی فی علمہ کتب الیہ من العراق یخرج من خرج ومن الشام بجائزۃ من اجیزبھا "عمر بن خطاب پر کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی، عراق میں جن لوگوں نے خروج کیا اورشام میں جن لوگوں کو انعام دیے گئے سبھی ان کو لکھا جاتا تھا۔" محکمہ خبر رسانی کی سرگرمی کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نعمان بن عدی حاکم میسان نے عیش وعشرت میں مبتلا ہوکر اپنی بی بی کو ایک خط لکھا جس میں یہ شعر بھی تھا۔ لعل امیر المومنین یسوءہ تنادمنابالجوسق المتھدم غالباً امیر المومنین برا مانیں گے کہ ہم لوگ محلوں میں رندان صحبت رکھتے ہیں اس محکمہ کو میاں بیوی کے راز ونیاز کی بھی خبر ہو گئی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نعمان کو معزول کرکے لکھا کہ"ہاں مجھ کو تمھاری یہ حرکت ناگوار ہوئی" . عدل و انصاف خلافت فاروقی کا سب سے نمایاں وصف عدل و انصاف ہے، ان کے عہد میں کبھی سرمو بھی انصاف سے تجاوز نہیں ہوا، شاہ و گدا، شریف و رزیل، عزیزو یگانہ سب کے لیے ایک ہی قانون تھا، ایک دفعہ عمرو بن العاص ؓ کے بیٹے عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے ایک شخص کو بے وجہ مارا، حضرت عمرؓ نے اسی مضروب سے ان کے کوڑے لگوائے، عمرو بن العاص ؓ بھی موجود تھے، دونوں باپ بیٹے خاموشی سے عبرت کا تماشا دیکھتے رہے اورکچھ نہ کہا جبلہ بن ایہم رئیس شام نے کعبہ کے طواف میں ایک شخص کو طمانچہ مارا، اس نے بھی برابر کا جواب دیا، جبلہ نے حضرت عمر بن خطاب سے شکایت کی تو انھوں نے جواب دیا کہ جیسا کیا ویسا پایا جبلہ کو اس جواب سے حیرت ہوئی اور مرتد ہوکر قسطنطنیہ بھاگ گیا۔ عمر نے لوگوں کی تنخواہیں مقرر کیں تو اسامہ بن زید ؓ کی تنخواہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب غلام حضرت زید ؓ کے فرزند تھے، اپنے بیٹے عبد اللہ سے زیادہ مقرر کی، عبد اللہ نے عذر کیا کہ واللہ اسامہ بن زید ؓ کسی بات میں ہم سے فائق نہیں ہیں، حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ ہاں! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ ؓ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ فاروقی عدل وانصاف کا دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھا ؛بلکہ ان کا دیوان عدل مسلمان، یہودی، عیسائی سب کے لیے یکساں تھا، قبیلۂ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا، حضرت عمر بن خطاب نے لکھا کہ قاتل مقتول کے ورثاء کے حوالہ کر دیا جائے؛چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث کو جس کانام حنین تھا سپرد کیا گیا اور اس نے اس کو مقتول عزیز کے بدلہ میں قتل کر دیا۔ عمر نے ایک ضعیف شخص کو گداگری کرتے دیکھا، پوچھا"تو بھیک مانگتا ہے؟ اس نے کہا مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے، حالانکہ میں بالکل مفلس ہوں"، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے اپنے گھر لے آئے اور کچھ نقد دے کر مہتمم بیت المال کو لکھا کہ اس قسم کے ذمی مساکین کے لیے بھی وظیفہ مقرر کر دیا جائے، واللہ! یہ انصاف نہیں ہے کہ ان کی جوانی سے ہم متمتع ہوں اور بڑھاپے میں ان کی خبر گیری نہ کریں"۔ عربسوس کے عیسائیوں کو ان کی متواتر بغاوتوں کے باعث جلاوطن کیا گیا، مگر اس طرح کہ ان کی املاک کی دو چند قیمت دی گئی، نجران کے عیسائیوں کو جلاوطن کیا گیا تو ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا گیا۔ علم و فضل اسلام سے قبل عرب میں لکھنے پڑھنے کا چنداں رواج نہ تھا؛چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا جانتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی زمانہ میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا، حضرت عمر بن خطاب کے فرامین خطوط توقیعات اور خطبے اب تک کتابوں میں محفوظ ہیں، ان سے ان کی قوت تحریر، برجستگی کلام اور زور تحریر کا اندازہ ہو سکتا ہے، بیعت خلافت کے بعد جو خطبہ دیا اس کے چند فقرے یہ ہیں: اللہم انی غلیظ فلینی، اللہم انی ضعیف فقونی الاوان العرب جمل انف وقد اعطیت خطامہ الاوانی حاملہ علی المحجۃ " اے خدا میں سخت ہوں تو مجھ کو نرم کر، میں کمزور ہوں مجھ کو قوت دے، ہاں عرب والے سرکش اونٹ ہیں جن کی مہار میرے ہاتھ میں دیدی گئی ہے ؛لیکن میں ان کو راستہ پر چلا کر چھوڑوں گا۔" قوت تحریر کا اندازہ اس خط سے ہو سکتا ہے جو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے نام لکھا گیا تھا، اس کے چند فقرے یہ ہیں: اما بعد فان القوۃ فی العمل ان لا توخروا عمل الیوم لغد فانکم اذا فعلتم ذلک قدارکت علیکم اعما لکم فلم تدروا ایھاتا خذون فاضعتم "اما بعد! مضبوطی عمل کی یہ ہے کہ آج کا کام کل پر نہ اٹھا رکھو، ایسا کروگے تو تمھارے بہت سے کام جمع ہو جائیں گے، پھر پریشان ہو جاؤگے کہ کس کو کریں اور کس کو چھوڑیں، اس طرح کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔" شاعری کا خاص ذوق تھا اور شعرائے عرب کے کلام پر تنقیدی نگاہ رکھتے تھے، مشاہیر میں سے زہیر کے کلام کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے، کبھی کبھی خود بھی شعر کہتے تھے، ( ابوعلی الحسن بن رشیق نے کتاب العمدہ میں ان کے اشعار نقل کیے ہیں) لیکن اس کی طرف زیادہ شغل نہ تھا۔ فصاحت وبلاغت کا یہ حال تھا کہ ان کے بہت سے مقولے ضرب المثال بن گئے جو آج بھی عربی ادب کی جان ہیں، علم الانساب میں بھی ید طولی ٰ حاصل تھا، یہ علم کئی پشتوں سے ان کے خاندان میں چلا آتا تھا، ان کے والد خطاب مشہور نساب تھے، جاحظ نے لکھا ہے کہ جب وہ انساب کے متعلق کچھ بیان کرتے تھے تو اپنے باپ کا حوالہ دیتے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ پہنچ کر عبرانی زبان بھی انھوں نے سیکھ لی تھی، مسند دارمی میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ توریت کا نسخہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور پڑھنا شروع کیا، وہ پڑھتے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوتا جاتا ہے، اس سے قیاس ہوتا ہے کہ عبرانی زبان سے اس قدر واقف ہو گئے تھے کہ توریت کو خود پڑھ سکتے تھے۔ عمر فطرۃ ذہین، طباع اور صائب الرائے تھے، اصابت رائے کی اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ان کی بہت سی رائیں مذہبی احکام بن گئیں، اذان کا طریقہ ان کی رائے کے موافق ہوا، اسیران بدر کے متعلق جو رائے انھوں نے دی وحی الہی نے اسی کی تائید کی، شراب کی حرمت، ازواج مطہرات ؓ کے پردہ اور مقام ابراہیم کو مصلےٰ بنانے کے متعلق عمر نے نزول وحی سے پہلے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو رائے دی تھی۔ آپ کو بارگاہ نبوت میں جو خاص تقرب حاصل تھا، اس کے لحاظ سے قدرۃ ان کو شرعی احکام اور عقائد سے واقف ہونے کا زیادہ موقع ملا، طبیعت نکتہ رس واقع ہوئی تھی اس لیے آئندہ نسلوں کے لیے اجتہاد اور استنباط مسائل کی وسیع شاہراہ قائم کردی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شرعی مسائل پر غور و فکر کیا کرتے تھے اور جب کوئی مسئلہ خلاف عقل معلوم ہوتا تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کرتے تھے، سفر میں قصر کا حکم دے دیا گیا تھا؛لیکن جب راستے مامون ہو گئے تو عمر بن خطاب نے دریافت کیا کہ اب سفر میں یہ حکم کیوں باقی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ خدا کا انعام ہے۔"مسائل دریافت کرنے میں مطلقاً پس وپیش نہیں کرتے تھے اور جب تک تشفی نہ ہوجاتی ایک ہی مسئلہ کو باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے تھے، کلالہ کے مسئلہ کو جو نہایت دقیق اورمختلف فیہ مسئلہ ہے، بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سورۂ نساء کی آخری آیت تمھارے لیے کافی ہے۔ نہایت غوروتوجہ کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے، ہر ایک آیت پر مجتہدانہ حیثیت سے نگاہ ڈالتے تھے، ایک دن صحابہ ؓ کے مجمع میں اس آیت کے معنی پوچھے اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ لوگوں نے کہا واللہ اعلم، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ اس میں ایک کام کرنے والے کی تمثیل ہے، چونکہ جواب ناتمام تھا، حضرت عمر بن خطاب نے اس پر قناعت نہ کی ؛لیکن عبد اللہ بن عباس ؓ اس سے زیادہ نہ بتا سکے عمر نے فرمایا: یہ اس آدمی کی مثال ہے جس کو خدا نے دولت و نعمت دی کہ خدا کی بندگی بجا لاے مگراس نے نافرمانی کی، تو اس کے اچھے اعمال بھی برباد کردیے جائیں گے۔ قرآن مجید سے استدلال میں بڑی مہارت رکھتے تھے، عراق کی فتح کے بعد یہ بحث پیدا ہوئی کہ ممالک مفتوحہ مجاہدین کی ملکیت اور وہاں کے باشندے ان کے غلام ہیں عمر کا خیال تھا کہ مقام مفتوحہ کسی شخص یا ایک بہت سے مخصوص اشخاص کی ملکیت نہیں ہیں ؛بلکہ وقف عام ہیں اور استدلال میں یہ آیت پیش کی، وَمَا اَفَاء اللہُ علی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرْیٰ بالآخر سب نے اس کی تائید کی اور اسی پر فیصلہ ہوا، عمر کی مرفوع روایات کی تعداد سترسے زیادہ نہیں ہے؛لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف اس قدر احادیث سے واقف تھے، درحقیقت انھوں نے اپنے عہد خلافت میں جس قدر احکام صادر فرمائے ہیں وہ سب احادیث ہی کے ماخوذ ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا ہے اور نام نہ لینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی قول کو منسوب کرنے میں نہایت محتاط تھے جب تک کے ہر لفظ پر یقین نہ ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمائی ہے اس وقت تک ہرگز ہر گز زبان سے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ نہیں نکالتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ خود بھی بہت کم احادیث روایت کرتے تھے اور دوسروں کو بھی کثرت روایت سے روکتے تھے، علامہ ذہبی عمرکے حالات میں لکھتے ہیں: وقد کان عمر من دجلہ یخطیٔ الصاحب علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یامرہم ان یقلوالروایۃ من نبیہم اور عمر بن خطاب اس ڈر سے کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں غلطی نہ کریں ان کو حکم دیتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم روایت کریں محدث کا سب سے بڑا فرض روایات کی تحقیق وتنقید اورجرح و تعدیل ہے، اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اپنے عہد میں روایت کے قبول کرنے میں ثبوت اور شہادت کا لحاظ رکھا؛لیکن عمر کو اس میں بہت زیادہ غلو تھا اور جب تک روایت و درایت دونوں حیثیت سے اس کا ثبوت نہ پہنچتا، قبول نہ کرتے، اس کی مثالیں تفصیل کے ساتھ مذہبی خدمات کے سلسلہ میں مذکور ہو چکی ہیں، اس لیے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فقہ کا سلسلہ بھی درحقیقت عمرکا ہی ساختہ پرداختہ ہے ان سے اس قدر فقہی مسائل منقول ہیں کہ اگر جمع کیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے، استنباط احکام اورتفریع مسائل کے لیے بھی انھوں نے ایک شاہراہ قائم کردی تھی، مختلف فیہ مسائل کے طے کرنے کے لیے اجماع صحابہ جس کثرت سے عمرکے عہد میں ہوا پھر نہیں ہوا۔ اخلاق حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا حقیقی مقصد دنیا کو برگزیدہ اور پسندیدہ اخلاق کی تعلیم دینا تھا، جیسا کہ خود ارشاد فرمایا بعثت لا تم مکارم الاخلاق، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو براہ راست اس سر چشمہ اخلاق سے سیراب ہونے کا موقع ملا تھا اس لیے اس مقدس جماعت کا ہر فرد اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ تھا؛لیکن عمر کو بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو تقرب حاصل تھا اس کے لحاظ سے ان کو زیادہ حصہ ملا، وہ محاسن و محامد کی مجسم تصویر تھے ان کے آئینہ اخلاق میں خلوص، انقطاع الی اللہ، لذایذ دنیا سے اجتناب حفظ لسان حق پرستی، راست گوئی، تواضع اورسادگی کا عکس سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے، یہ اوصاف آپ میں ایسے راسخ تھے کہ جو شخص آپ کی صحبت میں رہتا تھا، وہ بھی کم وبیش متاثر ہوکر اسی قالب میں ڈھل جاتا تھا، مسور بن مخرمہ ؓ کا بیان ہے کہ ہم اس غرض سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے کہ ان سے پرہیز گاری وتقویٰ سیکھیں، عہد فاروقی کے افسروں اور عہدے داروں کے حالات کا بغور مطالعہ کرو، تم کو معلوم ہوگا کہ وہ سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ خوف خدا اخلاق کی پختگی اور استواری کا اصلی سر چشمہ خشئیت الہی اورخداوند جل وعلا جبروت وعظمت کا غیر متزلزل تیقن ہے، جو دل خشوع وخضوع اورخوف خداوندی سے خالی ہے اس کی حقیقت ایک مضغۂ گوشت سے زیادہ نہیں، عمر بن خطاب خشوع و خضوع کے ساتھ رات بھر نمازیں پڑھتے، صبح ہونے کے قریب گھر والوں کو جگاتے اور یہ آیت پڑھتے:وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا، نمازمیں عموماً ایسی سورتیں پڑھتے جن میں قیامت کا ذکر یا خدا کی عظمت کا جلال کا بیان ہوتا اور اس قدر متاثر ہوتے کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی، حضرت عبد اللہ بن شداد ؓ کا بیان ہے کہ میں باوجود یکہ پچھلی صف میں رہتا تھا ؛لیکن حضرت عمرؓ یہ آیت اِنَّمَا اَشکُوْبِثَیْ وَحُزْنِیْ پڑھکر اس زور سے روتے تھے کہ میں رونے کی آواز سنتا تھا۔ حضرت امام حسن ؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ عمر نماز پڑھ رہے تھے جب اس پر پہنچے:اِنَّ عَذابَ ربک لواقع مالہ من دافع "یہ تیرے رب کا عذاب یقینی ہوکر رہنے والا ہے اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں"تو بہت متاثر ہوئے اورروتے روتے آنکھیں سوج گئیں، اسی طرح ایک دفعہ اس آیت پر: وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا اس قدرخضوع وخشوع طاری ہواکہ اگر کوئی ان کے حال سے ناواقف شخص دیکھ لیتا تو یہ سمجھتا کہ اسی حالت میں روح پرواز کرجائے گی، رقت قلب اور عبرت پذیری کا یہ عالم تھا کہ ایک روز صبح کی نماز میں سورۂ یوسف شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے وَابیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیْمٌ، (یوسف)تو زارو قطار رونے لگے، یہاں تک کہ قرآن مجید ختم کرکے رکوع پر مجبور ہو گئے۔ قیامت کے مواخذہ سے بہت ڈرتے تھے اور ہر وقت اس کاخیال رہتا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابی سے کہا کہ "تم کو یہ پسند ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام لائے، ہجرت کی، جہاد اور نیک اعمال کیے، اس کے بدلہ میں دوزخ سے بچ جائیں اور عذاب وثواب برابر ہو جائے، بولے خدا کی قسم نہیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، بہت سے نیک کام کیے اور ہمارے ہاتھ پر بہت سے لوگ اسلام لائے ہم کو ان اعمال سے بڑی بڑی توقعات ہیں، عمر نے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے تو یہی غنیمت معلوم ہوتا ہے کہ عذاب سے بچ جائیں اور نیکی اور بدی برابر ہو جائیں۔ ایک بار راہ میں پڑا ایک تنکا اٹھا لیا اور کہا کاش میں بھی خش و خاشاک ہوتا، کاش! کاش میں پیدا ہی نہ کیا جاتا، کاش میری ماں مجھے نہ جنتی۔ غرض عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل ہر لمحہ خوف خداوندی سے لرزاں وترساں رہتا تھا، آپ فرماتے کہ اگر آسمان سے ندا آئے کہ ایک آدمی کے سوا تمام دنیا کے لوگ جنتی ہیں تب بھی مواخذہ کا خوف زائل نہ ہوگا کہ شاید وہ بد قسمت انسان میں ہی ہوں۔ حب رسول اور اتباع سنت تہذیب نفس اور اخلاق حمیدہ سے مزین ہونے کے لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے دل میں مبدء خلق عظیم یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالص محبت اوراتباع سنت کا صحیح جذبہ پیداکرے جو دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی اور جو قدم اسوۂ حسنہ کا جادۂ مستقیم سے منحرف ہے وہ کبھی سعادت کونین کی نعمت سے متمتع نہیں ہو سکتا، ایک دفعہ عمر بن خطاب نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، ارشاد ہوا، عمر میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے، عمر نے کہا اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے، ان کو اس راہ میں جان ومال اولاد اور عزیز و اقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا، عاصی بن ہشام جو عمر کا ماموں تھا، معرکۂ بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا، اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات ؓ سے ناراض ہوکر علیحدگی اخیتار کرلی تو حضرت عمرؓ نے یہ خبر سن کر حاضر خدمت ہونا چاہا، جب باربار اذن طلب کرنے پر بھی اجازت نہ ملی تو پکار کر کہا"خداکی قسم !میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی سفارش کے لیے نہیں آیا ہوں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس کی گردن ماردوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی محبت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ان کو کسی طرح اس کا یقین نہیں آتا تھا، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حالت وارفتگی میں قسمیں کھا کر اعلان کرتے تھے جس کی زبان سے نکلے گا کہ میرا محبوب آقا دنیا سے اُٹھ گیا اس کا سر توڑدوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب کبھی عہد مبارک یاد آجاتا تورقت طاری ہوجاتی اور روتے روتے بیتاب ہو جاتے، ایک دفعہ سفرِ شام کے موقع پر حضرت بلال ؓ نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد تازہ ہو گئی اور اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔ یہ فطری امر ہے کہ محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوتا ہے اس بناپر جن لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں عزیز رکھتے تھے، عمر بن خطاب نے اپنے ایام خلافت میں ان کا خاص خیال رکھا؛ چنانچہ جب آپ نے صحابہ ؓ کے وظائف مقرر کیے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب غلام زید بن حارثہ کے فرزند اسامہ بن زید کی تنخواہ اپنے بیٹے عبد اللہ سے زیادہ مقرر کی، عبد اللہ نے عذر کیا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ اسی طرح جب فتح مدائن کے بعد مال غنیمت آیا تو عمر نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ کو ہزار ہزار درہم مرحمت فرمائے اور اپنے بیٹے عبد اللہ کو صرف پانچ سو دیے، حضرت عبد اللہ ؓ نے عذر کیا اور کہا کہ جب یہ دونوں بچے تھے، اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معرکوں میں پیش پیش رہا ہوں، عمر نہ کہا ہاں ؛لیکن ان کے بزرگوں کا جو رتبہ ہے وہ تیرے باپ دادا کا نہیں ہے۔ ازواج ِمطہرات ؓ کے مرتبہ، ان کے احترام اور آرام و آسائش کا خاص لحاظ رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کی تنخواہیں سب سے زیادہ بارہ ہزار مقرر کیں، 63ھ میں جب امیر الحجاج بن کر گئے تو ازواج مطہرات کو بھی نہایت ادب واحترام کے ساتھ ہمراہ لے گئے، حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کو سواریوں کے ساتھ کر دیا تھا، یہ لوگ آگے پیچھے چلتے تھے اورکسی کو سواریوں کے قریب نہیں آنے دیتے تھے، ازواج مطہرات ؓ منزل پر حضرت عمرؓ کے ساتھ قیام کرتی تھیں اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کسی کو قیام گاہ کے متصل آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ عمر بن خطاب کے دستور عمل کا سب سے زریں صفحہ اتباع سنت تھا، وہ خور و نوش، لباس وضع، نشست و برخاست غرض ہر چیز میں اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ فقر وفاقہ سے بسر کی تھی، اس لیے عمر نے روم وایران کی شہنشاہی ملنے کے بعد بھی فقر وفاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا، ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ نے کہا کہ اب خدا نے مرفہ الحالی عطا فرمائی ہے اس لیے آپ کو نرم لباس اورنفیس غذا سے پرہیز نہ کرنا چاہیے، عمر نے کہا، جان پدر!تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت اور تنگ حالی کو بھول گئیں، خداکی قسم !میں اپنے آقا کے نقش قدم پر چلوں گا کہ آخرت کی فراغت اور خوش حالی نصیب ہو، اس کے بعد دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت حفصہ ؓ بے تاب ہوکر رونے لگیں۔ ایک دفعہ یزید بن ابی سفیان کے ساتھ شریک طعام ہوئے، معمولی کھانے کے بعد دسترخوان پر جب عمدہ کھانے لائے گئے تو عمر نے ہاتھ کھنچ لیا اور کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں عمر ؓ کی جان ہے اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے ہٹ جاؤ گے تو خدا تم کو جادۂ مستقیم سے منحرف کر دے گا۔ اسلام میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کو بوسہ دیاہے، حضرت عمرؓ کو اپنے زمانہ خلافت میں جب اس کا موقع پیش آیا تو اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو کہ پتھر کو بوسہ دینے سے کبھی مسلمانوں کو یہ دھوکا ہوکہ اس میں بھی الہی شان ہے حجراسود کو بوسہ تو دیا؛لیکن اس کے سامنے کھڑے ہوکر کہا: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔" اسی طرح طواف میں رمل کا حکم مشرکین عرب کے دلوں پر رعب ڈالنے کی مصلحت پر مبنی تھا اس لیے جب خدا نے ان کو ہلاک کر دیا تو عمر بن خطاب کو خیا ل ہوا کہ اب رمل سے کیا فائدہ ہے مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یادگار کو ترک کرنے پر جرأت نہ ہوئی۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوجو کام جس طرح کرتے دیکھا اسی طرح وہ بھی عمل پیرا ہوں، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی، عمر نے جب اس طرف سے گزرتے تو اس جگہ دو رکعت نماز ادا کرلیتے تھے، ایک شخص نے پوچھا یہ نماز کیسی ہے؟آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، یہ کوشش صرف اپنی ذات تک محدود نہ تھی؛بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنت کے جذبہ سے معمور ہو جائے۔ ایک دفعہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، عمر نے عین خطبہ کی حالت میں اس کی طرف دیکھا اور کہا آنے کا یہ کیا وقت ہے؟ انھوں نے کہا کہ بازار سے آرہا تھا کہ اذان سنی، وضو کرکے فوراً حاضر ہوا، حضرت عمرؓ نے فرمایا"وضو پر کیوں اکتفا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کو)غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ زہد و قناعت دنیا طلبی اور حرص تمام بد اخلاقیوں کی بنیاد ہے، عمر بن خطاب کو اس سے طبعی نفرت تھی، یہاں تک کہ خود ان کے ہم مرتبہ معاصرین کو اعتراف تھاکہ وہ زہدوقناعت کے میدان میں سب سے آگے ہیں، حضرت طلحہ ؓ کا بیان ہے: قدامتِ اسلام اور ہجرت کے لحاظ سے بہت سے لوگوں کو عمر بن الخطاب پر فوقیت حاصل ہے؛لیکن زہد وقناعت میں وہ سب سے بڑے ہوئے ہیں، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرکو کچھ دینا چاہتے تو وہ عرض کرتے کہ مجھ سے زیادہ حاجت مند لوگ موجود ہیں جو اس عطیہ کے زیادہ مستحق ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے کہ اس کو لے لو، پھر تمھیں اختیار ہے کہ اپنے پاس رکھویا صدقہ کر دو، انسان کو اگر بے طلب مل جائے تو لے لینا چاہیے۔ عمر بن خطاب کا جسم کبھی نرم اور ملائم کپڑے سے مس نہیں ہوا، بدن پر بارہ بارہ پیوند کا کرتا، سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پاؤں میں پھٹی ہوئی جوتیاں ہوتی تھیں، اسی حالت میں وہ قیصر وکسریٰ کے سفیروں سے ملتے تھے اور وفود کو باریاب کرتے تھے، مسلمانوں کو شرم آتی تھی، مگر اقلیم زہد کے شہنشاہ کے آگے کون زبان کھولتا، ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ اورحضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا، امیر المومنین ! اب خدا نے مرفہ الحال کیا ہے، بادشاہوں کے سفراء اور عرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے طرز معاشرت میں تغیر کرنا چاہیے، عمر بن خطاب نے کہا، افسوس تم دونوں امہات المومنین ہوکر دنیا طلبی کی ترغیب دیتی ہو، عائشہؓ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو بھول گئیں کہ تمھارے گھر میں صرف ایک کپڑا تھا جس کو دن کو بچھاتے اور رات کو اوڑھتے تھے، حفصہؓ !تم کو یاد نہیں ہے کہ ایک دفعہ تم نے فرش کو دہرا کرکے بچھادیا تھا، اس کی نرمی کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر سوتے رہے۔ بلال ؓ نے اذان دی تو آنکھ کھلی اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا حفصۃ ماذا ضعت ثنیت المھاد حتی ذھب بی النوم الی الصباح مالی وللدنیا ومالی شغلتمو نی بین الفراش "حفصہ رضی اللہ عنہا تم نے یہ کیا کیا فرش کو دہرا کر دیا کہ میں صبح تک سوتا رہا مجھے دنیاوی راحت سے کیا تعلق ہے؟ اور فرش کی نرمی کی وجہ سے تو نے مجھے غافل کر دیا۔" ایک دفعہ گزی کا کرتا ایک شخص کو دھونے اور پیوند لگانے کے لیے دیا اس نے اس کے ساتھ ایک نرم کپڑے کا کرتا پیش کیا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو واپس کر دیا اور اپنا کرتا لے کر کہا اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ کپڑا عموماً گرمی میں بنواتے تھے اور پھٹ جاتا تو پیوند لگاتے چلے جاتے، حضرت حفصہ ؓ نے اس کے متعلق گفتگو کی تو فرمایا، مسلمانوں کے مال میں اس سے زیادہ تصرف نہیں کر سکتا، ایک دفعہ دیر تک گھر میں رہے، باہر آئے تو لوگ انتظار کر رہے تھے، معلوم ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہ تھے اس لیے انھی کپڑوں کو دھوکر سوکھنے کو ڈال دیا تھا، خشک ہوئے تو وہی پہن کر باہر نکلے۔ غذا بھی عموماً نہایت سادہ ہوتی تھی، معمولاً روٹی اور روغن زیتون دسترخوان پر ہوتا تھا، روٹی گیہوں کی ہوتی تھی ؛لیکن آٹا چھانا نہیں جاتا تھا، مہمان یا سفراء آتے تھے تو کھانے کی ان کو تکلیف ہوتی تھی کیونکہ وہ ایسی سادی اور معمولی غذا کے عادی نہیں ہوتے تھے، حفص بن ابی العاص ؓ اکثر کھانے کے وقت موجود ہوتے تھے ؛لیکن شریک نہیں ہوتے تھے، ایک دفعہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ کے دستر خوان پر ایسی سادہ اور معمولی غذا ہوتی ہے کہ ہم لوگ اپنے لذیذ اور نفیس کھانوں پر اس کو ترجیح نہیں دے سکتے، عمر بن خطاب نے کہا، کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں قیمتی اور لذیذ کھانا کھانے کی مقدرت نہیں رکھتا؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر قیامت کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی تم لوگوں کی طرح دنیاوی عیش و عشرت کا دلدادہ ہوتا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر شخص کو اپنی طرح زہد اور سادگی کی حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، وقتاً فوقتاً اپنے عمال اور احکام کو ہدایت کرتے رہتے تھے کہ رومیوں اور عجمیوں کی طرز معاشرت نہ اختیار کریں، سفر شام میں جب انھوں نے افسروں کو اس وضع میں دیکھا کہ بدن پر حریر ودیبا کے حلے اورپر تکلف قبائیں ہیں اور وہ اپنی زرق برق پوشاک اور ظاہری شان و شوکت سے عجمی معلوم ہوتے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس قدر غصہ آیا کہ گھوڑے سے اتر پڑے اور سنگریزے اٹھا کر ان پر پھینکے اور فرمایا کہ اس قدر جلد تم نے عجمی عادتیں اخیتار کر لیں، اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص جس کو انھوں نے یمن کا عامل مقرر کیا تھا، اس صورت سے ملنے آیا کہ لباس فاخرہ زیب تن کیے ہوئے تھے اور بالوں میں خوب تیل پڑا ہواتھا، اس وضع کو دیکھ کر عمر نہایت ناراض ہوئے اور وہ کپڑے اتروا کر موٹا جھوٹا کپڑا پہنایا۔ احنف بن قیس ایک جماعت کے ساتھ عراق کی ایک مہم پر روانہ کیے گئے، وہ وہاں سے کامیاب ہوکر تزک و احتشام کے ساتھ واپس آئے تو عمر نے ان کے زرق برق پوشاک دیکھ کر منہ پھیر لیا، وہ لوگ امیر المومنین کو برہم دیکھ کر دربار سے اٹھ آئے اور عرب کی سادہ پوشاک زیب تن کرکے پھر حاضر خدمت ہوئے، عمر اس لباس میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرد اً فرداً ہر ایک سے بغلگیر ہوئے۔ قناعت کا یہ حال تھا کہ اپنے زمانہ خلافت میں چند برس تک مسلمانوں کے مال سے ایک خر مہرہ نہیں لیا حالانکہ فقر و فاقہ سے حالت تباہ تھی، صحابہ ؓ نے ان کی عسرت اور تنگدستی کو دیکھ کر اس قدر تنخواہ مقرر کردی جو معمولی خوراک اور لباس کے لیے کافی ہو ؛لیکن شہنشاہ قناعت نے اس شرط پر قبول کیا کہ جب تک ضرورت ہے لوں گا اور جب میری مالی حالت درست ہو جائے گی، کچھ نہ لوں گا، فرمایا کرتے تھے کہ میرا حق مسلمانوں کے مال میں اسی قدر ہے جس قدر یتیم کے مال میں ولی کا ہوتا ہے، میں اپنی ذات پراس سے زیادہ نہیں صرف کرسکتا جس قدر خلافت سے پہلے اپنے مال میں سے صرف کرتا تھا، ایک دفعہ ربیع بن زیاد حارثی نے کہا امیر المومنین ! آپ کو خدا نے جو مرتبہ بخشا ہے اس کے لحاظ سے آپ دنیا میں سب سے زیادہ عیش و نشاط کی زندگی کے مستحق ہیں، عمر نہایت خفا ہوئے اور فرمایا میں قوم کا امین ہوں، امانت میں خیانت کب جائز ہے، ایک دفعہ عتبہ بن فرقد شریک طعام تھے اور ابلا ہوا گوشت اورسوکھی روٹی کے ٹکڑے زبردستی حلق سے فروکر رہے تھے عمر بن خطاب نے کہا اگر تم سے نہیں کھا یا جاتا تو نہ کھاؤ، عتبہ ؓ سے نہ رہا گیا، کہنے لگے امیر المومنین! اگر آپ اپنے کھانے پہننے میں کچھ زیادہ صرف کریں گے تو اس سے مسلمانوں کا مال کم نہ ہو جائے گا، حضرت عمرؓ نے کہا، افسوس تم مجھے دنیاوی عیش و تنعم کی ترغیب دیتے ہو۔ اپنے وسیع کنبہ کے لیے بیت المال سے صرف دو درہم روزانہ لیتے تھے اور تکلیف و عسرت کے ساتھ بسر کرتے تھے، ایک دفعہ حج میں اسی درہم صرف ہو گئے تو اس کا افسوس ہوا اور اسے اسراف تصور کیا، کپڑے پھٹ جاتے تھے ؛لیکن اس خیال سے کہ بیت المال پر بار نہ پڑے اسی میں پیوند پر پیوند لگاتے جاتے تھے، حضرت امام حسن ؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ عمرجمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے، میں نے شمار کیا تو ان کے تہبند پر بارہ پیوند لگے ہوئے تھے، انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ میں نے زمانہ خلافت میں دیکھا کہ ان کے کرتا کے مونڈے پر تہ بہ تہ پیوند لگے ہوئے ہیں، غرض فاروق اعظم ؓ نے زہد و قناعت کا جو نمونہ پیش کیا، دنیا کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان کی عظمت وشان کے تاج پر زہد و قناعت ہی کا طرہ زیب دیتا ہے۔ خلافت کے بارگراں نے حضرت عمرؓ کو بہت زیادہ محتاط بنادیا تھا کیونکہ اس وقت ان کی معمولی بے احتیاطی اور فرو گذاشت قوم کے لیے صدہا خرابیوں کا باعث ہو سکتی تھی اور مشکوک طبائع ان کی ذرا سی لغزش سے طرح طرح کے افسانے اختراع کرسکتے تھے، عمر نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو کبھی ملکی عہدے نہیں دئے کہ اس میں جانبداری پائی جاتی تھی، عمال وحکام کے تحائف واپس کر دیتے اور اس سختی سے چشم نمائی کرتے کہ پھر کسی کو جرأت نہ ہوتی، ایک دفعہ حضرت ابو موسی اشعری ؓ نے آپ کی زوجہ عاتکہ بنت زید ؓ کے پاس ہدیۃً ایک نفیس چادر بھیجی، عمر نے دیکھا تو ابو موسیٰ اشعری ؓ کو بلاکر کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں، اسی طرح ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیت المال کا جائزہ لیا تو وہاں صرف ایک درہم موجود تھا، انھوں نے اس خیال سے کہ یہ یہاں کیوں پڑا رہے، اٹھا کر عمر کے بیٹے کو دیدیا، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو انھوں نے درہم واپس لے کر بیت المال میں داخل کر دیا اور ابو موسیٰ اشعری ؓ کو بلاکر فرمایا کہ افسوس تم کو مدینہ میں آل عمر ؓ کے سوا اور کوئی کمزور نظر نہ آیا، تم چاہتے ہو کہ قیامت کے دن تمام امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالبہ میری گردن پر ہو۔ فتح شام کے بعد قیصر و روم سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے اور خط کتابت رہتی تھی، ایک دفعہ ام کلثوم ؓ(عمر کی زوجہ) نے قیصر کی حرم کے پاس تحفہ کے طور پر عطر کی چند شیشیاں بھیجیں، اس نے اس کے جواب میں شیشیوں کو جواہرات سے بھر کر بھیجا، عمر کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ گو عطر تمھارا تھا؛لیکن قاصد جولے کر گیا وہ سرکاری تھا اور اس کے مصارف عام آمدنی سے ادا کیے گئے تھے؛چنانچہ جواہرات لے کر بیت المال میں داخل کر دیے اور ان کو کچھ معاوضہ دے دیا، اسی طرح ایک بازار میں ایک فربہ اونٹ فروخت ہوتے دیکھا، دریافت سے معلوم ہوا کہ آپ کے بیٹے عبد اللہ ؓ کا ہے، ان سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے؟انھوں نے کہا میں نے اس کو خرید کر سرکاری چرا گاہ مین بھیج دیا تھا اور اب کچھ فربہ ہو گیا ہے تو فروخت کرنا چاہتا ہوں، عمر نے فرمایا چونکہ یہ سرکاری چراگاہ میں فربہ ہوا ہے اس لیے تم صرف راس المال کے مستحق ہو اور بقیہ قیمت لے کر بیت المال میں داخل کردی، خلافت سے پہلے آپ تجارت کرتے تھے، بیت المال سے وظیفہ مقرر ہونے سے بیشتر تک کچھ دنوں زمانہ خلافت میں بھی یہ مشغلہ جاری تھا، ایک دفعہ شام کی طرف مال بھیجنا چاہا، روپیہ کی ضرورت ہوئی تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے قرض طلب کیا، انھوں نے کہا، آپ امیر المومنین ہیں، بیت المال سے اس قدر رقم قرض لے سکتے ہیں، عمر نے فرمایا کہ بیت المال سے نہیں لوں گا، کیونکہ اگر ادا کرنے سے پہلے مرجاؤں گا تو تم لوگ میرے ورثاء سے مطالبہ نہ کروگے اور یہ بار میرے سررہ جائے گا، اس لیے چاہتا ہوں کہ کسی ایسے شخص سے لوں جو میرے متروکہ سے وصول کرنے پر مجبور ہو۔ ایک دفعہ بیمار ہوئے طبیبوں نے شہد تجویز کیا، بیت المال میں شہد موجود تھا؛ لیکن قلب متقی بغیر مسلمانوں کی اجازت کے لینے پر راضی نہ تھا؛چنانچہ اسی حالت میں مسجد میں تشریف لائے اور مسلمانوں کو جمع کر کے اجازت طلب کی، جب لوگوں نے اجازت دے دی تو استعمال فرمایا، بحرین سے مال غنیمت میں مشک وعنبر آیا اس کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش ہوئی جس کو عطریات کے وزن میں دستگاہ ہو، عمر کی بیوی عاتکہ بنت زید ؓ نے کہا میں اس کام کو کرسکتی ہوں، حضرت عمرؓ نے کہا تم سے یہ کام نہیں لوں گا، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ تمھاری انگلیوں میں جو کچھ لگ جائیگا اسے اپنے جسم پر لگاؤ گی اور اس طرح عام مسلمانوں سے زیادہ میرے حصہ میں آجائے گا۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ نے عراق سے زیورات بھیجے، اس وقت آپ کی گود میں آپ کی سب سے محبوب یتیم بھتیجی اسماء بنت زید ؓ کھیل رہی تھی، اس نے ایک انگوٹھی ہاتھ میں لے لی، عمر نے بلطائف الحیل اس سے لے کر زیورات میں ملا دی اور لوگوں سے کہا کہ اس لڑکی کو میرے پاس سے لے جاؤ، اسی طرح عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معرکۂ جلولا کے بعد زیورات بھیجے تو آپ کے ایک بیٹے نے ایک انگوٹھی کی درخواست کی، عمر اس سوال پر خفا ہوئے اور کچھ نہ دیا۔ ایک دفعہ حضرت حفصہ ؓ یہ سن کر کہ مال غنیمت آیا ہوا ہے، عمر کے پاس آئیں اورکہا امیر المومنین! اس میں میرا حق مجھ کو عنایت کیجئے، میں ذوالقربی میں سے ہوں، عمر بن خطاب نے کہانور نظر تیرا حق میرے خاص مال میں ہے، یہ تو غنیمت کا مال ہے، افسوس ہے کہ تونے اپنے باپ کو دھوکا دینا چاہا، وہ بیچاری خفیف ہوکر چلی گئیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ اپنے محبوب آقا حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں مدفون ہوں، حضرت عائشہ ؓ نے اجازت دیدی تھی، مگر خیال یہ تھا کہ شاید خلافت کے رعب نے انھیں مجبور کیاہو، اس لیے اپنے صاحبزادے کو وصیت فرمائی کہ مرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اجازت لی جائے، اگر اذن ہو توخیر ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا، اس طرح وفات کے بعد بھی فاروق اعظم ؓ نے ورع وتقویٰ کا بدیع المثال نمونہ پیش کیا، ؓ۔ ، . . تواضع حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت و شان اور رعب و داب کا ایک طرف تو یہ حال تھا کہ محض نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان حکومت میں لرزہ پیدا ہو جاتا تھا، دوسری طرف تواضع اور خاکساری کا یہ عالم تھا کہ کاندھے پر مشک رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھرتے تھے، مجاہدین کی بیویوں کا بازار سے سودا سلف خرید کر لا دیتے تھے، پھر اس حالت میں تھک کر مسجد کے گوشہ میں فرش خاک پر لیٹ جاتے تھے۔ ایک دفعہ اپنے ایام خلافت میں سر پر چادر ڈال کر باہر نکلے، ایک غلام کو گدھے پر سوار جاتے دیکھا چونکہ تھک گئے تھے اس لیے اپنے ساتھ بٹھا لینے کی درخواست کی، اس کے لیے اس سے زیادہ کیا شرف ہو سکتا ہے، فوراً اتر پڑا اور سواری کے لیے اپنا گدھا پیش کیا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا اپنی وجہ سے تمھیں تکلیف نہیں دے سکتا تم جس طرح سوار تھے سوار رہو میں تمھارے پیچھے بیٹھ لوں گا، غرض اسی حالت میں مدینہ کی گلیوں میں داخل ہوئے، لوگ امیرالمومنین عمر بن خطاب کو ایک غلام کے پیچھے دیکھتے تھے اور تعجب کرتے تھے۔ آپ کو بارہا سفر کا اتفاق ہوا ؛لیکن خیمہ و خرگاہ کبھی ساتھ نہیں رہا، درخت کا سایہ شامیانہ اور فرش خاک بستر تھا، سفر شام کے موقع پر مسلمانوں نے اس خیال سے کہ عیسائی امیر المومنین کے معمولی لباس اور بے سرو سامانی کو دیکھ کر اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ سواری کے لیے ترکی گھوڑا اور پہننے کے لیے قیمتی لباس پیش کیا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدانے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لیے یہی بس ہے۔ ایک دن صدقہ کے اونٹوں کے بدن پر تیل مل رہے تھے، ایک شخص نے کہا امیر المومنین ! عمر بن خطاب یہ کام کسی غلام سے لیا ہوتا ؟ بولے مجھ سے بڑھ کر کون غلام ہو سکتا ہے؟ جو شخص مسلمانوں کا والی ہے وہ ان کا غلام بھی ہے۔ تشدد و ترحم عمر کی تند مزاجی کے افسانے نہایت کثرت سے مشہور ہیں اور ایک حد تک وہ صحیح بھی ہیں؛لیکن یہ قیاس صحیح نہیں ہے کہ قدرت نے ان کو لطف اور رحمدلی سے ناآشنا رکھا تھا، اصل یہ ہے کہ ان کا غیظ و غضب بھی خدا کے لیے تھا اور لطف و رحم بھی اسی کے لیے، جیسا کہ ایک موقع پر خود ارشاد فرمایا تھا: واللہ لقد لان قلبي في اللہ حتى لهو ألين من الزبد ولقد اشتد قلبي في اللہ حتى لهو أشد من الحجر۔"واللہ!میرادل خدا کے بارے میں نرم ہوتا ہے تو جھاگ سے بھی نرم ہوجاتا ہے اور سخت ہوتا ہے تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔" مثال کے طور پر چند واقعات درج ذیل ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ حضرت عمر بن خطاب کا غصہ اور لطف و رحم محض خدا کے لیے تھا، ذاتیات کو مطلقاً دخل نہ تھا۔ غزوۂ بدر میں کافروں نے بنو ہاشم کو مسلمانوں سے لڑنے پر مجبور کیا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ عباس ؓ کہیں نظر آئیں تو ان کو قتل نہ کرنا، ابو حذیفہ ؓ کی زبان سے نکل گیا کہ بنوہاشم میں کیا خصوصیت ہے؟ اگر عباس ؓ سے مقابلہ ہو گیا تو ضرور مزہ چکھاؤں گا، عمر یہ گستاخی دیکھ کر آپے سے باہر ہو گئے اور کہا اجازت دیجئے کہ میں اس کا سر اُڑا دوں۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ بڑے رتبہ کے صحابی تھے، یہ خود ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تھے؛لیکن ان کے اہل و عیال مکہ میں تھے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا قصد فرمایا تو حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے خیال سے اپنے بعض مشرک دوستوں کو اس کی اطلاع دیدی، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو برا فروختہ ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اجازت دیجئے کہ اس کو قتل کر دوں۔ اسی طرح خویصرہ نے ایک دفعہ گستاخانہ کہا"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)عدل کر"عمر غصے سے بے تاب ہو گئے اور اس کو قتل کردینا چاہا؛لیکن رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا۔ غرض اسی قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے اگر تم مزاج کی سختی کا اندازہ کرسکتے ہو تو دوسری طرف للہیت کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا۔ ایام خلافت میں جو سختیاں ظاہو ہوئیں وہ اصولِ سیاست کے لحاظ سے نہایت ضروری تھیں، حضرت خالد بن ولید ؓ کی معزولی، حکام سے سختی کے ساتھ بازپرس، مذہبی پابندی کے لیے تنبیہ وتعزیر اور اسی قسم کے تمام امور عمر کے فرائض منصبی میں داخل تھے، اس لیے انھوں نے جو کچھ کیا وہ منصب خلافت کی حیثیت سے ان پر واجب تھا، ورنہ ان کا دل لطف ومحبت کے شریفانہ جذبات سے خالی نہ تھا ؛بلکہ وہ جس قدر مذہبی اور انتظامی معاملات میں سختی اور تشدد کرتے تھے، ہمدردی کے موقعوں پر اس سے زیادہ لطف ورحم کا برتاؤ کرتے تھے، خدا کی ذی عقل مخلوق میں غلاموں سے زیادہ قابل رحم حالت کسی کی نہیں ہوگی، حضرت عمرؓ نے عنان خلافت ہاتھ میں لینے کے ساتھ تمام عربی غلاموں کو آزاد کرا دیا، اوریہ قانون بنادیا کہ اہل عرب کبھی کسی کے غلام نہیں ہو سکتے، کنزالعمال میں بہ تصریح ان کا قول مذکور ہے کہ "لا تسترق عربی" یعنی عربی غلام نہیں ہو سکتے، عام غلاموں کا آزاد کرانا بہت مشکل تھا تاہم ان کے حق میں بہت سی مراعات قائم کیں، مجاہدین کی تنخواہیں مقرر ہوئیں تو آقا کے ساتھ اسی قدر ان کے غلام کی تنخواہ مقرر ہوئی، اکثر غلاموں کو بلاکر ساتھ کھانا کھلاتے، ایک شخص نے دعوت کی تو محض اس وجہ سے برا فروختہ ہوکر آٹھ گئے کہ اس نے دسترخوان پر اپنے غلام کو نہیں بٹھایا تھا، آپ اکثر حاضرین کو سنا کر کہتے تھے کہ جو لوگ غلاموں کو اپنے ساتھ کھانا کھلانا عار سمجھتے ہیں، خدا ان پر لعنت بھیجتا ہے غلاموں کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے جدا ہو جاتے تھے، عمر نے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے اعزہ سے جدانہ کیاجائے۔ 18ھ میں جب عرب میں قحط پڑا اس وقت عمر بن خطاب کی بے قراری قابل دید تھی، دور دراز ممالک سے غلہ منگواکر تقسیم کیا، گوشت گھی اور دوسری مرغوب غذائیں ترک کر دیں، اپنے لڑکے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھ کر خفا ہوئے کہ قوم فاقہ مست ہے اور تو تفکہات سے لطف اٹھاتا ہے، غرض !جب تک قحط رہا، عمر نے ہر قسم کے عیش و لطف سے اجتناب رکھا۔ عراق عجم کے معرکہ میں نعمان بن مقرن اوردوسرے بہت سے مسلمان شہید ہوئے، عمر پر ان کی شہادت کا اتنا اثر تھا کہ زار وقطار روتے تھے، مال غنیمت آیا تو غصہ سے واپس کر دیا کہ مجاہدین اور شہداء کے ورثا میں تقسیم کر دیا جائے۔ تم نے انتظامات کے سلسلہ میں پڑھا ہوگا کہ عمرنے اپنے عہد میں ہر جگہ لنگر خانے، مسافر خانے اور یتیم خانے بنوائے تھے، غرباء مساکین اور مجبور و ناچار آدمیوں کے روز ینے مقرر کر دیے تھے، کیا یہ تمام امور لطف وترحم کے دائرہ سے باہر ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ذمیوں اور کافروں کے ساتھ جس رحمدلی اور لطف کا سلوک کیا آج مسلمان، مسلمان سے نہیں کرتے، زندگی کے آخری لمحے تک ذمیوں کا خیال رہا، وفات کے وقت وصیت میں ذمیوں کے حقوق پر خاص زوردیا۔ عفو اس لطف و ترحم کی بنا پر عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ عفو اور درگزر سے بھی کام لیتے تھے، ایک دفعہ حر بن قیس اور عینیہ بن حصن حاضر خدمت ہوئے، عینیہ نے کہا آپ انصاف سے حکومت نہیں کرتے، عمر بن خطاب اس گستاخی پر بہت غضبناک ہوئے، حربن قیس نے کہا امیر المومنین! قرآن مجید میں آیا ہے"خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِين" یہ شخص جاہل ہے اس کی بات کاخیال نہ کیجئے، اس گفتگو سے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غصہ بالکل ٹھنڈا پڑ گیا۔ رفاہِ عام عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فریضۂ خلافت کی حیثیت سے رفاہ عام اور بنی نوع انسان کی بہبودی کے جو کام کیے اس کی تفصیل گزرچکی ہے، ذاتی حیثیت سے بھی ان کا ہرلمحہ خلق اللہ کی نفع رسانی کے لیے وقف تھا، ان کا معمول تھا کہ مجاہدین کے گھروں پر جاتے اور عورتوں سے پوچھ کر بازار سے سودا سلف لا دیتے تھے، مقام جنگ سے قاصد آتا تو اہل فوج کے خطوط ان کے گھروں میں پہنچا آتے اور جس گھر میں کوئی لکھا پڑھا نہ ہوتا خود ہی چوکھٹ پر بیٹھ جاتے اور گھر والے جو کچھ لکھا تے لکھ دیتے، راتوں کو عموماً گشت کرتے کہ عام آبادی کا حال معلوم ہو، ایک دفعہ گشت کرتے ہوئے مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر مقام حرار پہنچے، دیکھا کہ ایک عورت پکار رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں، پاس جاکر حقیقت حال دریافت کی، عورت نے کہا بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں، میں نے ان کے بہلانے کو خالی ہانڈی چڑھا دی ہے، عمر بن خطاب اسی وقت مدینہ آئے اور آٹا، گھی، گوشت اور کھجوریں لے چلے، عمر بن خطاب کے غلام اسلم نے کہا میں لیے چلتا ہوں، فرمایا، ہاں قیامت میں تم میرا بار نہیں اٹھاؤ گے اور خود ہی سب سامان لے کر عورت کے پاس گئے، اس نے پکانے کا انتظام کیا، حضرت عمرؓ دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ ایک دفعہ کچھ لوگ شہر کے باہر اترے، عمر نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو ساتھ لیا اور کہا مجھ کو ان کے متعلق مدینہ منورہ کے چوروں کا ڈر لگا ہوا ہے، چلو ہم دونوں چل کر پہرہ دیں؛چنانچہ دونوں آدمی رات بھر پہرہ دیتے رہے۔ ایک دفعہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک بدو کے خیمہ سے رونے کی آواز آئی، دریافت سے معلو ہوا کہ بدو کی عورت دردزہ میں مبتلا ہے، حضرت عمرؓ گھر آئے اور اپنی بیوی ام کلثوم ؓ کو ساتھ لے کر بدو کے خیمہ گئے، تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا، ام کلثوم ؓ نے پکار کر کہا اے امیر المومنین !اپنے دوست کو مبارکباددیجئے، بد وامیر المومنین کا لفظ سن کو چونک پڑا، عمر نے کہا کچھ خیال نہ کرو، کل میرے پاس آنا، بچہ کی تنخواہ مقرر کردوں گا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی غیر معمولی مصروفیات میں سے بھی مجبور، بیکس اور اپاہج آدمیوں کی خدمت گزاری کے لیے وقت نکال لیتے تھے، مدینہ سے اکثر نابینا اور ضعیف اشخاص فاروق اعظم ؓ کی خدمت گزاری کے ممنون تھے، خلوص کا یہ عالم تھا کہ خود ان لوگوں کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ فرشتہ رحمت کون ہے؟ حضرت طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ ایک روز علی الصبح امیر المومنین کو ایک جھونپڑے میں جاتے دیکھا، خیال ہوا کہ فاروق اعظم کا کیا کام ؟دریافت سے معلوم ہوا کہ اس میں ایک نابینا ضعیفہ رہتی ہے اور وہ روز اس کی خبر گیری کے لیے جایا کرتے ہیں۔ خدا کی راہ میں دینا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بہت زیادہ دولت مند نہ تھے، تاہم انھوں نے جو کچھ خدا کی راہ میں صرف کیا وہ ان کی حیثیت سے بہت زیادہ تھا، 9ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کی تیاری کی تو اکثر صحابہ نے ضروریات جنگ کے لیے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں، عمر نے اس موقع پر اپنے مال واسباب میں سے آدھا لے کر پیش کیا۔ یہود بنی حارثہ سے آپ کو ایک زمین ملی تھی اس کوخداکی راہ میں وقف کر دیا اسی طریقہ سے خیبر میں ایک بہترین سیر حاصل قطعۂ اراضی ملا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے ایک قطعہ زمین ملا ہے جس سے بہتر میرے پاس کوئی جائداد نہیں ہے، آپ کا کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وقف کر دو؛چنانچہ حسب ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فقراء اعزہ، مسافر، غلام اور جہاد کے لیے وقف کر دیا۔ ایک دفعہ ایک اعرابی نے نہایت رقت انگیز اشعار سنائے اور دست سوال دراز کیا، حضرت عمرؓ متاثر ہوکر بہت روئے اور کرتا اتار کر دے دیا۔ مساوات کا خیال عہد فاروقی میں شاہ گدا، امیروغریب، مفلس و مالدار سب ایک حال میں نظر آتے تھے، عمال کو تاکیدی حکم تھا کہ کسی طرح کا امتیاز ونمودا تیار نہ کریں، عمر نے خود ذاتی حیثیت سے بھی مساوات اپنا خاص شعار بنایا تھا، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنی معاشرت نہایت سادہ رکھی تھی، تعظیم وتکریم کو دل سے ناپسند کرتے تھے، ایک دفعہ کسی نے کہا، میں آپ پر قربان فرمایا ایسا نہ کہو، اس سے تمھار نفس ذلیل ہو جائے گا، اسی طرح زید بن ثابت ؓ قاضی مدینہ کی عدالت میں مدعا علیہ کی حیثیت سے گئے تو انھوں نے تعظیم کے لیے جگہ خالی کردی، عمر نے کہا تم نے اس مقدمہ میں یہ پہلی ناانصافی کی، یہ کہہ کر اپنے فریق کے برابر بیٹھ گئے۔ آپ کا مقولہ تھا کہ میں اگر عیش وتنعم کی زندگی بسر کروں اور لوگ مصیبت و افلاس میں رہیں تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا، سفر شام میں نفیس و لذیز کھانے پیش کیے گئے تو پوچھا کہ تمام مسلمانوں کو بھی یہ ایوان نعمت میسر ہیں؟ لوگوں نے کہا ہر شخص کے لیے کس طرح ممکن ہے؟فرمایا، تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں۔ خلافت کی حیثیت سے فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جاہ وجلال کا سکہ تمام دنیا پر بیٹھا ہوا تھا ؛لیکن مساوات کا یہ عالم تھا کہ قیصروکسریٰ کے سفراء آتے تھے تو انھیں یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ شاہ کون ہے؟درحقیقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خود نمونہ بن کر مسلمانوں کو مساوات کا ایسا درس دیا تھا کہ حاکم ومحکوم اور آقا وغلام کے سارے امتیازات اُٹھ گئے تھے۔ غیرت حضرت عمرؓ بالطبع غیور واقع ہوئے تھے، یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی غیرت کا پاس و لحاظ کرتے تھے، صحیح مسلم، ترمذی اور صحاح کی تقریباً سب کتابوں میں باختلاف الفاظ مروی ہے کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں ایک عالیشان طلائی قصر ملاحظہ فرمایا جو فاروق اعظم ؓ کے لیے مخصوص تھا اس کے اندر صرف اس وجہ سے تشریف نہیں لے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی غیر ت کا حال معلوم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر سے اس کا ذکر فرمایا تو وہ روکر کہنے لگے" أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ" (کیا میں آپ کے مقابلہ میں غیرت کروں گا یا رسول اللہ ﷺ۔ آیت حجاب نازل ہونے سے پہلے عرب میں پردہ کا رواج نہ تھا یہاں تک کہ خود ازواج مطہرات ؓ پردہ نہیں کرتی تھیں، حضرت عمرؓ کی غیرت اس بے حجابی کو نہایت ناپسند کرتی تھی، باربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتجی ہوئے کہ آپ ازواجِ مطہرات ؓ کو پردہ کا حکم دیں اس خواہش کے بعد ہی آیت حجاب نازل ہوئی۔ آپ کی غیرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جب آپ کو خبر ملی مسلمان عورتیں حماموں میں عیسائی عورتوں کے سامنے بے پردہ نہاتی ہیں تو تحریری حکم جاری کیا کہ مسلمان عورت کا غیر مذہب والی عورت کے سامنے بے پردہ ہونا جائز نہیں۔ خانگی زندگی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اولادو ازواج سے محبت تھی، مگر اس قدر نہیں کہ خالق ومخلوق کے تعلقات میں فتنہ ثابت ہو، اہل خاندان سے بھی بہت زیادہ شغف نہ تھا، البتہ زید ؓ سے جو حقیقی بھائی تھے، نہایت الفت رکھتے تھے جب وہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے تو نہایت قلق ہوا، فرمایا کرتے تھے کہ جب یمامہ کی طرف سے ہوا چلتی ہے تو مجھ کو زید کی خوشبو آتی ہے، زید نے اسماء نامی ایک لڑکی چھوڑی تھی اس کو بہت پیار کرتے تھے۔ مکہ سے ہجرت کرکے آئے تو مدینہ سے دومیل کے فاصلہ پر عوالی میں رہتے تھے ؛لیکن خلافت کے بعد خاص مدینہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متصل سکونت اختیار کی، چونکہ وفات کے وقت وصیت کردی تھی کہ مکان فروخت کرکہ قرض اداکیا جائے، اس لیے یہ مکان فروخت کر دیا گیا اور عرصہ دراز تک دارالقضا ءکے نام سے مشہور رہا۔ حصول معاش کا اعلیٰ ذیعہ تجارت تھا، مدینہ پہنچ کر زراعت بھی شروع کی تھی ؛لیکن خلافت کے بارگراں نے انھیں ذاتی مشاغل سے روک دیا تو ان کی عسرت کو دیکھ کر صحابہ نے اس قدر تنخواہ مقرر کردی جو معمولی خوراک اورلباس کے لیے کافی ہو، 15ھ میں لوگوں کے وظیفے مقرر ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے بھی پانچ ہزار درہم۔ سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔ (یہ وظیفہ بھی خلافت کی خصوصیت کی وجہ سے نہ تھا ؛بلکہ تمام بدری صحابیوں کا وظیفہ پانچ پانچ ہزار تھا، غذا اور لباس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غذا نہایت سادہ تھی یعنی صرف روٹی اور روغن زیتون پر گزارہ تھا کبھی کبھی گوشت دودھ، ترکاری اور سرکہ بھی دسترخوان پر ہوتا تھا، لباس بھی نہایت معمولی ہوتا تھا بیشتر صرف قمیص پہنتے تھے، اکثر عمامہ باندھتے تھے، جوتی قدیم عربی وضع کی ہوتی تھی۔ حلیہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ مبارک یہ تھا، رنگ گندم گوں، سر چندلا، رخسارے کم گوشت، ڈاڑھی گھنی اور مونچھیں بڑی بڑی، قد نہایت طویل، یہاں تک کہ سیکڑوں کے مجمع میں کھڑے ہوں تو سب سے سر بلند نظر آئیں۔ ازواج و اولاد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کیے، ان کے ازواج کی تفصیل یہ ہیں: # زینب # ہم‌شیرِ عثمان بن مظعون یہ مکہ میں مسلمان ہوکر مریں۔ # قریبہ بنت میۃ المخزومی، مشرکہ ہونے کے باعث انھیں طلاق دی دی تھی۔ # ملکیہ بنت جرول، مشرکہ ہونے کی وجہ سے ان کو بھی طلاق دیدی۔ # عاتکہ بنت زید، ان کا نکاح پہلے عبد اللہ بن ابی بکر ؓ سے ہوا تھا، پھر حضرت عمرؓ کے نکاح میں آئیں # ام کلثوم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور حضرت فاطمہ ؓ کی نور دیدہ تھیں، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاندا‌نِ‌ نبوت سے تعلق پیدا کرنے کے لیے 17ھ میں چالیس ہزار مہر پر نکاح کیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں حضرت حفصہ ؓ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات میں داخل تھیں، عمر نے اپنی کنیت بھی انھی کے نام پر رکھی تھی، اولاد مذکور کے نام یہ ہیں: # عبد اللہ # عاصم # ابوشحمہ # عبد الرحمن # زید # محیر ان سب میں عبد اللہ، عبید اللہ اور عاصم اپنے علم و فضل اور مخصوص اوصاف کے لحاظ سے نہایت مشہور ہیں۔ واقعات وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبد اللہ بن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گذری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی کی ہے۔ آ پ ( عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے : # گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔ # عمدہ کھانا نہ کھانا۔ # باریک کپڑا نہ پہننا۔ # حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔ عادات عمر علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عمر بن خطاب کی شہادت کے بعد جب علی ابن ابی طالب آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔ حدیث میں ذکر ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ: عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔ فضائل اہل بیت سے مروی فضائل ٌ* علی سے روایت ہے کہ [أن عمر لیقول القول فینزل القرآن بتصدیقہ }}(بے شک عمر فاروق البتہ جب کوئی کہتے ہیں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے )* فضل بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [عمر معنی وأنا مع عمر، والحق بعدی مع عمر حیث کان ]}}(میں عمر() کے ساتھ ہوں اور عمر ( ) میرے ساتھ ہیں اور حق میرے بعد عمر () کے ساتھ ہو گا)* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ[ نظر رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- إلى عمر ذات يوم وتبسم، فقال: "يابن الخطاب، أتدري لم تبسمت إليك?" قال: اللہ ورسولہ أعلم، قال: "إن اللہ -عز وجل- نظر إليك بالشفقة والرحمة ليلة عرفة، وجعلك مفتاح الإسلام]}} ( رسول اکرم ﷺ نے عمر فاروق کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا اے ابن خطاب !کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کیوں فرمایا تو عمرفاروق عرض کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی نے آپ کی طرف عرفہ کی رات رحمت اور شفقت سے نظر فرمائی اور آپ کو مفتاح اسلام (اسلام کی چابی) بنایا )* علی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا "عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة"( عمر فاروق اہل جنت کے سردار ہیں )جب عمر فاروق تک یہ بات پہنچی تو آپ ایک جماعت کے ساتھ علی کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا ہے کہ عمر فاروق اہل جنت کے چراغ ہیں علی جواب دیا جی ہاں عمر فاروق نے فرمایا آپ مجھے یہ تحریر لکھ دیں تو علی نے لکھا ("بسم اللہ الرحمن الرحيم: هذا ما ضمن علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب عن رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- عن جبريل عن اللہ تعالى أن عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة" عمر فاروق نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد میں سے ایک بیٹا کو دی اور فرمایا (إذا أنا مت وغسلتموني وكفنتموني فأدرجوا هذہ معي في كفني حتى ألقى بها ربي، فلما أصيب غسل وكفن وأدرجت مع في كفنہ ودفن)جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے غسل وکفن دینا اور پھر یہ تحریر میرے کفن میں ڈال دینا یہاں تک میں اپنے رب سے ملاقات کروں جب آپ وصال فرما گئے تو آپ کو غسل اور کفن دیا گیا اور آپ کے کفن میں وہ تحریر رکھ کر دفن کر دیا گیا۔}}* کثیر ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے نے ابو جعفر محمد بن علی سے ابو بکر اور عمر فاروق کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا[ بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ نِفَاقٌ۔ يَا كَثِيرُ مَنْ شَكَّ فِيهِمَا، فَقَدْ شَكَّ فِي السُّنَّةِ]}}( ابوبکر، عمر فاروق اور انصار کا بغض نفاق ہے۔ اے کثیر جس نے ان دونوں حضرات کے بارے میں شک کیا اس نے سنت میں شک کیا )* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [اللَّهمّ أعزّ الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطّاب]}}(اے اللہ اسلام کو ابو جہل بن ھشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے)تو عمر فاروق نے صبح کی اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آ گئے۔ * ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ "}}* علی سے روایت ہے [ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: " يَا عَلِيُّ، لا تُخْبِرْهُمَا ]}}کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا پس ابو بکر وعمر م تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے کہا اے علی () یہ دونوں اہل جنت کے اولین وآخرین کے بوڑھی عمر والوں کے سردار ہیں انبیاومرسلین کے علاوہ پھر مجھے کہا کہ اے علی، تم ان دونوں کو اس بات کی خبر نہ دینا۔ * ابن عباس سے فرماتے ہیں [أَكْثِرُوا ذِكْرَ عُمَرَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ، وَإِنْ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ ذَكَرْتُمُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى]}} عمر فاروق کا کثرت کے ساتھ ذکر کیا کرو جب تم ان کا ذکر کرتے ہوتو تم عدل کا ذکر کرتے ہو اور جب تم عدل کا ذکر کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو۔ عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم مزید دیکھیے * عمر سیریز (ویڈیوز) * ابوبکر صدیق * عثمان بن عفان * علی ابن ابی طالب حوالہ جات کتابیات * الكامل في التاريخ – المجلد الثاني، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔ * الكامل في التاريخ – المجلد الثالث، ابن الأثير (1979)۔ عز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن أبي الكرم الشيباني۔ دار صادر۔ * الوجيز في الخلافة الراشدة (الطبعة الأولى سنة 2006)۔ محمد قباني۔ دار الفاتح - دار وحي القلم۔ * عمر بن الخطاب: الفاروق القائد (الطبعة الثانية سنة 1966)۔ محمود شیث خطاب۔ دار مكتبة الحياة۔ * عصر الصّدِّيق (الطبعة الأولى سنة 1983)۔ شبير أحم محمد علي الباكستاني۔ الدار السعودية۔ * فصل الخطاب في سيرة عمر بن الخطاب (الطبعة الأولى سنة 2002)۔ علي محمد محمد الصلابي۔ مكتبة الصحابة، مكتبة التابعين۔ * الطريق إلى دمشق (الطبعة الثالثة سنة 1985)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔ * اليرموك والفتح العمري الإسلامي للقدس (الطبعة الأولى سنة 2002)۔ سهيل زكار۔ دار الفكر۔ * أكرم، آغا إبراهيم (1982)، سيف اللہ: خالد بن الوليد – دراسة *عسكرية تاريخية عن معاركہ وحياتہ، مؤسسة الرسالة، ISBN 0-19-597714-9 * لعقاد، عباس محمود (2002)، عبقرية خالد، دار نهضة مصر، ISBN 977-14-1873-4 * الطريق إلى المدائن (الطبعة السادسة سنة 1986)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔ * قادة فتح العراق والجزيرة (الطبعة الثالثة سنة 1977)۔ محمود شيت خطاب۔ دار الفكر۔ * القادسية (الطبعة الثالثة سنة 1977)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔ * سقوط المدائن (الطبعة الثالثة سنة 1984)۔ أحمد عادل كمال۔ دار النفائس۔ * عبقرية عمر - المؤلف عباس محمود العقاد۔ * نظرات في فقہ الفاروق عمر بن الخطاب- محمد محمد المدني۔ * مناقب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب – ابن الجوزي۔ * عمر بن الخطاب:الوثيقة الخالدہ للدين الخالد - عبد الكريم الخطيب۔ * الفاروق عمر بن الخطاب - محمد رضا۔ * فصل الخطاب في سيرة ابن الخطاب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب شخصيتہ وعصرہ – علي محمد الصلابي۔ * موسوعة فقہ عمر بن الخطاب – محمد رواس قلعہ جي۔ * عبد الساتر، لبيب (2003)۔html?id=_lY6PgAACAAJ&redir_esc=y الحضارات۔ دار المشرق، بيروت۔ ط 16. بیرونی روابط * تاریخ خلفاء بقلم جلال الدین سیوطی * سیرت امیر المؤمنین عمر بن خطاب بقلم شیخ سید محمد یحییٰ الحسینی النینوی۔ زمرہ:اصحاب احد زمرہ:اصحاب بدر زمرہ:اصحاب بیعت الرضوان زمرہ:اصحاب خیبر زمرہ:اہل سنت کے محبوب صحابہ زمرہ:باب حدیث/متعلقہ مضامین زمرہ:تیز دھار والے ہتھیاروں سے اموات زمرہ:تیز دھار ہتھیار سے اموات زمرہ:حفاظ قرآن زمرہ:خلفائے راشدین زمرہ:ساتویں صدی کی شخصیات زمرہ:ساتویں صدی کے خلیفہ زمرہ:ساتویں صدی کے مقتول حکمران زمرہ:سنی حکمران زمرہ:شاہنامہ فردوسی کے کردار زمرہ:شہداء صحابہ زمرہ:عرب مسلم شخصیات زمرہ:عشرہ مبشرہ زمرہ:عمر بن خطاب زمرہ:فارس کی اسلامی فتوحات کی شخصیات زمرہ:مرد مقتولین زمرہ:مسجد نبوی میں تدفین زمرہ:مسلم جوامع زمرہ:مسلمان بلحاظ صدی زمرہ:مقتول خلیفہ زمرہ:مقتول سیاست دان زمرہ:نو مسلمین زمرہ:وزراء رسول زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:644ء کی وفیات زمرہ:584ء کی پیدائشیں
[Wikipedia:ur] عراق عراق ایشیا کا ایک اہم عرب اور مسلمان ملک ہے، سرکاری طور پر جمہوریہ عراق، مشرق وسطی کا ایک ملک ہے۔ یہ ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے جو انیس صوبوں پر مشتمل ہے۔ یہ قدیم میسوپوٹیمیا (مابین النھرین) کے کچھ صحرائی علاقوں اور مزید کچھ علاقوں پر مشتمل ہے۔ تیل کے ذخائر میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے جنوب میں کویت اور سعودی عرب، مغرب میں اردن، شمال مغرب میں شام، شمال میں ترکی اور مشرق میں ایران (کردستان علاقہ) ہے۔ اسے ایک محدود سمندری رسائی بھی حاصل ہے جو خلیج فارس کے ساحل ام قصر پر ہے جو بصرہ سے قریب ہے۔ عراق دنیا کے قدیم ترین ممالک میں شامل ہے جس نے کئی تہذیبوں کو جنم دیا ہے۔ فلسطین کی طرح اسے انبیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ عراق، سلطنت فارس کا حصہ تھا اور یہ خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں اسلامی لشکر کے ہاتھوں فتح ہوا۔ دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر بغداد ہے۔ زیادہ تر عراقی مسلمان ہیں۔ اقلیتی عقائد میں عیسائی، یزدی اور زرتشتی مذاہب شامل ہیں۔ عراق کی سرکاری زبانیں عربی اور کرد ہیں۔ دوسری زبانیں بھی مخصوص علاقوں میں بولی جاتی ہیں جیسے ترکی (ترکمان)، سورت (آشوری) اور آرمینیائی۔ عراق دنیا کا تینتیسواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ 2003ء میں اس پر امریکا نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے البتہ کافی تعداد میں مسیحی بھی ہیں۔ اس کا دار الحکومت بغداد ہے جو اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے علاوہ نجف، کوفہ، بصرہ، کربلا، سامرا، موصل اور کرکوک اس کے مشہور شہر ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات اس کے مشہور دریا ہیں۔ ان کے درمیان میں کی وادی انتہائی زرخیز ہے اور اس میں سات سے نو ہزار سال سے بھی پرانے آثار ملتے ہیں۔ سمیری، اکادی، اسیریا اور بابل کی تہذیبیں اسی علاقے میں پروان چڑھیں اور فنا ہوئیں۔ سن 2020 ء میں جمہوریہ عراق کی آبادی کا تخمینہ تقریباً 40,150,000 افراد لگایا گیا تھا، جس میں مردوں کی آبادی 50.50 فیصد اور خواتین کی آبادی 49.5 فیصد ہے۔ آبادی کا تناسب 75 فیصد عرب اور 15 فیصد کرد ہیں، جب کہ بقیہ 10 فیصد آشوری، ترکمان اور دیگر اقلیتیں ہیں۔ عراق کی اکثریتی آبادی کا مذہب اسلام ہے اور یہ آبادی کا 95 فیصد ہے۔ مذہبی اقلیتیں آبادی کا 5 فیصد ہیں، جو زیادہ تر آشوری عیسائی ہیں۔ دیگر مذاہب میں ماندیت، یزدیت، یہودیت، مجوسیت اور بہائی ازم ہیں۔ عراق کی نسلوں کا تعلق عرب، کرد، ترکمان، آشوری، یہودی، آرمینیائی، روما اور دیگر سے ہیں۔ چھ ہزار قبل مسیح سے عراق کے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان کے زرخیز میدانی میدان، جسے میسوپوٹیمیا کہا جاتا تھا، نے سمیری، اکادی اور آشوری دور کے قدیم ترین شہروں، تہذیبوں اور سلطنتوں کو جنم دیا۔ میسوپوٹیمیا ایک "تہذیب کا گہوارہ" تھا جس نے تحریری نظام، ریاضی، وقت کا نظام، تقویم، علم نجوم اور قانون میثاق کو دیکھا۔ بعد میں، عباسی خلافت کے دور میں، بغداد دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر بن گیا۔ اسلامی سنہری دور کے دوران، یہ شہر ایک اہم ثقافتی اور فکری مرکز میں تبدیل ہوا اور اس نے اپنے تعلیمی اداروں بشمول دارالحکمہ کے لیے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ یہ شہر سنہ 1258ء میں بغداد کے محاصرے کے دوران منگول سلطنت کے ہاتھوں بڑی حد تک تباہ ہو گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اسی علاقے سے تھا اور بروایتے حضرت آدم علیہ السلام نے بھی اس کے شہر قرنہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔ 2003ء میں اس پر امریکا نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے البتہ کافی تعداد میں مسیحی بھی ہیں۔ اس کا دار الحکومت بغداد ہے جو اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے علاوہ نجف، کوفہ، بصرہ، کربلا، سامرا، موصل اور کرکوک اس کے مشہور شہر ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات اس کے مشہور دریا ہیں۔ ان کے درمیان میں کی وادی انتہائی زرخیز ہے اور اس میں سات سے نو ہزار سال سے بھی پرانے آثار ملتے ہیں۔ سمیری، اکادی، اسیریا اور بابل کی تہذیبیں اسی علاقے میں پروان چڑھیں اور فنا ہوئیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق میں پیدا ہوئے اور یہ بہت سے انبیا کی سرزمین ہے جیسے یونس، حزقیل، دانیال، عزیر، نحم، حنینہ (عربی میں حنین) ، آدم ، نوح، ہود، صالح، ذوالکفل، سلیمان، اور ایوب وغیرہ اور مسلمانوں کے بہت سے امام جن میں جیسے کہ امام علی، امام حسین، ان کے بھائی عباس بن علی، محمد بن حسن مہدی عبد القادر جیلانی، امام ابو حنیفہ النعمان اور بہت سے مزارات موجود ہیں۔ جغرافیائی طور پر، خلیج عرب دنیا کے لیے عراق کا واحد سمندری راستہ ہے، کیونکہ عراق کے سمندری ساحل کی لمبائی تقریباً 58 کلومیٹر ہے اور بصرہ میں ام قصر کی بندرگاہ خلیج کی عراقی بندرگاہوں میں سے ایک اہم ترین بندرگاہ ہے۔ دجلہ اور فرات کے دریا شمالی عراق سے اس کے جنوب میں گزرتے ہیں، جو میسوپوٹیمیا پر دنیا کے پہلے تہذیبی مراکز کے ظہور کی بنیاد تھے، جو پوری تاریخ میں اور 8000 سال کے عرصے کے دوران پیدا ہوئے۔ میسوپوٹیمیا کی تہذیب کی طرف سے تیار کردہ مصنوعات میں سمیری باشندوں کے خطوط کی ایجاد تھی۔ اور بنی نوع انسان کی تاریخ میں پہلے تحریری قوانین کا نفاذ، جس میں تاریخی ذرائع میں ضابطہ حمورابی کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ امکان ہے کہ عراق میں دنیا کا پہلا عجائب گھر تھا جو 530 قبل مسیح میں بنایا گیا۔ جدید عراق کی تاریخ سنہ 1920ء سے شروع ہوتی ہے، جب میسوپوٹیمیا کے لیے برطانوی مینڈیٹ لیگ آف نیشنز کے اختیار کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ہاشمی خاندان کے شہزادہ فیصل کی قیادت میں سنہ 1921ء میں برطانوی حمایت یافتہ بادشاہت قائم ہوئی۔ سنہ 1932ء میں ہاشمی بادشاہت نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ سنہ 1958ء میں عبد الکریم قاسم کی زیر قیادت، بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا اور عراقی جمہوریہ تشکیل دی گئی۔ عراق پر سنہ 1968ء سے 2003 تک عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کی حکومت رہی، جس کی قیادت احمد حسن البکر اور پھر صدام حسین نے ایک جماعتی ریاست کے طور پر کی۔ عراق نے سنہ 1980ء میں ایران پر حملہ کیا، جس سے ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا جو سنہ 1988ء میں ختم ہوئی، جس میں دونوں فریقوں کو تباہ کن نقصان پہنچا۔ سنہ 1990ء میں، عراق نے کویت پر حملہ کیا، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کی مذمت کی گئی اور امریکا کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے ایک فوجی مہم چلائی گئی جس نے عراقی افواج کو کویت سے نکال دیا۔ "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ" کے ایک حصے کے طور پر ایک اور امریکی زیرقیادت اتحاد کی جانب سے سنہ 2003ء میں شروع کیے گئے حملے کے نتیجے میں بعثی عراق کو شکست ہوئی اور صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ عارضی اتھارٹی کی پالیسیوں سے عدم اطمینان نے امریکا مخالف شورش کو جنم دیا، جو فرقہ وارانہ خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ سنہ 2005ء میں، نیا آئین اپنایا گیا اور عراق میں کثیر الجماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء سنہ 2008ء میں شروع ہوا اور امریکی قبضہ سرکاری طور پر سنہ 2011ء میں ختم ہوا۔ نوری المالکی کی شیعہ حکومت کی مسلسل جبر اور فرقہ وارانہ پالیسیاں 2012- .2013 میں عراقی مظاہروں کا سبب بنیں، جس کے بعد بعثی اور سنی ملیشیا کے اتحاد نے سنہ 2013ء کی انبار مہم کے دوران ہتھیار اٹھا لیے۔ اس مہم کا عروج شمالی عراق میں اسلامک اسٹیٹ گروپ، دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی طرف سے حملہ تھا جس نے اس کی تیزی سے علاقائی توسیع کی نشان دہی کی، جس سے عراق میں جنگ لڑنے کے لیے امریکی فوجیوں کی واپسی پر اکسایا گیا، جو 2017 تک جاری رہی۔ ایران نے سنہ 2014ء کے بعد سے عراق میں فرقہ وارانہ جماعتوں اور خمینی ملیشیا گروپوں کے ذریعے مداخلت کی۔ اس کا اثر و رسوخ عراق میں وسیع پیمانے پر احتجاج کو متحرک کرتا ہے۔ عراق ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور آئین دو ادارے، نمائندوں کی انجمن اور کونسل آف یونین فراہم کرتا ہے۔ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ سے آزاد اور خود مختار ہے۔ عراق کو ایک ابھرتی ہوئی درمیانی طاقت اور ایک اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ اور اوپیک OPEC کے ساتھ ساتھ عرب لیگ، اسلامی ممالک کی تنظیم OIC، غیر وابستہ تحریک اور IMF کا بانی رکن ہے۔ سنہ 1920ء سے 2005ء تک، عراق نے اہم اقتصادی اور فوجی ترقی اور جنگوں سمیت مختصر عدم استحکام کا تجربہ کیا۔ مختصر تاریخ قبل از تاریخ عراق قدیم ترین انسانوں کی رہائش گاہ تھی۔ طوفانِ نوح یہیں پر آیا تھا۔ عراق سے ملنے والے آثارِ قدیمہ ثابت کرتے ہیں کہ زمانہ قبل از تاریخ میں بھی یہاں کے لوگ باقاعدہ زبان، ثقافت اور مذہب رکھتے تھے۔ عراق کے شمال مشرق میں شانیدر کے غاروں سے ملنے والے نیاندرتھال انسان کے ڈھانچوں سے، جو پچاس سے ساٹھ ہزار سال پرانے ہیں، یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور رسومات ادا کیا کرتے تھے مثلاً اپنے مردے پھولوں کے ساتھ دفناتے تھے۔ زمانہ قدیم تصغیر|180x180پکسل|حدیدہ محافظہ الانبار|، الانبار میں دریائے فرات تصغیر|156x156پکسل|میسوپوٹیمیا دوسرے ہزار سال قبل مسیح کے دوران -- سال 2000 قبل مسیح سے 1000 قبل مسیح کے درمیان۔ ایم تصغیر|190x190پکسل|4500 قبل مسیح اور 1900 قبل مسیح کے درمیان سمیری|سمیری تہذیب۔ ایم۔ عراق کو پہلی انسانی تہذیب کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔ عراق کا قدیم نام میسوپوٹیمیا ہے۔ مگر یہ وہ نام ہے جو یونانیوں نے انھیں دیا تھا جس کا مطلب یونانی زبان میں، دریاووں کے درمیان، کے ہیں چونکہ یہ تہذیب دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان میں پروان چڑھی۔ اسے ہم تہذیب مابین النھرین یا بلاد الرافدين کہتے ہیں۔ یہ علاقہ سمیریا، اکادی، اسیریائی، کلدانی، ساسانی اور بابل کی تہذیبوں کا مرکز تھا جو پانچ ہزار سال قبل از مسیح باقی دنیا میں بھی نفوذ کر گیا۔ انھوں نے دینا کو لکھنا سکھایا اور ابتدائی ریاضیات، فلسفہ اور سائنسی علوم کے اصول دیے۔ اکادی سلطنت لبنان کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ لبنان وہ علاقہ ہے جس نے ابتدائی حروف بنائے اور سمندری جہاز رانی کی ابتدا کی۔ اکادیوں کے بعد سمیریوں اور اس کے بعد بابل کی تہذیب نے فروغ پایا۔ بابل کی تہذیب میں حمورابی کی بادشاہت میں انھوں نے دنیا کو شہریت کے ابتدائی قوانین دیے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اگلے چار سو سال کے لیے سائرس اعظم کی سلطنتِ فارس کا حصہ بن گیا۔ جس کے بعد سکندر اعظم نے یہ علاقہ فتح کیا جو دو سو سال کے لیے یونانی سلطنت کے زیرِنگیں رہا۔ سکندر کے بعد ایرانیوں نے ساتویں صدی عیسوی تک راج کیا۔ خلافت راشدہ خلافت راشدہ میں عراق ساسانی سلطنت کا حصہ تھی۔ سلطنت، اسلامی خلافت کی سرحدوں تک شروع ہوئی جسے اسلامی فتح فارس کہا جاتا ہے اور اس کا آغاز سلطنت کے سیاسی اور اقتصادی مرکز عراق پر مسلمانوں کے حملے کی فتوحات سے ہوا سنہ 11 ہجری بمطابق 633 عیسوی میں خالد بن الولید کی قیادت میں عراق پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی۔ اس فتح کے بعد خالد بن الولید کو رومی محاذ پر بھیجا گیا تو مسلمانوں پر فارسیوں نے حملہ کیا جس کی وجہ سے انھیں نقصان اٹھانا پڑا۔ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں فتوحات کی دوسری لہر سعد ابن ابی وقاص کی قیادت میں سنہ 14 ہجری بمطابق 636 عیسوی میں شروع ہوئی، چنانچہ فیصلہ کن فتح سنہ 636 عیسوی میں جنگ قادسیہ کی صورت میں ہوئی اور سعد ابن ابی وقاص نے عراق پر حکومت کی۔ خلیفہ عمر بن الخطاب کے دور میں بصرہ اور کوفہ شہر تعمیر ہوئے۔ جنگ جمل کے بعد، امام علی نے خلافت کے دار الحکومت کو مدینہ سے کوفہ منتقل کر دیا کیونکہ اس وقت اسلامی ریاست کی سرزمین کے وسط میں یہ مقام تھا۔ اور عراق کا انتظام ان گورنروں کے زیر انتظام رہا جو مدینہ میں خلیفہ کے ذریعہ مقرر کیے گئے تھے، یہاں تک کہ چوتھے خلیفہ علی بن ابی طالب کے قتل سے پہلے، جنھوں نے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنا لیا تھا۔ اموی ریاست اموی ریاست یا اموی خلافت ( 41-132 ہجری / 662-750 AD ) اسلام کی تاریخ میں دوسری خلافت تھی اور اسلام کی تاریخ کی سب سے بڑی ریاست تھی۔ بنو امیہ کے خاندان نے 41 ہجری (662 ء) سے 132 ہجری (750 ء) تک حکومت کی اور ریاست کا دار الحکومت موجودہ جمہوریہ شام کے شہر دمشق میں تھا۔ معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں سیاسی سطح پر سب سے نمایاں تبدیلی یہ تھی کہ انھوں نے ریاست کے دار الحکومت کو کوفہ سے دمشق منتقل کر دیا (جب علی نے اسے مدینہ سے کوفہ منتقل کیا تھا) اور اس سے کچھ لوگ ناراض ہوئے۔ عراق اور حجاز کے ریاست نے ان کے دور حکومت میں استحکام اور خوش حالی کے دور کا مشاہدہ بھی کیا اور طویل وقفے کے بعد فتوحات کی پیروی کی۔ تصغیر|200x200پکسل|اموی ریاست کی حدود اموی خاندان کے دوران عراق رونما ہونے والے اہم ترین واقعات میں سے یہ ہیں: کربلا میں الطف کا واقعہ جو تین دن پر محیط تھا اور اس کا اختتام 10 سنہ 61 ہجری کو ہوا جو 12 اکتوبر 680ء کے مطابق ہے۔ محمد بن عبداللہ، جنھیں مسلمانوں نے جنگ کے خاتمے کے بعد "شہداء کا آقا" کہنا شروع کیا اور ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور ساتھی اور اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج تھی۔ جس کے نتیجے میں حسین اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے۔ اور اہل عراق نے حجاز کے لوگوں کے ساتھ عبد اللہ بن زبیر کے خلیفہ کی بیعت کی، پھر اس کے بعد مختار الثقفی نے سنہ 66 ہجری میں بنی امیہ کے خلاف انقلاب کا اعلان کیا اور اس کے قاتلوں کے ایک گروہ کو قتل کر دیا۔ امام حسین جو کوفہ اور دیگر جگہوں پر تھے، جیسے عمر بن سعد اور شمر ابن ذی الجوشن اور دیگر اور کوفہ میں حکومت پر قبضہ کیا اور نعرہ بلند کیا۔ "اوہ، حسین کا بدلہ" اور عراق میں علوی ریاست بنانے کا ارادہ کر رہا تھا اور خلیفہ کے دور میں مصعب بن زبیر کی فوج کے ہاتھوں سنہ 67 ہجری میں کوفہ میں مارا گیا۔ عبد الملک بن مروان جس نے سنہ 71 ہجری میں "جنگ دیر الجثیق" میں کامیابی کے بعد عراق کا مینڈیٹ دوبارہ حاصل کیا۔ اور عبد الملک بن مروان نے عبد اللہ بن زبیر کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد حجاج بن یوسف کو عراق اور مشرق کا گورنر بنا کر بھیجا۔ عراق میں بنی امیہ کی حکمرانی انقلابات سے مشروط تھی، جس میں زید بن علی بن الحسین کا خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے خلاف سنہ 121 ہجری میں انقلاب بھی شامل تھا، اور عراق میں بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اموی خلیفہ مروان بن محمد کی عبد اللہ بن علی عباسی کی قیادت میں عباسی فوجوں کے حق میں ہارنے کے بعد 132 ہجری (750 عیسوی) میں جمادی الآخرہ کے مہینے میں عظیم زب کی جنگ ہوئی۔ عباسی خلافت تصغیر|152x152پکسل|عباسی سونے کا دینار عباسی ریاست کے دوران 1244 عیسوی میں عباسی ریاست، اسلامی حکمران خاندانوں میں سے دوسری۔ عباسی امویوں کو اقتدار سے ہٹانے اور خود کو خلافت سے الگ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے اس حکمران خاندان کو ختم کر دیا اور اس کے بیٹوں کا پیچھا کیا یہاں تک کہ ان میں سے اکثر کو ختم کر دیا اور صرف ان لوگوں کو بچایا گیا جو اندلس میں پناہ مانگتے تھے۔ عباسی ریاست کا قیام پیغمبر اسلام کے سب سے چھوٹے چچا محمد بن عبد اللہ، یعنی العباس بن عبد المطلب کے خاندان کی اولاد نے کیا تھا۔ یہ ریاست دمشق کے شہر سے کوفہ تک تھی۔ پھر انبار، اس سے پہلے کہ انھوں نے بغداد شہر کو اپنا دار الحکومت بنایا اور بغداد تین صدیوں تک ترقی کرتا رہا اور دنیا کا سب سے بڑا اور خوبصورت شہر بن گیا، خاص طور پر خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں، جس کا نام بغداد تھا۔ ہزار راتوں کے ناولوں سے وابستہ تھا اور ایک رات اور باقی عالمی ادب میں لیکن اس کا ستارہ پوری طرح عباسی ریاست کے غروب آفتاب کے آغاز کے ساتھ ہی مدھم ہونا شروع ہو گیا۔ عباسی ریاست کے انہدام کی وجوہات مختلف تھیں، خاص طور پر: اس دور میں مختلف عوامی اور مذہبی تحریکوں کا ابھرنا۔ ان ٹیموں اور عباسی حکمرانوں کے درمیان جھگڑے کا مرکز " خلافت " یا مسلمانوں کی قیادت تھی۔ علیحدگی پسند تحریکوں کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرنے والے اندرونی عوامل میں عباسی ریاست کے علاقے میں توسیع بھی تھی، کیونکہ اس وقت دار الحکومت اور ریاست کے کچھ حصوں کے درمیان فاصلہ اور نقل و حمل کی دشواریوں نے دور دراز ممالک کے گورنروں کو اپنے اختیارات سے تجاوز کر دیا تھا۔ اور اپنی علیحدگی پسند تحریک کو روکنے کے لیے خلافت کے دار الحکومت سے آنے والی فوجوں سے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنی ریاستوں کے معاملات میں خود مختار ہو گئے۔ جو اس وقت تک نہیں پہنچی جب تک کہ بہت دیر ہو چکی تھی اور عباسی ریاست کی سب سے نمایاں علیحدگی پسند تحریکوں میں سے ایک: مطالعہ تحریک، اضلاع کی تحریک، اور فاطمی تحریک۔ عباسی ریاست کی حکمرانی کے دوران، ہمدانیوں نے موصل پر قبضہ کر لیا اور اس پر (890 AD-1004 AD) تک حکومت کی، اس طرح ہمدانی ریاست قائم ہوئی۔ بغداد میں عباسی حکومت کا خاتمہ سنہ 656 ہجری / 1258 عیسوی میں ہوا جب ہلاکو خان تاتاری اس شہر پر حملہ کیا۔ منگول حملہ اور اس کا نتیجہ تصغیر|بغداد کا محاصرہ (1258)۔ رشید الدین فضل اللہ ہمدانی|راشد الدین فضل اللہ الہمدنی کی کتاب "جامع التواریخ " سے۔ 1257 میں منگول کمانڈر ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کرنے کے لیے منگول سلطنت کی بڑی تعداد میں فوجیں جمع کرنا شروع کیں۔ اسلامی خلافت کے دار الحکومت میں پہنچنے پر، ہلاکو نے عباسی خلیفہ المستسم باللہ سے ہتھیار ڈالنے کو کہا، لیکن خلیفہ نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا، جس سے ہلاکو ناراض ہوا، چنانچہ اس نے دار الحکومت کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ جو مزاحمت کی حوصلہ شکنی کی منگول حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے اور بغداد مکمل طور پر تباہ ہو گیا، اور اندازے کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 200,000 سے لے کر ایک ملین تک ہے۔ ہلاکو کی نسطوری بیوی ڈوکوز خاتون کی مداخلت سے مقامی عیسائی آبادی کو کسی نے پریشان نہیں کیا۔ بیت الحکمت لائبریری کو جلانے کے علاوہ، جو اس وقت کی سب سے بڑی سائنسی، ادبی اور فنی لائبریری سمجھی جاتی تھی، کیونکہ اس میں لاتعداد قیمتی کتابیں اور آثار قدیمہ کے انمول دستاویزات موجود تھے۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ منگول حملے نے زرعی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جس نے میسوپوٹیمیا کو ہزاروں سالوں تک پھلتا پھولتا رکھا۔ تاہم، دوسرے مورخین نے نشان دہی کی کہ زرعی شعبے کے زوال کی بنیادی وجہ مٹی کی کھاری ہے۔ منگولوں کے حملے کے بعد، جلائر نے عراق پر حکومت کی اور سال 1401 میں امیر تیمور نے عراق پر حملہ کیا اور اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد بغداد کو تباہ کر دیا اور تباہی کے نتیجے میں تقریباً 20،000 بے دفاع باشندے مارے گئے۔ تیمرلین نے ہر سپاہی کو مقتولین کے دو سروں کے ساتھ اس کے پاس واپس آنے کا حکم دیا (اور سپاہیوں کے اس سے خوف کی وجہ سے، انھوں نے بغداد میں داخل ہونے سے پہلے ان قیدیوں کو مار ڈالا کہ جب وہ اس کے پاس آئے تو اسے سر دکھائے)۔ اور تیموری ریاست سے اس کا الحاق۔ پندرہویں صدی میں، قرہ قویونلو کے قبائل نے عراق پر اپنا کنٹرول بڑھانے میں کامیاب ہو گئے، کیونکہ ان کے رہنما بہرام خواجہ نے موصل شہر پر اپنا کنٹرول بڑھایا اور پھر اس کے بیٹے یوسف بن قرہ محمد، پیرام کا پوتا، ایران میں تبریز کے قریب جلیری فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہوا اور اس نے عراق پر قبضہ کر لیا اور کالی بھیڑوں کی حکمرانی 1467 عیسوی میں دوسرے ترک قبائل یعنی سفید بھیڑوں کے بعد ختم ہو گئی۔ عراق پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، کیونکہ ان کے امیر حسن قسون نے بلیک شیپ قبائل کی فوج کو شکست دی اور انھیں عراق سے نکال دیا۔ صفوی ریاست تصغیر|153x153پکسل|صفوی ریاست کی توسیع 1501 AD-1722 AD میں صفویوں، شاہوں کے خاندان نے 1501-1785 عیسوی میں فارس ( ایران ) پر حکومت کی اور 1509 میں شاہ اسماعیل صفوی کی قیادت میں بغداد پر قبضہ کر لیا۔ صفویوں کے زیر تسلط رہا یہاں تک کہ 1535 میں عثمانیوں نے اسے ان سے چھین لیا، لیکن صفویوں نے جلد ہی 1624 عیسوی میں اس پر قبضہ کر لیا اور جب شاہ کی فوج داخل ہوئی تو اس میں قتل عام ہوا اور یہ باقی رہا۔ صفوی حکومت کے تحت 1638 عیسوی تک، جب عثمانی سلطان مراد چہارم نے 1638 عیسوی میں اس میں داخلہ لیا۔ سلطنت عثمانیہ تصغیر|194x194پکسل|1803ء میں عراق۔ صفوی ریاست نے سفید بھیڑوں کی ریاست کو شکست دی جو عراق، ایران، آذربائیجان، آرمینیا، ترکی کے کچھ حصوں، ترکمانستان اور جارجیا پر حکومت کر رہی تھیں اور عراق مختصر مدت کے لیے صفویوں کے ماتحت ہو گیا، یعنی 1508ء کے عرصے میں۔، پھر انھوں نے عثمانیوں کے ساتھ جنگ چالدران میں اپنی شکست کے بعد 1514ء سے آہستہ آہستہ عراق کو کھو دیا یہاں تک کہ انھوں نے 1533ء میں اپنی تمام سرزمین عراق کو کھو دیا، پھر 1623-1638 کے درمیان عراق کو دوبارہ فتح کیا۔ سترہویں صدی تک سلطنت عثمانیہ کی طاقت ایک طرف صفوی ریاست اور دوسری طرف یورپی ممالک کے ساتھ بار بار تنازعات کی وجہ سے ختم ہو گئی اور اپنی ریاستوں پر اس کا کنٹرول کمزور ہو گیا۔ جزیرہ نما عرب میں نجد سے خانہ بدوشوں کی آمد سے آبادی میں اضافہ ہوا۔ اور آباد علاقوں پر بدویوں کے چھاپوں کو روکنا ناممکن ہو گیا۔ زیادہ تر ہجرتیں وسطی اور جنوبی علاقوں کی طرف تھیں، خاص طور پر وہ جو دریائے فرات سے متصل ہیں، یعنی انبار سے بصرہ تک۔ 1747-1831 کے درمیانی عرصے کے دوران، ادیگی قوم نسل کے مملوک افسروں نے عراق پر حکومت کی وہ عثمانی سبلائم پورٹ سے خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے قبائلی بغاوتوں کو کچل دیا، ینی چری فورس کے اختیارات کو محدود کیا، امن بحال کیا اور ایک پروگرام متعارف کرایا۔ معیشت اور فوجی نظام کو جدید بنانا۔ 1831ء میں، عثمانیوں نے مملوک حکومت کا تختہ الٹنے اور عراق پر براہ راست کنٹرول مسلط کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں عراق کی آبادی پچاس لاکھ سے کم تھی۔ اور عراق میں عثمانی سلطنت کے اختتام پر، اس نے قتل عام کیا جسے سیفو قتل عام کے نام سے جانا جاتا ہے، جسے آشوری قتل عام یا شامی قتل عام بھی کہا جاتا ہے، جو سلطنت عثمانیہ کی باقاعدہ افواج کی مدد سے شروع کی جانے والی جنگی کارروائیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ نیم باقاعدہ مسلح گروہوں کا جنھوں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران اور اس کے بعد آشوری قوم کے شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ان میں سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور دیگر موجودہ ترکیہ کے جنوب مشرق اور شمال مغربی ایران میں اپنے اصل رہائش کے علاقوں سے بے گھر ہو گئے۔ ان میں سے کچھ عراق میں آباد ہوئے۔ پہلی جنگ عظیم، برطانوی مینڈیٹ اور کنونشنز تصغیر|220x220پکسل|سر فریڈرک اسٹینلے ماؤڈ 1917ء میں [[بغداد میں برطانوی فوج (ہندوستانیوں کی طرف سے) کی کمان کرتے ہوئے]] عراق تین ریاستوں سے قائم ہوا: بغداد، بصرہ اور موصل، جو سابقہ سلطنت عثمانیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ عراق پر عثمانی حکومت پہلی جنگ عظیم تک جاری رہی، جب عثمانیوں نے جرمنی اور مرکزی طاقتوں کا ساتھ دیا۔ جنگ کا اعلان کرنے کے بعد، میسوپوٹیمیا مہم میں انگریزوں نے 92,000 فوجیوں کو کھو دیا۔ عثمانی نقصانات معلوم نہیں تھے، لیکن برطانوی افواج نے عثمانی فوج سے 45,000 قیدیوں کو پکڑ لیا۔ برطانوی فوج 11 مارچ 1917ء کو بغداد میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ 1918ء کے آخر تک اس خطے میں 410,000 برطانوی فوجی تعینات تھے، جن میں سے 112,000 جنگی فوجیں تھیں۔ 1916 میں، برطانیہ اور فرانس نے سائیکس پیکو معاہدہ کے تحت پہلی جنگ عظیم کے بعد مغربی ایشیا کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا۔ جنگ کے بعد، جمعیت اقوام نے میسوپوٹیمیا کی ریاستوں (یعنی بغداد، بصرہ اور موصل ) کو برطانیہ سے نوازا۔ 11 نومبر 1920ء کو عراق برطانوی کنٹرول میں لیگ آف نیشنز کا مینڈیٹ بن گیا۔ برطانوی مسلح افواج نے قبضے کے خلاف عرب اور کردوں کی بغاوتوں کو کچل دیا۔ ان انقلابات میں سب سے نمایاں: بیس کی دہائی کا انقلاب اور شام میں دیر الزور کا انقلاب، جو موصل اور تکریت تک پھیلا ہوا محافظہ الانبار اور کرد علاقوں میں شیخ محمود الحفید کا انقلاب شام تھا۔ تصغیر|مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں لیگ آف نیشنز مینڈیٹ کے تحت آنے والے ممالک کو دکھانے والی ایک تصویر مارچ 1921ء میں، قاہرہ کانفرنس، جس کی صدارت چرچل نے کی، مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے منعقد ہوئی۔ جہاں فیصل کو تنصیب کی تصدیق کے لیے ریفرنڈم کرانے کی سفارش کے ساتھ عراق کا بادشاہ نامزد کیا گیا اور فیصل کو 23 اگست 1921ء کو باضابطہ طور پر بادشاہ کا تاج پہنایا گیا۔ جنرل اسمبلی کی طرف سے آئین کے مسودے پر بحث میں ایک ماہ کا عرصہ لگا اور معمولی ترامیم کے بعد اسے جولائی 1924ء میں منظور کر لیا گیا۔ نامیاتی قانون (جیسا کہ آئین کہا جاتا تھا) 21 مارچ 1925ء کو بادشاہ کے دستخط کے فوراً بعد نافذ ہوا۔ آئین نے ایک آئینی بادشاہت، ایک پارلیمانی حکومت اور دو قانون ساز ایوانوں کی منظوری دی۔ دونوں کونسلیں ایک منتخب پارلیمنٹ اور مقرر کردہ قابل ذکر کونسلوں پر مشتمل تھیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان ہر چار سال بعد آزادانہ انتخابات میں منتخب ہوتے تھے۔ پہلی پارلیمنٹ کا اجلاس 1925ء میں ہوا۔ 1958ء میں بادشاہت کے خاتمے سے پہلے دس عام انتخابات ہوئے۔ اس عرصے میں 50 سے زائد حکومتوں کا قیام نظام کے عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ عراق اور برطانیہ کے درمیان 1926 اور 1927 کے دوران یکے بعد دیگرے معاہدے ہوئے اور 1929ء میں برطانیہ نے عراق کو مطلع کیا کہ وہ اسے 1932 میں آزادی دے گا۔ 30 جون 1930ء کو ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے نے عراق اور برطانیہ کے درمیان ایک مضبوط اتحاد کے قیام کی منظوری دی تھی، جس میں "خارجہ پالیسی سے متعلق تمام معاملات میں دونوں فریقوں کے درمیان مکمل اور واضح مشاورت کی منظوری دی گئی تھی جو ان کے مشترکہ مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔" عراق نظم و نسق اور داخلی سلامتی کا انتظام کرتا ہے اور برطانیہ کی حمایت سے غیر ملکی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرتا ہے۔ برطانیہ نے اپنے یونٹوں کو بصرہ کے قریب اور فرات کے قریب حبانیہ میں فضائی فوجی اڈوں کے لیے جگہیں دیں۔ اس معاہدے کی مدت پچیس سال تھی اور اگر عراق لیگ آف نیشنز میں داخل ہوتا ہے تو یہ موثر ہوگا۔ 3 اکتوبر 1932ء کو عراق ایک آزاد ملک کے طور پر لیگ آف نیشنز میں داخل ہوا۔ زمانہ جدید تصغیر|180x180پکسل|تاجی، عراق|تاجی ضلع، بغداد میں دریائے دجلہ جنگ عظیم اول کے دوران میں برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں فرانس اور برطانیہ نے بندر بانٹ کر کے مشرق وسطی کے حصے بخرے کیے۔ 1932ء میں انگریزوں نے اسے آزادی دی اور حکومت شریف مکہ کے بھائی امیر فیصل کو ترکوں کے خلاف جنگ لڑنے کے معاوضے کے طور پر دی۔ مگر عراق میں برطانیہ کے فوجی اڈے برقرار رہے اور اصل طاقت اسی کے پاس تھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکا کا اثر اس خطے میں بڑھنا شروع ہو گیا۔ 1956ء میں عراق، پاکستان، ترکی، ایران، امریکا اور برطانیہ کے درمیان میں معاہدہ بغداد ہوا جو مصر کے جمال عبدالناصر اور شام کے خلاف ایک محاذ بن گیا۔ اس پر جمال عبدالناصر نے عراقی بادشاہت کے خلاف آواز اٹھائی جس کا اثر عراق میں بھی ہوا۔ 14 جولائی 1958ء کو بریگیڈئیر جنرل عبد الکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں عراقی فوج نے انقلاب برپا کیا اور عراقی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے عراق کو جمہوریہ قرار دیا اور معاہدہ بغداد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بریگیڈئیر جنرل عبد الکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف میں بعد میں اختلافات پیدا ہو گئے کیونکہ کرنل عبدالسلام عارف مصر کے ساتھ گہرے تعلقات کے حامی تھے مگر بریگیڈئیر جنرل عبد الکریم قاسم ایسا نہیں چاہتے تھے۔ اس وقت کرنل عبدالسلام عارف کو فارغ کر دیا گیا۔ 1963ء میں ایک اور فوجی بغاوت میں بعث پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور کرنل عبدالسلام عارف کو صدر بنا دیا گیا۔ یہ وہی پارٹی ہے جس کے رکن صدام حسین بعد میں صدر بن گئے۔ درمیان میں کچھ وقت کے لیے اقتدار بعث پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا مگر انھوں نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 1968ء میں تیل کی برطانوی کمپنی کو فارغ کر کے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا۔ مگر بعد میں تیل کی صنعت کو قومیا لیا گیا۔ یہی وہ دور ہے جس میں عراق نے کچھ اقتصادی ترقی کی۔ جو پہلے برطانوی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ممکن نہیں تھی۔ بعث پارٹی کے صدام حسین کی حکومت 2003ء تک قائم رہی جس کے بعد امریکا نے عراق پر قبضہ کر لیا۔ صدام حسین کے زمانے میں ایران کے ساتھ ایک طویل وقت (ایران عراق جنگ) لڑی گئی جس میں عراق کو سعودی عرب اور امریکا کی آشیر باد حاصل تھی۔ مگر جب صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو سعودی عرب اور امریکا نے اس کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ میں امریکا نے ترکی اور سعودی عرب کا علاقہ عراق کے خلاف استعمال کیا۔ کویت پر عراق کا قبضہ چھڑا لیا گیا مگر اس کے بعد بھی امریکا کے عزائم جاری رہے حتیٰ کہ امریکا نے مارچ 2003ء میں ایک اور جنگ (جنگ عراق 2003ء) میں عراق پر قبضہ کر لیا۔ صدام حسین کا دور حکومت تصغیر|260x260پکسل|صدام حسین 1974ء میں صدام حسین عبد المجید التکریتی، جن کا تعلق البیضات قبیلے سے ہے (28 اپریل 1937 - 30 دسمبر 2006) 1979 عیسوی سے 9 اپریل تک جمہوریہ عراق کے چوتھے صدر 2003 AD اور عراقی جمہوریہ کے پانچویں ریپبلکن گورنر اور 1975ء اور 1979ء کے درمیان عراقی جمہوریہ کے نائب صدر رہے۔ اس کا نام 17 جولائی 1968ء کے انقلاب میں بعث پارٹی کی بغاوت کے دوران سامنے آیا، جس نے عرب قوم پرست نظریات، اقتصادی شہری کاری، اور سوشلزم کو اپنانے پر زور دیا۔ صدام نے حکومت اور مسلح افواج کے متضاد شعبوں کی باگ ڈور ایسے وقت میں سنبھالی تھی جب بہت سی تنظیموں کا خیال تھا کہ وہ حکومت کا تختہ الٹنے کے قابل ہیں۔ عراق کے لیے ایک منظم ترقیاتی پالیسی کے نتیجے میں ستر کی دہائی میں عراقی معیشت میں تیزی سے اضافہ ہوا، اس کے علاوہ اس وقت تیل کی قیمتوں میں بڑی تیزی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے وسائل بھی۔ 1968ء میں بعث پارٹی کے عراق میں اقتدار سنبھالنے کے بعد، صدام نے سنی اور شیعہ فرقوں اور عربوں، کردوں اور دیگر کے درمیان استحکام حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ صدام کی رائے میں تھا جس ملک میں فرقہ واریت اور تفریق پھیلی ہوئی ہو وہاں کی مضبوط اور مستحکم قیادت کو جبر کی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معیار زندگی کو بلند کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صدام کے عراق کے صدر بننے کے فوراً بعد، اس نے 22 جولائی 1979ء کو بغداد کے ہال آف مولے میں بعث پارٹی کے رہنماؤں کو جمع کیا۔ اس نے انھیں غداری قرار دیا اور انھیں میٹنگ روم کے باہر اور حاضرین کے سامنے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ایک ایک کر کے پھانسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1980 میں، عراق نے ایران کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور 2 اگست 1990 کو صدام نے کویت پر حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے 1991ء میں دوسری خلیجی جنگ شروع ہوئی۔ دوسری خلیجی جنگ کے فوراً بعد عراق کے جنوب اور شمال میں ایک بغاوت برپا ہوئی جسے شعبان بغاوت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا آغاز تیسرے مارچ 1991ء کو ہوا۔ یہ ناکہ بندی 6 اگست 1990ء کو کویت پر حملے کے چار دن بعد شروع ہوئی اور سلامتی کونسل نے عراق کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانا جاری رکھیں اور عراق پر نوے کی دہائی کے دوران اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا، جس میں 1993ء میں ایک سازش کا الزام عائد کیا گیا۔ عراق پر ناکہ بندی کے سنگین نتائج برآمد ہوئے، کیونکہ اس سے ملک کی معیشت تباہ ہوئی، صحت اور تعلیمی سطح میں گراوٹ آئی اور خوراک اور ادویات کی کمی کی وجہ سے انسانی تباہی ہوئی۔ عراق نے سلامتی کونسل کی قراردادوں 706 اور 712 کو مسترد کر دیا ہے، جو عراق کو انسانی امداد کے بدلے تیل فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ لیکن عراق نے بعد میں رضامندی ظاہر کی اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 986 کے مطابق انسانی امداد اس کو منتقل کر دی گئی، جس نے خوراک کے لیے تیل کے پروگرام کی منظوری دی۔ 18 فروری 1999 کو، اپریل 1999 کے آخر تک، صدام حسین کی سربراہی میں عراقی حکومت کے ہاتھوں جناب محمد صادق الصدر کے قتل کے نتیجے میں ایک بغاوت ہوئی اور محاذ آرائیاں ہوئیں۔ امریکی قبضہ اور اس کے بعد تصغیر|اتحادی افواج نے بغداد اور پھر باقی عراق پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مارچ کیا۔ آج کل عراق میں ایک برائے نام حکومت قائم ہے جو 30 جنوری 2005ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی مگر امریکی قبضہ جاری ہے اور اصل طاقت اسی کے پاس ہے۔ تیل کی عراقی دولت کو برطانیہ اور امریکا دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہ دور ایک خون آلود دور کے طور پر یاد کیا جائے گا کیونکہ ان چند سالوں میں اتنی عراقی عوام قتل ہوئی ہے جو پچھلے پچاس سال میں نہیں ہوئی۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کو امریکی کی زیرِنگیں حکومت نے پھانسی دے دی ہے جس سے فرقہ وارانہ فساد میں اضافہ ہوا ہے۔ استعماری طاقتیں سنی، شیعہ اور کرد مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ عراق کی تقسیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی نظریں ایران اور پاکستان پر لگی ہوئی ہیں جو اس وقت ھر طرف سے امریکی افواج یا ان کی ساتھی حکومتوں کے درمیان میں گھری ہوئی ہیں۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ ایک بار پھر بدلنے کا امکان ہے۔ موجودہ عراق شہری بے امنی نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا جو جولائی 2018ء میں بغداد اور نجف سے شروع ہوا اور ستمبر 2019ء کے آخر میں دوسرے صوبوں تک پھیل گیا کیونکہ بدعنوانی، بے روزگاری اور عوامی خدمت کی ناکامی کے خلاف احتجاجی مارچ پرتشدد ہو گئے۔ انتظامیہ کے خاتمے اور عراق میں ایرانی مداخلت کے خاتمے کے مطالبات میں اضافے سے پہلے 16 سال بدعنوانی، بے روزگاری اور عوامی خدمات میں نا اہلی کے خلاف یکم اکتوبر 2019ء کو دوبارہ احتجاج اور مظاہرے شروع ہوئے۔ بعض صورتوں میں، عراقی حکومت نے ضرورت سے زیادہ سختی کا جواب دیا ہے، جس کے نتیجے میں 12 دسمبر 2019ء تک 500 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ 27 دسمبر 2019ء کو عراق میں K1 بیس پر 30 سے زیادہ میزائلوں سے حملہ کیا گیا جس میں ایک امریکی شہری ٹھیکیدار ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔ امریکا نے ایرانی حمایت یافتہ کتائب حزب اللہ تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس مہینے کے آخر میں، 27 دسمبر کو ہونے والے کتائب حملے کے جواب میں، امریکا نے عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ مقامات پر بمباری کی۔ عراقی ذرائع کے مطابق تنظیم کے کم از کم 25 جنگجو مارے گئے۔ 31 دسمبر 2019ء کو امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے کتائب حزب اللہ کے ارکان کے جنازے کے بعد درجنوں عراقی شیعہ ملیشیا اور ان کے حامیوں نے بغداد کے گرین زون کی طرف مارچ کیا اور امریکی سفارت خانے کے احاطے کا گھیراؤ کیا۔ مظاہرین نے بیریئر کا دروازہ توڑ دیا، استقبالیہ جگہ کو آگ لگا دی، امریکا مخالف پوسٹرز چھوڑے اور امریکا مخالف نعرے لکھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے ماسٹر مائنڈ کا الزام عائد کیا ہے۔ 3 جنوری 2020ء کو، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، امریکا نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب سفر کرنے والے ایک قافلے پر ڈرون حملہ کیا، جس میں ایرانی میجر جنرل اور پاسداران انقلاب اور قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے۔ ایران میں دوسری سب سے زیادہ بااثر شخصیت؛ ابو مہدی المہندس، عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ڈپٹی کمانڈر، چار سینئر ایرانی افسران اور چار عراقی افسران بھی مارے گئے۔ اکتوبر 2019ء میں عراق بھر میں شروع ہونے والے مہینوں کے مظاہروں اور وزیر اعظم عادل عبد المہدی اور ان کی حکومت کے استعفا کے بعد، مصطفیٰ الکاظمی وزارت عظمیٰ کے لیے اہم دعویدار بن گئے۔ 9 اپریل 2020 کو صدر برہم صالح نے انھیں وزیر اعظم مقرر کیا، صرف 10 ہفتوں میں ملک کی قیادت کے لیے منتخب ہونے والے تیسرے شخص تھے۔ سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ کاظمی کو صدر برہم صالح نے نامزد کیا تھا، جس کے فوراً بعد سابق وزیر اعظم نامزد، عدنان الزرفی نے حکومت کو منظور کرنے کے لیے خاطر خواہ حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد دستبرداری کا اعلان کیا۔ نومبر 2021ء میں، عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی ایک ناکام قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ تصغیر|2021 کے انتخابات کے بعد عراقی پارلیمنٹ میں نشستیں، سدرسٹ تحریک (سیاہ)، تقدم پارٹی (نیلے)، ریاستی قانون (سرخ)، کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (پیلا)، فتح اتحاد (سبز)، پیٹریاٹک یونین کردستان کے (زیتون)، آزاد ارکان پارلیمنٹ (سفید)۔ 30 نومبر 2021ء کو، شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی زیر قیادت سیاسی بلاک، صدری تحریک نے اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی تصدیق کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کی 329 نشستوں میں سے کل 73 نشستیں تھیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کی قیادت میں تقدم پارٹی نے 37 نشستیں حاصل کیں۔ سابق وزیر اعظم نوری المالکی کی قیادت میں اسٹیٹ آف لا پارٹی نے پارلیمنٹ میں 33 نشستیں حاصل کیں۔ جہاں تک فتح الائنس کا تعلق ہے، جس کے اہم اجزاء ایران کے حمایت یافتہ دھڑے ہیں، اس نے عوامی حمایت کھونے کے بعد صرف 17 نشستیں حاصل کیں۔ کے ڈی پی نے 31 نشستیں حاصل کیں اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے 18 نشستیں حاصل کیں۔ عجم اتحاد نے 12 نشستیں حاصل کیں، امتداد موومنٹ اور نیو جنریشن موومنٹ کو نو نشستیں اور آزاد ارکان پارلیمنٹ کو 40 نشستیں حاصل ہوئیں۔ جہاں تک اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا تعلق ہے، بابلیون تحریک نے عیسائیوں کے لیے مختص 5 نشستوں میں سے 4 نشستیں حاصل کیں، جب کہ ایک آزاد امیدوار نے ایک نشست جیتی۔ یزدی موومنٹ فار ریفارم اینڈ پروگریس نے ایک یزدی سیٹ جیت لی۔ جغرافیہ تصغیر|387x387px|عراق کا نقشہ عراق کا کل رقبہ 168,743 مربع میل (437,072 مربع کلومیٹر) ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ صحرائی ہے مگر دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان میں کا علاقہ انتہائی زرخیز ہے۔ اس علاقے کو میسوپوٹیمیابلادالرافدين یا مابین النھرین کہتے ہیں۔ زیادہ تر شہر انہی دو دریاؤں کے کناروں پر آباد ہیں۔ عراق کا ساحلِ سمندر خلیجِ فارس کے ساتھ بہت تھوڑا ہے جو ام قصر کہلاتا ہے اور بصرہ کے پاس ہے۔ عراق عرب کی آخری سرزمین کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ اس کے بعد ایران اور پاکستان ہیں۔ عراق کے ایک طرف کویت ہے جو کسی زمانے میں عراق ہی کا حصہ تھا۔ ایک طرف شام ہے اور ایک طرف سعودی عرب۔ عراق کو اپنے تیل کے ذخائر کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ عراق میں خشک گرمیوں کا موسم آتا ہے جس میں بادل تک نہیں آتے مگر سردیوں میں کچھ بارش ہوتی ہے۔ عراق کے شمال میں کچھ پہاڑی علاقے بھی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا صوبہ (محافظۃ الانبار) جو سعودی عرب کے ساتھ لگتا ہے مکمل طور پر صحرائی ہے۔ جمہوریہ عراق براعظم ایشیا کے جنوب مغرب میں واقع ہے، لہذا یہ مشرق وسطی کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ عرب دنیا کا شمال مشرقی حصہ بناتا ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں ترکیہ، مشرق میں ایران، مغرب میں شام، اردن اور سعودی عرب اور جنوب میں کویت اور سعودی عرب سے ملتی ہیں۔ یہ عرض البلد 29° 5' اور 37° 22' N اور عرض البلد 38° 45' اور 48° 45' E کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ عراق بنیادی طور پر ایک صحرائی ملک ہے اور اسے صحرائے عرب اور صحرائے شام کا حصہ سمجھا جاتا ہے، دریائے دجلہ جو ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، اور اس سے دو بڑے دریا گزرتے ہیں، دجلہ اور فرات۔ عراق کے علاقے۔ , اور دونوں دریاؤں میں بہت سی معاون ندیاں ہیں جو عراق کی سرحدوں کے باہر سے آتی ہیں، سوائے عظیم معاون دریا کے، جو ایک عراقی معاون دریا ہے۔ پانی کا ایک جسم جسے شط العرب کہا جاتا ہے، جو بدلے میں خلیج فارس میں خالی ہو جاتا ہے اور عراق کے بیشتر بڑے شہر ان دو دریاؤں کو نظر انداز کرتے ہیں، جیسے نینویٰ، بیجی، بغداد، رمادی، عمارہ، ناصریہ اور بصرہ۔ جہاں تک عراق کے شمال کا تعلق ہے، اس پر پہاڑوں کا غلبہ ہے اور اس کا سب سے اونچا مقام 3611 میٹر (11847 فٹ) اونچائی ہے، جو کوہ شیخا در کی چوٹی ہے ، جس کا مطلب ہے (سیاہ خیمہ)۔ عراق کے پہاڑ دو زنجیروں پر مشتمل ہیں: ترکی کے ساتھ سلسلہ کوہ طوروس سلسلہ اور ایران کے ساتھ زگروس پہاڑی سلسلہ۔ اور اندرونی طور پر عراق میں، حمرین کی پہاڑیوں کے اندر پہاڑیاں اور پہاڑ ہیں، اسی طرح مغربی عراق میں ایک سطح مرتفع ہے جسے مغربی سطح مرتفع کہا جاتا ہے اور عراق کا ایک مختصر ساحل ہے جس سے 58 کلومیٹر (36 میل) عرب نظر آتے ہیں۔ خلیج مزید برآں، عراق میں مصنوعی جھیلیں ہیں، جن میں سب سے اہم ثرثار جھیل، الرزازہ جھیل اور صوا جھیل جیسی قدرتی جھیلیں ہیں، جو المثنا گورنری میں صحرائے شام کے وسط میں واقع ہیں۔ عراق کے جنوبی گورنریٹس میں کئی دلدل بھی ہیں جن میں سے سب سے اہم حوثی دلدل اور حمار دلدل ہیں۔ رقبہ عراق کا کل رقبہ (علاقائی پانیوں کے ساتھ)، 20 اکتوبر 2009 کو عراقی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق، کل 435,052 مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 434,128 مربع کلومیٹر زمینی رقبہ (99.8%) اور 924 مربع کلومیٹر علاقائی پانیوں کا رقبہ ہے (0.2%)۔ کتاب حقائق عالم ویب گاہ کے اعدادوشمار کے مطابق عراق رقبہ 438,317 کلومیٹر 2 ہے۔ پانی زمینی رقبہ کا 0.29% ہے، یعنی پانی کا رقبہ 950 km2 ہے۔ جہاں تک عراق کی سرحدوں کی لمبائی کا تعلق ہے، یہ کل 3,809 مربع کلومیٹر ہے۔ ترکی کے ساتھ یہ 367 مربع کلومیٹر، ایران کے ساتھ 1599 مربع کلومیٹر، کویت کے ساتھ 254 مربع کلومیٹر، سعودی عرب کے ساتھ 811 مربع کلومیٹر، اردن کے ساتھ 179 مربع کلومیٹر اور شام کے ساتھ 599 مربع کلومیٹر ہے۔ تلچھٹ کا میدان تصغیر|239x239پکسل|جزیرہ فرات کی سرحدیں، جسے جزیرے کے نام سے جانا جاتا ہے اور تاریخی طور پر اکورے کا علاقہ ہے۔ تلچھٹ کا میدان عراق کے ایک چوتھائی رقبے پر یا 132,000 کلومیٹر 2 کے برابر ہے اور ایک مستطیل کی شکل میں پھیلا ہوا ہے (650 کلومیٹر لمبا اور 250 کلومیٹر چوڑا) اور دریائے دجلہ پر بلاد شہر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اور شمال کی طرف سے دریائے فرات پر بلیک پہاڑی کے علاقے میں رمادی کا شہر اور مشرق سے ایرانی سرحد۔ اور مغرب کی طرف سے صحرائی سطح مرتفع اور اس میں دلدل اور جھیلیں شامل ہیں، جیسا کہ میدانی علاقوں کے ساتھ دلدل اور جھیلیں بنتی ہیں۔ یہ ملک کے رقبے کا 30.5%ہے۔ صحرائی سطح مرتفع یہ مغربی عراق میں واقع ہے اور ملک کا تقریباً نصف رقبہ یا 198,000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کی اونچائی (100-1000) میٹر کے درمیان ہے اور اس میں جزیرہ فرات بھی شامل ہے۔ عراق کے ریگستان 38.7 فیصد ہیں۔ پہاڑی علاقہ پہاڑی علاقہ عراق کے شمالی اور شمال مشرقی حصے میں واقع ہے اور مغرب اور مشرق میں شام، ترکی اور ایران کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ہموار علاقہ یہ جنوب میں نچلے میدانوں اور عراق کے شمال اور شمال مشرق میں بلند پہاڑوں کے درمیان ایک عبوری خطہ ہے۔ یہ پہاڑی علاقے کے رقبے کے 50% سے بھی کم یا (67,000 مربع کلومیٹر ) پر قابض ہے۔ 42,000 مربع کلومیٹر ) پہاڑی علاقے سے باہر ہے اور اس کی اونچائی (100-1200) میٹر اور پہاڑی علاقے کے اندر 25،000 کلومیٹر 2 اور اس کی اونچائی (200-450) میٹر تک ہے اور لہراتی خطہ 9.7 تک ہے۔ جزیرے عراق میں دریائی جزیرے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہیں: گورنری الانبار میں دو جزیرے الوس اور جبہ، بغداد میں ام الخنظیر کا جزیرہ، ام الرصاص کے جزائر، ام الببی اور سنباد۔ بصرہ میں شط العرب اور بصرہ میں خور الزبیر کے داخلی راستے پر واقع جزیرہ حجام اور جزیرہ مجنون جو ایک مصنوعی جزیرہ ہے جس سے تیل کی پائپ لائنیں بصرہ میں قرنہ میں گزرتی ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات میں بہت سے جزیرے ہیں۔ موسم بائیں|تصغیر|ناسا|NASA کی ایک تصویر میں 30 جولائی 2009 کو ملک میں دھول کا طوفان آ رہا ہے۔ پورے عراق میں اوسط درجہ حرارت جولائی اور اگست میں 48 ° C (118.4 ° F ) سے لے کر جنوری میں انجماد سے نیچے تک ہوتا ہے۔ زیادہ تر بارش دسمبر اور اپریل کے درمیان ہوتی ہے، جس کی اوسط سالانہ 100 اور 180 ملی میٹر (3.9 اور 7.1 انچ) کے درمیان ہوتی ہے۔ شمالی عراق کے پہاڑی علاقے میں وسطی اور جنوبی علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ تقریباً 90% سالانہ بارش نومبر اور اپریل کے درمیان اور خاص طور پر دسمبر اور مارچ کے درمیان ہوتی ہے۔ جہاں تک باقی مہینوں کا تعلق ہے، خاص طور پر اعلی درجہ حرارت جیسے جون، جولائی اور اگست، خشک ہوتے ہیں۔ موسم سرما کا کم از کم درجہ حرارت شمالی، شمال مشرقی دامن اور مغربی صحرا میں قریب انجماد (صبح سے پہلے) سے لے کر 2 سے 3 °C (35.6–37.4 °F) اور 4 سے 5 °C (39.2 °C) تک ہوتا ہے۔ 41 ڈگری فارن ہائیٹ)، جنوبی عراق کے اللووی میدانی علاقوں میں۔ یہ مغربی صحرا، شمال مشرق میں تقریباً 16 °C (60.8 °F) کی زیادہ سے زیادہ اوسط اور جنوب میں 17 °C (62.6 °F) تک بڑھ جاتا ہے۔ گرمیوں میں، کم سے کم درجہ حرارت، تقریباً 27 سے 34 °C (80.6 سے 93.2 °F) اور زیادہ سے زیادہ تقریباً 42 سے 47 °C (107.6 اور 116.6 °F) تک بڑھ جاتا ہے، کچھ دنوں میں 50 درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ڈگری سیلسیس اور زیادہ۔ رات کا درجہ حرارت بعض اوقات انجماد سے نیچے گر جاتا ہے اور انبار گورنریٹ کے مغربی صحرا میں رتبہ میں درجہ حرارت -14 °C (6.8 °F) ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گرمی کے مہینوں میں درجہ حرارت 49 °C (120.2 °F) سے زیادہ ہونے کے ساتھ نمی کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور کئی اسٹیشنوں پر 53 °C (127.4 °F) سے زیادہ کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ عراق کی آب و ہوا تین اقسام میں تقسیم ہے: * بحیرہ روم کی آب و ہوا : ملک کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقے میں غالب ہے اور اس کی خاصیت اس کی سرد سردیوں سے ہوتی ہے، جہاں پہاڑی چوٹیوں پر برف پڑتی ہے اور بارش کی مقدار سالانہ 400-1000 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ اپنے بہت سے ریزورٹس کے لیے مشہور ہوا، جیسے کہ صلاح الدین، شکلوا، حج عمران، سارسنگ اور دیگر۔ * میدانی آب و ہوا : پہاڑی شمالی علاقے اور جنوب میں گرم صحرائی آب و ہوا کے درمیان ایک عبوری آب و ہوا ہے۔ یہ زیادہ تر غیر منقولہ علاقے کی حدود میں واقع ہے۔ اس کی سالانہ بارش 200-400 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے اور یہ مقدار موسمی موسم کے لیے کافی ہے۔ * گرم صحرائی آب و ہوا : یہ تلچھٹ کے میدان اور مغربی سطح مرتفع میں موجود ہے اور اس میں عراق کا 70% علاقہ شامل ہے۔ اس کی سالانہ بارش 50-200 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کی خصوصیت رات اور دن، گرمیوں اور موسم گرما کے درمیان ایک بڑی تھرمل رینج ہے۔ موسم سرما اور گرم موسم۔ اس کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر رہتا ہے سوائے چند راتوں کے۔ قدرتی وسائل تصغیر|کرکوک میں تیل کا کنواں (تصویر بشکریہ امریکی کتب خانہ کانگریس|لائبریری آف کانگریس ) عراق پچھلی صدی کے ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں پانی کے مسائل سے دوچار ہوا جب ترکی نے دجلہ اور فرات پر 22 ڈیم بنانے کے مقصد سے جنوب مشرقی اناطولیہ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اور یہ بحران 2008 عیسوی کی خشک سالی میں مزید خراب ہونے تک جاری رہا۔ 19 ستمبر 2009 کو ترکی اور شام اور عراق کے درمیان دجلہ اور فرات کے طاسوں میں پانی کی ترسیل اور پانی کی سطح کے لیے مشترکہ نگرانی کے مراکز کے قیام سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ ترکی نے فرات کے حصے میں بھی اضافہ کیا۔ دریا 450 سے 500 کیوبک سینٹی میٹر تک اور عراق نے مہینوں کے بعد ترکی کے ساتھ تیل کی تجارت کرنے اور بدلے میں ترکی کے ساتھ سرحد پر کرد ملیشیا کے کام کو روکنے میں مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ الیسو ڈیم، جس کا کام 2015 عیسوی میں شروع ہونے کی امید ہے۔ ترکی میں دجلہ، عراق اور ترکی کے درمیان سیاسی تنازع کی نمائندگی کرتا ہے اور عراق کے پاس زمینی پانی کا ایک بڑا ذخیرہ بھی ہے۔ * تیل : عراق، خاص طور پر بصرہ اور کرکوک کے صوبوں میں، تیل سے مالا مال علاقہ ہے۔ 2015 کے اندازوں کے مطابق، عراق تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا ہے اور 2015 کے اگست کے مہینے میں برآمد کی جانے والی مقدار 93,700,000 بیرل تھی اور یہ تیل کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ 31 دسمبر 2014 کو * قدرتی گیس : 2008 کے اندازوں کے مطابق عراق تقریباً 15 بلین کیوبک میٹر پیدا کرتا ہے اور اس مقدار کے ساتھ قدرتی گیس کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے ممالک میں بتیسویں نمبر پر ہے۔ عراق کے قدرتی گیس کے ذخائر، 2008ء کے اندازوں کے مطابق، تقریباً 3000 بلین کیوبک میٹر ہیں اور اس مقدار کے ساتھ قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے لحاظ سے دنیا کے ممالک میں دسویں نمبر پر ہے۔ * مویشی : عراقی وزارت زراعت کے سال 2008 کے اعدادوشمار کے مطابق، کل (2,552,113) گائے کے سر، (7,722,375) بھیڑوں کے سر، (1,474,845) بکریوں کے سر، (285,537) سروں کے سر ہیں۔ اور (58,293) اونٹوں کے سر (اونٹ) * زرعی دولت : عراق میں 2013 عیسوی میں کاشت کی گئی اراضی 19,794,742 دونم تھی جبکہ قابل کاشت اراضی 51,616,179 دونم تھی (عراق میں ایک 2500 مربع میٹر کے برابر ہے) 2013 عیسوی کے لیے کردستان کے علاقے کے تین گورنروں کو چھوڑ کر، مجموعی طور پر (1,043,489 دونم (عراقی دونم 2,500 مربع میٹر کے برابر ہے))، گندم کی پیداوار (4,178,379) ٹن، گندم کی پیداوار جو (1,003,198) ٹن ہے، پیلی مکئی کی پیداوار (831,345) ٹن ہے اور کھجور کے درختوں کی تعداد (سوائے کردستان اور موصل کے تین گورنروں کے) کھجور کے درختوں کی تعداد (15,968,660) ہے اور اس کی پیداوار (676111) ہے۔ حکومت اور سیاست سیاسی نظام تصغیر|300x300پکسل|عراقی پارلیمنٹ عراق میں 1968ء سے 2003ء تک عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کی حکومت رہی اور 1979ء میں صدام حسین صدر کے عہدے پر فائز ہوئے اور امریکی قیادت میں حملے کے نتیجے میں ان کی معزولی کے بعد 2003ء تک صدر رہے۔ . 15 اکتوبر 2005 کو، 63 فیصد سے زیادہ اہل عراقیوں نے نئے آئین کو قبول کرنے یا مسترد کرنے پر ووٹ دیا۔ 25 اکتوبر کو، ریفرنڈم کو اپنایا گیا اور آئین کو 78 فیصد کی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس کی حمایت ملک کے علاقوں کے درمیان مختلف تھی۔ نئے آئین کو شیعوں اور کردوں میں زبردست حمایت حاصل تھی، لیکن سنی عربوں نے اسے بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔ آئین کو سنی عرب اکثریت کے ساتھ تین صوبوں نے مسترد کر دیا: ( صلاح الدین نے مخالفت میں 82 فیصد، نینوا میں 55 فیصد کے ساتھ، اور الانبار نے 97 فیصد کے خلاف)۔ آئین کی شقوں کے مطابق نئی حکومت کے انتخاب کے لیے ملک میں 15 دسمبر کو نئے ملک گیر پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ عراق کے تین اہم نسلی اور مذہبی گروہوں کی بھاری اکثریت نے نسلی بنیادوں پر ووٹ دیا اور یہ ووٹ ایک نسلی مردم شماری میں بدل گیا، جو ایک مسابقتی انتخابات سے زیادہ ہے اور اس نے نسلی بنیادوں پر ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ عراق میں نسلی اقلیتوں کا مرکب ہے جیسے کرد، اسوری، مندائیت، عراقی ترکمان، شاباک اور خانہ بدوش۔ ان گروہوں کو عراق کی پوری تاریخ میں عرب اکثریتی آبادی کے برابر درجہ حاصل نہیں ہے۔ 1990-1991 میں خلیجی جنگ کے بعد "نو فلائی زونز" کے قیام کے بعد سے کردوں کے لیے صورت حال بدل گئی ہے کیونکہ انھیں ایک خود مختار علاقہ ملا ہے۔ یہ خاص طور پر ترکی کے ساتھ کشیدگی کا باعث تھا۔ عراق سیاسی اور مالی بدعنوانی کا شکار ہے اور 2008 میں الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ عراقی تیل کی آمدنی کا 13 بلین ڈالر امریکا کے پاس ہے، جس میں سے 2.6 بلین ڈالر مکمل طور پر ضائع ہو چکے ہیں اور اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ 17 نومبر 2008 کو، ریاستہائے متحدہ اور عراق نے ایک وسیع اسٹریٹجک معاہدے کے حصے کے طور پر، فورسز کے معاہدے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ "حکومت عراق" امریکی افواج سے درخواست کرتی ہے کہ وہ عراق میں "سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے" کے لیے عارضی طور پر رہیں اور یہ کہ عراق کو امریکی فوجی ٹھیکیداروں اور اہلکاروں پر اختیار حاصل ہے جب وہ امریکی اڈوں یا ڈیوٹی پر نہ ہوں۔ 12 فروری 2009 کو، عراق باضابطہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے 186 ویں مسلسل دستخط کنندگان میں سے ایک بن گیا۔ اس معاہدے کی شقوں کے مطابق عراق اس کا ایک فریق ہے اور اسے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس کے دیر سے الحاق کی وجہ سے، عراق واحد فریق ہے جو کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے وقت کی حد سے مستثنیٰ ہے اور اس کے پاس عراق کے الحاق کی منفرد نوعیت کو حل کرنے کے لیے ترقی کے مخصوص معیارات ہیں۔ 31 اگست 2010 کو امریکی افواج نے عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کر دیا۔ اور 15 دسمبر 2011 کو باضابطہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا اور 18 دسمبر 2011 کی صبح امریکی افواج سرحد پار کویت کے لیے روانہ ہوگئیں۔ اگست 2014 میں، حیدر العبادی کو نوری المالکی کی جگہ عراق کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا، جو عراقی وزیر اعظم کے طور پر تیسری مدت کے لیے کوشاں تھے۔ انتظامی ڈھانچہ عراق سرکاری طور پر 18 صوبوں اور 19 ڈی فیکٹو صوبوں پر مشتمل ہے اور ایک خطہ عراق کا کردستان علاقہ ہے، جس میں اربیل، دہوک، سلیمانیہ اور حلبجا کے صوبے شامل ہیں۔ صوبوں کو اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے اور عراق میں 118 اضلاع ہیں جن کو اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے اور عراق میں 393 اضلاع ہیں۔ کردستان کا علاقہ عراق کے اندر واحد قانونی طور پر متعین خطہ ہے اور اس کی اپنی حکومت اور اپنی سرکاری افواج ہیں۔ تل عفر، میدان نینویٰ، فلوجہ اور تز خرماتو کو اضلاع سے گورنری میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ وسط|تصغیر|300x300پکسل|عراق کی انتظامی تقسیم آبادی سنہ 2016 عیسوی میں عراق کی کل آبادی کا تخمینہ تقریباً 37,547,686 لگایا گیا ہے اور 1867 عیسوی میں عراق کی آبادی چند ایک کو چھوڑ کر ایک کروڑ چوتھائی سے زیادہ نہیں تھی۔ 2003 کی جنگ کے بعد آبادی میں اضافے کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ عراق کی آبادی 35 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ عراق میں 2013 عیسوی کے لیے شہری آبادی کا فیصد آبادی کا 69.4% تھا عراق پر قبضے کے بعد بے ترتیب غیر رسمی رہائش کا رجحان سامنے آیا اور یہ اب بھی بڑھ رہا ہے جب تک کہ عراق میں غیر رسمی بستیاں 1552 تک پہنچ گئیں۔ 2015 میں وزارت منصوبہ بندی کے اعلان کے مطابق غیر رسمی علاقے، جن میں 20 لاکھ 50 ہزار لوگ رہتے ہیں۔ زبانیں عربی اکثریت کی زبان ہے، کرد زبان تقریباً 10% - 15% بولی جاتی ہے، ترکمان، ترک زبان کی ایک مقامی بولی اور آشوریوں کی آرامی زبان اور دیگر تقریباً 5% بولی جاتی ہیں لوگوں کے. چھوٹی اقلیتی زبانوں میں منڈیان، کرمانجی، شباکیہ، آرمینیائی، سرکیسیئن اور فارسی شامل ہیں۔ یہ بولیاں اور زبانیں 25,000 سے 100,000 کے درمیان بولی جاتی ہیں۔ چیچنیا اور جارجیا سے تعلق رکھنے والی دوسری زبانیں اور دیگر کاکیشین زبانوں کے بولنے والے بھی ہو سکتے ہیں۔ عربی، کرد، فارسی اور جنوبی آذری عربی حروف تہجی کے مختلف ورژن میں لکھے گئے ہیں۔ نیا آرامی سریانی حروف تہجی میں لکھا جاتا ہے اور آرمینیائی کو آرمینیائی حروف تہجی میں لکھا جاتا ہے۔ 2003 میں حملے سے پہلے عربی واحد سرکاری زبان تھی۔ تاہم عراق کے نئے آئین نے جون 2004 میں عربی زبان اور کرد زبان کو دو سرکاری زبانوں کے طور پر منظور کیا تھا جب کہ عراقی آئین شامی زبان اور ترکمان زبان کو محل وقوع کے مطابق علاقائی زبانوں کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، کوئی بھی علاقہ یا گورنریٹ دوسری سرکاری زبانوں کا اعلان کر سکتا ہے اگر عوامی ریفرنڈم میں آبادی کی اکثریت کی طرف سے منظوری دی جائے۔ مذاہب تصغیر|عراق میں اہم نسلی اور مذہبی گروہ اور نقشہ مورخہ 6 جون 2011ء عراق میں شیعوں اور سنیوں کے تناسب کے بارے میں ایک " تنازع " ہے، کیونکہ دونوں فرقے آبادی کی عام مردم شماری پر انحصار کیے بغیر اکثریت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جس میں آزاد ادارے حصہ لیتے ہیں۔ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، تقریباً 97۔ آبادی کا % ذرائع کے مطابق، آبادی کا 60-65% شیعہ ہیں اور 32-37% سنی ہیں اور دیگر ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شیعوں کی فیصد 51.4 ہے اور دوسرے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کا فیصد 58.8 فیصد ہے۔ کردوں کے ساتھ، ایسے ذرائع کا ذکر ہے کہ عراق میں سنی اور شیعوں کی تعداد قریب اور متوازن ہے۔ عیسائی، صابی، اور یزیدی تقریباً 3% بنتے ہیں، جن میں بہائی مذہب کے پیروکاروں اور یارسنیوں کی معمولی موجودگی ہے اور یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عراق میں یہودیوں کی آبادی 4% سے زیادہ تھی، لیکن اسرائیل کے قیام کے بعد فرہود کے واقعات اور بادشاہت کی طرف سے ان کی جبری ہجرت نے ان کی تعداد تقریباً 100,000 افراد تک کم کر دی۔ 2018 میں عراق میں یہودیوں کی تعداد کا تخمینہ دس لگایا گیا تھا، جن میں سے اپنے شناختی کارڈ میں اپنا مذہب تبدیل کر کے دوسرے مذہب میں شامل ہو گئے تھے۔ تعطیلات ہر ہفتے کے جمعہ اور ہفتہ کو سرکاری محکموں میں سرکاری تعطیل تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، 12 دیگر سرکاری تعطیلات ہیں، جو یہ ہیں: سیکورٹی تصغیر|220x220پکسل|بغداد میں ہمرز عراقی پولیس کی حموی|پریڈ وزارت داخلہ داخلی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہے اور وزارت داخلہ کے لیے اس کے قوانین کے ذریعے متعین فرائض کا مقصد عام طور پر جمہوریہ عراق کے لیے داخلی سلامتی کے تحفظ، امن عامہ کو مستحکم کرنے اور ریاست کی عمومی پالیسی کو نافذ کرنا ہے۔ آئینی حقوق کا تحفظ اور خاص طور پر لوگوں کی زندگیوں اور آزادیوں اور سرکاری و نجی فنڈز کی حفاظت اور کسی بھی خطرے سے اس کی حفاظت کو یقینی بنانا جس سے اسے خطرہ لاحق ہو، جرائم کے کمیشن کو روکنا، مجرموں کے خلاف قانونی اقدامات کرنا اور مکمل قانون سازی کے لیے کوشش کرنا ہے۔۔ حشد الشعبی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف (جو وزیر اعظم حیدر العبادی ہیں) کے دفتر کے ماتحت ہیں۔ اس کا تخمینہ (60 ملین امریکی ڈالر) عراقی بجٹ سے ہے جو سال 2015 عیسوی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ فوج فوج جمہوریہ عراق کی باقاعدہ فورس ہے اور اس کی شاخیں زمینی قوت ، بحری فوج اور فضائیہ پر مشتمل ہیں۔ عراقی فوج کی تاریخ سنہ 1921 سے ہے، جب عراق کے برطانوی مینڈیٹ کے دوران مسلح افواج کے پہلے یونٹ قائم کیے گئے تھے ، جب امام موسیٰ کاظم رجمنٹ تشکیل دی گئی تھی اور مسلح افواج کی کمان نے اپنا جنرل ہیڈ کوارٹر بغداد میں لے لیا، اس کے بعد 1931ء میں عراقی فضائیہ کی تشکیل ہوئی، پھر 1937ء میں عراقی بحریہ کی تشکیل ہوئی اور ایران کے خاتمے کے ساتھ ہی فوج کی تعداد اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ عراق جنگ، اس کے ارکان کی تعداد 1,00,0000 تک پہنچ گئی۔ 1990 عیسوی تک عراقی فوج 56 ڈویژنوں تک بڑھ چکی تھی جس کی وجہ سے عراقی فوج عرب دنیا میں پہلے اور دنیا کی فوجوں میں پانچویں نمبر پر آ گئی۔ کویت پر حملے کے بعد ریپبلکن گارڈ فورسز کے علاوہ زمینی فورس 23 ڈویژنوں تک سکڑ گئی۔ تصغیر|200x200پکسل|عراقی فوج کی گولڈن جوبلی کے موقع پر 1971 میں جاری کردہ 15 فائلوں کا ایک عراقی ڈاک ٹکٹ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد عراق کے سول ایڈمنسٹریٹر پال بریمر نے عراقی فوج کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔ فوج کو دوبارہ تشکیل دیا گیا اور دوبارہ مسلح کیا گیا۔ نئی عراقی فوج کے لیے یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ وہ صرف تین ڈویژنوں پر مشتمل ہو، جس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر چودہ ڈویژن ہو گئی اور توقع ہے کہ یہ 20 ڈویژنوں تک پہنچ جائے گی۔ 13 نومبر 2015 کو (گلوبل فائر پاور) کے مطابق عراقی فوج دنیا میں 112 ویں نمبر پر ہے۔ عراقی مسلح افواج کی تمام شاخیں عراقی وزارت دفاع کے اختیار کے تابع ہیں، جس کا انتظام وزیر دفاع خالد العبیدی کرتے ہیں اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف عراقی وزیر اعظم حیدر العبیدی ہیں۔ -عبادی اور آرمی کے چیف آف اسٹاف عثمان الغنیمی ہیں۔ عراقی فوج نے بہت سی جنگوں میں حصہ لیا، بشمول : اینگلو-عراقی جنگ، 1948 کی جنگ، پہلی عراقی کرد جنگ ، 1967 کی جنگ، اکتوبر 1973 کی جنگ، عراق-ایرانی جنگ، کویت پر حملہ، دوسری خلیجی جنگ اور تیسری خلیجی جنگ۔ فوج نے 2003 عیسوی کے بعد دیگر تمام عراقی مسلح افواج کے ساتھ بھی حصہ لیا۔ عراق کے اندر بہت سی لڑائیوں کے ساتھ، بشمول عراقی بغاوت اور انبار کی جھڑپیں، 2014ء میں موصل کی لڑائی اور اس وقت داعش کے خلاف جاری جنگ میں حصہ لیا۔ بری فوج عراقی فوج کئی آپریشن کمانڈز پر مشتمل ہے اور عراقی یونٹس کا انتظام مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے، جب کہ زمینی فورس کمانڈ براہ راست فوج کے ڈویژنوں کا انتظام نہیں کرتی ہے۔ عراقی فوج کو 14 ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو بدلے میں 56 بریگیڈز یا 185 لڑاکا بٹالین میں تقسیم ہیں۔2010 میں جنگی بٹالینز کی تعداد 197 تک پہنچ گئی۔ ہر ڈویژن کو چار بریگیڈز، ایک انجینئرنگ رجمنٹ اور ایک آرٹلری رجمنٹ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بحری فوج بحریہ کے پاس تقریباً 5,000 ملاح اور میرینز ہیں، جو فروری 2011 تک 5 سکواڈرن اور دو میرین بٹالین پر مشتمل ایک آپریشن ہیڈ کوارٹر کو رپورٹ کرتے ہیں۔ فضا ئیہ فضائیہ کے پاس اس وقت چار F-16 فائٹنگ فالکن، 12 Sukhoi Su-25، 2 Aero L-159 Alka، 13 Mil Mi-35 ہیلی کاپٹر، 23 Mil Mi-28 ہیلی کاپٹر اور 60 Mil Mi ہیلی کاپٹر ہیں۔ -17، درجنوں ہوائی جہاز اور نقل و حمل اور تربیت کے لیے ہیلی کاپٹرموجود ہیں۔ ملف:Iraqi_F-16.jpg|عراقی F-16 فائٹنگ فالکن فائٹر ملف:USMC-050224-M-7846V-004.jpg|عراقی لاک ہیڈ C-130 ہرکولیس ملف:Iraqi_tank_breaches_obstacle_150322-A-BX700-054.jpg|2015 میں ایک عراقی M1 Abrams ٹینک ملف:Humvees_of_the_Iraqi_Army.jpg|بغداد میں ہونے والی پریڈ میں عراقی فوج کے ہجوم ملف:US_Navy_040612-N-4809F-003_CNN_News_anchor-reporter_Brent_Sadler_goes_aboard_one_of_the_first_patrol_boats_assigned_to_the_Iraqi_Coastal_Defense_Force_(ICDF).jpg|عراقی بحری جہاز معیشت عراق کی معیشت بین الاقوامی لوٹ کھسوٹ کی ایک اعلیٰ داستان ہے۔ معیشت تیل کے ارد گرد گھومتی ہے۔ تیل کی دولت کو پہلے تو برطانوی کمپنیوں نے خوب لوٹا۔ بعث پارٹی کی ابتدائی حکومت میں عراق برطانوی کمپنیوں سے جان چھڑا کر فرانسیسی چنگل میں پھنس گئے۔ مگر بعد میں بعث پارٹی کی دوسری حکومت نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور عراق نے کچھ عرصہ ترقی کی۔ عالمی طاقتوں نے عراق کو ایران سے ایک لمبی جنگ میں پھنسا کر خوب برباد کیا۔ اس کی ساری دولت اس جنگ کی نذر ہو گئی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے عراق کو بے تحاشا اسلحہ بیچا۔ حتیٰ کہ عراق کے بیرونی قرضے ایک سو بیس ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایران سے جنگ بندی کے بعد تیل کی صنعت میں کچھ بہتری آئی مگر زیادہ وسائل تیل کی صنعت کی بحالی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتی رہی جس کی وجہ سے عراق خاطر خواہ ترقی نہ کرسکا۔ اس موقع پر عراق نے عالمی طاقتوں کے جال میں آ کر کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ اسے ایک اور جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس سے عراق کی معیشت تباہ ہو گئی۔ ایک دہائی کی مسلسل پابندیوں سے عراق کمزور ہو گیا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ کر کے امریکا نے 2003ء میں عراق پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ پیرس کلب کے ممالک نے 33 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مگر اس سے عراق کے ایک سو بیس ارب ڈالر کے قرضوں میں کوئی خاص کمی نہیں آتی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ اور خانہ جنگی کے ممکنہ خاتمے کے بعد بھی عراق کو اپنی نئے سرے سے تعمیر اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے عالمی طاقتوں اور اداروں پر انحصار کرنا پڑے گا اور مستقبل قریب میں عراق میں معاشی ترقی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ عراق کی تعمیرِ نو کے نوے فی صد ٹھیکے امریکی کمپنیوں اور باقی برطانوی اور کچھ فرانسیسی اور اطالوی کمپنیوں کو مل رہے ہیں جو مہنگا کام کرنے میں مشہور ہیں اور یوں لوٹ کھسوٹ کا ایک اور در کھل گیا ہے۔ عراقی معیشت کا مکمل انحصار تیل کے شعبے پر ہے، عراق کی کل آمدنی کا 95% ہارڈ کرنسی سے آتا ہے۔ پہلی خلیجی جنگ میں ایک اندازے کے مطابق 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور جنگ کے خاتمے کے بعد عراق قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ 6 اگست 1990 سے 21 اپریل 2003 تک عراق پر اقتصادی ناکہ بندی کی۔ پال بریمر اور یونیفائیڈ کولیشن اتھارٹی کی آمد کے بعد، اتھارٹی نے عراق میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور نفاذ کے لیے فیصلے کیے یا جسے نجکاری کہا جاتا ہے، خاص طور پر تیل کے شعبے میں اور پال بریمر نے اس کی مکمل ملکیت کی اجازت دی۔ غیر عراقی کمپنیوں نے عراق میں اپنے مفادات کے لیے ان غیر ملکی کمپنیوں پر ٹیکس عائد کیا جس کا فیصد 15 فیصد ہے، لیکن ان اقتصادی منصوبوں اور فیصلوں پر ان حکومتوں نے عمل نہیں کیا جو متحدہ اتحادی اتھارٹی کے بعد آئیں، جو بالترتیب گورننگ کونسل ہیں۔ عراق میں، عراقی عبوری حکومت اور عراقی عبوری حکومت۔ نجکاری کے یہ فیصلے 2006 میں نافذ ہونے والے ہیں۔ سلامتی کی صورت حال میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے کے ساتھ، اس سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملی، خاص طور پر توانائی، تعمیرات اور خوردہ شعبوں میں۔ تاہم، طویل مدت میں اقتصادی اور مالیاتی بہتری اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کا انحصار بنیادی طور پر حکومت کی جانب سے سیاسی اصلاحات کی منظوری اور عراق کے تیل کے وسیع ذخائر کی ترقی پر ہے۔ اگرچہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے عراق کو 2010 سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے ساتھ دیکھا ہے، لیکن ان میں سے اکثر کو اب بھی منصوبوں کے لیے زمین کے حصول میں مشکلات اور دیگر ریگولیٹری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ 2013 عیسوی میں اندرون ملک مچھلیوں کی پکڑنے کی مقدار 105,168 ٹن تھی، جب کہ سمندری مچھلی 5,314 ٹن تھی۔ عراقی پانیوں میں داخل ہونے والی نقل مکانی کرنے والی مچھلیوں کی مقدار اور اقسام سے متعلق وجوہات کی بنا پر پکڑنے کی مقدار ہر سال نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ اور جو خلیج عرب میں موسمی اتار چڑھاو پر منحصر ہے 2002 میں عراقی کردستان میں کل 112,000 مکعب میٹر لکڑی کی کٹائی کی گئی اور تقریباً نصف رقم بطور ایندھن استعمال کی گئی۔ عراق کی کان کنی کی صنعت نسبتاً کم مقدار میں فاسفیٹ ( عکاشات میں)، نمک اور سلفر ( موصل کے قریب) کے اخراج تک محدود تھی۔ ستر کی دہائی میں ایک نتیجہ خیز دور سے، کان کنی ایران عراق جنگ (1980-1988)، اقتصادی ناکہ بندی کی پابندیوں اور 2003 میں اقتصادی بحران کی وجہ سے رکاوٹ بنی تھی۔ سال 2012 عیسوی میں عراق میں بے روزگاری کی شرح 15 سال سے کم ہو گئی۔ عمر اور اس سے زیادہ 11.9% تک پہنچ گئی۔ سرکاری کرنسی دینار عراق کی سرکاری کرنسی ہے اور اسے عراق کے مرکزی بینک کے ذریعے جاری کیا جاتا ہے۔ دینار کو 1,000 فائلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، لیکن بیسویں صدی کے میں مہنگائی کی اونچی شرح سکوں کو ترک کرنے کا سبب بنی، جو فائلوں میں بنائے جاتے تھے، کیونکہ وہ اب گردش سے باہر ہیں۔ جہاں تک عراقی کرنسی کے فرقوں کا تعلق ہے، وہ 250 دینار، 500، 1,000، 5,000 اور 10,000 سے 25,000 دینار تک شروع کریں اور سنٹرل بینک آف عراق نے نومبر 2015 میں 50,000 ہزار دینار (امریکی ڈالر کے برابر) کی ایک نئی کرنسی متعارف کرانے کے ارادے کا اشارہ کیا۔ نیا عراقی دینار 2003 میں اتحادی افواج کے حملے کے بعد، کولیشن پروویژنل اتھارٹی نے 15 اکتوبر 2003 سے 15 جنوری 2004 تک ایک نیا عراقی دینار جاری کیا، کیونکہ نئی کرنسی برطانیہ کے ڈیلارکس پریس میں چھپی تھی اور اس کی پرنٹنگ اچھی خاصیت کی تھی۔ جعل سازی مشکل تھی اور اسے پورے عراق میں استعمال کیا گیا، بشمول شمالی عراق کے کردستان کے علاقے اور کرنسی کے تبادلے کا عمل ہوا، کیونکہ عراق یا چین میں چھپنے والے ہر دینار کو ایک نئے عراقی دینار سے بدل دیا گیا، جبکہ عراقی سوئٹزرلینڈ میں چھپنے والے دینار کی جگہ 150 جدید دینار لے لیے گئے۔ تیل اور توانائی تصغیر|230x230پکسل|2007 میں عراق میں ایک برقی سب اسٹیشن تصغیر|بصرہ آئل اسٹیشن پر آئل ٹینکرز عراقی معیشت کا بہت زیادہ انحصار تیل پر ہے۔ اس کی معیشت سب سے پہلے تیل ہے، لیکن باقی عرب خلیجی ممالک کی طرح تیل ہی واحد وسیلہ نہیں ہے اور عراق اوپیک کے بانی ممالک میں سے ایک ہے اور اس کی صنعت کا آغاز 1925 میں ہوا۔ بابا گرگر فیلڈ میں پیداوار شروع ہوئی۔ کرکوک میں اور اس تاریخ کے دو سال بعد، 1972 میں عراقی صدر احمد حسن البکر کے دور میں تیل کو عراقی قومیا دیا گیا۔ قومیانے سے پہلے، آپریٹنگ تیل کی رعایتی کمپنیوں نے عراق کو اس کی پیداوار کو محدود کرکے اور عالمی منڈیوں میں اپنا حصہ کم کرکے سزا دینے کی پالیسی پر عمل کیا، خاص طور پر 14 جولائی 1958 کے انقلاب اور 1961 کے قانون نمبر 80 کے نفاذ کے بعد، براہ راست سرمایہ کاری کا قانون۔ 1989 میں عراقی تیل کی کل آمدنی 14.5 بلین ڈالر تھی، جو برآمدی آمدنی کا 99 فیصد تھی۔ 1990 میں جاری ہونے والی مردم شماری کے مطابق، عراقی برآمدات کی مالیت 10.535 بلین ڈالر تھی، جس میں سے 99.5 فیصد تیل اور توانائی کے ذرائع سے آتا تھا، جس میں امریکی درآمدات کا حصہ (28%) تھا۔ 1990 سے عراق پر عائد پابندیوں کے باوجود 1996 میں تیل کی برآمدات صرف 269 ملین ڈالر تھیں یا عراق کی 950 ملین ڈالر کی برآمدات کا ایک تہائی حصہ تھیں۔ تاہم، عراقی تیل کی برآمدات (سفید + سیاہ) کی کل آمدنی کا تخمینہ سال 2000 میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا اور تیل کی پیداوار، عراق پر امریکی حملے سے پہلے، 20 لاکھ بیرل یومیہ سے کم نہیں تھی اور اس کی ریفائننگ کی صلاحیت 500 ہزار بیرل یومیہ سے تجاوز کرگئی، سب سے زیادہ تیل ریفائنریوں کے ذریعے، جو سال 2000 میں (عرب دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے) 12 ریفائنریز تک پہنچ گئی۔ لیکن 2001 تک یہ واپس آگئی اور اس کی مالیت 15.14 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ کل برآمدات میں سے 15.94 بلین ڈالر کی رقم ہے۔ اگست 2015 میں پیداوار 3 ملین بیرل سے زیادہ تک پہنچ گئی۔ عراق کے تیل کے ذخائر عراق کے تیل کے ثابت شدہ ذخائر تقریباً 140 بلین بیرل ہیں، کیونکہ عراق کے تیل کے ذخائر دنیا میں وینزویلا، سعودی عرب، کینیڈا اور ایران کے بعد پانچویں نمبر پر ہیں۔ عراقی ایٹمی پروگرام تصغیر|یکم جولائی اور 2 جولائی کو عراقی ری ایکٹرز پر بمباری کرنے والے طیاروں کا راستہ، آپریشن اوپرا ، جسے آپریشن بابل بھی کہا جاتا ہے۔ عراقی جوہری پروگرام کا آغاز 17 اگست 1959ء کو عراق اور سوویت یونین کے درمیان ایک جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کے لیے مفاہمت کے ساتھ ہوا اور ایک جوہری پروگرام تیار کیا گیا اور یہ عراقی سوویت مفاہمت کا حصہ ہے اور 1968ء میں ایک تحقیقی ری ایکٹر (آئی آر ٹی-2000 سوویت یونین کی طرف سے دیا گیا) کے قریب تابکار آاسوٹوپس پیدا کرنے کے قابل متعدد سہولیات کے ساتھ بنایا گیا تھا اور ء میں صدام نے ماسکو کا دورہ کیا اور اسے تعمیر کرنے کے لیے کہا۔ ایک جدید ایٹمی پلانٹ، لیکن سوویت یونین نے یہ شرط رکھی کہ یہ پلانٹ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کنٹرول میں ہو، لیکن عراق نے انکار کر دیا اور پھر اسی سال اپریل کی 15 تاریخ کو دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے اور اس معاہدے کو 1959 کے معاہدے کی پیروی سمجھا جاتا ہے اور چھ ماہ کے بعد، فرانس نے 72 کلوگرام یورینیم 93 فیصد کے درجے پر فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور اس کے کنٹرول کے بغیر ایک جوہری پلانٹ بنانے پر اتفاق کیا۔ ستر کی دہائی کے آغاز میں صدام نے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے قیام کا حکم دیا اور سال 1976 عیسوی میں عراق نے (Osiris) ماڈل کا ایک جوہری ری ایکٹر خریدا اور یہ ری ایکٹر تھا۔ پرامن جوہری تحقیق کے مقاصد کے لیے بنایا گیا اور عراقی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے برقرار رکھا۔ لیکن اسرائیل نے عراق کے مقاصد پر شک کیا اور کہا کہ اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور جون 1981 کو اسرائیل نے حملہ کر دیا۔ F-16s کے ایک سکواڈرن کے ساتھ اچانک ری ایکٹر اور F-15 Eagles کی مدد سے، جسے سینائی اڈے سے لانچ کیا گیا (جو اس وقت اسرائیلی کنٹرول میں تھا) اور مملکت سعودی عرب کی سرزمینوں سے ہوتا ہوا اور عراق تک اور بغداد سے 17 کلومیٹر جنوب مشرق میں زیر تعمیر نیوکلیئر ری ایکٹر (جس کا نام تموز 1 اور تموز 2 ہے) کو تباہ کر دیا۔ صحت بائیں|تصغیر|327x327پکسل|بغداد میں میڈیکل سٹی ۔ عراق کی صحت اس کی ہنگامہ خیز جدید تاریخ کے دوران اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران، صدام حسین کی حکومت نے صحت عامہ کی مالی امداد میں 90 فیصد کمی کی اور صحت کی دیکھ بھال ڈرامائی طور پر بگڑ گئی۔ اس عرصے کے دوران، زچگی کی شرح اموات میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا اور طبی کارکنوں کی تنخواہوں میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔ طبی آلات، جو 1980 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ کے بہترین آلات میں سے تھے، ابتر ہو چکے ہیں۔ صورت حال سنگین تھی، خاص طور پر جنوب میں، جہاں غذائی قلت عام تھی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں 1990ء میں عام تھیں۔ میں عراق میں ٹائیفائیڈ، ہیضہ، ملیریا اور تپ دق کے واقعات اسی طرح کے ممالک کے مقابلے زیادہ تھے۔ 2003 کے تنازعے نے عراق کے ایک اندازے کے مطابق 12 فیصد ہسپتالوں اور دو صحت کی لیبارٹریوں کو تباہ کر دیا۔ 2004 میں کچھ بہتری آئی۔ بین الاقوامی فنڈنگ کے ذریعے، تقریباً 240 ہسپتال اور 1,200 بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مراکز کام کر چکے ہیں، کچھ طبی مواد کی کمی کو کم کیا گیا ہے، طبی عملے کو تربیت دی گئی ہے اور بچوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین پلائی گئی ہے۔ جہاں تک عراقی اسپتالوں میں صحت سے بچاؤ کے اقدامات کا تعلق ہے، وہ طبی سطح پر اب بھی تسلی بخش نہیں ہیں اور تربیت یافتہ اہلکاروں اور ادویات کی کمی ہے اور دہشت گردی کے شکار علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال اب بھی بڑی حد تک دستیاب نہیں ہے۔ 2005 میں، ہر 10,000 عراقی شہریوں میں ہسپتال کے 15 بستر، 6.3 ڈاکٹر اور 11 نرسیں تھیں۔ 2006 میں، صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے قومی بجٹ سے US$1.5 بلین مختص کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں بچوں کی اموات کی شرح دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ نوے کی دہائی کے آخر اور نئے ہزاریے کے آغاز میں کینسر اور ذیابیطس سے اموات کی شرح اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ نوے کی دہائی میں ان دونوں بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی شرح میں کمی ہے۔ 2003ء میں صحت کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور پانی کی جراثیم کشی کے بنیادی ڈھانچے کے گرنے سے ہیضہ، پیچش اور ٹائیفائیڈ بخار کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ غذائیت کی کمی اور بچپن کی بیماریاں (جیسے دمہ، ایڈز، خون کی کمی وغیرہ)، جو 1990 کی دہائی کے آخر میں نمایاں طور پر بڑھیں، پھیلتی رہیں۔ 2006 میں، عراق میں ایچ آئی وی / ایڈز کے تقریباً 73 فیصد کیسز خون کی منتقلی سے پیدا ہوئے اور 16 فیصد کیسز جنسی تعلقات کی وجہ سے تھے۔ بغداد میں ایڈز ریسرچ سینٹر، جہاں زیادہ تر کیسز کی تشخیص ہوئی تھی، عراق داخل ہونے والے غیر ملکیوں کے لیے مفت علاج اور لازمی ٹیسٹ کی پیشکش کرتا ہے۔ اکتوبر 2005 AD اور جنوری / جنوری 2006 AD کے درمیان کی مدت کے لیے، انفیکشن کے 26 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے، جس سے سرکاری طور پر 1986 AD سے ایڈز کے 261 کیسز سامنے آئے اور سال 2015 میں، ہیضے کے کیسز۔ بغداد میں ابو غریب کے علاقے میں ریکارڈ کیے گئے تھے پھر، ہیضے کے دیگر کیسز عراق کے دیگر گورنریٹس میں رپورٹ ہوئے۔ 2013 میں وائرل ہیپاٹائٹس کے انفیکشن کی اقسام (E, D, C, B, A) کی تعداد 29,059 تک پہنچ گئی۔ عراق میں سال 2013 کے لیے سرکاری اسپتالوں کی تعداد (242) تھی، جب کہ نجی (نجی) اسپتال (111)، مشہور طبی کلینک کی تعداد (340) اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مراکز کی تعداد (2,622) تھی۔ ) سیاحت سیاحت ان شعبوں میں سے ایک ہے جو پچھلی صدی کے اسی کی دہائی سے عراق میں کشیدگی کے ادوار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں سیاحت عراقی قومی پیداوار کا بہت کم حصہ دیتی ہے۔ جہاں تک کردستان کے شمالی علاقوں کا تعلق ہے، سیاحت کی نقل و حرکت بہتر ہے، کیونکہ 2011 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اندرون ملک سیاحوں کی کل تعداد 392,000 سیاحوں سے زیادہ تھی اور اسی عرصے کے لیے 2010 کے مقابلے میں، وہاں سیاحوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہوٹلوں اور سیاحتی رہائش کے احاطے اور سال 2013 عیسوی کے لیے عراق میں مہمانوں کی تعداد (کردستان کے علاقے کو چھوڑ کر) (1267) سہولیات اور (6321105) مہمانوں تک پہنچ گئی، جن میں سے سب سے بڑی سہولت کربلا میں ہے (577) مہمانوں کی تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ قدامت پسند، جو (3115149) مہمانوں کے تھے اور سب سے کم میسان (5) سہولیات میں ہے، جبکہ بغداد میں 288 سیاحتی سہولیات اور (1,494,269) مہمان ہیں، جبکہ انبار میں کوئی بھی نہیں ہے۔ ہوٹل یا کمپلیکس اور مہمانوں کی سب سے کم تعداد المتھنہ میں (2927) مہمانوں کے ساتھ ریکارڈ کی گئی۔ مذہبی سیاحت عراق ابراہیمی مذاہب کے بہت سے اہم مقامات اور مزارات کے لیے مشہور ہے۔ مثال کے طور پر شہر اُر جس میں تورات کے مطابق ابراہیم پیدا ہوئے تھے اور یہودیوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے عقائد کے مطابق انبیا دانیال، حزقیل اور یونس ) کی قبریں بھی ہیں۔ شمالی عراق میں بہت سی قدیم خانقاہیں اور گرجا گھر ہیں، جن میں سالانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں۔ جیسا کہ سینٹ میٹی کی خانقاہ اور سینٹ بہنم اور سینٹ سارہ کی خانقاہ وغیرہ۔ مسلمانوں کے بہت سی مساجد اور مزارات بھی ہیں جہاں ملکی اور غیر ملکی خاص طور پر عرب خلیجی ممالک، ایران، ہندوستان اور پاکستان سے سیاح آتے ہیں۔ درج ذیل فہرستوں میں سب سے اہم مذہبی مقامات کی فہرست دی گئی ہے، لیکن ان سب کی نہیں: مزارات * نجف میں امام علی بن ابی طالب کا مزار * کربلا میں حضرت امام حسین اور ان کے بھائی حضرت عباس علمدار کے مزارات * حرم الحسینی کے اندر شہداء کا مزار ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو جنگ الطف میں امام حسین کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے اور وہ ایک ہی مزار میں مدفون ہیں۔ * بغداد کے مسجد کاظمیہ میں امام موسیٰ کاظم اور محمد الجواد تقی کی قبر * سامرہ میں امام علی نقی اور حسن العسکری کی قبر * بغداد میں امام ابو حنیفہ النعمان کی قبر * شیخ عبد القادر الجیلانی کا مزار بغداد میں ہے * بغداد میں شیخ معروف کرخی کا مقبرہ مقامات * امام علی کا گھر جسے امارت کا گھر کہا جاتا ہے، نجف میں کوفہ مسجد کے باہر ہے * کربلا میں بہت سے مزارات اور مزارات ہیں جن میں: زینبیہ کا مزار، امام مہدی کا مزار، اخراس بن کاظم کا مزار * کوفہ شہر میں امام مہدی کا مزار * بابل کے صوبے میں سبزیوں کے لیے دو مزار * ہللا میں حضرت ذوالکفلی کا روضہ * امام علی کا مزار (سورج کی واپسی کا منظر) شیعہ عقیدہ کے مطابق مساجد اور جامعات * ام القراء مسجد یہ ان جدید اور بڑی مساجد میں سے ایک ہے جو بغداد میں سابق صدر صدام حسین کے دور میں تعمیر کی گئی تھیں۔ اسے ام الماریک مسجد کہا جاتا تھا جو دوسری خلیجی جنگ کا سرکاری نام تھا۔ * ام التبل مسجد اس کا نام آج کی مسجد ابن تیمیہ ہے۔ اسے ام الطبل مسجد کہا جاتا ہے اور اسے 1388ھ/1968ء میں کھولا گیا۔ یہ بغداد کی جدید مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد کے مضافات میں واقع ہے۔ یرموک کا علاقہ البیضاء شہر کی طرف ہے۔ یہ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والی شاہراہ سے قریب ترین مسجد ہے۔ * الاحمدیہ مسجد یہ بغداد کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے، یہ المیدان اسکوائر کے مشرق میں، المرادیہ مسجد کے قریب روسفہ کے پہلو میں واقع ہے۔ اسے احمد پاشا الکتخدہ نے تعمیر کروایا تھا، جو اس کے نائب تھے۔ سلیمان پاشا الکبیر 1211ھ / 1796ء میں۔ * سرائے مسجد یا حسن پاشا مسجد، جسے بادشاہ کی مسجد بھی کہا جاتا ہے، روسفہ کی طرف واقع بغداد کی مشہور تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ 692ھ/1293ء میں تعمیر کی گئی۔ * نجف کی کوفہ مسجد اور اس میں امام علی کا منبر جس میں وہ صبح کی نماز پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ وہ جگہ جہاں وہ نماز ادا کرتے تھے، اب اسے امام علی کا مزار کہا جاتا ہے۔ * قدم امام علی مسجد (مسجد بصرہ) یہ مسجد نبوی کے بعد اسلام میں تعمیر ہونے والی دوسری مسجد ہے، جیسا کہ یہ 14 ہجری میں تعمیر کی گئی تھی۔ * نجف میں السہلہ مسجد ماضی میں، السہلہ مسجد کو (البیر) مسجد، (مسجد عبدالقیس) اور (بنی ظفر) مسجد کہا جاتا تھا، یہ مسجد کوفہ کے شمال مغربی جانب واقع ہے۔ * قدیم شہر موصل کے شمال مشرقی جانب واقع امام عون الدین (ابن الحسن) کا مزار، عمر ابن الخطاب کے دور میں 16 ہجری – 637 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی اہم یادگاروں میں سے کچھ باقی نہیں بچا سوائے محراب کے سینہ اور اس کے اوپر محراب کے، جو النوری مسجد میں نصب تھا۔ * الحنانہ مسجد، وہ جگہ ہے جہاں کربلا میں سنہ 61 ہجری میں شہادت کے بعد آل حسین (ع) کے جلوس کے گزرنے کے دوران الحسین کے سر کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ کوفہ تک پہنچا اور یہ جگہ نماز کے لیے مسجد بن گئی۔ * خلافت مسجد بغداد کے شورجہ ضلع میں خلافت سٹریٹ کے وسط میں واقع ہے۔ مذکورہ بالا مسجد عباسی خلیفہ المکتفی نے خدا میں سال (289-295ھ / 902-908 عیسوی) میں تعمیر کی تھی۔ * النوری مسجد موصل شہر کے مرکز میں واقع ہے اور اسے 566-568 عیسوی میں قائم کیا گیا تھا۔ مسجد کا سب سے نمایاں باقی ماندہ اس کا مینار ہے جو 52-54 میٹر بلند ہے۔ * حضرت دانیال کی مسجد، جو ایک قبر پر بنائی گئی ایک مسجد ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام کا جسم موجود ہے۔ یہ مسجد عراق کے شہر کرکوک میں کرکوک قلعہ کے اندر واقع ہے۔ * حضرت یونس اور پیغمبر کی چادر کا مزار دریائے دجلہ کے شمال مشرقی جانب حضرت یونس علیہ السلام کی پہاڑی کے اوپر واقع ہے۔ مسلمانوں کا سب سے مشہور قبرستان تصغیر|وادی السلام دنیا کے بڑے قبرستانوں میں سے ایک ہے۔ درج ذیل مشہور قبرستان ہیں۔ * وادی امن یہ ایک قبرستان ہے جس کی طرف کچھ انبیا کے مزارات جیسے آدم، نوح، ہود اور صالح سے منسوب ہیں * ادھمیہ قبرستان * کادھیمیہ قبرستان (قریش کا عظیم قبرستان) * شیخ معروف قبرستان * شاہی قبرستان کیتھیڈرل، گرجا گھر اور خانقاہیں تصغیر|نینوا|نینوی میں مار ایلیا خانقاہ، عراق کی سب سے قدیم خانقاہ درج ذیل عیسائیوں کے کیتھیڈرل، گرجا گھر اور خانقاہیں ہیں۔ * مار ایلیا خانقاہ عراق کی سب سے قدیم خانقاہ ہے جو چھٹی صدی عیسوی کی ہے۔ * مر متی کی خانقاہ موصل میں العوس کے علاقے میں واقع ہے، جسے کلاک ڈسٹرکٹ (اس کے ساتھ واقع کلاک ٹاور کے نسبت سے) کہا جاتا ہے۔ * مار بہنم خانقاہ موصل کے شمال مشرق میں اس سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ * مار اوراہا کی خانقاہ نینویٰ گورنری میں موصل کے شمال میں بتنایا قصبے میں واقع ہے۔ * ہماری لیڈی آف ڈیلیورینس چرچ بغداد میں۔ * کرکوک میں الحمرا کلڈین کیتھولک چرچ۔ * مارٹوم چرچ، موصل کے جنوب مشرق میں۔ یہودی عبادت گاہیں اور مزارات تصغیر|206x206پکسل|حزقیل نبی کا مقبرہ اور تصویر میں، اس کے قریب یہودی * یہودیوں کی عظیم عبادت گاہ بغداد میں واقع ہے اور موجودہ وقت میں یہ ایک میوزیم ہے۔ * بغداد میں میر تویج مندر اور اس کے بند یا کھلے ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں۔ * بابل میں گوبر ٹوڈ کا مندر، جو بند ہے۔ * موصل کے شہر القوش میں نبی نہم کا مزار۔ عراق کے دیگر صوبوں میں بھی مندر موجود ہیں لیکن وہ یا تو بند ہیں یا ویران ہیں۔ کردستان میں کرد یہودیوں کی تعداد کا تخمینہ 400 سے 730 یہودی خاندانوں کے درمیان ہے اور وہاں یہودی عبادت گاہوں کی بحالی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور وزارت اوقاف میں یہودیوں کا ایک نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ صابیوں کے علم کے گھر بغداد، کوت، ہللا، دیوانیہ، کرکوک، سلیمانیہ، موصل اور دیگر میں صابین کی عبادت گاہیں ہیں جنھیں ( منڈی یا علم کا گھر) کہا جاتا ہے، ان میں سب سے اہم یہ ہیں: * منڈیان ہاؤس آف نالج (ہیڈ کوارٹر) بغداد میں القادسیہ کے پڑوس میںہے۔ یہ فروری 2014ء میں کھولا گیا۔ * یہ منڈیان ہاؤس آف نالج کے قریب منڈی سبین یزیدی مندر بائیں|تصغیر|200x200پکسل|لالیش میں عدی بن مسافر|عدے بن مسافر کا مقبرہ لعلش النوریانی مندر یزیدیوں کا مرکزی مذہبی مندر وادی لالش (جس کا مطلب خاموشی کی وادی ہے) میں واقع ہے۔ یہ موصل شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال مغرب میں عین سیفنی یا شاخیان کے قریب پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ جہاں لالش النوری ہیکل اور شیخ عدے ابن مسافر کا مقبرہ مذہب کے پیروکاروں کے لیے مقدس ہے۔ یہ دنیا میں یزیدی مذہب کی روحانی کونسل کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ تاریخی سیاحتی مقامات تصغیر|اربیل قلعہ (اربیل قلعہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) اربیل، عراقی کردستان میں سب سے اہم یادگاروں میں ٹاور آف بابل، اشتر گیٹ، زیگورات، شہر ہاترا، ایوان خسرو، مالویہ، مستنصریہ اسکول، شیرین محل اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ عراق کو چوتھی صدی قبل مسیح سے قدیم ترین انسانی تہذیبوں کا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں عراق میں سمیری اور اکادین کے اثرات اب بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ بابل کے صوبے میں تاریخی شہر بابل کے باقی کھنڈر اور دیواریں بھی شامل ہیں۔ عراقی میوزیم میں عراق پر متواتر تہذیبوں کے اثرات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور یہ دنیا کے بہترین آثار قدیمہ کے ذخیرے پر مشتمل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عراقی میوزیم کو اس ملک پر امریکی حملے کے آغاز کے ساتھ ہی لوٹ لیا گیا تھا۔ مارچ 2003 میں تب سے، حفاظتی خدشات اور ان کی بحالی کی خاطر، بابلی، آشوری اور سمیری تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے اس کے باقی ماندہ اور بحال شدہ نوادرات کو ظاہر کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ شمالی گورنری بہت سے الگ الگ آشوری یادگاروں کی موجودگی کے لیے بھی مشہور ہیں، جیسے کہ موصل میں نینویٰ کی دیواریں، نمرود میں آشوری بادشاہوں کے محلات، بلاوات اور شرقات کے قریب اسوری کا تاریخی شہر وغیرہ۔ مسلمانوں نے بہت سی ثقافتی اور تعمیراتی عمارتیں تعمیر کیں ، جیسے المستنصریہ اسکول اور ملاویہ آف سامرا، اور دیگر شامل ہیں۔ ماحولیاتی سیاحت اور تفریح تصغیر|230x230پکسل|بابل کے قدیم شہر کے دروازوں میں سے ایک عراق اپنے متنوع سیاحتی ماحول کے لیے مشہور ہے، جہاں ایکو ٹورازم عراق میں عوامی سیاحت کا ایک بڑا حصہ بناتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک، تیسری خلیجی جنگ شروع ہونے سے پہلے، عراق ماحولیاتی سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا جو مختلف ممالک سے آتے تھے۔ دنیا خصوصاً پڑوسی ممالک پرندوں کے شکار میں اپنے مشاغل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، بالخصوص فالکنری شکار، یہ شوق جو عراق میں بیسویں صدی کے آغاز میں عراقی شکاریوں کے ہاتھوں ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں شروع ہوا اور بغداد کے تفریحی علاقوں میں سے: الزوراء پارک اور بغداد کا سیاحتی جزیرہ اور عراق میں کئی جھیلیں اور دلدل ہیں، جہاں اسے ایک سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے، بشمول: حبانیہ جھیل، دکن جھیل، دربندیخان جھیل ثرثار جھیل۔ شمالی عراق بھی اپنی متنوع نوعیت سے مالا مال علاقہ ہے جہاں ریزورٹس، بشمول صلاح الدین ریزورٹ اور دیگروغیرہ ہیں۔ سیاحتی اور ماحولیاتی مقامات کی تصاویر فائل:Kirkuk citadel.jpg|کرکوک قلعہ فائل:اثار الحضر 2 - نينوى.jpg|alt=|ہاترا کے شہر کے دروازوں میں سے ایک فائل:Ziggurat of UrInbound1427286134917083377.jpg|alt=|ذی قار میں غذر کی زنجیر فائل:Street in Babylon.jpg|alt=|بابل کی دیواریں فائل:Al-Mustansriah School - Main door.jpg|alt=|بغداد میں المستنصریہ اسکول کی عمارت فائل:Ishtar Gate at Berlin Museum.jpg|برلن میوزیم میں اصل اشتر گیٹ فائل:Mosul river.jpg|alt=|موصل کے دیہی علاقوں میں دریائے دجلہ فائل:Ishtar or Babylon Gate.jpg|2018 عیسوی میں بابل میں اشتر گیٹ کا ایک ماڈل فائل:Human-headed Winged Bulls Gate - Louvre.jpg|لوور میوزیم میں دو پروں والے شیر فائل:Sargon II and dignitary.jpg|شروکین کے کردار میں سارگن II کی نمائندگی کرنے والا مورل فائل:Kurd 2012 (4).JPG|اربیل میں گلی علی بیک آبشار فائل:Bekhal.JPG|اربیل میں بکل آبشار فائل:Dokansee.jpg|دکن جھیل سلیمانیہ میں فائل:Banoka Village (7).jpg|اربیل میں بنوکا فطرت فائل:City of Zakho-Zaxo in Iraqi Kurdistan.jpg|زکھو میں دریائے خبور نقل و حمل عراق میں نقل و حمل میں ریلوے، ہائی ویز، آبی گزرگاہیں (سمندر اور دریا)، پائپ لائنیں، بندرگاہیں اور بندرگاہیں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ ہوائی نقل و حمل 1999ء کے اعداد و شمار کے مطابق، عراق میں کل 113 چھوٹے، درمیانے اور بڑے ہوائی اڈے ہیں، جن میں سے کچھ فوجی ہوائی اڈے ہیں، باقی شہری ہوائی اڈے ہیں اور ان میں سے کچھ ہوائی اڈوں پر کچے رن وے ہیں اور کچھ صرف ہیلی کاپٹروں کے لیے موزوں ہیں۔ * بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈہ * بصرہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ * اربیل بین الاقوامی ہوائی اڈہ * کربلا بین الاقوامی ہوائی اڈہ * موصل بین الاقوامی ہوائی اڈہ * نجف بین الاقوامی ہوائی اڈہ * سلیمانیہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ * ناصریہ ہوائی اڈہ ریلوے عراق میں برطانیہ کی موجودگی کے دوران گذشتہ صدی کے آغاز سے ریلوے عراق میں داخل ہوئی اور ریلوے نیٹ ورک کی لائنیں جنوبی عراق سے شمال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ عراق نے بہت سے نیٹ ورک لائنوں، مسافروں اور مال بردار انجنوں کی تجدید، ترقی اور ترقی شروع کر دی ہے اور عراق میں ریلوے نیٹ ورک کی لمبائی 2272 کلومیٹر ہے۔ عراق نے حال ہی میں کچھ پڑوسی ممالک سے منسلک کرنے کے لیے ریلوے نیٹ ورک کو وسعت دینا شروع کیا ہے، جس کی قیادت ترکی، بغداد میٹرو پروجیکٹ کے علاوہ، یہ عراق میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔ * عراقی جمہوریہ ریلوے * بغداد میٹرو * بغداد سینٹرل ریلوے سٹیشن * مقال ریلوے اسٹیشن شاہراہیں 1996ء کے اندازوں کے مطابق، عراق میں مرکزی سڑکوں کی کل لمبائی تقریباً 45,550 کلومیٹر ہے، جن میں سے 38,400 کلومیٹر پکی سڑکیں ہیں اور 7,150 کلومیٹر کچی ہیں۔ اور عراق میں دنیا کی سب سے بڑی سڑک بغداد سے شام (الولید) تک کی سڑک ہے۔ آبی گذر گاہیں شط العرب کو عراق کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے لیکن شط العرب کے بعض حصوں میں اس کی گہرائی ناکافی ہونے کی وجہ سے بحری جہاز رانی کے قابل نہیں ہے۔ شط العرب کے تقریباً 1,000 کلومیٹر طویل بحری جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے بحری سفر کے قابل ہے۔ بحری جہاز اور سمندر پر عراق تک کافی رسائی نہ ہونا سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے پہلی خلیجی جنگ شروع ہوئی اور بصرہ کی بندرگاہ اور ام قصر کی بندرگاہ کو عراق کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور دوسری چھوٹی بندرگاہیں ہیں جیسے کہ خر الزبیر کی بندرگاہ اور خر الامایا کی بندرگاہ۔ 1999 کے اعداد و شمار کے مطابق، عراق کے پاس 13 بڑے آئل ٹینکرز، 14 کارگو جہاز اور ایک مسافر بردار جہاز تھا۔ اب تک عراق میں دریا کی نقل و حمل بہت کم فاصلے کے لیے اور ذاتی پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ بصرہ خلیج فارس پر واقع عراق کا واحد صوبہ ہے اور اس کی بندرگاہیں ہیں: * ابو فلوس پورٹ * ام قصر بندرگاہ * فاؤ بندرگاہ * بصرہ تیل کی بندرگاہ * خور الامایا تیل کی بندرگاہ * بصرہ بندرگاہ ثقافت موسیقی اور گانا عراق میں موسیقی کی تاریخ خود عراق کی طرح پرانی دوروں میں واپس چلی جاتی ہے اور موسیقی دنیا کے قدیم ترین ہارپ ( سومیری ہارپ ) سے لے کر لیوٹ کی ایجاد تک اور پانچویں تار کو شامل کرنے تک، متعدد ادوار میں تیار ہوئی ہے۔ اس کے لیے، مختلف عراقی تال اور مقام تک۔ عراقی موسیقی نے بیسویں صدی کے آغاز میں دو بھائیوں صالح الکویتی اور داؤد الکویتی کے ہاتھوں نمایاں ترقی کی اور اس صدی کے چالیس کے عشرے میں خواتین گلوکاروں کی تعداد تقریباً چالیس گلوکاروں تک پہنچ گئی، تب عراقی موسیقی کی پہچان تھی۔ اس کے بعد بہت سے موسیقار جنھوں نے عراقی گیت کو تقویت بخشی، جیسے: طالب غالی، حامد البصری، طارق الشبلی، مفید النصیح۔ ، جعفر الخفاف، طالب القرگولی اور دیگر وغیرہ ہیں۔ ادب، شاعری اور فن جدید عراقی ادب عراق کی سیاسی تاریخ سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں، صدام حسین کی حکومت نے عراق میں ممتاز ادیبوں کو ایک اپارٹمنٹ، ایک کار اور سال میں ایک اشاعت کی ضمانت فراہم کی۔ بدلے میں، مصنف سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ حکمران بعث پارٹی کی حمایت کریں گے۔ اور ایران عراق جنگ کے لیے پروپیگنڈا کیا، بلکہ کئی ادیبوں اور مصنفین کو جلاوطنی کا انتخاب کرنے پر اکسایا۔ مصنف نجم ولی کے مطابق، اس عرصے کے دوران، "جن لوگوں نے لکھنا بند کرنے کا انتخاب کیا انھیں بھی کچھ ایسا لکھنا پڑا جس سے آمر کو غصہ نہ آئے، کیونکہ خاموشی کو جرم سمجھا جاتا تھا۔" بیسویں صدی کے آخر کے مصنفین میں سے: سعدی یوسف، فادل العزوی، مشین الرملی، صلاح الحمدانی اور فتح شیرکو۔ عراق کو عرب ادیبوں میں "شاعروں اور شاعروں کا ملک" یا " شاعروں کا ملک" کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں شاعروں کی بڑی تعداد ہے، اور عراق فن کے میدانوں میں بہت سے بڑے ناموں سے بھرا ہوا ہے۔ اور ادب۔ جدید دور، عبد الوہاب البیطی، محمد مہدی الجواہری، نازک الملائکہ، احمد مطر، بدر شاکر الصیاب، جمیل صدیقی الزہاوی، معروف الروسفی، عبد ال -رزاق عبد الواحد اور پلاسٹک کے فنکاروں، مصوروں اور مجسمہ سازوں میں: رفعت الجدیرجی، زاہا حدید، لیلیٰ العطار، محمود صابری، جواد سلیم، شاکر حسن السعید ، اور محمد غنی حکمت شامل ہیں۔ عراقی داستانی ورثہ عراق اپنے داستانی ورثے سے مالا مال ہے، کیونکہ اسے ناولوں کے لیے زرخیز زمین سمجھا جاتا ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ ان کہانیوں کا کئی بین الاقوامی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور دوسرے لوگ انھیں جانتے تھے۔ * رزمیہ گلگامش * الف لیلہ و لیلہ * سندباد جہازی * الہ دین * علی بابا اور چالیس چور کھیل عراق میں کھیل مختلف ہوتے ہیں اور عراقی حکومت اس میدان میں خاص طور پر فٹ بال، تائیکوانڈو، فائیو اے سائیڈ ، باسکٹ بال، ایتھلیٹکس ، شطرنج اور باکسنگ میں بہت دلچسپی ظاہر کرتی ہے۔ شکار اور اسکیئنگ کے علاوہ یہ تمام کھیل لوگوں میں اچھی طرح پھیلے ہیں جو عام طور پر موسمی ہوتے ہیں اور شمالی عراق کے پہاڑی علاقوں تک محدود ہوتے ہیں۔ عراقی ریاست بھی معذوروں کے کھیل میں بہت دلچسپی ظاہر کرتی ہے اور خصوصی ضروریات کے ساتھ کھیلوں کی ٹیموں نے بہت سے مقامی، عرب اور بین الاقوامی چیمپئن شپ اور تمغے حاصل کیے ہیں۔ * عراق فٹ بال ایسوسی ایشن * الجدریہ ایکوسٹرین کلب * عراقی ہنٹنگ کلب * بصرہ انٹرنیشنل اسٹیڈیم فٹ بال فٹ بال عراق میں سب سے مشہور کھیل ہے۔ عراق فٹ بال ایسوسی ایشن کا باضابطہ قیام 1948ء میں ہوا اور دو سال بعد 1950ء میں فیفا میں شمولیت کا عمل مکمل ہوا۔ اور ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن میں شامل ہونے میں 1971ء تک کا وقت لگا۔ عراقی فٹ بال ٹیم کے لیے مختلف سطحوں پر فٹ بال کے بہت سے کارنامے ہیں۔ براعظمی سطح پر، عراقی قومی ٹیم 2007ء میں ایک بار ایشین فٹ بال نیشن کپ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہی۔ علاقائی سطح پر، عراقی ٹیم مسلسل 4 بار عرب کپ چیمپئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوئی: 1964- گلف کپ چیمپئن شپ جیتنے کے علاوہ 1966-1985-1988۔ 3 بار 1979-1984-1988۔ عراقی انڈر 19 ٹیم نے اپنی تاریخ میں 5 بار ایشین یوتھ چیمپئن شپ بھی جیتی، سال یہ تھے: 1975-1977 – 1978-1988 –2000۔ جہاں تک عراقی فٹ بال کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے، یہ میکسیکو میں 1986ء فیفا عالمی کپ کے فائنل میں پہنچنا تھا اور 2007ء میں ایشین نیشنز کپ جیتا تھا 2004 کے سمر اولمپکس میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کے علاوہ بہترین کامیابی کے طور پر۔ ایشیائی فٹ بال کی تاریخ میں 1982ء میں ہندوستان میں منعقد ہونے والے ایشیائی کھیل کا طلائی تمغا جیتنے کے علاوہ، فیفا انڈر 20 ورلڈ میں ان کا چوتھا مقام تھا۔ عراق نے 2009ء میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے کنفیڈریشن کپ میں کھیلنے کے لیے کوالیفائی کیا۔ عراقی پولیس ٹیم نے 1971ء میں عراقی کلبوں کے لیے اے ایف سی چیمپئنز لیگ تقریباً حاصل کر لی تھی، لیکن اسرائیلی ٹیم مکابی تل ابیب کے خلاف فائنل میچ میں سیاسی وجوہات کی بنا پر دستبرداری کے بعد یہ دوسرے نمبر پر رہی۔ 1931ء میں پہلا عراقی کلب قائم ہوا جو ایئر فورس کلب ہے۔ عراقی فٹ بال کلب عراق میں 110 رجسٹرڈ کلب ہیں اور ایئر فورس کلب کو قدیم ترین کلبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس کی بنیاد 1931ء میں رکھی گئی تھی، اور مینا کلب، جس کی بنیاد اسی سال رکھی گئی تھی، اور پولیس کلب، جس کی بنیاد 1932ء میں رکھی گئی تھی اور 1937ء میں ریلوے کلب، جس کا نام بعد میں بدل کر ٹرانسپورٹیشن کلب اور پھر الزوراء کلب رکھ دیا گیا۔ یہ کلب صرف فٹ بال یا مختلف کھیلوں کے کلبوں کے لیے وقف ہونے سے مختلف ہیں۔ فن تعمیر میسوپوٹیمیا کا فن تعمیر کئی مختلف ثقافتوں پر محیط ہے اور یہ دسویں صدی قبل مسیح سے لے کر آٹھویں صدی قبل مسیح تک، جب پہلی مستقل تعمیرات تعمیر کی گئی تھیں، ایک عرصے پر محیط ہے۔ عراقی تعمیراتی کامیابیوں میں شہری منصوبہ بندی کی ترقی، صحن کے گھر کا ڈیزائن اور زیگورات کی تعمیر شامل ہیں۔ عراقی فن تعمیر بھی اس تاریخ کے بعد آنے والی تمام تہذیبوں سے متاثر تھا، بشمول رومی، ایرانی اور دیگر تہذیبیں۔ اور جب خلفائے راشدین کے دور میں عراق فتح ہوا تو عراق میں اسلامی فن تعمیر کا آغاز ہوا اور اسلامی فن تعمیر کے عناصر کو مینار، گنبد، صحن، مسجد، محراب وغیرہ سے ممتاز کیا گیا۔ سامرا مسجد، جو عباسی دور میں قائم ہوئی تھی اور اس کی بادشاہت، سامرا بادشاہت کو عراق میں اسلامی فن تعمیر کا نمونہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح عراقی فن تعمیر کی خصوصیت چناچیل تھی، جو بیسویں صدی کے آغاز تک جاری رہی اور عراق کو موصلی فن تعمیر سے بھی ممتاز کیا گیا تھا، جس کے بعد عراق عصری فن تعمیر سے متاثر ہوا جو دنیا میں پھیل گیا، حالانکہ عصری کاموں میں سے کچھ میں عراقی فن تعمیر کی خصوصیات موجود ہیں، جیسے بغداد ٹاوروغیرہ۔ ملف:اثار_الحضر.jpg|موصل میں حاترہ سلطنت ملف:سامراء.jpg|الملویہ، جو سامرا میں عظیم مسجد کا مینار ہے۔ ملف:Old_city_of_Basra_1954.jpg|شناسیل بسرا 1954ء میں ملف:Ziggurat_of_UrInbound1427286134917083377.jpg|ذی قار میں زگگرات ملف:Baghdad_tower.jpg|المامون ٹاور ملف:Baghdad_Railway_Station.jpg|1976ء میں بغداد ٹرین اسٹیشن ملف:Republican_Palace,_Baghdad,_Iraq_front.jpg|2010 عیسوی میں ریپبلکن محل ملف:طاق_كسرى.jpg|طاق خسرو المدائن میں ملف:Iraq-wheels-Euphrates.jpg|الانبار کے گاؤں العجمیہ میں پانی کے پہیے، 1911ء ملف:Baghdad_2.jpg|الموفقیہ اسکول، بغداد میں القشلہ گھڑی ملف:InsideImamAliMosqueNajafIraq.JPG|روضہ امام علی نجف میں ملف:جامع_ام_الطبول.jpg|ام التبل مسجد بغداد میں ملف:Grand_mosque_of_Mosul_.jpg|موصل کی عظیم مسجد ملف:Al_Sarai_Mosque.jpg|سرائے مسجد 1293ء میں روسفہ، بغداد میں تعمیر کی گئی۔ ملف:Hadba-16208v.jpg|موصل میں الحدبہ مینار ملف:Hanging_Gardens_of_Babylon.jpg|بابل کے معلق باغات کی ایک خیالی ڈرائنگ ملف:المدرسة_المستنصرية_في_بغداد_(3).jpg ملف:Sumerian_Mudhif-guesthouse,_Southern_Eastern_marshes,_Iraq.jpg|مدیف (ریڈ ہاؤس) کا اندرونی ڈیزائن جو جنوبی عراق کے دلدل میں بنایا گیا ہے پکوان تصغیر|عراقی قوزی تصغیر|ایک عراقی کھانا جس میں لوبیا|لوبیا کا شوربہ، [[چاول، چکن، عراقی روٹی، کھجور اور اچار شامل ہیں۔]] عراق میں بہت سے مشہور پکوان، ان کے اجزاء اور تیاری کے طریقے ہیں۔ عراقی پکوان عراق میں جغرافیائی علاقے کے لحاظ سے ماحول اور اس کے وسائل میں تبدیلی کی وجہ سے مختلف ہیں۔ عراق کے مشہور پکوان درج ذیل ہیں: * المصگوف : یہ ایک مشہور بغدادی کھانا ہے، جس کی تیاری کا ایک خاص طریقہ ہے، جیسا کہ مچھلی کو بھون کر لکڑی کی لاٹھیوں پر لٹکایا جاتا ہے۔ * چاول اور قیمہ : یہ جنوبی اور وسطی عراق میں ایک مشہور کھانا ہے، خاص طور پر مذہبی مواقع پر (دسویں محرم) اور یہ چاول کے ساتھ چھلکے اور گوشت پر مشتمل ہوتا ہے۔ * عراقی کباب عربی کباب جیسا ہی ہے لیکن اس کا ذائقہ الگ ہے۔ کباب کی ایک اور قسم ہے جسے رگ کباب کہتے ہیں۔ * ڈولما : اسے کچھ ممالک میں سٹفڈ کہا جاتا ہے اور یہ اس کے اجزاء کے تنوع کی وجہ سے نمایاں ہے۔ * بریانی : یہ گلف کبسا کھانے کی طرح ہے، جس میں چاول کچھ گری دار میوے جیسے پستے، بادام، نیز کٹے ہوئے گوشت کے ساتھ ملائے جاتے ہیں اور اس کے لیے ایک خاص قسم کا مصالحہ اور مسالا استعمال کیا جاتا ہے۔ * باجا : یہ ایک مشہور کھانا ہے جس میں بھیڑ کے بچے کی ٹانگوں کے ساتھ سر کا گوشت ہوتا ہے جسے ابال کر روٹی اور چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ * دلیمی * تھریڈ، جو دوسرے عرب ممالک میں بھی پایا جاتا ہے * کوزی * پھلیاں اور انڈے عجائب گھر تصغیر|عراق میوزیم|عراق میوزیم، بغداد تصغیر|بغدادی میوزیم|بغدادی میوزیم، بغداد تصغیر|سلیمانیہ میں شیروانہ کیسل، جس میں گرمیان میوزیم واقع ہے۔ عراق کی ثقافتی، تاریخی اور قدرتی دولت کی وجہ سے عراق میں بہت سے عجائب گھر موجود ہیں۔ ہر شہر میں متعدد تاریخی اور قدرتی عجائب گھر ہیں۔ سب سے مشہور عجائب گھر ہیں: * عراق میوزیم، بغداد * بغدادی میوزیم، بغداد * بغداد نیچرل ہسٹری میوزیم * بغداد فائن آرٹ میوزیم * ناصریہ میوزیم * سمارا عجائب گھر * موصل عجائب گھر * کرد ثقافتی عجائب گھر * اربیل تہذیب عجائب گھر * کرد ٹیکسٹائل عجائب گھر، اربیل * تکریت عجائب گھر * سلیمانیہ عجائب گھر * کربلا میں امام حسین عجائب گھر * انگلڈی میوزیم - نینوا، جس میں نابو نِد کی بیٹی شہزادی انگلڈی شامل ہیں (یہ ممکنہ طور پر دنیا کا پہلا عجائب گھر ہوگا اور تقریباً 530 قبل مسیح کا ہے) اُر، دھی قر میں ہے۔ * بصرہ عجائب گھر ٹی وی ڈراما اور سینما چالیس کی دہائی میں، شاہ فیصل دوم کے دور میں، حقیقی عراقی سنیما کا آغاز ہوا، کیونکہ بغداد میں برطانوی اور فرانسیسی فنانسرز کے تعاون سے فلم پروڈکشن کمپنیاں قائم کی گئیں۔ بغداد اسٹوڈیو کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی تھی۔ پروڈکشن اکثر خالصتاً تجارتی ہوتی تھی اور فلمیں نرم رومانوی موضوعات پر مرکوز ہوتی تھیں، جن میں گانے اور رقص کے بہت سے حصے اور کہانیاں، چھوٹے دیہاتوں میں سیٹ لگائے جاتے تھے۔ فلم (عالیہ اور عصام) 1948ء میں تیار کی جانے والی پہلی عراقی فلم ہے۔ 1955ء میں، حیدر العمر نے مشہور رومیو اور جولیٹ کی کہانی سے ملتا جلتا عراقی ناول فتنہ و حسن تیار کیا۔ 1959ء میں اس نے عراقی سنیما کے لیے پہلا سرکاری ادارہ سینما اینڈ تھیٹر اتھارٹی قائم کیا، لیکن اس نے ساٹھ کی دہائی کے دوسرے نصف تک پروڈکشن شروع نہیں کی۔ سینما اور تھیٹر اتھارٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی فلمیں اس دور میں انقلاب کے واقعات سے متعلق دستاویزی فلمیں تھیں اور یہ صورت حال 1966ء تک جاری رہی۔ ( الجابی ) فلم کے ہدایت کار جعفر علی تھے ، اور اس کی نمائندگی اسد عبد الرزاق، وداد، فوزیہ الشاندی اور جعفر السعدی نے کی۔ تصغیر|ڈان آف دی ورلڈ کی شوٹنگ کے دوران ڈائریکٹر عباس فادل 1979 میں صدام حسین کے اقتدار میں آنے سے عراقی سنیما کو قدرے مختلف سمت میں دھکیل دیا۔ عراق اور ایران کے درمیان جنگ نے قومی وسائل اور فلم پروڈکشن کو محدود کر دیا۔ 1981ء میں، حکومت نے مصری ہدایت کار صلاح ابو سیف کو القدسیہ کی ہدایت کاری کا کام سونپا، یہ ایک مہاکاوی فلم ہے جو 636ء میں القدسیہ کی جنگ میں فارسیوں پر عربوں کی فتح کی کہانی بیان کرتی ہے۔ محمد شکری جمیل نے فلم ( دی گریٹ ایشو ) کی ہدایت کاری کی تھی، جس میں برطانوی اداکار اولیور ریڈ نے کرنل لیچ مین کا کردار ادا کیا تھا، جو بیسویں انقلاب میں مارا گیا تھا۔ 1980 میں، ایک 6 گھنٹے طویل فلم تیار کی گئی تھی، جس میں صدر صدام حسین کی سوانح عمری پر بات کی گئی تھی، جو فلم (دی لانگ ڈیز) ہے اور یہ فلم صدام حسین کے وزیر اعظم عبد الکریم قاسم کے قتل کی ناکام کوشش میں شرکت کے بارے میں بات کرتی ہے۔ پھر فرار ہو کر تکریت واپس آ گئے۔ فلم کے ہدایت کار مصری فنکار توفیق صالح ہیں۔ صدام حسین کا کردار اس کے کزن اور داماد صدام کامل نے ادا کیا تھا۔ 1990ء میں کویت کی جنگ کے بعد عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں، جس نے ہدایت کاروں کی نئی نسل کے ابھرنے کے باوجود اس ملک میں سنیما کا کام مشکل بنا دیا۔ نوے کی دہائی کے نمایاں کاموں میں 1993ء میں ریلیز ہونے والی فلم غازی بن فیصل تھی۔ 2003ء میں تیسری خلیجی جنگ کے بعد، ڈرامائی اور دستاویزی فلموں کا ایک نیا انداز سامنے آیا، جو طویل اور مختصر فلموں کے درمیان مختلف تھا اور سنیما کی تیاری کے آزاد طرز پر انحصار کرتا تھا۔ تعلیم تصغیر|صدام کی قیادت میں عراقی حکومت نے ناخواندگی کے خاتمے اور خواتین کی تعلیم پر زور دیا۔ یہاں صدام حسین کو عراقی اسکول کی طالبات کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ عراق میں تعلیم کا عمل عراقی وزارت تعلیم کے زیر انتظام ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق 1991ء میں دوسری خلیجی جنگ سے پہلے کے عرصے میں عراق میں ایک ایسا تعلیمی نظام موجود تھا جو خطے میں سب سے بہتر سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح گذشتہ صدی کے ستر اور اسی کی دہائی میں جب حکومت نے ناخواندگی کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا تھا، پڑھنے لکھنے کے اہل (خواندگی) کی فیصد زیادہ تھی۔ تاہم، عراق جنگوں، محاصروں اور عدم تحفظ کی وجہ سے تعلیم کو بہت نقصان پہنچا ہے، کیونکہ ناخواندگی کی شرح اب عراق میں جدید تعلیم کی تاریخ میں بے مثال سطح پر پہنچ چکی ہے۔ موجودہ عراقی حکومت اپنے سالانہ بجٹ کا 10% تعلیم کے لیے مختص کرنے کے بعد اس بحران کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عراق کے ماحولیاتی اعدادوشمار کے مطابق، 2012 میں آبادی کی شرح خواندگی 79.5% تھی، جب کہ ناخواندگی کی شرح 20.5% تھی. ابتدائی مرحلہ یہ گریڈ ایک سے گریڈ چھ تک چھ درجات پر مشتمل ہے اور چھ سال تک رہتا ہے۔ 6 سال کی عمر میں بچے کی رجسٹریشن لازمی ہے۔ انٹرمیڈیٹ مرحلہ تصغیر|سال 2016 کے لیے ایک عراقی یونیورسٹی میں طلبہ۔ یہ ابتدائی مرحلے کے بعد ہے اور 3 سال پر مشتمل ہے (پہلا انٹرمیڈیٹ ہے۔ . دوسرا اوسط ہے۔ . تیسری اوسط)۔ مڈل اسکول یہ چوتھی تیاری کی جماعت سے شروع ہوتی ہے اور 3 مراحل (چوتھی، پانچویں اور چھٹی تیاری) پر مشتمل ہوتی ہے۔ چوتھی جماعت میں، طالب علم سائنسی یا ادبی علوم کا انتخاب کرتا ہے۔ اعلی تعلیم اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے عراق میں بہت سی یونیورسٹیاں ہیں جن میں سب سے اہم بغداد، موصل، بصرہ، انبار اور دیگر میں ہیں۔2003 عیسوی کے بعد عراق میں بہت سے کالج اور یونیورسٹیاں کھلی اور ترقی کی گئیں اور یونیورسٹی کی درجہ بندی کے مطابق نیٹ ورک،۔ اکتوبر 2015 کے مطابق بغداد یونیورسٹی عراق میں پہلے نمبر پر ہے۔ (عالمی سطح پر 1812 ویں نمبر پر)، دیالہ یونیورسٹی دوسرے نمبر پر (عالمی سطح پر 3514 ویں نمبر پر) اور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی تیسرے نمبر پر (عالمی سطح پر 4051 نمبر پر)۔ عراق کے شہر بیرونی روابط * عراقی سرکاری ویب گاہ * * عراق برائے فروخت۔ یو ٹیوب حوالہ جات زمرہ:اسلامی ریاستیں زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:اوپیک کی رکن ریاسات زمرہ:ایشیائی ممالک زمرہ:بین النہرین زمرہ:ترک زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:خلیج فارسی ممالک زمرہ:زرخیز ہلال زمرہ:سرزمین شام زمرہ:عرب لیگ کی رکن ریاسات زمرہ:عربی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:قریب مشرقی ممالک زمرہ:کردی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:مؤتمر عالم اسلامی کے رکن ممالک زمرہ:مسلم اکثریتی ممالک زمرہ:مشرق وسطی کے ممالک زمرہ:مضامین جن میں سورانی کردی زبان کا متن شامل ہے زمرہ:مغربی ایشیا زمرہ:مغربی ایشیائی ممالک زمرہ:وفاقی جمہوریتیں زمرہ:1932ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:عراق زمرہ:سابقہ فرماں روائیاں زمرہ:عراق میں 1932ء کی تاسیسات
[Wikipedia:ur] فرانس جمہوریہ فرانس یا فرانس ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔ وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انھوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔ انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔ فرانس سیکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔ اشتقاقیات لفظ "فرانس" لاطینی زبان کے لفظ "فرانکیا" سے ماخوذ ہے جو ابتدا میں پوری فرانکیا سلطنت کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس کے معنی ہیں "فرانک کا وطن"۔ آج بھی یورپ کی بہت سی زبانوں میں جدید فرانس کا تقریباً یہی نام رائج ہے، چنانچہ اطالوی اور ہسپانوی میں فرانسیا، جرمن میں فرانکریخ اور ولندیزی میں فرانک ریک کہا جاتا ہے اور ان سب ناموں کا ماخذ وہی مذکورہ تاریخی پس منظر ہے۔ لفظ "فرانک" کی ابتدا کے متعلق متعدد نظریات بیان کیے جاتے ہیں۔ ایڈورڈ گبن اور جیکب گرم کے پیشرووں کا خیال تھا کہ اس لفظ کا تعلق انگریزی لفظ "فرینک" (frank یعنی آزاد) سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گال کی فتوحات کے بعد فرانک ہی تھے جو محصولات سے آزاد رہے، اسی لیے انھیں فرانک کہا جانے لگا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لفظ "فرانک" ابتدائی جرمنی زبان کے لفظ frankon سے مشتق ہے جس کے معنی چھوٹے نیزے یا برچھی کے ہیں اور چونکہ فرانک قوم نیزہ افگنی میں معروف تھی، اس لیے وہ فرانک مشہور ہوئے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ فرانکوں کے استعمال کی بنا پر ان ہتھیاروں کا یہ نام پڑا، نہ کہ ہتھیاروں کے استعمال سے اس قوم کا نام فرانک ہوا۔ تاریخ ماقبل تاریخ (چھٹی صدی ق م سے قبل) موجودہ فرانس میں انسانی زندگی کے آثار اٹھارہ لاکھ برس سے پائے جاتے ہیں۔ ماضی میں یہاں انسانی آبادی کو ناخوشگوار اور بدلتے موسموں کا سامنا رہا جن میں سخت برفانی دور بھی آئے۔ یہاں ابتدائی انسانی انواع خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی اور شکار کرکے اپنی غذا کا انتظام کرتی تھیں۔ فرانس میں بالائی قدیم سنگی دور کے منقش غاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں مشہور ترین اور محفوظ ترین غار لاسکو ہے جو اندازہً 18000 ق م کی ہے۔ برفانی دور کے اختتام (10000 ق م) کے وقت اس خطے کی آب و ہوا معتدل ہو گئی اور اندازہً سات ہزار ق م سے مغربی یورپ کا یہ حصہ نئے سنگی دور میں داخل ہوا اور اس کے باشندوں نے خانہ بدوشی ترک کر کے مستقل سکونت اختیار کی۔ آبادیاتی اور زراعتی ترقی کے بعد چوتھے اور تیسرے ہزارے کے درمیان میں فلزیات کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں یہ لوگ سونا، تانبا اور کانسی کو استعمال کرتے رہے، بعد میں لوہے کا انکشاف ہوا۔ آج بھی فرانس میں نئے سنگی دور میں تعمیر شدہ متعدد سنگی عمارتیں موجود ہیں جن میں انتہائی کثیف کارناک پتھروں کا مقام خاصا مشہور ہے۔ یہ مقام اندازہً 3300 ق م کا ہے۔ عہد قدیم (چھٹی صدی ق م سے پانچویں صدی عیسوی تک) 600 ق م میں فوکائیا سے تعلق رکھنے والے ایونی یونانیوں نے بحیرہ روم کے ساحل پر مسالیا نامی نوآبادی قائم کی جہاں اس وقت مارسئی شہر آباد ہے، اس لحاظ سے مارسئی فرانس کا سب سے قدیم شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسی اثنا میں کچھ سیلٹک قبائل فرانس کے بعض حصوں میں داخل ہوئے جو پانچویں صدی سے تیسری صدی ق م تک آہستہ آہستہ پورے فرانس پر قابض ہو گئے۔ ان کے مقبوضہ علاقوں کی سرحدیں دریائے رائن، بحر اوقیانوس، کوہ پائرینیس اور بحر متوسط پر محیط تھیں۔ موجودہ فرانس کی سرحدیں بھی تقریباً یہی ہیں جن میں سیلٹک گال آباد تھے۔ گال کے عہد میں یہ خطہ انتہائی خوش حال اور متمول تھا اور اس کا انتہائی جنوبی علاقہ یونانی اور رومی تہذیب و معاشیات سے بے حد متاثر تھا۔ 125 ق م کے آس پاس ملک گال کے جنوبی علاقہ کو رومیوں نے فتح کر لیا جو اسے ہمیشہ پرووِنشیا نوسٹرا (یعنی ہمارا خطہ) کہا کرتے تھے، موجودہ فرانس میں بھی یہ خطہ پروونس کہلاتا ہے۔ بعد ازاں 52 ق م میں جولیس سیزر نے گال کے سربراہ ورسنگے ٹورکس کی قیادت میں اٹھنے والی بغاوت کی لہر کو کچل کر ملک گال کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کر لیا۔ آگستس نے گال کو رومی ریاستوں میں تقسیم کیا۔ اس گال رومی عہد میں متعدد شہر آباد ہوئے جن میں لوگدونوم (موجودہ لیون) قابل ذکر ہے، یہ شہر گالوں کا دار الحکومت سمجھا جاتا ہے۔ ان شہروں کو ٹھیٹھ رومی طرز میں تعمیر کیا گیا تھا جن میں ایک بڑی بیٹھک یا چوپال، تھیٹر، سرکس، ایمفی تھیٹر اور گرم حمام ہوا کرتے تھے۔ جلد ہی گال رومی نو آبادکاروں میں گھل مل گئے اور ان کی ثقافت و تمدن نیز ان کی زبان کو اختیار کر لیا۔ بعد میں ان دونوں کی زبانوں کے اشتراک سے فرانسیسی زبان پیدا ہوئی۔ نیز رومی کثرت پرستی گال کی بت پرستی میں مل کر امتزاج ضدین کا نمونہ بن گئی۔ ملک گال کی قلعہ بند سرحدوں پر بربری قبائل کے حملوں کی وجہ سے 250ء سے 280ء کی دہائی تک رومی گال زبردست بحران کا شکار رہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں اس خطے کی صورت حال میں انقلاب آیا، یہ وہ عہد تھا جب رومی گال پھر سے بیدار ہوئے اور خوش حالی ان کا مقدر بنی۔ 312ء میں قسطنطین اعظم نے مسیحیت اختیار کر لی جس کے بعد پوری رومی سلطنت میں مسیحی (جو اب تک سخت عقوبتوں اور مصائب سے دوچار تھے) بہت تیزی سے پھیلے۔ لیکن پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں بربر حملے پھر شروع ہو گئے جن کی بنا پر متعدد جرمنی قبائل مثلاً وندال، سوئبی اور الان نے دریائے رائن عبور کرکے گال، ہسپانیہ اور زوال پزیر رومی سلطنت کے دوسرے حصوں میں بود و باش اختیار کی۔ اوائل عہد وسطیٰ (پانچویں صدی عیسوی سے دسویں صدی عیسوی تک) عہد قدیم کے ختم ہونے کے بعد قدیم گال متعدد جرمنی مملکتوں اور گال رومی عمل داری میں تقسیم ہو گیا، موخر الذکر گال رومی عمل داری مملکت سیاغریوس کے نام سے معروف ہوئی۔ اسی اثنا میں سیلٹک بریطون برطانیہ کی اینگلو سیکسن نوآبادی سے ارموریکا کے مغربی حصے میں اٹھ آئے اور ان کے آباد ہونے کے بعد جزیرہ نما ارموریکا کو بریتانیہ کہا جانے لگا۔ نیز اس خطے میں دوبارہ سیلٹک تمدن و ثقافت پروان چڑھے اور چھوٹی چھوٹی مملکتیں وجود میں آئیں۔ بت پرست فرانک (جن کے نام فرانک سے "فرانسی" نام مشتق ہے) اصلاً ملک گال کے شمالی حصے میں آباد تھے، لیکن انھوں نے کلوویس اول کی زیر قیادت شمالی اور وسطی گال کی بیشتر مملکتوں کو زیر نگین کر لیا۔ سنہ 498ء میں کلوویس اول نے کاتھولک مسیحیت اختیار کر لی۔ سلطنت روم کے زوال کے بعد کلوویس پہلا فاتح تھا جس نے آریوسیت کی بجائے مسیحیت قبول کی۔ قبول مذہب کے بعد پاپائے روم نے فرانس کو "کلیسیا کی سب سے بڑی بیٹی" (فرانسیسی: La fille aînée de l'Église) کے لقب اور فرانسیسی بادشاہوں کو "مسیحی بادشاہ" (فرانسیسی: Rex Christianissimus) کے خطاب سے نوازا۔ اسی تبدیلی مذہب کے بعد فرانکوں نے مسیحی گال رومن ثقافت کو اپنا لیا اور ملک گال بتدریج فرانکیا (فرانکستان) میں تبدیل ہو گیا۔ نیز جرمن فرانکوں نے رومنی زبانیں بھی اختیار کر لیں، بجز شمالی گال کے جہاں رومی نو آبادیاں زیادہ گنجان نہیں تھیں؛ بلکہ اس خطے میں جرمن زبانوں کا ظہور ہوا۔ کلوویس نے پیرس کو اپنا دار الحکومت بنایا اور خاندان میروونجئین کی بنیاد رکھی، لیکن کلوویس کی وفات کے بعد یہ مملکت قائم نہیں رہ سکی۔ فرانکوں نے پوری سرزمین کو نجی جائداد سمجھ کر اسے ورثا میں تقسیم کر دیا اور یوں مملکت کلوویس کے حصے بخرے کرنے کے بعد چار مملکتیں وجود میں آئیں، پیرس، اوغلیوں، سواسون اور رمس۔ آخری میروونجئین بادشاہ محض کٹھ پتلی تھے اور ان کے پردے میں اصل حکمران ناظم محل ہوا کرتا تھا۔ انہی ناظموں میں سے ایک ناظم شارل مارٹل فرانکی مملکتوں میں بڑا معزز اور طاقت ور سمجھا جاتا تھا۔ اسی نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمان فوجوں کو سخت ہزیمت دی تھی جس کے بعد بنو امیہ کے دور میں مسلمان جزیرہ آئبریا میں کبھی نہیں آئے۔ اس کے فرزند پیپن مختصر نے کمزور میروونجئین سے فرانکیا کا تخت حاصل کیا اور خاندان کیرولنجین کی بنیاد رکھی۔ پیپن کے بیٹے شارلیمین نے فرانکی مملکتوں کو متحد کرکے ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کی جو مغربی اور وسطی یورپ پر محیط تھی۔ پوپ لیو سوم نے اسے مقدس شہنشاہ روم قرار دیا اور یوں حکومت فرانس کے کاتھولک کلیسیا سے مضبوط، طویل اور تاریخی تعلقات قائم ہوئے۔ نیز شارلیمین نے مغربی رومی سلطنت اور اس کی ثقافت و تمدن کے احیا کی بھی کوشش کی۔ شارلیمین کے بیٹے لوئی اول (814ء – 840ء) نے بھی اپنے عہد حکومت میں سلطنت کو متحد رکھا لیکن اس کی وفات کے بعد سلطنت متحد نہ رہ سکی۔ سنہ 843ء میں معاہدہ وردون کے تحت یہ سلطنت لوئی کے تین بیٹوں میں تقسیم ہو گئی؛ مشرقی فرانکیا لوئی جرمن کے پاس، وسطی فرانکیا لوتھر اول کے پاس اور مغربی فرانکیا شارل گنجے کے پاس چلے گئے۔ مغربی فرانکیا کے متعلق یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ وہی خطہ ہے جہاں آج ملک فرانس موجود ہے۔ نویں اور دسویں صدی عیسوی میں فرانس پر وائکنگ کے متعدد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں فرانس کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ شرفا اور امرا کے خطاب اور جائدادیں موروثی قرار پائیں اور بادشاہ مزید مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اس انتشار نے فرانس میں جاگیردارانہ نظام کو جنم دیا۔ بسا اوقات بادشاہ کے ماتحت جاگیردار اتنے طاقت ور ہو جاتے تھے کہ وہ خود بادشاہ کے لیے خطرہ بن جاتے۔ مثلاً 1066ء ميں معرکہ ہیسٹنگز کے بعد ولیم فاتح نے اپنے القاب میں "شاہ انگلستان" کا اضافہ کر لیا جس کے بعد اس کا رتبہ شاہ فرانس کے برابر ہو گیا۔ اس صورت حال نے تناؤ میں مزید اضافہ کیا۔ جغرافيہ فرانس کے چند علاقے سمندر پار شمالی و جنوبی امریکا، بحر الکاہل اور بحر ہند میں بھی واقع ہیں۔ یورپ میں فرانس کے ہمسایہ ممالک ہیں بلجیم، لگزمبرگ(لوگسام بورغ)، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، مناکو، انڈورا(اندورا) اور اسپین۔ یورپ کے باہر فرانس کی سرحدیں برازیل، سورینام اور نیدرلینڈز سے ملتی ہیں۔ رياست اور سياست فرانس ایک متحدہ، نیم صدارتی، جمہوری ریاست ہے۔ فرانس کی بنیادیں اس کے آئین اور "آدمی اور شہری کے حقوق کا اعلان" ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ فرانس یورپی یونین کے بانی ارکان میں سے ہے اور رقبے کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ فرانس نیٹو کے بانی ارکان میں سے بھی ہے۔ فرانس اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے بھی ہے اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ فرانس دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ مذہب فرانس میں ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے کیتھولک مذہب ایک غالب مذہب رہا ہے، حالانکہ آج اس پر اتنا فعال طور پر عمل نہیں کیا جاتا جتنا پہلے تھا۔ فرانس میں 47,000 مذہبی عمارتوں میں سے 94% رومن کیتھولک ہیں۔ Institut Montaigne اور Institut français d'opinion publique (IFOP) کے 2016 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، فرانس کی کل آبادی کا 51.1% عیسائی تھا، 39.6% کا کوئی مذہب نہیں تھا (الحاد یا agnosticism)، 5.6% مسلمان تھے، 5% دوسرے عقائد کے پیروکار تھے اور باقی 0.4% اپنے عقیدے کے بارے میں غیر فیصلہ کن تھے۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد کے اندازے بڑے پیمانے پر مختلف ہیں۔ 2003 میں، فرانسیسی وزارت داخلہ نے اندازہ لگایا کہ مسلم پس منظر کے لوگوں کی کل تعداد 5 سے 6 ملین (8-10%) کے درمیان ہے۔ فرانس میں موجودہ یہودی کمیونٹی یورپ میں سب سے بڑی اور اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ کے بعد دنیا میں تیسری سب سے بڑی ہے، جس کی تعداد 480,000 اور 600,000 کے درمیان ہے، جو 2016 تک آبادی کا تقریباً 0.8% ہے۔ فہرست متعلقہ مضامین فرانس * فہرست متعلقہ مضامین فرانس زمرہ:آزاد خیال جمہوریتیں زمرہ:اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک زمرہ:افریقی ممالک زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:الپائنی ممالک زمرہ:اوقیانوسی ممالک زمرہ:بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بحر ہند کے ممالک زمرہ:بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:جمہوریتیں زمرہ:جنوب مغربی یورپی ممالک زمرہ:جی 20 اقوام زمرہ:جی 20 ممالک زمرہ:جی 7 اقوام زمرہ:دو براعظموں میں واقع ممالک زمرہ:علامت کیپشن یا ٹائپ پیرامیٹرز کے ساتھ خانہ معلومات ملک یا خانہ معلومات سابقہ ملک استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:فرانس میں 1792ء کی تاسیسات زمرہ:فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کے رکن ممالک زمرہ:فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:کیریبین ممالک زمرہ:گروہ 8 کے ممالک زمرہ:مجلس یورپ کے رکن ممالک زمرہ:مغربی یورپ زمرہ:مغربی یورپی ممالک زمرہ:نیٹو کے رکن ممالک زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:یورپ میں 1792ء کی تاسیسات زمرہ:یورپی اتحاد کے رکن ممالک زمرہ:یورپی ممالک زمرہ:1792ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:فرانس
[Wikipedia:ur] اتوار اتوار یا یکشنبہ کو عربی میں يوم الاحد یعنی پہلا دن کہا جاتا ہے۔ قديم مصری، يہودی اور ہندوستانی حساب سے یہ پہلا دن ہے۔ یورپ، امریکا اور دنیا کے کئی ممالک میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ اتوار مسیحیت کے ماننے والوں کے مطابق عموماً مقدس دن سمجھا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان میں اتوار کے روز ہفتہ وار چھٹی ہوا کرتی تھی، بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے جمعہ کے دن ہفتہ وار چھٹی کر دی، ایک طویل عرصے کے بعد میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے پھر سے اتوار کو چھٹی کر دی اور تاحال پاکستان میں اتوار کی ہفتہ وار چھٹی جاری ہے۔ زمرہ:اتوار زمرہ:مسیحی تہوار اور مقدس ایام زمرہ:مشرقی مسیحی لطوریا زمرہ:ہفتہ کے دن زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] جمعہ تصغیر|نماز جمعہ جمعہ اسلامی حساب سے ہفتے کاساتواں دن، يورپی و امريکی حساب سے پانچواں اور يہودی اور قديم مصری حساب سے چھٹا دن ہے۔ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِىَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ». حدیث نبویؐ حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرے۔ اسلام میں جمعہ کی اہمیت دین اسلام میں جمعہ کو سید الایام یعنی دنوں کا سردار کہا گیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے ہاں اس کو جمعۃ المبارک بھی کہا اور لکھا جاتا ہے۔ زمرہ:جمعہ زمرہ:مسیحی تہوار اور مقدس ایام زمرہ:مشرقی مسیحی لطوریا زمرہ:ہفتہ کے دن زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:ایفرودیت
[Wikipedia:ur] زبان تصغیر|بائیں|تحریر زبان کی پہلی شکل زبان يا لسان ربط کا ایک ذریعہ ہے جسے معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ معلومات کا تبادلہ تحریری طور پر٬ اشاروں سے، اشتہارات یا بصری مواد کے استعمال سے، علامتوں کے استعمال سے یا براہ راست کلام سے ممکن ہے۔ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں مگر زبان سے مراد عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلہ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت بھی ہزاروں مختلف زبانوں کا وجود ہے جن میں سے کئی زبانیں بڑی تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے ظہور پزیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں لیکن زبانیں مصنوعی بھی ہوتی ہیں مثلاً اسپیرانتو اور وہ زبانیں جو کمپیوٹر (Computers) میں استعمال ہوتی ہیں۔ چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو: Learn a new language and get a new soul. یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقا کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقا کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔ مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کی۔ غیر معمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کر لی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہو گیا۔ یہ اللّٰہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پا سکا۔ میں کم وبیش 5 زبانیں جانتا ہوں: اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقیناً معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔ زبان کے اقسام اور حیثیتیں * زبان * مادری زبان * دوسری زبان * سرکاری زبان * دفتری زبان * قومی زبان * رابطہ کی زبان * تحریری زبان * اشاراتی زبان * علامتی زبان مزید دیکھیے * لسانیات * * زبانوں کی فہرست * فہرست ممالک بلحاظ بولی جانے والی زبانیں بیرونی روابط * کیا دنیا کی ساری زبانیں ایک زبان سے نکلی ہیں؟ زمرہ:انسانی ابلاغیات زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:زبانیں زمرہ:صوتی مضامین زمرہ:لسانیات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] مصر * مصری (ضدابہام) عرب جمہوریہ مصر یا مصر، (قبطی زبان:Ⲭⲏⲙⲓ Khēmi)، بر اعظم افریقا کے شمال مغرب اور بر اعظم ایشیا کے سنائی جزیرہ نما میں واقع ایک ملک ہے۔ مصر کا رقبہ 1،001،450 مربع کلومیٹر ہے۔ مصر کی سرحدوں کو دیکھا جائے تو شمال مشرق میں غزہ پٹی اور اسرائیل، مشرق میں خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر، جنوب میں سوڈان، مغرب میں لیبیا اور شمال میں بحیرہ روم ہیں۔ خلیج عقبہ کے اس طرف اردن، بحر احمر کے اس طرف سعودی عرب اور بحیرہ روم کے دوسری جانب یونان، ترکی اور قبرص ہیں حالانکہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مصر کی زمینی سرحد نہیں ملتی ہے۔ کسی بھی ملک کے مقابلے میں مصر کی تاریخ سب سے پرانی اور طویل ہے اور اس کی تاریخی ابتدا 6 تا 4 ملنیا قبل مسیح مانی جاتی ہے۔ مصر کو گہوارہ ثقافت بھی مانا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں کتب، زراعت، شہرکاری، تنظیم اور مرکزی حکومت کے آثار ملتے ہیں۔ مصر میں دنیا کے قدیم ترین یادگار عمارتیں موجود ہیں جو مصر کی قدیم وراثت، تہذیب، فن اور ثقافت کی گواہی دیتی ہیں۔ ان میں اہرامات جیزہ، ابوالہول، ممفس، مصر، طیبہ اور وادی ملوک شامل ہیں۔ ان مقامات پر اکثر سائنداں اور محققین تحقیق میں سرگرداں نظر آتے ہیں اور مصر کی قدیم روایات اور تاریخی حقائق سے آشکارا کرتے ہیں۔ مصر کی قدیم تہذیب ہی وہاں کی قومی علامت ہے جسے بعد میں یونانی قوم، فارس، قدیم روم، عرب قوم، ترکی عثمانی اور دیگر اقوام نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم مصر مسیحیت کا ایک بڑا مرکز تھا لیکن 7ویں صدی میں مسلمانوں نے یہاں اپنے قدم جمانے شروع کیے اور مصر مکمل طور سے مسلم اکثریت ملک بن گیا مگر عیسائی بھی وہاں موجود رہے گوکہ اقلیت میں تھے۔ سولہویں صدی تا بیسویں صدی کے آغاز تک مصر پر بیرونی طاقتوں نے حکومت کی۔ شروع میں سلطنت عثمانیہ اور بعد میں سلطنت برطانیہ نے مصر کو اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔ جدید مصر کا آغاز 1922ء سے ہوا جب مصر کو برطانیہ سے آزادی ملی مگر آزادی کے بعد وہاں بادشاہت قائم ہو گئی۔ البتہ اب بھی وہاں برطانوی فوج کا غلبہ تھا اور کئی مصریوں کا کہنا ہے کہ بادشاہت دراصل برطانیہ کی ایک چال تھی تاکہ مصر ان کی کالونی کا حصہ بنا رہے۔ مصری انقلاب، 1952ء میں مصریوں نے برطانوی فوج اور افسروں کو اپنے ملک سے بھگادیا اور اس طرح مصر سے برطانیہ کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ برطانوی نہر سوئز کا قومیا لیا گیا اور شاہ فاروق اول کو مع اہل خانہ ملک بدر کر دیا گیا۔ اس طرح مصر ایک جمہوری ملک بن گیا۔ 1958ء میں جمہوریہ سوریہ کے ساتھ مل کر متحدہ عرب جمہوریہ کی بنیاد ڈالی گئی مگر 1961ء میں اسے تحلیل کرنا پرا۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں مصر میں سماجی اور مذہبی اتار چڑھاو دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو گئی اور اسی دوران میں 1948ء میں اسرائیل کے ساتھ تنازع، 1956ء میں سوئز بحران، 1967ء میں چھ روزہ جنگ اور 1973ء میں جنگ یوم کپور جیسے ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے۔ مصر نے 1967ء تک غزہ پٹی پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ 1978ء میں مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر دستخط کیے اور غزہ پٹی سے اپنا قبضہ واپس لے لیا اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ ملک میں بدستور سیاسی ہنگامہ جاری رہا اور بے امنی کا دور دورہ رہا۔ 2011ء میں پھر ایک انقلاب برپا ہوا اور مصر کی سیاست میں زبردست تبدیلی آئی۔ اسی دوران مصر دہشت گردی کی زد میں رہا اور معاشی مسائل سے بھی دوچار رہا۔ مصر کی موجودہ حکومت بین صدارتی جمہوریہ ہے اور مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی ہیں۔ سیاست میں انھیں آمر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مصر کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور سرکاری زبان عربی ہے۔ مصر کی کل آبادی تقریباً 95 ملین ہے اور اس طرح یہ شمالی افریقا، مشرق وسطی اور عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ نائیجیریا اور ایتھوپیا کے بعد بر اعظم افریقا کا تیسرا بڑا آبادی والا ملک ہے اور دنیا بھر میں بلحاظ آبادی اس کا نمبر 15واں ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی دریائے نیل کے کنارے پر بسی ہوئی ہے۔ ملک یا زیادہ تر زمینی حصہ صحرائے اعظم پر مشتمل ہے جو تقریباً ناقابل آباد ہے۔ کثیر آبادی والے علاقوں میں قاہرہ، اسکندریہ اور دریائے نیل کے جزیرے ہیں۔ مصر کی خود مختار ریاست شمالی افریقا، مشرق وسطی اور عالم اسلام میں ایک مضبوط حکومت مانی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں مصر ایک اوسط درجہ کی طاقتور حکومت ہے۔ مصر کی معیشت مشرق وسطی کی بڑی معیشتوں میں شمار کی جاتی ہے اور اکیسویں صدی میں اس کے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے کا امکان ہے۔ 2016ء میں جنوبی افریقا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مصر نائیجیریا کے بعد افریقا کی سب سے بڑی معیشت بن گیا۔ مصر مندرجہ ذیل تنظیموں کا بانی/شرک بانی اور رکن ہے؛ * اقوام متحدہ * غیر وابستہ ممالک کی تحریک * عرب لیگ * افریقی ممالک کی تحریک * تنظیم تعاون اسلامی نام مصر (بکسر المیم) " (; "") is the کلاسیکی عربی خالص کلاسیکی عربی کا لفظ ہے اور قرآن میں بھی اسی نام سے پکارا گیا ہے۔ اس کا یہی نام زماہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ البتہ مصری عربی میں " (; ) (بفتح المیم) کہتے ہیں۔ فہرست متعلقہ مضامین مصر * فہرست متعلقہ مضامین مصر مزید دیکھیے * شمس الدین سخاوی * جمہوریہ مصر (1953–1958) * متحدہ عرب جمہوریہ * فہرست مصری صدور * ابن میسر مصری * نوال السعداوی حوالہ جات زمرہ:اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک زمرہ:افریقا میں 1922ء کی تاسیسات زمرہ:افریقی اتحاد کے رکن ممالک زمرہ:افریقی ممالک زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:ایشیا میں 1922ء کی تاسیسات زمرہ:ایشیائی ممالک زمرہ:بحیرہ احمر کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:بی آر آئی سی ایس اقوام زمرہ:ترقی پذیر 8 زمرہ:ٹائٹل اسٹائل میں بیک گراؤنڈ اور ٹیکسٹ الائن دونوں کے ساتھ ٹوٹنے والی فہرست کا استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:جنوبی بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:دو براعظموں میں واقع ممالک زمرہ:شمال افریقی ممالک زمرہ:شمالی افریقا زمرہ:عرب جمہوریتیں زمرہ:عرب لیگ کی رکن ریاسات زمرہ:عربی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کے رکن ممالک زمرہ:قریب مشرقی ممالک زمرہ:گروہ 15 کے ممالک زمرہ:مؤتمر عالم اسلامی کے رکن ممالک زمرہ:مسلم اکثریتی ممالک زمرہ:مشرق وسطی کے ممالک زمرہ:مشرقی بحیرہ روم زمرہ:مشرقی بحیرہ روم کے ممالک زمرہ:مصر میں 1922ء کی تاسیسات زمرہ:مغربی ایشیا زمرہ:مغربی ایشیائی ممالک زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:1922ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:مصر زمرہ:صحارائی ممالک
[Wikipedia:ur] شبلی نعمانی علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں4 /جون 1857ء کو ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا اور وکالت بھی کی مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ ہونے کے سبب ترک کر دی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔ ابتدائی زندگی شبلی نعمانی کی پیدائش ایک مسلمان راجپوت گھرانے میں ہوئی۔ ان کے دادا شیوراج سنگھ جو بیس النسل تھے، نے کئی دہائیوں قبل حبیب اللہ اور مقیمہ خاتون کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ان کا نام ایک صوفی بزرگ، ابو بکر شبلی کے نام پر "شبلی" رکھا گیا، جو جنید بغدادی کے شاگرد تھے۔ بعد میں انھوں نے اپنے نام میں "نعمانی" کا اضافہ کر لیا۔ اگرچہ ان کے چھوٹے بھائی تعلیم کے لیے لندن، انگلینڈ گئے (اور بعد میں واپس آئے، وہ ایک بیرسٹر کی حیثیت سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ملازم تھے)، لیکن شبلی نعمانی نے روایتی اسلامی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استاد کا نام مولانا فاروق چڑیا کوٹی تھا، جو ایک منطقی عالم اور سر سید احمد خان کے خلاف کھل کر کلام کرنے والے مخالفین میں شامل تھے۔ اس سے ان کا علی گڑھ اور سر سید کے ساتھ تعلق کی وجہ معلوم ہوتی ہے۔ چڑیا کوٹ سے تعلق خاص اہمیت رکھتا ہے، ڈیویڈ لیلی ویلڈ کہتا ہے کہ "چڑیا کوٹ علما کی ایک منفرد عقلیت پسند اور فلسفی مکاتب کا مرکز تھا، جس نے معتزلہ الہیات، شروعاتی عرب یونانی سائنس اور فلسفے کی ترقی کے ساتھ ساتھ سنسکرت اور عبرانی جیسی زبانوں کا علم حاصل کیا۔" اس لیے نعمانی کے پاس علی گڑھ کی طرف متوجہ اور دور ہونے کی وجوہات تھیں۔ حتی کہ علی گڑھ میں فارسی اور عربی کے استاد کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد بھی، انھوں نے کالج میں فکری ماحول کو ہمیشہ مایوس کن پایا اور آخر کار علی گڑھ چھوڑ دیا کیوں کہ انھیں یہ غیر سازگار معلوم ہوا، حالانکہ انھوں نے 1898ء میں سر سید کی وفات کے بعد تک رسمی طور پر کالج سے استعفا نہیں دیا تھا۔ شبلی مشرق وسطیٰ میں شبلی نعمانی نے علی گڑھ میں سولہ سال تک فارسی اور عربی زبان کی تدریس کی، جہاں ان کی ملاقات تھامس آرنلڈ اور دیگر برطانوی اسکالرز سے ہوئی جن سے انھوں نے جدید مغربی نظریات اور افکار سمجھنے کا آغاز کیا۔ انھوں نے 1892ء میں تھامس آرنلڈ کے ساتھ سلطنت عثمانیہ بشمول شام، ترکی اور مصر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر مقامات کا سفر کیا اور وہاں کے معاشروں کا براہ راست اور عملی تجربہ حاصل کیا۔ قسطنطنیہ میں انھوں نے سلطان عبد الحمید ثانی سے تمغا حاصل کیا۔ ان کی علمی و ادبی قابلیت نے ایک طرف تھامس آرنلڈ کو ان سے متاثر کیا، تو دوسری طرف وہ خود تھامس آرنلڈ سے کافی حد تک متاثر ہوئے اور اس سے ان کے خیالات میں جدید نظریات شامل ہوتے ہیں۔ قاہرہ میں ان کی ملاقات معروف اسلامی اسکالر محمد عبدہ (1849-1905) سے ہوئی۔ حیدرآباد اور لکھنؤ میں 1898ء میں سر سید احمد خان کی وفات کے بعد، انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کو باضابطہ چھوڑ کر ریاست حیدر آباد کے محکمہ تعلیم میں مشیر بن گئے۔ انھوں نے حیدرآباد کے تعلیمی نظام میں بہت سی اصلاحات کا آغاز کیا۔ ان کی پالیسی سے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی نے اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اپنایا۔ اس سے پہلے ہندوستان کی کسی اور یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم میں کسی مقامی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اختیار نہیں کیا تھا۔ ندوۃ العلما لکھنؤ میں شبلی نعمانی کا مزاج تعلیمی اصلاحات و انقلاب کا تھا، چنانچہ اس عہد کی اصلاح تعلیم کے لیے اٹھنے والی سب سے مؤثر تحریک ندوۃ العلما سے اول دن سے منسلک اور متحرک، یہاں تک کہ ان کے بنیادی فکری بانیان میں سے ہوئے۔ 1905ء میں، وہ حیدرآباد چھوڑ کر دار العلوم ندوۃ العلما منتقل ہو گئے، وہاں انھوں نے تدریس و تعلیم اور نصاب میں اصلاحات کا آغاز کیا۔ وہ پانچ سال تک اس میں رہے، لیکن علما کا روایتی طبقہ ان کی اصلاحات و انقلاب کی وجہ سے ان کے خلاف ہو گیا، بالآخر انھیں 1913ء لکھنؤ چھوڑنا پڑا اور اپنے آبائی وطن اعظم گڑھ چلے گئے۔ دارالمصنفین کا قیام علامہ شبلی نعمانی، یورپ کے طرز پر اردو زبان میں ایک تحقیقی اکیڈمی قائم کرنا چاہتے تھے، جہاں سے محقق علما مصنفین کو تیار کیا جائے اور وہاں سے اسلام اور مسلمانوں پر تحقیقی کام ہو۔ پہلے پہل علامہ شبلی وہ دار المصنفین کو ندوہ کے احاطہ میں قائم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس وقت ایسا نہ کر سکے اور انھیں دار العلوم چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے اس کے لیے اپنا بنگلہ اور آم کے باغ کو وقف کر دیا اور اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دی اور انھیں راضی کر لیا۔ انھوں نے اپنے شاگردوں اور دیگر نامور افراد کو خطوط لکھا اور ان سے تعاون طلب کیا۔ بالآخر ان کے شاگردوں نے خاص طور سے سید سلیمان ندوی نے اپنے استاذ کا یہ خواب پورا کیا اور اعظم گڑھ میں دار المصنفین قائم کیا۔ ادارے کا پہلا افتتاحی اجلاس علامہ کی وفات کے تین دن کے اندر 21 نومبر 1914ء کو ہوا۔ علمی تعارف شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت اردو دنیا میں بطورشاعر، مورخ، سوانح نگار اورسیرت نگار کی حیثیت سے بھی مسلم ہے۔ شبلی کے تنقیدی نظریات و افکار مختلف مقالات اور تصانیف میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کو شاعری اور شاعری کی تنقید سے خاص انسیت تھی۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ شاعری اور اس کے دیگر لوازمات سے متعلق اپنے نظریات کو مفصل طور سے "شعرالعجم" میں پیش کیا بلکہ عملی تنقید کے نمونے "موازنۂ انیس و دبیر" میں پیش کیے۔ یہاں شبلی کی جانب داری یا غیر جانب داری سے مجھے سروکار نہیں بلکہ اصول و نظریے سے بحث درکار ہے۔ "موازنے" میں مرثیہ نگاری کے فن پر اصولی بحث کے علاوہ فصاحت، بلاغت، تشبیہ و استعارے اور دیگر صنعتوں کی تعریف و توضیح اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بھی شبلی نے روشنی ڈالی ہے، جس سے ہمیں ان کے تنقیدی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ شبلی کے نظریۂ تنقید کو سمجھنے کے لیے ان کی مذکورہ دونوں کتابیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں یعنی "شعرالعجم" اور موازنۂ انیس و دبیر۔ انھوں نے "شعرالعجم" کی چوتھی اور پانچویں جلدمیں شاعری، شعر کی حقیقت اور ماہیت، لفظ و معنیٰ اور لفظوں کی نوعیتوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی یہ تصنیف خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے، کیوں کہ انھیں میں انھوں نے اردو کی جملہ کلاسیکی اصناف شاعری کا محاکمہ کیا ہے۔ اردو کی شعری تنقید کو سمجھنے کے لیے ہم اردو والوں کے لیے یہ کتابیں نوادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ انھیں دونوں میں مندرجہ بالا تمام امور کی صراحت و وضاحت انھوں نے پیش کی ہے۔ "شعرالعجم" کی چوتھی جلد کی ابتدا ہی میں فرماتے ہیں کہ" جو بحثیں اگلے حصوں میں نا تمام رہ گئی تھیں، ان کو اب تفصیل سے لکھتا ہوں۔ یہ حصہ تین فصلوں پر منقسم ہے:1۔ شاعری کی حقیقت اور ماہیت، 2۔ فارسی شاعری کی عام تاریخ اور تمدن اور دیگر اسباب کا اثر اور 3۔ تقریظ و تنقید۔ دراصل شعرالعجم شبلی کی وہ کتاب ہے، جس میں انھوں نے اپنے خیالات بالخصوص فنِ شاعری کے بارے میں اپنے مطالعے، مشاہدے اور تجربے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ شاعری کے اصلی عناصر، تاریخ اور شعر کا فرق، شاعری اور واقعہ نگاری کا فرق جیسے مسائل پر مدلل بحث کی ہے تاکہ شاعری کے جملہ معاملات واضح ہو جائیں۔ اس کے لیے وہ لفظ اور معنیٰ کی بھی بحث کرتے ہیں اور ان کی مختلف نوعیتوں کو پیش بھی کرتے ہیں۔ وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی شے کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاعری کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں بلکہ مختلف ذریعوں سے اور مختلف انداز میں اس حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: " شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے، اس لیے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی اِس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔" شبلی نے مختلف مثالوں سے شاعری کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے۔ اس کے بعد وہ ادراک اور احساس کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ: خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادات کا سر چشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج عمل ہیں۔ احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا یا کسی مسئلے کا حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی کی حالت میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔" شبلی کے شاعری سے متعلق یہ بنیادی خیالات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف واقعات اس پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح اس پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کم و بیش ایک ایسی کیفیت ہے جو شیر کو گرجنے، مور کو چنگھاڑنے، کوئل کو کوکنے، مور کو ناچنے اور سانپ کو لہرانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعری میں جذبات کی اہمیت کے قائل ہیں۔ جذبات کے بغیر شاعری کا وجود نہیں ہوتا اور وہ جذبات سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہیجان اور ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔ شبلی کے نزدیک شاعری کے لیے جذبات ضروری ہیں۔ شبلی کے تصور کے اعتبار سے تمام عالم ایک شعر ہے۔ زندگی میں ہر جگہ شاعری بکھری پڑی ہے اور جہاں شاعری موجود ہے وہاں زندگی ہے۔ ایک یورپین مصنف کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ "ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے۔" اس بناپر فلک نیلگوں، نجمِ درخشاں، نسیم سحر، تبسم گل، خرام صبا، نالہ بلبل، ویرانی دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے" اور ساری زندگی میں یہ شعریت پائی جاتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کے تنقیدی نظریات شاعری کے جمالیاتی پہلو پر زور دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سید عبد اللہ "اشاراتِ تنقید" میں لکھتے ہیں کہ: "یہ تو ظاہر ہے کہ شبلی کی تنقید میں اجتماعی اور عمرانی نقطہ نظر بھی ہے اس کے باوجود ان کا مزاج، جمالیاتی اور تاثراتی رویے کی طرف خاص جھکاؤ رکھتا ہے۔" شبلی کے نزدیک شاعری تمام فنونِ لطیفہ میں بلند تر حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تاثر کے لحاظ سے بہت سی چیزیں مثلاً موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ اہم ہیں مگر شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔ شاعری کے سلسلے میں وہ محاکات کا ذکر کرتے ہیں اور پھراس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: "محاکات کے معنیٰ کسی چیز یا کسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔ تصویر اور محاکات میں یہ فرق ہے کہ تصویر میں اگرچہ مادی اشیا کے علاوہ حالات یا جذبات کی بھی تصویر کھینچی جا سکتی ہے۔۔۔ تاہم تصویر ہر جگہ محاکات کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ سیکڑوں گوناگوں حالات و واقعات تصور کی دسترس سے باہر ہیں۔" وہ صرف محاکات کی تعریف ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ محاکات کن کن چیزوں سے قائم ہوتی ہے۔ اس کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تخیل، جدت ادا اورالفاظ کی نوعیت، کیفیت اور اثر کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک لفظ جسم ہیں اور مضمون روح ہے۔ اس مسئلے پر اہل فن کے دو گروہ ہیں ایک لفظ کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا معنیٰ کو۔ شبلی کا زور لفظ پر زیادہ ہے۔ لفظ اور معنی کی بحث میں لفظوں کی اقسام اور ان کی نوعیت کی صراحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : "الفاظ متعدد قسم کے ہوتے ہیں، بعض نازک، لطیف، شستہ، صاف، رواں اور شیریں اور بعض پر شوکت، متین، بلند، پہلی قسم کے الفاظ عشق و محبت کے مضامین ادا کرنے کے لییموزوں ہیں، عشق اور محبت انسان کے لطیف اور نازک جذبات ہیں، اس لیے ان کے ادا کرنے کے لیے لفظ بھی اسی قسم کے ہونے چاہئیں۔" لفظ اور معنیٰ کی بحث نہایت دلچسپ ہے۔ فصیح اورمانوس الفاظ کا اثر، سادگی ادا، جملوں کے اجزا کی ترکیب پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے شبلی اس کے اثر کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ خیال یا مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر لفظ عمدہ نہیں ہوں گے تو خیال کا اثر جاتا رہے گا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ آب زم زم کی مثال کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی گندے پیالے میں آبِ زم زم پینے کو دے تو آپ آبِ زم زم کے تقدس کی وجہ سے پانی تو پی لیں گے لیکن آپ کی طبیعت میلی ہو جائے گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس مثال میں پیالہ لفظ کی نمائندگی کر رہا ہے اور پانی مضمون کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیال کی عمدگی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا عمدہ ہونا بھی ضروری ہے۔ شبلی نے اردو کی تمام کلاسیکی اصناف کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اپنی رائے قائم کی ہے۔ ان کا نقطۂ نظر تاثراتی اور جمالیاتی نظر آتا ہے لیکن شاعری کی دوسری خوبیوں پر بھی ان کی نگاہ رہتی ہے۔ موازنۂ انیس و دبیر میں انھوں نے شاعری کی صنعتوں کی جس طرح تشریح پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے جس صنعت کے ضمن میں انھوں نے جو شعر نقل کیے ہیں۔ ہم آج بھی اس کے حصار سے کلی طور سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ اردو کی نظریاتی تنقید کو فروغ دینے اور اسے ایک مثبت سمت دینے میں شبلی اور الطاف حسین حالی نہایت اہم ہیں۔ انھیں کی بدولت اردو تنقید کا چراغ روشن سے روشن تر ہوا۔ تصغیر|سرورق کتاب کتابیات شبلی از محمد الیاس الاعظمی مشہور تصانیف * * الفاروق * سوانح مولانا روم * علم الکلام * المامون * موازنہ دبیر و انیس * شعر العجم * مقالات شبلی * سیرت النعمان * سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم * الغزالی * سفر نامہ روم و مصر و شام * شبلی کی آپ بیتی مرتبہ ڈاکٹر خالد ندیم (دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، نشریات لاہور) * اردو ترجمہ مکاتیب شبلی از ڈاکٹر خالد ندیم (دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ) * شبلی شکنی کی روایت از ڈاکٹر خالد ندیم (نشریات لاہور) شروع میں شبلی اپنے خاندانی اثر کے مطابق مذہبی لحاظ سے مضبوط فکر کے حامل ہوا کرتے تھے پھر سر سیّد احمد خان کی قائم شدہ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلق کے بعد شبلی وسيع النظرہوگئے۔ حوالہ جات زمرہ:اترپردیش کی مسلم برادریاں زمرہ:احناف زمرہ:اردو ادبی ناقد زمرہ:اردو سفر نامہ نگار زمرہ:اردو مذہبی مصنفین زمرہ:اردو مفکرین زمرہ:اعظم گڑھ کی شخصیات زمرہ:انجمن ترقیِ اردو کے منتظمین و اراکین مجلس زمرہ:انیسویں صدی کے مرد مصنفین زمرہ:انیسویں صدی کے ہندوستانی فلسفی زمرہ:انیسویں صدی کے ہندوستانی مسلمان زمرہ:بھارتی اسکولوں و کالجوں کے بانیان زمرہ:بھارتی مرد مصنفین زمرہ:بھارتی مسلم شخصیات زمرہ:برطانوی ہند کے اردو لکھاری زمرہ:بیسویں صدی کے اردو مصنفین زمرہ:بیسویں صدی کے بھارتی غیر افسانوی مصنفین زمرہ:بیسویں صدی کے بھارتی فلسفی زمرہ:جامعہ علی گڑھ زمرہ:دار العلوم ندوۃ العلماء زمرہ:دیوبندی شخصیات زمرہ:ضلع اعظم گڑھ کی شخصیات زمرہ:لکھنؤ کے مصنفین زمرہ:لکھنوی شخصیات زمرہ:مجددین زمرہ:مسلمان مصلحین زمرہ:معاصر بھارتی فلاسفہ زمرہ:ہندوستان کے مسلمان مذہبی رہنما زمرہ:ہندوستانی سفر نامہ نگار زمرہ:1857ء کی پیدائشیں زمرہ:1914ء کی وفیات زمرہ:انیسویں صدی کے بھارتی مرد مصنفین زمرہ:بھارت کے سنی علما زمرہ:بھارت میں اسلام زمرہ:ماتریدی شخصیات زمرہ:اتر پردیش کے مصنفین
[Wikipedia:ur] رحمت اللہ کیرانوی مولوی رحمت اللہ کیرانوی اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مسیحی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولوی رحمت اللہ اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور پمفلٹوں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں مسیحیت کے مشہور مبلغ پادری فینڈر بحث کی۔ جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معارکہ میں بھی شریک ہوئے۔ انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں مسیحیوں سے مناظرے کیے، وہاں سے اظہار الحق شائع بھی ہوئی۔ قسطنطنیہ کے مناظروں اور اظہار الحق کے متعلق مشہور مستشرق گارسان وتاسی کے مقالات میں ہے؛ مکہ میں کیرانوی نے، ایک نیک خاتون بیگم صولت النساء کے فراہم کردہ عطیے سے ایک مدرسہ مدرسہ صولتیہ قائم کیا جو حجاز مقدس میں اصول میں اہل سنت اور فروع میں حنفی فقہ پر چلنے والوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔ سوانح 1:- مجاھد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی /مولانا اسیرادروی (فی الاردیۃ) 2:- آثار رحمت /امداد صابری (فی الاردیۃ) 3:- ذکرو فکر دہلی کا مولانا رحمت اللہ کیرانوی نمبر (فی الاردیۃ) 4؛- رحمہ اللہ الهندي ركن الحرمين الشريفين /محمد مصطفى خميس (فی العربیۃ) 5. دراسة العقائد النّصرانيّة: منهجيّة ابن تيميّة ورحمت اللہ الهنديّ للأستاذ محمّد اللاّفي(فی العربیۃ) 6. ایک مجاہد مولانا رحمت اللہ کیرانوی /ہندی 7. مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور ان کے معاصرین: از حکیم محمود احمد ظفر سیالکوٹی تصانیف 1. إظهار الحق ت: ملكاوي (فی العربیۃ) 2. مختصر اظہار الحق (فی الاردیۃ) 3. بائبل سے قرآن تک /اظہار الحق کا اردو ترجمہ مع تشریح و تحقیق (3 جلدیں) 4. عیسائیت ؟ یہ کتاب اظہار الحق کا جامع اختصار ہے جسے عرب عالم ڈاکٹر ملکاوی نے مرتب کیا اور اردو ترجمہ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے کیا ہے 5. اظہار الحق انگریزی ترجمہ 6. التنبيهات فى إثبات الاحتياج إلى البعثة والحشر (فی العربیۃ) 7. احسن الاحادیث فی ابطال التثلیث (فی الاردیۃ) 8. ازالۃ الاوھام اردو ترجمہ (2) 9. بشرية المسيح ونبوة محمد صلى اللہ عليہ وسلم في نصوص كتب العهدين القسم الثانی للمناظرۃ الکبری بین الامام العلامۃ العبقری الشیخ رحمت اللہ الکیرانوی و المسیحی فندر (فی العربیۃ) 10. اعجاز عیسوی (فی الاردیۃ) 11. ازالۃ الشکوک /تحقیق و تسہیل:- مولانا عتیق احمد بستوی (4 جلدیں) (فی الاردیۃ) 12. المناظرة التقريرية بين الشيخ رحمت اللہ الهندي والقسيس بفندر (فی العربیۃ) 13. مناظرۃ الہند الکبریٰ (فی العربیۃ)سبھی کتب کا یکجا آرکائیو لنکبھی دستیاب ہے، حوالہ جات زمرہ:1818ء کی پیدائشیں زمرہ:1891ء کی وفیات زمرہ:اتر پردیش کے مصنفین زمرہ:احناف زمرہ:انیسویں صدی کے اسلامی مسلم علما زمرہ:بھارتی سنی مسلمان زمرہ:بھارتی مصنفین زمرہ:جنت المعلیٰ میں مدفون شخصیات زمرہ:سنی صوفیاء زمرہ:ماتریدی شخصیات زمرہ:مسلم تاریخی شخصیات زمرہ:دیوبندی شخصیات زمرہ:مسلم الٰہیات دان زمرہ:مسیحیت کے نقاد زمرہ:بھارتی علمائے اسلام زمرہ:بھارت کے سنی علما زمرہ:ضلع شاملی کی شخصیات زمرہ:انیسویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
[Wikipedia:ur] نومبر نومبر گريگورين سال کا گيارہواں مہينہ ہے۔ پرانی رومی تقویم میں یہ نواں مہینہ ہوتا تھا چنانچہ اسے نومبر کہا جاتا تھا۔ نوم (novem) لاطینی زبان میں 'نو' (9) کو کہا جاتا ہے۔۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں خزاں کا موسم ہوتا ہے۔ نومبر کے واقعات * امریکا میں نومبر کی چوتھی جمعرات کو تھینکس گونگ ڈے منایا جاتا ہے۔ * امریکا میں 11 نومبر کو ویٹیرنز ڈے منایا جاتا ہے۔ * کینیڈا میں 11 نومبر کو ریمیمبرنس ڈے منایا جاتا ہے۔ * زمرہ:مہینے زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] مئی مئی گريگورين سال کا پانچواں مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں بہار کا موسم ہوتا ہے۔ اس کا نام قدیم یونان کی دیوی مائیا (انگریزی:Maia، یونانی:Μαῖα) کے نام پر رکھا گیا جو یونان اور روم میں زمین اور عورت کی زرخیزی کی دیوی یا خدا سمجھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اسے پہاڑوں کی دیوی یا خدا بھی سمجھا جاتا تھا۔ * زمرہ:مہینے زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] جنوری جنوری گريگورين سال کا پہلا مہینہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں سردی کا موسم ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں گرمیوں کا۔ قدیم زمانہ میں یہ سال کا گیارھواں مہینہ شمار ہوتا تھا۔ نام اس مہینے کا نام قدیم روم کے دروازوں اور راستوں کے دیوتا ”جینس“ یا ”جانوس“ (Janus) کے نام پر رکھا گیا، وہ دیوتا دروازوں اور راستوں کی نگہبانی کرتا تھا۔ اسی سے مشتق ایک اور لفظ Janitor کا مطلب بھی دربان ہوتا ہے۔ وفات * 1940ء – تبسم کاشمیری، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز نقاد، محقق، شاعر،ناول نگار، ادبی مورخ اور اُردو ادب کی تاریخ، ابتدا سے 1857ء تک کے مصنف ہیں۔ زمرہ:مہینے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] فروری فروری گريگورين سال کا دوسرا مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں سردی کا موسم ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں گرمیوں کا۔ فروری قدیم زمانہ میں سال کا آخری مہینہ ہوتا تھا اور اس میں سال کے باقی بچ جانے والے دن رکھے گئے اسی لیے اس میں کم دن ہیں۔ اس مہینہ کا نام قدیم زمانہ روم میں پاکیزگی (februum) پر رکھا گیا کیونکہ اس سال کے آخری مہینہ میں بہار شروع ہونے سے پہلے ایک میلہ لگتا تھا جس میں پاکیزگی اور صفائی حاصل کرنے کے لیے مختلف رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ * زمرہ:مہینے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:عشق
[Wikipedia:ur] مارچ مارچ گريگورين سال کا تيسرا مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں سردی کا موسم ختم ہوتا ہے اور بہار کا آغاز ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں خزاں کا آغاز ہے۔ قدیم روم میں یہ سال کا پہلا مہینہ ہوتا تھا۔ اس کا نام قدیم روم کے جنگ کے دیوتا مارس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مارس کو جنگ کا دیوتا خیال کیا جاتا تھا اور یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں Romulus and Remus کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کی نگہبانی کرتا ہے یو مارس دیوتا کے مہینے (مارچ)میں ہی کھیتی باڑی اور جنگ کا آغاز ہوا کرتا تھا۔ غالباً 153 قبل مسیح تک مارچ کا مہینہ ہی رومن کیلنڈر کا پہلا مہینہ تسلیم کیا جاتا رہا۔ اور یوں مارچ کے پہلے پندرہ دنوں کے درمیان مختلف مذہبی تہوار منا کر نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا رہا۔ * زمرہ:مہینے زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:مارس (اساطیر)
[Wikipedia:ur] اگست اگست گريگورين سال کا آٹھواں مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں گرمیوں کا موسم ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ سال کا چھٹا مہینہ تھا اور اسے سیکستیلیس (Sextilis) یعنی چھٹا کہتے تھے۔ مگر اس کا نام جولئین تقویم کی ابتدا کے وقت 450 قبل مسیح میں اگست رکھا گیا جو اصل میں روم کے پہلے بادشاہ آگستس (Augustus) کے نام پر تھا۔ * زمرہ:مہینے زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:آگستس زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] عیسی ابن مریم عیسیٰ ابن مریم ( عربی: عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ) ' تورات کے مطابق عیسیٰ ابن مریم ' کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے خدا کے آخری نبی اور رسول ہیں اور بنی اسرائیل ( Banī Isra'īl ) کی رہنمائی کے لیے انجیل نامی کتاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے مسیحا ہیں ۔ قرآن میں، یسوع کو المسیح ( al-Masīḥ ) کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جو معجزانہ طور پر ایک کنواری سے پیدا ہوئے، اپنے شاگردوں کے ساتھ معجزات دیکھاتے تھے،اور اللہ نے معجزانہ طور پر ان کو بچایا زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہودی مذہبی مُقتَدِرَہ نے مسترد کر دیا ہے، لیکن صلیب پر مرنے کے طور پر نہیں (اور نہ دوبارہ زندہ کیے جانے پر) ، بلکہ جیسا کہ خدا نے ان کو معجزانہ طور پر بچایا اور آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ قرآن واضح طور پر اور بار بار اس خیال کو مسترد کرتا ہے کہ عیسیٰ کو ( یہودی یا رومی ) حکام نے نہ قتل کیا تھا اور نہ وہ مصلوب کیے گئے تھے۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عظیم ترین نبیوں میں شمار کیا ہے اور ان کا ذکر مختلف القابات سے کیا ہے۔ عیسیٰ کی نبوت سے پہلے یحییٰ علیہ السلام کی نبوت ہے اور محمد ﷺ کی جانشینی ہے، جن کے بعد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ عیسیٰ نے احمد کا نام استعمال کرکے پیشین گوئی کی تھی۔ یسوع مسیح کے بارے میں اسلام میں مختلف قسم کی متغیر تشریحات موجود ہیں۔ قرآن کی مرکزی دھارے کی تشریحات میں آرتھوڈوکس عیسائی فلسفہ الہی ہائپوسٹاسس کے بارے میں کرسٹولوجی کے نظریاتی تصورات کا فقدان ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کے لیے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مسیح کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یسوع مسیح کی الوہیت کے نظریے کے مسیحی نقطہ نظر میں ایک یہودی مسیحی خدا کے اوتار ہونے کے ناطے انسان یا انسانی جسم میں خدا کے لفظی بیٹے کے طور پر، جیسا کہ یہ ظاہری طور پر متعدد آیات میں یسوع کے خدا کے طور پر الہامی انسانیت کے نظریے کی تردید کرتا ہے اور اس بات پر بھی تاکید کرتا ہے کہ یسوع مسیح نے ذاتی طور پر خدا ( خدا باپ ) ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصل پیغام ( taḥrīf ) میں ان کے زندہ ہونے کے بعد تبدیلی کی گئی تھی۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توحید پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں تمام انبیا کی طرح، عیسیٰ کو بھی رسول کہا جاتا ہے، جیسا کہ انھوں نے تبلیغ کی کہ ان کے پیروکاروں کو ' صراط المستقیم ' اختیار کرنا چاہیے۔ اسلامی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سارے معجزات سے منسوب کیا گیا ہے۔ روایتی اسلامی تعلیمات میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح امام مہدی کے ساتھ دوسری آمد میں مسیح الدجال ('جھوٹا مسیح') کو قتل کرنے کے لیے واپس آئیں گے، جس کے بعد قدیم قبائل یاجوج ماجوج ( Yaʾjūj Maʾjūj ) کے ساتھ۔ منتشر ہو جائیں گے. ان مخلوقات کے معجزانہ طور پر فنا ہونے کے بعد، امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام پوری دنیا پر حکومت کریں گے، امن و انصاف قائم کریں گے اور 40 سال کی حکومت کے بعد وفات پا جائیں گے۔ کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ پھر انھیں مدینہ میں سبز گنبد کے چوتھے محفوظ مقبرے میں محمد ﷺ کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ یہ احادیث پر مبنی روایات سے متعلق غیر مستند روایات ہیں۔ عمران و حنہ حضرت زکریااور یحییٰ (علیہما السلام) کے حالات میں گذر چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں عمران (مسیحیت کے مطابق مریم کے والد کا نام یہویاقیم تھا) ایک عابد و زاہد شخص تھے اور اسی زہد و عبادت کی وجہ سے نماز کی امامت بھی انھی کے سپرد تھی اور ان کی بیوی حنہ بھی بہت پارسا اور عابدہ تھیں اور اپنی نیکی کی وجہ سے وہ دونوں بنی اسرائیل میں بہت محبوب و مقبول تھے۔ محمد بن اسحاقؒ صاحب مغازی نے عمران کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے : عمران بن یاشم بن میشا بن حزقیا بن احریق بن موثم بن عزازیا بن امصیا بن یاوش بن احریہو بن یازم بن یہفاشاط بن ایشا بن ایان بن رحبعم (رحبعام) بن سلیمان بن داؤد (علیہما السلام)۔ اور حافظ ابن عساکر نے ان ناموں کے علاوہ دوسرے نام بیان کیے ہیں اور ان دونوں بیانات میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اس پر تمام علمائے انساب کا اتفاق ہے کہ عمران حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور حنہ بنت فاقوذ بن قبیل بھی داؤد (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ عمران صاحب اولاد نہیں تھے اور ان کی بیوی حنہ بہت زیادہ متمنی تھیں کہ ان کے اولاد ہو ‘ وہ اس کے لیے درگاہ الٰہی میں دست بدعا اور قبولیت دعا کے لیے ہر وقت منتظر رہتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حنہ صحن مکان میں چہل قدمی کر رہی تھیں ‘ دیکھا کہ ایک پرندہ اپنے بچہ کو بھرا رہا ہے ‘ حنہ کے دل پر یہ دیکھ کر سخت چوٹ لگی اور اولاد کی تمنا نے بہت جوش مارا اور حالت اضطراب میں بارگاہ الٰہی میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور عرض کیا : ” پروردگار ! اسی طرح مجھ کو بھی اولاد عطا کر کہ وہ ہماری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنے۔ “ دل سے نکلی ہوئی دعا نے قبولیت کا جامہ پہنا اور حنہ نے چند روز بعد محسوس کیا کہ وہ حاملہ ہے حنہ کو اس احساس سے اس درجہ مسرت ہوئی کہ انھوں نے نذر مان لی کہ جو بچہ پیدا ہوگا اس کو ہیکل (مسجد اقصیٰ ) کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی۔ بنی اسرائیل کی مذہبی رسوم میں سے یہ رسم بہت مقدس سمجھی جاتی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کریں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے عمران کی بیوی حنہ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور وہ مسرت و شادمانی کے ساتھ امید بر آنے کی گھڑی کا انتظار کرنے لگیں۔بشر بن اسحاق کہتے ہیں کہ حنہ ابھی حاملہ ہی تھیں کہ ان کے شوہر عمران کا انتقال ہو گیا۔ مریم (علیہا السلام) کی ولادت تصغیر|مریم کا کنواں یا چشمہ ہے جو ناصرہ شہر کے العین چوک میں واقع ہے۔ یہ چشمہ کنواری مریم سے منسوب کیا گیا تھا کیونکہ وہ پینے کے لیے پانی نکالتی تھیں۔ جب مدت حمل پوری ہو گئی اور ولادت کا وقت آپہنچا تو حنہ کو معلوم ہوا کہ ان کے بطن سے لڑکی پیدا ہوئی ہے ‘جہاں تک اولاد کا تعلق ہے حنہ کے لیے یہ لڑکی بھی لڑکے سے کم نہ تھی مگر ان کو یہ افسوس ضرور ہوا کہ میں نے جو نذر مانی تھی وہ پوری نہیں ہو سکے گی ‘اس لیے کہ لڑکی کس طرح مقدس ہیکل کی خدمت کرسکے گی ؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے افسوس کو یہ کہہ کر بدل دیا کہ ہم نے تیری لڑکی کو ہی قبول کیا اور اس کی وجہ سے تمھارا خاندان بھی معزز اور مبارک قرار پایا ‘ حنہ نے لڑکی کا نام مریم رکھا ‘ سریانی میں اس کے معنی خادم کے ہیں ‘ چونکہ یہ ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کردی گئیں اس لیے یہ نام موزوں سمجھا گیا۔ قرآن عزیز نے اس واقعہ کو معجزانہ اختصار کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ ذُرِّیَّۃً بَعْضُھَا مِنْم بَعْضٍ وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا } ” بے شک اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو کو (اپنے اپنے زمانہ میں) جہان والوں پر بزرگی عطا فرمائی (ان میں سے ) بعض بعض کی ذریت ہیں اور اللہ سننے والا ‘ جاننے والا ہے۔ (وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا ” خدایا ! میں نے نذر مان لی ہے کہ میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے۔ وہ تیری راہ میں آزاد ہے پس تو اس کو میری جانب سے قبول فرما۔ بے شک تو سننے والا ‘ جاننے والا ہے۔ “ پھر جب اس نے جنا تو کہنے لگی ” پروردگار ! میرے لڑکی پیدا ہوئی ہے اللہ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا ہے اور لڑکا اور لڑکی یکساں نہیں ہیں (یعنی ہیکل کی خدمت لڑکی نہیں کرسکتی لڑکا کرسکتا ہے) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے ‘اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان الرجیم کے فتنہ سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ پس مریم کو اس کے پروردگار نے بہت اچھی طرح قبول فرمایا اور اس کی نشو و نما اچھے طریق پر کی اور زکریاکو اس کا نگران کار بنایا۔ “ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام بھی ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی ‘ یہاں والد مریم (علیہا السلام) مراد ہیں۔ حضرت مریم (علیہا السلام) جب سن شعور کو پہنچیں اور یہ سوال پیدا ہوا کہ مقدس ہیکل کی یہ امانت کس کے سپرد کی جائے تو کاہنوں 2 ؎ میں سے ہر ایک نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اس مقدس امانت کا کفیل مجھ کو بنایا جائے مگر اس امانت کی نگرانی کا اہل حضرت زکریاسے زیادہ کوئی نہ تھا ‘ اس لیے کہ وہ مریم (علیہا السلام) کی خالہ ایشاع (الیشیع) کے شوہر بھی تھے اور مقدس ہیکل کے معزز کاہن اور خدائے برتر کے نبی بھی تھے ‘ اس لیے سب سے پہلے انھوں نے اپنا نام پیش کیا مگر جب سب کاہنوں نے یہی خواہش ظاہر کی اور باہمی کشمکش کا اندیشہ ہونے لگا تو آپس میں طے پایا کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ اس کا فیصلہ کر لیا جائے۔ اور بقول روایات بنی اسرائیل تین مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی وہ دریا میں اپنے (پورے) ڈالتے مگر قرعہ کی شرط کے مطابق ہر مرتبہ زکریا(علیہ السلام) ہی کا نام نکلتا ‘ کاہنوں نے جب یہ دیکھا کہ اس معاملہ میں زکریا(علیہ السلام) کے ساتھ تائید غیبی ہے تو انھوں نے بخوشی اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور اس طرح یہ ” سعید امانت “ حضرت زکریا(علیہ السلام) کے سپرد کردی گئی۔ کاہن سے وہ مقدس ہستیاں مراد ہیں جو ہیکل میں مذہبی رسوم ادا کرتی اور خدمت ہیکل پر مامور تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ مریم (علیہا السلام) کی کفالت کا یہ معاملہ اس لیے پیش آیا کہ وہ یتیم تھیں اور مردوں میں سے کوئی ان کا کفیل نہیں تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں قحط کا بہت زور تھا اس لیے کفالت کا سوال پیدا ہوا۔ لیکن یہ دونوں باتیں اگر نہ بھی ہوتیں تب بھی کفالت کا سوال اپنی جگہ پھر بھی باقی رہتا۔اس لیے کہ مریم (علیہا السلام) اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ” نذر ہیکل “ ہو چکی تھیں اور چونکہ لڑکی تھیں اس لیے از بس ضروری تھا کہ وہ کسی مرد نیک کی کفالت میں اس خدمت کو انجام دیتیں۔ غرض زکریا(علیہ السلام) نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے صنفی احترامات کا لحاظ رکھتے ہوئے ہیکل کے قریب ایک حجرہ ان کے لیے مخصوص کر دیا تاکہ وہ دن میں وہاں رہ کر عبادت الٰہی سے بہرہ ور ہوں اور جب رات آتی تو ان کو اپنے مکان پر ان کی خالہ ایشاع کے پاس لے جاتے اور وہ وہیں شب بسر کرتیں۔ مولانا آزاد ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں : ” قرآن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ظہور کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ دو جگہ کیا گیا ہے ‘ یہاں اور سورة آل عمران کی آیات 35۔ 63 میں ‘ یہاں یہ ذکر حضرت زکریا(علیہ السلام) کی دعا اور حضرت یحییٰ کی پیدائش کے بیان سے شروع ہوا ہے اور انا جیل اربعہ میں سے سینٹ لوقا کی انجیل ٹھیک ٹھیک اسی طرح یہ تذکرہ شروع کرتی ہے۔ لیکن سورة آل عمران میں یہ تذکرہ اس سے بھی پیشتر کے ایک واقعہ سے شروع ہوتا ہے ‘ یعنی حضرت مریم کی پیدائش اور ہیکل میں پرورش پانے کے واقعہ سے اور اس بارہ میں چاروں انجیلیں خاموش ہیں لیکن انیسویں صدی میں متروک اناجیل کا جو نسخہ ویٹیکان کے کتب خانہ سے برآمد ہوااس نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی پیدائش کا یہ مفقود ٹکڑا مہیا کر دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چوتھی صدی کے اوائل تک سرگزشت کا یہ ٹکڑا بھی اسی طرح الہامی یقین کیا جاتا تھا جس طرح بقیہ ٹکڑے یقین کیے جاتے ہیں۔ “ حنہ اور الیشبع 120px|بائیں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جمہور کا قول یہ ہے کہ ایشاع (الیشیع) مریم (علیہا السلام) کی ہمشیرہ تھیں اور حدیث معراج میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) کے متعلق یہ فرما کر ” وَھُمَا اِبْنَا خَالَۃٍ “ جو رشتہ ظاہر فرمایا ہے اس سے بھی جمہور کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن جمہور کا یہ قول قرآن عزیز اور تاریخ دونوں کے خلاف ہے اس لیے کہ قرآن نے مریم (علیہا السلام) کی ولادت کے واقعہ کو جس اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے وہ صاف بتارہا ہے کہ عمران اور حنہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی ولادت سے قبل اولاد سے قطعاً محروم تھیں یہی وجہ ہے کہ حنہ نے مریم (علیہا السلام) کی ولادت پر یہ نہیں کہا ” خدایا ! میرے تو پہلے بھی ایک لڑکی موجود تھی ‘ اب تونے دوبارہ بھی لڑکی ہی عطا فرمائی “ بلکہ درگاہ الٰہی میں یہ عرض کیا جس شکل میں میری دعا تونے قبول فرمائی ہے اس کو حسب وعدہ تیری نذر کیسے کروں نیز توراۃ اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی کہیں یہ ثابت نہیں کہ عمران اور حنہ کے مریم (علیہا السلام) کے ماسوا کوئی اور اولاد بھی تھی بلکہ اس کے برعکس تاریخ یہود اور اسرائیلیات کا مشہور قول یہ ہے کہ الیشاع مریم (علیہا السلام) کی خالہ تھیں۔ دراصل جمہور کی جانب منسوب یہ قول صرف حدیث معراج کے مسطورہ بالا جملہ کے پیش نظر ظہور میں آیا ہے حالانکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ” وَھُمَا اِبْنَا خَالَۃٍ “ ” وہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں “ مجاز متعارف کی شکل میں ہے یعنی آپ نے بہ طریق توسع والدہ کی خالہ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی خالہ فرمایا ہے اور اس قسم کا توسع عام بول چال میں شائع و ذائع ہے۔ علاوہ ازیں ابن کثیر ؒ کا اس کو ” قول جمہور “ کہنا بھی محل نظر ہے اس لیے کہ محمد بن اسحاق ‘ اسحاق بن بشر ‘ ابن عساکر ‘ ابن جریر اور ابن حجر رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر اصحاب حدیث و سیر کا رجحان اس جانب ہے کہ ایشاع حنہ کی ہمشیرہ اور مریم (علیہا السلام) کی خالہ ہیں ‘ حنہ کی بیٹی نہیں ہیں۔ مریم (علیہا السلام) کا زہد وتقویٰ مریم (علیہا السلام) شب و روز عبادت الٰہی میں رہتیں اور جب خدمت ہیکل کے لیے ان کی نوبت آتی تو اس کو بھی بخوبی انجام دیتی تھیں حتیٰ کہ ان کا زہد وتقویٰ بنی اسرائیل میں ضرب المثل بن گیا اور ان کی زہادت و عبادت کی مثالیں دی جانے لگیں۔ مقبولیت خداوندی زکریا(علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کی ضروری نگہداشت کے سلسلہ میں کبھی کبھی ان کے حجرہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے لیکن ان کو یہ بات عجیب نظر آتی کہ جب وہ خلوت کدہ میں داخل ہوتے تو مریم (علیہا السلام) کے پاس اکثر بے موسم کے تازہ پھل موجود پاتے۔ یہ تفصیل اگرچہ تفسیری روایات سے ماخوذ ہے اور آیت میں صرف لفظ ” رِزِق “ آیا ہے لیکن آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ مریم کا یہ رزق انسانی دادودہش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بطور کرامت من جانب اللہ تھا۔ آخر زکریا(علیہ السلام) سے رہا نہ گیا اور انھوں نے دریافت کیا : مریم تیرے پاس یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ مریم (علیہا السلام) نے فرمایا : ” یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے بے گمان رزق پہنچاتا ہے۔“ حضرت زکریا(علیہ السلام) نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ خدا کے یہاں مریم (علیہا السلام) کا خاص مقام اور مرتبہ ہے اور ساتھ ہی بے موسم تازہ پھلوں کے واقعہ نے دل میں تمنا پیدا کردی جس خدا برتر نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ پھل بے موسم پیدا کر دیے ‘وہ میرے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود مجھ کو بے موسم پھل (بیٹا) عطا نہ کرے گا ؟ یہ سوچ کر انھوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ ربانی میں دعا کی اور وہاں سے شرف قبولیت کا مژدہ عطا ہوا : { وَ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ” اور اس (مریم) کی کفالت زکریانے کی ‘ جب اس (مریم) کے پاس زکریاداخل ہوتے تو اس کے پاس کھانے کی چیزیں رکھی پاتے۔ زکریانے کہا : ” اے مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آئیں “ مریم نے کہا ” یہ اللہ کے پاس سے آئی ہیں ‘ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے گمان رزق دیتا ہے۔ “ مریم (علیہا السلام) اسی طرح ایک عرصہ تک اپنے مقدس مشاغل کے ساتھ پاک زندگی بسر کرتی رہیں اور مقدس ہیکل کا سب سے مقدس مجاور حضرت زکریا(علیہ السلام) بھی ان کے زہد وتقویٰ سے بے حد متاثر تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت اور جلالت قدر کو اور زیادہ بلند کیا اور فرشتوں کے ذریعہ ان کو برگزیدہ بارگاہ الٰہی ہونے کی یہ بشارت سنائی : { وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ وَ طَھَّرَکِ وَ اصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ } ” (اے پیغمبر وہ وقت یاد کیجئے) جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بزرگی دی اور پاک کیا اور دنیا کی عورتوں پر تجھ کو برگزیدہ کیا ‘ اے مریم ! اپنے پروردگار کے سامنے جھک جا اور سجدہ ریز ہوجا اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز ادا کر۔ “ { وَ مَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَ مَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ } ” اور تم اس وقت ان کاہنوں کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنی قلموں (پوروں) کو قرعہ اندازی کے لیے ڈال رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے اور تم اس وقت (بھی) موجود نہ تھے جب وہ اس کی کفالت کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ “ حضرت مریم (علیہا السلام) جبکہ نہایت مرتاض ‘ عابد و زاہد اور تقویٰ و طہارت میں ضرب المثل تھیں اور جبکہ عنقریب ان کو جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہونے والا تھا تو من جانب اللہ ان کی تقدیس و تطہیر کا یہ اعلان بلاشبہ حق بہ حقدار رسید کا مصداق ہے ‘تاہم علمی اور تاریخی اعتبار سے بلکہ خود قرآن و حدیث کے مفہوم کے لحاظ سے یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ آیت { وَ اصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ } کی مراد کیا ہے اور کیا درحقیقت حضرت مریم (علیہا السلام) کو بغیر کسی استثناء کے کائنات کی تمام عورتوں پر برتری اور فضیلت حاصل ہے ؟ اور یہی نہیں بلکہ اس آیت فضیلت نے مریم (علیہا السلام) کی ذات سے متعلق علمائے سلف میں چند اہم مسائل کو زیر بحث بنادیا ہے مثلاً کیا عورت نبی ہو سکتی ہے ؟ ! کیا حضرت مریم (علیہا السلام) نبی تھیں ؟ " اگر نبی نہیں تھیں تو آیت کے جملہ { وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ } کا مطلب کیا ہے ؟ کیا عورت نبی ہو سکتی ہے، محمد بن اسحاق شیخ ابو الحسن اشعریؒ ‘ قرطبی ؒ‘ ابن حزم ؒ(نور اللہ مرقدہم) اس جانب مائل ہیں کہ عورت نبی ہو سکتی ہے بلکہ ابن حزم ؒتو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت حواؑ ‘ سارہؑ ‘ ہاجرہ ؑ‘ ام موسیٰ ؑ‘ آسیہ اور مریم (علیہن السلام) یہ سب نبی تھیں ‘ اور محمد بن اسحاقؒ کہتے ہیں کہ اکثر فقہا اس کے قائل ہیں کہ عورت نبی ہو سکتی ہے اور قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ مریم (علیہا السلام) نبی تھیں۔ ان حضرات کے اقوال کے برعکس خواجہ حسن بصری ‘ امام الحرمین شیخ عبد العزیز اور قاضی عیاض (نور اللہ مرقدہم) کا رجحان اس جانب ہے کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی اور اس لیے مریم (علیہا السلام) بھی نبی نہیں تھیں۔ قاضی عیاض اور ابن کثیر یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہور کا مسلک یہی ہے اور امام الحرمین تو اجماع تک دعویٰ کرتے ہیں۔ جو علما یہ فرماتے ہیں کہ عورت نبی نہیں بن سکتی وہ اپنی دلیل میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں : { وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ } ” اور تم سے پہلے ہم نے نہیں بھیجے مگر مرد کہ وحی بھیجتے تھے ہم ان کی طرف “ اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت کے انکار پر یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن عزیز نے ان کو ” صِدِّیْقَہ “ کہا ہے ‘ سورة مائدہ میں ہے : { مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّارَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَ اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ} ” بس ابن مریم تو ایک پیغمبر ہیں جن سے پہلے اور بھی پیغمبر گذر چکے ہیں اور ان کی والدہ صدیقہ تھیں۔ “ اور سورة نساء میں قرآن عزیز نے ” مُنْعَمْ عَلَیْہِمْ “ کی جو فہرست دی ہے وہ اس کے لیے نص قطعی ہے کہ ” صِدِّیْقِیَتْ “ کا درجہ ” نبوت “ سے کم اور نازل ہے۔اور جو حضرات عورت کے نبی ہونے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن عزیز نے حضرت سارہ ‘ ام موسیٰ اور حضرت مریم علیہن السلام کے متعلق جن واقعات کا اظہار کیا ہے ان میں بصراحت موجود ہے کہ ان پر خدا کے فرشتے وحی لے کر نازل ہوئے اور ان کو منجانب اللہ بشارات سے سرفراز فرمایا اور ان تک اپنی معرفت اور عبادت کا حکم پہنچایا ‘ چنانچہ حضرت سارہ کے لیے سورة ہود اور سورة الذاریات میں اور ام موسیٰ کے لیے سورة قصص میں اور مریم (علیہا السلام) کے لیے آل عمران اور سورة مریم میں بواسطہ ملائکہ اور بلاواسطہ خطاب الٰہی موجود ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان مقامات پر وحی کے لغوی معنی (وجدانی ہدایت یا مخفی اشارہ) کے نہیں ہیں جیسا کہ آیت : { وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ } میں شہد کی مکھی کے لیے وحی کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مریم (علیہا السلام) کے نبی ہونے کی یہ واضح دلیل ہے کہ سورة مریم میں ان کا ذکر اسی اسلوب کے ساتھ کیا گیا ہے جس طریقہ پر دیگر انبیا و رسل کا تذکرہ کیا ہے ‘ مثلاً : { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰٓی } (مریم : 19/51) { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ } (مریم : 19/54) { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ } (مریم : 19/16) { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ } (مریم : 19/56) { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِیْمَ } (مریم : 19/41) { فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا } (مریم : 19/17) ہم نے مریم ؑ کی جانب اپنے فرشتہ جبرائیل کو بھیجا “ یا مثلاً { قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ } ” میں بلاشبہ تیرے پروردگار کی جانب سے پیغامبر ہوں “ نیز آل عمران میں مریم (علیہا السلام) کو ملائکۃ اللہ نے جس طرح خدا کی جناب سے پیغامبر بن کر خطاب کیا ہے وہ بھی اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے۔ اور مریم (علیہا السلام) کے ” صدیقہ “ ہونے سے متعلق جو سوال ہے اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر قرآن نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو ” صدیقہ “ کہا ہے تو یہ لقب ان کی شان نبوت کے اسی طرح منافی نہیں ہے جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مسلم نبی ہونے کے باوجود آیت یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ میں ان کا صدیق ہونا ان کے نبی ہونے کو مانع نہیں ہے بلکہ ذکرپاک مقامی خصوصیت کی بنا پر مذکور ہوا ہے ‘ کیونکہ جو ” نبی “ ہے وہ بہرحال ” صدیق “ ضرور ہے البتہ اس کا عکس ضروری نہیں ہے۔ ان علمائے اسلام کی ترجمانی جس تفصیل کے ساتھ ” کتاب الفصل “ میں مشہور محدث ابن حزم ؒ نے کی ہے اس تفصیل و قوت کے ساتھ دوسری جگہ نظر سے نہیں گذری اس لیے سطور ذیل میں اس پورے مضمون کا ترجمہ لائق مطالعہ ہے : نبوۃ النساء اور ابن حزمؒ یہ فصل ایسے مسئلہ کے متعلق ہے جس پر ہمارے زمانہ میں قرطبہ (اندلس) میں شدید اختلاف بپا ہوا ‘ علما کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی اور جو ایسا کہتا ہے کہ عورت نبی نہیں ہو سکتی ہے وہ ایک نئی بدعت ایجاد کرتا ہے اور دوسری جماعت قائل ہے کہ عورت نبی ہو سکتی ہے اور نبی ہوئی ہیں ‘ اور ان دونوں سے الگ تیسری جماعت کا مسلک توقف ہے اور وہ اثبات و نفی دونوں باتوں میں سکوت کو پسند کرتے ہیں۔ مگر جو حضرات عورت سے متعلق منصب نبوت کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس اس انکار کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی البتہ بعض حضرات نے اپنے اختلاف کی بنیاد اس آیت کو بنایا ہے : { وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ } میں کہتاہوں کہ اس بارے میں کس کو اختلاف ہے اور کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عورت کو ہدایت خلق کے لیے رسول بناکر بھیجتا ہے یا اس نے کسی عورت کو ” رسول “ بنایا ہے ‘ بحث رسالت کے مسئلہ میں نہیں ہے بلکہ نبوت میں ہے ‘ پس طلب حق کے لیے ضروری ہے کہ اول یہ غور کیا جائے کہ لغت عرب میں لفظ ” نبوت “ کے کیا معنی ہیں ؟ تو ہم اس لفظ کو ” اِنْبَائِ “ سے ماخوذ پاتے ہیں جس کے معنی ” اطلاع دینا “ ہیں ‘پس نتیجہ یہ نکلتا ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ کسی معاملہ کے ہونے سے قبل بذریعہ وحی اطلاع دے یا کسی بھی بات کے لیے اس کی جانب وحی نازل فرمائے وہ شخص مذہبی اصطلاح میں بلاشبہ ” نبی “ ہے۔ آپ اس مقام پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وحی کے معنی اس الہام کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کی سرشت میں ودیعت کر دیا ہے جیسا کہ شہد کی مکھی کے متعلق خدائے برحق کا ارشاد ہے۔ { وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ } اور نہ وحی کے معنی ظن اور وہم کے لے سکتے ہیں اس لیے کہ ان دونوں کو ” علم یقین “ سمجھنا (جو وحی کا قدرتی نتیجہ ہے) مجنوں کے سوا اور کسی کا کام نہیں ہے۔ نہ یہاں وہ معنی مراد ہو سکتے ہیں جو ” باب کہانت “ سے تعلق رکھتے ہیں یعنی یہ کہ شیاطین آسمانی باتوں کو سننے اور چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر شہاب ثاقب کے ذریعہ رجم کیا جاتا ہے اور جس کے متعلق قرآن یہ کہتا ہے : { شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا } کیونکہ یہ ” باب کہانت “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت باسعادت کے وقت سے مسدود ہو گیا۔ اور نہ اس جگہ وحی کے معنی نجوم کے تجربات علمیہ سے تعلق رکھتے ہیں جو خود انسانوں کے باہم سیکھنے اور سکھانے سے حاصل ہوجایا کرتے ہیں اور نہ اس کے معنی رؤیا (خواب) کے ہو سکتے ہیں۔جن کے سچ یا جھوٹ ہونے کا کوئی علم نہیں ہے بلکہ ان تمام معانی سے جدا ” وحی بمعنی نبوت “ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے قصد اور ارادہ سے ایک شخص کو ایسے امور کی اطلاع دے جن کو وہ پہلے سے نہیں جانتا اور مسطورہ بالا ذرائع علم سے الگ یہ امور حقیقت ثابتہ بن کر اس شخص پر اس طرح منکشف ہوجائیں گویا آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس علم خاص کے ذریعہ اس شخص کو بغیر کسی محنت و کسب کے بداہۃً ایسا صحیح یقین عطا کر دے کہ وہ ان امور کو اس طرح معلوم کرلے جس طرح وہ حواس اور بداہت عقل کے ذریعہ حاصل کر لیا کرتا ہے اور اس کو کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اور خدا کی یہ وحی یا تو اس طرح ہوتی ہے کہ فرشتہ آ کر اس شخص کو خدا کا پیغام سناتا ہے اور یا اس طرح کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اس سے خطاب کرتا ہے۔ پس اگر ان حضرات کے نزدیک جو عورت کے نبی ہونے کا انکار کرتے ہیں نبوت کے معنی یہ نہیں ہیں ‘ تو وہ ہم کو سمجھائیں کہ آخر نبوت کے معنی ہیں کیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس کے ماسوا اور کوئی معنی بیان ہی نہیں کرسکتے۔ اور جب کہ نبوت کے معنی وہی ہیں جو ہم نے بیان کیے۔ تو اب قرآن کے ان مقامات کو بغور مطالعہ کیجئے جہاں یہ مذکور ہے کہ اللہ عزوجل نے عورتوں کے پاس فرشتوں کو بھیجا اور فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان عورتوں کو ” وحی حق “ سے مطلع کیا چنانچہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ام اسحاق (سارہ ؑ) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت سنائی ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : { وَ امْرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَلا وَ مِنْ وَّرَآئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ۔ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ ھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ } ان آیات میں فرشتوں نے ام اسحاق کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسحاق اور ان کے بعد یعقوب (علیہما السلام) کی بشارت سنائی ہے اور سارہ [ کے تعجب پر یہ کہہ کر دوبارہ خطاب کیا ہے { اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ } تو یہ کیسے ممکن ہے کہ والدہ اسحاق (سارہ [) نبی تو نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ اس طرح ان سے خطاب کرے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جبرائیل فرشتہ کو مریم (ام عیسیٰ ) کے پاس بھیجتا ہے اور ان کو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے : { قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا } تو یہ ” وحی حقیقی “ کے ذریعہ نبوت نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور کیا اس آیت میں صاف طور پر نہیں کہا گیا ہے کہ مریم (علیہا السلام) کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیامبر بن کر آئے ؟ نیز زکریا(علیہ السلام) جب مریم (علیہا السلام) کے حجرہ میں آئے تو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا غیب سے دیا ہوا رزق پاتے تھے۔ اور انھوں نے اسی رزق کو دیکھ کر بارگاہ الٰہی میں صاحب فضیلت لڑکا پیدا ہونے کی دعا کی تھی ‘ اسی طرح ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے معاملہ میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ تم اپنے اس بچہ کو دریا میں ڈال دو اور ساتھ ہی ان کو اطلاع دی کہ میں اس کو تمھاری جانب واپس کروں گا اور اس کو ” نبی مرسل “ بناؤں گا ‘ پس کون شک کرسکتا ہے کہ یہ ” نبوت “ کا معاملہ نہیں ہے۔معمولی عقل و شعور رکھنے والا آدمی بھی بآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا یہ عمل اللہ کے عطاکردہ شرف نبوت سے وابستہ نہ ہوتا اور محض خواب کی بنا پر یا دل میں پیدا شدہ وسوسہ کی وجہ سے وہ ایسا کرتیں تو ان کا یہ عمل نہایت ہی مجنونانہ اور متہورانہ ہوتا اور اگر آج ہم میں سے کوئی ایسا کر بیٹھے تو ہمارا یہ عمل یا گناہ قرار پائے گا اور یا ہم کو مجنوں اور پاگل کہا جائے گا اور علاج کے لیے پاگل خانہ بھیج دیا جائے گا ‘ یہ ایک ایسی صاف اور واضح بات ہے جس میں شک و شبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تب یہ کہنا قطعاً درست ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دینا اسی طرح وحی الٰہی کی بنا پر تھا جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رویا (خواب) میں اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کا ذبح کرنا بذریعہ وحی معلوم کر لیا تھا۔ اس لیے کہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی نہ ہوتے اور ان کے ساتھ وحی الٰہی کا سلسلہ وابستہ نہ ہوتا اور پھر وہ یہ عمل محض ایک خواب یا نفس میں پیدا شدہ ظن کی وجہ سے کر گزرتے تو ہر شخص ان کے اس عمل کو یا گناہ سمجھتا یا انتہائی جنون یقین کرتا تو اب بغیر کسی تردد کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ام موسیٰ ؑ نبی تھیں۔ علاوہ ازیں حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت پر ایک یہ دلیل بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة مریم میں ان کا ذکرانبیاء (علیہم السلام) کے زمرہ میں کیا ہے اور اس کے بعد ارشاد فرمایا ہے : { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَق وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ } ” یہی ہیں وہ انبیا آدم کی نسل سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا جن پر اللہ کا انعام و اکرام ہوا۔ “ تو آیت کے اس عموم میں مریم (علیہا السلام) کی تخصیص کرکے ان کو انبیا کی فہرست میں سے الگ کرلینا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مریم (علیہا السلام) کے لیے یہ کہا ” وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ“ تو یہ لقب ان کی نبوت کے لیے اسی طرح مانع نہیں جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نبی اور رسول ہونے کے لیے یہ آیت مانع نہیں ” یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ “ اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ (وباللّٰہ التوفیق) اب حضرت سارہ ‘ حضرت مریم ‘ حضرت ام موسیٰ علیہن السلام کے مسئلہ نبوت کے ساتھ فرعون کی بیوی (آسیہ) کو بھی شامل کرلیجئے ‘ اس لیے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( (کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیْرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ آِسَیُۃ بِنْتُ مَزَاحِمٍ اِمْرَائَۃُ فِرْعَوْنَ (اَوْکَمَا قَالَ (علیہ السلام)) بخاری میں الفاظ حدیث یہ ہیں : ( (قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمل من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا آسیۃ امرأۃ فرعون و مریم بنت عمران وان فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الطعام)) ” یعنی مردوں میں سے تو بہت آدمی کامل ہوئے ہیں مگر عورتوں میں سے صرف دو ہی کامل ہوئیں : مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون۔ “ اور واضح رہے کہ مردوں میں یہ درجہ کمال بعض رسولوں ہی کو حاصل ہوا ہے اور اگرچہ ان کے علاوہ انبیا و رسل بھی درجہ نبوت و رسالت پر مامور ہیں لیکن ان مرسلین کاملین کے درجہ سے نازل ہیں ‘ اس لیے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا ہے۔ ان میں صرف دو عورتوں کو ہی درجہ کمال تک پہنچنے کی فضیلت حاصل ہے کیونکہ حدیث میں جس درجہ کمال کا ذکر ہو رہا ہے جو ہستی بھی اس درجہ سے نازل ہے وہ کامل نہیں ہے۔ بہرحال اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ اگرچہ بعض عورتیں بہ نص قرآن نبی ہیں لیکن ان میں سے ان دو عورتوں کو بھی درجہ کمال حاصل ہوا ہے۔ درجات کے اس فرق کو خود قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے : { تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ } نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایک حدیث میں ایسا ہی فرمایا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کامل اس کو کہا جاتا ہے جس کی نوع میں سے کوئی دوسرا اس کا ہمسر نہ ہو ‘ پس مردوں میں سے ایسے کامل خدا کے چند ہی رسول ہوئے ہیں جن کی ہمسری دوسرے انبیا و رسل کو عطا نہیں ہوئی اور بلاشبہ انھی کاملین میں سے ہمارے پیغمبر ” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ اور ” ابراہیم ؑ “ ہیں۔جن کے متعلق نصوص (قرآن و حدیث) نے ان فضائل کمال کا اظہار کیا ہے جو دوسرے انبیا و رسل کو حاصل نہیں ہیں ‘ البتہ اسی طرح عورتوں میں سے وہی درجہ کمال کو پہنچی ہیں جن کا ذکر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں کیا ہے۔ “ ابن حزم ؒ کے اس طویل مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر وحی کے ان معانی کو نظر انداز کرکے ” جن کا اطلاق بلحاظ عموم لغت جبلت یا نفس میں ظن و وہم کے درجہ کا القاء والہام پر ہوتا ہے “ وہ اصطلاحی معنی لیے ہیں جن کو قرآن نے انبیا و رسل کے لیے مخصوص کیا ہے۔ تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک وہ (وحی) جس کا منشا مخلوق خدا کی رشد و ہدایت اور تعلیم اوامرو نواہی سے ہو۔ اور دوسری یہ کہ خدائے تعالیٰ کسی شخص سے براہ راست یا فرشتہ کے واسطہ سے اس قسم کا خطاب کرے جس سے بشارات دینا ‘ کسی ہونے والے واقعہ کی ہونے سے قبل اطلاع دینا ‘ یا خاص اس کی ذات کے لیے کوئی امر و نہی فرمانا مقصود ہو ‘اب اگر پہلی صورت ہے تو یہ ” نبوۃ مع الرسالۃ “ ہے۔( یہاں نبی اور رسول کے اس فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ‘ جو علم کلام کی خاص اصطلاح ہے کیونکہ قرآن کثرت کے ساتھ نبی اور رسول کو مرادف معنی میں استعمال کرتا ہے۔) اور بالاتفاق سب کے نزدیک یہ درجہ صرف مردوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے جیسا کہ سورة النحل کی آیت سے واضح ہے اور اس مسئلہ میں قطعاً دورائے نہیں ہیں۔ اور اگر وحی الٰہی کی دوسری شکل ہے تو ابن حزم اور ان کے مویدین علما کی رائے میں یہ بھی نبوت ہی کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ قرآن عزیز نے سورة شورٰی میں انبیا (علیہم السلام) پر نزول وحی کے جو طریقے بیان کیے ہیں وہ اس وحی پر بھی صادق آتے ہیں۔ سورة شورٰی میں ہے : { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَایِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَائُط اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ} ” اور کسی انسان کے لیے یہ صورت ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے (بالمُشافہ) گفتگو کرے مگر یا وحی کے ذریعہ یا پس پردہ کلام کے ذریعہ اور یا اس صورت سے کہ اللہ کسی فرشتہ کو پیغامبر بنا کر بھیجے ! اور اس کی اجازت سے جس کو کہ وہ چاہے اس بشر کو وحی لا کر سنا دے بلاشبہ وہ بلند وبالا حکمت والا ہے۔ “ اور جبکہ قرآن نے وحی کی اس دوسری قسم کا اطلاق بہ نص صریح حضرت مریم ‘ حضرت سارہ ‘ حضرت ام موسیٰ اور حضرت آسیہ (علیہن السلام) پر کیا ہے جیسا کہ سورة ہود ‘ قصص اور مریم سے ظاہر ہوتا ہے تو ان مقدس عورتوں پر ” نبی کا اطلاق “ قطعاًصحیح ہے اور اس کو بدعت کہنا سر تا سر غلط ہے۔ ابن حزم (رح) کے مؤید علما نے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے اس شبہ کا جواب بھی دیا ہے کہ قرآن نے جس طرح صاف الفاظ میں مرد انبیا کو نبی اور رسول کہا ہے اس طرح ان عورتوں میں سے کسی کو نہیں کہا “ جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبکہ ” نبوۃ مع الرسالۃ “ جو مردوں کے لیے ہی مخصوص ہے کائنات انسانی کی رشد و ہدایت اور تعلیم و تبلیغ نوع انسانی سے متعلق ہوتی ہے۔ تو اس کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو اس شرف سے ممتاز فرمایا ہے اس کے متعلق وہ صاف صاف اعلان کرے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا نبی اور رسول ہے ‘ تاکہ امت پر اس کی دعوت و تبلیغ کا قبول کرنا لازم ہوجائے اور خدا کی حجت پوری ہو اور چونکہ نبوت کی وہ قسم جس کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے خاص اس ہستی سے وابستہ ہوتی ہے جس کو یہ شرف ملا ہے تو اس کے متعلق صرف یہی اظہار کردینا کافی ہے کہ جو ” وحی من اللہ “ انبیا و رسل کے لیے ہی مخصوص ہے اس سے ان چند عورتوں کو بھی مشرف کیا گیا ہے۔ عورتوں کی نبوت کے اثبات و انکار کے علاوہ تیسری رائے ان علما کی ہے جو اس مسئلہ میں ” سکوت اور توقف “ کو ترجیح دیتے ہیں ان میں شیخ تقی الدین سبکی ؒ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ‘ فتح الباری میں ان کا یہ قول مذکور ہے : ( (قَالَ السَّبُکِیُّ اُخْتُلِفَ فِیْ ھَذِہٖ الْمَسْئَلَۃِ وَلَمْ یَصِحَّ عِنْدِیْ فِیْ ذَلِکَ شَیْئٌ الخ) ) ” سبکی فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علما کی آراء مختلف ہیں اور میرے نزدیک اس بارے میں اثباتاً یانفیاً کوئی بات ثابت نہیں ہے۔ “ کیا حضرت مریم (علیہا السلام) نبی ہیں ؟ اس تفصیل سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی نبوت کے انکار پر امام الحرمین کا دعوائے اجماع صحیح نہیں ہے نیز یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ فہرست انبیا میں مسطورہ بالا دوسری مقدس عورتوں کے مقابلہ میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت کے متعلق قرآنی نصوص زیادہ واضح ہیں ‘یہی وجہ ہے کہ امام شعرانی ‘ ابن حزم اور قرطبی (رحمہم اللہ) کے درمیان مریم (علیہا السلام) کے علاوہ نبی ات کی فہرست کے بارے میں خاصہ اختلاف نظر آتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت کے متعلق تمام مثبتین نبوت کا اتفاق ہے۔ ہم کو ابن کثیر ؒ کے اس دعویٰ سے بھی اختلاف ہے کہ جمہور انکار کی جانب ہیں ‘ البتہ اکثریت غالباً سکوت اور توقف کو پسند کرتی ہے۔ آیت { وَاصْطَفَاکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعَالَمِیْنَ } کا مطلب جو علما عورتوں میں نبوت کے قائل ہیں اور حضرت مریم (علیہا السلام) کو نبی تسلیم کرتے ہیں ‘ ان کے مسلک کے مطابق تو آیت { وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ } کا مطلب صاف اور واضح ہے وہ یہ کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو کائنات کی تمام عورتوں پر فضیلت حاصل ہے ‘جو عورتیں نبی نہیں ہیں ان پر اس لیے کہ مریم (علیہا السلام) نبی ہیں اور جو عورتیں نبی ہیں ان پر اس لیے کہ وہ ان قرآنی نصوص کے پیش نظر جو ان کے فضائل و کمالات سے تعلق رکھتی ہیں باقی نبی اس پر برتری رکھتی ہیں۔ لیکن جو علما عورتوں کی نبوت کا انکار فرماتے ہیں اور حضرت مریم (علیہا السلام) کو ” نبیہ “ نہیں تسلیم کرتے وہ اس آیت کی مراد میں دو جدا جدا خیال رکھتے ہیں ‘ بعض کہتے ہیں کہ آیت کا جملہ نِسَائِ الْعَالَمِیْنَ عام ہے اور ماضی ‘ حال اور مستقبل کی تمام عورتوں کو شامل ہے۔ اس لیے بلاشبہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بغیر کسی استثناء کے کائنات انسانی کی تمام عورتوں پر فضیلت و برتری حاصل ہے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ آیت کے لفظ ” العالمین “ سے کائنات کی وہ تمام عورتیں مراد ہیں جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی معاصر تھیں۔یعنی قرآن عزیز حضرت مریم (علیہا السلام) کے زمانہ کا واقعہ نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بشارت دی کہ وہ اپنے زمانہ کی تمام عورتوں میں برگزیدہ اور صاحب کمال ہیں اور ہم نے ان سب میں سے ان کو چن لیا ہے اور ” العٰلمین “ کا یہ اطلاق وہی حیثیت رکھتا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت (بنی اسرائیل) کے لیے اس آیت میں اختیار کی گئی ہے : { وَلَقَدِ اخْتَرْنَاہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ” اور بلاشبہ ہم نے اپنے علم سے ان (بنی اسرائیل) کو جہان والوں کے مقابلہ میں پسند کر لیا ہے “ اور جبکہ باتفاق آراء بنی اسرائیل کی فضیلت کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ” العٰلمین “ سے ان کی معاصر امم و اقوام مراد ہیں کہ ان میں سے امت موسیٰ (علیہ السلام) کو فضیلت حاصل ہے تو حضرت مریم (علیہا السلام) کی فضیلت کے باب میں بھی یہی معنی مراد لینے چاہئیں۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کا تقدس اور تقویٰ و طہارت ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کی والدہ ہونے کا شرف ‘ مرد کے ہاتھ لگائے بغیر معجزہ کے طور پر ان کے مشکوئے معلی سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت بلاشبہ ایسے امور ہیں جن کی بدولت ان کو معاصر عورتوں پر فضیلت و برتری حاصل تھی۔ پھر یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ باب فضیلت ایک وسیع باب ہے اور جس طرح کسی شے کی حقیقت بیان کرنے میں بلیغ اور عمدہ طریق بیان یہ ہے کہ وہ جامع و مانع ہو یعنی اس کی حقیقت پر اس طرح حاوی ہو کہ تمام دوسری چیزوں سے ممتاز ہوجائے ‘نہ ایسی کمی رہ جائے کہ اصل حقیقت پوری طرح بیان نہ ہو سکے اور نہ ایسا اضافہ کرے کہ بعض دوسری حقائق بھی اس کے ساتھ شامل ہوجائیں ‘ اسی طرح اس کے برعکس بیان فضیلت کے لیے فصاحت و بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو بیان حقیقت کی طرح حدود وقیود میں نہ جکڑ دیا جائے۔کیونکہ اس مقام پر حقیقت شے نہیں بلکہ فضیلت شے کا اظہار ہو رہا ہے جو اگر اسی طرح کے دوسرے افراد پر بھی صادق آجائے تو بیان حقیقت کی طرح اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا بلکہ اس موقع پر وسعت بیان ہی از بس ضروری ہوتا ہے تاکہ مخاطب کے دل میں اظہار فضیلت سے جو نفسیاتی اثر پیدا کرنا ہے وہ دل نشین اور موثر ہو سکے۔ تو ایسی صورت میں عَلٰی نِسَائِ الْعٰلَمِیْنَ کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے علاوہ دوسری کوئی مقدس عورت اس شرف کو نہیں پہنچ سکتی یا نہیں پہنچی ‘ بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو فضائل و کمالات میں بلند مرتبہ حاصل ہے ‘باب فضائل کی یہی وہ حقیقت ہے جس کے فراموش کردینے پر فضائل صحابہ (رض) و رضوا عنہ وغیرہ میں اکثر ہم کو لغزش ہوجاتی اور چند مقدس اشخاص سے متعلق فضائل کے مابین تضاد و تناقض نظر آنے لگتا ہے ‘ البتہ ان فضائل کی حدود سے گذر کر جب ہم صاحب فضائل افراد کے انفرادی و اجتماعی اعمال کا جائزہ لے کر فرق مراتب بیان کرتے ہیں تو وہ ضرور ایک دوسرے کے لیے حد فاصل ثابت ہوتے ہیں۔مثلاً حضرات صحابہ وصحابیات کے فضائل کے پیش نظر فرق مراتب کا صحیح فیصلہ جبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ ان کے ان فضائل کے ساتھ ساتھ جو زبان وحیٔ ترجمان سے نکلے ہیں ان سے متعلق خصوصی ارشادات قرآنی وحدیثی ‘ان کی اسلامی خدمات ‘ اسلام سے متعلق ان کی سر فروشیاں و جاں سپاریاں ‘ نصرت حق میں مالی فدا کاریاں ‘ اسلام کے نازک ترین لمحات میں ان کے علم و تدبر کی عقدہ کشائیاں اور ان کی عملی جدوجہد کی رفیع سرگرمیاں ان سب کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور بشارات کتب سابقہ ادیان و ملل کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین حق اور ملت بیضاء کی تبلیغ و دعوت کا سلسلہ اگرچہ آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک برابر جاری رہا ہے لیکن اس سلسلہ کو مزید قوت پہنچانے اور سر بلند کرنے کے لیے سنت اللہ یہ رہی ہے کہ صدیوں بعد ایک ایسے اولوالعزم اور جلیل القدر پیغمبر کو بھیجے جو امتداد زمانہ کی وجہ سے پیدا شدہ عام روحانی اضمحلال کو دور کرکے قبول حق کے افسردہ رجحانات میں تازگی بخشے اور ضعیف روحانی عواطف کو قوی سے قوی تر بنادے ‘گویا مذہب کی خوابیدہ دنیا میں حق و صداقت کا صور پھونک کر ایک انقلاب عظیم بپا کر دے اور مردہ دلوں میں نئی روح ڈال دے اور اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ جن اقوام و امم میں اس عظیم المرتبہ پیغمبر کی بعثت ہونے والی ہوتی ہے۔صدیوں پہلے ان کے ہادیان ملت اور داعیان حق (انبیا (علیہم السلام)) اس مقدس رسول کی آمد کی بشارات وحی الٰہی کے ذریعہ سناتے رہتے ہیں تاکہ اس کی دعوت حق کے لیے زمین ہموار رہے اور جب اس نور حق کے روشن ہونے کا وقت آجائے تو ان اقوام و امم کے لیے اس کی آمد غیر متوقع حادثہ نہ بن جائے۔حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان چند اولوالعزم ‘ جلیل القدر اور مقدس رسولوں میں سے ایک ہیں اور اسی بنا پر انبیا بنی اسرائیل میں سے متعدد انبیا (علیہم السلام) ان کی آمد سے قبل ان کے حق میں منادی کرتے اور آمد کی بشارت سناتے نظر آتے ہیں اور انھی بشارات کی وجہ سے بنی اسرائیل مدت مدید سے منتظر تھے کہ مسیح موعود کا ظہور ہو تو ایک مرتبہ وہ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح اقوام عالم میں معزز و ممتاز ہوں گے اور رشد و ہدایت کی خشک کھیتی میں روح تازہ پیدا ہوگی اور خدا کے جاہ و جلال سے ان کے قلوب ایک مرتبہ پھر چمک اٹھیں گے۔بائبل ( توراۃ و انجیل) اپنی لفظی و معنوی تحریفات کے باوجود آج بھی ان چند بشارات کو اپنے سینہ میں محفوظ رکھتی ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی آمد سے تعلق رکھتی ہیں۔ توراۃ استثناء میں ہے : ” اور اس موسیٰ نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر (ساعیر) سے ان پر طلوع ہوا ‘ اور فاران کے پہاڑوں سے جلوہ گر ہوا۔ “ اس بشارت میں ” سینا سے خدا کی آمد “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی جانب اشارہ ہے اور ” ساعیر سے طلوع ہونا “ سے نبوت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہے ‘ کیونکہ ان کی ولادت باسعادت اسی پہاڑ کے ایک مقام ” بیت اللحم “ میں ہوئی ہے۔اور یہی وہ مبارک جگہ ہے جہاں سے نور حق طلوع ہوا اور ” فاران پر جلوہ گر ہونا “ آفتاب رسالت کی بعثت کا اعلان ہے کیونکہ فاران حجاز کے مشہور پہاڑی سلسلہ کا نام ہے۔ مرقس کی انجیل میں ہے : ” جیسا یسعیاہ نبی کی کتاب میں لکھا ہے دیکھ میں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیری راہ تیار کرے گا ‘ بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ تیار کرو ‘ اس کے راستے سیدھے بناؤ۔ “ اس بشارت میں ” پیغمبر “ سے عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں اور بیابان میں پکارنے والے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مناد تھے اور ان کی بعثت سے قبل بنی اسرائیل میں ان کی بعثت و رسالت کا مژدہ جانفزا سناتے تھے۔ اور متی کی انجیل میں ہے : ” جب یسوع ہیرودیس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت اللحم میں پیدا ہوا تو دیکھو کئی مجوس پورب سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے وہ کہاں ہے ؟ یہ سن کر ہیرودیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرا گئے اور اس نے قوم کے سب سردار کاہنوں اور فقیہوں کو جمع کرکے ان سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہیے ؟ انھوں نے اس سے کہا کہ یہودیہ کے بیت لحم میں کیونکہ نبی (یسعیاہ (علیہ السلام)) کی معرفت یوں لکھا گیا ہے ‘ اے بیت لحم یہوداہ کے علاقے ! تو یہوداہ کے حاکموں میں ہرگز سب سے چھوٹا نہیں کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا جو میری امت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا۔ “ اور دوسری جگہ ہے : ” اور جب وہ یروشلم کے نزدیک پہنچے اور زیتون کے پہاڑ پر بیت فگے کے پاس آئے تو یسوع نے دو شاگردوں کو یہ کہہ کر بھیجا کہ اپنے سامنے کے گاؤں میں جاؤ وہاں پہنچتے ہی ایک گدھی بندھی ہوئی اور اس کے ساتھ بچہ پاؤ گے ‘ انھیں کھول کر میرے پاس لے آؤ اور اگر کوئی تم سے کچھ کہے تو کہنا کہ خداوند کو ان کی ضرورت ہے وہ فی الفور انھیں بھیج دے گا۔یہ اس لیے ہوا کہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ ” صیہوں کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے وہ حلیم ہے اور گدھے پر سوار ہے بلکہ لا دو کے بچہ پر۔ “ اور یوحنا کی انجیل میں ہے : ” اور یوحنا (یحییٰ (علیہ السلام)) کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس (یحییٰ (علیہ السلام) کے پاس) بھیجے کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں ‘ انھوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے ؟ کیا تو ایلیاہ ہے ‘ اس نے کہا میں نہیں ہوں ‘ کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں ‘ پس انھوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون ؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں کہ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ سیدھی کرو۔ “ اور مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں ہے : ” وہ لوگ منتظر تھے اور سب اپنے اپنے دل میں یوحنا (یحییٰ (علیہ السلام)) کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسیح تھے یا نہیں تو یوحنا (یحییٰ (علیہ السلام)) نے ان سب کے جواب میں کہا : میں تو تمھیں بپتسمہ دیتا ہوں مگر جو مجھ سے زور آور ہے وہ آنے والا ہے۔میں اس کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں ‘ وہ تمھیں روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔ “ ان ہر دو بشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود اپنی مذہبی روایات کی بنا پر جن اولو العزم پیغمبروں کی بعثت کے منتظر تھے ان میں مسیح (علیہ السلام) بھی تھے اور حضرت یحییٰ 1 ؎ (علیہ السلام) نے ان کو بتایا کہ وہ نہ ایلیاہ ہیں نہ وہ نبی اور نہ مسیح ( ) بلکہ مسیح (علیہ السلام) کی بعثت کے مناد اور مبشر ہیں۔ (1 ؎ عہد نامہ جدید (انجیل) میں یوحنا دو جدا جدا شخصیتیں ہیں ‘ ایک یحییٰ (علیہ السلام) اور دوسری عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری اور شاگرد۔ ) قرآن عزیز نے بھی حضرت زکریااور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کے واقعہ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کی تمہید قرار دیا ہے اور یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مبشر اور مناد بتایا ہے۔ سورة آل عمران میں ہے : { فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ ھُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی مُصَدِّقًام بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ } ” پس جب فرشتوں نے اس (زکریا) کو اس وقت پکارا جبکہ وہ حجرہ میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا ‘ بے شک اللہ تعالیٰ تجھ کو یحییٰ (فرزند) کی بشارت دیتا ہے ‘ جو اللہ کے کلمہ (عیسیٰ (علیہ السلام)) کی تصدیق کرے گا۔ “ ولادت مبارک تصغیر|یسوع کے وقت یہودیہ، [[گلیل اور پڑوسی علاقے]] تصغیر|مختلف روایات کے مطابق عیسی ابن مریم کی ولادت بیت لحم میں [[کنیسہ ولادت کے مقام پر پوئی]] عابد و زاہد اور عفت مآب مریم (علیہا السلام) اپنے خلوت کدہ میں مشغول عبادت رہتی اور ضروری حاجات کے علاوہ کبھی اس سے باہر نہیں نکلتی تھیں ‘ ایک مرتبہ مسجد اقصیٰ (ہیکل) کے مشرقی جانب لوگوں کی نگاہوں سے دور کسی ضرورت سے ایک گوشہ میں تنہا بیٹھی تھیں کہ اچانک خدا کا فرشتہ (جبرئیل (علیہ السلام)) انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔حضرت مریم (علیہا السلام) نے ایک اجنبی شخص کو اس طرح بے حجاب سامنے دیکھا تو گھبرا گئیں اور فرمانے لگیں ” اگر تجھ کو کچھ بھی خدا کا خوف ہے تو میں خدائے رحمان کا واسطہ دے کر تجھ سے پناہ چاہتی ہوں۔ “ فرشتے نے کہا : ” مریم ! خوف نہ کھا ‘میں انسان نہیں بلکہ خدا کا فرستادہ فرشتہ ہوں اور تجھ کو بیٹے کی بشارت دینے آیا ہوں “ حضرت مریم (علیہا السلام) نے یہ سنا تو ازراہ تعجب فرمانے لگیں : ” میرے لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھ کو آج تک کسی بھی شخص نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس لیے کہ نہ تو میں نے نکاح کیا اور نہ میں زانیہ ہوں “ فرشتہ نے جواب دیا : میں تو تیرے پروردگار کا قاصد ہوں ‘ اس نے مجھ سے اسی طرح کہا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ میں اس لیے کروں گا کہ تجھ کو اور تیرے لڑکے کو دنیا والوں کے لیے اپنی قدرت کاملہ کے اعجاز کا ” نشان “ بنا دوں اور لڑکا میری جانب سے ” رحمت “ ثابت ہوگا اور میرا یہ فیصلہ اٹل ہے۔ مریم اللہ تعالیٰ تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی بشارت دیتا ہے جو اس کا ” کلمہ “ 1 ؎ ہوگا ‘ اس کا لقب ” مسیح “ 2 ؎ اور اس کا نام عیسیٰ (یسوع) ہوگا اور وہ دنیا اور آخرت دونوں میں با وجاہت اور صاحب عظمت رہے گا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوگا ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے نشان کے طور پر بحالت شیر خوارگی لوگوں سے باتیں کرے گا اور سن کہولت (بڑھاپے کا ابتدائی دور) بھی پائے گا تاکہ کائنات کی رشد و ہدایت کی خدمت کی تکمیل کرے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ضرور ہو کر رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو اس کا محض یہ ارادہ اور حکم کہ ” ہوجا “ اس شے کو نیست سے ہست کردیتا ہے۔ لہٰذا یہ یوں ہی ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی کتاب عطا کرے گا ‘ اس کو حکمت سکھائے گا اور اس کو بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے رسول اور اولوالعزم پیغمبر بنائے گا۔ قرآن عزیز نے ان واقعات کا معجزانہ اسلوب بیان کے ساتھ سورة آل عمران اور سورة مریم میں اس طرح ذکر کیا ہے : { اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ وَ یُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ۔ وَ رَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ } ” (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب فرشتوں نے مریم سے کہا : ” اے مریم ! اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے کلمہ کی بشارت دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا ‘ وہ دنیا و آخرت میں صاحب وجاہت اور ہمارے مقربین میں سے ہوگا اور وہ (ماں کی) گود میں اور کہولت کے زمانہ میں لوگوں سے کلام کرے گا اور وہ نیکوکاروں میں سے ہوگا۔ “ مریم نے کہا : ” میرے لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھ کو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا “ فرشتہ نے کہا ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اسی طرح پیدا کردیتا ہے ‘ وہ جب کسی شے کے لیے حکم کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے ” ہوجا “ اور وہ ہوجاتی ہے اور اللہ اس کو کتاب و حکمت اور توراۃ و انجیل کا علم عطا کرے گا اور وہ بنی اسرائیل کی جانب اللہ کا رسول ہوگا۔ “ { وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِھَا مَکَانًا شَرْقِیًّا۔ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا۔ قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا۔ قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا۔ قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَکُ بَغِیًّا۔ قَالَ کَذٰلِکِ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّ لِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّّلنَّاسِ وَ رَحْمَۃً مِّنَّا } ” اور اے پیغمبر ! کتاب میں مریم کا واقعہ ذکر کرو اس وقت کا ذکر جب وہ ایک جگہ جو پورب کی طرف تھی اپنے گھر کے آدمیوں سے الگ ہوئی پھر اس نے ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا ‘ پس ہم نے اس کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ ایک بھلے چنگے آدمی کے روپ میں نمایاں ہو گیا مریم اسے دیکھ کر گھبرا گئی ‘ وہ بولی ” اگر تو نیک آدمی ہے تو میں خدائے رحمان کے نام پر تجھ سے پناہ مانگتی ہوں۔ “ فرشتہ نے کہا : ” میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور اس لیے نمودار ہوا ہوں کہ تجھے ایک پاک فرزند دیدوں۔ “ مریم بولی ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے لڑکا ہو ‘ حالانکہ کسی مرد نے مجھے چھوا نہیں اور نہ میں بدچلن ہوں ؟ “ فرشتہ نے کہا : ” ہوگا ایسا ہی ‘ تیرے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے کچھ مشکل نہیں وہ کہتا ہے یہ اس لیے ہوگا کہ اس (مسیح) کو لوگوں کے لیے ایک نشان بنا دوں اور میری رحمت کا اس میں ظہور ہو اور یہ ایسی بات ہے جس کا ہونا طے ہو چکا ہے۔ “ جبرئیل امین نے مریم (علیہا السلام) کو یہ بشارات سنا کر ان کے گریبان میں پھونک دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا کلمہ ان تک پہنچ گیا۔ مریم (علیہا السلام) نے کچھ عرصہ کے بعد خود کو حاملہ محسوس کیا توبہ تقاضائے بشری ان پر ایک اضطراری کیفیت طاری ہو گئی اور اس کیفیت نے اس وقت شدید صورت اختیار کرلی ‘ جب انھوں نے دیکھا کہ مدت حمل ختم ہو کر ولادت کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے ‘ انھوں نے سوچا کہ اگر یہ واقعہ قوم کے اندر رہ کر پیش آیا تو چونکہ وہ حقیقت حال سے واقف نہیں ہے اس لیے نہیں معلوم وہ کس کس طرح بدنام اور بہتان طرازیوں کے ذریعہ کس درجہ پریشان کرے ‘ اس لیے مناسب یہ ہے کہ لوگوں سے دور کسی جگہ چلے جانا چاہیے۔ یہ سوچ کر وہ یروشلم (بیت المقدس) سے تقریباً نو میل دور کوہ سرات (ساعیر) کے ایک ٹیلہ پر چلی گئیں جو اب ” بیت اللحم “ کے نام سے مشہور ہے ‘ یہاں پہنچ کر چند روز بعد درد زہ شروع ہوا تو تکلیف و اضطراب کی حالت میں کھجور کے ایک درخت کے نیچے تنے کے سہارے بیٹھ گئیں اور پیش آنے والے نازک حالات کا اندازہ کرکے انتہائی قلق اور پریشانی کی حالت میں کہنے لگیں ”کاش کہ میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میری ہستی کو لوگ یک قلم فراموش کرچکے ہوتے۔ “ تب نخلستان کے نشیب سے خدا کے فرشتہ نے پھر پکارا ” مریم ! غمگین نہ ہو ‘ تیرے پروردگار نے تیرے تلے 1 ؎(” سری “ لغت عرب میں نہر کو بھی کہتے ہیں اور بلند ہستی کو بھی ‘ جمہور نے اس جگہ پہلے معنی مراد لیے ہیں ‘ اور حسن بصری ‘ ربیع بن انس اور ابن اسلم (رحمہم اللہ) سے دوسرے معنی منقول ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے تیرے تلے ایک بلند ہستی پیدا کردی ہے۔ ) نہر جاری کردی ہے اور کھجور کا تنا پکڑ کر اپنی جانب ہلا تو پکے اور تازہ خوشے تجھ پر گرنے لگیں گے۔ پس تو کھا پی اور اپنے بچہ کے نظارہ سے آنکھیں ٹھنڈی کر اور رنج و غم کو بھول جا۔ “ حضرت مریم (علیہا السلام) پر تنہائی ‘ تکلیف اور نزاکت حال سے جو خوف طاری اور اضطراب پیدا ہو گیا تھا فرشتہ کی تسلی آمیز پکار اور عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ بچہ کے نظارہ سے کافور ہو گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ دیکھ کر شاد کام ہونے لگیں۔تاہم یہ خیال پہلو میں ہر وقت کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا تھا کہ اگرچہ خاندان اور قوم میری عصمت و پاک دامنی سے ناآشنا نہیں ہے پھر بھی ان کی اس حیرت کو کس طرح مٹایا جاسکے گا کہ بن باپ کے کس طرح ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہو سکتا ہے ؟ مگر جس خدائے برتر نے ان کو یہ بزرگی اور برتری بخشی وہ کب ان کو اس کرب و بے چینی میں مبتلا رہنے دیتا ‘ اس لیے اس نے فرشتہ کے ذریعہ مریم (علیہا السلام) کے پاس پھر یہ پیغام بھیجا کہ جب تو اپنی قوم میں پہنچے اور وہ تجھ سے اس معاملہ کے متعلق سوالات کرے تو خود جواب نہ دینا بلکہ اشارہ سے ان کو بتانا کہ میں روزہ دار ہوں۔اور اس لیے آج کسی سے بات نہیں کرسکتی تم کو جو کچھ دریافت کرنا ہے ‘ اس بچہ سے دریافت کرلو ‘ تب تیرا پروردگار اپنی قدرت کاملہ کا نشان ظاہر کے ان کی حیرت کو دور اور ان کے قلوب کو مطمئن کر دے گا۔حضرت مریم (علیہا السلام) وحی الٰہی کے ان پیغامات پر مطمئن ہو کر بچہ کو گود میں لے کر بیت المقدس کو روانہ ہوئیں۔ جب شہر میں پہنچیں اور لوگوں نے اس حالت میں دیکھا تو چہار جانب سے ان کو گھیر لیا اور کہنے لگے : ” مریم ! یہ کیا ؟ تونے تو بہت ہی عجیب بات کر دکھائی اور بھاری تہمت کا کام کر لیا ‘ اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی پھر تو یہ کیا کر بیٹھی ؟ “ مریم (علیہا السلام) نے خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لڑکے کی جانب اشارہ کر دیا کہ جو کچھ دریافت کرنا ہے ‘ اس سے معلوم کرلو ‘ میں تو آج روزہ 2 (بنی اسرائیل کے یہاں روزہ میں خاموشی بھی داخل عبادت تھی۔) سے ہوں۔لوگوں نے یہ دیکھ کر انتہائی تعجب کے ساتھ کہا : ” ہم کس طرح ایسے شیر خوار بچہ سے باتیں کرسکتے ہیں جو ابھی ماں کی گود میں بیٹھنے والا بچہ ہے۔ “ مگر بچہ فوراً بول اٹھا :” میں اللہ کا بندہ ہوں ‘ اللہ نے (اپنے فیصلہ تقدیر میں) مجھ کو کتاب (انجیل) دی ہے اور نبی بنایا ہے اور اس نے مجھ کو مبارک بنایا خواہ میں کسی حال اور کسی جگہ بھی ہوں اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں یہی میرا شعار ہو اور اس نے مجھ کو اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا اور خود سر اور نافرمان نہیں بنایا اور اس کی جانب سے مجھ کو سلامتی کا پیغام ہے جس دن کہ میں پیدا ہوا اور جس دن کہ میں مروں گا اور جس دن کہ پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان تفصیلات کو سورة انبیا ‘ سورة تحریم اور سورة مریم میں ذکر فرمایا ہے : { وَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰھَا وَ ابْنَھَآ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ } ” اور اس عورت (مریم (علیہا السلام)) کا معاملہ جس نے اپنی پاک دامنی کو قائم رکھا ‘ پھر ہم نے اس میں اپنی ” روح “ کو پھونک دیا اور اس کو اور اس کے لڑکے کو جہان والوں کے لیے ” نشان “ ٹھہرایا ہے۔ “ { وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا } ” اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی عصمت کو برقرار رکھا پس ہم نے اس میں اپنی روح کو پھونک دیا۔ “ { فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا۔ فَاَجَآئَھَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا۔ فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَآ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا۔ وَ ھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا۔ فَکُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا۔ فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہٗ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یٰٓاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّ مَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِصَبِیًّا۔ قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا } ” پھر اس ہونے والے فرزند کا حمل ٹھہر گیا وہ (اپنی حالت چھپانے کے لیے) لوگوں سے الگ ہو کر دور چلی گئی ‘ پھر اسے درد زہ (کا اضطراب) کھجور کے ایک درخت کے نیچے لے گیا (وہ اس کے تنے کے سہارے بیٹھ گئی) اس نے کہا کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی ‘ میری ہستی کو لوگ یک قلم بھول گئے ہوتے ‘ اس وقت (ایک پکارنے والے فرشتے نے) اسے نیچے سے پکارا ” غمگین نہ ہو تیرے پروردگار نے تیرے تلے نہر جاری کردی ہے اور کھجور کے درخت کا تنا پکڑ کر اپنی طرف ہلا ‘ تازہ اور پکے ہوئے پھلوں کے خوشے تجھ پر گرنے لگیں گے ‘ کھا پی اور (اپنے بچہ کے نظارے سے) آنکھیں ٹھنڈی کر ‘ پھر اگر کوئی آدمی نظر آئے (اور پوچھ گچھ کرنے لگے) تو (اشارہ سے) کہہ دے میں نے خدائے رحمان کے حضور روزہ کی منت مان رکھی ہے میں آج کسی آدمی سے بات چیت نہیں کرسکتی۔ “ پھر ایسا ہوا کہ وہ لڑکے کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے پاس آئی ‘ لڑکا اس کی گود میں تھا ‘ لوگ (دیکھتے ہی) بول اٹھے ” مریم ! تونے عجیب ہی بات کر دکھائی اور بڑی تہمت کا کام کر گذری ‘ اے ہارون 1 ؎(؎ کہتے ہیں کہ ہارون مریم (علیہا السلام) کے خاندان میں ایک عابد و زاہد انسان اور بہت نیک نفس مشہور تھا۔ ) کی بہن ! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدچلن تھی (تو یہ کیا کر بیٹھی) “ اس پر مریم نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا (کہ یہ تمھیں بتلا دے گا کہ حقیقت کیا ہے) لوگوں نے کہا : ” بھلا اس سے ہم کیا بات کریں جو ابھی گود میں بیٹھنے والا شیر خوار بچہ ہے “ مگر لڑکا بول اٹھا۔ ” میں اللہ کا بندہ ہوں ‘ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا ‘ اس نے مجھے بابرکت کیا خواہ میں کسی جگہ ہوں ‘ اس نے مجھے نماز ‘ زکوۃ کا حکم دیا کہ جب تک زندہ رہوں یہی میرا شعار ہو۔ اس نے مجھے اپنی ماں کا خدمت گزار بنایا ‘ ایسا نہیں کیا کہ خودسر اور نافرمان ہوتا ‘ مجھ پر اس کی طرف سے سلامتی کا پیغام ہے جس دن پیدا ہوا ‘ جس دن مروں گا اور جس دن پھر زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ “ قوم نے ایک شیر خوار بچہ کی زبان سے جب یہ حکیمانہ کلام سنا تو حیرت میں رہ گئی اور اس کو یقین ہو گیا کہ مریم (علیہا السلام) کا دامن بلاشبہ ہر قسم کی برائی اور تلویث سے پاک ہے اور اس بچہ کی پیدائش کا معاملہ یقیناً منجانب اللہ ایک ” نشان “ ہے۔ یہ خبر ایسی نہیں تھی کہ پوشیدہ رہ جاتی ‘ قریب اور بعید سب جگہ اس حیرت زا واقعہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ ولادت کے چرچے ہونے لگے اور طبائع انسانی نے اس مقدس ہستی کے متعلق شروع ہی سے مختلف کروٹیں بدلنی شروع کر دیں ‘ اصحاب خیر نے اس کے وجود کو اگر یمن وسعادت کا ماہتاب سمجھا تو اصحاب شر نے اس کی ہستی کو اپنے لیے فال بد جانا اور بغض و حسد کے شعلوں نے اندر ہی اندر ان کی فطری استعداد کو کھانا شروع کر دیا۔ غرض اسی متضاد فضا کے اندر اللہ تعالیٰ اپنی نگرانی میں اس مقدس بچہ کی تربیت اور حفاظت کرتا رہا ‘ تاکہ اس کے ہاتھوں بنی اسرائیل کے مردہ قلوب کو حیات تازہ بخشے اور ان کی روحانیت کے شجر خشک کو ایک مرتبہ پھر بارآور اور مثمر بنائے : { وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ اٰیَۃً وَّ اوَیْنَاہُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ } ” اور ہم نے عیسیٰ بن مریم اور اس کی ماں (مریم) کو (اپنی قدرت کا ) نشان بنادیا اور ان دونوں کا ایک بلند مقام (بیت اللحم) پر ٹھکانا بنایا جو سکونت کے قابل اور چشمہ والا ہے۔ “ عن ابن عباس فی قولہ ” وَ اوَیْنَاھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ “ قال المعین الماء الجاری وھو النھر الذی قال اللہ تعالیٰ ” قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا “ و کذا قال الضحاک و قتادۃ الی ربوۃ ذات قرار و معین ھو بیت المقدس فھذا واللہ اعلم ھو الاظھر لانہ المذکور فی الایۃ الاخری والقران یفسر بعضہ بعضا وھذا اولی ما یفسر بہ ثم الاحادیث الصحیحۃ ثم الاثار۔ یعنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے وَ اوَیْنَاھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ کی تفسیر میں منقول ہے کہ ” معین “ سے نہر جاری مراد ہے اور یہ اسی نہر کا ذکر ہے جس کو آیت قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا میں بیان کیا گیا ہے اور ضحاک اور قتادہ ; کا بھی یہی قول ہے کہ وَ اوَیْنَاھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ سے بیت المقدس کی سرزمین مراد ہے اور یہی قول زیادہ ظاہر ہے اس لیے کہ دوسری آیت میں بیت المقدس (کی نہر) کا ہی ذکر ہے اور قرآن کا بعض حصہ خود ہی دوسرے حصہ کی تفسیر کر دیا کرتا ہے اور تفسیر آیات میں پہلی جگہ اسی طریق تفسیر کو حاصل ہے۔ اس کے بعد صحیح احادیث کے ذریعہ تفسیر کا اور اس کے بعد آثار کے ذریعہ تفسیر کا درجہ ہے۔ بشارات ولادت قرآن عزیز نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن کے حالات میں سے صرف اسی اہم واقعہ کا ذکر کیا ہے باقی بچپن کے دوسرے حالات کو جن کا ذکر قرآن کے مقصد تذکیر و موعظت سے خاص تعلق نہیں رکھتا تھا نظر انداز کر دیا ہے لیکن اسرائیلیات کے مشہور ناقل حضرت وہب بن منبہ سے جو واقعات منقول ہیں۔اور متی کی انجیل میں بھی جن کا ذکر موجود ہے ان میں سے یہ واقعہ بھی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو اسی شب میں فارس کے بادشاہ نے آسمان پر ایک نیا ستارہ روشن دیکھا ‘بادشاہ نے درباری نجومیوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس ستارہ کا طلوع کسی عظیم الشان ہستی کی پیدائش کی خبر دیتا ہے جو ملک شام میں پیدا ہوئی ہے۔ تب بادشاہ نے خوشبوؤں کے عمدہ تحفے دے کر ایک وفد کو ملک شام روانہ کیا کہ وہ اس بچہ کی ولادت سے متعلق حالات و واقعات معلوم کریں ‘وفد جب شام پہنچا تو اس نے تفتیش حال شروع کی اور یہودیوں سے کہا کہ ہم کو اس بچہ کی ولادت کا حال سناؤ جو مستقبل قریب میں روحانیت کا بادشاہ ہوگا یہود نے اہل فارس کی زبان سے یہ کلمات سنے تو اپنے بادشاہ ہیرودیس کو خبر کی ‘ بادشاہ نے وفد کو دربار میں بلا کر استصواب حال کیا اور ان کی زبانی واقعہ کو سن کر بہت گھبرایا اور پھر وفد کو اجازت دی کہ وہ اس بچہ کے متعلق مزید معلومات حاصل کریں۔پارسیوں کا یہ وفد بیت المقدس پہنچا اور جب حضرت یسوع مسیح (علیہ السلام) کو دیکھا تو اپنے رسم و رواج کے مطابق اول ان کو سجدہ تعظیم کیا اور پھر مختلف قسم کی خوشبوئیں ان پر نثار کیں اور چند روز وہیں قیام کیا ‘ دوران میں قیام میں وفد کے بعض آدمیوں نے خواب میں دیکھا کہ ہیرودیس اس بچہ کا دشمن ثابت ہوگا اس لیے تم اب اس کے پاس نہ جاؤ اور بیت اللحم سے سیدھے فارس کو چلے جاؤ۔صبح کو وفد نے فارس کا ارادہ کرتے وقت حضرت مریم (علیہا السلام) کو اپنا خواب سناتے ہوئے کہا کہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کی نیت خراب ہے اور وہ اس مقدس بچہ کا دشمن ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ تم اس کو ایسی جگہ لے جا کر رکھو جو اس کی دسترس سے باہر ہو ‘اس مشورہ کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) یسوع مسیح (علیہ السلام) کو اپنے بعض عزیزوں کے پاس مصر لے گئیں اور وہاں سے ناصرہ چلی گئیں اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر مبارک تیرہ سال کی ہوئی تو ان کو ساتھ لے کر دوبارہ بیت المقدس واپس آئیں۔یہی روایات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن کے حالات زندگی بھی غیر معمولی تھے اور ان سے طرح طرح کی کرامات کا صدور ہوتا رہتا تھا۔ (واللّٰہ اعلم بحقیقۃ الحال) حلیہ مبارک بخاری حدیث معراج میں ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری ملاقات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی تو میں نے ان کو میانہ قد سرخ سپید پایا۔ بدن ایسا صاف شفاف تھا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی حمام سے نہا کر آئے ہیں ‘ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ کے کا کل کاندھوں تک لٹکے ہوئے تھے اور بعض احادیث میں ہے کہ رنگ کھلتا ہوا گندم گوں تھا۔ بخاری کی روایت اور اس روایت میں ادا و تعبیر کا فرق ہے ‘ حسن میں اگر صباحت کے ساتھ ملاحت کی آمیزش بھی ہوتی ہے تو اس رنگ میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کسی وقت اگر سرخی جھلک آئی تو صباحت نمایاں ہوجاتی ہے اور اگر کسی وقت ملاحت غالب آگئی تو چہرہ پر حسن و لطافت کے ساتھ کھلتا ہوا گندم گوں رنگ چمکنے لگتا ہے۔ بعثت و رسالت تصغیر|دریائے اردن جہاں روایات کے مطابق عیسی ابن مریم کو [[یحیی بن زکریا (یوحنا اصطباغی) نے بپتسمہ دیا تھا]] حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل بنی اسرائیل ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے اور انفرادی و اجتماعی عیوب و نقائص کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو ان سے بچ رہا ہو ‘ وہ اعتقاد و اعمال دونوں ہی قسم کی گمراہیوں کا مرکز و محور بن گئے تھے حتیٰ کہ اپنی ہی قوم کے ہادیوں اور پیغمبروں کے قتل تک پر جری اور دلیر ہو گئے تھے ‘ یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کے متعلق معلوم کرچکے ہو کہ اس نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو اپنی محبوبہ کے اشارہ پر کی سے عبرتناک طریقہ پر قتل کرا دیا تھا اور اس نے یہ سفاکانہ اقدام صرف اس لیے کیا کہ وہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی بڑھتی ہوئی روحانی مقبولیت کو برداشت نہ کرسکا اور اپنی محبوبہ سے ناجائز رشتہ پر ان کے نہی عن المنکر (برائی سے بچانے کی ترغیب) کی تاب نہ لاس کا اور یہ عبرتناک سانحہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی مبارک ہی میں ان کی بعثت سے قبل پیش آچکا تھا۔ دائرۃ المعارف (انسائیکلو پیڈیا للبستانی) میں یہود سے متعلق جو مقالہ ہے اس کے تاریخی مواد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے یہود کے عقائد و اعمال کا یہ حال تھا کہ وہ مشرکانہ رسوم و عقائد کو جزء مذہب بنا چکے تھے اور جھوٹ ‘ فریب ‘ بغض و حسد جیسی بداخلاقیوں کو تو عملاً اخلاق کریمانہ کی حیثیت دے رکھی تھی۔ اور اسی بنا پر بجائے شرمسار ہونے کے وہ ان پر فخر کا اظہار کرتے تھے اور ان کے علما و احبار نے تو دنیا کے لالچ اور حرص میں کتاب اللہ ( توراۃ ) تک کو تحریف کیے بغیر نہ چھوڑا اور درہم و دینار پر خدا کی آیات کو فروخت کر ڈالا یعنی عوام سے نذر اور بھینٹ حاصل کرنے کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اس طرح قانون الٰہی کو مسخ کر ڈالا۔ یہود کی اعتقادی اور ملی زندگی کا مختصر اور مکمل نقشہ ہم کو شعیا (علیہ السلام) کی زبانی خود توراۃ نے اس طرح دکھایا ہے : ” خداوند فرماتا ہے : یہ امت (بنی اسرائیل) زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر ان کا دل مجھ سے دور ہے اور یہ بے فائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ میرے حکموں کو پیچھے ڈال کر آدمیوں کے حکموں کی تعلیم دیتے ہیں۔ “ بہرحال انھی تاریک حالات میں جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قتل کا واقعہ بھی ہو گذرا اور بنی اسرائیل نے خدا کے حکموں کے خلاف بغاوت و سرکشی کی حد کردی تب وہ وقت سعید آپہنچا جس مبارک بچہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی آغوش میں پیغام حق سنا کر بنی اسرائیل کو حیرت میں ڈال دیا تھا ‘سن رشد کو پہنچ کر اس نے یہ اعلان کرکے کہ ” وہ خدا کا رسول اور پیغمبر ہے اور رشد و ہدایت خلق اس کا فرض منصبی “ قوم میں ہلچل پیدا کردی ‘ وہ شرف رسالت سے مشرف ہو کر اور حق کی آواز بن کر آیا اور اپنی صداقت و حقانیت کے نور سے تمام اسرائیلی دنیا پر چھا گیا ‘اس مقدس ہستی نے قوم کو للکارا اور احبار کی علمی مجلسوں ‘ راہبوں کے خلوت کدوں ‘ بادشاہ اور امرا کے درباروں اور عوام و خواص کی محفلوں میں حتیٰ کہ کوچہ وبر زن اور بازاروں میں شب و روز یہ پیغام حق سنایا : ” لوگو ! اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اپنا رسول اور پیغمبر بنا کر تمھارے پاس بھیجا ہے اور تمھاری اصلاح کی خدمت میرے سپرد فرمائی ہے ‘ میں اس کی جانب سے پیغام ہدایت لے کر آیا ہوں اور تمھارے ہاتھ میں خدا کا جو قانون ( توراۃ ) ہے اور جس کو تم نے اپنی جہالت اور کج روی سے پس پشت ڈال دیا ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی مزید تکمیل کے لیے خدا کی کتاب (انجیل) لے کر آیا ہوں ‘ یہ کتاب حق و باطل کا فیصلہ کرے گی اور آج جھوٹ اور سچ کے درمیان میں فیصلہ ہو کر رہے گا۔ سنو اور سمجھو اور اطاعت کے لیے خدا کے حضور جھک جاؤ کہ یہی دین و دنیا کی فلاح کی راہ ہے۔ “ اب ان حقائق اور ان کے عواقب و نتائج کو قرآن کی زبانی سنئے اور ” احقاق حق و ابطال باطل “ کے لطف سے بہرہ مند ہو کر عبرت و موعظت حاصل کیجئے ‘ کیونکہ ” تَذْکِیْرِ بِاَیَّامِ اللّٰہِ “ سے قرآن کا مقصد عظیم یہی بصیرت و عبرت ہے : { وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ اَفَکُلَّمَا جَآئَکُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لَا تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ۔ وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ فَقَلِیْـلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ۔ } ” اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب ( توراۃ ) عطا کی اور اس کے بعد ہم (تم میں) پیغمبر بھیجتے رہے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو واضح معجزے دے کر بھیجا اور ہم نے اس کو روح پاک (جبرئیل) کے ذریعہ قوت و تائید عطا کی ‘ کیا جب تمھارے پاس (خدا کا) پیغمبر ایسے احکام لے کر آیا جن پر عمل کرنے کو تمھارا دل نہیں چاہتا تو تم نے غرور کو شیوہ (نہیں) بنا لیا ؟ پس (پیغمبروں کی) ایک جماعت کو جھٹلاتے ہو تو ایک جماعت کو قتل کردیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارے دل (قبول حق کے لیے) غلاف میں ہیں (یہ نہیں) بلکہ ان کے کفر کرنے پر خدا نے ان کو ملعون کر دیا ہے پس بہت تھوڑے سے ہیں جو ایمان لے آئے ہیں۔ “ { وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” اور (اے عیسیٰ ) جب ہم نے بنی اسرائیل (کی گرفت و ارادہ قتل) کو تجھ سے باز رکھا اس وقت جبکہ تو ان کے پاس کھلے معجزات لے کر آیا تو کہا بنی اسرائیل میں سے منکروں نے ‘ یہ کچھ نہیں ہے مگر کھلا جادو ہے۔ “ { وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَ جِئْتُکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ۔ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ } ” اور میں تصدیق کرنے والاہوں توراۃ کی جو میرے سامنے ہے اور (میں اس لیے آیا ہوں) تاکہ تمھارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو (تمھاری کجروی کی وجہ سے) تم پر حرام کردی گئی تھیں اور میں تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی نشانی لے کر آیا ہوں پس اللہ کا خوف کرو اور میری پیروی کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا اور تمھارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔ پس جبکہ عیسیٰ نے ان سے کفر محسوس کیا تو فرمایا اللہ کے لیے کون میرا مددگار ہے تو شاگردوں نے جواب دیا : ہم ہیں اللہ کے (دین کے) مددگار۔ “ { ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰی اثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ اتَیْنَاہُ الْاِنْجِیْلَ } ” پھر ان کے بعد (نوح و ابراہیم (علیہما السلام) کے بعد) ہم نے اپنے رسول بھیجے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو رسول بناکر بھیجا اور اس کو کتاب (انجیل) عطا کی۔ “ { اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلًا وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ } ” (وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا ” اے عیسیٰ ابن مریم ! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میری جانب سے تجھ پر اور تیری والدہ پر نازل ہوئی جب کہ میں نے روح القدس (جبرئیل) کے ذریعہ تیری تائید کی کہ تو کلام کرتا تھا آغوش مادر میں اور بڑھاپے میں اور جبکہ میں نے تجھ کو سکھائی کتاب ‘ حکمت ‘ توراۃ اور انجیل۔ “ { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ اِسْرَآئِیلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ } ” اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) نے کہا : اے بنی اسرائیل ! میں بلاشبہ تمھاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں ‘ تصدیق کرنے والا ہوں توراۃ کی جو میرے سامنے ہے اور بشارت سنانے والا ہوں ایک پیغمبر کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔ “ آیات بینات قصص القرآن جلد اول معجزات کی بحث میں گذر چکا ہے کہ حق و صداقت کے تسلیم وانقیاد میں انسانی فطرت ہمیشہ سے دو طریقوں سے مانوس رہی ہے : ایک یہ کہ ” مدعی حق “ کی حقانیت و صداقت دلائل کی قوت اور براہین کی روشنی کے ذریعہ ثابت اور واضح ہوجائے اور دوسرا طریقہ یہ کہ دلائل وبراہین کے ساتھ ساتھ منجانب اللہ اس کی صداقت کی تائید میں عام قانون قدرت سے جدا بغیر اسباب و وسائل اور تحصیل علم و فن کے اس کے ہاتھ پر امور عجیبہ کا مظاہرہ اس طرح ہو کہ عوام و خواص اس کے مقابلہ سے عاجز و درماندہ ہوجائیں اور ان کے لیے اسباب و وسائل کے بغیر ان امور کی ایجاد ناممکن ہو ‘ پہلے طریق کے ساتھ یہ دوسرا طریق انسان کے عقل و فکر اور اس کی نفسیاتی کیفیات میں ایسا انقلاب پیدا کردیتا ہے کہ ان کا وجدان یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ داعی حق (نبی و پیغمبر) کا یہ عمل دراصل خود اس کا اپنا فعل نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ خدا کی قوت کام کر رہی ہے اور بلاشبہ یہ اس کے صادق ہونے کی مزید دلیل ہے چنانچہ قرآن میں آیت : { وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی } اور اے پیغمبر (بدر کے غزوہ میں ) جب تونے (دشمنوں پر) مٹھی بھر خاک پھینکی تھی تو تونے وہ مشت خاک نہیں پھینکی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی۔ “ میں اسی حقیقت کا اظہار مقصود ہے مگر ان ہر دو طریقوں میں سے ان اصحاب علم و دانش پر جو قوت فہم و ادراک میں بلند مقام رکھتے ہیں پہلا طریقہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے اور وہ دوسرے طریقہ کو پہلے طریقہ کی تائید وتقویت کی حیثیت سے قبول کرتے اور داعیٔ حق (نبی و پیغمبر) کے دعوائے نبوت و رسالت کی صداقت کا مزید عملی ثبوت یقین کرکے اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ان حضرات ارباب عقل و فکر کے برعکس ارباب قوت و اقتدار اور ان کی ذہنیت سے متاثر عام انسانی قلوب دوسرے طریقہ تصدیق سے زیادہ متاثر ہوتے اور نبی و پیغمبر کے معجزانہ افعال کو کائنات کی طاقت و قوت کے دائرہ سے بالاتر ہستی کا ارادہ و قوت فعل یقین کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ان امور کو ” خدائی نشان “ باور کرکے دعوت حق و صداقت کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ قرآن عزیز نے اکثر و بیشتر مقامات پر پہلے طریق دلیل کو ” حُجَّۃُ اللّٰہِ “ ” بُرْہَانَ “ اور ” حِکْمَۃ “ سے تعبیر کیا ہے سورة انعام میں خدا کی ہستی ‘ اس کی وحدانیت ‘ معاد و آخرت اور دین کے بنیادی عقائد کو دلائل ‘ نظائر اور شواہد کے ذریعہ سمجھانے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے : { قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ } ” (اے محمد) کہہ دیجئے ‘ اللہ کے لیے ہی ہے حجت کامل (یعنی مکمل اور روشن دلیل) “ اور اس سورة میں دوسری جگہ حضرت ابراہیم کے تذکرہ میں ہے : { وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَآ اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ } ” اور یہ ہماری ” دلیل “ ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ “ اور سورة نساء میں ہے : { رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ } ” (ہم نے بھیجے) پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ لوگوں کی جانب سے خدا پر پیغمبر بھیجنے کے بعد کوئی حجت (دلیل ) باقی نہ رہے (کہ ہمارے پاس دلائل کے ذریعہ راہ مستقیم بتانے کوئی نہ آیا تھا اس لیے ہم دین حق کی معرفت سے محروم رہے) “ { یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ } ” اے لوگو ! بے شک تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی جانب سے برہان (قرآن) آگیا۔ “ اور سورة یوسف میں ہے : { لَوْ لَآ اَنْ رَّ ا بُرْھَانَ رَبِّہٖ } ” اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ لی تھی اس (یوسف) نے اپنے پروردگار کی دلیل۔ “ اور سورة نحل میں ہے : { اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ } ” اپنے پروردگار کے راستہ کی جانب دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور تبادلہ خیالات کرو ان (مخالفین) کے ساتھ اچھے طریق گفتگو سے۔ “ اور سورة نساء میں ہے : { وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ } ” اور اللہ تعالیٰ نے اتارا تجھ پر کتاب کو اور حکمت کو۔ “ اسی طرح ” حکمت “ کا یہ ذکر سورة بقرہ ‘ آل عمران ‘ مائدہ ‘ لقمان ‘ ص ‘ زخرف ‘ احزاب اور قمر میں بکثرت موجود ہے اور دوسرے طریق دلیل کو اکثر ” آیۃ اللّٰہ “ اور ” آیَاتُ اللّٰہ “ اور بعض مقامات پر ” آیَاتِ بَیِّنَاتَ “ اور ” بَیِّنَاتَ “ کہا ہے۔ ناقہ صالح (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہے : { ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً } ” یہ اونٹنی تمھارے لیے (خدا کی جانب سے) ایک ” نشان “ ہے۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم (علیہا السلام) کے متعلق ارشاد ہے : { وَ جَعَلْنٰھَا وَ ابْنَھَآ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ } ” اور ہم نے کر دیا مریم اور اس کے لڑکے عیسیٰ کو جہان والوں کے لیے ” نشان “ (معجزہ) “ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں ارشاد باری ہے : { وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ } ” اور ہم نے موسیٰ کو نو نشان (معجزات) عطا کیے۔ “ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو جو معجزات دیے گئے تھے ان کے متعلق ارشاد ہے : { وَ اٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ } ” اور دیے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات “ { اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” اس وقت جبکہ تو ان کے پاس کھلے معجزات لے کر آیا تو کہا بنی اسرائیل میں منکروں نے ‘ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ “ ہم نے اس مقام پر اکثر و بیشتر کا لفظ قصداً اختیار کیا ہے کیونکہ قرآن عزیز کے اسلوب بیان سے واقف اس سے بیخبر نہیں ہے کہ اس نے ان الفاظ کے استعمال میں وسعت تعبیر سے کام لیا ہے یعنی جبکہ ” معجزہ “ بھی ایک خاص قسم کا ” برہان “ ہے اور قرآن اور آیات قرآن جس طرح سرتا سر ” علم وبرہان “ ہیں اسی طرح ” معجزہ “ بھی ہیں ‘اس لیے معجزہ پر برہان کا اطلاق اور کتاب اللہ کے جملوں پر آیت اور آیات اللہ کا اطلاق مجاز نہیں بلکہ حقیقت ہے ‘ مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دو معجزوں عصاء اور ید بیضاء کے متعلق سورة قصص میں ہے : { فَذٰنِکَ بُرْھَانٰنِ مِنْ رَّبِّکَ } ” پس تیرے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں ہیں۔ “ اور کتاب اللہ اور اس کے جملوں پر آیت اور آیات کے اطلاقات سے تو قرآن کی کوئی طویل سورت ہی خالی ہوگی ‘ تمام قرآن میں جگہ جگہ اس کثرت سے اس کا استعمال ہوا ہے کہ اس کی فہرست مستقل موضوع بن سکتا ہے۔ اسی طرح ” آیَاتِ بَیِّنَات “ کا اگرچہ بکثرت اطلاق کتاب اللہ (قرآن ‘ توراۃ ‘ زبور ‘ انجیل) اور ان کی آیات پر ہوا ہے مگر مسطورہ بالا مقامات کی طرح بعض بعض جگہ اس کو ” معجزات “ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ لائق توجہ بات اور حقیقت معجزات نبی اور رسول کی بعثت کا مقصد کائنات میں رشد و ہدایت اور دین و دنیا کی فلاح و خیر کی رہنمائی ہے اور وہ منجانب اللہ وحی کی روشنی میں اس فرض منصبی کو انجام دیتا ہے اور علم وبرہان اور حجۃ حق کے ذریعہ راہ صداقت دکھاتا ہے ‘ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ فطرت اور ماورائے فطرت امور میں تصرف و تغیر بھی اس کا کار منصبی ہے۔بلکہ وہ بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ میں خدا کی جانب سے بشیر و نذیر اور داعی الی اللہ بن کر آیا ہوں ‘ میں انسان ہوں اور خدا کا ایلچی ‘ اس سے زائد اور کچھ نہیں ہوں تو پھر اس کے دعویٰ صداقت کے امتحان اور پرکھ کے لیے اس کی تعلیم ‘اس کی تربیت اور اس کی شخصیت کا زیر بحث آنا یقیناً معقول لیکن اس سے ماورائے فطرت اور خارق عادت عجائبات وغرائب کا مطالبہ خلاف عقل اور بے جوڑ بات معلوم ہوتی ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ کسی طبیب حاذق کے دعویٰ حذاقت طب پر اس سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ طلسمی کھٹکے کی ایک عمدہ الماری یا لکڑی کا ایک عجیب قسم کا کھلونا بنا کر دکھائے ‘طبیب نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ ماہر لوہار یا بڑھئی ہے بلکہ اس کا دعویٰ تو امراض جسمانی کے علاج کا ہے ‘ اسی طرح پیغمبر خدا کا یہ دعویٰ نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی طرح کائنات پر ہمہ قسم کے تصرف و تغیر کا مالک و قادر ہے بلکہ اس کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ تمام امراض روحانی کے لیے طبیب کامل اور حاذق و ماہر ہے۔ پس دعویٰ نبوت اور معجزات (خارق عادات امور) کے درمیان میں کیا تعلق ہے ؟ اور کیا اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ” معجزہ “ لوازم نبوت میں سے نہیں ہے ؟ بلاشبہ یہ سوال بہت زیادہ قابل توجہ ہے اور اس لیے علم کلام میں اس مسئلہ کو کافی اہمیت دی گئی ہے لیکن ہم نے ” آیات بینات “ عنوان کے ماتحت ابتدائے کلام میں دعویٰ نبوت کی صداقت سے متعلق دلائل کی جو تقسیم انسانی طبائع اور ان کے فطری رجحانات کے پیش نظر کی ہے وہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور جوہر عقل کے تفاوت درجات نے بلاشبہ انسانوں کی قوت فکریہ کو جدا جدا دو طریقوں کی جانب مائل کر دیا ہے ‘ ان حالات میں جب ایک نبی اور رسول یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا کی جانب سے ایک ایسے منصب پر مامور ہے جو ریاضات و مجاہدات اور نیک عملی کی قوت سے نہیں بلکہ محض خدا کی موہبت اور عطا سے حاصل ہوتا ہے اور یہ ” منصب نبوت و رسالت “ ہے اور اس کا مقصد کائنات کی رشد و ہدایت اور تعلیم حق و صداقت ہے تو بعض انسانی دماغ اور ان کا جوہر عقل اس جانب متوجہ ہوتا ہے کہ اگر اس ہستی کا یہ دعویٰ صحت پر مبنی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کو خدائے برتر کے ساتھ اس درجہ قربت حاصل ہے جو دوسرے انسانوں کے لیے ناممکن ہے پس جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی صدائے اصلاح اور اس کی تعلیم ہمارے قدیم رسم و رواج یا مذہب و دھرم کے ان عقائد و اعمال کے خلاف ہے جس کو ہم حق سمجھتے آئے ہیں تو ان متضاد اور متخالف تعلیمات کی صداقت و بطالت کے امتحان کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ہستی کوئی اور ماورائے فطرت یا خارق عادت امر کر دکھائے تو ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت آسان ہوجائے گا کہ بغیر اسباب و وسائل کے اس ہستی کے ہاتھ ایسے امر کا صدور یقیناً اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کو خدائے برتر کے ساتھ خاص قرب حاصل ہے ‘ تبھی تو خدائے برحق نے یہ ” نشان “ دکھا کر اس کی صداقت پر مہر لگا دی ‘ نیز وہ صاحب قوت و اقتدار انسان جن کے غور و فکر کی قوت ایسے سانچہ میں ڈھل گئی ہے کہ ان پر کوئی امر حق اس وقت تک موثر ہی نہیں ہوتا جب تک کہ ان کی متکبرانہ طاقت کو غیبی ٹھوکر سے بیدار نہ کیا جائے ‘ وہ بھی اس کے منتظر رہتے ہیں کہ مدعی نبوت و رسالت اپنی صداقت کو دلیل وبرہان کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ” کرشمہ “ کے ذریعہ ناقابل انکار بنا دے جس کا صدور دوسرے انسانوں سے یا تو ممکن ہی نہ ہو اور یا بغیر اسباب و وسائل کے استعمال کیے وجود پزیر نہ ہو سکتا ہو تاکہ یہ باور کیا جاسکے کہ بلاشبہ اس ہستی کی تعلیم و تبلیغ کو خدائے برتر کی تائید حاصل ہے۔ اسی لیے علمائے کلام نے دعویٰ نبوت اور معجزہ کے درمیان میں تعلق پر بحث کرتے ہوئے یہ مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کو بادشاہ وقت نے اپنا نائب مقرر کرکے بھیجا ہے تو اس ملک یا صوبے کے باشندے خواست گار ہوتے ہیں کہ اسی لیے علمائے کلام نے دعویٰ نبوت اور معجزہ کے درمیان میں تعلق پر بحث کرتے ہوئے یہ مثال بیان کی ہے کہ ایک شخص جب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کو بادشاہ وقت نے اپنا نائب مقرر کرکے بھیجا ہے تو اس ملک یا صوبے کے باشندے خواست گار ہوتے ہیں کہ مدعی نیابت اپنے دعویٰ کی صداقت کے لیے کوئی سند اور علامت پیش کرے چنانچہ مدعی نیابت ایک جانب اگر سند دکھاتا ہے تو دوسری جانب ایسی ” نشانی “ بھی پیش کرتا ہے جس کے متعلق یہ یقین کیا جاسکے کہ بادشاہ کی عطا کردہ یہ نشانی اس کے عطیہ اور اس منصب کی تصدیق کے علاوہ اور کسی طرح بھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔مثلاً بادشاہ کی انگشتری (مہر حکومت) یا ایسا خاص عطیہ جو صرف اس منصب پر فائز ہستی کو عطا کیا جاتا ہو۔ تو اگرچہ بظاہر دعویٰ نیابت اور انگشتری یا عطیہ خاص کے درمیان میں کوئی مطابقت نہیں ہے تاہم اس تعلق خاص نے جو شاہی تصدیق سے وابستہ ہے ان دونوں کے درمیان میں اہم ربط پیدا کر دیا ہے۔ لیکن جب کہ یہ طریق تصدیق معیار صداقت و حقانیت میں دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتا ہے اور حقیقتاً معیاری حیثیت صرف طریق اول ” حجۃ وبرہان حق “ کو ہی حاصل ہے ‘ اس لیے معجزہ کے وقوع و صدور کا معاملہ پہلے طریق کے وجود و صدور سے قطعاً جدا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک مدعی نبوت و رسالت کے لیے از بس ضروری ہے کہ وہ اپنے دعویٰ حق و صداقت کو حجۃ وبرہان کی روشنی اور علم و یقین کی قوت کے ذریعہ ثابت کرے اور اپنی تعلیم و تربیت اور شخصی حیات کے ہر پہلو میں دعویٰ اور دلیل وبرہان کی مطابقت کو واضح کرے اور انسانی جوہر عقل کے فکر و تدبر کی رہنمائی کا فرض اس طرح انجام دے کہ ہر قسم کے ظن و وہم اور فاسد و کا سد خیالات کے مقابلہ میں ” یقین محکم “ روز روشن کی طرح نمودار ہوجائے اور اس ادائے فرض کے لیے کسی کی جانب سے نہ مطالبہ شرط ہے اور نہ جستجو لازم بلکہ یہ نبی اور رسول کا براہ راست وہ فرض ہے جس کے لیے خدائے تعالیٰ نے اس کو منتخب اور مامور کیا ہے ‘ اور اگر ایک لمحہ کے لیے بھی وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو گویا اپنے فرض کی پوری عمارت کو اپنے ہاتھ سے برباد کردیتا ہے : { یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ } ” اے پیغمبر ! جو تم پر نازل کیا گیا ہے تم اس کو پورا پورا پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو منصب رسالت کو ادا نہ کیا۔ “ اس کے برعکس معجزہ کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ نبی اور رسول اس کو ضرور ہی دکھائے یا مخالفین کے ہر مطالبہ پر اس کی تعمیل کرے بلکہ ” معجزہ “ حجۃ وبرہان کی وہ قسم ہے جو اکثر معاندین کے مطالبہ پر وقوع پذیرہوتا ہے اور اس سے اس کا صدور صرف عالم الغیب کی اپنی ” حکمت و مصلحت “ پر ہی موقوف رہتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ معجزہ کے بارے میں کس کا سوال جویائے حق کی حیثیت میں ہے اور کس کا تعنت اور انکار مزید کے لیے ‘ کن سعید روحوں پر اس کا یہ اثر پڑے گا کہ وہ کہہ اٹھیں گی { اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَمُوْسٰی } اور کن بدبختوں پر اس طرح اثر انداز ہوگا کہ یوں گویا ہوں گے { اِنْ ھٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ۔ پس قرآن عزیز نے اگر ایک جانب بہ نصوص قطعیہ یہ ظاہر کیا ہے کہ اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو حجۃ وبرہان کے ساتھ مزید تائید وتقویت کے لیے معجزات عطا کیے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی صاف صاف نبی کی زبانی کہلا دیا ہے کہ میں خدا کی جانب سے فقط ” نَذِیْرٌ مُبِیْنٌ“ ” بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ“ اور ” رَسُوْلٌ وَّ نَبِیٌّ“ ہوں۔میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں کائنات خداوندی کے تصرفات و تغیرات اور ماورائے فطرت امور پر قادر ہوں ‘ ہاں خدائے برتر اگر چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے اور اس نے ایسا کیا بھی ہے مگر وہ جبھی کرتا ہے کہ اس کی حکمت و مصلحت اس کی متقاضی ہو۔ چنانچہ حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر ہوا طیور و جن کے نشان دیے گئے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ” تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ “ ” نو کھلے نشان “ عطا کیے گئے جن میں سے دو نشان عصا اور یدبیضا کو قرآن نے بڑے نشان کہا ہے اور بحر قلزم میں غرق فرعون اور نجات قوم موسیٰ کا عجیب و غریب واقعہ مستقل ایک نشان عظیم ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر دہکتی آگ کے شعلوں کو ” بردو سلام “ بنادیا حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لیے ” ناقہ صالح “کو نشان بنایا کہ جوں ہی اس کو کسی نے ستایا اسی وقت خدا کا عذاب قوم کو تباہ و برباد کر جائے گا چنانچہ ٹھیک اسی طرح پیش آیا۔ حضرت ہود اور حضرت نوح (علیہما السلام) سے ان کی قوموں نے عذاب طلب کیا اور کافی سمجھانے کے بعد بھی جب ان کا اصرار قائم رہا تو ان پیغمبروں نے عذاب الٰہی کی جو وعیدیں سنائی تھیں وہ ٹھیک اپنے اپنے وقت پر پوری ہوئیں حالانکہ ان سب مواقع میں بظاہر اسباب نزول عذاب اور وقوع حوادث و ہلاکت کے کوئی سامان نہیں تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو مختلف نشان (معجزات) دیے گئے ان کو بھی قرآن نے صاف صاف بیان کر دیا ہے جو ابھی زیر بحث آئیں گے اور آخر میں خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علمی معجزہ قرآن عطا کیا جس کی تحدی (مقابلہ کے چیلنج) کا کوئی جواب نہ دے سکا ‘ نیز بدر کے معرکہ میں فرشتوں کا نزول اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کی نصرت و یاوری اور { وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی } کے اعلان سے اس مشہور معجزہ کا اظہار فرمایا جس نے بدر کے میدان میں مٹھی بھر خاک کو ایک ہزار دشمنوں کی آنکھوں کا آزار بنادیا اور ” شق القمر “ کا معجزہ عطا فرمایا۔معاملہ زیر بحث کا یہ ایک پہلو یا ایک رخ ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ارشاد و تبلیغ حق کے روشن دلائل وبراہین کا کوئی جواب مخالفین سے نہ بن پڑا تو ازراہ تعنت و سرکشی عجائبات اور خارق عادات امور کا مطالبہ کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی کہ ان کا مقصد طلب حق اور جستجوئے صداقت نہیں ہے بلکہ یہ جو کہہ رہے ہیں سرکشی ‘ ضد اور تعصب کی راہ سے کہتے ہیں اس لیے ان کا جواب یہ نہیں ہے کہ خدا کے نشانات کو بھان متی کا تماشا یامداری کا کھیل بنادیا جائے بلکہ اصل جواب یہ ہے کہ ان سے کہہ دو میں ان تصرفات کا مدعی نہیں ہوں میں تو نیک و بد امور میں تمیز پیدا کرنے ‘ خدا کے بندوں کا خدا کے ساتھ رشتہ ملانے اور نیک و بد کاموں کے انجام کو واضح کرنے کے لیے ” نَذِیْرٌ مُبِیْنٌ“ اور ” نبی رسول “ ہوں : { وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعًا۔ اَوْ تَکُوْنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْھٰرَ خِلٰلَھَا تَفْجِیْرًا۔ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآئَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا۔ اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآئِ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰـبًا نَّقْرَؤُہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۔ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَآئَھُمُ الْھُدٰٓی اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۔ } ” اور انھوں نے (مشرکوں نے) کہا : ہم اس وقت تک ہرگز تیری بات نہیں مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ ابال دے یا تیرے واسطے کھجوروں کا اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس کے درمیان میں زمین پھاڑ کر نہریں بہا دے یا تو جیسا گمان کرتا ہے ہمارے اوپر آسمان گرا دے یا تو اللہ اور اس کے فرشتوں کو (ہمارے) مقابل لائے یا تیرے واسطے ایک سونے کا (طلائی) مکان ہو اور یا تو چڑھ جائے آسمان پر اور ہم تیرے چڑھ جانے کو بھی ہرگز اس وقت تک نہیں تسلیم کریں گے تاوقتیکہ تو ہمارے پاس (آسمان سے) کتاب لے کر نہ آئے کہ اس کو ہم پڑھیں (اے محمد ! ) کہہ دیجئے پاکی ہے میرے پروردگار کے لیے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان ہوں ‘ خدا کا پیغامبر ہوں۔ “ { وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآئِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ۔ لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔ } ” اور اگر کھول دیں ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ اور یہ اس پر چڑھنے لگیں تب بھی ضرور یہی کہیں گے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مست کردی گئی ہیں ہماری آنکھیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ “ { وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِھَا } ” اور اگر یہ ہر قسم کے نشان بھی دیکھ لیں تب بھی (ضد اور تعصب کی بنا پر) ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ “ اب ان تفصیلات سے یہ بھی بخوبی روشن ہو گیا کہ علم کلام میں جن علما کی رائے یہ ظاہر کی گئی ہے کہ معجزہ دلیل نبوت نہیں ہے ان کی مراد کیا ہے ؟ وہ دراصل دعویٰ نبوت کی صداقت سے متعلق مسطورہ بالا ہر دو دلائل کے فرق کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو ہستی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتی ہے اس پر لازم اور ضروری ہے کہ اپنے دعویٰ کی تصدیق کے لیے ” حجۃ وبرہان “ پیش کرے اور دلائل کی روشنی میں اپنی حقانیت کو ثابت کرے اور وحی الٰہی کی جو تعلیم وہ کائنات کی ہدایت کے لیے پیش کرتی ہے برہان و حجت کے ذریعہ اس کی حقیقت کو واضح کرے ‘ تو گویا اس طرح نبوت و رسالت اور حجۃ و برہانِ صداقت میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے اس کے برعکس نبوت کے ساتھ معجزات اور آیات اللہ (نشانات خداوندی) کا تعلق اس طرح کا نہیں ہے بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر مخالفین کے مطالبہ پر یا بہ تقاضائے حکمت الٰہی نبی و رسول از خود اپنی صداقت کی تائید میں کوئی نشان (معجزہ) دکھائے تو بلاشبہ وہ اس ہستی کے نبی و رسول ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے اور اس کا انکار درحقیقت اس رسول کی صداقت کا انکار ہے کیونکہ اس صورت میں یہ انکار حقیقت اور واقعہ کا انکار ہے اور حقیقت کا انکار ” حق “ نہیں بلکہ ” باطل “ ہوتا ہے جو نبوت و رسالت کے مقصد کے ساتھ کسی طرح بھی جمع نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہو کہ تعلیم حق کی روشنی ‘وحی الٰہی پر دلائل وبراہین کا یقین ‘ اور اصول دین پر حجۃ وبرہان کا قیام ہوتے ہوئے اب مخالفین کے بار بار طلب معجزات و عجائبات کی پروا نہ کی جائے اور نبی و رسول وحی الٰہی کی روشنی میں حجۃ وبرہان کے ذریعہ تعلیم حق جاری رکھے اور مخالفین کے جواب میں صاف صاف کہہ دے کہ میں نے ماورا فطرت پر قدرت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا ‘ تو اس صورت میں بندوں پر خدا کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور کسی امت اور قوم کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ تعلیم حق کے دلائل وبراہین اور روشن حجت بینہ سے اس لیے منہ پھیرے اور اس لیے اس کا انکار کر دے کہ اس کی طلب پر اچنبھوں اور عجائبات کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا گیا۔ پس قرآن عزیز نے جن انبیا و رسل کے واقعات و حالات تذکیر بایام اللّٰہ کے سلسلہ میں بیان کرتے ہوئے نصوص قطعیہ کے ذریعہ صراحت و وضاحت سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم نے ان کی صداقت کے نشان کے طور پر نشانات (معجزات) ان کو عطا کیے اور مخالفین کے سامنے ان کا مظاہرہ کیا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بے چون و چرا ان کو قبول اور ان کی تصدیق کریں اور عجائب پرستی کے الزام سے خائف ہو کر عالم غیب کی اس تصدیق سے گریز نہ کریں اور نہ رکیک و باطل تاویلات کے پردہ میں ان کے انکار پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ ایسا کرنا اس آیت کا مصداق بن جانا ہے : { وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا } ” اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کتاب الٰہی کے بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے درمیان میں ایک راہ بنالیں۔ “ اور ظاہر ہے کہ یہ مومن و مسلم کی نہیں بلکہ کافر و منکر کی راہ ہے ‘ مومن و مسلم کی سیدھی راہ تو یہ ہے : { یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ” اے پیروان دعوت ایمانی ! اسلام میں پوری طرح داخل ہو جاؤ (اور اعتقاد و عمل کی ساری باتوں میں مسلم بن جاؤ ‘ مسلم ہونے کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ زبان سے اسلام کا اقرار کرلو) اور دیکھو شیطانی وسوسوں کی پیروی نہ کرو ‘ وہ تو تمھارا کھلا دشمن ہے۔ “ بہرحال ” سنت اللّٰہ “ یہ جاری رہی ہے کہ جب کسی قوم کی ہدایت یا تمام کائنات انسانی کی فوز و فلاح کے لیے نبی اور پیغمبر مبعوث ہوتا ہے تو اس کو منجانب اللہ محکم دلائل وبراہین اور آیات اللہ (معجزات) دونوں سے نوازا جاتا ہے ‘وہ ایک جانب وحی الٰہی کے ذریعہ کائنات کے معاش و معاد سے متعلق اوامرو نواہی اور بہترین دستور و نظام پیش کرتا ہے تو دوسری جانب حسب مصلحت خداوندی ” خدائی نشانات “ کا مظاہرہ کرکے اپنی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔نیز ہر ایک پیغمبر کو اسی قسم کے معجزات و نشانات عطا کیے جاتے ہیں جو اس زمانہ کی علمی ترقیوں یا قومی و ملکی خصوصیتوں کے مناسب حال ہونے کے باوجود معارضہ کرنے والوں کو عاجز و درماندہ کر دیں اور کوئی ان کے مقابلہ میں تاب مقاومت نہ لاسکے اور اگر تعصب اور ضد درمیان میں حائل نہ ہوں تو اپنی اکتسابی ترقیوں اور خصوصیتوں کے حقائق سے آگاہ ہونے کی وجہ سے اس اعتراف پر مجبور ہوجائیں کہ یہ جو کچھ سامنے ہے انسانوں کی قدرت سے بالاتر ‘ ان کی دسترس سے باہر ‘ اور صرف خدائے واحد ہی کی جانب سے ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں علم نجوم اور علم کیمیا کا بہت زور تھا اور ساتھ ہی ان کی قوم کواکب و نجوم کے اثرات کو ان کے ذاتی اثرات سمجھتی اور ان کو موثر حقیقی یقین کرکے خدائے واحد کی جگہ ان کی پرستش کرتی تھی اور ان کا سب سے بڑا دیوتا شمس (سورج) تھا کیونکہ وہ روشنی و حرارت دونوں کا حامل تھا اور یہی دونوں چیزیں ان کی نگاہ میں کائنات کی بقا و فلاح کے لیے اصل الاصول تھیں اور اسی بنا پر کرہ ارضی میں ” آگ “ کو اس کا مظہر مان کر اس کی بھی پرستش کی جاتی تھی ‘علاوہ ازیں ان کو اشیاء کے خواص و اثرات اور ان کے رد عمل پر بھی کافی عبور تھا گویا آج کی علمی تحقیقات کے لحاظ سے وہ کیمیاوی طریقہ ہائے عمل سے بھی بڑی حدتک واقف تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی ہدایت اور خدا پرستی کی تعلیم و تلقین کے لیے ایک جانب ایسے روشن حجۃ وبرہان عطا فرمائے جن کے ذریعہ وہ قوم کے غلط عقائد کے ابطال اور احقاق حق کی خدمت انجام دیں اور مظاہر پرستی کی وجہ سے حقیقت کے چہرہ پر تاریکی کا جو پردہ پڑ گیا تھا اس کو چاک کرکے رخ روشن کو نمایاں کرسکیں : { وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَآ اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ} اور دوسری جانب جب کواکب پرست اور بت پرست بادشاہ سے لے کر عام افراد قوم نے ان کے دلائل وبراہین سے لاجواب ہو کر اپنی مادی طاقت کے گھمنڈ پر دہکتی آگ میں جھونک دیا تو اسی خالق اکبر نے جس کی دعوت و ارشاد کی خدمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انجام دے رہے تھے کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا کہہ کر اپنی قدرت کا وہ عظیم الشان نشان (معجزہ) عطا کیا جس نے باطل کے پرہیبت ایوان میں زلزلہ پیدا کر دیا اور تمام قوم اس خدائی مظاہرہ سے عاجز ‘ حیران و پریشان اور ذلیل و خاسر ہو کر رہ گئی۔ { وَ اَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰھُمُ الْاَخْسَرِیْنَ } اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں سحر مصری علوم و فنون میں بہت زیادہ نمایاں اور امتیازی شان رکھتا تھا اور مصریوں کو فن سحر میں کمال حاصل تھا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قانون ہدایت ( توراۃ ) کے ساتھ ساتھ یدبیضا اور عصا جیسے معجزات دیے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ساحرین مصر کے مقابلہ میں جب ان کا مظاہرہ کیا تو سحر کے تمام ارباب کمال اس کو دیکھ کر یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ بلاشبہ یہ سحر نہیں ‘یہ تو اس سے جدا اور انسانی طاقت سے بالاتر مظاہرہ ہے جو خدائے برحق نے اپنے سچے پیغمبروں کی تائید کے لیے ان کے ہاتھ پر کرایا ہے کیونکہ ہم سحر کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور یہ کہہ کر انھوں نے فرعون اور قوم فرعون کے سامنے بے خوفی کے ساتھ اعلان کر دیا کہ وہ آج سے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے خدائے واحد ہی کے پرستار ہیں : { وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْنَ۔ قَالُوْا امَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَھَارُوْنَ } مگر فرعون اور امرا دربار اپنی بدبختی سے یہی کہتے رہے : { قَالَ لِلْمَـلَاِ حَوْلَہٗ اِنَّ ہٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِیْمٌ} { فَلَمَّا جَآئَھُمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی وَّ مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ } اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں علم طب اور علم طبیعیات کا بہت چرچا تھا اور یونان کے اطباء و حکماء (فلاسفر) کی طب و حکمت گرد و پیش کے ممالک و امصار کے ارباب کمال پر بہت زیادہ اثر انداز تھی اور ملکوں میں صدیوں سے بڑے بڑے طبیب اور فلسفی اپنی حکمت و دانش اور کمالات طب کا مظاہرہ کر رہے تھے مگر خدائے واحد کی توحید اور دین حق کی تعلیم سے خواص و عوام یکسر محروم تھے اور خود بنی اسرائیل بھی جو نبیوں کی نسل میں ہونے پر ہمیشہ فخر کرتے رہتے تھے جن گمراہیوں میں مبتلا تھے سطور گذشتہ میں ان پر روشنی پڑچکی ہے۔ پس ان حالات میں ” سنت اللّٰہ “ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رشد و ہدایت کے لیے منتخب کیا تو ایک جانب ان کو حجۃ وبرہان (انجیل) اور حکمت سے نوازا تو دوسری جانب زمانہ کے مخصوص حالات کے مناسب چند ایسے نشان (معجزات) بھی عطا فرمائے جو اس زمانہ کے ارباب کمال اور ان کے پیرؤوں پر اس طرح اثر انداز ہوں کہ جویائے حق کو اس اعتراف میں کوئی جھجک باقی نہ رہے کہ بلاشبہ یہ اعمال اکتسابی علوم سے جدا محض خدائے تعالیٰ کی جانب سے رسول برحق کی تائید میں رونما ہوئے ہیں اور متعصب اور متمرد کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ رہے کہ ان کو ” صریح جادو “ کہہ کر اپنے بغض و حسد کی آگ کو اور مشتعل کرے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان معجزات میں سے جن کا مظاہرہ انھوں نے قوم کے سامنے کیا قرآن عزیز نے چار معجزات کا بصراحت ذکر کیا ہے : 1۔وہ خدا کے حکم سے مردہ کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔اور پیدائشی نابینا اور جذامی کو چنگا کر دیا کرتے تھے۔ 2۔ وہ مٹی سے پرند بنا کر اس میں پھونک دیتے تھے اور خدا کے حکم سے اس میں روح پڑجاتی تھی۔ 3۔ وہ یہ بھی بتادیا کرتے تھے کہ کس نے کیا کھایا اور خرچ کیا اور کیا گھر میں ذخیرہ محفوظ رکھا ہے۔ قوموں میں ایسے مسیحا موجود تھے جن کے علاج و معالجے اور اکتسابی تدابیر سے مایوس مریض شفا پاتے تھے ان میں ماہر طبیعیات ایسے فلسفی بھی کم نہ تھے جو روح و مادہ کے حقائق اور ارضی و سماوی اشیاء کی ماہیات پر بے نظیر نظریات و تجربات کے مالک سمجھے جاتے تھے اور حقائق اشیاء میں ان کی باریک بینی اور مہارت ارباب کمال کے لیے باعث صد نازش تھی۔لیکن جب ان کے سامنے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسباب و وسائل اختیار کیے بغیر ان امور کا مظاہرہ کیا تو ان پر بھی ہدایت و ضلالت کی قدرتی تقسیم کے مطابق یہی اثر پڑا جس شخص کے قلب میں حق کی طلب موجزن تھی اس نے اقرار کیا کہ بلاشبہ اس قسم کا مظاہرہ انسانی دسترس سے باہر اور نبی برحق کی تائید و تصدیق کے لیے منجانب اللہ ہے اور جن دلوں میں رعونت ‘ حسد اور بغض وعناد تھا ان کے تعصب نے وہی کہنے پر مجبور کیا جو ان کے پیشرو انبیا و رسل سے کہتے آئے تھے۔ { اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} 4۔چوتھے معجزے کے بارے میں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے مظاہرہ کی وجہ یہ پیش آئی کہ مخالفین جب ان کی دعوت رشد و ہدایت سے نفور ہو کر ان کو جھٹلاتے اور ان کے پیش کردہ آیات بینات (معجزات) کو سحر اور جادوکہتے تو ساتھ ہی ازراہ تمسخر یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ اگر تم خدائے تعالیٰ کے ایسے مقبول بندے ہو تو بتاؤ آج ہم نے کیا کھایا ہے اور کیا بچا رکھا ہے تب عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے تمسخر کو سنجیدگی سے بدل دیتے اور وحی الٰہی کی نصرت سے ان کے سوال کا جواب دیدیا کرتے تھے۔ مگر قرآن حکیم نے اس معجزہ کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس کو غور کے ساتھ مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ” نشان “ کے مظاہرہ کی وجہ مفسرین کی بیان کردہ توجیہ سے زیادہ دقیق اور وسیع معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پیغام ہدایت و تبلیغ حق کی خدمت انجام دیتے ہوئے اکثر و بیشتر لوگوں کو دنیا میں انہماک ‘ دولت و ثروت کے لالچ اور عیش پسند زندگی کی محبت سے باز رکھنے پر مختلف اسالیب بیان کے ذریعہ توجہ دلایا کرتے تھے تو جس طرح بعض سعید روحیں اس کلمہ حق کے سامنے سر تسلیم خم کردیتی تھیں۔ اس کے برعکس شریر النفس انسان ان کے مواعظ حسنہ سے قلبی نفرت و اعراض کے باوجود امتثال امر کرنے والی ہستیوں سے زیادہ ان کو یہ باور کر اتیں کہ ہم توہمہ وقت آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں سرگرم رہتے ہیں۔لہٰذا قدرت حق نے یہ فیصلہ کیا کہ ان منافقین کی منافقت کی مضرت کو زائل کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسا ” نشان “ عطا کیا جائے کہ اس ذریعہ سے حق و باطل منکشف ہوجائے اور حقوق اللہ اور حقوق انسانی کے اتلاف پر جو ذخیرہ اندوزی کا سامان کیا جا رہا ہے اس کا پردہ چاک کر دیا جائے۔ ان چہار گانہ خدائی نشان (معجزات) کے علاوہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بغیر باپ کے پیدائش بھی ایک عظیم الشان ” خدائی نشان “ تھا جس کے متعلق ابھی تفصیلات سن چکے ہو۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھ پر جن معجزات کا ظہور ہوا یا ان کی ولادت جس معجزانہ طریق پر ہوئی یہود نے ازراہ حسد ان کا انکار کیا تو کیا لیکن بعض فطرت پرست مدعی اسلام حضرات نے بھی ان کے انکار کے لیے راہ پیدا کرنے کی ناکام سعی فرمائی ہے ‘ان میں سے بعض حضرات وہ ہیں جنھوں نے اس انکار کو ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ فطرت پرست اور منکرین خدا یورپین علمائے جدید سے مرعوبیت کی بنا پر یہ روش اختیار کی ہے تاکہ ان کی مذہبیت پر عجائب پرستی کا الزام عائد نہ ہو سکے ‘ ان میں سر سید اور مولوی چراغ علی صاحب خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔اور بعض وہ یہود صفت اشخاص ہیں جو اپنی ذاتی غرض اور ناپاک مقصد کی خاطر ازراہ حسد و بغض حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ان معجزات کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ تاویلات باطل کے پردہ میں ان کا مضحکہ اڑاتے ہیں ‘ان میں متنبی کاذب مرزا قادیانی اور مسٹر محمد علی لاہوری خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔قادیانی اور لاہوری نے تو یہ ظلم کیا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معجزہ { اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِ اللّٰہِ } کے متعلق یہ کہہ دیا کہ مسیح (علیہ السلام) کا یہ عمل ایک تالاب کی مٹی کا رہین منت تھا ‘ معجزہ کچھ نہیں تھا ‘ اس تالاب کی مٹی کی یہ خاصیت تھی جس کسی پرند کی شکل بنائی جاتی اور منہ سے دم تک سوراخ رکھ دیا جاتا تھا تو ہوا بھر جانے سے اس میں آواز بھی پیدا ہوجاتی تھی اور حرکت بھی ‘ گویا العیاذ باللّٰہ ! ان بدبختوں کے نزدیک حضرت مسیح (علیہ السلام) کی جانب سے منکروں کے مقابلہ میں یہ معجزانہ صداقت نہیں تھی بلکہ مداری یا شعبدہ باز کا تماشا تھا۔ اسی طرح احیائے موتیٰ (مردہ کو زندہ کردینا) کے معجزہ کا بھی انکار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن عزیز نے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد کسی کو اس دنیا میں قبل از قیامت زندگی نہیں بخشے گا۔لیکن لطف یہ ہے کہ اگر پورے قرآن کو از اول تا آخر پڑھ لیا جائے تو کسی ایک آیت میں بھی آپ کو یہ فیصلہ نہیں ملے گا بلکہ اس دعویٰ کے خلاف متعدد مقامات پر اس کا اثبات پائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں موت دینے کے بعد حیات تازہ بخشی ہے مثلاً سورة بقرہ کی آیات ذبح بقرہ کے واقعہ میں ارشاد ہے : { فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی } یا سورة بقرہ ہی کی اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے :{ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ } یا اسی سورة میں تیسری جگہ مذکور ہے : { وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْھُنَّ جُزْئًا ثُمَّ ادْعُھُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا } چنانچہ ان تمام واقعات میں ” احیائے موتیٰ “ کے صاف اور صریح معانی ثابت ہیں اور جن حضرات نے ان مقامات میں ” احیائے موتیٰ “ سے مجازی یا کنائی معنی لیے ہیں ان کو طرح طرح کی تاویلات کی پناہ لینی پڑی ہے مگر ان کی تاویلات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احیائے موتیٰ کی یہ تاویل اس وجہ سے نہیں کر رہے ہیں کہ قرآن کے نزدیک اس کا دنیا میں وقوع ممنوع ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ آیات مسطورہ بالا کے سیاق وسباق کے پیش نظر یہی معنی مناسب حال ہیں۔غرض یہ دعویٰ کہ قرآن ممنوع قرار دیتا ہے کہ دار دنیا میں ” احیائے موتیٰ “ وقوع پزیر ہو صرف مرزا قادیانی اور مسٹر لاہوری کے دماغ کی اپج ہے جو قطعاً باطل ہے اور غیر ثابت ہے اور اس کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہے ‘رہا یہ امر کہ خدا کے عام قانون فطرت کے ماتحت ایسا نہیں پیش آتا رہتا سو اگر ایسا ہوتا رہتا تو پھر یہ ” معجزہ “ ہرگز نہ کہلاتا اور خدائے برتر کا قانون خاص جو تصدیق انبیا (علیہم السلام) کے مقصد سے کبھی کبھی مخالفین کے مقابلہ میں بطور تحدی (چیلنج) کے پیش آتا رہا ہے کوئی خصوصیت نہ رکھتا۔ اسی طرح حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش کے مسئلہ کا بھی انکار کیا گیا ہے اور قادیانی اور لاہوری نے بھی اس کے خلاف بے دلیل ہرزہ سرائی کی ہے لیکن اس مسئلہ کی موافق و مخالف آراء سے قطع نظر ایک غیر جانبدار منصف جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش سے متعلق تمام آیات قرآنی کا مطالعہ کرے گا تو اس پر یہ حقیقت بخوبی آشکارا ہوجائے گی کہ قرآنحضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق یہود کی تفریط اور نصاریٰ کی افراط دونوں کے خلاف اپنا وہ فرض منصبی ادا کرنا چاہتا ہے جس کے لیے قرآن کی دعوت حق کا ظہور ہوا ہے ‘یہود اور نصاریٰ اس بارے میں دو قطعاً مخالف اور متضاد سمتوں میں چلے گئے ہیں ‘ یہود کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) مفتری اور کاذب اور شعبدہ باز تھے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ وہ خدا ‘ خدا کے بیٹے یا ثالث ثلثہ تھے ‘ان حالات میں قرآن نے ان اوہام و ظنون کے خلاف علم و یقین کی راہ دکھاتے ہوئے دونوں کے خلاف یہ فیصلہ دیا کہ راہ حق افراط وتفریط کے درمیان میں ہے اور صراط مستقیم کی یہی سب سے بڑی شناخت ہے۔ وہ کہتا ہے واضح رہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) مفتری اور کاذب نہیں تھے بلکہ خدا کے سچے پیغمبر اور راہ حق کے داعی صادق تھے ‘ انھوں نے دعوت حق کی تصدیق کے لیے جو بعض عجیب باتیں کردکھائیں وہ معجزات انبیا کی فہرست میں شامل ہیں نہ کہ ساحروں اور شعبدہ بازوں کی ‘اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی مگر اس سے یہ کیسے لازم آسکتا ہے کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہو گئے ‘ کیا جو شخص پیدائش کا محتاج ہو اور پیدائش میں بھی ماں کے پیٹ کا محتاج اور جو شخص بشری لوازم کھانے پینے کا محتاج ہو وہ عبد اور بشر کے ماسوا خدا یا معبود ہو سکتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یہاں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق الوہیت کا جو عقیدہ قائم کیا تھا اس کا بہت بڑا سہارا یہی واقعہ تھا جیسا کہ وفد نجران اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باہمی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے۔ تو جب کہ قرآن نے یہود و نصاریٰ کے ان تمام باطل عقائد کی واضح الفاظ میں تردید کرکے جو انھوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق قائم کر لیے تھے اپنا فریضہ اصلاح انجام دیا ‘ یہ کیسے ممکن تھا کہ اگر بن باپ کے پیدائش کا واقعہ باطل اور غیر واقعی تھا اور جو سہارا بن رہا تھا الوہیت مسیح (علیہ السلام) کا ‘ اس کے متعلق واضح طور سے قرآن تردید نہ کرتا بلکہ اس کے برعکس وہ جگہ جگہ اس واقعہ کو ٹھیک اسی طرح بیان کرتا جاتا جیسا کہ متی کی انجیل میں بیان کیا گیا ہے ‘ اس کا فرض تھا کہ سب سے پہلے اسی پر ضرب کاری لگاتا اور صرف اس قدر کہہ کر کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا باپ فلاں شخص تھا اس ساری عمارت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا جس پر الوہیت مسیح (علیہ السلام) کی بنیاد رکھی گئی ہے مگر اس نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ یہ بات کسی طرح بھی مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ : {إِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } پس اگر بن باپ کی پیدائش مسیح (علیہ السلام) کو درجہ الوہیت دے سکتی ہے تو آدم (علیہ السلام) کو اس سے زیادہ الوہیت کا حق حاصل ہے کہ وہ بن ماں باپ کے پیدا ہوا ہے۔ بہرحال جن تاویل پرستوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بن باپ پیدائش سے متعلق آیات کے جملوں کو جدا جدا کرکے غلط احتمالات پیداکئے ہیں وہ اس لیے باطل ہیں کہ جب اس واقعہ سے متعلق آیات کو یکجا کرکے مطالعہ کیا جائے تو ایک لمحہ کے لیے بھی آیات کے معانی میں بن باپ پیدائش کے معنی کے ماسوا دوسرے کسی بھی احتمال کی گنجائش باقی نہیں رہتی مگر یہ کہ عربی زبان کے الفاظ کے معین مدلولات اور اطلاقات میں تحریف معنوی پر بے جا جسارت کی جائے۔ نیز بقول مولانا ابو الکلام جن اصحاب نے بغیر باپ کے پیدائش سے متعلق آیات میں تاویل باطل کی ہے ان کی دلیل کا مدار صرف اس بات پر ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کا نکاح اگرچہ یوسف سے ہو چکا تھا مگر رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی ‘ایسی صورت میں میاں بیوی کے درمیان مقاربت گو شریعت موسوی کے خلاف نہیں تھی تاہم وقت کے رسم و رواج کے قطعاً خلاف تھی اس لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش لوگوں کو گراں گذری ‘ لیکن اول تو اس واقعہ کا ثبوت ہی موجود نہیں سب بے سند بات ہے۔دوسرے یہودیوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) پر جو بہتان لگایا تھا ” انسائیکلوپیڈیا آف بائبل “ میں تصریح ہے کہ اس بہتان کی نسبت ایک شخص پنتھرا ٹالی کی جانب کی تھی نہ کہ یوسف نجار کی جانب ‘اس لیے تاویل کی یہ بنیاد ہی از سر تاپا غلط اور بے اصل ہے۔ علاوہ ازیں جہاں تک اس مسئلہ کا عقلی پہلو ہے سو عقل بھی اس کے امکان کو ممنوع اور محال قرار نہیں دیتی بلکہ اس کو ممکن الوقوع تسلیم کرتی ہے ‘ کیا سائنس کی موجودہ دنیا سے آشنا حضرات اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ آج جب کہ سائنس کی جدید تحقیق نے نظریوں سے آگے قدم بڑھا کر مشاہدہ اور تجربہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوسرے حیوانات کی طرح انسان کی خلقت و پیدائش بھی بیضہ سے ہوتی ہے اور اس کو اصطلاح میں خلیہ تخم 1 ؎(خلیہ کو انگریزی میں (CELL ) کہتے ہیں۔) کہتے ہیں ‘ یہ خلیہ مرد اور عورت دونوں میں ہوتا ہے اور حمل قرار پا جانے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مرد کے خلیات تخم عورت کے بیضہ میں داخل ہوجاتے ہیں ‘ یہی خلیہ زندگی اور حیات کا تخم ہے اور قدرت حق نے اس کو بہت باریک جثہ عطا فرمایا 2 ؎( اس کا قطر انچ کا 5٠٠/1 ہوتا ہے۔) ہے ‘ تو اس تحقیق نے امریکا اور انگلینڈ کے سائنسدانوں کو اس جانب متوجہ کر دیا ہے کہ کیوں وہ ایک ایسی کوشش نہ کریں کہ بغیر مرد کی مقاربت کے جنس رجال کے خلیات تخم کو آلات کے ذریعہ جنس اناث کے مبیض میں داخل کرکے ” وجود انسانی “ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ سائنس والوں کا یہ تخیل ابھی عملی حیثیت سے کتنا ہی دور ہو لیکن اس سے یہ نتیجہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عقل یہ ممکن سمجھتی ہے کہ انسانی پیدائش ‘ آنکھوں دیکھے عام طریق ولادت کے علاوہ بعض دوسرے طریقوں سے بھی ہو سکتی ہے اور ان کو قانون قدرت کے خلاف اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے قدرت کے تمام قوانین کا احاطہ نہیں کر لیا ہے بلکہ انسان جس قدر علم و دانش کی جانب بڑھتا جاتا ہے اس کے سامنے قدرت حق کے قانون کے نئے نئے گوشے کھلتے جاتے ہیں۔ پس اگر یہ صحیح ہے کہ جو بات کل ناممکن نظر آتی تھی آج وہ ممکن کہی جارہی ہے اور جلد یا بدیر اس کے وقوع پر یقین کیا جا رہا ہے تو نہیں معلوم پھر اس قانون قدرت کا انکار کردینے کے کیا معنی ہیں جس کا علم اگرچہ ابھی تک ہم کو حاصل نہیں ہے مگر انبیا و رسل جیسی قدسی صفات ہستیوں پر اس علم کی حقیقت آشکارا ہے تو کیا علمی دلیل کا یہ بھی کوئی پہلو ہے جس بات کا ہم کو علم نہ ہو اور عقل اس کو ناممکن اور محال نہ ثابت کرتی ہو اس کا انکار صرف ” عدم علم “ کی وجہ سے کر دیا جائے خصوصاً جب یہ انکار ایک مدعی مسیحیت و نبوت کی جانب سے ہو تو اس کے لیے تو یہی کہا جا سکتا ہے۔ اب ان ” آیات بینات “ کو قرآن حکیم سے سنئے اور موعظت و عبرت کے حصول کا سر و سامان کیجئے کہ ماضی کے ان واقعات کی تذکیر سے قرآن کا یہی عظیم مقصد ہے۔ { وَ یُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ۔ وَ رَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَ اُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَ اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ۔ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ } ” اور خدا سکھاتا ہے اس (عیسیٰ ) کو کتاب ‘ حکمت ‘ تورات اور انجیل ‘ اور وہ رسول ہے بنی اسرائیل کی جانب (وہ کہتا ہے) کہ بے شک میں تمھارے پاس تمھارے پروردگار کی جانب سے ” نشان “ لے کر آیا ہوں ‘ وہ یہ کہ میں تمھارے لیے مٹی سے پرند کی شکل بناتا پھر اس میں پھونک دیتا ہوں اور وہ خدا کے حکم سے زندہ پرند بن جاتا ہے اور پیدائشی اندھے کو سوانکھا کردیتا اور سپید داغ کے جذام کو اچھا کردیتا ہوں ‘اور خدا کے حکم سے مردہ کو زندہ کردیتا ہوں ‘ اور تم کو بتا دیتا ہوں جو تم کھا کر آتے ہو اور جو تم گھر میں ذخیرہ رکھ آتے ہو ‘ سو اگر تم حقیقی ایمان رکھتے ہو تو بلاشبہ ان امور میں (میری صداقت اور منجانب اللہ ہونے کے لیے) ” نشان “ ہے اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور (اس لیے بھیجا گیا ہوں) تاکہ بعض ان چیزوں کو جو تم پر حرام ہو گئی ہیں تمھارے لیے حلال کر دوں تمھارے لیے پروردگار ہی کے پاس سے ” نشان “ لایا ہوں ‘ پس تم اللہ سے ڈرو ‘اور (اس کے دیے ہوئے احکام میں) میری اطاعت کرو ‘ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمھارا پروردگار ہے ‘ سو اس کی عبادت کرو ‘ یہی سیدھی راہ ہے۔ “ { وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ } ” اور (ا ے عیسیٰ ابن مریم ! تو میری اس نعمت کو یاد کر) جبکہ تو میرے حکم سے گارے سے پرند کی شکل بنا دیتا اور پھر اس میں پھونک دیتا تھا اور وہ میرے حکم سے زندہ پرند بن جاتا تھا اور جبکہ تو میرے حکم سے پیدائشی اندھے کو سوانکھا اور سپید داغ کے کوڑھی کو اچھا کردیتا تھا اور جبکہ تو میرے حکم سے مردہ کو زندہ کر کے قبر سے نکالتا تھا۔ “ { فَلَمَّا جَائَہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” پھر جب وہ (عیسیٰ (علیہ السلام)) ان کے پاس کھلے نشان لے کر آیا تو انھوں نے (بنی اسرائیل نے) کہا ” یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ “ انبیا (علیہم السلام) نے جب کبھی قوموں کے سامنے آیات اللہ کا مظاہرہ کیا ہے تو منکروں نے ہمیشہ ان کے متعلق ایک بات ضرور کہی ہے ” یہ تو کھلا ہوا جادو ہے “ پس کیا ایک جویائے حق اور غیر متعصب انسان کے لیے یہ جواب اس جانب رہنمائی نہیں کرتا کہ انبیا (علیہم السلام) کے اس قسم کے مظاہرے ضرور عام قوانین قدرت سے جدا ایسے علم کے ذریعہ ظہور پزیر ہوتے تھے جو صرف ان قدسی صفات ہستیوں کے لیے ہی مخصوص رہا ہے اور ان کے علاوہ انسانی دنیا اس کے فہم حقیقت سے بہرہ مند نہیں ہوئی تبھی ان لوگوں کے پاس جو ازراہ عناد و ضد انکار پر تلے ہوئے تھے ‘اس کے انکار کے لیے اس سے بہتر دوسری تعبیر نہیں تھی کہ وہ ان امور کو ” سحر و جادو “ کہہ دیں۔ لہٰذا ان امور کو سحر و جادو کہنا بھی ان کے ” معجزہ “ اور ” نشان خداوندی “ ہونے کی زبردست دلیل ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ بہرحال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو حجۃ وبرہان اور آیات اللہ کے ذریعہ دین حق کی تعلیم دیتے رہتے اور ان کے بھولے ہوئے سبق کو یاد دلا کر مردہ قلوب میں حیات تازہ بخشتے رہتے تھے۔ خدا اور خدا کی توحید پر ایمان ‘ انبیا و رسل ( ) کی تصدیق ‘آخرت (معاد) پر ایمان ‘ ملائکۃ اللہ پر ایمان ‘ قضا و قدر پر ایمان ‘ خدا کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان ‘ اخلاق حسنہ کے اختیار ‘ اعمال سیہ سے پرہیز و اجتناب ‘ عبادت الٰہی سے رغبت ‘ دنیا میں انہماک سے نفرت اور خدا کے کنبہ (مخلوق خدا) سے محبت و مودت یہی وہ تعلیم و تلقین تھی جو ان کی زندگی کا مشغلہ اور فرض منصبی بنا ہوا تھا۔وہ بنی اسرائیل کو تورات ‘ انجیل اور حکیمانہ پند و نصائح کے ذریعہ ان امور کی جانب دعوت دیتے ‘ مگر بدبخت یہود اپنی فطرت کج صدیوں کی مسلسل سرکشی اور تعلیم الٰہی سے بغاوت کی بدولت اس درجہ متشدد ہو گئے تھے اور انبیا و رسل کے قتل نے ان کے قلوب کو حق و صداقت کے قبول میں اس درجہ سخت بنادیا تھا کہ ایک مختصر سی جماعت کے علاوہ ان کی جماعت کی بڑی اکثریت نے ان کی مخالفت اور ان کے ساتھ حسد و بغض کو اپنا شعار اور اپنی جماعتی زندگی کا معیار بنا لیا اور اس لیے انبیا کی سنت راشدہ کے مطابق رشد و ہدایت کے حلقہ بگوشوں میں دنیوی جاہ و جلال کے لحاظ سے کمزور و ناتواں اور زیردست پیشہ ور طبقہ کی اکثریت نظر آتی تھی ‘ضعفاء کا یہ طبقہ اگر اخلاص و دیانت کے ساتھ حق کی آواز پر لبیک کہتا تو بنی اسرائیل کا وہ سرکش و مغرور حلقہ ان پر اور خدا کے پیغمبر پر پھبتیاں کستا ‘ توہین و تذلیل کا مظاہرہ کرتا اور اپنی عملی جدوجہد کا بڑا حصہ معاندت و مخالفت میں صرف کرتا رہتا تھا : { وَلَمَّا جَائَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ۔ } ” اور جب عیسیٰ ظاہر دلائل لے کر آئے تو کہا : ” بلاشبہ میں تمھارے پاس ” حکمت “ لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں تاکہ ان بعض باتوں کو واضح کر دوں جن کے متعلق تم آپس میں جھگڑ رہے ہو ‘ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ‘ بے شک اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمھارا پروردگار ہے سو اس کی پرستش کرو یہی سیدھی راہ ہے “پھر وہ آپس میں گروہ بندی کرنے لگے ‘ سو ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب کے ذریعہ ہلاکت اور خرابی ہے۔ “ { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ اِسْرَآئِیلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ فَلَمَّا جَائَہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا : اے بنی اسرائیل ! بلاشبہ میں تمھاری جانب اللہ کا پیغمبر ہوں ‘ تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو میرے سامنے ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا نام اس کا احمد ہے ‘پس جب (عیسیٰ (علیہ السلام)) آیا ان کے پاس معجزات لے کر تو وہ (بنی اسرائیل) کہنے لگے ‘ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ “ { فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ اشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔ رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ۔ } ” پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) سے کفر محسوس کیا تو کہا ” اللہ کی جانب میرا کون مددگار ہے ؟ “ حواریوں نے جواب دیا : ” ہم ہیں اللہ کے (دین کے) مدد گار۔ ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور تم گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں ‘ اے ہمارے پروردگار ! جو تونے اتارا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم نے رسول کی پیروی اختیار کرلی پس تو ہم کو (دین حق کی) گواہی دینے والوں میں سے لکھ لے۔ “ حواری عیسیٰ (علیہ السلام) مگر عیسیٰ (علیہ السلام) معاندین و مخالفین کی در اندازیوں اور ہرزہ سرائیوں کے باوجود اپنے فرض منصبی ” دعوۃ الی الحق “ میں سرگرم رہتے اور شب و روز بنی اسرائیل کی آبادیوں اور بستیوں میں پیغام حق سناتے اور روشن دلائل اور واضح آیات اللہ کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق و صداقت پر آمادہ کرتے رہتے تھے۔ اور خدا اور حکم خدا سے سرکش اور باغی انسانوں کی بھیڑ میں ایسی سعید روحیں بھی نکل آتی تھیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت حق پر لبیک کہتی اور سچائی کے ساتھ دین حق کو قبول کرلیتی تھیں ‘انھی پاک بندوں میں وہ مقدس ہستیاں بھی تھیں جو حضرت عیسیٰ کے شرف صحبت سے فیضیاب ہو کر نہ صرف ایمان ہی لے آئی تھیں بلکہ دین حق کی سر بلندی اور کامیابی کے لیے انھوں نے جان و مال کی بازی لگا کر خدمت دین کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا اور اکثر و بیشتر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ رہ کر تبلیغ و دعوت کو سر انجام دیتی تھیں ‘ اسی خصوصیت کی وجہ سے وہ ” حواری “ (رفیق) اور ” انصار اللّٰہ “ (اللہ کے دین کے مددگار) کے مقدس القاب سے معزز و ممتاز کی گئیں۔چنانچہ ان بزرگ ہستیوں نے پیغمبر خدا کی حیات پاک کو اپنا اسوہ بنایا اور سخت سے سخت اور نازک سے نازک حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر طرح معاون و مددگار ثابت ہوئیں : { وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْھَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ } ” اور (اے عیسیٰ وہ وقت یاد کرو) جبکہ میں نے حواریوں کی جانب (تیری معرفت) یہ وحی کی کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ تو انھوں نے جواب دیا ” ہم ایمان لائے اور اے خدا ! گواہ رہنا کہ ہم بلاشبہ مسلمان ہیں۔ “ { یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتَ طَّائِفَۃٌ مِّنْم بَنِیْ اِسْرَآئِیلَ وَکَفَرَتْ طَائِفَۃٌ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ } ” اے ایمان والو ! تم اللہ کے (دین کے) مددگار ہو جاؤ جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے جب حواریوں سے کہا : ” اللہ کے راستہ میں کون میرا مدد گا رہے “ تو حواریوں نے جواب دیا ” ہم ہیں اللہ (کی راہ) کے مددگار پس بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لائی اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا سو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں تائید کی پس وہ (مومن) غالب رہے۔ “ گذشتہ سطور میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے یہ حواری بیشتر غریب اور مزدور طبقہ میں سے تھے کیونکہ انبیا (علیہم السلام) کی دعوت و تبلیغ کے ساتھ ” سنت اللّٰہ “ یہی جاری رہی ہے کہ ان کی صدائے حق پر لبیک کہنے اور دین حق پر جان سپاری کا مظاہرہ کرنے کے لیے اول غریب اور کمزور طبقہ ہی آگے بڑھتا ہے اور زیردست ہی فدا کاری کا ثبوت دیتے ہیں اور وقت کی صاحب اقتدار اور زبردست ہستیاں اپنے غرور اور گھمنڈ کے ساتھ مقابلہ اور معارضہ کے لیے سامنے آتی اور معاندانہ سرگرمیوں کے ساتھ اعلائے کلمۃ اللہ کی راہ میں سنگ گراں بن جاتی ہیں لیکن جب خدائے تعالیٰ کا قانون پاداش عمل اپنا کام کرتا ہے تو نتیجہ میں فلاح و کامرانی ان کمزور فدایان حق ہی کا حصہ ہوجاتا ہے اور متکبر و مغرور ہستیاں یا ہلاکت کے قعر مذلت میں جا گرتی ہیں اور یا مقہور و مغلوب ہو کر سرنگوں ہوجانے کے ماسوا کوئی چارہ کار نہیں دیکھتیں۔ حواری عیسیٰ (علیہ السلام) اور قرآن و انجیل کا موازنہ قرآن عزیز نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی منقبت بیان کی ہے ‘ سورة آل عمران کی آیات تمھارے سامنے ہیں ‘ حضرت مسیح (علیہ السلام) جب دین حق کی نصرت و یاوری کے لیے پکارتے ہیں تو سب سے پہلے جنھوں نے ” نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ “ کا نعرہ بلند کیا وہ یہی پاک ہستیاں تھیں ‘ سورة صف میں اللہ رب العٰلمین نے جب مسلمانوں کو مخاطب کرکے کُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰہِ کی ترغیب دی تو ” تذکیر بایام اللّٰہ “کے پیش نظر انھی مقدس ہستیوں کا ذکر کیا اور انھی کی مثال اور نظیر دے کر نصرت حق کے لیے برانگیختہ کیا اور سورة مائدہ میں ان کے قبول ایمان اور دعوت حق کے سامنے انقیاد و تسلیم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بھی ان کے خلوص ‘حق طلبی اور حق کوشی کی زندہ جاوید تصویر ہے۔ یہ سب کچھ تو اس وقت کا حال ہے جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان موجود ہیں لیکن آپ کے ” رفع الی السماء “ کے بعد بھی ان کی پر استقامت اور دین قویم کی فدا کارانہ خدمت کے متعلق سورة صف کی آیت: { فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ } میں کافی اشارہ موجود ہے اور شاہ عبد القادر (نور اللہ مرقدہ) نے اسی بنا پر آیت زیر بحث کی تفسیر کرتے ہوئے تاریخی شہادت کا اس طرح ذکر فرمایا ہے : ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے یاروں (حواریوں) نے بڑی محنتیں کی ہیں تب ان کا دین نشر ہوا ‘ ہمارے حضرت کے پیچھے بھی خلیفوں نے اس سے زیادہ کیا۔ “ مگر اس کے برعکس بائبل (انجیل) بعض مقامات میں اگر ان کی منقبت اور مدح سرائی میں رطب اللسان ہے تو دوسری جانب ان کو بزدل اور منافق ثابت کرتی ہے۔ انجیل یوحنا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشہور و معتمد علیہ حواری یہودا کے متعلق اس وقت کا حال جب حضرت یسوع (علیہ السلام) کو یہودی گرفتار کرنا چاہتے ہیں ‘ اس طرح مذکور ہے : ” یہ باتیں کہہ کر یسوع اپنے دل میں گھبرایا اور یہ گواہی دی کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک شخص مجھے پکڑوائے گا۔ شاگرد شبہ کرکے کہ وہ کس کی نسبت کہتا ہے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اس کے شاگردوں میں سے ایک شخص جس سے یسوع محبت کرتا تھا۔اس نے اسی طرح یسوع کی چھاتی کا سہارا لے کر کہا کہ اے خداوند ! وہ کون ہے ؟ یسوع نے جواب دیا کہ جسے میں نوالہ ڈبو کر دے دوں گا وہی ہے ‘ پھر اس نے نوالہ ڈبو دیا اور لے کر شمعون اسکریوتی کے بیٹے یہوداہ کو دیا اور اس نوالہ کے بعد شیطان اس میں سما گیا۔ “ اور اسی انجیل میں اس شمعون پطرس حواری کے متعلق جو ” بقول اناجیل ساری عمر حضرت یسوع کا پیارا اور معتمد علیہ رہا “ یہ مسطور ہے : ” شمعون پطرس نے اس سے کہا ‘ اے خداوند ! تو کہاں جاتا ہے ‘ یسوع نے جواب دیا کہ جہاں میں جاتا ہوں اب تو تو میرے پیچھے نہیں آسکتا مگر بعد میں میرے پیچھے آئے گا۔ پطرس نے اس سے کہا اے خداوند ! میں تیرے پیچھے اب کیوں نہیں آسکتا ‘میں تو تیرے لیے اپنی جان دوں گا۔ یسوع نے جواب دیا ‘ کیا تو میرے لیے اپنی جان دے گا ؟ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ مرغ بانگ نہ دے گا جب تک تو تین بار میرا انکار نہ کرلے گا۔ “ اور متی کی انجیل میں تمام شاگردوں (حواریوں) کی بزدلی اور حضرت یسوع کو بے یارو مددگار چھوڑ کر فرار ہوجانے کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے : ” اس پر سب شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ “ ان حوالہ جات سے تین ایسی باتیں ثابت ہوتی ہیں جن کو کسی طرح بھی عقل و نقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں ‘ اول یہ کہ جو شاگرد اور حواری حضرت یسوع کے زیادہ قریب ‘ ان کے معتمد علیہ اور ان کی نگاہوں میں محبوب تھے وہ نتیجہ میں نہ صرف بزدل بلکہ ” منافق “نکلے مگر عقل و نقل کا فیصلہ یہ ہے کہ اگرچہ ہر ایک پیغمبر اور مصلح کی جماعت میں ایک چھوٹا سا گروہ منافقین کا عموماً ہوتا ہے جو اپنی دنیوی اغراض کی خاطر بہ کراہت قلب ظاہر داری کے طور پر شریک جماعت ہونا مفید سمجھتا ہے ‘مگر ایک مصلح اور پیغمبر کے درمیان میں ہمیشہ سے یہ فرق رہا ہے کہ مصلح خواہ اپنی جماعت کے منافقین سے پوری طرح آگاہ نہ ہو سکے لیکن نبی اور پیغمبر کو ” وحی الٰہی “ کے ذریعہ شروع ہی سے مخلص اور منافق کی اطلاع دے دی جاتی ہے تاکہ ایک منکر و کافر سے زیادہ جس گروہ سے جماعت حق اور اس کی دعوت و اصلاح کو ضرر پہنچ سکتا ہے ‘ نبی اس کے حالات سے غافل نہ رہے۔ پس اسی بنا پر کوئی منافق کسی وقت اور کسی حالت میں بھی نبی اور پیغمبر کا محبوب ‘ معتمد علیہ اور مقرب نہیں ہو سکتا ‘البتہ یہ ایک جدا امر ہے کہ نبی دین حق کی مصالح کی وجہ سے اس کے ساتھ اعراض اور در گذر کا طریق عمل مناسب سمجھے جیسا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک صحابی کے اس سوال پر کہ ”جب آپ منافقین کے حالات منافقت سے آگاہ ہیں تو ان کا مقابلہ کرکے کیوں ان کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا دیتے تاکہ جماعت مسلمین کو ان کی منافقت سے نجات ملے “ یہ جواب دیا : ”اس لیے کہ ان کے قبول ایمان کی ظاہر داری کے بعد ہمارے سخت گیر طریقہ کے متعلق غیر مسلموں کو یہ دھوکا نہ ہو کہ وہ کہہ اٹھیں ” محمد اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے سے نہیں چوکتے۔ “ دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ یہودا کے اندر شیطان نے اس وقت حلول کیا جب حضرت یسوع نے اپنے ہاتھ سے اس کو نوالہ ڈبو کر دیا مگر یہ بات بھی اس لیے عقل اور نقل کے خلاف ہے کہ بزرگوں اور مقدس انسانوں کے ہاتھوں سے جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر برکت ‘ طہارت اور تقدیس تو ہوا کرتا ہے لیکن شیطان کا حلول اور بدی کا نفوذ نہیں ہوا کرتا ‘ بے شک یہ درست ہے کہ جب حق کا ترازو قائم ہوتا ہے تو اس سے کھرا اور کھوٹا دونوں کی حقیقت کا انکشاف ہوجایا کرتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ اس پیمانہ کے مس کرنے سے کسی کھرے میں کھوٹ پیدا ہوجائے اور انجیل کے اس بیان میں صورت حال پہلی نہیں بلکہ دوسری ہے۔تیسری بات یہ کہ حضرت یسوع کے تمام ان حواریوں میں سے ” جن کی مدح و ستائش میں جگہ جگہ بائبل رطب اللسان ہے “ ایک ‘ دو ‘ یا دس پانچ نہیں سب کے سب نہایت بزدلی اور غداری کے ساتھ اس وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) سے کناہ کش ہو گئے ‘جب دین حق کی حمایت و نصرت کے لیے سب سے زیادہ ان کی ضرورت تھی اور جب کہ پیغمبر خدا (ﷺ ) دشمنوں کے نرغہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ مگر انجیل کی اس شہادت کے خلاف سورة آل عمران میں قرآن عزیز نے یہ شہادت دی ہے کہ اس نازک وقت میں جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو دین حق کی نصرت و یاری کے لیے پکارا تو سب نے اولوالعزمی اور فداکارانہ جذبہ کے ساتھ یہ جواب دیا : ” نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ “ اور پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے سامنے اپنی استقامت دین اور اپنے مخلصانہ ایمان کے متعلق شہادت دے کر نصرت کا پورا پورا یقین دلایا اور پھر سورة صف میں قرآن عزیز نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ان حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو کچھ کہا تھا ان کی موجودگی میں اور ان کے بعد سچی وفاداری کے ساتھ نباہا اور بلاشبہ مومنین صادقین ثابت ہوئے اور اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی مدد فرمائی اور ان کو دشمنان حق کے مقابلہ میں کامیاب کیا۔ انجیل اور قرآن کے اس موازنہ کو دیکھ کر ایک انصاف پسند یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس معاملہ میں ” حق “ قرآن کے ساتھ ہے اور علمائے نصاریٰ نے انجیل میں تحریف کرکے اس قسم کے گھڑے ہوئے واقعات کا اضافہ اس لیے کیا ہے تاکہ صدیوں بعد کے خود ساختہ عقیدہ ” عقیدہ تصلیب مسیح “ سے متعلق یہ داستان صحیح ترتیب پر قائم ہو سکے کہ جب مسیح (علیہ السلام) کو صلیب پر لٹکایا گیا تو انھوں نے یہ کہتے کہتے جان دے دی ” ایلی ایلی لما شبقتنی “ ” اے خدا ! اے خدا ! تونے مجھے کیوں یکہ و تنہا چھوڑ دیا “ اور کسی ایک شخص نے بھی مسیح (علیہ السلام) کا ساتھ نہ دیا۔۔ بہرحال حواریوں سے متعلق بائبل کی تصریحات محرف اور خود ساختہ داستان سرائی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ نزول مائدہ مخلص اور فداکار حواریوں کی جماعت اگرچہ صادق الایمان اور راسخ الاعتقاد تھی مگر علمی و مجلسی تکلّفات گفت و شنید کے لحاظ سے سادہ لوح اور ضروریات زندگی کے سرو سامان کے اعتبار سے غرباء اور ضعفاء کی جماعت تھی۔ اس لیے انھوں نے ازراہ سادگی و سادہ دلی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی جس خدائے برتر میں یہ لامحدود طاقت ہے کہ اس کا ایک نمونہ آپ کی ذات اقدس اور وہ نشان (معجزات) ہیں خدائے تعالیٰ نے جن کو آپ کی تصدیق نبوت و رسالت کے لیے آپ کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا اس خدا میں یہ طاقت بھی ضرور ہوگی کہ وہ ہمارے لیے غیب سے ایک دستر خوان نازل کر دیا کرے تاکہ ہم روزی کمانے کی فکر سے آزاد ہو کر باطمینان قلب یاد خدا اور دین حق کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہا کریں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سن کر ان کو نصیحت فرمائی کہ اگرچہ خدا کی طاقت بے غایت اور بے نہایت ہے لیکن کسی سچے بندہ کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ اس طرح خدا کو آزمائے ‘ پس خدا سے ڈرو اور ایسے خیالات سے بچو ‘ یہ سن کر حواریوں نے جواب دیا ” ہم اور خدا کو آزمائیں ؟ حاشا ہمارا تو یہ مقصد نہیں ‘ ہمارا تو یہ مطلب ہے کہ رزق کی جدوجہد سے دل کو مطمئن کرکے خدا کے اس عطیہ کو زندگی کا سہارا بنالیں اور آپ کی تصدیق میں ہم کو حق الیقین کا اعتقاد راسخ حاصل ہوجائے اور ہم اس کی خدائی پر کائنات انسانی کے لیے شاہد عدل بن جائیں۔ “حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب انکا بڑھتا ہوا اصرار دیکھا تو بارگاہ الٰہی میں دعا کی ” اے خدا ! تو ان کے سوال کو پورا کر اور آسمان سے ایسا مائدہ (دستر خوان نعمت) نازل فرما کہ وہ ہمارے لیے تیرے غضب کا مظہر ثابت نہ ہو بلکہ ہمارے اول و آخر سب کے لیے خوشی کی یادگار (عید) بن جائے اور تیرا ” نشان “ کہلائے اور اس ذریعہ سے ہم کو اپنے غیبی رزق سے شاد کام کرے کیونکہ تو ہی بہتر رزق رساں ہے “ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی : ” عیسیٰ تمھاری دعا قبول ہے ‘ میں اس کو ضرور نازل کروں گا لیکن یہ واضح رہے کہ اس کھلی نشانی کے نازل ہونے کے بعد اگر ان میں سے کسی نے بھی خدا کے حکم کی خلاف روزی کی تو پھر ان کو عذاب بھی ایسا ہولناک دوں گا جو کائنات کے کسی انسان کو نہیں دیا جائے گا۔ “ قرآن عزیز نے نزول مائدہ کے واقعہ کا اس معجزانہ اسلوب بیان کے ساتھ ذکر کیا ہے : { اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْکُلَ مِنْھَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ۔ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۔ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَاِنِّیْٓ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُہٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ } ” اور (دیکھو) جب ایسا ہوا تھا کہ حواریوں نے کہا تھا ” اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمھارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ آسمان سے ہم پر ایک خوان اتار دے ؟ “ (یعنی ہماری غذا کے لیے آسمان سے غیبی سامان کر دے) عیسیٰ نے کہا ” خدا سے ڈرو (اور ایسی فرمائشیں نہ کرو) اگر تم ایمان رکھتے ہو “ انھوں نے کہا ”(مقصود اس سے قدرت الٰہی کا امتحان نہیں ہے بلکہ) ہم چاہتے ہیں کہ (ہمیں غذا میسر آئے تو) اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل آرام پائیں اور ہم جان لیں کہ تونے ہمیں سچ بتایا تھا اور اس پر ہم گواہ ہوجائیں۔ “ اس پر عیسیٰ بن مریم نے دعا کی ” اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے ایک خوان بھیج دے کہ اس کا آنا ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں سب کے لیے عید قرار پائے اور تیری طرف سے (فضل و کرم کی) ایک نشانی ہو۔ ہمیں روزی دے تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے “ اللہ نے فرمایا ” میں تمھارے لیے خوان بھیجوں گا ‘ لیکن جو شخص اس کے بعد بھی (راہ حق سے) انکار کرے گا تو میں (پاداش عمل میں) عذاب دوں گا ‘ایسا عذاب کہ تمام دنیا میں کسی آدمی کو بھی ویسا عذاب نہیں دیا جائے گا۔ “ یہ مائدہ نازل ہوا یا نہیں ؟ قرآن عزیز نے اس کے متعلق کوئی تفصیل نہیں بیان کی اور نہ کسی مرفوع حدیث میں اس کا کوئی تذکرہ پایا جاتا ہے ‘ البتہ آثار صحابہ وتابعین میں ضرور تفصیلات مذکور ہیں۔ مجاہد اور حسن بصری (; ) فرماتے ہیں کہ مائدہ کا نزول نہیں ہوا ‘ اس لیے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے نزول کو جس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا طلب کرنے والوں نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ انسان ضعیف البنیان اور کمزوریوں کا مجسمہ ہے ‘کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی لغزش یا معمولی خلاف ورزی کی بدولت اس درد ناک عذاب کے سزا وار ٹھہریں اپنے سوال کو واپس لے لیا۔ علاوہ ازیں اگر مائدہ کا نزول ہوا ہوتا تو وہ ایسا نشان الٰہی (معجزہ) تھا کہ نصاریٰ اس پر جس قدر بھی فخر کرتے وہ کم تھا اور ان کے یہاں اس کی جس قدر بھی شہرت ہوتی وہ بے جا نہیں ہوتی تاہم ان کے یہاں اس نزول مائدہ کا اس طرح کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا۔ 1 ) اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عمار بن یاسر (رض) سے منقول ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا اور مائدہ کا نزول ہوا ‘ جمہور کا رجحان اسی جانب ہے۔ البتہ اس کے نزول کی تفصیلات میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔مثلاً صرف ایک دن نازل ہوا یا چالیس روز تک نازل ہوتا رہا ؟ اور پھر اترنا بند ہو گیا تو کیوں ؟ اور صرف یہی ہوا کہ نازل نہ ہوا ‘ یا جن لوگوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے بند ہوا ‘ ان پر سخت قسم کا عذاب بھی آپہنچا ؟ جو نقول یہ کہتی ہیں کہ مائدہ کا نزول صرف ایک دن نہیں بلکہ چالیس دن تک برابر جاری رہا ‘وہ بند ہونے کا سبب یہ بیان کرتی ہیں کہ نزول مائدہ پر حکم یہ ہوا کہ اس کو فقیر ‘ مسکین اور مریض ہی کھائیں ‘ تونگر اور بھلے چنگے نہ کھائیں ‘ مگر چند روز تعمیل کے بعد لوگوں نے آہستہ آہستہ اس کی خلاف ورزی شروع کردی ‘یا یہ حکم ملا تھا کہ اس کو کھائیں سب مگر اگلے روز کے لیے ذخیرہ نہ کریں ‘ مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کی خلاف ورزی ہونے لگی اور نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف مائدہ کا نزول ہی بند ہو گیا بلکہ خلاف ورزی کرنیوالے خنزیر اور بندر کی شکل میں مسخ کر دیے گئے۔ 2( نزول مائدہ کا سوال اگرچہ کیا تھا حواریوں نے ‘ مگر کیا تھا سب کی جانب سے۔ اس لیے یہ واضح رہے کہ جن نقول میں خلاف ورزی اور اس سے متعلق عذاب کا ذکر ہے ان کا اشارہ حواریوں میں سے کسی کی جانب مطلق نہیں ہے کیونکہ یہ بات نصوص قرآنی کے خلاف ہے۔) بہرحال ان آثار میں جو قدر مشترک ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمالی تو مشیت باری کا یہ حکم ہوا کہ مائدہ تیار ہو چنانچہ لوگوں کی آنکھوں دیکھتے خدا کے فرشتے فضائے آسمانی سے اس کو لے کر اترے ‘ادھر فرشتے آہستہ آہستہ اس کو لیے ہوئے اتر رہے تھے اور ادھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ درگاہ الٰہی میں دست بدعا تھے کہ مائدہ آپہنچا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اول دو رکعت نماز شکر ادا کی اور پھر مائدہ (خوان) کو کھولا تو اس میں تلی ہوئی مچھلیاں اور ترو تازہ پھل اور روٹیاں موجود پائیں اور خوان کھولتے ہی ایسی نفیس خوشبو نکلی کہ اس کی مہک نے سب کو مست کر دیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھائیں ‘ مگر لوگوں نے اصرار کیا کہ ابتدا آپ کریں ‘آپ نے ارشاد فرمایا ‘ یہ میرے لیے نہیں ہے ‘ تمھاری طلب پر نازل ہوا ہے ‘یہ سن کر سب گھبرائے کہ نہ معلوم اس کا نتیجہ کیا ہو کہ خدا کا رسول تو نہ کھائے اور ہم کھائیں آپ نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا :اچھا فقراء ‘ مساکین ‘ معذورین اور مریضوں کو بلاؤ یہ ان کا حق ہے ‘ تب ہزارہا بندگان خدا نے شکم سیر ہو کر کھایا ‘ مگر مائدہ کی مقدار میں کوئی فرق نہیں آیا۔ 1(یہ واقعات بڑی تفصیل کے ساتھ تمام کتب تفسیر میں موجود ہیں۔ ) اس مسئلہ میں حضرت شاہ عبد القادر نور اللہ مرقدہ مجاہد اور حسن بصری ; کے ہم نوا معلوم ہوتے ہیں اور نزول مائدہ سے متعلق ان دونوں جماعتوں سے الگ ایک اور لطیف بات ارشاد فرماتے ہیں۔ موضح القرآن میں ہے : ” ھَلْ یَسْتَطِیْعُ “ ” ہو سکے “یہ معنی کہ ہمارے واسطے تمھاری دعا سے اس قدر خرق عادات کرے یا نہ کرے فرمایا کہ اِتَّقُوا اللّٰہَ ” ڈرو اللہ سے “ یعنی بندہ کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزمائے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں اگرچہ خداوند (آقا ومالک) بہتیری مہربانی کرے { وَنَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ } یعنی برکت کی امید پر مانگتے ہیں اور (تاکہ) معجزہ ہمیشہ مشہور رہے ‘ آزمانے کو نہیں کہتے ہیں۔ وہ خوان اترا چالیس روز تک پھر بعضوں نے ناشکری کی یعنی حکم ہوا تھا کہ فقیر اور مریض کھاویں محظوظ (تونگر) اور چنگے بھی لگے کھانے پھر قریب اسی آدمی سور اور بندر ہو گئے (مگر)یہ عذاب پہلے یہود میں ہوا تھا پیچھے کسی کو نہیں ہوا۔2 (شاہ صاحب کا مسلک یہ ہے کہ واقعہ مسخ صحیح نہیں ہے۔) اور بعضے کہتے ہیں (مائدہ) نہ اترا ‘ تہدید سن کر مانگنے والے ڈر گئے نہ مانگا ‘ لیکن پیغمبر کی دعا عبث نہیں اور اس کلام (قرآن) میں نقل کرنا بے حکمت نہیں ‘شاید اس دعا کا اثر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت (نصاریٰ ) میں آسودگی مال سے ہمیشہ رہی (فَمَنْ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ ) اور جو کوئی ان میں ناشکری کرے یعنی دل کے چین سے عبادت میں نہ لگے بلکہ گناہ میں خرچ کرے تو شاید آخرت میں سب سے زیادہ عذاب پاوے۔ اس میں مسلمان کو عبرت ہے کہ اپنا مدعا خرق عادت کی راہ سے نہ چاہے پھر اس کی شکر گزاری بہت مشکل ہے ‘ اسباب ظاہری پر قناعت کرے تو بہتر ہے اس قصہ میں بھی ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ کے آگے حمایت پیش نہیں جاتی۔ “ اس سلسلہ میں حضرت عمار بن یاسر ؓ نے موعظت و بصیرت سے متعلق بہت خوب بات ارشاد فرمائی ہے : ” عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے نزول مائدہ کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جواب ملا : تمھاری درخواست اس شرط کے ساتھ منظور کی جاتی ہے کہ نہ اس میں خیانت کرنا نہ اس کو چھپائے رکھنا اور نہ اس کو ذخیرہ کرنا ورنہ یہ بند کر دیا جائے گا اور تم کو ایسا عبرت ناک عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا جائے گا۔ “ ” اے معشر عرب ! تم اپنی حالت پر غور کرو کہ اونٹوں اور بکریوں کی دم پکڑ کر جنگلوں میں چراتے پھرتے تھے ‘ پھر خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمھارے درمیان میں ہی سے ایک ایسا برگزیدہ رسول مبعوث فرمایا ‘ جس کے حسب و نسب سے تم اچھی طرح واقف ہو ‘اس نے تم کو یہ خبر دی کہ عنقریب تم عجم پر غالب آ جاؤ گے اور اس پر چھا جاؤ گے۔ اور اس نے تم کو سختی کے ساتھ منع فرمایا کہ مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر ہرگز تم چاندی اور سونے کے خزانے جمع نہ کرنا مگر قسم بخدا کہ زیادہ لیل و نہار نہ گزریں گے کہ تم ضرور سونے چاندی کے خزانے جمع کرو گے اور اس طرح خدائے برتر کے درد ناک عذاب کے مستحق بنو گے۔ “ ” رفع الی السماء “ یعنی زندہ آسمان پر اٹھا لیا جانا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نہ شادی کی اور نہ بود و ماند کے لیے گھر بنایا۔ وہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں خدا کا پیغام سناتے اور دین حق کی دعوت و تبلیغ کا فرض انجام دیتے اور جہاں بھی رات آپہنچتی وہیں کسی سر و سامان راحت کے بغیر شب بسر کردیتے تھے۔ اور چونکہ ان کی ذات اقدس سے مخلوق خدا جسمانی و روحانی دونوں طرح کی شفا اور تسکین پاتی تھی ‘ اس لیے جس جانب بھی ان کا گذر ہوجاتا خلقت کا انبوہ حسن عقیدت کے ساتھ جمع ہوجاتا اور والہانہ محبت کے ساتھ ان پر نثار ہوجانے کو تیار رہتا تھا۔یہود کو اس دعوت حق کے ساتھ جو بغض وعناد تھا ‘ اس نے اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کو انتہائی حسد اور سخت خطرہ کی نگاہ سے دیکھا اور جب ان کے مسخ شدہ قلوب کسی طرح اس کو برداشت نہ کرسکے تو ان کے سرداروں ‘ فقیہوں ‘فریسیوں اور صدوقیوں نے ذات اقدس کے خلاف سازش شروع کی اور طے یہ پایا کہ اس ہستی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی بجز اس کے کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ بادشاہ وقت کو مشتعل کرکے اس کو دار پر چڑھا دیا جائے۔ گذشتہ چند صدیوں سے یہود کے ناگفتہ بہ حالات کی بدولت اس زمانہ میں یہودیہ کے بادشاہ ہیرودیس کی حکومت اپنے باپ دادا کے علاقہ میں بمشکل ایک چوتھائی پر قائم تھی۔ اور وہ بھی برائے نام اور اصل حکومت و اقتدار وقت کے بت پرست شہنشاہ قیصر روم کو حاصل تھا اور اس کی نیابت میں پیلاطس یہودیہ کے اکثر علاقہ کا گورنر یا بادشاہ تھا۔ یہود اگرچہ اس بت پرست بادشاہ کے اقتدار کو اپنی بدبختی سمجھ کر اس سے متنفر تھے۔ مگر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے خلاف قلوب میں مشتعل حسد کی آگ نے اور صدیوں کی غلامی سے پیدا شدہ پست ذہنیت نے ایسا اندھا کر دیا کہ انجام اور نتیجہ کی فکر سے بے پروا ہو کر پیلاطس کے دربار میں جا پہنچے اور عرض کیا : ” عالی جاہ ! یہ شخص نہ صرف ہمارے لیے بلکہ حکومت کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے ‘ اگر فوراً ہی اس کا استیصال نہ کر دیا گیا تو نہ ہمارا دین ہی صحیح حالت میں باقی رہ سکے گا اور اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کے ہاتھ سے حکومت کا اقتدار بھی نہ چلا جائے۔ اس لیے کہ اس شخص نے عجیب و غریب شعبدے دکھا کر خلقت کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اور ہر وقت اس گھات میں لگا ہے کہ عوام کی اس طاقت کے بل پر قیصر اور آپ کو شکست دے کر خود بنی اسرائیل کا بادشاہ بن جائے۔ اس شخص نے لوگوں کو صرف دنیوی راہ سے ہی گمراہ نہیں کیا بلکہ اس نے ہمارے دین تک کو بھی بدل ڈالا اور لوگوں کو بد دین بنانے میں منہمک ہے۔ پس اس فتنہ کا انسداد از بس ضروری ہے تاکہ بڑھتا ہوا یہ فتنہ ابتدائی منزل ہی میں کچل ڈالا جائے۔ “ غرض کافی گفت و شنید کے بعد پیلاطس نے ان کو اجازت دے دی کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کر لیں اور شاہی دربار میں مجرم کی حیثیت سے پیش کریں ‘ بنی اسرائیل کے سردار اور فقیہ اور کاہن یہ فرمان حاصل کرکے بے حد مسرور ہوئے اور فخر ومباہات کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے کہ آخر ہماری سازش کارگر ہوئی اور ہماری تدبیر کا تیر ٹھیک نشانہ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگے کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خاص موقع کا منتظر رہا جائے اور کسی خلوت اور تنہائی کے موقع پر اس طرح اس کو گرفتار کیا جائے کہ عوام میں ہیجان نہ ہونے پائے۔ انجیل یوحنا میں اس واقعہ سے متعلق یہ کہا گیا ہے :” پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدر عدالت کے لوگوں کو جمع کرکے کہا ہم کرتے کیا ہیں ؟ یہ آدمی تو بہت معجزے دکھاتا ہے۔ اگر ہم اسے یونہی چھوڑ دیں تو سب اس پر ایمان لے آئیں گے اور رومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے اور ان میں سے کا ئفانام ایک شخص نے جو اس سال سردار کاہن تھا ‘ ان سے کہا تم کچھ نہیں جانتے اور نہ سوچتے ہو کہ تمھارے لیے یہی بہتر ہے کہ ایک آدمی امت کے واسطے مرے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔ “ یہ اس مشورہ کا تذکرہ ہے جو بادشاہ کے پاس جانے سے قبل آپس میں ہوا اور یہ خطرہ ظاہر کیا گیا کہ اگر اس ہستی کو یونہی چھوڑدیا گیا تو بادشاہ وقت (قیصر) کہیں سلطنت کے لیے خطرہ سمجھ کر رہی سہی برائے نام حکومت یہود کا بھی خاتمہ نہ کر دے۔ اور مرقس کی انجیل میں ہے :” دو دن کے بعد فصح اور عید فطیر ہونے والی تھی اور سردار کاہن اور فقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اسے کیونکر فریب سے پکڑ کر قتل کریں کیونکہ کہتے تھے کہ عید میں کہیں ایسا نہ ہو کہ بلوہ ہوجائے۔ “ دوسری جانب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواریوں کے مکالمہ کو سورة آل عمران اور سورة صف کے حوالہ سے نقل کیا جا چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہود کے کفر و انکار اور معاندانہ ریشہ دوانیوں کو محسوس کیا تو ایک جگہ اپنے حواریوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں اور کاہنوں کی معاندانہ سرگرمیاں تم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب وقت کی نزاکت اور کڑی آزمائش و امتحان کی گھڑی کی قربت تقاضا کرتی ہے کہ میں تم سے سوال کروں کہ تم میں کون وہ افراد ہیں جو اس کفر و انکار کے سیلاب کے سامنے سینہ سپر ہو کر خدا کے دین کے ناصر و مددگار بنیں گے۔حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ارشاد مبارک سن کر سب نے بڑے جوش و خروش اور صداقت ایمانی کے ساتھ جواب دیا ” ہم ہیں اللہ کے مددگار ‘ خدائے واحد کے پرستار ‘ آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم وفا شعار ہیں اور درگاہ باری میں اپنی اس اطاعت کوشی پر استقامت کے لیے یوں دست بدعا ہیں ‘ اے پروردگار ! ہم تیری اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لے آئے اور صدق دل کے ساتھ تیرے پیغمبر کے پیرو ہیں۔ خدایا ! تو ہم کو صداقت و حقانیت کے فدا کاروں کی فہرست میں لکھ لے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے فریضہ دعوت و تبلیغ کے خلاف یہود بنی اسرائیل کی مخالفانہ سرگرمیوں سے متعلق حالات کا یہ حصہ تو اکثر و بیشتر ایسا ہے کہ قرآن اور انجیل کے درمیان میں اصولاً اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے مابعد کے پورے حصہ بیان میں دونوں کی قطعاً جدا جدا راہیں ہیں اور ان کے درمیان میں اس درجہ تضاد ہے کہ کسی طرح بھی ایک کو دوسری راہ کے قریب نہیں لایا جا سکتا۔ البتہ اس جگہ پہنچ کر یہود اور نصاریٰ دونوں کا باہمی اتحاد ہوجاتا ہے اور دونوں کے بیانات واقعہ سے متعلق ایک ہی عقیدہ پیش کرتے ہیں ‘فرق ہے تو یہ کہ یہود اس واقعہ کو اپنا کارنامہ اور اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں اور نصاریٰ اس کو یہود بنی اسرائیل کی ایک قابل لعنت جدوجہد یقین کرتے ہیں۔ یہود اور نصاریٰ دونوں کا مشترک بیان یہ ہے کہ یہود کے سرداروں اور کاہنوں کو یہ اطلاع ملی کہ اس وقت یسوع (علیہ السلام) لوگوں کی بھیڑ سے الگ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک بند مکان میں موجود ہیں ‘ یہ موقع بہترین ہے ‘ اس کو ہاتھ سے نہ جانے دیجئے۔ فوراً ہی یہ لوگ موقع پر پہنچ گئے اور چاروں طرف سے مکان کا محاصرہ کرکے یسوع (علیہ السلام) کو گرفتار کر لیا اور توہین و تذلیل کرتے ہوئے پیلاطس کے دربار میں لے گئے تاکہ وہ ان کو سولی پر لٹکائے اور اگرچہ پیلاطس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بے قصور سمجھ کر چھوڑ دینا چاہا ‘ مگر بنی اسرائیل کے اشتعال پر مجبوراً سپاہیوں کے حوالہ کر دیا۔ سپاہیوں نے ان کو کانٹوں کا تاج پہنایا ‘ منہ پر تھوکا ‘ کوڑے لگائے اور ہر طرح کی توہین و تذلیل کرنے کے بعد مجرموں کی طرح سولی پر لٹکا دیا اور دونوں ہاتھوں میں میخیں ٹھونک دیں ‘ سینہ کو برچھی کی انی سے چھید دیا اور اس کسمپرسی کی حالت میں انھوں نے یہ کہتے ہوئے جان دے دی ” ایلی ایلی لما شبقتنی “ انجیل متی میں اس واقعہ کی تفصیلات کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے : ” سردار کاہن نے اس سے کہا : میں تجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔ یسوع نے اس سے کہا : تونے خود کہہ دیا بلکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس کے بعد تم ابن آدم کو قادر مطلق کی داہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے اس پر سردار کاہن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے۔ اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی۔ دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے تمھاری کیا رائے ہے۔ انھوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائق ہے اس پر انھوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مکہ مارے اور بعض نے طمانچے مار کے کہا : اے مسیح ہمیں نبوت سے بتا کہ کس نے تجھے مارا۔۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اسے مار ڈالیں اور اسے باندھ کرلے گئے اور پیلاطس حاکم کے حوالہ کیا۔ اور حاکم کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں (بنی اسرائیل) کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اس وقت برابا نام ان کا ایک مشہور قیدی تھا۔ پس جب وہ اکٹھے ہوئے تو پیلاطیس نے ان سے کہا تم کسے چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر چھوڑ دوں ؟ برابا کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے ؟۔وہ بولے برابا کو ‘ پیلاطس نے ان سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے ‘ کیا کروں ‘ سب نے کہا اس کو صلیب دی جائے۔ اس نے کہا کہ کیوں ؟ اس نے کیا برائی کی ہے ؟ مگر وہ اور بھی چلا چلا کر بولے کہ اس کو صلیب دی جائے۔ جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا الٹا بلوہ ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا : ” میں اس راست باز کے خون سے بری ہوں تم جانو۔ “ سب لوگوں نے جواب دے کر کہا کہ ” اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر “ اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالے کیا تاکہ صلیب دی جائے۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اس کے گرد جمع کی اور اس کے کپڑے اتار کر اسے قرمزی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے داہنے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک اسے ٹھٹھوں میں اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ آداب ! اور اس پر تھوکا اور وہی سرکنڈا لے کر اس کے سر پر مارنے لگے اور جب اس کا ٹھٹھا کرچکے تو چوغے کو اس پر سے اتار کر پھر اس کے کپڑے اسے پہنائے اور صلیب دینے کو لے گئے۔ اس وقت اس کے ساتھ دو ڈاکو صلیب پر چڑھائے گئے۔ ایک داہنے اور ایک بائیں اور راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کر اس کو لعن طعن کرتے اور کہتے تھے اے مقدس کے ڈھانے والے اور تین دن میں بنانے والے ! اپنے تئیں بچا۔ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ۔اسی طرح سردار کاہن بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ مل کر ٹھٹھے کے ساتھ کہتے تھے ” اس نے اوروں کو بچایا اپنے تئیں نہیں بچا سکتا۔۔۔“ اور دوپہر سے لے کر تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھایا رہا اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا : ” ایلی ایلی لما شبقتنی “ (اے میرے خدا ! اے میرے خدا تونے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا) جو وہاں کھڑے تھے ان میں سے بعض نے سن کر کہا ‘ یہ ایلیاہ کو پکارتا ہے۔ یسوع پھر بڑی آواز سے چلایا اور جان دے دی۔ “ تفصیلات میں کم و بیش فرق کے ساتھ یہی مفروضہ داستان باقی تینوں انجیلوں میں بھی مذکور ہے۔ چاروں انجیلوں کی اس متفقہ مگر مفروضہ داستان کو مطالعہ کرنے کے بعد طبیعت پر قدرتی اثر یہ پڑتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی موت انتہائی بے کسی اور بے بسی کی حالت میں درد ناک طریقہ سے ہوئی اور اگرچہ خدا کے پاک اور مقدس بندوں کے لیے یہ کوئی اچن بھی بات نہ تھی بلکہ مقربین بارگاہ صمدی کے لیے اس قسم کی کڑی آزمائشوں کا مظاہرہ اکثر ہوتا رہا ہے لیکن اس واقعہ کا یہ پہلو اس کے مفروضہ اور گھڑے ہوئے ہونے پر روز روشن کی طرح شاہد ہے کہ حضرت یسوع نے ایک اولوالعزم پیغمبر بلکہ مرد صالح کی طرح اس واقعہ کو صبر و رضائے الٰہی کے ساتھ انگیز نہیں کیا بلکہ ایک انتہائی مایوس انسان کی طرح خدا سے شکوہ کرتے کرتے جان دے دی۔ ” ایلی ایلی لما شبقتنی “ کہتے ہوئے جان دے دینا مایوسی اور شکوہ کی وہ صورت حال ہے جو کسی طرح بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے شایان شان نہیں کہی جا سکتی۔پھر اس واقعہ کا یہ پہلو بھی کم حیرت زا نہیں ہے کہ بقول انجیل کے یسوع مسیح نے اس حادثہ سے قبل تین مرتبہ خدائے تعالیٰ سے یہ درخواست کی ” اے میرے باپ ! اگر ہو سکے تو یہ (موت کا) پیالہ مجھ سے ٹل جائے “ ۔ اور جب یہ درخواست کسی طرح قبول نہ ہوئی تو مایوس ہو کر یہ کہنا پڑا ” اگر یہ میرے پیئے بغیر نہیں ٹل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو۔ “ باعث حیرت یہ بات ہے کہ جبکہ ” عقیدہ کفارہ “ کے مطابق حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ معاملہ خدا اور اس کے بیٹے (العیاذ باللّٰہ) کے درمیان میں طے شدہ تھا تو پھر اس درخواست کے کیا معنی اور اگر لوازم بشریت کی بنا پر تھا تو خدا کی مرضی معلوم ہوجانے اور اس پر قناعت کرلینے کے بعد پھر یہ بے صبر اور مایوس انسانوں کی طرح جان دینے کا کیا سبب ؟ یہود کی گھڑی ہوئی اس داستان کو چونکہ نصاریٰ نے قبول کر لیا تو یہود ازراہ فخر و غرور اس پر بے حد مسرور ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیح ناصری اگر ” مسیح موعود “ ہوتا تو خدائے تعالیٰ اس بے بسی اور بے کسی کے ساتھ اس کو ہمارے ہاتھ میں نہ دیتا کہ وہ مرتے وقت تک خدا سے شکوہ کرتا رہا کہ اس کو بچائے مگر خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی۔ حالانکہ ہمارے باپ دادا اس وقت بھی کافی اشتعال دیتے رہے کہ اگر تو حقیقتاً خدا کا بیٹا اور ” مسیح موعود “ ہے تو کیوں تجھ کو خدا نے ہمارے ہاتھوں اس ذلت سے نہ بچایا۔ واقعہ یہ ہے کہ نصاریٰ کے پاس جب کہ اس چبھتے ہوئے الزام کا کوئی جواب نہیں تھا اور واقعہ کی ان تفصیلات کو مان لینے کے بعد ” عقیدہ کفارہ “ کی کوئی قیمت باقی نہیں رہ جاتی تھی ‘ تب انھوں نے واقعہ کی ان تفصیلات کے بعد ایک پارہ بیان کا اور اضافہ کیا۔ یوحنا کی انجیل میں ہے :” لیکن جب انھوں نے یسوع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مرچکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑ دیں مگر ان میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی بہہ نکلا۔ ان باتوں کے بعد ارمتیہ کے رہنے والے یوسف نے جو یسوع کا شاگرد تھا یہودیوں کے خوف سے خفیہ طور پر پیلاطس سے اجازت چاہی کہ یسوع کی لاش لے جائے۔ پیلاطس نے اجازت دے دی۔ پس وہ آ کر اس کی لاش لے گیا اور نیکدیمس بھی آیا جو پہلے یسوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مر اور عود ملا ہوا لایا۔ پس انھوں نے یسوع کی لاش لے کر اسے سوتی کپڑے میں خوشبو دار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے اور جس جگہ اسے صلیب دی گئی ‘ وہاں ایک باغ تھا اور اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا۔پس انھوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث یسوع کو وہیں رکھ دیا کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی۔ ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا ‘ قبر پر آئی اور پتھر کو قبر سے ہٹا ہوا دیکھا پس وہ شمعون پطرس اور اس کے دوسرے شاگرد کے پاس جسے یسوع عزیز رکھتا تھا دوڑی ہوئی گئی اور ان سے کہا کہ خداوند کو قبر سے نکال لے گئے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اسے کہاں رکھ دیا۔ لیکن مریم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جھک کے اندر نظر کی تو دو فرشتوں کو سپید پوشاک پہنے ہوئے ایک کو سرہانے اور دوسرے کو پائینتی بیٹھے ہوئے دیکھا جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی۔انھوں نے اس سے کہا اے عورت ! تو کیوں روتی ہے ؟ اس نے ان سے کہا اس لیے کہ میرے خداوند کو اٹھالے گئے ہیں اور معلوم نہیں کہ اسے کہاں رکھا ہے یہ کہہ کر وہ پیچھے پھری اور یسوع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یسوع ہے۔ یسوع نے اس سے کہا اے عورت ! تو کیوں روتی اور کس کو ڈھونڈتی ہے۔ اس نے باغبان سمجھ کر اس سے کہا : میاں اگر تو نے اس کو یہاں سے اٹھایا ہو تو مجھے بتادے کہ اسے کہاں رکھا ہے تاکہ میں اسے لے جاؤں۔ یسوع نے اس سے کہا : ” مریم ! “ وہ پھر کر اس سے عبرانی زبان میں بولی ” ربونی “ یعنی ”اے استاد ! “ یسوع نے اس سے کہا مجھے نہ چھو ‘ کیونکہ میں اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جا کر ان سے کہو کہ میں اپنے باپ اور تمھارے باپ اور اپنے خدا اور تمھارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں ‘ مریم مگدلینی نے آ کر شاگردوں کو خبر دی کہ میں نے خداوند کو دیکھا اور اس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں۔پھر اسی دن جو ہفتہ کا پہلا دن تھا ‘ شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگرد تھے یہودیوں کے ڈر سے بند تھے ‘ یسوع آ کر بیچ میں کھڑا ہوا اور ان سے کہا کہ تمھاری سلامتی ہو اور یہ کہہ کر اس نے اپنے ہاتھ اور پسلی انھیں دکھائی۔ پس شاگرد خداوند کو دیکھ کر خوش ہوئے یسوع نے پھر ان سے کہا کہ تمھاری سلامتی ہو جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے اسی طرح میں بھی تمھیں بھیجتا ہوں اور یہ کہہ کر ان پر پھونکا اور ان سے کہا ” روح القدس “ لو۔ “ ہر ایک شخص معمولی غور و فکر کے بعد بہ سہولت سمجھ سکتا ہے کہ یہ پارہ بیان پہلے حصہ بیان کے ساتھ غیر مربوط اور قطعاً بے جوڑ ہے بلکہ یہ اندازہ لگانا ہی مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ دونوں تفصیلات ایک ہی شخص سے وابستہ ہیں کیونکہ پہلا پارہ بیان ایک ایسی شخصیت کا مرقع ہے جو بے بس و بے کس مایوس اور خدا سے شاکی نظر آتی ہے اور دوسرا حصہ بیان ایسی ہستی کا رخ روشن پیش کرتی ہے جو خدائی صفات سے متصف ‘ ذات باری کی مقرب اور پیش آمدہ واقعات سے مطمئن و مسرور ہے بلکہ ان کے وقوع کی متمنی اور ان کو اپنے اداء فرض کا ایک اہم جزو سمجھتی ہے۔ ع ببیں تفاوت رہ از کجا ست تا بکجا بہرحال حقیقت چونکہ دوسری تھی اور ایک عرصہ دراز کے بعد ” عقیدہ کفارہ “ کی بدعت نے نصاریٰ کو اس کے خلاف اس گھڑے ہوئے افسانہ کی تصنیف پر مجبور کر دیا اس لیے قرآن عزیز نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) سے متعلق دوسرے گوشوں کی طرح اس گوشہ سے بھی جہالت و تاریکی کا پردہ ہٹا کر حقیقت حال کے رخ روشن کو جلوہ آرا کرنا ضروری سمجھا اور اس نے اپنا وہ فرض انجام دیا جس کو مذاہب عالم کی تاریخ میں قرآن کی دعوت تجدید و اصلاح کہا جاتا ہے۔ اس نے بتایا جس زمانہ میں بنی اسرائیل پیغمبر حق اور رسول خدا (عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ) کے خلاف خفیہ تدبیروں اور سازشوں میں مصروف اور ان پر نازاں تھے ‘ اسی زمانہ میں خدائے برتر کے قانون قضا و قدر نے یہ فیصلہ نافذ کر دیا کہ کوئی طاقت اور مخالف قوت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام پر قابو نہیں پاسکتی اور ہماری محکم تدبیر اس کو دشمنوں کے ہر ” مکر “ سے محفوظ رکھے گی اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب بنی اسرائیل نے ان پر نرغہ کیا تو ان کو پیغمبر خدا پر کسی طرح دسترس حاصل نہ ہو سکی اور ان کو بحفاظت تمام اٹھا لیا گیا اور جب بنی اسرائیل مکان میں گھسے تو صورت حال ان پر مشتبہ ہو گئی اور وہ ذلت اور رسوائی کے ساتھ اپنے مقصد میں ناکام رہے اور اس طرح خدا نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا جو عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کی حفاظت کے لیے کیا گیا تھا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ محسوس فرمایا کہ اب بنی اسرائیل کے کفر و انکار کی سرگرمیاں اس درجہ بڑھ گئی ہیں کہ وہ میری توہین و تذلیل بلکہ قتل کے لیے سرگرم سازش ہیں تو انھوں نے خاص طور سے ایک مکان میں اپنے حواریوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے صورت حال کا نقشہ پیش فرما کر ارشاد فرمایا : ” امتحان کی گھڑی سر پر ہے ‘کڑی آزمائش کا وقت ہے ‘ حق کو مٹانے کی سازشیں پورے شباب پر ہیں ‘ اب میں تمھارے درمیان میں زیادہ نہیں رہوں گا۔ اس لیے میرے بعد دین حق پر استقامت ‘اس کی نشر و اشاعت اور یاوری و نصرت کا معاملہ صرف تمھارے ساتھ وابستہ ہوجانے والا ہے۔ اس لیے مجھے بتاؤ کہ خدا کی راہ میں سچا مددگار کون کون ہے۔ “ حواریوں نے یہ کلام حق سن کر کہا : ” ہم سبھی خدا کے دین کے مددگار ہیں ‘ ہم سچے دل سے خدا پر ایمان لائے ہیں اور اپنی صداقت ایمانی کا آپ ہی کو گواہ بناتے ہیں اور یہ کہنے کے بعد انسانی کمزوریوں کے پیش نظر اپنے دعویٰ پر ہی بات ختم نہیں کردی بلکہ درگاہ الٰہی میں دست بدعا ہو گئے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں تو اس پر ہم کو استقامت عطا فرما اور ہم کو اپنے دین کے مددگاروں کی فہرست میں لکھ لے۔ اس جانب سے مطمئن ہو کر اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے فریضہ دعوت و ارشاد کے ساتھ ساتھ منتظر رہے کہ دیکھیے معاندین کی سرگرمیاں کیا رخ اختیار کرتی ہیں اور خدائے برحق کا فیصلہ کیا صادر ہوتا ہے ؟اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں قرآن عزیز کے ذریعہ یہود و نصاریٰ کے ظنون و اوہام فاسدہ کے خلاف ” علم الیقین کی روشنی “ بخشتے ہوئے یہ بھی بتایا جس وقت معاندین اپنی خفیہ تدبیروں میں سرگرم عمل تھے۔اسی وقت ہم نے بھی اپنی قدرت کاملہ کی مخفی تدبیر کے ذریعہ یہ فیصلہ کر لیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے متعلق معاندین حق کی تدبیر کا کوئی گوشہ بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی پوشیدہ تدابیر کے مقابلہ میں کسی کی پیش نہیں جاسکے گی۔ اس لیے کہ اس کی تدبیر سے بہتر کوئی تدبیر ہو ہی نہیں سکتی : { وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ } ” اور انھوں نے (یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے (یہود کے مکر کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کا مالک ہے۔ “ لغت عرب میں ” مکر “ کے معنی خفیہ تدبیر (اور دھوکا کرنے) کے ہیں اور علم معانی کے قاعدہ ” مشاکلہ “ کے مطابق جب کوئی شخص کسی کے جواب یا دفاع (DEFENCE ) میں خفیہ تدبیر کرتا ہے تو وہ اخلاق اور مذہب کی نگاہ میں کتنی ہی عمدہ تدبیر کیوں نہ ہو اس کو بھی ” مکر “ ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ہر ایک زبان کے محاورہ میں بولاجاتا ہے ” برائی کا بدلہ برائی ہے “ حالانکہ ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ برائی کرنے والے کے جواب میں اسی قدر مقابلہ کا جواب دینا اخلاق اور مذہب دونوں کی نگاہ میں ” برائی “ نہیں ہے۔ تاہم تعبیر میں دونوں کو ہم شکل ظاہر کر دیا جاتا ہے اور اسی کو ” مشاکلہ “ کہتے ہیں اور یہ فصاحت و بلاغت کا اہم جزء سمجھا جاتا ہے۔ غرض خفیہ تدبیر دونوں جانب سے تھی۔ ایک جانب برے بندوں کی بری تدبیر اور دوسری جانب خدائے برتر کی بہترین تدبیر ‘ نیز ایک جانب قادر مطلق کی تدبیر کامل تھی جس میں نقص و خامی کا امکان نہیں اور دوسری جانب دھوکے اور فریب کی خام کاریاں تھیں جو تار عنکبوت ہو کر رہ گئیں۔ آخر وہ وقت آپہنچا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں ‘ کاہنوں اور فقیہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ایک بند مکان میں محاصرہ کر لیا۔ ذات اقدس اور حواری مکان کے اندر بند ہیں اور دشمن چاروں طرف سے محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ کیا صورت ہو جس سے دشمن ناکام رہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کسی طرح کا بھی گزند نہ پہنچا سکے ‘ تاکہ خدائے قادر کا وعدہ حفاظت اور دعویٰ تدبیر خیر پورا ہو تو اس کے متعلق قرآن نے بتایا کہ بے شک خدا کا وعدہ پورا ہوا اور اس کی تدبیر محکم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رکھا اور صورت یہ پیش آئی کہ اس نازک گھڑی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وحی الٰہی نے یہ بشارت سنائی : عیسیٰ ! خوف نہ کر تیری مدت پوری کی جائے گی (یعنی تم کو دشمن قتل نہیں کرسکیں گے اور نہ تم اس وقت موت سے دوچار ہو گے) اور ہوگا یہ کہ میں تجھ کو اپنی جانب (ملائے اعلیٰ کی جانب) اٹھالوں گا اور ان کافروں سے ہر طرح تجھ کو پاک رکھوں گا (یعنی یہ تجھ پر کسی قسم کا قابو نہ پاسکیں گے) اور تیرے پیرؤوں کو ان کافروں پر ہمیشہ غالب رکھوں گا (یعنی بنی اسرائیل کے مقابلہ میں قیامت تک عیسائی اور مسلمان غالب رہیں گے اور ان کو کبھی ان دونوں پر حاکمانہ اقتدار نصیب نہیں ہوگا) پھر انجام کار میری جانب (موت کے بعد) لوٹ آنا ہے۔ پس میں ان باتوں پر فیصلہ حق دوں گا ‘جن کے متعلق تم آپس میں اختلاف کر رہے ہو : { اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ } ” (وہ وقت ذکر کے لائق ہے) جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ سے کہا : ” اے عیسیٰ ! بے شبہ میں تیری مدت کو پورا کروں گا اور تجھ کو اپنی جانب اٹھالینے والا ہوں اور تجھ کو کافروں (بنی اسرائیل) سے پاک رکھنے والا ہوں جو تیری پیروی کریں گے ‘ ان کو تیرے منکروں پر قیامت تک کے لیے غالب رکھنے والا ہوں۔ پھر میری جانب ہی لوٹنا ہے ‘ پھر میں ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن کے بارے میں (آج) تم جھگڑ رہے ہو۔ “ { وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ” (قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو اپنے احسانات شمار کراتے ہوئے فرمائے گا) اور وہ وقت یاد کرو ‘ جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روک دیا (یعنی وہ کسی طرح تجھ پر قابو نہ پا سکے) جبکہ تو ان کے پاس معجزات لے کر آیا اور ان میں سے کافروں نے کہہ دیا : ” یہ تو جادو کے ماسوا اور کچھ نہیں ہے۔ “ تو اب جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطمینان دلا دیا گیا کہ اس سخت محاصرہ کے باوجود دشمن تم کو قتل نہ کرسکیں گے اور تم کو غیبی ہاتھ ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھالے گا اور اس طرح دشمنان دین کے ناپاک ہاتھوں سے آپ ہر طرح محفوظ کر دیے جائیں گے ‘ تو اس جگہ پہنچ کر ایک دوسرا سوال پیدا ہوا کہ یہ کس طرح ہوا اور واقعہ نے کیا صورت اختیارکر لی ؟ کیونکہ یہود و نصاریٰ تو کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر بھی لٹکایا اور مار بھی ڈالا۔ تب قرآن نے بتایا کہ مسیح بن مریم (علیہ السلام ) کے قتل و صلیب کی پوری داستان سر تا سر غلط اور جھوٹ ہے بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ جب مسیح (علیہ السلام) کو بقید حیات ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا گیا اور اس کے بعد دشمن مکان کے اندر گھس پڑے تو ان پر صورت حال مشتبہ کردی گئی اور وہ کسی طرح نہ جان سکے کہ آخر اس مکان میں سے مسیح (علیہ السلام) کہاں چلا گیا : { وَ قَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ } ” اور (یہود ملعون قرار دیے گئے) اپنے اس قول پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم پیغمبر خدا کو قتل کر دیا حالانکہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ (خدا کی خفیہ تدبیر کی بدولت) اصل معاملہ ان پر مشتبہ ہو کر رہ گیا اور جو لوگ اس کے (قتل کے) بارے میں جھگڑ رہے ہیں بلاشبہ وہ اس (عیسیٰ (علیہ السلام)) کی جانب سے شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے پاس حقیقت حال کے بارے میں ظن (اٹکل) کی پیروی کے سوا علم (کی روشنی) نہیں ہے اور انھوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ نے اپنی جانب (ملائے اعلیٰ کی جانب) اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “ قرآن عزیز کا یہ وہ بیان ہے جو یہود و نصاریٰ کے اختراعی افسانہ کے خلاف اس نے حضرت مسیح بن مریم (علیہما السلام) کے متعلق دیا ہے۔ اب دونوں بیانات آپ کے سامنے ہیں اور عدل و انصاف کا ترازو آپ کے ہاتھ میں۔ پہلے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کے دعوت و ارشاد کے مشن کو تاریخی حقائق کی روشنی میں معلوم کیجئے اور اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ان تفصیلی واقعات پر نظر ڈالئے جو ایک اولو العزم پیغمبر ‘ مقرب بارگاہ الٰہی اور نصاریٰ کے عقیدہ باطل کے مطابق خدا کے بیٹے کو خدا کے فیصلہ کے سامنے مایوس ‘ مضطرب ‘ بے یارو مددگار اور خدا سے شاکی ظاہر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس تضاد بیان پر بھی غور فرمایئے کہ ایک جانب عقیدہ کفارہ کی بنیاد صرف اس پر قائم ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کا بیٹا بن کر آیا ہی اس غرض سے تھا کہ مصلوب ہو کر دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے اور دوسری جانب صلیب اور قتل مسیح (علیہ السلام) کی داستان اس اساس پر کھڑی کی گئی ہے کہ جب وہ وقت موعود آ پہنچتا ہے تو خدا کا یہ فرضی بیٹا اپنی حقیقت اور دنیا میں وجود پذیری کو یکسر فراموش کرکے ” ایلی ایلی لما شبقتنی “کا حسرت ناک جملہ زبان سے کہتا اور مرضی الٰہی پر اپنی ناخوشی کا اظہار کرتا ہوا نظر آیا ہے۔کیا کسی شخص کو یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ اگر نصاریٰ کے بیان کردہ واقعات کے دونوں حصے صحیح اور درست ہیں تو ان دونوں کے باہم یہ تضاد کیسا اور اس عدم مطابقت کے کیا معنی ؟ پس اگر ایک حقیقت بیں اور دور رس نگاہ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اور واقعات و حالات کی ان تمام کڑیوں کو باہم جوڑ کر اس مسئلہ کا مطالعہ کرے تو وہ تصدیق حق کے پیش نظر بلا تامل یہ فیصلہ کرے گی کہ بائبل کی یہ داستان تضاد کی حامل اور گھڑی ہوئی داستان ہے اور قرآن نے اس سلسلہ میں جو فیصلہ دیا ہے وہی حق اور مبنی بر صداقت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد سے سینٹ پال سے قبل تک نصاریٰ ” یہود “ کی اس خرافی داستان سے قطعاً بے تعلق تھے لیکن جب سینٹ پال (پولوس رسول) نے تثلیث اور کفارہ پر جدید عیسائیت کی بنیاد رکھی تو کفارہ کے عقیدہ کی استواری کے لیے یہود کی اس خرافی داستان کو بھی مذہب کا جزء بنا لیا گیا۔ لیکن واقعہ سے متعلق حد درجہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب کہ چودہ صدیوں سے قرآن حکیم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت قدر کا اعلان کرتے ہوئے ان کے ” رَفَعَ اِلٰی السَّمَائِ “ کی حقیقت کو یہود و نصاریٰ کی خرافی داستان کے خلاف علم و یقین کی روشنی میں نمایاں اور یہود و نصاریٰ کو دلائل وبراہین کے ذریعہ لاجواب اور سرنگوں کر دیا تھا تو اس کے مقابلہ میں آج ایک مدعیٔ اسلام دعویٰ نبوت و مسیحیت کے شوق یا ہندوستان پر مسلط عیسائی حکومت کی خود غرضانہ خوشامد میں یہود و نصاریٰ کے اسی عقیدہ کو دوبارہ زندہ کرنا اور اس پر اپنے ” باطل عقیدہ نبوت “ کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے اور پنجاب (قادیان) کا یہ متنبی قرآن عزیز کی تصریحات سے بے نیاز ہو کر نہایت جسارت کے ساتھ ان تمام واقعات کی تصدیق کرتا ہے جو اس سلسلہ میں یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے باطل مزعومہ عقائد کی تکمیل کے لیے اختراع کیے ہیں ‘ وہ کہتا ہے کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے اسیر کیا ‘ ان کا ٹھٹھا اڑایا ‘ ان کے منہ پر تھوکا ‘ ان کے طمانچے بھی لگائے ‘ ان کو کانٹوں کا تاج بھی پہنایا اور ان کے علاوہ ہر قسم کی توہین و تذلیل کا سلوک کرنے کے بعد ان کو صلیب پر بھی چڑھایا اور اپنے زعم میں ان کو قتل بھی کر ڈالا البتہ یہود و نصاریٰ کی حرف بحرف تصدیق کے بعد بغیر کسی قرآنی نص ‘ حدیثی روایت اور تاریخی شہادت کے اپنی جانب سے یہ اضافہ کرتا ہے کہ جب شاگردوں کے مطالبہ پر نعش ان کے حوالہ کردی گئی اور وہ تجہیز و تکفین کے لیے آمادہ ہوئے تو دیکھا کہ جسم میں جان باقی ہے تب انھوں نے خفیہ طور پر ایک خاص مرہم کے ذریعہ ان کے زخموں کا علاج کیا اور جب وہ چنگے ہو گئے تو پوشیدہ رہ کر کشمیر کو چلے گئے اور وہاں بھی حیات کے آخری لمحوں تک خود کو چھپائے رکھا اور گمنامی میں وہیں انتقال پا گئے۔گویا یوں کہئے کہ یہود و نصاریٰ کی مفروضہ داستان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق توہین و تذلیل کے جس قدر بھی پہلو تھے وہ سب تو متنبی کاذب نے قبول کر لیے باقی ان کی عظمت شان اور جلالت مرتبت سے متعلق پہلو کو داستان سے خارج کرکے اس کے ساتھ ایک ایسا فرضی حصہ جوڑ دیا جس سے ایک جانب نیچر پرستوں کو اپنی جانب مائل کرنے کا سامان مہیا ہو سکے اور دوسری جانب عیسیٰ (علیہ السلام) کی باقی زندگی مبارک کو گمنامی کے ساتھ وابستہ کر کے توہین و تذلیل کا ایک گوشہ جو تشنہ سامان رہ گیا تھا اس کی تکمیل ہوجائے۔ (اِناَّ لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن)۔ مت نبی پنجاب کو یہ سب کچھ کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ اس کی جانب ابھی اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس کی تفصیل کے لیے پروفیسر الیاس برنی کی کتاب ” قادیانی مذہب “ لائق مطالعہ ہے ‘ یا خود متنبی کاذب کی تصنیفی ہفوات اس حقیقت کو عریاں کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہمارے پیش نظر تو یہ مسئلہ ہے کہ متنبی پنجاب نے کس طرح قرآن حکیم کی نصوص قطعیہ کے خلاف یہود و نصاریٰ کے عقیدہ ” توہین “ ” تصلیب “ اور قتل عیسیٰ (علیہ السلام) کی تائید پر بے جا جسارت کا اقدام کیا اور جس حد تک اختلاف کیا اس میں بھی دعویٰ قرآنی کے خلاف ان کی حیات طیبہ کو نامراد و ناکام اور گمنام ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی۔آپ ابھی سن چکے ہیں کہ قرآن عزیز نے بنی اسرائیل کے مقابلہ میں خدائے تعالیٰ کی نجات سے دعویٰ حفاظت و برتری کو کس قوت بیان کے ساتھ نمایاں کیا ہے : وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہَ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یَعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور پھر کس زور کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دعوائے حفاظت کو اس شان کے ساتھ پورا کیا کہ دشمن کسی حیثیت سے بھی مسیح بن مریم (علیہما السلام) پر قابو نہ پا سکے اور ہاتھ تک نہ لگا سکے : { وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ } { وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ } تواب قابل غور ہے یہ بات کہ ہم دنیا میں روز و شب یہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر کسی صاحب قوت و اقتدار ہستی کے عزیز دوست یا مصاحب کے خلاف ان کا دشمن درپے آزار یا قتل کے درپے ہوتا ہے اور یہ سمجھ کر کہ ہم صاحب اقتدار ہستی کی اعانت کے بغیر دشمن کے مقابلہ میں عہدہ برآ نہیں ہو سکتے ‘صاحب اقتدار کی جانب رجوع کرتے ہیں اور یہ ہستی ان کو پوری طرح اطمینان دلاتی ہے کہ دشمن ان کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچا سکتا بلکہ ان تک اس کی دسترس ہی نہیں ہونے دی جائے گی تو ہر ایک اہل عقل اس کا یہی مطلب لیتا ہے کہ اب کسی بھی حالت میں ان کو دشمن کا خطرہ باقی نہیں رہا مگر یہ کہ صاحب اقتدار ہستی یا اپنے وعدہ کا ایفا نہ کرے اور جھوٹا ثابت ہو اور یا دشمن کی طاقت اتنی زیادہ ہو کہ وہ خود بھی اس حمایت و نصرت میں مغلوب ہو کر رہ جائے۔پس جب انسانی دنیا میں یہ اطلاع موصول ہو کہ صاحب اقتدار ہستی کے عزیز دوست یا مصاحب کو اس کے دشمن نے گرفتار کر لیا ‘ مارا پیٹا ‘ منہ پر تھوکا اور ہر طرح ذلیل و رسوا کرکے اپنے گمان میں مار بھی ڈالا اور مردہ سمجھ کر نعش اس کے عزیزوں کے سپرد کردی مگر حسب اتفاق نبض دیکھنے سے معلوم ہوا کہ کہیں جان اٹکی رہ گئی ہے لہٰذا علاج معالجہ کیا گیا اور وہ رو بصحت ہو گیا تو دنیائے انسانی اس صاحب اقتدار ہستی کے متعلق کیا رائے قائم کرے گی جس نے اس مظلوم کی حمایت و نصرت کا وعدہ کیا تھا ؟ یہ کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہیں کیا خواہ قصداً نہیں کیا یا اس لیے کہ وہ مجبور رہا۔ پس اگر دنیائے انسانی کے معاملات میں صورت حال یہ ہے تو معلوم نہیں کہ متنبی پنجاب کے عقل و دماغ نے قادر مطلق خدا کے متعلق کس ذہنیت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا کہ خدا نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو ہر قسم کی حفاظت و صیانت کے وعدہ کے باوجود دشمن کے ہاتھوں وہ سب کچھ ہونے دیا ‘جس کو یہود و نصاریٰ کی اندھی تقلید میں متنبی پنجاب نے تسلیم کر لیا اور اشک شوئی کے لیے صرف اس قدر اضافہ کر دیا کہ اگرچہ یہود نے صلیب و قتل کے بعد سمجھ لیا تھا کہ روح قفس عنصری سے نکل چکی ہے ‘مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ رمق جان ابھی غیر محسوس طور پر باقی تھی ‘ اس لیے اسی طرح ان کی جان بچ گئی ‘ جس طرح موجودہ زمانہ میں اب سے چند سال قبل جیلوں میں پھانسی دینے کا جو طریقہ رائج تھا ‘اس کی وجہ سے کبھی پھانسی پانے کے بعد رمق جان باقی رہ جاتی تھی اور نعش کی سپردگی کے بعد علاج معالجہ سے وہ اچھا ہوجاتا تھا۔ بہرحال ہم تو اس ذات واحد ‘ قادر مطلق خدا پر ایمان رکھتے ہیں جس نے جب کبھی اپنے خاص بندوں (نبیوں اور رسولوں) سے اس قسم کا وعدہ حفاظت و صیانت کیا ہے تو پھر اس کو پورا بھی ایسی شان سے کیا ہے جو قادر مطلق ہستی کے لیے شایان اور لائق ہے۔حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے منکرین حق کا معاملہ سورة نمل میں جس معجزانہ شان کے ساتھ بیان ہوا اس پر غور فرمایئے۔ ارشاد باری ہے : { وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ۔ قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہُ وَاَہْلَہُ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّہِ مَا شَہِدْنَا مَہْلِکَ اَہْلِہٖ وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَ۔ وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْ اَنَّا دَمَّرْنَاہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ فَتِلْکَ بُیُوْتُہُمْ خَاوِیَۃًم بِمَا ظَلَمُوْا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۔ وَاَنجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ } ” اور شہر میں نو شخص تھے جو (بہت) مفسد تھے اور کوئی کام صلاح کاری کا نہیں کرتے تھے ‘ انھوں نے آپس میں کہا ” باہم قسمیں کھاؤ کہ ہم ضرور صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے اور قسم بخدا ہم ضرور سچے ہیں۔ “ اور انھوں نے (صالح (علیہ السلام) کے خلاف) خفیہ سازش کی اور ہم نے بھی (ان کی سازش کے خلاف) خفیہ تدبیر کی اور وہ (ہماری مخفی تدبیر کو) نہیں سمجھتے تھے پس (اے محمد ! ) دیکھو ! کہ ان کی خفیہ سازشی تدبیر کا کیا حشر ہوا ؟یہ کہ ہم نے ان کو (مفسدوں کو) اور ان کی (سرکش) قوم سب کو ہلاک کر دیا (نگاہ اٹھا کر) دیکھو یہ (قریب ہی) ہیں ان کے گھروں کے کھنڈر ‘ ویران ہیں ان کے ظلم کی وجہ سے ‘ بے شک اس واقعہ میں نشانی ہے سمجھ والوں کے لیے اور ہم نے نجات دی ایمان والوں کو جو پرہیزگار تھے۔ “ اور پھر مطالعہ کیجئے اس عظیم الشان واقعہ کا جو ہجرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تعلق رکھتا ہے اور سورة انفال میں دشمنان حق کی ذلت و رسوائی کا ابدی اعلان ہے۔ان دونوں واقعات میں حق و باطل کے معرکوں ‘ دشمنوں کی خفیہ سازشوں اور انبیا (علیہما السلام) کی حفاظت کے لیے وعدہ الٰہی اور اس کے بے غل و غش پورا ہونے کا جو نقشہ قرآن عزیز نے پیش کیا ہے تاریخی نگاہ سے اس پر غور فرمایئے اور فیصلہ کیجئے جس خدا نے صالح (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اپنے وعدہ حفاظت کو اس شان رفیع کے ساتھ پورا کیا ہو ‘ کیا متنبی پنجاب کے عقیدہ کے مطابق اسی شان معجزانہ کے ساتھ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں پورا ہوا ؟ نہیں ہرگز نہیں ‘ حالانکہ آیات قرآنی شاہد ہیں کہ ان دونوں واقعات کے مقابلہ میں عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) سے کیے گئے وعدے زیادہ واضح تفصیلات رکھتے ہیں اور ان میں صاف کہا گیا ہے کہ خدا کے بہترین مخفی فیصلہ کے مطابق حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دشمن ان کو ہاتھ تک نہ لگا سکیں گے تبھی تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنے جن احسانات و انعامات کو شمار کرائے گا ان میں سے ایک بڑا انعام و احسان یہ بھی ہوگا : { وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ } ” اور جبکہ ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روک دیا تھا۔ “ مت نبی پنجاب کو اگر اپنی نبوت اور مسیحیت کے افترا اور ڈھونگ کو مضبوط کرنے کے لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے خلاف اس درجہ ناگواری تھی جیسا کہ متنبی کاذب کی تصنیفات سے معلوم ہوتا ہے تب بھی یہود و نصاریٰ کی اس اندھی تقلید کے مقابلہ میں جو نصوص قرآنی کے خلاف ” کفر بواح “تک پہنچاتی اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شان رفیع کے حق میں باعث توہین و تذلیل اور وعدہ الٰہی کی تکذیب کرتی ہے ‘ کیا یہ کافی نہیں تھا کہ تاویل باطل 1 ؎ کے پردہ میں اتنا ہی کہہ دیا جاتا کہ وہ اگرچہ بقید حیات آسمان پر نہیں اٹھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے بند مکان سے کسی طریق پر ان کو دشمنوں کے نرغے سے نکال کر محفوظ کر دیا اور دشمن کسی طرح ان کو نہ پا سکے ‘لیکن وائے برحال متنبی قادیان کہ خدا کے سچے پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے ساتھ بغض وعناد نے ” خسر الدنیا و الآخرہ “ کا مصداق بنا کر ہی چھوڑا۔ 1 ؎ تاویل باطل اس لیے کہ حیات عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق دیگر نصوص قرآنی ‘حدیثی اور اجماع امت کے پیش نظر اس مقام پر یہ تاویل بلاشبہ ” باطل “ ہے مگر اس سے کم از کم حضرت مسیح (علیہ السلام) کی توہین اور وعدہ الٰہی کی تکذیب کا پہلو نہیں نکلتا۔ قرآن و احادیث کی رو سے آخر الزمان * دوبارہ آمد پر نظریات اللہ نے سورۃ النساء کی ان آیات میں یہود کے ملعون ہونے کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں من جملہ ان میں ہے کہ؛ اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اللہ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انھوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انھیں صلیب پر چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لیے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا اور بے شک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں انھیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں) اور انھوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ اور اس کے علاوہ سورہ النساء میں ہے کہ اور (قربِ قیامت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے ) ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پیشتر جب ان کا آسمان سے نزول ہوگا تو اہل کتاب ان کو دیکھ کر ان کو مانیں گے اور ان کے بارے میں اپنے عقیدے کی تصحیح کریں گے۔ * حدیث نبوی حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق احادیث درجہ تواتر کو پہنچتی ہیں۔ ان احادیث کا متواتر ہونا محمد انور شاہ کشمیری نے اپنی کتاب «التصريح بما تواتر في نزول المسيح» میں ثابت کیا ہے۔ چند احادیث پیش خدمت ہیں؛ (رواہ البخاري ومسلم) ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم| نے فرمایا کیا حال ہوگا تمھارا کہ جب عیسٰی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہوگا۔ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسٰی علیہ السلام زمیں پر اُتریں گے اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں اور مسیح ابن مریم، ابو بکر وعمر کے درمیان میں والی ایک ہی قبر سے اُٹھیں گے۔ آ عن الحسن مرسلاً قال: قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانہ راجع اليكم قبل يوم القيامة امام حسن بصری سے مرسلاً روایت ہے کہ محمد رسول اللہ نے یہود سے فرمایا کہ عیسٰی علیہ السلام نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔ دیگر بہت سی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے وقت مسلمانوں کے امام، امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام اس ہدایت یافتہ امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ قادیانی تلبیس اور اس کا جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس معرکہ آراء مسئلہ میں ” جو ان کی عظمت اور جلالت کا زبردست نشان ہے “ سورة آل عمران کی آیات کا باہمی ربط اور ترتیب ذکری خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہے کہ متنبی کاذب نے اس میں بھی تَلْبِیْسُ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ کا ثبوت دے کر ناواقف کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔قرآن عزیز ‘ سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دشمنوں کے نرغہ میں گھر جانے سے متعلق جس تسلی اور وعدہ کا ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطری شکل و صورت یہ پیش آئی کہ جب دشمنان دین نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ایک بند مکان میں محاصرہ کر لیا تو ایک اولوالعزم پیغمبر اور خدائے برحق کے درمیان میں تقرب کا جو رشتہ قائم ہے اس کے پیش نظر قدرتی طور پر حضرت عیسیٰ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اب کیا پیش آنے والا ہے ؟ راہ حق میں جاں سپاری یا قدرت الٰہی کا کوئی اور کرشمہ ؟ اور اگر دشمنوں سے تحفظ کے لیے کوئی کرشمہ پیش آنے والا ہے تو اس کی کیا شکل ہوگی کیونکہ بظاہر کوئی سامان نظر نہیں آتا ؟ اور اگر تحفظ ہوا بھی تو کیا کچھ مصائب و آلام اٹھانے کے بعد تحفظ جان ہوگا یا دشمن کسی بھی صورت میں قابو نہ پاسکیں گے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قلب میں فطری طور پر پیدا ہونے والے سوالات کا ترتیب وار اس طرح جواب دیا : ” عیسیٰ ! میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں تیری مقررہ مدت حیات پوری کروں گا یعنی مطمئن رہو کہ تجھ کو دشمن قتل نہ کر پائیں گے “ (اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ ) ” اور صورت یہ ہوگی کہ اس وقت میں تجھ کو اپنی جانب یعنی ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھالوں گا (وَرَافِعُکَ اِلَیَّ ) ” اور یہ بھی اس طرح نہیں کہ پہلے سب کچھ مصائب ہو گزریں گے اور پھر ہم تجھ کو آخر میں علاج معالجہ کرا کر اٹھائیں گے نہیں بلکہ یوں ہوگا کہ تو دشمن کے ناپاک ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رہے گا اور کوئی دشمن تجھ کو ہاتھ تک نہ لگا سکے گا “ (وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) یہ تو تمھارے فطری سوالات کا جواب ہوا لیکن اس سے بھی زیادہ ہم یہ کریں گے کہ جو تیرے پیرو ہیں (خواہ غلط کار ہوں جیسا کہ نصاریٰ اور خواہ صحیح العقیدہ ہوں جیسا کہ مسلمان) ان کو قیامت تک یہود پر غالب رکھیں گے اور تاقیام قیامت کبھی ان کو حاکمانہ اقتدار نصیب نہیں ہوگا ‘ باقی رہا تمام معاملات کا فیصلہ سو اس کے لیے (قیامت کا) دن مقرر ہے اس روز سب اختلافات ختم ہوجائیں گے اور حق و باطل کا دو ٹوک فیصلہ کر دیا جائے گا۔زیر بحث آیات کی یہ تفسیر جس طرح سلف صالحین اور اجماع امت کے مطابق ہے اسی طرح اس میں آیات میں کیے گئے متعدد وعدوں کی ترتیب میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اور مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی مگر مرزائے قادیانی نے اپنی مسند مسیحیت و نبوت کو قائم کرنے کے لیے قرآن ‘احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے خلاف جبکہ یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت ہو چکی تو اس سلسلہ کی آیات میں تحریف معنوی کی ناکام سعی کو بھی ضروری سمجھا اور دعویٰ کیا کہ اگر مسیح (علیہ السلام) کی موت کے وقوع کو رَفَعَ اِلٰی السَّمَائِ اور تَطْہِیْر اور تَفَوُّقُ الْمُطِیْعِیْنَ عَلٰی الْکَافِرِیْنَ سے قبل تسلیم نہ کیا جائے گا تو ترتیب ذکری میں فرق آجائے گا اور مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم ماننا پڑے گا اور یہ قرآن عزیز کی شان بلاغت کے خلاف ہے لہٰذا یہ ماننا چاہیے کہ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کے وعدہ کا وقوع ہو چکا اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر موت آچکی۔ مرزائے قادیانی کی یہ ” تلبیس “ اگرچہ ان حضرات سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی جو عربیت اور قرآن کے اسلوب بیان کا ذوق رکھتے ہیں لیکن عوام کو مغالطہ میں ڈال سکتی ہے اس لیے اس عنوان کے شروع ہی میں آیات کی تفسیر کو اس طرح بیان کر دیا گیا کہ مرزا کی جانب سے جو تلبیس کی گئی ہے وہ خود بخود زائل ہوجائے تاہم مزید تشریح کے لیے یہ اور اضافہ ہے کہ ترتیب ذکری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کلام میں اگر چند باتیں ترتیب وار کی گئی ہیں تو ان کا وقوع بھی اس طرح ہونا چاہیے کہ اس کلام میں ذکر کردہ ترتیب بگڑنے نہ پائے اور مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کرنا نہ پڑے اور یہ جب ضروری ہے کہ کلام کی فصاحت و بلاغت کا تقاضا ہی یہ ہو کہ ترتیب ذکری میں فرق نہ آنے پائے ‘ ورنہ تو بعض مقامات پر تقدیم و تاخیر کو بھی فصاحت کی جان سمجھا جاتا ہے اور یہ علم معانی کا مشہور مسئلہ ہے۔ پس قرآن کی ان آیات میں جمہور اہل اسلام کی تفسیر کے مطابق ترتیب ذکری بحالہ قائم ہے اس لیے کہ خدا کی جانب سے پہلا وعدہ یہ ہے کہ میں تمھاری مقررہ مدت پوری کروں گا (اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ ) یعنی تمھاری موت ان دشمنوں کے ہاتھ سے نہیں ہوگی بلکہ تم اپنی طبعی موت سے مرو گے مگر اس پہلے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے متعدد صورتیں ہو سکتی تھیں :یہ کہ دشمنوں پر باہر سے اچانک حملہ ہوجائے اور وہ فرار ہوجائیں یا سب وہیں کھیت رہیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) ان کی زد سے بچ جائیں یا یہ کہ قوم عاد وثمود کی طرح زمین یا آسمان سے قدرتی عذاب آ کر ان سب کو ہلاک کر دے یا یہ کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کسی ترکیب سے ان کے نرغہ میں سے محفوظ نکل جائیں اور ان کی دسترس سے باہر ہوجائیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے کرشمہ قدرت سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مکان بند رہتے ہوئے ملا اعلیٰ کی جانب اٹھالے وغیرہ وغیرہ۔ تو قرآن نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی کہ پہلے وعدہ کا ایفاء مسطورہ بالا آخری شکل یعنی وَرَافِعُکَ اِلَیَّ کی شکل میں ہوگا اور ہوگا بھی ایسی قدرت کاملہ کے ہاتھوں کہ اس محاصرہ کے باوجود دشمن اپنے ناپاک ہاتھ تجھ کو نہیں لگا سکیں گے اور میں ان کافروں کے ہاتھ سے تجھ کو پاک رکھوں گا : { وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } اور ان باتوں کے علاوہ یہ بھی ہوگا کہ میں تیرے پیرؤوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا بہرحال بعد کے یہ تینوں وعدے بالترتیب جبھی عمل میں آئیں گے کہ پہلے وعدہ اول وقوع پزیر ہوجائے یعنی تیری موت ان کے ہاتھوں نہ ہو بلکہ اپنی مقررہ مدت پر پہنچ کر طبعی موت آئے ان آیات میں پہلے وعدہ کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ میں اول تجھ کو ماروں گا اور پھر بالترتیب یہ سب امور انجام دوں گا کیونکہ یہ قول صرف جاہل ہی کہہ سکتا ہے لیکن جس کو گفتگو کا معمولی بھی سلیقہ ہے وہ ہرگز ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ ترتیب ذکری کے لیے یہ تو ہونا چاہیے کہ ان امور کے وقوع میں ایسی صورت نہ پیدا ہوجائے کہ ترتیب میں فرق لا کر تقدیم و تاخیر کا عمل جراحی کرنا پڑے لیکن اگر کوئی شے زمانہ کا امتداد اور طوالت چاہتی ہے اور اس کا آخری حصہ وقوع ان تمام امور کے بعد پیش آتا ہے جو اس کے بعد مذکور تھے مگر ترتیب ذکری میں مطلق کوئی فرق نہیں آتا تو ایسی شکل میں اس وقوع کے متاخر ہوجانے سے کسی عالم کے نزدیک بھی کلام کی فصاحت و بلاغت میں نقص واقع نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے وقوع ترتیبی کا ترتیب ذکری کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔ پس مسئلہ زیر بحث میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طبعی موت کا وقوع کبھی ہوا ہو اس کا ترتیب ذکری سے مطلق کوئی علاقہ نہیں ہے یہاں تو اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ دیے گئے متعدد وعدوں میں پہل اور اولیت اس وعدہ کو حاصل ہے کہ تمھاری موت کا سبب یہ یہود بنی اسرائیل نہیں ہوں گے بلکہ جب بھی یہ مقررہ مدت پوری ہوگی اس طریق پر ہوگی جو عام طور سے میری جانب منسوب کی جاتی ہے (یعنی طبعی موت) اور یہ وعدہ بہرحال باقی تین وعدوں سے پہلے ہی رہا تبھی تو یہ تینوں وعدے وقوع میں آسکے اور اگر کہیں دشمن حضرت مسیح (علیہ السلام) کی موت کا سبب بن گئے ہوتے تو پھر ” رَفَعْ “ اور ” تَطْہِیْر “ کے لیے کوئی صورت ہی نہ رہ جاتی اور مرزا قادیانی کی طرح باطل اور رکیک تاویلات کی آڑ لینی پڑتی اور آیات زیر بحث کی ” روح “ فنا ہو کر رہ جاتی۔ اور یہ اس لیے کہ اگر ” رَفَعْ “ سے رفع روحانی اور ” تَطْہِیر “ سے روحانی پا کی مراد لیے جائیں تو یہ قطعاً بے محل اور بے موقع ہوگا کیونکہ قرآن کے ارشاد کے مطابق یہ وعدے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیے جا رہے ہیں تو حضرت عیسیٰ کو یہ بتانا کہ تمھارے متعلق یہود کا یہ اعتقاد کہ تم کاذب اور ملعون ہو غلط ہے اور تم مطمئن رہو کہ میں تمھارا رفع روحانی کرنے والا ہوں قطعاً عبث تھا کیونکہ حضرت عیسیٰ پیغمبر خدا ہیں اور جانتے ہیں کہ یہود کا افتراء کیا حقیقت رکھتا ہے نیز یہود کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے رفع روحانی کا پتہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ معاملہ عالم غیب سے متعلق ہے تو خدائے برتر کا یہ ارشاد نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی برمحل تسلی کا باعث ہو سکتا تھا۔ اور نہ یہود کے لیے سود مند اور یہی حال دوسرے وعدہ تطہیر کا ہے بلکہ جب بقول قادیانی یہود کے ہاتھوں حضرت مسیح (علیہ السلام) صلیب پر چڑھا دیے گئے تو نعش پالینے کے بعد شاگردوں کا مرہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو لگا کر چنگا کرلینے اور پھر منجانب اللہ جن کی ہدایت و ارشاد کے لیے مامور کیے گئے تھے ان سے جان بچا کر بھاگ جانے اور زندگی بھر گمنامی میں زندگی بسر کرتے رہنے کے بعد { وَرَافِعُکَ اِلَیَّ اور وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } کہہ دینے سے نہ یہود کے عقیدہ متعلق مسیح (علیہ السلام) کی ہی تردید ہوگی اور نہ ایک غیر جانبدار انسان ہی یہ سمجھ سکے گا کہ ایسے موقع پر جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور جبکہ ان کو یہ یقین ہے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور موت کے بعد رفع روحانی اور تطہیر لازم شے ہے ان تسلیوں اور وعدوں کا کیا فائدہ ہے خصوصاً جبکہ ان کے ساتھ دشمن نے وہ سب کچھ کر لیا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔البتہ جمہور اہل حق کی تفسیر کے مطابق آیات قرآنی کی روح اپنی معجزانہ بلاغت کے ساتھ پوری طرح ناطق ہے کہ یہ وعدے حضرت مسیح سے جس طرح کیے گئے وہ برمحل اور فطری اضطراب کے لیے بلاشبہ باعث تسکین ہیں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت کا وقت کے یہود و نصاریٰ کے وراثتی عقائد باطلہ کی تردید کے لیے کافی اور مدلل۔ جمہور اہل حق کی یہ تفسیر ” تُوْفِّی “ کے معنی ” مقررہ مدت پوری کرنا “ اختیار کرکے کی گئی ہے جس کا حاصل تُوْفِّی بمعنی موت نکلتا ہے لیکن تُوْفِّی کے یہ حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ بطور کنایہ کے مستعمل ہوئے ہیں کیونکہ لغت عرب میں اس کا مادہ وفیٰ ‘ یفی ‘ وَفاَئً ہے جس کے معنی ” پورا کرنے “ کے آتے ہیں اور اس کو جب باب تفعُّل میں لے جا کر ” توفی “ بناتے ہیں تو اس کے معنی ” کسی شے کو پورا پورا لینا “ یا ” کسی شے کو سالم قبضہ میں کرلینا “ آتے ہیں ” تَوَفّٰی اَخَذَہٗ وَافِیًا تَامَّا یَقَالُ ” تَوَفَّیْتُ مِنْ فُلَانٍ مَا لِیْ عَلَیْہِ “ اور چونکہ موت میں بھی اسلامی عقیدہ کے مطابق روح کو پورا لے لیا جاتا ہے۔ اس لیے کنایہ کے طور پر جس میں حقیقی معنی بحالہ محفوظ رہا کرتے ہیں ” تُوْفِّی “ بمعنی موت مستعمل ہوتا ہے اور کہتے ہیں تَوَفَّاہٗ اللّٰہٗ اَیْ اَمَاتَہٗ لیکن اگر موقع پر دوسرے دلائل ایسے موجود ہوں جن کے پیش نظر تُوْفِّی کے حقیقی معنی لیے جا سکتے ہوں یا حقیقی کے ماسوا دوسرے معنی بن ہی نہ سکتے ہوں تو اس مقام پر خواہ فاعل ” اللہ تعالیٰ “ اور مفعول ” ذی روح انسان “ ہی کیوں نہ ہو وہاں حقیقی معنی ” پورا لے لینا “ ہی مراد ہوں گے مثلاً آیت: { اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا } ” اللہ تو پورا لے لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور ان جانوں کو جن کو ابھی موت نہیں آئی ہے پورا لے لیتا ہے نیند میں “ وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ کے لیے بھی لفظ ” تُوْفِّی “ بولا گیا یعنی ایک جانب یہ صراحت کی جا رہی ہے کہ یہ وہ جانیں (نفوس) ہیں جن کو موت نہیں آئی اور دوسری جانب یہ بھی بصراحت کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیند کی حالت میں ان کے ساتھ ” تُوْفِّی “ کا معاملہ کرتا ہے تو یہاں اللہ تعالیٰ فاعل ہے ” مُتَوَفِّیْ “ اور نفس انسانی مفعول ہے ”مُتَوَفَیّٰ “ مگر پھر بھی کسی صورت سے ” تُوْفِّیَ “ بمعنی موت “ صحیح نہیں ہیں ورنہ تو قرآن کا جملہ وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ العیاذ باللہ مہمل ہو کر رہ جائے گا یا مثلاً: { وَ ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ } ” اور وہی (اللہ) ہے جو پورا لے لیتا یا قبضہ میں کرلیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو دن میں۔ “ اس میں بھی کسی طرح توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے حالانکہ توفی کا فاعل اللہ اور مفعول انسانی نفوس ہیں یا مثلاً { حَتّٰٓی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا } ” یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے کسی ایک کو موت ‘ قبض کرلیتے ہیں یا پورا لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) “ میں ذکر موت ہی کا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی تَوَفَّتْہُ میں توفی کے معنی موت کے نہیں بن سکتے ورنہ بے فائدہ تکرار لازم آئے گا یعنی اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ میں جب لفظ ” موت “ کا ذکر آچکا تو اب تَوَفَّتْہُ میں بھی اگر توفی کے معنی موت ہی کے لیے جائیں تو ترجمہ یہ ہوگا ”یہاں تک کہ جب آتی ہے تم میں سے کسی ایک کو موت ‘ موت لے آتے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) “ اور ظاہر ہے اس صورت میں دوبارہ لفظ موت کا ذکر بے فائدہ ہے اور کلام فصیح وبلیغ اور معجز تو کیا روزمرہ کے محاورہ اور عام بول چال کے لحاظ سے بھی پست اور لاطائل ہوجاتا ہے البتہ اگر ” توفی “ کے حقیقی معنی کسی شے پر قبضہ کرنا یا اس کو پورا لے لینا مراد لیے جائیں تو قرآن عزیز کا مقصد ٹھیک ٹھیک ادا ہوگا اور کلام بھی اپنے حد اعجاز پر قائم رہے گا۔ اب ہر ایک عاقل غور کرسکتا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ ” توفی “ کے حقیقی معنی موت کے ہیں ‘ خصوصاً جبکہ فاعل خدا ہو اور مفعول ذی روح کہاں تک صحیح اور درست ہے۔بہرحال اس موقع پر ” موت “ اور ” توفی “ دونوں کا ساتھ ساتھ بیان ہونا اور دونوں کا ایک ہی معمول ہونا اور پھر دونوں کے معنی میں فرق و تفاوت اس بات کے لیے واضح دلیل ہے کہ یہ دونوں مرادف الفاظ نہیں ہیں اور جس طرح لیث و اسد (بمعنی شیر) ابل و جمل (بمعنی اونٹ) نون و حوت (بمعنی مچھلی) وغیرہ اسماء کا اور جمع ‘ شمل ‘کسب (بمعنی جمع ہونا) اور لبث مکث (بمعنی ٹھہرنا) اور عطش ‘ ظماء (بمعنی پیاس) اور جوع ‘ سغب (بمعنی بھوک ) مصادر کا حال ہے ‘ موت اور توفی کے درمیان میں وہ معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کے حقیقی معانی میں نمایاں فرق ہے اور مثلاً آیت: { فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ } ” پس روکے رکھو ان (عورتوں) کو گھروں میں یہاں تک کہ لے لے ان کو موت “ میں موت کو فعل اور توفی کا فاعل قرار دیا گیا ہے اور ہر ایک زبان کی نحو (گرامر) کا یہ مسئلہ ہے کہ فاعل اور فعل ایک نہیں ہوتے کیونکہ فعل فاعل سے صادر ہوتا ہے عین ذات فاعل نہیں ہوا کرتا تو اس سے یہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی ” موت “ ہرگز ہرگز نہیں ہیں ورنہ اس کا اطلاق جائز نہیں ہو سکتا۔ ان تین مقامات کے علاوہ سورة بقرہ کی آیت : { ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ } ” پھر پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا ہے۔ “ اور سورة نحل کی آیت { وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ } ” اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو کچھ اس نے کمایا ہے۔ “ میں بھی توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول نفس انسانی ہے تاہم یہاں توفی بمعنی موت نہیں بن سکتے اور یہ بہت واضح اور صاف بات ہے۔ غرض ان آیات میں باوجود اس امر کے کہ ” توفی “ کا فاعل اللہ تعالیٰ اور اس کا مفعول ” انسان یا نفس انسانی “ ہے پھر بھی باجماع اہل لغت و تفسیر ” موت کے معنی “ نہیں ہو سکتے خواہ اس لیے کہ دلیل اور قرینہ اس معنی کے خلاف ہے اور یا اس لیے کہ اس مقام پر توفی کے حقیقی معنی (پورا لے لینا یا قبض کرلینا) کے ماسوا ” موت کے معنی “ کسی طرح بن ہی نہیں سکتے۔ تو مرزائے قادیانی کا یہ دعویٰ کہ ” توفی “ اور ” موت “ مرادف الفاظ ہیں یا یہ کہ توفی کا فاعل اگر اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان یا نفس انسانی ہو تو اس جگہ صرف موت ہی کے معنی ہوں گے دونوں دعوے باطل اور نصوص قرآنی کے قطعاً خلاف ہیں۔ { قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } توفی اور موت یقیناً مرادف الفاظ نہیں ہیں اور توفی کے حقیقی معنی ” موت “ نہیں بلکہ ” پورا لے لینا یا قبض کرلینا “ ہیں۔ قرآن عزیز سے اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ پورے قرآن میں کسی ایک جگہ بھی موت کا فاعل اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو قرار نہیں دیا گیا مگر اس کے برعکس توفی کا فاعل متعدد مقامات پر ملائکہ (فرشتوں) کو ٹھہرایا ہے مثلاً سورة نساء میں ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ } ” بے شک وہ لوگ جن کو فرشتوں نے قبض کر لیا یا پورا پورا لے لیا۔ “ اور سورة انعام میں ہے : { تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا } ” قبض کر لیا یا پورا لے لیا اس کو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتوں) نے “ اور سورة سجدہ میں ہے : { قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ } ” (اے محمد) کہہ دیجئے قبض کرے گا تم کو موت کا فرشتہ “ اور سورة انفال میں ہے : { وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلٰٓئِکَۃُ } ” اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت کہ قبض کرتے ہیں فرشتے ان لوگوں (کی روحوں) کو جنھوں نے کفر کیا ہے۔ “ ان تمام مقامات پر اگرچہ توفی ” کنایتاً “ بمعنی موت استعمال ہوا ہے لیکن پھر بھی چونکہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے ملائکہ اور ملک الموت کی جانب ہو رہی تھی اس لیے لفظ ” توفی “ کا اطلاق کیا گیا اور لفظ ” موت “ استعمال نہیں کیا گیا اور یہ صرف اس لیے کہ موت تو اللہ کا فعل ہے اور موت کے وقت انسان کا یعنی روح انسانی کا قبض کرنا اور اس کا پورا پورا لے لینا یہ فرشتوں کا عمل ہے تو جن مقامات میں یہ بتانا مقصود ہے کہ جب خدا کسی کی اجل پوری کردیتا اور موت کا حکم صادر فرماتا ہے تو اس کی صورت عمل کیا پیش آتی ہے ان مقامات میں موت کا اطلاق ہرگز موزوں نہیں تھا بلکہ ” توفی “ کا لفظ ہی اس حقیقت کو ادا کرسکتا تھا۔ موت اور توفی کے درمیان میں قرآنی اطلاقات کے پیش نظر ایک بہت بڑا فرق یہ بھی ہے کہ قرآن عزیز نے جگہ جگہ ” موت “ اور ” حیات “ کو تو مقابل ٹھہرایا ہے لیکن ” توفی “ کو کسی ایک مقام پر بھی ” حیات “ کا مقابل قرار نہیں دیا۔ مثلاً سورة ملک میں ہے : { الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ } ” خدا ہی وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا موت کو اور زندگی کو “ اور سورة فرقان میں ہے : { وَلَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوۃً } ” اور وہ نہیں مالک ہیں موت کے اور نہ حیات کے “ اور اسی طرح ان دونوں کے مشتقات کو مقابل ٹھہرایا ہے مثلاً - { کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی } - { وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا } - { فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا } - { وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ } - { وَہُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی } (وَغِیْرَ ذَالِکَ کَثِیْرًا) البتہ توفی کے حقیقی معنی میں چونکہ یہ وسعت موجود ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے موت کی جو حقیقت ہے بطریق کنایہ اس پر بھی حسب موقع اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو یہ استعمال اور اطلاق بھی جائز ٹھہرا اور اس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ ” توفی “ کے معنی کی اس مفصل تشریح و توضیح کا حاصل یہ ہوا کہ لغت عرب اور قرآنی اطلاقات دونوں اس کے شاہد ہیں کہ توفی اور موت دونوں کے حقیقی معنی میں بھی اور دونوں کے اطلاقات میں بھی واضح فرق ہے اور دونوں مرادف الفاظ نہیں ہیں خواہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور مفعول انسان اور روح انسانی ہی کیوں نہ ہو ‘ مگر اسلامی نقطہ نظر سے چونکہ موت ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جس پر بطریق ” توسع “ اور ” کنایہ “ توفی کا اطلاق کیا جا سکتا ہے پس جس مقام پر قرینہ اور محل استعمال کا تقاضا یہ ہوگا کہ وہاں توفی بول کر کنایتاً موت کے معنی لیے جانے چاہئیں تو اس جگہ ” موت “ کے معنی مراد ہوں گے لیکن اس کے برعکس اگر دلیل ‘ قرینہ اور محل استعمال حقیقی معنی کا متقاضی ہے تو اس جگہ وہی معنی مراد ہوں گے اور انھی کو مقدم سمجھا جائے گا خواہ کنائی معنی وہاں قطعاً نہ بن سکتے ہوں اور خواہ بن سکتے ہوں مگر محل استعمال اور دوسرے دلائل اس کو مرجوح یا ممنوع قرار دیتے ہوں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو بہ نظر غائر مطالعہ کرنے کے بعد لغت کے مشہور امام ابوالبقاء نے یہ تصریح کی ہے کہ عوام میں توفی کے معنی اگرچہ موت کے سمجھے جاتے ہیں مگر خواص کے نزدیک اس کے معنی ” پورا لے لینا “ اور ” قبض کرنا “ ہیں ‘ فرماتے ہیں : ( (اَلتَّوَفِّیْ اَلْاِمَاتَۃُ وَقَبْضُ الرُّوْحِ وَعَلَیْہِ اِسْتِعْمَالُ الْعَامَّۃِ وَالْاِسْتِیْفَائُ وَاَخَذُ الْحَقِّ وَعَلَیْہِ اِسْتِعْمَالُ الْبُلَغَائِ )) الحاصل سورة مائدہ کی آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ میں اگر حقیقی معنی مراد ہوں جیسا کہ جلیل القدر علمائے تفسیر و لغت نے اختیار کیے ہیں تب بھی مرزائے قادیانی کے علی الرغم آیات زیر بحث کا یہ مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تسلی دی گئی ” اے عیسیٰ ! میں تجھ کو پورا پورا لے لینے والا ہوں یا تجھ کو قبض کرنے والا ہوں اور صورت یہ ہوگی کہ میں تجھ کو اپنی جانب (ملا اعلیٰ کی جانب) اٹھالینے والا ہوں اور تجھ کو دشمنوں کے ناپاک ہاتھوں سے پاک رکھنے والا ہوں الخ “یعنی جب شروع میں یہ بتایا کہ تجھ کو قبض کر لیا جائے گا یا پورا لے لیا جائے گا تو قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ قبض کرنے اور پورا لے لینے کی مختلف شکلیں ہیں مثلاً ایک یہ کہ موت آجائے اور روح کو قبض کر لیا جائے اور پورا لے لیا جائے اور دوسری یہ کہ زندہ ملائے اعلیٰ کی جانب (اپنی جانب) اٹھا لیا جائے تو یہاں کونسی صورت پیش آئے گی پس اس کو صاف اور واضح کرنے کے لیے کہا گیا کہ دوسری شکل اختیار کی جائے گی تاکہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلہ میں معجزانہ تدبیر کے ذریعہ وعدہ الٰہی { وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ } پورا ہو اور { وَ اِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ } کا عظیم الشان مظاہرہ ہوجائے اور ” توفی “ اور ” رفع “ ہوجانے پر نتیجہ یہ نکلے کہ ذات اقدس کافروں کے ہاتھ سے ہر طرح محفوظ ہوجائے اور اس طرح وعدہ ربانی { وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } بغیر کسی تاویل کے صحیح ہوجائے اور تاویل باطل کے ذریعہ شک اور ترددیا حقیقت حال سے انکار صرف انھی قلوب کا حصہ رہ جائے جو قرآن سے علم حاصل کرنے کی بجائے اول اپنے ذاتی اوہام و ظنون کو راہنما بناتے اور پھر قرآن کے منطوق و مفہوم کے خلاف اس کے منہ میں اپنی زبان رکھ دینا چاہتے ہیں اور اس سے وہ کہلانا چاہتے ہیں جو وہ خود کہنا نہیں چاہتا مگر وہ قرآن عزیز کی اس صفت سے غافل رہتے ہیں : { لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ } ” اس قرآن کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے (کسی جانب سے بھی) باطل نہیں پھٹک سکتا یہ اتارا ہوا ہے ایسی ہستی کی جانب سے جو حکمت والی ‘ خوبیوں والی ہے۔ “ مت نبی پنجاب کو جب قرآن عزیز کی ان نصوص سے متعلق تحریف معنوی میں ناکامی ہوئی اور خسران کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا تو مجبور ہو کر قرآن عزیز کے اطلاقات ‘ احادیث صحیحہ کی اطلاعات اور اجماع امت کے فیصلہ کو پس پشت ڈال کر ” فلسفہ “ کی آغوش میں پناہ لینے کا ارادہ کیا اور اپنی تصانیف میں یہ ہرزہ سرائی کی کہ اگر حضرت مسیح (علیہ السلام) آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے تو یہ عقل کے خلاف ہے اس لیے کہ کوئی مادی جسم ملائے اعلیٰ تک پرواز نہیں کرسکتا اور کر بھی جاتا تو اتنی طویل مدت کیسے زندہ رہے اور وہاں کھانے پینے اور رفع حاجت کرنے کی صورت کیسے عمل میں آسکتی ہے ؟ قدرت الٰہی کے معجزانہ افعال کو خلاف عقل کہہ کر بات اگر ختم ہو سکتی تو شاید قادیانی کی یہ فلسفیانہ موشگافی درخود اعتناء سمجھی جا سکتی ‘ لیکن آج فلسفہ جدید بہ شکل سائنس ترقی کرکے جس حد تک پہنچ چکا ہے وہاں نظریات نہیں بلکہ مشاہدات اور عملیات اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ فضا کے موانعات کو اگر آہستہ آہستہ ہٹا دیا جائے یا ان کو ضبط میں لے آیا جائے تو مادی جسم کے لیے غیر معلوم بلندی تک پہنچنا ممکن العمل ہوجائے گا اور اس کے لیے جو جدوجہد وہ کر رہے ہیں وہ ممکن العمل سمجھ کر ہی کر رہے ہیں اور سائنٹفک طریقہ پر کر رہے ہیں پس اگر آج کا انسان میلوں اوپر ہوائی جہاز کے ذریعہ جا سکتا ہے اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ ہزاروں میل سے مادی انسان سے باتیں کرتے وقت اس کے جسم کی تصویر لے سکتا ہے اور ہوا اور آفتاب کی لہروں اور شعاعوں پر کنٹرول کرکے ہزاروں میل تک اپنی آواز کو بذریعہ ریڈیو نشر کرسکتا ہے اور ہزاروں برس کے گذرے ہوئے واقعات کو فضا میں نظم کرکے آج اس طرح سنا سکتا ہے گویا وہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے تو اس انسان کے خالق بلکہ خالق کائنات کے متعلق ازراہ تفلسف یہ کہنا کہ وہ مادی جسم کو ملائے اعلیٰ تک کیسے لے جا سکتا ہے اپنی غباوت پر مہر کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور اگر ادویات اور غذاؤں اور حفظان صحت کے مختلف طریقوں سے عمر طبعی کو دگنا اور تین گنا کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے نیز اگر مختلف غذاؤں کے اثرات و نتائج میں یہ فرق ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ کسی سے فضلہ زیادہ بنے اور کسی سے بہت کم بنے اور کسی سے قطعاً نہ بنے بلکہ وہ خالص خون کی شکل میں تحلیل ہوجائے اور اگر انسان اپنی ریاضتوں اور مجاہدوں کے ذریعہ روحانی قوت بڑھاکر آج اس دنیا میں ہفتوں بلکہ مہینوں بغیر خور و نوش زندہ رہ سکتا ہے تو مجبور انسانوں کی ان کامیاب کوششوں کو صحیح سمجھنے کے باوجود خالق ارض و سماوات کی جانب حضرت مسیح (علیہ السلام) کی رفعت آسمانی پر مسطورہ بالا شکوک پیش کرنا یا ان کے پیش نظر ان کے بجسد عنصری ملائے اعلیٰ تک پہنچنے اور وہاں زندہ رہنے کا انکار کرنا اگر جہالت نہیں تو اور کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص علمی حقائق سے ناآشنا اور علوم قرآن سے محروم ہے وہ ” خلاف عقل “ اور ” ماورائے عقل “ ان دونوں باتوں کے درمیان میں فرق کرنے سے عاجز ہے اور اس لیے ہمیشہ ماورائے عقل کو خلاف عقل کہہ کر پیش کرتا رہتا ہے۔ دراصل انسان کی فکری گمراہیوں کا سرچشمہ صرف دو ہی باتیں ہیں ایک یہ کہ انسان ” عقل “ سے اس درجہ بے بہرہ ہوجائے کہ ہر ایک بات بے سمجھے بوجھے مان لے اور اندھوں کی طرح ہر ایک راہ پر چلنے لگے دوسری بات یہ کہ جو حقیقت بھی عقل سے بالاتر نظر آئے اس کو فوراً جھٹلا دے اور یہ یقین کرلے جس شے کو اس کی سمجھ یا چند انسانوں کی سمجھ ادراک نہیں کرسکتی وہ شے حقیقتاً وجود نہیں رکھتی اور تکذیب کے لائق ہے حالانکہ بہت سی باتیں وہ ہیں جو ایک دور کے تمام عقلا کے نزدیک ماورائے عقل سمجھی جاتی ہیں اس لیے کہ ان کی عقلیں ان باتوں کا ادراک کرنے سے عاجز رہیں مگر وہی باتیں علمی ترقی کے دوسرے دور میں جا کر نہ صرف ممکن الوقوع قرار پاتی بلکہ مشاہدہ اور تجربہ میں آجاتی ہیں پس اگر ہر ایک وہ شے جو کسی ایک انسان یا جماعت یا اس کے دور کے تمام اہل عقل کے نزدیک ماورائے عقل تھی ” خلاف عقل “ کہلانے کی مستحق تھی تو وہ دوسرے دور میں کیوں عقل کے لیے ممکن ہوئی بلکہ مشاہدہ میں آگئی۔ قرآن عزیز نے گمراہی کی اس پہلی حالت کو ” جہل ‘ ظن ‘ خرص ‘ اٹکل “ سے تعبیر کیا ہے اور دوسری حالت کو ” الحاد “ کہا ہے اور یہ دونوں حالتیں ” علم و عرفان “ سے محرومی کا نتیجہ ہوتی ہیں خلاف عقل اور ماورائے عقل کے درمیان یہ فرق ہے کہ خلاف عقل بات وہ ہو سکتی ہے جس کے نہ ہوسکنے کے متعلق علم و یقین کی روشنی میں مثبت دلائل وبراہین موجود ہوں اور عقل ‘ دلیل وبرہان اور علم یقین سے یہ ثابت کرتی ہو کہ ایسا ہونا ناممکن اور محال ذاتی ہے اور ماورائے عقل اس بات کو کہتے ہیں کہ بعض باتوں کے متعلق عقل ہی کا یہ فیصلہ ہے کہ چونکہ انسانی عقل کا ادراک ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھتا اور حقیقت اسی حد پر ختم نہیں ہوجاتی لہٰذا ہر وہ بات جو عقل کے احاطہ میں نہ آسکتی ہو مگر اس کے انکار پر علم و یقین کے ذریعہ برہان و دلیل بھی دی جا سکتی ہو تو ایسی بات کو خلاف عقل نہیں بلکہ ماورائے عقل کہیں گے۔ خلاف عقل اور ماورائے عقل کے درمیان میں امتیاز ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ جن چیزوں کو کل کی دنیا میں عام طور پر خلاف عقل کہا جاتا رہا ان کو اہل دانش و بینش نے خلاف عقل نہ سمجھتے ہوئے موجودہ دور میں ممکن بلکہ موجود کر دکھایا اور کل یہی عقل کی ترقی آج کی بہت سی ماورائے عقل باتوں کو احاطہ عقل میں لاسکے گی اور نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ پس جو شخص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بجسد عنصری رفع الی السماء کا اس لیے منکر ہے کہ عقلی فلسفہ اس کا انکار کرتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ برہان و دلیل اور علم و یقین کی جگہ محض جہل ‘ ظن ‘ اٹکل کے ماتحت ہے اور ایسے حضرات کے لیے پھر عالم غیب کی تمام ماورائے عقل باتوں مثلاً وحی ‘ فرشتہ ‘ جنت ‘ جہنم ‘ حشر ‘ معاد ‘ معجزہ وغیرہ تمام باتوں کو خلاف عقل کہہ کر جھٹلا دینا چاہیے۔ قرآن عزیز نے انھی جیسے منکرین حق کے متعلق صاف صاف مکذبین کا لقب تجویز کر دیا ہے : { بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَ لَمَّا یَاْتِھِمْ تَاْوِیْلُہٗ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیْنَ } ” نہیں یہ بات نہیں ہے (جیسا کفار کہتے ہیں) اصل حقیقت یہ ہے جس بات پر یہ اپنے علم سے احاطہ نہ کرسکے اور جس بات کا نتیجہ ابھی پیش نہیں آیا اس کے جھٹلانے پر آمادہ ہو گئے ٹھیک اسی طرح انھوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں تو دیکھو ظلم کا کیسا انجام ہو چکا ہے۔ “ آیت میں { کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ } (یونس 1٠/39) کہہ کر جس حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے یعنی انسان کی عقل جس بات کا ادراک نہ کرسکے اس کو دلیل وبرہان اور علم یقین کے بغیر ہی جھٹلا دینا اور صرف اس بنا پر انکار کردینا کہ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اس کی ایک نظیر مرزائے قادیانی کا وہ انکار ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ” رفع الی السماء “ سے متعلق ہے اور اس کے خلیفہ مسٹر لاہوری کی فلسفیانہ موشگافیاں بھی اسی بے دلیل انکار و جحود کا شعبہ ہیں۔ اس حربہ کو بھی کمزور سمجھ کر متنبی پنجاب نے پھر رخ بدلا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس موقع کے علاوہ قرآن کے کسی مقام سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ” رفع “ سے ” رفع روحانی “ کے ماسوا کوئی معنی لیے گئے ہیں یعنی مادی شے کی جانب رفع کی نسبت کی گئی ہو لہٰذا اس مقام پر بھی رفع روحانی کے علاوہ معنی لینا قرآن کے اطلاق و استعمال کے خلاف ہے۔ مگر متنبی کاذب کا یہ دعویٰ اول تو بنیاداً ہی غلط ہے کیونکہ اگر کسی لفظ کے محل استعمال سے یا قرآن ہی کی دوسری نصوص سے ایک معنی متعین ہیں تب یہ سوال پیدا کرنا کہ ” یہی استعمال دوسرے کسی مقام پر جب تک ثابت نہیں ہوگا قابل تسلیم نہیں “ حد درجہ کی نادانی ہے تاوقتیکہ دلیل سے یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ لغت عرب میں اس لفظ کا اس معنی میں استعمال جائز ہی نہیں اور اگر اتمام حجت کے طور پر اس قسم کے لچر سوال یا دعوے کو قابل جواب یا لائق رد سمجھا ہی جائے تو سورة النازعات کی یہ آیت کافی و وافی ہے : { ئَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآئُ بَنَاہَا۔ رَفَعَ سَمْکَہَا } ” (اے افراد نسل انسانی) خلقت اور پیدائش کے لحاظ سے کیا تم زیادہ بھاری اور بوجھل ہو یا آسمان جس کو خدا نے بنایا اور اس کے بوجھل جسم کو بلند کیا۔ “ اور ایک آسمان پر ہی کیا موقوف ہے یہ ہم سے لاکھوں اور کروڑوں میل دور فضا میں سورج چاند ستاروں کو خدائے برتر نے جو بلندی اور رفعت عطا کی ہے کیا یہ سب کے سب مادی اجسام نہیں ہیں ؟ اور اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو جس خالق ارض و سماوات نے ان مادی اجسام کا رفع آسمانی کیا ہے وہ اگر ایک انسانی مخلوق کا رفع آسمانی کر دے تو اس کو قرآن کے اطلاق و استعمال کے خلاف کہنا غباوت اور جہالت نہیں تو اور کیا ہے البتہ ثبوت درکار ہے تو اس کے لیے قرآن عزیز کی نصوص ‘ صحیح احادیث اور اجماع امت سے زیادہ موثق ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا رفع سماوی اور چند جذباتی باتیں مرزائے قادیانی نے اگرچہ اس مسئلہ میں جمہور کے خلاف یہود و نصاریٰ کی پیروی میں تحریف مطالب کی کافی سعیٔ ناکام کی ہے اور مسٹر لاہوری نے بھی تفسیر قرآن میں تحریف معنوی کے ذریعہ اپنے مقتداء کی مدد کی تاہم دل کا چور ان کو مطمئن نہیں کرسکا اور اس لیے انھوں نے دلائل وبراہین کی جگہ جذبات کو دلیل راہ بنایا اور کبھی تو یہ کہا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں وہ ان کو خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فضیلت دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمین پر ہوں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر ‘ یہ تو سخت توہین کی بات ہے۔ لیکن علمی حلقوں میں اس لچر اور لوچ جذبہ کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے جبکہ ہر مذہبی انسان اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ اگرچہ فرشتے ہمیشہ بقید حیات ملا اعلیٰ میں موجود اور سکونت پزیر ہیں تاہم ان سب کے مقابلہ میں بلکہ ان کی جلیل القدر ہستیوں مثلاً جبرائیل و میکائیل (علیہما السلام) کے مقابلہ میں بھی ایک مفضول سے مفضول نبی کا رتبہ بہت بلند اور عالی ہے حالانکہ وہ نبی زمین پر مقیم رہا ہے اور جبرائیل (علیہ السلام) کا قیام ملائے اعلیٰ کے بھی بلند تر مقام پر رہتا ہے چہ جائیکہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ جلیل جس کی عظمت ” بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر “ میں مضمر ہے علاوہ ازیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج میں { قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی } کا جو تقرب پایا ہے وہ نہ کسی ملک اور فرشتہ کو حاصل ہوا اور نہ کسی نبی اور رسول کو ‘ اس لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا رفع آسمانی اس ” رفعت “ کو پہنچ ہی نہیں سکتا جو اسریٰ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوئی۔ بہرحال فاضل و مفضول کے درمیان میں فرق مراتب کے لیے تنہا ملائے اعلیٰ کا قیام معیار فضیلت نہیں ہے خصوصاً اس ” افضل ہستی “ کے مقابلہ میں جس کی فضیلت کا معیار خود اس کا وجود باجود ہو اور جس کی ذات قدسی صفات خود ہی منبع فضائل اور مرجع کمالات ہو ‘ ایسی ہستی سے تو ” مقام “ عزت و مرتبہ پاتا ہے نہ کہ وہ ذات گرامی : حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری اور کبھی یہ کہا کہ جو شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ تسلیم کرتا ہے وہ ” العیاذ باللہ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس لیے توہین کرتا ہے کہ وہ بقید حیات نہیں رہے اور اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھر ذات اقدس پر برتری حاصل ہو گئی۔ یہ مقولہ پہلے سے بھی زیادہ بے کیف اور بے معنی ہے بلکہ سرتا سر غلط بنیاد پر قائم ‘ اس لیے کہ کون اہل عقل اور ذی ہوش کہہ سکتا ہے کہ ” زندگی “ بھی فاضل و مفضول کے درمیان معیار فضیلت ہے اس لیے کہ زندگی کی قیمت ذاتی کمالات و فضائل سے ہے نہ اس لیے کہ وہ زندگی ہے پھر ” معیار فضیلت “ کی اس بحث سے قطع نظر اس موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسئلہ فضیلت کو درمیان میں لانا اس لیے بھی قطعاً بے محل ہے کہ جبکہ قرآن عزیز کی نصوص نے تمام کائنات پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برتری کو ثابت کر دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت نے زندہ شہادت بن کر ان نصوص کی تصدیق کردی تو کسی بھی انسان کی ” زندگی “ یا ” رفع آسمانی “ یا کوئی ” وجہ فضیلت “ اس کے مقابلہ میں نہیں لائی جا سکتی ‘ اور ہر ایک حالت و صورت میں ” فضل کلی “ اسی جامع کمالات ہستی کو حاصل رہے گا۔ { وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ } کی تفسیر اس مسئلہ کو ختم کرنے سے پہلے اب ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ سورة نساء کی مسطورہ بالا آیت میں { وَلٰکِنْ شُبّْہَ لَھُمْ } کی کیا تفسیر ہے ؟ یعنی وہ کیا اشتباہ تھا جو یہودیوں پر طاری کر دیا گیا تو قرآن عزیز اس کا جواب اس مقام پر بھی اور آل عمران میں بھی ایک ہی دیتا ہے اور وہ ” رَفَعَ اِلَی السَّمَائِ “ ہے سورة آل عمران میں اس کو وعدہ کی شکل میں ظاہر کیا ” وَرَافِعُکَ اِلَیَّ “ اور سورة نساء میں ایفائے وعدہ کی صورت میں یعنی ” بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ “ جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ محاصرہ کے وقت جب منکرین حق گرفتاری کے لیے اندر گھسے تو وہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ پایا یہ دیکھا تو سخت حیران ہوئے اور کسی طرح اندازہ نہ لگا سکے کہ صورت حال کیا پیش آئی اور اس طرح ” وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ “ کا مصداق بن کر رہ گئے اس کے بعد قرآن کہتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا } تو یہ اشتباہ کے بعد جو صورت حال پیش آئی اس کا نقشہ بیان کیا گیا ہے اور اس سے دو باتیں بصراحت ظاہر ہوتی ہیں : ایک یہ کہ یہود اس سلسلہ میں اس طرح شک میں پڑ گئے تھے کہ گمان اور اٹکل کے ماسوا ان کے پاس علم و یقین کی کوئی صورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور دوسری بات یہ کہ انھوں نے کسی کو قتل کرکے یہ مشہور کیا کہ انھوں نے ” مسیح (علیہ السلام) “ کو قتل کر دیا یا پھر آیت زمانہ نبوت محمدی کے یہود کا حال بیان کر رہی ہے۔ پس قرآن عزیز کے ان واضح اعلانات کے بعد جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حفاظت و صیانت کے سلسلہ میں کیے گئے ہیں اور جن کو تفصیل کے ساتھ سطور بالا میں بیان کر دیا گیا ہے ان دونوں باتوں کی جزئی تفصیلات کا تعلق آثار صحابہ (رض) و رضوا عنہ اور تاریخی روایات پر رہ جاتا ہے اور اس سلسلہ میں صرف انھی روایات و آثار کو قابل تسلیم سمجھا جائے گا جو اپنی صحت روایت کے ساتھ ساتھ ان بنیادی تصریحات سے نہ ٹکراتی ہوں جن کا ذکر متعدد مقامات پر قرآن عزیز نے بصراحت کر دیا ہے اور اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا ” قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی خود ہی تفسیر کردیتا ہے “ کے اصول پر جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دشمن ہاتھ تک نہ لگا سکے اور وہ محفوظ ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھالیے گئے اور جیسا کہ حیات عیسیٰ (علیہ السلام) کی بحث میں ابھی نصوص قرآنی سے ثابت ہوگا کہ وہ وقوع قیامت کے لیے ” نشان “ ہیں ‘ اور اس لیے دوبارہ کائنات ارضی میں واپس آ کر مفوضہ خدمت انجام دے کر پھر موت سے دو چار ہوں گے۔ شخصِ مقتول و مصلوب سے متعلق آثار و تاریخ کی جو ملی جلی روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ” سبت کی شب “ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بیت المقدس کے ایک بند مکان میں اپنے حواریوں کے ساتھ موجود تھے کہ بنی اسرائیل کی سازش سے دمشق کے بت پرست بادشاہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کے لیے ایک دستہ بھیجا اس نے آ کر محاصرہ کر لیا اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جب سپاہی اندر داخل ہوئے تو انھوں نے حواریوں میں سے ہی ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شبیہ پایا ‘ اور اس کو گرفتار کرکے لے گئے اور پھر اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جس کا ذکر گذشتہ سطور میں ہو چکا ہے انھی روایات میں بعض اس کا نام یودس بن کر یایوطا بیان کرتے ہیں اور بعض جرجس اور دوسرے داؤد بن لوزا کہتے ہیں۔ پھر ان روایات میں سے بعض میں ہے کہ یہ شخص مقتول اپنی خلقت ہی میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مشابہ اور ان کا نقش ثانی تھا ‘ اسرائیلیات انجیلی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے یہوداہ اسکرلوتی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شبیہ تھا اور بعض روایات میں ہے کہ جب یہ نازک گھڑی آپہنچی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں کو دعوت و تبلیغ حق سے متعلق تلقین و ہدایات کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھ کو مطلع کر دیا ہے کہ میں ایک مدت تک کے لیے ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جاؤں گا اور یہ واقعہ مخالفین اور متبعین دونوں کے لیے سخت آزمائش و امتحان میں جانے والا ہے۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص اس پر آمادہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرا ہم شبیہ بنا دے اور وہ خدا کی راہ میں جان بحق پیئے اس کو جنت کی بشارت ہے تب ایک حواری نے پہل کی اور خود کو اس کے لیے پیش کیا اور منجانب اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل ہو گیا اور سپاہیوں نے اس کو گرفتار کر لیا۔ یہ تفصیلات نہ قرآن میں مذکور ہیں اور نہ احادیث مرفوعہ میں اس لیے وہ صحیح ہوں یا غلط ‘ نفس مسئلہ اپنی جگہ اٹل ہے اور قرآن کی آیات میں منصوص ‘ اس لیے اصحاب ذوق کو اختیار ہے کہ وہ صرف قرآن کے اس اجمال پر ہی قناعت کریں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا رفع الی السماء اور ہر طرح دشمنوں سے تحفظ نیز یہود پر معاملہ کا مشتبہ ہو کر کسی دوسرے کو قتل کرنا ‘ یہود و نصاریٰ کے پاس اس سلسلہ میں علم و یقین سے محروم ہو کر ظن وتخمین اور شک و شبہ میں مبتلا ہوجانا اور قرآن کا حقیقت واقعہ کو علم و یقین کی روشنی میں ظاہر کردینا یہ سب حقائق ثابتہ ہیں { وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ } اور { وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ } کی تفسیر میں ان روایات کی تفصیلات کو بھی قبول کر لیں اور یہ سمجھ کر تسلیم کریں کہ زیر بحث آیات کی تفسیر ان تفصیلات پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ امر زائد ہے جو آیات کی تفسیر صحیح کے لیے مؤید ہے۔ حیات عیسیٰ (علیہ السلام) سورة آل عمران ‘ مائدہ اور نساء کی زیر بحث آیات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق حکمت الٰہی کا یہ فیصلہ صادر ہوا کہ ان کو بقید حیات ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جائے اور وہ دشمنوں اور کافروں سے محفوظ اٹھا لیے گئے۔ لیکن قرآن نے اس مسئلہ میں صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حسب موقع ان کی حیات امروز پر نصوص قطعیہ کے ذریعہ متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے اور ان مقامات میں اس جانب بھی اشارات کیے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات طویل اور رفع الی السماء میں کیا حکمت مستور تھی تاکہ اہل حق کے قلوب تازگی ایمان سے شگفتہ ہوجائیں اور باطل کوش اپنی کور باطنی پر شرمائیں۔ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ { وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا } ” اور کوئی اہل کتاب میں سے باقی نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ ضرور ایمان لائے گا (عیسیٰ ) پر اس (عیسیٰ ) کی موت سے پہلے اور وہ (عیسیٰ ) قیامت کے دن ان پر (اہل کتاب پر) گواہ بنے گا۔ “ اس آیت سے قبل آیات میں وہی مسطورہ بالا واقعہ مذکور ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صلیب پر چڑھایا گیا اور نہ قتل کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب اٹھا لیا۔ یہ یہود و نصاریٰ کے اس عقیدہ کی تردید ہے جو انھوں نے اپنے باطل زعم اور اٹکل سے قائم کر لیا تھا ان سے کہا جا رہا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق صلیب پر چڑھائے جانے اور قتل کیے جانے کا دعویٰ قابل لعنت ہے کیونکہ بہتان اور لعنت تَوْاَمْ ہیں اس کے بعد اس آیت میں امر اول کی تصدیق میں اس جانب توجہ دلائی جا رہی ہے کہ آج اگر اس ملعون عقیدہ پر فخر کر رہے ہو تو وہ وقت بھی آنے والا ہے جب عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) خدائے برتر کی حکمت و مصلحت کو پورا کرنے کے لیے کائنات ارضی پر واپس تشریف لائیں گے اور اس عینی مشاہدہ کے وقت اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) میں سے ہر ایک موجود ہستی کو قرآن کے فیصلہ کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے گا ‘ اور پھر جب وہ اپنی مدت حیات ختم کرکے موت کی آغوش سے دو چار ہوجائیں گے تو قیامت کے دن اپنی امت (اہل کتاب) پر اسی طرح گواہ ہوں گے جس طرح تمام انبیا ومرسلین اپنی اپنی امتوں پر شاہد بنیں گے۔ یہ حقیقت کچھ مخفی نہیں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اگرچہ یہود و نصاریٰ دونوں واقعہ صلیب و قتل پر متفق ہیں لیکن اس سلسلہ میں دونوں کے عقائد کی بنیاد قطعاً متضاد اصول پر قائم ہے ‘ یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو مفتری اور کاذب کہتے اور دجال 1۔(دجال دجل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ” فریب “ کے ہیں۔) سمجھتے ہیں اور اس لیے فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے یسوع مسیح (علیہ السلام) کو صلیب پر بھی چڑھایا اور پھر اس حالت میں مار بھی ڈالا۔ اس کے برعکس نصاریٰ کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا پہلا انسان آدم (علیہ السلام) گناہ گار تھا اور ساری دنیا گناہ گار تھی۔ اس لیے خدا کی صفت ” رحمت “ نے ارادہ کیا کہ دنیا کو گناہوں سے نجات دلائے اس لیے اس کی صفت ” رحمت “ نے ابنیت (بیٹا ہونا) کی شکل اختیار کی اور اس کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ یہود کے ہاتھوں سولی پر چڑھے اور مارا جائے اور اس طرح ساری کائنات ماضی و مستقبل کے گناہوں کا ” کفارہ “ بن کر دنیا کی نجات کا باعث بنے۔ سورة نساء کی آیات میں قرآن عزیز نے صاف صاف کہہ دیا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قتل کے دعویٰ کی بنیاد کسی بھی عقیدہ پر مبنی ہو لائق لعنت اور باعث ذلت و خسران ہے۔ خدا کے سچے پیغمبر کو مفتری سمجھ کر یہ عقیدہ رکھنا بھی لعنت کا موجب اور خدا کے بندے اور مریم (علیہا السلام) کے بطن سے پیدا انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر اور ” کفارہ “ کا باطل عقیدہ تراش کر مسیح (علیہ السلام) کو مصلوب و مقتول تسلیم کرنا بھی گمراہی اور علم و حقیقت کے خلاف اٹکل کا تیر ہے اور اس سلسلہ میں صحیح اور مبنی برحقیقت فیصلہ وہی ہے جو قرآن نے کیا ہے اور جس کی بنیاد ” علم و یقین اور وحی الٰہی “ پر قائم ہے۔ پس آج جبکہ تمھارے سامنے اس اختلاف کے فیصلہ کے لیے جو شک و ظن کی شکستہ بنیادوں پر قائم تھا علم و یقین کی روشنی آچکی ہے پھر بھی تم اپنے ظنون کا سدہ اور اوہام فاسدہ پر اصرار کر رہے ہو اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق باطل عقیدہ کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہو ‘ تو قرآن کا ایک دوسرا فیصلہ اور وحی الٰہی کا یہ اعلان بھی سن لو کہ تمھاری نسلوں پر وہ وقت بھی آنے والا ہے جب قرآن کے اس صحیح فیصلہ اور اعلان حق کے مطابق حضرت مسیح (علیہ السلام) ملائے اعلیٰ سے کائنات ارضی کو واپس ہوں گے اور ان کی یہ آمد ایسی مشاہد ہوگی کہ یہود و نصاریٰ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہے گا جو بادل خواستہ یا بادل ناخواستہ اس ذات گرامی پر یہ ایمان نہ لے آئے کہ بلاشبہ وہ خدا کے سچے رسول ہیں ‘ خدا کے بیٹے نہیں برگزیدہ انسان ہیں ‘ مصلوب و مقتول نہیں ہوئے تھے بقید حیات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ { وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ } یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ سورة آل عمران اور سورة مائدہ کی طرح اس جگہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے لفظ ” توفی “ نہیں بولا گیا بلکہ بصراحت لفظ ” موت “ استعمال کیا گیا ہے یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ ان دونوں مقامات پر جس حقیقت کا اظہار مقصود ہے اس کے لیے ” توفی “ ہی مناسب ہے جیسا کہ سورة آل عمران سے متعلق آیات کی تشریح و تفسیر میں گذر چکا اور سورة مائدہ سے متعلق آیت کی تفسیر میں عنقریب بیان ہوگا اور اس جگہ چونکہ براہ راست ” موت “ ہی کا تذکرہ مطلوب ہے اور اس حالت کا ذکر ہے۔جس کے بعد حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی { کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ } کا مصداق بننے والے ہیں اس لیے یہاں ” موت “ کو بصراحت لانا ہی از بس ضروری تھا اور یہ مزید برہان ہے اس دعویٰ کے لیے کہ آل عمران اور مائدہ میں لفظ ” موت “ کی جگہ ” توفی “ کا اطلاق بلاشبہ خاص مقصد رکھتا ہے ورنہ جس طرح ان دونوں مقامات پر ” توفی “ کا اطلاق کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی کیا جاتا یا جس طرح اس جگہ لفظ ” موت “ کا اطلاق کیا گیا ہے اسی طرح ان دونوں مقامات پر بھی لفظ موت ہی کا استعمال ہونا چاہیے تھا مگر قرآن عزیز کے ان دقیق اسالیب بیان کے فرق کا فہم ‘ طالبین حق کا ہی حصہ ہے نہ کہ مرزائے قادیانی اور مسٹر لاہوری جیسے اصحاب زیغ کا جو اپنی خاص اغراض ذاتی کے پیش نظر پہلے ایک نظریہ ایجاد کرلیتے ہیں اور بعد ازاں اس سلسلہ کی تمام آیات قرآنی کو اسی کے سانچہ میں ڈھال کر اس کا نام ” تفسیر قرآن “ رکھتے ہیں۔ بہرحال جمہور کے نزدیک آیت زیر عنوان کی تفسیر یہی ہے جو سپرد قلم کی جا چکی ‘ مشہور محدث ‘ جلیل القدر مفسر اور اسلامی مورخ عماد الدین ابن کثیر ؒ اس تفسیر کو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حسن بصری ؒ سے بسند صحیح نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں : ” قتادہ ‘ عبد الرحمن اور بہت سے مفسروں کا یہی قول ہے اور یہی قول حق ہے جیسا کہ عنقریب ہم دلیل قاطع سے اس کو ثابت کریں گے ‘ ان شاء اللہ تعالیٰ “ اور سر تاج محدثین ابن حجر عسقلانی بھی اسی کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” اسی تفسیر پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یقین کیا ہے اور ابن عباس ؓ کی اس تفسیر کو ابن جریر نے بروایت سعید بن جبیر اور ابو رجاء نے بھی حسن ؒ سے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ” قَبْلَ مَوْتِہٖ “ یعنی قبل موت عیسیٰ (علیہ السلام)۔ قسم بخدا بے شک وشبہ حضرت عیسیٰ بقید حیات ہیں اور جب وہ آسمان سے اتریں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ابن جریر ؒ نے اسی تفسیر کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے اور ابن جریر ؒ وغیرہ نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ “ مگر اس صحیح تفسیر کے علاوہ کتب تفسیر میں احتمال عقلی کے طور پر دو قول اور بھی منقول ہیں۔ مگر وہ دونوں بلحاظ سند ضعیف اور ناقابل اعتماد اور بلحاظ سیاق وسباق (یعنی آیت زیر بحث سے قبل اور بعد کی آیات کے لحاظ سے) غلط اور ناقابل التفات ہیں۔ یعنی ایسے احتمالات عقلی ہیں جو نقل اور آیات کے باہمی نظم و ترتیب کے خلاف ہیں۔ ان ہر دو معنی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ ” مَوْتِہٖ “ میں جو ضمیر ہے اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بجائے اہل کتاب کی جانب لوٹایا جائے اور آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے ” اور اہل کتاب میں سے کوئی فرد ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آتا ہو “ یعنی اگرچہ یہود و نصاریٰ اپنی زندگی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق قرآن کے بتائے ہوئے عقیدہ پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہیں لیکن جب ان کو ” موت “ آ دباتی ہے تو وہ اس آخری حالت میں ” جو نزع کا وقت کہلاتا ہے “ صحیح عقیدہ کے مطابق ایمان لے آتے ہیں اور اہل کتاب کے ہر ایک فرد پر بلا استثناء یہی حالت گزرتی ہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ ” اہل کتاب کا ہر ایک فرد اپنی موت سے پہلے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آتا ہے “ یعنی جب وہ عالم دنیا سے منقطع ہو کر عالم غیب سے وابستہ ہو رہا ہوتا ہے اس وقت اس پر اصل حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بے شک خدا کے سچے پیغمبر تھے۔ پس اس بات سے قطع نظر کہ یہ دونوں تفسیریں نقل روایت کے اعتبار سے ناقابل اعتماد اور غیر صحیح اور آیات کے سیاق وسباق کے خلاف ہیں عقلی نقطہ نظر سے بھی غلط ہیں۔ اس لیے کہ اگر آیت کے معنی یہ ہیں جو سطور بالا میں نقل کیے گئے تب یہ آیت اپنے مقصد بیان کے خلاف بے معنی اور بے نتیجہ ہوجاتی ہے۔ (العیاذ باللہ) کیونکہ قرآن عزیز دوسرے مقامات پر صاف کہہ چکا ہے کہ جب انسان عالم دنیا سے کٹ کر عالم غیب سے وابستہ ہوجاتا ہے اور نزع کی یہ کیفیت اس پر طاری ہوجاتی ہے کہ جو معاملات اس ساعت سے قبل تک اس کے لیے غیب کے معاملات تھے وہ مشاہدہ میں آنے شروع ہوجاتے ہیں تو اس وقت اس کے اعمال و کردار کا صحیفہ لپیٹ دیا جاتا ہے اور اب تبدیلی اعتقاد کا کوئی نتیجہ اور ثمرہ نہیں ملتا یعنی اس وقت کا نہ اقرار اور اعتراف معتبر اور نہ انکار مستند۔ { فَلَمَّا جَائَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُوْ۔ فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ۔ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ } ” پس جب آئے ان کے پاس پیغمبر واضح دلائل لے کر تو اس چیز سے خوش ہوئے جو ان کے پاس علم سے تھی اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے جس کو وہ مذاق بناتے تھے پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے اور جن چیزوں کو ہم اس کا شرک بناتے تھے ان سے منکر ہوئے پس نہیں نافع ہوا ان کا (یہ) ایمان جب انھوں نے ہمارے عذاب کا مشاہدہ کر لیا ‘ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں ہمیشہ جاری رہی اور اس موقع پر کافروں نے زیاں پایا۔ “ { وَ لَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰٓی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ ھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } ” لیکن ان لوگوں کی توبہ توبہ نہیں ہے جو (ساری عمر تو) برائیاں کرتے رہے لیکن جب ان میں سے کسی کے آگے موت آکھڑی ہوئی تو کہنے لگا اب میں توبہ کرتا ہوں (ظاہر ہے کہ ایسی توبہ سچی توبہ نہیں ہوئی) اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی توبہ نہیں جو دنیا سے کفر کی حالت میں جاتے ہیں ان تمام لوگوں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ تو ایسی صورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا معنی رکھتا ہے انسان جب اس حالت پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے سامنے سے غیب کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور برزخ ملائکۃ اللہ ‘ عذاب یا راحت ‘ جنت و جہنم ‘ غرض دین حق کی تعلیم کردہ غیب کی ساری حقیقتیں اس پر منکشف ہوجاتی ہیں اور اس میں یہود و نصاریٰ کی ہی خصوصیت کیا ہے یہ حالت تو ہر ایک ابن آدم پر گزرنے والی ہے نیز جب اس قسم کا ایمان قبول ہی نہیں ہے تو اس کا ذکر اسی اسلوب کے ساتھ ہونا چاہیے تھا جو غرق فرعون کے وقت فرعون کے ایمانی اعتراف و اقرار کے لیے اختیار کیا گیا اور جس میں اس وقت کی ایمانی پکار کی بے وقعتی ظاہر کی گئی ہے نہ کہ ایسے اسلوب بیان کے ساتھ ‘ گویا مستقبل میں ہونے والے کسی ایسے عظیم الشان واقعہ کی خبر دی جا رہی ہے جو مخاطبین (یہود و نصاریٰ ) کے عقائد و عزائم کے خلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق قرآن کی تصدیق اور اس کے اٹل فیصلہ کی زندہ شہادت بن کر پیش آنے والا ہے ورنہ تو ایک عیسائی اور یہودی پنجہ موت میں آجانے کے وقت جان عزیز سپرد کردینے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تب کیا اور نہ لایا تب کیا اس کی یہ تصدیق کائنات انسانی کے علم و ادراک سے باہر صرف اس کے اور خدا کے درمیان میں تعلق رکھتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی بات کا ایسے موقع پر تذکرہ کرنا قطعاً بے محل ہے جہاں ایک قوم کو اس کے ایک خاص عقیدہ پر ملزم و مجرم بنانے کے لیے فیصلہ حق کی تائید کے لیے ماضی اور مستقبل میں کائنات ارضی پر پیش آنے والے واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے واضح ہو رہا ہے علاوہ ازیں ان احتمالات کی یہاں اس لیے بھی گنجائش نہیں ہے کہ غرغرہ کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قسم کا ایمان تو ہر اس اہل کتاب سے متعلق ہے جو اس آیت کے نزول سے کچھ دن قبل یا صدیوں قبل گذر چکے اور مرکھپ چکے ہیں لہٰذا اگر آیت میں یہ مضمون بیان کرنا مقصود تھا تو اس کے لیے مؤکد مستقبل کی یہ تعبیر ” لِیُؤْمِنَنَّ “ فصاحت و بلاغت کلام کے بالکل خلاف ہے اس کے لیے تو ایسی تعبیر کی ضرورت تھی جو ماضی ‘ حال اور استقبال تینوں زمانوں پر حاوی ہوتی تاکہ قرآن کا مفہوم اپنے توسع کے لحاظ سے پوری طرح ادا ہوتا۔ نیز دوسرے معنی تو اس لیے بھی قطعاً غلط اور بے محل ہیں کہ اس آیت سے قبل اور بعد کی آیات میں یعنی سیاق وسباق میں خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر ہی نہیں ہے کیونکہ شروع آیات میں صرف حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے اور اس آیت کے آخر میں یہ ارشاد ہوا ہے : { وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا } اور واضح ہے یہ بات کہ اس جگہ شاہد سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں اور عَلَیْھِمْ کی ضمیر سے ان کی امت تو پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیے بغیر درمیان میں کی کسی ضمیر کا مرجع ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرار دینا نہ صرف یہ کہ فصاحت و بلاغت کے منافی ہے بلکہ قاعدہ عربیت کے قطعاً خلاف اور انتشار ضمائر کا موجب ہے۔ غرض بے غل و غش صحیح معنی وہی ہیں جو جمہور نے اختیار کیے ہیں اور یہ دونوں خود ساختہ احتمالات آیت کی تفسیر تو کیا صحیح احتمال کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ 1 ؎( اس مقام کے علاوہ سورة مائدہ کی آیت مَا الْمَسِیْحُ بْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اور سورة آل عمران کی ابتدا سے بیاسی آیات تک جو وفد نجران سے تعلق رکھتی ہیں یہ سب مقامات دلالۃ النص یا اشارۃ النص کی شکل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات کے لیے دلیل وبرہان ہیں اور اگرچہ ان کی تفصیلات اور وجوہ استشہاد میرے پاس مدون و مرتب ہیں تاہم کتاب کی طوالت کے خوف سے اس جگہ ان کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ‘ بوقت فرصت ان شاء اللہ مستقل مضمون کی صورت میں ہدیہ ناظرین ہوگا ‘ اور یا پھر حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی کتاب ” عقیدۃ الاسلام فی حیٰوۃ عیسیٰ (علیہ السلام) “ اس مقصد کے لیے قابل مراجعت ہے۔ ) حیات و نزول عیسیٰ (علیہ السلام) اور احادیث صحیحہ قرآن عزیز نے جس معجزانہ اختصار کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع سماوی ‘ حیات امروز اور علامت قیامت بن کر نزول من السماء کے متعلق تصریحات کی ہیں صحیح ذخیرہ احادیث نبوی میں ان آیات ہی کی تفصیلات بیان کرکے ان حقائق کو روشن کیا گیا ہے چنانچہ امام حدیث بخاری اور مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایت متعدد طریق ہائے سند سے نقل کی ہے : ((قَالَ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیُکَسِّرَ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیُفِیْضَ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبَلُہٗ اَحَدٌ وَحَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا لَہٗ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا ثُمَّ قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ اِقْرَئُوْا اِنْ شِئْتُمْ ) ) { وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا } ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور وہ وقت آنے والا ہے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) حاکم و عادل بن کر اتریں گے وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے (یعنی موجودہ عیسائیت کو مٹائیں گے) اور جزیہ اٹھا دیں گے (یعنی نشان الٰہی کے مشاہدہ کے بعد اسلام کے سوا کچھ بھی قبول نہیں ہوگا اور اسلامی احکام میں بارشاد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جزیہ کا حکم اسی وقت تک کے لیے ہے) اور مال کی اس درجہ کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول کرنے والا نہیں ملے گا اور خدا کے سامنے ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے زیادہ قیمت رکھے گا (یعنی مالی کثرت کی وجہ سے خیرات و صدقات کے مقابلہ میں عبادت نافلہ کی اہمیت بڑھ جائے گی) پھر ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اگر تم (قرآن سے اس کا استشہاد) چاہو تو یہ آیت پڑھو { وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا } ” اور کوئی اہل کتاب میں سے نہ ہوگا مگر (عیسیٰ کی) موت سے پہلے اس پر (عیسیٰ پر) ضرور ایمان لے آئے گا اور وہ (عیسیٰ ) قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔ “ 1 بخاری اور مسلم میں بسند نافع مولیٰ ابوقتادہ انصاری ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایت بھی منقول ہے : ( (قَالَ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَیْفَ اَنْتُمْ اَذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ )) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا جب تم میں ابن مریم اتریں گے اور اس حالت میں اتریں گے کہ تم ہی میں سے ایک شخص تمھاری امامت کر رہا ہوگا۔ “ 2 ان دونوں روایات کے علاوہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے متعدد طریق ہائے سند سے اور روایات بھی صحیحین ‘ مسند احمد اور سنن 1 ؎ میں درج ہیں جو یہی مفہوم و معنی ادا کرتی ہیں ‘ ان میں سے ایک زیادہ مفصل ہے اور مسئلہ زیر بحث کے بعض دوسرے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتی ہے مسند احمد میں ہے : ( (اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ ” اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ وَاِنِّی اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ بَیْنِی وَبَیْنَہٗ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذْ رَأَیْتُمُوْہٗ فَاعْرِفُوْہٗ رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ کَأَنَّ رَأسَہٗ یَقْطُرُ اِنْ لَمْ یُصِبْہٗ بَلَلٌ فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَدْعُوْا النَّاسَ اِلَی الْاِسْلَامِ وَیُھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ ثُمَّ تَقَعُ الْاَمَانَۃُ عَلَی الْاَرْضِ حَتَّی تَرْتَعَ الْاُسُوْدُ مَعَ الْاِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَیَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ لَا تَضُرُّھُمْ فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَیُصَلِّی عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ )) ” نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمام انبیا اصول دین میں علاتی بھائیوں کی طرح ہیں دین سب کا ایک اور فروع دین مختلف اور میں دوسرے انبیا کے مقابلہ میں عیسیٰ بن مریم (رض) سے زیادہ قریب ہوں اس لیے کہ ان کے اور میرے درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور بلاشبہ وہ کائنات ارضی پر اتریں گے پس جب تم ان کو دیکھو تو اس حلیہ سے پہچان لینا : میانہ قد ‘ سرخ و سپید رنگ ہوگا ‘ ان کے جسم پر دو سرخی مائل رنگ کی چادریں ہوں گی ایسا معلوم ہوگا گویا فی الحال غسل کرکے آ رہے ہیں اور سر سے پانی کے قطرے موتی کی طرح ٹپک پڑنے والے ہیں۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے (موجودہ عیسائیت کا خاتمہ کر دیں گے) اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں کو ” اسلام “ کی دعوت دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام ادیان و ملل کو مٹا دے گا اور صرف ایک ہی دین ” دین اسلام “ باقی رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ انھی کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا پھر کائنات میں ” امانت “ (امر خیر) جگہ کرلے گی حتیٰ کہ شیر اونٹوں کے ساتھ ‘ چیتے گائے بیلوں کے ساتھ ‘ بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے نظر آئیں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور ان کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا ‘ پس عیسیٰ (علیہ السلام) چالیس سال اس زمین پر زندہ رہیں گے پھر وفات پاجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز ادا کریں گے۔ “ 3 اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث روایت کی گئی ہے اس میں خروج دجال کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد مبارک مذکور ہے : ( (فَاِذَا جَائُوْا الشَّامَ خَرَجَ فَبَیْنَاھُمْ یُعِدُّوْنَ لِلْقِتَالِ یُسَرُّوْنَ الصَّفُوْفَ اِذْ اُقِیْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ۔۔ الخ)) ” پس جب مسلمان ملک شام پہنچیں گے تو دجال کا خروج ہوگا ابھی مسلمان اس کے مقابلہ میں جنگ کی تیاریاں کر رہے ہوں گے ‘ صفیں درست کرتے ہوں گے کہ نماز کے لیے اقامت ہونے لگے گی۔ اس درمیان میں عیسیٰ بن مریم کا نزول ہوگا اور وہ مسلمانوں کی امامت کا فرض انجام دیں گے۔ “ 4 اور صحیح مسلم میں حضرت نواس بن سمعان (رض) سے ایک طویل روایت منقول ہے جس میں یہ مذکور ہے : ( (اِذَا بَعَثَ اللّٰہُ الْمَسِیْحَ بْنَ مَرْیَمَ (علیہ السلام) فَیَنْزَلُ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَائِ شَرْقِیْ دِمَشْقَ بَیْنَ مَھْرُوْدَتَیْنِ وَاضِعَا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ اِذَا طَأطَأ رَاْسَہٗ قَطَرَ وَاِذَا رَفَعَہٗ تَحَدَّرَ مِنْہٗ جُمَانٌ کَا لْلُوْلُؤ۔۔ الخ)) ” (ابھی دجال ایک مسلمان پر اپنے شیطانی کرشموں کی آزمائش کر ہی رہا ہوگا کہ) اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (علیہما السلام) کو بھیج دے گا وہ جب کائنات ارضی پر اتریں گے تو جامع مسجد دمشق کے مشرقی جانب کے سپید منارہ پر اتریں گے اور ان کے بدن پر (سرخی مائل) گہری زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی (یعنی ایک بدن کے اوپر کے حصہ پر اور دوسری زیریں حصہ بدن پر لپٹی ہوں گی) اور دو فرشتوں کے بازؤوں پر سہارا لیے ہوں گے جب سرجھکائیں گے تو سر سے پانی ٹپک پڑنے لگے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو پانی کے قطرے موتیوں کی طرح ٹپکیں گے (یعنی غسل کیے آ رہے ہوں گے) “ 5 اور مختلف طریق ہائے سند سے امام احمد نے مسند میں اور ترمذی (رح) نے سنن میں حضرت مجمع بن حارثہ ؓ سے بسند صحیح یہ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : ( (یَقْتُلُ اِبْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ )) 1 ؎(شہر دمشق کی شہر پناہ کا ایک دروازہ ہے۔) ” ابن مریم ‘ دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ “ امام ترمذی اس روایت کو نقل کرکے فرماتے ہیں ھَذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ اور اس کے بعد ان حضرات صحابہ ؓ و رضوا عنہ کی فہرست شمار کراتے ہیں جن سے نزول عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور ان کے ہاتھوں قتل دجال سے متعلق روایات کتب حدیث میں منقول ہیں۔ فرماتے ہیں : ” اور اس باب میں حضرت عمران بن حصین ‘ نافع بن عیینہ ‘ ابوبرزہ اسلمی ‘ حذیفہ بن اسید ‘ ابوہریرہ ‘ کیسان ‘ عثمان بن ابی العاص ‘ جابر بن عبد اللہ ‘ ابو امامہ باہلی ‘ ابن مسعود ‘ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ‘ سمرہ بن جندب ‘ نواس بن سمعان ‘ عمرو بن عوف ‘ حذیفہ بن الیمان سے بھی روایات منقول ہیں۔ “ 6 اور امام احمد نے مسند میں ‘ امام مسلم ; نے صحیح میں اور اصحاب سنن نے سنن میں بروایت حضرت حذیفہ بن الاسیدی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت نقل کی ہے : ( (قَالَ اَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ مِنْ غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ نَتَذَکَّرُ السَّاعَۃَ فَقَالَ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَرَوْا عَشْرَ اٰیَاتٍ : طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا وَالدُّخَانُ وَالدَّابَۃُ وَخُرُوْجُ یَاجُوْجَ وَمَاجُوْجَ وَنُزُوْلُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ وَالدَّجَّالُ وَثَلٰثَۃُ خُسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنِ تَسُوْقُ وَتَحْشُرُ النَّاسَ تَبِیْتُ مَعَھُمْ حَیْثُ بَاتُوْا وَتَقِیْلُ مَعَھُمْ حَیْثُ قَالُوْا))۔اس حدیث میں جن علامات کا ذکر ہے وہ سب تشریح طلب ہیں مگر یہاں ان کی تشریحات بے محل ہیں اس لیے نظر انداز کردی گئیں ‘ عام تشریحات کتب تفسیر و حدیث میں شاہ رفیع الدین دہلوی نور اللہ مرقدہ کے رسالہ ” علاماتِ قیامت “ میں قابل مطالعہ ہیں۔ ” حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ہم (صحابہ ؓ و رضوا عنہ ) ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے قیامت کے متعلق بات چیت کر رہے تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالاخانہ سے جھانکا اور ارشاد فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشان نہ دیکھ لو گے آفتاب کا مغرب سے طلوع ‘ دخان (دھواں) ‘ دابۃ الارض ‘ خروج یاجوج و ماجوج ‘ عیسیٰ بن مریم کا نزول ‘ دجال کا خروج ‘ تین مقامات میں خسوف کا پیش آنا (زمین میں دھنس جانا) مشرق میں ‘ مغرب میں اور جزیرۃ العرب میں آگ کا قعر عدن سے نکلنا جو لوگوں کو سمیٹ لے جائے گی اور جب رات کو لوگ آرام کریں گے تو وہ بھی ٹھہر جائے گی اور الاسلمی ‘ عبد الرحمن بن آدم ‘ ابو سلمہ ‘ ابو عمرہ ‘ عطاء بن بشار ‘ ابو سہیل ‘ موثر بن غفارہ ‘ یحییٰ بن ابی عمرو ‘ جبیر بن نضیر ‘ عروہ بن مسعود ثقفی ‘ عبد اللہ بن زید انصاری ‘ ابوزرعہ ‘ یعقوب بن عامر ‘ ابو نضرہ ‘ ابو الطفیل (رحمہم اللہ)۔جب دوپہر کو قیلولہ کریں گے تب بھی وہ ٹھہری رہے گی۔ “ ' اور محدث ابن ابی حاتم ؒ نے اور جلیل القدر محدث و مفسر ابن جریر طبری ؒ نے بروایت حسن بصری ؒ بسند صحیح حیات و نزول عیسیٰ بن مریم سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے اس میں ہے : ( (قَالَ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِلْیَھُوْدِ اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَاِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ )) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود سے فرمایا : ” عیسیٰ (علیہ السلام) مرے نہیں اور بلاشبہ وہ قیامت سے پہلے تمھاری جانب لوٹ کر آئیں گے۔ “ ( اسی طرح ابن ابی حاتم اور ابن جریر ; نے سورة نساء کی آیات متعلقہ وفد نجران کی تفسیر کرتے ہوئے اصول حدیث کے نقطہ نظر سے بسند حسن ایک طویل روایت ربیع بن انس ؓ سے نقل کی ہے اس میں بھی بصراحت یہ مذکور ہے : ( (فَقَالَ لَھُمْ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ رَبَّنَا حَیٌّ لَا یَمُوْتُ وَاَنَّ عِیْسٰی یَاتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُ )) ” نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفد سے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ بلاشبہ ہمارا پروردگار زندہ ہے جس کے لیے موت نہیں ہے اور بلاشبہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو فنا (موت) سے دو چار ہونا ہوگا۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ لفظ ” یاتی “ فرمایا ہے جو مستقبل کے لیے بولا جاتا ہے لفظ ” اتی “ نہیں فرمایا جو ماضی کے لیے مخصوص ہے۔ ) اور امام بیہقی ؒ نے کتاب الاسماء و الصفات میں اور محدث علی متقی گجراتی ؒ نے کنز العمال میں باسناد حسن و صحیح اس سلسلہ میں جو روایات نقل فرمائی ہیں ان میں نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے ساتھ ” من السماء “ کا لفظ بصراحت موجود ہے۔ یہ اور اسی قسم کا کثیر ذخیرہ حدیث ہے جو حیات و نزول عیسیٰ بن مریم پیغمبر بنی اسرائیل سے متعلق کتب حدیث و تفسیر میں منقول ہے اور جو قوت سند کے لحاظ سے صحیح اور حسن سے کم رتبہ نہیں رکھتا اور باعتبار شہرت و تواتر روایات جن کا یہ حال ہے کہ حسب تصریح امام ترمذی ‘ حافظ حدیث عماد الدین ابن کثیر ‘ حافظ حدیث ابن حجر عسقلانی اور دیگر ائمہ حدیث سولہ جلیل القدر صحابہ ؓ و رضوا عنہ نے ان کو روایت کیا ہے جن میں سے بعض صحابہ ؓ و رضوا عنہ کا یہ دعویٰ ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ تصریحات سیکڑوں صحابہ ؓ و رضوا عنہ کے مجمع میں خطبہ دے کر فرمائیں اور یہ صحابہ کرام ؓ بغیر کسی انکار و اجنبیت کے ان روایات کو خلفائے راشدین کے دور خلافت میں علیٰ رؤس الاشہاد سناتے تھے چنانچہ ان جلیل القدر صحابہ ؓ و رضوا عنہ سے جن ہزارہا شاگردوں نے سنا ان میں سے یہ عظیم المرتبت ہستیاں قابل ذکر ہیں جن میں ہر فرد روایت حدیث میں ضبط و حفظ ‘ ثقاہت و علمی تجربے کے پیش نظر امامت و قیادت کا درجہ رکھتا ہے مثلاً سعید بن مسیب ‘ نافع مولیٰ ابوقتادہ ‘ حنظلہ بن علی پھر ان علمائے کبار اور محدثین اعلام سے جن بے شمار تلامذہ نے سنا ان میں سے راویان حدیث کے طبقہ میں جن کو حدیث اور علوم قرآن کا رتبہ بلند حاصل ہے اور جو اپنے اپنے وقت کے امام الحدیث اور امیر المومنین فی الحدیث تسلیم کیے گئے ہیں بعض کے اسمائے گرامی یہ ہیں : ابن شہاب زہری ‘ سفیان بن عیینہ ‘ لیث ‘ ابن ابی ذئب ‘ اوزاعی ‘ قتادہ ‘ عبد الرحمن بن ابی عمرہ ‘ سہیل ‘ جبلہ بن سہیم ‘ علی بن زید ‘ ابو رافع ‘ عبد الرحمن بن جبیر ‘ نعمان بن سالم ‘ معمر ‘ عبد اللہ بن عبید اللہ (رحمہم اللہ)۔ غرض ان روایات و احادیث صحیحہ کا صحابہ ؓ و رضوا عنہ ‘ تابعین ‘ تبع تابعین یعنی خیرالقرون کے طبقات میں اس درجہ شیوع ہو چکا تھا اور وہ بغیر کسی انکار کے اس درجہ لائق قبول ہو چکی تھیں کہ ائمہ حدیث کے نزدیک حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات و نزول سے متعلق ان احادیث کو مفہوم و معنی کے لحاظ سے درجہ ” تواتر “ حاصل تھا اور اسی لیے وہ بے جھجک اس مسئلہ کو احادیث متواترہ سے ثابت اور مسلم کہتے تھے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ روایت حدیث کے تمام طبقات و درجات میں ان روایات کو ” تلقی بالقبول “ کا یہ درجہ حاصل رہا ہے کہ ہر دور میں اس کے روات میں ” ائمہ حدیث “ اور روایت حدیث کے ” مدار “ نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان مرفوع و موقوف بر صحابہ ؓ عنم و رضوا عنہ احادیث اور روایات کے ناقلین میں امام احمد ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ؒ‘ ابوداؤد ؒ‘ نسائی ؒ‘ ترمذی ؒ‘ ابن ماجہؒ جیسے اصحاب صحیح و سنن ‘ ائمہ حدیث کے اسمائے گرامی شامل ہیں اور وہ باتفاق ان روایات کی صحت و حسن کے قائل ہیں ‘ چنانچہ یہ اور اسی قسم کی احادیث صحیحہ کا ذکر کرتے ہوئے مشہور محدث و مفسر ابن کثیر ؒ اپنی تفسیر میں اول یہ عنوان قائم کرتے ہیں : ( (ذِکْرُ الْاَحَادِیْثِ الْوَارِدَۃِ فِیْ نُزُوْلِ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ عَلَیْھُمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ اِلَی الْاَرْضِ مِنَ السَّمَائِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ قَبْلَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ )) ” ان احادیث کا ذکر جو حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کے آسمان سے زمین پر اترنے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ “ اور اس کے بعد سلسلہ کی احادیث کو نقل کرنے کے بعد آخر میں یہ تحریر فرماتے ہیں : ( (فَھٰذِہِ اَحَادِیْثُ مُتَوَاتِرَۃٌ عَنْ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ رِوَایَۃِ اَبِی ھُرَیْرَۃَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَعُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ وَاَبِی اُمَامَۃَ وَالنَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَمُجَمَّعِ بْنِ حَارِثَۃَ وَاَبِی شُرَیْحَۃَ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدً وَفِیْھَا دَلَالَۃٌ عَلٰی صِفَۃِ نُزُوْلِہِ وَ مَکَانِہِ۔۔ الخ)) ” پس یہ ہیں وہ احادیث جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے درجہ تک منقول ہوئی ہیں اور یہ نقل روایت (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ) ابوہریرہ ‘ ابن مسعود ‘ عثمان بن ابی العاص ‘ ابوامامہ ‘ نواس بن سمعان ‘ عبد اللہ بن عمرو بن العاص ‘ مجمع بن حارثہ ‘ ابی شریحہ ‘ حذیفہ بن اسید سے ثابت ہے اور ان روایات میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے طریقہ نزول اور مکان نزول سے متعلق بھی رہنمائی موجود ہے۔ “ اور حافظ حدیث ابن حجر عسقلانی (نور اللہ مرقدہ) علامہ ابو الحسن آبری ؒ سے نزول عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق احادیث کے تواتر کو فتح الباری میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کرتے ہیں : ( (قَالَ اَبُوْ الْحَسَنِ الْخَسْعِیُّ الْاَبْرِیُّ بِاَنَّ الْمَھْدِیِّ مِنْ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ وَاَنَّ عِیْسٰی یُصَلِّیْ خَلْفَہٗ۔۔ الخ)) ” ابو الحسن خسعی آبری سے منقول ہے کہ احادیث رسول اس بارہ میں تواتر کو پہنچ چکی ہیں کہ مہدی اسی امت میں ہوں گے اور عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ “ اور تلخیص الحبیر کتاب الطلاق کے ضمن میں یہ تحریر فرماتے ہیں ( (وَاَمَّا رَفْعُ عِیْسٰی فَاتَّفَقَ اَصْحَابُ الْاَخْبَارِ وَالتَّفْسِیْرِ عَلٰی اَنَّہٗ بِبَدِنِہٖ حَیًّا الخ)) ” لیکن رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کا معاملہ تو تمام علمائے حدیث و تفسیر کا اس پر اجماع ہے کہ وہ اپنے جسد عنصری کے ساتھ ہنوز زندہ ہیں (اور وہی قرب قیامت نازل ہوں گے) “ اور محدث عصر محقق وقت علامہ سید محمد انورشاہ ” عقیدۃ الاسلام “ میں اس ” تواتر “ کی تائید میں یہ تحریر فرماتے ہیں : ( (وَلِلْمُحَدِّثِ الْعَلَّامَۃِ الشَّوْکَانِیِّ رِسَالَۃٌ سَمَّاھَا اَلتَّوْضِیْحُ فِی تَوَاتُرِ مَا جَائَ فِی الْمُنْتَظَرِ وَالدَّجَّالِ وَالْمَسِیْحِ ذَکَرَ فِیْھَا تِسْعَۃً وَعِشْرِیْنَ حَدِیْثًا فِی نُزُوْلِہٖ علیہ السلام مَا بَیْنَ صَحِیْحٍ وَحَسَنٍ وَصَالِحٍ ھَذَا وَاَزْیَدُ مِنْہٗ مَرْفُوْعٌ وَاَمَّا الْآثَارُ فَتَفُوْتُ الْاِحْصَائُ الخ)) ” اور محدث علامہ شوکانی نے ایک رسالہ تصنیف کیا ہے جس کا نام یہ رکھا ہے ” التَّوْضِیْحُ فِیْ تَوَاتُرِ مَاجَائَ فِی الْمُنْتَظَرِ وَالدَّجَّالِ وَ الْمَسِیْحِ “ اس رسالہ میں انھوں نے انتیس احادیث حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول سے متعلق نقل کی ہیں جو اصول حدیث کے لحاظ سے صحیح ‘ حسن ؒ‘ صالح تینوں درجات کو شامل ہیں اور مرفوع احادیث اس تعداد سے بھی زیادہ موجود ہیں اور آثار صحابہ ؓ و رضوا عنہ تو بے شمار ہیں۔ “ اور یہی وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع سماوی اور حیات و نزول من السماء پر امت محمدیہ کا اجماع منعقد ہو چکا ہے چنانچہ علم عقائد و کلام کی مشہور و مستند کتاب عقیدہ سفارینی میں امت کے اس اجماع کی تصریح موجود ہے : ( (وَمِنْھَا اَیْ مِنْ عَلَامَاتِ السَّاعَۃِ الْعُظْمٰی اَلْعَلَامَۃُ الثَّالِثَۃُ اَنْ یَنْزِلَ مِنَ السَّمَائِ سَیِّدُ (اَلْمَسِیْحُ ) عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ (علیہ السلام) وَنُزُوْلُہٗ ثَابِتٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَۃِ وَاِجْمَاعِ الْاُمَّۃِ وَاَمَّا الْاِجْمَاعُ فَقَدْ اَجْمَعْتِ الْاُمَّۃُ عَلٰی نُزُوْلِہٖ وَلَمْ یُخَالِفْ فِیْہٖ اَحَدٌ مِّنْ اَھْلِ الشَّرِیْعَۃِ وَاِنَّمَا اَنْکَرَ ذٰلِکَ الْفَلَاسِفَۃُ وَالْمَلَاحِدَۃُ مِمَّا لَا یُعْتَدُّ بِخِلَافِہِ )) ” اور علامات قیامت میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت مسیح (عیسیٰ بن مریم ؓ ) آسمان سے اتریں گے اور ان کا آسمان سے اترنا کتاب (قرآن) ‘ سنت (حدیث) اور اجماع امت سے قطعاً ثابت ہے (قرآن و حدیث سے نزول ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں) جہاں تک اجماع امت کا تعلق ہے تو اس میں ذرا شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان سے نازل ہونے پر امت کا اجماع ہے اور اس بارے میں پیروان شریعت اسلامی میں سے کسی ایک کا بھی خلاف موجود نہیں البتہ فلسفیوں اور ملحدوں نے نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا ہے اور اسلام میں ان کا انکار قطعاً بے وقعت ہے۔ “ حیات ونزول مسیح (علیہ السلام) کی حکمت گذشتہ سطور میں حیات و نزول مسیح (علیہ السلام) کو دلائل وبراہین کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے جو ایک منصف اور طالب حق کو علم یقین عطا کرتے ہیں اب مزید طمانیت قلب کے لیے ان چند حکمتوں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جن کو علمائے حق نے اس سلسلہ میں بیان فرمایا ہے لیکن اس کے مطالعہ سے قبل یہ حقیقت بہرحال پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں اور اس کی مشیت کی مصلحتوں کا احاطہ عقل انسانی کے لیے ناممکن ہے اور مخلوق خالق کائنات کے اسرار و حکم پر عبور بھی کیسے کرسکتی ہے ؟ تاہم علمائے امت ‘ فراست مومن اور علم حق کی راہ سے دین اور احکام دین کے اسرار و مصالح پر قلم فرسائی کرتے اور اپنی محدود دسترس کے مطابق اس موضوع پر علمی حقائق کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ اسلامی دور کی علمی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دور اول میں علم الاسرار کی امامت کا شرف عمر بن خطاب ‘ علی بن ابی طالب اور صدیقہ عائشہ ؓ کو حاصل تھا اور اس کے بعد اگرچہ ہر ایک صدی میں دو چار علمائے ربانی اس کے ماہر و محقق رہے ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ خلیفہ اموی عمر بن عبد العزیز ؒ‘ امام ابوحنیفہؒ ‘ علامہ عز الدین بن عبد السلام مصری ‘ حافظ ابن تیمیہ ‘ امام غزالی ‘ روحی ‘ سید مرتضیٰ زبیدی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کو اس علم سے خاص مناسبت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ان کو فطری ملکہ عطا فرمایا تھا۔ اسلامی دور کی علمی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دور اول میں علم الاسرار کی امامت کا شرف عمر بن خطاب ‘ علی بن ابی طالب اور صدیقہ عائشہ ؓ کو حاصل تھا اور اس کے بعد اگرچہ ہر ایک صدی میں دو چار علمائے ربانی اس کے ماہر و محقق رہے ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ خلیفہ اموی عمر بن عبد العزیز ‘ امام ابوحنیفہ ‘ علامہ عز الدین بن عبد السلام مصری ؒ‘ حافظ ابن تیمیہؒ ‘ امام غزالیؒ ‘ روحی ‘ سید مرتضیٰ زبیدی اور شاہ ولی اللہ دہلوی ؒکو اس علم سے خاص مناسبت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں ان کو فطری ملکہ عطا فرمایا تھا۔ بہرحال حکمت کی حیثیت لطائف و نکات کی ہوتی ہے اور اس کو دلیل و حجت کا مرتبہ نہیں دیا جا سکتا اس لیے زیر بحث مسئلہ میں بھی ” حکمت و مصلحت “ کا ذکر اسی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہیے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَلِکُلِّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ فَصْلُ الْخِطَابِ۔ یہود بنی اسرائیل اپنی مذہبی کتابوں کی پیشین گوئیوں اور بشارتوں میں یہ پڑھ چکے تھے کہ ان کو دو شخصیتوں ” مسیح ہدایت “ اور ” مسیح ضلالت “ سے سابقہ پڑے گا اس لیے وہ منتظر تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ” مسیح ہدایت “ کا ظہور کب ہوتا ہے لیکن شومی قسمت کہ جب مسیح ہدایت کا ظہور ہوا تو انھوں نے بغض و حسد کی راہ سے اس کو ” مسیح ضلالت “ کہہ کر رد کر دیا اور صرف یہی نہیں بلکہ آمادہ قتل ہو گئے اور چونکہ قتل انبیا انکا دستور رہا تھا اس لیے وہ اس پر ہر وقت جری رہتے تھے پس جبکہ وہ دوسرے انبیا (علیہم السلام) کی طرح ان کے قتل کے بھی قائل ہو گئے تو یہ تعجب خیز بات نہ ہوئی کہ جب مسیح ضلالت (دجال) کا خروج ہو تو یہود اس کو مسیح ہدایت کہہ کر قومی حیثیت سے اس کے پیرو ہوجائیں کیونکہ مذہبی تعلیم کے پیش نظر ان پر مسیح ہدایت کا اتباع ضروری تھا اور جب وہ مسیح ہدایت کو مسیح ضلالت کہہ کر قتل کرچکے تو اب مسیح ضلالت کو ہی اس کے دعوے کے مطابق مسیح ہدایت تسلیم کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے مگر مشیت الٰہی فیصلہ کرچکی تھی کہ مسیح ضلالت کی گمراہی کا فتنہ چونکہ عظیم الشان ہوگا اور وہ اول خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے بعد مسیح ہدایت بنے گا اس لیے اس کا خروج قیامت کے قریب ہی ہونا چاہیے جو دور فتن یعنی فتنوں کی آماجگاہ ہوگا اس لیے حکمت الٰہی کا یہ بھی منشا ہوا کہ ” مسیح ہدایت “ کو یہود کے فتنہ سے اس طرح بچا لیا جائے کہ وہ اس کو ہاتھ بھی نہ لگاسکیں اور جب وہ وقت آپہنچے کہ مسیح ضلالت اپنی گمراہی کا علم بلند کرے تو مسیح ہدایت ملائے اعلیٰ سے کائنات ارضی پر اترے اور یہود بنی اسرائیل جو بہ تعداد کثیر مسیح ضلالت کے پیرو ہو رہے ہوں گے اپنی آنکھوں سے حق و باطل کا مشاہدہ کر لیں اور جب مسیح ہدایت کے مقدس ہاتھوں سے مسیح ضلالت کا خاتمہ ہوجائے تو { جَائَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا } حق الیقین بن کر ان کی نگاہوں کے سامنے آجائے اور اس طرح قبول حق کے ماسوا ان کے لیے دوسرا چارہ کار باقی ہی نہ رہے اور یا پھر وہ بھی مسیح ضلالت کے ساتھ ” فی النار “ کر دیے جائیں۔ نیز یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ ادیان و ملل کی تاریخ میں صرف یہود ہی ایک ایسی جماعت ہے جس نے اپنے انبیا (علیہم السلام) کو بھی قتل کرنے سے ہاتھ نہیں روکا لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہود نے جن انبیا کے خون ناحق سے ہاتھ رنگے تھے وہ صرف ” نبی “ ہی تھے جو ” علما امتی کانبیاء بنی اسرائیل “ کا مصداق تھے مگر کوئی صاحب شریعت رسول ان کے اس قتل ناحق کا مظلوم نہیں بنا تھا اس لیے یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے ایک جلیل القدر رسول (عیسیٰ بن مریم ؓ کو قتل کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ دنیوی اسباب کے لحاظ سے مکمل تیاری کرلی تھی تب مشیت حق نے یہ فیصلہ کیا کہ مسیح ہدایت کو اس طرح بچا لیا جائے کہ خود یہود کو بھی محسوس ہوجائے کہ وہ مسیح بن مریم (علیہما السلام) پر دسترس نہ پا سکے لہٰذا فیصلہ مشیت بروئے کار آیا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا گیا اور تمام دنیوی اسباب ہیچ ہو کر رہ گئے لیکن اس احساس کے باوجود چونکہ حقیقت حال تک نہ پہنچ سکے اور ظن و گمان ہی کے قعر میں پڑے رہے گو اپنی بات رکھنے کے لیے مشہور یہی کرتے رہے کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کر دیا۔ ادھر متبعین مسیح ہدایت (نصاریٰ ) کی بدبختی دیکھیے کہ کچھ عرصہ کے بعد پولوس رسول نے ان میں عقیدہ تثلیث و کفارہ کی بدعت پیدا کرکے یہود کے گھڑے ہوئے افسانہ صلیب کو بھی داخل عقیدہ کر دیا اور اب یہود و نصاریٰ دونوں جماعتیں اس گمراہی میں مبتلا ہوگئیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) صلیب پرچڑھا کر قتل کر دیے گئے تب قرآن عزیز نے نازل ہو کر حق و باطل کے درمیان میں فیصلہ سنایا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق دونوں جماعتوں نے جو دو الگ الگ رخ اختیار کیے تھے اور پھر ایک مسئلہ میں دونوں کا اتفاق بھی ہو گیا تھا ان سب کے متعلق علم یقین کے ذریعہ حقیقت حال کو واشگاف اور دونوں کی گمراہی کو واضح کرکے قبول حق کے لیے دعوت دی مگر جماعتی حیثیت سے دونوں نے انکار کر دیا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق اپنے اپنے گمراہ کن عقیدہ پر قائم رہے مگر عالم الغیب و الشہادہ چونکہ ان حقائق کا ان کے وقوع سے قبل عالم و دانا تھا ‘ اس لیے اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہوا کہ مسیح ہدایت کو کائنات ارضی پر اس وقت دوبارہ بھیجا جائے جب مسیح ضلالت کا بھی خروج ہو چکے تاکہ یہود و نصاریٰ کے سامنے حقیقت حال مشاہدہ کے درجہ میں روشن ہوجائے یہود آنکھوں سے دیکھ لیں جس کے قتل کے وہ مدعی تھے قدرت الٰہی کے کرشمے کی بدولت وہ بقید حیات موجود ہے اور نصاریٰ نادم ہوں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی سچی پیروی چھوڑ کر جو گمراہ کن عقیدہ اختیار کیا تھا وہ سرتا پا باطل اور ہیچ تھا اور اس طرح ہدایت و ضلالت کے معرکہ میں حق کی سر بلندی اور باطل کی پستی دونوں کا مشاہدہ کرکے قرآن عزیز کی تصدیق پر مجبور ہوجائیں اور دونوں جماعتیں ” ایمان حق “ کو برضا ورغبت اختیار کر لیں اور اپنے باطل عقائد پر شرمسار و سرنگوں ہوجائیں اور چونکہ ان دونوں جماعتوں کے علاوہ ہدایت و ضلالت کا یہ مشاہدہ و مظاہرہ دوسرے اہل باطل بھی کریں گے اس لیے وہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے اور اس طرح احادیث صحیحہ کے مطابق اس زمانہ میں کائنات ارضی کا صرف ایک ہی مذہب ہوگا اور وہ ” اسلام “ ہوگا۔ { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا } 1 ادیان و ملل کی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیا (علیہم السلام) اور معاندین حق کے درمیان میں ” سنت اللہ “ کے دو مستقل دور رہے ہیں۔ پہلا دور حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے ‘ اس دور میں سنت اللہ یہ رہی کہ جب قوموں نے اپنے پیغمبروں کی صدائے حق پر کان نہ دھرا بلکہ برابر اس کا تمسخر کرتی اور اس کے پیغام حق کے آڑے آتی رہیں ‘ تب اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو ہلاک کر دیا اور دوسروں کے لیے ان کو باعث عبرت و بصیرت بنادیا۔ اور دوسرا دور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا ہے۔ اس دور میں سنت اللہ کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ جب اعدائے حق اور دشمنان دین قویم نے کلمہ حق کی مخالفت پر اصرار کیا اور اپنے پیغمبروں کو ایذا دہی اور ان کے ساتھ تمسخر کو اپنا نصب العین بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ہلاک کرنے کی بجائے اپنے پیغمبروں کو یہ حکم دیا کہ وہ خدا کی راہ میں وطن چھوڑ دیں اور ہجرت کر جائیں چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جنھوں نے قوم 1 ؎(یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی قوم نہیں تھی اس لیے کہ یہ بنی سام (سامی) تھے اور نماردہ عراق اور ان کی قوم بنی حام (حامی) تھے۔ ) کے سامنے یہ اعلان کیا : { اِنِّیْ مُھَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّہٗ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } اور عراق سے شام کی جانب ہجرت فرما گئے۔ پھر یہی صورت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش آئی اور وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے شام کو ہجرت کرگئے مگر فرعون اور اس کے لشکریوں نے چونکہ مزاحمت کی اور ہجرت کے بھی آڑے آئے اس لیے وہ بحر قلزم میں غرق کر دیے گئے۔ اور یہی صورت نبی اکرم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آئی کہ جب قریش مکہ نے اذیت ‘ تمسخر ‘ دین حق کے ساتھ تصادم اور اعمال دین کی مزاحمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا تب مشیت الٰہی کا فیصلہ ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے مدینہ کو ہجرت کر جائیں چنانچہ ہر قسم کی نگرانی اور مکان کے ہر طرف محاصرہ کے باوجود کرشمہ قدرت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محفوظ و مامون مدینہ ہجرت کر گئے۔ ” سنت اللہ “ کے اسی دور میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور ان کی قوم بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ اور ان کی دعوت حق کے ساتھ بھی وہ سب کچھ کیا جو معاندین حق اور دشمنان دین اپنے پیغمبروں کے ساتھ کرتے رہے تھے اور ان میں ایک یہ خصوصیت زیادہ تھی کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے قبل چند انبیا کو قتل تک کرچکے تھے اور اب حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قتل کے درپے تھے اسی کے ساتھ یہ مسطورہ بالا حقیقت بھی فراموش نہیں رہنی چاہیے کہ یہود مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت دومسیح کے منتظر تھے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؓ کو مسیح ضلالت قرار دے کر آج بھی مسیح ہدایت کے منتظر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ہجرت کائنات ارضی کی بجائے ملائے اعلیٰ کی جانب ہو تاکہ مقررہ وقت آنے پر وہ مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت کے درمیان مشاہدہ سے امتیاز کرسکیں اور ایک جانب اگر مسیح ہدایت کو مسیح ہدایت سمجھیں تو دوسری جانب قرآن کے فیصلہ حق کی صداقت و حقانیت کو دیکھ کر دین حق ” اسلام “ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور ساتھ ہی نصاریٰ کو بھی اپنی جہالت اور یہود کی کو رانہ تقلید پر ندامت ہو اور وہ بھی تعلیم قرآن کی صداقت پر یقین و اعتقاد کے ساتھ شہادت دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ کچھ عجیب صورت حال ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان میں دعوت و تبلیغ حق اور معاندین کی جانب سے حق کی معاندت و مخالفت اور پھر اس کے نتائج وثمرات میں بہت ہی زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے دونوں کی اپنی قوم نے دونوں کو جھٹلایا دونوں کی قوموں نے سازش قتل کے بعد مکانوں کا محاصرہ کیا قدرت حق کے کرشمہ اعجاز نے دونوں کو دشمنوں کی دسترس سے ہر طرح محفوظ رکھا دونوں کے لیے ہجرت کا معاملہ پیش آیا البتہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت چونکہ بعثت عامہ تھی اور اس کی دعوت و تبلیغ کے لیے ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کرہ ارضی پر قیام مسلسل ضروری تھا ‘ اس لیے مکہ سے مدینہ ہجرت کا حکم ہوا اور عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) چونکہ قوم کو دعوت حق پہنچا چکے تھے اور ایک خاص مقصد عظیم کے پیش نظر ان کا مدت مدید کے بعد کائنات ارضی پر موجود ہونا ضروری تھا اس لیے ان کو ہجرت ارضی کی بجائے ہجرت سماوی پیش آئی پھر جس طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے زمانہ کے قائد ضلالت امیہ بن خلف کو اپنے حربہ سے قتل کیا عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) بھی قوم کے مسیح ضلالت دجال کو قتل کریں گے اور جس طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کے بعد آپ کے وطن مکہ پر قدرت حق نے اقتدار عطا فرما دیا ‘ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا نزول بھی شام ہی کے اس مشہور شہر میں ہوگا جس سے اپنی قوم کی معاندانہ سازشوں کی بنا پر ملائے اعلیٰ کی جانب ہجرت پیش آئی تھی اور بیت المقدس ‘ دمشق اور شام کے پورے ملک پر یہود کے علی الرغم ان کی حکومت ہوگی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پہلے قتل انبیا (علیہم السلام) نے یہود کو اس درجہ گستاخ اور بے باک بنادیا تھا کہ وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کسی ہستی کے متعلق یہ فیصلہ کہ وہ نبی صادق ہے یا متنبی کاذب ہمارے ہاتھ میں ہے اور جس کو ہم اور ہمارے فقیہ کاذب قرار دیدیں وہ واجب القتل ہے چنانچہ اسی زعم باطل میں انھوں نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو مسیح ضلالت کہا اور ان کے فقیہوں نے قتل کا فتویٰ صادر کر دیا حالانکہ یہ وہ جلیل القدر ہستی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل میں اس پایہ کا کوئی پیغمبر مبعوث ہی نہیں ہوا تھا اور اس نے جدید پیغام حق (انجیل) کے ذریعہ روحانیت کی مردہ کھیتی میں دوبارہ جان ڈال دی تھی تب اللہ تعالیٰ کی مشیت کا فیصلہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے بنی اسرائیل کے اس زعم باطل کو پاش پاش کر دیا جائے اور دکھا دیا جائے کہ رب العالمین خالق کائنات جس کی حفاظت کا وعدہ کرلے کائنات کی کوئی ہستی یا مجموعہ کائنات بھی اس پر دسترس نہیں پاسکتی چنانچہ ید قدرت نے اس وقت اس مقدس ہستی کو جسد عنصری کے ساتھ ملائے اعلیٰ کی جانب اٹھا لیا جبکہ مکان کے محاصرہ کے ساتھ دشمنوں نے اس کی حفاظت جان کے تمام وسائل دنیوی مسدود کر دیے تھے۔ پھر اس واقعہ نے ایک نئی صورت پیدا کردی وہ یہ کہ مذاہب کی تاریخ میں صرف حضرت مسیح (علیہ السلام) ہی کی شخصیت ایسی ہے جن کے قتل و عدم قتل کے متعلق حق و باطل کے درمیان میں سخت اختلاف پیدا ہوا اور یہود و نصاریٰ کے باہم واقعہ صلیب و قتل پر اتفاق کے باوجود دو باطل اور متضاد عقائد کی کشمکش نظر آنے لگی۔ یہود قتل و صلیب کی وجہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک وہ ” مسیح ضلالت “ تھے اور نصاریٰ وجہ صلیب یہ بتاتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے جو کائنات کے گناہوں کا کفارہ بننے کے لیے بھیجے گئے تھے تاکہ پاپی دنیا پاپ سے پاک ہوجائے اور صدیوں بعد جب قرآن نے ” امر حق “ کو واضح اور مسیح بن مریم (علیہما السلام) سے متعلق حقیقت حال کو روشن کیا تب بھی دونوں جماعتوں نے جماعتی حیثیت سے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا لہٰذا قدرت حق کا فیصلہ ہوا کہ خود مسیح بن مریم (علیہما السلام) ہی وقت موعود پر نازل ہو کر قرآن کے فیصلہ کی تصدیق کر دیں اور یہود و نصاریٰ کے باطل عقائد کا خود بخود اس طرح خاتمہ ہوجائے اور اس کے بعد مدعیان اہل کتاب کو شرک و باطل کی پیروی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور خدا کی حجت ان پر تمام ہوجائے۔ نیز جبکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات ہست و بود کے لیے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ خدا کی ہستی کے ماسوا ہر ایک وجود کو فنا اور موت ہے : { کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ } { کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ } اور یہ ظاہر ہے کہ ملائے اعلیٰ اور عالم قدس مقام موت نہیں ہے بلکہ مقام حیات ہے اس لیے از بس ضروری ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) بھی موت کا ذائقہ چکھیں اور اس کے لیے کائنات ارضی پر اتریں تاکہ زمین کی امانت زمین ہی کے سپرد ہو اس لیے ” حیات ورفع “ کے بعد ” نزول ارضی “ مقدر ہوا۔ علمائے حق نے حیات و نزول عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق جو ” اسرار و حکم “ بیان فرمائے ہیں یہاں ان کا احاطہ مقصود نہیں ہے اس لیے مختصر چند حکمتوں کا ذکر کر دیا گیا ورنہ محدث عصر علامہ سید محمد انور شاہ نور اللہ مرقدہ نے اس سلسلہ میں ایک طویل مقالہ ” عقیدۃ الاسلام “ میں سپرد قلم فرمایا ہے جو لائق مطالعہ ہے حضرت استاذ نے نہایت لطیف مگر دقیق پیرایہ بیان میں کائنات عالم کو ” انسان کبیر “ اور انسان کو ” عالم صغیر “ قرار دے کر ان ہر دو عالم کی حیات و موت پر جو بحث فرمائی ہے اس سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے رفع اور قرب قیامت میں کائنات ارضی کی جانب رجوع کی حکمت بہت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے لیکن یہ کتاب چونکہ اس دقیق بحث کی متحمل نہیں ہے اس لیے اپنی جگہ قابل مراجعت ہے۔ آخر میں اب اپنی جانب سے چند جملے اس سلسلہ میں اضافہ کرکے اس مبحث کو ختم کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے : 3 قرآن عزیز میں ” میثاق انبیا “ سے متعلق یہ ارشاد باری ہے : { وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ئَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ } ” اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ اللہ نے نبیوں سے (یہ) عہد لیا کہ جب تمھارے پاس (خدا کی جانب سے) کتاب اور حکمت آئے پھر ایسا ہو کہ تمھاری موجودگی میں ایک رسول (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) آئے جو تصدیق کرتا ہو ان کتابوں کی جو تمھارے پاس ہیں ضرور تم اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ‘ اللہ نے کہا : کیا تم نے اقرار کیا ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ‘ ہم نے اقرار کیا ‘ اللہ نے کہا : پس تم اپنے اس عہد پر گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔ “ آل عمران کی ان آیات میں حسب تفسیر حضرت ابن عباس ؓ 1 ؎ اس عہد و پیمان کا تذکرہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ازل میں خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق انبیا و رسلعلیہم السلام سے لیا ‘ قرآن کے اسلوب بیان کے مطابق اگرچہ یہ خطاب انبیا و رسل کی معرفت ان کی امتوں سے تھا کہ ان میں سے جو امتیں خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ مبارک پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور دعوت حق میں ان کی نصرت و یاوری کریں چنانچہ ہر ایک پیغمبر نے اپنے اپنے دور میں تعلیم حق کے ساتھ ساتھ خدا کے اس وعدہ کو بھی یاد دلایا اور ان میں سے اہل حق نے وعدہ کیا اور اقرار کیا کہ ضرور ان پر ایمان لائیں گے اور پیغام حق میں ان کی مدد کریں گے۔ 1 ؎ ( (عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِی تَفْسِیْرِاٰیَۃٍ مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا مِنَ الْاَنْبِیَائِ اِلَّا اَخَذَ عَلَیْہِ الْمِیْثَاقَ لَئِنْ بَعَثَ اللّٰہُ مُحَمَّدًا وَ ھُوَحَیٌّ لَیُؤْمِنَنَّ وَ لَیَنْصُرُنَّہٗ وَاَمَرَہٗ اَنْ یَاْخُذَ الْمِیْثَاقَ عَلٰی اُمَّتِہِ لَئِنْ بُعِثَ مُحَمَّدٌ وَھُمْ اَحْیَائٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَیَنْصُرُنَّہٗ )) ” اللہ تعالیٰ نے انبیا میں سے جس نبی کو بھی کسی قوم کی رشد و ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تو اس سے یہ عہد ضرور لیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اس وقت زندہ ہو جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوگی تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا اور ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی اپنی امتوں سے بھی یہی عہد و پیمان لیں کہ ان میں سے جو اس وقت موجود ہوں وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کی مدد کریں۔ “ تو یہ ” میثاق النّبیین “ اگرچہ اس طرح پورا ہوتا رہا تاہم ازل میں چونکہ اس عہد ومیثاق کے اول مخاطب حضرات انبیا و رسل تھے اس لیے اس میثاق کی عملی حیثیت کا تقاضا تھا کہ خود انبیا و رسل میں سے بھی کوئی نبی یا رسول اس عہد و میثاق کا عملی مظاہرہ کرکے دکھائے تاکہ یہ خطاب اولین براہ راست بھی موثر ثابت ہو مگر ” ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُوْلٌ“ بقاعدہ عربیت خطاب تھا ان تمام انبیا و رسل سے جو ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اس کائنات ارضی میں مبعوث ہونے والے تھے کیونکہ ازل ہی میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے یہ مقرر ہو چکا تھا وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ “ پس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت ” خاتم النّبیین “ اور ازل سے مقدر ” میثاق النّبیین “ کا اجتماع صرف اسی ایک شکل میں ممکن تھا کہ انبیائے سابقین میں کوئی ایک پیغمبر بعثت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نزول فرمائیں اور وہ اور ان کی امت دنیائے انسانی کے سامنے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور ” دین حق “ کی مدد و نصرت کا مظاہرہ کریں تاکہ ” لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ “ کا وعدہ حق پورا ہو۔ گذشتہ صفحات میں یہ حقیقت بخوبی عیاں ہو چکی ہے کہ اگرچہ تمام انبیا و رسل اپنے اپنے زمانہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارات دیتے چلے آتے تھے لیکن یہ خصوصیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کے حصہ میں آئی کہ وہ ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے لیے تمہید اور براہ راست مناد ومبشر بنے اور بنی اسرائیل کو تعلیم حق دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : { اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ } اور حقیقت یہ ہے کہ خاتم انبیائے بنی اسرائیل ہی کا یہ حق تھا کہ وہ خاتم الانبیاء والرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ” مناد “ اور ” مبشر “ ہو اس لیے حکمت ربانی کا یہ فیصلہ ہوا کہ میثاق النّبیین کے وقار کے لیے انھی کو منتخب کیا جائے اور اس معاملہ میں وہی تمام انبیا و رسل کی نمائندگی کریں تاکہ امتوں کی جانب سے ہی نہیں بلکہ براہ راست انبیا و رسل کی جانب سے وفائے عہد کا عملی مظاہرہ ہو سکے ‘ اسی حقیقت کے پیش نظر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا : ( (اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَالْاَنْبِیَائُ اَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ) ) مگر قرآن چونکہ خدا کا آخری پیغام ہے اور اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ کے وعدہ الٰہی نے رہتی دنیا تک اس کو تحریف سے محفوظ کر دیا ہے اس لیے قدرتی طور پر اس کی تعلیم کے ثمرات دوسرے انبیا (علیہم السلام) کی تعلیمات کے مقابلہ میں مدت طویل تک اپنا کام کرتے رہیں گے اور اس کی روشنی سے قلوب کو گرمانے اور طاعت ربانی کے لیے مشتعل کرنے کے لیے ” علمائے امت “ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح خدمت حق انجام دیتے رہیں گے۔ لیکن جب بعثت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گذرے ہوئے بہت ہی طویل عرصہ ہوجائے گا اور امت مرحومہ کے عملی قویٰ اور اجتماعی اعضاء میں انتہائی اضمحلال پیدا ہو کر یہ کیفیت ہوجائے گی کہ ان کی بیداری اور تیز روی کے لیے صرف علمائے حق کی روحانیت ہی کافی ثابت نہیں ہوگی وہ وقت اس کا متقاضی ہوگا کہ کوئی ” قائم بالحجہ “ ان کو سنبھالے اور اس لیے مشیت الٰہی نے مقدر کیا کہ جو ہستی (عیسیٰ بن مریم ؓ انبیا و رسل کے میثاق ازل کی نمائندگی کے لیے مامور ہے اس کا ایسے ہی وقت نزول ہو اور وہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان میں رہ کر ذات اقدس کی نیابت اور امت کی امامت کا فرض انجام دے اور لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ “ کا عملی مظاہرہ کرکے دکھائے۔ اب کرشمہ قدرت دیکھیے کہ ازل کے ان مقدرات نے جو ملائے اعلیٰ سے تعلق رکھتے تھے کائنات ارضی میں کس طرح اپنی بساط بچھائی ؟ بنی اسرائیل اپنے جلیل القدر پیغمبر کے قتل کے لیے سازش مکمل کرچکے ہیں ‘ شاہی دستہ چہار جانب سے مکان کو محصور کیے ہوئے ہے ‘ مگر قدرت حق اپنا کام اس طرح نہیں کرتی کہ معجزانہ کرشمہ کے ذریعہ ان کو محفوظ وہاں سے نکال کر خدا کی وسیع زمین کے دوسرے حصہ میں ” ہجرت “ کرا دیتی ‘ نہیں بلکہ ہوا یہ کہ ان کو ملائے اعلیٰ کی ہجرت کے لیے محفوظ و مامون زندہ اٹھا لیا اور سازش و محصور کرنے والوں کو ظن و ریب کی دلدل میں پھنسا کر ان کو ” خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃَ “ کا نشان عطا کر دیا اور پھر ارضی انسان کے ارضی احکام کے لیے وہ وقت مقرر کر دیا جو ” میثاق النّبیین “ کی نمائندگی کے لیے موزوں تھا ‘ یہی وہ حقیقت ہے جس کو زبان وحی ترجمان نے اس طرح ظاہر فرمایا : ( (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنَ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا) ) اور اسی کو نص قرآن نے یوں واضح کیا : { وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ } پھر یہ ہستی میثاق انبیا و رسل کی نمائندگی کا اس طرح حق ادا کرے گی کہ جب اس کا نزول ہوگا تو اس کرشمہ قدرت کو دیکھ کر مسلمانوں کے قلوب تصدیق قرآن اور تازگی ایمان سے روشن ہوجائیں گے اور وہ حق الیقین کے درجہ میں یقین کریں گے کہ بلاشبہ راہ مستقیم صرف ” اسلام “ ہی ہے ‘ اور مخبر صادق کی جس طرح یہ ” خبر “ صادق نکلی عالم غیب سے متعلق اس کی تمام خبریں اسی طرح حق اور بلاشبہ حق ہیں ‘ اور نصاریٰ بحیثیت قوم اپنے باطل عقیدہ ” تثلیث “ و ” کفارہ “ پر نادم و شرمسار ہوں گے اور قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کو اپنے لیے راہ نجات اور راہ سعادت یقین کریں گے اور یہود جب مسیح ہدایت اور مسیح ضلالت کے معرکہ حق و باطل کا مشاہدہ کر لیں گے اور مسیح ہدایت کے نزول سے اپنے دعوائے قتل و صلیب کے ملعون عقیدہ کو باطل پالیں گے تو اب ان کو بھی ” ایمان بالحق “ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا اور مسیح ضلالت کے رفقا کے علاوہ وہ سبھی ” مسلم “ بن جائیں گے یہی ہے قرآن کی وہ خبر صادق : { وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ } مسلمانوں میں ایمان کی تازگی و شگفتگی ‘ نصاریٰ اور یہود میں تبدیلی عقائد کا حیرت انگیز انقلاب دیکھ کر اب مشرک جماعتوں پر بھی قدرتی اثر پڑے گا اور ساتھ ہی خدا کے مقدس پیغمبر کے زبردست روحانی اثرات کار فرما ہوں گے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے اور اس طرح وحی ترجمان ‘ حامل قرآن ‘ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد اپنی صداقت کو نمایاں کرے گا : ( (وَیَدْعُوْ النَّاسَ اِلَی الْاِسْلَامِ وَیُھْلِکَ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہٖ الْمِلَلَ کُلَّھَا اِلَّا الْاِسْلَامَ وَیُھْلِکَ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہٖ الدَّجَّالَ )) اس تفصیل سے یہ بھی روشن ہو گیا کہ قرآن اور احادیث کی تصریحات ثابت کر رہی ہیں کہ اگر اس فرض کی انجام دہی کے لیے کوئی جدید نبی مبعوث ہوتا تو ایک جانب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصی شرف ” خاتم النّبیین “ باقی نہ رہتا اور دوسری طرف ” میثاق النّبیین “ کے خطاب اولین کا عملی مظاہرہ عالم وجود میں نہ آتا ‘ کیونکہ وہ ہستی بہرحال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہی میں سے ہوتی۔ البتہ سابقہ نبی کی آمد نقلاً اور عقلاً دونوں حیثیت سے شرف خصوصی ” خاتم النّبیین “ کے لیے بھی قادح نہیں ہے اور میثاق النّبیین کو بھی پورا کرتی ہے۔ واقعات نزول صحیح احادیث کی روشنی میں گذشتہ صفحات میں نزول عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق جو صحیح احادیث ذکر کی گئیں اور ان سے اور بعض دوسری صحیح احادیث سے جو تفصیلات ظاہر ہوتی ہیں ان کو ترتیب کے ساتھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے : قیامت کا دن اگرچہ معین ہے مگر ذات باری کے ما سوا کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا وقوع اچانک ہوگا : { وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ” اور قیامت کا علم خدا ہی کو ہے “ { حَتّٰٓی اِذَا جَآئَ تْھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً } ” حتیٰ کہ ان پر اچانک قیامت کی گھڑی آجائے گی “ { لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ” قیامت تم پر نہیں آئے گی مگر اچانک “ اور حدیث جبرائیل میں ہے ” مَاالْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ “ ” (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا) قیامت کے بارہ میں آپ سے زیادہ مجھے بھی علم نہیں ‘ جو اجمالی علم آپ کو ہے اسی قدر مجھ کو بھی ہے۔ “ اور ایک اور حدیث میں ہے : ( (سَمِعْتُ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ قَبْلَ اَنْ یَّمُوْتَ بِشَھْرٍ : تَسْأَلُوْنَ عَنِ السَّاعَۃِ وَاِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ )) ” تم مجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہو تو اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے “ البتہ قرآن عزیز اور احادیث صحیحہ نے چند ایسی علامات بیان کی ہیں جو قیامت کے قریب پیش آئیں گی اور ان سے صرف اس کے نزدیک ہوجانے کا پتہ چل سکتا ہے ‘ ان ” اشراط ساعت “ میں سے ایک بڑی علامت حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ملائے اعلیٰ سے نزول ہے جس کی تفصیلات یہ ہیں : ” مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان میں سخت معرکہ جنگ بپا ہو رہا ہوگا اور مسلمانوں کی قیادت و امامت سلالہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہوگی جس کا لقب ” مہدی “ ہوگا۔ اس معرکہ آرائی کے درمیان میں ہی میں مسیح ضلالت ” دجال “ کا خروج ہوگا ‘ یہ نسلاً یہودی اور یک چشم ہوگا ‘ کرشمہ قدرت نے اس کی پیشانی پر (ک ‘ ا ‘ ف ‘ ر) ” کافر “ لکھ دیا ہوگا جس کو اہل ایمان فراست ایمانی سے پڑھ سکیں گے اور اس کے دجل و فریب سے جدا رہیں گے۔ یہ اول خدائی کا دعویٰ کرے گا اور شعبدہ بازوں کی طرح شعبدے دکھا کر لوگوں کو اپنی جانب توجہ دلائے گا ‘ مگر اس سلسلہ کو کامیاب نہ دیکھ کر کچھ عرصہ کے بعد ” مسیح ہدایت “ ہونے کا مدعی ہوگا ‘ یہ دیکھ یہود بکثرت بلکہ قومی حیثیت سے اس کے پیرو ہوجائیں گے ‘ اور یہ اس لیے ہوگا کہ یہود مسیح ہدایت کا انکار کرکے ان کے قتل کا ادعا کرچکے ہیں اور مسیح ہدایت کی آمد کے آج تک منتظر ہیں ‘ اسی حالت میں ایک روز دمشق (شام) کی جامع مسجد میں مسلمان منہ اندھیرے نماز کے لیے جمع ہوں گے ‘ نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی اور مہدی موعود امامت کے لیے مصلیٰ پر پہنچ چکے ہوں گے ‘ کہ اچانک ایک آواز سب کو اپنی جانب متوجہ کرلے گی ‘ مسلمان آنکھ اٹھا کر دیکھیں گے تو سپید بادل چھایا ہوا نظر آئے گا اور تھوڑے سے عرصہ میں یہ مشاہدہ ہوگا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) دو زرد حسین چادروں میں لپٹے ہوئے اور فرشتوں کے بازو وں پر سہارا دیے ہوئے ملائے اعلیٰ سے اتر رہے ہیں ‘ فرشتے ان کو مسجد کے منارہ شرقی پر اتار دیں گے اور واپس چلے جائیں گے ‘ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق کائنات ارضی کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہوجائے گا اور وہ عام قانون فطرت کے مطابق صحن مسجد میں اترنے کے لیے سیڑھی کے طالب ہوں گے ‘ فوراً تعمیل ہوگی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز کی صفوں میں آ کھڑے ہوں گے ‘ مسلمانوں کا امام (مہدی موعود) ازراہ تعظیم پیچھے ہٹ کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے امامت کی درخواست کرے گا ‘ آپ فرمائیں گے کہ یہ اقامت تمھارے لیے کہی گئی ہے اس لیے تم ہی نماز پڑھاؤ ‘ فراغت نماز کے بعد اب مسلمانوں کی امامت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھوں میں آجائے گی اور وہ حربہ لے کر مسیح ضلالت (دجال) کے قتل کے لیے روانہ ہوجائیں گے اور شہر پناہ سے باہر اس کو باب لد پر مقابل پائیں گے ‘ دجال سمجھ جائے گا کہ اس کے دجل اور زندگی کے خاتمہ کا وقت آپہنچا ‘ اس لیے خوف کی وجہ سے رانگ کی طرح پگھلنے لگے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھ کر اس کو قتل کر دیں گے اور پھر جو یہود دجال کی رفاقت میں قتل سے بچ جائیں گے وہ اور عیسائی سب ” اسلام “ قبول کر لیں گے اور مسیح ہدایت کی سچی پیروی کے لیے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں گے ‘ اس کا اثر مشرک جماعتوں پر بھی پڑے گا اور اس طرح اس زمانہ میں اسلام کے ماسوا کوئی مذہب باقی نہیں رہے گا۔ ان واقعات کے کچھ عرصہ بعد یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) مسلمانوں کو اس فتنہ سے محفوظ رکھیں گے ‘ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا دور حکومت چالیس سال 1 ؎ رہے گا اور اس درمیان میں وہ ازدواجی زندگی بسر کریں گے اور ان کے دور حکومت میں عدل و انصاف اور خیر و برکت کا یہ عالم ہوگا کہ بکری اور شیر ایک گھاٹ پانی پئیں گے اور بدی اور شرارت کے عناصر دب کر رہ جائیں گے۔ “ وفات مسیح (علیہ السلام) چالیس سالہ دور حکومت کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا انتقال ہوجائے گا اور وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں دفن ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی طویل حدیث میں ہے : ( (فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَ یُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیَدْفُنُوْنَہٗ )) 2 ؎ ” پھر وہ کائنات ارضی پر اتر کر چالیس سال قیام کریں گے اور اس کے بعد وفات پاجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔ “ 1 ؎ اور صحیح مسلم میں ہے کہ دور حکومت سات سال رہے گا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب مسیح (علیہ السلام) کا رفع سماوی ہوا اس وقت ان کی عمر تینتیس سال تھی اور نزول کے بعد سات سال مزید بقید حیات رہیں گے ‘ اس طرح کائنات ارضی میں کل مدت حیات چالیس سال ہوجائے گی۔ 2 ؎ اس سے قبل یہ حدیث مکمل نقل کی گئی ہے۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ‘ امام احمد نے مسند میں ‘ ابوداؤد نے سنن میں ‘ ابن جریر نے تفسیر میں اور ابن حبان نے صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے بسند حسن ‘ محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام کے سلسلہ سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے : ( (قَالَ مَکْتُوْبٌ فِی التَّوْرَاۃِ صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَّعِیْسٰی ابْنِ مَرْیَمَ یُدْفَنُ مَعَہٗ )) ” عبد اللہ بن سلام (رض) نے فرمایا ‘ تورات میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت (حلیہ و سیرت) مذکور ہے اور یہ بھی مسطور ہے کہ عیسیٰ بن مریم i ان کے ساتھ (پہلو میں) دفن ہوں گے۔ “ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا سورة مائدہ میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مختلف حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے پھر آخر سورة بھی انھی کے تذکرہ پر ختم ہوتی ہے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اول قیامت کے اس واقعہ کا نقشہ کھینچا ہے جب انبیا (علیہم السلام) سے ان کی امتوں کے متعلق سوال ہوگا اور وہ غایت ادب سے اپنی لا علمی کا اظہار کریں گے اور عرض کریں گے خدایا ! آج کا دن تونے اسی لیے مقرر فرمایا ہے کہ ہر معاملہ میں حقائق امور کے پیش نظر فیصلہ سنائے اور ہم چونکہ صرف ظواہر ہی پر کوئی حکم لگا سکتے ہیں اور قلوب اور حقائق کا دیکھنے والا تیرے سوا کوئی نہیں اس لیے آج ہم کیا شہادت دے سکتے ہیں صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں تو علام الغیوب ہے اس لیے تو ہی سب کچھ جانتا ہے : { یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } ” وہ دن (قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تم (اپنی اپنی امتوں کی جانب سے) کیا جواب دیے گئے ؟ وہ (پیغمبر) کہیں گے (تیرے علم کے سامنے) ہم کچھ نہیں جانتے بلاشبہ تو ہی غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ “ ظاہر ہے کہ انبیا (علیہم السلام) کا ” لَا عِلْمَ لَنَا “ فرمانا علم حقیقی کی نفی پر ہی مبنی ہوگا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہ درحقیقت اپنی امتوں کے جواب سے لا علم ہیں کہ کس نے ایمان کو قبول کیا اور کس نے انکار کیا کیونکہ جواب کا مقصد اگر یہ ہو تو یہ صریح جھوٹ اور کذب بیانی ہے اور انبیا (علیہم السلام) کی جانب اس عمل بد کی نسبت ناممکن ہے اس لیے انبیا (علیہم السلام) کا یہ جواب مسطورہ بالا حقیقت کے ہی پیش نظر ہوگا ظاہر حالات کے علم سے انکار پر مبنی نہیں ہوگا اس کے لیے خود قرآن عزیز ہی شاہد عدل ہے کیونکہ وہ متعدد جگہ یہ کہتا ہے کہ قیامت کے دن انبیا (علیہم السلام) اپنی اپنی امتوں پر شہادت دیں گے کہ ہم نے ان تک خدا کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ کہ انھوں نے ہماری دعوت کو قبول کیا یا رد کر دیا تو ان ہر دو مقامات پر نظر رکھنے کے بعد یوں کہا جائے گا کہ پاس ادب کے طریقہ پر اول انبیا (علیہم السلام) کا یہی جواب ہوگا جو سورة مائدہ میں مذکور ہے لیکن جب ان کو خدائے برتر کا یہ حکم ہوگا کہ وہ صرف اپنے علم کے مطابق شہادت دیں تب وہ شہادت دیں گے : { فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا } ” پھر (اے پیغمبر ! ) کیا حال ہوگا اس دن (یعنی قیامت کے دن) جب ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ طلب کریں گے (یعنی اس کے پیغمبر کو طلب کریں گے جو اپنی امت کے اعمال و احوال پر گواہ ہوگا) اور ہم تمھیں بھی ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے طلب کریں گے۔ “ { وَجِایْٓئَ بِالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّہَدَائِ وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ } ” اور لائے جائیں گے (قیامت کے دن) انبیا اور شہداء اور فیصلہ کیا جائے گا ان لوگوں کے درمیان میں اچھائی اور برائی کا حق کے ساتھ۔ “ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بھی ” لَا عِلْمَ لَنَا “ کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے : ( (عن ابن عباس یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ (الایۃ) یَقُوْلُوْ الِرَبِّ عَزَّ وَ جَلَّ لَاعِلْمَ لَنَا اِلَّا عِلْمَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنَّا)) ” حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) آیت یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلُ (الآیہ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں : انبیا (علیہم السلام) رب عزوجل سے عرض کریں گے ہم کو کوئی علم نہیں ہے مگر ایسا علم جس کے متعلق تو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ “ اور شیخ المحققین علامہ انورشاہ ؒ آیت کے جملہ ” لَا عِلْمَ لَنَا “ کو علم حقیقی کے انکار پر محمول کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ” یہ بات مسلم ہے کہ ایک انسان کو خواہ وہ کسی درجہ اور رتبہ کا ہو دوسرے انسان کے متعلق جو کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ علم حقیقی کے لحاظ سے ” ظن “ کے درجہ سے آگے ” علم “ تک نہیں پہنچتا اسی بنا پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” نَحْنُ نَحْکُمُ بِالظَّوَاھِرِ وَاللّٰہُ مُتَوَلَّی السَّرَائِرِ “ ” ہم ظاہر معاملات پر حکم لگاتے ہیں اور بھیدوں اور حقیقتوں پر تو صرف خدا کو ہی قابو حاصل ہے “ نیز ایک دوسری حدیث میں ہے ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو اور بعض تم میں سے زیادہ چرب زبان ہوتے ہیں اور مجھ کو علم غیب نہیں کہ حقیقت سے آگاہ ہوجایا کروں اس لیے جو بھی فیصلہ دیتا ہوں ظاہر حالات پر ہی دیتا ہوں تو یاد رہے کہ جو شخص بھی اپنی چرب زبانی سے کسی بھائی کا ادنیٰ سا ٹکڑا بھی ناحق حاصل کرے گا وہ بلاشبہ جہنم کا ٹکڑا حاصل کرلے گا۔ “ بہرحال قرآن عزیز ‘ احادیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ آثار صحابہ اور اقوال علما سب یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس موقع پر انبیا (علیہم السلام) کا جواب ” عدم علم “ کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ ازراہ پاس ادب ” حقیقی علم پر انکار “ کو واضح کرتا ہے۔ غرض ذکر یہ تھا کہ اصل مقام پر اصل تذکرہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کا ہو رہا ہے جو قیامت میں پیش آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنے انعامات شمار کرانے کے بعد ان سے ان کی امت کے متعلق سوال کرے گا اور وہ حسب حال جوابات پیش کریں گے مگر سابق آیات میں چونکہ دوسرے مطالب ذکر ہوئے تھے اس لیے ان سے امتیاز پیدا کرنے کے لیے تمہیداً قیامت میں ہونے والے ان سوال و جواب کا ذکر ضروری ہوا جو عام طور پر انبیا (علیہم السلام) سے ان کی امتوں کے متعلق کیے جائیں گے اور اس لیے بھی یہ تذکرہ ضروری تھا کہ اگلی آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کا پیرا یہ بیان بھی انبیا (علیہم السلام) کے جواب کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے : { وَ اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَایَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ” اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم سے کہے گا ” کیا تونے لوگوں (بنی اسرائیل) سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دونوں کو اللہ کے ماسوا خدا بنا لینا ؟ “ عیسیٰ کہیں گے ” پاکی تجھ کو ہی زیبا ہے میرے لیے کیسے ممکن تھا کہ میں وہ بات کہتا جو کہنے کے لائق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات ان سے کہی ہوتی تو یقیناً تیرے علم میں ہوتی (اس لیے کہ) تو وہ سب کچھ جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں تیرا بھید نہیں پاسکتا بلاشبہ تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے میں نے اس بات کے ماسوا جس کا تونے مجھ کو حکم دیا ان سے اور کچھ نہیں کہا ‘ وہ یہ کہ صرف اللہ ہی کی پوجا کرو جو میرا اور تمھارا سب کا رب ہے اور میں ان پر اس وقت تک کا گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان میں رہا پھر جب تونے مجھ کو قبض کر لیا تب تو ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر تو ان سب کو عذاب چکھائے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے پس تو ہی بلاشبہ غالب حکمت والا ہے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب اپنا جواب دے چکیں گے تب اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرمائے گا : { قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ” اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ ایسا دن ہے جس میں راست بازوں کی راست بازی ہی کام آسکتی ہے انھی کے لیے بہشت ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی (کا مقام اعلیٰ پائیں گے) یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب اپنا جواب دے چکیں گے تب اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرمائے گا : { قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ” اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ ایسا دن ہے جس میں راست بازوں کی راست بازی ہی کام آسکتی ہے انھی کے لیے بہشت ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی (کا مقام اعلیٰ پائیں گے) یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ایک جلیل القدر پیغمبر کی عظمت شان کے عین مطابق ہے وہ پہلے بارگاہ رب العزت میں عذر خواہ ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں ایسی نامناسب بات کہتا جو قطعاً حق کے خلاف ہے : { سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ } پھر پاس ادب کے طور پر خدا کے علم حقیقی کے سامنے اپنے علم کو ہیچ اور بے علمی کے مرادف ظاہر کریں گے : { اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } اور اس کے بعد اپنے فرض کی انجام دہی کا حال گزارش کریں گے : { مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ } اور پھر امت نے اس دعوت حق کا جواب کیا دیا ؟ اس کے متعلق ظاہر امور کی شہادت کا بھی اس اسلوب کے ساتھ ذکر کریں گے جس میں ان کی شہادت خدا کی شہادت کے مقابلہ میں بے وقعت نظر آئے : { وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ} اور اس کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ امت میں مومنین قانتین بھی ہیں اور منکرین جاحدین بھی ‘ وقوع عذاب اور طلب مغفرت کا اس انداز میں ذکر کریں گے جس سے ایک جانب خدا کے مقرر کردہ پاداش عمل کے قانون کی خلاف ورزی بھی مترشح نہ ہو اور دوسری جانب امت کے ساتھ رحمت و شفقت کے جذبہ کا جو تقاضا ہے وہ پورا ہوجائے : { اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عرضداشت یا جواب کے مضمون کو ختم کرچکے تو رب العالمین نے اپنے قانون عدل کا یہ فیصلہ سنا دیا تاکہ مستحق رحمت و مغفرت کو مایوسی نہ پیدا ہو بلکہ مسرت و شادمانی سے ان کے قلوب روشن ہوجائیں اور مستحق عذاب غلط توقعات قائم نہ کرسکیں : { قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ } ان تمام تفصیلات کا حاصل یہ ہے کہ آیات زیر بحث کا سیاق وسباق صراحت کرتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت کے روز پیش آئے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ملائے اعلیٰ پر اٹھا لیے جانے کے وقت پیش نہیں آیا اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتدا { یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ } سے کرنا اور انتہائے واقعہ { ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُھُمْ } پر ہونا روز قیامت کے ماسوا اور کسی دن پر صادق نہیں آسکتا اور اس ایک قطعی بات کے علاوہ دوسرے کسی احتمال کی مطلق گنجائش نہیں ہے۔ نیز یہ تفصیلات واضح کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی امت کے قبول و انکار کے حالات سے آگاہی کے باوجود آیات سورة مائدہ میں مذکور اسلوب بیان اس لیے اختیار فرمائیں گے کہ دوسرے انبیا و رسلعلیہم السلام بھی مقام کی نزاکت حال اور رب العزت کے دربار میں غایت پاس ادب کے لیے یہی اسلوب بیان اختیار فرمائیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور انبیا (علیہم السلام) کے جوابات میں اسلوب بیان کی یکسانی کے باوجود اجمال و تفصیل کا فرق صرف اس لیے ہے کہ زیر بحث آیات میں اصل مقصود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت کے قبول و انکار اور ان کے نتائج وثمرات کا تذکرہ ہے اور انبیا (علیہم السلام) کا ذکر صرف واقعہ کی تمہید کے طور پر ہے۔ حقیقت حال کے اس انکشاف کے بعد اب جمہور امت مسلمہ کے خلاف خلیفہ قادیانی ‘ مسٹر محمد علی لاہوری کی تحریف معنوی بھی قابل مطالعہ ہے کہتے ہیں کہ سورة مائدہ میں مذکور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور پروردگار عالم کا یہ سوال و جواب اس وقت پیش آچکا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نعش ملنے پر شاگردوں نے ان کا علاج کرکے چنگا کر لیا اور پھر وہ شام سے فرار ہو کر مصر اور مصر سے کشمیر پہنچے اور گمنامی کی حالت میں انتقال فرما گئے مسٹر لاہوری نے اپنے دعوے میں دو دلائل پیش کیے ہیں ایک یہ کہ عربیت کے قاعدے سے لفظ ” اذ “ ماضی کے لیے مستعمل ہے نہ کہ مستقبل کے لیے اور دوسری دلیل یہ کہ اگر جمہور کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح (علیہ السلام) کا انتقال نہیں ہوا اور وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے تو ضروری ہے کہ ان کو اپنی امت (نصاریٰ ) کے عقیدہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) اور تثلیث کا علم ہو چکا ہو گا کیونکہ نصاریٰ نے ان کے رفع کے زمانہ تک تثلیث کو نہیں اپنایا تھا اور اگر ایسا ہوتا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ایسے اسلوب پر نہ ہوتا جس سے ان کی لاعلمی ظاہر ہوتی ہے۔ مسٹر لاہوری نے قرآن کی تحریف معنوی پر یہ اقدام یا تو اس لیے کیا کہ اپنے مرشد متنبی قادیان (علیہ ما علیہ) کے دعویٰ مسیحیت کو قوت پہنچائیں اور مغالطہ اور سفسطہ سے کام لے کر ” خسران مبین “ کا سامان مہیا کریں اور یا پھر وہ قواعد عربیت سے اس درجہ ناواقف ہیں کہ نہ ان کو نحو کے معمولی استعمالات ہی کا علم ہے اور نہ وہ آیات قرآنی کے سیاق وسباق کا ہی کچھ درک رکھتے ہیں اور صرف جاہلانہ دعاوی پر دلیر نظر آتے ہیں۔ جن قوانین عربیت میں ” اذ “ اور ” اذا “ کے درمیان یہ فرق بیان کیا گیا ہے کہ ” اذ “ اگر فعل مستقبل پر بھی داخل ہو تب بھی ” ماضی “ کے معنی دیتا ہے اور ” اذا “ اگرچہ فعل ماضی پر بھی داخل ہو تب بھی مستقبل کے معنی دیا کرتا ہے انھی قوانین میں علمائے معانی و بلاغت یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی گذرے ہوئے واقعہ کو اس طرح پیش کرنے کے لیے گویا وہ زمانہ حال میں پیش آ رہا ہے صیغہ مستقبل سے تعبیر کر لیا کرتے ہیں یعنی اس کے لیے ” اذ “ کا استعمال جائز رکھتے بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں اور اس کو ” استحضار “ اور ” حکایۃ الحال “ کہتے ہیں اور اسی طرح مستقبل میں ہونے والے ایسے واقعہ کو جس کے وقوع سے متعلق یہ یقین دلانا ہو کہ وہ ضرور ہو کر رہے گا اور ناممکن ہے کہ اس کے خلاف ہو سکے اکثر ماضی کے صیغہ سے تعبیر کرنا مستحسن سمجھتے بلکہ بلاغت تعبیر کے لحاظ سے ضروری اور مفید یقین کرتے ہیں کیونکہ اس طرح مخاطب اور سامع کے سامنے ہونے والے واقعہ کا نقشہ اس طرح آجاتا ہے گویا وہ ہو گذرا ہے اور یہ بھی ” استحضار “ ہی کی ایک صورت سمجھی جاتی ہے دور کیوں جایئے لفظ ” اذ “ کا استعمال مستقبل کے لیے خود قرآن عزیز میں متعدد مقامات پر ثابت ہے۔ سورة انعام میں قیامت کے دن مجرموں کی کیا کیفیت ہوگی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا گیا ہے : { وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } ” اور کاش کہ تو دیکھے جس وقت کہ وہ کھڑے کیے جائیں گے آگ (جہنم) کے اوپر پس کہیں گے اے کاش کہ ہم لوٹا دیے جائیں دنیا میں اور نہ جھٹلائیں ہم اپنے رب کی نشانیوں کو اور ہوجائیں ہم ایمان والوں میں سے۔ “ اور اسی سورة انعام میں روز قیامت مجرموں کی حالت کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے : { وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ” اور کاش کہ تو دیکھے ‘ جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے تو (پروردگار) کہے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے قسم ہے پروردگار کی یہ (روز حشر) حق اور سچ ہے پس پروردگار کہے گا تو چکھو اس کے بدلہ میں عذاب جو تم کفر کیا کرتے تھے۔ “ اور انھی مجرمین کی روز قیامت حالت کا نقشہ سورة سبا میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : { وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ۔ وَّ قَالُوْٓا امَنَّا بِہٖ } ” اور کاش کہ تو دیکھے جبکہ وہ (منکرین) گھبرائیں گے پس نہیں بھاگ سکیں گے اور پکڑے جائیں گے قریب سے اور کہیں گے ہم (اب) اس پر ایمان لے آئے۔ “ اور سورة سجدہ میں اس حقیقت کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے : { وَ لَوْ تَرٰٓی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُئُوْسِھِمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ } ” اور کاش کہ تو دیکھے جبکہ مجرم اپنا سر نیچے ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے۔ “ یہ اور اسی قسم کے متعدد مقامات ہیں جن میں مستقبل کے واقعات کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا گیا اور اس کے لیے لفظ ” اذ “ کا استعمال مفید سمجھا گیا پس جس طرح ان مقامات میں اِذْ وُقِفُوْا ‘ قَالَ ‘ قَالُوْا ‘ اِذْ فَزِعُوْا ‘ وَاُخِذُوْا ‘ اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا ‘ تمام افعال لفظ ” اذ “ کے باوجود مستقبل کے معنی دے رہے ہیں اسی طرح اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰی کے استعمال کو مستقبل کے لیے سمجھیے اور جس طرح ان تمام مقامات کے سیاق وسباق دلالت کر رہے ہیں کہ ان واقعات کا تعلق روز قیامت سے ہے ٹھیک آیات سورة مائدہ کی زیر بحث آیات کا سیاق وسباق صراحت کر رہا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق قیامت کے دن سے ہے۔ قاعدہ عربیت کی اس حقیقت افروز تحقیق کے بعد مسٹر لاہوری کی دوسری دلیل پر نظر ڈالئے تو وہ اس سے بھی زیادہ لچر نظر آئے گی اس لیے کہ گذشتہ تحقیق سے یہ واضح ہو چکا کہ سورة مائدہ کی آیات زیر بحث میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ہرگز اس بات پر مبنی نہیں ہے کہ ان کو اپنی امت کی گمراہی کا علم نہیں ہوگا اور وہ اپنی لا علمی ظاہر کریں گے ایک مرتبہ ان آیات پر پھر غور کرو گے تو صاف نظر آئے گا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اصل جواب صرف یہ ہے { مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ } اور اول و آخر باقی آیات میں یا جواب کے مناسب حال تمہید ہے اور یا اللہ تعالیٰ کی جلالت و جبروت اور اپنی بیچارگی و درماندگی بلکہ عبودیت کا اظہار ہے جس میں ایک جلیل القدر پیغمبر کی شان کے مناسب حضرۃ القدس کے سامنے شہادت پیش کی گئی ہے علاوہ ازیں اگر مسٹر لاہوری کا یہ قول صحیح مان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع سماوی تک نصاریٰ نے چونکہ تثلیث کا عقیدہ نہیں اختیار کیا تھا اس لیے انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کیا معنی رکھتا ہے : { ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } کیا العیاذ باللہ اس کا یہ مطلب نہ ہوا کہ خدا نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت پر جھوٹا الزام لگایا ؟ پھر یہ کیا کم حیرت کی بات ہے کہ قادیانی اور لاہوری ایک جانب تو یہ کہہ رہے ہیں مگر اس کے قطعاً متضاد ” آئینہ کمالات “ میں قادیانی نے یہ کہا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح کو یہ معلوم ہوا اور اس کو بتایا گیا کہ اس کی امت کس طرح شرک میں مبتلا ہو گئی تب عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ” خدایا ! تو میرا مثیل نازل فرماتا کہ میری امت اس شرک سے نجات پائے اور تیری سچی پرستار بنے “ ع ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اور لاہوری کی تفسیر کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن کی آیات کے مطالب قرآن کی زبان سے سننا چاہتے ہیں بلکہ پہلے سے ایک باطل عقیدہ کو عقیدہ بتاتے ہیں اور پھر اس کے سانچہ میں قرآن کو ڈھالنا چاہتے ہیں اور جب قرآن اس سانچہ میں ڈھلنے سے انکار کرتا ہے تو تحریف کے حربہ سے زبردستی اس پر مشق ستم کرنا چاہتے ہیں مگر وہ ایسا کرتے وقت یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ قرآن امت کی ہدایت کے لیے رہتی دنیا تک امام الہدیٰ ہے ‘ اس لیے کوئی ” ملحد و زندیق “ خواہ کتنی ہی تحریف معنوی کی کوشش کرے ہمیشہ ناکام اور خاسر رہے گا اور خود قرآنی اطلاقات ہی اس کے عقیدہ و فکر کے بطلان کے لیے ناطق ہوں گے بلکہ بہ مصداق ” دروغ گو را حافظہ نباشد “ وہ اکثر اپنے ہی متضاد اقوال کی بھول بھلیاں میں پھنس کر اپنی کذب بیانی اور تفسیری افترا پر مہر لگا لیتا ہے جس کی تازہ شہادت ابھی سطور بالا میں نقل ہو چکی ہے۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ حیات ورفع مسیح (علیہ السلام) سے متعلق گذشتہ مباحث میں ” توفی “ کی حقیقت پر کافی روشنی پڑچکی ہے اور سورة مائدہ کی آیات مسطورہ بالا کی تفسیر کے بھی تمام پہلو واضح ہو چکے ہیں تاہم قرآن کے اعجاز بلاغت اور اسلوب بیان کی لطافت سے مستفید ہونے کے لیے چند سطور اس مسئلہ پر بھی سپرد قلم کردینا مناسب ہے کہ اس مقام پر قرآن نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے قیام ارضی کو مَا دُمْتُ فِیْھِمْ سے اور کائنات ارضی سے انقطاع تعلقات کو تَوَفَّیْتَنِیْ سے کیوں تعبیر کیا۔ گذشتہ سطور میں لغت اور معانی کے حوالوں سے یہ تو ثابت ہو چکا کہ ” توفی “ کے حقیقی معنی ” اَخْذٌ وَ تَنَاوَلٌ“ (لے لینے اور قبضہ میں کرلینے) کے ہیں اور موت کے معنی میں بطور کنایہ اس کا استعمال ہوتا ہے اور یہ کہ کنایہ میں حقیقی معنی برابر ساتھ ساتھ رہتے ہیں مجاز کی طرح یہ نہیں ہوتا کہ حقیقی معنی سے جدا ہو کر لفظ غیر موضوع لہ میں استعمال ہونے لگے پس اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن کا عقیدہ یہ ہوتا کہ ان کو موت آچکی اور سوال و جواب کا یہ سلسلہ موت کے اسی وقت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت کے دن سے تو پھر بلاغت و معانی کا تقاضا یہ تھا کہ اس موقع پر ” حیات “ اور ” موت “ ایک دوسرے کے متضاد الفاظ کو استعمال کیا جاتا تاکہ یہ حیثیت واضح ہو سکتی کہ سوال و جواب کا معاملہ ” موت “ کے ہم قرین ہے اور پھر لفظ ” موت “ کی صراحت اپنے مقابل لفظ ” حیات “ کی طالب ہوتی مگر قرآن نے ان دونوں الفاظ کی بجائے مَا دُمْتُ فِیْھِمْ کو ” حیات “ کی اور ” توفی “ کو ” موت “ کی جگہ استعمال کیا ہے تو یہ کس لیے اور کس مقصد سے یا بغیر کسی حکمت و مصلحت کے یہ اسلوب اختیار کر لیا ؟ جمہور امت تو اس کا ایک ہی جواب رکھتی ہے اور وہ یہ کہ قرآن نے دوسرے مقامات کی طرح اس مقام پر بھی اعجاز و ایجاز سے کام لیا ہے اور ان دو لفظوں میں وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زندگی ‘ رفع ‘ نزول اور موت تمام مراحل کو سمو دینا چاہتا ہے وہ اگر یہ کہتا ” مَا حَیَیْتُ “ ” میں جب تک زندہ رہا “ اور ” فَلَمَّا اَمَتَّنِیْ “ ” پس جب تونے مجھ کو موت دے دی “ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی عام حالات کے مطابق دو ہی مراحل پیش آئے ہیں ” زندگی “ اور ” موت “ ان دونوں مراحل کے درمیان میں کوئی خاص صورت حال پیش نہیں آئی ‘ لیکن جبکہ یہ خلاف واقعہ تھا اور ان کی زندگی اور موت کے درمیان میں دو اہم مراحل پیش آ چکے ہوں گے ایک ملائے اعلیٰ کی جانب بقید حیات رفع اور دوسرے کائنات ارضی پر دوبارہ رجوع (نزول) اس لیے ازبس ضروری ہوا کہ حیات اور موت کی جگہ دو ایسے الفاظ اختیار کیے جائیں جو ان چاروں مراحل پر صادق آسکیں اور جبکہ متعدد مقامات پر حسب حال ان مراحل کی تفصیل بیان ہو چکی ہے تو اعجاز بلاغت کا یہی تقاضا ہے کہ اب ان کو ایجاز و اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے۔ صورت حال کا یہی نقشہ تھا جس کے لیے قرآن عزیز نے ” مَا حَیَیْتُ “ کی جگہ ” مَا دُمْتُ فِیْھِمْ “ استعمال کیا تاکہ یہ جملہ اختصار کے ساتھ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زندگی کے دونوں حصوں پر حاوی ہوجائے اس حصہ پر بھی جو ابتدائے زندگی سے شروع ہو کر ” رفع الی السماء “ پر ختم ہوتا ہے اور اس حصہ پر بھی جو ” نزول ارضی “ سے شروع ہو کر ” موت “ پر جا کر ختم ہوجاتا ہے اور اسی طرح قرآن نے فَلَمَّا اَمَتَّنِیْ کا اسلوب بیان اختیار کیا تاکہ یہ جملہ بھی پہلے کی طرح باقی دونوں مرحلوں کو اپنے اندر سمو لے اس مرحلہ کو بھی جو ” رفع الی السماء “ کی صورت میں پیش آیا اور اس مرحلہ کو بھی جو نزول کے بعد ” موت “ کی صورت میں نمودار ہوگا کیونکہ موت سے تو صرف ایک ہی حقیقت ظاہر ہو سکتی تھی مگر ” توفی “ میں بیک وقت دونوں حقیقتیں موجود تھیں حقیقی معنی کے لحاظ سے صرف ” اَخَذْوَ تَنَاوُل “ اور کنایہ کے اعتبار سے اَخَذْ وَ تَنَاوُلْ کے ساتھ ساتھ ” موت “ جیسا کہ سطور بالا میں ” کنایہ “ اور ” مجاز “ کے باہمی فرق سے معلوم ہو چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عرض کریں گے خدایا ! جو وقت میں نے ان کے درمیان میں گزارا اس کے لیے تو بے شک میں شاہد ہوں لیکن ” توفی “ کے اوقات میں ان پر فقط تو ہی نگہبان رہا۔ باقی تیری شہادت تو ہر حالت میں ہر وقت ہر شے پر حاوی ہے۔ مسئلہ متعلقہ کی یہ پوری بحث اس سے قطع نظر کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیات کی تفسیر میں کیا ارشاد فرمایا ہے لغت ‘ معانی اور بلاغت کے پیش نظر تھی ورنہ ان آیات کی تفسیر میں ایک مومن صادق کے لیے تو وہ صحیح مرفوع احادیث کافی ہیں جن کو محدثین نے بسند صحیح روایت کیا ہے مثلاً مشہور محدث حافظ ابن عساکر ؒ نے بروایت ابوموسیٰ اشعری ؓ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو حدیث نقل کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے : ” جب قیامت کا دن ہوگا تو تمام انبیا (علیہم السلام) کو اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی بلائے جائیں گے اللہ تعالیٰ اول ان کے سامنے اپنی ان نعمتوں کو شمار کرائے گا جو دنیا میں ان پر نازل ہوتی رہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) ان سب کا اعتراف کریں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : { ئَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انکار فرمائیں گے پھر نصاریٰ بلائے جائیں گے اور ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ دروغ بیانی کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہم کو یہی تعلیم دی تھی یہ سن کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر سخت خوف طاری ہوجائے گا بدن کے بال کھڑے ہوجائیں گے اور خشیت الٰہی سے ان کا رواں رواں بارگاہ صمدی میں سجدہ ریز ہوجائے گا اور یہ مدت ایک ہزار سال معلوم ہوگی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نصاریٰ کے خلاف حجت قائم کردی جائے گی اور ان کی خود ساختہ صلیب پرستی کا راز فاش کر دیا جائے گا اور پھر ان کو جہنم میں جھونک دیے جانے کا حکم ہوجائے گا۔ “ اور محدث ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند صحیح یہ روایت نقل کی ہے : ” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ جب قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی امت کے متعلق سوال کرے گا تو اپنی جانب سے عیسیٰ (علیہ السلام) پر جواب بھی القاء کر دے گا “ اور اس القاء کے متعلق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر القاء ہوگا کہ وہ یہ جواب دیں : { سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ } 1 ؎ اور صحیحین (بخاری و مسلم) اور سنن میں جو حدیث شفاعت منقول و مشہور ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے جس طرح قیامت میں تمام انبیا (علیہم السلام) اپنی اپنی امتوں سے متعلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور معاملہ کے پیش آنے سے قبل خائف و ہراساں ہوں گے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان میں سے ایک ہوں گے اور ان پر یہ خوف طاری ہو رہا ہوگا کہ جب ان سے امت کی مشرکانہ بدعت پر سوال ہوگا تو وہ درگاہ صمدی میں کس طرح اس سے عہدہ برآ ہو سکیں گے ؟ الحاصل سورة مائدہ کی ان آیات کی تفسیر وہی صحیح ہے جو جمہور امت کی جانب سے منقول ہے اور قادیانی اور لاہوری کی تفسیر بالرائے الحاد وزندقہ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی دعوت اصلاح اور بنی اسرائیل کے فرقے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل عطا کی تھی اور یہ الہامی کتاب دراصل تورات کا تکملہ تھی یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیمی اساس اگرچہ تورات ہی پر قائم تھی مگر یہود کی گمراہیوں ‘ مذہبی بغاوتوں اور سرکشیوں کی وجہ سے جن اصلاحات کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی معرفت انجیل کی شکل میں ان کے سامنے پیش کر دیا تھا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے یہود کی اعتقادی اور عملی گمراہیاں اگرچہ بے شمار حد تک پہنچ چکی تھیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) نے مبعوث ہو کر ان سب کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا تاہم چند اہم بنیادی باتیں خصوصیت کے ساتھ قابل اصلاح تھیں جن کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) بہت زیادہ سرگرم عمل رہے : یہود کی ایک جماعت کہتی تھی کہ انسان کے اعمال نیک و بد کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے باقی قیامت ‘ آخرت ‘ آخرت میں جزا و سزا ‘ حشر و نشر یہ سب باتیں غلط ہیں یہ ” صدوقی “ تھے۔ دوسری جماعت اگرچہ ان تمام چیزوں کو حق سمجھتی تھی مگر ساتھ ہی یہ یقین رکھتی تھی کہ وصول الی اللہ کے لیے از بس ضروری ہے کہ لذات دنیا اور اہل دنیا سے کنارہ کش ہو کر ” زہادت “ کی زندگی اختیار کی جائے چنانچہ وہ بستیوں سے الگ خانقاہوں اور جھونپڑیوں میں رہنا پسند کرتے تھے مگر یہ جماعت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بعثت سے کچھ پہلے اپنی یہ حیثیت بھی کھو چکی تھی اور اب ترک دنیا کے پردہ میں دنیا کی ہر قسم کی گندگی میں آلودہ نظر آتی تھی ‘ ظاہر رسم و طریق زاہدوں کا سا ہوتا مگر خلوت کدوں میں وہ سب کچھ نظر آتا جن سے رندان بادہ خوار بھی ایک مرتبہ حیا سے آنکھیں بند کر لیں یہ ” فریسی “ کہلاتے تھے۔ 2 تیسری جماعت مذہبی رسوم اور خدمت ہیکل سے متعلق تھی لیکن ان کا بھی یہ حال تھا کہ جن رسوم اور خدمات کو لوجہ اللہ کرنا چاہیے تھا اور جن اعمال کے نیک نتائج خلوص پر مبنی تھے ان کو تجارتی کاروبار بنا لیا تھا اور جب تک ہر ایک رسم اور خدمت ہیکل پر بھینٹ اور نذر نہ لے لیں قدم نہ اٹھائیں حتیٰ کہ اس مقدس کاروبار کے لیے انھوں نے تورات کے احکام تک میں تحریف کردی تھی یہ ” کاہن “ تھے۔ 3 چوتھی جماعت ان سب پر حاوی اور مذہب کی اجارہ دار تھی اس جماعت نے عوام میں آہستہ آہستہ یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب اور دین کے اصول و اعتقادات کچھ نہیں ہیں مگر ” وہ “ جن پر وہ صاد کر دیں ان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنادیں ‘ احکام دین میں اضافہ یا کمی کر دیں جس کو چاہیں جنت کا پروانہ لکھ دیں اور جس کو چاہیں جہنم کی سند تحریر کر دیں ‘ خدا کے یہاں ان کا فیصلہ اٹل اور ان مٹ ہے ‘ غرض بنی اسرائیل کے ” اَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ بنے ہوئے تھے اور تورات کی لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف میں اس درجہ جری تھے کہ اس کو دنیا طلبی کا مستقل سرمایہ بنا لیا تھا اور عوام و خواص کی خوشنودی کے لیے ٹھہرائی ہوئی قیمت پر احکام دین کو بدل ڈالنا ان کا مشغلہ دینی تھا یہ ” احبار “ یا ” فقیہ “ تھے۔ یہ تھیں وہ جماعتیں اور یہ تھے ان کے عقائد و اعمال جن کے درمیان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور جن کی اصلاح حال کے لیے ان کی بعثت ہوئی انھوں نے ہر جماعت کے فاسد عقائد و اعمال کا جائزہ لیا رحم و شفقت کے ساتھ ان کے عیوب و نقائص پر نکتہ چینی کی ‘ ان کو اصلاح حال کے لیے ترغیب دی اور ان کے عقائد و افکار اور ان کے اعمال و کردار کی نجاستوں کو دور کرکے ان کا رشتہ خالق کائنات اور ذات واحد کے ساتھ دوبارہ قائم کرنے کی سعی کی۔ مگر ان بدبختوں نے اپنے اعمال سیاہ کی اصلاح سے یکسر انکار کر دیا اور نہ صرف یہ بلکہ ان کو ” مسیح ضلالت “ کہہ کر ان کی دعوت حق و ارشاد کے دشمن اور ان کے خلاف سازشیں کرکے ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ اناجیل اربعہ تصغیر|پیپرس 46، نئے عہد نامہ کے قدیم ترین پیپرس میں سے ایک حضرت مسیح (علیہ السلام) پر جو انجیل نازل ہوئی تھی کیا موجودہ چاروں انجیلیں وہی ہیں یا یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد کی تصانیف ہیں ؟ اس کے متعلق تمام اہل علم کا جن میں نصاریٰ بھی شامل ہیں اتفاق ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انجیل نہیں ہے اور نہ اس کا ترجمہ ہے لیکن پھر ان موجودہ انجیلوں کے متعلق عیسائی کیا کہتے ہیں اور ناقدین کی رائے کیا ہے یہ مسئلہ تفصیل طلب ہے : یہ بات بہرحال تسلیم شدہ ہے کہ موجودہ چاروں انجیلوں کے متعلق نصاریٰ کے پاس کوئی ایسی سند موجود نہیں جس کی بنا پر وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کی روایات کا سلسلہ یا ان کی ترتیب و تالیف کا زمانہ حضرت مسیح (علیہ السلام) یا ان کے شاگردوں (حواریوں) تک پہنچتا ہے نہ اس کے لیے کوئی مذہبی سند ہے اور نہ تاریخی بلکہ اس کے خلاف خود عیسائیت کی مذہبی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پہلی صدی عیسوی سے چوتھی صدی عیسوی کے اوائل تک عیسائیوں میں اکیس سے زیادہ انجیلیں الہامی یقین کی جاتی اور رائج و معمول بہا تھیں لیکن 325 ء میں نائسیا کی کونسل نے ان میں سے صرف چار کو منتخب کرکے باقی کو متروک قرار دیدیا اور سخت حیرت کا مقام ہے کہ کونسل کا یہ انتخاب کسی تاریخی اور علمی بنیاد پر نہیں ہوا بلکہ ایک طرح کی فال نکالی گئی اور اس کو الہامی اشارہ تسلیم کر لیا گیا چنانچہ ان اکیس سے زائد انجیلوں میں سے بعض یورپ کے قدیم کتب خانوں میں پائی گئی ہیں مثلاً انیسویں صدی میں ویٹیکان کے مشہورکتب خانہ سے متروک اناجیل کا ایک نسخہ برآمد ہوا تھا جس میں موجودہ چاروں انجیلوں سے بہت کچھ زائد موجود ہے موجودہ نسخوں میں سے سینٹ لوقا کی انجیل میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ تفصیل سے درج ہے لیکن سورة مریم میں قرآن عزیز نے اس واقعہ کو جس طرح حضرت مریم (علیہا السلام) کی پیدائش اور ہیکل میں تربیت کے ذکر سے شروع کیا ہے نہ لوقا کی انجیل میں اس کا ذکر ہے اور نہ باقی تینوں انجیلوں میں ‘ ویٹیکان کے اس نسخہ میں یہ واقعہ ٹھیک سورة مریم میں مذکور واقعہ کی طرح درج ہے۔ اسی طرح سولھویں صدی میں روما کے مشہور پوپ سکٹس (Sixtus ) کے قدیم کتب خانہ میں ایک اور متروک انجیل کا نسخہ برآمد ہوا جس کا نام انجیل برناباس ہے یہ نسخہ پوپ کے مقرب لاٹ پادری فرامرینو نے پڑھا اور پوپ کی اجازت کے بغیر کتب خانہ سے چرا لایا چونکہ اس میں خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق کثرت سے واضح اور صاف بشارتیں موجود تھیں حتیٰ کہ ” احمد “ نام تک مذکور تھا ‘ نیز الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے خلاف عقیدہ کی تعلیم پائی جاتی تھی اس لیے وہ لاٹ پادری مسلمان ہو گیا حال ہی میں اس کا عربی ترجمہ مصر میں علامہ سید رشید رضا مرحوم نے المنار پریس سے شائع کیا ہے جو قابل مطالعہ ہے ڈاکٹر خلیل سعادہ مصری نے اس کے مقدمہ میں جو قابل قدر علمی تحقیق پیش کی ہے اس میں ہے کہ اس انجیل کا پتہ پانچویں صدی عیسوی کے اواخر میں اس تاریخی منشور (حکم نامہ) سے چلتا ہے جو خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے عیسائیوں کے پوپ گلیسیوس (جیلاشش) کی جانب سے کلیساؤں کے نام بھیجا گیا تھا اور جس میں ان کتابوں کے نام درج تھے جن کا پڑھنا پڑھانا عیسائیوں پر حرام کیا گیا تھا انھی میں انجیل برناباس کا نام بھی شامل تھا۔ علاوہ ازیں محققین یورپ بھی آج اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد ابتدائی تین صدیوں میں ایک سو سے زائد انجیلیں پائی جاتی تھیں جو بعد میں چار کو چھوڑ کر باقی متروک کردی گئیں اور کلیسا کے فیصلہ کے مطابق ان کا پڑھنا حرام کر دیا گیا اس لیے آہستہ آہستہ وہ سب مفقود ہوتی چلی گئیں اور کہتے ہیں کہ ان مفقود نسخوں میں ایک مشہور انجیل ‘ انجیل ایگنٹس (انجیل اغنطسی) بھی تھی جو اب ناپید ہے۔ نیز یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہے کہ سینٹ پال (پولوس رسول) کے جو خطوط ہیں اور جن پر موجودہ عیسائیت کی بنیادیں قائم ہیں ان کے مطالعہ سے جگہ جگہ یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگوں کو خبردار کرتا اور ڈراتا ہے کہ وہ ان انجیلوں کی جانب توجہ نہ دیں جو مسیح (علیہ السلام) کے نام کی بجائے دوسرے ناموں سے منسوب ہیں کیونکہ مجھ کو روح القدس نے اسی کے لیے مامور کیا ہے کہ میں انجیل مسیح (علیہ السلام) کی حمایت کروں اسی کو اسوہ بناؤں اور اس کی تعلیم کو تمام عیسائی دنیا میں پھیلاؤں چنانچہ حسب ذیل جملے اس کی صراحت کرتے ہیں کہ اس کے نزدیک مسیح (علیہ السلام) کی انجیل عیسائیوں میں متروک ہو چکی تھی اور بعد کی بے سند انجیلوں کا عام رواج ہو گیا تھا اور انھی میں سے یہ چار ہیں جو نائسیا کی کونسل نے بغیر کسی سند کے فال کے ذریعہ صحیح تسلیم کر لیں۔ اب ان چار کا حال بھی سنئے ان میں سے سب سے قدیم متی کی انجیل تسلیم کی جاتی ہے بایں ہمہ اس کے متعلق نصاریٰ میں سے علما متقد میں تو بالاتفاق اور علما موجودہ میں سے اکثر اس کے قائل ہیں کہ موجودہ انجیل متی اصل نہیں ہے بلکہ اس کا ترجمہ ہے اس لیے کہ اصل کتاب عبرانی میں تھی جو اب ناپید ہے اور ضائع ہو گئی لیکن یہ اصل کا ترجمہ ہے یا اس میں بھی تحریف ہوئی ہے اس کے متعلق کوئی تاریخی سند موجود نہیں حتیٰ کہ مترجم کا نام تک معلوم نہیں اور نہ یہ پتہ ہے کہ کس زمانہ میں یہ ترجمہ ہوا اور مشہور عیسائی عالم جرجیس زوین الفتوحی لبنانی نے اپنی کتاب میں تصریح کی ہے کہ متی نے اپنی انجیل بیت المقدس میں بیٹھ کر 39 ء میں عبرانی میں تصنیف کی تھی جیسا کہ مقدس ایرونیموس نے کہا ہے کہ اوسیبیوس نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے کہ متی کی انجیل کا یونانی ترجمہ اصل نہیں ہے اور جب باتنیوس نے یہ ارادہ کیا تھا کہ وہ ہندوستان جا کر عیسائیت کی تبلیغ کرے تو اس نے متی کی انجیل کو عبرانی میں مکتوب اسکندریہ کے کتب خانہ قیصر میں محفوظ دیکھا تھا مگر وہ نسخہ مفقود ہو گیا اور نہیں کہا جا سکتا کہ کس زمانہ میں کس شخص نے یونانی زبان میں موجودہ ترجمہ کو روشناس کرایا۔ دوسری انجیل مرقس کی ہے اس کے متعلق مشہور عیسائی عالم پطرس گواماگ (قرماج) اپنی کتاب مروج الاخبار فی تراجم الابرار (مطبوع 188٠ ء بیروت) میں مرقس کی سوانح حیات پر لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ نسلاً یہودی لاوی اور پطرس حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کا شاگرد تھا رومیوں نے جب عیسائیت اختیار کرلی تو ان کے مطالبہ پر یہ انجیل تصنیف کی یہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) کا منکر تھا اور اس نے اپنی انجیل میں اس حصہ کو بھی نہیں لیا جس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) پطرس کی مدح کرتے ہیں یہ 68 ء میں اسکندریہ کے قید خانہ میں قتل ہوا بت پرستوں نے اس کو قتل کر دیا 1 ؎ اور عیسائی دنیا کو اس بارے میں اختلاف ہے کہ مرقس کی انجیل کب تصنیف ہوئی چنانچہ الفارق کے مصنف مرشد الطالبین صفحہ 17٠ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ علما نصاریٰ کا خیال یہ ہے کہ یہ پطرس کی نگرانی میں 61 ء میں تصنیف ہوئی۔ تیسری انجیل سینٹ لوقا کی انجیل ہے جس قدر اختلاف علما نصاریٰ میں متی کی انجیل سے متعلق ہے اس سے بھی زیادہ لوقا کی انجیل کی صحت و عدم صحت کے متعلق اختلاف ہے چنانچہ الفارق کے مصنف نے اس سلسلہ میں خود علما نصاریٰ کے ہی اقوال نقل کیے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ یہ الہامی کتاب نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ مسٹر گڈل (کدل) اپنے رسالہ ” الہام “ میں دعویٰ کرتا ہے کہ لوقا کی انجیل الہامی نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ لوقا نے خود اپنی انجیل کی ابتدا میں یہ لکھا ہے کہ یہ (انجیل) اس نے ثاو فیلس (تھیوفیلوس) کے ساتھ خط کتابت کی بنا پر لکھی ہے وہ اس کو مخاطب کرکے لکھتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی باتیں جن لوگوں نے آنکھوں سے دیکھی تھیں انھوں نے ہم تک جس طرح پہنچائی ہیں ان کو بہت سے لوگ ہم سے نقل کر رہے ہیں اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو خود ہی صحیح طریقہ پر جمع کر دوں تاکہ تم کو صحیح حقیقت معلوم ہوجائے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا زمانہ نہیں پایا اور محققین نصاریٰ یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ لوقا کی انجیل مرقس کی انجیل کے بعد وجود میں آئی ہے اور پطرس اور پولوس کے مرنے کے بعد تصنیف کی گئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لوقا انطاکیہ میں طبابت کرتا تھا اس نے مسیح (علیہ السلام) کو نہیں دیکھا اور مسیحیت کو سینٹ پال (پولوس) سے سیکھا ہے اور پولوس کے متعلق یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ وہ دراصل متعصب یہودی اور عیسائیت کا بدترین دشمن تھا اور نصاریٰ کے خلاف علی الاعلان اپنی جدوجہد جاری رکھتا تھا مگر جب اس نے یہ دیکھا کہ اس کی ہمہ قسم کی مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود مسیحیت کی ترقی ہوتی جا رہی ہے اور روکے نہیں رکتی تب اس نے یہودیانہ مکر و فریب سے کام لیا اور اعلان کیا کہ عجب معجزہ ہوا ‘ میں بحالت صحت تھا کہ ایک دم اس طرح زمین پر گرا جیسا کہ کوئی کشتی میں پچھاڑ دیتا ہے اس حالت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) نے مجھ کو چھوا اور پھر سخت زجرو توبیخ کی کہ آئندہ تو ہرگز میرے پیرؤوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا پس میں اسی وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حکم سے میں مسیحی دنیا کی خدمت کے لیے مامور ہو گیا انھوں نے مجھ کو فرمایا کہ میں لوگوں کو مسیح (علیہ السلام) کی انجیل کی بشارت سنا دوں اور اس کے اتباع کی ترغیب دوں چنانچہ اس نے آہستہ آہستہ ” کلیسا “ پر ایسا قبضہ کیا کہ دین عیسوی کی اصل صداقتوں کو مٹا کر بدعتوں اور برائیوں کا مجموعہ بنادیا اور الوہیت مسیح (علیہ السلام) ‘ تثلیث و ابنیت اور کفارہ کی بدعت ایجاد کرکے مسیحیت کو وثنیت میں تبدیل کر دیا اور شراب ‘ مردار اور خنزیر سب کو حلال بنادیا۔ یہی وہ مسیحیت ہے پولوس کے صدقہ میں جس سے آج دنیا روشناس ہے اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ پولوس کے شاگرد لوقا کی انجیل الہامی انجیل ہے اور جیروم کہتا ہے کہ بعض قدیم علما نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ لوقا کی انجیل کے ابتدائی دوباب الہامی نہیں الحاقی ہیں کیونکہ یہ اس نسخہ میں موجود نہیں ہیں جو مارسیون فرقہ کے ہاتھوں میں ہے اور مشہور نصرانی عالم اکہارن لکھتا ہے کہ لوقا کی انجیل کے باب 22 آیات 43۔ 47 الحاقی ہیں ‘ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ معجزات سے متعلق جو بیان ہے اس میں کذب بیانی اور شاعرانہ مبالغہ سے کام لیا گیا ہے جو غالباً کاتب کی جانب سے اضافہ ہیں لیکن اب صدق کا کذب سے امتیاز حددرجہ دشوار ہے اور کلی می شیس۔۔ لکھتا ہے کہ متی اور مرقس کی انجیلیں بہت جگہ آپس میں مخالف اور متضاد واقعات کی حامل ہیں لیکن جس معاملہ میں دونوں کا اتفاق ہو اس کو لوقا کی انجیل کے بیان پر ترجیح حاصل ہے اور یہ واضح رہے کہ لوقا کی انجیل میں بیس سے زیادہ مواقع پر متی کی انجیل سے اضافہ ہے اور مرقس کی انجیل سے تو اس سے بھی کہیں زیادہ ۔ پس ان تمام دلائل سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ لوقا کی انجیل ہرگز الہامی نہیں ہے اور نہ کسی حواری کی تصنیف ہے۔ چوتھی انجیل یوحنا کی ہے اس کے متعلق نصاریٰ کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے محبوب شاگرد یوحنا زبدی کی ہے۔ زبدی صیاد ‘ یوحنا کے والد کا نام تھا گلیل کے بیت صیدا میں ولادت ہوئی اور حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کا شرف حاصل ہوا اور نصاریٰ میں مشہور بارہ حواریوں میں سے سب سے زیادہ انھی کو تقدیس حاصل ہے جرجیس زوین الفتوحی لبنانی لکھتا ہے جس زمانہ میں شیرینطوس اور ابیسون اور ان کی جماعت اپنے عقیدہ کی تشہیر کر رہی تھی کہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) کا عقیدہ باطل ہے وہ بشر تھے اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے بطن سے پیدا ہوئے اور حضرت مریم (علیہا السلام) سے قبل وہ عالم وجود میں نہیں تھے اس زمانہ میں 96 ء میں پادریوں ‘ لاٹ پادریوں کی مجلس مشاورت ہوئی اور انھوں نے یوحنا کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست پیش کی کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی باتیں تحریر کریں اور جو باتیں دوسری انجیلوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے ماسوا جو کچھ معلوم ہو وہ لکھیں خصوصیت سے الوہیت مسیح کا مسئلہ ضرور لکھیں تاکہ شیرینطوس وغیرہ کی جماعت کے خلاف ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں تب یوحنا ان کی بات نہ ٹال سکے اور یہ انجیل لکھنے پر مجبور ہوئے اس کے باوجود مسیحی علما زمانہ تصنیف کی تعیین میں مختلف نظر آتے ہیں ‘ بعض کہتے ہیں 65 ء میں تالیف ہوئی اور بعض 96 ء اور بعض 98 ء میں تصنیف ہونا بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کے مقابلہ میں ان مسیحی علما کی تعداد کم نہیں ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یوحنا کی انجیل ‘ حواری یوحنا کی تصنیف ہرگز نہیں ہے۔ چنانچہ کیتھولک ہیرالڈ جلد نمبر 7 میں پروفیسر لن سے منقول ہے کہ انجیل یوحنا از ابتدا تا انتہا مدرسہ اسکندریہ کے ایک طالب علم کی تصنیف ہے اور برٹشنیدر لکھتا ہے کہ انجیل یوحنا اور رسائل یوحنا ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے شاگرد یوحنا کی تصنیف نہیں ہے بلکہ کسی شخص نے دوسری صدی کے اوائل میں اس کو تصنیف کرکے اس لیے یوحنا کی جانب منسوب کر دیا تاکہ لوگوں میں مقبول و مشہور بن جائے اور صاحب الفارق کہتے ہیں کہ مشہور مسیحی عالم کروٹیس کا بیان ہے کہ یہ انجیل شروع میں بیس ابواب پر مشتمل تھی بعد میں اف اس کے کنیسہ نے اس میں اکیسویں باب کا اضافہ کر دیا جبکہ یوحناکا انتقال ہو چکا تھا۔ ان حوالہ جات سے یہ بخوبی آشکارا ہوتا ہے کہ بلاشبہ یوحنا حواری کی انجیل نہیں ہے اور صرف اس مقصد سے تصنیف کرکے یوحنا کی جانب منسوب کی گئی کہ الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے عقیدہ کنیسہ کو قوت پہنچائی جائے اور اصلاح عقیدہ کی جو آواز کبھی کبھی مسیحی دنیا میں اٹھتی تھی اس کو دبایا جائے۔ چہارگانہ اناجیل کے متعلق مذکورہ بالا مختصر تنقیدات کے علاوہ ان کے الہامی نہ ہونے کے دو واضح دلائل یہ بھی ہیں کہ ان چاروں انجیلوں میں حضرت مسیح کی زندگی کے وقائع درج ہیں حتیٰ کہ نصاریٰ کے زعم کے مطابق ان کی گرفتاری ‘ صلیب ‘ قتل ‘ مر کر جی اٹھنے اور حواریوں پر ظاہر ہونے وغیرہ تک کے حالات بھی موجود ہیں پس اگر یہ اناجیل انجیل مسیح (علیہ السلام) یا اس کا کوئی حصہ ہوتیں تو ان میں ان باتوں کا قطعاً تذکرہ نہیں ہونا چاہیے تھا وہ واقعات تو مسیح (علیہ السلام) کے بعد ان کے شاگرد جمع کرتے اور ان کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہوتی نہ کہ وہ کتاب اللہ کہلانے کے مستحق ہوتے اور یہ جس طرح ان انجیلوں کے مصنّفین کے بارے میں اختلاف ہے اسی طرح ان تصنیفات کے باہم واقعات میں بھی تناقض اور سخت اختلاف پایا جاتا ہے یعنی بعض معجزات و عجیب واقعات ایسے ہیں جو ایک انجیل میں پائے جاتے ہیں اور دوسری انجیل میں ان کا اشارہ تک نہیں ہے یا بعض میں ایک واقعہ جس طرح مذکور ہے دوسری میں کچھ زیادتی یا کمی کے ساتھ ایسے طریقہ پر بیان ہوا ہے کہ پہلی انجیل کے بیان میں اور اس میں صریح تضاد اور خلاف نظر آتا ہے مثلاً صلیب مسیح (علیہ السلام) کا واقعہ اناجیل میں تضاد بیان کے ساتھ منقول ہے۔ یہ بات بھی کم حیرت کے لائق نہیں ہے کہ یہ اناجیل اربعہ جن جن زبانوں میں منقول ہوئی ہیں ان کی عبارات و کلمات کے بقا و تحفظ کی کبھی پروا نہیں کی گئی بلکہ ایک ہی زبان کے مختلف ایڈیشنوں اور اشاعتوں میں بکثرت الفاظ اور جملوں کی تبدیلی ‘ کمی اور بیشی موجود ہے خصوصاً جن مقامات پر علما نصاریٰ اور علما اسلام کے درمیان میں بشارات کے سلسلہ میں یہ بحث آگئی ہے کہ ان کا مصداق خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں یا حضرت مسیح (علیہ السلام) یا کوئی اور نبی نیز جن مقامات پر الوہیت مسیح (علیہ السلام) کی صراحت میں فرق پڑتا نظر آتا ہو ان کو کافی تختہ مشق بنایا جاتا رہا ہے۔ اگر تحریفات لفظی و معنوی اور تضاد بیان کی تفصیلات و تشریحات کو بہ نظر وسیع مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لیے مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی اظہار الحق ‘ حافظ ابن قیم کی ہدایۃ الحیاریٰ ‘ باجا جی زادہ کی الفارق بین المخلوق و الخالق اور مولانا آل نبی امروہی کا اظہار حق لائق دید کتابیں ہیں۔ غرض موجودہ چاروں انجیلیں الہامی انجیلیں نہیں ہیں نہ ان کے الہامی ہونے کی روایتی سند ہے اور نہ تاریخی ‘ نہ ان کے مصنّفین کے متعلق قطعی اور یقینی علم حاصل ہے اور نہ زمانہائے تصانیف ہی متعین ہیں بلکہ اس کے خلاف پولوس کے بیانات ‘ ان کتابوں کی تاریخی حیثیت ‘ مضامین و مطالب کا باہمی تضاد و تغیر اسی پر شاہد ہیں کہ یہ ہرگز انجیل مسیح (علیہ السلام) یا اس کا حصہ نہیں ہیں اور یہ کہ انجیل مسیح (علیہ السلام) نصاریٰ کے ہی ہاتھوں اول تحریف لفظی و معنوی کا شکار ہوئی اور اس کے بعد مفقود ہو گئی بلکہ اس چہار گانہ انجیلوں میں سے کوئی بھی اصل نہیں ہے بلکہ یونانی اور اس سے منقول دوسری زبانوں کے تراجم ہیں جو تبدیلی و تغیر اور نقص و ازدیاد کا برابر شکار ہوتے رہے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ یہ اناجیل اربعہ انجیل مسیح (علیہ السلام) نہیں ہیں بلکہ کسی علمی تاریخی اور مذہبی سند سے ان کا شاگردان مسیح (علیہ السلام) کی تصنیف ہونا بھی ثابت نہیں ہے بلکہ بعد کے مصنّفین کی تصانیف ہیں البتہ ان تراجم میں مواعظ و نصائح اور مقامات حکمت کے سلسلہ میں ایک حصہ ایسا ضرور ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ارشادات عالیہ سے ماخوذ ہے اس لیے نقل میں کہیں کہیں اصل کی جھلک نظر آجاتی ہے۔ قرآن اور انجیل قرآن عزیز کی بنیادی تعلیم یہ ہے جس طرح خدا ایک ہے اسی طرح اس کی صداقت بھی ایک ہی ہے اور وہ کبھی کسی خاص قوم ‘ خاص جماعت اور خاص گروہ کی وراثت نہیں رہی بلکہ ہر قوم اور ہر ملک میں خدا کی رشد و ہدایت کا پیغام ایک ہی احساس و بنیاد پر قائم رہتے ہوئے اس کے سچے پیغمبروں یا ان کے نائبوں کے ذریعے ہمیشہ دنیا کے لیے راہ مستقیم کا داعی اور مناد رہا ہے اور اسی کا نام ” صراط مستقیم “ اور ” اسلام “ ہے اور قرآن اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے آیا ہے اور یہی وہ آخری پیغام ہے جس نے تمام مذاہب ماضیہ کی صداقتوں کو اپنے اندر سمو کر کائنات ارضی کی ہدایت کا بیڑا اٹھایا ہے اور اس لیے اب اس کا انکار گویا خدا کی تمام صداقتوں کا انکار ہے اسی بنیادی تعلیم کے پیش نظر اس نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی عظمت شان کو سراہا اور یہ اعتراف کیا کہ بلاشبہ انجیل الہامی کتاب اور خدا کی کتاب ہے لیکن ساتھ ہی جگہ جگہ یہ بھی بہ دلائل بتلایا کہ علما اہل کتاب نے اس کی سچی تعلیم کو مٹا ڈالا ‘ بدل ڈالا اور ہر قسم کی تحریف کرکے اس کی تعلیم کو شرک و کفر کی تعلیم بنادیا مگر بعض مقامات پر اہل کتاب کو تورات و انجیل کے خلاف عمل پر ملزم بناتے ہوئے موجودہ تورات و انجیل کے حوالے بھی دیتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت اصل نسخے بھی اگرچہ محرف شکل میں ہی کیوں نہ ہوں ‘ پائے جاتے تھے بہرحال اس وقت بھی یہ دونوں کتابیں لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریفات سے اس درجہ مسخ ہو چکی تھیں کہ وہ تورات موسیٰ اور انجیل مسیح کہلانے کی مستحق نہ رہی تھیں۔ چنانچہ قرآن نے اصل کتابوں کی عظمت اور اہل کتاب کے ہاتھوں ان کی تحریف اور ان کا مسخ دونوں کو واضح طور پر بیان کیا ہے : { نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ۔ مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ } ” اے محمد ! اللہ نے تجھ پر کتاب کو اتارا حق کے ساتھ جو تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس کے سامنے ہیں اور اتارا اس نے تورات اور انجیل کو (قرآن سے) پہلے جو ہدایت ہیں لوگوں کے لیے اور اتارا فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی) “ { وَ یُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ } ” اور سکھاتا ہے وہ کتاب کو ‘ حکمت کو ‘ تورات کو ‘ انجیل کو۔ “ { یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْم بَعْدِہٖ اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ } ” اے اہل کتاب ! تم کس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑتے ہو اور حال یہ ہے کہ تورات اور انجیل کا نزول نہیں ہوا مگر ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد پس کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ “ { وَ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ اٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ ھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ } ” اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کو جو تصدیق کرنے والا ہے اس کتاب کی جو سامنے ہے تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل جس میں ہدایت اور نور ہے اور جو اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی ہے اور سر تا سر ہدایت اور نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لیے اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے مطابق فیصلہ دیں جو ہم نے انجیل میں اتار دیا ہے اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے موافق فیصلہ نہیں دیتا پس یہی لوگ فاسق ہیں۔ “ { وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ مِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ } ” اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے (تحریف کرکے ان کو مسخ نہ کر ڈالتے) اور اس کو قائم رکھتے جو ان کی جانب ان کے پروردگار کی جانب سے ہوا ہے تو البتہ وہ (فارغ البالی کے ساتھ) کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے نیچے سے ‘ بعض ان میں میانہ رو صلاح کار ہیں اور اکثر ان کے بد عمل ہیں۔ “ { قُلْ یٰٓــاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ” اے محمد ! کہہ دیجئے ‘ اے اہل کتاب تمھارے لیے ٹکنے کی کوئی جگہ نہیں ہے جب تک تورات اور انجیل اور اس شے کو جس کو تمھارے پروردگار نے تم پر نازل کیا قائم نہ کرو (تاکہ اس کا نتیجہ قرآن کی تصدیق نکلے) “ { وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ } ” اور جب میں نے تجھ کو (اے عیسیٰ ! ) سکھائی کتاب ‘ حکمت ‘ تورات اور انجیل۔ “ { اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ } ” (نیکوکار) وہ شخص ہیں جو پیروی کرتے ہیں رسول کی جو نبی امی ہے اور جس کا ذکر اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا پاتے ہیں۔ “ { اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ } ” بلاشبہ اللہ نے خرید لیا ہے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات پر کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کے راستہ میں جنگ کرتے ہیں پس قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ سچا ہے جو تورات اور انجیل میں کیا گیا ہے۔ “ غرض یہ مدح و منقبت ہے اس تورات اور انجیل کی جو تورات موسیٰ اور انجیل عیسیٰ کہلانے کی مستحق اور درحقیقت کتاب اللہ تھیں لیکن یہود و نصاریٰ نے ان الہامی کتابوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس کا حال بھی قرآن ہی کی زبان سے سنئے : { اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ } ” کیا تم توقع رکھتے ہو کہ وہ تمھاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا تھا پھر اس کو بدل ڈالتا تھا باوجود اس بات کے کہ وہ اس کے مطالب کو سمجھتا تھا اور دیدہ و دانستہ تحریف کرتے تھے۔ “ { فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْـلًا فَوَیلٌ لَّھُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَ وَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ } ” پس افسوس ان (مدعیان علم) پر جن کا شیوہ یہ ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے معاوضہ میں ایک حقیر سی قیمت دنیوی فائدہ کی حاصل کریں پس افسوس اس پر جو کچھ وہ لکھتے ہیں اور افسوس اس پر جو کچھ وہ اس ذریعہ سے کماتے ہیں وہ اہل کتاب ‘ کتاب اللہ (تورات و انجیل) کے کلمات کو ان کے محل و مقام سے بدل ڈالتے ہیں (یعنی تحریف لفظی اور معنوی دونوں کرتے ہیں) “ ان کے علاوہ ثمن قلیل (معمولی پونجی) کے عوض آیات اللہ کی فروخت کرنے کے متعلق تو بقرہ ‘ آل عمران ‘ نساء ‘ توبہ میں متعدد آیات موجود ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ تورات و انجیل کی بیع دونوں طرح کیا کرتے تھے تحریف لفظی کے ذریعہ بھی اور تحریف معنوی کے سلسلہ سے بھی ‘ گویا سیم و زر کے لالچ سے عوام کی خواہشات کے مطابق کتاب اللہ کی آیات میں لفظی و معنوی تحریف ان کے فروخت کرنے کی حیثیت رکھتی ہے جس سے بڑھ کر شقاوت و بدبختی کا دوسرا کوئی عمل نہیں اور جو ہر حالت میں موجب لعنت ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور موجودہ مسیحیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم حق کا خلاصہ گذشتہ بیانات میں سپرد قلم ہو چکا ہے وہ خدا کے سچے پیغمبر ‘ حق و صداقت کے داعی ‘ دین مبین کے ہادی و مبلغ تھے اور خدا کے تمام سچے پیغمبروں کی طرح ان کی تعلیم بھی پہلی صداقتوں کی موید اور وقت کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کے انقلابات و حوادث کے مناسب حال انجیل کی شکل میں اصلاح و انقلاب کے لیے مناد تھی توحید خالص ‘ معرفت کردگار کے لیے کردگار سے ہی بلا وسیلہ تقرب ‘ محبت و شفقت ‘ رحمت و عفو کی اخلاقی برتری ان کی پاک تعلیم کا نچوڑ تھا لیکن انسانی انقلابات کی ذہنی تاریخ میں اس سے زیادہ حیرت اور تعجب کی غالباً کوئی بات نہ ہو کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی مقدس تعلیم ہی کے نام پر موجودہ مسیحیت ‘ توحید کی جگہ تثلیث ‘ معرفت حق کے لیے ابنیت کا عقیدہ ‘ نجات کے لیے علم و عمل کی درستکاری کی جگہ کفارہ پر ایمان جیسی مشرکانہ اور جاہلانہ بدعات کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔ تثلیث ؟ بستانی نے دائرۃ المعارف میں اس مسئلہ پر مسیحی نقطہ نظر سے سیر حاصل بحث کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائی مذہب نے سب سے پہلے تثلیث کا نام ” رسولوں کے عہد “ میں سنا اس سے قبل مسیحیت اس عقیدہ سے قطعاً ناآشنا تھی اور رسولوں کا عہد سینٹ پال (پولوس رسول) سے شروع ہوتا ہے یہ وہی حضرت ہیں جن کی بدولت دین مسیحی نے نیا جنم لیا اور جن کی یہودیت نے ازراہ تعصب مسیحی صداقت و توحید کے عقیدہ کو وثنیت اور شرک سے آلودہ کرکے کامیابی کا سانس لیا یہ عقیدہ دراصل وثنی (بت پرستانہ) فلسفہ کی موشگافیوں کی پیداوار اور صنم پرستانہ عقیدہ ” اوتار “ کی صدائے باز گشت ہے اور اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ذات یا صفات خداوندی بشکل انسانی کائنات ارضی میں وجود پزیر ہو سکتی ہے گویا یہ عقیدہ فلاسفہ ہیلانییسن اور غنونیین کے عقائد فلسفیانہ کا ایک معجون مرکب ہے چنانچہ تاریخ قدیم سے پتہ چلتا ہے کہ دوسری صدی عیسوی میں انطاکیہ کے بشپ تھیوفیلوس نے سب سے پہلے اس سلسلہ میں ایک یونانی کلمہ ” ثریاس “ استعمال کیا اس کے بعد ایک دوسرے بشپ ترتلیانوس نے اس کے قریب قریب ایک لفظ ترینیت اس ایجاد کیا ‘ یہی وہ یونانی لفظ ہے جو موجودہ مسیحی عقیدہ ” ثالوث “ (تثلیث) کے مرادف اور ہم معنی ہے اگر اس مسئلہ کی حقیقت کو ذرا اور گہری نظر سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو تاریخی حقائق سے یہ بات نمایاں نظر آئے گی کہ ثالوث کا عقیدہ دراصل مسیحیت اور وثنیت کی اس آمیزش کا نتیجہ ہے جو مسیحیت کے غلبہ اور وثنیت کی مغلوبیت کی وجہ سے پیش آیا ‘ خصوصاً جب مصری بت پرستوں نے اس مذہب کو قبول کیا تو انھوں نے اس عقیدہ کو بہت ترقی دی اور فلسفیانہ دقیقہ سنجیوں کے ساتھ اس کو علمی بحث بنادیا۔ مسیحیت قبول کرلینے کے بعدبت پرستوں پر جو رد عمل ہوا اس کے نتیجہ میں سے ایک اہم بات یہ تھی کہ ان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی کہ وہ کس طرح گذشتہ و ثنیت کی موجودہ مسیحیت کے ساتھ مطابقت پیدا کریں ؟ تاکہ اس طرح قدیم و جدید دونوں ادیان کے ساتھ ربط قائم رہ سکے چنانچہ بقول مولانا ابوالکلام آزاد ” اسکندریہ کے فلسفہ آمیز اصنامی تخیل سیراپیز سے تثلیثی وحدت کی اصل لی گئی اور ایزیز کی جگہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اور ہورس کی جگہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دی گئی “ اور اس یونانی اور مصری فلسفیانہ و ثنیت کی بدولت موجودہ مسیحیت میں الوہیت مسیح (علیہ السلام) اور تثلیث ” کلیسا “ کا مقبول عقیدہ بن گیا۔ یہ عقیدہ تثلیث ابھی سن طفولیت ہی میں تھا کہ علما نصاریٰ میں اس کے رد و قبول پر معرکہ آراء بحثیں شروع ہوگئیں ” نیقیہ “ کی کونسل میں مشرقی گرجاؤں میں اور خصوصی اور عمومی مجالس میں جب بحث نے طول کھینچا تو کلیسا نے فیصلہ دیا کہ مسئلہ ثالوث (تثلیث) حق اور اس کے خلاف ” الحاد “ ہے ان ملحد جماعتوں اور فرقوں میں نمایاں فرقہ ” ابیونیین “ ہے جو کہتا ہے کہ حضرت مسیح انسان محض تھے دوسرا ” سابلیین “ ہے جس کا خیال ہے کہ خدا ذات واحد ہے اور اب ‘ ابن ‘ روح القدس ‘ یہ مختلف صورتیں ہیں جن کا اطلاق مختلف حیثیتوں سے ذات واحد ہی پر ہوتا ہے تیسرا فرقہ ” آریوسیین “ ہے اس کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اگرچہ ” ابن اللہ “ ہیں مگر ” اب “ کی طرح ازلی نہیں ہیں بلکہ کائنات بلندو پست سے قبل ” اب “ کی تخلیق سے مخلوق ہوا ہے اور اس لیے وہ ” اب “ سے نیچے اور اس کی قدرت کے سامنے مغلوب و خاضع ہے اور چوتھا فرقہ ” مقدونیین “ ہے ان کا کہنا ہے کہ ” اب “ اور ” ابن “ دو ہی اقنوم ہیں ” روح القدس “ اقنوم نہیں ہے بلکہ مخلوق ہے۔ کلیسا نے ان کو اور اسی قسم کے دوسرے فرقوں کو ” ملحد “ قرار دے کر نیقاوی کونسل منعقدہ 325 ء اور قسطنطنیہ کی کونسل منعقدہ 381 ء کے مطابق ثالوث (تثلیث) کو مسیحی عقیدہ کی بنیاد تسلیم کیا اور فیصلہ دیا کہ ” اب “ ” ابن “ اور ” روح القدس “ تینوں جدا جدا مستقل اقنوم (اصل) ہیں اور عالم لاہوت میں تینوں کی وحدت ہی خدا ہے گویا اس طرح ریاضی اور علم ہندسہ کے اصل اور ناقابل انکار بدیہی مسئلہ کے خلاف یا یوں کہئے کہ بداہۃً عقل کے خلاف یہ تسلیم کر لیا کہ ” ایک “ تین ہے اور ” تین “ ایک اور یہ بھی کہا کہ ” ابن “ ازل ہی میں ” اب “ سے ہوا ہے اور پھر 589 ء میں طلیطلہ کونسل نے یہ ترمیم منظور کرلی کہ ” روح القدس “ کا صدور ” اب “ اور ” ابن “ دونوں سے ہوا ہے اس ترمیم کو ” لاطینی کلیسا “ نے تو بغیر چون و چرا تسلیم کر لیا اور اس کو کلیسا کا عقیدہ بنا لیا لیکن ” یونانی کلیسا “ اول تو خاموش رہا مگر اس کے کچھ عرصہ کے بعد اس ترمیم کو بدعت قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس باہمی اختلاف نے اس قدر شدید صورت اختیار کرلی کہ ” یونانی کلیسا “ اور ” کیتھولک لاطینی کلیسا “ کے درمیان میں کبھی اتفاق و اتحاد پیدا نہ ہو سکا۔ ثالوث یا تثلیث کا یہ عقیدہ دین مسیحی کے رگ و پے میں خون کی طرح ایسا سرایت کر گیا کہ مسیحی کے بڑے فرقوں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں سخت بنیادی اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر اس میں اتفاق ہی رہا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ قابل حیرت یہ بات ہے کہ لوتھر کی جماعت اور اصلاح پسند کلیساؤں نے بھی ایک عرصہ دراز تک اس کیتھولک عقیدہ کو ہی بغیر کسی اصلاح و ترمیم کے عقیدہ تسلیم کر لیا البتہ تیرھویں صدی عیسوی میں فرقہ لاہوتی کی اکثریت نے اور جدید فرقوں سوسینیائی ‘ جرمانی ‘ موحدین اور عمومیین وغیرہم نے اس عقیدہ کو نقل و عقل کے خلاف کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مسیحیت میں عقیدہ تثلیث کی وہ مختصر تاریخ جس سے یہ حقیقت بخوبی آشکارا ہوجاتی ہے کہ دین مسیحی کی حقیقی صداقت کی تباہی کا راز اسی الحاد اور مشرکانہ بدعت کے اندر پوشیدہ ہے جو صنم پرستانہ تخیل کا رہین منت ہے۔ عقیدہ ثالوث کیا شے ہے اور ” اب “ ” ابن “ ” روح القدس “ کی تعبیرات کی حقیقت کیا ہے یہ مسئلہ بھی مسیحیت کے ان مباحث میں سے ہے جن کا فیصلہ کن جواب کبھی نہ مل سکا اور جس قدر اس کو صاف اور واضح کرنے کی کوشش کی گئی اس میں الجھاؤ اور پیچیدگی کا اضافہ ہی ہوتا گیا اور نتیجہ یہ نکلا جس عقیدہ کو مسیحیت میں اساسی اور بنیادی حیثیت حاصل تھی وہی ” معما “ بن کر رہ گیا اور قدیم و جدید علما نصاریٰ کو یہ کہنا پڑا کہ تثلیث میں توحید ہے اور توحید میں تثلیث یہ مذہب کا ایسا مسئلہ ہے جو دنیا میں حل نہیں ہو سکتا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر ہی یہ عقدہ حل ہوگا۔ اس لیے یہاں اس کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کرنا فضول ہے بلکہ خوش عقیدگی کے ساتھ قبول کرلینا ہی نجات کی راہ ہے چنانچہ اواخر انیسویں صدی کے مشہور عیسائی عالم پادری فنڈر نے ” میزان الحق “ میں یہی بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس صنم پرستانہ فلسفہ کی جو تشریحات کی گئی ہیں ان کو مختصر طور پر یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کائنات ہست وبود کو جس میں ہم بس رہے ہیں ” عالم ناسوت “ کہا جاتا ہے اور ملا اعلیٰ جس کا تعلق عالم غیب سے ہے وہ اور اس سے ماوراء جہاں نہ زمین و زماں کا گذر اور نہ مکین و مکاں کا ‘ جہاں سب کچھ ہے لیکن مادیت سے بالاتر اور وراء الوراء ہے اس کا نام ” عالم لاہوت “ ہے تو جب زیرو بالا اور بلندو پست کچھ بھی نہ تھا اور ازل کی غیر محدود وسعت میں ” وقت “ ایک بے معنی لفظ تھا اس وقت تین اقنوم تھے ” باپ “ ” بیٹا “ ” روح القدس “ اور انھی تین اقانیم کی مجموعی حقیقت کا نام ” خدا “ ہے رومن کیتھولک ‘ پروٹسٹنٹ اور ان دونوں سے جدا کلیسا شرقی تینوں ہی اس پر متفق ہیں اور اسی کو دین مسیحیت کی روح یقین کرتے ہیں اور بڑی جسارت کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ کتاب مقدس کی تصریحات اسی کا اعلان کرتی ہیں اس عجوبہ روزگار عقیدہ نے اس حد پر پہنچ کر جو نئے نئے مباحث و افکار پیدا کیے ان کا مطالعہ کرنے سے دیدہ حیرت اور چشم عبرت کے لیے بہت سا سامان مہیا ہوجاتا ہے ‘ بڑی بڑی مذہبی کونسلوں ‘ بڑے بڑے کلیساؤں کے بشپوں اور پاپاؤں نے اس عقیدہ کی تشریح میں یہ عجیب و غریب مباحث پیدا کیے کہ ” اقنوم اول “ باپ سے کس طرح اقنوم ثانی بیٹے کی ولادت ہوئی اور پھر باپ سے یا باپ اور بیٹے دونوں سے کس طرح اقنوم ثالث ” روح القدس “ پھوٹ کر نکلی یا کس طرح اس کا صدور ہوا اور یہ کہ ان کے باہم نسبت کیا ہے اور ان کے جدا جدا کیا القاب وصفات ہیں جو ایک دوسرے کو آپس میں متمائز کرتے ہیں اور پھر جب یہ تثلیث توحید بن جاتی ہے تو اس کی صفات و القاب کی کیا صورت ہو سکتی ہے ‘ نیز یہ جس کو ہم خدا کہتے ہیں اس میں تینوں اقانیم برابر کے شریک ہیں یا کوئی ایک پورا اور دوسرے دو جزوی حصہ دار ہیں اور جزوی شرکت ہے تو کس نسبت اور تعلق سے ہے ؟ غرض خدائے برتر کی مقدس اور پاک ہستی کو معاذ اللہ کمھار کے چاک پر رکھا ہوا برتن فرض کرکے جس طرح اس کو بنایا اور تیار کیا ہے اور توحید خالص کو تباہ و برباد کرکے جس طرح شرک و ترکیب کا نیا سانچہ ڈھالا ہے دنیائے مذاہب وادیان کی تاریخ میں ایسا مذہبی تغیر و انقلاب چشم فلک نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ بہرحال ” باپ “ ” بیٹا “ ” روح القدس “ کی جدا جدا تفصیلات و تشریحات اور پھر وحدت سے ترکیب اور ترکیب سے وحدت کی عجوبہ زا تعبیرات کی ایک بھول بھلیاں ہیں جس کا کہیں اور چھور نظر نہیں آتا اور جب کہنے والا ہی لفظی تعبیرات کے علاوہ ” حقیقت “ سمجھنے سے عاری ہے تو سننے والا کیا خاک سمجھ سکتا ہے۔ باپ اقانیم ثلاثہ میں ” باپ “ پہلا اقنوم ہے۔ اسی سے اقنوم ثانی کی ولادت ہوئی اور ” عالم لاہوت “ میں یہ کبھی دوسرے اور تیسرے اقانیم سے جدا نہیں ہوتا۔ مگر مسیحی فرقوں میں کنیسہ کی تعلیم کے مطابق اکثر فرقے یہ کہتے ہیں کہ وحدت لاہوت میں تینوں کا درجہ مساوی ہے اور کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے اور آریوسی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں بلکہ دوسرا اقنوم ” بیٹا “ اقنوم اول کی طرح ازلی نہیں ہے البتہ عالم بالا وپست سے غیر معلوم مدت پہلے اقنوم اول سے پیدا ہوا ہے اس لیے اس کا درجہ ” باپ “ کے بعد اور اس سے کم ہے اور مقدونی فرقہ کہتا ہے کہ صرف دو ہی اقنوم ہیں ” باپ “ اور ” بیٹا “ اور ” روح القدس “ مخلوق ہے اور فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جس کا پایہ تمام ملائکۃ اللہ سے بلند ہے اور طلیطلہ کی کونسل کا فیصلہ یہ ہے کہ روح القدس ” باپ “ اور ” بیٹا “ دونوں سے پھوٹ کر نکلی ہے یا دونوں سے ہی اس کا صدور ہوا ہے مگر قسطنطنیہ کی کونسل روح القدس کو صرف باپ ہی سے صادر ہونا بتلاتی ہے اور قدیم و جدید فرقوں میں سے ایک بڑی جماعت اقنوم ثالث مریم (علیہا السلام) کو تسلیم کرتی اور روح القدس کے اقنوم ہونے کا انکار کرتی ہے۔ بیٹا عربی میں ” ابن “ فرنچ میں ” فی “ اور انگریزی میں ” سن “ (SON ) اور اردو میں ” بیٹا “ کہتے ہیں ‘ یہ اس شکل انسانی پر بولا جاتا ہے جو عام قانون قدرت کے مطابق مرد و عورت کے جنسی تعلقات کا نتیجہ ہوتا ہے مگر عقیدہ ثالوث کے مطابق وہ عالم لاہوت میں ” باپ “ سے جدا بھی نہیں اور پیدا بھی ہے اور پھر بعض کے نزدیک اس کی پیدائش ازلی ہے اور بعض کے نزدیک غیر ازلی ‘ آگے چل کر کہتے ہیں کہ جب ” باپ “ کی مشیت کا فیصلہ ہوا تو اقنوم ثانی ” بیٹا “ عالم ناسوت (کائنات ہست و بود) میں مریم کے بطن سے پیدا ہو کر ” مسیح “ کہلایا اور بعض کا تو یہ دعویٰ ہے کہ خود باپ ہی عالم ناسوت میں بیٹا بن کر مریم کے بطن سے تولد ہوا اور مسیح کی شکل میں روشناس ہوا اور طرفہ تماشا یہ کہ بعض کے نزدیک تو اقنوم ثانی ” ابن “ کو اقنوم اول ” اب “ پر برتری اور تفوق حاصل ہے۔ روح القدس اسی طرح ” روح القدس “ کے متعلق بھی سخت اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ اقنوم ہی نہیں ہے اس لیے عالم لاہوت میں اس کو الوہیت حاصل نہیں ہے چنانچہ مکدونی اور آریو سی کہتے ہیں کہ وہ ملائکۃ اللہ میں سے ہے اور ان میں سب سے برتر و بلند ہے اور ماراتونیوس کہتا ہے کہ روح القدس کی تعبیر مجاز ہے اور اللہ تعالیٰ کے افعال پر مجازاً اس کا اطلاق کیا جاتا ہے ورنہ الگ سے کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ اس بنا پر اس قول کے قائلین کو ” مجازئین “ کہا جاتا ہے اور علما جدید میں کلارک کہتا ہے کہ الہامی کتابوں عہد نامہ قدیم و جدید میں کسی ایک جگہ بھی روح القدس کو ” الوہیت “ کا درجہ نہیں دیا گیا ‘ فرقہ مکدونی نے الوہیت روح القدس کا انکار کرتے ہوئے شدو مد سے یہ کہا ہے کہ اگر جوہر الوہیت میں روح القدس کو بھی دخل ہوتا تو یا وہ مولود ہوتی ‘ غیر مولود ‘ اگر مولود ہے تو اس کے اور ” ابن “ کے درمیان میں کیا فرق رہا اور اگر غیر مولود ہے تو اس کے اور ” اب “ کے درمیان میں کیا امتیاز ہے۔ ان کے مقابلے میں دوسری جماعتیں کہتی ہیں کہ ” روح القدس “ کو بھی الوہیت حاصل ہے بوسیورومانی کہتا ہے کہ روح القدس کا صدور ” اب “ اور ” ابن “ دونوں سے ہوا اور وہ ان کے جوہر نفس سے ہے اور دونوں کے ساتھ وحدت لاہوت میں ” الٰہ “ ہے اور اثناسیوس کہتا ہے کہ روح القدس کی الوہیت ناقابل انکار ہے اور کتب سماویہ میں روح پر ” الٰہ “ کا اور ” الٰہ “ پر ” روح “ کا اطلاق ثابت و مسلم ہے اور اس کی جانب انھی امور کی نسبت کی گئی ہے جن کا تعلق ذات خدا کے ماسوا اور کسی سے نہیں ہے مثلاً تقدیس ذات ‘ معرفت جمیع حقائق وغیرہ اور یہ عقیدہ قدیم سے چلا آتا ہے جیسا کہ نظم دسولجیا سے ثابت ہے جس کی قدامت تالیف سب کے نزدیک مسلم ہے اس میں الوہیت روح القدس کا اعتراف موجود ہے اور مولٹ لفیلوپیٹرس نے انکار الوہیت روح پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نصاریٰ کے نزدیک خدائے حقیقی کی توحید کا تثلیث میں مضمر ہونا ایک مسلم حقیقت ہے پھر روح کو الوہیت سے خارج کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا اور مکدونیوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مار ستینیانوس کہتا ہے کہ کتب سماوی میں روح کو ابن نہیں کہا گیا بلکہ روح الاب اور روح الابن کے اطلاقات پائے جاتے ہیں لہٰذا اس کو ” ابن “ یا ” اب “ کہنا صحیح نہیں اور نہ اس کو الوہیت سے نکال کر مخلوق کہنا درست ہو سکتا ہے اور ادراک بشریٰ عاجز ہے کہ ان فلسفیانہ بحثوں سے ” روح القدس “ کی حقیقت تک پہنچ سکے البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فقط تولید (پیدا ہونا) ہی تنہا ایسا واسطہ نہیں جو ” اب “ کے ساتھ قائم ہو بلکہ انبثاق (صدور یا پھوٹ نکلنا) بھی ایک شکل ہو سکتی ہے مگر ہم اس دنیا میں تولید و انبثاق کے درمیان میں فرق ظاہر کرنے پر قادر نہیں ہیں البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ تولید و انبثاق دونوں کا ” اب “ کے ساتھ ازلی و ابدی اور تلازم کا تعلق ہے پس ہمارے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ فلاسفہ قدیم (فلاسفہ یونان) کی طرح ” روح القدس “ اور ” اب “ کے درمیان میں فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعہ وہ اعتقادات قبول کر لیں جو انھوں نے خدا سے صدور ارواح کے متعلق پیدا کر لیے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ اختلافات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں جو گذشتہ سطور میں بیان ہو چکے ہیں کہ بعض کلیسا ” روح القدس “ کا فقط اقنوم اول (باپ) سے صادر ہونا مانتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ” باپ “ اور ” بیٹا “ دونوں سے اس کا صدور ہوا ہے ‘ یہ اختلاف بھی عیسائی فرقوں کے درمیان میں سخت کشاکش کا سبب رہا ہے کیونکہ 381 ء میں منعقدہ کونسل قسطنطنیہ نے ” منشور ایمانی “ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ روح القدس کا صدور ” باپ “ ہی سے ہوا ہے اور عرصہ تک یہی عقیدہ مسیحی دنیا میں نافذ رہا لیکن 447 ء میں اول ہسپانیہ کے کلیسا نے پھر فرانس کے کلیسا نے اور اس کے بعد تمام لاطینی رومن کلیساؤں نے اس ترمیم کو جزء عقیدہ بنایا کہ ” روح القدس “ کا صدور اقنوم اول باپ “ اور اقنوم ثانی ” بیٹا “ دونوں سے ہوا ہے عیسائی علما کہتے ہیں کہ دراصل یہ بحث 866 ء میں سب سے پہلے شرق کے بطریق فوتیوس نے اس لیے پیدا کی کہ اس کی اور اس کی جماعت کی یہ خواہش تھی کہ کسی طرح شرق (یونان) کے کلیسا کو غرب (روم) کے کلیسا سے جدا کر دیا جائے اور مشرق و مغرب کے کلیساؤں کا اتحاد باقی نہ رہنے دیا جائے اسی خیال کی تائید وتقویت کے لیے 1٠43 ء میں بطریق میخائیل کرولاریوس نے اس عقیدہ کو بہت جلد شائع کیا اور آخر کار صدیوں تک ان اختلافات نے کلیسا ہائے مشرق و مغرب کے درمیان مخالفانہ کشمکش کو قائم رکھا اور دونوں کلیسا ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کرتے رہے کہ مخالف کلیسا نے مسیحیت میں الحادو بدعت کی آمیزش کرکے حقیقی مذہب کو مٹا ڈالا ہے اور رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی بالعموم اور کلیساؤں کے مختلف فرقوں کی بالخصوص کشمکش کا یہ سلسلہ اس وقت تو انتہائی شدت اختیار کرچکا تھا اور باہم ہولناک خونریزیوں اور بہیمانہ مظالم کا جہنم بن چکا تھا جبکہ اسلام اعتقادات کی سادگی ‘ اعمال صالحہ کی پاکیزگی اور اپنی علمی و عملی روحانیت کی شگفتگی کی بدولت ” امن عام “ اور ” رحمت “ کا نیر درخشاں بنا ہوا تھا۔ ازمنہ مظلمہ اور اصلاح کنیسہ کی آواز یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائیوں کے مذہبی کلیسا معمولی معمولی اختلافات کی بنا پر پوپ کی حکومت اور پیروان پوپ کی حکومتوں کے ذریعہ ایک دوسری جماعت کو گردن زنی اور کشتنی قرار دیتی اور ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کو وحشت ناک عذابوں میں مبتلا کرکے قتل کر دیا کرتی تھیں اسی بنا پر مورخین تاریخ کے اس دور کو ازمنہ مظلمہ (زمانہ ہائے تاریک) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ قرآن نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جس حقیقت اور صداقت کا اظہار کیا تھا پوپ اور کلیسا سے مرعوبیت نے اگرچہ ایک مدت مدید تک عیسائیوں کو اس طرف متوجہ نہیں ہونے دیا ‘ مگر پھر بھی یہ صدائے حق اثر کیے بغیر نہ رہ سکی ‘ اس کی تفاصیل اگرچہ خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں مذکور ہوں گی لیکن یہاں صرف اس قدر اشارہ کرنا مقصود ہے کہ رومن کیتھولک ‘ پروٹسٹنٹ اور دوسرے فرقوں نے بغیر کسی جھجک کے سینٹ پال کی تحریف (تثلیث) مسیحیت کا بنیادی عقیدہ تسلیم کر لیا تھا اور اگرچہ بعض چھوٹی چھوٹی جماعتوں یا افراد نے کبھی کبھی اس کے خلاف آواز اٹھائی ‘ مگر وہ آواز دب کر رہ گئی اور نقار خانہ میں طوطی کی صدا سے زیادہ اس کی حیثیت نہ بن سکی۔ مثلاً 325 ء اور 381 ء میں جب نیقاوی کونسل اور قسطنطنیہ کونسل نے تثلیث کو دین مسیحی کی بنیاد قرار دیا اس وقت ابونیین نے صاف صاف اعلان کر دیا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) صرف انسان ہیں اور الوہیت کا ان سے کوئی علاقہ نہیں اور سابلیین کہتے تھے کہ اقانیم ثلاثہ تین مختلف جوہر نہیں ہیں بلکہ وحدت لاہوتی کی مختلف صورتیں اور تعبیریں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ صرف اپنی ذات واحد کے لیے اطلاق کرتا ہے تاہم اس وقت تک چونکہ پوپ اور کلیسا کے فیصلے خدائی فیصلے سمجھے جاتے تھے بشپ اور پاپا ” اربابا من دون اللّٰہ “ یقین کیے جاتے تھے اس لیے ان اصلاحی آوازوں کو ” الحاد “ کہہ کر دبا دیا گیا۔ مگر جب صلیبی جنگوں نے عیسائیوں کو مسلمانوں کے اتنا قریب کر دیا کہ انھوں نے اسلام کے اعتقادی اور عملی نظام کا بہت کچھ نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسلام سے متعلق بطارقہ بساقفہ کی غلط بیانی اور بہتان ان پر ظاہر ہونے لگی تب ان میں بھی آزادی فکر نے کروٹ لی اور کو رانہ تقلید کو شکست وریخت کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ‘ چنانچہ لوتھر کی آواز پہلی صدائے حق تھی جس نے جرأت کے ساتھ ” اربابا من دون اللّٰہ “ کے بتوں کو ماننے سے انکار کر دیا اور پوپ کے مقابلہ میں کتاب مقدس کی پیروی کی دعوت دی مگر آپ کو تعجب ہوگا یہ سن کر کہ پوپ کی جانب سے لوتھر کے خلاف جو الحاد اور بددینی کے الزامات لگائے گئے تھے ان میں سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ یہ در پردہ ” مسلمان “ ہو گیا ہے اور پاپا کے خلاف اس کی صدا قرآن کی صدائے بازگشت ہے۔ بہرحال یہی وہ صدائے اصلاح تھی جو بلاشبہ اسلام کی دعوت تفکر و تعقل سے متاثر ہو کر آہستہ آہستہ ” اصلاح کنیسہ “ کے نام سے مسیحی دنیا میں گونج اٹھی اور آگ کی طرح ہر طرف اس کے شعلے نظر آنے لگے۔ انھی اصلاحات میں سے ایک اہم اصلاحی تخیل یہ بھی تھا کہ عقیدہ ثالوث کتاب مقدس (عہد نامہ جدید ) کے قطعاً خلاف ہے ‘ چنانچہ تیرہویں صدی عیسوی میں قدیم لاہوتی فرقہ کے جمہور نے ‘ نسطوری فرقہ کے جماعتی فیصلہ نے اور جدید جماعتوں میں سے سوسینیانیین۔۔ جرمانیین ‘ موحدین اور عمومیین اور دوسری جماعتوں نے تعلیم کلیسا کے خلاف مذہبی بغاوت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ تثلیث کا عقیدہ نقل و عقل دونوں کے خلاف اور ناقابل تسلیم ہے اور اگرچہ قومی و مذہبی عصبیت نے ان کو اسلامی عقیدہ کا پیرو ہونے سے باز رکھا تاہم انھوں نے عقیدہ تثلیث کی مختلف شکلوں کے ساتھ ایسی تعبیرات کرنی شروع کر دیں جس سے عقیدہ ثالوث باطل ہو کر توحید الٰہی کے پاک اور مقدس جراثیم پیدا ہونے لگے۔ مثلاً سویڈنبرگ نے کہا : ” اقانیم ثلاثہ ‘ ” باپ “ ” بیٹا “ ” روح القدس “ کا تعلق حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات کے ماسوا ذات احدیت سے نہیں ہے یعنی مسیح (علیہ السلام) کی ذات اپنی طبع لاہوتی کے پیش نظر ” باپ “ ہے اور عالم ناسوت میں انسانی شکل کی تقیید کی وجہ سے ” بیٹا “ اور ” اقنوم ثانی “ ہے اور اس حیثیت سے کہ روح القدس کا صدور اس سے ہوا ہے وہ اقنوم ثالث ” روح “ ہے غرض ” ثالوث “ کا تعلق صرف حضرت مسیح (علیہ السلام) سے ہے۔ “ اور کانٹ کہتا ہے کہ : ” عقیدہ ثالوث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ” باپ “ ” بیٹا “ ” روح القدس “ بلکہ یہ عالم لاہوت میں خدائے برتر کی تین بنیادی صفات کی جانب اشارہ ہے جو باقی تمام صفات کے لیے مصدر اور منبع کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ ” قدرت “ (اب) ” حکمت “ (ابن) اور ” محبت “ (روح) ہیں یا اللہ کے ان تین افعال کی جانب اشارہ ہے جو ” خلق “ ” حفظ “ اور ” ضبط “ کے نام سے بھی تعبیر کیے جاتے ہیں۔ ہیگن اور شیلنگ نے اس خیال کی کافی اشاعت کی کہ عقیدہ ثالوث حقائق کی طرح کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک تخیلی نظریہ ہے ‘ ان کی مراد یہ ہے کہ جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے خدائے برتر کی ذات وحدہ لا شریک لہ ہے اور مسیح (علیہ السلام) مخلوق خدا ‘ لیکن عام خیال و تصور میں جب ہم لاہوتی علم کی جانب پرواز کرتے ہیں تو ہمارا خیال اس عالم میں خدا ‘ مسیح (علیہ السلام) اور روح القدس کو ” اب “ ” ابن “ اور ” روح “ کی تعبیرات دیتا اور ان کے باہم تعلق کو اقانیم ثلاثہ کی حیثیت میں دیکھتا ہے۔ ” عقلیین “ لوتھرین “ اور ” موحدین “ اور ” جرمانیین “ کے علاوہ بھی بہت لوگ ہیں جو ” سابلیین “ کے عقیدہ کو اختیار کرکے ایک بڑی جماعت کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ کی نشاءۃ جدید میں بھی عام طور پر تمام کلیساؤں کا ثالوث (تثلیث) پر ہی عقیدہ ہے اور ان کے نزدیک اس کلمہ کی تعبیر وہی ہے جو چوتھی صدی عیسوی میں متعدد مذہبی کونسلوں نے کی اور جو بلاشبہ شرک جلی اور توحید کے یکسر منافی ہے۔ قرآن عزیز اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جلیل القدر اور اولوا لعزم پیغمبروں میں سے ہیں ‘ اور جس طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء و رسل ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خاتم الانبیاء بنی اسرائیل ہیں ‘ اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ‘ اور درمیان میں کا زمانہ جس کی مدت تقریباً پانچ سو ستر سال ہے فترۃ (انقطاع وحی) کا زمانہ ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی جلالت قدر اور عظمت شان کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہے کہ اگر انبیائے بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت کا مقام امامت حاصل ہے تو عیسیٰ (علیہ السلام) مجدد انبیائے بنی اسرائیل ہیں ‘اس لیے کہ قانون ربانی ( توراۃ ) کے بعد بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے انجیل (بائبل) سے زیادہ عظیم المرتبت دوسری کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انجیل کا نزول قانون توراۃ کی تکمیل ہی کی شکل میں ہوا ہے یعنی نزول توراۃ کے بعد یہود نے جو قسم قسم کی گمراہیاں دین حق میں پیدا کرلی تھیں۔ انجیل نے توراۃ کی شارح بن کر بنی اسرائیل کو ان گمراہیوں سے بچنے کی دعوت دی اور اس طرح تکمیل توراۃ کا فرض انجام دیا اور بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فراموش شدہ پیغام ہدایت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی نے دوبارہ یاد دلایا اور تازہ باران رحمت کے ذریعہ اس خشک کھیتی کو دوبارہ زندگی بخشی ‘مزید برآں یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سرور کائنات محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے مناد اور مبشر ہیں اور ہر دو مقدس پیغمبروں کے درمیان ماضی اور مستقبل دونوں زمانوں میں خاص رابطہ اور علاقہ پایا جاتا ہے۔ قرآن عزیز نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مماثلت کے سلسلہ میں جن پاک ہستیوں کے واقعات سے بہت زیادہ بحث کی ہے ان میں حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی مقدس ہستیاں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت قرآن کے ” تَذْکِیْر بِاَیَّامِ اللّٰہِ “ میں اس لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے جس دین قویم اور ملت بیضاء کا عروج و کمال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقدیس کے ساتھ وابستہ تھا اور جس ملت کی دعوت و تبلیغ کا محور و مرکز ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بننے والی تھی۔ وہ ملت ابراہیم کے نام سے موسوم ہے { مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ } کیونکہ یہی وہ بوڑھے پیغمبر ہیں جنھوں نے شرک کے مقابلہ میں سب سے پہلے توحید الٰہی کو حنیفیت کا لقب دیا اور آئندہ ہمیشہ کے لیے خدا کی راہ مستقیم کے لیے ” ملت حنیفیہ “ کا امتیاز قائم کر دیا ‘یعنی جو خدا کی پرستش کے لیے مظاہر کائنات کی پرستش کو وسیلہ بناتا ہے وہ ” مشرک “ ہے اور جو خالق کائنات کی یکتائی کا قائل ہو کر براہ راست اسی کی پرستش کرتا ہے وہ ” حنیف “ ہے۔پس اس مقدس پیغمبر نے خدا پرستی کے اس حقیقی تصور کو عملی حیثیت میں اس درجہ نمایاں کیا کہ مستقبل میں ادیان حق کے لیے اس کی پیروی حق و صداقت کا معیار بن گئی اور خدائے برتر کی جانب سے قبولیت کا یہ شرف عطا ہوا کہ یہ مقدس پیغمبر کائنات رشد و ہدایت کا امام اکبر اور مجدد اعظم قرار پا گیا : { فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا } ” اور پیروی کرو ابراہیم کی ملت کی ‘ جو سب سے کٹ کر صرف خدا کی جانب جھکنے والا ہے۔ “ { مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا } ” یہ ملت ہے تمھارے باپ ابراہیم کی ‘ اس نے تمھارا نام ” مسلم “ رکھا نزول قرآن سے قبل اور اس قرآن میں بھی تمھارا نام ” مسلم “ ہے۔ “ (مسلم اور حنیف مفہوم میں متحد ہیں۔ مسلم خدا کا تابعدار اور حنیف سب سے منہ پھیر کر صرف خدا کا ہوجانے والا۔ ) اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مقدس زندگی کا تذکرہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ ان کی دعوت و تبلیغ کے واقعات یعنی قوم کی جہالت و نافرمانی ‘دشمنان خدا سے نبرد آزمائی ‘ پیہم مصائب و آلام پر صبر و استقلال کا دوام و ثبات ‘ اور اسی قسم کے دوسرے کوائف و حالات میں ان کے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان میں بہت زیادہ مشابہت و مناسبت پائی جاتی ہے۔ اور اس لیے وہ واقعات و حالات ‘ قبول و انکار حق اور ان سے پیدا شدہ نتائج کے سلسلہ میں بصیرت و عبرت کا سامان مہیا کرتے اور نظائر و شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کا مقدس ذکر مسطورہ بالا خصوصیات و امتیازات کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ غرض قرآن عزیز نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و واقعات کو بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور ان کی حیات طیبہ کے دیباچہ کے طور پر ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے واقعات زندگی کو بھی روشن کیا ہے تاکہ قرآن کا مقصد ” تَذْکِیْر بِاَیَّامِ اللّٰہِ “ پورا ہو۔ یہ ذکر پاک قرآن عزیز کی تیرہ سورتوں میں ہوا ہے ‘ ان میں سے کسی جگہ نام مبارک عیسیٰ (یسوع) سے یاد کیا گیا ہے اور کسی جگہ ” مسیح “ اور ” عبد اللہ “ کے لقب سے اور کسی مقام پر کنیت ” ابن مریم “ کے اظہار کے ساتھ۔ نقشہ ذیل اس حقیقت کا کاشف اور ارباب مطالعہ کی بصیرت کے لیے ممدو معاون ہے : شمار سورة وآیات عیسیٰ مسیح عبد اللہ ابن مریم تعداد آیات # البقرۃ 87‘ 136‘ 137‘ 138‘ 253 3 ٠ ٠ 2 5 # آل عمران 42 تا 59‘ 84 5 1 ٠ 1 19 # النساء 156 تا 159‘ 163‘ 171‘ 172 3 3 ٠ 2 7 # المائدہ 17‘ 46‘ 72‘ 75‘ 78‘ 11٠‘ 118 6 5 ٠ 1٠ 14 # الانعام 85 1 ٠ ٠ ٠ 1 # التوبہ 3٠‘ 31 ٠ 1 ٠ 1 2 # مریم 16 تا 36 1 1 1 1 21 # المومنون 5٠ 1 ٠ ٠ 1 1 # الاحزاب 7‘ 8 1 ٠ ٠ 1 2 # الشوریٰ 13 1 ٠ ٠ ٠ 1 # الزخرف 57 تا 65 1 ٠ ٠ 1 9 # الحدید 27 1 ٠ ٠ 1 1 # الصف 6‘ 14 2 ٠ ٠ 2 2 قرآن اور عقیدہ تثلیث نزول قرآن کے وقت جمہور مسیحی جن بڑے بڑے فرقوں میں تقسیم تھے ثالوث کے متعلق ان کا عقیدہ تین جدا جدا اصولوں پر مبنی تھا ‘ ایک فرقہ کہتا تھا کہ مسیح عین خدا ہے اور خدا ہی بشکل مسیح (علیہ السلام) دنیا میں اتر آیا ہے اور دوسرا فرقہ کہتا تھا کہ مسیح ابن اللہ (خدا کا بیٹا) ہے اور تیسرا کہتا تھا کہ وحدت کا راز تین میں پوشیدہ ہے ‘ باپ ‘ بیٹا ‘ مریم۔ اور اس جماعت میں بھی دو گروہ تھے اور دوسرا گروہ حضرت مریم کی جگہ ” روح القدس “ کو اقنوم ثالث کہتا تھا۔ غرض وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ثالث ثلاثہ (تین میں کا تیسرا) تسلیم کرتے تھے اس لیے قرآن کی صدائے حق نے تینوں جماعتوں کو جدا جدا بھی مخاطب کیا ہے اور یکجا بھی اور دلائل وبراہین کی روشنی میں مسیحی دنیا پر یہ واضح کیا ہے کہ اس بارے میں راہ حق ایک اور صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مسیح (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہا السلام) کے بطن سے پیدا شدہ انسان اور خدا کا سچا پیغمبر اور رسول ہے ‘ باقی جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ باطل محض ہے۔ خواہ اس میں تفریط ہو جیسا کہ یہود کا عقیدہ ہے کہ العیاذ باللہ وہ شعبدہ باز اور مفتری تھے یا افراط ہو جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ خدا ہیں اور خدا کے بیٹے ہیں یا تین میں کے تیسرے ہیں۔ قرآن عزیز نے صرف یہی نہیں کیا کہ نصاریٰ کے تردیدی پہلو کو ہی اس سلسلہ میں واضح کیا ہو بلکہ اس کے علاوہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شان رفیع کی اصل حقیقت کیا ہے اور عنداللہ ان کو کیا قربت حاصل ہے اس پر بھی نمایاں روشنی ڈالی ہے تاکہ اس طرح یہود کے عقیدہ کی بھی تردید ہوجائے اور افراط وتفریط سے جدا راہ حق آشکارا نظر آنے لگے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے مقرب اور برگزیدہ رسول ہیں { قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَتِیْ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ َو یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔ } ” مسیح (علیہ السلام) نے کہا ” بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھ کو نبی بنایا ہے اور مجھ کو مبارک ٹھہرایا جہاں بھی رہوں اور اس نے مجھ کو نماز کی اور زکوۃ کی وصیت فرمائی جب تک بھی زندہ رہوں اور اس نے مجھ کو میری والدہ کے لیے نیکوکار بنایا اور مجھ کو سخت گیر اور بدبخت نہیں بنایا ‘ مجھ پر سلامتی ہو جب میں پیدا ہوا ‘ جب میں مرجاؤں اور جب حشر کے لیے زندہ اٹھایا جاؤں۔ “ { اِنْ ہُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنَاہُ مَثَـلًا لِّبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ۔ وَلَوْ نَشَائُ لَجَعَلْنَا مِنْکُمْ مَـلَائِکَۃً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ۔ وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَـلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ } ” وہ (مسیح (علیہ السلام)) نہیں ہے مگر ایسا بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور میں نے اس کو مثال بنایا ہے بنی اسرائیل کے لیے ‘ اور اگر ہم چاہتے تو کردیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں چلنے پھرنے والے اور بلاشبہ وہ (مسیح (علیہ السلام)) نشان ہے قیامت کے لیے ‘ پس اس بات پر تم شک نہ کرو اور میری پیروی کرو ‘ یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ اِسْرَآئِیلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہُ اَحْمَدُ } ” اور (وہ وقت یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل ! بلاشبہ میں تمھاری جانب اللہ کا رسول ہوں تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے تورات اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام ” احمد “ ہے۔ “ حضرت مسیح (علیہ السلام) نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے { لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَ لِلّٰہِ مَلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ” بلاشبہ ان لوگوں نے کفر اختیار کر لیا جنھوں نے یہ کہا ” بے شک اللہ وہی مسیح بن مریم ہے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ یہ ارادہ کرلے کہ مسیح بن مریم ‘ مریم اور زمین پر جو کچھ بھی ہے سب کو ہلاک کر ڈالے تو کون شخص ہے جو اللہ سے (اس کے خلاف) کسی شے کے مالک ہونے کا دعویٰ کرسکے اور اللہ کے لیے ہی بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی ‘ وہ جو چاہتا ہے اس کو پیدا کرسکتا ہے اور اللہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ { لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ } ” بلاشبہ ان لوگوں نے کفر اختیار کیا جنھوں نے کہا : بلاشبہ اللہ وہی مسیح بن مریم ہے حالانکہ مسیح نے یہ کہا : اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا پروردگار ہے بے شک جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے پس یقیناً اللہ نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ “ { وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ } ” اور انھوں نے کہا : اللہ نے ” بیٹا “ بنا لیا ہے ‘ وہ ذات تو ان باتوں سے پاک ہے ‘ بلکہ (اس کے خلاف) اللہ کے لیے ہی ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے ہر شے اللہ کے لیے تابعدار ہے۔ “ { اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ ادَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } ” بلاشبہ عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے کہ اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا : ہوجا تو وہ ہو گیا۔ “ { یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ اَلْقٰھَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ اِنْتَھُوْا خَیْرًا لَّکُمْ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا } ” اے اہل کتاب اپنے دینی معاملہ میں حد سے نہ گزرو اور اللہ کے بارے میں حق کے ماسوا کچھ نہ کہو بلاشبہ مسیح ابن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم پر ڈالا (یعنی بغیر باپ کے اس کے حکم سے مریم کے بطن میں وجود پزیر ہوئے) اور اس کی روح ہیں پس اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین (اقانیم) نہ کہو اس سے باز آجاؤ تمھارے لیے بہتر ہوگا بلاشبہ اللہ خدائے واحد ہے ‘ پاک ہے اس سے کہ اس کا بیٹا ہو ‘ اسی کے لیے ہے (بلاشرکت غیر ے) جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور کافی ہے اللہ ” وکیل “ ہو کر۔ “ { بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ} ” وہ (خدا) موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ‘ اس کے لیے بیٹا کیسے ہو سکتا ہے اور نہ اس کے بیوی ہے اور اس نے کائنات کی ہر شے کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔ “ { مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَ اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَ } ” مسیح بن مریم نہیں ہیں مگر خدا کے رسول ‘ بلاشبہ ان سے پہلے رسول گذر چکے ہیں ‘ اور ان کی والدہ صدیقہ ہیں ‘ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے (یعنی دوسرے انسانوں کی طرح کھانے پینے وغیرہ امور میں وہ بھی محتاج تھے) “ { لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَ مَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُھُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا } ” ہرگز مسیح اس سے ناگواری نہیں اختیار کرے گا کہ وہ اللہ کا بندہ کہلائے اور نہ مقرب فرشتے (حتیٰ کہ نہ روح القدس ” جبرائیل “ ناک بھوئیں چڑھائیں گے) اور جو عبادت سے ناگواری کا اظہار کرے اور غرور اختیار کرے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی جانب اکٹھا کرے گا (یعنی جزا و سزا کے دن سب حقیقت حال کھل جائے گی)۔ “ { وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ } ” اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے ‘ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں ‘ ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی ‘ اللہ ان کو ہلاک کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔ “ { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ 5 وَلَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ } ” اے محمد کہہ دیجئے اللہ ایک ہے ‘ اللہ بے نیاز ہستی ہے ‘ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کائنات میں کوئی اس کا ہم سر نہیں ہے۔ “ قرآن نے اس سلسلہ میں اپنی صداقت اور اصلاح عقائد و اعمال کا جو مدلل اور واضح اعلان کیا اس کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ موجودہ کتاب مقدس کے محرف اور مسخ کر دیے جانے کے باوجود جس شکل و صورت میں آج موجود ہے وہ کسی مقام پر بھی ” ثالوث “ کے اس عقیدہ کا پتہ نہیں دیتی جس کی تفصیلات و تشریحات ابھی سطور بالا میں علمائے نصاریٰ ‘ مذہبی کونسلوں اور کلیساؤں سے نقل ہو چکی ہیں اور بجز تعبیر کے جگہ جگہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے خدا کو ” باپ “ اور خود کو ” بیٹا “ ظاہر کیا گیا ہے اس کے لیے اور کوئی ثبوت واضح اور مصرح طور پر مہیا نہیں ہے پس اگر ہم اس سے قطع نظر بھی کر لیں کہ یہ تعبیرات ” تحریفی “ اور ” صنم پرستی “ کے تخیل کی رہین منت ہیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیں کہ خدائے برتر کی جانب سے سچی الہامی انجیل میں بھی یہ تعبیرات موجود تھیں تب بھی ان سے نصاریٰ کا عقیدہ ” تثلیث “ کسی طرح صحیح ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ” ابن “ کا لفظ اگرچہ حقیقی معنی کے لحاظ سے اس انسان پر بولا جاتا ہے جو کسی کی صلب یا کسی کے بطن سے مادہ منویہ کے ذریعہ پیدا ہوا ہو ‘ تاہم محاورات زبان اور اہل زبان کے استعمالات و اطلاقات شاہد ہیں کہ یہ لفظ کبھی مجاز کے طور پر اور کبھی تشبیہ یا کنایہ کے طریق سے اور بھی مختلف معانی پر بولا جاتا ہے ‘ مثلاً ایک بڑی عمر کا شخص اپنے سے چھوٹے کو مجازاً ” ابن “ (بیٹا) کہہ دیا کرتا ہے یا بادشاہ اپنی رعایا کو اولاد کہہ کر خطاب کرتا ہے یا استاد اپنے شاگردوں کو ” بیٹا “ کہہ کر پکارتا ہے یا جو شخص کسی علم و ہنر کا ماہر یا اس کی خدمت میں سرشار ہوتا ہے تو اس کو کنایۃً اس علم و ہنر کا بیٹا کہہ کر یاد کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں ” ابن القانون “ ” ابن الفلسفہ “” ابن الفلاحۃ “ ” ابن الحدادہ “ یا دنیا طلبی کی حرص و آرزو میں اگر حد سے گذر چکا ہے تو اس کو ” ابن الدراہم “ ” ابن الدنانیر “ کہہ دیا کرتے ہیں ‘ اسی طرح مسافر کو ” ابن السبیل “ مشہور شخصیت کو ” ابن جلا “ بڑے ذمہ دار انسان کو ” ابن لیلہا “ آنے والے دن سے بے پروا شخص کو ” ابن یومیہ “ دنیا ساز ہستی کو ” ابن الوقت “ کہتے ہیں یا جس کے اندر کوئی وصف نمایاں طور پر موجود ہوتا ہے تو اس وصف کی جانب لفظ ” ابن “ کو منسوب کرکے ذات موصوف کو یاد کرتے ہیں مثلاً صبح کو ” ابن ذکاء “ کہتے ہیں اور ان تمام مثالوں سے زیادہ یہ کہ انبیائے بنی اسرائیل اپنی امتوں کو ابناء اور اولاد کے ساتھ ہی خطاب کرتے اور نصائح و مواعظ میں ظاہر فرماتے ہیں کہ امم و اقوام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی روحانی اولاد ہوتی ہیں۔ اور یہی حال ” اب “ اور ” باپ “ کے اطلاقات و استعمالات کا ہے۔ ایک چھوٹا اپنے بڑے کو ‘ ایک ضرورت مند اپنے مربی کو ‘ ایک شاگرد اپنے استاد کو ‘ ایک امتی اپنے نبی رسول کو ” اب “ اور ” باپ “ کہنا فخر سمجھتا ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ اس قسم کے تمام اطلاقات مجاز ‘ کنایہ اور تشبیہ کے طور پر کیے جاتے ہیں اسی طرح بے نظیر مقرر اور خطیب کو ” ابوالکلام “ بہترین انشاء پرداز کو ” ابوالقلم “ ماہر نقاد کو ” ابو النظر “ ڈراؤنی اور ہیبت ناک شے کو ” ابوالہول “ سخی کو ” ابو النجاد “ فن کاشتکاری کے ماہر کو ” ابو الفلاحہ “ صنعت و حرفت کے حاذق کو ” ابو الصنع “ شب و روز بولتے رہتے ہیں۔ تو ان اطلاقات کے پیش نظر بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتاب مقدس میں ذات احدیت پر اب (باپ) کا اطلاق رب حقیقی کی حیثیت میں اور حضرت مسیح پر ابن (بیٹا) کا اطلاق محبوب و مقبول الٰہی کی حیثیت میں ہوا ہے۔ یعنی جس طرح باپ اور بیٹے کے درمیان محبت و شفقت کا رشتہ مضبوط و مستحکم ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ محبت و شفقت کا وہ رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے مقدس پیغمبر مسیح (علیہ السلام) کے درمیان میں قائم ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس استعارہ اور تشبیہ کو استعمال فرماتے ہوئے کہا ہے ” اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ “ (تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے)۔ پس روزمرہ کے محاورات و اطلاقات کو نظر انداز کرکے کتاب مقدس کے لفظ ” اب “ اور ” ابن “ کے ایسے معانی و مطالب مراد لینا جو صریح شرک کے مرادف ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ قباحت و شناعت کے ساتھ خدا کی ہستی کو تین اقانیم سے مرکب ظاہر کرتے اور خدا کے حصے بخرے بناتے ہوں ‘ کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا اور صریح ظلم اور اقدام شرک ہے ” تَعَالَی اللّٰہُ عُلُوًّا کَبِیْرًا “ بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ انھی اناجیل میں بصراحت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے انسان اور مخلوق خدا ہونے پر نصوص موجود ہوں مثلاً یوحنا کی انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ ارشاد مذکور ہے : ” میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم آسمان کو کھلا ہوا اور خدا کے فرشتوں کو اوپر جاتے اور ابن آدم (مسیح (علیہ السلام) ) پر اترتے دیکھو گے۔ “ اور باب 13 میں بصراحت خود کو ” رسول “ کہا ہے : اور یہی حال ” اب “ اور ” باپ “ کے اطلاقات و استعمالات کا ہے۔ ایک چھوٹا اپنے بڑے کو ‘ ایک ضرورت مند اپنے مربی کو ‘ ایک شاگرد اپنے استاد کو ‘ ایک امتی اپنے نبی رسول کو ” اب “ اور ” باپ “ کہنا فخر سمجھتا ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ اس قسم کے تمام اطلاقات مجاز ‘ کنایہ اور تشبیہ کے طور پر کیے جاتے ہیں اسی طرح بے نظیر مقرر اور خطیب کو ” ابوالکلام “ بہترین انشاء پرداز کو ” ابوالقلم “ ماہر نقاد کو ” ابو النظر “ ڈراؤنی اور ہیبت ناک شے کو ” ابوالہول “ سخی کو ” ابو النجاد “ فن کاشتکاری کے ماہر کو ” ابو الفلاحہ “ صنعت و حرفت کے حاذق کو ” ابو الصنع “ شب و روز بولتے رہتے ہیں۔ تو ان اطلاقات کے پیش نظر بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتاب مقدس میں ذات احدیت پر اب (باپ) کا اطلاق رب حقیقی کی حیثیت میں اور حضرت مسیح پر ابن (بیٹا) کا اطلاق محبوب و مقبول الٰہی کی حیثیت میں ہوا ہے۔ یعنی جس طرح باپ اور بیٹے کے درمیان محبت و شفقت کا رشتہ مضبوط و مستحکم ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ محبت و شفقت کا وہ رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے مقدس پیغمبر مسیح (علیہ السلام) کے درمیان میں قائم ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس استعارہ اور تشبیہ کو استعمال فرماتے ہوئے کہا ہے ” اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ “ (تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے) پس روزمرہ کے محاورات و اطلاقات کو نظر انداز کرکے کتاب مقدس کے لفظ ” اب “ اور ” ابن “ کے ایسے معانی و مطالب مراد لینا جو صریح شرک کے مرادف ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ قباحت و شناعت کے ساتھ خدا کی ہستی کو تین اقانیم سے مرکب ظاہر کرتے اور خدا کے حصے بخرے بناتے ہوں ‘ کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا اور صریح ظلم اور اقدام شرک ہے ” تَعَالَی اللّٰہُ عُلُوًّا کَبِیْرًا “ بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ انھی اناجیل میں بصراحت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے انسان اور مخلوق خدا ہونے پر نصوص موجود ہوں مثلاً یوحنا کی انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ ارشاد مذکور ہے : ” میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم آسمان کو کھلا ہوا اور خدا کے فرشتوں کو اوپر جاتے اور ابن آدم (مسیح (علیہ السلام) ) پر اترتے دیکھو گے۔ “ اور باب 13 میں بصراحت خود کو ” رسول “ کہا ہے : لائق توجہ بات یہ بات کبھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ ادیان ملل سابقہ کے مسخ و تحریف میں تحریف کرنے والوں کو اس سے بہت زیادہ مدد ملی کہ بنیادی عقائد میں صراحت اور وضاحت کی جگہ وقت کے معبروں ‘ مفسروں اور ترجمانوں نے کنایات ‘ استعارات اور تشبیہات سے بہت زیادہ کام لیا ان تعبیرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب ان مذاہب حق کا صنم پرستوں اور فلسفیوں سے واسطہ پڑا اور انھوں نے کسی نہ کسی طرح اس دین حق کو قبول کر لیا تو اپنے فلسفیانہ اور مشرکانہ افکار و خیالات کے لیے انھی استعارات اور تشبیہات کو پشت پناہ بنایا اور آہستہ آہستہ ملت حقیقی کی شکل و صورت بدل کر اس کو معجون مرکب بنا ڈالا۔ اسی حقیقت کے پیش نظر قرآن عزیز نے وجود باری ‘ توحید ‘ رسالت ‘ الہامی کتب ‘ ملائکۃ اللہ ‘ غرض بنیادی عقائد میں ذومعنی الفاظ ‘ پرپیچ تشبیہات اور توحید میں خلل انداز استعارات و کنایات کی بجائے واضح ‘ صریح اور غیر مبہم اطلاقات کو اختیار کیا ہے تاکہ کسی ملحد ‘ زندیق اور مشرک فلسفی کو توحید خالص میں شرک اور اوہام و ظنون کی نکتہ آفرینیوں کا موقع ہاتھ نہ آنے پائے اور اگر کوئی شخص اس کے باوجود بے جا جسارت کرے تو خود قرآن عزیز کی نصوص صریحہ ہی اس کے الحاد کو پاش پاش کر دیں۔ کفارہ موجودہ مسیحیت کا دوسراعقیدہ جس نے دین مسیحیت کی حقیقت کو برباد کر ڈالا ” کفارہ “ کا عقیدہ ہے۔ اس کی بنیاد اس تخیل پر قائم ہے کہ تمام کائنات ” جس میں نیکوکار اور انبیا و رسل سبھی شامل ہیں “ ابتدائے آفرینش سے ہی گناہ گار ہے ‘ آخر رحمت الٰہی کو جوش آیا اور اس کی مشیت نے ارادہ کیا کہ بیٹے کو کائنات ارضی میں بھیجے اور وہ مصلوب ہو کر اول و آخر تمام کائنات کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے اور اس طرح دنیا کو نجات اور مکتی حاصل ہو سکے لیکن اس عقیدے کے قوام بنانے کے لیے چند ضروری اجزاء کی ضرورت تھی جن کے بغیر یہ عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی تھی اس لیے ” عہدِ رسول “ میں سب سے پہلے مسیحیت نے یہودیت کے اس عقیدے کو تسلیم کر لیا کہ ان کو صلیب پر بھی چڑھایا گیا اور مار بھی ڈالا گیا اور اس کو شرف قبولیت دینے کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ ” الوہیت “ کے باوجود مسیح (علیہ السلام) کا صلیب پانا اور قتل ہونا اپنے لیے نہیں بلکہ کائنات کی نجات کے لیے تھا۔ چنانچہ جب اس پر یہ حادثہ گذر گیا تو اس نے پھر الوہیت کی چادر اوڑھ لی اور عالم لاہوت میں باپ اور بیٹے کے درمیان میں دوبارہ لاہوتی رشتہ قائم ہو گیا۔ پس جب مذہب میں خدائے برتر کے ساتھ صحت عقیدہ اور نیک عملی مفقود ہو کر نجات کا دار و مدار عمل و کردار کی بجائے ” کفارہ “ پر قائم ہوجائے ‘ اس کا حشر معلوم ؟ قرآن نے اسی لیے جگہ جگہ یہ واضح کیا ہے کہ نجات کے لیے عقیدہ کی صحت یعنی صحیح خدا پرستی اور نیک عملی کے ما سوا کوئی دوسری راہ نہیں ہے اور جو شخص بھی اس ” راہ مستقیم “ کو ترک کرکے خوش عقیدگی اور اوہام و ظنون کو اسوہ بنائے گا اور نیک عملی اور صحیح خدا پرستی پر گامزن نہ ہوگا بلاشبہ گمراہ ہے اور راہ مستقیم سے یکسر محروم : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ } ” جو لوگ اپنے کو مومن کہتے ہیں اور جو یہودی ہیں اور جو نصاریٰ ہیں اور جو صابی ہیں ان میں سے جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لے آیا اور اس نے نیک عمل کیے تو یہی وہ شخص ہیں جن کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے ‘ نہ ان پر خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ “ یعنی قرآن کی دعوت اصلاح ادیان و ملل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہودی ‘ نصرانی ‘ صابی گروہوں کی طرح ایک نیا گروہ مومنون کے نام سے اس طرح اضافہ کر دے کہ گویا وہ بھی ایک قومی ‘ نسلی یا ملکی گروہ بندی ہے کہ خواہ اس کی خدا پرستانہ زندگی اور عملی زندگی کتنی ہی غلط اور برباد ہو یا سرے سے مفقود ہو ‘ مگر اس گروہ بندی کا فرد ہونے کی وجہ سے ضرور کامیاب اور خدا کی جنت و رضا کا مستحق ہے ‘ قرآن کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے بلکہ وہ یہ اعلان کرنے آیا ہے کہ اس کی دعوت حق سے پہلے کوئی شخص کسی بھی گروہ اور مذہبی جماعت سے تعلق رکھتا ہو اگر اس نے (قرآن کی تعلیم حق کے مطابق) خدا پرستی اور نیک عملی کو اختیار کر لیا ہے تو بلاشبہ وہ نجات یافتہ اور کامیاب ہے ورنہ تو وہ اگر مسلمان گھر میں پیدا ہوا پلا اور بڑھا اور اسی سوسائٹی میں زندگی گزار کر مرگیا مگر قرآن کی دعوت حق کے مطابق خدا پرستی اور نیک عملی دونوں سے محروم رہا یا مخالف تو اس کے لیے نہ کامیابی ہے اور نہ فوز و فلاح۔ باقی رہا مسیحیت کے کفارہ کا خصوصی مسئلہ تو قرآن نے اس کے ابطال اور تردید کے لیے یہ راہ اختیار کی کہ جن بنیادوں پر اس کو قائم کیا گیا تھا ان کی ہی جڑ کاٹ دی۔ چنانچہ گذشتہ سطور میں صلیب اور قتل مسیح (علیہ السلام) کے انکار ‘ رفع الی السماء کے اثبات کے مبحث میں اس پر کافی روشنی پڑچکی ہے۔ مزید دیکھیے حوالہ جات بیرونی روابط زمرہ:اسلام میں انبیا اور رسل زمرہ:اسلام میں بائبل کی شخصیات زمرہ:عیسیٰ زمرہ:نظاہر یسوع زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:قرآن میں مذکور شخصیات زمرہ:اسلام میں انبیا زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:عیسی ابن مریم اسلام میں زمرہ:اسلام میں عہد نامہ جدید کی شخصیات زمرہ:جنت میں زندہ داخل
[Wikipedia:ur] 10 اپریل واقعات * 1815ء - انڈونیشیا میں آتش فشاں تمبورا پھٹ پڑا جو تین مہینے تک لاوا اگلتا رہا۔ اس سے 71,000 لوگ ہلاک ہوئے اور پورے کرہ ارض کی اب و ہوا کو اگلے دو سال تک متاثر کیا۔ * 1938ء - ایدوارد دالادیئیر فرانس کے وزیر اعظم بن گئے۔ * 1957ء - تین ماہ بند رہنے کے بعد نہر سوئز تمام بحری جہازوں کے لیے کھول دی گئی۔ * 1986ء - بینظیر بھٹو برطانیہ میں دو سال جلاوطنی گزارنے کے بعد پاکستان واپس آئیں۔ * 1998ء - بیلفاسٹ معاہدے پر دستخط ہوئے۔ * 1988ء - اوجڑی کیمپ کا سانحہ پیش آیا، جس میں ہتھیاروں کے گودام میں دہماکے کے نتیجے میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں میزائلوں اور راکٹوں کی بارش ہوئی۔ اس میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے . * 1986ء پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں * 1973ء پاکستان کا آئین تشکیل دیا گیا * 1972ء ایران کے مغربی علاقے میں سات اعشاریہ ایک کی شدت کے زلزلے سے پانچ ہزار افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سات سو زخمی ہوئے * 1916ء امریکا میں پہلا پروفیشنل گالف ٹورنامنٹ کا کھیلا گیا ولادت * 1847ء - جوزف پلٹزر، صحافی * 1870ء - (قدیم سلسلہ) - ولاڈیمیر لینن، روس کے پریمیئیر * 1894ء - شری گھنشام داس برلا، مشہور ہندوستانی صنعتکار * 1910ء ـ عبد الحمید عدم (پاکستان کے معروف شاعر) بمقام گوجرانوالہ * 1932ء - عمر شریف، امریکی فلموں کے مصری اداکار وفات * 1585ء - پوپ گریگوری سیزدہم * 1931ء - خلیل جبران، لبنانی ادیب * 2010ء - شاعر، ڈاکٹر صابر آفاقی تعطیلات و تہوار حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 11 اپریل واقعات * 2025ء مفتی تقی عثمانی صاحب نے تمام اسلامی ریاستوں پر اسرائیل کے خلاف جہاد فرض ہونے کا اعلان کر دیا۔ * 1713ء - جنگ جانشینی ہسپانیہ : معاحدہ اٹریخٹ * 1814ء - نپولین نے تخت چھوڑ دیا اور ایلبا میں جلا وطن ہو گیا۔ * 1868ء - نیہون (جاپان) میں شوگنیٹ کو منسوخ کر دیا گیا۔ * 1921ء - ٹرانس جارڈن کا امارت وجود میں آئی۔ * 1970ء - اپالو 13 نے چاند کی طرف پرواز کیا۔ اس میں تین افراد سوار تھے۔ یہ مشن ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکے کی وجہ سے ناکام ہوا تھا۔ چھ دن بعد عملے کے ہمراہ واپس آیا۔ اس دوران عملہ محفوظ رہا۔ * 1979ء - یوگنڈا میں ایدی امین کی حکومت کا خاتمہ۔ * 2006ء - ایران کے صدر احمد نژاد نے یورینیم کی آفزودگی کرنے میں کامیابی کا اعلان کیا * 1984ء - چینی فوجیوں نے ویتیام پر حملہ کیا * 1976ء - کمپیوٹر ایپل ون بنایا گیا * 1919ء - انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام ہوا * 2006ء - پاکستان میں عید میلاد النبی کے دن سانحہ نشتر پارک کراچی (2006ء بم دھماکا) ولادت * 146ء - ستٹمس سرویس، رومی شاہنشاہ * 1357ء - جان اول، پرتگال کے بادشاہ * 1492ء - مارگرٹ نوار، نوار کی ملکہ [1755] جیمز پارکنسن پیدا ہوئے . وہ ایک مشہور سرجن تھے اور اس نے دماغی امراض پر تحقیق کی۔ وفات * 1985ء - انور ہوکسا، البانیا کا حاکم * 2006ء - محمد عباس قادری، پاکستانی سیاسی جماعت سنی تحریک کے امیر * 2011ء - مستانہ، پاکستانی اسٹیج اداکار * 1983ء۔ احمد رشدی، گلوکار حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] جنتری وقت کو سیکنڈوں، منٹوں، گھنٹوں، دنوں، ہفتوں، مہینوں، فصلوں، سالوں اور صدیوں ( اور بعض ممالک اور زبانوں میں ہزاری) میں مرتب کرنا جنتری کہلاتا ہے۔ جس کو کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔ غلطی سے تقویم کو بھی جنتری یا کیلنڈر کہہ دیا جاتا ہے۔ تقویم ایک نظام ہے اور جنتری اس کی ترتیب، نقشہ یا شماریات ہوتی ہے۔ اس طرح ہر تقویم کی اپنی جنتری ہوتی ہے یا ایک جنتری مختلف تقاویم کا حساب کتاب اپنے اندر سمو ئے ہوتی ہے۔ سیکنڈ ثانیہ یا سیکنڈ وقت مرتب کرنے کی سب سے چھوٹی اکائی شمار ہوتی ہے البتہ وقت کی شماریات میں اس سے بہت چھوٹی کئی اکائیاں اور بھی ہیں۔ جو مختلف علوم میں استعمال ہوتی ہیں۔ منٹ ایک دقیقہ یا منٹ 60 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ گھنٹہ ایک گھنٹہ 60 منٹ کا ہوتا ہے۔ پہر عام طور پر 3 گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک دن اور رات کے آٹھ پہر شمار ہوتے ہیں۔ مگر بعض تقاویم میں کم یا زیادہ بھی ہوتے ہیں۔ دن عام طور پر 24 گھنٹے کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں رات کا دورانیہ نکال کے باقی حصہ دن ہے اور اس کا دورانیہ مختلف اوقات میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ عام استعمال میں دن بشمول رات کے دن ہی کہلاتا ہے۔ جو چوبیس گھنٹہ کے برابر شمار کیا جاتا ہے مگر دن ہمیشہ چوبیس گھنٹے کا نہیں ہوتا اکثر چند منٹ چھوٹا یا بڑا ہوتا ہے۔ مگر گھڑیوں کی ترتیب میں دن چوبیس گھنٹے کا ہی رکھا گیا ہے۔ رات اس کا دورانیہ مختلف اوقات میں، مختلف جگہوں پر مختلف ہوتا ہے۔ ہفتہ وقت کو ہفتوں میں بھی گروہ بند کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہفتہ سات دن (دن اور رات) کا ہوتا ہے۔ مختلف تقاویم میں ہفتہ کے دنوں کی تعداد کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ سات دن کے ہفتے کے دن کچھ یوں ہیں۔ ہفتہ - اتوار - پیر - منگل - بدھ - جمعرات - جمعہ مختلف تقاویم میں ہفتہ کا آغاز مختلف ہے۔ اسلامی تقاویم میں ہفتہ ہفتہ کے روز ہی شروع ہوتا ہے اور مغربی تقاویم میں ہفتہ کا آغاز پیر کے روز سے ہوتا ہے۔ یہودی تقویم میں اتوار ہفتہ کا پہلا دن ہے۔ مہینہ عام طور پر 30 دن کا ہوتا ہے کچھ تقویموں میں اس کی تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا آغاز ایک نمبر سے ہوتا ہے اوراس کا ہر نمبر تاریخ کہلاتا ہے۔ تاریخ دن اور رات دونوں پر اطلاق ہوتی ہے۔ ہر تاریخ کا آغاز مختلف تقویم میں مختلف ہے۔ عیسوی تقویم میں ہر نئی تاریخ نصف رات کے لگ بھگ شروع ہو جاتی ہے۔ برصغیرمیں رائج شمسی تقویم کی بنیاد پر مہینے مغربی / عیسوی کیلنڈر Gregorian calendar میں موجود مختلف مہینے۔ اس کیلنڈر میں سال کا آغاز جنوری سے ہوتا ہے۔ بائیں|450px|تصغیر|سن 1871-1872 کے ایک ہندی کیلنڈر کا ایک صفحہ. جنوری | فروری | مارچ | اپریل | مئی | جون | جولائی | اگست | ستمبر | اکتوبر | نومبر | دسمبر اسلامی ممالک میں رائج جنتری میں مہینے اسلامی کیلنڈر کی بنیاد قمری تقویم پر ہے جو مسلمانوں نے پہلے سے رائج عربی تقویم میں کچھ تبدیلیاں کر کے اپنائی۔ اور اس تقویم کا نام قمری ہجری رکھ دیا۔ اس میں موجود سال کے اکثر مہینوں کے نام وہی رہے جو پہلے تھے۔ ہجری سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔ محرم | صفر | ربیع الاول | ربیع الثانی | جمادی الاول | جمادی الثانی | رجب | شعبان | رمضان | شوال | ذی قعد | ذو الحج ایرانی کیلنڈر ایرانی کیلنڈر میں موجود مختلف مہینے۔ اس کیلنڈر میں سال کا آغاز فروردین سے ہوتا ہے۔ # Farvardin (فروردین)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Ordibehesht (اردی بہشت)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Khordad (خرداد)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Tir (month)|Tir (تیر)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Mordad (مرداد)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Shahrivar (شہریور)‎ 31 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Mehr (مہر)‎ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Aban (آبان)‎ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Azar (آذر)‎ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Dey (دے)‎ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Bahman (بہمن)‎ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ # Esfand (اسفند)‎ 29 دنوں کا ہوتا ہے مگر لیپ کے سال یہ 30 دنوں کا ہوتا ہے۔ ایرانی مسلمانوں نے اپنی ہزاروں سال پرانی رائج شمسی تقویم کو تو شمسی ہجری تقویم میں بدل دیا مگر مہینوں کے نام وہی رکھے۔ فصل موسموں کی نسبت سے ہر تین ماہ کی ایک فصل ہوتی ہے اس طرح سال میں چار فصلیں ہوتی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف مناسبتوں سے بھی فصلیں ہوتی ہیں جن کی مدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ سال زمینی سال عام طور پر بارہ مہینوں پہ مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا میں سال کے مہینوں یا دنوں کی مختلف تعداد رائج ہے۔ صدی صدی 100 سالوں پہ مشتمل ہوتی ہے۔ ہزاری اردو میں وقت کے ہزار سال کو دس صدی کہا جاتا ہے اور دو ہزار سال کو بیس صدیاں کہا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے * ایرانی کیلنڈر حوالہ جات زمرہ:تقویم
[Wikipedia:ur] اظہار الحق (کتاب) اظہار الحق دفاع اسلام اور رد مسیحیت کے موضوع پر لکھی گئی ایک کتاب ہے، جس کے مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانوی ہیں جنھوں نے یہ کتاب ایک مسیحی مبلغ کارل گوٹلیب فینڈر کی کتاب میزان الحق کے جواب میں لکھی تھی۔ دونوں کتب عربی میں ہیں۔ اظہار الحق کا اردو ترجمہ مولانا اکبر خان صاحب نے رقم کیا، جو دارالعلوم کراچی کے استاد تھےـ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس کی اردو شرح لکھی ہے۔ تین جلدوں بائبل سے قرآن تک کے نام سے یہ اردو میں طبع ہو چکی ہےـ محمد تقی عثمانی کے بھائی مولانا محمد ولی رازی نے The Truth Revealed کے نام سے اس کا انگریزی ترجمہ کیا ہےـ تراجم بائبل سے قرآن تک پاکستانی دیوبندی عالم محمد تقی عثمانی کی یہ کتاب رحمت اللہ کیرانوی کی شہرہ آفاق کتاب اظہار الحق کا اردو ترجمہ ہے۔ دار العلوم کراچی کے استاد مولانا اکبر علی نے اردو میں اس کتاب کا ترجمہ کیا، لیکن ترجمہ کے بعد اندازہ ہوا کہ کتاب میں اناجیل و مسیحی مذہب کی دیگر کتب کے حوالہ جات کی تحقیق و تنقید اور کتاب میں مذکور شخصیات کا تعارف ناگزیر ہے۔ تقی عثمانی نے اس کتاب کی تحقیق و تعلیق کا فریضہ سر انجام دیا اس پر تحقیقی حواشی کا اضافہ کر کے کتاب کی افادیت مزید بڑھادی، بائبل کی عبارات کی تخریج کر کے نسخوں کے اختلاف اور تازہ ترین تحریفات کو واضح کیا۔ مسیحی اصطلاحات اور مشاہیر کا تعارف پیش کیا، نیز عصر حاضر میں مسیحی مذہب سے متعلق جدید تحقیقات کی طرف بھی اشارہ کیا، علاوہ از میں کتاب کے شروع میں ایک مبسوط مقالہ لکھا، جو مسیحیت کے موضوع پر ایک مستقل تصنیف ہے۔ کتاب تین جلدوں اور چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ جلدوں کے صفحات بالترتیب 623، 461 اور 664 ہیں۔ باب اول کی حیار فصول بائبل سے متعلقہ مباحث کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ باب دوم بائیل میں تحریف کے دلائل سے متعلق ہے۔ باب سوم میں نسح کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔ باب چہارم عقیدہ تثلیث کی تردید سے متعلق ہے۔ باب پنجم میں انجاز قرآن کے مباحث شامل ہیں، نیز قرآن پر عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ باب ششم میں نبی سنیم کے معجزات، پیشینگوئیوں، اخلاق اور پاکیزہ شریعت کا بیان ہے۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات بھی باب ہذا میں شامل ہیں۔ کتاب کے اخیر میں مصطلحات، اعلام، مقامات اور کتب کی فہارس ہیں، جو حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب ہیں۔ کتاب کے تینوں حصے مجلد اور عمدہ سر ورق سے مزین 1431 ھ میں مکتبہ دار العلوم کراچی سے شائع کردہ ہیں۔ حوالہ جات زمرہ:1864ء کی غیر افسانوی کتب زمرہ:1864ء کی کتابیں زمرہ:اسلام اور مسیحیت زمرہ:اسلام سے متعلق کتابیں زمرہ:اسلامی الٰہیات پر کتابیں زمرہ:انیسویں صدی کی بھارتی کتابیں زمرہ:بھارتی مذہب متون زمرہ:عربی زبان میں کتابیں زمرہ:علم کلام زمرہ:کتب اہل سنت زمرہ:ماتریدی ادب زمرہ:مسیحیت پر تنقیدی کتابیں زمرہ:نان فکشن بھارتی کتابیں زمرہ:دیوبندی ادب زمرہ:سرورق سے عاری کتابیں زمرہ:بائبل زمرہ:بین المذاہبی زمرہ:ابراہیمی مذاہب زمرہ:الٰہیات زمرہ:عربی کتب زمرہ:کتب
[Wikipedia:ur] 12 اپریل واقعات * 467ء - انتھیمیس مغربی رومی سلطنت کے شاہنشاہ بن گئے۔ * 1204ء - چوتھی صلیبی جنگ میں قسطنطنیہ کو لوٹ لیا گیا۔ * 1877ء - برطانیہ نے ٹرانسوال کا الحاق کر لیا۔ * 1908ء امریکا کی ریاست میسکوسیٹ کے شہر چیلسیا میں ہولناک آتشزدگی سے سترہ ہزارافراد بے گھر ہوئے * 1946ء - شام نے فرانس سے آزادی حاصل کر لی * 1961ء - روس کے یوری گیگارین خلا میں جا کر دنیا کے پہلے خلا باز بنے۔ * 1973ء - پاکستان میں تیسرے آئین کا اعلان کیا گیا۔* 1973ء - فرانس نے جنوبی ویتنام کو تسلیم کیا * 1973ء سوڈان میں آئین نافذ کر دیا گیا * 1981ء - اسپیس شٹل کولمبیا کی پرواز اور اس طرح سب سے پہلی اسپیس شٹل مشن۔ * 1992ء - فرانس میں پیرس کے قریب یورو ڈسنی کا افتتاح۔ ولادت * 599ء - مہا ویر، جین مذہب کے بانی * 812ء - محمد تقی ، اسلام کے نویں امام وفات * 65ء - لوچیس اینیس سینیکا، رومی فلسفی، ڈراما نگار اور مدبر * 238ء - گورڈین اول، (خود کشی) * 238ء - گورڈین دوم، رومی شاہنشاہ (جنگ میں موت)۔ تعطیلات و تہوار * روسی خلا باز یوری گیگارین نے پہلی انسانی خلائی پروازکی۔ * * یوم کوسمونوٹکس، روس * * شب یوری، بین الاقوامی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 13 اپریل واقعات * 1111ء - ہینری پنجم کی بطور ہولی رومن شاہنشاہ تاج پوشی * 1598ء - فرانس کے بادشاہ ہینری چہارم کے نانٹس فرمان کے مطابق ہوجوناٹس کو مذہبی آزادی * 1829ء - برطانوی پارلمنٹ نے رومن کیتھولک کو مذہبی آزادی کا حق دے دیا۔ * 1849ء - ہنگری جمہوریت بن گیا۔ * 1919ء - امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوجیوں نے کم از کم 379 نہتے مظاہرین کو ہلاک کر دیا۔ * 1941ء - نیہون، (جاپان) اور روس نے غیر جانبداری کا معاہدہ کیا * 1960ء فرانس ایٹمی صلاحیت رکھنے والا چوتھاملک بنا * 1944ء نیوزی لینڈاور سوویت یونین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے * 1849ء ہنگری کو جمہوری ملک قرار دے دیا گیا * 1829ء برطانوی پارلیمنٹ نے رومن کیتھولکس کو مکمل مذہبی آزادی دے دی ولادت * 1743ء - تھامس جیفرسن،امریکا کا سابق صدر * 1828ء۔ جوزفین الزبتھ بٹلر۔ وکٹوریائی دور میں ایک انگریز نسائیت پسند اور سماجی مصلح تھیں۔ اس نے خواتین کا حق رائے دہی، خواتین کے بہتر تعلیم کے حق، برطانوی قانون میں پردہ پوشی کے خاتمے، بچوں کی جسم فروشی کے خاتمے اور نوجوان خواتین کی انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے مہم چلائی، اس دور میں بچوں کو یورپی جسم فروشی کی طرف لے جایا جاتا تھا۔ * 1893ء۔ مولانا غلام رسول مہر۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف ادیب، صاحب طرز انشا پرداز، مؤرخ، نقاد، صحافی، غالب شناس اور مترجم تھے۔ * 1913ء۔ قاضی محمد عیسیٰ ۔ تحریک پاکستان بلوچستان کے سرگرم رکن تھے انھوں نے ہی قائد اعظم کے کہنے پر مسلم لیگ بلوچستان کا قیام عمل میں لایا۔(سال 2023ء۔ 2024ء میں پاکستان کے منصف اعظم قاضی فائز عیسیی کے والد ) * 1926ء۔اردشیر کاؤس جی۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کراچی کے معروف کاروباری شخص اور روزنامہ ڈان کے کالم نگار تھے۔ * 1963ء - گیری کیسپاروف، شطرنج کا مشہور کھلاڑی * 2000ء۔ حضرت علامہ مولانا حافظ طاہر علی عطاری قادری پاکستانی عالم دین وفات * 910ء۔ جنید بغدادی صوفیائے کرام کے سربراہ اور اس میدان کے شاہسواروں میں شامل ہیں۔ * 1316ء۔ شہاب الدین عمر خان خلجی سلطنت دہلی کا تیسرا خلجی سلطان تھا۔ * 1794ء۔شیخ منصور۔ الامام المنصور المتوکیل علا اللہ ،جسے شیخ المنصور ("فتح") کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک چیچن اسلامی مذہبی اور فوجی رہنما تھا۔ شیخ منصور کو روسی سامراج کے خلاف قفقاز میں مزاحمت کا پہلا رہنما سمجھا جاتا ہے * 1971ء۔ محمد شہاب الدین۔ کو ایلور مدراس میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے تیسرے منصف اعظم تھے۔ * 1920ء −انجم رومانی، پاکستان کے اردو زبان کے ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم تھے۔ * 1997ء −فارغ بخاری، پاکستان کے اردو ، ہندکو اور پشتو زبان کے ممتاز شاعر، نقاد، محقق اور صحافی تھے۔ * 2005ء -علی احمد جلیلی، شاعری کی کلاسیکی روایت کے امین، شائستہ غزل گو ، دکن کے ممتاز اور معروف شاعر تھے۔ * 2013ء۔ سیسل چوہدری، پاکستانی فائٹر پائیلٹ (گروپ کپٹن) 1965 اور 1971ء جنگ میں کمال بہادری کا مظاہرہ کیا تعطیلات و تہوار * تھائی لینڈ میں نئے سال کا آغاز * کمبوڈیا میں نئے سال کا آغاز حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 14 اپریل واقعات * 1205ء - بلغاریہ اور صلیبی افواج کے درمیان جنگ ادرنہ۔ * 1450ء - جنگ فورمینی میں فرانسیسیوں نے فتح حاصل کر کہ انگریزوں کا شمالی فرانس پر غلبہ توڑ دیا۔ * 1632ء - تیس سالہ جنگ کے دوران جنگ باراں میں سویڈن نے ہولی رومن مملکت کو ہرا دیا۔ * 1912ء - برطانوی بہری جہاز ٹائٹینک برف کف تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا۔ * 1931ء - ہسپانیا (اسپین) میں بادشاہ الفونسو سیزدہم کو برترف کر کہ دوسری جمہوریت کا اعلان * 1962ء - ژورژ پومپدو فرانس کے وزیر اعظم بن گئے * 2008ء تینتالیس سال بعد بھارت کے شہر کلکتہ اور بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکا کے درمیان مسافرٹرین کا آغاز کیا گیا * 1988ء امریکا،روس ،پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان سجھوتے پر دستخط ہوئے * 1969ء مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکا میں طوفان سے پانچ سو چالیس افراد ہلاک ہوئے * 1915ء ترک فوجو ں نے آرمینیا پر حملہ کیا * 1792ء فرانس نے آسڑیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ولادت * 1891ء - بھم راؤ رامجی امبیڈکر * 1984ء - عمر گل، پاکستانی کرکٹر وفات * 1759ء - جارج فریدرخ ہینڈل، معروف موسیقار * 1865ء - ایبراہیم لنکن، سابق امریکی صدر، گولی سے ہلاک کیا گیا * 2010ء - ڈاکٹر اسرار احمد، اسلامی مفکر، عالم دین تعطیلات و تہوار حوالہ جات زمرہ:14 اپریل زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 15 اپریل واقعات * 2023ء 27 رمضان کو سحری کے بعد وزیر مذہبی امور مفتی عبد الشکور صاحب ٹریفک حادثے میں شہید ہوئے۔ * 1450ء - جنگ فورمینی میں فرانسینیوں نے فتح حاصل کر کہ انگریزوں کا شمالی فرانس پر غلبہ توڑ دیا۔ * 1632ء - تیس سالہ جنگ کے دوران جنگ باراں میں سویڈن نے ہولی رومن مملکت کو ہرا دیا۔ * 1783ء - امریکی انقلابی جنگ کا اختتام۔ * 1827ء کینیڈا کی سب سے بڑی جامعہ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو چارٹر ہوئی * 1877ء انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا * 1912ء ٹائی ٹینک جہاز نیو فاؤنڈ لینڈ میں برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گئی * 1923ء انسولین کے ذریعے ذیابطیس(شوگر) کا علاج شروع ہوا * 1927ء سوئٹزرلینڈ اور سوویت یونین سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضامند ہوئے * 1937ء شکاگو میں پہلا بلڈ بینک قائم ہوا * 1954ء برطانیہ اور ہالینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے * 1955ء آزادی کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آبپاشی کے منصوبے کوٹر ی بیراج کا افتتاح ہوا * 1957ء برطانیہ ایٹمی دھماکا کرنے والا تیسرا ملک بن گیا * 1963ء پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے مسئلے پر کلکتہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا * 1990ء میخائیل گوربارچوف سویت یونین کے پہلے انتظامی صدر منتخب ہوئے * 1994ء - مراکش معاہدے پر دستخط ہوئے اور گیٹ کو ڈبل یو ٹی او میں تبدیل کر دیا گیا۔ * 1997ء - حاجیوں کے کیمپ میں آگ لگنے سے 300 حاجی جاں بحق ہوئے۔ ولادت * 1452ء - لیونارڈو ڈا ونچی، اطالوی مصور * 1684ء - کیتھرین اول، روسی ملکہ * 1894ء - روسی سربراہ نکیتا خروشچیف * 1940ء - جیفری آرچر، برطانوی ادیب * 1984ء −طلعت اقبال، بونيری پاکستان * 1929ء - جسٹس(ر)نسیم حسن شاہ( سابق(ر) چیف جسٹس آف پاکستان،تاحیات صدرِ انجمن ِ حِمایت ِ اِسلام) * 1931ء پنجاب کے وزیر اعلیٰ،ادیب اور مصور حنیف رامیشیخوپورہ میں پیدا ہوئے وفات * 1865ء - ابراہم لنکن، سابق امریکی صدر * 1980ء - ژاں پال سارتر، فلسفی اور ادیب * 1982ء - خالد اسلامبولی، مصری صدر انور سادات کے قاتل کو 5 دیگر افراد سمیت سزائے موت دے دی گئی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 16 اپریل واقعات * 1746ء - سکاٹ لینڈ میں جنگ کلاڈن اور ہائ لینڈ کلینز کی بربادی * 1799ء - جنگ کوہ تبور میں نپولین کی فوج نے عثمانیوں کو اککا کے قریب دریائے اردن کے دوسرے کنارے پر دھکیل دیا۔ * 1917ء - ولادیمیر لینن کو روس سے ملک بدر کر دیا گیا۔ * 1919ء - جلیانوالا باغ کے احتجاج میں پورے ہندوستان میں ہڑتال۔ * 1972ء - اپالو 16 کی چاند کی طرف پرواز شروع ہو گئی۔ * 2004ء نیپال کے دار الحکومت کھٹمنڈو میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مظاہرہ کرنے والے ایک ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیاگرفتار ہونے والوں میں سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا بھی شامل تھے * 1996ء سابق وزیر اعظم بینظیربھٹو نے کراچی ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ کا افتتاح کیا * 1988ء عراق کے شہر حلبجہ میں زہریلی گیس کے حملے سے ہزاروں افراد ہلاک * 1962ء برازیل نے امریکی کاروبار اپنی تحویل میں لے لیے * 1953ء یوگوسلاویہ کے مارشل جوزف ٹیٹو برطانیہ کا دورہ کرنے والے پہلے کمیونسٹ رہنما بنے * 1939ء شاہ محمد رضاپہلوی کی شادی مصر کی شہزادی فوزیہ سے ہوئی ولادت * 1889ء - چارلی چیپلن، برطانوی فلمساز و اداکار * 1940ء - مارگرٹ دوم، ڈنمارک کی ملکہ * 1963ء - سلیم ملک، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی * 1978ء - لارا دتتہ، بھارتی اداکارہ * 1926ء مشہور امریکی مزاحیہ فنکار اور ہدایت کار جیری لیوس نیوجرسی میں پیدا ہوئے * 1877ء شاہِ محمد رضا پہلو ی ایران، رضاپہلوی پیداہوئے وفات * 744ء - ولید ثانی بن یزید، اموی خلیفہ * 1828ء - فرانسسکو گویا، ہسپانوی مصور * 2011ء مزاحیہ اداکار ببو برال طویل علالت کے بعد لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے تعطیلات و تہوار * 1946ء شام کو آزادی حاصل ہوئی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال
[Wikipedia:ur] 17 اپریل واقعات * 1492ء - ہسپانیا (اسپین) اور کرسٹوفر کولمبس نے ایشیا کا راستہ ڈھونڈنے کا معاہدہ کر لیا۔ * 1821ء مانی کا خلافت ِ عثمانیہ کیخلاف جنگ کا اعلان جنگ ِ آزادی یونان پر منتج ہوا * 1906ء - امریکی شہر سان فرانسسکو میں شدید زلزلہ اور تباہی * 1921ء دوسری جمہوریہ پولینڈ نے دستورِ مارچ اختیار کیا * 1929ء مقبول کارٹون پوپائے داسیلر مین کا کردار پہلی بارامریکا کے تھمبل تھیٹر میں اداکیا گیا * 1941ء - دوسری جنگ عظیم میں ڈوئچ لینڈ (جرمنی) نے یوگوسلاویا کو ہرا دیا * 1941ء جنگ عظیم دوم:یوگوسلاویہ نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے * 1948ء فرانس،بیلجے ئم، نیدر لینڈز، لکسمبرگ اور برطانیہ نے معاہدہ برسلز پر دستخط کیے جس کے تحت آئندہ پچاس برسوں کے دوران پانچوں ممالک دفاعی، معاشی اور معاشرتی شعبوں میں تعاون کریں گے * 1951ء چین نے کوریا میں جنگ بندی سے انکار کر دیا * 1953ء -پاکستانی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت ملک غلام محمد نے تحلیل کردی۔ * 1953ء -محمد علی بوگرہ تیسرے پاکستانی وزیر اعظم نامزد۔ * 1959ء چودہویں دلائی لاما تِن زن گیأ تسو، تبت سے ہجرت کرکے ہندوستان آ گئے * 1961ء - امریکا کا کیوبا پر بے آف پگز حملہ * 1966ء چار ہائیڈروجن بموں سے لیس امریکی بمبار طیارہ اسپین میں اپنے ریفیولنگ جہاز سے ٹکرا گیا جس سے زمین پر ریڈیو ایکٹو پلوٹونیم پھیل گیا * 1975ء - کمبوڈیا میں خمیر روج کی حکومت شروع ہوئی۔ ولادت * 1916ء - سریما بندرانائیکے، سری لنکا اور دنیا کی پہلی وزیر اعظم خاتون * 1942ء - عزیز میاں، پاکستانی قوال * 1960ء - غزالہ کیفی، پاکستانی اداکارہ * 1927ء - چندر شیکھر، بھارت کے آٹھویں وزیراعظم * 1980ء ۔ کریل پیٹکوف، بلغاریہ کے وزیراعظم وفات * 744ء - ولید ثانی، اموی خلیفہ * 1790ء - بنجمن فرینکلن، امریکی ادیب، سیاست دان،سائنس دان، تاجر،ناشر اور سفارتکار * 1826ء - صادق محمد خان دوم، ریاست بہاولپور کے پانچویں نواب * 1942ء - جین باپٹسٹ پیرین، فرانس کے طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ * 1975ء - سروپلی رادھا کرشنن، بھارتی سیاست دان، فلسفی اور بھارت کے دوسرے نائب صدر * 1993ء - تورگوت اوزال، ترکی کے آٹھویں صدر * 1994ء - راجر والکاٹ سپیری امریکی ماہر عصبیاتی فعلیات اور عصبیاتی حیاتیات دان، نوبل انعام یافتہ * 2006ء – فاضل حسین علوی، اخباری اہل تشیع کے ایک بڑے عالم دین اور مناظر * 2014ء - گیبریئل گارسیا مارکیز، لاطینی امریکا کے ناول نگار، صحافی اور مصنف، نوبل انعام یافتہ حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 18 اپریل واقعات * 1942ء - پیئیر لاوال فرانس کے وزیر اعظم بن گئے۔ * 1946ء - لیگ آف نیشنز کا اختتام ہو گیا۔ (جمعیت الاقوام کا اختتام ہو گیا) * 1949ء - جمہوریہ آئرلینڈ کا قانون نافذ ہو گیا * 1954ء - مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت کا آغاز ہوا۔ * 1980ء - روڈیشیا جمہوریہ زمبابوے بن گیا۔ * 1993ء - صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ * 1993ء - بلخ شیر مزاری نگراں وزیر اعظم پاکستان منتخب۔ * 1993ء سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی تحلیل اور کابینہ برخاست کردی * 1956ء مصر اور اسرائیل جنگ بندی پر رضامند ہوئے * 1946ء لیگ آف نیشنز ختم کردی گئی * 1945ء سوویت یونین اور بولیویا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے * 1906ء امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سات اعشاریہ نوشدت کا زلزلہ،زلزلے اور آتشزدگی سے چار ہزار افراد ہلاک اور شہرکا پچھہتر فیصد حصہ تباہ ہوا * 1797ء فرانس اور آسٹریا کے درمیان فائر بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے * ہر سال 18اپریل کو دنیا بھر میں ثقافتی ورثہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کومنانے کا مقصد دنیابھر کی مختلف قدیم تہذیبوں اور آثار قدیمہ کو محفوظ بنانا ہے۔ * 2018ء - سوازی لینڈ کے بادشاہ مسواتی سوم نے ملک کا نام بدل کر اسواتینی کر دیا۔ ولادت * 359ء - گراتیان، رومی شہنشاہ * 1590ء - احمد اول، سلطنت عثمانیہ کے چودھویں سلطان * 1905ء - جارج ایچ ہائیچنگ، امریکی معالج، نوبل انعام یافتہ * 1922ء - رشید احمد لاشاری، سندھی اور اردو زبان کے ادیب، شاعر، فلمی کہانی نویس، مورخ، صحافی اور معلم * 1966ء - عارف لوہار، پاکستانی لوک گلوکار * 1970ء - سعد حریری، لبنان کے وزیر اعظم * 1973ء - سیما عباسی، سندھی اور اردو زبان کی شاعرہ، افسانہ نگار اور معلم * 1995ء - ورجینیا گارڈنر، امریکی اداکارہ وفات * 680ء - معاویہ بن ابو سفیان، خلافت امویہ کے بانی * 1829ء - محمود شاہ درانی، چوتھا درانی سلطان * 1955ء - البرٹ آئنسٹائن، جرمن-امریکی ماہر طبیعیات و سائنسدان * 2010ء - انیسہ وہاب، افغانی اداکارہ اور گلوکارہ * 2019ء - جمیل جالبی، پاکستان کے نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ * 1954ء - لعل چند امر ڈنومل، سندھی زبان کے نامور ادیب، ناول نگار، مورخ، ڈراما نویس ، سیرت نگار اور مضمون نگار تعطیلات و تہوار * 1989ء زمبابوے کو آزادی حاصل ہوئی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 19 اپریل واقعات * 1539ء – معاہدۂ فرانکفرٹ پر دستخط۔ * 1587ء – برطانوی سر فرانسس ڈریک نے ہسپانیہ کا بہری بیڑا کڈز کی بندرگاہ میں ڈبو دیا۔ * 1770ء – جیمز کک نے آسٹریلیا کو دریافت کیا۔ * 1810ء – وینیزویلا کی آزادی کی جنگ شروع ہوئی۔ * 1839ء – معاہدہ لندن کے تحت بلجئیم ایک الگ سلطنت بن گیا۔ * 1882ء – برطانیہ کے علاقے کینٹ میں، حرکت قلب بند ہونے سے چارلس ڈارون کا انتقال ہوا۔ * 1903ء – ترکی میں زبردست زلزلے سے 1700 افراد ہلاک ہوئے۔ * 1904ء – کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کا بیشتر حصہ آگ لگنے سے برباد ہو گیا۔ * 1946ء – لیگ آف نیشنز نے اپنے آپ کو ختم کر کہ تمام اختیاارت اقوام متحدہ کے حوالے کر دیے * 1961ء – امریکا کیوبا پر بے آف پگز حملے میں ناکام ہو گیا * 1971ء – سیرالیون جمہوریت بن گیا۔ * 1975ء – بھارت نے اپنا پہلا مصنوعی سیارچہ آریہ بھٹ روس سے روانہ کیا۔ * 1999ء – ڈوئچ (جرمن) پارلیمان برلن منتقل ہو گئی۔ ولادت * 1832ء – جوزے ایشوگرائے، ہسپانوی شاعر و ڈراما نگار، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1916ء) * 1912ء – گلین ٹی سی بورگ، امریکی کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1999ء) * 1928ء – سلطان اذلان شاہ ملیشیا کا حکمران (و۔ 2014ء) * 1931ء۔ محمد علی شہنشاہ جذبات کہلائے جانے و الے پاکستانی اداکار * 1944ء – جیمزہکمین، امریکی ماہر اقتصادیات، نوبل انعام یافتہ * 1955ء – عمر شریف، تھیٹر، سٹیج، فلم اور ٹی وی کے پاکستانی اداکار (و۔ 2021ء) * 1957ء - مکیش امبانی، بھارت کے ارب پتی تاجر * 1968ء - ارشد وارثی، بھارتی فلم اداکار، فلم ساز ** ایشلے جڈ، امریکی اداکارہ اور فعالیت پسند * 1979ء – کیٹ ہڈسن، امریکی اداکارہ * 1987ء – ماریا شاراپووا، روسی ٹینس کھلاڑی وفات * 1619ء – تاج بی بی بلقیس مکانی، مغل شہزادی (پ۔ 1573ء) * 1632ء - سیگیسموند سوم، پولینڈ کا بادشاہ * 1824ء – لارڈ بائرن، انگریز سکاٹی شاعر و ڈراما نگار (پ۔ 1788ء) * 1881ء – بینجمن ڈزرائیلی، انگریز صحافی اور سیاست دان، وزیر اعظم مملکت متحدہ (پ۔ 1804ء) * 1882ء – ڈارون، انگریزی ماہر حیاتیات دان و نظریہ ساز (پ۔ 1809ء) * 1906ء – پیری کیوری، فرانسیسی ماہر طبیعیات، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1859ء) * 1955ء – جم کاربٹ، بھارتی کالونیل، شکاری (پ۔ 1875ء) * 1967ء – کونارڈ ایڈنائر، جرمن سیاست دان، جرمنی کا پہلا جانسلر (پ۔ 1876) * 1970ء - امتیاز علی تاج، اردو زبان کے مصنف اور ڈراما نگار * 1974ء - ایوب خان، پاکستان کے سابق صدر، فیلڈ مارشل اور سیاسی رہنما * 1998ء – اوکٹاویو پاز، میکسیکو کا شاعر، فلسفی، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1914ء) * 2005ء – روتھ ہسی، امریکی اداکارہ (پ۔ 1911ء) * 2013ء – فرانکیوس جیکب، فرانسیسی ماہر حیاتیات دان نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1920ء) * 2016ء - والٹر کوہن، طبیعیات دان ، کیمیادان، نوبل انعام یافتہ تعطیلات و تہوار * 1811ء وینیزویلا میں یوم آزادی * بائی سائیکل کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 1 اپریل واقعات * 1826ء - سیمیول مارلی نے انٹرنل کمبسشن انجن کو پیٹنٹ کرا لیا۔ * 1867ء - سنگاپور برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔ * 1937ء - اردن برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔ * 1949ء - نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا کا حصہ بن گیا۔ * 1979ء - ایران مین رائے شماری میں 98٪ ووٹ کے بعد شاہ کو برطرف کر دیا اور ایران اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ * 1997ء - پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین کی 13ویں ترمیم منظور کر لی جس کے تحت 8ویں ترمیم کو ختم کر کے مکمل پارلیمانی نظام بحال کر دیا گیا۔ * 2008ء - پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی۔ * 1976 اسٹیو جابز اور اسٹیو وزنیاک نے ایپل کمپیوٹر بنایا ۔ * 1936ء کو صوبجات بہار و اڑیسہ تقسیم ہوکر دو صوبے صوبہ بہار اور صوبہ اڑیسہ (موجودہ صورت:اوڈیشا) وجود میں آئے۔ ولادت * 1815ء - آٹو وان بسمارک، ڈوئچ چانسلر * 1936ء - عبد القدیر خان، پاکستانی سائنسدان وفات * 1922ء - شاہنشاہ کارل، آسٹریا کا بادشاہ * 1930ء - زردیتو، حبشہ کی ملکہ * 1947ء - جورج دوم، یونان کا بادشاہ * 1982ء ـ حسام الدین راشدی ( پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ محقق، تاریخ دان، ماہر لسانیات اور فارسی ادبیات کے عالم) بمقام کراچی * 1996ء - مسرور انور - پاکستان سے تعلق رکھنے معروف ترین نغمہ نگار اور شاعر۔ تعطیلات و تہوار * دنیا بھر میں لوگوں کو بیوقوف بنانے کا دن اپریل فول ڈے منایا جاتا ہے۔ * یوم اوڈیشا جسے "اوڈیشا دیوس" اور "اتکلہ دیوس" بھی کہا جاتا ہے، 1 اپریل 1936ء میں بھارت کی ریاست اوڈیشا (سابق نام: صوبہ اڑیسہ) کے صوبہ بہار اور اڑیسہ سے الگ ایک مستقل ریاست کے طور پر قرار دیے جانے اور مدراس پریزیڈنسی سے کوراپوٹ اور گنجام کے علٰىحدہ ہوکر اوڈیشا میں داخل ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 2 اپریل واقعات * 1801ء - کوپنہیگن میں برطانوی بیڑے نے ڈینمارک کے بیڑے کو برباد کر دیا * 1930ء - ہیل سلیسی حبشہ کے شاہنشاہ بن گئے * 1982ء برطانوی فوج نے جنوبی جارجیا پر حملہ کر دیا * 1982ء - آرجنٹین نے فاکلینڈز آئلینڈز پر حملہ کر دیا * 1992ء - پیئیر بیریگووی فرانس کے وزیراعظم بن گئے * 1970 قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی * 1945 سوویت یونین اور برازیل کے درمیان سفارتی رابطے قائم ہوئے * 1745 آسٹریا اور باویریا کے درمیان امن معاہدہ طے ہوا * 1979ء پاکستان نے نیدرلینڈز کو ہرا کر ہاکی عالمی کپ کا اعزاز جیت لیا۔ ولادت * 742ء - شاہ شارلمین، فرانسیسی بادشاہ وفات 2021ء، شوکت علی ، پاکستانی گلو کار جن کی وجہ شہرت لوگ گلوکاری ہے 2023ء، سلیم درانی بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی تعطیلات و تہوار * بچوں کی کتابوں کا عالمی دن زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویب آرکائیو سانچے مع وے بیک روابط زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 3 اپریل واقعات * 1922ء - جوزف استالن روس کے سربراہ بن گئے۔ * 1941ء - نازی جرمنی اور ہنگری کی افواج نے یوگوسلاویہ پر حملہ کر دیا۔ * 1948ء - امریکی صدر ہیری ٹرومین نے مارشل منصوبہ پر دستخط کر دیے۔ * 1986 آئی بی ایم نے پہلا لیپ ٹاپ کمپیوٹر متعارف کرایا ۔ ولادت * 1924ء - مارلن برانڈو، امریکی اداکار * 1930ء - ہلمٹ کول، ڈوئچ چانسلر * 1958ء - ایلک بالڈون، امریکی اداکار * 1961ء - ایڈی مرفی، امریکی اداکار * 1965ء - نازیہ حسن، پاکستانی گلوکارہ وفات * 1287ء - پوپ ہونوریس چہارم تعطیلات و تہوار زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 4 اپریل واقعات * 1581ء - سر فرانشش ڈریک نے دنیا کا ایک چکر پورا کر لیا۔ * 1814ء - نپولین نے پہلی بار حکومت چھوڑ دی۔ * 1905ء - کانگڑا میں شدید زلزلے میں 3،70،000 لوگ جاں بحق ہوئے۔ * 1939ء - فیصل دوم عراق کے بادشاہ بن گئے۔ * 1949ء - بارہ ممالک نے معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے نیٹو کی بنیاد رکھی۔ * 1976ء - کمبوڈیا کے شاہزادہ نورودوم سیہانوک اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ * 1979ء - ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیر اعظم و صدر پاکستان، کی موت کی سزا پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کو پھانسی دے دی گئی۔ بہت سے ممالک نے احتجاجا پاکستان سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جو افغانستان پر سوویت فوج کشی کے بعد امریکی دباؤ کے زیر اثر بحال ہو گئے۔ * 2006ء فرانس میں تیس لاکھ لوگوں نے پہلے ایمپلائمنٹ کانٹریکٹ قانون کے خلاف مظاہرہ کیاسات لاکھ افراد نے پیرس میں احتجاجی مظاہرہ کیااور طلبہ تنظیموں نے ہڑتال کا اعلان کیا * 1973ء نیوریارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرکا افتتاح ہوااور وہاں موجود دفاتر نے باقاعدہ کام کا آغاز کیا * 1969ء امریکی سرجن دینٹان کولے نے پہلا مصنوعی عارضی دل تبدیل کیا * 1905ء بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے شہر کانگرا میں زلزلہ آیا جس میں بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ولادت * 1932ء - اینتھونی پرکنز، امریکی اداکار * 1960ء - ہیوگو ویونگ، برطانوی نژاد آسٹریلوی اداکار * 1965ء - رابرٹ ڈاؤنی جونیئر، امریکی اداکار * 1970ء - بیری پیپر، کینیڈین اداکار * 1979ء - ہیتھ لیجر، آسٹریلوی اداکار وفات * 1892ء - پوپ نکولس چہارم * 1841ء - ولیم ہیری ہیرنگٹن، سابق امریکی صدر * 1968ء - مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، امریکی سیاہ فام سماجی کارکن * 1979ء - ذوالفقار علی بھٹو، سابق وزیر اعظم و صدر پاکستان تعطیلات و تہوار * 1960ء سینیگال کا یوم آزادی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 5 اپریل واقعات * 1242ء - ٹیوٹانک نائٹس نے ایک روسی حملے کو روک دیا * 1654ء - معاہدہ ویسٹمنسٹر پر دستخط کے تحت پہلی برطانوی و ولنگدیزی جنگ ختم ہو گئی۔ * 1930ء - ہندوستان میں سول نافرمانی کی مہم میں گاندھی جی نے سمندر پر جا کر نمک بنایا اور اس طرح برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ * 1955ء - اپنی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے ونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ * 1973ء - پیئیر میسیمر فرانس کے وزیز اعظم بن گئے۔ * 1998ء - نیہون (جاپان) میں آکاشی کائکیو پل مکمل ہو گیا۔ یہ دنیا کا سب سے لمبا سسپنشن پل ہے۔ * 2002ء فرانسیسی صدر یاک شیراک دوسری مدت کے لیے صدرمنتخب ہوئے * 1980ء برطانوی اسپیشل اے ئر سروسز ایس اے ایس نے ایران میں محصور سفارت خانے کے عملے کی بازیابی کے لیے آپریشن ختم کر دیا * 1952ء پاکستان اور سویت یونین کے درمیان پہلا براہ راست ریڈیو،ٹیلی گرافک رابطہ * 1948ء پاکستان اور بیلجے ئم کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کے لیے معاہدہ * 1948ء کونسل آف یورپ کے قیام کا باضابطہ اعلان * 1904ء پہلا رگبی میچ انگلینڈکے سینٹرل پارک میں برطانیہ اور ویلز اور اسکاٹ لینڈکے کھلاڑیوں کے درمیان کھیلا گیا * 1897ء یونان اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا * 1893ء نیویارک اسٹارک ایکسچینج کریش کرگئی ،امریکی مالیاتی منڈی کساد بازاری کا شکار * 1879ء چلی نے بولیویا اور پیرو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا * 1804ء پہلا شہابی پتھر اسکاٹ لینڈ میں گرا ولادت * 1479ء - گرو امر داس، تیسرے سکھ گرو * 1900ء - سپینسر ٹریسی، امریکی اداکار * 1916ء - گریگوری پیک، امریکی اداکار * 1923ء - گوئن وان تھیو، جنوبی ویتنام کے سابق صدر * 1818ء معروف جرمن سیاسی فلسفی کارل مارکس پروشیا میں پیدا ہوئے * 2000ء-محمد حسنین,پاکستانی کرکٹر وفات * 1679ء - چارلز نہم، سویڈن کے بادشاہ * 1975ء - چانگ کائی شیک، کوو من تانگ کے سربراہ * 1821ء نپولین بونا پارٹ کی جلاء وطنی کے دوران جزیرہ سینٹ ہیلینا میں وفات * 1994 غلام فرید صابری ، معروف پاکستانی قوال جنھوں نے اپنے بھائی کے ساتھ گروپ بنا کر قوالی شروع کی اور تاجدار حرم قوالی سے شہرت حاصل کی * 2023ء سدھیر نائک بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 6 اپریل واقعات * 1320ء - اعلان آربوراتھ کے ذریعے اسکاٹس نے آزادی کا اعلان کر دیا۔ * 1782ء - راما اول تھائ لینڈ کے بادشاہ بن گئے۔ * 1841ء - جان ٹائلر امریکا کے دسویں صدر بن گئے۔ * 1896ء - ایتھنس میں نئے دور کے پہلے اولمپکس کا آغاز۔ * 1909ء - رابرٹ پیری قطب شمالی پر پہنچنے والے پہلے آدمی بن گئے۔ * 1917ء - پہلی جنگ عظیم میں امریکا نے ڈچ لینڈ(جرمنی) سے جنگ کا اعلان کر دیا۔ * 1998ء - پاکستان نے غوری میزائل کا پہلا تجربہ کیا۔ * 2006ء میکسیکو سٹی سے پندرہ سو سال پرانااہرام ہل آف اسٹاردریافت کیا * 2005ء کردش لیڈر جلال طلابانی عراق کے صدر بنے * 1998ء پاکستان نے بھارت تک مار کرنے والا میڈیم رینج میزائل کا تجربہ کیا * 1917ء جنگ عظیم دوم:امریکا نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ولادت * 1483ء - رافیل، مشہور اطالوی مصور * 1849ء - سید امیر علی، مصنف، سیاست دان اور بیرسٹر * 1886ء - میر عثمان علی خان، حیدرآباد، دکن اور برار کے آخری بادشاہ، سیاست دان، حاکم، شاہی حکمران * 1890ء - جگر مراد آبادی، مصنف اور شاعر * 2000ء - شاہین آفریدی، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی * 2002ء - غلام الثقلین نقوی، افسانہ نگار، ناول نگار، سفرنامہ نگار وفات * 1199ء - رچرڈ اول، برطانیہ کے بادشاہ * 1520ء - رافیئیل، مشہور اطالوی مصور * 1528ء - البرخت دورر، معروف مصور * 2000ء - حبیب بورگیبا، تونس کے صدر * - 2011ء ـ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ (پاکستان کے تاریخ دان، ماہرِ لسانیات، محقق، ماہرِ لوک ادب، ماہرِلطیفیات، ماہرِ تعلیم ) بمقام حیدرآباد، سندھ، پاکستان * 2018ء - راج کشور بھارتی اداکار حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 7 اپریل واقعات * 1348ء - پراگ میں چارلز یونیورسٹی کی تعمیر۔ * 1795ء - فرانس نے میٹر کو لمبائی کا پیمانہ بنا لیا۔ * 1831ء - برازیل کے بادشاہ پیدرو اول تخت سے دست بردار ہو گئے اور ان کے بیٹے پیدرو دوم بادشاہ بن گئے۔ * 1906ء - الجریکاس کانفرنس میں فرانس نے ہسپانا (اسپین) کو المغرب (مراکش) کی حاکمیت دے دی۔ * 1927ء - دنیا کی سب سے پھلی بڑے فاصلے پہ ٹیلیوژن نشریات۔ * 1948ء - اقوام متحدہ نے عالمی تنظیم صحت کا آغاز کیااورعالمی یومِ صحت منانے کاآغاز کیا گیا۔ * 1953ء - ڈاگ ہیمرزکیولڈ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بنے۔ * 2008ء - سندھ اسمبلی میں ہنگامہ، ارباب رحیم کی جوتوں سے پٹائی۔ * 2005ء ابراہیم الجعفری عراق کے وزیر اعظم بنے * 1996ء پاکستان نے سنگاپور میں سری لنکاکوشکست دے کر سنگر کپ اپنے نام کیا * 1988ء روس نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کا اعلان کیا * 1978ء چھاپے خانے کے موجد گٹن برگ کی چھاپی ہوئی انجیل نیویارک میں بیس لاکھ ڈالرمیں فروخت کی گئی * 1948ء اقوام متحدہ نے صحت کی عالمی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا * 1946ء فرانس ین شام کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا * 1939ء اٹلی نے البانیہ پر حملہ کیا * 1795ء فرانس میں لمبائی کی پیمائش کے لیے میٹر کو بنیادی اکائی کے طور پر رائج کیا گیا * 1509ء فرانس نے وینس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ولادت * 1920ء - روی شنکر مشہور بھارتی موسیقار * 1939ء - فرانسس فورڈ کوپولا، اطالوی نژاد امریکی فلمساز * 1954ء - جیکی چین، چینی اداکار * 1964ء - رسل کرو، نیوزی لینڈر نژاد آسٹریلوی اداکار * 1944ء - گیر ہارڈ شروڈر، ڈوئچ لینڈ، جرمنی کے چانسلر وفات * 1284ء - ابن مودود موصلی، محدث اور فقیہ * 1789ء - سلطان عبدالحمید اول، سلطنت عثمانیہ کے حاکم * 1879ء - بیگم حضرت محل، ہندوستان کی جنگ آزادی میں پہلی سرگرم عمل خاتون رہنما * 1863ء - عنایت احمد کاکوروی، تحریک آزادی ہند کے ممتاز مجاہد * 1947ء - ہنری فورڈ، فورڈ کار کمپنی کے موجد ، مصنف ، سیاست دان ، صنعت کار تعطیلات و تہوار حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 8 اپریل واقعات * 1769ء - برمیوں نے ایوتھایا سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ * 1904ء - برطانیہ اور فرانس نے دوستی کا مشہور معاہدہ طے کر لیا۔ * 1953ء - کینیا کے برطانوی حاکموں نے جومو کینیاٹٹا کو مجرم قرار دے دیا * 1985ء - بھوپال میں ہونے والے کیمیائ حادثے پر بھارت نے مقدمہ دائر کر دیا۔ * 2008ء - لاہور میں شیر افگن کا گھیراؤ اور تشدد، تھپڑ اور جوتے مارے گئے۔ * 1997ء مائیکروسافٹ کارپوریشن نے انٹرنیٹ ایکسپلورر چار اعشاریہ صفر جاری کیا * 1950ء پاکستان اور بھارت نے لیاقت نہرو معاہدے پر دستخط کیے گئے ولادت * 563 ق م - گوتم بدھ۔ * 1320ء - پیٹر اعظم، پاتغال کے بادشاہ * 1868ء - کرسچین نہم، ڈینمارک کے بادشاہ * 1875ء - ایلبرٹ اول، بیلجیم کے بادشاہ * 1938ء - کوفی عنان، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل * 1938ء -محمد فاروق کرکٹر، پاکستانی ٹیم وفات * 1143ء - جان دوم کامنینس، قسطنطنیہ کے شاہنشاہ * 1973ء - پابلو پکاسو، ہسپانوی مصور * 1899ء امریکا سے تعلق رکھنے والی مارتھا پلیس پہلی خاتون تھیں جنہیں برقی کرسی پر سزائے موت دی گئی حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 9 اپریل واقعات * 1241ء - جنگ لائگنٹز میں منگولوں نے پولش اور جرمن افواج کو ہرا دیا۔ * 1940ء - دوسری جنگ عظیم میں ڈوئچ لینڈ (جرمنی) نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کر دیا۔ * 1967ء - بوئنگ 737 کی پہلی پرواز * 1991ء - جارجیا نے روس سے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ * 2003ء - عراق میں باتھ حکومت کا اختتام ہو گیا۔ * 2009ء -بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں تین بلوچ رہنماؤں بلوچ نیشنل موومنٹ کے صدر غلام محمد بلوچ کو دو ساتھیوں سمیت قتل کیا گیا۔ * 1991ء جارجیا نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا * 1965ء پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا آغازہوا * 1973ء ہالینڈنے ویتنام کو تسلیم کیا * 1972ء روس اور عراق نے دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے * 1945ء امریکی ایٹمی انرجی کمیشن کا قیام * 1940ء جنگ عظیم دوم:جرمنی نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کیا * 1918ء لٹویا نے آزادی کا اعلان کیا * 1667ء پہلی عوامی آرٹ کی نمائش فرانس کے دار الحکومت پیرس میں ہوئی ولادت * 1835ء - لیوپولڈ دوم، بیلجیم کے بادشاہ * 1927ء - منیر نیازی، شاعر وفات * 491ء - زینو، قسطنطین بادشاہ * 1024ء - پوپ بینیڈکٹ ہشتم * 1626ء - فرانسز بیکن، برطانوی فلسفی * 1959ء - فرینک لائڈ رائٹ، فن تعمیر سے متعلق * - 2009ء شکتی سامنت، بھارتی فلمساز تعطیلات و تہوار * بہائی مذہب کا تہوار جلال حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] 20 اپریل واقعات * 899 قبل مسیح – چینی مؤرخین اور تاریخ نگاروں نے سورج گرہن کا تذکرہ کیا ہے۔ * 1745ء – فرانسیسی طبیب اور معالجاتی نفسیات کا بانی فلپ پائنل پیدا ہوا۔ * 1862ء – لوئیس پاسچر اور کلاؤڈے برناڈ نے پاسچرائزیشن کی پہلی جانچ مکمل کی۔ انھوں نے ثابت کیا کہ حرارت دینے سے جراثیم کی افزائش کو روکا جا سکتا ہے۔ * 1902ء فرانسیسی سائنس دان جوزے میری کیوری اور پیری کیوری نے کامیابی کے ساتھ پچ بلینڈ ( یورینیئم اور ریڈیم کیی ماخذ ایک اہم معدن) سے ریڈیم نمکیات علاحدہ کر لیے۔ 1903ء میں ان دونوں کو ہنری بیکرل کے ساتھ مشترکہ نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا۔ * 1963ء – پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیو کلیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنسٹیک) کے احاطے میں پاکستان کے پہلے تحقیقی ایمٹی تعامل گر (ری ایکٹر) کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ * 2012ء – بھوجا ائیر پرواز 213 نزد بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈا اسلام آباد، پاکستان گر کر تباہ ہونے سے 127 افراد ہلاک ہوئے۔ ولادت * 571ء - حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت کے اور اسلام کے آخری نبی * 1808ء – نپولین سوم، فرانسیسی سیاست دان، پہلا صدر فرانس (و۔ 1873ء) * 1889ء – ہٹلر، آسٹریائی جرمن سپاہی اور سیاست دان، جرمنی کا چانسلر (و۔ 1945ء) * 1907ء – میران بخش، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی (و۔ 1991ء) * 1918ء – کائی سیگ بہن، سیوڈنی طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 2007ء) * 1927ء – کارل ایلکزینڈر میولر، سوئس طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ * 1939ء – گرو ہارلم برنت لاند، ناروی سیاست دان، 22 ویں وزیر اعطم ناروے * 1945ء – تھین شین، برمی جنرل اور سیاست دان، آٹھویں صدر برما * 1945ء – رانا محمد اقبال خان، پاکستانی سیاست دان * 1949ء – ببیتا، بھارتی اداکارہ * 1949ء – چودھری محمد برجیس طاہر، پاکستانی سیاست دان * 1950ء – چندرا بابو نائڈو، بھارتی سیاست دان، تیرہویں وزیر اعلیٰٰ آندھرا پردیش * 1952ء – اشفاق پرویز کیانی، سابق سربراہ پاک فوج * 1952ء – سید خورشید شاہ، پاکستانی سیاست دان * 1969ء – فیلکس بومگارٹنر، آسٹریائی سکائی ڈایور اور بیس جمپر * 1970ء – علی عظمت، پاکستانی گلوکار * 1972ء – ممتا کلکرنی، بھارتی اداکارہ * 1972ء – انجلا زویری، برطانوی اداکارہ * 1978ء – ادیتی گپتا، بھارتی اداکارہ * 1985ء – اسرار، پاکستانی موسیقار * 1987ء – رتن راجپوت، بھارتی اداکارہ * 1988ء – سائرہ یوسف، پاکستانی ماڈل اور اداکارہ * 1989ء – نینا داؤلوری، مس امریکا 2014ء وفات * 1588ء – سونام گستاؤ، تیسرا دلائی لاما (1543ء) * 1887ء – محمد شریف پاشا، یونانی مصری سیاست دان، دوسرے وزیر اعظم مصر (پ۔ 1826ء) * 1918ء – کارل فرڈینڈ براون، جرمن امریکی طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1850ء) * 1968ء – ثریا طرزی، ملکہ افغانستان، امان اللہ خان کی بیوی (پ۔ 1899ء) * 1970ء – شکیل بدایونی پاکستانی شاعر اور نغمہ نگار (پ۔ 1916ء) * 1975ء – ابو بکر احمد حلیم، پاکستانی سیاست دان، ماہر تعلیم اور کارکن تحریک پاکستان (پ۔ 1897ء) * 1986ء – سبط حسن، پاکستانی صحافی، محقق اور فیالیت پسند (پ۔ 1916ء) * 2003ء – برنارڈ کٹز، جرمن انگریز ماہر فعلیات دان، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1911ء) * 2016ء – چاینا، امریکی ریسلر (پ۔ 1969ء) تعطیلات و تہوار * اقوام متحدہ کا یوم چینی زبان، اقوام متحدہ حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 21 اپریل واقعات * 1509ء – ہنری ہشتم شاہ انگلستان اپنے باپ ہنری ہفتم کی وفات کے بعد تاج برطانیہ کا وارث بن گیا۔ * 1526ء – لودھی سلطنت کے آخری حکمران، ابراہیم لودھی کو ظہیر الدین محمد بابر نے پانی پت کی لڑائی میں شکست دی اور قتل کر دیا۔ * 1802ء – 12 ہزار وہابیوں نے عبد العزیز بن محمد بن سعود کی زیر قیادت، کربلا شہر پر حملہ تین ہزار سے زائد باشندوں کو قتل کیا اور شہر کو برباد کر دیا۔ * 1898ء – امریکا نے ہسپانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ * 1926ء – جنت البقیع، چار شیعہ اماموں کے مزارات، وہابیوں نے مسمار کر دیے۔ * 1987ء – تامل ٹائیگرز نے سری لنکا کے دارالحکومتی شہر کولمبو میکڑ کار بم دھماکا کیا جس میں، 106 افراد ہلاک ہوئے۔ * 2005ء – ہسپانیہ کی پارلیمنٹ نے ہم جنس شادی کو قانونی قراردیا۔ ولادت * 1837ء – فریڈرک باجر، ڈنمارکی سیاست دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1922ء) * 1864ء – میکس ویبر، جرمن ماہر معاشیات و سماجیات (و۔ 1920ء) * 1882ء – پرسی ولیم برج مین، امریکی طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1961ء) * 1889ء – پاول کرر، روسی سوئس کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1971ء) * 1915ء – انتھونی کوئن، میکسیکی امریکی اداکار (و۔ 2001ء) * 1926ء – ایلزبتھ دوم، ملکہ برطانیہ * 1926ء - سید ظہور شاہ ہاشمی، بلوچی شاعر (و۔ 1978ء) * 1932ء – ایلین مئے، امریکی اداکارہ، مزاحیہ اداکارہ، ہدایت کار اور مصنفہ * 1945ء – سرینیوساگرنم ونکتتاراگھون، بھارتی کرکٹ کھلاڑی اور امیپائر * 1963ء – لیزا ڈار، امریکی اداکارہ * 1968ء – لیسلی سلوا، امریکی داکارہ * 1971ء – ایشوریا، بھارتی اداکارہ * 1976ء – شبیر احمد، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی * 1989ء – ٹینٹو لوکا، بھارتی ایتھلیٹ وفات * 1408ء – امیر جلال الدین میران شاہ، پندرہوین صدی میں آذربائیجان کا حاکم (پ۔ 1366ء) * 1509ء – ہنری ہفتم شاہ انگلستان (پ۔ 1457ء) * 1825ء – جون فریڈرک پفاف، جرمن ریاضی دان (پپ۔ 1765ء) * 1908ء – قاضی عبد الوحید فردوسی، ہندوستانی مسلمان مبلغ و عالم دین (پ۔ 1872ء) * 1910ء – مارک ٹوین، امریکی ناول نگار، طنز نگار اور تنقید نگار (پ۔ 1835ء) * 1938ء – محمد اقبال، پاکستانی قومی شاعر، فلسفی (پ۔ 1877ء) * 1946ء – جان مینارڈ کینز، انگریز ماہر معاشیات (پ۔ 1883ء) * 1965ء – اڈوارڈ وکٹر اپلیٹن، انگریز اسکاٹ طبیعیات دان، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1892ء) * 1996ء – جوہر دودائیف، چیچن جنرل اور سیاست دان، چیچن جمہوریہ اشکیریہ کے پہلے صدر (پ۔ 1944ء) * 1996ء – عبد الحفیظ کاردار، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی (پ۔ 1925ء) * 2003ء – نیناسیمون، امریکی گیت نگار، پیانو نواز اور فعالیت پسند (پ۔ 1933ء) * 2009ء – اقبال بانو، پاکستانی غزل گلوکارہ (پ۔ 1935ء) * 2016ء – پرنس روجرز نیلسن، امریکی گیت نگار، گٹار نواز (پ۔ 1958ء) *2023ء - انور بیگ پاکستانی سیاست دان،سابق ممبر سینٹ اف پاکستان تعطیلات و تہوار * بہائی مذہب میں جشن رضوان۔ حوالہ جات زمرہ:21 اپریل زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال
[Wikipedia:ur] 22 اپریل واقعات * 1519ء – ہسپانوی ہرنان کورتیس نے ویراکروز، میکسیکو کی بنیاد رکھی۔ * 1970ء – پہلا یوم ارض منایا گیا۔ * 1972ء – جنگ ویت نام: ویتنام میں بڑھتی ہوئی امریکی بمباری کے خلاف لاس اینجلس، نیویارک شہر اور سان فرانسسکو میں جنگ مخالف مظاہرے۔ ولادت * 1451ء – ازابیلا اول (و۔ 1504ء) * 1724ء – امانوئل کانٹ، جرمن ماہر انسانیات اور فلسفی (و۔ 1804ء) * 1854ء – ہینری لا فونٹین، بلجئیم وکیل اور مصنف، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1943ء) * 1870ء – ولادیمیر لینن، جرمن/سویڈنی-روسی قانون دان اور بانی سویت اتحاد (و۔ 1924ء) * 1876ء – رابرٹ برانی، آسٹریائی-سویڈنی ماہرِ اُذنیات اور طبیب، نوبل انعام یافتہ (و۔ 1936ء) * 1894ء – ابو الجلال ندوی، ہندستانی نژاد پاکستانی محقق، نقاد، معلم اور ماہرِ لسانیات تھے. * 1909ء – ریٹالیوی -مونٹلسینی، سفاردی یہودی یہودی اطالوی ماہرِ علمُ الاعصاب، نوبل انعام یافتہ (و۔ 2012ء) * 1914ء – بی آر چوپڑہ، بھارتی فلم ہدایت کار (و۔ 2008ء) * 1919ء – ڈونالڈ جے کرام، امریکی کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ (و۔ 2001ء) * 1926ء – شارلٹ رایہ، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ * 1937ء – جیک نیکلسن، امریکی اداکار اور پروڈوسر * 1963ء – سین لاک، انکلش مزاحیہ اداکار (و۔ 2021ء) وفات * 1616ء – میگوئیل د سروانتس، ہسپانوی ناول نگار، شاعر اور ڈراما نگار (پ۔ 1547ء) * 1989ء – ایملیو جی سگری، اطالوی امریکی ماہر طبیعیات، نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1905ء) * 1994ء – رچرڈ نکسن، امریکی لفٹینینٹ، قانون دان اور سیاست دان، 37 واں صدر امریکا (پ۔ 1913ء) * 2002ء – لنڈا لولیس، امریکی فحش اداکارہ و فعالیت پسند (پ۔ 1949ء) * 2011ء – معین اختر، پاکستانی مزاحیہ اداکار، ٹی وی میزبان (پ۔ 1950ء) * 2017ء – ایرن مورن، امریکی اداکارہ (پ۔ 1960ء) تعطیلات و تہوار * یوم ارض ارتھ ڈے۔ زمین کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 23 اپریل واقعات * 1014ء - جنگ کلانٹارف میں برائن بورو کی فوج نے وائکنگز کو ہرا دیا۔ * 1533ء چرچ آف انگلینڈ نے کیتھرین آف آراگون اور شاہ ہنری ہشتم کی شادی کالعدم قرار دے دی * 1660ء - پولینڈ اور سویڈن کے درمیان معاہدہ اولیوا۔ * 1661ء - چارلز دوم برطانیہ کے بادشاہ بن گئے۔ * 1940ء - مسیسپی کے نچز کے ایک ڈانس ہال میں تال کلب میں آگ لگنے سے 198 افراد ہلاک ہو گئے۔ * 1948ء عرب اسرائیل جنگ:فلسطین نے حیفہ شہر پر قبضہ کر لیا * 1959ء کیوبا نے پناما پر حملہ کیا۔ * 1968ء سلطنت متحدہ برطانیہ میں نئے اعشاری سکوں کا نفاذ * 1971ء ویتنام جنگ کے خلاف دو لاکھ افراد نے واشنگٹن میں احتجاجی مارچ کیا۔ * 1971ء - بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ: مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) کے جاٹھی بھنگا علاقے میں پاکستانی فوج اور رضاکاروں نے تقریباً 3,000 ہندو ہجرت کرنے والوں کا قتل عام کیا۔ * 1984ء ایڈز کا باعث بننے والا مہلک ایچ آئی وی وائرس دریافت ہوا * 1990ء جہانگیر خان نے مسلسل نویں مرتبہ برٹش اوپن اسکوائش چمپئن شپ جیتی * 1990ء نمیبیا، اقوام متحدہ میں شامل ہونے والا ایک سو ساٹھواں اور دولت مشترکہ میں شامل ہونے والا پچاسواں ملک بنا * 1993ء - اقوام متحدہ کے ذیر نگرانی رائے شماری میں ارٹریئنوں نے حبشہ سے آزادی کا اظہار کیا۔ * 2005ء - پہلی یوٹیوب ویڈیو، جس کا عنوان "می ایٹ دا زو" تھا، شریک بانی جاوید کریم نے شائع کی۔ * 2006ء القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے عیسائیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا * 2007ء امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسٹیریو اسپیس کرافٹ سے حاصل شدہ سورج کی پہلی تھری ڈی تصاویر جاری کیں * 2013ء - عراق کے شہر حویجہ میں تشدد پھوٹ پڑنے سے کم از کم 28 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ولادت * 1185ء - الفونسو دوم، پرتگال کے بادشاہ * 1564ء - ولیم شیکسپیئر، برطانوی ادیب * 1676ء - فریڈرک اول، سویڈن کا بادشاہ * 1791ء - جیمز بیوکینن، امریکا کا پندرھواں صدر * 1823ء - عبد الماجد، عثمانی خلیفہ * 1858ء- میکس پلانک، نوبل انعام یافتہ جرمن ماہر طبیعیات اور کوانٹم نظریے کے خالق * 1867ء - جوہانس فائبگر، ڈنمارک کے ایک جراثمیات کے معلم ،سائنس دان اور طبیب * 1897ء - لسٹر پیرسن، کینیڈین سیاست دان، سفارت کار، سیاست دان اور کینیڈا کے 14ویں وزیر اعظم * 1908ء - ولادیسلاو تُورووِچ، پولش پاکستانی ہوا باز، فوجی سائنس دان اور ایروناٹیکل انجینئر * 1968ء - سویرا گھوش، بھارتی جج * 1933ء - رضی اختر شوق، پاکستانی اردو زبان کے نامور شاعر و ڈراما نگار * 1937ء - بیری شیپرڈ، آسٹریلوی کرکٹ کھلاڑی * 1979ء - جشنو راگھون، بھارتی اداکار ** جوانا کروپا، امریکی ماڈل اور اداکارہ * 1995ء - جیجی حدید، امریکی فیشن ماڈل وفات * 1014ء - برائن بورو، آئرلینڈ کا بادشاہ * 1124ء - ایلکزینڈر اول، اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ * 1616ء - ولیم شیکسپیئر، برطانوی ادیب * 1616ء - میگیہ سروینٹیس، ہسپانوی ادیب * 1850ء - ولیم ورڈزورتھ، انگریزی شاعر * 1951ء - چارلز ڈاز، امریکی بینکار، سیاست دان اور امریکا کے نائب صدر * 1998ء امریکی انسانی حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ کا قاتل جیمز ارل رائے * 1992ء - ستیہ جیت رائے، اکیڈمی ایوارڈ یافتہ بھارتی ہدایت کار اور فلم ساز * 2002ء – تاج سعید، پاکستانی اردو زبان کے ممتاز نقاد، شاعر، صحافی اور مترجم * 2007ء - بورس یلسن، روس کے صدر * 2013ء - طالبان کے بانی ملا عمر کی وفات بوجہ مرض سل۔ (پ 1960ء) ** شمشاد بیگم، بھارت گلوکارہ * 2018ء - ویرا ہنگورانی، بھارتی ماہر امراض نسواں، پرسوتی ماہر اور طبی مصنفہ تعطیلات و تہوار * 1995ء یونسیکو نے تئیس اپریل کو کتاب کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا یہ دن انگریز ڈراما نگار ولیم شیکسپیئر اور ہسپانوی ادیب سروانٹس سے منسوب ہے جن کا انتقال تئیس اپریل سولہ سوسولہ کو ہوا حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 24 اپریل واقعات * 1184 ق م - روایات کے مطابق یونانی ٹرائے میں گھس گئے۔ * 1704ء - امریکا میں پہلے باقاعدہ روزنامے نیولیٹر کا اجرا۔ * 1837ء - ہندوستان کے شہر سورت میں زبردست آگ لگنے سے 500 سے زیادہ اموات اور 9000 سے زیادہ مکانات تباہ ہو گئے۔ * 1877ء - روس ترکی جنگ: روسی سلطنت نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ * 1915ء - سلطنت عثمانیہ کی ارمنی آبادی کے مبینہ قتل عام کا آغاز * 1954ء آسٹریلیا اور سوویت یونین نے سفارتی تعلقات منقطع کیے * 1968ء - موریشس اقوام متحدہ کا رکن بن گیا۔ * 1970ء - گیمبیا جمہوریہ بن گیا۔ * 1970ء سینیگال میں آئین نافذ کیا گیا * 1970ء گمبیا نے دولت مشترکہ کے زیر حت جمہوریہ بننے کا اعلان کیا * 1962ء مشرقی پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں ردّ و بدل کااعلان کیا گیا * 1981ء آئی بی ایم نے پرسنل کمپیوٹر(پی سی) متعارف کرایا * 1995ء پاکستان اور بنگلہ دیشی وزرائے اعظم کے درمیان ڈھائی لاکھ بہاریوں کی پاکستان واپسی پر مذاکرات ہوئے۔ * 2013ء - ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے قریب ایک عمارت گر گئی، 1,129 افراد ہلاک اور 2,500 دیگر زخمی ہوئے۔ ولادت * 937ء - ابو عبد الرحمن سلمی، شافعی محدث (حدیث کا ماسٹر)، مفسر (قرآن کا مفسر)، اولیاء کے شیخ، صوفی ہیوگرافر اور ایک نامور مصنف * 1533ء - ولیم اول آف آرنج، نیدرلینڈ کے بانی والد * 1903ء - نکولائی زبولوتسکی، روسی شاعر، بچوں مصنف اور مترجم * 1908ء - وایلیٹ ہری الوا، بھارتی وکیل، صحافی اور سیاست دان * 1919ء - گلافکوس کلیریدیس، قبرص کے چوتھے صدر * 1920ء - عین الحق فرید کوٹی، پنجابی زبان کے محقق اور ماہر لسانیات * 1931ء - ستیہ پال آنند، امریکا میں مقیم بھارتی نژد اردو، ہندی، انگریزی اور پنجابی زبان کے ادیب اور شاعر * 1934ء - احمد رشدی، پاکستان کے مشہور گلوکار * 1934ء - الیاس احمد گدی، بھارتی ناول نگار، سفرنامہ نگار اور افسانہ نگار * 1934ء - شرلی میکلین، امریکی اداکارہ، مصنف اور سابق رقاصہ * 1942ء - باربرا اسٹریسینڈ، امریکی گلوکارہ، اداکارہ اور فلم ساز * 1947ء - راجر ڈی کورنبرگ، امریکی کیمیادان اور نوبل انعام یافتہ * 1968ء - ہاشم تھاچی، کوسوو کے صدر * 1973ء - پرمود ساونت، بھارتی سیاست دان اور گوا کے وزیر اعلیٰ * 1982ء - کیلی کلارکسن، امریکی گلوکارہ، نغمہ نگار اور مصنف وفات * 1342ء - پوپ بینیڈکٹ دوازدہم * 1908ء - رامدھاری سنگھ دنکر، بھارتی ہندی شاعر، مضمون نگار، محب وطن اور استاد * 1960ء - میکس وون لیو، جرمنی کے ایک طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1964ء - گرہارڈ ڈومگٹ، جرمن حیاتی کیمیا دان، طبیب اور نوبل انعام یافتہ * 1982ء - حسن طارق، نامور فلمی ہدایتکار * 2001ء - شیلیش مٹیانی، بھارتی مصنف، صحافی، بچوں کے مصنف اور شاعر * 2006ء - نسرین پروین الحق، بنگلہ دیش کی معروف سوشل ورکر اور حقوق انسانی کی کارکن * 2023ء - طارق فتح، پاکستانی نژاد کینیڈین مصنف، براڈکاسٹر حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال
[Wikipedia:ur] 25 اپریل واقعات * 1707ء - اختلاف جانشینی ہسپانیا کی جنگ المانسہ میں فرانسیسیوں نے آسٹرینز کو ہرا دیا۔ * 1792ء - فرانس کا ترانہ لے مارسیلیز لکھا گیا۔ * 1846ء - ٹیکساس پر اختلافات کی وجہ سے امریکا اور میکسیکو کے درمیان جنگ ہو گئی * 1859ء - نہر سوئز کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔ * 1898ء - امریکا نے ہسپانیا سے اعلان جنگ کر دیا۔ * 1915ء جنگ عظیم دوم:آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فوج نے ترکی پر حملہ کیا۔ * 1926ء - رضا پہلوی ایران کا شاہ بن گیا۔ * 1945ء - پچاس ممالک نے اقوام متحدہ کا آعاز کیا۔ * 1954ء - بیل ٹیلی فون لیبارٹریز کے ذریعہ پہلے عملی شمسی خلیہ کا عوامی طور پر مظاہرہ کیا گیا۔ * 1982ء - اسرائیلی فوجوں کی سنائی سے واپسی مکمل ہو گئی۔ * 1993ء - سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کر دی۔ * 2005ء بلغاریہ اور رومانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کیے * 2015ء - نیپال میں 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد تقریباً 9,100 افراد ہلاک ہوئے۔ ولادت * 1214ء - لوئی نہم، فرانس کے نویں لوئی بادشاہ * 1284ء - ایڈورڈ دوم، برطانیہ کا بادشاہ * 1599ء - اولیور کرامویل، برطانیہ کا سربراہ * 1823ء - عبد المجید اول، سلطنت عثمانیہ کے 31 ویں سلطان * 1840ء - پیوٹر ایلیچ چائکوفسکی، روسی موسیقار * 1872 - سی بی فرائی، انگریز کرکٹ کھلاڑی * 1874ء - گگلیلمو مارکونی، اطالوی موجد، الیکٹریکل انجینئر اور نوبل انعام یافتہ * 1900ء - ولف گینگ پاولی، آسٹریا کے طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1906 - پدھومی پیتا، تمل ادب کے ادیب اور افسانہ نگار * 1940ء - ال پاچینو، امریکی اداکار * 1952ء - حیدر العبادی، 48ویں وزیر اعظم عراق * 1964ء - ہانک ازاریا، امریکی اداکار و صداکار * 1969ء - رینی زیلویگر، امریکی اداکارہ * 1970ء - جیسن لی، امریکی اداکار * 1970ء - رحمت عزیز چترالی، پاکستانی سافٹ ویر انجنئر، ماہر لسانیات، ادیب، شاعر، محقق، ماہر اقبالیات * 1978ء - ملالی جویا، افغانستان سے کارکن، مصنف اور سیاست دان * 1988ء - سارہ پیکسٹن، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ وفات * 1272ء - ابن سید الناس، محدث، فقیہ، مؤرخ اور مشہور سیرت نگار * 1926ء - سن جونگ، آخری کوریائی شہنشاہ * 1968ء - استاد بڑے غلام علی خان، پاکستانی کلاسیکی گلوکار * 1995ء - جی ایم سید، تحریک پاکستان کے رہنما اور سیاست دان * 1984ء ممتاز عالم دین مولانا محمد شفیع اوکاڑوی انتقال کر گئے * 1993ء - محمد باقر، اردو، فارسی اور پنجابی کے نامور اسکالر، محقق، افسانہ نگار، نقاد اور ماہرِ تعلیم * 1991ء - میکش اکبر آبادی، اردو زبان کے نامور شاعر * 2018ء - مدیحہ گوہر، پاکستانی اداکارہ * 2023ء - پرکاش سنگھ بادل، بھارتی پنجاب کے آٹھویں وزیر اعلیٰ تعطیلات و تہوار * 1970ء گیمبیا میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے * ڈی این اے ڈی این اے کا عالمی دن ۔ حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 26 اپریل واقعات * 1828ء روس نے یونان کی آزادی کے لیے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا * 1926ء جرمنی اور روس کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ * 1942ء منچوریا کے شہر ہونکیکو کولیئری میں کوئلے کی کان کی تاریخ کا سب سے ہولناک حادثہ ہوا جس میں ایک ہزار پانچ سو انچاس افراد ہلاک ہوئے۔ * 1962ء امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا خلائی شٹل رینجر فور چاند پر جاتے ہوئے تباہ ہو گیا۔ * 1964ء - ٹینگانیکا اور زنجبار الحاق کر کہ تنزانیہ بن گئے۔ * 1986ء - یوکرین میں چرلوبل ایٹمی بجلی گھر میں دھماکا ہوا جو دنیا کے بد ترین ایٹمی حادثوں میں سے ایک ہے۔ * 1989ء - سب سے مہلک طوفان وسطی بنگلہ دیش سے ٹکرا گیا، 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک، 12,000 زخمی اور 80,000 کے قریب بے گھر ہوئے۔ * 2003ء - صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ * 2005ء شام نے لبنان سے اپنی فوج کا انخلا کرکے لبنان سے انتیس سالہ قبضہ ختم کیا * 2015ء - نورسلطان نظربایف 97.7% ووٹوں کے ساتھ دوبارہ قازقستان کے صدر منتخب ہوئے۔ ولادت * 121ء - مارکوس اوریلیوس، رومی شہنشاہ * 757ء - ہشام بن عبد الرحمٰن الداخل، قرطبہ کا دوسرا امیر * 1284ء - تقی الدین سبکی، فقیہ، محدث، حافظ، مفسر اور ادیب * 1575ء - ماری دے میدچی، فرانس کی ملکہ * 1876ء - مریم تھریسیا چرمل، بھارتی سائرو-مالابار کیتھولک کی راہبہ * 1879ء - اون ولنس رچرڈسن، برطانوی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1895ء - خواجہ حبیب اللہ، ڈھاکہ کے پانچویں نواب * 1932ء - ڈاکٹر اسرار احمد، اسلامی مفکر، عالم دین * 1932ء - مائیکل سمتھ، کینیڈا کے کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ * 1933ء - ارنو الن پنزاس، امریکی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1958ء - فریال تالپور، سیاست دان اور پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صدر * 1956ء - شیریں مزاری، پاکستانی سیاست دان * 1970ء - میلانیا ٹرمپ، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی وفات * 1221ء - شیخ فرید الدین عطار، ایرانی ماہرِ دوا سازی، سوانح نگار، متصوف، صوفی * 1748ء - محمد شاہ، مغلیہ سلطنت کا چودھواں بادشاہ * 1920ء - رامانوجن، ہندوستانی ریاضی دان * 1940ء - کارل بوش، جرمن کیمیا دان، انجینئر اور نوبل انعام یافتہ * 1951ء - آرنلڈ سومرفیلڈ، جرمن نظری طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1994ء - زین الشرف بنت جمیل، اردن کی سابق ملکہ اور خاتون اول * 2021ء - منظور احتشام، ہندی ادب کے ایک بھارتی مصنف تعطیلات و تہوار * جائداد کے شعور کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 27 اپریل واقعات * 711 - ہسپانیہ کی اسلامی فتح: طارق بن زیاد کی سربراہی میں موریش دستے جبل‌الطارق میں اترے تاکہ جزیرہ نما آئبیریا (الاندلس) پر اپنا حملہ شروع کریں۔ * 1124ء - ڈیوڈ اول اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ بن گیا۔ * 1296ء - جنگ ڈنبار میں انگلستان نے اسکاٹس کو ہرا دیا۔ * 1908ء - لندن میں گرمیوں کے اولمپک کھیلوں کا آغاز ہوا۔ * 1909ء - خلیفہ عبدالحمید ثانی کو تخت سے ہٹا دیا گیا اور ان کے بھائی محمد خامس خلیفہ بنے۔ * 1941ء - دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈوئچ فوجیں ایتھنس میں داخل ہو گئیں۔ * 1960ء - ٹوگو نے فرانس سے آزادی حاصل کر لی۔ * 1961ء امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے گاما ریز کے مطالعے کے لیے ایکسپلورر گیارہ اجرام فلکی کے مدار میں بھیجا * 1974ء امریکی سابق صدر رچرڈ نکسن کے مواخذے کے لیے واشنگٹن میں دس ہزار افراد نے مارچ کیا * 1984ء صدرجنرل ضیاء الحق نے احمدیوں پر اسلامی نام و علامات کے استعمال پر پابندی لگادی * 1994ء سپر جمبو جیٹ اے ئر بس تیس سو اسی نے فرانس سے پہلی پرواز کی * 2008ء - حامد کرزئی پر طالبان کا حملہ، رکن پالیمنٹ اور 3 حملہ آوروں سمیت 6 جاں بحق، افغان صدر بال بال بچ گئے۔ ولادت * 1822ء - یولیسس ایس گرانٹ، امریکا کا اٹھارواں صدر * 1856ء - شہنشاہ تونگژی، شہنشاہ چین * 1875ء - موریس ڈی بروگلی، فرانسیسی ماہر طبیعیات اور نوبل انعام یافتہ * 1878ء - صدر الدین عینی، تاجکستان کے قومی شاعر * 1903ء - غفور غلام، ازبکستان کے قومی شاعر، ناول نگار اور مترجم * 1911ء - صوفی برکت علی، عظیم اسلامی صوفی اور مصنف * 1916ء - زبیدہ یزدانی، ہندوستانی تاریخ دان * 1934ء - سید کمال، پاکستان کے پہلے مزاحیہ اداکار * 1943ء - اکبر آغا، پاکستانی مصنف اور ماہر تعلیم * 1959ء - انڈریو فائر، امریکی حیاتیات دان، معلم جرثومیات اور نوبل انعام یافتہ * 1962ء - ایڈورڈ موزر، ناروے کے سائنس دان اور نوبل انعام یافتہ * 1967ء - ولیم الیکساندر، ہالینڈ کا بادشاہ * 1979ء - محمد نوید انصاری، عالم دین * 1983ء - نعمان نعیم، پاکستانی اسلامی اسکالر وفات * 1605ء - پوپ لیو یازدہم * 1947ء - مرزا فرحت اللہ بیگ، ہندوستانی اردو مزاح اور نثر کے مصنف اور ریاست حیدرآباد میں ایک سینئر جج * 1959ء - گورڈن آرمسٹرانگ، نومولود بچوں کی نگہداشت کا آلہ بنانے والے امریکی سائنس دان * 1962ء - فضل الحق، ہندوستانی سیاست دان، قرارداد پاکستان کے اہم رکن * 1972ء - کوامے انکرومہ، گھانا کا سربراہ * 1978ء - محمد داؤد خان، افغانستان کا صدر * 2021ء - مرغوب بنی حالی، کشمیری شاعر * 2023ء - عبداللہ کامل، مصری مسلمان، مبلغ قرآن اور قاری تعطیلات و تہوار * 1992ء یوگو سلاویہ، سربیا اور مونٹی نیگرو پر مشتمل وفاقی جمہوریہ یوگو سلاویہ وجود میں آئی * 1978ء افغانستان کا قومی دن * 1960ء مغربی افریقہ کے ملک ٹوگو نے فرانس سے آزادی حاصل کی * گرافک ڈیزائن کا عالمی دن * جنوبی افریقہ کی آزادی کادن حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 28 اپریل واقعات * 1758ء - مرہٹوں نے اٹک کی جنگ میں افغانوں کو شکست دی اور شہر پر قبضہ کیا۔ * 1920ء - آذربائیجان پہلی بار سوویت یونین کا حصہ بنا۔ * 1952ء - نیہون (جاپان) پر امریکی فوجوں کا قبضہ ختم ہو گیا۔ * 1962ء پاکستان میں قومی اسمبلی کی ایک سو چھپن نشستوں کے لیے پہلی بار انتخابات منعقد ہوئے۔ * 1967ء - ویت نام جنگ: باکسر محمد علی نے ریاستہائے متحدہ کی فوج میں شمولیت سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اس کی چیمپئن شپ اور لائسنس چھین لیا گیا۔ * 1969ء - شارل ڈی گول نے فرانس کے صدر کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ * 1991ء صدر غلام اسحاق خان نے راولپنڈی میں الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال کا افتتاح کیا * 2007ء چارسدہ میں خودکش حملے میں بائیس افراد ہلاک اور وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ سمیت متعدد زخمی ہوئے ولادت * 990ء - ابو یعلی حنبلی، عظیم حنبلی فقیہ، اطہری عالم دین * 1442ء - ایڈورڈ چہارم، برطانیہ کا بادشاہ * 1758ء - جیمز مونرو، پانچواں امریکی صدر * 1889ء - انٹونیو ڈی اولیویرا سالازار، پرتگال کا سربراہ * 1921ء - سیمین دانشور، ایرانی ماہر تعلیم، ناول نگار، افسانہ نگار اور مترجم * 1924ء - کینیتھ کاؤنڈا، زیمبیا کے پہلے صدر * 1936ء - طارق عزیز، پاکستان اداکار اور شاعر * 1937ء - صدام حسین، عراقی سربراہ * 1941ء - کارل بیری شارپلیس، امریکی کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ * 1943ء - میجر شبیر شریف شہید، پاک فوج * 1944ء - حبیب اللہ مختار، پاکستانی اسلامی اسکالر اور مصنف * 1949ء - گیان سودھا مشرا، بھارتی عدالت عظمٰی کی سابق جج * 1950ء - جے لینو، امریکی مزاح کار * 1966ء - مصطفی مدبولی، مصر کا وزیر اعظم * 1980ء - شمس، عربی گلوکارہ اور اداکارہ * 1994ء - نازش جہانگیر، پاکستانی ٹیلی ویژن اداکارہ وفات * 1236ء - شمس الدین التتمش، سلطان سلطنت دہلی * 1257ء - شجر الدر، مصر کی حکمران * 1429ء - نعمت اللہ شاہ ولی، ایرانی صوفی بزرگ * 1935ء - آغا حشر کاشمیری، اردو زبان کے شاعر * 1945ء - بینیتو موسولینی، اٹلی کے وزیر اعظم * 1978ء - محمد داؤد خان، افغانستان کا صدر * 1999ء - آرتھر لیونارڈ اشکالو، امریکا سے تعلق رکھنے والے طبیعیات دان تعطیلات و تہوار * -- ورکرز میموریل ڈے حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 29 اپریل واقعات * 1661ء - چین کی منگ سلطنت نے تائیوان پر قبضہ کر لیا۔ * 1672ء - ولنگدیزی جنگ کے دوران فرانس نے نیدرلینڈز پر حملہ کر دیا۔ * 1672ء فرانس نے ہالینڈ پر حملہ کیا * 1856ء برطانیہ اور روس میں امن معاہدہ طے ہوا * 1945ء - دوسری جنگ عظیم کے دوران اطالیہ میں ڈوئچ فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ * 1945ء - ہٹلر نے اپنی دیرینہ ساتھی ایوا براؤن سے شادی کی۔ * 1970ء - جنگ ویت نام: ریاستہائے متحدہ اور جنوبی ویتنام کی افواج نے ویت کانگ کا شکار کرنے کے لیے کمبوڈیا پر حملہ کیا۔۔ * 1986ء - لاس اینجلس پبلک لائبریری کی مرکزی لائبریری میں آگ لگنے سے 400,000 کتابیں اور دیگر اشیاء جل کر خاکستر ہوئیں۔ * 1991ء - ایک طوفان نے جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے چٹاگانگ ضلع میں تقریباً 155 میل فی گھنٹہ (249 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہواؤں کو نشانہ بنایا، جس سے کم از کم 138,000 افراد ہلاک اور دس ملین بے گھر ہو گئے۔ ولادت * 1880ء - علی فتحی اوکیار، وزیر اعظم ترکی * 1893ء - ہارلڈ اری، امریکی کیمیادان اور نوبل انعام یافتہ * 1901ء - ہیروہیتو، جاپان کا شہنشاہ * 1925ء - ایوو تاکاموٹو، امریکی کارٹونسٹ * 1965ء - دیپکا چیخالیا، بھارتی فلمی اداکارہ * 1968ء - کولندا گرابار کیتاروویچ، کرویئشا کی صدر وفات * 1972ء - فوزی سلو، سوریہ کے صدر * 1976ء - منور ظریف، پاکستان فلمی دنیا کے مشہور اور مزاحیہ اداکار * 1980ء - الفرڈ ہچکاک، برطانوی نژاد امریکی فلمی ہدایت کار * 2002ء - ارشد القادری، بھارت میں حنفی عالم دین * 2011ء ـ اے حمید، اردو کے مشہور ناول نگار و افسانہ نگار * 2011ء - لیث قریشی، اردو زبان کے غزل اور نعت کے شاعر تعطیلات و تہوار * -- ڈانس(رقص )کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال
[Wikipedia:ur] 30 اپریل واقعات * 1789ء - جارج واشنگٹن نے پہلے امریکی صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ * 1812ء - لوویزیانا امریکا کی اٹھارویں ریاست بنا * 1945ء - جنگ عظیم دوم: ہٹلر اور ایوا براؤن نے ایک دن کی شادی کے بعد خود کشی کی * 1948ء - بوگوٹا، کولمبیا میں، امریکی ریاستوں کی تنظیم قائم ہوئی۔ * 1970ء - امریکی فوجوں نے کمبوڈیا پر حملہ کیا۔ * 1975ء - جنگ ویت نام کے دوران شمالی ویت نام کی فوجوں نے سائگون پر قبضہ کر کہ جنگ کا خاتمہ کر ديا۔ * 1980ء - نیدرلینڈز کی ملکہ بئاتریکس کی تاج پوشی کی گئی۔ * 1993ء - سی ای آر این نے تمام استعمال کرنے والوں کے لیے، جال محیط عالم (ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) کو مفت کر دیا۔ * 1999ء - کمبوڈیا کو آسیان کی رکنیت مل گئی۔ * 2001ء - امریکی کروڑ پتی ڈینس ٹیٹو روسی سویوز راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پہنچے، دنیا کے پہلے خلائی سیاح بن گئے۔ ولادت * 1662ء - میری دوم، برطانیہ کی ملکہ * 1777ء - کارل فریڈرک گاؤس، جرمن ریاضی دان، ماہر فلکیات، طبیعیات دان * 1909ء - یولیانا، نیدرلینڈز کی ملکہ * 1919ء - ثاقب مظفرپوری، اردو زبان کے ممتاز شاعر * 1927ء - فاطمہ بیوی، بھارتی عدالت عظمیٰ کی سابقہ جج * 1943ء - فریڈرک چیلوبا، زیمبیا کے دوسرے صدر * 1946ء - کارل گوستاف، سویڈن کا بادشاہ * 1949ء - انٹونیو گوٹیرش، پرتگال کے وزیر اعظم * 1959ء - اسٹیفن ہارپر، کینیڈا کا بائیسواں وزیر اعظم * 1970ء - خالد ارگنچ، ترک اداکار وفات * 1030ء - محمود غزنوی، سلطنت غزنویہ کا پہلا آزاد حکمران * 1945ء - اڈولف ہٹلر، نازی جرمنی کا سربراہ * 1945ء - ایوا براؤن، اڈولف ہٹلر کی بیوی * 1968ء - فرحت دہلوی، اردو زبان کے شاعر، مصنف اور ادیب * 2018ء - ادریس حسن لطیف، سربراہ بھارتی فضائیہ * 2020ء - رشی کپور، بھارتی بالی ووڈ اداکار، فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار * 2016ء - ہیری کروٹو، انگریز کیمیا دان، نوبل انعام یافتہ تعطیلات و تہوار * -- ویتنام کا لبریشن ڈے(آزادی کا دن) * -- سوئیڈن میں شاہ کارل گستوف کے اعزاز میں پرچم کا دن منایا جاتاہے حوالہ جات زمرہ:اپریل زمرہ:ایام سال زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] پیر پیر یا دوشنبہ عربی لحاظ سے يوم الاثنين، یعنی ہفتے کا دوسرا دن، یورپی و امریکی حساب سے پہلا اور یہودی اور قدیم مصری حساب سے دوسرا دن ہے۔ لفظ پِیر کے دیگر معانی اردو اور فارسی میں پیر کا لفظ بوڑھے آدمی اور روحانی پیشوا کے لیے بھی مستعمل ہے جیسے "پِیر و جواں" یا "پِیر مہر علی شاہ گولڑوی" وغیرہ ۔ پیر زمرہ:روزہ داری زمرہ:مسیحی تہوار اور مقدس ایام زمرہ:مشرقی مسیحی لطوریا زمرہ:ہفتہ کے دن زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] دسمبر دسمبر گریگورین سال کا بارھواں اور آخری مہینہ ہے۔ پرانی رومی تقویم میں یہ دسواں مہینہ تھا چنانچہ اسے دسمبر کہا جاتا تھا۔ دسم (decem) کا مطلب لاطینی میں دسویں کے ہوتے ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہینے میں سردی کا موسم ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں گرمیاں ہوتی ہیں۔ دسمبر كى 25 تاريخ یسوع مسیح اور قائد اعظم محمد علی جناح كے يوم پيدائش طور پر منائی جاتى ہے زمرہ:مہینے زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] آسامی زبان ہندوستان کی ایک زبان۔ ریاست آسام میں بولی جانے والی زبان۔ حوالہ جات آسامی زبان زمرہ:آسام زمرہ:آسام کی زبانیں زمرہ:بنگلہ دیش کی زبانیں زمرہ:بھارت کی زبانیں زمرہ:بھارت کی سرکاری زبانیں زمرہ:فاعلی مفعولی فعلی زبانیں زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:مشرقی ہند۔آریائی زبانیں زمرہ:ہند۔آریائی زبانیں زمرہ:ایتھنولوگ کے علاوہ دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آیزو زبان کے مضامین زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] فلسفہ فلسفہ عام اور بنیادی سوالات جیسے وجود، منطق، علم، اقدار، من اور زبان کے منظم مطالعہ کو کہتے ہیں۔ یہ ایک عقلی اور تنقیدی تحقیق ہے جو اپنے طریقوں اور مفروضوں کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی لحاظ سے، بہت سے انفرادی سائنسیں، جیسے طبیعیات اور نفسیات، فلسفے کا حصہ تھے۔ تاہم، اصطلاح کے جدید معنوں میں انھیں الگ الگ تدریسی مضمون سمجھا جاتا ہے۔ فلسفہ کی تاریخ میں متاثر کن روایات میں مغربی، عربی -فارسی، ہندوستانی اور چینی فلسفہ شامل ہیں۔ مغربی فلسفہ قدیم یونان میں شروع ہوا اور فلسفیانہ ذیلی شعبوں کے وسیع علاقے پر محیط ہے۔ عربی- فارسی فلسفہ میں ایک مرکزی موضوع عقل اور وحی کے درمیان تعلق ہے۔ ہندوستانی فلسفہ روحانی مسئلہ کو ’کیسے حقیقت کی نوعیت کی کھوج اور علم تک پہنچنے کے طریقوں کے ساتھ روشن خیالی تک پہنچا جا سکتا ہے‘ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ چینی فلسفہ بنیادی طور پر صحیح سماجی طرز عمل، حکومت اور کاشتکاریِ خُودی کے سلسلے میں عملی مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ فلسفے کی بڑی شاخیں علمیات، اخلاقیات، منطق اور مابعداُلطبیعیات ہیں۔ علمیات ’علم کیا ہے اور اسے حاصل کیسے کیا جاتا ہے‘ کو مطالعہ کرتا ہے۔ اخلاقیات اخلاقی اصولوں اور صحیح طرز عمل کی تحقیقات کرتی ہے۔ منطق صحیح سوچنے کا مطالعہ ہے اور یہ دریافت کرتی ہے کہ اچھے دلائل کو برے دلائل سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے۔ مابعد الطبیعیات حقیقت، وجود، اشیاء اور خواص کی عمومی ترین خصوصیات کا جائزہ لیتی ہے۔ دیگر ذیلی شعبوں میں جمالیات، فلسفہِ زبان، فلسفہِ ذہن، فلسفہِ مذہب، فلسفہِ سائنس، فلسفہِ ریاضی، فلسفہِ تاریخ اور سیاسی فلسفہ ہیں۔ ہر شاخ کے اندر، فلسفے کے مسابقتی مکاتبِ فکر ہیں جو مختلف اصولوں، نظریات یا طریقوں کو فروغ دیتے ہیں۔ تصغیر|آگسٹ روڈن کا بنایا ہوا مجسمہ ’سوچنے والا‘ فلسفیانہ سوچ کی علامت ہے۔ فلسفی فلسفیانہ علم تک پہنچنے کے لیے بہت رنگ برنگیں طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں تصوراتی تجزیہ، عام فہم اور وجدان پر انحصار، فکری تجربات کا استعمال، عام زبان کا تجزیہ، تجربے کی وضاحت اور تنقیدی سوالات شامل ہیں۔ فلسفہ کا تعلق بہت سے دوسرے شعبوں سے ہے، بشمول سائنس، ریاضی، کاروبار، قانون اور صحافت۔ یہ ایک انٹرڈسپلنری نقطہ نظر فراہم کرتا ہے اور ان شعبوں کے دائرہِ کار اور بنیادی تصورات کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ ان کے طریقوں اور اخلاقی مضمرات کی بھی تحقیقات کرتا ہے۔ اشتقاق لفظ فلسفہ قدیم یونانی الفاظ φίλος (فیلوس: محبت) اور σοφία (سوفیا: حِکمت) سے آیا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح قبل از سوقراط فلسفی فیثاغورس نے ایجاد کی تھی، لیکن یہ یقینی نہیں ہے۔ حوالہ جات زمرہ:اعتقاد زمرہ:افکار زمرہ:انسانیات زمرہ:بنیادی موضوع قسم بندی زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:درسی علوم زمرہ:ممکنہ طور پر تاریخ بیانات پر مشتمل تمام مضامین زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:فلسفہ
[Wikipedia:ur] بغداد بغداد عراق کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ماضی میں خلافت عباسیہ کا مرکز تھا۔ اسے منگول لشکروں نے تاراج کیا۔ شہر کی آبادی ساٹھ لاکھ ہے جو اسے عراق کا سب سے بڑا اور عالم عرب کا آبادی کے لحاظ سے قاہرہ کے بعد دوسرا بڑا شہر بناتی ہے۔ اس شہر میں شیخ عبد القادر جیلانی، امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی کے مزارات بھی ہیں۔ دجلہ کے کنارے واقع جدید شہر کی تاریخ کم از کم آٹھویں صدی عیسوی سے منسوب ہے جب کہ آبادی اس سے بھی پہلے تھی۔ کسی دور میں دارالاسلام اور مسلم دنیا کا مرکز یہ شہر، 2003ء سے جاری عراق جنگ کی وجہ سے آج انتشار کا شکار ہے۔ حوالہ جات زمرہ:آٹھویں صدی میں آباد ہونے والے مقامات زمرہ:ایشیا میں آٹھویں صدی کی تاسیسات زمرہ:ایشیائی دار الحکومت زمرہ:ایشیائی شہر زمرہ:تاریخی یہودی اسماج زمرہ:خلافتوں کے دارالحکومت زمرہ:دار الحکومت زمرہ:زرخیز ہلال زمرہ:سرزمین شام زمرہ:شاہراہ ریشم کے آباد مقامات زمرہ:صفحات مع شکستہ حوالہ جات (غیر موجود حوالہ) زمرہ:عراق کے شہر زمرہ:عراقی ثقافت زمرہ:عرب ثقافتی دارالحکومت زمرہ:عرب لیگ زمرہ:منصوبہ بند برادریاں زمرہ:منصوبہ بند شہر زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:762ء کی تاسیسات زمرہ:بغداد زمرہ:بغداد محافظہ زمرہ:تاریخ عراق زمرہ:شاہراہ ریشم زمرہ:یونیورسٹی شہر زمرہ:ملین آبادی کے شہر زمرہ:عراق میں ترکمان برادری زمرہ:عراق میں آشوری برادری
[Wikipedia:ur] 1 مئی اس روز مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ واقعات * 1328ء - انگلستان نے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔ * 1544ء - ترک فوجوں نے ہنگری پر قبضہ کیا * 1707ء - انگلستان اور اسکاٹ لینڈ الحاق کر کہ سلطنت برطانیہ بن گئے۔ * 1715ء - ایران نے سوئیڈن کے خلاف جنگ کا اعلان کیا * 1725ء - اسپین اور آسٹریا کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے * 1751ء - امریکا میں پہلا کرکٹ میچ کھیلا گیا * 1898ء - امریکا اور اسپین کی جنگ کے دوران امریکی بہری بیڑے نے ہسپانیا کا پسیفک بیڑا تباہ کر دیا۔ * 1929ء - 7.2 میگاواٹ کے کوپت داغ زلزلے نے ایران اور ترکمانستان کے سرحدی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا جس کی زیادہ سے زیادہ شدت 9 (پرتشدد) تھی، 3,800 تک ہلاک اور 1,121 زخمی ہوئے۔ * 1941ء - دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے تبروک پر حملہ کر دیا۔ * 1945ء - دوسری جنگ عظیم: سرخ فوج کی پیش قدمی کے بعد ڈیمن میں اجتماعی خودکشی میں 2,500 افراد ہلاک ہوئے۔ * 1948ء - شمالی کوریا وجود میں آیا اور اس کے صدر کم ال سنگ بنے۔ * 1951ء - جرمنی میں چھ لاکھ افراد نے امن اور آزادی کے حق میں مظاہرہ کیا * 1960ء - سوویت یونین نے ایک امریکی جاسوس طیارہ یو 2 اپنی خلائی حدود میں گرا دیا۔ * 1972ء - سردار عطا اللہ مینگل بلوچستان حکومت کے سربراہ بنے۔ * 2003ء - امریکی صدر جارج بش نے عراق میں جاری فوجی آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا * 2004ء - دس نئے ممالک (اسٹونیا، پولینڈ، چیک جمہوریہ، سلوواکیہ، سلووینیا، قبرص، لتھووینیا، لیٹویا، مالٹا، ہنگری ) نے یورپی یونین کی رکنیت اختیار کر لی۔ * 2011ء - پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک فوجی آپریشن کے بعد القائدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا * 2012ء - وائس آف پاکستان www.vopurdu.com کے نام سے آن لائن نیوزپیپر کااجراء ولادت * 1078ء - المستظہر باللہ، خلافت عباسیہ کا اٹھائیسواں خلیفہ * 1218ء - روڈولف اول، مقدس رومی سلطنت کا شاہنشاہ * 1852ء - سانتیاگو رامون ای کاخال، ہسپانوئی کیمیادان اور نوبل انعام یافتہ * 1929ء ـ سونی رمداہن، ویسٹ انڈیز کا کرکٹ کھلاڑی * 1930ء ـ کمال احمد رضوی، پاکستانی ڈراما نویس، اداکار، مصنف * 1930ء - کمال احمد رضوی، پاکستانی ڈراما نگار، مصنف اور اداکار * 1940ء - ستار طاہر، اردو کے ادیب، مترجم، کالم نگار * 1941ء - عبد الماجد، پاکستانی ماہر فلکیات اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سائنس دان * 1950ء - ریما نازل، فلسطینی سیاست دان اور مصنف * 1988ء - کرن شیخاوت، بھارتی بحریہ کی خاتون افسر * 1995ء - رادھیکا مدن، بھارتی فلمی اداکارہ * 2004ء - چارلی ڈی امیلیو، امریکی اداکارہ اور رقاصہ وفات * 408ء - آرکادیوس، رومی شہنشاہ * 1572ء - پوپ پیئس پنجم * 1896ء - ناصر الدین شاہ، قاجار ایران کے چوتھے بادشاہ * 1993ء - رانا سنگھے پریماداسا، سری لنکا کے تیسرے صدر * 1994ء - ایرٹن سینہ، برازیلی ریسنگ ڈرائیور تعطیلات و تہوار * مزدوروں کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:ایام سال زمرہ:مئی
[Wikipedia:ur] 2 مئی واقعات * 1885ء - بلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے کانگو آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔ * 1889ء - حبشہ کے شاہنشاہ مینیلیک دوم نے اطالیہ کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کر لیا۔ * 1900ء - بوئر جنگ کے دوران سویڈن کے بادشاہ آسکر دوم نے برطانیہ کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔ * 1945ء - روسی فوجوں نے برلن پر قبضہ کر لیا اور رائخستاگ پر اپبا جھنڈا لہرایا۔ * 1953ء - اردن میں شاہ حسین کی تخت نشینی۔ * 1982ء - فاکلینڈ جنگ میں برطانوی جہاز کانکرر نے ارحنٹائن جہاز جنرل بلگرانو کو ڈبا دیا۔ * 1997ء - ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیر اعظم بن گئے۔ * 2008ء - میانمار میں نرگس نامی ہوائی طوفان سے ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے * 2005ء - لاہورمیں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین عمارتیں تباہ ہوگئیں جس سے سولہ افراد ہلاک ہوئے * 2005ء - عراقی تاریخ میں پہلی بار منتخب حکومت نے اقتدارسنبھالا * 1971ء - امریکا میں جنگ مخالف احتجاج کے دوران تیرہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا * 1933ء - جرمنی میں ہٹلر نے ٹریڈ یونینز پر پابندی عائد کردی * 1972 - صبح سویرے کیلوگ اور والیس، ایڈاہو کے درمیان واقع سنشائن مائن میں آگ لگ گئی، جس سے 91 مزدور ہلاک ہو گئے۔ * 2004ء - یلوا قتل عام تقریباً 630 مسلمانوں کو عیسائیوں نے قتل کیا۔ * 2008ء - سمندری طوفان نرگس نے برما میں لینڈ فال کیا 138,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔ * 2014ء - بدخشاں، افغانستان میں دو مٹی کے تودے گرنے سے 2500 افراد لاپتہ ہو گئے۔ ولادت * 1240ء - شہنشاہ دوزونگ، چین کے سونگ خاندان کا پندرھواں شہنشاہ * 1360ء - شہنشاہ یونگلو، چین کے منگ خاندان کا تیسرا شہنشاہ * 1729ء - کیتھرین اعظم، روسی ملکہ * 1912ء - غازی بن فیصل، عراق کا بادشاہ * 1924ء ـ جمال ابڑو، سندھی شاعر * 1929ء - جگمے دورجی وانگچوک، بھوٹان کا بادشاہ * 1935ء - فیصل دوم، عراق کے بادشاہ * 1953ء - جمال عبدالطیف، امریکی باسکٹ بال کھلاڑی * 1969ء - برائن لارا، ٹرینیڈاڈ ویسٹ انڈیز کا کرکٹ کھلاڑی * 1972ء - ڈوین جانسن، امریکی اداکار اور پیشہ ور پہلوان وفات * 1519ء - لیونارڈو ڈا ونچی، اطالوی مصور * 1941ء - ابراہیم طوقان، فلسطینی شاعر * 1979ء - گیلیو ناٹا، اطالوی کیمیادان اور نوبل انعام یافتہ * 1997ء - جان ایکلس، آسٹریلوی ماہر اعصابیات، طبیب اور نوبل انعام یافتہ * 2011ء - اسامہ بن لادن، القاعدہ کے پہلے جنرل امیر تعطیلات و تہوار —ایران میں اساتذہ کا دن منایا جا تاہے حوالہ جات زمرہ:ایام سال زمرہ:مئی زمرہ:مہینے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] 3 مئی واقعات * 1808ء - فنش جنگ کے دوران روس نے سویڈنی کے قلعے سویبورگ پر قبضہ کر لیا۔ * 1860ء - چارلز پانزدہم سویڈن کے بادشاہ بن گئے۔ * 1931ء مصطفی کمال پاشا ترکی کے صدر بنے * 1947ء - جاپان میں آئینی جمہوریت کا قیام عمل میں آیا * 1948ء - پاکستان کے صوبے سندھ میں پیر الہی بخش نے وزیراعلی سندھ کے عہدے کا حلف اُٹھایا * 1952ء - پاکستان اور بھارت کے درمیان سفری سہولیات کے لیے حکومت پاکستان نے پاسپورٹ کا نیا نظام متعارف کروایا * 1952ء - قطب شمالی پر ہوائی جہاز کی پہلی لینڈنگ * 1956ء - پہلے عالمی جوڈو کپ کا ٹوکیو میں انعقاد * 1965ء - کمبوڈیا نے امریکا سے سفارتی تعلقات ختم کیے * 2002ء - پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی فتح نیوزی لینڈ کو ایک اننگز اور تین سو چوبیس رنز سے شکست دی۔ ولادت * 612ء - قستنطین دوم، رومی شاہنشاہ * 1469ء - نکولو مکیاویلی، مشہور زمانہ اطالوی ماہر سیاسیات اور تاریخ نویس * 1845ء - الئی مٹینیکو، روسی ماہر حیوانات اور نوبل انعام یافتہ * 1892ء - جارج پاگٹ تھامسن، برطانوی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1898ء - گولڈا مئیر، اسرائیل کی سابق وزیر اعظم * 1902ء - الفرڈ کاسٹلر، فرانسیسی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1916ء - افرائیم کضر، اسرائیلی صدر * 1933ء - جیمز براؤن، امریکی گلوکار * 1933ء - سٹیون وینبرگ، امریکی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ * 1944ء - شوکت علی، پاکستانی لوک گلوکار * 1985ء - پوجا چوپڑا، بھارتی اداکارہ، ماڈل وفات * 1481ء - محمد فاتح، سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان * 1758ء - بینیڈکٹ چہاردہم، پاپائی ریاستوں کا حکمران * 1814ء - عبد اللہ بن صباح، کویت کا حکمران * 1969ء - ذاکر حسین، بھارتی صدر * 1981ء - نرگِس دت، بھارتی بالی وڈ اداکارہ تعطیلات و تہوار —آزادی صحافت کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:ایام سال زمرہ:مئی
[Wikipedia:ur] مملکت متحدہ مَملکت متحدہ برطانیہ عظمی و شمالی آئرلینڈ جسے عموماً برطانیہ یا مملکت متحدہ کہا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔ برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔ برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔ در حقیقت برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔ برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح شہنشاہ چارلس سوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔ برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔ سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات اب بھی دنیا پر باقی ہیں۔ تاریخ برطانیہ یورپ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی تاریخ بہت زرخیز ہے۔ کرو-میگنونز، جو قدیم برطانیہ بناتے تھے اس کا تصفیہ تقریباً 30,000 سال قبل شروع ہونے والی لہروں میں ہوا تھا۔ علاقے کے ما قبل تاریخ دور کے اختتام تک، خیال کیا جاتا ہے کہ آبادی کا زیادہ تر تعلق انسولر سیلٹک کہلانے والی ثقافت سے تھا، جس میں بریٹونک برطانیہ اور گیلک آئرلینڈ شامل ہیں۔ بریٹن قبائل کی وجہ سے ان جزائر کا نام برطانیہ پڑ گیا جو یورپ اور دیگر خطوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے۔ ان بریٹنوں کی اکثریت آج بھی ویلز کے علاقے میں مقیم ہے ان بریٹنوں کے مذہبی رہنماؤں کو ڈروئدا کہا جاتا تھا۔ رومن دور قبل مسیح کے رومی حکمران آگستس کے زمانے میں جزائر برطانیہ پر رومی حکومت کا قبضہ تھا اگرچہ برطانیہ میں اس دور میں رہنے والے تمدن کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے مگر پھر بھی وہ رومہ تہذیب کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔ 117ء میں ھیڈرین کو روم کی سینٹ نے روم کا بادشاہ بنوایا۔ اس دور میں ہیڈرین نے خصوصی طور پر برطانیہ پر توجہ دی۔ برطانیہ کی قدیم سڑکوں کی تعمیر ھیڈرین کے دور ہی میں ہوئی تھی اور قلعہ بندی کا آغاز بھی ہیڈرین کے دور ہی میں شروع ہوا جس کے بعد طویل مدت تک برطانیہ رومی سلطنت کا صوبہ بنا رہا اسی دور میں وسطی ایشیائی ممالک اور روس اور دیگر خطوں سے یورپ کی جانب خونخوار قبیلوں کی ہجرت کا آغاز ہوا جن میں اہم ترین قبیلے جرمن، ھن، مشرقی گاتھ، ایلارک، ونڈال، مغربی گاتھ، فرینک اور لمبارڈ شامل ہیں۔ ان خونخوار اور لڑاکا قبائل نے جن کی اکثریت وسطی ایشیا اور روس سے ہجرت کرکے یورپ میں داخل ہوئی تھی یورپ میں جنگ و جدل کی فضا قائم کردی یہ لڑاکا قبائل جو وحشیانہ زندگی کے خوگر تھے جلد ہی یورپ کی فضاؤں میں داخل ہو کر یورپ کی زندگی میں رچ بس گئے اور انھوں نے اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر یورپی مذہب مسیحیت کو اپنا لیا۔ ان جنگجو قبائل میں سے گاتھ جو کے مشرقی اور مغربی گاتھوں میں تقسیم تھے انتہائی لڑاکا اور جنگجو تھے۔ گاتھوں کی لڑائیوں کی وجہ سے یورپ کی سب سے مضبوط سلطنت زوال سے دوچار ہوئی جب کے یورپ کے بیشتر علاقے پر گاتھوں نے بذور شمشیر قبضہ کر لیا، گاتھوں کے حملے کی وجہ سے روم جس کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب تھا تباہ و برباد ہو گیا۔ گاتھوں کے حملے ہی کی وجہ سے قسطنطین نے اپنا دار الحکومت روم کی جگہ قسطنطنیہ کو بنایا۔ مگر جلد ہی گاتھ مسیحی مذہب سے متاثر ہو گئے۔ اس کے ساتھ وہ یورپ کے بیشتر حصوں پر قابض ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے نوبت یہ ہو چکی تھی کہ اگرچہ گاتھ مسیحی ہو چکے تھے اس کے باوجود یورپ کے تمدن یافتہ اور سابق حکمراں گاتھوں کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے تھے۔ گاتھوں کے اقتدار کے دور میں اگرچہ کے یورپ میں کسی حد تک استحکام رہا مگر اس طرح نہیں جس طرح رومی حکومت کے دور میں رہا۔ حکومت ہفتگانہ جزائر برطانیہ بھی ان حملہ آووروں کے حملوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ایک جانب رومی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو دوسری جانب علاقائی حکومتیں قائم ہوتی چلی گئیں جو چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل تھیں ان حکومتوں کو تاریخ میں حکومت ہفتگانہ کہا جاتا ہے اسی زمانے میں برطانیہ میں مسیحیت کی تبلیغ ہوئی اور برطانیہ کے مختلف علاقے بت پرستی سے مسیحیت کی آغوش میں چلے گئے اسی دوران میں آٹھویں صدی میں برطانیہ پر ڈنمارک کے رہنے والے ڈین قبائل نے حملے کرنا شروع کردیے۔ حملوں کا مقصد برطانیہ پر قبضہ کرنا تھا۔ ٹھیک اسی زمانے میں ناروے میں بسنے والے جنگجو وائیکنگ نے بھی برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کرنا شروع کردیے۔ وائیکنگ یورپ کی تاریخ کی انتہائی جنگجو قوم تھی جس نے تمام یورپ میں اپنی وحشیانہ اور جنگجویانہ سرگرمیوں سے دہشت قائم کر رکھی تھی۔ ایلفریڈ اعظم اس زمانے میں برطانیہ کا بادشاہ ایلفرڈ بہت بہادر تھا، جسے ایلفرڈ اعظم بھی کہا جاتا ہے، نے ان وائی کنگ حملہ آوروں کے خلاف طویل ترین جنگیں لڑیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وائیکنگ کا مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں وائیکنگ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے باوجود ایلفرڈ اعظم نے جو صلح کا معاہدہ وائی کنگ کے ساتھ کیا، اس معاہدے میں حکمتِ عملی کے تحت دریائے ٹیمز سے اوپر کے علاقے جس میں شمالی و مشرقی انگلستان کا ایک وسیع علاقہ ان وائیکنگ کے حوالے کیا اور باقی حصہ بدستور ایلفرڈ اعظم کے قبضے میں رہا۔ ایلفرڈ اعظم کے بعد اس کی اولاد حکمران رہی یہاں تک کہ دسویں صدی کے آخر میں ڈنمارک کے بادشاہ نے حملہ کیا اور اس خاندان کا ایک فرد باقاعدہ انگلستان کا بادشاہ بن گیا۔ مگر اس کی حکومت کا خاتمہ اس کی موت کے بعد جلد ہی ہو گیا کیونکہ اس کی اولاد میں سے کوئی بھی حکمرانی کے قابل نہیں نکلا۔ لہٰذا 1042ء میں اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور ایلفرڈ اعظم کی اولاد میں ایڈورڈ کو انگلستان کا بادشاہ بنایا گیا۔ مگر ایڈورڈ لاولد انتقال کرگیا جس کی موت کے بعد انگلستان میں تخت کے دو دعویداروں ھیرلڈ اور ولیم کے درمیان میں جنگ ہوئی جس میں ھیرلڈ مارا گیا اور ولیم انگلستان کا بادشاہ بنا۔ واضح رہے کہ ولیم ایڈورڈ کا رشتے دار تھا مگر چونکہ اس کا تعلق نارمنڈی سے تھا اس لیے اس کی حکومت کو نارمنوں کی حکومت تصور کیا جاتا ہے۔ نارمن دور جنگ ھیسٹینگز کے بعد انگلستان پر نارمنوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ ولیم اول نے انگلستان پر بڑی ہی فراست کے ساتھ حکومت کی۔ قدیم جاگیر دارانہ نظام بدستور قائم رکھا گیا، اس کے باوجود ولیم کا ان جاگیرداروں پر بہت مضبوط کنٹرول تھا۔ اس کے احکامات تھے کہ کوئی بھی جاگیردار اس کی اجازت کے بغیر کوئی قلعہ تعمیر نہیں کر سکتا۔ بڑے بڑے مذہبی عہدے داروں کا تقرر بادشاہ کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ 1087ء میں ولیم کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ولیم ثانی بادشاہ بنا مگر لوگ اس سے بہت ناراض تھے جس کی وجہ سے ولیم ثانی 1100ء میں مارا گیا۔ جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری اول تخت نشین ہوا، جس کے عہد میں تجارت کو بہت ہی فروغ حاصل ہوا۔ ہنری کے دور میں ہی انگریز تاجر برطانیہ سے باہر نکلے اور تجارت کے میدان میں دیگر یورپی اقوام کے مقابلہ میں جدوجہد شروع کی۔ پلانٹیجنیٹ خاندان ہنری اول کی وفات کے بعد اس کا نواسہ ہنری دوم کے نام سے انگلستان کا بادشاہ بنا۔ پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) خاندان سے تعلق رکھنے والا ہنری دوم، ہنری اول کی بیٹی مٹیلڈا کا بیٹا تھا۔ مٹیلڈا کی شادی آنجو (Angou) کے نواب جیوفرے کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس خاندان کا نشان ایک جھاڑی تھا اس لیے اس کو خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کہا جاتا ہے۔ ہنری دوم کے بعد انگلستان میں جب تک اس خاندان کی حکومت قائم رہی اس حکومت کو پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کا دور کہا گیا۔ ہنری دوم کے دور میں انگلستان کے نظام کو بہتر بنایا گیا۔ جو علاقے اس سے قبل انگلستان کے بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گئے تھے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیا۔ اس کے علاوہ ہنری نے عدالتی اصلاحات کی، مالیات کے محکمے کو ازسر نو منظم کیا، تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے۔ اس کا سب سے یادگار قدم جو آج بھی ہنری دوم کی یاد دلاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد 1209ء میں رکھی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا رچرڈ بادشاہ بنا، تاریخ میں اس بادشاہ کو رچرڈ شیردل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ رچرڈ شیر دل تیسری صلیبی جنگ میں خود شامل ہوا تھا جس کے بعد اس کی بہن کی شادی سلطان ایوبی کے بھائی کے ساتھ ہوئی۔ سن 1272ء میں ہنری کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا ایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنا جسے ایڈورڈ اول کہا گیا جو انگلستان کی تاریخ کا انتہائی قابل اور مدبر بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے زمانے میں ویلز کی بغاوت کا خاتمہ ہوا، اسکاٹ لینڈ بھی انگلستان کے ساتھ شامل ہوا، اگرچہ یہ شمولت رسمی ہی تھی اس کے باوجود اسکاٹ لینڈ پر انگلستان کا جھنڈا لہرایا گیا۔ اس کے ساتھ انگلستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جو اہم ترین فیصلہ ایڈورڈ اول نے کیا وہ یہ تھا کہ 1290ء میں اس نے انگلستان کی حدود سے یہودیوں کو نکل جانے کے احکامات دیے۔ 1295ء میں ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی جس میں، بشپ، ایبٹ، بڑے بڑے امیر، نامور جنگجو اور مختلف قبائلی سرداروں نے شرکت کی۔ اس نمائندہ اجلاس میں پہلی بار میگنا کارٹا کی تصدیق کردی گئی اور اس کے ساتھ میگنا کارٹا میں ایک دفعہ مزید بڑھائی گئی کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی غیر جاگیردار محصول نافذ نہیں کرے گا۔ ایڈورڈ کے دور کی ایک خوبی یہ ہے کہ متوسط طبقے سے بادشاہ باقاعدہ رابطہ قائم رکھتا تھا اور ان کی تجاویز سنتا تھا اور ان پر عمل درآمد بھی کرواتا تھا۔ بادشاہ کا یہ قدم انگلستان میں جمہوریت کو قائم رکھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ عدالتوں کی اصلاح بھی کی گئی، عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سوالنامہ شائع کیا جاتا تھا جس میں تمام عدالتی کارروائی کی تفصیل درج ہوتی تھی۔ خاندان لنکاسٹر رچرڈ کی وفات کے ساتھ ہی برطانیہ میں خاندان لنکاسٹر کا آغاز ہو گیا، جس کا بانی ہنری سوم تھا، جو ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹا تھا۔ ہنری سوم کے دور میں برطانیہ میں بہت سے کام ہوئے، مگر ہنری کے دور میں بہت سے امرا نے بغاوت کی۔ فرانس نے بھی باغی سرداروں کی امداد میں اپنی فوج بھیجی۔ مگر 1413ء میں ہنری وفات پاگیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری پنجم کے لقب سے بادشاہ بنا ہنری پنجم بہت ہی لائق بادشا ہ شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے برگنڈی کے ڈیوک کیساتھ صلح کرکے فرانس کے تخت و تاج کا دعویٰ کر دیا اور فرانس کے خلاف لڑائی شرع کردی۔ جس کے بعد ہنری کی افواج نے ایجن کورٹ کے مقام پر فرانس کو شکست دیدی اور نارمنڈی کے علاقے کو فتح کر لیا۔ 1420ء میں صلح نامے کے نتیجے میں فرانس کے ولی عہد کو سلطنت سے محروم کرکے اعلان کر دیا گیا کہ ہنری پنجم ہی فرانس کا آئندہ بادشاہ ہو گا۔ مگر ہنری 1422ء میں اچانک وفات پاگیا ہنری پنجم کی وفات کے بعد اس کے نو ماہ کے بیٹے کو ہنری ششم کے لقب سے بادشاہ بنایا گیا۔ اس کے تین چچاؤں نے بادشاہ کے سرپرست کی حیثیت اختیار کی ایک چچا فرانس میں نائب السلطنت بن گیا دوسرا انگلستان میں نائب سلطنت بنا، مگر انھی دنوں فرانس میں بغاوت کی ابتدا ہو گئی، یہ بغاوت مشہور و معروف جون آف آرک نے شروع کی، جس کے نتیجے میں فرانس میں انگلستان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 1437ء میں ہنری بالغ ہو گیا لیکن وہ اچھا حکمران ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے دور میں بد نظمی ہی رہی کبھی کوئی نواب فوج جمع کرکے کنٹرول کرلیتا کبھی کوئی۔ ان حالات میں ڈیوک آف یارک کے پوتے نے بادشاہ کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا۔ اس طرح ایک ہی خاندان کی دو شاخوں کے درمیان میں خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی۔ یارک اور لنکاسٹر خاندانوں کے درمیان میں ہونے والی اس جنگ میں ابتدا میں یارک نے شاہی فوج کو شکست دے کر بادشاہ کو گرفتار کر لیا۔ مگر بادشاہ کی ماں اور ہنری پنجم کی بیوہ نے فوج جمع کرکے ڈیوک آف یارک کی افواج کو شکست دیدی۔ جنگ میں ڈیوک آف یارک مارا گیا مگر جنوبی انگلستان کے لوگوں کی حمایت سے ڈیوک آف یارک کے بیٹے ایڈورڈ نے شاہی افواج کو شکست دینا شروع کردی جس کے نتیجے میں جلد ہی لنکاسٹر خاندان شکست کھا گیا اور 1461ء میں خاندان یورک کی حکمرانی کی ابتدا ہو گئی۔ 1465ء میں ہنری ششم گرفتار ہو گیا جس کو ٹاؤر میں بند کر دیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری دن خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کے آخری بادشاہ رچرڈ کی مانند گزارے۔ آئرلینڈ پانچویں صدی عیسوی میں مسیحی راہبوں کے ذریعہ آئرلینڈ میں مسیحیت پھیلی۔ اس سے قبل یہاں پر بت پرستی رائج تھی۔ مسیحیت پھیلنے کے تین سو برس بعد تک آئیر لینڈ میں مسیحی رہبانیت کے تحت ہی نظام کام کرتا رہا۔ مگر آٹھویں صدی کے بعد جو صورتِ حال انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی اوپر بتائی گئی ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال آئرلینڈ کی ہو گئی، جہاں یورپ کے دیگر علاقوں کے مختلف قبائل آکر حملہ کرتے اور قبضہ کرلیتے تھے۔ مگر پھر سنہ 1171ء میں انگلستان کے نارمن بادشاہ ہنری دوم نے پوپ کے فرمان کے مطابق آئرلینڈ پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا اور یوں وہاں انگلستان کی حکومت قائم ہو گئی۔ اسکاٹ لینڈ اسی طرح اسکاٹ لینڈ کی بھی صورت یہ تھی کہ پانچویں صدی میں اسکاٹ لینڈ چار حصوں میں تقسیم تھا۔ چھوٹے چھوٹے قبائلی سردار اپنی اپنی راجدھانی کے سردار بن کر بیٹھ گئے تھے۔ پانچویں صدی عیسوی میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے انگلستان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی مقامی حکومت قائم کرلی۔ مگر یہاں بھی اسی طرح کی صورت حال تھی کے اسکینڈینیویا کے ممالک کے لوگ اسکاٹ لینڈ پر حملہ آور ہوتے اور کبھی کسی علاقے پر قبضہ کرلیتے اور کبھی کسی علاقے پر۔ مگر پھر ان کو احساس ہوا اور 1034ء میں تمام اسکاٹ لینڈ ایک حکومت کے جھنڈے تلے آ گیا۔ انگلینڈ 1199ء میں رچرڈ کی وفات کے بعداس کا بھائی جان بادشاہ بنا۔ برطانیہ کی تاریخ میں کنگ جان سے زیادہ اچھا بادشاہ کسی کو نہیں جانا جاتا ہے۔ کنگ جان کوئی زیادہ کامیاب باشاہ نہیں تھا۔ اس کے دور میں ایک جانب تو پوپ کے ساتھ کشمکش کا آغاز ہوا اور دوسری جانب امیروں اور جاگیرداروں کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں جس کی وجہ سے انگلستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا۔ مگر تاریخ میں کنگ جان کا نام اس اعتبار سے زیادہ مشہور ہے کہ اس کے دور میں اس جمہوریت کی ابتدا ہوئی جس کی وجہ سے آج برطانیہ کا نام قوموں میں سر بلند ہے۔ کنگ جان نے 1214ء میں اس دستاویز پر دستخط کیے جو تاریخ میں میگنا کارٹا یعنی منشور کبیر کے نام سے مشہور ہے۔ یہی منشور انگلستان میں جمہوریت کی سنگ بنیاد تصور کیا جاتاہے۔ جان کے دور میں انگلستان میں پوپ کا عمل دخل زیادہ بڑھ گیا تھا۔ جان کے لیے ضروری تھا کہ پوپ کو خوش رکھنے کے لیے باقاعدہ نذرانے بھیجتا رہے جس سے معیشت بہت متاثر ہوئی اور اس کے نتیجے میں انگلستان مختلف شورشوں کا شکار ہوتا چلا گیا۔ 1216ء میں جان نے وفات پائی۔ جان کے بعد اس کا بیٹا ہنری سوم کے نام سے نو برس کی عمر میں انگلستان کا بادشاہ بنا۔ مگر اس کی خوش نصیبی یہ رہی کہ ایک انتہائی قابل شخص ولیم مارشل جو اس کے باپ جان کا ساتھی تھا ہنری سوم کا نائب السلطنت بنا۔ ولیم مارشل انتہائی قابل اور وفادار تھا۔ اس نے انتہائی قابلیت اور ذہانت کے ساتھ کار مملکت چلائے۔ جس کی وجہ سے انگلستان میں نو سالہ بادشاہ کی موجودگی میں کسی بھی طرح کی بے امنی اور بد انتظامی نہیں ہو سکی۔ مگر جلد ہی ولیم مارشل کی وفات کے بعد انتظامی معاملات بگڑنے لگے۔ ایک جانب پوپ انگریزی کلیساؤں سے چندے کی رقم کا مطالبہ کرتا تھا اور دوسری جانب پوپ کی طرف سے مختلف مذہبی مطالبات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے۔ پھر ویلز میں بغاوت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ انگلستان اور فرانس کے درمیان میں جنگ بھی شروع ہو گئی۔ حالانکہ ہنری کی شادی فرانس کی شہزادی کے ساتھ ہوئی تھی اس کے باوجود انگلستان اور فرانس کے درمیان میں جنگ ہوئی۔ پوپ کی جانب سے انگلستان میں مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہی رہا۔ ایک جانب تو پوپ نے اپنے مصارف کے لیے مستقل دباؤ ڈالنا شروع کیا جس کی انتہائی صورت یہ تھی کہ انگلستان کی پوری آمدنی کا ایک تہائی حصہ پوپ کے حوالے کیا جانے لگا۔ جس کے نتیجے میں عوام ناراض ہونے لگے اور امرا کی ایک کمیٹی جو 24 اراکین پر مشتمل تھی، نے اصلاحی اسکیم پیش کردی۔ ہنری نے اس اسکیم کو توڑنے کی بہت کوشش کی مگر اس میں اس کو کامیابی نہیں ہوئی۔ اس طرح خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں بادشاہ کے بہنوئی سائمن ڈی مانفرٹ (Siman de Monfort) نے اصلاحی گروہ کی سرداری قبول کرلی۔ بادشاہ کو شکست ہوئی اور سائمن نے پورا انتظامی کاروبار سنبھال لیا۔ بادشاہ نے مشورے کے لیے جو مجلس بنا رکھی تھی اسے پہلے مجلس کبیر (Great Council) کہا جاتا تھا مگر 1240ء میں اس کا نام پارلیمنٹ رکھا گیا، جو آج تک جاری ہے۔ 1925ء میں سائمن نے ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی۔ بادشاہ کا بڑا بیٹا، ایڈورڈ جو پہلے اصلاحی پارٹی کے ساتھ تھا ان امیروں کے ساتھ مل گیا، جو بادشاہ کے طرف دار تھے۔ اس نے سائمن کو شکست دی۔ اب اقتدار دوبارہ ہنری کے ہاتھ میں آ گیا لیکن اس وقت بھی وہ برائے نام بادشاہ تھا کیونکہ تمام اقتدار ایڈورڈ کے ہاتھ میں ہی تھا۔ ایڈورڈ کا دور اس اعتبار سے بھی بہت اہم ہے کہ اس دور میں آئیرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ انگلستان کا حصہ بنے جو گریٹ برٹین کی ابتدا تھی اس کے ساتھ ایڈورڈ نے جو اہم ترین کام انجام دیا وہ یہ کہ 1209ء میں بننے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب بھرپور توجہ دی گئی جس کے نتیجے میں انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو سکا آکسفورڈ یونیورسٹی اس وقت دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی شمار کی جاتی ہے جہاں سے کروڑوں طالب علم اس وقت اپنی تعلیم کو مکمل کرکے دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب منگولوں نے چنگیز خان کی سربراہی میں منگولیا سے نکل کر بیرونی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا منگولوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے عالمِ اسلام کے اہم ترین اور طاقتور ریاستوں سمرقند و بخارا اور بغداد کو روند کراور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھا وہیں انھی منگولوں نے ایک جانب تمام روس دوسری جانب پولینڈ، جرمنی، آسٹریا، بلغاریہ، ترکی، رومانیہ پر قبضہ جمالیا تھا یورپ میں موجود مسیحیت کی سب سے بڑی روحانی شخصیت پوپ نے منگولوں کے حملے کو عذابِ خداوندی قرار دیا اور یورپ کے تمام بادشاہوں کو اس عذابِ خداوندی کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجا ہونے کی دعوت دی مگر جلد ہی منگولوں کے پہلے بادشاہ چنگیز خان کے مر جانے کے بعد ایشیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی شکست کھانے کے بعد منگولوں کی قوت تتر بتر ہونے لگی جس کے نتیجے میں ان کے طوفانی حملوں کا زور یورپ میں ختم ہو گیا اور یورپی ریاستوں نے ایک ایک کرکے منگولوں سے آزادی حاصل کرنا شروع کردی اس صورت حال کے اثرات برطانیہ پر بھی پڑے ایک جانب منگولوں کے ہاتھوں شکست کھانے والے قبائل پناہ لینے کے لیے برطانیہ کی جانب رخ کرنے لگے دوسری جانب برطانیہ میں اعلیٰ ترین صنعت کار اور تاجر آنے لگے یورپ کے اجڑنے کے ساتھ برطانیہ کے بسنے کا عمل بھی جاری ہوا اسے انگریز قوم کی خوبی ہی کہا جائے گا کہ انگریزوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ایسا قومی ماحول تشکیل دیا جس کے نتیجے میں قومی ترقی کے امکانات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے۔ ایڈورڈ اول کی وفات کے بعد اس کے بیٹے ایڈورڈ دوم کے نام سے تخت نشین ہوا وہ زیادہ قابل نہ تھا اس لیے امیروں کا کنٹرول ایڈورڈ دوم پر تھا جس کی وجہ سے نہ تو ایڈورڈ دوم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی کام کر سکتا تھا اور نہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اعلانِ جنگ کر سکتا تھا اس کے دور میں اسکاٹ لینڈ کے باغیوں نے شاہی فوج کو شکست دیدی جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ آزاد ہو گیا ایڈورڈ کی شکست کے نتائج اس کو اس طرح سے بھگتنا پڑے کہ 1327ء میں اسے تاج و تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا آٹھ ماہ کی قید کے بعد اسے قتل کر دیا گیا جس کے بعد ایڈورڈ سوم پندرہ سال کی عمر میں بادشاہ بنایا گیا مگر جلد ہی اس نے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا شروع کردیے۔ 1330ء میں اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور 1337ء میں فرانس کے خلاف جنگ شروع کی جو سو سال تک جاری رہی اس لیے اس جنگ کو صد سالہ جنگ بھی کہا جاتا ہے ایڈورڈ سوم کے دور میں انتظامی معاملات درست ہو گئے ا سی کے عہد میں پارلیمنٹ کا آغاز ہوا دارلعوام اور دار الامرا کا آغاز ہوا مگر 1348ء میں خونی پلیگ پھیلی جس کی وجہ سے نصف آبادی موت کا شکار ہو گئی اسی دور میں مسیحیت کی اصلاحی تحریک کا آغاز بھی ہوا اس تحریک کے بانی جان وکلف کا کہنا تھا کہ ہر شخص کسی کی وساطت کے بغیر خدا سے براہ راست رشتہ قائم رکھ سکتا ہے اور کلیساؤں کے ساتھ اوقاف رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نیز پادریوں نے شادی نہ کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے، پادریوں نے دولت جمع کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح جان وکلف نے پوپ اور پادریوں کے تمام اقتدار کا خاتمہ کر دیا جان وکلف نے 1372ء میں بائبل کا مکمل انگریزی ترجمہ کیا۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے جان وکلف کو آخری دور میں بہت تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب بڑھاپے کی وجہ سے ایڈورڈ بالکل ہی ناکارہ ہو گیا اس کا بڑا بیٹا بھی بیمار تھا اس وجہ سے برطانیہ کا نظام بگڑ گیا اس کے بیٹے نے حالات کو بہت درست کرنے کی کوشش کی مگر وہ 1376ء میں وفات پاگیا اس کا بیٹا رچرڈ سوم تخت نشین ہوا جو تخت نشین کے وقت صرف دس سال کا تھا اس کا چچا جان جو لینکاسٹر کا ڈیوک تھا بادشاہ کی سرپرست مجلس کا سربراہ بنایا گیا اس کے دور میں فرانس کے ساتھ از سر نو جنگ چھڑ گئی جس میں فلینڈرس کا علاقہ چھن گیا۔ اس وقت روپے کی سخت ضرورت پڑی جو محصول لگا کر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ سے برطانیہ میں بے چینی بڑھنے لگی جس کی وجہ سے بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ بڑے بڑے زمینداروں کی جانب سے کسانوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے نتیجے میں کسانوں کی جانب سے بغاوت ہو گئی۔ جاگیرداروں کے مراکز جلادئے گئے، بڑے بڑے زمیندار اور قانون داں اس بغاوت میں مار دیے گئے۔ انگلستان کے مشرقی اور جنوبی حصے سے ایک بہت بڑا ہجوم دو سرداروں ویٹ ٹائیلر اور پول ٹاکس کی قیادت میں لندن کی جانب روانہ ہوا۔ ہجوم کے بڑے بڑے مطالبات یہ تھے کہ زمینداروں نے کسانوں پر جو ناواجب ٹیکس لگائے ہوئے ہیں وہ منسوخ کر دئے جائیں، کلیساؤں کے اوقاف چھین لیے جائیں اور شکار کے تمام قوانین ختم کردئے جائیں۔ بادشاہ نے ہجوم سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں ہجوم واپس ہو گیا۔ اس دوران میں ویٹ ٹائیلر مارا گیا اس کے بعد رچرڈ نے خومختار بننے کی کوشش کی پارلیمنٹ نے اس کے اس اقدام کی مخالفت کی اسی دوران میں ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹا آئیر لینڈ سے آ گیا اس نے رچرڈ کے تمام اختیارات خود لے کر رچرڈ کو بادشاہت سے دستبردار کرکے اور رچرڈ کو ٹاؤر میں قید کر دیا جہاں رچرڈ نے 1400ء میں وفات پائی۔ یارک خاندان خاندان یورک کی حکمرانی برطانیہ کے عوام کے لیے نئی صبح بن کرطلوع ہواعوام مسلسل ہونے والی خانہ جنگی سے بے زار آچکے تھے۔ انگریزی اصلاحات نے سولہویں صدی میں سیاسی، آئینی، سماجی اور ثقافتی تبدیلی کا آغاز کیا اور چرچ آف انگلینڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مزید برآں، اس نے انگلینڈ کے لیے ایک قومی شناخت کی وضاحت کی اور آہستہ آہستہ، لیکن گہرے طور پر، لوگوں کے مذہبی عقائد کو بدل دیا۔ ویلز کو مکمل طور پر برطانیہ کی بادشاہی میں شامل کر لیا گیا اور آئرلینڈ کو انگلش تاج کے ساتھ ذاتی اتحاد میں ایک مملکت کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ اور باقی حصہ جس میں شمالی آئرلینڈ بننا تھا، آزاد کیتھولک گیلک اشرافیہ کی زمینیں ضبط کر لی گئیں اور انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے پروٹسٹنٹ آبادکاروں کو دے دی گئیں۔ 1603 میں، انگلستان، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کی سلطنتیں ایک ذاتی اتحاد میں متحد ہوئیں جب اسکاٹس کے بادشاہ جیمز ششم نے انگلینڈ اور آئرلینڈ کے تاج وراثت میں حاصل کیے اور اپنے دربار کو ایڈنبرا سے لندن منتقل کر دیا۔ اس کے باوجود ہر ملک ایک الگ سیاسی وجود رہا اور اپنے الگ الگ سیاسی، قانونی اور مذہبی اداروں کو برقرار رکھا۔ 17ویں صدی کے وسط میں، تینوں مملکتیں متصل جنگوں کی ایک سیریز میں شامل تھیں (بشمول انگریزی خانہ جنگی) جس کی وجہ سے بادشاہت کا عارضی طور پر تختہ الٹ دیا گیا اور انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ پر مشتمل دولت مشترکہ کی جمہوریہ رہ گئی۔ ونڈسر خاندان اگرچہ بادشاہت بحال کر دی گئی، 1688 کے شاندار انقلاب اور اس کے بعد کے بل آف رائٹس 1689 کے ساتھ ساتھ اسکاٹ لینڈ میں کلیم آف رائٹ ایکٹ 1689 نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یورپ کے باقی حصوں کے برعکس، شاہی مطلق العنانیت نہیں ہوگی۔ کیتھولک سے تعلق رکھنے والا کبھی تخت پر نہیں بیٹھ سکتا۔ برطانوی آئین آئینی بادشاہت اور پارلیمانی نظام کی بنیاد پر تیار ہوگا۔ 1660ء میں رائل سوسائٹی کے قیام کے ساتھ، سائنس کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس عرصے کے دوران، خاص طور پر انگلستان میں، بحری طاقت کی ترقی اور دریافت کے سفروں میں دلچسپی بیرون ملک مقیم کالونیوں کے حصول اور آباد کاری کا باعث بنی، خاص طور پر شمالی امریکا اور کیریبین میں۔ اگرچہ 1606، 1667 اور 1689 میں برطانیہ کے اندر دو ریاستوں کو متحد کرنے کی پچھلی کوششیں ناکام ثابت ہوئی تھیں، لیکن 1705 میں شروع کی گئی کوشش کے نتیجے میں 1706 کے اتحاد کے معاہدے پر دونوں پارلیمانوں نے اتفاق کیا اور اس کی توثیق کی۔ یکم مئی 1707 کو، برطانیہ کی بادشاہی قائم ہوئی، جو یونین 1707 کے ایکٹ کے نتیجے میں ہوئی۔ 18ویں صدی میں، کابینہ کی حکومت رابرٹ والپول کے تحت تیار ہوئی، جو عملی طور پر پہلے وزیر اعظم (1721–1742) تھے۔ جیکبائٹ بغاوتوں کی ایک سیریز نے پروٹسٹنٹ ہاؤس آف ہینوور کو تخت سے ہٹانے اور کیتھولک ہاؤس آف اسٹورٹ کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ جیکبائٹس کو بالآخر 1746ء میں کلوڈن کی جنگ میں شکست ہوئی، جس کے بعد سکاٹش ہائی لینڈرز کے قبیلے کے سرداروں کی جاگیردارانہ آزادی کو منسوخ کر کے زبردستی اسکاٹ لینڈ میں ضم کر دیا گیا۔ شمالی امریکا میں برطانوی کالونیاں جو امریکی جنگ آزادی میں ٹوٹ گئیں وہ ریاستہائے متحدہ بن گئیں، جسے برطانیہ نے 1783 میں تسلیم کیا۔ برطانوی راج یا سلطنت برطانیہ کو ’’سرکارِ انگلشیہ‘‘ بھی کہا جاتا تھا، خصوصاً 1857ء سے 1947ء کے دوران میں جب برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ تھا۔ برطانہ کہ شاہی خاندانوں کی تفصیلات * خاندان بلئوا (House of Blois) اسے نارمن خاندان بھی کہا جاتاہے اور یہ صرف ایک بادشاہت تک محدود رہا 1135ء تا 1154ء * خاندان پلانٹیجنیٹ 1154تا 1400 * خاندان لنکاسٹر 1400تا1471 * خاندان یورک 1471 تا1485 * خاندان ٹیوڈر 1485 تا1603 گریٹ برٹین یا متحدہ برطانیہ کی ابتدا ہوئی * خاندان اسٹورٹ 1603تا1649 کرام ویل اور اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل ڈکٹیٹر بنے 1649تا1712 * خاندان اسٹورٹ کی حکومت دوبارہ بحال * ونڈسر خاندان : ونڈسر خاندان کے بادشاہ اور ملکہ * جارج پنجم 1910 تا 1936 * ایڈورڈ ہفتم 1936 تا 1936 انھوں نے غیر شاہی خاندان کی لڑکی کے ساتھ شادی کرکے تاج و تخت کو چھوڑ دیا تھا اور سوئزر لینڈ چلے گئے تھے * جارج ششم 1936 تا 1952 * ملکہ ایلزبتھ دوم 1952 تا 2022 * چارلس سوم 2022 سے تاحال * * * * جغرافیہ برطانیہ کا کل رقبہ تقریباً 244,820 مربع کلومیٹر (94,530 مربع میل) ہے۔ یہ ملک برطانوی جزائر کے بڑے حصے پر قابض ہے اور اس میں برطانیہ کا جزیرہ، آئرلینڈ کے جزیرے کا شمال مشرقی ایک چھٹا حصہ اور ارد گرد کے کچھ چھوٹے جزائر شامل ہیں۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس اور بحیرہ شمالی کے درمیان واقع ہے جس کے ساتھ جنوب مشرقی ساحل شمالی فرانس کے ساحل سے 22 میل (35 کلومیٹر) کے اندر آتا ہے، جہاں سے اسے انگریزی چینل کے ذریعے الگ کیا گیا ہے۔ لندن میں رائل گرین وچ آبزرویٹری کو 1884 میں بین الاقوامی میریڈیئن کانفرنس میں پرائم میریڈیئن کے ڈیفائننگ پوائنٹ کے طور پر چنا گیا تھا۔ یونائیٹڈ کنگڈم عرض البلد 49° اور 61° شمال اور عرض البلد 9° مغرب اور 2° مشرق کے درمیان واقع ہے۔ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ 224 میل (360 کلومیٹر) زمینی سرحد کا اشتراک کرتا ہے۔ برطانیہ کی ساحلی پٹی 11,073 میل (17,820 کلومیٹر) لمبی ہے۔ یہ چینل ٹنل کے ذریعے براعظم یورپ سے منسلک ہے، جو 31 میل (50 کلومیٹر) (24 میل:38 کلومیٹر) پانی کے اندر) دنیا کی سب سے طویل زیر آب سرنگ ہے۔ برطانیہ چار زمینی ماحولیاتی خطوں پر مشتمل ہے: سیلٹک broadleaf جنگلات، انگلش لو لینڈ ساحلی جنگلات، شمالی بحر اوقیانوس کے نم ملے جلے جنگلات اور کیلیڈون جنگلات۔ 2023 میں برطانیہ میں جنگلات کا رقبہ 3.25 ملین ہیکٹر ہونے کا تخمینہ ہے، یہ برطانیہ کے کل رقبہ کا 13% ہے۔ سیاست برطانیہ آئینی راجشاہی کے تحت ریاست ہے۔ ملکہ ایلزبتھ دوم پندرہ دیگر دولت مشترکہ ریاستوں کا فرمانروا ہونے کے علاوہ برطنیہ کا صدر ملک ہے۔ فرمانروا کو مشورہ دینے کا، حوصلہ دینے کا اور انتباہ دینے کا حق ہے۔ برطانیہ دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جن کی کوئی تدوین شدہ آئین نہ ہو۔ لہٰذا برطانیہ کا آئین زیادہ تر الگ الگ تحریری ذرائع پر مشتمل ہے، بشمول تحریری قانون، منصف ساختہ نظائری قانون اور بین الاقوامی معاہدے، آئینی رواجوں کے ساتھ۔ چونکہ عام تحریری قانون اور آئینی قانون میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، برطانوی پارلیمان آئینی اصلاح کر سکتا ہے صرف پارلیمانی قانون جاری کرنے سے اور لہٰذا آئین کی تقریباً کوئی بھی تحریری یا غیر تحریر شدہ عنصر کو منسوخ کرنے کی سیاسی اقتدار رکھتا ہے۔ تاہم کوئی پارلیمان ایسا قانون جاری نہیں کر سکتا جو آئندہ پارلیمان بدل نہ سکیں۔ حکومت برطانیہ کی ویسٹ مِنسٹر نظام پر مبنی پارلیمانی حکومت ہے جس کی دنیا بھر میں تقلید کیا گیا ہے: برطانوی سامراج کا ایک ورثہ۔ برطانیہ کا پارلیمان جو ویسٹمِنسٹر محل میں ملتا ہے اس کے دو ایوان ہیں؛ ایک منتخب ہاؤس آف کامَنز (ایوانِ زیریں) اور مقررہ ہاؤس آف لارڈز (ایوانِ بالا)۔ تمام مسوداتِ قانون جو جاری کیے جاتے ہیں انھیں قانون بنانے سے پہلے شاہی منظوری دی جاتی ہے۔ برطانوی حکومت کے سربراہ، وزیرِ اعظم کا عہدہ وہ رکنِ پارلیمان رکھتا ہے جس کو ہاؤس آف کامنز کے سب سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہاؤس آف کامنز میں جس سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہو جاتی ہے، برطانوی وزیر اعظم اسی جماعت سے ہی چنا جاتا ہے۔ منتخب وزیر اعظم اس اکثریتی سیاسی جماعت کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ ملک میں وزیر اعظم کا عہدہ خالی ہونے پر بادشاہ ہاؤس آف کامنز میں اکثریتی سیاسی جماعت کے سربراہ کو حکومت بنانے کے لیے کہتا ہے۔ پھر وہ اکثریتی جماعت کا سربراہ ہاؤس آف کامنز سے ووٹ لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ بادشاہ سے ملاقات کرتا ہے اور اپنی حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں سے آگاہ کرتا ہے کابینہ عام طور پر دونوں ایوانوں میں سے وزیرِ اعظم کے جماعت کے ارکان سے چنا جاتا ہے اور زیادہ تر حصہ ہاؤس آف کامنز سے، جسے وہ ذمہ دار ہیں۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ عاملانہ اقتدار رکھتے ہیں۔ ہاؤس آف کامنز کے انتخابات کے لیے، برطانیہ 650 حلقۂ انتخابوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک ایک ہی رکنِ پارلیمان انتخاب کرتا ہے۔ عام انتخابات فرمانروا مقرر کرتا ہے وزیرِ اعظم کے مشورے پر۔ 1911ء اور 1949ء کے پارلیمانی قانون لازمی بناتے ہیں کہ نئے انتخابات پچھلے والوں کے بعد پانچ سال ختم ہونے سے پہلے مقرر ہوں۔ برطانیہ میں تین سب سے بڑے سیاسی جماعتیں ہیں کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس۔ مذہب مسیحیت کی شکلیں 1,400 سال سے زیادہ عرصے سے برطانیہ کی مذہبی زندگی پر حاوی رہی ہیں۔ اگرچہ شہریوں کی اکثریت اب بھی بہت سے سروے میں مسیحیت کے ساتھ شناخت کرتی ہے، 20ویں صدی کے وسط سے چرچ میں باقاعدگی سے حاضری ڈرامائی طور پر گر گئی ہے، جب کہ امیگریشن اور آبادیاتی تبدیلی نے دیگر عقائد، خاص طور پر اسلام کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ مبصرین نے برطانیہ کو ایک کثیر العقیدہ، سیکولرائزڈ یا بعد از مسیحی معاشرے کے طور پر مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ 2001 کی مردم شماری میں، تمام جواب دہندگان میں سے 71.6 فیصد نے اشارہ کیا کہ وہ عیسائی ہیں، جن میں اگلا سب سے بڑا عقیدہ ہے اسلام (2.8 فیصد)، ہندومت (1.0 فیصد)، سکھ مت (0.6 فیصد)، یہودیت (0.5 فیصد) , بدھ مت (0.3 فیصد) اور دیگر تمام مذاہب (0.3 فیصد)۔ جواب دہندگان میں سے، 15 فیصد نے کہا کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے اور مزید 7 فیصد نے مذہبی ترجیح بیان نہیں کی۔ 2007 میں ایک ٹیئرفنڈ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ دس میں سے صرف ایک برطانوی درحقیقت ہفتہ وار چرچ میں آتا ہے۔ 2001 اور 2011 کی مردم شماری کے درمیان، عیسائی کے طور پر شناخت کرنے والے لوگوں کی تعداد میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی، جب کہ ان لوگوں کی فیصد جو کوئی مذہبی وابستگی نہیں بتاتے تھے دگنی ہو گئی۔ یہ دیگر اہم مذہبی گروہوں میں ترقی کے برعکس ہے، مسلمانوں کی تعداد میں سب سے زیادہ فرق سے کل تقریباً 5 فیصد تک اضافہ ہوا۔ مسلمانوں کی آبادی 2001 میں 1.6 ملین سے بڑھ کر 2011 میں 2.7 ملین ہو گئی ہے، جس سے یہ برطانیہ میں دوسرا سب سے بڑا مذہبی گروہ بن گیا ہے۔ * حوالہ جات بیرونی روابط ; حکومتی * حکومتی ویب گاہ ; عمومی معلومات * * ; سفر * برطانیہ کا سرکاری ویب گاہ برائے سفری معلومات * زمرہ:آئینی بادشاہتیں زمرہ:آزاد خیال جمہوریتیں زمرہ:اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:انگریزی بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک برطانیہ زمرہ:جزیرہ ممالک زمرہ:جی 20 اقوام زمرہ:جی 20 ممالک زمرہ:جی 7 اقوام زمرہ:خودکار پیمانے کے ساتھ متعدد تصاویر استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:دولت مشترکہ کے رکن ممالک زمرہ:شمالی یورپ زمرہ:علامت کیپشن یا ٹائپ پیرامیٹرز کے ساتھ خانہ معلومات ملک یا خانہ معلومات سابقہ ملک استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:گروہ 8 کے ممالک زمرہ:مجلس یورپ کے رکن ممالک زمرہ:مغربی یورپ زمرہ:مغربی یورپی ممالک زمرہ:نیٹو کے رکن ممالک زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:یورپی اتحاد کے رکن ممالک زمرہ:یورپی ممالک زمرہ:Harv اور Sfn کے بدون ہدف نقائص زمرہ:مملکت متحدہ
[Wikipedia:ur] ریاستہائے متحدہ امریکا ریاستہائے متحدہ امریکا (انگریزی:United States of America) ، عام طور پر ریاستہائے متحدہ (USA یا US) یا امریکا کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ 50 ریاستوں اور ایک وفاقی دارالحکومتی ضلع، واشنگٹن ڈی سی پر مشتمل وفاقی اتحاد ہے۔ 48 متصل ریاستیں شمال میں کینیڈا اور جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحدیں رکھتی ہیں، جبکہ الاسکا کی ریاست شمال مغرب میں اور بحر الکاہل میں جزائر کا ایک گروہ، ہوائی، واقع ہیں۔ ریاستہائے متحدہ پانچ بڑے جزیرے کی حدود اور متعدد غیر آباد جزیروں پر بھی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ملک کا رقبہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا خصوصی اقتصادی زون ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی 334 ملین سے زیادہ ہے۔ اس کے تین سب سے بڑے میٹروپولیٹن علاقے نیو یارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں اور اس کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستیں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا ہیں۔ 12,000 سال سے زیادہ عرصہ پہلے، پیلیو انڈینز نے بیرنگ لینڈ برج کے ذریعے نقل مکانی کی اور مختلف تہذیبوں اور معاشروں کی تشکیل کی۔ برطانوی نوآبادیات نے 1607 میں ورجینیا میں تیرہ کالونیوں کی پہلی بستی قائم کی۔ برطانوی تاج کے ساتھ ٹیکس اور سیاسی نمائندگی پر جھڑپوں نے امریکی انقلاب کو جنم دیا اور دوسری کانٹینینٹل کانگریس نے 4 جولائی 1776 کو باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کیا۔ 1775–1783 کی انقلابی جنگ میں کامیابی کے بعد، ملک نے شمالی امریکا میں توسیع جاری رکھی۔ مزید ریاستوں کے شامل ہونے کے ساتھ، غلامی کے معاملے پر شمال-جنوب کی تقسیم نے کنفیڈریٹ ریاستوں کی علیحدگی کی طرف راغب کیا، جس نے 1861–1865 کی امریکی خانہ جنگی میں باقی یونین ریاستوں سے جنگ کی۔ یونین کی فتح اور بقاء کے ساتھ، غلامی کو قومی سطح پر ختم کر دیا گیا۔ 1900 تک، امریکا نے خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر قائم کر لیا، جس کی پوزیشن پہلی جنگ عظیم میں شرکت کے بعد مزید مستحکم ہوئی۔ دسمبر 1941 میں جاپان کے پرل ہاربر پر حملے کے بعد، امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا۔ اس کے بعد، امریکا اور سوویت یونین دنیا کی دو سپر پاور کے طور پر ابھرے، جس سے سرد جنگ شروع ہوئی، جس دوران دونوں ممالک نظریاتی غلبہ اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے کوشاں رہے۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے اور سرد جنگ کے اختتام کے بعد، امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا اور عالمی سطح پر اہم جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ حاصل کیا۔ ریاستہائے متحدہ کی قومی حکومت ایک صدارتی آئینی وفاقی جمہوریہ اور لبرل جمہوریت ہے، جس کے تین علاحدہ شعبے ہیں: مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ اس کی دو ایوانوں پر مشتمل قومی مقننہ ہے، جس میں ایوان نمائندگان شامل ہے، جو آبادی کی بنیاد پر ایک نچلا ایوان ہے؛ اور سینیٹ، جو ہر ریاست کے لیے مساوی نمائندگی کی بنیاد پر ایک بالا ایوان ہے۔ وفاقیت کے ذریعے کافی خود مختاری فراہم کی جاتی ہے، جس میں ایک سیاسی ثقافت آزادی، مساوات، انفرادیت، ذاتی خود مختاری اور محدود حکومت کو فروغ دیتی ہے۔ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک، ریاستہائے متحدہ تقریباً 1890 سے سب سے بڑی اسمی جی ڈی پی کا حامل رہا ہے اور 2023 میں عالمی معیشت کا 15% سے زیادہ حصہ رکھتا تھا۔ یہ کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ دولت کا مالک ہے اور او ای سی ڈی ممالک میں سب سے زیادہ فی کس ڈسپوزیبل گھریلو آمدنی رکھتا ہے۔ امریکا عالمی سطح پر معاشی مسابقت، پیداواریت، جدت، انسانی حقوق اور اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔ اس کی سخت طاقت اور ثقافتی اثرورسوخ عالمی سطح پر پہنچ رکھتے ہیں۔ امریکا عالمی بینک، تنظیمِ امریکی ریاستیں، نیٹو اور اقوام متحدہ کا بانی رکن ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے۔ نام ریاست ہائے متحدہ امریکا کے عام ناموں میں یونائیٹڈ سٹیٹس، یو ایس، یو ایس اے، دی یو ایس اے، دی یو ایس آف اے، دی سٹیٹس اور امریکا شامل ہیں۔ امریکا نام کا پہلا استعمال 1507ء میں ہوا جب ایک جرمن نقشہ ساز نے گلوب بنا کر جنوبی اور شمالی امریکی براعظموں کو ظاہر کرنے کے لیے لفظ امریکا چنا۔ امریکاؤں کو کولمبس کے حوالے سے کولمبیا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور بیسویں صدی کے شروع تک امریکا کے دار الحکومت کو کولمبیا بھی کہتے تھے۔ بعد ازاں اس کے استعمال کو ختم کیا گیا، لیکن اب بھی سیاسی طور پر کولمبیا کا نام استعمال ہوتا ہے۔ کولمبس ڈے امریکا اور دیگر ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے جو کولمبس کے 1492ء میں امریکی سرزمین پر اترنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو سب سے پہلے 4 جولائی 1776ء میں سرکاری طور پر اعلان آزادی میں استعمال کیا گیا۔ 15 نومبر 1777 کو دوسری براعظمی کانفرنس نے کنفیڈریشن کے آرٹیکل کو قبول کیا جس میں لکھا "The Stile of this Confederacy shall be 'The United States of America'" تھا۔ اس نام کو درحقیقت تھامس پائن نے تجویز کیا تھا۔ امریکی باشندوں کے لیے امریکی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ شمالی امریکا سے ہوں یاجنوبی امریکا سے۔ جغرافیہ تصغیر|400px|امریکا اور اس کی ریاستیں (اردو نقشہ) عام درخت اور گھاس کے میدان مشرق کی طرف پائے جاتے ہیں جو بتدریج میدانوں میں بدل جاتے ہیں، کونیفریس جنگلات اور راکی پہاڑ مغرب کی طرف ہیں اور جنوب مغرب میں صحرا ہیں۔ شمال مشرق میں عظیم جھیلیں اور بحرِ الکاہل کے ساحلوں پر ملک کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔ کل رقبے کے لحاظ سے امریکا کو دنیا کا تیسرا بڑا ملک مانا جاتا ہے اور انفرادی رقبے کے لحاظ سے بھی روس اور کینیڈا کے بعد اس کا تیسرا نمبر ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ مشرق میں بحر اوقیانوس سے جڑا ہے اور مغرب میں شمالی بحرالکاہل موجود ہے، میکسیکو اور خلیج میکسیکو جنوب میں ہیں اور کینیڈا شمال میں ہے۔ الاسکا کی سرحدیں بھی کینیڈا سے ملتی ہیں اور بحرالکاہل اس کے جنوب میں ہے اور بحر شمالی اس کے شمال میں ہے۔ الاسکا کے مغرب میں بیرنگ سٹریٹ یعنی بیرنگ نامی تنگ سی سمندری پٹی کے پار روس موجود ہے۔ ہوائی کی ریاست بحر الکاہل میں جزائر کی پٹی کی صورت میں موجود ہے جو براعظم شمالی امریکا سے جنوب مغرب کی طرف ہے۔ سرزمین امریکی سرزمین خصوصاً مغرب میں بہت زیادہ فرق پائی جاتی ہے۔ شمالی ساحل پر ساحلی میدان پائے جاتے ہیں جو جنوب میں وسیع اور شمال میں تنگ ہوتے جاتے ہیں۔ ساحلی پٹی نیو جرسی کے شمال میں ختم ہو جاتی ہے۔ بالکل جنوب مشرق میں فلوریڈا ہے جو دلدلی میدانوں کی سرزمین ہے۔ ساحلی میدانوں سے ہٹ کر پیڈا ماؤنٹ کا علاقہ آتا ہے جو اپالانچیان پہاڑوں میں ختم ہوتا ہے جو شمالی کیرولائنا، ٹینیسی اور نیو ہمپشائر میں 6000 فٹ تک بلند ہیں۔ اپا لانچیز کی مغربی ڈھلوانوں پر میدان نسبتاً ہموار ہیں اور گریٹ لیک اور مسی سیپی دریا جو دنیا کا چوتھا بڑا دریا ہے، موجود ہیں۔ دریائے مسی سیپی کے مغرب میں بنجر پہاڑ ہیں۔ گریٹ پلینز کے مغربی کنارے سے پتھریلے پہاڑوں کا سلسلہ اچانک بلند ہوتا ہے اور شمال سے جنوب کی طرف پورے امریکا میں پھیل جاتا ہے اور اس کی بلندی کولوراڈو میں 14000 فٹ یعنی 4270 میٹر ہے۔ ماضی میں راکی پہاڑ اپنی آتش فشانی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھے لیکن آج صرف ایک علاقہ ایسا ہے جو آتش فشانی کے حوالے سے سرگرم ہے۔ یہ علاقہ ییلو سٹون پارک، وادی وایومنگ میں ہے اور اسے سپر والکانو کہتے ہیں۔ الاسکا میں بھی بہت سارے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن میں میک کینلی پہاڑ شمالی امریکا کا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ الاسکا کے پورے علاقے میں آتش فشاں پائے جاتے ہیں۔ ہوائی کے جزائر منطقہ حارہ کے آتش فشانی جزائر ہیں جو 1500 میل یعنی 2400 کلومیٹر سے زیادہ جگہ پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس میں چھ بڑے اور درجن بھر چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں موسم اپنے بڑے اور وسیع رقبے کی وجہ سے ریاست ہائے متحدہ میں دنیا کے ہر خطے کا موسم پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علاقے معتدل ہیں، ہوائی اور جنوبی فلوریڈا میں موسم منطقہ حارہ جیسا ہے، الاسکا میں قطبی، گریٹ پلینز میں نیم بارانی ہے، کیلیفورنیا کے ساحل پر بحیرہ روم کے ممالک جیسا اور گریٹ بیسن میں خشک ہے۔ اس ملک کے نسبتاً فیاضانہ موسم نے اسے ورلڈ پاور بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر زرعی علاقے میں خشک سالی کم کم ہوتی ہے، سیلاب محدود علاقے تک رہتا ہے اور زیادہ تر معتدل موسم ہے جہاں مناسب حد تک بارش بھی ہوتی ہے۔ تاريخ پانچ صدیاں قبل تک ساری مشرقی دنیا یعنی براعظم یورپ، افریقا اور ایشیا مغربی نصف کرہ کے ممالک امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے وجود سے بالکل بے خبر تھی۔ پندرہویں صدی کے اواخر میں یورپی مہم جوئی کا آغاز ہوا تو یکے بعد دیگرے مختلف ممالک اور خطے دریافت ہوتے چلے گئے۔ 12 اکتوبر 1492ء کو کولمبس امریکا کے مشرقی ساحل کے قریب بہاماز پہنچا۔ یہ مقام امریکا کے جنوب مشرقی ساحل پر فلوریڈا کے قریب واقع ہے۔ امریکا کی سرزمین پر کسی یورپی کا یہ پہلا قدم تھا۔ پھر یکے بعد دیگرے مختلف مقامات کی دریافت کا سلسلہ چل پڑا۔ 1524ء میں فرانسیسی مہم جو ”جیووانی ویرازانو“ (Giovanni Verra Zano) ایک مہم لے کر کیرولینا سے شمال کی طرف بڑھتا ہوا نیویارک میں داخل ہوا۔ 1579ء میں فرانسسزڈریک (Francies Drake) مغربی ساحل پر سان فرانسیسکو کی خلیج میں داخل ہوا اور ایک برطانوی نوآبادی کی بنیاد رکھی۔ 1607ءء میں کیپٹن جان سمتھ تین جہازوں میں 105 سپاہی لے کر ورجینیا کے ساحل پر اترا اور جیمز ٹائون کے نام سے پہلی برطانوی نوآبادی قائم کی۔ 1624ء میں البانی اور نیویارک کے علاقوں میں ولندیزی نوآبادیاں ”نیو نیدرلینڈز“ کے نام سے قائم ہوئیں۔ اس طرح مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاں بنتی چلی گئیں۔ ان نو آبادیوں میں آپس میں چپقلش اور بعض اوقات جنگ و جدل تک نوبت پہنچتی رہی۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت نے اپنی نوآبادیوں سے واقعتاً نوآبادیاتی سلوک شروع کر دیا۔ ان کا استحصال کرنے کے لیے آئے دن نت نئے ٹیکس عائد ہونے لگے۔ جس کی وجہ سے ان میں بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہونے لگے، جو آخرکار تحریک آزادی کی شکل اختیار کر گئے۔ ہم یہاں مختصر طور پر چند مثالیں پیش کر کے اپنی بات کو واضح کریں گے۔ * یکم دسمبر 1660ء کو برطانوی پارلیمان نے جہازرانی کا قانون (Navigation Act) پاس کیا، جس میں نوآبادیات کے ساتھ تجارت کو اپنے مفادات کے مطابق ضابطوں کا پابند بنایا گیا۔ 8 ستمبر 1664ء کو برطانوی فوجی دستوں نے نیو نیدرلینڈز پر قبضہ کر لیا۔ 1676ء میں نیتھانیل بیکن (Nathaneil Bacon) نے برطانوی آمریت کے خلاف کسانوں کی بغاوت کی قیادت کی۔ بیکن کا انتقال ہو گیا اور بغاوت ناکام ہو گئی۔ بیکن کے 23 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ * 6 اپریل 1712ء کو نیویارک میں غلاموں نے بغاوت کر دی۔ باغیوں میں سے 21 قتل کر دیے گئے، 6 نے خودکشی کر لی، 71 کو ملک بدر کر دیا گیا۔ * 1764ء میں برطانوی حکومت نے شوگر ایکٹ (Sugar Act) نافذ کرکے نوآبادیات میں مختلف خوردنی اشیاء پر ٹیکس لگا دیا۔ * 1765ء میں برطانوی پارلیمینٹ نے اپنی افواج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سٹمپ ایکٹ (Stamp Act) پاس کیا۔ اسی سال 7 اکتوبر کو نوآبادیوں نے نیویارک میں ایک کانگریس بلا کر عوامی حقوق کا اعلامیہ (Declaration of rights) جاری کیا۔ * 1767ء میں چائے اور دیگر کئی اشیاء پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ * 1770ء میں برطانوی دستوں نے بوسٹن میں مظاہرہ کرنے والے ایک ہجوم پر گولی چلا دی، پانچ آدمی ہلاک ہوئے۔ جن میں مظاہرین کا لیڈر بھی شامل تھا۔ یہ واقعہ بوسٹن کا قتل عام (Boston massacre) کہلایا۔ مئی 1773ء میں بوسٹن، نیویارک اور فلاڈلفیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے چائے کے جہاز واپس کر دیے گئے۔ چائے پر لگائے جانے والے ٹیکس کے خلاف 4 اکتوبر کو چائے کے ایک جہاز کو آگ لگا دی گئی اور 16 دسمبر کو بوسٹن میں چائے کا سٹاک جہازوں سے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ یہ واقعہ بوسٹن ٹی پارٹی (Boston tea party) کہلایا۔ * 5 ستمبر 1774ء کو فلاڈلفیا میں پہلی براعظمی کانگریس (First continental congress) منعقد ہوئی جس میں برطانوی حکومت کے خلاف (Civil disobedience) شہری عدم تعاون کی قرارداد منظور ہوئی۔ * 23 مارچ 1775ء کو ورجینیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرک ہنری (Patrick Henry) نے یہ تاریخی الفاظ کہے۔ ”مجھے آزادی دو یا موت دے دو“ * 1776ء میں 7 جون کو براعظمی کانگریس میں رچرڈ ہنری لی نے قرارداد پیش کی کہ ” ان متحدہ نوآبادیات کو آزاد اور خود مختار رہنے کا حق حاصل ہے۔ “ * 2 جولائی کو یہ قرارداد منظور ہوئی اور 4 جولائی کو اعلان خود مختاری (Declaration of Independence) پر دستخط ہو گئے۔ مارچ 1782ء میں برطانوی کابینہ نے امریکا کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا۔ 1789ء میں جارج واشنگٹن امریکا کے صدر منتخب ہو گئے اور 1796ء میں وہ اس عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ جارج واشنگٹن امریکا کے عظیم رہنما تھے ان کے بارے میں First in war, first in peace, first in the hearts of his countrymen یعنی ”جنگ میں بھی ادّل امن میں بھی اوّل اور اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں بھی اول کا مقولہ بہت مشہور ہے۔ واشنگٹن نے عہدہ صدارت سے سبکدوش ہوتے وقت اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ ”کسی غیر ملکی حکومت سے کبھی کوئی مستقل الائنس (اتحاد) نہ بنانا۔ اب ہم 4 جولائی کے اعلان آزادی پر واپس آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں سے اس اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے وطن پرستوں پر برطانوی افواج کے ہاتھوں روا رکھے جانے والے انسانیت سوز وحشیانہ مظالم کا کھوج لگاتے ہیں۔ یہ نہایت دلدوز کہانی ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لیے سبق آموز ہے۔ ان عظیم لوگوں کی کل تعداد 56 تھی جنھوں نے اعلان پر دستخط کیے۔ یہ نہایت آسودہ حال اور خوش حال لوگ تھے۔ ان میں سے 14 قانون دان تھے، 13 کا تعلق عدلیہ سے تھا یعنی جج تھے، 11 تاجر تھے، 12 زمیندار اور جنگلات کے مالک تھے ایک پادری اور تین ڈاکٹر تھے۔ دو کا تعلق دیگر معزز پیشوں سے تھا۔ ان سب انقلابیوں نے اعلان آزادی پر یہ جانتے ہوئے بھی دستخط کیے کہ اس کی سزا انھیں گرفتاری اور موت کی شکل میں ملے گی۔ # ان میں 5 دستخط کنندگان کو برطانوی قابض افواج نے گرفتار کر کے غداری کے الزام میں اتنے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ # بارہ انقلابیوں کے گھر تباہ و برباد کر کے نذر آتش کر دیے گئے۔ # دو انقلابیوں کے بیٹے جو انقلابی عسکری دستوں میں کام کر رہے تھے جان سے مار دیے گئے۔ # ایک اور انقلابی کے دو بیٹے گرفتار کر کے غائب کر دیے گئے۔ # 56 انقلابیوں میں سے 9 عسکری جدوجہد میں شریک رہے اور انقلاب کی اذیت ناک تکالیف اور زخموں سے ہلاک ہو گئے۔ # ورجینیا کے ایک خوش حال اور مالدار تاجر نے دیکھا کہ اس کے تجارتی جہاز سمندروں میں سے برطانوی بحریہ قبضہ کر کے لے گئی ہے۔ اس نے اپنا گھر اور اپنی بقیہ جائداد بیچ کر اپنے قرضے ادا کیے اور انتہائی مفلسی کی موت قبول کی۔ # ایک اور انقلابی تھامس میک کین (Mckean) کا برطانوی فوج نے اس قدر پیچھا کیا کہ اسے بار بار اپنی سکونت تبدیل کرنی پڑی اور اپنے خاندان کو ادھر ادھر منتقل کرنا پڑا۔ وہ کانگریس میں بغیر تنخواہ کام کرتا رہا۔ اس کی فیملی مسلسل روپوشی کے عالم میں رہی۔ اس کا سارا اسباب خانہ لوٹ لیا گیا۔ اور اس کو بقیہ عمر ناداری کے عالم میں گزارنی پڑی # برطانوی فوج کے سپاہیوں اور لٹیرے رضاکاروں نے ولیم ایلری (Welliam Ellery) لائمن ہال (Lyman Hall) جارج کلائمر (George Clymer) جارج والٹن (George Walton) بٹن گوئینٹ (Button Gwinnet)تھامس ہیورڈ جونیئر (Thomas Heyward Jr.) ایڈورڈ رٹلیج (Edward Rutledge) اور آرتھر مڈلٹن (Arthur Middleton) کی تمام جائیدادیں لوٹ کر تباہ و برباد کر دیں۔ # یارک ٹائون کے معرکہ میں تھامس نیلسن (Thomas Nelson) نے نوٹ کیا کہ برطانوی جنرل کارنوالس نے نیلسن کے گھر پر قبضہ کر کے اسے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا ہے۔ اس نے خاموشی سے انقلاب کے جنرل واشنگٹن کو مشورہ دیا کہ اس کا گھر گولہ باری سے اڑا دیا جائے۔ گھر تباہ ہو گیا اور نیلسن قلاش ہو کر مرا۔ # فرانسیس لیوس (Fracis Lewis) کا گھر تباہ کر دیا گیا اور اس کی بیوی کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جہاں وہ چند ماہ بعد خالق حقیقی سے جا ملی۔ # جان ہارٹ (John Hart) کو اس کی بیوی کے بستر مرگ سے جدا کر دیا گیا۔ اس کے 13 بچے اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ گئے۔ جان ہارٹ کے کھیت اور اس کی آٹا پیسنے کی مل تباہ و برباد کر دی گئی۔ ایک سال تک وہ جنگلوں اور غاروں میں چھپا پھرتا رہا اور جب وہ گھر واپس آیا تو اس کی بیوی مرچکی تھی اور بچے نہ معلوم کہاں چلے گئے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وہ خود بھی نہایت دل شکستگی کے عالم میں فوت ہو گیا۔ # رابرٹ مورس (Robert Moriss) اور فلپ لیونگ سٹون (Philip Levingstone) کو بھی اسی نوع کے حالات سے گذرنا پڑا۔ # 22 ستمبر 1776ء کو برطانوی افواج نے تحریک آزادی کے ایک رہنما ناتھن ھیل (Nathan Hale)کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مرنے سے پہلے اس کی زبان سے یہ تاریخی الفاظ ادا ہوئے:”مجھے افسوس ہے کہ وطن کو دینے کے لیے میرے پاس صرف ایک زندگی ہے۔ “ اسی طرح کی قربانیوں سے امریکی انقلاب کے سبھی رہنماؤں کو گذرنا پڑا۔ یہ سب لوگ خوش حال اور تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ جرائم پیشہ، فسادی یا تخریب کار قسم کے لوگ نہیں تھے۔ یہ سب حکومت برطانیہ کے رعایا تھے اور اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے جس سے حکمرانوں کا تعلق تھا۔ امریکا کے سبھی نوآبادکار لوگ انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور یورپ کے مختلف ممالک سے آئے تھے۔ ان کا مذہب بھی وہی تھا جو حکمرانوں کا تھا۔ یہ سب حضرت مسیح کے ماننے والے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ اگر یہ خاموش بیٹھے رہتے تو انھیں حکومت میں بڑے بڑے عہدے مل سکتے تھے اور یہ نہایت پرآسائش زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن ان عظیم انقلابی لوگوں نے امریکی عوام کو برطانوی سامراج کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے 4 جولائی 1776ء کو ملک کے کونے کونے سے فلاڈلفیا کے مقام پر جمع ہو کر کانگریس کے آئینی کنونشن میں شامل ہوکر اعلان خود مختاری پر دستخط کیے۔ انھوں نے اپنے آرام و آسائش پر آزادی کو ترجیح دی اور یہ عہد کیا کہ ”اس اعلان آزادی و خود مختاری کی تائید کے لیے پروردگار عالم کی قوت حاکمہ کی حفاظت اور مدد پر پورا بھروسا کرتے ہوئے ہم آپس میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے حصول مقصد کے لیے اپنی جانوں، اپنی جائیدادوں اور اپنی عزت و ناموس کے ساتھ اس کا تحفظ اور اس کی تائید کریں گے۔ “ اس عزم و استقلال کے نتیجے میں انقلابی قیادت کو جن مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ان کا مختصر بیان اوپر کی سطور میں آ چکا ہے۔ لیکن ان انقلابی قائدین کے سامنے واضح منزل تھی۔ اپنے ملک کی آزادی و خود مختاری۔ وہ اس منزل کی طرف ثابت قدمی سے بڑھتے رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اعلان خود مختاری کے 225 سال بعد ترقی و تعمیر کی تمام منزلیں طے کر کے امریکا دنیا کی سپر طاقت بن چکا ہے اور تاج برطانیہ کے کیے گئے مظالم کا بدلہ بے گناہ مسلمانوں سے لے رہا ہے۔ اصلی امریکی یورپی نوآبادیوں کی ابتدا سے قبل امریکا میں مختلف مقامی قبائل آباد تھے جن میں الاسکا کے انوئیت اور میٹس قبائل بھی تھے جو 35000 سال سے لے کر 11000 سال قبل تک یہاں آباد ہوتے رہے۔ یورپی نوآبادیاں آج تک سب سے پہلا بندہ جس نے امریکا کی سرزمین پر باہر سے آکر قدم رکھا، وہ کرسٹوفر کولمبس ہے جس نے 19 نومبر 1493 کو ریو ڈی جنیریو میں اپنے دوسرے بحری سفر کے دوران میں سفر کیا تھا۔ سان جوان جو امریکا کی سرزمین پر پہلی یورپی نوآبادی تھی، 8 اگست 1508 میں جوان پونسی ڈی لائن نے قائم کی۔ جوان پونسی ڈی لائن تاریخ کا پہلا یورپی بندہ بنا جس نے براعظم امریکا میں فلوریڈا کے ساحل پر 2 اپریل 1513 کو پہلا قدم رکھا۔ فلوریڈا ابتدائی یورپی نوآبادیوں کا مرکز بنی جن میں پنساکولا، فورٹ کیرولائن اور سینٹ آگسٹائن شامل ہیں۔ سینٹ آگسٹائن وہ واحد نو آبادی ہے جو اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل آباد رہی ہے۔ فرانسیسیوں نے ملک کا شمال مشرقی حصہ، ہسپانیوں نے جنوبی اور مغربی حصہ آباد کاری کے لیے چنا۔ پہلی کامیاب انگریزی آبادکاری جیمز ٹاؤن، ورجینیا میں 1607ء میں قائم ہوئی۔ اس کے فوراً بعد 1620ء میں پلے ماؤتھ، میسا چوسٹس میں بھی آباد کاری ہوئی۔ 1609ء اور 1617ء میں ولندیزی آبادکار موجودہ نیو یارک اور نیو جرسی کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ 17ویں اور 18ویں صدی کے اوائل میں انگلینڈ (جو بعد ازاں عظیم برطانیہ بنا) نے ولندیزی کالونیوں پر قبضہ کرکے یا تو انھیں ختم کرکے یا تقسیم کرکے نئی نوآبادیاں بنائیں۔ 1729ء میں کیرولینا کی تقسیم کے بعد اور 1732ء میں جارجیا کی آبادکاری کے بعد برطانوی کالونیاں شمالی امریکا (موجودہ کینیڈا کے علاوہ) تک پھیل گئیں اور مشرقی اور مغربی فلوریڈا کی شاہی کالونیوں کو تیرھواں نمبر دیا گیا۔ بیشتر اصلی امریکی مار دیے گئے یا پھر دوسرے علاقوں کو چلے گئے۔ امریکی انقلاب اور ابتدائی جمہوریہ 1760ء سے 1770ء کے دوران میں امریکی نو آبادیوں اور برطاونی راج کے درمیان میں جاری کشیدگی نے 1775ء کی کھلی لڑائی کا روپ دھار لیا۔ جارج واشنگٹن نے جنگ انقلاب کے دوران میں کانٹی نینٹل فوج کی سربراہی کی کیونکہ دوسری کانٹینینٹل کانگریس نے 4 جولائی 1776 کو آزادی کے اعلان کو قبول کر لیا تھا۔ کانگریس کا قیام اس لیے عمل میں آیا تھا تاکہ برطانوی اقدام کی مخالفت کی جاسکے لیکن اس کانگریس کو ٹیکسوں کے نفاذ کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ 1777ء میں کانگریس نے آرٹیکل آف کنفیڈریشن کو تسلیم کیا جس کے تحت تمام ریاستیں ایک لچکدار وفاقی حکومت کے تحت اکٹھی ہو گئیں۔ یہ آرٹیکل 1781ء سے لے کر 1788ء تک نافذ العمل رہا۔ قومی حکومت کی کمزوری کی وجہ سے 1787ء کا آئین بنانا پڑا۔ جون 1788ء میں اکثر ریاستوں نے نئی حکومت کے قیام کے لیے ریاست ہائے متحدہ کو قبول کر لیا۔ آئین کے باعث اس اتحاد کو مضبوطی ملی اور وفاقی حکومت کو یہاں کی سب سے بڑی حکومت اور مقننہ تسلیم کر لیا گیا۔ مغربی توسیع 1803ء سے 1848ء تک اس نئی قوم کے حجم میں تین گنا اضافہ ہوا کیونکہ آباد کاروں کو مغربی سرحدوں سے باہر دھکیل دیا گیا۔ 1812ء کی جنگ کی وجہ سے توسیع کچھ متاثر ہوئی لیکن امریکا-میکسیکو جنگ کے بعد 1848ء میں یہ اور زیادہ تیز ہوئی۔ 1830ء سے 1880ء تک چار کروڑ امریکی بھینسوں کو کھال اور گوشت کے لیے اور ریلوے کی توسیع کے لیے قتل کیا گیا۔ ریلوے کے توسیع سے لوگوں اور اشیا کی نقل و حمل آسان اور جلدی ہونے لگ گئی اور اس سے مغرب کی طرف توسیع آسان ہوئی لیکن انڈین لوگوں سے جھڑپیں تیز ہوتی گئیں جس کی وجہ سے مقامی ثقافت اور مقامی افراد کی بقا خطرے میں پڑتی گئی۔ خانہ جنگی جوں جوں نئی سرزمینیں شامل ہوتی گئیں، ریاستی اختیارات، وفاقی حکومت کا کردار، غلاموں کی تجارت جو تیرہ ریاستوں میں قانونی تھی اور شمال کی طرف اس کا کوئی رحجان نہ دکھائی دیتا تھا اور جو 1804ء میں ختم ہوئی، جیسے مسائل پر قوم مختلف آراء میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ شمالی ریاستیں غلاموں کی تجارت کے خلاف جبکہ جنوبی ریاستیں اس کے حق میں تھیں اور انھوں نے اس کو اپنے معامالات میں مداخلت سمجھا کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا حصہ اس تجارت سے وابستہ تھا۔ ان مسائل کے حل میں ناکامی کی وجہ سے خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی۔ 1860ء میں ابراہم لنکن کے انتخاب کے بعد جنوبی ریاستوں نے مل کر ایک الگ امریکی حکومت بنا ڈالی۔ 1865ء کی خانہ جنگی میں وفاق کی فتح سے غلاموں کی تجارت ختم ہوئی اور اس سوال کا جواب مل گیا کہ کیا ریاستیں اپنی مرضی سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ ایک اہم موڑ تھا اور اس کی وجہ سے وفاق کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ تعمیر نو اور صنعتی انقلاب خانہ جنگی کے بعد اتنی بڑی تعداد، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تھی، میں لوگوں نے امریکا آنا شروع کر دیا، کی وجہ سے امریکی صنعتوں کو سستے مزدور ملنے لگے اور غیر ترقی یافتہ حصوں میں مختلف اقوام کے لوگوں نے اپنا ماحول بنا ڈالا۔ اس وجہ سے معاوضوں کا تحفظ، قومی انفرا سٹرکچر کی تعمیر اور بینکوں کے نظام کی باقاعدگی ہوئی۔ ریاست ہائے متحدہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے انھوں نے نئی ریاستوں کو خریدنا شروع کر دیا جن میں پورٹو ریکو اور فلپائن بھی شامل ہیں، جو سپین اور امریکا کی جنگ میں فتح کے بعد خریدی گئیں۔ ان کی وجہ سے امریکا کا شمار دنیا کی سپر پاورز میں ہونے لگا۔ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر ریاست ہائے متحدہ غیر جانبدار رہی۔ تاہم 1917ء میں ریاست ہائے متحدہ نے اتحادیوں کا ساتھ دیا اور ان کے مخالفین کی شکست کا باعث بنا۔ تاریخی اعتبار سے بھی امریکا ہمدریاں برطانوی اور فرانسیسی طرف تھیں اگرچہ بہت بڑی تعداد میں جرمن اور آئرش عوام نے اس کی مخالفت بھی کی تھی۔ تاہم جنگ کے بعد، سینیٹ نے ورسیلز کے امن معاہدے میں شمولیت سے انکار کر دیا کیونکہ اس سے ریاست ہائے متحدہ کا عمل دخل یورپ میں بڑھ جانے کا خطرہ تھا۔ اس کی بجائے انھوں نے ایک طرف ہونے کو ترجیح دی۔ 1920ء کے عشرے کے دوران میں زیادہ تر امریکا نے بہت زیادہ ترقی کے مزے لوٹے کیونکہ فارموں کی قیمتیں گریں اور صنعتی منافع جات بڑھے۔ اس کی وجہ سے 1929ء میں سٹاک مارکیٹ کریش ہوئی اور اس وجہ سے عظیم مندی دیکھنی پڑی۔ فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ نے 1932ء میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد اس ضمن میں ایک نیا منصوبہ بنایا اور اس سے معیشت میں حکومتی مداخلت بڑھی۔ 1941ء تک امریکی قوم اس عظیم مندی کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ آسکا تھا کہ پرل ہاربر پر ہونے والے حملے کی وجہ سے امریکا کو پھر اتحادی افواج کا ساتھ دینا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی جنگ ہے لیکن اس کی وجہ سے امریکی معیشت کو بہت سہارا ملا کیونکہ جنگی مال کی طلب کی وجہ سے نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں اور خواتین کو بھی پہلی بار ملازمتوں میں حصہ ملا۔ جنگ کے دوران میں سائنسدانوں نے امریکا کی وفاقی حکومت کو دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے کے لیے شب و روز کام کیا۔ یورپ میں اس جنگ کے خاتمے کے بعد، امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تاکہ بقول امریکی انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کے، "جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے"۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم، دنیا کے دوسرے اور تیسرے ایٹم بم تھے اور تاحال یہ کسی حکومت کی طرف سے جنگ میں استعمال کیے جانے کی واحد مثالیں ہیں۔ اس کے فوراً بعد، 2 ستمبر 1945ء میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور دوسری جنگ عظیم کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ سرد جنگ اور شہری حقوق جنگ عظیم کے خاتمے پر ریاست ہائے متحدہ اور سوویت یونین سپر پاور بن کر ابھرے اور ان کے درمیان میں جاری کشمکش نے سرد جنگ کا روپ اختیار کر لیا۔ امریکا نے عوام کی آزادی اور سرمایہ داری کو فروغ دیا جبکہ سوویت یونین نے کمیونزم اور مرکزی منصوبہ شدہ معیشت کو پروان چڑھایا۔ اس کا نتیجہ کئی بالواسطہ جنگوں کی صورت میں نکلا جن میں کوریا کی جنگ اور ویت نام، کیوبین میزائل بحران اور سوویت یونین کی افغانستان کے ساتھ جنگ شامل ہیں۔ اس اندازے کی بنیاد پر کہ ریاست ہائے متحدہ خلائی ریس میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، کی وجہ سے اسکولوں کی سطح پر سائنس اور ریاضی کی مہارت میں اضافے کے سلسلے میں حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے۔ صدر جان ایف کینیڈی نے 1960ء میں اعلان کیا کہ وہ چاند پر پہلا آدمی بھیجیں گے اور 1969ء تک یہ بھی مکمل ہو گیا۔ اسی دوران میں امریکی معاشرہ معاشی پھیلاؤ کے متناسب دور سے گذرا۔ ساتھ ہی ساتھ عوام میں شعور بیدار ہوا اور مختلف تفریقوں کے لیے افریقی امریکی مثلاً مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نمایاں ہیں۔ اس کے نتیجے میں جم کرو قوانین کو جنوبی ریاستوں میں ختم کر دیا گیا۔ 1991ء میں سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکا نے دوسرے ممالک کی جنگوں جیسا کہ خلیجی جنگ، میں مداخلت جاری رکھی۔ امریکا اب دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ 11 ستمبر 2001ء اور دہشت گردی کے خلاف جنگ 11 ستمبر 2001ء کو چار ہوائی جہازوں کو اغوا کر لیا گیا۔ (بقول امریکا کے ) دو جہازوں کو نیو یارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاوروں سے ٹکرا دیا گیا اور تیسرا جہاز پینٹاگون، واشنگٹن ڈی سی سے ٹکرا کر تباہ کیا گیا۔ چوتھا جہاز ہائی جیکرز اور مسافروں کے درمیان میں جنگ کی وجہ سے شانکسول، پینسلوانیا میں تباہ ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چوتھا جہاز اغوا ہوجانے کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے خود ہی کسی مزید ممکنہ حملے کے خوف سے مار گرایا۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد، امریکا خارجہ پالیسی دہشت گردی کی عالمی صورت حال پر مرکوز ہو گئی۔ جواب کے طور پر جارج ڈبلیو بش کی زیر صدارت، امریکی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سارے فوجی اور غیر قانونی آپریشن شروع کیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ 8 اکتوبر 2001ء میں شروع ہوئی جب امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں اسلامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہوئی تاکہ اسلامی نظام کو دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ختم کیا جائے۔ 11 ستمبر کے واقعات نے امریکی تحفظ کے خلاف ہونے والے کسی بھی واقعے کے خلاف پیشگی حملوں کی پالیسی کو جنم دیا جسے بش ڈاکٹرائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 2002ء کو قوم سے خطاب کے دوران، صدر جارج ڈبلیو بش نے شمالی کوریا، عراق اور ایران کو برائی کا محور قرار دیا اور بتایا کہ یہ ممالک امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بڑا خطرہ ہیں۔ اسی سال امریکا نے عراق میں حکومت کی تبدیلی کے اشارے دینا شروع کردیے۔ اقوام متحدہ کی کئی قراردوں کی ناکامی اور صدام حسین کی طرف سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے مارچ 2003ء میں عراق پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے جواز کے طور پر امریکی حکومت نے کہا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ جنگ کے بعد بہت کم مقدار میں غیر ایٹمی ہتھیاروں کے چند ذخیرے ملے اور اس کے بعد امریکی حکومت نے اقرار کیا کہ انھوں نے غلط جاسوسی اطلاعات پر حملہ کیا تھا۔ معروف دفاعی ماہرین اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل حمید گل کے مطابق 9/11 ایک امریکی بہانہ تھا۔ ان کے الفاظ "9/11 بہانہ ہے افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے" جنرل حمید گل نے مزید کہا کہ امریکا کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان کے اس بیان پر امریکا نے جنرل حمید گل مرحوم کو دہشت گرد قرار دیدیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے امریکا کتنا جعلساز چالباز اور کم ظرف ملک ہے۔ جنرل حمید گل نے مزید بتایا کہ 9/11 امریکی خود ساختہ ڈراما ہے۔ اس کا الزام القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر لگانا دھوکے بازی ہے۔ دراصل افغانستان میں ایک اسلامی نظام لاگو تھا۔ امریکا اسلامی نظام کو سامراجی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ دراصل اسلامی نظام انصاف کا نظام ہے۔ اس نظام کے ذریعے مسلمانوں نے پوری دنیا پر حکومت کی۔ امریکا نہیں چاہتا کہ مسلمان اس نظام کے ذریعے طاقتور ہو کر ظلم اور طاغوتی نظام کو ختم کر دیں۔ انسانی حقوق امریکی ذرائع ابلاغ آئین کے تحت شہریوں کو ترمیم 1 تا 5 کے تحت حاصل انسانی حقوق کا ذکر فخریہ کرتے ہیں۔ البتہ امریکی عدالتوں کے کئی فیصلے ان ترامیم کا لحاظ نہیں کرتے۔ امریکا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے اور اپنے مفادات کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی حمایت بھی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا نے بغیر کسی ثبوت اسامہ بن لادن کو شہید کیا۔ پاکستان افغانستان سرحد پر ڈرون حملے کرکے عام شہریوں کو نشانہ بنانا امریکا کا معمول ہے ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو قتل کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا مرتکب ہوا۔ امریکا خود کو دنیا کا ٹھیکیدار سمجھ کر انسانیت کی توہین کرتا ہے۔ امریکا ایک طاغوتی قوت ہے۔ طريق حكومت سیاسی نظام ریاست ہائے متحدہ دنیا کی سب سے زیادہ عرصہ تک قائم رہنے والی آئینی جمہوریہ ہے جس کا آئین دنیا کا سب سے پرانا اور مکمل طور پر تحریری ہے۔ اس کی حکومت کا انحصار کانگریسی نظام کے تحت نمائندہ جمہوریت پر ہے جو آئین کے تحت اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔ تاہم یہ کوئی عام نمائندہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اس میں اکثریت کو اقلیت کے حقوق کے لیے آئینی طور پر پابند کیا گیا ہے۔ حکومت تین سطحی ہے، وفاقی، ریاستی اور مقامی۔ ان تینوں سطحوں کے اراکین کا انتخاب یا تو رائے دہندگان کے خفیہ ووٹ سے یا پھر دوسرے منتخب اراکین کی طرف سے نامزدگی کی مدد سے ہوتا ہے۔ ایگزیکٹو اور قانون ساز دفاتر کا فیصلہ شہریوں کی طرف سے ان کے متعلقہ حلقوں میں اجتماعی ووٹ سے کیا جاتا ہے، عدلیہ اور کابینہ کی سطح کے دفاتر کو ایگزیکٹو برانچ نامزد کرتی ہے اور مقننہ انھیں منظور کرتی ہے۔ کچھ ریاستوں میں عدلیہ کی نشستیں عام انتخابات سے پر کی جاتی ہیں۔ وفاقی حکومت تین شاخوں سے مل کر بنتی ہے جن کی تشکیل ایک دوسرے کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کی خاطر کی گئی ہے: * مقننہ: کانگریس جو سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ( ایوان نمائیندگان ) سے مل کر بنتی ہے اور یہ وفاقی قوانین بناتی ہے، اعلان جنگ کرتی ہے، معاہدوں کی منظوری دیتی ہے اور اسے مواخذے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ * ایگزیکٹوز: صدر، جو سینیٹ کی رضامندی کے ساتھ کابینہ اور دیگر افسران کی نامزدگی کرتا ہے، وفاقی قوانین کی دیکھ بھال اور ان کی بالادستی قائم کرتا ہے، بلوں کو مسترد کر سکتا ہے اور فوج کا کمانڈر ان چیف بھی ہوتا ہے * عدلیہ: سپریم کورٹ اور زیریں وفاقی عدالتیں جن کے ججوں کا تعین صدر سینیٹ کی منظوری سے کرتا ہے، جو قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور آئین کے تحت ان کی میعاد مقرر کرتے ہیں اور وہ قوانین جو غیر آئینی ہو گئے ہوں، انھیں ختم بھی کرسکتے ہیں۔ امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ہے۔ ایوانِ نمائندگان( ہاؤس آف رپریزنٹیٹوز) کے ارکان کی تعداد 435 ہے، ہر ایک الگ ضلعے کی نمائندگی دو سال کے لیے کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے۔ آبادی کا تعین ہر دس سال بعد از سر نوء کیا جاتا ہے۔ ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے: سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں، کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53 ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو ریاستی سطح پر چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیںْ۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ کا آئین امریکی نظام میں سب سے اعلیٰ قانونی دستاویز ہے اور اسے سماجی معاہدہ بھی سمجھا جا سکتا ہے جو امریکی شہریوں اور ان کی حکومت کے مابین ہے۔ وفاقی اور ریاستی حکومت کے تمام قوانین پر نظر ثانی کی جاتی ہے جو کسی طور پر بھی آئین کے خلاف ہوں اور عدلیہ انھیں ختم بھی کرسکتی ہے۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اس میں ترمیم کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے لیکن اس کی بہر طور منظوری ریاستی اکثریت ہی دیتی ہے۔ اب تک آئین میں 27 بار ترمیم کی جاچکی ہے۔ آخری ترمیم 1992ء میں کی گئی۔ آئین میں آزادی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حقوق کی بھی وضاحت موجود ہے اور دیگر ترامیم بھی جن میں آزادئ اظہار رائے، مذہب، پریس کی آزادی، منصفانہ عدالتی کارروائی، ہتھیار رکھنا اور ان کا استعمال، ووٹ کا حق اور غریبوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم ان قوانین کو کس حد تک استعمال کیا جا ئے، قابل بحث بات ہے۔ آئین ایک عوامی طرز کی حکومت کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کی بہت کم وضاحت کی گئی ہے۔ امریکی سیاست پر ریپبلک اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے اثرات بہت گہرے ہیں اور انہی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ وفاقی، ریاستی اور نچلے درجوں کی حکومت میں انہی پارٹیوں کی اکثریت موجود ہے۔ آزاد امیدوار نچلے درجوں پر بہتر کام کرسکتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ مقدار سینیٹ اور ایوان نمائیندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ) میں بھی موجود ہے۔ امریکی سیاسی کلچر کے مطابق ری پبلک پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت یا قدامت پرست جماعت کہا جاتا ہے جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو بائیں بازو کی جماعت یا آزاد خیال جماعت کہا جاتا ہے۔ تاہم پارٹیوں کے حجم اور ان کے قوانین میں لچک کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے اراکین کی رائے بہت مرتبہ پارٹی سے مختلف بھی ہو جاتی ہے اور آپ محض پارٹی کے نام کی وجہ سے اس کے رائے کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ 2001ء سے امریکی صدرجارج ڈبلیوبش ایک ری پبلکن صدر تھے۔ اور 2006ء کے وسط مدتی انتخابات کے دوران میں ڈیمو کریٹس کو، 1994ء کے بعد دونوں ایوانوں میں پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ حالت جمہوریت امریکا نے برطانوی بادشاہت سے بغاوت کے بعد ملک کی بنیاد جمہوریت پر رکھی تاہم ووٹ کا حق صرف زمیندار مردوں کو دیا گیا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعہ عوام کو بنیادی حقوق دیے گئے۔ اس کے بعد 1920ء میں خواتین کو بھی ووٹ کا حق دے دیا گیا اور پھر 1950ء کی دہائی میں حقوق کی تحریک کے بعد کالوں کو بھی ووٹ کا حق مل گیا۔ پھر 2008ء میں ایک کالا امریکی صدر، باراک حسین اوباما، منتخب ہوا۔ تاہم 2001ء کے واقعات کے بعد امریکی سرکار بہت سے ایسے قوانین بنا چکی تھی جس میں عوام کے حقوق سلب کیے جاتے رہے۔ حتٰی کہ 2013ء میں کالے صدر کے دور حکومت میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو یہ کہنا پڑا کہ آج ملک میں عملی جمہورت موجود نہیں۔ خارجہ تعلقات اور فوج امریکا کا دنیا بھر میں وسیع معاشی، سیاسی اور فوجی اثر ہے جس کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں مباحثوں کا ایک پسندیدہ موضوع ہے۔ تقریباً تمام ممالک کے سفارت خانے واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں اور قونصل خانے پورے ملک میں موجود ہوتے ہیں۔ تاہم کیوبا، ایران، شمالی کوریا اور سوڈان کے امریکا کے ساتھ کوئی خاص سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ امریکا اقوام متحدہ کا بانی رکن ہے اور اسے سلامتی کونسل میں مستقل نشست بھی ملی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے بین الاقوامی اداروں کا بھی رکن ہے۔ امریکا میں فوجی معاملات میں شہری کنٹرول کی طویل روایت موجود ہے۔ محکمہ دفاع کا کام امریکی مسلح افواج کو سنبھالنا ہے جو بری، بحری، میرین کارپس اور فضائی افواج پر مشتمل ہے۔ کوسٹ گارڈ زمانہ امن میں محکمہ داخلہ کے ذمے ہے اور دوران میں جنگ یہ بحری فوج کے ماتحت۔ امریکی فوج میں چودہ لاکھ افراد خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور کئی لاکھ مزید افراد ریزور اور نیشنل گارڈز کی صورت میں موجود ہیں۔ فوجی خدمات سر انجام دینا ایک رضاکارانہ فعل ہے تاہم بعض اوقات عام لام بندی کے احکامات بھی دیے جا سکتے ہیں۔ امریکا کی فوج دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے۔ اس کا بجٹ بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکی فوجی بجٹ 2005 میں امریکا کے بعد آنے والے چودہ ممالک کے فوجی بجٹ سے زیادہ ہے۔ مزے کی بات کہ امریکا کا فوجی بجٹ کل ملکی آمدنی کا صرف چار فیصد ہے۔ امریکی فوج کے زیر انتظام 700 سے زیادہ مراکز ہیں۔ انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے ہر براعظم میں اس کے فوجی مراکز موجود ہیں۔ انتظامی تقسیم تصغیر|امریکا کی ریاستیں اڑتالیس ریاستیں، الاس کا اور ہوائی کے سوا، جو زمینی طور پر ایک ساتھ موجود ہیں، مل کر کانٹیننٹل ریاست ہائے متحدہ کہلاتی ہیں۔ کچھ ذرائع الاس کا کو بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ امریکا کی دیگر ریاستوں سے تو ہٹ کر ہے لیکن ہے براعظم شمالی امریکا کا حصہ ہی۔ ڈسٹرکٹ کولمبیا اس میں شمار ہوتا ہے۔ ہوائی، جسے پچاسویں ریاست کہا جاتا ہے، بحرالکاہل میں جزائر کی ایک پٹی کی صورت میں ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کے پاس کئی دیگر علاقے موجود ہیں جن میں کولمبیا کی ڈسٹرکٹ بھی شامل ہے اور جہاں ملکی دار الحکومت واشنگٹن ڈی سی موجود ہے اور اس کے علاوہ سمندر پار بھی بہت سے علاقے امریکا کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جنھوں نے امریکا سے الحاق کیا ہوا ہے۔ ماحول امریکا میں 17000 سے زائد اقسام کے پودے اور درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے 5000 صرف کیلیفورنیا میں ہیں۔ ان 5000 دنیا کے سب سے لمبے، سب سے بھاری اور سب سے پرانے درخت بھی شامل ہیں۔ امریکا کا ماحول خط استوائی ماحول سے لے کر ٹنڈرائی نوعیت کا ہے اور اس میں نباتات کی اقسام دنیا بھر کے کسی دوسرے ملک سے زائد ہیں۔ اگرچہ ہزاروں غیر ملکی نباتات کی وجہ سے اس ملک کی اپنی نباتات اور انسانوں پر منفی اثرات واقع ہوئے ہیں۔ 400 سے زائد ممالیا، 700 سے زائد پرندے، 500 ریپٹائل یعنی خزندے اور 90000 سے زائد حشرات الازض کو نوٹ کیا جا چکا ہے۔ بہت سے جانور اور پودے خاص جگہوں تک محدود ہیں اور بہت سی انواع معدوم ہونے والی ہیں۔ امریکا نے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے 1973 میں قانون بنایا ہے کہ ان انواع کو ان کے قدرتی ماحول میں تحفظ دیا جائے۔ معدومیت کے خلاف تحفظ کے حوالے سے امریکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1872 میں دنیا کا پہلا نیشنل پارک ییلو سٹون میں بنایا گیا۔ اس کے بعد اب تک 57 مزید نیشنل پارک اور سیکڑوں دیگر پارک اور جنگلات کو اس ضمن میں بنایا جا چکا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیا ہے کہ ادھر کوئی تبدیلی واقع نہیں کی جا سکتی۔ امریکی ماہی پروری اور جنگلی حیات کے محکمے نے خطرے میں اور معدوم ہونے کے قریب موجود نسلوں کو ان کے قدرتی ماحول میں بچا کر الگ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ امریکا کی حکومت 1020779 مربع میل کا علاقہ چلا رہی ہے جو کل رقبے کا 28 % ہے۔ اس زمین کو پارکوں اور جنگلات کے لیے مختص کیا گیا ہے لیکن اس کا کچھ حصہ تیل اور گیس کی دریافت، کان کنی اور مویشیوں کے فارمز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ معیشت عمومی صورت حال امریکا کی معیشت کی تاریخ دراصل ایک کہانی ہے جو نوآبادیاتی نظام کی معاشی ترقی سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے اب بیسیوں اور اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور صنعتی طاقت بننے کی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کا معاشی نظام مخلوط سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہے جس میں کارپوریشنیں، دیگر پرائیوٹ فرمیں اور افراد مل کر زیادہ تر مائیکرو اکنامک فیصلے کرتے ہیں اور حکومت اس سطح پر زیادہ مداخلت نہیں کرتی تاہم بحیثیت مجموعی تمام سطحوں پر حکومت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کے زیادہ تر کاروبار اور تجارت کارپوریشنیں نہیں ہیں اور ان کا کوئی پے رول نہیں ہے بلکہ وہ ذاتی ملکیت ہیں۔ امریکا میں اوسط گھریلو آمدنی 46326 ڈالر سالانہ ہے اور 25 سے 64 سال کی عمر کے افراد کی اوسط سالانہ انفرادی آمدنی 32611 ڈالر ہے۔ معاشی سرگرمیاں ملک میں بہت زیادہ متفرق ہوتی ہیں۔ نیو یارک شہر کو ملک کی معاشی، چھپائی، نشر و اشاعت اور اشتہاراتی مرکز کی حیثیت ہے جبکہ لاس اینجلس کو فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے مشہور مانا جاتا ہے۔ سان فرانسسکو کی خلیج ٹیکنالوجی کے لیے بہت اہم ہے۔ وسطی مغربی علاقہ اپنی بھاری صنعتوں کے لیے مشہور ہے، ڈیٹرائیٹ امریکی موٹر گاڑیوں کی صنعت کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور شکاگو اپنے علاقے میں تجارتی اور معاشی حوالے سے بہت اہم ہے۔ جنوب مشرق میں زراعت، سیاحت اور درختوں کی صنعت کے لیے مشہور ہے کیونکہ یہاں معاوضے ملک کے دیگر حصوں سے نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ امریکی معیشت کا زیادہ تر حصہ خدمات سے حاصل ہوتا ہے جہاں کل افراد کا تین چوتھائی حصہ کام کرتا ہے۔ صنعتی زوال کی وجہ سے 2011ء میں 22 ملین افراد حکومت کے ملازم تھے اور صناعی میں 11 ملین، جبکہ 1960ء میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔ ملک کی معیشت کا بہت بڑا حصہ قدرتی ذرائع کی کثرت ہے جیسا کہ کوئلہ، تیل اور قیمتی دھاتیں۔ تاہم ابھی تک یہ ملک اپنی توانائی کے لیے زیادہ تر دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ زراعت میں مکئی، سورج مکھی، چاول اور گندم کی پیداوار کے لیے یہ ملک پہلے نمبر پر ہے۔ امریکا میں سیاحت کی کافی وسیع صنعت موجود ہے اور یہ دنیا میں تیسری نمبر پر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی جہازوں، سٹیل، ہتھیاروں اور الیکٹرانکس کی مصنوعات کی برآمد کے لیے امریکا کا بہت بڑا حصہ ہے۔ کینیڈا امریکا کی بیرونی تجارت میں انیس فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پے اور اس کے بعد چین، میکسیکو اور جاپان کے نمبر آتے ہیں۔ امریکا میں فی کس آمدنی کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ آمدنیوں میں سے ہوتا ہے۔ اس کی فی کس آمدنی مغربی یورپ سے زیادہ ہے۔ 1975ء سے ملکی منڈی کی حقیقی آمدنی تقریباً ساری کی ساری بیس فیصد خاندانوں میں پہنچتی ہے۔ امریکی معاشرے میں سماجی طبقات کی تبدیلی یورپی، سکینڈے نیویا کے ممالک اور کینیڈا سے کم ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ تعلیمی نظام ہے۔ امریکی تعلیمی نظام میں تعلیم کا خرچہ زیادہ تر ٹیکسوں سے اور بقیہ حصہ حکومتی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس لیے امیر علاقوں اور غریب علاقوں کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک سابقہ فیڈرل ریزرو بورڈ کے چئیرمین ایلن گرین سپین کے مطابق یہ آمدنیوں کا یہ فرق اور لوگوں کا معاشی ترقی کرنے کی کم ہوتی ہوئی رفتار بالآخر اس پورے نظام کو زمین بوس کر دے گی۔ ایجادات امریکا اپنی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ایجادات کی وجہ سے اور نئی ایجاد ہونے والی مصنوعات کی پیداوار کے لیے بہت مشہور ہے۔ تحقیق و ترویج کے لیے فنڈز کا 69% حصہ پرائیوٹ سیکٹر سے ملتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے ایٹم بم کی ایجاد کے کام کی سربراہی کی اور نئے ایٹمی دور کی بنیاد قائم کی۔ سرد جنگ کے آغاز میں امریکا نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں اور خلائی دوڑ کا آغاز بھی کیا۔ اس دوران میں امریکا نے راکٹ، ہتھیاروں، مادی سائنسوں، کمپیوٹروں اور دیگر شعبوں میں ترقی کی۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کی معراج تب دکھائی دی جب نیل آرم سٹرانگ نے پہلی بار جولائی 1969ء میں اپالو 11 کی مدد سے چاند پر قدم رکھا۔ اسی طرح امریکا نے انٹرنیٹ اور اس سے پہلے آرپا نیٹ کو بھی بنایا۔ امریکا اپنے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو خود ہی کنٹرول کرتا ہے۔ سائنسی بالخصوص فزیالوجی اور میڈیسن میں امریکیوں نے بہت زیادہ نوبل پرائز حاصل کیے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت بائیو میڈیسن کے لیے امریکا کا مرکز ہے اور پرائیوٹ فنڈ سے چلنے والا ادارہ سیلیرا جی نومکس نے انسانی جینیاتی پروجیکٹ کی تکمیل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہوابازی اور خلا کے لیے ناسا کا کردار بہت اہم ہے۔ بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن بھی بہت اہم ہیں۔ ذرائع نقل و حمل آٹو موبائل کی صنعت اکثر ممالک کی نسبت جلدی شروع ہوئی۔ ملکی ذرائع نقل و حمل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ہائی ویز ادا کرتے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں مسافر گاڑیاں اور مال برداری کے ٹرک روزانہ گزرتے ہیں۔ 2004ء میں لیے گئے ڈیٹا کے مطابق امریکا میں 3982521 میل یعنی 6407637 کلومیٹر لمبی سڑکیں موجود ہیں جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔ عوام کے سفر کے لیے نظام بڑے شہروں میں موجود ہیں جیسا کہ نیو یارک میں دنیا کا بہت مصروف سب وے سسٹم موجود ہے۔ چند شہروں کے سوا، اکثر امریکی شہر نسبتاً کم گنجان آباد ہیں اور اس کی وجہ سے اکثر خاندانوں کے پاس ذاتی گاڑیاں لازمی چیز بن گئی ہیں۔ امریکا پرائیوٹ مسافر ریل کی پٹڑیوں کے لیے بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ 1970ء کے دوران میں حکومت نے مداخلت کرکے انھیں باقاعدہ کیا اور تمام پیسنجر سروسوں کو حکومتی ماتحت ایمٹریک کارپوریشن کے ماتحت کر دیا۔ امریکا کا ریلوے کا نظام دنیا میں سب سے بڑا نظام ہے۔ لمبے فاصلے کے لیے مسافر ہوائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے 2004ء میں دنیا کے تیس مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے سترہ امریکی شمار ہوتے تھے۔ مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مصروف ائیر پورٹ ہارٹس فیلڈ جیکسن اٹلانٹا انٹرنیشنل ایئر پورٹ امریکا میں ہی ہے۔ اسی طرح سامان کی منتقلی کے لیے دنیا کے تیس مصروف ترین ائیر پورٹوں میں سے بارہ امریکا میں ہیں۔ سامان کی منتقلی کے لیے دنیا کا سب سے مصروف ایئر پورٹ ممفس انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہے۔ دنیا کی کئی بڑی بندرگاہیں امریکا میں ہیں جن میں سے تین سب سے زیادہ مصروف، کیلیفورنیا کی لاس اینجلس بندرگاہ، لانگ بیچ کی بندرگاہ اور نیویارک اور نیو جرسی کی بندرگاہ شامل ہیں۔ امریکا کے اندر بھی آبی نقل و حمل کے لیے سینٹ لارنس کی بحری گزرگاہ اور دریائے مسی سیپی بہت مشہور ہیں اٹلانٹک اور گریٹ لیک کے درمیان میں بننے والی پہلی نہر ایری کینال نے زراعت اور صنعت کو وسط مغربی امریکا میں بہت ترقی دی اور نیویارک شہر کو ملک کا معاشی مرکز بنا دیا۔ آبادی ثقافت ریاست ہائے متحدہ کی ثقافت کی ابتدا انگریز نو آباد کاروں کی ثقافت سے ہوئی تھی۔ اس ثقافت نے بہت تیزی سے ارتقا کے مراحل طے کیے اور اپنی آزادانہ شناخت کے علاوہ مقامی اور سپینی-میکسیکو کے کاؤ بوائے ثقافت اور پھر بعد ازاں یورپی اور افریقی اور ایشیائی نو آباد کاروں نے بھی اس پر اپنے اثرات ڈالے۔ مجموعی طور پر یورپ میں جرمنی، برطانوی اور آئرش ثقافتوں نے اپنے اثرات دکھائے اور بعد ازاں اطالوی، یونانی اور اشکینازی (یہودی جو جرمنی اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھتے ہیں) نے بھی کچھ نہ کچھ اثرات مرتب کیے۔ ابتدائی امریکی ثقافت میں افریقی غلاموں کی اولادوں نے بھی اپنے کچھ علاقائی اثرات ڈالے۔ جغرافیائی مقامات کے نام بھی انگریزی، ولندیزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی اور مقامی امریکی الفاظ سے مل کر بنے ہیں۔ ثقافتی حوالوں سے ہمیں دو مختلف ماڈل(خاکے) ملتے ہیں۔ روایتی 'میلٹنگ پاٹ' یا 'پگھلتے برتن' کاخاکہ جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام ثقافتیں کیسے مل کر ایک ہوئیں۔ اس کے مطابق ہر نئے آنے والے نے اپنی ثقافت کو امریکی معاشرے میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد جس چیز کو قبول کر لیا گیا، وہ ایک بڑی ثقافت کا حصہ بنی۔ اس طرح یہ ایک 'یکجان آمیزے' کی طرح موجود ہیں۔ نیا ماڈل جسے 'سلاد کا پیالا ماڈل' یعنی 'سے لیڈ باؤل ماڈل' کہا جاتا ہے، کے مطابق ہر ثقافت آکر امریکی معاشرے میں اس طرح جمع ہوئی ہے جیسے مختلف سبزیوں سے بنا ہوا سلاد، جس میں ہرسبزی اس سلاد کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی الگ شناخت بھی قائم رکھتی ہے۔ امریکی ثقافت کا ایک اہم جزو امریکی کا خواب ہے، جس کے مطابق اپنی معاشی حیثیت سے قطع نظر، سخت محنت، ہمت اور مقصد کی سچی لگن سے آپ بہتر زندگی کو حاصل کر سکتے ہیں۔ خوراک تصغیر|دائیں|250px|منرو، نیو جرسی اسکول امریکی خوراک زیادہ تر قدیم امریکیوں سے آئی ہے جس میں ٹرکی، آلو، مکئی اور سکوائش شامل ہیں۔ اب یہ خوراکیں امریکی غذا کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایپل پائی، پیتزا اور ہیم برگر بھی یا تو یورپی خوراکوں سے آئے ہیں یا یورپی خوراکوں کو کچھ تبدیلی کے ساتھ اپنا لیا گیا ہے۔ بوریٹو اور ٹاکو میکسیکو سے آئے ہیں۔ سول فوڈ افریقی غلاموں کی پسندیدہ خوراک تھی جو اب امریکا میں بہت مشہور ہے۔ تاہم آج دنیا میں پسند کی جانے والی خوراکوں کا زیادہ تر حصہ یا تو امریکا سے شروع ہوا یا اسے امریکی باورچیوں نے تبدیلی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا کے معصوم انسانوں بالخصوص مسلمانوں کا خون پینا امریکی ثقافت کا حصہ ہے۔ بصری فنون لطیفہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں امریکی فنون لطیفہ نے یورپ سے بہت اثر لیا۔ مصوری، مجسمہ سازی اور ادب کے لیے یورپ کی تقلید کی گئی اور پورپ سے اس کی قبولیت کو معیار بنایا گیا۔ امریکی خانہ جنگی کے اختتام تک امریکی ادب کی تخلیق شروع ہو گئی تھی۔ مارک ٹوئین، ایمائیلی ڈکنسن اور والٹ وہائٹ مین نے سب کچھ امریکی انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔ بصری فنون میں امریکی اثرات بہت آہستہ روی سے مرتب ہوئے۔ 1913ء میں نیویارک میں ہونے والے آرمری شو کے دوران میں ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں یورپی جدت پسند فنکاروں کا امریکا کے لیے کیا جانے والا کام سامنے لایا گیا اور اس نے نہ صرف عوام کو جھنجھوڑا بلکہ بیسوی صدی کے بقیہ حصے میں اپنے اثرات مرتب کیے۔ اس نمائش کے دو سطحی اثرات واقع ہوئے جس میں انھوں نے امریکی فنکاروں کو یہ دکھایا کہ فنون لطیفہ اپنے خیالات کا اظہار ہے اور یہ کوئی ادبی یا حقیقت پسندی کو ظاہر نہیں کرتی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھایا کہ یورپ فنکاروں کے کام پر تنقید کے لیے اپنے قدیم خیالات کو چھوڑ چکا ہے جن میں فنکاروں کو سختی کے ساتھ اصولوں کی پاسداری کرنی پڑتی تھی۔ اس سے امریکی فنکاروں کو اپنی شناخت کا موقع ملا اور ایک جدت پسندی کی مہم چلی اور امریکی تہذیب ابھر کر سامنے آئی۔ ایلفرڈ سٹی گلیٹز (1864ء سے 1946ء) فوٹو گرافر، چارلس ڈی متھ (1883ء سے 1935ء) اور مارسڈین ہارٹلے (1877ء سے 1943ء)، دونوں مصوروں نے فنون لطیفہ کے حوالے سے امریکا کا مقام بنایا۔ ماڈرن آرٹ کے عجائب گھر، جو نیو یارک میں 1929ء میں بنایا گیا، امریکی اور بین الاقوامی فنون لطیفہ کا شوکیس بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے فیصلے کے بعد دنیا کے فنون لطیفہ کا مرکز پیرس سے منتقل ہو کر امریکا میں منتقل ہو گیا۔ موسیقی ملکی موسیقی بھی مختلف شاخوں سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ راک، پاپ، سول، ہپ ہاپ، کنٹری، بلیوز اور جاز اب بھی اس ملک کے وہ ساز ہیں جو بین الاقوامی طور پر مانے جاتے ہیں۔ 19ویں صدی کے اختتام پر امریکی ریکارڈ شدہ موسیقی پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور امریکی موسیقی کی مشہور دھنوں کو آج بھی ہر جگہ سنا جا سکتا ہے۔ سینما سینما کی ابتدا اور اس کی ترقی تقریباً ساری کی ساری امریکا میں ہی ہوئی۔ 1878ء میں پہلی بار سلسلہ وار کیمروں کی مدد سے ایک برطانوی فوٹو گرافر نے دوڑتے گھوڑے کی متحرک تصاویر بنائیں۔ اسی طرح کامک بک اور ڈزنی کی متحرک فلمیں آج بھی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں۔ کھیل کھیل ملکی تفریح کا ذریعہ ہیں اور ہائی اسکولوں کی سطح پر خصوصاً امریکی فٹ بال، بیس بال اور باسکٹ بال کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ پروفیشنل سپورٹس کو امریکا میں ایک بہت بڑا کاروبار سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی کھلاڑیوں کو یہیں ملتا ہے۔ چار مشہور کھیلوں میں بیس بال، امریکی فٹ بال، آئس ہاکی اور باسکٹ بال ہیں۔ بیس بال کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے لیکن 1990ء کی دہائی کے شروع سے امریکی فٹ بال کو زیادہ شہرت ملی ہے۔ ہاکی بھی حال ہی میں اپنی شہرت کھو چکا ہے۔ دیگر کھیلوں میں کار ریسنگ، لیکروس، سوکر (فٹ بال) گالف اور ٹینس کے کھیلنے والے کافی ہیں۔ امریکا نے تین بورڈز والی کھیلوں پر اپنا اثر ڈالا ہے جن میں سرف بورڈنگ، سکیٹ بورڈنگ اور سنو بورڈنگ شامل ہیں۔ اب تک آٹھ اولمپک مقابلے امریکا میں منعقد ہو چکے ہیں۔ اب تک کے تمغوں کے لحاظ سے امریکا سرمائی کھیلوں میں 218 تمغوں کے ساتھ (78 طلائی، 81 چاندی کے اور 59 تابنے کے ) تیسرے نمبر پر اور 2321 تمغوں کے ساتھ (943 طلائی، 736چاندی کے اور 642 تابنے کے ) گرمائی کھیلوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ مزید دیکھیے * فہرست امریکی صدور * تعطل حکومت ریاست ہائے متحدہ امریکا * دہشت گردی کے خلاف جنگ * امریکا کے اصل باشندے حواشی حوالہ جات زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:انگریزی بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:ٹائٹل اسٹائل میں بیک گراؤنڈ اور ٹیکسٹ الائن دونوں کے ساتھ ٹوٹنے والی فہرست کا استعمال کرنے والے صفحات زمرہ:جی 20 اقوام زمرہ:جی 7 اقوام زمرہ:دو براعظموں میں واقع ممالک زمرہ:ریاستہائے متحدہ زمرہ:ریاستہائے متحدہ امریکا میں 1776ء کی تاسیسات زمرہ:سابقہ متحدہ ریاستیں زمرہ:شمال امریکی ممالک زمرہ:شمالی امریکا زمرہ:عالمی طاقتیں زمرہ:گروہ 8 کے ممالک زمرہ:مملکت متحدہ کی سابقہ مستعمرات زمرہ:نیٹو کے رکن ممالک زمرہ:وفاقی آئینی جمہوریتیں زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:1776ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
[Wikipedia:ur] روس روس() () ()، جسے باضابطہ طور پر روسی وفاق کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا پر محیط ہے۔ روس کی زمینی حدود 17,098,246 مربع کلومیٹر (6,601,668 مربع میل) پر پھیلی ہوئی ہیں، جو اسے رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بناتی ہیں اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ روس کی آبادی تقریباً 146 ملین ہے، جو اسے یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے، جب کہ اس کی دار الحکومت ماسکو، یورپ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ روس کے اہم شہر ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ روس ایک وفاقی نیم صدارتی جمہوریہ ہے، جس کا صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ روس کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور یہ قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس اور معدنیات کے ذخائر کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ روسی تاریخ اور ثقافت ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ ملک عالمی سیاست، معیشت اور عسکری معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ روس کی سرحدیں شمالی یورپ، مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے کئی ممالک کے ساتھ ملتی ہیں اور اس کی جغرافیائی وسعت اسے مختلف ثقافتوں، تہذیبوں اور قدرتی ماحول سے مالا مال بناتی ہے۔ تاریخ روس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے اور یہ مختلف ادوار اور تبدیلیوں سے گذری ہے۔ قدیم مشرقی سلاو سے لے کر جدید روس تک، اس کی تاریخ میں سلطنتوں کا عروج و زوال، عالمی جنگیں، انقلابات اور سرد جنگ جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔ قدیم روس اور کیوان روس روس کی تاریخ کا آغاز مشرقی سلاو قبائل سے ہوتا ہے، جو تیسری اور آٹھویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں ایک تسلیم شدہ گروہ کے طور پر ابھرے۔ ان قبائل نے مختلف علاقوں میں اپنی آبادی کو بڑھایا اور نویں صدی تک کیوان روس کی بنیاد رکھی۔ کیوان روس کا قیام کیوان روس ایک طاقتور مشرقی سلاوی ریاست کے طور پر نویں صدی میں ابھری اور اس کا مرکز موجودہ یوکرین کا شہر کیف تھا۔ ولادیمیر اعظم کے دور حکومت میں 988 عیسوی میں بازنطینی سلطنت سے مشرقی آرتھوڈوکس عیسائیت کو اپنایا گیا، جو بعد میں روسی ثقافت اور تاریخ کا اہم جزو بن گیا۔ کیوان روس کا زوال کیوان روس کا زوال 12ویں صدی میں شروع ہوا جب اندرونی تقسیم اور بیرونی حملوں نے ریاست کو کمزور کر دیا۔ منگولوں کے حملوں نے بالآخر کیوان روس کو ختم کر دیا اور ریاست مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گئی۔ ماسکوی روس اور زار شاہی کیوان روس کے زوال کے بعد، ماسکوی روس نے اہمیت حاصل کی اور 14ویں صدی میں ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھری۔ ماسکو نے رفتہ رفتہ دیگر روسی علاقوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کیا اور روس کا ایک متحدہ ریاست بننے کا عمل شروع کیا۔ روسی سلطنت کا قیام 1547 میں، ایوان چہارم نے خود کو روس کا پہلا زار قرار دیا، جس کے ساتھ روسی زارڈم کا آغاز ہوا۔ ایوان چہارم نے اپنے دور میں روس کی سرحدوں کو وسعت دی اور داخلی اصلاحات کیں، لیکن اس کا دور سختی اور جبر کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ پیٹر اعظم اور روس کی توسیع 18ویں صدی کے اوائل میں پیٹر اعظم نے روسی سلطنت کی بنیاد رکھی اور روس کو ایک جدید یورپی طاقت کے طور پر ابھارا۔ پیٹر اعظم نے روس میں مغربی طرز کی اصلاحات متعارف کرائیں اور سینٹ پیٹرزبرگ کو دار الحکومت بنایا۔ ان کے دور میں روس نے بحیرہ بالٹک تک رسائی حاصل کی اور یورپی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ روسی انقلاب اور سوویت یونین کا قیام 1917 میں، روس میں انقلاب اکتوبر برپا ہوا جس کے نتیجے میں زار نکولس دوم کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور بالشویک پارٹی نے لینن کی قیادت میں اقتدار سنبھالا۔ اس انقلاب نے روس کو دنیا کی پہلی آئینی سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کر دیا۔ سوویت یونین کا قیام 1922 میں، روسی SFSR نے دیگر سوویت جمہوریہ کے ساتھ مل کر سوویت یونین کی بنیاد رکھی۔ سوویت یونین کے قیام کے بعد روس میں تیز رفتار صنعتی ترقی ہوئی اور ریاست نے زبردست سیاسی اور عسکری طاقت حاصل کی۔ سٹالن کا دور 1930 کی دہائی میں، جوزف سٹالن نے اقتدار سنبھالا اور سوویت یونین کو تیزی سے صنعتی ترقی کی طرف لے گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر جبر اور قتل عام بھی ہوا۔ سٹالن نے دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرقی محاذ پر اتحادیوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے بعد، سوویت یونین اور امریکا کے درمیان سرد جنگ شروع ہوئی جس میں دونوں ممالک نے عالمی اثر و رسوخ کے لیے نظریاتی اور عسکری مقابلہ کیا۔ سوویت یونین نے ایسٹن یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کو مضبوط کیا اور خلائی دوڑ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ سوویت یونین کا خاتمہ اور جدید روس 1991 میں، سوویت یونین کا خاتمہ ہوا اور روسی SFSR ایک آزاد ریاست کے طور پر روسی فیڈریشن میں تبدیل ہو گئی۔ ایک نیا آئین اپنایا گیا جس نے ایک وفاقی نیم صدارتی نظام قائم کیا۔ ولادیمیر پوتن کا دور اقتدار صدی کے آغاز سے، ولادیمیر پوتن روس کے سیاسی نظام پر حاوی رہے ہیں۔ ان کے دور میں روس نے سیاسی اور اقتصادی استحکام حاصل کیا، لیکن ان کے دور میں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے حوالے سے شدید تنقید بھی ہوئی۔ روسی خارجہ پالیسی اور یوکرین تنازع روسی خارجہ پالیسی نے 21ویں صدی کے آغاز میں اہم تبدیلیاں دیکھی ہیں، خصوصاً سابق سوویت ریاستوں اور مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے۔ یوکرین کے ساتھ تنازع اس پالیسی کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر روس کی ساکھ اور اقتصادیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ 2014 میں، روس نے کریمیا کو یوکرین سے الگ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا، جس پر عالمی برادری میں تنازع کھڑا ہوا۔ 2022 میں، روس نے یوکرین پر حملہ کیا اور مزید علاقوں کو روس میں شامل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ 2008 کا جارجیا تنازع روسی خارجہ پالیسی کے جارحانہ موڑ کی پہلی واضح مثال 2008 میں سامنے آئی جب روس نے جارجیا پر حملہ کیا۔ اس تنازعے کے دوران روس نے ابخازیا اور جنوبی اوسیشیا کو آزاد ریاستیں قرار دیا، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ کریمیا کا الحاق (2014) 2014 میں، روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا پر قبضہ کر لیا اور اسے روس میں ضم کر لیا۔ اس اقدام کو بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی ممالک، نے غیر قانونی قرار دیا اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ اس واقعے نے روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کیا۔ مشرقی یوکرین میں تنازع کریمیا کے الحاق کے بعد، روس نے ڈونیسک اور لوہانسک جیسے مشرقی یوکرینی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں مشرقی یوکرین تنازعہ شروع ہوا۔ روس نے اپنے براہ راست فوجی کردار سے انکار کیا، لیکن مغربی ممالک نے روس پر باغیوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا۔ 2022 یوکرین کا حملہ فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا، جسے روس-یوکرین جنگ کہا جاتا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ اس دوران روس نے مزید چار یوکرینی علاقوں، یعنی ڈونیسک, لوہانسک, خیرسون اور زاپوریژیا کو روس میں ضم کرنے کا اعلان کیا، جس پر مغربی ممالک نے مزید پابندیاں عائد کیں۔ مغربی پابندیاں اور روسی معیشت یوکرین پر حملے کے بعد روس پر مغربی ممالک نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جن میں بین الاقوامی بینکاری نظام سے نکالنا، توانائی کے شعبے میں پابندیاں اور روسی کمپنیوں اور عہدے داروں کے اثاثے منجمد کرنا شامل ہیں۔ ان پابندیوں نے روسی معیشت کو بری طرح متاثر کیا، لیکن روس نے متبادل اقتصادی راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین اور روس کے تعلقات مغربی پابندیوں کے بعد، روس نے اپنے اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو چین کے ساتھ مضبوط کیا۔ چین نے روس کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا، خصوصاً توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ دونوں ممالک نے عسکری اور تجارتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کا کردار یوکرین تنازعے کے دوران، روس نے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک کی جانب سے اس کے خلاف عائد کردہ قراردادوں کو روکا۔ روس نے عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا، لیکن اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ روس اور نیٹو روسی خارجہ پالیسی میں نیٹو کو اہم مخالف سمجھا جاتا ہے۔ روس کے لیے نیٹو کی مشرقی یورپ میں توسیع نے خدشات کو جنم دیا، جسے روس اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ یوکرین میں نیٹو کے ساتھ براہ راست تصادم کے خطرات نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جغرافیہ روسیہ کا جغرافیہ دنیا کا سب سے بڑا اور متنوع ہے، جس میں مختلف نوعیت کے موسمی حالات، زمین کے مختلف اقسام اور حیاتیاتی تنوع شامل ہیں۔ روس مشرقی یورپ سے لے کر شمالی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 11 فیصد پر محیط ہے۔ محل وقوع اور سرحدیں روسیہ یوریشیا کے شمالی حصے میں واقع ہے اور یہ 17,098,246 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس کی زمینی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں، جن میں ناروے، فن لینڈ، استونیا، لیٹویا، لتھوانیا، پولینڈ، بیلاروس، یوکرین، جارجیا، آذربائیجان، قازقستان، چین، منگولیا اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ بحری سرحدیں روس کی بحری سرحدیں بحیرہ بالٹک، بحیرہ اسود، بحیرہ قزوین، بحر جاپان، بحر اوخوتسک اور آرکٹک سمندر سے ملتی ہیں، جو اسے شمالی اور مشرقی یورپ کے علاوہ شمالی ایشیا کے بڑے حصوں سے مربوط کرتی ہیں۔ اہم جزیریں اور جزائر روس میں متعدد اہم جزائر اور جزیریں شامل ہیں، جن میں سخالین جزیرہ، کوریل جزائر اور نوا یا زملیا جیسے بڑے جزیرے شامل ہیں۔ ان جزیروں کی جغرافیائی حیثیت روس کے آرکٹک اور بحیرہ جاپان کے علاقوں میں دفاعی اور اقتصادی اہمیت رکھتی ہے۔ قدرتی زمینی خصوصیات روسیہ میں مختلف قدرتی زمینی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جن میں میدانی علاقے، پہاڑی سلسلے، دریا، جھیلیں اور جنگلات شامل ہیں۔ روس کی سرزمین مختلف خطوں میں تقسیم ہے، جن میں یورپی روس اور ایشیائی روس (سائبیریا) اہم ہیں۔ یورپی روس یورپی روس، جو روس کی مغربی سرحدوں سے یورال پہاڑ تک پھیلا ہوا ہے، روس کا سب سے زیادہ آبادی والا حصہ ہے۔ یہاں بڑے میدانی علاقے ہیں، جن میں والگا دریا اور ڈون دریا جیسی اہم آبی گذرگاہیں شامل ہیں۔ یہ علاقہ زرعی پیداوار کے لیے بھی اہم ہے اور یہاں بڑے شہر، جیسے ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ واقع ہیں۔ والگا دریا والگا دریا روس کا سب سے بڑا اور لمبا دریا ہے، جو 3,692 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یورپ کا سب سے لمبا دریا بھی ہے۔ یہ کیسپین سمندر میں جا کر گرتا ہے اور اس کے اطراف کا علاقہ زرعی اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایشیائی روس (سائبیریا) روس کا ایشیائی حصہ، جو یورال پہاڑوں سے بحرالکاہل تک پھیلا ہوا ہے، سائبیریا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر جنگلات، دریا اور برفانی میدانوں پر مشتمل ہے اور یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔ سائبیریا کے اہم دریا سائبیریا میں دنیا کے کچھ بڑے دریا شامل ہیں، جن میں اوب دریا، ینسی دریا اور لینا دریا شامل ہیں۔ یہ دریا سائبیریا کے بڑے حصوں کو آبی وسائل فراہم کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ جھیل بیکال جھیل بیکال دنیا کی گہری ترین اور سب سے پرانی میٹھے پانی کی جھیل ہے، جو سائبیریا میں واقع ہے۔ اس میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد میٹھے پانی کے ذخائر موجود ہیں اور اس کی حیاتیاتی اہمیت بھی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ روس کے پہاڑی سلسلے روس میں کئی اہم پہاڑی سلسلے واقع ہیں، جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یورال پہاڑ یورال پہاڑ روس کے یورپی اور ایشیائی حصوں کے درمیان قدرتی سرحد کا کام کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ معدنیات کے لحاظ سے مالا مال ہیں اور روسی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کوہ قفقاز کوہ قفقاز روس کی جنوبی سرحدوں پر واقع ہیں اور یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی سرحد بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ یہاں روس کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ البروز بھی واقع ہے، جو 5,642 میٹر بلند ہے۔ مشرقی روس کے پہاڑی سلسلے مشرقی روس میں کامچاٹکا کے پہاڑی سلسلے اور آتش فشاں واقع ہیں۔ کامچاٹکا جزیرہ نما اپنی آتش فشانی سرگرمیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ موسمی حالات روس میں مختلف قسم کے موسمی حالات پائے جاتے ہیں، جن میں قطبی موسمی حالات سے لے کر معتدل موسمی حالات شامل ہیں۔ سرد آب و ہوا (قطبی موسمی حالات) روس کا شمالی علاقہ زیادہ تر آرکٹک اور قطبی موسمی حالات کے زیر اثر ہے، جہاں زیادہ تر سال برف باری ہوتی ہے اور درجہ حرارت اکثر نقطہ انجماد سے نیچے رہتا ہے۔ معتدل آب و ہوا روس کے وسطی اور جنوبی حصے زیادہ تر معتدل موسمی حالات کے زیر اثر ہیں، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت معتدل اور سردیوں میں شدید سرد ہوتا ہے۔ ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ جیسے شہروں میں معتدل آب و ہوا کے تحت چار واضح موسم پائے جاتے ہیں۔ قدرتی وسائل روسیہ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان وسائل پر منحصر ہے۔ تیل اور گیس روس دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سائبیرین میدان اور آرکٹک علاقوں میں بڑے پیمانے پر تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو عالمی توانائی کی منڈیوں میں روس کی حیثیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ معدنی وسائل روس میں بڑی مقدار میں معدنی وسائل، جیسے لوہا، تانبا، نکل اور سونا پائے جاتے ہیں۔ یورال پہاڑ اور مشرقی سائبیریا کے علاقے ان معدنیات کے لیے مشہور ہیں۔ جنگلات روس دنیا کے سب سے بڑے جنگلاتی علاقوں میں شامل ہے، جن میں ٹائیگا کا جنگل خاص طور پر مشہور ہے۔ یہ جنگلات روس کی معیشت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور عالمی ماحولیاتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حیاتیاتی تنوع روسیہ میں حیاتیاتی تنوع بھی بہت زیادہ ہے، جہاں مختلف نوعیت کے جانور اور پودے پائے جاتے ہیں۔ جانوروں کی اقسام روسیہ میں بھالو، بھیڑیا، لومڑی، ہرن اور سائبیرین ٹائیگر جیسے جانور پائے جاتے ہیں۔ آرکٹک علاقوں میں قطبی ریچھ اور آرکٹک لومڑی بھی ملتی ہیں۔ نایاب جانور اور محفوظ علاقے روس میں نایاب جانوروں کی بقا کے لیے مختلف محفوظ علاقے اور قدرتی جنگلی پارک قائم کیے گئے ہیں، جہاں جانوروں کی نایاب اقسام کی حفاظت کی جاتی ہے۔ سیاسی تقسیم روس ایک وفاقی جمہوریہ ہے جسے مختلف انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جو ملک کی حکومت اور انتظامی ڈھانچے کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ تقسیم ملک کے مختلف علاقوں کی جغرافیائی، نسلی اور تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ وفاقی موضوعات تصغیر|300px|روس کی وفاقی اکائیاں روس کی انتظامی تقسیم کا سب سے اہم حصہ اس کے وفاقی موضوعات ہیں، جو ملک کی مختلف انتظامی اکائیاں ہیں۔ 1 مارچ 2008ء کے بعد سے، روس 83 وفاقی موضوعات پر مشتمل ہے۔ یہ وفاقی موضوعات ملک کی سیاسی اور انتظامی وحدت کو برقرار رکھتے ہیں اور ان کی چھ اقسام ہیں۔ وفاقی موضوعات کی اقسام روس کے وفاقی موضوعات کی چھ بنیادی اقسام ہیں، جن میں ہر ایک کی اپنی خصوصی حیثیت اور انتظامی ڈھانچہ ہے۔ یہ اقسام درج ذیل ہیں: جمہوریات روس میں 21 جمہوریات شامل ہیں، جو عموماً نسلی بنیادوں پر قائم کی گئی ہیں۔ ان جمہوریات کو خود مختاری حاصل ہے اور ان کے اپنے آئین اور سرکاری زبانیں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، تاتارستان اور چیچنیا ایسی جمہوریات ہیں جو اپنے آئین اور قوانین رکھتی ہیں، لیکن یہ روس کے آئین کے تحت رہتی ہیں۔ کرائیات کرائیات 9 علاقوں پر مشتمل ہیں، جو بنیادی طور پر ملک کے دور دراز علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ اکائیاں جغرافیائی طور پر بڑے ہیں لیکن کم آبادی والے ہیں۔ کرائیات کو دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر حقوق حاصل ہیں اور یہ وفاقی قوانین کے تحت ہیں۔ اوبلاست روس میں 46 اوبلاست شامل ہیں، جو ملک کے سب سے عام وفاقی موضوعات ہیں۔ اوبلاست عام طور پر مختلف نسلی گروہوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کا انتظام مرکزی حکومت کے تحت کیا جاتا ہے۔ یہ اکائیاں روسی فیڈریشن کا اہم حصہ ہیں اور زیادہ تر یورپی روس میں واقع ہیں، جیسے ماسکو اوبلاست۔ وفاقی شہر روس میں 2 وفاقی شہر شامل ہیں: ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ۔ یہ شہر روس کے بڑے شہری مراکز ہیں اور انھیں دیگر وفاقی اکائیوں سے خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ ان شہروں کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت کیا جاتا ہے اور یہ ملک کی سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں کے مراکز ہیں۔ خود مختار اوبلاست روس میں ایک خود مختار اوبلاست ہے، جو یہودی خود مختار اوبلاست ہے۔ اس علاقے کو یہودی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے مخصوص کیا گیا تھا اور اس کو دیگر وفاقی اکائیوں کی طرح مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ خود مختار آکرگ روس میں 4 خود مختار آکرگ شامل ہیں، جو زیادہ تر شمالی اور مشرقی علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ علاقے عام طور پر نسلی اقلیتوں کے زیر اثر ہیں اور انھیں محدود خود مختاری حاصل ہے۔ یہ وفاقی اکائیاں بھی مرکزی حکومت کے قوانین کے تحت آتی ہیں۔ دیگر سیاسی تقسیمات روس کی سیاسی تقسیم صرف وفاقی موضوعات تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے مختلف خطوں کو بہتر طور پر منظم کرنے کے لیے دیگر انتظامی اور عسکری تقسیمات بھی موجود ہیں۔ وفاقی اضلاع وفاقی اضلاع روس کی انتظامی تقسیم کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 2000ء میں صدر ولادیمیر پوٹن نے ملک کی بہتر انتظامی نگرانی کے لیے 8 وفاقی اضلاع قائم کیے۔ ہر ضلع میں ایک صدارتی نمائندہ ہوتا ہے جو ضلع کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے اور اسے وفاقی حکومت کے سامنے رپورٹ پیش کرتا ہے۔ وفاقی اضلاع کی اہمیت وفاقی اضلاع کا قیام وفاقی حکومت کو مقامی سطح پر بہتر انتظامی کنٹرول فراہم کرنے کے لیے کیا گیا۔ یہ اضلاع ملک کے مختلف حصوں میں وفاقی قوانین کے نفاذ اور نظم و نسق کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقتصادی علاقہ جات روس میں اقتصادی علاقہ جات بھی قائم ہیں، جو ملک کی اقتصادی ترقی اور صنعتوں کے فروغ کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ ہر اقتصادی علاقہ ملک کے وسائل، صنعتی ڈھانچے اور اقتصادی ترقی کو منظم کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اہم اقتصادی علاقہ جات اہم اقتصادی علاقہ جات میں مرکزی اقتصادی علاقہ، یورال اقتصادی علاقہ اور سائبیریا اقتصادی علاقہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ملک کی صنعت، معدنیات اور زرعی پیداوار کو منظم کیا جاتا ہے۔ عسکری اضلاع روس میں عسکری لحاظ سے ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے عسکری اضلاع قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اضلاع مختلف فوجی کمانڈز کے تحت ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اہم عسکری اضلاع اہم عسکری اضلاع میں مغربی عسکری ضلع، جنوبی عسکری ضلع اور مشرقی عسکری ضلع شامل ہیں۔ یہ اضلاع ملکی دفاع کی نگرانی کرتے ہیں اور جنگی تیاریوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ عدالتی اضلاع عدالتی اضلاع روس کے عدالتی نظام کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ ہر ضلع میں مختلف عدالتیں قائم ہیں جو وفاقی قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ اپیل کی ثالثی عدالتیں روس میں اپیل کی ثالثی عدالتیں بھی قائم ہیں، جو تجارتی اور معاشی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ عدالتیں ملک کے مختلف اضلاع میں قائم کی گئی ہیں تاکہ اقتصادی اور تجارتی معاملات کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ مقامی حکومتیں روس کی سیاسی تقسیم میں مقامی حکومتیں بھی شامل ہیں، جو دیہی اور شہری سطح پر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہیں۔ میونسپلٹی نظام روس میں میونسپلٹی نظام بھی رائج ہے، جو چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں کی سطح پر مقامی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔ میونسپلٹی کے تحت مقامی خدمات، جیسے کہ تعلیم، صحت اور بلدیاتی انتظام کو منظم کیا جاتا ہے۔ معیشت روس کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے، جو اپنے قدرتی وسائل، توانائی کی پیداوار، صنعتوں اور عالمی تجارت پر انحصار کرتی ہے۔ روس نے 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بازار پر مبنی معیشت کی طرف منتقلی کا آغاز کیا اور آج اس کی معیشت مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں تیل، گیس، معدنیات، زراعت اور صنعتیں شامل ہیں۔ قدرتی وسائل روس قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اور اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ان وسائل پر منحصر ہے۔ تیل اور گیس روس دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس پیدا کرنے والا ملک اور تیل کی پیداوار میں دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ روس کی معیشت کا تقریباً 60 فیصد تیل اور گیس کی صنعت سے منسلک ہے اور یہ ملک توانائی کی برآمدات کے لحاظ سے عالمی سطح پر ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ گیزپروم، روسنیفٹ اور لکوئل جیسی بڑی روسی کمپنیاں توانائی کے شعبے میں عالمی سطح پر مشہور ہیں۔ معدنی وسائل روس دنیا کے سب سے بڑے معدنی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں بڑی مقدار میں کوئلہ، لوہا، تانبا، نکل، سونا اور ہیروں کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ روس کی معدنی صنعت ملک کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کی برآمدات میں ایک نمایاں حصہ شامل ہے۔ زراعت زراعت روس کی معیشت کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ ملک میں مختلف اقسام کی زرعی مصنوعات پیدا کی جاتی ہیں، جن میں گندم، جو، آلو اور مکئی شامل ہیں۔ روس دنیا میں گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی زراعت زیادہ تر جنوبی روس اور سائبیریا کے میدانی علاقوں میں مرکوز ہے۔ مویشی بانی اور جنگلات روس میں مویشی بانی اور جنگلات کی صنعت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں دودھ، گوشت، اون اور دیگر زرعی مصنوعات بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔ روس کے جنگلاتی علاقے دنیا کے سب سے بڑے جنگلات میں شمار ہوتے ہیں اور لکڑی کی برآمدات روس کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ صنعت روس میں صنعتی ترقی کا آغاز سوویت دور سے ہوا اور آج بھی ملک کی معیشت میں صنعتوں کا اہم کردار ہے۔ بھاری صنعتیں روس کی بھاری صنعتوں میں دھات سازی، مشینری اور گاڑیاں بنانے کی صنعتیں شامل ہیں۔ اویشن انڈسٹری اور خلائی صنعت بھی روسی معیشت میں اہم ہیں اور روس کے تیار کردہ سوخوئی اور میگ جیسے لڑاکا طیارے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ دفاعی صنعت روس کی دفاعی صنعت دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے اور روس ہتھیاروں کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ روسی فوجی صنعت ملک کی معیشت میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے اور روس دنیا کے کئی ممالک کو جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی برآمد کرتا ہے۔ خدمات کا شعبہ روس میں خدمات کا شعبہ، خاص طور پر مالیات، تجارت اور سیاحت، معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ مالیاتی نظام روس کا مالیاتی نظام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر مشتمل ہے۔ روس کا مرکزی بینک ملک کی مالیاتی پالیسیوں کو کنٹرول کرتا ہے اور روبل ملک کی سرکاری کرنسی ہے۔ مالیاتی نظام میں نجی بینکوں کے علاوہ سرکاری بینکوں کا بھی اہم کردار ہے، جیسے سبر بینک اور وی ٹی بی بینک۔ تجارت اور سیاحت روس کی عالمی تجارت میں توانائی، معدنیات اور فوجی آلات کا بڑا حصہ ہے۔ روس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین، یورپی یونین، بھارت اور ترکی شامل ہیں۔ سیاحت بھی روس کی معیشت کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے اور ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور کامچاٹکا جیسے علاقوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔ عالمی معیشت میں روس کا کردار روس عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً توانائی کی برآمدات، دفاعی صنعت اور قدرتی وسائل کے حوالے سے۔ برکس اور یوریشین اکنامک یونین روس نے بین الاقوامی تنظیموں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ برکس اور یوریشین اکنامک یونین۔ یہ تنظیمیں روس کو عالمی تجارتی اور اقتصادی معاملات میں اہم شراکت دار کے طور پر پیش کرتی ہیں اور اس کی معیشت کے لیے نئی راہیں کھولتی ہیں۔ توانائی کی عالمی مارکیٹ میں کردار روس کی معیشت عالمی توانائی کی منڈی میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ روس دنیا کے بڑے توانائی فراہم کنندگان میں شامل ہے اور یورپ، چین اور بھارت جیسی عالمی طاقتیں توانائی کے لیے روس پر انحصار کرتی ہیں۔ اقتصادی چیلنجز روس کی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بین الاقوامی پابندیاں، اقتصادی عدم استحکام اور داخلی اقتصادی مسائل شامل ہیں۔ بین الاقوامی پابندیاں 2014ء میں کریمیا کے الحاق کے بعد، روس پر مغربی ممالک نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں نے روس کی معیشت پر منفی اثرات ڈالے، خصوصاً توانائی کے شعبے اور بین الاقوامی مالیاتی تعلقات میں۔ اقتصادی اصلاحات روس نے اقتصادی اصلاحات کی مدد سے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن معیشت کی مکمل بحالی کے لیے ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک میں کرپشن، اقتصادی تنوع کی کمی اور عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل معیشت کے لیے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔ آبادیات روس کی آبادی دنیا کی بڑی آبادیوں میں شامل ہے اور یہ نسلی، لسانی اور مذہبی اعتبار سے متنوع ہے۔ ملک کی آبادی کئی صدیوں میں مختلف تہذیبوں، ہجرتوں اور نسلی گروہوں کے امتزاج سے بنی ہے۔ آبادی کا حجم روس کی آبادی 2024ء کے اندازے کے مطابق تقریباً 146 ملین ہے، جو اسے دنیا کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے۔ تاہم، روس کی آبادی میں حالیہ دہائیوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کی بڑی وجہ کم شرح پیدائش اور زیادہ شرح اموات ہے۔ آبادی کا پھیلاؤ روس کی آبادی کا بیشتر حصہ مغربی حصے میں یورپی روس میں مرکوز ہے، خاص طور پر ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور ولادیووستوک جیسے بڑے شہروں میں۔ مشرقی حصے، یعنی سائبیریا اور مشترکہ مشرقی روس میں آبادی نسبتاً کم ہے کیونکہ یہ علاقے سرد اور برفانی ہیں۔ شہری اور دیہی آبادی روس کی آبادی کا تقریباً 75 فیصد حصہ شہری علاقوں میں رہتا ہے، جبکہ باقی 25 فیصد دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ روس کے بڑے شہروں، جیسے کہ ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور نووسیبرسک میں بڑی آبادی رہتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں آبادی کم اور منتشر ہے۔ نسلی گروہ روس ایک کثیر نسلی ملک ہے، جہاں تقریباً 190 مختلف نسلی گروہ بستے ہیں۔ ان نسلی گروہوں میں سب سے بڑا گروہ روسی ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 77 فیصد ہیں۔ دیگر بڑے نسلی گروہوں میں تاتار، یوکرینی، بشکیر، چیچن، ارمینیائی اور یہودی شامل ہیں۔ روسی روسی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، جو ملک کے تمام حصوں میں پائے جاتے ہیں، خاص طور پر مغربی روس میں۔ روسی قوم کا تعلق مشرقی سلاوی گروہ سے ہے اور یہ ملک کی ثقافتی اور سیاسی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاتار اور باشکیر تاتار اور بشکیر روس کی دو بڑی مسلم نسلی اقلیتیں ہیں، جو زیادہ تر تاتارستان اور باشکورتوستان میں آباد ہیں۔ یہ گروہ روسی تاریخ میں تجارتی، عسکری اور ثقافتی لحاظ سے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ قفقازی نسلی گروہ چیچن، داغستانی اور دیگر قفقازی نسلی گروہ زیادہ تر جنوبی روس اور قفقاز کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ گروہ روسی معاشرتی اور سیاسی تاریخ میں نسلی تحریکوں اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ زبانیں روسیہ میں روسی زبان سرکاری اور قومی زبان ہے، جو ملک کی اکثریتی آبادی بولتی ہے۔ تاہم، روس کے کثیر نسلی پس منظر کی وجہ سے ملک میں تقریباً 100 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ روسی زبان روسی زبان ملک کی سرکاری زبان ہے اور یہ تعلیم، حکومت اور میڈیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ زبان مشرقی سلاوی زبان کی ایک شکل ہے اور اسے دنیا کی اہم ترین زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ علاقائی زبانیں روس میں کئی علاقائی اور نسلی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جمہوریات میں، مقامی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے، جیسے کہ تاتاری زبان تاتارستان میں، چیچن زبان چیچنیا میں اور بشکیر زبان باشکورتوستان میں۔ مذہب روس میں مشرقی آرتھوڈوکس عیسائیت ملک کا سب سے بڑا مذہب ہے اور روسی آرتھوڈوکس چرچ اس کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم، ملک میں مذہبی تنوع بھی موجود ہے اور اسلام، یہودیت اور بدھ مت بھی اہم مذاہب ہیں۔ روسی آرتھوڈوکس چرچ روسی آرتھوڈوکس چرچ روس کا سب سے بڑا اور قدیم مذہبی ادارہ ہے، جو 988ء سے ملک کی مذہبی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ روسی آرتھوڈوکس مذہب زیادہ تر روسی آبادی میں مقبول ہے اور ملک کے اہم تہوار اور مذہبی رسومات اس کے زیر اثر ہیں۔ اسلام اسلام روس کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور زیادہ تر تاتار، بشکیر، چیچن اور دیگر مسلم اقوام اس مذہب کی پیروی کرتی ہیں۔ روس کے مسلمان زیادہ تر تاتارستان، باشکورتوستان اور قفقاز کے علاقوں میں آباد ہیں۔ دیگر مذاہب روس میں یہودیت اور بدھ مت بھی موجود ہیں۔ روس میں یہودی برادری کی تاریخ طویل ہے اور بدھ مت کا ماننے والا ایک بڑا طبقہ بوریاطیا اور کالماکیا میں آباد ہے۔ آبادی کے سماجی مسائل روس کو کئی سماجی مسائل کا سامنا ہے، جن میں آبادی کی کمی، صحت کے مسائل اور بڑھتی ہوئی اموات کی شرح شامل ہیں۔ آبادی کی کمی روس کی آبادی میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کی بڑی وجوہات میں کم شرح پیدائش اور زیادہ شرح اموات شامل ہیں۔ حکومت نے آبادی کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ مالی امداد اور خاندان کی مدد کی اسکیمیں۔ صحت کے مسائل روس کو صحت کے نظام میں بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی اور زندگی کی متوقع عمر میں کمی۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں حکومت نے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحات کی ہیں۔ تعلیم اور شرح خواندگی روس میں تعلیم کی شرح خواندگی تقریباً 99.7 فیصد ہے، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ تعلیمی نظام روس کا تعلیمی نظام مفت اور لازمی ہے اور ملک میں ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے مضبوط ادارے موجود ہیں۔ روسی یونیورسٹیاں، جیسے کہ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی، عالمی سطح پر مشہور ہیں اور ہر سال ہزاروں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہیں۔ ثقافت روس کی ثقافت صدیوں پرانی تاریخ، روایات اور مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر کا امتزاج ہے۔ اس کی ثقافت میں ادب، موسیقی، فنون، رقص، مذہبی رسومات اور تہواروں کا اہم کردار ہے، جو دنیا بھر میں روسی ورثے کو مقبول بناتے ہیں۔ ادب روس کا ادب دنیا بھر میں اپنی گہرائی اور فنی محاسن کی وجہ سے مشہور ہے۔ روسی ادب نے دنیا کو کچھ عظیم ترین مصنفین دیے ہیں، جنھوں نے عالمی ادب میں گہرا اثر ڈالا۔ کلاسیکی روسی ادب روس کا کلاسیکی ادب 19ویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچا، جب الیگزینڈر پوشکن، فیودر دستویفسکی، لیو ٹالسٹائی اور ایوان ترگنیف جیسے بڑے ادیب سامنے آئے۔ پوشکن کو جدید روسی ادب کا بانی سمجھا جاتا ہے اور ان کی شاعری اور نثر روسی زبان کے ادب کی بنیاد ہے۔ لیو ٹالسٹائی کے ناول جیسے کہ "جنگ اور امن" اور "آنا کارنینا" عالمی شہرت یافتہ ہیں اور انسانی زندگی کی گہری تصویر کشی کرتے ہیں۔ سوویت دور کا ادب سوویت دور میں روسی ادب نے سوشلسٹ حقیقت پسندی کو فروغ دیا، جہاں مصنفین نے انقلاب، جنگ اور طبقاتی جدوجہد کو موضوع بنایا۔ میخائل شولوخوف اور بوریس پاسترناک جیسے مصنفین نے اس دور میں اہم کردار ادا کیا، جن میں پاسترناک کا ناول "ڈاکٹر ژواگو" خاص طور پر مشہور ہے۔ فنون روس کے فنون میں مصوری اور تھیٹر شامل ہیں، جو روس کی ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ مصوری روسی مصوری نے 19ویں صدی میں بڑی ترقی کی جب ایلیا ریپین اور آئزاک لیویتان جیسے مشہور مصور سامنے آئے۔ ان مصوروں نے روس کی دیہی زندگی اور مناظر کی خوبصورتی کو اپنے فن پاروں میں پیش کیا۔ روسی مصوری میں حقیقت پسندی اور جمالیاتی اقدار کی خاص اہمیت رہی ہے۔ تھیٹر روس میں تھیٹر کی ایک مضبوط روایت ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی اہم مقام حاصل کیا ہے۔ روسی تھیٹر میں اسٹانسلاوسکی کا طریقہ کار خاص طور پر مشہور ہے، جو اداکاری میں حقیقت پسندی کا فلسفہ ہے۔ ماسکو آرٹ تھیٹر روس کا سب سے مشہور تھیٹر ہے، جہاں عالمی معیار کی پرفارمنسز پیش کی جاتی ہیں۔ مذہب اور روایات روس میں مذہب اور روایات کا اہم مقام ہے اور روسی آرتھوڈوکس چرچ روسی ثقافت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر مذاہب اور روایات بھی روسی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روسی آرتھوڈوکس چرچ روسی آرتھوڈوکس چرچ روس کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم ہے اور ملک کی مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ روسی آرتھوڈوکس روایات میں ایسٹر اور کرسمس جیسے تہوار خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، جنھیں روایتی مذہبی رسومات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ روسی تہوار روس میں کئی قومی اور مذہبی تہوار منائے جاتے ہیں، جن میں نیا سال، یوم فتح اور ماسلی نیتسا خاص طور پر اہم ہیں۔ نیا سال روس میں سب سے بڑا تہوار ہے، جبکہ یوم فتح دوسری جنگ عظیم میں فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ماسلی نیتسا، جسے "پین کیک ویک" بھی کہا جاتا ہے، روس میں بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ دست کاری اور لوک فنون روسی دستکاری اور لوک فنون میں قدیم روایات کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جو ملک کے مختلف علاقوں میں صدیوں سے رائج ہیں۔ ماتروشکا گڑیا ماتروشکا گڑیا روس کی سب سے مشہور دستکاری ہے، جو لکڑی سے بنی ہوتی ہے اور چھوٹی گڑیاں بڑی گڑیا کے اندر رکھی جاتی ہیں۔ یہ گڑیا روسی ثقافت کی علامت سمجھی جاتی ہے اور سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ پالیکھ اور خوخلوما پالیکھ اور خوخلوما روس کی قدیم دستکاریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پالیکھ کے کام میں روایتی روسی منظر کشی اور مذہبی تصاویر بنائی جاتی ہیں، جبکہ خوخلوما میں لکڑی پر سنہری اور سرخ نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ کھانے پینے کی روایات روس کی کھانے پینے کی روایات بھی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ روسی کھانے دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ دار غذاؤں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ روسی کھانے روسی کھانے عام طور پر سادہ اور ذائقہ دار ہوتے ہیں۔ روایتی روسی کھانوں میں بورشٹ (چقندر کا سوپ)، بلینی (پینکیکس) اور پیلمینی (ڈمپلنگز) شامل ہیں۔ مشروبات روس میں ووڈکا ایک مقبول مشروب ہے، جو روایتی طور پر سردیوں کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کوواس، ایک روایتی غیر الکحل مشروب بھی روس میں عام ہے، جو خمیر شدہ روٹی سے بنایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات روس دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے اور اس کی خارجہ پالیسی عالمی سیاست، تجارت اور دفاعی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روس کا جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل اور عسکری طاقت اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط ملک بناتے ہیں، جس کے عالمی تعلقات میں مختلف پہلو شامل ہیں۔ روس کی خارجہ پالیسی روس کی خارجہ پالیسی کا مقصد قومی خود مختاری، اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر روس کا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ روس کی خارجہ پالیسی میں اس کے پرانے حریفوں اور نئے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات روس کے مغربی ممالک، خاص طور پر امریکا اور یورپی یونین، کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تعلقات میں بہتری کی کوششیں کی گئیں، لیکن حالیہ برسوں میں یوکرین کے تنازعے اور کریمیا کے الحاق جیسے مسائل نے ان تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ نیٹو کے ساتھ کشیدگی روس اور نیٹو کے تعلقات میں تناؤ کافی دیر سے چلا آ رہا ہے۔ نیٹو کی مشرقی یورپ میں توسیع کو روس اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ نیٹو روس کے اقدامات کو مشرقی یورپ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے طور پر دیکھتا ہے، خصوصاً یوکرین اور جارجیا کے تنازعات میں روس کے کردار کی وجہ سے۔ ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات روس نے حالیہ دہائیوں میں چین، بھارت اور ایران جیسے ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا ہے۔ یہ تعلقات تجارتی، دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات روس اور چین کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں بہت مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی، عسکری اور سفارتی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ چین روس کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی فورمز میں بھی ایک دوسرے کی حمایت کی ہے، جیسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات روس اور بھارت کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے دوران سے مستحکم ہیں۔ روس بھارت کا بڑا دفاعی شراکت دار رہا ہے اور بھارت اپنی فوجی ضروریات کا ایک بڑا حصہ روسی ہتھیاروں سے پورا کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے اقتصادی، جوہری توانائی اور خلائی تعاون کو بھی فروغ دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات روس کا مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کردار ہے اور اس نے خطے میں مختلف تنازعات میں مداخلت کی ہے، خصوصاً شام کی خانہ جنگی اور ایران کے ساتھ دفاعی اور جوہری تعاون کے معاملات میں۔ شام میں روس کا کردار روس نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں 2015ء سے شام کی خانہ جنگی میں عسکری مداخلت کی۔ روسی افواج نے اسد حکومت کو باغیوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں اسد کی حکومت مستحکم رہی۔ شام میں روس کا عسکری کردار اسے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم طاقت بناتا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات روس اور ایران کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعلقات مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی، تجارت اور عسکری تعاون میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر بھی روس نے اہم کردار ادا کیا ہے اور مذاکرات کے دوران ایران کا دفاع کیا ہے۔ یوریشین اکنامک یونین روس نے 2015ء میں یوریشین اکنامک یونین کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس اتحاد میں بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغیزستان شامل ہیں۔ یوریشین اکنامک یونین کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو بہتر بنانا ہے، تاکہ روس اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اقتصادی طور پر منسلک رہے۔ اقوام متحدہ میں کردار روس اقوام متحدہ کا مستقل رکن ہے اور سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا حامل ہے۔ روس اقوام متحدہ میں عالمی تنازعات اور مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس نے مختلف عالمی مسائل پر ویٹو پاور کا استعمال کیا ہے، جیسے شام اور یوکرین کے تنازعات پر۔ برکس میں کردار روس برکس (BRICS) ممالک کا ایک اہم رکن ہے، جس میں برازیل، چین، بھارت اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ برکس ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے روس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ روس نے اس گروپ کے ذریعے عالمی اقتصادی نظام میں متوازن ترقی کی حمایت کی ہے اور اسے مغربی ممالک کے غلبے کا توڑ سمجھا جاتا ہے۔ جی 20 اور عالمی معیشت میں کردار روس جی 20 کا رکن ہے، جو دنیا کی بڑی معیشتوں کا گروپ ہے۔ روس نے اس فورم کے ذریعے عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور عالمی مالیاتی بحرانوں کے حل میں مدد فراہم کی ہے۔ توانائی کی عالمی مارکیٹ میں روس کا اہم مقام ہے اور روس نے عالمی سطح پر اقتصادی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ روس-یوکرین تنازع 2014ء میں کریمیا کے الحاق کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔ روس-یوکرین جنگ نے روس کے بین الاقوامی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کیا۔ مغربی ممالک نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جس سے روس کی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کریمیا کا الحاق 2014ء میں روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا کو اپنے ساتھ ضم کر لیا، جسے عالمی برادری نے غیر قانونی قرار دیا۔ اس اقدام کے بعد روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا اور امریکا اور یورپی یونین نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ 2022 کا حملہ 2022ء میں روس نے یوکرین پر مکمل حملہ کیا، جس سے عالمی برادری میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔ مغربی ممالک نے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور یوکرین کو عسکری اور مالی امداد فراہم کی۔ اس تنازعے نے عالمی سطح پر روس کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ مغربی پابندیاں اور روس کا رد عمل روس پر عائد مغربی پابندیوں نے روسی معیشت کو متاثر کیا، لیکن روس نے متبادل اقتصادی تعلقات تلاش کرنے کی کوشش کی۔ روس نے ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو فروغ دیا، تاکہ مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ دفاع اور فوج روس دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں میں سے ایک ہے، جس کی فوجی تاریخ، جدید ہتھیاروں اور دفاعی پالیسیوں نے اسے عالمی سطح پر ایک بڑی فوجی قوت بنا دیا ہے۔ روس کی فوجی طاقت میں اس کی زمینی فوج، فضائیہ، بحریہ اور ایٹمی ہتھیاروں کا اہم کردار ہے۔ روسی فوج کی تاریخ روس کی فوجی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور اس میں کئی جنگوں اور فتوحات کا ذکر ملتا ہے۔ روس کی فوجی طاقت میں اس کے مختلف ادوار میں ہونے والی ترقی اور اصلاحات نے اہم کردار ادا کیا۔ زار شاہی دور کی فوج زار شاہی روس کے دور میں فوج نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں، خصوصاً پیٹر اعظم اور کیترین عظیم کے دور میں۔ ان فتوحات میں سوئیڈن اور عثمانی سلطنت کے خلاف جنگیں شامل تھیں، جنھوں نے روس کی سرحدوں کو وسعت دی اور اسے یورپ کی ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھارا۔ سوویت دور کی فوج 1917ء کے انقلاب کے بعد، سرخ فوج نے روس کی خانہ جنگی میں بالشیوک حکومت کا دفاع کیا اور دوسری جنگ عظیم میں مشرقی محاذ پر نازی جرمنی کے خلاف ایک اہم فتح حاصل کی۔ سوویت دور میں روسی فوج نے خود کو عالمی سطح پر ایک بڑی عسکری طاقت کے طور پر منوایا اور سرد جنگ کے دوران اس نے مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، کے ساتھ عسکری مقابلہ کیا۔ جدید روس کی فوج سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، روسی فوج نے کئی اصلاحات کیں تاکہ جدید دور کی عسکری ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ آج روس کی فوج جدید ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور تربیت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور فوجوں میں شمار کی جاتی ہے۔ زمینی فوج روس کی زمینی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں شامل ہے اور اس کے پاس جدید ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل سسٹمز ہیں۔ روس کی زمینی فوج ٹینک اور آرٹلری میں سبقت رکھتی ہے اور اس کے پاس تقریباً 1 ملین سے زائد فعال فوجی ہیں۔ فضائیہ روس کی فضائیہ جدید لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے لیس ہے۔ سوخوئی اور میگ جیسے طیارے روسی فضائیہ کی شان ہیں، جو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے لیے مشہور ہیں۔ فضائیہ میں سوخوئی 57 جیسے جدید اسٹیلتھ طیارے اور میگ 29 جیسے ملٹی رول لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ بحریہ روس کی بحریہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور بحری افواج میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں جدید ایٹمی آبدوزیں، تباہ کن جہاز اور طیارہ بردار جہاز شامل ہیں۔ بحیرہ اسود، بحیرہ بالٹک، بحیرہ جاپان اور آرکٹک سمندر میں روس کی بحری فوج کی اہم موجودگی ہے۔ ایٹمی ہتھیار روس کی ایٹمی طاقت دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ روس کے پاس تقریباً 6,000 سے زائد ایٹمی وارہیڈز ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ روس کا آئی سی بی ایم (بین البراعظمی بیلسٹک میزائل) سسٹم جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو دنیا کے کسی بھی کونے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عسکری اصلاحات روس نے 1990ء کی دہائی کے بعد سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کیں۔ اس میں فوج کی تعداد میں کمی، جدید ہتھیاروں کی تیاری اور فوجی تربیت میں بہتری شامل ہیں۔ جدید ہتھیاروں کی تیاری روس نے اپنی فوجی صنعت کو مضبوط کرنے کے لیے جدید ہتھیاروں کی تیاری پر زور دیا ہے۔ سوخوئی 57، ٹاپول ایم آئی سی بی ایم اور جدید ایٹمی آبدوزیں روسی فوج کی طاقت کو مزید بڑھاتی ہیں۔ عسکری تربیت اور حکمت عملی روس نے فوجی تربیت اور حکمت عملی کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ روسی فوجی تربیت میں جدید جنگی حکمت عملیوں کو شامل کیا گیا ہے اور فوج کو زمینی اور فضائی جنگ کے لیے بہتر تربیت دی جا رہی ہے۔ دفاعی بجٹ روس کا دفاعی بجٹ دنیا کے بڑے بجٹوں میں سے ایک ہے۔ روس نے 2024ء میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے تقریباً 60 بلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مختص کیا۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ جدید ہتھیاروں کی تیاری، ایٹمی طاقت کی بہتری اور فوجی تربیت پر خرچ ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر روسی فوج کا کردار روس کی فوج عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرتی ہے، خصوصاً مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں۔ شام میں روس کی مداخلت 2015ء میں روس نے شام کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اور بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں عسکری کارروائیاں کیں۔ روسی فضائیہ نے باغیوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف حملے کیے، جس کے نتیجے میں اسد حکومت مستحکم ہوئی۔ یوکرین میں مداخلت 2022ء میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا، جس کے بعد یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس تنازعے نے عالمی سطح پر روس کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کیے۔ فوجی اتحاد اور شراکت داریاں روس کئی بین الاقوامی فوجی اتحادوں اور تنظیموں کا رکن ہے، جن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور سی ایس ٹی او (CSTO) شامل ہیں۔ ان تنظیموں کے ذریعے روس اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) روس اور چین نے 2001ء میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس تنظیم میں روس، چین اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک شامل ہیں اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ سی ایس ٹی او (CSTO) سی ایس ٹی او ایک فوجی اتحاد ہے جس میں روس اور کئی سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں۔ اس تنظیم کا مقصد رکن ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت کو بڑھانا اور خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ ماحولیاتی مسائل روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کی وجہ سے وسیع قدرتی وسائل اور متنوع ماحول رکھتا ہے، لیکن اسی وسعت کے ساتھ اسے مختلف ماحولیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ روس میں ماحولیاتی مسائل میں فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی تبدیلیاں اور قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استحصال شامل ہیں۔ فضائی آلودگی روس میں فضائی آلودگی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے، خاص طور پر بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں میں۔ ملک میں فضائی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں صنعتی اخراجات، ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباؤ اور توانائی کی پیداوار میں کوئلہ اور تیل کا استعمال شامل ہے۔ صنعتی آلودگی روس کی بڑی صنعتیں، خصوصاً تیل، گیس اور دھاتوں کی پیداوار میں، فضائی آلودگی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ نوریلسک جیسے شہر فضائی آلودگی کے لیے مشہور ہیں، جہاں دھات سازی کی فیکٹریاں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج کرتی ہیں، جو صحت اور ماحول دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا اثر روس میں گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ بھی فضائی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے۔ خاص طور پر ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کا زیادہ دباؤ اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں نے فضائی معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پانی کی آلودگی پانی کی آلودگی روس میں ایک اور اہم مسئلہ ہے، جو زیادہ تر صنعتی فضلے اور گھریلو نکاسی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ملک کے بڑے دریا اور جھیلیں آلودگی سے متاثر ہیں، جس سے آبی حیات اور انسانوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دریاؤں کی آلودگی روس کے بڑے دریا، جیسے والگا، اوب اور ینسی، آلودگی کا شکار ہیں۔ صنعتی فضلہ اور زراعت میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کا بہاؤ ان دریاؤں میں جا کر پانی کے معیار کو خراب کرتا ہے۔ والگا دریا خاص طور پر آلودگی سے متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کے آبی حیات اور ماحولیاتی نظام کو خطرہ لاحق ہے۔ جھیل بیکال کی آلودگی جھیل بیکال دنیا کی سب سے گہری میٹھے پانی کی جھیل ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کا پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ صنعتی فضلہ، ماحولیاتی تبدیلیاں اور غیر قانونی ماہی گیری جھیل کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی روس کے جنگلات، خاص طور پر ٹائیگا کے علاقے، دنیا کے سب سے بڑے جنگلاتی وسائل میں شامل ہیں۔ یہ جنگلات عالمی ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہیں، لیکن جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور آگ کی وجہ سے یہ علاقے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ غیر قانونی کٹائی روس میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ لکڑی کی غیر قانونی تجارت نے روس کے کئی جنگلات کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ کٹائی نہ صرف ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی اضافہ کرتی ہے، جس سے عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں مزید شدت اختیار کرتی ہیں۔ جنگلاتی آگ روس کے شمالی علاقوں، خصوصاً سائبیریا، میں ہر سال ہزاروں ہیکٹر جنگلات جنگلاتی آگ کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ آگ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدت اختیار کر رہی ہیں اور ان سے نہ صرف مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ کاربن کا اخراج بھی بڑھتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں ماحولیاتی تبدیلیاں روس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، خاص طور پر آرکٹک کے علاقوں میں جہاں برف کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ آرکٹک میں ماحولیاتی تبدیلیاں سمندری سطح میں اضافے، آبی حیات کے نقصان اور موسمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ آرکٹک کا پگھلاؤ روس کا آرکٹک علاقہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ آرکٹک سمندر کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس سے نہ صرف سمندری سطح میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ آرکٹک کے جانوروں، جیسے قطبی ریچھ اور والرس، کے لیے بھی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا زرعی شعبے پر اثر ماحولیاتی تبدیلیوں نے روس کے زرعی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنوبی روس میں خشک سالی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ غیر متوقع موسم اور شدید گرمی کی لہریں روس کے زرعی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ قدرتی وسائل کا استحصال روس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن ان وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استحصال ملک کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ تیل، گیس اور معدنیات کی کان کنی ماحولیاتی نقصان کی اہم وجوہات ہیں۔ تیل اور گیس کی صنعت روس کی تیل اور گیس کی صنعت ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے، لیکن یہ صنعت ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب بھی ہے۔ تیل کی نکاسی کے دوران ہونے والے رساؤ اور گیس کے اخراج نے آرکٹک اور دیگر علاقوں میں ماحولیاتی نقصان پہنچایا ہے۔ معدنیات کی کان کنی معدنیات کی کان کنی، خاص طور پر کوئلے، سونے اور لوہے کی کان کنی، روس کے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ کان کنی نہ صرف زمین کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ زیر زمین پانی کے ذخائر کو آلودہ کرتی ہے، جس سے مقامی ماحول اور انسانی صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ روس کی ماحولیاتی پالیسیاں اور اقدامات روس نے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ کیوٹو پروٹوکول اور پیرس معاہدہ روس نے کیوٹو پروٹوکول اور پیرس معاہدہ پر دستخط کیے ہیں، جن کے تحت ملک نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، ان معاہدوں کے تحت طے شدہ اہداف کے حصول میں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کے اقدامات روس نے اپنے قدرتی وسائل، خصوصاً جنگلات اور آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین متعارف کرائے ہیں۔ حکومت نے جنگلاتی کٹائی کو کنٹرول کرنے اور جنگلات کو دوبارہ اگانے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، قدرتی پارکوں اور محفوظ علاقوں کا قیام بھی عمل میں آیا ہے تاکہ نایاب جنگلی حیات اور ماحولیات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ماحولیاتی تنظیمیں روس میں مختلف ماحولیاتی تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے (NGOs) ماحولیاتی مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تنظیمیں عوامی آگاہی بڑھانے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے نفاذ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کرتی ہیں۔ تعلیم اور سائنس روس کا تعلیمی اور سائنسی نظام دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہ ملک تاریخی طور پر تعلیم اور سائنس میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ روس نے جدید سائنس، ریاضی، طب اور انجینئرنگ میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جبکہ اس کا تعلیمی نظام طلبہ کو مختلف شعبوں میں اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی نظام روس کا تعلیمی نظام دنیا کے قدیم ترین اور وسیع ترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ روس میں تعلیم کو اعلیٰ اہمیت دی جاتی ہے اور یہ لازمی تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے ایک مثالی نظام رکھتا ہے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم روس میں ابتدائی تعلیم کی شروعات 7 سے 8 سال کی عمر میں ہوتی ہے اور یہ مکمل طور پر مفت ہوتی ہے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم تقریباً 11 سال تک محیط ہوتی ہے، جس میں طالب علموں کو بنیادی علوم، ریاضی، ادب، سائنس اور دیگر مضامین میں تربیت دی جاتی ہے۔ یونیورسل تعلیمی پالیسی روس میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مفت اور لازمی ہے۔ روسی حکومت تمام بچوں کے لیے تعلیمی مواقع فراہم کرتی ہے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات کی جاتی ہیں۔ تعلیمی نظام میں نصاب کو جدید بنانے اور طالب علموں کو بہتر مواقع فراہم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم روس میں اعلیٰ تعلیم کا نظام دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ملک کی یونیورسٹیاں سائنسی تحقیق، انجینئرنگ اور طب میں خاص طور پر معروف ہیں۔ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی، سینٹ پیٹرزبرگ اسٹیٹ یونیورسٹی اور نووسیبرسک اسٹیٹ یونیورسٹی جیسی بڑی جامعات دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ تکنیکی اور سائنسی تعلیم روس میں تکنیکی اور سائنسی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ انجینئرنگ، ریاضی، فزکس اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے روس کی جامعات میں خاص طور پر مقبول ہیں۔ ماسکو انسٹیٹیوٹ آف فزکس اینڈ ٹیکنالوجی، باؤمان ماسکو اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی اور سینٹ پیٹرزبرگ پولی ٹیکنک یونیورسٹی جیسی یونیورسٹیاں روسی سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سائنس اور تحقیق روس کی سائنسی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور ملک نے کئی عالمی سطح کی سائنسی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ روس نے خلا کی تحقیق، طب، طبیعیات اور کیمسٹری میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ خلا کی تحقیق روس خلا کی تحقیق میں دنیا کی سرکردہ طاقتوں میں سے ایک ہے۔ سوویت یونین نے 1957ء میں سپتنک 1 نامی پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا، جس نے خلا کی تحقیق کے میدان میں انقلاب برپا کیا۔ یوری گاگارین کی خلا میں پرواز 1961ء میں یوری گاگارین پہلے انسان بنے جنھوں نے خلا میں سفر کیا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اس نے خلا کی تحقیق میں روس کو عالمی سطح پر سب سے آگے کر دیا۔ اس مشن نے خلا کی تحقیق میں ایک نئی دوڑ کا آغاز کیا، جسے بعد میں "خلائی دوڑ" کہا گیا۔ طبیعیات اور کیمسٹری روس نے طبیعیات اور کیمسٹری میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دیمتری میندلیئیف نے دورانی جدول کی ایجاد کی، جو آج بھی دنیا بھر میں کیمیائی عناصر کی درجہ بندی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ طبیعیات میں روسی کامیابیاں روس کے سائنسدانوں نے طبیعیات میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیو لانڈاؤ، اندری ساخاروف اور سرگئی پروخوروف جیسے سائنسدانوں نے طبیعیات کے مختلف شعبوں میں اہم تحقیق کی ہے، جن میں کوانٹم میکینکس، تھیوریٹکل فزکس اور پلازما فزکس شامل ہیں۔ طب روس نے طبی سائنس میں بھی کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایوان پاولوف نے طبی سائنس میں شرطی ردعمل کے نظریے پر اہم کام کیا، جس نے نفسیات اور طب میں انقلاب برپا کیا۔ اس کے علاوہ، روس نے ویکسین کی تحقیق اور متعدی بیماریوں کے علاج میں بھی عالمی سطح پر اپنا نام بنایا ہے۔ طبی تحقیق میں روس کا کردار روس میں طبی تحقیق کے اہم مراکز موجود ہیں، جہاں جدید بیماریوں کے علاج اور ویکسین کی تیاری پر تحقیق کی جاتی ہے۔ روس نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران اپنی ویکسین اسپوتنک وی تیار کی، جو عالمی سطح پر استعمال کی گئی۔ سائنسی تنظیمیں اور ادارے روس میں کئی اہم سائنسی ادارے اور تنظیمیں موجود ہیں، جو ملک کی سائنسی تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روسی اکیڈمی آف سائنسز روسی اکیڈمی آف سائنسز (RAS) روس کا سب سے بڑا سائنسی ادارہ ہے، جو ملک کی سائنسی تحقیق، تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی نگرانی کرتا ہے۔ RAS کا قیام 1724ء میں پیٹر اعظم کے دور میں ہوا تھا اور یہ آج بھی دنیا کی اہم ترین سائنسی تنظیموں میں شمار ہوتا ہے۔ سائنسی اور تکنیکی پارک روس میں کئی سائنسی اور تکنیکی پارک قائم کیے گئے ہیں، جہاں سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ پارک خصوصی طور پر انجینئرنگ، بایوٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تحقیق کی ترقی کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ عالمی سائنسی تعلقات روس دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے میدان میں تعاون کرتا ہے۔ روس نے کئی بین الاقوامی معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت وہ دوسرے ممالک کے ساتھ سائنسی تحقیق اور تعلیمی تبادلہ کرتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے ساتھ سائنسی تعاون روس نے یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک کے ساتھ سائنسی تحقیق اور تکنیکی ترقی کے میدان میں شراکت داری قائم کی ہے۔ روس نے چین، بھارت اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ سائنسی منصوبے اور ریسرچ پروگرامز شروع کیے ہیں۔ خلائی تحقیق میں بین الاقوامی تعاون روس کا ناسا، یورپی اسپیس ایجنسی (ESA) اور چین کے ساتھ خلائی تحقیق میں قریبی تعاون ہے۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) کے منصوبے میں روس کا اہم کردار ہے، جہاں روسی خلانورد بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور عالمی سطح پر خلائی تحقیق میں حصہ ڈالتے ہیں۔ مزید دیکھیے * سوویت اتحاد حوالہ جات زمرہ:آزاد خیال جمہوریتیں زمرہ:آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے ارکان زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:ایشیا میں 1991ء کی تاسیسات زمرہ:ایشیائی ممالک زمرہ:بحر الکاہل کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بحر منجمد شمالی کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بحیرہ اسود کے ممالک زمرہ:بحیرہ بالٹک کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بحیرہ قزوین کے ممالک زمرہ:بی آر آئی سی ایس اقوام زمرہ:جدید تاریخ روس زمرہ:جی 20 اقوام زمرہ:جی 20 ممالک زمرہ:دو براعظموں میں واقع ممالک زمرہ:روسی دفاع زمرہ:روسی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:سلافیہ ممالک زمرہ:سوویت اتحاد کی جمہوریتیں زمرہ:شمال مشرقی ایشیائی ممالک زمرہ:شمالی ایشیائی ممالک زمرہ:شمالی یورپی ممالک زمرہ:شنگھائی کارپیریشن آرگنائیزیشن کے ارکان زمرہ:کیویائی روس زمرہ:گروہ 8 کے ممالک زمرہ:مجلس یورپ کے رکن ممالک زمرہ:مسیحی ریاستیں زمرہ:مشرق ایشیائی ممالک زمرہ:مشرقی یورپ زمرہ:مشرقی یورپی ممالک زمرہ:مغربی ایشیائی ممالک زمرہ:وسط ایشیائی ممالک زمرہ:وسطی یورپی ممالک زمرہ:وفاقی جمہوریتیں زمرہ:وفاقی ممالک زمرہ:یورپ میں 1991ء کی تاسیسات زمرہ:یورپی ممالک زمرہ:1547ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:1991ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:روس
[Wikipedia:ur] 4 مئی واقعات * 1493ء - پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ * 1494ء - کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اتر گئے۔ * 1904ء - پاناما نہر کی تعمیر کا کام شروغ ہو گیا۔ * 1910ء موجودہ اسرائیل کے دار الحکومت تل ابیب کی بنیاد رکھی گئی * 1924ء - فرانس میں اولمپک کھیل کا آغاز۔ * 1979ء - مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ * 1990ء پاکستان نے آسٹریلیا کو چھتیس رنز سے ہرا کر آسٹریلیا ایشیاکپ جیتا * 1994ء اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور پی ایل او کے رہنما یاسرعرفات نے فلسطین کی مشروط خود مختاری کے معاہدے پردستخط کیے * 1996ء - ہوزے مریا ازنار ہسپانیہ کے وزیر اعظم بن گئے۔ * 2005ء پاکستان نے مطلوب القاعدہ کے اہم رکن ابو فراج ال لبّی کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا * 2005ء صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ القاعدہ کے رہنما ابوفراج کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا * 2002ء - نائیجیریا کے شہر کانو میں ملم امینو کانو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ہوائی جہاز کے حادثے میں ایک سو تین افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے۔ پیدائشیں * 1008ء – خواجہ عبداللہ انصاری، شاعر و صوفی، شیخ ہرات۔ * 1649ء - راجہ چھترسال، ہندوستانی جنگجو * 1904ء - تقی دہلوی، اردو زبان کے شاعر * 1905ء - انا چانڈی، ہندوستان میں پہلی خاتون جج * 1922ء - محشر بدایونی، اردو زبان کے مشہور نعت گو شاعر۔ * 1922ء - لیث قریشی، اردو زبان کے غزل اور نعت کے شاعر * 1928ء – حسنی مبارک، مصر کے سابق صدر۔ * 1928ء - آفاق صدیقی، اردو اور سندھی زبان کے شاعر، نقاد اور مترجم * 1935ء - دلیپ کور ٹوانہ، پنجابی ادب کی ناول نگار * 1964ء - ابراہیم محمد صلح، مالدیپ کے سابق صدر * 2004ء - اشنور کور، بھارتی اداکارہ وفات * 1506ء - سلطان حسین مرزا بایقرا، سلطان تیموری سلطنت * 1799ء – ٹیپو سلطان والئ میسور (پ۔ 1750) * 1886ء - اڈوارڈ کیلون کینڈل، امریکی کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ * 1963ء – شوکت تھانوی، ممتاز مزاح نگار * 1938ء – کارل فان اوسیتزکی، جرمنی کے صحافی نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1889) * 1972ء – اڈوارڈ کیلون کینڈل، امریکی کیما دان ونوبل انعام یافتہ (پ۔ 1886) * 1980ء – مارشل ٹیٹو، یوگوسلاوی فیلڈ مارشل و پہلے صدر (پ۔ 1892) * 2009ء – ڈی لوئی، امریکی اداکار (پ۔ 1933) * 2013ء – کرسچن ڈی دووی، انگریز بلجیئن نوبل انعام یافتہ (پ۔ 1917) تعطیلات و تہوار —فائرفائٹرز کا عالمی دن حوالہ جات زمرہ:ایام سال زمرہ:مئی زمرہ:یوم ولادت
[Wikipedia:ur] توحید باری تعالٰی توحید کے معنی ہیں کہ خالق ومالک کائنات کو ایک جاننا۔ اللہ تعالٰی کی وحدانیت کو عموماً سمجھانے کی خاطر تین اجزاء میں تقسیم کیا جاتا ہے؛ توحید یعنی خدا ایک اور اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ دلیل: انتھائی سادہ دلیل (Argument) جو پیش کی جا سکتی ہے وہ قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں سمجھنا ہو تو ہم کہ سکتے ہیں: اگر دو یا زیادہ خدا ہوتے تو ان کی رائے میں کبھی نہ کبھی ضرور اختلاف ہوتا اور دنیا کے نظام میں خلل واقع ہوجاتا لیکن دنیا کے نظام میں خلل نہ ہونا اور ایک ہی قسم کے نظم کا نظر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک ہی اور وہ خداوند متعال کی ذات اقدس ہے۔ اللہ تعالٰی کو ذات میں واحد جاننا قال تعالى: لقد كفر الذين قالوا إن الله ثالث ثلاثة بے شک انھوں نے کفر کر دیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے (القرآن) اللہ تعالٰی کو صفات میں یکتا جاننا قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله وما يشعرون ايّان يبعثون (سورة النمل) آپ کہہ دیجیئے کہ آسمان وزمین والوں میں سے کوئی غیب جاننے والا نہیں سوائے الله کے اور ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ دوبارہ کب زندہ کیے جائیں گے۔ اللہ تعالٰی کو صفات کے تقاضوں میں یکتا جاننا وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا (سورة جن آية ١٨) زمرہ:اللہ زمرہ:توحید
[Wikipedia:ur] اعلٰی حضرت اعلیٰ کے معنی ہیں دوسروں سے اونچا۔ کسی کو اعلیٰ حضرت کہنے کا مطلب ہے کہ وہ کہنے والے کے نزدیک دینی یا دنیاوی لحاظ سے ‌ اونچے مرتبے پر فائز ہے۔ * امام احمد رضا خان بریلوی کو بھی اعلیٰ حضرت کہا جاتا ہے۔ * حیدر آباد دکن کے بادشاہ نظام حیدر‌آباد کو بھی اعلیٰ حضرت کہا جاتا تھا۔ * گولڑہ شریف امام سید پیر مہر علی شاہ گیلانی کو بھی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں۔(صرف مہری لوگ) * عبد القادر جیلانی المعروف غوث اعظم/پاک بغدادی کو بھی اعلیٰ حضرت کہتے ہیں (بغدادی لوگ)
[Wikipedia:ur] جولائی جولائی گريگورين سال کا ساتواں مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں گرمی کا موسم ہوتا ہے۔ جولائی کا پرانا نام تھا جسے جولئیس سیزر (Julius Caesar) (قدیم تاریخ یونان و مصر کا ایک بہت بڑا لیڈر ان کھاتے میں بے شمار فتوحات ہیں قلوپطرہ اور پومپی کا ہم عصر تھا) کے نام پر بدل کر جولائی رکھا گیا کیونکہ وہ اس ماہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے پہلے اسے لاطینی لفظ کویتیلیس (Quintilis) کہا جاتا تھا جس کا مطلب پانچواں کے ہوتے ہیں کیونکہ قدیم تقویم میں جولائی سال کا پانچواں مہینہ تھا۔ زمرہ:مہینے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] پنجابی زبان پنجابی (شاہ مکھی: پنجابی؛ گرمکھی: ਪੰਜਾਬੀ) ایک ہند یورپی زبان ہے جو پاکستان اور بھارت کے خطۂ پنجاب کے باشندگان میں مروّج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں اسلام، سکھ مت، ہندو مت اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی چاروں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں کیے گئے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد 15 سے 17 کروڑ سے زائد ہے ۔ اس زبان کے بہت سے لہجے ہیں جن میں سے ماجھی لہجے کو ٹکسالی مانا جاتا ہے۔ یہ لہجہ پاکستان میں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ کے اطراف میں جبکہ ہندوستان میں امرتسر اور گرداسپور کے اضلاع میں مستعمل ہے۔ ایس۔آئی۔ایل۔ نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق پنجابی دُنیا میں گیارویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔ پاکستانی پنجابی لہندی جبکہ ہندوستانی پنجابی چڑھدی کہلاتی ہے۔ اسم پنجابی کا ارتقا آج جس زبان کو ہم پنجابی کہتے ہیں۔ دسویں صدی عیسوی کے مورخ المسعودی اور جغرافیہ دان ابن حوقل نے اسے ’’ملتانی ‘‘ کہاہے ۔ البیرونی نے اسے ’’الہندیہ ‘‘ لکھا ہے اور لہوری بھی کہا ہے۔مسعود سعد سلمان (1606ء ) نے دیوان (لباب الباب ) میں اسے ہندوی کہا ہے ۔ اس سے بہت پہلے بہت سارے پنجابی لکھاریاں نے اسے ’’ہندوی ‘‘ لکھا ہے مثلاً عبد الکریم ’’نجات المومنین ‘‘ کا پ روپ ’’کام لتا وچ تے معزالدین 1678 ء ، شاہ مراد 1731ء، حمل فقیر 1814 ء، مولوی محمد سلیم 1840 ء، میاں محمد بخش 1862ء تے مولوی محمد اللہ جوایا جھاوریاں وغیرہ تے دبستان مذہب وچ گرونا نک دی زبان نوں ’’زبان جٹان پنجاب ‘‘ کہا ہے ۔ حامد نے ہیر رانجھا میں اس زبان کے لیے ’’جٹکی‘‘ کا نام استعمال کیا ہے۔ امیر خسرو نے ’’لہوری ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اور ابو لفضل نے آئین اکبری میں اسے ’’ملتانی‘‘ لکھا ہے۔اس زبان کے لیے پنجابی کا لفظ سب سے پہلے حافظ برخوردار رانجھا نے استعمال کیا ہے۔ (مفتاح الفقہ ) اس کے بعد مولوی کمال الدین اورسندرداس آرام نے پنجابی لکھا ہے۔ حضرت لقمان دا فرمایا اس وچ اوہ مسائل تُرت پنجابی آک سناویں جیکر ہووے مائل جغرافیائی وسعت پنجابی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ یہ ملک کی 60 فی صدی آبادی کی مادری زبان ہے، جبکہ 80 فیصد پاکستانی یہ زبان بولنا جانتے ہیں۔ پاکستان میں پنجابی بولنے والے لوگوں کی تعداد کم و پیش 12 کروڑ ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کی آبادی کا محض 3 فیصد ہی پنجابی جانتا ہے۔ تاہم پنجابی ہندوستان کی ریاست پنجاب کی سرکاری زبان ہے، جبکہ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری پشت پناہی حاصل نہیں۔ مزید برآں پنجابی کو ہندوستانی ریاستوں ہریانہ اور دہلی میں دوم زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ پنجابیامریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں اقلیتی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ پنجابی میں بھنگڑا اور موسیقی کی وساطت سے بھی کافی عالمی مقبولیت پائی ہے۔ تاریخ پنجابی زبان کا اختراع اپبھرمش پراکرت زبان سے ہوا ہے۔ اس زبان میں ادب کا آغاز بابا فرید الدین گنج شکر سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کا نام آتا ہے۔ سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو نے گورو گرنتھ صاحب کی تالیف کی تھی۔ یہ کتاب گورمکھی رسم الخط میں لکھی گئی تھی اور اس میں پنجابی کہ علاوہ برج بھاشا اور کھڑی بولی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ پندرھویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان مسلمان صوفی بزرگوں نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم تحریریں رقم کیں۔ سب سے مقبول بزرگوں میں بابا بلہے شاہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری کافیوں پر مشتمل ہے۔ قصہ خوانی بھی پنجابی ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ سب سے مشہور قصہ ہیر اور رانجھے کی محبت کا قصہ ہے جو وارث شاہ کے قلم سے رقم ہو کر امر ہو چکا ہے۔ دیگر صوفی شعرا میں شاہ حسین، سلطان باہو، شاہ حسین اور خواجہ فرید شامل ہیں۔ تقسیم ہند کا سب سے برا اثر پنجابی زبان پر پڑا۔ایک طرف ہندو پنجابی جو صدیوں سے پنجابی بولتے آئے تھے اب ہندی کو اپنی مادری زبان کہلوانے لگے۔ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت نہ دی گئی، جبکہ ہندوستان میں پنجابی کو سرکاری حیثیت دینے کی راہ میں رکاوٹیں حایل کی گئیں۔ تاہم اب ریاست پنجاب میں پنجابی سرکاری اور دفتری زبان ہے۔ پنجابی کے جدید ادبا میں موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی، امرتا پریتم، سرجیت پاتر (ہندوستان سے)، منیر نیازی، انور مسعود اور منو بھائی (پاکستان سے) شامل ہیں۔ تصغیر|پنجابی حروف تہجی پنجابی کے شعرا * وارث شاہ * ہاشم شاہ * منیر نیازی * امرتا پریتم * انور مسعود * میاں محمد بخش * بابا بلھے شاہ * بابا نجمی مزید دیکھیے * پاکستانی زبانیں * پنجاب، پاکستان * پنجاب تصاویر File:Punjabi Kitabiyaat.jpg| File:Gurmukhi Script - traditional alphabet.svg| File:Shahmukhi1.JPG| File:Bhulay Shah.jpg| File:Munir niazi.gif| File:Das_Buch_der_Schrift_(Faulmann)_138.jpg| حوالہ جات زمرہ:اشتقاقی زبانیں زمرہ:بھارت کی زبانیں زمرہ:بھارت کی سرکاری زبانیں زمرہ:پاکستان کی زبانیں زمرہ:پنجاب (پاکستان) کی زبانیں زمرہ:پنجابی ثقافت زمرہ:فاعلی مفعولی فعلی زبانیں زمرہ:موسیقیت والی زبانیں زمرہ:ہند۔آریائی زبانیں زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:ایتھنولوگ کے علاوہ دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آیزو زبان کے مضامین زمرہ:پنجاب قبل از تقسیم زمرہ:دیوناگری میں لکھی جانے والی زبانیں
[Wikipedia:ur] ناول ناول اطالوی زبان کے لفظ ناولا (Novella) سے نکلا ہے۔ ناولا کے معنیٰ ہے نیا۔ لغت کے اعتبار سے ناول کے معانی نادر اور نئی بات کے ہیں۔ لیکن صنفِ ادب میں اس کی تعریف بنیادی زندگی کے حقائق بیان کرنا ہے۔ ناول کی اگر جامع تعریف کی جائے تو وہ کچھ یوں ہوگی کہ “ناول ایک نثری قصہ ہے جس میں پوری ایک زندگی بیان کی جاتی ہے”۔ ناول کے عناصر ِ ترکیبی میں کہانی، پلاٹ، کردار، مکالمے ،زماں و مکاں، اسلوب ،نکتہ نظر اور موضوع وغیرہ شامل ہیں۔ افسانہ کسی فرد کے زندگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ "ناول کے اجزاء" # کہانی # پلاٹ # کردار # انداز نظر # زبان و بیاں # منظر نگاری تاریخ ناول تمام ادبی صنفوں میں تازہ ترین ہے اگرچہ قدیم دور میں اس کی نظیر موجود ہے ، اس نے قرون وسطی تک اپنے آپ کو مستحکم اور منفرد انداز میں قائم کرنے کا انتظام نہیں کیا۔ اردو ناول نگاری ناول مغربی اثر کے ساتھ اردو میں آیا۔ ناول سے پہلے اردو میں داستان اور قصے کہانیاں موجود تھیں۔ اردو میں ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کی کہانیاں کو ناول کا پہلا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ ان کی پہلی کہانی مراۃ العروس 1869ء میں شائع ہوئی۔ نذیر احمد اپنی کہانیوں کے ذریعے عورتوں کی اصلاح چاہتے تھے۔ بنات النعش، توبۃ النصوح، ابن الوقت وغیرہ نذیر احمد کی دوسری کتابیں ہیں۔ تاریخی اعتبار سے دوسرے اہم ناول نگار سرشار ہیں۔ ان کا ناول فسانۂ آزاد اردو کا ایک شاہکار ہے۔ یہ 1879ء میں لکھا گیا۔ شرر نے اپنے ناولوں کے ذریعے سماج کی اصلاح کی۔ ان کا مشہور ناول فردوسِ بریں ہے۔ یہ 1899ء لکھا گیا ہے۔ سجاد حسین نے ناولوں میں مزاحیہ رنگ کا اضافہ کیا۔ حاجی بغلول، احمق الدین، میٹھی چھری وغیرہ ان کے مشہور ناول ہیں۔ مرزا رسوا کے ناولوں سے ایک نیا رنگ شروع ہوتا ہے۔ امراؤ جان ادا ان کا زندۂ جاوید ناول ہے۔ راشدالخیری نے اپنے ناولوں سے سماجی اصلاح کی کوشش کی۔ سمرنا کا چاند، شامِ زندگی، صبحِ زندگی وغیرہ ان کے مشہور ناول ہیں۔ سجاد ظہیر ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ایک ہیں۔ ان کا ناول لندن کی ایک رات بہت مشہور ہے۔ پریم چند کے اثر سے اردو میں ناول کو ترقی ہوئی۔ بازارِ حسن، چو گانِ ہستی، نرملا، گودان وغیرہ ان کے اہم ناول ہیں۔ کرشن چندر کا ناول شکست بہت مشہور ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے مسائل کو ناولوں کے ذریعے پیش کیا۔ عصمت چغتائی کا مشہور ناول ٹیڑھی لکیر ہے۔ اردو کے جدید ناول نگاروں میں قُرت العین حیدر کا نام اہم ہے۔ ان کے مشہور ناولوں میرے بھی صنم خانے، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر وغیرہ اہم ہیں۔ بانو قدسیہ کا ناول راجا گدھ ناول نگاری کی تاریخ میں ایک شاہکار اضافہ ہے۔بلال مختار کا ادھورے ستائیس منٹس بھی جدید اسلوب کا اآئینہ دار ہے۔ ناول کی اقسام:۔ 1۔معاشرتی ناول:۔ جو ناول بنیادی طور پر معاشرے کے کسی مسئلے یا مسائل کی نقاب کشائی کرتے ہوں، انھیں معاشرتی ناول کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ 2۔واقعاتی ناول:۔ جن ناولوں میں پلاٹ پر زیادہ زور ہوتا ہے، یعنی ان میں واقعات کی بھرمار ہوتی ہے، انھیں ہم واقعاتی ناول کہہ سکتے ہیں۔ 3۔کرداری ناول:۔ جن ناولوں کا مرکزی تأثر کسی خاص کردار کی خصوصیات سے تشکیل پائے، انھیں کرداری ناول سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔ 4۔نظریاتی ناول:۔ جن ناولوں میں مقصد یا نظریہ زیادہ ابھرا ہوا ہوتا ہے، انھیں ہم مقصدی یا نظریاتی ناول قرار دے سکتے ہیں۔ 5۔تاریخی ناول:۔ جن ناولوں میں تاریخ کسی خاص دور، کسی مشہور شخصیت کو ناول کا موضوع بنایا گیا ہو، انھیں ہم تاریخی ناول قرار دے سکتے ہیں۔ 6۔جاسوسی ناول:۔ جن ناولوں کی بنیاد انوکھی باتوں، مافوق الفطرت کرداروں اور تحیر و تجسس پر ہو، انھیں ہم جاسوسی ناول کہہ سکتے ہیں۔ 7۔اصلاحی ناول:۔ ایسے ناول جن میں اصلاح معاشرت کی جائے۔انھیں اصلاحی ناول کہتے ہیں۔ 8۔ رومانی ناول:۔ رومانوی ناولوں میں ، ایک محبت کی کہانی سامنے آتی ہے جو بطور اصول ، خوش کن اختتام پزیر ہوتی ہے۔ ان ناولوں کا مرکزی پلاٹ محبت میں مرکزی کرداروں کے جذبات کی تفصیل سے بھرا ہوا ہے ، جو دوسروں کے مابین محبت میں پڑنے 9۔نفسیاتی ناول:۔ جو ناول بنیادی طور پر کسی نفسیاتی نقطے کے گرد گھومتے یا پھر کرداروں کی تحلیل نفسی میں مصروفِ عمل ہوتے ہیں، انھیں ہم نفسیاتی ناول کہہ سکتے ہیں۔ مزید دیکھیے * پاکستانی ناول حوالہ جات زمرہ:اردو ادب کی اصطلاحات زمرہ:اصناف ادب زمرہ:افسانوی ادب زمرہ:غیرافسانوی ادب زمرہ:فکشن زمرہ:نثر زمرہ:وسیطی اشکالبند زمرہ:غیرموجود آئی ایس بی این کے ساتھ صفحات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:ادبی اصطلاحات زمرہ:تاریخ ادب زمرہ:کتب بلحاظ قسم زمرہ:رزمیہ
[Wikipedia:ur] قانون تصغیر|200px|بائیں|قانون و انصاف سے متعلق اداروں کے ساتھ اکثر منسلک کی جانے والی ایک تشبیہ جو ترازو کو جبر و انصاف کے مابین پیمانے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ قانون دراصل اجتماعی اصولوں پر مشتمل ایک ایسا نظام ہوتا ہے جس کو کسی ادارے (عموما حکومت) کی جانب سے کسی معاشرے کو منظم کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے اور اسے معاشرے پر لاگو کرنے یا نافذ کرنے کے لیے (جب اور جتنی ضرورت پڑے) ریاستی طاقت کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے اور اسی پر اس معاشرے کے اجتماعی رویوں کا دارومدار ہوتا ہے۔ اس کی درست تعریف کے ساتھ یہ دیرینہ بحث کا معاملہ ہے۔ اسے مختلف طریقے سے کہیں سائنس اور اور کہیں انصاف کے فن کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ ریاست کے نافذ کردہ قوانین ایک قانون ساز ادارے یا اداروں کے مجموعی عمل کے ذریعہ بنائے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دستور بنتے ہیں۔ یا منتظمین (بادشاہ، صدر، وزیر اعظم) کے فرمان، حکمناموں اور ضوابط کے ذریعے بنائے جاتے ہیں؛ یا ججوں کے ذریعہ نظیر کے ذریعے قائم کیے جاتے ہیں، جو عام طور پر مشترکہ قانون کی حدود میں ہوتے ہیں۔ عام لوگ قانونی طور پر پابند ہونے والے معاہدے بنا سکتے ہیں، بشمول ثالثی کے معاہدے جو معیاری عدالتی قانونی چارہ جوئی کے لیے تنازعات کو حل کرنے کے متبادل طریقے کے طور پر اپنائے جاتے ہیں۔ قوانین کی تشکیل خود کسی تحریری آئین یا خاموش دستور اور اس میں درج حقوق سے متاثر ہو سکتی ہے۔ قانون سیاست، معاشیات، تاریخ اور معاشرے کو مختلف طریقوں سے تشکیل دیتا ہے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کے لیے ثالث کا کام بھی کرتا ہے۔ اگر الفاظ کو وسعت دی جائے تو یوں کہا جائے گا کہ قانون ؛ رسمی (official) اصول اور نظمیت کا ایک ایسا نظام ہے جو قانون اساسی، تشریع یعنی وضع قانون (legislation)، عدالتی رائے اور اسبق جیسے شعبہ جات عدل و انصاف اور حکومتی تضبیط پر محیط ہوتا ہے اور قانون چونکہ مکمل معاشرے پر لاگو کیا جاتا ہے اس لیے یہ اس معاشرے میں بسنے والے ہر ہر فرد کی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک قانون عہد، جو ہر خریدی جانے والی چیز کی نظمیت کرتا ہے خواہ وہ ایک ٹیلی ویژن ہو یا ایک مالیاتی ادات سے متعلق کسی ماخوذہ بازار سے خریدا گیا کوئی مبادلیہ ہو۔ اسی طرح قانون جائیداد، جو غیرمنقولہ جائیداد جیسے گھر، عمارت اور جائیداد وغیرہ کو خریدنے، بیچنے اور کرایے پر دینے سے متعلق لوازمات اور فرائض کا تعین کرتا ہے۔ حوالہ جات زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:تصورات زمرہ:سیاسی ہندسیات زمرہ:نقائص حوالہ: یوآرایل زمرہ:معاشرتی تصورات زمرہ:معاشرتی علوم زمرہ:نیکی زمرہ:عدل و انصاف زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:سیاسی فلسفہ
[Wikipedia:ur] مسلمان تصغیر|250px|مصری مسلمان نماز پڑھ رہے ہیں، ایک تصویر۔ مسلمان ، ، سے مراد وہ شخص ہے جو دینِ اسلام پر یقین رکھتا ہو۔ اسلام کا لغوی معنی اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا۔ اگرچہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اسلام خدا کا دین ہے اور یہ دین حضرت محمد سے پہلے بھی موجود تھا اور جو لوگ اللہ کے دین پر عمل کرتے رہے وہ مسلمان ہیں۔ مثلاً قرآن کے مطابق حضرتابراہیم علیہ السلام بھی مسلمان تھے۔ مگر آج کل مسلمان سے مراد اسے لیا جاتا ہے جو حضرت محمد کے لائے ہوئے دین پر عمل کرتا ہو اور یقین رکھتا ہو۔ کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان انبیا کے آخر میں آئے ہیں اور آخری قانون پر عمل ہوتی باقیہ خود بخود منسوخ ہو جاتے ہے۔ بائیں|260px|تصغیر|دنیا میں مسلمان آبادی کا تناسب بنیادی اسلامی عقائد پہلے پہل جو لوگ مسلمان ہوئے وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اس طریقہ سے کوئی بھی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ جب کوئی حضرت محمد کو اللہ کا رسول مان لے تو اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ ان کی ہر بات پر ایمان رکھے اور عمل کرنے کی کوشش کرے۔اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے مفہوم "کہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرے۔مثلاً انھوں نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ کہ وہ خدا کے آخری رسول ہیں تو اس بات پر ایمان رکھنا اسلام کے فرائض میں سے ہے۔اگر کوئی نافرمانی کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد جن پر مسلمانوں کے کسی فرقہ میں کوئی اختلاف نہیں، درج ذیل ہیں * اللہ واحد اور لاشریک ہے۔ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ * حضرت محمد اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ * قرآن اللہ کی کتاب ہے اور اس کا ہر لفظ و حرف اللہ کی طرف سے ہے۔ * قیامت اور حساب و کتاب یعنی حیات بعد الموت پر ایمان * نماز(ہر عاقل بالغ پر فرض ہے اور یہ مسلمان اور کافر میں فرق کرتی ہے)، روزہ، زکوٰۃ جہاد اور حج (جو حج کی استطاعت رکھتا ہو) کی فرضیت پر ایمان * فرشتوں، سابقہ انبیا اور کتب پر ایمان • اچھی اور بری تقدیر پر ایمان کہ جو کچھ بھی اس کائنات میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ اوپر دی گئی چیزوں پر ایمان رکھنے والے کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر اختلافات فروعی و سیاسی ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد تصغیر|بائیں|250px گنتی کے حساب سے ٪سے نمبر ممالک مسلم گنتی ٪ مسلمان ممالک ٪ مسلمان مسلمان گنتی 1 انڈونیشیا 283,487,931 88.20% سعودی عرب 100% 26,417,599 2 پاکستان 251,269,164 95% افغانستان 99% 31,571,023 3 ہندوستان 156,254,615 13.4% صومالیہ 100% 8,591,629 4 بنگلہ دیش 132,446,365 88% مالدیپ 99.9% 348,756 5 ترکی 70,800,000 97% ترکی 97% 70,800,000 6 مصر 70,530,237 90% مغربی صحارا 99.8% 272,461 7 نائیجیریا 64,385,994 45% ایران 98% 67,337,681 8 ایران 64,089,571 98% الجیریا 99% 32,206,534 9 الجیریا 32,999,883 99% ماریطانیہ 99% 3,083,772 10 مراکش 32,300,410 99% یمن 99% 20,519,792 11 افغانستان 31,571,023 99% تونس 99% 9,974,201 12 سعودی عرب 26,417,599 100% اومان 99% 2,971,567 13 سوڈان 26,121,865 65% اتحاد القمری 99% 664,534 14 عراق 25,292,658 97% جبوتی 99% 471,935 15 ازبکستان 23,897,563 89% مراکش 98.7% 32,300,410 16 ایتھوپیا 22,533,500 31.2% پاکستان 98% 162,487,489 17 روس 21,513,046 15% لبیا 97% 5,592,596 18 یمن 20,519,792 99% عراق 97% 25,292,658 19 چین 19,594,707 1.5% تاجکستان 95% 6,805,330 20 شام 16,234,901 88% اردن 95% 5,471,745 21 ملائیشیا 14,467,694 60.4% قطر 95% 819,898 22 تنزانیہ 12,868,224 35% سینیگال 94% 10,459,222 23 مالی 11,062,376 90% آذربائیجان 93.4% 7,584,311 24 نائجر 10,499,343 90% حرین 93.1% 659,682 25 سینیگال 10,459,222 94% مصر 91% 70,530,237 26 تونس 9,974,201 99% مالی 90% 11,062,376 27 صومالیہ 8,548,670 99% نائجر 90% 10,499,343 28 گنی 8,047,686 85% گیمبیا 95% 1,433,930 29 آذربائیجان 7,584,311 93.4% ازبکستان 89% 23,897,563 30 برکینا فاسو 7,449,626 52% ترکمانستان 89% 4,407,352 31 قازقستان 7,137,346 47% انڈونیشیا 88.2% 207,000,105 32 تاجکستان 6,805,330 95% بنگلہ دیش 88% 127,001,272 33 آئیوری کوسٹ 6,677,043 38.6% شام 88% 16,234,901 34 کانگو 6,008,500 10% گنی 85% 8,047,686 35 لبیا 5,592,596 97% کویت 85% 1,985,300 36 اردن 5,471,745 95% فلسطین 84% 3,159,999 37 چاڈ 5,306,266 54% کرغزستان 80% 4,117,024 38 ترکمانستان 4,407,352 89% متحدہ عرب امارات 76% 1,948,041 39 فلپائن 4,392,873 5% البانیہ 70% 2,508,277 40 فرانس 4,214,790 6.9% برونائی 64.5% 241,602 41 کرغیزستان 4,117,024 80% سوڈان 65% 26,121,865 42 یوگنڈا 4,090,422 15% ملائیشیا 60.4% 14,467,694 43 موزمبیق 3,881,340 20% سیرالیون 60% 3,610,585 44 سیرالیون 3,610,585 60% لبنان 55% 2,142,570 45 گھانا 3,364,776 16% برکینا فاسو 52% 7,449,626 46 کیمرون 3,276,001 20% چاڈ 54% 5,306,266 47 تھائی لینڈ 3,272,218 5% نائجیریا 50% 64,385,994 48 موریطانیہ 3,083,772 99.9% ارتریا 50% 2,280,799 50 جرمنی 3,049,961 3.7% ایتھوپیا 50% 37,533,500 51 اومان 2,971,567 99% بوسنیا 40% 1,820,879 52 امریکا 2,350,000 0.8% آئیوری کوسٹ 38.6% 6,677,043 53 البانیہ 2,004,480 58% گنی 38% 538,090 54 ملاوی 2,431,784 20% تنزانیہ 35% 12,868,224 55 کینیا 2,368,071 7% شمالی مقدونیہ 33.3% 685,305 56 ارتریا 2,280,799 50% سرینام 22% 96,391 57 کوسوو 2,000,000 90% سربیا 3.2% 256,754 58 لبنان 2,142,570 55% موزمبیق 20% 3,881,340 59 کویت 1,985,300 85% کیمرون 20% 3,276,001 60 متحدہ عرب امارات 1,948,041 76% ملاوی 20% 2,431,784 بیرونی روابط * اسلامی ڈائرکٹری حوالہ جات زمرہ:اسلام زمرہ:قرآنی اصطلاحات زمرہ:مذہبی شناخت زمرہ:مسلم شخصیات زمرہ:کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:بھارتی ذات کا نظام
[Wikipedia:ur] 31 مئی واقعات * 526ء ترکی میں ہولناک زلزلے سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے * 1935ء - کوئٹہ میں 7.7 کی شدت کے زلزلے سے 40,000 افراد ہلاک ہوئے۔ * 1970ء - پیرو میں 7.9 کی شدت کا زلزلہ آیا جس میں 66,794 اور 70,000 کے درمیان ہلاک اور 50,000 زخمی ہوئے۔ * 2017ء - کابل میں جرمن سفارت خانے کے قریب رش کے اوقات میں ایک پرہجوم چوراہے پر ایک کار بم دھماکا ہوا، جس میں 90 سے زیادہ افراد ہلاک اور 463 زخمی ہوئے۔ * 1923ء چین اور سوویت یونین کے درمیان سفارتکاروں کا تبادلہ ہوا ولادت * 1162ء - چنگیز خان، منگول سلطنت کے بانی اور پہلے سردار * 1898ء - خواجہ شہاب الدین، خیبر پختونخوا کے گورنر * 1930ء - کلنٹ ایسٹووڈ، امریکی اداکار و فلمساز * 1965ء - بروک شیلڈز، امریکی اداکارہ * 1976ء - کولن فیرل، آئرش اداکار وفات * 1954ء - اصغر علی روحی، عربی و فارسی کے ادیب اور شاعر * 1976ء – عبد العزیز مراد آبادی، بھارتی سنی عالم دین، الجامعۃ الاشرفیہ کے بانی (پ۔1894ء) * 1999ء – عنایت حسین بھٹی، پاکستانی گلوکار، فنکار، ہدایتکار اور کالم نگار * 2023ء – ویلایانی ارجنن ، ہندوستانی مصنف، اسکالر اور ماہر لسانیات تعطیلات و تہوار * 1979ء زمبابوے نے آزادی کا اعلان کیا * انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن حوالہ جات " زمرہ:ایام سال زمرہ:مئی
[Wikipedia:ur] بلجئیم بیلْجِیَم (ڈچ: België، فرانسیسی: Belgique، جرمن: Belgien) مغربی یورپ میں واقع ایک آزاد ملک ہے۔ اس کا سرکاری نام مملکت بلجئیم ہے۔ یورپی یونین کی یورپی پارلیمان اور نیٹو کے مرکزی دفاتر بلجئیم کے دار الحکومت برسلز میں قائم ہیں۔ بلجئیم کی شمالی سرحد نیدرلینڈز سے، مشرقی سرحد جرمنی سے، جنوب مشرقی سرحد لکسمبرگ سے اور جنوب مشرقی سرحد فرانس سے ملتی ہے۔ جب کہ بلجئیم کے شمال مغرب میں بحیرہ شمال واقع ہے۔ بلجئیم ایک خود مختار ریاست ہے جس میں آئینی بادشاہت قائم ہے اور اس ریاست کا طرز حکومت پارلیمانی نظام پر مشتمل ہے۔ حوالہ جات فہرست متعلقہ مضامین بلجئیم * فہرست متعلقہ مضامین بلجئیم زمرہ:1830ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے زمرہ:آزاد خیال جمہوریتیں زمرہ:آئینی بادشاہتیں زمرہ:اتحاد بحیرہ روم کے رکن ممالک زمرہ:اتحاد ولندیزی زبان کے رکن ممالک زمرہ:اقوام متحدہ کے رکن ممالک زمرہ:بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ممالک زمرہ:بینیلکس زمرہ:جرمن زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:شمالی یورپ زمرہ:فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کے رکن ممالک زمرہ:فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات زمرہ:مجلس یورپ کے رکن ممالک زمرہ:مغربی یورپ زمرہ:مغربی یورپی ممالک زمرہ:مملکتیں زمرہ:نیٹو کے رکن ممالک زمرہ:وفاقی ممالک زمرہ:ولندیزی زبان بولنے والے ممالک زمرہ:یورپی اتحاد کے رکن ممالک زمرہ:یورپی ممالک
[Wikipedia:ur] ریاضی ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ساختوں، اشکال اور تبدلات سے متعلق بحث بھی کی جاتی ہے۔ اس علم کے بارے میں گمان غالب ہے کہ اس کی ابتدا یا ارتقا دراصل گننے، شمار کرنے، پیمائش کرنے اور اشیاء کے اشکال و حرکات کا مطالعہ کرنے جیسے بنیادی عوامل کی تجرید اور منطقی استدلال (logical reasoning) کے ذریعہ ہوا۔ ریاضی داں ان تصورات و تفکرات کی جو اوپر درج ہوئے ہیں چھان بین کرتے ہیں اور ان سے متعلق بحث کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نئے گمان کردہ خیالات (conjectures) کے لیے صیغے (formulae) اخذ کرنا اور پھر احتیاط سے چنے گئے مسلمات (axioms)، تعریفوں اور قواعد کی مدد سے ریاضی کے اخذ کردہ صیغوں کو درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اشتقاق ریاضی کا لفظ ریاضت سے بنا ہے جس کا مطلب سیکھنا، مشق کرنا یا پڑھنا ہوتا ہے، جبکہ انگریزی میں بھی mathematics کا لفظ یونانی کے mathema سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سیکھنا یا پڑھنا ہے۔ تاریخ بنیادی قسم کی ریاضی کی معلومات کا استعمال زمانہ قدیم ہی سے رائج ہے اور قدیم مصر، بین النہرین اور قدیم ہندوستان کی تہذیبوں میں اس کے آثار ملتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں علم ریاضی کو سائنس، ہندسیات، طب اور معاشیات سمیت تمام شعبہ ہائے علم میں استعمال کیا جا رہا ہے اور ان اہم شعبوں میں استعمال ہونے والی ریاضی کو عموماً عملی ریاضی (applied mathematics) کہا جاتا ہے، ان شعبہ جات پر ریاضی کا نفاذ کرکے اور ریاضی کی مدد لے کر نہ صرف نئے ریاضیاتی پہلوؤں کی دریافتوں کا راستہ کھل جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ریاضی اور دیگر شعبوں کے ملاپ سے ایک بالکل نیا شعبۂ علم وجود میں آجانے کی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ فلسفیانہ بحث تاریخ میں کئی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ریاضی دان، ماہرینِ طلبہ، فلاسفرز اور بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے یہ بُنیادی سوال پوچھا ہے: کیا حساب کو حقیقی دنیا سے الگ کرنا چاہیے؟ مطلب، جب ہم گہرے تَصوّرات میں جاتے ہیں — جیسے کہ اِنفِنِٹی، کمپلیکس نمبرز، وغیرہ — کیا اس پیرائےِ واقعات لگانے کا کوئی ٹھوس فائدہ ہے یا یہ صرف ایک فن ہے، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا واقعاتی ضیاع؟ کیوں کئی ایسے تَصوّرات کا ریاضی دنیا سے کوئی تعلق نہیں لگتا؟ لیکن اب یہ بحث ختم ہو گئی ہے، کیونکہ یہ تَصوّرات، جو دیکھنے میں دنیا سے کوئی تعلق رکھنے والے نہیں لگتے تھے، واپس لوٹ آئے ہیں جب فزکس نے پھر سے صف آرا ہونا شروع کیا۔ ایک زمانے میں صِفر ایک بالکل دنیا سے الگ تصوّر لگتا تھا، لیکن اب اس کے بغیر ہم فزکس میں بہت سی چیزیں نہیں کر سکتے — جیسے کہ درجہِ حرارت یا اینٹروپی۔ اسی طرح ہم منفی عدد کے بغیر بھی بہت سے معاملات حل نہیں کر سکتے، جیسے وولٹیج یا مومینٹم۔ اب زیادہ حَلّوں میں ہمیں اِنفِنِٹی کے تصوّر کا استعمال ملتا ہے کیلکولس میں، جس کے بغیر بہت سے فزکس کے حسابات ممکن نہیں ہیں۔ اور اِنیمیجری اور کمپلیکس نمبرز کا بے تحاشا استعمال اب کوانٹم شعبے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح اب تعلیم یافتہ لوگ مانتے ہیں کہ حساب دُنیاوی منطق سے الگ ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کبھی تو کبھی ایک دوسرے سے جُڑتے رہیں گے۔ زمرہ:بنیادی موضوع قسم بندی زمرہ:بنیادی موضوع کے مقالہ جات زمرہ:تشکیلی علوم زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:ریاضیات زمرہ:ریاضیاتی اصطلاحیات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
[Wikipedia:ur] افریقا تصغیر|400px|براعظم افریقا افریقا (africa) رقبے کے لحاظ سے کرہ ارض کا دوسرا بڑا بر اعظم، جس کے شمال میں بحیرہ روم، مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس واقع ہے۔ دلکش نظاروں، گھنے جنگلات، وسیع صحراؤں اور گہری وادیوں کی سرزمین، جہاں آج 53 ممالک آباد ہیں اور ان کے باسی کئی زبانیں بولتے ہیں۔ محل وقوع افریقا کے شمالی اور جنوبی حصے نہایت خشک اور گرم ہیں جن کا بیشتر حصہ صحراؤں پر پھیلا ہوا ہے۔ خط استوا کے ارد گرد گھنے جنگلات ہیں۔ مشرقی افریقہ میں عظیم وادی الشق کے نتیجے میں گہری وادیاں تشکیل پائیں جن میں کئی بڑی جھیلیں بھی واقع ہیں۔ براعظم کے مغرب میں دریائے نائجر بہتا ہے جو وسیع دلدلی ڈیلٹا بناتا ہوا بحر اوقیانوس میں جا گرتا ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے کانگو افریقا کے گھنے استوائی جنگلات سے گزرتا ہے۔ براعظم کے مشرقی حصے میں عظیم وادی الشق اور ایتھوپیا کے بالائی میدان ہیں۔ قرن افریقا براعظم کا مشرق کی جانب آخری مقام ہے۔ 325px|تصغیر| مصنوعی سیارے سے لی گئی افریقا کی خلائی تصویر صحرائے اعظم شمالی افریقا کے بیشتر حصے پر پھیلا ہوا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے۔ اس عظیم صحرا کا ایک چوتھائی حصہ ریتیلے ٹیلوں پر مشتمل ہے جبکہ بقیہ پتھریلے خشک میدان ہیں۔ براعظم کے دیگر بڑے صحراؤں میں نمیب اور کالاہاری شامل ہیں۔ صحرائے اعظم کے جنوب میں صحرائی اور جنگلی علاقوں کو چھوڑ کر پورے براعظم میں گھاس کے وسیع میدان ہیں جو سوانا کہلاتے ہیں۔ یہی میدان ہاتھی سمیت افریقا کے دیگر مشہور جانوروں کے مسکن ہیں۔ مشرق میں عظیم وادی الشق ہے، جو دراصل زمین میں ایک عظیم دراڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ عظیم دراڑ جھیل نیاسا سے بحیرہ احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ دراڑ مزید پھیلتی گئی تو ایک دن قرن افریقا براعظم سے الگ ہو جائے گا۔ موسم خط استوا کے ساتھ ساتھ بارشوں کے باعث گھنے جنگلات واقع ہیں یہاں کا موسم گرم اور نمی سے بھرپور ہے۔ آزادی 325px|تصغیر|نوآبادیاتی دور میں افریقا کے مختلف ممالک کا نقشہ، مختلف رنگ مختلف قابض قوتوں کو ظاہر کر رہے ہیں جن کی نشان دہی کی گئی ہے 1960ء کی دہائی تک افریقا کا بیشتر حصہ یورپی ممالک کے قبضے میں تھا اور طویل غلامی کے بعد 1980ء کی دہائی تک تقریباً تمام ممالک کو آزادی مل گئی لیکن ان کے وسائل نو آبادیاتی دور میں غصب کر لیے گئے تھے اس لیے اقتصادی و معاشی طور پر وہ آج تک نہ سنبھل سکے اور غربت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جہالت کے باعث نسلی و قومی تعصب نے بھی افریقی عوام کے دلوں میں جڑیں پکڑیں جس کے نتیجے میں خوفناک جنگیں اور خانہ جنگیاں ہوئیں جن میں لاکھوں انسان اجل کا نشانہ بن گئے۔ افریقا کے 15 ممالک ایسے ہیں جن کی سرحدیں سمندر سے نہیں ملتیں جس کے باعث تجارت اور مواصلات کے رابطے محدود ہیں۔ آبادی افریقا کی بیشتر آبادی دیہات میں رہتی ہے لیکن چند بڑے شہر بھی ہیں جن میں قاہرہ قابل ذکر ہے، کی آبادی 65 لاکھ ہے اور یہ براعظم کا سب سے بڑا شہر ہے۔ شمالی اور مشرق کے بیشتر ممالک کا مذہب اسلام ہے اور وہ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ عالمی اسلامی اخوت کے گہرے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ رقبہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم ہونے کے باوجود افریقا کی آبادی زیادہ نہیں خصوصاً صحرائی علاقوں میں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیادہ تر آبادی پانی کے ذخائر اور زرخیز علاقوں میں ہے۔ افریقا میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اس لیے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ افریقا کی بیشتر عوام کا طرز زندگی انتہائی سادہ ہے لیکن مغربی اشیاء کے استعمال کے رحجان میں اب اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ممالک میں تعلیم عام کرنے کے منصوبہ جات کے تحت خواندگی اور صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نباتات و معدنیات افریقا معدنیات سے مالا مال ہے اور نو آبادیاتی دور میں اسی دولت نے اسے غلامی کے طویل دور میں دھکیل دیا۔ یہاں پائی جانے والی معدنیات میں تیل، سونا، تانبا اور ہیرا خصوصاً قابل ذکر ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ یہیں سے نکالا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں مالی میں دنیا میں پیدا ہونے والے نصف سے زائد سونا نکالا جاتا تھا۔ کئی ممالک میں کان کنی اہم ترین صنعت ہے۔ براعظم کے جنوبی علاقوں خصوصاً جنوبی افریقا میں سب سے زیادہ کانیں ہیں جہاں سے ہیرے، سونا، یورینیم اور تانبا نکالا جاتا ہے۔ تانبے کے سب سے زیادہ ذخائر جمہوریہ کانگو اور زیمبیا میں پائے جاتے ہیں۔ تیل الجزائر، انگولا، مصر، لیبیا اور نائجیریا میں نکلتا ہے۔ افریقا میں مختلف اقسام کے ماحول میں مختلف فصلیں بھی ہوتی ہیں۔ منطقہ حارہ کے علاقوں میں ربڑ اور کیلا اہم کاشت ہے جبکہ مشرقی افریقا چائے اور کافی کی کاشت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے جن میں کینیا قابل ذکر ہے۔ افریقا کی بیشتر صنعتیں خام مال پر عمل پر انحصار کرتی ہیں۔ چند افریقی ممالک کی صنعت ایک ہی فصل یا معدنی وسیلے پر منحصر ہے لیکن کئی شہروں میں مختلف صنعتیں قائم کی جا رہی ہیں۔ شمالی افریقا کے ممالک، نائجیریا اور جنوبی افریقا میں سب سے زیادہ صنعتیں ہیں۔ براعظم میں سب سے زیادہ تیل شمالی افریقا کے مسلم ممالک اور مغرب میں بحر اوقیانوس کے ساتھ ساتھ واقع زیریں ممالک میں نکالا جاتا ہے۔ افریقا دنیا کا گرم ترین براعظم ہے جہاں صحرائے اعظم میں 122 ڈگری فارن ہائٹ تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شمالی ساحلی علاقے انتہائی گرم اور خشک ہیں اور بارش بہت کم ہوتی ہے۔ ساحلی علاقوں سے جنوب کی طرف صحرائے اعظم بیابان اور تیز خشک ہواؤں کا علاقہ ہے۔ اس کے جنوب میں ساحل کا علاقہ واقع ہے جہاں درختوں کی کٹائی صحرائے اعظم کو جنوب کی طرف مزید پھیلنے کا موقع دے رہی ہے۔ خط استوا کے قریب بہت زیادہ بارش ہوتی ہے اور اسی لیے مغربی اور وسطی علاقوں میں گھنے جنگلات ہیں۔ مزید جنوب میں موسم بہت خشک ہے اور قحط سالی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ زمین کے معیار کے مطابق افریقا میں مختلف اقسام کی زراعت ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں جیسے روانڈا، یوگینڈا اور کینیا میں چائے کاشت کی جاتی ہے۔ شمالی میں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود نہیں غذائی اجناس مقامی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کاشت کی جاتی ہے جبکہ نقد فصلیں جیسے پھل، کھجور اور زیتون برآمد کیے جاتے ہیں۔ مغربی افریقا میں مونگ پھلیاں، کوکوا اور کافی کاشت ہوتی ہے۔ جنوبی حصے میں جنوبی افریقا میں مختلف اقسام کی کاشت ہوئی ہے جن میں پھل برآمد کیے جاتے ہیں اور انگوروں سے شراب کشید کی جاتی ہے۔ مزید دیکھے دوسرے براعظم # ایشیا، # یورپ، # افریقا، # انٹارکٹیکا، # آسٹریلیا، # شمالی امریکا اور # جنوبی امریکا حوالہ جات زمرہ:افریقا زمرہ:براعظم زمرہ:صفحات مع گراف زمرہ:خطے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
[Wikipedia:ur] بحر اوقیانوس بحر اوقیانوس، بحرظلمات یا بحرِ اوقیانوسِ اطلس دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے 5/1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن (Atlantic Ocean) یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے۔ اٹلانٹک کا مطلب "اطلس کا بیٹا" ہے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ دراصل عربی میں، --- اوقیانوس --- Ocean یا بحر ہی کو کہا جاتا ہے، لیکن اردو میں عموما اوقیانوس سے مراد Atlantic Ocean لی جانے لگی ہے لہذا یہاں "بحر اوقیانوس" کو Atlantic Ocean کے متبادل کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ اور عربی میں بھی اگر اس کی اصل الکلمہ تلاش کی جائے تو تانے بانے ایک یونانی لفظ Okeanos تک لے جاتے ہیں جس سے عربی کا اوقیانوس ماخوذ ہے اور پھر Okeanos کی ماخوذیت بذات خود ایک اسطورہ (دیومالائی داستان یا افسانے) تک جاتی ہے کہ جہاں د گا ئیا (Gaia) اور دیوتا یورنس (Uranus) کی جفت گیری سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام Oceanus تھا۔ چوکھٹا|بائیں| بحر اوقیانوس تصغیر|بائیں محل وقوع اس بحر کا حوض انگریزی کے حرف S کی شکل میں شمالا جنوبا لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کو استوا مخالف رو قریبا 8 درجے شمالی عرض بلد پر شمالی اوقیانوس اور جنوبی اوقیانوس میں تقسیم کرتی ہے۔ اس کو مغرب میں شمالی و جنوبی امریکا اور مشرق میں یورپ و افریقہ نے گھیرا ہوا ہے۔ یہ بحر شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آبنائے ڈریک کے ذریعہ بحر الکاہل سے ملا ہوا ہے۔ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان میں ایک مصنوعی رابطہ نہر پانامہ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ مشرق میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند کو تقسیم کرنے والا خط 20 درجے مشرقی نصف النہار ہے جو کیپ اگلہاس سے انٹارکٹکا تک ہے۔ بحر اوقیانوس کو بحر منجمد شمالی سے ایک خط علاحدہ کرتا ہے جو گرین لینڈ سے شمال مغربی آئس لینڈ اور پھر شمال مشرقی آئس لینڈ سے سپٹسبرگن کی انتہائی جنوبی نوک تک اور پھر شمالی ناروے میں شمالی کیپ تک جاتا ہے۔ بحر اوقیانوس زمین کے قریبا 20٪ حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور پھیلاؤ میں صرف بحر الکاہل سے چھوٹا ہے۔ اپنے ملحقہ سمندروں سمیت اس کا رقبہ تقریباً 106400000 مربع کلومیٹر (41100000 مربع میل) اور ان سمندروں کے بغیر اس کا رقبہ تقریباً 82400000 مربع کلومیٹر (31800000 مربع میل) ہے۔ ملحقہ سمندروں کے ساتھ‍ اس کا حجم 354700000 مکعب کلومیٹر (85100000 مکعب میل) اور ان کے بغیر اس کا حجم 323600000 مکعب کلومیٹر (77640000 مکعب کلومیٹر) ہے۔ بحر اوقیانوس کی اوسط گہرائی ملحقہ سمندروں سمیت 3332 میٹر (10932 فٹ) اور ان کے بغیر اوسط گہرائی 3926 میٹر (12881 فٹ) ہے۔ اس کی سب سے زیادہ گہرائی پورٹو ریکو گھاٹی میں ہے جہا ں اس کی گہرائی 8605 میٹر (28232 فٹ) ہے۔ بحر اوقیانوس کی چوڑائی متغیر ہے۔ اس کی کم سے کم چوڑائی برازیل اور لائیبیریا کے درمیان میں 2848 کلومیٹر (1770 میل) اور زیادہ سے زیادہ سے چوڑائی ریاستہائے متحدہ امریکا اور شمالی افریقہ کے درمیان میں 4830 کلومیٹر (3000 میل) ہے۔ بحر اوقیانوس کا ساحل کٹا پھٹا ہے اور بہت سی کھاڑیوں، خلیجوں اور سمندروں میں پھیلا ہوا ہے جن میں بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، خلیج سینٹ لارنس، بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود، بحیرۂ شمال، بحیرۂ لیبریڈور اور بحیرۂ نارویجن-گرین لینڈ شامل ہیں۔ بحر اوقیانوس میں موجود جزائر میں جزائر فارو، گرین لینڈ، آئس لینڈ، راکال، جزائر برطانیہ، آئر لینڈ، فرنینڈو ڈی نورونہا، ازورز، جزائر میڈیرا، کانریز، کیپ وردے، ساؤ ٹامے اور پرنسیپی، نیوفاؤنڈ لینڈ، برمودا، ویسٹ انڈیز، اسینشن، سینٹ ہیلینا، ٹرینڈاڈ، مارٹن واز، ٹرسٹن ڈا کنہا، جزائر فاک لینڈ، جزیرۂ جنوبی جارجیا شامل ہیں۔ ثقافتی اہمیت: ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا میں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے، اس کے علاوہ شمالی امریکا اور یورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لیے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے، چنانچہ اکثر امریکی، یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لیے "across The pond"(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ بحری پیندا بحر اوقیانوس کے پیندے کی سب سے اہم خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع کا آبدوز پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ شمال میں آئس لینڈ سے قریبا 58 درجے جنوبی عرض بلد تک پھیلا ہوا ہے اور زیادہ سے زیادہ 1600 کلومیٹر (1000 میل) کی چوڑائی تک پہنچتا ہے۔ ایک عظیم شگافی وادی بھی اس ارتفاع کے بیشتر حصے کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع پر پانی کی گہرائی بہت سی جگہوں پر 2700 میٹر (8900 فٹ) سے کم ہے جبکہ بہت سی چوٹیاں پانی سے باہر نکلی ہوئی ہیں جن سے جزائر وجود میں آتے ہیں۔ جنوبی بحر اوقیانوس میں ایک اور ارتفاع بھی ہے جو والوس ارتفاع کہلاتا ہے۔ وسط اوقیانوسی ارتفاع بحر اوقیانوس کو دو عظیم نشیبوں میں تقسیم کرتا ہے جن کی گہرائی کی اوسط 3700 سے 5000 میٹر (12000 سے 18000 فٹ) کے درمیان میں ہے۔ براعظموں اور وسط اوقیانوسی ارتفاع کے درمیان میں پھیلے ہوئے ترچھے ارتفاع بحر اوقیانوس کے پیندے کو بہت سے حوضوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ شمالی اوقیانوس کے چند بڑے حوضوں میں گیانا، جنوبی امریکا، کیپ وردے، کانریز شامل ہیں۔ جنوبی اوقیانوس کے چند عظیم ترین حوض انگولا، کیپ، ارجنٹینا اور برازیل کے حوض ہیں۔ گہرے بحر کے فرش کو کافی ہموار سمجھا جاتا ہے گوکہ اس میں بہت سی پہاڑیاں بھی موجود ہیں۔ فرش بحر میں بہت سی گہرائیاں اور گھاٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ شمالی اوقیانوس میں پورٹو ریکو گھاٹی سب سے گہری ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی8,605 میٹر(28,232 فٹ)ریکا رڈ کی گئی ہے۔ اوقیانوس کی دوسری گہری ترین گھاٹی ساﺅتھ سینڈوچ ٹرنچ(South Sandwich Trench)ہے، جنو بی اوقیانوس میں واقع یہ گھاٹی 8,428 میٹر(27,651 فٹ)گہری ہے، اس عظیم سمندر کی تیسری گہری ترین گھاٹی رومانچے ٹرنچ(Romanche Trench)ہے، خط ِاستواکے نزدیک واقع اس گھاٹی کی گہرائی 7,454 میٹر(24,455فٹ)بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے مشرقی ساحل پر زیرِآب 6,000میٹر گہری وادی کا بھی پتہ چلا ہے، سینٹ لارنس(Saint Lawrence )سے منسوب اس وادی کولورینٹن ابیز(Laurentian Abyss ) کا نام دیا گیا ہے۔ بحری گاد خاکزاد، بحرنشین اور معدن البحر مواد پر مشتمل ہے۔ خاکزاد مواد ریت، کیچڑ اور چٹانوں کے ذرات پر مشتمل ہے جو زمینی کٹاؤ، موسمی اثر اور آتش فشانی عمل کی وجہ سے زمین سے بہہ کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ یہ مواد زیادہ تر ساحلی ڈھلوانوں پر پایا جاتا ہے اور اس کی تہ دریاؤں کے دہانوں اور صحرائی ساحلوں پر سب سے موٹی ہوتی ہے۔ بحرنشین مواد ان مردہ حیوانات و نباتات کے بقایاجات پر مشتمل ہوتا ہے جو مر کر تہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس مواد کی موٹائی 60 سے 3000 میٹر (200 سے 11000 فٹ) تک ہوتی ہے۔ معدن البحر مواد منگنزی گرہوں (manganese nodules) جیسے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مواد وہاں ہوتا جہاں گاد کے اکٹھا ہونے کا عمل سست ہوتا ہے یا اسے بحری رویں اکٹھا کرتی ہیں۔ آبی خصوصیات کھلے بحر کی سطح کے پانی کا بلحاظ کمیت نمکیاتی تناسب 33 سے 37 فی ہزار حصص ہے اور عرض بلد اور موسم کی مطابق بدلتا رہتا ہے۔ گو کہ کم سے کم نمکیاتی تناسب خط استوا کے بالکل شمال میں پایا گیا ہے لیکن یہ تناسب عمومی طور پر اونچے عرض بلد اور ساحلوں کے قریب اس جگہ سب سے کم ہوتا ہے جہاں دریا آ کر سمندر میں ملتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نمکیاتی تناسب 25 درجے شمالی عرض بلد پر ہوتا ہے۔ سطح کے نمکیاتی تناسب پر تبخیر، ترسیب، دریائی آمد اور سمندری برف کے پگھلاؤ جیسے عناصر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سطح آب کے درجات حرارت عرض بلد، رووں کے نظام اور موسم کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے اور شمسی توانائی کی شمالا جنوبا تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔ یہ درجات حرارت 2‎ ‎− درجے سے کم سے 29 درجے سینٹی گریڈ (28 درجے فارن ہائیٹ سے 84 درجے فارن ہائیٹ) تک ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ درجات حرارت خط استوا کے شمال میں اور کم سے کم قطبی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ درمیانی عرض بلد کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجات حرارت کی مقداریں متغیر ہیں اور 7 درجے سینٹی گریڈ سے 8 درجے سینٹی گریڈ (13 درجے فارن ہائیٹ سے 15 درجے فارن ہائیٹ) تک ہوتی ہیں۔ بحر اوقیانوس پانی کے چار بڑے ذخائر پر مشتمل ہے۔ شمالی اور جنوبی اوقیانوس کے مرکزی پانی سطحی پانیوں پر مشتمل ہیں۔ زیر اوقیانوسی وسطی پانی 1000 میٹر (3300 فٹ) کی گہرائی تک جاتا ہے۔ شمالی اوقیانوسی گہرا پانی 4000 میٹر (13200 فٹ) تک کی گہرائی تک جاتا ہے۔ شمالی اوقیانوس کے اندر پانی کے ذخیرے کا ایک لمبا جسم بحری رووں نے علاحدہ کر دیا ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ بحیرۂ سرگاسو کہلاتا ہے، جس میں نمکیاتی تناسب واضح طور پر زیادہ ہے۔ بحیرۂ سرگاسو میں سمندری گھاس بڑی مقدار میں موجود ہے اور یورپی مارماہی کی ایک اہم جائے تخم ریزی ہے۔ کوریولس اثر (Coriolis effect) کے باعث شمالی اوقیانوس میں پانی کی حرکت گھڑیال موافق (clockwise) سمت میں گردش کرتا ہے جبکہ جنوبی اوقیانوس میں پانی کی گردش گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحراوقیانوس کی جنوبی موجیں نصف یومی ہوتی ہیں یعنی ہر 24 قمری گھنٹوں دو اونچی موجیں آتی ہیں۔ موجیں ایک عام لہرہوتی ہیں جو جنوب سے شمال کی طرف حرکت کرتی ہے۔ 40 درجے شمال سے اونچے عرض بلد پر کچھ‍ شرقا غربا تغیر وقوف بھی عمل میں آتے ہیں۔ موسم بحر اوقیانوس اور اس سے ملحق زمینی علاقوں کے موسم پر سطح آب اور بحری رووں کے درجۂ حرارت کے علاوہ پانیوں کے آرپار چلنے والی ہوائیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ چونکہ بحر میں بڑی مقدار میں گرمی کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے ساحلی علاقے مموسمیاتی تغیرات کی انتہا سے محفوظ رہتے ہیں۔ ساحلی علاقوں کے موسم کے اعداد و شمار اور ہوا کے درجۂ حرارت کے پانی کے درجۂ حرارت سے فرق سے بارش کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بحار فضائی نمی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ نمی عمل تبخیر سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمی منطقے عرض بلد کے لحاظ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ گرم ترین موسمی منطقہ بحر اوقیانوس پر خط استوا کے شمال میں پھیلا ہوا ہے۔ سرد ترین منطقے اونچے عرض بلد میں ہیں، ان میں سرد ترین علاقے وہ ہیں جو سمندری برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ بحری رویں سرد اور گرم پانیوں دوسرے علاقوں تک منتقل کر کے وہاں کے موسم پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ملحقہ زمینی علاقے ان ہواؤں سے متاثر ہوتے ہیں جو ان رووں کے اوپر چلتی ہیں۔ مثال کے طور پر خلیجی دھارا (Gulf Stream) نامی ایک بحری رو جزائر برطانیہ اور شمال مغربی یورپ کی فظا کو گرم کرتی ہے اور سرد پانی رویں شمال مشرقی کینیڈا (گرینڈ بینکس کے علاقوں میں) اور شمال مغربی افریقہ کے ساحلوں پر گہری دھند کا باعث بنتی ہیں۔ سمندری طوفان شمالی بحر اوقیانوس کے جنوبی حصے میں کیپ وردے اور جزائر ونڈورڈ کی درمیان میں بنتے ہیں اور مغرب کی جانب بحیرۂ کیریبین تک جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں شمالی امریکا کے مشرقی ساحل سے جا ٹکراتے ہیں اور کافی تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ طوفان مئی اور دسمبر کے درمیان میں بنتے ہیں لیکن بیشتر طوفان آخر جولائی سے اوائل نومبر تک آتے ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس میں طوفان شمالی سردی کی وجہ سے بہت عام ہیں جس وجہ سے اس عبور کرنا کافی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔ تاریخ اور اقتصادیات بحرمنجمد جنوبی کے بعد بحر اوقیانوس شمالی دوسرا کم عمر بحر ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بحر اوقیانوس آج سے 18 کروڑ سال پہلے موجود نہیں تھا۔ اس وقت سمندری فرش کے پھیلاؤ سے عظیم براعظم پینجیا (Pangaea) کے ٹوٹنے سے بننے والے براعظم ایک دوسرے سے دور ہٹ رہے تھے۔ بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقوں کے آباد ہونے کے بعد سے اس کی بہت زیادہ سیاحت کی گئی ہے۔ اس کے مشور سیاحوں میں وائیکنگ، پرتگالی اور کرسٹوفر کولمبس شامل ہیں۔ کولمبس کے بعد یورپی سیاحت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور بہت سے نئے تجارتی راستے قائم کیے گئے۔ نتیجتا بحر اوقیانوس یورپ اور امریکی براعظموں کے درمیان میں ایک اہم شاہراہ بن گیا اور ابھی تک اس یہ اہمیت برقرار ہے۔ اس بحر میں بہت سی سائنسی تحقیقات بھی کی گئیں ہیں۔ جرمن شہابی مہم، جامع کولمبیا کی لیمانٹ ارضیاتی رصدگاہ اور ریاستہائے متحدہ بحری فوج کا ہائیڈروگرافک آفس قابل ذکر ہیں۔ اس بحر نے ارد گرد کے مملک کی ترقی اور اقتصادیات میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ "ماورائے اوقیانوس" (transatlantic) آمد و رفت اور سفری راستوں کے علاوہ اس کی ساحلی ڈھلوان میں رسوبی چٹانوں پائے جانے والے معدنی تیل اور دنیا مچھلی کے عظیم ترین ذرائع کی وجہ سے بھی بحر اوقیانوس کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کی اہم اقسام میں کاڈ، ہیڈاک، ہیک، ہیرنگ اور میکرل شامل ہیں۔ مچھلی کی سب سے زیادہ پیداوار والے علاقوں نیوفاؤنڈلینڈ کے گرینڈ بینکس، نوواسکاشیا کا ساحلی ڈھلوان کا علاقہ، کیپ کاڈ کے پاس جارجز بینک، بہاما بینکس، آئسلینڈ کے ارد کرد کے پانی، بحیرۂ آئرش، بحیرہ شمال کا ڈاگر بینک اور فاک لینڈ بینکس شامل ہیں۔ مارماہی، جھینگے اور وہیل بھی بڑی تعداد میں پکڑے گئے ہیں۔ یہ تمام عناثر بحر اوقیانوس کی تجارتی اہمیت کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔ تیل بہنے، سمندری ملبے اور سمندر کے کنارے زہریلے کچرے کی خاکستری کی وجہ بحر اوقیانوس کو لاحق ماحولیاتی خطرات کی چند اقسام کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے بہت سے بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔ بحر اوقیانوس سے منسوب چند اہم تاریخی واقعات یہ ہیں : * 1958ء میں سائرس نے فیلڈ پہلی ماورائے اوقیانوس ٹیلیگراف لہاس بچائی۔ * 1919ء میں امریکا کا این۔ سی۔ 4 اوقیانوس کو عبور کرنے والا پہلا جہاز قرار پایا (گرچہ یہ راستے دو جزائر پر بھی اترا) * بعد میں 1919ء میں ہی، ایک برطانوی جہاز نے نیوفاؤنڈلینڈ سے آئرلینڈ تک بلاتوقف ماورائے اوقیانوس پرواز کی۔ اس جہاز کو ایلک اور براؤن نے اڑایا۔ * 1921ء میں شمالی اوقیانوس کو ہوائی کشتی (airship) میں عبور کرنے والا پہلا ملک برطانیہ تھا۔ * 1922ء میں جنوبی اوقیانوس کو ہوائی کشتی میں عبور کرنے والا پہلا ملک پرتگال تھا۔ * پہلی ماورائے اوقیانوس فون کال 7 جنوری 1927ء کو کی گئی۔ * 1927ء میں چارلس لنڈبرغ نے ماورائے اوقیانوس پہلی بلاتوقف تنہا پرواز کی (جو نیویارک شہر اور پیرس کے درمیان میں تھی)۔ * 81 دن اور 2962 میل تک کشتی کھینے کے بعد 3 دسمبر 1999ء تو ٹوری مرڈن چپو والی کشتی کے ذریعے بحر اوقیانوس کو تنہا عبور کرنے والی پہلی خاتون بن گئی۔ اس نے جزائر کانری سے گوڈیلوپ تک سفر طے کیا۔ خدوخال بحیرۂ لیبریڈور، آبنائے ڈنمارک اور بحیرۂ بالٹک کی سطح اکتوبر سے جون تک سمندری برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ شمالی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال موافق گردش ہوتی ہے اور جنوبی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحری فرش سب سے نمایاں خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع پھیلی ہے جو اوقیانوس کے پیندے پر شمال سے جنوب تک ایک منحنی لکیر کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع کو چیلینجر مہم نے دریافت کیا تھا۔ غایت رفعت * عمیق ترین مقام: پورٹوریکو گھاٹی میں ملواکی سفل – 8605 میٹر (28232 فٹ؛ 5.3 میل) * رفیع ترین مقام: سطح سمندر، 0 میٹر قدرتی وسائل تیل اور گیس کے ذخائر، مچھلی، سمندری پستانیہ جانور (سگ ماہی اور وہیل)، ریت اور بجری کے ذخائر، پلیسر کے ذخائر، کثیردھاتی گ رہیں، قیمتی پتھر قدرتی خطرات آبنائے ڈیوس، آبنائے ڈنمارک اور شمال مغربی اوقیانوس میں فروری سے اگست تک برفانی تودے عام ہیں۔ یہ تودے جنوب کی جانب برمودا اور جزائر میڈیرا تک پائے گئے ہیں۔ انتہائی شمالی اوقیانوس میں اکتوبر سے مئی تک بحری جہازوں کے عرشے پر برف جم جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک مسلسل رہنے والی سمندری کہر اور خط استوا کے شمال میں مئی سے دسمبر تک آنے والے سمندری طوفان ایک بڑا خطرہ ہیں۔ برمودا مثلث کے بارے مشہور ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں بہت سے ہوائی اور بحری حادثے ہوئے جن کی وجوہ بظاہر ناقابل فہم اور پراسرار تھیں لیکن ساحلی محافظوں کی دستاویزات ان دعووں کی تائید نہیں کرتیں۔ موجودہ ماحولیاتی تنازعات خطرات سے دوچار جانوروں میں مینیٹی، سگ ماہی، سمندری شیر، کچھوے اور وہیل شامل ہیں۔ جال سے مچھلی پکڑنے سے ڈولفن، قطرس اور بہت سے دوسرے آبی پرندوں کی نسلیں ختم ہو رہی اور سمندر میں مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جس بہت سے بین الاقوامی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرقی ریاستہائے متحدہ، جنوبی برازیل اور مشرقی ارجنٹینا کے ساحلوں کو شہری کیچڑ نے آلودہ کر دیا ہے جبکہ بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، جھیل میراکیبو، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال میں تیل کی آلودگی ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ بالٹک، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال کو صنعتی فضلہ اور شہری پانی آلودہ کر رہا ہے۔ جغرافیائی تذکرہ بحر اوقیانوس کی بڑی حفاظتی چوکیاں (چیک پوائنٹ) آبنائے جبل الطارق (جبرالٹر) اور نہر پانامہ ہیں ؛ آبنائے ڈوور، فلوریڈا کے آبنائے اور گزرگاہ مونا، اورسنڈ اور گزرگاہ ونڈورڈ حربی اہمیت کے حامل ہیں۔ سرد جنگ کے دوران میں نام نہاد شگاف گرین لینڈ-آئسلینڈ-متحدہ سلطنت حربی لحاظ سے ایک بڑا باعث فکر تھا اس لیے اس علاقے کے سمندر کی تہ میں ہائیڈروفون کا بہت بڑا نظام نصب کیا گیا تاکہ سوویت آبدوز جہازوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ مزید دیکھے * زمین کے پانچ بحر # بحر الکاہل # بحر اوقیانوس # بحر منجمد جنوبی # بحر منجمد شمالی # بحر ہند حوالہ جات بحر اوقیانوس زمرہ:بحار زمرہ:بحر اوقیانوس کے تغیرات ارض زمرہ:تاریخ بحر اوقیانوس زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:ویکیپیڈیا خانہ معلومات آبی ہیئت مضامین مع نا معلوم پیرامیٹر
[Wikipedia:ur] یورپ تصغیر|یورپ دنیا کے نقشے میں یورپ یا فرنگستان دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ یا فرنگستان کہلاتا ہے۔ یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔ فرنگستان رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔ یورپ سے بھی چھوٹا واحد براعظم آسٹریلیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ تیسرا سب سے بڑا براعظم ہے جس کی آبادی 71 کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہے۔ تصغیر|خلا سے لی گئی یورپ کی تصویر ممالک اور ریاستوں کی فہرست Within the above-mentioned states are several درحقیقت independent countries with محدود تسلیم شدہ ریاستوں کی فہرست۔ None of them are members of the UN: Several dependencies and similar territories with broad autonomy are also found within or in close proximity to Europe. This includes Åland (a فن لینڈ کے علاقہ جات)، two constituent countries of the Kingdom of Denmark (other than Denmark itself), three تاج توابع، and two برطانوی سمندر پار علاقے۔ Svalbard is also included due to its unique status within Norway, although it is not autonomous. Not included are the three مملکت متحدہ کے ممالک with devolved powers and the two پرتگال کے خود مختار علاقہ جات، which despite having a unique degree of autonomy, are not largely self-governing in matters other than international affairs. Areas with little more than a unique tax status, such as Heligoland and the جزائر کناری، are also not included for this reason. مزید دیکھے # دوسرے براعظم # ایشیا، # یورپ، # افریقا، # انٹارکٹیکا، # آسٹریلیا، # شمالی امریکا اور # جنوبی امریکا حوالہ جات زمرہ:ایشیا کے جزیرہ نما زمرہ:براعظم زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:یورپ
[Wikipedia:ur] نظام شمسی upright=1.5|بائیں|تصغیر|ہمارا نظام شمسی نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے (بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔ عام مفہوم میں نظام شمسی کا اچھی طرح معلوم مرسوم / charted حصہ سورج، چار اندرونی سیاروں، سیارچوں، چار بیرونی سیاروں اور کوئپر پٹی پر مشتمل ہے۔ کوئپر پٹی سے پرے کے کافی اجسام بھی نظام شمسی کا ہی حصہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔ سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب یہ ہے: عطارد، زہرہ، ##زمین، ##مریخ، ###مشتری، #زحل، یورینس اور نیپچون۔ ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔ تین بونے سیاروں میں پلوٹو، کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم؛ سیرس، سیارچوں کے پٹی کا سب سے بڑا جسم؛ اور ایرس، جو کوئپر پٹی سے پرے واقع ہے؛ شامل ہیں۔ پلوٹو کو 2006 میں سیارے کے درجہ سے معزول کر دیا گیا۔ دیکھیں۔ پلوٹو کا نظام شمسی سے اخراج اصطلاحات بائیں|upright=1.5|تصغیر|نظام شمسی کے سیارہ|سیارے اور بونے سیارے؛ اجسام کا حجم ان کے اصل حجم کے متناسب دکھایا گیا ہے لیکن ان کا باہمی فاصلہ اصل فاصلے کے متناسب نہیں ہے سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: سیارے، بونے سیارے (Dwarf planets) اور چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies)۔ سیارہ سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے والے کسی ایسے جسم کو کہتے ہیں جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے * اس کی کمیت کم از کم اتنی ہو کہ اپنی کشش ثقل کے باعث ایک کرے کی شکل اختیار کر لے * اپنی کشش ثقل سے اپنے مدار اور اس کے آس پاس کے علاقے سے چھوٹے اجسام کو صاف کر چکا ہو تسلیم شدہ آٹھ سیارے یہ ہیں: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون 24 اگست 2006 کو بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد (International Astronomical Union) نے پہلی بار سیارے کی تعریف کی اور پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ پلوٹو کو اب ایرس اور سیرس کے ساتھ بونے سیاروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بونے سیاروں کے مدار کے آس پاس عموما دوسرے چھوٹے اجسام پاے جاتے ہیں کیونکہ ان کی کشش ثقل اتنی مضبوط نہیں ہوتی کے وہ اپنے پڑوس میں صفائی (Clearing the neighbourhood) کر سکیں۔ کچھ دوسرے اجسام جو مستقبل میں بونے سیارے قرار دیے جا سکتے ہیں ان میں اورکس، سیڈنا اور کواوار شامل ہیں۔ پلوٹو 1930ء میں اپنی دریافت سے 2006ء تک نظام شمسی کا نواں سیارہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں پلوٹو سے ملتے جلتے بہت سے دوسرے اجسام بیرونی نظام شمسی میں دریافت کیے گئے، خصوصاً ارس، جو جسامت میں پلوٹو سے بڑا ہے۔ سورج کے گرد مدار میں باقی تمام اجسام چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies) کے زمرے میں آتے ہیں۔ قدرتی سیارچے یا چاند وہ اجسام ہیں جو سورج کی بجائے دوسرے سیاروں، بونے سیاروں یا SSSBs کے گرد گردش کر رہے ہوں۔ کسی بھی سیارے کا سورج سے فاصلہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا کیونکہ سیاروں کے مدار عموماً بیضوی ہوتے ہیں۔ کسی سیارے کے سورج سے کم سے کم فاصلے کو اس کا حضیض (perihelion) کہتے ہیں اور اس کے زیادہ سے زیادہ فاصلے کو اس کا اوج (aphelion) کہتے ہیں۔ ماہرین فلکیات عام طور پر اجرام فلکی کے باہمی فاصلوں کی پیمائش کے لیے فلکیاتی اکائیاں (Astronomical Unit یا AU) استعمال کرتے ہیں۔ ایک فلکیاتی اکائی( AU ) تقریباًً سورج سے زمین تک کے فاصلے کے برابر ہوتی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ تقریباًً 149598000 کلومیٹر یا 93000000 میل ہے۔ پلوٹو سورج سے 38 فلکیاتی اکائیوں (AU) جبکہ مشتری تقریباًً 5.2 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ ایک نوری سال، جو ستاروں کے مابین فاصلوں کی معروف ترین اکائی ہے، تقریباًً 63,240 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے برابر ہوتی ہے۔ غیر رسمی طور پر نظام شمسی کو الگ الگ مَناطِق (zones) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اندرونی نظام شمسی میں پہلے چار سیارے اور سیارچوں کی پٹی شامل ہے۔ بعض فلکیات دان بیرونی نظام شمسی میں سیارچوں سے پرے تمام سیاروں اور دوسرے اجسام کو شامل کرتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک بیرونی نظام شمسی نیپچون کے بعد شروع ہوتا ہے اور مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک علاحدہ درمیانی مِنطقہ (zone) کا حصہ ہیں۔ سورج سے دوسرے سیاروں کا فاصلہ سورج اور سیاروں کی جسامت upright=1.25|تصغیر|نظام شمشی کے آٹھ سیارے(جسامت کے لحاظ سے) تصغیر|upright=1.25|سورج اور آٹھ سیارے جسامت کے لحاظ سے اس جدول سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایک بہت ہی بڑے تصوارتی سمندر میں چاند، سورج اور سب سیاروں کو پھینکا جائے تو صرف زحل تیرتا رہے گا باقی سب ڈوب جائیں گے۔ مسطّر اور ساخت تصغیر|نظام شمسی کے اجسام کے مدار؛ اصل قطر کے متناسب۔ تصویر اوپری بائیں کونے سے گھڑی وار سمت میں ہے۔ سورج، جو ایک main sequence G2 ستارہ ہے، نظام شمسی کا مرکزی جز ہے۔ سورج نظام شمسی کی معلوم کمیت میں سے 99.86 فیصد کا حامل ہے اور ثقلی طور پر دوسرے تمام اجسام پر حاوی ہے۔ مشتری اور زحل، جو سورج کے گرد گردش کرنے والے سب سے بڑے سیارے ہیں، باقی ماندہ کمیت کے 90 فیصد کے حامل ہیں۔ اورت بادل میں بھی، جو فی الحال ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے، مادے کی کافی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔ سورج کے گرد گردش کرنے والے سبھی سیاروں کے مدار (پلوٹو سیارہ نہیں ہے) زمین کے مدار کے تقریباًً متوازی ہیں یا اس سے بہت کم زاویہ بناتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دم دار سیاروں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں۔ سورج کے گرد گردش کے ساتھ ساتھ تمام سیارے اپنے محور پر بھی گردش کرتے ہیں۔ اگر سورج کے قطب شمالی کے عین اوپر سے معائنہ کیا جائے تو ماسوائے چند اجسام کے، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، تمام سیارے اپنے محور کے گرد مخالف گھڑی وار سمت میں گردش کرتے ہیں۔ تمام اجسام سورج کے گرد کیپلر کے قانون کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ ہر جسم کا مدار بیضوی ہے اور اس بیضے کے ایک مرکز (focus) پر سورج واقع ہے۔ لعفت|تصغیر|سورج کی یہ تصویر کلیمینٹائن مہم میں چاند کے پیچھے سے لی گئی ہے۔ دائیں سے بائیں: [[زحل، مریخ اور عطارد نظر آ رہے ہیں]] سورج کے قریب والے اجسام دور والے اجسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ سیاروں کے مدار بہت کم بیضوی، بلکہ تقریباًً دائروی ہیں لیکن بہت سے دمدار سیاروں، سیارچوں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار انتہائی بیضوی ہیں۔ سیاروں کے مدار ایک دوسرے سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہیں اور دو مداروں کے درمیانی فاصلے میں تغیر بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ فاصلے نقشوں میں دکھانا کافی مشکل ہے اس لیے عموماً نظام شمسی کے نقشوں میں سیاروں کو ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر دکھایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، کچھ مثالوں کے سوا، کوئی سیارہ سورج سے جتنا دور ہے، اس کے مدار کا اپنے سے پہلے والے سیارے کے مدار سے فاصلہ اتنا ہی زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر زہرہ کا مدار عطارد کے مدار سے 0.33 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے، جبکہ زحل مشتری سے 4.3 فلکیاتی اکائی (AU) دور ہے اور نیپچون یورینس سے 10.5 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ سائنسدانوں نے ان فاصلوں کا باہمی تعلق معلوم کرنے کی کچھ کوششیں تو کی ہیں لیکن اب تک کوئی نظریہ متفقہ طور پر قبول نہیں کیا جا سکا ہے۔ تشکیل بائیں|تصغیر|قبل السیاروی طشتری ایک فنکار کی نظر میں (Artist's conception of a protoplanetary disk) نظام شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیبولائی نظریے کے مطابق وجود میں آیا۔ یہ نظریہ عمانویل کینٹ نے 1755ء میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے ایک بہت بڑے مالیکیولی بادل کے ثقلی انہدام (gravitational collapse) کی وجہ سے نظام شمسی کی تشکیل ہوئی۔ یہ بادل شروع میں اپنی وسعت میں کئی نوری سال پر محیط تھا اور خیال ہے کہ اس کے انہدام سے کئی ستاروں نے جنم لیا ہو گا۔ قدیم شہابیوں میں ایسے عناصر کی معمولی مقدار/ذرات(traces) پائے گئے ہیں جو صرف بہت بڑے پھٹنے والے ستاروں (نجومِ منفجر (exploding stars)) میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی تشکیل ستاروں کے کسی ایسے جھرمٹ (خوشۂ انجم (star cluster)) میں ہوئی جو اپنے قریب کے کئی سپر نووا دھماکوں کی زد میں تھا۔ ان دھماکوں سے پیدا ہونے والی لہروں (shock waves) نے اپنے آس پڑوس کے نیبیولا کے گیسی مادے پر دباؤ ڈال کر زیادہ گیسی کثافت کے خطے پیدا کر دیے جس سے سورج کی تشکیل کی ابتدا ہوئی۔ ان کثیف خطوں میں قوت ثقلی کو بہتر طور پر اندرونی گیسی دباؤ پر قابو پانے کا موقع ملا اور پھر یہ کشش ثقل پورے بادل کے انہدام (collapse) کا باعث بنی۔ اس گیسی بادل کا وہ حصہ جو بعد میں نظام شمسی بنا، اپنے قطر میں قریباً 7,000 سے 20,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) پر محیط تھا اور اس کی کمیت سورج کی موجودہ کمیت سے کچھ زیادہ تھی۔ اسے ماہرین فلکیات قبل الشمس نیبیولا بھی کہتے ہیں۔ جیسے جیسے نیبیولا سکڑتا گیا، محافظۂ زاویائی معیار حرکت یعنی conservation of زاویائی معیار حرکت کے باعث اس کی گردش کی رفتار بڑھتی گئی۔ جوں جوں مادہ اس بادل کے مرکز میں اکٹھا ہوتا گیا، ایٹموں کے آپس میں ٹکرانے کی تکرار (تعدد (frequency)) بھی بڑھتی گئی اور اس وجہ سے مرکز میں درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ مرکز، جہاں پر اب زیادہ تر مادہ اکٹھا ہو چکا تھا، گرم سے گرم تر ہوتا چلا گیا اور اس کا درجہ حرارت باقی ماندہ بادل کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو گیا۔ گردش، کشش ثقل، گیسی دباؤ اور مقناطیسی قوتوں کے زیر اثر سکڑتا ہوا نیبیولا آہستہ آہستہ ایک گردش کرتی ہوئی قبل السیاروی طشتری میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا جس کا قطر تقریباًً 200 فلکیاتی اکائیاں (AU) تھا اور جس کے مرکز میں ایک گرم اور کثیف (dense) جنم لیتا ہوا ستارہ تھا۔ تقریباًً 10 کروڑ سال بعد اس سکڑتے ہوئے نیبیولا کے مرکز میں ہائڈروجن کی کثافت اور اس کا دباؤ اتنا ہو گیا کہ یہاں پر مرکزی ائتلاف کا عمل شروع ہو گیا۔ مرکزی ائتلاف کی رفتار اس وقت تک بڑھتی رہی جب تک آبسکونی توازن (hydrostatic equilibrium) حاصل نہیں ہو گیا۔ اس موقع پر مرکزی ائتلاف سے پیدا ہونے والی توانائی/دباؤ کی قوت کشش ثقل کے برابر ہو گئی اور مزید سکڑاؤ کا عمل رک گیا۔ اب سورج ایک مکمل ستارہ بن چکا تھا۔ بادل کے باقی ماندہ گردوغبار اور گیسوں سے سیاروں کی تشکیل ہوئی۔ سورج بائیں|تصغیر|زمین سے سورج کا منظر سورج نظام شمسی کا مرکزی ستارہ اور اس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ کمیت میں زمین کی نسبت 332,946 گنا بڑا ہے۔ اس کی بھاری کمیت اسے اتنی اندرونی کثافت فراہم کرتی ہے جس سے اس کے مرکز میں مرکزی ائتلاف(nuclear fusion) کا عمل ہو سکے۔ مرکزی ائتلاف کے نتیجے میں بہت بڑی مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا زیادہ تر حصہ برقناطیسی لہروں (electromagnetic radiations) اور روشنی کی شکل میں خلا میں بکھر جاتا ہے ویسے تو ماہرین فلکیات سورج کو ایک درمیانی جسامت کا زرد بونا ستارہ شمار کرتے ہیں، لیکن یہ درجہ بندی کچھ گمراہ کن ہے، کیونکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے ستاروں کے مقابلے میں سورج نسبتاً بڑا اور چمکدار ہے۔ ستاروں کی درجہ بندی ہرٹزپرنگ-رسل نقشے(Hertzsprung-Russell diagram) کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس گراف میں ستاروں کی چمک کو ان کے سطحی درجہ حرارت کے مقابل درج (plot) کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر زیادہ گرم ستارے زیادہ چمکدار ہوتے ہیں۔ اس عمومی خصوصیت کے حامل ستاروں کو رئیسی متوالیہ (main sequance) ستارے کہتے ہیں اور سورج بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ لیکن سورج سے زیادہ گرم اور چمکدار ستارے بہت کمیاب ہیں جبکہ سورج سے مدھم اور ٹھنڈے ستارے عام ہیں۔ تصغیر|بائیں|ہرٹزپرنگ-رسل نقشہ۔ Main Sequence نچلے دائیں کونے سے اوپری بائیں کونے تک ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کے اس وقت سورج اپنی زندگی کے عروج پر ہے اور ابھی اس میں جلانے کے لیے بہت ایندھن باقی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی چمک میں اضافہ ہو رہا ہے؛ ابتدا میں سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک کا صرف 75 فیصد تھی۔ سورج میں ہائڈروجن اور ہیلیم کے تناسب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ابھی اپنی عمر کے درمیانی حصے میں ہے۔ وقت کے ساتھ سورج کی جسامت اور چمک میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جائے گا اور رنگت سرخی مائل ہوتی جائے گی۔ تقریباً 5 ارب سال میں سورج ایک سرخ جن (giant) بن جائے گا۔ اس وقت سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو گی سورج اول آبادی (population I) کا ستارہ ہے؛ یہ کائناتی ارتقاء کے بہت بعد کے مراحل میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی ساخت میں دوم آبادی (population II) کے ستاروں کی نسبت بھاری عناصر کی مقدار زیادہ ہے۔ ان بھاری عناصر کو فلکیات کی زبان میں دھاتیں کہتے ہیں گو کہ علم کیمیا میں دھات کی تعریف اس سے مختلف ہے۔ ہائڈروجن اور ہیلیم سے بھاری عناصر قدیم پھٹنے والے ستاروں کے مرکز میں بنے تھے؛ اس لیے کائنات میں ان عناصر کی موجودگی کے لیے ستاروں کی پہلی نسل (generation) کا مرنا ضروری تھا۔ قدیم ترین ستاروں میں دھاتوں کی بہت کم مقدار پائی جاتی ہے جبکہ نئے ستاروں میں ان کی مقدار زیادہ ہے۔ ماہرین فلکیات کے خیال میں سورج کی اونچی دھاتیت اس کے گرد سیاروں کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم تھی کیونکہ سیارے دھاتوں کے ارتکام (accretion) سے ہی بنے ہیں۔ اندرونی نظام شمسی اندرونی نظام شمسی اس خطے کا روایتی نام ہے جس میں سورج، پہلے چار سیارے اور سیارچے آتے ہیں۔ یہ سیارے اور سیارچے سلیکیٹ اور دھاتوں سے ملکر بنے ہیں اور سورج سے نسبتاً قریب قریب ہیں؛ اس پورے خطے کا رداس مشتری اور زحل کے مابین فاصلے سے بھی کم ہے۔ اندرونی سیارے تصغیر|upright=1.5|اندرونی سیارے۔ بائیں سے دائیں: عطارد، [[زہرہ، زمین،مریخ۔ تمام سیاروں کا حجم ان کے اصل حجم کے متناسب دکھایا گیا ہے]] نظام شمسی کے چار پہلے سیارے اپنی ساخت کی بنا پر باقی سیاروں سے مختلف ہیں۔ ان کی سطح عموماً چٹانوں اور اونچا نقطۂ انجماد رکھنے والی معدنیات، مثلاً سلیکیٹ وغیرہ سے بنی ہے۔ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے انتہائی گرم اور نیم مائع مینٹل پایا جاتا ہے اور اس کا بھی غالب جز سلیکیٹ معدنیات ہی ہیں۔ ان کا مرکز لوہے اور نکل کا بنا ہوا ہے۔ چار میں سے تین سیاروں (زہرہ، زمین اور مریخ) میں کرہ ہوائی بھی موجود ہے۔ ان سب پر شہاب ثاقب ٹکرانے کی وجہ سے تصادمی گڑھے بھی پائے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے مائع مینٹل زیر حرکت رہتا ہے، اس لیے ان کا سطحی قرش بھی وقتاً فوقتاً حرکت کرتا ہے۔ قرش کی اس حرکت کے باعث سطح پر آتش فشاں پہاڑ اور کھائیاں جنم لیتی ہیں۔ ; عطارد : عطارد نظام شمسی کا سب سے چھوٹا (0.055 کمیت ارضی) اور سورج سے قریب ترین (0.4 AU) سیارہ ہے۔ عطارد کا کوئی چاند نہیں اور اس کا معمولی کرہ فضا زیادہ تر ان ایٹموں پر مشتمل ہے جو باد شمسی اس کی سطح پر سے اڑاتی ہے۔ ; زہرہ : زہرہ حجم میں تقریباً زمین کے برابر ہی ہے(0.815 کمیت ارضی)۔ زمین کی طرح اس کا مرکز بھی فولادی ہے جس کے گرد ایک موٹی مینٹل کی تہ ہے جو سلیکیٹ کی بنی ہے۔ زہرہ پر اچھا خاصا کرہ فضا بھی موجود ہے۔ زہرہ کا موسم خشک اور فضا زمین کی نسبت نوے گنا زیادہ کثیف ہے۔ اس کی سطح پر اندرونی ارضیاتی فاعلیہ (geological activity) کے بہت سے آثار جیسے کہ آتش فشاں پہاڑ اور کہائیاں پائی جاتی ہیں۔ زہرہ کا کوئی بھی چاند نہیں ہے اور پورے نظام شمسی میں یہ سب سے گرم سیارہ ہے۔ اس کی سطح پر درجۂ حرارت اکثر 400 درجۂ صد (centigrade) سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس گرمی کی وجہ غالباً اس کی کثیف فضا اور اس میں موجود دفیئہ یا حبس المکاں (Green House) گیسیں ہیں۔ ; زمین : زمین اندرونی سیاروں میں سب سے بڑا اور کثیف سیارہ ہے۔ اندرونی سیاروں میں یہ واحد سیارہ ہے جس پر اب بھی ارضیاتی عمل ہو رہا ہے اور جس پر زندگی پائی جاتی ہے۔ اس کا مائع کرہ آبی تمام سیاروں میں یکتا ہے اور صرف زمین پر ساخت الطبقات (Plate Tectonics) دیکھنے کو ملتی ہیں۔ زمین کی فضا بھی باقی سب سیاروں سے بہت مختلف ہے؛ اس پر موجود جانوروں، پودوں اور خوردہ حیات نے فضا میں %21 فیصد آزاد آکسیجن پیدا کر دی ہے جو کسی اور سیارے پر نہیں پائی جاتی۔ زمین کا ایک چاند بھی ہے جو باقی اندرونی سیاروں کے چاندوں سے بڑا ہے۔ ; مریخ : مریخ زمین اور زہرہ دونوں سے چھوٹا ہے (0.107 کمیت ارضی)۔ اس کی فضا کاربن ڈائی آکسائڈ پر مشتمل ہے۔ اس کی سطح پر بڑی تعداد میں آتش فشاں پہاڑ جیسے اولیمپس مونس اور کھائی نما وادیاں جیسے Valles Marineris پائی جاتی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کے ماضی قریب کے زمانے تک اس پر ارضیاتی فاعلیہ (geological activity) ہوتے رہے ہیں۔ مریخ کے دو بہت ہی چھوٹے چھوٹے چاند (Demios اور Phobos) ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دراصل سیارچے ہیں جو مریخ کے بہت قریب سے گزرتے ہوئے اس کی گرفت میں آ گئے ہیں۔ سیارچوی پٹی مکمل مضمون کے لیے دیکھیے سیارچوی پٹی upright=1.25|تصغیر|سیارچوی پٹی سیارچے عام طور پر چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جو چٹانوں، دھاتوں اور اس طرح کی دوسرے ناقابل تبخیر و تصعید (non-volatile) مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ سیارچوی پٹی مریخ اور مشتری کے درمیان، سورج سے 2.3 سے 3.3 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اجسام نظام شمسی کی تخلیق کے وقت مشتری کی ثقلی مداخلت کے باعث اکٹھے ہو کر ایک سیارہ بننے سے رہ گئے تھے۔ سیارچے اپنی جسامت میں خوردبینی ذرات سے لے کر کئی سو کلومیٹر چوڑی دیوہیکل چٹانوں تک ہو سکتے ہیں۔ انتہائی بڑے سیارچوں، جیسے کہ سیرس، کے علاوہ تمام سیارچوں کو چھوٹے اجرام فلکی میں شمار کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں مزید تحقیق کے بعد کچھ اور بڑے سیارچوں، مثلاً 4 ویسٹا اور 10 ہائجیا، کو بھی بونے سیارے قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیارچوی پٹی میں ایسے ہزاروں اور ممکنہ طور پر لاکھوں، اجسام پائے جاتے ہیں جن کا قطر ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ سیارچوں کی پٹی کی کل کمیت زمین کی کمیت کے ہزارویں حصے سے زیادہ ہو۔ پٹی میں سیارچے ایک دوسرے سے کافی دور دور ہیں اور خلائی جہاز عموماً اس خطے سے کسی تصادم کے بغیر آسانی سے گذر جاتے ہیں۔ چھوٹے سیارچے، جن کا قطر 10 میٹر سے لے کر 1 ملی میٹر تک ہو، شہاب ثاقب کہلاتے ہیں۔ تصغیر|بائیں|ایستادہ|Ceres ; سیرس : سیرس سیارچوی پٹی کا سب سے بڑا جسم ہے اور اس میں پایا جانے والا واحد بونا سیارہ بھی۔ یہ سورج سے 2.77 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کا قطر 1000 کلومیٹر سے کچھ کم ہے جو اتنی کشش ثقل پیدا کرنے کے لیے کافی ہے جس کے زیر اثر یہ ایک کرے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب سیرس دریافت ہوا تو اسے ایک سیارہ سمجھا گیا لیکن 1850ء میں دوسرے سیارچوں کی دریافت کے بعد اس کا درجہ کم کر کے اسے سیارچوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ 2006ء میں اس کا درجہ دوبارہ تبدیل کر کے اسے بونا سیارہ قرار دیا گیا۔ ; سیارچوی گروہ : سیارچوں کو ان کی مداری خصوصیات کی بنا پر گروہوں اور خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیارچہ چاند وہ سیارچے ہوتے ہیں جو اپنے سے بڑے سیارچوں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ یہ عام سیاروں کے چاندوں کی طرح آسانی سے نہیں پہچانے جا سکتے کیونکہ بعض اوقات اس جسم کے تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں جس کے گرد گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ سیارچوی پٹی میں کچھ دمدار سیارے (main-belt comets) بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اسی طرح کے سیارچوی پٹی کے دمدار سیاروں کی بدولت پہنچا ہے۔ وسطی نظام شمسی نظام شمسی کے وسطی حصے میں دیو ہیکل گیسی سیارے، ان کے بڑے بڑے چاند اور کم مدت کے دمدار سیارے پائے جاتے ہیں۔ اس حصے کا کوئی روایتی نام نہیں ہے؛ بعض اوقات اسے "بیرونی نظام شمسی" کہا جاتا ہے لیکن عصر حاضر میں یہ نام زیادہ تر نیپچون سے پرے کے حصے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بیرونی سیارے تصغیر|upright=1.5|نیچے سے اوپر: مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام مادے میں سے 99 فیصد چار بیرونی سیاروں یا گیسی جنات، میں موجود ہے۔ مشتری کی فضاء زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ یورینس اور نیپچون کی فضاء میں مختلف برفانی مادوں، جیسے کہ پانی، امونیا اور میتھین، کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ ان برفانی مادوں کے باعث کچھ ماہرین فلکیات ان دو سیاروں کو ایک الگ ہی زمرے میں رکھتے ہیں جسے وہ "یورانی سیارے" یا "برفانی جنات" کہتے ہیں۔ ان چاروں سیاروں کے گرد حلقے ہیں لیکن صرف زحل کے حلقے زمین سے صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ; مشتری : مشتری نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 318 گنا بھاری ہے اور سورج سے 5.2 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کی ساخت زیادہ تر ہائڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ مشتری کی اندرونی حرارت کی وجہ سے اس کی فضاء میں کچھ تقریباً مستقل خصوصیات پیدا ہو گئی ہیں، جیسے کہ بادلوں کے جمگھٹے اور عظیم سرخ دھبہ۔ مشتری کے تریسٹھ چاند ہیں۔ ان میں سے چار بڑے چاند، گینیمیڈ، کالیسٹو، آئی او اور یورپا بہت سی ایسی خصوصیات کے حامل ہیں جو اندرونی سیاروں میں پائی جاتی ہیں؛ مثلاً آتش فشانی اور اندرونی حرارت۔ گینیمیڈ، جو نظام شمسی میں سب سے بڑا چاند ہے، حجم میں عطارد سے بھی بڑا ہے۔ ; زحل : نظام شمسی کا چھٹا سیارہ زحل اپنے بکثرت حلقوں کے لیے مشہور ہے۔ زحل سورج سے 9.5 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 95 گنا بھاری ہے۔ یہ اپنی سطح اور فضاء کی ساخت میں مشتری سے کافی مماثلت رکھتا ہے گو کہ اس کی نسبت کافی ہلکا ہے۔ زحل کے چھپن چاند ہیں جن میں سے دو، ٹائیٹن اور انکلاڈس، ارضیاتی فاعلیہ کا مظاہرہ کرتے ہیں اگرچہ یہ زیادہ تر برف سے بنے ہیں۔ ٹائیٹن حجم میں عطارد سے بھی بڑا ہے اور نظام شمسی کا واحد چاند ہے جس پر خاطر خواہ کرہ فضاء موجود ہے۔ ; یورینس : یورینس سورج سے 19.6 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 14 گنا بھاری ہے۔ یہ چاروں بیرونی سیاروں میں سے سب سے کم کمیت کا حامل ہے۔ یورینس کی ایک منفرد بات اس کے محور کا اس کے مدار سے انتہائی ترچھا زاویہ ہے۔ اس کا محور سورج کے گرد اس کے مدار سے 98 درجے کا زاویہ بناتا ہے۔ اس منفرد زاویے کی وجہ سے یورینس پر دن اور رات کی تشکیل باقی سب سیاروں کی نسبت بالکل مختلف ہے۔ اس کے قطبین پر بھی یورینسی سال میں ایک بار سورج عین سر پر آجاتا ہے اور لمبے عرصے تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا۔ اس کا مرکز باقی گیسی جنات سیاروں کی نسبت ٹھنڈا ہے اور اس سے بہت کم حرارت خلا میں خارج ہوتی ہے۔ یورینس کے 27 چاند ہیں جن میں سے سب سے بڑے ٹیٹانیہ، اوبیرون، امبریل، ایریل اور میرانڈہ ہیں ; نیپچون : نیپچون سورج سے 30 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے اور زمین سے 17 گنا بھاری ہے۔ یہ حجم میں یورینس سے چھوٹا مگر اس سے زیادہ کثیف ہے۔ یہ یورینس سے زیادہ حرارت بھی خارج کرتا ہے لیکن مشتری اور زحل کی نسبت اس کی حرارت کا اخراج کہیں کم ہے۔ نیپچون کے تیرہ چاند ہیں۔ ان میں سب سے بڑا، ٹرائٹن، ارضیاتی طور پر فعال ہے اور اس پر مائع نائٹروجن کے geysers پائے جاتے ہیں۔ ٹرائیٹن نظام شمسی میں واحد بڑا چاند ہے جو اپنے سیارے کے گرد گھڑی وار سمت میں گردش کرتا ہے اور اس وجہ سے ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ نیپچون کا یہ چاند نظام شمسی کی ابتدا سے نیپچون کے گرد گردش نہیں کر رہا بلکہ یہ ایک سیارچہ ہے جو نیپچون کے قریب سے گزرتے ہؤے اس کی گرفت ثقل میں آ گیا ہے۔ نیپچون کے مدار میں کچھ دوسرے چھوٹے سیارے بھی گردش کرتے ہیں جنہیں نیپچون Trojans کہا جاتا ہے۔ دم دار سیارے مکمل مضمون کے لیے دیکھیے دم دار سیارے تصغیر|دم دار سیارہ ہیلی بوپ دم دار سیارے چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جن کا قطر عموماً چند کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ مختلف قسم کے منجمد مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ ان کے مدار انتہائی بیضوی ہوتے ہیں؛ عموماً ان کا حضیض (perihelion) اندرونی سیاروں کے مداروں کے اندر ہوتا ہے اور ان کا edabہوتا ہے۔ جب کوئی دم دار سیارہ اندرونی نظام شمسی کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو سورج کی حدت کے باعث اس کی سطح پر تصعید اور آئن سازی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بخارات اور ذرات دم دار سیارے سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور گرد اور بخارات پر مشتمل ایک لمبی سی دم بناتے ہیں جو برہنہ آنکھ سے بھی دکھائی دیتی ہے۔ کم دورانیہ/عرصہ مدت والے دم دار سیارے ہر دو سو سال یا اس سے بھی کم عرصے میں نمودار ہوتے ہیں جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے ہزاروں سال میں ایک بار دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم دورانیے والے سیارے، جیسے ہیلی کا دم دار سیارہ، کوئپر بیلٹ سے آتے ہیں، جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے، جیسے ہیل-باپ، اورٹ بادل سے آتے ہیں۔ دم دار سیاررں کے گروہ، جیسے کہ Kreutz Sungrazers، ایک سیارے کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں۔ کچھ انتہائی لمبے دورانیے کے سیاروں کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نظام شمسی کے باہر سے آتے ہیں، لیکن ان کے مداروں کا درست تعین مشکل ہے اس لیے یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ بعض پرانے دم دار سیارے بارہا سورج کے قریب سے گزرنے کے باعث اپنے منجمد مادے کھو چکے ہیں اور صرف ان کا چٹانی مرکز باقی بچا ہے۔ انھیں اکثر سیارچوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ عَبر نیپچون خطہ (Trans-Neptunian region) نیپچون سے پرے کا خطہ، جسے اکثر بیرونی نظام شمسی یا خطہ ماورا النیپچون بھی کہا جاتا ہے، زیادہ تر unexplored ہے۔ بظاہر یہ خطہ صرف برف اور چٹانی مادوں سے بنے چھوٹے اجسام پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ اس خطے میں اب تک دریافت شدہ اجسام میں سب سے بڑا جسم قطر میں زمین سے پانچ گنا چھوٹا اور کمیت میں ہمارے چاند سے بھی بہت کم ہے۔ کوئپر پٹی تصغیر|بائیں|کوئپر پٹی ایک مصور کی نظر میں۔ نیپچون اور پلوٹو کے مدار اصل قطر کے متناسب دکھائے کیے ہیں کوئپر پٹی، جو اس خطے کے شروع میں واقع ہے، سیارچوی پٹی کی طرح گردوغبار اور ملبے کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے، لیکن سیارچوی پٹی کے برعکس یہ زیادہ تر برف پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ سورج سے 30 سے 50 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ کم مدت کے دمدار سیاروں، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، کا منبع خیال کیا جاتا ہے۔ اس پٹی کے بیشتر اجسام نظام شمسی کے چھوٹے اجسام کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان میں سے بعض بڑے اجسام، جیسے کواوار ،وارونا اور سیڈنا، کو مستقبل میں بونے سیارے بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق کوئپر پٹی میں 50 کلومیٹر سے زیادہ قطر والے ایک لاکھ سے زیادہ اجسام موجود ہیں، لیکن ان کے خیال میں اس پٹی کی مجموعی کمیت زمین کی کمیت کے دسویں یا ایک سویں حصے کے برابر ہے۔ اس پٹی کے اکثر اجسام کے ایک سے زیادہ چاند ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں بائیں|تصغیر|گمگی اور روایتی کوئپر پٹی۔ گمگی اجسام کے مدار سرخ رنگ میں دکھائے گئے ہیں جبکہ روایتی اجسام کے مدار نیلے رنگ میں کوئپر پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ روایتی پٹی اور گمگی پٹی (resonant belt)۔ گمگی پٹی کے اجسام نیپچون سے ایک گمگی رشتہ (resonance relationship) میں جڑے ہوئے ہیں؛ یعنی سورج کے گرد ان کی گردش کا وقت دوران نپچون کی کشش ثقل کے زیر اثر ہے۔ نیپچون کے اپنے مدار میں ہر تین چکر پورا کرنے پر یہ اجسام سورج کے گرد اپنے دو چکر پورے کرتے ہیں یا پھر اس کے ہر دو چکروں کے مقابلے میں ایک۔ گمگی پٹی نیپچون کے مدار کے اندر ہی سے شروع ہوتی ہے۔ روایتی پٹی کے اجسام کا نیپچون کی گردش دوران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پٹی تقریباًً 39.4 سے 47.7 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک پھیلی ہوئی ہے۔ روایتی پٹی کے اجسام کو کیوبیوانوز (cubewanos) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عجیب سا نام دراصل اس پٹی کے سب سے پہلے دریافت ہونے والے جسم کیو بی ون (QB1) کے نام پر رکھا گیا ہے جو 1992ء میں دریافت ہوا تھا۔ تصغیر|پلوٹو اور اس کے تین معلوم چاند ; پلوٹو اور کیرون : پلوٹو جس کا سورج سے اوسط فاصلہ 39 فلکیاتی اکائیاں (AU) ہے، ایک بونا سیارہ اور کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم ہے۔ جب 1930 میں یہ دریافت ہوا تو اسے نظام شمسی کا نواں سیارہ گردانا گیا اور اس کی یہ حیثیت 2006ء میں بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد کی جانب سے سیارے کی ایک نئی تعریف پیش کیے جانے تک برقرار رہی۔ پلوٹو کا مدار کافی بیضوی اور ترچھا ہے؛ زمین کے مدار کے اس کا زاویہ 17 درجے ہے۔ اپنے اوج (aphelion) پر یہ سورج سے 49.5 فلکیاتی اکائیاں (AU) دور چلا جاتا ہے جبکہ اپنے حضیض (perihelion) پر سورج سے اس کا فاصلہ صرف 29.7 فلکیاتی اکائیاں (AU) رہ جاتا ہے۔ : کیرون پلوٹو کا سب سے بڑا چاند ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ماہرین فلکیات کیرون کی درجہ بندی تبدیل کرکے اسے بھی بونا سیارہ قرار دے دیں۔ کیرون دراصل پلوٹو کے گرد گردش نہیں کرتا بلکہ یہ دونوں اجسام اپنے درمیان خلا میں ایک ثقلی نقطہ توازن کے گرد گردش کرتے ہیں اور جڑواں سیارے محسوس ہوتے ہیں۔ دو بہت چھوٹے چھوٹے سے چاند، نکس اور ہائڈرا، ان دونوں کے گرد گردش کرتے ہیں۔ : پلوٹو گمگی پٹی (resonant belt) میں واقع ہے اور نیپچون کے اپنے مدار میں ہر تین چکر پورے کرنے پر یہ اپنے دو چکر پورے کرتا ہے۔ کوئپر پٹی کے وہ اجسام جو نیپچون کے ساتھ اسی تناسب میں سورج کے گرد گردش کرتے ہیں،پلوٹو کی مناسبت سے پلوٹینوز (plutinos) بھی کہلاتے ہیں۔ منتشر طشتری تصغیر|بائیں|ایستادہ|منتشر طشتری کے اجسام کالے اور سرمئی رنگ میں دکھائے گئے ہیں منتشر طشتری کوئپر پٹی سے overlap کرتی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ منتشر طشتری کے اجسام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کے یہ دراصل کوئپر پٹی سے ہی آئے ہیں اور نیپچون کی ابتدائی زندگی میں جب اس کا مدار سورج سے دور جا رہا تھا تو اس کی کشش ثقل کے زیر اثر یہ اجسام بے ترتیب مداروں میں چلے گئے۔ زیادہ تر منتشر طشتری کے اجسام کا حضیض (perihelion) کوئپر پٹی کے اندر واقع ہے، جبکہ ان کے اوج (aphelion) کا سورج سے فاصلہ 150 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک ہے۔ ان کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویہ بناتے ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار کے عموداً (90 درجے کے زاویہ پر) واقع ہیں۔ بعض فلکیات دان منتشر طشتری کو کوئپر پٹی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں اور اسے "کوئپر پٹی کے منتشر اجسام" کا نام دیتے ہیں۔ تصغیر|بائیں|ایستادہ|ارس اور اس کا چاند ڈسنومیا (چاند)|ڈسنومیا ; ارس : ارس منتشر طشتری کا سب سے بڑا معلوم جسم ہے۔ یہ سورج سے 68 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے اور پلوٹو سے کم از کم 5 فیصد بڑا ہے۔ اس کے قطر کا اندازہ 2,400 کلومیٹر یا 1500 میل ہے۔ ارس ماہرین فلکیات کے مابین اکثر بحث و مباحثے کی وجہ رہا ہے کیونکہ 2006 تک پلوٹو کو اس سے چھوٹا ہونے کے باوجود سیارے کا درجہ حاصل تھا جبکہ یہ اس اعزاز سے محروم تھا۔ اس کا ایک چاند ہے؛ ڈسنومیا۔ پلوٹو کی طرح اس کا مدار بھی بہت بیضوی ہے؛ اس کا حضیض (perihelion)۔ 38.2 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے جو تقریباً پلوٹو کے سورج سے اوسط فاصلے کے برابر ہے اور اس کا اوج (aphelion)۔ 97.6 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اس کا مدار زمین کے مدار سے بہت ترچھا بھی ہے۔ خطہ ہائے بعید وہ نقطہ جہاں پر نظام شمسی ختم ہوتا ہے اور بین النجمی خلا (interstellar space) شروع ہوتی ہے کچھ ٹھیک طرح سے متعین نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ حد دو مختلف قوتیں طے کرتی ہیں: باد شمسی اور سورج کی کشش ثقل۔ باد شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پلوٹو کے مدار کے چار گنا فاصلے پر ختم ہو جاتی ہے لیکن سورج کی کشش ثقل اس سے ہزار گنا فاصلے پر بھی اثر رکھتی ہے۔ سکون شمسی بائیں|تصغیر|خلائی جہاز وائجر شمسی نیام میں داخل ہوتے ہوئے کرہ شمسی (heliosphere) کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ باد شمسی اپنی پوری رفتار سے تقریباً 95 فلکیاتی اکائیوں (AU) یا پلوٹو کے مدار سے تین گنا فاصلے تک، جاتی ہے۔ یہاں اس کا تصادم مخالف سمت سے آنے والی بین النجمی واسطے کی ہواؤں سے ہوتا ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں بادشمسی کی رفتار میں کمی آتی ہے، اس کے کثافت بڑھ جاتی ہے اور یہ مزید بے سکون (turbulent) ہو جاتی ہے۔ اس مقام تک کرہ شمسی ایک درست کرے کی شکل کا ہے لیکن اس سے آگے یہ ایک بیضے کی شکل کا ہو جاتا ہے جسے شمسی نیام (heliosheath) کہتے ہیں۔ شمسی نیام کی شکل اور طرز عمل دونوں ایک دمدار سیارے کی دم کی طرح ہیں؛ یہ اس مقام سے کہکشاں میں سورج کی حرکت کی سمت میں تقریباً 40 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک جاتی ہے لیکن اس سے مخالف سمت میں اس سے کئی گنا زیادہ فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے۔ سکون شمسی، جو کرہ شمسی کی بیرونی حد ہے، وہ نقطہ ہے جہاں باد شمسی مکمل طور پر رک جاتی ہے اور بین النجمی خلا کا آغاز ہوتا ہے۔ آج تک کوئی خلائی جہاز سکون شمسی سے آگے نہیں گیا اس لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ اس سے آگے خلا میں کیا حالات ہیں۔ یہ بھی بخوبی معلوم نہیں کہ کرہ شمسی نظام شمسی کو نقصان دہ کائناتی اشعاع (cosmic rays) سے کس حد تک بچاتا ہے۔ کرہ شمسی سے باہر کے حالات معلوم کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم زیر غور ہے۔ اورت بادل تصغیر|upright=1.3|کوئپر پٹی اور اورت بادل، ایک فنکار کے تصور میں نظریاتی (hypothetical) اورت بادل کھربوں برفانی اجسام کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے جو نظام شمسی کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ یہ سورج سے 50,000 سے 100,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے اور خیال کیا جاتا ہے لمبے وقت دوران کے دمدار سیارے یہیں سے آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے زیادہ تر اجسام دمدار سیارے ہیں جو اندرونی نظام شمسی سے بیرونی سیاروں کی کشش ثقل کے باعث خارج ہو گئے تھے۔ اورت بادل کے اجسام بہت آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں اور ان کی حرکت میں کبھی کبھار ہونے والے واقعات جیسے کہ دوسرے اجسام سے تصادم، کسی گزرتے ہوئے ستارے کی کشش ثقل یا کہکشاں کے مدوجذر، آسانی سے خلل پیدا کر سکتے ہیں۔ ; سیڈنا اور اندرونی اورت بادل : 90377 سیڈنا (Sedna) ایک سرخی مائل پلوٹو کی طرح کا جسم ہے جو سورج کے گرد ایک انتہائی بڑے مدار میں گردش کر رہا ہے۔ اس کا مدار انتہائی بیضوی ہے؛ اپنے حضیض (perihelion) پر یہ سورج سے 76 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہوتا ہے لیکن اپنے اوج (aphelion) پر سورج سے 928 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر چلا جاتا ہے۔ اسے سورج کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں 12,050 سال کا عرصہ لگتا ہے۔ مائک براؤن (Mike Brown)، جس نے سیڈنا کو 2003 میں دریافت کیا تھا، کا خیال ہے کہ سیڈنا کوئپر پٹی یا منتشر طشتری کا حصہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا اوج، نیپچون کی ہجرت کے زیر اثر آنے کے لحاظ سے بہت زیادہ فاصلے پر ہے۔ وہ اور کچھ دوسرے ماہرین فلکیات سیڈنا کو ایک بالکل الگ گروہ کا حصہ خیال کرتے ہیں جسے وہ "اندرونی اورت بادل" کا نام دیتے ہیں۔ : غالب امکان یہ ہے کہ سیڈنا ایک بونا سیارہ ہے لیکن ابھی اس کی شکل وثوق سے معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ حدود نظام شمسی کا ایک بڑا حصہ اب بھی نا معلوم ہے۔ سورج کی کشش ثقل کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ 2 نوری سال یا 125,000 فلکیاتی اکائیوں (AU)، کے فاصلے تک دوسرے ستاروں کی کشش ثقل پر حاوی ہے۔ اس کے مقابلے میں اورت بادل ممکنہ طور پر صرف 50,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔ سیڈنا جیسے اجسام کی دریافت کے باوجود کوئپر پٹی اور اورت بادل کے درمیان کا خطہ، جس کا رداس ہزاروں فلکیاتی اکائیوں پر محیط ہے، زیادہ تر غیر مرسوم (uncharted) ہے۔ سورج اور عطارد کے درمیانی خطے پر بھی ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ نظام شمسی کے غیر مرسوم حصوں میں نئے اجسام کی دریافت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ کہکشاں میں محل وقوع بائیں|تصغیر|ہماری کہکشاں میں سورج کا محل وقوع نظام شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے اس کا نام جادہ شیر (Milky Way) ہے۔ یہ ایک barred spiral کہکشاں ہے۔ اس کا قطر ایک لاکھ نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں 2 کھرب ستارے موجود ہیں۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے بیرونی بازؤں میں سے ایک اورائن بازو یا مقامی spur میں موجود ہے۔ سورج سے ہماری کہکشاں کا مرکز تقریباً 25,000 سے 28,000 نوری سال کی دوری پر ہے اور یہ کہکشاں کے مرکز کے گرد تقریباً 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ اس رفتار سے اسے ایک چکر پورا کرنے میں اندازہً 22.5 سے 25 کروڑ سال لگتے ہیں۔ اس چکر کو نظام شمسی کا کہکشانی سال (galactic year) بھی کہتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں سورج کے اس محل وقوع کا زمین پر زندگی کے ارتقا میں بہت اہم کردار ہے۔ سورج کا مدار تقریباً دائروی ہے اور یہ اسی رفتار سے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردش کر رہا ہے جس رفتار سے کہکشاں کے بازو گردش کرتے ہیں۔ رفتار کی اس یکسانی کے باعث سورج ان بازؤں میں سے کبھی کبھار ہی گزرتا ہے۔ چونکہ ان بازؤں میں خطرناک سپر نووا کی کافی کثرت پائی جاتی ہے، سورج کا ان میں سے نہ گذرنا زمین کو ان خطرناک اثرات سے نسبتاً محفوظ رکھتا ہے اور زندگی کو ارتقا کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سورج ستاروں کی گنجان آبادی والے مرکزی خطے سے بھی کافی فاصلے پر ہے۔ اگر سورج مرکز کے قریب واقع ہوتا تو دوسرے ستاروں کے قریب ہونے کے باعث ان کی کشش ثقل اورت بادل کے اجسام کو مسلسل ان کے مداروں سے ہٹا کر اندرونی نظام شمسی کی جانب بھیجتی رہتی۔ ان میں سے بہت سے اجسام زمین سے ٹکرا کر زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے۔ کہکشاں کے مرکز سے آنے والی برقناطیسی لہریں پیچیدہ جانداروں کے ارتقا میں خلل انداز بھی ہو سکتی تھیں۔ مزید دیکھیے * اسکیپ ولاسٹی * خلائی ملبہ * اسپیکٹرل لائن * سفید بونا * مریخ کی آب و ہوا * انسان کے چاند پر اترنے سے متعلق اختلافی نظریات حوالہ جات زمرہ:سورج زمرہ:سیاروی نظامات زمرہ:علم الخلاء زمرہ:علم السیارہ زمرہ:فلکیات زمرہ:طبعی کائنات زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل زمرہ:نقائص حوالہ: او سی ایل سی زمرہ:سانچہ حوالہ جات میں نامعلوم پیرامیٹر پر مشتمل صفحات
[Wikipedia:ur] عطارد }} upright=2|بائیں|تصغیر|مریخ، [[زمین، زہرہ اور عطارد]] عطارد (Mercury)ہمارے نظام شمسی کا سب سے اندرونی سیارہ ہے جو سورج کے گرد ایک چکر زمینی اعتبار سے 87.969 دنوں میں پورا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کے گرد لگنے والے ہر دو چکروں میں عطارد اپنے محور کے گرد تین بار گردش کرتا ہے۔ چونکہ زمین سے عطارد ہمیشہ سورج کے قریب دکھائی دیتا ہے اس لیے عطارد کا مشاہدہ عموماً سورج گرہن کے دوران ہی کیا جاتا ہے۔ شمالی نصف کرے پر عطارد کو دیکھنے کے لیے غروب آفتاب کے فوراً بعد یا طلوعِ آفتاب سے ذرا قبل کا وقت مناسب ہوتا ہے۔ عطارد کے بارے نسبتاً بہت کم معلومات موجود ہیں۔ زمین سے دوربین سے کیے جانے والے مشاہدات سے ہلال کی شکل کا عطارد دکھائی دیتا ہے تاہم زیادہ تفصیل نہیں دکھائی دیتی۔ عطارد کو جانے والے دو خلائی جہازوں میں سے پہلا جہاز میرینر دہم تھا جس نے 1974 سے 1975 کے دوران عطارد کے 45 فیصد حصے کی نقشہ کشی کی تھی۔ دوسرا جہاز میسنجر تھا جو عطارد کے مدار میں 17 مارچ 2011 کو داخل ہوا اور بقیہ حصے کی نقشہ کشی میں مصروف ہو گیا ہے۔ عطارد شکل میں ہمارے چاند سے مشابہہ ہے اور شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے یہاں بے شمار ہیں۔ اس کا اپنا کوئی قدرتی چاند نہیں اور نہ کوئی خاص فضاء ہے۔ تاہم چاند کے برعکس اس کے اندر بہت بڑی مقدار میں لوہا پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کا محض ایک فیصد ہے۔اپنے چھوٹے حجم اور لوہے کے اندرونی ڈھانچے کے باعث عطارد بہت کثیف ہے۔ سطح کا درجہ حرارت منفی 183 سے 427 درجے تک رہتا ہے۔ سورج کی دھوپ والے حصے سب سے زیادہ گرم جبکہ قطبین کے نزدیک والے گڑھے سب سے سرد مقام ہیں۔ عطارد کے مشاہدات کے بارے ہمیں پہلی دستاویزات قبل از مسیح زمانے سے ملتی ہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں یونانی ماہرینِ فلکیات کا خیال تھا کہ یہ سیارہ دراصل دو مختلف اجرامِ فلکی ہیں۔ایک جرمِ فلکی صرف سورج نکلنے اور دوسرا سورج کے غروب ہونے پر دکھائی دیتا ہے۔ عطارد کا انگریزی نام مرکری ہے جو یونانی تہذیب سے مستعار لیا ہوا ہے۔ اندرونی ڈھانچہ عطارد ہمارے نظام شمسی کے چار اندرونی سیاروں میں سے ایک ہے جو ارضی سیارے (terrestrial planets) کہلاتے ہیں۔اس کی ساخت پتھریلی ہے جو زمین سے مشابہ ہے۔ ہمارے نظام شمسی کا یہ سب سے چھوٹا سیارہ ہے اور اس کا استوائی رداس 2,439.7 کلومیٹر (1,516.0 میل) ہے۔ اس کا 70 فیصد حصہ دھاتی جبکہ 30 فیصد سلیکیٹ سے بنا ہے۔ عطارد کی کثافت 5.427 گرام فی مکعب میٹر ہے جو زمین کی کثافت (5.515 گرام فی معکب میٹر) سے ذرا سی کم اور نظام شمسی میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔ اگر عطارد اور زمین دونوں سے ثقلی دباؤ (gravitational compression) کے اثر کو ختم کر دیا جائے تو عطارد کا مادہ زمین کے مادے سے زیادہ کثیف ہوگا. عطارد کی کثافت کی مدد سے ہم اس کے اندرونی ساخت کے بارے جان سکتے ہیں۔ زمین کی کثافت کی سب سے بڑی وجہ اس کی کششِ ثقل کے دباؤ سے اس کا سکڑنا ہے۔ اسی وجہ سے زمین کا انتہائی کثیف مرکزہ (Core) وجود میں آیا ہے۔ زمین کی نسبت عطارد کا حجم انتہائی مختصر ہے اور اس کے اندرونی اجزاء اتنے سکڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کے کثیف ہونے کا سبب اس کا بڑا مرکزہ اور اس میں لوہے کی کثرت ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق عطارد کا مرکزہ اس کے کل حجم کا 55 فیصد گھیرتا ہے۔ جبکہ زمین میں یہ شرح 17 فیصد ہے۔ 2007 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عطارد کا مرکزہ مائع حالت میں ہے۔ مرکزے کے گرد 500 سے 700 کلومیٹر چوڑی تہ ہے جسے غلاف (mantle) کہتے ہیں۔ یہ تہ سیلیکٹس سے بنی ہے۔ میرنیر دہم سے حاصل ہونے والی معلومات اور زمین سے کیے گئے مشاہدات کی بنا پر یہ مانا جاتا ہے کہ عطارد کا قشر (crust) کلومیٹر تک چوڑا ہے۔ عطارد کی سطح کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس پر کئی تنگ ناہموار سطحیں ہیں جو کئی سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جب عطارد کا مرکزہ اور غلاف سرد ہونے شروع ہوئے تو بیرونی سطح پہلے سے ٹھنڈی ہو کر ٹھوس ہو چکی تھی اور اس کے سکڑنے کی وجہ سے اس طرح کی سطح وجود میں آئی۔ عطارد کے مرکزے میں ہمارے نظام شمسی کے دیگر اہم سیاروں کی نسبت بہت زیادہ لوہا پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کئی نظریات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ سب سے عام مانا جانے والے نظریے کے مطابق عطارد میں دھات اور سیلیکٹ کی شرح ویسی ہے جیسی کونڈرائیٹ شہابیوں کی ہوتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ایک بہت بڑا شہابیہ عطارد سے ٹکرایا جس سے اس کے قشر اور غلاف کا بہت بڑا حصہ دھول بن کر اڑ گیا اور مرکزہ اس کی جسامت کے حساب سے بہت بڑا باقی رہ گیا ہے۔ زمین کے چاند سے متعلق بھی اسی طرح کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ ایک اور نظریے کے مطابق عطارد کا جنم شمشی سحابیہ (solar nebula) سے ہوا تھا جب سورج کی توانائی کے اخراج کی شرح مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت عطارد کی کیمیت آج سے دو گنا زیادہ تھی۔ تاہم جب سورج سکڑنا شروع ہوا تو عطارد کا درجہ حرارت 2٫500 سے 3٫500 کیلون (سینٹی گریڈ میں کیلون منفی 273 ڈگری) تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ درجہ حرارت 10٫000 ڈگری کیلون رہا ہو۔ اس انتہائی بلند درجہ حرارت سے عطارد کی چٹانی سطح پگھل کر بخارات بن گئیں ان بخارات نے چٹانی کرہ ہوا بنایا جنہیں شمسی ہوا (solar wind) اڑا لے گی۔ تیسرے نظریے کے مطابق شمسی سحابیے (solar nebula) سے پیدا ہونے والی کشش کی وجہ سے عطارد کی سطح پر موجود ہلکے ذرات عطارد سے نکل گئے۔ اس طرح ہر نظریہ عطارد کے بارے نیا خیال پیش کرتا ہے۔ اگلے دو خلائی مشن میسنجر اور بیپی کولمبو انھیں نظریات کی تصدیق کریں گے۔ سطحی جغرافیہ بحیثیتِ مجموعی عطارد کی سطح ہمارے چاند سے بہت مماثل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مریخ جیسے بہت بڑے میدان اور کھائیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہین کہ ارضیاتی اعتبار سے عطارد کئی ارب سالوں سے ساکن ہے۔ چونکہ عطارد کے بارے ہماری معلومات 1975 میں میرینر خلائی جہاز کے اس کے پاس سے گذرنے اور اس کی سطح کے مشاہدے تک محدود ہے جس کی وجہ سے ارضی سیاروں میں عطارد کے بارے ہماری معلومات سب سے کم ہیں۔ حال ہی میں میسنجر نامی خلائی جہاز اس کے قرب سے گذرا ہے جس سے امید ہے کہ ہماری معلومات کافی بڑھ جائیں گی۔ البیڈو کی خصوصیات مختلف جگہوں پر روشنی کے انعکاس کی مختلف مقداروں کو ظاہر کرتی ہیں۔ عطارد پر چاند کی طرح بلند میدان، کٹی پھٹی سطحیں، پہاڑ، میدان اور وادیاں وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ 4 اعشاریہ 6 ارب سال قبل عطارد کی پیدائش کے بعد سے اس پر شہابیوں اور دمدار ستاروں کی بہت بڑی مقدار گرتی رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ عمل کوئی 3 اعشاریہ 8 ارب سال قبل دہرایا گیا تھا۔ اس عرصے میں بہت بڑی مقدار میں کھائیاں بنیں اور سیارے کی پوری سطح پر شہابیے گرے کیونکہ عطارد پر فضاء موجود نہیں جو رگڑ کی وجہ سے شہابیوں کی رفتار کو کم کر سکے۔ اس عرصے میں عطارد پر آتش فشانی عمل بھی زور و شور سے جاری تھا۔ میسنجر نامی خلائی جہاز جب اکتوبر 2008 میں اس کے قریب سے گذرا تو ہمیں عطارد کی سطح کے بارے مزید معلومات ملیں۔ عطارد کی سطح چاند یا مریخ کی نسبت زیادہ مختلف ہے۔ امپیکٹ بیسن اور گڑھے عطارد پر گڑھوں کا حجم ایک پیالہ نما گڑھے سے لے کر کئی گڑھوں کے مجموعے تک ہو سکتا ہے جو کئی سو کلومیٹر طویل ہیں۔ یہ گڑھے ہر طرح کی حالت میں ملتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو بالکل تازہ ہیں جبکہ کچھ گڑھے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تقریباً گم ہو چکے ہیں۔ عطارد کے گڑھے چاند کے گڑھوں سے اس وجہ سے فرق ہیں کہ عطارد کی کشش ثقل کی وجہ سے یہاں ان گڑھوں سے کم مواد نکلتا ہے۔ کلوریس بیسن عطارد پر موجود سب سے بڑا گڑھا ہے جو 1٫550 کلومیٹر قطر پر مشتمل ہے۔ اس گڑھے کے بننے کا عمل اتنا زبردست تھا کہ نہ صرف لاوا نکلا بلکہ بیرونی کنارہ دو کلومیٹر اونچا ہو گیا۔ مجموعی طور پر عطارد کی تصاویر سے ہمیں 15 ایسے گڑھے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم گڑھا 400 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس سے نکلنے والا لاوا 500 کلومیٹر دور تک پھیلا ہوا ہے۔ میدان عطارد پر ہمیں دو مختلف اقسام کے میدانی علاقے ملتے ہیں۔ عطارد پر پائی جانے والی ایک اور اہم خاصیت یہ ہے کہ یہاں میدانوں میں دباؤ سے بننے والی لہریں نما سطحیں موجود ہیں۔ جوں جوں عطارد کا مرکزہ سرد ہونے لگا تو بیرونی سطح کی شکل بگڑنے لگی جس سے یہ لہریں نما سطحیں بنیں۔ یہ سطحیں میدانوں اور گڑھوں کی سطح پر بھی موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لہریں بہت بعد میں بنی تھیں۔ سطحی حالتیں اور فضا عطارد کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 442,5 ڈگری کیلون ہے۔ تاہم یہ درجہ حرارت دراصل 100 ڈگری کیلون سے 700 ڈگری کیلون تک ہو سکتا ہے کیونکہ عطارد کی اپنی کوئی فضاء نہیں اور قطبین اور خط استوا پر درجہ حرارت میں بہت فرق ہے۔ روشن سطح پر درجہ حرارت 550 سے 700 کیلون تک اور تاریک سطح پر درجہ حرارت تقریباً 110 ڈگری کیلون رہتا ہے۔ اگرچہ عطارد پر دن کے وقت درجہ حرارت انتہائی بلند ہوتا ہے تاہم اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ عطارد کی سطح پر برف پائی جاتی ہے۔ گہرے گڑھوں کی تہ جہاں تک سورج کی روشنی براہ راست نہیں پہنچ سکتی، میں درجہ حرارت 102 کیلون سے نیچے رہتا ہے۔ آبی برف ریڈار پر چمکتی ہے۔ 70 میٹر والی گولڈ سٹون دوربین کی مدد سے اور وی ایل اے کی مدد سے عطارد کے قطبین کے قریب بہت ہی چمکدار سطحیں دکھائی دی تھیں۔ اگرچہ ان چمکدار سطحوں کا واحد سبب برف ہی نہیں ہے تاہم برف کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان برفانی مقامات پر برف کی مقدار کا اندازہ 1014 تا1015 کلوگرام لگایا گیا ہے۔ زمین پر موجود قطب جنوبی کی برفانی تہ کا وزن 4X1018 کلو لگایا گیا ہے۔ مریخ کے جنوبی قطب پر پانی کی مقدار کا اندازہ 1018 کلو لگایا گیا ہے۔ عطارد پر موجود برف کے ماخذ کے بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم دو وجوہات ممکن ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ عطارد کی سطح سے پانی کا اخراج اور دوسری وجہ شہابی ٹکراؤ سے حاصل ہونے والی برف ہے۔ عطارد کا حجم بہت مختصر اور گرم ہے اور اس کی کشش ثقل اتنی نہیں کہ لمبے عرصے تک فضاء کو قابو میں رکھ سکے تاہم اس کی "فضاء" میں ہائیڈروجن، ہیلیم، آکسیجن، سوڈیم، کیلشیم، پوٹاشیم اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ فضاء مستحکم نہیں اور ایٹم مسلسل خلاء میں گم ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی جگہ مختلف ماخذوں سے مزید ایٹم آتے رہتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے ایٹم شمسی ہواؤں سے آتے ہیں اور عطارد کی فضاء کا حصہ بننے کے بعد پھر سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں۔ عطارد کی بیرونی سطح میں ہونے والی تابکاری کی وجہ سے بھی ہیلئم کے علاوہ پوٹاشیم اور سوڈیم کے ایٹم بھی آتے ہیں۔ میسنجر خلائی جہاز کو عطارد پر بہت بڑی مقدار میں کیلشیم، ہیلیم، ہائیڈرو آکسائیڈ، میگنشیم، آکسیجن، پوٹاشیم، سیلیکان اور سوڈیم کے ثبوت ملے تھے۔ آبی بخارات بھی مختلف ذرائع سے آتے رہتے ہیں جیسا کہ شہابیوں کا ٹکراؤ، شمسی ہواؤں سے آنے والی ہائیڈروجن اور عطارد کی آکسیجن کے ملاپ سے بننے والے آبی بخارات، قطبین پر موجود جمی ہوئی برفیں وغیرہ اہم ہیں۔ سوڈیم، پوٹاشیم اور کیلشیم 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں دریافت ہو گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ چھوٹے شہابیوں کے ٹکراؤ سے یہ پیدا ہوئے ہوں گے۔ 2008 میں اسی عمل سے عطارد پر آنے والی میگنیشیم بھی دریافت ہوئی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ سوڈیم بھی مقناطیسی قطبین پر موجود تھی۔ مقناطیسی قطبین اور مقناطیسی کرہ اپنے چھوٹے حجم اور سست 59 دن کے چکر کے باوجود عطارد پر تقریباً یکساں اور کافی طاقتور مقناطیسی میدان موجود ہے۔ میرنیر دہم کی پیمائشوں سے پتہ چلتا ہے کہ عطارد کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کی نسبت محض ایک اعشاریہ ایک فیصد ہے۔ عطارد پر مقناطیسی میدان دو قطبی ہے۔ تاہم عطارد کے مقناطیسی قطبین اس کے محوری سروں پر واقع ہیں۔ میرنیر دہم اور میسنجر خلائی جہازوں کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عطارد کی مقناطیسی طاقت اور مقناطیسی میدان مستحکم ہیں۔ عطارد کا مقناطیسی میدان اتنا طاقتور ہے کہ شمسی ہواؤں کو آنے سے روکتا ہے۔ اس طرح اس میدان نے عطارد کے گرد مقناطیسی کرہ بنایا ہوا ہے۔ یہ مقناطیسی کرہ اگرچہ اتنا چھوٹا ہے کہ زمین کے اندر سما سکتا ہے تاہم شمسی ہوا کے پلازمے کو جکڑ لیتا ہے۔ اس طرح عطارد کی سطح پر سپیس ویدرنگ ہوتی رہتی ہے۔ 6 اکتوبر 2008 کو دوسرے چکر کے دوران میسنجر نے عطارد کے مقناطیسی میدان میں سوراخ تلاش کیے۔ مقناطیسی ٹارنیڈو بھی دیکھے گئے جن کا قطر 800 کلومیٹر پر محیط تھا جو عطارد کے قطر کا ایک تہائی ہے۔ اس طرح کے سوراخوں سے گذر کر سورج سے آنے والے ذرات براہ راست عطارد کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔ مدار اور گردش عطارد کا مدار دیگر تمام سیاروں کے برعکس عطارد کا مدار منفرد ہے اور اسی وجہ سے سورج سے اس کا درمیانی فاصلہ چار کروڑ ساٹھ لاکھ سے لے کر سات کروڑ کلومیٹر تک رہتا ہے۔ اسے اپنے مدار میں ایک چکر پورا کرنے پر اٹھاسی دن لگتے ہیں۔ سورج سے گھٹتے بڑھتے فاصلے کی وجہ سے عطارد کا ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ زمینی اعتبار سے 176 دن لگتے ہیں۔ زمین کی نسبت عطارد کا مدار سات ڈگری جھکا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے عطارد اوسطاً ہر سات سال بعد زمین اور سورج کے درمیان سے گزرتا ہے۔ عطارد کا محوری جھکاؤ تقریباً صفر ہے جس کی وجہ سے قطبین پر کھڑے ہوئے بندے کو سورج ہمیشہ افق کے پاس گردش کرتا دکھائی دے گا۔ بعض مقامات سے تو ایک ہی دن میں سورج طلوع ہو کر پھر واپس اسی جگہ غروب ہوتا اور طلوع ہوتا دکھائی دے سکتا ہے۔ مدار پر گمک بہت عرصے تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ عطارد سورج کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ جیسے زمینی چاند ہمیشہ زمین کی طرف ایک رخ کیے رہتا ہے، ویسے ہی عطارد کی ایک سمت سورج کی سمت رہتی ہے۔ تاہم 1965 میں ریڈار کے مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ یہ تین نسبت دو ہے۔ یعنی سورج کے گرد لگنے والے ہر دو چکر میں عطارد تین بار گھومتا ہے۔ یعنی عطارد کے دو سال عطارد کے تین دنوں کے برابر ہوتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کی اس غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ جب بھی عطارد کے مشاہدے کا بہترین وقت آتا، عطارد ہمیشہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی رخ پر دکھائی دیتا تھا۔ کمپیوٹر پر تیار کیے گئے ماڈل سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر سیاروں کی کشش کے باعث عطارد اپنے مدار پر تقریباً صفر (گول) سے 0.45 فیصد (بیضوی) میں کروڑوں سالوں میں گھومتا ہے۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ اگلے پانچ ارب سال کے دوران ایک فیصد امکان ہے کہ عطارد زہرہ سے ٹکرا جائے۔ حضیض 1859 میں فرانسیسی ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات اربین لی وریئر نے بتایا کہ سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے عطارد کے مدار کی تبدیلی کی وضاحت نیوٹن میکانیات سے نہیں ہو سکتی۔ اس نے دیگر ممکنہ نظریات کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ شاید کسی دوسرے سیارے کی کشش اس پر اثر ڈال رہی ہو اور یہ سیارہ سورج سے عطارد کی نسبت قریب تر ہو۔ اس وجہ سے ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا کہ ایسا سیارہ اگر ہوا تو اسے وُلکن کہا جائے گا۔ تاہم ایسا کوئی سیارہ دریافت نہیں ہو سکا۔ متناسق نظام عطارد پر طول بلد مغرب کی سمت بڑھتے ہیں۔ ہُن کل نامی شہابی گڑھے کو حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مرکزی مقام 20 ڈگری مغرب طول بلد پر ہے۔ مشاہدہ عطارد کی ظاہری روشنی منفی 2.6 (سب سے روشن سیارے سیریئس سے بھی زیادہ روشن) سے لے کر +5.7 تک ہو سکتی ہے۔ اتنا زیادہ فرق سورج کے گرد گردش کے دوران اس کے مقام پر ہوتا ہے۔ عطارد کا مشاہدہ سورج کی وجہ سے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کہ زیادہ تر وقت سورج کی دمک سے یہ دکھائی نہیں دیتا۔ سو اس کے مشاہدے کا مختصر وقت طلوعِ آفتاب سے ذرا قبل یا غروب آفتاب کے تھوڑا بعد ہوتا ہے۔ خلائی دور بین ہبل اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتی کیونکہ حفاظتی نکتہ نظر سے اس کا رخ سورج سے زیادہ قریب نہیں کیا جا سکتا۔ چاند کی مانند عطارد بھی ہلال سے بدرِ کامل اور پھر ہلال کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ عطارد کی زمین سے قریب ترین آمد 7 کروڑ 73 لاکھ کلومیٹر تک دیکھی گئی ہے۔ عطارد کو شمالی نصف کرے کی بجائے جنوبی نصف کرے سے زیادہ آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سورج گرہن کے وقت بھی عطارد کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ مطالعہ قدیم فلکیات دان عطارد کے مشاہدے کی قدیم ترین معلومات ہمیں عہدِ بابل سے ملنے والی تختیوں سے ملتی ہے۔ یہ مشاہدے 14ویں صدی قبل مسیح میں عاشوری فلکیات دان نے کیے تھے۔ بابلی اسے نابو کہتے تھے۔ قدیم یونانی بھی اس سے واقف تھے اور اسے پہلے سٹلبون اور بعد ازاں صبح دکھائی دینے پر اپالو اور رات کو دکھائی دینے پر ہرمیس کہتے تھے۔ رومیوں نے اسے قاصد دیوتا کے نام پر مرکری کہا جو یونانی ہرمیس کے برابر تھا کہ آسمان پر اس کی حرکت کسی بھی دوسرے سیارے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ مصری-رومی فلکیات دان بطلیموس نے سورج کے سامنے عطارد کے گزرنے کے بارے پہلی بار لکھا اور بتایا کہ ایسا مشاہدہ نہ ہو سکنے کی وجہ یا تو اس سیارے کا بہت چھوٹا ہونا ہے یا پھر کبھی کبھار سورج کے قریب سے ہی گذرنا تھا۔ قدیم چین میں عطارد کو چِن ژنگ یعنی گھنٹہ ستارہ کہا جا جاتا تھا اور اسے شمال کی سمت سے منسوب کیا گیا۔ تاہم جدید چینی، کورین، جاپانی اور ویت نامی ثقافتوں میں اسے آبی ستارہ کہا جاتا ہے۔ ہندو دیومالا میں اسے بدھا کہا گیا اور بدھ کے روز کا حکمران مانا جاتا ہے۔ جرمن مظاہر پرستوں میں عطارد اور بدھ کو اوڈن دیوتا سے جوڑا جاتا ہے۔ مایا لوگ عطارد کو اُلو سے ظاہر کرتے تھے (کبھی چار الو بھی استعمال ہوتے تھے جن میں سے دو صبح اور دو شام کو دکھائی دینے والے عطارد سے منسوب کرتے تھے) جو زیرِ زمین دنیا کا پیغام رساں کیا جاتا تھا۔ قدیم ہندوستانی فلکیات میں پانچویں صدی کے متن میں سریا سندھانتا نے عطارد کا قطر 3٫008 میل بتایا جو موجودہ پیمائش 3٫032 میل سے ایک فیصد سے بھی کم فرق ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے اندلسی مسلمان ماہرِ فلکیات ابو اسحاق ابراہیم الذرقالی نے گیارہوین صدی میں عطارد کے مدار کو بیضوی بیان کیا جیسے انڈہ ہوتا ہے تاہم اس سے متعلقہ پیمائشیں اس سے متاثر نہیں ہوئیں۔ بارہویں صدی میں ابن باجا نے سورج پر بننے والے دو دھبوں کو سورج کے سامنے سے گزرنے والے دو سیارے قرار دیا۔ تیرہویں صدی میں مراغہ کے ماہرِ فلکیات قطب الدین شیرازی نے امکان ظاہر کیا کہ یہ شاید عطارد اور یا زہرہ کی وجہ سے دھبے بنے ہوں گے (یاد رہے کہ اب ایسے قدیم مشاہدات کو شمسی دھبے قرار دیے جاتے ہیں)۔ بھارت میں پندرہویں صدی کے کیرالا اسکول کے ماہرِ فلکیات نیلا کنٹھا سومیاجی نے ایک سیاراتی نمونہ پیش کیا جس کے مطابق عطارد سورج کے گرد اور پھر سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اسی سے ملتا جلتا نظام سولہویں صدی میں ٹائکو براہی نے بھی پیش کیا۔ ارضی دوربین سے تحقیق دوربین سے پہلی بار عطارد کا مشاہدہ سولہویں صدی میں گلیلیو نے کیا۔ اگرچہ اس نے زہرہ کے مختلف مراحل کو تو دیکھا مگر عطارد کے ایسے مشاہدے کے لیے اس کی دوربین مناسب نہیں تھی۔ 1631 میں پیئر گسنڈی نے دوربین سے عطارد کو سورج کے سامنے سے گزرتے دیکھا۔ اس کی پیش گوئی جوہانس کپلر کر چکا تھا۔ 1639 میں جیوانی زوپی نے دوربین کی مدد سے زہرہ اور چاند کی مانند عطارد کو بھی گھٹتے بڑھتے دیکھا۔ اس مشاہدے سے ثابت ہوا کہ عطارد سورج کے گرد گھومتا ہے۔ اختفا فلکیات میں ایک نایاب واقعہ اختفا کہلاتا ہے جس میں زمین سے مشاہدے کے وقت ایک جرمِ فلکی دوسرے کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ عطارد اور زہرہ ہر چند صدی بعد ایک دوسرے کے سامنے سے گزرتے ہیں اور اس کا واحد مشاہدہ ابھی تک 28 مئی 1737 کو گرین وچ کی شاہی رصدگاہ میں جان بیوس نے کیا۔ اگلی مرتبہ زہرہ عطارد کے سامنے 3 دسمبر 2133 کو ہوگا۔ کم مشاہدات کی وجہ سے دیگر سیاروں کی نسبت عطارد کا مطالعہ بہت کم کیا گیا ہے۔ 1962 میں روس کے سائنس دانوں نے ولادی میر کوٹیلنکیوو کی سربراہی میں یو ایس ایس آر اکیڈمی آف سائنسز کے ذیلی ادارہ برائے ریڈیو انجینیرنگ سے عطارد پر ریڈار کے سگنل بھیج کر واپس موصول بھی کیے اور اس طرح عطارد کا ریڈار سے مشاہدہ شروع ہو گیا۔ تین سال بعد امریکی گورڈن پیٹنگل اور آر ڈائس نے پورٹوریکو میں 300 میٹر ریڈیائی دوربین سے سیارے کا ریڈیائی مشاہدہ شروع کیا اور تصدیق کی کہ سیارہ 59 روز میں ایک گردش پوری کرتا ہے۔ اُس وقت تک یہ بات عام طور پر قبول کی جا چکی تھی کہ عطارد سورج کی طرف ہمیشہ ایک ہی سمت رکھتا ہے اور جب ریڈار سے ملنے والی معلومات سے پتہ چلا کہ تاریک سمت کا درجہ حرارت توقع سے کہیں زیادہ ہے تو فلکیات دانوں کو بہت حیرت ہوئی۔ اطالوی فلکیات دان جیوسپو کولومبو نے دیکھا کہ محور اور مدار پر گردش کا تناسب دو اور تین کا ہے۔ میرینر دہم نے بعد میں اس کی تصدیق کی۔ ارضی بصری مشاہدوں سے عطارد کے بارے کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں مگر ریڈیو فلکیات دان خورد موجی طولِ موج کو استعمال کرتے ہوئے عطارد کی سطح سے کئی میٹر نیچے تک کی کیمیائی اور طبعی خصوصیات کا جائزہ لے سکتے ہیں اور یہ سورج سے آنے والی ریڈی ایشن سے متاثر نہیں ہوتیں۔ تاہم پہلے خلائی جہاز کی آمد سے قبل یہاں کی طبعی خصوصیات کے بارے ہمیں زیادہ علم نہیں ہو پایا۔ حالیہ تکنیکی جدتوں کے باعث ارضی مشاہدے بہتر ہوئے ہیں۔ لکی امیجنگ تکنیک کی مدد سے 2000 میں کیے گئے مشاہدات سے عطارد کی ایسی خصوصیات کا پتہ چلا ہے جو میرینر مشن سے بھی نہ پتہ چل پائی تھیں۔ خلائی جہازوں سے کی گئی تحقیقات زمین سے عطارد کو خلائی جہاز بھیجنا جانا تکنیکی اعتبار سے کافی مشکل ہے کیونکہ خلائی جہاز کو سورج کی انتہائی زیادہ کشش پر قابو پانا پڑتا ہے۔ عطارد کو جانے والے خلائی جہاز کو 9 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے دوران سورج کی کشش پر بھی قابو پانا پڑتا ہے۔ عطارد کی محوری گردش کی رفتار 48 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو زمین کی 30 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہے۔ اس لیے جہاز کو اپنی رفتار میں کافی بڑی تبدیلی لانی پڑتی ہے جو کسی بھی دوسرے سیارے کو جانے والے جہاز سے زیادہ ہوتی ہے۔ سورج کی کشش کی وجہ سے خلائی جہاز کی رفتار اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اسے عطارد کے گرد مدار میں داخلے یا عطارد پر اترنے کے لیے کافی زیادہ ایندھن جلانا پڑتا ہے تاکہ اترنے کی رفتار مناسب حد تک کم ہو جائے۔ چونکہ عطارد کی فضا نہ ہونے کے برابر ہے، سو پیراشوٹ وغیرہ کا استعمال ممکن نہیں۔ اس لیے عطارد پر جانے کے لیے درکار ایندھن کی مقدار پورے نظامِ شمسی سے باہر نکلنے کے لیے درکار ایندھن سے زیادہ ہے۔ میرینر دہم عطارد کا چکر لگانے والا پہلا خلائی جہاز ناسا کا میرینر دہم تھا جو 1974-75 میں بھیجا گیا۔ اس جہاز نے زہرہ کی کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی رفتار کو عطارد کے ساتھ جوڑا۔ اس طرح یہ جہاز پہلی بار ثقلی مدد استعمال کرنے والا اور ایک سے زیادہ سیاروں کو جانے والا جہاز قرار پایا۔ میرینر دہم نے پہلی بار عطارد کی سطح کی نزدیک سے تصاویر لے کر بھیجیں جس سے پتہ چلا کہ اس میں بہت زیادہ شہابی گڑھے اور جھریاں سی پائی جاتی ہیں جو شاید لوہے کے مرکزے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے سے بنی ہوں گی۔ بدقسمتی سے میرینر دہم کی گردش کچھ اس نوعیت کی تھی کہ ہر مرتبہ ایک ہی پہلو روشن دکھائی دیا جس کی وجہ سے محض 45 فیصد حصے کی نقشہ بندی ممکن ہو پائی تھی۔ 27 مارچ 1974 کو پہلی بار قریب سے گزرنے سے دو روز قبل میرینر دہم نے عطارد کے قریب غیر متوقع بالائے بنفشی شعاعیں ریکارڈ کرنا شروع کر دی تھیں۔ اس کا سبب پہلے عطارد کا فرضی چاند سمجھا گیا مگر بعد میں یہ پتہ چلا کہ دور واقع دہرے ستاروں کے نظام سے یہ شعاعیں آ رہی ہیں اور عطارد کا فرضی چاند ماضی کا قصہ بن گیا۔ خلائی جہاز تین مرتبہ عطارد کے قریب سے گذرا اور ایک مرتبہ اس کا فاصلہ عطارد کی سطح سے 327 کلومیٹر تھا۔ پہلے چکر پر آلات نے مقناطیسی میدان محسوس کیا۔ دوسرے چکر پر زیادہ توجہ تصاویر پر ہی رکھی گئی اور تیسرے چکر پر زیادہ سے زیادہ مقناطیسی پیمائش کی گئی۔ یہ بھی پتہ چلا کہ عطارد کا مقناطیسی میدان زمین سے مماثل ہے اور شمسی ہواؤں کو اطراف میں پھینکتا ہے۔ تاہم اس مقناطیسی میدان کی ابتدا کے بارے کئی متبادل نظریات ملتے ہیں۔ 24 مارچ 1975 کو عطارد کے قریب سے گزرنے کے آٹھ روز بعد میرینر کا ایندھن ختم ہو گیا۔ چونکہ اب اس کے مدار کو درست طور سے قابو نہ کیا جا سکتا تھا، سو حکام نے اس کو کام روک دینے کا حکم بھیج دیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میرینر دہم اب بھی سورج کے گرد چکر لگاتا ہوا ہر چند ماہ بعد عطارد کے پاس سے گزرتا ہے۔ میسنجر عطارد کی جانب ناسا کا دوسرا مشن میسنجر 3 اگست 2004 کو کیپ کینورل سے بوئنگ ڈیلٹا 2 راکٹ سے بھیجا گیا۔ اس نے اگست 2005 میں زمین، اکتوبر 2006 اور جون 2007 کو زہرہ کے چکر لگاتے ہوئے عطارد کے گرد اپنے مدار کی تصحیح کی۔ اس کا عطارد کے قریب سے پہلا چکر 14 جنوری 2008، دوسرا 6 اکتوبر 2008 کو اور تیسرا 29 ستمبر 2009 کو لگا۔ میرینر دہم سے پوشیدہ بقیہ نصف کرے کی نقشہ کشی میسنجر نے کی۔ 18 مارچ 2001 کو میسنجر خلائی جہاز نے عطارد کے گرد کامیابی سے بیضوی مدار اختیار کر لیا۔ اس مشن سے چھ بنیادی باتیں واضح ہونی تھیں: عطارد کی کثافت، اس کی جغرافیائی تاریخ، مقناطیسی میدان کی نوعیت، مرکزے کی بناوٹ، اس کے قطبین پر برف ہے یا نہیں اور اس کی معمولی سی فضا کہاں سے آئی۔ ان سوالات کے جوابات کے لیے میسنجر پر مطلوبہ آلات موجود ہیں۔ بپی کولمبو یورپی خلائی ایجنسی جاپان کے تعاون سے بپی کولمبو نامی ایک مشترکہ مشن تیار کر ہی ہے جس میں عطارد کے گرد دو خلائی جہاز ہوں گے، ایک کا کام سیارے کا نقشہ تیار کرنا ہوگا اور دوسرا مقناطیسی کرے کا مطالعہ کرے گا۔ روانگی کے بعد اندازہ ہے کہ 2019 تک یہ عطارد تک پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ عطارد کے مشاہدے کے لیے زیریں سرخ، بالائے بنفشی، ایکس رے اور گیما رے کا استعمال بھی کرے گا۔ حوالہ جات زمرہ:صوتی مضامین زمرہ:فلکیات زمرہ:طبعی کائنات زمرہ:نظام شمسی زمرہ:نظام شمسی کے سیارے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:خودکار پیمانے کے ساتھ متعدد تصاویر استعمال کرنے والے صفحات
[Wikipedia:ur] زہرہ زہرہ : سورج سے دوسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد ایک چکر زمینی وقت کے مطابق 224.7 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ اس کا نام قدیم رومن دیوی زہرہ (venus)کے نام پر رکھا گیا ہے جو محبت و حسن کی دیوی کہلاتی تھی۔ رات کے وقت آسمان پر ہمارے چاند کے بعد دوسرا روشن ترین خلائی جسم ہے۔ اس کی روشنی سایہ بنا سکتی ہے۔ یہ سیارہ عموماً سورج کے آس پاس ہی دکھائی دیتا ہے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا بعد یا سورج طلوع ہونے سے ذرا قبل زہرہ کی روشنی تیز ترین ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اسے صبح یا شام کا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔ زہرہ کو ارضی سیارہ بھی کہا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے زمین کا جڑواں سیارہ بھی کہتے ہیں کیونکہ دونوں کا حجم، کششِ ثقل اور جسامت ایک جیسی ہیں۔ زہرہ کی سطح پر سلفیورک ایسڈ کے انتہائی چمکدار بادل موجود ہیں جن کے پار دیکھنا عام حالات میں ممکن نہیں۔ زہرہ کی فضاء تمام ارضی سیاروں میں سب سے زیادہ کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ زہرہ پر کاربن سائیکل موجود نہیں جو کاربن کو چٹانوں اور دیگر ارضی اجسام میں جکڑ سکے اور نہ اس پر نامیاتی زندگی موجود ہے جو کاربن کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ ابتدائی دور میں زہرہ کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں زمین کی طرح سمندر موجود تھے تاہم درجہ حرارت بڑھنے سے وہ خشک ہو گئے۔ زہرہ کی سطح زیادہ تر مٹیالی اور صحرائی نوعیت کی ہے اور پتھریلی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔ زہرہ پر آتش فشانی عمل بھی جاری رہتا ہے۔ چونکہ زہرہ کا اپنا مقناطیسی میدان نہیں اس لیے ساری ہائیڈروجن خلاء میں نکل گئی ہے۔ زہرہ کا ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ ہے۔ زہرہ کی سطح کے بارے بہت ساری قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں۔ تاہم 1990 تا 1991 جاری رہنے والے میگیلن منصوبے کے تحت کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سارے سیارے کی نقشہ بندی کی گئی ہے۔ سطح پر کثیر آتش فشانی تحاریک کے آثار ملے ہیں۔ ماحول میں گندھک کی بہت بڑی مقدار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں کوئی بڑا آتش فشاں پھٹا ہے۔ تاہم لاوے کے بہاؤ کے بارے کوئی ثبوت نہیں ملے جو ایک معما ہے۔ زہرہ کی سطح پر کچھ مقامات پر شہاب ثاقب کے گرنے کے آثار بھی موجود ہیں اور اندازہ ہے کہ اس کی سطح تقریباً 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔ سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ شاید پانی کے نہ ہونے سے سطح بہت زیادہ ٹھوس ہو چکی ہے۔ تاہم سطح کے اوپر نیچے ہونے سے زہرہ کی زیادہ تر اندرونی حرارت ختم ہو جائے گی۔ طبعی خد و خال upright=1.5|بائیں|تصغیر|مریخ، [[زمین، زہرہ اور عطارد]] ہمارے نظام شمسی کے چار ارضی سیاروں میں سے زہرہ ایک ہے جس کا مطلب ہے کہ ہماری زمین کی طرح زہرہ بھی پتھریلی نوعیت کا ہے۔ اس کا حجم اور وزن دونوں ہی زمین کے مماثل ہیں۔ اسے زمین کی بہن یا جڑواں سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ زہرہ کا قطر زمین کے قطر سے 650 کلومیٹر کم ہے اور اس کا وزن زمین کے وزن کا 81.5 فیصد ہے۔ تاہم سطح اور فضاء کی ساخت کے اعتبار سے زہرہ اور زمین میں بہت بڑا فرق ہے۔ زہرہ کی فضاء کا 96.5 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جبکہ بقیہ ساڑھے تین فیصد کا زیادہ تر حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔ اندرونی ساخت ارضیاتی مواد کے بغیر یا جمود کو جانے بغیر ہمیں زہرہ کی جیو کیمسٹری یا اندرونی ساخت کا محدود علم ہے۔ تاہم زمین اور زہرہ کے درمیان موجود مماثلت کی وجہ سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زہرہ بھی تین مختلف سطحوں یعنی مرکزہ، مینٹل اور کرسٹ پر مشتمل ہیں۔ زہرہ کا مرکزہ کسی حد تک مائع ہے کیونکہ زمین اور زہرہ ایک ہی رفتار سے ٹھنڈے ہوتے رہے ہیں۔ چھوٹی جسامت کی وجہ سے زہرہ کے مرکزہ پر کم دباؤ ہے۔ زہرہ کی سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس موجود نہیں۔ اس وجہ سے زہرہ سے حرارت کا اخراج کم رفتار سے ہوتا ہے۔ جغرافیہ زہرہ کی سطح کا تقریباً 80 فیصد حصہ ہموار آتش فشانی میدانوں سے بنا ہے۔ ان میں سے 70 فیصد پر جھریاں سی موجود ہیں اور 10 فیصد بالکل ہموار ہے۔ باقی حصہ دو "براعظموں" پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک شمالی نصف کرے پر جبکہ دوسرا خط استوا کے ذرا جنوب میں ہے۔ شمالی براعظم کو اشتر ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ آسٹریلیا کے برابر ہے۔ میکسویل مونٹس نامی پہاڑ اسی براعظم پر موجود ہے۔ اس کی چوٹی زہرہ کی اوسط بلندی سے 11 کلومیٹر بلند ہے۔ جنوبی براعظم کو ایفروڈائٹ ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ براعظم جنوبی امریکا کے لگ بھگ ہے۔ زیادہ تر جھریاں اور کھائیاں اسی براعظم میں پائی جاتی ہیں۔ شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے گڑھوں، پہاڑؤں اور دریاؤں کی موجودگی ارضی سیاروں پر عام پائی جاتی ہے تاہم زہرہ کی اپنی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ ان میں مسطح چوٹیوں والے آتش فشاں ہیں جن کا قطر 20 سے 50 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے اور ان کی بلندی 100 سے 1000 میٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مکڑی کی جالے کی شکل کی کھائیاں وغیرہ بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ تمام آثار آتش فشانی عمل کی یادگار ہیں۔ زہرہ کے زیادہ تر طبعی خد و خالوں کے نام دیومالائی زنانہ کرداروں سے لیے گئے ہیں۔ سطحی جغرافیہ زہرہ کی سطح کا زیادہ تر رقبہ بظاہر آتش فشانی عمل سے بنا ہے۔ زہرہ پر زمین کی نسبت کئی گنا زیادہ آتش فشاں پائے جاتے ہیں اور 167 آتش فشاں 100 کلومیٹر سے زیادہ چوڑے ہیں۔ زمین پر اس طرح کا واحد آتش فشانی مجموعہ ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے۔ تاہم اس کی وجہ آتش فشانی سرگرمیاں نہیں بلکہ زہرہ کی سطح کا زیادہ پرانا ہونا ہے۔ زمین کی سطح تقریباً 10 کروڑ سال بعد بدلتی رہتی ہے جبکہ زہرہ کی سطح کم از کم 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔ مختلف شہادتوں سے زہرہ پر جاری آتش فشانی عمل کے بارے ثبوت ملتے ہیں۔ روسی وینیرا پروگرام کے دوران وینیرا 11 اور 12 خلائی جہازوں نے متواتر ہونے والی بجلی کی چمک دیکھی جبکہ وینیرا 12 نے اترتے ہی بادلوں کی گرج سنی۔ یورپی خلائی ایجنسی کے وینس ایکسپریس نے بالائی فضاء میں بہت بجلی چمکتی دیکھی۔ زمین پر گرج چمک، طوفان باد و باراں کو ظاہر کرتی ہے، زہرہ پر یہ بارش پانی کی بجائے گندھک کے تیزاب کی شکل میں ہوتی ہے۔ تاہم سطح سے 25 کلومیٹر اوپر ہی یہ تیزاب بخارات بن کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ آسمانی بجلی آتش فشانی راکھ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور ثبوت سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے بھی متعلق ہے۔ 1978 تا 1986 زہرہ کی فضاء میں اس کی مقدار دس گنا کم ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی حالیہ آتش فشانی عمل سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اچانک بڑھ گئی ہو۔ زہرہ کی سطح پر شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے ایک ہزار گڑھے موجود ہیں جو سطح پر یکساں پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین اور چاند پر موجود اس طرح کے گڑھے وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ چاند پر اس ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ داری بعد میں گرنے والے دیگر شہاب ثاقب ہوتے ہیں جبکہ زمین پر ہوا اور بارش کی وجہ سے ان گڑھوں کی شکل خراب ہوتی رہتی ہے۔ زہرہ پر موجود گڑھوں کی 85 فیصد تعداد انتہائی اچھی حالت میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زہرہ کی سطح 30 سے 60 کروڑ سال قبل بدلی تھی جس کے بعد آتش فشانی عمل سست ہو گیا تھا۔ زمین کی سطح مسلسل حرکت میں رہتی ہے لیکن اندازہ ہے کہ زہرہ پر ایسا عمل نہیں ہوتا۔ پلیٹ ٹیکٹانکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے زہرہ کا اندرونی درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ انتہائی گرم ہو کر اوپری سطح پھٹتی ہے اور تقریباً ساری سطح ہی ایک وقت میں بدل جاتی ہے۔ زہرہ کے گڑھوں کا حجم 3 سے 280 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ 3 کلومیٹر سے کم چوڑا گڑھا زہرہ پر نہیں پایا جاتا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زہرہ کی فضاء بہت کثیف ہے۔ ایک خاص حد سے کم رفتار والے اجسام کی رفتار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہ گڑھا نہیں بنا پاتے۔ 50 میٹر سے کم چوڑے شہابیئے زہرہ کی فضاء میں ہی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ فضاء اور موسم زہرہ کی فضاء انتہائی کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن کی معمولی مقدار سے بنی ہے۔ زہرہ پر ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ جبکہ فضاء کا وزن 93 گنا زیادہ ہے۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے جتنا کہ زمین کے سمندر کے ایک کلومیٹر نیچے ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھری ہوئی فضاء اور سلفر ڈائی آکسائیڈ سے بنے موٹے بادلوں کی وجہ سے سطح کا درجہ حرارت 460 ڈگری رہتا ہے۔ اگرچہ زحل عطارد کی نسبت سورج سے دو گنا زیادہ دور ہے لیکن اس کا درجہ حرارت عطارد سے زیادہ رہتا ہے۔ زہرہ کی سطح کو عرف عام میں جہنم سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ سائنسی مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کئی ارب سال قبل زہرہ کی فضاء آج کی زمین سے مماثل تھی اور عین ممکن ہے کہ زہرہ کی سطح پر پانی بکثرت پایا جاتا ہو۔ تاہم درجہ حرارت بلند ہونے کے ساتھ ساتھ ہی یہ سارا پانی بخارات بن کر اڑ گیا۔ زہرہ کی اپنے مدار پر انتہائی سست حرکت کے باوجود حرارتی جمود اور زیریں فضاء میں ہوا کی وجہ سے حرارت کی منتقلی کی وجہ سے زہرہ کی سطح کے درجہ حرارت پر دن یا رات کو زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سطح پر ہوا کی رفتار زیادہ سے زیادہ چند کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے تاہم کثیف فضاء کے دباؤ کی وجہ سے یہاں انسان کا پیدل چلنا بہت مشکل ہے۔ آکسیجن کی کمی اور شدید گرمی اس پر مستزاد ہیں۔ بالائی فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بھاری مقدار اور سلفر ڈائی آکسائیڈ اور گندھک کے تیزاب سے بنے بادل سورج کی روشنی کا 60 فیصد حصہ واپس دھکیل دیتے ہیں۔ اس طرح خلاء سے زہرہ کی سطح کا براہ راست مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ زہرہ زمین کی نسبت سورج کے زیادہ قریب ہے لیکن ان گہرے بادلوں کی وجہ سے اتنی روشنی نہیں پہنچتی۔ 300 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بادلوں کی اوپری چوٹیاں 4 سے 5 زمینی دنوں میں زہرہ کا چکر لگا لیتی ہیں۔ زہرہ پر ہوا کی رفتار اس کی محوری گردش سے 60 گنا زیادہ تیز ہیں جبکہ زمین پر ہوا کی تیز ترین رفتار محوری گردش کا محض 10 سے 20 فیصد ہوتی ہیں۔ زہرہ پر دن اور رات، قطبین اور خط استوا کے درجہ حرارت تقریباً یکساں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زہرہ پر موسم بھی تقریباً یکساں ہی رہتا ہے۔ تاہم بلندی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت بدل سکتا ہے۔ 1995 میں ایک خلائی جہاز میگلن نے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی پر چمک دیکھی جو زمینی برف کے مماثل تھی۔ یہ برف ممکنہ طور پر زمینی برف کے بننے کے عمل سے پید اہوئی تھی لیکن وہاں کے ماحول کا درجہ حرارت بہت بلند تھا۔ اندازہ ہے یہ برف لیڈ سلفائیڈ یا ٹیلیرئم سے بنی ہے۔ زہرہ کے بادلوں میں زمینی بادلوں کی نسبت زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پہلے پہل مشاہدہ روسی خلائی جہاز وینیرا نے کیا تھا۔ تاہم 2006 تا 2007 وینس ایکسپریس نے موسم سے متعلقہ تبدیلیاں دیکھیں۔ بجلی چمکنے کی شرح زمین کی نسبت نصف ہے۔ 2007 میں وینس ایکسپریس نے جنوبی قطب پر مستقل دوہرا قطبی طوفان دیکھا۔ مقناطیسی میدان اور مرکزہ 1967 میں وینیرا 4 نے زہرہ پر موجود انتہائی کمزور مقناطیسی میدان دریافت کیا۔ یہ مقناطیسی میدان زمین کے برعکس محض قطبی ہواؤں اور آئنو سفیئر کے درمیان تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ اس مقناطیسی میدان کی وجہ سے زہرہ پر آنے والی خلائی تابکاری کا معمولی سا حصہ رک جاتا ہے۔ طاقتور مقناطیسی میدان کی عدم موجودگی حیران کن ہے کیونکہ دیگر بہت سارے حوالوں سے زہرہ اور زمین ایک جیسے ہیں۔ مدار اور گردش تصغیر|Venus orbits the Sun at an average distance of about 108 million kilometres (about 0.7 فلکیاتی اکائی|AU) and completes an orbit every 224.65 days. Venus is the second planet from the Sun and orbits the Sun approximately 1.6 times (yellow trail) in Earth's 365 days (blue trail) زہرہ سورج کے گرد تقریباً 10 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ ایک گردش پوری کرنے پر اسے 224.65 زمینی دن لگتے ہیں۔ اگرچہ تمام تر سیاروں کے مدار بیضوی ہوتے ہیں تاہم زہرہ کا مدار تقریباً گول ہے۔ زہرہ زمین اور سورج کے درمیان زمین کا قریب ترین سیارہ ہے اور اس کا اوسط فاصلہ زمین سے 4 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر ہے۔ مثال کے طور پر پہلے 5383 سال کے دوران زہرہ 526 مرتبہ زمین سے 4 کروڑ کلومیٹر سے کم فاصلے سے گذرا ہے۔ تاہم اگلے 60٫200 سال تک فاصلہ 4 کروڑ کلومیٹر سے کم نہیں ہوگا۔ زہرہ اور زمین کا کم سے کم فاصلہ 3 کروڑ 82 لاکھ کلومیٹر سے کم نہیں ہو سکتا۔ اگر سورج کے شمالی قطب سے دیکھا جائے تو تمام سیارے سورج کے گرد گھڑیال مخالف رخ گھومتے ہیں۔ اسی طرح ان تمام سیاروں کی اپنے محور کے گرد گردش گھڑیال مخالف سمت ہوتی ہے تاہم زہرہ کی گردش گھڑیال موافق ہے۔ زہرہ 243 زمینی دنوں میں ایک بار گھومتا ہے۔ خط استوا پر اس کی حرکت کی رفتار ساڑھے چھ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو ہمارے نظام شمسی کے بڑے سیاروں میں سب سے کم ہے۔ زمین پر یہی رفتار 1٫670 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ زہرہ پر سورج مغرب سے نکلتا اور مشرق میں غروب ہوتا ہے۔ زہرہ کا ایک دن زمینی اعتبار سے 116.75 دنوں کے برابر ہے۔ اس طرح زہرہ کا ایک سال 1.92 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تصغیر|2004 مین سورج کے سامنے سے کرہ زہرہ کا مرور۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ زہرہ کا مدار اور اس کی گردش کچھ اس طرح کی ہے کہ ہر 584 زمینی دنوں میں زہرہ زمین کے قریب آ جاتا ہے۔ یہ مدت زہرہ کے 5 دنوں کے برابر ہے۔ اس وقت زہرہ کا اپنا کوئی چاند نہیں۔ مشاہدہ زہرہ ہمیشہ دیگر ستاروں سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ سب سے زیادہ روشن یہ تب دکھائی دیتا ہے جب زمین کے قریب ہوتا ہے۔ جب سورج زہرہ کے عقب میں ہو تو اس کی روشنی کچھ ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سیارہ اتنا روشن ہے کہ عین دوپہر کے وقت جب مطلع صاف ہو تو اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت زہرہ کا مشاہدہ زیادہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ جب زہرہ کی آب و تاب عروج پر ہو تو کئی لوگ اسے غلطی سے اڑن طشتری سمجھ لیتے ہیں۔ اپنے مدار پر گردش کے دوران زہرہ بھی چاند کی طرح گھٹتا بڑھتا دکھائی دیتا ہے جو دوربین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ زہرہ کا مدار کچھ اس طرح کا ہے کہ یہ بہت کم سورج کے سامنے سے گذرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس وقت زہرہ کا مدار کچھ اس نوعیت کا ہے کہ ہر 243 سال میں ایک بار سورج کے سامنے سے گذرتا ہے۔ موجودہ حساب کے مطابق زہرہ ہر 105.5 یا 121.5 سال بعد گذرتا ہے۔ حال ہی میں جون 2004 میں زہرہ سورج کے سامنے سے گذرا تھا اور اس کا اگلا چکر جون 2012 میں لگے گا۔ اس سے قبل یہ واقعہ دسمبر 1874 اور دسمبر 1882 میں پیش آیا تھا۔ اگلی بار یہ واقعہ دسمبر 2117 اور دسمبر 2125 میں پیش آئے گا۔ تاریخی اعتبار سے زہرہ کا سورج کے سامنے سے گذرنا بہت اہم سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو فکلیاتی اکائی کی پیمائش کرنے کا موقع ملتا تھا جو نظام شمسی کی پیمائش کے لیے اہم تھا۔ آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کی مہم جوئی سے قبل کیپٹن جیمز کک 1768 میں تاہیتی میں زہرہ کے سورج کے سامنے سے گذرنے کا مشاہدہ کیا تھا۔ مطالعہ قدیم مطالعہ جات زہرہ کو قدیم تہذیبوں میں صبح اور شام کے ستارے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاہم ان دنوں صبح کا ستارہ اور شام کا ستارہ دو الگ الگ ستارے مانے جاتے تھے۔ قدیم بابلی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بابل صبح اور شام کے ستارے کو ایک ہی ستارہ مانتے تھے اور اسے اپنی کتب میں آسمان کی چمکدار ملکہ کہتے تھے۔ یونانی اسے دو الگ الگ ستارے سمجھتے تھے لیکن فیثا غورث نے چھٹی صدی قبل مسیح میں اسے ایک ستارہ ثابت کیا۔ 1032 میں پہلی بار ایرانی ستارہ شناس ابن سینا نے زہرہ کے سورج کے سامنے سے گذرنے کا مشاہدہ کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ زہرہ سورج کی نسبت زمین سے زیادہ قریب ہے اور یہ بھی کہ زہرہ بعض اوقات سورج کے نیچے بھی ہو سکتا ہے۔ 12ویں صدی میں ابو بجاہ نے سورج پر دو دھبے دیکھے جو بعد ازاں 13ویں صدی میں مراغا کے ستارہ شناس قطب الدین شیرازی نے ثابت کیا کہ یہ دھبے زہرہ اور عطارد کے سورج کے سامنے سے گذرنے کی علامت تھے۔ جب اطالوی طبیعیات دان گلیلیو گلیلی نے پہلی بار 17ویں صدی میں زہرہ کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ چاند کی طرح زہرہ بھی گھٹتا بڑھتا ہے۔ انھوں نے ثابت کیا کہ اس طرح گھٹنے بڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ زہرہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس طرح پہلی بار کسی نے سائنسی بنیادوں پر بطلیموس کے اس دعوے کو رد کیا کہ نظام شمسی زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔ 1761 میں پہلی بار روسی شخص میخائل لومونوسوف نے زہرہ کی فضاء دریافت کی۔ زہرہ کی فضاء کا مشاہدہ 1790 میں جرمن ستارہ شناس جان شروٹر نے بھی کیا۔ شروٹر نے دیکھا کہ ہلال کی شکل کا زہرہ تھا اور اس کے دونوں سرے 180 ڈگری سے زیادہ پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے اس مشاہدے سے درست اندازہ لگایا کہ اس کی وجہ زہرہ کی فضاء میں روشنی کا بکھرنا ہے۔ زمین سے تحقیق 20ویں صدی سے قبل تک زہرہ کے متعلق بہت کم معلومات تھیں۔ اس وقت تک کے مشاہدات کے مطابق تھالی نما شکل پر کوئی خاص آثار نہیں تھے۔ تاہم سپیکٹرو سکوپ، ریڈار اور بالائی بنفشی دوربینوں سے ہمیں زہرہ کے رازوں کے بارے پتہ چلا ہے۔ پہلی بار بالائے بنفشی مطالعہ 1920 میں کیا گیا جب فرینک روس نے بالائے بنفشی تصاویر کی مدد سے زہرہ کے وہ خد و خال دیکھے جو عام روشنی اور زیریں سرخ روشنی سے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ 1900 کی دہائی میں ہونے والے سپیکٹرو سکوپ سے مشاہدے سے زہرہ کے گردش کے بارے معلوم ہوا۔ ویسٹو سلیفر نے زہرہ سے آنے و الی روشنی کی ڈاپلر شفٹ مطالعہ کرنے سے جانا کہ زہرہ اپنے محور کے گرد بالکل نہیں گھوم رہا۔ اس نے اپنی رائے ظاہر کی کہ شاید زہرہ کا مدار بہت بڑا ہے۔ بعد میں 1950 کی دہائی کے مشاہدات سے واضح ہوا کہ زہرہ کی محور پر حرکت گھڑیال موافق رخ پر ہے۔ 1960 میں ریڈار سے ہونے والے مشاہدات سے مزید معلومات ملیں۔ 1970 میں ریڈار سے مطالعہ ہونا شروع ہوا۔ اس سلسلے میں 300 میٹر کی ریڈیو دوربین استعمال کی گئی تھی۔ اس سے زہرہ پر دو روشن مقامات دیکھے گئے۔ انھیں الفا اور بیٹا کے نام دیے گئے۔ اس طرح ایک پہاڑی علاقہ بھی دریافت ہوا جسے میکسوئل مونٹس کا نام دیا گیا۔ زہرہ پر یہ صرف تین مقامات ایسے ہیں جنھیں مذکر نام دیے گئے ہیں۔ مہم جوئی ابتدائی کوششیں 12 فروری 1961 کو زہرہ کو پہلی بار خلائی جہاز بھیجا گیا جو کسی بھی دوسرے سیارے کو بھیجا جانے و الا پہلا جہاز تھا۔ اس کا نام وینیرا اول تھا۔ تاہم سات دن بعد جب یہ جہاز زمین سے 20 لاکھ کلومیٹر دور تھا تو اس کا رابطہ منقطع ہو گیا اور اندازہ ہے کہ زہرہ سے وسط مئی میں ایک لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا۔ امریکا کی جانب سے بھی زہرہ کی ابتدائی مہم جوئی کی ناکام ابتدا ہوئی۔ میرینر اول جہاز بھیجا گیا تھا۔ میرینر دوم جہاز البتہ کافی کامیاب رہا اور زہرہ کے مدار میں 109 دن گردش کرنے کے بعد 14 دسمبر 1962 میں یہ زہرہ کی سطح سے 34،833 کلومیٹر دور پہنچا۔ زمین کی طرف سے ہونے والا یہ پہلا کامیاب مشن تھا۔ مائیکرو ویو اور زیریں سرخ ریڈیو میٹروں سے پتہ چلا کہ زہرہ کے بادلوں کی چوٹیاں اگرچہ ٹھنڈی ہیں تاہم اس کی سطح کا درجہ حرارت کم از کم 425 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس طرح زہرہ پر زندگی کی تمام تر امیدیں دم توڑ گئیں۔ اگرچہ میرینر دوم نے زہرہ کے مادے اور فلکیاتی اکائی کی کامیاب پیمائش کی لیکن کسی قسم کے مقناطیسی میدان یا تابکار پٹی کا کوئی ثبو ت نہیں ملا۔ فضاء میں داخلہ روسی وینیرا سوم جہاز یکم مارچ 1966 کو زہرہ کی سطح سے ٹکرایا۔ پہلی بار انسان کا بنایا ہوا کوئی مصنوعی جسم کسی دوسرے سیارے کی فضاء میں داخل ہوا اور اس کی سطح سے ٹکرایا۔ تاہم کسی قسم کا مواد واپس بھیجنے سے قبل اس کا مواصلاتی نظام خراب ہو گیا تھا۔ زہرہ پر اگلا سیارہ وینیرا چہارم 18 اکتوبر 1967 کو پہنچا اور مدا رمیں داخل ہونے کے بعد اس نے کامیابی سے ڈھیروں سائنسی تجربات مکمل کیے۔ اس جہاز نے ثابت کیا کہ زہرہ کی سطح کا درجہ حرارت میرینر جہاز کے اندازے کے برخلاف زیادہ گرم تھا اور اس کی فضاء کا 90 سے 95 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ اس جہاز کے بنانے والوں کے اندازے کے برعکس زہرہ کی فضاء زیادہ کثیف تھی یعنی پیراشوٹ کی مدد سے جہاز کے سطح تک پہنچنے پر اندازے سے زیادہ وقت لگا اور اس کی بیٹریاں خالی ہو گئیں۔ اترتے وقت اس جہاز سے 93 منٹ تک مواد موصول ہوتا رہا۔ اس وقت جہاز سطح سے تقریباً 25 کلومیٹر اوپر تھا۔ اگلے ہی دن یعنی 19 اکتوبر 1967 کو میرینر پنجم جہاز زہرہ کے مدار میں داخل ہوا اور بادلوں کی چوٹیوں سے 4000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گردش کرنے لگا۔ یہ جہاز دراصل مریخ پر بھیجے جانے والے میرینر چہارم کے متبادل کے طور پر تیار ہوا تھا۔ تاہم میرینر چہارم کی کامیابی کے بعد اس جہاز میں تبدیلیاں کر کے اسے زہرہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس پر موجود سائنسی آلات میرینر دوم سے زیادہ جدید تھے اور اس نے زہرہ کی فضاء کی کثافت، دباؤ اور ساخت کے بارے قیمتی معلومات بھیجیں۔ بعد میں ان معلومات کو روسی جہاز سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ ملا دیا گیا اور روس اور امریکا کے خلائی سائنسدانوں نے ان پر مشترکہ طور پر کام شروع کیا۔ وینیرا چہارم سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں وینیرا پنجم اور ششم کو پانچ دنوں کے وقفے سے جنوری 1969 میں زہرہ کو روانہ کیا گیا۔ ایک دن کے وقفے سے یہ جہاز 16 اور 17 مئی کو زہرہ تک پہنچے۔ ان جہازوں کو زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل بنایا گیا تھا اور ان پر پیراشوٹ بھی چھوٹے لگائے گئے تھے تاکہ اترنے کا عمل تیز ہو۔ ان جہازوں پر 25 بار جتنا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ تاہم اس وقت کے اندازے کے مطابق زہرہ کی فضاء کا دباؤ 75 سے 100 بار تک تھا اس لیے ان جہازوں کی سطح تک پہنچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ 50 منٹ جتنا اترنے کے بعد اندازہً سطح سے 20 کلومیٹر اوپر زہرہ کے تاریک حصے پر دونوں جہاز تباہ ہو گئے۔ سطح اور فضائی سائنس وینیرا ہفتم کو اتنا مضبوط بنایا گیا کہ وہ زہرہ کی فضاء کو برداشت کر سکے۔ اس جہاز میں 180 بار جتنا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ نیچے اترنے کے عمل سے قبل اس جہاز کو ٹھنڈا کیا گیا اور خصوصی پیراشوٹ لگایا گیا تاکہ یہ خلائی جہاز 35 منٹ میں سطح پر اتر جائے۔ 15 دسمبر 1970 کو اترتے وقت پیراشوٹ پھٹ گیا اور یہ جہاز کافی تیزی سے سطح سے ترچھے ٹکرایا۔ ٹکراؤ کے بعد 23 منٹ تک اس جہاز سے سگنل ملتے رہے۔ یہ سگنل پہلی بار کسی دوسرے سیارے کی سطح سے زمین پر موصول ہوئے۔ وینیرا منصوبے کے تحت وینیرا ہشتم بھیجا گیا جس کے سطح پر اترنے کے 50 منٹ تک معلومات بھیجتا رہا۔ وینیرا ہشتم 22 جولائی 1972 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا۔ وینیرا نہم 22 اکتوبر 1975 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا۔ وینیرا دہم اس کے تین دن بعد یعنی 25 اکتوبر کو زہرہ کی سطح پر اترا اور دونوں نے پہلی بار زہرہ کے مناظر کی تصاویر بھیجیں۔ دونوں جہاز مختلف جگہوں پر اترے اور دونوں مقامات پر انتہائی مختلف قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ وینیرا نہم 20 ڈگری ڈھلوان سطح پر اترا جہاں 30 سے 40 سم قطر کے پتھر موجود تھے جبکہ وینیرا دہم بسالٹ نما چٹانی سلیبوں پر اترا۔ اسی دوران امریکا نے میرینر دہم عطارد کو بھیجا جو زہرہ کی کشش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گذرنا تھا۔ یہ جہاز زہرہ سے 5٫790 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا اور 4٫000 سے زیادہ تصاویر بھی بھیجیں۔ ان تصاویر کے مطابق عام روشنی میں زہرہ کی سطح پر کچھ نہیں دکھائی دیا لیکن بالائے بنفشی روشنی کی مدد سے زہرہ کے بادلوں کی ایسی تفاصیل ملیں جو پہلے کبھی زمینی دوربینوں سے نہیں دکھائی دیے تھے۔ امریکی پائینیر وینس پراجیکٹ میں دو الگ الگ مشن تھے۔ پائینیر وینس آربٹر کو زہرہ کے مدار میں بیضوی مدار میں 4 دسمبر 1978 کو داخل کیا گیا جو وہاں تیرہ سال تک گردش کرتا رہا اور زہرہ کی فضاء کا ریڈار کی مدد سے مطالعہ اور سطح کی نقشہ کشی کرتا رہا۔ پائینیر وینس ملٹی پروب نے 9 دسمبر 1978 کو چار مختلف سیارچے زہرہ کی فضاء میں داخل کیے جنھوں نے اس کی ساخت، ہوا اور حدت کے بارے معلومات بھیجیں۔ اگلے چار سالوں میں چار مزید وینیرا جہاز بھیجے گئے۔ وینیرا گیارہ اور بارہ کا مقصد زہرہ کے برقی طوفانوں کاجائزہ لینا تھا اور وینیرا تیرہ اور چودہ یکم مارچ اور 5 مارچ 1982 کو کو سطح پر اترے اور پہلی بار ہمیں زہرہ کی رنگین تصاویر ملیں۔ ان چاروں جہازوں کو پیراشوٹ کی مدد سے اتارا گیا لیکن پیراشوٹ 50 کلومیٹر کی بلندی پر پیراشوٹ سے الگ ہو کر یہ جہاز کثیف فضاء سے ہوتے ہوئے آرام سے اتر گئے۔ وینیرا تیرہ اور چودہ کا کام جہاز پر موجود ایکس رے فلوریسینس سپیکٹرومیٹر کی مدد سے مٹی کے نمونوں کا جائزہ لینا تھا۔ وینیرا چودہ کا کیمرا بدقسمتی سے سطح سے ٹکرایا اور باقی سارا جہاز فضاء میں معلق ہو گیا جس سے مٹی کے تجزیے کا کام ٹھپ ہو گیا۔ وینیرا پروگرام 1983 میں وینیرا پندرہ اور سولہ کو زہرہ کے مدار میں چھوڑے جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ ان جہازوں کا مقصد سنتھیٹک اپرچر ریڈار کی مدد سے زہرہ کے طبعی خد و خال کا جائزہ لینا تھا۔ 1985 میں سوویت یونین نے ہیلی کے دمدار ستارے اور زہرہ کے لیے مشترکہ مشن بھیجا۔ اس وقت ہیلی کا دمدار ستارہ نظام شمسی کے اندر سے گذر رہا تھا۔ دمدار ستارے کو جاتے ہوئے راستے میں خلائی جہاز نے 11 اور 15 جون 1985 کو ویگا پروگرام کے تحت دو سیارچے زہرہ کی فضاء میں داخل کیے اور غباروں کی مدد سے فضائی روبوٹ بھیجا گیا۔ یہ غبارے 53 کلومیٹر کی بلندی پر معلق ہو گئے جہاں کا درجہ حرارت اور ہوا زمین کی سطح جیسی تھی۔ یہ سیارچے 46 گھنٹے تک کارآمد رہے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق زہرہ کی سطح سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ متحرک ہے۔ ریڈار کی مدد سے نقشہ کشی امریکا کے میگلن سیارچے کو 4 مئی 1989 میں بھیجا گیا جس کا مقصد زہرہ کی سطح کی نقشہ کشی بذریعہ ریڈار کرنا تھا۔ پہلے ساڑھے چار سالوں کے دوران ملنے والی عمدہ تصاویر پہلے والی تصاویر سے کہیں بہتر تھیں۔ اس سیارچے نے 98 فیصد سے ز یادہ رقبے کی نقشہ کشی کامیابی سے کی۔ 1994 میں اپنے مشن کے خاتمے پر اس سیارچے کو زہرہ کی فضاء میں تباہ ہونے کے لیے بھیج دیا گیا۔ حالیہ اور مستقبل کے مشن ناسا کے میسنجر مشن جب عطارد کو روانہ ہوئے تو اکتوبر 2006 اور جون 2007 میں زہرہ کے قریب سے گذرے تاکہ زہرہ کی کشش سے اپنی رفتار کم کر سکیں۔ یہ جہاز مارچ 2011 میں عطارد کے مدار پر داخل ہونے تھے۔ میسنجر نے دونوں بار گذرتے ہوئے سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔ وینس ایکسپریس نامی خلائی جہاز کو یورپی خلائی ایجنسی نے بنایا تھا اور اسے 9 نومبر 2005 کو روسی راکٹ کی مدد سے بھیجا گیا۔ یہ جہاز کامیابی سے 11 اپریل 2006 کو زہرہ کے مدار میں داخل ہو گیا۔ اس جہاز کا مقصد زہرہ کی فضاء، بادل، طبعی خد و خال، پلازما کا جائزہ اور سطح کے درجہ حرارت وغیرہ کی پیمائش ہے۔ سب سے پہلے ملنے والی معلومات میں جنوبی قطب پر موجود دوہرا بڑا سائیکلون اہم ہے۔ جاپان کی خلائی ایجنسی نے زہرہ کے مدار کے لیے ایک جہاز اکاٹسوکی تیار کیا۔ اسے 20 مئی 2010 میں روانہ کیا گیا تاہم دسمبر 2010 میں یہ جہاز زہرہ کے مدار میں داخل ہونے میں ناکام ہو گیا۔ تاہم اندازہ ہے کہ یہ جہاز اپنے زیادہ تر نظام بند کر کے چھ سال بعد دوبارہ چالو ہو کر مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس جہاز کے مقاصد میں زیریں سرخ کیمرے کی مدد سے تصاویر لینا اور آسمانی بجلی کی موجودگی کی تصدیق اور موجودہ آتش فشانی سرگرمیوں کے وجود کا جائزہ لینا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کو امید ہے کہ وہ 2014 میں بیپی کولمبو نامی مشن عطارد کو بھیجیں گے جو دو بار زہرہ کے قریب سے گذرے گا اور پھر 2020 میں عطارد کے مدار میں داخل ہو جائے گا۔ نیو فرنٹئیر پروگرام کے تحت ناسا زہرہ کو ایک جہاز بھیجے گا جو زہرہ کی سطح پر اتر کر اس کی مٹی کا عنصری اور معدنی اعتبار سے جائزہ لے گا۔ اس جہاز پر زمین میں سوراخ کرنے اور چٹانوں کا جائزہ لینے کے آلات بھی موجود ہوں گے۔ وینیرا ڈی سیارچہ روس کے منصوبوں میں شامل ہے جسے 2016 میں روانہ کیا جائے گا جو خود تو زہرہ کے مدار میں رہ کر تحقیق جاری رکھے گا لیکن ایک سیارچہ سطح پر بھی بھیجے گا جو طویل عرصے تک وہاں رہ کر معلومات بھیجتا رہے گا۔ دیگر منصوبے زہرہ پر ہوائی جہاز، غبارے اور گاڑیاں بھیجنے سے متعلق ہیں۔ ناسا سیج نامی مشن کے تحت ایک خلائی جہاز زہرہ کو 2016 میں بھیجے گا۔ انسان بردار مشن 1960 کی دہائی کے آخر میں اپالو پروگرام کے آلات کی مدد سے زہرہ پر ایک جہاز بھیجا جانا تھا جس پر انسان سوار ہوتے اور یہ جہاز زہرہ کے قریب سے ہو کر گذرتا۔ یہ منصوبہ اندازوں کے مطابق 1973 میں اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں بھیجا جاتا۔ اس مقصد کے لیے سیٹرن 5 راکٹ استعمال ہوتا اور پوری پرواز ایک سال پر محیط ہوتی۔ یہ جہاز زہرہ کی سطح سے 5٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے چار ماہ بعد گذرتا۔ تاریخی سمجھ بوجھ آسمان پر سب سے روشن جسم ہونے کی وجہ سے زہرہ کو قدیم زمانے سے انسان جانتا ہے اور انسانی ثقافت میں بھی اسے اہمیت حاصل رہی ہے۔ عہد قدیم کی بابلی تہذیب میں اس کا ذکر ملتا ہے جو 16ویں صدی قبل مسیح میں زہرہ کے مشاہدے کے بارے ہے۔ قدیم مصری زہرہ کو صبح اور شام کے ستارے کے نام سے دو الگ الگ ستارے مانتے تھے۔ قدیم یونانی بھی اسے دو الگ الگ اجرام فلکی مانتے تھے۔ تاہم بعد میں اسے ایک سیارہ تسلیم کر لیا گیا۔ ایرانی بالخصوص فارسی اساطیری کہانیوں میں زہرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ پہلوی ادب میں بھی اس کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ فارسی زبان میں زہرہ کو ناہید کہا جاتا ہے۔ مایا تہذیب میں بھی زہرہ کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ زہرہ کی حرکات پر ایک مذہبی کیلنڈر بنایا گیا تھا اور مختلف واقعات جیسا کہ جنگ وغیرہ کے بارے زہرہ کی حرکات سے پیشین گوئی کی جاتی تھی۔ قدیم آسٹریلیائی مذاہب میں بھی زہرہ کو اہمیت ملی ہوئی تھی۔ مغربی ستارہ شناسی میں زہرہ کو محبت اور زنانہ پن کی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ دیوی جنسی زرخیزی کے لیے مشہور مانی جاتی ہے۔ ہندو ویدک نجومی زہرہ کو شکرا کے نام سے جانتے ہیں جس کا مطلب سنسکرت زبان میں پاک، صاف یا روشن وغیرہ بنتا ہے۔ جدید چینی، کوریائی، جاپانی اور ویتنامی ثقافتوں میں زہرہ دھاتی ستارے کے نام سے منسوب ہے۔ ستارہ شناسی کے اعتبار سے زہرہ کی علامت وہی ہے جو حیاتیاتی طور پر زنانہ جنس کے لیے منسوب ہے یعنی گول دائرہ اور اس کے نیچے چھوٹی سی صلیب۔ آباد کاری چونکہ زہرہ کی سطح پر موسم انتہائی شدید ہے، اس لیے موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہاں انسان کا رہنا ممکن نہیں۔ تاہم سطح سے تقریباً 50 کلومیٹر اوپر کی فضاء زمین کی سطح جیسی ہے۔ اس جگہ ہوا کا دباؤ اور ساخت زمین کی سطح جیسی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر یہاں ہوا میں معلق آبادیاں بنانے کے بارے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ * ایفرودیت حوالہ جات زمرہ:طبعی کائنات زمرہ:فلکیات زمرہ:نظام شمسی زمرہ:نظام شمسی کے سیارے زمرہ:ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت زمرہ:زہرہ
[Wikipedia:ur] زمین زمین سورج سے تیسرا سیارہ ہے اور واحد فلکیاتی جسم ہے جس پر زندگی موجود ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہے کہ زمین ایک سمندری دنیا ہے، جو نظام شمسی میں واحد ہے جو مائع سطحی پانی کو برقرار رکھتی ہے۔ زمین کے تقریباً تمام پانی اس کے عالمی سمندر میں موجود ہیں، جو زمین کی سطح کے 70.8% حصے کو ڈھانپتے ہیں۔ باقی 29.2% زمین کی سطح خشکی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ براعظمی خشک رقبہ کی شکل میں زمین کے نصف کرہ میں پایا جاتا ہے۔ زمین کی زیادہ تر خشکی قدرے نم ہے اور نباتات سے ڈھکی ہوئی ہے، جبکہ زمین کے قطبی صحراؤں میں برف کی بڑی تہیں زمین کے زیرِ زمین پانی، جھیلوں، دریاؤں اور فضائی پانی سے زیادہ پانی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ زمین کی سطح آہستہ آہستہ حرکت کرنے والی ٹیکٹونک پلیٹوں پر مشتمل ہے، جو پہاڑی سلسلے، آتش فشاں اور زلزلے پیدا کرنے کے لیے آپس میں تعامل کرتی ہیں۔ زمین کا ایک مائع بیرونی کور ہے جو ایک مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے جو زیادہ تر تباہ کن شمسی ہواؤں اور کائناتی تابکاری کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے. آبادی زمین کی انسانی آبادی سات ارب ساٹھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور انسان اس پر ہمہ وقت جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔ تاریخ وار ترتیب ---- نظام شمسی میں پائے جانے والے قدیم ترین مواد کی تاریخ ہے۔ آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی، زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔ پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پزیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک (self replicating) سالمہ (molecule) تقریباً 4 ارب سال قبل وجود میں آیا اور اس کے تقریباً 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔ ضیائی تالیف کے ارتقا کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون (ozone) میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں ادغام سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں (eukaryotes) کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لیے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقا ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون (ozone) نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔ زمین کی عمر اگرچہ کائنات کی عمر کے بارے میں سائنس دان متفق نہیں ہیں، تاہم زمین کی عمر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آج سے پانچ ارب سال پہلے گیس اور غبار کا ایک وسیع و عریض بادل کشش ثقل کے انہدام کے باعث ٹکروں میں تقسیم ہو گیا سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے۔ سورج میں سارے نظام شمسی کا 99% فیصد مادہ مجتمع ہے۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے۔ باقی ماندہ ایک فی صدی سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہے بنے۔ نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے ایٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا اور ایٹمی دھماکے شروع ہوئے، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے، جن سے شدید حرارت پیدا ہوئی۔ زمین میں بھی انھی اصولوںکے تحت حرارت پیدا ہوئی۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہو گئی۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے۔ ارضیاتی تاریخ ساخت اور ڈھانچہ تصغیر زمین قطبین پر شلجم کی طرح تقریباً چپٹی گول شکل میں ہے۔ زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استوا کے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے اور اس کے قطبین یا پولز قدرے چپٹے ہیں۔ ان مرکز گریز اثرات ہی کی وجہ سے زمین کے اندرونی مرکز سے سطح کا فاصلہ خط استوا کے مقابلے میں قطبین پر 33 فیصد کم ہے۔ یعنی مرکز سے جتنا فاصلہ خط استوا کے مقامات پر زمین کی سطح تک ہے مرکز سے قطبین کی سطح کا فاصلہ اس سے لگ بھگ ایک تہائی کم ہے۔ کیمیائی ساخت حوالہ جات حواشی مزید دیکھیے کرہ ارض زمرہ:ارضیات زمرہ:چھوٹے پیغام خانوں کا استعمال کرنے والے مضامین زمرہ:صوتی مضامین زمرہ:طبعی کائنات زمرہ:عالمی قدرتی ماحول زمرہ:فطرت زمرہ:فلکیات زمرہ:نظام شمسی زمرہ:نظام شمسی کے سیارے زمرہ:زمین