messages
listlengths 3
3
|
|---|
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت کے حوالے سے یہ مدرسۂ فراہی کے علما کا فکر و عمل ہے اور اِس کی بنا پر یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے اِن کے اور ائمۂ سلف کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں ہے۔ جس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو ابدی طور پر مطاع تسلیم کرتے ہیں، اُسی طرح یہ بھی آپ کے قول و فعل اور تقریر وتصویب کو قیامت تک کے لیے واجب الاطاعت قرار دیتے ہیں، جس طرح اُن کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے شارع اور شارح کا مقام حاصل ہے، اُسی طرح اِن کے نزدیک بھی شریعت کا اجرا اور دین کی شرح و وضاحت آپ کا منصبی فریضہ ہے اور جیسے وہ حدیث و سنت کو دین میں حجت کے طور پر قبول کرتے ہیں، ویسے ہی یہ بھی اِنھیں عین دین سمجھتے، اِن کی حجیت کو تسلیم کرتے اور اِن سے انحراف کو ایمان و اسلام کے منافی قرار دیتے ہیں۔ درج بالا اقتباسات اِس معاملے میں قطعی شہادت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم، اِس کے باوجود بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مکتب فکر اور اِس کے حاملین حدیث و سنت کے انکار کے حوالے سے اُنھی مکاتب اور اُنھی افراد کا تسلسل ہیں کہ جو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی اور تشریحی حیثیت کو اصولی لحاظ سے تسلیم کرتے ہیں اور نہ حدیث وسنت کی صورت میں آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی حجیت کو ابدی طور پر قبول کرتے ہیں اور جن میں دور اول سے معتز لہ اور خوارج اور دور جدید سے سرسید احمد خان، رشید رضا مصری، مولوی چراغ علی، اسلم جیراج پوری اور غلام احمد پرویز کے نام شامل کیے جاتے ہیں۔ مدرسۂ فراہی کے بارے میں اِس موقف کا اظہار بالعموم اہل حدیث علما اور اُن کے زیر اثر بعض دیگر اہل علم کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ چنانچہ ایک اہل حدیث عالم مولانا عبدالمنان سلفی ”حدیث کی تشریعی اہمیت“ کے زیر عنوان اپنے ایک مضمون میں انکار حدیث کے آغاز کو خوارج، معتزلہ اورجہمیہ سے منسوب کرتے ہیں اور بعض حنفی علما کے ساتھ مدرسۂ فراہی کے اہل علم کو بھی اِس صف میں شامل کرتے ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "وہ لکھتے ہیں: ”...پھر دوسری صدی ہجری میں خوار ج نے اہل بیت کے فضائل سے متعلق اور شیعوں نے صحابہ کے فضائل سے متعلق حدیثوں کا انکار کیا، معتزلہ اور جہمیہ جیسے گمراہ فرقوں نے ان احادیث کو رد کر دیا جن سے صفات الٰہی کا اثبات ہو تا تھا۔ اور پھر قاضی عیسیٰ بن ابان اور ان کے متبعین اور بعض متاخرین فقہاء نے ان روایتوں کو قابل اعتناء نہ سمجھا جو ان کے بقول غیر فقیہ صحابہ سے مروی تھیں پھر پانچویں صدی ہجری میں معتزلہ و متکلمین کے ساتھ بعض متاخرین فقہا کی ایک جماعت نے اصول و فرع دونوں میں خبر آحاد کا انکار کیا اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ چودھویں صدی ہجری میں مولوی چراغ علی اور سر سید احمد خان جیسے لوگ جو مغربی تہذیب سے مرعوب اور احادیث کے فنون سے قطعی ناواقف تھے مجموعہ احادیث کو تاریخ کا ذخیرہ قرار دیا اور نیچر کو معیار بنا کر سینکڑوں صحیح حدیثوں کو قلم زد کر دیا۔ اس کے بعد مولوی عبد اﷲ چکڑالوی اور ان کے چیلے غلام احمد پرویز، مولوی احمد دین اور مولانا اسلم جیرا جپوری وغیرہ نے بالکلیہ حدیثوں کا انکار کر دیا اس کے بعد علماء کی ایک جماعت پیدا ہوئی جس نے احادیث کا صراحتاً انکار نہ کیا، لیکن ان کے انداز تحریر سے حدیث کا استخفاف اور استحقار کا پہلو ظاہر ہوا اور ان کے طرز گفتگو سے انکار حدیث کے چور دروازے کھل گئے۔ اس جماعت کے سرخیل لوگوں میں برصغیر کے علماء مولانا شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی، مولانا ابوالا علی مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی اور عرب دنیا کے محمد عبدہ، قاسم امین، محمود ابوریہ، احمد امین، حسین ہیکل، محمد الغزالی، محمد الخضری، حسن ترابی، محمد زاہد کوثری، عبدالفتاح ابو غدہ اور سعید رمضان البوطی وغیرہ ممتاز ہیں، ان حضرات نے درایت، ظن، فقہ راوی اور خبر آحاد وغیرہ کا سہارا لے کر بعض ثابت شدہ حدیثوں میں تشکیک کی کوششیں کی ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ ۵۹ اہل حدیث مکتب فکر کے ایک اور عالم مولاناحافظ صلاح الدین یوسف نے مکتب فراہی کے تینوں نمایندہ علماکے بارے میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے افکار کا سفر حدیث کے استخفاف سے شروع ہوتا اور انکار حدیث سے ہوتا ہوا قرآنی مسلمات کے انکار پر منتج ہوتا ہے: ”مولانا اصلاحی صاحب کے تلامذہ میں سے سب سے نمایاں، ممتاز اور قریب جناب جاوید احمد غامدی کو دیکھ لیجئے، جو مولانا اصلاحی کو ”امام“ لکھتے ہیں۔ یوں اس گروہ کے امام اول مولانا حمیدالدین فراہی، امام ثانی مولانا امین احسن اصلاحی قرار پاتے ہیں اور بمصداق ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، امام ثالث یہی غامدی صاحب ہیں۔ یہ کوئی استہزاء نہیں ہے۔ اگر اول الذکر دونوں بزرگ امام ہیں تو تیسرے امام یقیناًغا مدی صاحب ہی ہیں۔ بہرحال مقصد یہ عرض کرنا ہے کہ امام اول نے حدیث کے استخفاف اور اس سے بے اعتنائی کی جو بنیاد رکھی تھی، دوسرے امام کے رویے نے اسے انکار حدیث تک پہنچا دیا اور انہوں نے رجم کی احادیث اور دیگر بعض صحیح احادیث کو رد اور ”مبادی تدبر حدیث“ کے ذریعے تمام ذخیرہ احادیث کو مشکوک قرار دے دیا اور اب تیسرے امام نے قرآنی مسلمات کا بھی انکار کر دیا ہے۔ “ ۶۰ حافظ صلاح الدین یوسف نے اپنے ایک مضمون میں یہ نقطۂ نظر بھی اختیا کیا ہے کہ غامدی صاحب نے ائمۂ سلف کے موقف کے علی الرغم حدیث اور سنت کی اصطلاحات میں فرق کیا ہے جس کا مقصد حدیث و سنت کے ایک حصے کو غیر معتبر کرنا ہے۔ مزید برآں اُن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فقط اعمال مستمرہ کو قابل عمل قرار دینا اور دین کو صرف دین ابراہیمی کی روایت تک محدود کر دینا حدیث کے ایک بڑے ذخیرے کے انکار کے مترادف ہے۔ لکھتے ہیں: ”اس دور کے جن لوگوں نے حدیث رسول کی تشریعی حیثیت کودل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ اس کے ماخذ شریعت ہونے کو مشکوک ٹھہرانے کی مذموم سعی کر رہے ہیں، انھوں نے حدیث و سنت کے مفہوم میں فرق کیا ہے۔ ... واقعہ یہ ہے کہ ائمۂ سلف اور محدثین نے سنت اور حدیث کے مفہوم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ وہ سنت اور حدیث، وونوں کو مترادف اور ہم معنی سمجھتے ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اسی طرح سنت سے صرف عادات و اطوار مراد لے کر ان کی شرعی حجیت سے انکار بھی غلط ہے اور انکار حدیث کا ایک چور دروازہ۔ یا صرف اعمال مستمرہ کو قابل عمل کہنا یا دین کو صرف دین ابراہیمی کی موہومہ یا مزعومہ روایت تک محدود کر دینا، احادیث کے ایک بہت بڑے ذخیرے کا انکار ہے۔ “ ۶۱ ... اگر ان کے اور ائمۂ سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے تو وہ واضح کریں کہ انھوں نے بھی حدیث اور سنت کے درمیان فرق کیا ہے۔ یہ فرق سلف نے کہاں بیان کیا ہے؟ ائمہ سلف میں کس نے کہا ہے کہ ”حدیث سے عقیدہ و عمل کا اثبات نہیں ہوتا؟ “ ... علاوہ ازیں یہ گروہ ”سنت، سنت“ کی بڑی رٹ لگاتا ہے جس سے اس کا مقصود یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حدیث گو ان کے نزدیک غیر معتبر ہے، لیکن سنت کی ان کے ہاں بڑی اہمیت ہے۔ لیکن اول تو حدیث و سنت میں یہ فرق ہی خانہ ساز ہے۔ کسی امام محدث یا فقیہ نے ایسا نہیں کہا ہے۔ ان کے نزدیک حدیث اور سنت مترادف اور ہم معنی ہے۔ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، عمل اور تقریر سے ثابت ہے وہ دین میں حجت ہے۔ اسے حدیث کہہ لیں یا سنت، ایک ہی بات ہے۔ “ ۶۲ پروفیسر مولانا محمد رفیق نے ”جاوید احمد غامدی اور انکار حدیث“ کے زیر عنوان اپنی ایک کتاب میں اُن وجوہات کو درج کیا ہے جو اُن کے تاثر کے مطابق غامدی صاحب پر انکار حدیث کے الزام کو ثابت کرتی ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے بعض احادیث و سنن کی تاویل میں غامدی صاحب کے منفرد موقف کو بنیاد بنایا ہے۔ اِسی طرح غامدی صاحب کے سنت کے ثبوت کے لیے اجماع و تواتر کی شرط قائم کرنے اور خبر واحد سے عقیدہ و عمل کے ثبوت کو تسلیم نہ کرنے کے موقف کو بھی بطور دلیل پیش کیا ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے: ”...درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہمارے نزدیک غامدی صاحب منکر حدیث قرار پاتے ہیں: انھوں نے سنت کا اصطلاحی مفہوم بدل ڈالا ہے۔ وہ نبی کریم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو سنت نہیں مانتے۔ وہ سنت کے ثبوت کے لیے اجماع و تواتر کی شرط لگاتے ہیں۔ وہ سنت کو ۲۷ اعمال میں محصور سمجھتے ہیں۔ وہ تمام احادیث کو اخبار آحاد قرار دیتے ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "وہ حدیث کو دین کا ماخذ تسلیم نہیں کرتے اور اس سے ثابت شدہ کسی عقیدے، عمل یا حکم کو نہیں مانتے۔ وہ مرتد کے لیے سزائے قتل کو نہیں مانتے۔ وہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی حد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ قتل خطا میں دیت کے مستقل شرعی حکم کو عارضی اور وقتی مانتے ہیں۔ وہ زکوٰۃ کے نصاب کو منصوص اور مقرر نہیں مانتے، بلکہ ریاست کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ جب چاہے زکوٰۃ کی مقداروں میں کمی بیشی کر دے۔ ... یہ ہیں غامدی صاحب کے عقائد و نظریات اور ہمارے نزدیک وہ اپنے انہی عقائد ونظریات کے سبب سے منکرین حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔ “ ۶۳ ایک صاحب علم ڈاکٹر محمد امین نے مولانا اصلاحی کے اِس موقف پر تنقید کی ہے کہ سنت عملی تواتر سے منتقل ہوئی ہے۔ اُن کے نزدیک تواتر عملی کا تصور محض ایک نظری بات ہے، کیونکہ سنت تک رسائی کا ذریعہ وہ احادیث ہیں جو اخبار آحاد کے طریقے پر منتقل ہوئی ہیں: ”مولانا اصلاحی نے حدیث و سنت میں فرق کرتے ہوئے یہ جدت پیدا کی ہے کہ سنت کو ’تواتر عملی‘ سے ثابت شدہ کہہ کر انھوں نے سر پر بٹھا لیا ہے اور احادیث کے سارے ذخیرے کو خبر واحد، ظنی الثبوت اور مجموعۂ رطب و یابس کہہ کر پیچھے پھینک دیا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ سنت محض ’تواتر عملی‘ سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا جس چیز کو مولانا سنت کہہ رہے ہیں وہ ایک نظری بات ہے اور نظری لحاظ سے سنت کی حجیت پر ساری امت متفق ہے کہ اس پر تو مدار ایمان ہے کہ خود قرآن کی رو سے حضور کی اطاعت واجب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال فرما جانے کے بعد آپ کی وہ سنت کہاں ہے جس کی اطاعت کی جائے؟ اس بارے میں جمہور امت کا موقف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جاننے کا ذریعہ وہ صحیح احادیث ہیں جو ثقہ راویوں سے مروی ہیں، اسی لیے وہ انھیں تقدس کا درجہ دیتی ہے، جبکہ منکرین حدیث اور اصلاحی صاحب ایسا نہیں سمجھتے۔ مولانا اصلاحی حدیث کو خبر واحد، ظنی الثبوت اور مجموعۂ رطب و یابس کہہ کر اسے اہمیت نہیں دیتے اور جس سنت کو وہ سر کا تاج اور مثل قرآن کہتے ہیں، وہ عملاً کہیں موجود ہی نہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "مولانا اصلاحی کی اس ’فطانت‘ کا فائدہ یہ ہے کہ جب ان کے تلامذہ عام مسلمانوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم تو قرآن کے ساتھ سنت کو بھی حجت مانتے ہیں، ہم کوئی منکرین سنت تھوڑی ہیں“ حالانکہ سنت سے ان کی مراد وہ نہیں ہوتی جو جمہور مسلمانوں کی ہوتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ عام مسلمانوں کو ایک غلط تاثر دیتے ہیں۔ “ ۶۴ کم و بیش اِسی موقف کا اظہار ایک اور صاحب علم ڈاکٹر حافظ محمد زبیر نے اپنی کتاب ”فکر غامدی۔ ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ“ میں کیا ہے۔ اُن کے نزدیک جناب جاوید احمد غامدی کے نظریات اہل سنت کے نظریات سے یکسر مختلف ہیں اور اِس ضمن میں بنیادی بات یہ ہے کہ اہل سنت قطعی و ظنی خبر کو سنت کے ثبوت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ غامدی صاحب کے مطابق سنت صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے ثابت ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں: ”...اہل سنت کے نزدیک دین یعنی قرآن و سنت کے ثبوت کا بنیادی ذریعہ قطعی و ظنی خبر ہے، جبکہ غامدی صاحب قرآن و سنت کے ثبوت کا بنیادی ذریعہ اجماع صحابہ اور قولی و عملی تواتر کو قرار دیتے ہیں۔ “ ۶۵ مولانا غازی عزیرنے ”انکارِ حدیث کا نیا روپ“ کے زیر عنوان اپنی ایک مفصل تصنیف میں مولانا اصلاحی کی کتاب ”مبادیِ تدبر حدیث“ کو ہدف تنقید بنایا ہے اوربیش تر مقامات پر حدیث و سنت کے فرق، اجماع و تواتر سے سنت کے ثبوت اور اخبار آحاد کی ظنیت کے ساتھ اُن کے اِس موقف کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے کہ خبر واحد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ لکھتے ہیں: ”جناب اصلاحی صاحب بھی ”صحیح البخاری“ کی ایک حدیث کا انکار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ عقائد کی بنیاد لازماً قرآن پر ہونی چاہیے۔ کوئی عقیدہ خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا۔ یہاں خبر واحد کا عقیدہ چونکہ قرآن کے بیانات سے متناقض ہے لہٰذا اس معاملے میں قرآن ہی کے بیان کو حاکم سمجھا جائے گا۔ “ لیکن یہ رائے علی الاطلاق مسلم نہیں ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "امام ابن حزم اندلسیؒ نے اپنی معروف کتاب ”الاحکام فی اصول الاحکام“ میں، حافظ ابن قیمؒ نے ”مختصر الصواعق المرسلہ“ میں اور محدث عصر محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اﷲ نے اپنے رسالہ ”الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد والا حکام“ میں اس، منفرد رائے کے رد میں کافی تفصیل سے بحث کی ہے اور اس کے مغالطات و شبہات کا خوب جائزہ لیا ہے۔ “ ۶۶ یہ چند نمایندہ تنقیدات ہیں۔ مدرسۂ فراہی پرحدیث و سنت کی حجیت کے انکار کا الزام اِنھی میں مذکور استدلال پر مبنی ہے۔ اِس ضمن میں جو تنقیدی مضامین ان کے علاوہ لکھے گئے ہیں، اُن میں بھی اسی طرز استدلال کا اعادہ ہے۔ جملہ تنقیدات کے غلط بیانی پر مبنی مندرجات اور غیر محققانہ اور تاثراتی اسالیب سے قطع نظر کر کے اگر اُن سے علمی استدلال کا استخراج کیا جائے تو درج ذیل تین نکات متعین ہوتے ہیں: ایک یہ کہ مدرسۂ فراہی کے اہل علم حدیث و سنت کے جملہ مشمولات میں ذرائع انتقال کے فرق کی بنا پر تفریق کے قائل ہیں۔ وہ اجماع و تواتر سے ملنے والے حصے کو قطعی الثبوت اور اخبار آحاد سے ملنے والے حصے کو ظنی الثبوت قرار دیتے ہیں اور اِس بنا پر یہ راے رکھتے ہیں کہ خبر واحد سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ وہ حدیث و سنت کی اصطلاحات اور اِن کے مفہوم و مصداق میں فرق قائم کرتے ہیں۔ مزید براں اُن میں سے بالخصوص غامدی صاحب سنت کو دین ابراہیمی کی نسبت سے اعمال مستمرہ تک محدود کرتے ہیں جس کے نتیجے میں احادیث کا ذخیرہ سنت کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہو جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اُنھوں نے درایت، ظن، فقاہتِ راوی اور اِس طرح دیگر اصولوں کو دلیل بنا کر بعض صحیح اور ثابت شدہ روایتوں کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ وہ دلائل ہیں جنھیں بنیاد بنا کر مدرسۂ فراہی پرحدیث و سنت کی حجیت کے انکار کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ مدرسۂ فراہی کے بارے میں یہ تینوں باتیں فی الجملہ درست ہیں، مگر اِن سے حدیث و سنت کی حجیت کے انکار کا نتیجہ برآمد کرنا سراسر غلط ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اِس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ تینوں نکات مدرسۂ فراہی کا امتیازنہیں ہیں، سلف و خلف کے جلیل القدر علما بھی اصولی لحاظ سے اِنھی نکات کے موید ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اِنھیں دلیل بنا کر فراہی اور اصلاحی و غامدی پرحدیث و سنت کی حجیت کے انکار کا الزام عائد کرتا ہے تو پھر لازم ہے کہ اُسے اِن کے ساتھ ساتھ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور جمہور فقہاے احناف، مالکیہ اور شوافع؛ اور امام بخاری اور امام مسلم سمیت جملہ محدثین؛ اور خطیب بغدادی، ابو بکرسرخسی، ابن عبدالبر، ابو اسحاق شاطبی، شاہ ولی اللہ، سید سلیمان ندوی اورابوالاعلیٰ مودودی جیسے جلیل القدر علمائے امت کو بھی شامل کرنا چاہیے، کیونکہ مذکورہ نکات کلی یا جزوی طور پر اِن میں سے ہر ایک کے فکر و عمل پر صادق آتے ہیں۔ ۶۷"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "خطوط بنام رئیس احمد جعفری: ۳۱"
},
{
"role": "assistant",
"content": ". ۱۸ دسمبر ۱۹۶۵ئ عزیزی جعفری صاحب مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے اس خط کا جواب نہ دے سکا جو آپ نے کے اردو ترجمے کی بابت لکھا تھا۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ آپ مجھے اس کا ایک نسخہ بھیج دیں تاکہ میں اس معاملے کو آگے بڑھائوں۔ آپ کا مخلص ممتاز حسن مولانا رئیس احمد جعفری ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ ۲ کلب روڈ۔ لاہور"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "لائن مین کا قاتل فوجی افسر ملٹری پولیس کے حوالے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اسلام آباد میں پولیس نے آئیسکو کے اہلکار کو قتل کرنے والے فوجی افسر کو عدالتی حکم پر ملٹری پولیس کے تحویل میں دے دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے میجر راجہ زاہد نے بدھ کو ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز ٹو کے علاقے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کاپوریشن کے اہلکار محبوب احمد کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ انھیں جمعرات کو اسلام آباد میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم چونکہ فوجی اہلکار ہے اس لیے اس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔ انھوں نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا جائے جبکہ میجر زاہد کے ساتھی ملزم منہاج کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سہالہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو تو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاہم اعلیٰ حکام کی جانب سے اس مقدمے کو فوجی عدالی میں بھیجنے سے متعلق کوئی احکامات تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاحال دونوں ملزمان سے آلۂ قتل برآمد نہیں کیا جا سکا ہے اور میجر زاہد کے ساتھی کو عدالتی تعطیلات کے خاتمے کے بعد پیر کو پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔ خیال رہے کہ لائن مین کی ہلاکت کی وجہ تین ماہ کے بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے میجر راجہ زاہد کے مکان کی بجلی منقطع کرنے کی کوشش بنی تھی۔ میجر زاہد نے محبوب احمد کو قتل کرنے کے بعد منہاج کی مدد سے ان کی لاش گوجر خان کے علاقے میں ایک ویران جگہ پر دفنا دی تھی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "دہشت گردی کے خلاف نفسیاتی جنگ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اے پی ایس پشاورکے حادثے نے پوی قوم کواداس کیا مگر ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف فکری وحدت بھی نصیب کی۔ چارسدہ یونیورسٹی کا حادثہ ہوا تو نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ یہی قوم بکھرتی ہوئی نظر آئی۔ انتشارِ فکر اور اضطراب نے ہمیںگھیرلیا۔ معلوم ہوا کہ ریاست اور سماج کی ہم آہنگی تو ایک طرف،وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی ہم آواز نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ درمیان کے ایک سال میں ایسا کیا ہوا جس نے وحدت کو انتشار میں بدل دیا؟ وزیر داخلہ کو کیوں یہ کہنا پڑا کہ بندوق سے جیتی ہوئی جنگ،نفسیات کے میدان میں ہار دی گئی؟ واقعہ یہ ہے کہ یہ جنگ نفسیات کے میدان میں کبھی لڑی ہی نہیں گئی۔ ذہنی یکسوئی کے بغیر نفسیاتی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ذہنی یکسوئی فکری وحدت کی متقاضی ہے۔ اس محاذ پر نہ صرف یہ کہ کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، بلکہ اس کے برعکس، پراگندگی میں اضافہ ہوا۔ معلوم یہ ہوا کہ حکومت کے پاس سماج کا کوئی ایسا سنجیدہ مطالعہ ہی مو جود نہیں ہے جو کسی نفسیاتی جنگ کی اساس بن سکے۔ ریاست صرف ایک نکتے پر واضح تھی:جن کے ہاتھ میں بندوق ہے،انہیں بندوق کے زور سے کچل دیا جائے۔ اس میں ریاست کامیاب رہی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہوا کہ ایک طرف ہاتھ کٹتے رہے اور دوسری طرف مزید اگتے رہے۔ اعداد وشمار یہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار افراد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کام آچکے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ ان میں آ دھے سے زیادہ دہشت گرد تھے۔ 'ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل' کے مطابق ، ۲۰۰۳ء سے ۲۴ جنوری ۲۰۱۶ء تک مرنے والے ۵۹۸۸۰ میں سے ۳۲۵۵۰ دہشت گرد تھے۔ اتنے لوگ مارنے کے با جود ریاست اور سماج بدستور خوف میں زندہ ہیں۔ ذہنی انتشار اسی خوف کی دَین ہے۔ کوئی کہتا ہے سکول بند کر دو۔ کوئی کہتا ہے کھلے رکھو۔ آخر اتنے ہاتھ کہاں سے آ رہے ہیں کہ کٹتے جاتے ہیں اورساتھ ہی اگتے جاتے ہیں؟ نفسیاتی جنگ کیسے جیتی جا سکتی ہے جب ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس جنگ نے سماج کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ محدود سطح پر جو مشق ہوئی،اس کے نتائج پریشان کن ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "دہشت گردی کے خلاف نفسیاتی جنگ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "وزارتِ صحت نے ایک بار'دماغی صحت پروگرام' کے تحت فاٹا کا ایک جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ فوجی ایکشن، دہشت گردی اور نقلِ مکانی نے صرف بچوں کو چھ طرح کے نفسیاتی عوارض میں مبتلا کر دیا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں 'سرحد ہسپتال برائے نفسیاتی امراض' میں ۹۷۰۰۰ مریض آئے۔ ۲۰۱۱ء میں ان کی تعداد ۹۰۰۰۰ تھی۔ ان میں پچاس ہزار مریض وہ تھے جو تشدد آمیزسماجی فضا کے باعث بیمار ہوئے۔ سب سے زیادہ اثرات کے پی کے رہنے والوں پر پڑے۔ ایک سروے یہ بتاتا ہے کہ یہاں کی ۵۴ فیصدآ بادی نفسیاتی طور پر متاثر ہے۔ کیا ہم نے پورے ملک کی سطح پر کوئی ایساجائزہ لیا ہے کہ دہشت گردی نے کس طرح عوامی نفسیات کو برباد کیا ہے؟ گزشتہ ایک سال میں ایک قومی بیانیہ مرتب نہیں ہو سکا۔ ایک وجہ یہ ہوئی کہ اس مقصد کے لیے ہم کوئی سماجی مطالعہ ہی نہ کر سکے جوناگزیر تھا۔ مطالعہ تو دور کی بات، اس کی ضرورت کا احساس بھی کہیں دکھائی نہیں دیا۔ وزیر داخلہ کی بے شمار طویل تقاریر اور پریس کانفرنسوں میں کہیں اس کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دی۔ جوابی بیانیے کی تشکیل کے لیے سب سے پہلے ان عوامل کا جائزہ ضروری تھا جس نے دہشت گردی کے بیانیے کو جواز بخشا ہے۔ مثال کے طور پر چند سوالات کے جواب تلاش کرنا لازم تھا: ۱۔ دہشت گردی کے بیانیے کی تشکیل میں مذہبی تعبیر کا کتنا دخل ہے؟ سماج میں اس تعبیر کے ماخذ کون کون سے ہیں؟ ۲۔ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ذہن اس بیانیے سے کتنا متاثر ہے؟ ۳۔ محراب و منبر کا مجموعی پیغام کیا ہے؟ ۴۔ ایسا کیوں ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث زیادہ افراد، جدید تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل ہیں؟ جدید تعلیمی اداروں میں اس بیانیے کی ترویج اور اشاعت میں کون ملوث ہے؟ ۵۔ غربت و افلاس کا اس بیانیے کی مقبولیت میں کتنا دخل ہے؟ جو لوگ اس جرم میں پکڑے گئے،ان کا تعلیمی ومعاشی پس منظرکیا ہے؟ پڑھے لکھے بے روزگار نو جو ان کیا سوچ رہے ہیں؟ ۶۔ عوام کو سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی میں ریاستی ادارے کیوں ناکام ہیں؟ یہ ناکامی اس بیانیے کے فروغ کا کس حد تک باعث ہے؟ ۷۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "دہشت گردی کے خلاف نفسیاتی جنگ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ماضی میں ریاست نے قومی مفاد کے نام پر غیر ریاستی عناصر کی جس طرح سرپرستی کی، اُس کا انجام کیا ہوا؟ اس سے قومی مفاد کو فائدہ پہنچا یا نقصان؟ اب ان عناصر کا دہشت گردی کے بیانیے سے کیاتعلق ہے؟ ۸۔ کس علاقے میں یہ بیانیہ زیادہ مقبول ہے اور کیوں؟ ۹۔ رائے سازوں نے اس بیانیے کو فروغ دیا یا اسے رد کیا؟ ریاستی ذرائع ابلاغ نے اس بیانیے کے رد کے لیے کیا کوئی حکمتِ عملی اپنا ئی؟ ۱۰۔ افغانستان کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی کا دہشت گردی کے بیانیے کے فروغ میں کتنا حصہ ہے؟ ان سوالات کے جواب سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے بیانیے کو فروغ دینے میں مذہبی تعبیر، تعلیمی نظام،سماجی بے انصافی اورریاستی اداروں کی ناکامی کا کتنا دخل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو جوابی بیانیہ تشکیل پائے گا،وہ ان عوامل کے تدارک پر مبنی ہوگا۔ اس طرح ہم وہ حکمتِ عملی تشکیل دے سکیں گے جو پوری قوم کو ایک فکری وحدت میں پرو دے۔ اس کے بعدہی نفسیاتی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ بعض اہلِ علم اور نجی اداروں نے کوشش کی ہے کہ جوابی بیانیہ تشکیل دیں اور ان عوامل کا جائزہ لیں جو دہشت گردی کے بیانیے کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔ چند ایسے جائزے میری نظر سے گزرے ہیں، تاہم ان کی ساکھ کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران میں دہشت گردی کا مطالعہ ایک کاروبار بن گیا تھا۔ اس میں جو جس قدر زیادہ سنسنی پھیلا سکتا تھا،اسی قدر مقبول ہوتا تھا۔ یوں لوگوں نے تحقیق اور دیانت کے معیارات کو نظرا نداز کیا۔ اس وجہ سے ضرورت تھی کہ ریاستی سطح پر یہ مشق کی جاتی اور پھر ایکشن پلان تشکیل دیا جاتا۔ اگر کچھ دیر کے لیے صرف یہ دیکھا جاتا کہ جن ممالک کو دہشت گردی کا سامنا رہا،ان کی حکمتِ عملی کیا رہی تو بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔ ممکن ہے کہ سرکاری افسران نے اس عنوان سے دنیا کا سیر سپاٹا کیا ہو، لیکن ایسا کوئی مطالعہ سامنے آیا نہ ایکشن پلان میں اس کا کوئی عکس ہی دکھائی دیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "دہشت گردی کے خلاف نفسیاتی جنگ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "مثال کے طور پر ۹ / ۱۱ کا حادثہ ہوا تو صرف پانچ دن کے اندر کے تحت اس کا جائزہ لیا گیا کہ اس سانحے نے نیویارک کے شہریوںکی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کیے۔ ایسا ہی ایک مطالعہ واشنگٹن میں بھی کیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بندوق کے محاذ پر ہمارا پلڑا بھاری رہا۔ ۲۰۱۳ء میں ۳۰۰۱ عام شہری اس جنگ کی نذر ہوئے۔ ۲۰۱۵ء میں یہ تعداد ۹۴۰ تھی۔ اس کا زیادہ کریڈٹ بندوق والوں کو جاتا ہے جن میں فوج، پولیس اور سلامتی کے دوسرے بندوق بردار ادارے شامل ہیں۔ نفسیاتی جنگ توسیاسی قیادت اور سماج نے مل کر جیتنا تھی۔ اس کے لیے نا گزیر ہے کہ ریاست اور سماج ایک بیانیے پر متفق ہوں جس کی روشنی میں سب کا کردار متعین ہو۔ یہ کردار کیا ہو؟ ماضی میںاپنائے گئے رویوں میں کیا تبدیلی آئے،لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، ان سوالات کے عملی جواب فراہم کرے۔ جب تک یہ نہیں ہو گا نفسیاتی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ پھر ہاتھ کٹتے رہیں اور ساتھ اگتے بھی رہیں گے۔ ہمیں جلاد اور ریاست کے کردارمیں فرق کو واضح کر نا ہوگا۔ بشکریہ دنیا"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "انڈسٹری میں ابھی تک میرا کوئی دوست نہیں بنا: ٹائیگر"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اپنی پہلی فلم 'ہیرو پنتی' میں ٹائیگر شروف نے شائقین کو اپنے رقص اور ایکشن سے متاثر کیا تھا اور اب اس فلم کی ٹیم کی دوسری پیشکش ہے 'باغی'۔ فلم کے اہم اداکار ٹائیگر شروف نے کہا کہ وہ خود کو بنیادی طور زندگی میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ 'مجھے اس انڈسٹری میں ایک سال ہو گیا ہے لیکن ابھی تک میرا کوئی دوست نہیں بنا اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے میرا شرميلاپن۔ ' ٹائیگر کا مزید کہنا تھا کہ 'پتہ نہیں کیوں میں لوگوں کے درمیان زیادہ بول نہیں پاتا۔ میں اپنے آپ کو بےحد غیر محفوظ محسوس کرتا ہوں، جیسے کیا مجھے فلمیں ملیں گی؟ کیا ناظرین مجھے اپنائیں گے؟ شاید میں نے اپنے کام کے حوالے سے دوسروں کے مقابلے زیادہ سوچتا ہوں۔ ' اپنے بارے میں وہ کہتے ہیں 'میں ملنسار نہیں ہوں اور اکیلے رہنا ہی پسند کرتا ہوں۔ ابھی میری زندگی میں کام کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور مجھے ایسی ہی زندگی جینا پسند ہے۔ ' ٹائیگر نے کہا کہ ان کو خوشی ہے کہ ان کے والد نے کبھی کہیں میری سفارش نہیں کی۔ 'میں ناظرین کو یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ میں صرف اس لیے یہاں نہیں ہوں کہ میں جیکی شروف کا بیٹا ہوں۔ ' رتیک روشن کی نقل کرنے کے الزام پر ٹائیگر نے کہا 'جی ہاں، میں مانتا ہوں کہ میں رتیک جیسا ایکشن اور رقص کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ میرے رول ماڈل ہیں۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، میں چاہتا ہوں میرا ایکٹنگ کریئر بھی انہی کی طرح ہو اور میں ان کے نقشے قدم پر چلنا چاہتا ہوں۔ ' رتیک کو لوگ 'كرش' کے کردار سے جانتے ہیں اور ٹائیگر چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں بھی ان کے سپر ہیروز کردار 'پرواز جٹ' کے نام سے جانیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ہیما مالنی کی 'دپیکا' کو منگنی کی مبارکباد"
},
{
"role": "assistant",
"content": "بولی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کے تعلق کی خبریں تو کافی عرصے سے زبان زد عام ہیں لیکن شائقین اس انتظار میں تھے کہ دونوں اپنے اس تعلق کا باقاعدہ اعلان کب کرتے ہیں۔ لیکن بولی وڈ کی 'ڈریم گرل' ہیما مالنی کی محض ایک ٹوئیٹ نے ان خبروں کو مزید بڑھاوا دے دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح ہیما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں 'دپیکا' کو منگنی کی مباکباد دے ڈالی۔ اس سے قبل دبئی میں ہونے والے ٹوئفا ایوارڈز کی تقریب کے دوران رنویر نے برملا دپیکا سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے انھیں سب سے خوبصورت خاتون کہا تھا۔ دپیکا اور رنویر کا منگنی کا فیصلہ' جبکہ آئیفا ایوارڈز میں رنویر سنگھ نے سب کے سامنے دپیکا کو اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر پھول پیش کیے تھے جس کے بعد ساتھی میزبان ارجن کپور نے دپیکا کو 'بھابی' کہہ کر بھی مخاطب کیا تھا۔ دوسری جانب ہیما مالنی کی مذکورہ ٹوئیٹ کے بعد دپیکا کے فینز نے حیرت و خوشی کا اظہار کیا۔ لیکن جلد ہی ہیما مالنی کو اپنی 'غلطی' کا احساس ہوا اور انھوں نے تردید کی انھوں نے 'دپیکا پڈوکون' کو نہیں بلکہ اپنی ایک ٹوئٹر فالوور 'دپیکا' کو مبارکباد دی تھی۔ لیکن اس ٹوئیٹ نے صبح سویرے دپیکا پڈوکون کے فینز کو خوشگوار حیرت کا جھٹکا ضرور دیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "جبلت اورعقل کی کشمکش"
},
{
"role": "assistant",
"content": "انسان بلکہ تمام جاندارفطری طور پرعدم تحفظ کی جبلت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔ تمام عمر وہ ذاتی دفا ع کی تگ و دو میں بِتا دیتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جو جبلت میں پایا جاتا ہے، یہ طریقہ انسان اورجانوردونوں اختیار کرتے ہیں، جب کہ دوسرا طریقہ انسان نے اپنی ارتقاء پذیرعقل سے سیکھ لیا، یہ طریقہ دیگر حیوانات اجتماعی طور پر نہ سیکھ سکے، اگرچہ چند جانوروں میں یہ انفرادی طور پر دیکھنے کومل بھی جاتا ہے۔ تحفظ کے حصول کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ انسان اور جانوراپنی اپنی نوع میں گروہ اور ریوڑ بنا کراورعلاقے مختص کر کے رہتے ہیں۔ اپنے سے مختلف جانوروں میں شامل نہیں ہوتے حتی کہ اپنی ہی نوع کی دیگر اقسام کے جانوروں میں بھی شامل نہیں ہوتے۔ کوئی دوسرا ان کے علاقے میں داخل ہو تو اس سے لڑتے ہیں اور اسے نکال باہر کرتے ہیں۔ جانوروں میں اس کی مثال درندوں کی ہے یعنی شیر، چیتا، لکڑ بگڑ وغیرہ ۔ اس کے برعکس ہرن، ہاتھی، زرافہ وغیرہ ، یعنی سبزی خور جانور بھی ریوڑ بنا کر رہتے ہیں ، لیکن چونکہ وہ زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کےریوڑ میں جتنا اضافہ ہو، اچھا ہے۔ انسان سارے کے سارے ایک ہی نوع تھے۔ لیکن انھوں نے خود کواعلی، ادنی، کم تراور کمترین کے خود ساختہ درجات میں تقسیم کر لیا۔ رنگ، نسل، مذھب، زبان، زمین، فکر، ثقافت وغیرہ کے نام پر ان گنت تقسیمیں ایجاد کر لیں۔ ا نسان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے بعد خود بھی ایک دوسرے سے ڈرنے لگے، عدم تحفظ کی جبلت نے انہیں اپنے جیسے افراد، جن کے ساتھ ان کی مشترکہ اقدار دوسرے افراد کی نسبت زیادہ تھیں، کے ساتھ گروہ بندی پر مجبور کیا۔ پھرعلاقے مختص کئے، حدبندیاں کیں، چنانچہ اب کوئی ان حدود میں ان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔ اگر کوئی داخل ہونے کی کوشش کرتا تو اس سے لڑتے اور نکا ل باہر کرتے۔ انسان چونکہ ذرا زیادہ چالاک جانور واقع ہوا ہے، اس لیے اس نےگروہ بندی اور حد بندی میں بھی وہ جدتیں اختیار کیں جو دیگر جانوروں کے بس کی بات نہیں تھی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "جبلت اورعقل کی کشمکش"
},
{
"role": "assistant",
"content": "پہلے پہاڑوں اور دریاؤں کی فطری زمینی تقسیم کو اس نے ملکوں کی تقسیم قرار دے کر اپنے لیے ذاتی دفا ع کے نام پر علاقے علیحدہ کیے، پھر خار دار تاروں کی ایجاد کے بعد، کسی بھی علاقے کی زمین پر باڑ لگا کر مزید تقسیم کی سہولت حاصل کر لی۔ چناچہ اب ملک ہی نہیں، صوبے، شہر، اورگاؤں بھی الگ الگ کرنا ممکن ہو گیا۔ تحفظ کے حصول کا دوسرا طریقہ، جو انسان نے اپنی عقل اور تجربے سے سیکھا، وہ اس جبلی طریقے سےبالکل مختلف، بلکہ برعکس تھا، اور وہ یہ تھا کہ جن افراد سے خطرات اور خدشات لاحق ہیں، ان کو دوست بنا لیا جائے، ان سے الگ ہو کرآپس کی اجنبیت میں اضافہ کر کے مزید کشمکش کے امکانات پیدا کرنے کی بجائے، اجنبیت کی دیواروں کو گرا کر مانوسیت پیدا کر لی جائے ۔ رنگ، نسل، زبان ، زمین، فکرو خیال، اورثقافت کے فطری اور کسبی اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی، ان کو قائم رکھتے ہوئے بھی، باہمی تعاون اور تنظیم کے ساتھ انسان اکٹھا ہو کر، مل جل کر رہیں۔ ۔ یہ نظریہ، جسے ہم ' ہر قومی نظریہ' کہہ سکتے ہیں، انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ اسے جبلی عدم تحفظ سے نکال کر عقل کی راہ سے حاصل کردہ تحفظ کی منزل دکھاتا ہے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں، سیاسی قیادت کی باگ، ہمیشہ اول الذکر یعنی جبلی خصلت کے حامل افراد کے ہاتھوں میں رہی ہے، اور ثانی الذکر نظریہ کے حاملین محض مبلغ اور پرچارک ہی رہے ہیں۔ ۔ جبلی طور پر عدم تحفظ کے شکار انسانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو برانگیخت کرنا ہمیشہ بہت آسان رہا ہے، جب کہ ان کو مل جل کر رہنے اور دوست بنا لینے کی تلقین ہمیشہ ایک مشکل کام رہا۔ تاریخ انسانی میں یہ دونوں نظریات جب بھی اکھٹا ایک معاشرے میں کار فرما ہوئے، تو عدم تحفظ کے مارے انسان کی کی جبلت نےعقل پرفتح پائی، انسانوں کو اکٹھا رکھنے اور ایک ساتھ رہ کر جینا سکھانے والے اکثرناکام ہی ہوئے۔ تاہم، جب جب انسان کے شعور کو سانس لینے کا موقع ملا، اور جب جب وہ جبلت کی گرفت سے آزاد ہو کر انسانی عقل کی بلند سطح پر سوچنے کے قابل ہو سکا، اس نے انسانوں کے ساتھ اکٹھا رہنے کو بہتر خیال کیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "جبلت اورعقل کی کشمکش"
},
{
"role": "assistant",
"content": "چنانچہ ہمارے دور میں جب کہ ایک طرف تقسیم اور گروہ بندی کی جبلی نفسیات انسانوں کو لڑوا رہی ہے، تقسیم کروا رہی ہے، وہاں مخلوط معاشرے بھی وجود میں آرہے ہیں۔ ایک طرف جہاں، خاردار تاروں کی نئی باڑیں لگائی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف، کچھ ملکوں کی سرحدیں راہداریاں بنتی جا رہی ہیں۔ اگرغورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جن ممالک میں تعلیم اور امن ہے، صرف وہاں کا انسان ہی اس بلند فکرکا حامل پایا جاتا ہے، کہ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے اوراکٹھا رہنے پرتیار ہے، جب کہ تقسیم کی جبلی نفسیات کے حامل وہ ممالک ہیں، جو تعلیمی پسماندگی اور بد امنی کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو خود عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، خوف جن کو دامن گیر رہتا ہے، وہ اگر ناصح، رہنما، اور قائد بھی بن جائیں تو وہ اپنے سامعین اور پیروکاروں کو آپس میں لڑوا کر اور مروا کر ہی چھوڑتے ہیں۔ ماضی اور حال ان مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ خوف کی نفسیات انسانوں کو انسانوں سے لڑوا کر اپنے دراصل اپنے خوف کا علاج چاہتی ہے۔ مگر اس کی قیمت عام انسان کو ادا کرنا پڑتی ہے، جو انسانی عقل سے زیادہ حیوانی جبلت کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "گرمی کو شکست دیں ان آسان گھریلو ٹوٹکوں سے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "سورج کی تپش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور لوڈ شیڈنگ نے گرمی کی شدت کو مزید بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ کیا آپ کو بہت زیادہ گرمی لگتی ہے ؟ اگر ہاں تو یہ چند آسان نسخے آزما کر آپ اس کی شدت کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔ کپڑے ایسے کپڑے پہننے کو ترجیح دیں جو ڈھیلے ہوں اور ایسے میٹریل سے بنے ہوں جو ' سانس لے سکتا ' ہو، یعنی کاٹن یا لینن وغیرہ۔ پانی جسم کی نمی کے لیے پانی بہت ضروری ہے اور گرمی میں تو پانی کی بوتل یا گلاس کو ہر وقت اپنے پاس رکھیں اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کو ترجیح دیں۔ بستر کو اے سی بنائیں اس کا ایک آسان طریقہ ہے، ایک کاٹن کی جراب کو چاولوں سے بھر کر فریزر میں رکھ کر جما دیں اور سونے سے کچھ دیر پہلے بستر اور چادر کے درمیان پھیلا دیں، یہ چاول ٹھنڈک کو بہت دیر تک برقرار رکھتے ہیں۔ اپنا دیسی اے سی بنائیں پانی کی ایک یا دو بوتلوں کو فریزر میں جمائیں اور فرشی یا ڈیسک پنکھے کے سامنے رکھ دیں اور پھر آپ اسے عارضی اے سی سے زیادہ دیر تک ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے سکیں گے۔ اگر پانی میں نمک کا اضافہ کر کے جمایا جائے تو یہ زیادہ دیر تک ٹھنڈک برقرار رکھتی ہیں۔ جسمانی پریشر پوائنٹس سے گرمی بھگائیں جسمانی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایک ٹھنڈے پانی کی بوتل کو پریشر پوائنٹس جیسے کلائیوں، گھٹنوں کے پیچھے اور ایڑیوں میں رکھیں اور گرمی کے دور بھاگنے کا احساس محسوس کریں۔ ٹھنڈی چادریں اپنے بیڈ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چادروں اور تکیوں کے کور کو پلاسٹک بیگز میں ڈال کر کچھ گھنٹے کے لیے فریزر میں چھوڑ دیں، سونے سے کچھ دیر پہلے انہیں بستر پر بچھا دیں اور میٹھی نیند کا مزہ لیں۔ ورزش کے مخصوص اوقات ورزش کے لیے دن کے ٹھنڈے اوقات کا انتخاب کریں یعنی علی الصبح یا رات ڈھلنے کے بعد اور زیادہ سخت ورزشوں سے گریز کریں۔ کھانا ایسی غذاﺅں کو ترجیح دیں جنھیں پکانے کی ضرورت نہ ہو تاکہ آپ کا جسمانی درجہ حرارت معمول رہ سکے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "گرمی کو شکست دیں ان آسان گھریلو ٹوٹکوں سے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ٹھنڈے پانی سے نہانا اگر کسی چیز سے گرمی دور نہ بھاگے تو اپنے جسمانی درجہ حرارت اور پسینے سے نجات کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹھنڈے پانی سے نہانے کو ترجیح دیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "افغانستان:ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر ہلاک"
},
{
"role": "assistant",
"content": "پشاور: امریکی ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کا اہم کمانڈر سراج الدین خادمی مارا گیا۔ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے لاجسٹک کمانڈر اور کوئٹہ شوریٰ کے رکن سراج الدین خادمی کو جنوب مشرقی صوبے پکتیکا میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ صوبے کے پولیس کمانڈر اسد اللہ شیرزاد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے کے وقت سراج الدین خادمی کے ہمراہ ایک اور شخص بھی تھا، جس کی شناخت کے حوالے سے ابھی کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم افغان طالبان نے ڈرون حملے میں اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'خاما پریس' نے اپنی رپورٹ میں صوبائی حکومت کے میڈیا آفس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سراج الدین خادمی کو پکتیکا کے ضلع سروازا میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے میں چند ہتھیار بھی تباہ ہوئے، جبکہ عام شہریوں کا بھی جانی نقصان ہوا۔ حقانی نیٹ ورک ۱۹۷۰ کی دہائی کے آخر میں جلال الدین حقانی نے قائم کیا تھا، یہ گروپ عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور افغان طالبان کا حصہ ہے اور خطے میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کو حملوں میں تعاون فراہم کرتا ہے۔ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں امریکی فوجیوں سے لڑنے والا سب سے خطرناک عسکریت پسند گروہ ہے۔ اس سے قبل بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں دہشت گردوں بالخصوص داعش کے ٹھکانوں کو کئی بار ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور ان کے کئی ٹھکانے تباہ ہوئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "این اے ۱۲۲ میں انتخاب کا نتیجہ کالعدم قرار دینے کیلیے تحریک انصاف کی درخواست مسترد"
},
{
"role": "assistant",
"content": "الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ۱۲۲ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ کالعدم قرار دینے کے لئے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا محمد خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ۱۲۲ میں تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان کی جانب سے انتخابی نتیجہ کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن کو کسی بھی حلقے کے نتائج کو کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں، اس لئے علیم خان الیکشن ٹریبونل سے رجوع کریں۔ درخواست گذار علیم خان کی جانب سے غلط بیان حلفی جمع کرائے گئے، الیکشن کمیشن درخواست گذار کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے علیم خان کو دفعہ ۱۹ کے تحت ووٹوں کے ریکارڈ تک رسائی کی اجازت دے دی ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان نے این اے ۱۲۲ ضمنی انتخاب کا نتیجہ کالعدم کرنے کی استدعا کی تھی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "داعش کا علاج ایسے کیا جائے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "کچھ عرصہ سے مغربی مفکرین اس فکر میں ہیں کہ داعش سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے اس کے لیے انہوں نے عراق کی تقسیم کا سکہ اچھالا ہے۔ عراق کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ پاکستان میں بھی مغرب زدہ مفکرین نے اس خیال کو یوں اپنایا ہے جیسے بھلے وقتوں میں والدین کی ہر بات کو بلا چوں چراں تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ ان کے لیے عرض ہے کہ پاکستان کو توڑوبنگلہ دیش، سندھو دیش، بلوچستان، پنجاب اور پختونستان بنا، ارے سندھ میں مہاجردیس بناؤ، اچھا اچھا اب کیا کیا جائے؟ سندھ میں ریاست خیر پور میرس کو سندھ سے آزادی چاہیے، اچھا پنجاب اتنا بڑا کیوں ہے اسے وسطی پوٹھوہاری اور سرائیکی حصوں میں بانٹ دو، اوہ سرائیکیوں میں ملتانی اور ریاستی الگ الگ کرو، بلوچستان کو مکران، قلات اور کوئٹہ جیسے حصوں میں تقسیم کر دو۔ پیارے پاکستانیو۔ ۔ ۔ ! کیا یہ ہونا چاہیے؟ یقیناًنہیں تو پھر مغرب کی بکواس کہ عراق ٹوٹنا چاہیے اور تین ریاستیں شیعہ، سنی اور کرد قومیت پہ مبنی سامنے آئیں کو ہم کیوں قبول کریں؟ جتنی تقسیم ہو گی اتنی ہی جنگیں ہوں گی۔ عراق کی تقسیم ایک نیا مسئلہ شروع کر دے گی اس کے نتیجے میں مشرق وسطی کے اندر اسلحے اور قوت کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ سعودی عرب نے تیل کی قیمتوں میں کمی کر کے جہاں امریکی شیل آئل کو نکلنے سے روکا ہے وہاں اس نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشتوں پہ کاری ضرب لگائی ہے۔ اب ایک نئی ریاست کا قیام عمل میں لانے کے مقاصد سستے تیل کا حصول، ہتھیاروں کی فروخت اور دنیا میں اپنا تسلط قائم رکھنا ہے۔ جب تک مقامی لوگ آپس میں لڑتے رہیں گے تب تک انہیں اسلحے کی ضرورت رہے گی، اس کے لیے جو پیسہ درکار ہو گا وہ تیل بیچ کر ہی آئے گا۔ لہذا اسلحہ فروش ممالک کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے گا۔ عراق میں داعش اور شام کے درآمد شدہ باغی گروہوں کے معاملے پر مغرب کی دوہری پالیسی یہ عیاں کرتی ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ آزاد ذرائع اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ داعش اور ان نام نہاد باغی گروہوں کے نظریات میں کوئی فرق نہیں ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "داعش کا علاج ایسے کیا جائے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "شام کی حکومت ان لوگوں کے حوالے کرنا اس صورتحال سے بھی بدتر ہو گی جو افغانستان میں طالبان کو لا کر کی گئی تھی۔ جس طرح پاکستان کے معاملات کا حل یہ ہے کہ اچھے طالبان اور برے طالبان کی تمیز ختم کر کے ان کے خلاف سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی محازوں پہ لڑنے کی ضرورت ہے اسی طرح وسطی ایشیا میں بھی اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد کی تمیز ختم کرتے ہوئے تمام محازوں پہ بیک وقت جنگ ضرور ی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نہایت اہم ہے بات کہ سعودی عرب کو چاہیے کہ یہ شیل آئل سے مقابلے کا ڈرامہ بند کر کے باقی ممالک کی معیشت کو ان بحرانات سے نکلنے میں مدد دے۔ داعش کو ختم کرنا ہے تو اس سوچ کو ختم کرنا ہو گا جو اس کی بنیاد ہے اور اس ان عوامل کو ٹھیک کرنا ہو گا جو اس چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔ ورنہ داعش تو القاعدہ کی طرح شاید ختم ہو جائے مگر ایک نئی داعش یا القاعدہ جنم لے لے گی جو ان سے بھی سفاک ہو گی۔ بشار الاسد کی حکومت ہٹانے کا مطلب یہی ہو گا کہ وہاں پر ایک نئی القاعدہ کی بنیاد رکھی جائے اور عراق کی تقسیم کے ذریعے ان کو ایک قانونی حکومت کا جواز فراہم کر دیا جائے ۔ ہم سب کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ایسا ہونے کی صورت میں جنگ کا میدان مشرق وسطی سے وسیع ہو کر یورپ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا تک پھیل جائے گا۔ اس سب کے نتیجے میں فائدہ اسلحہ بیچنے والوں اور تیل خریدنے والوں کو ہی ہو گا۔ پاکستانی حلقوں میں تقسیم اور عراق کے اس نقطہ نظر کی حمایت کرنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "خطوط بنام رئیس احمد جعفری: ۲۶"
},
{
"role": "assistant",
"content": ", ۲۵ جولائی ۱۹۶۶ء برادرِ مکرم و محترم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید ہے کہ بہمہ وجوہ بخیریت و عافیت ہوں گے۔ آپ کے حالات اور مشاغل کا علم ثقافت اور دیگر ذرائع سے ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح آپ بھی برہان کے ذریعے مجھ سے رہتے ہوں گے۔ اس وقت باعثِ تحریر یہ ہے کہ پروفیسر محمد شریف کی کتاب کے دیکھنے کی بڑی آرزو ہے۔ یہاں بہت تلاش کی مگر کہیں نہیں ملی۔ اگر آپ میرے نام اس کی ایک کاپی بھجوا دیں تو بڑا شکر گزار ہوں گا۔ اس کے بدلے میں اس قیمت کی کوئی کتاب آپ کو مطلوب ہو گی تو میں بھیج دوں گا۔ پروفیسر صاحب مرحوم کی دو کتابوں پر تبصرہ اگست کے برہان میں آرہا ہے۔ والسلام مخلص سعید احمد اکبر آبادی"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "سنت کے بارے میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا تصور یہ ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اسے دین کی حیثیت سے امت میں جاری فرمایا ہے۔ اس کا پس منظر ان کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دین کے بنیادی حقائق اس کی فطرت میں ودیعت کر کے دنیا میں بھیجا۔ پھر اس کی ہدایت کی ضرورتوں کے پیش نظر انبیا کا سلسلہ جاری فرمایا۔ یہ انبیا وقتاً فوقتاً مبعوث ہوتے رہے اور بنی آدم تک ان کے پروردگار کادین پہنچاتے رہے۔ یہ دین ہمیشہ دو اجزا پر مشتمل رہا: ایک حکمت، یعنی دین کی مابعدالطبیعاتی اور اخلاقی اساسات اور دوسرے شریعت، یعنی اس کے مراسم اور حدود و قیود۔ حکمت ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی، لہٰذا وہ ہمیشہ ایک رہی، لیکن شریعت کا معاملہ قدرے مختلف رہا۔ وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، لہٰذا انسانی تمدن میں ارتقا اور تغیر کے باعث بہت کچھ مختلف بھی رہی۔ مختلف اقوام میں انبیا کی بعثت کے ساتھ شریعت میں ارتقا و تغیر کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اس کے احکام بہت حد تک متعین ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں ـــــــــ اسحٰق اور اسمٰعیل علیہما السلام ـــــــــ کو اسی دین کی پیروی کی وصیت کی اور سیدنا یعقوب علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل کو اسی پر عمل پیرا رہنے کی ہدایت کی: وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ .... وَوَصّٰي بِهَا٘ اِبْرٰهٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ . ”اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے اعراض کر سکے، مگر وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے...۔ اور ابراہیم نے اسی کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے کی۔ “ دین ابراہیمی کے احکام ذریت ابراہیم کی دونوں شاخوں ـــــــــ بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل ـــــــــ میں نسلاً بعد نسلٍ ایک دینی روایت کے طور پرجاری رہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "بنی اسمٰعیل میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ کو بھی دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ سورۂ نحل میں ارشاد فرمایا ہے: ثُمَّ اَوْحَيْنَا٘ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًاﵧ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ . ”پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔ “ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا تو عبادات، معاشرت، خور و نوش اور رسوم و آداب سے متعلق دین ابراہیمی کے یہ احکام پہلے سے رائج تھے اور بنی اسمٰعیل ان سے ایک معلوم و متعین روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھے۔ بنی اسمٰعیل بڑی حد تک ان پر عمل پیرا بھی تھے۔ دین ابراہیمی کے یہی معلوم و متعارف اور رائج احکام ہیں جنھیں اصطلاح میں ’سنت‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کے بعد اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں میں دین ابراہیمی کی روایت پوری طرح مسلم تھی۔ لوگ بعض تحریفات کے ساتھ کم و بیش وہ تمام امور انجام دیتے تھے جنھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جاری کیا تھا اور جنھیں بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تصویب سے امت میں سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ چنانچہ ان کے نزدیک نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نماز جنازہ، جمعہ، قربانی، اعتکاف اور ختنہ جیسی سنتیں دین ابراہیمی کے طور پر قریش میں معلوم و معروف تھیں۔ لکھتے ہیں: ”...نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، یہ سب اِسی ملت کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب پوری طرح واقف، بلکہ بڑی حد تک اُن پر عامل تھے۔ سیدنا ابوذر کے ایمان لانے کی جو روایت مسلم میں بیان ہوئی ہے، اُس میں وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وہ نماز کے پابند ہو چکے تھے۔ جمعہ کی اقامت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ نماز جنازہ وہ پڑھتے تھے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "روزہ اُسی طرح رکھتے تھے، جس طرح اب ہم رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ اُن کے ہاں بالکل اُسی طرح ایک متعین حق تھی، جس طرح اب متعین ہے۔ حج و عمرہ سے متعلق ہر صاحب علم اِس حقیقت کو جانتا ہے کہ قریش نے چند بدعتیں اُن میں بے شک، داخل کر دی تھیں، لیکن اُن کے مناسک فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادات اِس وقت ادا کی جاتی ہیں، بلکہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اِن بدعتوں پر متنبہ بھی تھے۔ چنانچہ بخاری و مسلم، دونوں میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے جو حج کیا، وہ قریش کی اِن بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اُسی طریقے پر کیا، جس طریقے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے۔ یہی معاملہ قربانی، اعتکاف، ختنہ اور بعض دوسرے رسوم و آداب کا ہے۔ یہ سب چیزیں پہلے سے رائج، معلوم ومتعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِن کی تفصیل کرتا۔ لغت عرب میں جو الفاظ اِن کے لیے مستعمل تھے، اُن کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے اُنھیں نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یا حج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں۔ “ درج بالا تفصیل سے واضح ہے کہ ملت ابراہیم سے جناب جاوید احمد غامدی کی مراد دین ابراہیم ہے۔ سنت ان کے نزدیک دین ابراہیمی یا ملت ابراہیمی ہی کا ایک جز ہے۔ یہ در حقیقت دین ابراہیم کے ان احکام پر مشتمل ہے جو بنی اسمٰعیل میں پہلے سے رائج اور معلوم و متعین تھے اور نسل در نسل چلتی ہوئی ایک روایت کی حیثیت سے متعارف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کی اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں مسلمانوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ وہ لکھتے ہیں: ”سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ ”...دین ابراہیمی کی روایت کا یہ حصہ جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن کے نزدیک خدا کا دین ہے اور وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیتا ہے تو گویا اِس کو بھی پورا کا پورا اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ “ استاذ گرامی کے اس موقف پر بعض اہل علم نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ملت ابراہیم کے الفاظ سے دین ابراہیمی کی روایت مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس سے مراد دین کی اساسی تعلیمات، یعنی توحید، شرک اور اطاعت الہٰی ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات لغت عرب اور آ یت کے سیاق و سباق کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ لغت کے مطابق، لفظ ’ملت‘ ایک جامع لفظ ہے جو اصولی تصورات کے علاوہ عملی احکام کو بھی شامل ہے۔ ”لسان العرب“ میں ہے: والملة: الشریعة والدین.... الملة: الدین کملة الإسلام والنصرانیة والیهودیة، وقیل: هي معظم الدین، وجملة ما یجیٔ به الرسل.... قال أبو إسحٰق: الملة في اللغة سنتهم و طریقهم . ”شریعت اور دین کا نام ملت ہے۔ ... ملت، ملت اسلام، ملت نصرانیہ اور ملت یہودیہ کی طرح ایک دین کا نام ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنیادی اور جملہ اجزاے دین کو ملت کہتے ہیں جس کو رسول لے کر آتے ہیں۔ ... ابواسحٰق کہتے ہیں کہ لغت میں ان کی سنت اور طریقے کو ملت کہتے ہیں۔ “ سورۂ نحل کی مذکورہ بالا آیات میں سیاق وسباق کی رو سے عملی پہلو مراد ہیں۔ اس مقام پر اصل میں ان مشرکانہ بدعات کی تردید کی گئی ہے جوبعض جانوروں کی حرمت کے حوالے سے مشرکین عرب میں رائج تھیں اور جن کے بارے میں ان کادعویٰ تھا کہ انھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی نے جاری فرمایا تھا۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنے طور پر ایک پوری شریعت وضع کر رکھی تھی۔ مثال کے طور پر وہ منتوں اور نذروں کے لیے خاص کیے گئے جانوروں پر اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا۔ وہ اپنی کھیتیوں اور جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے مقرر کرتے اور ایک حصہ دیوی دیوتاؤں کے لیے خاص کر دیتے تھے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "نذروں اور منتوں کے لیے مخصوص جانوروں میں سے مادائیں جو بچہ جنتیں، اس کا گوشت عورتوں کے لیے ناجائز اور مردوں کے لیے جائز تھا، لیکن اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو یا بعد میں مر جائے تو پھر اس کا گوشت عورتوں کے لیے بھی جائز ہو جاتا تھا۔ قرآن مجید نے ان مشرکانہ بدعات اور ان کی سیدنا ابراہیم سے نسبت کی نہایت سختی سے تردید کی۔ یہ اس آیت کا پس منظر ہے۔ اس پس منظرمیں اگر آیت کا مطالعہ اس کے سیاق و سباق کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ ’اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ‘ کا حکم اصل میں عملی احکام ہی کے تناظر میں آیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًاﵣ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ . اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَا٘ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ... وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ... وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُﵐ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْ٘ا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ... اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًاﵧ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ . شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖﵧ اِجْتَبٰىهُ وَهَدٰىهُ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ . . . ثُمَّ اَوْحَيْنَا٘ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًاﵧ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ . اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِﵧ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ . ”تو اللہ نے تمھیں جو چیزیں جائز و پاکیزہ دے رکھی ہیں، ان میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی پرستش کرتے ہو۔ اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھیرایا ہے...۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ...۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ ... بے شک، ابراہیم ایک الگ امت تھے، اللہ کے فرماں بردار اور اس کی طرف یک سو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ وہ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے ان کو برگزیدہ کیا اور ان کی رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی۔ ... پھر ہم نے تمھاری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ سبت انھی لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنھوں نے اس کے باب میں اختلاف کیا، اور بے شک، تمھارا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ “ ’اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا‘ کی تفسیر میں جلیل القدر اہل علم نے ملت سے فقط اصولی تصورات مراد نہیں لیے، بلکہ عملی پہلوؤں کو نمایاں طور پر شامل سمجھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ ابن قیم نے ملت کو توحید کے مفہوم میں لینے کی صریح طور پر تردید کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد دین ہے اور اس کے مفہوم میں عقائد کے ساتھ اعمال بھی شامل ہیں: وأما قولکم إن الملة هي التوحید فالملة هي الدین وهي مجموعة أقوال وأفعال واعتقاد ودخول الأعمال في الملة کدخول الإیمان، فالملة هي الفطرة وهي الدین ومحال أن یأمر اللہ سبحانه باتباع إبراهیم في مجرد الکلمة دون الأعمال وخصال الفطرة. ”تم اگر یہ کہتے ہو کہ ملت سے مراد توحید ہے ۔ ملت سے مراد دین ہے اور دین اقوال، افعال اور اعتقاد کے مجموعے کا نام ہے۔ جس طرح ایمان ملت کے مفہوم میں داخل ہے، اسی طرح اعمال بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ پس فطرت کا نام ملت ہے اور وہ دین ہے۔ یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال اور عادات فطرت کو چھوڑ کر صرف کلمہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمائیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ امام رازی نے ملت سے شریعت مراد لیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ملت ابراہیم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے: ظاہر هذہ الآیة یقتضي أن شرع محمد علیه الصلٰوة والسلام نفس شرع إبراهیم، وعلی هذا التقدیر لم یکن محمد علیه الصلٰوة والسلام صاحب شریعة مستقلة، وأنتم لا تقولون بذالک. قلنا: یجوز أن تکون ملة إبراهیم داخلة في ملة محمد علیه الصلٰوة والسلام مع اشتمال هذہ الملة علی زوائد حسنة وفوائد جلیلة. ” آیت کا ظاہر تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور ابراہیم علیہ السلام کی شریعت یکساں ہے اور اس بنا پر تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مستقل شریعت کے حامل نہ ہوئے، جب کہ تم ایسا نہیں کہتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ملت ابراہیم داخل ہے کچھ اچھے زوائد اور بہتر فوائد کے ساتھ۔ “ امام ابن حزم نے اسے شریعت کے معنوں میں لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کو لے کر آئے جس پر سیدنا ابراہیم عمل پیرا تھے: وأما شریعة إبراهیم علیه السلام فهي شریعتنا هذہ بعینها ولسنا نقول إن إبراهیم بعث إلی الناس کافة وإنما نقول إن اللہ تعالٰی بعث محمدًا إلی الناس کافة بالشریعة التي بعث تعالٰی بها إبراهیم علیه السلام إلی قومه خاصة دون سائر أهل عصره وإنما لزمتنا ملة إبراهیم لأن محمدًا صلی اللہ علیه وسلم بعث بها إلینا لا لأن إبراهیم علیه السلام بعث بها . ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت بعینہٖ وہی شریعت ہے جوہماری ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ابراہیم علیہ السلام تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کے ساتھ تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے جس کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام بالخصوص اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے نہ کہ اپنے ہم عصر تمام لوگوں کی طرف۔ ہم پر ملت ابراہیم کی پیروی لازم ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے ساتھ ہماری طرف بھیجے گئے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ابراہیم علیہ السلام اس کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ بیضاوی نے ملت ابراہیم سے ملت اسلام کو مراد لیا ہے: (فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ) أي ملة الإسلام التي هي في الأصل ملة إبراهیم، أو مثل ملته . ” ’فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا‘، یعنی ملت اسلام جو اصل میں ملت ابراہیم ہے یا اس کی مثل ہے۔ “ شاہ ولی اللہ نے حج جیسی عملی عبادت کو ’فَاتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا‘ ہی کے حکم کے تحت شامل کیا ہے: والنبي صلی اللہ علیه وسلم بعث لتظهر به الملة الحنیفیة وتعلو بها کلمتها، وهو قوله تعالٰی: مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ فمن الواجب المحافظة علی ما استفاض عن امامیها کخصال الفطرة ومناسک الحج؛ وهو قوله صلی اللہ علیه وسلم: ”قفوا علی مشاعرکم فإنکم علی إرث من إرث أبیکم ابراهیم“ . ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت حنیفیہ ہی کے احیا اور قیام کے لیے ہوئی ہے اور اسی کا بول بالا کرنے کے لیے آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن مجید میں ہے: ’مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ‘، اس لیے یہ ضروری تھا کہ جو مناسک وہ بجا لائے ہیں اور ان کی لائی ہوئی شریعت کے شعائر ہیں، ان کو من و عن قائم رکھا جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عربوں کو موقف میں دیکھا تو ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو، کیونکہ یہ مناسک تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہیں۔ ““ ”تفسیر مظہری“ میں شریعت کو ملت کے مفہوم میں شامل کر کے بیان کیا گیا ہے: والملة کالدین اسم لما شرع اللہ لعبادہ علی لسان الأنبیاء لیتوصلوا بها إلی مدارج القرب وصلاح الدارین . ” ’ملة‘ کا لفظ دین کی طرح ہے اور یہ اس چیز کے لیے اسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے انبیا کی زبان سے شریعت کے طور پر جاری کیا ہو تاکہ وہ قرب کے مدارج اور دنیا و آخرت کی صلاح تک پہنچ سکیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ (وَاتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ ) خص إبراهیم علیه السلام بالذکر، مع أن دین الأنبیاء کلهم واحد وهو صرف نفسه وأعضائه وقواه ظاہرًا أو باطنًا في مرضاة اللہ تعالٰی مشتغلاً به تعالٰی معرضًا عن غیرہ تعالٰی لاتفاق جمیع الأمم علی کونه نبیًا حقًا حمیدًا في کل دین، ولکون دین الإسلام موافقًا لشریعة إبراهیم علیه السلام في کثیر من فروع الأعمال کالصلٰوة إلی الکعبة والطواف بها ومناسک الحج والختان وحسن الضیافة وغیر ذالک من کلمات ابتلاه اللہ تعالٰی بها فأتمهن. ” ’وَاتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ‘ ۔ اس میں حضرت ابراہیم کو خاص کیا ہے، باوجود اس کے کہ تمام انبیا کا دین ایک ہی ہے، جب کہ حضرت ابراہیم نے اپنی جان، اپنے اعضا اور قویٰ ظاہری اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے لیے صرف کیے، اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول ہو کر اور اس کے علاوہ سب سے اعراض کرتے ہوئے، اس لیے کہ تمام امتوں کا ہر دین کے معاملے میں ان کے نبی برحق اور محمود ہونے پر اتفاق ہو جائے اور دین اسلام اعمال کی فروع میں ان کی شریعت کے موافق ہو، جیسا کہ کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا، اس کا طواف کرنا، مناسک حج، ختنہ اور حسن ضیافت اور اس کے علاوہ وہ کلمات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمایا تو انھوں نے ان کو پورا کر دیا وغیرہ۔ “ ”تفسیر عثمانی“ میں حلال و حرام کو ملت کے مفہوم میں شامل تصور کیا گیا ہے: ”...مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔ “ مفتی محمد شفیع کی تفسیر سے واضح ہے کہ وہ شریعت اور احکام کو ملت کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں: ”حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئی۔ “ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے ملت ابراہیم کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی تعبیر اختیار کی ہے۔ لکھتے ہیں: ”... محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے اور تمھیں معلوم ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "’سنت‘ اور ’ملت ابراہیم‘ کا باہمی تعلق: جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کا تقابلی مطالعہ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "مثلاً یہودی اونٹ نہیں کھاتے، مگر ملت ابراہیمی میں وہ حلال تھا۔ یہودیوں کے ہاں شترمرغ، بط، خرگوش وغیرہ حرام ہیں، مگر ملت ابراہیمی میں یہ سب چیزیں حلال تھیں۔ “ اس تفصیل سے یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ ملت ابراہیمی سے مراد دین ابراہیمی ہے اور اس کے مشمولات میں فقط اصولی تصورات نہیں، بلکہ احکام و اعمال بھی شامل ہیں اور سنت درحقیقت دین ابراہیمی ہی کی روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ امت میں بہ حیثیت دین جاری فرمایا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "مخالفین کھوکھلےنعروں کی سیاست کر رہے ہیں،وزیراعظم"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ اپنے اثاثوں کے بارے میں قوم کو اعتماد میں لے چکے ہیں،مخالفین پینترے بدل کر کھوکھلے نعروں کی سیاست کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف سے اراکین قومی اسمبلی عرفان ڈوگر،عالم داد لالیکا اور میاں نجیب الدین اویسی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ قوم کو اپنے اثاثوں کے بارے میں پہلے ہی اعتماد میں لے چکے ہیں،میں نہ مانوں کی رٹ لگانے والے ہمارے مثبت اقدام پر منفی رویے کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالانکہ تمام سیاسی پارٹیوں کی رائے کے مطابق چیف جسٹس کی زیر نگرانی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تاہم مخالفین نے پھر پینترا بدل لیا ہے اور کھوکھلے نعروں پر سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ بہت جلد ملک میں دس ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی جس سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ ختم ہو گی بلکہ عوام کو سستی بجلی ملے گی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اس امر سے زیادہ کیا چیز حیرت انگیز ہو سکتی ہے کہ مذہب اسلام کی روح و رواں جو کچھ کہو قرآن ہے، تاہم آج کل مسلمانوں کو جس قدر قرآن کے ساتھ بے اعتنائی ہے، کسی چیز سے نہیں۔ عربی کے موجودہ درس میں ہر علم و فن کی کتابیں کثرت سے داخل ہیں، لیکن فن تفسیر کی صرف دو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ”جلالین“ اور ”بیضاوی“ جن میں سے پہلی اس قدر مختصر ہے کہ اس کے الفاظ و حروف قرآن مجید کے الفاظ و حروف کے برابر برابر ہیں، اور دوسری گو چنداں مختصر نہیں، لیکن اس کے صرف ڈھائی پارے درس میں داخل ہیں جو کتاب کا پانچواں حصہ بھی نہیں۔ منطق و فلسفہ کی مدت تحصیل پانچ برس ہے اور دیگر علوم پر بھی ایک معتد بہ زمانہ صرف ہوتا ہے، لیکن قرآن مجید اور تفسیر کی تحصیل کے لیے پورا سال بھر گوارا نہیں کیا جاتا۔ عربی علوم فنون کی کتابیں کثرت سے چھپ چھپ کر شائع ہو رہی ہیں۔ اور خصوصاً فن حدیث کا سرمایہ تو اس قدر وجود میں آگیا ہے کہ اگلوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا، لیکن قرآن مجید کے متعلق دو ایک معمولی درسی تفسیروں کے سوا آج تک کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی۔ یہ تو ظاہری بے پروائی کی کیفیت ہے۔ معنوی حیثیت سے دیکھو تو اس سے بھی زیادہ افسوس ناک حالت ہے۔ تمام مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید کا معجزہ ہونا اس کی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے ہے۔ لیکن کیا ہمارے علما اس دعویٰ کو ثابت کر سکتے ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ قرآن مجید کی انشاء پردازی کی کیا خصوصیات ہیں۔ قرآن مجید نے بلاغت کے کیا کیا نئے اسلوب پیدا کیے۔ شعراے جاہلیت نے مدح و ذم، فخر و ثناء، شادی و غم، عزم و استقلال، نیکی و رحم دلی، جوش و اثر کے مضامین کو جس پایہ تک پہنچایا تھا، قرآن مجید نے انھی مضامین کو کس رتبہ تک پہنچا دیا؟ تو کیا ہزاروں علما میں سے ایک بھی ان سوالوں کا معقول جواب دے سکے گا؟ ادب و بلاغت پر موقوف نہیں، فقہ، اصول، علم کلام، سب کا ماخذ قرآن مجید ہے، لیکن ہمارے علما خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ علوم مذکورہ کے مسائل کو انھوں نے قرآن مجید سے سیکھا ہے یا ہدایہ و تلویح و عقائد نسفی سے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یہ شکایت نئی نہیں، تقریباً چھ سو برس سے یہی حالت ہے۔ اس سے صرف یہی نہیں ہوا کہ قرآن مجید کے متعلق نئی تالیفات کا سلسلہ بند ہو گیا، بلکہ افسوس اور سخت افسوس یہ ہے کہ قدما کی نادر اور بیش بہا تصنیفات ناپید ہو گئیں۔ خاص قرآن مجید کے اعجاز پر قدما نے بہت سی کتابیں لکھی تھیں، جن میں سے آٹھ یا نو کتابوں کا تذکرہ جلال الدین سیوطی نے ”اتقان“ میں کیا ہے۔ لیکن لوگوں کی بدمذاقی سے ان میں سے صرف باقلانی کی ایک کتاب رہ گئی ہے جو اس باب میں معمولی درجہ کی تصنیف ہے۔ اگرچہ ابوبکر عربی اسی کو ’احسن الکتب‘ کا خطاب دیتے ہیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شروع اسلام سے آج تک قرآن مجید کے متعلق جو کچھ علمی سرمایہ مہیا کیا گیا، ان پر ایک مختصر ریویو کیا جائے جس سے ایک طرف تو ثابت ہو گا کہ ہمارے اسلاف نے اور علوم کی طرح اس فن کو کس قدر وسیع کیا تھا اور کیا کیا نکتہ آفرینیاں کی تھیں۔ دوسری طرف یہ ظاہر ہو گا کہ قدما نے گو اپنے زمانہ کے موافق تحقیقات و تدقیقات کا حق ادا کر دیا تھا۔ تاہم آج بہت سے نئے پہلوؤں سے ان مسائل پر بحث کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید جس وقت نازل ہو رہا تھا، اس وقت جو لوگ موجود تھے، وہ اگرچہ اس کے مطالب و معانی کے سمجھنے میں کسی معلم یا استاد کے محتاج نہ تھے۔ تاہم بعض بعض مقامات میں جہاں زیادہ اجمال ہوتا تھا یا کوئی قصہ طلب بات ہوتی تھی، لوگ خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیا کرتے تھے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتوحات کی ترقی اور تمدن کی وسعت کی وجہ سے احکام میں نئی نئی صورتیں پیش آنے لگیں اور اس ضرورت سے قرآن مجید کی آیات احکامیہ پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پڑی۔ صحابہ میں سے جو لوگ علم و فضل میں زیادہ ممتاز تھے، انھوں نے اس طرف زیادہ توجہ کی۔ ان بزرگوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سب کے پیشرو تھے۔ ان کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کا درجہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے حلقۂ درس نے نہایت وسعت حاصل کی اور سینکڑوں، ہزاروں شاگرد پیدا ہو گئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ان میں سے مجاہد، عطاء بن رباح، عکرمہ، سعید بن جبیر، سب سے ممتاز تھے۔ ان بزرگوں کے سوا جن لوگوں نے فن تفسیر پر توجہ کی، وہ حسن بصری، عطاء بن سلمہ خراسانی، محمد بن کعب الفراظی، ابوالعالیہ، ضحاک بن مزاحم، قتادہ، زید بن اسلم، ابومالک وغیرہ ہیں، غالباً سب سے پہلے اس فن کی جس نے ابتدا کی، وہ سعید بن جبیر تھے۔ عبدالملک بن مروان نے ان سے تفسیر لکھنے کی درخواست کی، چنانچہ انھوں نے اس کی فرمایش کے موافق تفسیر لکھ کر دربار خلافت میں بھیجی اور اس کا نسخہ دفتر شاہی میں داخل کیا گیا۔ عطاء بن دینار کے نام سے جو تفسیر مشہور ہے، وہ درحقیقت یہی تفسیر ہے۔ ۱ اس طبقہ کے بعد ائمۂ مجتہدین اور ان کے ہم عصروں، مثلاً سفیان بن عیینہ، شعبہ، یزید بن ہارون، عبدالرزاق، ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ نے تفسیریں لکھیں۔ اس کے بعد عام رواج ہو گیا اور سینکڑوں، ہزاروں تفسیریں تصنیف ہو گئیں اور ہوتی رہیں۔ تفسیر کے علاوہ قرآن مجید کے خاص خاص مباحث پر جداگانہ اور مستقل تصنیفات کا سلسلہ شروع ہوا، اور یہ سلسلہ تفسیر سے بھی زیادہ مفید تھا، کسی نے صرف مسائل فقیہ پر بحث کی، کسی نے اسباب نزول پر کتاب لکھی، کسی نے صرف ان الفاظ کو جمع کیا جو غیر زبان کے الفاظ ہیں۔ کسی نے امثال قرآنی کو یکجا کیا۔ کسی نے آیات مکررہ کے نکات بیان کیے، اس قسم کے مضامین کی تعداد ۸۰ کے قریب پہنچی اور قریباً ہر ایک پر الگ الگ مستقل تصنیفیں لکھی گئیں، ۲ ان مضامین میں سے بعض بعض پر تمام بڑے بڑے ائمۂ فن نے طبع آزمائیاں کیں اور ہزاروں کتابیں تیار ہو گئیں۔ یہ تصنیفات بے شمار ہیں، لیکن ان سب کو چھ قسموں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ فقہی۔ جس میں صرف ان آیتوں کو یکجا کیا ہے، جن سے کوئی فقہی مسئلہ مستنبط ہوتا ہے۔ مثلاً ”احکام القرآن“ اسمٰعیل بن اسحق، ”احکام القرآن“ ابوبکر رازی، ”احکام القرآن“ قاضی یحییٰ بن اکثم۔ ۲۔ ادبی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ان تصنیفات میں قرآن مجید کا فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجز اور بے نظیر ہونا ثابت کیا ہے، اسی سلسلہ میں وہ تصنیفات بھی داخل ہیں جو قرآن مجید کی حقیقت و مجاز، تشبیہات و استعارات، مکررات، وجوہ ترتیب، صنائع و بدائع وغیرہ وغیرہ پر لکھی گئیں۔ ۳۔ تاریخی۔ قرآن مجید میں انبیاے سابقین اور بزرگوں کے جو قصے مذکور ہیں، ان کی تفصیل اور مزید حالات۔ ۴۔ نحوی۔ جس میں قرآن مجید کے نحوی مسائل سے بحث کی ہے۔ مثلاً ”اعراب القرآن“ رازی وغیرہ۔ ۵۔ لغوی۔ یعنی قرآن مجید کے الفاظ مفردہ کے معانی اور ان کی تحقیق۔ مثلاً ”لغات القرآن“ ابوعبیدہ وغیرہ۔ ۶۔ کلامی۔ جن آیتوں سے عقائد کے مسائل مستنبط ہوتے ہیں، ان پر بحث۔ ان مضامین میں سے فقہی مباحث پر جو کچھ لکھا گیا، اس پر اضافہ کی بہت کم گنجایش ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بحث پر بڑے بڑے ائمۂ فن نے طبع آزمائیاں کیں اور چونکہ شروع ہی سے ان مسائل سے متعلق الگ الگ فرقے بن گئے تھے۔ کسی فریق نے تدقیق و تحقیق کا دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ امام شافعی، قاضی یحییٰ بن اکثم، ابوبکر رازی، جس پایہ کے لوگ تھے، سب کو معلوم ہے۔ ابوبکر رازی کی تصنیف آج بھی موجود ہے اور ہماری نظر سے گزر چکی ہے۔ اسی طرح لغات قرآن اور مسائل نحویہ پر جو کچھ لکھا گیا، اس سے بڑھ کر نہیں لکھا جا سکتا۔ فصاحت و بلاغت کے متعلق نہایت کثرت سے کتابیں لکھی گئیں، جو اعجاز القرآن کے نام سے مشہور ہیں، ان میں فصاحت و بلاغت کے تمام اقسام سے بحث کی ہے۔ سب سے پہلے غالباً جاحظ المتوفی ۲۵۵ء نے اس موضوع پر لکھا۔ پھر محمد بن یزید واسطی، عبدالقاہر جرجانی، رمانی خطابی، زرقانی، رازی، ابن سراقہ، قاضی ابوبکر باقلانی نے بسیط اور مفصل کتابیں لکھیں، یہ کتابیں آج بالکل ناپید ہیں۔ میں نے قسطنطنیہ اور مصر کے تمام کتب خانے دیکھے، لیکن ایک کتاب کا بھی پتا نہ لگا۔ البتہ قاضی باقلانی کی تصنیف موجود ہے۔ اس کا نسخہ میں نے حذیو کے کتب خانہ سے لکھوا کر منگوایا تھا۔ اور اب وہ چھپ بھی گئی ہے۔ اس کتاب کی نسبت ابن العربی ۳ کا قول ہے کہ اس بحث پر کوئی کتاب اس درجہ کی تصنیف نہیں ہوئی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ابن العربی کی رائے پر اگر اعتماد کیا جائے تو اسلاف کی علمی حالت پر سخت افسوس ہو گا، کیونکہ باقلانی کی کتاب گو انشاء پردازی کے لحاظ سے بلند رتبہ ہے، لیکن اصل مضمون کی حیثیت سے محض ایک ملّابانہ تصنیف ہے۔ عبدالقاہر جرجانی جو فن بلاغت کا موجد ہے، اس کی اعجاز القرآن ہم نے نہیں دیکھی، لیکن اس کی دو کتابیں ”دلائل الاعجاز“ اور ”اسرار البلاغہ“ جو خاص فن بلاغت میں ہیں ہمارے پیش نظر ہیں۔ ان کتابوں میں اس نے جو نکتہ آفرینیاں کی ہیں، وہ حیرت انگیز ہیں، اور اس لیے قیاس ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید پر اس نے جو کچھ لکھا ہو گا، بے مثل ہو گا۔ اسی طرح جاحظ کی تصنیف بھی بے نظیر ہو گی، لیکن چونکہ پانچ چھ سو برس سے قوم کا علمی مذاق بالکل پست ہو گیا ہے، اس لیے لوگ ابن العربی، باقلانی ہی کی تصنیف کو بہترین تصانیف قرار دیتے ہیں۔ اعجاز القرآن کے سلسلہ کے علاوہ اور بہت سی تصنیفات ہیں۔ جن میں انشاء پردازی کی خاص خاص قسموں سے بحث کی ہے۔ مثلاً ابن ابی الاصبع نے قرآن مجید کے صنائع و بدائع پر مستقل کتاب لکھی۔ عزالدین بن عبدالسلام نے قرآن کے مجازات کو یک جا کیا۔ ابوالحسن ماوردی نے قرآن کی ضرب المثلیں جمع کیں، اور ان کی خوبیاں دکھائیں۔ علامہ سیوطی نے سورتوں کے طریق ابتدا پر ایک رسالہ لکھا جس کا نام ”الخواطر السوانح فی اسرار الفواتح“ ہے۔ ابن القیم نے ”کتاب التبیان“ اس بحث پر لکھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کثرت سے قسمیں کیوں کھائی ہیں۔ قصص اور حقائق اشیا کے متعلق تصنیفات کا جو سرمایہ ہے، وہ درحقیقت شرم کا باعث ہے اور افسوس اور سخت افسوس ہے کہ تفسیر کے اجزا میں سے جو حصہ سب سے زیادہ عوام میں مقبول اور متداول ہے اور سلسلہ بہ سلسلہ تمام اسلامی لٹریچر میں سرایت کر گیا ہے، وہ یہی حصہ ہے، انبیا اور صلحاے سابقین کے افسانے نے جو یہودیوں میں پھیلے ہوئے تھے، وہ نہایت مبالغہ آمیز اور دور ازکار تھے۔ قرآن مجید میں نہایت اجمال کے ساتھ صرف ان واقعات کو بیان کیا، جو فی نفسہٖ صحیح تھے اور جن سے طبائع پر کوئی عمدہ اخلاقی اثر پڑتا تھا۔ ہمارے مفسروں نے قرآن مجید کو ایک مشن قرار دیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اور اس کی شرح میں وہ تمام بے ہودہ افسانے شامل کر دیے، جن کے سامنے بوستان خیال کی بھی کچھ حقیقت نہیں، حقائق اشیا کے متعلق جو کچھ قرآن مجید میں مذکور تھا، اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا، چاہ بابل، کوہ قاف، سکندر ذوالقرنین، یاجوج ماجوج وغیرہ وغیرہ کی نسبت جو روایتیں مسلمانوں میں پھیلی ہیں، وہ انھی تفسیروں کی بدولت ہیں۔ علامہ ابن خلدون نے اس کے متعلق ”مقدمۂ تاریخ“ میں نہایت محققانہ مضمون لکھا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "“ علامہ ابن خلدون نے جو کچھ لکھا، محدثانہ تحقیق بھی تمام تر اسی کی تائید کرتی ہے۔ انبیاء سابقین اور زمین و آسمان وغیرہ کی آفرینش کے متعلق جو کچھ تفسیروں میں مذکور ہے، وہ عموماً قدما مفسرین سے ماخوذ ہے۔ یعنی مجاہد، سدی، ضحاک، مقاتل بن سلیمان، کلبی ان میں سے تین مقدم الذکر نے صحابہ کا زمانہ پایا تھا، اور ان سے روایتیں حاصل کی تھیں۔ مقاتل نے ۱۵۰ھ میں وفات پائی۔ کلبی بھی اسی دور کے مفسر ہیں، نقلی مضامین کے متعلق آج جس قدر تفسیریں ہیں، سب انھی بزرگوں سے ماخوذ ہیں۔ امام شافعی کا قول ہے کہ فن تفسیر میں تمام لوگ مقاتل کے وظیفہ خوار ہیں۔ ۵ سدی کی نسبت جلال الدین سیوطی نے ”کتاب الارشاد“ سے نقل کیا ہے کہ ’التفاسیر تفسیر السدی‘ یعنی تمام تفسیروں میں سدی کی تفسیر سب سے اچھی ہے۔ امام طبری کی تفسیر کے متعلق تمام علما کا اتفاق ہے کہ صحت و تنقید میں لاجواب ہے، لیکن یہ تفسیر بھی زیادہ ترسدی اور ضحاک سے ماخوذ ہے۔ چنانچہ جلال الدین سیوطی نے ”اتقان“ باب ہشتاد و دہم میں تصریح کی ہے۔ ان بزرگوں کا یہ حال ہے کہ مجاہد کی تفسیر کی نسبت جب لوگوں نے امام اعمش سے دریافت کیا کہ اس میں غلطیاں کیوں پائی جاتی ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اہل کتاب سے ماخوذ ہے۔ ضحاک کی نسبت محدثین نے تصریح کی ہے کہ ابن عباس اور ابو ہریرہ سے انھوں نے جو روایتیں کی ہیں، سب مخدوش ہیں، یعنی ان کی صحت میں کلام ہے۔ اس کے ساتھ یحییٰ بن سعید قطان نے، جو اسماء الرجال کے امام ہیں، تصریح کی ہے کہ ضحاک میرے نزدیک ضعیف الروایۃ ہیں۔ سدی کا یہ حال ہے کہ امام شعبی سے کسی نے کہا کہ سدی کو قرآن کے علم کا حصہ ملا ہے تو انھوں نے کہا کہ قرآن کے جہل کا حصہ ملا ہے۔ مقاتل کی نسبت وکیع کا قول ہے کہ کذاب تھا۔ محدث نسائی فرماتے ہیں کہ مقاتل جھوٹ بولا کرتا تھا۔ عبداللہ بن المبارک فرماتے ہیں کہ مقاتل کی تفسیر بہت اچھی تھی۔ کاش وہ ثقہ بھی ہوتا۔ جو زجانی نے لکھا ہے کہ مقاتل نہایت دلیر دجال تھا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "علوم القرآن"
},
{
"role": "assistant",
"content": "محدث ابن حبان نے لکھا ہے کہ مقاتل قرآن مجید کے متعلق یہود و نصاریٰ سے وہ باتیں سیکھا کرتا تھا جو ان کی روایتوں کے مطابق ہوئی تھیں۔ کلبی کی نسبت تو عام اتفاق ہے کہ ان کی تفسیر دیکھنے کے قابل نہیں۔ امام احمد بن حنبل اور دارقطنی، امام بخاری، جوزجانی، ابن معین سب نے تصریح کی ہے کہ وہ ناقابل اعتبار تھا۔ ابن حبان کا قول ہے کہ کلبی کا کذب و دروغ اس قدر ظاہر ہے کہ اس میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۶۔ ایک ضمنی تذکرہ میں ان بزرگوں کی اس قدر پردہ دری شاید موزوں نہ تھی، لیکن ان لوگوں نے اسلام کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے، اس کا کم سے کم یہی صلہ تھا، انھی حضرات کی روایتیں ہیں جن سے ”تفسیر کبیر“، ”کشاف“، ”بیضاوی“ اور سینکڑوں ہزاروں کتابیں مالا مال ہیں۔ مسلمانوں میں آج جو عجائب پرستی، زود اعتقادی اور غلط خیالی ایک خاصہ بن گئی ہے، انھی کی روایات اور منقولات کی بدولت ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شوکت خانم اسپتال میں افغان طالبان رہنما کے علاج کا انکشاف"
},
{
"role": "assistant",
"content": "افغان طالبان کے ایک رہنما کے شوکت خانم اسپتال لاہور میں علاج کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف عمران خان نے خود کیا۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان سینئر صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران نے انکشاف کیا کہ شوکت خانم اسپتال لاہور میں افغان طالبان کے ایک رہنما کا علاج کیا گیا ہے۔ عمران خان بتایا کہ علاج کے بعد طالبان کی جانب سےشکر یہ کاخط آیا توانہیں اس بات کا پتا چلا۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ۲۰۱۵ میری زندگی کا مشکل سال تھا۔ عمران خان نے شوکت خانم اسپتال پشاور کے قیام کو ۲۰۱۵ میں اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ایک خبر اور کئی جھوٹ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "پرسوں جب پی آئی اے کہ دو ملازمین شہید کیے گئے تو موقع پر موجود گواہوں نے الزام لگایا کہ ان مظاہرین کو رینجرز نے قتل کیا ہے۔ رینجرز کے اعلی افسر سے رابطہ کیا تو موصوف نے فرمایا کہ یہ دونوں افراد ۹ پسٹل سے قتل کیے گئے ہیں جبکہ ہماری فورس تو بھاری ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ کل شہید عنایت رضا کی فیملی ایک وڈیو منظرعام پر لے آئی جس میں پستول سے مسلح ایک رینجرز اہلکار مظاہرین پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ کل ہی شہید مظاہرین کی پوسٹمارٹم رپورٹ منظرعام پر آگئی جس میں ان کی شہادت کی وجہ کلاشنکوف کی ۲۰ فٹ سے ماری گئی گولیاں بتائی گئیں۔ دوبارہ رینجرز ذرائع سے استفسار کیا کہ حضور یہ تو کلاشنکوف کے خول نکلے ہیں تو موصوف نہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ رینجرز تو کلاشنکوف استعمال ہی نہیں کرتی ہے۔ اب دوبارہ مظاہرین کو \"ڈیل\" کرتے رینجرز کی جائے وقوعہ پر ریکارڈ کی گئی مزید وڈیوز کا جائزہ لیا تو وہاں درجنوں رینجرز اہلکار کلاشنکوفیں تھامے نظر آئے۔ ہم نے ناقابل \"یقین\" آنکھوں کے ساتھ ان مناظر کو دیکھا اور گوگل ویب سائٹ پر دو الفاظ لکھ کر کر کے سرچ پر کلک کیا تو سیکڑوں تصاویر ہمارا منہ چڑا رہی تھیں جن میں رینجرز اہلکار کراچی کے مختلف مقامات پر تعیناتی اور مختلف آپریشنز میں حصہ لیتے ہوئے کلاشنکوف کا استعمال کرتے نظر آئے۔ بات یہیں نہیں رکی رینجرز کے انہی ذرائع نے میڈیا کو گمراہ کرنے کے بعد کمال ہوشیاری سے رینجرز کے بریگیڈئیر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی جو مجرمان کا تعین کرے گی۔ یہ سنا تو دل میں شاعر سے معذرت کے ساتھ خیال آیا کہ \"تم جرم کرو ہو یا کرامات کرو ہو؟ \" اب اتنے جھوٹ بولنے کے بعد بھی کیا کسی کو شک ہے ایک ادارہ جس پر مقتولین کے لواحقین اور عینی شاہدین الزام لگا رہے ہوں کیا اس کی اپنی قائم کردہ کمیٹی جس کی سربراہی بھی اس کا اپنا آفیسر کر رہا ہے جانبدار نہیں ہوگی؟ اور کیا اس کا \"مینڈیٹ\" صرف کلین چٹ کی فراہمی نہیں ہوگی؟ ہائے مالک کن کے حوالے کیا ہے ہمیں اور پھر روز محشر ہمی سے حساب بھی لے گا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ایک خبر اور کئی جھوٹ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "تازہ ترین پیشرف میں رینجرز نے وڈیو شواہد کا مقابلہ وڈیو سے کرنے کے لیے ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے ایک شخص کے سر پر دائرہ لگا رکھا ہے جس کا آدھا چہرہ رومال لپیٹ کر بنائے گئے عارضی نقاب میں چھپا ہوا ہے جس کو رینجرز نے شرپسند گردانتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات کی اپیل کی ہے کیونکہ بقول رینجرز، فائرنگ میں یہ \"بھی\" تو ملوث ہو سکتا ہے۔ رینجرز کی اس کاوش کا بھی جائزہ لیا تو اس نقاب پوش کی تھیوری کے غبارے سے پی آئی اے ورکرز کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سہیل بلوچ نے ہوا نکال دی اور کہا کہ وڈیو میں موجود نقاب پوش پی آئی اے کا ملازم ہے جس نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے رومال کو آنکھوں اور چہرے کہ گرد لپیٹ رکھا تھا۔ جبکہ یہ مشکوک شخص بظاہر غیر مسلح بھی تھا اور کلاشنکوف جیسی آٹومیٹک رائفل جیب میں تو چھپائی نہیں جا سکتی۔ ویسے بھی مظاہرین کو ائیرپورٹ سے دور رکھنے کے لیے تعینات رینجرز کے متعدد اہلکار بھی کالے نقاب پہنے نظر آئے جو کم از کم عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ نہ تو وہاں کسی منشیات فروش مافیا نہ ہی کسی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم کے خلاف کوئی خفیہ چھاپہ مار کاروائی ہو رہی تھی جو ہمارے محافظوں کو چہرے چھپانے کی ضرورت پیش آئی۔ کیسی ریاست ہے ہماری جہاں لیاری گینگ وار کا مبینہ گینگسٹر عزیر بلوچ تو گرفتاری کے وقت استری شدہ صاف ستھرے بوسکی سوٹ زیب تن کیے نظر آتا ہے لیکن اس کو گرفتار کرنے والے رینجرز نے کالے نقاب سے چہرے چھپا رکھے تھے۔ ابھی ابھی رینجرز کی طرف سے رابطہ کر کے نئی ترجیح پیش کی گئی ہے کہ دیکھئے وہاں دو گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی لیکن ہسپتال میں دو لاشوں کے ساتھ چار گولی زدہ زخمی بھی لائے گئے ہیں اس لئے اگر ہم نے دو کو گولی ماری تھی تو باقی چار کو کس کی گولی لگی؟ یعنی جس نے چار کو زخمی کیا اسی کی گولی سے دو لوگ شہید بھی ہوئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ایک خبر اور کئی جھوٹ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "بات صرف اتنی ہے جتنی توانائی میڈیا کو پل پل بدلتے موقف کے ساتھ بری الزمہ ہونے پر لگائی جا رہی ہے اس سے کیا ہی اچھا ہو رینجرز ایک غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کریں اور اس کمیشن کے آگے خود بھی پیش ہوں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ جب آپ نے جرم کیا ہی نہیں تو آپ کو تو اپنی بے گناہی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس انداز میں بری کروانا چاہیے جس بریت کی کوئی ساکھ بھی ہو۔ برائے مہربانی ایک طرف میڈیا کو بار بار رابطہ کر کے اپنے آپ کو کسی بھی انکوائری سے قبل بے گناہ قرار دے کر اور دوسری طرف اپنے ہی ماتحت بریگیڈئیر کی سربراہی میں انکوائری کے احکامات دے کر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے تعاقب میں آنے والے امریکی فوجیوں پر بننے والے انکوائری کمیشن کی یاد مت تازہ کریں جب جنرل کیانی نے اس جنرل کی سربراہی میں کمیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جو دراصل خود اس بدترین ناکامی کا براہ راست ذمہ دار تھا جس پر بعدازاں میڈیا نے تنقید کی تو اس کمیشن کر تحلیل کر کے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا گیا۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ رینجرز کیوں نہتے مظاہرین پر گولی چلائے گی؟ جناب ماضی قریب میں سرفراز شاہ قتل کیس میں ایک نہتے کم عمر نوجوان کو رینجرز کے سپاہی نے پارک میں کیمروں کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس لینے پر بادل ناخواستہ آپ کو اس کو پولیس کی تحویل میں دینا پڑا۔ لیکن جس طرح اس مقتول نوجوان کے غریب خاندان کو دباو ڈال کر قاتل رینجرز اہلکار کو معافی دلوائی گئی وہ بھی آپ کی فورس کی سنہری تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح ایک ٹیکسی ڈرائیور اپنی دس ماہ کی معصوم بچی کو دوا دلوانے کلینک لے کر جا رہا تھا لیکن آپ کی ہی رینجرز کے اہلکار نے اس کی فرنٹ سیٹ پر دس ماہ کی معصوم بچی کو دیکھنے کے باوجود اس معصوم کی نظروں کے سامنے اس کے محنت کش باپ کو گولی مار کر شہید کر کے شجاعت کا نیا باب رقم کیا تھا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ایک خبر اور کئی جھوٹ"
},
{
"role": "assistant",
"content": "آپ کی سنہری تاریخ کے ان اوراق کا حوالہ دینے کا مقصد نہ تو رینجرز کی تذلیل ہے نہ ہی آپ کو ان دو شہیدوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے بلکہ صرف یہ باور کروانا ہے کہ قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں اور اگر آپ کی فورس بے گناہ ہے تو اس کو کسی غیر جانبدار اور قابل ساکھ عدالتی کمیشن سے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے دیں۔ یہ نہ صرف آپ کے ادارے کی عزت میں اضافہ کرے گا بلکہ اگر کوئی آپ کے ادارے کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کے منہ پر بھی طمانچہ بن کر لگے گا۔ آپ خود سے یہ تاصر دینے کی کوشش مت کریں کہ آپ کے آپریشن سے خائف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت یا متحدہ قومی موومنٹ اس سازش کے پیچھے ہے بلکہ ایک غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کو اس کا تعین کرنے دیں کہ اس سانحہ کے پیچھے کوئی سازش چھپی ہے یا خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے والی سوچ کے حامل رینجرز اہلکار کا انفرادی فعل۔ اسد طور اسد علی طور ڈان، کیپیٹل ٹی وی اور اے آر وائی نیوز سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے پروڈیوسر ہیں اور فارغ وقت میں بلاگنگ بھی کرتے ہیں۔ اج کل اے آر وائی نیوز پر پروگرام آف دی ریکارڈ پروڈیوس کر رہے ہیں"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "شہاب الدین غوری کا نام سلطان محمد معزالدین بن سام تھا۔ اسے جنوبی ایشیا میں مسلم اقتدارکابانی قراردیاجاتاہے جس نے اپنے عہدمیں موجودہ پاکستان، ہندوستان، ایران، بنگلہ دیش، افغانستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے بڑے علاقوں پر حکومت کی۔ چند برس پہلے پاکستان کے ایٹمی سائنسداں جناب ڈاکٹر عبدالقدیرخاں کو اس تاریخی شخصیت سے دلچسپی پیداہوئی تو لاہور اسلام آبادجی ٹی روڈ پر گوجرخان کے قریب واقع بستی سوہاوہ ضلع جہلم میں اس کا مزار تعمیرکیاگیا۔ اس سمت جانے والے راستے پر مزار سلطان شہاب الدین غوری کے بورڈ آویزاںکیے گئے۔ غوری کا ”مزار“ جہلم شہرسے ۵۳ کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ جی ٹی روڈ پر دومیلی کے سامنے منچور کی طرف لہڑی لنک روڈ جاتی ہے۔ راستے میں بانٹھ، گورسیال، کرونٹے جیسے ناموں کے حامل علاقے آتے ہیں۔ کرونٹے روڈ سے بائیں جانب بنگلہ کرونٹالنک روڈ ہے۔ یہاں سے گھورسرہائی اسکول کرونٹہ اور بنیادی مرکز صحت کرونٹہ کے بعد وہاں سے دائیں جانب مہرقلی چوہان آتا ہے۔ پھر چار سو میٹر دائیں جانب گڑھاگدڑیاجھنڈا کا بورڈ لگا ہوا ہے جس کے بعد مذکورہ مقام واقع ہے۔ یہ ایک دشوارگذار پہاڑی سفر ہے۔ ایسا دشوارگزار پہاڑی مقام جہاں آج اتنی سہولتوں کے دور میں پہنچنا بھی آسان نہیں، کم و بیش آٹھ سو سال قبل تیرھویں صدی عیسوی میں کتنادشوار گذارہوگا۔ مذکورہ مقام پر شہاب الدین غوری اور ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے بڑے بڑے پورٹریٹ استقبال کے لیے آویزاں ہیں۔ عمارت کے چاروں جانب مداخل بنائے گئے ہیں۔ اس عمارت کی تعمیرکا آغاز ۱۱ستمبر ۱۹۹۴ء کو ہوا اور ۱۱ستمبر ۱۹۹۶ء کو اس کی تکمیل ہو گئی۔ عمارت کی تعمیر میں وسط ایشیاکے مسلم طرز تعمیر کو پیش نظر رکھاگیاہے۔ کہاگیاہے کہ اس عمارت کو امیرتیموراور الغ بیگ کے مزارات کی طرزپربنایاگیاہے۔ لیکن یہ بات محض جزوی طور پر فقط اس کے مدخل کی حد تک درست مانی جا سکتی ہے کہ اس میں امیرتیمور اور ایک دوسرے تیموری حکمران الغ بیگ کے مقبرے کے مدخل کی جھلک پائی جاتی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "امیرتیموراور الغ بیگ دونوں سمرقندمیں ایک ہی مقبرے میںمدفون ہیں جس کا مدخل عمارت سے الگ اکائی کے طور پر بنایاگیاہے جس سے گذرنے کے بعد نیلا گنبد اور مینار زائرکا استقبال کرتے ہیں۔ غوری کے اس مقبرے میں مدخل عمارت کا حصہ ہے اس سے جدا نہیں اور یوں بھی اس تعمیرکو تیموری مقبرے کے علوِ شان سے کوئی نسبت نہیں۔ گورتیمور سے غوری کے اس ”مزار“ کو یہ نسبت ضرور حاصل رہی ہے کہ تیمورکے مقبرے کے بارے میں یہ شک پایاجاتارہاہے کہ آیاواقعی امیرتیمور اس عمارت میں دفن بھی ہے یا نہیں؟ اس عمارت کی کرسی سطح زمین سے پچاس فٹ بلند ہے۔ وسیع احاطے کے چاروں جانب برجیاں بنائی گئی ہیں۔ مرکزی عمارت پر بڑاگنبد ہے۔ دروازے پر قدیم طرز تعمیر کے مطابق دائیں بائیں یاحی یاقیوم اور درمیان میں آیۂ مبارکہ ”کل من علیھا فان… الخ“ درج ہے۔ اطراف میں اردو اور انگریزی میں غوری کے احوال پر مبنی الواح ہیں اور آخر میں غالبؔ کے شعر کے ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا نام اور سنہ تعمیر ۹۶۔ ۱۹۹۴ء مندرج ہے۔ قریب ہی مسجدسلطان واقع ہے اور عمارت کے احاطے میں غوری میزائل کا ماڈل نصب ہے۔ یادگاری تختی کی عبارت کے مطابق: محمد معزالدین ابن سام جو نوجوانی میں شہاب الدین کہلاتے تھے اور بعد میں سلطان محمد غوری کے نام سے مشہور ہوئے، غور افغانستان سے ہندوستان آئے۔ انھوں نے ۱۵۰ ہندوستانی راجائوں کی اجتماعی فوج کو جس میں کھنڈے، رائو، گوندرائے اور دوسرے کئی راجپوت حکمران شامل تھے اور جس کا سربراہ دہلی اور اجمیر کا راجہ رائے پتھورا المعروف بہ پرتھوی راج چوہان تھا، بڑی دلیری سے للکارا۔ یہ لڑائی ۵۸۸ ھ/ ۱۱۹۲ء میں دہلی کے شمال میں پانی پت کے قریب تھانیسر کے میدان میں لڑی گئی اور طلوع آفتاب سے لے کر سہ پہر تک جاری رہی۔ سلطان محمد غوری نے زرہ اور خود پہن کر فوج کی قیادت سنبھالی اوربارہ ہزار سواروں کو لے کر راجپوتوں کے ایک لاکھ بیس ہزار سورمائوں کے لشکرکے مقابلے کے لیے میدان میں نکل آئے بفضل اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی بلکہ تمام مشہور راجے واصل بہ جہنم ہو گئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اس عظیم الشان فتح نے مسلمانوں کو ہندوستان کا مالک بنا دیا۔ سلطان غوری کے دوسپہ سالاروں قطب الدین ایبک اور بختیارخلجی نے فتح کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے قنوج، بہار اور بنگال پر بھی قبضہ کر لیا۔ سلطان غوری کو مع تین محافظ ۳ شعبان ۶۰۲ھ مطابق ۱۵ مارچ ۱۲۰۶ء کو لاہور راولپنڈی کی جرنیلی سڑک کی ایک نوائی بستی دھمیک میں عشا کی نمازکے دوران دھوکے اور سازش سے اپنے خیمے میں شہیدکردیاگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ یہ اسی شہیدسلطان محمد غوری فاتح ہندوستان و بانیِ مسلم سلطنت کی جائے شہادت ہے۔ آخر میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب کی طرف سے بہ طور نذرانۂ عقیدت غالبؔ کا شعراور سنہ ۱۹۹۵ء درج ہے: مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیے بائیں جانب اسی عبارت کا انگریزی ترجمہ درج ہے۔ غالبؔ کے شعر کا مندرجہ ذیل ترجمہ کیاگیاہے: , , , , , ? اگرچہ اس عبارت میں ’جائے شہادت‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں لیکن اس عمارت کی سمت آنے والے راستوں سے لے کر خود ”لوح مزار“ تک اس مقام کو سلطان شہاب الدین غوری کی ”آخری آرام گاہ“ قراردیاگیاہے، انٹرنیٹ پر ”وکی پیڈیا انسائیکلوپیڈیا“ میں بھی اسی مقام کو غوری کا مدفن بتایاگیاہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ عمارت کے اندر باقاعدہ قبربناکر اس پر قرآنی آیات درج کی گئی ہیں۔ ”لوح مزار“ بنائی گئی ہے اور اس لوح پر صراحتاً ”آخری آرام گاہ“ کے الفاظ کندہ کیے گئے ہیں۔ قبرکے تعویذکے چاروں جانب دیواروں اور چھت پر آرائش اور خطاطی کے مختلف نمونے ہیں۔ عمارت کے اطراف میں درج منتخب قرآنی آیات کی خطاطی کا معیار بلند نہیں ہے، ہماری قدیم عمارات میں خطاطی کا معیار خاصا بلند رہا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "عمارت میںداخل ہوں تو سامنے ”لوحِ مزار“ کی پشت ہے جس پرسلطان کا قطعہ تاریخ وفات درج ہے جس کے اوپر ”جائے شہادت“ کے الفاظ مرقوم ہیں لیکن ”لوحِ مزار“ کے اندرونی جانب یاحی یاقیوم، بسم اللہ اورآیۂ شریفہ کُلُّ نَفسِ ذَائِقَۃُ المَوت کے بعدجو عبارت درج ہے وہ اس طرح سے ہے: آخری آرام گاہ سلطان شہاب الدین محمدغوری علیہ الرحمہ فاتح ہند، شہادت ۱۵ مارچ ۱۲۰۶ء بمقام دمیاک اس کے نیچے ذیل کی رثائی نظم درج ہے: ہندوستاں میں سطوتِ اسلام کا نقیب وہ پیکرِ شجاعت و سلطانِ ذی وقار تھی جس کے ساتھ خواجۂ اجمیر کی دعا جس تیغ زن کا حامی و ناصر تھا کردگار جس نے ملایا خاک میں کفار کا گھمنڈ آخر ہوا جو جنگِ ترائن میں کامگار دے کر شکست رائے پتھورا چوہان کو جیتا تھا جس غیور نے میدانِ کارزار بجتا تھا جس کے نام کا ڈنکا جہان میں اس نام ور کی باقی ہے بس اب یہ یادگار اپنے بھی جس کو بھول گئے تھوڑی دیر میں وہ غازی دفن ہے اسی مٹی کے ڈھیر میں میجر جنرل شیر علی، ہلال جرأت صرف ”لوح مزار“ ہی پر نہیں بلکہ اس نظم میں بھی ”وہ غازی دفن ہے اسی مٹی کے ڈھیرمیں“ کہہ کر اس مقام کو سلطان کا مدفن بتایاگیاہے۔ لوح کے بیرونی رخ پر جو قطعہ درج ہے، وہ منہاج سراج کی تاریخ طبقات ناصری سے لیاگیاہے۔ قطعے کے ساتھ اس کا ماخذ تو درج ہے مگر مکمل حوالہ نہیں ہے اور مصرعوں کو نثری ٹکڑوں کی طرح لکھاگیاہے۔ جہاں تک املا کا تعلق ہے تو پہلے ہی مصرعے ”شہادت ملک بحر و بر معزالدین“ کی کتابت میں بڑے اہتمام سے ”ملک“ کے میم پر پیش ڈالاگیاہے۔ جس کا مطلب ظاہر ہے، جب کہ شعر میں یہ لفظ مُلک نہیں بلکہ مَلِک ہے جس کا مطلب بادشاہ ہے۔ اسی طرح بعض بالکل غیرضروری نیز غلط اعراب استعمال کیے گئے ہیں مثلاً بحر کی ’با‘ کے نیچے کسرہ، ابتداکی ’دال‘ کو مکسور کرنا، سیوم کے ’سین‘ پر ضمہ، شعبان کے ’شین‘ کو کسرہ دینا، دوکی ’دال‘ پر فتحہ اور واو پر علامتِ سکون جزم، دمیک کی ’دال‘ پر علامتِ سکون جزم اور ’کاف‘ پر تنوین۔ طبقات ناصری کا مکمل حوالہ مع فارسی متن کے یہاں درج کیا جا رہا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یہ قطعۂ تاریخ طبقات ناصری کی جلد اول کے اٹھارویں طبقے کے دوسرے باب سے لیاگیاہے۔ اصل فارسی متن درج ذیل ہے: … چون مراجعت بغزنین کرد بردست فدائی ملاحدہ درمنزل دمیک درشہورسنۃ اثنین وستمائۃ شہادت یافت رحمۃ اللہ علیہ واسعۃ و یکی ازفضلای آن وقت درین معنی نظم کردہ است شہادت ملکِ بحر و بر معزالدین کز ابتدای جہان شہ چو او نیامد یک سیوم زغرہ شعبان بسا ل ششصد و دو فتا د د ر رہِ غز نین بمنز لِِ د میک طبقات ناصری ہی میں یہ وضاحت بھی درج ہے کہ سلطان کو شہادت کے بعد غزنی لے جایاگیا تھا۔ منہاج سراج نے لکھا ہے: چون سلطان غازی معزالدین محمدسام بہ دمیک شہادت یافت … مرقدسلطان معزالدین ازمنزل دمیک بجانب غزنین روان کرد ند۔ ملوک و امرائے ترک کہ موالی سلطان غازی بودند مرقد سلطان را باخزانۂ فاخر ازدست امرا وملوک بقہر بستند ودرقبض آوردند …، وچون مرقد بغزنین رسید بعد از دو روز سلطانان بامیان علاء الدین محمد وجلال الدین علی پسران سلطان بہاء الدین سام بامیانی باستدعاے امرائے غور چنانچہ سپہ سالار سلیمان شیش و سپہ سالار خروش ودیگرمعارف دارالملک غزنین ازطرف بامیان برسیدند ودرشہرغزنین آمدند۔ سلطان علاء الدین محمد سام بامیانی کہ پسر مہتر بود بتخت بنشست۔ ترجمہ: جب غزنہ لوٹا تو ایک باطنی فدائی کے ہاتھ سے منزل دمیک میں شہادت پائی۔ یہ ۶۰۲ھ کا واقعہ ہے۔ اس پر اللہ کی رحمت ہو۔ ایک فاضل نے یہ حادثہ نظم کر دیا تھا۔ وہ شعر یہاں اس لیے درج کیے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کے بادشاہ کی نظرسے گذریں۔ سلطان کی میت دمیک سے غزنہ کی طرف روانہ ہوئی توترک ملوک و امرانے جو سلطان غازی کے ملازم تھے، میت سلطانی اور کثیرمال و زر ملوک و امرائے غور سے بہ زور چھین کردونوں چیزیں اپنے قبضے میں لے لیں … میت غزنہ پہنچنے سے دو روز بعد بامیان کے سلطان علاء الدین محمد اورجلال الدین علی سلطان بہاء الدین سام کے فرزند امرائے غور مثلاً سپہ سالار سلیمان شیش و سپہ سالار خروش اور بعض دوسرے ممتاز اصحاب غزنہ کی استدعا پر بامیان سے آگئے، غزنہ میں داخل ہوئے سلطان بہاء الدین سام کے بڑے بیٹے علاء الدین محمدکو تخت پر بٹھایاگیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "منہاج سراج کی پیدائش ۵۸۹ھ/۱۱۹۳ء کی ہے۔ طبقات ناصری میں آخری اندراج خان اعظم الغ خان بلبن کاہے جو شوال ۶۵۸ھ /ستمبر۱۲۶۰ء میں کیا گیا۔ اسی زمانے میں ابن اثیرالجزری کی الکامل فی التاریخ لکھی گئی ہے۔ ابن اثیر کی تاریخ ولادت ۵ جمادی الاول ۵۵۵ھ/۱۳ مئی ۱۱۶۰ء اور اس کا سال وفات ۶۳۰ھ ہے۔ گویا شہاب الدین غوری کی شہادت کے وقت منہاج سراج کی عمر تیرہ برس اور ابن اثیرکی عمر سینتالیس برس کی تھی۔ یوں ابن اثیرکو منہاج سراج پر زمانی تقدم حاصل ہے۔ ابن اثیرنے سنہ ۶۰۲ھ/۱۲۰۵ء کے احوال میں لکھا ہے: اس سال شعبان کی پہلی رات میں لاہور سے مراجعت کے بعد ایک مقام پر جسے دمیک کہا جاتا ہے، شہاب الدین غوری قتل ہوا، یہ نماز عشا کاوقت تھا، اس کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ کھوکھرکفار کا ایک گروہ اس کے لشکر میں شامل ہوگیاتھا وہ اس کے قتل کے ارادے سے اس کے ساتھ ہو لیے تھے کیونکہ اس نے کھوکھروں کو غلام بنایااور قتل کیا تھا۔ اس کے بعد قتل کے حادثے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابن اثیربتاتاہے کہ: غوری کے ساتھیوںنے لشکرکو اکٹھے رکھنے اور خزانے وغیرہ کی محافظت کی خاطر غوری کی موت کو ظاہرنہ کیا۔ اس کی مرہم پٹی کر کے پالکی میں سوارکرکے ساتھ لے چلے اور اسی طرح کرمان پہنچے۔ یہ کرمان وہ ہے جو لاہور اور غزنہ کے درمیان واقع ہے، وہ نہیں جو فارس میں واقع ہے۔ یہاں تاج الدین یلدزنے اس لشکر اور شہاب الدین کا اسی طرح استقبال کیاجیسے وہ اس کی زندگی میں کرتا تھا لیکن جب اس نے پالکی کے اندردیکھا اور اسے غوری کی موت کا پتہ چلاتوشدت غم سے اس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور آہ و بکاکے ساتھ چیخ پکار شروع کر دی۔ اس کے بعد غوری کی میت کو غزنہ لے جایاگیا اور وہاں اس مدرسے میں اس کی تدفین عمل میں آئی جسے خود اس نے تعمیرکروایاتھا اور جس کی عمارت میں اس کی بیٹی دفن تھی۔ یہ قافلہ وہاں ۲۲ شعبان کو پہنچاتھا۔ ابن اثیرجیسے معاصر مؤرخ کی یہ شہادت واضح کر رہی ہے کہ غوری کا مدفن دمیک یا رہتک نہیں بلکہ غزنی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "عمادالدین اسماعیل ابی الفدا بھی اسی زمانے کا مؤرخ ہے جس نے اپنی المختصر میں اس حادثے کاذکرکرتے ہوئے لکھا ہے: ترجمہ: اس سال میں شعبان کی پہلی رات کو غزنہ اور خراسان کے بعض حصوں کا حکمران ابوالمظفرمحمدبن سام بن الحسین الغوری جب لاہور سے غزنہ کی طرف واپس جارہاتھا ایک مقام جسے دمیل کہا جاتا ہے، میں قتل ہوا۔ عشاکی نماز سے پہلے کھوکھروں کے ایک گروہ نے جب کہ وہ اپنے خیمے میں تھا اسے چھریوں کے وار کر کے قتل کر ڈالا۔ بعض کے مطابق وہ مفسدین اہل جبال کا ایک گروہ تھا جن پر غیاث الدین نے تاخت کی تھی۔ عمادالدین نے اگرچہ محض قتل ہی کا ذکرکیاہے تاہم اس سے متقدم مؤرخین کی طرح متأخرین نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے۔ طامس ولیم بیل کی مفتاح التواریخ میں لکھا ہے کہ: غیاث الدین غوری درسنہ پانصد نودونہ ہجری وفات یافت وبرادرش شہاب الدین محمدغوری بادشاہ غوروغزنی و ہندوستان گردید تاآنکہ کھکران درنواح لاہور عصیان ظاہرکردند و سلطان بنابرتنبیہ ایشان بہندوستان آمدوطوائف متمردان راسزادادہ۔ ہنگام معاودت دراثناء راہ بتاریخ غرہ ماہ شعبان روزسہ شنبہ سال ششصد و دوہجری دردمیک کہ دیہی است ازتوابع غزنی برکنار نیلاب ازدست یکی از فدائیان کھکر بقتل رسید تاریخ شہادت او ازالفاظ صاحب السریر استخراج بیابد وعزیزی درنظم آوردہ … الخ طامس ولیم بیل نے جو قطعۂ تاریخ شہادت نقل کیا ہے اس کے متن میں دیگرمتون سے یہ فرق ہے کہ مصرعہ اولیٰ میں معزالدین کی بجائے شہاب الدین مرقوم ہے جس سے اس قطعے کے ایک اور متن کی نشان دہی ہوتی ہے۔ اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دمیک جس کا دوسرے مؤرخین ذکر کر رہے ہیں کہاں واقع ہے۔ طامس ولیم بیل کے الفاظ میں وہ دیہی است ازتوابع غزنی برکنار نیلابیعنی سوہاوہ کے نزدیک واقع دمیک سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ زمانہ بعد کی تواریخ میں بھی ایسے ہی اشارے ملتے ہیں۔ بلکہ صاحب سیرالمتاخرین نے تو ”ذکررحلت معزالدین سام ازین جہان“ کے زیرعنوان بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ غوری، لاہور سے غزنی جاتے ہوئے شہید ہوا اور یہ کہ اس کا مشہد غزنی کے دیہات کے قریب واقع تھا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "پورااقتباس دیکھیے: سلطان شنیدکہ درنواح لاہورطائفہ کھوکھران عصیان ورزیدہ فتیلۂ فتنہ وشرارہ شرارت برافروختہ اندلہذا برائے تادیب آن گروہ ازغزنین روبلاہورآورد و ملک قطب الدین نیز از دہلی بخدمت سلطان رسیدہ باتفاق یکدیگرگوشمال آن جماعہ بی اعتدال کردند۔ سلطان بعدتنبیہ آن فرقہ و انتظام امورملکیہ از لاہورمعاودت بغزنین نمود چون نزدیک رسید در دہی ازدیہات غزنین ازدست فدائی کھوکھرکہ برکاب سلطان رفتہ بود باتفاقی کہ روداد درجہ شہادت یافت۔ گویند خزانہ بسیارازطلاونقرہ وجواہرزواہرازوماندازانجملہ پانصد من الماس کہ ازجواہرنفیسہ است بقلم درآمد و دیگراموال را ازہمین حال قیاس بایدکرد۔ صاحب روضۃ الصفا میرخواند نے ”بہ ہنگام بازگشت در منزل دمیک بدست فدائیان کشتہ شد واین در سوم شعبان سال ششصد و دوبود“ کی وضاحت کی ہے۔ محمد قاسم فرشتہ کی تاریخ فرشتہ کے مطابق: ۲ شعبان ۶۰۲ھ کو سلطان شہاب الدین دریائے سندھ کے کنارے پر پہنچا اور وہاں برمہیک نامی ایک مقام پر مقیم ہوا۔ یہاں کے قیام کے دوسرے روز سلطان شہاب الدین کے قتل کا المناک حادثہ وقوع پذیرہوا جس کی تفصیل یہ ہے کہ کھکروں کی قوم میں سے بیس افراد سلطان شہاب الدین سے بے حد نالاں تھے کیونکہ اس نے ان کے عزیزوں کو قتل اور خودان کو گھر سے بے گھر کردیاتھا۔ ان بیس کھکروں نے آپس میں مل کر شہاب الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایااور اس مقصد کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں۔ جس دن سلطان برمہیک کے مقام پر خیمہ زن ہوا اس کے دوسرے روز یہ کھکر کسی نہ کسی طرح شاہی خیمے تک پہنچ گئے اس وقت شاہی لشکر کوچ کی تیاریاں کررہاتھا اور فراش سراپردہ اتار رہےتھے۔ یہ قاتل شاہی خیمے کے اندر داخل ہو گئے۔ وہ شعبان کی تیسری رات تھی۔ ایک کھکر نے بڑھ کر دربان پر چاقوسے حملہ کیا اور بھاگ نکلا۔ اس دربان کے زخمی ہوتے ہی چاروں طرف ایک غلغلہ مچ گیا۔ شاہی خدمت گار بھی سراپردہ کو چھوڑ کر اس زخمی دربان کے پاس پہنچ گئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "جب کھکروں نے دیکھاکہ اس وقت شاہی خیمہ خالی ہے اور تمام محافظ اپنے بادشاہ کو تنہاچھوڑ کر زخمی دربان کے گرد جمع ہیں تو وہ لوگ سراپردہ کو پھاڑ کر ہاتھوں میں چھرے اورخنجر لیے ہوئے بادشاہ کی خواب گاہ میں داخل ہو گئے۔ اس وقت دوتین ترکی غلام بادشاہ کے پاس کھڑے تھے لیکن وہ ان کھکروں کو دیکھ کر سخت بدحواس ہوئے اور خوف کی وجہ سے بے حس و حرکت کھڑے رہے۔ شہاب الدین ابھی اٹھنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ ان سفاکوں نے اس پر حملہ کر دیا اور چھروں سے بائیس گہرے زخم اس کے جسم پر لگائے اور ایسے عظیم الشان فرمانروا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا، سلطان شہاب الدین کا قطعۂ تاریخ شہادت یہ ہے: شہادت ملک بحر و بر معزالدین کز ابتدای جہان مثل او نیامدیک سوم زغرہ شعبان بسال ششصد و دو فتاد در رہِ غزنی بمنزل رہتک یہ وہی قطعۂ تاریخ شہادت ہے جوخوانندگان کرام سطور گذشتہ میںملاحظہ فرماچکے ہیں لیکن اس کا متن طبقات ناصری میں درج متن کے مطابق نہیں ہے۔ دوسرے مصرعے میں ”شہ چواو“ کو ”مثلِ او“ کر دیا گیا ہے۔ تیسرے مصرعے میں ”سیوم“ کو ”سوم“ بنادیاگیاہے اور مصرعہ چہارم میں جاے شہادت کا نام ”دمیک“ کی بجائے ”رہتک“ کردیاگیاہے۔ نثری متن میں بھی جاے شہادت کا نام مختلف طریقوں سے لکھاگیاہے جس سے متن کی کمزوری ہی ظاہرنہیں ہوتی، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلطان کے مشہد کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ یہ سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع دھمیک تھا یا کوئی اورمقام ؟ اور دھمیک نامی مقام کا املا بھی اختلافی ہے۔ مختلف مصادر میں اس کے نام کی مختلف صورتیں مندرج ملتی ہیں۔ کہیں دمیل ہے تو کہیں دمیک، کہیں دمنّک کہیں دیبک کہیں رتھک کہیں دھمیک، مہیبک، دہیک، حتی کہ محولہ بالا ترجمے میں اسے ”رہتک“ تک لکھ دیاگیاہے۔ تاہم ان میں سے ”دمیک“ کو قابل ترجیح قرار دیا جا سکتا ہے جسے ابن اثیر اورصاحب طبقات ناصری نے استعمال کیا ہے۔ طبقات ناصری کے محقق عبدالحی حبیبی قندھاری نے ”دمیک“ کے محل وقوع پر ایک تعلیقہ لکھا ہے جس میں اختلافِ مقام کی بحث کی ہے اور ”دمیک“ کامحل وقوع جہلم کے قریب تسلیم کیا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "شہاب الدین غوری کے قتل کی روایات میںبعض دوسرے امور میں بھی اختلافات نظر آتے ہیں مثلاًجس رات شہاب الدین غوری کی شہادت ہوئی وہ شعبان کی پہلی رات تھی یا تیسری؟ وقتِ شہادت شہاب الدین اپنے بستر میں تھا یا حالتِ نماز میں؟ اسے قتل کرنے والاگروہ کون سا تھا۔ وہ کھوکھروں کا گروہ تھا گکھڑ تھے یااسماعیلی قرامطی تھے ؟ اگراہل جبال تھے تو اہل جبال سے کون مراد ہیں ؟ وغیرہ لیکن عبدالحی حبیبی صاحب نے ان امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی ہے اور یہ سوالات ہنوزجواب طلب ہیں۔ اردودائرہ معارف اسلامیہ میں شامل . . کے مقالے میں اس مقام کو دریاے سندھ کے قریب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: ۲۰ اکتوبر ۱۲۰۵ء کو اس نے غزنی سے ہندوستان کی طرف کوچ کیا اور قطب الدین ایبک کی مددسے کھوکھروں کو شکست دی لیکن غزنی کو واپسی کے وقت ۱۵ مارچ ۱۲۰۶ء کو دریاے سندھ کے کنارے آیا تواسمٰعیلیوں یا کھوکھروں نے اسے قتل کر دیا۔ افغانستان کے تحقیقی مجلے کابل میں شائع ہونے والے افغان فاضل یار محمدخان ترہ کئی کے ایک مقالے کی روسے، سلطان غوری کا مشہداور آخری آرام گاہ دونوں غزنی میں ہیں اورسلطان شہیدکی آرام گاہ پر گنبدتعمیرکیاگیاہے۔ ایک اور افغان فاضل آقای گویا نے بھی اس موضوع پر دادِتحقیق دی ہے اور اپنے نتائج تحقیق کا احصاکرتے ہوئے قراردیاہے کہ: ابن اثیر اور منہاج سراج جیسے معاصر مؤرخین نے سلطان کا مشہد دہک غزنہ کو قرار دیا ہے لہٰذا باقی اقوال ساقط الاعتبار ہیں۔ دہک اس زمانے میں غزنی کے معروف علاقوں میں سے تھا جیسا کہ اصطخری، ابن حوقل اور مقدسی کی تحریریں اس پر مظہرہیںیہ وہی مقام ہے جہاں معروف شاعر مسعودسعدسلمان سات برس تک مقید رہا اور جس کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ: ہفت سالم بسود سو و دہک ہفت سالم بسود سو و دہک یہ تمام شواہد اس امر پر دالّ ہیں کہ سلطان کا مشہد غزنی کے قریب واقع ایک قصبہ دمیک/ دہیک/ دہک یادھمیک ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "شہاب الدین غوری کی جائے شہادت اور مدفن؟"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اگراِکادُکامتاخرمصنفین اورعبدالحی حبیبی کی آرا ۲۱ کو تسلیم بھی کیا جائے تو بھی یہ حقیقت تو روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ شہاب الدین غوری کا مدفن غزنہ کی اس عمارت میں واقع ہے جواس نے خود تعمیرکروائی تھی اور جہاں اس کی بیٹی دفن ہے اور یہ کہ دھمیک واقع سوہاوہ ضلع جہلم سلطان کا مدفن نہیں ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "'داعش کو شکست دینی ہے تو لیبیا کو ہتھیار فراہم کریں'"
},
{
"role": "assistant",
"content": "امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا کی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے کو تیار ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف موثر کارروائی کر سکے۔ ویانا میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ عالمی طاقتیں لیبیا پر لگی ہتھیاروں کی پابندی ختم کرانے میں لیبیا کی مدد کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ لیبیا کے لیے ایک نیا خطرہ ہے اور یہ ضروری ہے کہ اس کو روکا جائے۔ گذشتہ ماہ لیبیا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر دولت اسلامیہ کو نہ روکا گیا تو و پورے ملک پر قابض ہو جائے گی۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا 'لیبیا کی حکومت ملک کو متحد کر سکتی ہے۔ یہ ایک واحد ذریعہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اہم تنصیبات ۔ ۔ ۔ نمائندہ اتھارٹی کے کنٹرول میں رہیں۔ ' ان کا مزید کہنا تھا کہ یہی ایک طریقہ ہے دولت اسلامیہ کو شکست دینے کا۔ یاد رہے کہ لیبیا پر سے ہتھیار خریدنے کی پابندی اٹھانے کی درخواست اقوام متحدہ کی کمیٹی ہی منظور کر سکتی ہے۔ تاہم لیبیا کی جانب سے کی جانے والی درخواست سے لگتا ہے کہ اس کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ درخواست منظور ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ لیبیا میں کرنل قدافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدۂ صدارت کی سب سے بدترین غلطی تھی۔ صدر اوباما امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز پر ایک انٹرویو میں اپنے دورِ اقتدار کے دوران کیے گئے اقدامات کے بارے میں بات کر رہےتھے۔ صدر اوباما نے قدافی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد کے حالات کے بارے میں مناسب منصوبہ بندی نہ کرنے پر اپنی غلطی کے اعتراف کے باوجود لیبیا میں مداخلت کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ صحیح اقدام تھا۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے لیبیا میں سنہ ۲۰۱۱ میں شہریوں کی حفاظت کے لیے لیبیا پر فضائی حملے کیے تھے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "'داعش کو شکست دینی ہے تو لیبیا کو ہتھیار فراہم کریں'"
},
{
"role": "assistant",
"content": "لیبیا میں سابق صدر قدافی کے قتل کے بعد لیبیا افراتفری کا شکار ہو گیا اور متحارب دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی اور دو متوازی پارلیمان اور حکومتیں قائم کر لی گئیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "۹۴ فیصد پاکستانیوں کا اعلان"
},
{
"role": "assistant",
"content": "' چند ' کا دعوی تھا کہ پاکستان میں اسلامسٹ بیانیے کو شکست ہو گئی ہے اور سیکولر لبرل پاکستان اب بنا کہ تب بنا ، میاں نواز شریف نے لبرل پاکستان کا بیان داغا تو گویا دل میں لڈو پھوٹنے لگے اور اشاروں اشاروں میں کہا جانے لگا کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے۔ نئے ریاستی بیانیے اور نئے نظریے کی بات ہوئی اور دور کسی کونے کھدرے سے محسوس ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ بھی یہی چاہتی ہے اور سرپرستی بھی کر رہی ہے تو سرگوشیاں شور میں بدلنے لگیں۔ سرخ انقلاب یہاں کیا آتا ماسکو سے بھی چلتا بنا مگر یار لوگوں کی پرانی خواہش لبرل پاکستان کی آڑ میں پھر انگڑائیاں لینے اور چوکڑیاں بھرنے لگی۔ جملہ نما مسخرے بازیوں سے محسوس ہوتا تھا کہ گویا چاندی ہونے والی ہے، بس کچھ ہی لمحے ہیں کہ اسلام، اسلام پسندوں سمیت پابند سلاسل ہوگا اور مرزا یار سنج گلیوں میں دو دو نازنیں محبوبائوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے رقص و سرود کی محفلین سجائیں گے اور نینوں اور صراحیوں سے بیک وقت جام لنڈھائیں گے، کوئی روکنے پوچھنے والا کیا ، ناپسند کرنے والا بھی پردے میں کہیں آہیں بھرے گا اور 'چند سب' کے سامنے آنے کے بجائے منہ چھپاتا پھرے گا۔ مسجدوں کے مینار خاموش ہوں گے، سمع خراشی سے نجات ملے گی اور نائٹ کلب کی مسحور موسیقی کانوں میں رس گھولے گی۔ شلوار قمیضوں، ڈاڑھی اور حجاب والوں سے نجات ملے گی کہ نظر کیا دماغ پر بھی گراں گزرتے ہیں، اور چہار طرف منی سکرٹ والی مغربی حسینائوں کے جمگھٹے میں دنیا خیالی نہیں حقیقی جنت کا منظر پیش کرے گی ، نسیم حجازی اور ابن صفی دریا برد ہوں گے اور منٹو اور چغتائی نصاب سے کردار تک چلتے پھرتے نظر آئیں گے، محمد بن قاسم کو بیک جنبش قلم واپس عرب بھیجیں گے اور راجہ داہر کتاب سے تاریخ تک گھوڑے دوڑاتا نظر آئے گا۔ فکر مودودی کا مال روڈ پر جنازہ نکلے گا اور باچا خانی بیانیہ کراچی تا پشاور اپنے پھریریے لہرائے گا۔ قرآن و سنت ، قرارداد مقاصد اور اسلامی آئین سے نجات پائیں گے اور 'مرضی والے' سیکولرزم کی حکمرانی میں خود میزان سنبھالیں گے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "۹۴ فیصد پاکستانیوں کا اعلان"
},
{
"role": "assistant",
"content": "حالیہ سروے نے مگر خواب و خیال کا شیشہ ایسے توڑا ہے کہ برسوں اس کی کرچیاں ' چند سب' کے دل و دماغ کو لہولہان کرتی رہیں گی، دہائیوں کی محنت اکارت ہوئی، اربوں ڈالر ضائع ہوئے، میڈیائی یلغار نے ناکامی کا منہ دیکھا ، دہشت گرد اور دہشت گردی کی گردان کر کے دین فطرت کا چہرہ صافی مسخ کرنے والے نامراد ٹھہرے، اسلام کو دہشت گردی کا مذہب بتانے والے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے خون کی ہولی کھیلنے کے باوجود عامۃ الناس کو متنفر نہ کر سکے، بلکہ ان ہتکھنڈوں کے نتیجے میں جنھیں متزلزل کرنا تھا، ان کا ایمان مضبوط ہوا، یقین میں بڑھوتری ہوئی ، ۲۰۱۳ کے اسی پیو سروے میں شرعی نظام کے حامیوں کی تعداد ۸۴ فیصد تھی جبکہ اب ۱۰ فیصد کے اضافے سے یہ تعداد ۹۴ فیصد ہے یعنی کہ پورا پاکستان۔ حقیقی ' ہم سب' نے کھلا اور واضح اعلان کیا کہ کسی لبرلزم اور سیکولرزم کے گرویدہ کیا اس کے پاس سے بھی نہیں گزرنا چاہتے، پاس کیا اس کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اسلام ہی ہمارا دین ہے، قرآن ہی ہمارے لیے راہ نجات ہے، اسلامی بیانیہ ہی پاکستان کی بنیاد ہے اور وہ اسے اللہ کی رسی سمجھ کر پوری قوت سے اسے تھام کر کھڑے ہیں۔ سروے میں ۹۴ فیصد یعنی پورے پاکستان نے بیک آواز کہا ہے کہ وہ ملک میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی چاہتے ہیں اور ۷۸ فیصد کے مطابق اس کا سختی سے نفاذ بھی ہونا چاہیے۔ معلوم ہوا کہ لبرل بیانیہ کا کہیں وجود ہی نہیں ہے کہ اسے شکست ہو، شکست ہونے کے لیے تو وجود کا ہونا ضروری ہے ۔ یہاں تو پورا پاکستان اپنے ہاتھوں میں اسلام اور قرآن کا علم اٹھائے کھڑا ہے اور 'چند سب' کی خواہشات کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں ' چند ایک' ہونے کے باوجود آئین اور جمہوریت کو ماننے سے انکاری ہیں اور اسے زبردستی قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، مگر شکست خوردگی ان کا مقدر ہے۔ یہ کل بھی ناکام تھے، آج بھی ناکام ہیں اور آئندہ بھی ناکام رہیں گے"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "رواں سال ایک ساتھ رمضان شروع ہونے کا امکان"
},
{
"role": "assistant",
"content": "مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں طلب کر لیا گیا ہے اسلام آباد : حکومتی کوششوں کے بعد ملک میں ایک ہی دن ماہ رمضان کا آغاز ہونے کا امکان ہے، پشاور کی مسجد قاسم خان کے مہتمم مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے قبل اپنی کمیٹی کا اجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال ملک بھر میں ماہ رمضان کا ایک ساتھ آغاز کرنے کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی قیادت میں وفد نے مسجد قاسم خان کے مہتمم مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، جس میں انہوں نے کئی مطالبات اور تجاویز پیش کیں۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی جانب سے چاند دیکھنے کے معاملے میں تعاون پر حکومت نے مفتی پوپلزئی کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں طلب کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم اب صرف مقامی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوگا جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں منقعد کرنے کا نوٹیفیکشین جاری کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا یہ بھی موقف تھا کہ ان کی رویت ہلال کمیٹی میں چاند کی شہادت دینے والا شخص خود حاضر ہوتا ہے جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا یہ طریقہ کار نہیں ہے۔ تین ہفتے قبل سردار یوسف نے کہا تھا کہ رواں سال رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور مں منعقد کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ چاند دیکھنے سے متعلق تمام مسائل اور اختلافات کو موقع پر ہی حل کیا جا سکے، حکومت ملک میں رمضان کے آغاز اور ۲ عیدوں کے معاملے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن یہ کام بہت مشکل ہے۔ رمضان المبارک ۱۴۳۷ ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ۶ جون بروز پیر کو چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ موسمیات کے کراچی کیمپ آفس میں ہوگا۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں رمضان کا چاند پیر کی شام نظر آنے کے قوی امکانات ہیں اور منگل ۷ جون کو ملک میں پہلا روزہ ہو سکتا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "رواں سال ایک ساتھ رمضان شروع ہونے کا امکان"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ماہرین فلکیات کے مطابق چاند نظر آنے کے لیے اس کی عمر ۲۶ گھنٹے ہونی چاہیے جبکہ پیر کی شام تک چاند کی عمر ۳۶ گھنٹے ہو جائے گی۔ دوسری جانب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بھی رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس کل ہی طلب کیا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق مسجد قاسم علی خان کے مہتمم مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا ہے کہ پشاور کی مقامی کمیٹی کا آج کوئی اجلاس نہیں ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چاند کے حوالے سے کوئی بھی شہادت ملنے پر وفاقی وزیر مذہبی امور سے رابطہ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں رمضان المبارک اور عیدالفطر کے چاند کے معاملے پر تقریباً ہر سال تنازعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی جانب سے ہر سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلانات کے برعکس ایک دن قبل ہی چاند دیکھنے کا اعلان کیا جاتا رہا ہے ہے۔ گذشتہ برس بھی مفتی پوپلزئی کی جانب سے عید الفطر ۱۷ جولائی جمعہ کو منانے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ ملک بھر میں عیدالفطر کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ایک روز بعد اسلام آباد میں ہوا اور کمیٹی کے اعلان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں عید ہفتہ ۱۸ جولائی ۲۰۱۵ کو منائی گئی، اسی طرح رمضان کے پہلے روزے کے حوالے سے بھی دونوں میں اختلاف سامنے آیا تھا۔ مفتی پوپلزئی موصول ہونے والی شہادتوں کو، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے رد کیے جانے کو خیبر پختونخوا سے زیادتی کے مترادف قرار دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے جدید سائنسی حسابات کے مطابق ہوتے ہیں جبکہ مسجد قاسم علی خان کے فیصلے اکثریتی طور پر سائنسی اعتبار سے ناممکن ہوتے ہیں۔ سائنس کی مدد لیے بغیر چاند نظر آنے یا نہ آنے کا بالکل درست فیصلہ کرنا چونکہ مشکل ہے، اس لیے مسجد قاسم علی خان کے فیصلے اگر غلط نہ بھی ہوں، تب بھی مشتبہ ہوتے ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "رواں سال ایک ساتھ رمضان شروع ہونے کا امکان"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یہ بھی پڑھیں : رمضان المبارک، متفقہ آغاز کیلیے حکومتی کوشش سرکاری اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے درمیان اختلافات نئی بات نہیں، یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے اور دونوں کمیٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے کی شہادتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔ یوں تو چارسدہ، مردان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں مقامی طور پر رویت ہلال کی بہت سی کمیٹیاں قائم ہیں جو ہر سال اپنے طور پر فیصلے کرتی رہی ہیں، تاہم ان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی کمیٹی کو سب سے زیادہ بااثر خیال کیا جاتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تقریباً ۷۰ سے ۸۰ فیصد لوگ مفتی پوپلزئی کی کمیٹی کے اعلان کے مطابق ہی رمضان کا آغاز کرتے ہیں اور عید الفطر مناتے ہیں، اس کمیٹی کے صوبہ کے دیگر اضلاع کی کمیٹیوں کے ساتھ بھی رابطے قائم ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی مسجد قاسم علی خان مبینہ طور پر گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے رمضان کی آمد اور عید الفطر کے حوالے سے فتوے جاری کر رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ پوپلزئی خاندان پچھلے ۸۰ سالوں سے اس مسجد کا انتظام بھی سنبھالتا آرہا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "پاکستان اور انگلینڈ دوسرے ون ڈے میں آج مدمقابل ہوں گے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ون ڈےآج ابوظبی میںکھیلا جائے گا، چار میچوں کی سیریز میں گرین شرٹس کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام ۴ بچے شروع ہوگا۔ پہلے ون ڈے میں شاندار پرفارمنس اور جیت کے بعدگرین شرٹس کے حوصلے آسمانوں کو چھورہے ہیں۔ اظہر علی اینڈ کمپنی گذشتہ روزسخت ٹریننگ میں مصروف رہی ، گرین شرٹس کی کوشش ہے کہ یہ میچ جیت کر پوزیشن مضبوط بنالی جائے۔ ٹیم مینجمنٹ کے ذرائع کے مطابق پہلے ون ڈے کے بعد ریٹائرمنٹ لینے والے یونس خان کی جگہ محمد رضوان کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ دوسری جانب اوئن مورگن اپنی ٹیم کی پرفارمنس سے کچھ اپ سیٹ ہیں لیکن پر امید ہیں کہ یہ میچ جیت کر مخالف پر یشرڈال سکتے ہیں ۔ دبئی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں پاکستان نے انگلینڈ کو ۶ وکٹوں سے شکست دی تھی"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "توہین رسالت ﷺ کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہیں ۔ شیرانی"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قوانین پر نظرثانی کرنے کو تیار ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے محمد خان شیرانی نے کہا کہ وہ اس حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں اس قانون کے تحت دی جانے سزا انصاف پر مبنی ہے یا نہیں۔ اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو باضابطہ طور پر توہین رسالت کے قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانا چاہیے، اس مسئلے پر متعدد علماء مختلف قسم کی رائے کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھجوائے جانے کے بعد کونسل تجویز دے سکتی ہے کہ آیا اس قانون کو اسی شکل میں رکھا جائے یا مزید سخت کیا جائے یا پھر اس میں نرمی کی جائے۔ ماضی میں اسلامی نظریاتی کونسل کم عمری میں شادی پر پابندی کو غیر اسلامی قرار دے چکی ہے تاہم شیرانی نے انٹرویو میں اس حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ نہیں کیا۔ پارلیمنٹ میں جمیعت علمائے اسلام کی نمائندگی کرنے والے مولانا شیرانی کا موقف ہے کہ شادی کے معاملے پر ریاست کو ایک حد تک ہی مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوغت کی عمر پر پہنچنے کے بعد ہر شخص کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی یونین کو مسترد کر دے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تین فیصد لڑکیوں کی شادی ۱۵ سال سے بھی کم عمر میں کر دی جاتی ہے جبکہ ۲۱ فیصد ۱۸ سال سے قبل بیاہ دی جاتی ہیں۔ شیرانی کے مطابق پاکستان کے متعدد قوانین، اسلامی قوانین سے مماثلت نہیں رکھتے اور وہ حکومت کو ان پر نظرثانی کرنے کی تجویز دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی جانب سے قتل کے مجرمان کو معافی کا اختیار دینا انہی قوانین میں سے ایک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مغربی ممالک کے مفادات کا دفاع کرتی ہے، حکومتی نظریے اور اسلام قوانین کو ایک نہ سمجھا جائے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ملحدین کی نفسیات"
},
{
"role": "assistant",
"content": "آپ ان ملحدین سے الحاد کی تعریف پوچھ کر دیکھیے، بہت مشکل ہے کہ دو ملحد کوئی ایک تعریف آپ کے سامنے رکھ پائیں. کوئی خوش فہم ملحد اسے روشن خیالی کا نام دے گا تو کوئی مذہب کے خلاف مدافعت کا !"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ملحدین کی نفسیات"
},
{
"role": "assistant",
"content": ".. کوئی اسے عقل و شعور کی معراج بتائے گا تو کوئی اسے علمی انقلاب سمجھنے کے مرض میں گرفتار ہوگا. حقیقت یہ ہے کہ الحاد آج ایک خود ساختہ اور بند ذہن کے مذہب کی صورت اختیار کر گیا ہے. مذہب پر کیچڑ اچھالتے اچھالتے آج یہ خود ایک مذہب کا روپ دھار چکے ہیں. یہ صرف زبان سے دلیل کی بات کرتے ہیں مگر ان کے کردار پر تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے. کسی نام نہاد جنونی مذھبی کی طرح ذرا سی بات پر آگ بگولہ ہو جانا، گندی زبان کا استمعال کرنا، انسانیت کا صرف نام لینا مگر دوسرے انسانوں کی قابل احترام شخصیات کی تضحیک کرنا، دنیا کی ہر برائی کو زبردستی مذہب سے جوڑنا، الحاد پر کسی حوالے سے بھی تنقید نہ کرنا، صرف اپنے حق میں موجود کتابوں کا مطالعہ کرنا اور الہامی کتابوں پر تحقیق سے انکار کرنا، مکالمہ کی آڑ میں اپنی نفرت و بغض کا اظہار کرنا وغیرہ .. یہ سب آج کے ملحد کے خد و خال ہیں. ان کا حال یہ ہے کہ امریکہ، انگلینڈ کی مالا ایسے جپتے ہیں جیسے یہ ممالک ملحد ہوں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے. آج ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جو خود کو ملحد کہتا ہو اور دعا کریں کہ الله انسانیت کو ان کا اقتدار نہ دکھائے. کیونکہ یہ تو ایسے تنگ نظر ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں. تاریخ گواہ ہے کہ جوزف سٹالن اور مسولونی جیسے کتنے ہی ملحد ذہنیت کے افراد نے کروڑوں بیگناہوں کی جان لی مگر مذہب نے کبھی اس ظلم کا ناطہ الحاد سے نہیں جوڑا. دوسری طرف ان ملحدین کا یہ حال ہے کہ یہ ہر سیاسی مقاصد پر کی گئی قتل و غارت کو بھی زبردستی مذہب سے جوڑ دیتے ہیں. آئین سٹائن ، نیوٹن جیسے ہزاروں لاکھوں سائنسدان گزرے جو خدا پر یقین رکھتے تھے اور جنہوں نے سائنس کو اس کی اصل بنیاد عطا کی مگر ہم نے کبھی سائنس کو دینیت اور لادینیت کی بحث میں نہیں الجھایا مگر ان کا حال یہ ہے کہ آج جو سائنسدانوں میں ملحدین کی تعداد زیادہ ہے تو یہ پوری سائنس کو ہی اپنے والد صاحب کی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں. سوچنا یہ ہے کہ آج تک انہیں اقتدار حاصل نہیں ہوا ہے تب یہ انسانیت کو اتنا نقصان پہنچاتے رہے ہیں، کہیں انہیں طاقت حاصل ہو گئی تو تنگ نظری کی وہ مثالیں قائم ہونگی جو انسان کو انسانیت کے شرف سے محروم کر دیں. ڈاکٹر علی شریعتی ٭ عالم اسلام کے مشہور دانشور اور انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش ۲۳ نومبر ۱۹۳۳ء ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ملحدین کی نفسیات"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ڈاکٹر علی شریعتی ایران میں مشہد کے مضافات میں میزنن کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ ۱۸ برس کی عمر میں انہوں نے تدریس کے پیشے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۴ء میں انہوں نے فرانس کی مشہور سوربون یونیورسٹی سے سوشیولوجی میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ وطن واپسی پر وہ دوبارہ مشہد یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے۔ ایک مسلمان ماہر عمرانیات کی حیثیت سے انہوں نے مسلم معاشروں کے مسائل کے حل کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں پرکھنا شروع کیا اور انہی اصولوں کے مطابق ان کے حل تجویز کیے، جلد ہی انہیں طالب علموں اور ایران کے مختلف سماجی حلقوں میں مقبولیت حاصل ہونا شروع ہو گئی جس سے خائف ہو کر حکومت ایران نے ان کا تبادلہ مشہد سے تہران کر دیا۔ تہران میں ڈاکٹر علی شریعتی کی زندگی کا ایک انتہائی فعال اور روشن دور شروع ہوا۔ یہاں انہوں نے ایک مذہبی ادارے حسینیہ ارشاد میں لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا جس کے شرکا کی تعداد رفتہ رفتہ ہزاروں تک پہنچ گئی۔ حکومت نے ان کی اس مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ان کے لیکچرز پر پابندی لگا دی اور انہیں قید کی سزا سنا دی تاہم عوام کے دبائو اور بین الاقوامی احتجاج کے باعث ۲۰ مارچ ۱۹۷۵ء کو انہیں رہا کر دیا گیا، تاہم ان پر اپنے خیالات کی اشاعت اور اپنے طالب علموں سے ملاقات کرنے پر پابندی عائد رہی۔ اس صورت حال میں ڈاکٹر علی شریعتی نے انگلینڈ ہجرت کا فیصلہ کیا تاہم وہاں بھی شاہ کے کارندے ان کا پیچھا کرتے رہے اور ۱۹ جون ۱۹۷۷ء کو انہیں شہید کر دیا گیا۔ ڈاکٹر علی شریعتی کے متعدد لیکچرز کتابی صورت میں شائع ہوئے اور ان کے لاتعداد کیسٹس ایران میں گھر گھر تقسیم ہوئے۔ وہ علامہ اقبال کے مداحین میں شامل تھے اور انہوں نے اقبال کے حوالے سے بھی کئی لیکچرز دیئے تھے جنہیں کتابی شکل میں بھی شائع کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی دیگر تصانیف میں فاطمہ فاطمہ ہے، علی اور تنہائی، حج، مارکسزم اور مغربی مغالطے، مشن آف اے فری تھنکر، علی، مذہب بمقابلہ مذہب، جہاد اور شہادت اور سرخ شیعت کے نام سرفہرست ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ملحدین کی نفسیات"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ڈاکٹر علی شریعتی کو انقلابِ ایران کامعمار تسلیم کیا جاتا ہے۔ انقلاب ایران کے بعد ایران میں نہ صرف ان کی تصانیف کی اشاعت ممکن ہوئی بلکہ ان کا مجسمہ بھی نصب کیا گیا اور ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "دیپکا اور رنبیرکپور ۲۲ نومبرکو پاکستان آئیں گے"
},
{
"role": "assistant",
"content": "بالی ووڈ اداکارہ دیپکا پڈوکون اور اداکار رنبیر کپور ۲۲ نومبرکو بھارتی ہدایتکار امتیازعلی کی فلم \" تماشا\" کے پریمیئر میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے جب کہ فلم کاپریمیئر نیوپلیکس سینما میں ۲۲ نومبر کی شام کوہوگا۔ دونوں فنکاروں کی پاکستان آمد پر مقامی فنکاروں کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا، جب کہ دونوں فنکاروں کی کراچی میں فلم کے پریمئرشومیں شرکت کے ساتھ پاکستانی فلم انڈسٹری کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں جس میں پاکستانی ڈائریکٹرزدونوں فنکاروں کو مشترکہ فلم کے لیے سائن بھی کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں فنکاروں نے ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کروادیاہے دونوں فنکاروں کی پاکستان آمدویزے سے مشروط ہے۔ واضح رہے کہ فلم \"تماشا\" میں رنبیر کپور ہیرو اور دیپکا پڈوکون نے بطور ہیروئن کام کیا ہے جب کہ پاکستانی اداکار جاوید شیخ والد کا کردار نبھارہے ہیں فلم کی دیگر کاسٹ میں پونم سنگھ ،فرازسرویا،نکی بھگت نمایاں نام شامل ہیں۔ ساجد نڈیاڈوالا کی پروڈکشن میں بنائی جانیوالی فلم کی موسیقی اے آررحمان نے دی ہے جب کہ سکھویندرسنگھ، ارجیت سنگھ، موہیت چوہان، لکی علی، میکاسنگھ، اے آررحمان اور الکایاگنک کے گائے ہوئے گیت شامل ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "کینیا میں بارش اور سیلاب نے تباہی مچادی، ۷ افراد ہلاک"
},
{
"role": "assistant",
"content": "نیروبی :کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں بارش اور سیلاب نے تباہی مچادی، ۶ منزلہ عمارت گرگئی،مختلف حادثات میں ۷ افراد ہلاک ہو گئے۔ سیلاب اوربارش کے باعث کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں چھ منزلہ عمارت گرگئی، رہائشی عمارت میں تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کئی بچوں کو عمارت کے ملبے سے نکال لیا گیا ، جبکہ چار زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا، ریسرچ اور ریسکیو امدادی کاموں میں مصروف ہیں ۔ دوسری جانب بارش اور سیلاب کے باعث چار افراد ہلاک ہو گئے، اب تک مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ماہِ مقدس میں مہنگائی اور منافع خوری"
},
{
"role": "assistant",
"content": "رمضان کریم کے بابرکت مہینے کا آگاز ہوا چاہتا ہے، اہلِ ایمان کے چہروں پہ نور اور قلب و ایمان میں سرور کا یہ مقدس موسم روحانی تسکین کا سامان لاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں رمضان کے فیضان سے کچھ افراد اپنی ناانصافیوں کی بدولت محروم رہتے ہیں جیسے کہ ہر سال ماہ صیام کا آغاز ہوتے ہی مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔ ملک میں روزمرہ کی عام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب رمضان آتا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ کمائی اور منافع کا مہینہ سمجھتے ہوئے ہر چیز کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے اور غریب آدمی اس مہینے میں رحمتوں کو سمیٹنے کے بجائے اپنا نان نفقہ پورا کرنے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ مہینہ ان کے لئے ذہمت سے کم نہیں ہوتا۔ رمضان المبارک میں شیطان تو قید کر دیا جاتا ہے مگرتاجروں کے روپ میں کچھ افراد اس مبارک مہینے کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کے جن کو آزاد کر دیتے ہیں، رمضان کی آمد سے پہلے ہی منافع خوروں کی جانب سے اشیاء خوردونوش سمیت پھلوں کی قیمتیں آسمان پرپہنچادی جاتی ہیں۔ بازراوں میں سحر و افطار میں استعمال ہونے والی اشیاء مثلا سبزی ، مرغی کا گوشت اور دودھ کسوسیت کیساتھ مہنگا کیا جاتا ہے۔ تاجروں اور دوکانداروں کا یہ وطیرہ اسلام کی روح کے منافی ہے۔ دنیا بھر میں جب کوئی مذہبی یا عوامی تہوار آتے ہیں تو شہریوں کی سہولت کے لیے اشیائے خورونوش کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ رمضان المبارک سے قبل ہی مہنگائی نے عوام کی کمر پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، ماہ ِمقدس سے پہلے شہر و ں اور گرد و نواح میں گراں فروش متحرک ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اشیا خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ بازار میں اشیائے خوردونوش ہوں یا ضروریارتِ زندگی کا سامان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "ماہِ مقدس میں مہنگائی اور منافع خوری"
},
{
"role": "assistant",
"content": "جہاں اس مکروہ دھندے میں منافع خوروں کی جانب سے ظلم روا رکھا جا رہا ہے وہیں پر اس معاملے میں انتظامیہ کی لاپرواہی بھی عروج پر ہوتی ہے، منافع خورون کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ، اور وہ دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ کر اس ماہِ مقدس کےتقدس کو پامال کر رہے ہوتے ہیں۔ رمضان میں مہنگائی کا رونا صرف صارف نہیں روتا ، بلکہ دکاندار بھی ہول سیل مارکیٹ میں آنے والےمہنگائی کےطوفان کا رونا روتا ہے۔ ماہ صیام یوں تو نیکی کمانےکامہینہ ہے،تاہم مہنگائی کے بڑھتے طوفان کا سامنا کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ماہ مقدس کو دنیا نے ناجائز کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ہم کب تک لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے؟ بحثیتِ مسلمان ہم سب کو ایک دوسرے کی بھلائی اور سہولت و آسانی کا سامان مہیا کریں، رواداری اور حسنِ سلوک کا درس تو ہمارا دین بھی ہمیں دیتا ہے، اور اس ماہَ مقدس میں ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ ہم ایک دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ، اس میں حتی الامکان اعتدال اور انصاف پیدا کریں تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کی برکات اور نورانیت سے حقیقت میں مستفید ہو سکیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "مجھے بدنام کیا جا رہا ہے : عمر اکمل"
},
{
"role": "assistant",
"content": "قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا مجھے بدنام کیا جا رہا ہے اگر کسی کے پاس میرے خلاف ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل نے قومی ٹیم سے باہر ہونے کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں بے قصور ہوں اور مجھے بدنام کیا جا رہا ہے، میں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا اور اگر کسی کے پاس میرے خلاف ثبوت ہے تو سامنے لائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ٹیم سے ڈراپ کیوں کیا گیا میں تو ٹیم مینجمنٹ کو بتا کر کسی کے گھر کھانے کی دعوت پر گیا تھا جہاں کچھ کھلاڑی بھی میرے ساتھ تھے جن کے نام نہیں لوں گا۔ عمر اکمل نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے جان تک قربان کر دوں گا جب کہ شوکاز نوٹس کا جواب ضرور دوں گا اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات غلط ثابت کروں گا تاہم اس معاملے پر چیرمین پی سی بی سے ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی، لاہور جا کر پی سی حکام سے بات کروں گا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اردو میں تذکرہ نویسی کی روایت اور اس پر تحقیق و تجزیے کا سلسلہ نیا نہیں۔ اردو کی ادبی تنقید کا آغاز تذکروں ہی سے ہوتا ہے۔ تذکرہ نویسی کی یہ روایت اردو میں فارسی سے داخل ہوئی ہے اور اٹھارویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک، چند مستثنیات کے سوا، اردو شعرا کے تذکرے زیادہ تر فارسی زبان ہی میں لکھے جاتے رہے۔ بعد ازاں اردو میں تذکرہ نویسی کی روایت کاآغاز ہوا۔ اردو میں لکھے جانے والے ابتدائی تذکروں میں گلشنِ ہند تذکرۂ حیدری ، انتخابِ دواوین ، گلدستۂ نازنیناں ، خوش معرکۂ زیبا ، طبقات الشعراے اردو ، مخزنِ شعرا اور سراپا سخن وغیرہ شامل ہیں۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں بھی متعدد تذکرے لکھے گئے۔ فرمان فتح پوری صاحب نے اپنے مقالے اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری میں اردو شعرا کے کل اڑسٹھ تذکروں کی فہرست مرتب کی ہے۔ اس فہرست میں درج تذکروں میں سے تیس تذکرے اردو میں لکھے گئے ہیں۔ یہ فہرست آب حیات پر ختم ہوتی ہے لیکن آب حیات کے بعد بھی کئی تذکرے لکھے جاتے رہے جو وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ اب بھی اکادکا تذکروں کی دریافت اور تدوین و ترتیب کی خبر ملتی رہتی ہے۔ یہ بات بھی بعید از امکان نہیں کہ ابھی تک نجانے کتنے ایسے تذکرے ہوں گے جو یورپ اور ہندوستان و پاکستان کے کتب خانوں میں قدیم مخطوطات کے انبار میں دبے، اپنی دریافت و نمود کے منتظر ہوں گے۔ ایسا ہی ایک تذکرہ فروری ۲۰۱۳ء میں اوکسفرڈ یونی ورسٹی کے معروف کتب خانے، بوڈلئن لائبریری کے ایک ایسے گوشے میں، جہاں نسبتاً کم معروف مخطوطات کا ایک مختصر سا ذخیرہ موجود ہے، راقم الحروف کے ہاتھ لگا۔ ذیل میں اس قلمی نسخے کا اجمالی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ مخطوطے کی ورق شماری کے مطابق یہ نسخہ بڑے سائز کے ۹۴ اوراق پر مشتمل ہے۔ ورق شماری کا آغاز باب اول کے متن سے ہوتا ہے۔ ابتدائی پانچ اوراق، جن میں فہرست شامل ہے، اس تعداد میں شمار نہیں کیے گئے۔ متن کاغذ کے ایک طرف لکھا گیا ہے۔ اس طرح متن کے کل اوراق کی تعداد ۹۹ ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ان میں سے آخری دو اوراق خالی ہیں مگر ان پر نمبر درج کیا گیا ہے۔ نسخے کے درمیان میں بھی چند اوراق خالی ہیں۔ مثلاً نمبر ۶۰ اور ۶۱ خالی ہیں، نمبر ۸۱ اور ۸۲ خالی ہیں اور نمبر ۳۳ پھٹا ہوا ہے۔ مخطوطے کا کاغذ پیلا اور سستی قسم کا ہے۔ فہرست مضامین کو چھوڑ کر باقی تمام متن باریک قط کے قلم اور سیاہ روشنائی سے، خطِ نستعلیق میں لکھا گیا ہے۔ صرف شعرا کے اسما لکھنے کے لیے بڑے قط کا قلم استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے چار صفحات پر موٹے قلم سے فہرست مضامین درج کی گئی ہے۔ یہ فہرست کل بارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس میں ۹۱ شعرا کے نام درج ہیں تاہم تذکرے کے متن میں ان میں سے چار شعرا کا ذکر موجود نہیں۔ ان میں سے دو تو استاد سرب سنگھ اور مونس ہیں، جن کے ناموں کی سرخیاں تو درج کی گئی ہیں مگر ان کے ذیل میں کچھ صفحات خالی چھوڑ دیے گئے ہیں۔ غالباً بعد میں لکھنے کا خیال ہو گا جو پورا نہیں ہو سکا۔ تیسرا نام خلق کا ہے جسے فہرست میں وزیر کے شاگردوں کی ذیل میں درج کیا گیا ہے۔ اسی ذیل میں آخر میں ایک اور نام ”قلق“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ فہرست کو بغور دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نام کا اضافہ بعد میں کیا گیا ہے۔ تاہم متن میں ”خلق“ کی جگہ ”قلق“ کا حال لکھا گیا ہے۔ غالباً فہرست میں قلق کے بجائے خلق کا اندراج سہو املا کا نتیجہ ہے۔ خلق تخلص رکھنے والے ایک شاعر کا ذکر نساخ نے سخن شعرا میں بھی کیا ہے مگر وہ ”میر احسن خلف و شاگرد میر حسن دہلوی، صاحبِ مثنوی بدر منیر، باشندۂ لکھنؤ“ ۵ ہیں۔ معلوم نہیں یہاں جن خلق صاحب کا تذکرہ لکھنا چاہتے تھے وہ یہی ہیں یا کوئی اور۔ چوتھا نام فخر کا ہے جس کا ذکر آخری باب میں شاگردان قتیل کی ذیل میں کیا گیا ہے لیکن متن میں فخر کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اس تذکرے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کی ترتیب میں دیگر مروج طریقوں سے قدرے مختلف التزام روا رکھا گیا ہے۔ یہ تذکرہ نہ تو الف بائی ترتیب سے مرتب کیا گیا اور نہ زمانی ترتیب سے؛ بلکہ اس کی ترتیب میں استاد شعرا اور ان کے شاگردوں کے تذکرے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "فہرست کی ترتیب اساتذہ کے نام سے قائم کی گئی ہے اور ہر استاد شاعر کے ذیل میں اس کے شاگردوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تمام شعرا کا تعلق لکھنؤ سے ہے یا کم از کم زندگی کے آخری یا کسی نہ کسی مرحلے پر وہ لکھنؤ میں قیام پذیر رہے ہیں اور یہاں اپنے تلامذہ کا حلقہ پیدا کیا ہے۔ یہ فہرست ذیل میں نقل کی جا رہی ہے کیونکہ اسی سے تذکرے کے متن کی وسعت اور اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ باب اول: استاد مصحفی اور اس کے شاگردوں کے بیان میں مصحفی۔ انشا۔ خلیق۔ شہیدی۔ ضمیر۔ ظریف۔ عاقل۔ موجی۔ ہوس۔ گرم۔ باب دوم: استاد آتش اور اس کے شاگردوں کے بیان میں آتش۔ اصغر۔ افضل۔ بسمل۔ خلیل۔ رند۔ سرور۔ شرر۔ شرف۔ منتہی۔ باب سوم: استاد صبا اور اس کے شاگردوں کے بیان میں صبا۔ ریحان۔ ازل۔ کیف۔ ہنر۔ باب چہارم: استاد ناسخ اور اس کے شاگردوں کے بیان میں ناسخ۔ آباد۔ آشنا۔ بحر۔ ثاقب۔ رشک۔ آرزو۔ شائق۔ شہید۔ صحبت۔ عرش۔ احقر۔ قبول۔ کیوان۔ مسیحا۔ باب پنجم: استاد برق اور اس کے شاگردوں کے بیان میں برق۔ تسخیر۔ احسن۔ اشک۔ خورشید۔ باب ششم: استاد وزیر اور اس کے شاگردوں کے بیان میں وزیر۔ خلق۔ گویا۔ محسن۔ تقی۔ قلق۔ باب ہفتم: شاعران ریختی گو کے بیان میں عاشور۔ جان صاحب۔ خلیل اسحاق۔ رنگین۔ مخلوق۔ نسبت۔ باب ہشتم: استاد سرب سنگھ اور اس کے شاگردوں کے بیان میں سرب سنگھ۔ پروانہ۔ حسرت۔ جرات۔ قیس۔ حقیقت۔ باب نہم: استاد نوازش اور اس کے شاگردوں کے بیان میں نوازش۔ سرور۔ دلگیر۔ امانت۔ باب دہم: استاد طوطا رام اور اس کے شاگردوں کے بیان میں طوطا رام۔ زار یعنی میڈو لال۔ شوق۔ مقبول۔ باب یاز دہم: شاعران مرثیہ گو کے بیان میں دبیر۔ انیس۔ باب دواز دہم: شاعران متفرق کے بیان میں جوش۔ آصف۔ رحمت۔ عباس۔ اختر واجد علی شاہ۔ ذکی۔ مونس۔ سوز۔ فریاد۔ بقا۔ اخترو فخر، شاگردان مرزا قتیل۔ انور علی۔ ادراک۔ فخر۔ اشرف۔ تذکرے کا متن قدیم املا میں لکھا گیا ہے۔ فہرست کے مطابق تذکرے کا مکمل متن اس نسخے میں موجود ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "متنی شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ تحریر ۱۸۸۷ء سے قبل اور ۱۸۷۲ء کے بعد کا ہے۔ تذکرے کے مصنف کا نام پورے متن میں کہیں بھی درج نہیں ہے لیکن ایک ایسی داخلی شہادت مل جاتی ہے جس سے مصنف کا قطعی طور پر تعین کیا جا سکتا ہے۔ اس شہادت کے مطابق یہ تذکرہ کلکتہ کے معروف شاعر، تذکرہ نویس اور علمی و ادبی شخصیت عبد الغفور نساخ کا تحریر کردہ ہے۔ اس بات کا یقین یوں ہوتا ہے کہ باب دوم میں شاگردانِ آتش کے بیان میں ایک شاعر اصغر کا حال درج ہے۔ نواب ظفر الدولہ علی اصغر خان اودھ کے طبقۂ امرا سے تعلق رکھتے تھے۔ سقوطِ اودھ کے بعد کچھ مدت کے لیے کلکتہ بھی مقیم رہےتھے۔ شاعری میں آتش کے شاگردتھے۔ ان کی سوانح بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: اصغر: تخلص اصغر، ظفر الدولہ معتبرالملک، رفیع الامرا، نواب علی اصغر خان بہادر، ناصر جنگ، وزیر ابو ظفر بہادر شاہ، جنت آرام گاہ دہلی، خلف مولوی علی اکبر، شاگرد خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی، داماد نواب زیر الدولہ بہادر، غلام یحیٰ خان صاحب بہادر وزیر بادشاہ محمد علی شاہ پسر نواب سعادت علی خان بہادر وزیر اودھ، وطن ان کا خاص کشمیر ہے۔ مولد و مسکن خاص لکھنؤ میں ہے۔ نہایت فیاض تھے۔ اکثر شریفوں سے سلوک کرتے تھے۔ اس زمانے میں صدہا آدمی سرکار بادشاہ میں نوکر رکھوا دیے۔ اپنے اہل محلہ کی نہایت خاطر کرتے تھے۔ ہر وقت شاعروں کی صحبت رہتی تھی، سوائے اس چرچہ کے اور کوئی ذکر زبان پر نہ لاتا تھا۔ ہر مشاعرے میں شریک ہوتے تھے۔ جب سے غدر ہوا اور لکھنؤ کی سلطنت برباد ہوئی، وہ لوگ بھی ان کی صحبت کے نہ رہے، نہ وہ لطف شعر سخن کا رہا۔ شہر کلکتہ میں بہت روز آکر رہےتھے۔ ہر دو زبان فارسی اور اردو میں شعر ان کا بہت خوب ہوتاتھا۔ عارضہ تپ سے انتقال کیا۔ گیارھویں ۱۱ ذی القعد کو ۱۲۷۶ ہجری میں۔ اپنی یادگار میں سے یہ تصنیفات چھوڑ گئے ہیں۔ ایک مثنوی اور ایک جلد دیوان و واسوخت و رباعی۔ راقم نے ان کے انتقال کی تاریخ لکھی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "شعر چون علی اصغر شد از دنیا سوے ملک عدم شد دلِ نساخ محزوں راز بس رنج و الم شد بہ یک مصرع دو تاریخ ایں چنیں اے جانِ زار شنبۂ ذیقعدہ ہے ہے آہ درد و ہائے غم۱۲۷۶ہجری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فقط اصغر کے قطعۂ تاریخ میں مصنفِ تذکرہ نے اپنا تخلص ”نساخ“ استعمال کیا ہے۔ اسے پڑھتے ہی دھیان فوراً معروف شاعر و تذکرہ نویس عبدالغفور نساخ کی طرف گیا۔ نساخ بھی کلکتہ کے رہنے والے تھے اور اس تذکرے کے متن میں بھی جا بجا کلکتہ ”آکر رہنے والے“ شعرا کا حال ملتا ہے، جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ تذکرے کا مصنف کلکتے کا رہنے والا تھا۔ تاہم ابھی یہ شبہ باقی تھا کہ نساخ تخلص رکھنے والا یہ شخص ضروری نہیں کہ عبد الغفور نساخ ہی ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہی تخلص کسی اور شخص کا بھی ہو۔ استاد محترم پروفیسر گوہر نوشاہی صاحب کی خدمت میں عرض کیا تو انھوں نے بھی یہی مشورہ دیا کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے پہلے تصدیق کر لی جائے کہ یہ وہی نساخ ہیں یا کوئی اور۔ چنانچہ نساخ کی دیگر کتب کی تلاش شروع کی۔ نساخ نے تذکرہ نویسی کے علاوہ تاریخ گوئی میں بھی نام پیدا کیا تھا اور ان کی کہی گئی تواریخ کے ایک سے زیادہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے انھی مجموعوں کی تلاش کی گئی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "بالآخر استاذی پروفیسر معین الدین عقیل صاحب کی وساطت سے صوابی کی ایک کتاب دوست شخصیت محمد موسیٰ کے نادر ذخیرۂ کتب سے عبد الغفور نساخ کی ایک کتاب گنج تواریخ کے نسخے کا عکس حاصل ہوا جس کے صفحہ نمبر چار پر اصغر کی تاریخ وفات کا قطعہ اس عنوان کے تحت درج ہے: قطعۂ تاریخ ارتحال نواب علی اصغر خان مرحوم مخاطب بہ ظفر الدولہ متخلص بہ اصغر، باشندۂ لکھنؤ چوں علی اصغر شد از دنیا سوے ملک عدم شد دل نساخ محزوں راز بس رنج و الم شد بہ یک مصرع دو تاریخ ایں چنیں اے جان زار شنبۂ ذی قعدہ۱۲۷۶ہے ہے، آہ درد و ہائے غم۱۲۷۶ گنج تواریخ ، قطعہ دیکھ کر اس امر پر یقین کر لینے میں کوئی شے مانع نہ رہی کہ اس گم نام قلمی نسخے کے مصنف وہی معروف شاعر و تذکرہ نویس عبد الغفور نساخ ہیں جنھوں نے اردو شعرا کا ایک اور ضخیم تذکرہ سخن شعرا کے نام سے لکھا ہے جو ۱۲۹۱ ہجری/ ۱۸۷۴عیسوی میں پہلی بار مطبع نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوا تھا۔ سخن شعرا کا عکس پروفیسر گوہر نوشاہی صاحب کے کرم سے حاصل ہوا تو بے تابی سے سب سے پہلے اصغر کے نام کا اندراج تلاش کیا۔ سخن شعرا میں اس تخلص کے تحت تین شعرا کا حال درج ہے۔ پہلے دو شعرا کا حال یک سطری ہے اور نمونۂ کلام کے طور پر پہلے کے دو اور دوسرے کا ایک شعر درج ہے۔ تیسرے اصغر وہی ہیں جن کی تاریخ وفات نساخ نے کہی تھی۔ ان کے حال میں کم و بیش وہی معلومات درج ہیں جو زیر نظر مسودے میں ملتی ہیں۔ تاریخ وفات کا مذکورہ قطعہ درج کرنے کے بعد ایک اور قطعہ بھی لکھا گیا ہے جس سے عیسوی سنہ وفات نکلتا ہے۔ یہ عبارت ذیل میں نقل کی جاتی ہے: اصغر تخلص، ظفر الدولہ، معتبر الملک، رفیع الامرا، نواب علی اصغر خان بہادر ناصر جنگ، وزیر ابو ظفر بہادر شاہ، جنت آرام گاہ، پادشاہِ دہلی، خلفِ رشیدمولوی علی اکبر، شاگرد خواجۂ آتش، داماد نواب ظہیر الدولہ غلام یحیٰ خان بہادر، وزیر محمد علی شاہ بادشاہ، اودھ وطن ان کا، کشمیر مولد و مسکن، لکھنؤ، کلکتہ میں آ کر بہت روزوں تک رہے۔ آخرش بارہ سو چھہتر ہجری کے گیارھویں ذی قعدہ کو انتقال کیا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ہر دو زبان فارسی و اردو میں شعر بہت خوب کہتے تھے۔ راقم کے دوستوں میں تھے۔ صاحبِ مثنوی و دیوان گذرے۔ راقم نے ان کے انتقال کی تاریخ کہی ہے۔ چوں علی اصغر شد از دنیا سوے ملک عدم شد دل نساخ محزوں را ز بس رنج و الم شد بہ یک مصرع دو تاریخ ایں چنیں اے جان زار شنبۂ ذی قعدہ۱۲۷۶ ہے ہے، آہ درد و ہائے غم۱۲۷۶ ایضاً قضا کی جو علی اصغر نے اے نساخ غمیں ہے یہ دلِ مانوس صد حیف آج کہی ہے آہ میں نے عیسوی تاریخ علی اصغر موئے افسوس صد حیف آج۱۸۶۰ اس کے بعد علی اصغر کا نمونۂ کلام درج ہے۔ سخن شعرا کا یہ اندراج اس بات کی مزید شہادت فراہم کرتا ہے کہ اس مسودے کے مصنف دراصل عبد الغفور نساخ ہی ہیں۔ نساخ یکم شوال ۱۲۴۹ ہجری بمطابق گیارہ فروری ۱۸۳۴ عیسوی کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے سوانحی حالات کا سب سے بڑا اور مستند ماخذ ان کی خود نوشت سوانح حیات ہے جو ان کی وفات کے وقت ایک قلمی نسخے کی صورت میں موجود تھی اور غالباً ۱۸۸۶ میں کسی وقت مرتب ہوئی تھی۔ قریباً سو برس بعد میں مولانا آزاد کالج کلکتہ کے عبد السبحان نے اسے مرتب کر کے ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ کے زیر اہتمام شائع کیا۔ اس کے علاوہ ان کے دیوان دفتر بے مثال کے مقدمے میں بھی انھوں نے اپنے حالات پر کسی قدر روشنی ڈالی ہے۔ نساخ کے کم و بیش سبھی محققین نے ان کے حالات انھی مآخذ سے حاصل کیے ہیں۔ ہمارے پیش نظر اس وقت نساخ کی خود نوشت کے علاوہ دو اور کتابیں بھی موجود ہیں جن میں نساخ کے آثار و کمالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر صدر الحق کا تحقیقی مقالہ ہے جو نساخ۔ حیات و تصانیف کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ دوسری کتاب نساخ سے وحشت تک سید لطیف الرحمان کی تصنیف ہے جس میں ایک سلسلۂ استادی کے چار بنگالی شعراے اردو کا تذکرہ ہے۔ ایک اور کتاب ہندوستانی ادب کے معمار: عبد الغفور نساخ ہے جو محمد حامد علی خان نے تحریر کی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ کتب میں مختصراً نساخ کے خاندانی حالات و آثار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ان میں سے اہم برٹ کی کتاب ہے جس میں نساخ کے بڑے بھائی نواب عبداللطیف خان کی خدمات کے ذیل میں ان کے خاندان کا تذکرہ ملتا ہے۔ تاہم سب سے مفصل اور مستند معلومات کا ماخذ ان کی اپنی خود نوشت ہی قرار پاتی ہے۔ اس خود نوشت کے مطابق نساخ یکم شوال ۱۲۴۹ ہجری بمطابق ۱۱ فروری، ۱۸۳۷ع، منگل کے روز، کلکتہ کے محلے کلنگا میں پیرو خانساماں کی گلی میں واقع اپنے والد کے خرید کردہ مکان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام منشی قاضی فقیر محمد تھا جو نظامت و عدالت صدر دیوانی کلکتہ میں وکیل تھے اور تاریخ نویسی میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف میں جامع التواریخ اور منتخب النجوم معروف ہیں۔ دس برس کی عمر میں۱۲۵۹ ہجری ان کے والدین کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ نساخ کے تین بھائی اور بھی تھے۔ خود نساخ اور نواب عبد اللطیف خان بہادر سی آئی ای وزیر ریاست بھوپال ایک ماں سے تھے جب کہ مولوی عبد المجید اور مولوی عبد الباری دوسری ماں سے۔ نساخ چاروں بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کی تعلیمی زندگی کی ابتدا ساڑھے چار برس کی عمر میں مولوی رمیض الدین چاٹگامی کے درس سے ہوئی۔ سات برس کے ہوئے تو مدرسۂ عالیہ کلکتہ میں داخل ہو گئے۔ اپنی خود نوشت میں انھوں نے اپنے بچپن کے کھیل کود اور شرارتوں کے واقعات تفصیل سے لکھے ہیں۔ ۱۸۴۷ میں ان بھائیوں کو تعلیم کے لیے ہوگلی بھیج دیا گیا۔ تاہم نساخ نے اپنی خود نوشت یا دیگر تحریروں میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے کہاں تک تعلیم حاصل کی، کون کون سی اسناد لیں اور کب فارغ التحصیل ہوئے۔ گھر پر آکر درس دینے والے مولوی صاحبان اور ان کی مار پیٹ کا ذکر البتہ تفصیل سے ملتا ہے۔ ۱۸۵۳ میں اپنے بھائی نواب عبد اللطیف خان کے ایما پر انھوں نے ڈھاکا میں دس روپے ماہوار پر محرری کی نوکری سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فورٹ ولیم کالج کے سیکرٹری کپتان سینٹ جارج کے کہنے پرانگلستان سے آنے والے ہندو کالج کے پروفیسر مسٹر ای بی کاول کو فارسی پڑھانے پر مقرر ہوئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "مسٹر کاول بہت پڑھے لکھے انسان تھے اور کئی منشیوں سے انٹرویو لے کر انھیں رد کر چکے تھے۔ نساخ نے یہ مرحلہ بخیر و خوبی سر کر لیا اور تیس روپے ماہوار پر ان کی معلمی اختیار کر لی۔ اس دوران وہ نہ صرف کاول صاحب کے لیے نادر کتب کی فراہمی کا فریضہ بھی سرانجام دیتے رہے بلکہ ایشیاٹک سوسائٹی سے لائی گئی کتابوں کی نقل کا کام بھی کرتے رہے جس سے ان کی آمدنی اور علم دونوں میں خاصا اضافہ ہوا۔ چھے سات ماہ بعد انھیں صدر دیوانی عدالت میں ترجمے کا کام بھی ملنے لگا۔ یہ مشاغل کب تک جاری رہے، اس بارے میں نساخ نے کچھ نہیں لکھا۔ البتہ ۱۸۶۰ میں انھیں کپتان سینٹ جارج کو فارسی پڑھانے کا موقع ملا۔ اسی دوران اپنے برادر بزرگ کے مشورے پر ڈپٹی مجسٹریٹی اور ڈپٹی کلکٹری کے عہدوں کے لیے درخواست دی اور اکتوبر ۱۸۶۰ میں بریسال میں اس عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس ملازمت کے دوران وہ بریسال، ہوڑہ، راج شاہی، بانکا، چھپرہ، سلہٹ اور ڈھاکا میں تعینات ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ کم از کم چار بار دہلی اور ایک بار لکھنؤ بھی گئے۔ دہلی میں ان کی ملاقات دیگر شعرا کے علاوہ مرزا غالب سے بھی ہوئی جنھوں نے ان کی خوب پذیرائی کی۔ ملازمت کے دوران ان کی صحت کی خرابی اور بیماریوں کے حملے انھیں مسلسل زچ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ستاون برس کی عمر میں ۴ شوال ۱۳۰۶ ہجری بمطابق ۱۴ جون ۱۸۸۹ع، بروز جمعہ ان کا انتقال ہو گیا۔ نساخ علم نجوم و رمل اور علم جفر سے بھی واقف تھے۔ خوش نویسی کا بھی شوق تھا اور خط ناخن میں لکھنے کی مشق بہم پہنچائی تھی۔ اس کے علاوہ غالب و مغلوب اور علم شعبدہ سے بھی دلچسپی تھی اور مختلف مواقع پر اس کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ نساخ نے لکھا ہے کہ وہ سات برس کی عمر ہی سے شعر کہنے لگے تھے۔ ابتدا میں مولوی رشید النبی وحشت سے دس بارہ غزلوں پر اصلاح لی لیکن استاد کی عدیم الفرصتی کے باعث جب اصلاح ملنے میں تاخیر ہونے لگی تو خود ہی اپنی غزلوں پر محنت کر کے ان کی اصلاح کرنے لگے۔ بعد ازاں اکرام احمد ضیغم سے اصلاح لینے لگے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں شعر و سخن میں کسی استاد کی باقاعدہ اور مسلسل رہنمائی حاصل نہ ہو سکی بلکہ زیادہ تر وہ خود ہی اپنے اشعار میں ترمیم و اصلاح میں مصروف رہے۔ مشق سخن کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک صاحب خواجہ نبی بخش کشمیری محزوں بصد اشتیاق ان کی شاگردی میں آگئے جس کے بعد ان کی خود اعتمادی میں بہت اضافہ ہو گیا۔ پھر تو سیکٹروں شاگردوں نے ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا۔ ان میں سے کئی صاحبِ دیوان بھی ہوئے۔ ان کے معروف تلامذہ کا حال ڈاکٹر محمد صدر الحق نے اپنے مقالے میں تفصیل سے درج کیا ہے۔ انھوں نے پینتیس کے لگ بھگ شعرا کا ذکر کیا ہے جن کا نام تلامذۂ نساخ کے طور پر لیا جا سکتا ہے لیکن چند ایک کی شاگردی کے بارے میں شکوک و شبہات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر شعرا کا تذکرہ خود نساخ نے اپنے معروف تذکرے سخن شعرا میں کیا ہے۔ دفترِ بے مثال نساخ کا پہلا دیوان ہے جو ۱۸۶۰ میں مرتب ہوا اور ۱۲۸۰ ہجری، ۱۸۶۳/۶۴ عیسوی میں مظہر العجائب پریس کلکتہ سے طبع ہوا۔ اس کا ایک نسخہ غالب کو بھی بھیجا گیا تھا۔ غالب نے رسید کے طور پر نساخ کو جو خط لکھا اس میں اس دیوان کی بہت تعریف کی اور نساخ کی خوب حوصلہ افزائی کی۔ یہ غالباً کلکتہ سے جڑی ان کی خوش گوار یادوں کااثر تھا ورنہ نساخ کے پہلے دیوان میں شامل اشعار شاید اصلاً غالب کی داد کے ایسے مستحق نہ تھے۔ نساخ نے ان کلمات کو دوسرے ایڈیشن میں، جو لکھنؤ کے نول کشور پریس سے ۱۸۷۴ میں شائع ہوا تھا، بطور تقریظ شامل کر دیا۔ غالب کی یہ تحریر ان کی عمر کے آخری چند برسوں کی یادگار اور ان کی ذہنی و قلبی کیفیات کی ترجمان ہے۔ لکھتے ہیں: جناب مولوی صاحب قبلہ! یہ درویش گوشہ نشین جو موسوم بہ اسد اللہ اور متخلص بہ غالب ہے، کرمتِ حال کا شاکر اور آئندہ افزایش عنایت کا طالب ہے۔ دفتر بے مثال کو عطیۂ کبریٰ اور موہبتِ عظمیٰ سمجھ کر یاد آوری کا احسان مانا۔ پہلے اس قدر افزائی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ حضرت نے اس ہیچ مدان کو قابلِ خطاب اور لائق کتاب جانا۔ میں دروغ گو نہیں۔ خوشامد میری خو نہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "دیوان فیض عنوان اسم بامسمیٰ ہے۔ دفتر بے مثال اس کا نام بجا ہے۔ الفاظ متین، معانی بلند، مضمون عمدہ، بندش دل پسند۔ ہم فقیر لوگ اعلان کلمۃ الحق میں بے باک لوگ ہیں۔ شیخ امام بخش ناسخ طرز جدید کے موجد اوراور پرانی ناہموار روشوں کے ناسخ تھے۔ آپ ان سے بڑھ کر بہ صیغۂ مبالغہ، بے مبالغہ نساخ ہیں۔ تم داناے رموز اردو زبان ہو، سرمایۂ نازش قلم رو ہندوستان ہو۔ خاکسار نے ابتداے سن تمیز میں اردو زبان ہی میں سخن سرائی کی ہے۔ پھراوسط عمر میں بادشاہ دہلی کا نوکر ہو کر چند روز اسی روش پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نظم و نثر فارسی کا عاشق اور مائل ہوں۔ ہندوستان میں رہتا ہوں مگر تیغ اصفہانی کا گھائل ہوں۔ جہاں تک زور چل سکا، فارسی زبان میں بہت کچھ بکا۔ اب نہ فارسی کی فکر، نہ اردو کا ذکر۔ نہ دنیا میں توقع، نہ عقبیٰ کی امید۔ میں ہوں اور اندوہِ ناکامیِ جاوید۔ جیسا کہ خود ایک قصیدۂ نعت کی تشبیب میں کہتا ہوں: چشمم کشودہ اند بکردار ہاے من ز آیندہ ناامیدم و از رفتہ شرمسار ایک کم ستر برس دنیا میں رہا۔ اب اور کہاں تک رہوں گا۔ ایک اردو کا دیوان، ہزار بارہ سو بیت کا، ایک فارسی کا دیوان دس ہزار کئی سو بیت کا، تین رسالے نثر کے، یہ پانچ نسخے مرتب ہو گئے۔ اب اور کیا کہوں گا۔ مدح کا صلہ نہ ملا، غزل کی داد نہ پائی۔ ہرزہ گوئی میں ساری عمر گنوائی۔ بقول طالب آملی رحمۃ اللہ علیہ: لب از گفتن چناں بستم کہ گوئی دہن بر چہرہ زخمے بود، بہ شد سچ تو یہ ہے کہ قوت ناطقہ پر وہ تصرف اور قلم میں وہ زور نہ رہا۔ طبیعت میں وہ مزا، سر میں وہ شور نہ رہا۔ پچاس پچپن برس کی مشق کا ملکہ کچھ باقی رہ گیا ہے، اسی سبب سے فن کلام میں گفتگو کر لیتا ہوں۔ حواس کا بھی بقیہ اسی قدر ہے کہ معرض گفتار میں موافق سوال کے جواب دیتا ہوں۔ روز و شب یہ فکر رہتی ہے کہ دیکھیے وہاں کیا پیش آتا ہے اور یہ بال بال گناہ گار بندہ کیوں کر بخشا جاتا ہے۔ حضرت سے یہ التماس ہے کہ آپ جو۔ ۔ ۔ ۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اور مجھ کو ارسال نامہ کی سبیل کے ہادی ہوئے ہیں، جب تک میں جیتا رہوں، نامہ و پیام سے شاد اور بعد میرے مرنے کے دعاے مغفرت سے یاد فرماتے رہیے گا۔ اس دیوان کا ذکر فرانسیسی مستشرق گارسیں دتاسی نے اپنے چودھویں خطبے میں کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غالب نے دیوان کے عنوان دفتر بے مثال اور شاعر کے تخلص نساخ کو سراہا اور ان کے مبنی برحقیقت ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ گارسیں دتاسی نے ان دونوں باتوں کو شاعر کی خود پسندی اور انکسار سے گریز پر محمول کیا ہے۔ دراصل گارسیں دتاسی اس تہذیبی و ثقافتی روایت سے لاعلم تھے جو اردو شاعری میں تعلّی کی صورت میں موجود تھی اور جسے قبیح نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں: ایک دوسری کتاب دفتر بے مثال مجھے بھیجی گئی ہے۔ اگرچہ اس کتاب کا نام ایسا ہے کہ اس سے پہلے پہل آدمی دھوکے میں پڑ جاتا ہے لیکن یہ دراصل کلکتہ کے ایک معزز مسلمان کے اشعار کا انتخاب ہے۔ شاعر کا نام مولوی عبد الغفور ہے اور وہ نساخ تخلص کرتے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ تخلص بھی انکسار کے خیال سے اسی قدر دور ہے جتنا خود کتاب کا نام۔ یہ کتاب اسی سال طبع ہوئی ہے اور ۱۶۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ٹائپ میں چھپی ہے۔ نساخ کلکتہ کے مشہور و معروف عبد اللطیف خان بہادر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ انھوں نے فرید الدین عطار کے پند نامہ کا اردو نظم میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ اس بیاض میں بعض بعض اچھے خاصے شعر ملتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ نساخ نے بعض بعض جگہ ذوق کا جواب لکھا ہے۔ ذوق اس وقت ہندوستان کے بہترین شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے انھیں خاقانیِ ہند کا خطاب ملا ہے۔ دفتر بے مثال کے علاوہ نساخ کے تین اور دیوان شائع ہوئے۔ اشعار نساخ کے عنوان سے ۹۴ صفحات پر مشتمل ان کا دوسرا دیوان منشی نول کشور پریس لکھنؤ سے ۱۸۷۴ میں شائع ہوا۔ تیسرے دیوان کا نام ارمغان ہے جو پہلی بار مطبع نظامی کانپور سے ۱۸۷۷ میں شائع ہوا اورکل ۱۲۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ ۱۸۸۶ میں مطبع نامی لکھنؤ سے ۱۱۶ صفحات پر مشتمل ان کا چوتھا دیوان ارمغانی کے نام سے شائع ہوا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یہ تمام نام تاریخی ہیں لیکن ان سے سالِ ترتیب حاصل ہوتا ہے، سال اشاعت نہیں۔ اسی لیے ان کے بعض نقادوں نے انھی تاریخوں کو سالِ اشاعت قرار دیا ہے لیکن محمد صدر الحق صاحب نے ہر دیوان کی اشاعت کے قطعہ ہاے تاریخ بھی ڈھونڈ نکالے ہیں جن کی مدد سے قطعی طور پر تعین کیا گیا ہے کہ ان کتب کے سال اشاعت کیا تھے۔ ان چاروں دیوانوں کے مطالعے سے دو باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ابتدائی دور میں نساخ لکھنوی بالخصوص ناسخ کے رنگِ سخن سے متاثر تھے اور ان کے بیشتر اشعار ناسخ ہی کے رنگ میں لکھے گئے ہیں۔ ان کا تخلص نساخ بھی ناسخ سے ان کے ذہنی ربط کا پتا دیتا ہے۔ اگرچہ محققین نے اس باب میں کئی نکتہ طرازیاں کی ہیں اور ان کے تخلص کو کہیں ناسخ سے تقابل اور عداوت کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہیں ان سے متاثر ہونے کا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ دونوں باتیں قیاس پر مبنی ہیں اور دونوں کا کوئی مسکت ثبوت دستیاب نہیں ہوتا۔ نساخ کی خود نوشت کے مطالعے سے لکھنوی شعرا بالخصوص ناسخ سے ان کی رنجش یا بغض کا کہیں پتا نہیں چلتا۔ زیر نظر تذکرے میں بھی انھوں نے ناسخ کو کھل کر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ان کے دور حیات میں واجد علی شاہ کے قیام کے باعث کلکتہ لکھنوی شعرا کا مرکز بن گیا تھا اور مٹیا برج میں ہونے والے مشاعروں کی دھوم پورے شہر میں تھی۔ اس تناظر میں کلکتے کے شعرا کا لکھنوی طرزِ شعر گوئی سے متاثر ہونا فطری امر ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کے چاروں شعری مجموعوں کے مطالعے سے ان کے شعر گوئی کے رجحانات میں آنے والی تبدیلیاں بھی واضح دکھائی دیتی ہیں۔ ایک تبدیلی تو رنگ سخن کی ہے جو لکھنوی انداز سے ہٹ کر دہلوی انداز اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے اور دوسری تبدیلی اصناف کی ترجیح سے متعلق ہے۔ پہلے مجموعے کے پہلے ایڈیشن میں غزلیات کی تعداد تین ہزار پانچ سو انچاس ہے۔ کچھ تاریخی قطعات بھی ہیں جو اعزہ و اقربا کے سال وفات وغیرہ سے متعلق ہیں۔ دوسرے دیوان میں غزلیات کے علاوہ قطعات، رباعیات، معمیات اور ایک نامکمل قصیدہ بھی شامل ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "تیسرے اور چوتھے دیوان میں تاریخی قطعات کی تعداد اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نساخ کی طبیعت آہستہ آہستہ غزل گوئی سے ہٹ کر تاریخی قطعات مرتب کرنے کی طرف مائل ہو چکی تھی۔ چنانچہ ان کے دیگرمجموعے بیشتر تاریخی قطعات پر مشتمل ہیں اور غزلیات و رباعیات وغیرہ کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے۔ ان مجموعوں میں سراپاے سراپا تماشا، جو اپنے تاریخی نام شاہد عشرت سے زیادہ معروف ہے، ۱۸۷۴ میں دوسرے دیوان کی اشاعت کے بعد مطبع نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اسی سال انھوں نے اپنی فارسی رباعیات کا مجموعہ مرغوبِ دل بھی مرتب کیا۔ گنجِ تواریخ ، کنز التواریخ اور باغ فکر المعروف بہ مقطعات نساخ ان کے تاریخی قطعات کے مجموعے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مجموعے معروف اردو ویب گاہ ”ریختہ“ پر موجود ہیں۔ ان مجموعوں سے نہ صرف نساخ کے خاندان، آبا و اجداد اور اعزہ و اقربا کے احوال کا علم ہوتا ہے بلکہ اس دور کی اہم شخصیات اور واقعات کے بارے میں بھی مستند معاصر شہادتیں دستیاب ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے نساخ کے تاریخی قطعات ان کی شاعری سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ تاریخی قطعات کے مجموعوں کے علاوہ ان کے معموں کا ایک مجموعہ مظہر معما کے نام سے ۱۳۰۲ ہجری میں مطبع بحرالعلوم کلکتہ سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ۳۹ معمے درج ہیں جن میں سے ۲۹ فارسی میں اور دس اردو میں ہیں۔ ترانۂ خامہ عرف مرغوبِ جان ان کی اردو رباعیات کا مجموعہ ہے جو ۱۸۸۴–۸۵ ہی میں مرتب ہو کر کلکتہ سے شائع ہوا۔ ۱۸۸۵–۸۶ میں انھوں نے نصرۃ المسلمین کے عنوان سے رد وہابیت کے مقصد کے تحت ایک مختصر رسالہ لکھا جس میں مومن کی ان رباعیات کا جواب دیا گیا جس میں مقلدین پر چوٹ کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وہ فرید الدین عطار کے پند نامہ کا منظوم ترجمہ چشمۂ فیض کے عنوان سے کر چکے تھے جو کلکتہ میں ۱۸۶۲ میں طبع ہوا تھا۔ شعری کاوشوں کے علاوہ نساخ کی عظمت کا ایک عنوان ان کی نثر بھی ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یوں تو نظم کی طرح نثر کے میدان میں بھی ان کی جولانی طبع مختلف میدانوں میں اپنے جوہر دکھاتی ہے لیکن ان کا ایک بڑا حوالہ تذکرہ نویسی کا ہے۔ ان کی زندگی میں ترتیب پانے اور معروف ہونے والے تذکروں کی تعداد تین ہے۔ چوتھے تذکرے کو نیم تذکرہ کہنا بجا ہوگا کیوں کہ یہ بیاض اور تذکرے کی درمیانی صورت ہے۔ زیربحث تذکرے کو شامل کریں تو یہ تعداد پانچ ہو جاتی ہے۔ سخن شعرا نساخ کا معروف ترین تذکرہ ہے جو اردو شاعروں کے بیان پر مشتمل ہے۔ یہ تذکرہ جنوری ۱۸۶۵ میں مرتب ہوا اور تقریباً دس سال بعد ۱۸۷۴ میں منشی نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اس تذکرے میں تقریباً ڈھائی ہزار شعرا کا ذکر ہے جن میں انتالیس شاعرات بھی شامل ہیں۔ گارسیں دتاسی کی تاریخ ادب ہندوستانی کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں شعرا کا ذکر اسی تذکرے میں ملتا ہے۔ نساخ نے اپنے تذکرے میں اپنے دور تک معروف ہونے والے تمام اہم اور بہت سے غیر اہم شعرا کا ذکر اجمالاً کیا ہے اور یہی اس کی اہمیت کا باعث ہے کہ اس میں ان شعرا کا ذکر بھی مل جاتا ہے جنھیں دوسرے تذکرہ نویسوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ تاہم شعرا کے حالات زندگی نہایت مختصر اور بعض صورتوں میں غیر مستند ہیں۔ نمونۂ کلام کے طور پر البتہ طویل کلام درج کیا گیا ہے۔ کلام پر رائے کا اہتمام بھی بہت کم ہے۔ بعض شعرا کا تذکرہ تو محض ایک جملے اور ایک شعر پر مشتمل ہے۔ ان کا دوسرا اہم تذکرہ قطعۂ منتخب کے تاریخی نام سے ۱۸۷۴ میں مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے شائع ہوا۔ تذکرے کا اصل نام تذکرۂ شعراے زبان اردوے معلیٰ ہے۔ اس میں صرف ان شعرا کو شامل کیا گیا ہے جو قطعات کہتے تھے۔ کل ۶۰ شعرا اس تذکرے میں شامل ہیں۔ تاہم یہ تمام شعرا سخن شعرا میں شامل ہیں اور ان کے احوال کم وبیش وہی ہیں جو سخن شعرا میں درج ہیں۔ کہیں کہیں البتہ سخن شعرا کی نسبت زیادہ تفصیل مل جاتی ہے۔ اس مجموعے کا اصل مقصد تذکرہ لکھنا نہیں بلکہ اہم شعرا کے قطعات جمع کر کے انھیں ردیف وار مرتب کرنا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "یہ تذکرہ اگرچہ سخن شعرا کے بعد مرتب ہوا لیکن اس کا سال اشاعت وہی ہے جو سخن شعرا کا ہے؛ اس لیے بعض محققین نے اسے نساخ کا پہلا تذکرہ قرار دیا ہے۔ ابتدائی کلمات میں نساخ لکھتے ہیں: ۔ ۔ ۔ ۔ ایک دن مجمعِ احباب میں ہر قسم کے شعر پڑھے جاتے تھے، اس میں خیال آیا کہ اگر شعراے متقدمین و متاخرین زبان ریختہ کے مقطعات عمدہ جہاں تک دست یاب ہوں، بقید ردیف جمع کیے جائیں اور تخلص اور نام و نشانِ شاعر بھی بقید حروف تہجی ہر ردیف میں تحریر پائیں تو ایک معقول یاد گار رہ جائے گا کہ کسی نے آج تک ایسا تذکرہ جمع کیا نہیں۔ یوں اس مجموعے میں نساخ نے قریباً ساڑھے پانچ سو قطعات جمع کر لیے اور اس کی ترتیب تذکرے کے موافق رکھی کہ پہلے شاعر کے حالات درج کیے جائیں اور اس کے بعد قطعات۔ نساخ کا تیسرا تذکرہ تذکرۃ المعاصرین ہے۔ محمد صدر الحق کے مطابق اس تذکرے کا صرف ایک نسخہ انھیں دستیاب ہو سکا۔ یہ واحد نسخہ ڈھاکا یونی ورسٹی میں موجود ہے اورنساخ کی وفات کے بعد، ۱۸۹۱ میں شائع ہوا ہے۔ تذکرۃ المعاصرین فارسی میں لکھا گیا ہے اور برصغیر کے فارسی گو شعرا کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس میں شعرا کا بیان ردیف وار کیا گیا ہے اور ”ع“ کی ردیف تک شعرا کا حال ملتا ہے۔ اگرچہ ”ع“ کے تحت یہ بیان درج ہے کہ اس ذیل میں ۳۶ شعرا کا حال بیان کیا گیا ہے مگر موجود نسخے میں صرف پندرہ شعرا کا حال ملتا ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ نسخہ نامکمل ہے۔ اس نامکمل صورت میں بھی یہ برصغیر بالخصوص بنگال کے فارسی گو شعرا کا ایک نادر تذکرہ ہے اور اس میں کئی ایسے شعرا کا حال ملتا ہے جن کا ذکر کسی اور کتاب میں دستیاب نہیں۔ اس تذکرے میں پہلے دونوں تذکروں کی نسبت شعرا کے بارے میں زیادہ معلومات دی گئی ہیں۔ مثلاً واجد علی شاہ کے بارے میں دو صفحات تحریر کیے گئے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہوتا کہ تذکرے کا نام خود نساخ نے تجویز کیا تھا یا ان کی وفات کے بعد مرتب نے یہ نام رکھ دیا۔ تاہم اپنے مندرجات کے اعتبار سے یہ تذکرہ نساخ کے اہم کارناموںمیں سے ایک شمار ہوتا ہے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "ان تین تذکروں کے علاوہ قند پارسی کے عنوان سے ایک تذکرہ نما بیاض بھی نساخ کی یادگار ہے۔ اس بیاض میں فارسی گو شعرا کے کلام کا انتخاب درج کیا گیا ہے۔ شعرا کا نام ردیف وار درج ہے جو اس بیاض کو تذکرے کی صنف سے قریب تر کرنے کا باعث ہے لیکن چونکہ اس میں صرف کلام دیا گیا ہے، احوال نہیں، اس لیے اسے مکمل تذکرہ نہیں کہا جا سکتا۔ ۱۱۸ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے ۱۸۷۲ میں شائع ہوا تھا۔ تذکروں کے علاوہ نساخ کی متعدد دیگر تصانیف بھی موجود ہیں جن میں سے بیشتر کی نوعیت مختصر رسالوں کی سی ہے۔ ان میں میرزا وصال شیرازی کے فارسی کلام کا انتخاب سفینۂ منتخب، نامی پریس لکھنؤ سے اپریل ۱۸۸۸ میں شائع ہوا۔ زبان ریختہ کے نام سے سولہ صفحات پر مبنی ایک رسالہ ۱۸۷۴ میں لکھنؤ سے شائع ہوا جس میں اردو زبان کی تاریخ اور اس کے ارتقا پر بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح کلکتہ یونی ورسٹی کے لیے ”نصاب اردو زبان، حصہ دوم “ بھی ترتیب دیا جو ۱۸۶۴ کے امتحان کا نصاب مقرر ہوا۔ ان مختصر کتابوں میں سے اہم ترین انتخابِ نقص ہے جس میں انھوں نے ”میرزا دبیر اور میر انیس کے کلام کی زبان، عروض، محاورے، معانی اور قواعد وغیرہ کی غلطیاں اور بعض دوسرے فنی نقائص“ دکھائے ہیں۔ یہ رسالہ ۱۸۷۸ میں مطبع نظامی کانپور سے شائع ہوا۔ لکھنؤ کے شعرا کے ہاں اس کا شدید ردعمل پیدا ہونا یقینی تھا لہٰذا یہ کتاب ایک بڑے ادبی معرکے کا محرک بن گئی اور اس کے جواب میں رسالے لکھے گئے۔ تاہم مولانا شبلی نے موازنۂ انیس و دبیر میں نساخ کے اٹھائے ہوئے بیشتر اعتراضات کو درست قرار دیا ہے۔ اس کتاب سے نساخ کی لسانی مہارت اور عروض و بلاغت پر دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔ نساخ کے تذکرۃ المعاصرین کی طرح ان کی خود نوشت سوانح حیات بھی ادھوری ہی رہ گئی۔ یہ خود نوشت ۱۸۸۵ تک کے واقعات پر مشتمل ہے اور غالباً ۱۸۸۶ کے اوائل میں مرتب ہوئی ہے۔ تاہم اس کی پہلی اشاعت سو سال بعد ۱۹۸۶ میں ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ کے زیر اہتمام ہوئی۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "اس قلمی نسخے کا یہ تنقیدی ایڈیشن مولانا آزاد کالج کلکتہ کے استاد زبان و ادبیات فارسی ڈاکٹر عبد السبحان نے ترتیب دیا ہے۔ یہ قلمی نسخہ ایک ادھورے جملے پر ختم ہو جاتا ہے۔ نساخ کی تمام تصانیف کا تذکرہ ان کے نقادوں اور محققین نے کیا ہے۔ مگر راقم الحروف کو حاصل شدہ قلمی نسخے کا تذکرہ کسی کتاب میں نہیں ملتا اور نہ ان کی خود نوشت سے ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ وہ لکھنوی شعرا کا کوئی ایسا تذکرہ لکھ رہےتھے جس میں اساتذہ اور ان کے تلامذہ کا بیان ہو۔ ان کی خود نوشت ان کے ادبی کارناموں سے زیادہ ان کی پیشہ ورانہ مصروفیات، مقدموں اور ان کے فیصلوں کی تفاصیل اور سیر و سفر کے احوال پر مبنی ہے۔ تاہم ان کی متنوع دلچسپیوں کو دیکھتے ہوئے اور ان کی طبیعت کی جولانی اور اپچ کے پیش نظر یہ امر کچھ بعید از امکان معلوم نہیں ہوتا کہ انھوں نے لکھنوی شعرا کا ایک ایسا تذکرہ لکھنے کا ارادہ کر لیا ہو جس میں مختصر احوال کے بجائے نہایت تفصیل سے ہر شاعر کی سوانحی معلومات اور دیگر تفاصیل درج کی جائیں۔ زیر نظر تذکرہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ان کے تمام دیگر تذکروں سے مختلف ہے۔ سب سے پہلا امتیاز تو یہ ہے کہ اس تذکرے میں ایک خاص ترتیب روا رکھی گئی اور اسے اساتذہ کے ناموں سے ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر باب میں ایک استاد شاعر اور اس کے تلامذہ کا ذکر ہے۔ اس ترتیب میں تقدیم و تاخیر کے لیے کیا معیار قائم کیا گیا ہے، اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملتی لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ اساتذہ کا بیان ان کی اہمیت کے اعتبار سے کیا گیا ہو گا۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ زمانی ترتیب کا التزام رکھا گیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں مصنف کا موقف واضح نہیں ہوتا۔ دوسرا امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ تذکرہ ایک خاص علاقے یعنی لکھنؤ سے وابستہ شعرا تک محدود ہے۔ تیسرا اور اہم وصف یہ ہے کہ اس میں پہلے تذکروں کے برعکس، نمونۂ کلام کی ذیل میں دیے گئے اشعار کی نسبت احوال کا حصہ طویل اور مفید ہے۔ اس حصے میں مختلف دلچسپ واقعات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "چوتھا وصف یہ ہے کہ اس تذکرے میں شعرا کی سوانحی معلومات ہی نہیں ملتیں بلکہ اس عہد کی سماجی و معاشرتی زندگی بھی سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس دور کے تمام تر تذکروں کی طرح محض شعرا کے نام اور ان کے بارے میں مجمل معلومات اور نمونۂ کلام پر مشتمل نہیں بلکہ مفصل حالات زندگی اور اس عہد کے سماجی وقائع کے بیان پر مشتمل ہے۔ کل ۸۷ شعرا میں سے صرف ۳۰ شعرا کے کلام کا نمونہ دیا گیا ہے۔ یہ بھی عام طور پر ایک غزل یا چند اشعار پر مشتمل ہے۔ لیکن تذکرے میں شامل شعرا ہمیں اپنی جیتی جاگتی اور زندہ شخصیت کے ساتھ چلتے پھرتے اورزندگی کی مختلف النوع مہمات سے نبرد آزما ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے سماجی مشاغل، تہوار، کھیل، کرتب، لباس، نشست و برخاست کے قرینے، میل جول کے آداب، مصروفیاتِ زندگی اور اخلاق و اقدار کے مرقعے جا بجا اس تذکرے میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تذکرے کا اسلوب بہت دلچسپ اور علمی سے زیادہ حکائی ہے۔ اس میں کہانی کی سی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور شاعروں کی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر مصحفی کے بیان میں لکھا ہے: آخر کو یہ نوبت ہوئی کہ میر اللہ خان نے ان کی ہجو کی اور میاں مصحفیؔ نے انشاء اللہ خان کی ہجو کی اور ایک دن اس کے پڑھنے کا مقرر ہوا۔ تمام شہر کو اشتیاق تھا۔ میر انشاء اللہ خان صاحب نے ہر کوچہ بازار میں اشتہار لگا دیے کہ جس شخص کو سننا ہو خان صاحب بہادر کے مکان پر آئے، بعد دوپہر کے جلسہ ہو گا۔ دن مقرر جب آیا، ہر ایک آدمی اپنے مکان سے دو گھڑی پیشتر چل نکلا۔ چند عرصے کے بعد غل ہوا کہ میاں مصحفیؔ مع شاگردان اور صدہا آدمی کا مجمع ساتھ ہے اور ڈنڈے بجتے چلے آتے ہیں۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ آج روز ہولی جب مکان پر میر انشااللہ خان کے پہنچے، میرصاحب اپنے مکان سے دیوان خانے میں آئے اور میاں مصحفی کو نہایت اس دن خوشی حاصل تھی۔ میر انشااللہ خان اپنے دیوان خانے میں آئے۔ ان سب صاحبوں کو بٹھایا اور ہر ایک طرح کی خاطر سے پیش آئے۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "آخرش شائق جو لوگ اس کلام کے ہو کے آئے، انھیں نے میاں مصحفی سے یہ بات عرض کی، اب آپ کو کس کا انتظار ہے۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ میر انشااللہ خان سے دریافت فرمائیے، جب وہ ارشاد کریں گے اس وقت ہم شروع کریں۔ ہم کو کچھ پڑھنے میں کسی طرح کا انکار نہیں۔ لوگوں جا کر میر انشااللہ خان سے عرض کیا، کیا عرصہ کا باعث ہے۔ یہ بات سن کے میر انشااللہ خان خود صحبت میں جا کر بیٹھے اور کہا کہ میاں مصحفی! بسم اللہ! یہ کلمہ وہ سن کے ہجو پڑھنے لگے۔ بلور کی گردن اور انگور کی گردن، خان صاحب مذکور بھی خود ہر شعر پر تعریف کرتے تھے۔ لوگ تمام ہنستے ہنستے بے تاب ہو گئے تھے۔ اس طرح کا جلسہ کہیں شہر میں نہیں ہوا تھا، پہر بھر شعر خوانی رہی؛ بعد اس کے وہ مکان پر تشریف لے گئے۔ انشاء اللہ خان صاحب کے شاگردوں نے عرض کیا کہ آپ کوئی ہجو میاں مصحفی کی شان میں ارشاد فرمائیں اور آپ بھی اسی انداز سے ان کے مکان پر چلیے تا کہ ان کی ہجو کہنے کا مزاح یاد رہے۔ خان صاحب نے کہا کہ بہت خوب۔ دس پندرہ روز کے زمانہ میں خان صاحب نے میاں مصحفی کی ہجو نہایت عمدہ لکھی اور اپنے چلنے کا دن میاں مصحفی کے مکان پر مقرر کیا اسی طرح تمام شہر کو خبر دی کہ فلاں روز میر انشااللہ خان ہجو پڑھتے ہوئے میاں مصحفی کے مکان پر جائیں گے۔ یہ سن کے ہزار ہا آدمی ان کے ساتھ تھا۔ غرض میاں مصحفی کے گھر پرجا پہنچے۔ میاں صاحب نے اسی طرح ان صاحبوں کی خاطر کی اور حکم دیا کہ ہجو پڑھیے۔ یہ سن کے میر انشاء اللہ خان صاحب نے مع شاگردوں بہ آواز بلند پڑھنا شروع کیا۔ بہت لوگ خوش ہوئے اور بعض بعض ناراض ہوئے۔ اسی صورت پر ایک پہر صحبت رہی۔ پھر برخاست ہوئی۔ ہر کارے جو سلطانی وہاں مقرر تھے، نواب صاحب کو اس مضمون کا پرچہ لکھا کہ نواب صاحب اس پرچہ کو پڑھ کر نہایت ناراض ہوئے اور مصحفی کے بارے میں حکم ہوا کہ ابھی اس کو ہمارے شہر سے نکال دو۔ انشاء اللہ خان نے نواب صاحب سے عرض کیا کہ خانہ زاد بھی میاں مصحفی کے ہمراہ جائے گا۔ یہ سن کے نواب نے حکم موقوف رکھا۔"
}
] |
[
{
"role": "system",
"content": "آپ ایک مددگار اردو چیٹ بوٹ ہیں۔"
},
{
"role": "user",
"content": "تذکرۂ شعراے لکھنؤ: ایک غیر مطبوعہ قلمی نسخے کی دریافت"
},
{
"role": "assistant",
"content": "میر انشاء اللہ خان کے تو شاگرد میاں مصحفی کی ہجو ہر گلی کوچہ وبازار میں پڑھتے تھے۔ میاں مصحفی جو ہجو میر انشاء اللہ خان کی کہتے تھے، کوئی شاگرد مارے خوف کے پڑھ نہ سکتا تھا۔ اس غم میں میاں مصحفی بیمار ہوئے اور مارے ندامت کے مکان سے باہر نہ آتے تھے۔ جو شخص ملاقات کو ان کے پاس آتا کہیں میاں صاحب اپنا حال لکھ کے بتا دیتے تھے۔ وہ پڑھ کے نہایت رنج کرتا تھا۔ میر انشاء اللہ خان کا زمانہ تھا۔ کچھ زور کسی کا نہ سکتا تھا۔ بجز خموشی اور نہ کوئی امر دخل دیتے تھے۔ اسی طرح ضمیر کے بیان میں لکھتے ہیں: تخلص ضمیر، میر مظفر حسین، خلف میر قادر علی، شاگرد غلام ہمدانی تخلص مصحفی، باشندہ لکھنؤ محلہ نواب گنج، متصل مکان صمصام الدولہ بہادر، برادر نواب نادر مرزاصاحب مرحوم، بزرگ ان کے قدیم رہنے والے نجف اشرف کے تھے جہاں حضرت علی دفن ہیں۔ بادشاہ عالمگیر ثانی کے زمانے میں دہلی میں تشریف لائے تھے۔ قریب لاہوری دروازہ کے مقیم ہوئے، صوبہ دار دکھن کے ہوئے۔ بہت عرصہ تک اس علاقے میں رہے۔ وہی عہدہ ان کے خاندان میں چلا گیا۔ ایک مدت تک زمانہ نواب شجاع الدولہ بہادر مرحوم کے، فیض آباد میں آئے۔ ان کے والد نے نواب صاحب کو عرض کی کہ ہمارے بزرگ اس سرکار فیض آثار کے قدیم نمک خوار ہیں۔ حضور کا فیض سن کے مع عیال و اطفال حاضر ہوئے ہیں۔ اس وقت میں سوائے آپ کی سرکار کے کہاں جائیں۔ اس وقت ان کی عرضی پر یہ مضمون دست خط ہو گیاکہ اگر آپ کو منظور ہو تو ایک رسالداری خالی ہے، کر لیجیے۔ ان کے والد مرحوم نے منظور کیا۔ سرکار سے خلعت رسالداری کا ہو گیا۔ کار سرکار بدستور کرنے لگے۔ تو ان کے دوستوں نے ایک دن یہ کہا کہ میر صاحب ایک مکان یہاں بنائیے، سرکاری مکان میں کب تک گذر کیجیے گا۔ اس وقت انھوں نے ایک عمدہ مکان تعمیر کیا۔ نواب آصف الدولہ بہادر مرحوم کے ساتھ لکھنؤ میں تشریف لائے، اس روز سے باشندہ لکھنؤ مشہور ہوئے۔ نواب سعادت علی خان مرحوم کے زمانہ میں میر ضمیر صاحب پیدا ہوئے۔ سولہ برس تک علم حاصل کیا۔ بیس برس کے سن میں شعر گوئی کا شوق ہوا۔"
}
] |
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.