Dataset Viewer
Auto-converted to Parquet Duplicate
title
stringlengths
22
123
content
stringlengths
70
2.22k
be-thikaane-hai-dil-e-gam-ghiin-thikaane-kii-kaho-firaq-gorakhpuri-ghazals
بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو شام ہجراں دوستو کچھ اس کے آنے کی کہو ہاں نہ پوچھ اک گرفتار قفس کی زندگی ہم صفیران چمن کچھ آشیانے کی کہو اڑ گیا ہے منزل دشوار میں غم کا سمند گیسوئے پر پیچ و خم کے تازیانے کی کہو بات بنتی اور باتوں سے نظر آتی نہیں اس نگاہ ناز کی باتیں بنانے کی کہو داستاں وہ تھی جسے دل بجھتے بج...
bahsen-chhidii-huii-hain-hayaat-o-mamaat-kii-firaq-gorakhpuri-ghazals
بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی ساز نوائے درد حجابات دہر میں کتنی دکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی رکھ لی جنہوں نے کشمکش زندگی کی لاج بے دردیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی یوں فرط بے خودی سے محبت میں جان دے تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی ہے عشق اس تبسم جاں بخش کا شہید رنگین...
aaj-bhii-qaafila-e-ishq-ravaan-hai-ki-jo-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھا پھر فسانہ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو اس دور میں ب...
tumhen-kyuunkar-bataaen-zindagii-ko-kyaa-samajhte-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals
تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے ترے دم بھر کے مل جانے ...
tez-ehsaas-e-khudii-darkaar-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
تیز احساس خودی درکار ہے زندگی کو زندگی درکار ہے جو چڑھا جائے خمستان جہاں ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام آدمی کو آدمی درکار ہے سو گلستاں جس اداسی پر نثار مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے شاعری ہے سربسر تہذیب‌ قلب اس کو غم شائستگی درکار ہے شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گداز وہ خلوص باطنی درکار ہے ...
tuur-thaa-kaaba-thaa-dil-thaa-jalva-zaar-e-yaar-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالم اسرار تھا نشۂ صد جام کیف انتظار یار تھا ہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغر سرشار تھا الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراق تا بہ دور‌ زندگانی انتظار یار تھا ایک ادا سے بے نیاز قرب و دوری کر دیا ماورائے وصل و ہجراں حسن کا اقرار تھا جوہر آئینۂ عالم بنے آ...
ik-roz-hue-the-kuchh-ishaaraat-khafii-se-firaq-gorakhpuri-ghazals
اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے عاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے کرنے کو ہیں دور آج تو تو یہ روگ ہی جی سے اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے احباب سے رکھتا ہوں کچھ امید شرافت رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے اشعار نہیں ہیں یہ مری ...
zindagii-dard-kii-kahaanii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
زندگی درد کی کہانی ہے چشم انجم میں بھی تو پانی ہے بے نیازانہ سن لیا غم دل مہربانی ہے مہربانی ہے وہ بھلا میری بات کیا مانے اس نے اپنی بھی بات مانی ہے شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ ساز یا ترا شعلۂ جوانی ہے وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو گاہ گل گاہ رات رانی ہے بن کے معصوم سب کو تاڑ گئی آنکھ اس کی بڑی سیانی ہے آپ بیتی کہو...
sitaaron-se-ulajhtaa-jaa-rahaa-huun-firaq-gorakhpuri-ghazals
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر قیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبت ...
nigaah-e-naaz-ne-parde-uthaae-hain-kyaa-kyaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے...
kisii-kaa-yuun-to-huaa-kaun-umr-bhar-phir-bhii-firaq-gorakhpuri-ghazals
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر پھر بھی کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوت نظر دراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی جھپک رہی ہیں زمان و مکاں...
junuun-e-kaargar-hai-aur-main-huun-firaq-gorakhpuri-ghazals
جنون کارگر ہے اور میں ہوں حیات بے خبر ہے اور میں ہوں مٹا کر دل نگاہ اولیں سے تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں کہاں میں آ گیا اے زور پرواز وبال بال و پر ہے اور میں ہوں نگاہ اولیں سے ہو کے برباد تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں مبارک باد ایام اسیری غم دیوار و در ہے اور میں ہوں تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے حیات منتشر ہے اور ...
narm-fazaa-kii-karvaten-dil-ko-dukhaa-ke-rah-gaiin-firaq-gorakhpuri-ghazals
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں حسن نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے ...
mai-kade-men-aaj-ik-duniyaa-ko-izn-e-aam-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا دور جام بے خودی بیگانۂ ایام تھا روح لرزاں آنکھ محو دید دل ناکام تھا عشق کا آغاز بھی شائستۂ انجام تھا رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا حسن بھی کتنا خراب گردش ایام تھا غم کدے میں دہر کے یوں تو اندھیرا تھا مگر عشق کا داغ سیہ بختی چراغ شام تھا تیری دزدیدہ نگاہی یوں تو نا محسو...
chhalak-ke-kam-na-ho-aisii-koii-sharaab-nahiin-firaq-gorakhpuri-ghazals
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی ابھی...
ye-narm-narm-havaa-jhilmilaa-rahe-hain-charaag-firaq-gorakhpuri-ghazals
یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ ترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ جھلکتی ہے کھنچی شمشیر میں نئی دنیا حیات و موت کے ملتے نہیں ہیں آج دماغ حریف سینۂ مجروح و آتش غم عشق نہ گل کی چاک گریبانیاں نہ لالے کے داغ وہ جن کے حال میں لو دے اٹھے غم...
haath-aae-to-vahii-daaman-e-jaanaan-ho-jaae-firaq-gorakhpuri-ghazals
ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے چھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائے عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیت عشق اس کی ہر بے خبری منزل عرفاں ہو جائے یاد آتی ہے جب اپنی تو تڑپ جاتا ہوں میری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ہو جائے آنکھ وہ ہے جو تری جلوہ گ...
ras-men-duubaa-huaa-lahraataa-badan-kyaa-kahnaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا کروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا نگہ ناز میں یہ پچھلے پہر رنگ خمار نیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا باغ جنت پہ گھٹا جیسے برس کے کھل جائے یہ سہانی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا ٹھہری ٹھہری سی نگاہوں میں یہ وحشت کی کرن چونکے چونکے سے یہ آہوئے ختن کیا کہنا روپ سنگیت نے دھارا ہے...
vaqt-e-guruub-aaj-karaamaat-ho-gaii-firaq-gorakhpuri-ghazals
وقت غروب آج کرامات ہو گئی زلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئی کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلف شکن شکن ہستی تمام چشمۂ ظلم...
ab-aksar-chup-chup-se-rahen-hain-yuunhii-kabhuu-lab-kholen-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals
اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں پہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقات جاؤ نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رو لیں ہیں فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائی کہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہو لیں ہیں خنک سیہ مہکے ہوئے سائے پھیل جائیں...
mujh-ko-maaraa-hai-har-ik-dard-o-davaa-se-pahle-firaq-gorakhpuri-ghazals
مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے دی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلے آتش عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلے ہونٹ جلتے ہیں محبت میں دعا سے پہلے فتنے برپا ہوئے ہر غنچۂ سربستہ سے کھل گیا راز چمن چاک قبا سے پہلے چال ہے بادۂ ہستی کا چھلکتا ہوا جام ہم کہاں تھے ترے نقش کف پا سے پہلے اب کمی کیا ہے ترے بے سر و سامانوں کو ...
aankhon-men-jo-baat-ho-gaii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے اک شرح حیات ہو گئی ہے جب دل کی وفات ہو گئی ہے ہر چیز کی رات ہو گئی ہے غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے مدت سے خبر ملی نہ دل کی شاید کوئی بات ہو گئی ہے جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری تصویر حیات ہو گئی ہے اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے دل میں...
ye-nikhaton-kii-narm-ravii-ye-havaa-ye-raat-firaq-gorakhpuri-ghazals
یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات کچھ اور بھی تو ہو ان اشارات کے سوا یہ سب تو اے نگاہ کرم بات بات بات اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات ہم اہل انتظار کے آہٹ پہ کان ...
aaii-hai-kuchh-na-puuchh-qayaamat-kahaan-kahaan-firaq-gorakhpuri-ghazals
آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں اف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام بہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے تیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودی بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں راہ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی پ...
kuchh-na-kuchh-ishq-kii-taasiir-kaa-iqraar-to-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے اس کا الزام تغافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبردار تو ہے تیرا دیوانہ کسی کام میں ہشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ ترے مشتاق جمال خیر دیدار نہ ہو حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکنے کو پٹکتا ہے مگر ...
rukii-rukii-sii-shab-e-marg-khatm-par-aaii-firaq-gorakhpuri-ghazals-1
رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو اس کی رہ گزر آئی فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی امید وا...
bahut-pahle-se-un-qadmon-kii-aahat-jaan-lete-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھ...
har-naala-tire-dard-se-ab-aur-hii-kuchh-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے ہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار ہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرنا جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے کچھ مہر قیامت ہے نہ کچھ نار ج...
chhed-ai-dil-ye-kisii-shokh-ke-rukhsaaron-se-firaq-gorakhpuri-ghazals
چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے کھیلنا آہ دہکتے ہوئے انگاروں سے ہم شب ہجر میں جب سوتی ہے ساری دنیا ذکر کرتے ہیں ترا چھٹکے ہوئے تاروں سے اشک بھر لائے کسی نے جو ترا نام لیا اور کیا ہجر میں ہوتا ترے بیماروں سے چھیڑ نغمہ کوئی گو دل کی شکستہ ہیں رگیں ہم نکالیں گے صدا ٹوٹے ہوئے تاروں سے ہم کو تیری ہے ضرورت نہ اس...
zamiin-badlii-falak-badlaa-mazaaq-e-zindagii-badlaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا تمدن کے قدیم اقدار بدلے آدمی بدلا خدا و اہرمن بدلے وہ ایمان دوئی بدلا حدود خیر و شر بدلے مذاق کافری بدلا نئے انسان کا جب دور خود نا آگہی بدلا رموز بے خودی بدلے تقاضائے‌ خودی بدلا بدلتے جا رہے ہیں ہم بھی دنیا کو بدلنے میں نہیں بدلی ابھی دنیا تو دنیا کو ابھی بدلا نئی منزل کے می...
dete-hain-jaam-e-shahaadat-mujhe-maaluum-na-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا ہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھا مطلب چشم مروت مجھے معلوم نہ تھا تجھ کو مجھ سے تھی شکایت مجھے معلوم نہ تھا چشم خاموش کی بابت مجھے معلوم نہ تھا یہ بھی ہے حرف و حکایت مجھے معلوم نہ تھا عشق بس میں ہے مشیت کے عقیدہ تھا مرا اس کے بس میں ہے مشیت مجھے معلوم نہ تھا ہفت خواں جس نے ...
gam-tiraa-jalva-gah-e-kaun-o-makaan-hai-ki-jo-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا یعنی انسان وہی شعلہ بجاں ہے کہ جو تھا پھر وہی رنگ تکلم نگہ ناز میں ہے وہی انداز وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا کب ہے انکار ترے لطف و کرم سے لیکن تو وہی دشمن دل دشمن جاں ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہت وہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو تھا قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی ...
apne-gam-kaa-mujhe-kahaan-gam-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے اے کہ تیری خوشی مقدم ہے آگ میں جو پڑا وہ آگ ہوا حسن سوز نہاں مجسم ہے اس کے شیطان کو کہاں توفیق عشق کرنا گناہ آدم ہے دل کے دھڑکوں میں زور ضرب کلیم کس قدر اس حباب میں دم ہے ہے وہی عشق زندہ و جاوید جسے آب حیات بھی سم ہے اس میں ٹھہراؤ یا سکون کہاں زندگی انقلاب پیہم ہے اک تڑپ موج تہ ن...
vo-chup-chaap-aansuu-bahaane-kii-raaten-firaq-gorakhpuri-ghazals
وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں شب مہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم ترے حسن کے رسمسانے کی راتیں جوانی کی دوشیزگی کا تبسم گل زار کے وہ کھلانے کی راتیں پھواریں سی نغموں کی پڑتی ہوں جیسے کچھ اس لب کے سننے سنانے کی راتیں مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت مجھے یاد ہیں تیرے آنے کی راتیں پر اسرار...
samajhtaa-huun-ki-tuu-mujh-se-judaa-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے شب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہے ترا غم کیا ہے بس یہ جانتا ہوں کہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے کبھی خوش کر گئی مجھ کو تری یاد کبھی آنکھوں میں آنسو آ گیا ہے حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہ نگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے بہت دور اب ہے دل سے یاد تیری محبت کا زمانہ آ رہا ہے نہ جی خوش کر سکا تیرا ک...
diidaar-men-ik-tarfa-diidaar-nazar-aayaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا چھالوں کو بیاباں بھی گلزار نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا صبح شب ہجراں کی وہ چاک گریبانی اک عالم نیرنگی ہر تار نظر آیا ہو صبر کہ بیتابی امید کہ مایوسی نیرنگ محبت بھی بیکار نظر آیا جب چشم سیہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر اس ملک کا ہر خطہ تات...
jahaan-e-guncha-e-dil-kaa-faqat-chataknaa-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا اسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھا وہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیں شہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوش بس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا ہر اک کے ہاتھ فقط غفلتیں تھیں ہوش ن...
daur-e-aagaaz-e-jafaa-dil-kaa-sahaaraa-niklaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا حوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلا تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پر جانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا ہوش جاتا ہے جگر جاتا ہے دل جاتا ہے پردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا کتنے سفاک سر قتل گہہ عالم تھے لاک...
ab-daur-e-aasmaan-hai-na-daur-e-hayaat-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے جینا جو آ گیا تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو عمر خضر بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیا وہ دل ...
kamii-na-kii-tire-vahshii-ne-khaak-udaane-men-firaq-gorakhpuri-ghazals
کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں جنوں سے بھول ہوئی دل پہ چوٹ کھانے میں فراقؔ دیر ابھی تھی بہار آنے میں وہ کوئی رنگ ہے جو اڑ نہ جائے اے گل تر وہ کوئی بو ہے جو رسوا نہ ہو زمانے میں وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے ...
raat-bhii-niind-bhii-kahaanii-bhii-firaq-gorakhpuri-ghazals
رات بھی نیند بھی کہانی بھی ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی ایک پیغام زندگانی بھی عاشقی مرگ ناگہانی بھی اس ادا کا تری جواب نہیں مہربانی بھی سرگرانی بھی دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی منصب دل خوشی لٹانا ہے غم پنہاں کی پاسبانی بھی دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیراب زندگی آگ بھی ہے پانی بھی شاد ...
shaam-e-gam-kuchh-us-nigaah-e-naaz-kii-baaten-karo-firaq-gorakhpuri-ghazals
شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو یہ سکوت ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا خامشی میں کچھ شکست ساز کی باتیں کرو نکہت زلف پریشاں داستان شام غم صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو ہر رگ دل وجد میں آتی رہے دکھتی رہے یوں ہی اس کے جا و بے جا ناز کی باتیں کرو جو عدم کی جان ہے جو ہے پی...
jaur-o-be-mehrii-e-igmaaz-pe-kyaa-rotaa-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے مہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سے تم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا آج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے عشق سے توبہ...
bastiyaan-dhuundh-rahii-hain-unhen-viiraanon-men-firaq-gorakhpuri-ghazals
بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں وحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں نگۂ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میں جان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقی موج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموش یہ صدا کب کی سنی آتی ہے پھر کانوں میں سیر کر ...
sar-men-saudaa-bhii-nahiin-dil-men-tamannaa-bhii-nahiin-firaq-gorakhpuri-ghazals
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں لیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں آج غفلت ب...
firaaq-ik-naii-suurat-nikal-to-saktii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals
فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے بقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے ترے خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ورنہ کہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے عروس دہر چلے کھا کے ٹھوکریں لیکن قدم قدم پہ جوانی ابل تو سکتی ہے پلٹ پڑے نہ کہیں اس نگاہ کا جادو کہ ڈوب کر یہ چھری کچھ اچھل تو سکتی ہے بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھی فسر...
koii-paigaam-e-mohabbat-lab-e-ejaaz-to-de-firaq-gorakhpuri-ghazals
کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہے درد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیں دل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خمار اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے ...
hijr-o-visaal-e-yaar-kaa-parda-uthaa-diyaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا خود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا گرد و غبار ہستئ فانی اڑا دیا اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیا اے عشق‌ بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا وہ شان خامشی کہ بہاریں ہیں منتظر وہ رنگ گفتگو کہ گلستاں بنا دیا دم لے رہی تھیں حسن کی جب سحر‌ کاریاں ان وقفہ‌ ہائے ...
kuchh-ishaare-the-jinhen-duniyaa-samajh-baithe-the-ham-firaq-gorakhpuri-ghazals
کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکی عشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفات جس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم کی...
zer-o-bam-se-saaz-e-khilqat-ke-jahaan-bantaa-gayaa-firaq-gorakhpuri-ghazals
زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا داستان جور بے حد خون سے لکھتا رہا قطرہ قطرہ اشک غم کا بے کراں بنتا گیا عشق تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو زیب عنوان حدیث دیگراں بنتا گیا بات نکلے بات سے جیسے وہ...
jaagne-vaalo-taa-ba-sahar-khaamosh-raho-habib-jalib-ghazals
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہے یوں بھی کہاں آرام مگ...
ham-ne-dil-se-tujhe-sadaa-maanaa-habib-jalib-ghazals
ہم نے دل سے تجھے سدا مانا تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا میرؔ و غالبؔ کے بعد انیسؔ کے بعد تجھ کو مانا بڑا بجا مانا تو کہ دیوانۂ صداقت تھا تو نے بندے کو کب خدا مانا تجھ کو پروا نہ تھی زمانے کی تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا خود ہی کو تو نہ رہنما مانا کی نہ شب کی کبھی پذیرائی صبح کو لائق ث...
tum-se-pahle-vo-jo-ik-shakhs-yahaan-takht-nashiin-thaa-habib-jalib-ghazals
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو اک زمانے میں مزاج ان کا...
afsos-tumhen-car-ke-shiishe-kaa-huaa-hai-habib-jalib-ghazals
افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے پروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂ غم کا برہم جو ہوئی بزم طرب اس کا گلا ہے فرعون بھی نمرود بھی گزرے ہیں جہاں میں رہتا ہے یہاں کون یہاں کون رہا ہے تم ظلم کہاں تک تہ افلاک کرو گے یہ بات نہ بھولو کہ ہمارا بھی خدا ہے آزادئ انساں کے وہیں پھول کھلیں گے ...
dushmanon-ne-jo-dushmanii-kii-hai-habib-jalib-ghazals
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب اور ہم نے تو بات بھی کی ہے مطمئن ہے ضمیر تو اپنا بات ساری ضمیر ہی کی ہے اپنی تو داستاں ہے بس اتنی غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول فکر ہم کو کلی کلی کی ہے پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو جستجو آج بھی اسی کی ہے...
sher-hotaa-hai-ab-mahiinon-men-habib-jalib-ghazals
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں زندگی ڈھل گئی مشینوں میں پیار کی روشنی نہیں ملتی ان مکانوں میں ان مکینوں میں دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں آسمانوں کی خیر ہو یا رب اک نیا عزم ہے زمینوں میں وہ محبت نہیں رہی جالبؔ ہم صفیروں میں ہم نشینوں ...
aur-sab-bhuul-gae-harf-e-sadaaqat-likhnaa-habib-jalib-ghazals-1
اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا اس سے بڑھ کر مری تحسین بھ...
dil-vaalo-kyuun-dil-sii-daulat-yuun-be-kaar-lutaate-ho-habib-jalib-ghazals
دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو کیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہو تم ایسا نادان جہاں میں کوئی نہیں ہے کوئی نہیں پھر ان گلیوں میں جاتے ہو پگ پگ ٹھوکر کھاتے ہو سندر کلیو کومل پھولو یہ تو بتاؤ یہ تو کہو آخر تم میں کیا جادو ہے کیوں من میں بس جاتے ہو یہ موسم رم جھم کا موسم یہ برکھا یہ مست فضا ...
ab-terii-zaruurat-bhii-bahut-kam-hai-mirii-jaan-habib-jalib-ghazals
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر جاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب تصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط ...
chuur-thaa-zakhmon-se-dil-zakhmii-jigar-bhii-ho-gayaa-habib-jalib-ghazals
چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا اس کو روتے تھے کہ سونا یہ نگر بھی ہو گیا لوگ اسی صورت پریشاں ہیں جدھر بھی دیکھیے اور وہ کہتے ہیں کوہ غم تو سر بھی ہو گیا بام و در پر ہے مسلط آج بھی شام الم یوں تو ان گلیوں سے خورشید سحر بھی ہو گیا اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا...
bate-rahoge-to-apnaa-yuunhii-bahegaa-lahuu-habib-jalib-ghazals
بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ ورو تمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہے خود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو سنو تمہارے گریبان بھی نہیں محفوظ ڈرو تمہارا بھی اک دن حساب لے گا لہو اگر نہ عہد کیا ہم نے ایک ہونے کا...
vahii-haalaat-hain-faqiiron-ke-habib-jalib-ghazals
وہی حالات ہیں فقیروں کے دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر اور حلقے ہیں سب امیروں کے ہر بلاول ہے دیس کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے وہی اہل وفا کی صورت حال وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے سازشیں ہیں وہی خلاف عوام مشورے ہیں وہی مشیروں کے بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی وہی دن رات ہیں اسیروں کے
us-rauunat-se-vo-jiite-hain-ki-marnaa-hii-nahiin-habib-jalib-ghazals
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہ...
khuub-aazaadii-e-sahaafat-hai-habib-jalib-ghazals
خوب آزادئ صحافت ہے نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار سب کو معلوم یہ حقیقت ہے خوف کے ذہن و دل پہ سائے ہیں کس کی عزت یہاں سلامت ہے کبھی جمہوریت یہاں آئے یہی جالبؔ ہماری حسرت ہے
tire-maathe-pe-jab-tak-bal-rahaa-hai-habib-jalib-ghazals
ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے اجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہے سماتے کیا نظر میں چاند تارے تصور میں ترا آنچل رہا ہے تری شان تغافل کو خبر کیا کوئی تیرے لیے بے کل رہا ہے شکایت ہے غم دوراں کو مجھ سے کہ دل میں کیوں ترا غم پل رہا ہے تعجب ہے ستم کی آندھیوں میں چراغ دل ابھی تک جل رہا ہے لہو روئیں گی مغرب کی فضائیں بڑی تی...
zarre-hii-sahii-koh-se-takraa-to-gae-ham-habib-jalib-ghazals
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم دل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپنا روداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا لو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ ...
kaun-bataae-kaun-sujhaae-kaun-se-des-sidhaar-gae-habib-jalib-ghazals
کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے ان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھا ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو یہ ب...
hujuum-dekh-ke-rasta-nahiin-badalte-ham-habib-jalib-ghazals
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم
dil-par-jo-zakhm-hain-vo-dikhaaen-kisii-ko-kyaa-habib-jalib-ghazals
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا وہ بات چھیڑ جس میں ...
apnon-ne-vo-ranj-diye-hain-begaane-yaad-aate-hain-habib-jalib-ghazals
اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں دیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں اس نگری میں قدم قدم پہ سر کو جھکانا پڑتا ہے اس نگری میں قدم قدم پر بت خانے یاد آتے ہیں آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں غربت کے صحراؤں میں جب اس رم جھم کی وادی کے افسانے یاد آتے ہیں ایسے ایسے درد ملے ہیں نئے دیاروں میں ہم کو بچھڑے ہوئ...
faiz-aur-faiz-kaa-gam-bhuulne-vaalaa-hai-kahiin-habib-jalib-ghazals
فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیں ہم سے جس وقت نے وہ شاہ سخن چھین لیا ہم کو وہ وقت الم بھولنے والا ہے کہیں ترے اشک اور بھی چمکائیں گی یادیں اس کی ہم کو وہ دیدۂ نم بھولنے والا ہے کہیں کبھی زنداں میں کبھی دور وطن سے اے دوست جو کیا اس نے رقم بھولنے والا ہے کہیں آخری بار ا...
jiivan-mujh-se-main-jiivan-se-sharmaataa-huun-habib-jalib-ghazals
جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کر ٹانکو اور میں نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں جن خوابوں کو دیکھ کے می...
aag-hai-phailii-huii-kaalii-ghataaon-kii-jagah-habib-jalib-ghazals
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو بک رہے ہیں اب صحافی بیسواؤں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھ...
kabhii-to-mehrbaan-ho-kar-bulaa-len-habib-jalib-ghazals
کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں نہ جانے پھر یہ رت آئے نہ آئے جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں بہت روئے زمانے کے لیے ہم ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیں سمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں ہماری بھی سنبھل جائے گی حالت وہ پہلے اپنی زلفیں تو سنبھالیں نکلنے کو ہے وہ مہتا...
is-shahr-e-kharaabii-men-gam-e-ishq-ke-maare-habib-jalib-ghazals
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں ک...
na-dagmagaae-kabhii-ham-vafaa-ke-raste-men-habib-jalib-ghazals
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے ہزار غنچہ و گل ہیں صبا کے رستے میں خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں کہیں سلاسل تسبیح اور کہیں زنار بچھے ہیں دام بہت مدعا کے رستے میں ابھی وہ منزل فکر و نظر نہیں آئی ہ...
vo-dekhne-mujhe-aanaa-to-chaahtaa-hogaa-habib-jalib-ghazals
وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں م...
ye-soch-kar-na-maail-e-fariyaad-ham-hue-habib-jalib-ghazals
یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا ہے شاد کام یہاں کون با ضمیر ناشاد ہم ہوئے تو بہت شاد ہم ہوئے پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں یہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوئے کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے درد و غم کوئے بتاں میں بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے جالبؔ تمام عمر ہمیں یہ گماں رہا ا...
ye-jo-shab-ke-aivaanon-men-ik-halchal-ik-hashr-bapaa-hai-habib-jalib-ghazals
یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے یہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہے یہ جو ہر دکھ سہنے والا دکھ کا مداوا جان گیا ہے مظلوموں مجبوروں کا غم یہ جو مرے شعروں میں ڈھلا ہے یہ جو مہک گلشن گلشن ہے یہ جو چمک عالم عالم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے
us-ne-jab-hans-ke-namaskaar-kiyaa-habib-jalib-ghazals
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت میں دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات نہ پوچھو یارو ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو اس کی آواز نے بیدار کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا
ik-shakhs-baa-zamiir-miraa-yaar-mushafii-habib-jalib-ghazals
اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ میری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاں یکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤ کب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگ اک عمر شعر سے رہا بیزار مصحفیؔ دربار میں تھا بار کہاں اس غریب کو برسوں مثال میرؔ پھ...
log-giiton-kaa-nagar-yaad-aayaa-habib-jalib-ghazals
لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا آج پردیس میں گھر یاد آیا جب چلے آئے چمن زار سے ہم التفات گل تر یاد آیا تیری بیگانہ نگاہی سر شام یہ ستم تا بہ سحر یاد آیا ہم زمانے کا ستم بھول گئے جب ترا لطف نظر یاد آیا تو بھی مسرور تھا اس شب سر بزم اپنے شعروں کا اثر یاد آیا پھر ہوا درد تمنا بیدار پھر دل‌ خاک‌ بسر یاد آیا ہم جسے بھ...
baaten-to-kuchh-aisii-hain-ki-khud-se-bhii-na-kii-jaaen-habib-jalib-ghazals
باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی ج...
dil-e-pur-shauq-ko-pahluu-men-dabaae-rakkhaa-habib-jalib-ghazals
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا جانے کس حال میں ہیں ...
kuchh-log-khayaalon-se-chale-jaaen-to-soen-habib-jalib-ghazals
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گے آ آ کے تصور میں نہ تڑپائیں تو سوئیں برسات کی رت کے وہ طرب ریز مناظر سینے میں نہ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑے آنچل جو نگاہوں میں نہ لہرائیں تو سوئیں محسوس یہ ہوتا ہے ا...
kam-puraanaa-bahut-nayaa-thaa-firaaq-habib-jalib-ghazals
کم پرانا بہت نیا تھا فراق اک عجب رمز آشنا تھا فراق دور وہ کب ہوا نگاہوں سے دھڑکنوں میں بسا ہوا ہے فراق شام غم کے سلگتے صحرا میں اک امنڈتی ہوئی گھٹا تھا فراق امن تھا پیار تھا محبت تھا رنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق فاصلے نفرتوں کے مٹ جائیں پیار ہی پیار سوچتا تھا فراق ہم سے رنج و الم کے ماروں کو کس محبت سے دیکھ...
darakht-suukh-gae-ruk-gae-nadii-naale-habib-jalib-ghazals
درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے یہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والے کہانیاں جو سناتے تھے عہد رفتہ کی نشاں وہ گردش ایام نے مٹا ڈالے میں شہر شہر پھرا ہوں اسی تمنا میں کسی کو اپنا کہوں کوئی مجھ کو اپنا لے صدا نہ دے کسی مہتاب کو اندھیروں میں لگا نہ دے یہ زمانہ زبان پر تالے کوئی کرن ہے یہاں تو کوئی کرن ہے وہاں دل و...
bahut-raushan-hai-shaam-e-gam-hamaarii-habib-jalib-ghazals
بہت روشن ہے شام غم ہماری کسی کی یاد ہے ہم دم ہماری غلط ہے لا تعلق ہیں چمن سے تمہارے پھول اور شبنم ہماری یہ پلکوں پر نئے آنسو نہیں ہیں ازل سے آنکھ ہے پر نم ہماری ہر اک لب پر تبسم دیکھنے کی تمنا کب ہوئی ہے کم ہماری کہی ہے ہم نے خود سے بھی بہت کم نہ پوچھو داستان غم ہماری
bhulaa-bhii-de-use-jo-baat-ho-gaii-pyaare-habib-jalib-ghazals
بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر یہ کیسی شام خرابات ہو گئی پیارے وفا کا نام نہ لے گا کوئی زمانے میں ہم اہ...
phir-kabhii-laut-kar-na-aaenge-habib-jalib-ghazals
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے دور افتادہ بستیوں میں کہیں تیری یادوں سے لو لگائیں گے شمع ماہ و نجوم گل کر کے آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے آخری بار اک غزل سن لو آخری بار ہم سنائیں گے صورت موجۂ ہوا جالبؔ ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے
vatan-ko-kuchh-nahiin-khatra-nizaam-e-zar-hai-khatre-men-habib-jalib-ghazals
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر وہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں جہاں اقبالؔ بھی نذر خط تنسیخ ہو جالبؔ وہاں تجھ کو شکایت ہ...
miir-o-gaalib-bane-yagaanaa-bane-habib-jalib-ghazals
میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنے آدمی اے خدا خدا نہ بنے موت کی دسترس میں کب سے ہیں زندگی کا کوئی بہانہ بنے اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست با وفا بن کے بے وفا نہ بنے ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے بے نوا ہو کے بے نوا نہ بنے یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے کسی قاتل کے ہم نوا نہ بنے کیا گلہ سنگ دل زمانے کا آشنا ہی جب آشنا نہ ...
jhuutii-khabren-ghadne-vaale-jhuute-sher-sunaane-vaale-habib-jalib-ghazals
جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے لوگو صبر کہ اپنے کئے کی جلد سزا ہیں پانے والے درد آنکھوں سے بہتا ہے اور چہرہ سب کچھ کہتا ہے یہ مت لکھو وہ مت لکھو آئے بڑے سمجھانے والے خود کاٹیں گے اپنی مشکل خود پائیں گے اپنی منزل راہزنوں سے بھی بد تر ہیں راہنما کہلانے والے ان سے پیار کیا ہے ہم نے ان کی راہ میں ہم بیٹ...
bade-bane-the-jaalib-saahab-pite-sadak-ke-biich-habib-jalib-ghazals
بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ گولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچ کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خون ہمیں تو یوں ہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں اپنے تمغے ہیں ملی ہے ایسی داد وفا کی کسے سڑک کے بیچ
sher-se-shaairii-se-darte-hain-habib-jalib-ghazals
شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں دہر میں آہ بے کساں کے سوا اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں داور حشر بخش دے شاید ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں روٹھتا ہے تو روٹھ جائے جہاں ان کی ہم بے رخی سے ڈرتے ہی...
kahiin-aah-ban-ke-lab-par-tiraa-naam-aa-na-jaae-habib-jalib-ghazals
کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے ذرا زلف کو سنبھالو مرا دل دھڑک رہا ہے کوئی اور طائر دل تہہ دام آ نہ جائے جسے سن کے ٹوٹ جائے مرا آرزو بھرا دل تری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں انہیں رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے اسی ...
phir-dil-se-aa-rahii-hai-sadaa-us-galii-men-chal-habib-jalib-ghazals
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل شاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چل کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کا یہ شعر کی نہیں ہے فضا اس گلی میں چل وہ بام و در وہ لوگ وہ رسوائیوں کے زخم ہیں سب کے سب عزیز جدا اس گلی میں چل اس پھول کے بغیر بہت جی اداس ہے مجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا اس گلی میں چل دنیا تو چاہتی ہے یوں ہی ف...
ye-aur-baat-terii-galii-men-na-aaen-ham-habib-jalib-ghazals-3
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ ...
yuun-vo-zulmat-se-rahaa-dast-o-garebaan-yaaro-habib-jalib-ghazals
یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو اس سے لرزاں تھے بہت شب کے نگہباں یارو اس نے ہر گام دیا حوصلۂ تازہ ہمیں وہ نہ اک پل بھی رہا ہم سے گریزاں یارو اس نے مانی نہ کبھی تیرگیٔ شب سے شکست دل اندھیروں میں رہا اس کا فروزاں یارو اس کو ہر حال میں جینے کی ادا آتی تھی وہ نہ حالات سے ہوتا تھا پریشاں یارو اس نے باطل سے نہ ...
dil-kii-baat-labon-par-laa-kar-ab-tak-ham-dukh-sahte-hain-habib-jalib-ghazals
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج و...
End of preview. Expand in Data Studio

Urdu Poetry Dataset

Welcome to the Urdu Poetry Dataset! This dataset is a collection of Urdu poems where each entry includes two columns:

  • Title: The title of the poem.
  • Poem: The full text of the poem.

This dataset is ideal for natural language processing tasks such as text generation, language modeling, or cultural studies in computational linguistics.


Dataset Overview

The Urdu Poetry Dataset comprises a diverse collection of Urdu poems, capturing the rich heritage and literary nuances of the Urdu language. Each record in the dataset consists of:

  • Poem Title: A brief title that reflects the theme or subject of the poem.
  • Poem Text: The actual content of the poem.

The dataset is structured in a tabular format, making it straightforward to load and manipulate with popular data processing libraries.


Data Format

The dataset is provided in a standard tabular format (e.g., CSV or JSON). Each entry includes the following columns:

  • title (string): The title of the poem.
  • poem (string): The full text of the poem.

Example (CSV format):

title,poem
"دل کی کتاب","یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجے..."
"پھولوں کا سلسلہ","خوشبوؤں کی محفل میں، ایک پھول داستان کہتا ہے..."
How to Load the Dataset
You can easily load the dataset using the Hugging Face Datasets library. Below is an example using Python:

python
Copy
Edit
from datasets import load_dataset

# Replace 'your-username/urdu-poetry-dataset' with the actual repository name on Hugging Face Hub
dataset = load_dataset("your-username/urdu-poetry-dataset")

# Accessing the train split (if applicable, otherwise adjust accordingly)
print(dataset['train'][0])
Note: Ensure that you have installed the datasets library with:

bash
Copy
Edit
pip install datasets
Intended Use Cases
Text Generation: Train language models to generate Urdu poetry.
Stylistic Analysis: Analyze poetic styles and structures in Urdu literature.
Cultural Studies: Explore themes and cultural nuances present in Urdu poetry.
Machine Translation: Use as a resource for translating poetic texts between languages.
License
This dataset is distributed under the MIT License. See the LICENSE file for more details.


Contributing
Contributions are welcome! If you have additional data, improvements, or suggestions, please open an issue or submit a pull request on the GitHub repository.

Citation
If you use this dataset in your research, please consider citing it as follows:

bibtex
Copy
Edit
@dataset-ReySajju742/English-Urdu-Dataset,
  author       = Sajjad Rasool,
  title        = English Transliteration (Roman Urdu) of Urdu Poetry Dataset,
  year         = 2025,
  publisher    = ReySajju742,
  url          = https://huggingface.co/datasets/ReySajju742/English-Urdu-Dataset,
}
Contact
For any questions, suggestions, or issues, please contact sajjjad.rasool@gmail.com
Downloads last month
18

Models trained or fine-tuned on ReySajju742/Urdu-Poetry-Dataset