mradermacher/Qwen2.5-3B-Urdu-Ultimate-Poet-GGUF
Text Generation • 3B • Updated • 20
title stringlengths 22 123 | content stringlengths 70 2.22k ⌀ |
|---|---|
be-thikaane-hai-dil-e-gam-ghiin-thikaane-kii-kaho-firaq-gorakhpuri-ghazals |
بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو
شام ہجراں دوستو کچھ اس کے آنے کی کہو
ہاں نہ پوچھ اک گرفتار قفس کی زندگی
ہم صفیران چمن کچھ آشیانے کی کہو
اڑ گیا ہے منزل دشوار میں غم کا سمند
گیسوئے پر پیچ و خم کے تازیانے کی کہو
بات بنتی اور باتوں سے نظر آتی نہیں
اس نگاہ ناز کی باتیں بنانے کی کہو
داستاں وہ تھی جسے دل بجھتے بج... |
bahsen-chhidii-huii-hain-hayaat-o-mamaat-kii-firaq-gorakhpuri-ghazals |
بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی
سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی
ساز نوائے درد حجابات دہر میں
کتنی دکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی
رکھ لی جنہوں نے کشمکش زندگی کی لاج
بے دردیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی
یوں فرط بے خودی سے محبت میں جان دے
تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی
ہے عشق اس تبسم جاں بخش کا شہید
رنگین... |
aaj-bhii-qaafila-e-ishq-ravaan-hai-ki-jo-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
پھر ترا غم وہی رسوائے جہاں ہے کہ جو تھا
پھر فسانہ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا
منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں
وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا
ظلمت و نور میں کچھ بھی نہ محبت کو ملا
آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا
یوں تو اس دور میں ب... |
tumhen-kyuunkar-bataaen-zindagii-ko-kyaa-samajhte-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals |
تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں
سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں
کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیں
نگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں
بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں
کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے مل جانے ... |
tez-ehsaas-e-khudii-darkaar-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
تیز احساس خودی درکار ہے
زندگی کو زندگی درکار ہے
جو چڑھا جائے خمستان جہاں
ہاں وہی لب تشنگی درکار ہے
دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام
آدمی کو آدمی درکار ہے
سو گلستاں جس اداسی پر نثار
مجھ کو وہ افسردگی درکار ہے
شاعری ہے سربسر تہذیب قلب
اس کو غم شائستگی درکار ہے
شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گداز
وہ خلوص باطنی درکار ہے ... |
tuur-thaa-kaaba-thaa-dil-thaa-jalva-zaar-e-yaar-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالم اسرار تھا
نشۂ صد جام کیف انتظار یار تھا
ہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغر سرشار تھا
الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراق
تا بہ دور زندگانی انتظار یار تھا
ایک ادا سے بے نیاز قرب و دوری کر دیا
ماورائے وصل و ہجراں حسن کا اقرار تھا
جوہر آئینۂ عالم بنے آ... |
ik-roz-hue-the-kuchh-ishaaraat-khafii-se-firaq-gorakhpuri-ghazals |
اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے
عاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے
کرنے کو ہیں دور آج تو تو یہ روگ ہی جی سے
اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے
احباب سے رکھتا ہوں کچھ امید شرافت
رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے
کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں
کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے
اشعار نہیں ہیں یہ مری ... |
zindagii-dard-kii-kahaanii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
زندگی درد کی کہانی ہے
چشم انجم میں بھی تو پانی ہے
بے نیازانہ سن لیا غم دل
مہربانی ہے مہربانی ہے
وہ بھلا میری بات کیا مانے
اس نے اپنی بھی بات مانی ہے
شعلۂ دل ہے یہ کہ شعلہ ساز
یا ترا شعلۂ جوانی ہے
وہ کبھی رنگ وہ کبھی خوشبو
گاہ گل گاہ رات رانی ہے
بن کے معصوم سب کو تاڑ گئی
آنکھ اس کی بڑی سیانی ہے
آپ بیتی کہو... |
sitaaron-se-ulajhtaa-jaa-rahaa-huun-firaq-gorakhpuri-ghazals |
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں
شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں
ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں
جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں
یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے
گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں
اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ
خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں
حدیں حسن و محبت کی ملا کر
قیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں
خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبت ... |
nigaah-e-naaz-ne-parde-uthaae-hain-kyaa-kyaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا
جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے
فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا
دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ
تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا
نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے... |
kisii-kaa-yuun-to-huaa-kaun-umr-bhar-phir-bhii-firaq-gorakhpuri-ghazals |
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر پھر بھی
کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھر
کہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی
خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوت نظر
دراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی
جھپک رہی ہیں زمان و مکاں... |
junuun-e-kaargar-hai-aur-main-huun-firaq-gorakhpuri-ghazals |
جنون کارگر ہے اور میں ہوں
حیات بے خبر ہے اور میں ہوں
مٹا کر دل نگاہ اولیں سے
تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں
کہاں میں آ گیا اے زور پرواز
وبال بال و پر ہے اور میں ہوں
نگاہ اولیں سے ہو کے برباد
تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں
مبارک باد ایام اسیری
غم دیوار و در ہے اور میں ہوں
تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے
حیات منتشر ہے اور ... |
narm-fazaa-kii-karvaten-dil-ko-dukhaa-ke-rah-gaiin-firaq-gorakhpuri-ghazals |
نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں
ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری
مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں
حسن نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر
تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے ... |
mai-kade-men-aaj-ik-duniyaa-ko-izn-e-aam-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا
دور جام بے خودی بیگانۂ ایام تھا
روح لرزاں آنکھ محو دید دل ناکام تھا
عشق کا آغاز بھی شائستۂ انجام تھا
رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیا
حسن بھی کتنا خراب گردش ایام تھا
غم کدے میں دہر کے یوں تو اندھیرا تھا مگر
عشق کا داغ سیہ بختی چراغ شام تھا
تیری دزدیدہ نگاہی یوں تو نا محسو... |
chhalak-ke-kam-na-ho-aisii-koii-sharaab-nahiin-firaq-gorakhpuri-ghazals |
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں
زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں
حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں
زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں
ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
ابھی... |
ye-narm-narm-havaa-jhilmilaa-rahe-hain-charaag-firaq-gorakhpuri-ghazals |
یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ
ترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغ
دلوں کو تیرے تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
جھلکتی ہے کھنچی شمشیر میں نئی دنیا
حیات و موت کے ملتے نہیں ہیں آج دماغ
حریف سینۂ مجروح و آتش غم عشق
نہ گل کی چاک گریبانیاں نہ لالے کے داغ
وہ جن کے حال میں لو دے اٹھے غم... |
haath-aae-to-vahii-daaman-e-jaanaan-ho-jaae-firaq-gorakhpuri-ghazals |
ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے
چھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائے
عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما
حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے
ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیت عشق
اس کی ہر بے خبری منزل عرفاں ہو جائے
یاد آتی ہے جب اپنی تو تڑپ جاتا ہوں
میری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ہو جائے
آنکھ وہ ہے جو تری جلوہ گ... |
ras-men-duubaa-huaa-lahraataa-badan-kyaa-kahnaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا
کروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا
نگہ ناز میں یہ پچھلے پہر رنگ خمار
نیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا
باغ جنت پہ گھٹا جیسے برس کے کھل جائے
یہ سہانی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا
ٹھہری ٹھہری سی نگاہوں میں یہ وحشت کی کرن
چونکے چونکے سے یہ آہوئے ختن کیا کہنا
روپ سنگیت نے دھارا ہے... |
vaqt-e-guruub-aaj-karaamaat-ho-gaii-firaq-gorakhpuri-ghazals |
وقت غروب آج کرامات ہو گئی
زلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئی
کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی
وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی
اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا
میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی
اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا
دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی
کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلف شکن شکن
ہستی تمام چشمۂ ظلم... |
ab-aksar-chup-chup-se-rahen-hain-yuunhii-kabhuu-lab-kholen-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals |
اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں
پہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں
دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقات
جاؤ نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رو لیں ہیں
فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائی
کہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہو لیں ہیں
خنک سیہ مہکے ہوئے سائے پھیل جائیں... |
mujh-ko-maaraa-hai-har-ik-dard-o-davaa-se-pahle-firaq-gorakhpuri-ghazals |
مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
دی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلے
آتش عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلے
ہونٹ جلتے ہیں محبت میں دعا سے پہلے
فتنے برپا ہوئے ہر غنچۂ سربستہ سے
کھل گیا راز چمن چاک قبا سے پہلے
چال ہے بادۂ ہستی کا چھلکتا ہوا جام
ہم کہاں تھے ترے نقش کف پا سے پہلے
اب کمی کیا ہے ترے بے سر و سامانوں کو ... |
aankhon-men-jo-baat-ho-gaii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرح حیات ہو گئی ہے
جب دل کی وفات ہو گئی ہے
ہر چیز کی رات ہو گئی ہے
غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کو
کیوں غم سے نجات ہو گئی ہے
مدت سے خبر ملی نہ دل کی
شاید کوئی بات ہو گئی ہے
جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری
تصویر حیات ہو گئی ہے
اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح
ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے
دل میں... |
ye-nikhaton-kii-narm-ravii-ye-havaa-ye-raat-firaq-gorakhpuri-ghazals |
یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات
مایوسیوں کی گود میں دم توڑتا ہے عشق
اب بھی کوئی بنا لے تو بگڑی نہیں ہے بات
کچھ اور بھی تو ہو ان اشارات کے سوا
یہ سب تو اے نگاہ کرم بات بات بات
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
ہم اہل انتظار کے آہٹ پہ کان ... |
aaii-hai-kuchh-na-puuchh-qayaamat-kahaan-kahaan-firaq-gorakhpuri-ghazals |
آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں
اف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں
بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام
بہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں
فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے
تیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں
ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودی
بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں
راہ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی
پ... |
kuchh-na-kuchh-ishq-kii-taasiir-kaa-iqraar-to-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
اس کا الزام تغافل پہ کچھ انکار تو ہے
ہر فریب غم دنیا سے خبردار تو ہے
تیرا دیوانہ کسی کام میں ہشیار تو ہے
دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ ترے مشتاق جمال
خیر دیدار نہ ہو حسرت دیدار تو ہے
معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن
یہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے
سر پٹکنے کو پٹکتا ہے مگر ... |
rukii-rukii-sii-shab-e-marg-khatm-par-aaii-firaq-gorakhpuri-ghazals-1 |
رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی
وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی
یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھ
مسافروں سے کہو اس کی رہ گزر آئی
فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی
کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں
مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی
کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی
امید وا... |
bahut-pahle-se-un-qadmon-kii-aahat-jaan-lete-hain-firaq-gorakhpuri-ghazals |
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں
جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی
اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں
نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا
تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھ... |
har-naala-tire-dard-se-ab-aur-hii-kuchh-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے
ہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے
ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیار
ہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے
یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سے
افلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے
اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرنا
جب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے
کچھ مہر قیامت ہے نہ کچھ نار ج... |
chhed-ai-dil-ye-kisii-shokh-ke-rukhsaaron-se-firaq-gorakhpuri-ghazals |
چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے
کھیلنا آہ دہکتے ہوئے انگاروں سے
ہم شب ہجر میں جب سوتی ہے ساری دنیا
ذکر کرتے ہیں ترا چھٹکے ہوئے تاروں سے
اشک بھر لائے کسی نے جو ترا نام لیا
اور کیا ہجر میں ہوتا ترے بیماروں سے
چھیڑ نغمہ کوئی گو دل کی شکستہ ہیں رگیں
ہم نکالیں گے صدا ٹوٹے ہوئے تاروں سے
ہم کو تیری ہے ضرورت نہ اس... |
zamiin-badlii-falak-badlaa-mazaaq-e-zindagii-badlaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا
تمدن کے قدیم اقدار بدلے آدمی بدلا
خدا و اہرمن بدلے وہ ایمان دوئی بدلا
حدود خیر و شر بدلے مذاق کافری بدلا
نئے انسان کا جب دور خود نا آگہی بدلا
رموز بے خودی بدلے تقاضائے خودی بدلا
بدلتے جا رہے ہیں ہم بھی دنیا کو بدلنے میں
نہیں بدلی ابھی دنیا تو دنیا کو ابھی بدلا
نئی منزل کے می... |
dete-hain-jaam-e-shahaadat-mujhe-maaluum-na-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا
ہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھا
مطلب چشم مروت مجھے معلوم نہ تھا
تجھ کو مجھ سے تھی شکایت مجھے معلوم نہ تھا
چشم خاموش کی بابت مجھے معلوم نہ تھا
یہ بھی ہے حرف و حکایت مجھے معلوم نہ تھا
عشق بس میں ہے مشیت کے عقیدہ تھا مرا
اس کے بس میں ہے مشیت مجھے معلوم نہ تھا
ہفت خواں جس نے ... |
gam-tiraa-jalva-gah-e-kaun-o-makaan-hai-ki-jo-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا
یعنی انسان وہی شعلہ بجاں ہے کہ جو تھا
پھر وہی رنگ تکلم نگہ ناز میں ہے
وہی انداز وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا
کب ہے انکار ترے لطف و کرم سے لیکن
تو وہی دشمن دل دشمن جاں ہے کہ جو تھا
عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہت
وہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو تھا
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی ... |
apne-gam-kaa-mujhe-kahaan-gam-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے
اے کہ تیری خوشی مقدم ہے
آگ میں جو پڑا وہ آگ ہوا
حسن سوز نہاں مجسم ہے
اس کے شیطان کو کہاں توفیق
عشق کرنا گناہ آدم ہے
دل کے دھڑکوں میں زور ضرب کلیم
کس قدر اس حباب میں دم ہے
ہے وہی عشق زندہ و جاوید
جسے آب حیات بھی سم ہے
اس میں ٹھہراؤ یا سکون کہاں
زندگی انقلاب پیہم ہے
اک تڑپ موج تہ ن... |
vo-chup-chaap-aansuu-bahaane-kii-raaten-firaq-gorakhpuri-ghazals |
وہ چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شب مہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے رسمسانے کی راتیں
جوانی کی دوشیزگی کا تبسم
گل زار کے وہ کھلانے کی راتیں
پھواریں سی نغموں کی پڑتی ہوں جیسے
کچھ اس لب کے سننے سنانے کی راتیں
مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت
مجھے یاد ہیں تیرے آنے کی راتیں
پر اسرار... |
samajhtaa-huun-ki-tuu-mujh-se-judaa-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے
شب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہے
ترا غم کیا ہے بس یہ جانتا ہوں
کہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے
کبھی خوش کر گئی مجھ کو تری یاد
کبھی آنکھوں میں آنسو آ گیا ہے
حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہ
نگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے
بہت دور اب ہے دل سے یاد تیری
محبت کا زمانہ آ رہا ہے
نہ جی خوش کر سکا تیرا ک... |
diidaar-men-ik-tarfa-diidaar-nazar-aayaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا
ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا
چھالوں کو بیاباں بھی گلزار نظر آیا
جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا
صبح شب ہجراں کی وہ چاک گریبانی
اک عالم نیرنگی ہر تار نظر آیا
ہو صبر کہ بیتابی امید کہ مایوسی
نیرنگ محبت بھی بیکار نظر آیا
جب چشم سیہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر
اس ملک کا ہر خطہ تات... |
jahaan-e-guncha-e-dil-kaa-faqat-chataknaa-thaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا
اسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا
یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھا
وہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا
طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیں
شہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا
بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوش
بس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا
ہر اک کے ہاتھ فقط غفلتیں تھیں ہوش ن... |
daur-e-aagaaz-e-jafaa-dil-kaa-sahaaraa-niklaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا
حوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلا
تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پر
جانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا
ہوش جاتا ہے جگر جاتا ہے دل جاتا ہے
پردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا
ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائل
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
کتنے سفاک سر قتل گہہ عالم تھے
لاک... |
ab-daur-e-aasmaan-hai-na-daur-e-hayaat-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے
ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے
حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے
جینا جو آ گیا تو اجل بھی حیات ہے
اور یوں تو عمر خضر بھی کیا بے ثبات ہے
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیا
وہ دل ... |
kamii-na-kii-tire-vahshii-ne-khaak-udaane-men-firaq-gorakhpuri-ghazals |
کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں
جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں
فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میں
کہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں
جنوں سے بھول ہوئی دل پہ چوٹ کھانے میں
فراقؔ دیر ابھی تھی بہار آنے میں
وہ کوئی رنگ ہے جو اڑ نہ جائے اے گل تر
وہ کوئی بو ہے جو رسوا نہ ہو زمانے میں
وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے ... |
raat-bhii-niind-bhii-kahaanii-bhii-firaq-gorakhpuri-ghazals |
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
ایک پیغام زندگانی بھی
عاشقی مرگ ناگہانی بھی
اس ادا کا تری جواب نہیں
مہربانی بھی سرگرانی بھی
دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میں
کچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی
منصب دل خوشی لٹانا ہے
غم پنہاں کی پاسبانی بھی
دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیراب
زندگی آگ بھی ہے پانی بھی
شاد ... |
shaam-e-gam-kuchh-us-nigaah-e-naaz-kii-baaten-karo-firaq-gorakhpuri-ghazals |
شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو
بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو
یہ سکوت ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا
خامشی میں کچھ شکست ساز کی باتیں کرو
نکہت زلف پریشاں داستان شام غم
صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو
ہر رگ دل وجد میں آتی رہے دکھتی رہے
یوں ہی اس کے جا و بے جا ناز کی باتیں کرو
جو عدم کی جان ہے جو ہے پی... |
jaur-o-be-mehrii-e-igmaaz-pe-kyaa-rotaa-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے
مہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سے
تم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے
نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیا
آج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے
عشق سے توبہ... |
bastiyaan-dhuundh-rahii-hain-unhen-viiraanon-men-firaq-gorakhpuri-ghazals |
بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں
وحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں
نگۂ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میں
جان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں
بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقی
موج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں
میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموش
یہ صدا کب کی سنی آتی ہے پھر کانوں میں
سیر کر ... |
sar-men-saudaa-bhii-nahiin-dil-men-tamannaa-bhii-nahiin-firaq-gorakhpuri-ghazals |
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
آج غفلت ب... |
firaaq-ik-naii-suurat-nikal-to-saktii-hai-firaq-gorakhpuri-ghazals |
فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے
بقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے
ترے خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ورنہ
کہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے
عروس دہر چلے کھا کے ٹھوکریں لیکن
قدم قدم پہ جوانی ابل تو سکتی ہے
پلٹ پڑے نہ کہیں اس نگاہ کا جادو
کہ ڈوب کر یہ چھری کچھ اچھل تو سکتی ہے
بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھی
فسر... |
koii-paigaam-e-mohabbat-lab-e-ejaaz-to-de-firaq-gorakhpuri-ghazals |
کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے
موت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے
مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہے
درد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے
چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیں
دل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے
اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خمار
اک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے
جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے ... |
hijr-o-visaal-e-yaar-kaa-parda-uthaa-diyaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا
خود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا
گرد و غبار ہستئ فانی اڑا دیا
اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا
وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیا
اے عشق بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا
وہ شان خامشی کہ بہاریں ہیں منتظر
وہ رنگ گفتگو کہ گلستاں بنا دیا
دم لے رہی تھیں حسن کی جب سحر کاریاں
ان وقفہ ہائے ... |
kuchh-ishaare-the-jinhen-duniyaa-samajh-baithe-the-ham-firaq-gorakhpuri-ghazals |
کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
اس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے
واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم
ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکی
عشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم
پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفات
جس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم
کی... |
zer-o-bam-se-saaz-e-khilqat-ke-jahaan-bantaa-gayaa-firaq-gorakhpuri-ghazals |
زیر و بم سے ساز خلقت کے جہاں بنتا گیا
یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا
داستان جور بے حد خون سے لکھتا رہا
قطرہ قطرہ اشک غم کا بے کراں بنتا گیا
عشق تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں
اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا
میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو
زیب عنوان حدیث دیگراں بنتا گیا
بات نکلے بات سے جیسے وہ... |
jaagne-vaalo-taa-ba-sahar-khaamosh-raho-habib-jalib-ghazals |
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
کل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو
کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں
ہو جائے گی رات بسر خاموش رہو
شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائے
چپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو
قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میں
دار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو
یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہے
یوں بھی کہاں آرام مگ... |
ham-ne-dil-se-tujhe-sadaa-maanaa-habib-jalib-ghazals |
ہم نے دل سے تجھے سدا مانا
تو بڑا تھا تجھے بڑا مانا
میرؔ و غالبؔ کے بعد انیسؔ کے بعد
تجھ کو مانا بڑا بجا مانا
تو کہ دیوانۂ صداقت تھا
تو نے بندے کو کب خدا مانا
تجھ کو پروا نہ تھی زمانے کی
تو نے دل ہی کا ہر کہا مانا
تجھ کو خود پہ تھا اعتماد اتنا
خود ہی کو تو نہ رہنما مانا
کی نہ شب کی کبھی پذیرائی
صبح کو لائق ث... |
tum-se-pahle-vo-jo-ik-shakhs-yahaan-takht-nashiin-thaa-habib-jalib-ghazals |
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا
اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو
اک زمانے میں مزاج ان کا... |
afsos-tumhen-car-ke-shiishe-kaa-huaa-hai-habib-jalib-ghazals |
افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
پروا نہیں اک ماں کا جو دل ٹوٹ گیا ہے
ہوتا ہے اثر تم پہ کہاں نالۂ غم کا
برہم جو ہوئی بزم طرب اس کا گلا ہے
فرعون بھی نمرود بھی گزرے ہیں جہاں میں
رہتا ہے یہاں کون یہاں کون رہا ہے
تم ظلم کہاں تک تہ افلاک کرو گے
یہ بات نہ بھولو کہ ہمارا بھی خدا ہے
آزادئ انساں کے وہیں پھول کھلیں گے ... |
dushmanon-ne-jo-dushmanii-kii-hai-habib-jalib-ghazals |
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
مطمئن ہے ضمیر تو اپنا
بات ساری ضمیر ہی کی ہے
اپنی تو داستاں ہے بس اتنی
غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے
اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول
فکر ہم کو کلی کلی کی ہے
پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے... |
sher-hotaa-hai-ab-mahiinon-men-habib-jalib-ghazals |
شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں
پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں
دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں
قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو
دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں
آسمانوں کی خیر ہو یا رب
اک نیا عزم ہے زمینوں میں
وہ محبت نہیں رہی جالبؔ
ہم صفیروں میں ہم نشینوں ... |
aur-sab-bhuul-gae-harf-e-sadaaqat-likhnaa-habib-jalib-ghazals-1 |
اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا
نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا
ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا
شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا
اس سے بڑھ کر مری تحسین بھ... |
dil-vaalo-kyuun-dil-sii-daulat-yuun-be-kaar-lutaate-ho-habib-jalib-ghazals |
دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو
کیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہو
تم ایسا نادان جہاں میں کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
پھر ان گلیوں میں جاتے ہو پگ پگ ٹھوکر کھاتے ہو
سندر کلیو کومل پھولو یہ تو بتاؤ یہ تو کہو
آخر تم میں کیا جادو ہے کیوں من میں بس جاتے ہو
یہ موسم رم جھم کا موسم یہ برکھا یہ مست فضا ... |
ab-terii-zaruurat-bhii-bahut-kam-hai-mirii-jaan-habib-jalib-ghazals |
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں
اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر
جاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں
رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب
تصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں
یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں
ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط ... |
chuur-thaa-zakhmon-se-dil-zakhmii-jigar-bhii-ho-gayaa-habib-jalib-ghazals |
چور تھا زخموں سے دل زخمی جگر بھی ہو گیا
اس کو روتے تھے کہ سونا یہ نگر بھی ہو گیا
لوگ اسی صورت پریشاں ہیں جدھر بھی دیکھیے
اور وہ کہتے ہیں کوہ غم تو سر بھی ہو گیا
بام و در پر ہے مسلط آج بھی شام الم
یوں تو ان گلیوں سے خورشید سحر بھی ہو گیا
اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا... |
bate-rahoge-to-apnaa-yuunhii-bahegaa-lahuu-habib-jalib-ghazals |
بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو
ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو
ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ ورو
تمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو
اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہے
خود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو
سنو تمہارے گریبان بھی نہیں محفوظ
ڈرو تمہارا بھی اک دن حساب لے گا لہو
اگر نہ عہد کیا ہم نے ایک ہونے کا... |
vahii-haalaat-hain-faqiiron-ke-habib-jalib-ghazals |
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے |
us-rauunat-se-vo-jiite-hain-ki-marnaa-hii-nahiin-habib-jalib-ghazals |
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں
یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں
ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں
کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہ... |
khuub-aazaadii-e-sahaafat-hai-habib-jalib-ghazals |
خوب آزادئ صحافت ہے
نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے
دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن
یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے
دھاندلی دھونس کی ہے پیداوار
سب کو معلوم یہ حقیقت ہے
خوف کے ذہن و دل پہ سائے ہیں
کس کی عزت یہاں سلامت ہے
کبھی جمہوریت یہاں آئے
یہی جالبؔ ہماری حسرت ہے |
tire-maathe-pe-jab-tak-bal-rahaa-hai-habib-jalib-ghazals |
ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے
اجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہے
سماتے کیا نظر میں چاند تارے
تصور میں ترا آنچل رہا ہے
تری شان تغافل کو خبر کیا
کوئی تیرے لیے بے کل رہا ہے
شکایت ہے غم دوراں کو مجھ سے
کہ دل میں کیوں ترا غم پل رہا ہے
تعجب ہے ستم کی آندھیوں میں
چراغ دل ابھی تک جل رہا ہے
لہو روئیں گی مغرب کی فضائیں
بڑی تی... |
zarre-hii-sahii-koh-se-takraa-to-gae-ham-habib-jalib-ghazals |
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم
دل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم
اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپنا
روداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم
کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا
لو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم
جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر
دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم
کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ ... |
kaun-bataae-kaun-sujhaae-kaun-se-des-sidhaar-gae-habib-jalib-ghazals |
کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے
ان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے
کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھا
ہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے
ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہے
پوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے
آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ ب... |
hujuum-dekh-ke-rasta-nahiin-badalte-ham-habib-jalib-ghazals |
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم
ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم
اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم
ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم |
dil-par-jo-zakhm-hain-vo-dikhaaen-kisii-ko-kyaa-habib-jalib-ghazals |
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا
ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا
بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار
رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا
رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا
وہ بات چھیڑ جس میں ... |
apnon-ne-vo-ranj-diye-hain-begaane-yaad-aate-hain-habib-jalib-ghazals |
اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں
دیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں
اس نگری میں قدم قدم پہ سر کو جھکانا پڑتا ہے
اس نگری میں قدم قدم پر بت خانے یاد آتے ہیں
آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں غربت کے صحراؤں میں
جب اس رم جھم کی وادی کے افسانے یاد آتے ہیں
ایسے ایسے درد ملے ہیں نئے دیاروں میں ہم کو
بچھڑے ہوئ... |
faiz-aur-faiz-kaa-gam-bhuulne-vaalaa-hai-kahiin-habib-jalib-ghazals |
فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں
موت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیں
ہم سے جس وقت نے وہ شاہ سخن چھین لیا
ہم کو وہ وقت الم بھولنے والا ہے کہیں
ترے اشک اور بھی چمکائیں گی یادیں اس کی
ہم کو وہ دیدۂ نم بھولنے والا ہے کہیں
کبھی زنداں میں کبھی دور وطن سے اے دوست
جو کیا اس نے رقم بھولنے والا ہے کہیں
آخری بار ا... |
jiivan-mujh-se-main-jiivan-se-sharmaataa-huun-habib-jalib-ghazals |
جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں
مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں
جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں
سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے
تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں
تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کر ٹانکو
اور میں نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں
جن خوابوں کو دیکھ کے می... |
aag-hai-phailii-huii-kaalii-ghataaon-kii-jagah-habib-jalib-ghazals |
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ
بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ
انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دل
دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ
کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں
راہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ
لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو
بک رہے ہیں اب صحافی بیسواؤں کی جگہ
کچھ تو آتا ہم کو بھ... |
kabhii-to-mehrbaan-ho-kar-bulaa-len-habib-jalib-ghazals |
کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں
یہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں
نہ جانے پھر یہ رت آئے نہ آئے
جواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں
بہت روئے زمانے کے لیے ہم
ذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں
ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیں
سمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں
ہماری بھی سنبھل جائے گی حالت
وہ پہلے اپنی زلفیں تو سنبھالیں
نکلنے کو ہے وہ مہتا... |
is-shahr-e-kharaabii-men-gam-e-ishq-ke-maare-habib-jalib-ghazals |
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے
یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
ک... |
na-dagmagaae-kabhii-ham-vafaa-ke-raste-men-habib-jalib-ghazals |
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں
کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
ہزار غنچہ و گل ہیں صبا کے رستے میں
خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں
کہیں سلاسل تسبیح اور کہیں زنار
بچھے ہیں دام بہت مدعا کے رستے میں
ابھی وہ منزل فکر و نظر نہیں آئی
ہ... |
vo-dekhne-mujhe-aanaa-to-chaahtaa-hogaa-habib-jalib-ghazals |
وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا
مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا
اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا
یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا
کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل
وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا
مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک
کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا
کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں م... |
ye-soch-kar-na-maail-e-fariyaad-ham-hue-habib-jalib-ghazals |
یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے
آباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے
ہوتا ہے شاد کام یہاں کون با ضمیر
ناشاد ہم ہوئے تو بہت شاد ہم ہوئے
پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیں
یہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوئے
کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے درد و غم
کوئے بتاں میں بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے
جالبؔ تمام عمر ہمیں یہ گماں رہا
ا... |
ye-jo-shab-ke-aivaanon-men-ik-halchal-ik-hashr-bapaa-hai-habib-jalib-ghazals |
یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے
یہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہے
یہ جو ہر دکھ سہنے والا دکھ کا مداوا جان گیا ہے
مظلوموں مجبوروں کا غم یہ جو مرے شعروں میں ڈھلا ہے
یہ جو مہک گلشن گلشن ہے یہ جو چمک عالم عالم ہے
مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے |
us-ne-jab-hans-ke-namaskaar-kiyaa-habib-jalib-ghazals |
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا
دشت غربت میں دل ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا
پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا
کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا
ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا |
ik-shakhs-baa-zamiir-miraa-yaar-mushafii-habib-jalib-ghazals |
اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ
میری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ
رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاں
یکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ
دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤ
کب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ
نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگ
اک عمر شعر سے رہا بیزار مصحفیؔ
دربار میں تھا بار کہاں اس غریب کو
برسوں مثال میرؔ پھ... |
log-giiton-kaa-nagar-yaad-aayaa-habib-jalib-ghazals |
لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا
آج پردیس میں گھر یاد آیا
جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفات گل تر یاد آیا
تیری بیگانہ نگاہی سر شام
یہ ستم تا بہ سحر یاد آیا
ہم زمانے کا ستم بھول گئے
جب ترا لطف نظر یاد آیا
تو بھی مسرور تھا اس شب سر بزم
اپنے شعروں کا اثر یاد آیا
پھر ہوا درد تمنا بیدار
پھر دل خاک بسر یاد آیا
ہم جسے بھ... |
baaten-to-kuchh-aisii-hain-ki-khud-se-bhii-na-kii-jaaen-habib-jalib-ghazals |
باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں
سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں
اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا
اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں
اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا
اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں
اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے
اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی ج... |
dil-e-pur-shauq-ko-pahluu-men-dabaae-rakkhaa-habib-jalib-ghazals |
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا
چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا
غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت
پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا
پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے
کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا
جانے کس حال میں ہیں ... |
kuchh-log-khayaalon-se-chale-jaaen-to-soen-habib-jalib-ghazals |
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں
چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گے
آ آ کے تصور میں نہ تڑپائیں تو سوئیں
برسات کی رت کے وہ طرب ریز مناظر
سینے میں نہ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں
صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑے
آنچل جو نگاہوں میں نہ لہرائیں تو سوئیں
محسوس یہ ہوتا ہے ا... |
kam-puraanaa-bahut-nayaa-thaa-firaaq-habib-jalib-ghazals |
کم پرانا بہت نیا تھا فراق
اک عجب رمز آشنا تھا فراق
دور وہ کب ہوا نگاہوں سے
دھڑکنوں میں بسا ہوا ہے فراق
شام غم کے سلگتے صحرا میں
اک امنڈتی ہوئی گھٹا تھا فراق
امن تھا پیار تھا محبت تھا
رنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق
فاصلے نفرتوں کے مٹ جائیں
پیار ہی پیار سوچتا تھا فراق
ہم سے رنج و الم کے ماروں کو
کس محبت سے دیکھ... |
darakht-suukh-gae-ruk-gae-nadii-naale-habib-jalib-ghazals |
درخت سوکھ گئے رک گئے ندی نالے
یہ کس نگر کو روانہ ہوئے ہیں گھر والے
کہانیاں جو سناتے تھے عہد رفتہ کی
نشاں وہ گردش ایام نے مٹا ڈالے
میں شہر شہر پھرا ہوں اسی تمنا میں
کسی کو اپنا کہوں کوئی مجھ کو اپنا لے
صدا نہ دے کسی مہتاب کو اندھیروں میں
لگا نہ دے یہ زمانہ زبان پر تالے
کوئی کرن ہے یہاں تو کوئی کرن ہے وہاں
دل و... |
bahut-raushan-hai-shaam-e-gam-hamaarii-habib-jalib-ghazals |
بہت روشن ہے شام غم ہماری
کسی کی یاد ہے ہم دم ہماری
غلط ہے لا تعلق ہیں چمن سے
تمہارے پھول اور شبنم ہماری
یہ پلکوں پر نئے آنسو نہیں ہیں
ازل سے آنکھ ہے پر نم ہماری
ہر اک لب پر تبسم دیکھنے کی
تمنا کب ہوئی ہے کم ہماری
کہی ہے ہم نے خود سے بھی بہت کم
نہ پوچھو داستان غم ہماری |
bhulaa-bhii-de-use-jo-baat-ho-gaii-pyaare-habib-jalib-ghazals |
بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے
نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے
تری نگاہ پشیماں کو کیسے دیکھوں گا
کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے
نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے
اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر
یہ کیسی شام خرابات ہو گئی پیارے
وفا کا نام نہ لے گا کوئی زمانے میں
ہم اہ... |
phir-kabhii-laut-kar-na-aaenge-habib-jalib-ghazals |
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے
دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے
شمع ماہ و نجوم گل کر کے
آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے
آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے
صورت موجۂ ہوا جالبؔ
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے |
vatan-ko-kuchh-nahiin-khatra-nizaam-e-zar-hai-khatre-men-habib-jalib-ghazals |
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں
جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں
اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں
جہاں اقبالؔ بھی نذر خط تنسیخ ہو جالبؔ
وہاں تجھ کو شکایت ہ... |
miir-o-gaalib-bane-yagaanaa-bane-habib-jalib-ghazals |
میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنے
آدمی اے خدا خدا نہ بنے
موت کی دسترس میں کب سے ہیں
زندگی کا کوئی بہانہ بنے
اپنا شاید یہی تھا جرم اے دوست
با وفا بن کے بے وفا نہ بنے
ہم پہ اک اعتراض یہ بھی ہے
بے نوا ہو کے بے نوا نہ بنے
یہ بھی اپنا قصور کیا کم ہے
کسی قاتل کے ہم نوا نہ بنے
کیا گلہ سنگ دل زمانے کا
آشنا ہی جب آشنا نہ ... |
jhuutii-khabren-ghadne-vaale-jhuute-sher-sunaane-vaale-habib-jalib-ghazals |
جھوٹی خبریں گھڑنے والے جھوٹے شعر سنانے والے
لوگو صبر کہ اپنے کئے کی جلد سزا ہیں پانے والے
درد آنکھوں سے بہتا ہے اور چہرہ سب کچھ کہتا ہے
یہ مت لکھو وہ مت لکھو آئے بڑے سمجھانے والے
خود کاٹیں گے اپنی مشکل خود پائیں گے اپنی منزل
راہزنوں سے بھی بد تر ہیں راہنما کہلانے والے
ان سے پیار کیا ہے ہم نے ان کی راہ میں ہم بیٹ... |
bade-bane-the-jaalib-saahab-pite-sadak-ke-biich-habib-jalib-ghazals |
بڑے بنے تھے جالبؔ صاحب پٹے سڑک کے بیچ
گولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچ
کبھی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خون
ہمیں تو یوں ہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ
جسم پہ جو زخموں کے نشاں ہیں اپنے تمغے ہیں
ملی ہے ایسی داد وفا کی کسے سڑک کے بیچ |
sher-se-shaairii-se-darte-hain-habib-jalib-ghazals |
شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں
دہر میں آہ بے کساں کے سوا
اور ہم کب کسی سے ڈرتے ہیں
ہم کو غیروں سے ڈر نہیں لگتا
اپنے احباب ہی سے ڈرتے ہیں
داور حشر بخش دے شاید
ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں
روٹھتا ہے تو روٹھ جائے جہاں
ان کی ہم بے رخی سے ڈرتے ہی... |
kahiin-aah-ban-ke-lab-par-tiraa-naam-aa-na-jaae-habib-jalib-ghazals |
کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے
تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے
ذرا زلف کو سنبھالو مرا دل دھڑک رہا ہے
کوئی اور طائر دل تہہ دام آ نہ جائے
جسے سن کے ٹوٹ جائے مرا آرزو بھرا دل
تری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے
وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں
انہیں رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے
اسی ... |
phir-dil-se-aa-rahii-hai-sadaa-us-galii-men-chal-habib-jalib-ghazals |
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل
شاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چل
کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کا
یہ شعر کی نہیں ہے فضا اس گلی میں چل
وہ بام و در وہ لوگ وہ رسوائیوں کے زخم
ہیں سب کے سب عزیز جدا اس گلی میں چل
اس پھول کے بغیر بہت جی اداس ہے
مجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا اس گلی میں چل
دنیا تو چاہتی ہے یوں ہی ف... |
ye-aur-baat-terii-galii-men-na-aaen-ham-habib-jalib-ghazals-3 |
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم
مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم
شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے
تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم
بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم
اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالبؔ ... |
yuun-vo-zulmat-se-rahaa-dast-o-garebaan-yaaro-habib-jalib-ghazals |
یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو
اس سے لرزاں تھے بہت شب کے نگہباں یارو
اس نے ہر گام دیا حوصلۂ تازہ ہمیں
وہ نہ اک پل بھی رہا ہم سے گریزاں یارو
اس نے مانی نہ کبھی تیرگیٔ شب سے شکست
دل اندھیروں میں رہا اس کا فروزاں یارو
اس کو ہر حال میں جینے کی ادا آتی تھی
وہ نہ حالات سے ہوتا تھا پریشاں یارو
اس نے باطل سے نہ ... |
dil-kii-baat-labon-par-laa-kar-ab-tak-ham-dukh-sahte-hain-habib-jalib-ghazals |
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج و... |
Welcome to the Urdu Poetry Dataset! This dataset is a collection of Urdu poems where each entry includes two columns:
This dataset is ideal for natural language processing tasks such as text generation, language modeling, or cultural studies in computational linguistics.
The Urdu Poetry Dataset comprises a diverse collection of Urdu poems, capturing the rich heritage and literary nuances of the Urdu language. Each record in the dataset consists of:
The dataset is structured in a tabular format, making it straightforward to load and manipulate with popular data processing libraries.
The dataset is provided in a standard tabular format (e.g., CSV or JSON). Each entry includes the following columns:
string): The title of the poem.string): The full text of the poem.Example (CSV format):
title,poem
"دل کی کتاب","یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجے..."
"پھولوں کا سلسلہ","خوشبوؤں کی محفل میں، ایک پھول داستان کہتا ہے..."
How to Load the Dataset
You can easily load the dataset using the Hugging Face Datasets library. Below is an example using Python:
python
Copy
Edit
from datasets import load_dataset
# Replace 'your-username/urdu-poetry-dataset' with the actual repository name on Hugging Face Hub
dataset = load_dataset("your-username/urdu-poetry-dataset")
# Accessing the train split (if applicable, otherwise adjust accordingly)
print(dataset['train'][0])
Note: Ensure that you have installed the datasets library with:
bash
Copy
Edit
pip install datasets
Intended Use Cases
Text Generation: Train language models to generate Urdu poetry.
Stylistic Analysis: Analyze poetic styles and structures in Urdu literature.
Cultural Studies: Explore themes and cultural nuances present in Urdu poetry.
Machine Translation: Use as a resource for translating poetic texts between languages.
License
This dataset is distributed under the MIT License. See the LICENSE file for more details.
Contributing
Contributions are welcome! If you have additional data, improvements, or suggestions, please open an issue or submit a pull request on the GitHub repository.
Citation
If you use this dataset in your research, please consider citing it as follows:
bibtex
Copy
Edit
@dataset-ReySajju742/English-Urdu-Dataset,
author = Sajjad Rasool,
title = English Transliteration (Roman Urdu) of Urdu Poetry Dataset,
year = 2025,
publisher = ReySajju742,
url = https://huggingface.co/datasets/ReySajju742/English-Urdu-Dataset,
}
Contact
For any questions, suggestions, or issues, please contact sajjjad.rasool@gmail.com