Datasets:
audio
audioduration (s) 4.54
10.4
| hon
stringlengths 58
158
| rom
stringlengths 57
158
|
|---|---|---|
لالچ بری بلا ہے.
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کو سکے جمع کرنےکا بہت شوق تھا۔
|
لالچ بری بلا ہے.
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کو سکے جمع کرنےکا بہت شوق تھا۔
|
|
اس کے پاس ایک تھیلی ہوتی تھی وہ اپنے تمام سکے اس تھیلی میں رکھتا تھا۔ وہ ڈر کے مارے کہ کوئی اس کی تھیلی نہ چُرا لے اپنی تھیلی کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔
|
اس کے پاس ایک تھیلی ہوتی تھی وہ اپنے تمام سکے اس تھیلی میں رکھتا تھا۔ وہ ڈر کے مارے کہ کوئی اس کی تھیلی نہ چُرا لے اپنی تھیلی کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔
|
|
ایک دن اُس کی تھیلی مکمل طور پر بھر چکی تھی۔ اب وہ اپنی تھیلی کی اور بھی زیادہ حفاظت کرنے لگا تھا۔ ایک دن وہ ایک ٹوٹے ہوئے پل کے اوپر سے جارہا تھا۔
|
ایک دن اُس کی تھیلی مکمل طور پر بھر چکی تھی۔ اب وہ اپنی تھیلی کی اور بھی زیادہ حفاظت کرنے لگا تھا۔ ایک دن وہ ایک ٹوٹے ہوئے پل کے اوپر سے جارہا تھا۔
|
|
اچانک اس بیچارے
کا پاؤں پھسل گیا اور وہ اس میں جاگرا۔ وہ بہت مشکل سے وہاں سے نکل آیا مگر افسوس کہ وہ اپنی سکوں کی تھیلی وہاں کھوبیٹھا۔
|
اچانک اس بیچارے
کا پاؤں پھسل گیا اور وہ اس میں جاگرا۔ وہ بہت مشکل سے وہاں سے نکل آیا مگر افسوس کہ وہ اپنی سکوں کی تھیلی وہاں کھوبیٹھا۔
|
|
اس نے اس کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔
|
اس نے اس کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔
|
|
آخراس نے اعلان کروایا کہ جو شخص اس کی سکوں والی تھیلی ڈھونڈ کر لائے گا ‘ وہ اس کو اس میں سے دس سکے انعام کے طور پر دے گا۔
|
آخراس نے اعلان کروایا کہ جو شخص اس کی سکوں والی تھیلی ڈھونڈ کر لائے گا ‘ وہ اس کو اس میں سے دس سکے انعام کے طور پر دے گا۔
|
|
آخر ایک دن اس کے پاس ایک کسان آیا‘ اس کے پاس اس کی اشرفیوں والی تھیلی تھی۔
|
آخر ایک دن اس کے پاس ایک کسان آیا‘ اس کے پاس اس کی اشرفیوں والی تھیلی تھی۔
|
|
اس کسان نے وہ تھیلی اس نوجوان کے ہاتھ میں تھما دی۔ وہ لڑکا اس تھیلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ مگر جب کسان نے اپنا انعام مانگا تو اس لڑکے کے دل میں لالچ آگیا۔
|
اس کسان نے وہ تھیلی اس نوجوان کے ہاتھ میں تھما دی۔ وہ لڑکا اس تھیلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ مگر جب کسان نے اپنا انعام مانگا تو اس لڑکے کے دل میں لالچ آگیا۔
|
|
اس نے کہا کہ تم پہلے ہی اس میں سے اپنا انعام چرا چکے ہو‘ اس میں ایک انڈے کی شکل کا ایک موتی تھا جو کہ اب اس میں نہیں ہے۔
|
اس نے کہا کہ تم پہلے ہی اس میں سے اپنا انعام چرا چکے ہو‘ اس میں ایک انڈے کی شکل کا ایک موتی تھا جو کہ اب اس میں نہیں ہے۔
|
|
میں تمہیں عدالت میں لے کر جاؤں گا اور اپنا حساب پورا کروں گا۔ اس کسان نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا مگر وہ لڑکا نہ مانا۔
|
میں تمہیں عدالت میں لے کر جاؤں گا اور اپنا حساب پورا کروں گا۔ اس کسان نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا مگر وہ لڑکا نہ مانا۔
|
|
آخرکار وہ اس کو عدالت میں لے گیا۔ ان دونوں نے اپنا
اپنا مسئلہ بیان کیا۔ جج صاحب ان دونوں کی باتوں کو بڑے غور سے سنتے رہے۔
|
آخرکار وہ اس کو عدالت میں لے گیا۔ ان دونوں نے اپنا
اپنا مسئلہ بیان کیا۔ جج صاحب ان دونوں کی باتوں کو بڑے غور سے سنتے رہے۔
|
|
آخر جج صاحب کے فیصلہ سنانے کا وقت آگیا ۔ جج صاحب نے لوگوں کو مخاطب کرکے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال سے جس طرح سے یہ تھیلی بھری ہوئی ہے۔
|
آخر جج صاحب کے فیصلہ سنانے کا وقت آگیا ۔ جج صاحب نے لوگوں کو مخاطب کرکے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال سے جس طرح سے یہ تھیلی بھری ہوئی ہے۔
|
|
کیا اس میں اتنی گنجائش ہے کہ اس میں ایک انڈے کی جسامت کا موتی تو کیا کوئی سکا بھی آسکے؟ لوگوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘۔
|
کیا اس میں اتنی گنجائش ہے کہ اس میں ایک انڈے کی جسامت کا موتی تو کیا کوئی سکا بھی آسکے؟ لوگوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘۔
|
|
پھر جج صاحب نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ چونکہ اس تھیلی میں کسی اور چیز کے اضافے کی گنجائش نہیں ہے اس لیے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں ہے۔
|
پھر جج صاحب نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ چونکہ اس تھیلی میں کسی اور چیز کے اضافے کی گنجائش نہیں ہے اس لیے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں ہے۔
|
|
کیونکہ اس نوجوان کے الفاظ کے مطابق اس میں ایک انڈے کی جسامت کے برابرموتی کی جگہ ہے اس لیے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں۔
|
کیونکہ اس نوجوان کے الفاظ کے مطابق اس میں ایک انڈے کی جسامت کے برابرموتی کی جگہ ہے اس لیے یہ تھیلی اس نوجوان کی نہیں۔
|
|
اور قانون کے مطابق یہ تھیلی جس شخص کو ملی ہے اب اسی شخص کی ہے‘‘ اس لالچی لڑکے نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا مگر اس کی کسی نے ایک نہ سنی۔
|
اور قانون کے مطابق یہ تھیلی جس شخص کو ملی ہے اب اسی شخص کی ہے‘‘ اس لالچی لڑکے نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا مگر اس کی کسی نے ایک نہ سنی۔
|
|
اس طرح اس کو اس کے لالچ کی سزا مل گئی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔ نوجوان کے پاس پہلے ہی اس کے گمشدہ سکے واپس آچکے تھے۔
|
اس طرح اس کو اس کے لالچ کی سزا مل گئی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔ نوجوان کے پاس پہلے ہی اس کے گمشدہ سکے واپس آچکے تھے۔
|
|
مگر اس نے غیر ضروری لالچ کیا اور کسان پر جھوٹا الزام لگایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی تھیلی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔
|
مگر اس نے غیر ضروری لالچ کیا اور کسان پر جھوٹا الزام لگایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی تھیلی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔
|
|
لالچ بری بلا ہے کہانی سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔
|
لالچ بری بلا ہے کہانی سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔
|
|
کسان نے ایمانداری سے تھیلی واپس کی، لیکن نوجوان نے دھوکہ دینے کی کوشش کی، جس کی سزا اسے فوراً مل گئی۔
|
کسان نے ایمانداری سے تھیلی واپس کی، لیکن نوجوان نے دھوکہ دینے کی کوشش کی، جس کی سزا اسے فوراً مل گئی۔
|
|
اگر وہ ایمانداری سے کسان کو انعام دیتا تو نہ صرف اس کی دولت اس کے پاس رہتی بلکہ عزت بھی قائم رہتی۔
|
اگر وہ ایمانداری سے کسان کو انعام دیتا تو نہ صرف اس کی دولت اس کے پاس رہتی بلکہ عزت بھی قائم رہتی۔
|
|
معافی اور نیک سلوک، دوسروں کو معاف کرنا عظمت ہے۔ دوسروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا انسانیت ہے۔
|
معافی اور نیک سلوک، دوسروں کو معاف کرنا عظمت ہے۔ دوسروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا انسانیت ہے۔
|
|
محبت اور تعاون، دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آؤ۔ دوسروں کے ساتھ تعاون کیا کرو۔ دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات کرو۔
|
محبت اور تعاون، دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آؤ۔ دوسروں کے ساتھ تعاون کیا کرو۔ دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات کرو۔
|
|
محنت اور وقت کی قدر. محنت کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ محنتی انسان کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ وقت کی قدر کرو۔
|
محنت اور وقت کی قدر. محنت کرنے سے کامیابی ملتی ہے۔ محنتی انسان کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ وقت کی قدر کرو。
|
|
سچائی اور ایمان داری، سچ بولنا سب سے بڑی نیکی ہے。 جھوٹ بولنے سے اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان داری ہے۔
|
سچائی اور ایمان داری، سچ بولنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ جھوٹ بولنے سے اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان داری ہے۔
|
Dataset Description
This dataset consists of 25 Urdu audio clips with transcriptions in the metadata file. The audio included a narrated moral story with sentences of varying lengths. Since the story was slightly under three minutes, I recorded additional moral quotes to meet the requirement. Using Praat, I recorded the audio and segmented it into 25 parts with Audacity. Applying Audacity’s noise reduction feature greatly improved clarity without affecting audio. I expected noise reduction to be time-consuming, but was surprised to find I could process all segmented files simultaneously, saving significant effort.
Issues Encountered & Solution
I encountered difficulty in handling Urdu Language transcription. I initially added all transcriptions to a CSV file but lost them upon reopening because I hadn’t saved it in the correct format. After redoing the transcription, I learned via internet that saving with CSV UTF-8 encoding preserves non-Latin languages such as Urdu. Another issue arose when Audacity failed to work on my MacBook Air, repeatedly showing “Error opening recording device. ” Despite trying to follow several online tutorials, the problem persisted regardless,so I switched to a Windows computer to edit the audio. These hurdles taught me a lot about how we handle different languages on platforms like excel or sheets.
- Downloads last month
- 59