text
stringlengths 186
446k
| id
stringlengths 47
47
| dump
stringclasses 96
values | url
stringlengths 15
7.83k
| date
stringdate 2013-05-18 09:19:31
2024-04-25 15:58:09
| file_path
stringlengths 125
155
| language
stringclasses 1
value | language_score
float64 0.85
1
| language_script
stringclasses 1
value | minhash_cluster_size
int64 1
143k
| top_langs
stringclasses 1
value |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
ٹورانٹو
ٹورنٹو کا شہر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کا دارلخلافہ اور کینیڈا کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر جنوبی اونٹاریو میں جھیل اونٹاریو کے شمال مغربی کنارے پر واقع ہے۔ یہ شہر شمالی امریکہ میں آبادی کے اعتبار سے ساتواں بڑا شہر ہے۔ ٹورنٹو کینیڈا کے گنجان آباد ترین علاقے گولڈن ہارس شو میں واقع ہے۔ گولڈن ہارس شو کی کل آبادی 8100000 نفوس پر مشتمل ہے جو کینیڈا کی کل آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
کینیڈا کا معاشی مرکز ہونے کی وجہ سے اسے الفا ورلڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ٹورنٹو کے اہم معاشی شعبوں میں فنانس، کاروباری سہولیات، مواصلات، فضائی صنعت، نقل و حمل، میڈیا، فنون لطیفہ، فلم، ٹیلی ویژن کے پروگرام، پبلشنگ، سافٹ وئیر کی تیاری، طبی تحقیق، تعلیم، سیاحت اور کھیلوں کی صنعتیں شامل ہیں۔ تعلیمی حوالے سے یہاں بہت سارے کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں جن میں دنیا کی صف اول کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو بھی شامل ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج دنیا کی آٹھویں بڑی سٹاک مارکیٹ ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے بڑے بڑے کاروباری مراکز کے صدر دفاتر بھی یہاں موجود ہیں۔
ٹورنٹو کی آبادی کاسموپولیٹن اور بین الاقوامی ہے جو کینیڈا میں آنے والے تارکین وطن افراد کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ شہر کی کل آبادی کا تقریباً انچاس فیصد حصہ کینیڈا سے باہر پیدا ہوا ہے۔ یونیسکو کی طرف سے اسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مختلف النسل افراد رکھنے والا شہر کہا جاتا ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ اور مرسر کوالٹی آف لونگ سروے کے مطابق رہائش کے لئے یہ شہر دنیا بھر میں سب سے بہتر ہے۔ مزید برآں 2006 میں اسے کینیڈا بھر میں رہائش کے اعتبار سے مہنگا ترین شہر کہا گیا ہے۔ ٹورنٹو کے باشندوں کو ٹورنٹونین کہتے ہیں۔
فہرست
تاریخ[ترمیم]
1800 سے قبل[ترمیم]
جب پہلی بار یورپی افراد اس جگہ پہنچے جہاں آج ٹورنٹو کا شہر آباد ہے، وہاں ہرون قبائل آباد تھے۔ پھر ہرون کو ہٹا کر ان کی جگہ اروکوئس قبائل صدیوں تک یہاں آباد رہے۔ ٹورنٹو کا لفظ بظاہر اروکوئس لفظ ٹکارونٹو سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ایسی جگہ جہاں پانی میں درخت اگتے ہیں۔ شاید اس سے مراد جھیل سمکوئی کا شمالی کنارہ تھا جہاں ہرون قبائل نے کورل مچھلیوں کے لئے پانی میں درخت لگائے تھے۔
فرانسیسی تاجروں نے فورٹ روئل 1750 میں جس جگہ اپنا قلعہ بنایا، آج وہ جگہ نمائشی گراؤنڈ کے لئے مختص ہے۔ تاہم یہ قلعہ 1759 میں خالی کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کی جنگ انقلاب کے دوران اس علاقے میں تاج برطانیہ کے وفاداران بہت بڑی تعداد میں امریکہ سے منتقل ہونے لگے۔ یہ افراد جھیل اونٹاریو کے شمالی غیر آباد کنارے پر آن بسے۔ 1787 میں برطانویوں نے ٹورنٹو کی خریداری کا معاہدہ کیا جس کے تحت انہوں نے ٹورنٹو کے علاقے میں اڑھائی لاکھ مربع ایکڑ یعنی 1000 مربع کلومیٹر زمین خریدی۔
1793 میں گورنر جان گریوز سمکوئی نے یارک کا شہر بسایا اور یارک اور البانے کے نواب شہزادہ فریڈرک کے نام منسوب کیا۔ سمکوئی نے جب یہ شہر بسایا تو ان کا مطمعء نظر یہ تھا کہ بالائی کینیڈا کے صوبے کے لئے ایسا دارلحکومت بنایا جائے جو امریکیوں کے حملے سے محفوظ ہو۔ شہر کی فطری بندرگاہ پر شہر کے داخلے کے مقام پر یارک کا قلعہ بنایا گیا جو ریتلے جزیرہ نما کی وجہ سے حملوں سے محفوظ تھا۔ اسی جزیرہ نما کے پیچھے قلعے سے مشرق میں شہر کو بنایا گیا۔
1800 تا 1945[ترمیم]
1813 میں امریکی 1812 کی جنگ کی وجہ سے یارک کی لڑائی جب ختم ہوئی تو یہ شہر امریکیوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔ امریکی فوجیوں نے اپنے پانچ روزہ قبضے کے دوران قلعے کا زیادہ تر حصہ اور پارلیمان کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ اس وجہ سے برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن ڈی سی کو بعد ازاں آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ یارک کو ٹورنٹو کے شہر کا درجہ 6 مارچ 1834 میں ملا۔ اس وقت اس کی کل آبادی 9000 افراد پر مشتمل تھی جن میں امریکی نسل پرست قوانین سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے سیاہ فام افراد بھی شامل تھے۔ 1834 میں بیک جنبش قلم غلامی کو ختم کر دیا گیا۔ اصلاح پسند سیاست دان ولیم لائن میکنزی ٹورنٹو کے پہلے میئر بنے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانوی نو آبادی حکومت کے خلاف بالائی کینیڈا کے صوبے میں ناکام بغاوت بھی کی۔ 19ویں صدی کے دوران شہر تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ کینیڈا آنے والے تارکین وطنوں کے لئے ٹورنٹو اہم مرکز بن گیا۔ آئرلینڈ میں آنے والے قحط کے بعد پہلی بار یہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ آنے لگے۔ 1851 میں پہلی بار شہر میں آئرش النسل افراد سب سے بڑی اکثریت بن گئے۔
مانٹریال میں ہونے والی گڑبڑ کے نتیجے میں دو بار مختصر دورانیے کے لئے ٹورنٹو متحدہ کینیڈا کے صوبے کا دارلخلافہ بھی رہا۔ پہلی بار 1849 سے 1852 تک اور پھر 1856 تا 1858 رہا۔ اس کے بعد سے اب تک اوٹاوا کینیڈا کا دارلحکومت ہے۔ 1793 سے یہ شہر بالائی کینیڈا کا حصہ رہا تھا اور 1867 میں جب اونٹاریو کا صوبہ بنایا گیا تو ٹورنٹو اس کا دارلخلافہ بنا۔
19ویں صدی میں پانی کی نکاسی کا بہت بڑا نظام تعمیر ہوا اور سڑکوں پر گیس کی مدد سے روشنی مہیا کی گئی۔ لمبے فاصلے تک کے لئے ریلوے کی تعمیر ہوئی جن میں 1854 میں بننے والا وہ راستہ بھی شامل ہے جو ٹورنٹو کو عظیم جھیلوں سے ملاتا ہے۔ ریلوے کی تعمیر سے یہاں آباد ہونے کے لئے آنے والے تارکین وطن کی تعداد بھی اچانک بڑھنے لگی۔ اس کے علاوہ تجارت اور صنعت و حرفت میں بھی ترقی ہوئی اور جلد ہی ٹورنٹو شمالی امریکہ تک رسائی کے لئے اہم مرکز بن گیا۔
ٹورنٹو شمالی امریکہ میں شراب کی کشید کا اہم ترین اور سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اس کے علاوہ بندرگاہ کی توسیع اور ریل کی سہولیات سے شمالی علاقوں سے لکڑی بھی یہاں سے برآمد ہونے لگی جبکہ پینسلوانیا سے آنے والا کوئلہ یہاں کی اہم درآمد بن گیا۔
1891 میں گھوڑا گاڑیوں کی جگہ بجلی سے چلنے والی بسیں شروع ہو گئیں۔
1904 میں لگنے والی ٹورنٹو کی عظیم آتشزدگی نے شہر کے مرکز کا زیادہ تر حصہ تباہ کر دیا تاہم شہر کی دوبارہ تعمیر جلد ہی مکمل ہو گئی۔ آگ سے لگنے والے نقصانات کا اندازہ کم از کم ایک کروڑ ڈالر تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں آگ سے بچاؤ کے قوانین سخت تر ہو گئے اورشہر کے آگ بجھانے کے محکمے میں بھی توسیع ہوئی۔
19ویں صدی کے اواخر سے 20ویں صدی کے اوائل تک شہر میں نئے سرے سے تارکین وطن آنے لگے۔ ان کی اکثریت جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور مشرقی یورپ کے ملکوں کے یہودیوں پر مشتمل تھی۔ ان کے بعد چینی، روسی، پولش اور دیگر مشرقی یورپی ممالک سے لوگ آنے لگے۔ تاہم آبادی اور معاشی اہمیت کے باوجود ٹورنٹو کو مانٹریال کے بعد دوسرے بڑے شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم 1834 میں ٹورنٹو کی سٹاک ایکچینج کینیڈا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن گئی۔
1945 تا حال[ترمیم]
دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال یورپ سے پناہ گزین اور چینی مزدور نوکریوں کی تلاش میں آنے لگے۔ بعد ازاں اطالیہ اور پرتگال سے تعمیراتی کارکنوں نے بھی یہاں کا رخ کیا۔ 1960 میں نسل پرستی پر مبنی امیگریشن قوانین کے خاتمے کے بعد دنیا بھر سے لوگ آنے لگے۔ 1951 میں ٹورنٹو کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی اور 1971 میں بیس لاکھ ہو گئی۔ 1980 کی دہائی میں ٹورنٹو کی آبادی مانٹریال سے بھی بڑھ گئی اور اسے اہم ترین معاشی مرکز کا درجہ مل گیا۔
اس وقت چونکہ کیوبیک میں خود مختاری کی تحریک زوروں پر تھی تو بہت ساری قومی اور بین الاقوامی تجارتی کارپوریشنوں نے اپنے صدر دفاتر مانٹریال سے ہٹا کر ٹورنٹو اور دیگر مغربی شہروں کو منتقل کر دیئے۔
1954 میں ٹورنٹو اور اس کے مضافات کو ملا کر ایک بڑی علاقائی حکومت تشکیل دے دی گئی۔ شہری حکومت اپنی حدود سے باہر نکل کر بھی پولیس، شاہراہیں اور پبلک ٹرانزٹ کی سہولیات مہیا کرنےلگی۔ اسی سال یہاں ہیزل نامی ہری کین یعنی سمندری طوفان آیا۔ اس طوفان سے تیز ہوائیں اور اچانک سیلاب آئے۔ ٹورنٹو کے علاقے میں 81 افراد ہلاک اورتقریباً 1900 گھرانے بے گھر ہوئے۔ معاشی نقصان کا اندازہ اڑھائی کروڑ ڈالر لگایا گیا۔
1967 میں ٹورنٹو کے پاس موجود ۷ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہمسائی بڑی آبادیوں میں ضم کر دی گئیں۔
6 مارچ 2009 کو اس شہر کی 175ویں سالگرہ منائی گئی۔ 26 اور 27 جون کو ٹورنٹو میں جی 20 کی چوتھی کانفرنس ہوئی جس کے لئے کینیڈا کی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن کیا گیا۔ شہر میں ہونے والے ہنگاموں سے لاکھوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
جغرافیہ[ترمیم]
ٹورنٹو کا کل رقبہ 630 مربع کلومیٹر ہے۔ شمالاً جنوباً کل 21 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 43 کلومیٹر لمبا ہے۔ جھیل اونٹاریو کے کنارے اس کا ساحل کل 26 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو کے کچھ جزائر اس جھیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی جنوبی حد جھیل اونٹاریو، ایٹوبی کوک کی کھاڑی اور ہائی وے نمبر 426 شمال میں، سٹیلز ایونیو شمال میں جبکہ روگ دریا مشرق میں حد بندی کا کام دیتا ہے۔
خد و خال[ترمیم]
شہر کے درمیان سے دو دریا اور ان کی ڈھیر ساری شاخیں گذرتی ہیں۔ ہمبر دریا مغربی حصے سے جبکہ ڈون دریا مشرق سے گذرتا ہے۔ شہر کی بندرگاہ قدرتی طور پر جھیل اونٹاریو کی لہروں کے نتیجے میں ریت وغیرہ کے جمع ہونے سے بنی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں بندرگاہ کے پاس موجود جزائر بھی بنے تھے۔جھیل میں گرنے والے بہت سارے دریاؤں نے اپنی گذرگاہوں میں گھنے جنگلات سے بھری ہوئی کھائیاں بنا دی ہیں۔ تاہم یہ کھائیاں شہر کے نقشے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ان کھائیوں کی مدد سے شہر میں بارش وغیرہ کے سیلابی پانی کی نکاسی بہت آسان ہو جاتی ہے۔
پچھلے برفانی دور میں ٹورنٹو کا نشیبی حصہ گلیشئر کی جھیل اروکوئس کے نیچے تھا۔ آج بھی شہری حدود اس جھیل کے کناروں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹورنٹو زیادہ تر پہاڑی نہیں تاہم جھیل سے اس کی بلندی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل اونٹاریو کا کنارہ سطح سمندر سے 75 میٹر جبکہ یارک یونیورسٹی کے مقام پر یہ بلندی 209 میٹر ہو جاتی ہے۔
جھیل کا کنارہ زیادہ تر 19ویں صدی کے اواخر میں کی گئی منصوعی بھرائی سے بنا ہے۔
موسم[ترمیم]
کینیڈا کے جنوبی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو کا موسم معتدل نوعیت کا ہے۔ ٹورنٹو کی گرمیاں گرم اور نم جبکہ سردیاں سرد تر ہوتی ہیں۔ شہر میں 4 الگ الگ نوعیت کے موسم پائے جاتے ہیں اور روز مرہ کا درجہ حرارت سردیوں میں بالخصوص کافی فرق ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی اور آبی زخیرے کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں کافی تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رات کا درجہ حرارت سردیوں میں بھی نسبتاً کم سرد رہتا ہے۔ تاہم بہار اور اوائل گرما میں سہہ پہر کا وقت کافی خنک بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ جھیل سے آنے والی ہوائیں ہیں۔ تاہم بڑی جھیل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے برفباری، دھند اور بہار اور خزاں کا موسم تاخیر سے بھی آ سکتا ہے۔
ٹورنٹو میں موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ وقت کے لئے منفی 10 ڈگری سے نیچے رہ سکتا ہے جو ہوا کی رفتار کی وجہ سے زیادہ سرد محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس صورتحال میں برفباری یا بارش بھی شامل ہو جائے تو روز مرہ کی زندگی کے کام کاج رک جاتے ہیں اور ٹرینوں، بسوں اور ہوائی ٹریفک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نومبر سے وسط اپریل تک ہونے والی برفباری زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔ تاہم سردیوں میں اکثر درجہ حرارت کچھ وقت کے لئے 5 سے 12 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے جس سے برف پگھل جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں گرمیوں کا موسم نم رہتا ہے۔ عموماً درجہ حرارت 23 سے 31 ڈگری تک رہتا ہے اور دن کے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ناخوشگوار بن جاتا ہے۔ بہار اور خزاں موسم کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بارش اور برفباری سال بھر ہوتی رہتی ہیں تاہم گرمیوں میں بارش کی مقدار کافی زیادہ رہتی ہے۔ اگرچہ بارشوں میں طویل وقفہ بھی آ جاتا ہے تاہم قحط سالی جیسی صورتحال سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سال بھر میں 32 انچ سے زیادہ بارش جبکہ 52 انچ سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ٹورنٹو میں اوسطاً 2038 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔
شہری خد و خال[ترمیم]
طرزِ تعمیر[ترمیم]
وِل السوپ اور ڈینیئل لیبیس کائنڈ جیسے ماہرین کے نزدیک ٹورنٹو میں کوئی ایک طرزِ تعمیر نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عمارات کا طرزِ تعمیر بدلتا رہتا ہے۔
ٹورنٹو کے افق پر سب سے اہم عمارت ]]سی این ٹاور ہے جو 553 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ برج خلیفہ [[کی تعمیر سے قبل یہ دنیا کی سب سے اونچی آزاد کھڑی عمارت تھی۔
ٹورنٹو میں فلک بوس عمارات کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے جن کی بلندی 90 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ اونچی عمارات کی تعداد کے لحاظ سے]] شمالی امریکہ میں نیو یارک [[اس سے آگے ہے۔
صنعت و حرفت[ترمیم]
ماضی میں ٹورنٹو میں صنعتیں بندرگاہ اور ڈون دریا کے نچلے سرے پر قائم تھیں۔
شہر میں شراب کشید کرنے کے علاقے آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جو شمالی امریکہ میں وکٹوریا طرزِ تعمیر کی بہترین یادگاریں ہیں۔
عوامی جگہیں[ترمیم]
ٹورنٹو میں عوامی چوکوں سے لے کر کھائیوں پر بنے نظارہ گاہوں تک ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔
شہر میں کئی بڑے پارک بھی موجود ہیں جن میں گرینج پارک، موس پارک، الن گارڈنز، لٹل ناروے پارک، کوئینز پارک وغیرہ اہم ہیں۔
چوکوں اور پارکوں میں ہر جگہ عوام کی سہولت کے لئے آئس رنک بنے ہوئے ہیں جہاں لوگ آئس سکیٹنگ کر سکتے ہیں۔
سیاحت[ترمیم]
ٹورنٹو کا سب سے اہم سیاحتی مرکز سی این ٹاور ہے۔ اس ٹاور کے خالقین کے لئے یہ بات خوشگوار حیرت کا سبب ہے کہ ان کے اندازوں کے برعکس 30 سال سے زیادہ عرصے تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی رہی ہے۔ اونٹاریو کا شاہی عجائب گھر بھی سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہے جہاں دنیا کی ثقافت اور مظاہر قدرت کے متعلق چیزیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 سے زیادہ حیوانی نمونے موجود ہیں جو 260 سے زیادہ انواع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کئی عجائب گھر یہاں موجود ہیں۔
یارک ولے نامی مضافاتی علاقہ ٹورنٹو بھر میں اپنے ریستورانوں اور خریداری کے مراکز کی وجہ سے مشہور ہے۔ اکثر اس علاقے میں شمالی امریکہ کے فلمی ستارے اور اہم شخصیات خریداری کرتی یا کھانا کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سالانہ اوسطاً 5 کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔
گریک ٹاؤن میں موجود ریستورانوں کی تعداد فی کلومیٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
معیشت[ترمیم]
ٹورنٹو کاروباری اور معاشی لحاظ سے اہم بین الاقوامی مرکز ہے۔ عموماً اسے کینیڈا کا معاشی مرکز مانا جاتا ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج کو کاروباری سرمائے کے اعتبار سے دنیا بھر میں 8ویں بڑی مارکیٹ مانا جاتا ہے۔ کینیڈا کے پانچوں بڑے بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے صدر دفاتر ٹورنٹو میں قائم ہیں۔
اس شہر کو میڈیا، پبلشنگ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فلمی صنعت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔
اگرچہ یہاں کی زیادہ تر مینو فیکچرنگ کے مراکز شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں تاہم ٹورنٹو ہول سیل اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ کیبویک اور ونڈسر کی راہداری میں اپنے اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور ریل اور سڑکوں کے بہترین نظام کی بدولت آس پاس موجود گاڑیاں بنانے، فولاد، سٹیل، خوراک، مشینری، کیمیکل اور کاغذ کی مصنوعات ٹورنٹو سے ہی آگے بھیجی جاتی ہیں۔ سینٹ لارنس کی آبی گذرگاہ کی تعمیر جب 1959 میں ہوئی عظیم جھیلیں بحرِ اوقیانوس سے مل گئیں۔
31 دسمبر 2008 کو ٹورنٹو کے قرضے 2.7 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھے اور اندازہ ہے کہ 2016 تک ان کی تعداد 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
آبادی[ترمیم]
کینیڈا کی تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ٹورنٹو میں جون 2006 میں 2503282 افراد آباد تھے۔ اس طرح ٹورنٹو کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہر ہے۔ شمالی امریکہ میں اسے پانچواں بڑا شہر مانتے ہیں۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ کینیڈا سے باہر پیدا ہوا ہے۔ یہاں زیادہ تر یورپی افراد آباد ہیں جو کل آبادی کا 52 فیصد سے زیادہ ہیں۔ ان میں برطانوی، آئرش، اطالوی اور فرانسیسی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیائی، چینی، سیاہ فام، فلپائنی اور لاطینی امریکی اہم اقلیتیں ہیں۔ مقامی قبائل کے لوگ کل آبادی کا نصف فیصد ہیں۔
عیسائی مذہب یہاں کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ دوسرے نمبر پر اسلام، پھر ہندو مت، یہودیت، بدھ مت، سکھ مت اور دیگر مشرقی مذاہب بھی موجود ہیں۔
اگرچہ آبادی کی اکثریت انگریزی زبان بولتی ہے تاہم چینی اور اطالوی دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ نتیجتاً شہر میں ہنگامی سہولیات کے لئے موجود نمبر 911 تقریباً ڈیڑھ سو مختلف زبانوں میں خدمات سر انجام دیتا ہے۔
جرائم[ترمیم]
ٹورنٹو میں جرائم کی شرح اتنی کم ہے کہ اسے شمالی امریکہ کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ مثلاً 2007 میں یہاں قتل کی شرح ایک لاکھ افراد میں 3.3 تھی۔ اٹلانٹا میں یہی شرح تقریباً 20 فیصد، بوسٹن میں 10 فیصد سے زیادہ، لاس اینجلس میں 10 فیصد، نیویارک شہر میں 6 فیصد سے زیادہ، وینکوور میں 3 فیصد جبکہ مانٹریال میں 2.6 تھی۔ لوٹ مار کے واقعات ایک لاکھ افراد میں 207 تھے۔ تاہم ٹورنٹو میں کار چوری کے جرائم کی شرح امریکی شہروں کے تقریباً برابر جبکہ کینیڈا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
ٹورنٹو میں سب سے زیادہ قتل 1991 میں ہوئے تھے جو 89 تھے۔
انتظامی ڈھانچہ[ترمیم]
صحت[ترمیم]
ٹورنٹو میں کم از کم 20 عوامی ہسپتال قائم ہیں۔
کئی سال قبل یہاں ایمرجنسی والے مریضوں کو دیر تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ تاہم آج ہسپتالوں کی صورتحال بدل چکی ہے۔ جس مریض کی جان کو خطرہ ہو، اسے فوری امداد دی جاتی ہے۔ ابتدائی معائینے کے بعد ڈاکٹر فوری طور پر نتیجے سے آگاہ کر دیتا ہے۔ اوسطاً ہر مریض کو ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں ہی طبی امداد مل جاتی ہے۔ مختلف معائینے، ڈاکٹر کی رائے اور ابتدائی امداد انتظار گاہ میں ہی مہیا کر دی جاتی ہے۔ نصف مریضوں کو ایمرجنسی روم سے 4 گھنٹوں میں ہی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ایسے مریض جنہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا، کو 12 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ تاہم ایسے مریض کل تعداد کا دس فیصد تھے۔
ٹورنٹو میں ڈسکوری ڈسٹرکٹ میں بائیو میڈیسن کی تحقیق کا مرکز ہے۔ اڑھائی مربع کلومیٹر پر واقع یہ تحقیقی مرکز شہر کے وسط میں ہے۔
نقل و حمل[ترمیم]
ٹورنٹو میں شمالی امریکہ میں تیسرا بڑا ٹرانزٹ سسٹم موجود ہے۔ اس نظام میں زیر زمین سرنگوں پر مبنی سب وے اور ہوا میں معلق کی گئی لائنیں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں بسوں اور ٹیکسیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ شہر کے سب وے کے نظام کو توسیع دینے کے بہت سارے منصوبے بن رہے ہیں تاہم معاشی پسِ منظر میں ان کا عملی جامہ پہننا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ائیرپورٹ کینیڈا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے جو شہر کے مضافاتی علاقے مسی ساگا میں واقع ہے۔
ٹورنٹو میں کئی ایکسپریس وے اور صوبائی شاہراہیں موجود ہیں جو ٹورنٹو کو ٹورنٹو گریٹر ایریا سے ملاتی ہیں۔ ہائی وے نمبر 401 شہر کے وسط سے گذرتی ہے۔ اسے شمالی امریکہ کی مصروف ترین اور دنیا کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔
جڑواں شہر[ترمیم]
- چونگ چنگ ، چین
- شکاگو ، امریکہ
- فرینکفرٹ ، جرمنی
- میلان ، اطالیہ
- ہوچی منہ سٹی ، ویتنام
- کیو، کیو، کیوٹو ، ایکواڈور
- سگامی ہارا ، جاپان
- وارسا ، پولینڈ
حوالہ جات[ترمیم]
- ^ خطا در حوالہ: غلط
<ref>ٹیگ؛ حوالہ بنام
2006censuspopکے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
- ^ 2.0 2.1 "Population and dwelling counts, for urban areas, 2006 and 2001 censuses - 100% data". Statistics Canada, 2006 Census of Population. 2007-03-13. http://www12.statcan.ca/english/census06/data/popdwell/Table.cfm?T=801&PR=0&SR=1&S=3&O=D. Retrieved 2007-03-19.
|
<urn:uuid:6db14ed9-6ded-48bc-a4de-13b4f98f89cf>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/Toronto
|
2013-06-19T16:25:45Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368708882773/warc/CC-MAIN-20130516125442-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.987089
|
Arab
| 117
|
{}
|
بدھ مت سے وابستگی
نظرِ ثانی شدہ اقتباس:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.
میں بچپن سے ہی ایشیائی ثقافتوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ تقریباً ۱۳ سال کی عمر میں میں نے ہتھ یوگا کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔ ١۶سال کی عمر میں میں نے رٹگرز یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لیا جہاں میں نے دو سال کیمسٹری پڑھی۔ اس دوران میں نے ایک اختیاری کورس بھی پڑھا جو کہ ایشیائی تہذیبوں کے بارے میں تھا جو مجھے بہت ہی دلچسپ لگا۔ ایک لیکچر کے دوران پروفیسر صاحب نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں بدھ مت کے پھیلنے کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ترجمے کا سلسلہ کیا تھا اور بدھ مت نے کیونکر اپنے آپ کو مختلف ثقافتوں میں ڈھال لیا تھا۔ یہ بات میرے دل کو لگی کہ یہی تو میں تفصیل سے جاننا چاہتا تھا۔
پھر جب پرنسٹن یونیوورسٹی نے شعبہ مطالعاتِ ایشیا میں نئے تدریسی پروگرام کا آغاز کیا تو میں نے وہاں بھی داخلے کی درخواست دی اور مجھے مطالعاتِ چین کےحصے میں قبول کر لیا گیا۔ مجھے خاص طور پر اس موضوع سے دلچسپی تھی کہ بدھ مت کی آمد چین میں کیونکر ہوئی، اس پر چینی ثقافت کے کیا اثرات پڑے اور پھر خود بدھ مت نے بعد کے چینی فلسفے کو کیسے متاثر کیا۔ میں یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ روز مرہ زندگی میں بدھ مت پر کیسے عمل کیا جاتا ہے۔ پرنسٹن میں تعلیم کے دنوں میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ گَیشے وانگیال بھی میرے آس پاس کے علاقے میں مقیم ہیں۔ گَیشے وانگیال روس کے وولگا منطقے کے ایک منگول کالمیک گَیشے تھے اور امریکہ میں پہلی تبتی – منگول خانقاہ کے سربراہ تھے۔ ان دنوں مَیں صرف یہ خیال آرائی کیا کرتا تھا کہ بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق سوچنا اور عمل کرنا کیسا ہوتا ہوگا۔
۱۹۶۵ء میں مجھے مشرق بعید کی زبانوں کے شعبے میں عہد وسطی کے چینی فلسفے اور تاریخ کے موضوع پر-ایم اے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ پہلا سال ختم کرتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سنسکرت پڑھ کر ہندوستانی بدھ مت کا زیادہ گہرائی میں مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ بدھ مت ہندوستان تک کیسے پھیلا تھا۔ سو میں نے سنسکرت زبان اور ہندوستانی فلسفہ سیکھنا شروع کیا۔ پی-ایچ-ڈی کے لیے میرا مقالہ مشرقِ بعید کی زبانوں کے اور مطالعاتِ سنسکرت و ہند کے شعبوں کی مشترکہ ڈگری کے لیے تھا۔
۱۹۶۷ء میں جب میں نے ہندوستانی بدھ مت کے مطالعے کے جزو کے طور پر تبتی زبان سیکھنا شروع کی تو مجھے گَیشے وانگیال کا پتا چلا اور اس کے بعد جب بھی میں اپنے خاندان والوں سے ملنے کے لیے نیو جرسی آتا، ان سے ضرور ملاقات ہوتی۔ افسوس یہ رہا کہ ہارورڈ اتنی دور تھا کہ اس فاصلے سے اس گرو سے کچھ سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ البتہ یہ ہوا کہ گَیشے وانگیال کا ایک شاگرد رابرٹ تھرمن ہارورڈ میں میری اکثر کلاسوں میں موجود ہوتا تھا۔ رابرٹ پہلا مغربی شخص تھا جو تبّت کی بودھ روایت کا راہب بنا۔ اس نے مجھے مغربی تقدس مآب دلائی لاما کے بارے میں بتایا اس سے یہ بھی پتا چلا کہ تبّت کی جو بدھ آبادی ہندوستان ہجرت کرگئی تھی ان میں بدھ مت ایک زندہ روایت کے طور پر موجود ہے۔ اسی سے سنا کہ اس نے ہندوستان جا کر کیسے تعلیم حاصل کی اس کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں تو میں بھی یقیناً ایسا ہی کر سکتا ہوں۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا میں نے فل برائٹ وظیفے کے لیے درخواست دے دی تاکہ ہندوستان جا کر اپنے پی-ایچ-ڈی کے مقالے کا تحقیقی کام تبتوں کے ساتھ مل کر کر سکوں۔ مجھے وظیفہ مل گیا اور ۱۹۶۹ء میں ہندوستان جانے کا موقع ملا۔
دھرمشالے میں میری ملاقات تقدس مآب دلائی لاما اور ان کے اتالیق حضرات سے ہوئی۔ مجھ پر یہ دیکھ کر بہت گہرا اثر ہوا کہ یہ لوگ جس بات کو مانتے تھے اور جس پر عمل پیرا تھے وہ ایک حقیقت تھی۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کسی امریکی یونیورسٹی میں بدھ مت کا مطالعہ زیادہ تر بدھ مت کی تحریروں کے تاریخی اور لسانی تجزیہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ ایک خشک مضمون تھا اور پڑھتے ہوئے یوں لگتا تھا کہ گویا ہم کسی ایسی چیز کا مطالعہ کر رہے ہیں جو آج نہیں قدیم مصری مذاہب کی طرح صدیوں پہلے موجود تھی۔ ہندوستان میں بدھ مت کی تبتی روایت ایک زندہ چیز تھی۔ اب میں ان کتابی لوگوں سے نہیں سیکھ رہا تھا جنہیں دھرم کا کوئی ذاتی تجربہ نہ تھا۔ اب وہ لوگ میرے استاد بن گئے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے تھے، ان پر عمل کرتے تھے۔ یہ تعلیمات بدھ فلسفی سے لے کر آج تک، بغیر منقطع ہوئے، استاد سے شاگرد کو منتقل ہوتی آئی ہیں۔ یہ سب سیکھنے کے لیے مجھے بس اتنا کرنا تھا کہ میرے ارد گرد جو بڑے گرو اور استاد موجود تھے ان کی خدمت میں خود کو ایک آمادگی کے ساتھ پیش کر دوں۔اب میں نہ صرف اس چیز کو توجہ سے دیکھ رہا تھا کہ بدھ مت میں ایک ثقافتی ماحول سے نکل کر دوسرے میں جاتے ہوئے کیونکر تبدیلیاں واقع ہوئیں بلکہ بدھ مت میرے لیے ایک ایسا زندہ فلسفہ اور مذہب بن گیا تھا جس پر میں عمل بھی کر سکتا تھا۔
پی-ایچ-ڈی کے لیے اپنی تحقیق کی خاطر میں نے ایک بڑے لاما (روحانی گرو) گَیشے نگاوانگ دھارگیئے سے تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے بدھ مت پر عمل بھی کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد تقدس مآب دلائی لاما نے دھرمشالہ میں تبتی تحریروں اور ذخیروں کے کتب خانے قائم کی اور میرے استاد کو ہدایت کی کہ وہ اس کتب خانے میں غیر ملکیوں کو بدھ مت کے فلسفے اور گیان مراقبہ کی تعلیم دیا کریں۔ لاما شرپا اور لاما کھملُنگ دو نوجوان رنپوچے تھے جنہوں نے گَیشے وانگیال کے زیرِ نگرانی امریکہ میں انگریزی سیکھی تھی اور میں ان کے ساتھ مل کر تقدس مآب دلائی لاما کی کچھ تحریروں کا ترجمہ کر رہا تھا۔ دلائی لاما نے ان دونوں کو مترجم کے طور پر مقرر کیا۔ جب میں نے درخواست کی کہ مجھے بھی مدد کرنے کی اجازت دی جائے تو تقدس مآب دلائی لامہ نے فرمایا، "ضرور، مگر پہلے امریکہ جاؤ، مقالہ جمع کرواؤ اور ڈگری حاصل کرو۔"
میں نے تحقیقی مقالہ جمع کروایا، یونیورسٹی میں پڑھانے کی نوکری کی پیشکش ہوئی جسے میں نے شکریے کے ساتھ رد کر دیا اور گَیشے دھارگیئے سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستان لوٹ آیا۔ ہم نے مل کر مزید ترجمے کیے اور جب تبتی زبان میں میری بول چال کی مہارت بڑھ گئی تو میں ایک بڑے لاما کے مترجم کے طور پر کام کرنے لگا۔ یہی لاما میرے اصل استاد بھی تھے۔ ان کا نام تسنژاب سرکونگ رنپوچے تھا اور وہ تقدس مآب دلائی لاما کے نائب اتالیق اور بڑے استادِ منطق رہ چکے تھے۔ میں سرکونگ رنپوچے کے ساتھ مترجم کے طور پر دو بین الاقوامی تدریسی دوروں میں بھی شریک سفر تھا۔ جب یہ عظیم گرو ۱۹۸۳ء میں اس دنیا سے کوچ کر گئے تو کئی ملکوں سے بدھ مت کے مراکز نے مجھے اپنے ہاں آنے اور درس دینے کی دعوت دی۔
ہندوستان آ کر مجھے اس چیز نے بہت متاثر کیا کہ بدھ مت نہ صرف روز مرہ کی زندگی کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے پاس ان بہت سے سوالوں کا جواب بھی موجود تھا جن کا حل تلاش کرنا اس سے پہلے میرے لیے ممکن نہ تھا۔ یہ سوالات کچھ یوں تھے۔ "میری زندگی ایسی کیوں تھی؟" "میری زندگی میں یہ سب کچھ کیوں ہوا؟" بدھ مت کرموں کے جو معنی بتاتا ہے اس سے ان سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ دریافت میرے لیے بہت دلچسپی کی حامل تھی کیونکہ اسی سے میں اس قابل ہوا کہ زندگی میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کو ایک معنویت دے سکوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ بدھ مت ذہن اور اس کی کار کردگی کی جس طرح وضاحت کرتا ہے وہ صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ جب ہم زندگی میں پیش آنے والے روز مرہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے بدھ مت کے طریقوں پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مؤثر نتائج کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس چیز نے بہت ہمت دی کہ میں نے ٹھیک راستہ چنا تھا جو میرے لیے ہر طرح مناسب تھا۔
تدریس و ترجمہ کرتے ہوئے میری کوشش یہ رہتی ہے کہ میں نے بدھ مت کے بارے میں جو سبق سیکھا اور ایک سماجی، ثقافتی منطقے سے دوسرے میں اس کے پھیلنے کے بارے جو کچھ جانا اس کو استعمال کروں۔ میرے مطالعے اور جائزے نے مجھے اس نکتے سے آگاہ کیا ہےکہ اگر بدھ مت کو مغربی دنیا اور جدید معاشروں کے سامنے پیش کرنا ہے تو کون سے عوامل ایسے ہیں جن کے بارے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ماضی میں بدھ مت نے ہر نئے ثقافتی ماحول سے کیونکر سازگاری پیدا کی مجھے امید ہے کہ میں جدید دنیا کے دیگر ممالک میں اس کی اشاعت کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہوں۔
|
<urn:uuid:42c58739-72c5-4e2a-bcdc-4ee64a0a9b82>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.berzinarchives.com/web/ur/about/author/becoming_involved_buddhism.html
|
2013-05-18T13:32:37Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382398/warc/CC-MAIN-20130516092622-00004-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.988597
|
Arab
| 32
|
{}
|
ابو جعفر المنصور
ابوجعفر منصور کی ولادت 711ء ، 95 ھ میں اپنے دادا علی بن عبداللہ عباسی کی موجودگی میں حمیمہ قصبہ میں ہوئی ۔ ابوجعفر اس کی کنیت اور منصور لقب تھا۔ اس کی ماں بربری النسل کی ایک لونڈی تھی جس کا نام سلامہ تھا۔ وہ بڑی عابد و زاہد خاتون تھی۔ ابوجعفر کا خاندان بڑا متمول اور علم و فضل میں یکتا تھا۔ لہذا بچپن میں اسے جو شاندار ماحول میسر آیا اس نے اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بڑا حصہ ادا کیا۔ عہد طفولیت ہی سے اسے کھیل کود کی بجائے لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق تھا ۔ اس کے والد نے اس کی تعلیم کا خصوصی بندوبست کیا۔ چنانچہ علم الحدیث ، علم الانساب اور فقہہ و ادب میں اس نے بڑی مہارت حاصل کی۔ وہ بڑا فصحیح و بلیغ خطیب اور سخن گو تھا ۔ حکمت و دانائی اس کی گھٹی میں تھی ۔ تحریک عباسی کے عہد شباب میں وہ بڑا سرگرم عمل رہا ۔ سفاح کے عہد حکومت میں جزیرہ ، آذربائیجان ، اور آمینیہ کی حکومت اس کے سپرد تھی ۔ وہ اپنے بھائی کے تمام فیصلوں میں شریک رہا۔ بنو عباس کے ابتدائی دور کے خلفشار کو دور کرنے میں اس نے بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔
فہرست
خلافت [ترمیم]
سفاح نے اپنی زندگی میں ہی ابوجعفر منصور اور اس کے بعد عیسی بن موسی کے حق میں وصیت کر دی تھی ۔ سفاح کی وفات کے وقت وہ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں تھا۔ بھائی کی موت کی خبر پاکر وہ فوری بغداد پہنچا ۔ جامعہ مسجد کوفہ میں جمعہ کی نماز پڑھائی اور اپنا پہلا خطبہ دیا ۔ وہ مسند خلافت پر 754ء کو متمکن ہوا۔ عمر میں اپنے بھائی سفاح سے بڑا تھا ۔منصور خلافت سنبھالنے کے بعد درالحکومت انبار میں جشن خلافت منا کر اپنی حکومت کا افتتاح کیا۔ اس وقت اس کی عمر اکتالیس برس تھی ۔
ابتدائی مشکلات [ترمیم]
اگرچہ خلافت عباسی کی بنیادیں رکھی جا چکی تھیں لیکن سفاح کو چونکہ بہت کم عرصہ حکومت کرنے کا موقع ملا ااس لیے تخت نشین ہونے کے بعد منصور کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود عباسیہ خاندان میں پھوٹ کے مواقع موجود تھے جو ان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس کے علاوہ ابومسلم خراسانی اور ابوجعفر منصور کے درمیان رنجشیں موجود تھیں۔ منصور ابومسلم کو عباسی خلافت کے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھتا تھا ۔ منصور نے ابومسلم کو قتل کرا دیا جس سے مزید بغآوتوں نے جنم لیا۔ بنو امیہ کے خاندان کے حامی بھی منصور کے لیے خطرہ تھے جنہوں نے جزیرہ میں بغاوت کو ہوا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ بربر اور ترک بغآوتیں ، خوارج کی سرگرمیاں۔ عربی قبائلی عصبیتیں ، اہل بیت کی تحریک ، روم کی طرف سے حملے کا خطرہ اور ملکی خزانے میں مالی بحران کچھ ایسی مشکلات تھیں جس کی وجہ سے منصور کی حکومت کو شدید خطرہ درپیش رہا۔
بغاوتیں اور سدباب [ترمیم]
منصور نے خلافت کے سب سے بڑے داعی عبداللہ بن علی کی بغاوت کو ابومسلم خراسانی کے ذریعے سے ختم کروا دیا ۔ عبداللہ کو گرفتار کرنے کے بعد اس جس مکان میں رکھا گیا اس کی چھتیں گر گئیں جس سے وہ مارا گیا۔ ابومسلم جو کہ عباسیہ خاندان کا سب سے بڑا وفادار تھا اور جس کی بدولت عباسیہ خاندان کو خلافت نصیب ہوئی منصور کو معلوم تھا کہ یہی وہ شخص ہوگا جو کہ عباسی خاندان کے خاتمے کا سبب بنے گا اس لیے منصور نے ابومسلم کو راستے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اس نے ابومسلم کو دربار میں طلب کیا اور وہاں چھپے ہوئے سپاہیوں نے منصور کا سر تن سے جدا کر دیا۔ جب منصور کے بیٹے نے یہ منظر دیکھا تو اس نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ خدمت کا یہ صلہ تو منصور نے جواب دیا کہ خدا کی قسم روئے زمین پر اس سے زیادہ کوئی تمہارا دشمن نہ تھا۔
ابو مسلم کی موت کے بعد خراسان میں بغاوتوں نے سر اٹھایا فیروز سندباد نامی ایک شخص نے بغاوت کا اعلان کیا منصور نے جمہور بن مرار عجلی کو ان کے کچلنے کا حکم دیا ۔ اس نے اس مجوسی کو شکست دی۔ بعد میں جمہور بن مرار عجلی مال غنیمیت پر قابض ہوا اور بغاوت پر اتر آیا ۔ منصور نے اپنے اس سپہ سالار کو بھی شکست دے دی ۔
عراق اور خراسان کے توہم پرست لوگوں کا ایک گروہ جو کہ ابومسلم کا پیروکار تھا وہ بغاوت پر آمادہ ہوا اور منصور کے محل پر حملہ آور ہوئے اس بغاوت میں معن بن زائدہ نے منصور کی جان بچائی بعد میں منصور نے اس فرقے کی بغاوت کا قلع قمع کیا۔
افریقہ کی بربر قبائلیوں کی جانب سے بھی بغاوت کا سلسلہ جاری رہا ۔ وہاں بھیجے گئے کئی سالاروں کو بربروں نے قتل کر دیا۔ مگر عباسی فوجی کمانڈر یزید بن حاتم نے قیروان پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور اردگرد کے علاقوں میں شورشوں کا خاتمہ کرکے شمالی افریقہ میں عباسی تسلط قائم کیا۔ اسی طرح ایک خارجی حسان بن مجالد ہمدانی نے موصل کے قریب بغاوت کا آغاز کیا موصل اور اردگرد کے علاقوں میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرکے وہاں کے حاکم کو شکست دی سرکاری فوج کی ناکامیوں سے منصور سخت پریشان ہوا چنانچہ دارالخلافہ سے افواج روانہ کیں بہرحال مزید کسی کشت خون کے بغیر ہی منصور نے دانائی اور حکمت سے کام لے کر اس بغاوت کو دبا دیا ۔
امام نفس الزکیہ کی بغاوت [ترمیم]
دیکھیے مکمل مضمون امام محمد نفس الزکیہ
منصور کی حکومت کی خلاف سب سے بڑا خروج امام محمد نفس الزکیہ کا تھا۔ امام نفس الزکیہ اپنی پاکبازی اور پرہیز گاری کی بدولت عوام میں بہت مقبول تھے۔ امام جعفر صادق کے مقابلے میں وہ خلافت کے پرجوش داعیوں میں سے تھے۔ امام حسن کی چوتھی پشت سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری طرف بنو عباس کی طرف سے چونکہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بنو امیہ کے خلاف بغاوت کامیاب ہونے کی صورت میں اہل بیت کو ہی خلافت کے مسند پر بٹھایا جائے گا لیکن عباسی اپنے اس وعدے سے پھر گئے یوں عام عوام میں اور خاص طور پر شیعہ آبادی میں عباسی خاندان کی اس وعدہ خلافی کے خلاف ایک ردعمل موجود تھا۔ منصور نے امام محمد نفس الزکیہ کو گرفتار کرنے کی کوئی بار کوشش کی مگر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں کافی عرصہ تک امام صاحب روپوش رہے ۔ آخر کار 762ء کو امام نفس الزکیہ مدینہ میں ظاہر ہوئے اور وہاں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ بہت جلد حجاز اور یمن کے لوگوں نے ان کو اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا۔ یوں خروج کی ابتدا ہوئی۔ امام الزکیہ کی اس تحریک کو اس وقت کے جید ہستیوں کی بھی حمایت حاصل رہی ان میں امام مالک اور امام ابوحنیفہ شامل ہیں۔ منصور نے مدینہ منورہ ان کی گرفتاری کے لیے افواج روانہ کیں امام صاحب نے عباسی فوج کی آمد کی اطلاع پر ساتھیوں سے مشورہ کیا ۔ اور مدینہ شہر میں محصور ہوگئے ۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ یوں جنگ کے دوران امام صاحب کو شہید کر دیا گیا۔ ان کے سر کو عبرت کے لیے مدینے کی گلیوں میں پھرایا گیا۔ اس کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نفس الرضیہ نے بصرہ میں خروج کا اعلان کیا بعد میں عباسی فوجوں نے ان کو بھی جنگ میں شہید کر دیا۔ یوں منصور اپنے خلاف اس بڑی بغاوت کو ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ مگر اس نے ایک ایسے شخص کا خاتمہ کیا جس نے اپنی تحریک کی بنیاد سنت رسول کی بنیاد پر اٹھائی تھی۔ اورامام نفس الزکیہ جیسی پاکیزہ ہستی کی شہادت سے مسلمانوں کو شدید دھچکا لگا۔
فتوحات [ترمیم]
بغاتوں کو ختم کرنے کے بعد منصور نے فتوحات کی طرف توجہ کی سندھ میں کمزور ہوتی حکومت کو پھر سے مضبوط کیا اور اردگرد کے تمام ہندو راجاؤں کو مطیع و فرمانبردار بنایا۔ نظام میں اصلاحات کی بدولت سندھ میں خوشحالی کا دور شروع ہوا۔ طبرستان اور دماوند پر قبضہ کیا اور ترکوں کی سرکوبی کی ۔ روم پر لشکر کشی کی اور بہت سے روم کے مفتوحہ علاقے دوبارہ بازیاب کرائے ۔ دوسری طرف اندیس میں اموی خلافت کا آغاز ہو چکا تھا ۔ عبدالرحمن الدخل نے وہاں ایک مضبوط ریاست قائم کی منصور نے اندلس پر حملہ کرکے اسے اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہا لیکن عبدالرحمن کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کھا کر بچے کچھے عباسی سپاہی لوٹ آئے۔ منصور نے عبدالرحمن کی بہادری اور عزم و حوصلہ کو سراہتے ہوئے اسے مسقر قریش یعنی شہباز کا لقب دیا۔ عباسیوں نے اس کے بعد کبھی اندلس کا رخ نہیں کیا۔
کارہائے نمایاں [ترمیم]
منصور نے بغاوتوں کو فرو کرکے ایک مضبوط عباسی حکومت کی بنیاد ڈالی اور ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی طرف توجہ کی۔ اسی ملکی استحکام کی وجہ سے ان کے جانشینوں نے عظیم الشان کارنامے انجام دئیے۔ منصور نے ایک ایسی حکومت اپنے جانشین کے حوالے کی جس کا خزانہ پر ، لوگوں کے دل امن سے معمور اور رعایا خوشحال ، تجارت روبہ ترقی اور ریاست بے حد مستحکم تھی۔ اس نے فوج کو مستحکم کیا۔ ان کی تنخواہوں کا باقاعدہ انتظام کیا فوجی چوکیاں اور چھاونیاں تعمیر کیں۔ محکمہ جاسوسی کو بہتر بنایا۔ اس نے علویوں کی طاقت کا خاتمہ کیا جس سے عباسی خلافت کا وجود یقینی ہوگیا۔ اس نے خلافت کے مذہبی تقدس کو بحال کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ چونکہ بنوعباس بھی اہل بیت نوبی ہیں لہذا سیاسی قیادت کے علاوہ مذہبی سیادت یعنی امامت بھی ان ہی کا حق ہے۔ یوں مستقبل میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی قوت اور غلبہ کھو جانے کے باوجود صدیوں تک عباسی خلافت کی اسلامی دنیا میں مرکزی اور روحانی حیثیت قائم رہی۔ مالیات کے محکمے کو مستحکم کیا ۔ اس کا مشہور قول ہے کہ دولت حکومت کے لیے حصن اور دین و دنیا کے لیے بمنزلہ رکن ہے۔اپنے اس مقولہ پر عمل پیرا ہو کر اس نے ساری عمر فضول خرچیوں سے اجتناب برتا اور کفایت شعاری کو معمول بنا لیا۔ ان کی وفات کے وقت خزانہ مال و دولت سے پر تھا۔ یوں رعایا کی خوشحالی کا آغاز ہوا۔
منصور خود صاحب علم و فضل تھا لہذا اس کی ذاتی دلچسپی کی بدولت اس عہد میں بڑا عظیم عملی و ادبی کام ہوا ۔ اموی دور میں کتاب و سنت کے علوم پر بڑا پائیدار کام ہوا تھا لیکن منصور کے عہد میں دیگر علوم کی بھی آبیاری ہوئی ۔ عربی زبان کے علاوہ فارسی زبان میں بڑی بڑی تصانیف منظر عام پر آئئیں ان کے عہد میں امام مالک اور امام ابوحنیفہ جیسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں۔جناب ثفیان ثوری ، ابن لیہہ ، ابن مبارک ، امام ابویوسف ، ان جریح ، عبدالرحمن بن عمر اوزاعی ، حماد بن سلمی اور ابن ابی عمرو نے کتب و حدیث تحریر کیں ، جلیل القدر علماء و محدثین کا تعلق ان کے دور سے ہے۔ ساتھ ہی علوم نقلیہ کے ساتھ علوم عقلیہ پر بھی بڑی بڑی تخلیقات منظر عام پر آئیں۔ منصور نے فلسفہ کے علوم کو رواج دینے کی طرف توجہ کی۔ اس نے قیصر روم کو لکھ کر اقلیدس اور طبیعیات کی کتب ترجمے کے لیے منگوائیں ۔ اس کی سرپرستی کی بنا پر عبداللہ بن مقنع جیسے ادیب اور فلسفی ۔ نوبخت اور ابراہیم جیسے ماہر فلکیات دربار سے وابستہ ہوئے ۔ کلیہ و دمنہ اور سدھانت کے تراجم بھی اسی دور میں کیے گئے۔ سریانی ، یونانی اور سنسکرت سے مختلف کتابوں کو عربی اور فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔
بنی امیہ خالص عربی حکومت تھی عباسی بھی نسل کے لحاظ سے عرب تھے لیکن سیاسی اور انتظامی لحاظ سے حکومت ایرانی تھی۔ فارسی زبان ، رسم و رواج آداب اور اطوار اختیار کیے گئے۔ اس نے فوج اور انتظامیہ میں غیر عرب عناصر کو شامل کیا وہ پہلا شخص تھا جس نے موالیوں کو بہت سے کاموں پر مامور کیا۔ اور انہیں عربوں پر ترجیح دی۔ یوں ان کا اعتماد حکومت پر بحال ہوا۔
منصور کے دور میں تعمیرات کے شعبے میں بھی بہت سے کام ہوئے ۔ مسجد حرام کی توسیع ہوئی ۔ آب پاشی کی طرف توجہ کی گئی اور رفاعہ عامہ کے نقطہ نظر سے بہت سے پل نہریں اور نئی بستیاں آباد کی گئیں۔ اس حوالے سے اس کا سب سے بڑا کارنامہ بغداد کی تعمیر ہے ۔ فرقہ راوندیہ کی فساد کے بعد اس نے دارلحکومت کی تبدیلی کا سوچا اور دریائے دجلہ کے کنارے ساسانی درالحکومت مدائن کے قریبی مقام کو اپنے دارلحکومت کے لیے منتخب کیا ۔ اور بغداد اس کا نام رکھا۔ اس نے 751ء میں بغداد کی بنیاد رکھی اور خالد برمکی کو اس کی تعمیر کا انچارج مقرر کیا۔ شہر کی تعمیر میں بے حد فیاضی سے کام لیا گی۔ شہر اپنی ساخت کے لحاظ سے گول تھا اس کے اردگرد دوہری فصیل بنائی گئی اس کے چار دروازے تھے۔ ان چار دروازوں میں سے چار سڑکیں نکالی گئیں جو باہم ایک نقطہ پر جا کر مل جاتی۔ اس مقام پر خلیفہ کا محل تھا جس کا نام قصر الخلد تھا۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ عباسیہ خاندان کا اولین بانی ابوالعباس عبداللہ سفاح تھا۔ مگر اس کا دور جنگ و جدل اور مخالف قوتوں کی شورش کا دور تھا۔ مگر ابوجعفر منصور نے جس طرح بطور جانشین ان سب چیزوں پر قابو پایا اور اس کو استحکام بخشا اسے جائز طور پر بنو عباس کا حقیقی بانی قرار دیا جاسکتا ہے۔
شخصیت و کردار [ترمیم]
منصور ایک خوبرو ، دراز قد ، گندم گوں اور دبلے پتلے جسم کا مالک انسان تھا اس کے رخسار پر گوشت کم تھا اور داڑھی گھنی تھی جسے سیاہ رنگ سے خضاب کرتا تھا ۔ وہ کم گو اور سنجیدہ مزاج تھا اور اس کے چہرہ پر وقار اور ہیبت چھائی رہتی تھی ۔ خلوت میں خوش اخلاق اور خوش مزاج تھا۔ مسعودی کا بیان ہے کہ جب تک وہ لوگوں میں نہ نکلتا اس وقت تک بہترین اخلاق کا انسان ہوتا۔ وہ بچوں کی شرارت کو بہت پسند کرتا تھا ۔ جب وہ لباس پہنے باہر نکلتا تو اس کے چہرہ پر سنجیدگی و ہیبت طاری ہو جاتی ۔ اپنی بہترین عادات و خصائل کی بنا پر مورخین نے ان کی بڑی تحسین کی ہے۔
ہمت و شجاعت [ترمیم]
تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد منصور کو جو مشکلات درپیش رہیں اس نے ان سب کا ہمت مردانہ اور شجاعت سے مقابلہ کیا۔ واسطہ کے محاصرہ کے دوران اس کے حریف یزید بن ہبیرہ نے اس کی مردانگی و شجاعت کی داد ان الفاظ میں دی۔ {اس نے جب شہر واسطہ کا محاصرہ کیا تو میرے سر میں ایک بھی سفید بال نہیں تھا اور جب مقابلہ کرنے کے لیے نکلا تو میرے سر میں ایک بھی بال سیاہ نہیں رہا} وہ ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔
انتظامی صلاحیتیں [ترمیم]
وہ بڑا محنتی اور فرض شناس انسان تھا ۔ وہ اپنا اکثر وقت حکومتی کاموں میں صرف کرتا ۔ نماز صبح سے فارغ ہوتے ہی دوپہر تک حکومت کے ہر طرح کے معاملات اور مسائل پر غور کرتا اور احکامات صادر کرتا ۔ عصر کے بعد گھر والوں کے ساتھ بیٹھتا اور عشاء کے بعد پھر باہر سے آئے ہوئے مراسلات پر غور و خوص کرتا اور ارکان سلطنت سے مشورہ کرتا۔ ایک تہائی رات گئے آرام کرنے کی خاطر بسر کی طرف لوٹتا۔
دور اندیشنی [ترمیم]
مسعودی کا بیان ہے کہ منصور فوجی تدبیر اور حسن سیاست کی معراج کمال تک پہنچا ہوا تھا۔ جس معاملہ میں نفع کی توقع ہوتی اس میں بے دریغ پیسا خرچ کرتا اور جہاں روپیہ ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا وہاں معمولی رقم بھی خرچ نہ کرتا۔ وہ رائے اور تدبیر میں دوراندیش اور ایک تجربہ کار حکمران تھا۔
حاضر دماغی [ترمیم]
ابن ہبیرہ کی رائے ہے کہ میں نے جنگ اور امن دونوں حالتوں میں کسی شخص کومنصور سے زیادہ ہوشیار اور چالاک ، بیدار اور چوکنا نہیں پایا۔ کھٹن سے کھٹن حالات میں وہ حوصلہ نہیں ہارتا تھا ۔ بلکہ سیاسی داؤ گھاٹ ، مکر و فریب اور حیلہ سازی سے کام لے کر دشمن پر کامرانی حاصل کر لیتا۔ ابومسلم کے قتل میں اس نے سازش اور فریب سے کام لیا ۔ اپنی ذہانت و فطانت اور حیلہ بازی کی بنا پر وہ ہر طرح کے پر خطر حالات میں بھی کامیاب و کامران نکلا
کفایت شعاری [ترمیم]
منصور روپیہ کے استعمال میں بڑا محتاط واقعہ ہوا تھا۔ وہ اپنے کارکنوں سے ایک ایک پائی کا حساب لیتا تھا۔ اس کی کفایت شعاری کے عجیب و غریب قصے مشہور ہوئے۔ طبری نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک دن منصور نے اپنے غلام سے کہا کہ میرے پرانے پھٹے کپڑے اکھٹے کرو ۔ اور جب مہدی میرے پاس حاضر ہو وہ سب کپڑے میرے پاس لے آنا۔ اتنے میں مہدی آ گیا تو منصور ان پیوندوں کا اندازہ لگانے لگا کہ کہاں ٹھیک لگ سکیں گے۔ یہ عالم دیکھ کر اس کا جانشین مہدی مسکرایا اور کہا اے امیر المومنین اسی وجہ سے لوگوں میں چرچا ہے کہ دینار و درہم اور اس سے کم مالیت کے سکہ پر امیر المومنین کی نظر رہتی ہے منصور نے برجستہ جواب دیا کہ جو شخص اپنے پھٹے کپڑے کی اصلاح نہیں کرتا وہ نئے کپڑے کا مستحق نہیں۔ اس کی اسی عمل کی وجہ سے جب اس کی وفات ہوئی تو خزانہ دولت سے بھرا ہوا تھا۔
سادگی و پاکیزگی [ترمیم]
اس کی نجی اور ذاتی زندگی سادگی کا نمونہ تھی ۔ ابن خلدون نے اس کی سادگی پر اسے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وہ پابند و صوم صلوۃ تھا ۔ اکثر پیوند لگے کپڑے پہنتا ۔ اس کے کمرہ کے اندر ایک ٹاٹ پچھا ہوتا جہاں منصور کے بستر ، لحاف اور توشک کے کچھ اور موجود نہیں ہوتا۔ موسیقی سے اسے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ عیش و عشرت سے اسے نفرت تھی۔
سخت گیری [ترمیم]
منصور نے بغاوتوں کے استیصال اور ملکی امن و امان کے قیام میں لوگوں پر بڑی بڑی سختیاں کیں ۔ امام مالک کو کوڑے تک لگوائے اور امام ابوحنیفہ کو قید میں ڈال دیا گیا ۔ علویوں کے ساتھ بڑا سخت رویہ رکھا ۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا کہ آپ سزا دینے میں کمر بستہ ہیں درگزر سے بھی کام لیا کریں تو منصور نے جواب دیا کہ آل مروان کا خون خشک نہیں ہوا اور آل ابی طالب کی تلواریں ابھی برہنہ ہیں یہ زمانہ ایسا ہے کہ ابھی تک خلفاء کا رعب ان کے دلوں میں قائم نہیں ہوا اور یہ سب اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک لوگ عفو کے معنی ہی نہ بھول جائیں
عدل و انصاف [ترمیم]
منصور عام رعایا اور امن پسند شہریوں کے لیے ہر لحاظ سے نرم اور عادل تھا اس کا قول تھا کہ خلیفہ کو صرف تقوی درست رکھ سکتا ہے، اس نے رعایا کو کھلی آزادی عطا کی اور جب کبھی کوئی اسے اپنی تکلیف بیان کرتا تووہ اس کا مداوا کرتا ۔ اس کے نزدیک سلطنت کے چار ضروری ارکان ہے ایک قاضی جو عدل قائم رکھے دوسرے پولیس جو زبردستوں کو ظالموں سے محفوظ رکھے اور کمزوروں کو انصاف دے ۔ تیسرے محصل جو پورا خراج کرے اور چوتھے پرچہ نگار جو لوگوں کے بارے میں صحیح اطلاعات دے۔
علمی فضیلت [ترمیم]
وہ نہ صرف مربی علم و ادب بلکہ خود بڑا عالم اور اعلیٰ درجہ کا خطیب تھا۔ روانی گفتار اور قوت استدلال سے وہ عام و خاص کو اپنی گرفت میں لے لیتا۔ وہ ارباب علم و فن کا بڑا قدر دان تھا۔ اس کے دور میں علمی و ادبی حوالے سے بہت زیادہ کام ہوا۔
وفات [ترمیم]
عبداللہ سفاح نے منصور کے بعد اپنے بھتیجے عیسی بن موسی کو اپنا ولی عہد مقرر کرنا چاہتا تھا ۔ مگر منصور اپنے بیٹے مہدی کو اپنا ولی عہد مقرر کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے اس نے ایک چال چلی اور اپنے چچا عبداللہ بن علی کو گرفتار کرکے عیسی کے حوالہ کیا اور حکم دیا کہ اسے قتل کر دے تاکہ قتل کے جرم کی پاداش میں اسے قتل کیا جاسکے۔ لیکن عیسی نے اسے قید میں رکھا اور قتل نہیں کیا ۔ کچھ عرصہ بعد عیسی نے عبداللہ بن علی کو منصور کے سامنے پیش کرکے اپنی جاں بخشی کروالی لیکن منصور نے عیسی کو ولی عہدی سے ہٹا کر اپنے بیٹے کو جانشین بنا دیا عیسی نے اس فیصلہ پر پس و پیش کیا تو منصور نے اس کی تذلیل کی اور دھمکیاں دیں تنگ آکر عیسی نے دست برداری قبول کر لی اور اس کے بعد منصور نے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا۔ اپنے جانشین مہدی کے نام وصیت کرنے کے بعد وہ 775ء 148ھ کو حج کے لیے روانہ ہوا ۔ دوران سفر بیمار ہوگیا اور چھ ذی الحج کو بیرمیمون کے مقام پر تریسٹھ سال اور کچھ ماہ کی عمر میں وفات پائی ۔ وفات کے وقت سوائے اس کے خاص خادموں اور وزیر ربیع کے اور کوئی موجود نہ تھا۔ اس کا عہد حکومت تقریبا بائیس سال رہا۔
ابو جعفر المنصورپیدائش: 712ء (93ھ) وفات: 775ء (158ھ)
|مناصبِ اہل سنت|
|پیشرو
السفاح
|خلیفۃ الاسلام
754ء – 775ء
|جانشین
المہدی
|
<urn:uuid:09efe148-e79c-45d0-8e8d-1c0a3d7ff1ad>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1
|
2013-05-23T01:57:47Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368702730377/warc/CC-MAIN-20130516111210-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.983049
|
Arab
| 89
|
{}
|
گاہکوچ: پانی کی قلت، واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے ملازمین سے عوام نالاں
گاہکوچ (نمائندہ خصوصی) ۔ واٹرسپلائی گاہکوچ کے ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے لگے ۔ عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہی ہے ، محکمہ تعمیرات عامہ کے حکام کی غفلت اور غیر ذمہ داری کے بعد سرکاری ملازمین پرائیویٹ کاروبار کرنے میں مصروف ہیں ۔ ماہ صیام میں گاہکو چ کی نشیبی آبادی کربلا کا منظر پیش کرنی لگی ۔ محکمہ تعمیرات عامہ فوری طور پر اصلاح و احوال کرے بصورت دیگر واٹر سپلائی کے محکمے سے دستبردار ہوجائے ۔ عوامی حلقوں نے پانی کا مسئلہ حل نہ کرنے پر محکمہ تعمیرات عامہ کے خلاف احتجاج کی دھمکی دیدی۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی مجرمانہ غفلت نے گاہکوچ کے شہریوں کو سخت ذہنی اذیت سے دوچار کردیا ہے سینکڑوں کی تعداد میں تنخواہ لینے کے لئے آنے والے ملازمین تیس دن تک منظر عام سے مکمل طور پر غائب رہتے ہیں محکمہ کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بعض ملازمین پرائیویٹ کاروبار کرنے میں مشغول ہیں جبکہ کچھ ملازمین ٹیکسی گاڑیاں چلارہے ہیں دوسری طرف پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ گھروں میں چوبیس گھنٹوں کے اندر پانی کا ایک بوند بھی نہیں ٹپکتی ہے خواتین اور بچے بہت دور جاکر پانی بالٹیوں میں بھر کے لانے پر مجبور ہیں ۔ حکام بالا کے گھروںکے لان بھی پانی سے تر ہوتے ہیں جبکہ غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے محکمہ تعمیرات گاہکوچ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے بارہا شکایتوں کے باوجود ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان ہے ۔ حکام اور چھوٹے ملازمین کی ملی بھگت نے عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے عوامی حلقوںنے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گاہکوچ شہر کو پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے بصورت دیگر محکمہ تعمیرات عامہ واٹر سپلائی کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجائے تاکہ کوئی اہل محکمہ عوامی شکایات کا ازالہ کرسکے ۔
Related Posts:
|
<urn:uuid:2cb3a1ad-830c-4161-9e8d-b49590ee9e0e>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://pamirtimes.net/2012/08/01/gahkuchwater/
|
2013-06-19T23:14:30Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368709805610/warc/CC-MAIN-20130516131005-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.983336
|
Arab
| 6
|
{}
|
دنیا بھر میں جمعے کے روز اپیل اسٹوروں کےباہر خریداروں کی لمبی قظاریں دکھائیں جو ڈیجٹل ٹیکنالوجی کی اس بڑی کمپنی کے مشہور ٹیلٹ کمپیوٹر آئی پیڈ کا نیا ماڈل خریدنے کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔
امریکہ میں خریداروں میں ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو اسٹور کھلنے سے گھنٹوں پہلے رات کو ہی قطاریں بنا کرکھڑے ہوگئے تھے۔
اپیل کا نیا آئی پیڈ اس کا تیسرا ورژن ہے ، جس میں کئی نئے اضافے کیے گئے ہیں۔
نئے آئی پیڈ کی قیمت 500 سے 800 ڈالر کے درمیان ہے اور کمپنی کا کہناہے کہ نئے ماڈل میں زیادہ طاقت ور مائیکرو پراسیسر چپ لگائی گئی ہے جس کی مدد سے گرافکس زیادہ بہتر دکھائی دیں گے اور انٹرنیٹ سے زیادہ تیزی کے ساتھ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔
ٹوکیو، ہانگ کانگ، سنگا پور، پیرس ، نیویارک اور دوسرے کئی بڑے شہروں سے بھی اپیل اسٹوروں کے باہر خریداروں کے بڑے بڑے ہجوموں کی خبریں ملی ہیں۔
اپیل کمپنی کاشمار کمپیوٹر تیار کرنے والے دنیا کے بڑے اداروں میں کیا جاتا ہے۔ اور ٹیلٹ کمپیوٹر کی عالمی فروخت میں اپیل کا حصہ 60 فی صد ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ نئے آئی پیڈ سے ان کی فروخت مزید بڑھے گی۔
اپیل کا کہناہے کہ وہ اب تک ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ آئی پیڈ فروخت کرچکی ہے۔
ایک مالیاتی تجزیہ کار کا کہناہے کہ صرف جمعے لانچ کے پہلے دن دس لاکھ سے زیادہ آئی پیڈ فروخت ہونے کی توقع ہے۔
|
<urn:uuid:892fe3a9-f932-4008-940d-6fd93cd9ffe0>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://pakistan.onepakistan.com.pk/urdunews/sci-tech/16685-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%be%db%8c%da%88-%d8%aa%da%be%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%84%d9%85%d8%a8%db%8c-%d9%82%d8%b7%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%ba.html
|
2013-05-18T22:50:32Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382920/warc/CC-MAIN-20130516092622-00007-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.992425
|
Arab
| 16
|
{}
|
|آرمی این-سی-او کا افغانستان میں خودساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکام بنانا|
منجانب Staff Sgt. Nicolas Morales, 4th Infantry Brigade Combat Team
شئیر
متعلقہ خبریں
صوبہ پکتیا، افغانستان (30 اکتوبر، 2012) – یہاں متعین آرمی سارجنٹ بریڈلی ٹومین جب اپنے ملٹری کے پیشے میں گزارے 12 سال پر پلٹ کر نظر ڈالتے ہیں تو انھیں خوش گوار یادیں اور آگے بھی اپنے خاندان اور ساتھی فوجیوں کے لیۓ حوصلہ افزا راستہ پاتے ہیں۔
ٹومین، 1998 میں اجو ڈیویسن، مشیگن کے مقامی ہیں، 1998 میں ایک بڑھئی اور مستری کے طور پر فوج میں بھرتی ہوۓ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وہ 11/9 دہشت گرد حملوں کے دوران واشنگٹن، ڈی سی، میں موجود تھے۔
وہ اس کو ایسے یاد کرتے ہیں جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔
ٹومین نے کہا کہ"میں باہر کھڑا پینٹاگون کے علاقے کی طرف دیکھ رہا تھا. میں نے وہاں سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا تو مجھے فوری طور پر احساس ہوا کہ وہاں کوئی فیکٹریاں نہیں تھیں ۔ میں بھاگ کر دفتر کے اندر گیا تو مجھے پتہ چلا کہ پینٹاگون پر حملہ ہوا تھا۔"
وہائٹ ہاؤس مواصلات ایجنسی کو تفویض، ٹومین کے پاس انوکھی نوکری ہے۔
انھوں نے کہا کہ "میں صدارتی پوڈئیم بنتا اور ان کی مرمت کرتا تھا، اور صدر کے لیۓ کوئی بھی الماری جس کی انھیں ضرورت ہوتی، میں بناتا تھا، ان کو کاٹتا اور بنا ڈالتا تھا۔"
2005 میں ٹومین نے آرمی چھوڑ کر جانے اور شہری بڑھئی کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً دو سال کے بعد بھی انھیں ایک خلا محسوس ہو رہا تھا جسے وہ بھر نہ سکے۔
ٹومین نے کہا کہ"جب میں [آرمی سے] نکل آیا تو میں جانتا تھا کہ میرے پاس بہت کچھ تھا اور جانتا تھا کہ بہت فوج میں میرے لیۓ بہت کچھ تھا، لیکن جب میں باہر نکل آیا تو میں نے محسوس کیا کہ کتنی زیادہ [فوج کی کمی محسوس ہو گی]۔ میں اس سے پہلے بھی محبت کرتا تھا اور اس نے مجھ میں اس کے لئیے اور بھی زیادہ محبت پیدا کر دی ہے۔"
ٹومین نے کہا کہ ان کا خاندان اس بات کا بڑا حصہ ہے جو انھیں افغانستان میں مرکوز رکھتا ہے۔ ان کے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کے فیصلے کو ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت صرف ایک چیز تھی جس کی انہوں ضرورت ہے۔
ٹومین نے کہا کہ خاندان کیا رکھتا ہے اسے افغانستان میں مرکوز ایک بڑا حصہ ہے. نے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کا فیصلہ ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت، انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہی چیز ہے کہ وہ ضرورت تھی.
ٹومین نے کہا کہ "اس وقت کے بعد جب حالات خراب ہو گۓ – میرے والد کا انتقال ہو گیا – میری بیوی پیٹریشیا نے مجھے وہ سب کچھ کرنے کو کہا جو مجھے خوش کرتا تھا، اورصرف جس چیز نے مجھے خوش کیا تھا وہ میرا آرمی میں گزرا وقت تھا" ۔
ان کی بیوی نے ان کو فیصلہ لینے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔
ٹومین نے کہا کہ "وہ جانتی تھی کہ میرا جواب کیا ہو گا، تو وہ ایک ریکروٹر سے ایک ہفتہ پہلے جا کرملی اور میری طرف سے بات چیت شروع کر دی ۔ تو جب میں نے ریکروٹر کے دفتر جانے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر میں قدم رکھا تو اس نے مجھے ''سارجنٹ ٹومین' کے نام سے مخاطب کیا، اور مجھے صرف کاغذی کارروائی پر دستخط کرنے تھے۔"
اب ان کی دوسری تعیناتی پر، ٹومین افغانستان میں روٹ کلیئیرنگ پڑرول پلاٹون میں، نان کمیشنڈ افسر کے طور پر بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے اور غیر فعال بنانے کی ذمہ داری کے ساتھ ، بڑے انداز میں حصہ لے رہے ہیں ۔
ٹومین ایک مانے ہوۓ لیڈر ہیں، جو، اپنے اعزازات اور کامیابیوں کے باوجود، عاجزی سے رہتے ہیں اور اپنے فوجیوں اور لیڈروں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔
ٹومین نے کہا کہ "میں اس تعیناتی کے بارے میں جس بات کو سب سے زیادہ یاد رکھوں گا وہ یہ فوجی ہیں - ان کو تربیت دینا، تربیت حاصل کرنا اورانھیں کام کے بارے میں تعلیم دینا۔ ان کی زندگیاں میرے ہاتھوں میں ہیں۔"
انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملٹری میں رہیں گے اور یہاں سے ریٹائر ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا خاندان جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر بہت فخر کرتا ہے۔
ٹومین نے کہا کہ "جب میں اپنے دادا سے ملنے گھر گيا، تو میں نے ان کی آنکھ میں آنسو دیکھا جو جہاں تک مجھے یاد ہے پہلی مرتبہ تھا ۔ "انھوں نے مجھے بتایا، 'بچے تم اچھا کام کر رہے ہو۔' یہ میرے لیۓ ایک بہت بڑی بات تھی۔"
جنگی کیمرہ
مرکزی کمان کی تصویریں
|
<urn:uuid:a51b8243-cbda-4e88-a285-93d34eae7e15>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.centcom.mil/ur/news/army-nco-destroys-ieds-in-afghanistan
|
2013-05-18T23:14:23Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382920/warc/CC-MAIN-20130516092622-00007-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.994438
|
Arab
| 1
|
{}
|
لاہور: 23جولائی: تعلیمی بورڈ لاہور کے بیان کے مطابق بورڈ ویب سائٹ پر 21 جولائی کو رزلٹ ڈیکلئر کرنے کا اعلان غلط فہمی کی بنیاد پر ہو گیا تھا۔ کیونکہ یہ تاریخ غیر معینہ تھی۔ جس سے ابہام پیدا ہوا۔ اس کے لئے ادارہ معذرت خواہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن بورڈ ایمپلائز فیڈریشن لاہور بورڈ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات بالکل غیر معیاری ہیں ۔ امتحانات کو صاف شفاف بنانے کے لئے دوبارہ مینوئل سسٹم رائج کیا جائے اور ڈاکٹر ماجد نعیم کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔
شکریہ جنگ میرا شہر لاہور 2/2
|
<urn:uuid:c3476b85-3ef5-41f4-bb28-407d172f79d8>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://punjabstudy.com/edu-news/declaration-education-board-lahore
|
2013-05-22T04:53:46Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.977591
|
Arab
| 1
|
{}
|
سمیری
سمیریا: عراق کا ایک قدیم شہر۔
سمیری: عراق کی ایک قدیم تہذیب کا نام ہے جو چار ھزار سال قبل مسیح سے لے کر تین ھزار سال قبل مسیح تک دریائے دجلہ و فرات کے درمیان موجود تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی النسل نہیں تھے اور اس علاقے کے باھر سے آئے تھے۔ ان کی زبان اعلیٰ ترقی یافتہ تھی اور وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ان کی لکھی ہوئی تختیاں قدیم مصر سے ملنے والی تحریر سے بھی پرانی ہیں۔
|ویکیمیڈیا العام میں سمیری سے متعلق وسیط موجود ہے۔|
|
<urn:uuid:ed21f741-8cbf-4ec8-a586-9f860595ab10>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D8%A7
|
2013-05-22T04:47:41Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.986241
|
Arab
| 24
|
{}
|
کیویائی روس
کیویائی روس قرون وسطی کی اک ریاست تھی ، جو 880ء سے 12ویں صدی کے درمیان تک کیف (موجودہ یوکرین کا دارالحکومت) اور ارد گرد کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔ اس کی بنیاد سکینڈے نیویا کے تاجروں (ورانجیئن) نے رکھی جو روس کہلاتے تھے ۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق روس ریاست یوکرینیوں کی ابتدائی پیش رو تھی ۔
ولادیمیر اعظم ( دور حکومت 1015ء -980ء) اور اس کے بیٹے یاروسلاو دانشمند ( دور حکومت 1054ء - 1019ء) کے دور کیف کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے ۔ جس کے دوران عیسائیت مذہب کے طور پر اختیار کی گئی اور " روسکایا پراودا" نامی مشرقی اسلاوی رسم الخط ایجاد کیا گیا ۔ ابتدائی روس (رس) حقیقت میں سکینڈے نیویائی جنگجو اشرافیہ تھے ، جن کی رعیت مین زیادہ تر اسلاو تھے ۔ سکینڈے نویوں کا اقتدار کم از کم 11ویں صدی عیسوی کے وسط تک رہا ۔
ابتدائی تاریخ [ترمیم]
روس (رس) لوگ روس خاگانیٹ کے تحت تھوڑے بہت منظم ہوئے ، جو کہ کیویائی روس کی پیش رو ریاست سمجھی جا سکتی ہے ۔ " بنیادی وقائع" (کرونیکل) کے مطابق ،جو کیویائی روس کی ابتدائی تاریخی دستاویز ہے ،"رورک نام کے ایک ورانجیئن (وائی کنک لوگ) 860ء کے قریب ، جنوب کی طرف جانے اور کیف تک اپنی حکومت بڑھانے سے پہلے خود کو موجودہ شمالی روس کے شہر نووگورد میں خود کو مستحکم کیا ۔ اس بنیادی وقائع میں اس کو "رورک شاہی خاندان " کا جد امجد بتایا گیا ہے ۔ کرونیکل کے مطابق ،"سال 6376 (859ء) میں سمندر کے پار سے ورانجیئن ، چود ، اسلاو، میریا ، ویزے ، کریوچ وغیرہ قبیلوں سے خراج لیتے تھے :- سال 6370(862ء) میں ان قبیلوں نے ورانجیئنوں کو پیچھے سمندر کی طرف ہانک (دھکیل) دیا اور انہیں خراج دینے سے انکار کر دیا اور خود حکومت کا انتظام سمبھال لیا ، مگر ان کے درمیان کوئی قانون نا تھا اس لئے ان قبیلوں کے درمیان تنازعات شروع ہو گئے ۔ اختلافات کی وجہ سے ان میں ایک دوسرے کے خلاف جنگیں شروع ہو گئیں ، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی بادشاہ بناتے ہیں جو ہم پر حکومت کرے اور رواج کے مطابق ہمارے فیصلے کرے ۔ اس لئے وہ سمندر کے پار ورانجیئن (روس لوگوں) کے پاس گئے ، یہ والے ورانجیئن روس کہلاتے تھے ۔ ایسے ہی جیسے کچھ ورانجیئن سویڈ ، دوسرے کچھ نارمن اور اینگل ، اور کچھ اور دوسرے گوتھ (گوٹلینڈر) کہلاتے تھے ، جیسے کہ اس زمانے میں ان کے نام تھے ۔ چودوں ، اسلاووں ، کریوچوں اور ویزوں نے روس لوگوں سے کہا " ہماری سرزمین وسیع اور امیر ہے لیکن اس پر کوئی قانون نہیں ہے ۔ آؤ اور بادشاہ کی طرح ہم پر حکومت کرو ۔ تین بھائیوں نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خود کو اس کام کئے پیش کیا ۔ انہوں نے ان روسوں کو اپنے ساتھ لیا اور واپس آ گئے ۔
کیویائی روس کہلائی جانے والی ریاست کی بنیاد 880ء قریب شہزادہ اولگ ( خزاروں کی دستاویز میں ہیگو) نے رکھی ۔ اگلے 35 سال میں اولگ اور اس کے جنگجوؤں نے متعدد مشرقی سلاوی اور فن قبیلوں کو اپنے تابع کیا ۔ 907ء میں اولگ نے قسطنطنیہ کے خلاف ایک مہم کی قیادت کی اور 911ء مین برابری کی سطح پر بازنطینی سلطنت کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدے پر دستخط کئے ۔
نئی کیویائی ریاست ترقی کی طرف گامزن رہی کیونکہ اس کے پاس برآمد کرنے کے لئے سمور (فر) ، موم اور شہد وافر مقدار میں تھا اور اس لئے بھی کہ مشرقی یورپ کے تین اہم تجارتی راستے : دریائے وولگا کا تجارتی راستہ ، بحیرہ بالٹک سے لے کر مشرق تک ؛ دریائے ڈینیپر کا تجارتی راستہ ، بحیرہ بالٹک سے لے کر بحیرہ اسود تک اور خزاروں سے جرمنوں تک کا تجارتی راستہ اس کی اجادہ داری میں تھا ۔
کیف کے حکمران سویتو سلاو اول (دور حکومت:995ء-972ء) کے دور تک کیویائی روس کے حکمرانوں نے اسلاوی ناموں اور مذہب کو اختیار کر لیا تھا ۔ سویتو سلاو کی فوجی فتوحات حیرت انگیز تھیں اس نے اپنے دو طاقتور ہمسایوں خزاری سلطنت (خزاریہ) اور بلغاروی سلطنت کو تاراج کر کے رکھ دیا ۔
9ویں صدی سے پیچینگ خانہ بدوش کی کیویائی روس کے ساتھ آویزش شروع ہوئی اور 2 صدیوں سے زائد عرصے تک الہوں نے کیویائی روس کی سرزمین پر بے ترتیب حملے جاری رکھے جو کبھی کبھی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار بھی کر لیتے تھے (جیسے 920ء کی ان کی کیویائی روس کے خلاف جنگ) ۔ 968ء میں پیچینگوں نے حملہ کیا اور کیو شہر کا محاصرہ کر لیا ۔
کیف کا سنہری دور [ترمیم]
کیف کے علاقے نے کیویائی روس پر اگلے 200 سال تک غلبہ پائے رکھا ۔ کیو کا شہزادہ اعظم ( روسی میں : ویلیکی کنیاژ) کی کیو شہر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت تھی ۔ اس کے قیاسی ماتحت اس کے رشتہ دار دوسرے شہروں پر حکومت کرتے اور اس کو خراج دیتے ۔ شہزادہ ولادیمیر اعظم ( دور حکومت: 1015ء_980ء) اور شہزادہ یاروسلاو دانشمند (دور حکومت: 1054ء- 1019ء) کے زمانے میں ریاست کی طاقت اور ترقی اپنے نقطہ کمال کو پہنچ گئی ۔ دونوں حکمرانوں نے کیویائی روس کی توسیع جاری رکھی جو اولگ کے دور سے شروع ہوئی تھی ۔
ولادیمیر نے 972ء میں اپنے باپ سویتوسلاو کی وفات اور اپنے سوتیلے بھائی یاروپولک کو 980ء مین شکست دینے کے بعد کیو میں اقتدار میں آیا ۔ کیو کے شہزادے کے طور پر سیاسی کامیابی کیویائی روس کو عیسائیت میں داخل کرنا تھا جس کا آغاز 988ء میں ہوا ۔ روس کے تاریخی وقائع (کرونیکل) بتاتے ہیں ، جب ولادیمیر نے اسلاووں کے روایتی بت پرستانہ مذہب کی بجائے ایک نیا مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے خاص مشیروں کو سفارتی نمائندوں کے طور پر یورپ کے مختلف علاقون مین بھیجا ۔ وہ لاطینی گرجا کے عیسائیوں ، یہودیوں اور مسلمانوں کے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد آخر میں قسطنطنیہ پہنچے ، یہاں وہ ایا صوفیہ گرجے کی خوبصورتی اور یہاں عبادات کی رسوم کو دیکھ کر مہبوت ہو گئے اور وہین اس مذہب کو اپنے لئے پسند کر لیا ۔ وطن واپس آنے کے بعد انہوں نے ولادیمیر کو قائل کیا کہ بازنطینی گرجا کا مذہب سب سے بہتر انتخاب ہے ۔ جس پر ولادیمیر نے قسطنطنیہ کا دورہ کیا اور بازنطینی سلطنت کے بادشاہ باسل دوم کی بہن شہزادی آنا سے شادی کی ۔
|
<urn:uuid:17f136ef-4c1d-4054-86c4-9a07ed240218>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B3
|
2013-05-22T05:01:35Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.981003
|
Arab
| 72
|
{}
|
القصص
|→ القصص ←|
|دور نزول||مکی|
|عددِ سورت||28|
|عددِ پارہ||20|
|زمانۂ نزول||مکی زندگی کا دورِ متوسط|
|اعداد و شمار|
|رکوع||9|
|تعداد الآیات||88|
|الفاظ||1,441|
|حروف||5,791|
فہرست
نام[ترمیم]
آیت نمبر 25 کے اس فقرے سے ماخوذ ہے و قص علیہ القصص یعنی وہ سورت جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورت کا عنوان ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔
زمانۂ نزول[ترمیم]
سورۂ نمل کے مضمون میں ابن عباس اور جابر بن یزید کا یہ قول نقل کیا جا چکا ہے کہ سورۂ شعراء سورۂ نمل اور سورۂ قصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ زبان، اندازِ بیاں اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانۂ نزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورۂ شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ "قومِ فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے"۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ "کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا"۔ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورت میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہو گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال کو لے کر جا رہے تھے، اور اچانک انہوں نے ایک آگ دیکھی۔ وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آ رہے تھے اور کدھر جا رہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصۂ موسیٰ علیہ السلام کی تکمیل کر دیتی ہیں۔
موضوع اور مباحث[ترمیم]
اس کا موضوع اُن شبہات و اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے اور اُن عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔
اس غرض کے لیے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانۂ نزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کر دیتا ہے:
اول یہ کہ اللہ تعالٰیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب و ذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہا ہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کے کسی بڑے جشن اور زمین و آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کسیے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ علیہ السلام کا تم خود حوالہ دیتے ہو کہ لو لآ اوتی متل مآ اوتی موسیٰ (آیت 48)، انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔
تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سر و سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی۔ مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سر و سامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کہ آخر کون جیتا اور کون ہارا۔
چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہو کہ "محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا"۔ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گویا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دکھائے تھے۔ مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انہوں نے کیا کیا تھا؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔ کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کے ایمان لے آؤ گے؟ پھر تمہیں یہ کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق سے انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کرکے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزہ مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟
یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اُس شخص کے ذہن میں اتر جاتی تھیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا کیونکہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان برپا ہو چکی تھی اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے معاملے پر چسپاں ہو رہا ہے۔
اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔
پہلے اس بات کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ اُمی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گذرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کی برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشان دہی کر سکیں۔
پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے یہ انتظام کیا۔
پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے ہیں کہ "یہ نبی وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام لائے تھے"۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشاتِ نفس کی بندگی نہ کرو تو حق اب بھی تمہیں نظر آ سکتا ہے لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔
پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی ہے جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بے عزتی کی۔
آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات نہ ماننے کے لیے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہلِ عرب کے دینِ شرک کو چھوڑ کر اس نئے دینِ توحید کو قبول کر لیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سرزمین میں ہمارے لیے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لیے تراشتے تھے، اس لیے اللہ تعالٰیٰ نے اس پر آخرِ سورت تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطۂ نظر سے کرتے تھے۔
|
<urn:uuid:db38d1d7-bf12-441a-ba29-7e7c097155c3>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B5%D8%B5
|
2013-06-19T02:40:36Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707440258/warc/CC-MAIN-20130516123040-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.982848
|
Arab
| 70
|
{}
|
بیئر
بیئر دنیا کا شاید سب سے پرانا اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا شراب سے بننے والا مشروب ہے۔ پانی اور چائے کے بعد اسے دنیا کے تیسرے پسندیدہ ترین مشروب کا درجہ حاصل ہے۔ اسے نشاستے کو اُبالنے اور پھر خمیر اٹھانے سے بنایا جاتا ہے۔ عموماً اسے غلے بالخصوص مالٹ (غلے کو پانی میں بھگونے کے بعد جب وہ اگنا شروع کرے تو فوراً اسے خشک کر لیا جاتا ہے) جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم گندم، مکئی اور چاول بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بیئر میں ہوپس (مادہ پھولوں کے گچھے) استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف بیئر کی تلخی کو بڑھا دیتے ہیں بلکہ قدرتی طور پر بیئر کو محفوظ بھی رکھتے ہیں۔ تاہم کئی اقسام کے پھل یا جڑی بوٹیاں بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی قدیم ترین تحاریر میں بیئر کا تذکرہ ملتا ہے۔ حمورابی کے قوانین میں بیئر اور اس کی فروخت کے بارے بیان موجود ہے۔ اس کے علاوہ نِنکاسی کی حمد بھی شامل ہے جو بیئر کی تیاری کی ترکیب کو یاد رکھنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ آج بیئر کشید کرنے کی صنعت عالمی پیمانے پر پھیل چکی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی کمپنیاں اور کئی ہزار چھوٹی کمپنیاں اسے کشید کرتی ہیں۔
عموماً بیئر میں شراب کی مقدار چار سے چھ فیصد تک ہوتی ہے۔ ایک فیصد سے کم یا بیس فیصد سے زیادہ شراب کی مقدار والی بیئر کمیاب ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ایک سکاٹش کمپنی بریو ڈاگ نے 55 فیصد شراب والی بیئر تیار کر کے عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔ 12 اونس بوتل کی قیمت 800 سے 1000 امریکی ڈالر ہے۔
بیئر مختلف ثقافتوں میں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔
فہرست
تاریخ [ترمیم]
بیئر دنیا کے قدیم ترین مصنوعی مشروبات میں سے ایک ہے۔ شاید یہ 9500 ق م میں بنایا جانے لگا جب پہلی بار غلہ اگانا شروع کیا گیا۔ اس کا تذکرہ قدم مصری تاریخ میں جابجا ملتا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق تہذیبیں بننے میں بیئر کا کردار کلیدی تھا۔
بیئر کی اولین کیمیائی شہادت ہمیں 3500 ق م سے 3100 ق م کے دوران مغربی ایران کے پہاڑوں سے ملی ہے۔ سمیری تحاریر میں نِنکاسی نامی دیوی کی شان میں لکھی گئی حمد ملی ہے جو دراصل بیئر کی ترکیب پر مشتمل ہے۔ یہ ترکیب اس معاشرے کے چند ہی پڑھے لکھے افراد یاد رکھتے تھے۔ اِبلا کی تحاریر 2500 ق م میں لکھی گئیں جن میں مختلف اقسام کی بیئروں کا تذکرہ موجود ہے۔ 7000 ق م میں چین میں چاولوں سے بیئر بنائی جاتی تھی۔
چونکہ کاربوہائیڈریٹ بالخصوص شکر یا نشاستے پر مشتمل تقریباً ہی چیز ہی خمیر کے مرحلے سے قدرتی طور پر گذرتی ہے، اس لئے دنیا بھر میں بیئر سے ملتے جلتے مشروبات الگ الگ بنائے جاتے رہے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ روٹی اور بیئر کی ایجاد سے انسانی تہذیب و ترقی کا آغاز ہوا ہوگا۔
یورپ میں کم از کم 3000 ق م میں بیئر پھیل گئی تھی اور اس وقت گھریلو پیمانے پر تیار کی جاتی تھی۔ تاہم اس وقت کے اس مشروب کو شاید موجودہ دور کے لوگ بیئر نہ مانیں گے۔ اس وقت بیئر میں عام نشاستے کے علاوہ پھل، شہد، مختلف اقسام کے پودے، مصالحے اور دیگر اشیا جیسا کہ منشی بوٹیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔ تاہم اس میں ہوپس کا اضافہ 822 صدی عیسوی سے ہونے لگا تھا۔
1516 میں باویریا کے نواب ولیم چہارم نے ملاوٹ کے خلاف قانون بنایا جو تاریخ میں کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق قدیم ترین قابون ہے۔ اس کے مطابق بیئر میں پانی، ہوپس اور مالٹ جو کے علاوہ کسی چیز کی ملاوٹ نہیں کی جا سکتی تھی۔ صنعتی انقلاب سے پہلے بیئر کو گھریلو پیمانے پر تیار کر کے بیچا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے دوران گھریلو پیمانے سے بیئر کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا جانے لگا اور 19ویں صدی کے اواخر تک گھریلو پیمانے پر بیئر کی تیاری تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہائیڈرو میٹر اور تھرما میٹر کی ایجاد کے بعد سے بیئر کی تیاری مزید آسان ہو گئی ہے۔
آج کے دور میں بیئر کی صنعت عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 2006 میں اندازاً 133 ارب لیٹر یعنی 35 ارب گیلن جتنی بیئر بنائی اور بیچی جاتی ہے۔ اس سے ہونے والی آمدنی 294 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
تیاری [ترمیم]
بیئر کی تیاری کا عمل بریونگ یعنی کشید کہلاتا ہے۔ اس کام کے لئے مختص عمارت کو بریوری کہا جاتا ہے تاہم گھر میں بھی بیئر کو تیار کیا جا سکتا ہے۔ بیئر تیار کرنے کی کمپنی کو بریوری یا بریونگ کمپنی کہتے ہیں۔ بیئر کو گھریلو پیمانے پر ذاتی استعمال کے لئے بنایا جائے تو اسے ہوم بریونگ کہتے ہیں۔ بیئر کی تیاری کے بارے ترقی یافتہ ممالک میں الگ سے قوانین اور ٹیکس موجود ہیں اور 19ویں صدی سے عام طور پر بیئر کی تیاری تجارتی پیمانے تک محدود ہو کر دی گئی ہے۔ تاہم 1963 میں برطانوی، 1972 میں آسٹریلوی اور 1979 میں امریکی حکومتوں نے اس قانون کو نرم کر دیا ہے اور گھریلو پیمانے پر بیئر کی تیاری اب شوقیہ حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
بریونگ کا مقصد نشاستے کو شکر کے محلول میں بدلنا ہوتا ہے جو بعد میں تخمیر کے بعد شراب بن جاتی ہے۔
پہلے مرحلے میں نشاستے میں گرم پانی ملایا جاتا ہے۔ اس عمل میں عموماً مالٹ کو 1 سے 2 گھنٹوں تک گرم پانی میں رکھا جاتا ہے۔ اس دوران نشاستہ شکر میں بدل جاتا ہے جسے نتھار کر الگ کر لیا جاتا ہے۔ اب غلے کو دھویا جاتا ہے۔ اس عمل میں زیادہ سے زیادہ قابلِ تخمیر مائع الگ کر لیا جاتا ہے۔
اس نتھرے ہوئے پانی کو ایک کیتلی میں جمع کر کے عموماً ایک گھنٹے کے لئے ابالا جاتا ہے۔ ابلنے کے دوران پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے لیکن شکر وغیرہ باقی رہ جاتی ہیں۔ ابلنے کے دوران ہر قسم کے خامرے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی ابال کے دوران ہوپس بھی ڈال دیئے جاتے ہیں تاکہ تلخی، ذائقہ اور خوشبو آ سکے۔ جتنا زیادہ ہوپس کو ابالا جائے گا اتنی ہی تلخی بڑھے گی لیکن ذائقہ اور خوشبو کم ہوتی جائے گی۔
ابلنے کے بعد اس مائع کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ خمیر اٹھائی جا سکے۔ تخمیر کے دوران یہ مائع بیئر بنتا ہے اور ایک ہفتے سے لے کر کئی ماہ تک یہ عمل جاری رہ سکتا ہے۔ جب خمیر کا عمل پورا ہو جائے تو بیئر شفاف نکل آتی ہے۔
بعض اوقات خمیر اٹھانے کا عمل دو مراحل میں کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں جب زیادہ تر شراب بن جائے تو اسے الگ کر کے نئے برتن میں ڈالا جاتا ہے تاکہ تخمیر کا عمل پورا ہو سکے۔ اس طرح بننے والی بیئر زیادہ شفاف ہوتی ہے۔ پھر اسے بوتلوں، ڈبوں یا کنستروں میں بھر کر فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
اجزاء [ترمیم]
بیئر کے بنیادی اجزائے ترکیبی پانی، نشاستہ، قابلِ تخمیر، خمیر اور ذائقہ کے لئے ہوپس وغیرہ شامل ہیں۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ اقسام کے نشاستے استعمال ہوتے ہیں۔
پیداوار [ترمیم]
مائیکرو بریوری یعنی چھوٹی بریوری ایسی جگہ ہے جہاں چھوٹے پیمانے پر بیئر بنتی ہے۔ اگرچہ ہر ملک میں مائیکروبریوری کی الگ الگ تعریف کی جاتی ہے تاہم عموماً 15٫000 بیرل سالانہ سے کم بیئر پیدا کرنے والی بریوری کو مائیکرو بریوری کہا جاتا ہے۔
بہت سارے ممالک میں گھر میں بیئر تیار کرنے پر پابندی ہے۔
اقسام [ترمیم]
اگرچہ بیئر کی بہت ساری اقسام کشید کی جاتی ہیں تاہم ان کی بنیادی اقسام تقریباً ہر ملک میں ایک جیسی ہیں۔ روایتی طور پر یورپ میں جرمنی، بیلجئم، برطانیہ، آئرلینڈ، پولینڈ، چیک رپبلک، سکینڈے نیویا، ہالینڈ اور آسٹریا میں مقامی طور پر مخصوص بیئریں تیار کی جات ہیں۔کچھ ممالک بالخصوص امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں یورپی اقسام کی کسی حد تک نقالی کی جاتی ہے اور ان ممالک کی اپنی اقسام بھی ہیں۔
پیمائش [ترمیم]
بیئر کی پیمائش اور اس کی اہمیت تلخی، طاقت اور رنگت سے ہوتی ہے۔
رنگت [ترمیم]
بیئر کا رنگ مالٹ سے بنتا ہے۔ سب سے عام رنگت پھیکی مالٹائی ہوتی ہے۔
طاقت [ترمیم]
بیئر میں شراب کی کل مقدار دو فیصد سے زیادہ سے لے کر 14 فیصد تک ہوتی ہے۔ تاہم 20 فیصد اور 55 فیصد تک بیئر میں شراب کی مقدار بھی ہو سکتی ہے۔
پیشکش [ترمیم]
ڈرافٹ [ترمیم]
ڈرافٹ بیئر عموماً کیگ یعنی دھاتی سلنڈر سے نکالی جاتی ہے۔ اس سلنڈر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے بیئر کو دباؤ کے تحت رکھا جاتا ہے اور ٹونٹی سے بیئر نکالی جاتی ہے۔
پیکجنگ [ترمیم]
بوتلوں اور کینوں میں محفوظ کرنے سے قبل بیئر سے ساری خمیر چھان لی جاتی ہے۔ تاہم اس خمیر کی کچھ نہ کچھ مقدار پھر بھی بیئر میں موجود رہتی ہے۔ اسی وجہ سے عموماً بیئر کو آہستگی سے انڈیلا جاتا ہے تاکہ خمیر بوتل میں نیچے ہی رہ جائے۔
درجہ حرارت [ترمیم]
بیئر کو پینے والے مختلف درجہ حرارت پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ گرم بیئر جبکہ کچھ یخ بستہ بیئر پسند کرتے ہیں۔
برتن [ترمیم]
بیئر کو پینے کے لئے مختلف برتن جیسا کہ گلاس، مگ، بوتل یا کین وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔
بیئر اور معاشرہ [ترمیم]
بہت سارے معاشروں میں بیئر شراب کی سب سے مقبول قسم ہے۔
بیئر پیتے وقت مختلف مشاغل جیسا کہ تاش وغیرہ بھی کھیلے جاتے ہیں۔
روس میں اس وقت ووڈکا کی بجائے نوجوان نسل بیئر کو ترجیح دے رہی ہے۔
صحت کے مسائل [ترمیم]
چونکہ بیئر کا اہم جزو شراب ہے اس لئے شراب کے نقصانات بیئر میں بھی ویسے ہی موجود ہوتے ہیں۔ تھوڑی مقدار میں شراب کا استعمال امراضِ قلب، فالج وغیرہ کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ تاہم زیادہ مقدار میں شراب یا بیئر کا استعمال اس کا عادی بنا دیتا ہے اور عموماً جگر کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
بیئر میں استعمال ہونے والا خمیر مختلف غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ ان اجزاء میں میگنیشئم، سلینئم، پوٹاشیم، فاسفورس، بائیوٹن اور حیاتین ب شامل ہیں۔ بیئر کو بعض اوقات مائع روٹی بھی کہا جاتا ہے۔
2005 میں جاپان کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم شراب والی بیئر میں سرطان کے خلاف بہت مدد ملتی ہے۔ بغیر شراب والی بیئر سے دل کی بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
عام خیال کے برعکس بیئر پینے والے افراد کی توندیں زیادہ کھانے اور ورزش سے احتراز کی وجہ سے بنتی ہیں۔
|ویکیمیڈیا العام میں بیئر سے متعلق وسیط موجود ہے۔|
|
<urn:uuid:d5de44b1-24f0-454b-8703-54ccbe67ab6f>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A6%D8%B1
|
2013-06-19T03:07:16Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707440258/warc/CC-MAIN-20130516123040-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.986079
|
Arab
| 77
|
{}
|
حکومت پاکستان کی انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں شہریوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور صرف سال دو ہزار گیارہ کے دوران ایک سو پچاس شہری لاپتہ ہوئے جن میں اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
پاکستان کی وزارت انسانی حقوق کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران ایک سو نو عام شہری بلوچستان سے لاپتہ ہوئے۔
نامہ نگار احمد رضا کے مطابق بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں لاپتہ افراد کی تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے لیکن اس رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار گیارہ میں دوسرے صوبوں سے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے بتیس کا تعلق صوبہ پنجاب، تین صوبہ سندھ اور چھ کا خیبر پختونخواہ سے ہے۔
وزارت انسانی حقوق کی اس رپورٹ میں اجتماعی زیادتی کے واقعات کے متعلق جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں وہ بھی غیرمعمولی نوعیت کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار گیارہ کے دوران ایک ہزار آٹھ سو بیاسی خواتین کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن کی اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے ایک ہزار آٹھ سو چون واقعات رونما ہوئے جبکہ سندھ میں بائیس اور خیبر پختونخواہ میں ایک واقعہ رونما ہوا۔
اسی طرح رپورٹ کے مطابق خواتین پر تیزاب پھینکنے کے سب سے زیادہ واقعات بھی صوبہ پنجاب میں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق تیزاب پھینکنے کے مجموعی طور پر باسٹھ واقعات ہوئے جن میں پینتالیس صوبہ پنجاب، تیرہ سندھ اور چار بلوچستان میں ہوئے۔
خیبر پختونخواہ میں اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
اسی طرح رپورٹ کے مطابق خواتین کو جلانے کے کل چوبیس واقعات ہوئے جن میں سولہ پنجاب اور آٹھ سندھ میں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے چار سو چھہتر واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ میں ہوئے جہاں دو سو اکاسی افراد کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اسکے علاوہ پنجاب میں ایک سو تریسٹھ، بلوچستان میں چھبیس اور خیبر پختونخواہ میں چھ افراد کی غیرت کے نام پر جانیں لی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے کل ایک سو اکسٹھ واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ نوے واقعات پنجاب، تینتیس بلوچستان، ستائیس خیبر پختونخواہ اور گیارہ سندھ میں ہوئے۔
ان واقعات میں انسانی اموات کی تفصیل رپورٹ میں شامل نہیں کی گئی ہے۔
حکومت پاکستان کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ملک میں اغواء برائے تاوان کے سات ہزار سات سو باون مقدمات درج ہوئے۔ جن میں سب سے زیادہ واقعات سات ہزار دو سو اکیانوے صوبہ پنجاب میں ہوئے جبکہ سندھ میں دو سو انسٹھ، بلوچستان میں ایک سو چوّن اور خیبر پختونخواہ میں اڑتالیس مقدمات درج کیے گئے۔
|
<urn:uuid:d0a10b5c-0323-4fcc-bce5-279b64f1d11e>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120706_human_rights_missing_tk.shtml
|
2013-05-18T12:34:30Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382396/warc/CC-MAIN-20130516092622-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.987345
|
Arab
| 6
|
{}
|
پیدا ہوا: کِپن ھائیم، جرمنی
31 دسمبر 1934
انگے برتھولڈ اور ریجائنا اوئربیخر کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ یہ مذہبی یہودی خاندان کپن ھائم میں رہتا تھا۔ کپن ھائم جنوب مغربی جرمنی میں بلیک فارسٹ کے قریب واقع ایک گاؤں تھا۔ اُن کے والد ٹیکسٹائل کے تاجر تھے۔ یہ خاندان ایک بہت بڑے گھر میں رہتا تھا جس میں 17 کمرے تھے اور گھر کے کام کاج کیلئے ملازم بھی موجود تھے۔
1933-39: 10 نومبر1938 کو غنڈوں نے ہمارے گھر کی تمام کھڑکیوں کو پتھراؤ کر کے توڑ دیا۔ اُسی روز پولیس نے میرے والد اور دادا کو گرفتار کر لیا۔ میری والدہ، میری دادی اور خود میں ایک شیڈ میں اُس وقت تک چھپے رہے جب تک خاموشی نہیں ہو گئی۔ جب ہم باہر نکلے تو یہودی مردوں کو ڈاخو کے حراستی کیمپ میں لے جایا جا چکا تھا۔ میرے والد اور دادا کو چند ہفتوں بعد واپس گھر آنے کی اجازت دے دی گئی لیکن اُسی سال مئی میں میرے دادا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
1940-45: جب میری عمر سات برس تھی مجھے میرے والدین کے ساتھ چیکوسلواکیہ میں تھیریسئن شٹٹ گھیٹو منتقل کر دیا گیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم سے تمام چیزیں لے لی گئیں۔ صرف وہ کپڑے ہمارے پاس رہے جو ہم نے پہنے ہوئے تھے۔ میری گڑیا مارلین بھی میرے پاس رہی۔ کیمپ کے حالات بہت ہی خراب تھے۔ آلو بھی ہیروں کی طرح قیمتی تھے۔ میں زیادہ تر بھوکی، خوفزدہ اور بیمار رہی۔ میری آٹھویں سالگرہ کے موقع پر میرے والدین نے مجھے آلوؤں کا ایک چھوٹا سا کیک دیا جس میں چینی برائے نام ہی استعمال ہوئی تھی۔ میری نویں سالگرہ پر مجھے کپڑوں کے چیتھڑوں سے سلا ہوا میری گڑیا کا لباس ملا اور میری دسویں سا؛لگرہ پر میری والدہ نے تحفے کے طور پر ایک نظم لکھی۔
8 مئی 1945 کو انگے اور اُن کے والدین کو ٹھیریسئن شٹٹ گھیٹو سے آزاد کر دیا گیا جہاں اُنہوں نے تین برس گزارے تھے۔ مئی 1946 میں وہ ترک وطن کر کے امریکہ چلے آئے۔
|
<urn:uuid:b9502e5b-a163-4945-b377-3eb98189749e>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_oi.php?ModuleId=10007697&MediaId=129
|
2013-05-23T22:30:20Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368704007597/warc/CC-MAIN-20130516113327-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.991841
|
Arab
| 193
|
{}
|
پیپکو نے2010کو بجلی چوری کے خاتمے کا سال قرار دیدیا:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔05جنوری۔ 2010ء) ایم ڈی پیپکو نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور جامع اقدامات کئے جائیں۔ اسلام آباد میں وزارت پانی وبجلی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بجلی چوری روکنے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی گئی ہے اور پیپکو نے سال دو ہزار دس کو بجلی چوری کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے۔ ریلیز کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجلی چوری کے تئیس ہزار کیسز منظر عام پر آئے جن سے ساڑھے تین ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سالانہ بجلی چوری سے اسی ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
|
<urn:uuid:70b10046-478f-4d52-902e-b750f9c9573d>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.urdupoint.com/electercity_problem_in_pakistan/News42-54-539-117145.html
|
2013-05-26T06:43:07Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368706635063/warc/CC-MAIN-20130516121715-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.97551
|
Arab
| 6
|
{}
|
طویل مدت چیف جسٹس رہنے کا ریکارڈ جسٹس حلیم کے پاس
جاوید محمود کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ذمے داری دیے جانیکا امکان
پاک بھارت دوستی بسوں میں مسافر کم ، سیکیورٹی زیادہ
پی ٹی آئی دھاندلی اور ایم کیو ایم کیخلاف جارحانہ پالیسی اپنائیگی
بحریہ ٹاؤن کا پاکستان کے لیے عالمی اعزاز حاصل کرنیکا تسلسل
Copyright © Century Publications. This material may not be published, broadcast, rewritten, redistributed or derived from.
|
<urn:uuid:63829277-4d3f-4280-8b9e-ef12b363444f>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_KHI&Page=Classified_Page004&Date=20120812&Pageno=4&View=1
|
2013-05-20T05:54:37Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368698411148/warc/CC-MAIN-20130516100011-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.909064
|
Arab
| 5
|
{}
|
ساسکچیوان
ساسکچیوان کا صوبہ کینیڈا کا ایک پریری صوبہ ہے جس کا کل رقبہ 588276 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی کل آبادی 1010146 افراد ہے جو زیادہ تر صوبے کے جنوبی نصف حصے میں آباد ہیں۔ ان میں سے 233923 صوبے کے سب سے بڑے شہر ساسکاٹون میں جبکہ 194971 افراد صوبائی دارلخلافہ ریگینا میں آباد ہیں۔ دوسرے بڑے شہر پرنس البرٹ، موز جا، یارک ٹاؤن، سوئفٹ کرنٹ اور نارتھ بیٹل فورڈ ہیں۔ صوبے کا نام ساسکچیوان دریا کے نام سے نکلا ہے جس کے معنی تیز بہنے والے دریا ہے۔
فہرست
جغرافیہ [ترمیم]
بہت زیادہ بلندی سے دیکھا جائے تو ساسکچیوان کا صوبہ ایک چوکور شکل کا دکھائی دیتا ہے تاہم ایسا ہے نہیں۔ اس کی سرحدیں دو جگہوں پر بالکل سیدھی نہیں بلکہ تھوڑی سی خم دار ہیں۔ ساسکچیوان کے مغرب میں البرٹا، شمال میں نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری، مشرق میں مینی ٹوبہ اور جنوب میں امریکی ریاستیں مونٹانا اور نارتھ ڈکوٹا ہیں۔ ساسکچیوان کینیڈا کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں کسی طبعی خد و خال سے نہیں بنتیں۔ چاروں طرف سے خشکی سے گھرے کینیڈا کے دوصوبوں میں البرٹا اور ساسکچیوان شامل ہیں۔
یہاں دو بڑے قدرتی علاقے ہیں۔ کینیڈین شیلڈ شمال میں اور جنوب میں انٹیرئر پلینز۔ شمالی ساسکچیوان زیادہ تر بوریل جنگلات سے بھرا ہوا ہے تاہم جھیل اتھابسکا کے تیل کے میدان خالی ہیں۔ 58 درجے شمال سے اوپر دنیا کی سب سے بڑی متحرک ریتلی پہاڑیاں بھی یہاں موجود ہیں۔ جنوبی ساسکچیوان میں گرینڈ سینڈ ہلز موجود ہیں جو تین سو مربع کلومیٹر پر مشتمل ہیں۔سائپرس ہلز جو جنوب مغربی کونے میں واقع ہیں اور کل ڈئیر بیڈ لینڈز صوبے کے وہ علاقے ہیں جو پچھلے برفانی دور میں گلیشئر نہیں بن سکے تھے۔ صوبے کا سب سے بلند مقام 1468 میٹر بلند اور سائپرس ہلز میں ہے۔ صوبے میں جھیل اتھابسکا کا کنارہ 213 میٹر اور نشیبی ترین علاقہ ہے۔ صوبے میں چودہ بڑے پانی کی نکاسی کے نظام ہیں جو مختلف دریاؤں اور آبی ذخیروں سے مل کر بنے ہیں۔ یہ آرکٹک سمندر، ہڈسن بے اور خلیج میکسیکو میں گرتے ہیں۔
موسم [ترمیم]
چونکہ ساسکچیوان کسی بڑے آبی ذخیرے سے دور ہے اس لئے یہاں جنوبی اور جنوب مغربی حصوں میں نسبتاً نم اور کم گرم موسم گرما ہوتا ہے۔ صوبے کے شمالی حصے لا رونگے سے شمال کی طرف سب آرکٹک موسم رکھتے ہیں۔ سردیاں بہت گرم بھی ہو سکتی ہیں جب کہ درجہ حرارت 32 ڈگری تک پہنچ جائے۔ ہوا میں نمی کا تناسب شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف کم ہوتا جاتا ہے۔ گرم جنوبی ہوائیں امریکہ سے چلتی ہیں اور یہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں ادھر پہنچتی ہیں۔ یہاں سردیاں ٹھٹھرا دینے والی ہوتیہ یں اور درجہ حرارت منفی 17 ڈگری یا اس سے بھی کم کئی ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ اکثر چینیوک ہوائیں مغرب سے چلتی ہیں اور موسم کو کم شدید بنا دیتی ہیں۔ سالانہ بارش کی مقدار 30 سے 45 سم یعنی 12 سے 18 انچ تک ہوتی ہے اور زیادہ تر بارش جون، جولائی اوراگست میں ہوتی ہے۔
تاریخ [ترمیم]
یورپیوں کی آمد سے قبل یہاں بہت سارے مقامی قبائل آباد تھے جن میں اتھابسکا، الگونکوئن، اسٹینا، کری، سالٹیاکس اور سیوکس شامل ہیں۔ پہلے یورپی جو اس علاقے میں آئے ہنری کیلسے تھے جو 1690 میں ساسکچیوان دریا کے کنارے کنارے سفر کرتے ہوئے یہاں اس امید سے آئے کہ یہاں کے مقامیوں سے کھالوں کی تجارت شروع کی جا سکے۔ پہلی یورپین آبادی یہاں 1774 میں ہڈسن بے کمپنی کی تھی جو کمبرلینڈ ہاؤس میں سیموئل ہارنے کی زیر قیادت ہوئی۔
1850 کے اواخر اور 1860 کے اوائل میں یہاں کئی سائنسی مہمیں جان پالیسر اور ہنری یول ہنڈ کی زیر قیادت یہاں صوبے کے پریری علاقوں کو چھاننے آئیں۔
1870 میں کینیڈا کی حکومت نے نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری بنائی تاکہ برٹش کولمبیا اور مینی ٹوبہ کے درمیان موجود وسیع زمین کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ علاقے میں موجود لوگوں کے ساتھ حکومت نے کئی معاہدے کئے۔
1885 میں الحاق کے بعد کنیڈا کی پہلی بحری جنگ ساسکچیوان میں لڑی گئی جب میٹس کے علاقے میں ایک دخانی جہاز شمالی امریکہ کی بغاوت کی جنگ میں شریک ہوا۔
علاقے کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ وہ ہوا جب 1874 میں وفاقی حکومت نے گھڑ سوار پولیس کو مغرب کی جانب مارچ کرنے کا حکم دیا۔ بیکار اسلحے اور کم خوراک کے باوجود پولیس اپنی منزل مقصود تک پہنچی اور یہاں حکومت کی موجودگی کو یقنی بنایا۔ تاریخ داں اس مہم کو ناکام بتاتے ہیں کیونکہ اگر یہ مہم ناکام رہتی تو امریکہ کو اپنے توسیع پسند عزائم کی وجہ سے اس علاقے میں قبضہ کرنا آسان لگتا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی کینیڈین پیسیفک ریلوے کی تعمیر چند دہائیوں کے لئے لازماً ملتوی ہو جاتی یا پھر اس کے لئے زیادہ شمال سے راستہ تلاش کرنا پڑتا۔ اس طرح برانڈن، ریگینا، میڈیسن ہٹ اور کیلگری کی ترقی رک جاتی یا پھر یہ شہر کبھی آباد بھی نہ ہو پاتے۔ اس ریلوے کی تعمیر میں ناکامی کے سبب برٹش کولمبیا امریکہ سے الحاق کر لیتا۔
کینیڈین پیسیفیک ریلوے کی تعمیر کے ساتھ ہی یہاں آبادکاری کا سیلاب آ گیا۔ یہ ریلوے 1880 میں تعمیر ہوئی اور کینیڈا کی حکومت نے اسے ڈومینن لینڈ سروے کی مدد سے زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور اسے خواہش مند آباد کاروں میں مفت تقسیم کرنا شروع کر دیا۔
نارتھ ویسٹ گھڑ سوار پولیس نے ساسکچیوان میں کئی چوکیاں اور قلعے تعمیر کئے جن میں سائپرس ہلز میں موجود فورٹ والش اور وڈ ماؤنٹین پوسٹ جو کہ جنوب وسطی علاقے میں امریکی سرحد کے نزدیک تھی، شامل ہیں۔
1876 میں لٹل بگ ہوم کی جنگ میں جو لکوٹا کے سردار سٹنگ بل نے کئی ہزار افراد کو وڈ ماؤنٹین پھر بھیج دیا۔ وڈ ماؤنٹین ریزرو 1914 میں قائم ہوا۔بہت سارے میٹس لوگ جو معاہدے میں شامل نہیں ہوئے، ساؤتھ برانچ سیٹلمنٹ اور پرنس البرٹ چلے گئے جو آج کے ساسکاٹون کے شمال میں ہے۔ 1880 کے اوائل میں کینیڈا کی حکومت میٹس لوگوں کی پریشانی کو نہ سمجھ سکی جو زمینوں کے استعمال پر پریشان تھے۔ آخر کار میٹس لوگوں نے 1885 میں لوئس ریل کی زیر قیادت نارتھ ویسٹ بغاوت کر دی اور اپنی صوبائی حکومت کا اعلان کر دیا۔ انہیں کینیڈا کی ملیشیا نے شکست دی جو نئی کینیڈا پیسیفک ریلوے کی مدد سے ادھر لائے گئے تھے۔ ریل نے ہتھیار ڈال دیئے اور اسے بغاوت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ اسے 16 نومبر 1885 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
ریلوے کی وجہ سے جوں جوں مزید آباد کار آتے گئے، آبادی بڑھتی گئی اور ساسکچیوان کو یکم ستمبر 1905 میں صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کی رسم افتتاح 4 ستمبر کو ہوئی۔
ہوم سٹیڈ ایکٹ کے تحت ہر آباد کار کو چوتھائی مربع میل کی زمین دی گئی ۔ اگر وہ اس پر آباد ہوتے تو انہیں مزید چوتھائی مربع میل زمین مویشیوں کے باڑے کے لئے دے دی جاتی۔ 1910میں امیگریشن اپنے عروج پر تھی اور دیہاتی زندگی، شہروں سے دوری، کچے گھروں، کمر توڑ محنت کے باوجود یہاں ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آ گیا۔
1913 میں ساسکچیوان سٹاک گروورز ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ 1913 میں قیام کے وقت تین اہم مقاصد بیان کئے گئے جو کہ کچھ ایسے ہیں۔ اول، مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ہر ممکنہ طور پر باعزت اور قانونی طریقے سے پیش کیا جائے اور پارلیمان کو تجاویز دی جائیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال اور ضروریات کے مطابق قوانین بنا سکیں۔کاشت کاری کے حوالے سے ساسکچیوان گرین گروؤرز ایسوسی ایشن تھی جو 1920 کی دہائی تک اہم سیاسی قوت رہی۔ اس کے قریبی تعلقات حکومتی لبرل پارٹی سے رہے۔
1970 میں کینیڈین ویسٹرن کی پہلی ایگریبین ریگینا میں منعقد ہوئی۔یہ فارم انڈسٹری شو جس میں جانوروں پر زیادہ زور دیا گیا تھا، شمالی امریکہ کی پہلی پانچ مویشیوں کی نمائشوں میں سے ایک ہے۔ دوسری چار ہوسٹس، ڈینوور، لوئزولے اور ٹورنٹو میں ہوئی تھیں۔
آبادی [ترمیم]
2006 کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کا سب سے بڑا لسانی گروہ جرمن ہیں جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ ان کے بعد انگریز 26 فیصد سے کچھ زیادہ، سکاٹس 19 فیصد سے کچھ زیادہ،آئرش 15 فیصد سے زیادہ، یوکرائنی ساڑھے تیرہ فیصد سے زیادہ، فرانسیسی 12 فیصد سے زیادہ، مقامی قبائل 12 فیصد سے زیاہد، نارویجئن 7 فیصد سے زائد، میٹس 4 فیصد سے زائد، ولندیزی یعنی ڈچ ساڑھے تین فیصد سے کچھ زیادہ، روسی افراد بھی ڈچ افراد جتنے اور سوئڈش افراد ساڑھے تین فیصد تھے۔ اٹھارہ فیصد سے زیادہ افراد نے خود کو کینیڈین ظاہر کیا۔
مذہب [ترمیم]
2001 کی مردم شماری کے تحت یہاں کا سب سے بڑا مذہب رومن کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کا تھا جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ یونائٹڈ چرچ آف کینیڈا کے پیروکار بیس فیصد اور لوتھیرین آٹھ فیصد ہیں۔
معیشت [ترمیم]
ساسکچیوان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تاہم اب یہاں زراعت کے ساتھ ساتھ جنگلات، فشنگ اور شکار مل ملا کر ساڑھے چھ فیصد سے کچھ زیادہ بنتے ہیں۔ساسکچیوان میں کینیڈا کا پینتالیس فیصد غلہ اگتا ہے۔گندم یہاں کی اہم فصل ہے اور اس صوبے کی شناخت بھی۔ تاہم کینولا، فلیکس، رائی، اوٹس،مٹر، دالیں، کناری بیج اور جو بھی یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ بڑے گوشت کے لئے جانوروں کی پیداوار بھی البرٹا سے بڑھ گئی ہے۔ کان کنی بھی صوبے کی اہم صنعت ہے۔دنیا بھر میں ساسکچیوان پوٹاش اور یورینیم کی پیداور کے لئے مشہور ہے۔ صوبے کے شمال میں جنگلات اہم صنعت کا درجہ رکھتے ہیں۔
تیل اور قدرتی گیس بھی یہاں کی معیشت کا اہم حصہ ہیں تاہم تیل کا حصہ زیادہ بڑا ہے۔ تیل کی کل پیداوار میں صرف البرٹاساسکچیوان سے زیادہ ہے۔ بھاری خام تیل لائڈز منسٹر، کیروبرٹ، کنڈرسلے علاقوں سے نکلتا ہے جبکہ ہلکا خام تیل کنڈرسلے سوئفٹ کرنٹ کے علاقے سے اور وے برن ایسٹیوان سے نکلتا ہے۔ قدرتی گیس صوبے کے تقریباً سارے مغربی حصے میں پائی جاتی ہے۔
ساسکچیوان میں قائم شاہی اداروں میں ساسکچیوان گورنمنٹ انشورنس، ساکس ٹیل، ساسکس انرجی اور ساسک پاور اہم ہیں۔ بمبارڈئیر موز جا کے نزدیک ناٹو کے فلائنگ ٹرینگ سینٹر کے پندرہویں ونگ کو چلاتا ہے۔ بمبارڈر کو 1990 کی دہائی کے آخر میں دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کے وفاقی حکومت کے معاہدے سے نوازا گیا جس کی مدد سے وہ اس ادارے کو چلائے رکھنے کے لئے فوجی جہاز خریدتا۔
حکومت اور سیاست [ترمیم]
بہت سالوں سے ساسکچیوان کینیڈا کے لبرل ترین صوبوں میں ایک ہے۔ شاید یہ شہریوں کی اندرونی خواہش ظاہر کرتاہے کہ انہیں بڑے کیپیٹل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 1944 میں ٹومی ڈوگلس صوبے کے پہلے اعلانیہ سوشلسٹ پریمئر بنے۔ ان کی اسمبلی کے زیادہ تر اراکین دیہی اور چھوٹے علاقوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کی کواپریشن کامن ویلتھ فیڈریشن حکومت کے تحت ساسکچیوان میڈی کئیر دینے والا پہلا صوبہ بنا۔ 1961 میں ڈوگلس نے صوبائی سیاست کو چھوڑ کر وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کے پہلے رہنما کا عہدہ سنبھال لیا۔
ساسکچیوان کی صوبائی سیاست پر نیو ڈیمو کریٹس اور ساسکچیوان پارٹی کا گہرا اثر ہے۔ صوبائی انتخابات میں چھوٹی چھوٹی کئی جماعتیں حصہ لیتی ہیں جن میں لبرل پارٹی،گرین پارٹی اور پروگریسیو کنزرویٹور پارٹی اہم ہیں تاہم ان میں سے اس وقت کوئی بھی ساسکچیوان کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی نہیں رکھتی۔ نیو ڈیمو کریٹک حکومت کے 16 سال بعد، جس دوران رائے رومن ناؤ اور لورن کالورٹ پریمئر رہے، 2007 کے انتخابات میں ساسکچیوان پارٹی کو کامیابی ملی جن کے لیڈر براڈ وال ہیں۔
وفاقی سطح پر صوبے میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کا گہرا عمل رہا ہے تاہم موجودہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو اکثریت ملی ہے۔ ساسکچیوان کی 14 وفاقی نشستوں میں سے بارہ کنزرویٹیو پارٹی نے 2006 میں جیتی ہیں جبکہ 2004 میں کنزرویٹو نے تیرہ نشستیں جیتی تھیں۔ وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کو مسلسل دو بار انتخابات میں کوئی سیٹ نہیں ملی۔ جیری میراسٹی کے ہاؤس آف کامنز سے استعفٰی کے بعد سے لبرل پارٹی کا ایک ممبر باقی رہ گیا ہے جو سابقہ وزیر خزانہ رالف گوڈالے ہے۔
سیاسی طور پر یہ سارا صوبہ شہری دیہاتی حصوں میں منقسم ہے ۔ صوبائی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی شہروں میں غالب ہے جبکہ ساسکچیوان پارٹی اور وفاقی کنزرویٹو پارٹی دیہاتی علاقوں میں زیادہ مضبوط ہے۔ ساسکاٹون اور ریگینا کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ انہیں مختلف حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وہ دیہاتی حصوں کے برابر نمائندگی ظاہر کر سکیں۔
تعلیم [ترمیم]
یہاں تعلیم کا آغاز مقامی قبائل کے گھروں کے اندر یا اولین بسنے والے کھالوں کے تاجروں کے گھروں سےہوا۔ یہاں گنے چنے ہی مشنری یا سکول تھے۔
1886 میں یہاں پہلی بار نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کے 76 سکولوں اور ان کے بورڈوں کی میٹنگ ہوئی۔ نئے نئے اقتصادی عروج کے باعث یہاں مختلف زبانوں کے باشندوں کی آبادیاں قائم ہونے لگیں۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے لئے اپنے آبائی علاقوں جیسے سکول چاہتے تھے۔ درختوں کے تنوں سے بنی عمارتیں ان لوگوں کے لئے سکولوں، رہائش گاہوں اور میل جول کے مراکز بن گئیں۔
بیسویں صدی کے اقتصادی عروج اور کامیاب گلہ بانی کے سسب لوگوں نے اپنے پیسے اکٹھے کر لئے کہ ان کی مرضی کے مطابق تعلیم کا حصول ممکن ہوگیا۔ درسی کتب، عام سکول، تربیت یافتہ اساتذہ، سکولوں کا نصاب، جدید ترین عمارتوں پر مشتمل سکول صوبے بھر میں پھیل گئے۔ انگریزی کے ذریعہ تعلیم ہونے کےسبب عام زندگی اور تجارتی روابط آسان ہو گئے کہ سب کام ایک ہی زبان سے طے ہونے لگا۔ ایک کمرے پر مشتمل سکولوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ گئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک کمرے کے سکولوں کو بتدریج نسبتاً بڑے اور زیادہ سہولیات والے سکولوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم سکولوں کی کل تعداد گھٹ گئی۔ یہاں تکنیکی تعلیم بھی عام دی جانے لگی۔ سکولوں کی بسیں، شاہراہیں اور خاندانوں کی اپنی گاڑیوں کے سبب لوگ آسانی سے بڑے شہروں اور قصبوں میں منتقل ہونے لگے۔ کمائنڈ ہارویسٹر اور ٹریکٹروں سے کاشت کاروں کو بہت سہولت ملی اور وہ زیادہ منافع بخش فصلیں اگانے لے۔
سکول واؤچروں کی مدد سے مسابقت کا رحجان بڑھا اور دیہی کواپریٹیو سکولوں کا قیام عمل میں آیا۔
صوبائی علامات
جھنڈا [ترمیم]
ساسکچیوان کا جھنڈا سرکاری طور پر 22 ستمبر 1969 میں لہرایا گیا۔ سرکاری نشان کو جھنڈے کے اوپر رکھا گیا ہے جس کے ساتھ پریری للی کا پھول لہرا رہا ہے۔ اوپری سبز حصہ شمالی ساسکچیوان کے جنگلات کو اور نچلا سنہرا رنگ جنوبی علاقے کے گندم کے کھیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جھنڈے کو بنانے کے لئے صوبے بھر میں مقابلہ ہوا تھا جس میں 4000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ جیتنے والے امیدوار کا نام انتھونی ڈریک تھا جو اس وقت ہاج ولے میں رہ رہے تھے۔
روزمرہ استعمال [ترمیم]
ساسکچیوان کو جدید دور میں کارنر گیس اور لٹل ماسک ان پریری میں دکھایا گیا ہے۔ دونوں ہی پروگرام کینیڈا کے ٹی وی پر چلتے ہیں اور چھوٹے شہروں میں بنائے گئے ہیں۔ ڈبلیو او مچل، سنکلیئر راس، فریڈرک فلپ گروو، گائے وانڈرہاف، مائیکل ہیلم اور گیل باؤن نے بھی اپنے ناولوں میں ساسکچیوان کا بکثرت تذکرہ کیا ہے۔
مشہور انگریز نیچرلسٹ گرے آؤل یعنی بھورا الو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ یہاں موجود ور کے ساسکچیوان میں گذارا اور یہیں تعلیم پائی۔
157 میں لونی ٹونز میں علی بابا خرگوش نے حسن کا کردار ادا کیا جس میں وہ کھل جا سم سم کے الفاظ بھول جاتا ہے۔ مختلف الفاظ ادا کرتے کرتے ایک بار وہ کھل جا ساسکچیوان کہہ جاتا ہے۔
کیوبیک کا مشہور موسیقار گروہ لیس ٹروئس اکارڈز کا فرانسیسی میں ایک گانا ساسکیچوان کے متعلق ہے جو ان کے پہلے البم کا تیسرا گانا ہے۔اس گانے کو مناسب حد تک فرانسیسی کینیڈا میں مقبولیت ملی۔
|ویکیمیڈیا العام میں ساسکچیوان سے متعلق وسیط موجود ہے۔|
|
<urn:uuid:9ed54673-79f1-4205-93b4-ec7bea1b99fd>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DA%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86
|
2013-05-21T21:00:47Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368700563008/warc/CC-MAIN-20130516103603-00048-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.983627
|
Arab
| 73
|
{}
|
دار البیضاء
|دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|عمومی معلومات|
|علاقہ||دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|صوبہ||دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|رقبہ||غیر دستیاب مربع کلومیٹر|
|آبادی||3,500,000 (2004ء)|
|کالنگ کوڈ||02|
|منطقۂ وقت||متناسق عالمی وقت (UTC+0)|
|حکومت|
|ناظم (ولی)||محمد کباج|
|قصبات||غیر دستیاب|
|علامت|
دار البیضاء یا کاسا بلانکا (قدیم نام انفا) مراکش کا سب سے بڑا شہر اور اہم ترین بندر گاہ ہے، اور دارالبیضاء/ کاسابلانکا کے علاقہ کا دارالحکومت بھی ہے۔ عربی میں اس کا سرکاری نام دارالبیضاء اور ہسپانوی زبان میں کاسابلانکا ہے جس کا لفظی مطلب سفید گھر (white house) ہے۔ ستمبر 2004ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ رباط مراکش کا دارالحکومت ہے، جبکہ دارالبیضاء/ کاسابلانکا سب سے بڑا شہر اور بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی دارالحکومت ہے۔
فہرست
تاریخ [ترمیم]
کاسا بلانکا کی بنیاد بربریوں نے انفا نام کی آزاد ریاست کے ساتھ ساتویں صدی عیسوی میں رکھی، جسے 1068ء میں سحارہ کے المرابطون (مرابط حکمران خاندان) نے فتح اور اپنی ریاست میں شامل کیا۔ چودہویں صدی عیسوی میں مرینیون (حکمران خاندان) کی حکمرانی میں انفا بندرگاہ کے طور پر اہمیت اختیار کرنے لگا۔ پندرہویں صدی عیسوی میں شہر ایک باد پھر آزاد ریاست بنا لیکن ساتھ ہی قزاقوں کی قوت کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور بندرگاہ بن گیا، جسکے نتیجہ میں 1468ء میں پرتگالیوں کی بمباری کا نشانہ بن کر تباہ ہوا۔ 1515ء پرتگالیوں نے انفا کی تعمیر نو کر کے اسے ایک فوجی قلعہ بنایا جسے 1755ء کے زلزلہ میں تباہ ہونے کے بعد ترک کر دیا گیا۔
انیسویں صدی عیسوی میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی جسکی وجہ بطور بندرگاہ شہر کے استعمال میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ تھا۔ کاسا بلانکا سے اون برطانیہ کی ابھرتی ہوئی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بھیجی جاتی تھی۔ 1860ء میں شہر کی آبادی چارہزار تھی جو 1880ء میں بڑھ کر نو ہزار ہو گئی اور آنے والے چند سالوں میں بارہ ہزار سے تجاوز کر گئي۔ 1921ء میں آبادی ایک لاکھ دس ہزار ہو چکی تھی جس میں زیادہ اضافہ گردونواع میں غیر منصوبہ بند بستیوں سے ہوا۔
فرانسیسی دور اقتدار [ترمیم]
سترہویں، اٹھاریوں صدی میں مراکش بربریوں کے زیر حکومت اور بحری قزاقوں کے لیے پناہ گاہ رہا۔ یورپی طاقتوں 1840ء سے مراکش کو کالونی بنانے میں دلچسپی لے رہی تھیں، اور فرانس اور ہسپانیہ سے کئی ایک جھڑپیں بھی ہو چکی تھیں۔ 1904ء میں فرانس اور ہسپانیہ ایک خفیہ معاہدہ پر متفق ہوۓ، جسکے نتیجہ میں مراکش کے حصے بکھرے کۓ گۓ۔ زیادہ تر مراکش پر فرانس نے قبضہ کیا جبکہ ہسپانیہ کے حصہ میں چھوٹا جنوبی علاقہ آیا۔
1907ء میں فرانسیسیوں نے ایک قبرستان سے گزرتی ہوئی ریل کی پٹڑی بچھانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں مقامی آبادی نے فرانسیسی کارکنوں پر حملہ کیا، اور ہنگامہ آرائی ہوئي۔ فرانسیسی افواج صورتحال پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے کے اتریں، لیکن ان ہنگاموں اور فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شہر کو شدید نقصان ہوا، جو آخرکار شہر پر فرانسیسی کنٹرول پر ختم ہوۓ۔ یہاں سے ہی کالونی بنانے کے عمل کا آغاز ہوا جو 1910ء تک مکمل ہوا۔ 1940ء سے 1950ء کے عشرہ میں فرانسیسیوں کے خلاف بغاوت میں شہر بغاوتیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہاں ہی 1953ء کے کرسمس دن پر بم حملے میں بہت بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔
آزادی کے بعد [ترمیم]
مراکش نے 2 مارچ 1956ء کو فرانس سے آزادی حاصل کی۔ 1930ء میں کاسا بلانکا نے فارمولا ون عالمی مقابلوں کی میزبانی کی، جو نیو انفا ریس کورس پر ہوئي۔ 1958ء میں یہ آین ریاب سرکٹ پر منعقد کی گئي (مروکن گرینڈ پریکس)۔ 1983ء میں کاسا بلانکا نے بحیرہ روم کے ملکوں کے کھیلوں (میڈیٹرینین گیمز) کی میزبانی کی۔ اب شہر سیاحت کے شعبہ میں ترقی کر رہا ہے۔
مارچ 2000ء میں عورتوں کے تنظیموں نے کاسا بلانکا میں عورتوں کے حقوق کے لیے مظاہرہ کیا جس میں چالیس ہزار عورتوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مردوں کے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے خلاف اور طلاق کے قوانین میں رد و بدل کے مطالبات کیے۔ گرچہ مخالفت میں پانچ لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا لیکن تحریک شاہ محمد چہارم کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی۔ جس کے نتیجہ میں اوائل 2004ء میں نۓ خاندانی قوانین متعارف کراۓ گۓ، جن میں مظاہرین کے کچھ مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
موجودہ شہر [ترمیم]
فرانسیسی دور اقتدار میں کاسا بلانکا کا نیا قصبہ فرانسیسی ماہر فن تعمیر ہینری پروسٹ (Henri Prost) نے تشکیل دیا جو اس وقت کا جدید ترین نمونہ تھا۔ اور یہ موجودہ مراکش کی سب سے زیادہ پر تاثر جگہ ہے۔ علاقہ میں سابقہ انتظامی عمارات اور جدید ہوٹل موجود ہیں۔ اور فن تعمیر مورش طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔
پارک دے لا لیگوے عرابے (سابقہ نام لیاوٹے) شہر کا سب سے بڑا پارک ہے، جس کے قریب گرجا گھر کیتھڈریل دو ساکرو کور (Cathedrale du Sacré Coeur) واقعہ ہے۔ گرجا گھر ترک کیا جا چکا ہے، تاہم یہ مورش فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔
قدیم شہر مراکش کے باقی شہروں کے قدیم حصوں مثلا فیس یا مراکیش کے مقابلے میں سیاحوں کو کم متوجہ کرتا ہے۔ تاہم حال ہی میں کچھ تعمیر نو کی گئی ہے قدیم عمارتوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں شہر کی مغربی دیوار اور کالونی دور کا گھنٹہ گھر وغیرہ شامل ہیں۔
اہم عمارات [ترمیم]
- حسن دوئم مسجد فرانسیسی ماہر فن تعمیر مائیکل پنسیو (Michel Pinceau) کا شاہکار ہے، جو بحر اوقیانوس کے ساحل پر آگے ابھری ہوئی چٹان پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد میں ایک وقت میں 25 ہزار عبادت گزار عبادت کر سکتے ہیں۔ اور مسجد کے احاطہ کو شامل کر کے مزید 80 ہزار عبادت گزاروں کی گنجائش ہے۔ اسکے مینار کی اونچائی 210 میٹر ہے۔ مسجد پر کام کا آغاز 1980ء میں کیا گیا تھا اور تکمیل کے لیے 1989ء کا سن دیا گیا تھا جو کہ شاہ مراکش حسن دوئم کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ تاہم افتتاح 1993ء میں کیا جا سکا۔
- کاسا بلانکا کا ٹیکنالوجی پارک (کاسا بلانکا ٹیکنو پارک) کا افتتاح اکتوبر 2001ء میں کیا گیا، جو ملک میں معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ منصوبہ حکومت مراکش اور مراکش کے نجی بینکوں کے اتحاد کا اشتراک ہے جو مراکش کی وزارت مواصلات کے تحت کام کرتا ہے۔
- کاسا بلانکا ٹوئن سنٹر دو بلند عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک 28 منزلہ ہے۔ یہ منصوبہ ہسپانوی ماہر فن تعمیر رکاردو بوفل لیوی (Ricardo Bofill Levi) کا شاہکار ہے۔
- لائسے لیاوٹے (Lycée Lyautey ) کاسا بلانکا میں فرانسیسی مشن کا سکول ہے جو فرانسیسی، عربی، انگریزی، ہسپانوی اور جرمن زبانوں میں کئی کورس کرواتا ہے۔ اسکا نام مراکش میں فرانس کے پہلے ریزیڈنٹ جزل مارشل لیاوٹے (Marshal Lyautey) کے نام پر رکھا گیا ہے۔
- محمد پنجم بین الاقوامی ائر پورٹ (Mohammed V International Airport) (عربی میں 'مطار محمد الخامس الدولي') کاسا بلانکا کا بین الاقوامی ائر پورٹ اور شاہی مراکشی ہوائی کمپنی (رائل ائر مراک) کے لیے مرکز ہے۔
تعلیمی ادارے [ترمیم]
نامور شخصیات [ترمیم]
- جون رینو (Jean Reno) فرانسیسی اداکار
- گاد المالح (Gad Elmaleh) مراکی فرانسیسی مزاحیہ اداکار
- ہشام ارازی (Hicham Arazi) مراکی ٹینس کھلاڑی
- ریشار ویرنک (Richard Virenque) فرانسیسی سائیکل سواری کا کھلاڑی
- نورالدین نیبت (Noureddine Naybet) مراکی فٹبال کھلاڑی
- گے فورجے (Guy Forget) فرانسیسی ٹینس کھلاڑی
- العربی بن مبارک (Larbi Benbarek) مراکی فرانسیسی فٹبال کھلاڑی
- الان سوشون (Alain Souchon) فرانسیسی گیت لکھاری
- نوال المتوکل (Nawal El Moutawakel) اولمپک چیمپئن
مزید دیکھیے [ترمیم]
بیرونی روابط [ترمیم]
- کاسا بلانکا کی باضابطہ ویب سائٹ
- کاسا بلانکا معلومات کے لیے
- سیاحتی نقشہ
- کاسا بلانکا جدید تصویروں میں
- حکومت مراکش کی ویب سائٹ
|ویکیمیڈیا العام میں دار البیضاء سے متعلق وسیط موجود ہے۔|
|
<urn:uuid:16d568da-3894-461f-9e4b-fc9c18a57c68>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%A7
|
2013-05-23T08:36:37Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368703035278/warc/CC-MAIN-20130516111715-00054-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.984518
|
Arab
| 94
|
{}
|
عورت
عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہاجاتا ہے جبکہ لفظ لڑکی انسانی بیٹی یا بچّی کیلیے مستعمل ہے. تاہم، بعض اوقات، عورت کی اِصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے.
عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کےتابع رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کومساوی بنانے کی کوشش کی گئی ۔مگر عملا یہ فرق ختم نہ ہوسکا۔ عورت کو مغربی سماج میں آج بھی وہی دوسرا درجہ حاصل ہے جو قدیم زمانہ میں اس کو حاصل تھا۔
|
<urn:uuid:2126fe99-cc1e-499f-aa2e-101d8fc9a2b6>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA
|
2013-06-19T01:53:43Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707439689/warc/CC-MAIN-20130516123039-00050-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.982298
|
Arab
| 35
|
{}
|
نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی:
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین03دسمبر2008)نیشنل پاوور ریگولیٹری اتھارٹی نے الیکٹرک پاوور سپلائی کمپنیوں کو ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک روپے اٹھارہ پیسے سے دو روپے تیرہ پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں گزٹ نوٹیفیکشن کیلئے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔اسلام آباد میں نیپرا ذرائع کے مطابق ماہ اکتوبر کیلئے پاوور سپلائی کمپنیوں کی طرف سے درخواستوں پر فیصلے کے مطابق ہیسکو کیلئے ایک روپیہ اٹھارہ پیسے،فیسکو کیلئے ایک روپے چھہتر پیسے،ہیسکو کیلئے ایک روپے پچاسی پیسے،میپکو کیلئے ایک روپے انتالیس پیسے،پیسکو کیلئے دو روپے تیرہ پیسے ،گیپکو کیلئے ایک روپے اٹھہتر پیسے اور آئیسکو کیلئے ایک روپے ستائیس پیسے فی یونٹ کی منظوری دی گئی ہے۔
|
<urn:uuid:3faf4047-f123-4e35-9284-7f32ea1b0dc3>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://www.urdupoint.com/electercity_problem_in_pakistan/News42-106-1058-84946.html
|
2013-05-22T18:23:33Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368702185502/warc/CC-MAIN-20130516110305-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.982801
|
Arab
| 4
|
{}
|
میں نے ریاست اسرائیل کی 1896 سے 1939 تک کی تاریخ 22 نومبر کو لکھی تھی
اس سے پیشتر بنی اسراءیل کی مختصر تاریخ 14 نومبر کو لکھ چکا ہوں
فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا مقصد ایک صیہونی اڈا بنانا تھا جو وہاں سے فلسطینیوں کے انخلاء اور ان کی جائیدادوں پر قبضے کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا ۔ چنانچہ جوں جوں یورپ سے یہودی آتے گئے توں توں فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جاتا رہا ۔
تھیوڈور ہرستل نے 1885 میں اپنی ڈائری ميں لکھا تھا ” ہم فلسطینیوں کو اپنے ملک میں روزگار کی تلاش سے روکیں گے اور غیر ممالک میں روزگار کا لالچ دے کر جلاوطن کر دیں گے”۔ دوسرے صیہونیوں نے زیادہ راست اقدام کا فیصلہ کیا جو یہ تھا “جونہی ہم فلسطین میں اپنی ایک بستی بنا لیں گے تو ہم زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیں گے ۔ پھر جب ہم مضبوط ہو جائیں گے تو بائیں کنارے کا بھی بندوبست کریں گے”۔ اس منصوبہ میں رکاوٹ یہ آئی کہ شروع میں چند فلسطینیوں نے اپنی زمینیں بیچیں مگر باقی لوگوں نے زمینیں بیچنے سے انکار کر دیا ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے ذرا سا ہوش سنبھلتے ہی 1947 میں فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کے حوالہ کر دیا ۔ اس وقت تک یہودیوں کی تعداد فلسطینیوں کا ایک تہائی ہو چکی تھی لیکن یہودی فلسطین کے صرف 6 فیصد کے مالک تھے ۔یو این او نے ایک کمیٹی بنائی جس نے سفارش کی کہ فلسطین کے 56 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ پر صرف 6 فیصد کے مالک یہودیوں کی ریاست اسرائیل بنا دی جائے اور 43 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ میں سے بیت المقدس کو بین الاقوامی بنا کر باقی تقریبا 40 فیصد فلسطین کو 94 فیصد کے مالک مسلمانوں کے پاس رہنے دیا جائے ۔ 29 نومبر 1947 کو یو این جنرل اسمبلی نے 13 کے مقابلہ میں 33 ووٹوں سے اس کی منظوری دے دی ۔ 10 ممبر غیر حاضر رہے ۔ فلسطینیوں نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور صیہونیوں نے فلسطینی مسلمانوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے ۔
صیہونیوں کی بڑے پیمانے پر دہشت گردی ۔
صیہونیوں نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا جس میں 91 آدمی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ ان میں برطانوی فوجی ۔ فلسطینی مسلمان ۔ عیسائی اور چند یہودی بھی شامل تھے ۔ یہ دنیا میں پہلی بارودی دہشت گردی تھی ۔ صیہونی نقطہء نظر یہاں دیکھئے ۔ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے برطانیہ کے اندر حکومت پر فلسطین سے فوجیں نکالنے کا دباؤ پڑنے لگا ۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت مزید یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے امریکی دباؤ سے بھی پریشان تھی ۔ چنانچہ برطانیہ کی حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ فلسطین میں اپنی حکومت 15 مئی 1948 کو ختم کر دے گی ۔
صیہونیوں نے جن کے لیڈر معروف دہشت گرد تھے فلسطینیوں پر حملے اور ان کا قتل تو پہلے ہی شروع کر دیا تھا لیکن 1948 میں اچانک فلسطین کے مسلمانوں پر بڑے پیمانہ پر ایک عسکری کمانڈو حملہ کر کے کچھ دیہات پر قبضہ کر لیا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا ۔ امریکہ صیہونیوں کی پشت پناہ پر تھا اور ان کو مالی اور فوجی امداد مہیا کر رہا تھا ۔ اس طرح روس یورپ اور بالخصوص امریکہ کی مدد سے یہودی نے اپنی دو ہزار سال پرانی آرزو ” یہودی ریاست اسرائیل” کا 14 مئی 1948 کو 4 بجے بعد دوپہر اعلان کر دیا جو دراصل صیہونی ریاست تھی کیونکہ کئی یہودی مذہبی پیشواؤں نے اس کی مخالفت کی ۔ اگلے دن برطانیہ کے بقیہ فوجی بھی اپنی چھاؤنیاں صیہونیوں کے حوالے کر کے چلے گئے ۔ اس کے بعد مار دھاڑ روز کا معمول بن گیا ۔ صیہونی مسلحہ دستے مسلمان عربوں کی املاک پر قبضہ کرتے چلے گئے کیونکہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے تربیت یافتہ کمانڈو تھے اور انہيں امریکہ اور برطانیہ کی امداد بھی حاصل تھی ۔ یہودیوں کی دہشت گرد تنظیموں کے نام بدلتے رہے کیونکہ وہ یورپ میں بھی دہشت گردی کرتی رہیں اور دہشت گرد قرار دی جاتی رہیں ۔ مشہور نام یہ ہیں ۔ ہاگانہ ۔ اوردے ونگیٹ ۔ ارگون ۔ لیہی ۔ لیکوڈ ۔ ہیروت ۔ مالیدت ۔
چند مشہور دہشت گرد لیڈروں کے نام یہ ہیں ۔ موشے دیان جو 1953 سے 1957 عیسوی تک اسرائیل کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف رہا ۔ مناخم بیگن جو 1977 میں اسرائیل کا وزیراعظم بنا ۔ یتز ہاک شمیر جو 1983 میں وزیراعظم بنا ۔ ایرئل شیرون جو موجودہ وزیراعظم ہے ۔ موشے دیان کو دہشت گرد ہونے کے باوجود برطانوی فوج میں کسی خاص کام کے لئے کچھ عرصہ کے لئے بھرتی کیا گیا تھا ۔ وہ برطانوی فوج کی ملازمت چھوڑ کر پھر صیہونی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا اور اس کا کمانڈر بن گیا ۔
عربوں کی املاک پر قبضہ کرنے کے لئے جو حملے کئے جاتے رہے ان کا کمانڈر موشے دیان ہی تھا ۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے نہ صرف وہ علاقے زبردستی قبضہ میں لئے جو یو این او یہودیوں کو دینا چاہتی تھی بلکہ ان علاقوں پر بھی قبضہ کیا جو یو این او کے مطابق فلسطینیوں کے تھے ۔ قبضہ کے دوران جو فلسطینی مسلمان نظر آتا اسے قتل کر دیا جاتا ۔ میناخم بیگن اس دہشت گرد گروہ کا سربراہ تھا جس نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا تھا ۔ صابرا اور شتیلا کو گھیرے میں لے کر وہاں مقیم چار ہزار نہتے فلسطینی مہاجرین کو قتل کرنے کا حکم دینے والا ایرئل شیرون تھا جو ان دنوں اسرائیل کا وزیر دفاع تھا ۔
میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ ان بڑوں کی منافقت کو اجاگر نہ کروں مگر نہ یہ بڑے چین سے بیٹھنے دیتے ہیں نہ ان سے متاءثر تبصرہ نگار ۔ اپنے تیئں ذی شعور ۔روشن خیال اور انصاف پسند تبصرہ نگار فرماتے ہیں ۔ جو ہو گیا ہمیں قبول کر لینا چاہیئے ۔ ہم طاقتور سے لڑ نہیں سکتے اس لئے جو وہ کہے یا کرے مان لینا چاہیئے ۔
میرے خیال میں جو لوگ “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” میں یقین رکھتے ہیں ان کا علاج صرف لاٹھی ہی سے ہو سکتا ہے ۔ کم از کم قدیر احمد رانا صاحب اور اسماء کریم مرزا صاحبہ ضرور میری تائید کریں گی ۔ سنیئے ذرا غور سے ۔ او ہاں ۔ ایک منٹ ۔ اصل موضوع بعد میں ۔ مجھے یاد آیا جب ہم سکول میں پڑھتے تھے اس زمانہ میں راولپنڈی کارپوریشن کا ایک منادیہ ہوا کرتا تھا ۔ وہ کارپوریشن کے احکامات بذریعہ منادی عوام تک پہنچایا کرتا تھا ۔ اس کے پاس ٹینس کا ایک ریکٹ ہوتا تھا جس پر چمڑا چڑھا ہوتا تھا اور مخالف سمتوں میں دو ڈوریوں کے ساتھ لکڑی کے منکے لگے ہوتے تھے ۔ وہ ریکٹ کو بطور ڈگڈگی بجاتا اور کہتا ” سنیئے جناب والا ۔ کیا کہتا ہے منادی والا ۔ منادی سنیئے غور سے ۔ پھر بات کیجئے کسی اور سے” اس کے بعد وہ حکمنامہ پڑھ کر سناتا ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا ۔
حال ہی میں ایک برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ (David Irving) کو آسٹریا میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اس کے وارنٹ گرفتاری 1989 میں جاری ہوۓ تھے ۔ اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے ویانا میں لیکچر دیا تھا جس میں اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کی نازیوں کے ہاتھوں گیس چیمبرز کے ذریعہ موت کے واقعہ کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ مرنے والے یہودیوں کی تعداد انتہائی مبالغہ آمیز ہے ۔ اس نے نام نہاد ہالوکاسٹ (Holocaust) کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا تھا ۔ ڈیوڈ ارونگ کے لیکچر کی بنیاد ایک امریکن فریڈ لاؤخر (Fred Leucher) کی 1988 میں چھپنے والی رپورٹ ہے جو اس نے آؤش وٹس (Auschwitz) میں طویل تحقیق کے بعد لکھی تھی ۔ آؤش وٹس وہی جگہ ہے جہاں گیس چیمبرز کی موجودگی بیان کی گئی تھی
اگر ڈیوڈ ارونگ پر گیس چیمبرز یا ہالوکاسٹ سے انکار کا جرم ثابت کر دیا گیا تو اسے 10 سے 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ امریکہ کے صدر نے خود ایک بڑا جھوٹ ایجاد کیا اور اس کا سہارا لے کر عراق کی تہس نہس پھیر دی
ایک ڈیوڈ ارونگ ہے کہ کسی اور پر لگاۓ گئے جرم کے الزام کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اسے مجرم کہہ کر جیل میں ڈالا جا رہا ہے اور ایک امریکہ کا صدر ہے جس کے متعلق ساری دنیا جانتی ہے کہ اس نے خود سے ایک جھوٹ گھڑا پھر اسی جھوٹ کے سہارے بلا جواز عراق پر حملہ کیا اور مزید جرم پر جرم کرتا جا رہا ہے اور اسے ابھی بھی ہیومن رائٹس کا چمپین (champion of human rights) کہا جاتا ہے ۔۔
کیا یہ منافقت کی انتہاء نہیں ؟
میں نے بنی اسراءیل کی بالکل مختصر تاریخ 14 نومبر کو پوسٹ کی تھی ۔ اب ریاست اسرائیل کی مختصر تاریخ ۔
آسٹرین یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی ۔ اس کا اصلی نام بن یامین بتایا جاتا ہے سیاسی صیہونیت کا بانی ہے ۔ اس نے 1896 عیسوی میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی ” ڈر جوڈن شٹاٹ” یعنی یہودی ریاست جس کا انگریزی ترجمہ اپریل 1896 میں آیا ۔ اس ریاست کے قیام کے لئے ارجٹائن یا مشرق وسطہ کا علاقہ تجویز کیا گیا ۔ برطانوی حکومت نے ارجٹائن میں یہودی ریاست قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے فلسطین میں قائم کرنے پر زور دیا ۔ اس ریاست کا جو نقشہ بنایا گیا اس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا سارا علاقہ شامل دکھایا گیا یعنی مصر کا دریائے نیل سے مشرق کا علاقہ ۔ سارا فلسطین ۔ سارا اردن ۔ سارا لبنان ۔ شام اور عراق کا دو تہائی علاقہ اور سعودی عرب کا ایک تہائی علاقہ ۔ اس کے بعد صیہونی کانگرس کا باسل (سوئٹزرلینڈ) میں اجلاس ہوا جس میں فلسطین میں خالص صیہونی ریاست بنانے کی منظوری دی گئی اور ساتھ ہی بین الاقوامی صیہونی تنظیم بنائی گئی تا کہ وہ صیہونی ریاست کا قیام یقینی بنائے ۔
Writes Mr M. Shahid Alam who teaches economics at a university in Boston, USA.
The goal of a Jewish state in Palestine with a Jewish population had an unavoidable corollary. As the Jews entered Palestine, the Palestinians would have to be ‘transferred’ out of Palestine. As early as 1895, Theodore Herzl had figured this out in an entry in his diary: “We shall try to spirit the penniless population across the border by procuring employment for it in the transit countries, while denying it any employment in our own country.”Others took a more direct approach: “As soon as we have a big settlement here we’ll seize the land, we’ll become strong, and then we’ll take care of the Left Bank. We’ll expel them from there, too. Let them go back to the Arab countries.” At some point, when a dominant Jewish presence had been established in Palestine, and the Palestinians had departed or been marginalized, the British could end their mandate to make room for the emergence of a Jewish state in Palestine.This plan ran into problems. The Palestinians would not cooperate: they refused to leave and very few were willing to sell their lands. As a result, in 1948, the year that Israel was created, nearly all of Palestine’s “penniless population” was still in place and more than 50 years after the launching of political Zionism, the Jewish settlers owned only seven per cent of the lands in Palestine, not the best lands either.
1896 سے ہی یورپ سے یہودی نقل مکانی کر کے فلسطین پہنچنا شروع ہو گئے اور 1897 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی ۔ جب کہ مسلمان عربوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی ۔1903 عیسوی تک یورپ سے ہزاروں یہودی فلسطین پہنچ گئے اور ان کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہو گئی ۔ 1914 تک مزید چالیس ہزار کے قریب یہودی فلسطین پہنچے ۔
1916 عیسوی میں مصر میں برطانیہ کے کمشنر ہنری مکماہون نے مصر سے عرب فوجی بھرتی کرنے کے لئے وعدہ کیا تھا کہ عربوں کے وہ علاقے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل تھے آزاد کر دیئے جائیں گے ۔ برطانیہ کی عیّاری ملاحظہ ہو کہ اسی زمانہ میں خفیہ معاہدہ سائیکس پیکاٹ کیا گیا جس کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے علاقہ کو اپنے مشترکہ انتظام کے تحت تقسیم کر دیا ۔ مزید عیّاری یہ کہ 1917 عیسوی میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور نے برطانیہ کی طرف سے لارڈ راتھ شلڈ نامی صیہونی لیڈر کو لکھے گئے ایک خط میں فلسطین کے اندر ایک صیہونی ریاست بنانے کے لئے کام کرنے کا وعدہ کیا ۔ جنگ عظیم کے اختتام پر 1918 عیسوی میں مصر سے بدعہدی کرتے ہوۓ فلسطین پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا ۔ لیگ آف نیشنز نے 25 اپریل 1920 کو فلسطین پر انگریزوں کے قبضہ کو جائز قرار دے دیا ۔
1918 عیسوی میں فلسطین ميں یورپ سے مزید یہودی آنے کے باعث ان کی تعداد 67000 کے قریب تھی ۔ برطانوی مردم شماری کے مطابق 1922 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی 11 فیصد تک پہنچ گئی تھی یعنی 667500 مسلمان تھے تو 82500 یہودی تھے ۔ 1930 تک برطانوی سرپرستی میں مزید 300000 سے زائد یہودی یورپ اور روس سے فلسطین پہنچائے گئے جس سے عربوں میں بے چینی پیدا ہوئی ۔
اگست 1929 میں یہودیوں اور فلسطینی مسلمانوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں سوا سو کے قریب فلسطینی اور تقریبا اتنے ہی یہودی مارے گئے ان جھڑپوں کی ابتداء صیہونیوں نے کی تھی لیکن برطانوی پولیس نے صیہونیوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا ۔ برطانیہ کا رائل کمشن جس کا سربراہ لارڈ پیل تھا نے 1937 عیسوی میں تجویز دی کہ فلسطین کو تقسیم کر کے تیسرا حصہ یہودیوں کو دے دیا جائے ۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی زمینی ملکیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ فلسطینی اس کے خلاف دو سال تک احتجاج کرتے رہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ تقسیم نہ کی جائے اور صرف اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ اس پر برطانیہ سے مزید فوج منگوا کر فلسطینیوں کے احتجاج کو سختی سے کچل دیا گیا ۔ 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور فلسطین کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا مگر صیہونیوں نے یورپ سے فلسطین کی طرف نقل مکانی جاری رکھی ۔
* Share your knowledge. It is a way to achieve immortality.
* Judge your success by what you had to give up in order to get it.
* Approach love and cooking with reckless abandon.
انشاء اللہ بنی اسراءیل کی تاریخ کا صرف خاکہ پیش کر نے کے بعد ریاست اسرائیل کے تاریخی حقائق لکھوں گا جن کی بنیاد ویب پر موجود اور غیرموجود تحاریر کے علاوہ پچھلے 55 سال میں اکٹھی کی ہوئی میری ذاتی معلومات پر ہے ۔ 1932 سے دسمبر 1947 عیسوی تک میرے والد صاحب کے کاروبار کا مرکز فلسطین تھا ۔ ان کی رہائش فلسطین کے ایک شہرطولکرم اور ہیڈ آفس حیفہ میں تھا ۔ والدہ صاحبہ کبھی مصر میں میرے نانا نانی کے پاس یا فلسطین میں والد صاحب کے ساتھ رہتیں کبھی ہندوستان ميں ہمارے ساتھ ۔ میری ایک بڑی بہن 1933 میں قاہرہ (مصر) میں پیدا ہوئی اور ایک چھوٹا بھائی 1947 میں فلسطین میں نابلس کے ہسپتال میں پیدا ہوا ۔ ميں اپنے دادا دادی کے پاس ہندوستان ہی میں رہا ۔
بنی اسراءیل
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ۔ خانہ کعبہ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے آج سے 4000 سال قبل تعمیر کیا تھا البتہ کچھ حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسی جگہ حضرت نوح علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تھا ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فلسطین کے علاقہ بیت المقدّس میں بھی عبادت گاہ بنائی ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام بھی وہاں عبادت کرتے رہے مگر حج کے لئے وہ مکّہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہی جاتے تھے ۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے ۔ اسراءیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ۔ اسراءیل کے معنی ہیں عبداللہ یا خدا کا بندہ ۔ بنی اسراءیل ان کے قبیلہ کو کہا جاتا ہے ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام تھے جو مصر کے بادشاہ بنے ۔ بنی اسراءیل میں پھر حضرت موسی علیہ السلام مصر میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام صحراۓ سینائی کے علاقہ میں پیدا ہوۓ جو بعد میں فلسطین چلے گئے ۔
جب حضرت داؤد علیہ السلام نے انتہائی طاقتور دیو ہیکل جالوت (گولائتھ) کو اللہ کی نصرت سے غلیل کا پتھر مار کر گرا دیا تو فلسطین کے بادشاہ صول نے حسب وعدہ ان کی شادی اپنی بیٹی مشل سے کر دی ۔ صول کے مرنے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ہوا ۔ جن اور ہر قسم کے جانور حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیئے تھے ۔ قبل مسیح 961 سے قبل مسیح 922 کے دوران حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی مدد سے مسجد الاقصی اسی جگہ تعمیر کروائی جہاں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے عبادت گاہ تعمیر کرائی تھی ۔
586 قبل مسیح میں یہ ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ جنوبی علاقہ پر بابل کے لوگوں نے قبضہ کر کے عبادت گاہ مسمار کر دی اور بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا ۔ اس کے سو سال بعد بنی اسراءیل واپس آنے شرو ع ہوئے اور انہوں نے اپنی عبادت گاہ تعمیر کی مگر اس جگہ نہیں جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے عبادت گاہ بنوائی تھی ۔ 333 قبل مسیح میں سکندراعظم نے اسے یونان کی سلطنت میں شامل کر کے بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال دیا ۔ 165 قبل مسیح میں بنی اسراءیل نے بغاوت کر کے ایک یہودی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ سوسال بعد یہودی ریاست پر سلطنت روم کا قبضہ ہو گیا ۔ 70 عیسوی میں یہودیوں نے بغاوت کی جسے شہنشاہ ٹائٹس نے کچل دیا اور یہودیوں کی عبادت گاہ مسمار کر کے انہیں وہاں سے نکال دیا ۔ روم کے بادشاہ حیدریاں (138-118 عیسوی) نے یہودیوں کو شروع میں بیت المقدس آنے کی اجازت دی لیکن بغاوت کرنے پر بیت المقدس کے شہر کو مکمل طور پر تباہ کر کے یہودیوں کو غلاموں کے طور بیچ کر شہر بدر کر دیا اور ان کا واپس بیت المقدّس آنا ممنوع قرار دے دیا ۔
614 عیسوی سے 624 عیسوی تک فلسطین پر ایرانیوں کی حکومت رہی جنہوں نے یہودیوں کو عبادت کرنے کی کھلی چھٹی دے دی مگر انہوں نے مسجد الاقصی میں عبادت نہ کی اور عرب عیسائیوں پر بہت ظلم کئے ۔ اس کے بعد بازنطینی حکومت آئی جس نے 636 عیسوی میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد الاقصی کی تعمیر 639 عیسوی میں اس جگہ پر شروع کروائی جہاں پر اسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا ۔ 636 سے 1918 عیسوی تک یعنی 1282 سال فلسطین پر جس میں اردن بھی شامل تھا مسلمانوں کی حکومت رہی سواۓ صلیبی جنگوں کے کچھ عرصہ کے ۔ اس وقت تک یہودیوں کو فلسطین سے باہر ہوۓ 1800 سال ہو چکے تھے ۔
بنی اسراءیل کے متعلق تاریخی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بہت سے نبیوں کو قتل کیا جن میں ان کے اپنے قبیلہ کے حضرت زکریّا علیہ السلام اور حضرت یحی علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام بھی اسی قبیلہ سے تھے ۔ ان کو بھی قتل کرنا چاہا مگر اللہ نے انہیں بچالیا اور ان کا کوئی ہم شکل قتل کر دیا گیا ۔ خلق خدا کو بھی بنی اسراءیل بہت اذیّت پہنچاتے رہے ۔
|
<urn:uuid:2180a872-8779-4af4-8717-cba5413e0fd5>
|
CC-MAIN-2013-20
|
http://iabhopal.wordpress.com/2005/11/
|
2013-05-25T01:59:52Z
|
s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368705318091/warc/CC-MAIN-20130516115518-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz
|
urd
| 0.979422
|
Arab
| 19
|
{}
|
End of preview. Expand
in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 15