text stringlengths 186 446k | id stringlengths 47 47 | dump stringclasses 96 values | url stringlengths 15 7.83k | date stringdate 2013-05-18 09:19:31 2024-04-25 15:58:09 | file_path stringlengths 125 155 | language stringclasses 1 value | language_score float64 0.85 1 | language_script stringclasses 1 value | minhash_cluster_size int64 1 143k | top_langs stringclasses 1 value |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
ٹورانٹو
ٹورنٹو کا شہر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کا دارلخلافہ اور کینیڈا کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر جنوبی اونٹاریو میں جھیل اونٹاریو کے شمال مغربی کنارے پر واقع ہے۔ یہ شہر شمالی امریکہ میں آبادی کے اعتبار سے ساتواں بڑا شہر ہے۔ ٹورنٹو کینیڈا کے گنجان آباد ترین علاقے گولڈن ہارس شو میں واقع ہے۔ گولڈن ہارس شو کی کل آبادی 8100000 نفوس پر مشتمل ہے جو کینیڈا کی کل آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
کینیڈا کا معاشی مرکز ہونے کی وجہ سے اسے الفا ورلڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ٹورنٹو کے اہم معاشی شعبوں میں فنانس، کاروباری سہولیات، مواصلات، فضائی صنعت، نقل و حمل، میڈیا، فنون لطیفہ، فلم، ٹیلی ویژن کے پروگرام، پبلشنگ، سافٹ وئیر کی تیاری، طبی تحقیق، تعلیم، سیاحت اور کھیلوں کی صنعتیں شامل ہیں۔ تعلیمی حوالے سے یہاں بہت سارے کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں جن میں دنیا کی صف اول کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو بھی شامل ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج دنیا کی آٹھویں بڑی سٹاک مارکیٹ ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے بڑے بڑے کاروباری مراکز کے صدر دفاتر بھی یہاں موجود ہیں۔
ٹورنٹو کی آبادی کاسموپولیٹن اور بین الاقوامی ہے جو کینیڈا میں آنے والے تارکین وطن افراد کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ شہر کی کل آبادی کا تقریباً انچاس فیصد حصہ کینیڈا سے باہر پیدا ہوا ہے۔ یونیسکو کی طرف سے اسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مختلف النسل افراد رکھنے والا شہر کہا جاتا ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ اور مرسر کوالٹی آف لونگ سروے کے مطابق رہائش کے لئے یہ شہر دنیا بھر میں سب سے بہتر ہے۔ مزید برآں 2006 میں اسے کینیڈا بھر میں رہائش کے اعتبار سے مہنگا ترین شہر کہا گیا ہے۔ ٹورنٹو کے باشندوں کو ٹورنٹونین کہتے ہیں۔
فہرست
تاریخ[ترمیم]
1800 سے قبل[ترمیم]
جب پہلی بار یورپی افراد اس جگہ پہنچے جہاں آج ٹورنٹو کا شہر آباد ہے، وہاں ہرون قبائل آباد تھے۔ پھر ہرون کو ہٹا کر ان کی جگہ اروکوئس قبائل صدیوں تک یہاں آباد رہے۔ ٹورنٹو کا لفظ بظاہر اروکوئس لفظ ٹکارونٹو سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ایسی جگہ جہاں پانی میں درخت اگتے ہیں۔ شاید اس سے مراد جھیل سمکوئی کا شمالی کنارہ تھا جہاں ہرون قبائل نے کورل مچھلیوں کے لئے پانی میں درخت لگائے تھے۔
فرانسیسی تاجروں نے فورٹ روئل 1750 میں جس جگہ اپنا قلعہ بنایا، آج وہ جگہ نمائشی گراؤنڈ کے لئے مختص ہے۔ تاہم یہ قلعہ 1759 میں خالی کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کی جنگ انقلاب کے دوران اس علاقے میں تاج برطانیہ کے وفاداران بہت بڑی تعداد میں امریکہ سے منتقل ہونے لگے۔ یہ افراد جھیل اونٹاریو کے شمالی غیر آباد کنارے پر آن بسے۔ 1787 میں برطانویوں نے ٹورنٹو کی خریداری کا معاہدہ کیا جس کے تحت انہوں نے ٹورنٹو کے علاقے میں اڑھائی لاکھ مربع ایکڑ یعنی 1000 مربع کلومیٹر زمین خریدی۔
1793 میں گورنر جان گریوز سمکوئی نے یارک کا شہر بسایا اور یارک اور البانے کے نواب شہزادہ فریڈرک کے نام منسوب کیا۔ سمکوئی نے جب یہ شہر بسایا تو ان کا مطمعء نظر یہ تھا کہ بالائی کینیڈا کے صوبے کے لئے ایسا دارلحکومت بنایا جائے جو امریکیوں کے حملے سے محفوظ ہو۔ شہر کی فطری بندرگاہ پر شہر کے داخلے کے مقام پر یارک کا قلعہ بنایا گیا جو ریتلے جزیرہ نما کی وجہ سے حملوں سے محفوظ تھا۔ اسی جزیرہ نما کے پیچھے قلعے سے مشرق میں شہر کو بنایا گیا۔
1800 تا 1945[ترمیم]
1813 میں امریکی 1812 کی جنگ کی وجہ سے یارک کی لڑائی جب ختم ہوئی تو یہ شہر امریکیوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔ امریکی فوجیوں نے اپنے پانچ روزہ قبضے کے دوران قلعے کا زیادہ تر حصہ اور پارلیمان کو آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ اس وجہ سے برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن ڈی سی کو بعد ازاں آگ لگا کر تباہ کر دیا۔ یارک کو ٹورنٹو کے شہر کا درجہ 6 مارچ 1834 میں ملا۔ اس وقت اس کی کل آبادی 9000 افراد پر مشتمل تھی جن میں امریکی نسل پرست قوانین سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے سیاہ فام افراد بھی شامل تھے۔ 1834 میں بیک جنبش قلم غلامی کو ختم کر دیا گیا۔ اصلاح پسند سیاست دان ولیم لائن میکنزی ٹورنٹو کے پہلے میئر بنے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانوی نو آبادی حکومت کے خلاف بالائی کینیڈا کے صوبے میں ناکام بغاوت بھی کی۔ 19ویں صدی کے دوران شہر تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ کینیڈا آنے والے تارکین وطنوں کے لئے ٹورنٹو اہم مرکز بن گیا۔ آئرلینڈ میں آنے والے قحط کے بعد پہلی بار یہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ آنے لگے۔ 1851 میں پہلی بار شہر میں آئرش النسل افراد سب سے بڑی اکثریت بن گئے۔
مانٹریال میں ہونے والی گڑبڑ کے نتیجے میں دو بار مختصر دورانیے کے لئے ٹورنٹو متحدہ کینیڈا کے صوبے کا دارلخلافہ بھی رہا۔ پہلی بار 1849 سے 1852 تک اور پھر 1856 تا 1858 رہا۔ اس کے بعد سے اب تک اوٹاوا کینیڈا کا دارلحکومت ہے۔ 1793 سے یہ شہر بالائی کینیڈا کا حصہ رہا تھا اور 1867 میں جب اونٹاریو کا صوبہ بنایا گیا تو ٹورنٹو اس کا دارلخلافہ بنا۔
19ویں صدی میں پانی کی نکاسی کا بہت بڑا نظام تعمیر ہوا اور سڑکوں پر گیس کی مدد سے روشنی مہیا کی گئی۔ لمبے فاصلے تک کے لئے ریلوے کی تعمیر ہوئی جن میں 1854 میں بننے والا وہ راستہ بھی شامل ہے جو ٹورنٹو کو عظیم جھیلوں سے ملاتا ہے۔ ریلوے کی تعمیر سے یہاں آباد ہونے کے لئے آنے والے تارکین وطن کی تعداد بھی اچانک بڑھنے لگی۔ اس کے علاوہ تجارت اور صنعت و حرفت میں بھی ترقی ہوئی اور جلد ہی ٹورنٹو شمالی امریکہ تک رسائی کے لئے اہم مرکز بن گیا۔
ٹورنٹو شمالی امریکہ میں شراب کی کشید کا اہم ترین اور سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اس کے علاوہ بندرگاہ کی توسیع اور ریل کی سہولیات سے شمالی علاقوں سے لکڑی بھی یہاں سے برآمد ہونے لگی جبکہ پینسلوانیا سے آنے والا کوئلہ یہاں کی اہم درآمد بن گیا۔
1891 میں گھوڑا گاڑیوں کی جگہ بجلی سے چلنے والی بسیں شروع ہو گئیں۔
1904 میں لگنے والی ٹورنٹو کی عظیم آتشزدگی نے شہر کے مرکز کا زیادہ تر حصہ تباہ کر دیا تاہم شہر کی دوبارہ تعمیر جلد ہی مکمل ہو گئی۔ آگ سے لگنے والے نقصانات کا اندازہ کم از کم ایک کروڑ ڈالر تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں آگ سے بچاؤ کے قوانین سخت تر ہو گئے اورشہر کے آگ بجھانے کے محکمے میں بھی توسیع ہوئی۔
19ویں صدی کے اواخر سے 20ویں صدی کے اوائل تک شہر میں نئے سرے سے تارکین وطن آنے لگے۔ ان کی اکثریت جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور مشرقی یورپ کے ملکوں کے یہودیوں پر مشتمل تھی۔ ان کے بعد چینی، روسی، پولش اور دیگر مشرقی یورپی ممالک سے لوگ آنے لگے۔ تاہم آبادی اور معاشی اہمیت کے باوجود ٹورنٹو کو مانٹریال کے بعد دوسرے بڑے شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم 1834 میں ٹورنٹو کی سٹاک ایکچینج کینیڈا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن گئی۔
1945 تا حال[ترمیم]
دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ حال یورپ سے پناہ گزین اور چینی مزدور نوکریوں کی تلاش میں آنے لگے۔ بعد ازاں اطالیہ اور پرتگال سے تعمیراتی کارکنوں نے بھی یہاں کا رخ کیا۔ 1960 میں نسل پرستی پر مبنی امیگریشن قوانین کے خاتمے کے بعد دنیا بھر سے لوگ آنے لگے۔ 1951 میں ٹورنٹو کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی اور 1971 میں بیس لاکھ ہو گئی۔ 1980 کی دہائی میں ٹورنٹو کی آبادی مانٹریال سے بھی بڑھ گئی اور اسے اہم ترین معاشی مرکز کا درجہ مل گیا۔
اس وقت چونکہ کیوبیک میں خود مختاری کی تحریک زوروں پر تھی تو بہت ساری قومی اور بین الاقوامی تجارتی کارپوریشنوں نے اپنے صدر دفاتر مانٹریال سے ہٹا کر ٹورنٹو اور دیگر مغربی شہروں کو منتقل کر دیئے۔
1954 میں ٹورنٹو اور اس کے مضافات کو ملا کر ایک بڑی علاقائی حکومت تشکیل دے دی گئی۔ شہری حکومت اپنی حدود سے باہر نکل کر بھی پولیس، شاہراہیں اور پبلک ٹرانزٹ کی سہولیات مہیا کرنےلگی۔ اسی سال یہاں ہیزل نامی ہری کین یعنی سمندری طوفان آیا۔ اس طوفان سے تیز ہوائیں اور اچانک سیلاب آئے۔ ٹورنٹو کے علاقے میں 81 افراد ہلاک اورتقریباً 1900 گھرانے بے گھر ہوئے۔ معاشی نقصان کا اندازہ اڑھائی کروڑ ڈالر لگایا گیا۔
1967 میں ٹورنٹو کے پاس موجود ۷ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہمسائی بڑی آبادیوں میں ضم کر دی گئیں۔
6 مارچ 2009 کو اس شہر کی 175ویں سالگرہ منائی گئی۔ 26 اور 27 جون کو ٹورنٹو میں جی 20 کی چوتھی کانفرنس ہوئی جس کے لئے کینیڈا کی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن کیا گیا۔ شہر میں ہونے والے ہنگاموں سے لاکھوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
جغرافیہ[ترمیم]
ٹورنٹو کا کل رقبہ 630 مربع کلومیٹر ہے۔ شمالاً جنوباً کل 21 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 43 کلومیٹر لمبا ہے۔ جھیل اونٹاریو کے کنارے اس کا ساحل کل 26 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو کے کچھ جزائر اس جھیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی جنوبی حد جھیل اونٹاریو، ایٹوبی کوک کی کھاڑی اور ہائی وے نمبر 426 شمال میں، سٹیلز ایونیو شمال میں جبکہ روگ دریا مشرق میں حد بندی کا کام دیتا ہے۔
خد و خال[ترمیم]
شہر کے درمیان سے دو دریا اور ان کی ڈھیر ساری شاخیں گذرتی ہیں۔ ہمبر دریا مغربی حصے سے جبکہ ڈون دریا مشرق سے گذرتا ہے۔ شہر کی بندرگاہ قدرتی طور پر جھیل اونٹاریو کی لہروں کے نتیجے میں ریت وغیرہ کے جمع ہونے سے بنی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں بندرگاہ کے پاس موجود جزائر بھی بنے تھے۔جھیل میں گرنے والے بہت سارے دریاؤں نے اپنی گذرگاہوں میں گھنے جنگلات سے بھری ہوئی کھائیاں بنا دی ہیں۔ تاہم یہ کھائیاں شہر کے نقشے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ان کھائیوں کی مدد سے شہر میں بارش وغیرہ کے سیلابی پانی کی نکاسی بہت آسان ہو جاتی ہے۔
پچھلے برفانی دور میں ٹورنٹو کا نشیبی حصہ گلیشئر کی جھیل اروکوئس کے نیچے تھا۔ آج بھی شہری حدود اس جھیل کے کناروں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹورنٹو زیادہ تر پہاڑی نہیں تاہم جھیل سے اس کی بلندی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل اونٹاریو کا کنارہ سطح سمندر سے 75 میٹر جبکہ یارک یونیورسٹی کے مقام پر یہ بلندی 209 میٹر ہو جاتی ہے۔
جھیل کا کنارہ زیادہ تر 19ویں صدی کے اواخر میں کی گئی منصوعی بھرائی سے بنا ہے۔
موسم[ترمیم]
کینیڈا کے جنوبی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو کا موسم معتدل نوعیت کا ہے۔ ٹورنٹو کی گرمیاں گرم اور نم جبکہ سردیاں سرد تر ہوتی ہیں۔ شہر میں 4 الگ الگ نوعیت کے موسم پائے جاتے ہیں اور روز مرہ کا درجہ حرارت سردیوں میں بالخصوص کافی فرق ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی اور آبی زخیرے کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں کافی تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رات کا درجہ حرارت سردیوں میں بھی نسبتاً کم سرد رہتا ہے۔ تاہم بہار اور اوائل گرما میں سہہ پہر کا وقت کافی خنک بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ جھیل سے آنے والی ہوائیں ہیں۔ تاہم بڑی جھیل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے برفباری، دھند اور بہار اور خزاں کا موسم تاخیر سے بھی آ سکتا ہے۔
ٹورنٹو میں موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ وقت کے لئے منفی 10 ڈگری سے نیچے رہ سکتا ہے جو ہوا کی رفتار کی وجہ سے زیادہ سرد محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس صورتحال میں برفباری یا بارش بھی شامل ہو جائے تو روز مرہ کی زندگی کے کام کاج رک جاتے ہیں اور ٹرینوں، بسوں اور ہوائی ٹریفک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نومبر سے وسط اپریل تک ہونے والی برفباری زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔ تاہم سردیوں میں اکثر درجہ حرارت کچھ وقت کے لئے 5 سے 12 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے جس سے برف پگھل جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں گرمیوں کا موسم نم رہتا ہے۔ عموماً درجہ حرارت 23 سے 31 ڈگری تک رہتا ہے اور دن کے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ناخوشگوار بن جاتا ہے۔ بہار اور خزاں موسم کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بارش اور برفباری سال بھر ہوتی رہتی ہیں تاہم گرمیوں میں بارش کی مقدار کافی زیادہ رہتی ہے۔ اگرچہ بارشوں میں طویل وقفہ بھی آ جاتا ہے تاہم قحط سالی جیسی صورتحال سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سال بھر میں 32 انچ سے زیادہ بارش جبکہ 52 انچ سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ٹورنٹو میں اوسطاً 2038 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔
شہری خد و خال[ترمیم]
طرزِ تعمیر[ترمیم]
وِل السوپ اور ڈینیئل لیبیس کائنڈ جیسے ماہرین کے نزدیک ٹورنٹو میں کوئی ایک طرزِ تعمیر نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عمارات کا طرزِ تعمیر بدلتا رہتا ہے۔
ٹورنٹو کے افق پر سب سے اہم عمارت ]]سی این ٹاور ہے جو 553 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ برج خلیفہ [[کی تعمیر سے قبل یہ دنیا کی سب سے اونچی آزاد کھڑی عمارت تھی۔
ٹورنٹو میں فلک بوس عمارات کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے جن کی بلندی 90 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ اونچی عمارات کی تعداد کے لحاظ سے]] شمالی امریکہ میں نیو یارک [[اس سے آگے ہے۔
صنعت و حرفت[ترمیم]
ماضی میں ٹورنٹو میں صنعتیں بندرگاہ اور ڈون دریا کے نچلے سرے پر قائم تھیں۔
شہر میں شراب کشید کرنے کے علاقے آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جو شمالی امریکہ میں وکٹوریا طرزِ تعمیر کی بہترین یادگاریں ہیں۔
عوامی جگہیں[ترمیم]
ٹورنٹو میں عوامی چوکوں سے لے کر کھائیوں پر بنے نظارہ گاہوں تک ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔
شہر میں کئی بڑے پارک بھی موجود ہیں جن میں گرینج پارک، موس پارک، الن گارڈنز، لٹل ناروے پارک، کوئینز پارک وغیرہ اہم ہیں۔
چوکوں اور پارکوں میں ہر جگہ عوام کی سہولت کے لئے آئس رنک بنے ہوئے ہیں جہاں لوگ آئس سکیٹنگ کر سکتے ہیں۔
سیاحت[ترمیم]
ٹورنٹو کا سب سے اہم سیاحتی مرکز سی این ٹاور ہے۔ اس ٹاور کے خالقین کے لئے یہ بات خوشگوار حیرت کا سبب ہے کہ ان کے اندازوں کے برعکس 30 سال سے زیادہ عرصے تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی رہی ہے۔ اونٹاریو کا شاہی عجائب گھر بھی سیاحوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہے جہاں دنیا کی ثقافت اور مظاہر قدرت کے متعلق چیزیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 سے زیادہ حیوانی نمونے موجود ہیں جو 260 سے زیادہ انواع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کئی عجائب گھر یہاں موجود ہیں۔
یارک ولے نامی مضافاتی علاقہ ٹورنٹو بھر میں اپنے ریستورانوں اور خریداری کے مراکز کی وجہ سے مشہور ہے۔ اکثر اس علاقے میں شمالی امریکہ کے فلمی ستارے اور اہم شخصیات خریداری کرتی یا کھانا کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سالانہ اوسطاً 5 کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔
گریک ٹاؤن میں موجود ریستورانوں کی تعداد فی کلومیٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
معیشت[ترمیم]
ٹورنٹو کاروباری اور معاشی لحاظ سے اہم بین الاقوامی مرکز ہے۔ عموماً اسے کینیڈا کا معاشی مرکز مانا جاتا ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج کو کاروباری سرمائے کے اعتبار سے دنیا بھر میں 8ویں بڑی مارکیٹ مانا جاتا ہے۔ کینیڈا کے پانچوں بڑے بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے صدر دفاتر ٹورنٹو میں قائم ہیں۔
اس شہر کو میڈیا، پبلشنگ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فلمی صنعت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔
اگرچہ یہاں کی زیادہ تر مینو فیکچرنگ کے مراکز شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں تاہم ٹورنٹو ہول سیل اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ کیبویک اور ونڈسر کی راہداری میں اپنے اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور ریل اور سڑکوں کے بہترین نظام کی بدولت آس پاس موجود گاڑیاں بنانے، فولاد، سٹیل، خوراک، مشینری، کیمیکل اور کاغذ کی مصنوعات ٹورنٹو سے ہی آگے بھیجی جاتی ہیں۔ سینٹ لارنس کی آبی گذرگاہ کی تعمیر جب 1959 میں ہوئی عظیم جھیلیں بحرِ اوقیانوس سے مل گئیں۔
31 دسمبر 2008 کو ٹورنٹو کے قرضے 2.7 ارب ڈالر کے لگ بھگ تھے اور اندازہ ہے کہ 2016 تک ان کی تعداد 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
آبادی[ترمیم]
کینیڈا کی تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ٹورنٹو میں جون 2006 میں 2503282 افراد آباد تھے۔ اس طرح ٹورنٹو کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہر ہے۔ شمالی امریکہ میں اسے پانچواں بڑا شہر مانتے ہیں۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ کینیڈا سے باہر پیدا ہوا ہے۔ یہاں زیادہ تر یورپی افراد آباد ہیں جو کل آبادی کا 52 فیصد سے زیادہ ہیں۔ ان میں برطانوی، آئرش، اطالوی اور فرانسیسی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیائی، چینی، سیاہ فام، فلپائنی اور لاطینی امریکی اہم اقلیتیں ہیں۔ مقامی قبائل کے لوگ کل آبادی کا نصف فیصد ہیں۔
عیسائی مذہب یہاں کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ دوسرے نمبر پر اسلام، پھر ہندو مت، یہودیت، بدھ مت، سکھ مت اور دیگر مشرقی مذاہب بھی موجود ہیں۔
اگرچہ آبادی کی اکثریت انگریزی زبان بولتی ہے تاہم چینی اور اطالوی دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ نتیجتاً شہر میں ہنگامی سہولیات کے لئے موجود نمبر 911 تقریباً ڈیڑھ سو مختلف زبانوں میں خدمات سر انجام دیتا ہے۔
جرائم[ترمیم]
ٹورنٹو میں جرائم کی شرح اتنی کم ہے کہ اسے شمالی امریکہ کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ مثلاً 2007 میں یہاں قتل کی شرح ایک لاکھ افراد میں 3.3 تھی۔ اٹلانٹا میں یہی شرح تقریباً 20 فیصد، بوسٹن میں 10 فیصد سے زیادہ، لاس اینجلس میں 10 فیصد، نیویارک شہر میں 6 فیصد سے زیادہ، وینکوور میں 3 فیصد جبکہ مانٹریال میں 2.6 تھی۔ لوٹ مار کے واقعات ایک لاکھ افراد میں 207 تھے۔ تاہم ٹورنٹو میں کار چوری کے جرائم کی شرح امریکی شہروں کے تقریباً برابر جبکہ کینیڈا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
ٹورنٹو میں سب سے زیادہ قتل 1991 میں ہوئے تھے جو 89 تھے۔
انتظامی ڈھانچہ[ترمیم]
صحت[ترمیم]
ٹورنٹو میں کم از کم 20 عوامی ہسپتال قائم ہیں۔
کئی سال قبل یہاں ایمرجنسی والے مریضوں کو دیر تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ تاہم آج ہسپتالوں کی صورتحال بدل چکی ہے۔ جس مریض کی جان کو خطرہ ہو، اسے فوری امداد دی جاتی ہے۔ ابتدائی معائینے کے بعد ڈاکٹر فوری طور پر نتیجے سے آگاہ کر دیتا ہے۔ اوسطاً ہر مریض کو ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں ہی طبی امداد مل جاتی ہے۔ مختلف معائینے، ڈاکٹر کی رائے اور ابتدائی امداد انتظار گاہ میں ہی مہیا کر دی جاتی ہے۔ نصف مریضوں کو ایمرجنسی روم سے 4 گھنٹوں میں ہی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ایسے مریض جنہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا، کو 12 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ تاہم ایسے مریض کل تعداد کا دس فیصد تھے۔
ٹورنٹو میں ڈسکوری ڈسٹرکٹ میں بائیو میڈیسن کی تحقیق کا مرکز ہے۔ اڑھائی مربع کلومیٹر پر واقع یہ تحقیقی مرکز شہر کے وسط میں ہے۔
نقل و حمل[ترمیم]
ٹورنٹو میں شمالی امریکہ میں تیسرا بڑا ٹرانزٹ سسٹم موجود ہے۔ اس نظام میں زیر زمین سرنگوں پر مبنی سب وے اور ہوا میں معلق کی گئی لائنیں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں بسوں اور ٹیکسیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ شہر کے سب وے کے نظام کو توسیع دینے کے بہت سارے منصوبے بن رہے ہیں تاہم معاشی پسِ منظر میں ان کا عملی جامہ پہننا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔
ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ائیرپورٹ کینیڈا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے جو شہر کے مضافاتی علاقے مسی ساگا میں واقع ہے۔
ٹورنٹو میں کئی ایکسپریس وے اور صوبائی شاہراہیں موجود ہیں جو ٹورنٹو کو ٹورنٹو گریٹر ایریا سے ملاتی ہیں۔ ہائی وے نمبر 401 شہر کے وسط سے گذرتی ہے۔ اسے شمالی امریکہ کی مصروف ترین اور دنیا کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔
جڑواں شہر[ترمیم]
- چونگ چنگ ، چین
- شکاگو ، امریکہ
- فرینکفرٹ ، جرمنی
- میلان ، اطالیہ
- ہوچی منہ سٹی ، ویتنام
- کیو، کیو، کیوٹو ، ایکواڈور
- سگامی ہارا ، جاپان
- وارسا ، پولینڈ
حوالہ جات[ترمیم]
- ^ خطا در حوالہ: غلط
<ref>ٹیگ؛ حوالہ بنام
2006censuspopکے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
- ^ 2.0 2.1 "Population and dwelling counts, for urban areas, 2006 and 2001 censuses - 100% data". Statistics Canada, 2006 Census of Population. 2007-03-13. http://www12.statcan.ca/english/census06/data/popdwell/Table.cfm?T=801&PR=0&SR=1&S=3&O=D. Retrieved 2007-03-19. | <urn:uuid:6db14ed9-6ded-48bc-a4de-13b4f98f89cf> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/Toronto | 2013-06-19T16:25:45Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368708882773/warc/CC-MAIN-20130516125442-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.987089 | Arab | 117 | {} |
بدھ مت سے وابستگی
نظرِ ثانی شدہ اقتباس:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.
میں بچپن سے ہی ایشیائی ثقافتوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ تقریباً ۱۳ سال کی عمر میں میں نے ہتھ یوگا کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔ ١۶سال کی عمر میں میں نے رٹگرز یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لیا جہاں میں نے دو سال کیمسٹری پڑھی۔ اس دوران میں نے ایک اختیاری کورس بھی پڑھا جو کہ ایشیائی تہذیبوں کے بارے میں تھا جو مجھے بہت ہی دلچسپ لگا۔ ایک لیکچر کے دوران پروفیسر صاحب نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں بدھ مت کے پھیلنے کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ترجمے کا سلسلہ کیا تھا اور بدھ مت نے کیونکر اپنے آپ کو مختلف ثقافتوں میں ڈھال لیا تھا۔ یہ بات میرے دل کو لگی کہ یہی تو میں تفصیل سے جاننا چاہتا تھا۔
پھر جب پرنسٹن یونیوورسٹی نے شعبہ مطالعاتِ ایشیا میں نئے تدریسی پروگرام کا آغاز کیا تو میں نے وہاں بھی داخلے کی درخواست دی اور مجھے مطالعاتِ چین کےحصے میں قبول کر لیا گیا۔ مجھے خاص طور پر اس موضوع سے دلچسپی تھی کہ بدھ مت کی آمد چین میں کیونکر ہوئی، اس پر چینی ثقافت کے کیا اثرات پڑے اور پھر خود بدھ مت نے بعد کے چینی فلسفے کو کیسے متاثر کیا۔ میں یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ روز مرہ زندگی میں بدھ مت پر کیسے عمل کیا جاتا ہے۔ پرنسٹن میں تعلیم کے دنوں میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ گَیشے وانگیال بھی میرے آس پاس کے علاقے میں مقیم ہیں۔ گَیشے وانگیال روس کے وولگا منطقے کے ایک منگول کالمیک گَیشے تھے اور امریکہ میں پہلی تبتی – منگول خانقاہ کے سربراہ تھے۔ ان دنوں مَیں صرف یہ خیال آرائی کیا کرتا تھا کہ بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق سوچنا اور عمل کرنا کیسا ہوتا ہوگا۔
۱۹۶۵ء میں مجھے مشرق بعید کی زبانوں کے شعبے میں عہد وسطی کے چینی فلسفے اور تاریخ کے موضوع پر-ایم اے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ پہلا سال ختم کرتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سنسکرت پڑھ کر ہندوستانی بدھ مت کا زیادہ گہرائی میں مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ بدھ مت ہندوستان تک کیسے پھیلا تھا۔ سو میں نے سنسکرت زبان اور ہندوستانی فلسفہ سیکھنا شروع کیا۔ پی-ایچ-ڈی کے لیے میرا مقالہ مشرقِ بعید کی زبانوں کے اور مطالعاتِ سنسکرت و ہند کے شعبوں کی مشترکہ ڈگری کے لیے تھا۔
۱۹۶۷ء میں جب میں نے ہندوستانی بدھ مت کے مطالعے کے جزو کے طور پر تبتی زبان سیکھنا شروع کی تو مجھے گَیشے وانگیال کا پتا چلا اور اس کے بعد جب بھی میں اپنے خاندان والوں سے ملنے کے لیے نیو جرسی آتا، ان سے ضرور ملاقات ہوتی۔ افسوس یہ رہا کہ ہارورڈ اتنی دور تھا کہ اس فاصلے سے اس گرو سے کچھ سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ البتہ یہ ہوا کہ گَیشے وانگیال کا ایک شاگرد رابرٹ تھرمن ہارورڈ میں میری اکثر کلاسوں میں موجود ہوتا تھا۔ رابرٹ پہلا مغربی شخص تھا جو تبّت کی بودھ روایت کا راہب بنا۔ اس نے مجھے مغربی تقدس مآب دلائی لاما کے بارے میں بتایا اس سے یہ بھی پتا چلا کہ تبّت کی جو بدھ آبادی ہندوستان ہجرت کرگئی تھی ان میں بدھ مت ایک زندہ روایت کے طور پر موجود ہے۔ اسی سے سنا کہ اس نے ہندوستان جا کر کیسے تعلیم حاصل کی اس کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں تو میں بھی یقیناً ایسا ہی کر سکتا ہوں۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا میں نے فل برائٹ وظیفے کے لیے درخواست دے دی تاکہ ہندوستان جا کر اپنے پی-ایچ-ڈی کے مقالے کا تحقیقی کام تبتوں کے ساتھ مل کر کر سکوں۔ مجھے وظیفہ مل گیا اور ۱۹۶۹ء میں ہندوستان جانے کا موقع ملا۔
دھرمشالے میں میری ملاقات تقدس مآب دلائی لاما اور ان کے اتالیق حضرات سے ہوئی۔ مجھ پر یہ دیکھ کر بہت گہرا اثر ہوا کہ یہ لوگ جس بات کو مانتے تھے اور جس پر عمل پیرا تھے وہ ایک حقیقت تھی۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کسی امریکی یونیورسٹی میں بدھ مت کا مطالعہ زیادہ تر بدھ مت کی تحریروں کے تاریخی اور لسانی تجزیہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ ایک خشک مضمون تھا اور پڑھتے ہوئے یوں لگتا تھا کہ گویا ہم کسی ایسی چیز کا مطالعہ کر رہے ہیں جو آج نہیں قدیم مصری مذاہب کی طرح صدیوں پہلے موجود تھی۔ ہندوستان میں بدھ مت کی تبتی روایت ایک زندہ چیز تھی۔ اب میں ان کتابی لوگوں سے نہیں سیکھ رہا تھا جنہیں دھرم کا کوئی ذاتی تجربہ نہ تھا۔ اب وہ لوگ میرے استاد بن گئے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے تھے، ان پر عمل کرتے تھے۔ یہ تعلیمات بدھ فلسفی سے لے کر آج تک، بغیر منقطع ہوئے، استاد سے شاگرد کو منتقل ہوتی آئی ہیں۔ یہ سب سیکھنے کے لیے مجھے بس اتنا کرنا تھا کہ میرے ارد گرد جو بڑے گرو اور استاد موجود تھے ان کی خدمت میں خود کو ایک آمادگی کے ساتھ پیش کر دوں۔اب میں نہ صرف اس چیز کو توجہ سے دیکھ رہا تھا کہ بدھ مت میں ایک ثقافتی ماحول سے نکل کر دوسرے میں جاتے ہوئے کیونکر تبدیلیاں واقع ہوئیں بلکہ بدھ مت میرے لیے ایک ایسا زندہ فلسفہ اور مذہب بن گیا تھا جس پر میں عمل بھی کر سکتا تھا۔
پی-ایچ-ڈی کے لیے اپنی تحقیق کی خاطر میں نے ایک بڑے لاما (روحانی گرو) گَیشے نگاوانگ دھارگیئے سے تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے بدھ مت پر عمل بھی کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد تقدس مآب دلائی لاما نے دھرمشالہ میں تبتی تحریروں اور ذخیروں کے کتب خانے قائم کی اور میرے استاد کو ہدایت کی کہ وہ اس کتب خانے میں غیر ملکیوں کو بدھ مت کے فلسفے اور گیان مراقبہ کی تعلیم دیا کریں۔ لاما شرپا اور لاما کھملُنگ دو نوجوان رنپوچے تھے جنہوں نے گَیشے وانگیال کے زیرِ نگرانی امریکہ میں انگریزی سیکھی تھی اور میں ان کے ساتھ مل کر تقدس مآب دلائی لاما کی کچھ تحریروں کا ترجمہ کر رہا تھا۔ دلائی لاما نے ان دونوں کو مترجم کے طور پر مقرر کیا۔ جب میں نے درخواست کی کہ مجھے بھی مدد کرنے کی اجازت دی جائے تو تقدس مآب دلائی لامہ نے فرمایا، "ضرور، مگر پہلے امریکہ جاؤ، مقالہ جمع کرواؤ اور ڈگری حاصل کرو۔"
میں نے تحقیقی مقالہ جمع کروایا، یونیورسٹی میں پڑھانے کی نوکری کی پیشکش ہوئی جسے میں نے شکریے کے ساتھ رد کر دیا اور گَیشے دھارگیئے سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستان لوٹ آیا۔ ہم نے مل کر مزید ترجمے کیے اور جب تبتی زبان میں میری بول چال کی مہارت بڑھ گئی تو میں ایک بڑے لاما کے مترجم کے طور پر کام کرنے لگا۔ یہی لاما میرے اصل استاد بھی تھے۔ ان کا نام تسنژاب سرکونگ رنپوچے تھا اور وہ تقدس مآب دلائی لاما کے نائب اتالیق اور بڑے استادِ منطق رہ چکے تھے۔ میں سرکونگ رنپوچے کے ساتھ مترجم کے طور پر دو بین الاقوامی تدریسی دوروں میں بھی شریک سفر تھا۔ جب یہ عظیم گرو ۱۹۸۳ء میں اس دنیا سے کوچ کر گئے تو کئی ملکوں سے بدھ مت کے مراکز نے مجھے اپنے ہاں آنے اور درس دینے کی دعوت دی۔
ہندوستان آ کر مجھے اس چیز نے بہت متاثر کیا کہ بدھ مت نہ صرف روز مرہ کی زندگی کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے پاس ان بہت سے سوالوں کا جواب بھی موجود تھا جن کا حل تلاش کرنا اس سے پہلے میرے لیے ممکن نہ تھا۔ یہ سوالات کچھ یوں تھے۔ "میری زندگی ایسی کیوں تھی؟" "میری زندگی میں یہ سب کچھ کیوں ہوا؟" بدھ مت کرموں کے جو معنی بتاتا ہے اس سے ان سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ دریافت میرے لیے بہت دلچسپی کی حامل تھی کیونکہ اسی سے میں اس قابل ہوا کہ زندگی میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کو ایک معنویت دے سکوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ بدھ مت ذہن اور اس کی کار کردگی کی جس طرح وضاحت کرتا ہے وہ صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ جب ہم زندگی میں پیش آنے والے روز مرہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے بدھ مت کے طریقوں پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مؤثر نتائج کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس چیز نے بہت ہمت دی کہ میں نے ٹھیک راستہ چنا تھا جو میرے لیے ہر طرح مناسب تھا۔
تدریس و ترجمہ کرتے ہوئے میری کوشش یہ رہتی ہے کہ میں نے بدھ مت کے بارے میں جو سبق سیکھا اور ایک سماجی، ثقافتی منطقے سے دوسرے میں اس کے پھیلنے کے بارے جو کچھ جانا اس کو استعمال کروں۔ میرے مطالعے اور جائزے نے مجھے اس نکتے سے آگاہ کیا ہےکہ اگر بدھ مت کو مغربی دنیا اور جدید معاشروں کے سامنے پیش کرنا ہے تو کون سے عوامل ایسے ہیں جن کے بارے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ماضی میں بدھ مت نے ہر نئے ثقافتی ماحول سے کیونکر سازگاری پیدا کی مجھے امید ہے کہ میں جدید دنیا کے دیگر ممالک میں اس کی اشاعت کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہوں۔ | <urn:uuid:42c58739-72c5-4e2a-bcdc-4ee64a0a9b82> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.berzinarchives.com/web/ur/about/author/becoming_involved_buddhism.html | 2013-05-18T13:32:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382398/warc/CC-MAIN-20130516092622-00004-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.988597 | Arab | 32 | {} |
ابو جعفر المنصور
ابوجعفر منصور کی ولادت 711ء ، 95 ھ میں اپنے دادا علی بن عبداللہ عباسی کی موجودگی میں حمیمہ قصبہ میں ہوئی ۔ ابوجعفر اس کی کنیت اور منصور لقب تھا۔ اس کی ماں بربری النسل کی ایک لونڈی تھی جس کا نام سلامہ تھا۔ وہ بڑی عابد و زاہد خاتون تھی۔ ابوجعفر کا خاندان بڑا متمول اور علم و فضل میں یکتا تھا۔ لہذا بچپن میں اسے جو شاندار ماحول میسر آیا اس نے اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بڑا حصہ ادا کیا۔ عہد طفولیت ہی سے اسے کھیل کود کی بجائے لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق تھا ۔ اس کے والد نے اس کی تعلیم کا خصوصی بندوبست کیا۔ چنانچہ علم الحدیث ، علم الانساب اور فقہہ و ادب میں اس نے بڑی مہارت حاصل کی۔ وہ بڑا فصحیح و بلیغ خطیب اور سخن گو تھا ۔ حکمت و دانائی اس کی گھٹی میں تھی ۔ تحریک عباسی کے عہد شباب میں وہ بڑا سرگرم عمل رہا ۔ سفاح کے عہد حکومت میں جزیرہ ، آذربائیجان ، اور آمینیہ کی حکومت اس کے سپرد تھی ۔ وہ اپنے بھائی کے تمام فیصلوں میں شریک رہا۔ بنو عباس کے ابتدائی دور کے خلفشار کو دور کرنے میں اس نے بڑی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔
فہرست
خلافت [ترمیم]
سفاح نے اپنی زندگی میں ہی ابوجعفر منصور اور اس کے بعد عیسی بن موسی کے حق میں وصیت کر دی تھی ۔ سفاح کی وفات کے وقت وہ حج کے لیے مکہ مکرمہ میں تھا۔ بھائی کی موت کی خبر پاکر وہ فوری بغداد پہنچا ۔ جامعہ مسجد کوفہ میں جمعہ کی نماز پڑھائی اور اپنا پہلا خطبہ دیا ۔ وہ مسند خلافت پر 754ء کو متمکن ہوا۔ عمر میں اپنے بھائی سفاح سے بڑا تھا ۔منصور خلافت سنبھالنے کے بعد درالحکومت انبار میں جشن خلافت منا کر اپنی حکومت کا افتتاح کیا۔ اس وقت اس کی عمر اکتالیس برس تھی ۔
ابتدائی مشکلات [ترمیم]
اگرچہ خلافت عباسی کی بنیادیں رکھی جا چکی تھیں لیکن سفاح کو چونکہ بہت کم عرصہ حکومت کرنے کا موقع ملا ااس لیے تخت نشین ہونے کے بعد منصور کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود عباسیہ خاندان میں پھوٹ کے مواقع موجود تھے جو ان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس کے علاوہ ابومسلم خراسانی اور ابوجعفر منصور کے درمیان رنجشیں موجود تھیں۔ منصور ابومسلم کو عباسی خلافت کے خلاف سب سے بڑا خطرہ سمجھتا تھا ۔ منصور نے ابومسلم کو قتل کرا دیا جس سے مزید بغآوتوں نے جنم لیا۔ بنو امیہ کے خاندان کے حامی بھی منصور کے لیے خطرہ تھے جنہوں نے جزیرہ میں بغاوت کو ہوا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ بربر اور ترک بغآوتیں ، خوارج کی سرگرمیاں۔ عربی قبائلی عصبیتیں ، اہل بیت کی تحریک ، روم کی طرف سے حملے کا خطرہ اور ملکی خزانے میں مالی بحران کچھ ایسی مشکلات تھیں جس کی وجہ سے منصور کی حکومت کو شدید خطرہ درپیش رہا۔
بغاوتیں اور سدباب [ترمیم]
منصور نے خلافت کے سب سے بڑے داعی عبداللہ بن علی کی بغاوت کو ابومسلم خراسانی کے ذریعے سے ختم کروا دیا ۔ عبداللہ کو گرفتار کرنے کے بعد اس جس مکان میں رکھا گیا اس کی چھتیں گر گئیں جس سے وہ مارا گیا۔ ابومسلم جو کہ عباسیہ خاندان کا سب سے بڑا وفادار تھا اور جس کی بدولت عباسیہ خاندان کو خلافت نصیب ہوئی منصور کو معلوم تھا کہ یہی وہ شخص ہوگا جو کہ عباسی خاندان کے خاتمے کا سبب بنے گا اس لیے منصور نے ابومسلم کو راستے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اس نے ابومسلم کو دربار میں طلب کیا اور وہاں چھپے ہوئے سپاہیوں نے منصور کا سر تن سے جدا کر دیا۔ جب منصور کے بیٹے نے یہ منظر دیکھا تو اس نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ خدمت کا یہ صلہ تو منصور نے جواب دیا کہ خدا کی قسم روئے زمین پر اس سے زیادہ کوئی تمہارا دشمن نہ تھا۔
ابو مسلم کی موت کے بعد خراسان میں بغاوتوں نے سر اٹھایا فیروز سندباد نامی ایک شخص نے بغاوت کا اعلان کیا منصور نے جمہور بن مرار عجلی کو ان کے کچلنے کا حکم دیا ۔ اس نے اس مجوسی کو شکست دی۔ بعد میں جمہور بن مرار عجلی مال غنیمیت پر قابض ہوا اور بغاوت پر اتر آیا ۔ منصور نے اپنے اس سپہ سالار کو بھی شکست دے دی ۔
عراق اور خراسان کے توہم پرست لوگوں کا ایک گروہ جو کہ ابومسلم کا پیروکار تھا وہ بغاوت پر آمادہ ہوا اور منصور کے محل پر حملہ آور ہوئے اس بغاوت میں معن بن زائدہ نے منصور کی جان بچائی بعد میں منصور نے اس فرقے کی بغاوت کا قلع قمع کیا۔
افریقہ کی بربر قبائلیوں کی جانب سے بھی بغاوت کا سلسلہ جاری رہا ۔ وہاں بھیجے گئے کئی سالاروں کو بربروں نے قتل کر دیا۔ مگر عباسی فوجی کمانڈر یزید بن حاتم نے قیروان پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور اردگرد کے علاقوں میں شورشوں کا خاتمہ کرکے شمالی افریقہ میں عباسی تسلط قائم کیا۔ اسی طرح ایک خارجی حسان بن مجالد ہمدانی نے موصل کے قریب بغاوت کا آغاز کیا موصل اور اردگرد کے علاقوں میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرکے وہاں کے حاکم کو شکست دی سرکاری فوج کی ناکامیوں سے منصور سخت پریشان ہوا چنانچہ دارالخلافہ سے افواج روانہ کیں بہرحال مزید کسی کشت خون کے بغیر ہی منصور نے دانائی اور حکمت سے کام لے کر اس بغاوت کو دبا دیا ۔
امام نفس الزکیہ کی بغاوت [ترمیم]
دیکھیے مکمل مضمون امام محمد نفس الزکیہ
منصور کی حکومت کی خلاف سب سے بڑا خروج امام محمد نفس الزکیہ کا تھا۔ امام نفس الزکیہ اپنی پاکبازی اور پرہیز گاری کی بدولت عوام میں بہت مقبول تھے۔ امام جعفر صادق کے مقابلے میں وہ خلافت کے پرجوش داعیوں میں سے تھے۔ امام حسن کی چوتھی پشت سے تعلق رکھتے تھے۔ دوسری طرف بنو عباس کی طرف سے چونکہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بنو امیہ کے خلاف بغاوت کامیاب ہونے کی صورت میں اہل بیت کو ہی خلافت کے مسند پر بٹھایا جائے گا لیکن عباسی اپنے اس وعدے سے پھر گئے یوں عام عوام میں اور خاص طور پر شیعہ آبادی میں عباسی خاندان کی اس وعدہ خلافی کے خلاف ایک ردعمل موجود تھا۔ منصور نے امام محمد نفس الزکیہ کو گرفتار کرنے کی کوئی بار کوشش کی مگر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں کافی عرصہ تک امام صاحب روپوش رہے ۔ آخر کار 762ء کو امام نفس الزکیہ مدینہ میں ظاہر ہوئے اور وہاں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ بہت جلد حجاز اور یمن کے لوگوں نے ان کو اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا۔ یوں خروج کی ابتدا ہوئی۔ امام الزکیہ کی اس تحریک کو اس وقت کے جید ہستیوں کی بھی حمایت حاصل رہی ان میں امام مالک اور امام ابوحنیفہ شامل ہیں۔ منصور نے مدینہ منورہ ان کی گرفتاری کے لیے افواج روانہ کیں امام صاحب نے عباسی فوج کی آمد کی اطلاع پر ساتھیوں سے مشورہ کیا ۔ اور مدینہ شہر میں محصور ہوگئے ۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ یوں جنگ کے دوران امام صاحب کو شہید کر دیا گیا۔ ان کے سر کو عبرت کے لیے مدینے کی گلیوں میں پھرایا گیا۔ اس کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نفس الرضیہ نے بصرہ میں خروج کا اعلان کیا بعد میں عباسی فوجوں نے ان کو بھی جنگ میں شہید کر دیا۔ یوں منصور اپنے خلاف اس بڑی بغاوت کو ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ مگر اس نے ایک ایسے شخص کا خاتمہ کیا جس نے اپنی تحریک کی بنیاد سنت رسول کی بنیاد پر اٹھائی تھی۔ اورامام نفس الزکیہ جیسی پاکیزہ ہستی کی شہادت سے مسلمانوں کو شدید دھچکا لگا۔
فتوحات [ترمیم]
بغاتوں کو ختم کرنے کے بعد منصور نے فتوحات کی طرف توجہ کی سندھ میں کمزور ہوتی حکومت کو پھر سے مضبوط کیا اور اردگرد کے تمام ہندو راجاؤں کو مطیع و فرمانبردار بنایا۔ نظام میں اصلاحات کی بدولت سندھ میں خوشحالی کا دور شروع ہوا۔ طبرستان اور دماوند پر قبضہ کیا اور ترکوں کی سرکوبی کی ۔ روم پر لشکر کشی کی اور بہت سے روم کے مفتوحہ علاقے دوبارہ بازیاب کرائے ۔ دوسری طرف اندیس میں اموی خلافت کا آغاز ہو چکا تھا ۔ عبدالرحمن الدخل نے وہاں ایک مضبوط ریاست قائم کی منصور نے اندلس پر حملہ کرکے اسے اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہا لیکن عبدالرحمن کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کھا کر بچے کچھے عباسی سپاہی لوٹ آئے۔ منصور نے عبدالرحمن کی بہادری اور عزم و حوصلہ کو سراہتے ہوئے اسے مسقر قریش یعنی شہباز کا لقب دیا۔ عباسیوں نے اس کے بعد کبھی اندلس کا رخ نہیں کیا۔
کارہائے نمایاں [ترمیم]
منصور نے بغاوتوں کو فرو کرکے ایک مضبوط عباسی حکومت کی بنیاد ڈالی اور ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی طرف توجہ کی۔ اسی ملکی استحکام کی وجہ سے ان کے جانشینوں نے عظیم الشان کارنامے انجام دئیے۔ منصور نے ایک ایسی حکومت اپنے جانشین کے حوالے کی جس کا خزانہ پر ، لوگوں کے دل امن سے معمور اور رعایا خوشحال ، تجارت روبہ ترقی اور ریاست بے حد مستحکم تھی۔ اس نے فوج کو مستحکم کیا۔ ان کی تنخواہوں کا باقاعدہ انتظام کیا فوجی چوکیاں اور چھاونیاں تعمیر کیں۔ محکمہ جاسوسی کو بہتر بنایا۔ اس نے علویوں کی طاقت کا خاتمہ کیا جس سے عباسی خلافت کا وجود یقینی ہوگیا۔ اس نے خلافت کے مذہبی تقدس کو بحال کیا اور یہ نظریہ پیش کیا کہ چونکہ بنوعباس بھی اہل بیت نوبی ہیں لہذا سیاسی قیادت کے علاوہ مذہبی سیادت یعنی امامت بھی ان ہی کا حق ہے۔ یوں مستقبل میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی قوت اور غلبہ کھو جانے کے باوجود صدیوں تک عباسی خلافت کی اسلامی دنیا میں مرکزی اور روحانی حیثیت قائم رہی۔ مالیات کے محکمے کو مستحکم کیا ۔ اس کا مشہور قول ہے کہ دولت حکومت کے لیے حصن اور دین و دنیا کے لیے بمنزلہ رکن ہے۔اپنے اس مقولہ پر عمل پیرا ہو کر اس نے ساری عمر فضول خرچیوں سے اجتناب برتا اور کفایت شعاری کو معمول بنا لیا۔ ان کی وفات کے وقت خزانہ مال و دولت سے پر تھا۔ یوں رعایا کی خوشحالی کا آغاز ہوا۔
منصور خود صاحب علم و فضل تھا لہذا اس کی ذاتی دلچسپی کی بدولت اس عہد میں بڑا عظیم عملی و ادبی کام ہوا ۔ اموی دور میں کتاب و سنت کے علوم پر بڑا پائیدار کام ہوا تھا لیکن منصور کے عہد میں دیگر علوم کی بھی آبیاری ہوئی ۔ عربی زبان کے علاوہ فارسی زبان میں بڑی بڑی تصانیف منظر عام پر آئئیں ان کے عہد میں امام مالک اور امام ابوحنیفہ جیسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں۔جناب ثفیان ثوری ، ابن لیہہ ، ابن مبارک ، امام ابویوسف ، ان جریح ، عبدالرحمن بن عمر اوزاعی ، حماد بن سلمی اور ابن ابی عمرو نے کتب و حدیث تحریر کیں ، جلیل القدر علماء و محدثین کا تعلق ان کے دور سے ہے۔ ساتھ ہی علوم نقلیہ کے ساتھ علوم عقلیہ پر بھی بڑی بڑی تخلیقات منظر عام پر آئیں۔ منصور نے فلسفہ کے علوم کو رواج دینے کی طرف توجہ کی۔ اس نے قیصر روم کو لکھ کر اقلیدس اور طبیعیات کی کتب ترجمے کے لیے منگوائیں ۔ اس کی سرپرستی کی بنا پر عبداللہ بن مقنع جیسے ادیب اور فلسفی ۔ نوبخت اور ابراہیم جیسے ماہر فلکیات دربار سے وابستہ ہوئے ۔ کلیہ و دمنہ اور سدھانت کے تراجم بھی اسی دور میں کیے گئے۔ سریانی ، یونانی اور سنسکرت سے مختلف کتابوں کو عربی اور فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔
بنی امیہ خالص عربی حکومت تھی عباسی بھی نسل کے لحاظ سے عرب تھے لیکن سیاسی اور انتظامی لحاظ سے حکومت ایرانی تھی۔ فارسی زبان ، رسم و رواج آداب اور اطوار اختیار کیے گئے۔ اس نے فوج اور انتظامیہ میں غیر عرب عناصر کو شامل کیا وہ پہلا شخص تھا جس نے موالیوں کو بہت سے کاموں پر مامور کیا۔ اور انہیں عربوں پر ترجیح دی۔ یوں ان کا اعتماد حکومت پر بحال ہوا۔
منصور کے دور میں تعمیرات کے شعبے میں بھی بہت سے کام ہوئے ۔ مسجد حرام کی توسیع ہوئی ۔ آب پاشی کی طرف توجہ کی گئی اور رفاعہ عامہ کے نقطہ نظر سے بہت سے پل نہریں اور نئی بستیاں آباد کی گئیں۔ اس حوالے سے اس کا سب سے بڑا کارنامہ بغداد کی تعمیر ہے ۔ فرقہ راوندیہ کی فساد کے بعد اس نے دارلحکومت کی تبدیلی کا سوچا اور دریائے دجلہ کے کنارے ساسانی درالحکومت مدائن کے قریبی مقام کو اپنے دارلحکومت کے لیے منتخب کیا ۔ اور بغداد اس کا نام رکھا۔ اس نے 751ء میں بغداد کی بنیاد رکھی اور خالد برمکی کو اس کی تعمیر کا انچارج مقرر کیا۔ شہر کی تعمیر میں بے حد فیاضی سے کام لیا گی۔ شہر اپنی ساخت کے لحاظ سے گول تھا اس کے اردگرد دوہری فصیل بنائی گئی اس کے چار دروازے تھے۔ ان چار دروازوں میں سے چار سڑکیں نکالی گئیں جو باہم ایک نقطہ پر جا کر مل جاتی۔ اس مقام پر خلیفہ کا محل تھا جس کا نام قصر الخلد تھا۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ عباسیہ خاندان کا اولین بانی ابوالعباس عبداللہ سفاح تھا۔ مگر اس کا دور جنگ و جدل اور مخالف قوتوں کی شورش کا دور تھا۔ مگر ابوجعفر منصور نے جس طرح بطور جانشین ان سب چیزوں پر قابو پایا اور اس کو استحکام بخشا اسے جائز طور پر بنو عباس کا حقیقی بانی قرار دیا جاسکتا ہے۔
شخصیت و کردار [ترمیم]
منصور ایک خوبرو ، دراز قد ، گندم گوں اور دبلے پتلے جسم کا مالک انسان تھا اس کے رخسار پر گوشت کم تھا اور داڑھی گھنی تھی جسے سیاہ رنگ سے خضاب کرتا تھا ۔ وہ کم گو اور سنجیدہ مزاج تھا اور اس کے چہرہ پر وقار اور ہیبت چھائی رہتی تھی ۔ خلوت میں خوش اخلاق اور خوش مزاج تھا۔ مسعودی کا بیان ہے کہ جب تک وہ لوگوں میں نہ نکلتا اس وقت تک بہترین اخلاق کا انسان ہوتا۔ وہ بچوں کی شرارت کو بہت پسند کرتا تھا ۔ جب وہ لباس پہنے باہر نکلتا تو اس کے چہرہ پر سنجیدگی و ہیبت طاری ہو جاتی ۔ اپنی بہترین عادات و خصائل کی بنا پر مورخین نے ان کی بڑی تحسین کی ہے۔
ہمت و شجاعت [ترمیم]
تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد منصور کو جو مشکلات درپیش رہیں اس نے ان سب کا ہمت مردانہ اور شجاعت سے مقابلہ کیا۔ واسطہ کے محاصرہ کے دوران اس کے حریف یزید بن ہبیرہ نے اس کی مردانگی و شجاعت کی داد ان الفاظ میں دی۔ {اس نے جب شہر واسطہ کا محاصرہ کیا تو میرے سر میں ایک بھی سفید بال نہیں تھا اور جب مقابلہ کرنے کے لیے نکلا تو میرے سر میں ایک بھی بال سیاہ نہیں رہا} وہ ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔
انتظامی صلاحیتیں [ترمیم]
وہ بڑا محنتی اور فرض شناس انسان تھا ۔ وہ اپنا اکثر وقت حکومتی کاموں میں صرف کرتا ۔ نماز صبح سے فارغ ہوتے ہی دوپہر تک حکومت کے ہر طرح کے معاملات اور مسائل پر غور کرتا اور احکامات صادر کرتا ۔ عصر کے بعد گھر والوں کے ساتھ بیٹھتا اور عشاء کے بعد پھر باہر سے آئے ہوئے مراسلات پر غور و خوص کرتا اور ارکان سلطنت سے مشورہ کرتا۔ ایک تہائی رات گئے آرام کرنے کی خاطر بسر کی طرف لوٹتا۔
دور اندیشنی [ترمیم]
مسعودی کا بیان ہے کہ منصور فوجی تدبیر اور حسن سیاست کی معراج کمال تک پہنچا ہوا تھا۔ جس معاملہ میں نفع کی توقع ہوتی اس میں بے دریغ پیسا خرچ کرتا اور جہاں روپیہ ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا وہاں معمولی رقم بھی خرچ نہ کرتا۔ وہ رائے اور تدبیر میں دوراندیش اور ایک تجربہ کار حکمران تھا۔
حاضر دماغی [ترمیم]
ابن ہبیرہ کی رائے ہے کہ میں نے جنگ اور امن دونوں حالتوں میں کسی شخص کومنصور سے زیادہ ہوشیار اور چالاک ، بیدار اور چوکنا نہیں پایا۔ کھٹن سے کھٹن حالات میں وہ حوصلہ نہیں ہارتا تھا ۔ بلکہ سیاسی داؤ گھاٹ ، مکر و فریب اور حیلہ سازی سے کام لے کر دشمن پر کامرانی حاصل کر لیتا۔ ابومسلم کے قتل میں اس نے سازش اور فریب سے کام لیا ۔ اپنی ذہانت و فطانت اور حیلہ بازی کی بنا پر وہ ہر طرح کے پر خطر حالات میں بھی کامیاب و کامران نکلا
کفایت شعاری [ترمیم]
منصور روپیہ کے استعمال میں بڑا محتاط واقعہ ہوا تھا۔ وہ اپنے کارکنوں سے ایک ایک پائی کا حساب لیتا تھا۔ اس کی کفایت شعاری کے عجیب و غریب قصے مشہور ہوئے۔ طبری نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک دن منصور نے اپنے غلام سے کہا کہ میرے پرانے پھٹے کپڑے اکھٹے کرو ۔ اور جب مہدی میرے پاس حاضر ہو وہ سب کپڑے میرے پاس لے آنا۔ اتنے میں مہدی آ گیا تو منصور ان پیوندوں کا اندازہ لگانے لگا کہ کہاں ٹھیک لگ سکیں گے۔ یہ عالم دیکھ کر اس کا جانشین مہدی مسکرایا اور کہا اے امیر المومنین اسی وجہ سے لوگوں میں چرچا ہے کہ دینار و درہم اور اس سے کم مالیت کے سکہ پر امیر المومنین کی نظر رہتی ہے منصور نے برجستہ جواب دیا کہ جو شخص اپنے پھٹے کپڑے کی اصلاح نہیں کرتا وہ نئے کپڑے کا مستحق نہیں۔ اس کی اسی عمل کی وجہ سے جب اس کی وفات ہوئی تو خزانہ دولت سے بھرا ہوا تھا۔
سادگی و پاکیزگی [ترمیم]
اس کی نجی اور ذاتی زندگی سادگی کا نمونہ تھی ۔ ابن خلدون نے اس کی سادگی پر اسے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ وہ پابند و صوم صلوۃ تھا ۔ اکثر پیوند لگے کپڑے پہنتا ۔ اس کے کمرہ کے اندر ایک ٹاٹ پچھا ہوتا جہاں منصور کے بستر ، لحاف اور توشک کے کچھ اور موجود نہیں ہوتا۔ موسیقی سے اسے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ عیش و عشرت سے اسے نفرت تھی۔
سخت گیری [ترمیم]
منصور نے بغاوتوں کے استیصال اور ملکی امن و امان کے قیام میں لوگوں پر بڑی بڑی سختیاں کیں ۔ امام مالک کو کوڑے تک لگوائے اور امام ابوحنیفہ کو قید میں ڈال دیا گیا ۔ علویوں کے ساتھ بڑا سخت رویہ رکھا ۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا کہ آپ سزا دینے میں کمر بستہ ہیں درگزر سے بھی کام لیا کریں تو منصور نے جواب دیا کہ آل مروان کا خون خشک نہیں ہوا اور آل ابی طالب کی تلواریں ابھی برہنہ ہیں یہ زمانہ ایسا ہے کہ ابھی تک خلفاء کا رعب ان کے دلوں میں قائم نہیں ہوا اور یہ سب اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک لوگ عفو کے معنی ہی نہ بھول جائیں
عدل و انصاف [ترمیم]
منصور عام رعایا اور امن پسند شہریوں کے لیے ہر لحاظ سے نرم اور عادل تھا اس کا قول تھا کہ خلیفہ کو صرف تقوی درست رکھ سکتا ہے، اس نے رعایا کو کھلی آزادی عطا کی اور جب کبھی کوئی اسے اپنی تکلیف بیان کرتا تووہ اس کا مداوا کرتا ۔ اس کے نزدیک سلطنت کے چار ضروری ارکان ہے ایک قاضی جو عدل قائم رکھے دوسرے پولیس جو زبردستوں کو ظالموں سے محفوظ رکھے اور کمزوروں کو انصاف دے ۔ تیسرے محصل جو پورا خراج کرے اور چوتھے پرچہ نگار جو لوگوں کے بارے میں صحیح اطلاعات دے۔
علمی فضیلت [ترمیم]
وہ نہ صرف مربی علم و ادب بلکہ خود بڑا عالم اور اعلیٰ درجہ کا خطیب تھا۔ روانی گفتار اور قوت استدلال سے وہ عام و خاص کو اپنی گرفت میں لے لیتا۔ وہ ارباب علم و فن کا بڑا قدر دان تھا۔ اس کے دور میں علمی و ادبی حوالے سے بہت زیادہ کام ہوا۔
وفات [ترمیم]
عبداللہ سفاح نے منصور کے بعد اپنے بھتیجے عیسی بن موسی کو اپنا ولی عہد مقرر کرنا چاہتا تھا ۔ مگر منصور اپنے بیٹے مہدی کو اپنا ولی عہد مقرر کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے اس نے ایک چال چلی اور اپنے چچا عبداللہ بن علی کو گرفتار کرکے عیسی کے حوالہ کیا اور حکم دیا کہ اسے قتل کر دے تاکہ قتل کے جرم کی پاداش میں اسے قتل کیا جاسکے۔ لیکن عیسی نے اسے قید میں رکھا اور قتل نہیں کیا ۔ کچھ عرصہ بعد عیسی نے عبداللہ بن علی کو منصور کے سامنے پیش کرکے اپنی جاں بخشی کروالی لیکن منصور نے عیسی کو ولی عہدی سے ہٹا کر اپنے بیٹے کو جانشین بنا دیا عیسی نے اس فیصلہ پر پس و پیش کیا تو منصور نے اس کی تذلیل کی اور دھمکیاں دیں تنگ آکر عیسی نے دست برداری قبول کر لی اور اس کے بعد منصور نے اپنے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا۔ اپنے جانشین مہدی کے نام وصیت کرنے کے بعد وہ 775ء 148ھ کو حج کے لیے روانہ ہوا ۔ دوران سفر بیمار ہوگیا اور چھ ذی الحج کو بیرمیمون کے مقام پر تریسٹھ سال اور کچھ ماہ کی عمر میں وفات پائی ۔ وفات کے وقت سوائے اس کے خاص خادموں اور وزیر ربیع کے اور کوئی موجود نہ تھا۔ اس کا عہد حکومت تقریبا بائیس سال رہا۔
ابو جعفر المنصورپیدائش: 712ء (93ھ) وفات: 775ء (158ھ)
|مناصبِ اہل سنت|
|پیشرو
السفاح
|خلیفۃ الاسلام
754ء – 775ء
|جانشین
المہدی | <urn:uuid:09efe148-e79c-45d0-8e8d-1c0a3d7ff1ad> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88_%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1 | 2013-05-23T01:57:47Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368702730377/warc/CC-MAIN-20130516111210-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.983049 | Arab | 89 | {} |
گاہکوچ: پانی کی قلت، واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے ملازمین سے عوام نالاں
گاہکوچ (نمائندہ خصوصی) ۔ واٹرسپلائی گاہکوچ کے ملازمین گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے لگے ۔ عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہی ہے ، محکمہ تعمیرات عامہ کے حکام کی غفلت اور غیر ذمہ داری کے بعد سرکاری ملازمین پرائیویٹ کاروبار کرنے میں مصروف ہیں ۔ ماہ صیام میں گاہکو چ کی نشیبی آبادی کربلا کا منظر پیش کرنی لگی ۔ محکمہ تعمیرات عامہ فوری طور پر اصلاح و احوال کرے بصورت دیگر واٹر سپلائی کے محکمے سے دستبردار ہوجائے ۔ عوامی حلقوں نے پانی کا مسئلہ حل نہ کرنے پر محکمہ تعمیرات عامہ کے خلاف احتجاج کی دھمکی دیدی۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی مجرمانہ غفلت نے گاہکوچ کے شہریوں کو سخت ذہنی اذیت سے دوچار کردیا ہے سینکڑوں کی تعداد میں تنخواہ لینے کے لئے آنے والے ملازمین تیس دن تک منظر عام سے مکمل طور پر غائب رہتے ہیں محکمہ کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے بعض ملازمین پرائیویٹ کاروبار کرنے میں مشغول ہیں جبکہ کچھ ملازمین ٹیکسی گاڑیاں چلارہے ہیں دوسری طرف پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ۔ گھروں میں چوبیس گھنٹوں کے اندر پانی کا ایک بوند بھی نہیں ٹپکتی ہے خواتین اور بچے بہت دور جاکر پانی بالٹیوں میں بھر کے لانے پر مجبور ہیں ۔ حکام بالا کے گھروںکے لان بھی پانی سے تر ہوتے ہیں جبکہ غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے محکمہ تعمیرات گاہکوچ کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے بارہا شکایتوں کے باوجود ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان ہے ۔ حکام اور چھوٹے ملازمین کی ملی بھگت نے عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے عوامی حلقوںنے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گاہکوچ شہر کو پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے بصورت دیگر محکمہ تعمیرات عامہ واٹر سپلائی کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجائے تاکہ کوئی اہل محکمہ عوامی شکایات کا ازالہ کرسکے ۔
Related Posts: | <urn:uuid:2cb3a1ad-830c-4161-9e8d-b49590ee9e0e> | CC-MAIN-2013-20 | http://pamirtimes.net/2012/08/01/gahkuchwater/ | 2013-06-19T23:14:30Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368709805610/warc/CC-MAIN-20130516131005-00012-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.983336 | Arab | 6 | {} |
دنیا بھر میں جمعے کے روز اپیل اسٹوروں کےباہر خریداروں کی لمبی قظاریں دکھائیں جو ڈیجٹل ٹیکنالوجی کی اس بڑی کمپنی کے مشہور ٹیلٹ کمپیوٹر آئی پیڈ کا نیا ماڈل خریدنے کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔
امریکہ میں خریداروں میں ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو اسٹور کھلنے سے گھنٹوں پہلے رات کو ہی قطاریں بنا کرکھڑے ہوگئے تھے۔
اپیل کا نیا آئی پیڈ اس کا تیسرا ورژن ہے ، جس میں کئی نئے اضافے کیے گئے ہیں۔
نئے آئی پیڈ کی قیمت 500 سے 800 ڈالر کے درمیان ہے اور کمپنی کا کہناہے کہ نئے ماڈل میں زیادہ طاقت ور مائیکرو پراسیسر چپ لگائی گئی ہے جس کی مدد سے گرافکس زیادہ بہتر دکھائی دیں گے اور انٹرنیٹ سے زیادہ تیزی کے ساتھ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔
ٹوکیو، ہانگ کانگ، سنگا پور، پیرس ، نیویارک اور دوسرے کئی بڑے شہروں سے بھی اپیل اسٹوروں کے باہر خریداروں کے بڑے بڑے ہجوموں کی خبریں ملی ہیں۔
اپیل کمپنی کاشمار کمپیوٹر تیار کرنے والے دنیا کے بڑے اداروں میں کیا جاتا ہے۔ اور ٹیلٹ کمپیوٹر کی عالمی فروخت میں اپیل کا حصہ 60 فی صد ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ نئے آئی پیڈ سے ان کی فروخت مزید بڑھے گی۔
اپیل کا کہناہے کہ وہ اب تک ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ آئی پیڈ فروخت کرچکی ہے۔
ایک مالیاتی تجزیہ کار کا کہناہے کہ صرف جمعے لانچ کے پہلے دن دس لاکھ سے زیادہ آئی پیڈ فروخت ہونے کی توقع ہے۔ | <urn:uuid:892fe3a9-f932-4008-940d-6fd93cd9ffe0> | CC-MAIN-2013-20 | http://pakistan.onepakistan.com.pk/urdunews/sci-tech/16685-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%be%db%8c%da%88-%d8%aa%da%be%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%84%d9%85%d8%a8%db%8c-%d9%82%d8%b7%d8%a7%d8%b1%db%8c%da%ba.html | 2013-05-18T22:50:32Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382920/warc/CC-MAIN-20130516092622-00007-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.992425 | Arab | 16 | {} |
|آرمی این-سی-او کا افغانستان میں خودساختہ دھماکہ خیز آلات کو ناکام بنانا|
منجانب Staff Sgt. Nicolas Morales, 4th Infantry Brigade Combat Team
شئیر
متعلقہ خبریں
صوبہ پکتیا، افغانستان (30 اکتوبر، 2012) – یہاں متعین آرمی سارجنٹ بریڈلی ٹومین جب اپنے ملٹری کے پیشے میں گزارے 12 سال پر پلٹ کر نظر ڈالتے ہیں تو انھیں خوش گوار یادیں اور آگے بھی اپنے خاندان اور ساتھی فوجیوں کے لیۓ حوصلہ افزا راستہ پاتے ہیں۔
ٹومین، 1998 میں اجو ڈیویسن، مشیگن کے مقامی ہیں، 1998 میں ایک بڑھئی اور مستری کے طور پر فوج میں بھرتی ہوۓ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وہ 11/9 دہشت گرد حملوں کے دوران واشنگٹن، ڈی سی، میں موجود تھے۔
وہ اس کو ایسے یاد کرتے ہیں جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔
ٹومین نے کہا کہ"میں باہر کھڑا پینٹاگون کے علاقے کی طرف دیکھ رہا تھا. میں نے وہاں سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا تو مجھے فوری طور پر احساس ہوا کہ وہاں کوئی فیکٹریاں نہیں تھیں ۔ میں بھاگ کر دفتر کے اندر گیا تو مجھے پتہ چلا کہ پینٹاگون پر حملہ ہوا تھا۔"
وہائٹ ہاؤس مواصلات ایجنسی کو تفویض، ٹومین کے پاس انوکھی نوکری ہے۔
انھوں نے کہا کہ "میں صدارتی پوڈئیم بنتا اور ان کی مرمت کرتا تھا، اور صدر کے لیۓ کوئی بھی الماری جس کی انھیں ضرورت ہوتی، میں بناتا تھا، ان کو کاٹتا اور بنا ڈالتا تھا۔"
2005 میں ٹومین نے آرمی چھوڑ کر جانے اور شہری بڑھئی کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً دو سال کے بعد بھی انھیں ایک خلا محسوس ہو رہا تھا جسے وہ بھر نہ سکے۔
ٹومین نے کہا کہ"جب میں [آرمی سے] نکل آیا تو میں جانتا تھا کہ میرے پاس بہت کچھ تھا اور جانتا تھا کہ بہت فوج میں میرے لیۓ بہت کچھ تھا، لیکن جب میں باہر نکل آیا تو میں نے محسوس کیا کہ کتنی زیادہ [فوج کی کمی محسوس ہو گی]۔ میں اس سے پہلے بھی محبت کرتا تھا اور اس نے مجھ میں اس کے لئیے اور بھی زیادہ محبت پیدا کر دی ہے۔"
ٹومین نے کہا کہ ان کا خاندان اس بات کا بڑا حصہ ہے جو انھیں افغانستان میں مرکوز رکھتا ہے۔ ان کے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کے فیصلے کو ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت صرف ایک چیز تھی جس کی انہوں ضرورت ہے۔
ٹومین نے کہا کہ خاندان کیا رکھتا ہے اسے افغانستان میں مرکوز ایک بڑا حصہ ہے. نے فعال ڈیوٹی پر واپس جانے کا فیصلہ ان کی بیوی اور بیٹی کی حمایت، انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہی چیز ہے کہ وہ ضرورت تھی.
ٹومین نے کہا کہ "اس وقت کے بعد جب حالات خراب ہو گۓ – میرے والد کا انتقال ہو گیا – میری بیوی پیٹریشیا نے مجھے وہ سب کچھ کرنے کو کہا جو مجھے خوش کرتا تھا، اورصرف جس چیز نے مجھے خوش کیا تھا وہ میرا آرمی میں گزرا وقت تھا" ۔
ان کی بیوی نے ان کو فیصلہ لینے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔
ٹومین نے کہا کہ "وہ جانتی تھی کہ میرا جواب کیا ہو گا، تو وہ ایک ریکروٹر سے ایک ہفتہ پہلے جا کرملی اور میری طرف سے بات چیت شروع کر دی ۔ تو جب میں نے ریکروٹر کے دفتر جانے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر میں قدم رکھا تو اس نے مجھے ''سارجنٹ ٹومین' کے نام سے مخاطب کیا، اور مجھے صرف کاغذی کارروائی پر دستخط کرنے تھے۔"
اب ان کی دوسری تعیناتی پر، ٹومین افغانستان میں روٹ کلیئیرنگ پڑرول پلاٹون میں، نان کمیشنڈ افسر کے طور پر بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے اور غیر فعال بنانے کی ذمہ داری کے ساتھ ، بڑے انداز میں حصہ لے رہے ہیں ۔
ٹومین ایک مانے ہوۓ لیڈر ہیں، جو، اپنے اعزازات اور کامیابیوں کے باوجود، عاجزی سے رہتے ہیں اور اپنے فوجیوں اور لیڈروں کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔
ٹومین نے کہا کہ "میں اس تعیناتی کے بارے میں جس بات کو سب سے زیادہ یاد رکھوں گا وہ یہ فوجی ہیں - ان کو تربیت دینا، تربیت حاصل کرنا اورانھیں کام کے بارے میں تعلیم دینا۔ ان کی زندگیاں میرے ہاتھوں میں ہیں۔"
انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملٹری میں رہیں گے اور یہاں سے ریٹائر ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا خاندان جو کچھ وہ کرتے ہیں اس پر بہت فخر کرتا ہے۔
ٹومین نے کہا کہ "جب میں اپنے دادا سے ملنے گھر گيا، تو میں نے ان کی آنکھ میں آنسو دیکھا جو جہاں تک مجھے یاد ہے پہلی مرتبہ تھا ۔ "انھوں نے مجھے بتایا، 'بچے تم اچھا کام کر رہے ہو۔' یہ میرے لیۓ ایک بہت بڑی بات تھی۔"
جنگی کیمرہ
مرکزی کمان کی تصویریں | <urn:uuid:a51b8243-cbda-4e88-a285-93d34eae7e15> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.centcom.mil/ur/news/army-nco-destroys-ieds-in-afghanistan | 2013-05-18T23:14:23Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382920/warc/CC-MAIN-20130516092622-00007-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.994438 | Arab | 1 | {} |
لاہور: 23جولائی: تعلیمی بورڈ لاہور کے بیان کے مطابق بورڈ ویب سائٹ پر 21 جولائی کو رزلٹ ڈیکلئر کرنے کا اعلان غلط فہمی کی بنیاد پر ہو گیا تھا۔ کیونکہ یہ تاریخ غیر معینہ تھی۔ جس سے ابہام پیدا ہوا۔ اس کے لئے ادارہ معذرت خواہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن بورڈ ایمپلائز فیڈریشن لاہور بورڈ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات بالکل غیر معیاری ہیں ۔ امتحانات کو صاف شفاف بنانے کے لئے دوبارہ مینوئل سسٹم رائج کیا جائے اور ڈاکٹر ماجد نعیم کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔
شکریہ جنگ میرا شہر لاہور 2/2 | <urn:uuid:c3476b85-3ef5-41f4-bb28-407d172f79d8> | CC-MAIN-2013-20 | http://punjabstudy.com/edu-news/declaration-education-board-lahore | 2013-05-22T04:53:46Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.977591 | Arab | 1 | {} |
سمیری
سمیریا: عراق کا ایک قدیم شہر۔
سمیری: عراق کی ایک قدیم تہذیب کا نام ہے جو چار ھزار سال قبل مسیح سے لے کر تین ھزار سال قبل مسیح تک دریائے دجلہ و فرات کے درمیان موجود تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی النسل نہیں تھے اور اس علاقے کے باھر سے آئے تھے۔ ان کی زبان اعلیٰ ترقی یافتہ تھی اور وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ان کی لکھی ہوئی تختیاں قدیم مصر سے ملنے والی تحریر سے بھی پرانی ہیں۔
|ویکیمیڈیا العام میں سمیری سے متعلق وسیط موجود ہے۔| | <urn:uuid:ed21f741-8cbf-4ec8-a586-9f860595ab10> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D8%A7 | 2013-05-22T04:47:41Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.986241 | Arab | 24 | {} |
کیویائی روس
کیویائی روس قرون وسطی کی اک ریاست تھی ، جو 880ء سے 12ویں صدی کے درمیان تک کیف (موجودہ یوکرین کا دارالحکومت) اور ارد گرد کے علاقوں پر مشتمل تھی ۔ اس کی بنیاد سکینڈے نیویا کے تاجروں (ورانجیئن) نے رکھی جو روس کہلاتے تھے ۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق روس ریاست یوکرینیوں کی ابتدائی پیش رو تھی ۔
ولادیمیر اعظم ( دور حکومت 1015ء -980ء) اور اس کے بیٹے یاروسلاو دانشمند ( دور حکومت 1054ء - 1019ء) کے دور کیف کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے ۔ جس کے دوران عیسائیت مذہب کے طور پر اختیار کی گئی اور " روسکایا پراودا" نامی مشرقی اسلاوی رسم الخط ایجاد کیا گیا ۔ ابتدائی روس (رس) حقیقت میں سکینڈے نیویائی جنگجو اشرافیہ تھے ، جن کی رعیت مین زیادہ تر اسلاو تھے ۔ سکینڈے نویوں کا اقتدار کم از کم 11ویں صدی عیسوی کے وسط تک رہا ۔
ابتدائی تاریخ [ترمیم]
روس (رس) لوگ روس خاگانیٹ کے تحت تھوڑے بہت منظم ہوئے ، جو کہ کیویائی روس کی پیش رو ریاست سمجھی جا سکتی ہے ۔ " بنیادی وقائع" (کرونیکل) کے مطابق ،جو کیویائی روس کی ابتدائی تاریخی دستاویز ہے ،"رورک نام کے ایک ورانجیئن (وائی کنک لوگ) 860ء کے قریب ، جنوب کی طرف جانے اور کیف تک اپنی حکومت بڑھانے سے پہلے خود کو موجودہ شمالی روس کے شہر نووگورد میں خود کو مستحکم کیا ۔ اس بنیادی وقائع میں اس کو "رورک شاہی خاندان " کا جد امجد بتایا گیا ہے ۔ کرونیکل کے مطابق ،"سال 6376 (859ء) میں سمندر کے پار سے ورانجیئن ، چود ، اسلاو، میریا ، ویزے ، کریوچ وغیرہ قبیلوں سے خراج لیتے تھے :- سال 6370(862ء) میں ان قبیلوں نے ورانجیئنوں کو پیچھے سمندر کی طرف ہانک (دھکیل) دیا اور انہیں خراج دینے سے انکار کر دیا اور خود حکومت کا انتظام سمبھال لیا ، مگر ان کے درمیان کوئی قانون نا تھا اس لئے ان قبیلوں کے درمیان تنازعات شروع ہو گئے ۔ اختلافات کی وجہ سے ان میں ایک دوسرے کے خلاف جنگیں شروع ہو گئیں ، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی بادشاہ بناتے ہیں جو ہم پر حکومت کرے اور رواج کے مطابق ہمارے فیصلے کرے ۔ اس لئے وہ سمندر کے پار ورانجیئن (روس لوگوں) کے پاس گئے ، یہ والے ورانجیئن روس کہلاتے تھے ۔ ایسے ہی جیسے کچھ ورانجیئن سویڈ ، دوسرے کچھ نارمن اور اینگل ، اور کچھ اور دوسرے گوتھ (گوٹلینڈر) کہلاتے تھے ، جیسے کہ اس زمانے میں ان کے نام تھے ۔ چودوں ، اسلاووں ، کریوچوں اور ویزوں نے روس لوگوں سے کہا " ہماری سرزمین وسیع اور امیر ہے لیکن اس پر کوئی قانون نہیں ہے ۔ آؤ اور بادشاہ کی طرح ہم پر حکومت کرو ۔ تین بھائیوں نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خود کو اس کام کئے پیش کیا ۔ انہوں نے ان روسوں کو اپنے ساتھ لیا اور واپس آ گئے ۔
کیویائی روس کہلائی جانے والی ریاست کی بنیاد 880ء قریب شہزادہ اولگ ( خزاروں کی دستاویز میں ہیگو) نے رکھی ۔ اگلے 35 سال میں اولگ اور اس کے جنگجوؤں نے متعدد مشرقی سلاوی اور فن قبیلوں کو اپنے تابع کیا ۔ 907ء میں اولگ نے قسطنطنیہ کے خلاف ایک مہم کی قیادت کی اور 911ء مین برابری کی سطح پر بازنطینی سلطنت کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدے پر دستخط کئے ۔
نئی کیویائی ریاست ترقی کی طرف گامزن رہی کیونکہ اس کے پاس برآمد کرنے کے لئے سمور (فر) ، موم اور شہد وافر مقدار میں تھا اور اس لئے بھی کہ مشرقی یورپ کے تین اہم تجارتی راستے : دریائے وولگا کا تجارتی راستہ ، بحیرہ بالٹک سے لے کر مشرق تک ؛ دریائے ڈینیپر کا تجارتی راستہ ، بحیرہ بالٹک سے لے کر بحیرہ اسود تک اور خزاروں سے جرمنوں تک کا تجارتی راستہ اس کی اجادہ داری میں تھا ۔
کیف کے حکمران سویتو سلاو اول (دور حکومت:995ء-972ء) کے دور تک کیویائی روس کے حکمرانوں نے اسلاوی ناموں اور مذہب کو اختیار کر لیا تھا ۔ سویتو سلاو کی فوجی فتوحات حیرت انگیز تھیں اس نے اپنے دو طاقتور ہمسایوں خزاری سلطنت (خزاریہ) اور بلغاروی سلطنت کو تاراج کر کے رکھ دیا ۔
9ویں صدی سے پیچینگ خانہ بدوش کی کیویائی روس کے ساتھ آویزش شروع ہوئی اور 2 صدیوں سے زائد عرصے تک الہوں نے کیویائی روس کی سرزمین پر بے ترتیب حملے جاری رکھے جو کبھی کبھی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار بھی کر لیتے تھے (جیسے 920ء کی ان کی کیویائی روس کے خلاف جنگ) ۔ 968ء میں پیچینگوں نے حملہ کیا اور کیو شہر کا محاصرہ کر لیا ۔
کیف کا سنہری دور [ترمیم]
کیف کے علاقے نے کیویائی روس پر اگلے 200 سال تک غلبہ پائے رکھا ۔ کیو کا شہزادہ اعظم ( روسی میں : ویلیکی کنیاژ) کی کیو شہر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت تھی ۔ اس کے قیاسی ماتحت اس کے رشتہ دار دوسرے شہروں پر حکومت کرتے اور اس کو خراج دیتے ۔ شہزادہ ولادیمیر اعظم ( دور حکومت: 1015ء_980ء) اور شہزادہ یاروسلاو دانشمند (دور حکومت: 1054ء- 1019ء) کے زمانے میں ریاست کی طاقت اور ترقی اپنے نقطہ کمال کو پہنچ گئی ۔ دونوں حکمرانوں نے کیویائی روس کی توسیع جاری رکھی جو اولگ کے دور سے شروع ہوئی تھی ۔
ولادیمیر نے 972ء میں اپنے باپ سویتوسلاو کی وفات اور اپنے سوتیلے بھائی یاروپولک کو 980ء مین شکست دینے کے بعد کیو میں اقتدار میں آیا ۔ کیو کے شہزادے کے طور پر سیاسی کامیابی کیویائی روس کو عیسائیت میں داخل کرنا تھا جس کا آغاز 988ء میں ہوا ۔ روس کے تاریخی وقائع (کرونیکل) بتاتے ہیں ، جب ولادیمیر نے اسلاووں کے روایتی بت پرستانہ مذہب کی بجائے ایک نیا مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے خاص مشیروں کو سفارتی نمائندوں کے طور پر یورپ کے مختلف علاقون مین بھیجا ۔ وہ لاطینی گرجا کے عیسائیوں ، یہودیوں اور مسلمانوں کے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد آخر میں قسطنطنیہ پہنچے ، یہاں وہ ایا صوفیہ گرجے کی خوبصورتی اور یہاں عبادات کی رسوم کو دیکھ کر مہبوت ہو گئے اور وہین اس مذہب کو اپنے لئے پسند کر لیا ۔ وطن واپس آنے کے بعد انہوں نے ولادیمیر کو قائل کیا کہ بازنطینی گرجا کا مذہب سب سے بہتر انتخاب ہے ۔ جس پر ولادیمیر نے قسطنطنیہ کا دورہ کیا اور بازنطینی سلطنت کے بادشاہ باسل دوم کی بہن شہزادی آنا سے شادی کی ۔ | <urn:uuid:17f136ef-4c1d-4054-86c4-9a07ed240218> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%88%DB%8C%D8%A7%D8%A6%DB%8C_%D8%B1%D9%88%D8%B3 | 2013-05-22T05:01:35Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368701314683/warc/CC-MAIN-20130516104834-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.981003 | Arab | 72 | {} |
القصص
|→ القصص ←|
|دور نزول||مکی|
|عددِ سورت||28|
|عددِ پارہ||20|
|زمانۂ نزول||مکی زندگی کا دورِ متوسط|
|اعداد و شمار|
|رکوع||9|
|تعداد الآیات||88|
|الفاظ||1,441|
|حروف||5,791|
فہرست
نام[ترمیم]
آیت نمبر 25 کے اس فقرے سے ماخوذ ہے و قص علیہ القصص یعنی وہ سورت جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورت کا عنوان ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔
زمانۂ نزول[ترمیم]
سورۂ نمل کے مضمون میں ابن عباس اور جابر بن یزید کا یہ قول نقل کیا جا چکا ہے کہ سورۂ شعراء سورۂ نمل اور سورۂ قصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ زبان، اندازِ بیاں اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانۂ نزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورۂ شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ "قومِ فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے"۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ "کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا"۔ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورت میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہو گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال کو لے کر جا رہے تھے، اور اچانک انہوں نے ایک آگ دیکھی۔ وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آ رہے تھے اور کدھر جا رہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصۂ موسیٰ علیہ السلام کی تکمیل کر دیتی ہیں۔
موضوع اور مباحث[ترمیم]
اس کا موضوع اُن شبہات و اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے اور اُن عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔
اس غرض کے لیے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانۂ نزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کر دیتا ہے:
اول یہ کہ اللہ تعالٰیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب و ذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہا ہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کے کسی بڑے جشن اور زمین و آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کسیے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ علیہ السلام کا تم خود حوالہ دیتے ہو کہ لو لآ اوتی متل مآ اوتی موسیٰ (آیت 48)، انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔
تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سر و سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی۔ مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سر و سامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کہ آخر کون جیتا اور کون ہارا۔
چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہو کہ "محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا"۔ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گویا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دکھائے تھے۔ مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انہوں نے کیا کیا تھا؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔ کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کے ایمان لے آؤ گے؟ پھر تمہیں یہ کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق سے انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کرکے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزہ مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟
یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اُس شخص کے ذہن میں اتر جاتی تھیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا کیونکہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان برپا ہو چکی تھی اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے معاملے پر چسپاں ہو رہا ہے۔
اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔
پہلے اس بات کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ اُمی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گذرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کی برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشان دہی کر سکیں۔
پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے یہ انتظام کیا۔
پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے ہیں کہ "یہ نبی وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام لائے تھے"۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشاتِ نفس کی بندگی نہ کرو تو حق اب بھی تمہیں نظر آ سکتا ہے لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔
پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی ہے جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بے عزتی کی۔
آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات نہ ماننے کے لیے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہلِ عرب کے دینِ شرک کو چھوڑ کر اس نئے دینِ توحید کو قبول کر لیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سرزمین میں ہمارے لیے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لیے تراشتے تھے، اس لیے اللہ تعالٰیٰ نے اس پر آخرِ سورت تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطۂ نظر سے کرتے تھے۔ | <urn:uuid:db38d1d7-bf12-441a-ba29-7e7c097155c3> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B5%D8%B5 | 2013-06-19T02:40:36Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707440258/warc/CC-MAIN-20130516123040-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.982848 | Arab | 70 | {} |
بیئر
بیئر دنیا کا شاید سب سے پرانا اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا شراب سے بننے والا مشروب ہے۔ پانی اور چائے کے بعد اسے دنیا کے تیسرے پسندیدہ ترین مشروب کا درجہ حاصل ہے۔ اسے نشاستے کو اُبالنے اور پھر خمیر اٹھانے سے بنایا جاتا ہے۔ عموماً اسے غلے بالخصوص مالٹ (غلے کو پانی میں بھگونے کے بعد جب وہ اگنا شروع کرے تو فوراً اسے خشک کر لیا جاتا ہے) جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم گندم، مکئی اور چاول بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بیئر میں ہوپس (مادہ پھولوں کے گچھے) استعمال کیے جاتے ہیں جو نہ صرف بیئر کی تلخی کو بڑھا دیتے ہیں بلکہ قدرتی طور پر بیئر کو محفوظ بھی رکھتے ہیں۔ تاہم کئی اقسام کے پھل یا جڑی بوٹیاں بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی قدیم ترین تحاریر میں بیئر کا تذکرہ ملتا ہے۔ حمورابی کے قوانین میں بیئر اور اس کی فروخت کے بارے بیان موجود ہے۔ اس کے علاوہ نِنکاسی کی حمد بھی شامل ہے جو بیئر کی تیاری کی ترکیب کو یاد رکھنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ آج بیئر کشید کرنے کی صنعت عالمی پیمانے پر پھیل چکی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی کمپنیاں اور کئی ہزار چھوٹی کمپنیاں اسے کشید کرتی ہیں۔
عموماً بیئر میں شراب کی مقدار چار سے چھ فیصد تک ہوتی ہے۔ ایک فیصد سے کم یا بیس فیصد سے زیادہ شراب کی مقدار والی بیئر کمیاب ہوتی ہیں۔ حال ہی میں ایک سکاٹش کمپنی بریو ڈاگ نے 55 فیصد شراب والی بیئر تیار کر کے عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔ 12 اونس بوتل کی قیمت 800 سے 1000 امریکی ڈالر ہے۔
بیئر مختلف ثقافتوں میں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔
فہرست
تاریخ [ترمیم]
بیئر دنیا کے قدیم ترین مصنوعی مشروبات میں سے ایک ہے۔ شاید یہ 9500 ق م میں بنایا جانے لگا جب پہلی بار غلہ اگانا شروع کیا گیا۔ اس کا تذکرہ قدم مصری تاریخ میں جابجا ملتا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق تہذیبیں بننے میں بیئر کا کردار کلیدی تھا۔
بیئر کی اولین کیمیائی شہادت ہمیں 3500 ق م سے 3100 ق م کے دوران مغربی ایران کے پہاڑوں سے ملی ہے۔ سمیری تحاریر میں نِنکاسی نامی دیوی کی شان میں لکھی گئی حمد ملی ہے جو دراصل بیئر کی ترکیب پر مشتمل ہے۔ یہ ترکیب اس معاشرے کے چند ہی پڑھے لکھے افراد یاد رکھتے تھے۔ اِبلا کی تحاریر 2500 ق م میں لکھی گئیں جن میں مختلف اقسام کی بیئروں کا تذکرہ موجود ہے۔ 7000 ق م میں چین میں چاولوں سے بیئر بنائی جاتی تھی۔
چونکہ کاربوہائیڈریٹ بالخصوص شکر یا نشاستے پر مشتمل تقریباً ہی چیز ہی خمیر کے مرحلے سے قدرتی طور پر گذرتی ہے، اس لئے دنیا بھر میں بیئر سے ملتے جلتے مشروبات الگ الگ بنائے جاتے رہے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ روٹی اور بیئر کی ایجاد سے انسانی تہذیب و ترقی کا آغاز ہوا ہوگا۔
یورپ میں کم از کم 3000 ق م میں بیئر پھیل گئی تھی اور اس وقت گھریلو پیمانے پر تیار کی جاتی تھی۔ تاہم اس وقت کے اس مشروب کو شاید موجودہ دور کے لوگ بیئر نہ مانیں گے۔ اس وقت بیئر میں عام نشاستے کے علاوہ پھل، شہد، مختلف اقسام کے پودے، مصالحے اور دیگر اشیا جیسا کہ منشی بوٹیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔ تاہم اس میں ہوپس کا اضافہ 822 صدی عیسوی سے ہونے لگا تھا۔
1516 میں باویریا کے نواب ولیم چہارم نے ملاوٹ کے خلاف قانون بنایا جو تاریخ میں کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق قدیم ترین قابون ہے۔ اس کے مطابق بیئر میں پانی، ہوپس اور مالٹ جو کے علاوہ کسی چیز کی ملاوٹ نہیں کی جا سکتی تھی۔ صنعتی انقلاب سے پہلے بیئر کو گھریلو پیمانے پر تیار کر کے بیچا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے دوران گھریلو پیمانے سے بیئر کو صنعتی پیمانے پر تیار کیا جانے لگا اور 19ویں صدی کے اواخر تک گھریلو پیمانے پر بیئر کی تیاری تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہائیڈرو میٹر اور تھرما میٹر کی ایجاد کے بعد سے بیئر کی تیاری مزید آسان ہو گئی ہے۔
آج کے دور میں بیئر کی صنعت عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 2006 میں اندازاً 133 ارب لیٹر یعنی 35 ارب گیلن جتنی بیئر بنائی اور بیچی جاتی ہے۔ اس سے ہونے والی آمدنی 294 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
تیاری [ترمیم]
بیئر کی تیاری کا عمل بریونگ یعنی کشید کہلاتا ہے۔ اس کام کے لئے مختص عمارت کو بریوری کہا جاتا ہے تاہم گھر میں بھی بیئر کو تیار کیا جا سکتا ہے۔ بیئر تیار کرنے کی کمپنی کو بریوری یا بریونگ کمپنی کہتے ہیں۔ بیئر کو گھریلو پیمانے پر ذاتی استعمال کے لئے بنایا جائے تو اسے ہوم بریونگ کہتے ہیں۔ بیئر کی تیاری کے بارے ترقی یافتہ ممالک میں الگ سے قوانین اور ٹیکس موجود ہیں اور 19ویں صدی سے عام طور پر بیئر کی تیاری تجارتی پیمانے تک محدود ہو کر دی گئی ہے۔ تاہم 1963 میں برطانوی، 1972 میں آسٹریلوی اور 1979 میں امریکی حکومتوں نے اس قانون کو نرم کر دیا ہے اور گھریلو پیمانے پر بیئر کی تیاری اب شوقیہ حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
بریونگ کا مقصد نشاستے کو شکر کے محلول میں بدلنا ہوتا ہے جو بعد میں تخمیر کے بعد شراب بن جاتی ہے۔
پہلے مرحلے میں نشاستے میں گرم پانی ملایا جاتا ہے۔ اس عمل میں عموماً مالٹ کو 1 سے 2 گھنٹوں تک گرم پانی میں رکھا جاتا ہے۔ اس دوران نشاستہ شکر میں بدل جاتا ہے جسے نتھار کر الگ کر لیا جاتا ہے۔ اب غلے کو دھویا جاتا ہے۔ اس عمل میں زیادہ سے زیادہ قابلِ تخمیر مائع الگ کر لیا جاتا ہے۔
اس نتھرے ہوئے پانی کو ایک کیتلی میں جمع کر کے عموماً ایک گھنٹے کے لئے ابالا جاتا ہے۔ ابلنے کے دوران پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے لیکن شکر وغیرہ باقی رہ جاتی ہیں۔ ابلنے کے دوران ہر قسم کے خامرے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی ابال کے دوران ہوپس بھی ڈال دیئے جاتے ہیں تاکہ تلخی، ذائقہ اور خوشبو آ سکے۔ جتنا زیادہ ہوپس کو ابالا جائے گا اتنی ہی تلخی بڑھے گی لیکن ذائقہ اور خوشبو کم ہوتی جائے گی۔
ابلنے کے بعد اس مائع کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ خمیر اٹھائی جا سکے۔ تخمیر کے دوران یہ مائع بیئر بنتا ہے اور ایک ہفتے سے لے کر کئی ماہ تک یہ عمل جاری رہ سکتا ہے۔ جب خمیر کا عمل پورا ہو جائے تو بیئر شفاف نکل آتی ہے۔
بعض اوقات خمیر اٹھانے کا عمل دو مراحل میں کیا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں جب زیادہ تر شراب بن جائے تو اسے الگ کر کے نئے برتن میں ڈالا جاتا ہے تاکہ تخمیر کا عمل پورا ہو سکے۔ اس طرح بننے والی بیئر زیادہ شفاف ہوتی ہے۔ پھر اسے بوتلوں، ڈبوں یا کنستروں میں بھر کر فروخت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
اجزاء [ترمیم]
بیئر کے بنیادی اجزائے ترکیبی پانی، نشاستہ، قابلِ تخمیر، خمیر اور ذائقہ کے لئے ہوپس وغیرہ شامل ہیں۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ اقسام کے نشاستے استعمال ہوتے ہیں۔
پیداوار [ترمیم]
مائیکرو بریوری یعنی چھوٹی بریوری ایسی جگہ ہے جہاں چھوٹے پیمانے پر بیئر بنتی ہے۔ اگرچہ ہر ملک میں مائیکروبریوری کی الگ الگ تعریف کی جاتی ہے تاہم عموماً 15٫000 بیرل سالانہ سے کم بیئر پیدا کرنے والی بریوری کو مائیکرو بریوری کہا جاتا ہے۔
بہت سارے ممالک میں گھر میں بیئر تیار کرنے پر پابندی ہے۔
اقسام [ترمیم]
اگرچہ بیئر کی بہت ساری اقسام کشید کی جاتی ہیں تاہم ان کی بنیادی اقسام تقریباً ہر ملک میں ایک جیسی ہیں۔ روایتی طور پر یورپ میں جرمنی، بیلجئم، برطانیہ، آئرلینڈ، پولینڈ، چیک رپبلک، سکینڈے نیویا، ہالینڈ اور آسٹریا میں مقامی طور پر مخصوص بیئریں تیار کی جات ہیں۔کچھ ممالک بالخصوص امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں یورپی اقسام کی کسی حد تک نقالی کی جاتی ہے اور ان ممالک کی اپنی اقسام بھی ہیں۔
پیمائش [ترمیم]
بیئر کی پیمائش اور اس کی اہمیت تلخی، طاقت اور رنگت سے ہوتی ہے۔
رنگت [ترمیم]
بیئر کا رنگ مالٹ سے بنتا ہے۔ سب سے عام رنگت پھیکی مالٹائی ہوتی ہے۔
طاقت [ترمیم]
بیئر میں شراب کی کل مقدار دو فیصد سے زیادہ سے لے کر 14 فیصد تک ہوتی ہے۔ تاہم 20 فیصد اور 55 فیصد تک بیئر میں شراب کی مقدار بھی ہو سکتی ہے۔
پیشکش [ترمیم]
ڈرافٹ [ترمیم]
ڈرافٹ بیئر عموماً کیگ یعنی دھاتی سلنڈر سے نکالی جاتی ہے۔ اس سلنڈر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے بیئر کو دباؤ کے تحت رکھا جاتا ہے اور ٹونٹی سے بیئر نکالی جاتی ہے۔
پیکجنگ [ترمیم]
بوتلوں اور کینوں میں محفوظ کرنے سے قبل بیئر سے ساری خمیر چھان لی جاتی ہے۔ تاہم اس خمیر کی کچھ نہ کچھ مقدار پھر بھی بیئر میں موجود رہتی ہے۔ اسی وجہ سے عموماً بیئر کو آہستگی سے انڈیلا جاتا ہے تاکہ خمیر بوتل میں نیچے ہی رہ جائے۔
درجہ حرارت [ترمیم]
بیئر کو پینے والے مختلف درجہ حرارت پسند کرتے ہیں۔ کچھ لوگ گرم بیئر جبکہ کچھ یخ بستہ بیئر پسند کرتے ہیں۔
برتن [ترمیم]
بیئر کو پینے کے لئے مختلف برتن جیسا کہ گلاس، مگ، بوتل یا کین وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔
بیئر اور معاشرہ [ترمیم]
بہت سارے معاشروں میں بیئر شراب کی سب سے مقبول قسم ہے۔
بیئر پیتے وقت مختلف مشاغل جیسا کہ تاش وغیرہ بھی کھیلے جاتے ہیں۔
روس میں اس وقت ووڈکا کی بجائے نوجوان نسل بیئر کو ترجیح دے رہی ہے۔
صحت کے مسائل [ترمیم]
چونکہ بیئر کا اہم جزو شراب ہے اس لئے شراب کے نقصانات بیئر میں بھی ویسے ہی موجود ہوتے ہیں۔ تھوڑی مقدار میں شراب کا استعمال امراضِ قلب، فالج وغیرہ کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ تاہم زیادہ مقدار میں شراب یا بیئر کا استعمال اس کا عادی بنا دیتا ہے اور عموماً جگر کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
بیئر میں استعمال ہونے والا خمیر مختلف غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ ان اجزاء میں میگنیشئم، سلینئم، پوٹاشیم، فاسفورس، بائیوٹن اور حیاتین ب شامل ہیں۔ بیئر کو بعض اوقات مائع روٹی بھی کہا جاتا ہے۔
2005 میں جاپان کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم شراب والی بیئر میں سرطان کے خلاف بہت مدد ملتی ہے۔ بغیر شراب والی بیئر سے دل کی بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
عام خیال کے برعکس بیئر پینے والے افراد کی توندیں زیادہ کھانے اور ورزش سے احتراز کی وجہ سے بنتی ہیں۔
|ویکیمیڈیا العام میں بیئر سے متعلق وسیط موجود ہے۔| | <urn:uuid:d5de44b1-24f0-454b-8703-54ccbe67ab6f> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%DB%8C%D8%A6%D8%B1 | 2013-06-19T03:07:16Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707440258/warc/CC-MAIN-20130516123040-00009-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.986079 | Arab | 77 | {} |
حکومت پاکستان کی انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں شہریوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور صرف سال دو ہزار گیارہ کے دوران ایک سو پچاس شہری لاپتہ ہوئے جن میں اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
پاکستان کی وزارت انسانی حقوق کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران ایک سو نو عام شہری بلوچستان سے لاپتہ ہوئے۔
نامہ نگار احمد رضا کے مطابق بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں لاپتہ افراد کی تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے لیکن اس رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار گیارہ میں دوسرے صوبوں سے لاپتہ ہونے والے افراد میں سے بتیس کا تعلق صوبہ پنجاب، تین صوبہ سندھ اور چھ کا خیبر پختونخواہ سے ہے۔
وزارت انسانی حقوق کی اس رپورٹ میں اجتماعی زیادتی کے واقعات کے متعلق جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں وہ بھی غیرمعمولی نوعیت کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار گیارہ کے دوران ایک ہزار آٹھ سو بیاسی خواتین کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن کی اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے ایک ہزار آٹھ سو چون واقعات رونما ہوئے جبکہ سندھ میں بائیس اور خیبر پختونخواہ میں ایک واقعہ رونما ہوا۔
اسی طرح رپورٹ کے مطابق خواتین پر تیزاب پھینکنے کے سب سے زیادہ واقعات بھی صوبہ پنجاب میں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق تیزاب پھینکنے کے مجموعی طور پر باسٹھ واقعات ہوئے جن میں پینتالیس صوبہ پنجاب، تیرہ سندھ اور چار بلوچستان میں ہوئے۔
خیبر پختونخواہ میں اس طرح کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
اسی طرح رپورٹ کے مطابق خواتین کو جلانے کے کل چوبیس واقعات ہوئے جن میں سولہ پنجاب اور آٹھ سندھ میں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے چار سو چھہتر واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ میں ہوئے جہاں دو سو اکاسی افراد کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اسکے علاوہ پنجاب میں ایک سو تریسٹھ، بلوچستان میں چھبیس اور خیبر پختونخواہ میں چھ افراد کی غیرت کے نام پر جانیں لی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے کل ایک سو اکسٹھ واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ نوے واقعات پنجاب، تینتیس بلوچستان، ستائیس خیبر پختونخواہ اور گیارہ سندھ میں ہوئے۔
ان واقعات میں انسانی اموات کی تفصیل رپورٹ میں شامل نہیں کی گئی ہے۔
حکومت پاکستان کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ملک میں اغواء برائے تاوان کے سات ہزار سات سو باون مقدمات درج ہوئے۔ جن میں سب سے زیادہ واقعات سات ہزار دو سو اکیانوے صوبہ پنجاب میں ہوئے جبکہ سندھ میں دو سو انسٹھ، بلوچستان میں ایک سو چوّن اور خیبر پختونخواہ میں اڑتالیس مقدمات درج کیے گئے۔ | <urn:uuid:d0a10b5c-0323-4fcc-bce5-279b64f1d11e> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120706_human_rights_missing_tk.shtml | 2013-05-18T12:34:30Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368696382396/warc/CC-MAIN-20130516092622-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.987345 | Arab | 6 | {} |
پیدا ہوا: کِپن ھائیم، جرمنی
31 دسمبر 1934
انگے برتھولڈ اور ریجائنا اوئربیخر کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ یہ مذہبی یہودی خاندان کپن ھائم میں رہتا تھا۔ کپن ھائم جنوب مغربی جرمنی میں بلیک فارسٹ کے قریب واقع ایک گاؤں تھا۔ اُن کے والد ٹیکسٹائل کے تاجر تھے۔ یہ خاندان ایک بہت بڑے گھر میں رہتا تھا جس میں 17 کمرے تھے اور گھر کے کام کاج کیلئے ملازم بھی موجود تھے۔
1933-39: 10 نومبر1938 کو غنڈوں نے ہمارے گھر کی تمام کھڑکیوں کو پتھراؤ کر کے توڑ دیا۔ اُسی روز پولیس نے میرے والد اور دادا کو گرفتار کر لیا۔ میری والدہ، میری دادی اور خود میں ایک شیڈ میں اُس وقت تک چھپے رہے جب تک خاموشی نہیں ہو گئی۔ جب ہم باہر نکلے تو یہودی مردوں کو ڈاخو کے حراستی کیمپ میں لے جایا جا چکا تھا۔ میرے والد اور دادا کو چند ہفتوں بعد واپس گھر آنے کی اجازت دے دی گئی لیکن اُسی سال مئی میں میرے دادا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
1940-45: جب میری عمر سات برس تھی مجھے میرے والدین کے ساتھ چیکوسلواکیہ میں تھیریسئن شٹٹ گھیٹو منتقل کر دیا گیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم سے تمام چیزیں لے لی گئیں۔ صرف وہ کپڑے ہمارے پاس رہے جو ہم نے پہنے ہوئے تھے۔ میری گڑیا مارلین بھی میرے پاس رہی۔ کیمپ کے حالات بہت ہی خراب تھے۔ آلو بھی ہیروں کی طرح قیمتی تھے۔ میں زیادہ تر بھوکی، خوفزدہ اور بیمار رہی۔ میری آٹھویں سالگرہ کے موقع پر میرے والدین نے مجھے آلوؤں کا ایک چھوٹا سا کیک دیا جس میں چینی برائے نام ہی استعمال ہوئی تھی۔ میری نویں سالگرہ پر مجھے کپڑوں کے چیتھڑوں سے سلا ہوا میری گڑیا کا لباس ملا اور میری دسویں سا؛لگرہ پر میری والدہ نے تحفے کے طور پر ایک نظم لکھی۔
8 مئی 1945 کو انگے اور اُن کے والدین کو ٹھیریسئن شٹٹ گھیٹو سے آزاد کر دیا گیا جہاں اُنہوں نے تین برس گزارے تھے۔ مئی 1946 میں وہ ترک وطن کر کے امریکہ چلے آئے۔ | <urn:uuid:b9502e5b-a163-4945-b377-3eb98189749e> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_oi.php?ModuleId=10007697&MediaId=129 | 2013-05-23T22:30:20Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368704007597/warc/CC-MAIN-20130516113327-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.991841 | Arab | 193 | {} |
پیپکو نے2010کو بجلی چوری کے خاتمے کا سال قرار دیدیا:
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔05جنوری۔ 2010ء) ایم ڈی پیپکو نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے ٹھوس اور جامع اقدامات کئے جائیں۔ اسلام آباد میں وزارت پانی وبجلی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بجلی چوری روکنے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی گئی ہے اور پیپکو نے سال دو ہزار دس کو بجلی چوری کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے۔ ریلیز کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران بجلی چوری کے تئیس ہزار کیسز منظر عام پر آئے جن سے ساڑھے تین ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سالانہ بجلی چوری سے اسی ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ | <urn:uuid:70b10046-478f-4d52-902e-b750f9c9573d> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.urdupoint.com/electercity_problem_in_pakistan/News42-54-539-117145.html | 2013-05-26T06:43:07Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368706635063/warc/CC-MAIN-20130516121715-00044-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.97551 | Arab | 6 | {} |
طویل مدت چیف جسٹس رہنے کا ریکارڈ جسٹس حلیم کے پاس
جاوید محمود کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ذمے داری دیے جانیکا امکان
پاک بھارت دوستی بسوں میں مسافر کم ، سیکیورٹی زیادہ
پی ٹی آئی دھاندلی اور ایم کیو ایم کیخلاف جارحانہ پالیسی اپنائیگی
بحریہ ٹاؤن کا پاکستان کے لیے عالمی اعزاز حاصل کرنیکا تسلسل
Copyright © Century Publications. This material may not be published, broadcast, rewritten, redistributed or derived from. | <urn:uuid:63829277-4d3f-4280-8b9e-ef12b363444f> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_KHI&Page=Classified_Page004&Date=20120812&Pageno=4&View=1 | 2013-05-20T05:54:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368698411148/warc/CC-MAIN-20130516100011-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.909064 | Arab | 5 | {} |
ساسکچیوان
ساسکچیوان کا صوبہ کینیڈا کا ایک پریری صوبہ ہے جس کا کل رقبہ 588276 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی کل آبادی 1010146 افراد ہے جو زیادہ تر صوبے کے جنوبی نصف حصے میں آباد ہیں۔ ان میں سے 233923 صوبے کے سب سے بڑے شہر ساسکاٹون میں جبکہ 194971 افراد صوبائی دارلخلافہ ریگینا میں آباد ہیں۔ دوسرے بڑے شہر پرنس البرٹ، موز جا، یارک ٹاؤن، سوئفٹ کرنٹ اور نارتھ بیٹل فورڈ ہیں۔ صوبے کا نام ساسکچیوان دریا کے نام سے نکلا ہے جس کے معنی تیز بہنے والے دریا ہے۔
فہرست
جغرافیہ [ترمیم]
بہت زیادہ بلندی سے دیکھا جائے تو ساسکچیوان کا صوبہ ایک چوکور شکل کا دکھائی دیتا ہے تاہم ایسا ہے نہیں۔ اس کی سرحدیں دو جگہوں پر بالکل سیدھی نہیں بلکہ تھوڑی سی خم دار ہیں۔ ساسکچیوان کے مغرب میں البرٹا، شمال میں نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری، مشرق میں مینی ٹوبہ اور جنوب میں امریکی ریاستیں مونٹانا اور نارتھ ڈکوٹا ہیں۔ ساسکچیوان کینیڈا کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں کسی طبعی خد و خال سے نہیں بنتیں۔ چاروں طرف سے خشکی سے گھرے کینیڈا کے دوصوبوں میں البرٹا اور ساسکچیوان شامل ہیں۔
یہاں دو بڑے قدرتی علاقے ہیں۔ کینیڈین شیلڈ شمال میں اور جنوب میں انٹیرئر پلینز۔ شمالی ساسکچیوان زیادہ تر بوریل جنگلات سے بھرا ہوا ہے تاہم جھیل اتھابسکا کے تیل کے میدان خالی ہیں۔ 58 درجے شمال سے اوپر دنیا کی سب سے بڑی متحرک ریتلی پہاڑیاں بھی یہاں موجود ہیں۔ جنوبی ساسکچیوان میں گرینڈ سینڈ ہلز موجود ہیں جو تین سو مربع کلومیٹر پر مشتمل ہیں۔سائپرس ہلز جو جنوب مغربی کونے میں واقع ہیں اور کل ڈئیر بیڈ لینڈز صوبے کے وہ علاقے ہیں جو پچھلے برفانی دور میں گلیشئر نہیں بن سکے تھے۔ صوبے کا سب سے بلند مقام 1468 میٹر بلند اور سائپرس ہلز میں ہے۔ صوبے میں جھیل اتھابسکا کا کنارہ 213 میٹر اور نشیبی ترین علاقہ ہے۔ صوبے میں چودہ بڑے پانی کی نکاسی کے نظام ہیں جو مختلف دریاؤں اور آبی ذخیروں سے مل کر بنے ہیں۔ یہ آرکٹک سمندر، ہڈسن بے اور خلیج میکسیکو میں گرتے ہیں۔
موسم [ترمیم]
چونکہ ساسکچیوان کسی بڑے آبی ذخیرے سے دور ہے اس لئے یہاں جنوبی اور جنوب مغربی حصوں میں نسبتاً نم اور کم گرم موسم گرما ہوتا ہے۔ صوبے کے شمالی حصے لا رونگے سے شمال کی طرف سب آرکٹک موسم رکھتے ہیں۔ سردیاں بہت گرم بھی ہو سکتی ہیں جب کہ درجہ حرارت 32 ڈگری تک پہنچ جائے۔ ہوا میں نمی کا تناسب شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف کم ہوتا جاتا ہے۔ گرم جنوبی ہوائیں امریکہ سے چلتی ہیں اور یہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں ادھر پہنچتی ہیں۔ یہاں سردیاں ٹھٹھرا دینے والی ہوتیہ یں اور درجہ حرارت منفی 17 ڈگری یا اس سے بھی کم کئی ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ اکثر چینیوک ہوائیں مغرب سے چلتی ہیں اور موسم کو کم شدید بنا دیتی ہیں۔ سالانہ بارش کی مقدار 30 سے 45 سم یعنی 12 سے 18 انچ تک ہوتی ہے اور زیادہ تر بارش جون، جولائی اوراگست میں ہوتی ہے۔
تاریخ [ترمیم]
یورپیوں کی آمد سے قبل یہاں بہت سارے مقامی قبائل آباد تھے جن میں اتھابسکا، الگونکوئن، اسٹینا، کری، سالٹیاکس اور سیوکس شامل ہیں۔ پہلے یورپی جو اس علاقے میں آئے ہنری کیلسے تھے جو 1690 میں ساسکچیوان دریا کے کنارے کنارے سفر کرتے ہوئے یہاں اس امید سے آئے کہ یہاں کے مقامیوں سے کھالوں کی تجارت شروع کی جا سکے۔ پہلی یورپین آبادی یہاں 1774 میں ہڈسن بے کمپنی کی تھی جو کمبرلینڈ ہاؤس میں سیموئل ہارنے کی زیر قیادت ہوئی۔
1850 کے اواخر اور 1860 کے اوائل میں یہاں کئی سائنسی مہمیں جان پالیسر اور ہنری یول ہنڈ کی زیر قیادت یہاں صوبے کے پریری علاقوں کو چھاننے آئیں۔
1870 میں کینیڈا کی حکومت نے نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری بنائی تاکہ برٹش کولمبیا اور مینی ٹوبہ کے درمیان موجود وسیع زمین کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ علاقے میں موجود لوگوں کے ساتھ حکومت نے کئی معاہدے کئے۔
1885 میں الحاق کے بعد کنیڈا کی پہلی بحری جنگ ساسکچیوان میں لڑی گئی جب میٹس کے علاقے میں ایک دخانی جہاز شمالی امریکہ کی بغاوت کی جنگ میں شریک ہوا۔
علاقے کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ وہ ہوا جب 1874 میں وفاقی حکومت نے گھڑ سوار پولیس کو مغرب کی جانب مارچ کرنے کا حکم دیا۔ بیکار اسلحے اور کم خوراک کے باوجود پولیس اپنی منزل مقصود تک پہنچی اور یہاں حکومت کی موجودگی کو یقنی بنایا۔ تاریخ داں اس مہم کو ناکام بتاتے ہیں کیونکہ اگر یہ مہم ناکام رہتی تو امریکہ کو اپنے توسیع پسند عزائم کی وجہ سے اس علاقے میں قبضہ کرنا آسان لگتا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی کینیڈین پیسیفک ریلوے کی تعمیر چند دہائیوں کے لئے لازماً ملتوی ہو جاتی یا پھر اس کے لئے زیادہ شمال سے راستہ تلاش کرنا پڑتا۔ اس طرح برانڈن، ریگینا، میڈیسن ہٹ اور کیلگری کی ترقی رک جاتی یا پھر یہ شہر کبھی آباد بھی نہ ہو پاتے۔ اس ریلوے کی تعمیر میں ناکامی کے سبب برٹش کولمبیا امریکہ سے الحاق کر لیتا۔
کینیڈین پیسیفیک ریلوے کی تعمیر کے ساتھ ہی یہاں آبادکاری کا سیلاب آ گیا۔ یہ ریلوے 1880 میں تعمیر ہوئی اور کینیڈا کی حکومت نے اسے ڈومینن لینڈ سروے کی مدد سے زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور اسے خواہش مند آباد کاروں میں مفت تقسیم کرنا شروع کر دیا۔
نارتھ ویسٹ گھڑ سوار پولیس نے ساسکچیوان میں کئی چوکیاں اور قلعے تعمیر کئے جن میں سائپرس ہلز میں موجود فورٹ والش اور وڈ ماؤنٹین پوسٹ جو کہ جنوب وسطی علاقے میں امریکی سرحد کے نزدیک تھی، شامل ہیں۔
1876 میں لٹل بگ ہوم کی جنگ میں جو لکوٹا کے سردار سٹنگ بل نے کئی ہزار افراد کو وڈ ماؤنٹین پھر بھیج دیا۔ وڈ ماؤنٹین ریزرو 1914 میں قائم ہوا۔بہت سارے میٹس لوگ جو معاہدے میں شامل نہیں ہوئے، ساؤتھ برانچ سیٹلمنٹ اور پرنس البرٹ چلے گئے جو آج کے ساسکاٹون کے شمال میں ہے۔ 1880 کے اوائل میں کینیڈا کی حکومت میٹس لوگوں کی پریشانی کو نہ سمجھ سکی جو زمینوں کے استعمال پر پریشان تھے۔ آخر کار میٹس لوگوں نے 1885 میں لوئس ریل کی زیر قیادت نارتھ ویسٹ بغاوت کر دی اور اپنی صوبائی حکومت کا اعلان کر دیا۔ انہیں کینیڈا کی ملیشیا نے شکست دی جو نئی کینیڈا پیسیفک ریلوے کی مدد سے ادھر لائے گئے تھے۔ ریل نے ہتھیار ڈال دیئے اور اسے بغاوت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ اسے 16 نومبر 1885 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
ریلوے کی وجہ سے جوں جوں مزید آباد کار آتے گئے، آبادی بڑھتی گئی اور ساسکچیوان کو یکم ستمبر 1905 میں صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کی رسم افتتاح 4 ستمبر کو ہوئی۔
ہوم سٹیڈ ایکٹ کے تحت ہر آباد کار کو چوتھائی مربع میل کی زمین دی گئی ۔ اگر وہ اس پر آباد ہوتے تو انہیں مزید چوتھائی مربع میل زمین مویشیوں کے باڑے کے لئے دے دی جاتی۔ 1910میں امیگریشن اپنے عروج پر تھی اور دیہاتی زندگی، شہروں سے دوری، کچے گھروں، کمر توڑ محنت کے باوجود یہاں ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آ گیا۔
1913 میں ساسکچیوان سٹاک گروورز ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ 1913 میں قیام کے وقت تین اہم مقاصد بیان کئے گئے جو کہ کچھ ایسے ہیں۔ اول، مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ہر ممکنہ طور پر باعزت اور قانونی طریقے سے پیش کیا جائے اور پارلیمان کو تجاویز دی جائیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال اور ضروریات کے مطابق قوانین بنا سکیں۔کاشت کاری کے حوالے سے ساسکچیوان گرین گروؤرز ایسوسی ایشن تھی جو 1920 کی دہائی تک اہم سیاسی قوت رہی۔ اس کے قریبی تعلقات حکومتی لبرل پارٹی سے رہے۔
1970 میں کینیڈین ویسٹرن کی پہلی ایگریبین ریگینا میں منعقد ہوئی۔یہ فارم انڈسٹری شو جس میں جانوروں پر زیادہ زور دیا گیا تھا، شمالی امریکہ کی پہلی پانچ مویشیوں کی نمائشوں میں سے ایک ہے۔ دوسری چار ہوسٹس، ڈینوور، لوئزولے اور ٹورنٹو میں ہوئی تھیں۔
آبادی [ترمیم]
2006 کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کا سب سے بڑا لسانی گروہ جرمن ہیں جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ ان کے بعد انگریز 26 فیصد سے کچھ زیادہ، سکاٹس 19 فیصد سے کچھ زیادہ،آئرش 15 فیصد سے زیادہ، یوکرائنی ساڑھے تیرہ فیصد سے زیادہ، فرانسیسی 12 فیصد سے زیادہ، مقامی قبائل 12 فیصد سے زیاہد، نارویجئن 7 فیصد سے زائد، میٹس 4 فیصد سے زائد، ولندیزی یعنی ڈچ ساڑھے تین فیصد سے کچھ زیادہ، روسی افراد بھی ڈچ افراد جتنے اور سوئڈش افراد ساڑھے تین فیصد تھے۔ اٹھارہ فیصد سے زیادہ افراد نے خود کو کینیڈین ظاہر کیا۔
مذہب [ترمیم]
2001 کی مردم شماری کے تحت یہاں کا سب سے بڑا مذہب رومن کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کا تھا جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ یونائٹڈ چرچ آف کینیڈا کے پیروکار بیس فیصد اور لوتھیرین آٹھ فیصد ہیں۔
معیشت [ترمیم]
ساسکچیوان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تاہم اب یہاں زراعت کے ساتھ ساتھ جنگلات، فشنگ اور شکار مل ملا کر ساڑھے چھ فیصد سے کچھ زیادہ بنتے ہیں۔ساسکچیوان میں کینیڈا کا پینتالیس فیصد غلہ اگتا ہے۔گندم یہاں کی اہم فصل ہے اور اس صوبے کی شناخت بھی۔ تاہم کینولا، فلیکس، رائی، اوٹس،مٹر، دالیں، کناری بیج اور جو بھی یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ بڑے گوشت کے لئے جانوروں کی پیداوار بھی البرٹا سے بڑھ گئی ہے۔ کان کنی بھی صوبے کی اہم صنعت ہے۔دنیا بھر میں ساسکچیوان پوٹاش اور یورینیم کی پیداور کے لئے مشہور ہے۔ صوبے کے شمال میں جنگلات اہم صنعت کا درجہ رکھتے ہیں۔
تیل اور قدرتی گیس بھی یہاں کی معیشت کا اہم حصہ ہیں تاہم تیل کا حصہ زیادہ بڑا ہے۔ تیل کی کل پیداوار میں صرف البرٹاساسکچیوان سے زیادہ ہے۔ بھاری خام تیل لائڈز منسٹر، کیروبرٹ، کنڈرسلے علاقوں سے نکلتا ہے جبکہ ہلکا خام تیل کنڈرسلے سوئفٹ کرنٹ کے علاقے سے اور وے برن ایسٹیوان سے نکلتا ہے۔ قدرتی گیس صوبے کے تقریباً سارے مغربی حصے میں پائی جاتی ہے۔
ساسکچیوان میں قائم شاہی اداروں میں ساسکچیوان گورنمنٹ انشورنس، ساکس ٹیل، ساسکس انرجی اور ساسک پاور اہم ہیں۔ بمبارڈئیر موز جا کے نزدیک ناٹو کے فلائنگ ٹرینگ سینٹر کے پندرہویں ونگ کو چلاتا ہے۔ بمبارڈر کو 1990 کی دہائی کے آخر میں دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کے وفاقی حکومت کے معاہدے سے نوازا گیا جس کی مدد سے وہ اس ادارے کو چلائے رکھنے کے لئے فوجی جہاز خریدتا۔
حکومت اور سیاست [ترمیم]
بہت سالوں سے ساسکچیوان کینیڈا کے لبرل ترین صوبوں میں ایک ہے۔ شاید یہ شہریوں کی اندرونی خواہش ظاہر کرتاہے کہ انہیں بڑے کیپیٹل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 1944 میں ٹومی ڈوگلس صوبے کے پہلے اعلانیہ سوشلسٹ پریمئر بنے۔ ان کی اسمبلی کے زیادہ تر اراکین دیہی اور چھوٹے علاقوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کی کواپریشن کامن ویلتھ فیڈریشن حکومت کے تحت ساسکچیوان میڈی کئیر دینے والا پہلا صوبہ بنا۔ 1961 میں ڈوگلس نے صوبائی سیاست کو چھوڑ کر وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کے پہلے رہنما کا عہدہ سنبھال لیا۔
ساسکچیوان کی صوبائی سیاست پر نیو ڈیمو کریٹس اور ساسکچیوان پارٹی کا گہرا اثر ہے۔ صوبائی انتخابات میں چھوٹی چھوٹی کئی جماعتیں حصہ لیتی ہیں جن میں لبرل پارٹی،گرین پارٹی اور پروگریسیو کنزرویٹور پارٹی اہم ہیں تاہم ان میں سے اس وقت کوئی بھی ساسکچیوان کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی نہیں رکھتی۔ نیو ڈیمو کریٹک حکومت کے 16 سال بعد، جس دوران رائے رومن ناؤ اور لورن کالورٹ پریمئر رہے، 2007 کے انتخابات میں ساسکچیوان پارٹی کو کامیابی ملی جن کے لیڈر براڈ وال ہیں۔
وفاقی سطح پر صوبے میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کا گہرا عمل رہا ہے تاہم موجودہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو اکثریت ملی ہے۔ ساسکچیوان کی 14 وفاقی نشستوں میں سے بارہ کنزرویٹیو پارٹی نے 2006 میں جیتی ہیں جبکہ 2004 میں کنزرویٹو نے تیرہ نشستیں جیتی تھیں۔ وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کو مسلسل دو بار انتخابات میں کوئی سیٹ نہیں ملی۔ جیری میراسٹی کے ہاؤس آف کامنز سے استعفٰی کے بعد سے لبرل پارٹی کا ایک ممبر باقی رہ گیا ہے جو سابقہ وزیر خزانہ رالف گوڈالے ہے۔
سیاسی طور پر یہ سارا صوبہ شہری دیہاتی حصوں میں منقسم ہے ۔ صوبائی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی شہروں میں غالب ہے جبکہ ساسکچیوان پارٹی اور وفاقی کنزرویٹو پارٹی دیہاتی علاقوں میں زیادہ مضبوط ہے۔ ساسکاٹون اور ریگینا کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ انہیں مختلف حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وہ دیہاتی حصوں کے برابر نمائندگی ظاہر کر سکیں۔
تعلیم [ترمیم]
یہاں تعلیم کا آغاز مقامی قبائل کے گھروں کے اندر یا اولین بسنے والے کھالوں کے تاجروں کے گھروں سےہوا۔ یہاں گنے چنے ہی مشنری یا سکول تھے۔
1886 میں یہاں پہلی بار نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کے 76 سکولوں اور ان کے بورڈوں کی میٹنگ ہوئی۔ نئے نئے اقتصادی عروج کے باعث یہاں مختلف زبانوں کے باشندوں کی آبادیاں قائم ہونے لگیں۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے لئے اپنے آبائی علاقوں جیسے سکول چاہتے تھے۔ درختوں کے تنوں سے بنی عمارتیں ان لوگوں کے لئے سکولوں، رہائش گاہوں اور میل جول کے مراکز بن گئیں۔
بیسویں صدی کے اقتصادی عروج اور کامیاب گلہ بانی کے سسب لوگوں نے اپنے پیسے اکٹھے کر لئے کہ ان کی مرضی کے مطابق تعلیم کا حصول ممکن ہوگیا۔ درسی کتب، عام سکول، تربیت یافتہ اساتذہ، سکولوں کا نصاب، جدید ترین عمارتوں پر مشتمل سکول صوبے بھر میں پھیل گئے۔ انگریزی کے ذریعہ تعلیم ہونے کےسبب عام زندگی اور تجارتی روابط آسان ہو گئے کہ سب کام ایک ہی زبان سے طے ہونے لگا۔ ایک کمرے پر مشتمل سکولوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ گئی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک کمرے کے سکولوں کو بتدریج نسبتاً بڑے اور زیادہ سہولیات والے سکولوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم سکولوں کی کل تعداد گھٹ گئی۔ یہاں تکنیکی تعلیم بھی عام دی جانے لگی۔ سکولوں کی بسیں، شاہراہیں اور خاندانوں کی اپنی گاڑیوں کے سبب لوگ آسانی سے بڑے شہروں اور قصبوں میں منتقل ہونے لگے۔ کمائنڈ ہارویسٹر اور ٹریکٹروں سے کاشت کاروں کو بہت سہولت ملی اور وہ زیادہ منافع بخش فصلیں اگانے لے۔
سکول واؤچروں کی مدد سے مسابقت کا رحجان بڑھا اور دیہی کواپریٹیو سکولوں کا قیام عمل میں آیا۔
صوبائی علامات
جھنڈا [ترمیم]
ساسکچیوان کا جھنڈا سرکاری طور پر 22 ستمبر 1969 میں لہرایا گیا۔ سرکاری نشان کو جھنڈے کے اوپر رکھا گیا ہے جس کے ساتھ پریری للی کا پھول لہرا رہا ہے۔ اوپری سبز حصہ شمالی ساسکچیوان کے جنگلات کو اور نچلا سنہرا رنگ جنوبی علاقے کے گندم کے کھیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جھنڈے کو بنانے کے لئے صوبے بھر میں مقابلہ ہوا تھا جس میں 4000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ جیتنے والے امیدوار کا نام انتھونی ڈریک تھا جو اس وقت ہاج ولے میں رہ رہے تھے۔
روزمرہ استعمال [ترمیم]
ساسکچیوان کو جدید دور میں کارنر گیس اور لٹل ماسک ان پریری میں دکھایا گیا ہے۔ دونوں ہی پروگرام کینیڈا کے ٹی وی پر چلتے ہیں اور چھوٹے شہروں میں بنائے گئے ہیں۔ ڈبلیو او مچل، سنکلیئر راس، فریڈرک فلپ گروو، گائے وانڈرہاف، مائیکل ہیلم اور گیل باؤن نے بھی اپنے ناولوں میں ساسکچیوان کا بکثرت تذکرہ کیا ہے۔
مشہور انگریز نیچرلسٹ گرے آؤل یعنی بھورا الو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ یہاں موجود ور کے ساسکچیوان میں گذارا اور یہیں تعلیم پائی۔
157 میں لونی ٹونز میں علی بابا خرگوش نے حسن کا کردار ادا کیا جس میں وہ کھل جا سم سم کے الفاظ بھول جاتا ہے۔ مختلف الفاظ ادا کرتے کرتے ایک بار وہ کھل جا ساسکچیوان کہہ جاتا ہے۔
کیوبیک کا مشہور موسیقار گروہ لیس ٹروئس اکارڈز کا فرانسیسی میں ایک گانا ساسکیچوان کے متعلق ہے جو ان کے پہلے البم کا تیسرا گانا ہے۔اس گانے کو مناسب حد تک فرانسیسی کینیڈا میں مقبولیت ملی۔
|ویکیمیڈیا العام میں ساسکچیوان سے متعلق وسیط موجود ہے۔| | <urn:uuid:9ed54673-79f1-4205-93b4-ec7bea1b99fd> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DA%86%DB%8C%D9%88%D8%A7%D9%86 | 2013-05-21T21:00:47Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368700563008/warc/CC-MAIN-20130516103603-00048-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.983627 | Arab | 73 | {} |
دار البیضاء
|دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|عمومی معلومات|
|علاقہ||دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|صوبہ||دارالبیضاء/ کاسابلانکا|
|رقبہ||غیر دستیاب مربع کلومیٹر|
|آبادی||3,500,000 (2004ء)|
|کالنگ کوڈ||02|
|منطقۂ وقت||متناسق عالمی وقت (UTC+0)|
|حکومت|
|ناظم (ولی)||محمد کباج|
|قصبات||غیر دستیاب|
|علامت|
دار البیضاء یا کاسا بلانکا (قدیم نام انفا) مراکش کا سب سے بڑا شہر اور اہم ترین بندر گاہ ہے، اور دارالبیضاء/ کاسابلانکا کے علاقہ کا دارالحکومت بھی ہے۔ عربی میں اس کا سرکاری نام دارالبیضاء اور ہسپانوی زبان میں کاسابلانکا ہے جس کا لفظی مطلب سفید گھر (white house) ہے۔ ستمبر 2004ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ رباط مراکش کا دارالحکومت ہے، جبکہ دارالبیضاء/ کاسابلانکا سب سے بڑا شہر اور بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی دارالحکومت ہے۔
فہرست
تاریخ [ترمیم]
کاسا بلانکا کی بنیاد بربریوں نے انفا نام کی آزاد ریاست کے ساتھ ساتویں صدی عیسوی میں رکھی، جسے 1068ء میں سحارہ کے المرابطون (مرابط حکمران خاندان) نے فتح اور اپنی ریاست میں شامل کیا۔ چودہویں صدی عیسوی میں مرینیون (حکمران خاندان) کی حکمرانی میں انفا بندرگاہ کے طور پر اہمیت اختیار کرنے لگا۔ پندرہویں صدی عیسوی میں شہر ایک باد پھر آزاد ریاست بنا لیکن ساتھ ہی قزاقوں کی قوت کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور بندرگاہ بن گیا، جسکے نتیجہ میں 1468ء میں پرتگالیوں کی بمباری کا نشانہ بن کر تباہ ہوا۔ 1515ء پرتگالیوں نے انفا کی تعمیر نو کر کے اسے ایک فوجی قلعہ بنایا جسے 1755ء کے زلزلہ میں تباہ ہونے کے بعد ترک کر دیا گیا۔
انیسویں صدی عیسوی میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی جسکی وجہ بطور بندرگاہ شہر کے استعمال میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ تھا۔ کاسا بلانکا سے اون برطانیہ کی ابھرتی ہوئی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بھیجی جاتی تھی۔ 1860ء میں شہر کی آبادی چارہزار تھی جو 1880ء میں بڑھ کر نو ہزار ہو گئی اور آنے والے چند سالوں میں بارہ ہزار سے تجاوز کر گئي۔ 1921ء میں آبادی ایک لاکھ دس ہزار ہو چکی تھی جس میں زیادہ اضافہ گردونواع میں غیر منصوبہ بند بستیوں سے ہوا۔
فرانسیسی دور اقتدار [ترمیم]
سترہویں، اٹھاریوں صدی میں مراکش بربریوں کے زیر حکومت اور بحری قزاقوں کے لیے پناہ گاہ رہا۔ یورپی طاقتوں 1840ء سے مراکش کو کالونی بنانے میں دلچسپی لے رہی تھیں، اور فرانس اور ہسپانیہ سے کئی ایک جھڑپیں بھی ہو چکی تھیں۔ 1904ء میں فرانس اور ہسپانیہ ایک خفیہ معاہدہ پر متفق ہوۓ، جسکے نتیجہ میں مراکش کے حصے بکھرے کۓ گۓ۔ زیادہ تر مراکش پر فرانس نے قبضہ کیا جبکہ ہسپانیہ کے حصہ میں چھوٹا جنوبی علاقہ آیا۔
1907ء میں فرانسیسیوں نے ایک قبرستان سے گزرتی ہوئی ریل کی پٹڑی بچھانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں مقامی آبادی نے فرانسیسی کارکنوں پر حملہ کیا، اور ہنگامہ آرائی ہوئي۔ فرانسیسی افواج صورتحال پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے کے اتریں، لیکن ان ہنگاموں اور فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شہر کو شدید نقصان ہوا، جو آخرکار شہر پر فرانسیسی کنٹرول پر ختم ہوۓ۔ یہاں سے ہی کالونی بنانے کے عمل کا آغاز ہوا جو 1910ء تک مکمل ہوا۔ 1940ء سے 1950ء کے عشرہ میں فرانسیسیوں کے خلاف بغاوت میں شہر بغاوتیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہاں ہی 1953ء کے کرسمس دن پر بم حملے میں بہت بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔
آزادی کے بعد [ترمیم]
مراکش نے 2 مارچ 1956ء کو فرانس سے آزادی حاصل کی۔ 1930ء میں کاسا بلانکا نے فارمولا ون عالمی مقابلوں کی میزبانی کی، جو نیو انفا ریس کورس پر ہوئي۔ 1958ء میں یہ آین ریاب سرکٹ پر منعقد کی گئي (مروکن گرینڈ پریکس)۔ 1983ء میں کاسا بلانکا نے بحیرہ روم کے ملکوں کے کھیلوں (میڈیٹرینین گیمز) کی میزبانی کی۔ اب شہر سیاحت کے شعبہ میں ترقی کر رہا ہے۔
مارچ 2000ء میں عورتوں کے تنظیموں نے کاسا بلانکا میں عورتوں کے حقوق کے لیے مظاہرہ کیا جس میں چالیس ہزار عورتوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مردوں کے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے خلاف اور طلاق کے قوانین میں رد و بدل کے مطالبات کیے۔ گرچہ مخالفت میں پانچ لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا لیکن تحریک شاہ محمد چہارم کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی۔ جس کے نتیجہ میں اوائل 2004ء میں نۓ خاندانی قوانین متعارف کراۓ گۓ، جن میں مظاہرین کے کچھ مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
موجودہ شہر [ترمیم]
فرانسیسی دور اقتدار میں کاسا بلانکا کا نیا قصبہ فرانسیسی ماہر فن تعمیر ہینری پروسٹ (Henri Prost) نے تشکیل دیا جو اس وقت کا جدید ترین نمونہ تھا۔ اور یہ موجودہ مراکش کی سب سے زیادہ پر تاثر جگہ ہے۔ علاقہ میں سابقہ انتظامی عمارات اور جدید ہوٹل موجود ہیں۔ اور فن تعمیر مورش طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔
پارک دے لا لیگوے عرابے (سابقہ نام لیاوٹے) شہر کا سب سے بڑا پارک ہے، جس کے قریب گرجا گھر کیتھڈریل دو ساکرو کور (Cathedrale du Sacré Coeur) واقعہ ہے۔ گرجا گھر ترک کیا جا چکا ہے، تاہم یہ مورش فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔
قدیم شہر مراکش کے باقی شہروں کے قدیم حصوں مثلا فیس یا مراکیش کے مقابلے میں سیاحوں کو کم متوجہ کرتا ہے۔ تاہم حال ہی میں کچھ تعمیر نو کی گئی ہے قدیم عمارتوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں شہر کی مغربی دیوار اور کالونی دور کا گھنٹہ گھر وغیرہ شامل ہیں۔
اہم عمارات [ترمیم]
- حسن دوئم مسجد فرانسیسی ماہر فن تعمیر مائیکل پنسیو (Michel Pinceau) کا شاہکار ہے، جو بحر اوقیانوس کے ساحل پر آگے ابھری ہوئی چٹان پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد میں ایک وقت میں 25 ہزار عبادت گزار عبادت کر سکتے ہیں۔ اور مسجد کے احاطہ کو شامل کر کے مزید 80 ہزار عبادت گزاروں کی گنجائش ہے۔ اسکے مینار کی اونچائی 210 میٹر ہے۔ مسجد پر کام کا آغاز 1980ء میں کیا گیا تھا اور تکمیل کے لیے 1989ء کا سن دیا گیا تھا جو کہ شاہ مراکش حسن دوئم کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ تاہم افتتاح 1993ء میں کیا جا سکا۔
- کاسا بلانکا کا ٹیکنالوجی پارک (کاسا بلانکا ٹیکنو پارک) کا افتتاح اکتوبر 2001ء میں کیا گیا، جو ملک میں معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ منصوبہ حکومت مراکش اور مراکش کے نجی بینکوں کے اتحاد کا اشتراک ہے جو مراکش کی وزارت مواصلات کے تحت کام کرتا ہے۔
- کاسا بلانکا ٹوئن سنٹر دو بلند عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک 28 منزلہ ہے۔ یہ منصوبہ ہسپانوی ماہر فن تعمیر رکاردو بوفل لیوی (Ricardo Bofill Levi) کا شاہکار ہے۔
- لائسے لیاوٹے (Lycée Lyautey ) کاسا بلانکا میں فرانسیسی مشن کا سکول ہے جو فرانسیسی، عربی، انگریزی، ہسپانوی اور جرمن زبانوں میں کئی کورس کرواتا ہے۔ اسکا نام مراکش میں فرانس کے پہلے ریزیڈنٹ جزل مارشل لیاوٹے (Marshal Lyautey) کے نام پر رکھا گیا ہے۔
- محمد پنجم بین الاقوامی ائر پورٹ (Mohammed V International Airport) (عربی میں 'مطار محمد الخامس الدولي') کاسا بلانکا کا بین الاقوامی ائر پورٹ اور شاہی مراکشی ہوائی کمپنی (رائل ائر مراک) کے لیے مرکز ہے۔
تعلیمی ادارے [ترمیم]
نامور شخصیات [ترمیم]
- جون رینو (Jean Reno) فرانسیسی اداکار
- گاد المالح (Gad Elmaleh) مراکی فرانسیسی مزاحیہ اداکار
- ہشام ارازی (Hicham Arazi) مراکی ٹینس کھلاڑی
- ریشار ویرنک (Richard Virenque) فرانسیسی سائیکل سواری کا کھلاڑی
- نورالدین نیبت (Noureddine Naybet) مراکی فٹبال کھلاڑی
- گے فورجے (Guy Forget) فرانسیسی ٹینس کھلاڑی
- العربی بن مبارک (Larbi Benbarek) مراکی فرانسیسی فٹبال کھلاڑی
- الان سوشون (Alain Souchon) فرانسیسی گیت لکھاری
- نوال المتوکل (Nawal El Moutawakel) اولمپک چیمپئن
مزید دیکھیے [ترمیم]
بیرونی روابط [ترمیم]
- کاسا بلانکا کی باضابطہ ویب سائٹ
- کاسا بلانکا معلومات کے لیے
- سیاحتی نقشہ
- کاسا بلانکا جدید تصویروں میں
- حکومت مراکش کی ویب سائٹ
|ویکیمیڈیا العام میں دار البیضاء سے متعلق وسیط موجود ہے۔| | <urn:uuid:16d568da-3894-461f-9e4b-fc9c18a57c68> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%A7 | 2013-05-23T08:36:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368703035278/warc/CC-MAIN-20130516111715-00054-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.984518 | Arab | 94 | {} |
عورت
عورت یا زنانہ بالغ انسانی مادہ کو کہاجاتا ہے جبکہ لفظ لڑکی انسانی بیٹی یا بچّی کیلیے مستعمل ہے. تاہم، بعض اوقات، عورت کی اِصطلاح تمام انسانی مادہ نوع کی نمائندگی کرتی ہے.
عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کےتابع رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کومساوی بنانے کی کوشش کی گئی ۔مگر عملا یہ فرق ختم نہ ہوسکا۔ عورت کو مغربی سماج میں آج بھی وہی دوسرا درجہ حاصل ہے جو قدیم زمانہ میں اس کو حاصل تھا۔ | <urn:uuid:2126fe99-cc1e-499f-aa2e-101d8fc9a2b6> | CC-MAIN-2013-20 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D9%88%D8%B1%D8%AA | 2013-06-19T01:53:43Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368707439689/warc/CC-MAIN-20130516123039-00050-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.982298 | Arab | 35 | {} |
نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دے دی:
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین03دسمبر2008)نیشنل پاوور ریگولیٹری اتھارٹی نے الیکٹرک پاوور سپلائی کمپنیوں کو ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک روپے اٹھارہ پیسے سے دو روپے تیرہ پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں گزٹ نوٹیفیکشن کیلئے سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔اسلام آباد میں نیپرا ذرائع کے مطابق ماہ اکتوبر کیلئے پاوور سپلائی کمپنیوں کی طرف سے درخواستوں پر فیصلے کے مطابق ہیسکو کیلئے ایک روپیہ اٹھارہ پیسے،فیسکو کیلئے ایک روپے چھہتر پیسے،ہیسکو کیلئے ایک روپے پچاسی پیسے،میپکو کیلئے ایک روپے انتالیس پیسے،پیسکو کیلئے دو روپے تیرہ پیسے ،گیپکو کیلئے ایک روپے اٹھہتر پیسے اور آئیسکو کیلئے ایک روپے ستائیس پیسے فی یونٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ | <urn:uuid:3faf4047-f123-4e35-9284-7f32ea1b0dc3> | CC-MAIN-2013-20 | http://www.urdupoint.com/electercity_problem_in_pakistan/News42-106-1058-84946.html | 2013-05-22T18:23:33Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368702185502/warc/CC-MAIN-20130516110305-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.982801 | Arab | 4 | {} |
میں نے ریاست اسرائیل کی 1896 سے 1939 تک کی تاریخ 22 نومبر کو لکھی تھی
اس سے پیشتر بنی اسراءیل کی مختصر تاریخ 14 نومبر کو لکھ چکا ہوں
فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا مقصد ایک صیہونی اڈا بنانا تھا جو وہاں سے فلسطینیوں کے انخلاء اور ان کی جائیدادوں پر قبضے کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا ۔ چنانچہ جوں جوں یورپ سے یہودی آتے گئے توں توں فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جاتا رہا ۔
تھیوڈور ہرستل نے 1885 میں اپنی ڈائری ميں لکھا تھا ” ہم فلسطینیوں کو اپنے ملک میں روزگار کی تلاش سے روکیں گے اور غیر ممالک میں روزگار کا لالچ دے کر جلاوطن کر دیں گے”۔ دوسرے صیہونیوں نے زیادہ راست اقدام کا فیصلہ کیا جو یہ تھا “جونہی ہم فلسطین میں اپنی ایک بستی بنا لیں گے تو ہم زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیں گے ۔ پھر جب ہم مضبوط ہو جائیں گے تو بائیں کنارے کا بھی بندوبست کریں گے”۔ اس منصوبہ میں رکاوٹ یہ آئی کہ شروع میں چند فلسطینیوں نے اپنی زمینیں بیچیں مگر باقی لوگوں نے زمینیں بیچنے سے انکار کر دیا ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے ذرا سا ہوش سنبھلتے ہی 1947 میں فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کے حوالہ کر دیا ۔ اس وقت تک یہودیوں کی تعداد فلسطینیوں کا ایک تہائی ہو چکی تھی لیکن یہودی فلسطین کے صرف 6 فیصد کے مالک تھے ۔یو این او نے ایک کمیٹی بنائی جس نے سفارش کی کہ فلسطین کے 56 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ پر صرف 6 فیصد کے مالک یہودیوں کی ریاست اسرائیل بنا دی جائے اور 43 اعشاریہ 5 فیصد علاقہ میں سے بیت المقدس کو بین الاقوامی بنا کر باقی تقریبا 40 فیصد فلسطین کو 94 فیصد کے مالک مسلمانوں کے پاس رہنے دیا جائے ۔ 29 نومبر 1947 کو یو این جنرل اسمبلی نے 13 کے مقابلہ میں 33 ووٹوں سے اس کی منظوری دے دی ۔ 10 ممبر غیر حاضر رہے ۔ فلسطینیوں نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور صیہونیوں نے فلسطینی مسلمانوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیئے ۔
صیہونیوں کی بڑے پیمانے پر دہشت گردی ۔
صیہونیوں نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا جس میں 91 آدمی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے ۔ ان میں برطانوی فوجی ۔ فلسطینی مسلمان ۔ عیسائی اور چند یہودی بھی شامل تھے ۔ یہ دنیا میں پہلی بارودی دہشت گردی تھی ۔ صیہونی نقطہء نظر یہاں دیکھئے ۔ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے برطانیہ کے اندر حکومت پر فلسطین سے فوجیں نکالنے کا دباؤ پڑنے لگا ۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت مزید یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے امریکی دباؤ سے بھی پریشان تھی ۔ چنانچہ برطانیہ کی حکومت نے اعلان کر دیا کہ وہ فلسطین میں اپنی حکومت 15 مئی 1948 کو ختم کر دے گی ۔
صیہونیوں نے جن کے لیڈر معروف دہشت گرد تھے فلسطینیوں پر حملے اور ان کا قتل تو پہلے ہی شروع کر دیا تھا لیکن 1948 میں اچانک فلسطین کے مسلمانوں پر بڑے پیمانہ پر ایک عسکری کمانڈو حملہ کر کے کچھ دیہات پر قبضہ کر لیا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا ۔ امریکہ صیہونیوں کی پشت پناہ پر تھا اور ان کو مالی اور فوجی امداد مہیا کر رہا تھا ۔ اس طرح روس یورپ اور بالخصوص امریکہ کی مدد سے یہودی نے اپنی دو ہزار سال پرانی آرزو ” یہودی ریاست اسرائیل” کا 14 مئی 1948 کو 4 بجے بعد دوپہر اعلان کر دیا جو دراصل صیہونی ریاست تھی کیونکہ کئی یہودی مذہبی پیشواؤں نے اس کی مخالفت کی ۔ اگلے دن برطانیہ کے بقیہ فوجی بھی اپنی چھاؤنیاں صیہونیوں کے حوالے کر کے چلے گئے ۔ اس کے بعد مار دھاڑ روز کا معمول بن گیا ۔ صیہونی مسلحہ دستے مسلمان عربوں کی املاک پر قبضہ کرتے چلے گئے کیونکہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے تربیت یافتہ کمانڈو تھے اور انہيں امریکہ اور برطانیہ کی امداد بھی حاصل تھی ۔ یہودیوں کی دہشت گرد تنظیموں کے نام بدلتے رہے کیونکہ وہ یورپ میں بھی دہشت گردی کرتی رہیں اور دہشت گرد قرار دی جاتی رہیں ۔ مشہور نام یہ ہیں ۔ ہاگانہ ۔ اوردے ونگیٹ ۔ ارگون ۔ لیہی ۔ لیکوڈ ۔ ہیروت ۔ مالیدت ۔
چند مشہور دہشت گرد لیڈروں کے نام یہ ہیں ۔ موشے دیان جو 1953 سے 1957 عیسوی تک اسرائیل کی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف رہا ۔ مناخم بیگن جو 1977 میں اسرائیل کا وزیراعظم بنا ۔ یتز ہاک شمیر جو 1983 میں وزیراعظم بنا ۔ ایرئل شیرون جو موجودہ وزیراعظم ہے ۔ موشے دیان کو دہشت گرد ہونے کے باوجود برطانوی فوج میں کسی خاص کام کے لئے کچھ عرصہ کے لئے بھرتی کیا گیا تھا ۔ وہ برطانوی فوج کی ملازمت چھوڑ کر پھر صیہونی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا اور اس کا کمانڈر بن گیا ۔
عربوں کی املاک پر قبضہ کرنے کے لئے جو حملے کئے جاتے رہے ان کا کمانڈر موشے دیان ہی تھا ۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے نہ صرف وہ علاقے زبردستی قبضہ میں لئے جو یو این او یہودیوں کو دینا چاہتی تھی بلکہ ان علاقوں پر بھی قبضہ کیا جو یو این او کے مطابق فلسطینیوں کے تھے ۔ قبضہ کے دوران جو فلسطینی مسلمان نظر آتا اسے قتل کر دیا جاتا ۔ میناخم بیگن اس دہشت گرد گروہ کا سربراہ تھا جس نے بیت المقدس میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل اڑا دیا تھا ۔ صابرا اور شتیلا کو گھیرے میں لے کر وہاں مقیم چار ہزار نہتے فلسطینی مہاجرین کو قتل کرنے کا حکم دینے والا ایرئل شیرون تھا جو ان دنوں اسرائیل کا وزیر دفاع تھا ۔
میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ ان بڑوں کی منافقت کو اجاگر نہ کروں مگر نہ یہ بڑے چین سے بیٹھنے دیتے ہیں نہ ان سے متاءثر تبصرہ نگار ۔ اپنے تیئں ذی شعور ۔روشن خیال اور انصاف پسند تبصرہ نگار فرماتے ہیں ۔ جو ہو گیا ہمیں قبول کر لینا چاہیئے ۔ ہم طاقتور سے لڑ نہیں سکتے اس لئے جو وہ کہے یا کرے مان لینا چاہیئے ۔
میرے خیال میں جو لوگ “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” میں یقین رکھتے ہیں ان کا علاج صرف لاٹھی ہی سے ہو سکتا ہے ۔ کم از کم قدیر احمد رانا صاحب اور اسماء کریم مرزا صاحبہ ضرور میری تائید کریں گی ۔ سنیئے ذرا غور سے ۔ او ہاں ۔ ایک منٹ ۔ اصل موضوع بعد میں ۔ مجھے یاد آیا جب ہم سکول میں پڑھتے تھے اس زمانہ میں راولپنڈی کارپوریشن کا ایک منادیہ ہوا کرتا تھا ۔ وہ کارپوریشن کے احکامات بذریعہ منادی عوام تک پہنچایا کرتا تھا ۔ اس کے پاس ٹینس کا ایک ریکٹ ہوتا تھا جس پر چمڑا چڑھا ہوتا تھا اور مخالف سمتوں میں دو ڈوریوں کے ساتھ لکڑی کے منکے لگے ہوتے تھے ۔ وہ ریکٹ کو بطور ڈگڈگی بجاتا اور کہتا ” سنیئے جناب والا ۔ کیا کہتا ہے منادی والا ۔ منادی سنیئے غور سے ۔ پھر بات کیجئے کسی اور سے” اس کے بعد وہ حکمنامہ پڑھ کر سناتا ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا ۔
حال ہی میں ایک برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ (David Irving) کو آسٹریا میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اس کے وارنٹ گرفتاری 1989 میں جاری ہوۓ تھے ۔ اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے ویانا میں لیکچر دیا تھا جس میں اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں کی نازیوں کے ہاتھوں گیس چیمبرز کے ذریعہ موت کے واقعہ کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ مرنے والے یہودیوں کی تعداد انتہائی مبالغہ آمیز ہے ۔ اس نے نام نہاد ہالوکاسٹ (Holocaust) کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا تھا ۔ ڈیوڈ ارونگ کے لیکچر کی بنیاد ایک امریکن فریڈ لاؤخر (Fred Leucher) کی 1988 میں چھپنے والی رپورٹ ہے جو اس نے آؤش وٹس (Auschwitz) میں طویل تحقیق کے بعد لکھی تھی ۔ آؤش وٹس وہی جگہ ہے جہاں گیس چیمبرز کی موجودگی بیان کی گئی تھی
اگر ڈیوڈ ارونگ پر گیس چیمبرز یا ہالوکاسٹ سے انکار کا جرم ثابت کر دیا گیا تو اسے 10 سے 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ امریکہ کے صدر نے خود ایک بڑا جھوٹ ایجاد کیا اور اس کا سہارا لے کر عراق کی تہس نہس پھیر دی
ایک ڈیوڈ ارونگ ہے کہ کسی اور پر لگاۓ گئے جرم کے الزام کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اسے مجرم کہہ کر جیل میں ڈالا جا رہا ہے اور ایک امریکہ کا صدر ہے جس کے متعلق ساری دنیا جانتی ہے کہ اس نے خود سے ایک جھوٹ گھڑا پھر اسی جھوٹ کے سہارے بلا جواز عراق پر حملہ کیا اور مزید جرم پر جرم کرتا جا رہا ہے اور اسے ابھی بھی ہیومن رائٹس کا چمپین (champion of human rights) کہا جاتا ہے ۔۔
کیا یہ منافقت کی انتہاء نہیں ؟
میں نے بنی اسراءیل کی بالکل مختصر تاریخ 14 نومبر کو پوسٹ کی تھی ۔ اب ریاست اسرائیل کی مختصر تاریخ ۔
آسٹرین یہودی تھیوڈور ہرستل یا تیفادار ہرستل بڈاپسٹ میں پیدا ہوا اور ویانا میں تعلیم پائی ۔ اس کا اصلی نام بن یامین بتایا جاتا ہے سیاسی صیہونیت کا بانی ہے ۔ اس نے 1896 عیسوی میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی ” ڈر جوڈن شٹاٹ” یعنی یہودی ریاست جس کا انگریزی ترجمہ اپریل 1896 میں آیا ۔ اس ریاست کے قیام کے لئے ارجٹائن یا مشرق وسطہ کا علاقہ تجویز کیا گیا ۔ برطانوی حکومت نے ارجٹائن میں یہودی ریاست قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور اسے فلسطین میں قائم کرنے پر زور دیا ۔ اس ریاست کا جو نقشہ بنایا گیا اس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا سارا علاقہ شامل دکھایا گیا یعنی مصر کا دریائے نیل سے مشرق کا علاقہ ۔ سارا فلسطین ۔ سارا اردن ۔ سارا لبنان ۔ شام اور عراق کا دو تہائی علاقہ اور سعودی عرب کا ایک تہائی علاقہ ۔ اس کے بعد صیہونی کانگرس کا باسل (سوئٹزرلینڈ) میں اجلاس ہوا جس میں فلسطین میں خالص صیہونی ریاست بنانے کی منظوری دی گئی اور ساتھ ہی بین الاقوامی صیہونی تنظیم بنائی گئی تا کہ وہ صیہونی ریاست کا قیام یقینی بنائے ۔
Writes Mr M. Shahid Alam who teaches economics at a university in Boston, USA.
The goal of a Jewish state in Palestine with a Jewish population had an unavoidable corollary. As the Jews entered Palestine, the Palestinians would have to be ‘transferred’ out of Palestine. As early as 1895, Theodore Herzl had figured this out in an entry in his diary: “We shall try to spirit the penniless population across the border by procuring employment for it in the transit countries, while denying it any employment in our own country.”Others took a more direct approach: “As soon as we have a big settlement here we’ll seize the land, we’ll become strong, and then we’ll take care of the Left Bank. We’ll expel them from there, too. Let them go back to the Arab countries.” At some point, when a dominant Jewish presence had been established in Palestine, and the Palestinians had departed or been marginalized, the British could end their mandate to make room for the emergence of a Jewish state in Palestine.This plan ran into problems. The Palestinians would not cooperate: they refused to leave and very few were willing to sell their lands. As a result, in 1948, the year that Israel was created, nearly all of Palestine’s “penniless population” was still in place and more than 50 years after the launching of political Zionism, the Jewish settlers owned only seven per cent of the lands in Palestine, not the best lands either.
1896 سے ہی یورپ سے یہودی نقل مکانی کر کے فلسطین پہنچنا شروع ہو گئے اور 1897 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب پہنچ گئی ۔ جب کہ مسلمان عربوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی ۔1903 عیسوی تک یورپ سے ہزاروں یہودی فلسطین پہنچ گئے اور ان کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہو گئی ۔ 1914 تک مزید چالیس ہزار کے قریب یہودی فلسطین پہنچے ۔
1916 عیسوی میں مصر میں برطانیہ کے کمشنر ہنری مکماہون نے مصر سے عرب فوجی بھرتی کرنے کے لئے وعدہ کیا تھا کہ عربوں کے وہ علاقے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل تھے آزاد کر دیئے جائیں گے ۔ برطانیہ کی عیّاری ملاحظہ ہو کہ اسی زمانہ میں خفیہ معاہدہ سائیکس پیکاٹ کیا گیا جس کی رو سے برطانیہ اور فرانس نے علاقہ کو اپنے مشترکہ انتظام کے تحت تقسیم کر دیا ۔ مزید عیّاری یہ کہ 1917 عیسوی میں برطانیہ کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور نے برطانیہ کی طرف سے لارڈ راتھ شلڈ نامی صیہونی لیڈر کو لکھے گئے ایک خط میں فلسطین کے اندر ایک صیہونی ریاست بنانے کے لئے کام کرنے کا وعدہ کیا ۔ جنگ عظیم کے اختتام پر 1918 عیسوی میں مصر سے بدعہدی کرتے ہوۓ فلسطین پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا ۔ لیگ آف نیشنز نے 25 اپریل 1920 کو فلسطین پر انگریزوں کے قبضہ کو جائز قرار دے دیا ۔
1918 عیسوی میں فلسطین ميں یورپ سے مزید یہودی آنے کے باعث ان کی تعداد 67000 کے قریب تھی ۔ برطانوی مردم شماری کے مطابق 1922 عیسوی میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی 11 فیصد تک پہنچ گئی تھی یعنی 667500 مسلمان تھے تو 82500 یہودی تھے ۔ 1930 تک برطانوی سرپرستی میں مزید 300000 سے زائد یہودی یورپ اور روس سے فلسطین پہنچائے گئے جس سے عربوں میں بے چینی پیدا ہوئی ۔
اگست 1929 میں یہودیوں اور فلسطینی مسلمانوں میں جھڑپیں ہوئیں جن میں سوا سو کے قریب فلسطینی اور تقریبا اتنے ہی یہودی مارے گئے ان جھڑپوں کی ابتداء صیہونیوں نے کی تھی لیکن برطانوی پولیس نے صیہونیوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا ۔ برطانیہ کا رائل کمشن جس کا سربراہ لارڈ پیل تھا نے 1937 عیسوی میں تجویز دی کہ فلسطین کو تقسیم کر کے تیسرا حصہ یہودیوں کو دے دیا جائے ۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی زمینی ملکیت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ فلسطینی اس کے خلاف دو سال تک احتجاج کرتے رہے ۔ وہ چاہتے تھے کہ تقسیم نہ کی جائے اور صرف اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ اس پر برطانیہ سے مزید فوج منگوا کر فلسطینیوں کے احتجاج کو سختی سے کچل دیا گیا ۔ 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور فلسطین کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا مگر صیہونیوں نے یورپ سے فلسطین کی طرف نقل مکانی جاری رکھی ۔
* Share your knowledge. It is a way to achieve immortality.
* Judge your success by what you had to give up in order to get it.
* Approach love and cooking with reckless abandon.
انشاء اللہ بنی اسراءیل کی تاریخ کا صرف خاکہ پیش کر نے کے بعد ریاست اسرائیل کے تاریخی حقائق لکھوں گا جن کی بنیاد ویب پر موجود اور غیرموجود تحاریر کے علاوہ پچھلے 55 سال میں اکٹھی کی ہوئی میری ذاتی معلومات پر ہے ۔ 1932 سے دسمبر 1947 عیسوی تک میرے والد صاحب کے کاروبار کا مرکز فلسطین تھا ۔ ان کی رہائش فلسطین کے ایک شہرطولکرم اور ہیڈ آفس حیفہ میں تھا ۔ والدہ صاحبہ کبھی مصر میں میرے نانا نانی کے پاس یا فلسطین میں والد صاحب کے ساتھ رہتیں کبھی ہندوستان ميں ہمارے ساتھ ۔ میری ایک بڑی بہن 1933 میں قاہرہ (مصر) میں پیدا ہوئی اور ایک چھوٹا بھائی 1947 میں فلسطین میں نابلس کے ہسپتال میں پیدا ہوا ۔ ميں اپنے دادا دادی کے پاس ہندوستان ہی میں رہا ۔
بنی اسراءیل
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ۔ خانہ کعبہ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے آج سے 4000 سال قبل تعمیر کیا تھا البتہ کچھ حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسی جگہ حضرت نوح علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تھا ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فلسطین کے علاقہ بیت المقدّس میں بھی عبادت گاہ بنائی ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام بھی وہاں عبادت کرتے رہے مگر حج کے لئے وہ مکّہ مکرمہ میں خانہ کعبہ ہی جاتے تھے ۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے ۔ اسراءیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ۔ اسراءیل کے معنی ہیں عبداللہ یا خدا کا بندہ ۔ بنی اسراءیل ان کے قبیلہ کو کہا جاتا ہے ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام تھے جو مصر کے بادشاہ بنے ۔ بنی اسراءیل میں پھر حضرت موسی علیہ السلام مصر میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام صحراۓ سینائی کے علاقہ میں پیدا ہوۓ جو بعد میں فلسطین چلے گئے ۔
جب حضرت داؤد علیہ السلام نے انتہائی طاقتور دیو ہیکل جالوت (گولائتھ) کو اللہ کی نصرت سے غلیل کا پتھر مار کر گرا دیا تو فلسطین کے بادشاہ صول نے حسب وعدہ ان کی شادی اپنی بیٹی مشل سے کر دی ۔ صول کے مرنے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ہوا ۔ جن اور ہر قسم کے جانور حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیئے تھے ۔ قبل مسیح 961 سے قبل مسیح 922 کے دوران حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی مدد سے مسجد الاقصی اسی جگہ تعمیر کروائی جہاں حضرت ابراھیم علیہ السلام نے عبادت گاہ تعمیر کرائی تھی ۔
586 قبل مسیح میں یہ ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ جنوبی علاقہ پر بابل کے لوگوں نے قبضہ کر کے عبادت گاہ مسمار کر دی اور بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا ۔ اس کے سو سال بعد بنی اسراءیل واپس آنے شرو ع ہوئے اور انہوں نے اپنی عبادت گاہ تعمیر کی مگر اس جگہ نہیں جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے عبادت گاہ بنوائی تھی ۔ 333 قبل مسیح میں سکندراعظم نے اسے یونان کی سلطنت میں شامل کر کے بنی اسراءیل کو وہاں سے نکال دیا ۔ 165 قبل مسیح میں بنی اسراءیل نے بغاوت کر کے ایک یہودی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ سوسال بعد یہودی ریاست پر سلطنت روم کا قبضہ ہو گیا ۔ 70 عیسوی میں یہودیوں نے بغاوت کی جسے شہنشاہ ٹائٹس نے کچل دیا اور یہودیوں کی عبادت گاہ مسمار کر کے انہیں وہاں سے نکال دیا ۔ روم کے بادشاہ حیدریاں (138-118 عیسوی) نے یہودیوں کو شروع میں بیت المقدس آنے کی اجازت دی لیکن بغاوت کرنے پر بیت المقدس کے شہر کو مکمل طور پر تباہ کر کے یہودیوں کو غلاموں کے طور بیچ کر شہر بدر کر دیا اور ان کا واپس بیت المقدّس آنا ممنوع قرار دے دیا ۔
614 عیسوی سے 624 عیسوی تک فلسطین پر ایرانیوں کی حکومت رہی جنہوں نے یہودیوں کو عبادت کرنے کی کھلی چھٹی دے دی مگر انہوں نے مسجد الاقصی میں عبادت نہ کی اور عرب عیسائیوں پر بہت ظلم کئے ۔ اس کے بعد بازنطینی حکومت آئی جس نے 636 عیسوی میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر بغیر جنگ کے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محافظ اور امن کا پیامبر قرار دے کر بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد الاقصی کی تعمیر 639 عیسوی میں اس جگہ پر شروع کروائی جہاں پر اسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا ۔ 636 سے 1918 عیسوی تک یعنی 1282 سال فلسطین پر جس میں اردن بھی شامل تھا مسلمانوں کی حکومت رہی سواۓ صلیبی جنگوں کے کچھ عرصہ کے ۔ اس وقت تک یہودیوں کو فلسطین سے باہر ہوۓ 1800 سال ہو چکے تھے ۔
بنی اسراءیل کے متعلق تاریخی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بہت سے نبیوں کو قتل کیا جن میں ان کے اپنے قبیلہ کے حضرت زکریّا علیہ السلام اور حضرت یحی علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام بھی اسی قبیلہ سے تھے ۔ ان کو بھی قتل کرنا چاہا مگر اللہ نے انہیں بچالیا اور ان کا کوئی ہم شکل قتل کر دیا گیا ۔ خلق خدا کو بھی بنی اسراءیل بہت اذیّت پہنچاتے رہے ۔ | <urn:uuid:2180a872-8779-4af4-8717-cba5413e0fd5> | CC-MAIN-2013-20 | http://iabhopal.wordpress.com/2005/11/ | 2013-05-25T01:59:52Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-20/segments/1368705318091/warc/CC-MAIN-20130516115518-00053-ip-10-60-113-184.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.979422 | Arab | 19 | {} |
پرنسز عابدہ سلطان
پیدائش: 1913
انتقال:2002ء
بھارتی ریاست بھوپال کی آخری ولی عہد اور پاکستان کی سابق سفیر۔پرنسز عابدہ سلطان ہندستان کی ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمیداللہ خان کی تین صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں، اور اپنے والد کے حکمران بننے کے بعد انیس سو اٹھائیس میں ریاست کی ولی عہد مقرر کی گئیں۔ انہوں نے اپنا بچپن اپنی دادی بھوپال کی آخری خاتون حکمران سلطان جہان بیگم کے زیر تربیت گزارا، جنہیں وہ ہمیشہ ’سرکار امّاں‘ پکارتی تھیں۔ پرنسز عابدہ سلطان کو ریاست کی حکمرانی کی پوری تربیت دی گئی تھی اور انیس سو تیس میں وہ اپنی والد کی چیف سکریٹری مقرر ہوئیں، اور بعد میں کابینہ کی صدر۔
پرنسز عابدہ سلطان بر صغیر کی پہلے خاتون تھیں جنہوں نے ہوا بازی سیکھی اور انیس سو بیالیس میں باقاغدہ پائلٹ لائسنس حاصل کیا۔ وہ ایک منجھی ہوئی شکاری بھی تھیں اور ریاست کے اہم مہمانوں کو شیر کے شکار پر لے جایا کرتیں۔
وہ ہندوستان کی خواتین کی اسکوائش چیمپین تھیں اور ہاکی اور ٹینس کے مقابلوں میں بھی شریک ہوئیں۔ ان کی شادی نواب صاحب کوربائی سے ہوئی اور ایک بیٹا ہوا لیکن کچھ ہی عرصے بعد دونوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں علیحدہ زندگیاں گزارنی شروع کر دیں
تقسیم ہند کے تین سال بعد انیس سو پچاس میں پرنسز عابدہ سلطان بھوپال کی ریاست کا حق ترک کر کے اپنے اکلوتے بیٹے شہریار محمد خان کے ساتھ ولایت کے راستے پاکستان منتقل ہو گئیں۔
پاکستان میں عابدہ سلطان نہایت سادگی سے رہنے لگیں۔ کراچی کے ملیر علاقے میں انہوں نے اپنا گھر بنایا اور بیشتر کام وہ خود کرتیس تھیں۔ شان اور دکھاوے سے بہت پرہیز کرتی تھیں، جب کسی نے ان سے کہا کہ ان کو اپنی ذاتی گاڑی پر ریاست کی خاص لال نمبر پلیٹ لگانی چاہیے تو کہنے لگیں کہ جب ریاست ہی نہیں ہے تو اتنے انداز اور نخرے کیوں؟
پرنسز عابدہ سلطان برازیل میں پاکستان میں کی سفیر بھی رہیں، لیکن صرف اٹھارہ ماہ بعد وہ سفارت سے چھوڑ کر پاکستان واپس آگئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری میں انہوں نے اتنی بدعنوانی دیکھی کہ ان سے برداشت نہ ہو سکا۔ پرنسز عابدہ سلطان نے انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے خلاف محترہ فاطمہ جناح کی حمایت کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے حال میں اپنی آپب یتی ’ایک شہزادی کی یاد داشتیں‘ کے عنوان سے مکمل کی تھی۔
شہزادی عابدہ سلطان پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ اور برطانیہ اور فرانس میں سابق سفیر شہریار محمد خان کی والدہ تھیں۔ کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔ | <urn:uuid:31658904-40ba-4a49-af01-2bca0fdf7c22> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%86%D8%B3%D8%B2_%D8%B9%D8%A7%D8%A8%D8%AF%DB%81_%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%86 | 2013-12-05T12:34:51Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163045140/warc/CC-MAIN-20131204131725-00040-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.987943 | Arab | 58 | {} |
مشرقی یورپ کی یہودی بستیوں میں رہنے والے یہودیوں نے جرمنوں کے خلاف مزاحمت منظم کرنے اور اپنے آپ کو چوری کے اور خود سے بنائے جانے والے ہتھیاروں سے لیس کرنے کی کوشش کی۔ 1941 اور 1943 کے درمیان تقریباً 100 یہودی گروپوں میں خفیہ مزاحمتی تحریکیں قائم ہوگئيں۔ مسلح لڑائی میں جرمنوں کی مزاحمت کی سب سے مشہور کوشش وارسا کی یہودی بستی میں ہوئی۔
1942 کے موسم گرما کے دوران تقریباً تین لاکھ یہودیوں کو وارسا سے جلاوطن کرکے ٹریبلنکا بھیجا گیا۔ جب وارسا کے یہودییوں کو قتل کے مرکز میں اجتماعی قتل کی خبر پہنچی تو نوجوانوں کے ایک گروپ نے زیڈ او بی (پولیش زبان میں زائیڈوسکا آرگنائزیکجا بوجووا، جس کے معنی یہودی مزاحمتی تحریک کے تھے) نامی ایک تنظیم قائم کی۔ مورڈیچائی انیلیوچ کی قیادت میں زیڈ او بی نے یہودیوں سے ریل گاڑیوں تک جانے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کیا۔ جنوری 1943 میں جب جرمن فوجی جلاوطنی کے لئے یہودی بستی کے مکینوں کے ایک اور گروپ کو اکٹھا کررہے تھے تو وارسا کی یہودی بستی کے جنگ جوؤں نے جرمن فوجیوں پر گولیاں چلانا شروع کردیں۔ جنگ جوؤں نے یہودی بستی میں خفیہ طور پر لائے جانے والے کچھ ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ کچھ دنوں کے بعد فوجی پیچھے ہٹ گئے۔ اس چھوٹی سی فتح نے یہودی بستی کے جنگ جوؤں کو آئیندہ مزاحمت کی تیاری کرنے کا جوش دلایا۔
9 اپریل 1943 کو جب جرمن فوجی اور پولیس یہودی بستی کے زندہ بچنے والے مکینوں کو جلاوطن کرنے کے لئے بستی میں داخل ہوئے تو وارسا یہودی بستی میں بغاوت شروع ہوگئی۔ ساڑھے سات سو جنگ جوؤں نے مسلح اور تربیت یافتہ جرمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہودی بستی کے جنگ جو ایک مہینے تک ڈٹے رہے۔ لیکن 16 مئی 1943 کو بغاوت ختم ہوگئی۔ جرمنوں نے رفتہ رفتہ مزاحمت کو دبا دیا تھا۔ گرفتار ہونے والے 56 ہزار سے زائد یہودیوں میں سے سات ہزار کے قریب کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا اور باقیوں کو جلاوطن کرکے کیمپوں میں بھیج دیا گيا۔
اہم تواریخ
28 جولائی 1942
یہودی عسکریت پسند تنظیم قائم ہوگئی
وارسا کی یہودی بستی سے ٹریبلنکا کی قتل گاہ تک جلاوطنی کے پہلے مرحلے کے دوران یہودی عسکریت پسند تنظیم (زیڈ او بی، زائیڈوسکا آرگنازیکجا بوجووا) قائم کی گئی۔ 22 جولائی 1942 کو جرمنوں نے جلاوطنیوں کا سلسلہ شروع کیا جو بلا رکاوٹ 12 ستمبر 1942 تک جاری رہا۔ اس دوران یہودی بستی سے تقریبا ڈھائی لاکھ یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کردیا گیا۔ یہودی نوجوانوں کی تنظیموں نے زیڈ او بی قائم کرکے یہودی بستی کے یہودیوں سے جلاوطنی کی مزاحمت کرنے کیلئے کہا۔ گشتی قاتل یونٹس اور قتل گاہوں میں یہودیوں کے قتل عام کی اطلاعات پہلے ہی یہودی بستی میں پہنچ چکی تھیں۔ تاہم ابھی زیڈ او بی بغاوت کرنے کے لئے تیار نہيں تھی۔ ستمبر میں جلاوطنیاں ختم ہونے کے بعد، زیڈ او بی نے خفیہ سیاسی تنظیموں کے اراکین کو بھی شامل کرلیا اور تربیت، ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے والے پولش مزاحمتی گروپوں کے ساتھ روابط قائم کئے۔ مارڈیکائی اینئیلاوچ کو کمانڈر مقرر کر دیا گیا۔
18 سے 21 جنوری 1943
جرمنوں کی طرف سے مزاحمت کا مقابلہ
جرمنوں نے وارسا یہودی بستی سے جلاوطنیاں دوبارہ شروع کردیں۔ تاہم اس بار انہيں زیڈ او بی (یہودی عسکریت پسند تنظیم; زائیڈوسکا آرگنائیزیکجا بوجووا) کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ صبح سویرے کی پکڑ دھکڑ نے زیڈ او بی کو بالکل بوکھلا دیا اور لوگ جرمنوں کی مخالفت کے لئے سڑکوں پر نکل پڑے۔ یہودی بستی کے دوسرے یہودی پہلے سے تیار کردہ پناہ گاہوں میں جا چھپے۔ جرمن، جو اخراج میں کسی رکاوٹ کی توقع نہيں رکھ رہے تھے، اب مزاحمت سے بالکل ہکا بکا رہ گئے۔ انہوں نے 21 جنوری کو مرکزی چوراہے پر ایک ہزار یہودیوں کو قتل کرکے اپنا بدلہ تو لے لیا لیکن مزید جلاوطنیاں معطل کردیں۔ جرمن پانچ سے ساڑھے چھ ہزار یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مزاحمتی کارروائی کے نتائج سے حوصلہ پا کر یہودی بستی کے یہودیوں نے ایک وسیع بغاوت کی منصوبہ بندی کرنا شروع کردی۔ جنگجو تنظیم متحد ہوگئی، حکمت عملیاں تیار کی گئيں، زیرزمین بنکر اور سرنگیں بنائی گئيں اور چھتوں پر گزرگاہيں تعمیر کی گئيں۔ وارسا کے یہودی بستی کے یہودیوں نے اختتام تک لڑنے کا فیصلہ کیا۔
16 مئی 1943
یہودی بستی کو تباہ کردیا گیا اور بغاوت ختم ہوگئی
لڑائی کے ایک مہینے بعد جرمنوں نے وارسا میں یہودیوں کی جامع عبادت گاہ کو دھماکے سے اڑا کر بغاوت کے اختتام اور یہودی بستی کی تباہی کا اشارہ دے دیا۔ 19 اپریل 1943 کو ایس ایس کے جرنیل جویرگن اسٹروپ کے حکم کے تحت جرمنوں نے یہودی بستی کی آخری تباہی اور باقی یہودیوں کی جلاوطنی شروع کردی۔ تاہم یہودی بستی کے مکین جلاوطنیوں کے لئے حاضر نہ ہوئے۔ اس کے بجائے، یہودی بستی کی جنگجو تنظیموں نے اپنے آپ کو عمارتوں اور بنکروں میں بند کرکے جرمنوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی تیاری کررکھی تھی۔ تین دن کے بعد جرمن افواج نے یہودیوں کو اپنے چھپنے کی جگہوں سے باہر نکالنے کے لئے یہودی بستی کی ایک کے بعد ایک عمارت کو آگ لگانی شروع کردی۔ یہودی بستی کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے دوران بھی مزاحمت ہفتوں تک جاری رہی۔ جنوری 1943 کی جلاوطنیوں کے بعد یہودی بستی میں صرف پچاس ہزار یہودی باقی رہنے کے باوجود جرنیل اسٹروپ نے یہودی بستی کی تباہ کاری کے نتیجے میں 56065 یہودی کی گرفتاری کی اطلاع دی؛ ان میں سے سات ہزار کو ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلاوطن کردیا گیا اور باقی کو جبری مزدوری کے کیمپس اور مجدانیک کی قتل گاہ بھیج دیا گيا۔ کچھ مزاحمتی جنگجو یہودی بستی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وارسا کے گرد جنگلوں میں حلیف گروہوں میں شمولیت اختیار کرلی۔ | <urn:uuid:13d81258-abfe-4fe3-92ec-32a67db6bbd3> | CC-MAIN-2013-48 | http://www.ushmm.org/outreach/ur/article.php?ModuleId=10007745 | 2013-12-05T12:35:23Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163045140/warc/CC-MAIN-20131204131725-00040-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.980255 | Arab | 92 | {} |
کین (اسٹریٹ فائٹر)
کین (ケン・マスターズ) اسٹریٹ فائٹر کہانیوں اور کھیلوں کا ایک ممتاز شخص ہے،جو رایؤ کا بہترین دوست اور رقیب ہے ۔ اسکا سپاہیانہ فن بھی رایؤ کی طرح انساتسوکن ہے۔ کین کی نسل دونوں امریکی اور جاپانی ہیں
رایؤ اور کین[ترمیم]
کین کے عادات رایؤ سے بہت ملتے جلتے ہیں، لیکن کین اور رایؤ کی فطرت یکساں نہیں، بےشک کے یہ بات ان دونوں کی دوستی کی مضبوطی کا ثبوت ہیں۔ اسٹریٹ فائٹر کے پہلے کھیلوں میں کین اور رایؤ کو انداز و چال کے لہاظ سے بلکل ایک جیسا بنایا گیا تھا، لیکن رفتا رفتا اس کے روپ اور انداز میں کئ اہم تبدیلیاں لائیں گئیں۔ کین کا ہادوکن رایؤ کے ہادوکن سے زیادہ تیز ہے اگرچہ یہ اس سے تھوڑا کمزور بھی ہے۔ ہادوکن کے علاوہ کین کا شوریوکن اور تاتسوماکی سنپوکیاک بھی مختلف ہیں۔
سپاہانہ فن[ترمیم]
اس کے علاوہ، کین کے انداز کو مدنظر رکھتے ہوۓ مارٹل کامبیٹ کے کوبرہ کو تشکیل دی گئ، اور ان دونوں میں کئ باتیں مشترک ہیں۔ کین بھی رایؤ کی طرح انساتسوکن استعمال کرتا ہے۔ اس کے اہم ترین ہملے درج ذیل ہیں:
ہادوکن: ایک نہایت مضبوت آگ کا شعلہ
شوریوکن ایک ہوائ کسن ہے
تاتسوماکی سنپوکیاک ایک گھومتے ہوۓ چھلانگ میں ٹانگوں کا سنسنی خیز استعمال | <urn:uuid:c3b24927-6608-4c80-bfab-3155f9cc9f9f> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%DB%8C%D9%86_(%D8%A7%D8%B3%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D9%B9_%D9%81%D8%A7%D8%A6%D9%B9%D8%B1) | 2013-12-07T02:22:19Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163053003/warc/CC-MAIN-20131204131733-00040-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.985329 | Arab | 55 | {} |
تحریک واپسی سوئے قدس
تحریک واپسی سو القدس (چینی:传回耶路撒冷运动) چین اور یروشلم کے درمیان بسنے والے تمام بدھ، ہندو اور مسلمان باشندوں کو عیسائی بنانے کیلیے، چینی گھریلو کلیساؤں کا ایک خواب ہے۔ یہ تحریک 1920ء میں قائم ہوئی تھی مگر اشتراکیوں کی جانب سے اذیت کے خوف نے اسے کئی دہائیوں تک زیر زمین چلے جانے پر مجبور کردیا۔ اب اسکا ارادہ دنیا کے 51 ممالک میں شاہراہ ریشم کے ذریعے کم از کم 100،000 تبلیغیوں کو بھیجنے کا ہے، یہ قدیم تجارتی شاہراہ، چین سے بحیرۂ روم تک راہ فراہم کرتی ہے۔ | <urn:uuid:23c5434d-d7c3-4031-bbf4-c15f753692fc> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C_%D8%B3%D9%88%D8%A6%DB%92_%D9%82%D8%AF%D8%B3 | 2013-12-09T01:00:26Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163837672/warc/CC-MAIN-20131204133037-00040-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.980494 | Arab | 46 | {} |
Thursday, December 22, 2011
امریکہ پاکستان سے بھیک مانگے گا
امریکہ پاکستان سے بھیک مانگے گا
ڈاکٹر نیاز احمد خان
امریکی منافقت دنیا بھر میں ضرب ا لمثل بن چکی ہے، قول و فعل میں تضاد کی جتنی مثالیں امریکہ نے قائم کی ہیں وہ ایک ریکارڈ کا درجہ رکھتی ہیں۔ امریکی اپنے مفادات کی خاطر کوئی بھی غیر اخلاقی، غیر انسانی اور ظالمانہ اقدام کبھی بھی کسی کے خلاف اٹھا سکتے ہیں اور اپنے کسی بھی فعل کےلئے وہ جھوٹی تاویلیں اور بھونڈے جواز تراشنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس سلسلے میں وہ دوست دشمن کے تکلف میں نہیں پڑتے۔ دشمن تو خیر کبھی کبھار اس کی چیرہ دستیوں سے بچ بھی جاتے ہیں لیکن اس کے دوستوں کی ہر وقت جان پر بنی رہتی ہے کیونکہ امریکہ ہر وقت اپنے دوستوں کو کسی نہ کسی امتحان سے گزار کر تباہی کے گڑھے میں دھکیلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی امریکہ کے دوستوں میں ہوتا ہے چنانچہ وہ بھی اس وقت امریکہ کی متعدد ”مہربانیوں“ کی زد میں ہے۔ امریکہ نے اپنے اس دیرینہ دوست کو دہشت گردی کےخلاف نام نہاد جنگ میں بڑی عیاری سے گھسیٹ کر آگ و خون میں نہلا دیا ہے اور پاکستان اس وقت حقیقی معنوں میں میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ امریکہ کی مکاری عروج پر ہے، ایک طرف قبائلی اور شہری علاقوں میں پاکستانی فوج کو طالبان جنگجوﺅں کے ساتھ الجھا کر شاباشیاں دے رہا ہے، دوسری طرف مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کو اسلحے اور ڈالروں سے نواز رہا ہے، ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی جاری ہیں اور پاکستانی معیشت کا جنازہ نکالنے کی سازشیں بھی ہو رہی ہیں۔ اب امریکی ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان کے جوہری اثاثوں کو بھی تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کر کے مکمل طور پر بے دست و پا کر دیا جائے اور اپنے روایتی دشمن بھارت کے لئے ترنوالہ بنا دیا جائے تاکہ یہ اسلامی ایٹمی کانٹا ہمیشہ کیلئے راستے سے صاف ہو جائے اور بھارت اس خطرے سے بے نیاز ہو کر چین کے خلاف یکسوئی سے سینہ تان کر کھڑا ہو جائے۔ امریکہ نے کتنی چالاکی سے ہمیں اپنی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتا بھی ہے، ڈو مور Do More کے مطالبے بھی کرتا ہے اور ڈرون حملوں کے علاوہ اپنے وزیروں، مشیروں اور جرنیلوں کو اسلام آباد بھیج کر دھمکاتا بھی ہے۔ وہ پاکستان میں جنگجوﺅں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان پر حملے کرتا ہے لیکن خود افغانستان میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سرتوڑکوششیں کر رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے اور اب باعزت فرار کے منصوبے بنا رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی کوشش یہ بھی ہے کہ جاتے جاتے وہ پاکستان کو ایٹمی اثاثوں سے محروم کر کے اپنا دست نگر بھی بنائے رکھے کیونکہ اس اہم خطے میں اسے پاکستان کی ضرورت کسی نہ کسی حوالے سے درکار ہوگی۔ جہاں تک افغانستان میں جنگ ہارنے کی بات ہے تو اس میں اب کوئی شک و شبہ نہیں رہا ہے۔ امریکی فوج کے کمانڈر اپنی شکست کا اعتراف کر چکے ہیں اور محفوظ راستے کی تلاش میں کوشاں ہیں جو انہیں فی الحال میسر نہیں ہے۔ سرمایہ داری نظام کا حامل امریکہ معاشی لحاظ سے تباہ ہو چکا ہے۔ صہیونی شکنجے میں جکڑا ہوا امریکہ پہلے ہی معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا تھا رہی سہی کسر عراق، افغانستان اور دیگر ممالک میں جنگی مہمات نے پوری کر دی جہاں کھربوں ڈالر جنگ میں جھونکنے کے بعد بھی اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ اب بھی ان ممالک میں اس کے جنگی اخراجات پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور وہ کھربوں ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے۔ امریکہ اس وقت 12.9 ٹریلین ڈالر کا مقر وض ہے۔ افغانستان کی جنگ نے تو خصوصاً اس کی کمر توڑ دی ہے۔ امریکہ کتنا بے وقوف ملک ہے کہ صہیونی ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اپنا جانی ومالی نقصان کرائے جا رہا ہے اور حالات کا ادراک نہیں کر رہا۔ اس بے وقوف ملک کا یہ حال ہے کہ افغانستان میں اس کا کوئی رسد کا قافلہ، یا فوجی کانوائے محفوظ نہیں ہے۔ اسے اپنے قافلوں یا فوجیوں پر حملے نہ کرنے کے عوض طالبان کو رشوت دینی پڑ رہی ہے۔ پہلے اسے ڈالر دینے پڑتے ہیں تب جا کر اس کے تیل، اسلحہ، راشن اور دیگر ضروریات کے قافلے کسی علاقے سے گزرتے ہیں۔ یعنی وہ جن طالبان کے خلاف لڑ رہا ہے، اپنی سپلائی برقرار رکھنے کےلئے انہی کو رشوت دے رہا ہے۔ اس چیز کو بے وقوفی یا منافقت میں سے کوئی بھی اچھا نام دیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کی تباہی کی پیشنگوئی میں سے 2006ءمیں اپنی کتاب” موجودہ صدی کا اقتصادی انقلاب“ میں یہ کہہ کر کی تھی۔
” امریکہ کی معیشت کی مثال شاہ بلوط کے ایک ایسے بوسیدہ درخت کی مانند ہے جس کے پتے مرجھا چکے ہیں تنے کھوکھلے ہو چکے ہیں اور جڑیں گل سڑ گئی ہیں۔ یہ دیوقامت درخت کسی بھی وقت دھڑام سے گر سکتا ہے۔ اور یہ ان تمام قوموں کو بھی لے ڈوبے گا جو اس کی شاخوں تلے آرام کر رہی ہیں۔ صرفMBC نظام ہی ایک ایسی کھاد ہے جو اس درخت کو زندگی لوٹا سکتی ہے“۔
یہ پیشنگوئی میں نے امریکہ کے جنگی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کی تھی بلکہ میں نے امریکی معیشت کا جائزہ لیکر یہ بات کہی تھی اور اگلے دو تین سالوں میں دنیا نے سرمایہ داری نظام کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی، وہ ممالک جو سرمایہ داری نظام سے وابستہ تھے انہیں بھی بدترین اقتصادی بحران نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ MBCS میرا تخلیق کردہ فارمولا ہے جو بنیادی طور پر پاکستان کےلئے بنایا گیا ہے لیکن میں نے اسے امریکی معیشت کے ساتھ منسلک کر کے جائزہ لیا اور اسے مقالے کی شکل میں امریکی یونیورسٹی کو بھجوایا۔ جنہوں نے تین ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں دیں۔ یہی وہ فارمولا ہے جو میں نے رضار کارانہ طور پر حکومت پاکستان کو پیش کر دیا ہے۔ اس کی بدولت ہم صرف30 دنوں میں امریکہ کی معاشی غلامی سے نجات پا سکتے ہیں۔ امریکہ ہمیں محض اسی وجہ سے تو بلیک میل کر رہا ہے کہ ہم اپنی معاشی ضروریات کےلئے اسکے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ جب ہمیں اس کی ضرورت نہیں رہے گی تو وہ کشکول اٹھا کر ہم سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گا۔ کیونکہ اسے ہماری ضرورت ہے ، وسطی ایشیائی ریاستوں میں مستقل قدم جمانے کےلئے اسے پاکستان کی مدد کی ہر حال میں ضرورت ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ ہم صرف ایک دن کےلئے امریکی اور نیٹو افواج کےلئے رسد کی فراہمی روک دیں اور تیل کی سپلائی منقطع کر دیں تو انہیں افغانستان میں جانوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن وہ ایک سپر طاقت سہی لیکن سویت یونین بھی تو سپر پاور تھا، روس بھی تو اپنے وقت کا فرعون تھا، اس کی معاشی تباہی نے اس کی جغرافیائی حدود کا بھی شیرازہ منتشر کر دیا تھا اور ماسکو میں لوگ ایک ڈبل روٹی کےلئے در در کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہی حال امریکہ کا ہو سکتا ہے، اس کی منافقت اور عیاری کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ 1990ءکے روس کی طرح وہ کب کشکول اٹھاتا ہے، اس نے جو گڑھے دوسروں کے لئے کھودے تھے، اب خود ان میں گر چکا ہے۔ افغانستان اس کیلئے ویت نام بننے والا ہے اور خود کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے امریکہ کو پاکستان کے سامنے دست سوال دراز کرنا ہی پڑے گا لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی طاقت بھی بن جائے جسے نہ تو کیری لوگر بل کی مونگ پھلی جتنی امداد کی ضرورت ہو اور نہ ہی آئی ایم ایف اور فرینڈز آف پاکستان کے سہاروں کا محتاج ہو۔
Labels: امریکہ پاکستان سے بھیک مانگے گا | <urn:uuid:17e86dcd-889c-48e8-a4a9-73d79e41bc9a> | CC-MAIN-2013-48 | http://sp1947.blogspot.com/2011/12/blog-post_22.html | 2013-12-08T11:42:55Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163065206/warc/CC-MAIN-20131204131745-00033-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.989425 | Arab | 24 | {} |
خواجہ میر درد کی شاعری
||ممکن ہے اس مضمون کی ویکائی کرنے کی ضرورت ہو تاکہ یہ ویکیپیڈیا کے کیفیت معیار پر پورا اتر سکے۔ براہ کرم مضمون میں اندرونی متعلقہ روابط ڈال کر یا مضمون کے خاکہ میں بہتری لا کر مدد کریں۔|
خواجہ میر درد صوفی شاعر
بقول مولانا محمد حسین آزاد
” تصوف میں جیسا انہوں نے لکھا اردو میں آج تک کسی سے نہ ہوا۔“
بقول امداد اثر
” معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو مےں کوئی شاعر نہیں گزرا۔“
عبدالسلام ندوی،
” جس زمانے میں اردو شاعری اردوہوئی خواجہ مےر درد نے اس زبان کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔“
فہرست
- 1 درد اور متصوفانہ شاعری
- 2 درد کی عشقیہ شاعری (عشق مجازی
- 3 درد کی شاعری کی عام خصوصات
درد اور متصوفانہ شاعری[ترمیم]
تصوف کیا ہے:۔[ترمیم]
١)تصوف صفحہ اوّ ل سے ماخوذ ہے چونکہ صوفیاءعبادت الٰہی کے شوق میں نماز کی پہلی صف میں بیٹھتے تھے اس لئے یہ نام رائج ہوا
٢) یہ لفظ صوف سے نکلا ہے جس کے معنی علیٰحدہ رہنے کے ہیں۔
٣) لفظ تصوف صفاءیعنی پاکیزگی سے ماخوذ ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کوہ صفاءشروع میں صوفیوں کی قیام گا ہ تھی جس وجہ سے یہ نام رائج ہوا۔
٤) شیخ ابوالحسن احمد نوری کا کہنا ہے کہ تصوف کے معنی ”تمام خطوط نفس کو ترک کرنا ہے۔“
٥) تصوف اجتماعی ناانصافی کے خلاف ضمےر انسانی کی اندرونی بغاوت کا نام ہے۔
٦)تصوف ایک ایسا خیال ہے جہاں ماننے کے لئے جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مشہور فاضل اور شاعر سراج الدین علی خان آرزو نے خواجہ میر درد کو اوائل جوانی میں دیکھ کر کہا تھا کہ ” وہ ایک صاحب فہم و ذکا جوان ہیں جو کچھ میں ان میں دیکھتا ہوں اگر فعل میں آگیا تو انشاءاللہ فن تصوف میں نام پائیں گے۔“
خواجہ میر درد کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کا متصوفانہ کلام ہے اردو کی صوفیانہ شاعری میں جو مقام اور مرتبہ درد کو حاصل ہے وہ اور کسی شاعر کے حصے میں نہیں آیا۔ ان سے بہتر صوفیانہ شاعری کے نمونے اردو میں نہیں ملتے ۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ ان وجوہات پر غور و فکر کریں تو سب سے اہم بات یہ نظرآتی ہے۔ کہ درد ایک خاندانی صوفی تھے۔ ان کے والد بزرگ خواجہ ناصر عندلیب دلی کے ممتاز صوفیاءمیں شمار کئے جاتے تھے۔ ان کی تمام عمر اُس مسلک کی اشاعت میں عمل پر گزری تھی۔
دلی میں خواجہ ناصر کی خانقاہ صوفیاءکا مرکز تھی۔ اکثر اہل نظر یہاں آتے تھے۔ درد نے اس باعمل باپ کی سرپرستی میں رہتے ہوئے تصوف کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی۔ جوانی کا کچھ حصہ تو انھوں نے مختلف ملازمتوں میں گزارا مگر عالم شباب ہی میں تمام دنیاوی آلائیشوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صوفیا ءکے بورئیے پر بیٹھ گئے۔اور اس طرح درد اپنی تمام عمر ایک باعمل صوفی کی طرح جادہ ¿ تصوف پر گامزن رہے۔ درد کی شاعری میں صوفیانہ عناصر کی کامیاب پیشکش کا باعث ان کایہی تجربہ ہے۔ اس تجربے کے پیچھے ان کا تصوفانہ خلوص اور ان کی صداقت، اشعار میں بجلیاں بھر دیتی ہیں۔ اردو شعراءنے تصوف کو نظر ی طور پر قبول کیا تھا مگر درد نے عملی طور پر قبول کیاتھا۔ وہ تصوف کی تمام منازل سے عملی طور پر گزرے تھے۔ اس لئے ان کی نظر اور ان کی روح اس تجربے سے سرشار ہوئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ درد کے کلام کی چاشنی پڑھنے والے کو بے حد متاثر کرتی ہے۔
درد باعمل صوفی:۔[ترمیم]
تصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شعراءمحض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے رسمی طور پر تصوف کے مضامین بھی نظم کر لیتے تھے۔لیکن چونکہ تصوف کا ان کی زندگی سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا اس لیے ان اشعار میں گرمی نہ ہوتی اور نہ وہ متاثر کر سکتے ۔ مگر خواجہ میر درد کی شاعری میں تصوف رسمی مضمون بن کر نہیں رہ جاتا ۔ وہ خود با عمل صوفی تھے اور جو کچھ بیان کرتے تھے اس کا تعلق ان کی زندگی سے تھا اس لیے میر درد کی صوفیانہ شاعری کا آج تک کوئی اور شاعر مقابلہ نہیں کر سکا۔ اس میدان میں وہ منفرد اور ممتاز حیثیت کے مالک ہیں ۔ وہ تصوف کی تمام منازل سے عملی طور سے گزرے تھے اسی لیے ان کی صوفیانہ شاعری خلوص اور صداقت میں ڈوبی ہوئی ہے۔
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
اہل فنا کو نام سے ہستی کے ننگ ہے
لوح مزار بھی میری چھاتی پہ سنگ ہے
عملی زندگی کا احساس:۔[ترمیم]
درد صوفی ہونے کو باوجود زندگی سے بیزار نہیں تھے ۔ انہیں اس کے تمام پہلوئوں سے دلچسپی تھی ۔ اُن کے پاس انسانی زندگی کے جذباتی اور جسمانی نظام کی اہمیت کو سمجھنے کا گہرا شعور موجود تھا۔ تصوف کو وہ ایک نظام حیات سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کو محض ایک فرار کے طور پر اختیار نہیں کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ تصوف اُن کے یہاں زندگی کی نفی نہیں کرتا، اور اس سے بیزار ہونا اور منہ موڑنا نہیں سکھاتا۔ راہ سلوک میں پہلا مقام حیرت کا ہے۔ جب انسان خالق حقیقی کے کھوج میں نکلتا ہے ۔ تجسس بڑھتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ اس ابتدائی مرحلہ کا حال صوفی کے دل پرکیا واردات مسلط کرتا ہے۔ وہ درد کی زبانی سنیے ۔
دل کس کی چشم مست کا سرشار ہو گیا
کس کی نظر لگی جو یہ بیمار ہوگیا
حیران آئینہ دار ہیں ہم
کس سے یارب دو چار ہیں ہم
نظریہ عشق الٰہی:۔[ترمیم]
صوفی عشق کی سخت ریاضت پر بہت زور دیتے ہیں۔ عشق کی سختیاں برداشت کرنا ان کے لئے ضرور ی ہیں ۔ درد بھی اسی عشق کا اظہار کرتے ہیں ۔ جہاں صوفی کی اس عشق میں ہڈیاں جل جاتی ہیں۔ دل پگھل جاتے ہیں ، بجلیاں کوندتی ہیں ، ان سختیوں کے بغیر عشق الہٰی نا ممکن ہے۔ عشق ہی تصوف کی بھٹی ہے جہاں سے انسان پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے۔۔ اس وادی میں عاشق کو جو مرحلے پیش آتے ہیں درد کہیں کہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
درد کا حال کچھ نہ پوچھو تم
وہی رونا ہے نت وہی غم ہے
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
پر اُسے آہ نے اثر نہ کیا
اذیت مصیبت ، ملامت بلائیں
تیرے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
ذات باری تعالٰیٰ تک رسائی:۔[ترمیم]
صوفی اپنے دل میں عشق کی آگ روشن کر لیتا ہے۔ اور اسی عشق میں پناہ ڈھونڈ ھتا ہے اور دل ہی دل میں اللہ تعالٰیٰ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب دل آئینہ کی طرح پاک اور صاف ہو۔ دل اُس وقت صاف ہو تا ہے جب وہ زمانے کی آلائشوں سے دور ہو جاتا ہے۔ مادی خواہشات کا دامن چھوڑ کر روحانی دنیا میں آجاتا ہے۔ اس عمل سے جب اس کا دل صاف ہو جاتا ہے تو دل اس قابل ہو تا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک کر سکے ۔ اس دل کے دریچے سے اُسے ذات باری کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔
ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سماں سکے
قاصد نہیں یہ کام تیرا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
تلاش و تجسّس:۔[ترمیم]
درد کی شاعری میں یہ نقوش کثرت سے ملتے ہیں ا ن کی شاعری میں ایک کھوج اور تجسّس کی خواہش عام ہے۔کیونکہ معرفت کی راہ میں پہلے تجسس پیدا ہوتا ہے پھر روحانی جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ حقیقت کے لیے کش مکش اور تلاش درد کے صوفیانہ ملک کے اہم نشان ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ درد کی شاعری میں سوال اور استفسار اکثر ابھرتے ہیں، یہ باتیں کائنات کے خالق کے متعلق ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار صوفی کے اسی بڑھتے ہوئے تجسس کا حال بتاتے ہیں۔
درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے
نظر میرے دل کی پڑی درد کس پر
جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے
تصوف اور مسائل تصوف:۔[ترمیم]
میر درد نے محض رسمی طور پر تصوف کو قبول نہیں کیا اگر وہ شاعر نہ ہوتے تو بھی باعمل صوفی ہوتے ان کے ہاں تمام علوم کا تعلق بنیادی طورپر تین موضوعات سے ہے۔ اور اسی سے تمام علوم جنم لیتے ہیں۔
١) خدا ٢) انسان ٣) کائنات
١ ) خدا کیا ہے ، کہاں ہے یعنی مابعدالطبیعات کے مسائل
٢ انسان کی حقیقت ، کائنات میں اس کا مقام ، خدا سے اس کا رشتہ
٣) کائنات اور انسان کا رشتہ ، کائنات اورخدا کا رشتہ ، یہ کائنات خدا کا عکس ہے ۔ تصوف کیبحث ان تین موضوعات میں مقید ہے۔
وحدت الوجود اور وحدت الشہود:۔[ترمیم]
اس ضمن میں صوفیاءکے دو نظریے ہیں۔ ١ ) وحدت الوجود والوں کے عقیدے کی رو سے کائنات میں جو کچھ ہے وہ خدا کا پرتو ہے ٢) جبکہ وحدت الشہود والے کہتے ہیں کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ خدا کے مختلف جلوے ہیں۔ درد دونوں نظریات کو درست مانتے ہیں البتہ وحدت الشہود کو شریعت کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں اور اسے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس بات کا خارجی ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنی نثر ی تصنیف علم الکتاب ، میں کہتے ہیں ” وحدت الوجود کا عقیدہ نفس کے اعتبار سے باطل ہے اور وحدت الشہود کا عقیدہ حق ہے۔“
دونوں جہاں کو روشن کرتا ہے نور تیرا
عیان میں مظاہر ظاہر ظہور تیرا
ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب کیا شہادت
یاں بھی شہود تیرا واں بھی شہود تیرا
انسان اور خدا:۔[ترمیم]
خدا کے تصور کے بعد تصوف کا دوسرا اہم مسئلہ انسان اور خدا کا تعلق ہے۔ انسان اور خدا میں چند صفات مشترک ہیں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان خدا کا شریک ہے۔ حقیقت میں انسان خدا کا شریک نہیں اس میں جو صفات ہیں وہ خدا کی بخشی ہوئی ہیں۔ وہ خدا کاعکس ہیں اس طرح انسان خدا کا شریک نہیں بلکہ اس کا محتاج ہے خدا نے اپنے اظہار کے لیے انسان کو تخلیق کیا ہے صوفیاءکا مقولہ ہے کہ ہمارا وجود حق تعالٰیٰ پر موقوف ہے اور اس کا ظہور ہمارے ذریعہ سے ہے۔
اس ہستی خراب سے کیا کام تھا ہمیں
اے نشہ ظہور یہ تیری ترنگ ہے
انسان اور کائنات میں خدا جلوہ دکھا رہا ہے گویا ساری کائنات آئینہ ہے۔ جس میں خدا کی ذات کا عکس پڑ رہا ہے۔ صوفیا کے نزدیک خدا تک پہنچنے کے لیے ہمیں اپنے دل کے آئینے کو صقیل کرنا چاہیے پھر اس میں خدا کا وجود نظرآئے گا۔گویا ہم یوں کہہ سکتے ھیں کہ درد کی شاعری بمصداق درد کے نام درد کے ھے
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے
آپ سے ہم گزر گئے کب سے
کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا
مسئلہ خیر و شر:۔[ترمیم]
صوفیاءکے نزدیک خدا ہمہ تن خیر ہے اُن کا خیا ل ہے کہ اگر کسی چیز میں شر موجود ہے تو وہ ہماری ہی پیدا کردہ بدی ہے۔ خدا نے نیکی اور بدی کے لئے ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جبر و قدر کا مسئلہ بھی سامنے آجاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا کس حد تک ذمہ دار ہے اس سلسلے میں بھی دو گروہ ہیں ایک کاخیال ہے کہ انسان اپنے افعال و اعمال پر قادر ہے اور دوسرے کا خیال ہے کہ انسان محض مجبور ہے ۔صوفیاءکے ہاں یہ دو نوں مسلک موجو د ہیں،
تھا عالم جبر کیا بتادیں
کس طور سے زیست کر گئے ہم
اس امر میں بھی یہ بے اختیار بندہ ہے
ملا ہے درد اگر یاں کچھ اختیار مجھے
عقل و عشق:۔[ترمیم]
صوفیاءکے عقیدے کے مطابق عشق کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا دینوی اور دینی لحاظ سے عشق زندگی کی ضرورت ہے خدا تک پہنچنے کے واسطے صوفیاءجذبہ عشق کو اپنا رہنما بناتے ہیں۔ عشق کی حرارت کے بغیر کائنات کا نظام نہیں چل سکتا۔۔ خواجہ میر درد بھی عشق کی عظمت کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں درد عقل کی مصلحت اندیشیوں سے بخوبی واقف ہیں۔
باہر نہ ہو سکی تو قید خودی سے اپنی
اے عقل بے حقیقت دیکھا شعور تیرا
مے بند احکام عقل میں رہنا
یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے
برنگ شعلہ غم عشق ہم سے روشن ہے
کہ بے قراری کو ہم برقرار رکھتے ہیں
عظمت انسانی:۔[ترمیم]
خواجہ میر درد کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کو ایک اخلاقی لے بخشی ، اس سے پہلے اخلاقی مضامین کے بیان کے لیے کوئی مخصوص لہجہ نہ تھا۔ میر درد نے اپنی انفرادیت سے ایک ہموار اور نرم لہجہ اختیار کیا۔ بعد میں آنے والے شعراءنے بھی اس سلسلے میں ان کی تقلید کی۔ انسان کی عظمت کا گہرا احساس اور وسیع المشربی ان کے کلام میں جابجا جھلکتی ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
باوجود یکہ پرو بال نہ تھے آدم کے
وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا
مجموعی جائزہ[ترمیم]
درد کے تصو ف کے بارے میں عبدالباری لکھتے ہیں،
” اکثر اشعار میں تصوف کے ایسے نازک مسائل اس طرح واضح کرکے بیان کئے ہیں کہ قال میں حال کا جلوہ نظرآتا ہے درد اور باقی شعراءکے کلام میں وہی فرق ہے جو اصل اور نقل میں ہوتا ہے۔“ بقول رام بابو سکسینہ،
”تصوف کو اُن سے بہتر کسی نے نہیں کہا۔ عرفان و تصوف کے پیچیدہ مسائل اور مشکل مضامین اس خوبصورتی اور صفائی سے بیان کئے ہیں کہ دل وجد کرتا ہے۔“
درد کی عشقیہ شاعری (عشق مجازی[ترمیم]
ڈاکٹر عبادت بریلوی کا کہنا ہے،
تصوف کے ساتھ ساتھ درد کی شاعری میں مجازی عشق کے تصورات بھی ہیں۔“
درد کی شاعر ی میں مجاز ی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں، ” درد کی شاعر ی میں مجازی عشق کے جلوے نمایاں ہیں۔“
دنیاوی محبوب کا جلوہ:۔[ترمیم]
تصو ف کے ساتھ ساتھ درد کی شاعری میں دنیاوی محبوب کا جلوہ اور تذکرہ بھی ہے ۔ عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ وہ عشق مجازی بھی کرتے ہیں۔ ان اشعار سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جس میں حقیقی محبوب کاکوئی رنگ نہیں صرف مجازی عشق کا جلوہ اس میں نظرآتا ہے۔
تو بن کہے گھر سے کل گیا تھا
اپنا بھی تو جی نکل گیا تھا
آنسو جو میرے انہوں نے پونچھے
کل دیکھ رقیب جل گیا تھا
شب ٹک جو ہوا تھا وہ ملائم
اپنا بھی تو جی پگھل گیا تھا
خالص مجازی شاعری:۔[ترمیم]
درد کی شاعری میں ایسے اشعار بہ کثرت ہیں جن کے تیور صاف بتاتے ہیں کہ ان اشعار کا محبوب حقیقی نہیں بلکہ وہ زندہ گوشت پوست کا انسان ہے جس مےں تمام تر محبوبانہ ادائیں موجود ہیں۔ان کے بہت سے اشعار خالص مجازی شاعری کی دلیل ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ درد صرف صوفی ہی نہ تھے بلکہ سینے میں نرم و گداز دل رکھتے تھے جو دھڑکتا اور محبوب کے ملائم ہونے پر پگھل ہی جاتا تھا۔
میں سامنے سے جو مسکرایا
ہونٹ اُس کا بھی درد ہل گیاتھا
ترچھی نظر وں سے دیکھنا ہر دم
یہ بھی اک بانکپن کا با نا ہے
دل تجھے کیوں ہے بے کلی ایسی
کون دیکھی ہے اچپلی ایس
محبوب سے برتائو کا انداز:۔[ترمیم]
درد کی شاعری میں محبوب سے برتائو کا بھی ایک خاص سلیقہ ہے۔ اس میں دھما چوکڑی کے بجائے سپردگی ملتی ہے۔ وہ محبوب کی بے وفائی سے پیار کرتے ہیں۔ اس پیار میں بھڑکنے سے زیادہ سلگنے کی کیفیت ہے وہ دل کو پھسلاتے ہیں اس کے تغافل کا جواز تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کے ہاں جذباتی تہذیب کا اثر ملتا ہے اس لیے نفسانی کیفیات اور جذباتی واردات کا ذکر کرتے ہوئے وہ رکھ رکھائو ، توازن اور اعتدال سے دور نہیں ہوتے ۔
ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن
میں جو پہنچا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا
ہر گھڑی کان میں وہ کہتا ہے
کوئی اس بات سے آگاہ نہ ہو
جی کی جی میں رہی بات نہ ہونے پائی
ایک بھی ان سے ملاقات نہ ہونے پائی
درد کا تصور محبوب:۔[ترمیم]
درد کی شاعری میں جس محبوب کی شخصیت بنتی ہے وہ دنیاوی محبوب ہے۔ گوشت پوست کا انسان ہے، محض خیالی محبوب نہیں ہے۔ اس کی نشاندہی درد کے وہ اشعار کرتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں محبوب کا قرب حاصل رہا ہے۔ اس قرب کو حاصل کرکے انہوں نے محبوب کے حسن و سیرت کے نقوش لفظوں کے ذریعے ہم تک پہنچائے ہیں، محبوب کی محبت میں درد جذباتی نہیں ہوتے ،توازن اور اعتدال کا دامن یہاں بھی نہیں چھوڑتے ، وہ محبوب کی شخصیت پر مرتے ضرور ہیں مگر وقار اور تمکنت کے ساتھ ۔ درد کی شاعری میں محبوب کی تصویر زیادہ مکمل نہیں اس میں سراپا کا ذکر ہے مگر انتا نہیں ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ درد جس مسند عزت پر بیٹھے تھے اس قسم کی باتیں ان کے لیے معیوب تھیں۔ اس لیے وہ عشقیہ جذبات کا اظہار کھل کر نہیں کر تے اور رکھ رکھائو برقرار رکھتے ہیں۔
وہ نگاہیں جو چار ہوتی ہیں
برچھیاں ہیں کہ پار ہوتی ہیں
گزرا ہے بتا کون صبا آج ادھر سے
گلشن میں تیر ی پھولوں کی بو باس نہیں ہے
کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں میری
جی میں یہ کس کا تصور آگیا
رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
محبوب کا غم:۔[ترمیم]
عشق میں صرف مسرت ہی نہیں غم کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ درد کی شاعری میں ان لمحات کی کیفیات موجود ہیں یہ محبوب کا غم بھی ہے اور زمانے کا بھی۔ محبوب کے دئیے ہوئے غم سے اذیت کی جگہ راحت پاتے ہیں۔
جان سے ہوگئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا
کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز
سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا
مجاز و حقیقت کا امتزاج:۔[ترمیم]
درد کی شاعری میں ایسے اشعار بکثرت ہیں جن سے ہم عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں مراد لے سکتے ہیں۔
مرا جی ہے جب تک تیری جستجو ہے
زبان جب تلک ہے یہی گفتگو ہے
تمنا ہے تیری اگر ہے تمنا
تیری آرزو ہے اگر آرزو ہے
مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]
بقول ڈاکٹر سید عبداللہ :
”تصوف درد کی شاعری ک وہ حصہ ہے جس کی بنا پر انہوں نے اپنے زمانے سے خراج تحسین وصول کیا اور شعرائے عصر میں بلند جگہ پائی اور حقیقت یہ ہے کہ اگر درد محض شاعر ہوتے (اور صوفی نہ ہوتے ) تب بھی اس قسم کے کلام کی بنا پرانہیں اپنے زمانے کے ممتاز شاعروں کی صف میں جگہ مل جاتی ۔ اس بات کی تردید نہیں کی جاسکتی کہ اُن کے مجازی اشعار میں بھی ایک وقار ، ایک طرح کی پاس داری اور ایک رکھ رکھائو موجود ہے جس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ صوفیانہ تربیت شاعر کوبے راہ روی سے روک رہی ہے۔“
درد کی شاعری کی عام خصوصات[ترمیم]
حکیمانہ انداز:۔[ترمیم]
تصوف کے ساتھ ساتھ درد نے حکمت کے موتی بھی بکھیرے ہیں ۔ زندگی کی حقیقتوں کا بیان بھی ہے۔ اور کائنات کے رموز کا بھی موت کی کلفتوں اور کائنات کی اور زندگی کی ناپائیداری کا ماتم بھی ان کی شاعری میں موجود ہے۔ان کے ہاں انسانی عظمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی مضامین بھی ملتے ہیں۔ کیونکہ وہ دور اخلاقی اقدر کی شکست و ریخت کا دور تھا۔ یوں درد نے اس دور میں انسان کو نیکی کی تلقین کی او ر اُسے اپنی عظمت کا احساس دلایا۔
درد دل کے واسطے پیدا کےا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھی کروبیاں
باوجود یکہ پر و بال نہ تھے آدم کے
واں یہ پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا
وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
غم اور حزن:۔[ترمیم]
میر درد ، سود ا کا دور ایک ایسا دور ہے جس میں شعراءکو حالات نے بہت زیادہ متاثر کیا۔اُس دور میں ہونے والی تباہی اور بربادی نے دلوں میں غم اور مایوسی کے احساس کو جلا بخشی ۔ یوں درد کی شاعری میں غم و حزن اور یاس و ناامیدی کے مضامین بھی بکثرت ہیں ان کی قلب و نظر پر حسرتوں کی حکمرانی ہے۔ اور گریہ وزاری اس کی زندگی کا جزو بن گیا ہے۔
دردکا حال کچھ نہ پوچھو تم
وہی رونا ہے نت وہی غم ہے
سینہ دل حسرتوں سے چھا گیا
بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا
کچھ دل ہی باغ میں نہیں تنہا شکستہ دل
ہر غنچہ دیکھتا ہوں تو ہے گاہ شکستہ دل
حسن زبان وبیان:۔[ترمیم]
زبان و بیان ، تشبیہات و استعارات سب شاعری کی جان ہیں۔ لیکن ان کا استعمال توازن سے ہو تو شاعری اور بھی پر لطف ہو جاتی ہے۔ درد نے متصوفانہ خیالات کو خوبصورت لہجے اور زبان کے ساتھ ادا کرکے اپنی استادی کا ثبوت دیا ہے۔ درد کی شاعری میں الفاظ کا طنطنہ بھی ہے اور تراکیب کی چستی بھی ایسے اشعار بھی ہیں جن میں تراکیب کا حسن اور شکوہ شعر کی ظاہر ی شکل کو دلکشی اور معنویت بخشتی ہے ۔
کون سا دل ہے کہ جس میں آہ
خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا
جگ میں آکر ادھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
دل کس کی چشم مست کا سرشار ہوگیا
کس کی نظر لگی جو یہ بیمار ہوگیا
اُن نے قصداً بھی میرے نالے کو
نہ سنا ہو گا گر سنا ہوگا
دنیا کی بے ثباتی:۔[ترمیم]
درد کا زمانہ ایک پر آشوب اور ہنگامی دور تھا جس میں قتل و غارت گری عام تھی ۔ دہلی کا سہاگ کئی مرتبہ لوٹا گیا۔ کئی بادشاہوں کے تخت چھین لیے گئے اوروہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔ اس قسم کے حالات نے عام اور خاص کے اندر زندگی کی بے ثباتی کے احساس کو فروغ دیا۔ اس دور کے شعراءکے اندر یہ احساس کافی حد تک اس دور کے حالات کی دین ہے ۔ درد کے ہاں بھی دنیا کی بے ثباتی کا احساس جابجا ملتا ہے۔
نے گل کو ہے ثبات نہ ہم کو ہی اعتبار
کس بات پر چمن ہوس رنگ و بوکریں
کیاہمیں کام ان گلوں سے اے صبا!
اک دم آئے ادھر ، ادھر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تواس جینے کے ہاتھوں مرچلے
شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم نم آئے تھے دامن ترچلے
مجموعی جائزہ:۔[ترمیم]
مجنوں گورکھ پوری فرماتے ہیں کہ
” کہیں دبی ہوئی اور کہیں اعلانیہ ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانے کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں ملتی ہیں یعنی اپنے زمانے کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔“
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی فرماتے ہیں،
”اس دور کی سےاسی اور ملکی حالات کو استعاروں اور کنایوں میں ایسی خوبصورتی سے ادا کیا ہے کہ غزل کا داخلی رنگ بھی قائم رہتا ہے اور یہ ایک ترجمانی بھی ہو گئی ہے۔“ | <urn:uuid:5005a614-b37c-4d49-8f79-8bd9b8e4af27> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81_%D9%85%DB%8C%D8%B1_%D8%AF%D8%B1%D8%AF_%DA%A9%DB%8C_%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C | 2013-12-09T08:46:34Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163949658/warc/CC-MAIN-20131204133229-00047-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.980024 | Arab | 2 | {} |
شہرہ آفاق قوال عزیزمیاں کو ہم سے بچھڑے 13 بر س بیت گئے
گزشتہ ڈیڑھ سال سے ٹیم کی بیٹنگ میں خامیاں سامنے آ رہی ہیں ، محمد حفیظ
ایم کیوایم کے رہنما اسامہ قادری کو رہا کردیا گیا
پریذیڈنٹ ٹرافی کرکٹ، نیشنل بینک کیخلاف یو بی ایل 129 پر ڈھیر
پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی بحران کا شکار ہوگئی
Copyright © Century Publications. This material may not be published, broadcast, rewritten, redistributed or derived from. | <urn:uuid:d99bc9df-665e-4592-bd7c-09776fe5f4f4> | CC-MAIN-2013-48 | http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_LHE&Page=Sunday_Class_02&Date=20120506&Pageno=18&View=1 | 2013-12-06T04:27:22Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163049486/warc/CC-MAIN-20131204131729-00048-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.917553 | Arab | 1 | {} |
ہیمبرگ، جرمنی میں رائچشوپ ہوٹل سے متعلق 1939 کا فلائر۔ فلائر پر لال ٹیگ واضع کر رہا تھا کہ یہودی مہمانوں کو ہوٹل کے ریستوران، بار یا استقبالیہ کمروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے پابندی لگا رکھی تھی کہ یہودی مہمان کھانا اپنے کمروں میں ہی کھائيں۔ 1935 کے نیورمبرگ قانون کے مطابق یہودیوں کو جرمنی میں عوامی جگہوں سے منظم طریقے سے الگ کر دیا گیا تھا۔
US Holocaust Memorial Museum - Collections
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:b6c7c219-2ca5-483c-89ff-2348f35cc723> | CC-MAIN-2013-48 | http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_da.php?ModuleId=10005175&MediaId=11 | 2013-12-06T04:28:00Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163049486/warc/CC-MAIN-20131204131729-00048-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.967377 | Arab | 93 | {} |
لکیری آزادی
|اصطلاح||term|
دالہ
Function
تو دالہ کو باقی دالہ پر لکیری منحصر (آزاد نہیں) کہا جاتا ہے۔ اگر دالہ کو اس صورت میں نہ لکھا جا سکے، تو دالہ کو باقی دالہ سے "لکیری آزاد" کہا جائے گا۔
اگر دالہ میں سے کسی بھی دالہ کو باقی ماندہ دالہ کے راست تولیف (جوڑ) کے طور پر نہ لکھا جا سکتا ہو، تو ان دالہ کو باہمی لکیری آزاد کہا جائے گا۔
سمتیہ کی لکیری آزادی[ترمیم]
کا ایک حل یہ ہے
اگر یہی واحد ممکن حل ہو تو سمتیہ مجموعہ لکیری آزاد کہلائے گا۔ اگر اس کے علاوہ بھی کوئی حل ممکن ہو تو سمتیہ مجموعہ لکیری غیر آزاد ہو گا۔ غیر آزادی کی صورت میں ان میں سے کسی بھی سمتیہ کو باقی ماندہ سمتیہ کے لکیری تولیف کے طور پر لکھنا ممکن ہو جائے گا۔
میٹرکس کی قطاریں اور ستون[ترمیم]
یہی اصول کسی میٹرکس کی قطاروں (اور ستونوں) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی میڑکس کی کوئی قطار باقی ماندہ قطاروں کے لکیری تولیف پر لکھی جا سکے تو یہ قطار باقی قطاروں پر لکیری منحصر ہو گی (بدیگر "لکیری آزاد" کہلائے گی)۔ اگر کسی میٹرکس کی کوئی بھی قطار باقی ماندہ قطاروں سے لکیری تولیف کے ذریعہ حاصل نہ کی جا سکتی ہو، تو قطاروں کو باہمی لکیری آزاد کہا جائے گا۔
میٹرکس A کے تمام ستونوں کے باہمی لکیری آزاد ہونے کے لیے لازمی ہے کہ مساوات کا واحد ممکن حل ہو۔ یعنی
اگر صفر سمتیہ کے علاوہ بھی کوئی حل ہو، تو ستون باہمی لکیری آزاد نہیں ہونگے۔ اسی طرح میٹرکس کی تمام قطاروں کے باہمی لکیری آزاد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ
جہاں میٹرکس کے پلٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ | <urn:uuid:fd1467f7-edeb-4271-816b-c4c73ffea615> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%84%DA%A9%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C | 2013-12-09T12:58:25Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163972679/warc/CC-MAIN-20131204133252-00048-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.968996 | Arab | 72 | {} |
برقی رو
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(Electric current سے رجوع مکرر)
- کسی موصل conductor مثلا بجلی کے تار میں برقی رو کے دوران الیکٹران بہتے ہیں
- کسی نیم موصل semiconductor میں برقی رو کے دوران الیکٹران اور مثبت سوراخ holes بہتے ہیں
- کسی برق پاشے کے محلول electrolyte solution میں برقی رو کے دوران ions بہتے ہیں
- کسی پلازمہ plasma میں برقی رو کے دوران الیکٹران اور ions دونوں بہتے ہیں مثلا آسمانی بجلی۔
برقی رو کی اکائ ایمپئر Ampere ہوتی ہے جسے A سے ظاہر کرتے ہیں۔۔ اگر کسی تار سے ایک ایمپئر کرنٹ گزر رہا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ اس تار میں سے ایک کولمب چارج فی سیکنڈ گزر رہا ہے (یعنی ہر سیکنڈ میں 6.241 × 1018 الیکٹران گزر رہے ہیں)۔ | <urn:uuid:37463db0-9404-4b10-8618-71ff089e23a2> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/Electric_current | 2013-12-09T12:46:38Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163972679/warc/CC-MAIN-20131204133252-00048-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.96335 | Arab | 63 | {} |
صحرائے تھل
|تھل|
|صحرا|
|ملک||پاکستان|
|لمبائی||305 کلومیٹر (190 میل), N/S|
|حیوہ||صحرا|
صحرائے تھل پنجاب پاکستان کے ایک صحرا کا نام ھے۔ یہ پوٹھوہار اور سلسلہ کوہ نمک کے جنوب میں دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان میانوالی، بھکر، خوشاب جنھگ لیہ اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں واقع ھے۔ اصل میں یہ تھل ان چھ اضلاع میں ایک مثلث بناتا ہے اور مظفر گڑھ جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس کی شروعات ضلع خوشاب کے صدرمقام جو ہر آباد سے شروع ہوتی ہے اور قائد آباد سے نیچے پھر ضلع میانوالی میں ہرنولی کے قریب سے شروع ہو جاتا ہے۔ خوشاب سے میانوالی کو ملانے والی ریلوے سے جنوب میں سارا علاقہ تھل صحرا کا ہے۔ ہزاروں سال پرانی تاریخ کا حامل یہ علاقہ اب کہیں سر سبز ہو رہا ہے مگر اس کی اصل ثقافت زوال پذیر ہو رہی ہے اور اکثر علاقوں سے مٹتی جا رہی ہے۔ ھر طرف ریت کے ٹیلے ٹبے ھیں۔ پانی اور آبادی کم ھیں۔ صحرائی پودے اور جانور پاۓ جاتے ھیں۔ دونوں دریاوں کے اس درمیانی علاقے کو سندھ ساگر دو آب کہتے ہیں۔ تھل کے لوگوں کا رہن سہن بہت خوبصورت ہے۔ انگریز لکھاریوں نے لکھا ہے کہ جیسے لکھنئو کے شامیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ اسی طرح تھل کی رات انتہائی پرسکون اور دلفریب ہوتی ہے۔ وقت کے تیزی کے ساتھ بدلنے کے باعث لوگ اب نہ تو اپنی زبان بولنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے سکول جانے والے بچوں کو یہ پڑھانا چاہتے ہیں۔ تھل کے اصل لوگوں کے ساتھ کبھی "ٹی ڈی اے" تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کبھی کوئی اداراہ بنا کر ان کا استحصال کیا گیا۔ ان کے زمینیں اپر پنجاب کے پنجابیوں کو الاٹ کر دی گئیں۔ وہاں پر ہزاروں افراد کی آبادی رکھنے والے کئی گاوں کو چند سو کی آبادی والے چکوک کے برابر بھی نہیں سمجھا گیا۔ جو سہولتیں چکوک کو حاصل ہیں وہ کسی بڑے گاوں کو بھی نہیں ہیں۔ انتہائی پسماندہ ، جاگیرداروں کے چنگل میں پھنسا ہوا تھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | <urn:uuid:44925740-47eb-4307-90cb-e883a52e3d68> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%D9%84 | 2013-12-12T12:13:32Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386164582561/warc/CC-MAIN-20131204134302-00048-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.988458 | Arab | 22 | {} |
عنفۂ فارغہ
عنفۂ فارغہ (gas turbine) ایک قسم کا دواری محرکیہ (rotary engine) ہوتا ہے جو اپنی حرکت کے لیے درکار توانائی کو عمل احتراق کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور اسی وجہ سے عنفۂ فارغہ کو احتراقی عنفہ (combustion turbine) بھی کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر اس کی ساخت میں بالائی یا زبر بہاؤ والی جانب ایک دابگر یا compressor لگایا گیا ہوتا ہے جبکہ زیریں یا زیر بہاؤ والی جانب ایک عنفہ (turbine) موجود ہوتا ہے اور ان دونوں حصوں کے مابین ایک حجیرہ پایا جاتا ہے جس کو احتراقی حجیرہ (combustion chamber) کہتے ہیں۔ دابگر میں زیادہ دباؤ کے تحت موجود ہوا کے ساتھ ایندھن کو اشتعل (ignite) کیا جاتا ہے اور یوں اشتعال کے باعث درجۂ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے پھر اس زیادہ دباؤ کے تحت مشتعل ہوا یا فارغہ (gas) کو عنفہ کی جانب دھکیلا جاتا ہے؛ یہ تیز سمتار (velocity) اور زیادہ حجم رکھنے والی فارغہ یا gas جب دھانک (nozzle) سے گذر کر عنفہ کے تیغان (blades) پر ٹکراتی ہے تو ان اس کی چرخی میں گردش پیدا کرنے اور مطلوبہ کام حاصل کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ | <urn:uuid:21132d16-9b89-4b9d-bade-c8c938a7c49d> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D9%86%D9%81%DB%82_%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%BA%DB%81 | 2013-12-05T07:44:15Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163041478/warc/CC-MAIN-20131204131721-00037-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.978371 | Arab | 26 | {} |
ونگری ماتھی
پیدائش:1 اپریل 1940ء
کینا کی خاتون سیاستدان۔پہلی افریقی خاتون جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا۔کنیا کے شہر نیری میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد بیالوجی کی تعلیم جرمنی اور امریکہ میں حاصل کی۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ گرین بیلٹ مومنٹ ہے۔جس میں 30 ملین سے زیادہ درخت لگائے گئے۔ اور انھیں ٹری وومن کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ماحول کے حوالے سے ان کی خدمات کے صلے میں 2004ء کا امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ ونگری ماتھی 2003 سے لے کر 2005ء تک کینیا کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر فائز رہیں۔ | <urn:uuid:fb3e0d5f-faa7-4e61-89e2-0f9c41fce47c> | CC-MAIN-2013-48 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%88%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C_%D9%85%D8%A7%D8%AA%DA%BE%DB%8C | 2013-12-06T09:07:00Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163050500/warc/CC-MAIN-20131204131730-00051-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.992645 | Arab | 28 | {} |
بدھ مت اور اسلام میں مقدس جنگیں: حکایتِ شمبھالہ
(مکمل متن)
نومبر ۲۰۰۱ء ، نظرثانی: دسمبر ۲۰۰۶ء
[نیز دیکھیے مختصر متن ۔]
اکثر لوگ جب مسلمانوں کے تصور "جہاد" یا مقدس جنگ کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے ساتھ بہت سی منفی باتیں جوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو صحیح راستی پر جانتے ہوئے اللہ کے نام پر کی جانے والی تباہی کی ایک ایسی انتقامی مہم پر قائم ہیں جو دوسرے لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ عیسائیت میں ایسی ہی چیز صلیبی جنگوں کے نام سے موجود تھی، لیکن ان کا خیال یہ ہے کہ بدھ مت میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ دیکھیے آخر کو بدھ مت تو امن کا مذہب ہے اور اس میں مقدس جنگ جیسی کوئی اصطلاح موجود نہیں ہے۔
بدھ مت کی تحریریں، خاص طور پر "کالچکر تنتر"، غور سے دیکھنے سے خارجی اور داخلی دونوں طرح کی ایسی جنگوں کا پتا چلتا ہے جنہیں آسانی سے "مقدس جنگیں" کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کا غیر جانبدار مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ دونوں مذہبوں کے رہنماؤں نے مقدس جنگ کے خارجی پہلو کو سیاسی، معاشی اور ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے یوں استعمال کیا کہ اس سے اپنی فوج کو جنگ لڑنے کے لیے اکساسکیں۔ اسلام سے متعلق اس کی تاریخی مثالیں جانی بوجھی ہیں۔ لیکن اس حوالے سے بدھ مت کے بارے میں ہمیں کسی خوش گمانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ بدھ مت اس طرح کے واقعات سے پاک رہا ہے۔ تاہم دونوں مذہبوں میں زیادہ زور داخلی روحانی جنگ پر دیا گیا ہے جو انسان کو اپنی جہالت اور تخریبی رویوں کے خلاف لڑنا پڑتی ہے۔
شاکیہمُنی بودھ ہندوستان کی ایک جنگی ذات میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے روحانی سفر کو بیان کرنے کے لیے اکثر جنگ کی علامتیں استعمال کی ہیں۔ ان کا لقب مردِ فاتح تھا جس نے غفلت، بگڑے ہوئے خیالات، گمراہ کن جذبات اور غیر ذمہ دارانہ کرموں کے رویے کی شیطانی طاقتوں (مارا) کو ہرا دیا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے بدھ گرو شانتی دیو نے بھی اپنی کتاب "بودھی ستوا رویہ اختیار کرنا" میں جنگ کے استعارے کو بار بار استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ اصل دشمن جنہیں شکست دینا ہے ہمارے پریشان کن جذبات اور غلط رویے ہیں جو ذہن کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اہل تبت سنسکرت کی اصطلاح "ارہت" (مخلوق جو مُکش حاصل ہے) کا ترجمہ "دشمن کش" کے الفاظ سے کرتے ہیں یعنی ایسا شخص جس نے اپنے داخلی دشمنوں کو زیر کر لیا ہو۔ ان مثالوں سے ایسے لگتا ہے کہ بدھ مت میں "مقدس جنگ" کی ترغیب صرف ایک داخلی اور روحانی معاملہ ہے۔ "کالچکر تنتر" سے البتہ اس کا ایک اور بیرونی پہلو سامنے آتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق بدھ فلسفی نے جنوبی ہند کے آندھرا علاقے میں۸۸۰ صدی قبل مسیح میں شمبھالہ کے راجہ سچندر اور اس کے ساتھ آنے والے لوگوں کو "کالچکر تنتر" کی تعلیم دی۔ راجہ سچندر یہ تعلیمات اپنے ساتھ شمالی علاقے میں لے گیا جہاں یہ آج تک پروان چڑھ رہی ہے۔ شمبھالہ ایک انسانی دنیا ہے نہ کہ بدھ مت کی پاک سر زمین جہاں کے حالات کالچکر پر عمل کرنے کے لیے سازگار ہوں۔ روئے زمین پر اس طرح کا کوئی ملک سچ مچ موجود ہو گا مگر تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ نے شمبھالہ سے خالصتاً روحانی دنیا ہی مراد لیا ہے۔ روایتی کتب میں اس کے لیے ظاہری سفر کے بیان کے باوجود اس منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ وہی ہے جو کالچکر مراقبات اور مراقبہ کی مشقوں کی سخت محنت کا تقاضا کرتا ہے۔
سچندر کے بعد شمبھالہ کے راجاؤں کی ساتویں نسل میں ۱۷۶ء صدی عیسویقبل مسیح میں راجہ منجوشری یاشس یاشس نے شمبھالہ کے مذہبی رہنماؤں خاص طور پر برہمن داناؤں کو جمع کیا، ان کو خبردار کیا اور پیشین گوئیاں کیں۔ اس نے بتایا کہ آٹھ سو سال بعد مستقبل میں یعنی۶۲۴ء صدی عیسوی میں مکہ میں ایک غیر ہندی مذہب سامنے آئے گا۔ مستقبل بعید میں جب اس نئے مذہب کے رہنما ہند پر یلغار کرنے والے ہوں گے تو برہمن قوم میں اتفاق نہ ہونے اور ویدوں کی ہدایات و احکامات کی پیروی میں سستی کے باعث بہت سے لوگ اس مذہب کو قبول کر لیں گے۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے منجوشری یاشس نے شمبھالہ کے لوگوں کو کالچکر عطاء اختیار دے کر ایک ہی "وجر – ذات" میں اکٹھا کر دیا۔ ا س عمل سے راجہ پہلا "کالکی" یعنی پہلا " ذات والا" بن گیا۔ پھر اس نے " مختصر کالچکر تنتر" تیار کیا۔ یہی وہ "کالچکر تنتر" ہے جو ہمارے پاس موجود ہے۔
چونکہ اسلام کا آغاز ۶۲۲ء صدی عیسوی میں ہوا، جو کالچکر کی بتائی ہوئی تاریخ سے دو سال پہلے ہے اس لیے بہت سے اہل علم کے مطابق غیر ہندی مذہب سے مراد یہی مذہب ہے۔ کالچکر کی کتب میں دوسرے مقامات پر بھی اس مذہب کی جو تفصیلات دی گئی ہیں ان میں اللہ کا نام لیتے ہوئے مویشیوں کو ذبح کرنا، ختنہ، باپردہ عورتیں اور اپنی مقدس سر زمین کی طرف رخ کرتے ہوئے دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنا شامل ہیں۔ اس سے بھی اسی رائے کی تائید ہوتی ہے۔
غیر ہندی کے لیے سنسکرت میں "ملیچھ" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو کسی غیر سنسکرت زبان میں ناقابل فہم انداز سے گفتگو کرتا ہو۔ ہندو اور بودھ دونوں نے اس اصطلاح کا استعمال شمالی ہندوستان کے تمام غیر ملکی حملہ آوروں کے لیے کیا جن کا آغاز سکندر اعظم کے وقت سے مقدونیوں اور یونانیوں سے ہوا۔ دوسری بڑی سنسکرت اصطلاح "طائی" ہے جو عربوں کے لیے فارسی اصطلاح سے لی گئی ہے- مثلاً یہ اصطلاح ساتویں صدی عیسوی کے نصف میں ایران پر حملہ کرنے والے عربوں کے لیے استعمال ہوئی تھی۔
کالکی اول نے مستقبل کے غیر ہندی مذہب کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے اس میں آٹھ بڑے گروؤں کا ذکر کیا ہے جو یہ ہیں: آدم، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسٰی، مانی، محمد اور مہدی۔ محمد سر زمینِ مکہ میں بغداد میں آئیں گے۔ اس بیان سے اسلامی معاشرے کے اندر حملہ آوروں کی نشاندہی ہوتی ہے:
- محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ حیات ۵۷۰ء سے ۶۳۲ء عیسوی صدی کے عرب کا ہے۔ تاہم بغداد ان کے بعد ۷۶۲ء میں عرب عباسی خلافت کے دارالخلافہ کے طور پر (۱۲۵۸ء – ۷۵۰ء) تعمیر کیا گیا۔
- مانی تیسری صدی کا ایرانی شخص تھا جس نے ایک ملغوبہ مذہب مانویت کی بنیاد رکھی۔ اس میں قدیم ایرانی مذہب زرتشتیت کی طرح بھلائی اور برائی کی طاقتوں کے درمیان جدوجہد پر زور دیا گیا۔ مانی نبی تھا یا نہیں یہ تو واضح نہیں لیکن اسلام میں صرف ایک زندیق مانوی فرقے کے لوگوں ہی نے جو بغداد میں ابتدائی عباسی دربار کا حصہ تھے، اسے نبی تسلیم کیا۔ تاہم عباسی خلفاء نے مانویت کے پیرو کاروں کو بہت سخت سزائیں دیں۔
- موجودہ افغانستان اور برصغیر پاک وہند کے بہت سے بودھ اہلِ علم نے بغداد میں آٹھویں صدی عیسوی کے اواخر میں سنسکرت کتب کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا کام کیا۔
- مہدی جو آل رسول میں سے ہوگا مستقبل کا حکمران (امام) ہوگا۔ وہ اہل ایمان کی قیادت کرتے ہوئے یروشلم کی طرف بڑھے گا۔ وہ قرآن کا قانون نافذ کرے گا اور تمام دنیا کے اہل ایمان اور اسلام کے پیروکاروں کو ایک سیاسی مملکت میں متحد کرے گا۔ یہ سب کچھ اس آخری جنگ سے پہلے ہو گا جس کے ساتھ ہی یہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ مہدی دنیائے اسلام میں مسیح موعود کے ہم پلہ ہستی ہے۔ مہدی کا تصور ابتدائی عباسی دور میں زیادہ مقبول اور نمایاں ہوا جب اس منصب کے تین دعوے دار سامنے آئے۔ خلیفہ، مکہ میں اس کا ایک حریف اور ایک شہید جس کے نام پر عباسی مملکت کے خلاف بغاوت برپا کی گئی۔ تاہم بطور ایک نجات دہندہ کے مہدی کا مکمل تصور نویں صدی عیسوی کے اختتام تک سامنے نہیں آیا تھا۔
- اسماعیلی شیعوں کے ہاں بھی پیغمبروں کی تفصیل وہی ہے جو کالچکر میں بیان کی گئی تاہم اس میں مانی کا ذکر نہیں۔ اسماعیلی واحد اسلامی فرقہ ہیں جو مہدی کو پیغمبر سمجھتے ہیں۔
- اسماعیلی شیعہ اسلام کا وہ فرقہ ہے جو دسویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف کے دوران ملتان (موجودہ پاکستان کے شمالی سندھ کا حصہ) میں حکمران تھا۔ ملتان اسماعیلی فاطمی مملکت کا اتحادی تھا جس کا مرکز مصر تھا۔ یہ مملکت پوری مسلم دنیا میں عباسیوں کی بالا دستی کو چیلنج کرتی تھی۔
اس ثبوت کی روشنی میں ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ غیر ہندی حملہ آوروں کے بارے میں بیان کردہ کالچکر تفصیلات دسویں صدی عیسوی کے آخر میں ملتان میں موجود اسماعیلیوں پر مبنی ہیں جس میں آٹھویں صدی کے آخر کے مانوی مسلمانوں کے کچھ تصورات بھی شامل ہو گئے۔ ان تفصیلات کو جمع کرنے والے اکثر و بیشتر بدھ مت کے گرو تھے جو مشرقی افغانستان اور اڈیانہ (موجودہ شمال مغربی پاکستان کی وادی سوات) کے ہندوشاہی حکمرانوں کی رعیت میں رہتے تھے۔ افغانستان کے علاقے کابل کی بودھ خانقاہوں مثلاً سوبہار کی خانقاہ کا نمونہء تعمیر اسی طرح کا ہے جیسا کہ کالچکرکے منڈلوں میں ہے۔ اڈیانہ ان بڑے علاقوں میں سے ایک تھا جہاں بودھ تنتر کو فروغ ملا۔ اس کے علاوہ اڈیانہ کے کشمیر کے ساتھ بھی گہرے تعلقات تھے جہاں بدھ مت اور ہندو شو مت کے تنتر پھلا پھولا۔ ایک مشہور بودھ زیارتی شاہراہ نے ان دونوں کو باہم ملا دیا تھا۔ لہٰذا ہمیں مشرقی افغانستان، اڈیانہ اور کشمیر میں عباسی دور حکومت کے دوران بودھ مسلم تعلقات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ ہم تاریخ اور مقدس جنگوں کے حوالے سے اس کے افکار و تعلیمات کو صحیح طرح سے سمجھ سکیں۔
کالکی اول نے پیشین گوئی کی تھی کہ غیر ہندی مذہب کے پیروکار ایک نہ ایک دن ہندوستان پر حکمرانی کرنے لگیں گے۔ اپنی راجدھانی دہلی سے ان کا بادشاہ کرِن متی ۲۴۲۴ء عیسوی میں شمبھالہ کو فتح کرنے کی کوشش کرے گا۔۔ پھر پچیسواں کالکی راودر-چکرن ہندوستان پر حملہ کرے گا اور ایک بڑی جنگ میں ان غیر ہندی لوگوں کو شکست دے گا۔ اس کی فتح سے کلیوگ یعنی "جھگڑوں کے دور" کا خاتمہ ہو گا جس کے دوران دھرم عمل بگاڑ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک نیا سنہری عہد شروع ہو گا جس میں بدھ مت خصوصاً کالچکر کی تعلیمات فروغ پائیں گی۔
خیر وشر کی طاقتوں کے درمیان ایسی کشمکش کا تصور جو مسیح موعود کی قیادت میں لڑی جانے والی آخری جنگ پر ختم ہو گی، پہلے زرتشتیوں کے ہاں ظاہر ہوا جس کی بنیاد چھٹی صدی قبل مسیح یعنی بدھ فلسفی کی پیدائش سے کئی دہائیاں پہلے رکھی گئی۔ دوسری صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی کے درمیان کسی زمانے میں یہ تصور یہودیت میں داخل ہوا اور اس کے بعد یہ پہلے عیسائیت، مانویت اور بعد ازاں اسلام میں بھی شامل ہو گیا۔
دنیا کے خاتمے کے تصور کی کچھ بدلی ہوئی شکل ہندو مت، خاص طور پر "وشنو پران" میں بھی سامنے آئی جس کا زمانہ کم و بیش چوتھی صدی عیسوی ہے۔ اس کے مطابق کلیوگ کے اختتام پر وشنو اپنی آخری تجسیم کی صورت میں کالکی کے طور پر ظہور کرے گا۔ اس کی پیدائش شمبھالہ کے گاؤں میں برہمن وشنو یاشس کے بیٹے کے طور پر ہو گی۔ وہ اپنے زمانے کے غیر ہندی لوگوں کو شکست دے گا جو تباہی کے راستے کے پیروکار ہیں اور پھر وہ لوگوں کے ذہنوں کو بیدار کرے گا۔ اس کے بعد ہندوؤں کے زمان کے دوری تصور کے مطابق ایک نیا سنہری زمانہ آئے گا۔ وہ کائنات کا آخری فیصلہ یا دنیا کا اختتام نہیں ہوگا جیسا کہ اس تصور کی غیر ہندی صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کیا "وشنو پران" میں بیان کی جانے والی یہ تفصیلات خارجی اثرات کے تحت مرتب کی گئیں اور پھر ان کو ہندی ذہنیت کے مطابق ڈھالا گیا یا یہ تصورات یہاں از خود ظہور پذیر ہوئے۔
بدھ فلسفی کی تعلیمات کے ماہرانہ طریقوں کے مطابق جس کے تصورات اور اصطلاحات ان کے سامعین کے لیے جانے پہچانے تھے،"کالچکر تنتر" میں "وشنو پران" کے نام اور مثالیں تک استعمال کی گئی ہیں۔ کیونکہ بدھ فلسفی کے یقینی سامعین اولاً تعلیم یافتہ برہمن ہی تھے۔ ان ناموں میں نہ صرف شمبھالہ ، کالکی، کلیوگ اور وشنو یاشس یا اس کی ایک اور شکل منجوشری یاشس شامل ہیں بلکہ اس میں ان غیر ہندی لوگوں کے لیے "ملیچھ" کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے جو تباہی اور گمراہی کے پیروکار ہیں۔ تاہم کالچکر کے بیان میں جنگ کے ایک علامتی معنی ہیں۔
"مختصر کالچکر تنتر" میں منجوشری یاشس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مکہ کے غیر ہندی لوگوں کے ساتھ ہونے والی جنگ سچ مچ کی جنگ نہیں کیونکہ حقیقی جنگ انسانی جسم کے اندر لڑی جاتی ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے گیلوگ شرح نگار کئیڈروب جے نے اس کی وضاحت کی ہے کہ منجوشری یاشس کے الفاظ کسی ایسی جنگی مہم کی طرف اشارہ نہیں کرتے جس کے تحت غیر ہندی مذہب کے پیروکاروں کو قتل کیا جائے۔ جنگ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کالکی اوّل کا مقصد من کی دنیا میں لڑی جانے والی جنگ کے لیے کچھ استعارے فراہم کرنا ہے تاکہ جہالت اور تخریبی رویے کےخلاف خالی پن کی گہری اور شانتی والی آگہی پیدا کی جا سکے۔
منجوشری یاشس نے بڑے واضح انداز سے اس داخلی رمزیت کو بیان کیا ہے۔ راودرا-چکرن "من-وجر" یعنی-روشن صاف ذہن کی علامت ہے۔ شمبھالہ مہاسکھہ کی وہ کیفیت ہے کہ جس میں من-وجر کا راج ہے۔ کالکی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ من-وجر کو کامل اور گہری آگہی یعنی خود بخود ابھرنے والا خالی پن اورسکھہ حاصل ہوگی۔ راودر-چکرن کے دو جرنیلراودر اور ہنومان گہری آگہی کی دو مددگار قسموںپرتیک-بودھ اور شراوک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بارہ ہندو دیوتا جو یہ جنگ جیتنے میں مدد کرتے ہیں وہ پیدا ہونے کا انحصار کے بارہ رابطوں اور کرم پھونک کی یومیہ بارہ تبدیلیوں کے خاتمے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ۔ یہ رابطے اور تبادلے دونوں سنسار کے مسلسل عمل کو بیان کرتے ہیں۔ راودر-چکرن کی فوج کے چار حصے محبت، درد مندی، آنند اور مساوات و برابری کے چار اتاہ رویے کی خالص ترین سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ غیر ہندی طاقتیں جنہیں راودر-چکرن اور اس کی فوج کے مختلف حصے شکست دیں گے منفی کرموں کی طاقتوں کے ذہنوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جن کی مدد نفرت، حسد، انتقام اور تعصب کرتے ہیں۔ ان پر فتح کا مطلب مُکش اور روشن ضمیری کی راہ کی وصولی ہے۔
اس کے باوجود کہ تحریروں میں اصلی مقدس جنگ پر اکسانے سے انکار کیا گیا ہے پھر بھی یہاں اس پوشیدہ مفہوم کی موجودگی کو، کہ اسلام ایک ظالمانہ مذہب ہے جس کی خصوصیت نفرت، حسد، تخریبی رویہ ہے، بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقف اختیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ بدھ مت مسلم دشمن مذہب ہے۔ اگرچہ ماضی کے کچھ بودھ پیروکار واقعی اس طرح کے تعصب کے حامل رہے ہوں گے اور دور حاضر کے بدھ مت کے کچھ پیروکار آج بھی اس طرح کا فرقہ وارانہ نقطہٴ نظر رکھتے ہوں گے تاہم ہمیں مہایان بدھ مت کے اصلاحی طریقوں کی روشنی میں قدرے مختلف نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔
مثلا مہایان کی تحریریں کچھ ایسے خیالات پیش کرتی ہیں جو ہینیان بدھ مت میں خاص ہیں مثلاً خود غرضی پر مبنی اپنی شخصی مُکش کے حصول کے لیے کوشاں رہنا اور دوسروں کی مدد کو نظرانداز کرنا۔ ہینیان کے پیروکاروں کی واضح منزل اور مقصد اپنی مُکش ہے نہ کہ روشن ضمیری کا حصول، جس سے وہ ہر ایک کو فائدہ پہنچا سکیں۔ اگرچہ ہینیان کو اس طرح بیان کرنا تعصب تک لے جا سکتا ہے تاہم ہینیان مکاتب فکر مثلاً تھرواد کا بر تحقیق، بامقصد مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہاں بھی محبت اور درد مندی مراقبہ کا ایک نمایاں کردار ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مہایان والے ہینیان کی سچی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ ہی نہیں تھے۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مہایان والے بدھ مت کی منطق کے طریقوں کو استعمال کر رہے تھے جس کے مطابق وہ ہر موقف کو اس کے لایعنی نتیجے تک لے جا کر لوگوں کی یوں مدد کرتا ہے کہ وہ انتہا پسند نظریات سے بچ سکیں۔ "پرسانگک" کے اس طریقے کا مقصد اس پر عمل کرنے والوں کو خبردار کرنا ہے کہ وہ خود پسندی و خود غرضی کی انتہا سے بچ سکیں۔
اسی تجزیے کا اطلاق اس انداز پر بھی ہوتا ہے جو مہایان نے قرون وسطٰی کے ہندو اور جین فلسفوں کے چھ مکاتب فکر کو پیش کرتے ہوئے اختیار کیا۔ یہ تبتی بدھ مت کی روایتیں ایک دوسرے کے تصورات کو جس طرح پیش کرتی رہی ہیں یا تبت کی مقامی بون روایت کے تصورات پیش کرتی ہیں یہ بھی اسی کی مثال ہے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کا نقطہ نظر ٹھیک سے بیان نہیں کرتے۔ ان میں سے ہر ایک نےدوسرے کی کسی نہ کسی خصوصیت کے بارے میں مبالغہ کیا یا اس کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ مختلف نکات کی وضاحت کی جا سکے۔ یہی بات اسلام کو ظالم مذہب اور ایک چھپا ہوا خطرہ سمجھنے کے کالچکر نقطہ نظر کے بارے میں بھی درست ہے۔ اگرچہ بدھ مت کے کچھ ماہر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پرسانگک طریقے کے مطابق ہم اسلام کو روحانی خطرے کے بیان کے لیے ایک موثر تدبیر یا طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے خلاف یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ایسا کرنا حکمت عملی کو، خصوصاً جدید دور میں بڑی حد تک، نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
تاہم اسلام کو خطرہ بننے والی تباہ کن قوتوں کی علامت کے طور پر استعمال کرنا اس وقت قابل فہم نظر آتا ہے جب اسے کابل، خصوصاً مشرقی افغانستان، کے علاقے میں ابتدائی عباسی دورِ حکومت کے تناظر میں دیکھا جا ئے۔
[.بحث کے پس منظر کے طور پر دیکھیے: افغانستان میں بدھ مت اور اسلام کا تاریخی خاکہ؛ نیز دیکھیے: منگول حکومت سے پہلے بودھ اور اسلامی تہذیبوں کے تاریخی تعلقات، حصہ سوم، باب ۱۰]
اپنے دور حکومت کے آغاز میں عباسی شمالی افغانستان کے علاقے باختر پر حکمران تھے جہاں انہوں نے مقامی بودھوں، ہندوؤں اور زرتشتیوں کو اپنا مذہب برقرار رکھنے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کریں۔ تاہم ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کر لیا خاص طور پر زمینداروں اور پڑھے لکھے شہری لوگوں نے کیونکہ اسلامی ثقافت کے اونچے طبقات ان کے اپنے کلچر کی نسبت ان کے لیے زیادہ پہنچ میں تھے اور اس طرح وہ بھاری ٹیکس ادا کرنے سے بھی بچ سکتے تھے۔ ترکی شاہی جو تبتوں کے اتحادی بھی تھے، کابل پر حکومت کر رہے تھے جہاں بدھ مت اور ہندومت پھیل رہا تھا۔ بودھ حکمران اور بودھ روحانی رہنماؤں کو یہاں لازمی طور پر یہ فکر دامن گیر ہوئی ہو گی کہ اسی طرح کا طرز عمل یعنی آسانی سے مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے کا عمل یہاں بھی نہ شروع ہو جائے۔
ترکی شاہی حکمرانوں نے یہاں ۸۷۰ء تک حکومت کی اور ۸۱۵ء سے ۸۱۹ء کے درمیان آ کر ان کا اس علاقے پر اقتدار ختم ہوا۔ ان چار سالوں کے دوران عباسی خلیفہ المامون نے کابل پر حملہ کر کے حکمران شاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اسلام قبول کر لے۔ اپنی اطاعت کا اظہار کرنے کے لیے کابل شاہ نے خلیفہ کو سوبہار خانقاہ سے بدھ فلسفی کے سونے کے مجسمے کا تحفہ پیش کیا۔ خلیفہ مامون نے اس قیمتی مجسمے کو اسلام کی فتح کی علامت کے طور پر جس میں بدھ فلسفی ہیروں جڑا تاج پہنے چاندی کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے مکہ بھجوا دیا جہاں دو سال تک یہ کعبے میں رکھا۔ وہ اپنے بھائی کو خانہ جنگی میں شکست دے ہی چکا تھا۔ مجسمے کی نمائش سے وہ پوری اسلامی دنیا پر اپنے حقِ حکمرانی کا اظہار کر رہا تھا۔ اس نے نہ تو کابل کے بودھوں کو ترک مذہب پر مجبور کیا اور نہ وہاں کی بودھ خانقاہوں کو تباہ کیا۔ اس نے بدھ فلسفی کے اس مجسمے کو بھی بت سمجھ کر نہیں توڑا جو کابل کے حکمران نے اسے بھیجا تھا بلکہ اسے بطور مال غنیمت کے مکہ بھجوا دیا۔ جب عباسی فوجوں کو مملکت کے دوسرے حصوں میں آزادی اور خود مختاری کے لیے چلنے والی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہاں سے واپس بلا لیا گیا تو اس کے بعد جلد ہی بودھ خانقاہیں بحال ہو گئیں۔
اس کے بعد دوسرا دور بھی مختصر رہا (یعنی ۸۷۰ء سے ۸۷۹ء کے دوران) جب کابل کا علاقہ اسلامی حکومت کے تحت آیا۔ اس دور میں کابل کو ایک خود مختار فوجی ریاست کے صفاری حکمرانوں نے فتح کیا جنہیں اپنی درشتگی اور مقامی کلچر کو تباہ کرنے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ فاتحین نے بہت سے بودھ "مجسموں" کو جنگ میں فتح کی یادگار کے طور پر عباسی خلیفہ کے پاس بھجوا دیا۔ جب ترکی شاہی حکمرانوں کے بعد آنے والے ہندو شاہی خاندان نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو بدھ مت اور اس کی خانقاہیں ایک بار پھر اپنی پہلی شان و رونق کے ساتھ بحال ہو گئیں۔
ترک غزنوی حکمرانوں نے ہندو شاہی خاندان کو شکست دے کر ۹۷۶ء میں مشرقی افغانستان فتح کرلیا تھا۔ لیکن انہوں نے وہاں کی بودھ خانقاہوں کو بالکل بھی تباہ نہیں کیا۔ غزنوی عباسیوں کے ماتحت اور سنی اسلام کے کٹر پیروکار تھے۔ اگرچہ انہوں نے بدھ مت اور ہندومت کو مشرقی افغانستان میں برداشت کیا لیکن ان کے دوسرے حکمران محمود غزنوی نے عباسیوں کے حریفوں یعنی ملتان کی اسماعیلی ریاست کے خلاف جنگی مہموں کا آغاز کر دیا۔ ۸۰۰ا ء عیسوی صدی میں محمود نے ملتان پر فتح حاصل کر لی اور راستے میں گندھارا اور اڈیانہ کے ہندو شاہیوں کو بھی ریاست سے بے دخل کر دیا۔ ہندو شاہیوں نے ملتان کے ساتھ ایکا کر رکھا تھا۔ جہاں کہیں محمود نے فتح حاصل کی وہاں اس نے ہندو مندروں اور بدھ مت کی خانقاہوں سے دولت لوٹی اور اپنی طاقت کو بڑھایا۔
ملتان کی فتح کے بعد زیادہ علاقہ اور دولت حاصل کرنے کے لالچ میں محمود نے اپنی یلغار کا رخ مشرق کی طرف کر دیا۔ اس نے موجودہ ہندوستان کے پنجاب کے علاقے کو جسے اس زمانے میں "دہلی" کہا جاتا تھا، فتح کیا۔ تاہم جب غزنوی افواج دہلی سے شمال کی طرف کشمیر کے پہاڑی علاقوں کے دامن کی طرف بڑھیں اور ۱۰۱۵ء سے ۱۰۲۱ء کے دوران بچے کھچے ہندو شاہیوں کو بے دخل کرنا شروع کیا تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مآخذ یہ بتاتے ہیں کہ غزنوی فوجوں کو منتروں کے اثر سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی مسلم فوج کا کشمیر پر یہ پہلا حملہ تھا۔ زیادہ گمان یہ ہے کہ کالچکر کا یہ بیان کہ مستقبل میں دہلی پر غیر ہندی فوجیں حملہ کریں گی اور انہیں شکست ہو گی اس میں ملتان کی حکومت کا عباسیوں اور پھر غزنویوں کے لیے خطرہ بننا اور کشمیر پر غزنویوں کے حملے کا خطرہ سب باتیں مل کر پس منظر کا کام دے رہی تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کالکی اول کی تاریخی پیشین گوئیاں مندرجہ بالا ادوار پرپوری طرح صادق آتی ہیں لیکن ان کے واقعات کو سبق آموزی کےلیے اپنے انداز میں ڈھال کر بیان کیا گیا ہے۔ تاہم تیرہویں صدی عیسویں کے ساکیہ شرح نگار بوتن نے کالچکر کے تاریخی بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ "ماضی کے تاریخی واقعات کی چھان بین کرنا بے معنی ہے"۔ کئیڈروب جے نے البتہ وضاحت کی ہے کہ شمبھالہ اور غیر ہندی طاقتوں کے درمیان جس جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ محض ایک استعارہ نہیں ہے جس کا مستقبل کی تاریخی حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسا ہی ہوتا تو پھر جب "کالچکر تنتر" سیاروں اور کہکشاؤں کے لیے داخلی مثالیں برتتا ہے تو اس سے یہ لایعنی نتیجہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اجسام فلکی صرف ایک استعارہ ہیں اور ان کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔
کئیڈروب جے نے البتہ اس بات سے خبردار کیا ہے کہ یہاں لفظی معنی مراد نہ لیے جائیں کیونکہ کالچکر نے ایک اور پیشین گوئی کی ہے کہ غیر ہندی مذہب آخر بارہ بر اعظموں تک پھیل جائے گا اور پھر راودر-چکرن کی تعلیمات وہاں بھی اس پر غالب آ جائیں گی۔ اس کا ان خاص غیر ہندی لوگوں سے جن کو پہلے بیان کیا گیا ہے کوئی تعلق نہیں بنتا نہ ان کے مذہبی عقائد اور رسوم و رواج کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہاں "ملیچھ" کا نام محض غیر دھرمی طاقتوں اور عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔
لہذا پیشین گوئی یہ ہے کہ تخریبی قوتیں جو روحانی کاموں کی دشمن ہیں مستقبل میں حملہ کریں گی اور اس سے مراد خاص طور پر مسلمانوں کی فوج نہیں ہے۔ ان قوتوں کے خلاف ایک خارجی "مقدس جنگ" لڑنا لازمی ہو جائے گا۔ اس میں پوشیدہ پیغام یہی ہے کہ اگر پرامن طریقے ناکام ہو جائیں اور ہمیں مقدس جنگ کرنا پڑے تو اس جدوجہد کی بنیاد بدھ مت کے درد مندی اور حقیقت کی گہری آگہی کرنےوالے اصولوں پر ہونی چاہیے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ سچ ہے کہ اس رہنمائی پر عمل کرنا بہت مشکل ہے کہ جب آپ ایسے سپاہیوں کو تربیت دے رہے ہوں جو بودھی ستوا نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ اگر جنگ نفرت، تعصب، حسد اور انتقام کے غیر ہندی اصولوں پر لڑی جا ئے تو آنے والی نسلیں اپنے آباء و اجداد کے طریقوں اور غیر ہندی طاقتوں کے طریقوں میں کوئی فرق نہیں دیکھ پائیں گی۔ سو وہ بڑی آسانی سے غیر ہندی مذہب کی پیروی کرنا شروع کر دیں گی۔
کیا بیرونی حملہ آوروں میں سے کسی نے بھی اسلامی تصور جہاد کو اختیار کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا کالچکر جہاد کے بارے میں درست بات بیان کر رہا ہے یا یہ شمبھالہ پر غیر ہندی حملے کو محض ایک ایسی انتہا کا اظہار کرنے کے لیے بیان کر رہا ہے کہ جس سے بچنا ضروری ہے۔ بین المذاہب غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے اور انہیں دور کرنے کے لیے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔
عربی لفظ "جہاد" کا مطلب ہے کوشش کرنا۔ اس میں کوشش کرنے والا مختلف مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرتا ہے- مثلا رمضان یعنی روزہ رکھنے کے مقدس مہینے کے دوران بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ جو لوگ یہ کوشش کرتے ہیں "مجاہدین" کہلاتے ہیں۔ یہاں ہمیں صبر کے بارے میں بدھ مت کی تعلیمات یاد آتی ہیں جو بودھی ستوا کی نروان اور آگہی کی جدجہد کرتے ہوئے مشکلات برداشت کر نے سے متعلق ہیں۔
اسلام میں اہل سنت کے نزدیک جہاد کی پانچ اقسام ہیں۔
- عسکری جہاد: جو اسلام کو نقصان پہنچانے والی جارحانہ طاقتوں کے خلاف دفاعی جنگ ہوتی ہے۔ اس سے مراد اسلام قبول کروانے کے لیے کسی قوم پر متشددانہ حملہ کرنا نہیں ہوتا۔
- جہاد بالمال میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو مالی اور دوسری مادی اشیاء فراہم کرنا شامل ہے۔
- جہاد بالعمل میں پوری تن دہی اور دیانتداری سے اپنے آپ اور اپنے خاندان کی کفالت کرنا شامل ہے۔
- علمی جہاد علم حاصل کرنے کا نام ہے۔
- اپنے نفس کے خلاف جہاد اپنے من کی دنیا میں ایک داخلی جدوجہد ہے جس میں اپنی خواہشات اور ان سوچوں پر قابو پایا جاتا ہے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں حائل ہوتی ہیں۔
اہلِ تشیع پہلی طرح کے جہاد پر ہی زور دیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ اسلامی ریاست پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔ شیعہ فکر جہاد کی پانچویں قسم یعنی داخلی روحانی جہاد کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔
دیو مالائی شمبھالہ جنگ کے بارے میں کالچکر کے نظریات اور جہاد کے حوالے سے اسلامی مباحث میں نمایاں مشابہت پائی جاتی ہے۔ بدھ مت اور اسلام دونوں ہی میں مقدس جنگ بیرونی دشمن طاقتوں کی طرف سے ہونے والے حملے کے خلاف دفاعی تدبیریں ہیں اور کبھی بھی لوگوں سے زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی جارحانہ جنگی مہمات نہیں رہیں۔ دونوں میں معنی کے لحاظ سے داخلی روحانی سطحیں موجود ہیں جس کے تحت یہ جنگیں منفی سوچوں اور تخریبی جذبات کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ دونوں میں جنگ آزمائی اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے نہ کہ تعصب اور نفرت کی بنیاد پر۔ لہذا شمبھالہ پر غیر ہندی یلغار کو بالکل منفی نوعیت کا بیان بنا کر اصل میں کالچکر تحریریں پرسانگک طریقہ کار کے تحت جہاد کے تصور کی غلط تعبیر کرتی ہیں۔ اس طرح اسے اس منطقی انتہا تک لے جایا جاتا ہے جہاں جا کر یہ ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس سے بچنا درکار ہے۔
اس کے علاوہ جیسا کہ بہت سے رہنماوں نے جہاد کے تصور کو طاقت اور غلبے کے حصول کے لیے نہ صرف بگاڑا بلکہ غلط استعمال بھی کیا- یہی کچھ شمبھالہ کے تصور کے ساتھ اور بیرونی تخریبی طاقتوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہونے والے مباحث میں ہوا۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں تیرہویں دلائی لامہ کے روسی بریات منگول نائب اتالیق اگوان دورجیف نے اعلان کر دیا کہ روس شمبھالہ ہے اور زار ایک کالکی۔ اس طرح اس نے تیرہویں دلائی لامہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ "ملیچھ" برطانیہ کے خلاف وسط ایشیا پر قبضے کی جدوجہد میں روس کے اتحادی بن جائیں۔
روایتی طور پر منگولوں نے شمبھالہ کے راجہ سچندر اور چنگیز خان دونوں کو وجرپانی کی تجسیم کے طور پر جانا ہے۔ سو شمبھالہ کے لیے لڑنے کا مطلب چنگیز خان کی عظمت اور منگولیا کے لیے لڑنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۲۱ء کے منگولی کیمونسٹ انقلاب کے رہنما سوخ باتر نے سفید روس کے ظالمانہ استبدادی اقتدار اور جاپانی حمایت رکھنے والے بیرن وون انگرن-سٹیرنبرگ کے خلاف اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لیے کالچکر کے بیان جنگ کو یہ کہتے ہوئے استعمال کیا کہ اس سے کلیوگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس نے ان سے وعدہ کیا کہ انہیں شمبھالہ کے بادشاہ کے جنگجوؤں کے طور پر نیا جنم ملے گا، حالانکہ کالچکر تحریروں میں اس کے اس دعوے پر لکھی ہوئی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ ۱۹۳۰ء میں جاپان کے اندرونی منگولیا پر قبضے کے دوران اس نے بھی اپنے مطلب کے لیے ایک پروپیگنڈہ مہم چلائی جس میں یہ باور کروایا گیا کہ جاپان ہی شمبھالہ ہے تاکہ اس کے ذریعے منگولوں سے اتحاد اور ان کی عسکری حمایت حاصل کی جائے۔
جس طرح بدھ مت کے ناقد روحانی جنگ کے خارجی سطح پر اس غلط استعمال کو بڑھا کر دکھا سکتے ہیں اور اس کی داخلی سطح کو رد کر سکتے ہیں اور اس کی بنیاد پر پورے بدھ مت کے بارے میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ناروا اور غلط ہو گا۔ تو یہی کچھ جہاد کے حوالے سے اسلام کے ناقدین کے بارے میں بھی درست ہے۔ روحانی رہنما کے بارے میں بدھ مت کے تنتروں میں جو نصیحت ملتی ہے وہ یہاں مفید ہو گی۔ تقریباً ہر روحانی رہنما میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک چیلے کو اپنے گرو کی منفی خصوصیات سےانکار نہیں کرنا چاہیے لیکن ان کے بارے میں سوچتے رہنا اس کے لیے پریشانی و تناؤ کا باعث ہو گا۔ اس کے بجائے اگر کوئی شاگرد اپنے استاد کی مثبت خصوصیات اور پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرے تو اسے روحانیت کی راہ پر چلنے کی قوت اور جذبہ میسر آئے گا۔
بدھ مت اور اسلام کی مقدس جنگوں کے حوالے سے تعلیمات کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ جب تباہ کن قوتیں مذہبی رسوم و اعمال کے لیے خطرہ بنتی ہیں تو دونوں مذاہب بیرونی جنگوں کے حوالے سے اپنی تعلیمات کے غلط استعمال کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمیں نہ تو اس غلط استعمال کا انکار کرنا چاہیے نہ اس پر جما رہنا چاہیے بلکہ ہم اس سے ہر دو ادیان میں داخلی مقدس جنگ کے فوائد پر توجہ دیتے ہوئے روحانی رہنمائی لے سکتے ہیں۔
دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
ہمارے کام میں معاونت کریں!
یہ ویب سائٹ مکمل طور پر عطیات پر انحصار کرتی ہے۔ اِس کی دیکھ بھال، ہمارے منصوبہ کے بقیہ ستتر فیصد مواد کی تیاری اور مزید ترجمہ کاری بہت مہنگی ہے۔ ہمارے پاس فی الحال اسی رضاکار ہیں لیکن ہماری جماعت کے تےایس لازمی ارکان تنخواہ دار ہیں۔ ہر سال درکار دس لاکھ یورو (پندرہ لاکھ امریکی ڈالر) اکٹھا کرنے میں ہماری مدد کریں
تا کہ ہم اپنی ویب سائٹ کی مفت فراہمی جاری رکھ سکیں۔
اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں (75%) | <urn:uuid:a1f29559-817a-4e42-a956-ba9803f93db8> | CC-MAIN-2013-48 | http://www.berzinarchives.com/web/ur/archives/study/islam/kalachakra_islam/holy_wars_buddhism_islam_myth_shamb/holy_war_buddhism_islam_shambhala_long.html | 2013-12-09T16:58:54Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2013-48/segments/1386163990989/warc/CC-MAIN-20131204133310-00051-ip-10-33-133-15.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.981003 | Arab | 50 | {} |
تنسخہ
تنسخہ (replicon) کا لفظ علم وراثیات میں کسی DNA یا RNA کے ایک ایسے سالمے (یا باالفاظ مخصوصہ ، حصے) کے لیۓ استعمال ہوتا ہے کہ جو اپنے تنسخ (replication) کے وقت کسی واحد مبدائے تنسخ (origin of replication) سے یتنسخ (replicate) ہوتا ہو۔ سادہ الفاظ میں اس بات کو یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب کسی جاندار خلیۓ میں اس کا وراثی مادہ یعنی DNA اپنی نقل تیار کرتا ہے تو نقل تیار کرنے کا یہ عمل تنسخ کہلاتا ہے اور اس کے شروع ہونے کا مقام مبدائے تنسخ کہا جاتا ہے؛ DNA میں ایسے بہت سے مبدائے تنسخ کے مقامات ہوتے ہیں۔ اب DNA کا وہ تمام حصہ جو کہ اپنی نقل تیار کرنے کے لیۓ کسی ایک مبدائے تنسخ کو استعمال کرتا ہو تو اسے تنسخہ کہا جاتا ہے جس کی جمع تنسخات کی جاتی ہے۔ | <urn:uuid:480144de-b766-4426-a62a-54a2852438cb> | CC-MAIN-2014-10 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D9%86%D8%B3%D8%AE%DB%81 | 2014-03-07T16:07:47Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999645498/warc/CC-MAIN-20140305060725-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.963828 | Arab | 58 | {} |
پروپیگنڈا
پروپیگنڈا انگریزی زبان کا لفظ ہے- عام بول چال میں اس لفظ کے معنی دروغ گوئی ، ترغیب و تحریص یا غلط افواہ کا پھیلانا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اکثر اوقات سیاسی انجمنیں یا حکومتیں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے فوری اور ذاتی مفاد کے پیش نظر غلط روایات و واقعات کا چرچا کرکے اپنی مطلب برداری کر لیتی ہیں، لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ پروپیگنڈے کی بنا جھوٹ پر ہی ہو۔ پروپیگنڈا سچا بھی ہوتا ہے اور عوام کے فائدے کا باعث بھی ہوتا ہے۔
اشتقاقیات[ترمیم]
ابتداءً اس لفظ سے پادریوں کی وہ جماعت مراد تھی، جنھیں تبلیغی ضروریات کے تحت دور دراز ممالک میں جا کر کلیسا کے اصولوں سے لوگوں کو روشناس کرانا ہوتا تھا۔
پروپیگنڈا سے منسلک مشہور اقوال[ترمیم]
-
- "جھوٹ کو اتنا اور بار بار پھیلاوء کہ لوگ اسے قبول کر لیں" - سیکولر لابی امریکہ
-
- "اگر تم اپنے مخالف کو قائل نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے الجھا دو، تا کہ اس کی یکسوئی برقرار نہ رہے!" - حزب الجمہوری امریکہ | <urn:uuid:a99111e8-fdfa-49cb-9c8e-2e2d67343ebe> | CC-MAIN-2014-10 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%BE%DB%8C%DA%AF%D9%86%DA%88%D8%A7 | 2014-03-10T15:49:43Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394010869716/warc/CC-MAIN-20140305091429-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.976742 | Arab | 60 | {} |
الحمد للہ:
اول:
ذبيحہ حلال ہونے كے ليے بسم اللہ پڑھنى شرط ہے، نہ تو يہ غلطى اور بھولنے كى حالت ميں ساقط ہو سكتى ہے اور نہ ہى جہالت ميں، اہل علم كا راجح قول يہى ہے، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 85669 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
دوم:
كتابى ( يعنى يہودى اور نصرانى ) كا ذبحيہ دو شرطوں كے ساتھ حلال ہے:
پہلى شرط:
كتابى اس طرح ذبح كرے جس طرح مسلمان ذبح كرتا ہے، چنانچہ وہ حلقوم اور رگيں كاٹے اور خون بہائے، ليكن اگر وہ گلا گھونٹ كر يا اليكٹرك شاك لگا كر يا پانى ميں ڈبو كر جانور كو قتل كرے تو اس كا ذبيح حلال نہيں اور اگر مسلمان شخص بھى ايسا كرے تو بھى حلال نہيں ہو گا.
دوسرى شرط:
وہ اس جانور پر غير اللہ كا نام ذكر نہ كرے، مثلا مسيح يا كسى اور كا نام مت لے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور تم اسے مت كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہ ليا گيا ہو }الانعام ( 121 ).
اور حرام كردہ اشياء كے متعلق اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ تم پر حرام كيا گيا ہے مردار اور خون اور خنزير كا گوشت اور جس پر اللہ كے سوا دوسرے كا نام پكارا گيا ہو } البقرۃ ( 173 ).
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" يہاں وہ مراد ہے جس پر ذبح كرتے وقت غير اللہ كا نام ليا جائے مثلا مسيح كے نام سے، يا محمد كے نام سے، يا جبريل كے نام سے، يا لات وغيرہ كے نام سے " انتہى تفسير سورۃ البقرۃ.
اور حرمت ميں وہ بھى داخل ہو گا جو وہ مسيح يا زہرہ كے تقرب كے ليے ذبح كريں، چاہے اس پر انہوں نے غير اللہ كا نام نہ بھى ليا ہو تو يہ بھى حرام ہے.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اور جو اہل كتاب اپنے تہواروں كے ليے ذبح كريں اور جس سے وہ غير اللہ كا تقرب حاصل كريں يہ بالكل اسى طرح ہے جس طرح مسلمان اپنى قربانى اللہ كے قرب كے ليے ذبح كرتے ہيں، اور يہ اسى طرح ہے جس وہ مسح اور زہرہ كے ليے ذبح كريں، تو امام احمد سے اس كے متعلق دو روايتيں ہيں، ان ميں مشہور يہ ہے كہ اس كا كھانا مباح نہيں چاہے اس پر غير اللہ كا نام نہ بھى ليا گيا ہو، اور عائشہ اور عبد ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم..... سے بھى نہى منقول ہے " انتہى
ماخوذ از: افتضاء الصراط المستقيم ( 1 / 251 ).
سوم:
جب مسلمان يا كتابى كوئى جانور ذبح كرے اور معلوم نہ ہو كہ آيا اس نے بسم اللہ پڑھى ہے يا نہيں تو اسے كھانا جائز ہے، اور جو اسے كھائے تو وہ اس پر بسم اللہ پڑھ لے، كيونكہ بخارى شريف ميں حديث ہے:
عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے وہ بيان كرتى ہيں:
" كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور عرض كرنے لگے: كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں اور ہميں يہ علم نہيں كہ آيا اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہے يا نہيں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو "
ميں نے عرض كيا: وہ كفر چھوڑ كر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، يعنى اب تك وہ اسلام ميں نئے ہيں اور انہيں علم نہيں كيا آيا وہ ( ذبح كرتے وقت ) بسم اللہ پڑھتے يا نہيں.
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كر كھا ليا كرو "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2057 ).
جو مسلمان يا كتابى نے ذبح كيا ہو اس كے متعلق سوال كرنا لازم نہيں كہ اس نے كس طرح ذبح كيا ہے اور آيا اس پر بسم اللہ پڑھى ہے يا نہيں، بلكہ ايسا كرنا ہى نہيں چاہيے، كيونكہ يہ دين ميں زيادتى اور غلو ہے.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہوديوں كا ذبح كردہ كھايا اور ان سے اس كے متعلق سوال نہيں كيا، صحيح بخارى وغيرہ ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے كہ" كچھ لوگ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور عرض كرنے لگے: كچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہيں اور ہميں يہ علم نہيں كہ آيا اس پر بسم اللہ پڑھى گئى ہے يا نہيں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم بسم اللہ پڑھ كا كھا لو "
وہ بيان كرتى ہيں: وہ كفر چھوڑ كر نئے نئے مسلمان ہوئے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں حكم ديا كہ وہ بغير سوال كيے ہى اسے كھا ليں، حالانكہ آنے والوں پر اسلام كے احكام مخفى بھى ہو سكتے تھے، كيونكہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے " انتہى.
ماخوذ از: رسالۃ فى احكام الاضحيۃ و الذكاۃ
چہارم:
اوپر كى سطور ميں جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر جو شخص بھى كسى غير مسلم ملك جائے اور وہاں اغلب طور پر ذبح كرنے والے يہودى اور عيسائى ہوں تو اس كے ليے ان كے ذبح كردہ گوشت كھانا حلال ہے، ليكن يہ ہے كہ اگر اسے علم ہو جائے كہ وہ ذبيحہ كو بےہوش كرتے ہيں يا پھر وہ اس پر غير اللہ كا نام ليتے ہيں تو پھر مت كھائے جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.
اور اگر ذبح كرنے والا شخص بت پرست يا كيمونسٹ ہو تو اس كا ذبح كردہ حلال نہيں.
اور جب ذبيحہ حرام ہو تو مجبور اور مضطر كى حجت اور دليل سے حرام كھانا جائز نہيں، جب انسان كو ايسى اشياء ملتى جاتى ہوں جن سے زندہ رہ سكتا ہے، مثلا وہ مچھلى كھا لے يا سبزياں اور داليں وغيرہ.
شيخ عبد الرحمن البراك حفظہ اللہ كہتے ہيں:
" كفار ممالك ميں جو گوشت پيش كيا جاتا ہے اس كى كئى قسميں ہيں:
مچھلى تو ہر حال ميں حلال ہے، كيونكہ اس كى حلت ذبح اور بسم اللہ پرموقوف نہيں.
ليكن باقى اقسام كے متعلق گزارش ہے كہ اگر تو وہ عيسائى يا يہودى كمپنى اور افراد كا پيش كردہ گوشت ہو اور ان كے طريقہ كے متعلق معلوم نہ ہو كہ آيا وہ اليكٹرك شاك كے ذريعہ جانور قتل كرتے ہيں يا گلا گھونٹ كر يا سر پر ضرب لگا كر جيسا كہ يورپ ميں معروف ہے تو يہ گوشت حلال ہو گا.
جيسا كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:
{ سب پاكيزہ اشياء آج تمہارے ليے حلال كى گئيں اور اہل كتاب كا كھانا ( ذبيحہ ) تمہارے ليے حلال ہے، اور تمہارا كھانا ( ذبيحہ ) ان كے ليے حلال ہے }المآئدۃ ( 5 ).
اور اگر يہ معلوم ہو جائے كہ وہ ان طريقوں ميں سے كسى ايك طريقہ سے جانور ہلاك كرتے ہيں تو پھر يہ گوشت حرام ہے، كيونكہ يہ منخقہ اور موقوذۃ ميں شامل ہو گا.
اور اگر يہ گوشت تيار كرنے والے يہودى اور عيسائيوں كے علاوہ كوئى اور ہو تو يہ گوشت حرام ہے كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
اور تم اسے نہ كھاؤ جس پر اللہ كا نام نہيں ليا گيا يہ فسق ہے .
اس ليے مسلمان شخص كو واضح حرام سے اجتناب كرنے كى كوشش كرنى چاہيے، اور اسے مشتبہات سے دور رہنے كى جدوجہد كرنى چاہيے تا كہ اپنا دين سلامت ركھ سكے، اور اپنے بدن كو بھى حرام خوراك سے محفوظ ركھتے" انتہى.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:824b1253-545d-4977-9892-239075b94ecd> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/88206 | 2014-03-07T20:06:34Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999650775/warc/CC-MAIN-20140305060730-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.956413 | Arab | 51 | {} |
ميرا خاندان ايك دينى گھرانہ ہے اور ميرى تعليم بھى اسى ماحول ميں عفت و عصمت كى حفاظت اور نماز پنجگانہ كى پابندى اور دوسروں كے ادب و احترام پر ہوئى ہے، ( 1422 ) ہجرى سے انٹرنيٹ كا علم ہوا اور ميں اكثر ويب سائٹ سرچ كرتى جس كا مقصد انگلش كو بہتر بنانا تھا، تا كہ ميں انگلش اچھى طرح پڑھا سكوں، ميں عورت اور ازدواجى زندگى اور خاندانى مسائل كے متعلق بھى سرچ كرتى رہى.
چھ ماہ قبل ميں ايك پروگرام ميں انگلش كى پريكٹس كے دوران مجھے ايك ميسج موصول ہوا كہ وہ شخص مجھ سے انگلش كى تعليم كے متعلق مختلف طريقہ سے بات چيت كرنا چاہتا ہے، اور اس سلسلہ ميں طالبات كو كن مشكلات كا سامنا ہوتا ہے وہ معلوم كرنا چاہتا ہے، اس شخص نے انگلش زبان كا كورس كر ركھا ہے اور مجھ سے دو برس چھوٹا بھى ہے، اس پروگرام ميں دو يا تين بار ميسج كے ذريعہ بات چيت كے بعد اس نے ميرے شخصت اور عمر اور علاقے اور ميرے خاندان كى عادات وغيرہ كے بارہ ميں دريافت كيا، اور بتايا كہ وہ ميرا رشتہ طلب كرنا چاہتا ہے، اس ليے ميں نے اپنے والد صاحب كا فون نمبر دے ديا تا كہ اس كى سچائى كا علم ہو سكے.
حقيقتا اس نے والد صاحب سے رابطہ كيا اور دو ہفتوں كے بعد اس كے گھر والے بھى ہمارے پاس آئے ليكن ابتدا ميں ميرے گھر والے نيٹ كے ذريعہ تعارف ہونے كى بنا پر اس رشتہ ميں متردد تھے ليكن كئى بار كوشش كرنے كے بعد رشتہ قبول كر ليا گيا، الحمد للہ ميرے منگيتر كى ميرے شہر كے قريب ہى ايك بستى ميں بطور ٹيچر تعيين ہوگئى اور عنقريب بنك سے نفع پر قرض بھى حاصل كر لے گا تا كہ ہمارى منگنى اور عقد نكاح كے معاملات مكمل ہو سكيں.
منگنى كے كچھ عرصہ بعد ہم ايك دوسرے سے ٹيلى فون كے ذريعہ بات چيت كرنے لگے ليكن اس ميں كچھ سلبى اور كچھ مثبت اشياء بھى پائى جاتى ہيں، مختصر يہ كہ وہ چاہتا ہے كہ شادى كے بعد ميں ملازمت چھوڑ دوں اور اولاد كو مكمل وقت دوں اور اپنے آپ اور تعليم كو بھول جاؤں اور صرف ازدواجى امور ميں ہى زندگى بسر كروں، حتى كہ اگر ميں خادمہ لانا چاہوں تو اس كى تنخواہ مجھے ادا كرنا ہوگى وہ نہيں دےگا.
وہ چاہتا ہے كہ ميں نہ تو گانے سنوں اور نہ ہى فلميں اور ڈرامے ديكھوں، اور پينٹ بھى پہنوں اور اسى طرح سر پر ركھنے والا برقع اور عبايا زيب تن كروں، ميں نے اسے كہا ہے كہ گانے چھوڑ دوںگى اور فلميں اور ڈرامے حرام نہيں سمجھتى، اور اسى طرح وہ تفريح مقامات پر بھى جانے سے روكتا ہے، مجھے سمجھ نہيں آ رہى كہ اس سے كيسے سمجھوتہ كيا جائے، برائے مہربانى ميرا تعاون فرمائيں.
الحمد للہ:
اول:
ہمارے پاس جو سوالات آتے ہيں ان كا جوابات دينے ميں ہمارى عادت ہے كہ اگر اس سوال ميں كوئى شرعى غلطى ہو تو ہم اس غلطى پر ضرور تنبيہ كرتے ہيں ان بعض غلطيوں كا تعلق تو سوال كے ساتھ ہو سكتا ہے، ليكن كچھ كا اس سے تعلق نہيں ہوتا تو بھى ہم سائل كے ليے صحيح چيز بيان كرتے ہيں تا كہ خير خواہى ہو سكے جو اللہ سبحانہ و تعالى نے ہم پر واجب كى ہے.
دوم:
آپ كے سوال ميں ہم نے جو شرعى مخالفات پائى ہيں چاہے ان كا تعلق آپ سے ہے يا خاوند كے ساتھ وہ درج ذيل ہيں:
1 - عورت كا محرم كے بغير سفر كرنا:
سوال كرنے والى بہن كے درج ذيل قول سے ہم كو يہ سمجھ آئى ہے كہ:
" اب ميں ايك بستى ميں ملازمت كرتى ہوں جو ميرے شہر سے ڈيڑھ سو كلو ميٹر يعنى ڈيڑھ گھنٹے كى مسافت پر ہے ڈيڑھ گھنٹہ جانے اور ڈيڑھ گھنٹہ آنے ميں لگتا ہے "
اگر واقعتا ايسا ہى ہے اور اس بہن كے ساتھ اس كا كوئى محرم نہيں ہوتا تو اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اللہ سبحانہ و تعالى اور يوم آخرت پر ايمان ركھنے والى عورت كے ليے محرم كے بغير سفر كرنا حلال نہيں "
جيسا كہ كچھ علماء كى رائے ہے كہ سفركے ليے عورتوں كا گروپ كافى ہے يعنى ان كا محرم ساتھ نہ ہو تو اكٹھى عورتيں مل كر سفر كر سكتى ہيں، يہ رائے صحيح نہيں اور عورت اس طرح سفر نہيں كر سكتى، بلكہ ہر عورت كو اپنے محرم كے ساتھ سفر كرنا چاہيے.
2 - اجنبى مرد كے ساتھ انٹرنيٹ كے ذريعہ خط و كتابت كرنا:
آپ نےايك ايسے مرد كے ساتھ خط و كتابت كى جو آپكے ليے اجنبى تھا، اگرچہ بعد ميں اس اجنبى مرد نے آپ كا رشتہ بھى طلب كيا ہے، ليكن ہزاروں افراد اور مرد ايسے ہيں جو ايسا نہيں كرتے بلكہ وہ عورت كو اپنے پھندے ميں پھنسا كر اسے رسوا كرتے ہيں.
اور پھر يہى نہيں بلكہ اس طريقہ پر قائم ازدواجى تعلقات ميں شك و شبہ اور تہمت وغيرہ ضرور رہتى ہے جس كے نتيجہ ميں شادى كامياب نہيں ہوتى.
3 - فائدہ پر قرض كے نام سے سودى قرض حاصل كرنا جس كو نام تبديل كر كے حلال كرنےكى كوشش كى گئى ہے.
آپ نے اس كا ذكركرتے ہوئے كہا ہے كہ:
" ميرا منگيتر عنقريب ايك بنك سے فائدہ پر قرض حاصل كر رہا ہے تا كہ ہمارى شادى كى رسومات مكمل ہو سكيں "
اس لين دين كو لوگوں نے " قرض " كا نام دے ركھا ہے جو حقيقت كے اعتبار سے ہے، اگرچہ بنكوں نے حيلہ كرتے ہوئے اسے نفع كا نام ديا ہے حالانكہ اس كى حقيقت تو سودى فائدہ كے ساتھ قرض حاصل كرنا ہى ہے.
اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 36408 ) كے جواب ميں ديكھ سكتى ہيں.
4 - منگنى كے عرصہ ميں ايك دوسرے سے بات چيت كرنا:
آپ نے اپنے سوال ميں يہ كہا ہے كہ:
" ميرى منگنى كے كچھ عرصہ بعد ہم ٹيلى فون كے ذريعہ بات چيت كرنا شروع كر دى تھى ( مجھے علم ہے ہم نے اس ميں غلطى كى خاص كر عقد نكاح سے قبل ہى بات چيت شروع كر دى ) "
اس ليے منگيتر كے ساتھ خلوت كرنے يا اس كے ساتھ جانے يا اس ميں اور وسعت كرتے ہوئے اختلاط كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے، اور بات چيت سے گريز كيا جائے خاص كر ٹيلى فون كے ذريعہ جبكہ پاس كوئى نگرانى كرنے والا يا پھر كوئى محرم نہ ہو، كيونكہ اس كے بہت غلط نتائج نكل سكتے ہيں "
5 - شادى ميں شرط ركھنا:
آپ نے كہا ہے كہ:
" كيا يہ بات معقول ہے كہ قبيلوں اور اشراف قسم كے لوگوں كى بيٹيوں كى مشكل شروط اور مطالبات نہيں ہوتے ؟"
جواب يہ ہے كہ: جى ہاں يہ معقول ہے: خاوند پر سخت شرطيں لگانا جس كى بنا پر ازدواجى زندگى ميں عقدے پيدا ہوں، اور ہو سكتا ہے ان شروط ميں ايسا كام ہو جس كى خاوند كو استطاعت و طاقت ہى نہ ہو، جس كى بنا پر خاوند كى نفسيات اور بيوى اور سسرال والوں كے ساتھ تعلقات ميں سلبى اثرات مراتب ہونگے.
پھر خاوند سے يہ مشكل قسم كى شروط اور مطالبات كرنا كوئى عقلمندى نہيں، اور نہ ہى اس ميں شرف و مرتبہ ہے ديكھيں فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہا سارے جہان كى عورتوں كى سردار اور سيد المرسلين محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى لخت جگر ہيں، ليكن انہوں نے اپنى شادى ميں كوئى سخت شرط نہيں لگائى، اور نہ ہى كوئى زيادہ مطالبات كيے.
اور اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى دوسرى بيٹيوں اور صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين كى بيٹيوں كے متعلق كہا جا سكتا ہے كہ انہوں نے بھى كوئى ايسى شرط نہيں لگائى حالانكہ يہ سب مقام و مرتبہ اور حسب و نسب اور شرف و عقل اور دين والى تھيں.
على رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہا كو شادى كے ليے ايك چادر اور ايك مشكيزہ اور ايك چمڑے كا تكيہ جس ميں اذخر گھاس بھرى ہوئى تھى تيار كيا اور يہ اشياء ديں "
مسند احمد حديث نمبر ( 644 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 3384 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
سنت مطہرہ ميں تو وہ كچھ وارد ہے جو آپ كے گمان كے خلاف ہے يعنى منگنى ميں آسانى اورعقد نكاح اور شادى كے اخراجات ميں كمى ہونى چاہيے.
عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" عورت كى خير و بركت اور سعادت ميں يہ چيز شامل ہے كہ اس سے منگنى آسان ہو اور اس كا مہر كم ہو "
مسند احمد حديث نمبر ( 23957 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2235 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
6 - بيوى كا اپنے خاوند كى خدمت بجا لانا:
آپ كا يہ كہنا كہ:
" ہمارے معاشرے ميں مرد يہ بھول چكے ہيں كہ اسلام ميں گھر كے كام كاج كى ذمہ دارى خاوند كى ہے، وہ آزاد ہے چاہے خود كرے يا پھر ملازمين سےكرائے، اور اگر بيوى كرتى ہے تو يہ اس كى جانب سے احسان و كرم ہے ! "
اگرچہ جمہور اور اكثر كا قول يہى ہے ليكن يہ ضعيف اور مرجوح قول ہے صحيح نہيں كہ عورت گھركےكام كاج كرتى ہے تو يہ اس كا احسان اور كرم و فضل ہوگا، بلكہ گھريلو كام كاج تو عورت پر واجب ہيں اس ميں كسى بھى قسم كا كوئى شك نہيں، بلكہ يہ ہے كہ عورت اپنى استطاعت اور قدرت كے مطابق گھريلو كام كاج كريگى.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" عورت پر اپنے خاوند كى خاوند اچھے طريقہ سے بجا لانا واجب ہے، اور يہ حالات كےمطابق مختلف ہوگى، لہذا ديہاتى عورت كى خدمت شہرى عورت كى طرح نہيں، اورطاقتور عورت كى خدمت كمزور عورت جيسى نہيں "
ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 4 / 561 ).
اور شيخ عبد اللہ بن جبرين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:
ميں نے ايك اخبار ميں كسى عالم دين كا فتوى پڑھا ہے جس ميں بيان كيا گيا ہے كہ:
بيوى پر اپنے خاوند كى خدمت كرنا اصلا واجب نہيں بلكہ خاوند نے تو اس سے عقد نكاح صرف استمتاع كے ليے كيا ہے، رہا يہ كہ عورت اپنے خاوند كى خدمت كرے تو يہ حسن معاشرت ميں شامل ہوتا ہے.
اس فتوى ميں كہا گيا ہے كہ: اگر كسى بھى سبب كے باعث بيوى اپنے خاوند كى خدمت نہيں كرتى يا اپنا كام كاج نہيں كرتى تو خاوند كے ذمہ ملازم اور خادم لانا واجب ہے.
كيا يہ بات صحيح ہے يا غلط، الحمد للہ يہ اخبار اتنا مشہور نہيں كہ ہر كوئى يا پھر اكثر لوگ اسے خريدتے اور مطالعہ كرتے ہوں، وگرنہ اگر عورتوں نے يہ فتوى پڑھ ليا تو كچھ خاوند كنوارے اور بغير بيوى كے ہو جائيں گے ؟
شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:
" يہ فتوى صحيح نہيں، اور نہ ہى اس پر عمل ہے؛ كيونكہ صحابيات اپنے خاوندوں كى خدمت كيا كرتى تھيں جيسا كہ اسماء بنت ابو بكر رضى اللہ تعالى بيان كرتى ہيں كہ وہ اپنے خاوند زبير بن عوام رضى اللہ تعالى عنہا كى خدمت كيا كرتى تھيں، اور اسى طرح فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہ بھى اپنے خاوند على رضى اللہ تعالى عنہا كى خدمت كرتيں، اور اسى طرح باقى صحابيات بھى.
اور آج تك مسلمانوں كا عرف يہى ہے كہ بيوى اپنے خاوند كى خدمت كرتى ہے، يعنى كھانا پكانا اور اسكا لباس وغيرہ دھونا اور برتن صاف كرنا اور گھروں كى صفائى وغيرہ كرنا.
اور اسى طرح جانوروں كو پانى پلانا اور ان كا دودھ دھونا اور كھيتى باڑى وغيرہ ميں شريك ہونا ہر وہ كام جو عورت كے مناسب ہے كرنا، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور سے آج تك اس عرف پر ہى عمل چل رہا ہے اور اس كا كوئى انكار نہيں كرتا.
ليكن بيوى كو ايسا كام كرنے كا نہيں كہنا چاہيے جس ميں بہت زيادہ مشقت و صعوبت پائى جائے، بلكہ اس سے وہى كام كرائيں جائيں جو عادت اور طاقت كے مطابق ہوں "
اللہ سبحانہ و تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.
ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 2 / 662 - 663 ).
7 - ڈرامے اور فلميں ديكھنا:
آپ كا كہنا كہ: " ميں ڈرامے اور فلميں ديكھنا حرام نہيں سمجھتى "
بلاشك و شبہ آپ كى يہ بات غلط ہے؛ كيونكہ فلموں اور ڈراموں ميں بہت سارى خرابياں اور غير شرعى امور پائے جاتے ہيں مثلا بےپرد اور غلط قسم كى عورتوں كا ٹى وي سكرين پر آنا، اور محبت و عشق كے قصے، اور شراب نوشى اور مرد و عورت كے حرام تعلقات، اور جرائم كى نشر و اشاعت اور اخلاق كريمہ اور اخلاق حسنہ كے خلاف باتيں وغيرہ.
8 - آپ يہ كہنا كہ: " ميرا منگيتر چاہتا ہے كہ ميں گانے سننے اور فلميں اور ڈرامے ديكھنا چھوڑ دوں، اور پينٹ زيب تن نہ كيا كروں اور سر پر ركھا جانے والا برقع پہنا كروں "
اور يہ نئے فيشن كا كندھوں پر ركھا جانے والا برقع پہننے كا حكم معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 8555 ) كے جواب كا مطالعہ كر سكتى ہيں، اور فلموں اور ڈراموں كے بارہ ميں ابھى اوپر كى سطور ميں بيان ہو چكا ہے آپ ان سوالات كے جوابات ضرور ديكھيں.
سوم:
انصاف كى بات يہى ہے كہ آپ كے سوال ميں ان اشياء كا ذكر ہوا جو آپ كے منگيتر كو اچھى نہيں لگيں ليكن آپ كے ليے وہ جائز ہيں، وہ يہ كہ آپ كے والد كا آپ كے منگيتر كے سامنے يہ شرط ركھنا كہ وہ آپ كے ليے خادمہ اور نوكرانى كا انتظام كريگا.
جيسا كہ آپ نے سوال ميں كہا ہے كہ : " ميرے والد كى اس شرط پر پورى قوت كے ساتھ اعتراض كر رہا ہے كہ عقد نكاح ميں يہ شرط ركھى جائيگى كہ وہ خادمہ اور نوكرانى كا انتظام كريگا "
چہارم:
كچھ اشياء ايسى بھى ہيں جو منگيتر چاہتا ہے اور وہ صحيح ہيں آپ كے ليے ان ميں سے كسى كا بھى انكار كرنا صحيح نہيں وہ درج ذيل ہيں:
1 - آپ كا يہ كہنا كہ:
" وہ چاہتا ہے كہ ميں اس كے اور اس كى اولاد كے ليے مكمل طور پر فارغ ہو جاؤں، اور اپنى زندگى ان كے ليے وقف كر دوں اور اس كے ليے اپنى ملازمت اور اپنے آپ كو بالكل بھول جاؤں، اور تعليم مكمل كرنے يا پھر اپنى ملازم ت بہتر بنانے يا جارى ركھنے يا كوئى اور كام كرنے سے سارے خواب بالكل ختم كر دوں، اور اسى طرح جم جانے كا بھى خيال دل سے نكال دوں "
اس سلسلہ ميں ہم آپ سے يہى عرض كريں گے كہ عورت كا اپنے گھر اور اولاد اور خاوند كے ليے اپنے آپ كو فارغ كر لينا ہى سب سے عظيم كام ہے، يہ ايسا عمل ہے جو عظيم الشان ہونے كے ساتھ ساتھ مدت كے اعتبار سے بھى عظيم ہے حتى كہ مادى طور پر خرچ كرنے سے بھى جو كہ اس كا خاوند گھر سے باہر رہ كر پورا كرتا ہے.
اس وقت يورپ ميں بھى عورتيں يہ آواز بلند كر رہى ہيں كہ عورت اپنے اسى كام كى طرف واپس پلٹ آئے جو اسے بہتر بناتا ہے اور اس كى عزت و تكريم اور مروت كا باعث ہے اور وہ گھر كا كام كاج ہے كہ وہ گھريلو عورت بن كر رہے، جس كے ليے تو دن اور رات بھى كافى نہيں، اور اگر وہ مستقل طور پر ملازمت كرتى ہو اور گھر سے باہر كئى كئى گھنٹے ملازمت ميں بسر كرے تو يہ كام كيسے ہوگا اس طرح وہ كوتاہى كا مرتكب ہوگى؟!
2 - آپ كا يہ كہنا كہ:
" وہ چاہتا ہے كہ ميں گانے اور موسيقى چھوڑ دوں، اور فلموں اور ڈراموں كا مشاہدہ ختم كردوں، اور پينٹ شرٹ نہ پہنوں اور سر پر ركھا جانے والا برقع زيب تن كروں "
ان امور كے بارہ ميں ہم پہلے تنبيہ كر چكے ہيں.
3 - آپ كا يہ كہنا كہ:
" اس كى رائے يہ ہے كہ ميں اپنے گھر والوں كے ساتھ جہاں بھى تفريح كے ليے جاتى ہوں ( بازار اور ساحل سمندر اور تفريحى پارك وغيرہ ) جہاں مرد و زن كا اختلاط ہوتا ہے وہاں وہ مجھے نہيں لے جا سكتا "
اس سلسلہ ميں ہم يہى عرض كريں گے كہ اس مسئلہ ميں سچا ہے كيونكہ يہ جگہيں تو مرد و زن كے اختلاط سے اٹى ہوتى ہيں، ليكن بعض اماكن ميں اس كے ليے اختلاط سے بچنا ممكن ہے، اس ليے وہ جانے كے ليے ان ميں سے مناسب جگہوں اور وقت كا انتخاب كر سكتا ہے.
يہ جاننا ضرورى ہے كہ اس كا آپ كو ان جگہوں پر نہ لے جانے كى وجہ اس كى آپ پر غيرت ہے، اور يہ چيز قابل تعريف ہے كہ آپ كے خاوند ميں آپ كے ليے غيرت پائى جاتى ہے، اور پھر يہ غيرت برى نہيں كہ اس ميں كوئى شك و ريب پايا جائے بلكہ يہ تو قابل تعريف ہے جس كے وجود كى بنا پر آپ كو اسے داد دينى چاہيے، بلكہ آپ اسے اور زيادہ كرنے كا باعث بنيں، اور اس سلسلہ ميں آپ ان جگہوں ميں سے مناسب جگہيں اور مناسب وقت اختيار كرنے كا مطالبہ كرنے ميں نرم رويہ اختيار كر سكتى ہيں تا كہ وہ اس پر رضامند ہو جائے.
مزيد آپ سوال نمبر ( 8901 ) كے جواب كا مطالعہ كريں كيونكہ اس ميں ايسے تفريحى مقامات جہاں غلط امور پائے جاتے ہوں ميں جانے كے متعلق مستقل فتوى كميٹى سعودى عرب كا فتوى بيان ہوا ہے.
پنجم:
آخر ميں ہم يہ عرض كريں گے كہ ازدواجى زندگى بہت اچھى اور شاندار ہوتى ہے، اور يہ ايك دوسرے كے ساتھ افہام و تفہيم اور سمجھوتہ پر مبنى ہوتى ہے، اس كے استقلال اور دائمى ہونے كى بنا پر اللہ تعالى اس ميں خاوند اور بيوى كے مابين محبت و مودت اور پيار پيدا كرتا ہے.
اور اگر عورت ديكھے كہ اس كے ليے آنے والے رشتہ ميں اور اس كى سوچ اور افكار ميں فرق ہے اور سمجھوتہ نہيں تو پھر بہتر يہى ہے كہ اس كے ساتھ شادى سے اجتناب كرے، اور خاص كر جب رخصتى سے قبل ہى آپس ميں اختلافات پيدا ہو جائيں، يا پھر رخصتى سے قبل ہى ايك دوسرے كے نظريات اور سوچ افہام و تفہيم ميں فرق پيدا ہو جائے يا كوئى ايك دوسرے سے مستغنى ہو جائے تو اس صورت ميں ہم يہى كہيں گے كہ وہ يہ شادى مت كرے، كيونكہ اس ميں بہت سارى خرابياں ہونگى.
ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اپنى اصلاح كريں، اور جن حرام امور پر ہم آپ كو تنبيہ كر چكے ہيں آپ ان افعال كو ترك كر ديں ـ ان امور كا اس شادى كے ساتھ كوئى تعلق نہيں، چاہے آپ يہ شادى نہ بھى كريں يہ امور پھر بھى حرام ہيں ـ ان امور كو ترك كرنے كے بعد آپ كے ليے اپنے منگيتر سے سمجھوتہ كرنا آسان ہوگا اور آپ ان امور ميں آسانى سے اپنے منگيتر كو رضامند كر سكيں گے جو شرعى طور پر آپ كے ليے حلال ہيں.
اس ليے اگر وہ اس سمجھوتہ پر راضى ہوگيا اور اس كا شرح صدر ہوگيا تو وہ آپ كى سارى مشكلات آسان كر ديگا تو اس طرح يہ شادى دونوں كے ليے بہتر ہوگى، اور اگر آپ ان امور كو اپنانے پر رضامند رہيں جن پر ہم تنبيہ كر چكے ہيں جو آپ كے ليے شرعا حلال نہيں تو پھر ہم آپ كے منگيتر كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ وہ آپ سے شادى مت كرے، بلكہ اسے يہ حق ہے صرف حق ہى نہيں اس كے ليے واجب ہے كہ وہ يہ شادى مت كرے.
آپ كو علم ہونا چاہيے كہ سعادت و خوشبختى اللہ سبحانہ و تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى ميں ہے، اور جو شخص اللہ تعالى كى اطاعت كرتا ہے اللہ تعالى اسى كو شرح صدر عطا كرتا ہے، اور پھر جب اللہ سبحانہ و تعالى كسى مطيع شخص كو مبارك شادى اور اچھا خاندان عطا كرتا ہے تو وہ جنت خلد سے قبل اس دنيا ميں ہى جنت ميں داخل ہو جاتا ہے اس ليے آپ اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى كى حرص ركھيں، اور ايسا خاوند تلاش كرنے كى سعى و كوشش كريں جو اللہ سبحانہ و تعالى كى حدود كا خيال كرنےوالا ہو، كيونكہ اللہ كى رضا و خوشنودى تلاش كرنا ہى آپ كے ليے دنيا ميں خير و بھلائى ہے.
اللہ سبحانہ و تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:74df7a63-4fa6-4f37-a39f-e5797cebc610> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/88125 | 2014-03-12T16:12:29Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394021920399/warc/CC-MAIN-20140305121840-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.963473 | Arab | 45 | {} |
جريان
جريان ایک ضدی اور ہٹیلا مرض ہے۔اس مرض میں پیشاب کی نالی میں جلن واقع ہوتی ہے اور پیشاب نہایت مشکل سے آتا ہے۔پیشاب کی نلی سے مواد کا اخراج ہوتا ہے۔یہ مرض مباشرت سے ایک دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔
السیلان الزُھری،النکال،حُرقۃ العقوبہ،آلھۃ الجمال(عندالاقدمین)(حسن کی دیوی)، حرقہ - سوزش زھرا، عقوبہ- سزا ،نکال - عبرت انگیز سزا، یہ سب سوزاک کے نام ہیں۔ بدکاری ، عیاشی و بدمعاشی سےجوامراض خبیثہ (سوزاک،و آتشک)لاحق ہوتے ہیں انہیں عرفا امراض زھریہ کیاجاتا ہے۔ جو اسی زھرہ(حسن کی دیوی)کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں وہ اچھی طرح اندازا رکھتے ہیں۔کہ یہ مرض بدکاریوں کی کتنی عبرت انگیز سزا(نکال)ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ فطرت نے جانوروں کو اس عذاب میں مبتلا نہیں کیاہے۔جیسا کہ وہ بواسیر سے بھی بچے ہوئے ہیں۔ حرقہ (سوزاک):حرقۃ البول کی وہ قسم ہے جس میں مجرائے بول(اعضائے تناسل) پہلے متورم ہوتا ہے اس کے بعد متقرح ہوجاتا ہے۔ یعنی اس میں پیپ پڑجاتی ہے۔اس کو مدہ زھرۃ یا قیح الزھرہ کہا جاتا ہے۔ حرقہ: اس مرض میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں مبتلا ہوتے ہیں۔مردوں میں یکساں سوزاک کا ابتدائی ورم مجرائے بول کے عموماً اگلے حصے(حشفہ) میں ہوا کرتا ہے۔یہ ورم جلد میں متقرح ہوجاتا ہے یعنی اس میں پیپ پڑجاتی ہے۔ پھر یہ قرح گاہے حشفہ والے حصے سے بڑکر مجرائے بول کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات غدہ مذی اور خصیے تک اس کی رسائی ہوجاتی ہے۔بعض اوقات سوزاک کا مادہ خون کے بہاو میں شامل ہوکر اعضائے بعیدہ کو متاثر کردیتا ہے۔ اس صورت میں زیادہ تر مفاصل ماوف ہوجاتے ہیں۔ جس کو حدا (نکالی) سوزاکی گٹھیا کہا جاتا ہے۔خون میں اس کی پیپ (قیح الزھرہ) داخل ہوجاتی ہے۔جس سے جسم میں جابجا پھوڑے نکل آتے ہیں۔ گاہے قلب کی اندرونی جھلی متورم ہوجاتی ہے۔ان شدید امراض کے علاوہ سوزاک کے عوارض اور بھی ہیں مثلاً اورام معابن(بدھ)، بول الدم، احتباس البول، ورم مثانہ، ورم خصیہ، رمد، نامردی وغیرہ۔ عورتوں میں گاہے سوزاک مجرائے بول سے گزر کر عنق الرحم اور پھر رحم تک پہنچ جاتا ہے، جس سے ورم رحم، ورم مبہل اور عقر (بانجھ پن) ہوجاتا ہے۔ اقسام: شدید عوارض کے لحاظ سے سوزاک کی دو قسمیں ہیں۔ جب تک سوزاک کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اور علامات شدید ہوتی ہیں اس وقت تک اس کو حرقۃ حادہ(جدیدہ)کہا جاتا ہے۔ اور جب ابتدائی شدت کے بعد علامات ہلکی پڑجاتی ہیں تو اس کو سوزاک حرقہ مزمنہ زلقہ کہا جاتا ہے۔ اسباب: اس عورت یا مرد کے ساتھ جماع کرنا جو اس ناپاک مرض میں پہلے سے مبتلا ہو، اس مرض میں تعدیہ کا سبب بنتا ہے۔عام طور پر مرض بدکار عورتوں سے مردوں تک اور مردوں سے شریف گھروں تک پہنچا کرتا ہے۔سوزاک کا مادہ بعض اوقات نیم مردہ اور خفتہ حالت میں برسوں کمین گاہوں میں پڑا رہتا ہے۔لیکن اس حالت میں بھی وہ تعدیہ کا سبب بنتا ہے۔ علامات: فاحشہ اور ملوث عورت سے مجامعت کرنے کے بعد عموماً دوسرے تیسرے روز اور گاہے پانچویں ساتویں روز احلیل(پیشاب کی نالی)میں ورم پیدا ہوتا ہے اور اس میں خارش ، گدگدی اور جلن ہونے لگتی ہے۔ پیشاب سوزش اور درد کے ساتھ آنے لگتا ہے۔ اس کے بعد ریم(مواد) آنے لگتی ہے، جو شروع میں رقیق، ہلکی نیلگوں ہوتی ہے یہ مرض کا پہلا درجہ ہے۔ یہ حالت عموماً 3 ،4 روز تک رہتی ہے۔ اس کے بعد غلیظ اور زرد رنگ کی مواد زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے۔اور دیگر عوارض شدید ہوتے ہیں یعنی پیشاب کرتے وقت سوزش اور درد شدید ہوتا ہے۔دہانہ احلیل کے کنارے متورم ہوجاتے ہیں۔ کنج ران (جنگاسہ) کی گلٹھیاں پھول جاتی ہیں گاہے پشت کمر اور کولہو میں تناو کے ساتھ درد ہونے لگتا ہے اور ساتھ ہی تمام نظام بدن میں خلل آجاتا ہے اور بخار لاحق ہوجاتا ہے۔ عموماً قبض رہتا اور بھوک کم ہوجاتی ہے۔گاہے عضو خاص متورم ہوکر ایسا درد ناک ہوتا ہے کہ کپڑا لگنے سے بھی دکھنے لگتا ہے۔ گاہے مجرائے بول کے متورم سے پیشاب بند ہوجاتا یا جریان خون لاحق ہوتا ہے۔اس قسم کی تکلیف عموماً 2، 3 ہفتہ تک رہتی ہے یہ مرض کا دوسرا درجہ ہے۔اس کے بعد تیسرا درجہ شروع ہوتا ہے جس میں علامت و اغراض میں تخفیف ہونے لگتی ہے۔ اگر ابتدا ہی سے مناسب علاج کیا جائے تو جملہ عوارض دور ہوجاتے ہیں اور قطعی آرام ہوجاتا ہے۔مریضان نقرس اور وجع المفاصل کا علاج زیادہ مشکل ہوتا ہے اور ان میں پیپ بند ہوجانے کے بعد اکثر اعادہ مرض ہوجاتا ہے۔ لیکن جب کہ باقائدہ اور مناسب علاج نہ کیا جائے یا بد پرہیزی ہوجائے تو اس صورت میں ورم مذکور مجرائے بول کے پچھلے تنگ حصے میں پہنچ جاتا ہے۔ ایسا عموماً نائزہ کے ابتدائے ورم سے15 روز کے بعد ہوتا ہے اس وقت بار بار تھوڑا تھوڑا پیشاب نہایت سوزش اور درد سے آتا ہے جس میں کسی قدر خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ سیون میں درد اور ثقل محسوس ہوتا ہے، اور بدن میں زیادہ ضعف محسوس ہونے لگتا ہے۔ ورم کا مجرائے بول کے پچھلے حصے کی طرف پھہلنا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس سے غدہ مذی، خصیتیں اور اوعیہ منی بھی متورم ہوجاتے ہیں دیگر تکلیف دہ عوارض پیدا ہوجاتے ہیں، اکثر یہی صورت حرقہ مزمنہ (زنقہ)کا سبب بن جاتی ہے۔
وجوہات[ترمیم]
- خود لذتی | <urn:uuid:3cd2f80f-0d1c-4adc-bee1-bab1c63d0a77> | CC-MAIN-2014-10 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%88%D8%B2%D8%A7%DA%A9 | 2014-03-08T08:20:16Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999654052/warc/CC-MAIN-20140305060734-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.973119 | Arab | 115 | {} |
آش وٹز جرمنوں کا قائم کردہ سب سے بڑا کیمپ تھا۔ یہ کیمپوں کا ایک کمپلیکس تھا جو حراستی کیمپ، قتل کے مرکز اور جبری مشقت کے کیمپ پر مشتمل تھا۔ یہ کراکاؤ، پولینڈ کے قریب واقع تھا۔ آش وٹز کیمپ کا کمپلیکس تین بڑے کیمپوں پر مشتمل تھا: آش وٹز I، آش وٹز II (برکیناؤ)، اور آش وٹز III ( مونو وٹز)۔ آش وٹز میں دس لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں سے نوے فیصد یہودی تھے۔ سب سے بڑے چار گیس کے چیمبروں میں سے ہر ایک میں بیک وقت دو ہزار افراد سما سکتے تھے۔
کیمپ کے داخلی دروازے پر ایک نوٹس پر لکھا ہوا تھا، "آربیٹ ماخٹ فرائی" جس کا مطلب تھا "کام کی وجہ سے آپ آزاد ہوسکتے ہیں"۔ در حقیقت سچ بالکل اُلٹا تھا۔ مزدوری نسل کشی کا ایک اور طریقہ بن گیا جسے نازیوں نے "کام کے ذریعے خاتمہ" کا نام دیا۔
وہ لوگ جو مزدوری کے لئے منتخب ہو کر موت سے بچ گئے، ان سے آہستہ آہستہ ان کی انفرادی شناخت چھین لی گئی۔ ان کو گنجا کرکے ان کے بائيں بازو پر ایک رجسٹریشن نمبر ٹیٹو کردیا گيا تھا۔ مردوں کو پھٹی ہوئی، لکیروں والی پینٹیں اور جیکٹیس جبکہ عورتوں کو مزدوری کا لباس پہننے پر مجبور کیا گيا۔ مردوں اور عورتوں دونوں کو ایسے کام کے جوتے پہننے کیلئے دئے گئے جن کا سائز بالکل غیر موذوں تھا اور بعض اوقات تو اُنہیں پہننے کیلئے کھڑاویں ہی دی جاتیں۔ ان کے پاس اور کوئی دوسرا لباس نہ تھا اور وہ جن کپڑوں میں کام کرتے تھے ان ہی میں سوتے بھی تھے۔
ہر دن ناقابل برداشت صورت حال میں زندگی کے لئے ایک لڑائی سے کم نہ تھا۔ قیدیوں کو ایسی پرانی اور خستہ بیرکوں میں رکھا گیا جن میں کوئی کھڑکیاں نہیں تھیں۔ ان بیرکوں میں گرمی یا سردی سے بچنے کی بھی کوئی سہولت نہیں تھی۔ وہاں کوئی غسل خانہ نہیں تھا۔ صرف ایک بالٹی تھی۔ ہر بیرک میں تقریبا 36 لکڑی کے بنک بیڈ تھے اور پانچ یا چھ مکینوں کو لکڑی کے تختے پر ایک ساتھ ٹھونسا جاتا تھا۔ ایک بیرک میں 500 تک مکین رہتے تھے۔
مکین ہمیشہ ہی بھوکے رہتے تھے۔ کھانے میں سڑی ہوئی سبزیوں اور گوشت کا ایک پتلا پانی جیسا سوپ، تھوڑی سے روٹی، تھوڑا سا مارجرین، چائے یا کافی سے ملتا جلتا ایک کڑوا سا مشروب ملتا تھا۔ اسہال ایک عام بات تھی۔ لوگ بھوک اور ڈیہائيڈریشن کی وجہ سے کمزور ہوتے گئے اور کیمپ میں پھیلنے والی وبائی بیماریوں کا شکار ہوتے رہے۔
کیمپ کے کچہ مکین کیمپ کے اندر جبری مزدوری کا کام کرتے تھے مثلاً باورچی خانے میں یا پھر حجام کا کام وغیرہ۔ عورتیں اکثر جوتے، کپڑے اور قیدیوں کے دوسرے سامان کے ڈھیر کو چھانٹتی تھیں جنہیں استعمال کے لئے جرمنی بھیجا جانے والا تھا۔ میت سوزی کے دو مراکز کے قریب واقع آش وٹز برکیناؤ کے گوداموں کو "کینیڈا" کہا جاتا تھا کیونکہ پولینڈ کے باشندے اس جگہ کو امارتوں کا گہوارہ مانتے تھے۔ رائخ اور مقبوضہ یورپ کے سینکڑوں دوسرے کیمپوں کی طرح، جہاں جرمن جبری مزدوروں کو استعمال کرتے تھے، آش وٹز میں بھی قیدیوں سے کیمپوں کے باہر کوئلے اور پتھروں کی کانوں اور تعمیراتی منصوبوں میں سرنگیں اور نہریں کھودنے کا کام لیا جاتا تھا۔ مسلح افراد کی زیر نگرانی، وہ راستوں پر سے برف ہٹاتے تھے اور ہوائی حملوں کے دوران متاثرہ سڑکوں اور شہروں سے ملبہ صاف کرتے تھے۔ جبروں مزدوروں کی کثیر تعداد سے بالآخر ہتھیاروں اور جرمنی کے جنگ کے دوسرے ساز و سامان بنانے والی فیکٹریوں میں کام کروایا گيا۔ گاڑیوں اور طیاروں کے انجن بنانے والی آئی جی فاربین اور بویرین موٹر ورکس (بی ایم ڈبلیو) جیسی کئی نجی کمپنیوں نے مزدوری سستی ہونے کی وجہ سے قیدیوں کا بھرپور استعمال کیا۔
آش وٹز سے فرار ہونا تقریباً نا ممکن تھا۔ حراستی کیمپ اور قتل کے مرکز کے گرد خار دار تاروں کی باڑ لگائی گئی تھی جن میں بجلی گزاری گئی تھی۔ مشین گن اور آٹو میٹک رائفلوں سے آراستہ چوکیدار چوکیوں پر کھڑے رہتے تھے۔ قیدیوں کی زندگی مکمل طور پر ان کے چوکیداروں کے ہاتھ میں تھی جو اپنی مرضی سے ان کو ظالمانہ سزائیں دینے کا حق رکھتے تھے۔ قیدیوں کے ساتھ وہ مکین بھی برا سلوک کرتے تھے جنہیں چوکیداروں سے خاص عنایتوں کے بدلے میں دوسروں کی نگرانی کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔
آش وٹز میں کئی ظالمانہ طبی تجربات کئے گئے۔ عورتوں، مردوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ایس ایس کے ڈاکٹر جوزف مینگلے چھوٹے بچوں سمیت بونوں اور جڑواں بچوں پر تکلیف دہ اور اذیت ناک تجربے کرتے تھے۔ کچھ تجربات کا مقصد جرمن فوجیوں اور ہوا بازوں کے لئے بہتر طبی علاج کی تلاش تھا۔ دوسرے تجربات ان لوگوں کی نس بندی کرنے کے طریقے بہتر بنانے کے لئے کئے جاتے تھے جنہیں نازی کمتر سمجھتے تھے۔ ان تجربات کے دوران کئی لوگ ہلاک ہو گئے۔ دوسروں کو "تحقیق" مکمل ہونے کے بعد اور مزید تحقیق کے لئے اُن کے اعضاء نکال لئے جانے کے بعد مار دیا گیا۔
آش وٹز کے بیشتر قیدی صرف چند ہفتے یا چند مہینے ہی زندہ رہے۔ جو لوگ بیماری یا کمزوری کے باعث کام نہیں کرسکتے تھے، انہيں گیس کے چیمبروں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو بجلی کی تاروں پر پھینک کر خودکشی کرلی۔ دوسرے لوگ زندہ لاشوں کی طرح تھے، جن کا جسم اور جن کی روح ٹوٹ چکے تھے۔ تاہم دوسرے مکینوں نے زندہ رہنے کی ٹھان لی۔
اہم تواریخ
20 مئی 1940
آش وٹز I کیمپ کھلتا ہے
آش وٹز I جو آش وٹز کیمپ کمپلیکس کا مرکزی کیمپ تھا، اوشوسیم کے قریب قائم کردہ پہلا کیمپ تھا۔ اس کی تعمیر مئی 1940 میں اوشوسیم کے مضافاتی علاقے زیسول میں ایک توپ خانے کی بیرکوں میں ہوئی جو اس سے قبل پولش فوج کے استعمال میں تھا۔ کیمپ کو مستقل جبری مشقت کے ذریعے بڑھایا گيا۔ اگرچہ آش وٹز I بنیادی طور پر ایک حراستی کیمپ تھا جس میں سزائيں دی جاتی تھیں، اس میں ایک گیس چیمبر اور لاشوں کی بھٹی بھی تھی۔ قید خانے (بلاک نمبر 11) کے تہہ خانے میں ایک عارضی گیس کا چیمبر بھی واقع تھا۔ بعد میں لاشوں کی بھٹی کے اندر ایک گیس چیمبر بھی بنایا گیا۔
8 اکتوبر 1941
آش وٹز II (برکیناؤ) کی تعمیر شروع ہوتی ہے
برزیزینکا میں آش وٹز II یا آش وٹز-برکیناؤ کی تعمیر شروع ہوئی۔ اوشوسیم کے قریب آش وٹز کیمپ کمپلیکس کے ایک حصے کے طور پر تعمیر کئے گئے تین کیمپوں میں آشوٹز برکیناؤ ایسا کیمپ تھا جہاں قیدیوں کی تعداد سے سے زیادہ تھی۔ اسے نو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر حصے کو خار دار تاروں سے الگ کیا گیا تھا جن میں بجلی گذاری گئی تھی اور جن کی نگرانی ایس ایس محافظوں کے گشت اور کتوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ کیمپ میں عورتوں، مردوں، روما (خانہ بدوشوں) اور تھیریسئن شٹٹ سے جلاوطن کئے گئے خاندونوں کیلئے الگ حصے تھے۔ یورپ کے یہودیوں کو ختم کرنے کے جرمن منصوبے میں آش وٹز برکیناؤ کا اہم کردار تھا۔ مارچ اور جون 1943 کے درمیان چار بڑی لاشیں جلانے کی بھٹیوں کی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ہر ایک کے تین حصے تھے: کپڑے اتارنے کی جگہ، ایک بڑا گیس چیمبر اور لاشیں جلانے کے بڑے تندور۔ گیس سے ہلاک کرنے کے اقدامات نومبر 1944 تک جاری رہے۔ p>اکتوبر 1942
آش وٹز III کیمپ کا آغاز
جرمنوں نے بونا کے مصنوعی ربڑ کے کام (جو جرمن کاروباری ادارے آئی جی فاربین کا حصہ تھا) کے لئے جبری مزدور فراہم کرنے کے لئے مونووائس میں آش وٹز III قائم کیا جسے بونا یا مونو وٹز بھی کہا جاتا تھا۔ آئی جی فاربین نے آش وٹز III میں 700 ملین سے زیادہ رائخ مارک یعنی تقریباً1۔4 ملین امریکی ڈالر 1942 کے مطابق) اس منصوبے پر خرچ کئے۔ آش وٹز I میں جبری مزدوری کے لئے منتخب کئے جانے والے قیدیوں کے بائيں بازوؤں پر شناختی نمبروں کو ٹیٹو کرکے رجسٹر کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں آش وٹز میں یا آش وٹز III کے ذیلی کیمپوں میں سے کسی ایک میں جبری مزدوری پر متعین کردیا جاتا۔
27 جنوری 1945
سوویت فوج نے آش وٹز کیمپ کمپلیکس کو آزاد کرا لیا
سوویت فوج نے آش وٹز میں داخل ہو کر باقی قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔ صرف کچہ ہزار قیدی کیمپ میں باقی رہ گئے۔ تقریباً 60 ہزار قیدیوں کو، جن کی اکثریت یہودیوں پر مشتمل تھی، رہائی سے کچھ عرصہ قبل کیمپ سے موت کے مارچ میں چلنے پر مجبور کیا گيا۔ آش وٹز کو زبردستی خالی کرائے جانے کے دوران، قیدیوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا گيا اور کئی کو ہلاک کردیا گیا۔ ایس ایس کے محافظ پیچھے رہنے والوں کو گولی ماردیتے تھے۔ آشوٹز کیمپ کے وجود کی مختصر تاریخ کے دوران آش وٹز میں تقریبا 10 لاکھ یہودیوں کو ماردیا گیا۔ اس کے علاوہ 70 ہزار سے 74 ہزار پولز، 21 ہزار روما (خانہ بدوشوں) اور تقریباً 15 ہزار سوویت جنگی قیدی بھی اس کا شکار ہوئے۔ | <urn:uuid:4832c06e-e27b-46ca-b60f-0c433c584359> | CC-MAIN-2014-10 | http://www.ushmm.org/outreach/ur/article.php?ModuleId=10007718 | 2014-03-10T07:18:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394010683244/warc/CC-MAIN-20140305091123-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.989228 | Arab | 90 | {} |
Sat 7 Jm1 1435 - 8 March 2014
بيوى نے طلاق پر اصرار كيا تو خاوند كہنے لگا: ايك ماہ تك سوچ لو، ليكن بيوى باز نہ آئى اور گھر سے چلى گئى، جب مہينہ ختم ہونے پر آيا تو خاوند نے طلاق كا ليٹر لكھا كہ مہينہ ختم ہونے كے بعد بيوى كو ارسال كر ديگا، ليكن مہينہ ختم ہونے سے ايك دن قبل بيوى نے رابطہ كيا اور كہنے لگى ميں واپس آنا چاہتى ہوں، تو كيا يہ طلاق ہو جائيگى يا نہيں ؟
الحمد للہ:
ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن
صالح العثيمين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو شيخ نے يہ جواب ديا:
يہ اس كى نيت كے مطابق ہوگا، اگر تو
اس كى نيت طلاق واقع كرنے كى تھى تو طلاق واقع ہو گئى، ليكن ظاہر يہى ہوتا ہے كہ وہ
طلاق واقع نہيں كرنا چاہتا تھا، حتى كہ مہينہ گزر جائے تو پھر طلاق دےگا، اس بنا پر
طلاق واقع نہيں ہو گى " انتہى .
الشيخ محمد بن صالح العثيمين | <urn:uuid:a1d00a20-49f5-4a1c-933d-677fe6005057> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/5225 | 2014-03-07T23:18:59Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999651825/warc/CC-MAIN-20140305060731-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.944633 | Arab | 39 | {} |
الحمد للہ:
اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ آپ كو شفايابى سے نوازے، اور اس بيمارى كو آپ كے ليے گناہوں كا كفارہ بنائے، اور آخرت ميں آپ كے درجات كى بلندى كا باعث ہو.
دائمى بيمارى كا شكار مريض جو نہ تو روزہ ركھ سكتا ہو، اور نہ ہى روزے كى قضاء كرسكے اس پر روزہ فرض نہيں، بلكہ ہر دن كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلانا ہوگا.
كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿ اور وہ لوگ جو اس كى طاقت نہيں ركھتے وہ ايك مسكين كا كھانا ديں ﴾البقرۃ ( 184 ).
عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:
" يہ آيت منسوخ نہيں، بلكہ بوڑھى عورت اور مرد جو روزہ نہ ركھ سكتے ہوں وہ ہر دن كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلا ديں "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 4505 ).
اور دائمى مريض جسے شفايابى كى اميد نہ ہو اسے بوڑھے آدمى كا حكم ہى ہوگا.
ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" وہ مريض جسے شفايابى كى اميد نہ ہو ہر دن كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلائے؛ كيونكہ وہ بوڑھے آدمى كے حكم ميں ہے " انتہى.
ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 4 / 396 ).
مسلمان ممالك تو ايسے مساكين اور فقراء افراد سے بھرے پڑے ہيں جنہيں اپنے اہل و عيال كے كفالت كے ليے كافى مال نہيں ملتا، اور كوئى بھى ملك ايسے افراد سے خالى نہيں، چاہے كسى ملك ميں ان كا وجود نادر ہو وہ ضرور ملتے ہيں، اور پھر فلاحى تنظيموں كا وجود بھى پايا جاتا ہے، جو صدقہ و خيرات، اور زكاۃ كا مال اكٹھا كر كے مستحقين تك پہنچانے كا فريضہ سرانجام ديتى ہيں.
اگر آپ كو كوئى مسكين نہ ملے تو آپ اس كے بدلے ميں رقم كيسے دے سكتى ہيں ؟
اور پھر يہ رقم كسے دينگى ؟
يعنى اس كا مطلب يہ ہوا كہ يہ مشكل تو موجود ہے، چنانچہ رقم دينى جائز نہيں، اوراگر جائز بھى ہو تو يہ صرف فقراء اور مساكين كو ہى دى جا سكتى ہے، كسى اور كو نہيں.
بہر حال آپ كو فقراء اور مساكين تلاش كرنے كى كوشش كرنا ہوگى اور اگر آپ كو اپنے علاقے ميں نہيں ملتے تو پھر آپ كسى ثقہ اور بااعتماد شخص كو اپنى طرف سے وكيل مقرر كر ديں جو آپ كى جانب سے غلہ مساكين تك پہنچائے، اس ميں كسى شخص يا خيراتى تنظيم كا ہونے ميں كوئى فرق نہيں.
آپ كو يہ بھى علم ہونا چاہيے كہ آپ كے ليے آپ پر بطور فديہ واجب شدہ غلہ اور كھانے كے بدلے ميں رقم ادا كرنى جائز نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے آپ پر " مسكينوں كو كھانا اور غلہ دينا " فرض كيا ہے، نہ كہ رقم اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿ اور ان لوگوں پر جو اس كى طاقت ركھتے ہيں مسكين كا كھانا بطور فديہ ہے ﴾البقرۃ ( 184 ).
اس كى تفصيل سوال نمبر ( 39234 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:d973cc61-00fc-46aa-8df2-0f127beb6e2f> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/66822 | 2014-03-09T22:50:33Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394010450813/warc/CC-MAIN-20140305090730-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.94671 | Arab | 61 | {} |
ایرک وائنمئیر
ایرک وائنمئیر (Erik Weihenmayer) دنیا کا بہترین کھلاڑی ہے۔ وہ اندھا ہے اور اسکے باوجود وہ ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھا، سائکل چلائی، میراتھن دوڑ دوڑا، ہوائی جہاز سے چھلانگ لگائی، برف پر پھسلا، پانی کے اندر تیرا اور اس کے علاوہ وہ انگریزی کا استاد بھی ہے۔
ابتدائی زندگی[ترمیم]
ایرک کمزور نظر کے ساتھ 1968 میں امریکہ میں پیدا ہوا اور چودہ سال کی عمر میں مکمل اندھا ہو گیا۔ پریشانی کے عالم میں اس نے اپنی کمزوریوں کے ساتھ لڑنے اور قابو پانے کا تہیہ کر لیا۔ اندھوں کی زبان بریل سیکھی۔ اسے کشتی بہت اچھی لگی کیونکہ اس میں وہ آنکھوں والوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر لڑ سکتا تھا۔اسنے وہ تمام چیزیں سوچیں جو وہ اندھا ہونے کے باوجود کر سکتا تھا۔ 16 سال کی عمر میں اسے چٹانوں اور پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق ہو گیا۔ اسنے اپنے سامنے یہ مقصد رکھ لیا کہ وہ تمام براعظموں کی سب سے اونچی چوٹیوں کو سر کرے گا۔
کارنامے[ترمیم]
- 1987 میں اسنے سکول کی تعلیم پاس کی اور سکول میں وہ کشتی کی ٹیم کا کپتان تھا۔
- 1991 میں اسنے تاجکستان میں پامیر کے پہاڑوں میں گھوما۔
- 1993 میں اسنے ایم اے کیا پاکستان آیا اور سلسلہ کوہ قراقرم میں باتورہ گلیشیر کو عبور کیا۔
- 1997 میں اسنے افریقہ کے سب سے اونچے پہاڑ کلیمنجارو پر شادی کی۔
- 1998 میں اسنے ویتنام میں ہینوۓ سے ہوچی منھ شہر تک اپنے باپ کے ساتھ سائیکل چلائی۔
- 25 مئی 2001 کو 32 سال کی عمر میں اسنے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔
- 2002 میں اسنے ایک کتاب Touch the top of the World:A Blind Man Journey To Climb Farther Than The Eye Can See۔ | <urn:uuid:e9026852-28e4-4d8b-bb75-002ab4753985> | CC-MAIN-2014-10 | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%DB%8C%D8%B1%DA%A9_%D9%88%D8%A7%D8%A6%D9%86%D9%85%D8%A6%DB%8C%D8%B1 | 2014-03-12T07:37:38Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394021511414/warc/CC-MAIN-20140305121151-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.981335 | Arab | 65 | {} |
جابر بن حیان
|مسلم کیمیادان
جابر بن حیان
بابائے کیمیا جابر بن حیان
|ولادت||721ء
طوس ، خراسان
|وفات||806ء
دمشق
|خطہ||کوفہ|
|پیشہ||کیمیا گری|
|دلچسپی||کیمیا|
|قابل ذکر نظریات||سونا سازی|
|قابل ذکر کام||کیمیا دانریاضی دان ،سائنسدان،منطق، شاعری|
تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان اور عظیم مسلمان سائنسدان جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا ۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے ۔ اہل مغرب ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں ۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے ۔وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھا۔
فہرست
سوانح[ترمیم]
ابتدائی حالات[ترمیم]
پیدائش 731ء اور مقام طوس یا خراسان ۔ جابر کا تعلق عرب کے جنوبی حصے کے ایک قبیلے اذد سے تھا۔ ان کی پیدائش ان کے باپ کی جلاوطنی (ايک روايت کے مطابق وفات) کے دوران ہوئی ۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو ان کی ماں نے ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی۔ ہوش سنبھالا تو ماں انہیں کوفہ کے مضافات میں اپنے ميکے پرورش پانے کے لئے بھیج دیا۔ لہذا اچھی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
حالات زندگی[ترمیم]
جابر بن حیان کا روزگار دوا سازی اور دوا فروشی تھا يعنی کہ جابر بن حیان ايک حکيم بھی تھے ۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے کوفہ میں رہائش اختيار کی۔ اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ کوفہ میں جابر نے امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اور کیمیا جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ اس وقت کی رائج یونانی تعلیمات نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ علم حاصل کرنے کےدوران اس نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو سونا بنانے کے جنون میں مبتلا دیکھا تو خود بھی یہ روش اپنا لی۔ کافی تجربات کے بعد بھی وہ سونا تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن کیمیا میں حقیقی دلچسپی کی وجہ سے اس نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔ اس نے اپنے والد کے آبائی شہر کوفہ میں اپنی تجربہ گاہ تعمیر کی۔ خلیفہ ہارون رشید کے وزیر یحییٰ برمکی کی چہیتی بیوی شدید بیمار ہوئی ۔بہترے علاج کے بعد بھی شفا نہ ہوئی ۔جب یحییٰ اس کی زندگی سے مایوس ہوگیا ۔ تو مشورۃً اس نے ایک حکیم سے رجوع کیا۔اس حکیم نے صرف ایک دوا دو گرین تین اونس شہدمیں ملا کر ایک گھونٹ پلائی ۔آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں مریضہ پہلے کی طرح صحت یاب ہوگئی ۔یہ دیکھ کر یحییٰ برمکی اس حکیم کے پیروں پر گر گیا مگر اس حکیم نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور بقیہ دوا بھی اسے دے دی ۔ یہ حکیم جابر ابن حیان تھا جس کی طبیبانہ مہارت نے حاکم وقت کے دل میں گھر کر لیا ۔
آخری ایام[ترمیم]
ان کا انتقال 806 ء کو دمشق میں ہوا ۔ ۔
کارہائے نمایاں[ترمیم]
وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سوچ اور تجربے میں منہمک رہتے۔ گھر نے تجربہ گاہ کی صورت اختیار کر لی۔ سونا بنانے کی لگن میں انہوں نے بے شمار حقائق دریافت کئے اور متعدد ایجادات کیں۔
دھاتی کیمیا[ترمیم]
جابر بن حیان نے اپنے علم کیمیا کی بنیاد اس نظرئیے پر رکھی کہ تمام دھاتوں کے اجزائے ترکیبی گندھک اور پارہ ہیں۔ مختلف حالتوں میں اور مختلف تناسب میں ان دھاتوں کے اجزائے ترکیبی ملنے سے دیگر دھاتیں بنیں۔ ان کے خیال میں دھاتوں میں فرق کی بنیاد اجزائے ترکیبی نہیں بلکہ ان کی حالت اور تناسب تھا۔ لہذا معمولی اور سستی دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن تھا۔ ان میں مشاہدہ ذہانت لگن اور انتھک محنت کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔
قرع النبیق[ترمیم]
جابر قرع النبیق نامی ایک آلہ کے موجد تھے جس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ ميں کمیائی مادوں کو پکایا جاتا اور مرکب سے اٹھنے والی بخارات کو نالی کے ذریعہ آلہ کے دوسرے حصہ میں پہنچا کر ٹھنڈا کر لیاجاتا تھا۔ یوں وہ بخارات دوبارہ مائع حالت اختیار کر ليتے۔ کشیدگی کا یہ عمل کرنے کے لئے آج بھی اس قسم کا آلہ استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کا موجودہ نام ریٹاٹ ہے۔
تیزاب[ترمیم]
ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران قرع النبیق میں بھورے رنگ کے بخارات اٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ ميں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی۔ جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے ميں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہو گئے۔ چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔ جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے تیزاب یعنی ریزاب کا نام ديا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتیں گل گئیں۔ جابر بن حیان مزید تجربات میں جٹ گئے ۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاًگندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتٰی کہ انہوں نے ایک اییسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔
عناصر و مادے کی حالت[ترمیم]
جابر بن حیان نے مادّے کو عناصر اربعہ کے نظریے سے نکالا ۔یہ پہلا شخص تھا جس نے مادّے کی تین حصّوں میں درجہ بندی کی ۔نباتات ، حیوانا ت اور معدنیات ۔بعد ازاں معدنیات کو بھی تین حصّوں میں تقسیم کیا ۔پہلے گروہ میں بخارات بن جانے والی اشیاء رکھی اور انہیں ’’روح ‘‘کا نام دیا ۔دوسرے گروہ میں آگ پر پگھلنے والی اشیاء مثلاً دھاتیں وغیرہ رکھیں اور تیسرے گروہ میں ایسی اشیاء رکھیں جو گرم ہوکر پھٹک جائیں اور سرمہ بن جائے۔ پہلے گروہ میں گندھک ،سنکھیا ،نوشادر وغیرہ شامل ہیں ۔
کیمیائی مرکبات[ترمیم]
جابر بن حیان نے کیمیاوی مرکبات مثلاً کاربونیٹ ،آرسینک ،سلفایئڈ اور الکحل کو خالص تیار کیا ہے۔اس نے الکحل شورے کے تیزاب یانائٹرک ایسڈ اور نمک کے تیزابیا ہائیڈروکلورک ایسڈ اور فاسفورس سے دُنیا کو پہلی بار روشناس کرایا اس کے علاوہ اس نے دوعملی دریافتیں بھی کیں۔ ایک تکلیس یا کشتہ کرنا یعنی آکسائیڈ بنانا اور دوسرے تحلیل یعنی حل کرنا ۔جابر بن حیان کیمیاکے متعدد اُمور پر قابلِ قدر نظری و تجرباتی علم رکھتا تھا۔کیمیا کے فن پر اس کے تجربات بہت اہم ہیں ۔
کیمیائی عمل سازی[ترمیم]
اس کے علاوہ لوہے کو زنگ سے بچانے کے لیے لو ہے پر وارنش کرنے، موم جامہ بنانے، خضاب بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ اس کے علاوہ فولاد کی تیاری ، پارچہ بافی ،چرم کی رنگائی اور شیشے کے ٹکڑے کو رنگین بنانا وغیرہ ۔ [1]
دیگر تجربات و کارنامے[ترمیم]
انہوں نے دھات کا کشتہ بنانے کے عمل میں اصلاحات کیں اور بتایا کہ دھات کا کشتہ بنانے سے اس کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ عمل کشید اور تقطیر کا طریقہ بھی جابر کا ایجاد کردہ ہے۔ انہوں نے قلماؤ یعنی کرسٹلائزیشن کا طریقہ اور تین قسم کے نمکیات دریافت کیے۔
خدمات[ترمیم]
جابر نے کیمیاء کی اپنی کتابوں میں بہت سی اشیا بنانے کے طریقے درج کیے۔ انہوں کے کئی اشیاء کے سلفائڈ بنانے کے بھی طریقے بتائے۔ انہوں نے شورے اور گندھک کے تیزاب جیسی چیز دنیا میں سب سے پہلی بار ایجاد کی۔ جو کہ موجودہ دور میں بھی نہایت اہمیت کی حامل اور سنسنی خیز ہے۔ اانہوں نے سب سے پہلے قرع النبیق کے ذریعے کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔
یہ امرقابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں علمی "سائنسی" اور فکری حوالے سے دوسری صدی عیسویں کے بعد کوئی اہم شخصیت پیدا نہ ہوئی تھی۔ بقراط، ارسطو، اقلیدس ، ارشمیدس، بطلیموس اور جالینوس کے بعد صرف سکندریہ کی آخری محقق ہائپاتيا چوتھی صدی عیسوی میں گزری تھی۔ لہذا علمی میدان میں چھائی ہوئی تاریکی میں روشن ہونے والی پہلی شمع جابر بن حیان تھی۔ اس کے بعد گیارھویں صدی تک مسلمان سائنسدانوں اور مفکروں کا غلبہ رہا۔
تصانیف[ترمیم]
جابر بن حیان نے کیمیا کی کتب کے علاوہ اقلیدس کی کتاب "ہندسے"، بطلیموس کی کتاب "محبطی/مجسطی" کی شرحیں بھی لکھیں۔ نیز منطق اور شاعری پر بھی رسالے تصنیف کئے۔ اس سب کے باوجود جابر مذہبی آدمی تھے اور امام جعفر صادق کے پیروکار تھے۔
ان کی تحاریر میں200 سے زیادہ کتابیں شامل ہیں۔
مشہور کتابیں :
- "کتاب الملک"
- "کتاب الرحمہ "
- "کتاب التجمیع "
- "زیبق الشرقی"
- کتاب الموازین الصغیر "
نظريات[ترمیم]
جابر کی فکر میں نظریہ میزان کی حیثیت کلیدی ہے۔ قرآن کریم میں لفظ میزان متعدد جگہ پر آیا۔ اس سے کائنات توازن کے علاوہ دونوں جہاں میں اللہ کا عدل اور روز قیامت کی جزاوسزا بھی مراد ہے کائنات کا ذرہ ذرہ میزان کی منہ بولتی تصویر ہے۔ آفتاب ، ماہتاب، جمادات، حیوانات ،نباتات تمام جاندار و غیر جاندار اشیاءکی حرکت اور سکون کا دارومدار میزان پر ہے۔ میزان کا ئناتی اصولوں کا مرکز و محور ہے۔ جابر کےنزدیک اعداد اسی توازن کا مظہر ہيں جس کی بنیاد پر دنیا وجود میں آئی اور قائم ہے۔ یوں انیسویں صدی کے انگریز مفکروں کی طرح جابر بن حیان نے بھی سائنسی نظام کا رشتہ اپنے دینی عقائد کے ساتھ منسلک کر ليا تھا۔
تاثرات[ترمیم]
جابر بن حیان کی تمام تصانیف کا ترجمہ لاطینی کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ تقریباَ آٹھ نو سو سال تک کیمیاکے میدان میں وہ تنہا چراغ راہ تھا۔ اٹھارھویں صدی میں جدید کیمیا کے احیاء سے قبل جابر کے نظریات کو ہی حرف آخر خیال کیاگیا۔ بطور کیمیادان ان کا ایمان تھا کہ علم کیمیا میں تجربہ سب سے اہم چیز ہے۔ اس نے عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ کچھ جاننے اور سیکھنے کے لئے صرف مطالعے اور علم کے علاوہ خلوص اور تندہی کے ساتھ تجربات کی بھی ضرورت ہے۔
دوسرے وہ یہ سمجھتے تھے کہ منزل مقصود کبھی نہیں آتی یعنی جسے پالیا وہ منزل نہیں۔ اس شعور نے انہیں کائنات کی تحقیق میں آگے ہی آگے بڑھتے جانے کی دھن اور حوصلہ دیا۔
حوالہ جات[ترمیم]
- ^ ابو طالب انصاری (2005)، "جابر بن حیان (بابائے کیمیا )"، اجالے ماضی کے، http://www.kitaabghar.com/bookbase/talib/ujalaymazike-1.html، ص: ۵۶
مزید مطالعہ[ترمیم]
|ویکیمیڈیا العام میں جابر بن حیان سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔|
| <urn:uuid:d51ecb43-ed4b-45ea-b188-60d23b3c1d4e> | CC-MAIN-2014-10 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%A7%D8%A8%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D9%86 | 2014-03-09T02:49:31Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999670852/warc/CC-MAIN-20140305060750-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.966622 | Arab | 96 | {} |
ميرے ليے ان خيالات ميں كھونا ضرورى ہوتا تا كہ ميں مكمل لطف اٹھا سكوں اور اپنى حاجت پورى كروں، يہ مشكل اب تك موجود ہے، اور ہر جماع كے بعد اپنے ضمير كى ملامت محسوس كرتى ہوں، ميں اس كے ساتھ بھى ہوتى ہوں تو يہ خيالات ميرا پيچھا كرتے رہتے ہيں.
يہ خيالات بالكل كسى اور شخص كے متعلق نہيں ہوتے صرف وہ لوگ جنہيں ميں جانتى بھى نہيں، ميں نے اسے اپنى اس مشكل كے بارہ ميں بتايا تو وہ كوئى ناراض نہيں ہوا، ليكن ميں ايك قسم كى خيانت كا شعور محسوس كرتى ہوں برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں، اور شرعى طور پر اس كا حكم كيا ہے ؟
الحمد للہ:
اول:
جنسى اور سيكسى خيالات انسان كے ذہن ميں آنے والے ان خيالات كا حصہ اور جزء ہوتے ہيں جو اس كے ذہن ميں ان واقعات اور تصاوير كو ديكھ كر محفوظ ہو چكے ہوتے ہيں جس ماحول ميں وہ انسان رہتا ہے، اور وہ مناظر جو اس نے ديكھے ہوتے ہيں اپنے ذہن ميں محفوظ كر ليتے ہيں تو بعد ميں يہ خيالات بن كر اس كے ذہن ميں آتے رہتے ہيں.
اس قسم كى خيالات اكثر لوگوں كو اور خاص كر نوجوانوں كو آتے ہيں، ليكن يہ تاثير اور نوع وغيرہ ميں ايك انسان سے دوسرے انسان ميں مختلف ہوتے ہيں.
شريعت اسلاميہ ايك فطرتى شريعت ہے، جو فطرت سليم كے ساتھ موافق اور قابل ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے اسے اس قابل بنايا ہے كہ وہ بشرى طبيعت كى تبديلى كے مطابق ہے اور يہ ممكنہ حدود سے تجاوز نہيں كرتى، اور نہ ہى اس كا مكلف بناتى ہے جس كى انسان ميں استطاعت و طاقت نہ ہو.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اللہ سبحانہ و تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا }البقرۃ ( 286 ).
اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" يقينا اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرى امت سے وہ معاف كر ديا ہے كہ جو وہ اپنے دل ميں باتيں كرتے ہيں، جب تك وہ اسے زبان پر نہ لائيں يا اس پر عمل نہ كريں انہيں معاف ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2528 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 127 ).
امام نووى رحمہ اللہ اس حديث كى شرح كرتے ہوئے فرماتے ہيں:
" دل ميں بات كرنا اور خيالات آنا جب تك وہ مستقر نہ ہو اور ان خيالات كا مالك اس پر چل نہ پڑے علماء كرام كے اتفاق پر اسے يہ معاف ہے؛ كيونكہ اس كے ذہن اور دل ميں آنے پر اسے كوئى اختيار نہيں، اور وہ اس سے چھٹكارا حاصل نہيں كر سكتا.
ديكھيں: الاذكار ( 345 ).
يہ ذہن ميں آنے والے خيالات بھى دل ميں بات كرنے كے دائرہ ميں آتے ہيں جو مندرجہ بالا حديث كى نص سے معاف كردہ ہيں، اس ليے جس كے ذہن ميں بھى حرام خيالات كا تصور آيا اور وہ خود ہى آئے ہوں اس نے طلب نہ كيے، اور نہ ہى اس كے اسباب پيدا كيے تو اس پر كوئى گناہ نہيں، بلكہ اسے حسب استطاعت ان غلط خيالات كو روكنا چاہيے.
دوم:
ليكن اگر كوئى شخص حرام خيالات كو تكلف كے ساتھ لائے اور انہيں اپنے ذہن ميں خود پيدا كرے تو اس حالت كى كيفيت كے حكم كے متعلق علماء كرام كا اختلاف ہے كہ آيا يہ معافى كے دائرہ ميں داخل ہوتے ہيں يا كہ يہ ارادہ و ہم كے دائرہ ميں جس پر مؤاخذہ ہوگا ؟
فقھاء كرام نے اس مسئلہ ميں درج ذيل تصور پيش كيا ہے:
اگر كسى شخص نے اپنى بيوى كے ساتھ اس طرح وطئ كى كہ اس كى سوچ ميں كسى اجنبى عورت كے محاسن اور خيالات تھے حتى كہ وہ يہ سمجھے كہ وہ اسى اجنبى عورت سے ہى وطئ كر رہا ہے تو كيا ايسى سوچ اور خيالات لانا حرام ہو گا يا نہيں ؟
اس ميں فقھاء كرام كے مختلف اقوال ہيں:
پہلا قول:
يہ حرام ہے، اور جو شخص ارادتاً ذہن ميں حرام تصور لاتا ہے اور اپنى بيوى كے ساتھ وطئ كرتے ہوئے يہ حرام تصور ذہن ميں لائے وہ گنہگار ہوگا.
ابن عابدين حنفى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ہمارے مذہب كے اصول و قوعد كے قريب تر تو يہى ہے كہ ايسا كرنا حلال نہيں، كيونكہ اس اجنى عورت كے ساتھ وطئ كا تصور كرنے ميں اس كى ہيئت پر اس معصيت و نافرمانى كو براہ راست كرنے كا تصور ہوتا ہے .
ديكھيں: حاشيۃ رد المختار ( 6 / 272 ).
اور امام محمد العبدرى جو ابن حاج المالكى رحمہ اللہ كے نام سے معروف ہيں كا كہنا ہے:
" اس پر متعين ہے كہ بالفعل وہ نفس ميں اس سے اور دوسرے ميں قول ميں اس قبيح خصلت اور عادت سے بچ كر رہے جو بہت عام ہو چكى ہے كہ جب مرد كسى اجنبى عورت كو ديكھتا ہے اور وہ اسے اچھى لگتى ہے تو وہ اپنى بيوى كے پاس آ كر اس سے وطئ كرتے ہوئے اپنى آنكھوں ميں اسى اجنبى عورت كو ركھتا ہے جسے ديكھا تھا.
يہ زنا كى ايك قسم شمار ہوتى ہے؛ كيونكہ ہمارے علماء كرام كا كہنا ہے: اگر كوئى شخص جس گلاس ميں پانى پيتا ہے وہ لے كر يہ تصور كرے وہ شراب پى رہا ہے تو وہ پانى اس پر حرام ہو جائيگا.
اور جو كچھ بيان ہوا ہے وہ صرف مرد كے ساتھ خاص نہيں، بلكہ عورت بھى اس ميں داخل ہوگى، بلكہ عورت تو زيادہ شديد ہوگى؛ كيونكہ اس دور ميں غالبا باہر نكلنا اور كھڑكى سے ديكھنا پايا جاتا ہے، اس ليے جب كسى عورت نے كسى ايسے شخص كو ديكھا جو اسے اچھا لگے اور پسند آ جائے اور اس كے خيالات اس مرد كے ساتھ اٹك جائيں، اور جب وہ عورت اپنے خاوند كے ساتھ اكٹھى ہو تو اس نے جو اس نے ديكھا تھا اس تصور كو اپنے سامنے لائے تو ان دونوں ميں سے ہر ايك زانى كے معنى ميں ہوگا. اللہ تعالى اس سے محفوظ ركھے.
اور اسے اس سے اجتناب پر ہى مقتصر نہيں كيا جائيگا بلكہ اس پر اس كے گھر والوں وغيرہ كو بھى متنبہ كيا جائيگا اور انہيں بتايا جائيگا كہ يہ حرام ہے اور جائز نہيں "
ديكھيں: المدخل ( 2 / 194 - 195 ).
اور ابن مفلح حنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ابن عقيل نے " الرعايۃ الكبرى " ميں بالجزم يہ ذكر كيا ہے كہ:
اگر كسى شخص نے اپنى بيوى سے جماع كے وقت كسى اجنبى عورت جو اس پر حرام ہے كى صورت ذہن ميں لائى تو وہ گنہگار ہوگا.... ليكن سوچ اور فكر ميں غالبا كوئى گناہ نہيں "
ديكھيں: الآداب الشرعيۃ ( 1 / 98 ).
اس قول كى دليل يہ ہے كہ: اہل علم ميں سے ايك گروہ اسے راجح كہتا ہے كہ دل ميں جو خيالات آتے اور پائے جاتے ہيں جب وہ عزم اور ارادہ بن جائيں تو پھر يہ تكليف كے دائرہ ميں داخل ہو جاتے ہيں.
اور وہ حرام تخيلات و سوچيں جسے ذہن ارادہ كے ساتھ كھينچ لائے تو وہ معافى كے دائرہ سے نقل جاتے ہيں؛ كيونكہ وہ ايك ارادہ و عزم بن جاتا ہے جس پر آدمى كا مؤخذہ ہوگا.
امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" دل ميں جو باتيں آتى ہيں ان كى معافى كا سبب جو ہم نے بيان كيا ہے كہ اس سے اجتناب كرنا ممكن نہيں، بلكہ اس پر استمرار سے اجتناب ممكن ہے، اس ليے اس پر استمرار اور دل كا اس پر عزم كر لينا حرام ہے.
ديكھيں: الاذكار ( 345 ).
دوسرا قول:
يہ جائز ہے، اور ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، يہ متاخرين شافعى حضرات جن ميں امام سبكى اور امام سيوطى شامل ہيں كا قول ہے، ان كا كہنا ہے كہ:
اس ليے كہ تخيلات ميں معصيت كا اراد و عزم نہيں ہوتا كيونكہ ہو سكتا ہے اس كے ذہن ميں تو يہ ہو كہ وہ اس اجنبى عورت سے مباشرت كر رہا ہے ليكن اس كے باوجود اس كے دل ميں اس فعل كا عزم اور اس كے ليے كوشش نہيں ہوتى، بلكہ اگر وہ اس كے سامنے آ جائے تو وہ اسے رد كر دےگا.
اور شافعى حضرات كى كتاب " المنھاج كى شرح تحفۃ المحتاج " ميں درج ہے:
" .. اس ليے كہ اس سوچ كے وقت اس كے ذہن ميں زنا يا اس كے اسباب كى سوچ اور فكر نہيں ہوتى، چہ جائيكہ اس كا عزم ذہن ميں لائے، بلكہ اس كے ذہن ميں جو كچھ آيا ہے وہ ايك قبيح چيز كا اچھى صورت ميں تصور ہے " انتہى
ديكھيں: تحفۃ المحتاج شرح المنھاج ( 7 / 205 - 206 ) اور الفتاوى الفقھيۃ الكبرى ( 4 / 87 ) كا بھى مطالعہ كريں.
ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اگر حرمت نقل نہ كى جائے تو درج اسباب كى بنا پر ان خيالات كى كراہت كا قول راجح معلوم ہوتا ہے:
ـ ماہر نفسيات ان جنسى اور سيكسى خيالات كو نفسياتى اضظراب شمار كرتے ہيں جبكہ انسان كى عقل پر يہ حاوى ہو جائيؤں كہ وہ ان خيالات كى راہ كے بغير وہ لذت مفقود پائے، اور بعض اوقات يہ سيدھے جنسى خيالات كا باعث بھى بن جاتے ہيں.
ـ شريعت اسلاميہ نے سد الذريعہ يعنى غلط كام كى طرف لے جانے والے اسباب كو بھى ختم كرنے كا اصول ديا ہے اور ہر وہ دروازہ بند كيا ہے جو شر و برائى كى طرف لے جائے، جنسى خيالات كا آنا حرام كام ميں پڑنے ميں متوقع ہے، كيونكہ جو كوئى كسى چيز كا تصور زيادہ لائے اور اس كى تمنا وخواہش كرے تو اس كا دل اسے حاصل كرنے كى كوشش كرتا ہے، اور اسے كثرت سے كرتا ہے.
اس طرح وہ حرام تصاوير ديكھنا شروع كريگا، اور اس كى آنكھيں حرام كو ديكھنے كى عادى بن جائيں گى، اور ان خيالات كے ساتھ مربوط خواہش سے دل بھرنے اور اسے حاصل كرنے كى كوشش كريگا.
ـ اكثر طور پر اس طرح كے خيالات ذہن ميں حرام اسباب كے ساتھ اكٹھے ہوتے ہيں، اور اس كا باعث اور سبب گندى اور مخرب الاخلاق فلميں اور ٹى وى چينل اور ويڈيوز وغيرہ ديكھنا ہے، اور خاص كر كفار كے ممالك ميں جہاں شرم و حياء نام كى كوئى چيز نہيں ہوتى.
اور شرم و حياء ختم ہو كر جنسى مناظر كو ديكھنا ايك عادت سى بن كر اس سے انسيت ہو جاتى ہے.
ـ آخر ميں يہ ہے كہ: ان خيالات كا كثرت سے آنا خاوند اور بيوى كا ايك دوسرے سے كنارہ كشى اختيار كرنے كا باعث بن سكتا ہے، كہ وہ ايك دوسرے كو چاہيں گے ہى نہيں، اس طرح بيوى خاوند كى نظر ميں نہيں رہتى، اور اسى طرح خاوند بھى بيوى كى نظر ميں نہيں رہتا، اس طرح ازدواجى مشكلات كا آغاز ہوتا ہے.
اس ليے ہم ہر اس شخص كو جو اس بيمارى ميں مبتلا ہے يہى نصيحت كرتے ہيں كہ وہ جتنى جلدى ہو سكے اس طرح كے خيالات سے باز آ جائے اور ان خيالات كو ختم كرنے كے ليے درج ذيل وسائل بروئے كار لائے جا سكتے ہيں:
ـ ايسى فلموں اور ڈراموں اور ٹى وى چينلوں سے بالكل عليحدگى اختيار كر لى جائے جو جنسى خيالات كو ابھارتے ہيں اور اسى طرح ايسے قصے اور كہانياں بھى نہ پڑھى جائيں جن سے يہ خيالات پيدا ہوں، ہمارى اسى ويب سائٹ پر جنسى اور سيكسى قصوں اور كہانياں پڑھنے كى حرمت بيان كى گئى ہے اس كى تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 34489 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
امام غزالى رحمہ اللہ نے " احياء علوم الدين " ميں كہا ہے كہ:
" ان خيالات كو ختم اور دور كرنے كے ليے اس كا مواد ختم كرنا ہوگا، يعنى ان اسباب كو بالكل ختم كر ديا جائے جو ان خيالات كو لانے كا باعث بنتے ہيں، اور جب اس مواد كو ختم نہيں كيا جائيگا تو يہ خيالا ت ختم نہيں ہونگے " انتہى
ديكھيں: احياء علوم الدين ( 1 / 262 ).
ـ شرعى دعاؤں اور اذكار كى پابندى كرنا، اور خاص كر ہم بسترى كرنے سے قبل والى دعا جو حديث ميں كچھ اس طرح وارد ہے:
" الَّلهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبِ الشَّيطَانَ مَا رَزَقتَنَا " اے اللہ ہميں شيطان سے محفوظ ركھ، اور جو ہميں اولاد عطا فرمائے اسے بھى شيطان سے محفوظ ركھ.
صحيح بخارى حديث نمبر ( 141 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1434 ).
ـ غائب لذت كو چھوڑ كر موجود لذت ميں مشغول ہونا كيونكہ خاوند اور بيوى دونوں ميں ہى ايك دوسرے كے ليے وہ كچھ پايا جاتا ہے جو اسے حرام كى طرف ديكھنے اور جھانكنے سے غنى كر ديتا ہے، اس ليے اگر خاوند اور بيوى دونوں ہى ايك دوسرے كے حسن و جمال ميں مشغول ہوں اور وہ اس ميں ہى غرق رہيں تو پھر خيالات كسى اور طرف جاتے ہى نہيں.
ـ آپ ذرا يہ تصور كريں كہ جس طرح آپ كے خيالات دوسرى طرف پھر رہے ہيں اسى طرح آپ كے خاوند كے خيالات كسى اور طرف ہوں تو كيا آپ اس سے راضى ہونگى؟
اب آپ كو يہ محسوس ہوگا كہ آپ اس پر راضى نہيں ہو سكتي كہ آپ كے خاوند كے آپ كے علاوہ كسى اور كے ساتھ خيالات ہوں ؟
تو پھر آپ كس طرح راضى ہيں كہ آپ كا خاوند اس طرح كا شعور اور احساس پائے، اس ليے آپ اس سوچ كو سامنے لاتے ہوئے اس طرح كے خيالات سے چھٹكارا پا سكتى ہيں.
ـ آپ نفسياتى ماہرين سے اس سلسلہ ميں مشورہ كريں اس ليے كسى نفسيات يا پھر خاندانى مسائل كے ماہر سے ملنے اور مشورہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، آپ اس سے اپنى حالت كے بارہ ميں نصيحت طلب كريں، ان شاء اللہ آپ كو اس كے پاس اپنے اس مشكل كا حل مل جائيگا.
اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ اور آپ كے خاوند كو توفيق و سعادت نصيب فرمائے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:0ff3898b-b6c7-4f1e-b2e3-dafaef6395fb> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/84066 | 2014-03-10T01:35:04Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1394010527022/warc/CC-MAIN-20140305090847-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.947373 | Arab | 42 | {} |
اس میں کوئ شک نہيں کہ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسل نے جس معاشرہ کی بنیاد رکھی وہ امن واستقرارمیں ایک مثالی معاشرہ تھا ، جس کا ظہوراس دن سے ہوا جس دن مدینہ کی سرزمین نے عرب وعجم کے سردار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدم بوسی کی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سرزمین پرایک اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی ۔
اوراس معاشرہ میں امن واستقرار کے کئ ایک عوامل واسباب ہیں جن میں سے چند ایک ذکرکیا جاتا ہے :
اول :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی سرزمین پرقدم رکھتے ہی سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی جو کہ مصائب کے وقت مرجع بننے میں ممد معاون ثابت ہوئ ، اوراسی طرح مسلمانوں کے جمع ہونے اورایک دوسرے سوال اورایک دوسرے کے حالات سے متعارف ہونے کی جگہ بنی جس سے مریض کی عیادت اورمیت کے جنازہ میں جانا اورمسکین کے تعاون اورغیرشادی شدہ کی شادی وغیرہ میں ممد ثابت ہوئ ۔
اس کے بارہ میں یہ چند ایک احادیث ہیں :
انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لاۓ تومسجد بنانے کا حکم صادرفرماتے ہوۓ کہنے لگے اے بنو نجار کیا تم مجھے اپنی اس حویلی قیمت بتاتے ہو تووہ کہنےلگے نہیں اللہ کی قسم ہم تو اس کی قیمت اللہ تعالی سے ہی طلب کرتے ہیں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2622 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 524 ) ۔
براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا فرمان { ولاتیمموا الخبیث منہ تنفقون } یہ آیت ہمارے انصارے کے بارہ میں نازل ہوئ ہم کھجوروں کے مالک تھے ، توہر شخص اپنی کھجوروں میں سے کمی اورزیادتی کے حساب سے لے کرآتا کوئ توایک اورکوئ دو خوشے ( کھجوروں والی ٹہنی ) لاکر مسجد میں لٹکا دیتا ۔
اوراصحاب صفہ ( ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ مھاجرین میں سے فقراء ) کے لیے کھانا نہیں ہوتا تھا توان میں سے جب کسی ایک کوبھوک لگتی تووہ آکر اس خوشے کومارتا تواس سے کچی اورپکی کھجوریں گرتیں اوروہ کھا لیتا ۔
تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بھلائ اور خیر میں رغبت نہیں رکھتے تھے وہ ایسے خوشے لاتے جن میں خراب اورردی کھجوریں ہوتی اورخوشہ بھی ٹوٹ چکا ہوتا وہ لا کر لٹکا دیتے تواللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرما دی :
{ اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ کمائ میں سے اورزمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئ چيزوں میں خرچ کرو ، اوران میں سے بری چيزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرو جسے تم خود تولینے والے نہیں ہو ، ہاں اگر آنکھیں بند کرلو تو، اور جان لو کہ اللہ تعالی بے پرواہ اورخوبیوں والا ہے } البقرۃ ( 267 ) ۔
براء بن عازب رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ : اگر تم میں سے کسی ایک کواس طرح کا ھدیہ دیا جاۓ جس طرح کی اشیاء وہ دے رہا ہے تواسے قبول نہیں کرے مگر ہوسکتا ہے کہ وہ اسے آنکھیں بند کرکے اوریا پھر حیاء کرتے ہوۓ لے لے ۔
وہ کہتے ہیں کہ تو اس کے بعد ہم میں سے ہرایک وہ چيز لاتا جو اس کے پاس سب سے اچھی ہوتی ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2987 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 1822 ) اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح ترمذی ( 2389 ) میں صحیح قرار دیا ہے ۔
القنو اسے کہتے ہیں جس میں رطب اورتازہ کھجوریں ہوں ۔
الشیص وہ کھجوریں ہیں جن کی پیوند کاری نہ کی گئ ہو ۔
الحشف خراب اورخشک شدہ کھجوروں کوکہا جاتا ہے ۔
دوم :
انصارو مھاجرین کے درمیان اسلامی مؤاخات کا قیام :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصارومھاجرین کےدرمیان اسلامی بھائ چارہ اورمؤاخات قائم کی تویہ فعل معاشرہ کے افراد میں ایسی قوت وطاقت پیدا کرتا ہے جوکسی اورچیز سے پیدا نہیں ہوتی اورنہ ہی ایسی قوت سننےمیں ہی آئ ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی وعجمی اور آزاد وغلام اور قریشی اورغیر قریشی اوردوسرے قبائل میں اخوت وبھائ چارہ قائم کیا توسارا معاشرہ فرد واحد اورجسد واحد کی شکل اختیارکرگيا ۔
تواس کے بعد اس میں کسی قسم کاکوئ تعجب اوراستغراب نہیں رہتا کہ ایک انصاری اپنے مھاجربھائ کوکہے کہ آپ میرے مال کوتقسیم کر کےآدھا لے لیں اوریہ انصاری اپنے مھاجر بھائ کویہ پیشکش کرتا ہے کہ میں اپنی ایک بیوی کوطلاق دیتا ہوں تم اس سے نکاح کرلو ۔
اور اسی طرح انصاری اس قوت علاقہ کی بنیاد پر مھاجر کا وراث بنایا جاتا تھا حتی کہ قرآن مجید نے آیت مواريث کے ساتھ اسے منسوخ کردیا اورانصار کو اس کی رغبت دلائ کہ وہ ان کے لیے کچھ نہ کچھ وصیت کریں ، تواس طرح کے معاشرہ کی کہیں مثال نہیں ملتی اوراس کی مثال بیان کی جاتی ہے ۔
اس سلسلہ میں بعض احادث ذکر کی جاتی ہیں :
1 - عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب مدینہ آۓ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اورسعد بن ربیع کے درمیان مؤاخات قائم کردی اوراسے میرا بھائ بنا دیا ، توسعد رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں انصارمیں سے سب سے زيادہ مال ودولت والاہوں تومیں آپ کے لیے اپنا نصف مال تقسیم کرتا ہوں ۔
اوردیکھو جوبھی میری بیوی آپ کواچھی لگتی ہے میں اسے طلاق دیتا ہوں جب وہ تیرے لیے حلال ہوجاۓ تواس سے نکاح کرلینا ۔
عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کی کوئ ضرورت نہیں ، کیا یہاں کسی بازارمیں تجارت ہوتی ہے ؟ سعد رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ سوق قینقاع میں ۔
راوی کہتا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسرے دن بازار کا رخ کیا اورکچھ پنیراورگھی لاۓ ، راوی کہتا ہے کہ پھراس کے دوسرے دن بھی بازار گۓ اور کچھ ہی دن نہیں گذرے تھے کہ عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ آۓ اوران پرزردی کے نشانات تھے تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کیا تو نے شادی کرلی ؟
ان کا جواب تھا جی ہاں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس سے ؟ عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ نے جواب دیاکہ ایک انصاری عورت سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اسے مہرکتنا دیا ؟
عبدالرحمن رضي اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا ایک گٹھلی کے برابر سونا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اچھا پھر ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری ہو ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1943 ) ۔
2 – ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مھاجرین مدینہ میں آۓ تواس اخوت کی بنا پرجونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کرائ تھی مھاجرانصاری کا وارث بنتا تھا اوراس میں خونی رشتے کا کوئ تعلق نہیں تھا ، اورجب اللہ تعالی نے { ولکل جعلنا موالی } نازل فرمادی تواسے منسوخ کردیا گیا پھر کہا { والذین عقدت ایمانکم } مگر مدد اورتعاون اورنصیحت ، تووراثت ختم ہوگئ اورصرف اسے کے لیے وصیت کی جاۓ گی ۔ صحیح بخاری حديث نمبر ( 2170 ) ۔
سوم :
دوھجری میں زکاۃ فرض ہوئ تو اغنیاء اورفقراء کے درمیان مواسات قائم ہوئ جس سے مدنی معاشرہ میں قرابت کی نسیج میں اضافہ ہوا ، اوراخوت فی اللہ کے عنصرپہلے سے بھی مزید قوی ہوگۓ ، بلکہ معاملہ اس سے آگے بڑھ کرنفلی صدقہ وخیرات تک جا پہنچا ۔
انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ انصار میں کھجوروں کے اعتبارسے سب سے زیادہ مالدار تھے اوران کواس میں سے سب سے زيادہ محبوب بئرحاء تھا جو کہ کہ مسجد کے آگے واقع تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے اور پاکیزہ پانی نوش فرماتے ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئ :
{ جب تک تم اپنی پسندیدہ چيزسے اللہ تعالی کے راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگزبھلائ نہیں پاسکتے } آل عمران ( 92 )
ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکرکہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ : { جب تک تم اپنی پسندیدہ چيزسے اللہ تعالی کے راہ میں خرچ نہیں کرو گے ہرگزبھلائ نہیں پاسکتے } تومیرا سب سے محبوب اورپسندیدہ مال بئر حاء ہے ، یہ اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ ہے میں اللہ تعالی سے اس کے اجر ثواب کی امید رکھتا ہوں ، توآّپ اسے جہاں چاہتے ہیں خرچ کردیں ۔
انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رہنے دو یہ مال دوبہت زیادہ منافع بخش ہے بہت منافع بخش ہے جوکچھ تم کہہ رہے ہومیں نے سن لیا ہے ، میری راۓ یہ ہے کہ تم ایسا کرو اسے اپنے اقرباء میں تقسیم کردو توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں ایسا ہی کرتا ہوں ، توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے اسے اپنے اقرباء اورچچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1392 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 998 ) ۔
تواس طرح مدینہ نبویہ شریف میں مسلمانوں کے درمیان محبت والفت کی علامات ظاہرہوئيں اور مھاجرین نے اپنے انصاری بھائيوں کے حق کوپہچانا اسی کے متعلق چند ایک احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے :
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف تشریف لاۓ تومھاجرین آکر کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے قوم انصار کودیکھا ہے کہ انہوں نے بہت ہی زیادہ خرچ کیا ہے اورجس قوم کے پاس ہم آکر ٹھرے ہیں ان سے بہتر اوراچھا احسان کرنے والے بہت ہی کم ہیں ۔
ہمیں ہرچيزسے کفایت کی اورہمیں اپنے مال ودولت اورپھلوں میں شریک کیا حتی کہ ہمیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں مکمل اجروثواب یہ ہی نہ لے جائيں ، تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے نہیں ، جب تک تم ان اللہ تعالی سے ان کے لیے دعا کرتے اوران کی تعریف کرتے رہو ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2487 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ترمذی ( 2020 ) اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اوراسی طرح اللہ تعالی نے مدنی معاشرہ میں ایک دوسرے کے درمیان محبت والفت ڈال کران کے دلوں کو یک جان دوقالب بنا دیا ، تواس قوم کا ماٹو ہی اللہ تعالی کے لیے محبت بن گيا جسے اللہ تعالی نے ان پرواجب قراردیااور اسے کمال ایمان کی علامت قراردے دیا ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تم میں سےاس وقت تک کوئ بھی مومن بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائ کے لیے بھی وہی چيز پسند کرے جواپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 13 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 45 ) ۔
نعمان بن بشیر رضي اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ي :
آپ مومنوں کو ایک دوسرے پررحم اورمحبت والفت اورنرمی کرتے ہوۓ دیکھے گے کووہ اس ایک جسم کی مانند ہیں کہ جس کا ایک عضو تکلیف محسوس کرے تومکمل جسم بخاراورتکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5665 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2586 ) ۔
واللہ اعلم . | <urn:uuid:020f8b25-be50-4d12-a67c-e736330e7cfc> | CC-MAIN-2014-10 | http://islamqa.info/ur/8844 | 2014-03-07T12:59:46Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-10/segments/1393999642519/warc/CC-MAIN-20140305060722-00050-ip-10-183-142-35.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.925763 | Arab | 83 | {} |
الحمد للہ:
خريد وفروخت ميں اصل تو حلت اور جواز ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿ اور اللہ تعالى نے خريد و فروخت حلال كي اور سود كو حرام كيا ہے ﴾البقرۃ ( 275 ).
جصاص رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ سارى خريد و فروخت كے مباح ہونے ميں عام ہے.
ديكھيں: احكام القرآن ( 2 / 189 ).
يہ تو اصل كے اعتبار سے ہے، ليكن اگر فروخت كردہ چيز ـ يعنى سامان ـ حرام چيز ہو يا پھر وہ غالبا حرام ميں استعمال ہوتى ہو: تو اس كى خريد و فروخت كا لين دين كرنا جائز نہيں.
اس ليے سوال ميں بيان كردہ كتابيں دو حالتوں سے خالى نہيں:
يا تو يہ كتب قارئ كے ليے مفيد اور نفع مند ہوں چاہے علوم دين كے علاوہ كسى اور علوم ميں ہوں، مثلا تاريخ، سياست، فيزياء، رياضى وغيرہ اور آپ كے علم كے مطابق وہ حرام كردہ اشياء مثلا جھوٹ، فحاشى كو عام كرنے، لوگوں كو دھوكہ دينے وغيرہ پر مشتمل نہ ہوں تو يہ كتابيں اس مذكورہ اصل پر ہى ہيں، يعنى ان كى خريد و فروخت مباح اور جائز ہے، اور جب اس كى خريد و فروخت جائز ہے تو پھر اس سے حاصل ہونے والى رقم اور مال اپنى دينى اور دنياوى مصلحت كے حصول كے ليے خرچ كر سكتے ہيں، يہ آپ كے ليے حلال ہے.
اور اگر يہ كتابيں فى نفسہ حرام ہوں، يا پھر قارى كے ليے نقصان دہ ہوں، وہ اسطرح كہ وہ جھوٹے قصوں اور كہانيوں پر مشتمل ہوں، اور اس ميں واقعات اور دينى اور شرعى واقعات و امور كو موڑ توڑ كر پيش كيا گيا ہو، اور دين اور اخلاق اور عقيدہ كو فاسد كرنے والى اشياء ہوں، اور عورت كے ہاں شرم و حياء، اور مرد كى مردانگى كے معانى كو تبديل كركے ركھ ديا گيا ہو ـ جيسا كہ اس وقت بہت سى عربى اور غير عربى كہانيوں اور ناولوں ميں پايا جاتا ہے، تو اس قسم كى كتابيں فروخت كرنا حرام ہيں.
بلكہ انہيں تلف اور ضائع كرنا واجب ہے، اور اس كى قيمت سے حاصل ہونے والے مال سے استفادہ كرنا حلال نہيں، اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" بلا شبہ جب اللہ تعالى كسى قوم پر كوئى چيز حرام كر ديں تو اس كى قيمت بھى حرام كر ديتا ہے "
مسند احمد حديث نمبر ( 2956 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے " غايۃ المرام " ( 318 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:f93c934b-654a-4cb9-812e-5f4c2a0081fd> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/70458 | 2014-04-20T16:14:39Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609538824.34/warc/CC-MAIN-20140416005218-00172-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.951111 | Arab | 14 | {} |
شیخ لطف اللہ مسجد ایران کے صفوی دور کی عظیم تعمیرات میں سے ایک ہے جو اصفہان کے معروف میدان نقش جہاں کے مشرقی جانب واقع ہے۔
یہ مسجد 1615ء میں صفوی خاندان کے شاہ عباس اول کے حکم پر تعمیر کی گئی۔
اس مسجد کے معمار محمد رضا ابن استاد حسین بنا اصفہانی تھے۔ مسجد کی تعمیر کا کام 1618ء میں مکمل ہوا۔ | <urn:uuid:e649beec-9aa6-4ba5-9b13-d1d9c197ab82> | CC-MAIN-2014-15 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B4%DB%8C%D8%AE_%D9%84%D8%B7%D9%81_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF | 2014-04-20T15:56:33Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609538824.34/warc/CC-MAIN-20140416005218-00172-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.990883 | Arab | 51 | {} |
الحمد للہ:
اللہ تعالى كا فرمان ہے:
﴿ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں تم اپنى كھيتيوں ميں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے ليے ( نيك اعمال ) آگے بھيجو اور اللہ تعالى سے ڈرتے رہا كرو اور جان ركھو كہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ايمان والوں كو خوشخبرى سنا ديجئے ﴾البقرۃ ( 223 ).
لفظ حرث يعنى كھيتى يہ فائدہ ديتا ہے يہ اباحت صرف فرج يعنى قبل ميں ہو گا خاص كر جبكہ وہ اولاد پيدا ہونے كى كھيتى ہے، يہاں مشابہت يہ دى گئى ہے كہ ماں كے رحم ميں نطفہ ڈالا جاتا ہے جس سے نسل پيدا ہوتى ہے، جس طرح زمين ميں بيج ڈالا جاتا ہے جس سے نباتات اگتى ہيں كيونكہ يہ دونوں ميں مادہ ہے.
اور قولہ: " انى شئتم " يعنى جس طرف سے بھى چاہو چاہے پچھلى جانب سے يا اگلى جانب سے اسے بٹھا كر يا لٹا كر ليكن جماع حرث يعنى كھيتى ميں ہو ( يعنى فرج جہاں سے بچہ پيدا ہوتا ہے ).
شاعر كا كہنا ہے:
رحم تو ہمارے ليے كھيتياں ہيں ہم پر تو صرف اس ميں بيج بونا ہے اور اللہ كے ذمہ اس كو اگانا.
ابن خزيمہ بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" يقينا اللہ تعالى حق سے نہيں شرماتا، تم عورتوں كى دبر كو استعمال مت كرو "
مسند احمد ( 5 / 213 ) يہ حديث حسن ہے.
اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جو شخص اپنى بيوى كى دبر استعمال كرتا ہے اللہ تعالى اس كى طرف ديكھے گا بھى نہيں "
اسے ابن ابى شيبہ ( 3 / 529 ) اور ترمذى حديث نمبر ( 1165 ) ميں روايت كيا اور اسے حسن قرار ديا ہے.
ديكھيں: نيل المرام تاليف صديق حسن خان ( 1 / 151 - 154 ).
ليكن اگر كسى شخص نے ايسا كر ليا تو اس كى بيوى كو طلاق شمار نہيں ہو گى جيسا كہ اكثر لوگوں ميں مشہور ہے كيونكہ اس كى شريعت ميں كوئى دليل نہيں ملتى.
ليكن يہ ہے كہ علما كہتے ہيں اگر كسى شخص كى يہ عادت بن جائے تو بيوى كے ليے اس سے طلاق حاصل كر سكتى ہے كيونكہ يہ فسق ہے اور وہ اس فعل كى بنا پر بيوى كو اذيت سے دوچار كر رہا ہے.
اور اسى طرح شادى كى غرض اور مقصد بھى اس سے حاصل نہيں ہوتا، بيوى كو اس خبيث اور گندے كام كا ڈٹ كر مقابلہ كرنا چاہيے اور اپنے خاوند كو نصيحت كرے اور اللہ كا ڈر پيدا كرے اور اللہ كى حدود سے تجاوز كرنے والے كى سزا ياد دلائے، اگر تو خاوند اس فعل سے توبہ كر لے تو اس كے ساتھ باقى رہنے ميں كوئى مانع نہيں، اور اس سے تجديد نكاح كى ضرورت نہيں ہو گى.
اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:ed24211f-f9b5-4f02-b302-c977bfd5f919> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/6792 | 2014-04-24T19:35:44Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223206672.15/warc/CC-MAIN-20140423032006-00236-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.939152 | Arab | 76 | {} |
آرامی خط
سامی نسل کے آرامی قبیلوں کا خط جو دسویں صدی قبل مسیح میں فونیقیوں کے خط سے اخذ کیا گیا۔ اس کا لکھنا سہل تھا، جس کی وجہ سے یہ خط بین الاقوامی تجارت کا واسطہ بنا رہا۔ خط آرامی 22 حروف پر مشتمل ہے۔ اس خط کے نمونے تخت جمشید کے کھنڈروں میں تختیوں، ہاون دستوں اور برتنوں پر سیاہی میں لکھے ہوئے ملے ہیں۔ مصر میں بھی چمڑے پر تحریریں ملی ہیں۔ ایشائے کوچک وغیرہ میں آرامی کتبے کھدائی میں دستیاب ہوئے ہیں۔ اس خط کے دو کتبے سکندر کی موت کے ساٹھ ستر سال بعد کےزمانے کے ہیں۔ ان میں سے ایک ٹیکسلا اور دوسرا دریائے کابل کے کنارے جلال آباد کے قریب لمپاکا یعنی تھمان سے ملا ہے۔ ایران میں خط آرامی کا سب سے پرانا نمونہ بغ دات پسر بغکرت کے سکے پر محفوظ ہے۔ یہ حکمران ہنجامنشی شہزادوں میں سے تھا۔ جس کو سکندر نے 323ق۔م میں ایرانیوں پر اثرورسوخ کے باعث فارس پر بحال رکھا۔
|ویکیمیڈیا العام میں آرامی خط سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔| | <urn:uuid:3a063f65-8b65-4aa1-8aef-1d8e24a7c8a3> | CC-MAIN-2014-15 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D8%AE%D8%B7 | 2014-04-17T12:40:15Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609530131.27/warc/CC-MAIN-20140416005210-00428-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.987769 | Arab | 54 | {} |
{ہائے يوسف! ان كى آنكھيں رنج و غم كى وجہ سے سفيد ہو چكى تھيں، اور وہ غم كو دبائے ہوئے تھے، بيٹوں نے كہا واللہ ! آپ ہميشہ يوسف كى ياد ہى ميں لگے رہيں گے يہاں تك كہ گھل جائيں يا ختم ہى ہو جائيں، انہوں نے كہا ميں تو اپنى پريشانيوں اور رنج كى فرياد اللہ ہى سے كر رہا ہوں، مجھے كى طرف سے وہ باتيں معلوم ہيں جو تم نہيں جانتے }.
برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ سينہ كوبى اور ماتم كرنا جائز ہے يا نہيں ؟
الحمد للہ:
عاشوراء ميں شيعہ حضرات جو ماتم و سينہ كوبى كرتے ہيں، اور اپنے آپ كو زنجيروں اور چھرياں وغيرہ مارتے ہيں، اور تلواروں كے ساتھ اپنے سر زخمى كرتے اور خون نكالتے ہيں دين اسلام ميں اس كى كوئى اصل نہيں ملتى، بلكہ يہ اسلامى تعليمات كے منافى ہے.
اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے ايسى كوئى چيز مشروع نہيں فرمائى اور نہ ہى اس ماتم كے قريب بھى كچھ مشروع كيا ہے كہ اگر كوئى عظيم مقام و رتبہ والا شخص فوت ہو جائى يا كوئى دوسرى شہيد ہو تو اس كے ماتم ميں ايسى خرافات كى جائيں.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زندگى ميں كئى ايك كبار صحابہ كرام كى شہادت ہوئى اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم ان كى موت پر غمزدہ بھى ہوئے مثلا حمزہ بن عبد المطلب اور زيد بن حارثہ اور جعفر بن ابى طالب اور عبد اللہ بن رواحہ ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كوئى عمل نہيں كيا جو شيعہ حضرات كرتے ہيں، اور اگر يہ كام خير و بھلائى ہوتى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں ہم سے سبقت لے جاتے.
اور پھر يعقوب عليہ السلام نے سينہ كوبى نہيں كى، اور نہ ہى اپنے چہرے كو زخمى كيا، اور نہ خون بہايا، اور نہ ہى اس دن كو جس ميں يوسف عليہ السلام گم ہوئے تھے تہوار بنايا اور نہ ہى اس روز كو ماتم كے ليے مختص كيا، بلكہ وہ تو اپنے پيارے اور عزيز بيٹے كو ياد كرتے اور اس كى دورى سے پريشان و غمزدہ ہوتے تھے، اور يہ ايسى چيز ہے جس كا كوئى بھى انكار نہيں كر سكتا اور كوئى بھى روك نہيں سكتا، بلكہ ممانعت و برائى تو اس ميں ہے جو جاہليت كے امور بطور وراثت لے كر اپنائے جائيں جن سے اسلام نے منع كر ديا ہو.
بخارى و مسلم ميں عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس نے بھى رخسار پيٹے اور گريبان چاك كيا اور جاہليت كى آوازيں لگائيں وہ ہم ميں سے نہيں "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1294 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 103 ).
چنانچہ يوم عاشوراء كے دن شيعہ حضرات جو غلط كام كرتے ہيں اس كى دين اسلام ميں كوئى دليل نہيں ملتى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ ميں سے كسى ايك كو بھى اس كى تعليم نہيں دى، اور نہ ہى كسى صحابى يا كسى دوسرے كى موت پر ايسے اعمال كيے، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت پر صحابہ كرام نے بھى ايسا نہيں حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كى مصيبت تو حسين رضى اللہ تعالى كى موت سے بھى زيادہ ہے.
حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ہر مسلمان كو چاہيے كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے پر غمزدہ ہونا چاہيے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ مسلمانوں كے سردار اور علماء صحابہ كرام ميں سے تھے اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے نواسے اور آپ كى اس بيٹى كى اولاد ميں سے جو سب بيٹيوں سے افضل تھى، اور پھر حسين رضى اللہ تعالى عنہ عابد و زاہد اور سخى و شجاعت و بہادرى كا وصف ركھتے تھے.
ليكن شيعہ حضرات جو كچھ كرتے ہيں اور جزع و فزع اور غم كا اظہار جس ميں اكثر طور پر تصنع و بناوٹ اور رياء ہوتى ہے ان كا يہ عمل اچھا نہيں، حالانكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ تو حسين سے افضل تھے انہيں شہيد كيا گيا ليكن وہ اس كے قتل ہونے پر ماتم نہيں كرتے جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے والے دن ماتم كرتے ہيں.
كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے والد على رضى اللہ تعالى عنہ كو چاليس ہجرى سترہ رمضان المبارك جمعہ كے روز اس وقت قتل كيا گيا جب وہ نماز فجر كى ادائيگى كے ليے جا رہے تھے، اور اسى طرح اہل سنت كے ہاں عثمان رضى اللہ تعالى عنہ على رضى اللہ تعالى عنہ سے افضل ہيں انہيں محاصرہ كر كے ان كے گھر ميں چھتيس ہجرى ماہ ذوالحجہ كے ايام تشريق ميں شہيد كيا گيا، اور انہيں رگ رگ كاٹ كر ذبح كيا گيا، ليكن لوگوں نے ان كے قتل كے دن كو ماتم نہيں بنايا.
اور اسى طرح عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ جو كہ عثمان اور على رضى اللہ تعالى عنہما سے افضل ہيں انہيں نماز فجر پڑھاتے ہوئے محراب ميں قرآن مجيد كى تلاوت كرتے ہوئے شہيد كيا گيا ليكن لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم كا دن نہيں بنايا.
اور اسى طرح ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ ان سے افضل تھے اور لوگوں نے ان كى موت كے دن كو ماتم والا دن نہيں بنايا، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو دنيا و آخرت ميں اولاد آدم كے سردار ہيں آپ كو بھى اسى طرح قبض كيا گيا اور فوت كيا گيا جس طرح پہلے انبياء كو فوت كيا گيا، ليكن كسى ايك نے بھى ان كى موت كو ماتم نہيں بنايا، اور وہ ان رافضى جاہلوں كى طرح كريں جس طرح وہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كے قتل ہونے كے دن خرافات كرتے ہيں...
اس طرح كى مصيبتوں كے وقت سب سے بہتر وہى عمل ہے جو حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے انہوں نے اپنے نانا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جس كسى مسلمان كو بھى كوئى مصيبت پہنچى ہو اور وہ مصيبت ياد آئے چاہے وہ پرانى ہى ہو چكى ہو تو وہ نئے سرے سے دوبارہ انا للہ و انا اليہ راجعون پڑھے تو اللہ تعالى اسے اس مصيبت كے پہنچنے والے دن جتنا ہى اجر و ثواب عطا كرتا ہے "
اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے " انتہى
ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 221 ).
اور ايك مقام پر لكھتے ہيں:
" چوتھى صدى ہجرى كے آس پاس بنو بويہ كے دور حكومت ميں رافضى شيعہ حضرات اسراف كا شكار ہوئے اور بغداد وغيرہ ميں يوم عاشوراء كے موقع پر ڈھول پيٹے جاتے اور راستوں اور بازاروں ميں ريت وغيرہ پھيلا دى جاتى اور دكانوں پر ٹاٹ لٹكا ديے جاتے، اور لوگ غم و حزن كا اظہار كرتے اور روتے، اور ان ميں سے اكثر لوگ اس رات پانى نہيں پيتے تھے تا كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى موافقت ہو؛ كيونكہ وہ پياسے قتل ہوئے تھے.
پھر عورتيں چہرے ننگے كر كے نكلتيں اور اپنے رخسار پيٹتيں اور سينہ كوبى كرتيں ہوئى بازاروں سے ننگے پاؤں گزرتيں اور اسكے علاوہ بھى كئى ايك قبيح قسم كى بدعات اور شنيع خواہشات اور اپنى جانب سے ايجاد كردہ تباہ كن اعمال كرتے، اور اس سے وہ حكومت بنو اميہ كو برا قرار ديتے كيونكہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ ان كے دور حكومت ميں قتل ہوئے تھے.
ليكن اہل شام كے نواصب نے شيعہ و رافضيوں كے برعكس كام كيا، وہ يوم عاشوراء ميں دانے پكا كر تقسيم كرتے اور غسل كر كے خوشبو لگا كر بہترين قسم كا لباس زيب تن كرتے اور اس دن كو تہوار اور عيد بنا ليتے اور مختلف قسم كے كھانے تيار كر كے خوشى و سرور كا اظہار كرتے، ان كا مقصد رافضيوں كى مخالفت اور ان سے عناد ظاہر كرنا تھا " انتہى
ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 8 / 220 ).
جس طرح اس دن ماتم كرنا بدعت ہے اسى طرح اس دن خوشى و سرور ظاہر كرنا اور جشن منانا بھى بدعت ہے، اسى ليے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سبب ميں شيطان نے لوگوں ميں دو قسم كى بدعات ايجاد كروائيں ايك تو يوم عاشوراء كے دن ماتم كرنا اور غم و حزن كا اظہار اور سينہ كوبى كرنا اور مرثيے پڑھنا... اور دوسرى بدعت خوشى و سرور كا اظہار كرنا...
ان لوگوں نے غم و حزن اور ماتم ايجاد كيا اور دوسروں نے اس كے مقابلہ ميں خوشى و سرور كى ايجاد كى اور اس طرح وہ يوم عاشوراء كو سرمہ ڈالنااور غسل كرنا اور اہل و عيال كو زيادہ كھلانا پلانا اور عادت سے ہٹ كر انواع و اقسام كے كھانا تياركرنا جيسى بدعت ايجاد كر لى، اور ہر بدعت گمراہى ہے آئمہ اربعہ وغيرہ دوسرے مسلمان علماء نے نہ تو اسے اور نہ ہى اس كو مستحب قرار ديا ہے " انتہى
ماخوذ از: منھاج السنۃ ( 4 / 554 ) مختصرا
يہاں اس پر متنبہ رہنا چاہيے كہ ان غلط قسم كے اعمال كى پشت پناہى دشمنان اسلام كرتے ہيں تا كہ وہ اپنے گندے مقاصد تك پہنچ سكيں اور اسلام اور مسلمانوں كى صورت كو مسخ كركے دنيا ميں پيش كريں، اسى سلسلہ ميں موسى الموسوى اپنى كتاب " الشيعۃ و التصحيح " ميں لكھتے ہيں:
" ليكن اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ حسين رضى اللہ تعالى عنہ كى شہادت كے سوگ ميں دس محرم كے دن سينہ كوبى كرنا اور سروں پر تلواريں مار كر سر زخمى كرنا اور زنجير زنى كرنا ہندوستان سے انگريز دور حكومت كے وقت ايران اور عراق ميں داخل ہوا، اور انگريزوں نے شيعہ كى جہالت اور امام حسين رضى اللہ تعالى عنہ سے محبت كو موقع غنيمت جانتے ہوئے انہيں سروں پر بيرنگ مارنے كى تعليم دى، حتى كہ ابھى قريب تك طہران اور بغداد ميں برطانوى سفارت خانے ان حسينى قافلوں كى مالى مدد كيا كرتے تھے جو اس دن سڑكوں پر نكالنے جاتے، اس كے پيچھے غرض صرف سياسى اور انگريزى استعمار و غلبہ تھا تا كہ وہ اس كو بڑھا كر اس كى آبيارى كريں، اور اس سے بھى بڑھ كر يہ كہ وہ اپنے معاشرے اور آزاد ميڈيا كے سامنے ايك معقول بہانا مہيا كرنا چاہتے تھے جو برطانيہ كا ہندوستان اور دوسرے اسلامى ملكوں ميں قبضہ كى مخالفت كرتے تھے.
اور وہ يہ ظاہر كرنا چاہتے تھے كہ ان ممالك ميں بسنے والے وحشى ہيں جو تربيت كے محتاج ہيں كہ انہيں جہالت اور وحشيوں كى وادى سے نكال كر ترقى يافتہ معاشرہ بنايا جائے، اس طرح يورپى اور انگريزي روزناموں اور ميگزينوں ميں تصاوير شائع كى جاتيں كہ ہزاروں افراد كے قافلے عاشوراء كے موقع پر زنجير زنى سے ماتم كر كے بازاروں ميں گھوم رہے ہيں اور سروں پر تلوار اور بيرنگ سے خون نكالا گيا ہے.
اس طرح يہ استعمارى تھنك ٹينك ان ممالك ميں قبضہ اور استعمار كو ايك انسانى واجب بنا كر پيش كرتے، اور كہتے كہ ان ممالك كى يہ ثقافت ہے اس ليے اسے ترقى كى ضرورت ہے اور كہا جاتا ہے كہ انگريز قبضہ كے وقت عراق كے وزير اعظم " ياسين ہاشمى " نے جب لندن كا دورہ كيا اور انگريزوں سے وائسرائے كے نظام كو ختم كرنے كا كہا تو انگريز كہنا لگا: ہم عراق ميں عراقى لوگوں كى مدد كے ليے ہيں تا كہ وہ سعادت حاصل كريں اور بربريت سے نكلنے كى نعمت حاصل كر سكيں تو اس بات سے " ياسين ہاشمى " غصہ ميں آيا اور ناراض ہو كر مذاكرات كے كمرہ سے نكل آيا، ليكن انگريز نے بڑى چالاكى دكھاتے ہوئے اس سے معذرت كى اور بڑے احترام سے اسے عراق كے متعلق ايك فلم ديكھنے كى درخواست كى جس ميں حسينى قافلے نجف و كربلاء اور كاظميہ كى سڑكوں پر سينہ كوبى اور زنجير زنى كرتے ہوئے دكھايا گيا تھا، گويا كہ انگريز اسے يہ كہنا چاہتے تھے: كيا يہ قوم اتنى ہى گرى ہوئى ہے جس ميں ذرا بھى ترقى كى رمق نہيں جو اپنے ساتھ يہ سلوك كر رہى ہے ؟! " انتہى
واللہ اعلم . | <urn:uuid:19610416-ddc7-4d40-a9fa-ff74017d6421> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/101268 | 2014-04-23T15:32:13Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223202774.3/warc/CC-MAIN-20140423032002-00540-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.944191 | Arab | 127 | {} |
دولت موحدین
|یہ مضامین خلافت پر مبنی ہیں|
|خلافت|
|باب اسلام|
فہرست
ابن تومرت[ترمیم]
مکمل مضمون کے لئے محمد بن تومرت
اس تحریک کا مقصد سماجی و اخلاقی اصلاح تھا۔ وہ جہاں کہیں شریعت کے خلاف کوئی حرکت دیکھتے تو اس پر ٹوکتے۔ انہوں نے مسلمانوں میں پھیلنے والی شراب نوشی اور بے پردگی سمیت دیگر برائیوں کے خاتمے کے لئے بھرپور جدوجہد شروع کی۔
ان کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت دیکھ کر مرابطین کی حکومت کو خطرہ پیدا ہوا اور ان کو مراکش سے جلا وطن کردیا۔ وہ دوسرے شہر اغمات آگئے لیکن یہاں سے بھی انہیں جلا وطن کردیا گیا۔ اب وہ اپنے وطن ہرغہ چلے گئے جو کوہ اطلس میں واقع تھا۔ یہاں کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں ان کی دعوت کی دعوت قبول کی۔ انہوں نے فوجی تربیت بھی حاصل کی اور مذہبی تعلیم بھی۔ اب مرابطین کی فوج یہاں بھی آگئی اور بستی کا محاصرہ کرلیا لیکن اب ابن تومرت کے ساتھی، جن کو موحدین کہا جاتا ہے، مقابلہ کرنے کے قابل ہوگئے تھے اس لئے بڑی سخت لڑائی ہوئی اور سرکاری فوج کو شکست ہوئی۔
اس کے بعد موحدین اور مرابطین میں لڑائیوں کا سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ 524ھ میں ابن تومرت کا انتقال ہوگیا اور ان کے ایک ساتھی عبدالمومن کو جماعت موحدین کا امیر منتخب کرلیا گیا۔
عبدالمومن[ترمیم]
مکمل مضمون کےلئے عبدالمومن
عبدالمومن کے زمانے میں موحدین نے بڑی قوت حاصل کی انہوں نے 1147ء میں مراکش پر قبضہ کرکے مرابطین کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد عبدالمومن نے ایک فوج اندلس بھیجی جس نے مرابطین کی حکومت وہاں سے بھی ختم کردی۔ اب عبدالمومن نے مشرق کا رخ کیا اور طرابلس تک اپنی سلطنت کو وسعت دے دی۔ اس زمانے میں طرابلس، تیونس اور مہدیہ (جو اس وقت افریقیا کہلاتا تھا) پر نارمن عیسائی قوم قابض تھی۔ لیکن جس طرح مشرق میں نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نے مسیحی حکومت کا خاتمہ کیا اسی طرح عبدالمومن نے تیونس اور طرابلس فتح کرکے مغرب میں عیسائی اقتدار کا خاتمہ کردیا۔ مرابطین اور موحدین کی لڑائیوں کے زمانے میں اندلس میں مسیحی پھر زور پکڑ گئے تھے۔ عبدالمومن نے اندلس میں بھی ان کی پیش قدمی روکی۔
عبدالمومن نور الدین زنگی کا ہمعصر تھا اور اس کا مسلمانوں پر اتنا ہی احسان ہے جتنا نور الدین اور اس کے جانشین صلاح الدین کا ہے۔ عبدالمومن نے جتنی وسیع حکومت قائم کی اتنی بڑی حکومت شمالی افریقہ کے کسی مسلمان نے اب تک قائم نہیں کی تھی اور نہ اس کے بعد پھر اتنی بڑی حکومت قائم ہوئی۔
عبدالمومن تاریخ اسلام کا بہت بڑا حکمران ہے۔ وہ ایک معمولی انسان تھا اس نے اپنی قابلیت سے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ وہ شریعت کا بڑا پابند تھا اور اس نے اس کی کوشش کی کہ قرآن اور سنت کے مطابق حکومت کی جائے۔ وہ علم و فن کا بھی بڑا سرپرست تھا اور اس دور کے مشہور فلسفی ابن طفیل (متوفی 1185ء) اور اس عہد کے سب سے بڑے طبیب عبدالملک ابن زہر اس کے دربار سے وابستہ تھے۔
یوسف بن عبدالمومن[ترمیم]
عبدالمومن کے بعد موحدین کی جماعت نے اس کے بیٹے یوسف کو امیر منتخب کیا۔ یوسف نے 22 سال تک بڑی قابلیت سے حکومت کی۔ اندلس کے شہر اشبیلیہ کو بڑی ترقی کی۔ یوسف اموی خلیفہ الحکم کی طرح علم و ادب کا شوقین تھا۔ اس نے مراکش میں جو کتب خانہ قائم کیا تھا اس میں چار لاکھ کتابیں تھیں۔
یعقوب المنصور[ترمیم]
مکمل مضمون کے لئے ابو یوسف یعقوب المنصور
موحدین میں سب سے مشہور حکمران یوسف کا بیٹا یعقوب المنصور تھا۔ یعقوب کو سب سے زیادہ شہرت اس فتح کی وجہ سے ملی جو اس نے شمالی اندلس کے عیسائی حکمران الفانسو پر جنگ ارک میں حاصل کی۔
یعقوب کی زندگی عام بادشاہوں کی طرح نہیں تھی بلکہ وہ سادہ زندگی گذارتا، معمولی کپڑے پہنچا، پانچوں وقت کی نماز عام مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرتا تھا۔ وہ ایک انصاف پسند حکمران تھا۔
یعقوب کو عمارتیں بنانے کا بھی بہت شوق تھا۔ اس کے عہد میں ایسی عمارتیں بنائی گئیں کہ اس کی نظیر شمالی افریقہ کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔ ان میں سب سے شاندار عمارت مراکش کی جامع کتبیہ ہے۔ اس مسجد کا مینار ساڑھے تین سو فٹ اونچا ہے۔
یعقوب نے اشبیلیہ کی مسجد میں بھی مینار کا اضافہ کیا۔ یہ مینار آج کل جیرالڈا کہلاتا ہے۔ اس کی بلند بھی تقریباً 320 فٹ ہے اور یہ دنیا کے خوبصورت ترین میناروں میں شمار ہوتا ہے۔
امیر یعقوب سلطان صلاح الدین ایوبی کا ہمعصر تھا اور اس زمانے میں ساری دنیا میں سوائے سلطان صلاح الدین کے کوئی اور حکمران ان خوبیوں میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔
یہ اچھا حکمران 595ھ میں 15 سال حکومت کرنے کے بعد اپنے خدا سے جا ملا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 40 سال تھی۔
دور زوال کے حکمران[ترمیم]
یعقوب کے بعد اس کا بیٹا محمد الناصر تخت پر بیٹھا۔ اس کا عہد بھی بڑی خوشحالی کا زمانہ تھا لیکن اس کو 609ھ میں اندلس میں معرکہ العقاب میں عیسائیوں کے مقابلے میں ایسی شکست ہوئی کہ موحدین کا زور ٹوٹ گیا۔ اگلے سال الناصر کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد موحدین کا زوال شروع ہوگیا۔ 1237ء میں بلنسیہ میں اور 1248ء میں اشبیلیہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اندلس کا بڑا حصہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ خود مراکش میں 667ھ میں خاندان بنو مرین نے موحدین کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔
خلفائے موحدین[ترمیم]
- عبدالمومن 1145ء تا 1163ء
- ابو یعقوب یوسف 1163ء تا 1184ء
- یعقوب المنصور 1184ء تا 1199ء
- محمد الناصر 1199ء تا 1213ء
- یوسف مستنصر 1213ء تا 1224ء
- عبدالواحد اول 1224ء
- عبداللہ 1224 تا 1227ء
- یحییٰ 1227ء تا 1235ء
- ادریس اول 1227ء تا 1232ء
- عبدالواحد ثانی 1232ء تا 1242ء
- علی 1242ء تا 1248ء
- عمر 1248ء تا 1266ء
- ادریس ثانی 1266ء تا 1269ء
مزید دیکھیے[ترمیم]
|ویکیمیڈیا العام میں دولت موحدین سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔|
| <urn:uuid:a704f438-2532-490a-a4af-303ba94cb6cf> | CC-MAIN-2014-15 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA_%D9%85%D9%88%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D9%86 | 2014-04-23T15:03:53Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223202774.3/warc/CC-MAIN-20140423032002-00540-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.976174 | Arab | 87 | {} |
In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.
Muslims who believe in the Messiah, Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as)
Q1 @ 2:20
Q2 @ 8:20
رمضان کے روزوں کی جو نیت کے الفاظ آتے وہ کہاں سے آئے اور ان کی کیا حقیقت ہے؟
Q3 @ 12:53
کیا قربانی کا جانور غیر مسلم قصاب سے ذبح کرویا جاسکتا ہے؟
Q4 @ 16:17
نماز جمع ہونے کی صورت میں سنتیں ادا نہیں کی جاتیں۔ کیا اگر مسجد میں عشأ کی نماز ہورہی ہو اور اس سے قبل انسان اپنے رہ جانے والی مغرب کی نماز ادا کرے تو کیا ایسی صورت میں بھی سنتیں معاف ہونگیں؟
Q5 @ 18:55
اگر گھر میں صرف میاں بیوی نماز پڑھ رہے ہوں تو کیا اُن کو اذان اور اقامت کہنی چاہئیے؟
Q6 @ 23:12
کیا رمضان کے علاوہ باقی ایّام میں بھی وتر باجماعت ادا کیے جاسکتے ہیں؟
اگر مسجد میں عشأ کی نماز ہورہی ہو لیکن انسان ابھی اپنی مغرب کی نماز پڑھنی ہو تو کیا مغرب کی نماز جلدی پڑھنی چاہئیے تاکہ باجماعت نماز میں شامل ہوجائے یا آرام سے اپنی نماز پڑھے اور جب بھی عشأ کی نماز میں شامل ہوسکے ہوجائے؟ | <urn:uuid:18f13fe6-8a0d-40f6-ac31-6d40ebde4fa4> | CC-MAIN-2014-15 | http://www.alislam.org/v/6884.html | 2014-04-24T22:09:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223206770.7/warc/CC-MAIN-20140423032006-00572-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.96662 | Arab | 38 | {} |
جزائر فاکلینڈ جنوبی بحر اوقیانوس میں ارجنٹائن کے ساحل سے 480 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک مجموعہ جزائر ہے۔ مجموعہ میں دو بڑے جزیرے، مشرقی فاکلینڈ اور مغربی فاکلینڈ اور 776 چھوٹے جزیرے شامل ہیں۔ رقبہ 12,000 مربع کلومیٹر سے زائد جبکہ آبادی صرف 3,000 کے لگ بھگ ہے۔
یہ جزائر برطانیہ کے زیر انتظام ہیں لیکن ارجنٹائن ان پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس تنازع کے باعث ارجنٹائن اور برطانیہ کے مابین 1982ء میں ایک جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں ارجنٹائن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
جزائر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ گلہ بانی پر منحصر ہے جو کہ یہاں کا تاریخی پیشہ بھی ہے۔ یہ علاقہ بھیڑوں کی افزائش کے لیے مشہور ہے اور یہاں پر اندازاً 5 لاکھ بھیڑیں موجود ہیں۔ 1984ء کے بعد سے معیشت میں تنوع لانے کے لیے ماہی گیری کی صنعت کو بھی فروغ دیا گیا ہے اور اب یہ صنعت معیشت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ سیاحت بھی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ | <urn:uuid:2a09243d-a104-4127-9321-52b1fc139b8a> | CC-MAIN-2014-15 | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%B1_%D9%81%D8%A7%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%86%DA%88 | 2014-04-23T20:03:50Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223203422.8/warc/CC-MAIN-20140423032003-00212-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.997125 | Arab | 46 | {} |
برطانوی فوجیوں نے جرمنی میں برجن بیلسن حراستی کیمپ کو اپریل 1945 میں آزاد کرایا۔ ان لوگوں نے اپنے فوجیوں کے بیانات کی فلم بندی کی۔ برطانوی فوج کی اس فوٹیج میں برطانوی فوجی ٹی۔ جے۔ اسٹریچ کیمپ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کر رہا ہے۔
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:830a2f7a-3036-4659-bbf2-5fc86093e871> | CC-MAIN-2014-15 | http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_fi.php?ModuleId=10005151&MediaId=66 | 2014-04-20T08:38:01Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609538110.1/warc/CC-MAIN-20140416005218-00164-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.927872 | Arab | 58 | {} |
ورژن 0.9.5 کچھ عرصہ قبل تک نہیں جاری کیا گیا تھا, اور مکمل ورژن 0.9.5.1 اس کے ساتھ ساتھ جاری کیا گیا تھا. تم اپنے آپ پوچھ سکتے ہیں, میں اپنے ورڈپریس ڈیش بورڈ میں اپ ڈیٹس کے لئے دیکھ رہا ہوں اور میں کچھ بھی نظر نہیں آتا, کس طرح آتا ہے?
یہ عین مطابق وجہ ہے 0.9.5 زندگی میں آئے, ورڈپریس کی طرف سے اپ گریڈ API میں بنا ایک تبدیلی سے متعلق ایک اہم مسئلے سے تھا 3.8 تمام اپ ڈیٹس بلاک سے Transposh جس (اس کے اپنے بھی شامل) ڈیش بورڈ سے.
سو, کیا کرنا ہے?
ڈاؤن لوڈ، اتارنا مکمل ورژن پر اپ گریڈ کرنے کے لئے, چند اختیارات ہیں:
- موجودہ سے Transposh پلگ ان کو غیر فعال, اپ ڈیٹس کے لئے چیک کریں, ورژن کی تازہ کاری 0.9.5 wordpress.org سے, پلگ ان کو چالو کرنے کے, نشان “مکمل ورژن پر اپ ڈیٹ کی اجازت” اور پھر اپ ڈیٹ
- پلگ ان کے آپ کے موجودہ ورژن کو خارج کر دیں اور wordpress.org سے ورژن انسٹال کریں اور اپ ڈیٹ کے طریقہ کار پر عمل
- دستی طور پر تازہ ترین ورژن ڈاؤن لوڈ، اتارنا اور صرف آپ کے سرور پر فائلوں کو تبدیل.
ہم اس قسم کی تکلیف کے بارے میں افسوس ہے
اور کیا نیا ہے?
مزید زبانوں گوگل کے انجن میں شامل کیا گیا, کل تعداد کو تبدیل کرنے کے 82 سہولت زبانوں!
کس کے بارے میں 0.9.4?
یہ ایک خوبصورت ورژن تھا, گوگل پراکسی کی حمایت کے ساتھ فکسڈ مسائل, ہم بھی اس کے بارے میں ایک مکمل پوسٹ لکھی ہے چاہئے, تو 0.9.4, ہماری معافی قبول کریں
نئے ورژن کا لطف اٹھائیں, اور کسی بھی مسائل کے بارے میں ہمیں مطلع کرنے میں سنکوچ نہیں کرتے
jaani check kar yaar, یہ ویڈیو دیکھنے یا مندرجہ ذیل ہدایات پڑھیں براہ مہربانی.
اگر آپ انہیں واپس حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے?
صرف مندرجہ ذیل ہدایات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل ورژن پر اپ گریڈ:
- wordpress.org سے جدید ترین ورژن پر اپ ڈیٹ کریں (گزشتہ ہو جائے گا جو, وہاں)
- چیک کریں “مکمل ورژن پر اپ گریڈ کرنے کی اجازت دیتے ہیں” کی ترتیبات میں
- اپ گریڈ کے لئے چیک کریں اور اپ گریڈ انجام دینے کے, کہ ہے!
ورژن میں نیا کیا ہے 0.9.3:
- اپ ڈیٹ کریں ہماری ویب سائٹ سے کام کریں گے
- کچھ بگ کی اصلاحات
- ہمیشہ فائدہ مند نہیں تھا جس rel = متبادل دور کرنے کے لئے کی صلاحیت
- (0.9.3.1) ہم نے گوگل کی طرف سے کی حمایت کی نئی زبانیں شامل کرنے کی ایک ذیلی ورژن جاری کر دیا ہے, ہماری مجموعی شمار بنانے – 73! (یہاں کوئی Hmong بولتا ہے تو, براہ مہربانی ہم سے رابطہ)
We hope you’ll enjoy this version.
چار سال ورڈپریس مخزن جانے کے بعد, اور 189,795 بعد میں ڈاؤن لوڈ, سے Transposh wordpress.org مخزن چھوڑ جائے گا.
ظاہر ہے, یہ سب وقت ہمارے ویجیٹ ہماری ویب سائٹ پر ایک لنک تھا, اور اسے دور کرنے کے لئے یہ ممکن تھا اگرچہ, اس wordpress.org ہدایات کے خلاف تھا.
ہم یہ قبول نہیں کر سکتا کہ ایک راہنمائی ہے, ہم اپنے کام کے لئے کریڈٹ کے مستحق ہیں یقین ہے کہ. ٹویٹر سے کم نہیں, فیس بک, یا کسی بھی دوسرے معروف کمپنی وہاں تیسری پارٹی فراہم کرنے کی بارے چیزیں.
ہم نے بھی ہمارے پلگ نوٹس کے بغیر ہٹا دیا جائے گا اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکتے ہیں, اور تبدیلیاں کرنے کے لئے کسی بھی وقت بغیر, باہر نیلے رنگ کے.
منتظمین انہیں پسند نہیں کرتے کیونکہ ہم پلگ ان فورم پر پوسٹ کرنے والے پیغامات صرف ہٹا دیا جائے گا کہ اس کو قبول نہیں کر سکتے ہیں, یا وہ خود پیدا کیا ہے کہ وہ قواعد کے خلاف ہیں کہ فیصلہ. وہ نظر ثانی کرنے کے لئے نہیں چاہتے کے قوائد و ضوابط.
انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہیں, سب کے بعد, اس کی ان کی میزبانی اور ان کے قوانین. کہ نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں, خوش قسمتی سے کافی ہم ان کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں.
اگر آپ کی شکایت کرنا چاہتے ہیں تو, یہاں شکایت نہ کرنا, فورم پر کوشش کریں اور شکایت, لیکن میرا اندازہ آپ کو معتدل کیا جائے گا یہ ہے کہ, wordpress.org ایک جمہوری ملک نہیں ہے, اور نہ ہی یہ GPL کے مطابق ویب سائٹ ہے, سب کچھ مفت وہاں ہونا ضروری ہے, لاگت میں, اور تقریر میں, کہ آپ کو صرف ایک پرو ورژن پر فروغ کے طور پر کام ہے کہ معذور پلگ ان کے ٹن ملا وجہ ہے. یہ وہ ہم سے Transposh کے ساتھ کیا تجویز پیش کی کہ کیا بھی ہے. اور ہم اسے پسند نہیں کرتا, ایک سا نہیں.
ایک اگلے ورژن کبھی بھی اس سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا تو, یہ ایک معذور ورژن ہو جائے گا, (یہاں پر کسی لنک کے بغیر, اس بات کا یقین کے لئے) اور نہ سب سے زیادہ استعمال کے قابل ورژن. تازہ ترین ورژن (معذور نہیں) پر یہاں کی خدمت کی جائے گی پیج ڈاؤن لوڈ،. جس میں اب ہم ایک اپ ڈیٹ کے طریقہ کار کو شامل کرنا پڑے گا کے لئے.
یہاں تبصرے میں اس بارے میں بات کرنے کے لئے بلا جھجھک.
اتنی دیر wordpress.org, اور تمام مچھلی کے لئے شکریہ.
جی ہاں, ورڈپریس کے لئے سے Transposh کا پہلا ورژن جاری کیا گیا تھا کے بعد سے اس کے چار سال ختم ہو گیا تھا. اور یقینا, ہم نے ایک بہت طویل سفر طے کیا ہے.
سے Transposh سب سے زیادہ ویب سائٹس کے ہزاروں کی طرف سے استعمال کیا جا رہا ہے, اور ہم بہت خوش صارفین ہے (اور کچھ کم خوش لوگ ).
اس ورژن میں, 0.9.2, ہم اب تک حاصل کرنے کی توقع کیا واقعی نہیں ہے, چار سال کے بعد ہمیں توقع ہے کہ ایک ورژن ایک (ہو سکتا ہے یہاں تک کہ دو) پہلے ہی جاری کر دیا گیا ہے گا. لیکن بظاہر, یہ آپ کو کی منصوبہ بندی کے طور پر زندگی آگے بڑھنے کے شاذ و نادر ہی ہوتا ہے.
یہ خطوط کے عنوان اصل میں ہمارے تجزیہ کار کے ایک نئے رویے سے مراد, ہم نے ایک تصادم کے لئے استعمال کیا جب (ایک غیر توڑنے کی جگہ ہونا چاہئے جس میں) ہم اصل میں دو حصوں میں جملے توڑ دیا, جس کی بجائے چیزوں کو ہونا چاہیے جو عین مطابق برعکس ہے. تو امید ہے کہ اب یہ طے ہو گئی ہے, اور ہم اب کوئی توڑ دونگا!
دیگر تبدیلیوں میں شامل ہیں:
- Woocommerce انضمام کے لئے بنیادی حمایت
- دیگر پلگ ان یا موضوعات process_page وقت سے پہلے ہی کہا جائے گا کی وجہ سے جب کیس کی جگہ لے لے
- ایک گندی مسئلے سے جب اسی ترجمے کے لئے ایک پیراگراف میں شائع ایک بار سے زیادہ درست
- بنگ دو زبانوں کو شامل کر لیا ہے
- مراسلہ جہاں translate_on_publish کو غیر فعال کر دیا گیا تھا پر dserber disallowing زبان کے انتخاب کی طرف سے مسئلے سے درست کریں
- پو فائلیں. کے لئے اپ ڈیٹ, ترکی کی طرف سے ترجمہ عمر Faruk خان
آپ اس ورژن لطف اندوز ہوں گے! یہ ایک حکم ہے!
پہلے شائع 0.9.1 جو کچھ اچھا بہتری کے ساتھ ایک بہت اچھا ورژن ہے. لیکن ہم اس انتہائی اچھی حرکت پذیری کے لئے انتظار کیا ہے, کئے Fiverr ایک حیرت انگیز animator کی طرف سے, خون کی طرف سے یہاں ٹیم سے متعلق ہوتا ہے
ہم نے ایک اچھا پیدا کیا ہے ویجیٹ گیلری، نگارخانہ صفحہ, صرف جاؤ اور دیکھو!
دیگر تبدیلیوں میں شامل ہیں:
- بہت عام سوالات کے لئے ایڈمن انٹرفیس کے اندر کچھ مدد شامل (چابیاں – نہیں, آپ ڈیفالٹ کے ذریعہ چابی کی ضرورت نہیں ہے)
- jQueryUI ورژن overriden کے کرنے کی اجازت دیں, کئی تنازعات کو حل کرنے کے (پرانے موضوعات, jQuery اور jQueryUI ناچھانٹا ہوا ورژن کے ساتھ اجزاء کے تمام قسم)
- طے کر جب ایک نامناسب راہ میں کچھ بری پلگ ان داخل سی ایس ایس. (یہ دیکھنا ہے کہ کون سی زبانوں selecred گیا تھا کرنے کی صلاحیت کو غیر فعال کر دیا گیا)
- transposh_echo تقریب میں شامل – دیکھنا ہمارے ترقیاتی سائٹ دستاویزات اور استعمال کے لئے
- ویجٹ کے لئے بہتر, shortcodes کے ساتھ آسان شامل کرنے کے, پرانی ڈراپ باکس اصلاحات, شناخت ہٹا دیا
- منتظم رابطہ کارٹون شامل, رابطے آلات پر زبان کا انتخاب کی اجازت دیتا ہے
- کے بعد دریافت معمولی مسائل کے لئے بہتر 0.9.0
کیا آپ کے لئے انتظار کر رہے ہیں? ڈاؤن لوڈ ، اتارنا تازہ ترین اب ورژن!
پر 12/12/12 (کیا ایک خوبصورت تاریخ) میں 20:12 (ایک مناسب وقت). ہم نے ورژن جاری کر دیا ہے 0.9.0 ہمارے پلگ ان کی. اس ورژن میں ہمارے ترتیبات اور انتظامیہ صفحہ کا ایک اہم پنرلیکھن شامل. اوہ بہت سے اختیارات کے ساتھ ایک بہت طویل وقت کے صفحے سے ایک ہوشیار tabbed انٹرفیس پر منتقل.
اس ورژن میں صرف کاسمیٹک نہیں ہے، لیکن یہ بھی ترتیبات نئے اعلی درجے کی ٹیب کی طرف سے دو اہم خصوصیات فعال بھی شامل ہیں:
1. حمایت بگ کی انکلوژن: اب ہم پلگ ان نوشتہ بنانے کی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو بہتر حمایت دینے کے قابل ہو جائے گا, اور ریموٹ بگ کرنے کی اجازت دینے سے.
2. اعلی درجے کی تصریف قوانین: یہ سہولت آپ کو جس طرح سے نصوص ہیں آپ کی ویب سائٹ پر کیا جا رہا ہے کے ترجمے کے لئے ٹوٹ کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے. یہ زیادہ finer granulation کی اجازت دیتا ہے اور آپ کے مخصوص استعمال کیس کے انجن کی فٹنگ.
تاہم – نے خبردار کیا جائے, ان خصوصیات, اگرچہ اچھی طرح جانچ کی جدید اور تجرباتی نشان لگا دیا گیا ہے. ان کا استعمال صرف اس صورت میں جب کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں.
بہت سی دوسری خصوصیات اور بگ اصلاحات شامل ہیں, کہ ان میں سے بہت سے ان کے اپنے پیغام کے قابل, لیکن اب کے لئے, کی اجازت دیتا ہے ختم تبدیلی لاگ ان کریں:
* ایک نئی زبان کا انتخاب select2 کی بنیاد پر آپکے پاس وجٹس (پرچم کے ساتھ بہت اچھا منتخب باکس)
* شامل اگلے / پچھلے بلاکس کے فوری نیویگیشن کے لئے CTRL چابیاں (انٹرفیس کے ساتھ کام کرنے کی رفتار بہتر)
* ایک نیا آپشن جو recommanded ڈیفالٹس ترتیب دینے کی فائل کو دوبارہ ترتیب دے کی اجازت دیتا ہے
* سی ایس ایس بیس بارہ مرکزی خیال، موضوع کے لئے مقرر کرتا ہے
* منتظم صفحات میں subwidgets لوڈنگ سے بچیں
* قابل تدوین اور دیکھا جا سکتا زبانوں کے درمیان ہٹا دیا امتیاز, اب ایک زبان صرف فعال یا غیر فعال ہو سکتا ہے
* jQueriUI کی تازہ کاری ہو رہی ہے پر 1.9.2 (jQuery ہونا چاہئے 1.6+)
* پرانے ڈراپ ڈاؤن انداز کے لئے Z صفحہ بہتر (chemaz ہوئے پیچ)
* یوگمن کے ساتھ مسئلے سے بہتر چینی آسان اور روایتی
* بہت پرانے ورژن سے بگ کی روک تھام کی اپ گریڈ کی درست
* نوٹس دبانے جب ویجٹ ہمارے تقریب کے ساتھ براہ راست بنائے گئے ہیں
* پہلے سے طے شدہ زبان میں یو آر ایل کو دوبارہ لکھ سے بچیں, بنیادی طور پر اثر canonicals
* ہمارے سکرپٹ کی ضرورت ہے جب آپکے پاس وجٹس پہلے سے طے شدہ زبان کے قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے ہے
* آخر MSN ترجمہ اور CR / LF کے ساتھ مسئلہ حل
ابتدائی رہائی کے بعد کے دنوں میں, تین کیڑے ہے بے نقاب کی جا چکی ہے اور مقرر کیا جا چکا ہے, اگر کچھ آسان نہیں کام کر رہا ہے, آپ کی فائلوں کو تازہ کرنے کے لئے اس بات کا یقین.
فائدہ اٹھا لے ، اس ورژن!
ٹھیک ہے, گوگل صرف ان کے ترجمہ کا بلاگ پر اعلان کیا ہے کہ وہ یہاں کلک کریں کی حمایت کریں گے, لاؤس کی سرکاری زبان, تو ہم نے کہا کوڈ کی ضرورت ہے اور اس زبان کی حمایت کے ساتھ ایک فوری رہائی کیا, جس نے بھی کی طرف سے حمایت کی ہے ایک گھنٹہ ترجمہ.
ورژن پہلے سے ہی ہے لیکن کچھ دنوں کے لیے اس اشاعت کو حاصل کرنے کے ساتھ اصل مسئلہ براہ راست ایک تصویر کی تلاش کر رہا تھا. ہم نہیں ہیں بالکل اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ سب سے زیادہ مناسب تصویر ہے, لیکن کم از کم rhymes.
اس نئے ورژن کا لطف اٹھائیں.
ہم بہت فخر ہے ہمارے پلگ ان کی اس کی رہائی کو پیش کرنے کے.
اس ورژن میں, معمول اضافہ اور بگ اصلاحات کے علاوہ میں, آخر میں کے ساتھ ایک بنیادی انضمام کے ساتھ پیشہ ورانہ انسانی ترجمہ ضم OneHourTranslation.com پیشہ ورانہ ترجمہ کی خدمت.
جس طرح سے یہ کام میں مندرجہ ذیل ہے:
- دیکھیں OneHourTranslaion.com اور ایک اکاؤنٹ تشکیل
- اکاؤنٹ پیدا تفصیلات کا استعمال کریں اور انہیں Transposh ترتیبات کے صفحے پر داخل
- ترجمہ انٹرفیس کا استعمال کرتے ہوئے جب, ایک منتظم (اور صرف ایک منتظم) ایک نظر “ایک گھنٹہ ترجمہ قطار” بٹن
- اس بٹن کو دبانے سے ایک قطار میں جملہ کا اضافہ کریں گے, دوسرے کلک آئٹم dequeue گا
- 10 آخری جملے کے بعد منٹ سے شامل کر دی گئی ترجمہ منصوبہ ایک گھنٹے ترجمہ جائے گا
- یہ ایک گھنٹے کے دو (یا اپنے تجربے سے کم) اور ترجمہ آپ کی ویب سائٹ پر دکھایا جائے گا
- ہر کوئی خوش ہے اور آپ نے واقعی Transposh منصوبے کی حمایت کی ہے (Yay!)
یہ بلکہ ہے, اگر ایسا ہے تو مرفی ہلاک, صرف ہم سے رابطہ ہم کرتے ہیں اور جو کچھ بھی ہم کر سکتے ہیں چیزیں کام کریں گے.
اب, اس کی رہائی کے باقی کے لئے:
- سواہیلی فکسڈ تنزانیہ پرچم کے طور پر ایڈ اردن کی طرف سے بیان کیا گیا ہے
- اصلاحات کی بہت خدمت کے بیک اپ
- ایک تجزیہ کار بگ کے لئے درست کریں جب ایک منتخب عنصر کے بعد پہلے سے طے شدہ زبان میں ترجمہ
- فکسڈ کی رپورٹ کے XSS Infern0_ (بڑا شکریہ!)
- پروگرامرز کے لیے: ایک عالمی تقریب میں شامل موجودہ زبان واپس “
transposh_get_current_language()“
- طرح Lybia ایک نیا پرچم بھی ہے لگتا ہے
- فکسڈ آپکے پاس وجٹس ایک الٹا سلیش پر مشتمل ہو، تاکہ ہم W3C کی توثیق کے پاس آئے گا شناخت
- jQueryUI اپ ڈیٹ 1.8.23 jQuery کے ساتھ تنازعات سے بچنے کے لئے 1.8 کچھ موضوعات کی طرف سے استعمال کیا جاتا
- پرتگالی (برازیل) کی طرف سے ترجمہ Amilton جونیئر
ہمارے آپریٹرز آپ کے تبصرے کا انتظار کر رہے ہیں, اگر آپ کو ایک مصروف سگنل مل جائے, ہمیں دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں!
تخلیھ. یہ بہت پہلے گزر چکے ہیں ورژن ہے 1,000 روزانہ ڈاؤن لوڈ, ہم نے دین ہیں.
اس ورژن میں کچھ کیڑے ٹھیک کرتا ہے اور ایک اچھا shortcode ہے کہ آپ پیغام کے اندر ویجیٹ رکھنے کی اجازت دیتا ہے کے لئے حمایت کا اضافہ کر دیتی ہے
مثال کے طور پر, اس:
[tp widget="flags/tpw_flags_css.php"]
ظاہر کرے گا:
یہ تین سال کر دیا گیا ہے (تین دن اور, تین تیس گھنٹے اور) کے بعد سے Transposh پلگ ان کا پہلا ورژن wordpress.org پلگ ان کے ذخیرہ پر نشر کیا گیا ہے.
وقت ضرور گزر جاتاہے۔.
یہ پہلا لیپ سال ہے۔ (29ویں فروری) Transposh کے لئے اور ایک حقیقی لیپ کا سال. پلگ ان ہے پر مخزن سے ڈاؤن لوڈ کیا گیا 50,000 اوقات اس سال اور خصوصیات میں سے ایک مستحکم ترقی اور سہولت زبانوں کی کل تعداد بنا دیا ہے. اور آج Hmong Daw ہم کے علاوہ کے ساتھ سب سے پہلے کل کی تعداد کی حمایت کرنے کے لئے پلگ ان ہیں 66 زبانیں.
یہ ایک بہت دلچسپ تھا (کے طور پر, زندگی کے ایک دلچسپ ہے) خودکار ترجمہ صنعت اور پلگ ان کے لئے سال, گوگل تقریبا جہاں اپنے API حمایت کو گرا دیا گیا ہے (صرف ایک تنخواہ کے ماڈل کے لئے سوئچ کرنے کے لئے) جبکہ بنگ نئے حدود عائد. Transposh کامیابی نے ان تبدیلیوں کو قابو پا لیا ہے, جبکہ دیگر پلگ ان زندہ نہیں رہ سکا.
کیا کا مستقبل Transposh کے لئے رکھتا ہے کرتا ہے? ہم آہستہ آہستہ کچھ نئی چیزیں ابال کر رہے ہیں, ویب سائٹ کا ترجمہ کو بہتر بنانے کے لئے ہمارے وژن پر کام کر رہے ہیں, چیزوں کو جب تیار ہو جائے گا – وہ باہر ہو جائے گا. دریں اثنا, آپ کی مسلسل حمایت ہمارے لئے اہم ہے, کبھی کبھی ایک سادہ کے ساتھ ای میل “آپ کا پلگ ان عظیم ہے” ہمیں چلانے جاری رکھنے کے لئے. لہذا اگر آپ کو یقین ہے کہ ہم اچھا کر رہے ہیں, ہمیں ایک سطر چھوڑ, اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم چیزوں کو بہتر بنانے چاہئے, ہمیں ایک نوٹ چھوڑ, اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم کہ چوستے،, ہم کیوں آپ کو اس نقطہ پر یہ پیغام پڑھا ہے سمجھ کرنے میں ناکام
خود کو ایک عظیم 4th سال خواہاں, شاید یہ ایک بڑا کیک کے ساتھ ختم ہو جائے گا | <urn:uuid:ab1725ed-665e-4db1-be77-2246558233e9> | CC-MAIN-2014-15 | http://transposh.org/ur/ | 2014-04-24T12:14:33Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223206120.9/warc/CC-MAIN-20140423032006-00228-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.990624 | Arab | 631 | {} |
سرطان (عارضہ - مقالہ ثانی)
|جسم کے کسی عضو کے خلیات کا بے لگام ہوجانا ہی سرطان بناتا ہے، اس تصویر میں خلیات کے بےقابو ہونے کی وراثی (genetic) وجہ کا شکلیاتی اظہار دکھایا گیا ہے۔ جب کسی مطفر (mutagen) کے باعث کسی خلیے کے DNA میں کوئی طفرہ (mutation) پیدا ہوجاۓ تو خلیات کا فعلیاتی کام متاثر ہوسکتا ہے اور ایسے خلیات کی تیار شدہ لحمیات (proteins) جسم (خلیے) میں اپنا درست فعل انجام نہیں دے سکتیں جسکے باعث خلیات کے دیگر افعال متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ انکی بے قابو نشونما بھی شروع ہوسکتی ہے اور یہی سرطان ہے۔ بشکریہ این ایل ایم|
|معطیات||28843|
|میڈلائین||001289|
|عنوانات||C04|
- اسی موضوع پر مقالہ دیکھیے بنام کینسر۔
-
- malignancy کی تلاش یہاں لاتی ہے، دیکھیۓ malignant۔
سرطان یا کینسر جاندار کو لاحق ہونے والے ایسے امراض کا مجموعہ ہے جنکا تعلق بنیادی طور پر خلیات سے ہوتا ہے۔ جب جسم کے کچھ خلیات معمول (normal) کی رفتار سے اپنی نشونما جاری نہ رکھ پائیں اور تیزرفتاری سے اپنی تعداد اور جسامت میں اضافہ (grow) کرنا شروع کردیں تو سرطان پیدا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر اس مضمون میں متعدد طبی کتب و جرائد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ [1] [2] [3]
فہرست
تعارف[ترمیم]
معمول کے خلیات کے تقسیم ہونے کی ایک حد ہوتی ہے جس پر پہنچ کر وہ ٹہر جاتے ہیں ، اسکے علاوہ انمیں اپنے آپکو ختم کرلینے کا ایک نظام بھی موجود ہوتا ہے جسکے زریعے ان خلیات کی موت واقع ہوجاتی جن میں DNA میں کوئی طفرہ یا نقص پیدا ہوگئا ہو یا پھر جنکا وقت پورا ہوچکا ہو اس قسم کی خلیات کی موت کو برمجہ خلیاتی موت (programmed cell death) کہاجاتا ہے۔ معمول کے خلیات کا یہ تقسیم ہونے ، تقسیم روک دینے اور خود کو ختم کرلینے کا عمل وراثات (genes) کی مدد سے متعن ہوتا ہے ۔
|جسم میں سرطانی خلیات کے بننے اور انکی وجہ سے ہونے والی بےقابو خلوی تقسیم کی وضاحت: عام خلیات اپنی عمر پر پہنچ کر برمجہ خلیاتی موت اور سقوطیت جیسے عوامل کے زریعے مرجاتے ہیں جبکہ استحالہ پاجانے والے خلیات ، لافانی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور تقسیم در تقسیم کے عمل سے گذر کر نفاخ یا سرطان پیدا کر سکتے ہیں۔ بالائی حصہ A صحت مند خلیات کی تقسیم اور موت کے عمل کو ظاہر کرتا ہے جس میں ایک خلیہ (خاکی رنگت میں مقام 2 پر) اپنی عمر پر پہنچ کر موت کی جانب چلا جاتا ہے جسے 1 کے عدد سے دکھایا گیا ہے۔ زیریں حصہ B سرطانی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں ناکارہ یا اپنی عمر کو پہنچ جانے والے خلیات بھی مرے بغیر تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں۔|
اسکے برعکس سرطان شدہ خلیات مستقل تقسیم ہوتے رہتے ہیں اور انمیں برنامجی خلیاتی موت کا نظام (یعنی کسی ناقابل اصلاح خرابی کی صورت میں خلیات کا خودکشی کرلینا) بھی ناقص و ناپید ہوجاتا ہے۔ اور جب بڑھتے بڑھتے سرطان کے خلیات گروہ کی شکل میں ایک مجموعہ بنالیتے ہیں تو اسطرح ایک جسم وجود میں آنے لگتا ہے جسکو ورم (tumor) یا رسولی بھی کہا جاتا ہے۔ اس ورم کی وجہ سے اسکے اردگرد کے معمول کے خلیات پر بےضرورت دباؤ بھی پڑتا ہے اور اسکے علاوہ دیگر خرابیاں بھی پیدا ہوتی ہیں، مثلا یہ جسم کے کسی حصے کی خون کی فراہمی میں مداخلت پیدا کرسکتا ہے ، کسی عصب (nerve) کو دبا کر ناکارگی کی طرف لے جاسکتا ہے، بعض اوقات یہ خلیات اپنے اصل مقام سے الگ ہوجاتے ہیں اور خون یا لمف کے زریعے سفرکرتے ہوۓ جسم کے دیگر اعضاء اور حصوں تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سرطان کے جسم میں پھیلنے کا ایک اہم سبب ہوتاہے۔
طبی تعریف[ترمیم]
سرطان کی طبی تعریف کے مطابق سرطان ایک ایسی غیرمعمولہ (abnormal) نسیج کو کہا جاتا ہے کہ جسکی نشونما تمام تضبیطی نظاموں (control systems) کے دائرہ کار کی حدود سے تجاوز کر کہ خودمختار (autonomous) ہوچکی ہو اور دیگر معمول کے نسیجات کی نشونما سے اس طرح بڑھ چکی ہو کہ اس نشونما کو تحریک دینے والے منبہ (stimuli) کو ہٹا دینے کے باوجود نا رک سکے۔ سرطان کے حصے میں موجود وہ خلیات جو سرطان کی تشکیل میں ملوث ہوتے ہیں انکو سرطانی خلیات (cancerous cells) کہا جاتا ہے۔ ان سرطانی خلیات کے وراثی مادے (genetic material) میں کوئی نا کوئی نقص ضرور پیدا ہوچکا ہوتا ہے جو کہ وراثی (genetic) بھی ہوسکتا ہے اور یا پھر بالا وراثی (epigenetic) بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے سرطانی خلیات طب میں استحالہ خلیات (transformed cells) کہلاتے ہیں جن میں تین اہم خصلتیں دیکھی جاسکتی ہیں اول --- بے قابو خلوی تقسیم (cell division) دوئم --- تجاوزت (invasive) اور سوئم --- نقیلت (metastasis)
آسان بیان[ترمیم]
ہمارا جسم خلیات سے مل کر بنتا ہے ، اور یہ خلیات ہماری پیدائش سے لیکر موت تک ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ مختلف خلیات اپنی زندگی پوری ہونے پر ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت مـرجاتے ہیں اور انکی جگہ ضرورت کے مطابق نۓ خلیات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح عام طور پر ہمارے جسم کے خلیات مکمل طور پر ہمارے جسم کی ضرورت کے مطابق قابو میں رکھے جاتے ہیں یعنی جب کسی خلیۓ کی زندگی پوری ہوجاتی ہے تو وہ مرجاتا ہے اور جب کسی نۓ خلیے کی ضرورت ہوتی ہے تو نیا خلیہ پیدا کرلیا جاتا ہے۔ جبکہ مرض سـرطان کی صورت میں اس نظام میں متعدد وجوہات کی بنا پر خلل پیدا ہوجاتا ہے اور جسم کی ضرورت کے بغیر اور طلب سے زیادہ نۓ خلیات بلاوجہ ہی پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں ، اسکے ساتھ ساتھ وہ خلیات جن کی ضرورت باقی نہیں رہی اور جنکا مــر جانا ہی جسم کے لیۓ بہتر ہے وہ اپنے وقت پر ناصرف یہ کہ مـرتے نہیں ہیں بلکہ ایک طرح سے لافانی ہو جاتے ہیں۔ اب اگر غور کیا جاۓ تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب بلاوجہ نۓ خلیات بنتے چلے جائیں اور پرانے ناکارہ خلیات بھی اپنی جگہ برقرار رہیں تو جسم کے اس حصے میں کہ جہاں یہ عمل واقع ہو رہا ہو (خواہ وہ حصہ گردہ ہو یا دماغ یا کوئی اور) تو وہاں غیر ضروری خلیات کا ایک ڈھیر لگ جاۓ گا اور اسی خلیات کے اضافی ڈھیر کو سرطان یا کینسر کہا جاتا ہے۔
اقسام و اسم بندی[ترمیم]
سرطان کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں جن کو سرطان کی طبی کیفیات و علامات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ کیا جاتا ہے۔ سادہ سے الفاظ میں یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ سرطان کی یہ دو بڑی اقسام اصل میں مرض سرطان کی خطرناکی اور ہلاکت خیزی کے لحاظ سے ہوتی ہیں، ایک وہ جو کہ نسبتاً کم پرخطر ہوتے ہیں اور حلیم سرطان کہلاتے ہیں جبکہ دوسرے وہ سرطان جو کہ نہایت مہلک و زیادہ پرخطر ہوتے ہیں اور عنادی سرطان کہلاتے ہیں۔ سرطان کی یہ دو بنیادی اقسام اور پھر انکی ذیلی اقسام درج ذیل ہیں۔
- حلیم (benign) سرطان ----- انکی پھر درج ذیل اقسام ہوسکتی ہیں۔
- عنادی (malignant) سرطان ----- انکی پھر دو ذیلی اقسام ہوتی ہیں جنکو خلیاتی ساخت اور اس میں شامل خلیات کے منبع کے اعتبار سے ترتیب دیا جاتا ہے، عنادی سرطانوں کی یہ دو ذیلی اقسام درج ذیل ہیں۔
گو علمی و لغتی لحاظ سے سرطان اور سرطانہ یکسر الگ مفہوم میں آتے ہیں یعنی سرطانہ اصل میں سرطان کی ایک بنیادی قسم ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اکثر (طبی مضامین میں بھی) سرطان اور سرطانہ کے الفاظ ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔
امراضی فعلیات[ترمیم]
امراضی فعلیات (pathophysiology) سے مراد امراضیات (pathology) کے پیدا ہوجانے کے بعد کسی جسم (یا متعلقہ حصے) کی فعلیات (physiology) سے ہوتی ہے۔ سرطان کی امراضی فعلیات میں خلوی حیاتیات (cell biology) اور سالماتی حیاتیات (molecular boilogy) کا مطالعہ اور سرطانی خلیات کے پیدا ہوجانے کے بعد رونما ہونے والے افعال و اثرات کا مطالعہ شامل ہوتا ہے یعنی بنیادی طور پر سرطان کی حیاتیات کے مطالعے کو ہی سرطان کی امراضی فعلیات کہا جاتا ہے۔ سرطان سالماتی بنیادوں پر پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے جو کہ DNA کے سالمے میں پیدا ہونے والے کسی نقص سے وجود میں آتی ہے، یہ نقص وراثی (genetic) نقص بھی ہوسکتا ہے (جیسے طـفـرہ وغیرہ) اور یا پھر یہ نقص کسی بالا وراثی نقص (جیسے میثائلیت (methylation) وغیرہ) کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ اگر وراثات کے حوالے سے دیکھا جاۓ تو ان میں سرطانی خلیات کی پیدائش میں ملوث وراثات کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
- وراثات الورم (onco-genes) ---- یعنی ورم پیدا کرنے والے وراثات ، یہ وراثات فطری طور پر جسم میں پہلے سے موجود وراثات بھی ہوسکتے ہیں جنکی تعبیر وراثہ (gene expression) معمولہ یا normal حد سے بے انتہاء منحرف ہو چکی ہو اور یا پھر یہ وراثات کسی وراثی تبدیلی (طفرہ وغیرہ) کی وجہ سے نمودار ہونے والے نۓ وراثات بھی ہوسکتے ہیں جنکے خواص پہلے جسم میں موجود نا ہوں۔ دونوں صورتوں میں انکی تعبیر کا نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی خلیات کی بے قابو نشونما یا سرطانی خلیات۔
- وراثات کابت الورم (tumor suppressor genes) ---- یعنی خلیات میں سرطانی یا ورمی (tumor) خصلتوں کی پیدائش کے رجحانات کی سرکوبی کرنے والے وراثات۔ متعدد معزازِ سرطان (cancer promoting) عوامل (جیسے مسرطن (carcinogens)) جو کہ وراثات میں ترامیم کے عمل میں ملوث ہوتے ہیں ایسے ہیں کہ جو وراثات کابت الورم کو خـامـوش کردیتے ہیں اور ظاہر کہ جب یہ سرطان کی سرکوبی کرنے والے وراثات کابت الورم ہی خاموش ہوجائیں تو سرطانی خلیات کے نمو پاجانے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔
سرطانی خلیات میں ہونے والی یہ وراثی تبدیلیاں زیادہ تر طفرات ہی ہوتے ہیں جنکی وجہ سے دنا (DNA) کی متوالیت میں موجود متعدد یا صرف ایک مرثالثہ (nucleotide) تبدیل ہوسکتا ہے جیسے کہ واحد مرثالثہ کثیرشکلیت (single nucleotide polymorphism) وغیرہ۔
مندرجہ بالا طفرات کے علاوہ نسبتا وسیع پیمانے پر ہونے والی وراثی مادے کی ترامیم بھی ہوتی ہیں مثال کے طور پر جیسے کسی لونجسیمے کا کوئی حصہ حذف (deletion) ہوجانا یا کوئی اضافی حصہ اس میں داخل ہوجانا۔ اسکے علاوہ وراثی مادوں میں ہونے والی چند ترامیم ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں کسی ایک لونجسیمے کی کئی کئی نقول خلوی تقسیم پر خلیۓ میں چلی آتی ہیں جن پر (یا جنکے قریب) کوئی وراثہ الورم پایا جاتا ہے، ایسی ترامیم کو بعض اوقات موراثی تضخیم (genomic amplification) بھی کہا جاتا ہے، یہاں موراثی کا لفظ موراثہ (genome) سے ماخوذ ہے نا کہ وراثہ یا gene سے۔
وراثی ترامیم کی ایک اور قسم نقل مقامی یا translocation ہوتی ہے جس میں کسی ایک لونجسیمہ کا وراثی مادہ یا genetic material منتقل ہو کر کسی دوسرے لونجسیمے پر چلا جاتا ہے، اس قسم کی ترمیم کی ایک عام اور مشہور مثال فلیڈلفیا لونجسیمے (Philadelphia chromosome) کی دی جاسکتی ہے جس میں 9 ویں لونجسیمے سے وراثہ abl اپنی نقل مقامی سے 22 ویں لونجسیمے کے طویل بازو (q) پر جاکر وراثہ bcr سے پیوست ہوجاتا ہے جسکے نتیجے میں ایک غیرمعمولہ وراثہ bcr-abl وجود پا جاتا ہے اور اس وراثے سے جو لحمیہ پیدا ہوتی ہے وہ اپنا کام درست نہیں کر پاتی اور مختلف امراض و غیرمعمولہ افعال کا سبب بنتی ہے، جیسے خون کا ایک سرطان جسے ابیضاض نقوی مزمن (Chronic myelogenous leukemia) کہا جاتا ہے۔
سرطانی خلیات میں چھوٹے پیمانوں پر ہونے والی تبدیلیوں میں SNP، حذف اور ادخل (insertion) وغیرہ کو شمار کیا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے کسی بھی وراثے یا جین کے فعل میں نقص واقع ہوکر سرطانی خلیات کی پیدائش کا سبب بن سکتا ہے ، یہ چھوٹے پیمانے کی ترامیم ایک وراثے کے مِعزاز (promoter) میں بھی واقع ہوسکتی ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ وراثے کی تعبیر (expresstion) متاثر ہوتی ہے اور یا پھر وہ وراثہ سکوت (silencing) کی کیفیت سے بھی دوچار ہوسکتا ہے اور یا پھر یہ ترامیم وراثے کے اس حصے میں بھی واقع ہوسکتی ہیں کہ جو mRNA کی تشکیل کرتا ہے اور ایسی صورت میں اس وراثے سے بننے والی لحمیات اپنے مخصوص افعال انجام دینے کے قابل نہیں رہتیں۔
مندرجہ بالا تمام وجوہات کے علاوہ بعض حمات (viruses) بھی ایسے ہوتے ہیں کہ جو سرطانی خلیات کے وجود میں آنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
بالا وراثیات[ترمیم]
- تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: بالاوراثیات (Epigenetics)۔
بالاوراثیات اصل میں وراثیات کی ایک ایسی صورت کو کہا جاتا ہے کہ جو دنا یعنی DNA کے سالمے کی متوالیت میں کوئی بگاڑ یا طفرہ پیدا کیۓ بغیر بھی وراثوں کے افعال کو متاثر یا تبدیل کر دیتی ہے۔ چونکہ اس قسم کے افعال وراثوں یا روائتی وراثیات (genetics) کے بنیادی نظریے؛ کہ وراثوں کے افعال ، انکی متوالیت (مرثالثات (nucleotides) کی ترتیب) میں تبدیلی پر تبدیل ہوتے ہیں کے بالکل برعکس انکی متوالیت سے بالا رہتے ہوۓ ہی وراثوں کے افعال کو تبدیل کردیتی ہے اسی وجہ سے اسکو بالا وراثیات کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی ترامیم کی ایک مثال میثائلیت کا عمل ہے جو کہ DNA میں نمودار ہو تو DNA میثائیلت کہلاتا ہے اس تبدیلی میں DNA کے قواعد (bases) پر میثائلیت کا عمل واقع ہوجاتا ہے۔ ایسا ان قواعد پر ہوتا ہے کہ جہاں سائٹوسین (C) کے بعد گوانوسین (G) پایا جاتا ہو، اگر ایسے مقامات ڈی این اے کے طویل سالمے کے معزاز (promoter) پر گروہوں کی شکل میں ایک ساتھ قطار کی صورت میں پاۓ جاتے ہوں تو انکے لیۓ ایک اصطلاح جزیرۂ سیپیجی (CpG island) استعمال کی جاتی ہے اور اس جگہ یعنی معزاز پر ہونے والی میثائلیت عموما ضررساں اور خطرناک ہوتی ہے جو کہ سرطان کی سرکوبی کرنے والے وراثات کو خاموش کر کہ سرطان کی پیدائش کا موجب بن سکتی ہے۔
خلوی حیاتیاتِ سرطان[ترمیم]
- خلوی حیاتیات پر مضمون کے لیۓ دیکھیۓ خلیاتی حیاتیات (cell biology)۔
جب کسی خلیۓ کے وراثی مواد (genetic material) میں کوئی ایک (یا زائد) نقص واقع ہو جاتا ہے تو اسکے نقص کی وجہ سے بننے والے لحمیاتی سالمات بھی اپنے معمول کے افعال پر قائم نہیں رہ پاتے اور وہ خلیہ آہستہ آہستہ اپنا کردار معمول کے خلیے سے سرطانی خلیۓ کی جانب تبدیل کرنے لگتا ہے ، اس تبدیلی میں اندازوں کے مطابق کئی سال (5 تا 15) لگ سکتے ہیں۔ یعنی اس تمام عرصے میں گویا کہ سرطانی خصوصیات پیدا ہو تو ہو چکی ہوتی ہیں مگر عام طور پر شفاخانوں میں کیۓ جانے والے اختبارات سے سرطان کو تشخیص نہیں کیا جاسکتا گویا سرطان جسم میں ہونے کے باوجود عام اختبارات سے اسکا پتا نہیں لگایا جاسکتا۔ کسی بھی مسرطن (مثلا مطفر) کی وجہ سے ہونے والی ان ابتدائی سالماتی تبدیلیوں کے عرصے بعد سرطانی خلیات اس قدر بدلتے ہیں کہ ان کو کسی خردبین کی مدد سے عام اور صحت مند خلیات سے الگ شناخت کیا جاسکے، ایسے خلیات خردبینی مشاہدے پر مندرجہ ذیل خصوصیات ظاہر کرسکتے ہیں۔
- ان کی خلوی تقسیم میں تیزی دیکھی جاسکتی ہے۔
- ان کی مرکزی جسامت اور شکل میں تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔
- خود خلیے کی شکل اور جسامت میں تبدیلیاں نمودار ہو جاتی ہیں۔
- ایسے خلیات اپنی متمایزہ (differentiated) خصوصیات کھو سکتے ہیں۔
- ایسے خلیات اپنی متخصص (specialized) شناخت کھو دیتے ہیں۔
- ان میں خلل متمایز (dysplasia) اور یا لا متمایز (anaplasia) کی کیفیات دیکھی جاسکتی ہیں۔
سالماتی حیاتیاتِ سرطان[ترمیم]
- سالماتی حیاتیات پر مضمون کے لیۓ دیکھیۓ سالماتی حیاتیات (molecular biology)۔
گذشتہ چند دہائی کی تحقیقات اور تجربات نے آج انسانوں (و دیگر جانداروں) میں پیدا ہونے والے امراض کے تصور کو یکسر بدل دیا ہے اور بشمول سرطان متعدد بیماریوں کے وراثی (genetic) اسباب کے ادراک و فہم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
www.worldcancertreatment.blogspot.com== مزید دیکھیے ==
- ورم (Tumor)
- نُفّاخ (Neoplasm)
- سرطانہ (Carcinoma)
- برمجہ خلیاتی موت (Programmed cell death)
- سقوطیت (Apoptosis)
- مسرطن (carcinogen)
- سمیت وراثہ (genotoxicity)
حوالہ جات و بیرونی روابط[ترمیم]
|ویکیمیڈیا العام میں سرطان (عارضہ - مقالہ ثانی) سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔| | <urn:uuid:e09dfbdf-c3c6-4474-86be-c31976e4bbb3> | CC-MAIN-2014-15 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86_(%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6%DB%81) | 2014-04-17T05:06:41Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609526252.40/warc/CC-MAIN-20140416005206-00420-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.979972 | Arab | 170 | {} |
الحمد للہ :
1 - نماز وتر ميں وتروں كى دعاء كتاب يا ورقہ سے ديكھ كر پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں، حتى كہ آپ اسے ياد كر ليں اور ياد كرنے كے بعد اسے زبانى ہى پڑھا كريں، اسى طرح جو حافظ نہ ہو اس كے ليے نفلى نماز ميں قرآن مجيد سے ديكھ كر قرآن پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں.
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے نماز تراويح ميں قرآن مجيد ديكھ كر پڑھنے كے حكم اور كتاب و سنت ميں اس كى دليل كے متعلق دريافت كيا گيا ؟
تو ان كا جواب تھا:
رمضان المبارك كے قيام ميں قرآن مجيد ديكھ كر قرآت كرنے ميں كوئى حرج نہيں كيونكہ ايسا كرنے ميں مقتديوں كو سارا قرآن سنايا جا سكتا ہے، اور اس ليے بھى كہ كتاب و سنت كے شرعى دلائل نماز ميں قرآن مجيد كى قرآت پر دلالت كرتے ہيں، اور يہ دلائل قرآت ميں عام ہے چاہے وہ قرآن مجيد ديكھ كر كى جائى يا زبانى، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے ثابت ہے كہ انہوں نے اپنے غلام ذكوان كو حكم ديا كہ وہ رمضان كا قيام كروائيں اور وہ قرآن مجيد سے ديكھ كر قرآت كرتے تھے، امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے اسے تعليقا اور بالجزم روايت كيا ہے.
ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 2 / 155 ).
2 - دعاء قنوت ميں يہ واجب نہيں وہ بعينہ انہى الفاظ ميں كى جائے بلكہ نماز كے ليے اس كے علاوہ دوسرے الفاظ يا اس ميں كمى و زيادتى كرنى جائز ہے، بلكہ اس نے كوئى ايسى آيت پڑھ لى جس ميں دعاء ہو تو مقصد پورا ہو جائے گا.
امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
آپ كو معلوم ہونا چاہيے كہ صحيح مذہب كے مطابق قنوت ميں كوئى دعا متعين نہيں، اس ليے كوئى بھى دعاء كر لى جائے تو قنوت ہو جائے گى، چاہے قرآن مجيد كى ايك يا كئى آيات پڑھ لى جائے جو دعا پر مشتمل ہو تو قنوت ہو جائے گى، ليكن افضل يہ ہے كہ وہ دعاء پڑھى جائے جو سنت ميں وارد ہے.
ديكھيں: الاذكار النوويۃ ( 50 ).
3 - اور سائل كرنے والے بھائى نے جو يہ بيان كيا ہے كہ وہ دعاء قنوت كے بدلے قرآن كى تلاوت كرتا تھا، بلاشك ايسا نہيں كرنا چاہيے، كيونكہ قنوت كا مقصد دعاء ہے، اسى ليے اگر يہ آيات دعاء پر مشتمل ہو تو اس كى قرآت كر كے قنوت كرنا جائے ہے:
مثلا فرمان بارى تعالى:
﴿ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذا هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب ﴾
اے ہمارے رب ہميں ہدايت نصيب كرنے كے بعد ہمارے دلوں ميں كجى پيدا نہ كرنا، اور اپنى جانب سے ہم پر رحمت فرما بلا شبہ تو ہى ہبہ كرنے والا ہے. آل عمران ( 8 )
4 - اور سائل كا يہ كہنا كہ قنوت فرض ہے، يہ صحيح نہيں بلكہ قنوت سنت ہے، اس ليے اگر كوئى شخص قنوت نہيں كرتا تو اس كى نماز صحيح ہے.
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
رمضان المبارك ميں رات كے قيام ميں نماز وتر ميں دعاء قنوت كرنے كا حكم كيا ہے، اور كيا اسے چھوڑنا جائز ہے ؟
شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
نماز وتر ميں دعاء قنوت سنت ہے، اور اگر بعض اوقات نہ بھى كى جائے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.
اور يہ بھى سوال كيا گيا:
ہر رات وتر ميں مسلسل قنوت كرنے والے كے متعلق كيا حكم ہے، اور كيا يہ سلف صالحين سے منقول ہے؟
شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
اس ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ يہ سنت ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جب حسين بن على رضى اللہ تعالى عنہما كو وتر كى دعا سكھائى تو انہيں بعض اوقات ترك كرنے كا حكم نہيں ديا اور نہ ہى مسلسل كرنے كا حكم ديا، جو كہ دونوں كام كرنے كے جواز كى دليل ہے.
اور اسى ليے ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ سے ثابت ہے كہ جب وہ صحابہ كرام كو مسجد نبوى ميں نماز پڑھايا كرتے تھے تو بعض اوقات اور راتوں كو وتر ميں قنوت نہيں كرتے تھے، اور ہو سكتا ہے يہ اس ليے تھا كہ لوگوں كو يہ معلوم ہو جائے كہ يہ فرض اور واجب نہيں.
اللہ تعالى ہى توفيق نصيب كرنے والا ہے.
ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 2 / 159 ).
واللہ اعلم . | <urn:uuid:28a4a556-a1f6-41c2-85f7-bbc8c52e9d44> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/9061 | 2014-04-18T13:22:44Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609533689.29/warc/CC-MAIN-20140416005213-00452-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.911552 | Arab | 76 | {} |
پیدا ہوا: 1937, کوپن ہیگن، ڈنمارک
لیف اپنے خاندان کے ڈنمارک سے سویڈن فرار کی صورت حال بیان کرتا ہے۔ [انٹرویو: 1989]
اپریل 1940 میں جرمنوں نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا مگر ڈينش حکومت کا وجود قائم رہا اور وہ اپنے ڈینش یہودیوں کی حمایت کرنے میں کامیاب رہی۔ اگست 1943 میں حکومت نے حرمنوں کے مطالبات سے انکار کرنے کے نتیجے میں استعفی دے دیا۔ اکتوبر کے آغاز میں جرمن پولیس نے یہودیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ لیف اور اس کے خاندان نے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا اور مچھلی پکڑنے والی کشتی کے ذریعہ غیر قانونی طور پر سویڈن کے محفوظ علاقے میں پہنچ گئے۔ سویڈن میں لیف نے اسکول جانا شروع کر دیا اور اس کے والدین نے کپڑوں کی فیکٹری میں کام کیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ سب ڈنمارک واپس لوٹ گئے۔
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:af8b4040-a715-4558-9167-c3c39e1c3127> | CC-MAIN-2014-15 | http://www.ushmm.org/outreach/ur/media_oi.php?MediaId=1141 | 2014-04-19T19:50:00Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1397609537376.43/warc/CC-MAIN-20140416005217-00484-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.981673 | Arab | 89 | {} |
In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.
Muslims who believe in the Messiah, Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as)
Introductory remarks about family life
Q1 @ 03:20
Q2 @ 06:25
اگر کسی کی طلاق ہوگئی ہو اور وہ دو سال بعد دوبارہ اکٹھا ہونا چاہیں تو کس طرح ہو سکتے ہیں ، کیا دوبارہ نکاح پڑھا جائے گا؟
Q3 @ 15:30
کیا یہ بات درست ہے کہ ازدواجی تعلقات کے بغیر ولیمہ جائز نہیں ہوتا؟
Q4 @ 22:26
کیا اسلام میں لو میرج (Love Marriage) کی اجازت ہے؟ کیا اپنی پسند سے شادی کرسکتے ہیں؟
اگر حق مہر کی ادائیگی نہیں ہوئی اور خاوند فوت ہوگیا تو پھر حق مہر کے متعلق کیا تعلیم ہے اس کی ادائیگی کیسے ہوگی اور کون کرے گا؟ | <urn:uuid:8fa82ee1-44ec-4bb9-a369-90646c513e39> | CC-MAIN-2014-15 | http://www.alislam.org/v/2668.html | 2014-04-23T22:19:23Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223203841.5/warc/CC-MAIN-20140423032003-00548-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.940111 | Arab | 59 | {} |
بریڈ کے لئے: چھوٹے سے پیالے میں خمیر اور چینی گرم پانی کے ساتھ مکس کرلیں۔ اب اسے دس منٹ تک پھولنے کے لئے ایک طرف رکھ دیں۔
اب ایک بڑے پیالے میں میدہ، خمیر، آئل، مکھن اور نمک شامل کرکے گوندھ کر ڈو تیار کرلیں۔
گیلے کپڑے کے ساتھ ڈھانپ کر ڈبل سائز کرنے کے لئے ایک گھنٹے کے لئے ایک طرف رکھ دیں۔
اب اس کے رول بنا کر لمبائی کے رخ چوکور شکل میں کاٹ لیں۔
اب فلنگ کرکے کنارے انڈے سے بند کردیں۔
مزید دس منٹ کے لئے ایک طرف رکھ دیں۔
اب دس سے پندرہ منٹ کے لئے بیک کرکے گولڈن براؤن کرلیں۔
فلنگ کے لئے: چکن کو ہلدی، کالی مرچ، نمک اور آدھے کپ پانی کے ساتھ ابال لیں۔
جب چکن پک کر تیار ہو جائے تو اس کے چھوٹے ٹکڑے کرلیں اور ایک طرف رکھ دیں۔
اب ایک پین میں تیل گرم کریں اور پیاز سوتے کرلیں۔
پھر لہسن پیسٹ شامل کرکے فرائی کریں۔
پھر گاجر شامل کرکے تھوڑی دیر کے لئے فرائی کریں۔
آخر میں پکا ہوا چکن، آلو، چلی پیسٹ، دھنیا اور گرم مصالحہ پاؤڈر شامل کرکے اچھی طرح مکس کردیں۔
اب کمرے کے درجہ حرارت کے مطابق اسے ٹھنڈا کرلیں۔
Pleasebe judicious and courteous in selecting your words.
yummy
superrrrrrrrrrrrrrrrrrrrrrb! i got alots of appriciations
i like this recipe because i m diploma holder in food preservation technology...
Food Glossary |
Contact US |
Copyright |
Terms Of Use |
Privacy Policy |
Advertisement Inquiry
Copyright © 2014 Direct Advert Media LLC an website design firm | All Rights Reserved | <urn:uuid:7e7b88d9-147a-486e-b85e-e6dc4ba546a4> | CC-MAIN-2014-15 | http://khanapakana.com/recipe/4b59ede3-66a6-4de9-bb2e-b926e72da56c/stuffed-bread-sticks- | 2014-04-25T06:14:57Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223210034.18/warc/CC-MAIN-20140423032010-00580-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.901017 | Arab | 30 | {} |
الحمد للہ :
اس عورت پر ان ايام كي قضاء ہے اور احتياط اسي ميں ہے كہ وہ ہردن كے بدلےايك مسكين كوكھانا بھي كھلائے.
شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالي سےمندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
ميري بہن نے كئي برس سے ماہواري كي بنا پر ترك كيے ہوئے روزے نہيں ركھے كيونكہ وہ قضاء كےحكم سے جاہل تھي خاص كربعض عام لوگوں نے اسےكہاتھا كہ اس كےذمہ روزہ چھوڑنے كي قضاء نہيں، اب اسے كيا كرنا ہوگا؟
شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:
اسے اللہ تعالي سے توبہ واستغفار كرني چاہيے، اور اس كےذمہ ہے كہ وہ ان ايام كے روزے ركھے جواس نے ماہواري كي حالت ميں چھوڑے تھے، اور ہر دن كےبدلے ايك مسكين كوكھانا بھي كھلائےجيسا كہ صحابہ كرام كي ايك جماعت كا فتوي ہے جوايك صاع جس كي مقدار ڈيڑھ كلو بنتي ہے ، كسي جاہل عورت كے كہنےسے كہ اس كےذمہ كچھ نہيں يہ ساقط نہيں ہوگا.
عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا بيان كرتي ہيں كہ: ( ہميں روزوں كي قضاء كا حكم تھااور نمازوں كي قضاء كا حكم نہيں تھا ) متفق عليہ .
لھذا اگر دوسرے رمضان كےآنےتك اس نےپہلے رمضان كےروزوں كي قضاء نہ كي تو گنہگار ہوگي، اور اس پر قضاء كےساتھ ساتھ توبہ واستغفار اوراگر وہ قدرت ركھتي ہے تو ہر دن كےبدلے ايك مسكين كوكھانا بھي كھلانا ہوگا، ليكن اگر فقيرہے كھانا كھلانے كي طاقت نہيں ركھتي تو توبہ واستغفار كےساتھ روزوں كي قضاء ہي كافي ہے اور كھانا كھلانا ساقط ہوجائےگا، اور اگر اسے ان ايام كي گنتي ہي معلوم نہيں تو وہ ظن غالب پر عمل كرے، اوران ايام كےروزے ركھے جن كا اسے گمان ہے كہ اس نے رمضان ميں روزے نہيں ركھے تھےاس كےليےيہي كافي ہے كيونكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:
{حسب استطاعت اللہ تعالي كا تقوي وڈر اختيار كرو} اھ
ديكھيں: فتاوي ابن باز ( 15 / 184 )
مستقل فتوي كميٹي ( اللجنۃ الدائمۃ ) سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
ايك ساٹھ سالہ عورت كئي برس تك حيض كےاحكام سے جاہل تھي، اور عام لوگوں سے سن ركھا تھا كہ روزوں كي قضاء نہيں اس گمان كي بنا پر اس نے روزوں كي قضاء نہيں كي اس كا حكم كيا ہے؟
كميٹي كاجواب تھا:
اسے اللہ تعالي كي جانب رجوع كرتے ہوئے توبہ واستغفار كرني چاہيے كہ اس نے اہل علم سے يہ مسئلہ نہيں پوچھا، اس كےساتھ ساتھ اس پران ايام كي قضاء بھي ہے جواس نےماہواي كي بنا پر روزےنہيں ركھے وہ ظن غالب كے اعتبار سے ان ايام كي قضاء ميں روزے ركھے اوراگر اس ميں استطاعت ہو تو ہر دن كےبدلے ميں ايك مسكين كو كھانا بھي دے جو كہ نصف صاع گندم يا كھجوريا چاول وغيرہ جو اس كےملك ميں كھايا جاتا ہے ، ليكن اگركھان دينے كي استطاعت نہيں ركھتي تويہ اس سےساقط ہوجائےگا اور صرف روزوں كي قضاء ہي كافي ہوجائےگي . اھ
ديكھيں: فتاوي الجنۃ الدائمہ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 151 )
كھانا دينے كےاحكام ديكھنےكےليے آپ سوال نمبر ( 26865 ) كےجواب كا مطالعہ كريں .
واللہ اعلم . | <urn:uuid:e3a4c460-d6ba-42de-9cd0-c1cc818991c9> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/40695 | 2014-04-23T07:04:16Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223201753.19/warc/CC-MAIN-20140423032001-00532-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.85973 | Arab | 86 | {} |
اور اگر يہ زكاۃ كرايہ دار كے ذمہ ہے تو كيا وہ زمين سے حاصل ہونے والى مكمل آمدنى پر ہو گى، يا كہ كرايہ ادا كر كے باقى مانندہ آمدن پر ؟
الحمد للہ :
اگر تو زمين كا مالك خود زرعى زمين كاشت كرتا ہے، تو اس سے حاصل ہونے والى آمدن كى زكاۃ بھى مالك كے ذمہ ہے، اور اگر زمين كا مالك زمين كسى دوسرے كو دے يا عاريتا دے كہ وہ اسے كاشت كر لے تو اس سے حاصل ہونے والى آمدن كى زكاۃ كاشت كرنے و الے پر ہو گى.
اہل علم نے كرايہ پر حاصل كردہ زمين كى زكاۃ ميں اختلاف كيا ہے، كہ آيا اس كى زمين مالك كے ذمہ ہے يا كرايہ پر حاصل كرنے والے كاشت كار پر جمہور اہل علم كے ہاں اس كى زكاۃ كاشت كار كے ذمہ ہے، ليكن احناف كے ہاں اس كى زكاۃ مالك كے ذمہ واجب ہے.
ابن حزم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
كھجور، گندم اور جو ميں اس وقت زكاۃ نہيں جب تك كہ وہ ايك فرد كے پاس اور ايك ہى صنف پانچ وسق تك نہ پہنچ جائے، اور وسق ساٹھ صاع كا ہوتا ہے، اور ايك صاع چار مد كا جو كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا مد جتنا اور ايك مد ڈيڑھ سے سوا رطل مد كے چھوٹا بڑا ہونے كے درميان ہوتا ہے.
چاہے وہ اپنى زمين ميں اس نے كاشت كى ہو يا كسى دوسرے كى زمين ميں زمين غصب كر كے، يا جائز اور ناجائز معاملات كر كے، جب نذ غصب كردہ نہ ہو چاہے وہ زمين خراج والى ہو يا عشر والى.
اور يہ قول جمہور لوگوں كا ہے، اور مالك، شافعى، احمد، اور ابو سفيان رحمہم اللہ نے يہى كہا ہے.
اور ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
كم ہو يا زيادہ اس كى زكاۃ ادا كرے گا، اور اگر وہ خراج والى زمين ميں ہو تو اس ميں زكاۃ نہيں، اور اگر زمين كرايہ پر ہو تو اس كى زكاۃ زمين كے مالك پر ہے نہ كہ كاشت كار پر.
ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 4 / 47 ).
احناف كے قول كو آئمہ كرام نے رد كرتے ہوئے بيان كيا ہے كہ زكاۃ كى ادائيگى كاشت كار كا حق ہے نہ كہ زمين كا حق جيسا كہ احناف كہتے ہيں.
ابن قدامہ المقدسى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
اور جس شخص نے زمين كرايہ پر حاصل كر كے كاشت كى تو عشر اس پر ہو گى نہ كہ مالك پر، امام مالك، ثورى، اور شريك، اور ابن مبارك، شافعى اورابن منذر رحمہم اللہ كا يہى قول ہے.
اور ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ زمين كے مالك پر ہے، كيونكہ يہ اس كے بوجھ ميں سے ہے، لہذا خراج كے مشابہ ہے.
اور ہمارے ہاں يہ ہے كہ: يہ فصل ميں ہے، لہذا فصل كے مالك پر ہو گى جيسے كہ تجارت كے ليے تيار كردہ چيز كى قيمت كى زكاۃ كى طرح، اور اپنى ملكيتى زمين كى فصل كى عشر كى طرح.
اور ان كا يہ كہنا صحيح نہيں: كہ يہ زمين كے بوجھ ميں سے ہے؛ كيونكہ اگر يہ زمين بوجھ اور حق ميں سے ہوتى تو پھر خراج كى طرح كاشت كے بغير بھى واجب ہوتى، اور خراج كى طرح ذمى پر بھى واجب ہوتى، اور پھر اس كا اندازہ زمين كے حساب سے لگايا جاتا نہ كہ فصل كے حساب سے، اور اسے فئى كے مصاريف ميں صرف كرنا واجب ہوتا، نہ كہ زكاۃ كے مصاريف ميں.
ديكھيں: المغنى لابن قدامہ ( 2 / 313 - 314 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے بھى اسے ہى راجح قرار ديا ہے.
ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 88 ).
دوم:
اور اس ليے كہ زكاۃ كى ادائيگى كاشت كار كا حق ہے لہذا جب نصاب پورا ہو جائے يعنى پانچ وسق ہو اور ايك وسق ساٹھ صاع ہے، اور نصاب ( 657 ) كلو بنتا ہے تو اسے حاصل ہونے والى سارى آمدنى سے زكاۃ نكالنا ہو گى.
زكاۃ ادا كرنے والے كو يہ حق نہيں كہ وہ اس ميں سے زمين كا كرايہ كم كرے چاہے وہ فصل فروخت كرنے كے بعد ـ جہالت يا غلطى يا تاويل كے ساتھ ـ اور زكاۃ كى ادائيگى سے قبل ہو.
اہل علم كے اقوال ميں سے صحيح قول يہ ہے كہ زمين پر آنے والے خرچ ميں سے كوئى بھى خرچ فصل سے نہيں نكال سكتا.
ابن حزم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
كاشت كار كے ليے جائز نہيں كہ وہ كاشت كرنے يا كٹائى كرنے، يا اسے گاہنے، يا كھجور توڑنے يا كنواں كھودنے كا خرچ شامل كر كے اسے زكاۃ سے نكال دے، چاہے اس نے اس خرچ كے ليے قرض ليا ہو يا قرض نہ ليا ہو، يہ خرچ فصل كى سارى قيمت يا پھل پر آيا ہو يا نہ، اور اس جگہ سلف كا اختلاف ہے .... اس اختلاف كو ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:
ابو محمد رحمہ اللہ كہتے ہيں: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كھجور گندم، اور جو ميں بالجملہ زكاۃ واجب قرار دى كہ جب وہ نصاب پانچ وسق يا اس سے زيادہ ہو جائے تو اس ميں زكاۃ ہے، اور اس ميں سے كاشت كار كا خرچہ اور كھجور كے باغ والے كا خرچ نہيں نكالا اس ليے اللہ تعالى نے جو حق واجب كيا ہے اسے قرآن و سنت كى نص كے بغير ساقط كرنا جائز نہيں ہے، يہ امام مالك، اور امام شافعى اور ابو حنيفہ اور ہمارے اصحاب كا قول ہے.
ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 4 / 66 ).
واللہ اعلم . | <urn:uuid:f083875e-68ea-4dae-a77b-0b7818965abb> | CC-MAIN-2014-15 | http://islamqa.info/ur/45623 | 2014-04-23T06:55:58Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-15/segments/1398223201753.19/warc/CC-MAIN-20140423032001-00532-ip-10-147-4-33.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.966767 | Arab | 144 | {} |
مجھے اپنے خاوند کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک مشکل ہے ، میں جانتی ہوں کہ جب بھی خاوند مجھے اپنے کمرے میں بلائے مجھے جانا ضروری ہے چاہے میں نفسیاتی حالت میں صحیح نہ بھی ہوں ، اورمجھے یہ بھی علم ہے کہ جھوٹ ایک بہت ہی بری اورگندی چيز ہے ، لیکن میں میرے نزدیک سب سے عظیم اوربڑی چيز خاوند کوراضي کرنا ہے ۔
کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اسے یہ باور کراؤں کہ میری خواہش پوری ہوچکی ہے ؟
مجھے یہ ہی مشکل پیش آتی ہے اورمیں یہ نہیں چاہتی کہ اپنے خاوند کوپریشان کروں کیونکہ وہ میری خواہش کومکمل طرح پوری نہیں کرسکتا ۔
اس اظہار سے میں رک نہیں سکتی کیونکہ دل کی بات کہنے سے اسے پریشانی ہوگی ( یعنی کہ میری خواہش پوری نہیں ہوئي ) آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس مسئلہ میں میری کچھ مدد کریں اورآپ اپنی دعاؤں میں مجھے نہ بھولیں ۔
آپ نے جس مشکل کا ذکر کیا ہے اس کا علاج اورحل یہی ہے کہ آپ صراحت سے اسے بتا دیں ، اس کا معنی یہ نہیں کہ خاوند کوپریشان کریں ، یا پھر اس پر کمزوری کی تہمت لگانی مقصود ہو ، کیونکہ یہ مشکل بعض اوقات خاوند کے اصل میں مشکل کے عدم شعور کی بنا پر ہوتی ہے نہ کہ اس کی کمزوری یا پھر جنسی طور پر عاجز ہونے کی وجہ سے ۔
بعض اوقات خاوند جماع کرنے چلا آتا ہے لیکن کچھ ایسے امور کوترک کردیتا جن کا کرنا ضروری ہے ، جن کی وجہ سے عورت کی خواہش پوری ہوجاتی ہے ، اس کے لیے آپ کچھ کتابوں سے معاونت حاصل کرسکتی ہیں جوکہ مرد اور عورت کے تعلقات کی اساس اوروضاحت کرتی ہوں مثلا محمود مھدی استنبولی کی کتاب ( تحفۃ العروس ) اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ اس میں کوئي مانع نہیں کہ خاوند سے بات چیت کی جائے اوراسے اس تک پہنچنے کے لیے چندایک کتب پڑھنے کی راہنمائي کی جائے ، تویہ صراحت ان مشکلات سے بہتر ہے جن کا علاج بہت ہی آسان اورمیسر ہوسکتا ہے ۔
اوریہ عورت کواس کی مسؤلیت سے بری الذمہ قرار نہيں دیتا عورت پر بھی ضروری ہے کہ وہ بھی خاوند کے لیے کچھ کام کرے مثلا بناؤ سنگار اوراس سے محبت اورمعاشرت میں اسے ترغیب دلانے والی اشیاء وغیرہ ۔
ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے آمین یا رب العالمین ۔
واللہ اعلم . | <urn:uuid:7dbeeef1-d427-4068-a15b-2679df05533a> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/23390 | 2014-07-22T13:24:59Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997858892.28/warc/CC-MAIN-20140722025738-00095-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.985606 | Arab | 80 | {} |
فقیرومحتاج کوحج کی ادائيگي کےلیے زکاۃ دینا
الحمدللہ
اللہ سبحانہ وتعالی نے زکاۃ کے مصاریف مندجہ ذیل فرمان میں بیان فرمائے ہیں :
{ صدقات صرف فقیروں کے لیے ہیں ، اورمسکینوں کےلیے ، اوران کے وصول کرنے والوں کےلیے ، اوران کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اورگردن آزاد کرانے کےلیے ، اورقرض داروں کےلیے ، اوراللہ تعالی کی راہ میں اورراہرومسافروں کےلیے ہیں یہ اللہ تعالی کی جانب سے فرض کردہ میں سے ہے اوراللہ تعالی علم وحکمت والا ہے } التوبۃ ( 60 ) ۔
علماء کرام اس پرمتفق ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان : { وفی سبیل اللہ } سے مراد جھاد فی سبیل اللہ ہے ۔
اورعلماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا حج جھاد کے ساتھ شامل ہے کہ نہیں ؟
لھذا اکثرعلماء کرام کا کہنا ہے کہ یہ جھاد کے ساتھ خاص ہے یہ حج کو شامل نہیں ، لیکن امام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اس میں حج بھی داخل ہے اوراس میں مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :
ام معقل رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوعرض کیا مجھ پرحج فرض ہے اورابومعقل رضي اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک جوان اونٹ ہے ، ابومعقل رضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں نے اسے فی سبیل اللہ صدقہ کردیا ہے
تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : یہ اسے دے دوتا کہ وہ اس پرحج کرے کیونکہ یہ فی سبیل اللہ ہی ہے ۔
سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1988 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اورعبداللہ بن عمررضي اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ حج فی سبیل اللہ میں سے ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں اسے ابوعبیدرحمہ اللہ تعالی نے صحیح سندکے ساتھ روایت کیا ہے ۔ اھـ
دیکھیں : المغنی ابن قدامہ المقدسی ( 9 / 328 ) اورالمجموع ( 6 / 212 )
اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے " الاختیارات " میں بیان کیا ہے کہ :
جس نے فریضہ حج ادا نہيں کیا اوروہ شخص فقیر ہوتواسے حج کے اخراجات دیے جائيں گے تا کہ وہ حج ادا کرسکے ۔ اھـ
دیکھیں : الاختیارات ( 105 ) یعنی اسے زکاۃ میں سے دیا جائے گا
اورفتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی سعودی عرب ) کا فتوی ہے :
( مسلمان فقراء اشخاص کوفریضہ حج کی ادائيگي کے لیے زکاۃ ادا کرنا جائز ہے تا کہ وہ اس زکاۃ سے حج کے اخراجات کرسکیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کے فرمان جس میں زکاۃ کے مصارف بیان ہوئے ہیں{ وسبیل اللہ } کے عموم میں شامل ہے ) اھـ
دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 38 )۔
واللہ اعلم . | <urn:uuid:add205de-ce59-4b36-b81d-85184ce9270e> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/40023 | 2014-07-24T15:34:36Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997889379.27/warc/CC-MAIN-20140722025809-00243-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.910355 | Arab | 68 | {} |
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( انا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب ) ( ہم ایک امی امت ہیں جو کہ پڑھے لکھے نہیں ) کا معنی کیا ہے ؟
اورکیا مسلمان جوکچھ آج سیکھ رہے ہیں وہ اس کے منافی ہے ؟
( انا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب الشھر ھکذا وھکذا یعنی مرۃ تسعۃ وعشرین ومرۃ ثلاثین ) ہم امی قوم ہيں لکھتے پڑھتے نہیں مہینہ اس اس طرح ہوتا ہے ، یعنی کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1814 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1080 ) ۔
اوریہ حدیث قمری مہینہ کے شروع ہونے کے مسئلہ میں وارد ہوئ ہے جو کہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ مہینہ فلکی حسابات سے نہیں شروع ہوتا بلکہ ظاہری طور پرچاند دیکھنے پر منحصر ہے جب چاند نظر آجاۓ تومہینہ شروع ہوگا ، توحدیث وارد اس لیے ہوئ ہے کہ یہ بیان کیا جاسکے کہ قمری مہینہ کا اعتماد رؤیت ھلال پرہوگا نہ کہ حسابات فلکیہ پر ، اوریہ حدیث اس لیے نہیں کہ امت اسلامیہ جھالت اختیارکیے رکھے اورعادی حساب وکتاب اورعلوم نافعہ کاحصول نہ کرے ۔
آج کے مسلمان جوکچھ مختلف قسم کےدنیاوی فائدہ مند علوم حاصل کررہے ہیں یہ حديث اس کے منافی نہیں ، اوراسلام توایک علمی دین ہے اورعلم کی دعوت اورہرمسلمان پرعلم کے حصول کوواجب قرار دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فرض کردہ احکامات اورعبادات ومعاملات کوسیکھے ۔
اوراسی طرح دنیاوی علوم مثلا طب ، انجیرینگ ، زراعتی وغیرہ علوم تومسلمانوں پرحسب ضرورت یہ علوم سیکھنے واجب ہیں ، اگرمسلمانوں کوضرورت ہے کہ وہ ایک سوئ تیار کریں توان پرواجب ہے کہ ان میں ایسا شخص ہو جو کہ سوئ تیار کرنے کا علم حاصل کرے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ تعالی نے اس حديث کی کافی ووافی شرح کی ہے جس میں انہوں نے بیان کی انتہاء کردی ہے ، ذیل میں ہم ان کے جواب میں سے چیدہ چیدہ اشیاء کا ذکرکرتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( ہم ایک امی قوم ہیں ) یہ طلب نہیں ، کیونکہ شریعت سے قبل وہ امی ہی تھے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہے جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :
{ وہ اللہ ہی ہے جس نے امیوں میں سے ہی ان کی طرف رسول بھیج دیا } ۔
اوررب ذوالجلال کا فرمان کچھ اس طرح بھی ہے :
{ اوران لوگوں کو کہہ دو جنہیں کتاب دی گئ اورامیوں کوبھی کہ کیا تم اسلام لے آۓ ہو ؟ } ۔
توجب ان کے لیے امی کی صفت کا بعثت سے قبل ثبوت ملتا ہے انہیں اس کی ابتدا کا حکم نہیں تھا ، جی ہاں ہوسکتا ہے کہ ان کویہ بھی حکم دیا گيا ہوکہ وہ اس کے بعض احکام پر باقی رہیں ، ہم اس کا بیان کریں گے کہ انہیں مطلقا اس پررہنے کا حکم نہیں دیا گيا جس پروہ پہلے تھے ۔
۔۔۔۔
جس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کیا گيا اس میں بہت سے لکھنے پڑھنے والے لوگ بھی تھے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں پاۓ جاتے تھے ، اوران ميں حساب وکتاب کرنے والے لوگ بھی تھے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفرائض کے ساتھ جس میں حساب (ریاضی ) بھی ہے مبعوث کیا گيا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ جب ان کا صدقہ پرمقررکیا گیا عامل ابن لتبیۃ آیا تونبی صلی اللہ وعلیہ وسلم نے اس کے ساتھ حساب کیا ۔
اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئ ایک کاتب تھے جن میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، زید ، اورمعاویہ رضي اللہ تعالی عنہم شامل تھے جو کہ وحی کی کتابت کرتے اور اسی طرح معاھدے اورنبی صلی اللہ کی طرف سے مختلف بادشاہوں اورحکمرانوں اوران کے مقرر کردہ عاملوں اورگورنروں کوخط لکھتے تھے ۔
اوراللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے :
{ تاکہ تم سالوں کی تعداد اورحساب کوجان لو } اللہ تعالی نےان دوآیتوں میں یہ بتایا ہے کہ اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ تم حساب کوجان سکو ۔
اورامی اصل میں " الامۃ " جو کہ امیین کی جنس ہے کی طرف منسوب ہے ، اوریہ اسے کہا جاتا ہے جوجنس سے لکھنے یا پڑھنے کے خصوصی علم کےساتھ متمیز نہ ہو ، جیسا کہ عام لوگوں میں سے اس شخص کوعامی کہا جاتا ہے جودوسروں سے کسی خصوصی علم میں متمیز نہ ہو ۔
اوریہ بھی کہا گيا ہے کہ امی کی نسبت " الام " کی طرف ہے ، یعنی وہ معرفت ، علم وغیرہ میں سے اسی پرباقی ہے جس کا اسے اس کی ماں نےعادی بنایا تھا ۔
پھروہ چيز جس کے ساتھ انسان عمومی امیۃ سے نکل کرخصوصیت کی جاتا ہے کبھی تووہ فی نفسہ فضل وکمال ہے جس طرح کہ قرات قرآن اوراس کے معانی کوسمجھنے کے ساتھ متمیزہونا ، اورکبھی ایسی اشیاء جس سے فضل وکمال تک پہنچا جا سکتا ہے ، جیسا کہ قرآن مجید پڑھنا اوراس کے معانی کوسمجھنے کے ساتھ متمیزہونا ہے ۔
اوربعض اوقات وہ چيز ہوتی ہے جس سے فضل وکمال تک پہنچا جاسکتا ہے ، مثلا لکھنے اررخط وغیرہ پڑھنے کے ساتھ دوسروں سے متميز ہونا ، تو یہ کام اس شخص کی مدح کا باعث ہے جس نے اسے کمال کے لیے استعمال کیا اور اس شخص کے لیے مذمت کا باعث ہے جس نے اسے معطل کرکے رکھ دیا اوریا پھراسے شروبرائ کے لیے استعمال کیا ، اورجوشخص اسے چھوڑ کراس بھی افضل اور نفع مندچیزحاصل کرلے وہ زیادا افضل اوراکمل ہوگي ، تواس کا چھوڑنا اس کے حق میں مقصد کوحاصل کرنے کے ساتھ اکمل وافضل ہوگا ۔
توجب یہ واضح ہوگیا کہ امیوں سے تمیز کی دوقسمیں ہیں ؛ تووہ امت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوۓ عرب تھے ، انہیں کے ذریعہ ساری امتوں کو دعوت ملی ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زبان میں مبعوث ہوۓ تووہ عام قسم کے امی تھے ان میں علم و کتاب غیرہ کی تميز نہیں تھی باوجود اس کے کہ ان کی فطرت علم کے لیے دوسری امتوں کے مقابلہ میں زیادہ تیارتھی ۔
اسی زمین کی طرح جوکاشت کے قابل ہو لیکن اسے کاشت کرنے والا کوئ نہیں ، تو ان کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کوئ کتاب نہیں تھی جسے وہ پڑھیں جس طرح کہ اہل کتاب کے پاس کتاب موجود تھی ، اورنہ ہی کوئ قیاسی اوراستنباط شدہ علوم ہی تھے جس طرح کہ صابئ وغیرہ کے پاس تھے ۔
اوران میں کتابت بہت ہی قلیل تھی ، اورعلم صرف اتنا تھا جتنا تھا جس سے انسان عمومی امیۃ سے نہیں نکلتا مثلا اللہ سبحانہ وتعالی کا علم ، اورمکارم اخلاق کی تعظیم اور علم انواء( ستاروں کا علم ) اورشعروں اور علم انساب وغیرہ تووہ ہراعتبار سے اسم امی ( ناخواندہ ) کے مستحق ٹھرے ، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے :
{ وہ اللہ ہی ہے جس نے امیوں ( ناخواندہ لوگوں ) میں ان میں سے ہی ایک رسول بھیجا } ۔
اورفرمان باری تعالی ہے :
{ اھل کتاب اورامی لوگوں کو کہہ دیجیے کہ کیا تم اسلام لے آۓ ہو ، اگرتو وہ مسلمان ہوگۓ ہیں توھدایت یافتہ ہیں اور اگر منہ پھیر لیں توآپ پر صرف تبلیغ کرنا ہے } ۔
تواللہ تعالی نے امی لوگوں کو اھل کتاب کے مقابلہ میں ذکر کیا ہے ، تو کتابی امی کے علاوہ ہوا ۔
توجب ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث کردیا گيا اوران پر کتاب اللہ میں جوکچھ بیان ہوااس کی اتباع اوراس پرغورفکراور تدبر اور اسے سمجھنا اوراس پر عمل کرنا واجب کردیا گیا اور قرآن مجید کو ہرچیز کی تفصیل بنایا گیا اوران کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہرچيز حتی کہ بیت الخلاء جانے کا طریقہ بھی بتایا تووہ اھل علم اورکتاب والے ٹھرے ، بلکہ علوم نافعہ میں سب مخلوق سے افضل اور زيادہ علم والے بن گۓ اور ان سے وہ مذموم اورناقص ناخواندگی زائل ہوگئ جو کہ عدم علم اوراللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ کتاب کے نہ ہونے کی بنا پر تھی ۔
اورانہیں کتاب وحکمت کا علم اور کتاب کی وراثت مل گئ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :
{ اللہ وہ ہے جس نے امیوں میں سے ہی ان کی طرف ایک رسول مبعوث کردیا جو ان پر اللہ تعالی کی آیات پڑھتا اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اگرچہ وہ اس سے قبل واضح قسم کی گمراہی میں تھے } ۔
تووہ ہراعتبارسے امی ( ناخواندہ ) تھے توجب انہیں کتاب وحکمت سکھا دی تو ان کےبارہ میں اللہ رب العزت نے فرمایا :
{ پھر ہم نے ان لوگوں کوکتاب کا وارث بنایا جن کوہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا ، پھران میں سے بعض تواپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہیں ، اوران میں سے بعض اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلےجاتے ہیں } ۔
اورایک اورمقام پراللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :
{ اوریہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے بڑی بابرکت کتاب ہے تواس کی اتباع کرو اورتقوی اختیارکرو تا کہ تم پررحم کیا جاۓ ، کہیں تم لوگ یہ نہ کہوکتاب توہم سے پہلے جودوفرقے تھے ان پر نازل ہوئ تھی اور ہم اس کے پڑھنے سے پڑھانے سے محض بے خبر تھے ، یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پرکوئ کتاب نازل ہوتی توہم ان سے بھی زيادہ راہ راست پرہوتے } ۔
اورابراھیم خلیل اللہ کی ان کے بارہ میں کی گئ دعا قبول ہوئ جس میں انہوں نے یہ کہا تھا :
{ اے ہمارے رب ! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج دے جوان پر تیری آیات کی تلاوت کرے ، اور انہیں کتاب وحکمت سکھاۓ ، اورانہیں پاک کرے یقینا توغلبہ اورحکمت والا ہے } ۔
اوراللہ جل شانہ کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :
{ بے شک مسلمانوں پراللہ تعالی کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں ایک رسول ان کی طرف بھیجاجو ان پر اللہ تعالی کی آیات تلاوت کرتااور انہیں پاک کرتا اورانہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے } ۔
تواس ناخواندگی میں سے کچھ توحرام اورکچھ مکروہ اورکچھ نقص اور ترک افضل ہے ، جوسورۃ فاتحہ یا قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھ سکے توفقھاء ایسے شخص کو نمازکے مسائل میں قاری کے مقابلےمیں امی ( ناخواندہ ) کہتے ہوۓ یہ کہتے ہیں کہ قاری کا امی کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ، اورنمازمیں امی (ناخواندہ ) امی کی اقتداء کرنا جائز ہے ، اوراس طرح کے مسائل میں ۔
توفقھاء یہاں پرامی سے مراد یہ لیتے ہیں جوفرضي اورواجب قرات بھی نہ کرسکے چاہے وہ لکھ سکتا ہویا نہ لکھ سکے اورحساب وکتاب کرنا جانتا ہویا نہ جانتا ہو ۔
توایسی امیۃ ( ناخواندگی ) بھی ہے جوواجب کے ترک میں ہے اوراگر انسان اس کی تعلیم پرقادرہونے کے باوجود نہ سیکھے تووہ سزا کا مستحق ہوگا
اورامیۃ ( ناخواندگی ) کی ایک قسم مذموم بھی ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے اھل کتاب کویہ وصف دیتے ہوۓ فرمایا :
{ ان میں سے بعض ایسے ان پڑھ بھی ہیں جوصرف کتاب کے ظاہری الفاظ کوہی جانتے ہیں اورصرف گمان اوراٹکل پرہی ہیں } ۔
تویہ اس شخص کی صفت ہے جو کلام اللہ کونہ توسمجھتااورنہ ہی اس پر عمل کرتا ہے بلکہ صرف اس کی تلاوت پر ہی گزارا کرتا ہے ، جیسا کہ حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
قرآن مجید تواس لیے نازل ہوا ہے کہ اس پرعمل کیا جاۓ تولوگوں نے اس کی تلاوت کرنے کوہی عمل بنا لیا ۔
تویہاں پرامی وہ ہے جوہوسکتا ہے کہ قرآن مجید کے حروف وغیرہ کوتو پڑھ سکتا ہے لیکن انہیں سمجھتا ہی نہیں بلکہ ظاہری طورپروہ اپنےگمان میں علمی کلام بھی کرتا ہوگا ، تویہ بھی وہ امی ( ناخواندگی ) مذموم ہے جس طرح کہ اللہ تعالی نے اس کے واجبی علم کے نقص ہونے پراس کی مذمت فرمائ ہے چاہے وہ فرض عین ہو یا فرض کفايہ ۔
اوراس میں سے کچھ افضل واکمل بھی ہے ، جس طرح کہ ایک شخص قرآن کریم کچھ حصہ ہی پڑھتا اورجو اس کے متعلق ہے اسے ہی سمجھتا اورشریعت میں سےبھی اتنا ہی سمجھتا ہے جتنا کہ اس پرواجب ہو ، تواس کوبھی امی کہا جاۓ گا ، اوراس کےمقابلے میں جسے مکمل قرآن کا علم اورعمل کرنے کی توفیق دی گئ ہے وہ پہلےسے افضل اوراکمل ہے ۔
شخص کے لیے یہ امتیازی امورجوکہ فضائل وکمال ہیں کواس نے اپنے اندر نہیں پایا ، اس میں یہ نہ پائی جانے والے اموریا توعینی طورپرواجب تھے اوریا پھرفرض کفایہ یا مستحب تھے ۔
ان امورسے مطلقا اللہ تعالی ہی موصوف ہے بلاشبہ اللہ تعالی علیم وحکیم ہے اورسب قسم کے علم اورشروخیراور ارادہ کے اعتبارسے کلام نافع اللہ تعالی میں ہی جمع ہے اوراسی طرح اللہ تعالی نے انبیاء اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوکہ علماء اورحکماء کے سردارہیں کوبھی علم دیا ہے ۔
اوروہ امتیازی امورجوفضائل کے وسائل اوراسباب ہیں جن کے بغیرکسی اورکے ساتھ بھی گزارا ممکن ہے ، تویہ اس کاتب کی طرح جو کہ لکھتا پڑھتا ہے توجب وہ اس سے مفقود ہوتویہ اس میں نقص ہوگا اوراس کے بغیراس کی فضیلت مکمل نہیں ہوگي اوروہ اس میں اپنے کمال وفضل سے تعاون حاصل کرتا ہے جس طرح کہ کوئ لکھنا پڑھنا سیکھے اوراس سے قرآن مجید اورعلمی کتابیں پڑھے اورلوگوں کے لیے نافع اشیاء لکھے تویہ اس کے حق میں فضل وکمال ہے ، اگرچہ وہ اس سے وہ ایسی اشیاء کے حصول پربھی تعاون لے جوکہ اس کےلیے مضراور نقصان دہ ہوں ، یاپھر لوگوں کواس شخص کی طرح نقصان دے جو کہ اس پڑھائ سے گمراہ کرنے والی کتابیں پڑھے اورلوگوں کونقصان پہنچانےوالی اشیاء لکھے جس طرح کہ کوئ بڑے بڑے افسروں اورججوں اورگواہوں کی جعلی خط وغیرہ تیارکرے ، تواس کے حق میں برا اورنقصان دہ ہوگا ۔
اوراسی لیے عمر نے عورتوں کواس سے منع کردیا تھا ، اوراگراس کے بغیر کسی اورطریقہ سے علم میں کمال حاصل ہوسکے اورتعلیم حاصل ہوسکے تواس کے لیے یہ افضل اوربہتر ہے ، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی حال تھا جن کےبارہ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
{ جولوگ ایسے نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کووہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں } ۔
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اموۃ ( ناخواندگی ) حافظے سے علم اورپڑھائ مفقود ہونے میں نہیں تھی بلکہ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں توامام الائمۃ ہیں ، بلکہ وہ اس اعتبارسے امی تھے کہ لکھ نہیں سکتے تھے اورلکھا ہوا پڑھ نہیں سکتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ان کے بارہ میں وضاحت کرتے ہوۓ فرمایا :
{ اس سے پہلے توآپ کوئ کتاب نہ پڑھتے تھے اورنہ ہی کسی کتاب کواپنے ھاتھ سے لکھتے تھے } ۔
۔۔۔۔۔
پھراس کے بعد شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی اسی حدیث ( ہم امی قوم ہیں لکھنا اورحساب وکتاب نہیں جانتے ) کی مراد بیان کرنے کی طرف آتے ہیں اوراس میں قرینہ بھی پایا جاتا ہے جوکہ مراد پردلالت کرتا ہے تووہ بیان کرتے ہوۓ کہتے ہیں :
توجب اس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیاکہ مہینہ تیس دنوں کا اورمہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے تواس سے حدیث کی مراد بیان کی گئ کہ ہم رؤیت ھلال میں حساب وکتاب کے محتاج نہیں اس لیے کہ کبھی وہ تیس اور کبھی انتیس کا ہوتا ہے توان کےدرمیان فرق صرف رؤیت سے ہی ممکن ہے اوران دونوں میں حساب وکتاب سے فرق نہیں کیا جاسکتا ۔
تواس سے یہ ظاہرہوا کہ اس میں بیان کی گئ امیۃ ( ناخواندگی ) کئ ایک وجوہ سے صفت کمال ومدح ہے :
ایک تویہ کہ حساب وکتاب کی ضرورت ہی نہيں اس لیے کہ اس سے بھی زیادہ واضح ھلال ہے توحساب وکتاب کی ضرورت ہی باقی نہ رہی ۔
اورایک وجہ یہ بھی ہے کہ حساب وکتاب سے اس میں غلطی ہوجاۓ گی ۔
۔۔ شیخ الاسلام کی کلام کے آخیر تک ۔ . | <urn:uuid:5841a200-0f76-42ec-8b9f-805768bb8e61> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/4713 | 2014-07-24T15:33:37Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997889379.27/warc/CC-MAIN-20140722025809-00243-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.94556 | Arab | 138 | {} |
حسن ابن علی
|ایک مدیر کی رائے میں یہ مضمون کچھ نقطہ ہائے نظر سے غیر متوازن ہے ۔ براہِ کرم نظر انداز کردہ نقطہ نظر پر معلومات کا اضافہ کر کے مضمون کو بہتر بنائیں یا مضمون کے تبادلہ خیال صفحہ پر رائے دیں۔|
|یہ مضمون کسی بھی ذرائع سے حوالہ نہیں دیتا۔ براہ مہربانی قابل اعتماد ذرائع سے حوالہ جات دیں۔ ایسے مواد کو کسی بھی وقت ویکیپیڈیا سے ختم کیا جا سکتا ہے۔|
|حسن|
|مکمل نام||حسن ابن علی|
|ترتیب||دوم|
|جانشین||حسین علیہ السلام|
|تاریخ ولادت||15 رمضان، 03 ہجری age =47|
|کنیت||ابو القاسم|
|والد||علی علیہ السلام|
|والدہ||فاطمہ بنت محمد|
|تاریخ وفات||28 صفر، 50 ہجری|
|جائے وفات||مدینہ منورہ، جزیرہ نمائے عرب|
|وجۂ وفات||شہادت|
|مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اولادِمحمد
|حضرت محمد کے بیٹے|
|حضرت محمد کی بیٹیاں|
|حضرت فاطمہ کی اولاد|
|بیٹے|
حسن _ حسین
|بیٹیاں|
امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) اسلام کے دوسرے امام تھے اور حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا نام حسن , لقب 'مجتبیٰ' اور کنیت ابو محمد تھی .
ولادت با سعادت[ترمیم]
آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی خوشی تھی . جب مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکی کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہا تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کوخوش خبری دی گئی ہے کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہوگا . آپ کی ولادت سے پہلے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکرا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔
حضرت امام حسن علیہ السلام کی مدینہ میں انے کے تیسرے ہی سال پیدائش گویا سورۃ کوثر کی پہلی تفسیر تھی . دنیا جانتی ہے کہ انہی امام حسن علیہ السلام اور ان کے چھوٹے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ذریعہ سے اولادِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کثرت ہوئی کہ باوجود ان کوششوں کے جو دشمنوں کی طرف سے اس خاندان کے ختم کرنے کی ہمیشہ ہوتی رہیں جن میں ہزاروں کوسولی دے دی گئی . ہزاروں تلواروں سے قتل کیے گئے اور کتنوں کو زہر دیا گیا . اس کے باوجوداج دُنیا الِ رسول کی نسل سے چھلک رہی ہے۔ عالم کا کوئی گوشہ مشکل سے ایسا ہوگا جہاں اس خاندان کے افراد موجود نہ ہوں . جبکہ رسول کے دشمن جن کی اس وقت کثرت سے اولاد موجودتھی ایسے فنا ہوئے کہ نام ونشان بھی ان کا کہیں نظر نہیں اتا . یہ ہے قران کی سچائی اور رسول کی صداقت کا زندہ ثبوت جو دنیا کی انکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن علیہ السّلام کی پیدائش سے پیغمبر کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسی ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہونا چاہیے۔ بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیاکے سامنے آئی۔ ساتویں دن عقیقہ کی رسم ادا ہوئی اور پیغمبر نے بحکم خدا اپنے اس فرزند کا نام حسن علیہ السلام رکھا.یہ نام اسلام کے پہلے نہیں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب سے پہلے پیغمبر کے اسی فرزند کا نام قرار پایا . حسین علیہ السلام ان کے چھوٹے بھائی کانام بھی بس انہی سے مخصو ص تھا۔ ان کے پہلے کسی کا یہ نام نہ ہوا تھا۔ آپ کی ولادت کے بعد آپ کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت فرمانے کے بعد اپنی زبان اپنے نواسے کے منہ میں دی جسے وہ چوسنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا۔
تربیت[ترمیم]
|عقائد و اعمال|
|اہم شخصیات|
|کتب و قوانین|
|مسلم مکتبہ ہائے فکر|
|معاشرتی و سیاسی پہلو|
|مزید دیکھیئے|
حضرت امام حسن علیہ السلام کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن علیہ السّلام اور حسین علیہ السّلام دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ مثلاً حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام جوانانِ بہشت کے سردار ہیں .»دونوں گوشوارئہ عرش ہیں .,, »یہ دونوں میرے گلدستے ہیں .,, »خداوندا میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھنا,, اور اس طرح کے بےشمار ارشادات پیغمبر کے دونوں نواسوں کے بارے میں کثرت سے ہیں , اُن کے علاوہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ اولاد کی نسبت باپ کی جانب ہوتی ہے مگر پیغمبر نے اپنے ان دونوں نواسوں کی یہ خصوصیت صراحت کے ساتھ بتائی کہ انھیں میرا نواساہی نہیں بلکہ میرا فرزند کہنا درست ہے .
یہ حدیث حضرت کی تمام اسلامی حدیث کی کتابوں میں درج ہے .حضرت نے فرمایا خدا نے ہر شخص کی اولاد کو خود اس کے صلب سے قرار دیا اور میری اولاد کو اس نے علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کی صلب سے قرار دیا . پھر بھلا ان بچوں کی تربیت میں پیغمبر کس قدر اہتمام صرف کرنا ضروری سمجھتے ہوں گے جب کہ خود بچّے بھی وہ تھے جنھیں قدرت نے طہارت وعصمت کالباس پنا کر بھیجا تھا , ایک طرف ائینے اتنے صاف اس پر رسول کے ہاتھ کی جلا, نتیجہ یہ تھا کہ بچے کم سنی ہی میں نانا کے اخلاق واوصاف کی تصویر بن گئے , خود حضرت نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ حسن میںمیرا رعب وداب اور شان سرداری ہے اور حسین علیہ السّلام میں میری سخاوت اور میری جراYPت ہے . شان سرداری گویامختصر سالفظ ہے مگر اس میں بہت سے اوصاف وکمال کی جھلک نظر ارہی ہے . اس کے ساتھ مختلف صورتوں سے رسول نے بحکمِ خدا اپنے مشن کے کام میں ان کو اسی بچپن کے عالم میں شریک بھی کیا جس سے ثابت بھی ہوا کہ پیغمبر اپنے بعد بمنشا الٰہی حفاظت ُ اسلام کی مہم کو اپنے ہی اہلیبت علیہ السّلام کے سپرد کرنا چاہتے ہیں . اس کاایک موقع مباہلہ کے میدان میں تھا .حضرت حسن علیہ السلام بھی اپنے ناناکے ساتھ ساتھ تھے 2 1ربیع الاوّل 11ھ کوجناب رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوگئی او ر امام حسن علیہ السلام اس مسرت اور اطمینان کی زندگی سے محروم ہوئے . نانا کی وفات کے تھوڑے ہی دن بعد امام حسن علیہ السلام کو اپنی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا . اب حسن علیہ السّلام کے لیے گہوارہ تربیت اپنے مقدس باپ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات تھی .حسن علیہ السّلام اسی دور میں جوانی کی حدوں تک پہنچے اور کمال شباب کی منزلوں کوطے کیا .پچیس برس کی خانہ نشینی کے بعد جب حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو مسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے بعد جمل , صفین اور نہروان کی لڑائیاں ہوئیں تو ہر ایک جہاد میں حسن علیہ السّلام اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ بلکہ بعض موقعوں پر جنگ میں آپ نے کار نمایاں بھی دکھلائے .
خلافت[ترمیم]
21ماہ رمضان 40ھ میںحضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کی شہادت ہوئی . اس وقت تمام مسلمانوں نے مل کر حضرت امام حسن علیہ السّلام کی خلافت تسلیم کی . آپ پر اپنے والد بزرگوار کی شہادت کا بڑااثر تھا . سب سے پہلا خطبہ جو آپ نے ارشاد فرمایا اس میںحضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے فضائل ومناقب تفصیل کے ساتھ بیان کئے . جناب امیر علیہ السّلام کی سیرت اور مال دُنیا سے پرہیز کا تذکرہ کیا . اس وقت آپ پر گریہ کااتنا غلبہ ہوا کہ گلے میں پھندا پڑگیا اور تمام لوگ بھی آپ کے ساتھ بے اختیار رونے لگے.پھر آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی فضائل بیان کیے . عبداللهابن عباس رض نے کھڑے ہوکر تقریر کی اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دی . سب نے انتہائی خوشی اور رضا مندی کے ساتھ بیعت کی آپ نے مستقبل کے حالات کاصحیح اندازہ کرتے ہوئے اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ شرط کردی کہ »اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہوگی او راگر میں جنگ کروں تو تمھیں میرے ساتھ مل کر جنگ کرنا ہوگی , سب نے اس شرط کو قبول کرلیا . آپ نے انتظامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لیا . اطراف میں عمال مقرر کئے , حکام متعین کئے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے . یہ وقت وہ تھا کہ دمشق میں حاکم شام معاویہ کا تخت ُ سلطنت پر قبضہ مضبوط ہوچکا تھا .حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے ساتھ صفین میں جو لڑائیاں حاکمِ شام کی ہوئی تھیں ان کا نتیجہ تحکیم کی سازشانہ کاروائی کی بدولت حاکم ُ شام کے موافق نکل چکا تھا ادھر حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب کی سلطنت کے اندر جہاں اب حضرت امام حسن علیہ السّلام حکمران ہوئے تھے باہمی تفرقے اور بددلی پیدا ہو چکی تھی خود جناب امیر علیہ السّلام احکام کی تعمیل میں جس طرح کوتاہیاں کی جاتی تھیں وہ حضرت کے اخر عمر کے خطبوں سے ظاہر ہے ,خوارج نہروان کا فتنہ مستقل طور پر بے اطمینان کاباعث بنا ہوا تھا جن کی اجتماعی طاقت کو اگرچہ نہروان میں شکست ہوگئی تھی مگر ان کے منتشر افراد اب بھی اسی ملک کے امن وامان کو صدمہ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے یہاںتک کہ بظاہر اسی جماعت کا ایک شخص تھا جس نے حضرت امیر علیہ السّلام کے سر پر مسجد میں ضربت لگائی اور جس کا صدمہ سے آپ کی وفات ہوئی تھی .
ابھی ملک حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کے غم میں سوگوار تھا اور حضرت امام حسن علیہ السّلام پورے طور پر انتظامات بھی نہ کرچکے تھے کہ حکام شام کی طرف سے آپ کی مملکت میں دراندازی شروع ہوگئی اور ان خفیہ کارکنوں نے اپنی کاروائیں جاری کردیں چنانچہ ایک شخص قبیلہ حمیر# کا کوفہ میںا ورایک شخص بنی قین میں سے بصرہ میں پکڑا گیا یہ دونوں اس مقصد سے ائے تھے کہ یہاں کے حالات سے دمشق میں اطلاع دیں اور فضا کو امام حسن علیہ السّلام کے خلاف ناخوشگوار بنائیں غنیمت ہے کہ اس کاانکشاف ہوگیا حمیر والا آدمی کوفہ میں ایک قصائی کے گھر سے اور قین والاا دمی بصرہ میں بنی سلیم کے یہاں سے گرفتار کیا گیا اور دونوں کو جرم کی سز ادی گئی .اس واقعہ کے بعد حضرت امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ تم اپنی دراندازیوں سے نہیں باز آتے . تم نے لوگ بھیجے ہیںکہ میرے ملک میںبغاوت پیدا کرائیں اور اپنے جاسوس یہاں پھیلا دئیے ہیں . معلوم ہوتا ہے کہ تم جنگ کے خواہشمند ہو ایسا ہو تو پھر تیار ہو , یہ منزل کچھ دور نہیں . نیز مجھ کو خبر ملی ہے کہ تم نے میرے باپ کی وفات پر طعن وتشنیع کے الفاظ کہے . یہ ہر گز کسی ذی ہوش آدمی کا کام نہیں ہے . موت سب کے لیے ہے اج ہمیں اس حادثے دوچار ہونا پڑا تو کل تمھیں ہوناہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ »ہم اپنے مرنے والے کو مرنیوالا سمجھتے نہیں . وہ تو ایسا ہے . جیسے ایک منزل سے منتقل ہو کر اپنی دوسری منزل میں جا کر ارام کی نیند سوجائے .,,
اس خط کے بعد حاکم شام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے درمیان بہت سے خطوط کی ردوبدلی ہوئی . حاکم شام کواپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے اہل کوفہ کے باہمی تفرقہ اور بددلی اور عملی کمزوریوں کا علم ہوگیا . اس لیے وہ سوچنے لگا کہ یہی موقع ہے کہ عراق پر حملہ کر دیا جائے . چناچہ وہ اپنی فوجوں کو لے کر عراق کی حدود تک پہنچ گئے . اس وقت حضرت امام حسن علیہ السّلام نے بھی مقابلہ کی تیاری کی حجر بن عدی کو بھیجا کہ وہ دورہ کرکے اطراف ُ ملک کے احکام کو مقابلے کے لیے امادہ کریں اور لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کریں مگر جو خیال تھا وہی ہوا کہ عام طورپر سردمہری سے کام لیا گیا . تھوڑی فوج تیار ہوئی تو ان میں کچھ فرقہ خوارج کے لوگ تھے کچھ شورش پسند اور مال غنیمت کے طلبگار او رکچھ لوگ صرف اپنے سردارانِ قبائل کے دباؤ سے شریک تھے , بہت کم وہ لوگ تھے جو واقعی حضرت علی علیہ السّلام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے شیعہ سمجھے جاسکتے تھے .
ادھر معاویہ نے عبدالله ابن عامر ابن کریز کو اگے روانہ کیااور اس نے اس مقام انبار میں جاکر چھاؤنی بنائی ادھرحضرت امام حسن علیہ السّلام اس کے مقابلہ کے لے روانہ ہوئے اور مقامِ دیر کعب کے قریب ساباط# میںقیام کیا . یہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے سب کو جمع کرکے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ »دیکھو مجھے کسی مسلمان سے کینہ نہیں ہے , میں تمھارا اتنا ہی بہی خواہ ہوں جتنا خود اپنی ذات کی نسبت مجھے ہونا چاہیے . میں تمھارے بارے میں ایک فیصلہ کن رائے قائم کرتا رہا ہوں .امید ہے کہ تم میری رائے سے انحراف نہ کرو گے . میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر کی ہمت جہاد سے پست ہوگئی ہے اور میں کسی طرح یہ صحیح نہیں سمجھتا کہ تمھیں بادل ناخواستہ کسی مہم پر مجبور کروں .,,اس تقریر کاختم ہونا تھا کہ مجمع میں ہنگامہ پید اہوگیا . یقینی علی علیہ السّلام جیسے بہادر باپ کا بہادر فرزند تن تنہا اس ہنگامہ اور جماعت کا مقابلہ کرنے کے لے کافی تھا .اگر یہ کھلم کھلا دشمنوں کی جماعت ہوتی مگر اس کے پہلے خود حضرت علی علیہ السّلام بھی اس وقت بظاہر بے بس ہوگئے تھے . جب نیزوں پر قران اونچے کیے جانے کے بعد صفین میں خود آپ کی فوج کے آدمی آپ کو گھیر کر کھڑے ہوگئے تھے کہ آپ جنگ کو روکئے. نہیں تو ہم آپ کو قید کر کے دشمن کے سپرد کر دیں گے. اس وقت جناب امیر علیہ السّلام نے ایسا نہیں کیا کہ تلوار لے کر لڑنے لگتے بلکہ مجبوراً جنگ کو ملتوی فرمایا. اس سے زیادہ سخت صورت سے اس وقت امام حسن علیہ السّلام کو سامنا کرنا پڑا کہ مجمع نے آپ پر حملہ کردیا اور مصلّٰی قدم کے نیچے سے کھینچ لیا . چادر آپ کے دوش سے اتارلی .آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اواز بلند کی کہ کہاں ہیں ربیعہ او ہمدان# , فوراً یہ دونوں جانثار قبیلے اَدھر اُدھر سے دوڑ پڑے اور لوگوں کو آپ سے دورکیا . آپ یہاں سے مدائن کی طرف روانہ ہوئے مگر جراح ابن قبیصہ اسدی ایک شخص انہی خوارج میں سے کمین گاہ میں چھپ گیااور اس نے آپ پر خنجر سے وار کیا جس سے آپ کی ران زخمی ہوگئی , حملہ اور گرفتار کیا گیا اور اسے سزا دی گئی . عرصہ تک مدائن میں علاج ہونے کے بعد آپ اچھے ہوئے او پھر معاویہ کی فوج سے مقابلہ کی تیاری کی .
صلح[ترمیم]
حاکم شام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی فوج کی حالت اور لوگوں کی بے وفائی کا علم ہوچکا تھا اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ امام حسن علیہ السّلام کے لے جنگ کرنا ممکن نہیں ہے مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی یقین رکھتے تھے کہ حضرت امام حسن علیہ السّلام کتنے ہی بے بس اور بے کس ہوں مگر وہ علی علیہ السّلام وفاطمہ کے بیٹے اور پیغمبر کے نواسے ہیں اس لیے وہ شرائط پر ہر گز صلح نہ کریں گے جو حق پرستی کے خلاف ہوں اور جن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو . اس کو نظر میں رکھتے ہوئے انھوں نے ایک طرف تو آپ کے ساتھیوں کو عبداللهابن عامر کے ذریعے سے یہ پیغام دلوایا کہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو اور خونریزی نہ ہونے دو . اس سلسلے میں کچھ لوگوں کو رشوتیں بھی دی گئیں اور کچھ بزدلوں کو اپنی تعداد کی زیادتی سے خوف زدہ بھی کیا گیا اور دوسری طرف امام حسن علیہ السّلام کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ جن شرائط پر کہیں انہی شرائط پر میں صلح کے لیے تیار ہوں .
امام حسن علیہ السّلام یقیناً اپنے ساتھیوں کی غداری کو دیکھتے ہوئے جنگ کرنا مناسب نہ سمجھتے تھے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ ضرور پیش نظر تھا کہ ایسی صورتِ پیدا ہوکہ باطل کی تقویت کادھبہ میرے دامن پر نہ آنے پائے . اس گھرانے کوحکومت واقتدار کی ہوس تو کبھی تھی ہی نہیں . انھیں تو مطلب اس سے تھا کہ مخلوقِ خدا کی بہتری ہو اورحدودوحقوق الٰہی کا اجرا ہو اب معاویہ نے جو آپ سے منہ مانگے شرائط پر صلح کرنے کے لیے امادگی ظاہر کی تو اب مصالحت سے انکار کرناشخصی اقتدار کی خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں قرار پاسکتا تھا . یہ حاکم شام صلح کے شرائط پر عمل نہ کریں گے بعد کی بات تھی . جب تک صلح نہ ہوتی یہ انجام سامنے اکہاں سکتا تھا او رحجت تمام کیونکر ہوسکتی تھی , پھر بھی اخری جواب دینے سے قبل آپ نے ساتھ والوں کو جمع کیا اور تقریر فرمائی .»اگاہ رہو کہ تم میں دو خونریز لڑائیں ہوچکی ہیں جن میں بہت لوگ قتل ہوئے کچھ مقتول صفین# میں ہوئے جن کے لیے اج تک رورہے ہو , اور کچھ فضول نروان کے جن کا معاوضہ طلب کر رہے ہو اب اگر تم موت پر راضی ہوتوہم ا س پیغام صلح کو قبول نہ کریں اوران سے الله کے بھروسے پر تلواروں سے فیصلہ کرائیں اور اگر زندگی کو دوست رکھتے ہو تو ہم اس کو قبول کرلیں اور تمھاری مرضی پر عمل کریں« جواب میں لوگوںنے ہر طرف سے پکارنا شروع کیا کہ »ہم زندگی چاہتے ہیں , آپ صلح کرلیجئے .,, اس کا نتیجہ تھا کہ آپ نے صلح کے شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کئے.
شرائط صلح[ترمیم]
اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسبِ ذیل تھے.
- یہ کہ معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدااور سنتِ رسول پر عمل کریں گے.
- دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا.
- یہ کہ شام وعراق وحجازویمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی.
- یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہا ں بھی ہیں ان کے جان ومال اور ناموس واولاد محفوظ رہیں گے .
- معاویہ حسن علیہ السّلام ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام ابن ُ علی علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کرئے گا نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا .
- جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات ُ نازیبا جو اب تک مسجدجامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردیئے جائیں . اخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہو اتو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسانہ کیا جائے . یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول41ھئ کو عمل میں ایا.
صلح کے بعد[ترمیم]
فوجیں واپس چلی گئیں .معاویہ کی شہنشاہی ممالک اسلامیہ میںعمومی طور پر مسلّم ہوگئی اور اب شام ومصر کے ساتھ عراق وحجاز , یمن اور ایران نے بھی اطاعت کرلی . حضرت امام حسن علیہ السّلام کو اس صلح کے بعد اپنے بہت سے ساتھیوں کی طرف سے جس طرح کے دلخراش اور توہین امیز الفاظ کاسامنا کرنا پڑا .ان کابرداشت کرنا انہی کاکام تھا .وہ لوگ جو کل تک امیر المومنین کہہ کے تسلیم بجالاتے تھے اج »مُذلّ المومنین «»یعنی مومنین کی جامعت کو ذلیل کرنے والے ,, کے الفاظ سے سلام کرنے لگے پھر امام حسن علیہ السّلام نے صبرو استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناگوار حالات کو برداشت کیااور معاہدہ پر سختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ ہوا کہ حاکمِ شام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اور سیاسی اقتدار کے مضبوط ہوتے ہی عراق میں داخل ہو کر نخیلہ میںجسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہیے قیام کیااور جمعہ کے خطبہ کے بعد یہ اعلان کردیا کہ »میرا مقصد جنگ سے کوئی یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو . روزے رکھنے لگو . حج کرو یا زکوٰة ادا کرو , یہ سب تو تم کرتے ہی ہو میرا مقصد تو بس یہ تھا کہ میری حکومت تم پر مسلّم ہوجائے اور یہ مقصد میرا حسن علیہ السّلام کے اس معاہدہ کے بعد پورا ہوگیا اور باوجود تم لوگوںکی ناگواری کے خدانے مجھے کامیاب کردیا . رہ گئے وہ شرائط جو میںنے حسن علیہ السّلام کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچے ہیں ان کاپورا کرنا یا نہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے »مجمع میں ایک سناٹا چھایا ہوا تھا مگر اب کس میں دم تھا کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولتا .انتہا ہے کہ کوفہ میں امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی موجودگی میں حاکم شام نے حضرت امیر علیہ السّلام اور امام حسن علیہ السّلام کی شان میںکلماتِ نازیبا استعمال کیے جن کو سن کر امام حسین علیہ السّلام بھائی کی جانب سے جواب دینے کے لیے کھڑے ہوگئے مگر امام حسن علیہ السّلام نے آپ کو بیٹھا دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں حاکم شام کی تقریر کا جواب دیا اسی طرح جتنی معاہدہ کی شرطیں تھیں حاکم شام نے سب کی مخالفت کی اور کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا .
باوجودیہ کہ آپ بالکل خاموشی کی زندگی گزار رہے تھے مگر آپ خود بھی اس دور میں بنی امیہ کی ایذارسانیوں سے محفوظ نہیں تھے . ایک طرف غلط پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات جن میں سے ان کی بلندی مرتبہ پر عام نگاہوں میں حرف ائے مثلاًکثرتِ ازدواج اور کثرتِ طلاق یہ چیز اپنی جگہ پر شریعت ُ اسلام میںجائز ہے مگر بنی امیہ کے پروپیگنڈے نے اس کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی نسبت ایسے ہولناک طریقہ پر پیش کیاکو ہر گز قابل قبول نہیں ہے . دوسرے بنی امیہ کے ہواخواہوں کا بُرا برتاؤ , سخت کلامی اور دشنام دہی اس کااندازہ اما م حسین علیہ السّلامکے ان الفاط سے ہوتا ہے کہ جو آپ مروان سے فرمائے تھے . جب امام حسن علیہ السّلام کے جنازے کے ساتھ مروان رورہا تھا , امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا .»اج تم روتے ہو ,حالانکہ ا سکے پہلے تم انھیں غم وغصہ کے گھونٹ پلاتے تھے جنھیں دل ہی خوب جانتا ہے.,,مروان نے کہا . ٹھیک ہے مگر وہ سب کچھ ایسے انسان کے ساتھ کرنا تھا جو پہاڑ سے زیادہ قوتِ برداشت رکھنے والا تھا .
اخلاق وانصاف[ترمیم]
امام حسن علیہ السّلام کی ایک غیر معمولی صفت جس کے دوست اور دشمن سب معترف تھے . وہ یہی حلم کی صفت تھی جس کا اقرار بھی مروان کی زبان سے آپ سن چکے ہیں . حکومت ُ شام کے ہواخواہ صرف اس لیے جان بوجھ کر سخت کلامی اور بد زبانی کرتے تھے کہ امام حسن علیہ السّلام کو غصہ اجائے اور کوئی ایسا اقدام کردیں جس سے آپ پر عہد شکنی کاالزام عائد کیا جاسکے اورا س طرح خونریزی کا ایک بہانہ ہاتھ ائے مگر آپ ایسی صورتوں میں حیرتناک قوت ُ برداشت سے کام لیتے تھے جو کسی دوسرے انسان کاکام نہیں ہے . آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی عرب میں مشہور تھی . آپ نے تین مرتبہ اپنا تما م مال راہ خدا میں لٹا دیا اور دو مرتبہ ملکیت . یہاں تک کہ اثاث البیت اور لباس تک کو ادھوں ادھ خدا میں دے دیا .
سائلوں کو ایک دفعہ میںہزاروں روپے دے دئیے ہیں اور حقیقت میںمعاویہ کے ساتھ شرائط ُصلح میں جو بہت سے مورخین کے بیان کے مطابق ایک خاص رقم کی شرط ملتی ہے کہ معاویہ کی جانب سے ہر سال امام حسن علیہ السّلام کے پاس روانہ کی جائے وہ اگر صحیح ہو تو اس کامقصد صرف یہی تھاکہ اس ذریعہ سے مسلمانوں کے بیت المال کا کچھ روپیہ مستحقین تک بھی پہنچ سکے , ہر گز اپنی ذات پرصرف کرنے کے لیے آپ نے اس رقم کی شرط قرار نہیں دی تھی چنانچہ جوکچھ پاس موجود ہوتا تھا چاہیے زیادہ سے زیادہ رقم کیوں نہ ہو آپ خود فوراً سائلوں کوعطا فرمادیتے تھے , کسی نے آپ سے پوچھا کہ باوجود کہ آپ خود ضرورت مند ہیں پھر بھی کیا بات ہے کہ سائل کو رد نہیں فرماتے , آپ نے فرمایا .»میں خود خدا کی بارگاہ کا سائل ہوں ,مجھے شرم اتی ہے کہ خود سائل ہوتے ہوئے دوسرے سائلوں کے سوال کے پورا کرنے کی تمنا رکھوں .,,
اس کے ساتھ آپ کے علمی کمالات بھی وہ تھے جن کے سامنے دُنیا سرخم کرتی تھی اگرچہ عبدالله بن عباسرض امیر المومنین علیہ السّلام سے حاصل کیے ہوئے علوم سے دُنیا ئے علم میں اپنا ڈنکا بجارہے تھے مگر امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے خدا داد علم کاسامنا ہوجاتا تھا تو خاندانِ رسالت کی بزرگی کا دنیا کو اقرار کرنا پڑتا تھا . چنانچہ ایک سائل نے مسجد نبوی میں اکر ایک ایت کی تفسیر ابن عباسرض سے بھی پوچھی.عبدالله ابن رض عمیر سے بھی پوچھی اور پھر امام حسن سے دریافت کی اور اخر میں اس نے اقرار کیا کہ امام حسن علیہ السّلام کا جواب یقیناً ان دونوں سے بہتر تھا . اکثر آپ نے اپنے دشمن معاویہ کے دربار میں اور وہاں کے مخالف ماحول میں فضائل اہلبیت علیہ السّلام اور مناقب امیر المومنین علیہ السّلام پر ایسی مئوثر تقریریں فرمائی ہیں کہ دشمنوں کے سرجھک گئے اور آپ کی فصاحت وبلاغت اورحقانیت کا ان کے دلوں پر سّکہ قائم ہوگیا .
عبادت بھی آپ کی امتیازی حیثیت رکھتی تھی بیس یاپچیس حج پاپیادہ کیے . جب موت, قبر , قیامت اور صراط کو یاد فرماتے تھے تو رونے لگتے تھے . جب بارگاہ الٰہی میں اعمال کے پیش ہونے کا خیال اتا تو ایک نعرہ مار کر بے ہوش ہوجاتے تھے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے تھے تو جسم لرزنے لگتاتھا
وفات[ترمیم]
اس بے ضرر اور خاموش زندگی کے باوجود بھی امام حسن علیہ السّلام کے خلاف وہ خاموش حربہ استعمال کیا گیا جو سلطنت بنی امیہ میں اکثر صرف کیا جارہا تھا . حاکم شام نے اشعث ابن قیس کی بیٹی جعدہ کے ساتھ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی ساز باز کرکے ایک لاکھ درہم انعام اور اپنے فرزند یزید کے ساتھ شادی کا وعدہ کیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا .امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہوگئے اور حالت خراب ہوئی .آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اوروصیت کی , اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا کے جار میںدفن کرنا لیکن اگر مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے . میرے جنازے کو واپس لے انا اور جنت البقیع میں دفن کرنا۔ 28 صفر 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہوگئے . حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا . ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی .نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کردی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے , بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہا نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اورا مام حسن علیہ السّلام کاتابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کردیا
| <urn:uuid:bf3005e1-34e9-454e-ac29-c8639290c4f3> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%D8%B3%D9%86_%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D9%84%DB%8C | 2014-07-24T15:28:57Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997889379.27/warc/CC-MAIN-20140722025809-00243-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.970437 | Arab | 45 | {} |
اسہال یا دست (diarrhea) سے مراد ایک ایسے مرض کی ہوتی ہے کہ جس میں آنتوں سے فضلہ یا براز (feces) بار بار یا زیادہ آتا ہے اور یہ براز عام طور پر اپنی کیفیت میں سیالی یا پتلا ہوتا ہے، اس کی امراضیاتی وجہ بنیادی طور پر آنتوں میں پانی، غذائی مادوں برقپاشوں (electrolytes) کے ناکافی انجذاب کی ہوتی ہے۔ اسہال کو دست یا دستوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں طبی طور پر اسے یوں بھی کہتے ہیں کہ اگر پتلے فضلے کا اخراج ایک دن میں تین سے زیادہ بار عجلت (urgency) کے ساتھ ہو رہا ہو تو اسے دست کی کیفیت کہا جاسکتا ہے۔
ویکیمیڈیا العام میں اسہال سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔ | <urn:uuid:a8d48a34-32ae-494c-8eaf-f87e7d6bcc35> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%DB%81%D8%A7%D9%84 | 2014-07-29T02:36:11Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510264575.30/warc/CC-MAIN-20140728011744-00444-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.985595 | Arab | 32 | {} |
اسلامی مرکز واشنگٹن
مرکزِ اسلامی واشنگٹن ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز ہے جو خیابان میساچوسٹس پر واقع ہے۔ 1957ء میں جب اس مسجد کاافتتاح ہوا تو اسے مغربی نصف کرہ کی سب سے بڑی مسلم عبادت گاہ کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہاں جمعہ کے روز 6 ہزار افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں مسجد اور اسلامی مرکز کی تعمیر کا خیال اس وقت آیا جب 1944ء میں ترکی کے سفیر منیر ارتوغن کا انتقال ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے کوئی مسجد شہر میں واقع نہیں تھی۔ واشنگٹن کے سفارتی حلقوں نے مسجد کی تعمیر کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دنیا بھر میں قائم اسلامی ممالک نے اس کی بھرپور تائید کی اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے لیے نامورر کاریگر بھی مہیا کیے۔ 1946ء میں مسجد کی تعمیر کے لیے موجودہ جگہ خریدی گئی اور 11 جنوری 1949ء کو مسجد اور اسلامی مرکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ عمارت کا نقشہ اطالوی ماہر تعمیرات ماریو روسی نے تیار کیا اور 28 جون 1957ء کو مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں اُس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور بھی موجود تھے۔ اس مسجد کا انتظام مختلف سفارت کاروں پر مشتمل ایک انجمن سنبھالتی ہے۔ مسجد کی عمارت کے گرد دنیا بھر میں واقع اسلامی ممالک کے پرچم نصب ہیں۔ کئی اعلٰی شخصیات اس مسجد کا دورہ کر چکی ہیں جن میں امریکہ کے صدور بھی شامل ہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ہونے والے حملوں کے صرف چند روز بعد 17 ستمبر کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے مسجد کا دورہ کیا۔ مسجد کے ساتھ ساتھ اس مرکز میں ایک کتب خانہ اور تدریسی کمرے بھی ہیں جہاں علوم اسلامی اور عربی زبان سکھائی جاتی ہے۔
متعلقہ مضامین[ترمیم]
بیرونی روابط[ترمیم]
|ویکیمیڈیا العام میں اسلامی مرکز واشنگٹن سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔| | <urn:uuid:f6c85421-8603-4c77-a3e5-dcea25bb23f8> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C_%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2_%D9%88%D8%A7%D8%B4%D9%86%DA%AF%D9%B9%D9%86 | 2014-07-25T06:47:20Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997893881.91/warc/CC-MAIN-20140722025813-00211-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.988354 | Arab | 56 | {} |
بے آباد زيمن کوآباد کرنا کیا ہے اوراس کے احکام کیا ہيں ؟
الحمدللہ
الموات : میم اور واو کے فتح کے ساتھ : موات اسے کہتے ہیں جس میں روح نہ ہو لیکن یہاں پر وہ زمین مراد ہے جس کا کوئ مالک نہ ہو ۔
فقھاء رحمہم اللہ تعالی اس کی تعریف یہ کرتے ہیں :
ایسی زمین جوکسی اختصاص اورملکیت سے عاری وخالی ہو ۔
تواس تعریف سے دوچيزیں خارج ہوجاتی ہیں :
اول :
جوکسی کافر یا مسلمان کی خرید اوریا پھر عطیہ وغیرہ کی بنا پر ملکیت بن جاۓ ۔
دوم :
جس کے ساتھ ملک معصوم کی کوئ مصلحت وابستہ ہو ، مثلا راستہ ، سیلابی پانی وغیرہ کی گزرگاہ ۔
یاپھرکسی شہرکے آباد کاروں کی اس کے ساتھ مصلحت کا تعلق ہو ، مثلا : میت دفن کرنے کیے لیے قبرستان ، یا پھر گندگی وغیرہ پھینکنے کی جگہ ، یا پھر عیدگاہ اورلکڑیاں وغیرہ کی جگہ اورچراگاہ وغیرہ ۔
تواس طرح کی زمین آباد کرنے سے بھی کسی کی ملکیت میں نہیں آسکتی
لیکن جب کسی زمین میں یہ دونوں چیزیں یعنی ملکیت معصوم اوراس کا اختصاص نہ پایا جاۓ اورکوئ شخص اسے آباد اورزندہ کرلے تووہ زمین اسی کی ملکیت میں آجاۓ گی ۔
جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( جس نے بھی کوئ زمین زندہ کی تووہ اسی کی ہے ) مسند احمد اورامام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوصحیح کہا ہے ، اسی معنی کی احادیث اوربھی وارد ہیں اورکچھ توصحیح بخاری میں بھی موجود ہیں ۔
اورعمومی فقھاء امصار کہتے ہیں کہ موات وہ بے آباد زمین کسی کے آباد کرنے سے ملکیت میں آجاتی ہے ، اگرچہ فقھاء نے شروط میں اختلاف کیا ہے ، لیکن حرم اورمیدان عرفات کی بے آباد زمین آباد کرنے سے بھی ملکیت میں نہيں آسکتی ۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے مناسک حج کی ادائيگي میں تنگی ہوگی اوروہاں پر لوگوں کی جگہوں پرقابض ہونا برابر ہے ۔
احیاء ارض یعنی زمین کی آبادکاری مندرجہ ذيل امور سے حاصل ہوگی :
اول :
جب کوئ زمیں کے ارد گرد چاردیواری کرلے جوکہ عادتا معروف تواس نے اسے آباد کرلیا اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :
( جس نے زمین پر چاردیواری کرلی وہ اسی کی ہے ) مسند احمد ، سنن ابوداود ، اورابن الجارود رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اس کے علاوہ سمرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ چاردیواری سے ملکیت کا مستحق ہوجاتا ہے ۔
اورچاردیواری کی مقدار وہ ہوگی جولغت میں دیوار معروف ہے لیکن اگر اس نے کسی بے آباد زمین کے گرد پتھر یا پھر مٹی اکٹھی کی یا چھوٹی سی دیوار بنالی جواس سے آگے روک بھی نہ لگا سکے یا پھر کسی نے زمین کے گرد خندق کھود لی تواس سے وہ اس کی ملکیت نہیں بن سکتی ۔
لیکن اس کی وجہ سے وہ اسے آباد کرنے کا دوسروں سے زيادہ حقدار ہوگا اس لیے کہ اس نے اسے آباد کرنا شروع کردیا ہے ۔
دوم :
اگرکسی نے بے آباد زمین میں کنواں کھود لیا اورپانی نکل آیا تواس نے بھی اس زمین کوآباد کرلیا ، لیکن اگر وہ کنواں کھودتا ہے اورپانی تک نہیں پہنچتا تواس کی بنا پروہ اس کا مالک نہیں بن سکتا ، بلکہ وہ اسے اس کے احیاء کادوسروں سے زياد حقدار ہے ، اس لیے کہ اس نے احیاء کی ابتدا کرلی ہے ۔
سوم :
جب اس نے اس بے آباد زمین میں کسی چشمے یا پھر نہر کا پانی پہنچا دیا تواس نے اس کی وجہ سے اس زمین کا احیاء کرلیا ، اس لیے کہ زمین کے لیے پانی دیوار سے زيادہ نفع مند ہے ۔
چہارم :
جب کسی نے زمین میں کھڑے ہونے والے پانی کواس سے روک دیا جس پانی کے کھڑے ہونے کی بنا پر وہ کاشت کے قابل نہیں رہتی تھی ، وہ پانی وہاں سے روک دیا حتی کہ وہ کاشت کے قابل ہوگئ تواس نے زمین کا احیاء کرلیا ۔
اس لیے کہ یہ کام زمین کے لیے ملکیت کی دلیل میں مذکور دیوار سے بھی زيادہ نفع مند ہے ۔
اورکچھ علماء کرام کہتے ہیں کہ بنجر زمین کا احياء صرف انہی امور پر موقوف نہیں بلکہ اس میں عرف کا اعتبار ہوگا جسے عرف عام میں لوگ احیاء شمار کریں گے اس کی بنا پروہ زمین کا مالک بھی بنے گا ۔
آئمہ حنابلہ اور دوسروں نے یہی مسلک اختیار کیا ہے اس لیے کہ شرع نے ملکیت کی تعلیق لگائ ہے اوراسے بیان نہیں کیا تو اس طرح عرف عام میں جسے احیاء کہا جاۓ اسی کی طرف رجوع ہو گا ۔
مسلمانوں کے امام اورامیر یا خلیفہ کویہ حق حاصل ہے کہ وہ بنجر زمین کسی کو دے دے تا کہ وہ اسے آباد کرے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بلال بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کوعقیق میں جاگیر عطا کی تھی اوروائل بن حجر رضي اللہ تعالی عنہ کوحضرموت میں عطا کی اوراسی طرح عمر اورعثمان اوربہت سے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کوعطا کی تھی ۔
لیکن صرف جاگیر مل جانے سے ہی وہ مالک نہیں بن جاۓ گا بلکہ وہ اس دوسرے سے زيادہ حقدار ہے لیکن جب اسے آباد اوراسکا احیاء کرے گا وہ اس کی ملکیت بن جاۓ گی اوراگر وہ اس کا احياء اوراسے آباد نہ کرسکا توخلیفہ یا امیرالمسلمین کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اس سے واپس لے لے اورکسی دوسرے کوعطا کردے جو اسے آباد کرنے کی طاقت رکھتا ہو ۔
اس لیے کہ عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے ان لوگوں سے جاگير واپس لے لی تھی جو اسے آباد نہیں کرسکے تھے ۔
اورجوکوئ بنجر زمین کے علاوہ کسی اورغیرمملوک چيز کی طرف سبقت لے جاۓ اورپہلے پہنچے مثلا شکار یا جلانے والی لکڑي تووہ اس کا زيادہ حقدار ہے ۔
اوراگرکسی کی زمین سے غیر ملکیتی پانی گزرتا ہو مثلا نہر یا وادی کا پانی توسب سے اوپر والے یعنی پہلے کوحق حاصل ہے کہ وہ پہلے اپنی زمین کوسیراب کرے اوراس میں ٹخنوں تک پانی کھڑا کرے پھر اپنے بعد والے کوپانی بھیجے ۔۔۔۔ اوراسی طرح درجہ بدرجہ ۔
اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
( اے زبیر ( رضي اللہ تعالی عنہ ) تم اپنی زمین سیراب کرو اورپھر پانی کودیوار ( وہ رکاوٹ جوکھیتوں کے کنارے بنائ جاتی ہے ) تک روکو ) صحیح بخاری اورصحیح مسلم ۔
اورعبدالرزاق نے معمر اورزھری رحمہم اللہ سے ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ( پھر تم پانی کوروکو حتی کہ وہ دیواروں تک آ جاۓ ) کا اندازہ لگایا اوراسے ماپا تو وہ ٹخنوں تک تھا ۔
یعنی جوکچھ قصہ میں بیان ہوا ہے اس کوماپا توانہوں نے وہ پانی ٹخنوں تک پہنچتے ہوۓ پایا ، توانہوں نے اسے معیار بنا دیا کہ پہلے کا اتنا ہی حق ہے اورپھر اس کے بعد والے کا بھی اتنا ہی ۔
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیل مھزور میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ( سیل مھزورمدینہ کی ایک وادی کا نام ہے ) :
سب سے پہلے والا پانی کو ٹخنوں تک روکے اورپھر اپنے بعد والے کی زمین میں چھوڑ دے ) سنن ابو داود وغیرہ
لیکن اگرپانی ملکیتی ہو تو پھر ان سب مشترکین کے درمیان ان کی املاک کے حساب سے تقسیم ہوگا اورہر ایک اپنے حصہ میں جوچاہے تصرف کرسکتا ہے ۔
اورامام المسلمین کو حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کے بیت المال مواشیوں کے لیے ایک چراگاہ مقرر کرلے جس میں کوئ اورنہ چراۓ مثلا جہاد کے لیے تیار گھوڑ ے ، اورصدقہ زکاۃ کے اونٹ وغیرہ ، اگرمسلمانوں کواس سے تنگی نہ ہوتی ہو ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے النقیع نامی چراگاہ کومسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مقرر اورخاص کیا تھا ) ۔
اورامام المسلمین کے لیے جائز ہے کہ وہ بے آباد زمین کی گھاس کوزکاۃ کے اونٹوں اورمجاھدین کے گھوڑوں اورجزیہ کے جانوروں کے لیے خاص کردے اگر اس کی ضرورت محسوس ہو اورمسلمانوں کو اس میں تنگ نہ کرے ۔ . | <urn:uuid:a32cb942-a2c5-4864-acf9-ca785290d426> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/21375 | 2014-07-31T05:26:41Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510272584.13/warc/CC-MAIN-20140728011752-00019-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.94041 | Arab | 82 | {} |
نیورمبرگ میں بین الاقوامی فوجی عدالت میں بڑے جنگی مجرموں کو سزا دینے کے بعد، ریاستہائے متحدہ امریکہ نے نیورمبرگ میں جنگی جرائم کے بہت سے مقدمے پیش کئے جنہیں نیورمبرگ کی اضافی کارروائیوں کا نام دیا گیا۔ نیورمبرگ میں امریکی فوجی عدالت میں نواں مقدمہ آئن سیٹزگروپن یعنی گشتی قاتل یونٹوں کے ارکان سے متعلق تھا جنہیں مشرقی محاذ کے پیچھے یہودیوں اور دوسرے افراد کو قتل کرنے پر معمور کیا گیا تھا۔ اِس فوٹیج میں امریکی وکیلِ استغاثہ بین فیرینز مقدمے کی کارروائی کے آغاز کے موقع پر مقدمے کے مقاصد بیان کر رہے ہیں۔
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:2db62664-8ea9-4a8c-b2f8-0dd04b3cabc5> | CC-MAIN-2014-23 | http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_fi.php?MediaId=78 | 2014-07-31T05:26:59Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510272584.13/warc/CC-MAIN-20140728011752-00019-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.971237 | Arab | 56 | {} |
اسلامی فرقوں کی تعداد کتنی ہے اوراسلام دوسرے ادیان پر کیسے اثر انداز ہو گا ؟
{ اور یہ میرا سیدھا راہ جو کہ مستقیم ہے تو اسی پر چلو اور دوسری راہوں مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ تعالی کی راہ سے جدا کر دیں گی ، اس کا تمہیں اللہ تعالی نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو } الانعام ( 153 )
اورسوال کی دوسری شق کے متعلق عزیز سائل سے میری یہ گزارش ہےکہ آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہۓ کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو کہ خالصتا اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے ، اور یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالی نےاپنے بندوں کے لۓ پسند فرمایا ہے ، اور اسی دین کے ساتھ اللہ تعالی نے یہ چاہا کہ باقی سب ادیان کو ختم کرے اور یہ دین اسلام پہلے تمام ادیان کے لۓ محافظ ثابت ہو تو اس لۓ یہ کہنا بے جا ہوگا بلکہ ممکن ہی نہیں کہ دین اسلام دوسرے ادیان سے متاثر ہوا ہے ۔
ہماری آپ سے گزارش ہےکہ آپ دین اسلام اور زیادہ مطالعہ کریں اور اس پر غوروخوض کریں ۔
اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ وہ آپ کو حق اور صحیح راستے کی طرف ھدایت نصیب فرماۓ ۔آمین
واللہ تعالی اعلم . | <urn:uuid:72dcddb0-635e-4d1f-ac97-02398453f899> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/783 | 2014-08-01T14:15:22Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510274987.43/warc/CC-MAIN-20140728011754-00067-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.983538 | Arab | 84 | {} |
چاند کا مدار
چاند زمین کے اردگرد 27.3 دن میں چکر لگاتا ہے۔ اس کے راستے کو چاند کا مدار کہا جاتا ہے۔ چاند زمین کے مرکز سے اوسطاً 385000 کلومیٹر کے فاصلے پر 1.023 کلومیٹر فی سیکنڈ کی اوسط رفتار سے چکر لگاتا ہے۔ عمومی سیارچوں کے برعکس اس کا چکر خطِ استوا کے مستوی ( equqtorial plane) کی بجائے اس مستوی کے قریب ہے جس میں زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چاند کا مدار بڑھ رہا ہے یعنی زمیں سے اوسط فاصلہ زیادہ ہو رہا ہے۔ اسے افزائش مدوجزری کہا جاتا ہے۔ کئی لاکھ سال پہلے چاند کی محوری گردش کا دورانیہ اس کے زمین کے گرد ایک چکر پورا کرنے سے زیادہ تھا مگر زمین کی کشش نے چاند کی محوری گردش کی رفتار کم کر کے اسے اس طرح محدود کر دیا ہے کہ اس کی محوری گردش کا دورانیہ زمین کے گرد مدار میں ایک چکر پورا کرنے کے برابر ہو چکی ہے۔
چاند اور زمین[ترمیم]
زمین سے ہمیں ہمیشہ چاند کا ایک ہی رخ نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی محوری گردش اور چاند کے زمین کے اردگرد گردش کا دورانیہ ایک ہی ہے۔ ہمیں زمین سے کسی ایک وقت میں چاند کا تقریباً 41 فی صد حصہ نظر آتا ہے اگر چاند پورا ہو۔ مگر یہ حصہ کچھ بدلتا ہے اور ہم مختلف اوقات میں چاند کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ملاحظہ کر سکتے ہیں جو 59 فی صد بنتا ہے مگر ایک وقت میں 41 فی صد سے زیادہ نظر نہیں آ سکتا۔ زمین سے چاند کا اوسط فاصلہ 385000 کلو میٹر ہے جو افزائشِ مدوجزری کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ اگر زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو جزوی یا مکمل چاند گرہن لگتا ہے۔ اس وقت چاند سیاہ یا سرخی مائل نظر آتا ہے۔ اگر چاند سے زمین کو دیکھا جائے تو زمین ہمیشہ آسمان میں ایک ہی جگہ نظر آتی ہے۔ | <urn:uuid:6cfe88dc-766b-4afe-b229-427fd05fc040> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF_%DA%A9%D8%A7_%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%B1 | 2014-07-22T23:02:35Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997869720.10/warc/CC-MAIN-20140722025749-00079-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.985695 | Arab | 65 | {} |
كيا كسى شخص كے ليے جائز ہے كہ وہ قسم اٹھائے كہ وہ اور سگرٹ نوشى نہيں كرے گا، اور اگر دوبارہ سگرٹ نوشى كرے تو اس پر لعنت؟
اگر جواب نفى ميں ہو تو جہالت كى بنا پر ايسا كرنے والے شخص كو كيا كرنا چاہيے ؟
الحمد للہ :
1 - جواب سے پہلے سائل كے ليے يہ جاننا ضرورى ہے كہ تمباكو اور سگرٹ نوشى حرام ہے، ظاہر تو يہى ہوتا ہے كہ سائل كو اس كا علم ہے، اور اگر اس كے علم ميں نہيں تھا تو اسے اب جان لينا چاہيے، اس سب علماء كرام اور عقلاء و دانشور، اور ڈاكٹر حضرات متفق ہيں.
2 - سائل نے اپنے آپ پر لعنت كر كے غلطى كى ہے، شريعت مطہرہ ميں لعنت كرنے والے شخص كے ليے بہت شديد قسم كى وعيد آئى ہے، اس كے بعض دلائل يہ ہيں:
1 - ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم عيد الفطر يا عيد الاضحى كے دن عيدگاہ كى طرف نكلے تو عورتوں كے پاس سے گزرے اور فرمايا:
" اے عورتوں كى جماعت صدقہ كيا كرو، كيونكہ مجھے تم دكھائى گئى ہو كہ تمہارى اكثريت جہنم ميں ہے"
عورتوں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ كس وجہ سے؟
تورسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تم لعنت بڑى كثرت سے كرتى ہو، اور خاوند كى نافرمانى كرتى ہو"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 298 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 80 ).
2 ـ ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
" يقينا لعنت كرنے والے لوگ روز قيامت نہ تو شھداء ہونگے اور نہ ہى سفارشى "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 2598 ).
اور لعنت اللہ تعالى كى رحمت سے دورى اور دھتكارے جانے كو كہا جاتا ہے، تو ايك مسلمان شخص كس طرح اپنے خلاف يہ دعا كر سكتا ہے؟ !!
3 - سائل اگر دوبارہ سگرٹ نوشى كرنے لگے تو وہ سگرٹ نوشى كرنے پر گنہگار ہو گا، اسے توبہ كرنا ہوگى اور اس كے ذمہ قسم كا كفارہ بھى ہو گا كيونكہ اس نے قسم توڑى ہے.
اور قسم كا كفارہ يہ ہے كہ: دس مسكينوں كا كھانا يا ان كا لباس، يا ايك غلام آزاد كرنا، اگر وہ اس كى طاقت نہ ركھتا ہو تو پھر تين يوم كے روزے ركھنا.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:007539b6-f5a2-47f1-a89c-4d9e92767ca4> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/6270 | 2014-07-24T06:33:16Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997888210.96/warc/CC-MAIN-20140722025808-00015-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.950259 | Arab | 61 | {} |
سوال: میں اردن میں ایک درس میں شامل ہوئی، جس کا عنوان مسجد اقصی اور غلبہ دین کے متعلق تھا، اور درس دینے والی خاتون ہمارے لئے ایسا پانی بھی لیکر آئی تھی جس میں حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بال ڈبویا گیا تھا، یہ بال فلسطین کے شہر عکا کی ایک مسجد الجزار میں موجود ہے، اس پانی کو شیشے کی بوتل میں محفوظ کیا گیا تھا، پھر انہوں نے اس پانی کو ایک بڑی ٹینکی میں ملا دیا تا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کی تعداد مستفید ہوسکے، میں نے بھی انکی طرح پانی لے لیا، ، ، سوال یہ ہے کہ کیا اس پانی سے شفا یابی اور برکت کیلئے تبرک حاصل کرنا جائز ہے؟ ہمیں آپ فتوی دیں، اللہ تعالی آپکو ساری بھلائیاں بدلے میں عنائت فرمائے، یاد رہے! پانی ابھی تک میرے پاس موجود ہے، اور میں نے ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا۔
الحمد للہ:
سب علماء کے نزدیک متفقہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں یا پسینے وغیرہ سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے، کیونکہ اس کے بارے میں دلائل موجود ہیں۔
چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرے کو کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی نحر کرنے کے بعد سر منڈوایا تو نائی کی طرف اپنی دائی طرف کی تو اس نے آپکی دائیں طرف سے بال مونڈ دیئے، پھر آپ نے ابو طلحہ انصاری کو بلایا اور اپنے بال انہیں دے دیئے، پھر نائی کی طرف اپنی بائیں جانب کی اور فرمایا: (مونڈ دو) تو اس نے آپکے بال استرے سے اتار دیئے اور آپ نے یہ بال بھی ابو طلحہ کو دیکر فرمایا: (انہیں لوگوں میں تقسیم کردو) مسلم (1305)
اسی طرح انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے "نطع" چمڑے کی ایک شیٹ بچھاتی تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پرقیلولہ فرماتے، چنانچہ جب آپ سو جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور بال ایک شیشی میں جمع کرتیں، اور پھر اُسے ایک "سُک"خوشبو میں ملا دیتی تھی، (ثمامہ بن عبد اللہ بن انس) کہتے ہیں کہ جب انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی کہ میری میت کو لگائی جانے والی خوشبو میں اسے ضرور شامل کرنا، تو آپکو لگائی گئی خوشبو میں اسے ملا دیا گیا۔ بخاری (6281)
"نطع" چمڑے کے بچھونے کو کہتے ہیں۔
"سُک"خوشبو کی ایک قسم ہے جو کستوری وغیرہ ملا کر بنائی جاتی ہے۔
اس حدیث اور دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے جدا ہونے والا بال یا پسینہ وغیرہ میں اللہ تعالی نے برکت ڈال دی ہے، جس سے تبرک حاصل کیا جاسکتا ہے، اور اسکی وجہ سے دنیا و آخرت میں خیر کی امید کی جاسکتی ہے، جبکہ خیر دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے۔
لیکن موجودہ دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال یا آپ کے باقیماندہ آثار کی موجودگی کا دعوی بلا دلیل ہوگا، اور عام طور پر اس بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں سب فراڈ اور خرافات میں سے ہیں، جیسے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال ہے کیونکہ جب اسے دھوپ میں رکھا جائے تو اسکا سایہ نہیں بنتا!! اس قسم کی باتوں پر دھیان بھی نہیں دینا چاہئے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اور ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے، بال، یا دیگر باقیماندہ اشیاء گم ہوچکی ہیں، اور اس وقت ہم میں سے کوئی بھی یقینی اور قطعی طور پر اس قسم کی اشیاء کو ثابت نہیں کرسکتا " ماخوذ از: "التوسل" صفحہ: 147
چنانچہ مذکورہ بالا بیان کے بعد ، جس پانی کے بارے میں پوچھا گیا ہے اس سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں ، یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوجائے کہ اس پانی میں رکھا جانے والا بال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال ہے، اور اس چیز کو ثابت کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، اس لئے فریب کاروں، بدعات کو ترویج دینے والوں، اور دھوکے بازوں سے بچنا ضروری ہے، اسی طرح علم بھی انہی لوگوں سے حاصل کرنا چاہئے جو صحیح منہج کا دفاع کرتے ہیں اور اسی کی ترویج کرتے ہیں، عقلمند آدمی خود ہی سوچے کہ گفتگو نے کیسے غلبہ دین کے موضوع سے رخ موڑ کر لوگوں کو غیر ثابت معاملات کی طرف متوجہ کردیا! حالانکہ درس دینے والی خاتون کو چاہئے تھا کہ لوگوں کو درست منہج کی جانب دعوت دیتیں، اور اس پر کاربند رہنے کی نصیحت کرتیں؛ کیونکہ درست منہج پر رہنا بھی غلبہ دین کے اسباب میں سے ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اور آپکو اچھے انداز میں اتباع کرنے کی توفیق دے۔
واللہ اعلم . | <urn:uuid:b9f09071-db7b-48ea-8a9e-a337bf732610> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/100105 | 2014-07-23T14:23:14Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997879037.61/warc/CC-MAIN-20140722025759-00047-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.981188 | Arab | 99 | {} |
جوا ( قمار بازى ) كے بغير تاش كھيلنا حرام كيوں شمار ہوتا ہے، ہم تاش مال پر نہيں كھيلتے ؟
الحمد للہ:
مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
اگر تاش كھيلنا نماز ميں ركاوٹ اور سستى پيدا نہ كرے اور اس پر رقم بھى نہ لگائى گئى ہو تو تاش كھيلنے كا حكم كيا ہے ؟
كميٹى كا جواب تھا:
" تاش كھيلنا جائز نہيں، چاہے بغير عوض كے ہى كھيلے جائيں، اس ليے كہ اس كى حالت يہ ہے كہ يہ نماز اور اللہ كے ذكر سے مشغول كر ديتى ہے، اور اس ميں مانع بنتى ہے، اگرچہ يہ گمان كيا جائے كہ وہ اسے نہيں روكتى، پھر يہ جوا اور قمار بازى كا ذريعہ بھى ہے جسے نص قرآنى ميں حرام كيا گيا ہے:
﴿ بات يہى ہے كہ شراب اور جوا و قمار بازى اور تھان اور پانسے كے فال نكالنے كے تير يہ سب گندى باتيں اور شيطانى كام ہيں، تو اس سے باز آجاؤ تا كہ تم كامياب ہو سكو ﴾المائدۃ.
اور اس اثر كا معاشرے پر بھى اثر ہوتا ہے، بلا شبہ سليم اور پرامن معاشرے كے روابط دو چيزوں سے ثابت اور پورے ہوتے ہيں:
اللہ تعالى كے احكام كى پيروى كرنے، اور اس كےمنع كردہ سے ركنے سے، اور كسى بھى واجب اور فرض چيز كے ترك كرنے يا كسى حرام كام كے فعل سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ اور افتراق كا شكار ہو جاتا ہے.
اور يہ كھيل ان عوامل ميں شامل ہوتا ہے جو معاشرے پر اثرانداز ہوتے ہيں، كيونكہ يہ نماز باجماعت ترك كرنے كا باعث بنتا ہے، اور اس كھيل سے آپس ميں دورى اور بغض و كينہ اور حسد اور حرام كام كے ارتكاب ميں تساہل پيدا ہوتا ہے، اور اسى طرح يہ روزى كمانے ميں سستى اور كاہلى پيدا كرتا ہے.
ديكھيں: فتاوى اسلاميہ ( 4 / 436 ).
رہا اس كھيل كى تاريخ كا مسئلہ كہ يہ كب اور كيسے شروع ہوا تو تحقيقا يہ علم نہيں تاش جيسى برى كھيل كا موجد كون ہے، يا يہ كھيل كب اور كہاں ايجاد ہوا ؟
يہ كہا جاتا ہے كہ اصلا يہ چينى، يا ہندى يا كہيں اور كا كھيل ہے، ليكن مورخين اس پر متفق ہيں كہ يہ كھيل مشرق وسطى سے قرون وسطى كے آخرى دور ميں يورپ منتقل ہوا، اور دانشور يہ بھى كہتے ہيں كہ: سب آراء متفق ہيں كہ اس وقت سے ليكر اب تك تاش كے كھيل نے بہت واضح ترقى كى ہے.
تاش كا كھيل ابتدائى طور پر يورپ ميں اندلس كے علاقے ميں شروع ہوا، اور پھر وہاں سے گيارويں صدى ميلادى ميں شمالى سپين منتقل ہو گيا.
سپين ميں تاش كا كھيل چاليس پتوں پر مشتمل ہے، جو ايك سے ساتھ نمبر پر مشتمل ہوتے ہيں، پھر تين اشخاص كا رتبہ سب سے اعلى ہے جو كہ نائب يعنى سردار كا ہوتا ہے، اور پھر اس كے بعد والا رتبہ اس كے وكيل اور پھر كاتب يا خادم كا ہے.
اور سولويں ( 16 ) صدى عيسوى ميں فرانسيسيوں نے تاش كے كھيل كو نئى شكل دى اور اس ميں ترقى كى كہ اس ميں سردار اشخاص كى بجائے بادشاہ پر مقتصر كرديا، اور سردار كے نائب كو ملكہ پر، اور كھلاڑى اور فارس كى بجائے خادم پر، اور اس ميں انہوں نے تين نمبروں كا اضافہ كر ديا تو اس طرح يہ پتے باون ( 52 ) ہو گئے.
اور سترويں ( 17 ) صدى عيسوى ميں جرمن والوں نے ايك چوتھے شخص كا اضافہ كيا جسے المھرج يا جوكر كا نام ديا.
تاش كھيلنے كے متعلق فتوى اوپر بيان ہو چكا ہے، اور سابقہ سطور ميں يہ بھى اضافہ كيا جاتا ہے كہ: تاش كھيلنے ميں مشروع تفريح و راحت كے اسلامى مقاصد منعدم ہيں، نہ تو اس سے جھادى مہارت حاصل ہوتى ہے، اور نہ ہى كسى بھى قسم كا علمى تجربہ، اور نہ ہى كوئى معاشرتى اور اجتماعى فائدہ حاصل ہوتا ہے، يا پھر اس سے نفسياتى راحت حاصل ہوتى ہو جس سے اعصاب كو سكون ملے، اور نفس كو خوشى و راحت حاصل ہو.
يہ ايك ايسا كھيل ہے جو ہر قسم كى خير و بھلائى سے عارى اور خالى ہے، بلكہ يہ كھيل تو صرف فتنہ و فساد، اور وقت كا ضياع ہے، جو تخمينہ و گمان اور چالاكى پر منحصر ہے، تو يہ نردشير كى مشابہ ہوا، اور يہ كھيل جھگڑا و فساد اور لڑائى كا باعث ہے، تو اس طرح يہ شراب اور جوئے و قمار بازى كے مشابہ ہوا.
اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا نردشير پر قياس كرتے ہوئے كہ اس ميں اور تاش كے كھيل ميں پہلى چيز تو يہ ہے كہ يہ دونوں تخمينہ اور گمان و چالاكى پر مشتمل ہيں، اور دوسرى يہ كہ يہ دونوں ہى نزاع و جھگڑا اور لڑائى كا باعث بنتے ہيں، اس قياس كى وجہ سے يہ كوئى بعيد نہيں كہ آپ اسے مكروہ كى بجائے حرام والا قول اختيار كريں.
اور شيخ ابن حجر الھيثمى رحمہ اللہ نے بھى يہى اختيار كيا ہے، اور ہمارے معاصر علماء كرام شيخ محمد بن صالح العثيمين نجدى علاقے كے فقھاء ميں شامل ہوتے ہيں انہوں نے بھى يہى اختيار كيا ہے، اور اسے اپنے مشائخ اور اساتذہ سے نقل كيا ہے، كيونكہ يہ عداوت و بغض كا باعث ہے، اور اللہ تعالى كے ذكر اور وقت كے ضياع اور اسے اللہ كى اطاعت كے علاوہ كسى اور ميں صرف كرنے كا باعث بنتا ہے.
اور اس قول كے اختيار كرنے كے صحيح ہونے كى تائيد اس سے بھى ہوتى ہے كہ فرانس كے ايك حكمران نے حكم جارى كيا تھا كہ يہ كھيل دن كے وقت نہ كھيلا جائے، اور اس نے دن كے وقت لوگوں كو تاش كھيلنے سے روكنے كا حكم ديا، اور جو بھى اس حكم كى خلاف ورزى كريگا اسے قصاص كے حكم كے تحت پكڑ ليا جائے، يہ حكم اس نے اس وقت جارى كيا جب فرانسي لوگ اس كھيل سے بہت زيادہ شغف ركھنے لگے، اور وہ اپنے كام سے بھاگ كر تاش كھيلنے ميں مصروف ہو جاتے.
اس حكمران نے جو قصاص كا فيصلہ كيا تھا وہ بڑھ كر قيد تك جا پہنچا، بلكہ كچھ ہى مدت گزرنے كے بعد اس نے اس قانون ميں مخالف كو لاٹھى كے ساتھ مارنے كا حكم بھى شامل كر ديا جو اسے زخم بھى لگائے.
ان احكام اور دوسرے قوانين كى بنا پر لوگوں نے تاش كھيلنے كى عادت ميں تبديلى لاتے ہوئے اسے علانيہ طور پر كھيلنے كى بجائے سرى اور چورى چھپے كھيلنا شروع كر ديا.
ماخوذ از كتاب: قضايا اللھو و الترفيہ تاليف مادون رشيد ( 185 - 187 ).
واللہ اعلم . | <urn:uuid:8e14f603-393b-4d2f-b611-930ec388e6fe> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/12567 | 2014-07-26T11:15:52Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997901076.42/warc/CC-MAIN-20140722025821-00171-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.956068 | Arab | 41 | {} |
سپیرا
اُس شخص کو کہتے ہیں، جس کا پیشہ سانپوں کو پکڑنا ہوتاہے۔ انہیں جوگی بھی کہا جاتا ہے۔[1] زہریلے سانپوں سے کھیلنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے جبکہ انہیں میں سے کچھ لوگ زہریلے سانپوں کے ڈسے کا علاج کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں اور سانپوں کا زہر وغیرہ نکالنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ عموماً کسی بھی سانپ کو قابو میں کرنے کے لئے یا مسحور کرنے کے لئے بین استعمال کی جاتی ہے، جس کو بجانا بھی ایک فن سمجھا جاتا ہے، بین کی سُریلی آواز سے سانپ بے اختیار ہوکر جھومنے لگتا ہے اور سپیرا اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر اُس کو پکڑ لیتا ہے۔ بعض سپیرے سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھا کر روزی کماتے ہیں۔ سپیرے بعض جگہوں پر ثقافت اور تہذیب کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر خانہ بدوش ہوتے ہیں اور مسلسل سفر کرتے ہیں۔
حوالہ جات[ترمیم]
|ویکیمیڈیا العام میں سپیرا سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔| | <urn:uuid:5216dd06-f272-47e9-844f-d24ca754f8f5> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D8%A7 | 2014-07-29T06:45:56Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510266597.23/warc/CC-MAIN-20140728011746-00450-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.987245 | Arab | 64 | {} |
پیدا ہوا: 1929, فرینکفرٹ، جرمنی
روتھ گیس چیمپر کے لئے منتخب ہونے سے بچنے کا حال بیان کرتی ہیں۔ [انٹرویو: 1990]
فراینکفرٹ میں روتھ کے خاندان کو بڑھتے ہوئے سام دشمن اقدامات کا سامنا کرنا پڑا؛ اس کے والد کا کاروبار چھین لیا گیا اور روتھ کا یہودی اسکول بند کر دیا گیا۔ اپریل سن 1943 میں روتھ اور اس کے خاندان کو آش وٹز کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا۔ روتھ کو جبری مشقت کے لئے منتخب کیا گیا اور اسے سڑک کی مرمت کے کام پر لگا دیا گیا۔ اس نے "کناڈا" یونٹ میں کیمپ میں لائے جانے والے سامان کو چھانٹنے کا کام بھی کیا۔ نومبر سن 1944 میں روتھ کو جرمنی کے ریونزبروئک کیمپ میں منتقل کر دیا گيا۔ مئی 1945 میں مالچو کیمپ سے ایک موت مارچ کے دوران اسے آزاد کرایا گیا۔
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:98e0fe1c-6ca8-4922-8714-6054cc58f22f> | CC-MAIN-2014-23 | http://www.ushmm.org/outreach/ur/media_oi.php?MediaId=1150 | 2014-07-30T17:36:20Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510270877.35/warc/CC-MAIN-20140728011750-00001-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.976391 | Arab | 95 | {} |
ميرا ايك قريبى رشتہ دار شكارى ہے، اور وہ نماز ادا نہيں كرتا، تو كيا اسكا شكار كردہ شكار كھانا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ وہ شكار كرنے سے قبل بسم اللہ نہيں پڑھتا ؟
الحمد للہ:
اول:
سوال نمبر ( 2182 ) كے جواب ميں تارك نماز كا حكم بيان ہو چكا ہے كہ نماز كا تارك كافر ہے.
آپ كو اپنے اس قريبى شخص كو نصيحت كرنے كى كوشش كرنى چاہيے، اور اسے نماز ترك كرنے كے خطرناك انجام اور اس كے عظيم جرم كا بتانا چاہيے، اس سلسلہ ميں مستفيد ہونے كے ليے آپ سوال نمبر ( 47425 ) كا مطالعہ كريں، كيونكہ اس ميں تارك نماز كو دعوت دينے كا طريقہ بيان كيا گيا ہے، اور اگر دليل اور حجت قائم ہو جانے كے بعد بھى وہ نماز سے انكار كرتا ہے تو آپ اس كو چھوڑ كر اس سے بائيكاٹ كر ديں تا كہ وہ آپ پر اثر انداز نہ ہو جائے.
اور آپ سوال نمبر ( 4420 ) كے جواب كا بھى مطالعہ كريں.
دوم:
شكار حلال ہونے كے ليے شرط يہ ہے كہ شكار كرنے والا ان ميں سے ہو جن كا ذبيحہ حلال ہو، يعنى وہ يا تو مسلمان ہو يا پھر كتابى، اس ليے مشرك اور مجوسى اور كيمونسٹ اور ملحد اور مرتد وغيرہ كا شكار حلال نہيں.
بھوتى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" شكار ميں شرط يہ ہے كہ شكارى اہل ذبح ميں شامل ہوتا ہو، يعنى ان ميں شامل ہوتا ہو جن كا ذبح كردہ حلال ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" تو اگر اسے شكارى كتا پكڑے ( جس پر بسم اللہ پڑھى ہو ) . متفق عليہ.
اور شكارى بھى ذبح كرنے والے كے قائم مقام ہے اس ليے اس ميں اہليت كى شرط ہو گى " انتہى بتصرف.
ديكھيں: كشاف القناع ( 6 / 218 ).
اس بنا پر آپ كے ليے اپنے قريبى كا شكار كردہ شكار كھانا جائز نہيں؛ كيونكہ تارك نماز كافر اور مرتد ہے، اس ليے اس كا ذبح كردہ حلال نہيں، اور نہ ہى اس كا شكار كردہ شكار حلال ہے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:1cbec65f-caa8-415f-b990-0814b7767a62> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/106051 | 2014-07-23T03:26:21Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997872261.34/warc/CC-MAIN-20140722025752-00071-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.94691 | Arab | 131 | {} |
اسلام ميں حج كا مقام كيا ہے ؟
اور حج كس پر فرض ہوتا ہے ؟
الحمد للہ :
بيت اللہ كا حج اركان اسلام ميں سے ايك ركن اور اسلام كى عظيم بنيادوں ميں سے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور يقينا محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں، اور نماز كى پابندى كرنا، اور زكاۃ ادا كرنا، اور رمضان المبارك كے روزے ركھنا، اور بيت اللہ كا حج كرنا "
بيت اللہ كا حج كتاب و سنت كے دلائل اور اجماع مسلمين كے اعتبار سے فرض ہے.
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿اور لوگوں پر اللہ تعالى كے ليے بيت اللہ كا حج كرنا فرض ہے، جو اس كى طاقت ركھے، اور جو كوئى كفر كرے اللہ تعالى جہان والوں سے بے پرواہ ہے﴾ آل عمران ( 97 ).
اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" يقينا اللہ تعالى نے تم پر حج فرض كيا ہے اس ليے تم حج كرو "
اور مسلمانوں كا اس كى فرضيت پر اجماع ہے، اور يہ دين ميں ضرورى معلوم ہونے والى اشياء ميں سے اس ليے جو كوئى بھى اس كى فرضيت كا انكار كرے اور وہ مسلمانوں كے مابين رہائش پذير ہو تو وہ كافر ہو گا، ليكن اگر كوئ شخص سستى و كاہلى كے ساتھ اسے ترك كرتا ہے تو وہ بھى عظيم خطرہ سے دوچار ہونے والا ہے.
كيونكہ بعض علماء كرام كا كہنا ہے:
وہ كفر كا مرتكب ہو گا، يہ قول امام احمد كى ايك روايت ہے، ليكن راجح يہى ہے كہ نماز كے علاوہ كوئى اور عمل ترك كرنے والا كافر نہيں ہو گا تابعين ميں سے عبد اللہ بن شقيق رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام نماز كے علاوہ كسى اور عمل كو ترك كرنا كفر نہيں سمجھتے تھے )
اس ليے جو كوئى بھى حج كرنے ميں سستى اور كاہلى كا مظاہرہ كرے حتى كہ اسے موت آجائے تو وہ راجح قول كے مطابق كافر نہيں، ليكن يہ بہت بڑے اور خطرناك معاملہ ميں ہے.
اس ليے مسلمان شخص كو اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے جب حج كى شروط پورى ہو جائيں تو فورى اور جتنى جلدى ہو سكے حج كر لينا چاہيے كيونكہ جتنى بھى فرض اشياء ہيں وہ فورى طور پر سرانجام دينى چاہيں ليكن اگر اس كى تاخير ميں كوئى دليل ہو تو كوئى حرج نہيں.
ايك مسلمان شخص اس پر كيسے راضى ہو سكتا ہے كہ استطاعت كے باوجود وہ بيت اللہ كا حج نہ كرے اور وہاں تك آسانى سے پہنچنے كى سہولت ہونے كے باوجود ترك كردے؟ !
اور وہ اس ميں تاخير كيسے كر رہا ہے حالانكہ اسے علم ہى نہيں كہ ہو سكتا ہے اس سال كے بعد آئندہ برس وہ وہاں نہ پہنچ سكے؟ !
ہو سكتا ہے قدرت اور طاقت ہونے كے بعد وہ اس سے عاجز ہو جائے، اور مالدار ہونے كے بعد وہ فقر اور تنگ دستى كا شكار ہو جائے، اور ہو سكتا ہے آئندہ برس اسے موت آ جائے اور وہ حج كے وقت زندہ ہى نہ ہو حالانكہ اس پر حج فرض ہو چكا تھا، اور پھر وہ اپنے ورثاء كو حج كى قضاء سونپ كر چلتا بنے.
حج فرض ہونے كى شروط:
فرضيت حج كى پانچ شرطيں ہيں:
پہلى شرط: اسلام
اس كى ضد كفر ہے اس ليے كافر پر حج فرض نہيں، بلكہ اگر كافر حج كرے بھى تو اس كا حج قبول نہيں ہو گا.
دوسرى شرط: بلوغت:
اس ليے نابالغ بچے اور بچى پر حج فرض نہيں، اور اگر بچے نے بلوغت سے قبل حج كر بھى ليا تو اس كا حج صحيح ہے اور يہ نفلى حج ہو گا اس كا اجروثواب بھى اسے حاصل ہو گا، ليكن بالغ ہونے كے بعد اسے فرضى حج كى ادائيگى كرنا ہو گى، كيونكہ بلوغت سے قبل حج كرنے سے فرضى حج ادا نہيں ہوتا.
تيسرى شرط: عقل
اس كا ضد جنون اور پاگل پن ہے، اس ليے مجنون پر حج فرض نہيں، اور نہ ہى اس كى جانب سے حج كيا جائے گا.
چوتھى شرط: آزادى
اس ليے غلام پر حج فرض نہيں، اور اگر وہ حج كرے تو اس كا حج صحيح ہے اور يہ نفلى حج ہو گا، اور جب وہ آزاد ہو جائے تو اس پر حج فرض ہے استطاعت كے بعد اس كى ادائيگى كرے گا، كيونكہ آزاد ہونے سے قبل حج كى ادائيگى سے فرضى حج ادا نہيں ہوتا.
بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ:
جب غلام اپنے مالك كى اجازت سے حج كرے تو يہ فرضى حج سے كفائت كر جائے گا، اور راجح قول بھى يہى ہے.
پانچويں شرط: مالى اور بدنى استطاعت
عورت كے ليے محرم كا ہونا استطاعت ميں شامل ہے، اگر اس كا محرم نہيں تو اس پر حج فرض نہيں ہو گا " انتہى . | <urn:uuid:f54684ff-f79d-446e-abb2-3fd20749cdd8> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/41949 | 2014-07-25T15:58:01Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997894319.36/warc/CC-MAIN-20140722025814-00195-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.958965 | Arab | 41 | {} |
مصنف کا نام : شاہد نذیر چوہدری
ممتاز صحافی ،مصنف اور انویسٹی گیٹر ایڈیٹر شاہد نذیر چودھری اردو پوائنٹ کے باقاعدہ مصنف ہیں۔وہ 22 سال نوائے وقت سے وابستہ رہے،سسپنس ڈائجسٹ،اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ سمیت کئی اداروں کے ساتھ بطورکمرشل سٹوری رائٹر کام کرچکے ہیں۔
شاہد نذیر چوہدری کی مزید کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-
دوستوں کے ساتھ شئیر کیجئے | <urn:uuid:0b9b2e05-e6a1-4945-a13a-bedfa57c5d72> | CC-MAIN-2014-23 | http://www.urdupoint.com/books/baab/autobiography/jinnaat-ka-ghulaam-3-desc | 2014-07-25T15:57:43Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997894319.36/warc/CC-MAIN-20140722025814-00195-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.956597 | Arab | 1,407 | {} |
جنگ کے بعد بچ جانے والے مشرقی یورپ کے 250,000 کے لگ بھگ یہودیوں کو فلسطین پہنچانے کے مقصد سے بے دخل افراد کے کیمپوں اور مغربی علاقوں میں بھیجنے کے عمل کو بریہا (پرواز) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں، یہودی پناہ گذیں غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد شاید فلسطین جانے کیلئے ایک جہاز چارٹر کرنا تھا۔ برطانیہ نے یہودیوں کی فلسطین کی جانب نقل مکانی کو محدود کر دیا اور "غیر قانونی" تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کر کے قبرص کے حراستی کیمپ میں بھیج دیا۔
Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, DC | <urn:uuid:5455dd7f-5a7e-4896-982e-a6b98cf0a476> | CC-MAIN-2014-23 | http://www.ushmm.org/wlc/ur/media_fi.php?ModuleId=10005139&MediaId=67 | 2014-07-26T19:16:46Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997904391.23/warc/CC-MAIN-20140722025824-00163-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.986177 | Arab | 68 | {} |
ری یا رے ایران کا ایک چھوٹا شہر ہے۔ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے یہ اب تہران کے ساتھ مل چکا ہے۔ یہاں کئی اولیا بشمول بی بی شہر بانو اور شاہ عبدالعظیم دفن ہیں۔ یہ قدیم شہر ہے اور اس کی تاریخ پانچ ہزار سال سے بھی قدیم ہے۔ | <urn:uuid:5c43bcf5-2601-4154-96a7-2b830cc85cd4> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%DB%8C | 2014-08-01T05:52:10Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510274581.53/warc/CC-MAIN-20140728011754-00055-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.990931 | Arab | 28 | {} |
ميں نےدوسري رات دس بجے رمي كي اور ميں ايسا كرنے پر مجبور تھا، تو كيا مجھ پر ايسا كرنے ميں گناہ ہے يا نہيں كيونكہ ميرے ساتھ دو عورتيں اور ايك مرد تھا جو سب كے سب بيمار تھے ؟
الحمد للہ :
جس شخص نے گيارہ تاريخ كي رمي رات تك مؤخر كردي - اور اس كي يہ تاخير كسي شرعي عذر كي بنا پرہو - اور رات كو رمي كرلي تواس پر كوئي چيز لازم نہيں آتي .
اور اسي طرح جس شخص نے گيارہ ذوالحجہ كے دن رمي ميں تاخير كر كے رات كے وقت رمي كرلي تو اس كي يہ رمي ادا ہوجائے گي اور اس پر كچھ لازم نہيں آئے گا ليكن اسے يہ رات مني ميں ہي بسر كرنا ہوگي تاكہ وہ تيرہ ذوالحجہ كوزوال كے بعد رمي كرسكے كيونكہ وہ بارہ ذوالحجہ كوغروب شمس سے قبل مني سے نہيں نكل سكا ، ليكن احتياط اسي ميں ہے كہ آئندہ وہ دن ميں ہي رمي كرنے كي كوشش كرے .
اللہ تعالي ہي توفيق بخشنے والا ہے، اللہ تعالي ہمارے نبي محمد صلي اللہ عليہ وسلم اور ان كي آل اور صحابہ كرام پر اپني رحمتيں نازل فرمائے . | <urn:uuid:095d2d55-353d-4838-bcd8-6a8064dd9551> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/26214 | 2014-07-23T07:28:39Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997877306.87/warc/CC-MAIN-20140722025757-00063-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.92725 | Arab | 146 | {} |
برقیرہ
برقیرہ (electrode) ایک ایسا موصل ہوتا ہے کہ جو کسی برقی دوران میں رابطے کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک برقیچہ (بیٹری) کے مثبت اور منفی سرے سے منسلک تار برقیرے کہے جاسکتے ہیں۔ اور جیسا کہ ظاہر ہے برقیرے بنیادی طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں
منفیرہ[ترمیم]
- منفیرہ (cathode) ایک منفی برقیرہ ہوتا ہے۔ اور اسکی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ؛ کسی بھی برقیاتی اختراع میں ایک برقی دوران کا وہ سرا ہوتا ہے کہ جو برقیے یا الیکٹران مہیا کرتا ہے
مُثبیرہ[ترمیم]
- مثبیرہ (anode) ایک مثبت برقیرہ ہوتا ہے جو برقیۓ یا الیکٹران جذب کر سکتا ہے۔
|ویکیمیڈیا العام میں برقیرہ سے متعلق وسیط ملاحظہ کریں۔| | <urn:uuid:9e37b727-fe6d-41a0-9e43-7d5a1db1182e> | CC-MAIN-2014-23 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%B1%D9%82%DB%8C%D8%B1%DB%81 | 2014-07-23T07:12:12Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997877306.87/warc/CC-MAIN-20140722025757-00063-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.976616 | Arab | 68 | {} |
اے آرروائی ڈیجیٹل کی نئی مزاحیہ ڈرامہ سیریل”ٹوپی ڈرامہ“آج سے سے پیش کی جارہی ہے۔اے آروائی ڈیجیٹل کے کامیڈی پلے ہمیشہ سے مشہور رہے ہیں۔اس سلسلے کی ایک کڑی ہے نئی ڈرامہ سیریل”ٹوپی ڈرامہ“جس کے مرکزی کردار میں فیصل قریشی اور اعجاز اسلم ایک بار پھر ناظرین کو اپنے منفرد اندازمیں گدگدانے آرہے ہیں۔
فنکار تو یہ دو ہیں مگر ڈرامے میں نظرآئیں گے مختلف کرداروں میں۔۔دیگر اداکاروں میں شامل ہیں انوشے اشرف، عروسہ صدیقی ، سمیع خان اورجاناں ملک۔ڈارمہ سیریل ”ٹوپی ڈرامہ“ آج سے ہر جمعرات رات آٹھ بج کرپینتیس منٹ پر صرف اے آروائی ڈیجیٹل پرپیش کیا جائے گا۔ | <urn:uuid:14b41d4d-3ae8-4ed8-bd78-5d25ac7098f9> | CC-MAIN-2014-23 | http://karachireports.wordpress.com/2012/03/15/%D8%A7%DB%92-%D8%A2%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%88%DB%8C%D8%AC%DB%8C%D9%B9%D9%84-%D9%BE%D8%B1%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AD%DB%8C%DB%81-%DA%88%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%84/ | 2014-07-24T13:03:31Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997889001.72/warc/CC-MAIN-20140722025809-00251-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.975307 | Arab | 39 | {} |
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
۱۔ الف لام را،یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا
تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے اذن سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی
طرف لائیں، غالب آنے والے قابل ستائش اللہ کے راستے کی طرف۔ ٭
۲۔ جس اللہ کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات ہیںاور
کافروں کے لیے عذاب شدید کی تباہی ہے۔
۳۔ جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہیں اور راہ
خدا سے روکتے ہیں اور اس میں انحراف لاناچاہتے ہیں یہ لوگ گمراہی
میں دور تک چلے گئے ہیں۔
۴۔ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ
انہیں وضاحت سے بات سمجھا سکے پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے
گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے اور وہی بڑا غالب آنے
والا، حکمت والا ہے۔٭
۵۔ اور بتحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا(اور حکم
دیا)کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ اور
انہیں ایام خدا یاد دلاؤ، ہر صبر وشکر کرنے والے کے لیے یقینا ان
میں نشانیاں ہیں۔٭
۶۔ اور (یاد کیجیے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اللہ نے تمہیں جس
نعمت سے نوازا ہے اسے یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات
بخشی، وہ تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے
اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کہ طرف
سے بڑا امتحان تھا۔
۷۔ اور (اے مسلمانو! یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے خبردار کیا کہ
اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو
تو میرا عذاب یقینا سخت ہے۔٭
۸۔ اور موسیٰ نے کہا: اگر تم اور زمین میں بسنے والے سب ناشکری
کریں تو بھی اللہ یقینا بے نیاز، لائق حمد ہے۔
۹۔ کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر
چکے ہیںـ(مثلا) نوح، عاد اور ثمود کی قوم اور جو ان کے بعدآئے جن
کا علم صرف اللہ کے پاس ہے؟ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے
کرآئے توا نہوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ پر رکھ دیے اور کہنے لگے:
ہم تو اس رسالت کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور جس چیز
کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس میں ہم شبہ انگیز شک میں ہیںـ۔
۱۰۔ ان کے رسول نے کہا: کیا (تمہیں) اس اللہ کے بارے میںشک ہے جو
آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیںاس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ
تمہارے گناہ بخش دے اور ایک معین مدت تک تمہیں مہلت دے، وہ کہنے
لگے: تم تو ہم جیسے بشر ہو تم ہمیں ان معبودوں سے روکنا چاہتے ہو
جن کی ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے، پس اگر کوئی کھلی دلیل ہے تو
ہمارے پاس لے آؤ۔٭
۱۱۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا: بےشک ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن اللہ
اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار
میں نہیںکہ ہم تمہارے سامنے کوئی دلیل (معجزہ) اذن خدا کے بغیر پیش
کریں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔٭
۱۲۔ اور ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں جب کہ اس نے ہمارے راستے
ہمیں دکھا دیے ہیں، (منکرو) جو اذیتیںتم ہمیں دے رہے ہو اس پر ہم
ضرور صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا
چاہیے۔
۱۳۔ اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم تمہیں اپنی سرزمین سے
ضرور نکال دیں گے یا بہرصور ت تمہیںہمارے دین میں واپس آنا ہوگا،
اس وقت ان کے رب نے ان پر وحي کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر
دیں گے۔ ٭
۱۴۔ اور ان کے بعد اس سرزمین میںہم ضرور تمہیں آباد کریں گے، یہ
(خوشخبری) اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے (کے دن) سے ڈرتا ہو
او ر اسے میرے وعدہ عذاب کا خوف بھی ہو۔
۱۵۔ اور انبیاء نے فتح و نصرت مانگی تو ہر سرکش دشمن نامراد ہو کر
رہ گیا ۔
۱۶۔ اس کے بعد جہنم ہے اور وہاں اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔
۱۷۔ جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر پیے گا مگر وہ اسے نہایت ناگوار گزرے
گا، اسے ہر طرف سے موت آئے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور اس کے
پیچھے (مزید) سنگین عذاب ہو گا ۔
۱۸۔ جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس
راکھ کی سی ہے جسے آندھی کے دن تیز ہوا نے اڑا دیا ہو، وہ اپنے
اعمال کا کچھ بھی (پھل) حاصل نہ کرسکیںگے، یہی توبہت گہری گمراہی
ہے۔
۱۹۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق
پیدا کیاہے ؟ اگروہ چاہے تو وہ تمہیںتباہ کر دے اور (تمہاری جگہ)
نئی مخلوق لے آئے ۔٭
۲۰۔ اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
۲۱۔ اور سب اللہ کے سامنے پیش ہوںگے تو کمزور لوگ ان لوگوں سے جو
(دنیا میں) بڑے بنتے تھے کہیں گے: ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم
اللہ کے عذا ب کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو؟ وہ کہیں گے: اگر اللہ
نے ہمارے لیے کوئی راستہ چھوڑ دیا ہوتا تو ہم تمہیں بھی بتا دیتے،
ہمارے لیے یکساں ہے کہ ہم فریاد کریں یا صبر کریں۔، ہمارے لیے
فریاد کا کوئی راستہ نہیں۔٭
۲۲۔ اور (قیامت کے دن) جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہ اٹھے گا:
اللہ نے تمہارے ساتھ یقینا سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ
کیا پھر وعدہ خلافی کی اور میرا تم پرکوئی زور نہیں چلتا تھا۔ مگر
یہ کہ میں نے تمہیں صرف دعوت دی اور تم نے میرا کہنا مان لیا ۔ پس
اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود کو ملامت کرو (آج) نہ تو میں
تمہارے فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو،
پہلے تم مجھے (اللہ کا شریک) بناتے تھے میں (اب) یقینا اس سے بیزار
ہوں، ظالموں کے لیے تو یقینا دردناک عذاب ہے۔٭
۲۳۔ اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے وہ ان جنتوں میںداخل
کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی وہ اپنے رب کی اجازت سے
ہمیشہ ان میں رہیں گے، وہاں (آپس میں) ان کی تحیت سلام ہو گی۔ ٭
۲۴۔ کیا آپ نے نہیںدیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ
طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی
شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیںـ؟٭
۲۵۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے
لیے مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔٭
۲۶۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی سی ہے جو زمین کی سطح
سے اکھاڑ پھینکا گیا ہواور اس کے لےے کوئی ثبات نہ ہو ۔٭
۲۷۔اللہ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی قول
ثابت پر قائم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ
اپنی مشیت کے مطابق عمل کرتا ہے۔٭
۲۸۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو
ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھرمیں اتار دیا؟
۲۹۔ وہ جہنم ہے جس میں وہ جھلس جائیں گے جو بدترین ٹھکانا ہے ۔
۳۰۔ اور انہوں نے اللہ کے لیے کچھ ہمسر بنا لیے تاکہ راہ خدا سے
(لوگوں کو) گمراہ کریں، ان سے کہدیجئے: (کچھ دن) لطف اٹھا لو آخر
کار تمہارا ٹھکانا آتش ہے۔
۳۱۔ میرے ایمان والے بندوں سے کہ دیجئے:نماز قائم کریںاور جو رزق
ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ کریں،
اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سودا ہو گااور نہ دوستی کام آئے
گی۔
۳۲۔ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی
برسایا پھر اس سے تمہارے روزی کے لیے پھل پیدا کیے اور کشتیوں کو
تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے سمندر میںچلے اور دریاؤں کو
بھی تمہارے لیے مسخر کیا۔
۳۳۔ اور اسی نے ہمیشہ چلتے رہنے والے سورج اور چاند کو تمہارے لیے
مسخر کیا اور رات اور دن کو بھی تمہارے لیے مسخر بنایا۔
۳۴۔ اور اسی نے تمہیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو
گے، انسان یقینا بڑا ہی بے انصاف، ناشکرا ہے۔٭
۳۵۔ اور (و ہ وقت یاد کیجیے) جب ابراہیم نے دعا کی: پروردگارا! اس
شہر کو پر امن بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔
۳۶۔ پروردگارا! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے پس جو
شخص میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو
یقینا بڑا معاف کرنے والا، مہربان ہے۔
۳۷۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میںسے بعض کو تیرے محترم
گھر کے نزدیک ایک بنجر وادی میں بسایا، ہمارے پروردگارا! تاکہ یہ
نماز قائم کریں لہذا تو کچھ لوگو ں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور
انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ یہ شکرگزار بنیں۔٭
۳۸۔ ہمارے رب ! جو کچھ ہم پوشیدہ رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر
کرتے ہیں تواسے جانتا ہے، اللہ سے کوئی چیز نہ تو زمین میں چھپ
سکتی ہے اور نہ آسمان میں۔
۳۹۔ ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لیے جس نے عالم پیری میں مجھے
اسماعیل اور اسحق عنایت کیے، میرا رب تو یقینا دعاؤں کا سننے والا
ہے۔٭
۴۰۔ پروردگار مجھے قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی،
ہمارے پروردگار میری دعا قبول فرما۔٭
۴۱۔ ہمارے رب مجھے اور میرے والدین اور ایمان والوں کو بروز حساب
مغفرت سے نواز۔
۴۲۔ اور ظالم جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس سے اللہ کو غافل تصور نہ
کریں، اللہ نے بے شک انہیں اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس دن آنکھیں
پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
۴۳۔ وہ سر اٹھائے دوڑرہے ہوںگے، ان کی نگاہیں خود ان کی طرف بھی
لوٹ نہیں رہی ہوںگی اور ان کے دل (خوف کی وجہ) کھوکھلے ہوچکے ہو ں
گے۔٭
۴۴۔ اور لوگوں کو اس دن کے بارے میں تنبیہ کیجیے جس دن ان پر عذاب
آئے گا تو ظالم لوگ کہیں گے: ہمارے رب ہمیں تھوڑی مدت کے لیے ڈھیل
دے دے۔ اب ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی اتباع کریں
گے، (انہیں جواب ملے گا) کیا اس سے پہلے تم قسمیں نہیں کھاتے تھے
کہ تمہارے لیے کسی قسم کا زوال و فنا نہیں ہے؟٭
۴۵۔ حالانکہ تم ان لوگوں کے گھروں میں آباد تھے جو اپنے آپ پر ظلم
کرتے تھے اور تم پر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ
کیا کیا اور تمہارے لیے مثالیں بھی بیان کی تھیں۔٭
۴۶۔ اور انہوںنے اپنی مکاریاں کیں اور ان کی مکاریاں اللہ کے سامنے
تھیں اگرچہ ان کی مکاریاں ایسی تھیں کہ جن سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔٭
۴۷۔ پس آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی
کرے گا، اللہ یقینا بڑا غالب آنے والا، انتقام لینے والا ہے۔
۴۸۔ یہ (انتقام) اس دن ہوگا جب یہ زمین کسی اور زمین سے بدل دی
جائے گی اور آسمان بھی اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں
گے۔٭
۴۹۔ اس دن آپ مجرموں کو ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔٭
۵۰۔ ان کے لباس گندھک کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی
ہو گی۔٭
۵۱۔ تاکہ اللہ ہر نفس کو اس کے عمل کی جزا دے، اللہ یقینا بہت جلد
حساب کرنے والا ہے۔
۵۲۔ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں
کی تنبیہ کی جائے اور وہ جان لیں کہ معبود تو بس وہ ایک ہی ہے نیز
عقل والے نصیحت حاصل کریں۔٭
| <urn:uuid:1b5d4cd7-7624-4d75-b1d2-fcd0b8ecab67> | CC-MAIN-2014-23 | http://mahdimission.com/quran/tarjumah/najafi/014.htm | 2014-07-24T13:03:13Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997889001.72/warc/CC-MAIN-20140722025809-00251-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.995123 | Arab | 35 | {} |
اسلام آباد: پاکستان منگل کے روز طالبان کے چند رہنماؤں کو جیل سے رہا کرنے کے لیئے مان گیا ہے۔
البتہ یہ بات دونوں فریقین نے عوام کو نہیں بتائی ہے لیکن یہ بات افغان اعلی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے دورے کے دوسرے دن ہوئی۔
تاہم یہ بات ابھی تک واضع نہیں ہوپائی ہے کہ تقریباً دس قیدی منگل کے روز ہی رہا کر دیے گئے ہیں یا ربانی کے دورے کے بعد رہا کیے جائیں گے۔
ذرئع کے مطابق چھوڑے جانے والے ان قیدیوں میں طالبان کی کمانڈ میں دوسرے – ملاح برادر شامل نہیں ہیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سن دو ہزار دس سے کراچی میں گرفتار کیا تھا۔
پاکستانی حکام اور ربانی کی طرف سے امن وفد کے درمیان مذاکرات بدھ کو جاری رکھیں گے اور تبھی دونوں فریقین کی جانب سے ہونے والی بات چیت پر ایک مشترکہ بیان متوقع ہے۔
خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے بیچ طالبان قیدیوں کو چھوڑنے کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی پیش رفت بھی سستی کا شکار تھی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان اعلیٰ امن کونسل کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کی امن اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں ہر ممکن تعاون کرے گا کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی پاکستان کے اپنے استحکام اور خوشحالی کیلیے ضروری ہے۔ | <urn:uuid:7106a5c9-ddab-4f76-81a3-cd7d322223aa> | CC-MAIN-2014-23 | http://urdu.dawn.com/news/34377/pakistan-taliban-america-afghanistan-militants | 2014-07-25T20:34:51Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1405997894782.90/warc/CC-MAIN-20140722025814-00187-ip-10-33-131-23.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.988061 | Arab | 11 | {} |
ميں ايك يورپى ملك ميں اپنے والدين سے دور رہتى ہوں، ميرے والد صاحب فوت ہو چكے ہيں، والدہ اور چار بہن بھائى عراق ميں رہتے ہيں، ميرے آٹھ بچے ہيں جن كى عمر دو برس سے ليكر تيرہ برس تك ہے، ميرى والدہ بہت بوڑھى اور بيمار ہيں وہ ہميشہ فون كر كے كہتى ہے كہ اسے آ كر مل جاؤ تا كہ موت سے قبل ميں تمہيں ديكھ سكوں.
ليكن ميرے ليے عراق جانا بہت مشكل ہے، ميں اپنى اولاد اور خاوند كو اكيلا نہيں چھوڑ سكتى، ميرا خاوند بھى اولاد كو اكيلے چھوڑ كر جانے پر راضى نہيں ہے، اور ميرا كوئى محرم بھى نہيں جس كے ساتھ ميں سفر كر سكوں، ميں والدہ كو پيسے بھيجتى رہتى ہوں، مجھے علم ہے كہ ميں نے اپنى والدہ كو راضى كرنا ہے، ليكن ميں بچوں كو ايك كافر ملك ميں اكيلا چھوڑ كر نہيں جا سكتى.
ميرا خاوند دن رات كام كرتا ہے، اور يہاں ميرا كوئى رشتہ دار بھى نہيں، مجھے كچھ پتہ نہيں چل رہا كہ ميں كيا كروں، كيا والدہ كى بات مان كر خاوند كى اجازت كے بغير اولاد كو اكيلا چھوڑ كر عراق چلى جاؤں ؟
يا كہ خاوند كى اطاعت كرتے ہوئے اولاد كے ساتھ يہاں ہى رہوں، برائے مہربانى آپ مجھے جلد جواب ديں ؟
الحمد للہ:
ميں اللہ تعالى سے دعا كرتا ہوں وہ آپ كى والدہ كو مكمل صحت و عافيت سے نوازے، اور آپ دونوں كو خير و بھلائى اور دين و دنيا كى سعادت و خوشبختى پر اكٹھا ركھے.
عزيز بہن خوش ہو جاؤ جب اللہ سبحانہ و تعالى آپ كى اپنى والدہ سے محبت و وفاء اور اسے راضى كرنے كى كوشش اور والدہ سے حسن سلوك كرنے كى كوشش و ارادہ ديكھے گا تو آپ كے ليے اپنے فضل و كرم سے اس كا اجروثواب بھى لكھ دے گا.
معاملات كى كنجى صبر ہے، كيونكہ صبر سے ہى مشكلات سے نجات حاصل ہوتى ہے، اور رغبت پورى ہو سكتى ہے، ہو سكتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى نے آپ كو اس جدائى ميں مبتلاء ہى اس ليے كيا ہو كہ ديكھے آپ دونوں كتنا صبر كرتى ہيں، پھر اس مشكل اور امتحان سے نجات كے نتيجہ ميں آپ كے ليے آسانى پيدا كر دے اور آپ ايسے ايك دوسرے سے ملاقات كريں اور مل جائيں كہ آپ كو وہم و گمان بھى نہ ہو، اور اللہ تعالى آپ پر اپنى كرتے ہوئے كچھ عرصہ بعد والدہ كے قريب كر دے.
ليكن ميں آپ كو ايك سلسلہ ميں كچھ اہم شرعى احكام كى تنبيہ كرنا چاہتا ہوں:
1 ـ يہ ياد دہانى اور تاكيد كہ عورت كا بغير محرم سفر كرنا حرام ہے.
امام بغوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" علماء كرام كا اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ غير فرضى سفر كے علاوہ باقى سفر ميں عورت خاوند يا محرم كے بغير سفر نہيں كر سكتى " انتہى
منقول از: فتح البارى ( 4 / 76 ).
اس كى مزيد تفصيل ہمارى اسى ويب سائٹ پر درج ذيل سوالات كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے، آپ ان كا مطالعہ ضرور كريں:
2 ـ اگر بيوى كے جانے ميں كچھ خرابياں پيدا ہوتى ہوں مثلا اولاد كے بگڑنے كا خدشہ يا پھر بيوى كى زندگى كا مسئلہ كہ اس كے ملك ميں امن و امان خراب ہو، يا ساتھ جانے كے ليے كوئى محرم نہ ہو جبكہ خاوند كام ميں مشغول ہو، تو بيوى كو اپنے والدين سے ملنے كے ليے جانے سے خاوند كو روكنے كا حق حاصل ہے.
لہذا اس صورت ميں عورت كے ليے اپنے خاوند كى مخالفت كرتے ہوئے بغير اجازت سفر كرنا جائز نہيں ہوگا، ابن منذر رحمہ اللہ نے اجماع نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ:
" اس پر اجماع ہے كہ آدمى اپنى بيوى كو ہر قسم كے سفر سے روكنے كا حق ركھتا ہے، صرف فرضى حج كے سفر پر جانے ميں علماء كرام كا اختلاف ہے "
ديكھيں: فتح البارى ( 4 / 77 ).
يہ اس سفر ميں حكم ہوگا جب كے نتيجہ ميں خرابي پيدا ہوتى ہو.
اور اگر سفر ان سب خرابيوں سے مامون ہو، اور محرم بھى پايا جائے تو پھر خاوند كو حق نہيں كہ وہ بيوى كو اپنے والدين سے ملنے اور صلہ رحمى كرنے سے روكے، جس سے مقصد پورا ہوتا ہو، كيونكہ والدين كے ساتھ حسن سلوك اور صلہ رحمى كرنا سب سے زيادہ واجب چيز ہے.
بيمار ماں كى بيمار پرسى اور تيمار دارى كرنا بلاشك و شبہ ماں سے حسن سلوك اور صلہ رحمى كہلاتا ہے، اور خاص كر جب والدہ بيمارى كى حالت ميں بيٹى سے كہہ رہى ہو كہ موت آنے سے قبل اسے آ كر مل جاؤ، اور بيٹى كو ملے ہوئے بھى ايك لمبا اور طويل عرصہ ہو چكا ہو.
الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:
" خاوند كو نہيں چاہيے كہ وہ اپنى بيوى كو اپنے بيمار والدين كى تيمار دارى اور بيمار پرسى اور ملنے كے ليے جانے سے روكے؛ كيونكہ بيوى كو انہيں ملنے سے روكنا والدين كے ساتھ قطع رحمى كہلائيگا، اور پھر بيوى كو اپنے خاوند كى مخالفت پر ابھارنے كا باعث بنےگا، حالانكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے تو حسن معاشرت كا حكم ديا ہے، اور بيوى كو والدين سے نہ ملنے دينا حسن معاشرت نہيں " انتہى
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 19 / 110 ).
اور مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:
" درج ذيل فرمان بارى تعالى پر عمل كرتے ہوئے خاوند پر اپنى بيوى كے ساتھ حسن معاشرت كرنا واجب ہے:
فرمان بارى تعالى ہے:
{ اور تم ان عورتوں سے حسن معاشرت اختيار كرو }.
اور حسن معاشرت شامل ہے كہ خاوند اپنى بيوى كو والدين سے ملنے اور ان سے صلہ رحمى كرنے كى اجازت دے، غلط فہمى اس ميں حائل نہيں ہونى چاہيے خاص كر دنياوى معاملات ميں حائل نہ ہو.
ليكن اگر بيوى كا اپنے والدين سے ملنے ميں كوئى خرابى پيدا ہوتى ہے تو پھر خاوند كو روكنے كا حق حاصل ہے؛ اس ليے خرابى كو دور كرنا مصلحت لانے پر مقدم ہوتا ہے " انتہى
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 25 / 387 ).
يہاں ايك سوال پيدا ہوتا ہے كہ اگر خاوند اپنى بيوى كو والدين سے ملنے كے ليے نہ جانے دينے پر مصر ہو تو كيا بيوى اپنے خاوند كى مخالفت كرتے ہوئے والدين كو ملنے جا سكتى ہے يا نہيں ؟
اس ميں علماء كرام كے دو قول ہيں جن كى تفصيل ہمارى اسى ويب سائٹ پر سوال نمبر ( 83360 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے، آپ اس كا مطالعہ كريں.
ہم يہ اختيار نہيں كرينگے كہ عورت اپنے خاوند كى مخالفت كرتے ہوئے خاوند كى اجازت كے بغير گھر سے نكلے كيونكہ اس ميں گھر خاندان اورخاوند اور بيوى كے تعلقات پر بہت زيادہ اثر پڑتا ہے، اس ليے اس خرابى كو دور كرنا والدين كے ملاقات كى مصلحت لانے سے زيادہ بہتر ہے.
خاص كر انتظار كرنا اور خاوند كے ساتھ اس سلسلہ ميں بات چيت كرے ممكن ہے وہ بيوى كو اپنى والدہ سے ملنے كى اجازت دے دے، كيونكہ حسن آداب اور بہتر بات چيت اور اچھى كلام اور اچھے طريقہ اختيار كرنے پر اللہ سبحانہ و تعالى اپنے حكم سے دل نرم كر ديتا ہے، ان شاء اللہ اسے اجازت دى توفيق مل جائيگى.
3 ـ ہم يہ ياد دلاتے جائيں كہ ہمارى اسى ويب سائٹ پر سوال نمبر ( 11793 ) اور ( 14235 ) كے جوابات ميں كفار كے ملك ميں رہائش اختيار كرنے سے اجتناب كرنے كا كہا گيا ہے كيونكہ كفريہ ممالك ميں رہائش اختيار كرنے كى بنا پر دين اور اخلاق پر بہت غلط اثر پڑتا ہے.
ہم اميد كرتے ہيں كہ آپ ان سوالات كے جوابات كا مطالعہ كر كے ضرور مستفيد ہونگى، كيونكہ مسلمان كے ليے دين ہى اس كا اصل سرمايہ ہے، اس كے ليے اپنے دين ميں كوتاہى كرنا جائز نہيں، كوتاہى كر كے وہ كفريہ ممالك سے چند ٹكوں كى خاطر اپنا دين اور اولاد ضائع كر بيٹھے.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:83ab77a3-7032-4a4a-8dd1-e96f7e1f8c9c> | CC-MAIN-2014-23 | http://islamqa.info/ur/91975 | 2014-07-30T07:46:31Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-23/segments/1406510268734.38/warc/CC-MAIN-20140728011748-00486-ip-10-146-231-18.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.951878 | Arab | 42 | {} |
ميں درج طريقہ سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دورد پڑھنے كى مشروعيت معلوم كرنا چاہتا ہوں طريقہ يہ ہے:
ہر شخص اپنے جاننے والوں اور عزيز و اقارب ميں ايك محدود تعداد ميں درود پڑھنا تقسيم كرتا ہے پھر وہ اپنے عزيز و اقارب اور جان پہچا نركھنے والوں سے يہ درود ايك صفحہ ميں جمع كرتا ہے تا كہ سب شريك ہوں، مثلا كوئى ايك طالب علم محلہ ميں جا كر ہر گھر كے دروازے پر دستك دے كر ہر فيملى سے ايك ہزار يا اس سے زائد بار درود پڑھنے كا كہتا ہے
اور انہيں كہتا ہے كہ ميں ايك ہفتہ بعد آ كر آپ سے يہ درود لے جاؤنگا جتى تعداد بھى ہو گى، چنانچہ كچھ لوگ ايك ہزار پورا كر ليتے ہيں اور كچھ اس سے زيادہ بھى كر ليتے ہيں تو اس طرح وہ تقريبا ڈيڑھ كروڑ درود كر ليتا ہے، اور اسى طرح سكول كے ہر طالب علم پر بھى پانچ درود تقسيم كيا جاتا ہے تو اس طرح تين كروڑ جمع ہو جائيگا، كيا آپ كے ليے اس موضوع كے متعلق كچھ لكھنا ممكن ہے تا كہ جن مجالس ميں يہ كام ہوتا ہے وہاں پيش كيا جائے اور اس كا رد پيش كريں، اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كو اچھے عمل كرنے كى توفيق نصيت فرمائے.
الحمد للہ:
جس شخص كو بھى سنت اور اس كے احكام كا علم ہے، اور وہ سنت نبويہ كے نور سے منور ہوا اور اس كے سائے ميں راحت اختيار كى ہے، اور اس نے شريعت اور اتباع و پيروى كى خوشبو سونگھى ہے اس كو يہ علم ہو گا كہ سوال ميں وارد افعال جيسے عمل كرنا بدعت اور گمراہى ہے، اور وہ اس طرح كے عمل كر كے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا محب مسلمان نہيں ہو سكتا وگرنہ اس طرح كے عمل سے ابو بكر صديق اور باقى صحابہ كہاں رہ گئے ؟
اور اس طرح كے عمل سے سعيد بن مسيب اور باقى تابعين كہاں رہے ؟
اور پھر آئمہ اربعہ اس طرح كے عمل سے كہاں رہ گئے ؟
ان سب ميں سے كوئى بھى ايسا نہيں جس نے ايسا عمل كيا بلكہ اس كے قريب بھى گيا ہو.
جى ہاں اللہ سبحانہ و تعالى نے ہميں اپنے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنے كا حكم ديا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى ترغيب دلائى ہے، ليكن حقيقى محب اور اجرعظيم كى رغبت ركھنے والوں ميں سے كسى ايك نے بھى ايسا عمل نہيں اور نہ ہى اس طرح كا كوئى اور عمل جس شريعت سے ثابت نہ ہو.
اس طرح بكا شيڈول بنانے اور اسے سكولوں اور گھروں اور مجلسوں ميں تقسيم كرنا يہ سب اوقات كا ضياع ہے جس ميں كوئى فائدہ نہيں، اور عمر كى تباہى كا باعث ہے؛ بلكہ يہ تو دينى طور پر گمراہى ہے عقلى طور پر بےوقوفى ہے!!
اگر وہ اتباع و پيروى كا معنى جانتے ہوتے تو ان كے ليے اس جدوجھد كو كسى فائدہ مند كام ميں لگانا ممكن تھا، مثلا وہ لوگوں كو اپنى بيويوں كے ساتھ رہن سہن ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كيا طريقے تھے كى تعليم ديتے، اور لوگوں كو سكھاتے كہ وضوء كيسے كرنا ہے، نماز كس طرح ادا كرنى ہے، اور لوگوں كو سود خورى سے دور رہنے كى ترغيب دلاتے، اور نماز باجماعت سے پيچھے نہ رہنے كى ترغيب دلاتے.
بلكہ جو لوگ نماز ادا ہى نہيں كرتے انہيں نماز كى طرف آنے كا كہتے، اور عورتوں كو بےپردگى اور بے حيائى اختيار كرنے سے اجتناب كرنے كا كہتے اور اس كے علاوہ بہت سارى اشياء ہيں جو اس كى محتاج تھى كہ اس ميں اس جدوجھد كو صرف كيا جاتا، جس كى بنا پر دين اسلام كا پيغام بڑے اچھے طريقہ سے لوگوں تك پہنچتا جو اس سے غافل ہيں، اور سيدھى راہ سے گمراہ ہو چكے ہيں.
ليكن ايك بدعتى كو ان عظيم كاموں كى توفيق كہاں كيونكہ وہ تو صحيح اتباع و پيروى كو ايك مذاق كى نظر سے ديكھ رہا ہے، اور شرعى محبت كو جہالت كى نظر سے؟!.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود كا حكم معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 101856 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.
اور درود شريف كا معنى كيا ہے اس كو سمجھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 69944 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.
يہ لوگ كئى قسم كى بدعات ميں پڑے ہوئے يا پھر ايك ہى بدعت ميں كئى اعتبار سے بدعت كہلاتى ہے وہ يہ كہ:
1 ـ انہوں نے يہ درود جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كى مناسبت سے ركھا ہے، اور يہ مناسبت خود بدعت ہے.
2 ـ ان كا يہ درود ايك معين تعداد ميں محدود كرنا اور اس كا اپنے اور لوگوں كے ليے كرنا، حالانكہ شريعتا سلاميہ اس كا وجود نہيں ملتا، اور مسلمان شخص كو يہ حق حاصل ہے كہ وہ ايك بار نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتين نازل فرماتا ہے، جيسا كہ سوال ميں وراد شدہ حديث ميں ہے ـ حالانكہ اس حديث كے صحيح ہونے ميں كلام كى گئى ہے ـ اور اس پر جو زيادہ كيا ہے وہ اس پر ہے، اور مسلمان كو يہ حق نہيں كہ وہ كسى ايسے ذكر كو جو كسى متعين عدد ميں بيان كيا گيا ہے وہ اسے مطلق كر دے، اور اسى طرح اس كو يہ بھى حق نہيں كہ وہ كسى مطلق ذكر كو اپنى عقل سے متعين عدد ميں محدود كر دے.
اور يہ لوگ عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كے اس قول كے كتنے زيادہ حقدار ہيں جو انہوں نے ان بدعتيوں كے اسلاف كے متعلق فرمايا تھا:
" تم اپنے گناہ اور غلطياں شمار كرو، اور ميں تمہارا ضامن ہوں كہ تمہارى نيكياں ضائع نہيں كى جائينگى "
اسے دارمى نے سنن دارمى كے مقدمہ ميں روايت كيا ہے ( 204 ).
مزيد آپ سوال نمبر ( 11938 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
3 ـ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنا ان عام اجتماعى اذكار ميں شامل نہيں ہوتا، بلكہ يہ تو ايك خاص ذكر ہے جو بندے اور اس كے رب كے مابين ہے.
ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنا اگرچہ افضل اعمال اور اللہ كے ہاں محبوب ترين اعمال ميں شامل ہوتا ہے، ليكن ہر ذكر كے ايك خاص مقام اور جگہ ہے، اور كوئى ذكر وہاں اس كے قائم مقام نہيں ہو سكتا، ان كا كہنا ہے: اسى ليے ركوع اور سجود ميں درود پڑھنا مشروع نہيں، اور نہ ہى ركوع كے بعد كھڑے ہو كر.
ديكھيں: جلاء الافھام في فضل الصلاۃ على محمد خير الانام صلى اللہ عليہ وسلم ( 1 / 424 ).
لہذا جس كسى نے بھى درود كا يہ طريقہ گھڑا اور ايجاد كيا ہے اس كے ليے اس بدعت سے توبہ كرنى واجب ہے، اور اس كے ليے ضرورى ہے كہ وہ لوگوں ميں اس ميں شركت كى دعوت دينے سے باز آجائے، اور جس كسى كو بھى اس كے بدعت ہونے كا علم ہو جائے اسے چاہيے كہ وہ لوگوں ميں اس ميں شريك ہونے سے منع كرے، اور اس كى دعوت دينے سے بھى روكے اور وہ لوگوں كے دھوكہ ميں مت آئے.
اور كسى عقل والے كے بارہ ميں يہ گمان نہيں كيا جا سكتا كہ اللہ رب العالمين كے حكم پر عمل كرتے ہوئے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھنے سے روك رہا ہے، بلكہ وہ ت وانہيں اس طرح كے بدعتى طريقہ كو اختيار كرنے سے منع كر رہا ہے كہ اس طرح كے طريقہ سے اللہ كا قرب حاصل نہيں كيا جا سكتا.
اور جن جوابات كى طرف ہم نے رجوع كرنے كا كہا ہے اس ميں كافى و شافى بيان موجود ہے، آپ اس كا بغور مطالعہ كريں اور غور و فكر كريں.
ہم اميد ركھتے ہيں اللہ تعالى اس سے فائدہ دےگا، اور گمراہ مسلمانوں كو صحيح راہ دكھائيگا تا كہ وہ اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كى اتباع كريں.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:477cfa31-411d-43f3-a8fd-3fff443f3748> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/126367 | 2014-08-22T02:05:05Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1408500822407.51/warc/CC-MAIN-20140820021342-00065-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.947095 | Arab | 125 | {} |
مسلمانان اندلس
مسلمانان اندلس یا مورو یا مورز (انگریزی زبان میں: Moors) ان مسلمانوں کو کہتے ہیں جو مغربی افریقہ اور مراکش سے آئبیریا (موجودہ ہسپانیہ اور پرتگال) میں آ کر آباد ہو گئے۔ ان مسلمانوں کے رسم و رواج اور طرز رہن سہن کو مورش یا اصطباغی کہتے ہیں۔
تاریخ[ترمیم]
عیسائی ہسپانیہ میں مورو کا داخلہ 711ء میں بربر سپہ سالار طارق بن زیاد کی قیادت میں ہوا جس نے آٹھ سال کے عرصہ میں آئبیریا ( ہسپانیہ اور پرتگال کے جزیرہ نما کا قدیم نام) کے زیادہ تر حصہ پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔ انھوں نے شمال میں پائرین کی پہاڑیاں میں آگے بڑھنے کی کوشش کی جس میں انہیں 732ء میں ٹورز کی لڑائی میں فرانک، چارلس مارٹل کے ہاتھوں سکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مورو نے ماسواۓ شمال مغربی پائرین کی پہاڑیوں میں باسکو کے علاقہ کے باقی تمام آئبیریا اور شمالی افریقہ پر کئی دہائیوں تک حکومت کی۔ اگرچہ مورو تعداد میں کم تھے، لیکن وہ کافی زیادہ تعداد میں مقامی لوگوں کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔ "اسلامز بلیک سلیو" (اسلام کے سیاہ غلام) کے مصنف رونالڈ سہگل کے مطابق ستر لاکھ آئبیریائی باشندوں میں سے 1200ء تک چھپن لاکھ مسلمان تھے جو اصل میں مقامی ہی تھے۔ مؤرش حکومت کو 750ء کی دہائی میں اندرونی خلفشار کا سامنا کرنا پڑا۔
ملک جاگیروں میں بٹ چکا تھا جو زیادہ تر مسلمان تھیں، اور پھر قرتبہ کے خلیفہ کے زیر اثر متحد ہوئیں۔ لیکن شمال اور مغرب میں موجود عیسائی ریاستیں آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئیں، اور ریکنکواستہ (فوجی آزادی) کے جھنڈے تلے آسٹوریس، نوارے، گالیسیا، لےاون، پرتگال، آراگون، کتالونیہ اور کستلے کی حکومتیں پھیلاؤ اور اندرونی مضبوطی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ قرتبہ کے ابتدائی دور خلافت میں عیسائي، مسلمان اور یہودی مل جل کر رہے، لیکن بعد میں یہودیوں کو دھکیلا جانے لگا اور عیسائی مسلمانوں کے تحت دوسرے درجے کے شہری قرار پاۓ۔ قرتبہ کی خلافت 1031ء میں گر گئی اور آئبیریا کی مسلمان حکومت شمالی افریقہ کے مورو المراد دیناستی کے ہاتھ آئی۔
مورو آئبیریا نے شہری منصوبہ بندی میں بڑی ترقی کی، اور عظیم شہر تعمیر کیے۔ ایک مورخ کے مطابق قرتبہ میں 471 مساجد، 300 عوامی غسل خانے، 63,000 امراء کے مکانات اور 200,077 عام لوگوں کے مکانات تھے۔ کاروباری مراکز میں 80,000 دکانیں انکے علاوہ تھیں۔ پہاڑوں سے پانی شہر کے ہر کونے میں پہنچایا گیا تھا، جسکے لیے خالص سونا، چاندی، تانبا اور جست کے مختلف شکلوں کے پائپ بناۓ گۓ تھے۔ انکے ذریعے پانی بڑی جھیلوں، تالابوں ٹینکون اور سنگ مرمری فواروں تک پہنچایا جاتا تھا۔ مکانات میں گرمیوں میں باغات کی تازہ معطر ہوا کے گزر کا اہتمام تھا اور سردیوں میں دیواروں میں نصب گرم ہوا نلوں کی مدد سے گھروں کو گرم رکھا جاتا تھا۔ مزید اہم کاموں میں بڑے راستوں پر جو محلات کی طرف جاتے تھے، روشنی کا اہتمام تھا۔ ان بڑے محلات میں سے ایک ازہارہ کا محل تھا جسکے 15,000 دروازے تھے۔ بلاشبہ خلافت کے دور عروج میں قرتبہ یورپ کا اہم دارالخلافہ اور دنیا کے عظیم شہروں میں سے ایک تھا۔
1212ء میں کاستلے کے الفانسو ہشتم کی قیادت میں عیسائی حکمرانوں کا گروہ مسلمانوں کو مرکزی آئبیریا سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا لیکن غرناطہ کی مورو حکومت جزیرہ نما آئبیریا کے جنوبی حصہ میں قائم رہی۔ یہ حکومت جدید زمانہ میں اپنے شاہکار الحمرا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ 2 جنوری، 1492ء کو آخری مسلمان حکمران نے آرگان کے فردینانڈ دوئم اور کاستلے کی ازابل کے درمیان شادی سے بننے والے اتحاد کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ باقی ماندہ مسلمانوں کو آئبیریا چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا، یا ان کو عیسائیت قبول کرنی پڑی۔ اور ان کی اولاد موریکوس قرار پائی جو کئی ریاستوں مثلاً آراگان، ویلنسیا، اندلس وغیرہ میں بطور کسان رہے، یہاں تک کہ 1609ء سے 1614ء کے دوران ان سب کو بے دخل کر دیا گیا۔ ہنری لاپیئر کے مطابق اس بے دخلی سے جزیرہ نما کے کل 80 لاکھ رہائشیوں میں سے تین لاکھ متاثر ہوۓ۔
ماخذ[ترمیم]
رومی لفظ مور(Maur ) شمالی افریقہ نسل کے باشندوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو جدید تیونس کے مغرب میں ہے۔ قدیم اور جدید مورخوں اور مصوروں نے انکی ایسی کئی خصوصیات کو ابھارا ہے جو آج کے جدید معاشروں میں بھی ہیں۔ اسکے مقابلہ میں مزید جنوب میں رہنے والے ایتھوپیائی باشندوں کو 'ایتھیوپس' (Aethiopes ) اور مصریوں کو 'آئجپتس' (Aegyptus) کہا جاتا تھا۔ ان میں کئی رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔ ڈاکٹر کےئتا (Dr. Keita) کے مطابق یہ سب مقامی ہی تھے، چاہے انکا رنگ سفید تھا یا انکے بال سفید تھے۔ یہ خصوصیات اس علاقہ کی اپنی تھیں نہ کہ یہاں آ کر آباد ہونے والے یورپی (یونانی، رومی وغیرہ) یا عربوں کی وجہ سے۔
بحث و تحقیق[ترمیم]
مور (اردو میں مورو)'Moor ' کا ماخذ یونانی لفظ 'ماؤروز' (Mavros) ہے جسکا مطلب سیاہ یا گہرا ہے، اور جو لاطینی رومی زبان میں تبدیل ہو کر مورو (Mauro) کہلایا۔ رومی زبان میں سیاہ یا گہرے کے لیے 'نیگر' (Niger) یا 'فسکس' (Fuscus) کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، نہ کہ مورو۔ مورو شمالی افریقہ کے ان باشندوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو 'مغرب' کے رہنے والے تھے جو موجودہ تیونس کے مغرب میں ہے۔ مورخ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ شمالی افریقی دو طرح کے تھے، شمالی لیبیا کے سفید رنگت والے اور گہری رنگت والے۔
مزید پڑھیں[ترمیم]
خارجی ربط[ترمیم]
- انگریزی ربط English link
- مسلمان ہسپانیہ اور یورپی تہذیب Muslim Spain and European Culture انگریزی میں
| <urn:uuid:022e0a57-2d71-4572-bc60-decd13ba3828> | CC-MAIN-2014-35 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86_%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%84%D8%B3 | 2014-09-02T23:58:09Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535923940.4/warc/CC-MAIN-20140909030511-00072-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.977754 | Arab | 76 | {} |
ميں اپنى ايك قريبى رشتہ دار لڑكى سے چھ ماہ قبل عقد نكاح كيا، يہ علم ميں رہے كہ ميں كسى دوسرے ملك ميں ملازمت كرتا ہوں، منگنى اور عقد نكاح يہ سب سفر كى حالت ميں ہى ہوا، جب سے ميرا عقد نكاح ہوا ہے بيوى ميں بہت تبديلى پيدا ہو چكى ہے اور وہ بہت ہى نحوست كرنے لگى ہے اور اسے شك ہے كہ ميرے ساتھ اس كى زندگى سعادت مند نہيں رہےگى.
اور پھر مستقبل ميں بھى وہ ايسا محسوس نہيں كرتى اس ليے وہ مجھ سے طلاق طلب كرنے لگى ہے، كيا ميرے ليے اسے طلاق دينا جائز ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ وہ ميرے ليے اہم قسم كے معاملات ميں ميرى مخالفت كرتى ہے مثلا مكمل شرعى پردہ، اور مخلوط جگہ ملازمت كرتى ہے، ميں اپنے دين كى حفاظت كرنا چاہتا ہوں برائے مہربانى مجھے بتائيں ميں كيا كروں ؟
الحمد للہ:
اصل ميں طلاق مكروہ ہے؛ كيونكہ اس سے سسرالى رشتہ دارى ميں قطع رحمى ہوتى ہے، اور خاندان بكھر كر اولاد ضائع ہو جاتى ہے.
شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:
" اصل ميں طلاق ممنوع ہے، بلكہ بقدر ضرورت مباح كى گئى ہے "
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 33 / 81 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اصل ميں طلاق مكروہ ہے، اس كى دليل يہ ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ايلاء كرنے والوں كے متعلق فرمايا ہے:
اور وہ لوگ جو اپنى بيويوں سے ايلاء كرتے ہيں .
يعنى وہ قسم اٹھاتے ہيں كہ اپنى بيويوں سے چار ماہ تك مجامعت نہيں كرينگے پھر فرمايا:
{ اگر وہ لوٹ آئيں تو اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے، اور اگر طلاق كا ہى قصد كر ليں تو اللہ تعالى سننے والا جاننا والا ہے }البقرۃ ( 226 - 227 ).
اس ميں كچھ دھمكى سى پائى جاتى ہے، ليكن واپس پلٹ آنے ميں اللہ نے فرمايا: " يقينا اللہ بخشنے والا مہربان ہے " تو يہ اس كى دليل ہے كہ اللہ عزوجل كو طلاق پسند نہيں، اور اصل ميں طلاق مكروہ ہے، اور واقعتا يہى ايسے ہى ہے.
ديكھيں: الشرح الممتع ( 10 / 428 ).
ليكن جب لوگوں كى طبيعت اور ان كا اخلاق اور دين برابر نہيں وہ اس ميں مختلف ہيں كسى كا زيادہ اور كسى كا كم ہے تو اللہ كى شريعت ميں طلاق مشروع كرنا ضرورى تھا، كيونكہ ہو سكتا ہے مرد كے قلت دين يا اس كے برے اخلاق يا پھر غلط طبيعت كى بنا پر عورت كا اپنے خاوند كے ساتھ رہنا اذيت و تكليف كا باعث ہو، اور اسى طرح يہ بھى ہو سكتا ہے كہ آدمى كا بيوى كا اولاد كى تربيت كى صلاحيت نہ ہونے يا پھر اچھے طريقہ سے خاوند كا حق معاشرت ادا نہ كرتى ہو تو ايسى بيوى كے ساتھ رہنے ميں خاوند كو اذيت و تكليف ہو سكتى ہے، چنانچہ يہاں طلاق كى مشروعيت حكمت و طبعيت كے موافق ٹھرتى ہے.
اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ طلاق كے بعد دونوں ہى كوئى ايسا اختيار كر ليں جس سے ان كى زندگى صحيح ہو جائے جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور اگر وہ عليحدہ ہو جائيں تو عنقريب اللہ تعالى انہيں اپنى وسعت سے غنى كر ديگا، اور اللہ سبحانہ و تعالى وسعت والا حكمت والا ہے }النساء ( 130 ).
اس ليے طلاق دنيا كى انتہا نہيں، ہو سكتا ہے جب خاوند اور بيوى كى طبيعتوں ميں نفرت تھى، اور سلوك و اخلاق اور افعال ميں موافقت نہ تھى تو اس ميں طلاق ہى صحيح وسيلہ ہو سكتا ہے.
اس ليے ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اپنے اور بيوى كے خاندان والوں سے عقل و دانش والے افراد كو درميان ميں لائيں تا كہ وہ آپ كى بيوى كے سلوك اور معاملات ميں تغير كو اسے سمجھا كر مطمئن كر سكيں، اور آپ سے وعدہ كرے كہ ازدواجى زندگى ميں وہ آپ كے ساتھ صحيح رہے گى اور اس ميں كوئى انحراف اور غلطى نہيں ہوگى.
اور اسے بتايا جائے كہ اس طرح تو يہ شادى برقرار ركھى جا سكتى ہے، اگر تو وہ اسے قبول كر لے تو الحمد للہ، ہو سكتا ہے اللہ تعالى آپ كے مابين محبت و الفت پيدا كر دے اور آپ خير و بھلائى پر اكٹھے اور جمع رہيں.
ہم آپ كو يہ بھى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ شادى سے قبل اسے كچھ عرصہ تك موقع ديں تا كہ آپ پتہ چل سكے كہ وہ آپ كے ساتھ زندگى بسر كرنے ميں كتنى رغبت ركھتى ہے، پھر اسے اس كو نافذ كرنے ميں بالفعل كتنى قدرت حاصل ہے.
كيونكہ آپ نے اس كى متعلق جو كچھ بيان كيا ہے اس كى بنا پر ہميں تو اس موافقت كى رغبت ميں شك محسوس ہوتا ہے يا پھر اس كى قدرت پر شك ہے.
اور اگر وہ قبول نہيں كرتى تو ہمارى رائے يہى ہے كہ اسے طلاق دے ديں، اور رخصتى يا پھر اولاد ہو جانے كے بعد طلاق ہونے سے آپ كے ليے اور اس كے ليے بھى اب طلاق كا ہونا بہتر ہے، اگر وہ ايسا كر ليتى ہے اور طلاق ہو جاتى ہے تو آپ پر كوئى گناہ نہيں.
كيونكہ يہاں آپ كے حق ميں طلاق يا تو واجب ہوگى يا پھر مستحب اور خاص كر جب وہ مخلوط مكان پر ملازمت كرنے پر مصر ہو تو اسے طلاق دينے كے ليے يہى كافى ہے، اور اگر اس كے ساتھ اور معاملات بھى مل جائيں تو پھر كيسے ؟!
واللہ اعلم . | <urn:uuid:0a23b54d-1a95-4ea5-9a71-edd07859372d> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/83721 | 2014-08-27T17:05:55Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1408500829661.96/warc/CC-MAIN-20140820021349-00267-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.968076 | Arab | 67 | {} |
ميں قسطوں ميں گاڑى خريدنا چاہتا ہوں، اس كا طريقہ كچھ اس طرح ہے كہ ميں كچھ رقم تو نقد ادا كروں اور باقى قيمت ماہانہ قسطوں ميں تقسيم كر دى جائيگى، اور آخرى قسط كى ادائيگى كے بعد گاڑى ميرے نام منتقل ہوگى، يہ علم ميں ركھيں كہ آخرى قسط بھى عام قسطوں جتنى ہى ہے.
الحمد للہ:
اول:
قسطوں ميں اشياء كى خريدارى كرنے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے اس ميں كچھ رقم پيشگى ادا كى جائے يا نہ، ليكن اس ميں شرط يہ ہے كہ اس خريدارى كے معاہدے ميں يہ شرط نہ ركھى جائے كہ اگر قسط ليٹ ہو گئى تو جرمانہ كى ادائيگى كرنا ہوگى، كيونكہ يہ شرط سود ميں سے ہے.
دوم:
جب خريدارى كا معاہدہ طے پا جائے تو آپ گاڑى كے مالك بن جائينگے، چاہے آپ نے كوئى قسط بھى ادا نہيں كى، تو آپ گاڑى اپنے نام كروا سكتے ہيں، اور گاڑى كى قيمت ميں سے باقى مانندہ رقم آپ كے ذمہ قرض ہوگى.
سوم:
خريدار كے نام گاڑى لكھى جانے سے مراد خريدار كے حق كى توثيق ہے، نہ كہ يہ بيع و شراء كے صحيح ہونے كى شرط، اور صرف عقد اور معاہدہ ہونے كى صورت ميں فروخت كردہ چيز خريدار كى ملكيت ميں آ جائيگى چاہے وہ خريدى ہوئى چيز اس كے نام منتقل كى جائے يا فروخت كرنے والے كے نام ہى رہے.
چہارم:
فروخت كرنے والے كو حق حاصل ہے كہ وہ اپنے حق كو مضمون ركھنے كے ليے كسى چيز كو رہن ركھنے كى شرط ركھے، اور اسے يہ بھى حق ہے كہ وہ اسى گاڑى كو بطور رہن ركھ لے، وہ اس طرح كہ خريدارى گاڑى كى مكمل قسطيں ادا كرنے سے قبل گاڑى كو فروخت كرنے كا تصرف نہ كر سكے، بلكہ وہ اسے رہن سے چھڑا كر فروخت كر سكتا ہے، اور فقھاء كرام نے اس كے جواز كا فيصلہ كيا ہے .
الكشفا القناع ميں ہے:
فروخت كردہ چيز كو اس كى قيمت ميں رہن ركھنا صحيح ہے، اور اگر وہ يہ كہے كہ: ميں نے يہ چيز تجھے اس شرط پر فروخت كى كہ تو اسے اس كى قيمت كے بدلے ميرے پاس رہن ركھےگا، تو خريدار كہے: ميں نے اسے خريد كر تيرے پاس رہن ركھا تو يہ خريدارى اور رہن صحيح ہے " انتہى.
ديكھيں: كشاف القناع ( 3 / 189 ).
اس بنا پر اگر تو گاڑى آپ كے نام منتقل ہونے كا سبب وثوق زيادہ اور پختہ كرنا ہے كہ كہيں آپ قسطوں كى ادائيگى سے قبل ہى گاڑى فروخت نہ كرديں تو پھر يہ بيع اور سودا صحيح ہونے پر كوئى اثرانداز نہيں ہوگا؛ كيونكہ بيان كيا جا چكا ہے كہ يہ لكھائى صرف توثيق اور پختگى كے ليے ہے، ليكن آپ صرف عقد اور معاہدہ كى بنا پر ہى شرعى طور پر آپ اس گاڑى كے مالك بن چكے ہيں، چاہے يہ گاڑى رہن ركھى ہوئى ہے تو آپ اسے رہن سے چھڑائے بغير فروخت نہيں كر سكتے يا پھر فروخت كرنے والا اسے آگے فروخت كرنے كى اجازت نہ دے دے.
كبار علماء كرام كى مجلس كى رائے ہے كہ:
فروخت كرنے كے جائز ہے كہ وہ پختگى اور توثيق كى زيادتى كے ليے گاڑى كے كاغذات اپنے پاس محفوظ ركھے، علماء كا كہنا ہے:
مجلس يہ خيال ركھتى ہے كہ: خريدار اور بائع دونوں صحيح طريقہ پر عمل كريں, وہ يہ كہ وہ ايك چيز كو فروخت كرے اور اسے اس كى قيمت كے بدلے رہن ركھ لے، اور اس ميں احتياط ليتے ہوئے اپنے پاس گاڑى كے كاغذات وغيرہ يا معاہدے كا اسٹام محفوظ ركھے" انتہى.
يہاں ہم ايك چيز كى تنبيہ كرنا چاہتے ہيں كہ: جو كچھ بيان كيا گيا ہے اس كے مشابہ ايك اور صورت پائى جاتى ہے وہ يہ كہ:
كرايہ كا معاہدہ جو مليكت پر جا كر ختم ہوتا ہے، اور اس ميں يہ ہوتا ہے كہ گاڑى كرايہ پر دينے والا شخص گاڑى كى ملكيت گاڑى كى آخرى قسط، يا اجرت ادا ہونے تك اپنے پاس ركھتا ہے، اور يہ معاہدہ حرام ہے، اس كے متعلق اسلامى فقہ اكيڈمى اور كبار علماء كميٹى كا فيصلہ بھى صادر ہو چكا ہے.
مزيد تفصيل كے آپ سوال نمبر ( 14304 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
واللہ اعلم . | <urn:uuid:b9afa2c6-062f-4eef-8514-ae1cf84fe3db> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/69877 | 2014-08-30T20:24:12Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1408500835699.86/warc/CC-MAIN-20140820021355-00151-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.970852 | Arab | 30 | {} |
کیامرد اورعورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے احرام کوکسی دوسرے احرام سے تبدیل کرلے ، چاہے وہ حج کا احرام ہویا عمرہ کا ؟
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اوراللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔. | <urn:uuid:ec557cc0-98d2-417b-acf1-d5be2acd74b2> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/26722 | 2014-09-02T06:46:45Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535921869.7/warc/CC-MAIN-20140901014521-00463-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.900197 | Arab | 50 | {} |
ہم نے مندرجہ ذيل سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا :
سوال : کیا لڑکی کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی تصویر منگیتر کوبھیجنی جائز ہے تا کہ وہ شادی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکے ؟
الحمدللہ
توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
میرے خیال میں ایسا کرنا جائز نہیں :
اول : اس لیے کہ اسے دیکھنے میں دوسرے بھی شریک ہوسکتے ہیں ۔
دوم : اس لیے کہ تصویر مکمل طور پر حقیقت بیان نہیں کرتی ، کتنی ہی ایسی تصویریں ہیں جنہیں دیکھا اورجب اس لڑکی کا مشاھدہ کیا تو وہ تصویر سے بالکل ہی مختلف تھی ۔
سوم : ہوسکتا ہے یہ تصویر منگیتر کےپاس ہی رہے اوروہ منگنی توڑنے کے بعد اس تصویر سے لڑکی کوبلیک میل کرے اورجس طرح چاہے لڑکی کو نچاتا پھرے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ . | <urn:uuid:a7342f4b-697f-4193-8dad-e1b837c8f296> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/4027 | 2014-09-02T06:43:41Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535921869.7/warc/CC-MAIN-20140901014521-00463-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.955278 | Arab | 68 | {} |
میرا حيض اذان فجر سے قبل ختم ہوا لیکن میں کمزوی کی وجہ سے غسل نہ کرسکی توکیا مجھے اس دن کا روزہ پورا کرنا ہوگا کیونکہ میں نے اذان سے قبل روزے کی نیت کرلی تھی ؟
الحمد للہ :
جب حائضہ عورت فجر سے قبل پاک ہوجائے اوروہ روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا چاہے وہ طلوع فجر کے بعد ہی غسل کرے ، کیونکہ روزہ کے لیے طہارت شرط نہيں ۔
اور جنبی کے لیے بھی یہی حکم کہ اگروہ طلوع فجر سے قبل غسل نہ کرسکے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا سے جنبی شخص کے بارہ میں پوچھا کہ آیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے ؟
تووہ کہنے لگيں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کی وجہ سے نہيں ( بلکہ جماع سے ) جنبی ہونے توصبح اٹھتے اورروزہ رکھ لیتے تھے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1962 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1109 )
امام نووی رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں :
اہل امصار کا اجماع ہے کہ جنبی شخص کا روزہ صحیح ہے ، چاہے وہ احتلام یا جماع سے جنبی ہو ۔۔۔۔
اورجب حائضہ اورنفاس والی عورت کا خون رات کو ختم ہوجائے اورطلوع فجر سے قبل وہ غسل نہ بھی کر سکے تو اس کا روزہ صحیح ہے ، اس پرروزہ مکمل کرنا واجب ہے چاہے وہ فجر سے قبل غسل عمدا نہ کرے یا پھر کسی عذر کی بنا پر جس طرح کہ جنبی ہے ۔
ہمارا مذھب بھی یہی ہے اوراکثر علماء کرام کا مسلک بھی یہی ہے سوائے اس کے جو بعض سلف سے بیان کیا گيا ہے لیکن ہمیں اس کے صحیح ہونے کا کوئي علم نہيں ۔ ا ھـ ۔
واللہ اعلم . | <urn:uuid:6cb2bf03-cc10-4003-a2aa-2ac365e7abd8> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/37926 | 2014-08-22T05:57:56Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1408500823169.67/warc/CC-MAIN-20140820021343-00117-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.958766 | Arab | 64 | {} |
عورت كا زينت كے ليے چہرے پر پاؤڈر لگانے كا حكم كيا ہے ؟
الحمد للہ:
پاؤڈر كا مسئلہ تفصيل طلب ہے:
اگر تو اس سے خوبصورتى حاصل ہوتى ہو، اور وہ چہرے كو نقصان نہ دے، اور نہ ہى وہ كسى اور چيز كا سبب بنے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.
ليكن اگر وہ كسى چيز كا باعت بنتا ہے مثلا سياہ دھبہ بنا دے، يا اس ميں كوئى اور نقصان پيدا ہوتا ہو تو پھر نقصان كى بنا پر اسے منع كيا جائےگا.
اللہ تعالى ہى مدد كرنے والا ہے. | <urn:uuid:b8988934-133d-4c38-a476-602dc4e3ba53> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/26861 | 2014-09-03T05:06:02Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535924501.17/warc/CC-MAIN-20140909013106-00289-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.980265 | Arab | 87 | {} |
ضمان کی مدت میں اضافہ کرنے کے لیے سامان کی قیمت بڑھانے کا حکم کیا ہے ؟
الحمدللہ
ہم نے مندرجہ بالا سوال فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین حفظہ اللہ تعالی سامنے رکھا توان کا جواب تھا :
جب رضامندی کےبناپرایسا کیاجائے تواس میں کوئي حرج نہیں ۔۔۔۔ لیکن مستقل ضمان کارڈ فروخت کرنے جائزنہيں ہیں ۔
واللہ اعلم ۔ . | <urn:uuid:e23fa5d1-9c8f-4e42-8696-0d56d1599e37> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/6249 | 2014-09-01T13:55:32Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535919066.8/warc/CC-MAIN-20140901014519-00411-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.963219 | Arab | 58 | {} |
فہد بن عبدالعزیز
پیدائش:1923
وفات:اگست 2005ء
فہد بن عبدالعزیز آل سعود سعودی عرب کے فرمانروا۔امریکہ کے اہم اتحادی اور ہم نوا۔ 1975 میں ولی عہد بننے سے پہلے سعودی عرب کے وزیر تعلیم رہے ۔ 1982 میں اپنے بھائی شاہ خالد کی وفات کے بعد سعودی کے بادشاہ مقرر ہوئے۔خلیج کی جنگ میں عراق کے خلاف امریکہ کے اہم اتحادی رہے۔ اور اپنی سرزمین پر امریکی فوج کو اڈے بنانے اور فوج رکھنے کی اجازت دی ۔1997شاہ فہد نے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو روزمرہ کے حکومتی معاملات سے علیحدہ کر لیا اور اختیارات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو منتقل کر دیے تھے۔
آپ نے جلالة الملك بدل كر خادمين الحرمين الشريفين كا لقب پسند کیا آپ سے پھلے تمام سربراهان المملكت كو جلالة الملك پكارا جاتا تها
| <urn:uuid:c7bb1a50-0e32-4d1a-936c-83cdecc15e3b> | CC-MAIN-2014-35 | http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%81%DB%81%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2 | 2014-08-20T08:49:40Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1408500801235.4/warc/CC-MAIN-20140820021321-00019-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.977277 | Arab | 42 | {} |
موزوں پر مسح كرنے كے ليے كيا شروط ہيں، اس كے دلائل كيا ہيں ؟
الحمد للہ:
موزوں پر مسح كرنے كى چار شرطيں ہيں:
پہلى شرط:
موزے وضوء كر كے پہنے ہوں، اس كى دليل نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا مغيرہ بن شعبہ رضى اللہ تعالى عنہ كو يہ فرمانا ہے:
" رہنے دو ميں نے انہيں وضوء كر كے پہنا تھا "
دوسرى شرط:
موزے يا جرابيں پاك ہوں، اگر نجس ہوں تو ان پر مسح كرنا جائز نہيں اس كى دليل يہ ہے كہ:
" ايك بار رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم صحابہ كرام كو جوتے پہن كر نماز پڑھا رہے تھے، چنانچہ دوران نماز ہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے جوتے اتار ديے، اور صحابہ كرام كو بتايا كہ انہيں جبريل امين عليہ السلام نے بتايا تھا كہ ان كے جوتوں ميں گندگى لگى ہوئى ہے "
اسے امام احمد نے ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ سے مسند احمد ميں نقل كيا ہے.
يہ اس بات كى دليل ہے كہ جس ميں نجاست لگى ہوئى ہو اس ميں نماز نہيں ہوتى، اور اس ليے كہ جب نجس چيز پر مسح كيا جائيگا تو مسح كرنے والا گندگى ميں ملوث ہوگا، چنانچہ اس كا مطہر ہونا صحيح نہيں.
تيسرى شرط:
ان پر مسح حدث اصغر يعنى وضوء ٹوٹنے ميں ہوتا ہے، نہ كہ جنابت ميں يا ايسى اشياء جن سے غسل واجب ہو.
اس كى دليل صفوان بن عسال رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں حكم ديا كہ جب ہم سفر ميں ہوں تو جناب كے بغير دن رات اور تين تك موزے نہ اتاريں، ليكن پيشاب پاخانہ اور نيند سے پہنے ركھيں "
اسے امام احمد رحمہ اللہ نے مسند احمد ميں نقل كيا ہے.
چنانچہ حدث اصغر كى شرط لگائى جائيگى، اور اس حديث كى بنا پر حدث اكبر كى بنا پر مسح كرنا جائز نہيں جيسا كہ ہم بيان كر چكے ہيں.
چوتھى شرط:
مسح شرعى طور پر محدود وقت ميں كيا جائے، جو كہ مقيم كے ليے ايك رات اور دن، اور مسافر كے ليے تين راتيں اور تين دن ہيں.
اس كى دليل على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كى درج ذيل حديث ہے:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مقيم كے ليے ايك دن اور رات، اور مسافر كے ليے تين دن اور تين راتيں مقرر كيں، يعنى موزوں پر مسح كے ليے "
اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے روايت كيا ہے.
اور يہ مدت وضوء ٹوٹنے كے بعد مقيم كے ليے پہلے مسح سے شروع ہو كر چوبيس گھنٹے بعد ختم ہو جائيگى، اور مسافر كے ليے پہلے مسح كے بہتر ( 72 ) گھنٹوں بعد ختم ہو گى.
چنانچہ ہم فرض كريں كہ ايك شخص نے منگل كے روز نماز فجر كے ليے وضوء كيا اور اس نے اس روز پانچوں نمازيں اسى وضوء كے ساتھ ادا كيں، اور بدھ كى رات نماز عشاء كے بعد سو گيا اور پھر بدھ والے دن نماز فجر كے ليے اٹھا اور پانچ بجے مسح كيا تو اس كے مسح كى ابتد بدھ كے روز صبح پانچ بجے شمار ہوگى، جو جمعرات كى صبح پانچ بجے تك رہے گى.
اور اگر فرض كريں اس نے جمعرات كے دن پانچ بجنے سے قبل مسح كيا تو وہ اس مسح كے ساتھ نماز فجر يعنى جمعرات كى نماز فجر ادا كر سكتا ہے، اور جب تك وہ طہارت پر قائم ہے جتنى چاہے نماز ادا كرے، كيونكہ اہل علم كے صحيح اور راجح قول كے مطابق مسح كى مدت پورى ہونے سے وضوء نہيں ٹوٹتا، يہ اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے طہارت كا وقت مقرر نہيں فرمايا، بلكہ مسح كى مدت اور وقت مقرر كيا ہے، چنانچہ جب مدت ختم ہو جائے تو مسح نہيں ہو سكتا، ليكن اگر وہ باوضوء اور طہارت پر قائم ہے تو اس كى طہارت باقى رہےگى، كيونكہ يہ طہارت شرعى دليل كے مقتضى پر باقى اور ثابت ہے، اور جو چيز شرعى دليل سے ثابت ہو وہ شرعى دليل كے بغير ختم نہيں ہوتى.
اور پھر مسح كى مدت ختم ہونے سے طہارت اور وضوء ختم ہونے كى كوئى دليل نہيں، اور اس ليے بھى كہ اصل بھى يہى ہے كہ اسى پر باقى ہے جس پر تھا، حتى كہ اس كا ختم ہونا ثابت ہو جائے.
موزوں پر مسح كرنے كى شرطيں يہى ہے، ليكن بعض اہل علم نے اس كے علاوہ بھى كئى ايك شروط ذكر كى ہيں، ليكن ان ميں سے بعض ميں اختلاف ہے. | <urn:uuid:007228e6-04e7-4825-a1e5-0339c9801939> | CC-MAIN-2014-35 | http://islamqa.info/ur/9640 | 2014-09-02T14:27:18Z | s3://commoncrawl/crawl-data/CC-MAIN-2014-35/segments/1409535922087.15/warc/CC-MAIN-20140909041147-00015-ip-10-180-136-8.ec2.internal.warc.gz | urd | 0.939408 | Arab | 152 | {} |
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.