Dataset Viewer
Auto-converted to Parquet Duplicate
audio_file
audioduration (s)
7.01
15
text
stringlengths
57
235
speaker_id
stringclasses
1 value
اس میں ہم کسی نئے تصورات کی بات نہیں کریں گے بلکہ وہ تمام چیزیں جن کو ہم پہلے بھی پڑھ اور سمجھ چکے ہیں ان ہی کو کچھ اور طریقوں سے سمجھیں گے
speaker1
اس میں سے کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو کہ ہم نے پہلے نہ پڑھا ہو، بس اس دفعہ ہم اس کو ایک نئی مثال سے سمجھ رہی ہیں۔
speaker1
یہاں بہترین مقابل بازی والے اصولوں کو یاد رکھتے ہوئے ہمیں معلوم ہے کہ یہ قیمت ہی ہماری اضافی آمدنی بھی ہے
speaker1
اب یہاں ہم اس کو ایسے بنا لیتے ہیں کہ یہ آگیا مزدور یعنی یہاں پہ ہم مزدوروں کی تعداد دکھائیں گے کہ ہم صفر ایک دو تین چار پانچ مزدور رکھنے پہ کب کب کتنا کتنا فائدہ ہوگا
speaker1
یہ دکھائے گا کہ ہم کتنے مزدوروں کے ہوتے ہوئے فی گھنٹا کتنی گاڑیاں دھو سکتے ہیں
speaker1
تو صفر مزدوروں پہ تو صفر گاڑیاں ہی دھول سکتی ہیں تصور کرتے ہیں کہ پہلا بندہ جو ہمیں ملتا ہے وہ اکیلے ہی فی گھنٹا پانچ گاڑیاں دھو سکتا ہے
speaker1
یہاں آئے گا مجموعی مصنوعات جو کہ لکھا ہے ہم نے پانچ دس اور پندرہ اور یہاں پہ مزدوروں کی تعداد جو کہ تھی صفر تا پانچ
speaker1
یہاں مزدور اس لئے لکھا گیا ہے کہ اکثر معاشیات کی کتاب میں آپ کو مپل لکھا ہوا نظر آئے گا
speaker1
اس کو بھی ہم ایک گراف پہ بنا لیتے ہیں جس میں یہاں ہے اضافی پیداوار مزدور اور یہاں ہے مزدوروں کی تعداد
speaker1
مگر یہ نہیں پتا چلا کہ یہی مزدور کو بڑھانے سے روپے کے معاملات میں کیا تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟
speaker1
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مثال میں ہر اضافی مزدور کے آنے سے ہماری اضافی آمدنی میں پانچ پانچ روپے کی کمی آتی گئی
speaker1
پھر جب دو مزدور ہوئے تو پیسے ہو گئے بیس تو یہ نقطہ آیا ادھر اور ایسے ہی ہم باقی کے نقطے بھی بنا لیں گے اور پھر یہ لائن کچھ ایسی نظر آئے گی
speaker1
یہ وہ لائن ہے جو کہ اس کاروبار کا ہر نئے مزدور کی آمد پہ ملنے والا اضافی فائدہ دکھاتی ہے
speaker1
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہمیں اس بازار میں مزدوروں کی کل مانگ کا اندازہ کرنا ہے تو ہر کاروبار کا یہ والا کرف لے کر سب کو آپس میں جوڑ لینا ہوگا
speaker1
مگر مزدوروں کے بازار میں اس کا بلکل الٹ کام ہوتا ہے یہاں پہ مانگ آتی ہے کاروباروں کی طرف سے اور فراہمی آتی ہے افراد یا لوگوں کی طرف سے
speaker1
یہاں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فراہمی کاروباروں کی طرف سے آتی تھی تو ہم ان کاروباروں کی لاغتوں کو دیکھتے ہوئے فراہمی کا کرو بنا لیتے تھے۔
speaker1
اب اس گاؤں میں کام دینے والا صرف ایک ہے اور کام لینے والے ایک سے زیادہ
speaker1
اچھا اگر اب میں آپ سے یہاں پوچھوں کہ اس کاروبار کے لیے مزدوروں کی کتنی تعداد کام پہ رکھنا عقل مندی ہوگی تو کیا آپ بتا سکتے ہیں؟
speaker1
مجھے پتا تھا کہ ذہن میں پہلا جواب یہی آئے گا کہ یہ جہاں ان دونوں کرفز کی ٹکر ہو رہی ہے اتنی ہی تعداد
speaker1
آسان لفظوں میں یہ اس اضافی آمدنی کو کہتے ہیں جو ہر نئے مزدور کے آنے سے کاروبار کو حاصل ہوتی ہے
speaker1
اور وہ درست اس لیے نہیں ہے کیونکہ یہاں ٹکر ہو رہی ہے فراہمی کی اضافی آمدنی پیداوار سے
speaker1
خیر تو پھر آگے بڑھے تو ہو یہ ہو گئی تین کو ضرب دیا پانچ سے تو پندرہ اور آخر میں چوبیس اب ہم ڈھونڈیں گے اضافی لاغتِ انصر
speaker1
یعنی اب ہم پتہ کریں گے کہ ہر اضافی مزدور کو کام پہ رکھنے سے ہماری لاغت میں کتنا اضافہ ہوگا؟
speaker1
اس کا کروں ہمیشہ کچھ ایسا بنتا ہے نیچے گجاتا ہوا کیونکہ اکثر زیادہ مزدور رکھ لینا اضافی آمدنی پیداوار کو گرا دیتا ہے۔
speaker1
اب اس کی وجہ یہی ہے کہ ظاہر ہے زیادہ لوگ کام پہ تب رکھے جاتے ہیں جب کاروبار اچھا چل رہا ہو چیز کی مانگ زیادہ آ رہی ہو
speaker1
اس لیے یہ لاغت بڑھے گی تو ادھر صاف نظر آ رہا ہے کہ اضافی لاغتِ انصر کا کرف فراہمی کے کرف سے بھی زیادہ تیزی سے اوپر کو جاتا ہوا بنے گا
speaker1
ہو سکتا ہے یہاں کچھ کچھ یاد آ رہا ہو کہ جب اجارہ داری پڑھی تھی تب بھی کچھ ایسے ہی اصول دیکھے تھے مگر ابھی اس پہ دھیان دیتے ہیں
speaker1
اب یہاں یہی ہوگا کہ تب تک مزدور بڑھاتے رہیں گے جب تک لاغت اور آمدنی برابر نہ ہو جائیں
speaker1
یعنی ہم اتنی عجرت فی مزدور دے رہے ہوں گے تو اس طرح کی اجارہ داری میں کاروبار کا اپنا فراہمی کا کرو گا
speaker1
مزدوروں کی تعداد جاننے کے لیے لاغت فی مزدور پتہ کریں گے اور اس لاغت اور آمدنی کے توازن سے مزدوروں کی تعداد کا تأین کریں گے
speaker1
صرف پچھلی ویڈیو سے فرق یہ ہے کہ پہلے جب ہم نے اجارہ داری پڑھا تھا تو بازار میں کچھ بیچنے والے کے نظریے سے پڑھا تھا
speaker1
یعنی ایک بیچنے والا تھا اور بہت سارے خریدنے والے تھے جس کی وجہ سے وہ اس بازار کو بہت حد تک اپنے اصولوں پہ چلا سکتا تھا
speaker1
یعنی یہاں بہت سارے بیچنے والے ہیں اور ہم یہاں پہ اس چیز کو لینے والے واحد خریدار اب یہاں ہم بات کر رہے ہیں مزدوروں کے بازار کی تو یعنی یہاں اپنی خدمات بیچنے والے بہت ہیں
speaker1
اور ہماری مثال کے حساب سے لینے والے صرف ہم ہم اپنے پاس اس کی کافی ساری مثالیں دیکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر کوئی چھوٹا سا شہر یا گاؤں ہے جہاں ایک دکان کھلتی ہے
speaker1
ایک دن میری دوست کو ضرورت آ پڑی کچھ پیسوں کی اور وہ پہنچی لال والے بینک کے پاس اور ان سے کہا کہ اس کو اس کے پیسے میں سے پچیس فیصد ابھی کے ابھی لوٹا دیے جائیں کیونکہ اس کو ان کی بہت ضرورت ہے۔
speaker1
لیکن جب یہاں پہنچی تو وہی کہانی پتا چلی ہم دونوں کی وجہ سے اب ان دونوں بینک کے تمام ہی ساری فین ان سے اپنے پیسے واپس مانگنے لگ گئے
speaker1
وہ ادارے جو نہ صرف ملک میں ایک جیسے نوٹ رائج کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام کا پیسہ محفوظ بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
speaker1
مثال لیتے ہیں کہ میں اور میری دو دوستیں جاتی ہیں ایک ایک بینک میں اور اپنے پیسے ان کے پاس جمع کروا دیتی ہیں جو کہ ہم جب چاہیں اپنے اپنے بینک سے واپس مانگ سکتے ہیں۔
speaker1
لال بینک والا لال نوٹ استعمال کرتا ہے، نیلے والا نیلا اور ہرے والا ہرا اب تینوں بینکوں نے آنے والے پیسے میں سے رکھے اس نے رکھے آٹھ فیصد
speaker1
اس والے بینک نے رکھے پندرہ فیصد اور باقی دے دیا ادھار پہ جبکہ اس والے بینک نے رکھے صرف بارہ فیصد
speaker1
ایک اور لفظ جو کہ آپ اسٹاک ایکسچینج میں بہت بار سنیں گے وہ ہوگا acquisitions with shares یعنی shares کے ذریعے کاروبار کا حصول
speaker1
اور کمپنی الف کو جو پیسے چاہیے ہوتے ہیں وہ مل جاتے ہیں یوں دونوں ہی فرقین کا شیرز کے ذریعے خوشی خوشی معاملہ حل ہو جاتا ہے
speaker1
اور وہ بجائے اس کے کہ مزید شئیرز عام لوگوں کو بیچے یا کسی سے ادھار مانگے اپنی ہی جیسی ایک اور کمپنی سے بات کرتی ہے۔
speaker1
اور ان کو آفر دیتی ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے شیرز خرید لیتے ہیں
speaker1
اب ظاہر ہے کہ اس کے لیے ان کو کوئی ایسی آفر دینی ہوتی ہے کہ دوسری کمپنی خوشی خوشی ان کے شیرز لینے پہ راضی ہو جائے
speaker1
مثال کے طور پر کمپنی الف کمپنی بے کو کہتی ہے کہ میں آپ کے ایک شیر کے بدلے آپ کو اپنے دو شیر دوں گی اس سے ہوا کیا؟
speaker1
ظاہر ہے اس سے کمپنی بی کو کمپنی اے کا جو کہ اسی کے جیسی کمپنی تھی اس کے شئیر آدھی قیمت کے پڑے
speaker1
وہ یہ شئیرز خرید لیتی ہے اور اس کے بدلے میں کمپنی بے اتنا پیسہ اس کو دے دیتی ہے کاروبار کرنے کے لیے، ویسے اس سے ہوتا کیا ہے؟
speaker1
کمپنی بے کے مالکان کمپنی الف کو حاصل بھی کر لیتے ہیں اور اس میں بھی ان کی ملکیت ہو جاتی ہے
speaker1
دس روپے فی گھنٹے پے یہ لوگ دو مزدوروں کی مانگ کر رہے تھے اور پانچ روپے فی گھنٹے پے چار مزدوروں کی
speaker1
اور پھر سفر روپے فی گھنٹے پہ کاروبار نمبر ایک مانگ رہا ہے دس لوگ اور کاروبار نمبر دو چھے لوگ
speaker1
مگر اس کے بعد جب دونوں کاروباروں کی کل مانگ کی بات ہونے لگے گی تو پھر مانگ کا کرف کچھ
speaker1
اس کو تھوڑا سا پیچیدہ صرف اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں دونوں ہی کاروباروں کا نظریہ قیمت کے حساب سے کی ہوئی مانگ پہ دیکھنا ہوتا ہے
speaker1
بس اس کو کرتے ہوئے تھوڑا ٹھیک سے دھیان دے کر کام کرنا پڑتا ہے ورنہ یہ بھی اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ معاشیات کے باقی تصورات
speaker1
تو ہم دو کاروباروں کے سادہ سے مانگ کے کربز بنا لیتے ہیں جو کہ کچھ ایسے نظر آتے ہیں۔ الٹے ہاتھ والے میں دس روپے فی گھنٹے پہ کسی مزدور کی مانگ نہیں تھی اور صفر روپے پہ دس مزدوروں کی تھی۔
speaker1
یہاں پہ ہی ہم نے دکھایا کہ پانچ روپے فی گھنٹے پہ یہ کاروبار پانچ مزدوروں کی مانگ کرتا ہے۔
speaker1
ویسے تو اگر اس کو پڑھیں تو بہت سے مختلف زاویوں سے بات ہو سکتی ہے، مگر یہاں یہ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا کہ ان میں سے کون سے والے کا چناؤ کرنا چاہیے۔
speaker1
پچھلی وڈیو میں ہم نے بات کی تھی کہ فی خرگوش اضافی لاغت کی یا یہ کہا تھا کہ یہاں ہر نئے یونٹ کی موقع لاغت ہی دراصل اس کی اضافی لاغت بنتی ہے
speaker1
اب اس منظر کو یہاں لکھ لیتے ہیں تو یہ ہے منظر اضافی لاغت فی خرگوش جو کہ ہم دیں گے بیروں کی صورت
speaker1
اب دی میں ایک اور خرگوش کی لاغت ہوگی ساٹھ بیر اور سی والے منظر میں اسی اور پھر بی میں ہوتے ہوئے ہمیں سو بیر چھوڑنے ہوں گے
speaker1
اے تک جانے کا فائدہ ہی نہیں ہے کیونکہ مزید خرگوشت لینے کے لیے بیر ہی نہیں ہیں جن کو خو کر خرگوشت پائی جا سکیں تو یہ ہے اس کا منظر اور یہ ان کی اضافی لاغتیں
speaker1
اب ہم اس کا گراف بنا لیتے ہیں۔ یہاں عمودی محور پہ ہم فی منظر خرگوش کی تعداد کے حساب سے گراف بنائیں گے۔
speaker1
ای پہ ایک خرگوش اور چالیس بیر اسی طرح سے یہ سب آگئے اس گراف پہ اور یہ ہے ہماری اضافی لاغز
speaker1
ضروری نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی بنے مگر زیادہ تر پڑھنے کی آسانی کے لیے یہ ایسا ہی بنایا جاتا ہے
speaker1
یہاں ہم ان مناظر کو اس گراف کے حساب سے دیکھیں گے تو ایف میں ہمارے پاس کوئی خرگوش نہیں تھا مگر ڈھیر سارے بیر تھے۔
speaker1
اب ان سب پہ ہم نے پیداواری کارکردگی تو حاصل کر لی مگر ان میں سے چناؤ کون سیوالے کا کرنا ہے
speaker1
تو جی یہ اصول ہے ساگر پور کا کہ وہاں پچاس ہزار یا اس سے کم تنخوالوں سے بالکل بھی ٹیکس نہیں لیا جائے گا کیونکہ ان کی تو زندگی کا گزر بسر ویسے ہی اس مہنگائی میں عذاب ہوگا
speaker1
لیکن جی اس سے اوپر کی تنخواہ لینے والے تمام ہی لوگ 26 فیصد کا ٹیکس ادا کریں گے
speaker1
اس ہی اصول کو تھوڑا آگے بڑھاتے ہوئے ساغر پور کے وزیر آزم نے یہ حکم بھی جاری کر دیا کہ ٹیکس پوری تنخواہ نہیں بلکہ صرف پچاس ہزار کے بعد والے حصے پر لاغو ہوگا
speaker1
یہ اعلان ہونا تھا کہ پورے ملک میں جشن ہونے لگا لوگ ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلانے لگے اور بس اس والے وزیر آزم کا تو ووٹ اگلے الیکشن میں پکا ہو گیا
speaker1
کام ہوگا تو خرچہ آئے گا اور خرچہ بجائے اس کے کہ ایک ہی دفعہ بوچ بنے اس کو تھوڑی تھوڑی سی رقم میں بانٹ لینا ہی اقل مندی ہے
speaker1
پیٹنٹ کروایا جا سکتا ہے یعنی محفوظ کروایا جا سکتا ہے تا کہ کوئی اور اس نام پہ کاروبار نہ کر سکے
speaker1
اور وہی بات بجائے اس کے کہ تین سال بعد ایک بڑی رقم نکالی جائے بہتر ہے کہ ہر سال میں تھوڑی تھوڑی رقم الگ کر کے خود پہ بوجھ نہ آنے دیا جائے
speaker1
پس فرق یہ ہے کہ depreciation ہوتی ہے اُن چیزوں کی جن کو چھوا جا سکتا ہے یا جو کہ tangible ہوتی ہے
speaker1
اور آپ کو پتہ ہے پتہ ہے کیا ہوا؟ زیادہ تر لوگ تو اس کے پاس سے یہ کہتے ہوئے جاتے ہیں کہ یہ جوس اتنا مشہور کیوں ہے اتنا اچھا تو نہیں ہے اور پھر اس کے بعد کبھی میں نہیں آتے
speaker1
اور یہ دونوں ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور ایک ہی جتنی تنخواہ بھی کماتے ہیں جو کہ مثال کے طور پہ ہے تین لاکھ روپے
speaker1
سڑکیں دونوں استعمال کرتے ہیں، بجلی دونوں جلاتے ہیں تو پھر صرف ایک ہی پہ ٹیکس کا بوجھ کیوں؟
speaker1
اب ساگر چونکہ پہلے سے ہی اس سے زیادہ ٹاکس ادا کر رہا ہے تو اس کو اب مزید ٹاکس نہیں دینا
speaker1
پھر شاید کیونکہ اس کے ہاں لائن کا پانی آتا ہے تو اس کو اس کا بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے
speaker1
میں نے تو آپ کو یہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بہت جلد ہم اس کمپنی کو بازار میں آم کرنے والے ہیں
speaker1
اب مثال کے طور پہ ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے تو سرمایہ زیادہ لے لیا ہے مطلب کہ اگر ہم کوئی ایسی قیمت رکھیں کہ ہم پانچ اور ہمارے انویسٹر سب کو ہی پیسہ ملے تو شیرز کی قیمت بڑھانی پڑ جائے گی
speaker1
ایسے کہ وہ ہم دوستوں کو اور ہمارے سرمایہ داروں کو خود پیسہ دینے لگتا ہے اور اس ٹاک ایکسچینج میں شیئرز
speaker1
جو کہ شاید ایک شخص پہ تو اتنا بھاری نہ پڑے مگر وہ سب کو ملا کر بینک کے لیے ایک اچھا منافع بن جاتا ہے
speaker1
ویسے ہمیں افتتح سے پہلے ایک اور بہت بہت ضروری کام کرنا ہے
speaker1
پتہ چلا کہ وہ لوگ سالانہ 22.9 فیصد کا کمپاؤنڈ انٹریسٹ لگاتے ہیں ہماری خریداری اور خرچوں پہ
speaker1
اور پورے سال کا نکالنے کے لئے ہم اس کو کر دیں گے تین سو پینسٹھ کی پاور سے ملٹی پلائے اور جواب آ گیا
speaker1
یہ وہ سالانہ فیصد سود ہے جو کہ بینک مجھ سے لے گا یعنی میری رقم اس حساب سے سود لگنے سے بڑھے گی
speaker1
تو اگر مثال کے طور پہ میں نے اس بینک سے لیا ایک روپیا ادھار اس کارڈ کے نام پہ تو مجھے سود لگے گا کچھ اس حساب سے
speaker1
اور ان سارے اقدامات کے ذریعے کوشش کرے گا کہ معیشت میں پیسے کی ضرورت پوری ہو سکے
speaker1
صرف بہران ہی نہیں بلکہ ملک میں پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے والی صورتحال کو کہا جاتا ہے quantitative easing یا credit easing
speaker1
سب سے پہلا قدم تو یہ اٹھائے گا کہ وہ بینکوں کو یہ حکم جاری کرے گا کہ وہ آپس میں جو سود کی لین دین کرتے ہیں اس کی شراہ میں کمی کر دیں بلکہ اگر بہتر ہے کہ اس کو صفر کر دیں
speaker1
دکاندار کے پاس پیسے آئے تو دکاندار نے جا کر کہ اس سے اپنی کچھ ضرورت کا سامان لیا تو وہ پیسے چلے گئے کسی دوسرے تاجر کے پاس
speaker1
تو سٹیٹ بینک کے اس قدم کے باوجود اگر بہران پھر بھی اپنی جگہ پہ رہا تو پھر سٹیٹ بینک لوگوں سے ان کی ٹریجریز خریدنا شروع کردے گا
speaker1
اپنی ویڈیوز بنانے کے لیے ایک دن میں نے سوچا کہ جی مجھے ضرورت ہے ایک چھوٹے سے آفیس کی جہاں بیٹھ کر میں معاشیات کے بارے میں پڑھ سکوں نئی چیزیں سمجھ سکوں اور سکون سے ویڈیوز بنا سکوں
speaker1
دوسرا مجھے ملا تھوڑا ٹوٹا پھوٹا سا، تھوڑا گندا سا آفیس، لیکن ایک ہزار روپے مہانہ پے۔ یہ والا آفیس بھی مجھے دو سال کے لیے لینا تھا، یعنی چوبیس مہینوں کے لیے۔
speaker1
یعنی وہ طریقے کار جن سے مختلف افراد یا کاروبار کو دیوالیا ہونے کی وجہ سے آنے والی بربادی سے بچایا جا سکتا ہے
speaker1
مگر illiquidity کہتے ہیں اس صورتحال کو جب ہمارے اثاثیں تو ذمہ داریوں سے زیادہ ہیں مگر کوئی ایسی صورتحال آ گئی ہے جب یہ اثاثیں فوری طور پہ کام نہیں آ سکتے
speaker1
اور آج والی ویڈیو میں ہم بات کریں گے بلال میاں کی جو کہ اس وقت شدید پریشانی میں گھوم رہے ہیں کیونکہ کچھ عرصے پہلے انہوں نے کچھ چیزیں خریدنے کے لیے اپنے ایک دوست دانش سے پانچ ہزار ادھار لئے تھے
speaker1
چنانچہ ایسے میں بیل آؤٹ والا کام کریں گے ان کے بڑے بھائی جو کہ ابھی ان کو چار ہزار دے دیں گے اور ایک مدت مقرر کریں گے کہ اتنے عرصے میں واپس کر دینا
speaker1
ان کو لگا تھا کہ آرام سے کبھی بھی لوٹا دیں گے مگر دانش کو اچانک ہی جانا پڑ رہا ہے دوستوں کے ساتھ لاہور اور اب اس کو پیسے کی شدید ضرورت ہے
speaker1
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
Downloads last month
5