Dataset Viewer
Auto-converted to Parquet Duplicate
audio_file
audioduration (s)
7
15
text
stringlengths
31
259
speaker_name
stringclasses
1 value
__index_level_0__
int64
0
6.32k
مچھلی اور پرندے کی ملی جلی حیت والا ہمارا بعد نماز ہوا کا رخ بتانا کب کا چھوڑ چکا تھا
speaker3
130
سلمان بھی گھبرا گیا اس نے جلدی سے کہا اچھا اب میں چلوں گا تم جب بھی کسی پریشانی میں ہو انو کے ذریعے مجھ کو اپنا پیغام بھیجوا دینا میرا خیال ہے کہ تم اس سے یہ کام لے سکتی ہو
speaker3
4,202
میں نے پیچھے گھوم کر دیکھا آواز گیروے رنگ کی ایک بے ہیت امارت کی طرف سے آئی تھی جو ریلوے سٹیشن کی کوئی نئی توسی معلوم ہوتی تھی
speaker3
5,076
تم ٹھہرے نوابزادے اور وہ نواب یا نوابزادہ ہی کیا ہوا جسے دو چار مساہب رکھنے کا شوق نہ ہو تم نے بھی دوسرے رئیسزادوں کی طرح ایک علفتہ پال رکھا ہے
speaker3
927
خیریت سے تو رہیں حضور بیگم نے مسحری پر بیٹھتے ہوئے کہا تم نہ آئیں تو طبیعت بہت پریشان رہی نہ جانے کیسے کیسے خیالات دل میں آ رہے تھے
speaker3
1,005
اتنی بڑی بات کہنے کے لیے کہاں سے حوصلہ لائے گی وہ بہت دبی دبائی لڑکی ہے اس کی پرورش ہی اس طرح ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نہ کبھی تلہ تارہ کو دیکھ سکوں گا نہ مل سکوں گا قیسر مرزا نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا
speaker3
941
نوشا نے اس کی یہ حالت دیکھ کر پوچھا، ابے چپ چپ کیوں نظر آ رہا ہے؟ پہلے تو وہ خاموش رہا مگر جب راجہ نے ڈانٹ کر کہا، مو سے تو بول آخر بات کیا ہے؟
speaker3
3,788
لاؤ بھئی نبی بخش میں نے داروغا کی طرف دیکھا انہوں نے سر اور ابروعوں کو بہت خفیف سی جمبش دے کر مجھے سنبھل جانے کا اشارہ کیا۔
speaker3
5,613
ایک اور دور کے رشتے دار جنہیں پورا سال مجلس معتمداری کی عجیب عادت تھی وہ سارا سال محرم سمجھ کر گزارتے
speaker3
383
دوسرے مصرے نے اس کو خاصا پریشان کیا۔ وہ ادھےڑ عمر کا آدمی تھا، چہرے پر چگی داڑی تھی اور دیکھنے میں مریل نظر آتا تھا۔
speaker3
4,096
ایک خد میں اس نے لکھا کہ اسے ہاؤس جوب کے لیے کوئی بھی اسپتال گھسنے نہیں دیتا میں نے جواب لکھا کہ وہ ڈاکٹر کے اوبیل سے کیوں نہیں ملتا وہ اس کی ضرور مدد کریں گے
speaker3
5,432
ارجمن سلطانہ کا اندازہ غلط نہ تھا یہ نکتہ آگا جانی نے ہی اسے بتایا تھا مگر یہ نہ بتایا تھا کہ معاملہ واقعی اگر پولس تک پہنچ گیا تو کیا ہوگا
speaker3
792
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تلہ تارہ سے اب میں کبھی نہ مل سکوں گا ان کو کبھی نہ دیکھ سکوں گا اس نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا ہاں تم اب اس سے کبھی نہ مل سکو گے ارجمن سلطانہ نے دو ٹوک لہجے میں کہا
speaker3
1,345
جو کماتے جوے میں لگا دیتے، دکان بکی، مکان بکا اور آخر میں کوڑی کوڑی کے مہتاج ہو کر عمرے کے کاروان کا کاروباز شروع کیا مگر لط آج بھی جن کی تو ہیں۔
speaker3
366
پھر انہوں نے بتایا کہ وہ صبح سے دوپہر تک کہیں باہر نہیں جاتی اور یہ کہ میں چاہوں تو اسی دن سے کام شروع کر دوں میں نے اسی دن سے کام شروع کر دیا
speaker3
245
مجھے اس کا اتمنان تھا کہ اب میں کمس کم اپنے خرچ بھر کا کما لیا کروں گا اور میرا خرچ کھانے کے سوا تھا ہی کتنا
speaker3
4,833
میں اپنے ساتھ والی عورت پر جھک گیا اور جھکتے جھکتے مجھے کھڑکی کی دوسری جھریوں سے سرخ لباس کی جھلکیاں نظر آئیں میں نے کنکھیوں سے اوپر والی جھری کی طرف پھر دیکھا
speaker3
5,187
بیوی باورچی خانے میں جا کر کھانا گرم کرتی نیاز کو میٹھی چیزوں سے رقبت تھی اس لیے وہ بلا ناغہ کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور تیار کرتی
speaker3
4,076
آسمان دھوئے کے باعث اندھا اور بہرہ ہو چکا تھا آبیاں سارن لائل ادریسہ اور ونگی کی کوئی پکار اور دعا آسمان تک نہ پہنچ پاتی
speaker3
5,888
واپس اشرت منزل بھی جانا اب ممکن نہ تھا پہلے ہی تاخیر ہو چکی تھی ڈرائیور بروقت پہنچنے کی خاطر کار بہت تیز رفتار سے دوڑا رہا تھا
speaker3
1,466
ایک روز راستے میں ان کی ملاقات عقل و دانش سے ہو گئی وہ پیدل ہی بغیر کسی زادہ راہ کے اپنی دھن میں کہیں چلے جا رہی تھی
speaker3
2,947
اس کی نظر سب سے پہلے سہنچی پر پڑی آگا جانی وہاں موجود تھا وہ تخت پر بیٹھا اتمنان سے کلچے اور نہاری کھا رہا تھا
speaker3
1,774
شلوکہ بھی ریشمی تھا، شوخ رنگ کا تھا اور خوب قسا ہوا تھا۔ آنکھوں میں گہرا دنبالہ سرما تھا اور ہوتوں پر پان کا لاکھا تھا۔ وہ اس وقت بہت مسرور نظر آ رہے تھے۔
speaker3
2,265
ماں ہر بات سے بے نیاز ہو چکی تھی اس کو صرف پانوں سے دلچسپی تھی اور جب ان کے مہیا ہونے میں بھی دشواری پیش آتی تو وہ بھڑک اٹھتی
speaker3
4,583
آپ تو جن نہیں معلوم ہوتے کچھ سمجھ میں نہیں آتا میری تو عقل کام نہیں کر رہی اس کے چہرے پر خوف کے سائے پھیل گئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے قیصر مرزا کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئی آپ نواب بوٹا کے بیٹے قیصر مرزا نہیں ہیں
speaker3
2,206
مفلر والے نے کرسی پر پہلوسہ بدلا پھر بدن کو تھوڑا آڑا کر کے پتلون کی جیب سے کنجیوں کا گچھا نکالا اور بریف کیس کے اوپر رکھ دیا
speaker3
174
یہی حالت میجر سمی کی بھی تھی، ان کے کئی قریبی ساتھی بھی دشمن کی گولہ باری کا نشانہ بن کر مارے جا چکے تھے۔
speaker3
2,886
کمرے میں روشنی پھیل گئی، ارجمن سلطانہ اسے دیکھ نہ سکیں۔ حیرانوں پریشان ہو کر غور کرنے لگیں کہ وہ کہاں چلا گیا، کدھر چلا گیا۔
speaker3
783
سلمان جس کا لہجہ فلک پیما کے جلسوں میں ہمیشہ جارحانہ ہوتا تھا اب اس کے انداز میں ایک نمائی تبدیلی رونما ہو رہی تھی وہ سنبھل سنبھل کر بات کرتا اور اپنی بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا
speaker3
4,273
تمہیں علم نہیں انگریزی علاج کی کرامات کا پچھلے ماہ ہی ہم نے ایک انجیکشن جو انگریز لوگ اپنے گالوں اور ماتھے کی جھرریوں کو مدھم کر کے سخت جلد کروانے کے لیے لگواتے ہیں کچھ بوٹ کر کے نام تھا ہاں بوٹیکس
speaker3
4,796
میری چاپ سن کر اس نے سر اٹھایا اور آنکھوں کے حلقیں تنگ کر کے مجھے پہچاننے کی کوشش کی۔ میں نے درخت کی شاخے نہیں ہیلائی تھی، ورنہ وہ مجھ کو فوراں پہچان لیتا۔
speaker3
5,053
راجہ کی دلدوست چیخیں کمرے کے اندر گونشتی رہیں۔ نوشہ سہمہ ہوا یہ سارا تماشاں دیکھتا رہا۔ اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور ٹانگیں برابر کانپ رہی تھیں۔
speaker3
3,899
میرا بوتا آج کل مسے ملنے آیا ہوا ہے وہ مسے اکثر ماضی کی باتیں پوچھا کرتا ہے آج اپنا ماضی بتاتے ہوئے اچانک موریس کا تذکرہ بھی آ گیا اس نے بھی کتابوں میں موریس کا نام پڑھ رکھا تھا
speaker3
3,071
آغا نے سنبھلے ہوئے لہجے میں کہا میر نصیر بتاتا تھا کہ جمن کی ماں دولاری ایک زمانے میں نواب صاحب کی پیش خدمت تھے
speaker3
2,247
دونوں نے گھبرا کر اس طرف دیکھا جہ دھر سے شور اٹھا تھا۔ ایک سہنچی کے نیچے دھندلی روشنی میں کچھ لوگ ہلکا بنائے بیٹھے تھے۔
speaker3
3,955
مگر اس کی سوچ کے برخص اگلے ہی دن گلدستے کے سارے پھول مرجھا کر سوکھنے لگے اور فیلاری کا چہرہ بھی ایک ہی دن میں مرجھائے پھولوں کی طرح ہر طرف جھوریوں سے بھر گیا۔
speaker3
3,015
کوئلے جب خوب دہکنے لگے تو خدمتگار نے انگاروں پر لوہے کا روپے برابر ایک گول ٹکڑا رکھ دیا۔ لوہاں گرم ہو کر انگارے کی معنی سرخ ہو گیا۔ نواب بڈھن کی ہدایت پر خدمتگار نے انگیٹھی اٹھائی اور ان کے رو برو رکھ دی۔
speaker3
1,269
میں نے جلدی جلدی نئی تہینیوں کو توڑا اور آگ کو بڑھایا دھواں بہت زیادہ بھر گیا تھا میں کچھ دیر باہر نکلی باہر ہلکی ہلکی برف پڑنا شروع ہو چکی تھی
speaker3
3,126
کمرے کے اندر ایک بڑا سا گیس کا ہنڈا جل رہا تھا ہر طرف تمباکو کا دھوا منڈلہ رہا تھا سامنے چبوترے پر کالے صاحب اونچی بان کی ہٹ لگائے ہاتھ میں جادوگروں کی طرح ایک سیاہ چھڑی لئے کھڑا تھا
speaker3
3,654
کاظم کی شامیں عام طور پر چوک میں گزرتے تھیں آغہ نے سوچا کہ اس وقت کاظم چوک میں مل جائے گا اور اگر ملاقات ہو گئی تو اس سے قیسر مرزا کی خیر خبر مل جائے گی
speaker3
1,818
اس اعلان کا فوری ردعمل یہ ہوا کہ خان بہادر کے ہامیوں کی حمتیں بڑھ گئیں اور وہ بہت بڑھ چڑھ کر باتیں کرنے لگے
speaker3
4,426
یہ مجسمائی دیکھ لو انہوں نے مشقی گوشے میں لکڑی کے سٹینڈ پر رکھے ہوئے مجسمے کی جانب ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔
speaker3
922
خول کو چڑھائے لگ بگ دو ماہ دس دن ہو چلے تھے ایک رات بالیا کی شدید سردرد سے آنکھ کھلے اس نے سردرد کی دوالی مگر آرام نہیں آ رہا تھا
speaker3
167
اس وقت بھی وہ نہ صرف دنگل بلکہ کوچاؤ بازار کی گہمہ گہمی اور ہنگاموں سے بینیاز اشرت منزل کی ایک ویران سہنچی میں تنہا اور گمسم بیٹھا تھا
speaker3
1,332
ہم تو کبھی شیر چیتے کو دیکھ کر نہ جھچکے تم بلا کی بات کرتے ہو اور وہ بھی چڑیا کے برابر اب تو صبح ہو گئی کل رات جا کر یہ بھی دیکھ لیں گے کہ وہ کیسے کلیجہ نکال کر کھا جاتی ہے
speaker3
779
اسے معلوم ہونا چاہیے، میں نے سوچا اور کمرہ بند کر کے سہن میں اتر آیا۔ میں صدر دروازے کی طرف بڑڑا تھا کہ مجھے کچھ محسوس ہوا اور میرے قدم رک گئے۔ آہستہ آہستہ چہرہ پیچھے گھوما کر میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔
speaker3
5,197
اسے علم تھا کہ جزیرہ آسیب زدہ ہے مگر جب آسیب اور تیر پر لگے ہوئے سونے کا موازنہ کیا گیا تو سونہ بھاری نکلا جون جون جزیرہ قریب آتا جا رہا تھا پانی کی سطح گرتی جا رہی تھی اور کشتی پانی کے اندر دھنس رہی تھی
speaker3
5,941
میں نے اپنے کپڑوں میں اوڑنے کی کوئی چیز نہیں رکھی تھی چادرہ مجھے غنیمت معلوم ہوا اس آدمی نے بھی کہا رکھ لو سویرہ ہوتے تھندک بڑھ جاتی ہے
speaker3
4,893
پھر بھی جب میں نے دیکھا کہ وہ امید بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی ہے تو میں نے کہا ہم اپنی پہاڑی مینہ کو اس کی پہاڑی مینہ لا کے بالکل دیں گے۔
speaker3
5,686
لوکمان بھی عوائل عمری سے ہی سب کا دل پسند بچہ تھا اس کی اسی سب کے کام آنے کی عادت کی وجہ سے گھر ہو یا باہر کیا بڑے کیا چھوٹے سب ہی اسے بہت عزیز رکھتے تھے
speaker3
5,423
حاجی چھٹن کا کارخانہ ایک گلی میں تھا آگا نے سوچا اگر حاجی اس وقت مل جائے تو اس سے کچھ پیش کی ایٹھ لے
speaker3
1,914
ناگاہ گہرے سناٹے میں چھت پر قدموں کی آہٹ اُبری قیسر مرزا نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا
speaker3
1,430
کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی محذب شخص ہے جو کچھ دیر پہلے بالکل معمول کی حالت میں تھا۔
speaker3
368
اس نے اس بدتمیز مجسمے کو اٹھوا کر اپنے پائیں باغ میں کھڑا کر دیا اور خود پہلے والے مجسمے سے گرنے والی مٹی سے ذرا مختلف نازک انڈام مجسمے پر دن رات کام کرنے میں جد گیا۔
speaker3
32
اور یہ بھی یاد رہے کہ وہ اس چیز کو یہاں ساتھ نہیں لا سکیں گے اس لئے جتنا ہو سکے کم سے کم چیزیں خریدیں اور زیادہ وقت سیارے کی سیر میں سرف کریں
speaker3
2,977
کپتان جارج مارٹن نے تو اپنے وعدے کے مطابق عبداللہ خان کو معاف کر دیا اور اپنی رقم سے بھی دست بردار ہو گیا
speaker3
1,097
باپ نے پھٹی ہوئی آنکھوں سے ہوا کو دیکھا اپنی انگلی گھوما گھوما کر اندازہ لگایا اور زوردار آواز میں جواب دیا
speaker3
6,237
لیمپ کی پیلی پیلی روشنی میں اس کے چہرے کا نصف حصہ نظر آ رہا تھا جس کی زردی سے اس کے چہرے پر ایک روغنی چمک جھلک رہی تھی
speaker3
4,308
کوئی اور ایسی حرکت کرتا تو ٹکڑے کر ڈالتا اس نے چراغوں کی روشنی میں جھلملاتا ہوا چھوڑی کا تیز پھل سامنے کر دیا اسے دیکھ رہے ہو دیکھ رہا ہوں بالکل دیکھ رہا ہوں اسی چھوڑی سے تم اس بیچارے کو زبا کرنا چاہتے تھے
speaker3
1,958
ان کا چہرہ کمل کی روشنی میں مرجھا کر زرد پڑ گیا میری انہا کہا کرتی تھی خدا کسی پل جنوں کا سایا نہ ڈالے زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتے
speaker3
456
آخر سلطانہ نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا نیاز اندر آ گیا ذرا دیر وہ چپ چاپ کھڑا رہا پھر اس نے سلطانہ سے کہا دیکھو ذرا ہوشیار سونا اس نے جلدی سے پوچھا کیوں
speaker3
4,542
اچھا تو پھر میں اوپر چلی جاؤں اس کے لہجے میں بچوں کیسی معصومیت تھی میری اچھی نجو تم بھی تو میرے ساتھ چلوگی نا نجو پسیج گئی جھجکتے ہوئے گویا ہوئی دیکھیئے جلدی لوٹائیئے گا میرے سر کی قسم کھا کر وعدہ کیجئے
speaker3
2,338
اسے تنہا چھوڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتا کیا بتاؤں کس مشکل میں مبتلا ہوں ایک بار ایسا ہوا کہ ہجامت بنوانے کے لئے ہجام کی دکان تک گیا تھا
speaker3
2,109
قیصر مرزا خاموشی سے دوہر پر بیٹھ گیا، سندلی بھی لہنگا سمیٹ کر اس کے پاس بیٹھ گئی، قیصر مرزا ہلکے کاہی ملینے کا اونی کرتہ
speaker3
2,300
مامائیں اور لونڈیاں ادھر سے ادھر آ رہی تھیں، جا رہی تھیں، ہس بول رہی تھیں، بابلچی خانے سے خانوں کی تیز مہک اُبھر رہی تھیں۔
speaker3
2,352
بیٹل اور لڑکی چلتے ہوئے اس شیشم کے گھنے درخت کے نیچے آئے جس کے نیچے تحسین اور پیچھے موسم بہار کی سہ پہر کا سورش تھا
speaker3
6,077
داکٹر گھر سے چلنے ہی والا تھا کہ اتنے میں نیاز پہنچ گیا۔ داکٹر نے اس کو کمرے میں بٹھایا اور مسکرا کر بولا کہو میاں نیاز آج ادھر کیسے آگئے؟ نیاز اپنی بات کہتے ہوئے جھجک رہا تھا۔
speaker3
3,719
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں جن ہوں اور بالکل ایسا کرسکتا ہوں کہیے تو ابھی آپ کو مکھی بنا کر دکھا دوں ساری زندگی اسی شکل میں رہیں گی
speaker3
898
نواب صفی ان سے قدورت بھی رکھتے تھے دل میں جو تھوڑی بہت گنجائش تھی وہ مساہبین نے نواب تقی کے خلاف کان بھرکر مٹا دی
speaker3
1,144
دوران سفر اسے یاد آیا کہ وہ اپنے سسور سے مل کر نہیں آیا مگر وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی
speaker3
6,199
قمر جہاں یا کوئی بھی چھوٹی سرکار کے بارے میں پوچھے تو کہہ دیجیے گا کہ خالہ زاد بہن خرشید جہاں بیگم کے پاس گئی ہیں ایلو سب کو پتا ہے کہ میں اسے کہیں اکیلا نہیں چھوڑتی حضور بیگم کی پریشانی کم نہ ہوئی
speaker3
455
دنیا کے کئی ملکوں میں ان کی جائیدادیں تھیں برٹل کو پاکستان بہت پسند تھا جب بھی چھٹیاں ہوتیں تو برٹل اور تحسین سیر پر نکل جاتے
speaker3
6,072
جزیرے پر رہتے ہوئے چار ماہ ہو چکے تھے برٹل نہایت مہتاد منصوبہ بندی کے تحت ان دو ہزار سالوں کو زینوں سے آشنا کروا رہا تھا جو اس دنیا سے لا تعلقی میں گزارے تھے
speaker3
6,182
آخر ایک دن اسے ماچے سے ایک جوتے میں پڑی مل گئی تو اس کی جان میں جان آئی اچانک اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا کیوں نہ ہیروں کی کان کے مالک کی زندگی کا مزہ لوں
speaker3
5,750
میں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً اس ویلچئر کے پاس پہنچ گیا اور دو زانوں ہو کر موریس کے ہمشکل کو سلام کیا۔
speaker3
3,075
مگر اس کی بھرپور اور عملی تصویر سکرات کی شکل میں سامنے آئی سکرات نے سوال و جواب کی وسادت سے حقائق کو بے نقاب کیا شام گہری ہو رہی ہے آج کی رات تھیبز میں بسر کی جائے
speaker3
6,001
مالکین بڑی بیگم بھی گھاگ اور انتہائی کنجوز خاتون تھی۔ نہ جانے کتنی پروین جیسیوں کو اب تک بھوکتا کر چلتا کر چکی تھی۔
speaker3
5,711
تم کہتے ہو تو میں اسی کو کاغذہ دے دوں گی، حالانکہ اس صندوقچی کو اس کے پاس لے جانے میں خاصی دشواری ہو گی۔ انہوں نے گود میں رکھی ہوئی صندوقچی کی طرف اشارہ کیا۔
speaker3
1,291
ہر طرف موت کیسی ویرانی چھائی تھی انہوں نے کوئی دو ڈھائی فرلانگ کا راستہ تے کیا ہوگا کہ ٹیلے کے نشیب میں ان کو کچھ روشنی نظر آئی
speaker3
3,951
خوپڑی کی اساس سے نکلنے والی ریڑ کی ہڈی کی زنجیر مہرہ در مہرہ سلامت تھی اور کولوں کے درمیان اپنے قدرتی مخروطی انجام کو پہنچتی تھی
speaker3
6,127
خوف اور دہشت کے سائے ہر طرف پھیل گئے خادماؤں اور لانڈیوں نے ڈر کر اپنی اپنی کوٹھریوں کے دروازے بند کر لیا حضور بیگم اور مغلانی دم بخود بیٹھی تھی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی
speaker3
435
مجھے محسوس ہوا کہ ہم دونوں میں کوئی خاموش مفاہمت ہو رہی ہے اور اچانک مجھ پر اس گھر میں آنے کے بعد بے دلی کا پہلا دورہ پڑا۔
speaker3
5,237
کوئی مکان ان ٹھکانوں سے خالی نہیں تھا خواہ وہ نیا ہو یا پرانا یا ایک ہی وزہ کے بنے ہوئے سیکڑوں مکانوں میں سے ایک ہو
speaker3
5,151
میں نے فائبر پیسٹ پروٹین پیسٹ اور چند من پسند چھوٹے زندہ کیڑے اور سنڈیاں اٹھا لی تھیں چونکہ آج عیوہ کی سالگرہ بھی تھی اس لیے بھی سوچا کہ انگوٹھے کے سائز کے بڑے سیپ بھی ضرور لوں
speaker3
2,639
تم تو کسی اور دھن میں مگن تھے، قیسر مرزا نے مڑ کر دیکھا، تخت خالی تھا، نہ سندلی تھی اور نہ گلفام، صرف اس کے کھلونے تخت پر بکھرے ہوئے تھے۔
speaker3
2,128
اس وقت ایسا محسوس ہوتا کہ ہم مردہ اور زندہ جسموں پر چل رہے ہیں ہمیں ڈر لگتا اور ہمارے رونگٹے کچھ کچھ کھڑے ہو جاتے
speaker3
195
اس پر شاید کبھی لکڑی کے لٹھے لادے جاتے ہوں گے اب اس میں لٹھوں ہی سے کئی چھوٹی بڑی کوٹھرییاں سے بنا لی گئی تھیں
speaker3
5,500
ہر ظلم و ستم پر خاموش رہوں یہاں تک کہ رات آدھی ہو جائے اور رانی صاحبہ کے کمرے کی تمام روشنیاں گل ہو جائیں
speaker3
1,645
سرکار اب تو ہر گھر میں اسی کا رواج ہوتا جارہا ہے بلکہ غریب غربہ تو چائے میں رات کی باسی روٹی بھگو کر صویرے اسی سے ناشتہ کرتے ہیں
speaker3
643
نوشا نے جلدی سے کہا یار یہ کیسی باتیں کر رہے ہو میں کب ان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں مگر وہ تو بڑے خطرناک لوگ ہیں
speaker3
3,890
دادا مانیا کی عمر لگ بھگ 102 سال کی ہوگی مگر دادا مانیا اب بھی کافی حد تک صحت مند ہے
speaker3
3,283
قیصر مرزا اب تک جو کچھ ہوتا رہا اسے بھول جاؤ ارجمن سلطانہ نے تیخے لہجے میں کہا اب یہ کھیل ختم ہو جانا چاہیے
speaker3
930
دادا مانیا نے روتے ہوئے کہا بیٹا اس کے بعد کے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں ایسے کہ اگر زمین سنے تو اس کا سینہ غم سے چاک ہو جائے آسمان سنے تو وہ پھٹ پڑے
speaker3
3,278
میں تو سندلی سے ملنا چاہتا ہوں برابر اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں مگر سوال یہ ہے کہ اس سے ملا کیسے جائے قیسر مرزا نے اپنی مجبوری بیان کی
speaker3
2,155
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور لگا رہا اس دوران مجھے چین سے متعلق کچھ خبریں نظر آئیں کہ وہاں بھی یہ وبا پوری طرح پھیل چکی ہے کئی ممالک صدر اور وزراء آزم بھی اپنی آدھ داشت کھو بیٹھے ہیں اور بے سروپہ حرکتیں کرتے نظر آئے ہیں
speaker3
3,153
پروین ہزار کوشش کے باوجود ابھی تک چھوٹی موٹی گری پڑی کھانے کی چیزوں کے علاوہ کوئی لمبا ہاتھ نہیں مار سکی تھی۔
speaker3
5,710
آپ تو یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا کام دمام ہو گیا آپ کا نشانہ کہیں چوک سکتا ہے جی جی یہ کیا فرما رہے ہیں آپ پیارے آغا بوکھلا کر بولا میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھا
speaker3
1,783
اس دن گھر کے دوسرے لوگوں نے میرے باپ کے سارے کام کیے اور انہیں کچھ نہیں بتایا لیکن رات کو انہوں نے ماں کے بارے میں کچھ پوچھنے کے بجائے خود ان کی خبر سنا دی پھر صرف اتنا کہا
speaker3
150
مشتبہ حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے وہ ٹیکسی سے سفر کر رہے تھے انسپیکٹر نے جواب میں کہا کہ ان کو فوراں یہاں بھیج دیا جائے
speaker3
3,986
3G بہت تیز ترار بچا تھا اس کی پانچویں سالگرہ پر اسے نیا سمارٹ فون توفے میں ملا وہ اس پر ہر وقت ٹک ٹاک اور دوسری ایپس استعمال کرتا رہتا
speaker3
3,169
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
Downloads last month
1