text
stringlengths
124
131k
lang
stringclasses
2 values
۔،۔73ویں جشن زادی کے موقع پر قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ میں پرچم کشائی کا اہتمام۔نذر حسین۔،۔ نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرینکفرٹ۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں آج14 اگست2019 ۔73کوجشن آزادی پاکستان منائی گئی، تلاوت قرآن پاک سے خوبصورت صبح کی شروعات کی گئی، قائم مقام قونصل جنرل آف پاکستان شعیب منصور نے قومی ترانہ کی دھن پر پرچم کشائی کی جس پر قونصل خانہ کے گرد نواح عمارتیں پاکستان زندہ باد اور افواج پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھیں،ساجدحسین نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا یوم آزادی کے موقع پر پیغام پڑھ کر سنایا جس میں صدر پاکستان نے پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کو مبارک باد پیش کی،بلاشبہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے،آزاد پاکستان کے حصول کے لئے ہمارے بزرگوں اور آباوُ اجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں ان کی جہد مسلسل کے نتیجہ میں آج کے دن یعنی14 اگست 2019کو پاکستان دنیا کے نقشہ پر آزاد ملک کے طور پر ابھرا۔ آج یہ امر ہمارے لئے باعث اطمینان اور حوصلہ افزاء ہے کہ نئی نسل جذبہ حب الوطنی سے سرشار اور تعمیر و ترقی کی پُر خلوص خواہش رکھتی ہے،صدر پاکستان نے اپنے پیغام میں کہا اس دن کے موقع پر نئے عزم سے پاکستان کو ترقی یافتہ،خوشحال اور انصاف پسند ملک بنانے کے عہد کی تجدید کریں۔ قونصل جنرل آف پاکستان نے وزیر اعظم جمہوریہ پاکستان عمران خان کا یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام پیغام سنایا۔ میں 73ویں یوم آزادی کے پر مسرت موقع پر اندرون و بیرون ملک بسنے والے تمام پاکستانیوں کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں،یوم آزادی ہمیں پاکستان کو اقوام عالم میں باوقار ریاست بنانے کا جذبہ ہ امنگ دیتا ہے۔آج ہمارے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔اس خوشی کے موقع پر ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر اور ریاست دہشت گردی پر افسردہ ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے معصوم اور نہتے عوام پر بھارت کے سنگین مظالم نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،انسانیت کی تذلیل کی تمام حدوں کو پار کر لیا اور خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا۔اللہ تعالی وطن عزیز کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے میں ہمارا حامی و ناصر ہو۔ اس کے بعد ایک بہت خوبصورت اور لذیذکیک کاٹا گیا بعد اذاں ملک و قوم کی سلامتی کی دُعائیں مانگی گئیں،قونصل خانہ میں آنے والے تمام خواتین و حضرات کی ریفریشمنٹ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا اسی دوران قائم مقام قونصل جنرل نے قرداََ فرداََ خواتین و حضرات سے ملاقات کی جشن آزادی کی مبارک با دی،ورکنگ ڈے ہونے کے باوجود کثیر تعداد میں شرکت کرنے پر پاکستانی کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا۔ سلیم پرویز بٹ صدر پاکستان جرمن پریس کلب نے شان پاکستان کے ایڈیٹر ان چیف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج نہ صرف پاکستان میں 73ویں جشن آزادی یوم آزادی کا دن منایا جا رہا ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانی جشن آزادی پاکستان منا رہے ہیں۔ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے روح رواں چیئر مین سید اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی آج قریہ قریہ، شہرشہر، گاوُں گاوُں، گلی کوچوں میں جشن آزادی پاکستان منارہے ہیں وہاں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں تجدید عہد۔یوم آزادی،جشن آزادی پاکستان کے عہد کا دن منایا جا رہا ہے،اس لئے کہ زندہ قومیں ہی اپنا قومی دن اپنی روایات کے تحت مناتی ہیں،زندہ قومیں بے حس نہیں ہوتیں،قومی دن اتحاد کی علامت ہوتا ہے،یہ دن شکر ادا کرنے کا ہوتا ہے،عطاء الرحمن اشرف کا کہنا تھا کہ ہم اپنے وطن سے کوسوں دور وہی خوشی محسوس کر رہے ہیں آج بھی جب ہم پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہمارا دل خوشی سے پھولا نہیں سماتا ہمارا پورا بدن جوش جذبات میں کانپ اُپھتا ہے۔ خواتین و حضرات بہت دیر تک قونصل خانہ کے لان میں قونصل جنرل اور سٹاف اور دوست و احباب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے۔
urd_Arab
سعودی عرب میں یورینیم کے 5 فی صد محفوظ ذخائر موجود ہیں: ولی عہد پہلی اشاعت: 25 مارچ ,2018: 12:00 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 26 مارچ ,2018: 07:34 دن GST سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے پاس پوری دنیا کے یورینیم کے پانچ فی صد ذخائر موجود ہیں۔ ہم نے یورینیم کو استعمال نہیں کیا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تیل کے ذخائر کو استعمال نہیں کیا گیا۔ سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے پاس یورینیم افزودگی اور اس کی تیاری کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ ہم بیرون ملک سے یورینیم منگوانے کے بجائے توانائی تنصیبات کے لیے اپنے محفوظ ذخائرکو استعمال کرسکتے ہیں۔ اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے قوانین اور قاعدے وضع کرے جن کی مدد سے یہ یقین کیاجائے کہ کوئی ملک یورینیم کوغلط مقاصد کےلیے استعمال نہیں کرے گا۔ سعودی اخبار'الاقتصادیہ' کی رپورٹ کے مطابق مملکت بجلی کے لیے توانائی کے پروگرام پر کام کرنے کے لیے جوہری تنصیبات اور نئے پلانٹ لگانے کے لیے کام کررہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو سعودیہ میں اس شعبے میں سرمایہ کاری پر متوجہ کیا جاسکے۔ اسی حوالے سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ان کے دورہ امریکا کا ایک اہم مقصد امریکی سرمایہ کاروں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔
urd_Arab
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بدھ کے روز کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو دھمکی دینے کے لیے استعمال ہونے والی ڈیوائس بھارت کی ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ساری صورت حال تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو احسان اللہ احسان ہونے کا دعوی کرنے والی ایک جعلی پوسٹ سے شروع ہوئی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اگست میں احسان کے نام سے ایک جعلی پوسٹ بنائی گئی جس میں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور حکومت کو کہا گیا کہ وہ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے گریز کریں ورنہ اسے "نشانہ" بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پوسٹ کے بعد ، دی سنڈے گارڈین کے بیورو چیف ، ابھینندن مشرا نے ایک مضمون شائع کیا جس میں احسان کی جعلی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ٹیم کو پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق ، سنڈے گارڈین کی بنیاد سیاست دان ایم جے اکبر نے رکھی تھی ، جنہوں نے 2018 تک مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے ان کے افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 اگست کو نیوزی لینڈ کے اوپنر مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں اس کے شوہر کو آئی ڈی سے دھمکی دی گئی تھی جس صارف کا نام "تحریک لبیک" تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مزید تفتیش کی تو ہمیں کچھ حقائق دریافت ہوئے۔ سب سے پہلے ، یہ ای میل کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے وابستہ نہیں ہے اور اس اکاؤنٹ سے صرف ایک ای میل بنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای میل وی پی این کے ذریعے بھیجی گئی تھی۔ ای میل کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ہم نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ وہ ہماری مدد کرے اور ہمیں بتائے کہ یہ کیسے ای میل ہوئی۔ ان واقعات کے باوجود نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے اس مقام پر دورہ منسوخ نہیں کیا اور پاکستان کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے جو سکیورٹی فراہم کی وہ ان کی افواج میں لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بغیر کسی مسائل کے پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا۔ تاہم ، پہلے میچ کے دن نیوزی لینڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ ان کی حکومت کو خطرے کے خدشات ہیں اور انہوں نے دورہ منسوخ کر دیا۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ اس سارے عمل میں جو ٹویٹر پر فیک نیوز شئیر کی گئیں یا دھمکی آمیز مواد ہھیلایا گیا اس میں بھارتی اکاؤنٹس شامل ہیں۔
urd_Arab
پاکستانی ٹی وی چینلز کے لیے نیا ضابطہ اخلاق موضوع بحث وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ان خدشات کو مسترد کیا ہے کہ حکومت آزادی صحافت پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا خصوصاً نجی ٹی وی چینلز کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے والے سرکاری ادارے 'پیمرا' کا تیار کردہ ایک مجوزہ ضابطہ اخلاق ان دنوں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس مسودے کا مقصد پاکستانی معاشرے میں مذہبی و ثقافتی اقدار کو بنیاد بنا کر ذاتی و سیاسی مفادات کے فروغ کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور قومی سلامتی سے متعلق مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ پیمرا نے اس مسودے کی شقوں پر سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دانشوروں سے مشاورت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے تاکہ اُن کی تجاویز کی روشنی میں تیار کی جانے والی حتمی دستاویز کی کابینہ سے منظوری حاصل کرکے اسے ایک باقاعدہ قانون کی شکل دی جا سکے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی تنظیم 'ایچ آر سی پی' کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن بھی پیمرا کے مشاورتی عمل میں حصہ لینے والی شخصیات میں شامل ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش صورت حال کا تقاضا ہے کہ ذرائع ابلاغ خصوصاً نجی ٹی وی چینلز ٹھوس ادارتی پالیسی کو بنیاد بنا کر لوگوں تک معلومات پہنچائیں تاکہ مایوسی اور بے چینی میں اضافہ نہ ہو۔ ''ادارتی کنٹرول نظر نہیں آتا … مثلاً کالعدم تنظیموں کو مکمل کورج ملتی ہے، اُن کے رہنماؤں کے انٹرویو نشر ہوتے ہیں۔'' ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ پچھلے 10 سال میں پاکستان میں میڈیا کو جو آزادی حاصل رہی ہے اس کی مثال شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ملے۔ وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ تمام فریقین سے مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ''جہاں اتفاق رائے نہیں ہو گا کوئی قاعدہ و قانون زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا۔'' اُنھوں نے ان خدشات کو مسترد کیا ہے کہ حکومت آزادی صحافت پر قدغن لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ''اس (ضابطہ اخلاق) میں وفاق کو متحد رکھنے میں چینل کے کردار کا معاملہ ہے، خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگراموں کے حوالے سے کچھ تجاویز ہیں، پراویسی اور ذاتی کوائف کا تحفظ ہے۔'' پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ذرائع ابلاغ کے شعبے نے غیر معمولی ترقی کی ہے لیکن بظاہر کوئی بھی نجی ٹی وی چینل اپنے ہاں ایک ٹھوس ادارتی پالیسی نافذ نہیں کر سکا اور نہ ہی اس نے اپنے عملے کے لیے پیشہ وارانہ تربیت کا انتظام کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقابلے کی دوڑ میں زیادہ تر ٹی وی چینلز مستند معلومات نشر کرنے کی بجائے سنسنی خیز خبریں پیش کرکے اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
urd_Arab
پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی، مشیر تجارت کا اعتراف | BOL News Urdu - بول نیوز اردو توشہ خانہ ریفرنس: نواز شریف بچ نہ سکے، اہم تفصیلات آگئیں شبلی فراز نے مولانا فضل الرحمان کی تحریک عدم اعتماد کے بارے میں کیا کہہ دیا کہ مولانا صاحب بھی آگ بگولا ہو جائیں گے
urd_Arab
نون غنہ صدر!! Dec 31, 2013 3:21 AM, December 31, 2013 نئے صدر کو قوم کاممنون ہونا چاہئے کہ اس نے صدر کا پورٹریٹ بنانے کا پندرہ لاکھ روپے کا بل برداشت کیا ۔سابق صدر زرداری نے اپنی تصویر بنانے پر نو لاکھ روپے صرف کئے تھے، اس طرح نئے صدرنے قوم پرچھ لاکھ رو پے کا زائد بوجھ ڈالا۔ یہی صدر قوم کو تلقین کر رہے ہیں کہ انہیں سستی بجلی مہیا نہیں کی جا سکتی اور نہ کشکول توڑا جا سکتا ہے کیونکہ ملک بیرونی قرضوں کی افیم کا عادی ہو چکا ہے اور نشہ اتارنے کے لئے مزید نشہ دینا دوائی کے طور پر ضروری ہے۔ صدر نے حلف لینے کے بعد کا عرصہ خاموشی سے بسر کیا ہے بلکہ قائد اعظم کی یاد میں تقریب منعقد کر کے قومی حلقوں سے شاباش بھی لی ہے لیکن اس شاباش کے نتیجے میں وہ کچھ زیادہ ہی کھل گئے ہیں اور ایک متنازعہ تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے بطور صدر اپنا آئینی کردار فراموش کر دیا ہے اور حکمران جماعت کی پالیسیوں کے دفاع کا فریضہ سنبھال لیا ہے۔آئین کی رو سے جناب ممنون حسین کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں رہا، خاص طور پر حکمران پارٹی سے انہیں اس قدر دور ہوجانا چاہئے تھا کہ لوگوں کو صدرزرداری کے دور کے ایوان صدر کی تلخیاں بھول جاتیں۔ جنہوںنے ایک غیر جانبدار منصب کو ایک جیالے منصب میں تبدیل کر دیا تھا اور اپنی یہ پیش گوئی سچ ثابت کر دکھائی تھی کہ ایوان صدر میں بھٹو دے نعرے وجن گے۔ ان کے دور میں حکمران پیپلز پارٹی کے تمام مشاورتی اجلاس ایوان صدر میں منعقد ہوتے رہے ، اور عدلیہ کے ذریعے انہیں غیر جانبدار صدر بننے کی کوششیں بھی بار آور نہ ثابت ہوئیں۔ جناب ممنون حسین کے انتخاب کے موقع پر لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ وہ بھی غیر جانبداری برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔اس خدشے کو حقیقت کا روپ دھارنے میں زیادہ وقت نہیںلگا۔ نئے صدر نے اب تک حکومتی کارکردگی درست سمت رکھنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی، ریکارڈ میں ان کی طرف سے حکومت کو کوئی ایسی ہدائت نہیں ملی کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلوائی جائے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، ملک کی آزادی ، خود مختاری اور اس کے اقتدار اعلی کا تحفظ کیا جائے۔ اسے امریکہ یا بھارت کی پٹھو ریاست میں تبدیل نہ کیا جائے۔ آئین کا تقاضہ ہے کہ صدر مملکت کسی پارٹی کے نہ متوالے بن سکتے ہیں، نہ جیالے کا کرادر ادا کر سکتے ہیں۔ صدر تو ریاست پاکستان کا سربراہ ہے اور مملکت کا ہر باشندہ اس کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔اگر کسی شخص کو صدر بن کر سیاست کاشوق پورا کرنا ہے تو وہ پاکستان کی شہریت چھوڑے اور امریکہ یا کسی ایسے ملک کی شہریت اختیار کر کے قسمت آزمائی کرے جہاں صدر ہی ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے۔ پاکستان بہر حال سیاست کے شوقین صدر کے لئے موزوں ملک نہیں۔بھارت میں کون صدر ہوتا ہے ، اس کا علم وکی پیڈیا یا گوگل پر چھان بین کے بعد ہی ہو سکتا ہے ورنہ دنیا کے عام آدمی کو اس کا نام تک معلوم نہیں ہوتا۔ پاکستان کی تاریخ میں چند فعال صدر وہ بھی آئے جن کا تعلق فوج سے تھا، وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی کہلائے ، فیلڈ مارشل بھی بنے اور صدر کی کرسی سے بھی چمٹے رہے،بھٹو صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سویلین ہو کر بھی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹربنے اور پھر صدر بھی بنے اور اس طویل راستے کو طے کر کے اپنے اصل منصب پر واپس آئے، ان کی وزارت عظمی کے دور میں ایوان صدر میں بیٹھا ہوا شخص اس قدر بے زبان اور بے بس تھا کہ ایوان صدر کی دیواروں پر یہ نعرہ لکھاگیا کہ صدر کو رہا کرو۔ ہمارے نئے صدر مملکت نے زبان کھولی ہے تو ایسے کہ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ گے ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ پندر روپے فی یونٹ بجلی خرید کر نو روپے میںنہیں دے سکتے۔ یہ بالکل خلاف حقیقت بیان ہے،جناب صدر کوئی ایسا بل نہیں دکھا سکتے جس میں نو روپے فی یونٹ بجلی کا ریٹ لگایا گیا ہو۔آئی ایم ایف سے قرضہ لنے کے بعد اس کی شرائط کے مطابق صنعتی صارفین کا ریٹ تو فوری طور پر بڑھا دیا گیا مگران صنعتکاروں نے اپنی مصنوعات اور درآمدات مہنگی کر کے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا ، اس سے مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی اور حکومتی وزرا نے فرانس کی ملکہ کی طرح کہنا شروع کر دیا کہ ر وٹی نہیںملتی تو کیک کھاﺅ۔ٹماٹر مہنگا ہے تو سالن میں نبو نچوڑ و ، خود یہ وزرا سرکاری ہیلی کاپٹروں میں دورے کرتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے پروٹو کول کے لئے گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ان کی ہوس ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔ عوام پر اکتوبر میں بجلی گرائی گئی اور اب سردیوں میں جو بل آ رہے ہیں ، ان کو دیکھ کر ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔لوگوں میں سکت نہیںکہ وہ ان بلوںکی ادائیگی کر سکیں چنانچہ حکومت نے بجائے بلوں میں کمی کرنے کے ان کی ادائیگی کی تاریخیں بڑھا دی ہیں اور صوبہ خیبر پی کے میں بلوں کی ریکوری کا بوجھ تحریک انصاف کو منتقل کر دیاہے۔ صدر صاحب کا ایک ارشاد یہ ہے کہ کشکول نہیں توڑا جا سکتا، ملک کو بیرونی قرضوںکانشہ لگ گیا ہے۔صدر صاحب پارٹی بن ہی گئے ہیں تو یہ وضاحت فرما دیں کہ ن لیگ نے اپنے منشور میں کشکول توڑنے کا وعدہ کیوں کیا تھا اور انتخابی جلسوںمیںایسے نعرے کیوں لگائے تھے۔کشکول توڑنے کا نعرہ تو اس وقت بھی لگایا گیا جب ایٹمی دھماکے کئے گئے۔یہ انیس سو اٹھانوے کی بات ہے، نواز شریف ملک کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے ہیں اور وہ اگر ملک کو اس کے وسائل میں چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر دلکش نعرے تو نہ لگایا کریں، صاف کہیں کہ قرض کی مئے ہی پئیں گے۔ایوب خاں نے جب بیرونی چاکری کو شوق پورا کر لیا تو یہ نعرہ لگا دیا کہ اس رزق سے موت اچھی جس سے پرواز میںکوتاہی آتی ہو، میاں شہباز شریف کو ایوب خان کا یہ نعرہ اس قدر بھایا کہ وہ ہر تقریر کے آخر میں یہ نعرہ لگاتے اور علامتی طور پر سامنے لگے ہوئے مائیک توڑ ڈالتے اور سادہ لوح عوام سمجھتے کہ کشکو ل ٹوٹ گیا۔ اگر صدر نے بھی حکمران پارٹی کا حصہ بن جانا تھا تو پھر لازم تھا کہ آئین میں ترمیم کر کے صدر کے غیر جابندارانہ کردار کا خاتمہ کر دیا جاتا اوراسے حکمران پارٹی کا دم چھلہ بننے کی کھلی چھٹی دے دی جاتی۔ویسے بھی جناب ممنون حسین کے لئے غیر جانبدار رہنا مشکل ہے، وہ حکمران پارٹی کے سرگرم رکن رہے ہیں ، صدر کا منصب حاصل کرنے کے لئے وہ ن لیگ کے ممنون ہیں اور رہیں گے اور اس کی ہم نوائی کےلئے مجبور ہیں اور رہیں گے۔ بہتر ہو گا کہ ان کے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر دیا جائے اور آئین میں ضروری ردو بدل کر کے انہیںمتوالا بننے کی سہولت فراہم کر دی جائے۔تاکہ وہ کھل کھیل سکیں اور صدر پاکستان کے بجائے نون غنہ صدر کا کردار ادا کر سکیں۔
urd_Arab
کینیا میں مداحوں نے گلوکار کی شایان شان تدفین کیلیے میت چرالی – Roznama Jazba نیروبی:جے ایم ڈی؛؛ کینیا میں کووڈ -19 کی وجہ سے ہلاک ہونے والی معروف گلوکار کے مداحوں نے ان کی قبر کھود کر میت نکال لی اور فرار ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کے 33 سالہ معروف گلوکار ابینی جاچیگا مبینہ طور پر کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جس پر مقامی انتظامیہ نے تمام تر حفاظتی تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے گلوکار کی آخری رسومات ایس او پیز کے ساتھ سادگی سے ادا کردیں تاہم مداحوں کی بڑی تعداد تدفین کے عمل میں شرکت کرنا چاہتی تھی جنہیں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کرکے منتشر کردیا۔
urd_Arab
ھے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن - مریم زیبا - Daleel.Pk ستر فیصد زمین زیر آب ہے اور اس میں زندگی ہم سے کروڑوں میل دور موجود چاند کی کشش کے سبب پیدا ہونے والے مدوجزر کی وجہ سے ممکن ہے۔ اللہ رب العزت نے اس طاقتور کشش کو ایک مناسب فیصلہ دے کر چاند اور زمین کو اپنے مدار میں مقید کر کے زندگی کا ذریعہ بنایا۔ کل قیامت کو جب یہ اپنے مداروں کی قید سے آزاد ہوں گے تو یہ کشش اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ روبہ عمل ہوگی۔ اور تب یہی کشش زندگی کی تمام علامات کو ختم کرنے کا سبب ہوگی۔ مقناطیس کے دو پولز کے درمیان موجود طاقتور کشش کو مناسب فاصلے کے ساتھ استعمال کے ذریعے ہم کروڑوں میگاواٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ دو صنفوں کے درمیان اللہ رب العزت نے اپنی کامل حکمت کے تحت ایک نہایت مضبوط اور طاقتور کشش رکھی ہے۔ اپنا بچپن یاد کیجیے، وہ وقت جب کسی وجہ سے اما بابا کے درمیان ان بن ہوئی ہوتی تھی تو ہمیں ایسا لگتا تھا کہ دنیا ختم ہوگئی۔ یہ کشش اللہ کے مقرر کردہ حدود کے اندر نسلوں کی تربیت کے لیے قیمتی ترین ضرورت "احساس تحفظ" کی فراہمی اور نسل انسانی کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر یہ کشش اپنے خالق و مالک کے مقرر کردہ حدود سے ناآشنا ہوجائے تو ایسی قیامت لے کر آتی ہے جو سماج کے تانے بانے کو برباد کر دیتا ہے۔ جو بگاڑ، بحران اور قیامت خیز واقعات ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، وہ اسی کشش کے اپنے فطری حدود سے بے پروائی کے سبب ہے۔ بلوغت کے بعد بچے ایک بھرپور جنسی زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ کشش ایک صحت مند انسان کی علامت ہے۔ اس کو نظرانداز کرنا، غیر تعمیری انداز میں دبانا، اور اس کے وجود سے انکار کرنا اتنا ہی غیر مناسب ہے جتنا کہ اس طاقتور توانائی کو حدود کے ذریعے چینلائز نہ کرنا۔ ہمارے نظام تعلیم کی وجہ سے ایک مکمل بالغ انسان بھی نکاح کے لیے سماجی طور پر تیار ہونے میں کئی قیمتی سال ضائع کر دیتا ہے۔ مادیت پرستی، تصنع اور غیر حقیقی توقعات کی وجہ سے نکاح مزید التوا کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں فطری طریقہ سے اس توانائی کو چینلائز کرنا نہایت اہم ہے۔ روزہ کا اہتمام، غص بصر، طیب اور سادہ غذا، مناسب فزیکل ایکٹیوٹی، بلند تر مقصد کا واضح ہونا اور تعمیری انداز میں زندگی کے چیلینجز کا سامنا کرنے کی تربیت نہایت اہم ہے۔ حدود ہماری حفاظت اور خیرخواہی کے لیے ہیں۔ ایک بچے کی تربیت میں احساس تحفظ کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین حدود کو واضح کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اگر حدود نہ متعین ہوں تو بچے کے اندر حقیقت پسندی کے بجائے خودغرضی اور خودپسندی پروان چڑھتی ہے۔ اللہ رب العزت کے مخلوق کو رب کے بنائے ہوئے حدود ہی راس آتے ہیں۔
urd_Arab
فوری طور پر ہزاروں سرکاری ملازمین کی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ، بے روزگار نوجوانوں کے لیے خوشخبری، ہدایات جاری کر دی گئیں پشاور(این این آئی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ تعلیم میں 7500 خالی آسامیوں پر اساتذہ فوری بھرتی کرنے جبکہ ماہانہ کی بنیاد پر تمام اضلاع میں اساتذہ کی کارکردگی آئی ایم یو (IMU) کے ذریعے جانچنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی پر انعام اور خراب کارکردگی پر سزاد دی جائے تاکہ سزا اور جزا کے عمل سے تعلیمی اداروں میں بہتری لائی جاسکے۔ انھوں نے صوبے بھر میں اساتذہ کی کمی کو ختم کرنے کے لیے 12000 نئے اساتذ ہ کی پوسٹوں کے لیے سمری بھیجوانے کی ہدایت بھی کی اور واضح کیا کہضم شدہ اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے 6500 ایڈیشنل پرائمری سکول ٹیچنگ پوسٹس کی منظوری جلد دے دی جائیگی۔ انھوں نے ہدایت کی کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے مزید بھرتیاں کی جاے اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پانچ سالہ منصوبے کی منظوری کے لیے جلد کابینہ کو پیش کی جائے۔وہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں محکمہ ایلمنٹری و سیکنڈری تعلیم کے لئے 5 سالہ منصوبہ بند ی سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
urd_Arab
شامی اور روسی بمباری سے ادلب میں ایک ہفتے میں 150 ہلاکتیں | ساحل آن لائن شامی اور روسی بمباری سے ادلب میں ایک ہفتے میں 150 ہلاکتیں Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th September 2017, 11:27 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں | مسقط،28 ؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ادلب شہر میں سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے قائم کردہ ریسکیویونٹ کے ایک رکن سالم ابو العزم نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی فوج اور اسدی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے ادلب میں بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ ایک ہفتہ ہلاکتوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقع ہوا ہے۔ سالم ابو العزم نے بتایا کہ بمباری کے دوران 152 افراد لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں جب کہ 279 شہریوں کو بچا لیا گیا۔
urd_Arab
پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے والے چند بڑے ادارے – روحانی ڈائجسٹـ روحانی ڈائجسٹ / Uncategorized / پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے والے چند بڑے ادارے پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے والے چند بڑے ادارے Uncategorized 1,896 قاری جرمن کہاوت ہے…. ''ایک بھلا انسان تو خوشیوں کی مانند ہے۔ اسی لیے ہر جگہ اس کا اثر پھیل جاتا ہے۔'' کچھ شخصیات دنیا میں ایسی بھی آئی ہیں جو اپنی پوری زندگی مخلوق خدا کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے سخت محنت کرتی ہیں ایسی شخصیات کا کام اور نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ان کی خوشبو ہر دور میں محسوس کی جاتی ہے۔ ایسے ہی کچھ لوگوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی لوگوں میں محبت بانٹنے اور انہیں زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں گزار دی۔ راشد آباد 13 دسمبر 1997 کو فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے طیارے کو دوران پرواز آگ لگ گئی، کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے ہدایات ملنے لگیں۔ خدشہ تھا کہ جہاز کہیں کسی آبادی پر نہ گر جائے اور اس سے ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچے۔ قوم کے بہادر بیٹے فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان نے آخری لمحے تک جہاز میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ پاک فضائیہ کے جانباز افسر نے اپنی شہادت قبول کرتے ہوئے ملک و قوم کے تحفظ کے اٹھائے حلف کی حفاظت کی۔ فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کے والد شبیر بھی پاک فضائیہ میں ائیرکموڈور رہ چکے ہیں۔ بیٹے کی شہادت کے بعد آپ نے اپنے بیٹے کی یاد کو قوم میں علم کے فروغ کی کوششوں میں بدل دیا۔ ان کا خواب تھا ایک ماڈل شہر آباد کیا جائے۔ 20 سال کی انتھک کوشش کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس شہر علم و مرکز صحت کو ٹنڈوالہیار سے 6 کلومیٹر دوری پر ''راشد آباد'' کے خواب کو عملی جامہ پہنادیا۔ ایئرکموڈور شبیر خان کہتے ہیں کہ ایئر فورس سے رٹائرمنٹ ملی تو ایک اور سفر شروع ہوا۔ ''جو کچھ ہمیں ملا کیا اس میں سے کچھ واپس نہیں کرنا''۔ کمانڈر شبیر نے اپنے دوستوں کو بلاکر یہ سوال پوچھا اورحیرت زدہ کر دیا۔ سب نے اپنی اپنی پنشن اورپراویڈنٹ فنڈ جمع کیے اور اس کا حساب کتاب اپنے دوست کمانڈر کو سونپ دیا۔ایثار اسی کا نام ہے۔ میر پور خاص اور ٹنڈو اللہ یار کے نواح میں سو ایکڑ زمین خریدی گئی۔ سو ایکڑ کی بڑی اچھی تقسیم ہوئی۔ پچاس ایکڑ میں ایک اسکول۔ سرگودھین اسپرٹ ٹرسٹ پبلک اسکول اور بقیہ پچاس ایکڑ میں آنکھوں کا ہسپتال، تھیلے سیمیاکا مرکز، گونگے بہرے افراد کا مرکز، بوڑھے اور بے سہارا افراد کے لیے اولڈ ایج ہوم، فنی تعلیم کا بہترین مرکز اور سٹیزن فاؤنڈیشن کا ایک اسکول۔ راشد آبادمیں ایک نہیں کئی شہر آباد ہیں لیکن اس شہر کا اصل سرمایہ وہ تین ہزار بچے ہیں جو یہاں کے ٹی سی ایف اور ٹرسٹ اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ ٹرسٹ اسکول آکسفورڈ یا کیمبرج کی طرح کا ہی ایک خواب ہے۔ سماجی شعبے میں ترقی، سٹیزنز فاؤنڈیشن TCF ایک مثالی ادارہ دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کا شمار پاکستان کے اعلیٰ درجے کے غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ تعلیمی شعبے میں اس تنظیم کی خدمات نمایاں ہیں۔ اس ادارے کے بانیوں میں سے ایک، مشتاق چھاپڑا ہیں۔ پاکستان میں سٹیزنز فاؤنڈیشن کے ایک ہزار سے زائد اسکولوں میں ایک لاکھ پینسٹھ ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان اسکولوں میں مجموعی طور پر تقریباً نو ہزار خاتون ٹیچرز تدریسی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ مشتاق چھاپڑا کا کہنا ہے کہ سن 1995 میں ہم چند دوستوں نے جو کامیاب کاروباری شخصیات تھیں، پاکستانی معاشرے کو ،کچھ واپس کرنے، کے بارے میں سوچا۔ ہم سب کی رائے یہ تھی کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے کسی بھی ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سن 1996 میں کراچی میں پانچ اسکولوں کی بنیاد رکھی گئی۔ آج بیس برس بعد ملک بھر میں اس فاؤنڈیشن کے 1060 اسکول کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ چھاپڑا کے مطابق دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ چلایا جاتاہے۔ مشتاق چھاپڑا کا کہنا تھا کہ جب انہو‌ں نے پہلی مرتبہ اسکول قائم کیے، تو ایک غریب خاتون نے انہیں گزارش کی کہ وہ اپنی بیٹی کو صرف اسی صورت میں اسکول بھیجے گی جب اسکول میں مردوں کے بجائے خاتون اساتذہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ واقعہ ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایسے اسکولوں میں خواتین ٹیچرز ہی تعلیم دیا کریں گی۔ مشتاق چھاپڑا کہتے ہیں۔ ''ہمارے اسکولوں میں آٹھ ہزار نو سو خواتین اساتذہ ہیں۔ اساتذہ کو اسکول کی گاڑی ان کے گھروں سے لاتی اور واپس چھوڑتی ہے۔ اساتذہ کو کراچی اور مانسہرہ میں قائم تربیتی مراکز میں تربیت بھی دی جاتی ہے۔'' اس فاؤنڈیشن نے خواتین اساتذہ کو ملازمتیں دے کے انہیں اپنے لیے باعزت روزگار کا موقع فراہم کیا ہے بلکہ ساتھ ہی اس تنظیم کے تمام اسکولوں میں داخلے کے لیے لڑکیوں کے لیے 50 فیصد کوٹہ بھی مقرر ہے۔ یہ اسکول ملک بھر میں پسماندہ اور غریب آبادی والے 109 چھوٹے بڑے علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو تعلیمی سہولیات ان کے گھروں کے قریب ہی میسر ہوں۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات پر اوسطاﹰ ماہانہ تقریباً دو ہزار روپے کے برابر خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ عام بچوں کے والدین سے پانچ سو روپے سے لے کر ایک سو روپے تک فیس لی جاتی ہے۔ نہایت غریب گھرانوں کے بچوں سے کوئی فیس نہیںلیجاتی۔ فاؤنڈیشن کے 60 فیصد اسکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی نصب ہیں اور ہر بچے کو تین سے چار لیٹر پانی ہر روز گھر لے جانے کی اجازت بھی ہوتی ہے۔ اس ادارے نے حال ہی میں ایک نئے منصوبے کا آغاز بھی کیا ہے۔ اس کے تحت کمیونٹی کی ان پڑھ خواتین کو تین ماہ کا ایک بنیادی تعلیمی کورس کرایا جاتا ہے۔ یہ کورس پورا کرنے کے بعد متعلقہ خواتین تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔ مشتاق چھاپڑا نے بتایا کہ اب تک ان اسکولوں سے بارہ ہزار پانچ سو بچوں نے اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ان میں سے بھی 72 فیصد کالج تک کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں میں مالی طور پر محروم خاندانوں کے جو بچے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں یا فیل ہو جائیں تو انہیں اسی ادارے کی طرف سے ووکیشنل ٹریننگ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انجمن اسلامیہ ٹرسٹ انجمن اسلامیہ ٹرسٹ کے بانی الحاج مولوی ریاض الدین احمد (تمغۂ امتیاز) کا شجرۂ نصب برصغیر کے ایک معروف صوفی بزرگ حضرت شیخ سلیم الدین چشتی سے جا ملتا ہے۔ آپ کی ولادت آگرہ شہر میں سن 1906 عیسوی میں ہوئی۔ ریاض الدین احمد صاحب میں اپنے والدین کی جانب سے ملنے والی تربیت نے تعلیم سے محبت پیداکی۔ مولوی ریاض الدین احمد صاحب نے کئی معیاری تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی۔ خصوصاً برصغیر کی مسلم خواتین کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں آپ کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ ریاض الدین احمد صاحب کو اس بات کا پوری طرح ادراک تھا کہ برصغیر کے مسلمان اُس وقت تک ایک عظیم قوم نہیں بن سکیں گے کہ جب تک ان کی خواتین تعلیمی میدان میں آگے نہیں آتیں، اس لیے آپ نے تقسیم برصغیر سے قبل آگرہ شہر میں لڑکیوں کے لیے محمودہ نسواں اسکول اور ایک لائبریری قائم کی ۔ ریاض الدین احمد قائد اعظم سے بہت متاثر تھے، آپ کو قائد اعظم کی لیڈرشپ پر مکمل اعتماد تھا۔ آپ مسلم لیگ کے ایک متحرک کارکن بھیرہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تعلیم کے فروغ کے لیے مولوی صاحب کی محنت اور جدوجہد کو دیکھتے ہوئے بہت ہی خوشی کے ساتھ اپنا نام یعنی جناح مولوی ریاض الدین احمد کے بنائے ہوئے کالج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی، جسے وہ ہندوستان کے شہر آگرہ میں تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مولوی ریاض الدین صاحب کراچی تشریف لے آئے اور خواتین کے لیے آگرہ شہر میں جس کالج کو تعمیر کرنے کا خواب دیکھا تھا، اب اسے کراچی میں قائم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اس مقصد کے لیے ابتداء میں آپ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ آپ کے چاہنے والے اکثر مخیر حضرات آگرہ میں تھے، جبکہ کراچی مولوی صاحب کے لیے ایک انجان اور نئی جگہ تھا۔ ان تھک اور مسلسل کوششوں کے بعد مولوی ریاض الدین کراچی کے علاقے پاکستان چوک میں لڑکیوں کے لیے ایک کالج بنانے میں کامیاب ہوئے، جسے بعدازاں ناظم آباد منتقل کردیا گیا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے ریاض الدین احمد صاحب کو لڑکیوں کے کالج بنانے کی خاطر بخوشی جگہ الاٹ کی، وہی کالج جس کا خواب مولوی صاحب نے آگرہ میں دیکھا تھا۔ اس کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے جو خواتین کے اس کالج کی تعمیر میں ذاتی دلچسپی رکھتی تھیں، انہوں نے اس کالج میں سائنس بلاک کی تعمیر کے لیے خصوصی معاونت کی۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں کہ جب پوری قوم سخت آزمائش کے دور سے گزر رہی تھی، اُن دنوں مولوی ریاض الدین صاحب تقریباً 17 تعلیمی ادارے بنانے میں کامیاب رہے، خصوصاً خواتین کی تعلیم کے لیے مولوی صاحب کی خدمات قابل قدر اور ناقابل فراموش ہیں۔ ریاض الدین صاحب کے قائم کردہ تعلیمی اداروں نے کراچی شہر میں علم کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، اور آپ کے بنائے اداروں سے ایسے ہونہار طالب علم نکلے جنہوں نے دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ ریاض الدین کے لڑکیوں کے لیے بنائے گئے کالج کو 1985 میں پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دیا گیا، بعد ازاں 1998 میں اس کالج کو ترقی دے کر باقاعدہ ایک یونیورسٹی میں تبدیل کردیا ۔ الحاج ریاض الدین صاحب کا بنایا ہوا یہ ادارہ پاکستان کی پہلی خاتون یونیورسٹی کے اعزاز کا حامل اور جناح یونیورسٹی فار ویمنز کے نام سے مشہور ہے۔ اس یونیورسٹی کا شمار ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں ہوتاہے۔ اس انجمن حمایت اسلام ادارے کے قیام کا محرک بھی وہی جذبہ تھا جس نے سرسید احمد خان کو علی گڑھ کالج قائم کرنے پراکسایا تھا۔ بیسویں صدی کے شروع میں قاضی خلیفہ حمیدالدین صاحب کی سخت محنت سے اس انجمن کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا دفتر لاہور میں حویلی سکندر خاں کے ایک چھوٹے سے مکان میں قائم کیا گیا۔ قاضی صاحب کے رفقائے کار میں مولوی غلام اللہ، منشی عبدالرحیم، منشی چراغ دین، حاجی میر شمس الدین، خان نجم الدین اور ڈاکٹر محمد دین ناظر شامل تھے۔ انجمن کے پہلے اجلاس (منعقدہ 24 ستمبر 1884ء) میں سال بھر کی مجموعی آمدنی سات سو چون روپے اور کل خرچ تین سو چوالیس روپے تھا۔ بزرگوں نے جس انجمن کی بنیاد اس بے سروسامانی کے عالم میں رکھی تھی وہ کچھ عرصہ بعد ایک بڑا تعلیمی اور ثقافتی ادارہ بن گئی۔ ایک زمانے میں انجمن کے سالانہ جلسوں کا چرچا سارے برصغیر میں تھا اور اس کی تقریب کو قومی تہوار کی سی حیثیت حاصل تھی۔ برصغیر کے نامور رہنما، اہل علم و دانش، ادیب، شاعر اور سیاست دان اس کی کارروائی میں شامل ہوتے تھے۔ ان میں سرسید احمد خان، مولانا الطاف حسین حالی، مولانا شبلی نعمانی، محسن الملک، سر محمد شفیع، سر شیخ عبدالقادر، جسٹس شاہ دین اور علامہ اقبال بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ان زعما نے انجمن کے جلسوں میں اپنی نظمیں، مقالے اور مضامین پیش کیے۔ علامہ اقبال نے اپنی بعض مشہور نظمیں انجمن کے ہی جلسوں میں پڑھیں۔ انجمن کے زیراہتمام متعدد تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ ایک طبیہ کالج اور دو یتیم خانوں کا انتظام اب بھی انجمن کے ہاتھ میں ہے جبکہ انجمن کے قائم کردہ کالج اور اسکول قومی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ کا تعلق انجمن حمایت اسلام سے بہت زیادہ رہا ہے۔ علامہ نے انجمن کے اجلاس میں ملی نغموں کا آغاز کیا۔ علامہ اقبالؒ انجمن کے ممبر، سیکرٹری اور صدر بھی رہے۔ انجمن کا قیام 21 جنوری 1865ءانجمن پنجاب، لاہور کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1869ء انجمن اسلامیہ پنجاب ہوئی اور 1884ء میں انجمن حمایت اسلام کا قیام عمل میں رہا۔
urd_Arab
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم پر ایک بار پھر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سب کچھ بل گیٹس کے اشارے پر کررہا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عمران خان سب کچھ بل گیٹس کے اشارے پر کررہا ہے، روس کا دورہ بھی مسٹر زیڈ کے کہنے پر کیا جو برطانیہ میں ان کا سالا اور اسرائیل کی لابی بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو لبادہ اوڑھ رکھا تھا وہ بے نقاب ہوگیا ہے، سب کچھ عیاں ہوگیا ہے کہ اسے مخصوص ایجنڈے پر لایا گیا تھا، وہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھو بیٹھا ہے، اب معاملات اس کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں، بابا دس لاکھ مت لاؤ ہمت ہے تو 172 پورے کرلو۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ اکثریت کھو بیٹھا ہے، پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اس کا کوئی حکم ماننے کیلیے تیار نہیں ہے، پی ٹی آئی کے ہوا کے غبارے میں اب صرف سوئی لگنے کی دیرہے، وزیراعظم کی دوڑیں ان کی بوکھلاہٹ کاثبوت ہے، عمران خان کے ساتھ کھڑے شیخ رشید کی اہمیت رائی کے پہاڑ جیسی ہے۔ اپوزیشن رہنما نے مزید کہا کہ عدم اعتماد ناکام ہونے کا تاثر بھی غلط ہے، پورا ملک تیار رہے ہم کسی وقت بھی اسلام آباد آنے کی کال دے سکتے ہیں، دنیا سے یہ تاثر ختم کیا جائے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ پی ڈی ایم سربراہ فضل الرحمٰن نے کہا کہ نواز شریف پاکستانی ہے، انہیں وطن واپسی سے کوئی نہیں روک سکتا، کل ہونیوالے اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔
urd_Arab
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیرداخلہ پر حملہ معمولی بات نہیں، یہاں تک نوبت پہنچنا انتہائی تشویشناک بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'ایسے لوگوں کو ہزار ہزار روپے تقسیم کیے جائیں گے تو یہی ہوگا، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ہزار ہزار روپیہ کیوں دیا گیا۔'وزیرِ داخلہ پر فائرنگ کرنے والے عابد حسین نامی شخص کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ نارووال کے تھانہ شاہ غریب میں درج کر لیا گیا ہے اور اس میں اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس واقعے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نارووال کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا تعلق نارووال کی تحصیل شکر گڑھ سے ہے اور اس نے حملے کے وقت وزیر داخلہ پر 30 بور کی پستول سے فائر کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے اپنا تعلق مذہبی جماعت تحریک لبیک سے ظاہر کیا ہے۔ تاہم تحریک لبیک کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ وہ اس مبینہ حملہ آور کا نام پہلی مرتبہ سن رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری جماعت کی پالیسی عدم تشدد پر مبنی ہے ہم اپنے کارکنان کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ختم نبوت کے لیے اپنی کوشش پرامن کوششیں جاری رکھیں گے۔' خیال رہے کہ احسن اقبال پر حملے کے فوراً بعد ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر حملہ آور کی تحریکِ لبیک سے وابستگی کے بارے میں بحث چھڑ گئی تھی اور ٹوئٹر پر #TLPPeacefulOrg کا ٹرینڈ چلنے لگا تھا۔
urd_Arab
فاریکس تجزیہ کو سمجھنا - ڈے ٹریڈنگ کے احکامات ینگ وڈا 2017/05/30 فاریکس ٹریڈنگ ٹولز سری فائنڈ مائی فرینڈز ایپ کو اگر آپ کے پاس موجود ہے ، نیز اپنی رابطہ فہرست کا استعمال کرسکتے ہیں۔ آخر میں ، تاجروں کو ایک پورٹ فولیو رکھنے کی حیثیت سے متنوع سمجھا جاسکتا ہے جیسا کہ یہ ہوگا اگر وہ طویل عرصے سے اسٹاک پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ کوئی اپنا ڈے ٹریڈنگ کے احکامات اسٹاک جلدی فروخت کرے گا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے بنیادی اصولوں کو بھول جانا چاہئے۔ جیسا کہ ہم نے ان صنعتوں میں دیکھا ہے جنہوں نے وبائی امراض سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ، کسی بھی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے لئے تیزی سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے لئے فال بیک منصوبوں کو رکھنا بہت ضروری ہے ، اس میں قلیل مدتی اسٹاک ٹریڈنگ شامل ہے۔ 59 ممالک میں +5،100 VPN سرورز بیک وقت 6 رابطے کوئی باخبر رہنے والے نوشتہ جات 30 دن کی رقم کی واپسی کی ضمانت (کوئی مفت آزمائش) ماخذ مضمون کا ہر کلک اور نظریہ عام طور پر پوسٹ کے لئے اشتہار پر مبنی محصول پیدا کرتا ہے۔ مضمون کو جتنی زیادہ کلکس ملیں گے ، اتنا ہی زیادہ آمدنی ہوگی۔ اسی وجہ سے ، کلک بیٹ بڑے قارئین کو راغب کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور شاذ و نادر ہی معیاری رہنما خطوط اور تحقیقاتی ذرائع استعمال کرتا ہے۔ کچھ کلک بایٹ مضامین صارف کی کلکس کی تعداد کو مزید بڑھانے کے لئے متعدد صفحات پر پھیلی تصاویر یا ویڈیو کلپس کی ایک بڑی تعداد کا استعمال کریں گے۔ "کلک باٹ" میں ہر صفحے میں متعدد اشتہار ہوں گے۔ کبھی کبھی کم تبادلوں کی شرح کا آپ کے عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔ یہ وہی ہے جو بیرونی طور پر ہو رہا ہے۔ شاید آپ کے حریف میں سے کسی نے ایسا پروڈکٹ لانچ کیا ہے جو گاہکوں کی توجہ آپ کی پیش کش سے عارضی طور پر ہٹاتا ہے۔ مدد کریں دونوں توشک شیلیوں کو بہت معاون سمجھا جاسکتا ہے۔ دونوں مواد جسم کو سہارا دینے ، ریڑھ کی ہڈی کو سیدھے رکھنے اور نیند کے لئے راحت کو بہتر بنانے کا ایک اچھا کام کرتے ہیں۔ ترجمہ: اے ایمان لانے والو جو کچھ ڈے ٹریڈنگ کے احکامات ہم نے تم کو روزی دی ہے اس میں سے خیرات کرو اس سے پہلے کہ وہ د ن آئے جس میں نہ کوئی بکری ہو گی نہ دوستی اور نہ سعی سفارش (شفاعت) اور کافر لوگ خود ہی ظلم کرنے والے ہیں۔ 6 امریکی سوسائٹی برائے کلینیکل آنکولوجی (ASCO) کے مطابق ، اسٹیجنگ کا سب سے عام نظام ٹی این ایم نظام ہے۔ اس کا مطلب ہے ٹیومر نوڈس میتصتصاس اور تین عوامل پر نگاہ ڈالتی ہے۔ سب سے کم تجارتی اخراجات پیش کرنے کے لئے فرموں کے مابین پرائس وار ہوا ہے۔ اگر آپ ایک ڈے ٹریڈنگ کے احکامات فعال تاجر ہیں تو ، آپ نے تازہ ترین ، کم ترین فیسوں کو حاصل کرنے کے ل than ایک سے زیادہ آن لائن بروکریج اکاؤنٹ کھولے ہیں۔ ذیل میں ایک چارٹ پر منسلک Ichimoku اشارے کی ایک مثال ہے۔ اس کی مثال یہ ہوگی کہ مشین کے پچھلے حصے کو جدید جدید کے ساتھ تبدیل کیا جا with جس کی مدد سے اس عمل میں مدد مل سکے۔ براڈبینڈنگ اس لئے تیار ہوئی کہ تنظیمیں اپنے درجات کو چپٹا کرنا چاہتی ہیں اور فیصلہ سازی کے اختیارات کو اس مقام کے قریب لے جانا چاہتی ہیں جہاں تنظیموں میں ضرورت اور جانکاری موجود ہے۔ تاہم ، چپٹی ہوئی تنظیموں میں تشہیر کے کم مواقع موجود ہیں۔ بہترین انداز: ٹومی ویزیور ایمیزون میں بس ان کیس ٹٹ بیگ. .فاریکس تجزیہ کو سمجھنا جوا اداروں، کھیلوں کے کتابوں اور کتابوں کو جلد ہی توڑ دیا جائے گا. ڈنمارک میں کرونا وائرس ابھی قابو میں ہے اور صحت کا شعبہ حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے. آمدنی کے علاوہ ، کسی بھی کاروبار کے اخراجات ہوتے ہیں۔ اس پر غور کریں کہ گیس کی افزائش نسل کیا ہے: جب ALS بازوؤں یا پیروں میں شروع ہوتا ہے تو ، اسے اعضاء آغاز ALS کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا کسی کو قمیض کو لکھنے یا بٹن لگانے میں دشواری ہوسکتی ہے ، یا ایسا لگتا ہے کہ چلتے پھرتے یا دوڑتے ہوئے ٹرپ کر رہے ہیں یا ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ پہلے مریضوں میں جہاں تقریر متاثر ہوتی ہے ، اس بیماری کو بلبر آغاز ALS کہا جاتا ہے۔ Binomo پر ٹریڈنگ کس طرح سے کام کرتی ہے؟ ،ڈے ٹریڈنگ کے احکامات چاہے آپ اپنی چھوٹی لیگ ، سیمی نواز ٹیم ، یا اسٹریمنگ پلے بہ کھیل کیلئے کچھ بنا رہے ہو ، ایڈوب کے ڈے ٹریڈنگ کے احکامات بعد ان 15+ ریڈی میڈ اسپورٹس ویڈیو ٹیمپلیٹس کے بعد آپ کے ویڈیوز کو وہ تمام اضافی کنارے ملیں گے جن کی انہیں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ہجوم والے کھیت میں۔ ہدایت Olymp Trade کرنسی ٹریڈنگ :بروکرج فرموں پر رپورٹیں شاپ لاکٹ: ہارڈ ویئر بنانے والوں کے لئے ای کامرس حل. اس قسم کے انصاف کے استعمال کے لئے غیر جانبدارانہ ڈے ٹریڈنگ کے احکامات معیار کا ہونا ضروری ہے ، جبکہ اس کے لئے قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہئے اس معاملے میں ماہر کی نمائندگی کی ضرورت ہوتی ہے ، یعنی وکیل کی۔ اجناس کی تجارت کے ایک اہم فوائد میں اضافہ سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت ہے اور گرتی ہوئی اثاثوں کی قیمتیں۔ اس کے ذریعہ ، ہمارا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جانے کا اختیار موجود ہے طویل or مختصر. اس کے برعکس ہے روایتی حصص خریدنا ، جس کے تحت آپ صرف منافع کما سکتے ہیں جب کمپنی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اوہ ، اور ہم انٹرپرائز کرتے ہیں۔ 2. ایکسل ڈوپلیکیٹس کی خصوصیت کو تلاش کریں. سائٹ ڈے ٹریڈنگ کے احکامات گراؤنڈ جائزہ: ایک میزبان جس پر آپ اعتماد کرسکتے ہیں. پی ٹی آئی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروا چکی ہے، شبلی فراز. فوری توثیق کو استعمال کرنے کے ل you ، آپ کو گوگل سرچ کنسول کے توسط سے اپنے کاروبار کی تشکیل اور توثیق کرنی ہوگی۔ بلک توثیق صرف ایک سے زیادہ (کم از کم 10 یا اس سے زیادہ) کاروباروں کے انتظام کرنے والے اکاؤنٹس کے لئے دستیاب ہے۔ شہر سابق شوروم قیمت دہلی روپے 40،907 کے بعد ممبئی روپے 41،981 آگے بنگلور روپے 42،466 کے بعد حیدرآباد روپے 44،174 کے بعد چنئی روپے 43،261 کے بعد کولکتہ روپے 43،924 کے بعد رکھو روپے 41،981 آگے. ٹیکس کی ایک بہت بڑی اصلاحات جو اس کے متعارف ہونے کے بعد سے ہی روشنی میں رہی ہیں وہ سیکشن 87 اے ہے۔ اس کا اعلان عبوری بجٹ 2019-2020 میں کیا گیا تھا اور اسے فنانس ایکٹ 2013 میں پیش کیا گیا تھا۔ آپ کو بہترین سودا کرنے کے ل 6 6 آن لائن شاپنگ ہیکس۔ 2015 میں یہ ملک بڑی تیزی سے مندی کا شکار ہوگیا تھا ، جی ڈی پی کے ساتھ 2015 کی دوسری سہ ماہی میں سالانہ 4.6 فیصد کمی واقع ہوئی تھی ، اس کی وجہ سے یوکرائن کی دراندازی میں بندھے ہوئے مغربی پابندیوں نے شدت اختیار کرلی۔ Q3 2015 کے لئے جی ڈی پی میں سال بہ سال 2.6 فیصد کمی واقع ہوئی ، اور پھر Q4 2015 ڈے ٹریڈنگ کے احکامات کے لئے 2.7 فیصد گر گئی۔ پھر ، خام تیل کی قیمتوں میں بدلاؤ کے ساتھ ، روسی جی ڈی پی میں نمایاں بدلاؤ دیکھنے میں آیا۔ جی پی ڈی کی نمو Q4 2016 میں مثبت ہوگئی اور تب سے اب تک برقرار ہے۔
urd_Arab
کلمۂ توحید و شہادت کی فضیلت - Charter of Guidance for the Muslim Umma Derived from the Qur'an and Hadith (vol. I) - Minhaj Books کلمۂ توحید و شہادت کی فضیلت فَصْلٌ فِي فَضْلِ کَلِمَةِ التَّوْحِيْدِ وَالشَّهَادَةِ {کلمۂ توحید و شہادت کی فضیلت} 1۔ وَاِلٰھُکُمْ اِلٰـه وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰهَ اِلاَّ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo (البقرۃ، 2 : 163) ''اور تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo'' 2۔ شَهِدَ اللهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًا م بِالْقِسْطِ ط لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo (آل عمران، 3 : 18) ''اللہ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہےo'' 3۔ اَئِنَّکُمْ لَتَشْھَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللهِ اٰلِھَةً اُخْرٰی ط قُلْ لَّآ اَشْھَدُ ج قُلْ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِيْ بَرِیٓئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَo (الأنعام، 6 : 19) ''کیا تم واقعی اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود (بھی) ہیں؟ آپ فرما دیں : میں (تو اس غلط بات کی) گواہی نہیں دیتا، فرما دیجئے : بس معبود تو وہی ایک ہی ہے اور میں ان(سب) چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہوo'' 4۔ اَلَمْ تَرَ کَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَـلًا کَلِمَةً طَيِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَآءِo تُؤْتِيْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِيْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا ط وَیَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo (إبراھیم، 14 : 24، 25) ''کیا آپ نے نہیں دیکھا، اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کہ پاکیزہ بات اس پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیںo وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریںo'' 5۔ اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ ھُوَ ط لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیo (طه، 20 : 8) ''اللہ (اسی کا اسمِ ذات)ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو) اس کے لیے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)o'' 6۔ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ اِلٰـهًا اٰخَرَم لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ قف کُلُّ شَيْئٍ هَالِکٌ اِلَّا وَجْهَهٗ۔ (القصص، 28 : 88) ''اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے(خود ساختہ) معبود کو نہ پوجا کرو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔'' 7۔ قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌo اَللهُ الصَّمَدُo لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْo وَلَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌo (الإخلاص، 112 : 1۔4) 1۔ عَنْ عُبَادَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ وَأَنَّ عِيْسَی عَبْدُ اللهِ وَرَسُوْلُهُ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَی مَا کَانَ مِنَ الْعَمَلِ۔ قَالَ الْوَلِيْدُ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ : مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِیَةِ أَيَّهَا شَائَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔ 1 : أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : الأنبیاء، باب : قوله : یا أھل الکتاب لا تغلو في دینکم، 3 / 1267، الرقم : 3252، ومسلم في الصحیح، کتاب : الإیمان، باب : الدلیل علی من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا، 1 / 57، الرقم : 28، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 313، الرقم : 22727، والبزار في المسند، 7 / 130، الرقم : 2682۔ ''حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بیشک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں، جو حضرت مریم کی طرف القاء کیا گیا اور اُس کی روح ہیں اور جنت و دوزخ حق ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا خواہ اس کے عمل کچھ بھی ہوں۔ ولید، ابن جابر، عمیر، جنادہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل کرے گا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ ایک اور حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں : ''لَا اِلَهَ إِلَّا اللهُ (کا ورد کرنے) والوں پر نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوتی ہے اور نہ ہی قبر میں۔'' اسے امام طبرانی نے ذکر کیا ہے۔
urd_Arab
دبئی ایکسپو: ہندوستان میں سرمایہ کاری کریں ۔ مودی آسام : نا مسجد کا 150 سالہ جشن: فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نمونہ تعلیمی صورتحال بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی: مولانا فیصل رحمانی قطب الاسلام مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی : عدالت افغانستان : طالبان ہوائی اڈوں کے لیے یورپی یونین سے مدد کے طلبگار 2021-11-29 11:54:41 خدابخش لائبریری کے وجود کو خطرہ ،علم دوستوں میں بے چینی کی لہر صابرہ :سب انسپکٹر' کی ' ڈی ایس پی'بیٹی پیرا اولمپکس:ملک کی پہلی خاتون پاورلفٹر'سکینہ خاتون' پانچویں نمبرپر امریکا:مسلمانوں کی آمدپرپابندی نہیں،ایوان نمائندگان میں بل منظور بدعنوانی کے الزام میں سکیورٹی کے سربراہ برطرف Published: 02-10-2021 09:21:00 AM نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دبئی ایکسپو کے آغاز پر ایک پیغام میں کہا کہآج کا ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ کھلے ممالک میں سے ایک ہے-سیکھنے کے لیے تیارہے ، نقطہ نظر کے لیے کھلا ذہن رکھتا ہے ، جدت کے لیے تیار ہے، سرمایہ کاری کے لیے بہترین مقام ہے ۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کریں۔ آج ہندوستان موقع کی سرزمین ہے۔ جو بھی ہندوستانی دبئی میں ہیں ،وہ ہندوستانی پویلین کا رخ ضرور کریں ۔ یاد رہے کہ آج سے دبئی ایکسپو کا آغاز ہوا ہے جو کہ اگلے چھ ماہ تک جاری رہے گا ۔جس میں 194ممالک حصہ لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہندوستانی پویلین کا دورہ کرنے ، معاشی اور ثقافتی تعاون کے ان گنت راستوں کو تلاش کرنے کے لیے ضرور جائیں۔ مودی نے کہا کہ ہمارا ملک ٹیکنالوجی ، تحقیق اور جدت کی دنیا میں بہت ترقی کر رہا ہے۔ہماری معاشی ترقی صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے امتزاج سے چلتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا پویلین کا موضوع ہے 'کھلے پن ، مواقع ، ترقی۔' ہندوستان کی جھلک اور ذائقہجاننے کے لیے پویلین کا دورہ کریں۔ مودی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ ایکسپو متحدہ عرب امارات اور دبئی کے ساتھ ہمارے گہرے اور تاریخی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی ۔ان ہوں نے کہا کہ پچھلے سات سالوں میں حکومت ہند نے معاشی ترقی کو بڑھانے کے لیے کئی اصلاحات کی ہیں۔ ہم اس رجحان کو جاری رکھنے کے لیے مزید کام کرتے رہیں گے۔ ہندوستان کی ثقافت اور ترقی کی جھلک ۔ 6 ماہ تک جاری رہنے والے اس ایکسپو میں ہندوستان کی ثقافت اور ملک میں ترقی کو دکھایا جائے گا۔ اس میں آزادی کے 75 سالوں پر منعقد ہونے والے امرت مہوتسو پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ ایکسپو میں 180 ممالک کے پویلین بنائے گئے ہیں۔ ہندوستان کا پویلین بنانے میں 500 کروڑ خرچ ہوئے ہیں۔ ایکسپو میں ہندوستان سے ٹاٹا گروپ ، ریلائنس ، اڈانی ، ویدانتا ، ایچ ایس بی سی جیسے بڑے ادارے شرکت کررہے ہیں ۔
urd_Arab
احتساب کی بات کرنیوالے سرے محل اور دبئی کے محلات کیوں بھول گئے : چودھری نثار - جیو اردو احتساب کی بات کرنیوالے سرے محل اور دبئی کے محلات کیوں بھول گئے : چودھری نثار اسلام آباد (جیوڈیسک) وزیر داخلہ چودھری نثار کا کہنا ہے کہ حساب کرنے والوں کی اصلیت قوم کے سامنے رکھوں گا، ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو عام کرنا چاہیے، تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی بھی کرپشن کے خلاف مہم چلائے گی، وزارت داخلہ احتسابی ادارہ نہیں ہے، احتساب نیب نے کرنا ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں پاسنگ آؤٹ تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار نے پیپلز پارٹی کی تنقید کے بہت سے پرانے قرض چکائے ، کہتے ہیں جس کی والدہ کا نام پاناما میں ہے وہ دوسروں کو کہتے ہیں پاناما لیکس پاناما لیکس ، کیا آپ دبئی کے محلات اور سرے محل بھول گئے ہیں۔ چودھری نثار نے کہا پی پی کا کرپشن کے خلاف مہم چلانا ایسا ہی ہے جیسے بی جے پی مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائے۔ انہوں نے کہا ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو عام کرنا چاہیے۔ امریکا نے پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا، کابینہ میں کمیشن رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ کروں گا۔ چودھری نثار نے کہا کالیا اور خانانی کے ذریعے اربوں کی منی لانڈرنگ ہوئی، کچھ چیزیں جو سامنے آئیں وہ تشویشناک ہیں۔ کراچی : سعود آباد میں پراسرار بیماری کا حملہ جاری، مزید 1000 مریض ہسپتال داخل وزیراعظم محمد نواز شریف دو روزہ دورے پر بوسنیا روانہ
urd_Arab
فلسفی Archives | سالگرہ Testimonial Category: فلسفی ایک فلسفی ایک ایسا انسان ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے وجود کے جوہر پر عکس کرنے کے لئے پوری طرح وقف کر رکھا ہے۔ اسی کے ساتھ ، اس کی اصل خواہش یہ ہے کہ جو ہو رہا ہے اس کے جوہر کو سمجھنے کی خواہش ہے ۔ لہذا بات کرنا ، زندگی اور موت کے مناظر کے پیچھے دیکھنا ہے۔ حقیقت میں ، اس طرح کے خیالات ایک عام آدمی کو فلسفی میں بدل دیتے ہیں۔ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اس طرح کے خیالات صرف گزرنے کا شوق یا تفریح ​​نہیں ہوتے ہیں ، یہ اس کی زندگی کا معنی ہے یا یہاں تک کہ اگر آپ چاہیں تو ایک پیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عظیم فلسفیوں نے اپنا سارا وقت ان مسائل کو حل کرنے کے لئے صرف کیا جو ان کو پریشان کرتے تھے۔
urd_Arab
سب ججوں کا احتساب ہوگا، چیف جسٹس – Pakistan24 ہوم/Home1/سب ججوں کا احتساب ہوگا، چیف جسٹس سب ججوں کا احتساب ہوگا، چیف جسٹس سپریم کورٹ میں ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کی نگرانی کیلئے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ درخواست گزار وکیل ظفر اقبال نے کہا کہ قانون میں دیے گئے وقت کے تحت ماتحت عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں ۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کے وکیل سے کہا کہ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ہائیکورٹس کی سپروائیزی رول سے مطمئن نہیں تو پھر کیا کریں گے، ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کل مظفر گڑھ کے ایک ماتحت جج سے پوچھا کتنے مقدمات نمٹائے، جج نے بتایا کہ ایک ماہ میں بائیس مقدمات نمٹائے جبکہ ہم بائیس مقدمات روزانہ نمٹاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ جج سے پوچھا مقدمات پر فیصلوں کی رفتار کیوں سست ہے، لاہور ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی سے متعلق کارکردگی درست نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ تڑپ رہے ہیں کہ عدالتوں میں کام نہیں ہوتا، انصاف کیلئے لوگ بلک رہے ہیں کہ انصاف نہیں ہورہا، ہائیکورٹ کی نگران کمیٹیاں ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کو کیوں نہیں دیکھتی، کیا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بلا کر وضاحت طلب کروں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو بتادیں اب سب کا احتساب شروع ہوچکا، سپریم جوڈیشل کونسل مکمل متحرک ہوچکی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کام نہ کرنے والے ججز کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی ہوگی، سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ایک سات ہزار مقدمات نمٹاچکا، سات ہزار مقدمات میں انسانی حقوق سیل کے مقدمات شامل نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مراعات اور گاڑیاں سب کو اچھی لگتی ہیں کام کوئی نہیں کرتا، ملک میں سفارش کی بیماری کو ختم کرنا ہوگا، قاضی کو سفارش کرنا بڑا جرم ہے ۔
urd_Arab
شریف خاندان کو بڑا دھچکا مریم کے بعد ایک اور فیملی ممبر گرفتار – Pakistan TV– Pakistan's #1 News Website in Urdu | Latest Politics … مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی قومی احتساب بیورو نے حراست میں لے لیا ہے ، حراست کے وقت وہ مریم نواز کے ہمراہ موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور یوسف عباس کی گرفتاری چوہدری شوگر ملز کیس میں عمل میں لائی گئی ہے ، نیب کے پاس دونوں کو گرفتار کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔ یوسف عباس کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب وہ مریم نواز کے ہمراہ اپنے تایا نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کرکے واپس لوٹ رہے تھے ، اسی موقع پر مریم نواز کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ یوسف عباس کی حیثیت چوہدری شوگر ملز میں مریم نواز کے فرنٹ مین کی سی ہے اور و ہ بتا چکے ہیں کہ ان کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم وہ مریم نواز کے حوالے کردیا کرتے تھے بتایا جارہا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مریم نوا ز اور عباس یوسف کو نیب ہیڈکوارٹر لاہور منتقل کیا جارہا ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کل دونوں کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 31 جولائی کو چوہدری شوگرملزکیس میں طلبی پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نیب دفتر میں پیش ہوئی تھیں، حسن اورحسین نواز بیرون ملک ہونےکے باعث پیش نہیں ہوئے تھے۔ نیب کی مشترکہ ٹیم نے 45 منٹ تک مریم نواز سے تحقیقات کی تھیں اور سوالنامہ بھی دیا تھا، سوالنامہ میں چوہدری شوگرملزسےمتعلق جواب مانگےگئے تھے۔ نیب نے مریم نوازکو8 اگست کودوبارہ طلب کیا تھا اور ریکارڈ بھی ساتھ لانےکی ہدایت کردی ہے جبکہ حسن اورحسین نواز کو دوبارہ طلبی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔
urd_Arab
عورت کا گھر کون سا؟ شہر بانو - Daleel.Pk عورت کا گھر کون سا؟ شہر بانو بیٹی اپنے گھر کو جنت بنا دینا، ہماری عزت پہ آنچ نہ آنے دینا، باپ کا سر شرم سے مت جھکانا، اس طرح کے ایسے کئی جملے جو ایک مشرقی معاشرے میں بیٹی کو رخصتی سے پہلے سنائے جاتے ہیں، یا سمجھے تو اس کا مائنڈ سیٹ کیا جاتا ہے کہ شادی کے بعد اس کا اصل مقام اس کے شوہر کا گھر اور اس کا سسرال ہی ہوگا، میکہ جو اس کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کا سائبان تھا، اک شادی کے بعد وہ مکمل بیگانہ بنادیا جاتا ہے، جہان بس وہ بعد میں کچھ دنوں کی مہمان یا چند گھنٹوں کی مہمان ہی بن کر جاسکتی ہے. شادی کے بعد سسرال ہی اس کا اصل ٹھکانہ ہے، بس پھر وہ اس نئے مسکن کو اپنا گھر بنانے میں دن رات ایک کر جاتی ہے، نئے لوگوں کو اپنا بنانے میں سالوں گزر جاتے ہیں، اور جس کاغذی رشتے کے ساتھ وہ خونی رشتے بنائے چلی جاتی ہے. وہ ہی رشتہ اگر اس کے لیے بس اک برائے نام کا ہی رہ جائے تو پھر؟ جو اس کی عزت قدر کو اک پاؤں کی جوتی سے بڑھ کر کچھ نہ سمجھے تو؟ جو بس اپنی زمہ داریاں ہی نبھاتا چلا جائے، اولاد کی پرورش عورت کی ذمہ داری اور کمانا مرد کی زمہ داری ہوتی ہے، مگر ان ذمہ داریوں میں وہ کھو جانے والے لمحات احساسات خوشیاں کیا دوبارہ حاصل ہو سکتی ہیں؟ عورت کبھی بھی اپنا پیار سے سینچا گھر خراب نہیں کرسکتی مگر کبھی کبھار حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ وہ سب کچھ تباہ کرنے کے دہانے پہ ہوتی ہے، مگر اس وقت اس کو اپنی اولاد نظر آتی ہے، جس کو اس نے اس دنیا میں لا کر فخرمحسوس کیا تھا کہ وہ اب اک ماں کے مقام پر فائز ہوچکی ہے، اور وہ پھر ایک بےبس لاچار عورت کے روپ میں آکر خاموشی سے واپس اک کمزور ماں کے مقام پر چلی جاتی ہے، جہاں اس کو اپنی اولاد سے زیادہ کوئی عزیز نہیں، نہ عزت نفس نہ کوئی انا، اور جب یہ ہی اولاد بڑا ہو کر اس کو کہہ دے کہ ماں اب میں تم کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، میری فیملی لائف ڈسٹرب ہو رہی ہے، تو اس عورت کے لیے کون سا گھر اس کا اپنا ہوگا، نہ میکہ جو کبھی اس کا تھا ہی نہیں، نہ سسرال جس کو اپنا گھر بنانے میں عمر بیتی، اور اب بیٹے کا گھر بن چکا وہ، تو آخر کار عورت کا گھر ہے کون سا؟ شاید اللہ تعالی نے عورت کو اس درجے پہ فائز کر دیا ہے، جدھر یہ دنیاوی ٹھکانے فضول ہیں، شاید اس کے لیے جنت میں کوئی محل ہی بنا دیا گیا ہوگا، یا قبر ہی اس کا اصل ٹھکانہ ہوگی؟
urd_Arab
کیا GFOS کا مطلب ہے؟ -GFOS کی تعریف | اختصار فائنڈر مسکن › G › GFOS کیا GFOS کا مطلب ہے؟ کیا آپ GFOS کے معنی تلاش کر رہے ہیں؟ مندرجہ ذیل تصویر پر، آپ GFOS کی اہم تعریفیں دیکھ سکتے ہیں. اگر آپ چاہیں تو، آپ کو پرنٹ کرنے کیلئے تصویر فائل بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں، یا آپ فیس بک، ٹویٹر، پنٹرسٹ، گوگل، وغیرہ کے ذریعہ آپ کے دوست کے ساتھ اشتراک کر سکتے ہیں. GFOS کے تمام معنی دیکھنے کے لئے، براہ کرم نیچے سکرال کریں. تعریفیں کی مکمل فہرست حروف تہجی میں ترتیب میں مندرجہ ذیل میز میں دکھایا گیا ہے. GFOS کے بڑے معنی مندرجہ ذیل تصویرGFOS کے سب سے عام استعمال کے معنی پیش کرتا ہے. آپ تصویر فائل کو پی ایس جی فارمیٹ آف آف لائن استعمال کیلئے نیچے کر سکتے ہیں یا ای میل کے ذریعہ اپنے دوستوں کو بھیج سکتے ہیں.اگر آپ غیر تجارتی ویب سائٹ کے ویب ماسٹر ہیں، تو براہ کرم اپنی ویب سائٹ پرGFOS تعریفوں کی تصویر کو شائع کرنے کے لئے آزاد محسوس کریں. GFOS کی تمام تعریفیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، آپ مندرجہ ذیل ٹیبل میںGFOS کے تمام معنی دیکھیں گے. براہ کرم معلوم کریں کہ تمام تعریفیں حروف تہجی میں ترتیب میں درج ہیں.آپ ہر تعریف کی تفصیلی معلومات کو دیکھنے کے حق پر لنکس پر کلک کر سکتے ہیں، بشمول انگریزی اور اپنی مقامی زبان میں تعریف شامل ہیں. GFOS آگ سسیکس کی جھنجری GFOS رفتار کی Goodwood فیسٹیول GFOS روحانی باپ کی روح GFOS سڈنی کے یونانی تہوار متن میں GFOS کھڑے کیا ہے خلاصہ میں ، GFOS ایک مخفف یا مخفف لفظ ہے جو سادہ زبان میں وضاحت کی گئی ہے ۔ اس صفحے کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح GFOS پیغام رسانی اور چیٹ فورم میں استعمال کیا جاتا ہے ، جیسے کہ VK ، انسٹاگرام ، Whatsapp ، اور Snapchat جیسے سماجی نیٹ ورکنگ سافٹ ویئر کے علاوہ. اوپر کی میز سے ، آپ اس کے تمام معنی دیکھ سکتے ہیں GFOS: کچھ تعلیمی شرائط ہیں, دیگر طبی شرائط ہیں, اور یہاں تک کہ کمپیوٹر کی شرائط. اگر آپ ایک اور تعریف کے بارے میں جانتے ہیں GFOS, ہم سے رابطہ کریں. ہم اپنے ڈیٹا بیس کے اگلے اپ ڈیٹ کے دوران اس میں شامل ہوں گے. براہ مہربانی اس بات کو آگاہ کیا جائے کہ ہمارے کچھ الفاظ اور ان کی تعریفیں ہمارے زائرین کی طرف سے پیدا کی جاتی ہیں ۔ لہذا ، آپ کی نئی الفاظ کی تجویز انتہائی خوش آمدید ہے! واپسی کے طور پر ، ہم کی مخفف کا ترجمہ کیا ہے GFOS ہسپانوی, فرانسیسی, چینی, پرتگالی, روسی, وغیرہ. آپ مزید طومار کر سکتے ہیں اور GFOS کو دیگر 42 زبانوں میں معنی تلاش کرنے کے لیے زبان مینیو پر کلک کریں ۔
urd_Arab
پی ٹی آئی کارکنان پارٹی ڈھانچے کی تحلیل، نئی تشکیل - پاکستان پر ناراض - Urdu Asia News لاہور: حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو ختم کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وفاقی وزرا کی بطور پارٹی عہدیداروں کی تقرری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بنیادی وجہ. خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حالیہ شکست کے لیے۔ دریں اثنا، ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے اور دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے تاکہ نچلی سطح پر کارکنوں اور ووٹروں کے ساتھ فعال روابط قائم کیے جا سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ماڈل میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وزیر اسد عمر کو پارٹی کا مرکزی جنرل سیکرٹری، سابق وفاقی وزیر عامر محمود کیانی کو ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، وزیر تعلیم شفقت محمود کو پنجاب کا صدر، صنعت کاروں کے لیے صوبائی وزیر مقرر کیا ہے۔ . اور وزیر پیداوار خسرو بختیار جنوبی پنجاب کے صدر، وزیر دفاع پرویز خٹک کو کے پی کے صدر، وزیر بحری امور علی زیدی سندھ کو اسپیکر اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو بلوچستان کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ وزراء کی اپنی ملازمتوں میں ناکامی کے باوجود نئے قائدین کے طور پر تقرری پر تعزیت پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سب کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے صرف ان لوگوں کو سزا ملنی چاہیے جو ان کے حوصلے بلند کرتے ہیں۔ پنجاب میں پارٹی کے ایک ناراض رہنما نے کہا، "ہم پارٹی کے صدر عمران خان کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کور کمیٹی کے ذریعے ملک بھر میں پارٹی تنظیموں کو تحلیل کرنے کے پیچھے کی وجہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔" فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، پنجاب میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی کو آئندہ بلدیاتی انتخابات اور بالآخر عام انتخابات سے قبل بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور یہ کہ فنکشنل سسٹم کو ختم کرنے سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ "پارٹی کے پی میں ایل جی الیکشن ہار گئی کیونکہ حکومت اعلیٰ ایم پی ایز کے ہاتھوں صاف گورننس اور بدانتظامی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی، جنہوں نے اپنے پسندیدہ افراد کو ٹکٹ دلانے میں مدد کی۔ لیکن، اس کے بجائے پارٹی کے منتظمین کو سزا دی گئی ہے،'' ایک اور سینئر رہنما نے افسوس کا اظہار کیا۔ مرکز اور صوبوں میں وفاقی وزراء کی بطور پارٹی سربراہ تقرری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ یہ وزراء اپنے اپنے علاقوں میں اپنی کارکردگی کو درست ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب انہیں اضافی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایک سینئر لیڈر نے طنز کرتے ہوئے کہا، "سرکاری عہدیداروں نے بھی سیاسی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور بظاہر اب تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔" "حکومتی کارکن خراب طرز حکمرانی کے ذمہ دار تھے، لیکن یہ سیاسی کارکن ہیں جنہیں قلم کی ضرب سے ان کے قائدانہ کردار سے ہٹا دیا گیا ہے۔" ایک بانی رکن، جن کا پارٹی میں قائدانہ کردار نہیں تھا، نے کہا کہ پی ٹی آئی لاکھوں ارکان پر مشتمل ہے، لیکن حیران کن طور پر چند کارکنوں کو متعدد کام سونپے گئے ہیں۔ شفقت محمود کی پی ٹی آئی پنجاب کے صدر کے طور پر تقرری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ایک صوبائی رہنما نے کہا کہ پارٹی وزیر تعلیم کی قیادت میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ہار گئی تھی۔ رابطہ کرنے پر جناب محمود نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارٹی کو نچلی سطح پر دوبارہ منظم کرنے اور دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ایک نئی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یہاں پارٹی کی تنظیم نو کے لیے آئے ہیں تاکہ مستقبل کے انتخابی چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔" انہوں نے کہا کہ پارٹی کو ضلع، تحصیل اور یونین پریشد کی سطح پر دوبارہ منظم کیا جائے گا اور اس میں ان تمام سرگرم اراکین کو شامل کیا جائے گا جنہیں پہلے نظر انداز کیا گیا تھا۔ محمود نے کہا کہ وزیراعظم نے پارٹی ماڈل بھی تبدیل کر دیا ہے کیونکہ پہلے کوئی صوبائی صدر نہیں تھا، اب انہیں پی ٹی آئی پنجاب کا صدر اور خسرو بختیار کو جنوبی پنجاب کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تبدیلی پارٹی کی تنظیم نو میں بھی نظر آئے گی۔ لاہور میں پی ٹی آئی کی قیادت کرنے کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں جب پارٹی کے ایل جی الیکشن ہار گئے، مسٹر محمود نے کہا، "2015 اور 2021 میں بہت فرق ہے۔" انہوں نے لاہور میں پارٹی کو اچھی طرح منظم کرنے اور امیدواروں کو منصفانہ ٹکٹ دینے کا دعویٰ کیا۔ رابطہ کرنے پر پنجاب حکومت کے ترجمان حسن کھروار نے کہا کہ وزیر اعظم خان نے نظم و ضبط لانے اور ابتدائی مسائل کو حل کرنے کے لیے پارٹی تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کی کور کمیٹی میں اس معاملے پر سنجیدگی سے بحث ہوئی اور فیصلہ اجتماعی ضمیر کی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "پہلے سے خدمت کرنے والے پارٹی رہنما تنظیم کے جائزے کے بعد اپنی جگہیں واپس لے سکتے ہیں۔"
urd_Arab
ماں کی غفلت؟ دو بھائی جھلس کر جاں بحق - نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں واقع ایک گھر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دو کمسن بھائی جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ساگر پور تھانے کی حدود میں واقع ایک گھر میں ہفتے کے روز دو بچوں کی لاشیں ملنے کا واقعہ پیش آیا۔ بچوں کی ہلاکت کی اطلاع علاقے میں پھیلی تو افرا تفری مچ گئی جبکہ مکین خوف و ہراس میں بھی مبتلا ہوئے، اسی دوران ساگر پور تھانے کی پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے بچوں کی موت کے حوالے سے تحقیقات شروع کیں۔ علاقہ مکینوں نے پولیس کو بیان دیا کہ مکان کے گراؤنڈ فلور میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کو پڑوسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجھانے کی کوشش کی۔ جس کے کئی گھنٹے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچیں اور انہوں نے اوپر کی منزل پر پھنسے لوگوں کو ریسکیو کیا۔ آگ بجھانے میں کافی وقت لگا جس کے بعد مکان میں جاکر دیکھا تو اندر دو بھائی شری آنسر اور آیوش کی لاشیں موجود تھیں، مرنے والوں کی عمریں پانچ اور 6 سال تھیں۔ پولیس کے مطابق بچوں کے والد چپل بنانے کا کام کرتے ہیں، گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی، جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تو ماں دروازے کو باہر سے تالا لگا کر سامان لینے گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ دونوں اندر ہی پھنسے رہ گئے تھے۔ میڈیکل رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں بھائیوں کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔
urd_Arab
پہلی اشاعت: 08 مئ ,2020: 12:00 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 08 مئ ,2020: 08:50 دن GST سعودی عرب نے عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ عراق کی نئی حکومت ملک کے اندرونی معاشی اور سیکیورٹی مسائل حل کرنے میں کامیاب رہنے کے ساتھ پڑوسی ممالک کےساتھ متوازن تعلقات استوار کرے گی۔ دوسری طرف سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے عراق کے نومنتخب وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کو کابینہ تشکیل دینے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کا خیر مقدم کرتی ہے۔ سعودی عرب کو توقع ہے کہ نئی حکومت عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرتے ہوئے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ بیان میں سعودی عرب نے عراق کی خود مختاری، سالیمت اور سلامتی کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ الریاض حکومت بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ توقع ہے کہ عراق کی نئی حکومت اور وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات آگے بڑھائیں گے اور دنوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط اور مشترکہ مفادات کے لیے مل کرکام کریں گے۔ ادھراسی سیاق میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عراق کے نو منتخب وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کو کابینہ تشکیل دینے پرمبارک باد پیش کی ہے۔ شاہ سلمان نے عراق کے نو منتخب وزیراعظم کو ایک مکتوب میں کابینہ تشکیل دینے اور پارلیمنٹ سے اس کی توثیق میں کامیبابی پر مبارک باد پیش کی۔
urd_Arab
ڈی ڈی سی اے کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ | Chauthi Duniya Urdu News Website Home اسٹوری-6 ڈی ڈی سی اے کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس نے بہتوں کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا ہے تو کئی ایک کے کیریئر کو برباد کردیا ہے۔ تازہ معاملہ دلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کا ہے۔ اس میں جہاںایک طرف مرکزی وزیر خزانہ اور سابق ڈی ڈی سی اے صدر ارون جیٹلی ہیں، وہیں دوسری طرف دلی کی عام آدمی پارٹی کی سرکار اور خود بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد بھی اس میں شامل ہیں۔اس میں کون جیتتا ہے،کون ہارتا ہے یہ تو الگ بات ہے ۔فی الحال کرکٹ میں سیاست اور سیاست میں کرکٹ کا گھمسان عروج پر ہے۔ عام آدمی پارٹی کا دہلی سکریٹریٹ پر سی بی آئی چھاپے پر کہنا ہے کہ سی بی آئی وہ فائلیں حاصل کرنے کے لئے چھاپا مارنے آئی تھی، جس میں ڈی ڈی سی اے میں بد عنوانی سے جڑی ایک حالیہ رپورٹ کی کاپی رکھی تھی۔' آپ 'نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر دلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسو سی ایشن ( ڈی ڈی سی اے) کے صدر (1999-2013) اور پھر ایک سال ڈی ڈی سی اے کے پیٹرن ان چیف کے عہدے پر رہنے کے دوران کئی طرح کی بے ضابطگیاں برتنے کاالزام لگایا ہے۔ آپ کے لیڈروں کا الزام ہے کہ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کی تعمیر نو اور مرمت کے لئے ڈی ڈی سی اے نے 24کروڑ روپے کابجٹ الاٹ کیا تھا ،لیکن خرچ کر دیئے گئے 114 کروڑ روپے۔ آپ کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی سی اے نے پانچ ایسی کمپنیوں کو ادائیگی کی ہے جن کے رجسٹرڈ دفتر، آفیشیل ای میل ، ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر ایک ہی آدمی تھے۔ آپ لیڈروں کا کہنا ہے کہ جیٹلی بتائیں کہ ان کا اور ڈی ڈی سی اے کے خزانچی نریندر بنا کے بیچ کیا تعلق ہے۔ ڈی ڈی سی اے نے کئی بار 20 ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی کیش میں کی۔ جبکہ یہ قانون کے مطابق نہیں ہو سکتا ہے۔ ڈی ڈی سی اے کی ٹیموں کی طرف سے کھیلنے والوں میں صرف امیروں کے بچے ہی ہیں۔ دلی سرکار نے ڈی ڈی سی اے میں دھاندلی اور بد عنوانی کے الزام کی جانچ کے لئے ایک سہہ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی۔ جس کی قیادت دلی سرکار کے ویجلنس محکمہ کے چیتن ساندھی نے کی تھی،ساندھی نے ڈی ڈی سی اے میں گھوٹالوں کا خلاصہ کرتے ہوئے دلی سرکار کو سجھاﺅ بھی دیا ۔ چیتن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ارون جیٹلی دلی کرکٹ بورڈ سے سالوں تک جڑے رہنے کے بعد 2013 میں اس سے الگ ہو گئے۔ ان کے تعینات کئے ہوئے کئی افسر اب بھی وہاں ہیں۔ جانچ رپورٹ میں ارون جیٹلی کا سیدھے طور پر نام ؛نہیں لیا گیا ہے۔ لیکن رپور ٹ میں 2002 سے اب تک ہوئی سبھی مشکوک سرگرمیوں کی جانچ کی گئی ہے۔ ڈی ڈی سی اے نے فیرز شاہ کوٹلہ کی از سر نو تعمیر کا فیصلہ لیا تھا جو 2002سے 2007 تک چلی ۔ اس میں 24کروڑ روپے خرچ ہونے تھے،لیکن خرچ 114 کروڑ روپے ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اسٹیڈیم کے زیادہ تر کاموں کے لئے ٹینڈر نکالے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ڈی سی اے نے غیر قانونی طور سے اسٹیڈیم میں 12کارپوریٹ باکس بنائے، جو مناسب پروسیس کے بغیر کمپنیوں کو لیز کر دیئے گئے۔ رپور ٹ کے مطابق اسٹیڈیم کی تعمیر نو میں شامل زیادہ تر کمپنیاں ڈی ڈی سی اے کے افسروں کی فرنٹ کمپنیاں ہیں، اسی لئے بجٹ جان بوجھ کر کئی گنا بڑھایا گیا۔ ڈی ڈی سی اے فیروز شاہ اسٹیڈیم کو شہری ترقیاتی وزارت سے لیز پر لے کر چلتا ہے۔ اس کے بدلے ڈی ڈی سی اے، وزارت کو ہر سال تقریبا 25لاکھ روپے دیتا ہے۔ وزارت کو آج کے ریٹ کے مطابق 16کروڑ روپے سالانہ ملنے چاہئے۔ سابق کرکٹر و ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے بھی ایک ویڈیو کے ذریعہ سے ڈی ڈی سی اے میں بڑا گھوٹالہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ آزاد کا کہنا ہے کہ محض 30سے 40 ہزار روپے کی قیمت والے کمپیوٹر کو ڈی ڈی سی اے نے 11 ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر لئے۔ آزاد نے کہا کہ ڈی ڈی سی اے نے 3ہزار روپے یومیہ کی بنیاد پر پرنٹر کرائے پر لئے۔ جبکہ ایک پرنٹر آسانی سے پانچ سے سات ہزار روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈی ڈی سی اے کے ساتھ 14 ایسی کمپنیوں کے ساتھ ڈیل ہوئی جو عملی طور پر ہیں ہی نہیں۔کہیں کمپنی کے پتے کی جگہ ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے تو کہیں پورا کا پورا پتہ ہی غلط نام پر ہے۔ کہیں دفتر کا پتہ دکھایا گیا تھا، لیکن اس کی جگہ مکان ملا۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے خلاف عام آدمی پارٹی کے سارے الزامات کو بے بنیاد اور سچائی سے دور بتایا ۔امیت شاہ نے دلی کی اروند کجریوال سرکار کے ذریعہ جانچ کمیشن تشکیل کئے جانے کے جواز پر بھی سوال کھڑے کئے۔ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ایس ایف آئی او نے ڈی ڈی سی اے کی بدعنوانی میں جیٹلی کے کسی بھی طرح کی ملوث ہونے کو پہلے ہی خارج کر دیا ہے۔ امیت شاہ نے کمیشن اور اس کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے حیرت کا اظہارکیا کہ ڈی ڈی سی اے کا کام کاج ایک رکنی کمیشن کے دائرے میں کیسے آسکتا ہے؟۔ یہ قانونی بحث کا موضوع ہے۔ دلی اور ضلع کرکٹ ایسو سی ایشن نے اس کے سابق چیف اور وزیر خزانہ جیٹلی کے خلاف مالی بے ضابطگی کے الزاموں کو جو کہ عام آدمی پارٹی نے لگائے ہیں ،کو خارج کرتے ہوئے ان کو سراسر بے بنیاد بتایا ہے۔ ڈی ڈی سی اے کے کارگزار صدر چیتن چوہان نے کہا کہ جیٹلی کو اس تنازع میں گھسیٹنا صحیح نہیں ہے۔ سابق کرکٹر کیرتی آزاد کے ذریعہ لگائے گئے الزامات پر چوہان نے کہا کہ انہیں ایڈوائزری کمیٹی کا ممبر بننے کے لئے کہا گیا تھا لیکن وہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگوں میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ ڈی ڈی سی اے معاملے پر جیٹلی نے دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سمیت 6 لیڈروں پر توہین کا کیس درج کرایا ہے۔ جیٹلی نے کیرتی آزاد کے خلاف کیس درج نہیں کیا ہے۔ جیٹلی نے کجریوال سے 10کروڑ کا ہرجانہ مانگا ہے۔ جیٹلی نے کجریوال ،کمار وشواس، اسوتوش، سنجے سنگھ، راگھو چٹا اور دیپک باجپئی کے خلاف دلی ہائی کورٹ میں توہین کا دیوانی مقدمہ اور پٹیالہ ہاﺅس کورٹ میں توہین کا مجرمانہ مقدمہ دائر کیا ہے۔
urd_Arab
یورپی ملک کا اسرائیل کیخلاف ایسا اقدام جو آج تک کسی اسلامی ملک نے نہیں اٹھایا - سچ ٹائمز ہوم بین الاقوامی یورپی ملک کا اسرائیل کیخلاف ایسا اقدام جو آج تک کسی اسلامی... یورپی ملک کا اسرائیل کیخلاف ایسا اقدام جو آج تک کسی اسلامی ملک نے نہیں اٹھایا آئرلینڈ (سچ ٹائمز) اہم یورپی ملک نے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے اسرائیلی مصنوعات پر مکمل پابندی عائد کردی ہے جبکہ ایسا اقدام سعودی عرب سمیت کسی اسلامی ملک نے ابھی تک نہیں اٹھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی ملک آئرلینڈ نے فلسطین میں موجود غیرقانونی اسرائیلی کارخانوں کے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئرلینڈ نے غاصب کمپنیوں سے کسی بھی قسم کی خدمات لینے کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔ آئرلینڈ کے پارلیمنٹ نے اکثریت رائے کے ساتھ اس حوالے سے بل بھی پاس کیا ہے۔ آئرلینڈ کے سینیٹر فرانسس بلیک نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے کا مقصد غاصب ریاست اسرائیل کے غیرانسانی اقدامات کی حوصلہ شکنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی حمایت کرتا رہے گا۔
urd_Arab
عورت کو شوہر کے کام نہیں کرنے چاہیے کیونکہ ۔۔ - مکالمہمکالمہ عورت کو شوہر کے کام نہیں کرنے چاہیے کیونکہ ۔۔ 26 November 2021ء اداکارہ و ماڈل متھیرا نےکا کہنا ہے کہ عورت کو شوہر کے کام نہیں کرنے چاہیے کیونکہ وہ اُس کی نوکرانی نہیں ہوتی۔ خیال رہے کہ انہوں نے یہ بات نجی ٹی وی چنیل کے پروگرام کے دوران کہی۔ متھیرا کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی رشتہ بدسلوکی پر مبنی ہے تو وہ رشتہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گا اور کبھی نہ کبھی ٹوٹ ہی جائے گا کیونکہ رشتہ بچانے کی کوشش صرف ایک طرف سے کی جارہی ہوتی ہے۔' تفصیلات کے مطابق متھیرا نے ایک نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیا جس میں اُنہوں نے اپنے کیرئیر اور ازدواجی زندگی سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کی۔ اُنہوں نے گھریلو تشدد کے حوالے سے کہا کہ 'اگر کوئی آدمی آپ کو ایک بار مارے گا تو وہ آپ کو دوبارہ بھی مارے گا، وہ کبھی آپ کو مارنے سے نہیں رُکے گا کیونکہ یہ اُس کی عادت بن جائے گی اور ایسا مرد کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوسکتا۔' واضح رہے کہ متھیرا نے اپنی ناکام شادی پر کُھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جب میں نے شادی کی تو میں اتنی دلیر تھی کہ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں گھریلو کاموں میں ایک عام گھریلو بیوی سے دس گنا زیادہ حصہ دوں گی۔'اُنہوں نے کہا کہ 'مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ میں نوکرانی نہیں تھی، شوہر اپنا کام خود بھی کرسکتا ہے، بیوی اُس کی نوکرانی نہیں ہوتی ہے۔' میرکل کے دور کا اختتام: جرمنی میں مخلوط حکومت برسراقتدار آ گئی زکریا یونیورسٹی میں بھی جنسی سکینڈل کی بازگشت،پروفیسر و طالبعلم گرفتار،70 فلمیں برآمد عمرہ کرنے کے لیےکووِیڈ ویکسین کی دونوں خوراکیں لازمی قرار Write My Essay for Me! Can You Write My Essay in 3, 6, or 12 Hours? Assignment Writing Service https://essaydiscount.codes/ Pay Someone To Do Accounting Essay Help 24/7 Pay someone to write my research paper
urd_Arab
وزیر اعظم کا ٹرمپ کو فون اور دورہ پاکستان کی دعوت - مکالمہمکالمہ دنیا اپنے نئے نام گلوبل ویلج سے جانی جا رہی ہے۔ اس عہد میں کسی ملک کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک یا دنیا کے ترقی یافتہ ترین و سپر پاور کے حامل ممالک سے کٹ کر اپنے عوام کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کر سکے۔سیاسی نعرے اور وعدے ایک الگ شے ہے مگر ملک کو حقیقی ترقی دینے اور اپنے عوام کے لیے منافع بخش کاروباری و روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیےامریکہ،یورپ،چین،روس اور دبئی و سعوی عرب جیسےممالک کی ضرورت پڑتی ہے اور پاکستان اپنی اس مجبوری اور ضرورت سے آگاہ ہے۔ اس امر میں کلام نہیں کہ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر طاقت ہے اور اسے اپنے اس اعزاز سے محروم ہونے کے لیے بھی کم از کم ایک نہیں تو آدھی صدی ضرور چاہیے ہو گی۔ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کےنئے صدر کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے جن کی شخصیت بیک وقت کئی خوبیوں اور تنازعات کا مجموعہ ہے۔پاکستان اپنی جغرافیائی ہیئت،ایٹمی طاقت، دنیا کی بہترین فوج اور دنیا کے ذہین اقوام میں سے ایک اپنے دام میں سمیٹنے کے باعث دنیا بھر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس خطے میں امریکہ سمیت یورپ اور دنیا بھر کے معاشی و عسکری مفادات ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے۔اگرچہ پاکستان میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ہیلری کلنٹن امریکی صدر بن جائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں تو پاکستان سمیت دنیا بھر کو انہی کے ساتھ معاملات چلانے ہیں۔ یاد رہے کہ بدھ کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی خواہش پر تصفیہ طلب مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق بدھ کو وزیراعظم نواز شریف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا اور انھیں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔وزیراعظم نواز شریف سے بات کرتے ہوئے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے آپ جو بھی کردار چاہتے ہیں وہ ادا کرنے پر تیار ہوں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزیدکہا کہ وزیراعظم نوازشریف بہترین ساکھ رکھتے ہیں اور زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کے اثرات ہر شعبہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت پر امریکہ کے منتخب صدر نے کہا کہ وہ شاندار ملک کے بہترین لوگوں اور خوبصورت مقامات کا دورہ کرنا پسند کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نواز شریف سے بات چیت میں ان سے جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیراعظم آپ سے بات کرتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ ایک ایسے شخص سے بات کر رہا ہوں جسے کافی عرصے سے جانتا ہوں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کا ملک بہت حیران کن ہے اور پاکستانی ذہین ترین لوگوں میں سے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا کہ وہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے بھی جب چاہیں انھیں فون کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی انتخاب میں صدر منتخب ہونے پر وزیر اعظم نوازشریف نے ٹرمپ کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ آپ کا انتخاب یقیناً امریکی عوام اور جمہوری اقدار، آزادی، انسانی حقوق اور آزادانہ کاروبار میں عوام کے دیرینہ یقین کی فتح ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کی یادگار فتح اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امریکی عوام کو آپ کی قیادت، بصارت اور اپنے عظیم ملک کی خدمت کے جذبے پر کتنا اعتماد ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ سب سے زیادہ حل طلب ہے ،اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا اور یوں سلگتا رہا تو ایک دن خدا نخواستہ یہ پورا خطہ راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے فون پہ بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے مسائل کے حل کے لیے جس عزم اک اظہار کیا وہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد بھی اسی عزم و حوصلے کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا میں قیام امن کے لیے امریکی پالیسیوں پر بھی نظر ثانی کریں گے، ہم اس بات پر بھی امریکی صدر کے شکر گذار ہیں کہانھوں نے پاکستانی عوام کو دنیا کے ذہین ترین عوام میں سے تسلیم کیا ہے۔ بے شک دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سفارتی آداب کے تحت ہی تھی، یہ مگر ضروروی ہے کہ جس سفارتی تکلف کے تحت ڈانلڈ ٹرمپ نے مسائل حل کرنے کی یقنین دھانی کرائی وہ عملاً بھی ایسا ہی کریں ۔ہمیں امید ہے ٹرمپ جلد پاکستان اور اس خطے کا دورہ کریں گے نیز بالخصوص ایشیا کے لیے اپنا ایسا زیرک نمائندہ اپنی کابینہ میں منتخب کریں گے جو آنے والے ایام میں اس خطے میں امن کے قیام کے لیے قابل عمل پالیسی دے سکے۔
urd_Arab
ٹرمپ کتا ہے ، شہادت قبول ہے غداری نہیں کریں گے :فلسطینی صدر محمود عباس - Siasat.pk Urdu News - Latest Pakistani News around the clock ٹرمپ کتا ہے ، شہادت قبول ہے غداری نہیں کریں گے :فلسطینی صدر محمود عباس تفصیلات کے مطابق پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ کوئی ڈیل قابل قبول نہیں ہے، انکا کہنا تھا کہ ٹرمپ کتا ہے اور کتے کا بچہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں یا یروشلم کی دیواروں پر فلسطینی پرچم لہرائیں گے یا شہید ہو جائیں گے انکا کہنا تھا " مجھے بار بار واشنگٹن سے فون آ رہے ہیں، میں کال نہیں سن رہا نہ میں سنوں گا، میں ہر بار انکار کروں گا اور ہم اس انکار کی قیمت چکانے کو تیار ہیں، نوجوانوں کو اب حوصلہ کرنا ہے، دباؤ بڑھے تو مزاحمت بڑھانا پڑتی ہے" انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے کہا جا رہا ہے میں بیوقوفی کر رہا ہوں اور میں اس انکار کی قیمت چکاؤں گا لیکن میں تیار ہوں، ہوسکتا ہے زیادہ دیر زندہ نہ رہوں مگر غدار ہونے سے بہتر ہے شہید ہو جاؤں " حماس اور دوسری تنظیموں سے مخاطب ہوتے ہوئے انکا کہنا تھا کوئی بھی مدد کو آنا چاہے تو اسکے لئے دروازے کھلے ہیں
urd_Arab
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2020ء) ڈومیسٹک ہاکی کا پریمیئر ایونٹ قومی سینئر ہاکی چیمپئن شپ کا چھیاسٹواں ایڈیشن 3 سے 15 نومبر تک ماری پیٹرولیم ہاکی اسٹیڈیم ، ایوب پارک ، راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔ پینسٹھویں قومی سینئر ہاکی چیمپیئن شپ کی درجہ بندی کے مطابق چیمپیئن شپ کے چھیاسٹویں ایڈیشن کے لئے کوالیفائی کر نے والی ٹیموں میں نیشنل بینک آف پاکستان، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاکستان واپڈا،پاکستان آرمی، پی آئی اے، پاکستان نیوی، پورٹ قاسم اورپاکستان پولیس شامل ہیں چیمپیئن شپ ایف آئی ایچ کے جاری کردہ ٹورنامنٹ کیقواعد و ضوابط کے مطابق کھیلی جائے گی۔ ٹرے چیمپیئن شپ کی دوٹاپ ٹیمیں سینئر ہاکی چیمپین شپ میں کوالیفائی کریں گی۔ جس کے ساتھ قومی سینئر ہاکی چیمپین شپ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد 10 ہوجائیگی۔
urd_Arab
عمران خان نے ثابت کردیا کہ چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پرمسلط کیا گیا ہے، ترجمان (ن) لیگ - ایکسپریس اردو حکومتی قوت سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے پر عمران خان کا نام سیاہ حروف میں لکھا جائے گا، ترجمان (ن) لیگ عمران خان نے ثابت کر دیا کہ چھوٹے آدمی کو بڑی کرسی پر مسلط کر دیا گیا ہے، ترجمان مسلم لیگ (ن)۔ فوٹو:فائل
urd_Arab
پلے کیا رہے گا؟ ,Asif afan Column, Wednesday 14 2021- Roznama Dunya بریکنگ :- لاہور:ریلوےلائن کےقریب کچرےکےڈھیرسےنومولودکی لاش ملی ہے،پولیس بریکنگ :- لاہور:علاقہ مکینوں نےلاش دیکھ کراطلاع دی،پولیس بریکنگ :- لاہور:لاش تحویل میں لےکرقانونی کارروائی شروع کردی،پولیس پلے کیا رہے گا؟ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہنے والے شہباز شریف کو ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم سے شکایت ہے کہ اس نے تفتیش کے دورا ن ان کی تذلیل کی اور مذاق اڑایا۔حکمران ماضی کے ہوں یا دور ِحاضر کے ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ غریبوں کے حق کے لیے لڑتے لڑتے یہ امیر سے امیرتر کیسے ہوتے چلے جاتے ہیں اور جب ان کی امارت ماضی کی چغلی کھاتی ہے تو یہ کیسی کیسی توجیہات اور جواز گھڑتے نظر آتے ہیں ۔ مال و دولت کے انبار ہوں یاوسیع و عریض کاروبار'ملکی و غیر ملکی لمبی چوڑی جائیدادیں ہوں یابینک اکائونٹس یا ملازموں اور دوستوں کے نام پر بوگس اکائونٹس میں ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی بھرمار'ان کے پاس سبھی الزامات کا کوئی نہ کوئی جواب ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ ان کی فیکٹریاں ہوں یا جائیدادیں' اکائونٹس ہوں یا دیگر کاروبار'سبھی انڈے 'بچے دے رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ عام آدمی کسی چھوٹے موٹے کیس میں پکڑا جائے تو دو چار دن کے ریمانڈ کے بعد اس کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور جب اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو تفتیش کے نام پر جس ریمانڈ گردی کا اسے سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ ملزم کی حالتِ زار سے لگایا جا سکتا ہے۔ اکثر تو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے' جبکہ جسم پر ظاہری اور پوشیدہ تشدد کے نشانات گواہی دیتے ہیں کہ اس ستم رسیدہ کے ساتھ کیا سلوک ہو اہے' دوسری طرف ملکی خزانے کا صفایا کرنے والوں سے لے کر وسائل کو بھنبھوڑنے والوں تک'بھتہ خوروں سے لے کر ٹیکس خوروں اور عوام کی فلاح و بہبود کا پیسہ کنبہ پروری اور اللوں تللوں پر اڑانے والوں تک' سبھی زیر حراست کئی کئی ہفتوں کے ریمانڈ کے بعد جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو ان کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ کلف لگی قمیص شلوار اور واسکٹ زیب ِ تن کیے ہوئے' چم چم کرتے جوتے' سلیقے سے بنائے گئے بال اور تازہ شیو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ پیشی بھگتنے نہیں بلکہ کوئی فیتہ کاٹنے آئے ہیں۔ نیب کی اسیر ی کے دوران مریم نواز شریف جب پیشی پر تشریف لاتی تھیں تو پروٹو کول سے ہر خاص وعام بخوبی اندازہ لگا سکتا تھا ' یعنی جتنا بڑا ملزم اتنا بڑا پروٹوکول۔ اگر اسیر سیاستدانوں پر پیشی پر آنے سے پہلے ان کے گیٹ اپ اور میک اپ پر پابندی لگا دی جاتی تو ان کی شکلیں پہچانی نہ جاتیں۔ اپنی اصل شکلیں چھپانے کے لیے سب نقاب کر کے پیشیوں پر آیا کرتے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو تا کہ پیشی کے بعد عدالتوں کے باہر یہ مجمع نہ لگاسکتے اور نہ ہی لمبے چوڑے بھا شن دے سکتے۔ یہ التجا کرتے کہ آئندہ ایسے ملزموں کوخاموشی سے لایا جائے اور خاموشی واپس لے جایا جائے۔ زرداری صاحب اور ان کے شریک مقدمہ ہوں یا شریف برادران سمیت دیگر نیب اسیر، سب کا کمال یہ ہے کہ ان کے ہاتھ بھی صاف ہیں اور ملکی خزانہ بھی صاف ہے۔ہاتھ کی اس صفائی پر انہیں کوئی میڈل تو ضرور ملنا چاہیے کہ کس مہارت سے ملک وقوم کے وسائل پر ہاتھ بھی صاف کرتے رہے اور دامن کو بھی صاف رکھا۔گویا ؎ تم قتل کرو ہوکہ کرامات کرو ہو ان سماج سیوک رہنماؤں کی کرامات تو ہر دور میں عوام دیکھتے اور بھگتتے چلے آئے ہیں ۔یہ اتنے پہنچے ہوئے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا احتسابی ادارے'کوئی ان کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکا۔جزا اور سزا کا نظام ہو یا مکافات عمل کا،ان سبھی کے درمیان تاحال آنکھ مچولی جاری ہے۔اس پر کمال یہ کہ نیب بنانے والے ہی اس احتسابی ادارے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ گویا چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوں کہ یہ ادارہ ہم نے اپنے لیے نہیں بلکہ مخالفین اور حریفوں کو زیرِ عتاب رکھنے کے لیے بنایا تھا۔ نواز شریف تو کئی بار اس پچھتاوے کا اظہار کر چکے ہیں کہ کاش وہ آرٹیکل 62/63 ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی پیشکش مسترد نہ کرتے۔ کھال اور گردن بچانے کے لیے اب یہ ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے لیے سرگرم ہیں اور گٹھ جوڑ پر آمادہ ہیں۔ نواز شریف سے لے کر بے نظیر تک' مشرف سے لے کر آصف زرداری تک ہر دور میں مفادات کے ماروں نے ملک و قوم کی دولت اور وسائل کے بٹوارے سے لے کر اقتدار کے بٹوارے تک' ایک دوسرے کی بڑی سے بڑی واردات سے چشم پوشی کی روایت کو دوام بخشا' البتہ فیس سیونگ اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو چور' ڈاکو' لٹیرا کہنے پر کوئی ممانعت نہیں تھی بلکہ یہی انڈر سٹینڈنگ رہی ہے ۔آج کل پھر سیاسی اکھاڑے میں نورا کشتی جاری ہے۔ ایک دوسرے کو چور کہنے' سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعوے اور بڑھکیں مارنے والے اپنی کھال اور گردن بچانے کیلئے ایک دوسرے کے معاون اور ایک دوسرے کے دست و بازو بننے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ زرداری اور شریف برادران نے ایک دوسرے پرکون سا سنگین اور رنگین الزام نہیں لگایا ۔ میثاق جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہونے والے ہی جمہوریت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتے رہے ہیں۔یہ گٹھ جوڑ عمر عزیز کی 13بہاریں دیکھ چکا ہے جبکہ ان بہاروں کی قیمت عوام نے نجانے کتنی خزائوں کی صورت میں چکائی ہے۔ اب جبکہ سبھی کا سب کچھ عیاں ہو چکا ہے۔ نواز شریف اور زرداری حکومت وقت اور احتساب کی پکڑ میں نہیں بلکہ اپنے اعمال کی پکڑ میں آ چکے ہیں۔ یہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ سزا اور جزا کا عمل' اعمال کے نتیجے میں ہی حرکت میں آتا ہے اور کیسے ممکن ہیں کہ اعمال بد ہوں اور قانونِ فطرت خاموش رہے؟رب کی نافرمانیاں ہوں یا قوم سے بدعہدیاں اور جفائیں ہوں،خیانت اور ظلم و جبر کے کارِ بد میں ہاتھ رنگے ہوں تو کوئی قانونِ فطرت کی گرفت سے کیسے بچ سکتا ہے؟ آسمانی فیصلوں کے آگے زمینی عدالتیں اور وکالتیں بے معنی ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یاد رہے ! اگر ملک و قوم کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے اب بھی بچ گئے تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔ نہ یہ نظام رہے گا اور نہ ہی نظام چلانے والے کیونکہ جس معاشرے میں سب کچھ چلتا ہے' وہاں کچھ بھی نہیں چل سکتا۔ کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کا جھانسہ دیا تو کسی نے' قرض اُتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگا کر اپنی دنیا سنوار لی ۔کسی نے سب سے پہلے پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر ملک و قوم کو نہ صرف پرائی جنگ کا ایندھن بنا ڈالا بلکہ اس جنگ کیـ بائی پروڈکٹس کو طولِ اقتدار سے لے کر استحکامِ اقتدار تک خوب استعمال کیا اوربلا شرکت غیرے اقتدار کی وہ موجیں اڑائیں کہ الامان والحفیظ۔کسی نے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دے کر عوام سے وہ انتقام لیا کہ اخلاقی قدروں سے لے کر سماجی انصاف تک سبھی کی چولیں ہلا ڈالیں۔لوٹ مار اور مال بنانے کا نِت نیا طریقہ اور حربہ اختیار کیا کہ عقل دنگ رہ جائے۔لانچوں پر کرنسی نوٹوں کی نقل و حمل سے لے کرفیکٹریوں اور ملوں کوضربیں دینے کی کیسی کیسی واردات ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کرپشن کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے اقتدار کا تحفظ کل بھی میسر تھا اور آج بھی دستیاب ہے۔لوٹ مار اور مار دھاڑ میںرکاوٹ بننے والا کیسا کیسا سربلند 'سرنگوں ۔میرٹ شرمسار اور گورننس آج بھی منہ چھپائے پھرتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت بھی ایسے الزامات سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ احتساب کے لیے مطلوب کوئی وزیر ہو یا مشیر 'سرکاری بابو ہو یاکوئی بااثر شخصیت،سبھی نازاں اور شاداں دکھائی دیتے ہیں ۔کوئی ایوان وزیراعظم میں پناہ گزیں ہے تو کوئی گاڑی پر لگے جھنڈے کو ڈھال بنائے بیٹھا ہے۔کوئی ایوانِ وزیراعلیٰ میں بیٹھا تقرریوں اور تبادلوں کی تجارت کر رہاہے تو کوئی کہیں اور راہ چلتی بدنامیاں اکٹھی کررہا ہے۔ اگر یہ سبھی بچ گئے تو ملک و قوم کے پلے کیا رہ جائے گا؟
urd_Arab
'مرڈر2 '، قابل اعتراض فلم کے ساتھ مہیش بھٹ پھر خبروں میں مہیش بھٹ بالی ووڈ فلموں کی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں بخوبی اس بات کا علم ہے کہ اپنی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ کس طرح بیچا جاسکتا ہے۔ انہیں خبروں میں بھی رہنا آتا ہے۔ ان دنوں بھی مہیش بھٹ اپنی آنے والی فلم 'مرڈر ٹو' کے حوالے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ 'مرڈر ٹو'کے بارے میں کہاجارہا ہے کہ یہ فلم اپنے پہلے سیکوئل سے بھی زیادہ 'قابل اعتراض' ہوگی۔ مہیش بھٹ نے اس فلم کے بارے میں بیان دیا ہے کہ ان کا فلم کے ڈائریکٹر موہت پوری کے ساتھ پوسٹر پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ مہیش کا کہنا ہے کہ وہ جس پوسٹر کو مین پوسٹر کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں، موہت اس سے انکاری ہیں۔ اس تنازع کو ختم کرنے کے لئے مہیش بھٹ نے ایک منفرد طریقہ تلاش کیا ہے۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ 'فیس بک' پر عام ناظرین کے لئے فلم کے پانچ پوسٹر اپ لوڈ کئے ہیں جن کے ساتھ وزیٹرز کے لئے ایک پیغام بھی درج ہے جس میں لکھا ہے کہ آپ کے خیال میں کس پوسٹر کو فلم کا مین پوسٹر ہونا چاہئے۔ جس پوسٹر کے بارے میں زیادہ رائے موصول ہوگی اسے ہی فلم کا مین پوسٹر بنایا جائے گا۔ فلم کے پوسٹر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ فلم بہت حد تک 'قابل اعتراض' ہوگی۔ فلم کے ہیرو، مہیش کے پسندیدہ اداکار عمران ہاشمی ہیں جن کے ساتھ جیکلین ڈی سوزا ہیں۔ مہیش بھٹ کے اس پیغام کو پڑھ کر اور فلمی پوسٹر دیکھنے کے بعد فلم بینوں میں فلم سے متعلق تجسس بڑھ گیا ہے ۔ مہیش کی اس ترکیب سے نہ چاہتے ہوئے بھی بے شمار وزیٹرز نہ صرف ویب سائٹ وزٹ کررہے ہیں بلکہ وہ خود کو ذہنی طور پر فلم دیکھنے کے لئے بھی آمادہ کررہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار!!! ایک طرف لوگوں کو لگے گا کہ پوسٹر ان کا تجویز کردہ ہے تو دوسری جانب ان کے تجسس سے بلاشبہ فلم کو ہی سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
urd_Arab
اپنے پیروں پر کھیلوں وزن کلاسیکی ہوائی فرض، سپرنٹ، صحت اور یروبک کھیلوں کی سرگرمیوں کے دیگر قسم کے شائقین جانتے ہیں کہ ہاتھ اور پاؤں کے لئے weighting کے - روشنی dumbbells کے لئے ایک قابل متبادل. طبی ٹیسٹ کے طور پر، ان گولوں میں ملوث لوگوں کو ورزش روایتی تربیت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ کیلوری کے دوران جلا دیا جاتا ہے. چلنا، چلانے رقص - پاؤں پر وزن مؤثر طریقے سے نہ صرف تربیت کے دوران بلکہ دیگر جسمانی سرگرمیوں کے دوران استعمال کیا. عام طور پر، وہ نرم مواد کی آستین کی شکل میں بنا دیا اور ویلکرو-بندھن کے طور پر ایک آسان mountings کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں. ٹخنوں پر ان آلات رکھو. قابل ذکر وزن کے ساتھ، وہ، مختلف مشقوں کو انجام مداخلت ہاتھ مفت اور پریشان نہیں چھوڑ دیا جاتا نہیں ہے (اور کبھی کبھی ٹانگوں 5 کلو کے وزن کا وزن). نمایاں طور پر ورزش میں اضافہ کی شدت. پاؤں کے لئے زیادہ سے زیادہ وزن کے ویٹنگ جنہوں نے حال ہی میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے جو، ٹرینرز نتیجتا، پٹھوں پر بوجھ آہستہ آہستہ سب سے آسان آلات کا فائدہ اٹھانے کے وزن کا اضافہ اور، کے لئے شروع کرنے کے لئے مشورہ دیتے ہیں. اس مشق کے دوران چوٹ کے خطرے کو ختم کرتا ہے، مسلسل نمبروں، موچ بچنے. ایتھلیٹکس، ہوائی فرض، فٹنس مینوفیکچررز 500 جی سے 3 کلو وزنی اس کے پاؤں پر وزن کی پیداوار میں سے ہر ایک (بھاری کم 3 کلو باڈی بلڈنگ میں پٹھوں پمپنگ کے لئے خصوصی کھیلوں weighting کے ہیں). عام طور پر وہ جوڑوں میں فروخت کر رہے ہیں، اس وجہ سے کل بوجھ 1 سے 6 کلو ہو جائے گا. کھلاڑی سابق ایک اثر کی زیادہ لوڈ نہیں کرتا ہے یا وزن میں کمی کے عمل کو روک دیا جاتا ہے تو سمجھتا ہے جب زیادہ ہونا کرنے کے لئے ابتدائی وزن تبدیل کریں. کس طرح وہ کام کرتے ہیں ریت اور دھات کی پلیٹیں - weighting کے ایجنٹوں کے لئے عام طور فلر کی دو اقسام پر استعمال کیا جاتا ہے. بلک اوتار کم آسان، اس طرح کے آلات کے وزن کے بعد سے - مسلسل. اگر ضروری ہو تو، پٹھوں کو اضافی کف پہننے یا بھاری خریدنے کے لئے ہے پر بوجھ تبدیلی. تاہم، آپ کے ہاتھوں سے وزن نہیں کرنا ایک مسئلہ ہے، جدید "Kulibin" کے اختیارات کی ایک بہت کچھ کے ساتھ آیا ہے. تیز رفتار بوجھ تبدیلی کے لحاظ سے زیادہ آسان نمونہ دار کف جس میں وزن دھات کی پلیٹیں یا brusochkov کی تعداد پر منحصر ہے. وہ آپ کو فوری طور پر تربیت کے دوران میں براہ راست بوجھ کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے، اندر جیب اور ہٹا یا ضرورت کے مطابق مزید کہا کف میں ڈالے گئے ہیں. اور کیا مدد کر سکتا ہے کر سکتے ہیں اپنے پاؤں پر وزن استعمال کرنے کے لئے ایک کلاسک طریقہ - یہ اعتدال پسند رفتار یا روزہ چلنے کے ساتھ عمل میں ایک رن ہے یہ توانائی کی بچت دہن، اور اس وجہ سے وزن میں کمی کے لئے حصہ ہے جس میں کولہوں اور کولہوں کے پٹھوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے. ہمیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے میں اضافہ ہوا وزن بوجھ کے ساتھ طاقت کی تربیت کی وجہ سے چوٹ کا خطرہ بڑھ کے ایک تجربہ کار انسٹرکٹر کی رہنمائی کے تحت کیا جائے ضروری ہے. ٹانگوں پر وزن طاقت اور برداشت نہ صرف پٹھوں کو، بلکہ پوری حیاتیات شامل کریں. تاہم، اس طرح کی تربیت کے واضح فوائد کے باوجود، ان کے استعمال کی contraindications ہے. انہوں نے سرجری سے گزر، معذور قلبی تقریب کے ساتھ لوگوں کے لئے سفارش کی نہیں کر رہے ہیں، مشترکہ مسائل، varicose رگوں ہونے. کھیلوں کی تربیت وزن کے تمام دوسرے سے محبت کرنے والوں کو برقرار رکھنے اور اس نوعیت عطا فرمایا ہے اسے بہتر بنانے کے لئے مدد ملے گی.
urd_Arab
یمن کی جنگ اور سعودی عرب کیلئے امریکہ کی فوجی امداداہل بیت (ع) نیوز ایجنسی-ابنا فروری 17, 2021 - 5:45 رات News Code : 1116389 Source : اسلام ٹائمز Link: امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا ایک پہلو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد پر اس کے اثرات پر مبنی ہے۔ جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی روک دینے کا فیصلہ بعض مغربی ممالک کی مرضی کے مطابق ہے، لیکن برطانیہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، لہذا سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روک دی گئی ہے، کیونکہ یہ اسلحہ یمن کی جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے اور اس کی فوجی امداد کے بارے میں اظہار خیال کئی پہلووں پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں چند اہم پہلو درج ذیل ہیں: 1)۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دوسری عالمی جنگ کے بعد حکمفرما ہونے والے ورلڈ آرڈر کا ایک اہم حصہ شمار کئے جاتے ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب میں انتہائی قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز ستر سال پہلے امریکی صدر روزویلٹ اور سعودی حکمران ملک عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ملاقات سے ہوا۔ یہ اسٹریٹجک تعلقات اب تک جاری ہیں اور امریکہ کی مسلمہ خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران امریکہ سے تعلقات اس بات کا باعث بنے کہ سعودی عرب، عرب دنیا کے سربراہ کے طور پر سامنے نہ آسکے۔ دوسری طرف ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکہ کی نظر میں سعودی عرب کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سعودی عرب پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ یہ اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی، جب سعودی عرب میں خام تیل کے ذخائر دریافت ہوئے۔ اس زمانے میں برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت تھی۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا فوجی سودا انجام دیا۔ برطانیہ نے سعودی عرب کے ساتھ 80 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کا معاہدہ انجام دیا تھا۔ 2)۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا دوسرا پہلو سرد جنگ کے دوران عالمی نظام پر ان کے اثرات پر مشتمل ہے۔ خلیج فارس میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے ہمیشہ سابق سوویت یونین کی سربراہی میں مشرقی بلاک کے مقابلے میں مغربی بلاک کی حمایت اور مدد کی تھی۔ یوں عرب دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ اسی مسئلے کے باعث عرب دنیا میں جنم لینے والی عوامی تحریکوں پر کمیونزم اور نیشنل ازم کا رنگ غالب رہا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی دنیا سمیت دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کے کردار میں اضافہ ہوا۔ عالمی سطح پر موجود صف بندی کے تناظر میں امریکہ کیلئے سعودی عرب کی اہمیت بڑھ گئی اور امریکہ نے سعودی عرب کو بے تحاشہ اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ خطے میں خاص طور پر عرب ممالک میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے شدید خوفزدہ تھا۔ لہذا امریکی حکومت نے سعودی عرب کو غیر مشروط طور پر فوجی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 3)۔ امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا تیسرا پہلو سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد پر اس کے اثرات پر مبنی ہے۔ جو بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی روک دینے کا فیصلہ بعض مغربی ممالک کی مرضی کے مطابق ہے، لیکن برطانیہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس فیصلے کی پیروی نہیں کرے گا اور سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہمی جاری رکھے گا۔ یورپ کے عوام مشرق وسطیٰ کے حالات سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور وہ خاص طور پر یمن میں جاری جنگ کے حقائق سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ لہذا برطانوی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ فراہمی جاری رکھنے کی پالیسی اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اتحاد وسیع کرنے کی خواہش مستقبل قریب میں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے درمیان خلیج مزید گہری ہو جانے کا باعث بنے گی۔ برطانیہ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کو ایران کا مقابلہ کرنے اور ایران پر دباو بڑھانے کا ایک اچھا ذریعہ سمجھتا ہے۔ 4)۔ امریکہ اور سعودی عرب میں تعلقات کا چوتھا پہلو چین اور روس کے مقابلے میں طاقت کے توازن سے مربوط ہے۔ سعودی عرب چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو امریکہ پر دباو ڈالنے کیلئے استعمال کرے گا۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ جو بائیڈن اپنی خارجہ سیاست خاص طور پر جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے۔ سعودی عرب چین سے مطمئن نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ چین کے مضبوط تعلقات ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور چین میں سیاسی اور اقتصادی میدان میں مقابلہ بازی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خلیج فارس خطے میں موجود ممالک کی جانب سے خام تیل کی پیداوار پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث امریکہ اور برطانیہ کی نظر میں اس خطے کی اہمیت کم اور چین اور روس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ چین اور روس کے خلاف بھی سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔
urd_Arab
رزق کا یقین،ایک دلچسپ واقعہ ڈیلی نیوز! سبحان اللہ۔۔۔ کرد قبیلے کا ایک شخص مشہور ڈاکو تھا' وہ اپنا قصہ بیان کرتا ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکہ ڈالنے جارہا تھا' راستے میں ہم ایک جگہ بیٹھے تو ہم نے دیکھا کہ کھجور کے تین درخت ہیں'ان میں سے دو پھلدار اور ایک بالکل خشک ہے' ایک چڑیا بار بار آتی ہے.اور پھلدار درختوں پر سے تروتازہ کھجور اپنی چونچ میں لے کر خشک درخت پر جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا' میں نے دس مرتبہ اس چڑیا کو یوں کھجوریں لے جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے تجسس ہوا کہ اس پر چڑھ کر دیکھوں کہ یہ چڑیا اس درخت میں جاکر کیا کرتی ہے چنانچہ اس درخت کی چوٹی پر جاکے دیکھا کہ وہاں ایک اندھا سانپ منہ کھولے پڑا ہے اور یہ چڑیا وہ تروتازہ کھجور اس کے منہ میں ڈال رہی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر اس قدر عبرت ہوئی کہ میں رونے لگا'میں نے کہا میرے مولا یہ سانپ جس کے مارنے کا حکم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، جب یہ اندھا ہوگیا تو تونے اس کو روزی پہنچانے کے لیے چڑیا کو مقرر کردیا اور میں تیرا بندہ تیری توحید کا اقرار کرنے والا لوگوں کو لوٹنے میں لگا ہوا ہوں! یہ کہنے پر میرے دل میں ڈالا گیا کہ میرا دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہے'میں نے اسی وقت اپنی تلوار توڑ ڈالی
urd_Arab
(ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ سے رجوع مکرر) سنہ 683 (86–87 سال) محمد بن عبداللہ (629–632) ہند نام، ام سلمہ کنیت، قریش کے خاندان مخزوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم، والدہ بنو فراص سے تھیں اور ان کا سلسلہ نسب یہ ہے، عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل الطعان ابن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ، ابو امیہ (ام سلمہ کے والد) مکہ کے مشہور مخیر اور فیاض تھے، سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے تھے اسی لیے زاد الراکب کے لقب سے مشہور تھے۔[1] ام سلمہ نے انہی کی آغوش تربیت میں نہایت ناز و نعمت سے پرورش پائی۔ اصابہ میں ہے، "ام سلمہ نہایت حسین تھیں۔" ابن سعد[2] نے روایت کی ہے کہ جب عائشہ کو ان کے حسن کا حال معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئیں۔[ح 1] ام سلمہ کے بال نہایت گھنے تھے۔[3] ہجرت کا واقعہ نہایت عبرت انگیز ہے، ام سلمہ اپنے شوہر کے ہمراہ ہجرت کرنا چاہتی تھیں (ان کا بچہ سلمہ بھی ساتھ تھا) لیکن (ام سلمہ کے) قبیلہ نے مزاحمت کی تھی، اس لیے ابو سلمہ ان کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے اور یہ اپنے گھر واپس آ گئیں تھیں (ادھر سلمہ کو ابو سلمہ کے خاندان والے ام سلمہ سے چھین لے گئے) اس لیے ام سلمہ کو اور بھی تکلیف تھی، چنانچہ روزانہ گھبرا کر گھر سے نکل جاتیں اور ابطح میں بیٹھ کر رویا کرتیں۔ سات آٹھ دن تک یہی حالت رہی اور خاندان کے لوگوں کو احساس تک نہ ہوا۔ ایک دن ابطح سے ان کے خاندان کا ایک شخص نکلا اور ام شلمہ کو روتے دیکھا تو اس کا دل بھر آیا گھر آکر لوگوں سے کہا کہ" اس غریب پر ظلم کیوں کرتے ہو، اس کو جانے دو اور اس کا بچہ اس کے حوالے کردو،" روانگی کی اجازت ملی تو بچے کو گود میں لیکر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور مدینہ کا راستہ لیا، چونکہ وہ بالکل تنہا تھیں، یعنی کوئی مرد ساتھ نہ تھا، تنعیم میں عثمان بن طلحہ (کلید بردار کعبہ) کی نظر پڑی، بولا "کدھر کا قصد ہے؟" کہا "مدینے کا" پوچھا کوئی ساتھ بھی ہے، کہا "خدا اور یہ بچہ،" عثمان نے کہا "یہ نہیں ہو سکتا تم تنہا کبھی نہیں جا سکتیں" یہ کہ کر اونٹ کی مہار پکڑی اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں جب کہیں ٹھہرتا تو اونٹ کو بٹھا کر کسی درخت کے نیچے چلا جاتا اور ام سلمہ اتر پڑتیں، روانگی کا وقت آتا تو اونٹ پر کجادہ رکھ کر پرے ہٹ جاتا اور ام سلمہ سے کہتا کہ "سوار ہو جاؤ" ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا شریف آدمی کبھی نہیں دیکھا، غرض مختلف منزلوں پر قیام کرتا ہوا۔ مدینہ لایا، قبا کی آبادی پر نظر پڑی تو بولا "اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ، وہ یہیں مقیم ہیں" یہ ادھر روانہ ہوئیں اور عثمان نے مکہ کا راستہ لیا۔[4] قبا پہنچیں تو لوگ ان کا حال پوچھتے تھے اور جب یہ اپنے باپ کا نام بتاتیں تو ان کو یقین نہیں آتا تھا[ح 2] اور ام سلمہ مجبوراً خاموش ہوتی تھیں، لیکن جب کچھ لوگ حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر رقعہ بھجوایا تو اس وقت لوگوں کو یقین ہوا کہ وہ واقعی ابو امیہ کی بیٹی ہیں، ابو امیہ قریش کے چونکہ نہایت مشہور اور معزز شخص تھے، اس لیے ام سلمہ بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھی گئیں۔[5] کچھ زمانہ تک شوہر کا ساتھ رہا، ابو سلمہ بڑے شہ سوار تھے، بدر اور احد میں شریک ہوئے، غزوہ احد میں چند زخم کھائے، جن کے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے، جمادی الثانی سنہ 4 ہجری میں ان کا زخم پھٹا اور اسی صدمہ سے وفات پائی۔[6] ام سلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں اور وفات کی خبر سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے مکان پر تشریف لائے، گھر میں کہرام مچا تھا، ام سلمہ کہتی تھیں، "ہائے غربت میں یہ کیسی موت ہوئی" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "صبر کرو، ان کی مغفرت کی دعا مانگو اور یہ کہو کہ خداوندا! ان سے بہتر ان کا جانشین عطا کر" اس کے بعد ابو سلمہ کی لاش پر تشریف لائے اور جنازہ کی نماز نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو تکبیریں کہیں، لوگوں نے نماز کے بعد پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سہو تو نہیں ہوا؟ فرمایا یہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے، وفات کے وقت ابو سلمہ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دست مبارک سے آنکھیں بند کیں اور ان کی مغفرت کی دعا مانگی ابو سلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ حاملہ تھیں، وضع حمل کے بعد عدت گزر گئی تو ابوبکر صدیق نے نکاح کا پیغام دیا، لیکن ام سلمہ نے انکار کر دیا، ان کے بعد عمر فاروق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کر پہنچے، ام سلمہ نے کہا مجھے چند عذر ہیں، میں سخت غیور ہوں، صاحب عیال ہوں، میرا سن زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان زخمتوں کو گوارا فرمایا، ام سلمہ کو اب عذر کیا ہو سکتا تھا؟ اپنے لڑکے سے (جن کا نام عمر تھا) کہا اٹھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کراؤ۔[7] شوال سنہ 4 ہجری کی اخیر تاریخوں میں یہ تقریب انجام پائی، ام سلمہ کو ابو سلمہ کی موت سے جو شدید صدمہ ہوا تھا، خداوند تعالی نے اس کو ابدی مسرت میں تبدیل کر دیا، سنن ابن ماجہ میں ہے، "جب ابو سلمہ نے وفات پائی تو میں نے وہ حدیث یاد کی جس کو وہ مجھ سے بیان کیا کرتے تھے تو میں نے دعا شروع کی اور جب میں یہ کہنا چاہتی کہ خداوندا! مجھے ابو سلمہ سے بہتر کون مل سکتا ہے لیکن میں نے دعا کو پڑھنا شروع کیا تو ابو سلمہ کے جانشین آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو چکیاں، گھڑا اور چمڑے کا تکیہ جس میں خرمے کی چھال بھری تھی، عنایت فرمایا، یہی سامان اور بیبیوں کو بھی عنایت ہوا تھا۔[8] بہت حیادار تھیں، ابتدا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکان پر تشریف لاتے تو ام سلمہ فرط غیرت سے لڑکی (زینب) کو گود میں بٹھا لیتیں، آپ یہ دیکھ کر واپس جاتے، عمار بن یاسر کو جو ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور لڑکی کو چھین لے گئے۔[9] لیکن بعد میں یہ بات ختم ہو گئی اور جس طرح دوسری بیبیاں رہتی تھیں وہ بھی رہنے لگیں، نکاح سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے ان کا ذکر کیا تو عائشہ کو بڑا رشک ہوا، طبقات ابن سعد میں ان سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ فقرہ بھی ہے "یعنی مجھ کو سخت غم ہوا۔"[10] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بے حد محبت تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر جب تمام ازواج مطہرات کو (سوا عائشہ کے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عرض کرنا تھا، تو انہوں نے ام سلمہ کو ہی اپنا سفیر بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، صحیح بخاری میں ہے کہ ازواج مطہرات کے دو گروہ تھے، ایک میں عائشہ، حفصہ، صفیہ، سودہ شامل تھیں، دوسرے میں ام سلمہ اور باقی ازواج مطہرات تھیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کو زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ اس لیے لوگ ان ہی کی باری میں ہدیہ بھیجتے تھے، ام سلمہ کی جماعت نے ان سے کہا، عائشہ کی طرح ہم بھی سب کی بھلائی کی خواہاں ہیں، اس بنا پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کے بھی مکان میں ہوں۔ لوگوں کو ہدیہ بھیجنا چاہیے، ام سلمہ نے آپ سے یہ شکایت کی تو آپ نے دو مرتبہ اعراض فرمایا، تیسری مرتبہ کہا "ام سلمہ! عائشہ کے معاملے میں مجھے اذیت نہ پہنچاؤ، کیونکہ ان کے سوا تم میں کوئی بیوی ایسی نہیں ہے، جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو۔"[11] ام سلمہ نے کہا "میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اذیت پہنچانے سے پناہ مانگتی ہوں۔" ام سلمہ کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب باش ہوتے تو ان کا بچھونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جا نماز کے سامنے بچھتا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سامنے ہوتی تھیں)۔[12] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال کا بہت خیال رکھتی تھیں، سفینہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور غلام ہیں، دراصل ام سلمہ کے غلام تھے، ان کو آزاد کیا تو اس شرط پر کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تم پر ان کی خدمت لازمی ہوگی۔[13] ام سلمہ کے مشہور واقعات زندگی یہ ہیں، غزوہ خندق میں اگرچہ وہ شریک نہ تھیں، تاہم اس قدر قریب تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اس طرح سنتی تھیں فرماتی ہیں کہ مجھے وہ وقت خود یاد ہے کہ جب سینۂ مبارک غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ لوگوں کو اینٹیں اٹھا اٹھا کر دیتے اور اشعار پڑھ رہے تھے کہ دفعۃً عمار بن یاسر پر نظر پڑی فرمایا "(افسوس) ابن سمیہ! تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ تو ان کو جنت کی طرف بلائے گا وہ گروہ جہنم کی طرف بلانے والا ہوگا"[14] محاصرہ بنو قریظہ سنہ 5 ہجری میں یہود سے گفتگو کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لبابہ کو بھیجا تھا، اثنائے مشورہ میں ابو لبابہ نے ہاتھ کے اشارے سے بتلایا کہ تم لوگ قتل ہو جاؤ گے، لیکن بعد میں اس کو افشائے راز سمجھ کر اس قدر نادم ہوئےکہ مسجد کے ستون سے اپنے آپکو باندھ لیا، چند دنوں تک یہی حالت رہی پھر توبہ قبول ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے مکان میں تشریف فرما تھے کہ صبح کو مسکراتے ہوئے اٹھے تو بولیں "خدا آپ کو ہمیشہ ہنسائے، اس وقت ہنسنے کا کیا سبب ہے؟" فرمایا "ابو لبابہ کی توبہ قبول ہو گئی" عرض کی "تو کیا میں ان کو یہ مژدہ سنا دوں" فرمایا "ہاں اگر چاہو" ام سلمہ اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑی ہوئیں اور پکار کر کہا "ابو لبابہ مبارک ہو تمہاری توبہ قبول ہو گئی" اس آواز کا کانوں میں پڑنا تھا کہ تمام مدینہ امنڈ آیا۔ [15] اسی سنہ میں آیت حجاب نازل ہوئی اس سے پیشتر ازواج مطہرات بعض دور کے اعزہ و اقارب کے سامنے آیا کرتی تھیں، اب خاص خاص اعزہ کے سوا سب سے پردہ کرنے کا حکم ہوا۔ عبد اللہ بن ام مکتوم قبیلہ قریش کے ایک معزز صحابی اور بارگاہ نبوی کے مؤذن تھے اور چونکہ نابینا تھے، اس لیے ازواج مطہرات کے حجروں میں آیا کرتے تھے، ایک دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ اور میمونہ سے فرمایا، ان سے فرمایا، "ان سے پردہ کرو" بولیں "وہ تو نابینا ہیں" فرمایا "تم تو نابینا نہیں ہو، تم تو انہیں دیکھتی ہو۔"[16] صلح حدیبیہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں، صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگ حدیبیہ میں قربانی کریں، لیکن لوگ اس قدر دل شکستہ تھے کہ ایک شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، تین دفعہ بار بار کہنے پر بھی ایک شخص بھی آمادہ نہ ہوا،[ح 3] آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور ام سلمہ سے شکایت کی، انہوں نے عرض کی "آپ کسی سے کچھ نہ فرمائیں بلکہ باہر نکل کر خود قربانی کریں اور احرام اتارنے کے لیے بال منڈوائیں" آپ نے باہر آکر قربانی کی اور بال منڈوائے اب جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اس فیصلہ میں تبدیلی نہیں ہو سکتی تو سب نے قربانیاں کیں اور احرام اتارا، ہجوم کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتا تھا اور عجلت اس قدر تھی کہ ہر شخص حجامت بنانے کی خدمت انجام دے رہا تھا۔[17] ام سلمہ کا یہ خیال علم النفس کے ایک بڑے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہور کی فطرت شناسی میں ان کو کس درجہ کمال حاصل تھا، جوینی فرمایا کرتے تھے کہ صنف نازک کی پوری تاریخ اصابت رائے کی ایسی عظیم الشان مثال نہیں پیش کر سکتی۔[18] غزوہ خیبر میں شریک تھیں، مرحب کے دانتوں پر جب تلوار پڑی تو کرکراہٹ کی آواز ان کے کانوں میں آئی تھی۔[19] سنہ 9 ہجری میں ایلاء کا واقعہ پیش آیا، عمر نے حفصہ کو تنبیہ کی تو ام سلمہ کے پاس بھی آئے وہ ان کی عزیز ہوتی تھیں، ان سے بھی گفتگو کی، ام سلمہ نے جواب دیا:[20] "عمر تم ہر معاملہ میں دخل دینے لگے یہاں تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیتے ہو۔" چونکہ جواب نہایت خشک تھا، اس لیے عمر چپ ہو گئے اور اٹھ کر چلے آئے، رات کو یہ خبر مشہور ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو طلاق دے دی صبح کو جب عمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور تمام واقعہ بیان کیا جب ام سلمہ کا قول نقل کیا تو آپ مسکرائے، حجۃ الوداع میں جو سنہ 10 ہجری میں ہوا۔ اگرچہ ام سلمہ علیل تھیں، تاہم ساتھ آئیں، نبہا (غلام) اونٹ کی مہار تھامے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام کے پاس اس قدر مال موجود ہو کہ وہ اس کو ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہو تو اس سے پردہ ضروری ہو جاتا ہے۔[21] طواف کے متعلق فرمایا کہ جب نماز فجر ہو، تم اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرو چنانچہ ام سلمہ نے ایسا ہی کیا۔[22] سنہ 11 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوئے، مرض نے طول کھینچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ کے مکان میں منتقل ہو گئے، ام سلمہ اکثر آپ کو دیکھنے کے لیے جایا کرتی تھیں، ایک دن طبیعت زیادہ علیل ہوئی تو ام سلمہ چیخ اٹھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں۔[23] ایک دن مرض میں اشتداد ہوا تو ازواج نے دوا پلانی چاہی، چونکہ گوارا نہ تھی، آپ نے انکار فرمایا، لیکن جب غشی طاری ہو گئی تو ام سلمہ اور اسماء بنت عمیس نے دوا پلا دی۔[24][ح 4] اسی زمانہ میں ایک روز ام سلمہ اور ام حبیبہ نے جو حبشہ ہو آئی تھیں، وہاں کے مسیحی عبادت گاہو کا (جو غالباً کاتھولک گرجے ہوں گے) اور ان کے مجسموں اور تصویروں کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا۔ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرتا ہے تو اس کے مقبرہ کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں اور اس کا بت بنا کر اس میں کھڑا کرتے ہیں، قیامت کے روز خدائے عزوجل کی نگاہ میں یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے[25] وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے باتیں کی تھیں، عائشہ اسی وقت بے تابانہ پوچھنے لگیں، لیکن ام سلمہ نے توقف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پوچھا۔[26] سنہ 61 ہجری میں حسین بن علی نے شہادت پائی، ام سلمہ نے خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، سر اور ریش مبارک غبار آلود ہے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا حال ہے، ارشاد ہوا، "حسین کے مقتل سے واپس آ رہا ہوں" ام سلمہ بیدار ہوئیں تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔[27] اسی حالت میں زبان سے نکلا اہل عراق نے حسین کو قتل کیا، خدا ان کو قتل کرے اور حسین کو ذلیل کیا خدا ان لوگوں پر لعنت کرے۔[28] سن 63 ہجری میں واقعہ حرہ کے بعد شامی لشکر مکہ گیا، جہاں ابن زبیر پناہ گزیں تھے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ایسے لشکر کا تذکرہ فرمایا تھا، بعض کو شبہ ہوا اور ام سلمہ سے دریافت کیا بولیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ایک شخص مکہ میں پناہ لے گا، اس کے مقابلہ میں جو لشکر آئے گا بیاباں میں وہیں دھنس جائے گا۔ ام سلمہ سے پوچھا جو لوگ جبراً شریک کیے گئے ہوں گے وہ بھی؟ فرمایا ہاں وہ بھی لیکن قیامت میں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھیں گے (ابو جعفر) فرماتے تھے کہ یہ واقعہ مدینہ کے میدان میں پیش آئے گا۔[29] علمی حیثیت اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،[30] "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ کا ان میں کوئی حریف مقابل نہ تھا۔" مروان بن حکم ان سے مسائل دریافت کرتا اور علانیہ کہتا تھا، "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں سے کیوں پوچھیں۔"[31] ابو ہریرہ اور ابن عباس دریائے علم ہونے کے باوجود ان کے دریائے فیض سے مستغنی نہ تھے۔[32] تابعین کرام کا ایک بڑا گروہ ان کے آستانہ فضل پر سربر تھا۔ قرآن اچھا پڑھتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر قرأت کرتے تھے؟ بولیں ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے اس کے بعد خود پڑھ کر بتلا دیا۔[33] حدیث میں عائشہ کے سوا ان کا کوئی حریف نہ تھا، ان سے 378 روایتیں مروی ہیں۔ اس بنا پر وہ محدثین صحابہ کے تیسرے طبقہ میں شامل ہیں۔ حدیث سننے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن بال گوندوا رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے زبان مبارک سے ایھا الناس (لوگو!) کا لفظ نکلا تو فوراً بال باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور کھڑے ہو کر پورا خطبہ سنا،[34] مجتہد تھیں، صاحبِ اصابہ نے ان کے تذکرہ میں لکھا ہے، "یعنی وہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھیں۔"[35] ابن قیم نے لکھا ہے کہ "ان کے فتاویٰ اگر جمع کیے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے۔"[36] ان کے فتاوی کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ عموماً متفق علیہ ہیں اور یہ ان کی دقیقہ رسی اور نقطہ سنجی کا کرشمہ ہے، ان کی نکتہ سنجی پر ذیل کے واقعات شاہد ہیں۔ عبد اللہ بن زبیر عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، مروان نے پوچھا آپ یہ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ بولے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے، چونکہ انہوں نے یہ حدیث عائشہ کے سلسلہ سے سنی تھی، مروان نے ان کے پاس تصدیق کے لیے آدمی بھیجا، انہوں نے کہا مجھ کو ام سلمہ سے یہ حدیث پہنچی ہے۔ ام سلمہ کے پاس آدمی گیا اور ان کو یہ قول نقل کیا تو بولیں، "خدا عائشہ کی مغفرت کرے انہوں نے بات نہیں سمجھی،"[37][ح 5] "کیا میں نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔"[39] ابو ہریرہ کا خیال تھا کہ رمضان میں جنابت کا غسل فوراً صبح اٹھ کر کرنا چاہیے، ورنہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ایک شخص نے جا کر ام سلمہ و عائشہ سے جا کر پوچھا دونوں نے کہا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صائم ہوتے تھے، ابو ہریرہ نے سنا تو رنگ فق ہو گیا، اسی خیال سے رجوع کیا اور کہا کہ میں کیا کروں فضل بن عباس نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ ام سلمہ اور عائشہ کو زیادہ علم ہے۔ [40] اس کے بعد ابوہریرہ نے اپنا فتوی واپس لے لیا۔[41] ایک مرتبہ چند صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی زندگی کے متعلق کچھ ارشاد کیجیے، فرمایا "آپ کا ظاہر و باطن یکساں تھا۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ سے واقعہ بیان کیا، فرمایا تم نے بہت اچھا کیا،[42] ام سلمہ جواب صاف دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ سائل کی تشفی ہو جائے، ایک دفعہ کسی شخص کو مسئلہ بتایا، وہ ان کے پاس سے اٹھ کر دوسری ازواج کے پاس گیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا، واپس آ کے ام سلمہ کو یہ خبر سنائی تو بولیں، نعم واشفیک! ذرا ٹھہرو میں تملاری تشفی کرنا چاہتی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق یہ حدیث سنی ہے۔[43] ام سلمہ کو حدیث و فقہ کے علاوہ اسرار کا بھی علم تھا اور یہ وہ فن تھا جس کے حذیفہ بن یمان عالم خصوصی تھے۔ ایک مرتبہ عبد الرحمن بن عوف ان کے پاس آئے تو بولیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بعض صحابی ایسے ہیں جنکو نہ میں اپنے انتقال کے بعد دیکھوں گا نہ وہ مجھ کو دیکھیں گے، عبد الرحمن گھبرا کر عمر کے پاس پہنچے اور ان سے یہ حدیث بیان کی، عمر، ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اور کہا، "خدا کی قسم! سچ سچ کہنا کیا میں انہی میں ہوں۔" ام سلمہ نے کہا نہیں، لیکن تمہارے علاوہ میں کسی کو مستثنیٰ نہیں کروں گی،[44] ام سلمہ نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہنا جس میں سونے کا کچھ حصہ شامل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا تو اس کو توڑ ڈالا۔[45] ہر مہینے میں تین دن (دو شنبہ، جمعرات اور جمعہ) روزہ رکھتی تھیں،[46] ثواب کی متلاشی رہتیں، ان کے پہلے شوہر کی اولاد ان کے ساتھ تھی اور وہ نہایت عمدگی سے ان کی پرورش کرتی تھیں، اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوچھا کہ مجھ کو اس کا کچھ ثواب بھی ملے گا۔ اپ نے فرمایا "ہاں۔"[47] اچھے کاموں میں شریک ہوتی تھیں، آیت تطہیر انہی کے گھر میں نازل ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ زہرا اور علی کو بلا کر کمبل اڑھایا اور کہا "خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر اور انہیں پاک کر" ام سلمہ نے یہ دعا سنی تو بولیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوں ارشاد ہوا۔ تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہوں۔[48] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند تھیں، نماز کے اوقات میں بعض امرا نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیے تو ام سلمہ نے ان کو تنبیہ کی اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جلد پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلد پڑھتے ہو۔[49] ایک دن ان کے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی، چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی، وہ سجدہ کرتے عقت مٹی جھاڑتے تھے، ام سلمہ نے روکا کہ یہ فعل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش کے خلاف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا، ترب وجھک اللہ! یعنی تیرا چہرہ خدا کی راہ میں غبار آلود ہو۔[50] فیاض تھیں اور دوسروں کو بھی فیاضی کی طرف مائل کرتی تھیں۔ ایک دفعہ عبد الرحمن بن عوف نے آ کر کہا "اماں! میرے پاس اس قدر مال جمع ہو گیا ہے کہ اب بربادی کا خوف ہے، فرمایا بیٹا! اس کو خرچ کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جو مجھ کو میری موت کے بعد پھر نہ دیکھیں گے!"[51] ایک مرتبہ چند فقراء جن میں عورتیں بھی تھیں، ان کے گھر آئے اور نہایت الحاح سے سوال کیا، ام الحسن بیٹھی تھیں، انہوں نے ڈانٹا لیکن ام سلمہ نے کہا ہم کو اس کا حکم نہیں ہے۔ اس کے بعد لونڈی کو کہا کہ ان کو کچھ دے کر رخصت کرو۔ کچھ نہ ہو تو ایک ایک چھوہارا ان کے ہاتھ پر رکھ دو۔[52] آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو جو محبت تھی اس کا یہ اثر تھا کہ آپ کے موئے مبارک تبرکاً رکھ چھوڑے تھے۔ جن کی وہ لوگوں کو زیارت کراتی تھیں۔[53] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا کیا سبب ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں۔ تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی "ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات۔"[54] ایک مرتبہ ام سلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں، جبریل آئے اور باتیں کرتے رہے، ان کے جانے کے بعد آپ نے پوچھا۔ "ان کو جانتی ہو؟" بولیں وحیہ تھے، لیکن جب آپ نے اس واقعہ کو اور لوگوں سے بیان کیا تو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جبریل تھے۔[55][ح 6] جس سال حرہ کا واقعہ ہوا (یعنی سنہ 63 ہجری) اسی سال ام سلمہ نے انتقال فرمایا اس وقت 84 برس عمر تھی، ابو ہریرہ نے نماز جنازہ پڑھی اور بقیع میں دفن کیا[56] اس زمانہ میں ولید بن عتبہ (ابو سفیان کا پوتا) مدینہ کا گورنر تھا، چونکہ ام سلمہ نے وصیت کی تھی کہ وہ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھائے، اس لیے وہ جنگل کی طرف نکل گیا اور اپنے بجائے ابو ہریرہ کو بھیج دیا۔[57] ام سلمہ کے پہلے شوہر سے جو اولاد ہوئی اس کے نام یہ ہیں، سلمہ، حبشہ میں پیدا ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حمزہ کی لڑکی امامہ بنت حمزہ سے کیا تھا۔ عمر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام سلمہ کا نکاح انہوں نے ہی کیا تھا، علی المرتضیٰ کے زمانہ خلافت میں فارس و بحرین کے حاکم تھے، دُرّہ، ان کا ذکر صحیح بخاری میں آیا ہے، ام حبیبہ نے جو ازواج مطہرات میں داخل تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے، اگر میں نے اس کو پرورش نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ کسی طرح میرے لیے حلال نہ تھی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔[58] زینب پہلے برہ نام تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رکھا۔[59]
urd_Arab
(پاکستان ایک نظر میں)- آپ کی بیٹی نصیبوں والی ہو - ایکسپریس اردو (پاکستان ایک نظر میں)- آپ کی بیٹی نصیبوں والی ہو جہیز نہ ملنے پر بیٹی کو اس طرح رد کردیا جاتا ہے جیسے گاہک دکان پررکھی ہوئی چیز پسند نہ آنے پر اگلی دکان پر چلا جاتا ہے نعیم اقبال ہفتہ 7 جون 2014 جہیز نہ ملنے پر بیٹی کو اس طرح رد کردیا جاتا ہے جیسے گاہک دکان پررکھی ہوئی چیز پسند نہ آنے پر اگلی دکان پر چلا جاتا ہے۔ فوٹو فائل اکثر آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہ جب کسی کے ہاں''بیٹی'' کی پیدائش ہوتی ہے تو اس وقت ایک ہی جملہ زبان زدِ عام ہوتا ہے کہ، '' آپ کی بیٹی نصیبوں والی ہو''۔ جبکہ در حقیقت بیٹی تو ہوتی ہی نصیبوں والی ہیں۔یہ دعا آپ کو ''بیٹی'' کی پیدائش پر ہی کیوں سننے کو ملتی ہے؟ کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے۔ بیٹی کے بارے میں تو نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ، '' مبارک ہے وہ عورت جس کی پہلی اولاد بیٹی ہو''۔ یہ دعا اس لئے تواتر کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ''بیٹیاں'' پرائی ہوتی ہیں اور انہیں ایک دن اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر پیا گھر سدھرناہوتا ہے اور یہاں سے وہ نصیب شروع ہوتا ہے جس کے لئے اس کی پیدائش پر دعا دی جاتی ہے کہ، موجودہ دور میں بیٹی کی خوشیوں کے لئے والدین ہر قسم کا دکھ و تکلیف برداشت کرتے ہیں۔اس کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام کرتے ہیں۔جب بیٹی جوان ہوتی ہے تو اس کے لئے ایک عدد اچھا رشتہ درکار ہوتا ہے۔ کافی تگ و دو کے بعد اگر اچھا رشتہ مل جائے تو پھر والدین کو جہیز کے نام پر فرمائشوں کی ایک لمبی لسٹ تھما دی جاتی ہے۔ بعض اوقات تو یہ فرمائش بھی ساتھ لف ہذا ہوتی ہے کہ داماد کو کاروبار بھی کروا کر دیا جائے تاکہ آپ کی بیٹی کا مستقبل اچھا گزرے۔ جو والدین اپنے بیٹوں کے لئے خوشیوں کے نام پر بھاری بھرکم جہیز کی فرمائش کرتے ہیں انہیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ کی شادی پر انہیں کیا جہیز دیا تھا؟ بیٹی خواہ پڑھی لکھی، صوم صلوۃ کی پابند، اچھے خاندان سے ہو لڑکے والوں کو اس سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا انہیں صرف اور صرف جہیز سے غرض ہوتی ہے۔ اگر مطلوبہ جہیز دے دیا جائے تو رشتہ طے پا جاتا ہے ورنہ بیٹی کو اس طرح رد کر دیا جاتا ہے جیسے گاہک دکان پر رکھی ہوئی چیز پسند نہ آنے پر اگلی دکان پر چلا جاتا ہے۔جہیز نہ دینے کی پاداش میں نجانے کتنی بیٹیوں کے ہاتھوں پر پیا کے نام کی مہندی نہ لگ سکی۔ اسی طرح کا ایک واقعہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے پڑھنے کے بعد کسی ساس یا سسر کا دل پگھل جائے اور کوئی بیٹی ارم بننے سے بچ جائے۔ دس برس قبل ہمارے محلے میں ایک مڈل کلاس فیملی دو بیٹیوں ارم اور مہوش کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ فیملی کیا تھی سراپا شرم و حیا ۔ماں باپ نے اپنی بچیوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔ بیٹیاں جب جوان ہوئیں تو والدین نے رشتوں کی تلاش شروع کر دی۔ مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے عزیز و اقارب نے انہیں کوئی لفٹ نہ کرائی۔ رشتہ کروانے والوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ قصہ مختصر بڑی بیٹی ارم کی شادی طے ہو جاتی ہے۔ کچھ جمع پونجی اور زیادہ قرض لے کر والدین بیٹی کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ارم سسرال میں ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ والدین بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں ارم کی طرف سے'' ٹھنڈی ہوا'' آرہی ہے۔ایک دن اچانک ارم میکے آتی ہے اور اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیتی ہے۔ وسوسوں اور اندیشوں میں دو تین گھنٹے گزرنے کے بعد جب ارم کمرے کا دروازہ کھولتی ہے اور سارا ماجرا والدین کو بتاتی ہے کہ سسرالیوں نے فہد(شوہر) کو کاروبار کرانے کے لئے پانچ لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی ہے اور شرط رکھی ہے کہ مطلوبہ رقم لے کر ہی گھر واپس لوٹناورنہ۔۔۔۔ یہ سن کر ماں باپ سکتے میں آجاتے ہیں کیونکہ ابھی تک وہ ارم کی شادی کا قرض اتار نہیں پائے تھے کہ اوپر سے ان کے لئے پانچ لاکھ روپے کا بندوبست کیسے ممکن تھا؟ وقت کو جیسے پر لگ گئے تھے۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہو رہے تھے ۔لیکن نہیں تبدیل ہو رہے تھے تو وہ تھے ارم کے نصیب کیونکہ ابھی تک مطلوبہ رقم کا بندوبست نہیں ہوا تھا۔ باپ پہلے ہی دل کے عارضہ میں مبتلا تھا۔ ایک دن ارم کے گھر ایک ''لفافہ'' موصول ہوتا ہے۔ لفافہ کیا تھا موت کا پروانہ تھا ۔جس کے کھلتے ہی پہلے باپ کی سانس اٹکی اور بعد میں ماں بھی موت کی خاموش وادی میں چلی گئی۔ جی ہاں! ارم کو طلاق بھجوائی گئی تھی۔ ارم طلاق نامہ دیکھ کر بے ہوش ہو جاتی ہے اور اس کے بعد کبھی ہوش نہ سنبھال سکی۔ ارم کی طلاق کے بعد اس کی چھوٹی بہن مہوش کو مرد ذات سے انتہا کی نفرت ہو گئی۔ جہیز کا اژدھاپورا خاندان نگل گیا۔ جو والدین صاحب استطاعت ہوتے ہیں وہ تو بیٹی کی خوشیوں کے لئے جہیز کے نام پر بھاری بھرکم فرمائشیں پوری کر دیتے ہیں لیکن یہ فرمائشیں بیٹی کی شادی کے بعد بھی والدین کا پیچھا نہیں چھوڑتیں جیسا ارم کے ساتھ ہوا۔ جب تک والدین لڑکے والوں کی فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں بیٹی کا گھر آباد رہتا ہے ۔ اورجب خواہشیںپوری کرنے کی سکت باقی نہیں رہتی تو نوبت طلاق تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں40 فیصد طلاق کے کیسز جہیز کی کمی کی وجہ سے پیش آرہے ہیں جبکہ ہزاروں بچیوں کی شادیاں اس وجہ سے نہیں ہو پا رہیں کہ ان کے والدین غریب ہیں اور جہیز دینے کے قابل نہیں۔ اس سنگدل معاشرے میں اگر غریب کی بچی بیاہی بھی جائے تو اسے زندگی بھر جہیز کم لانے پر طعنے سننا پڑتے ہیں۔ کئی بچیاں کم جہیز لانے کے جرم میں سسرالیوں کے ہاتھوں زندہ جلا دی جاتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بیٹیوں کی شادیاں بر وقت ہو ں تو ہمیں شادی کے انتظام و انصرام کو سہل بنانا ہو گا۔والدین توبیٹی کو سسرالیوں کے کہے بغیر ہی اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ بیچارے مقروض بھی ہو جاتے ہیں۔اس لئے لڑکے والوں کو جہیز کا مطالبہ ہی نہیں کرنا چاہئے۔ اور و جن والدین کے پاس اللہ تعالیٰ کا دیا ہواسب کچھ ہے انہیں چاہئے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی پر فضول اخراجات سے اجتناب کریںتاکہ معاشرے میں پھیلی اس جہیز کی روایت کو فروغ دینے سے روکا جاسکے۔ اور غریب والدین کو اپنی بیٹیوں کی شادی پردقت پیش نہ آئے۔ بلکہ میرے خیال میں صاحب استطاعت والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد گلی محلے میں نظر دوڑائیں اور دیکھیں جو غریب والدین اپنی بیٹی کی شادی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کر پاتے ان کی مالی معاونت کریں تاکہ بیٹیوں کے سروں میں چاندی نہ اترے اور وہ اپنے آپ کو دھرتی کا بوجھ تصور نہ کریں۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
urd_Arab
سانحہ بیروت کے تازہ اعداد و شمار - Sahar Urdu Aug ۰۵, ۲۰۲۰ ۱۵:۱۹ Asia/Tehran سانحہ بیروت میں مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لبنان کی ریڈ کراس سوسائٹی نے مرنے والوں کی تعداد سو تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ لبنان کی ریڈ کراس سوسائٹی کے سربراہ جارج کتانہ کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ چار ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ لبنان کی ریڈ کراس سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پچھتر ایمبولینس زخمیوں کو منتقل کرنے میں مصروف ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید پچاس ایمبولینسوں کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ لبنان نے قومی سانحے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہر کے تمام اسپتالوں میں خون کے عطیات دینے کی مہم شروع کر دی ہے۔ حزب اللہ لبنان نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ بیروت کی بندرگاہ کے قریب واقع آتشگیر مواد کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے لبنانی ہم منصب شربل وہبہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے، سانحہ بیروت پر لبنان کی حکومت اور اس ملک کے عوام سے ہمدردی اور قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اس گفتگو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مشکل کی اس گھڑی میں ہر سطح پر لبنان کے عوام اور اس ملک کی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنے دوست اور برادر ملک کی ہرممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ قبل ازیں ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے اپنے لبنانی ہم منصب صدر میشل عون کے نام پیغام میں سانحہ بیروت میں ہونے والے جانی نقصانات پر دلی تعزیت پیش کی تھی۔ صدر نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران انسان دوستانہ امداد کے دائرے میں، طبی امداد, دوائیں اور حتی زخمیوں کے علاج کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارت صحت نے سانحہ بیروت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہوئے لبنان کے عوام اور اس ملک کی حکومت کے لیے ہرممکن امداد کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔درایں اثنا ایران کی انجمن ہلال احمر کے سربراہ کریم ہمتی نے بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں غذائی اشیا کے دوہزار پیکٹ اور جان بچانے والی دوائیں اور دیگر وسائل بیروت روانہ کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی انجمن ہلال احمر نے سانحہ بیروت میں زخمی ہونے والوں کے معالجے کے لیے فوری طور پر فیلڈ ہاسپٹل قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرلی ہے۔ایران کے ہلال کے سربراہ نے مزید کہا کہ فیلڈ ہاسپٹل کے ساتھ ایران کے ڈاکٹروں اور ماہرین کی ایک ٹیم بھی بیروت جائے گی جس میں آرتھو پیڈک، بےہوشی کے ماہرین اور چائلڈ اسپشلسٹ کے علاوہ سرجن حضرات، آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن حضرات اور تربیت یافتہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے لوگ شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ بائیس رکنی یہ ٹیم بدھ کی شام خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے لیے روانہ ہوجائے گی۔
urd_Arab
'یہ ثابت کردیں تو ایک لاکھ جرمانہ دوں گا' پی ڈی ایم جلسے کے بعد شیخ رشید نے بڑا اعلان کردیا - Latest Pakistan News No Comments on 'یہ ثابت کردیں تو ایک لاکھ جرمانہ دوں گا' پی ڈی ایم جلسے کے بعد شیخ رشید نے بڑا اعلان کردیا اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے میں تین ہزار بندے بھی نہیں تھے، انہوں نے اپنی سیاسی طاقت کو ایکسپوژ کیا، آج کا ناکام شو دیکھنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ جلدی سے لانگ مارچ کرو تاکہ آپ کا آخری سیاسی کارڈ بھی سامنے آجائے، اگر کوئی بھی یہ ثابت کردے کہ پی ڈی ایم جلسے میں آنے والوں کو کہیں بھی روکا گیا ہے تو ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کروں گا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مدرسوں کے بچوں کی بات کرتے ہیں، جب دینی طلبہ نے گن اٹھائی ہوئی تھی تب آپ مشرف کے ساتھ تھے، آپ اور اکرم درانی میٹنگ میں ہوتے تھے، آپ مدارس کے بچوں کو ورغلا رہے ہیں، لیکن مدارس نے آج ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، آج صادق آباد سے صرف دو تین گاڑیاں بچوں کی آئیں۔ شیخ رشید کے مطابق سارے اخبار نویسوں کے خیال میں آپ کے جلسے میں تین ہزار بندے تھے، مختلف شہروں سے گاڑیاں آئیں لیکن ان میں ایک ایک کارکن بیٹھا ہوا تھا، پی ڈٰی ایم کے جلسے میں بندے کم اور گاڑیاں زیادہ تھیں۔ جتنے لوگ ان کے جلسے میں تھے اس سے زیادہ تو اسلام آباد کے ایک مدرسے میں ہیں۔ یہ آپ کی سیاسی طاقت ہے کہ آپ نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں جلسہ کیا اور میٹرو بھی بند نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے، قوم نے آج جو کچھ آپ کے ساتھ کیا ہے آپ اسی کے حقدار ہیں، آج کے شو کے بعد ہم آپ کے لانگ مارچ کو ویلکم کرتے ہیں، وہ آپ کا آخری سیاسی کارڈ ہوگا، آپ لانگ مارچ کیلئے آئے تو کشمیری چائے پیش کروں گا لیکن فضل الرحمان کو کشمش اور بادام والا حلوہ پیش کروں گا کیونکہ وہ میرے پیر بھائی ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج محمود اچکزئی نے جیسی تقریر کی ہے اگر یہی چلتا رہا تو شاید حالات ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پچھلی بار بھی ہاتھ ہوا اور اس بار بھی ان کے ساتھ ہوا، میرا جگر عمر کوٹ میں جشن منا رہا ہے اور آپ یہاں دھکے کھا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے جس اسمبلی پر لعنت بھیجی اسی کی سیٹ جیتنے پر آج بلاول جشن منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی یہ ثابت کردے کہ ہم نے ایک بھی کنٹینر لگایا یا پولیس نے کہیں روکا بھی ہو تو ایک لاکھ روپے جرمانہ دوں گا، آج کے ناکم شو کے ذریعے انہوں نے اپنی طاقت کو ایکسپوژ کیا ہے۔ ← عمران خان کو بی جے پی کے اندر جیت نے فنڈنگ کی، مریم نواز کا الزام → بغیر پائلٹ طیاروں کا نظام خریدنے پر پابندی عائد، ٹرمپ کا جاتے جاتے روس کو بڑا دھچکا
urd_Arab
بالوں - آزمانے والوں نے راز بتا دیا! میں ایسی مصنوعات کی سفارش کر رہا ہوں جو کام کریں ، جو محفوظ ہوں ، اور یہ سستی ہوں۔ میں بالوں کی مصنوعات پر کام کرنے والے on 50 سے زیادہ خرچ کیے بغیر آپ کو خوبصورت بالوں میں مدد کرنے کے منتظر ہوں اگر آپ کو کوئی سوالات ہیں یا اپنے بالوں میں مدد کی ضرورت ہے تو براہ کرم مجھ سے رابطہ کرنے میں سنکوچ نہ کریں۔ میرے لئے کون سی مصنوعات کام کرتی ہیں؟ میں ان بالوں کی مصنوعات کو استعمال کرنے کی تجویز کرتا ہوں جن کا تجربہ میرے ذریعہ کیا گیا ہو اور جو کم سے کم 2 سال پرانے ہوں۔ ان کا استعمال کم از کم 1 سال ہونا چاہئے۔ اگر آپ دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ بالوں کو نئی یا تجدید شدہ حالت میں بھی خرید سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ مشورہ دیتا ہوں کہ بالوں کی مصنوعات خریدنے سے پہلے آپ تھوڑی سی تحقیق کریں تاکہ معلوم کریں کہ آیا وہ آپ کے لئے محفوظ اور موثر ہیں۔ میں ان مصنوعات کو بھی استعمال کرنے کی سفارش کرتا ہوں جو بالوں کے رنگنے کا کام کریں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کے بالوں کو خشک ، آسانی سے ٹوٹنے اور بالوں کے رنگنے یا کسی بھی بالوں کے علاج سے خراب نہ کریں جس کا استعمال آپ استعمال کرتے ہیں۔ آپ بالوں کی مصنوعات کیوں استعمال کرتے ہیں؟ اگر میں ان مصنوعات کو استعمال نہیں کرتا ہوں تو میں کیا ہونے کی توقع کرسکتا ہوں؟ جب میں پہلی بار شروعات کررہا تھا ، میں ہر دو یا دو ہفتے میں بالوں کی مصنوعات ڈالتا تھا اور ان سب کو ایک ساتھ استعمال کرتا تھا۔ یہ زیادہ کارگر نہیں تھا کیونکہ مصنوعات صرف میرے بالوں کو روک کر ختم کردیتی ہیں اور اسے بے ہودہ اور اجنبی چھوڑ دیتے ہیں۔ Princess Hair ساتھ کسٹمر تجربات - کیا ٹیسٹ میں بال کی ترقی کی اصلاح واقعی واقعی تک پہنچ گئی تھی؟ ی... کیا Folexin ساتھ ٹیسٹ - کیا ٹیسٹ میں بال کی ترقی کو مضبوط بنانے میں واقعی کامیابی ہوئی؟ زیادہ بال ... Provillus For Men علاج کے لئے: کیا سائبر اسپیس میں بال کی ترقی کو بہتر بنانے کے لئے کوئی اور مناسب ... Revitol Hair Removal Cream - کیا بال کی ترقی کی خوبصورتی کی تعلیمات میں واقعی قابل قبول تھا؟ بالوں... AzerbaijaniBelarusianBulgarischBosnianCzechDanishGermanGreekEnglishSpanishFinnishFrenchHindiCroatianHungarianArmenianIndonesianItalianHebrewJapaneseGeorgianKazakhKyrgyzLithuanianMalayDutchNorwegianPolishPortugueseRomanianRussianSlovakSerbianSwedishTamilTajikThaiTagalogTurkishUkrainianVietnamese
urd_Arab
اردو ادب کے عظیم شاعر مرزا غالب کی 149ویں برسی آج منائی جا رہی ہے 10:26 AM, 15 Feb, 2018 لاہور :مرزا اسد اللہ خاں غالب کا شمار منفرد اسلوب کے حامل اردو زبان کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کی 149 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ اردو ادب میں مرزا نوشاہ کے نام سے معروف مرزا اسد اللہ خان غالب کی ولادت آگرہ میں ہوئی۔ابتدائی ایام مصیبت و آلام میں گزارے،شاعری شروع کی اور پہلے اسد اللہ خان اسد اور پھر اسد اللہ خان غالب کی حیثیت سے اپنا مقام پیدا کیا۔ ہوس کو ہے نشاطِ کارکیا، نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا، کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا تصوف کی بات کریں تو غالب کہتے ہیں: عشق کا رنگ ہو تو : المیہ شاعری تو ہر شاعر کی جان ہوتی ہے تو غالب کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں مگر اس میں ان کی حقیقت پسندی اسے ایک نئے رنگ میں ڈھال دیتی ہے: انہیں انسانی نفسیات کا گہرا شعور تھا جس کی مثال یہ شعر ہے: طویل مضامین کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ہی غالب کی شاعری کا کمال ہے، جیسے: دشوار تو یہ ہے کہ دشوار بھی نہیں روزمرہ زبان سے بھی ان کے اشعار میں نکھار پیدا ہوا: انہیں عظمت انسانی کا بہت پاس تھا جب ہی تو کہتے تھے: شوخی و ظرافت میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے: مرزا نوشاہ نے زندگی کے تلخ حقائق کو جس قدر قریب سے دیکھا اور برتا اُنہیں اتنے ہی میں سادہ و رنگین انداز میں بصورت شعر بیان کردیا۔اس بات پر تمام اہل قلم وادب کا اجماع ہے کہ غالب کی شاعری اردو کو مستقبل میں ثروت مند کرتی رہے گی۔ مرزا غالب کو جہان فانی سے عالم بقا کی جانب سدھارے اگرچہ 149 برس بیت چکے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرزا نوشاہ نے آج یعنی لمحہ موجود کے لیے شاعری کی تھی۔
urd_Arab
احمد ایراندوسٹ 2020/12/3 2021 بہترین فاریکس کمپنی پیرابولک ایس اے آر مارکیٹ کے رجحانات کی سمت اور مدت کے ساتھ ساتھ الٹ کے ممکنہ نکات پر بھی بصیرت فراہم کرسکتی ہے۔ اس طرح ، اس سے سرمایہ کاروں کو اچھی خرید و فروخت کے مواقع تلاش کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ باہر ، پودوں کی بنیاد کے آس پاس موجود مٹی کی جانچ کرنا آسان ہے۔ اگر یہ تین انچ نیچے خشک ہے تو ، دوبارہ پانی پلانے کا وقت آگیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے افغانستان میں دہشت گردی کے مسلسل خطرےکےخلاف افغان سیکیورٹی فورسزکی جیبی آپشن فاریکس کوششوں میں تعاون کا اظہار کیا۔ ایک محفوظ اورمستحکم افغانستان خطے کے امن اورخوشحالی میں مدد دےگا، اس کو مانتے ہوئے انہوں نےاتفاق کیا کہ افغانستان میں ایک سیاسی سمجھوتے کوافغانستان کا اپنا اورافغان قیادت کے تحت ہونا چاہئیے اوروہ اسی صورت میں کامیاب ہوگا اگر شوریدہ طالبان تشدد ترک کرکے جمہوری اصول اپنالیں. شراکت مارجن کا تناسب ایک ایسا فارمولا ہے جو خالص فروخت کے مقابلے میں شراکت مارجن (مقررہ اخراجات ، یا سیل منس vari متغیر اخراجات) کی فیصد کا حساب لگاتا ہے ، جو فیصد کی شرائط میں ہے۔ اس مساوات کا جواب مصنوعات کی پیداوار کے تمام متغیر اخراجات کو پورا کرنے کے بعد مقررہ اخراجات اور منافع کو پورا کرنے کے لئے بقایا سیلز آمدنی کا کل فیصد ظاہر کرتا ہے۔ اپنے اسمارٹ فون پر موجود معلومات کا بیک اپ بنائیں تاکہ پاس کوڈ نہ جاننے کی وجہ سے آپ کو اپنے تمام ڈیٹا کو فیکٹری ری سیٹ کرنا پڑے گا۔ آپ نے وعدے سنے ہیں اور چمکدار فروخت کا ادب پڑھا ہے ، لیکن اس کے علاوہ اور کیا جاننا ضروری ہے؟ ہم نے مذکورہ بالا موضوعات میں سے کچھ پر توجہ دی ہے ، اور کچھ اہم نقصانات کا خلاصہ ذیل میں کیا گیا ہے۔ گزینه Open Log: یک گزینه منحصر به فرد و اختصاصی می باشد که شما به کمک این گزینه می توانید تغییرات دوستان خود اعم از تغییر تصاویر و اطلاعات اکانت آنها را مشاهده کنید. اوسط پرائس کال کے اختیارات اوسط قیمت کے اختیارات (اے پی اوز) کے نام سے جانا جاتا مشتق آلات کی وسیع تر قسم کا حصہ ہیں ، جنہیں بعض اوقات اوسط شرح کے اختیارات (اے آر اوز) بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں زیادہ تر او ٹی سی کا کاروبار ہوتا ہے ، لیکن کچھ تبادلے ، جیسے انٹرکنٹینینٹل ایکسچینج (آئی سی ای) ، انہیں درج معاہدہ کے طور پر بھی تجارت کرتے ہیں۔ اس قسم کے ایکسچینج لسٹڈ اے پی او نقد آباد ہیں اور صرف اس کی مدت ختم ہونے کی تاریخ پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جو مہینے کا آخری تجارتی دن ہے۔ سوداگری به عنوان یک تاجر قمار نیست. تفاوت بین قمار و حدس و گمان مدیریت ریسک است. به عبارت دیگر ، با حدس و گمان ، شما جیبی آپشن فاریکس نوعی کنترل خطر خود را دارید ، در حالی که با قمار این کار را نمی کنید. حتی یک بازی با ورق مانند پوکر را می توان با طرز فکر یک قمارباز یا با طرز فکر یک سوداگر انجام داد ، معمولاً با نتایج کاملاً متفاوت. اگرچہ کئی سو کمپنیاں ڈی پی پی کی پیش کش کرتی ہیں ، لیکن زیادہ تر کمپنیاں ایسا نہیں کرتی ہیں۔ اگر آپ کسی کمپنی میں براہ راست سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہو اور اس میں ڈی پی پی نہیں ہے تو کیا ہوگا؟ مضمون کے لئے مکمل راستہ: اکانومی فنانس » مالیاتی مصنوعات » بیگ » سرمایہ کاری کی مصنوعات میں لیکویڈیٹی کیا ہے؟ اعتماد کے ساتھ لاگ ان کریں. LogMeOnce امیر خصوصیات کے ساتھ آپ کے پاس ورڈ اور اکاؤنٹس کی حفاظت. 5.11 اے ایم ایل کے وائی سی قواعد و ضوابط اور دوسرے قابل اطلاق قوانین کی تعمیل کرنے کے جیبی آپشن فاریکس مقصد کے لئے، نیا پے کو اس کی طلب کردہ معلومات مہیا کرے بشمول مرچنٹ کے کاروبار، کاروباری ڈھانچے اور آئین، حصص یافتگان، شراکت داروں، ممبروں، ڈائریکٹرز، اہم ملازمین یا، کسی ٹرسٹ کی صورت اس کے استفادہ کنندگان کی معلومات اورنیاپے کی طرف سے درخواست پر، مرچنٹ کے کاروبار سے متعلق مالی معلومات اور دیگر معلومات کی کاپیاں، بشمول بینک اور / یا تجارتی حوالہ جات۔ ایک خوردہ غیر ملکی زرمبادلہ ڈیلر (آر ایف ای ڈی) غیر زرخیز تبادلہ ، اوور-دی-کاؤنٹر (او ٹی سی) کے غیر ملکی کرنسی ٹرانزیکشن کے متضاد کی حیثیت سے کام کرتا ہے جہاں مالیاتی آلات کی خرید و فروخت میں ایک بھی تبادلہ شامل نہیں ہوتا ہے۔ لین دین ، ​​فیوچر معاہدے ، فیوچر معاہدوں پر اختیارات ، اور ان لوگوں کے ل options آپشنز معاہدہ جو کہیں بھی یہ لین دین انجام دینے کے اہل نہیں ہیں۔ غیر ملکی تبادلہ ڈیلروں کو نیشنل فیوچر ایسوسی ایشن (این ایف اے) کا ممبر بننے کی ضرورت ہوتی ہے ، تاکہ کاروبار کو چلانے کے ل the۔ عوام. ہمارے جیبی آپشن فاریکس قارئین پاک ویلز آٹو اسٹورکا وزٹ کر سکتے ہیں کہ جہاں آپ کو ٹاپ کوالٹی کے پارٹس فوری مل جاتے ہیں۔ فاصلہ: 18.9 میل (30.4 کلومیٹر) یہ تجارت کے لئے ایک مشکل چیلنج ہو گا. io مارکیٹوں کو جمہوریت دینے اور ان کے پیغام کو دنیا کو لانے کیلئے. تجارت کا خیال io اچھا ہے، اخراجات کو کم کرنے اور اسے فہرست بنانے میں آسان بنانے کے لئے، تاہم، مالیاتی صنعت کے لئے روایتی ماڈلوں کو اس مہذب ماڈل میں تبدیل کرنے کے لئے یہ بہت سخت تبدیلی ہوگی. موجودہ ماڈل تبدیل کرنا مشکل ہو گا. بروکر به تمام مشتریان خود یک بستر معاملاتی در قالب حساب معاملاتی برای اجرای سفارش خرید و فروش ارائه می دهد. هتي 10 بهترين ڊي فائي سکن جي هڪ فهرست آهي جنهن هن غير معياري مارڪيٽ جي واڌ ۾ مدد ڪئي آهي. سائن ان فارم میں اپنی تفصیلات پُر کریں۔ اپنا پاس ورڈ (لاگ ان کرنے کے لئے استعمال ہوگا) اور فنڈ کا پاس ورڈ (فنڈز نکلوانے کے لئے استعمال ہوگا) لکھنا نہ بھولیں ۔ ایک بار کام کرنے کے بعد ، فارم کے نیچے "اکاؤنٹ بنائیں" کے بٹن کو دبائیں۔ - کنڈکٹر کا جیومیٹری: لمبائی اور کراس سیکشن کا رقبہ۔ آئی فوریکس کی بنیاد 1996 میں بینکرس اور فاریکس ڈیلروں کے ایک گروپ نے رکھی تھی ، اور اس کا دعوی ہے کہ یہ صنعت کی سب سے بڑی اور معزز فرموں میں سے ایک ہے۔ یہ کمپنی عالمی منڈیوں تک براہ راست رسائی کا اشتہار دیتی ہے ، جس میں غیر ملکی کرنسی ، ایکویٹیٹی ، اجناس اور اشاریہ جات شامل ہیں ، بشمول دنیا بھر میں واقع دفاتر اور گاہک کی مادری زبان میں فوری طور پر کسٹمر سروس۔ آئی فوریکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جیبی آپشن فاریکس میں اصل وقتی مارجن تحفظ کے ساتھ تمام بروکرز کی پیش کردہ پیش کش کی صلاحیتوں سے ہیجنگ ہے ، حدود کو یقینی بنانا اور منفی اکاؤنٹ کے توازن کو روکنے کے ل risk خود بخود رسک مینجمنٹ کی احتیاطی تدابیر کا استعمال کرنا۔ یہ پورے دھوپ میں ، یا ایک بہت ہی روشن کمرے میں واقع ہونا چاہئے . ان کے علاوہ ، آپ پریواش کے لئے زیتون ، ارگن ، میٹھا بادام ، اور ناریل کا تیل بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ کسی بھی تیل سے بالوں اور کھوپڑی کو اچھی طرح سے مالش کریں اور hours- 2-3 گھنٹے بعد اسے دھو لیں۔ یہ تیل خشک اور خراب ہونے والے بالوں کے داغ کو مضبوط بنانے اور مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں. ذیل میں اپنے ادائیگی کے اختیارات پر ایک نظر ڈالیں۔ براہ کرم مکئی کے ساتھ اپنے تاثرات ، مشورے اور مزید تفریحی ترکیبیں شئیر کریں۔ مشتق شدہ مصنوعات خود بنیادی طور پر متعدد فریقوں کے مابین معاہدہ ہے۔ اس کی قیمت بینچ مارک کے بطور استعمال ہونے والے بنیادی اثاثوں سے ہوتی ہے۔ جو بھی اثاثہ اس حوالہ نقطہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، بنیادی تصور یہ ہے کہ مشتق مصنوع اس سے اپنی قدر اخذ کرتا ہے۔ مشتق مصنوعات کی کچھ عام مثالیں فیوچر معاہدے ، اختیارات کے معاہدے ، اور تبادلہ ہیں ۔ سرکاری اور نجی REITs کے دائرے میں ، جائداد غیر منقولہ سرمایہ کاری کے 3 اہم اقسام ہیں۔ ان میں ایکویٹی REITs ، رہن REITs ، اور ہائبرڈ REITs شامل ہیں۔ ان میں سے تینوں REITs سخت قابلیت اور کسی REIT کی رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم ، جس طرح سے وہ ہر ایک اپنی آمدنی کرتے ہیں وہ قسم سے مختلف ہوتا ہے۔ ملازمین کی ترقی کے منصوبے اس بدلتے متحرک کی عکاسی کرنے اور باہمی خوشحال تعلقات کو یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہیں۔ یہ تبادلہ معاہدوں کے حجم کے حساب سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے مشتق تبادلے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے 9 دنیا بھر میں برانچ آفس ہیں۔ اشتہاری کی ایک عمدہ مثال فیچر از بہ سونی مہم جو کئی سال پہلے شروع کی گئی تھی۔ اس میں فری لانسرز کے لکھے ہوئے مضامین پر مشتمل ہے جنھوں نے خود کو اوسط شہریوں کے طور پر پیش کیا کہ وہ کس طرح ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہیں۔ مضامین سونی کے ذریعہ کمیشن کیے گئے تھے اور ان کی ادائیگی کی گئی تھی۔ انھوں نے اکثر سائیڈ بار کے علاوہ سونی کا تذکرہ بھی نہیں کیا ، جس کی وجہ سے انہیں خاص طور پر عام سائٹ کے مشمولات سے ممتاز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن واقعی تنقید کا باعث یہ تھا کہ مضامین کو تشہیر کرنے کی حیثیت سے لیبل لگانے کا عمل بہت چھوٹی قسم میں ہوتا تھا اور بعض اوقات اشتہاری لفظ بھی استعمال نہیں ہوتا تھا۔ شروع کرنے کے ل proper ، مناسب تربیت حاصل کریں - شمسی توانائی سے بجلی کی تنصیب کی تربیت کے اخراجات عام طور پر $ 1000 کے قریب ہوتے ہیں۔ مزید برآں ، آپ کی ریاست کو مخصوص لائسنسنگ کی ضرورت ہوسکتی ہے ، جیسے شمسی توانائی کے ٹھیکیدار کا لائسنس۔ آپ کو یہ لائسنس درکار ہے یا نہیں اس کا تعین کرنے کے ل state ، یہ بہتر ہے کہ آپ اپنے ریاست کی سرکاری کاروباری لائسنسنگ ویب سائٹ سے جانچ کریں۔ انویسٹمنٹ بروکرز ابتدائی افراد کے لئے ایسا سازگار آپشن نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہ فعال تاجروں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس میں غیر فعالی فیس بڑھا دی جاتی ہے ، جہاں آپ تجارتی کمیشنوں میں نامزد ماہانہ کم سے کم پورا نہیں کرتے تو آپ سے وصول کیا جائے گا۔ مزید برآں ، ویب سائٹ فہرست سے دوسری ویب سائٹوں کے مقابلے میں پیچیدہ اور کم صارف دوست ہے۔ سین بینچ آر 15 ٹیسٹوں کے ساتھ چھ کوروں کی لڑائی جاری ہے ، جس نے سنو بلائنڈ کو کارسیر ون اور ہمارے Z270 ٹیسٹ بینچ کے پیچھے رکھ دیا ہے۔ ہم سنگل تھریڈ رینڈرنگ میں کور i7-7700K اور -8700K پروسیسرز کے پیچھے پڑتے دیکھ کر حیرت زدہ نہیں ہیں (ان سی پی یوز میں سنگل کور ٹربو فریکوئنسی بہت زیادہ ہے) ، لیکن یہ اب بھی ون کے چھ کور کو شکست نہیں دے سکتا۔ ملٹی تھریڈ ٹیسٹوں میں اعلی آل کور کلاکریٹس کے ساتھ سی پی یو (-8700K 4.3GHz پر چلتا ہے ، -7800X 4.0GHz تک پہنچ جاتا ہے)۔ X299 پلیٹ فارم کو ٹیسٹ کے اوپن جی ایل حصے میں پیک کو پیچھے سے دیکھ کر حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر آپ کے متعدد گوگل اکاؤنٹس ہیں تو ، آپ ایپ سے جانچ کر سکتے ہیں کہ کونسا آپ کے ہوم ہب سے منسلک ہے۔ آپ کا جی پی پریکٹس تمام مندرجہ بالا امور پر آپ کو مشورہ دے سکے گا اور ممکن ہے آپ کو دوا بھی دینا چاہے یا آپ کی موجودہ دوا پر نظر ثانی کرے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپ بیچنا چاہتے ہیں۔ لیکن اپنے مضامین کے ساتھ 15 ، 20 یا 30 اشاعتوں کی اشاعت کرنا تھکا دینے والا ہے۔ بہت کچھ۔ اس کے علاوہ فیس بک کو یہ پسند نہیں ہوسکتا ہے کہ آپ اتنے بڑے پیمانے پر ہیں ، اور اپنے گروپ کو "چھپائیں" تاکہ دوسرے اسے نظر نہ آئیں۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو بہت ساری مہارتوں کا اہل ہے لیکن ہر نئی مہارت کو سیکھنے میں اتنا زیادہ وقت صرف کرتا ہے کہ وہ یا وہ کبھی بھی کسی خاص ماہر میں حقیقی مالک نہیں بن سکتا۔ وہ ایک ماہر نہیں ، ایک جنرل ہیں۔ یہ سنیں کہ یہ کیوں اوڈیمی کے بارے میں گین اسکوائر فاریکس اینڈ اسٹاک ٹریڈنگ ٹیکنیکل تجزیہ کورس میں سب سے اوپر ہے۔ خریداری کے لئے فون کرنا ضروری ہے. اگر جیبی آپشن فاریکس آپ کو شبہ ہے کہ کوئی رجحان پیدا ہورہا ہے تو ، RSI کے مطابق ہو۔ کیا یہ مرکز کے اوپر یا نیچے ہے (50)؟ اگر آپ اصلی نظریات اور سب کو پیش کرنا چاہتے ہیں تو ، آپ اوسطا 20-30 سیکنڈ / وقت دیکھنے اور اوسطا دیکھنے کے وقت کے ساتھ "فاسٹ ویوز" کے ساتھ دو خدمات ، "اعلی برقراری خیالات" کا تجربہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو 30 سے ​​180 ہے۔ سیکنڈ / دیکھیں. میں یہ شرط لگانے کے لئے تیار ہوں کہ زیادہ تر نرسیں شخصی ملازمتوں میں کام کر رہی ہیں ، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتی ہیں اور انہیں بھی زیادہ سے زیادہ تنخواہ مل سکتی ہے۔ گرافک ڈیزائن کے لئے 30 بقایا اسکیٹ بورڈ مقفل. اپنے آپ سے پوچھیں: کیا آپ کاغذی کام اور کمپیوٹر پر کام کرنے میں تفصیل سے مبنی اور اچھے ہیں؟ کیا آپ کے پاس انتظامی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لئے تنظیمی صلاحیت اور ڈرائیو کی ضرورت ہے؟ 1. اپنی جیبی آپشن فاریکس بینکنگ کی تاریخ پر غور کریں. آپ کا کاروبار کس صنعت پر پڑتا ہے اس سے آپ کو کتنا فائدہ ہوگا۔ ایک پھولوں کی دکان ، مثال کے طور پر ، توقع نہیں کرنی چاہئے کہ کمرشل لا فرم کے جیسی قیمتوں پر قیمت لگائیں۔ پیشہ ورانہ اوسط تنخواہ کی کچھ مثالیں یہ ہیں کہ کسی خاص قسم کے کاروبار کو آگے بڑھاتے وقت آپ کو کیا مقصد حاصل ہوسکتا ہے اس کا اندازہ لگائیں۔ 1۔ بٹ کوئن ایک غیر حسی کرنسی ہے جس جیبی آپشن فاریکس کا کوئی جسمانی وجود نہیں، ا ورا س کا پورا مدار انٹرنیٹ پر ہے۔ انتقال برنامه های بین مشتری و کارگزار به عنوان یک قاعده انجام می شود، با استفاده از پیام توسط اصلاح پروتکل . برای انتقال برنامه های مورد نظر برای موتورهای الگوریتمی، در سال 2004، استاندارد Parole بود fireatdl (گسترش پروتکل اصلاح)، اما تا کنون این استاندارد گسترده نشده است. این پیام در سیستم مدیریت برنامه کاربردی کارگزار ثبت شده و به طور خودکار به موتور الگوریتمی کارگزار هدایت می شود. پیام ثابت شامل پارامترهای اجرای الگوریتم در برچسب های خاص است، به عنوان مثال:
urd_Arab
وزیر اعظم حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر 18اگست کوقوم سے خطاب کریں گے اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر اٹھا رہ اگست کوقوم سے خطاب کریں گے اور ایک سالہ حکومتی کارکردگی سے قوم کو آگاہ کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم اٹھا رہ اگست کوقوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ ایک سالہ حکومتی کارکردگی سے قوم کو آگاہ کریں گے۔ وزیر اعظم آفس نے وزراتوں اور محکموں کو مراسلہ جاری کردیا ہے، جس میں وزارتوں اور ڈویژنزکو ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے کے متن میں کہاگیا ہے کہ تمام وزراتیں اورڈویژنز پہلے سال کی 5 بڑی کامیابیاں بتائیں، تمام وزرا نو اگست تک اپنی وزارت کی اہم کامیابیوں سے آگاہ کریں گے۔ یاد رہے 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے 22 ویں وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تھا۔ مزید پڑھیں : عمران خان نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ جب تک اقتدار میں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا، منی لانڈرنگ سے باہر گیا پیسہ واپس لانے کیلیے ٹاسک فورس بنائیں گے، قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانی کرنے والوں کے رہن سہن سے آپ سب کو بچانا چاہتا ہوں، پاکستان میں وزیراعظم ہاؤس کے 524 ملازم ہیں، وزیراعظم ہاؤس 1100کینال پر واقع ہے، وزیراعظم کیلئے33بلٹ پروف سمیت 80گاڑیاں ہیں، ہم ان کو نیلام کرکے اس پیسے کو قوم کے استعمال میں لائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا آپ میری ٹیم بنیں، میں مسائل کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا، وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہائش اختیار کررہا ہوں، سیکیورٹی کے پیش نظر ملٹری سیکریٹری کے 3کمروں والے گھر میں رہوں گا۔
urd_Arab
سسکتی ہوئی اردو کا سچا بہی خواہ کون؟ - مضامین ڈاٹ کام کامران غنی صبا اشاعت 30 مارچ، 2019 جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتا رہا ہوں کہ اردو ختم ہو رہی، اردو مٹ رہی ہے، اردوکا مستقبل تاریک ہے لیکن نہ جانے یہ زبان بھی کس مٹی سے بنی ہے کہ اس کے مٹنے اور ختم ہونے کی پیشنگوئی کرنے والے نہ جانے کتنے مر مٹے لیکن یہ زبان آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ زبان ہر عہد میں سسکتی رہی، غیروں کے تعصب اور اپنوں کی بے اعتنائی پر آنسو بہاتی رہی۔ بلکہ سچ پوچھیے تو یہ زبان ہر زمانے میں اپنے چاہنے والوں کو آزماتی رہی ہے کہ اس سے سچی محبت کرنے والے کون ہیں اور کون صرف اس سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ آج اردو ایک بار پھر ہمیں آزما رہی ہے۔ بہار کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو سسک سسک کر اپنی بربادی کا نوحہ پڑھ رہی ہے لیکن اس کے آنسوئوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ کوئی ایسا مسیحا نہیں ہے جو اس کے درد پر مرحم رکھ سکے۔ پہلے تو اردو کی عصمت پر حملہ بولا گیا، اب تو اس کا وجود ہی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ بہار کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں اردو درس و تدریس کوئی نظم نہیں ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اردو کے نام پر کچھ اساتذہ بحال بھی ہوئے تو انہیں ایسے اسکولوں میں بھیج دیا گیا جہاں اردو پڑھنے والا کوئی طالب علم ہے ہی نہیں۔ پہلے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں کتابیں مفت فراہم کی جاتی تھیں تو دوسرے موضوعات کے ساتھ ساتھ 'اردو بیچاری' بھی بچوں کے بستے تک پہنچ جاتی تھی پھر چاہے اسکول میں ٹیچر ہوں یا نہ ہوں محلے کے 'مولوی صاحب' کچھ نہ کچھ تو پڑھا ہی دیتے تھے۔ ابھی تازہ صورتِ حال یہ ہے کہ بہار کے کسی بھی ضلع میں اردو میڈیم کی کتابیں تو خیر چھوڑیے اردو کی درسی کتاب بھی دستیاب نہیں ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اردو کی کتابیں شائع بھی ہوئی ہیں یا نہیں۔ بہار ٹکسٹ بک کائورپوریشن سے اس سلسلہ میں کوئی تشفی بخش جواب نہیں مل رہا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ کتابیں شائع ہی نہیں ہوئی ہیں اگر شائع ہوتیں تو بازار میں ضرور دستیاب ہوتیں۔ میٹرک اور انٹر کی کتابیں تو پہلے سے ہی بازار سے غائب ہیں۔ اردو کی کتابیں کیوں شائع نہیں ہو رہی ہیں یا شائع ہو رہی ہیں تو طلبہ تک کیوں نہیں پہنچ رہی ہیں، یہ کون پتہ چلائے اور کیوں پتہ چلائے؟ہمارے لیے اطمینان کی بات یہی ہے کہ اردو کے نام پر مشاعرے، سمینار اور کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ اردو کے شعرا و ادبا ٹرین کی بجائے ہوائی جہاز سے سفر کرنے لگے ہیں۔ اردو کی جڑیں سوکھی ہیں تو کیا ہوا شاخوں پر لگی مصنوعی پتیاں اتنی ہری بھری ہیں کہ جڑوں پر کسی کا دھیان بھی نہیں جا سکتا۔ کچھ روز قبل کی بات ہے۔ خبر ملی کہ پٹنہ ویمنس کالج کے شعبۂ اردو میں صرف ایک طالبہ ہے۔ وہ بھی تینوں سال یعنی بی اے فرسٹ، سیکنڈ اور فائنل ایئر کو ملا کر۔ شکرمنائیے کہ تاریکی میں ایک ٹمٹماتا ہوا دیا ہی سہی کچھ تو روشن ہے ورنہ کئی جگہ تو ڈیپارمنٹ میں تالے بھی پڑے ہوئے ہیں۔ پٹنہ کالج، ویمنس کالج، سائنس کالج اور کامرس کالج میں اردو کی ایک بھی فیکلٹی نہیں ہے۔ خدا بھلا کرے ریسرچ اسکالرز کا جن کی وجہ سے کالجز اور یونیورسٹیز کے اردو شعبے کسی طرح چل رہے ہیں۔ یہ وہی عظیم آباد ہے جس سے غزال آنکھیں چرایا کرتے تھے۔ اب غزال آنکھیں چراتے ہیں یا نہیں یہ تو 'بازارِ ختن کے خریدار' بتائیں گے البتہ عظیم آباد والوں نے اردو کی بے بسی دیکھ کر اردو کے مسائل سے آنکھیں چرانا ضرور شروع کر دیا ہے۔ اسی لیے اردو کے بنیادی مسائل پر اب کوئی ہلکی سی صدا بھی بلند نہیں ہوتی۔ یہاں ہر دوسرے اردو والے کی جیب میں کسی ادارے کا 'لیٹر پیڈ' ضرور مل سکتا ہے لیکن اردو کے مسائل کے حل کے لیے کسی کے پاس نہ تو وقت ہے اور نہ اتنی جرات کہ زمینی سطح کی تلخ سچائی کو طشت از بام کر سکے۔ چند ایک دیوانے ضرور ہیں جو کچھ لکھنے اور بولنے کا کام کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔ اردو اخبارات کے صفحات میلاد شریف، قل و قرآنی اور شادیات کی خبروں سے بھر ہی جاتے ہیں اس لیے انہیں ہندی اور انگریزی اخبارات کی طرح تحقیقی اور تجزیاتی رپورٹ شائع کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ جن کے پاس اعداد و شمار ہیں وہ یا تو کسی سرکاری عہدے پر فائز ہیں یا کسی عہدے پر نہیں بھی ہیں تو 'امیدِ فردا' میں خاموش رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ جس طرح ضعیف والدین کی کچھ ناخلف اولادکو صرف ان کی جائداد سے مطلب ہوتا ہے۔ والدین کو بیماری سے تڑپتا دیکھ کر ان کے دل میں ہمدردی کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی اولاد سے کسی قسم کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ اسی طرح ہمارے بعض دانشورانِ اردو، اردو کے نام پر صرف اپنی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں، اردو کے مستقبل سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے۔ این آئی او ایس میں اردو کی شمولیت کا معاملہ ہویا اردو اساتذہ کی بحالی کا مسئلہ۔ کیا آپ نے انہیں کبھی اردو کے حق کی لیے آواز بلند کرتے دیکھا ہے؟ یہ آواز بلند کرتے ہیں اردو کے سرکاری اداروں کے سکریٹری اور چیئرمین بننے کے لیے۔ ان کی ساری تگ و دو عہدہ حاصل کرنے، مشاعرہ اور سمینارمیں شامل ہونے اور اپنے 'گروپ' کو مضبوط کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ سچ پوچھیے تو یہ اردو کی خدمت نہیں کر رہے ہیں بلکہ 'اردو بیچاری' ان کی خدمت کر رہی ہے۔ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں اردو سسک رہی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ دم نہیں توڑے گی۔ ہاں سسکتی ہوئی اردو کو دیکھ کر اس کے سچے اور جھوٹے ہمدردوں کا چہرا ضرور واضح ہوتا رہے گا۔ آپ بھی سسکتی ہوئی اردو کے قریب آئیے اور دیکھیے کہ کون اس کا سچا بہی خواہ ہے اور کسے صرف اس کی 'جائداد' سے مطلب ہے۔
urd_Arab
سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈز پرصبح 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،اس میں 69 افراد جاں بحق ، 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ، وزیر مملکت داخلہ بلیغ الرحمان کی ایوان کو بریفنگ ، دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ ، نوید قمر اور دیگر کا کوئٹہ واقعہ پر بحث کے دوران اظہار خیال سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈز پرصبح 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،اس میں 69 افراد جاں بحق ، 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ، وزیر مملکت داخلہ بلیغ الرحمان کی ایوان کو بریفنگ ، دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ ، نوید قمر اور دیگر کا کوئٹہ واقعہ پر بحث کے دوران اظہار خیال پیر 8 اگست 2016 | 20:23 مرکزی صفحہاخباراہم خبریں سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی .. اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء ) قومی اسمبلی کے ارکان نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ، ہسپتال میں دہشت گردی بزدلانہ کارروائی ہے ۔ پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف متحد ہے اور اتحاد اور یکجہتی سے دہشتگردوں کو عبرت ناک شکست دی جائے گی ، حکومت دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر کسی رو رعایت کے بغیر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں کوئٹہ سانحے پر بحث کا آغاز پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کیا ۔ قبل ازیں وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے بحث کے لئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک کی ایوان نے منظوری کرائی جس کے بعد وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کرائی۔(خبر جاری ہے) قومی اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفہ کے بعد پیر کی شام سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، نعت رسول مقبولؐ کے بعد سپیکر نے کہا کہ 90 سے زائد افراد کوئٹہ کے سانحہ میں جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے اور میں 100 سے زائد لوگ زخمی ہیں ،ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں فیصلہ ہوا ہے کہ ایجنڈے کی معمول کی کارروائی معطل کرکے اسی سانحہ پر بحث کرائی جائے گی۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے تحریک پیش کی کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ کو زیر بحث لانے کے لئے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کی جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ قاعدہ 259 کے تحت ایوان میں سانحہ کوئٹہ کو زیر بحث لایا جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد سید نوید قمر نے تجویز دی کہ پہلے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کرائی جائے ۔ سپیکر کے کہنے پر وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے فاتحہ خوانی کرائی ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے انجینئر بلیغ الرحمن نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پیر کی صبح 8 بج کر 43 منٹ پر بلال کاسی کو گھر سے عدالت جاتے ہوئے راستہ میں میں تین دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیا جب ان کی میت ہسپتال پہنچائی گئی تو سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈز پر 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا جس میں 69 افراد جاں بحق اور 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ سپیکر نے کہا کہ کوئٹہ سانحہ میں میڈیا کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ۔ اس لئے پارلیمانی رپورٹرز نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج رجسٹرڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو ہدایت کی کہ وہ پریس گیلری میں جا کر صحافیوں سے بات چیت کریں ۔ اس دوران سید نوید قمر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سانحہ کوئٹہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر انسان کی جان بے انتہا قیمتی ہے ۔ آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد ہم نے جو فیصلے کیے تھے ان کو ہمیں مدنظر رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس وقت اے پی سی میں جو لائحہ عمل مرتب ہوا تھا حکومت کو بتانا چاہئے کہ ان فیصلوں پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ ہے ۔ اس لعنت کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ کوئی دہشت گردی کی جرات نہ کر سکے ۔ وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم متحد ہونا چاہیے ۔ جب تک ملک کا ہر شہری دہشت گردوں کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ شرارت کہاں سے ہو رہی ہے ۔ مذہب کا نام استعمال کرکے انتہا پسندی ہو رہی ہے اس کے سدباب کے لئے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر مذہبی لیڈروں اور جماعتوں کو آگے آنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحادو یگانگت پیدا کرنی چاہیے ۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ کوئٹہ میں جس پیمانے پر دہشت گردی ہو ئی ہے پوری قوم کو گہرا صدمہ پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر صرف تعزیت اور مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہم دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ایسے اقدامات ہونے چاہیے کہ خود کش حملہ آور ایسی کارروائیوں کے لئے پہنچ نہ سکیں ۔ نیشنل ایکشن پلان بن گیا مگر کریمنل جسٹس سسٹم پر کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ جب تک ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے گئے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ ریاست کو چاہیے کہ دہشتگردوں کی رسائی معصوم شہریوں تک رسائی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ اس کے لئے انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانا ہو گا فیس بک بھارت ، افغانستان اور ایران سے تعلقات بہتر کئے بغیر دہشتگردی نہیں رکے گی ، ہم نے افغانستان میں دہشت گردی کے لئے .. پیر 8 اگست 2016 | 08:23:09 پاکستان اور امریکہ کی پارلیمانوں کے مابین وسیع بنیادوں پر تعلقات علا قائی چیلنجز کو حل کرنے میں کلیدی کردار اد .. سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈز پرصبح 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،اس میں 69 افراد جاں بحق ، 108 افراد زخمی ..
urd_Arab
آپ یہاں ہیں: ثقافت – رواج - غذا / غذا سے متلق عادات یونان میں غذا سے متعلق عادات یو نانی معاشرے میں کھانا بہت سارے مواقع اور سرگرمیوں کے ساتھ آتا ہے۔ یونانی روایات چھٹیوں، شادی، بیپٹزم، جنازہ یا مخصوص معاشرتی موقعوں پر مخصوص کھانا تجویز کرتے ہیں۔ یونان کے کئی علاقوں میں خاص روائتی پکوان کے نسخے تیوہاری رسموں کا اہم حصہ ہیں۔ یونان کی خواتین اور مقامی کمیونٹیز کے تمام اراکین ان نسخوں کو نسل در نسل لے کر چلتے ہیں۔ مخصوص پکوان کرسمس، نئے سال اور ایسٹر کے موقع پر تیوہاری ٹیبل کی زینت بنتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں خاص کر بڑے شہروں میں بیرونی کھانوں نے روائتی کھانوں کی جگہ لے لی ہے۔ آرتھوڈاکس عیسائی سال کے کافی دن روزے رکھتے ہیں۔ اسکا مطلب ہے کہ وقت کے خاص حصوں میں (اہم مذہبی چھٹیوں سے پہلے – کرسمس، ایسٹر اور 15 اگست) بعض کھانے جیسے گوشت، پنیر، انڈے یا تیل استعمال نہیں کیے جاتے۔ آرتھوڈاکس چرچ کی جانب سے تجویز کردہ روزے کھانے کی اچھی عادتوں اور صحت اور مقامی زرعی مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیتے ہیں۔ روائتی کھانوں کے بہت سارے نسخے ہمیں بتاتے ہیں کہ نشو نما سبزیوں کے پروٹین سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے اسی طرح جیسے جانوروں سے اگر پروٹین کے مختلف ذرائع استعمال کے جائیں جیسے پھلیاں، اناج، ڈبل روٹی، چاول وغیرہ یونان میں کرسمس کا خاص کھانا سور ہے۔ یہ یونانی کرسمس ٹیبل پر ایک نمایاں جگہ رکھتا ہے کیونکہ گوشت ایک عیاشی کا آئٹم تھا جو خاص موقعوں پر استعمال کیا جاتا تھا۔ خاندان کے جانوروں کو خاص طور پر دودھ اور انڈوں کیلئے پالا جاتا تھا۔ کیور کیا گیا گوشت کھانا بھی زیادہ تر آبادی کے لیے نادر تھا۔ اس کے بجائے امیر لوگ اکثر دنبے، بکرے، مرغی، گھریلو پرندوں اور شکار کے گوشت کے مزے اڑاتے تھے۔ یونان کا کوئی بھی علاقہ اپنا نسخہ بناتا ہے جو نہ صرف اس علاقے (جزیرہ، پہاڑی علاقہ، شہری سینٹر) کی خصوصیت، دستیاب خام مواد کے بلکہ قوانین اور مذہبی ثقافت کے بھی مطابق ہو۔ مثال کے طور پر یوبیہ میں کرسمس کی ڈش کو "بیبز" کہا جاتا ہے۔ یہ ابلی ہوئی انتڑیاں جس میں جگر، تلی اور مصالحے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ تلی کا رنگ علامتی تھا، تو اگر وہ صاف ہو تو یہ اچھا شگون ہوتا ہے اور اگر وہ پیلی اور کھدی ہوئی ہو تو یہ بدشگونی کی علامت ہے۔ ایپیرس (زیگوروکوریہ) میں وہ "سپارگانا" (پین کیک) بناتے ہیں جو کرائسٹ کی کمسنی کی علامت ہے۔ ڈوڈیکانیز "گیاپراکیا" بناتے ہی، گوبھی، چاول اور قیمے سے۔ قیمہ کے گرد لپٹی ہوئی گوبھی کرائسٹ کے لپٹے ہوئے کپڑوں کی علامت ہے۔ تھریس مین 9 مختلف کھانے ٹیبل پر پیش کیے جاتے تھے، سب کچے اور روزے کیلئے موزون۔ یہاں علامت پورے سال رزق کی فراوانی کی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مخصوص یونانی کرسمس کی روایت تمام مذاہب میں کرسمس کیک ہے جسے مختلف طریقے سے سجایا جاتا ہے جو مقدس طاقت کی علامت ہے۔ کرسٹوپسومو ایک ڈبل روٹی ہے جس پر کراس بنا ہوتا ہے اسے کرسمس ٹیبل پر رول کیا جاتا ہے۔ اسے ہمیشہ بہترین چیزوں سے بنایا جاتا ہے (بہترین آٹا، خشک میوہ، تل، مصالحے)۔ اگر یہ الٹی طرف رکے تو سال برا گزرے گا اور سیدھی طرف رکے تو اچھا یونانی کرسمس ٹیبل پر میٹھی ڈشز بھی موجود ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے عام ہیں پین کیکس، شہد اور شراب کے ساتھ، جہاں شہد باقی سال کے لیے چیزوں کی فراوانی کی علامت ہے اور شراب خاندان کے بڑھنے اور پھیلنے کی۔ آخرش، انار اور سیب جیسے پھل ہمیشہ ٹیبل پر موجود ہوتے ہیں تاکہ خاندان کو صحت کا "روبی" رنگ ملتا رہے۔ دوسرے میٹھوں مین "کورمپیڈز" (چینی سے سجے بسکٹ)، "ڈپلز" (شہد کے ساتھ)، "میلومیکرونا" (شہد اور اخروٹ کے ساتھ، "تیگانوپسوما" (مقامی پنیر کے ساتھ)، زیروٹیگانا" اور اسپون سوئیٹس (پھل جیسے کھٹی چیری، انگور، چیری، کڑوا اورنج اور مٹھا جنہین چینی کے ساتھ پکایا جاتا ہے)۔ نئے سال کیلئے بنائے جانے والی کیک میں ایک "سونے کا سکہ" ہوتا ہے جو روایت کے مطابق جسے ملے اس کیلئے سال بھر اچھی قسمت کا پیغام ہوتا ہے۔ ایپیفینی پر کرائسٹ کا بیپٹزم منایا جاتا ہے اور پانی کو پاک کرنے کیلئے اس میں کراس پھینکا جاتا ہے۔ بہت سارے لوگ کراس کو پکڑنے کیلئے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں جو نہ صرف اچھی قسمت لے کر آتا ہے بلکہ تکلیف اور شیطان سے حفاظت کرتا ہے ان دنوں کرسمس اور نئے سال پر گھروں کو مختلف رنگ برنگی اور تیوہاری چیزوں سے سجایا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں کرسم کا درخت ہوتا ہے حالانکہ یہ روایت یونان میں شمالی ممالک سے آئی ہے۔ یونانی روایتی طور پر گھروں کو ایک کرسمس کشتی سے سجاتے تھے جو ان کی زندگی میں سمندر کی اہمیت کی ترجمانی کرتی ہے۔ یونان خصوصی طور پر ایک زرعی ملک تھا اور زراعت سے منسلہ سرگرمیاں یونان کے رسم و رواج میں ظاہر ہیں۔ سردیوں کو دوران وہ آگ جلاتے ہیں جن سے ان کی فصل کی امید جڑی ہے اور یہی اس کا بنیادی اشارتی نکتہ ہے۔ یونان کے کسی بھی علاقے میں ایسٹر کا ایک روائتی کردار اور منفرد احساس ہے۔ اس کی اپنی اقدار، ذاتی چھاپ اور قسم ہے جو صدیوں پرانی راویات کی جڑوں میں موجود ہیں۔ یونان میں ماڈرن طریقے سے ایسٹر منانے کی لوک روایات میں "ماگیرٹسا" کے ساتھ ڈنر (جانور کے چھچھڑے اور سبزیوں کا سوپ) اہم ڈش ہے جو ریسریکشن کی رات کو کلیسا میں ریسریکشن عبادات کے بعد کھائی جاتی ہے، لال انڈوں کا چٹخنا (لال رنگ کیے گئے انڈے جو کرائسٹ کے خون کی نشاندہی کرتے ہیں)، ریسریکشن کے وقت "محبت کا بوسہ" اور ایسٹر سنڈے کو دنبے کا بھوننا۔ مخصوص اجزا اور خوشبو کے ساتھ میٹھے بسکٹ اور "سوریکیہ" (ایک قسم کی میٹھی ڈبل روٹی جس میں میسٹک اور میکلیپی کا فلیور ڈالا جاتا ہے)۔ میسٹک ایک خوشبودار قدرتی وند ہے جو میسٹک کے درخت سے نکلتی ہے جو صرف کیوس (مشرقی ایگین کا جزیرہ) میں اگتا ہے۔ شروع سے ہی میسٹک کے بہت سارے استعمال رہے ہیں: یہ کھانوں اور کیکس کو خوشبو دیا ہے، فرنیچر، موسیقی کے آلات، دوائیاں اور فارماسوٹیکل چیزیں بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
urd_Arab
پالو فرارے کی کتاب: 'تعلیم اور مظلوم عوام' کا جائزہ - Blogs You are at:Home » پالو فرارے کی کتاب: 'تعلیم اور مظلوم عوام' کا جائزہ منّان صمد چار ابواب پر مشتمل "تعلیم اور مظلوم عوام" کتاب برازیلین ماہرِ تعلیم اور دانشور پالو فرارے کی شاہکار ہے۔ یہ ایک انقلابی کتاب ہے جس کا دنیا کے مختلف تعلیمی اور سماجی تحریکوں پر اثر و رسوخ رہا ہے۔ پالو فرارے نے اپنے اس تصنیف میں ظالم اور مظلوم کے رشتے، مظلوم عوام کی دہرے پن، نوآبادیاتی زہنیت، بینکنگ نظریہ تعلیم، مکالمے کی اہمیت، کلچرل ترکیب کی افادیت کا نقشہ انتہائی عمیق اور دقیق انداز میں کھینچا ہے۔ کتاب کے پہلے باب میں مصنف انسانی خصوصیات سے محرومی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسانی خصوصیات سے محرومی انسان کی ایک مسخ شدہ شکل ہے اور اس شکل کو انسانی روپ میں دھارنے کیلئے اور اپنی کھوئی ہوئی انسانیت کو واپس حاصل کرنے کیلئے مظلوم اجتماعی طور پر جہدوجہد کریں اور وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مظلوم کو ظالم کی ڈگر پر چل کر اسکا جیسا نہیں بننا چاہیے بلکہ وہ جہدوجہد کا ایسا راستہ اختیار کریں جس سے دونوں طبقات یعنی ظالم اور مظلوم کو اپنی کھوئی ہوئی انسانیت واپس مل جائیں (مصنف دراصل یہاں انسانیت کا پرچار کرتے ہوئے ظالم اور مظلوم دونوں کی آزادی سے ہمکنار ہونے کا خواہاں ہے) لیکن مصنف کہتا ہے کہ جہدوجہد کے ابتدائی مراحل میں مظلوم آزادی کیلئے جہدوجہد کرنے کے بجائے ظالم یا نیم ظالم بننے کا رجحان رکھتے ہیں جس سے افقی تشدد پروان چڑھتا ہے (افقی تشدد سے مراد وہ تشدد ہے جو مظلوم طبقہ کے افراد اپنے ہی طبقہ کے افراد کے خلاف کرتے ہیں) یہ دراصل اس بات کا غماز ہے کہ سماج میں جبر کے ڈھانچے کی وجہ سے ظالم مظلوموں کے اندر سرایت کرچکا ہے، اسی لئے وہ ظالم کو اپنی ذات سے باہر نہیں دیکھ پاتے کیونکہ حاکموں کا حاکمانہ جبر پر مبنی سایہ اب تک محکوموں پر غالب ہوتا ہے۔ مظلوم ظالم کو اپنے اندر گھر کرنے کے بجائے اُسے اپنے تصور سے اکھاڑ پھینک کر اس کی جگہ خودمختاری اور ذمہ داری کو دیں کیونکہ آزادی تحفے کے طور پر نہیں ملتی بلکہ آزادی لگاتار کوششوں اور مسلسل جہدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والا ثمر ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ مظلوم آزادی کی اس جہدوجہد میں اس لئے خائف ہوتے ہیں کیونکہ جبر و استبداد کے اس ڈھانچے نے مظلوموں کے فخر و احساس کو اس ڈھنگ سے ڈھال دیا ہے کہ وہ جبری صورتحال کو رضائے الہی سے تعبیر کرنے لگتے ہیں۔ چونکہ مظلوم اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ آزادی کے بغیر وہ مسند وجود نہیں رکھتا لیکن استبدادی ڈھانچے کی اثرات کے باعث مظلوم دوہرے پن کا شکار ہوتا ہے اور بیک وقت ظالم اور مظلوم کا کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ ان دو متبادل راستوں میں سے مظلوم کو کسی ایک راستے کا چناؤ کرنا ہوگا۔ یعنی ظالم کو اپنے اندر سے مکمل طور پر اکھاڑ پھینکیں یا اُسے اپنے اندر اسی طرح پروان چڑھائیں- مصنف مزید اس باب میں ظالم طبقات کی "جھوٹی فیاضی" کو بےنقاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ظالم اپنی جبر و استبداد پر منبی نظام کو طول دینے کیلئے جھوٹی فیاضی، جھوٹی سخاوت یا خیرات کا سہارا لیتا ہے تاکہ ظلم کے شکنجے سے جھکڑے ہوئے مظلوم عوام بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے لرزتے ہاتھ خیرات کیلئے بڑھائیں اور ظالم کو اپنا مسیحا سمجھنے لگیں اور ظالم اپنی اس جھوٹی فیاضی کی آڑ میں بربریت کی آگ کو مزید بھڑکاتا رہے اور نام نہاد پدرانہ شفقت کے پردے میں مظلوموں کو غلام بنانے کا عمل جوں کا توں جاری رہ سکے۔ مصنف خوب کہتا ہے کہ تشدد ظالم و مظلوم کے درمیان پیدا ہونے والے رشتے کا نکتہ آغاز ہے۔ مظلوم عوام نے کبھی تشدد کا آغاز نہیں کیا بلکہ وہ خود تشدد کی پیداوار ہیں جو ظالم ان پر تشدد کرتے ہیں اور انکا استحصال کرتے ہیں۔ ظالموں نے کبھی بھی مظلوم عوام کو مظلوم تصور نہیں کیا بلکہ وہ انہیں "ایرے غیرے" "جاہل" "وحشی" یا "تخریب پسند" کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان تضاد کا حل صرف اس بات میں مخفی ہے کہ ظالم کا بطور طبقہ کے مکمل خاتمہ۔ اس ظالم طبقے کے خاتمے اور آزادی کی جہدوجہد کیلئے مظلوموں کے ساتھ تنقیدی اور آزادی بخش مکالمے کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے لیکن اس مکالمے کو خودکلامی، نعرہ بازی اور اعلامیے کے طور پر استعمال کرنا انہیں بےجان اشیاء کے برابر سمجھنے کے مترادف ہے۔ آزادی کے عمل میں مظلوموں کی فکری شرکت ناگزیر ہے۔ غوروفکر کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم کرسی یا صوفے پر بیٹھ جائیں اور محض غوروفکر کے زریعے انقلاب لائیں بلکہ سچا غوروفکر ہمیشہ عمل کی جانب دھکیل دیتا ہے۔ دراصل غوروفکر اور عمل ایک ہی محور کے گرد گھومتے ہیں۔ انقلابی قیادت کا آزادی کی جہدوجہد کی خاطر مظوموں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے انکے ساتھ مسلسل مکالمہ اور باہمی گفت و شنید کا ایک مستقل رشتہ استوار کرنا ہوگا۔ مظلوموں پر ترس کھاکر "ان کیلئے نہیں" بلکہ "ان کے ساتھ" مل کر جہدوجہد کا راستہ اپنانا چاہیے، تب ہی تبدیلی کا عمل مستند اور آزادی کا جہدوجہد ثمر آور ثابت ہوسکتا ہے۔ کتاب کے دوسرے باب میں مصنف بینکنگ نظامِ تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے استاد اور شاگرد کے رشتے کو بےنقاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ استاد طالب علموں کے اذہان میں معنوی اعتبار سے کھوکھلے معلومات اور حقیقت سے بیگانہ نظریات ٹھونسنے پر بضد ہے۔ الفاظ کو صرف گونج میں بدل دیا جاتا ہے یعنی "چار ضرب چار سولہ ہیں" جس کو شاگرد بارہا دہراتا رہتا ہے جبکہ طالب علموں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ چار ضرب چار کی کیا اہمیت ہے؟ اصل میں یہ کیا معنی رکھتے ہیں؟ چار ضرب چار سولہ کیوں ہوتا ہے سترہ کیوں نہیں ہوتا؟ بینکنگ نظامِ تعلیم میں سوچنے اور سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، طلباء صرف بیان سنیں اور اپنے خالی دماغ بھر لیں۔ طلبا بیان کردہ لیکچر کو سن کر مشینی انداز میں یاد کرلیتے ہیں۔ استاد شاگردوں کو "ظروف" یعنی خالی برتنوں میں تبدیل کردیتے ہیں جہنیں بس اِن خالی برتنوں کو بھرنا ہے۔ جو استاد زیادہ ان برتنوں کو بھرتا ہے، اتنا ہی بہتر وہ استاد کہلاتا ہے۔ تدریس کے عمل میں استاد کا عمل فاعل جبکہ طالب علموں کا عمل صرف مفعول کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انکی تنقیدی شعور ملیامیٹ ہوکر رہ جاتی ہے۔ بیکنگ نظریہ تعلیم کا مفاد ہی یہی ہے کہ طلباء کی تخلیقی قوت کو ختم کیا جاسکے تاکہ وہ حقیقت کا تنقیدی جائزہ نہ لے سکیں بلکہ اسکا سارا توجہ "روجر نے بکرے کو گھاس دیا" پر مرکوز رکھا جاسکے۔ بینکنگ نظریہ تعلیم جو پراپیگنڈہ، نعرہ بازی، ذخیرہ اندوزی پر مبنی ہے، سے منسلک ہوکر آزادی کے کاز کو تقویت نہیں پہنچایا جاسکتا۔ تعیلم کا یہ نظام بیگانگیت کی جانب دھکیل دیتا ہے۔ بیگانگیت کے شکار مظلوم عوام سچی آزادی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔ بینکنگ نظریہ تعلیم کے بجائے "مسئلہ بناکر پیش کرنے والی تعلیم" کو اپنایا جائے جو باہمی تبادلہ خیال کو اختیار کرتی ہے۔ آزاد بخش تعلیم حقیت کے تنقیدی ادارک کے عمل کا نام ہے، آگہی کی صورتحال کا نام ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان رابطے اور مکالمے کا نام ہے، معلومات کی منتقلی کی نہیں۔ بینکنگ نظریہ تعلیم ان تضاد کو تقویت دیتا ہے کہ استاد سکھاتا ہے او شاگرد سیکھتا ہے۔ استاد ہر بات جانتا ہے اور شاگرد کچھ نہیں جانتا۔ استاد سوچتا ہے اور شاگرد نہیں سوچتا۔ استاد بولتا ہے اور شاگرد سنتا ہے وغیرہ وغیرہ اور ان تضادات کو کھوکھلا ثابت "مسئلہ بناکر پیش کرنے والی تعلیم" کا نظریہ کرسکتا ہے۔ کتاب کے تیسرے باب میں مصنف مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ لفظ اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے یعنی غوروفکر و عمل۔ دونوں بیک وقت ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کوئی بھی لفظ اس وقت سچا نہیں ہوسکتا اگر وہ بیک وقت مستند عمل نہ ہو۔ اگر لفظ عملی پہلو سے محروم ہو تو غوروفکر متاثر ہوجاتی ہے اور لفظ محض زبانی لفاظی، گپ شپ اور بیگانگیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف غوروفکر کے بغیر عمل محض اندھا عمل بن جاتا ہے جس سے مکالمہ ناممکن ہوکر رہ جاتا ہے۔ سچا مکالمے کیلئے تنقیدی سوچ کے عنصر کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ محبت، انکسار اور یقین کی بنیادوں پر مستحکم مکالمہ انسانوں کے درمیان ایک متوازی تعلق قائم کرتا ہے جس سے مکالمے میں شریک لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوجاتا ہے۔ مظلوموں کی آزادی کا کاز دراصل مکالماتی ہے۔ حکمران طبقات مظلوموں میں بےعملی کو فروغ دینے کیلئے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں بینکنگ طریقہ کار کو استعمال کرتے ہیں۔ زعماء اس بےعملی کا فائدہ شعور کو نعرہ بازی سے "پُر" کرکے اُٹھاتے ہیں۔ اس نعرہ بازی سے ان میں آزادی کا خوف مزید پیدا ہوجاتی ہے۔ انسان دوست انقلابیوں کا یہ کام نہیں کہ ظالموں کے نعروں کے مقابلے میں اپنے نعرے پیش کریں بلکہ اس کے برعکس اُنکی ذمہ داری یہ ہے کہ مظلوم اس بات کا شعور حاصل کرسکیں کہ ظالم کو اپنے دل میں بساکر اور دوغلے وجود کا شکار ہوکر آزادی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔ اس ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ انقلابی رہنما عوام کی نجات کا مسیحا بن کر اُبھریں بلکہ عوام کے ساتھ مکالمے کے زریعے خود اپنی اور عوام کی معروضی صورتحال سے آشنا ہوجائیں۔ مختصراً حقیقی انقلابی کا رول عوام کے ساتھ مل کر آزاد ہونا اور آزاد کرنا ہوتا ہے۔ مصنف "تخلیقی مرکزی خیال" کے زمرے میں نوشت کرتا ہے کہ تخلیقی مرکزی خیالات کے پورے ڈھانچے کی پوری تحقیقات سے دراصل آزاد بخش تعلیماتی مکالمہ کا آغاز ہوتا ہے کیونکہ تخلیقی مرکزی خیال کو دریافت کرنے کے ساتھ ہی عوام ان مرکزی خیالات سے آشنا ہوسکیں گے۔ تخلیقی مرکزی خیال کی تحقیق دراصل انسان کی حقیقت کے بارے میں سوچ اور عمل دونوں کی تحقیق ہے۔ ان مرکزی خیال کو "تخلیقی" اس لیے کہا گیا کہ ان مرکزی خیالات کے اندر کئی دوسرے مرکزی خیالات پوشیدہ ہیں۔ جیسا کہ غلامی اور آزادی دو متضاد مرکزی خیال ہیں جو اپنے اندر مختلف نوعیت کے خیالات اور اعمال کو پروان چڑھاتے ہیں۔ کتاب کے آخری باب میں مصنف گزشتہ ابواب کے نکات کو مزید وسعت اور گہرائی کے ساتھ وضاحت کرتا ہے۔ مصنف لینن کے مشہور قول کا حوالہ دیتا ہے کہ: "ایک انقلابی نظریہ کے بغیر کوئی انقلابی تحریک جنم نہیں لے سکتی" لینن کا دراصل مطلب یہ تھا کہ انقلاب کا حصول نہ صرف زبانی لفاظی اور چرب زبانی کے اکتفا سے ممکن ہے نہ ہی غوروفکر سے عاری عمل سے بلکہ غوروفکر و عمل دونوں کے امتزاج سے ہی ممکن ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ سازباز، نعری بازی، فکری تسلط، سخت سیاسی نظم و ضبط اور یک طرفہ احکامات سے انقلابی مستند عمل تشکیل نہیں کرسکتے بلکہ تسلط و غلامی کے عمل کی تشکیل کرتے ہیں۔ انقلابی لیڑر جو اپنے اور عوام کے مابین رشتے میں مکالماتی طرزِ عمل اختیار نہیں کرتے، انکے اندر یا جبری ڈھانچے کی اثرات گھر کرچکے ہیں یا سچے انقلابی کردار ادا کرنے سے انکاری ہیں یا اپنے افکار و نظریات کے بارے میں غلط تصورات کا شکار ہیں۔ تنگ نظری کے دائرے میں دھنسے ایسے قائدین برابر کے غیرانقلابی ہیں۔ مکالماتی عمل کے بغیر سچا انقلاب کبھی جنم نہیں لے سکتا۔ ایک سچے انقلاب کیلئے لازم ہے کہ وہ جلد یا بدیر عوام کے ساتھ جرات مندانہ مکالمے کا آغاز کرے۔ جس قدر جلد کسی تحریک میں مکالمہ کا آغاز ہوگا اتنی ہی زیادہ وہ تحریک سچی انقلابی ہوگی۔ باہمی تبادلہ خیال کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنا اور انسانوں کو "اشیاء" کی سطح پر گھٹانے کے برابر ہے اور یہ ظالموں کا کام ہے، انقلابیوں کا نہیں۔ قائدین اور مظلوم عوام کا دو مختلف اطراف میں کھڑے ہونا دراصل جبر کے تعلقات کا مظہر ہے۔ انقلاب نہ تو قائدین عوام کیلئے برپا کرتے ہیں اور نہ ہی عوام قائدین کے لئے بلکہ یہ مشترکہ عمل کے زریعے سے ہوتا ہے۔ اگر انقلابی رہنما عوام کے ساتھ مل کر نہیں سوچتے ہیں (جیسا کہ ظالم کرتے ہیں) تو وہ اپنی قوت کھو دیتے ہیں جس سے انقلابی لیڑرشپ کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ انقلابی نہ جھوٹے فیاض ہوتے ہیں اور نہ ہی ساز باز و عیاری سے عوام کو استعمال کرنا انہیں زیب دیتا ہے۔ ظالم عوام کو پاؤں تلے روند کر پھلتے پھولتے ہیں جبکہ انقلابی لیڈران عوام کے صحبت میں ہی توانا بن کر اُبھرتے ہیں۔ عوام کے ساتھ مکالمہ نہ تو رعایت ہے اور نہ ہی تحفہ ہے بلکہ سچی انسانیت کی تکمیل کی ایک بنیادی شرط ہے جیسا کہ لینن نے کہا تھا کہ جس قدر زیادہ کوئی انقلاب نظریہ کا متقاضی ہے، اسی قدر زیادہ انقلاب کے رہنماؤں کا عوام کے "ساتھ" ہونا لازم ہے تاکہ جبر کی قوت کو پارہ پارہ کیا جاسکے۔ غیر مکالماتی عمل کے نظریوں پر ایک جائزہ لیا جائے تو اس میں "غلبہ" بھی ایک غیر مکالماتی عمل ہے جس میں غالب مغلوب پر اپنے مقاصد ٹھونستا ہے تاکہ وہ ایک مبہم وجود اختیار کرے۔ ان ناپاک مقاصد کی تکمیل کیلئے جھوٹے اور گمراہ کن پراپیگنڈہ کا سہارا لیا جاتا ہے جس کو "منظم نعرہ بازی" اور "عوامی ذرائع ابلاغ" کی مدد سے پیش کیا جاتا ہے۔ "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" بھی ایک ظالمانہ رویہ اور غیر مکالماتی عمل ہے جس میں ظالم اقلیت مظلوم اکثریت کو مطیع اور مغلوب کرتی ہے۔ "عیارانہ سازباز کے زریعے لوگوں کو استعمال کرنا" غیر مکالماتی عمل کے نظریے کا ایک اور نمایاں پہلو ہے جس میں حکمران عوام کو اپنے مقاصد کی تائید و توثیق کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ عوام سیاسی ناپختگی کے باعث ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں آسانی سے استعمال ہوتے ہیں۔ "کلچرل حملہ" بھی غیر مکالماتی عمل کے نظریے کی ایک اور اہم خاصیت ہے جس میں حملہ آور کسی دوسرے گروپ کی ثقافتی سیاق و سباق میں سرایت کرتے ہوئے ان پر اپنا نکتہ نظر ٹھونستا ہے اور اس کے اظہار کے طریقوں کو روکتے ہوئے انکے تخلیقی پن کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے جس سے زیر حملہ گروپ حقیقت کو اپنے انداز کے بجائے حملہ آور کے اندازِ فکر کے مطابق دیکھنا شروع کردیتا ہے۔ اسی لئے انقلابی رہنماؤں کیلئے ضروری ہے کہ وہ غیر مکالماتی طریقہ کار سے مکمل اجتناب کریں اور اس کے برعکس باہمی تبادلہ خیال کی راہ اختیار کریں۔ "کلچرل حملہ" کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے "کلچرل ترکیب" کو اپنانا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ کلچرل حملے کے تمام تضادات کا حل صرف یہی واحد راستے میں مضمر ہے۔ کلچرل ترکیب وہ کلچرل عمل ہے جس میں عوام اور رہنما مشترکہ طور پر شریک ہوتے ہیں۔ کلچرل عمل میں عوام تماشائی کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ وہ رہنماؤں کے ساتھ مل کر جبری ڈھانچے کا کایاپلٹنے کیلئے جہدوجہد کرتے ہیں۔ اسی لئے انقلابی رہنماؤں کے لئے لازم ہے کہ وہ عوام سے الگ کوئی تنظیم قائم کرنے سے گریز کریں۔ انقلاب کا سرچشمہ ہی عوام ہے۔ رہنما اور عوام مشترکہ طور پر انقلابی تحریک جنم دے کر آزادی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ "تعلیم اور مظلوم عوام" کتاب ذہن کے دریچوں کو وا کرنے کی ایک سعی ہے جس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ کتاب اُن تمام کارفرما مخفی عوامل کے پردے کو چاک کردیتی ہے جو مظلوم طبقات کو غلامی کا طوق پہنانے پر آمادہ کردیتی ہیں۔ یہ کتاب دراصل اُن سمتوں کو متعین کرتی ہے جن سمتوں پر چل کر مظلوم عوام جبری ڈھانچے کے اندر پنپنے والی نوآبادیاتی زہنیت کو پہچان سکتے ہیں اور اُسے مات دے کر انقلاب اور آزادی کا راستہ ہموار کرسکتے ہیں۔
urd_Arab
عمران خان کا طاہر القادری کو ٹیلیفون دھرنے میں شرکت کی دعوت قبول کر لی العزیزیہ ریفرنس : نواز شریف کی سزا بڑھانے سے متعلق نیب کی اپیل پر سماعت 3نومبر تک ملتوی سینماگھروں میں ترکش، کینڈین پنجابی اور ایرانی فلمیں چلانے کی اجازت، سرکاری ملازمین کے ہاوس رینٹ میں اضافہ کر دیا گیا: فواد چوہدری جمشید چیمہ کے بچوں کو زہر دینے والے ملزم گرفتار، یہ کون تھے جان کر حیران رہ جائیں گے کسی اور سیاسی جماعت کے کارکن کے ساتھ بیٹھنا منع ہے ، ایم کیو ایم پاکستان نے کارکنان پر پابندی لگا دی پاکستانی کیوئسٹ بابر مسیح سکس ریڈ سنوکر ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گئے کراچی میں ڈاکو سنار کی دکان لوٹ کر فرار ہو گئے عمران خان کا طاہر القادری کو ٹیلیفون ،دھرنے میں شرکت کی دعوت قبول کر لی Oct 24, 2016 | 19:54:PM اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمرا ن خان اور طاہر القادری کے درمیان اختلافات ختم ہو گئے ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے عمران خان کی دھرنے میں شرکت کی دعوت کو قبول کر لیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو طاہر القادری سے براہ راست رابطے پر قائل کیا جس کے بعد عمران خان نے فوری طور پر طاہر القادری کو ٹیلیفون کر کے دھرنے میں شرکت کی دعوت دی جسے عوامی تحریک کے سربراہ نے قبول کر لیاہے ۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماﺅں نے تفصیلی بات چیت کی اور ایک ساتھ حکومت کیخلاف دھرنے میں چلنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ واضح رہے کہ رائیونڈ مارچ سے قبل تحریک انصاف اور عوامی تحریک میں کچھ اختلافات کی خبریں منظر عام پر آئیں تھی جبکہ کچھ حلقوں کا کہناتھا کہ یہ اختلاف پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے طاہر القادری کے خلاف بیان کے بعد سامنے آئے ۔عوامی تحریک نے تحریک انصاف کے رائیونڈ مارچ میں شرکت سے بھی انکارکر دیا تھا لیکن اب عمران خان نے براہ راست طاہرالقادری سے رابطہ کر کے دھرنے میں شرکت کی دعوت دے ڈالی ہےجسے طاہر القادری نے قبول کرلیاہے ۔تاہم ابھی تک اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ طاہر القادری دھرنے میں خود شرکت کریں گے یا پھر صرف کارکنوں کو ہی تحریک انصاف کا ساتھ دینے کی ہدایت کی جائے گی۔
urd_Arab
کیا حکومت آیت اللہ علی خامنہ ای کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دے گی؟ - تحریر :سینیرصحافی حامد میر دریائے پونچھ کے کنارے واقع اس خوبصورت گاؤں کا نام مدارپور تھا۔ ہجیرہ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے قریب اس گاؤں کے مکین کئی دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں کیونکہ بھارتی فوج اس گائوں کی آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ اس علاقے میں زیادہ اونچے پہاڑ نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھارتی فوج کے مورچے ہیں جبکہ مدارپور نیچے وادی میں ہے۔ بھارتی فوجی اکثر اوقات گاؤں والوں کی مرغیوں اور بکریوں پر بھی نشانے لگاتے ہیں لیکن پانچ اگست کے بعد سے وہ انسانوں پر نشانے لگا رہے ہیں۔ اس گاؤں کے قریب درختوں کی اوٹ میں علاقے کے ایک بزرگ نے مجھے بتایا کہ ہم نے 1947میں اپنے زورِ بازو سے پونچھ کے اس علاقے کو آزادی دلوائی تھی، ہم سرینگر کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن بھارت کا مکار وزیراعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور اس نے سیز فائر کرا دیا۔ یہ بھی پڑھیں : برطانیہ نے برصغیر سے نکلتے ہوئے جان بوجھ کر تنازع کشمیر کھڑا کیا۔ خامنہ ای یہ سیز فائر لائن بعد میں کنٹرول لائن بن گئی اور بھارت اس کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانا چاہتا ہے لیکن ہم کشمیر کی تقسیم نہیں مانیں گے، ہم بہت جلد اس کنٹرول لائن کو روند دیں گے۔ قریب کھڑے نوجوانوں نے اپنے اس بزرگ کی فوری تائید کی اور کہا کہ ہم پر روزانہ فائرنگ کا مقصد یہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہو کر اپنا علاقہ چھوڑ دیں لیکن ہم اپنے گھر اور کھیت چھوڑ کر فرار ہونے کے بجائے کنٹرول لائن کو پار کرنے کی کوشش کریں گے۔ بزرگ نے کہا کہ تتہ پانی کے قریب ایک گاؤں درہ شیر خان میں بھارتی فوج نے شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کی اور میرا ایک پرانا دوست لال محمد شہید ہو گیا جس کی عمر اسی برس سے بھی زیادہ تھی، کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ بھارتی فوج شادیوں پر حملے کر رہی ہے؟ یہ سن کر میں نے پوچھا کہ درہ شیر خان کتنی دور ہے؟ بزرگ نے بتایا کہ کم از کم ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے لیکن وہاں پہنچنا مشکل ہے کیونکہ اس گاؤں کے لوگ بھی مدارپور والوں کی طرح گھروں میں محصور ہیں اور بھارتی فوج گھر سے باہر نکلنے والوں پر گولیاں چلاتی ہے۔ ان بچوں کے باپ نے مجھے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں اور ہم بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں۔ وہ بھی لاشیں اُٹھا رہے ہیں، ہم بھی لاشیں اُٹھا رہے ہیں، ان کے بچے بھی اسکولوں میں نہیں جا رہے ہیں، ہمارے بچوں کے اسکول بھی بند ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے آس پاس صرف اسکول کالج نہیں اکثر کاروباری مراکز بھی بند رہتے ہیں لیکن ہم یہاں سے نہیں بھاگیں گے ہم لڑیں گے۔ ادھر ایک ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا۔ ایک خوبصورت نوجوان نے مجھے مخاطب کیا اور کہا: ایک بات پوچھنا تھی۔ مجھے گورنمنٹ گرلز کالج سہڑہ پہنچنے کی جلدی تھی جہاں بھارتی فوج نے گولہ مارا تھا۔ میں نے مسکرا کر نوجوان سے کہا کہ میں ذرا جلدی میں ہوں، وہ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کہا کہ آپ نے ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیان دیکھا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ان کے ٹویٹ پر تو بھارتی میڈیا میں بڑا ماتم ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے کشمیری اپنے کچھ بھائیوں کے ہاتھوں اپنے قاتل کی پذیرائی پر بہت دکھی ہیں۔ کشمیری پہلے بھی جانیں دیتے رہے، آئندہ بھی جانیں دیں گے لیکن وہ پوچھ رہے ہیں کہ جب وہ لاشیں اُٹھا رہے ہیں تو ان کے حق میں آواز اُٹھانے والے آیت اللہ علی خامنہ ای کو پاکستان کی طرف سے ویسا ایوارڈ مل سکتا ہے جیسا ایوارڈ بھائیوں نے مودی کو دیا؟ Ali Khamenei India Iran modi uae award Narender Modi Pakistan shiite news احتجاجی آزادی اسلام آباد اقوام متحدہ ایران ایوارڈ بمباری بھارت پاکستان پہاڑ پونچھ خامنہ ای سیز فائر شیعت نیوز فائرنگ کالج کشمیر کھیت گاؤں گورنمنٹ متحدہ عرب امارات محصور مودی میڈیا وزیراعظم
urd_Arab
جیل یا ملک بدری، اسرائیل فلسطینی قیدی کو بلیک میل کر رہا ہے' | ساحل آن لائن جیل یا ملک بدری، اسرائیل فلسطینی قیدی کو بلیک میل کر رہا ہے' Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th January 2018, 4:15 PM | عالمی خبریں | الخلیل ،8؍جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں مسلسل 17 روز سے بھوک ہڑتال کرنے والے 60 سالہ فلسطینی الشیخ رزق عبداللہ مسلم الرجوب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام بھوک ہڑتالی شہری کو جیل یا ملک بدر کرنے کے لیے بلیک میل کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ 17 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی الشیخ مسلم الرجوب کی حالت تشویشناک ہے اور اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ادارے کے ترجمان ریاض الاشقر نے کہا کہ الرجوب کی زندگی کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صہیونی حکام پر عاید ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ الرجوب کی مسلسل بھوک ہڑتال سے اس کی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صہیونی جیلر الرجوب کو کسی قسم کی طبی سہولت کی فراہمی اور ڈاکٹروں کو معائنے سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ الاشقر کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام الرجوب کو بلیک میل کررہے کہ اسے صرف اسی صورت میں رہا کیا جاسکتا ہے جب وہ ملک بدری کے لیے راضی ہوجائیں ورنہ انہیں جیل میں رکھا جائے گا۔خیال رہے کہ فلسطینی شہری رزق عبداللہ مسلم الرجوب کو اسرائیلی فوج نے 6 دسمبر کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں کہا گیا کہ انہیں ملک بدری قبول کرنے کی شرط پر رہا کیا جاسکتا ہے ورنہ انہیں جیل میں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے ملک بدری مسترد کرتیہوئے قید قبول کی تھی اور ساتھ ہی غیرقانونی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔
urd_Arab
جناب وزیراعظم بس کر دیں بس؟- روزنامہ اوصاف 01:51 pm 21/11/2019 نوید مسعود ہاشمی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور (ر) بھارتی فوجی جنرل ایس پی سنہا نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8لاکھ بھارتی فوجیوں کو مشورہ دیا کہ ''وہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کریں'' جب ہندوشدت پسند بے غیرتی اورکمینگی کی اس انتہا کو پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئے کہ کمینگی کی اس انتہا کو پہنچے ہوئے ہندو شدت پسندوں کا علاج ''جہاد و قتال'' کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کے لئے جانے کی کوششیں کرنے والے کشمیر کے دشمن ہیں۔ کشمیر کے بہادر اور باوفا جرنیل سید علی گیلانی نے عمران خان کے نام جو خط لکھا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے' اس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دے' سید علی گیلانی کے مطابق کشمیریوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ جنرل ایس پی سنہا کے شرمناک مشورے اور سید علی گیلانی کے خط کے بعد عمران خان حکومت نے کشمیر کی عفت مآب مائوں' بہنوں' بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ اگر وزیر خارجہ قریشی قوم کو بتا سکیں تو ضرور بتائیں؟ بظاہر دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی لفظی گولہ باری کا نشانہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ہیں' دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف توپوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں' دوطرفہ سنگین الزامات کے جھکڑ چل رہے ہیں' لیکن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ویسے تو اپوزیشن کا کردار بھی اس حوالے سے مجرمانہ ہی ہے لیکن اپوزیشن سے بڑھ کر ذمہ داری چونکہ حکومت کی بنتی ہے اس لئے ہمارا سوال بھی حکومت سے ہی بنتا ہے کہ جب کشمیر کی عزت مآب خواتین کی عصمتوں کو لاحق خطرات کی باتیں زبان زد عام ہو چکی ہیں۔ ان خطرناک حالات میں کشمیریوں کو ظلم سے بچانے کے لئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے؟ چلیں ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا نہیں کیا' لیکن کشمیری مجاہدین پر تو کڑی پابندیاں عائد کرکے وہاں جاری جہاد کو تو سخت نقصان پہنچایا۔ پتھروں کو باندھ کر کتوں کو کھلا چھوڑ دینا یہ کہاں کی امن پسندی ہے؟ بھارتی فوج کتوں کی طرح مظلوم کشمیریوں کو جھنجھوڑ رہی ہے' وہاں ظلم جبر کا بازار گرم ہے اور آپ کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کی بات ہونی چاہیے' بابری مسجد کی زمین ہندو شدت پسندوں کے حوالے کرکے مسلمانوں کے دلوں پر گہرا گھائو لگا دیا گیا' مگر آپ پھر بھی کہتے ہیںکہ بھارت سے امن کی بات ہونی چاہیے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے لئے قومی خزانہ خالی ہے' لیکن گوردواروں اور مندروں کی تعمیر کے لئے آپ کے پاس خزانہ ہی خزانہ ہے' چونکہ لبرل اور غامدی سکول آف تھاٹ کے مفتیان کے فتوے کے مطابق پرائیویٹ جہاد جائز نہیں ہے' اس لئے مولانا محمد مسعود ازھر یا حافظ سعید کی بجائے ہم بار بار عمران خان کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہیں۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر وزیراعظم عمران خان سے سوال کرنا ہمارا حق ہے کہ کشمیری خواتین کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنے کے لئے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے؟ حکومتی دستر خوان کا کوئی راتب خور ہمیں یہ مت سمجھائے کہ ہم نے عالمی برادری کو متوجہ کیا' او آئی سی سے بات کی' اقوام متحدہ سے اپیل کی' امریکہ سے شکایت کی' نہیں جناب نہیں' کشمیری مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں اور بھارتی فوج کے درندے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہی ان پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں' امریکہ اور اقوام متحدہ کو اپنے پاس رکھیے...ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کے امریکہ' اقوام متحدہ اور او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچانے کے لئے اب تک کیا کردار ادا کیا؟ عمران خان کو ہندوئوں اور گوردواروں سے بڑا پیار ہے' ان کی ساری مسکراہٹیں نجوت سنگھ سدھو کے لئے وقف ہیں' ممکن ہے کہ وہ سکھ اور ہندو دوست وزیراعظم کے طور پر اپنی پہچان بنانا چاہتے ہوں؟ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ سکھوں اور ہندوئوں سے دوستیاں ضرور نبھائیں' پانامہ کیس میں ''عزت'' پانے والے نواز شریف پہ بھی ضرور شفقت کریں مگر تھوڑا سا رحم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھی کھالیں' وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں ظلم کی رات گہری سے گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں کی مائیں' بہنیں' بیٹیاں انہیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کہ جہاں پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے نوجوان گولیوں سے چھلنی ہو کر قبروں کے پاتال میں گم ہو جاتے ہیں 'اور اب تو ہندو جرنیل مقبوضہ کشمیر کی عفت مآب خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں کھلے عام کرنا شروع ہوچکے ہیں' اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے' مگر قوم وزیراعظم عمران خان سے سوال کر رہی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا منحوس وقت آن پہنچا تو پھر وہ کیا کریں گے؟ کیا پھر وہ سرکاری جہاد کا اعلان کریں گے یا نہیں؟ یاد رکھیے! بزدلوں کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوا کرتا' پرائیویٹ جہاد پر پابندی اور حکومت نے ریاستی جہاد کا اعلان ہی نہیں کرنا' تو پھر ''پیغام پاکستان'' کے اکابرین فیصلہ کریں کہ مقبوضہ کشمیر آزاد کیسے ہوسکے گا؟ کشمیری مائوں' بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کا دفاع کون کرے گا؟ کشمیر میں ایک سو سات دنوں سے جاری کرفیو کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟ ہر آنے والے سورج کے ساتھ بھارت کی گرفت کشمیر پر مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے' بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیریوں کو شہہ رگ قرار دیتا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے ''اٹوٹ انگ'' کو بچانے کے لئے تو آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کر رکھی ہے جبکہ شہہ رگ قرار دینے والا عمران خان کشمیریوں کے مطالبے کے باوجود وہاں ''بلی'' بھیجنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے' تو پھر کشمیر کو آزادی ملے گی کیسے؟ یا کہہ دو کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں ہے' تسلیم کرلو کہ ہمیں ''زندگی'' کی محبت نے ''موت'' کے خوف میں مبتلا کرکے جہاد کی عبادت سے دور کر ڈالا' یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہم اخلاقی اور سفارتی سطح پر مدد کرتے رہیں گے' جب سید علی گیلانی خط میں بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے عمران خان حکومت نے سید علی گیلانی کے اس مطالبے پر اب تک کیا پیش رفت کی؟ ''ہم امن چاہتے ہیں' امن چاہتے ہیں'' بندہ خدا! کون سا امن؟ ہندو جرنیل کشمیری خواتین کی عصمت دری کی باتیں کر رہے ہیں اور آپ ہمیں امن کی لوریاں سنا رہے ہیں' جناب وزیراعظم بس کر دیں بس! قوم کو کہانیاں مت سنائیں' سبز باغ مت دکھائیں' بلکہ کشمیر کی آزادی کیسے ہوگی' وہاں کے بچوں' بوڑھوں' عورتوں' مردوں کو تحفظ کیسے ملے گا؟ اس حوالے سے وہ قوم کو اعتماد میں لیں۔
urd_Arab
امریکا (جیوڈیسک) امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہےکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں‌ کی تعیناتی میں پیٹریاٹ میزائل بریگیڈ،حملہ آور ڈرون طیارے اور جاسوس ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔ 'پینٹا گان' کے ترجمان نے ایک بیان میں‌ کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ خیال رہے کہ کل بدھ کے روز امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ‌میں مزید 1000 فوجیوں‌کی تعیناتی کا مقصد'دفاعی' ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے مگر امریکی انتظامیہ ایران کی خطے میں اپنی معاندانہ اور جارحارنہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تہران پر دبائو جاری رکھے گا۔ خیال رہے کہ سوموار کے روز امریکی وزارت دفاع نے مشرق وسطیٰ‌ میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزید فوجیوں‌ کی تعیناتی کا مقصد ایران کی طرف سے خطے اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات کا تدارک کرنا ہے۔ ورلڈکپ 2019: نیوزی لینڈ نے دلچسپ مقابلے کے بعد جنوبی افریقا کو شکست دے دی مردوں پر بھی گھریلو تشدد ہوتا ہے، تحفظ کے لیے حکومتی مہم
urd_Arab
اخبار اور اخبار آحاد (اصول الفقہ) | محدث فورم [Mohaddis Forum] اخبار اور اخبار آحاد (اصول الفقہ) اخبار:​ اخبار (ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ) خبر کی جمع ہے ۔ لغت میں یہ خَبار سے ماخوذ ہے جس کا مطلب نرم زمین ہے۔خبر کو خبر اس لیے کہتےہیں کہ یہ فائدہ والی بات کو یوں پھیلاتی ہے جیسے مضبوط اور پختہ زمین کو جب ننگے پاؤں وغیرہ سے روندا جائے تو وہ غبار اُڑاتی ہے۔ خبر بات کی ایک مخصوص نوع اور کلام کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور کبھی کبھی یہ قول کے علاوہ کسی اور چیز میں بھی استعمال ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے: آنکھیں تجھے اس چیز کی خبر دے دیں گی جسے دل چھپاتے ہیں۔ خبر ہونے کے اعتبارسے خبر کی تعریف یہ ہے : "ما يحتمل الصدق والكذب لذاته" جو اپنی ذات میں سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھے۔ یعنی اس میں خبر ہونے کی حیثیت سے سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔کبھی کبھی کسی خارجی امر کی وجہ سے خبر کے سچ یا جھوٹ ہونے کا قطعی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر بالکل سچی ہوتی ہے اور محالات کے بارے میں خبر جھوٹی ہوتی ہے، جیسا کہ اگر کوئی کہے کہ : "«الضدان يجتمعان»" متضاد اشیاء آپس میں جمع ہوجاتی ہیں۔ تو اس طرح کی کوئی چیز خبر ہونے سے نہیں نکلتی ۔ محدثین کے ہاں خبر کی تعریف یہ ہے : "ما أضيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم من قول أو فعل أو تقرير أو وصف خُلقي أو خَلقي" جو قول، فعل ، تقریر، خَلْقی یا خُلْقی وصف آپ ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے وہ خبر کہلاتا ہے۔ ‏نومبر 17، 2011 #2 آحاد:​ تعریف: وہ خبر ہے جس میں متواتر کی گزشتہ بیان کردہ شرطیں نہ پائی جائیں۔ جس علم کا یہ فائدہ دیتی ہے: اخبار آحاد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کا اس بارے میں یہ کہنا ہے کہ اخبار آحاد نہ تو ذاتی طور پر یقینی علم کا فائدہ دیتی ہیں ، نہ ہی قرائن سے مل کر۔ یہ صرف ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ کچھ اور نے یہ کہاہےکہ : خبر واحد میں اصل قاعدہ کلیہ تو یہی ہے کہ یہ ظن کا فائدہ دیتی ہے لیکن بعض اوقات یہ قرائن کی موجودگی میں قطعیت کا فائدہ بھی دیتی ہے۔ جیسا کہ اس خبر واحدکا صحیحین میں مروی ہونا ایک قوی قرینہ ہے۔ اوریہی بات زیادہ راجح ہے۔ اخبار آحاد کے ذریعے عبادت کرنا:​ اخبار آحاد کے ذریعے عبادت کرناعقلی طور پر جائز ہے اور نقلی طور پر اس کے دلائل موجود ہیں۔ چند ایک دلائل یہ ہیں: 1۔ اسے قبول کرنے پر صحابہ کرام ]کا اجماع ہے۔ واقعات میں ان کا خبر واحد کی طرف رجوع مشہور ہے جیسا کہ وراثت میں دادی کےلیے چھٹا حصہ اور جنین کی دیت ،عورت کا اپنے خاوند کی دیت میں وارث بننا، اہل قباء کا نماز میں ہی اپنے قبلہ سے پھر جانا ، اہل کتاب کی طرح مجوسیوں سے جزیہ لینا اور اسی طرح وہ تمام افعال جو نبی کریمﷺ گھر میں سرانجام دیا کرتے تھے، یہ سب مسائل خبر واحد کے ذریعے ہی صحابہ کرام نے قبول کیے تھے۔ 2۔ اللہ ر ب العالمین کا فرمان گرامی ہے: ﴿ يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا إن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فََتَبَينُوا ﴾ [الحجرات:6] اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئےتو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان عالی شان بھی ہے: ﴿ فَلَوْلا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِينذِرُوا قَوْمَهُمْ إذَا رَجَعُوا إلَيهِمْ لَعَلَّهُمْ يحْذَرُونَ ﴾ [التوبة:122] سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں۔ 3۔ نبی کریمﷺ کا اطراف عالم میں احکام کی تبلیغ کےلیے ایک ایک بندے کو بھیجنا تواتر سے ثابت ہے ، باوجود اس کے کہ آپﷺ جانتے تھے کہ جن کی طرف یہ ایک بندہ بھیجا جار ہا ہے ، وہ اس کی وجہ سے مکلف بن جائیں گے۔ 4۔ مفتی کے اس قول کو قبول کرنے پر اجماع کا منعقدہونا جس میں وہ اپنی رائے اور گمان سے خبر دیتا ہے تو جس خبر کو وہ سن کر خبر دیتا ہے جس میں کوئی شک نہیں تو ایسی خبر کو قبول کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ راویوں کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے خبر واحد کی تقسیم:​ راویوں کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے خبر واحد تین اقسام میں منقسم ہوتی ہے: ۱۔ مشہور ۲۔ عزیز ۳۔ غریب​ 1۔ مشہور وہ خبر واحد ہے جس کے راوی تواتر کے درجہ تک پہنچنے سے قاصر رہیں اور کسی بھی طبقہ میں تین سے کم نہ ہوں۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده» مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ 2۔ عزیز وہ خبرو احد ہے جس کی سند نازل ہو اگرچہ بعض طبقات میں صرف دو راوی ہی ہوں۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين» تم میں سے کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد ، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ 3۔ غریب وہ خبر واحد ہے جس کی سند عزیز سے بھی نازل ہو اگرچہ بعض طبقات میں صرف ایک ہی راوی رہ جائے۔ اس کی مثال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے اکثر مصنفین اپنے کتب کے آغاز میں لاتے ہیں، اور وہ نبی کریمﷺ کا مندرجہ ذیل فرمان ہے: «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» اعمال کا دارومدار تو صرف نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے تو صرف وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔
urd_Arab
محمد طغی عزیزی 2018/02/21 فاریکس کرنسی کے جوڑے ہم نے پایا ہے کہ ہوم بیس وہ تمام خصوصیات پیش کرتا ہے جس میں اوسطا چھوٹے کاروبار کے مالک کو اپنے ملازمین کا نظام الاوقات تشکیل دیتے وقت درکار ہوتا ہے۔ دوسرے فراہم کنندگان کے مقابلے میں ، یہ استعمال کرنا آسان ہے ، سستی اور مضبوط ہے اور اس میں ٹائم کلاک پروڈکٹ اور دیگر فنکشن ہوتا ہے جسے آپ بعد میں شامل کرسکتے ہیں۔ آج مفت میں سائن اپ کریں۔ ایکس ایم فاریکس جیسا کہ معروف اشارے کے برخلاف ، پیچھے رہ جانے والے اشارے موجودہ رجحانات کی نشاندہی کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو شاید خود ہی واضح نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ، اس قسم کا اشارے معاشی چکروں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ تناسب کے ان پٹس کو اثاثوں کی عملی اقدار کی عکاسی کرنے کے ل adj ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے جبکہ اس وقت ایک مالیاتی ادارے کو دیئے جانے والے سود کی شرح کا حساب کتاب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کوئی اثاثہ 5 فیصد کی شرح سود والے قرض سے فنڈز کے ساتھ حاصل کیا گیا ہو اور اس سے وابستہ اثاثہ کی واپسی میں 20 فیصد کا فائدہ ہوا ہو ، تو ایڈجسٹ روٹا 15 فیصد ہوگا۔ بٹ کوائن میں رقوم واپس لائیں. فی سیکنڈ مارکیٹ کی قیمت کیا ہے؟ LiveTour آپ کو اسی سبسکرپشن میں 20+ ٹیم ممبران (ایجنٹوں) شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنی لسٹنگ کے لئے ورچوئل ٹور تشکیل دے سکتا ہے۔ چاہے آپ پالتو جانوروں کی دکان سے ریڈی میڈ کریٹ خریدنے کا انتخاب کریں یا کریٹ خود ڈیزائن کریں ، اس میں ترجیح دینے والی تار کا کریٹ رکھنا افضل ہے۔ اس طرح ، جب آپ کتے کے p ہوتے ہیں تو آپ ایک حص sectionہ استعمال کرسکیں گے ، اور پھر کتے کے بڑھتے ہی تقسیم کو بڑھاؤ گے۔ یہ آپ کے مالک کی حیثیت سے آپ کے کام کو آسان تر بنائے گا ، کیوں کہ آپ ایک مقررہ وقت پر کتے کو جس جگہ کی ضرورت ہو گی اس کا تعین اور مختص کرسکیں گے۔ کریٹ میں ایک ٹرے بھی ہونی چاہئے جو نیچے سے نکالی جاسکتی ہے۔ وقت اور موسم میں مسلسل بدلاؤ آتا رہتا ہے اور کسی بھی ویب سائٹ یا فون کے ذریعے چیک کرنا پریشان کن ہوتا ہے۔ میرا مطلب ہے ، آپ کے فون کو لینے اور موسم کی جانچ کرنے کے لئے بٹن پر کلک کرنے کا کیا فائدہ ہے ، جب کہ آپ کر سکتے ہو اسے براہ راست گوگل پر چیک کریں ? ہمیں ابھی بھی گیگا بائٹ RX 5600 XT گیمنگ OC کی پشت دیکھنی ہے ، جہاں ویڈیو پورٹس واقع ہوں گی۔ اس معاملے میں ہمارے پاس 2.5 سلاٹوں کی ایکس ایم فاریکس موٹائی ہے ، جو قیمت کی حد میں اتنی عام نہیں ہے ، حالانکہ بندرگاہیں ہمیشہ کی طرح ہی ہیں: غیر ملکی زرمبادلہ کے دفتر کو کھولنے کے لئے ، روسی کرنسی کے مرکزی بینک (NB) کے ساتھ ، کرنسی کے ضوابط اور کرنسی کے کنٹرول پر آن قانون کے مطابق معاہدہ کرنا ضروری ہے۔ قانونی ادارہ فراہم کردہ خدمات کے کنٹرول اور کوالٹی کنٹرول کا استعمال کرتا ہے۔ نجی زرمبادلہ کے دفاتر کے ذریعہ کرنسی کی فروخت کے نکات کو بڑھانا NB کی اہلیت میں ہے۔ کسی فرد (اس کے نتیجے میں ایل ایل سی) کے لئے فائدہ یہ ہے کہ جمع کرنے کے تمام اخراجات نیشنل بینک برداشت کرتے ہیں ، اسی طرح نقد اکاؤنٹنگ کی وصولی / اخراجات بھی۔ نیٹ ورک کی ترتیبات کو فیکٹری ڈیفالٹس میں بحال کریں تیسری پارٹی کے ہیڈسیٹ منقطع کریں دوسرے وائرلیس مداخلت کے لئے چیک کریں ایک توسیعی پاور سائیکل انجام دیں وائرلیس چینل تبدیل کریں اپنا وائرلیس وضع تبدیل کریں کم وائرلیس سگنل کی جانچ کریں اپنی فائر وال کی ترتیبات کو تبدیل کریں اپنے NAT ٹیبل کو تازہ دم کرنے کے لئے UPnP آن کریں اپنے راستے پر پیرامیٹر نیٹ ورک (ڈی ایم زیڈ) کی فعالیت کو فعال کریں نیٹ ورک کیبل چیک کریں براہ راست سے ماڈیم کنکشن کی کوشش کریں. آپ کے پاس پہلے والے اسٹاک کو واپس خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے جو کہ تیزی کے اڈے کو توڑ رہا ہے۔ لیکن صرف اس وجہ سے اپنے پرانے فاتحوں کے پاس واپس نہ جائیں۔ حالانکہ بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح نے حال ہی میں چین کی اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر چلے گئے. بھارت میں سرمایہ کاروں نے پچھلے کئی سالوں میں کچھ بدنام بھی دیکھا ہے. انفسیس ٹیکنالوجیز کی طرح بھارت کی بڑی انگریزی بولنے والے آبادی اور ٹیکنالوجی سے متعلق آؤٹ سور آؤٹ آؤٹنگنگ کمپنیوں نے اس ملک کو 1 ارب ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ معیشت کو دیکھنے کے لئے بنانے میں مدد کی ہے. کہتے ہیں کہ آنکھوں دیکھے پر ہی یقین کرنا چاہیے لیکن شاید اظہر علی نے اس کے بارے میں سنا نہیں تھا اور'چوکا' لگانے کے بعد آرام سے کریز سے نکل کر چند قدم چلے اور دوسرے اینڈ سے اسد شفیق بھی آرام آرام سے چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے اور دونوں کے درمیان گپ شپ شروع ہو گئی۔ تجارت کے اطراف :ایکس ایم فاریکس سوئنگ ٹریڈنگ اسٹاک مارکیٹ میں عام طور پر استعمال ہونے والی تجارتی حکمت عملی ہے ، نیز یہ کریپٹوکرنسی ایکس ایم فاریکس میں بھی ہے۔ سوئنگ تاجر انفرادی تجارت کے سیٹ اپ کے لحاظ سے عام طور پر کچھ دن یا ہفتوں تک پوزیشنوں پر رہیں گے۔ 90 کی دہائی کے وسط میں ، کمپنی نے ڈائریک پی سی نامی ہائبرڈ انٹرنیٹ سسٹم بنایا: صارف کے کمپیوٹر نے ڈائل اپ کے ذریعہ درخواست جمع کروائی۔ اسے ایک ویب سرور پر ہدایت دی گئی تھی اور مصنوعی سیارہ کے ذریعہ مکمل کی گئی تھی ، جس میں درخواست شدہ صفحے کو صارف کی ڈش پر بیچ دے گا۔ اب جب ہم نے دو اہم احکامات کی وضاحت کردی ہے تو ، یہاں کچھ اضافی پابندیوں اور خصوصی ہدایات کی فہرست دی گئی ہے جو بہت سے مختلف بروکرج اپنے حکموں کی اجازت دیتے ہیں: ان لاک 3: بند جگہ کھولنے اور کھلی جگہ بند رکھنے کا فیصلہ غیر منطقی، دہلی ایکس ایم فاریکس کانگریس. آپ کو (a) مجموعی مارجن ، (b) نیٹ مارجن (c) EBIT مارجن کا حساب لگانے کی ضرورت ہے۔ ذاتی تجارتی چیک لسٹ کیا ہے؟ . قیمتوں کا تعین آپ کو دس چار انتباہات اور پانچ چار اشارے فی چارٹ فراہم کرتا ہے لیکن کسٹمر سروس یا SMS اطلاعات تک باقاعدگی سے رسائی نہیں دیتا ہے۔ تاہم ، آپ کو اشتہار سے پاک تجربہ اور سوشل میڈیا برادری تک رسائی حاصل ہے۔ ایک بار جب شواب اور فیدلیٹی نے کمیشن کم کر کے صفر کردیا تو ، شواب نے فیدلٹی کی پھانسی کے معیار پر سوال اٹھانا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ، شواب نے اس سے منسلک قومی فنانشل سروسز کے ذریعہ تجارت کو آگے بڑھانے کے لئے ، جہاں سے وہ اپنے آرڈر دیتا ہے ، مارکیٹوں سے چھوٹ قبول کرنے اور اختیارات کی تجارت میں آرڈر کے بہاؤ کی ادائیگی کے ل F فیدلٹی کو بلایا۔ باہر چیک کریں ہمارے بلاگ پائیدار تحفوں میں تخلیقی اشیاء کو جدید بنانے کے لئے تخلیقی دوبارہ استعمال کے خیالات کے ل!! اس میں ایک ہزار سے زیادہ اسٹیکرز ، 30 قسم کے مزاحیہ فلٹر ، 65 مزاحیہ فونٹ اور 11 مختلف قسم کے لفظی غبارے ہیں۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے مفت ہے ، لیکن مکمل ورژن کی قیمت $ 4 ہے۔ یہ ایپ مہنگا ہے ، لیکن آپ کو یقینی طور پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کو پیسہ مل رہا ہے۔ جب بھی مجھے اپنے کسی کمپیوٹر پر چلنے والی سروس تک دور سے رسائ کی ضرورت ہوتی ہے تو ، میں متحرک DNS میزبان نام کا استعمال کرکے صرف رابطہ کرتا ہوں۔ ڈی این ایس کا نام یاد رکھنا بہت آسان ہے ، اور اگر آپ کا آئی ایس پی ایڈریس تبدیل کرتا ہے تو ، یہ آپ کے لئے بالکل شفاف ہے۔
urd_Arab
ورثاء میں بیٹیاں اور بیوہ ہیں وراثت کی تقسیم کیا ہوگی؟ - فتویٰ آن لائن سوال نمبر:4779 السلام علیکم! میرے والد فوت ہو چکے ہیں اور مجھے یہ پتہ کرنا ہے کہ انکی جائیداد کی تقسیم کس طرح ہوگی۔ ان کے وارثین میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرے ایک چچا اور تین پھوپھیاں ہیں لیکن وہ دادی کی طرف سے میرے ابو کے بہن بھائی ہیں جبکہ دادا الگ الگ ہیں۔ کیا وہ بھی حصّے دار ہوں گے؟ اور ہر ایک کے حصّے کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ مہربانی فرما کر اسکا جواب دیں. شکریہ سائل: نورالعینمقام: پاکستان تاریخ اشاعت: 20 اپریل 2018ء مرنے والے کے ترکہ سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات منہا کیے جائیں، اگر اس پر کوئی قرض تھا تو ادا کیا جائے، اگر مرنے والے نے کسی کے بارے میں وصیت کی تھی تو اس مد میں زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) دیا جا سکتا ہے۔ تجیز و تکفین، قرض (اگر تھا) کی ادائیگی اور وصیت (اگر تھی) پوری کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ورثاء میں تقسیم ہو گا۔ مسئلہ مذکور کی نوعیت کے مطابق کل قابلِ تقسیم ترکہ سے بیٹیوں کو دو تہائی (2/3) حصہ ملے گا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَج وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا (1/2) ہے۔ دوتہائی حصہ مرحوم کی پانچوں بیٹیوں میں برابر تقسیم ہو گا۔ بیوہ کو کل ترکہ (جو تجہیز و تکفین، قرض، وصیت کے بعد بچا تھا) سے آٹھواں (1/8) حصہ ملے گا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَآ اَوْ دَیْنٍ. پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان (بیواؤں) کے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (1/8) حصہ ہے، تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔ بیوہ اور بیٹیوں کو ان کے حصے کی ادائیگی کے بعد باقی بچ جانے والا مال مرحوم کے قریبی مرد کو بطور عطیہ دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ. بخاري، الصحیح، 6: 2476، رقم: 6351، دار ابن کثیر الیمامة بیروت مسلم، الصحیح، 3: 1233، رقم: 1615، دار احیاء التراث العربي بیروت باقی بچا ہوا جن مردوں کو ملے گا ان میں ماں شریک بھائی شامل نہیں ہیں، اس لیے دادی کی طرف سے آپ کے چچا کو آپ کے والد کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔ جو قریبی مرد ترکہ میں حصہ پاتے ہیں وہ درج ذیل ہیں: میت کی اولادِ نرینہ (بیٹا، پوتا، پڑپوتا اور نیچے تک) میت کے آباء و اجداد (باپ، دادا، پڑدادا اور اوپر تک) میت کے باپ کی اولادِ نرینہ (بھائی، بھتیجا، بھتیجے کا بیٹا، بھتیجے کا پوتا اور نیچے تک) میت کے دادا کی اولادِ نرینہ (چچا، چچا کا بیٹا، چچا کا پوتا اور نیچے تک) میت کے پڑدادا کی اولادِ نرینہ (باپ کا چچا، اس کا بیٹا، اس کا پوتا اور نیچے تک) اگر مذکورہ مردوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے تو باقی سارا ترکہ بیٹیوں میں بطورِ رد لوٹا دیا جائے گا اور ان میں برابر تقسیم ہوگا۔
urd_Arab
سیب کی تیاری | آن لائن پادری کسان | January 2020 زمرے سیب کی تیاری ایپل کی تیاری کالر سیب کی دیکھ بھال اور پرنٹ Kolonovidnye سیب - ایک بہت ہی نوجوان قسم کے پھل درخت. اس قسم کے پھل کے درختوں کو خوبصورت اور غیر معمولی نظر آتا ہے، جبکہ اس کا بڑا اور سوادج پھل ہے. کراؤن کے سائز کے سیب کے درخت بہت سارے، موسمی حالات ہیں اور مٹیوں کو ان کی دیکھ بھال کے فروغ اور ان کی دیکھ بھال کی خصوصیات پر بہت اثر انداز ہوتا ہے. ایپل کی دیکھ بھال: سب موسم بہار اور موسم خزاں میں صحیح پرنٹ کے بارے میں تمام باغ کے درختوں کو بہت توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، جو یقینی طور پر فصل کی بے حد باغی اعلی سطح کی ضمانت دیتا ہے. آج ہم پرنس ایپل کے درختوں کے بارے میں بات کریں گے. چلو موسم بہار اور موسم خزاں کے تمام حصوں کی جانچ پڑتال کریں، درخت کے شاخوں کے صحیح تراشنے کے لئے منصوبوں، اور جب بھی سیب کے درختوں کو بہتر بنانے کے لئے بہتر ہے.
urd_Arab
انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات - لیڈ اہم لیڈ انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات اگر آپ واقعی میں اپنی زندگی میں کامیابی لانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے آپ کو اسی طرح کاشت کرنا چاہئے جس طرح آپ بہترین پیداوار کے ل a باغ کاشت کریں گے۔ یہاں کے اوصاف کامیاب لوگوں کے ذریعہ ہر جگہ مشترک ہوتے ہیں ، لیکن وہ حادثے یا قسمت سے نہیں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدا عادات سے ہوتی ہے ، ایک وقت میں ایک دن بنتی ہے۔ لارا اسپینسر خالص مالیت 2015 یاد رکھیں: اگر آپ اپنی زندگی اسی طرح بسر کریں گے جیسے زیادہ تر لوگ کرتے ہیں تو ، آپ کو زیادہ تر لوگوں کے ل. ملے گا۔ اگر آپ بس گئے تو آپ کو آباد زندگی ملے گی۔ اگر آپ اپنے آپ کو ، ہر دن اپنی سب سے بہترین قیمت دیتے ہیں تو ، آپ کا سب سے اچھا آپ کو واپس کردے گا۔ یہ سبھی خصلتیں ہیں جو انتہائی کامیاب کاشت کرتے ہیں۔ تمہارے پاس کتنے ہیں؟ 1. ڈرائیو آپ کا عزم ہے کہ زیادہ تر سے زیادہ محنت کریں اور یقینی بنائیں کہ کام انجام پائیں۔ چیزیں مکمل ہوتے دیکھ کر آپ فخر کرتے ہیں اور جب ضروری ہو تو آپ چارج لیتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو مقصد کے ساتھ چلاتے ہیں اور اپنے آپ کو اتکرجتا کے ساتھ صف بندی کرتے ہیں۔ 2. خود انحصاری آپ ذمہ داریاں برداشت کر سکتے ہیں اور جوابدہ ہوسکتے ہیں۔ آپ سخت فیصلے کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اپنے لئے سوچنا اپنے آپ کو جاننا ہے۔ 3. قوت خوانی آپ کے پاس چیزوں کو دیکھنے کی طاقت ہے - آپ خالی نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ملتوی کرتے ہیں۔ جب آپ یہ چاہتے ہیں تو ، آپ اسے بناتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے حصول وہ لوگ ہیں جو اپنے مقاصد پر مرکوز رہے اور اپنی کوششوں میں مستقل رہے۔ Pati. صبر آپ صبر کرنے پر راضی ہیں ، اور آپ سمجھتے ہیں کہ ، ہر چیز میں ، ناکامیاں اور مایوسی ہوتی ہیں۔ انہیں ذاتی طور پر لینا ایک نقصان ہوگا۔ 5. سالمیت یہ کہنا ضروری نہیں ہے ، لیکن یہ سنجیدگی سے ان اہم خصوصیات میں سے ایک ہے جو آپ پیدا کرسکتے ہیں۔ ایمانداری آپ کے ہر کام کے لئے بہترین پالیسی ہے۔ سالمیت کردار تخلیق کرتی ہے اور وضاحت کرتی ہے کہ آپ کون ہیں۔ 2014 میں رک اسٹیوز کی مالیت کی قیمت ہے 6. جوش اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ، اگر آپ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ، یہ شائستگی نہیں بلکہ جذبہ ہے جو آپ کو وہاں پہنچے گا۔ زندگی آپ کے تجربے میں 10 فیصد ہے اور 90 فیصد آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ 7. رابطہ آپ دوسروں سے وابستہ ہوسکتے ہیں ، جس کے نتیجے میں ہر چیز کو مزید پہنچنے اور اہمیت کو گہرا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ ہے اور بہت اچھا ہے ، اور آپ جانتے ہیں کہ لڑنے کے قابل کیا ہے۔ امید ایک بہتر مستقبل بنانے کی حکمت عملی ہے - جب تک کہ آپ کو یقین نہیں آتا ہے کہ مستقبل بہتر ہوسکتا ہے ، آپ کو امکان نہیں ہے کہ اس سے آگے بڑھیں اور اسے بنانے کی ذمہ داری قبول کریں۔ 9. خود اعتماد تم خود پر بھروسہ کرو۔ یہ اتنا ہی آسان ہے۔ اور جب آپ پر یہ غیر متزلزل اعتماد ہوتا ہے تو ، آپ کامیابی کے قریب ایک قدم پہلے ہی قریب ہوجاتے ہیں۔ 10. مواصلات آپ اپنے ارد گرد کے مواصلات پر بات چیت اور توجہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ سب سے اہم ، آپ کیا سنتے ہیں نہیں کہا جا رہا ہے جب مواصلت موجود ہے تو اعتماد اور احترام کی پیروی کریں۔ کوئی بھی معمولی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا؛ ثالثی اس وقت ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ، ان خصلتوں کو سیکھیں جو آپ کو کامیاب بنائیں گے اور ہر دن ان کو زندہ رہنے کا منصوبہ بنائیں گے۔
urd_Arab
کون سی سکل سیکھ کر نوکری کرنے سے سب سے زیادہ معاوضہ مل سکتا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ نوجوانوں کے لئے پانچ سب سے زیادہ تنخواہ والی نوکریاں کون سی ہیں۔ اول۔ ڈیٹا سائنٹسٹ: کمپنیوں کے ڈیجیٹل ہونے اور زیادہ ڈیٹا کی وجہ سے ڈیٹا سائنٹسٹ وہ پروفیشنل افراد ہیں جنہیں سب سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا سائنسدانوں کی مانگ میں سالانہ 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تنظیمیں فعال طور پر ڈیٹا سائنسدانوں کو پروگرامنگ، ڈیٹا ویژولائزیشن، اور مشین لرننگ کی مہارتوں کے ساتھ بھرتی کر رہی ہیں تاکہ ڈیٹا پر مبنی کاروباری فیصلے کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ اس بڑی مانگ کے پیش نظر، پاکستان میں ایک انٹری لیول ڈیٹا سائنٹسٹ سالانہ 5 سے7 لاکھ، درمیانی سطح پر 12 سے 15 لاکھ سالانہ اور سینئر سطح پر 21 سے 25 لاکھ سالانہ تک کما سکتا ہے۔ دوم۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین: وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کی وجہ سے، ڈیٹا اور ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کی ضرورت آج ایک ترجیح بن گئی ہے۔ ٹیک انڈسٹری نے تمام کمپیوٹیشنل حرکات کو ڈی کوڈ کرنے اور ٹریس کرنے کے لیے مسائل کو حل کرنے، تجزیاتی، اور کمپیوٹر فرانزک مہارتوں کے ساتھ انتہائی ہنر مند سائبر سیکیورٹی پروفیشنل افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ریکارڈ کیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے پیشہ ور افراد اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ افراد، حکومتیں اور کاروبار ہر قسم کے سائبر خطرات اور حملوں سے محفوظ ہیں۔ اس ڈومین میں پیشہ ور افراد تقریبا انٹری سطح پر 6 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 10 سے 12 لاکھ/سالانہ اور سینئر سطح پر 30-40 لاکھ/سالانہ کماتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں | جانئے آپ پاکستان میں اپنا سٹارٹ اپ کیسے شروع کر سکتے ہیں سوم۔ کلاؤڈ انجینئرز اور آرکیٹیکٹس: کلاؤڈ تمام تنظیمی اور صارفین کے کاموں کا مستقبل ہے۔ کلاؤڈ سافٹ ویئر انجینئرز، کلاؤڈ آرکیٹیکٹس، اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر انجینئرز ان ڈیمانڈ رولز ہیں جو انڈسٹری کی بہترین پیشکشوں کو حاصل کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ڈگری کے حامل پیشہ ور، پروگرامنگ، ڈیٹا بیس مینجمنٹ اور لینکس کی مہارتوں سے لیس ان کی تنخواہ میں 60 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں پروفیشنل افراد انٹری سطح پر 6-8 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 10-12 لاکھ/سالانہ اور سینئر سطح پر 30 لاکھ/سالانہ کما سکتے ہیں۔ چہارم۔ پروڈکٹ مینیجرز: پروڈکٹ مینیجرز اکثر اوقات سی ای او کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو پروڈکٹ کی خصوصیات کو لانچ کرنے اور اپ ڈیٹ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ مطلوب کرداروں میں سے ایک ہے۔ پراجیکٹ مینیجرز اپنی کمپنی اور کام کے حساب سے 4 لاکھ سے 15 لاکھ تک کما سکتے ہیں۔ 5. فل اسٹیک ڈویلپرز: حالیہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں فل اسٹیک ڈویلپرز کی مانگ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ ڈیولپمنٹ، ورژن کنٹرول سسٹم، کوڈنگ کی مہارت، کلاؤڈ اور ڈیٹا بیس کی مہارتوں کے ساتھ ساتھ پائتھون، جاوا، سی ایس ایس اور دیگر کوڈنگ زبانوں کے علم سے آراستہ پیشہ ور، سٹارٹ اپس سے زیادہ معاوضہ دینے والی ملازمتوں کی توقع کر سکتے ہیں۔ اور بڑی کمپنیز میں انٹری لیول پر 1 سے 2 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 4 سے 5 لاکھ/سالانہ اور سینئر لیول پر 10-12 لاکھ/سالانہ کما سکتے ہیں۔
urd_Arab
سعودی عرب نے ایک لاکھ افراد کو روزگار دینے کا اعلان کر دیا – انقلاب سعودی عرب کے وژن2030 کے تحت حکام ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں رواں سال کے اختتام تک ایک لاکھ افراد کو روزگار دیا جاسکے گا۔ سعودی عرب حکومت کی یہ پیش قدمی ایک بڑے ہدف کی جانب ہے جس کا مقصد سال2030 تک سیاحت کے شعبے میں 10 لاکھ مقامی افراد کو ملازمت فراہم کرنا ہے۔ وزارت سیاحت میں نیشنلائزیشن و ٹریننگ کے جنرل مینیجر بندر السفیر نے میڈیا کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سعودی شہریوں کو سیاحت کے شعبے میں کام کے لیے تیار کرنے کی پارٹنرشپ پروگرام میں ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ السفیر نے بتایا کہ اس وقت ٹرانسپورٹیشن، فوڈ، بیوریجز، انٹرٹینمنٹ اور ٹریول ایجنسی کے کورسز جاری ہیں۔ واضح رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے آنے سے کچھ ہی عرصہ قبل سعودی عرب نے ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے مملکت کو کھول دیا تھا۔ مملکت میں سیاحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعمیرات اہمیت کی حامل ہیں۔
urd_Arab
الوقت - داعش کے کچھ سرغنوں نے نام نہاد خلفیہ ابو بکر البغدادی کی بیعت توڑ دی ہے۔ عراق کے صوبہ نینوا کے ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ داعش کے کچھ جنگجوؤں اور سرغنوں نے داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کی بیعت توڑ دی ہے اور خودکش کاروائی کرنے کی مخالفت کی ہے۔، سومریہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، داعش کے سرغنہ اور نام نہاد خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت کی خبر شائع ہونے کے بعد داعش کے کچھ جنگجوؤں اور سرغنوں نے خلیف کی بیعت توڑ دی ہے اور داعش گروہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے شامی جنگجوؤں نے ابو عبد اللہ الشامی نامی سرغنہ کی سربراہی میں جو موصل میں خودکش حملہ آور کے ساتھ جنگ میں مشغول ہے، اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بغدادی کی بیعت توڑ دی ہے۔ ان جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ ایک نامعلوم شخص کی بیعت باطل سمجھی جاتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے بغدادی کے پاس طاقت اور توانائی نہیں ہے۔ اس ذریعے نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ابو بکر البغدادی سے جدا ہونے والےافراد نے صحیح بخاری اور ابن تیمیہ سے روایات ذکر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کی اطاعت جو موجود نہ ہو، یا گمنام ہو اور اس کے پاس توانائی نہ ہو، جائز نہیں ہے۔ شامی نے یہ سوال کیا کہ ہم کس طرح بغدادی کی اپنے خلیفہ کی حیثیت سے بیعت کر سکتے ہیں جب کہ اس کے توانائی نہیں ہے، وہ ہماری زیر قبضہ زمینوں واپس نہیں دلا سکتا، اس کی حفاظت نہیں کر سکتا، وہ ہمارا خلیفہ نہیں ہے۔
urd_Arab
بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد ، کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد– News18 Urdu بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد ، کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔ Last Updated : December 03, 2020, 18:54 IST بپوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو یہ حادثہ پیش آیا تھا ۔ دو دسمبر کو جولوگ اپنی خواب گاہوں میں سوئے تو یہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس رات کی صبح نہیں ہوگی اور جو اس رات کو قیامت صغرا کے شور سے بیدار ہوئے ، انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی اگلی منزل کہاں ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حادثہ کی رات پندرہ ہزار اموات اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زہریلی گیس کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ کہنے کو اس حادثہ کو چھتیس سال مکمل ہوگئے ہیں اور تین دسمبر کی صبح ستم کی ایک نئی صبح کے ساتھ سینتیسویں سال کا آغاز ہوگیا ۔ ان بیتے چھتیس سالوں پر گیس متاثرین جب نظر ڈالتے ہیں ، تو اپنے کو اپنی ہی حکومتوں کے ذریعہ ٹھگا ہوا پاتے ہیں ۔ ان چھتیس سالوں میں گیس متاثرین پر اتنے ستم ٹوٹے ہیں کہ اپنوں کو یاد کر کے ان کی آنکھیں خشک ہوگئی ہیں ۔ بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔ پروگرام کے پہلے حصے میں سبھی مذاہب کے رہنماؤں نے اپنے مذاہبی عقائد کی روشنی میں گیس ساانحہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ پھر کل مذہبی دعائیہ اجتماع میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے گیس حادثہ کے مہلوکین کو حراج عقید ت پیش کی گئی ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دعائیہ اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے وہی کہا کہ جو وہ پندرہ سالوں سے کہتے آئے ہیں ۔ ہمیں ترقی اور ماحولیات کے بیچ اعتدال قائم کرنا ہوگا۔ بھوپال حادثہ جو ہوچکا ہے اب یہ نہیں دہرایا جائے اس کے لئے ہمیں انتظام کرنا ہوگا ۔ وزیر اعلی نے گیس متاثرین کی بیواؤں کی دوہزار انیس سے رکی ہوئی پینشن کو جاری کرنے کا اعلان کیا اور تاحیات جاری کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گیس حادثہ کی یاد میں گیس اسمارک بنانے کے لئے گیس راحت وزیر وشواس رانگ کو خاکہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔ وہیں دعائیہ اجتماع میں شریک سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما نے کہا کہ اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا ہے ، کام کرکے دکھانا ہوگا۔ گیس متاثرین اتنے سالوں سے اعلان ہی تو سن رہے ہیں ۔ گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر ایم پی جمیعت علما نے قران خوانی کر کے گیس حادثہ کے شہیدوں کو خرج عقیدت پیش کی ۔ جبکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ، ایم پی سنیکت مورچہ نے چھتیسویں برسی پر احتجاج اور حکومت کا پتلہ ندر آتش کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ جبکہ گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن ،گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی مورچے کے کارکنان نے یونین کاربائیڈ کارخانے کے سامنے انسانی زنجیر بناکر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ جمعیت علما ایم پی کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ایم پی کے چھتیس سالہ اقتدار میں بی جے پی اور کانگریس ہی کی حکومتیں رہی ہیں اور دونوں ہی پارٹیوں نے گیس متاثرین کے مفاد کو نظر انداز کر کے کمپنی اور ملٹی نیشنل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا کام کیا ہے ۔ راجیو گاندھی نے عدالت کے باہر علاج و معاوضہ کے نام پر ڈاؤ کیمکل سے جو سمجھوتہ کیا تھا ، اس میں تین ہزار موت اور ایک لاکھ دو ہزار زخمیوں کا معاوضہ شامل تھا ۔ جبکہ سپریم کورٹ نے جو فہرست جاری کی تو اس میں اس نے لکھا کہ اس سیاہ رات پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زیریلی گیس سے متاثر ہوئے تھے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت گیس متاثرین کو پانچ گنا معاوضہ دے ۔ وہیں پرمود پردھان کہتے ہیں کہ ہمیں حکومتوں سے نہ پہلے امید تھی اور نہ ہی آج امید ہے ۔ گیس متاثرین کو جو کچھ ملا ہے وہ عدالت کی مداخلت سے ملا ہے۔ آج بھی حکومت نے گھڑیالی آنسو بہاکر رسم ادائیگی کی ہے ، لیکن ہم نے انسانی زنجیر بناکر حکومت کو بتا دیا کہ گیس متاثرین کا اتحاد قائم ہے اور ہم آخری دم تک اپنے حق کے لئے لڑتے رہیں گے۔
urd_Arab
میرا بلاگ ۔ بازیافت : جس ڈھب سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے جس ڈھب سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے تحریر:- احمد جاوید---- جس وقت میں یہ سطورسپردقلم کررہاہوں، دنیا انقلابی مفکر چے گویراکی سالگرہ منارہی ہے۔14جون ارجنٹائنا کے انقلابی نوجوان،حریت پسندمصنف، جفاکش گوریلارہنما،ڈپلومیٹ اورفوجی نظریہ داں چے کا یوم پیدائش ہے لیکن مجھےاس موقع پر اس کی پیدائش نہیں، موت یادآرہی ہے۔ اس لیے بھی کہ دنیا میں ہردن لاکھوں کروڑوں بچے پیداہوتے ہیں لیکن ان میں سے کتنے ہیں جن کا یوم پیدائش ان کےاپنے قریبی رشتہ داراور والدین بھی یاد رکھتے ہیں،ہاں اس شخص کا یوم پیدائش ضروریاد رکھاجاتا ہے جس کی موت یادگارہوتی ہےیا موت کو گلے لگاتے وقت تک وہ زندگی کوامرکرچکاہو تا ہےیعنی جس ڈھب سے کوئی مقتل میں گیاوہ شان سلامت رہتی ہے/یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں اور اسلیے بھی کہ چے گویراکا قتل انقلاب کی تاریخ کا ایک بڑاعبرتناک واقعہ ہے۔اس انقلابی نوجوان اور گوریلارہنماکو صفحہ ہستی سےمٹانے کے لیے سی آئی اے نے جو طریقہ اپنایا آج دنیا کےمختلف حصوں میں کئی قومیں اورحکومتیں اپنے ناپسندیدہ افراد اور گروہوں کے خلاف وہی طریقےدھڑلے سے استعمال کررہی ہیں۔انقلابیوں کے گروہوں اور معتوب فرقوں اورجماعتوں کے درمیان اپنے ایجنٹ داخل کردینا ، ان کو طرح طرح سے بدنام کرناکرانا اور پھران کواپنی سہولت کے مطابق نشانہ بنانا، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا، ان پراور ان کے اپنے پرایوںپرانسانیت سوزمظالم ڈھانا یاقتل کردینااس زمانے میں اتنا عام نہیں تھا جب بولیویامیں چےکو قتل کیا گیاتھااور اس لیے بھی کہ یہ اسکی صرف 86ویں سالگرہ ہے۔اگرسی آئی اے نے اس کو دردناک طریقہ سے ٹھکانے نہ لگایاہوتا تو عین ممکن ہے کہ وہ آج اپنے چاہنےوالوں کے درمیان کیک کاٹ رہاہوتا لیکن افسوس اس کے چاہنے والے اس کی پیدائش کے صرف 85 سال بعد اس کی 47 ویں برسی منانے کی تیاری کررہے ہیں۔ حال ہی میں حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے سیکوریٹی ایجنسیوں سے ماؤنوازدہشت گردوں کا علاج جاننا چاہاتو آئی بی نےیہ عذر پیش کیاکہ جس طرح دوسری دہشت گردتنظیموں کے اندراس کے ایجنٹ موجودہوتے ہیں اوران کی منٹ منٹ کی نقل و حرکت کی خبریں اسے ملتی رہتی ہیں،ماؤنوازتنظیموں کے اندرنہیں ہیں۔ اگر حکومت اس کی اجازت دےاور اس کے لیے فنڈ مہیاکرائے تو کام آسان ہوجائے گا ۔ہماری نئی حکومت نے فی الفورآئی بی کو اس کی اجازت دے دی ، قوم پرستوں کی اس حکومت سےایجنسی کو اسی کی توقع بھی تھی۔ پھراس نےآناًفاناً پروجیکٹ بنایا اورپاورپوائنٹ کی مددسے وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران اوروزراکے سامنے یہ پروجیکٹ پیش کیا کہ وہ کیا کریں گے،ان کوحکومت سے اس کے لیےکیاکیاچاہیےاور اس میں کتنا سرمایہ درکارہے۔میڈیامیں یہ خبرآئی تومجھے کئی عشرت جہاں، سہراب شیخ،اکشردھام مندرکے حملہ آور، بے گناہ مقتولین، ملزمین ، مالیگاؤں کے بم دھماکےاوربہت سے لفٹننٹ کرنل پروہت بھی یاد آئے اور چے گویرا بھی بہت یاد آیا۔ ارنسٹوگویراعرف چے ارجنٹائنا کے ایک خوشحال گھرانے کاچشم وچراغ تھا۔بچپن سے کھیل کود کا دلدادہ، نوجوانی آتے آتے بہترین ایتھلیٹ اورشطرنج کاماہرکھلاڑی بن چکاتھا۔ اسی کے ساتھ وہ کتابوں کابھی رسیا تھا، خوش قسمتی سے اس کے گھر میں 3000 سے زائدکتابوں کا ذخیرہ موجود تھا، جس سے اس نے اپنے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔وہ بنیادی طور پر میڈیکل کا طالب علم تھا، تعلیمی کیرئر کے دوران ہی اس کے اندر سیاحت کا شوق پیدا ہوا،اور 1950 سے 1953ء تک اس نے جنوبی امریکہ کے ملکوں کی تین بار سیاحت کی ، جس میں پہلے1950 میں اس نے سائیکل پر تنہا4500 کلومیٹر کا سفر براعظم کے جنوب سےشمال کی جانب طے کیا۔ دوسرا سفر اس نے 1951میں موٹر سائیکل پر طے کیا۔جو تقریباًدگنا لمبا یعنی8000 کلومیٹر تھا۔ تیسرا سفر اس نے 1953 میں کیا– تینوں بار اس نےچلی ،پیرو ، ایکواڈور ، کولمبیا ، وینیزویلا ، پانامہ ، برازیل ، بولیویا اور کیوبا جیسے ممالک اور ان کے عوام کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا۔ کیوبا کے انقلاب کے بانیوں میں شامل چے کوان ملکوں کی غربت، بھوک اور بیماری نے اس قدرمتأثر کیاکہ اس نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے حکمرانوں کےاستحصال سے جنوبی امریکی ممالک کونجات دلانے کے لیے اپنی بقیہ زندگی وقف کردی۔ گوئٹے مالا کے صدر جیکبو آربینز نے جب امریکی یونائیٹڈ فروٹ کمپنیکو قومی ملکیت میں لیا اور دیگر سماجی اصلاحات کیں تو سی آئی اے نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جیکبو کو قتل کروا دیا۔ ویسے تو یہی وہ واقعہ تھاجس نے امریکی سامراج اور سرمایہ دارانہ نظام سے اس کے ذہن میں نفرت پیدا کردی لیکن دراصل یہ نفرت اس کےدل ودماغ میں برسوں سے پل رہی تھی جواس نازک لمحہ میں ایک بڑے جسارت مندانہ فیصلہ کی صورت میں سامنے آئی۔ اس نےمیکسیکو شہر میں راول کاسترو اور فیڈل کاسترو سے ملاقات کی۔ اس کے بعد کیوبا کی امریکی نواز فل جینی شیئو بیتیستا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ٹھانی۔ چےگویرا نےانقلاب کے بعد کیوباکی انقلابی حکومت میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی اصلاحات کو منظم کیا،ملک کاوزیرصنعت رہا۔تعلیم کے نظام میں جوہری تبدیلی کا محرک بنا،ملک بھر میں تعلیم کے شعبے میں چلائی جانےوالی مہم میں حصہ لیا۔ کیوبا کے نیشنل بینک کا صدر اور کیوبا کی فوج کا انسٹرکشنل ڈائریکٹر رہا، اورکیوبا کی سوشلسٹ حکومت کی بیرون ملک نمایندگی بھی کی۔'' بے آف پگز''کی لڑائی میں امریکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنے والی ملیشیا کی مرکزی تربیت کرنے کا کردار چے نے ہی ادا کیاتھا اور 1962 میں کیوبن میزائل بحران کو حل کرنےمیں بھی اس کااہم کردار تھا۔ وہ ایک سیاسی مصنف اور ڈائری لکھنے کے ماہرکی حیثیت سے بھی جانا جاتاہے۔ گوریلا جنگ کےماہر کی حیثیت بھی اس نے غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ سامراج، سرمایہ داری، اجارہ داری اور جدید نو آبادیاتی استحصال کے خلاف جدوجہدکی وہ ایک سب سے بڑی اورسب سے مضبوط علامت ہے۔ 1965 میں چے نےعالمی انقلاب کے لیے کیوبا کو چھوڑ دیا۔پھر وہ کانگو، کنشاسہ اور بعد ازاں بولیویا میں گوریلا جنگ لڑتارہا۔ وہیں امریکی ایجنسی سی آئی اے نے ایک مذموم سازش کے تحت اسے قتل کیا۔ جب وہ مر رہا تھاتو زور سے چیختے ہوئے کہا تھا کہ بزدلو دیکھو میں کس بہادری سے مر رہا ہوں۔ اس کو مارنے کے بعد اس کے دونوں ہاتھکاٹ دیے گئے اور اسے زمین میں دبا دیا گیا۔ ارجنٹینا، کیوبا اور بولیویا کی حکومتوں نےاس کا جسد خاکی (ڈھانچہ) 30 برس تک تلاش کیااورتیس سال کے بعد کیوبا کے دارالخلافہ ہواناکے چوراہے پر اس کے باقیات کو دفنایا گیاجہاں اب چے کا دیو قامت مجسمہ کھڑاہے جس کے ہاتھ میں بندوق تھمائی ہوئی ہے۔ 8؍اکتوبر1967ء کوسی آئی اے کی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے 'یورو روائن'کے علاقے میں واقع چے گویرا کےگوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیاتھا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے 'لا ہیگویرا'میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔پہلے سی آئی اے نے اسے اذیتیں دیں۔پھراگلے دن دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر چے کو گولی مار دی گئی۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ''کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟''، چے نے جواب دیا ''نہیں! میں انقلاب کی لا فانیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں''۔چے گویرا کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے ''میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ گولی چلاؤ بزدلو!تم صرف ایک انسان کی جان لے رہے ہو!''۔ ہر بڑے انقلابی کی طرح چے گویراکی شخصیت، کردار اور زندگی کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے اصلاح پسند''دانشوروں'' نے بھی کردار کشی کی ان بھونڈی کوششوں میں برابر کے شریک تھے۔دیناکی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلاواقعہ نہیں تھا۔ استحصالی طبقات ہربار انقلابیوں پروحشی کتوں کی طرح ٹوٹ پڑنے کو دوڑتے ہیں،ان کے نظریات کو انتہائی غلاظت اور گندگی میں لتھاڑکر پیش کیا جاتا ہے،بدترین بہتانوں اورذلت آمیز دشنام طرازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاجاتاہے۔اور جب یہ مرجاتے ہیں توکوششیں شروع کر دی جاتی ہیں کہ ان کو ایک بے ضررقسم کا انسان بنا کر پیش کیاجائے،ان کے بارے اور ان کے حوالے سے اس قسم کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اوران کو کیا سے کیا بناکے پیش کیا جاتا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ وہ انسان نہیںکچھ اور شے تھے لیکن چے اپنی موت کے بعد سوشلسٹ انقلابی تحریکوں کاہیرو اور جدیدپاپ کلچر کا نمائندہ بن گیا ۔البرٹو کورڈا کے بنائےہوئے چے کے فوٹونے ببے پناہ شہرت و مقبولیت پائی اور دنیا بھر میں ٹی شرٹوں،احتجاجی بینروں پر یہ فوٹو نمایاں ہوتاجارہاہے اور یوں چے گویرا ہمارے عہدکا معتبر و معروف انسان بن چکاہے۔چے گویراکی موت نے ثابت کیا ہے کہ 'انقلاب'آسانی نہیں مرتا اور خون اپنے قاتلوں کا تعاقب کرتاہے۔
urd_Arab
اسلام آباد ہویائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز،ٹاس رپورٹ،لائیو اپ ڈیٹ | پاکستان ٹرائب اردو اسلام آباد ہویائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز،ٹاس رپورٹ،لائیو اپ ڈیٹ دبئی:پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے جانےوالے اہم میچ میں بارش کی وجہ سے ٹاس نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام اسپورٹس ڈیسک کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے مابین کھیلے جانے والے میچ کے آغاز کے لیے بارش کے تھمنے کا انتظارکیا جا رہا ہے جب کہ بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ یاد رہے پی ایس ایل میں آج ایونٹ کا اہم میچ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین کھیلا جائے گا کیونکہ کراچی کنگز ہار یا جیت دونوں صورت میں ہی ایونٹ میں آگے جا سکتی ہے لیکن بری طرح ہارنے کے باعث لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف کیلئے کوالیفائی کر سکتی ہے۔ ایونٹ میں پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں پہلے ہی پلے آف راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کر چکی ہیں جبکہ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں نے 3,3 میچ جیت رکھے ہیں۔ گزشتہ روز سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز کو چت کرنے والی کراچی کنگز کی ٹیم کی اوسط بھی بہتر ہوئی جس کے باعث پوائنٹس ٹیبل پر وہ لاہور قلندرز سے آگے نکل چکی ہے تاہم اس کے باوجود بھی پلے آف کیلئے کوالیفائی نہیں کر پائی۔ کراچی کنگز کی ٹیم اگر آج اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ میں فتح سے ہمکنار ہوتی ہے تو یقینی طور پر اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے گی البتہ اگر اسلام آباد کی ٹیم میچ میں 150 رنز بنا کر میچ میں 15 رنز سے فتح حاصل کرتی ہے تو کراچی کی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو جائے گی جبکہ 150 رنز کے ہدف کا حصول 18.2 اوورز میں ہوا تو بھی لاہور قلندرز آگے چلی جائے گی۔
urd_Arab
یہ سب کچھ تو ہیں، مگرنہیں انسان | قندیل یہ سب کچھ تو ہیں، مگرنہیں انسان قندیل نومبر 8, 2018 نومبر 8, 2018 0 تبصرے یوگی آدتیہ ناتھ اور نریندر مودی نے اردو کا ایک مشہور فقرہ دیوالی کے دن استعمال کیا ،مگر بھول گئے کہ یہ اردو میں استعمال ہوتا ہے ،جسے ہندی والے بھی استعمال کرنے لگے ہیں، یوگی نے مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے اور الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھ دیا ہے، جبکہ گجرات کے نریندر مودی احمد آباد کانام 'کروناوتی' رکھنا چاہ رہے ہیں۔ یوگی نے فیض آباد کا نام اجودھیا رکھنے کی تجویز بھی دی ہے، اس طرح یہ دونوں مسلم اور اردو ناموں کے پیچھے دیوانے ہوگئے ہیں،انسان کو مخالفت کیسے پاگل بنا دیتی ہے ،کوئی ان دونوں سے سیکھے، ہر وہ چیز جو اردو یا عربی یا مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے ،ان دونوں کو ناپسند ہے، مگر گزشتہ روز (7نومبر) اجودھیامیں یوگی آدتیہ ناتھ نے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ''رام مندر ہم ہندوؤں کے لیے آن بان شان ہے''۔ اسی طرح فوجیوں کے ساتھ دیوالی مناتے ہوئے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی جی نے کہاکہ'' فوج ہماری آن بان شان ہے''۔ ہندی میں بہت سے الفاظ، جو اردو، عربی اور فارسی زبان کے ہیں، استعمال ہوتے ہیں،اب ان دونوں کو چاہیے کہ ان سب کو ہندی سے الگ کر دیں؛ تاکہ ان کی نفرت کی پیاس بجھے اور ان کا کھانا ہضم ہو، ان کی پارٹی میں کچھ لوگ ہیں ،جو مسلمانوں جیسا نام رکھے ہوئے ہیں، جیسے شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی اور مبشر جاوید اکبر، ان تینوں کے نام بھی جس قدر جلدی ہو بدل دینا چاہیے، سید شاہنواز کا نام گھنشیام اور اکبر کا نام پریاگ اور مختار عباس نقوی کو پرساد کردیں ؛کیونکہ ان کے ناموں میں مسلمانیت اور اردو کا شبہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں اس کے لیے بے چینی نہیں ہے ،جس قدر چاہیں وہ ناموں کو تبدیل کرتے رہیں، اب ان دونوں کے پاس وقت بھی کم ہے؛ کیونکہ ضمنی انتخابات کے نتائج آرہے ہیں ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آن بان شان والے زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہیں، ان کی پارٹی میں بھی اب چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں، جو لوگ پارٹی میں رہ کر باغی ہوگئے ہیں، اب ان کوبھی یہ نکالنے سے رہے۔ یشونت سنہا مودی اور بی جے پی دونوں کے خلاف ہوگئے ہیں،انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار سال پہلے میں نے انتخابی سیاست کو خیر باد کہہ دیا ہے، شتروگھن سنہا نے ساتھ آر جے ڈی اور کانگریس کے جلسہ عام میں پٹنہ میں شرکت بھی کی ہے، ان سب کے باوجود راجستھان یونٹ کے سوشل میڈیا انچارج ہریندر کوشک نے یشونت سنہا کے یوم پیدائش پر مبارکباد دی اور ان کی اچھی صحت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے، راجستھان میں بی جے پی کی حالت خراب بھی ہے۔ ماہ نامہ ''برہان'' کے ایڈیٹر سعید احمد اکبر آبادی نے کلکتہ کا ایک واقعہ لکھا تھا کہ جب وہ کلکتہ مدرسہ کے پرنسپل تھے، ایک شخص بہتوں کی مخالفت کرتا تھا اور ہر وقت مخالفت میں اپنا منہ کھولے رکھتا تھا، وہ کہتے ہیں کہ کتاب کی ایک دکان میں وہ اکثر آتا تھا، وہ بھی کبھی کبھی وہاں جایا کرتے تھے، ایک دو سال کے بعد وہ پاگل جیسا ہوگیا ،تو اندازہ ہوا کہ حد سے زیادہ مخالفت انسان کو پاگل بنا دیتی ہے، اب یہ دونوں اس قدر اردو، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوگئے ہیں کہ عین ممکن ہے جلدہی ان کا توازن بھی بگڑ جائے ۔ انگریزی روزنامہ' 'دی ٹیلیگراف' 'نے آج اپنی خبر میں تبصرہ کیا ہے کہ ''آن بان شان'' دونوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا؛ کیونکہ یہ اردو فارسی اور عربی کے الفاظ ہیں، میرے خیال سے تہبند اور علی گڑھ پائجامہ بھی مسلم کلچر ہی کی نشانی ہے، یوگی تہبند پہنتے ہیں اور مودی جی پائجامہ، نہ جانے کب یہ دونوں دھوتی پہننا شروع کریں گے، ہندی اور انگریزی کے اخبارات کو دونوں کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرانا چاہیے، دونوں میں بہت سی مشابہت بھی ہے، مگر لباس الگ الگ ہے،دھوتی پہننے سے مشابہت ہوجائے گی اور ہندو کلچر اور ہندو سنسکرتی کا بھی مظاہرہ اور تحفظ ہوگا۔
urd_Arab
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو بہن آصفہ ان کی آواز بنیں گی – خبر آپ کی انتخاب ہمارا پیر , 10 مئی , 2021ء مغربی بلوچستان میں فائرنگ سے ایک اور بلوچ نوجوان جاں بحق گوادر:تاجربرادری کالاک ڈاؤن میں نرمی کے لیےڈی سی ۤآفس کے سامنے دھرنا بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی دیگر خوشیوں سے بڑھ کر ہوتی ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وڈھ ، ٹریفک حادثے میں نوجوان جاں بحق دو افراد زخمی کوئٹہ:ہلکی بارش سے مو سم خوشگوارہو گیا کابل دھماکہ:ہمسایہ ممالک کی مداخلت روکے بغیر دہشتگردی کو روکنا ناممکن ہے،پشتونخوامیپ وسائل سے مالا مال بلوچستان و سندھ کو غذائی بحران کا سامنا ہے، ثنابلوچ پنجگور، گھرمیں آتشزدگی ، چھہ سالہ بچہ جاں بحق لورلائی: دوگروہوں میں تصادم، 2افراد جاں بحق عید کے موقع پر اسلحہ نماکھلونوں کی فروخت پر پابندی لگائی جائے، مابت کاکا زہری:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنمازخمی سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے:رمضان المبارک میں بزدلانہ کارروائیاں امن وامان کو متاثرنہیں کرسکتیں،گہرام بگٹی ایف سی اہلکاروں پر حملہ تکلیف دہ، اداروں کے حوصلے پست نہیں ہوسکتے، نوابزادہ جمال رئیسانی لاک ڈاؤن، تاجروں کی مشکلات پر وفاق سے بات کرینگے، زمرک اچکزئی نااہل اور سلیکٹڈ حکومت ہی بحرانی صورتحال کے ذمہ دار ہے، مولانا واسع کتاب: افریقہ کے بلوچ پاکستانی قیادت کیا دے کر آ رہی ہے ملکہ برطانیہ کے کزن پر پیسوں کے عوض روسی صدر تک رسائی کی پیش کش کے الزامات صدرعارف علوی سے گورنربلوچستان کی ملاقات اسلام آباد خاتون سے زیادتی کرنے والے ٹیکسی ڈرائیور باپ بیٹا گرفتار غلام نبی میمن کو کراچی پولیس چیف کے عہدے سے ہٹادیا گیا پولیس موبائل پر حملے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردی ہے، ڈی سی مستونگ مودی نے پاکستان سے آکسیجن در آمد کرنے کی درخواست مسترد کردی سرکاری نرخوں پر اشیاء ضروریہ کی فراہمی بلوچستان اور سندھ کی کارکردگی بری بھارت میں کورونا وبا کی بگڑتی ہوئی صورتحال دل دہلادینے والی ہے' امریکی نائب صدر این سی او سی نے کورونا میں مبتلا 24 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات شروع کردیں گرفتاری کے وقت مسکرانے والی فلسطینی لڑکی مریم کی ویڈیو وائرل بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو بہن آصفہ ان کی آواز بنیں گی شیئر کریں فروری 13, 2020 فروری 13, 2020 0 تبصرے حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی 'گیدڑ بھبکیوں' میں نہیں آئیں گے اور اگر اُنہیں کسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری ان کی آواز ہوں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی 'غیر قانونی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے'۔ جمعرات کو قومی احتساب بیورو میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے جب کراچی میں اعلان کیا کہ اگلے مہینے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی اور موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے تو فوری طور پر اُنھیں نیب میں پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کر دیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ جعلی بینک اکاونٹس کے مقدمے میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اُنھیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کو اس مقدمے میں شامل کرنے پر اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی سرزنش کی تھی اور جے آئی ٹی کے وکیل نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اس مقدمے کی تفتیش میں اُنھیں (بلاول) کو شامل نہیں کرنا چاہیے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کا چیف جسٹس انھیں بےگناہ قرار دے رہا ہے تو پھر اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ اُنھیں اس مقدمے میں کیوں بلایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر زرداری گروپ کی کسی دوسرے گروپ کے ساتھ کوئی کاروباری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور یہ دونوں گروپس کا نجی معاملہ ہے تو اس میں نیب کا ملوث ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔
urd_Arab
کرونا ویکسین، آکسفورڈ اور سعودی عرب تعاون - منصور ندیم - Daanish.pk دانش کرونا ویکسین، آکسفورڈ اور سعودی عرب تعاون — منصور ندیم By منصور ندیم on اگست 21, 2020 بلاگز, تازہ ترین پچھلے ماہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے بنائی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزاء آئے تھے۔ یہ بظاہر محفوظ اور انسانی جسم کی مدافعت کے نظام کو بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرونا وائرس کی کاوش میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی نے باہمی تعاون کے ذریعے نئے کورونا وائرس کے اس نئے اور موثرعلاج پر کام کیا ہے، دونوں جامعات نے کووڈ 19 کی کئی موثر دوائیں تیار کرنے کے لیے مشترکہ کلینکل ٹرائلز سٹڈیز بھی کی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کووڈ 19 ویکسین کی تیاری اور اس پر میڈیکل ریسرچ کے سلسلے میں دنیا بھر میں معروف ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن الیوبی کی ہدایت پر دونوں یونیورسٹیوں نے نئے کورونا وائرس تحقیق پر تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ ریسرچ میں شرکت کرنے والی پہلی سعودی اور عرب یونیورسٹی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ 'ملک عبدالعزیز یونیورسٹی عرب دنیا میں سائنسی اور میڈیکل ریسرچ کرنے والی نمایاں ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ یہ کووڈ 19 کےعلاج پر ریسرچ میں آکسفورڈ کے بڑے سائنسدانوں کے ساتھ تعاون کرے گی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان سائنسی تعاون کی قیادت آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کرسٹوفر ایسکوفیلڈ اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں جینیات کے معاون پروفیسر ڈاکٹر ھانی چوہدری کریں گے۔ اس کے علاوہ ادویہ، بائیولوجی، میڈیسن اور وائرس کے امور کے ماہر آکسفورڈ اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے پروفیسر بھی اس میں حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت دسمبر 2019 کے بعد سے کورونا وائرس کی وبا پر مسلسل ریسرچ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جو کورونا وائرس سے متعلق عارضی ہیلتھ گائیڈ بک جاری کی ہے جو دنیا بھر کے سکالرز کی ریسرچ کا مجموعہ ہے۔ اس میں برطانوی جامعات میں پی ایچ ڈی کے سعودی سکالرز کی ریسرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے گائیڈ بک میں دنیا کے مختلف ممالک سے 211 تحقیقی مقالے جمع کیے ہیں۔ ان میں سعودی سکالرز کی ریسرچ کا نمبر سولہواں ہے۔ لندن کالج میں میڈیسن کے سعودی سکالر جابر القحطانی کا مقالہ 211 تحقیقی مقالوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ کورونا سے متعلق 20 ہزار سے زیادہ تحقیقی مضامین پیش کیے گئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے 3 سائنسی رپورٹوں میں سے جابر القحطانی کے تحقیقی مقالے کے نتائج کو بنیاد بنایا ہے۔ مسلم دنیا میں سعودی اسکالر جابر القحطانی کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ان کی ریسرچ کو آگے بڑھایا ہے۔ اعزاز کی بات یہ بھی ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے مقرر قواعد و ضوابط کے عالمی ماہرین نے اس مقالے کو سراہا ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کے سکالرز نے جابر القحطانی کی قیادت میں جو تحقیقی مقالہ تیار کیا اس کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سے سگریٹ نوشوں اور پھیپھڑے کے لاعلاج امراض میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کا تناسب کتنا ہے؟ جابر القحطانی کے ساتھ مزید سعودی اسکالرز عبداللہ الشہرانی، ماطر محمد المحمادی، سعید الغامدی، عبداللہ القحطانی کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہر برطانوی سکالرز بھی شریک رہے تھے۔ 'اس ریسرچ کا بنیادی مقصد یہ جاننا اور سمجھانا تھا کہ سگریٹ نوشی کی لمبی تاریخ رکھنے والوں اور پھیپھڑے کے مریضوں پر کووڈ 19 کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جدید ترین طور طریقے آزمائے گئے۔' جابر القحطانی کی ٹیم نے 130 تحقیقی مقالوں کے مطالعہ کی مدد سے یہ مقالہ تیار کیا، 15 تحقیقی مقالوں کے نتائج سکالرز کے نتائج کے مطابق پائے گئے۔ جبکہ 2473 مریضوں پر آزمائشی ضوابط استعمال کیے گئے۔ بلاشبہ سعودی عرب نے اس عالمی وباء کرونا کے مقابلے میں نہ صرف صرف پوری دنیا میں امدادی کارروائیاں بلکہ طبی ریسرچ پر بھی عملی طور پر کام کیا ہے۔
urd_Arab
پیپلز پارٹی کا کراچی میں ترقیاتی کام محض 'سیاسی پوائنٹ سکورنگ'؟ | Urdu News – اردو نیوز پیپلز پارٹی کا کراچی میں ترقیاتی کام محض 'سیاسی پوائنٹ سکورنگ'؟ جمعرات 12 اگست 2021 10:26 وسیم اختر کا کہنا ہے کہ 'پیپلز پارٹی والے اتنے ہی مستعد تھے تو میری سبکدوشی کے بعد سال بھر میں کوئی ترقی یا تبدیلی کیوں نہ لے آئے۔' (فائل فوٹو: اے ایف پی) مرتضیٰ وہاب بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی عہدہ سنبھالنے کے بعد روزانہ ہی کسی نئے کام کا افتتاح یا کسی پراجیکٹ کی تکمیل کا اعلان کر رہے ہیں، جسے کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے'سیاسی پوائنٹ سکورنگ' قرار دیا ہے۔ وسیم اختر کا کہنا ہے کہ 'پیپلز پارٹی والے اتنے ہی مستعد تھے تو میری سبکدوشی کے بعد سال بھر میں کوئی ترقی یا تبدیلی کیوں نہ لے آئے۔' Node ID: 588901 Node ID: 589311 واضح رہے کہ الیکشن کے ذریعے بلدیاتی حکومت کی معیاد گذشتہ سال ختم ہونے کے بعد سے صوبائی حکومت ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر کے شہر کا انتظام چلا رہی ہے۔ عموماً تمام ایڈمنسٹریٹرز ڈپٹی کمشنر کی سطح کے حکومتی افسران ہوتے ہیں، تاہم حال ہی میں سندھ حکومت نے اپنے ترجمان اور وزیرِاعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مرتضیٰ وہاب روزانہ کسی نئے پراجیکٹ کا افتتاح یا اس کی تکمیل کا اعلان کرتے اور شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرتے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی جانب سے متعدد ویڈیوز بھی عوام کے لیے شیئر کی جاتی ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں جاری کردہ ان ویڈیوز میں کبھی اولڈ سٹی ایریا میں سڑکوں کی کارپٹنگ، کبھی عائشہ منزل میں اربن فاریسٹ، سی ویو اور منوڑہ کی ساحلی پٹی پر ترقیاتی کام تو کبھی سڑکوں کی مرمت اور سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے کام کی تشہیر کی جاتی ہے۔ سابق میئر کراچی وسیم اختر نے اردو نیوز کو بتایا کہ کسی بھی ترقیاتی پراجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے اس کا بجٹ اور پی سی ون منظور کرنے میں ہی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ سو اگر کوئی بھی پراجیکٹ اب مکمل ہو رہا ہے، سو اس کا واضح مطلب ہے کہ اس کی منصوبہ بندی سال پہلے کی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے یہ اقدامات عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مرتضیٰ وہاب روزانہ کسی نئے پراجیکٹ کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں۔ (فائل فوٹو: مرتضیٰ وہاب فیس بک) 'ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے ابھی اچانک سے پیپلز پارٹی نے شہر کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ 12 برسوں سے تمام تر اختیارات پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔' وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ان کے چار سالہ دور کے دوران پیپلز پارٹی نے تمام پراجیکٹس کے بجٹ روکے رکھے اور کسی بھی قسم کے اختیارات میئر کو منتقل نہیں کیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تو صوبائی حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور ایڈمنسٹریٹر بھی انہی کا ہے، تو کیا ایسے میں اس بات کا زیادہ امکان نہیں کہ پیپلز پارٹی بہتر طریقے سے شہر کی نظامت کر سکے کی، تو وسیم اختر کا کہنا تھا کہ 'یہاں نیت کا فقدان ہے۔' 'پیپلز پارٹی کی سندھ میں کام کرنے کی نیت ہی نہیں، اگر یہ لوگ سندھ سے مخلص ہوتے تو لاڑکانہ، سیہون اور دیگر شہروں میں ہی ترقیاتی کام کروا لیتے، وہاں تو سالہا سال سے ہر سطح پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، پھر بھی وہ شہر شدید پسماندگی کا شکار ہیں، لہٰذا کراچی کے لیے بھی ان سے کچھ توقع رکھنا بے کار ہے۔' الیکشن کے ذریعے بلدیاتی حکومت کی معیاد گذشتہ سال ختم ہونے کے بعد سے سندھ حکومت انتظام چلا رہی ہے۔ (فائل فوٹو: ان سپلیش) کراچی کے شہریوں کی دوسری نمائندہ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی بھی شہر میں عوامی نمائندوں کے بجائے صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی پر تحفظات رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک آمرانہ اقدام ہے کہ ایک ایسی پارٹی جس کا شہر میں مینڈیٹ نہیں، وہ سیاسی بنیادوں پر اپنے منظورِ نظر ایسے افراد کو شہر کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کر رہی ہے جو یہاں سے جنرل الیکشن بھی نہیں جیت سکا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کراچی کو وڈیرہ شاہی کے طریقے سے چلانا چاہتی ہے اور سیاسی وابستگی والے فرد کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کر کے سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کو ملتوی اور ان کے نتائج پر اثر انداز ہونے کا پلان بنا چکی ہے۔ واضح رہے کہ مرتضیٰ وہاب نے 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 111 کے لیے کراچی کے علاقے کلفٹن سے انتخاب لڑا تھا تاہم ووٹ ڈالنے کے تناسب کے حساب سے ان کا امیدواروں میں پانچواں نمبر رہا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی نے انہیں صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیرِاعلیٰ کے مشیر کا قلمدان سونپ دیا تھا، جو تاحال ان کے پاس ہے۔ اب انہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی اضافی ذمہ داری بھی دے دی گئی ہے۔
urd_Arab
ثقافت اسلامی رہبر معظم کی نظر میں | welayatnet.com ہم تہذیب و ثقافت کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ ثقافت یعنی ایک معاشرے اور ایک قوم کی اپنی خصوصیات اور عادات و اطوار، اس کا طرز فکر، اس کا دینی نظریہ، اس کے اہداف و مقاصد، یہی چیزیں ملک کی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو شجاع و غیور اور خود مختار بنا دیتی ہیں اور ان کا فقدان قوم کو بزدل اور حقیر بنا دیتا ہے۔ تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکیں گی اور وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ ثقافت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ ان امور اور مسائل سے تعلق رکھتا ہے جو ظاہر و آشکار ہیں اور نگاہیں انہیں دیکھ سکتی ہیں۔ ان امور کا قوم کے مستقبل اور تقدیر میں بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ البتہ اس کے اثرات دراز مدت میں سامنے آتے ہیں۔ یہ امور قوم کی اہم منصوبہ بندیوں میں موثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر لباس کیسا ہو، کیسے پہنا جائے اور بدن ڈھانکنے کا کون سا انداز نمونہ عمل قرار دیا جائے؟ یہ چیزیں تہذیب کے ظاہر و آشکار امور میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح کسی علاقے میں معماری کا انداز کیا ہے؟ گھر کس طرح بنائے جاتے ہیں، رہن سہن کا طریقہ کیا ہے؟ یہ سب معاشرے کی ظاہری ثقافت کا آئینہ ہے۔ عوامی ثقافت کا دوسرا حصہ جو پہلے حصے کی ہی مانند ایک قوم کی تقدیر طے کرنے میں موثر ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات فورا ظاہر ہو جاتے ہیں اور انہیں بآسانی محسوس بھی کیا جاتا ہے یعنی یہ ثقافتی امور خود تو نمایاں اور واضح نہیں ہیں لیکن ان کے اثرات معاشرے کی ترقی اور اس کی تقدیر کے تعین میں بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اخلاقیات ہیں، یعنی معاشرے کے افراد کی ذاتی اور سماجی زندگی کا طور طریقہ کیسا ہے؟ عوامی ثقافت میں انسان دوستی، مرد میداں ہونا، خود غرضی اور آرام طلبی سے دور ہونا، قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ بنابریں ثقافت معاشرے کے پیکر میں روح اور جان کا درجہ رکھتی ہے۔ قوموں پر تسلط اور غلبے کے لئے اغیار اپنی تہذیب و ثقافت کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں جو کوئی نیا طریقہ نہیں ہے بلکہ بہت پہلے سے یہ طریقہ چلا آ رہا ہے۔ البتہ پچھلے سو دو سو برسوں سے مغربی ممالک نے جدید وسائل کے استعمال سے اپنے تمام اقدامات کو بہت زیادہ منظم کر لیا ہے۔ اب وہ یہی کام پوری منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں اور وہ ان مقامات اور پہلوؤں کی نشاندہی کر چکے ہیں جہاں انہیں زیادہ کام کرنا ہے۔ دنیا کی تمام بیدار قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم نے اپنی ثقافت کو بیگانہ ثقافتوں کی یلغار کا نشانہ بننے اور تباہ و برباد ہونے دیا تو نابودی اس قوم کا مقدر بن جائے گی۔ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوا جس کی ثقافت غالب رہی ہے۔ تہذیب و ثقافت کا غلبہ بہت ممکن ہے کہ سیاسی، اقتصادی، اور فوجی غلبے کی مانند ہمہ گیر برتری کا پیش خیمہ ہو۔ ثقافتی تسلط، اقتصادی تسلط اور سیاسی تسلط سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر ایک قوم نے دوسری قوم پر ثقافتی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تو قومی تشخص پر سوالیہ نشان لگ جانے کے بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے جدا کر دیا جائے، ان افتخارات کو ذہنوں سے محو کر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تو وہ قوم اغیار کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اب یہ قوم زندگی سے محروم ہو چکی ہے۔ اب اس کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ کوئی عظیم شخصیت پیدا ہو جو اسے اس صورت حال سے باہر نکالے۔
urd_Arab
اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے۔ (2) جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3) والذين يؤمنون بما انزل إليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ (4) یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔ (5) إن الذين كفروا سواء عليهم اانذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون کافروں کو آپ کا ڈرانا، یا نہ ڈرانا برابر ہے، یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے۔ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿7﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (7) بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں۔ (8) وه اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وه خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔ (9) فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴿10﴾ ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (10) وإذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا إنما نحن مصلحون اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (11) أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ﴿12﴾ الا إنهم هم المفسدون ولكن لا يشعرون خبردار ہو! یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں، لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے۔ (12) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ﴿13﴾ وإذا قيل لهم آمنوا كما آمن الناس قالوا انؤمن كما آمن السفهاء الا إنهم هم السفهاء ولكن لا يعلمون اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان ﻻئیں جیسا بیوقوف ﻻئے ہیں، خبردار ہوجاؤ! یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں۔ (13) وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ﴿14﴾ اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں۔ (14) اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔ (15) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴿16﴾ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔ (16) ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے۔ (17) بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وه نہیں لوٹتے۔ (18) أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ﴿19﴾ او كصيب من السماء فيه ظلمات ورعد وبرق يجعلون اصابعهم في آذانهم من الصواعق حذر الموت والله محيط بالكافرين یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرنے واﻻ ہے۔ (19) يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿20﴾ يكاد البرق يخطف ابصارهم كلما اضاء لهم مشوا فيه وإذا اظلم عليهم قاموا ولو شاء الله لذهب بسمعهم وابصارهم إن الله على كل شيء قدير قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اُچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو بیکار کردے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے۔ (20) اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ (21) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿22﴾ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ (22) وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿23﴾ وإن كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله إن كنتم صادقين ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔ (23) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ﴿24﴾ پس اگر تم نے نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکتے تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (24) وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿25﴾ وبشر الذين آمنوا وعملوا الصالحات ان لهم جنات تجري من تحتها الانهار كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هذا الذي رزقنا من قبل واتوا به متشابها ولهم فيها ازواج مطهرة وهم فيها خالدون اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل ﻻئے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (25) إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ﴿26﴾ إن الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها فاما الذين آمنوا فيعلمون انه الحق من ربهم واما الذين كفروا فيقولون ماذا اراد الله بهذا مثلا يضل به كثيرا ويهدي به كثيرا وما يضل به إلا الفاسقين یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔ (26) الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴿27﴾ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (27) كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿28﴾ كيف تكفرون بالله وكنتم امواتا فاحياكم ثم يميتكم ثم يحييكم ثم إليه ترجعون تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حاﻻنکہ تم مرده تھے اس نے تمہیں زنده کیا، پھر تمہیں مار ڈالے گا، پھر زنده کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (28) هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿29﴾ وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے۔ (29) وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿30﴾ وإذ قال ربك للملائكة إني جاعل في الارض خليفة قالوا اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك قال إني اعلم ما لا تعلمون اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے واﻻ ہوں، تو انہوں نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح، حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (30) وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿31﴾ وعلم آدم الاسماء كلها ثم عرضهم على الملائكة فقال انبئوني باسماء هؤلاء إن كنتم صادقين اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ (31) قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴿32﴾ قالوا سبحانك لا علم لنا إلا ما علمتنا إنك انت العليم الحكيم ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت واﻻ تو تو ہی ہے۔ (32) قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴿33﴾ قال يا آدم انبئهم باسمائهم فلما انباهم باسمائهم قال الم اقل لكم إني اعلم غيب السماوات والارض واعلم ما تبدون وما كنتم تكتمون اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ﴿علیہ السلام﴾ سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ (33) وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴿34﴾ وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس ابى واستكبر وكان من الكافرين اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا۔ (34) وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴿35﴾ اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے۔ (35) فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴿36﴾ فازلهما الشيطان عنها فاخرجهما مما كانا فيه وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع إلى حين لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے۔ (36) فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿37﴾ (حضرت) آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔ (37) قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿38﴾ ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں۔ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿39﴾ والذين كفروا وكذبوا بآياتنا اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون اور جو انکار کرکے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وه جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ (39) يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واوفوا بعهدي اوف بعهدكم وإياي فارهبون اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔ (40) وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴿41﴾ وآمنوا بما انزلت مصدقا لما معكم ولا تكونوا اول كافر به ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا وإياي فاتقون اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے تمہاری کتابوں کی تصدیق میں نازل فرمائی ہے اور اس کے ساتھ تم ہی پہلے کافر نہ بنو اور میری آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر نہ فروخت کرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ (41) اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے۔ (42) واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة واركعوا مع الراكعين اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (43) أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴿44﴾ کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟۔ (44) وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ﴿45﴾ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ (45) الذين يظنون انهم ملاقو ربهم وانهم إليه راجعون جو جانتے ہیں کہ بے شک وه اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (46) يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واني فضلتكم على العالمين اے اوﻻد یعقوب! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ (47) اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ ہی اس کی بابت کوئی سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ وه مدد کئے جائیں گے۔ (48) وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ﴿49﴾ وإذ نجيناكم من آل فرعون يسومونكم سوء العذاب يذبحون ابناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذلكم بلاء من ربكم عظيم اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی۔ (49) وإذ فرقنا بكم البحر فانجيناكم واغرقنا آل فرعون وانتم تنظرون اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا چیر (پھاڑ) دیا اور تمہیں اس سے پار کردیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا۔ (50) وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ﴿51﴾ وإذ واعدنا موسى اربعين ليلة ثم اتخذتم العجل من بعده وانتم ظالمون اور ہم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے چالیس راتوں کا وعده کیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کردیا اور ﻇالم بن گئے۔ (51) ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿52﴾ لیکن ہم نے باوجود اس کے پھر بھی تمہیں معاف کردیا، تاکہ تم شکر کرو۔ (52) اور ہم نے (حضرت) موسیٰ﴿علیہ السلام﴾ کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے۔ (53) وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿54﴾ وإذ قال موسى لقومه يا قوم إنكم ظلمتم انفسكم باتخاذكم العجل فتوبوا إلى بارئكم فاقتلوا انفسكم ذلكم خير لكم عند بارئكم فتاب عليكم إنه هو التواب الرحيم جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (54) وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ﴿55﴾ وإذ قلتم يا موسى لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة فاخذتكم الصاعقة وانتم تنظرون اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گری۔ (55) لیکن پھر اس لئے کہ تم شکرگزاری کرو، اس موت کے بعد بھی ہم نے تمہیں زنده کردیا۔ (56) وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴿57﴾ اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزه چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہم پر ﻇلم نہیں کیا، البتہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔ (57) وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ﴿58﴾ اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو اور زبان سے حِطّہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرمادیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیاده دیں گے۔ (58) پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا۔ (59) وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ﴿60﴾ وإذ استسقى موسى لقومه فقلنا اضرب بعصاك الحجر فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا قد علم كل اناس مشربهم كلوا واشربوا من رزق الله ولا تعثوا في الارض مفسدين اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ (60) وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نَصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ﴿61﴾ وإذ قلتم يا موسى لن نصبر على طعام واحد فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الارض من بقلها وقثائها وفومها وعدسها وبصلها قال اتستبدلون الذي هو ادنى بالذي هو خير اهبطوا مصرا فإن لكم ما سالتم وضربت عليهم الذلة والمسكنة وباءوا بغضب من الله ذلك بانهم كانوا يكفرون بآيات الله ويقتلون النبيين بغير الحق ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوسکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجیئے کہ وه ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے، آپ نے فرمایا، بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وه لوٹے یہ اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔ (61) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿62﴾ إن الذين آمنوا والذين هادوا والنصارى والصابئين من آمن بالله واليوم الآخر وعمل صالحا فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ (62) اور جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور پہاڑ ﻻکھڑا کردیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو۔ (63) ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿64﴾ لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے۔ (64) اور یقیناً تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے بھی کہہ دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔ (65) اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنا دیا اور پرہیزگاروں کے لئے وعﻆ ونصیحت کا۔ (66) وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴿67﴾ وإذ قال موسى لقومه إن الله يامركم ان تذبحوا بقرة قالوا اتتخذنا هزوا قال اعوذ بالله ان اكون من الجاهلين اور (حضرت) موسیٰ﴿علیہ السلام﴾ نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا ہم سے مذاق کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناه پکڑتا ہوں۔ (67) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ﴿68﴾ انہوں نے کہا اے موسیٰ! دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت بیان کردے، آپ نے فرمایا سنو! وه گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ۔ (68) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ﴿69﴾ وه پھر کہنے لگے کہ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ فرمایا وه کہتا ہے کہ وه گائے زرد رنگ کی ہے، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے واﻻ اس کا رنگ ہے۔ (69) وه کہنے لگے کہ اپنے رب سے اور دعا کیجیئے کہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتلائے، اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔ (70) قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ﴿71﴾ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وه گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وه تندرست اور بےداغ ہے۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا گو وه حکم برداری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وه گائے ذبح کردی۔ (71) وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴿72﴾ وإذ قتلتم نفسا فاداراتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا۔ (72) فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴿73﴾ ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو، (وه جی اٹھے گا) اسی طرح اللہ مردوں کو زنده کرکے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ (73) ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿74﴾ ثم قست قلوبكم من بعد ذلك فهي كالحجارة او اشد قسوة وإن من الحجارة لما يتفجر منه الانهار وإن منها لما يشقق فيخرج منه الماء وإن منها لما يهبط من خشية الله وما الله بغافل عما تعملون پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیاده سخت ہوگئے، بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں، اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرگر پڑتے ہیں، اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو۔ (74) (مسلمانو!) کیا تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ ایماندار بن جائیں، حاﻻنکہ ان میں ایسے لوگ بھی جو کلام اللہ کو سن کر، عقل وعلم والے ہوتے ہوئے، پھر بھی بدل ڈاﻻ کرتے ہیں۔ (75) وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴿76﴾ وإذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا وإذا خلا بعضهم إلى بعض قالوا اتحدثونهم بما فتح الله عليكم ليحاجوكم به عند ربكم افلا تعقلون جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ﻇاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وه باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھائی ہیں، کیا جانتے نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس تم پر ان کی حجت ہوجائے گی۔ (76) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدگی اور ﻇاہرداری سب کو جانتا ہے؟۔ (77) ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب إلا اماني وإن هم إلا يظنون ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں کہ جو کتاب کے صرف ﻇاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں اور صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں۔ (78) فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ﴿79﴾ ان لوگوں کے لئے "ویل" ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل (ہلاکت) اور افسوس ہے۔ (79) وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿80﴾ وقالوا لن تمسنا النار إلا اياما معدودة قل اتخذتم عند الله عهدا فلن يخلف الله عهده ام تقولون على الله ما لا تعلمون یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف چند روز جہنم میں رہیں گے، ان سے کہو کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی پروانہ ہے؟ اگر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرے گا، (ہرگز نہیں) بلکہ تم تو اللہ کے ذمے وه باتیں لگاتے ہو جنہیں تم نہیں جانتے۔ (80) والذين آمنوا وعملوا الصالحات اولئك اصحاب الجنة هم فيها خالدون اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں وه جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (82) وإذ اخذنا ميثاق بني إسرائيل لا تعبدون إلا الله وبالوالدين إحسانا وذي القربى واليتامى والمساكين وقولوا للناس حسنا واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة ثم توليتم إلا قليلا منكم وانتم معرضون وإذ اخذنا ميثاقكم لا تسفكون دماءكم ولا تخرجون انفسكم من دياركم ثم اقررتم وانتم تشهدون اورجب ہم نے تم سے وعده لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا (قتل نہ کرنا) اور آپس والوں کو جلا وطن نہ کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے۔ (84) ثم انتم هؤلاء تقتلون انفسكم وتخرجون فريقا منكم من ديارهم تظاهرون عليهم بالإثم والعدوان وإن ياتوكم اسارى تفادوهم وهو محرم عليكم إخراجهم افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذلك منكم إلا خزي في الحياة الدنيا ويوم القيامة يردون إلى اشد العذاب وما الله بغافل عما تعملون لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں۔ (85) اولئك الذين اشتروا الحياة الدنيا بالآخرة فلا يخفف عنهم العذاب ولا هم ينصرون ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل وآتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے (حضرت) عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وه چیز ﻻئے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلادیا اور بعض کو قتل بھی کرڈاﻻ۔ (87) یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے ملعون کردیا ہے، ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے۔ (88) اور ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کی کتاب کو سچا کرنے والی آئی، حاﻻنکہ پہلے یہ خود (اس کے ذریعہ) کافروں پر فتح چاہتے تھے تو باوجود آجانے اور باوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کافروں پر۔ (89) بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ﴿90﴾ بئسما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما انزل الله بغيا ان ينزل الله من فضله على من يشاء من عباده فباءوا بغضب على غضب وللكافرين عذاب مهين بہت بری ہے وه چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈاﻻ، وه ان کا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بنده پر چاہا نازل فرمایا، اس کے باعﺚ یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے۔ (90) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿91﴾ وإذا قيل لهم آمنوا بما انزل الله قالوا نؤمن بما انزل علينا ويكفرون بما وراءه وهو الحق مصدقا لما معهم قل فلم تقتلون انبياء الله من قبل إن كنتم مؤمنين اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان ﻻؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حاﻻنکہ اس کے بعد والی کے ساتھ جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے، کفر کرتے ہیں، اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی کتابوں پر ہے تو پھر تم نے اگلے انبیا کو کیوں قتل کیا؟۔ (91) وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ﴿92﴾ تمہارے پاس تو موسیٰ یہی دلیلیں لے کر آئے لیکن تم نے پھر بھی بچھڑا پوجا تم ہو ہی ﻇالم۔ (92) وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿93﴾ وإذ اخذنا ميثاقكم ورفعنا فوقكم الطور خذوا ما آتيناكم بقوة واسمعوا قالوا سمعنا وعصينا واشربوا في قلوبهم العجل بكفرهم قل بئسما يامركم به إيمانكم إن كنتم مؤمنين جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور کو کھڑا کردیا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور سنو! تو انہوں نے کہا، ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت (گویا) پلا دی گئی بسبب ان کے کفر کے۔ ان سے کہہ دیجیئے کہ تمہارا ایمان تمہیں برا حکم دے رہا ہے، اگر تم مومن ہو۔ (93) آپ کہہ دیجیئے کہ اگر آخرت کا گھر صرف تمہارے ہی لئے ہے، اللہ کے نزدیک اور کسی کے لئے نہیں، تو آو اپنی سچائی کے ﺛبوت میں موت طلب کرو۔ (94) وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴿95﴾ لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔ (95) وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴿96﴾ ولتجدنهم احرص الناس على حياة ومن الذين اشركوا يود احدهم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر والله بصير بما يعملون بلکہ سب سے زیاده دنیا کی زندگی کا حریص اے نبی! آپ انہیں کو پائیں گے۔ یہ حرص زندگی میں مشرکوں سے بھی زیاده ہیں ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے، گویا یہ عمر دیا جانا بھی انہیں عذاب سے نہیں چھڑا سکتا، اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو بخوبی دیکھ رہا ہے۔ (96) قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴿97﴾ (اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے واﻻ ہے۔ (97) (تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے) جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے۔ (98) وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ﴿99﴾ ولقد انزلنا إليك آيات بينات وما يكفر بها إلا الفاسقون اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا۔ (99) أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴿100﴾ یہ لوگ جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں توان کی ایک نہ ایک جماعت اسے توڑ دیتی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔ (100) جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے۔ (101) وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴿102﴾ واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما انزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من احد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من احد إلا بإذن الله ويتعلمون ما يضرهم ولا ينفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق ولبئس ما شروا به انفسهم لو كانوا يعلمون اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔ (102) وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴿103﴾ اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین ﺛواب انہیں ملتا، اگر یہ جانتے ہوتے۔ (103) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿104﴾ يا ايها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب اليم اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) "راعنا" نہ کہا کرو، بلکہ "انظرنا" کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (104) مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴿105﴾ نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو (ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے۔ (105) مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿106﴾ ما ننسخ من آية او ننسها نات بخير منها او مثلها الم تعلم ان الله على كل شيء قدير جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (106) أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿107﴾ کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (107) أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴿108﴾ ام تريدون ان تسالوا رسولكم كما سئل موسى من قبل ومن يتبدل الكفر بالإيمان فقد ضل سواء السبيل کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے پوچھا گیا تھا؟ (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے۔ (108) وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿109﴾ ود كثير من اهل الكتاب لو يردونكم من بعد إيمانكم كفارا حسدا من عند انفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى ياتي الله بامره إن الله على كل شيء قدير ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (109) وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿110﴾ واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وما تقدموا لانفسكم من خير تجدوه عند الله إن الله بما تعملون بصير تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ (110) وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿111﴾ وقالوا لن يدخل الجنة إلا من كان هودا او نصارى تلك امانيهم قل هاتوا برهانكم إن كنتم صادقين یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو۔ (111) بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿112﴾ سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔ (112) وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴿113﴾ یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حاﻻنکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کردے گا۔ (113) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿114﴾ ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها اولئك ما كان لهم ان يدخلوها إلا خائفين لهم في الدنيا خزي ولهم في الآخرة عذاب عظيم اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے اس میں جانا چاہیئے، ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔ (114) وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿115﴾ اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے۔ (115) وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ﴿116﴾ وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه بل له ما في السماوات والارض كل له قانتون یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اوﻻد ہے، (نہیں بلکہ) وه پاک ہے زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کافرمانبردار ہے۔ (116) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴿117﴾ بديع السماوات والارض وإذا قضى امرا فإنما يقول له كن فيكون وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے۔ (117) وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴿118﴾ وقال الذين لا يعلمون لولا يكلمنا الله او تاتينا آية كذلك قال الذين من قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم قد بينا الآيات لقوم يوقنون اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی، ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کردیں۔ (118) إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ﴿119﴾ إنا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسال عن اصحاب الجحيم ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی۔ (119) وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿120﴾ ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم قل إن هدى الله هو الهدى ولئن اتبعت اهواءهم بعد الذي جاءك من العلم ما لك من الله من ولي ولا نصير آپ سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آجانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اورنہ مددگار۔ (120) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴿121﴾ الذين آتيناهم الكتاب يتلونه حق تلاوته اولئك يؤمنون به ومن يكفر به فاولئك هم الخاسرون جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے۔ (121) اے اوﻻد یعقوب! میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تو تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی۔ (122) اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس کسی نفس کو کچھ فائده نہ پہنچا سکے گا، نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی، نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ (123) وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴿124﴾ وإذ ابتلى إبراهيم ربه بكلمات فاتمهن قال إني جاعلك للناس إماما قال ومن ذريتي قال لا ينال عهدي الظالمين جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں۔ (124) وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴿125﴾ وإذ جعلنا البيت مثابة للناس وامنا واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى وعهدنا إلى إبراهيم وإسماعيل ان طهرا بيتي للطائفين والعاكفين والركع السجود ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔ (125) وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴿126﴾ وإذ قال إبراهيم رب اجعل هذا بلدا آمنا وارزق اهله من الثمرات من آمن منهم بالله واليوم الآخر قال ومن كفر فامتعه قليلا ثم اضطره إلى عذاب النار وبئس المصير جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔ (126) وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴿127﴾ وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل ربنا تقبل منا إنك انت السميع العليم ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔ (127) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿128﴾ ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امة مسلمة لك وارنا مناسكنا وتب علينا إنك انت التواب الرحيم اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (128) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴿129﴾ ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلو عليهم آياتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم إنك انت العزيز الحكيم اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (129) وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴿130﴾ دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔ (130) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴿131﴾ إذ قال له ربه اسلم قال اسلمت لرب العالمين جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔ (131) وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴿132﴾ ووصى بها إبراهيم بنيه ويعقوب يا بني إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وانتم مسلمون اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔ (132) أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴿133﴾ ام كنتم شهداء إذ حضر يعقوب الموت إذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدي قالوا نعبد إلهك وإله آبائك إبراهيم وإسماعيل وإسحاق إلها واحدا ونحن له مسلمون کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ (133) تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿134﴾ یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔ (134) وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿135﴾ یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے۔ (135) قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴿136﴾ قولوا آمنا بالله وما انزل إلينا وما انزل إلى إبراهيم وإسماعيل وإسحاق ويعقوب والاسباط وما اوتي موسى وعيسى وما اوتي النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ (136) فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴿137﴾ اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے۔ (137) صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴿138﴾ اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (138) قل اتحاجوننا في الله وهو ربنا وربكم ولنا اعمالنا ولكم اعمالكم ونحن له مخلصون آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں۔ (139) أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿140﴾ ام تقولون إن إبراهيم وإسماعيل وإسحاق ويعقوب والاسباط كانوا هودا او نصارى قل اانتم اعلم ام الله ومن اظلم ممن كتم شهادة عنده من الله وما الله بغافل عما تعملون کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کہ کیا تم زیاده جانتے ہو، یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیاده ﻇالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔ (140) تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿141﴾ یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔ (141) سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴿142﴾ عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیئے کہ مشرق ومغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وه جسے چاہے سیدھی راه کی ہدایت کردے۔ (142) وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴿143﴾ وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا وما جعلنا القبلة التي كنت عليها إلا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب على عقبيه وإن كانت لكبيرة إلا على الذين هدى الله وما كان الله ليضيع إيمانكم إن الله بالناس لرءوف رحيم ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (143) قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ﴿144﴾ قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره وإن الذين اوتوا الكتاب ليعلمون انه الحق من ربهم وما الله بغافل عما يعملون ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منھ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔ (144) وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴿145﴾ ولئن اتيت الذين اوتوا الكتاب بكل آية ما تبعوا قبلتك وما انت بتابع قبلتهم وما بعضهم بتابع قبلة بعض ولئن اتبعت اهواءهم من بعد ما جاءك من العلم إنك إذا لمن الظالمين اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے۔ (145) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴿146﴾ الذين آتيناهم الكتاب يعرفونه كما يعرفون ابناءهم وإن فريقا منهم ليكتمون الحق وهم يعلمون جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے۔ (146) الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴿147﴾ آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ (147) وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿148﴾ ولكل وجهة هو موليها فاستبقوا الخيرات اين ما تكونوا يات بكم الله جميعا إن الله على كل شيء قدير ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (148) وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿149﴾ آپ جہاں سے نکلیں اپنا منھ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں، یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بےخبر نہیں۔ (149) وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴿150﴾ ومن حيث خرجت فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره لئلا يكون للناس عليكم حجة إلا الذين ظلموا منهم فلا تخشوهم واخشوني ولاتم نعمتي عليكم ولعلكم تهتدون اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ ره جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ﻇلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راه راست پاؤ۔ (150) كما ارسلنا فيكم رسولا منكم يتلو عليكم آياتنا ويزكيكم ويعلمكم الكتاب والحكمة ويعلمكم ما لم تكونوا تعلمون جس طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت اور وه چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بےعلم تھے۔ (151) فاذكروني اذكركم واشكروا لي ولا تكفرون اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔ (152) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴿153﴾ يا ايها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة إن الله مع الصابرين اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ (153) وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ﴿154﴾ اور اللہ تعالیٰ کی راه کے شہیدوں کو مرده مت کہو وه زنده ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔ (154) وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴿155﴾ اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے۔ (155) الذين إذا اصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴿157﴾ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (157) إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ومن تطوع خيرا فإن الله شاكر عليم صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے واﻻ ہے۔ (158) إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴿159﴾ إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدى من بعد ما بيناه للناس في الكتاب اولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ (159) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿160﴾ إلا الذين تابوا واصلحوا وبينوا فاولئك اتوب عليهم وانا التواب الرحيم مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں۔ (160) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴿161﴾ إن الذين كفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله والملائكة والناس اجمعين یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ﴿162﴾ جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔ (162) وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴿163﴾ تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے۔ (163) إن في خلق السماوات والارض واختلاف الليل والنهار والفلك التي تجري في البحر بما ينفع الناس وما انزل الله من السماء من ماء فاحيا به الارض بعد موتها وبث فيها من كل دابة وتصريف الرياح والسحاب المسخر بين السماء والارض لآيات لقوم يعقلون آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔ (164) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ﴿165﴾ ومن الناس من يتخذ من دون الله اندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا اشد حبا لله ولو يرى الذين ظلموا إذ يرون العذاب ان القوة لله جميعا وان الله شديد العذاب بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیئے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے واﻻ ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔ (165) إذ تبرا الذين اتبعوا من الذين اتبعوا وراوا العذاب وتقطعت بهم الاسباب جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے۔ (166) وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ﴿167﴾ وقال الذين اتبعوا لو ان لنا كرة فنتبرا منهم كما تبرءوا منا كذلك يريهم الله اعمالهم حسرات عليهم وما هم بخارجين من النار اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوباره جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔ (167) يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ﴿168﴾ يا ايها الناس كلوا مما في الارض حلالا طيبا ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (168) إنما يامركم بالسوء والفحشاء وان تقولوا على الله ما لا تعلمون وه تمہیں صرف برائی اور بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ (169) وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴿170﴾ وإذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما الفينا عليه آباءنا اولو كان آباؤهم لا يعقلون شيئا ولا يهتدون اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں۔ (170) وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴿171﴾ کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔ (171) يا ايها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم واشكروا لله إن كنتم إياه تعبدون اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (172) إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿173﴾ إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل به لغير الله فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم تم پر مرده اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وه چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہوجائے اور وه حد سے بڑھنے واﻻ اور زیادتی کرنے واﻻ نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشش کرنے واﻻ مہربان ہے۔ (173) إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿174﴾ إن الذين يكتمون ما انزل الله من الكتاب ويشترون به ثمنا قليلا اولئك ما ياكلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (174) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴿175﴾ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خرید لیا ہے، یہ لوگ آگ کا عذاب کتنا برداشت کرنے والے ہیں۔ (175) ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ﴿176﴾ ذلك بان الله نزل الكتاب بالحق وإن الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد ان عذابوں کا باعﺚ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں۔ (176) لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴿177﴾ ليس البر ان تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب واقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في الباساء والضراء وحين الباس اولئك الذين صدقوا واولئك هم المتقون ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ (177) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿178﴾ يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى فمن عفي له من اخيه شيء فاتباع بالمعروف واداء إليه بإحسان ذلك تخفيف من ربكم ورحمة فمن اعتدى بعد ذلك فله عذاب اليم اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے درد ناک عذاب ہوگا۔ (178) عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس باعﺚ تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔ (179) كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴿180﴾ كتب عليكم إذا حضر احدكم الموت إن ترك خيرا الوصية للوالدين والاقربين بالمعروف حقا على المتقين تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے، پرہیزگاروں پر یہ حق اور ﺛابت ہے۔ (180) فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿181﴾ اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناه بدلنے والے پر ہی ہوگا، واقعی اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے۔ (181) فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿182﴾ فمن خاف من موص جنفا او إثما فاصلح بينهم فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (182) اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (183) أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿184﴾ اياما معدودات فمن كان منكم مريضا او على سفر فعدة من ايام اخر وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين فمن تطوع خيرا فهو خير له وان تصوموا خير لكم إن كنتم تعلمون گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔ (184) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿185﴾ شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن هدى للناس وبينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا او على سفر فعدة من ايام اخر يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر ولتكملوا العدة ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔ (185) وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴿186﴾ وإذا سالك عبادي عني فإني قريب اجيب دعوة الداع إذا دعان فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے۔ (186) أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴿187﴾ احل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم هن لباس لكم وانتم لباس لهن علم الله انكم كنتم تختانون انفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم فالآن باشروهن وابتغوا ما كتب الله لكم وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ثم اتموا الصيام إلى الليل ولا تباشروهن وانتم عاكفون في المساجد تلك حدود الله فلا تقربوها كذلك يبين الله آياته للناس لعلهم يتقون روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لئے حلال کیا گیا، وه تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیده خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرمالیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وه بچیں۔ (187) ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتاكلوا فريقا من اموال الناس بالإثم وانتم تعلمون اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو۔ (188) يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿189﴾ لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی واﻻ وه ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (189) وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴿190﴾ لڑو اللہ کی راه میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (190) وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴿191﴾ واقتلوهم حيث ثقفتموهم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنة اشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فإن قاتلوكم فاقتلوهم كذلك جزاء الكافرين انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکاﻻ ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو کافروں کا بدلہ یہی ہے۔ (191) اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (192) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ﴿193﴾ ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ﻇالموں پر ہی ہے۔ (193) الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴿194﴾ حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (194) وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴿195﴾ وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بايديكم إلى التهلكة واحسنوا إن الله يحب المحسنين اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک واحسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (195) وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴿196﴾ واتموا الحج والعمرة لله فإن احصرتم فما استيسر من الهدي ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك فإذا امنتم فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام في الحج وسبعة إذا رجعتم تلك عشرة كاملة ذلك لمن لم يكن اهله حاضري المسجد الحرام واتقوا الله واعلموا ان الله شديد العقاب حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرو، ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو، اسے کرڈالو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاه تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے) تو اس پر فدیہ ہے، خواه روزے رکھ لے، خواه صدقہ دے دے، خواه قربانی کرے پس جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے، پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے، جسے طاقت ہی نہ ہو وه تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں، یہ پورے دس ہوگئے۔ یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں، لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔ (196) الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴿197﴾ الحج اشهر معلومات فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج وما تفعلوا من خير يعلمه الله وتزودوا فإن خير الزاد التقوى واتقون يا اولي الالباب حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔ (197) لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ﴿198﴾ ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم فإذا افضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام واذكروه كما هداكم وإن كنتم من قبله لمن الضالين تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، حاﻻنکہ تم اس سے پہلے راه بھولے ہوئے تھے۔ (198) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿199﴾ ثم افيضوا من حيث افاض الناس واستغفروا الله إن الله غفور رحيم پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (199) فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴿200﴾ فإذا قضيتم مناسككم فاذكروا الله كذكركم آباءكم او اشد ذكرا فمن الناس من يقول ربنا آتنا في الدنيا وما له في الآخرة من خلاق پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (200) اور بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴿202﴾ یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے واﻻ ہے۔ (202) وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴿203﴾ واذكروا الله في ايام معدودات فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه ومن تاخر فلا إثم عليه لمن اتقى واتقوا الله واعلموا انكم إليه تحشرون اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔ (203) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴿204﴾ بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کر دیتی ہیں اور وه اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواه کرتا ہے، حاﻻنکہ دراصل وه زبردست جھگڑالو ہے۔ (204) وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴿205﴾ وإذا تولى سعى في الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد جب وه لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ (205) وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿206﴾ وإذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالإثم فحسبه جهنم ولبئس المهاد اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وه بد ترین جگہ ہے۔ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴿207﴾ اور بعض لوگ وه بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (207) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ﴿208﴾ يا ايها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208) فإن زللتم من بعد ما جاءتكم البينات فاعلموا ان الله عزيز حكيم اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (209) هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴿210﴾ هل ينظرون إلا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام والملائكة وقضي الامر وإلى الله ترجع الامور کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔ (210) سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴿211﴾ بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے) کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے۔ (211) زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿212﴾ کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وه ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں، حاﻻنکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔ (212) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴿213﴾ كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه وما اختلف فيه إلا الذين اوتوه من بعد ما جاءتهم البينات بغيا بينهم فهدى الله الذين آمنوا لما اختلفوا فيه من الحق بإذنه والله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے۔ (213) أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴿214﴾ ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما ياتكم مثل الذين خلوا من قبلكم مستهم الباساء والضراء وزلزلوا حتى يقول الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله الا إن نصر الله قريب کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ (214) يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴿215﴾ يسالونك ماذا ينفقون قل ما انفقتم من خير فللوالدين والاقربين واليتامى والمساكين وابن السبيل وما تفعلوا من خير فإن الله به عليم آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ (215) كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴿216﴾ تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وه تمہیں دشوار معلوم ہو، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو، حاﻻنکہ وه تمہارے لئے بری ہو، حقیقی علم اللہ ہی کو ہے، تم محض بےخبر ہو۔ (216) يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿217﴾ يسالونك عن الشهر الحرام قتال فيه قل قتال فيه كبير وصد عن سبيل الله وكفر به والمسجد الحرام وإخراج اهله منه اكبر عند الله والفتنة اكبر من القتل ولا يزالون يقاتلونكم حتى يردوكم عن دينكم إن استطاعوا ومن يرتدد منكم عن دينه فيمت وهو كافر فاولئك حبطت اعمالهم في الدنيا والآخرة واولئك اصحاب النار هم فيها خالدون لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑا گناه ہے، لیکن اللہ کی راه سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناه ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے، یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ (217) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿218﴾ إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله اولئك يرجون رحمت الله والله غفور رحيم البتہ ایمان ﻻنے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے واﻻ اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (218) يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴿219﴾ يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما اكبر من نفعهما ويسالونك ماذا ينفقون قل العفو كذلك يبين الله لكم الآيات لعلكم تتفكرون لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے ان دونوں میں بہت بڑا گناه ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائده بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناه ان کے نفع سے بہت زیاده ہے۔ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیئے حاجت سے زائد چیز، اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ تم سوچ سمجھ سکو،۔ (219) فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿220﴾ في الدنيا والآخرة ويسالونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم والله يعلم المفسد من المصلح ولو شاء الله لاعنتكم إن الله عزيز حكيم دنیا اور آخرت کے امور کو۔ اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ ان کی خیرخواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وه تمہارے بھائی ہیں، بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (220) وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴿221﴾ ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ولامة مؤمنة خير من مشركة ولو اعجبتكم ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا ولعبد مؤمن خير من مشرك ولو اعجبكم اولئك يدعون إلى النار والله يدعو إلى الجنة والمغفرة بإذنه ويبين آياته للناس لعلهم يتذكرون اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وه ایمان نہ ﻻئیں تم نکاح نہ کرو، ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، وه اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ وه نصیحت حاصل کریں۔ (221) وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴿222﴾ ويسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض ولا تقربوهن حتى يطهرن فإذا تطهرن فاتوهن من حيث امركم الله إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (222) نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴿223﴾ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجیئے۔ (223) وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿224﴾ اور اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا (اس طرح) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے۔ (224) لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴿225﴾ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور بردبار ہے۔ (225) لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿226﴾ للذين يؤلون من نسائهم تربص اربعة اشهر فإن فاءوا فإن الله غفور رحيم جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کے لئے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وه لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (226) اور اگر طلاق کا ہی قصد کرلیں تو اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔ (227) وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿228﴾ والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن ان يكتمن ما خلق الله في ارحامهن إن كن يؤمن بالله واليوم الآخر وبعولتهن احق بردهن في ذلك إن ارادوا إصلاحا ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة والله عزيز حكيم طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا اراده اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت واﻻ ہے۔ (228) الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿229﴾ الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان ولا يحل لكم ان تاخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا ان يخافا الا يقيما حدود الله فإن خفتم الا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فاولئك هم الظالمون یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں، پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو، اس لئے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر گناه نہیں یہ اللہ کی حدود ہیں خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرجائیں وه ﻇالم ہیں۔ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴿230﴾ فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما ان يتراجعا إن ظنا ان يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وه بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناه نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وه جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے۔۔ (230) وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿231﴾ وإذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا آيات الله هزوا واذكروا نعمت الله عليكم وما انزل عليكم من الكتاب والحكمة يعظكم به واتقوا الله واعلموا ان الله بكل شيء عليم جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ﻇلم وزیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ﻇلم کیا۔ تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (231) وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴿232﴾ وإذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن إذا تراضوا بينهم بالمعروف ذلك يوعظ به من كان منكم يؤمن بالله واليوم الآخر ذلكم ازكى لكم واطهر والله يعلم وانتم لا تعلمون اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (232) وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿233﴾ والوالدات يرضعن اولادهن حولين كاملين لمن اراد ان يتم الرضاعة وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف لا تكلف نفس إلا وسعها لا تضار والدة بولدها ولا مولود له بولده وعلى الوارث مثل ذلك فإن ارادا فصالا عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما وإن اردتم ان تسترضعوا اولادكم فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف واتقوا الله واعلموا ان الله بما تعملون بصير مائیں اپنی اوﻻد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا اراده دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جو مطابق دستور کے ہو۔ ہر شخص اتنی ہی تکلیف دیا جاتا ہے جتنی اس کی طاقت ہو۔ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے یا باپ کو اس کی اوﻻدکی وجہ سے کوئی ضرر نہ پہنچایا جائے۔ وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے، پھر اگر دونوں (یعنی ماں باپ) اپنی رضامندی اور باہمی مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کچھ گناه نہیں اور اگر تمہارا اراده اپنی اوﻻد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں جب کہ تم ان کو مطابق دستور کے جو دینا ہو وه ان کے حوالے کردو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ (233) وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿234﴾ والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشرا فإذا بلغن اجلهن فلا جناح عليكم فيما فعلن في انفسهن بالمعروف والله بما تعملون خبير تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں، پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وه اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناه نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے۔ (234) وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴿235﴾ ولا جناح عليكم فيما عرضتم به من خطبة النساء او اكننتم في انفسكم علم الله انكم ستذكرونهن ولكن لا تواعدوهن سرا إلا ان تقولوا قولا معروفا ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب اجله واعلموا ان الله يعلم ما في انفسكم فاحذروه واعلموا ان الله غفور حليم تم پر اس میں کوئی گناه نہیں کہ تم اشارةً کنایتہً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیده اراده کرو، اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے، لیکن تم ان سے پوشیده وعدے نہ کرلو ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بوﻻ کرو اور عقد نکاح جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے پختہ نہ کرو، جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بخشش اور علم واﻻ ہے۔ (235) لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ﴿236﴾ لا جناح عليكم إن طلقتم النساء ما لم تمسوهن او تفرضوا لهن فريضة ومتعوهن على الموسع قدره وعلى المقتر قدره متاعا بالمعروف حقا على المحسنين اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائده دو۔ خوشحال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق دستور کے مطابق اچھا فائده دے۔ بھلائی کرنے والوں پر یہ ﻻزم ہے۔ (236) وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿237﴾ وإن طلقتموهن من قبل ان تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم إلا ان يعفون او يعفو الذي بيده عقدة النكاح وان تعفوا اقرب للتقوى ولا تنسوا الفضل بينكم إن الله بما تعملون بصير اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کردیا ہو تو مقرره مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وه خود معاف کردیں یا وه شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گره ہے تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ (237) حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴿238﴾ نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔ (238) فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ﴿239﴾ فإن خفتم فرجالا او ركبانا فإذا امنتم فاذكروا الله كما علمكم ما لم تكونوا تعلمون اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ (239) وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿240﴾ والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في انفسهن من معروف والله عزيز حكيم جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وه وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائده اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے، ہاں اگر وه خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناه نہیں جو وه اپنے لئے اچھائی سے کریں، اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔ (240) وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴿241﴾ طلاق والیوں کو اچھی طرح فائده دینا پرہیزگاروں پر ﻻزم ہے۔ (241) كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴿242﴾ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں تم پر ﻇاہر فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (242) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴿243﴾ الم تر إلى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم إن الله لذو فضل على الناس ولكن اكثر الناس لا يشكرون کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا مرجاؤ، پھر انہیں زنده کردیا بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل واﻻ ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ (243) وقاتلوا في سبيل الله واعلموا ان الله سميع عليم اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سنتا، جانتا ہے۔ (244) مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿245﴾ من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له اضعافا كثيرة والله يقبض ويبسط وإليه ترجعون ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (245) أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴿246﴾ الم تر إلى الملإ من بني إسرائيل من بعد موسى إذ قالوا لنبي لهم ابعث لنا ملكا نقاتل في سبيل الله قال هل عسيتم إن كتب عليكم القتال الا تقاتلوا قالوا وما لنا الا نقاتل في سبيل الله وقد اخرجنا من ديارنا وابنائنا فلما كتب عليهم القتال تولوا إلا قليلا منهم والله عليم بالظالمين کیا آپ نے (حضرت) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاه بنا دیجیئے تاکہ ہم اللہ کی راه میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راه میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔ (246) وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿247﴾ وقال لهم نبيهم إن الله قد بعث لكم طالوت ملكا قالوا انى يكون له الملك علينا ونحن احق بالملك منه ولم يؤت سعة من المال قال إن الله اصطفاه عليكم وزاده بسطة في العلم والجسم والله يؤتي ملكه من يشاء والله واسع عليم اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاه بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیاده حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیده کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (247) وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿248﴾ وقال لهم نبيهم إن آية ملكه ان ياتيكم التابوت فيه سكينة من ربكم وبقية مما ترك آل موسى وآل هارون تحمله الملائكة إن في ذلك لآية لكم إن كنتم مؤمنين ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ﻇاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وه صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر ﻻئیں گے۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔ (248) فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴿249﴾ فلما فصل طالوت بالجنود قال إن الله مبتليكم بنهر فمن شرب منه فليس مني ومن لم يطعمه فإنه مني إلا من اغترف غرفة بيده فشربوا منه إلا قليلا منهم فلما جاوزه هو والذين آمنوا معه قالوا لا طاقة لنا اليوم بجالوت وجنوده قال الذين يظنون انهم ملاقو الله كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله والله مع الصابرين جب (حضرت) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے واﻻہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وه میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وه میرا ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وه پانی پی لیا (حضرت) طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وه لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا، بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہیں، اللہ تعالیٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (249) جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔ (250) فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴿251﴾ فهزموهم بإذن الله وقتل داوود جالوت وآتاه الله الملك والحكمة وعلمه مما يشاء ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض ولكن الله ذو فضل على العالمين چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو مملکت وحکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (251) تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴿252﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں۔ (252) تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴿253﴾ تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات وآتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس ولو شاء الله ما اقتتل الذين من بعدهم من بعد ما جاءتهم البينات ولكن اختلفوا فمنهم من آمن ومنهم من كفر ولو شاء الله ما اقتتلوا ولكن الله يفعل ما يريد یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (253) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿254﴾ يا ايها الذين آمنوا انفقوا مما رزقناكم من قبل ان ياتي يوم لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة والكافرون هم الظالمون اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔ (254) اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴿255﴾ الله لا إله إلا هو الحي القيوم لا تاخذه سنة ولا نوم له ما في السماوات وما في الارض من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه يعلم ما بين ايديهم وما خلفهم ولا يحيطون بشيء من علمه إلا بما شاء وسع كرسيه السماوات والارض ولا يئوده حفظهما وهو العلي العظيم اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ (255) لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿256﴾ دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔ (256) اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿257﴾ الله ولي الذين آمنوا يخرجهم من الظلمات إلى النور والذين كفروا اولياؤهم الطاغوت يخرجونهم من النور إلى الظلمات اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔ (257) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴿258﴾ الم تر إلى الذي حاج إبراهيم في ربه ان آتاه الله الملك إذ قال إبراهيم ربي الذي يحيي ويميت قال انا احيي واميت قال إبراهيم فإن الله ياتي بالشمس من المشرق فات بها من المغرب فبهت الذي كفر والله لا يهدي القوم الظالمين کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وه کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (258) أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿259﴾ او كالذي مر على قرية وهي خاوية على عروشها قال انى يحيي هذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم قال بل لبثت مائة عام فانظر إلى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر إلى حمارك ولنجعلك آية للناس وانظر إلى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شيء قدير یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (259) وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿260﴾ وإذ قال إبراهيم رب ارني كيف تحيي الموتى قال اولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي قال فخذ اربعة من الطير فصرهن إليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا ثم ادعهن ياتينك سعيا واعلم ان الله عزيز حكيم اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زنده کرے گا؟ (جناب باری تعالیٰ نے) فرمایا، کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی، فرمایا چار پرند لو، ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں واﻻ ہے۔ (260) مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿261﴾ جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (261) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿262﴾ جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے۔ (262) قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ﴿263﴾ قول معروف ومغفرة خير من صدقة يتبعها اذى والله غني حليم نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے۔ (263) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴿264﴾ يا ايها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والاذى كالذي ينفق ماله رئاء الناس ولا يؤمن بالله واليوم الآخر فمثله كمثل صفوان عليه تراب فاصابه وابل فتركه صلدا لا يقدرون على شيء مما كسبوا والله لا يهدي القوم الكافرين اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وه شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وه اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے، ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راه نہیں دکھاتا۔ (264) وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿265﴾ ومثل الذين ينفقون اموالهم ابتغاء مرضات الله وتثبيتا من انفسهم كمثل جنة بربوة اصابها وابل فآتت اكلها ضعفين فإن لم يصبها وابل فطل والله بما تعملون بصير ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہواور زوردار بارش اس پر برسے اور وه اپنا پھل دگنا ﻻوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ (265) أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴿266﴾ ايود احدكم ان تكون له جنة من نخيل واعناب تجري من تحتها الانهار له فيها من كل الثمرات واصابه الكبر وله ذرية ضعفاء فاصابها إعصار فيه نار فاحترقت كذلك يبين الله لكم الآيات لعلكم تتفكرون کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔ (266) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴿267﴾ يا ايها الذين آمنوا انفقوا من طيبات ما كسبتم ومما اخرجنا لكم من الارض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا ان تغمضوا فيه واعلموا ان الله غني حميد اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواه اور خوبیوں واﻻ ہے۔ (267) الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿268﴾ شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعده کرتا ہے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (268) يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴿269﴾ يؤتي الحكمة من يشاء ومن يؤت الحكمة فقد اوتي خيرا كثيرا وما يذكر إلا اولو الالباب وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔ (269) وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴿270﴾ وما انفقتم من نفقة او نذرتم من نذر فإن الله يعلمه وما للظالمين من انصار تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے، اور ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ (270) إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿271﴾ اگر تم صدقے خیرات کو ﻇاہر کرو تو وه بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیده پوشیده مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے،۔ (271) لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴿272﴾ ليس عليك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء وما تنفقوا من خير فلانفسكم وما تنفقون إلا ابتغاء وجه الله وما تنفقوا من خير يوف إليكم وانتم لا تظلمون انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔ (272) لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴿273﴾ للفقراء الذين احصروا في سبيل الله لا يستطيعون ضربا في الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسالون الناس إلحافا وما تنفقوا من خير فإن الله به عليم صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے واﻻ ہے۔ (273) جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔ (274) الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿275﴾ الذين ياكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بانهم قالوا إنما البيع مثل الربا واحل الله البيع وحرم الربا فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وامره إلى الله ومن عاد فاولئك اصحاب النار هم فيها خالدون سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ﴿276﴾ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔ (276) إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات واقاموا الصلاة وآتوا الزكاة لهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔ (277) يا ايها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴿279﴾ فإن لم تفعلوا فاذنوا بحرب من الله ورسوله وإن تبتم فلكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ (279) وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿280﴾ وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة وان تصدقوا خير لكم إن كنتم تعلمون اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو۔ (280) وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴿281﴾ اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (281) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿282﴾ يا ايها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى اجل مسمى فاكتبوه وليكتب بينكم كاتب بالعدل ولا ياب كاتب ان يكتب كما علمه الله فليكتب وليملل الذي عليه الحق وليتق الله ربه ولا يبخس منه شيئا فإن كان الذي عليه الحق سفيها او ضعيفا او لا يستطيع ان يمل هو فليملل وليه بالعدل واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء ان تضل إحداهما فتذكر إحداهما الاخرى ولا ياب الشهداء إذا ما دعوا ولا تساموا ان تكتبوه صغيرا او كبيرا إلى اجله ذلكم اقسط عند الله واقوم للشهادة وادنى الا ترتابوا إلا ان تكون تجارة حاضرة تديرونها بينكم فليس عليكم جناح الا تكتبوها واشهدوا إذا تبايعتم ولا يضار كاتب ولا شهيد وإن تفعلوا فإنه فسوق بكم واتقوا الله ويعلمكم الله والله بكل شيء عليم اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گوہوں میں سے پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے اور گواہوں کو چاہئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شق و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں۔ خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو اور ﴿یاد رکھو کہ﴾ نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (282) وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴿283﴾ وإن كنتم على سفر ولم تجدوا كاتبا فرهان مقبوضة فإن امن بعضكم بعضا فليؤد الذي اؤتمن امانته وليتق الله ربه ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فإنه آثم قلبه والله بما تعملون عليم اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے واﻻ نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وه اسے ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وه گنہگار دل واﻻ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (283) لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿284﴾ لله ما في السماوات وما في الارض وإن تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء والله على كل شيء قدير آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ﻇاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (284) آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴿285﴾ آمن الرسول بما انزل إليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،۔ (285) لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴿286﴾ لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا او اخطانا ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔ (286)
urd_Arab
مرکزی صفحہ بین الاقوامی خبریںمتحدہ عرب امارات میں قومی دِن کا حد سے زیادہ جشن منانے والوں .. فجیرہ میں گاڑیوں کے کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 47 منچلوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جرمانے بھی کیے گئے ہیں فجیرہ : متحدہ عرب امارات میں 48 ویں یومِ وطنی کا جشن اور تقریبات کئی روز تک منائی گئیں۔تاہم اس موقع پر نوجوانوں کی جانب سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اماراتی ریاست فجیرہ میں پولیس نے سڑکوں پر گاڑیوں کے کرتب دکھانے والے نوجوانوں کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور کئی نوجوانوں کو سڑک پر خطرناک کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر اُن کی گاڑیاں ضبط کر لیں ، اس کے علاوہ مختلف رقوم کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ فجیرہ پولیس کے ٹریفک اینڈ پٹرولز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر، بریگیڈیر علی راشد ال یماہی نے بتایا کہ ٹریفک خلاف ورزی اور گاڑیوں کے خطرناک کرتب دکھانے پر 47 نوجوانوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئی ہیں۔ جبکہ ہر ڈرائیور پر اس طرح کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار درہم کا جرمانہ اور بلیک پوائنٹس کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔ ضبط کی گئی گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے ایک مخصوص احاطے میں خلاف ورزی کی نوعیت کے حساب سے خاص مُدت کے لیے بند رکھا جائے گا۔ بریگیڈیر ال یماہی نے بتایا کہ جو گاڑیاں ضبط کی گئیں، ان میں سے کچھ کے انجن اور باڈی میں بہت زیادہ تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اور کئی نوجوانوں نے اپنی گاڑی کو مقرر کردہ حد سے زیادہ سجا بنا رکھا تھا۔ حالانکہ یومِ وطنی کی تقریبات سے قبل ہی پولیس کی جانب سے ٹریفک ضابطہ اخلاق سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔ مگر کئی نوجوانوں نے ان پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث وہ مصیبت میں پھنس گئے اور اُن کی گاڑیاں پندرہ دِن، 20 دِن، 30دِن یا 60 دِن کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔ کئی گاڑیوں کے انجن میں ایسی تبدیلی کی گئی تھی جس کی بناء پر اُن سے بہت زیادہ شور پیدا ہو رہا تھا، جس کے باعث لوگوں کو بہت زیادہ ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے پکڑے گئے۔ جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی گنتی ایسی بھی تھی جو سڑکوں پر تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلا کر دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی تھی۔ یومِ وطنی کے موقع پر عوام اور ڈرائیورز کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی خاطر فجیرہ پولیس نے سڑکوں پر ٹریفک پٹرولنگ میں معمول سے کہیں زیادہ اضافہ کر رکھا تھا۔ کئی ڈرائیورز دُوسروں پر فوم کا سپرے کرتے بھی پائے گئے، جبکہ کئی گاڑیوں میں بیٹھے ڈرائیورز اور مسافروں نے تیز رفتاری کے دوران گاڑیوں کی کھڑکیوں اور سن رُوف سے اپنے سر باہر نکال رکھے تھی جو اُن کی زندگیوں کے لیے ایک خطرناک بات تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یومِ وطنی کے جشن کے دِنوں میں صرف چند معمولی نوعیت کے حادثات پیش آئے جن کے نتیجے میں دو افراد کو درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔ بریگیڈیر ال یماہی نے تمام ڈرائیورز سے کہا کہ وہ 5 دسمبر سے پہلے پہلے اپنی گاڑیوں پر کی گئی سجاوٹ ہٹا دیں، ورنہ اس تاریخ کے بعد ڈرائیورز پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
urd_Arab
خالد بن ابی البکیر - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا خالد بن ابی البکیرابتدائی اسلام لانے والوں یں اور غزوہ بدر میں شامل ہیں۔ یہ 4 بھائی تھے،خالد بن ابی البکیر، ایاس بن ابی البکیر، عاقل بن ابی البکیر اورعامر بن ابی البکیر، ان کے والد کا نام ابی بکیر تھا، ان کا نسب نامہ یہ ہے، خالد بن ابی بکیر بن عبد یالیل بن ناشب بن غیر ہ ابن سعد بن لیث بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ کنانی لیثی لکھا ہے۔قبیلہ بنو عدی بن کعب تھا مدینہ آنے کے بعد چاروں غزوات میں شریک ہوتے رہے، عاقل ان سب میں زیادہ خوش نصیب تھے، انہوں نے بدر میں مالک بن زہیر کے ہاتھوں شہادت حاصل کی، اس کے بعد خالد نے بدر اوراحد کے معرکوں میں شرکت کے بعد سریہ رجیع میں 4ھ میں جام شہادت پیا، عامر،بدر احد اورخندق میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب رہے اور 13ھ میں مرتدوں کی سرکوبی پر مامور ہوئے اوراس سلسلہ کی مشہور جنگ یمامہ میں شہادت حاصل کی، سب سے آخر میں ایاس، بدر ،احد، خندق،خیبر اور دوسری معرکہ آرائیوں میں شریک ہوتے رہے خالد جب شہید ہوئے تو ان کی عمر 34 سال تھی۔[1][2]
urd_Arab
حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا - The Siasat Daily Home / Top Stories / حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا نئی دہلی۔ کیرالا کی شادی کے حساس مسلئے پر عدالت میں جاری سنوائی کے دوران دوکلا کے درمیان میں تلخ بحث کے پیش نظر سنوائی کو30اکٹوبر تک ملتوی کردیا اور کہاکہ غیر متعلقہ باتوں پر سنوائی کے دوران بحث قابل قبول نہیں ہوگی۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی نگرانی میں سنوائی کررہی بنچ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جب حادیہ کے شوہر شیفان جہاں کی پیروی کررہے سینئر وکیل دوشانت داوے بحث کے دوران بی جے پی صدر امیت شاہ اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ کے ناموں کا حوالہ دیا اور ان کے سیاسی اغراض ومقاصد کا ذکر کیا۔ داوے نے کہاکہ'' یوگی نے کیرالا میں لوجہاد کے متعلق بات کی ۔ اس عدالت کو زمینی حقیقت سے واقف کروانے کی ضرورت ہے''داوے نے مزیدکہاکہ شاہ نے بھی کیرالا کا دورہ کیاہے تاکہ لوجہاد کے موضوع کو اجاگر کیاجاسکے۔بنچ جس میں جسٹس اے ایم خان والکر اور ڈی وائی چندرچوڑ بھی ہیں نے کہاکہ'' جب تک راست طور پر کوئی سیاسی شخصیت اس کیس پر اثر انداز نہیں ہوتی تب تک انہیں اس کیس سے دور ہی رکھیں۔جس کا تعلق اس کیس سے نہیں ہے انہیں اس کیس میں ہمیں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے''۔ منیندر سنگھ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل جو این ائی اے کی جانب سے عدالت میں حاضر ہوئے تھے نے داوے کی بات کی مخالفت کی او رکہاکہ یہ'' سیاست '' ہے اور سینئر وکیل عدالت کو''گمراہ'' کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو '' ناقابل یقین ہے''۔ اس کے بعد بنچ نے جائزہ لیا اور داوے سے کہاکہ '' اس قسم کی بحث عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگی'' دوبارہ اس عدالت میں اس طرح کی بحث نہیں سنی جائے گی۔انہوں نے عدالت سے کہاکہ پہلی درخواست کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔ بعدازاں دوسری درخواست دائر کی گئی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے شادی سے پہلے مذہب اسلام قبول کرنے والی لڑکی کی شادی کو ہی نامنظور کردیا۔انہوں نے کیرالا کوہمہ مذہبی معاشرے قراردیتے ہوئے کہاکہ یہاں پر بین مذہبی شادیوں کا رواج عام ہیں جس کو معاشرے میں قبول بھی کیاجاتا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے حالیہ دنوں میں صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کویندکے دئے ہوئے کا بیان کا بھی حوالہ دیا۔پھر اس کے بعد داوے اس کیس کو خود ساختہ سیاسی طور پر طئے کیا جس پر بنچ او راین ائی اے ایجنسی کی کونسل نے اعتراض جتایا ۔ عدالت پہلے اس بات کا حیران ہے کہ کیاہائی کورٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کسی شادی کو نامنظور کرسکتی ہے۔ تاہم لفظوں کی جنگ میں بنچ نے مداخلت کرتے ہوئے اس بات کو دوبارہ دہرانے کی کوشش نہ کرنے کا وکیل دفاع کو ہدایت دی۔ سنوائی پیر کے روز چل رہی تھی۔عدالت نے پوچھا کہ کیا ہائی کور ٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شادی کو نامنظور کرتے ہوئے شوہر او ربیوی کو علیحدہ کرسکتا ہے۔اس دوران مزید بحث بھی دواے او راے ایس جی کے درمیان میں ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلخ تبصرہ کیا۔ شیفان جہاں کی شادی 24کی حادیہ جس کا سابق نام اکھیلااشوکن تھا کے ساتھ 2016ڈسمبر کو انجام پائی تھی اس سے قبل ہی اکھیلا نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا۔ جس کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ حادیہ کو سیریہ مشن کے تحت شیفان جہاں نے گمراہ کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیاہے Tags Arguments Case Hadiya Hearing Postponed supreme court Ugly Azaan School victim's father denies support from School Management & City Police https://t.co/SXWgUBgK3e https://t.co/mv29sMVY9K24 mins ago
urd_Arab
آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ - قندیل - Qindeel Home ستاروں کےدرمیاں آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد و ناظم مدرسہ تعلیم القرآن بورابنڈہ حیدرآباد نہ جانے یہ کیسا وقت آن پڑا کہ ہر طرف سے علماء کی رخصتی کی خبریں سماعتوں سے ٹکرا کر پورے وجود کو نڈھال کئے جارہی ہیں، جن شخصیات کے بارے میں نہ سوچا ،نہ حاشیۂ خیال سیجن کا تصورگزرااور نہ ہی جن کی شدید بیماری کی کوئی اطلاع؛ مگر اچانک ان کے وصال کی خبر ایک صاعقہ بن کرذہن و دماغ کوماؤف سی کرجاتی ہے، حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جب سنا کہ روح گلستاں، علم وعمل کے نیر تاباں، راہ حق کے بے بدل راہنما، قائد سرفروشاں، قدوۂ عالماں، محبوب طالباں، دکھے دلوں کے درماں، علم کے آسماں، عمل میں میرکارواں،جن کا عزم ہردم جواں، جو خدا سے کرتے تھے خوب آہ وفغاں، حق کی شمع فروزاں، باطل پر کوہ گراں، عوام کے نازاں، خواص میں فرحاں، مداح نبی ٔ آخرالزماں، اساتذۂ سبیل میں نمایاں، امت کے لیے ہر لمحہ پریشاں، تربیت و معرفت میں پیر مغاں،جن کی پیاری ومیٹھی زباں، زباں پر ہردم قال اللہ والرسول رَواں، جن کے بیانات پر بن جاتا تھا ایک سماں، جن کو سننے کے لیے لوگ چلے آتے تھے کشاں کشاں،جن کے نام سے باطل کہہ اٹھتا تھا الاماں الاماں،علماء کے نگراں، شفقت میں گویا رحمت باراں، جن کی پیشانی ہمیشہ خنداں،سب پر مہرباں،علوم نبوت کے بحر بیکراں،جرأت کانشاں ، چھوٹوں پرسائباں اور جن کایہی نام زباں زد تھا ہر عام وخاصاں،ہمارے حضرتِ سیف داں(مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ) 13؍مئی؍2021ء کواس دار الفناء سے دار البقاء کی طرف کوچ فرماگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کی پیدائش 22؍جولائی ؍1952ء کوجس گھرانہ میں ہوئی وہ انتہائی دیندار،صفات حسنہ سے متصف اورنہایت پرہیزگار گھرانہ تھا۔ آپ کے والدگرامی شیخ عبدالقادرصاحب اصحاب دعوت میں ایک اہم مقام رکھتے تھے اور دعوت و تبلیغ کی عالی محنت سے وابستہ اور بڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒ کے فداکاروں میں تھے۔ ابتدائی تعلیم اور فراغت آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ داؤدیہ ایروڈ تامل ناڈو میں ہوئی اور وہیں آپ نے حفظ قرآن مجیدکی تکمیل کی، بعدازاں آپ نے شہر گلستاں بنگلور کی منفرد اور مثالی دینی درس گاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کا رخ کرتے ہوئے فارسی کی جماعت میں داخلہ لیا اور جبال العلم اساتذہ کے چشم فیض تلے سبیلکے چشمۂ صافی سے خوب سیراب ہوئے، علامہ ابوالسعودؒ اور ان کے عالی وقار جانشین امیر شریعت کرناٹک علامہ اشرف علی باقویؒ کے علوم کے امین ہوکر 1971ء میں سند فراغت حاصل کی ، اس کے بعد1972ء میں علم وعمل کے حسین سنگم ، خوابوں کی حسین تعبیرگاہ ام لمدارس دارالعلوم دیوبند میںجماعت فضیلت میں داخل ہوئے، وہاں کچھ ہی مہینوں میں امتیازی طالب علم کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی اور اساتذہ کے مقبول نظر ہوئے ۔ فراغت کے فوری بعد آپ فرائض تدریس کے لیے اپنے مادر علمی مدرسہ داؤدیہ ایروڈ سے وابستہ ہوکرپوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،آپ کا انداز تدریس بہت جلد قبولیت کی پرواز حاصل کرگیا اور پورا علاقہ آپ کے فیض علم سے استفادہ کرنے لگا۔ آپ کی تدریسی قابلیت کا خوب چرچا ہونے لگا اور طلبہ کے مابین آپ نے ایک مقبول استاذ کی حیثیت سے اپنی انفرادی شان قائم فرمالی۔ دارالعلوم سبیل الرشاد میں 1979ء میںبڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒنے آپ کو مادر علمی دارالعلوم سبیل الرشاد طلب کیا تو آپ فوراً اپنے مربی ومرشد کے حکم وایماء پر سبیل چلے آئے اور وہیں کے ہوکر چل بسے۔ دارالعلوم سبیل الرشادنے جن بنیادوں پرمقبولیت کی معراج حاصل کی، ان میں ایک سے قابل اساتذہ کی فراہمی تھی اور ان میں ایک نام حضرت سیف داں کا بھی ہے۔ ان کی تدریسی قابلیت زباں زدخاص وعام تھی،آپ کے مقبول درس نے طلباء کے رخ کو سبیل کی طرف موڑ دیا۔ سبیل الرشاد آپ کی تمام تر کاوشوں کی جولانگاہ تھی۔ آپ سبیل کو محض ایک ادارہ تصور نہیں کرتے تھے؛ بلکہاسے کارخانۂ علم و عمل اور میکدۂ فکر وفنسمجھتے تھے، جہاں آپ علم کے جام رندان سرمست کو بھر بھرکر پلاتے اور وہ آپ کی پلائی ہوئی شرابِ طہور سے مست ہوکروہ حب الہی اور عشق مصطفوی ﷺ میں ڈوب جاتے۔ سبیل کے طلبہ ہمیشہ آپ پر جاں فدا رہتے ،آپ کے گرد پروانوں کی طرح پُرہجوم رہتے ، آپ کی زبان کے ہر بول کو اپنے لیے حرز جاں بنالیتے، طلبہ آپ سے خوب فیض یاب ہوتے اور آپ بھی جی بھر کر ان کوعطا کرتے ۔ آپ طلبہ میں ایک اچھا مستقبل دیکھنا چاہتے تھے ، ہر طالب علم کو اسی اساس پر پروان چڑھاتے تھے اور ان میں خود اعتمادی وخودداری کی وہ مایہ ڈول دیتے کہ آپ کا تربیت یافتہ جہاں بھی چلاجائے وہ اپنے لیے پائے ثبات خودفراہم کرلیتا ۔اس کے اندر اتنی صلاحیت انڈیل دیتے کہ وہ زمانہ کے نشیب وفراز سے ازخود آگاہ ہوجاتا۔ آپ نے اپنی عمر عزیز کی تمام بہاریں سبیل کے لیے قربان کردیں۔ بہت کم ادارے ایسے ہوتے ہیں جہاں اپنے فضلاء کو بلند مقام سے نوازا جاتا ہے، حضرت مولانا سیف الدین صاحب ان سعادت نصیب لوگوں میں تھے جنہیں اللہ نے ہر قدم پر اعزاز واکرام سے نوازا۔ سبیل میں آپ کی شان دیگر تھی۔آپ کی بات مانی جاتی ، آپ کی رائے کو قبول کی نظر سے دیکھا جاتا ، ویسے آپ انتظامی معاملات میں بہت کم خود کو ملوث فرماتے ؛ مگر جب بھی کوئی رائے پیش فرماتے ، اس پر خوب غور کیا جاتا، بسا اوقات تو بلاتوقف اس پر فیصلہ کردیا جاتا، آپ اصولِ سبیل سے سرمو انحراف نہیں فرماتے۔ نہ انتطامیہ سے الجھتے اور نہ ہی کسی قضیہ نامرضیہ سے اپنا تعلق بناتے۔ آپ صاف گو، صاف بدن، صاف دل، صاف زبان اور صاف نیت کے انسان تھے۔ دورخا پن آپ کی شخصیت کا کبھی حصہ نہیں بن سکا۔ آپ اپنے مادر علمی سبیل الرشاد سے خوب محبت فرماتے اور وہاں کی تنظیم وترقی میں خوب معاونت فرماتے، بالخصوص تعلیمی میدان تو آپ کااوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ نے سبیل میں جب تدریس کے لیے پہلا قدم رکھا تو نکلنے کا نام نہیں لیا اوربس آپ کی موت ہی نے آپ کو سبیل سے جدا کیا۔ مثالی طرز تدریس و تربیت درس کی حاضری کا تو التزام دیدنی تھا، لاکھ اسفار ، بے شمار تقاضے اور سفر کی حددرجہ کلفتوں کو جھیلنے کے باوصف بھی سبق میں ناغہ ہوجائے یہ بات ممکن نہ تھی ،تمام تر مصروفیات کے باوجود نہ درس کا ناغہ ہوتاتھا اورنہ سبق پر کوئی اثر۔ دوران سبق تمام طلبہ پر مضبوط گرفت رکھتے ، ہر ایک پر اپنی نگاہیں جمائے رکھتے ، کسی کو نہ غافل ہونے دیتے اور نہ ہی بے قابو،کسی کی مجال تھی کہ وہ سبق میں غفلت یا لاپرواہی کامظاہرہ کرسکے۔ وہ کرشماتی انسان تھے، خدا نے ان میں خوب صلاحیت ، قوت، زہد، لیاقت، جمال، ندرت، نزاکت، فطری احساس، شفقت، جرأت، بے باکی، مروت، لحاظ ورعایت، الفت ومحبت،ادب ، وجاہت اور وسعت ظرفی جیسی عظیم صفات کو دیعت فرما رکھا تھا۔ موقع شنانی اور مزاج شناسی میں تو بالکل طاق تھے۔انداز تربیت بالکل نرالا تھا۔ شفقت باپ کی طرح کرتے ، سبیل میں طلبہ کو اپنی اولاد جیسی نظر سے دیکھتے تھے، جس کا کھانا بند ہوجاتا اس کو اپنے کمرے لے جاتے اور شفقت کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے اس کو کھلاتے ، نہ جھڑکتے اور نہ ہی طنزیہ لہجہ اختیار فرماتے اور طالب علم کو اس بات کا احساس ہوجاتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، آئندہ احتیاط کرنا چاہیے۔ منفرد مناظرانہ شان حضرت مولانا سیف الدین صاحب رشادی بڑے درجہ کے مناظر حق تھے۔ان کی مناظرانہ شان بھی بالکل جداگانہ تھی۔ مخالف کو آپ سے مکمل مناظرہ کرنے کی جرأت نہیں ہوپاتی تھی ،فریق مخالف پر اول مرحلہ ہی میں آپ کی جلالت علم کارعب کیا پڑتا کہ وہ اپنا سارا زعم کھوبیٹھتا، دعویٰ ہی ایسا وزن دار پیش کرتے کہ وہ اسی میں الجھ جاتا اور حواس باختہ ہوجاتا۔ آپ کی نظر میں خلاق عالم نے بلا کی تاثیر رکھی تھی؛ اگر محبت سے اٹھتی تو دل موہ لیتی اور اگر جلال یا غضب کا معمولی ذرہ بھی اس میں شامل ہوجائے تو پھر کیا کہنے ، بڑے سے بڑا بھی اس رعبِ نگاہ کے آگے پسر جاتا اور طبیعت پر بلا کی ہیبت طاری ہوجاتی ۔ آپ پکے مناظر تھے اور مسلک حق کے سچے ترجمان تھے، کئی مناظرے فتح کرگئے ؟ مگر کبھی نہ جشن منانا گوارا کیا اور نہ اس کا احساس دوسروں کو ہونے دیا۔ مسلم خطابی شان حضرت مولانا سیف الدین رشادیؒ تقریری دنیا کے عظیم شنہشاہ تھے، بیان کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔ حالات سے خوب واقفیت رکھتے تھے، علم کے بحربیکراں تھے۔ ہرموضوع پر کامل دسترس حاصل ہونے کے سبب کسی بھی موـضوع کوتشنہ نہیں چھوڑتے تھے۔ تقریر کا ایک خاص انداز تھا اور سب کو بھاتا تھا۔جب وہ بولتے تو محسوس ہوتا تھا کہ اب انھیں ہی بولنے کا حق ہے اور جتنے سامعین ہیں سب خاموش؛ بلکہ سناٹا سا چھا جاتا تھا۔ پورے مجمع پر سنجیدگی ومتانت کی چادر تنجاتی تھی۔فضائیں بھی اسی جانب کا رخ کئے جاتی تھیں۔ ان کی زبان سے الفاظ نہیں بلکہ انمول موتی جھڑتے تھے اور تاثیر کا یہ عالم کہ سارا مجمع اسی وقت عمل کے لیے تیار اور جو بات کہہ دی اس پر جانثار، گویا محسوس ہوتا تھا کہ زبان سے اپنی بات کانوں تک نہیں پہونچارہے ہیں ؛ بلکہ سینے چیر کر دلوں کی تختیوں پر رقم کئے جارہے ہیں،یا دل کے کٹورے میں اپنی بات کا جادو انڈیل رہے ہیں۔ جو ایک مرتبہ ان کی گفتگو سن لیتا وہ بار بار متمنی اور مشتاق رہتا ۔ ہرفن میں درجۂ کمال مولانا تدریس ، تزکیہ اور تقریر تینوں میدانوں کے بیک وقتبرق رفتار شہسوار تھے۔ ان کی جادوبیانی مسلم تھی۔ جب بولتے تو موتی رولتے ، زبان کی مٹھاس اور لہجہ کی نزاکت بڑی قیامت خیزتھی۔ موضوع کا احاطہ کرنے میں مکمل درک رکھتے تھے۔ گفتگو باکمال کرتے او رحق ادا کردیتے، ان کا طرز تکلم بالکل منفرد اور دل آویز تھا۔ وہ عوام میں ہوتے تو بالکل عوامی اور علماء وخواص میں وہعالمانہ وقارکی گفتگو فرماتے کہ سب پر ان کی شخصیت کا کمال ظاہر ہوجاتا۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کو ہر فن میں درجۂ کمال حاصل تھا، وہ کسی بھی فن اور اس کے اصول سے بیگانہ نہ تھے؛ بلکہ ہر فن کی باریکیوں کا خوب علم رکھتے اور موقع پر اس کو برتتے تھے ۔ حیدرآباد کا ایک تاریخی سفر حضررت مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ تلنگانہ وآندھرا پردیش کی مؤقر تنظیم مجلس علمیہ کی دعوت پر حیدرآباد تشریف لائے تھے اور علماء و خواص کے مجمع سے خطاب فرمایا تھا ، محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے صرف خطاب ہی نہیںکیا ؛ بلکہ اپنی باتوں اور یادوںکا حسین گلدستہ علماء کو پیش کیا۔ مولانا نے جس انداز سے صحابہؓ کی عظمت اور اسی سے تقلید کی ضرورت کو پیش فرمایا وہ بس انھیں کا حصہ تھا۔ اس خطاب نے سب علماء کے قلوب کواپنی کی جانب مائل کرلئیے اورمولانا ایسی یادگار تقریر فرمائی کہ برسوں گزرگئے ؛ مگر آج بھی اس خطاب کے چرچے علماء میں زندہ ہیں ۔ اگر اس مجمع میں کوئی غیر مقلد ہوتا تو ضرور مقلد ہوجاتا اور مولانا کی گفتگو جو خالص کتاب وسنت کا عطرکشید تھی، اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رد فرق ضالہ پر مولانا کو مہارت تامہ حاصل تھی، بالخصوص غیر مقلدین کے خلاف تو ہمیشہ سربکف رہتے ۔ ان کے نظریات کو اچھا سمجھتے اور خوب سمجھاتے تھے، ان کے دلائل کا مکمل جائزہ لیتے اور اس کی حقیقت لوگوں کو بتلاتے ۔ مسلکی تصلب مولانا میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا؛ مگر تنفر سے پاک تھے۔ ہرایک کا ادب لحاظ خوب کرتے تھے۔ سبیل الرشاد کی روایتوں کے امین تھے۔ بڑے حضرت اور امیرشریعت سے گہرا لگاؤ حضرت مولانا سیف الدین صاحب کو بڑے حضرت علامہ ابوالسعود ؒ سے گہرا تعلق اور امیرشریعت ،وقارالعلماء اور عاشق خیرالانبیاء حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ سے عشق کی حد تک محبت اور لگاؤ تھا۔ گویا وہ حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ کی شخصیت کے فداکار تھے،ان پر وہ اپنی شخصیت کو دیوانہ وار قربان کرتے اور اتنا تعلق کہ ہر وقت ان کی شخصیت کی خوشبو سے اپنے دل کو معطر رکھتے ،بڑی محبت کے ساتھ ان کا اسم گرامی لیتے اور ہمہ تن محب بن جاتے ، اتنی ساری فداکاری کے باوصف حدود اعتدال پر ذرہ برابر بھی نقطہ آنے نہیں دیتے اور نہ ہی محبت میں جرمِ غلو کے مرتکب ہوتے ؛ بلکہ ایسی محبوب محبت کرتے کہ اس سے لوگوں کو انداز محبت سیکھنے کے مواقع میسر آجاتے ۔وہ حضرت امیرشریعت کے اصولوں کے ہرلمحہ پابند رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بڑے خوداپنے آداب بجالائیں، چھوٹوں کے سروں سے دست شفقت نہ ہٹائیںاور ان کی حوصلہ افزائی وترقی کی فکر کرتے رہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی ناگواری کا معاملہ نہ کریں تو چھوٹے بھی بڑوںکو پلکوں پربٹھانے سے گریزاں نہیں ہوتے ؛ بلکہ فخریہ ان کی قدر کا اظہار کرنے میں سعادت تصور کرتے ہیں، حضرت امیرشریعت ؒاور حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کا معاملہ یہی رہا۔ اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک وسعت ظرفی میں آپ ایک عمدہ اسوہ تھے، طلبہ پر آپ کی شفقت کا معاملہ تو آسمان چھوتا تھا۔ آپ میں حلم وبردباری بھی بلا کی تھی۔ کسرنفسی میں آپ ایک مثال تھے۔دوسروں کے معاملات میں الجھنے کی عادت سیئہ کبھی آپ کے مزاج کا حصہ نہ بن سکی۔ فطری شرافت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ نگاہیں اتنی نیچی گویا قدرت کی کاریگری محسوس ہوتی۔ آواز کا سوز وگداز دل کو موہ لینے کے لیے کافی تھا۔ گفتارکی لطافت اظہر من البیان تھی۔ للہیت وخداترسی کا آپ اعلی نمونہ تھے۔ فکر مندی ہمیشہ آپ کے چہرے سے ظاہرہوتی تھی۔کشادہ پیشانی سے نورباطن کا ہروقت ظہور ہوتا تھا، آپ کی تنہائیاں ذکر وفکر سے لبریز او رمجلسیں علمی وقار اور شخصی معیار سے پر کیف ہوتی تھیں، شرافت ووضع داری آپ کی فطرت کالازمہ تھی۔کبر ونخوت سے کوسوں دور تھے، اپنی بڑائی کے احساس سے بالکل خالی تھے۔ کسی کی برائی کرنے کو زندگی بھر پسند نہیں کیا، اسلاف کے پاکیزہ روایتوں کے امین اور قاسم بنے رہے، زندگی باکرامت گزاری، اخلاق اتنے بلند کہ نمونہ بن جائیں۔ بالآخر ایسی باکمال و پر جمال شخصیت قضائے الہی سے 13؍مئی؍2021ء مطابق:30؍رمضان المبارک؍1442ھ کو رحمت الہی کے آغوش میں ہمیشہ کے لیے پردہ پوش ہوگئی۔ خدا بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، امت کو ان کا بدل عطا فرمائے اور ان کی یادوں کے گلستاں کوسدا آباد رکھے۔
urd_Arab
ممبئی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بالی وڈ ہدایتکار ابھیشیک کپور نے فلم ''کیدارناتھ '' کے آخری شیڈول کی عکسبندی شروع کر دی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہدایتکار ابھیشیک کپور نے بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقے کیدارناتھ کے مندر میں فلم ''کیدارناتھ '' کے آخری شیڈول کی عکسبندی کے موقع پر لی گئی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس میں ابھیشیک کپور مندر میں کھڑے ہیں، فلم میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت اور سارا علی خان مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ یہ فلم سارا علی خان کی پہلی فلم ہو گی۔
urd_Arab
کولکاتا۔۔۔ ممتابنرجی کے لندن کی اصل تصویر » Roznama Sahara اردو Home Editorial / Opinion کولکاتا۔۔۔ ممتابنرجی کے لندن کی اصل تصویر ملک کے سب سے بڑے تھنک ٹینک نیتی آیو گ نے اپنے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ اپنے شہریوں کو ملازمتیں دینے اور معاشی خوشحالی فراہم کرنے میں کولکاتا ہندوستان کا سب سے ناکام ترین شہر ہے۔ ملک کے 56 شہروں کا احاطہ کرتے ہوئے 100 پوائنٹ کے بیرو میٹر پر کیے گئے اس سروے میں ممتابنرجی کے لندن کو فقط 3ہی پوائنٹ حاصل ہوپائے ہیں ۔نیتی آیوگ نے یہ سروے اقوام امتحدہ کے ' پائیدارترقی کے اہداف17'(ایس ڈی جی17) جسے عرف عام میں اہداف17(گول- 17)کہاجاتاہے، کے منصوبوں کے مطابق کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے دنیا سے غربت کے خاتمہ اور مستحکم ترقی و خوشحالی کیلئے یہ منصوبہ2015میں شروع کیاتھا اوراس کے 17 اہداف میں مستحکم اقتصادی ڈھانچہ کا فروغ، روزگار اور عوام الناس کو خوشحالی فراہم کرنا شامل ہے۔ نیتی آیوگ کے سروے میں ماسوا بنگلورو جس نے 100 میں 79اسکور کیا ہے دوسرے تمام شہر اپنے مطلوبہ ہدف کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں ۔ہندوستان کے 56 شہروں میں سے فقط 13 شہروں نے 50سے زیادہ پوائنٹ اسکور کیے ہیں ۔ اس سے قطع نظر کہ دوسرے شہروں میں ترقیات، روزگار اور معاشی خوشحالی کی کیا صورتحال ہے یہ سروے رپورٹ کولکاتا کو شہر نشاط کہنے اور سمجھنے والوں کی آنکھوں پر پڑے پردے کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب روزگار اور کاروبار کیلئے ہندوستان بھر کے لوگ بالخصوص مشرقی ہندوستان اترپردیش اور بہار کے لوگ جوق در جوق کولکاتا کا رخ کرتے تھے، اب یہاں نسلوں سے رہنے والے لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوچکے ہیں ۔بنگال کی معروف جوٹ صنعت اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ۔یہاں کی 70 بڑی جوٹ ملوں میں سے معدودے چند ہی کام کررہی ہیں اور ان ملوں سے وابستہ لاکھوں مزدور بے روزگار پھر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ریاست میں روزگار کی شرح 4%فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ فی کس آمدنی میں50فیصد سے زیاد ہ کی کمی واقع ہو گئی ہے ۔ مغربی بنگال کی تقریباً14کروڑ کی آبادی میں 18سے 35 سال کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً نصف ہے ا ور ان میں سے 30 سے40 لاکھ کے درمیان نوجوان مہاجر مزدور ہیں جو دوسری ریاستوں میں جاکر کام کررہے ہیں۔ باقی جو مغربی بنگال میں ہیں، اول تو حکومت انہیں روزگار ہی نہیں دے رہی ہے، دوسرے جو روزگار حاصل ہورہے ہیں، ان میں گھوٹالے اور بھاری رشوت کا بازار گرم ہے ۔اقربا پروری اور رشوت ستانی حکمراں طبقہ کا عمومی مزاج بن گیا ہے۔ 2011 کے بعد سے تقریباً ہر تقرری میں سنگین بے ضابطگی اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں لیکن حکومت نے کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اس کی وضاحت کرتی اور شکایت دورکرنے کی کوئی پہل کرتی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل امیدوار عدالت پہنچ گئے اور بدعنوانی، رشوت ستانی اور گھوٹالے سے پردے اٹھنے لگے۔کلکتہ ہائی کورٹ کے کئی ایک حالیہ فیصلوں کی وجہ سے یہ حقیقت اور بھی آشکار ہوگئی ہے کہ ترنمول کانگریس کی حکومت کے دور میں ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرریاں بغیر کسی بدعنوانی کے ہوئی ہوں۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی میں ہوئے گھوٹالہ کی چند یوم قبل ہی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی حکم کے خلاف حکومت اپیل کررہی ہے اور سی بی آئی تحقیقات کو رکوانے میں لگی ہوئی ہے لیکن عدالت کے اس حکم سے کم از کم یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ بغیر رشوت دیے صرف میرٹ کی بنیاد پر مغربی بنگال میں معمولی سی گروپ ڈی کی ملازمت اور روزگار حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی کے معاملے میں تو بدعنوانی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئی ہیں۔ اسکول ایجوکیشن بورڈ نے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے بغیر کسی سفارش یا میرٹ لسٹ کے ہزاروں ہزار لوگوں کو ملازمت دے دی ۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جوبحالیاں ہوئی ہیں، اس کی سفارش ہم نے نہیں کی ہے جب کہ بورڈ نے باقاعدہ عدالت میں حلف نامہ دے کر دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے ایک پین ڈرائیو ملا تھا جس میں سفارش تھی۔اسکول ایجوکیشن بورڈ اور اسکول سروس کمیشن کی اس سازباز پر عدالت بھی ششدر رہ گئی اور بالآخر اسے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔ کم و بیش یہی صورتحال دوسری ملازمتوں کی بھی ہے۔ پرائمری ٹیچروں کی تقرری کے معاملے میں کئی درجن کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ امتحان پاس کرنے، انٹرویو دے کر میرٹ لسٹ میں آجانے کے باوجود ان کی جگہ پر دوسرے لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اسی طرح کی ایک ملازمت کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے تقریباً 500 کارکنوں کی تنخواہ کی ادائیگی پر روک لگاکر ان کے بحالی عمل کی جانچ کا حکم بھی دیا ہے ۔ فی الحال مغربی بنگال حکومت کے مختلف محکموں میں2لاکھ سے بھی زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن پر حکومت کوئی بحالی نہیں کر رہی ہے جب کہ ریاست کے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میںڈیڑھ لاکھ اساتذہ کی خالی اسامیاں بھی تقرری کا انتظار کررہی ہیں۔ لیکن حکومت ان اسامیوں پر تقرری کے بجائے ٹھیکہ پر کام کراکر پیسے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاست کے ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں تقریباً 4لاکھ بے روزگار اب بھی رجسٹرڈ ہیں، اکیلے سال 2020 میں ایک لاکھ بے روزگاروں نے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے ۔ان میں سے 30 ہزار سے بھی زائد ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں جنہیں مختلف کالجو ں میں اپنی تقرری کا انتظار ہے ۔ کولکاتا کو لندن بنانے کا دعویٰ کرکے 2011سے حکومت کرنے والی ترنمول کانگریس اور اس کے لیڈروں نے پورے مغربی بنگال کوبے روزگاراور مقروض بنادیا ہے ۔جب ترنمول کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو ریاست پر 2 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کاقرض تھا جو 10برسوں میں بڑھ کر آج5لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔ آج مغربی بنگال میں ہر بچہ 50 ہزار روپے کے قرض کے ساتھ پیدا ہو رہاہے۔ ممتا بنرجی کی نت نئی اسکیمیں بھی اسی قرض کی رقم سے ہی چلائی جارہی ہیں۔ اس بھاری بھرکم قرض کے باوجود عورتوں کی 'فلاح' 500روپے فی کس نقد رقم بانٹنے کی اسکیم 'لکھی بھنڈار' شروع کی ہے اور یہ اسکیم بھی قرض کی رقم سے چلائی جارہی ہے۔ کولکاتا کی عظمت رفتہ کا بحال ہونا جلد ممکن نہیں لیکن بنگال اور کولکاتا کے نوجوانوںکو خو د کفیل اور برسرروزگار ضرور بنایا جا سکتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ کولکاتا کو لندن بنانے کے خواب میں بنگالیوں کو الجھانے اور قرض کی رقم بانٹ کرلوگوں کو محتاجی کی طرف لے جانے کے بجائے ترنمول حکومت ریاست کے لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنے کا سامان کرے۔ Previous articleIN PIC: Border Security Force (BSF) personnel stand guard at Line of Control (LOC) along the Sunderbani area in Jammu.
urd_Arab
بارشیں برسانے والا اگلاسسٹم پاکستان میں داخل ہونے کیلئے تیار،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی – Pak 92 News Home/National/بارشیں برسانے والا اگلاسسٹم پاکستان میں داخل ہونے کیلئے تیار،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی Admin November 27, 2020 National Leave a comment 256 Views اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ ماہ دسمبر میں لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے کا سسٹم دسمبر کے پہلے ہفتے پنجاب میں داخل ہوگا۔ جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشیں متوقع ہیں۔ ان بارشوں کی وجہ سے شہر کا درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی جبکہ گزشتہ روز شہر میں ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ ساتھ دھوپ نکلنے سے موسم خوشگوار رہا دوسری جانب سینئرصحافی صابر شاکر نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ فوج میں تقرر و تبادلوں کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بہت اہم ہوگئے ہیں،اگلا آرمی چیف کون ہوگا، کب ہوگا؟اس کی کنجی اور مکمل اختیار جنرل قمرجاوید باجوہ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان سینئر افسران کے تقررتبادلوں کو لے کر بار بار نومبر دسمبر کی بات کررہا تھا۔ن لیگ نے اپنی تقاریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ہدف تنقید بنایا، نواز شریف نے گوجرنوالہ اور کوئٹہ میں تقریر کی، لیکن کراچی اور پشاور میں تقریر نہیں کرنے دی گئی،پشاور میں اے این پی اور کراچی میں پیپلزپارٹی سائیڈ پر ہوگئی۔صابر شاکر نے کہا کہ ان کی بڑی خام خیالی تھی، وہ بار بار کہتے تھے کہ ہم تو صرف دوشخصیات کے خلاف ہیں، صابر شاکر نے کہا کہ یہ لوگ ان سینئر آفیسرزکی جانب دیکھ رہے تھے جنہوں نے 10دسمبر کو ریٹائرڈ ہونا تھا،ان میں اہم ترین کورکمانڈرز شامل ہیں، صابر شاکر نے دعویٰ کیا کہ ان کا خیال تھا کہ ادھر سے سپورٹ ملے گی اور اختلافات پید اہوجائیں گے۔لیکن کور کمانڈرز کانفرنس میں کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک تھا، ترقیاں بھی ہو گئیں، تبادلے بھی ہو گئے اورآئندہ دو تین ہفتوں میں ان ساری چیزوں پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہو جائے گا۔ Previous میرا ایک ارب پتی دوست پیمپر لگا کر سارا دن گھر میں اکیلا بیٹھا رہتا ہے ، چند دن قبل اسے ملنے گیا تو دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا ، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا ۔۔۔۔ جاوید چوہدری کی سبق آموز تحریر
urd_Arab
نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر.... ساغر صدیقی - مجاہد الحسینی اللہ کے آخری نبی ورسولﷺ کی شانِ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں 1953ءکی تحریکِ ختم نبوت کا آغاز تھا، قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگی رہنماو¿ں کی حصولِ اقتدار کی کشمکش خوب زوروں پر تھی، آزادی ملنے کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت علیا کی گدی پر میاں ممتاز دولتانہ براجمان ہو چکے تھے، تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی سعادت پانے والوں کی تحریک کے ترجمان روزنامہ آزاد لاہور کے دفتر میں خوب رونق رہتی تھی۔ ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس، سرکے بکھرے بال، چہرے پر غربت وافلاس کی سلوٹیں اور عجیب و غریب حالت میں ایک درویش میرے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ میں سمجھتا تھا کہ ابھی اپنی غربت کا رونا روکر مجھ سے بھیک مانگے گا مگر میری حیرت کی انتہا۔۔۔کہ اس نے دعا سلام کے بعد بیٹھتے ہی چائے کی فرمائش کی، میں نے دفتر کے خادم سے چائے لانے کو کہا تو اس نے ساتھ ہی سگریٹ کی ڈبیا لانے کی بھی فرمائش کردی، میں نے ساتھ بسکٹ لانے کا اضافہ کر کے خادم کو روانہ کر دیا، پھر میں نے نووراد کا تعارف اور ضروری معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس نے ساغر صدیقی نام بتاتے ہی اپنے چند اشعار سنائے۔ کلام کی روانی اور بلاغت سے میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو " گودڑی میں لعل" کا مصداق ہے، اب ساغر صدیقی سے دوستی اور تعلقِ خاطر کا رشتہ قائم ہوگیا، وہ چند روز کے وقفے میں قدم رنجہ ہوتے تو حسبِ معمول آتے ہی چائے اور سگریٹ لانے کی فرمائش کرتے ہوئے لکھنے کے لئے کاغذ طلب کرتے اور میرے سامنے بیٹھ کر فی الدیہہ اپنا کلام لکھتے اور سناتے اور دفتری عملے سمیت موجود سامعین سے خوب داد وصول کرتے تھے۔ چنانچہ تحریک ختم نبوتﷺ کی تائید میں ساغر صدیقی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے کاپی رائٹر علامہ لطیف انور، شریف جالندھری، جانباز مرزا، محمود مرزا پشاوری، حفیظ رضا پسروری، سائیں محمد حیات اور دیگر شعراءبھی ہمنوا اور شرکت کیا کرتے تھے،پھر تحریک ختم نبوت? رفتہ رفتہ ہمہ گیر ہوتی گئی اور صورتِ حال کی مناسبت سے سب سے زیادہ حسبِ حال کلام ساغر صدیقی اور علامہ شریف جالندھری کا ہوتا تھا، تحریک ختم نبوتﷺکی شدت پر دولتانہ صاحب نے عشاق عقیدة ختم نبوتﷺکی پکڑ دھکڑ شروع کردی تھی، چنانچہ سرگودھا میں مولانا ثناءاللہ امرتسری مرحوم کے پوتے ذکاءاللہ امرتسری اور صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلومہار شریف کے فرزند خالد حسن کو ختم :نبوتﷺ کے نام سے جلسے کا انتظام کرنے پر گرفتار کر لیا تھا، جس پر علامہ شریف جالندھری نے لکھا تھا
urd_Arab
اقلیتی برادری کی سیکورٹی اور بلدیاتی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، .. پیر 2 مارچ 2015 - 14:42 حکمران جوڈیشل کمیشن کے قیام میں تاخیر کر کے اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں'سعدیہ سہیل رانا پیر 2 مارچ 2015 - 14:41 تحریک انصاف (ن) لیگ کو بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیگی' یاسر گیلانی پاکستان نے کرکٹ ورلڈ کپ میں فتوحات کا آغاز کر دیا ،انشا اللہ یہ سلسلہ جاری رہیگا ' عرفان دولتانہ عوام کو 8 برسوں سے مقامی حکومتوں سے محروم رکھناحکمرانوں کی آمرا نہ پالیسی کا عکاس ہے' عابد صدیقی سری لنکانگران حکومتصومالیہنامعلوم افرادعالمی بینکسعودی عرب، سمگلنگآتشزدگیبلاول بھٹو زرداریشوبزمیر گل خان نصیرمولانا فضل الرحمنمنموہن سنگھپیپلز پارٹیآئی سی سیجرمانہسوئی گیسقاسم ضیاءمحمد علی جناحشرجیل میمنسیّد مسعود کوثر کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02مارچ۔2015ء) کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا ہے کہ اقلیتی برادری کی سیکورٹی اور بلدیاتی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات ہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اقلیتی برادری کی خدمات باقابل فراموش ہیں ، ان کی ملک سے وفاداری اور محبت پر کوئی شک و شہبات نہیں ، تعلیم اور طب کے شعبہ میں گرانقدار خدمات انجام دے رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈوکیٹ کی سربراھی میں اقلیتی برادری کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر کیا ، اس موقع پر سینئر نائب صدر آتم پرکاش ، ہیڈ منیارٹی سلیم مائیکل ایڈوکیٹ ، اور ڈائریکٹر میڈیا کمشنر کراچی محمد شبیہ صدیقی بھی موجود تھے ، کمشنر کراچی کو وفد نے وائی ایم سی اے ،مری ماتا مندر اور ہندو جیم خانہ کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس کی خدمات کے پیش نظر کراچی کی کوئی شاہراہ یا پارک ان کے نام سے منسوب کیا جائے ، جسٹس ھیلپ لائن نے بتایاکہ وہ جلدہی جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کرینگے ، کمشنر کراچی نے جسٹس ہیلپ لائن کی درخواست پر موقع پر ہی احکامات جاری کئے اور وفد کو اپنی اور حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس ہر پاکستانی کیلئے ہے چاہے اسکا تعلق اکثر یتوں سے ہو یا اقلیتوں سے ، حکومت مذہبی تہواروں اور تقاریب کے مواقعوں پر سیکورٹی اور بلدایاتی امور کے حوالے سے جسطرح اکثر یتوں کیلئے انتظامات کرتی ہے اسی طرح اقلیتی برادری کیلئے بھی کرتی ہے ، وفد نے اس موقعہ پر تعاون کی یقین دہانی پر کمشنر کراچی اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ملکی ترقی اور امن کیلئے اقلیتی برادری کی جانب سے حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ۔
urd_Arab
مرکز افکار اسلامی تعلیم و تربیت مرکز افکارِ اسلامی - مرکز افکار اسلامی اہمیت تعلیم و تربیت قوموں کی ترقی و تنزلی کا بنیادی سبب ان کی تعلیم و تربیت ہوتا ہے۔اسلام میں جتنی تاکید تعلیم پر دی گئی ہے اتنی اہمیت کسی اور نظریہ میں نہیں ہے۔ اس فریضہ کی ادائگی کا حکم جہاں سیکھنے والوں کو دیا گیا ہے اس سے زیادہ تاکید اور اجر سکھانے والوں کے بارے نیان ہوا ہے۔اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے مرکز افکارِ اسلامی بھی اپنی ممکنہ توان تک مشغول ہے ۔ قوم کے افراد کے لئے مرکز درج ذیل امور انجام دے رہا ہے۔ 1:جامعہ جعفریہ جنڈ جوان بچوں کے دینی تعلیم و تربیت کے لئے دینی مدرسہ جامعہ جعفریہ جنڈ کی سرپرستی۔جامعہ میں اس وقت پچاس کے قریب طلبا زیر تعلیم ہیں جن کو چار سالہ کورس پڑھایا جاتا ہے اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ طلاب اس مرحلہ کو طے کرنے کے بعد حوزہ علمیہ قم یا مشہد یا نجف اشرف جا سکیں۔الحمد للہ جامعہ کے طلاب کی ایک خاصی تعداد ان حوزوں میں زیر تعلیم ہے۔ 2:جامعہ زینبیہ جوان بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم و تربیت بہت مہم ہے اور حقیقت میں جس قوم کی خواتین کا معیار تعلیم بلند ہوتا ہے وہی قوم ترقی کر سکتی ہے ۔خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کےفریضہ کی ادائگی کے لئے جنڈ کی ایک مومنہ نے پانچ کنا ل جگہ وقف کرائی اور بچیوں کے لئے قائم اس مرکز کو جامعہ زینبیہ کا نام دیا گیا۔جامعہ زینبیہ کی تعمیرات کا سلسلہ شروع ہے ۔دعا ہے یہ مرحلہ جلد مکمل ہو اور یہاں رہائش کا اہتمام ہو اور بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ چل سکے۔ 3:مختصر کورسسز (ا)فرصت کے اوقات کو تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کرنے کے لئے مرکز افکار سال بھر کئی جز وقتی پروگرام ترتیب دیتا ہے۔بچوں اور بچیوں کے لئے شارٹ کورسسز کا اہتمام کیا جاتا ہے جو بچوں کی چھٹیوں کے ایام میں انجا م پاتا ہے۔ (ب)تعلیم کے معیار کے اضافہ میں کتاب خوانی کا ایک بہت مہم کردار ہے۔ترقی کے معیار کو ناپنے کے لئے وہاں کے کتابخانوں کی تعداد اور کتنی مقدار میں لوگ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور کتنی کتابیں پرنٹ ہوتی ہیں ان چیزوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔مرکز افکار اسلامی جہاں کتابیں چھاپنے اور انہیں سستے داموں قوم کے افراد تک پہیچانے کی کوشش کر رہا ہے وہا افارد میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے کتابخوانی کے مقابلے کراتا ہے اور اس میں انعامات کے ذریعہ لوگوں کو تشویق دلائی جاتی ہے۔مرکز کا یہ پروگرام الحمد للہ ملک بھر میں ایک شہرت رکھتا ہے اور خاصی تعداد میں لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں۔ (ج)نئی نسل کو قلم اٹھانے کا شوق دلانے اور مستقبل کے مؤلف و مصنف تربیت کرنے کے لئے مرکز کئی سالوں سے مقالہ نویسی کے مقابلوں اور معقول انعامات کے ذریعہ جوان طلاب کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور الحمد للہ سینکڑوں افراد ان مقابلوں کے ذریعہ قلم اٹھاتے ہیں اور مرکز کے پاس بیسیوں موضاعات پر سینکڑوں مقالے موجود ہیں جنہیں کتابی صورت میں نشر بھی کیا جاتا ہے اور ان مقالوں پر مبنی کئی کتابیں مرکز کی طرف سے نشر ہو چکی ہیں۔ 4:قرآن سنٹر تقریبا پندراں سال سے مرکز کی کوشش رہی کی ضلع اٹک کے قرآنی سنٹروں کو زیادہ سے زیادہ فعال کیا جائے اور وہاں کام کرنے والے علماء کے ساتھ تعاون کیا جائے الحمد للہ ضلع بھر کے علماء اور اٹک سے باہر کے بھی چند عماء اس پروگرام میں ساتھ دے رہے ہیں اور یہ کام مناسب انداز سے بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔ 5:عمومی دروس مرکز کی کوشش ہے کہ جوانوں کے ساتھ ساتھ عمومی افراد کے تعلیمی معیار کو بھی بڑھایا جائے ۔اس کے لئے مرکز اتوار کلاسوں کا اہتمام کر رہا ہے اور خواتین و حضرات کے لئے کچھ عمومی دروس کی سعی کی جارہی ہے یہ کام ابھی اپنے ابتدائی ایام میں ہے اور چند کامیاب پروگرام انجام پا چکے ہیں۔ 6:عصری تعلیم دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی عصری تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے مرکز چند پروگرام انجام دے رہا ہے (ا) جامعہ جعفریہ کے طلاب کے لئے باقاعدہ سکول ٹیچر مہیا کئے جاتے ہیں اور بچے ایف اے تک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور الحمد للہ پچھلے چند سالوں سے بچے اچھے نمبروں سے کامیاب ہو رہے ہیں۔ (ب)تعلیمی وظائف: قوم کے وہ نونہال جو مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے تعلیم سلسلہ کو جاری نہیں رکھ سکتے ان کے ساتھ مالی تعاون کیا جاتا ہے اور ابتدائی کلاسوں سے لے کر ڈگری لیول تک کے طلاب اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ (ج)جامعہ جعفریہ جنڈ کے طلاب کے لئے کمپیوٹر اور کمپیوٹر کا ٹیچر مہیا ہے جو بچوں کو عصری ضرورت کے مطابق کمپیوٹر سکھاتا ہے اور مرکز کی کوشش ہے کہ عام جوان بچے اور بچیاں اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں۔ 7:ٹیکنیکل کام مرکز نے کچھ خواتین کو سلائی مشینین مہیا کی ہیں اور انہیں سکھانے کے لئے اساتذہ کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ خواتین اپنے گذر اوقات کے لئے سلائی کو ذریعہ بنا سکیں ۔دیگر ٹیکنیکل کام سکھانے کی کوشش ہے۔
urd_Arab
طالبان کی امریکہ کو 7 سے 10 روز کی عارضی سیز فائر کی پیشکش - اسلام ٹائمز کورونا وائرس کے 94 فیصد مریض صحتیاب ہوئے ہیں، ڈاک سیکرٹری بلوچستان اسمبلی نے استعفٰی دیدیا پختونخوا حکومت کی بی آر ٹی منصوبے پر تعمیراتی کام جاری رکھنے کی ہدایت طورخم سرحد افغان شہریوں کی واپسی کیلئے یکطرفہ طور پر کھول دی گئی علامہ حمید امامی کی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر شہریار آفریدی سے ملاقات زلمے خلیل کافی عرصے سے طالبان پر سیز فائر کیلئے زور دے رہے تھے، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ طالبان کی اس پیشکش کے بعد انکے اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوسکے گی یا نہیں، جسکا حتمی مقصد فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ افغان طالبان نے امریکا کو افغانستان میں 7 سے 10 روز کی عارضی سیز فائر کی پیشکش کر دی۔ امریکی خبر رساں ایجنسی "اے پی" کے مطابق مذاکرات سے باخبر افغان طالبان کے عہدیداران نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے سیز فائر کی پیشکش کی دستاویز قطر میں افغان امن عمل میں امریکا کے نمائندے زلمے خلیل زاد کے حوالے کی گئی ہے۔ زلمے خلیل کافی عرصے سے طالبان پر سیز فائر کے لیے زور دے رہے تھے، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ طالبان کی اس پیشکش کے بعد ان کے اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوسکے گی یا نہیں، جس کا حتمی مقصد فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہے۔ طالبان کی اس کی پیشکش کو امن معاہدے کی جانب مثبت پیش قدمی کے نئے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے افغانستان میں 18 سال سے جاری طویل جنگ کا خاتمہ اور وہاں سے امریکی فوج کا انخلا ممکن ہوسکے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان کی اس پیشکش پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ آج مثبت پیشرفت ہوئی ہے، طالبان نے تشدد کو کم کرنے کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہوگی کہ مختلف افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا، تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد کابل کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ اس لائحہ عمل میں کئی اہم معاملات جیسے مستقل سیز فائر، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور طالبان کے ہزاروں جنگجوؤں کے مستقبل جیسے امور پر غور کیا جائے گا۔ تاہم طالبان افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ افغان حکومت داخلی طور پر بھی اختلافات کا شکار ہے، جہاں 2014ء میں انتخابات کے بعد امریکا کی مداخلت سے اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور دیگر کے درمیان حکومتی عہدے تقسیم کیے گئے تھے، لیکن رواں برس منعقدہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ان کے آپس میں اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اپنے طور پر کامیابی کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ انتخابی نتائج کا اعلان تین مہینوں کے بعد بھی نہیں ہوسکا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ستمبر میں افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد اچانک طے شدہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ زلمے خلیل اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔ تاہم نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ مغربی تہوار "تھینکس گِونگ" کے موقع پر اچانک افغانستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔ دسمبر میں طالبان نے ہفتوں کی مشاورت کے بعد عارضی جنگ بندی کی پیشکش پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
urd_Arab
افغان کانفرنس: کیا پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا؟ - شفقنا اردو نیوز جولائی 16, 2021 114 views افغانستان میں قیامِ امن اور استحکام کے لیے پاکستان نے ایک کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کو ٹیلی فون کرکے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں حامد کرزئی سمیت اعلیٰ افغان قیادت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان پر مجوزہ تین روزہ کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا جس میں پاکستان کے لیے افغانستان کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داؤدزئی، سابق وزیرِ داخلہ ڈاکڑ حضرت عمر زخیلوال، صلاح الدین ربانی، ہزارہ برادری کے سینئر رہنما حاجی محقق، گل بدین حکمت یار اور احمد ولی مسعود کی شرکت متوقع ہے۔ فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل کے حل کی نئی امید پیدا ہوگی۔ واضح رہے کہ اس مجوزہ کانفرنس کے لیے تاحال پاکستان کی جانب سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان نے یہ کانفرنس ایسے وقت میں طلب کی ہے جب افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کے دوراہے پر ہے۔ افغانستان میں مفاہمت اور سیاسی حل کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ خدشات پختہ ہوتے جارہے ہیں کہ افغانستان ایک ایسی تباہی کی طرف جارہا ہے کہ ہم ماضی کی تمام تباہیوں کو بھول جائیں گے۔ نتیجتاً پاکستان کے ساتھ بھی ایسا کچھ غلط ہونے والا ہے کہ جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں۔بلاشبہ قطر مذاکرات جاری ہیں۔ جوبائیڈن نے افغان امن عمل میں بظاہرروس، چین، ایران، انڈیا اور ترکی یعنی علاقائی طاقتوں کو بھی آن بورڈ لیا ہے۔ امریکی افواج کا انخلا تیزی کے ساتھ جاری ہے اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ سیاسی حل کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان حکومت اور طالبان ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کرنے میں رتی بھر سنجیدہ نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں سیاسی حکومت کی تشکیل میں ٹھوس کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ افغان طالبان اور عالمی برادری کے ذمے دار ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں ہی کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ اگلے مرحلے میں افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ہونا ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد میں کمی کے باعث تاحال ممکن نہیں ہو پائے۔ کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے افغانستان میں بد امنی و انتشار کی صورت حال پر قابو پانے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ بے یقینی کی اس صورت حال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو بھارت نے افغانستان میں ایسے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ امن کی ہر کوشش ان کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتی، جب تک افغان عوام اور حکومت کو بیرونی سازشوں اور استعماری طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے نجات نہیں مل جاتی، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکوک رہے گا۔ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا، امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو اقتدار کی تقسیم کے انتظامات سے متعلق ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ نامی تھنک ٹینک کی ''پاکستان: افغان امن عمل کی سپورٹ'' نامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل تیز تر ہوتا ہے یا پوری طرح سے ناکام ہوجاتا ہے کسی بھی صورت میں اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ جب کہ بھارت اس صورتحال سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ امریکہ کسی صورت پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے پہ تیار نہیں ہے حالانکہ امریکہ اور س کے حلیف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان ہی وہ ملک ہے جو افغان انخلا سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ ایشیا ٹائم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بگرام بیس خالی کرنے سے پہلے سابق امریکی صدور بارک اوباما اور جارج بش سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھیں افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔ان سب معاملات کی روشنی میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے، انھیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ دوحہ معاہدے پر اصرار کیے بغیر افغانستان سے جا رہے ہیں۔ بگرام بیس خالی کرنے سے متعلق اطلاع دینے تک کی زحمت نہیں کی گئی۔ وہ بھی اس حال میں جب وہاں واقع جیل میں ہزاروں طالبان قیدی موجود ہیں۔ یہاں پر شکوک وشبہات کا پیدا ہونا لازمی امر ہے کہ کیا امریکی جان بوجھ کر افغانستان کو تباہ کن خانہ جنگی کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟فرض کرلیتے ہیں کہ یہ مفروضہ درست ہے تو پھر پاکستان اس ضمن میں کیا حکمت عملی ترتیب دے گیا ، کیا پاکستان اس صورتحال کا مقابلے کرنے کے لیے چین، روس اور ایران سے رابطہ کرکے اپنی سفارتکاری کے ذریعے افغان متحارب فریقوں کو مفاہمت پر آمادہ کرنے اور امریکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے ایجنڈے کو عملی شکل دے پائے گا، یہ ملین ڈالرسوال ہے ۔ اہسے موقع پر افغانستان امن کانفرنس کا انعقاد پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک بہترین اور شاید آخری کوشش ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس کانفرنس میں تمام مقامی و بین الاقوامی کھلاڑیوں کو مدعو کرے۔ اس وقت بھارت افغانستان کو اسلحے کی فراہمی کے ذریعے حالات کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ جب کہ پاکستان اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں ہے اور افغانستان کا مخدوش مستقبل پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ خطی کھلاڑیوں خاص طور پر ایران، چین اور روس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ کیونکہ امریکہ اور بھارت اس وقت پاکستان کو اسی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں جس میں وہ ایک مرتبہ ماضی میں پھنس چکا ہے۔ پس یہ بروقت کانفرنس ایک اہم موقع ہے کہ افغان مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ جمعتہ المبارک، 16جولائی 2021 ur. Shafaqna.com افغان طالبانافغانستان کانفرنسامریکی صدر جو بائیڈنبگرام ائیر بیسپاکستان اور افغانستان جنگدوحہ امن معاہدہ
urd_Arab
فاریکس مارکیٹ کی بنیادی باتیں ،AJAX کیا ہے شیوہ خسرم مہر 2020/10/18 قابلِ اعتماد تجارتی پلیٹ فارمز اس AJAX کیا ہے بار فلٹرز استعمال کرنے کے ل a ہم ایک مختلف نقطہ نظر استعمال کریں گے۔ قطار کے ہیڈر میں Ctrl + شفٹ + L دبائیں۔ بازار فارکس : این بازار محل خرید و فروش جفت ارزها است یعنی خرید یک ارز و فروش یک ارز دیگر برای مثال یورو(از اتحادیه اروپا) در مقابل دلار آمریکا و یا پوند انگلیس در مقابل ین ژاپن .eur/usd….gbp/jpy مهمترین ارزها مورد داد وستد در این بازار به ترتیب. چائے بنانے کے لئے پودینہ قدرتی ہے۔ خوشبو اور ذائقہ دونوں متحرک ہیں۔ محض پیپرمنٹ یا اسپیئر مائنٹ کے ساتھ نہ رکیں۔ گلاب ، چاکلیٹ ، اور اورینج سمیت ، ہر ذائقہ کے بارے میں جس میں آپ سوچ سکتے AJAX کیا ہے ہو اس میں منٹ موجود ہیں۔ تازہ پتے سب سے زیادہ ذائقہ حاصل کریں گے ، لیکن جب خشک ہوجائے تو زیادہ تر جڑی بوٹیوں سے بہتر ٹکسال اپنی خوشبو اور ذائقہ دونوں کو تھامے رہتے ہیں۔ صرف کچھ پتیوں سے شروع کریں اور ذائقہ کو ایڈجسٹ کریں۔ دستی طور پر یہ چیک کرنے کے لئے کہ سائٹ نے کیا پیش کش کی ہے ، پر جائیں اسٹور تمام گیمز کو براؤز کریں . اس کے بعد آپ کلیکشن کرکے سائٹ کے مجموعہ کو صرف میک کے موافق ٹائٹلز پر فلٹر کرسکتے ہیں میک کے لئے تمام کھیل . اگرچہ آپ اعلی پوزیشن میں داخل ہونا چاہتے ہیں AJAX کیا ہے ، لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کچھ دیر انتظار کریں گے کہ پہلے کیا ہوگا۔ اس مثال کے معاملے میں ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اچھ bearا ریچھ کی موم بتی اچانک نمودار ہوتی ہے ، حمایت کو توڑتی ہے اور رجحان کو نیچے کی طرف موڑ دیتا ہے۔ بیا بہ کلبۂ ویران من کہ پنداری. اسپاٹ مارکیٹ اور ایکسچینجز - AJAX کیا ہے آفس 365 کو آف لائن استعمال کرنے کے ل you ، آپ کو ونڈوز کے مطابقت پذیر AJAX کیا ہے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر آفس پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا۔ جب آپ پہلی بار سائن اپ کرتے ہیں تو آپ کو آفس پروگرام مقامی طور پر انسٹال کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، لیکن آپ اپنی فعال رکنیت کے دوران کسی بھی وقت ان کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اپنے آفس 365 آن لائن خریداری کو فعال رکھنے اور آف لائن کی جانے والی تبدیلیاں مطابقت پذیر رکھنے کے ل You آپ کو کم سے کم ہر 30 دن بعد کلاؤڈ پر مبنی پروگرام میں سائن ان کرنا ہوگا۔ مائیکروسافٹ آپ کو ایسا کرنے کے لئے کہے گا تاکہ آپ کو یاد رکھنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو ملحقہ دنیا میں ہونے والے تمام واقعات کے بارے میں بریفنگ مل جاتی ہے۔ آپ کو کی گئی تبدیلیوں اور نئے اپ ڈیٹس سے آگا ہی ملتی ہے۔ میں اپنی جمع / واپسی کی درخواست کیسے منسوخ کرسکتا ہوں؟ فاکس میٹریکس ایک ہے واقعہ سے باخبر رہنے کی اور ویب تجزیات کا آلہ اس کا مقصد صارفین کو ان کے آن لائن کاروبار کو چلانے کے لئے تمام معیاری تجزیاتی خصوصیات فراہم کرنا ہے۔ تجزیاتی کمپنیوں کو اس کا احساس ہو گیا ہے AJAX کیا ہے لوگوں کے اعداد و شمار صفحے کے نظارے سے زیادہ بلند آواز میں بولتے ہیں . پلیٹ فارم کی مرکزی توجہ صارفین کی ویب سائٹ پر آنے والے زائرین کے اعمال اور سرگرمیوں پر ہے۔ کچھ برانڈز دنیا بھر کے مقامات پر بکس کرایہ پر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکاگو اور نیویارک کے منتخب اسٹیڈیموں میں میریئٹ کی بڑی موجودگی ہے ، اور آپ سوٹ نشستوں کے لئے پوائنٹس کو چھڑا سکتے ہیں جن میں اکثر مفت کھانا پینا شامل ہوتا ہے۔ آپ کے لئے بلیک آؤٹ کے بہترین رنگوں کو تلاش کرنے کے ل. ان خصوصیات پر فوکس کریں جو اہمیت کا حامل ہے۔ قرض حسنہ: رہا یہ سوال کہ غیر سودی بینک ضرورت مندوں کے لیے غیر پیداواری قرضے، بلا سود کس طرح جاری کرے گا؟ اور اس کا کیا جواز AJAX کیا ہے ہو گا؟ تو جواب یہ ہے کہ خود بینک کو کرنٹ اکاؤنٹ کی مد میں ایک بہت بڑا سرمایہ غیر سودی قرض کی صورت میں حاصل ہوتاہے، جیساکہ پہلے ذکر ہو چکاہے۔ اس رقم میں سے ایک حصہ وہ غیرسودی قرضوں کے طور پر دے سکتا ہے۔ بینک اس رقم سے بلا سود غیر تجارتی قرضے اور قلیل المیعاد قرضے جاری کرے گا۔ اول الذکر غیر تجارتی ہونے کی وجہ سے اور مؤخر الذکر کو قلیل مدت ہونے کی وجہ سے مضاربت کی بنیاد پر دینا ممکن نہ ہو گا، لہٰذا بینک اس قسم کے قرضے بلا سودجاری کرے گا۔ البتہ یہ قرضے جاری کر نے کے لیے ان کے حساب و کتاب کی اجرت لینا جائز ہے۔ مثلاً قرض کی درخواست کے لیے فارم کی قیمت لی جائے وغیرہ۔
urd_Arab
خود بدلتے نہیں‏، قرآن کو بد دیتے ہیں ملک کی عدالت عظمیٰ اور مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بینچ نے دو اہم فیصلوں میں شریعت کی رہنمائی پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ مدورائی بینچ نے ایک مسلم والد کے ذریعہ دائر اپیل پر فیصلہ سنایا ہے۔ والد نے اپنی ۱۸سال سے کم عمر بچی کی شادی مقامی مجسٹریٹ کے ذریعہ رکوانے پر اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا "شریعت میں جو چیز جائز کی گئی ہے اس کا مطلب اس کو کرنے کا حکم نہیں ہے۔ صرف اجازت ہے۔ ۲۰۰۶/ کا قانون تمام پرسنل لاء سے اوپر ہے وہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔" اس فیصلہ پر ہندوستان کے ماہرقانون طاہر محمود صاحب نے انڈین ایکسپریس کی ۱۴/۳/۲۰۱۵/ کی اشاعت میں "یہ دعویٰ کیا کہ الٰہی یا خدائی قوانین ماوراء دستور قوانین ہیں احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہے" موصوف کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لاء کے تحت لڑکا لڑکی کے بلوغ کی عمر ۹-۱۲ سال ہے۔ اگر یہ بعض وجوہات کی بناء پر پہلے نہ ہوجائے تو دونوں کی عمر ۱۵ سال ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ عمروں کا یہ تعین قرآن وحدیث سے نہیں؛ بلکہ اسلام کے شروعاتی دور کی قوانین کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ شریعت کے ذریعہ صرف جائز قرار دی گئی اجازتیں جیسے تعدد ازدواج اور یک طرفہ طلاق کو غیر منصفانہ طریقہ سے الہامی یا کتابی حکم بتایا جاتا ہے۔ اسے بنیاد بناکر مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی اصلاح کی مخالفت کی جاتی ہے، دستور جو ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق عمل کی اجازت دیتا ہے، وہ صرف مذہب کی ضروری بنیادی تعلیمات پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ نہ کہ ان رسومات پر عمل کی بھی آزادی دیتا ہے، جن کو مذہب نے صدیوں پہلے مخصوص ماحول میں جائز قرار دیا تھا۔ یہ دعویٰ کرنا کہ کوئی بھی مزعومہ الہامی قانون دستور سے اوپر ہے، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ (انڈین ایکسپریس دہلی ۱۴/۳/۲۰۱۵/) اسی طرح فروری ۲۰۱۵/ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے ایک فیصلہ میں عدالت نے سرکاری ملازم کے ذریعہ دوسری شادی پر برخاستگی کی اپیل پر فیصلہ میں کہا کہ "ایک سے زیادہ شادی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے نہیں ہے اور ایسا کرنے کا حکم بھی نہیں ہے، صرف اجازت ہے۔ مسلمان جو ایک سے زیادہ شادی کرتا ہے وہ نہ تو اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل کررہا ہوتا ہے نہ اسے اپنا رہا ہوتا ہے، نہ اس کی تبلیغ کررہا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ دفعہ ۲۵ کے تحت دی گئی آزادی کا حقدار نہیں ہوتا۔" اس پرتبصرہ کرتے ہوئے Nalsar کے وائس چانسلر فیضان مصطفی صاحب کہتے ہیں کہ اس فیصلہ سے مسلم پرسنل لاء میں اصلاح کا عمل فروغ پائے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن وحدیث اسلام کے بنیادی مآخذ ہیں۔ جو رشتوں کو منظم اور مربوط کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ سماجی تعلقات ہیں جوکہ ریاست کی عملداری میں آتے ہیں؛ اس لیے تعدد ازدواج کے مذہبی محرکات نہیں ہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں ترمیم یا منسوخی سے مذہبی آزادی پر حملہ ہوتا ہے، جب یہ مان لیا جائے کہ مسلمانوں کا تہذیبی تشخص صرف پرسنل لاء پر ہی منحصر ہے۔ انڈین مسلم قوانین برائے نکاح، طلاق، تعدد ازدواج قرآنی آیات کی اخلاقیات کے مطابق نہیں ہیں۔ قرآن عدل کی شرط کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے جو کہ ناممکن ہے؛ مگر ہندوستانی مسلم قانون اس پیشگی شرط کو نظر انداز کرتا ہے؛ جب کہ کثرتِ ازدواج کی عالمی تاریخ میں پیشگی شرط زیادہ اہم ہے، نہ کہ صرف اجازت کا ہونا۔ مندرجہ بالا دواہم فیصلوں پر مسلم ماہرین قانون کی رائے بہت سے سوالات کھڑی کرنے والی ہے: (۱) قرآن وحدیث کے علاوہ اجماع، قیاس، اجتہاد کو یکسر رد کرنا یا اہمیت دینا (۲)اسلام کے کچھ احکامات لازمی حصہ ہیں اور کچھ اختیاری (۳)آپسی تعلقات اور سماجی تعلقات میں الہامی قوانین کا ماننا ضروری نہیں ہے (۴)اسلامی الہامی قوانین کو دستور سے اوپر ماننا بے وقوفی ہے شاید الجھن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام کو زندگی کے محدود دائرے میں منحصر کرکے یہ سارے مفروضات قائم کیے جارہے ہیں؛ جب کہ اسلام دین کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کامطلب اور مفہوم سب جانتے ہیں کہ مکمل زندگی میں رہنمائی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں بعض کا انکار اور بعض کا اقرار بغیر اضطراری حالت یا مجبوری کے منافقت ہے، اتباع یا اطاعت نہیں ہے۔ اگر ہم نفس پرستی کے ہاتھوں بے عقل اور بے بصیرت نہیں ہوگئے ہیں تو ہمیں انسانی تاریخ کے تجربہ سے دیکھنا ہوگا کہ شریعت کے برعکس قوانین اپناکر انسانیت کے کتنے مسائل ہوئے؟ معاشرہ میں مجموعی طور پر انصاف، حقوق، امن، ترقی کی صورت حال ابتر ہوئی یا بہتر ہوئی؟ کیا یک زوجگی نے عورتوں کے مسائل حل کیے؟ کیا آج بڑھتے ہوئے معیارِ زندگی اور اوسط شرح زندگی بڑھنے کی وجہ سے زیادہ مرد تعدد ازدواج پر عمل نہیں کررہے ہیں؟ ۲۰۱۱/ کی مردم شماری بتارہی ہے کہ ملک میں ۶۶لاکھ عورتیں غیراعلان شدہ شادی میں ہیں اور کتنے کروڑ مرد خفیہ اعلانیہ نکاح کے بندھن کے باہر جنسی تعلقات بنارہے ہیں، اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ باعزت زندگی اور حقوق کے ساتھ نہیں رہ سکتے، موج مستی کرسکتے ہیں۔ کیا یہ حدیث قابل اعتنا نہیں ہے کہ نماز کا وقت ہونے کے بعد اس کی ادائیگی، انتقال کے بعد تدفین اور رشتہ ملنے کے بعد شادی میں تاخیر نہ کی جائے۔ اس حدیث میں سنِ بلوغت طے کرنے میں کوئی رہنمائی نہیں ہے؟ جہاں تک قوانین یا سہولتوں کے غلط استعمال کی بات ہے تو دنیا کا کونسا قانون یا سہولت ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ مجموعی صورتِ حال پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ قوانین کا غلط استعمال روکنے کے لیے سب سے زیادہ تقویٰ کی صفت پیدا کرنے پر زور دینا چاہیے، اس کے علاوہ کوئی مختصر تدبیر نہیں ہے۔
urd_Arab
یوکرین کے اسپتالوں پر روسی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے: عالمی ادارہ صحت - Roze News یوکرین کے اسپتالوں پر روسی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے: عالمی ادارہ صحت عالمی ادارہ صحت کے مطابق روس یوکرین کے اسپتالوں میں حملوں میں اضافہ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ روس یوکرین تنازع میں ماسکو ہر گزرتے دن کے ساتھ اسپتالوں سمیت دیگر صحت کی سہولیات کے مراکز پر حملوں میں اضافہ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روس کی جانب سے اب تک صرف اسپتالوں، ایمبولینسز اور ڈاکٹروں پر 70 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ صحت سہولیات مراکز پر حملے اب ماڈرن وار اسٹریٹجی کا حصہ بن چکے ہیں جب کہ حال ہی میں 8 مارچ کو خارکیف کے جنوب میں واقع نئے تعمیر شدہ اسپتال پر روسی حملے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہےکہ اس اسپتال پر روسی طیاروں نے شیل برسائے جس کے نتیجے میں اسپتال کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اسپتال کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ خارکیف کے میئر کاکہنا تھا کہ اسپتال پر پہلے روسی حملے سے اس کی کھڑکیاں دروازے باہر نکل کر گر پڑے جب کہ دوسرے حملے میں آپریشن تھیٹرز مکمل تباہ ہوگئے۔ میئر نے کہا کہ اس اسپتال میں بچے اور حاملہ خواتین زیر علاج تھیں جب کہ بمباری سے حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں سمیت عملہ بھی زخمی ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ 24 فروری سے اب تک صحت سہولیات مراکز پر 72 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں 71 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے جب کہ ان حملوں میں میڈیکل ٹرانسپورٹ، سپلائی اسٹورز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
urd_Arab
پاکستان کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دوں گی اداکارہ میرا - مکالمہمکالمہ یہ تحریر 478 مرتبہ دیکھی گئی۔ لالی ووڈ کی معروف اداکارہ میراکا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ ملک کر قبضہ مافیا کے خلاف لڑیں گی- لاہور پریس کلب میں اداکارہ میرا نے والدہ اور بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی،جس میں انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا نے کروڑوں کی پراپرٹی ہتھیانے کے لیے میری والدہ کو قتل کرنے کی کوشش کی پولیس کی برقت کارروائی سے میری ماں کی جان بچ گئی۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے سی سی پی او لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں کی پراپرٹی پر قبضہ ہونے والا تھا، جسے پولیس نے ناکام بنایا اگر پولیس بروقت کارروائی نہ کرتی تو ان کی ماں کو قتل کردیا جاتا۔ پریس کانفرنس کے دوران اداکارہ نے زاروقطار روتے ہوئے کہا کہ پانچ ایف آئی آر درج ہونےکے باوجود ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، وزیر داخلہ شیخ رشید سے درخواست ہے کہ ملزم شاہد محمود کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور میرے گھر والوں کو تحفظ دیا جائے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ 'میرا' ہیں اس لئے ان کی پراپرٹی پر قبضہ نہیں ہوسکا، لیکن اب وہ وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مل پاکستان میں موجود قبضہ مافیا کے خلاف لڑیں گی اب میں پاکستان کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دوں گی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں اداکارہ میرا کے بھائی نے والدہ شفقت زہراپر حملے اورغالب مارکیٹ میں پلازے پر قبضہ کی کوشش کرنے والے ملزمان کيخلاف تھانے میںمقدمہ درج کرایا تھا جس کے بعد اداکارہ میرا نے سی سی پی او لاہور سے ملاقات کی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا
urd_Arab
قائداعظم کا نظریۂ پاکستان | Friday Special قائداعظم کا نظریۂ پاکستان قائداعظم کو سیکولرلیڈر اور پاکستان کوسیکولر ملک بنائے جانے کا پروپیگنڈا دراصل بھارت کے 'ہندوتوا' اورپاکستان دشمنوں کی ایک دیرینہ چال ہے یہ حقیقت ہر پاکستانی فرد کے پیش ِ نظر رہنی چاہیے، چاہے وہ پاکستان میں آباد ہو یا کبھی یہاں یا جنوبی ایشیاکے کسی خطے کا باشندہ رہا ہو، اور اب دنیا کے کسی بھی مغربی یا مشرقی ملک میں جابسا ہو کہ پاکستان ان کے لیے ایسا ملک ہے جو مغربی استعمار سے آزادی کے نتیجے میں استوار ہونے والی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا ہے، جو بظاہر چند دہائیوں میں سرگرم رہ کر حصول ِ پاکستان کے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے۔ لیکن یہ تحریک صرف چند دہائیوں کا کامیاب نتیجہ نہ تھی، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ہزارسالہ جدوجہد کا ثمر ہے جن میں یہ احساس ابتدا ہی سے موجود رہا ہے کہ وہ یہاں کی آبادی کی اکثریت، یعنی ہندوئوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے قطعی طور پر ایک علیحدہ قوم ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ اپنا ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے کہ جب اس سرزمین پر پہلا مسلمان وارد ہوا تو اس نے اپنے آپ کو یہاں کی ہر قوم کے فرد سے بالکل علیحدہ محسوس کیا۔ چناں چہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک بار کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ''جب ہندوستان کا پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ اپنی قوم کا فرد نہ رہا، وہ ایک دوسری قوم کا فرد بن گیا''۔ پاکستان کا قیام دراصل مسلمانوں کی اس طویل ہزار سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے تحت مسلمان ہندوستان میں یہاں کی ہندو اکثریت یا 'ہندوتوا'کے مقابلے میں ہر زمانے میں اپنی جداگانہ ہستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کی اس انفرادیت کو مٹانے اور انھیں اپنے اندر ضم کرنے کی غرض سے ہندوئوں نے 'ہندوتوا' کے نام پر ان پر مختلف محاذوں سے حملہ کیا۔ مسلمانوں نے اس صورتِ حال کا ہر موقع پر پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ ان کے لیے یہ مسئلہ نوآبادیاتی عہد میں زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا تھا، کہ انگریز مسلمانوں سے ان کا اقتدار چھیننے کے بعد یہاں کی اکثریت یا ہندوؤں کو اپنا بنانے کے لیے یہ ضروری سمجھتے تھے کہ مسلمان اپنے زوال کی انتہا تک پہنچ جائیں۔ چناں چہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہندوستان میں اسلام ایک مقتدر قوت نہ بن سکے۔ مسلمانوں کے سامنے ہندوئوں اور انگریزوں کے مشترکہ مقاصد پوری طرح نمایاں تھے۔ وہ محض ہندوستان میں بسنے والی ایک قوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے قومی وجود کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس خیال کے تحت انھوں نے اولاً1857ء کی جنگِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا، اور پھر انگریز مخالف دیگر مختلف وقتی تحریکوں میں شرکت کی، اور پھر مارچ 1940ء میں قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے تک، بلکہ مارچ 1949ئء میں قراردادِ مقاصد کے متفقہ طور پر منظور ہونے تک، ایک ہی رویہ اور ایک ہی نظریہ مختلف صورتوں اور مختلف تحریکوں میں کارفرما رہا۔ لیکن جنوبی ایشیاکے مسلمانوں کے لیے صرف ایک آزاد اسلامی مملکت کا حصول ہی حتمی اور آخری مقصد نہیں تھا، بلکہ اس کا حصول اس سرزمین پر ایک اسلامی معاشرے کے قیام، شریعتِ اسلامی کے نفاذ اور عدل و انصاف کی ترویج کا ذریعہ تھا۔ پاکستان کی بنیادیں واضح اور ٹھوس نظریاتی اساس پر رکھی گئی تھیں۔ قراردادِ پاکستان سے ان بنیادوں کی نشان دہی ہوتی تھی۔ لیکن قیام ِ پاکستان کے بعد پاکستان کی قومی سیاسیات کو بالکل ابتدا ہی میں بڑے دشوار حالات کا سامنا تھا۔ اس لیے قوم کے دردمند طبقے نے نظریۂ پاکستان اور عام قومی احساسات سے ہم آہنگ آئین مرتب کرنے کے لیے فوری طور پر، قیام پاکستان کے صرف تین ہفتوں بعد ہی، ایک نئی دستور ساز اسمبلی تشکیل دی، جس نے اپنا فریضہ انجام دینا شروع کردیا۔ اس دوران ملک کے اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات نے قومی جذبات کو مسلسل مضطرب اور منتشر رکھا، اور اس دوران قوم کو قائداعظم کی رحلت کے شدید اور المناک سانحے سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ چناں چہ آئین سازی کا فریضہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان (1895ء۔1951ء) کے ذمے آیا، جو قراردادِ پاکستان اور قراردادِ مقاصد کی روح کے مطابق تھا۔ لیکن 'ہندوتوا' کے نظریے سے ہمیشہ سرشار بھارت کو یہ سب کچھ پسند نہ تھا، اور اس کے ہمنوائوں، اس سے فیض یافتہ اور سوشلزم کے نام لیواؤں نے قراردادِ مقاصد، قائداعظم اور دیگر اکابر کے نظریات کو تسلیم نہ کرنا اور ان کی غلط تعبیر کرنا اپنا مقصد بناکر قیام پاکستان کی بنیادوں کو رد کرنا اپنا شعار بنالیا اور مخالفت میں طرح طرح کی تاویلیں گھڑنی شروع کردیں۔ بحالتِ مجبوری اور بادلِ ناخواستہ اُنہوں نے پاکستان کے قیام کو قبول تو کیا لیکن کبھی برداشت نہ کیا۔ چناں چہ روزِ اوّل سے ان سب کی کوشش اس کی مخالفت میں صرف ہورہی ہے۔ ان سب کے پسِ پشت دراصل بھارت ہی ہے جس نے تمام اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کیا۔ کشمیر پر اس کا قبضہ، اور اس قبضے کے لیے کشمیر یا پاکستان پر حملہ، پاکستان کے خلاف اس کا اوّلین قدم تھا۔ پھر سیاسی ریشہ دوانیوں، بیرونی اثرات اور خاموش دراندازی کے ذریعے اس نے سندھ طاس معاہدے کے جال میں پھنساکر پاکستان کو معاشی طور پر کھوکھلا کرنے کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی، اور اس کی خاموش دراندازی نے یہاں وہ صورتِ حال پیدا کردی کہ مشرقی پاکستان الگ ہوجائے، اور اب کراچی سے بلوچستان کی آخری شمال مغربی سرحدوں اور گوادر تک کا علاقہ پاکستان سے الگ ہوجائے، کہ جس کے بعد نہ پنجاب آزاد و خودمختار رہ سکتا ہے نہ صوبۂ خیبر پختون خوا۔ یہاں کی ہر بدامنی کے پیچھے اصل ہاتھ بھارت کا تلاش کیا جاسکتا ہے جو یہاں اپنے پیدا کردہ گماشتوںکے ذریعے ویسی ہی کامیابیاں حاصل کررہا ہے جیسی کامیابی اسے مشرقی پاکستان میں میسر آئی تھی۔ پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کے قیام کے تصور اور مقصد سے مختلف سمجھنا اور خصوصاً قائداعظم کو سیکولر نظریات کا حامل سمجھنا محتاط سے محتاط لفظوں میں شدید غلط فہمی، کم علمی یا ارادۃً ہندو سیاسی نظریات کی پیروی کا عمل ہے۔ ایسے افراد کو ان دستاویزات کو بغور پڑھ لینا چاہیے اور اس ضمن میں اگر کہیں قائداعظم کے تعلق سے ایسے بیانات نقل ہوئے ہوں جن میں اُن کے سیکولر خیالات کا اظہار ہوتا ہو، یا اُن کی جانب سے پاکستان کو ایک سیکولر مملکت بنائے جانے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہو تو ان بیانات کو ان کے سیاق و سباق میں رکھ کر اور ان کی پوری جدوجہد اور ان کے مجموعی افکارکی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں مذکورہ دستاویزات نایاب یا کمیاب نہیں، بآسانی دستیاب ہوجاتی ہیں۔ یہی صورت قائداعظم کے خیالات اور بیانات کی بھی ہے، جو ان کی تقاریر، بیانات اور فرمودات کے مجموعوں میں دستیاب ہیں، جن کے متعدد مستند نسخے یا ایڈیشن موجود ہیں۔ چوں کہ ان مجموعوں میں قائداعظم کے متعلقہ بیانات و خیالات مکمل طور پر یکجا صورت میں کسی ایک عنوان کے تحت مرتب نہیں ہیں، اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ محض نمونۃً یہاں چند ایسے اقتباسات پیش کردیے جائیں جن سے قائداعظم کے وہ خیالات سامنے آئیں جن سے ان غلط بیانیوں کی تردید ہوسکے جو اس سلسلے میں الزام کی صورت میں قائداعظم سے منسوب کی جاتی ہیں۔ نظریۂ پاکستان کو سمجھنے اور متعین کرنے کے لیے قائداعظم کے یہ خیالات بنیادی مآخذ میں شمار ہوسکتے ہیں۔ درج ذیل تمام خیالات، قائداعظم کی تقاریر و بیانات کے مستند ترین مجموعے: Speeches and writings of Mr. Muhammad Ali Jinnah. مرتبہ: جمیل الدین احمد، جلد اوّل، لاہور، 1960ء، سے ماخوذ ہیں۔ بقول قائد اعظم:۔ ''ہمارے لیے بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ ہم اپنی قوم کو منظم کریں۔ یہ اُس وقت ہوسکتا ہے کہ جب ہم طاقت ور ہوں اور اپنی قوم کی مدد کریں۔ نہ صرف استقلال و آزادی کے لیے، بلکہ اس کو برقرار رکھنے کے لیے اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے۔ پاکستان کا مقصد صرف آزادی و خودمختاری ہی نہیں، بلکہ اسلامی نظریہ ہے، جو ایک بیش قیمت عطیے اور خزانے کی حیثیت میں ہم تک پہنچا ہے…'' (ص366۔ 367)۔ ''مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے ضابطۂ حیات، اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا کلچر اور ہماریٍٍ اسلامی نظریات ہی وہ محرکات ہیں جو ہمیں خودمختاری حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں۔'' (ص 437۔ 442)۔ ''آل انڈیا مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کے اُن علاقوں میں جہاں مسلمان تعداد کے لحاظ سے اکثریت میں ہیں، ایسی مملکت قائم کریں جہاں وہ اسلامی شریعت کے تحت حکومت کر سکیں۔''(ص 405)۔ ان کے علاوہ:۔ ''ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آزادی، اخوت اورمساوات کے اس تصور کو بروئے کار لائیں جو اسلام نے پپش کیا ہے۔'' (ص28)۔ ''میرا یہ ایمان ہے کہ ہماری نجات اس میں مضمر ہے کہ ہم ان بیش بہا اصولوں کی پیروی کریں جو ہمارے عظیم المرتبت قانون دہندہ پیغمبرِ اسلام نے ہمارے لیے واضح کردیے ہیں۔ آئیے ہم اپنی مملکت کی اساس سچے اسلامی تصورات اور اصولوں پر قائم کریں۔'' (ص89)۔ ''میں ان لوگوں کو نہیں سمجھ سکا ہوں جو جان بوجھ کر فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کے مطابق نہیں بنایا جائے گا۔ اسلامی اصول بے مثال ہیں۔ یہ اصول آج بھی زندگی میں اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ سو سال پہلے تھے۔''(Quaid-e-Azam Speeches,،مرتبہ پبلی کیشن ڈویژن، کراچی۔ص 12)۔ ان واضح الفاظ میں وہ سب کچھ موجود ہے جو قیام پاکستان اور اس کے ایک اسلامی مملکت قرار دیے جانے کے بارے میں کسی بھی قسم کی مخالفت کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ایک ایسی منظم کوشش کو جو مصلحتاً اور ارادۃً نظریۂ پاکستان کی غلط تعبیرو تشریح پر مبنی ہے، پاکستان کے ان حالات میں، جب باہمی اتحاد و اتفاق خطرے کی حدود میں داخل ہوچکا ہے اور ملک مزید تقسیم در تقسیم کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، انتہائی تشویش ناک ہے۔ افسوس کہ ہمارے متعلقہ قومی ادارے ایسی منظم تدابیر اختیار کرنے سے قاصر رہے ہیں جو اس منفی صورتِ حال اور ایسے ناروا پروپیگنڈے کا مؤثر اور مناسب تدارک کرسکیں۔ چناں چہ نظریۂ پاکستان کی تعبیر و تشریح کی اب تک جو مناسب کوششیں ہوئی ہیں وہ بہت سرسری اور تشنہ ہیں، یا غیر معیاری اور غیر صحت مند محرکات و عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔
urd_Arab
محرمزادہ صبا 2020/12/20 فاریکس کے ساتھ آغاز کرنا "کئی لوگ اپنی زبانوں پر جاری کیے ہوئے الفاظ کی وجہ سے جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔"[34] بہت سے مختلف طریقے ہیں جن میں تاجر اسپاٹ ایکسچینج کو انجام دے سکتے ہیں ، خاص کر آن لائن ٹریڈنگ سسٹم کی آمد کے ساتھ۔ تیسری فریق کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے ، تبادلہ دو فریقوں کے مابین براہ راست کیا جاسکتا ہے۔ الیکٹرانک بروکنگ سسٹم بھی استعمال ہوسکتے ہیں ، جہاں ڈیلر خودکار آرڈر ملاپ کے نظام کے ذریعے اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔ تاجر سنگل یا ملٹی بینک ڈیلنگ سسٹم کے ذریعہ الیکٹرانک تجارتی نظام بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ آخر میں ، صوتی بروکر کے ذریعہ ، یا غیر ملکی زرمبادلہ کے بروکر کے ساتھ فون پر تجارت کی جاسکتی ہے۔ 2. درست حصص یافتگان کی مارکیٹ کا خدشہ قیمت کا تعین کرنا. اب چونکہ بہت ساری جائداد فروخت تصاویر آن لائن پوسٹ کی گئی ہیں ، لہذا ان مارکیٹ کا خدشہ کی طرف دیکھے بغیر جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 5. کتے کو بھیک مانگنے سے کیسے روکا جائے. - دفتری مارکیٹ کا خدشہ اخراجات ، جیسے فراہمی ، افادیت ، ٹیلیفون ، وغیرہ۔ نمونه سم عقرب و قیمت آنها. آپ کو یہ بھی ملے گا کہ آپ کے لئے میٹا ٹریڈر 4 تجارتی پلیٹ فارم دستیاب ہے۔ ایم ٹی مارکیٹ کا خدشہ 4 دنیا میں ایک سب سے عام اور موثر تجارتی پلیٹ فارم ہے اور زیادہ تر تاجر اس سے واقف ہیں۔ ایتیرم خریدنے کے لئے سب سے آسان اور سستا طریقہ Coinbase ہو گا (اگر یہ آپ کے ملک میں دستیاب ہے): نقد بمقابلہ مارجن بروکرج اکاؤنٹس 2021. همانطور که مارکیٹ کا خدشہ گفتیم ، برخی از کارگزاران تا حد 1: 500 اهرم به شما پیشنهاد می دهند ، به این معنی که 100 دلار استرالیا 50000 دلار استرالیا می شود.
urd_Arab
دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں بتا دیتی ہے جن کا دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں ... Dec 28, 2017 | 19:07:PM لاہور(نظام الدولہ)دل اور دماغ کی لکیر کے درمیاں مخصوص فاصلہ سے چوکور بن جاتی ہے اور یہ چوکور کسی بھی انسان کی شخصیت کے بھید کھول دیتی ہے۔اگرچہ چوکور سے مراد چار کونوں والاڈبہ ہوتا ہے لیکن بعض ہاتھوں میں دل اور دماغ کی لکیر اس طرح متوازی چلتی ہیں کہ انہیں بھی چوکور کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔ چوکور میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہونی چاہئیں۔ ۱۔ ہموار ۲۔دونوں خطوط متوازی ۳۔چوکور فراخ اور کشادہ ۴۔درمیان میں تنگ استاد کیرو کا کہنا ہے کہ اندرونی طور پر یہ قدر صاف ہونی چاہئے۔ بہت سے خطوط ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے نکلنے چاہئیں۔ نہ زیادہ خطوط دماغی لکیر سے آئیں اور نہ ہی قلبی لکیر کی طرف سے اس میں داخل ہوں اور دوسروں کو کاٹتے ہوئے گزریں۔ اگر یہ کاٹتے ہوئے زیادہ خطوط سے پاک ہو تو اس میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہوں گی۔ ۱۔ طبع ہموار ۲۔بردباری ۳۔فراخ دلی ۴۔کشادہ رو ۵۔ دوسروں سے محبت ۶۔وفاداری ۷۔صاف دلی یہ چوکور ظاہر کرتی ہے کہ اس قسم کے فرد کا سلوک ذہنی اور عملی طور پر دوسروں سے کیسا ہوگا۔ اگر چوکورتنگ ہو یعنی قلبی لکیر اور دماغی لکیر کے درمیان فاصلہ کم ہو تو سمجھئے ایسا فرد تنگ نظر، چھوٹی فطرت، کمینہ خیالات والا ہو گا اور دوہری طبع کا حامل ہو گا یا متعصب ہو گا۔ خاص کر مذہب اوراخلاق کے سلسلہ میں اس کی خامیاں واضح ہوں گی۔ جن ہاتھوں میں یہ چوکور تکون نما صورت اختیار کرتی نظر آئے گی۔ اس قسم کے افراد تنگ نظر اورمتعصب ہوتے ہیں۔ وہ صورت حال کو بڑی تنگ نظری سے دیکھتے ہیں اور اپنی رائے پر قائم رہنا پسند کرتے ہیں اس قسم کے لوگ تنگ نظر مذہبی لوگوں میں ملیں گے۔ مذہبی تنگ نظر لوگوں میں چوکور تنگ بھی ملتی ہے۔ اگر یہ چوکور بہت فراخ ہو۔ دوسرے نقطوں میں قلبی لکیراور دماغی لکیر کا فاصلہ بہت زیادہ ہو تو ایسا فرد مذہب کے معاملے میں اتنا فراخ دل ہو گا کہ ا س کی فراخ دلی اس کے لئے وجہ مصیبت بن جائے گی۔ اگر چوکور درمیان میں تنگ ہو جائے اور کمر کی سی صورت پیدا ہو جائے تو اس قسم کا فرد دوسروں کے لئے متعصب اور انصاف نہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اگر دونوں اطراف برابر ہوں تو اچھی صورت حال ہے۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو اور چوکور سورج کے اْبھار کے نیچے کم ہو تو ایسا فرد اپنے نام، اپنی پوزیشن اور عام شہرت اور ساکھ کی پروانہ کرے گا۔ اس کے برعکس اگر زحل کے نیچے کم ہو، تو وہ اپنی جھوٹی سچی ساکھ کے پیچھے پڑ ا رہے گا۔ اگر چوکور مشتری اور زحل کے نیچے فراخ ہو لیکن دوسرے سرے پر تنگ ہوتی چلی جائے تو ایسا فرد پہلے فراخ دل ہو گا لیکن آہستہ آہستہ اس کی طبع تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ وہ تنگ نظر ہوتا جائے گا۔ وہ متعصب ہو جائے گا اور اپنے ساتھیوں سے انصاف نہ کر سکے گا۔ کئی مرتبہ چوکور ضرورت سے زیادہ طویل ہوتی ہے۔ اس قسم کے فرد کی دماغی حالت صحیح نہیں ہوتی۔ وہ اپنے خیالات میں احتیاط کا حامل نہیں ہوتا۔ اْس کی طبع میں کوتاہ اندیشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ اگر چوکور کے اندر لکیریں نہ ہوں یعنی ایسی لکیر یں جو ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی نکل جاتی ہیں تو سمجھئے کہ اس فرد کی طبیعت سکون انگیز ہو گی۔ اس میں حوصلہ اور بردباری ہو گی۔ اگر چوکور میں بے جا ایسی لکیریں ہوں کہ چوکور میں ایک دوسری کو کاٹتی پھرتی ہوں چوکور ان کی وجہ سے جالی سی نظر آتی ہے تو ایسا فرد بڑی آسانی سے غصے میں آجاتا ہے۔ اْس کی طبیعت ہیجان انگیز ہوتی ہے اور مزاج مضطرب اور پریشان۔ چوکور کے اندر اگر ستارہ موجود ہو تو بڑا اچھا نشان سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص جب وہ کسی اچھے اْبھار کے نیچے ہو جیسے مشتری اور سورج کے نیچے۔ اگر مشتری کے نیچے ستارہ ہو تو ایسا فرد اقتدار حاصل کرے گا۔ قوت حاصل کرے گا۔ طاقت اختیار کرے گا۔ اگر زحل کے نیچے ہو تو دنیاوی کاموں میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرے گا۔ وہ جن راستوں پر بھی بڑھتا جائے گا۔ کامرانی اْس کے قدم چومے گی۔ سورج کے اْبھار کے نیچے اگر ستارہ ہو گا۔ تو ایسے فرد کو آرٹ ، ادب، فنون لطیفہ کی وجہ سے کامیابی حاصل ہو گی۔ اگر ستارہ عطارد کے نیچے ہو گا تو ایسا فرد سائنس اور تحقیق کی بدولت ترقی کرے گا۔ وہ سائنس اور تحقیق میں دوسروں سے ممتاز ہو گا۔ کامیاب و کامران ہو گا اور دوسروں سے بازی لے جائے گا۔
urd_Arab
افتخار راجہ (ہم اور ہماری دنیا) | اردو بلاگ ایگریگیٹر ڈاکٹر راجہ افتخار خان کا اٹلی سےاردو بلاگUnknownnoreply@blogger.comBlogger294125 29 منٹ 25 سیکنڈ قبل منگل, 12/11/2018 - 03:03 عدلیہ کا کردار بہت کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ایسا ادارے ہے جو عدل کی فراہمی کا ضامن ہے۔ اور عدل کرنے والے عادل کہلاتے ہیں۔ جن کو منصف یا جج بھی کہا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں میں۔ اگر ہم دیکھیں تو یہ ایسا محکمہ یا ادارہ ہے جس کے ساتھ زندگی کے ہرشعبے کا تعلق ہوتا ہے تفصیل میں جانے سے پہلے ایک نظر انصاف پر ڈالی جاوے تو عین مناسب ہوگا۔ انصاف کی تعریف تو کوئی وکیل یا جج صاحب ہی بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ لیکن میں بطور لے مین یہ کہہ سکتا ہوں کہ انصاف کا متضاد بے انصافی ہے۔ گویا بے انصافی کو ختم کرنے کےلے انصاف کی ضرورت ہے۔ جیسے اندھیرے کا متضاد روشنی ہے۔ اور روشنی سے ہی اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بے انصافی کیا ہے؟ یہ طے کرنا شاید نسبتاُ آسان ہے۔ جب کسی شخض یا گروہ کا حق مارا جائے تو اسے بے انصافی کہا جاوے گا۔ گویا حق کی بعینہ ادائیگی کو انصاف کہا جاسکتا ہے۔ حق کیا ہے ؟؟ یہ بھی طے کرنا آسان ہے کہ کسی فرد کی ملکیت یا اس کے واجبات کو بروقت اسکے حوالے کردینا ہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کو تسلیم کیا جائے اور متعلقہ فرد یا افراد کے حوالے کر دیا جائے۔ اب حق میں بہت سی جیزیں آجاتی ہین۔ فرد کے اپنے جسم پر اسکا اپنا اختیار۔ اسکی شخصی ازادی سے لیکر اسکے کھانے پینے۔ رہنے سہنے۔ اسائیش و آرام، عزت و تعلیم یہ اسکا حق ہے۔ زندہ رہنا بھی اسکا حق۔ آج کے دور میں بجلی پانی تعلیم تربیت۔ صحت صفائی سب بنیادی حقوق میں آتے ہیں۔ آج کے زمانے میں ان سارے معاملات کو قانون کے ذریعے طے کردیا گیا ہے۔ گویا ایک ترتیب بن گئی ہے ، حق مقرر ہوگیں اور حدود باندھ دی گئی ہیں۔ جب کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو؟؟؟ ایسی صورت میں زوراور شخص تو اپنا حق چھین لے گا اور تنازعہ پیدا ہوگا، اس سے فساد بھیلنے کا شدید اندیشہ بحرحال موجود ہے اور مہذب معاشروں میں اس سے باز رہا جاتا ہے۔ بصورت دیگر تنازعہ کی صورت میں عدلیہ سے رجوع کیا جاوے۔ جج صاحب اپنے علم، اپنی تربیت اور تجربہ کو استعمال میں لاتے ہوئے مروجہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں کہ انصاف کیا ہے اور مظلوم کون ہے اور ظالم کون۔ بے انصافی کی روزمرہ مثالیں، جسمانی تشدد یا مارکٹائی۔ ذہنی تشدد ، گالی گلوچ، دھمکیاں۔ چوری، ڈاکے، فراڈ۔ زمین، مکان کاروبار کا ہتھیا لینا۔ پیسے زیورات ، اغوا، حبس بے جا، وغیرہ۔ اسکے علاوہ لین دین میں ہونے والی بے ایمانیاں۔ کاروباری معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنا۔ اسی طرح سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کا اپنی اعلان شدہ خدمات یا سروسز کو فراہم کرنے سے معذرت کرنا یا معذور کا اظہار کرنا۔ روز مرہ سے کچھ مثالیں جیسا کہ آپ سول ہسپتال جاتے ہیں اپنے علاج کی غرض سے تو اپکا حق ہے کہ آپ کا باقاعدہ چیک اپ ہو، اور آپ کا باقاعدہ علاج کیا جائے۔ دوران علاج آپ کو بستر، کھانا پینا، ادویات، صفائی سب آپ کا حق ہے۔ ڈاکٹرز نرسیں آپ کی دیکھ بھال کی تنخواہ لیتے ہیں۔ اسی طرح پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کی صورت میں۔ آپ کو فیس دینا ہوگی اور ڈاکٹر آپ کا علاج کرے پوری توجہ سے۔ یہ آپ کا حق ہے۔ اگر آپ فیس نہیں دیتے اور علاج کروالیتے ہین، تو آپ نے حق تلفی کی، اور اگر ڈاکٹر نے فیس لی اور پھر آپ کا علاج نہیں کررہا ہے توجہ سے تو اس نے آپ کی حق تلفی کی ہے۔ ایسی صورت میں آپ عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور اپنے لئے انصاف کے طالب ہوتے ہیں۔ اب جج صاحب کا فرض ہے کہ وہ آپ کو فوری انصاف فراہم کریں۔ فوری فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا علاج کریں۔ اپنے قاری صاحب مرحوم کا قول دانا ہے کہ کھروں کی ریاست چل سکتے ہیں مگر ظالموں کی نہیں۔ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا ذمہ سپریم کورٹ کے سر ہے۔ اور اسکے جج صاحبان انصاف کے علمبردار ہیں۔ باوا ریمتے گویا پاکستان میں انصاف کے دیوتا قرار پائے۔ تو میرے صاحبو ، اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں اس وقت 38913 کیسز پینڈنگ ہیں۔ یعنی تقریبا چالیس ہزار افراد کو انصاف دستیاب نہیں ہے۔ یہ تعداد 2016 میں 32744 تھی۔ ان کیسز میں گزشتہ پانچ سات برسوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ ھائی کورٹس اور مقامی عدالتوں میں یہ تعداد لاکھوں میں جائے گی۔ جو کہ ایک انسانی المیہ کو جنم دیتی ہے۔ کوئی کسی کو قتل کردے، گھر چھین لے، زمین قابو کرلے۔ کاربار تباہ کردے۔ مال چھین لے۔ رشوت لے، سفارش کروائے۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم صاحب ڈیم کےلئے فنڈ اکٹھے کررہے ہیں، بچے بند کرنے کی کانفرنس چلا رہے ہیں، میلاد منا رہے ہیں، ہسپتال کی لفٹ ٹھیک کروا رہے ہیں۔ جلسوں میں تقریریں کررہے ہیں۔ اور ریلیوں کی قیادت کررہےہیں۔ لیکن انصاف نہیں کررہے۔ نہ ہی اس نظام کو درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ منصف اعظم سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے پاس انصاف کےلئے وقت نہیں ہے تو یہ کرسی چھوڑ دیں یہ کام کرنے کی ڈیوٹی کسی اور کی لگا دیں۔ جمعہ, 09/07/2018 - 03:02 منگل, 07/17/2018 - 22:01 تو پھر چینی نہیں کھانی چاہئے؟؟ بلکل بھی نہیں۔ وہ کیوں؟؟ پر چینی تو طاقت دیتی ہے۔ اب بندہ چینی نہ کھائے تو کیا کھائے؟؟ بلکل چینی طاقت دیتی ہے، اور مٹھائی کھائیں، پر آپ اس طاقت کا کرتے کیا ہیں؟؟ جواب ندارد ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارا طرز زندگی بہت تیزی سے بدل گیا ہے۔ جسمانی مشقت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور خوراک کی دستیابی بہت ہی بڑھ چکی ہے۔ ہمارے دماغ وہی سوچتے ہیں۔ کہ یہ کھالو، یہ بھی کھالو، کھانا پلیٹ میں مت چھوڑو۔ کھانا بچے نہیں۔ یہ سب اس زمانے کی باتیں تھیں جب کھانا کم ملتا تھا اور مشقت زیادہ ہوتی تھی۔ اب اسکے الٹ ہوگیا ہے۔ تو سوچنا بھی الٹ ہوگا۔ کھانے سے پہلے سوچنا ہوگا مجھے بھوک ہے؟؟ کیا میرا پیٹ خالی ہے؟؟ اگر بھوک نہیں ہے تو کھانا مت کھاؤ۔ ناغہ کردو۔ اگر پیٹ خالی نہیں ہے تو کھانے میں دیر کردو۔ مٹھائی کھانی ہے تو 20 کلومیٹر پیدل چلنے کا بھی سوچ لو۔ کوشش کریں کہ آپ کی خوراک ہی آپ کی دوا ہو۔ اس لئے ٹھونسنے کی بجائے کیا کھا رہے ہیں؟؟ اور کیوں ؟؟ کے سوالات اپنے آپ سے کیجئے اور انکے جواب تلاش کیجئے۔ ایک مریضہ سے گفتگو، جسے شوگر، بلڈ پریشر۔ کولیسٹرول اور وزن زیادہ ہونے کے مسائل تھے, یہ سارے مسائل، بسیار خوری، چینی، نمک اور کاربوہائیڈریٹس کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہیں۔ یاد رکھیں، میٹابولک سینڈروم ہمارے آج کا گمبھیر مسئلہ ہے جس پر بگ فارما مال کما رہا ہے اور بات کرنے سے گریزاں ہے۔ کیونکہ اس کا مریض بیک وقت، شوگر کی دوائی۔ کولیسٹرول کی گولی، سٹامک پروٹیکٹر، بلڈپریشر کی گولی۔ وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں۔ پھر نیند کی گولیاں ، وزن کم کرنے کی دوا۔ بھی لینی ہوتی ہے۔ اسکے بعد سردرد اور جسم میں درد بھی شروع ہوتا ہے ، یہ تو عام سی بات ہے اب اسکی دوا بھی لازم ہوتی ہے۔ آپ کے اردگرد نظر دوڑانے سے کتنے ہی ایسے بندے ملیں گے جو اس صورت حال کا شکار ہیں۔ ان کو غور سے دیکھیں۔ اور ان عادات کو ختم کریں، خوراک کو قابو میں لائیں اور گیم وغیرہ شروع کریں۔ بیچ بیچ میں روزے بھی رکھ لیا کریں۔ ثواب کا ثواب اور فائدے کا فائدہ۔ ہاں یاد آیا، کینسر کے خلیات آکسیج کی کمی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اورشوگر انکی خوراک ہوتی ہے۔ پس صبح کی سیر اور چینی کی کمی سے کینسر کے رسک کو بھی کم کرسکتے ہیں۔ پر صبح جاگنا " جوان دی موت اے"۔ ۔ پہلے اپنی۔ پھر اگر ممکن ہو تو انکی بھی مدد کریں۔ ورنہ آپ کو میرے علاوہ اور کس نے یہ باتیں بتانی؟؟ ہیں جی۔ اب اپنی روزی پر لات مارنے کو کس کا دل کرتا ہے؟ اتوار, 05/27/2018 - 16:22 سنیچر, 05/19/2018 - 23:31 میٹابولک سینڈروم اور رمضان المبارک Metabolic syndrome تحریر ڈاکٹر راجہ افتخار خان، ہومیوپیتھ ، کنسلٹنٹ ھیرنگ لیبارٹریز اٹلی۔ رمضان المبارک میں چونکہ سب سے اہم کام جو ہوتا ہے اور ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے وہ ہے کھانے پینے اور خواہشات کو قابو میں کرنا۔ اسی مد میں میٹابولک سینڈروم کو بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔ میٹابولک سینڈروم کیا ہے؟؟ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کے اندر ہونے والی میٹابولک تبدیلیوں کو معمول سے ہٹا کر پیدا کردہ ترتیب دیتے ہوئے جسم کی خود کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو تکلیف دہ اور بعد میں زندگی کےلئے بھی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ وضاحت کے طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کا وزن اچانک بڑھ جائے ، بلخصوص پیٹ پر چربی کا جمع ہوجانا اور گردن موٹی ہوجانا، اور بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول، کا درجہ معمول سے زیادہ ہوجائے تو وہ شخص میٹا بولک سینڈروم میں انتہائی درجہ پر مبتلا ہے۔ اگر ان چاروں فیکٹرز میں سے تین بھی موجود ہوں تو اسکو میٹابولک سینڈروم ہی کہا جاوے گا۔ اگر دو ہوں مثلا، وزن کا بڑھ جانا اور شوگر ، یا کولیسٹرول اور بلڈپریشر کا زیادہ ہونا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میٹابولک سینڈروم کے رستہ پر چل پڑا ہے۔ اگر صرف وزن زیادہ ہوگیا ہو تو اسکو میٹابولک سینڈروم کے راستہ کی طرف جانا کہا جائے گا۔ یعنی یہ بھی الارمنگ ہے۔ بلخصوص اس صورت میں کہ اگر والدین یا موروثیت میں کسی کو اس صورت حال کا سامنا رہا ہو تو۔ چونکہ یہ بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کی خود سے ہی پیدا کردہ صورت حال ہے تو اسکو دوا دے کر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی طریقہ علاج میں اسکا شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اب یہ ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طب یونانی ، اسپاجیریرک میڈیسن یا پھر اکوپنکچر یا سرجری۔ کسی طور پر اسکا فوری اور مکمل علاج ممکن نہیں۔ میٹابولک سینڈروم کیوں ہوتا ہے؟؟ اسکی وجوہات نامعلوم ہیں جو وراثتی بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن اسکےلئے ایک بڑا فیکٹر خوراک میں غیرضروری طور پر چینی کا اضافہ ہے۔ یہ چینی جسم میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ وہ افراد جو محنت مشقت کا کام کررہے ہوتے ہیں یا پروفیشنل کھلاڑی وہ تو اس کو استعمال کرلیتے ہیں، اسکے کے برعکس دفتری کام کاج کرنے والے، یا سہل و آسان زندگی گزارنے والے افرادکےلئے یہ فالتو چینی اور فوری توانائی کسی کام کی نہیں ہوتی بلکہ اسکو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہماری خوراک میں ھائی گلیسیمک انڈیکس (high glycemic index food)کا اچانک اور بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں، چینی، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرینکس، بیکر ی اور مٹھائیاں، روٹی چاول ، پاستہ ، بریڈ اور گندم کے آٹے سے بنی ہوئی دیگر اشیاء، سبزیوں میں آلو، مٹر، پھلوں میں، انگور، تربوز، کیلا، آم وغیرہ ہیں۔ یہ وہ خوراکیں ہیں جنکے کھانے کے پندرہ سے تیس منٹ کے بعد آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار سے بڑھ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ خوراک کی مقدار کا بہت زیادہ ہونا اور بار بار کھانا بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوتاہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب جسم کے اندر گلوکوز کی بڑی مقدار پہنچتی ہے اور فوری طور پر توانائی دستیاب ہونے کی وجہ سے ہم چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ اب اس چستی کو فوری طور استعمال کرلیا جائے، جسمانی مشقت یا فیزیکل ایکٹیویٹیز کے ذریعے تو ٹھیک ہوگیا، ورنہ اس گلوکوز کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے کےلئے جسم انسولین کو پیدا کرتا ہے جس اس شوگر چربی کی صورت دیتا ہے، پھر کولیسٹرول کو خارج کیا جاتا ہے تا کہ اس گھومتی ہوئی چربی (فیٹ) کو کسی مناسب جگہ تک پہنچا کر ٹھکانے لگائے (ڈیپازٹ کرنا)۔ گویا اس ایک چینی یا گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے انسولین، چربی اور کولیسٹرول بیک وقت جسم میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سے خون کا حجم بڑھ جاتا ہے اور بلند فشار خون( ہائی بلڈپریشر ) کا باعث بنتا ہے۔ ممکنہ خطرات میٹابولک سینڈرم کی موجودگی صحت کےلے ذیل کے خطرات کا باعث بن سکتی ہے، ہارٹ اٹیکس(myocardial infraction)، ذیابیطس ٹائپ 2، انسولین کے خلاف قوت مدافعت کا پیدا ہوجانا، شاک (cerobrovescolar disease)۔ جلد موت کا واقع ہوجانا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے، تو اسکا حل بھی سمجھ آگیا ہوگا؟ جی بلکل، چینی اور ھائی گلیسیمک انڈیکس والی خوراک کا بہت ہی کم استعمال۔ اگر آپ کو شوگر نہیں ہے تو کھانے میں سے، چینی۔ چائے کافی میں، شربت میں۔ جوسز، سافٹ ڈرنکس کولے وغیرہ کو منع کریں بیکری کا سامان اور مٹھائیاں منع کریں روٹی، بریڈ، چاول یا گندم کی دیگر اشیاء سے دور رہیں۔ پھلوں میں سےتربوز، کیلا، آم اور انگور سے پرہیز کریں سبزیوں میں، آلو اور مٹر سے دور رہا جاوے۔ تیل اور بناسپتی گھی کی مقدار بہت ہی کم کردیں۔ اپنے کھانے کی مقدار کم کردیں۔ اب آپ کے دماغ میں آرہا ہوگا کہ کھایا کیا جاوے۔ تو جناب باقی کا سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس گوشت، مچھلی مرغی، انڈے پنیر، دہی دودھ سب ہے۔ اسکے علاوہ پھلوں میں خربوزہ۔ انار، انجیر، چیری، اسٹرابری، خشک میوے، آڑو، سیب خوب کھائیں۔ دالیں کھائیں، سبزیاں کھائیں۔ سبز پتے والی اور زمین پر اگنے والی سبزیاں اور زیرزمین اگنے والی سبزیاں۔ رمضان الکریم برکتوں کا مہینہ ہے اس میں ویسے ہی رک جانے کا حکم ہے تو آپ اوپر دی گئی چیزوں سے رک کر اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت بحال کرسکتے ہیں۔ سحری کا پروگرام ایک پیالہ دلیہ، کارن فلیکس نٹس اور دودھ۔ چائے کی پیالی، پانی کے دو گلاس یا پھر فروٹ ، چائے پانی کے دو گلاس یا پھرآملیٹ، چائے، پانی کے دوگلاس یا کچھ اور جو آپ کو پسند ہو دہی وغیرہ افطار کا پروگرام دوعدد کھجوریں، اس سے زیادہ نہیں۔ پانی کا گلاس اور مغرب کی نماز اسکے بعد، چار پکوڑے یا دو سموسے یا ایک پلیٹ چنا چاٹ، یا پھر گوشت یا دال یا سبزیوں کا سوپ ، کھانا ایک نشت میں نہ کھائیں اور جب بھوک ختم ہوجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ اپنے کھانے بدلی کرتے رہیں۔ مصالہ جات نہ چھوڑیں، چسکا برقرار رہنا چاہئے۔ اس ضمن میں مدد کےلئے اپنے ہومیوپیتھ سے آپ ایناکارڈیم، فیوکس، اینٹی مونیم کروڈ، نامی ادویات ڈسکس کرسکتے ہیں۔ یاد رہے سینڈروم کو قابو کیا جاتا ہے اسکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات کو ختم کرنا ہوتا ہے جو اس سینڈروم کا باعث بنتے ہیں۔ خوراک کا کم استعمال، خوراک کا محتاط استعمال، جسمانی وزش۔ اگر ضروری ہوتو کچھ ادویات بھی معالج کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں۔
urd_Arab
سورہ الحشر آية 6 | (اردو) - Quran O سورہ الحشر آية 6 پھیر لایا دوڑائے تم نے مسلط کرتا ہے جس (پر) اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اور جوکچھ الله نے اپنے رسول کو ان سے مفت دلا دیا سو تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن الله اپنے رسولوں کو غالب کر دیتا ہے جس پر چاہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے اور ان کا جو مال اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالٰی اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے (١) اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے۔ ٦۔١ بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لئے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسطرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہوگیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لئے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَیْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے یعنی جو مال بغیر لڑے دشمن چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو، اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔ اور اللہ نے ان لوگوں (بنی نضیر) سے جو مال بطور فئے اپنے رسول(ص) کو دلوایا تو تم لوگوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ پس اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے لیکن اللہ اپنے رسولوں(ع) کو جس پر چاہتا تسلط دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔ مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے۔ فے کس مال کو کہتے ہیں ؟ اس کی صفت کیا ہے ؟ اس کا حکم کیا ہے ؟ یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ فے اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گذر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ انکے دل اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آگئے، اسے " فے " کہتے ہیں اور یہ مال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہوگیا، آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری روایت میں ہے۔ پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور فے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے ؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔ پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے فے کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ بنو نضیر کے مال بطور فے کے خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوگئے تھے آپ اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے (سنن و مسند وغیرہ) ابو داؤد میں حضرت مالک بن اوس سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب نے مجھے دن چڑھے بلایا میں گھر گیا تو دیکھا کہ آپ ایک چوکی پر جس پر کوئی کپڑا وغیرہ نہ تھا بیٹھے ہوئے ہیں، مجھے دیکھ کر فرمایا تمہاری قوم کے چند لوگ آئے ہیں میں نے انہیں کچھ دیا ہے تم اسے لے کر ان میں تقسیم کردو میں نے کہا اچھا ہوتا اگر جناب کسی اور کو یہ کام سونپتے آپ نے فرمایا نہیں تم ہی کرو میں نے کہا بہت بہتر، اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا اے امیر المومنین میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی حضرت علی کا، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا ہاں امیر المومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور انہیں راحت پہنچایئے، حضرت مالک فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چاروں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا، پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لئے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت ( وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝) 59 ۔ الحشر ;6) ، پڑھی اور فرمایا بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور فے کے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا اور اپنی اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کردیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔ پھر فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فوت ہونے کے بعد ابوبکر والی بنے اور تم دونوں خلیفہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، اے عباس تم تو اپنی قرابت داری جتا کر اپنے چچا زاد بھائی کے مال میں سے اپنا ورثہ طلب کرتے تھے اور یہی یعنی حضرت علی اپنا حق جتا کر اپنی بیوی یعنی حضرت فاطمہ کی طرف سے ان کے والد کے مال سے ورثہ طلب کرتے تھے جس کے جواب میں تم دونوں سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے، ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چناچہ اس مال کی ولایت حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کی، آپ کے فوت ہوجانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو ؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کرسکتا، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کرسکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں آپ اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کھجوروں کے درخت وغیرہ دے دیا کرتے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال آپ کے قبضہ میں آئے تو اب آپ نے ان لوگوں کو ان کو دیئے ہوئے مال واپس دینے شروع کئے، حضرت انس کو بھی ان کے گھر والوں نے آپ کی خدمت میں بھیجا کہ ہمارا دیا ہوا بھی سب یا جتنا چاہیں ہمیں واپس کردیں میں نے جا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد دلایا آپ نے وہ سب واپس کرنے کو فرمایا، لیکن یہ سب حضرت ام ایمن کو اپنی طرف سے دے چکے تھے انہیں جب معلوم ہوا کہ یہ سب میرے قبضے سے نکل جائے گا تو انہوں نے آ کر میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور مجھ سے فرمانے لگیں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے یہ نہیں دیں گے آپ تو مجھے وہ سب کچھ دے چکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ام ایمن تم نہ گھبراؤ ہم تمہیں اس کے بدلے اتنا اتنا دیں گے لیکن وہ نہ مانیں اور یہی کہے چلی گئیں، آپ نے فرمایا اچھا اور اتنا اتنا ہم تمہیں دیں گے لیکن وہ اب بھی خوش نہ ہوئیں اور وہی فرماتی رہیں، آپ نے فرمایا لو ہم تمہیں اتنا اتنا اور دیں گے یہاں تک کہ جتنا انہیں دے رکھا تھا اس سے جب تقریباً دس گنا زیادہ دینے کا وعدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تب آپ راضی ہو کر خاموش ہوگئیں اور ہمارا مال ہمیں مل گیا، یہ فے کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہوگا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورة انفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر الحمد اللہ گذر چکی ہے اس لئے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال فے کے یہ مصارف ہم نے اس لئے وضاحت کے ساتھ بیان کردیئے کہ یہ مالداروں کے ہاتھ لگ کر کہیں ان کا لقمہ بن بن جائے اور اپنی من مانی خواہشوں کے مطابق وہ اسے اڑائیں اور مسکینوں کے ہاتھ نہ لگے۔ پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتھوں پر عورتیں سوئی وغیرہ سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیرہ بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ؟ آپ نے فرمایا کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھی دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں اس عورت نے کہا اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۝ۘ) 59 ۔ الحشر ;7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔ فرمایا (قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ممانعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قابل عمل ہیں اب سنو) خود میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا حضرت یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں حضرت معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی، آپ نے فرمایا کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کیا فرمایا تھا (وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ 88؀) 11 ۔ ھود ;88) یعنی میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں، مسند احمد اور بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے اس عورت پر جو گدوائے اور جو گودے اور جو اپنی پیشانی کے بال لے اور جو خوبصورتی کے لئے اپنے سامنے کے دانتوں کی کشادگی کرے اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی پیدائش کو بدلنا چاہے، یہ سن کر بنواسد کی ایک عورت جن کا نام ام یعقوب تھا آپ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس طرح فرمایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے ؟ اور جو قرآن میں موجود ہے، اس نے کہا میں نے پورا قرآن جتنا بھی دونوں پٹھوں کے درمیان ہے اول سے آخر تک پڑھا ہے لیکن میں نے تو یہ حکم کہیں نہیں پایا، آپ نے فرمایا اگر تم سوچ سمجھ کر پڑھتیں تو ضرور پاتیں کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۝ۘ) 59 ۔ الحشر ;7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے پھر آپ نے وہ حدیث سنائی، اس نے آپ کے گھر والوں کی نسبت کہا پھر دیکھ کر آئیں اور عذر خواہی کی اس وقت آپ نے فرمایا اگر میری گھر والی ایسا کرتی تو میں اس سے ملنا چھوڑ دیتا، بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، نسائی میں حضرت عمر (رض) عنہی اور حضرت ابن عباس (رض) ما سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجوریا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت کی (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم) پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔
urd_Arab
قومی و صوبائی حکومتوں کے پہلے سال کا عوامی جائزہ: پی ٹی آئی پسندیدہ ترین جماعت قرار - Dunya Pakistan قومی و صوبائی حکومتوں کے پہلے سال کا عوامی جائزہ: پی ٹی آئی پسندیدہ ترین جماعت قرار رائے عامہ کا ایک سروے، جس کا اہتمام ہیرالڈ اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے مل کر کیا تھا، نہایت نپے تلے انداز میں ایسے سوالات کے جوابات مرتب کرتاہے جوان دنوں پاکستان بھرکے لوگ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔۔ سروے میں1354لوگوں سے رائے لی گئی۔ لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ وفاقی اور صوبائی دونوں سطوح پر کام کرنے والی حکومتوں کی گزشتہ برس کی کارروائی کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں؟نتائج بتاتے ہیں کہ رائے دہندگان کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں: 77فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو وفاقی حکومت کی کارکردگی کواوسط سے بہتر نہیں سمجھتے۔ جبکہ 68فیصد لوگ اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کے متعلق بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔بلا شبہ، ان نتائج کو کچھ مختلف انداز سے پیش کرنا بھی ممکن ہے: اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ 37فیصد لوگوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کو اوسط قرار دیا، یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ دراصل، عوامی فیصلہ کچھ خاص ملامتی نہیں ہے۔۔۔ بہرحال سروے میں حصہ لینے والوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسا کہ پی ایم ایل این کی زیر سرکردگی چلنے والی حکومت کی کارکردگی کم ازکم اوسط ہے تو پھر یہ قطعی طور پر کوئی برا سکور نہیں ہے۔ جنوبی ایشیائی سیاسی امور کے فرانسیسی ماہرین ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ کہتے ہیں، ''جیسا کہ سندھ میں متحدہ اور پی پی پی کی طرح ن لیگ کے پاس کہیں کوئی پابند ووٹر نہیں ہیں ، لہٰذا انتخابات کے بعد، اس کے ووٹ بینک پر اندھے ایمان کا کھو جانا، واضح طور پر اگلے انتخابات میں ایک نمایاں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔'' ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے متعلق عوامی بے اطمینانی کے بارے میں کہتے ہیں، ''نواز شریف اور وفاقی حکومت سے متعلق تیزی سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی، اس یقین کی ایک اور دلیل فراہم کرتی ہے کہ ہر چند کہ نسل یا ثقافت ووٹر کے روئیے پر کچھ اثر ڈالتی ہے لیکن اس کارویہ مفاد پر مبنی سیاست سے منسلک نہیں ہوتا۔'' اس سروے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے58فیصد لوگوں نے شہباز شریف کوسب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے صرف 11فیصد ووٹروں نے سب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا۔ یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جس وقت وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو پسندیدہ ترین انتخاب قرار دیا گیا، اسی وقت وزیر اعظم نواز شریف نیچے سے دوسرے نمبر پر رہے۔
urd_Arab
کیا آپ کو کبھی بھی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں اعلی درجہ بندی ہو؟ SEO متک | Martech Zone SEO متک: کیا آپ کو کبھی بھی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں اعلی درجہ بندی ہو؟ جمعہ، مارچ 5، 2021 جمعہ، مارچ 5، 2021 Douglas Karr میرے ایک ساتھی نے مجھ سے رابطہ کیا جو اپنے مؤکل کے لئے نئی سائٹ متعین کر رہا تھا اور میرا مشورہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک SEO مشیرt جو کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جن صفحات پر وہ درجہ بندی کر رہے ہیں وہ بدلا نہیں جائے ورنہ وہ اپنی درجہ بندی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ یہ بکواس ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے میں دنیا کے سب سے بڑے برانڈز کو منتقلی ، تعینات کرنے اور ایسے مواد کی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد کرتا رہا ہوں جس میں نامیاتی درجہ بندی کو امکانات اور سیسہ کے بنیادی چینل کے طور پر شامل کیا گیا ہو۔ ہر منظر میں ، میں نے کلائنٹ کی مدد کی اس وقت متعدد طریقوں سے درجہ بندی کے صفحات اور اس سے وابستہ مواد کو بہتر بنانا: ضم ہو رہا ہے - ان کے مواد کی تیاری کے طریق کار کی وجہ سے ، مؤکلوں کے پاس اکثر درجہ بندی کے خراب صفحات ہوتے ہیں جو بڑی حد تک ایک ہی مشمولات کے حامل تھے۔ اگر ان کے پاس 12 اہم سوالات ہیں۔ مثال کے طور پر ، کسی عنوان کے بارے میں… وہ 12 بلاگ پوسٹ لکھتے ہیں۔ کچھ کی درجہ بندی ٹھیک ہے ، زیادہ تر نہیں۔ میں اس صفحے کو نئے سرے سے ڈیزائن اور تمام کلیدی سوالات کے ساتھ بہتر ترتیب دینے کے ساتھ ایک منظم جامع واحد مضمون میں تبدیل کردوں گا ، میں اپنے تمام صفحات کو ایک بہترین مقام پر بھیجتا ہوں ، پرانے کو ہٹاتا ہوں ، اور صفحہ کو اسکائروکیٹ کی حیثیت سے دیکھتا ہوں۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو میں نے ایک بار کی ہے… میں گاہکوں کے لئے ہر وقت کرتا ہوں۔ میں واقعتا یہ یہاں پر کرتا ہوں Martech Zone، بھی! ساخت - میں نے اعلی صارف کے تجربے کے لئے صفحات کو بہتر طریقے سے ترتیب دینے کے لئے صفحہ کی سلگس ، عنوانات ، جرات مندانہ الفاظ اور زور دار ٹیگز کو ہر وقت بہتر بنا دیا ہے۔ SEO کے بہت سارے کنسلٹنٹس ایک پرانے صفحے کی سلگ کو ایک نئے کی طرف بھیجنے میں ناکام رہتے ہیں ، اور یہ کہتے ہوئے کہ اس کا کچھ اختیار کھوئے جب ترمیم کی جائے۔ ایک بار پھر ، میں نے اپنی سائٹ پر بار بار یہ کام کیا جب اس کا احساس ہوا اور جب بھی یہ کام ذہانت سے ہوا ہے ہر بار کام کیا۔ مواد - میں نے مزید مجل ،ہ ، تازہ ترین تفصیلات فراہم کرنے کے لئے سرخی اور مشمولات کو بالکل غلط الفاظ میں لکھا ہے جو زائرین کے لئے زیادہ مشغول ہیں۔ میں بہت کم ہی صفحے پر لفظ کی گنتی کو کم کرتا ہوں۔ اکثر ، میں الفاظ کی گنتی میں اضافہ ، اضافی حصے شامل کرنے ، گرافکس شامل کرنے ، اور ویڈیو کو مواد میں شامل کرنے پر کام کرتا ہوں۔ میں تلاش انجن کے نتائج والے صفحات سے بہتر کلک-تھری ریٹس کی کوشش کرنے اور اس کے لئے ہر وقت صفحات کے لئے میٹا کی وضاحت کی جانچ اور اصلاح کرتا ہوں۔ مجھ پر یقین نہیں ہے؟ کچھ ہفتوں پہلے ، میں نے اس کے بارے میں لکھا تھا SEO کے مواقع کی نشاندہی کریں تلاش کی درجہ بندی کو بہتر بنانے اور بیان کیا کہ میں نے شناخت کیا مواد لائبریری اضافی درجہ بندی کو چلانے کے لئے ایک عظیم موقع کے طور پر۔ میں نے اپنے مضمون کے لئے 9 ویں نمبر پر رکھا۔ میں نے مضمون کا مکمل جائزہ لیا ، مضمون کے عنوان کو اپ ڈیٹ کیا ، میٹا ٹائٹل ، میٹا ڈیسکٹمنٹ ، مضمون کو کچھ تازہ ترین مشوروں اور اعدادوشمار کے ساتھ بڑھایا۔ میں نے اپنے مسابقت کے تمام صفحات کا جائزہ لیا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میرا صفحہ بہتر ترتیب سے ، جدید ترین ، اور لکھا ہوا ہے۔ نتیجہ؟ میں نے مضمون منتقل کیا رینکنگ 9 ویں سے تیسری رینکنگ! اس کا اثر یہ ہوا کہ میں صفحے کے نظارے کو دگنا کردیا نامیاتی ٹریفک سے گذشتہ وقت کی مدت کے دوران: SEO صارفین کے بارے میں ہے ، الگورتھم نہیں سال پہلے ، یہ تھا الگورتھم کو کھیلنا ممکن ہے اور آپ اپنے درجہ بندی کردہ مواد میں تبدیلی کرکے اپنی درجہ بندی کو ختم کرسکتے ہیں کیونکہ الگورتھم صارف کے سلوک سے کہیں زیادہ پیج کی خصوصیات پر منحصر تھا۔ گوگل تلاش پر غلبہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے احتیاط سے دونوں کو باندھا۔ میں اکثر لوگوں سے کہتا ہوں کہ صفحات کو فہرست میں فہرست میں رکھا جائے گا ، لیکن اس کی مقبولیت کی بنیاد پر درجہ بندی کیا جائے گا۔ جب آپ دونوں کرتے ہیں تو ، آپ اپنے درجے کو بلند کرتے ہیں۔ ڈیزائن ، ڈھانچہ ، یا مشمولات خود ہی جمود کا شکار ہوجانا آپ کی درجہ بندی سے محروم ہونے کا یقینی طریقہ ہے کیونکہ مسابقت پذیر سائٹیں زیادہ مشغول مواد کے ساتھ صارف کے بہتر تجربات استوار کرتی ہیں۔ الگورتھم ہمیشہ آپ کے صارفین اور آپ کے صفحے کی مقبولیت کی سمت آگے بڑھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مواد اور ڈیزائن کی اصلاح پر کام جاری رکھنا چاہئے! کسی ایسے شخص کی حیثیت سے جس کو ہر وقت سرچ انجن کی اصلاح کے ساتھ موکلوں کی مدد کے لئے رکھا جاتا ہے ، میں ہمیشہ مواد کے معیار اور الگورتھم کے صارف کے تجربے پر مرکوز رہتا ہوں۔ بے شک ، میں سائٹ اور پیج SEO کے بہترین طریقوں والے سرچ انجنوں کے ل red ریڈ کارپٹ لپیٹنا چاہتا ہوں… لیکن میں اس میں سرمایہ کاری کروں گا صارف کے تجربے کو بہتر بنانا ہر بار خوفزدہ ہوجانے یا درجہ بندی سے محروم رہنے کے صفحات پر کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ کیا آپ کو کسی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں سرچ انجن کے نتائج میں اعلی درجہ بندی ہو؟ اگر آپ SEO کے مشیر ہیں جو آپ کے مؤکلوں کو ان کے اعلی درجہ کے مواد کو کبھی اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں… مجھے یقین ہے کہ آپ بہتر کاروباری نتائج چلانے میں ان کی مدد کرنے کے لئے اپنے فرائض میں غفلت برتتے ہیں۔ ہر کمپنی کو اپنے صفحے کے مندرجات کو تازہ ترین ، متعلقہ ، مجبور اور بہتر صارف تجربہ فراہم کرنا چاہئے۔ اعلی صارف کے تجربے کے ساتھ مل کر عمدہ مواد صرف آپ کی مدد نہیں کرے گا بہتر درجہ، یہ بھی ہوگا مزید تبادلوں کو چلائیں. یہ مواد کی مارکیٹنگ اور SEO کی حکمت عملی کا حتمی مقصد ہے… الگورتھم کو مات دینے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ ٹیگز: مواد کی اصلاحمواد کو بہتر بنانادرجہ بندی کردہ موادکی تلاش کے انجن کی اصلاحSEOSEO متکمواد کو اپ ڈیٹ کرنا
urd_Arab
مریم نواز شریف کی 26مارچ کو نیب میں پیشی ملتوی - Pakistan - SAMAA مریم نواز شریف کی 26مارچ کو نیب میں پیشی ملتوی فیصلہ کروناوباء کی تیسری لہر کے تناظر میں کیاگیا، نیب نیب نے مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو لاہور نیب آفس میں پیشی ملتوی کردی۔ قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس وباء کی تیسری لہر سے متعلق این سی او سی کی جانب سے اٹھائے گئے احتیاطی اقدامات کے پیش نظر ن لیگی رہنماء کی پیشی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مریم نواز نے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نیب پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی۔ قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو نیب لاہور میں پیشی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری ملک میں کرونا وائرس کی تیسری اور شدید لہر سے متعلق حالیہ ہدایات کا جائزہ لیا گیا۔ نیب کا کہنا ہے کہ این سی او سی نے ملک بھر میں کرونا وائرس کی تازہ صورتحال کے تناظر میں ہر نوعیت کے ہجوم اکٹھا کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے، ان اقدامات کے تناظر میں مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو نیب لاہور آفس میں پیشی ملتوی کردی گئی ہے، نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا، اس حوالے سے تمام سیکیورٹی اقدامات ختم کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔ نیب کا مزید کہنا ہے کہ مریم نواز کی گزشتہ پیشی پر نیب لاہور کی عمارت پر دانستہ شدید پتھراؤ کیا گیا جو نیب کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے جبکہ ملزمان کیخلاف اس غیر قانونی برتاؤ کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔ مزید جانیے: لاہور ہائیکورٹ نے مريم نواز کی 12 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے نیب کی تحقیقات میں عدم تعاون، رخنہ ڈالنے یا گمراہ کرنے کی صورت میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے، ان قانونی اختیارات کے باوجود نیب کی جانب سے تاحال انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ ادارے کو دباؤ میں لانے کیلئے مختلف حربوں کے استعمال جیسے تمام اقدامات کی سختی سے نفی کرتے ہیں، یہ انسداد بدعنوانی کا معتبر ادارہ ہے جس کا جسی سیاسی گروہ یا جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ مریم نواز شریف نے نیب کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی، ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، ظلم کے مٹنے کے دن آگئے ہیں، کرونا میں ملوث ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اجلاس کیا، کرونا میں پکڑنا ہے تو عمران خان کو پکڑنا چاہئے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ دنیا جانتی ہے نیب سیاسی، انتقامی ادارہ ہے، سیاسی مخالف کو 6 ماہ جیل میں ڈالنے کیلئے نیب استعمال ہوتا ہے۔ مریم نے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب تمہارا مالک مشکل میں آتا ہے تو اس کی مدد کیلئے پہنچتے ہو، اب یہ سب ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں، جس کیس میں بلایا تھا اس میں 48 دن نیب میں رکھا گیا۔ ن لیگی رہنماء نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اداروں کے خلاف بیان بازی کا چوکیدار نیب کو کس نے بنایا، نیب کو مریم نواز اور مسلم لیگ ن پر استعمال نہ کرنا، مریم نواز، مسلم لیگ ن تمہاری نیب اور جیلوں سے نہیں ڈرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب اتنی بہادر ہے کہ بار بار نوٹس دیتی ہے، نیب کے سیاسی نوٹس کا عوام نے سختی سے نوٹس لیا، نیب کو وہ نوٹس واپس لینا پڑ گیا۔
urd_Arab
مسز ڈاکٹر زہرا غیور نجف آبادی 2020/11/10 فوریکس دینہہ فالکنی کی 1997 میں شائع ہونے والی کتاب ارتھلی جسم اور آسمانی ہیئر کے مطابق سبزیوں میں گلیسرین اکثر قدرتی جلد کی دیکھ بھال کے جزو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ گلیسرین متبادل میں قدرتی طور پر ماخوذ کیریئر بٹر اور تیل شامل ہیں جو گلیسرین کے لئے اسی طرح کے موئسچرائزنگ اثر رکھتے ہیں۔ اگر آپ کی جلد قدرتی طور پر خشک ہے اور گلیسرین کے ذریعہ سوھاپن بڑھ جاتی ہے تو ، آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ شی ماٹر ، جوجوبا آئل ، کوکو مکھن یا ایوکاڈو آئل موثر متبادل ہیں۔ طاق کو نشانہ بنانے والے ایک اور اختراع کنندہ ، زیم یوگوچوکو نے ٹریول نوئر کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کی جو اس کی تکمیل کرتی ہے رنگ کے لوگ جو سفر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خود ہی گھومنے پھرنے سے ، اس نے دیکھا کہ اکثر ایسی ویب سائٹوں پر سفر کرنے کے لئے وقف کی جاتی ہے جن میں سفید فام لوگ ساحل پر پائے جاتے ہیں ، نشانیوں کی نمائش کرتے ہیں اور عمدہ کھانے سے لطف اندوز مارجن کی سطح کیا ہے ہوتے ہیں۔ پپس کی یہ قیمت فوریکس کے تمام جوڑے سے مماثل ہے جو چار اعشاریہ چار مقامات پر درج ہے۔ پورٹ فولیو استاد مختلف طریقوں سے کارکردگی کا تجزیہ کرتا ہے. ہمہ صفت خلیفہ: حضرت عمرؓ کا اپنی رعایا کے ساتھ محض حاکم ومحکوم کا معاملہ نہ تھا۔ آپ نے محض اپنے جسم کو لوگوں کی خدمت کا خوگر نہ بنا رکھا تھا بلکہ آپ کے قلبی جذبات اور ہمدردی و محبت کے احساسات ہرلمحے آپ کو رعایا کی خدمت اور بھلائی کے لیے سرگرم رکھتے تھے۔ ان کے دُکھ بانٹتے اور مصائب پر انھیں تسلی دے کر صبر کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ بیماروں کی عیادت اور مصیبت زدوں کی اعانت کے لیے ان کے گھروں میں حاضری دیا کرتے تھے۔ کسی فرد کو کوئی حادثہ پیش آجاتا تو سب سے پہلے اس سے اظہارِ ہمدردی کے لیے آنے والا خود خلیفۂ وقت ہوا کرتا تھا۔ کیا آپ اپنا پرانا فون استعمال کرسکتے ہیں؟ اور یہ جتنا پیچیدہ ہے جتنا اس میں اضافہ مارجن کی سطح کیا ہے ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بٹس تک منتقل ہونے کا مطلب صرف لمبی زنجیر میں زیادہ بھرنے والے شامل ہیں۔ مرحلہ 5: (1) "خریدیں" پر کلک کریں اور جو کرنسی آپ خریدنا چاہتے ہو اسے منتخب کریں (بی ٹی سی کو مثال کے طور پر دکھایا گیا ہے)۔ ڈراپ ڈاؤن میں قیمت اور (2) "ادائیگی" کو فلٹر کریں ، ایک اشتہار منتخب کریں ، پھر (3) "خریدیں" پر کلک کریں۔ یوزر ڈایاگرام پروٹوکول (UDP) cryptocurrency پوزیشن کو کس طرح منظم مارجن کی سطح کیا ہے کریں. یہ ایک موجودہ اثاثہ ہے جو ایک مقررہ وقت میں کسی کمپنی کی دستیاب رقم کی عکاسی کرتا ہے۔ 2) ڈوبی بوتلوں کا کاروبار کرنا اور انسان کو پیٹ میں لٹکانا. . مصنف مختصر فروخت کے نجات دہندہ: اپنے اوپر کی طرف رہن کو دائیں طرف کیسے بنوائیں # 1 ایجنٹ لیون ریل اسٹیٹ ڈاون ٹاؤن: 2013 ، 2014 ، 2015 ، 2016 ، اور 2017 ٹاپ 1 فیصد لیون ایجنٹس: 2012 ، 2014 ، 2015 ، اور 2016. در آلمان: Bundesanstalt für Finanzdienstleistungsaufsicht (BaFIN) in Germany. نیٹ ورکنگ ایک عجیب چیز ہے ، جتنا آپ نیٹ ورک کرتے ہیں اتنا ہی آسان ہوتا جاتا ہے۔ نیٹ ورک کرتے وقت زیادہ تر کامیاب تاجروں کے پاس آسان انداز ہوتا ہے اور وہ یہ سوچے سمجھے بھی کرتے ہیں۔ مالیاتی ماہر ڈیو رمسی نے ضروری اخراجات کی چار دیواری پر توجہ مارجن کی سطح کیا ہے دینے کی سفارش کی ہے۔ ان بنیادی اخراجات سے زیادہ کچھ بھی قرض کی ادائیگی کی طرف جاتا ہے۔ اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ صرف یہ چاروں چیزیں آپ کو زندہ رہنے اور قرض سے ماورا مستقبل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ درجہ بندی کے بنیادی اصولوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلے گروپ میں معروضی اصول شامل ہیں ، جہاں سائنسز کا ربط خود تحقیقاتی مادے کی زنجیر سے اخذ کیا گیا ہے ، اور ساپیکش اصول جب اس مضمون کی خصوصیات ، یعنی سائنس دان ، کو سائنسی درجہ بندی کی بنیاد پر شامل کیا جاتا ہے۔ آٹو ٹریفک ویب سائٹوں کا استعمال جو مصنوعی طور پر ٹریفک تیار کرتے ہیں اور اس طرح آپ کے اشتہار کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں (جس کو غیر قانونی اور ہرجانہ سمجھا جاتا ہے گوگل کی سروس کی شرائط ) آپ کے اپنے اشتہار پر کلک کرنا اور ان کی کارکردگی کو بڑھانا (جو پچھلے جرم سے ملتا ہے) فیس بک ، انسٹاگرام اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ٹریفک خریدنا (جسے غیر نامیاتی سمجھا جاتا ہے) فورمز اور سوشل میڈیا گروپس میں اپنی سائٹ کے لنکس کا اشتراک آپ کی صنعت سے غیر متعلق ہے (گوگل کے ہدف سازی الگورتھم میں الجھن کا باعث بنتا ہے) نحوۀ معامله در بازار فارکس چگونه است. اس معاملے میں ، دو حل ہیں: آپ سافٹ ویئر کا تازہ ترین ورژن ڈھونڈ رہے مارجن کی سطح کیا ہے ہیں جس کا حوالہ EXE فائل کے ذریعہ دیا گیا ہے ، یا آپ ونڈوز کے مطابقت کے پیرامیٹرز استعمال کررہے ہیں۔ اوسطاً اس میں 10 منٹ سے کم وقت لگتا ہے۔ یہ تغیرات وقت اور تجارت والے اثاثہ پر منحصر ہے۔ جب آپ کو زیادہ وزن اٹھانا پڑتا ہے تو ، ایک گھرنی کام کو مارجن کی سطح کیا ہے آسان بنا سکتی ہے۔ ایک گھرنی جسمانی طبیعیات کی چھ غیر موٹرائیزڈ سادہ مشینوں میں سے ایک ہے - اس معاملے میں ، یہ ایک بوجھ اٹھانے کے لئے ضروری کوشش کو کم کردیتی ہے یا اس سمت میں جہاں بوجھ کو منتقل کرنے کے ل force فورس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے یا یہ ہوسکتا ہے دونوں کام کریں: ضرورت کے ساتھ ساتھ سمت کو بھی کم کریں۔ ایک اچھے 404 صفحے کا مقصد یہ ہے کہ صارفین کو متعلقہ معلومات دے کر اور اچھ .ی طرح سے کام کرنے والے دوسرے صفحات پر تشریف لے جانے میں ان کی مدد کرکے اچھالنے سے روکیں۔ . فارورڈ معاہدے جن کو محض فارورڈز کے نام سے جانا جاتا ہے - فیوچرز کی طرح ہیں ، لیکن تبادلے پر تجارت نہیں کرتے ہیں ، صرف ایک دوسرے کے مقابلہ میں۔ جب فارورڈ کنٹریکٹ بنایا جاتا ہے تو ، خریدار اور بیچنے والے نے مشتق کے ل for شرائط ، سائز اور تصفیے کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق بنا لیا ہو۔ او ٹی سی مصنوعات کی حیثیت سے ، فارورڈ معاہدوں میں خریداروں اور بیچنے والے دونوں کے لئے ہم منصب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
urd_Arab
مُلا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے دوحا پہنچ گئے | Harpal Pakistan | Harpal Pakistan Home International مُلا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے دوحا پہنچ گئے دوحا: افغان طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچ گئے۔ امریکی اخبار کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کا وفد پیر سے دوحا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ یہ اب تک افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی سب سے اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہے۔ پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں گزشتہ 17 برس سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے فریم ورک پر غور کیا جائے گا جس پر گزشتہ ماہ دوحا میں ہی ہونے والے مذاکرات میں اتفاق کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اب تک افغان حکومت کو دور رکھا گیا ہے کیوں کہ افغان طالبان اپنی حکومت سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے کے بعد طالبان کو افغان حکومت سے بات کرنی ہوگی اور باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا ہوگا۔، مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کریں گے۔ خیال رہے کہ 27 جنوری 2019 کو دوحا میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان گزشتہ 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا جبکہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔ https://youtu.be/VAwsGqcZGtU Previous articleMuhammad bin Salman visit to India And Muhammad bin Qasim Attack on sindh Next articleپنجاب کے دوشہروں ساہیوال اور سرگودھا میں ایک ہفتے کے دوران 188 غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا۔
urd_Arab
عورتوں کے ساتھ سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ برطانیہ میں احتجاجی مارچ، 25 نومبر 2016 منگل سے دنیا بھر میں عورتوں کے خلاف تشدد کےخاتمے کی16روزہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں عورتوں پر تشدد کے بارے میں اور اس تشدد کی وجہ سے ان کے خاندان اور معاشرے پر منفی اثرات کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ عورتوں پر تشدد کی روک تھام کا عالمی دن ہر سال25 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پچیس نومبر سے دس دسمبر (انسانی حقوق)کے عالمی دن تک عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کےخاتمے کے لیے ایک سولہ روزہ مہم چلائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کےخلاف تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے پر ایک مخصوص ہدف شامل ہے۔ اس سال اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی مہم 'یونائٹ ٹو اینڈ وائلینس اگینسٹ وومن'کی طرف سےلوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد کے بغیر ایک روشن مستقبل کی علامت کے طور پر دنیا بھر میں اہم عمارتوں ،یادگاروں، سڑکوں ،اسکولوں اور دیگر اہم مقامات کو اقوام متحدہ کے نامزد اورنج رنگ سے روشن کریں۔ سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ میں خواتین کا احتجاج عورتوں کےخلاف تشدد کےخاتمے کی مہم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ کےشمالی شہر شیفیلڈ میں خواتین کےحقوق کے لیے کام کرنے والی طلبہ تنظیموں کی طرف سے 'ری کلیم دا نائٹ' کے نام سے شہر میں ایک احتجاجی مارچ کیا گیا۔ یہ مارچ 25 نومبر کی رات کو شہر کے قدیم چرچ شیفیلڈ کیتھیڈرل کے باہر سے شروع کیا گیا جو بعد میں ایک عوامی جلوس کی شکل میں شہر کی اہم سڑکوں اور گلیوں سے گزرتا ہوا شیفیلڈ یونیورسٹی کے ایک کیفے میں جا کر اختتام پذیر ہوا جہاں مقررین نے سولہ روزہ مہم کی اہمیت پر بات کی ۔ شیفیلڈ یونیورسٹی اور شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی طالبات کی طرف سے نکالے جانے والےجلوس میں تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والی عورتوں نے شرکت کی جنھوں نے ہاتھوں میں احتجاجی پلے کارڈز اور بینر اٹھارکھے تھے اور وہ شہر کی سڑکوں پر خواتین کو ہراساں اور تشدد کے بغیر چلنے کا حق واپس دلوانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ میں حواتین کا احتجاج طالبات ڈرم اور ڈھول پیٹ کر شہر کی گلیوں میں چیخ چیخ کر یہ منادی کر رہی تھیں کہ 'اس کی سڑک ہماری بھی ہے ' اور ہم عورتیں متحد ہیں، ہم رات میں سڑکوں پر چلنےکا حق واپس مانگتے ہیں''۔ شیفیلڈ یونیورسٹی کی طالبات کی یونین کی صدر سرینا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان دنوں اجنبیوں کے ساتھ نفرت اور اسلام فوبیا پر مبنی روئیے عام ہوتےجارہے ہیں جبکہ عورتوں کےخلاف تشدد کا رویہ بھی زیادہ تبدیل نہیں ہوا ہے اور آج عورتوں کےخلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر ہم نے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والی بدسلوکیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ہے. انھوں نے کہا کہ عورتوں کے ساتھ اس بدسلوکی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھیں پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے میں بھی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج کا مقصد اس شہر کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ جب بھی سڑک پر کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے تو یہ اس کا قصور نہیں ہوتا ہےکیونکہ عورتوں کو اکثر دفتر یا اسکول اور یونیورسٹی کے بعد رات میں گھر جانے کے لیے سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے اور آج ہم اس مہم کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عورتیں بھی دوسروں کی طرح ہیں ۔ انھیں بھی شہر میں خود کو محفوظ محسوس کرنےکا حق ہے اور اس طرح انھیں ہراساں کئے جانے کی وجہ سے خواتین کی آزادی کو محدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف عورتوں کا شیفیلڈ میں احتجاج شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی خواتین طلبہ یونین کی صدر ریچا نے کہا کہ ترقی پسند معاشرے میں بھی عورتوں کو جسمانی ،جنسی یا ذہنی تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ خواتین کےخلاف تشدد کے خاتمے کی سولہ روزہ مہم یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کیوں مزید آگے بڑھنا ہےکیونکہ قیادت اور حوصلے کی ایسی تحریکیں کمزور خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ خواتین کے جلوس میں شامل شیفیلڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم الیکس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان دنوں یونیورسٹی طالبات کے ساتھ اس طرح کے واقعات بڑھ گئے ہیںجس کا عام طور پر رات کے وقت سڑک پر چلنے والی عورت کو ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہوتا ہے ہم اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شیفیلڈ یونیورسٹی کی طرف سے طالبات کے لیے 'ڈونٹ واک ہوم الون' کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے اور خواتین کے تحفظ کےحوالے سے بس اشتہارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ یورک شائر پولیس کے تعاون سے یونیورسٹی کے آس پاس کے علاقوں میں پیدل چلنے والی طالبات کو ریپ الارم دیا گیا ہے۔
urd_Arab
بلڈ پریشر سے بچاؤ: زیادہ پیدل چلنا خواتین کے لیے مفید قرار Dec 02, 2020 | 11:14 11:14 AM, December 02, 2020 ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ نصف گھنٹے پیدل چلتی ہیں وہ زائد بلڈ پریشر کے طویل عارضے کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کئی ممالک میں درمیانی اور عمررسیدہ خواتین کے لیے جسمانی مشقت کا معیار اتنا رکھا گیا ہے کہ وہ 30 منٹ میں ایک میل کا سفر طے کرسکیں۔ اگر چلنے کی رفتار اس سے زائد ہو تو مزید بہتر ہوگا۔ یہ تحقیق ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ مطالعے میں درمیانی عمر اور بزرگ خواتین کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 50 سے 79 برس تک ہیں۔ کل 80 ہزار خواتین کو شامل کیا گیا جو سُن یاس ( مینوپاز) سے گزرچکی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فالتو بیٹھے رہنے سے خواتین میں امراضِ قلب کے سنگین مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل بیٹھنے سے اجتناب کریں کیونکہ دن میں 9 گھنٹے سے زائد بیٹھنے سے دل کے امراض بالخصوص ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 42 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس روش کو ختم کرنے کے لیے ماہرین کا اصرار ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے تیز قدموں سے چلا جائے۔ یونیورسٹی آف بفیلو کے ماہر پروفیسر مائیکل لے مونٹے نے دو مقالے پیش کئے ہیں جن کا خلاصہ ہے کہ 'تندرست دل کے لیے دیر تک بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے۔ مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ نصف گھنٹے یا ہفتے میں 150 منٹ کی تیزقدموں سے واک عمررسیدہ خواتین میں بلند بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتی ہے۔
urd_Arab
قربانی کا فریضہ عید الا ضحی کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم ترین اطاعت خداوندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر اد اکیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اللہ(اللہ کے دوست) کا لقب پانے والے اس حق وصداقت کے علمبر دار پیغمبرؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوںکے بعد پیداہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خدا وندی سے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ قربانی کا مطلب ہے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا، جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کرنایا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت 10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحجہ کی عصر تک رہتا ہے۔نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی۔اس کے لیے تاریخ 10ذی الحج ہی ہے۔عازمین حج مکہ مکرمہ میں یہ قربانی نہیں کرتے ،کیونکہ ان پر عید الاضحی کی نماز نہیں ہے، وہ حج کے دیگر مناسک میںمصروف ہوتے ہیں ،وہ بال کٹوانے کے بعد جو قربانی کرتے ہیں،دوحج کا''دم شکر''کہلاتا ہے۔یہ قربانی ''حج تمتع ''کے لوگ ادا کرتے ہیں۔ دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور ملتا ہے جسے عبادت کادرجہ حاصل ہے۔یہود کی کتاب میںکثرت سے قربانی کا ذکر ملتا ہے اور اس کے اتنے تفصیلی احکام لکھے گئے ہیں کہ کسی اور عبادت کے اتنے احکام نہیں ملتے ۔ان کی قربانیوں میں سوختی قربانی ،گناہ کی قربانی، سلامتی کی قربانی اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کے لئے قربانی ہے۔اور عید فصح کے سات دن کی قربانی کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔عیسائیوں کے مذہب کی تو بنیاد ہی قربانی پر ہے،ان کے نزدیک قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔ طلوع اسلام سے قبل مصری قوم بہتے ہوئے دریائے نیل میں ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی کو بنائو سنگھار کر کے نذردریا کردیتے ۔ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر ہم یہ قربانی نہیںکریںگے تودریائے نیل اپنا بہائو کھودے گاجس کی وجہ سے مصر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی اور قحط سالی ہوجائے گی، جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی بعثت کے وقت ہوئی تھی۔ چناںچہ حضرت عمر فاروق ؓمسلمانوں کے خلیفہ دوم مقرر ہوئے تو انہوں نے اس جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے ایک رقعہ لکھ کر دیاکہ اسے دریا میں ڈال دیا جائے اور آئندہ کے لئے فرمان جاری کیا کہ اب کسی بے گناہ بیٹی کی جان اس طرح نہ لی جائے۔ اس طرح رسم بد کا خاتمہ ہوا اور دریائے نیل آج بھی بغیر کسی قربانی کے اسی طرح بہہ رہا ہے۔ اسی طرح جنوبی ایشیا میں ہندوستان ایسا ملک ہے جہاںکی اکثریت ہندو مذہب کی پیر وکار ہے، ان کی معتبر کتابوں میں قربانی کا ذکر ملتا ہے، وہ اپنے دیوتائوںکی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی قربانی (بھینٹ)کرتے تھے۔ قربانی کا تصور بڑا قدیم ہے جو حضر ت آدم علیہ سلام کے وقت سے چلاآرہا ہے۔ان کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا اقلیمہ نامی لڑکی سے شادی پر تنازعہ پھر حضرت آدمؑ کا مشورہ دینا کہ اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرو۔اس وقت جانور کے علاوہ زرعی اور پیداواری ما ل بھی قربانی کے لئے پیش کیا جاتاتھاجو کسی پہاڑی کی چوٹی پر رکھ دیاجاتا تھا۔ایک قدرتی آگ آتی اور وہ مال جلا کر بھسم کرجاتی تھی جس سے ظاہر ہوتاتھا کہ قربانی قبول ہوگئی، البتہ نہ جلنے والا مال قربانی کے لئے نامنظور کہلاتا تھا۔اس طرح ہابیل کا پیش کردہ جانور بھسم ہوگیا اور قابیل کا مال بچ گیا یعنی نہ جلا۔ عید الا ضحی کی قربانی اصل میں اس واقعے عظیم کی یاد کو تازہ کرتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوا یعنی خواب میں فرزند عزیز حضرت اسماعیل ؑکو ذبح کرتے دیکھا تو سچ مچ انہیں قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ہماری مختلف مذہبی کتاب میںحضرت ابراہیم ؑکے اس خواب کا آیاہے جو کہ قربانی سے متعلق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ خواب مسلسل تین رات تک دیکھاتھا۔پہلی رات یعنی آٹھ ذی الحج جسے عشرعی اصطلاح میں''یوم الترویہ''کہا جاتا ہے۔ لغت میں ترویہ کے معنی''سیراب کرنا''پانی فراہم کرنا'معنی اور عرفات میں چونکہ پانی نہیں ہے، اس لئے ایام حج میں یعنی اسی تاریخ کو یہاں بذریعہ ٹینکر پانی سپلائی کیا جاتا ہے جس کی شہادت عازمین حج بھی دیتے ہیں ۔صحیح بخاری میں ''ترویہ کے معنی و مفہوم میں''پانی پلانا'' لکھے ہیں ،لوگ اس دن اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے تھے ۔بعض اہل زبان نے ''ترویہ''کو روایت سے لیا ہے، اس لئے ''دیکھنے کے ''معنی میں لیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی چونکہ خواب دیکھا تھا تو دیکھنے کے معنوں میں ترویہ لیا۔اس کی تو جیہ یہ بھی لکھی ہے کہ اس دن عازمین حج نماز ظہر کے بعد احرام باندھ کر منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور زادِراہ کی خاطر پانی بھی ساتھ رکھتے ہیں ۔ایک اور جگہ اس کے معنی ''سوچ کا دن'' لکھتے ہیں،کیوں کہ رات کے خواب کے بعد دن میں اس کی تعبیر کے بارے میں سوچا تھا،اس لئے اس دن کا نام''یوم الترویہ''پڑگیا۔ اس دن کا تعلق چونکہ ایام حج سے بھی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا جس میں حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی عزیز ترین شے ہماری راہ میں قربان کرو۔ صبح اٹھ کر آپ ؑ نے سوچا کہ کیا چیز قربان کی جائے کہ جس سے منشائے ایزدی پوری ہوجائے۔ آپ نے اونٹ قربان کردیا۔دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ چنانچہ آپؑ نے پھر ایسا ہی کیا۔واضح ہو کہ حجاز کی سرزمین پر سرخ اونٹ شروع ہی سے بڑا قیمتی رہاہے جسے صرف چند مخصوص افراد استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کی قیمت خرید سے باہر ہوتا ہے۔ دوسرے دن آپؑ نے جو قربانی پیش کی وہ''یوم عرفہ'' تھا جس کے معنی''پہچاننے'' کے ہیں۔ علمائے کرام لکھتے ہیں کہ جنت سے نکلنے کے بعد خطہ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حواؑ ایک دوسرے سے بچھڑ چکے تھے اور پھر عرفات کے میدان میں ان کا ملاپ ہوا تھا جہاں دونوں نے ایک دوسرے کویوم عرفہ میں پہچان لیا تھا۔اس لئے اسے ''عرفہ کا دن'' کہا جاتا ہے ۔اس کی دوسری تو جیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس دن حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم ؑکو مناسک حج سکھائے تھے ،ان مناسک کو دیکھنے کے لئے آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی اور ہمیں اپنی عبادتیں(مناسک)سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔''(سورۃ البقرہ آیت :128) عرفہ ذی الحج کا دن ہوتا ہے، اسی دن تمام عازمین حج عرفات کے میدان میں آتے ہیں جو حج کا رکن اعظم ہے 'یہاں کی حاضری خواہ چند ساعتوں کے لئے ہی سہی' ضروری ہے ورنہ حج نہیں ہوتا۔اس دن عازمین حج اپنے آپ کو رب کائنات کے حضور پیش کر کے اپنے گناہوں کا اعتراف بر ملا کرتے ہیں ۔حضرت ابراہیمؑ نے چونکہ عرفہ والی رات کو بھی یہ خواب دیکھا تھا، اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے اپنے پہلے دن والے خواب کو پہچان لیا تھا کہ یہ وہی خواب ہے جو کل دیکھا تھا۔اسی دن فجر کی نماز سے تیرہویں کی عصر تک تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد خواتین وحضرات پر چاہیے وہ مقیم ہو یا مسافر ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔ تیسری رات کو آپؑ کو پھر وہی خواب دیکھائی دیااور یاد دہانی کروائی گئی کہ اے ابراہیمؑ اپنی عزیز ترین شے کو قربان کرو۔آپؑ نے اس موقع پر اپنے گردو پیش کاجائزہ لیا تو آپؑ کو حضرت اسماعیلؑ نظر آئے تو آپؑ نے بیٹے سے تینوں راتوں کے خواب کا ذکر کیاجس کے بارے میں قرآن حکیم میںبھی ذکر ہوا ہے۔پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچاکہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس نے کہا۔میرے پیارے بیٹے!میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے قربان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے جواب دیا 'والد محترم:جو حکم ہوا ہے اسے بجالائیے ،انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اوراس نے اسے (باپ نے بیٹے )کروٹ کے بل گرادیا۔تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ''یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کردیکھایا۔بے شک، ہم نیکی کرنے والے کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔در حقیقت یہ کھلا امتحان تھا''۔(سورۃ الصافات) مفسرین کرام ان آیات کی تشریح بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسمعیلؑ کی عمر 13برس تھی۔پیغمبر وں کے خواب بھی وحی الہٰی کا درجہ رکھتے ہیں۔اس لئے بیٹے کے قربانی کے حکم کو وحی الہٰی جانتے ہوئے تسلیم کرلیا اور بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے؟اسی بیٹے کو اللہ تعالیٰ مستقبل میں پیغمبروں کے لئے چن چکا تھا،اسی لئے وہ حکم الہٰی کے کیسے خلاف جاسکتے تھے ؟پھر اس سے اگلی آیت میں ارشاد فرمایا:''اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیے میں دے دیا اورہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا 'ابرہیمؑ پر سلام ہو ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے ۔(القرآن) یہ بڑا ذبیحہ ایک دنبہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے بھیجا'پھر حضرت اسمعیلؑ کی جگہ اسے ذبح کیاگیا اور پھر اسی سنتِ ابراہیمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دیا گیا۔قربانی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ ،لیکن امت مسلمہ ہر سال جو قربانی کرتی ہے'یہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیلؑ کی یادگار ہے۔ حضرت زید بن ارقم ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پرصحابۂ کرامؓ نے عرض کیا''یارسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟رسول اکرم ﷺ نے فرمایا''یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے '' صحابہ ؓ نے عرض کیا'اس میں ہمارے لئے کیا اجر ہے؟حضورﷺ نے فرمایا، قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ ایام قربانی میں قربانی ایک ایسی نیکی ہے جس کا کوئی اور بدل نہیں ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا''قربانی (10تا12ذی الحجہ)میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میںقربانی کا جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں'بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہو گا اور بلاشبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعا لیٰ کی بارگا ہ میں مرتبہ قبولیت پالیتا ہے۔تو(اے مومنو)خوش دلی سے قربانی کیاکرو۔''(الحدیث)
urd_Arab