text stringlengths 240 131k |
|---|
دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے، علامہ ساجد نقوی - شیعت نیوز نیٹ ورک
دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے، علامہ ساجد نقوی
شیعت نیوز (اسلام آباد) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ علی آباد ہزارہ ٹاؤن اور کوہاٹ میں دہشتگردانہ دھماکے میں خواتین، بچوں سمیت 11 افراد کی شہادت جبکہ 25 مومنین کے زخمی ہونے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ ٹاؤن چاروں اطراف سے ایف سی بلوچستان کے حصار میں تھا، علاقے میں اتنی بھاری سکیورٹی ہونے کے باوجود دہشتگردی کے اس واقعے کا رونما ہونا، ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر پچھلے سانحات کی تحقیقات کرکے رپورٹ کو منظر عام پر لایا جاتا اور خونی دہشتگردوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا آج ملک بھی میں اس قسم کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن افسوس سے دیکھ رہے ہیں کہ انتظامیہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی جگہ دباو میں آکر قاتلوں کو رہا کر کے مقتولین پر ہی ہاتھ ڈال رہی ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی اور ناانصافی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ملک کی داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ سزائے موت کے قانون جاری کرکے دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے اس لئے کہ گذشتہ کافی عرصے سے سزائے موت پر عملدرآمد کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے قاتلوں اور دہشت گردوں کو شہہ مل رہی ہے اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کا ہم سختی سے نوٹس لے رہے ہیں کہ سزائے موت کیوں نہیں دی جارہی، ٹارگٹ کلنگ مسلسل جاری ہے لوگ مارے جارہے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کرکے ان خاتمہ کیا جانا چاہیئے، آخر میں سربراہ ایس یو سی نے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ورثا اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
agencies Ahmadinejad Allama ALlama Sajid Naqvi Ambassador arif hussaini arrested attacks azb babulilm babulilm library Bahrain Balochistan blast bomb celebrated death declared Eid alAdha enemy Families FC flooding gaza Hazara Town Hezbollah High Courts Holy Land horrors Hussain injured involved Iran Iran News Iraq ismael israel Jafariya News Jafariyanews jaffaria Jafferia jafferia news jafferya justice Karachi khabarnama khabrain khamenei killers killings lebonan martyr martyrdom Martyred Middle East millat multiplied murderer MWM nasebi nasrallah News Pakistan Pakistan News pakshia palestine parachanar parachinar protest quaid Quetta rehbar Saudi Arab shia killing shia news Shia Ulema Council shiakilling shiapost Shiite shiite news shiitenews Solidarity Syria Tehran terror terrorists Tragedy US victims wahabi wilaya wilayat Yemen |
کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ - ڈیلی منافع
صفحہ اول تازہ ترین کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے...
کے پی حکومت کا ضم شدہ علاقوں میں بلاسود قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت اور اخوت فاﺅنڈیشن کے مابین ضم شدہ اضلاع میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور کاٹیج انڈسٹری کے فروغ کے سلسلے میں بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لئے مائیکرو فنانس اسکیم کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔
بلاسود مائیکرو فنانس اسکیم ایک ارب روپے کے گردشی فنڈ پر مشتمل ہو گی جس کے تحت ضم اضلاع کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کو 75 ہزار روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔
اسکیم کے تحت خواتین کیلئے 25 فیصد، خصوصی افراد کیلئے پانچ فیصد اور خواجہ سراﺅں کیلئے دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم، سیکرٹری صنعت جاوید مروت، سی ای او اخوت فاﺅنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب اور دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔
محکمہ صنعت خیبرپختونخوا اور اخوت فاﺅنڈیشن کے متعلقہ حکام نے معاہدے پر دستخط کئے۔ بلاسود قرضوں کی یہ اسکیم اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کے ذریعے شروع کی جا رہی ہے جو پہلے سے ضم اضلاع میں پانچ سو ملین روپے کی لاگت سے بلاسود قرضوں کی ایک اسکیم چلا رہی ہے۔
اس طرح یہ دوسری اہم اسکیم ہے جو ضم شدہ اضلاع میں اخوت کے ذریعے شروع کی جا رہی ہے، اسکیم کے تحت اگلے 13 سال کے عرصہ میں ضم اضلاع کے تقریباََ دو لاکھ 19 ہزار افراد مستفید ہوں گے اور یہ قرضے میرٹ کی بنیاد پر دئیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ اسکیم کو ضم شدہ اضلاع میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ اور عوام کی معاشی خوشحالی کے لئے صوبائی حکومت کا ایک اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمال اینڈ میڈیم انٹر پرینورشپ اور کاٹیج انڈسٹری قومی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ شعبہ ماضی میں یکسر نظر انداز کیا گیا تاہم صوبائی حکومت اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے معاشی ترقی اور روزگار کی تخلیق کے عنوان سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت مذکورہ مقصد کے لئے چار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیراعلی نے ضم اضلاع کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے لوگوں خصوصا نوجوانوں کو معاشی لحاظ سے ان کے پاں پر کھڑا کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام نے ماضی میں بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت قبائلی عوام کی ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کرنے اور انہیں فوری ریلیف کی فراہمی کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ |
وزارت خزانہ کا پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ | Urdu News – اردو نیوز
وزیر تجارت کا عازمین حج کو فراہم سہولتوں کا جائزہ
جمعرات 26 مئی 2022 7:47
پریس ریلیز کے مطابق 'حکومت 2023 میں بجٹ خسارے کو کم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔' (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
جمعرات کو فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پیٹرول، بجلی اور دیگر معاملات میں سبسڈی دینے سے کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
'اس ملاقات میں کرنٹ اور فسکل اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایم ایف ٹیم نے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی کو ختم کرنے پر زور دیا جو گذشتہ حکومت نے دی تھی۔'
پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کم کرنے کے لیے تیار ہیں: وزیر خزانہ
Node ID: 663736
'پٹرول پر سبسڈی ختم نہ بھی ہو تو مہنگائی سے بچنا مشکل'
Node ID: 668761
Node ID: 671796
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ 'حکومت 2023 میں بجٹ خسارے کو کم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔'
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کے تمام شہریوں کے فائدے کے لیے معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ 'آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد دوحہ سے واپس آیا ہوں۔ ہمارے وفد نے گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ بہت مفید اور تعمیری بات چیت کی۔'
The IMF team emphasised the importance of rolling back fuel & power subsidies, which were given by the previous administration in contravention of its own agreement with the Fund.
Govt is committed to reviving the IMF programme & put Pakistan back on a sustainable growth path./
انہوں نے لکھا کہ 'ہم نے مالی سال 23 کے اہداف پر تبادلہ خیال کیا جس کے لیے بلند افراط زر، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بڑے خسارے کی روشنی میں ہمیں ایک سخت مالیاتی پالیسی اور اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح حکومت مالی سال 23 میں بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مفتاح اسماعیل کے بقول 'آئی ایم ایف کی ٹیم نے ایندھن اور بجلی کی سبسڈی کو واپس لینے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے اور پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔'
مفتاح اسماعیل کی ٹویٹ پر ردعمل دینے والے متعدد صارفین نے خدشہ ظاہر کیا اب حکومت بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دے گی نتیجتا ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، جو پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کرے گا۔
منظر الہی ترک نے لکھا کہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس سے مہنگائی بڑھے گی اور صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گا نتیجتا برآمدات بھی کم ہو جائیں گی۔
حکومت مخالف ٹویپس نے مفتاح اسماعیل کو ان کی ماضی کی ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ آپ پی ٹی آئی حکومت پر فیول پرائس میں اضافہ پر تنقید کرتے تھے، اب خود آئی ایم ایف کے کہنے پر یہ کام کرنا کیسے ٹھیک ہو گا۔
کچھ صارفین نے انہیں تجویز دی کہ پیٹرول و بجلی پر سبسڈی کا فوری خاتمہ کریں تاکہ ملکی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ سکے۔
گفتگو میں شریک کئی افراد نے وزیر خزانہ کو سبسڈی کے بجائے دیگر ذرائع اپنا کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تجویز بھی دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف نے پاکستان سے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے بجلی اور پیڑولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ ٹیم نے پروگرام کے اہداف کے حصول کے لیے ایندھن اور بجلی کی سبسڈیز اور مالی سال 2023-2022 کے بجٹ سمیت پالیسی ایکشن کی ہنگامی ضرورت پر زور دیا۔ |
حضرت آدم علیہ السلام ، سیدنا علی اور صحابہ اکرام رض کی شان میں بدترین گستاخی (شیعہ ذاکر ناصر عباس) - Sunni Library
جولائ 12, 2020 July 12, 2020 0 تبصرے 3550 مناظر
اللہ پاک نے فرشتوں اور ابلیس کوحکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں۔ قرآن میں یہ واقعہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم قرآن سے اس واقعہ کو سمجھیں پہلے شیعہ ذاکرناصر عباس کی طرف سے غلو محبت علی میں حضرت آدم کی توہین دکھاتے ہیں پھر یہ بھی بیان کیا کرتے ہیں کہ جس بنیاد پر سیدنا علی کی شان بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ اس بنا پر تو سیدنا علی بھی حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے پر مردود و ملعون ہوجاتے ہیں!! معاذاللہ ثم معاذاللہ
اس شیعہ ذاکر کی بکواسات کو سنیں
قرآن میں حضرت آدم اور ابلیس کا قصہ
١۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (11) قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (12) الاعراف: ١١ – ١٢
اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے ہی تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کو سجدہ کرو، سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے، وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ حق تعالی نے فرمایا: تو جو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے، جب کہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔
اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (30) إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (31) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (33) الحجر: ٢٨ – ٣٣
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، تو جب میں اسے پورا بناچکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدہ میں گرپڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کرلیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تونے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا (61) قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا (62) الاسراء: ٦١ – ٦٢
جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے اپنے بس میں کرلوں گا۔
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ (71) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (72) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (73) إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (74) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (75) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (76) ص: ٧١ – ٧٦
جب آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے۔ (اﷲتعالی نے) فرمایا: اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔
شیعہ ذاکر نے اس کلپ میں نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی ہے بلکہ قرآن کی معنی تبدیل کر کے سیدنا علی کی بھی گستاخی کردی ہے۔
قرآن میں کہیں بھی یہ بیان نہیں ہوا کہ اللہ عزوجل نے سیدنا علی کو بھی سجدے کا حکم دیا تھا!!
سب سے اہم بات اگر اس جاہل ملعون شیعہ کی بات درست بھی مان لی جائے تو اس سے سیدنا علی پر بھی الزام آتا ہے کہ باوجود حکم الہی کے سیدنا علی منکر خدا بن گئے اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا!!
اب ان جاہل شیعوں سے کون پوچھے کہ جس حکم عدولی پر ابلیس ملعون راندہ بارگاہ الہی ہوگیا ، من و عن اسی حکم عدولی پر سیدنا علی کی فضیلت کیسے ہوگئی جسے یہ ذاکر عباس اچھل اچھل کر بیان کر رہا ہے اور نیچے بیٹھے ہوئے اندھے، گونگے اور بہرے لوگ بغیر سوچے سمجھے واہ واہ بھی کر رہے ہیں!! |
مرکزی صفحہ/ کالم/کافر مچھلیاں اور بابا نانک کا کنواں / مستنصر حسین تارڑ
کرتار پور کی جانب سفر کرتے ہم نارووال سے کچھ فاصلے پر واقع جسڑ کے مقام پر شاہراہ سے جدا ہو کر دریائے راوی تک پہنچے تھے' صرف وہ پل دیکھنے کی خاطر جو کئی سو برس پرانا تھا اور بتایا گیا کہ یہ صرف ایک پل نہیں' ڈبل پل ہے یعنی دو منزلہ ہے۔ اوپر کی منزل سے ٹریفک گزرتی ہے اور نچلی منزل پر ٹرین جھک جھک کرتی کبھی ڈیرہ بابا نانک جایا کرتی تھی لیکن ہم قدرے مایوس ہوئے کہ اتنی مصیبت سے یہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ پل غالباً 71ء کی جنگ کے دوران بموں سے اڑا دیا گیا تھا تاکہ ہندوستانی حضرات یونہی وہ پل پار کر کے ہماری گلی میں نہ آ نکلیں۔ یہ وہ راوی تو نہ تھا جسے کبھی پاروشنی اور کبھی ایراوتی کے نام سے یاد کیا گیا۔ دریا تو نہ تھا' ندی بھی نہ تھی کہ ندیاں تو تیز بہتی ہیں' کچھ پانی پھیلے ہوئے تھے جن میں سے آپ شلوار اڑس کرآسانی سے چلتے ہوئے پار جا سکتے تھے۔ البتہ ان پانیوں میں مچھلی بہت تھی۔ لائسنس یافتہ مچھیروں کے جال مچھلیوں کی کثرت سے تڑپتے تھے۔ تب ایک مچھیرے نے جال میں سے ایک مونچھوں والی کھگا مچھلی دبوچی اور کہنے لگا ''حضور یہ ابھی زندہ ہے'' اور مچھلی واقعی آنکھیں مٹکا رہی تھی۔ یہاں دریائے راوی کبھی بل کھاتا ہندوستان چلا جاتا اور کبھی وہاں سے بور ہو کر پاکستان پلٹ آتا ہے تو میں نے مچھیرے سے کہا ''بھائی جان یہ راوی تو ابھی ابھی ہندوستان سے واپس آ رہا ہے تو کیا یہ ایک ہندو مچھلی ہے؟ تو مچھیرے بھائی جان نے کہا' آئی تو ادھر سے ہے، پر پاکستان میں داخل ہوتے ہی مسلمان ہو گئی ہے۔ حلال ہے۔ یعنی ہندو مچھلی حرام ہے اور ہاں یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ہرا سمندر گوپی چندر والی ہری ہری مچھلیاں کسی مذہب کی پیروکار ہوتی ہیں۔ ویسے اگر ہری ہری تھیں' سبز تھیں تو ان کے مسلمان ہونے میں کچھ شک نہیں۔
اچھا اب میں آپ کو مچھلیوں کے بارے ایک نہایت نایاب خبر سنانا چاہتا ہوں اور ایسی خبریں صرف مجھ ایسے خبطی بابا جات کی گڈری میں ہی ہوتی ہیں۔ بہت مدت ہو گئی کہ میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ کاغان گیا۔ ٹراؤٹ مچھلی کے شکار کے لیے نہ صرف پرمٹ حاصل کیا بلکہ ایک تجربہ کار شکاری بھی کرائے پر حاصل کیا۔ ناران سے کچھ دور سوچ کے مقام پر دریائے کنہار میں ہم اور شکاری کنڈیاں پھینکتے پھنیکتے نڈھال ہو گئے۔ بازو شل ہو گئے اور جب ہم مایوس ہو چکے تھے اور سورج ڈھل رہا تھا تو ہماری کنڈی میں پروئی ہوئی ایک سلور ٹراؤٹ آخری کرنوں کی زردی میں بھی۔ چاندی رنگ میں پھڑپھڑاتی تھی۔ ہم سب نے باری باری اس سلور ٹراؤٹ کے ساتھ نہایت پر فخر تصویریں اتروائیں۔ تصویروں کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے ہم نے صرف ایک نہیں کئی مچھلیاں شکار کرلی ہیں۔ جیسے پرانے زمانوں میں جب ایک شیر مار لیا جاتا تھا تو مرکزی شکاری کے علاوہ درجنوں حضرات ان کی کھال تھپکتے تصویریں اترواتے تھے اور یوں ایک سے درجنوں شیر ہو جاتے تھے اور ہاں یہ رائے ونڈ کے محلات کے دروازوں پر تعینات بھس بھرے شیر نہ ہوتے تھے۔
آپ جانتے ہیں کہ سیاست کے معاملات میں میری ترجیح صرف پاکستان ہے نہ زرداری، نیازی ہے اور نہ ہی میاں میاؤں ہے لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر دو میاں برادران اگر مکے لہرا رہے ہوں اور مریم بی بی روک سکو تو روک لو کی گردان کر رہی ہوں اور یکدم سچ مچ کا ایک شیر دھاڑنے لگے تو ان پر کیا گزرے گی۔ جیسے ایک بچے سے کہا گیا کہ ''پو پھٹنا'' کو محاورے میں استعمال کرو تو اس نے کچھ غور کیا اور کہنے لگا۔ ایک دیہاتی جنگل میں جارہا تھا تو یکدم ایک شیر اس کے سامنے آ گیا تو دیہاتی کی پو پھٹ گئی۔ میں کچھ بھٹک سا گیا ہوں' یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں نہیں بڑھاپے میں ہوں، تو جب وہ سلور ٹراؤٹ ہم نے شکار کرلی تو میں نے کرائے کے شکاری سے استفسار کیا کہ خان صاحب۔۔۔ اتنی خوبصورت شے کہو آپ دریا کی دنیا سے دبوچ کر مردہ کردیتے ہیں تو آپ کو ترس نہیں آتا؟ اور مجھے اب تک یاد ہے کہ اس شکاری خان صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا کہ صاحب یہ مچھلی کافر ہے اس کا شکار کرنے سے ثواب ہوتا ہے تو ظاہر ہے مجھے کچھ حیرت ہوئی کہ کیا مچھلیاں بھی مسلمان یا کافر ہوا کرتی ہیں تو وہ کہنے لگا' صاحب سب مچھلیاں مسلمان ہوتی ہیں اور ان میں سے جو بدبخت کافر ہو جاتی ہیں صرف وہی شکار ہو جاتی ہیں تو غم نہ کرو۔
اور یہ جو دریا ہوتے ہیں' دنیا بھر کے دریا ہوتے ہیں' وہ صرف تب نامور ہوتے ہیں جب وہ کسی قدیم شہر یا بستی کے کناروں کو سیراب کرتے ہیں تو راوی صرف لاہور سے لگ کر بہتا تھا تو جانا گیا۔ دریائے نیل قاہرہ کی قربت سے پہچانا گیا۔ گنگا کے پانی بنارس تک گمنام رہا آئے۔ دجلہ اور فرات' شہر بغداد کے مرہون منت ہیں۔ دریائے تھیمز کو لنڈن نے نامور کیا۔ دریائے والگا کو ماسکو نے گلے لگایا۔ البتہ ان سب میں صرف ایک دریا ہے جسے کسی بھی بستی یا شہر کی قربت کی حاجت ناموری کے لیے نہ ہوئی۔ بلکہ جن شہروں اور آبادیوں میں سے وہ گزرا' اس کے پانیوں نے ان کو سربلند کیا اور وہ دریائے سندھ ہے۔ جس دریا کے نام نے ایک پورے برصغیر کو اپنا نام دیا۔ انڈس سے انڈیا ہوا۔ ہم نے جسڑ کے مقام پر دھیرے سے سرکتے اجنبی راوی سے معذرت کی کہ یہاں تم اچھے نہیں لگتے۔ لاہور میں کامران کی بارہ دیواری کے ساتھ بہتے اچھے لگتے ہو۔ وہیں پھر ملیں گے ایک بریک کے بعد۔
اگرچہ لاہور سے جب آج سویر نکلے تو وہاں کا راوی بھی رواں نہ تھا۔ تھم تھم کر بہتا تھا کہ اس کے پانیوں میں شہر لاہور کی آلودگی اور گندگی گھنی ہو چکی تھی۔ راوی نہ تھا ایک غلاظت بھرا گندا نالا تھا۔ مجھے گمان ہوا کہ میری پیش گوئی شاید درست ثابت ہونے کو ہے۔ جیسے ''بہاؤ'' میں سرسوتی سوکھ گیا' ایسے ہی راوی بھی خشک ہورہا ہے اور آئندہ زمانوں میں لوگ ایک دریا کی خشک ہو چکی گزرگاہ کے کناروں پر کسی کھنڈر ہو چکے شہر کی مٹی کریدیں گے اور اس میں سے ٹھیکریاں برآمد ہوں گی اور کسی ایک ٹھیکری پر نقش ہوگا۔ لاہور' لاہور ہے۔
ہم راوی سے بچھڑ کر واپس شاہراہ پر آئے۔ کچھ مسافت اختیار کی اور کچھ دیر بعد دائیں ہاتھ پر ایک پیلے رنگ کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ اس بورڈ کے ماتھے پر گور مکھی میں کچھ درج تھا۔ دونوں جانب سکھ مذہب کے امتیازی نشان تھے۔ انگریزی میں بھی اعلان تھا اور اردو میں تحریر تھا۔ گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور صاحب 2.5 کلومیٹر۔
ایک بہت ہریاول بھری وسعت تھی' نہ کوئی گاؤں تھا نہ کسی آبادی کے آثار اور اس ہری ہری وسعت کے درمیان میں ایک سفید رنگ کی گیندوں اور محرابوں والی عمارت یوں ابھر رہی تھی جیسے وہ ان کھیتوں کی ہریاول کی بیٹی ہو۔ داخلے پر کچھ مناسب پچھ پڑتیت ہوئی کہ سکیورٹی کے معاملات تھے۔ ہم اس عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے تو بائیں جانب محفوظ کیا جا چکا ایک کنواں تھا۔ اس کے گرد محراب نما دیواریں تھیں۔ کنواں قید میں تھا اور یہ وہی کنواں تھا قدیم طرز کا جس کی ماہل پر کبھی کوزے پروئے ہوتے تھے' ٹنڈیں نصب ہوتی تھیں' بیل گیڑے لگاتے تھے تو کوزے ہولے ہولے نیچے اتر کر پانیوں میں غرق ہوتے تھے اور پھر لبریز ہو کر ابھرتے تھے اور کھیتوں کو سیراب کرتے تھے۔ یہ تو وہی میرے دادا امیر بخش کا کنواں تھا اور یہاں کہتے ہیں کہ یہ بابا گورونانک کا کنواں ہے۔
میں نے اس بے وجہ عطا کردہ نسبتاً طویل حیات میں اپنے دادا کے علاوہ اور بہت اور بے شمار کنویں دیکھے ہیں' سب کا تذکرہ کہاں ہوسکتا ہے' مختصراً اندلس کے ویرانوں میں عرب زمانوں کا ایک کنواں' قبا اور مدینے کے راستے میں غرص نام کا۔ قربان قربان وہ کنواں جہاں مسافت کے دوران قصویٰ کا سوار دم لیتا تھا۔ دو گھونٹ پانی پیتا تھا اور اکثر اس کی منڈیر پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں کنویں کے پانیوں سے خنک کرتا تھا۔ یہاں تک کہ روایت ہے کہ میرے رسولؐ نے رخصت ہوتے ہوئے وصیت کی تھی کہ مجھے غرص کے پانیوں سے غسل دیا جائے اور حضرت علیؓ کوزے بھر بھر کے اس کے پانیوں کے لیے لے گئے تھے اور پھر سلمان فارسیؓ کا کنواں تھا' جسے میں نہ دیکھا جو نابود ہونے کو تھا۔ اور سب سے اعلیٰ اور مسلمانوں کی پیاس بجھانے والا عثمان غنیؓ کا خرید کردہ وہ کنواں، جس پر آج ایک بھدی سی موٹر لگی ہوئی ہے اور جس کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ان میں پورن بھگت کے کنویں کو بھی شامل کرلیجئے جہاں آج بھی بے اولاد عورتیں حاضری دیتی ہیں اور اس کے پانیوں سے غسل کرتی ہیں کہ شاید پورن کی طفیل اولاد نصیب ہو جائے۔
ان سب کنوؤں میں ایک احساس مشترک ہوتا ہے۔ ان میں جھانکئے تو پاتال میں سے ایک مہک اٹھتی ہے۔ نسل انسانی سے ذات پات کی تخصیص کے بغیر محبت کی۔ ایک کائناتی سچائی اور وحدانیت کی۔ گورونانک کے اس کنویں کی گہرائیوں میں سے بھی وہی مہک اٹھتی تھی۔ |
کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ | گیجٹ کی خبریں
کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ
Ignacio سالا | | کھلاڑی, اسٹریمنگ
فی الحال انٹرنیٹ پر ہر چیز یا تقریبا everything سب کچھ ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت ہم جو بھی گانا چاہتے ہیں ان کو سن سکتے ہیں ، اپنی پسندیدہ سیریز کا تازہ ترین قسط یا مووی کے جدید پریمیئر دیکھ سکتے ہیں۔ ہم روایتی پریس ، رسالوں اور تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں یہاں تک کہ زندگی بھر کے ریڈیو تک۔
کی آمد کے ساتھ موسیقی کی محرومی خدمات، ریڈیووں نے دیکھا کہ کیسے ان کا بنیادی کاروبار آہستہ آہستہ گر رہا ہے۔ لوگ اپنے پسندیدہ گانوں کو ، بغیر اشتہارات کے اور پیش کش کے بغیر سننا چاہتے ہیں parype ڈالنے سے پہلے
ریڈیو سے وابستہ انٹرنیٹ کے ایک فوائد میں یہ ہے کہ اس سے ہمیں ہمارے کمپیوٹر سے اپنے پسندیدہ اسٹیشنوں کو سننے کی اجازت ملتی ہے ، بغیر ہمارے زندگی بھر کے ریڈیو ، ریڈیو جیسے استعمال ہوتے ہیں صرف وہ پکڑتے ہیں 40 یا ریڈیو 3۔
نیز ، جو لوگ خوش قسمت یا بدقسمتی سے بیرون ملک مقیم ہیں یا طویل عرصے تک گزارتے ہیں ، ان کے لئے بغیر اپنے ملک کی خبروں سے تازہ دم رہنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کا رخ کریں۔
ہمارے پسندیدہ اسٹیشنوں تک رسائی کا تیز ترین راستہ براہ راست ان کی ویب سائٹ کے ذریعے ہے۔ لیکن زندگی بھر کے اسٹیشنوں سے آگے زندگی ہے۔ انٹرنیٹ کا شکریہ ، ہم کر سکتے ہیں دوسرے علاقوں یا ممالک سے اسٹیشن تلاش کریں جو ہمارے ذوق ، ضروریات یا ترجیحات کے مطابق ہے۔
پہلے اسمارٹ فونز جو مارکیٹ پر لانچ ہوئے تھے ، ایک ایف ایم چپ ضم، ایک چپ جس نے روایتی ریڈیو سننے کی اجازت دی (وہ اینٹینا کے طور پر ہیڈ فون استعمال کرتے تھے)۔ بدقسمتی سے ، ایسا لگتا ہے کہ جب قدرتی آفات آتی ہیں اور مواصلاتی اہم چینلز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے تو بہت کارآمد ہونے کے باوجود مینوفیکچررز اس فنکشن کے لئے کم سے کم پرعزم ہیں۔
1 ریڈیو گارڈن
2 میں دھن
3 ریڈیوفائی
4 ریڈیوویبائٹس
6 انٹرنیٹ ریڈیو
7 متبادل
ریڈیو گارڈن
ریڈیو گارڈن دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنوں کو سننے کے لئے ایک مقبول اور جامع ویب خدمات میں سے ایک ہے۔ اگر ہمارا براؤزر ویب صفحات کو ہمارے مقام تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے تو ، یہ ہمیں قریب ترین اسٹیشن دکھائے گا ہماری حیثیت ، جو اگرچہ یہ پاگل لگتا ہے ، ایسا نہیں ہے۔
ہمارے مقام پر منحصر ہے ، یہ قریب ترین علاقوں کی تجویز کرے گا جہاں اسٹیشن دستیاب ہیں ، حالانکہ یہ صوبوں اور دیگر ممالک میں بھی تلاشی لے گا۔ اگر ہم جس اسٹیشن کی تلاش کر رہے ہیں وہ دستیاب نہیں ہے تو ، ہم کر سکتے ہیں اس خدمت میں شامل ہونے کے لئے ایک فارم پُر کریں۔
اگر ہم اس اسٹیشن کا نام جانتے ہیں جس کے بارے میں ہم سننا چاہتے ہیں تو ، ہم براہ راست اسٹیشن جانے کے لئے اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ نہیں ہے ، اور ہم سننا چاہتے ہیں ، مثال کے طور پر ، وینزویلا کا کوئی بھی اسٹیشن ، ہم کر سکتے ہیں دنیا بھر میں ملک میں منتقل اور مختلف سبز نقطوں پر کلک کریں جو ملک کے ریڈیو اسٹیشنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ریڈیو گارڈن کی شکل میں بھی دستیاب ہے iOS اور Android دونوں کے لئے درخواست، ایک ایسی ایپلیکیشن جسے ہم درج ذیل لنکس کے ذریعے مفت ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
ڈیولپر: ریڈیو گارڈن BV
میں دھن
میں دھن کے لئے ایک اور مقبول خدمات ہے کسی بھی ملک سے انٹرنیٹ ریڈیو سنیں. اس سے ہمیں اشتہارات کے ساتھ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ ریڈیو اسٹیشنوں تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے ، حالانکہ ہم اشتہارات سے بچنے کے لئے ماہانہ فیس ادا کرسکتے ہیں اور ، اتفاق سے ، این ایف ایل ، ایم ایل بی ، این بی اے اور این ایچ ایل گیمز سے لطف اندوز ہونے کے اہل ہوجاتے ہیں۔
اس میں اسپین اور لاطینی امریکہ دونوں میں ہسپانوی زبان کے اسٹیشنز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ، حالانکہ اس کا مرکزی ناظرین ریاستہائے متحدہ میں ہے ، جہاں سے ہم پورے ملک میں بڑی تعداد میں اسٹیشن سن سکتے ہیں۔ ہم بھی کرسکتے ہیں اسی پوڈ کاسٹ کو سنیں کہ ہم کسی دوسرے پلیٹ فارم پر تلاش کرسکتے ہیں۔
یہ دونوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ایمیزون بازگشت کے طور پر Google ہوم گوگل کی طرف سے مینوفیکچررز کے اسپیکر پر دستیاب ہونے کے علاوہ سونوس. یہ آئی او ایس اور اینڈروئیڈ ، ایپلی کیشنز دونوں کے لئے بھی دستیاب ہے جو آپ درج ذیل لنکس کے ذریعے مفت ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
TuneIn ریڈیو: خبریں ، کھیل اور AM FM موسیقی سٹیشن۔
ڈیولپر: TuneIn انکارپوریٹڈ
قیمت سے: مفت+
ریڈیوفائی
سی بسکٹ اسٹیشن جو اسپین میں ہیں, ریڈیوفائی وہ خدمت ہے جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں۔ ریڈیو فائی ہمیں ایک بہت سادہ انٹرفیس پیش کرتا ہے جہاں ہمیں اسٹیشن کا نام لکھنا ہوتا ہے یا ہم اس صفحے پر اسکرول کرنا چاہتے ہیں جب تک کہ ہمیں اس اسٹیشن کی تلاش نہ کریں جہاں تک ہم سننا نہیں چاہتے ہیں ، جہاں انتہائی مقبول دکھائے جاتے ہیں۔
ریڈیوویبائٹس
ریڈیوویبائٹس ہمیں ان ممالک کا ایک انڈیکس دکھاتا ہے جہاں ہم ریڈیو اسٹیشن سن سکتے ہیں ، لہذا اس کو مدنظر رکھنا ایک بہترین آپشن ہے اگر آپ مخصوص ممالک سے اسٹیشن ڈھونڈ رہے ہیں. ہر ملک پر کلک کرکے ، ہم کسی ملک کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں جہاں سے ہم اس مخصوص ملک میں دستیاب اسٹیشنوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
میرا ٹورنr ویب صفحات میں سے ایک اور ہے جو ہمیں اجازت دیتا ہے عملی طور پر دنیا کے ہر ملک سے ریڈیو اسٹیشنوں تک رسائی حاصل کریں. جیسے ہی آپ اپنی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کریں گے ، اس ملک کے ریڈیو اسٹیشنوں کو دکھایا جائے گا جہاں ہم ہیں۔ بائیں طرف ، ہم منتخب کرسکتے ہیں اگر ہم اپنی برادری یا علاقے میں صرف اسٹیشنز دکھانا چاہتے ہیں۔
اگر آپ پوڈکاسٹس کو بھی پسند کرتے ہیں تو ، مائی ٹرنر پر بھی آپ کو ایک وسیع قسم مل جائے گی، عملی طور پر وہی جو ہم کسی دوسرے پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم میں تلاش کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایپلی کیشن کی شکل میں موبائل آلات کے لئے بھی دستیاب ہے ، لہذا اگر ہمارے پاس کمپیوٹر موجود نہیں ہے تو ہم اپنا اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ استعمال کرسکتے ہیں۔
myTuner ریڈیو آن لائن اور ریڈیو ایف ایم
ڈیولپر: Appgeneration - ریڈیو، پوڈکاسٹ، کھیل
انٹرنیٹ ریڈیو
لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے اسٹیشنوں کو سنیں ، نئے گانے تلاش کریں ، موسیقی کی دوسری صنف کو سنیںمندرجہ بالا میں سے کوئی بھی ہمارے (نسبتا)) خدمت نہیں کرتا ہے جیسا کہ انٹرنیٹ ریڈیو کرتا ہے۔ کے ذریعے انٹرنیٹ ریڈیو ہم ریڈیو اسٹیشنوں کو ان کی قسم کی موسیقی کے مطابق سن سکتے ہیں ، نہ کہ اسٹیشن کے نام سے یا اس کے مقام سے۔
جیسے ہی آپ ویب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ، سب سے زیادہ مشہور انواع دکھائے جاتے ہیں۔ ان صنفوں پر کلک کرکے ، انہیں دکھایا جائے گا تمام اسٹیشن جو اس نوع کی پیش کش کرتے ہیںچاہے پولکا ، فنک ، روح ، تیجانو ، موبائل فونز ، رومانٹک ، ٹھنڈا ، ٹرینس ، محیط ، رقص ، جاز ، بلوز ، کلاسک راک ، ملک ، دھات ، سالسا ، ہپ ہاپ ...
جیسا کہ ہم انٹرنیٹ ریڈیو کے پیش کردہ نئے گانے تلاش کرنے کے آپشن دیکھ سکتے ہیں ، ہم انہیں کسی بھی ملک کے روایتی اسٹیشنوں میں نہیں مل پائیں گے۔ اگر ہمیں کوئی اسٹیشن ملے جو ہم پسند کرتے ہیں تو ، ہم کر سکتے ہیں .m3u کی فہرست ڈاؤن لوڈ کریں ویب سائٹ کو استعمال کیے بغیر کسی بھی قابل اطلاق اطلاق میں اس کو دوبارہ پیش کرنا۔
انٹرنیٹ ایسی خدمات سے بھرا ہوا ہے جو ہمیں اپنے پسندیدہ اسٹیشنوں کو سننے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر ان مختلف اختیارات میں جو میں نے اس مضمون میں آپ کو دکھایا ہے ، آپ کو وہ اسٹیشن نہیں مل پائے گا جس کی آپ تلاش کر رہے ہیں ، یہ شاید موجود نہیں ہے. اس کی مزید تلاش نہ کریں کیونکہ یہ خدمات سب سے زیادہ دستیاب ہیں۔
مضمون کے لئے مکمل راستہ: گیجٹ کی خبریں » تصویر اور آواز » کھلاڑی » کسی بھی ڈیوائس پر آن لائن ریڈیو سننے کا طریقہ |
انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے | Geo Urdu
انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے
Crackdown on Human Smugglers
ہماری خوش قسمتی اللہ پاک نے " پاکستان " جیسی انمول نعمت سے سرفراز کیا۔ جس کا جتنا بھی شکر اد کیا جائے کم ہے۔ پاکستان بھی صحت جیسی ایک عظیم نعمت ہے۔ جس طرح صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو صحت بگڑ کر " موزی لاعلاج اور سرطان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ، انسانی صحت کی طرح آزادی بھی قدر کا انمول تحفہ ہوتا ہے۔ آزادی کی قدر غلام کی جانتے ہیں ، ہماری بدبختی کہ ہم جسمانی طور پر تو آزاد ہوئے مگر دماغی طور پر غلام ہی رہے، جس کی بہت سی وجوہات میں دو کو خاص اہمیت حاصل ہیں، ایک جاگیردار یا سرمایہ دارانہ نظام جبکہ دوسرا حکمران اور انتظامیہ کا عام عوام کو " دوسری مخلوق تصور کرنا"یعنی عام عوام کو غلام رکھ کر حکمرانی کرنا، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی 70% آبادی دیہاتوں میں ہیں ، آزادی کے ساتھ ہی زمیندار طبقے نے غیر زمیداروں کو " غلام " تصور کر کے خود کو اعلیٰ سمجھ لیا۔
غیر زمیندار لوگ ہنرمند اور محنتی تھے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی مرحوم زوالفقار علی بھٹو نے عام پاکستانیوں کے لئے " بیرون ممالک روزگار " کے مواقعے پیدا کئے تو " وطن عزیز میں پیسے کی آمد " بڑھ گی۔ جس سے معیار زندگی بلند سے بلند ہونے لگا۔ لوگوں کا رجحان ملازمتوں سے ہٹ کر بیرون ممالک کی طرف بڑھتا گیا،بس دیکھا دیکھی بیرون ممالک جانے اور بجھوانے والوں کی ایک فوج تیار ہونے لگی۔ ایجنٹ سسٹم متعارف ہونے لگا ۔ لوگوں کو جوق در جوق " قانونی اور غیر قانونی " طریقے سے بھجوانے لگے ، گنتی کے دو چار نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ غیر قانونی طریقوں سے مختلف ممالک میں داخل ہوئے اور کچھ راہوں میں ہی نا کام ہوئے اور کچھ سردی و گرمی کی تپش برداشت کر کے کامیاب ہوئے اور کچھ بہتہی کامیاب ٹھہرے یہاں تک کہ بیرون ممالک تجارت، اور سیاست میں ملک وقوم کا نام روشن کر گئے۔
دنیا جانتی ہیں کہ کراچی سے بنکاک اور بنکاک سے سمندری راستے سے فرانس جعلی دستاویزات سے انسانوں کو سمگل کیا جاتا ہے۔کراچی سے ایران، کوئٹہ سے ایران پھر وہاں سے ترکی کے شہر استنبول جہاں سے ایجنٹوں کی زبان میں ڈینکی یعنی غیر قانونی طریقے سے یونان جانا جس میں کئی میل راتوں کو پیدل چلنے کے علاوہ کشتیوں، لانچوں سے یونان داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں کافی افراد ڈوب کر بھی مر جاتے ہیں کچھ بارڈر سیکورٹی کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ زندہ بچ جائیں تو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں حوالات میں بے یارو مددگار بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر کو ئی قسمت سے منزل تک پہنچ بھی جائے تو ایک دوسرے درجے کے شہری یا معزز غلام کی زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔نیروبی سے قاہرہ پھر وہاں سے پیدل یونان کا سفر بھی انسانی سمگلروں نے کافی دیر سے دریافت کر رکھا ہے۔ روٹس اور طریقہ کار کمپیوٹر کی ونڈوکی طرح نئے سے نئے متعارف کیے جاتے ہیں۔ بیرون ممالک میں لاکھوں ایسے افراد بھی مقیم ہیں جن کا اندراج اس ملک میں سرے سے نہیں۔ کام کا جھانسہ دے کر ان کو بیرون ممالک لایا جاتا ہے پھر ان کو غلام بنا کر مقید کر لیا جاتا ہے۔
عورتوں کو جسم فروشی میں لگا دیا جاتا ہے، بچوں سے بھی مشقت لی جاتی ہے۔گزشتہ دنوں حج اور عمرے کے نام پر بھی عورتوں کو جسم فروشی کے لیے بھیجے جانے کا انکشاف ہوا۔ برطانیہ میں امیگریشن کا ادارہ اتنا فعال نہیں اور کام کے مواقع یورپ کے ممالک سے زیادہ ہیں اور سہولیات بھی کافی ہیں جس کی وجہ سے یورپ کے راستے غیر قانونی طور پربرطانیہ داخل ہونے کا رجحان بھی عام ہے۔ اس کام میں اکثر کنٹینر یا ٹرک ڈرائیور انسانی سمگلنگ کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں 1500پونڈز فی کس کے حساب سے بارڈر کراس کرنے کا ریٹ ہے۔ کچھ برس قبل ہالینڈ سے ٹماٹر لانے والا کنٹینر ڈوور DOWERکی بندرگاہ پر روکا گیا۔ جب ٹرک کا عقبی دروازہ کھولا گیا تو ٹماٹروں کی پیٹیوں کے ساتھ 60چائنیز بھی موجود تھے بدقسمتی سے ان میں سے 58افراد آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے مر چکے تھے صرف 2افراد کو نیم بے ہوشی کی حالت میں ملے۔لانچوں اور کشتیوں کے ذریعے بارڈر کراس کروانے میں اکثر اوور لوڈنگ کی وجہ سے حادثات پیش آئے ہیں۔ یورپی یونین میں مشرقی یورپ کے ممالک شامل ہونے سے قبل مشرقی یورپ سے بھی ٹرک اور ٹرالوں میں انسانی سمگلنگ عروج پر رہی۔ 2سے 3دن ٹرکوں کے خفیہ خانوں میں چھپ کر صرف چنوں اور پانی کی ایک چھوٹی بوتل کے سہارے سفر کروایا جاتا، رفع حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکالا جاتا تھا بلکہ اس مقصد کے لیے بھی مخصوص برتن دیا جاتا تھا۔
بلوچستان کے سرحدی علاقے انسانی سمگلنگ کی ایسی گزر گاہ ہیں جہاں سے ماہانہ دس ہزار افراد ایران اور ترکی کے راستے یورپ جانے کے خواب آنکھوں میں سجائے اس گھناؤنے کاروبار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سمگلرز کا ایجنڈا معصوم افراد کو ورغلا کر 1 سے پانچ لاکھ روپے کے عوض ان کی جانوں کو ایسے خطرے میں دھکیلنا ہوتا ہے کہ جہاں سے واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
ستمبر 2016ء میں 3 ہزار 7 سو 76 جبکہ اکتوبر میں 4 ہزار 4 سو 72 اور نومبر میں 2 ہزار 3 سو 39 افراد انسانی سمگلرز کے شکار بن کر سرحد پار پہنچے مگر ایران اور ترکی کی جانب سے ڈی پورٹ کر دیئے گئے۔ مگر ان افراد میں سے اکثر تفتان بارڈر پر ہی معمولی جرمانے دے کر پھر سے ایجنوں سے رابطہ کر لیتے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر 2016ء میں سکیورٹی اداروں نے 15 سو افراد کو گرفتار کیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے دن کے ساتھ رات ، اچھائی کے ساتھ برائی، قانونی کے ساتھ غیر قانونی قانون قدرت ہیں ، پاکستان کی بقا سلامی اور عزت کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح معالجین کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے ان کی تعلیم ، طریقہ علاج کے تحت، مساجد کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہیں ان کے مسالک کے تحت ، دودھ دھی ، بیکری ، کریانہ ، میڈیکل سٹورز ، اور وکلائکو رجسٹریشن کے بغیر کام نہیں کرنے دیا جاتا اسی طرح ایجنٹوں اور ان کے سب ایجنٹوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے، اور ایجنٹوں کا مکمل ڈیٹا کی چھان بین کو یقینی بنایا جائے، اور عام لوگوں کو آگاہی دی جائے تا کہ لوگ " زندگی بھر کی جمع پونجی "لوٹانے سے بچ سکیں اور اگر کسی کو کوئی " نوسرباز " لوٹنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس سے واپسی ممکن ہو سکے۔
ایجنٹ اور سب ایجنٹ غیر قانونی کام کرنے والے بھی " قانونی چھتری" کا استعمال کرتے ہیں تا کہ اپنا شکار محفوظ بنایا جا سکے، ہماری سادہ ، ان پڑھ قوم پر رحم کھایا جائے اور غیر قانونی ایجنٹ مافیا کے خلاف جعلی پیروں کی طرح کریک ڈاؤن کیا جائے ۔ تا کہ ملک عزیز کا وقار اور بلند ہو سکے،پڑھے لکھے نوجوان سہانے مستقبل کے لئے دوسرے ممالک کے غیر قانونی بارڈر کراس کرتے ہوئے " بے موت " مر نہ سکیں۔ |
پاکستان سے موٹر سائیکل سوار ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی اور سیاحت کے فروغ کے لئے ایران کا سفر کریں گے - وفاق ٹائمز wifaqtimes.com | وفاق ٹائمز wifaqtimes.com
خانه خبر 2
News cod : 26182
موٹر سائیکل سواروں کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے مکرم خان ترین نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین تاریخ،ثقافت، زبان اور فن میں بہت کچھ مشترک ہے،سیاحت کے میدان میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں،لہٰذا ان مشترکات کی نشاندہی اور ان کا بہترین استعمال کیا جانا چاہئے۔
وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی"روٹ کراس"کلب کے اراکین نے ایران کے اپنے 26 روزہ دورے کا آغاز جمعرات 2 دسمبر کو لاہور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خانہ فرہنگ میں دونوں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے درمیان دوستی اور سیاحت کے فروغ کے نعرے کے ساتھ کیا ہے۔
لاہور میں"کراس روٹ" کلب کے تیرہ موٹر سائیکل سواروں نے ایرانی خانہ فرہنگ میں منعقدہ ایک پروگرام میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعلان کیا۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف کئے جانے والے 2019ءکورونا سے پہلے کے اپنے سابقہ سفر کی یادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے راستے میں اور چھوٹے اور بڑے شہروں میں اس قدر گرمجوشی اور مہمان نوازی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا کہ ہم نے ایک بار پھر بہترین ثقافت اور قدیم تاریخ کے حامل اس خوبصورت ملک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستانی موٹرسائیکل سواروں نے ایرانی اور پاکستانی اقوام کی مشترکہ اور قدیم روایت "قرآن مجید کے نیچے سے گزر کر"موسم سرما کے دوران اپنے طویل اور مشکل سفر کا آغاز کیا۔
لاہور میں ایرانی خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جعفر روناس نے پاکستان کلچرل سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سیاحت کے فروغ کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تاریخ،رسم و رواج،زندگی کی روایات اور زبان کے اعتبار سے دنیا میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی میڈیا نے ہمیشہ ایران اور پاکستان کے مشترکہ ثقافتی تعلقات کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔آپ کی کوششوں سے دونوں ممالک کی ثقافت اور لوگوں کے مابین رابطوں کی شناخت ہو سکتی ہے۔
جعفر روناس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران میں شہید قاسم سلیمانی جیسے بہت سے ہیروز گزرے ہیں،کہا کہ حالیہ برسوں،امریکی دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے اسلام کے اس عظیم شہید کی قبر آپ کے سفر کے راستے شہر کرمان میں واقع ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 26 روزہ دورے کے دوران پاکستانی موٹر سائیکل سوار لاہور سے 6500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ایرانی بارڈر تفتان سے ایران کے اندر داخل ہوں گے اور وہاں سے زاہدان،بم،کرمان،یزد،اصفہان، کاشان،قم اور تہران کا سفر کریں گے۔
موٹر سائیکل سوار گروپ ملتان اور کوئٹہ میں بھی ایرانی خانہ فرہنگ کا دورہ کرے گا۔
مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26182
پاکستان سیاحت موٹر سائیکل سوار ایران
رشین مسلم کونسل کے سربراہ کی ایران کے صدر سے ملاقات 20 ژانویه 2022 - 17:33
طلاب اور حوزہ ہائے علمیہ کی خدمت صرف خدا کی رضامندی کے لئے ہو، آیۃ اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی 20 ژانویه 2022 - 12:03 |
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے! وہ روسی لڑکی جس نے فلائی دبئی کے تباہ ہونے والے طیارے کی ٹکٹ خرید رکھی تھی لیکن جہاز پر سوار ہوتے ہوتے کیسے رہ گئی؟انتہائی حیران کن کہانی آپ بھی جانئے
25 مارچ 2016 (20:36)
ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) موت کا ایک وقت معین ہے، نا یہ اس وقت سے ایک لمحہ قبل آ سکتی ہے اور نہ ہی ایک لمحے کی تاخیر کر سکتی ہے۔ قدرت ہماری آنکھوں کے سامنے بار بار ایسے مناظر لاتی ہے کہ جو اس حقیقت کی کھلی گواہی ہیں۔
ایک ایسا ہی واقعہ فلائی دبئی ائیرلائن کے روس میں ہونے والے تباہ کن حادثے کے موقع پر پیش آیا۔ نیوز سائٹس ایمریٹس 247 کے مطابق روسی خاتون الویرا ایسائیوا متحدہ عرب امارات میں چھٹیاں گزارنے کے لئے آئی تھیں اور اسی پرواز کے ذریعے واپسی کے لئے بکنگ کروارکھی تھی کہ جو خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ الویرا نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وطن واپسی سے قبل رات دیر تک ایک سالگرہ پارٹی میں شریک رہیں اور صبح ان کی آنکھ نہیں کھل سکی، جس کی وجہ سے وہ ائرپورٹ نہ پہنچ سکیں۔انہیں بکنگ ایجنٹ کی طرف سے فون آیا تو آنکھ کھلی۔ پہلے تو پرواز نکل جانے کا سو چ کر شدید متفکر ہوئیں، لیکن پھر یہ جان کر ساکت رہ گئیں کہ جس پرواز کے ذریعے انہیں واپس جانا تھا وہ روس میں گر کر تباہ ہوچکی تھی۔
وہ خوش قسمت ترین انسان جو بوسٹن میرا تھن اور پیرس بم دھماکوں میں زندہ بچ نکلا ،برسلز حملوں کی جگہ پر بھی تھا ،زخمی ہوگیا
الویرا کا کہنا ہے کہ رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ سوتی رہ گئیں، لیکن اگر بروقت جاگ جاتیں تو ہمیشہ کے لئے سو جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ ان کی ماں کی دعائیں تھیں جو ان کا تحفظ کررہی تھیں اور وہ اس دن بروقت جاگ نہیں پائیں۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں اور خصوصاً بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں اور کہا کہ اگرچہ وہ زندہ بچ جانے پر خوش ہیں لیکن حادثے میں 62 افراد کی موت نے ان کے دل کو غم سے بھر دیا ہے۔ |
غیرملکی سے تکرار یا پھر کچھ اور؟ سعودی سیکیورٹی اہلکار مشکل میں پڑگیا
ریاض: سعودی عرب میں نجی کمپنی کے اعلیٰ عہدے پر فائز غیرملکی سے مبینہ طور پر توکلنا ایپ دکھانے کے مطالبے پر سعودی سیکیورٹی اہلکار کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مملکت کے نجی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر تعینات غیر ملکی سے مبینہ طور پر توکلنا دکھانے کے مطالبے پر سعودی سیکیورٹی اہلکار کو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے، مذکورہ سیکیورٹی اہلکار اسی کمپنی میں ہی گزشتہ 5 سال سے ملازم تھا۔
ملازمت سے نکالے جانے والے سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز غیرملکی مجھے نشانے پر رکھا ہوا تھا، وہ مجھے برا بھلا بھی کہتا تھا، کئی مرتبہ صفائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
برطرف سیکیورٹی اہلکار نے بتایا ایک دن قوائد وضوابط کے تحت کمپنی میں داخلے کے لیے توکلنا ایپ دکھانے کا مطالبہ کیا جس پر وہ مشتعل ہوگیا اور دھمکایا کہ آج تمہارے خلاف کارروائی ہوگی اور کچھ دیر بعد مجھے نکال دیا گیا۔
اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ مجھے میرا قصور بتایا گیا نہ مجھے میرے حقوق دیئے گئے، میری عمر 35 سال ہے، میں کام کر کے اپنا گھر بار چلاتا ہوں، مجھے حکومت سے ہدایت ہے کہ ہر شخص سے توکلنا دکھانے کا مطالبہ کروں۔ |
انگلش ٹیم کی بھارت واپسی کا فیصلہ آج ہو گا | کھیل | DW | 02.12.2008
انگلش ٹیم کی بھارت واپسی کا فیصلہ آج ہو گا
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلش کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کے لئے دوبارہ بھارت بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ آج سیکورٹی ایڈوائزر کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
سات ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھارت نے پانچ میچ جیت لئے تھے تاہم دو میچ نہیں کھیلے جا سکے
بھارتی بورڈ کے مطابق ای سی بی نے احمد آباد اور ممبئی کے بجائے چنائی اور موہالی میں ٹیسٹ میچز کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے لیکن دورے کا حتمی فیصلہ سیکورٹی ایڈوائز Reg Dickason کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ Reg Dickason سیکورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے اور بھارتی حکام سے بات چیت کیلئے چنائی میں ہیں۔
انگلینڈ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین Sean Morris کا کہنا ہے کہ وہ آج منگل کے روزانگلش کھلاڑیوں سے ملاقات کررہے ہیں اور امید ہے کہ اس وقت تک ای سی بی کو رگ ڈکسن کی رپورٹ بھی موصول ہوجائے گی۔ مورس کا کہنا ہے : ''ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بھارتی کرکٹ بورڈز نے ٹیسٹ میچز کے وینیوز کے حوالے سے ای سی بی کے خدشات دور کرنے کے لئے اقدامات کئے لیکن پھر بھی ٹیم کے بھارت جانے کا دارومدار سیکورٹی رپورٹ پر ہے۔''
ممبئی حملوں کے بعد انگلش ٹیم نے بقیہ دو ایک روزہ میچ منسوخ کردئیے تھے
اس حوالے سے ذرائع کے مطابق ای سی بی کی جانب سے دورہ بھارت میں انگلش کھلاڑیوں کے لئے سخت سیکورٹی اور خصوصی کمانڈو دستہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں کھلاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ انگلینڈ نے بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔بھارتی بورڈ کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 11 سے 15 دسمبر تک چنائی میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ 19سے 23 دسمبر تک موہالی میں ہو گا۔
واضح رہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ہونے والے آخری 2 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ منسوخ کر دیئے گئے تھے اور انگلینڈ ٹیم وطن واپس چلی گئی تھی۔ |
نوروز دلمغانی مہسا 2020/11/20 فوریکس ایکسچینج
احتیاط : اگر آر ٹی ایس کا استعمال نہ کیا گیا تو تجارت خطرے سے پاک سیکھیں ٹر اسٹار ایم پی پی ٹی 150 وی درجہ حرارت چارجنگ پیرامیٹرز کی تلافی نہیں کرے گا۔ قسط یا ایمورٹائزیشن کی اصطلاح کا حساب کتاب کرنے کے لئے ، درج ذیل فارمولے کا استعمال کیا گیا ہے: اگر آپ مسابقت کاروں کو بہتر چیزوں ، جیسے بہتر کسٹمر سپورٹ ، اعلی معیار کی مصنوعات ، بہتر واپسی کی پالیسیاں ، وغیرہ سے ہٹاتے ہیں تو آپ کو یہ پتہ چل جائے گا کہ لوگ کسی مصنوع کے لئے سرگرمی سے زیادہ قیمت ادا کریں گے۔ - رائس ڈیوس ، کامرسول ڈاٹ کام.
اس پر آپ کو کتنا خرچ آئے گا؟ بالإضافة إلى ذلك، قد تنشأ متطلبات زيادة الهامش في الأسواق الخاضعة للتنظيم أو خارج البورصة (OTC). وبائی کوویڈ 19 ویکسین منظور ہیں ، جس میں ایک تہائی کسی بھی دن منظور ہونے کے قابل دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ ان سفروں کی پوری جانفشانی سے منصوبہ بندی کریں ، اور اگر آپ زمین سے اترنے کے لئے تلاش کر رہے ہیں تو ، شروع کرنے کے لئے بہترین جگہ ہوائی اڈے کے کریڈٹ کارڈ کے ساتھ ہوسکتی ہے۔
مارکیٹ آرڈرز بمقابلہ حد احکامات جاری Olymp Trade :تجارت خطرے سے پاک سیکھیں
اکاؤنٹنگ مساوات جس کے ذریعہ: اثاثوں = واجبات + اسٹاک ہولڈرز کی ایکویٹی کا حساب درج ذیل ہے: کیونکہ تاجر نے پانچ معیاری لاٹ خریدے ، لہذا ہر ایک پپ حرکت میں $ 50 کی لاگت آئے گی ($ 10 کی تبدیلی / معیاری بہت X 5 معیاری لاٹ)۔ اگر تجارت 50 پپس کے ذریعہ سرمایہ کار کے خلاف ہوجاتی ہے تو ، سرمایہ کار کو 50 پپس ایکس $ 50 = $ 2500 سے محروم ہوجائیں گے۔ یہ کل $ 10،000 کے تجارتی اکاؤنٹ کا 25٪ ہے۔
4. اپنے موجودہ مصنوعات کو متنوع بنائیں.
اس مضمون کے دوران متعدد نمبر سسٹمز کے حوالہ جات ہیں. یعنی ریاضی کی چیزوں (اعداد) کا مجموعہ جو ریاضی کے کچھ یا تمام معیاری کاموں کے ذریعہ چلایا جاسکتا ہے: اس کے علاوہ ، ضرب ، گھٹاؤ اور تقسیم۔ اس طرح کے سسٹم میں طرح طرح کے تکنیکی نام ہوتے ہیں (جیسے گروپ ، رنگ ، فیلڈ) جو یہاں کام نہیں کرتے ہیں۔ تاہم ، یہ مضمون اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ دلچسپی کے بنیادی سسٹم میں کون سے آپریشن لاگو ہیں۔ یہ مرکزی نمبر نظام ہیں: ایف کیو ایل پروجیکٹ کا آغاز محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ان فیملیز کے معیار زندگی پر مرکوز کرنے کے ایک طریقہ تجارت خطرے سے پاک سیکھیں کے طور پر کیا تھا جن کے ذہنی یا ترقیاتی معذوری کے ساتھ ایک یا زیادہ ممبر ہیں۔ یہ اس ڈگری کی نشاندہی کرنے کا ایک طریقہ ہے جس میں خاندانی معیار زندگی سے لطف اندوز ، معنی خیز ہے ، اور ان وسائل کی اقسام کی تائید کرتا ہے جو کنبہ کے ممبروں کے لئے اہم ہیں ، نیز اہل خانہ کو درپیش جدوجہد کا بھی۔
. ریشمی اور چمکدار بالوں کا حصول ، خشکی کو کم کرنا یا بالوں کے پتیوں کی حفاظت کرنا کچھ ایسے مثبت اثرات ہیں جو اسٹرابیری کے استعمال سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ رشتہ داری منیجر۔ آزمائش کی مدت روزانہ مرکزی تجارت - آزمائشی مدت تجارت کے مرکزی پریمیم سگنل - آزمائشی مدت ایک تجارتی اکیڈمی پر نجی 1 کا XNUMX سیشن تجارتی کمیشن کا معیار.
سبز بڑھتی ہوئی - ترقی سگنل؛ زرد فلیٹ - شروع؛ ریڈ گرنے - ڈراپ. يورو ننORيون YEN ننORڙا پائونڊ ننORا ٻين ننORن EUR / CHF EUR / JPY GBP / CHF AUD / CHF EUR / GBP GBP / JPY GBP / AUD AUD / CAD EUR / CAD CHF / JPY GBP / CAD AUD / NZD EUR / AUD CAD / JPY GBP / NZD CAD / CHF EUR / NZD AUD / JPY اين اي ڊي ڊي / سي ايف NZD / JPY NZD / CAD. بینوومو پلیٹ فارم پر اپ ٹرینڈ کے دوران ٹرینڈ لائن کے ساتھ تجارت کیسے کریں.
محفوظ انٹرنیٹ ڈے: ہم ، ہمارے تجارت خطرے سے پاک سیکھیں بچے اور نئی ٹیکنالوجیز.
تعلیم کے اعدادوشمار کے قومی مرکز سے نجی اور سرکاری کالجوں کے اوسط اخراجات کا ریاستی بہ ریاست مقابلہ ایک کالج کی بچت کیلکولیٹر جس کا استعمال آپ آگے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور کالج کے اخراجات کو بچانے کے ل. جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا مطالعہ مختلف کالج کے اہم کمپنیوں کی قدر کا موازنہ کرتا ہے وہاں سے کچھ بہترین قیمت والے کالجوں کی جائزہ.
یاد دہانیاں ترتیب دینے کیلئے ، جیسے ایک ترتیب جو iOS کے یاد دہندگان کے ایپ میں ایک نیا ٹاسک پیدا کرتی ہے جب کسی نامزد ای میل ایڈریس سے IFTTT کو ای میل بھیجا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ مارکیٹ کے محقق یہ طے کرسکیں کہ تحقیق کے کون سے آلات استعمال کیے جائیں ، اعداد و شمار کے ذرائع کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ مارکیٹ کا محقق بنیادی ڈیٹا ، ثانوی ڈیٹا ، یا دونوں طرح کی معلومات جمع کرنے کا انتخاب کرسکتا ہے۔ کسی خاص منصوبے یا کسی خاص مقصد کے لئے پہلی بار بنیادی اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ ثانوی اعداد و شمار ایک نئے مقصد کے لئے جمع کیے جانے والے کسی نئے تحقیقی منصوبے کے آغاز سے پہلے موجود ہیں۔
فنانس میں ، کمپنیاں متعدد عوامل پر قبضہ کرکے اپنے کاروبار کے خطرے کا اندازہ لگاتی ہیں جس کے نتیجے میں متوقع منافع یا نقصانات کم ہوسکتے ہیں۔ کمپنی کے کاروبار کے خطرے کو متاثر کرنے والے ایک سب سے اہم عامل کا فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی کمپنی کو اپنے سامان اور خدمات کی پیداوار کے دوران مقررہ اخراجات اٹھانا ہوں گے۔ پیداوار کے عمل میں مقررہ اخراجات کا ایک اعلی تناسب کا مطلب یہ ہے کہ آپریٹنگ بیعانہ زیادہ ہے اور کمپنی کو کاروبار میں زیادہ خطرہ ہے۔ . تاہم ، اس گائیڈ کا مقصد یہ ہے کہ آپکو IQ Option فوریکس بامقابلہ IQ Option آپشنز منڈیوں کی ایک واضح تصویر پیش کرے۔ یہ دونوں منڈیوں کا مقابلہ چند متعین نقطوں پر کرے گی جو آپ کے دیرینہ منافع کا تعین کریں۔
ایک منظم مالی مالیاتی منڈی کا بنیادی مقصد پروٹوکول کے مطلوبہ سیٹ کو نافذ کرکے عام سرمایہ کار کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ امریکہ میں اختیارات کے ریگولیٹرز ، ریاستہائے مت inحدہ میں اختیارات کی تجارت کے لئے قواعد قائم ، رجسٹر ، معیاری ، ترمیم ، یا نظر ثانی (بشمول): شفاف قیمتوں کا تعین ہر ایک مؤکل کو ایک ہی اعداد و شمار کے فیڈ کے ذریعے مساوی قیمتوں پر ایک جیسی لیکویڈیٹی تک رسائی حاصل ہے۔ |
"آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے
"آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ۔۔۔" حامد میر نے وہ بات کہہ دی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، جان کر تحریک انصاف والے حیران پریشان رہ جائیں گے
"آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے کیونکہ۔۔۔" حامد میر نے وہ بات ...
Dec 16, 2017 | 12:08:PM 12:08 PM, December 16, 2017
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہیں کیونکہ نیب ریڈ وارنٹ کے ذریعے اسحاق ڈار کو لندن سے واپس لے آئی تو لوگ پرویز مشرف کے بارے میں پوچھیں گے جس کے بارے میں پاکستانی عدالتیں خاموش ہیں۔
اگر ایسا ہوا تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جلسے کرتی رہ جائیں گی جبکہ نواز شریف کا موقف اتنا مشہور ہو جائے گا کہ جو بھی حکومت 2018ءمیں آئے گی وہ حکومت نہیں کر سکے گی اور اس کا کریڈٹ پرویز مشرف کو جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران حامد میر سے سوال پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے سے متعلق فیصلے کا سیاسی فائدہ کسے ہو گا۔
حامد میر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ جہانگیر ترین لودھراں سے بہت بڑا ضمنی الیکشن جیت کر آئے تھے اور آج بھی عمران خان نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان اپنے حق میں آنے والے فیصلے کو تو بہت اچھا قرار دے رہے ہیں مگر اسی سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کیخلاف جو فیصلہ دیا اس پر انہیں تحفظات ہیں، تو یہ بہت بڑا تضاد ہے۔
ایک بات ایمانداری کیساتھ ہمیں کرنی بھی چاہئے، سوچنی بھی چاہئے، کہنی بھی چاہئے اور اس پر سب کو غور بھی کرنا چاہئے۔ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ شہباز شریف کے حق میں دیا اور دوسرا عمران خان کے حق میں دیا اور اس طرح معاملہ بیلنس ہو گیا، لیکن آنے والے دنوں میں جو پیش رفت ہونے والی ہے اور اس میں عدالتوں کا جو کردار ہو گا، وہ پوری پاکستانی قوم بڑے غور سے دیکھ رہی ہے۔
ایک تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کئے جائیں اور انہیں گھسیٹ کر لندن سے پاکستان واپس لایا جائے۔ آپ انہیں بالکل لے کر آئیں اور اگر انہوں نے قانونی کی خلاف ورزی کی ہے تو پاکستان لائیں، لیکن آپ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے موقف کا کیا کریں گے، آپ انہیں روک نہیں سکیں گے۔
اسحاق ڈار کے خلاف ریڈ وارنٹ لانے ہیں، لے آئیں، لیکن ایک اور بھی آدمی ہے جس کا نام پرویز مشرف ہے اور عدالتیں ان کے بارے میں خاموش ہیں۔ پاکستان کے طاقتور ترین لوگ جو کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں نے کیسا زبردست فیصلہ کیا ہے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیدیا ہے۔ اب نیب ریڈ وارنٹ کے ذریعے اسحاق ڈار کو واپس لائے گی جیسا کہ عزیر بلوچ کو بھی لایا گیا تو لوگ پوچھیں گے کہ پرویز مشرف جو قتل کے مقدمات میں، آئین سے غداری کے مقدمے میں مطلوب ہے اور خود اعتراف کر چکا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں سے پیسے لے کر لندن اور دبئی میں فلیٹ خریدے ہیں، اس کا کسی نے احتساب نہیں کرنا۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان کا وہ لڑکا جس نے قائداعظم جیسا نظر آنے کیلئے 50 سرجریاں کرا ڈالیں، انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی تصویر نے دھوم مچا دی، ہنسی کا طوفان آ گیا کیونکہ۔۔۔
میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ عمران خان اور پیپلز پارٹی جلسے کرتے رہ جائیں گے اور نواز شریف کا موقف اتنی شہرت حاصل کر لے گا، کہ بھلے ہی انتخابات میں انہیں فائدہ ہو نہ ہو، لیکن جو بھی حکومت 2018ءمیں آئے گی، وہ حکومت نہیں کر سکے گی۔ اور اس کا کریڈٹ جائے گا پرویز مشرف کو، آج پرویز مشرف نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ہے۔" |
پورٹریٹ .از۔ اقبال حسن آزاد ۔ انڈیا | Aalmi Akhbar
Home ادبیات پورٹریٹ .از۔ اقبال حسن آزاد ۔ انڈیا
سکھو! اب گھر چلو۔" سکھو کو اس کی گھبراہٹ پر ہنسی آجاتی۔ وہ اور اندر جانا چاہتا مگر صاحب کے ڈر سے لو ٹ جاتا۔
گذرتے وقت کی دھند ہر شے پر چھاتی جا رہی تھی ۔یادیں مٹ میلی ہو گئی تھیں۔اسے لگتا جیسے درخت بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے تنے کھوکھلے ہو گئے ہیں اور وہ کسی تیز آندھی کے منتظر ہیں۔ وہ بہت ساری باتوں کو بھول چکا تھا اور بہت ساری جگہیں اور شکلیں بھی اس کے حافظے سے نکل چکی تھیں حتیٰ کہ اسے اپنے باپ کی شکل بھی بالکل یاد نہ رہی تھی کہ اسے گذرے ہوئے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا تھا۔ اس کا بڑا لڑکا اس سانحے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ان دنوں وہ اپنی پہلی پوسٹنگ پر اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ کسی دور دراز کے شہر میں مقیم تھا۔ اس زمانے میں ٹیلی فون کی سہولت عام نہیں ہوئی تھی اور کسی کی پیدایش یا موت کی خبر دینے کے لئے ٹیلی گرام مقبول عام ذریعہ تھا۔ لیکن کبھی کبھی ٹیلی گرام بھی دیر سے پہنچتا۔ چنانچہ اس خبر کے ملنے کے بعد جب وہ گھر گیا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے باپ کو سپرد خا ک کیا جا چکا ہے اور اس طرح وہ اس کے آخری دیدار سے محروم رہا تھا جس کا قلق اسے اب تک تھا۔ البتہ اس کی بڑی بہن جو قریب کے شہر میں بیاہی گئی تھی اپنے شوہر کے ہمراہ وقت پر پہنچ گئی تھی۔ چہلم کے بعد اس کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی تھی اور وہ ماں کو اپنے ساتھ شہر لے آےا تھا۔ قصبے کے مکان میں تالا پڑ گیا۔۔
کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ اس کے دماغ میں کوئی جنگل اُگ آیاہے جہاں اونچے گھنے پیڑ آپس میں جڑے کھڑے ہیں اور سورج کی روشنی ان کے بڑے بڑے پتوں سے ٹکراکر وہیں رک جاتی ہے۔ نیچے گہرا اندھیرا ہے۔ وہ سوتے میں چونک اٹھتا۔ اسے اپنی پیشانی پر پسینے کے قطرے محسوس ہوتے۔ وہ سات بار لاحول پڑھ کر دوبارا سونے کی کوشش کرتا۔ عموماًاسے نیند آ جاتی مگر تھوڑی ہی دیر بعد پھر اچٹ جاتی۔ بڑھاپے کی نیند کچے گھڑے کی مانند ہوتی ہے۔
اسے اپنی عمر بھی ٹھیک ٹھاک یاد نہیں رہی تھی۔ کبھی اسے لگتا کہ وہ ستر کا ہو چکا ہے مگر واقعات کے جوڑ گھٹاؤ میں اسے اپنی عمر پچھتر کی معلوم ہوتی۔ بالکنی میں آرام کرسی پر بوڑھی ہڈیوں کو دھوپ دکھلاتے وقت جب وہ انگلیوں پر حساب لگا رہا ہوتا تو اس کی بیوی کو شک ہوتا کہ اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ وہ اس کی جانب سے فکر مند رہنے لگی تھی۔ مگر درحقیقت ایسی بات نہیں تھی۔ وہ پابندی سے اخبار پڑھتا اور ٹی۔وی پر خبر یں سنتا۔ اسے لگتا جیسے دنیا بہت بدل گئی ہے۔ پچھلی دفعہ جب اس کا لڑکا اس سے ملنے آیا تھا تو وہ اس کے لئے ایک موبائل لیتا آیا تھا۔ کبھی کبھی وہ اس بدلی ہوئی دنیا کا موازنہ اپنی دنیا سے کرتا تو اسے عجیب سا محسوس ہوتا۔ اسے اس بات کا اطمینان تھا کہ اس کے انتقال کی خبر اس کے بیٹے کو چند منٹوں میں ہو جائے گی۔
ایک چھوٹے سے قصبے میں اس کا بڑا سا آبائی مکان تھا۔ سڑک کی جانب گول ستونوں سے گھرا ایک طویل برآمدہ۔ اس کے بعد کشادہ ڈرائنگ روم ۔اندر تین طرف دالان، درمیان میں آنگن اور آنگن سے ایک دروازہ گلی میں کھلتا ہوا۔ دالان سے ملحق چھ رہائشی کمرے اور سب سے آخر میں اسٹور روم۔ اس کے باپ کو پرانی چیزیں ترتیب اور قرینے سے رکھنے کا شوق تھا۔ اکثر اس کی ماں کسی بیکار شے کو پھینکنا چاہتی تو اس کا باپ اسے اسٹور روم میں رکھنے کا مشورہ دیتا اور کہتا کہ داشتہ آید بکار۔ اس کی ماں اس محاورے سے چڑ جاتی حالانکہ اس کا باپ نہاےت شریف آدمی تھا اور کسی نامحرم کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس آبائی مکان میں اس کا باپ اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد آ کر رہا تھا۔ زندگی کے بیشتر ایام کو ارٹروں میں گذرے تھے۔ اس کا باپ بیک وقت شفیق بھی تھا اور سخت گیر بھی۔
اسے یاد تھا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھایا کرتا تھا اور اس کا باپ اپنی پلیٹ سے کوئی چیز مثلاً گوشت کی کوئی اچھی بوٹی یا کوئی میٹھی شے اس کی پلیٹ میں ڈال دیا کرتا تھا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ اس کا باپ ہی اسے نہلاتا تھا اور اگر نہانے کے دوران وہ کوئی شرارت کرتا تو اس کے باپ کا بے رحم طمانچہ اس کے گال پر پڑتا۔ اس نے جب اسکول جانا شروع کیا تو اس کا باپ اسے خود سے پڑھانے لگا اور پڑھاتے وقت ایک لمبی چھڑی اپنے پاس رکھتا ۔
"سب لوگ چلے جا رہے ہیں۔ آپ کے بڑے بھیا بھی بیوی بچوں کو لے کر چلے گئے۔ کیوں نہ ہم لوگ بھی"
اور پھر پتہ نہیں کہاں سے آدمیوں کا جنگل امڈ آیا تھا۔ روتے بلکتے، ننگے بھوکے لوگ پوری کچہری اور پورے میدان میں بھر گئے تھے۔ لاریاں بھر بھر کر آتیں اور آدمیوں کا جنگل گھنا ہوتا جاتا۔ وہ لوگ اپنے کوارٹر تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔
پھر جیسے کئی دنوں تک چھائے رہنے کے بعد جب بادل اور کہاسا ختم ہوکر سورج نظر آنے لگتا ہے اورمنجمد زندگی میں حرارت پیدا ہونے لگتی ہے اسی طرح دھیرے دھیرے وہ سارے لوگ ان کے سازوسامان ، لاریاں اور خاکی وردیاں سب دھیرے دھیرے غائب ہو گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ سرخ پھندنے والی گول ٹوپی اور بغیر چھت کی کار بھی۔ اور یونین جیک کی جگہ ترنگا لہرانے لگا تھا۔ ان دنوں اس کی عمر تیرہ سال کی تھی۔
اس کے ایک سال بعد کی سردیوں میں اس کا باپ ریٹائر ہو گیا۔ اس بڑے میدان میں ایک گروپ فوٹو گرافی ہوئی تھی۔ اس کا باپ سوٹ پہنے درمیان کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ دائیں بائیں آفس کے دوسرے لوگ ۔ پچھلی صف میں ڈرائیور، خاکروب، مالی، چپراسی اور اور آس پاس کے لوگ۔۔ بقیہ کرسیوں پر کچہری کے اسٹاف اور زمین پر ان کے افراد خانہ۔ اپنے باپ کے قریب وہ اور اس کی بڑی بہن بیٹھے تھے۔ اس کے باپ کے گلے میں گیندے کے پھولوں کا ہار ڈالا گیا تھاجسے اس کے با پ نے اس کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ ایک بڑے اسٹینڈ پر کیمرہ رکھا ہوا تھا اور فوٹو گرافر نے اپنے سر پر کالی چادر ڈال کر تصویر اتاری تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب اس کا باپ اپنے آبائی مکان لوٹا تو اس تصویر کو فریم کروا کے ڈرائنگ روم میں لگا دیا گیا۔ عرصے تک وہ تصویر ڈرائنگ روم میں لگی رہی تھی۔ پھر پتہ نہیں کیسے وہ تصویر ڈرائنگ روم سے ہٹ گئی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ جس وقت اس کی بڑی بہن کی شادی ہو رہی تھی اور گھر میں سفیدی پھیری جا رہی تھی اس وقت وہ تصویر اسٹور روم میں رکھ دی گئی ہو۔
اس کے باپ کی پنشن قلیل تھی اور اس مکان کے علاوہ اس کے پاس کوئی جائداد بھی نہ تھی۔ جب وہ پہلی بار میٹرک میں فیل ہو گیا تو اس کے باپ نے اسے مارا تو نہیں مگر غصے میں تھرتھراتے ہوئے یہ ضرور کہا تھا کہ اگر اگلے سال بھی وہ فیل ہو گیا تو وہ اسے ننگا کرکے گھر سے باہر نکال دے گا مگر اس کی نوبت نہیں آئی تھی کہ اس نے وہ سارا سال پڑھنے میں گذار دیا تھا۔ اگلے سال وہ پاس ہو گیا اور آگے کی تعلیم کے لئے اس کا داخلہ شہر کے کالج میں کروا دیا گیا۔
کبھی کبھی کسی نیوز چینل کی تلاش میں ریموٹ کنٹرول کا بٹن دباتے وقت اسے عجیب بے ہنگم کپڑوں میں ملبوس اچھلتے کودتے طالب علم نظر آتے تو اسے لگتا جیسے واقعی بہت کچھ بدل گیا ہے ۔لیکن جب اسے خبروں کے درمیان خون کے دھبے اور دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے تو محسوس ہوتا کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ وہ اکتا کر ٹی وی آف کر دیتا اور کتابوں سے دل بہلانے لگتا۔۔ ایک دن کی کتابوں کی الماری سے ایک ناول نکل آیا۔اے پورٹریٹ آف اے لیڈی۔یہ ناول وہ کی بار پڑھ چکا تھا۔ تھامگر آج اس کے عنوان کو دیکھ کر ایک بھولی بسری یاد اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں روشن ہو گئی۔ جن دنوں وہ بی اے کا امتحان دے کر گھر آیا تھا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جس شہر سے اس کا باپ ریٹائر ہوا تھا وہاں ایک شخص کے گھر میں آگ لگ گئی اور دوسری اشیا کے ساتھ مالک مکان رام اودھیش سنگھ کے ضروری کاغذات بھی جل گئے۔ ان کاغذات میں اس کے مکان کا قبالہ بھی تھا۔ اس کی رجسٹری اس کے باپ ہی نے کی تھی۔ وہ پریشان حال اس کے باپ کے پاس آیا۔ اس کا باپ فوراً اس کی مدد کو تیار ہو گیا۔ دونوں اس رجسٹری آفس میں گئے اور وہاں اس کے باپ نے اپنے اثر و رسوخ کی بدولت قبالے کی نقل بہت جلد اسے دلوادی۔ رام اودھیش سنگھ اس مہربانی سے اس قدر خوش ہوا کہ اس نے بہت سارے تحفے تحائف دینے کے ساتھ یہ بھی کیا کہ اپنے بیٹے سے جو کہ ایک پینٹر تھا اس کے باپ کا ایک قدآدم پورٹریٹ بنوا دیا اور پھر وہ پورٹریٹ گھر کے ڈرائنگ روم کی زینت بن گیا تھا۔
باپ کے انتقال کے بعد وہ اپنی ماں کو شہر لے آیا تھا اور قصبے کے مکان میں تالا پڑ گیا تھا۔ اس کی ماں کو جب کبھی اپنے گھر کی یاد ستاتی وہ اسے لے کر چند دنوں کے لئے وہاں چلا جاتا۔ اس طرح کئی سال گذر گئے۔ اس دوران بہت سی اچھی اور بری باتیں ہوئیں۔ اس کی ماں اور بڑی بہن کا انتقال ہو گیا اور اس کی بیوی نے تین بچوں کو جنم دیا۔ ایک لڑکا اور دو لڑکیاں۔ اس کی ترقی ہوئی اور وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہو ا۔ بیوی کہتی کہ قصبے کا مکان فروخت کر دیا جائے۔ اس کا بھی یہی ارادہ تھا مگر پیشے کی ذمہ داریاں اسے مہلت نہ دیتی تھیں۔ پھر بھی سال دو سال پر وہ گھر چلا جاتا اور ہر بار گھر کا کوئی نہ کوئی حصہ مخدوش پاتا۔ وہ اس کی مرمت کرواکر واپس چلا آتا۔ اس نے یہ بھی چاہا کہ کوئی کرایہ دار مل جائے تاکہ مکان کی دیکھ بھال ہوتی رہے مگر اس چھوٹے سے قصبے میں جہاں زندگی جوہڑ کے پانی کی طرح ٹھہری ہوئی تھی اسے اس مقصد کےلئے کوئی نہ مل سکا۔ تب اس نے یہ چاہا کہ کوئی یونہی رہنے کو تیار ہو جائے اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا۔ قصبے کا ایک شخص اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اس مکان میں رہنے کو تیار ہو گیا۔ اب وہ اس جانب سے بالکل بے فکر ہو گیا تھا اور کئی کئی برسوں تک وہاں جانے کی ضرورت محسوس نہ کرتا مگر مکان کی دیکھ بھال اور مرمت کے لئے ہر سال ایک معقول رقم اس شخص کو بھیج دیا کرتا۔
ان دنوں وہ سرحدی علاقے میں تعینات تھا جہاں چاروں اطراف گھنے جنگل تھے اور پھر ان جنگلوں سے چھن کر آتی ہوئی خون اور بارود کی بو نے اسے اپنے باپ کی یاد دلا دی تھی۔ایک بار پھر آدمیوں کا جنگل اُگ آیا تھا۔روتے بلکتے ننگے بھوکے لوگ ۔۔۔۔۔چھولداریا ں۔۔۔۔۔ لاریاں۔۔۔۔۔ بوٹوں کی دھمک ۔۔۔۔۔آنے والوں میں سے کسی نے بتایا کہ اس کے چچا مع اہل وعیال شہید کر دئے گئے۔اس نے یہ خبر صبر و سکون کے ساتھ سنی لیکن کئی دنوں تک اسے ٹھیک طور پر نیند نہ آ سکی تھی۔ پھر جب اس کی نوکری اسے شہر در شہر گھماتی اس شہر میں لے آئی تھی جہاں سے اسے سبکدوش ہونا تھا تو اس نے وہاں ایک بڑا سا فلیٹ خرید لیا تھا۔ لڑکا تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک سے باہر چلا گیا تھا اور لڑکیوں کی شادی ہو چکی تھی۔
شام کے وقت ہر روز تو نہیں مگر اکثر وہ سامنے والے پارک میں ٹہلنے کے لئے چلا جاتا۔ جہاں اسے چند اور بوڑھے مل جاتے۔ وہ لوگ کسی بنچ پر بیٹھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ زیادہ نہیں ہوتا چنانچہ ان کے منہ سے الفاظ کم نکلتے اور خاموشی کا جنگل پھیلتا جاتا۔ ایک دن اسے ایک بوڑھا جس کا نام اسے معلوم نہ تھا بہت خوش نظر آ رہا تھا اور خلاف معمول لگاتار بولتا جا رہا تھا۔ اس کی گفتگو سے اندازہ لگانا دشوار نہ تھا کہ وہ اپنے آبائی مکان میں چند روز گذار کر آیا ہے جس کی وجہ سے اس کی طبیعت میں بشا شت آگئی ہے۔
پارک سے لوٹنے کے بعد اسے بھی اپنے آبائی مکان کے یاد بری طرح ستانے لگی۔ساتھ ہی ساتھ اسے اپنے باپ کی یاد بھی آنے لگی مگر عجیب بات تھی کہ اسے اپنے باپ کی شکل اب بھی یاد نہیں آ رہی تھی۔ اس کے دل میں گھر جانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی مگر وہاں جانے کا کوئی بہانہ نہ سوجھتا تھا۔ دل کے بہلانے کو اس نے پرانے البم تلاش کئے اور ایک ایک البم کو دیکھ لیا مگر کسی میں بھی اس کے باپ کی تصویر نہ تھی۔ نہ ریٹائرمنٹ سے پہلے کی نہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی۔ اس کی بیوی نے دریافت بھی کیا کہ آخر اسے کس چیز کی تلاش ہے مگر وہ ٹال گیا۔
ایک دن حسب معمول دن کے دو بجے وہ کھانا کھانے کے بعد آرام کر رہا تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی۔ اس نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے ایک ادھیڑ عمر کے اجنبی کو پایا۔ اس نے بتایا کہ وہ قصبے سے آرہاہے۔ اب وہ قصبہ دھیرے دھیرے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے اور ایک نئی فیکٹری کے سنگ بنیاد کے ساتھ ہی زمین کی قیمت بڑھنے لگی ہے اور نئےنئے لوگ وہاں بسنے کے لئے آ رہے ہیں۔اس دوران اس کی بیوی بھی وہاں آکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے نووارد سے کہا کہ اس کا آفر انہیں قبول ہے اور وہ لوگ جلد ہی اس مکان کو فروخت کرنا چاہیں گے۔ مکان کے تذکرے کے ساتھ ہی اسے اپنے باپ کا پورٹریٹ یاد آگیا اور اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ اسے لیتا آئے گا اور یہاں ڈرائنگ روم میں آویزاں کردے گا۔
دس روز بعد وہاں جانے کا پروگرام بنا جس کی اطلاع اس نے نووارد کے ذریعہ نگراں کو بھیج دی۔ اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئی کہ اگر کوئی کام کی چیز بچی ہو تو اسے اپنے ساتھ لے آئے۔ اس نے اپنے بہنوئی کو فون کرکے صورت حال بتائی۔ اس کے بہنوئی نے کہا کہ وہ جو منا سب سمجھے کرے۔ جس روز وہ گھر کے لئے روانہ ہوا اسے راستے بھر اپنے باپ کی یاد آتی رہی۔ گاڑی جب اس کے شہر پہنچی تو شام ہو رہی تھی اور آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے جس سے فضا نیم تاریک ہو گئی تھی۔ گھر کا نگراں ان لوگوں کا منتظر تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی اور بچے اب اس کے پاس نہیں رہتے تھے۔ اس نے ڈرائنگ روم کو صاف ستھرا پایا۔ نگراں نے بتایا کہ وہ اسی کمرے میں رہتا ہے۔ بقیہ کمرے بند رہتے ہیں مگر ان لوگوں کی آمد پر اس نے بیڈروم صاف کروا دیا ہے۔ وہ اس کی باتیں بے دھیانی کے ساتھ سن رہا تھا اور اس کی نگا ہیں دیواروں کا طواف کر رہی تھیں۔ پھر وہ بیڈروم میں گیا۔ وہاں مسہری پر دھلی ہوئی چادر بچھی تھی اور تکئے لگے تھے۔اس اثنا میں رات گھر آئی۔اس کی بیوی نے اسے مشورہ دیا کہ چونکہ وہ لوگ سفر کے تھکے ماندے ہیں لہذا انہیں رات کا کھانا کھا کر جلد سو جانا چاہئے۔جگہ اجنبی تو نہیں تھی مگر اسے دیر رات گئے تک نیند نہیں آئی۔رات کے پچھلے پہر زوروں کی بارش ہوئی اور وہ اندھیرے کمرے میں آنکھیں پھاڑے بجلی کی چمک اور گرج سنتا رہا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سوئی تھی۔
دوسری صبح دونوں نے پورے گھر کا جائزہ لیا۔ عقبی حصے میں جہاں اس کے باپ کے وقتوں میں سبزیاں اُگا ئی جاتی تھیں،وہاں ایک بے ترتیب جنگل اُگ آیا تھا۔نگراں نے بتایا کہ چونکہ وہ اکیلا ہے اور اس عمر میں جسمانی مشقت سے گریزاں ہے اس لئے اس نے سبزیاں اُگانی چھوڑ دی ہیں۔ اس کی بیوی نگراں سے باتوں میں مشغول ہو گئی ۔اسے ان دنوں کی گفتگو سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے وہ اسٹور روم کی جانب بڑھ گیا۔ حالانکہ اسے ایسی کوئی جلدی نہیں تھی مگر وہ اس پورٹریٹ کو ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ صحیح سلامت ہے کہ نہیں۔ اسٹور روم کا دروازہ بند تھا مگر اس میں تالا نہیں تھا۔ اس نے کواڑوں کو دھکا دیا تو وہ ایک دھیمی کراہ کے ساتھ کھل گئے۔ اندر اندھیرا تھا اور سارے میں ایک ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر ناک پر رکھ لیا اور اندھیرے کمرے میں آنکھیں جمانے کی کوشش کرنے لگا۔
جب اس کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں تو اس نے اسٹور روم کا جائزہ لیا۔ وہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، ٹیبل، مٹی کے گھڑ ے، لوہے کے بکسے، لکڑی کی ایک بڑی الماری اور جانے کیا کیا بھرا تھا۔ آخر اس کی متلا شی نگاہوں کو ایک کونے میں رکھا وہ آدم قدپورٹریٹ نظر آہی گیا۔ پورٹریٹ پر گرد جمی تھی اور اس کے خد و خال نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے بدقت تمام کمرے کی کھڑکی کھولی جو عام روشن دان سے ذرا سی بڑی تھی اور قدرے اونچائی پر تھی۔ کمرہ کچھ روشن ہوا۔ پورٹریٹ دیوار کے سہارے زمین پر کھڑا تھا۔ وہ ا س کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔تو ایسا تھا اس کا باپ۔ سر پر ہلکے سفید بال،چوڑی پیشانی، گھنی گھنی بھنویں، بھاری پپوٹے، ستواں ناک، پتلے ہونٹ اور دوہرے جبڑے۔ وہ کافی دیر تک بغیر پلک جھپکائے اسے دیکھتا رہا۔ اچانک کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی۔ وہ چونک کر مڑا۔ دروازے پر اس کی بیوی کھڑی حیرت سے اسے تکے جا رہی تھی۔ جب اس نے اپنی بیوی کی جانب نگاہ اٹھائی تو اس نے پوچھا۔ |
اسد عمر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کی اطلاعات - ہم سب
اسد عمر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنائے جانے کی اطلاعات
08/05/2019 ہم سب نیوز 1,218 Views
برطرف سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات کی جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں کہ اگر وہ وفاقی کابینہ میں کوئی قلمدان حاصل کرنے پر راضی نہیں ہوتے تو انہیں اسپیکر قومی اسمبلی لگایا جا سکتا ہے۔
باضابطہ طور پر اس ملاقات کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ جس انداز سے اسد عمر کو وفاقی کابینہ سے ہٹایا گیا تھا وہ اس پر اب بھی ناخوش ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام سے مذاکرات اور وطن واپسی پر وہ وزیراعظم کے پاس انہیں بریفنگ دینے گئے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمر کابینہ سے ہٹائے جانے کے اقدام پر اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ ان کے قریبی حلقے اشارتاً کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے تھے، تاہم وزیراعظم کی جانب سے بھجوائے جانے والے پیغام پر انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا ہے۔ |
فِحش یا فحش؟ - وجود
فِحش یا فحش؟
لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں:
''خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ''اوپر سے'' سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی اور۔ (25 سال پرانا پیڈ سنبھال کر رکھنا بھی کمال ہے)۔
جنوری 16 کے دوسرے شمارے میں بھی دو باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ اولاً۔ اَہم اور اَحمد کے درست تلفظ کے سلسلے میں یہ بات تو آپ نے درست لکھی ہے۔ تلفظ زبر اور زیر کے درمیان کیا جاتا ہے۔ لیکن ''لین'' کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ درست نہیں کیونکہ لین تو 'و' اور 'ی' کی قسم ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اردو میں ہائے ہوز ہو یا حطی (ہ، ح) دونوں سے ماقبل حرف کی زبر آدھی پڑھی جاتی ہے۔ جیسے Men, Pen اور Hen وغیرہ الفاظ میں 'e' کی آواز ۔ اسے آپ کلیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً رَحمت کو عربی میں/ قرآن میں پڑھیں گے تو زبر پوری پڑھی جائے گی، مگر اردو میں یہی زبر آدھی پڑھی جائے گی۔
رحمت، زحمت، شہر، نہر، محض، بحث، اہم، رہ وغیرہ۔ ثانیاً دو رویہ کی بحث کے دوران میں آپ نے درست نشان دہی کی ہے کہ ''رو'' فارسی مصدر رفتن سے امر کا صیغہ ہے اور دوسرے مصدر روئیدن سے بھی امر ہی کا صیغہ ہے۔ مگر دونوں کے تلفظ کے فرق کو واضح نہیں کیا۔
یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے
جو ''رو'' رفتن سے امر ہے اس کی 'ز' پر زبر ہے اور اس 'ز' کو واولین کہتے ہیں۔ جب کہ روئیدن سے بننے والے ''رو'' میں واؤ مجہول ہے اور اس کا تلفظ ہے جیسے، تو، کو، سو، ہو، جو وغیرہ۔ ان الفاظ میں بھی ماقبل 'و' حرف پر ضمّہ ہے مگر پوری طرح پڑھا نہیں جاتا۔ مزید مثالیں گوشت، دوست، پوست وغیرہ۔
بھائی محمد انور علوی، بہت شکریہ۔ آپ کی بات درست ہے کہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کر سکتے ہیں نہ کوئی اور۔ اپنے بارے میں تو یہ بات ہم شروع سے کہہ رہے ہیں۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پچھلے کالم (داروگیر پر پکڑ) میں کمپوزنگ کے سہو سے ''روبکار'' روپکار ہو گیا۔ کچھ قارئین سمجھے کہ یہ بھی کوئی لفظ ہے چنانچہ کئی فون آئے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ مطلب تو روپکار کا بھی نکالا جا سکتا ہے۔ مثلا پکار کرنے والے چہرہ۔ لیکن کچھ حق کمپوزر کا بھی ہے اور ہم نے تین غلطیوں تک کی چھوٹ دے رکھی ہے۔
امید ہے کہ اَہم کے تلفظ کے حوالے سے لاہورہی کے جناب افتخار مجاز کی تسلی (بلکہ تسلاّ) ہو گئی ہو گی۔ دراصل ہمارے مخاطب ماہرین لسانیات نہیں، ہم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو بڑی معصومیت سے پوچھتے کہ یہ جو آپ 'برو۔زَن' (بروزن) لکھتے ہیں اس کا مطلب اور تلفظ کیا ہے۔
ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمیں دور دور تک پڑھا جارہا ہے اور اس کے سہارے ہمارا بھی نام ہو رہا ہے۔ اب دیکھیے، وہاڑی، پنجاب سے جناب اللہ داد نظامی نے ٹیلی فون کر کے داد دی ہے۔ لتمبر، خیبر پختون خوا کے عدنان صاحب کچھ عرصے سے خاموش ہیں۔ لاہور سے رضا کارانہ طور پر مخبری کرنے والے جناب افتخار مجاز نے ایک بار پھر مخبری کی ہے کہ چینل 24 پر ایک پروگرام چل رہا ہے جس میں بار بار ''فِحش'' کہا جارہا ہے۔ کسی سینئر پروڈیوسر نے بھی تصحیح نہیں کی اور یہی تلفظ دہرایا جارہا ہے۔ یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے۔ ٹی وی پر ہم نے ایک اورلفظ سنا ''بل بَوتے پر'' یعنی ب بالفتح۔ آپ میں بُوتا'' ہو تو تصحیح کر دیجیے۔ بُوتا یعنی زور، طاقت، بل وغیرہ۔ اسی ہجے کے ساتھ ایک اور لفظ ''بَوتا'' بہ وائے مجہول ہے جس کا مطلب ہے درخت کا تنا، حقے کی نال، اور بوتہ کہتے ہیں دھات گلانے کی کٹھالی (فارسی)۔ فارسی میں بَوتہ چھوٹے درخت کو بھی کہتے ہیں۔ ممکن ہے بُوٹا اسی بوتے سے پھوٹا ہو۔ اس حوالے سے فارسی ہی کی ترکیب ہے بوتۂ خار اور بوتۂ خاک۔ یعنی کانٹوں بھرا درخت اور آدمی کا بدن جو خاک کا بوٹا ہے اور خاک ہی میں مل جائے گا۔ اور بوتہ اونٹ کے بچے کو بھی کہتے ہیں، مونث اس کا ''بوتی'' ہے۔ اس حوالے سے مزید لکھنے کا بُوتا نہیں ہے۔
آئیے، اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم نے اصرار کیا تھا کہ قصائی صحیح نہیں بلکہ قسائی ہے اور اسی سے عربی میں اسم کیفیت قساوت ہے۔ جسارت کے اداریے میں قصاب بھی قساب بن گیا۔ اب یہ واضح نہیں کہ یہ چھوٹے گوشت کا ہے یا بڑے گوشت کا۔ ویسے تو وطن عزیز میں گدھوں کے قصاب بھی موجود ہیں جو صحیح معنوں میں قسائی ہیں، قساوت سے بھرے ہوئے۔ سنڈے میگزین (بقول کسے اتواری مجلہ) میں جناب نجیب ایوبی 1857ء کی جنگ آزادی کا احوال لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ''اکبر کے بعد مغل شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر تخت نشین ہوا۔'' ممکن ہے کہ اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہجہاں کو ''نشینی'' کے لیے تخت ہی نہ مل سکا ہو۔ نجیب ایوبی تو کمال کے مورخ ہیں لیکن کسی ادیب شہیر (ایک شمارے میں جو ادیب شہر ہو گیا تھا) نے پڑھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی ورنہ جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کو ''باغی فوج'' نہ لکھا جاتا جب کہ خود ہی اسے جنگ آزادی قرار دے رہے ہیں۔ باغی قرار دے کر تو انگریزوں کے موقف کی تائید ہو رہی ہے کہ یہ بغاوت تھی۔
چلتے چلتے ایک بات ماہنامہ قومی زبان بڑا معتبر رسالہ ہے۔ اس میں پروف ریڈنگ بھی زیادہ احتیاط سے ہونی چاہیے ورنہ غلطی سند بن جائے گی۔ بیکل اتساہی کے شعری مجموعے پُروائیاں پر تبصرے میں ان کا ایک مصرع یوں ہے ''کیا جانے کب ناگن بن کر ڈس لے گا کوئی لکیر رے جوگی''۔ کیا پتا کل کو کوئی لکیر کے مذکر ہونے کی سند میں یہ مصرع پیش کر دے۔ بہتر تھا کہ مصرعے میں سے 'گا' نکال دیا جاتا تو بے وزنی بھی دور ہو جاتی۔ قومی زبان کے مدیر یہ بھی طے کر لیں کہ ذرائع کا املاکیا ہے، کیا یہ ذرائع ہے یا ذرایع۔ (صفحہ 84)۔ مبصر معصومہ شیرازی کا یہ جملہ بھی دلچسپ ہے ''پانی…… جس کی جلترنگ……'' ہم نے سنا تھا کہ جل پانی ہی کو کہتے ہیں۔ |
ذاکر نائک: جتنے منہ، اتنی باتیں! - مضامین ڈاٹ کام
منگل، ستمبر 22، 2020
ذاکر نائک: جتنے منہ، اتنی باتیں!
ندیم احمد انصاری مطبوعہ جولائی 15، 2016
میڈیا میں یہ خبروایرل ہوتے ہی کہ۔۔ ڈھاکہ میں ایک ہندوستانی خاتون سمیت22 لوگوں کو بے رحمی سے قتل کرنے والے6 جنگ جوؤں میں سے ایک ذاکر نائک سے متاثر تھا، تب سے وہ انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظر میں ہیں۔۔ایک ہنگامہ بپا ہے۔ اس خبر کے آنے کے بعد جتنے منہ اتنی باتیں سننے میں آرہی ہیں،تقریباً ہر روز ایک سے زائد خبریں اس سے متعلق اخبارات کی زینت بن رہی ہیں اور سوشل میڈیا میں تو ہر کس و ناکس اسی موضوع پر بحث کرتا نظر آرہا ہے۔ جہاں ہندو اپنے کمنٹ میں لکھ رہے ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک وہ آدمی ہے، جس نے ہندوؤں کو ان کی مذہبی کتابوں کی طرف متوجہ کیا، ورنہ پنڈت صرف بچے کی ولادت، نام اور شادی بیاہ کی رسموں تک مذہب کو محدود کیے ہوئے تھے، وہیں مسلمانوں میں اس بات کو لے کر بحث ہو رہی ہے کہ ذاکر نائک پر یہ الزام تراشیاں درست ہیں یا نہیں۔ ایسے میں کچھ نام نہاد مسلمان ایسے بھی نظر آرہے ہیں جو اس موقع پر موصوف سے پرانی خصومت نکالنے کی فراق میں ہیں، ویسے کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ تماشا 45000کے ٹیلی گھوٹالے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو عین ممکن ہے۔آئیے ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعلق اہم باتوں کا سرسری جائزہ لیں:
بے جاالزامات
*ذرائع کے مطابق سابق وزیر عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کی تقریریں اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں،وہ دوسرے مذاہب کو مذموم قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ قرآن مجید کی روح کے بالکل خلاف ہے۔
اس الزام کے دو جزو ہیں؛ پہلا ان کی تقریروں کا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہونا، جو بہ طور کلیہ کسی طرح درست نہیں اور خود ہم ڈاکٹر ذاکر نائک سے متعدد مسائل میں نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود یہ بات ماننے سے قاصر ہیں۔ دوسر ا جزو ہے دیگر مذاہب کو مذموم قرار دینا، یہ بھی محض افترا ہے۔ ہم نے انھیں جتنا دیکھا اور سنا ہے، وہ تقابل کے ذریعے علمی اور سنجیدہ گفتگو کرتے نظر آئے۔
*ایک خبر یہ ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں منگل (12۔07۔2016)کو مسلم راشٹریہ منچ کے بینر تلے منچ کے نوجوانوں نے اسمبلی کے سامنے ڈاکٹر ذاکر نائک کا پتلا پھونکا، جس کے سماجی رابطہ سربراہ شفاعت حسین کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک مسلم نوجوانوں کو گمراہ کر کے اسلام کی شبیہ خراب کر رہے ہیں، وہ قرآن کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو دہشت گرد بننے کی ترغیب دیتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایتوں سے گمراہ کر کے جنت کے بجائے دوزخ کے راستے پر جانے کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس کا جواب بھی اوپر گزر چکا، پھر ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو کیا آج تک آپ سرکاری طور پر ڈاکٹر ذاکر نائک کی مخالفت ہونے کا انتظار کر رہے تھے، اس سے قبل آپ نے اس جانب پیش رفت آخر کیوں نہیں کی، آج کیا بات ہے کہ اچانک آپ کے لہو میں اسلام کی غلط تعلیمات پیش کرنے والے پر یوں گرمی پیدا ہو گئی؟خدارا جو کہنا اور کرنا ہو، د س بار سوچ لیں!
حالات کا فایدہ اٹھاتے ہوئے بعض ہندو انتہا پسندوں نے بھی اپنی زبانیں کھولی ہیں اور زبانیں کیا کھولیں،یوں زہر افشانی کی ہے؛
*شیوسینا نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو سعودی عرب سے ہندوستان لوٹتے ہی گرفتار کیے جانے اور ان کے پیس ٹی وی نیٹ ورک کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور شیوسینا کے ترجمان 'سامنا' نے اپنے اداریے میں لکھا کہ نائک کو اسی کوٹھری میں رکھا جانا چاہیے جہاں پہلے ممبئی حملے کے مجرم اجمل قصاب کو رکھا گیا تھا اور اس کا مطالبہ ہے کہ مودی حکومت اور مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس حکومت کو ہمت دکھانا چاہیے اور اس پیس ٹی وی چینل کی تمام مشینری کو تباہ کر دینا چاہیے۔
'پیس' یعنی امن و شانتی کے پیغام کی مخالفت کرنا اور اس کو تباہ کرنے کا مطالبہ کرناتو خود امن مخالف ہے، اس پر کیا تبصرہ کیا کہا جائے، اس لیے اس مسئلے کو ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
*مخالفت کا سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ اپنے متنازعہ بیانات سے خبروں میں رہنے والی وشو ہندو پریشد کی سادھوی پراچی نے بھی جلتی آگ میں گھی ڈالتے ہوئے اعلان کر دیا کہ جو کوئی بھی سعودی عرب جاکر ذاکر نائک کا سر کاٹ کر لے آئے گا اسے 50 لاکھ کا انعام دیا جائے گا۔ سادھوی پراچی کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک ہندستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، وہ مذہبی رہنما بن کر دہشت گردی کا پلانٹ تیار کر رہا ہے۔ اس مذہبی رہنما اور دیگر مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانچ ہونی چاہیے۔
ویسے تو اب ملک کے سیکولر ہندو بھی ان جیسے لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرتے پھر بھی جب بات مذہبی رہنماؤں کی جانچ چل نکلی ہے تو ہم کہنا چاہیں گے کہ کم از کم اس معاملے میں تو ہندو مسلم تفریق نہ کی جائے، تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ کون کتنے پانی میں ہے!
عجب مخالفت
*واضح رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو ان حالات میں ایک الگ نوعیت کی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس طرح کہ انھیں پریس کانفرنس کے لیے ممبئی کاکوئی ہوٹل جگہ دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے،جیسا کہ ان کے ترجمان عارف ملک نے بتایا کہ ممبئی میں ہوٹلوں کو کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نائک کی پریس کانفرنس کے لیے جگہ نہ دی جائے۔ کم از کم 4 ہوٹل ہیں جنھوں نے پہلے جگہ دینے کی بات کہی تھی، اب وہ اپنی بات سے مکر گئے ہیں، یہاں تک کہ کچھ نے تو پیشگی رقم لے کر بھی اب بکنگ کینسل کر دی ہے۔قارئین کے علم میں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف اب تک کوئی گرفتاری وارنٹ جاری نہیں ہوا ہے اور نہ ان پر لگائے گئے الزام کا کوئی ثبوت ہی ملا ہے، اس کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے تو جن پر جھوٹے الزامات لگا کر جھوٹے ثبوت گڑھ لیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا آسان ہے۔
کلین چٹ
یہ سب باتیں چل ہی رہی تھیں کہ انگریزی اخبار 'دی ہندو' نے یہ خبر شایع کر دی کہ مہاراشٹر انٹلیجنس ڈپارٹمنٹ (ایس آئی ڈی) نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دے دی ہے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ نائک کے یوٹیوب پر موجود سیکڑوں ویڈیو کی جانچ کرنے کے بعد ایجنسی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، نیز ایجنسی کے سینئر آفسر نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا مقدمہ درج ہوا ہے لیکن اب تک اس سلسلے میں بھی کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ اسامہ بن لادن کی حمایت والے بیان میں بھی دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے، اس لیے اس ویڈیو کو بھی ان پر کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
ویسے اس خبر پر بعض حلقوں سے اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں یہ خبر دامِ فریب نہ ثابت ہو کہ اس بہانے وہ بے فکر ہوکر ملک میں داخل ہوں اور پھر آتے ہی ان پر شکنجہ کس لیا جائے۔
بدخواہوں کے پیٹ میں درد
کلین چٹ والی خبر نے ویسے بد خواہوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اب وہ دیگر الزامات تراش کر ذاکر نائک کو نالائق اور کھلنائک ثابت کرنے کے لیے زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں اور اسی درد سے کراہتے ہوئے بعض نے حکومت کو بلاوجہ انھیں ہیرو بنانے سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاکر نائک کو گرفتار کرنے سے ان کی مقبولیت اور اثر آفرینی میں مزید اضافہ ہوگا۔یعنی انھیں اس سے سروکار نہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر لگے الزامات درست ہیں یا غیر درست، بس انھیں فکر اس بات کی ہے کہ کہیں اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو۔
ان حالات میں ضرورت تھی کہ حق کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھائی جائے اور خدا کا شکر ہے اس بار حالات نے مختلف مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر جمع کر دیا اور ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف' جو کہ اصلاً اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، ہندستان کے اکثر مسلمان متحد ہو کر سامنے آئے۔
*دارالعلوم وقف دیوبندکے صدرمہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹرذاکرنائک سے کسی کو بھی ہزار اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن ہندستانی میڈیا نے انکے حوالے سے قبل از تحقیق جو منفی رخ اختیار کیا ہے وہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ ہندستان کے سیکولر آئین کی اہانت وتوہین کے مترادف ہے۔
*جمعیۃ العلماء ، ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو نشانہ بنائے جانے اور انھیں دہشت گردی سے جوڑنے کی غیر ضروری کوشش کرنے پر افسو س کا اظہار کیا اور کہا کہ نظریانی اعتبارسے میں ان کی تائید نہیں کرتا،لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا یا سنا کہ وہ کسی کو تشدد یا دہشت گردی کی کوئی ترغیب دیتے ہوں یا کہ مختلف مذاہب کے درمیان کسی طرح کی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔ اب اگر ان کے بیان سے متاثر ہوکرکوئی شخص یا ان کا کوئی پیرو کار اپنے طور پر کوئی غلط قدم اٹھا تا ہے تو اس کے لیے انھیں کیسے ذمّے دار قرار دیا جا سکتا ہے؟
*جمعیۃ العلماء، ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی نے ذاکر نائک کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو غلط بتاتے ہوئے منصفانہ رویہ اپنانے کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ذاکر نائک کی بہت سی باتو ں سے مختلف مسالک کے اہلِ علم کو شدید اختلاف ہے اور بعض ان کے اندازِ بیان کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں ، لیکن یہ معاملہ دہشت گردی سے بالکل الگ ہے۔
*جماعتِ اسلامی کے نائب امیرِ جماعت نصرت علی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ملک کے دیگر مذاہب کی سیکڑوں معروف شخصیات کی طرح اس دور کے تمام ممکن ذرائعِ ابلاغ کے توسط سے ملکی اور عالمی سطح پر دستورِ ہند کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے شائستہ ، مہذب اور علمی انداز میں اسلام کے پیغامِ توحید، رسالت اور آخرت کو انتہائی خوش گوار ماحول میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے کروڑوں افراد برسوں سے توجہ اور دل چسپی سے سنتے رہے ہیں اور ان میں کبھی دستور و اخلاقیات کے خلاف کوئی بات محسوس نہیں کی گئی۔ حیرت ہے کہ اب اچانک ان کی انسانی خدمات کے تجزیے کی ضرورت کا ذکر کرکے اور اسے ایک خاص رنگ دے کرملک میں پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔
*راشٹریہ علماء کاؤنسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر ہندستانی میڈیا کا حملہ صرف ایک شخص پر حملہ نہیں بلکہ یہ ڈاکٹر ذاکر نائک کی اسلامی شناخت پر حملہ ہے۔ان کے بیان کو دہشت گردی سے جوڑنا اور انھیں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والا بتانا غلط ہوگا اور اس کی سخت سے سخت مذمت ہونی چاہیے۔
ان تمام باتوں اور حالات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف جو محاذ آرائی کی جا رہی ہے، وہ دراصل شخصِ واحد کے خلاف نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے، اس لیے ایسے میں اپنے نظریاتی اختلافات کو باقی رکھتے ہوئے ہمیں ان کے ساتھ کھڑ اہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں نظریاتی اختلافات کو اسلام و کفر کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا دوراندیشی سے دور ہوگا۔ نیز جو لوگ ان حالات میں بھی مصلحت و حکمت کو پسِ پشت رکھ کر اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، یا ذاکر نائک کے حوالے سے ہوئے اس اتحاد کو نہیں دیکھ پارہے ہیں، وہ خیال رکھیں کہ انگلیوں کا الگ ہونا جس طرح بعض کاموں کے لیے ضروری ہے، اسی طرح ان کا مجتمع ہو کرمٹھی بن جانا بھی بعض حالات میں ناگزیر ہے، ورنہ ان کا جو انجام ہو سکتا ہے، وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں! |
شہبازشریف کی جے آئی ٹی میں پیشی | News and Views
شہبازشریف کی جے آئی ٹی میں پیشی
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف آج پاناما لیکس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو گئے ہیں
میاں شہباز شریف بغیر کسی پروٹوکول کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے.
چودھری نثار علی خان شہبازشریف شریف کی گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے.جبکہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے.
جے آئی ٹی نے شہباز شریف سے چوہدری شوگر ملز اور حدیبیہ پیپر ملز کیسز سے متعلقہ ریکارڈ طلب کررکھا تھا۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے حوالے سے بھی وزیراعلی سے پو چھ گچھ کرے گی اور ذرائع کے مطابق شہباز شریف سے میاں محمد شریف کے بیرون ملک کاروبار سے متعلق معلومات لئے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعلی پنجاب کو جے آئی ٹی کی جانب سے سمن میں صبح 11 بجے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، اس موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، اسپشل برانچ، ایف سی اور رینجرز کے 2500 جوان سیکیورٹی پر مامور ہیں جب کہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص یا گاڑی جوڈیشل اکیڈمی میں داخل نہیں ہو سکتی.
جے آئی ٹی نے وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر کو 24جون کو طلب کیا تھا تاہم انہوں نے عمرے کی ادائیگی کے باعث پہلے پیش ہونے کیلئے جے آئی ٹی کو خط لکھا ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمن ملک کو بھی 23جون کو طلب کررکھا ہے ۔
واضح رہے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔ |
خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی - Pakistan 247 News
Home اہم خبر خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک...
خواتین کے لیٹ کر بچوں کوجنم دینے کے پیچھے چھپی انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی
لندن(پاکستان ٹوئنٹی فورسیون نیوز)دوزانو بیٹھنے، دونوں پیروں پر بیٹھنے یا دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں پر جھکنے یعنی گھوڑی بننے سے زچگی کا مرحلہ انتہائی آسان ہو جاتا ہے اور درد زہ بھی کم ہوتا ہے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر خواتین صرف لیٹ کر ہی بچوں کو جنم کیوں دیتی ہیں؟ توزیادہ ذہن پر زور مت دیں ، اب برطانوی میڈیا نے یہ معمہ بھی حل کردیا ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک بادشاہ کی عیاشی کارفرما قرارپائی۔
برطانوی جریدے ڈیلی سٹار کے مطابق فرانس کابادشاہ لوئس چہار دہم جنسی بے راہ روی، عیاشی اور بے شرمی میں شہرت رکھتا تھا۔اس نے کئی شادیاں کیں اور اس کی 22اولادیں ہوئیں۔
لوئس چہاردہم نہ صرف خواتین کے ساتھ جنسی تعلق سے تسکین حاصل کرتا تھا بلکہ انہیں بچہ پیداکرتے ہوئے بھی دیکھتا اور اس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔اس شرمناک منظر کو اچھی طرح دیکھنے کے لیے بادشاہ بیوی یا لونڈی، جو بھی زچگی کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی کو حکم دیتا کہ سیدھی لیٹ کر بچے کو جنم دے تاکہ وہ بچے کی پیدائش کو پوری طرح دیکھ سکے۔
اس بادشاہ کی یہی بے شرمی ایک روایت بن گئی اور خواتین نے سیدھے لیٹ کر بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔
Previous articleپاکستان میں شریعت کا نفاذ، سپریم کورٹ نے لال مسجد کے سابق خطیب کی درخواست پر فیصلہ سنادیا
Next articleجمعہ کو بھی چھٹی کااعلان ، سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی
گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب حکومت نے عوام پر بجلی بم گرنے کی تیاری کرلی
چین بازی لے گیا، پاکستان کو ایسا جدیدترین میزائل ٹریکنگ سسٹم دیدیا کہ دشمن کی نیندیں اڑگئیں، پاکستانی خوش |
آصف زرداری کو ضمانت ملنا نیک شگون نہیں، شیخ رشید – ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar
سرگودھا: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ضمانت ملنا نیگ شگون نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ریلوے کو ٹریک پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرگودھا ریلوے کی اپ گریڈیشن کے لیے ڈیڑھ کروڑ کی گرانٹ کا اعلان کیا۔
شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ سے متعلق قانون ساز ی مکمل فیصلہ دیکھنے کے بعد کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری کو ضمانت ملنا نیگ شگون نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور فریال تالپورکو باہر جاتا نہیں دیکھ رہا، ان کا این او سی لینا اور کابینہ سے منظوری لینا مشکل کام ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جو کچھ لاہورمیں ہوا وہ قابل مذمت ہے، قائداعظم کے پیشے پردھبہ لگایا گیا، قوم واقعے پرغمگین ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے سرگودھا روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سے 16 گریڈ ملازمین کی مراعات کے لیے وزیراعظم عمران خان سے بات کروں گا۔
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ریلوے کا خسارہ 3 سال میں پورا کریں گے، حکومت گرانے کے لیےغیرجمہوری زبانیں استعمال کی جا رہی ہیں، ملک اب بہتری کی طرف جائے گا اور 3 ماہ میں مہنگائی کم ہوگی، بجلی، گیس کے بل ٹھیک ہو جائیں گے۔ |
دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات .رپورٹ۔یوسف تبسم – Ahem News International
یک طرفہ عشق ؛؛ شادی شدہ خاتون سے یکطرفہ محبت کرنے والے عاشق جب خاتون سے ملنے گیا تو ایسا کام ہو گیا کہ ملک میں کہرام مچ گیا
وہ پھل جس کو نبی آخر زماں سیدنا حضرت محمد (ص) نے 70 بیماریوں کا علاج قرار دیا
بڑی خبر ؛؛ چوہدری نثار جاتی امرا پہنچ گئے ؛؛ میاں شہباز شریف سے ملاقات ؛؛ تفصیل جانئے
مائیکل جیکسن نے 4 خواہشات کیں ؛؛ تین پوری ہو گئیں ؛؛ چوتھی خواہش کیوں ادھوری رہ گئی تحریر مکمل پڑھیں؛؛ تحریر و تحقیق۔۔چوہدری محمد ریحان فاروقی
دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات .رپورٹ۔یوسف تبسم
نومبر 10, 2019 November 10, 2019 0 تبصرے 544 مناظر
دنیا کی امیر ترین شخصیات اور ارب پتی افراد کے نام، ہر سال ان کے اثاثوں کی مالیت، ان کے کاروبار اور مختلف اداروں کے بارے میں معلومات عالمی زرایع ابلاغ میں نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ فہرست ہر خاص و عام کو متوجہ کرتی ہے اور ایسی رپورٹیں سب کی دل چسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ تاہم ایک حالیہ رپورٹ نے نہ صرف عام لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے بلکہ ارب پتی افراد اور مختلف کاروباری شخصیات کے لیے پریشان کُن بھی ہے۔
جرمن میڈیا نے مختلف نیوز ایجنیسوں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی دولت میں مجموعی طور پر کمی ہوئی ہے جس کا سبب امريکا اور چين کے مابین کشيدگی، غیر یقینی سیاسی صورت حال اور بازار حصص ميں بے قاعدگياں بنیں۔
چین کے بعد امریکی ارب پتی اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پچھلے ايک سال ميں دنيا کے امير ترین افراد کی مجموعی دولت ميں کمی کا انکشاف ''يو بی ايس'' اور ''پی ڈبليو سی'' نامی اداروں نے اپنی مشترکہ رپورٹ ميں کيا ہے۔
ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں ايک سال ميں 388 بلين ڈالر کی کمی نوٹ کی گئی اور ان کی ملکیت میں مجموعی رقوم 8,539 بلين ڈالر بنتی ہيں۔ اس حوالے سے رپورٹ کے مطابق مختلف خطوں کے لحاظ سے سب سے زيادہ کمی چين کے ارب پتی افراد کی دولت ميں نوٹ کی گئی ہے۔
دوسرے نمبر پر امريکی ارب پتيوں کی دولت ميں اور تيسرے نمبر پر ايشيا پيسيفک خطے ميں بسنے والے ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ميں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
اس رپورٹ ميں يو بی ايس کے سربراہ جوزف اسٹيڈلر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2008 کے بعد يہ پہلا موقع ہے جب جيو پاليٹکس کے سبب ارب پتی افراد کی دولت ميں کمی واقع ہوئی ہے۔
چين سب سے زيادہ متاثرہ ملک ثابت ہوا۔ ڈالر کی قدر کے حوالے سے ديکھا جائے تو چين کے امير ترين افراد کی مجموعی دولت ميں 12.8 فی صد کمی ہوئی۔ اس کے باوجود جوزف اسٹيڈلر کا کہنا ہے کہ چين ميں ہر دو سے ڈھائی دن ميں ايک نيا شخص ارب پتی افراد کی فہرست ميں شامل ہوجاتا ہے۔ |
پاکستان : 'پیغمبر' ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو'پھانسی'کا حکم
ہندوستان افغان باشندوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ جے شنکر
خون ،ہندونہ مسلمان ہے
بی جے پی قومی مجلس عاملہ کی مٹینگ،وزیراعظم بھی شریک
اومیکرون ڈیرھ سے تین میں ہو رہا ہےدوگنا : ڈبلیو ایچ او
خصوصی صد سالہ شمارہ کا اجراء
Published: 11-07-2021 08:55:00 AM
علی گڑھ،: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارہ کا وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے جمعہ کو اجراء کیا۔یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات کی یادگار کے طور پر اے ایم یو گزٹ کا خصوصی شمارہ سرسید اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔
اس موقع پر پروفیسر طارق منصور نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "اے ایم یو گزٹ کے صد سالہ شمارے میں صد سالہ تقریبات کے حصے کے طور پر منعقدہ ممتاز شخصیات کے مختلف پروگراموں اور لیکچروں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ شمارہ مستقبل کے لئے ایک ریکارڈ کے طور پر کام کرے گا اور حوالہ جات کے لئے کارآمد ہوگا۔ صد سالہ گزٹ کی اشاعت کے لئے ادارتی کمیٹی نے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کیا جس کی میں ستائش کرتا ہوں"۔
رجسٹرار، مسٹر عبدالحمید، آئی پی ایس نے بھی صد سالہ گزٹ کو ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے ادارتی کمیٹی کی کاوشوں کی تعریف کی۔ اے ایم یو گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارے میں ان شخصیات کے لیکچرز اور تقریریں شامل ہیں جن کا اہتمام سرسید میموریل لیکچر سیریز کے ایک حصے کے طور پر کی گیا۔ اس میں یونیورسٹی کی اہم عمارتوں اور دیگر یادگاروں کی جھلکیاں بھی ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گزٹ کے خصوصی صد سالہ شمارے کی ادارتی کمیٹی میں پروفیسر علی محمد نقوی (ڈائریکٹر، سر سید اکیڈمی)، پروفیسر شافع قدوائی، مسٹر محمد ناصر، مسٹر محمد فیصل فرید اور سمرین احمد شامل تھے۔ یہ خصوصی شمارہ جلد ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ گزٹ کا اجراء بانی درسگاہ سرسید احمد خاں نے 1866ء میں کیا تھا جس میں ادارے سے متعلق اہم دستاویزات شائع ہوئے۔ |
اللہ کے حضور بیٹھیں تو مجسم کاسہ بن جائیں
جمعرات, 24 اگست 2017 18:26
اگر آپ کے ہاتھ میں کاسہ یا کشکول ہے، بھلے آپ نے اسے آگے نہیں پھیلایا ہوا، خواہ وہ آپ کے ساتھ میں پڑا ہے یا آپ کی گردن میں جھول رہا ہے۔ یہ نشانی ہے کہ آپ سِکّہ بند فقیر ہیں۔ آپ اپنا کاسہ کسی اور کے ہاتھ میں پکڑا دیں وہ شخص پلک جھپکنے میں فقیر ہوگیا۔
اِس کاسہ پر غور کرنا چاہئیے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ مٹی سے بنا ہے۔ جو چیز بھی مٹی سے بنی ہو اسے غرور نہیں کرنا چاہیئے۔ کاسہ بھی دیکھنے میں مٹی اور حقیر ہی لگتا ہے۔ دوسری بات اِس کا منہ ہمیشہ کُھلا ہوتا ہے۔ کوئی ڈھکن نہیں ہوتا کہ حسبِ ضرورت کھول لیا اور بند کردیا۔ پھر یہ ہمیشہ خالی ہوتا ہے۔ اِس کے منہ کا رخ آسمان کی جانب ہوتا ہے۔ اِس میں صرف ایک سوراخ یا خلاء ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی نیچے سے یا سائیڈ سے کچھ ڈال دے۔ اِس میں کوئی گندگی نہیں ہوتی۔ کہ کوئی آٹا ڈالے تو کیچڑ میں مل جائے اور کسی کام کا نہ رہے۔ اِس کے پیندے میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا کہ ملنے والی نعمتیں چھن چھن کر گرنے لگیں۔ جہاں سے پیسہ آتا ہے وہیں سے ہاتھ ڈال کر نکالا جاتا ہے۔ کہیں اور سے نہیں۔
اِس کے علاوہ جو کاسہ بنا رہا ہوتا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کاسہ بنا رہا ہے کسی کے ماتھے کا جھومر نہیں۔ کاسے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بن رہا ہے اور کس کام آئے گا۔ اب اگر وہ بڑی بڑی ہانکنے لگے کہ میں بڑا ہو کر لوگوں کو کھلاؤں گا، دیگ بنوں گا وغیرہ وغیرہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ اور کاسہ کوئی حادثاتی طور پر بھی نہیں بنتا کہ مٹکا تھا، ٹوٹا اور کاسہ بن گیا۔ ایک دفعہ کاسہ بن جائے بس پھر وہ خالی نہیں رہ پاتا۔ خودبخود مال و اشیاءِ ضرورت اُس میں کھینچتا رہتا ہے۔ اصول کی بات ہے کہ دینے والا کبھی نہیں تھکتا، لینے والا تھک جاتا ہے۔
ہمیں بھی سوچنا چاہئیے کہ انسان بھی مٹی سے بنا ہے۔ اسے غرور زیب نہیں دیتا۔ کاسے کی طرح اسے بھی ایک طرف منہ کر کے مانگنا چاہئیے، جگہ جگہ سوراخ نہیں ہونے چاہئیں۔ اِسے بھی اپنے اندر سے خالی ہونا پڑے گا تمام روحانی بیماریوں سے بغض، ظلم، کینہ، جھوٹ، حسد، لالچ، بےایمانی اور بےحیائی سے۔ خالی نہیں ہوگا تو کچھ آئے گا ہی نہیں اور اگر آ بھی گیا تو آٹا کیچڑ میں مل جائے گا اور اُس نعمت کی برکت و استعمال جاتا رہے گا۔ انسان کے دل میں بھی شرک کا سوراخ نہیں ہونا چاہئیے ورنہ توحید کا نور چھن چھن کر گر جاتا ہے۔ اِسے بھی نکالتے ہوئے سوچنا ہی چاہئیے کہ دئیے ہوئے میں سے دے رہا ہے اپنا کچھ نہیں۔ اُس کے منہ پر بھی کوئی ڈھکن نہیں ہونا چاہئیے کہ مصیبت میں اللہ یاد آئے اور خوشی میں ڈھکن لگ جائے۔ اسے بھی ہر وقت ہر لمحہ مانگتے رہنا چاہئیے۔
انسان کو یاد رہنا چاہئیے کہ وہ کاسہ ہے کسی کے ماتھے کا جھومر نہیں۔ اِس کا تو ڈیزائن ہی کاسے والا ہے، مانگے بغیر چارہ کوئی نہیں۔ اپنے مالک سے نہیں مانگے گا تو کس سے مانگے گا؟ اور انسان کو بھی اپنے اساتذہ و مشائخ کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے جنہوں نے گِھس گِھس کر زندگی بھر کا میل نکال دیا اور کاسے کی شکل واپس لے آئے۔
کاسے کی طرح آپ بھی نشانی بن جائیں کہ جو دیکھے وہ کہہ دے مانگنے والا جارہا ہے۔ جب نماز پڑھیں، جب ہاتھ اُٹھائیں، جب اللہ اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا ذکر کریں، جب کسی محفل میں جائیں، جب خاندان میں بات کریں، جب رات کو اللہ کے حضور بیٹھیں تو مجسم کاسہ بن جائیں۔ باہر سے بھی خالی اور اندر سے بھی خالی۔ آئیے عہد کریں کہ اگلے 20 برس صرف اپنے کاسے کو خالی کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ یہ خالی ہوگیا تو سمجھیں بڑا کام ہوا۔ جب آپ کاسہ بن جائیں گے تو دینے والا نہیں تھکتا۔ |
آئی ایم ایف کے ساتھ 5100 ارب روپے کے محصولات کا بجٹ تخمینہ طے کر لیا گیا
اسلام آباد (92 نیوز) آئی ایم ایف کے ساتھ 5100 ارب روپے کے محصولات کا بجٹ تخمینہ طے کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بجٹ تخمینہ رواں مالی سال کے ابتدائی ٹارگٹ سے 400 ارب روپے کم رکھا گیا ہے۔ مالی سال 2020 اور اکیس میں 5100 ارب روپے محصولات اکھٹی کرنا ہونگی تاہم حکومت ایف بی آر سے ناامید ہے اور ٹارگٹ پورا کرنا ناممکن نظر آنے لگا۔ رواں مالی سال میں بھی محصولاتی شارٹ فال 1200 ارب روپے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے کاروبار کو مزید نقصان پہنچا تو آئندہ مالی سال میں مشکلات بڑھیں گی۔ لارج اسکیل انڈسٹری اور خدمات کے شعبے سے محصولات 2000 ارب روپے سے زیادہ ملنے کی توقع نہیں جبکہ کسٹم اور انکم ٹیکس کے ذریعے 1200 ارب روپے اکھٹے کیے جاسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عید سے قبل حکومت نے محصولات کے ٹارگٹ میں مذید کمی کیلئے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ مذاکرات میں بجٹ لے آؤٹ، سالانہ ترقیاتی پروگرام پر نظر ثانی کیلئے بھی بات ہو گی۔ |
مسلم لیگ ن - Urdu News
نواز شریف کا علاج پاکستان میں ہو گا یا لندن میں ،کیا فیصلہ کیا جانے والا ہے؟ بڑی خبر آ گئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے نواز شریف کے ذاتی معالج اور دیگرڈاکٹر طےکریں گےکہ علاج کیسے ہوناچاہیے۔ ہوسکتا ہے انگلینڈ میں موجود معالج کو بھی پاکستان بلایا جائے۔ تفصیلات کے مزید پڑھیں
لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا ہے،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے،عدالت نے حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید پڑھیں
24 مارچ , 2019 27 March, 2019
نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے نعیم رشید شہید مسلم لیگ (ن) کی کس سابق خاتون رکن اسمبلی کے بھائی ہیں ؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں
ایبٹ آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والی دہشت گردی کی اندوہناک واردات میں جانبازی اور جرات کی تاریخی مثال پیش کرنے والے پاکستانی سپوت نعیم رشید پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا مزید پڑھیں
مسلم لیگ ن کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں!!۔۔پنجاب میں پرویز الٰہی کی اصل گیم شروع ۔۔حکومت سے اب کیا چاہتے ہیں،جانیں
لاہور (ویب ڈیسک) معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب اصل گیم شروع ہو گئی ہے۔ن لیگ کے کچھ لوگوں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی ہے اور ملاقات میں کہا کہ مزید پڑھیں
نواز شریف نے سعودی ولی عہد کی طرف سے ملنے والے پیکج کا کریڈٹ اپنے ذمے لے لیا
لاہور (اُردو نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج کوٹ لکھپت جیل میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں کارکنان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا مزید پڑھیں
اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے بڑے نواز شریف کو ایک اور جھٹکا دے دیا گیا ہے ، قومی احتساب بیورو(نیب)نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا گیا ہے مزید پڑھیں |
تنظیمی ڈھانچہ - Results from #13664
انٹیلیجنس حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں موجود مختلف مراکز میں تربیت حاصل کی تھی۔
ہفتہ کو کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے پانچ انسپیکٹرز نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمان کے سامنے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں۔
اپنے بیانات میں انہوں نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں عبدالواجد، مظہر اقبال، حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد اور یونس انجم کی تربیت اور صلاحتیوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
یہ پانچوں انسپیکٹرز اوکاڑہ، بہاولپور، رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین اور شیخوپورہ میں سی آئی ڈی اسٹیشنز کے انچارج ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حملوں میں ملوث افراد کو لشکر طیبہ کے کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ، مانسہرہ کے علاقے بٹل، ٹھٹہ کے علاقے میر پور ساکرو اور مظفر آباد میں تربیت فراہم کی گئی۔
اوکاڑہ میں تعینات سی آئی ڈی افسر کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کا ' آپریشنل کمانڈر' تھا اور اس نے دوسرے عسکریت پسندوں کو تربیت دی۔
بیان کے مطابق، اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد کا رہائشی لکھوی آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز آلات میں مہارت رکھتے ہیں۔
'لکھوی آزاد کشمیر میں لشکر طیبہ کا ' کمانڈر' بھی رہ چکے ہیں'۔
فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسپیشل پروسیکیوٹر چوہدری ذوالفقارعلی نے جج کو بتایا کہ عدالت میں پیش ہونے والے انسپیکٹرز انتہائی ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے بیان جمع کرائے ہیں۔
لکھوی کے وکیل خواجہ محمد حارث نے گواہوں سے استفسار کیا کہ آیا انہوں نے ملزمان کو لشکر طیبہ کے مراکز میں تربیت لیتے دیکھا تھا؟
اس موقع پر حارث نے کہا کہ گواہوں کو ان کے موکل کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی کوئی براہ راست معلومات نہیں اور یہ کہ انہوں نے کبھی بھی متعلقہ پولیس افسران کو اپنی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ استغاثہ نے ملزمان کے خلاف فرضی کہانی گھڑی ہے اور پانچوں افسران کے بیانات اسی کہانی کا حصہ ہیں
مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ کراچی کو عملاً دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا ہے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 5شیعہ افراد کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ شہر کراچی میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی اور دیگر جماعتوں کی حکومت نہیں بلکہ کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کی حکومت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا محمد حسین کریمی سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مختار امامی نے کہا کہ شہر کراچی میں علامہ آفتاب حیدر جعفری، سید سعید حیدر زیدی کی شہادت کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اورنگی ٹاؤن اور ایف سی ایریا کے علاقے میں 6 شیعہ افراد کی شہادت سندھ پر حاکم تمام اتحادی جماعتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
علامہ مختار احمد امامی نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے جرم میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو فی الفور برطرف کیا جائے اور کالعدم جماعتوں کی تمام تر سرگرمیوں کو روکا جائے ورنہ محرم الحرام میں ان جماعتوں کی شرانگیزی شیعہ قوم میں مزید اشتعال کا باعث بنے گی اور پھر بات علماء کے بس سے باہر ہوگی۔ |
فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں - کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟
مسٹر پوریا کریمی 2020/01/16 مددگار اشارے
مضمون کے لئے مکمل راستہ: لینکس سے » ایپلی کیشنز » گرین ویتھ اینویڈیا کارڈز کو چکانے کے ل a ایک ٹول. بھارت کا سب سے قدیم کرپٹو تبادلہ OTC اور SBP کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ خصوصیات USDT فکسڈ ڈپازٹ کے مقابلہ میں سود حاصل کریں فوری INR جمع اور واپسی کے اختیارات. میں اپنی مصنوع اپنے گاہکوں تک کیسے پہنچاٶں گا ؟
مزدوری کی پیداوری میں کتنا اضافہ ہوا ہے یا کم ہوا ہے۔ کسی خاص مصنوع کی تیاری کے لئے اشیائے ضروریہ کی مقدار میں کتنا اضافہ یا کمی واقع ہوئی ہے۔ اجرت میں بدلاؤ. دی گارڈین ، 10 اکتوبر ، 2008: لندن کو '' 2008 کے بڑے حادثے '' میں تیسری سب سے بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ سراسر خوف و ہراس اور خوف کے امتزاج کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر فروخت ہورہی ہے جس کے ساتھ ساتھ دنیا کی بڑی معیشتوں کے مستقبل پر مکمل غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ سرمایہ کار عالمی دباؤ کے امکان کو مؤثر انداز میں قیمتوں کا تعین کررہے ہیں۔ پاک سوزوکی موٹر کمپنی کا 46 فیصد معاہدہ.
میڈین وینٹینج وےج: $ 15.12 (2017) ملازمت آؤٹ لک: اوسط سے سست. لیبر کے اعداد و شمار کے بیورو 2026 کے ذریعہ روزگار میں 4 فیصد اضافہ کی توقع رکھتی ہے. اگر کوئی کسی مشکل میں پھنس جائے یا پولیس ناجائز طریقے سے گرفتار کرلے یا غلط الزام لگ جائے تو اس کی رہائی کے لیے سفارش کرنا، اس کو سزا سے بچانے کے لیے سفارش کرنا یا کسی بے روزگار کو روزگار دلانے کے لیے اس کی سفارش کرنا بھی باعثِ ثواب ہے بشرطیکہ اس سفارش سے کسی حق دار کی حق تلفی نہ ہورہی ہو۔ نبی کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ہم نے اکاؤنٹ میں اس تجویز Ozerov استعمال کیا ہے جو لوگوں کی اصل تشخیص لے تو - صورت حال پر ایک ہی ہو جائے گا. غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹوں میں تاجروں اور نوسکھئیے کے تاجروں کو ایک لیک ان ڈپازٹ کہ بیان کیا گیا ہے، وادم Ozerov مشورہ کیا مندرجہ ذیل. جائزے، وقفے بھی تجارت، نہیں بلکہ بے شمار کے تصور کو تباہ. اس کے علاوہ، ننگی آنکھ وہ حقیقی ہیں کہ، انہوں نے وسائل کی ایک قسم پر واقع ہیں اور آپس میں بہت متنوع بعد سے دیکھ سکتے ہیں.
قَاتِلُوْہُمْ يُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِہِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْہِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ۱۴(التوبۃ ۹: ۱۴) ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمھاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، ویکسین بننے کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ تک ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا،کورونا وائرس کا حقیقی حل ویکسین ہی ہے، صحت کے . تفصیل.
پے کار شیڈولنگ کی خصوصیات. اپوٹ نے جدید نیٹ ورک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اس سے قطع نظر اس کا اطلاق کیسے ہوتا ہے - پسند ، ٹویٹ ، پوسٹس یا ریبلوگس - یہ سب ایک ہی تصور پر مبنی ہیں: معاشرتی منظوری۔ لیکن کتنا آن لائن بات چیتپریشان ، این ایچ کے نئے کورونا وائرس سے متعلق سامعین کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔ ہمارا آج کا سوال یہ ہے کہ "گھر میں کسی فرد کے متاثر ہونے کے بعد وائرس کی منتقلی کو کیسے روکا جائے؟"
بہترین چارٹ سافٹ ویئر کے پروگراموں کو دستاویز میں استعمال کے لئے یا آن لائن مشترکہ طور پر ایک مثال کے طور پر، مثال کے طور پر ایک infographic یا تصویر، کی طرف سے کاروباری بصیرت کو سمجھنے کے لئے خام ڈیٹا کو آسان بنانے میں آسان بناتا ہے. ہم نے سب سے زیادہ مقبول چارٹ سافٹ ویئر پروگراموں کو دیکھا جس میں چھوٹے کاروباری اداروں کے استعمال کے اختیارات اور دستیاب خصوصیات، جیسے ترمیم کے اوزار اور ٹیمپلیٹس کے لحاظ سے اختیارات کے سلسلے کیا ہے Binomo پلیٹ فارم پیش کرنے کے لئے؟ کے سلسلے کو ڈھونڈ لیا.
منفی فینکس آرتھو جائزہ کا خلاصہ.
یہ پورے دھوپ میں ، یا ایک بہت ہی روشن کمرے میں واقع ہونا چاہئے . ایک رہنما خطوط کے طور پر ، ہر دو یا تین دن بعد اگر یہ زمین میں ہے یا ہر ہفتہ اگر وہ کسی برتن میں ہے تو اس کو سیراب کرنا ضروری ہے۔ مٹی یا سبسٹراٹ کو نم رکھنا چاہئے ، لیکن سیلاب نہیں۔ آبپاشی کی فریکوئنسی علاقے کی آب و ہوا کے مطابق مختلف ہوگی۔ ایک اور مفت ٹول جو گوگل ہمیں پیش کرتا ہے جو ہماری مارکیٹ اسٹڈی میں ہماری مدد کرتا ہے۔ گوگل کے تجزیات ہمیں دیتا ہے صارفین کیا کر رہے ہیں اس کا تعین کرنے کیلئے بہت سارے اعداد و شمار ہماری ویب سائٹ پر جانئے کہ وہ کون سے صفحات پر کثرت سے تشریف لاتے ہیں ، جس وقت وہ ان پر قائم رہتے ہیں ، اگر وہ اچھncingا رہے ہیں تو ، وہ جگہ جہاں سے زائرین آتے ہیں ، تبادلوں کو حاصل کیا، اشتہاری مہموں کی کارکردگی . ایک لازمی آلہ ، جو گم نہیں ہونا چاہئے۔
کارل سیلین اکہن ایک امریکی تاجر اور نیویارک شہر میں آئیکن انٹرپرائزز کے بانی ہیں۔ یہ متنوع اجتماعی ہولڈنگ کمپنی ہے جو پہلے امریکی رئیل اسٹیٹ پارٹنرز کے نام سے مشہور تھی۔ مسٹر اکہن فیڈرل موگول کے چیئرمین بھی ہیں جو پاور ٹرین کے اجزاء اور گاڑیوں کی حفاظت سے متعلق مصنوعات تیار اور فراہم کرتے ہیں۔ .فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں اس کے بجائے ، ایکسل کھولنے کے ساتھ ، کھولیں پیوٹ ٹیبل داخل کریں اور اختیار منتخب کریں بیرونی ڈیٹا سورس کا استعمال کریں . پر کلک کریں یا ٹیپ کریں کنکشن منتخب کریں . ، پھر منتخب کریں مزید، ATOMSVC فائل ڈھونڈنے کے ل then اور پھر فیصلہ کریں کہ ٹیبل کو کسی نئی شیٹ میں ڈالنا ہے یا کسی موجودہ میں۔
جبری موٹر 600 حجم کے حجم کے ساتھ۔ تقویت یافتہ فریم۔ بکتر بند سامنے اور سائیڈ پلیٹیں۔ براؤننگ مشین گن کے ساتھ بکتر بند گاڑی لے جانے کا امکان۔ جیسا کہ آپ یہاں اس اسکرین شاٹ میں دیکھ سکتے ہیں کہ ہالووین ٹریفک کا موازنہ 2018 اور اس کے بعد 2019 میں ہوگا۔ ہالووین 2020 کے اس پوسٹ کو لکھنے کے وقت سے ابھی بہت لمبا فاصلہ طے ہے ، لیکن مجھے اپنے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ میں اس کو دوبارہ کروں گا۔ ہالووین پر پن ٹورسٹ ٹریفک بڑھتا جارہا ہے۔
امریکی گاہکوں کے پاس 83 غیر ملکی کرنسی کے جوڑے کے ساتھ ساتھ غیر محتاط سونے اور چاندی کی رسائی ہے۔ امریکہ سے باہر کے کلائنٹس کے پاس تمام غیر ملکی کرنسی کے جوڑے ، نیز اسٹاک ، اجناس ، اشاریہ جات پر CFDs تک رسائی حاصل ہے۔ کریپٹوکرنسی ٹریڈنگ امریکہ میں دستیاب ہے۔ .فاریکس بروکر کا انتخاب کیسے کریں لہذا ، جب آپ ابھی بھی سیکھ رہے ہو تو ، قلیل مدتی تجارت کو اپنی پسند کا منافع مقدار کے حساب سے لیں ، نہ کہ آرڈر کی مقدار سے۔ مثال کے طور پر ، ایک حکمت عملی کے طور پر اسکیلپنگ بڑے پیمانے پر ابتدائی تاجروں اور پیشہ وروں دونوں کے ذریعہ استعمال ہوتا ہے اور بنیادی طور پر واقعی چھوٹے کاروباروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ عام طور پر ، XX صدی میں چند منٹ پہلے اور اب سیکنڈ سیکنڈ تک آرڈر بہت ہی مختصر عرصے میں بند ہوتا ہے۔
ایک آزاد تشخیص کار کی خدمات حاصل کریں جسے انشورنس کمپنیوں نے انشورنس تشخیص کے لئے قبول کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ یہ کریں ، یقینی بنائیں کہ آپ کی انشورنس کمپنی اس رپورٹ کو قبول کرے گی جو آپ کا تخمینہ فراہم کرے گا۔ اگر آپ انشورنس کمپنی اسے قبول نہیں کرتی ہے تو آپ اس پر پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ اندازہ دینے والا لازمی طور پر ٹولز اور طریقے استعمال کرے گا جو انشورنس کمپنی کے منظور شدہ ہیں۔ دونوں تناسب ہمارے لئے سولیسی کی سطح کو ظاہر کرنے کے ذمہ دار ہیں جو کسی کمپنی کو اپنے قرض ادا کرنا پڑتا ہے ، اسے سیدھے الفاظ میں بتانا۔ کمپنی کے لئے یہ بہت آسان ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ادائیگی کرے اور اس طرح ایک چھوٹی مدت کی مدت میں سود پیدا نہ کرے۔ یہ سمجھنے میں ایک بنیادی فرق ہے کہ دونوں ایک ہی طرح کے فنکشن کو پورا کرتے ہیں ، لیکن ایک مختلف انداز میں۔ "خزانے کا تناسب" کے معنی کے بارے میں ، صرف قلیل مدتی قرضوں (ایک سال سے کم) پر غور کیا جاتا ہے ، اس کا موازنہ ان وسائل سے کیا جاتا ہے جو کمپنی کے پاس موجود ہیں ، مائع وسائل ، یا یہ بھی مختصر مدت میں ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خزانے کا تناسب کمپنی کے قرض کی ادائیگی کے لئے کمپنی کی سالانسی کی پیمائش کرنے کے لئے ذمہ دار ہے۔ |
پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند
انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر مہنگا لیکن سٹاک مارکیٹ میں اتنا زیادہ اضافہ کہ کاروباری افراد بھی دنگ رہ گئے
حکومت نے ابھی ڈھنگ سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا تھا کہ عوامی تاثر سامنے آگیا کہ پنڈورا پیپرز کے معاملے پر کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یہ تاثر بلاوجہ ہرگز نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد بہت سنگین نوعیت کے معاملات پر آٹھ، دس کے قریب تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے مگر سب سے ایک ہی نتیجہ برآمد ہوا" ٹائیں ٹائیں فش"۔ پاکستانی عوام طویل عرصے سے دیکھتے آرہے ہیں کہ حکمران اشرافیہ کے نزدیک کرپشن سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔بدعنوانی اور لوٹ مار کی وارداتوں کو صرف سیاسی یا انتقامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ احتساب کا عمل اس حد تک بھونڈا اور یکطرفہ ہے کہ بچے بچے کو پتہ چل چکا کہ کس کے خلاف کارروائی کیوں کی جاتی ہے۔
ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب پانامہ لیکس کے نام پر طوفان کھڑا کیا گیا اور پھر فیصلہ اس شخص کے خلاف آیا جس کا نام لسٹ میں موجود ہی نہ تھا - نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے اقامہ کو جواز بنانا پڑا۔اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں چار سو کے قریب پاکستانیوں کے نام تھے مگر کسی اور کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی گئی۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگیا کہ ہمارے ہاں احتساب کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس حوالے سے کئی بار ریمارکس دے چکے ہیں۔ میڈیا نے بھی باربار یہ مسئلہ اٹھایا مگر اصل حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حکمران اشرافیہ کا اپنا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر سب کے یکساں احتساب کا رواج پڑ گیا تووہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ امتیازی احتساب کے لئے نہ صرف منصوبہ بندی کرتی ہے بلکہ دیگر اداروں کو بھی بے دردی سے اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ شرمناک سلسلہ اب سے نہیں بلکہ بہت واضح طور پر جنرل ایوب خان کے دور سے جاری ہے۔
سزائیں لاوارث اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے ہیں یا پھر ایسی شخصیات کے لئے جن کو مخصوص مقاصد کے لئے نشان عبرت بنانا ہو۔ پنڈورا پیپرز میں پانامہ کے برعکس کوئی ایک بھی ایسا ٹارگٹ نظر نہیں آرہا سو کہا جاسکتا ہے کہ ان کا انجام ردی کی ٹوکری کے سوا کچھ نہیں۔ 700 پاکستانیوں کی اس لسٹ میں اب تک جو نمایاں نام سامنے آچکے ان میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے خاندان کے تین افراد، وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے چھوٹے بھائی عمر شہریار سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور ان کے خاندان کے دو افراد،وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی، سینئر صوبائی وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے خزانہ مالیات وقار مسعود خان کا بیٹا، اسحق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار،نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، وزیراعظم کے گشتی سفیر برائے غیر ملکی سرمایہ کاری علی جہانگیر صدیقی، ابراج کے بانی عارف مسعود نقوی، بڑی کاروباری شخصیت طارق شفیع شامل ہیں۔ آف شور کمپنیوں اور جائیدادوں کے مالکان میں سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شفاعت علی شاہ کی اہلیہ اور بیٹا، جنرل (ر) محمد افضل مظفر کا بیٹا، جنرل (ر) نصرت نعیم، جنرل (ر) خالد مقبول کا داماد، جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ، جنرل (ر) علی قلی خان کی بہن، ایئر مارشل عباس خٹک کے بیٹے اور ریٹائرڈ آرمی آفیسر اور سیاستدان راجہ نادر پرویز شامل ہیں۔جونہی یہ لسٹ سامنے آئی اس میں شامل افراد نے خود ہی اپنی صفائی پیش کرکے خود کو بری کرا لیا۔ سب سے دلچسپ ردعمل سابق کورکمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ر شفاعت علی شاہ کی جانب سے سامنے آیا۔
لندن کے پوش ایریا میں بیش قیمت فلیٹ کا مالک نکل آنے پر انہوں جہاں یہ دعویٰ کیا کہ مذکورہ فلیٹ خریدنے کے لئے رقم لاہور میں پلاٹ فروخت کرکے حاصل کی گئی تھی۔ ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی لگا دیا کہ پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں شامل ایک صحافی کا بھارت سے کنکشن ہے اور یہ رپورٹ پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ یاد رہے کہ جنرل(ر) شفاعت شاہ سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کو لتاڑنے اور کرپٹ قرار دینے کے لئے اکثر متحرک رہتے ہیں۔ یہ قول و فعل کا تضاد ہی ہے کہ جس کے سبب آج پورا معاشرہ طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہے۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے پنڈوار لیکس کی تحقیقات اپنی ٹیم سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔چند ماہ قبل جب لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی فیملی کے بیرون ملک بھاری اثاثے سامنے آئے تو ایک موقع پر بظاہر وہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی حیثیت سے استعفا دینے پر تیار ہو گئے تھے۔ جب وہ اپنے اس ارادے پر عمل کرنے کے لئے وزیر اعظم کے پاس پہنچے تو انہوں نے بغیر دیکھے ہی تمام کاغذات درست قرار دے کر کام جاری رکھنے کی فرمائش کردی۔ وہ تو حالات کا جبر تھا کہ جنرل (ر) عاصم باجوہ کو جانا پڑا ورنہ یہ حکومت آج بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی۔
ہائبرڈ نظام تو چلتا ہی طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر ہے۔ افسوس کی بات تو ہے کہ مارشل لا سے لے کر ان ڈائریکٹ غیر جمہوری نظام کے ذریعے تمام تر اختیارات اور وسائل کنٹرول کرنے کے چکر میں تمام ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا، اپوزیشن کی جماعتیں کھلے عام عسکری قیادت کے نام لے کر مختلف واقعات پر ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کا یہ حال ہے کہ وکلا کنونشن میں ہزاروں قانون دانوں کے مجمع میں جج حضرات کے نام لے کر کہا جارہا کہ وہ قانون پر عمل نہیں کر رہے۔ باقی اداروں کی پہلے ہی کچھ خاص حیثیت نہیں۔ تنازعات کا ایک جھکڑ چل رہا ہے جو کسی بھی وقت تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔چیئرمین نیب کے معاملے کو ہی لے لیں۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال کی جگہ کوئی اور آجاتا تو وہ بھی کیا کرلیتا؟ لیکن حکمران اشرافیہ کا خوف ملاحظہ فرمائیں کہ پورا ملک اور ادارے آہنی گرفت میں لینے کے باوجود کسی قسم کا چانس لینے کے لئے تیار نہیں۔ شاید کچھ تلخ تجربات ہیں۔
جنرل کیانی کے دور کا ایک بہت مشہور واقعہ تو سب کو یاد ہے جب اربوں کی کرپشن میں ملوث سابق جنرلوں کو صاف بچا لیا گیا تھا۔جنرل مشرف دور کے اس سکینڈل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رپورٹ کیا تھا۔ پی اے سی نے تین انکوائری کمیٹیاں بنائیں اور جنرل سکینڈل میں ملوث پائے گئے۔ کیس بہت ٹھوس اور واضح تھا حتیٰ کہ خود فوج کی انکوائری میں بھی یہی رپورٹ آئی۔ اس وقت چودھری نثار علی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین تھے۔کہا جاتا وہ کسی طرح کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ مگر بات ایک دفعہ پھر سے گرم ہوتی نظر آئی تو معاملے کو مکمل طور پر دبانے کے لئے جنرل کیانی نے وقتی طور پر اعلان کر دیا کہ ان فوجی افسروں کو دوبارہ نوکری پر بحال کیا جاتا ہے اور ان کا کورٹ مارشل ہوگا۔ وہ دن اور آج کا دن راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
اب تو آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ پنڈورا پیپرز کا پنڈورا کھلنے سے پہلے ہی بند کردیا گیا ہے۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ نے کیا خوب کہا ہے |
صدف طاہرین 2020/12/11 مطالعہ کے اوزار
آن-بیلنس حجم (OBV) جمع-تقسیم اشارے نے حیرت انگیز طور پر کمزور نمونہ تیار کیا ہے جو حصص یافتگان کے لئے پریشانی کا اشارہ کرسکتا ہے۔ او بی وی نے جون 2018 میں ایک ہمہ وقت اعلی عہدے پر پوسٹ کیا اور فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں تقسیم کی لہر میں داخل ہوا جو دسمبر میں 11 ماہ کی کم ترین سطح پر ختم ہوا۔ اسٹاک نے متعدد مزاحمت کی سطح کو توڑ کر ہر وقت کی اونچ نیچ تک پہنچنے پر ، اپریل 2020 میں اس کے بعد جمع ہونے والی قیمت کی قیمت سے مقابلہ کیا۔ اس مدت کے دوران اشارے صرف وہاں بیٹھے تھے ، جس سے خریداری میں بہت کم دلچسپی کی جا رہی تھی۔ زازل۔ ریڈبل اور سوسائٹی 6 کی طرح ہی ہے ، اس میں آپ اپنے کام کے ساتھ صرف ڈیزائن اپ لوڈ اور مصنوعات بیچ سکتے ہیں۔ اس یونٹ پر کبھی الکحل یا دیگر سالوینٹس استعمال نہ کریں۔
ایک cryptocurrency پرس کیا ہے - فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں
اگر آپ ایسا بیگ چاہتے ہیں جو ہر ایک کی آنکھوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے ، تو یہ اصلی چمڑے کا آپشن بڑی حفاظت فراہم کرتا ہے اور اس میں لوازمات یا پردیی آلات کے لئے کافی جگہ موجود ہے۔ واضح رہے کہ 18-2017 میں مجموعی بجٹ 51 کھرب روپے تجویز کیا گیا تھا جبکہ مالی سال 17-2016 کے بجٹ میں دفاع کے لیے مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا تھا، 860 ارب میں سے 841 ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا تھا۔ ایمان سلیمی ، مدافع فصل پیش تراکتور و از گزینه های فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں مدنظر پرسپولیس برای خط دفاع ، یک استوری معنادار را در اینستاگرام منتشر کرد.
کوڈ ایبل ہے a آئی پیڈ کے لئے پروگرامنگ ایپ استعمال کرنے کے لئے آزاد ہے . ٹیگ لائن ، پڑھنا سیکھنے سے پہلے کوڈ کرنا سیکھیں تفریحی کھیل کے ذریعہ پروگرامنگ سیکھنے کے ان کے طریق کار سے مستعمل فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں ہے۔ کوڈ ایبل ہے خاص طور پر 5 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا ، تاکہ وہ چھوٹی ہدایات کے ساتھ گیم کھیل کر پروگرامنگ سیکھ سکیں۔ کوڈایبل کے پاس پروگرامنگ کی 3 سطحیں ہیں جن میں کے -2 گریڈ ، تیسری - 5 ویں جماعت اور چھٹی - 12 ویں جماعت شامل ہیں۔ [سائٹ دیکھیں]
ii۔ 500،000کی حد صرف صارف کے لیے ہے بینک کے اندرونی ٹرانسپکشن پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، نہ ہی اس پر کسی قسم کے اخراجات لگیں گے۔ دیگر اعلی معیار والے لکڑی کی طرح، اگر مناسب طریقے سے دیکھ بھال کی جاتی ہے تو ایک اچھی طرح سے تشکیل شدہ اونک ٹکڑا زندگی بھر میں ہوسکتا ہے. لیکن آپ کے اگلے اوک کی خریداری میں سے زیادہ تر حاصل کرنے کے لئے، کچھ چیزیں موجود ہیں جو آپ کو سامنے جاننے کی ضرورت ہوگی. مندرجہ ذیل تجاویز فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کے ساتھ، اوک فرنیچر خریدنے کے لۓ آپ کے کمرے کا انتظار ہوا ہے. بدقسمتی سے ، آپ کی آنکھیں ابھی تک کیسے چلتی ہیں شاید ایسا ہی نہیں ہے۔
بٹ کوائن میں بڑھتی دلچسپی فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت رہی ہے۔ 2017 کی پہلی ششماہی کا زیادہ تر حصول $ 1000 کے قریب منڈلانے کے بعد ، اس نے اکتوبر میں 5000 $ کو مارا اور نومبر کے شروع میں in 7،000 کی خلاف ورزی کی۔ اب ، دسمبر 2017 تک ، اس نے ایک نیا ریکارڈ بلند کیا ، جس میں ایک بٹ کوائن کی مالیت، 17،450.01 (14 دسمبر ، 2017 تک) ہے۔ (ویسے ، آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس کریپٹو کرینسی میں سرمایہ کاری کرنے کے ل you آپ کو پورے بٹکوئنز کی ملکیت نہیں ہے۔ آپ بٹ کوائن کا فریکشن یا فیصد خرید سکتے ہیں۔) ڈمی کے لئے آفس 365 ، دوسرا ایڈیشن مجھے یہ ثابت کرنے کا ایک بہت بڑا کام کیا کہ سبسکرپشن سافٹ ویئر کے خلاف میرا تعصب بے بنیاد ہے۔ اب میں دیکھ سکتا ہوں کہ خریداری کے ماڈل میں کاروباری صارفین کے لئے واضح فوائد ہیں۔ کتاب واقعی گھریلو صارفین کے فوائد میں نہیں گزری ، اسی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ عنوان سے یہ واضح ہوجانا چاہئے تھا کہ اس کی توجہ کیا ہے۔ مندرجہ ذیل چارٹ کا استعمال کرتے ہوئے کریڈٹ انفارمیشن اسکور کا تعین کیا جاتا ہے:
اور ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو آپ کے ذہن میں پیش کر کے ، حقیقی اشیاء کے ساتھ انجام دینے کے بغیر ان کا انجام دے سکے گا۔ طوفان سے پہلے اپنے گراہکوں کو پاپ ٹارٹس اور بیئر کے شوق فاریکس پرافٹ میجک کو کس طرح استعمال کریں کو پہچانتے ہوئے ، وال مارٹ اسٹور کے مینیجر طوفان کی راہ میں دونوں اشیاء کی مقدار میں اضافہ کا حکم دیتے۔ نوزائیدہ بچوں کو کمیونٹی فورم کس طرح کا جواب دیتا ہے؟ |
End of preview. Expand
in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 8