text stringlengths 240 131k |
|---|
کیا حکومت آیت اللہ علی خامنہ ای کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ دے گی؟ -
تحریر :سینیرصحافی حامد میر
دریائے پونچھ کے کنارے واقع اس خوبصورت گاؤں کا نام مدارپور تھا۔ ہجیرہ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے قریب اس گاؤں کے مکین کئی دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں کیونکہ بھارتی فوج اس گائوں کی آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ اس علاقے میں زیادہ اونچے پہاڑ نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھارتی فوج کے مورچے ہیں جبکہ مدارپور نیچے وادی میں ہے۔
بھارتی فوجی اکثر اوقات گاؤں والوں کی مرغیوں اور بکریوں پر بھی نشانے لگاتے ہیں لیکن پانچ اگست کے بعد سے وہ انسانوں پر نشانے لگا رہے ہیں۔ اس گاؤں کے قریب درختوں کی اوٹ میں علاقے کے ایک بزرگ نے مجھے بتایا کہ ہم نے 1947میں اپنے زورِ بازو سے پونچھ کے اس علاقے کو آزادی دلوائی تھی، ہم سرینگر کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن بھارت کا مکار وزیراعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور اس نے سیز فائر کرا دیا۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ نے برصغیر سے نکلتے ہوئے جان بوجھ کر تنازع کشمیر کھڑا کیا۔ خامنہ ای
یہ سیز فائر لائن بعد میں کنٹرول لائن بن گئی اور بھارت اس کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنانا چاہتا ہے لیکن ہم کشمیر کی تقسیم نہیں مانیں گے، ہم بہت جلد اس کنٹرول لائن کو روند دیں گے۔ قریب کھڑے نوجوانوں نے اپنے اس بزرگ کی فوری تائید کی اور کہا کہ ہم پر روزانہ فائرنگ کا مقصد یہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہو کر اپنا علاقہ چھوڑ دیں لیکن ہم اپنے گھر اور کھیت چھوڑ کر فرار ہونے کے بجائے کنٹرول لائن کو پار کرنے کی کوشش کریں گے۔ بزرگ نے کہا کہ تتہ پانی کے قریب ایک گاؤں درہ شیر خان میں بھارتی فوج نے شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کی اور میرا ایک پرانا دوست لال محمد شہید ہو گیا جس کی عمر اسی برس سے بھی زیادہ تھی، کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ بھارتی فوج شادیوں پر حملے کر رہی ہے؟ یہ سن کر میں نے پوچھا کہ درہ شیر خان کتنی دور ہے؟ بزرگ نے بتایا کہ کم از کم ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے لیکن وہاں پہنچنا مشکل ہے کیونکہ اس گاؤں کے لوگ بھی مدارپور والوں کی طرح گھروں میں محصور ہیں اور بھارتی فوج گھر سے باہر نکلنے والوں پر گولیاں چلاتی ہے۔
ان بچوں کے باپ نے مجھے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں اور ہم بھی اپنے گھروں میں قیدی ہیں۔ وہ بھی لاشیں اُٹھا رہے ہیں، ہم بھی لاشیں اُٹھا رہے ہیں، ان کے بچے بھی اسکولوں میں نہیں جا رہے ہیں، ہمارے بچوں کے اسکول بھی بند ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے آس پاس صرف اسکول کالج نہیں اکثر کاروباری مراکز بھی بند رہتے ہیں لیکن ہم یہاں سے نہیں بھاگیں گے ہم لڑیں گے۔
ادھر ایک ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا۔ ایک خوبصورت نوجوان نے مجھے مخاطب کیا اور کہا: ایک بات پوچھنا تھی۔ مجھے گورنمنٹ گرلز کالج سہڑہ پہنچنے کی جلدی تھی جہاں بھارتی فوج نے گولہ مارا تھا۔ میں نے مسکرا کر نوجوان سے کہا کہ میں ذرا جلدی میں ہوں، وہ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کہا کہ آپ نے ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیان دیکھا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ان کے ٹویٹ پر تو بھارتی میڈیا میں بڑا ماتم ہو رہا ہے۔
دنیا بھر کے کشمیری اپنے کچھ بھائیوں کے ہاتھوں اپنے قاتل کی پذیرائی پر بہت دکھی ہیں۔ کشمیری پہلے بھی جانیں دیتے رہے، آئندہ بھی جانیں دیں گے لیکن وہ پوچھ رہے ہیں کہ جب وہ لاشیں اُٹھا رہے ہیں تو ان کے حق میں آواز اُٹھانے والے آیت اللہ علی خامنہ ای کو پاکستان کی طرف سے ویسا ایوارڈ مل سکتا ہے جیسا ایوارڈ بھائیوں نے مودی کو دیا؟
Ali Khamenei India Iran modi uae award Narender Modi Pakistan shiite news احتجاجی آزادی اسلام آباد اقوام متحدہ ایران ایوارڈ بمباری بھارت پاکستان پہاڑ پونچھ خامنہ ای سیز فائر شیعت نیوز فائرنگ کالج کشمیر کھیت گاؤں گورنمنٹ متحدہ عرب امارات محصور مودی میڈیا وزیراعظم |
جیل یا ملک بدری، اسرائیل فلسطینی قیدی کو بلیک میل کر رہا ہے' | ساحل آن لائن
جیل یا ملک بدری، اسرائیل فلسطینی قیدی کو بلیک میل کر رہا ہے'
Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th January 2018, 4:15 PM | عالمی خبریں |
الخلیل ،8؍جنوری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں مسلسل 17 روز سے بھوک ہڑتال کرنے والے 60 سالہ فلسطینی الشیخ رزق عبداللہ مسلم الرجوب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام بھوک ہڑتالی شہری کو جیل یا ملک بدر کرنے کے لیے بلیک میل کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ 17 روز سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی الشیخ مسلم الرجوب کی حالت تشویشناک ہے اور اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ادارے کے ترجمان ریاض الاشقر نے کہا کہ الرجوب کی زندگی کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صہیونی حکام پر عاید ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ الرجوب کی مسلسل بھوک ہڑتال سے اس کی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صہیونی جیلر الرجوب کو کسی قسم کی طبی سہولت کی فراہمی اور ڈاکٹروں کو معائنے سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ الاشقر کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام الرجوب کو بلیک میل کررہے کہ اسے صرف اسی صورت میں رہا کیا جاسکتا ہے جب وہ ملک بدری کے لیے راضی ہوجائیں ورنہ انہیں جیل میں رکھا جائے گا۔خیال رہے کہ فلسطینی شہری رزق عبداللہ مسلم الرجوب کو اسرائیلی فوج نے 6 دسمبر کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں کہا گیا کہ انہیں ملک بدری قبول کرنے کی شرط پر رہا کیا جاسکتا ہے ورنہ انہیں جیل میں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے ملک بدری مسترد کرتیہوئے قید قبول کی تھی اور ساتھ ہی غیرقانونی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔ |
جناب وزیراعظم بس کر دیں بس؟- روزنامہ اوصاف
01:51 pm 21/11/2019 نوید مسعود ہاشمی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور (ر) بھارتی فوجی جنرل ایس پی سنہا نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8لاکھ بھارتی فوجیوں کو مشورہ دیا کہ ''وہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کریں'' جب ہندوشدت پسند بے غیرتی اورکمینگی کی اس انتہا کو پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئے کہ کمینگی کی اس انتہا کو پہنچے ہوئے ہندو شدت پسندوں کا علاج ''جہاد و قتال'' کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کے لئے جانے کی کوششیں کرنے والے کشمیر کے دشمن ہیں۔ کشمیر کے بہادر اور باوفا جرنیل سید علی گیلانی نے عمران خان کے نام جو خط لکھا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے' اس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دے' سید علی گیلانی کے مطابق کشمیریوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔
جنرل ایس پی سنہا کے شرمناک مشورے اور سید علی گیلانی کے خط کے بعد عمران خان حکومت نے کشمیر کی عفت مآب مائوں' بہنوں' بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ اگر وزیر خارجہ قریشی قوم کو بتا سکیں تو ضرور بتائیں؟
بظاہر دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی لفظی گولہ باری کا نشانہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ہیں' دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف توپوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں' دوطرفہ سنگین الزامات کے جھکڑ چل رہے ہیں' لیکن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ویسے تو اپوزیشن کا کردار بھی اس حوالے سے مجرمانہ ہی ہے لیکن اپوزیشن سے بڑھ کر ذمہ داری چونکہ حکومت کی بنتی ہے اس لئے ہمارا سوال بھی حکومت سے ہی بنتا ہے کہ جب کشمیر کی عزت مآب خواتین کی عصمتوں کو لاحق خطرات کی باتیں زبان زد عام ہو چکی ہیں۔ ان خطرناک حالات میں کشمیریوں کو ظلم سے بچانے کے لئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے؟ چلیں ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا نہیں کیا' لیکن کشمیری مجاہدین پر تو کڑی پابندیاں عائد کرکے وہاں جاری جہاد کو تو سخت نقصان پہنچایا۔ پتھروں کو باندھ کر کتوں کو کھلا چھوڑ دینا یہ کہاں کی امن پسندی ہے؟
بھارتی فوج کتوں کی طرح مظلوم کشمیریوں کو جھنجھوڑ رہی ہے' وہاں ظلم جبر کا بازار گرم ہے اور آپ کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کی بات ہونی چاہیے' بابری مسجد کی زمین ہندو شدت پسندوں کے حوالے کرکے مسلمانوں کے دلوں پر گہرا گھائو لگا دیا گیا' مگر آپ پھر بھی کہتے ہیںکہ بھارت سے امن کی بات ہونی چاہیے۔
پاکستان کے مسلمانوں کے لئے قومی خزانہ خالی ہے' لیکن گوردواروں اور مندروں کی تعمیر کے لئے آپ کے پاس خزانہ ہی خزانہ ہے' چونکہ لبرل اور غامدی سکول آف تھاٹ کے مفتیان کے فتوے کے مطابق پرائیویٹ جہاد جائز نہیں ہے' اس لئے مولانا محمد مسعود ازھر یا حافظ سعید کی بجائے ہم بار بار عمران خان کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہیں۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر وزیراعظم عمران خان سے سوال کرنا ہمارا حق ہے کہ کشمیری خواتین کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنے کے لئے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے؟
حکومتی دستر خوان کا کوئی راتب خور ہمیں یہ مت سمجھائے کہ ہم نے عالمی برادری کو متوجہ کیا' او آئی سی سے بات کی' اقوام متحدہ سے اپیل کی' امریکہ سے شکایت کی' نہیں جناب نہیں' کشمیری مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں اور بھارتی فوج کے درندے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہی ان پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں' امریکہ اور اقوام متحدہ کو اپنے پاس رکھیے...ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کے امریکہ' اقوام متحدہ اور او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچانے کے لئے اب تک کیا کردار ادا کیا؟
عمران خان کو ہندوئوں اور گوردواروں سے بڑا پیار ہے' ان کی ساری مسکراہٹیں نجوت سنگھ سدھو کے لئے وقف ہیں' ممکن ہے کہ وہ سکھ اور ہندو دوست وزیراعظم کے طور پر اپنی پہچان بنانا چاہتے ہوں؟ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ سکھوں اور ہندوئوں سے دوستیاں ضرور نبھائیں' پانامہ کیس میں ''عزت'' پانے والے نواز شریف پہ بھی ضرور شفقت کریں مگر تھوڑا سا رحم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھی کھالیں' وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں ظلم کی رات گہری سے گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں کی مائیں' بہنیں' بیٹیاں انہیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کہ جہاں پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے نوجوان گولیوں سے چھلنی ہو کر قبروں کے پاتال میں گم ہو جاتے ہیں 'اور اب تو ہندو جرنیل مقبوضہ کشمیر کی عفت مآب خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں کھلے عام کرنا شروع ہوچکے ہیں' اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے' مگر قوم وزیراعظم عمران خان سے سوال کر رہی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا منحوس وقت آن پہنچا تو پھر وہ کیا کریں گے؟ کیا پھر وہ سرکاری جہاد کا اعلان کریں گے یا نہیں؟ یاد رکھیے! بزدلوں کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوا کرتا' پرائیویٹ جہاد پر پابندی اور حکومت نے ریاستی جہاد کا اعلان ہی نہیں کرنا' تو پھر ''پیغام پاکستان'' کے اکابرین فیصلہ کریں کہ مقبوضہ کشمیر آزاد کیسے ہوسکے گا؟
کشمیری مائوں' بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کا دفاع کون کرے گا؟ کشمیر میں ایک سو سات دنوں سے جاری کرفیو کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟ ہر آنے والے سورج کے ساتھ بھارت کی گرفت کشمیر پر مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے' بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیریوں کو شہہ رگ قرار دیتا ہے۔
نریندر مودی نے اپنے ''اٹوٹ انگ'' کو بچانے کے لئے تو آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کر رکھی ہے جبکہ شہہ رگ قرار دینے والا عمران خان کشمیریوں کے مطالبے کے باوجود وہاں ''بلی'' بھیجنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے' تو پھر کشمیر کو آزادی ملے گی کیسے؟ یا کہہ دو کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں ہے' تسلیم کرلو کہ ہمیں ''زندگی'' کی محبت نے ''موت'' کے خوف میں مبتلا کرکے جہاد کی عبادت سے دور کر ڈالا' یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہم اخلاقی اور سفارتی سطح پر مدد کرتے رہیں گے' جب سید علی گیلانی خط میں بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے عمران خان حکومت نے سید علی گیلانی کے اس مطالبے پر اب تک کیا پیش رفت کی؟
''ہم امن چاہتے ہیں' امن چاہتے ہیں'' بندہ خدا! کون سا امن؟ ہندو جرنیل کشمیری خواتین کی عصمت دری کی باتیں کر رہے ہیں اور آپ ہمیں امن کی لوریاں سنا رہے ہیں' جناب وزیراعظم بس کر دیں بس! قوم کو کہانیاں مت سنائیں' سبز باغ مت دکھائیں' بلکہ کشمیر کی آزادی کیسے ہوگی' وہاں کے بچوں' بوڑھوں' عورتوں' مردوں کو تحفظ کیسے ملے گا؟ اس حوالے سے وہ قوم کو اعتماد میں لیں۔ |
امریکا (جیوڈیسک) امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہےکہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں کی تعیناتی میں پیٹریاٹ میزائل بریگیڈ،حملہ آور ڈرون طیارے اور جاسوس ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔
'پینٹا گان' کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ کل بدھ کے روز امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مشرق وسطیٰمیں مزید 1000 فوجیوںکی تعیناتی کا مقصد'دفاعی' ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے مگر امریکی انتظامیہ ایران کی خطے میں اپنی معاندانہ اور جارحارنہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تہران پر دبائو جاری رکھے گا۔
خیال رہے کہ سوموار کے روز امریکی وزارت دفاع نے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزید فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد ایران کی طرف سے خطے اور امریکی مفادات کو لاحق خطرات کا تدارک کرنا ہے۔
ورلڈکپ 2019: نیوزی لینڈ نے دلچسپ مقابلے کے بعد جنوبی افریقا کو شکست دے دی مردوں پر بھی گھریلو تشدد ہوتا ہے، تحفظ کے لیے حکومتی مہم |
اخبار اور اخبار آحاد (اصول الفقہ) | محدث فورم [Mohaddis Forum]
اخبار اور اخبار آحاد (اصول الفقہ)
اخبار:
اخبار (ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ) خبر کی جمع ہے ۔ لغت میں یہ خَبار سے ماخوذ ہے جس کا مطلب نرم زمین ہے۔خبر کو خبر اس لیے کہتےہیں کہ یہ فائدہ والی بات کو یوں پھیلاتی ہے جیسے مضبوط اور پختہ زمین کو جب ننگے پاؤں وغیرہ سے روندا جائے تو وہ غبار اُڑاتی ہے۔
خبر بات کی ایک مخصوص نوع اور کلام کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور کبھی کبھی یہ قول کے علاوہ کسی اور چیز میں بھی استعمال ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے:
آنکھیں تجھے اس چیز کی خبر دے دیں گی جسے دل چھپاتے ہیں۔
خبر ہونے کے اعتبارسے خبر کی تعریف یہ ہے : "ما يحتمل الصدق والكذب لذاته" جو اپنی ذات میں سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھے۔ یعنی اس میں خبر ہونے کی حیثیت سے سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔کبھی کبھی کسی خارجی امر کی وجہ سے خبر کے سچ یا جھوٹ ہونے کا قطعی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر بالکل سچی ہوتی ہے اور محالات کے بارے میں خبر جھوٹی ہوتی ہے، جیسا کہ اگر کوئی کہے کہ : "«الضدان يجتمعان»" متضاد اشیاء آپس میں جمع ہوجاتی ہیں۔
تو اس طرح کی کوئی چیز خبر ہونے سے نہیں نکلتی ۔
محدثین کے ہاں خبر کی تعریف یہ ہے : "ما أضيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم من قول أو فعل أو تقرير أو وصف خُلقي أو خَلقي" جو قول، فعل ، تقریر، خَلْقی یا خُلْقی وصف آپ ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے وہ خبر کہلاتا ہے۔
نومبر 17، 2011 #2
آحاد:
تعریف: وہ خبر ہے جس میں متواتر کی گزشتہ بیان کردہ شرطیں نہ پائی جائیں۔
جس علم کا یہ فائدہ دیتی ہے: اخبار آحاد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کا اس بارے میں یہ کہنا ہے کہ اخبار آحاد نہ تو ذاتی طور پر یقینی علم کا فائدہ دیتی ہیں ، نہ ہی قرائن سے مل کر۔ یہ صرف ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔
کچھ اور نے یہ کہاہےکہ : خبر واحد میں اصل قاعدہ کلیہ تو یہی ہے کہ یہ ظن کا فائدہ دیتی ہے لیکن بعض اوقات یہ قرائن کی موجودگی میں قطعیت کا فائدہ بھی دیتی ہے۔ جیسا کہ اس خبر واحدکا صحیحین میں مروی ہونا ایک قوی قرینہ ہے۔ اوریہی بات زیادہ راجح ہے۔
اخبار آحاد کے ذریعے عبادت کرنا:
اخبار آحاد کے ذریعے عبادت کرناعقلی طور پر جائز ہے اور نقلی طور پر اس کے دلائل موجود ہیں۔ چند ایک دلائل یہ ہیں:
1۔ اسے قبول کرنے پر صحابہ کرام ]کا اجماع ہے۔ واقعات میں ان کا خبر واحد کی طرف رجوع مشہور ہے جیسا کہ وراثت میں دادی کےلیے چھٹا حصہ اور جنین کی دیت ،عورت کا اپنے خاوند کی دیت میں وارث بننا، اہل قباء کا نماز میں ہی اپنے قبلہ سے پھر جانا ، اہل کتاب کی طرح مجوسیوں سے جزیہ لینا اور اسی طرح وہ تمام افعال جو نبی کریمﷺ گھر میں سرانجام دیا کرتے تھے، یہ سب مسائل خبر واحد کے ذریعے ہی صحابہ کرام نے قبول کیے تھے۔
2۔ اللہ ر ب العالمین کا فرمان گرامی ہے: ﴿ يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا إن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فََتَبَينُوا ﴾ [الحجرات:6] اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئےتو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔
اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان عالی شان بھی ہے: ﴿ فَلَوْلا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِينذِرُوا قَوْمَهُمْ إذَا رَجَعُوا إلَيهِمْ لَعَلَّهُمْ يحْذَرُونَ ﴾ [التوبة:122] سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں۔
3۔ نبی کریمﷺ کا اطراف عالم میں احکام کی تبلیغ کےلیے ایک ایک بندے کو بھیجنا تواتر سے ثابت ہے ، باوجود اس کے کہ آپﷺ جانتے تھے کہ جن کی طرف یہ ایک بندہ بھیجا جار ہا ہے ، وہ اس کی وجہ سے مکلف بن جائیں گے۔
4۔ مفتی کے اس قول کو قبول کرنے پر اجماع کا منعقدہونا جس میں وہ اپنی رائے اور گمان سے خبر دیتا ہے تو جس خبر کو وہ سن کر خبر دیتا ہے جس میں کوئی شک نہیں تو ایسی خبر کو قبول کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔
راویوں کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے خبر واحد کی تقسیم:
راویوں کی قلت اور کثرت کے اعتبار سے خبر واحد تین اقسام میں منقسم ہوتی ہے:
۱۔ مشہور ۲۔ عزیز ۳۔ غریب
1۔ مشہور وہ خبر واحد ہے جس کے راوی تواتر کے درجہ تک پہنچنے سے قاصر رہیں اور کسی بھی طبقہ میں تین سے کم نہ ہوں۔
اس کی مثال یہ حدیث ہے: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده» مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
2۔ عزیز وہ خبرو احد ہے جس کی سند نازل ہو اگرچہ بعض طبقات میں صرف دو راوی ہی ہوں۔
اس کی مثال یہ حدیث ہے: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين» تم میں سے کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد ، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
3۔ غریب وہ خبر واحد ہے جس کی سند عزیز سے بھی نازل ہو اگرچہ بعض طبقات میں صرف ایک ہی راوی رہ جائے۔
اس کی مثال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جسے اکثر مصنفین اپنے کتب کے آغاز میں لاتے ہیں، اور وہ نبی کریمﷺ کا مندرجہ ذیل فرمان ہے: «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» اعمال کا دارومدار تو صرف نیتوں پر ہے اور آدمی کے لیے تو صرف وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ |
محمد طغی عزیزی 2018/02/21 فاریکس کرنسی کے جوڑے
ہم نے پایا ہے کہ ہوم بیس وہ تمام خصوصیات پیش کرتا ہے جس میں اوسطا چھوٹے کاروبار کے مالک کو اپنے ملازمین کا نظام الاوقات تشکیل دیتے وقت درکار ہوتا ہے۔ دوسرے فراہم کنندگان کے مقابلے میں ، یہ استعمال کرنا آسان ہے ، سستی اور مضبوط ہے اور اس میں ٹائم کلاک پروڈکٹ اور دیگر فنکشن ہوتا ہے جسے آپ بعد میں شامل کرسکتے ہیں۔ آج مفت میں سائن اپ کریں۔ ایکس ایم فاریکس جیسا کہ معروف اشارے کے برخلاف ، پیچھے رہ جانے والے اشارے موجودہ رجحانات کی نشاندہی کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ، جو شاید خود ہی واضح نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ، اس قسم کا اشارے معاشی چکروں کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ تناسب کے ان پٹس کو اثاثوں کی عملی اقدار کی عکاسی کرنے کے ل adj ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے جبکہ اس وقت ایک مالیاتی ادارے کو دیئے جانے والے سود کی شرح کا حساب کتاب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کوئی اثاثہ 5 فیصد کی شرح سود والے قرض سے فنڈز کے ساتھ حاصل کیا گیا ہو اور اس سے وابستہ اثاثہ کی واپسی میں 20 فیصد کا فائدہ ہوا ہو ، تو ایڈجسٹ روٹا 15 فیصد ہوگا۔
بٹ کوائن میں رقوم واپس لائیں. فی سیکنڈ مارکیٹ کی قیمت کیا ہے؟
LiveTour آپ کو اسی سبسکرپشن میں 20+ ٹیم ممبران (ایجنٹوں) شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنی لسٹنگ کے لئے ورچوئل ٹور تشکیل دے سکتا ہے۔ چاہے آپ پالتو جانوروں کی دکان سے ریڈی میڈ کریٹ خریدنے کا انتخاب کریں یا کریٹ خود ڈیزائن کریں ، اس میں ترجیح دینے والی تار کا کریٹ رکھنا افضل ہے۔ اس طرح ، جب آپ کتے کے p ہوتے ہیں تو آپ ایک حص sectionہ استعمال کرسکیں گے ، اور پھر کتے کے بڑھتے ہی تقسیم کو بڑھاؤ گے۔ یہ آپ کے مالک کی حیثیت سے آپ کے کام کو آسان تر بنائے گا ، کیوں کہ آپ ایک مقررہ وقت پر کتے کو جس جگہ کی ضرورت ہو گی اس کا تعین اور مختص کرسکیں گے۔ کریٹ میں ایک ٹرے بھی ہونی چاہئے جو نیچے سے نکالی جاسکتی ہے۔
وقت اور موسم میں مسلسل بدلاؤ آتا رہتا ہے اور کسی بھی ویب سائٹ یا فون کے ذریعے چیک کرنا پریشان کن ہوتا ہے۔ میرا مطلب ہے ، آپ کے فون کو لینے اور موسم کی جانچ کرنے کے لئے بٹن پر کلک کرنے کا کیا فائدہ ہے ، جب کہ آپ کر سکتے ہو اسے براہ راست گوگل پر چیک کریں ?
ہمیں ابھی بھی گیگا بائٹ RX 5600 XT گیمنگ OC کی پشت دیکھنی ہے ، جہاں ویڈیو پورٹس واقع ہوں گی۔ اس معاملے میں ہمارے پاس 2.5 سلاٹوں کی ایکس ایم فاریکس موٹائی ہے ، جو قیمت کی حد میں اتنی عام نہیں ہے ، حالانکہ بندرگاہیں ہمیشہ کی طرح ہی ہیں: غیر ملکی زرمبادلہ کے دفتر کو کھولنے کے لئے ، روسی کرنسی کے مرکزی بینک (NB) کے ساتھ ، کرنسی کے ضوابط اور کرنسی کے کنٹرول پر آن قانون کے مطابق معاہدہ کرنا ضروری ہے۔ قانونی ادارہ فراہم کردہ خدمات کے کنٹرول اور کوالٹی کنٹرول کا استعمال کرتا ہے۔ نجی زرمبادلہ کے دفاتر کے ذریعہ کرنسی کی فروخت کے نکات کو بڑھانا NB کی اہلیت میں ہے۔ کسی فرد (اس کے نتیجے میں ایل ایل سی) کے لئے فائدہ یہ ہے کہ جمع کرنے کے تمام اخراجات نیشنل بینک برداشت کرتے ہیں ، اسی طرح نقد اکاؤنٹنگ کی وصولی / اخراجات بھی۔ نیٹ ورک کی ترتیبات کو فیکٹری ڈیفالٹس میں بحال کریں تیسری پارٹی کے ہیڈسیٹ منقطع کریں دوسرے وائرلیس مداخلت کے لئے چیک کریں ایک توسیعی پاور سائیکل انجام دیں وائرلیس چینل تبدیل کریں اپنا وائرلیس وضع تبدیل کریں کم وائرلیس سگنل کی جانچ کریں اپنی فائر وال کی ترتیبات کو تبدیل کریں اپنے NAT ٹیبل کو تازہ دم کرنے کے لئے UPnP آن کریں اپنے راستے پر پیرامیٹر نیٹ ورک (ڈی ایم زیڈ) کی فعالیت کو فعال کریں نیٹ ورک کیبل چیک کریں براہ راست سے ماڈیم کنکشن کی کوشش کریں.
آپ کے پاس پہلے والے اسٹاک کو واپس خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے جو کہ تیزی کے اڈے کو توڑ رہا ہے۔ لیکن صرف اس وجہ سے اپنے پرانے فاتحوں کے پاس واپس نہ جائیں۔ حالانکہ بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح نے حال ہی میں چین کی اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر چلے گئے. بھارت میں سرمایہ کاروں نے پچھلے کئی سالوں میں کچھ بدنام بھی دیکھا ہے. انفسیس ٹیکنالوجیز کی طرح بھارت کی بڑی انگریزی بولنے والے آبادی اور ٹیکنالوجی سے متعلق آؤٹ سور آؤٹ آؤٹنگنگ کمپنیوں نے اس ملک کو 1 ارب ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ معیشت کو دیکھنے کے لئے بنانے میں مدد کی ہے. کہتے ہیں کہ آنکھوں دیکھے پر ہی یقین کرنا چاہیے لیکن شاید اظہر علی نے اس کے بارے میں سنا نہیں تھا اور'چوکا' لگانے کے بعد آرام سے کریز سے نکل کر چند قدم چلے اور دوسرے اینڈ سے اسد شفیق بھی آرام آرام سے چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے اور دونوں کے درمیان گپ شپ شروع ہو گئی۔
تجارت کے اطراف :ایکس ایم فاریکس
سوئنگ ٹریڈنگ اسٹاک مارکیٹ میں عام طور پر استعمال ہونے والی تجارتی حکمت عملی ہے ، نیز یہ کریپٹوکرنسی ایکس ایم فاریکس میں بھی ہے۔ سوئنگ تاجر انفرادی تجارت کے سیٹ اپ کے لحاظ سے عام طور پر کچھ دن یا ہفتوں تک پوزیشنوں پر رہیں گے۔
90 کی دہائی کے وسط میں ، کمپنی نے ڈائریک پی سی نامی ہائبرڈ انٹرنیٹ سسٹم بنایا: صارف کے کمپیوٹر نے ڈائل اپ کے ذریعہ درخواست جمع کروائی۔ اسے ایک ویب سرور پر ہدایت دی گئی تھی اور مصنوعی سیارہ کے ذریعہ مکمل کی گئی تھی ، جس میں درخواست شدہ صفحے کو صارف کی ڈش پر بیچ دے گا۔
اب جب ہم نے دو اہم احکامات کی وضاحت کردی ہے تو ، یہاں کچھ اضافی پابندیوں اور خصوصی ہدایات کی فہرست دی گئی ہے جو بہت سے مختلف بروکرج اپنے حکموں کی اجازت دیتے ہیں: ان لاک 3: بند جگہ کھولنے اور کھلی جگہ بند رکھنے کا فیصلہ غیر منطقی، دہلی ایکس ایم فاریکس کانگریس. آپ کو (a) مجموعی مارجن ، (b) نیٹ مارجن (c) EBIT مارجن کا حساب لگانے کی ضرورت ہے۔
ذاتی تجارتی چیک لسٹ کیا ہے؟ . قیمتوں کا تعین آپ کو دس چار انتباہات اور پانچ چار اشارے فی چارٹ فراہم کرتا ہے لیکن کسٹمر سروس یا SMS اطلاعات تک باقاعدگی سے رسائی نہیں دیتا ہے۔ تاہم ، آپ کو اشتہار سے پاک تجربہ اور سوشل میڈیا برادری تک رسائی حاصل ہے۔
ایک بار جب شواب اور فیدلیٹی نے کمیشن کم کر کے صفر کردیا تو ، شواب نے فیدلٹی کی پھانسی کے معیار پر سوال اٹھانا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ، شواب نے اس سے منسلک قومی فنانشل سروسز کے ذریعہ تجارت کو آگے بڑھانے کے لئے ، جہاں سے وہ اپنے آرڈر دیتا ہے ، مارکیٹوں سے چھوٹ قبول کرنے اور اختیارات کی تجارت میں آرڈر کے بہاؤ کی ادائیگی کے ل F فیدلٹی کو بلایا۔ باہر چیک کریں ہمارے بلاگ پائیدار تحفوں میں تخلیقی اشیاء کو جدید بنانے کے لئے تخلیقی دوبارہ استعمال کے خیالات کے ل!!
اس میں ایک ہزار سے زیادہ اسٹیکرز ، 30 قسم کے مزاحیہ فلٹر ، 65 مزاحیہ فونٹ اور 11 مختلف قسم کے لفظی غبارے ہیں۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے مفت ہے ، لیکن مکمل ورژن کی قیمت $ 4 ہے۔ یہ ایپ مہنگا ہے ، لیکن آپ کو یقینی طور پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کو پیسہ مل رہا ہے۔ جب بھی مجھے اپنے کسی کمپیوٹر پر چلنے والی سروس تک دور سے رسائ کی ضرورت ہوتی ہے تو ، میں متحرک DNS میزبان نام کا استعمال کرکے صرف رابطہ کرتا ہوں۔ ڈی این ایس کا نام یاد رکھنا بہت آسان ہے ، اور اگر آپ کا آئی ایس پی ایڈریس تبدیل کرتا ہے تو ، یہ آپ کے لئے بالکل شفاف ہے۔ |
ورثاء میں بیٹیاں اور بیوہ ہیں وراثت کی تقسیم کیا ہوگی؟ - فتویٰ آن لائن
سوال نمبر:4779
السلام علیکم! میرے والد فوت ہو چکے ہیں اور مجھے یہ پتہ کرنا ہے کہ انکی جائیداد کی تقسیم کس طرح ہوگی۔ ان کے وارثین میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرے ایک چچا اور تین پھوپھیاں ہیں لیکن وہ دادی کی طرف سے میرے ابو کے بہن بھائی ہیں جبکہ دادا الگ الگ ہیں۔ کیا وہ بھی حصّے دار ہوں گے؟ اور ہر ایک کے حصّے کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ مہربانی فرما کر اسکا جواب دیں. شکریہ
سائل: نورالعینمقام: پاکستان
تاریخ اشاعت: 20 اپریل 2018ء
مرنے والے کے ترکہ سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات منہا کیے جائیں، اگر اس پر کوئی قرض تھا تو ادا کیا جائے، اگر مرنے والے نے کسی کے بارے میں وصیت کی تھی تو اس مد میں زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (1/3) دیا جا سکتا ہے۔ تجیز و تکفین، قرض (اگر تھا) کی ادائیگی اور وصیت (اگر تھی) پوری کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ورثاء میں تقسیم ہو گا۔ مسئلہ مذکور کی نوعیت کے مطابق کل قابلِ تقسیم ترکہ سے بیٹیوں کو دو تہائی (2/3) حصہ ملے گا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَج وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.
پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا (1/2) ہے۔
دوتہائی حصہ مرحوم کی پانچوں بیٹیوں میں برابر تقسیم ہو گا۔ بیوہ کو کل ترکہ (جو تجہیز و تکفین، قرض، وصیت کے بعد بچا تھا) سے آٹھواں (1/8) حصہ ملے گا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَآ اَوْ دَیْنٍ.
پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان (بیواؤں) کے لیے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (1/8) حصہ ہے، تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔
بیوہ اور بیٹیوں کو ان کے حصے کی ادائیگی کے بعد باقی بچ جانے والا مال مرحوم کے قریبی مرد کو بطور عطیہ دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ.
بخاري، الصحیح، 6: 2476، رقم: 6351، دار ابن کثیر الیمامة بیروت
مسلم، الصحیح، 3: 1233، رقم: 1615، دار احیاء التراث العربي بیروت
باقی بچا ہوا جن مردوں کو ملے گا ان میں ماں شریک بھائی شامل نہیں ہیں، اس لیے دادی کی طرف سے آپ کے چچا کو آپ کے والد کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔ جو قریبی مرد ترکہ میں حصہ پاتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
میت کی اولادِ نرینہ (بیٹا، پوتا، پڑپوتا اور نیچے تک)
میت کے آباء و اجداد (باپ، دادا، پڑدادا اور اوپر تک)
میت کے باپ کی اولادِ نرینہ (بھائی، بھتیجا، بھتیجے کا بیٹا، بھتیجے کا پوتا اور نیچے تک)
میت کے دادا کی اولادِ نرینہ (چچا، چچا کا بیٹا، چچا کا پوتا اور نیچے تک)
میت کے پڑدادا کی اولادِ نرینہ (باپ کا چچا، اس کا بیٹا، اس کا پوتا اور نیچے تک)
اگر مذکورہ مردوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے تو باقی سارا ترکہ بیٹیوں میں بطورِ رد لوٹا دیا جائے گا اور ان میں برابر تقسیم ہوگا۔ |
سیب کی تیاری | آن لائن پادری کسان | January 2020
زمرے سیب کی تیاری
ایپل کی تیاری
کالر سیب کی دیکھ بھال اور پرنٹ
Kolonovidnye سیب - ایک بہت ہی نوجوان قسم کے پھل درخت. اس قسم کے پھل کے درختوں کو خوبصورت اور غیر معمولی نظر آتا ہے، جبکہ اس کا بڑا اور سوادج پھل ہے. کراؤن کے سائز کے سیب کے درخت بہت سارے، موسمی حالات ہیں اور مٹیوں کو ان کی دیکھ بھال کے فروغ اور ان کی دیکھ بھال کی خصوصیات پر بہت اثر انداز ہوتا ہے.
ایپل کی دیکھ بھال: سب موسم بہار اور موسم خزاں میں صحیح پرنٹ کے بارے میں
تمام باغ کے درختوں کو بہت توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، جو یقینی طور پر فصل کی بے حد باغی اعلی سطح کی ضمانت دیتا ہے. آج ہم پرنس ایپل کے درختوں کے بارے میں بات کریں گے. چلو موسم بہار اور موسم خزاں کے تمام حصوں کی جانچ پڑتال کریں، درخت کے شاخوں کے صحیح تراشنے کے لئے منصوبوں، اور جب بھی سیب کے درختوں کو بہتر بنانے کے لئے بہتر ہے. |
انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات - لیڈ
اہم لیڈ انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات
انتہائی کامیاب لوگوں کی سرفہرست 10 خصوصیات
اگر آپ واقعی میں اپنی زندگی میں کامیابی لانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے آپ کو اسی طرح کاشت کرنا چاہئے جس طرح آپ بہترین پیداوار کے ل a باغ کاشت کریں گے۔
یہاں کے اوصاف کامیاب لوگوں کے ذریعہ ہر جگہ مشترک ہوتے ہیں ، لیکن وہ حادثے یا قسمت سے نہیں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدا عادات سے ہوتی ہے ، ایک وقت میں ایک دن بنتی ہے۔
لارا اسپینسر خالص مالیت 2015
یاد رکھیں: اگر آپ اپنی زندگی اسی طرح بسر کریں گے جیسے زیادہ تر لوگ کرتے ہیں تو ، آپ کو زیادہ تر لوگوں کے ل. ملے گا۔ اگر آپ بس گئے تو آپ کو آباد زندگی ملے گی۔ اگر آپ اپنے آپ کو ، ہر دن اپنی سب سے بہترین قیمت دیتے ہیں تو ، آپ کا سب سے اچھا آپ کو واپس کردے گا۔
یہ سبھی خصلتیں ہیں جو انتہائی کامیاب کاشت کرتے ہیں۔ تمہارے پاس کتنے ہیں؟
1. ڈرائیو
آپ کا عزم ہے کہ زیادہ تر سے زیادہ محنت کریں اور یقینی بنائیں کہ کام انجام پائیں۔ چیزیں مکمل ہوتے دیکھ کر آپ فخر کرتے ہیں اور جب ضروری ہو تو آپ چارج لیتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو مقصد کے ساتھ چلاتے ہیں اور اپنے آپ کو اتکرجتا کے ساتھ صف بندی کرتے ہیں۔
2. خود انحصاری
آپ ذمہ داریاں برداشت کر سکتے ہیں اور جوابدہ ہوسکتے ہیں۔ آپ سخت فیصلے کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اپنے لئے سوچنا اپنے آپ کو جاننا ہے۔
3. قوت خوانی
آپ کے پاس چیزوں کو دیکھنے کی طاقت ہے - آپ خالی نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ملتوی کرتے ہیں۔ جب آپ یہ چاہتے ہیں تو ، آپ اسے بناتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے حصول وہ لوگ ہیں جو اپنے مقاصد پر مرکوز رہے اور اپنی کوششوں میں مستقل رہے۔
Pati. صبر
آپ صبر کرنے پر راضی ہیں ، اور آپ سمجھتے ہیں کہ ، ہر چیز میں ، ناکامیاں اور مایوسی ہوتی ہیں۔ انہیں ذاتی طور پر لینا ایک نقصان ہوگا۔
5. سالمیت
یہ کہنا ضروری نہیں ہے ، لیکن یہ سنجیدگی سے ان اہم خصوصیات میں سے ایک ہے جو آپ پیدا کرسکتے ہیں۔ ایمانداری آپ کے ہر کام کے لئے بہترین پالیسی ہے۔ سالمیت کردار تخلیق کرتی ہے اور وضاحت کرتی ہے کہ آپ کون ہیں۔
2014 میں رک اسٹیوز کی مالیت کی قیمت ہے
6. جوش
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ، اگر آپ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ، یہ شائستگی نہیں بلکہ جذبہ ہے جو آپ کو وہاں پہنچے گا۔ زندگی آپ کے تجربے میں 10 فیصد ہے اور 90 فیصد آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔
7. رابطہ
آپ دوسروں سے وابستہ ہوسکتے ہیں ، جس کے نتیجے میں ہر چیز کو مزید پہنچنے اور اہمیت کو گہرا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ ہے اور بہت اچھا ہے ، اور آپ جانتے ہیں کہ لڑنے کے قابل کیا ہے۔ امید ایک بہتر مستقبل بنانے کی حکمت عملی ہے - جب تک کہ آپ کو یقین نہیں آتا ہے کہ مستقبل بہتر ہوسکتا ہے ، آپ کو امکان نہیں ہے کہ اس سے آگے بڑھیں اور اسے بنانے کی ذمہ داری قبول کریں۔
9. خود اعتماد
تم خود پر بھروسہ کرو۔ یہ اتنا ہی آسان ہے۔ اور جب آپ پر یہ غیر متزلزل اعتماد ہوتا ہے تو ، آپ کامیابی کے قریب ایک قدم پہلے ہی قریب ہوجاتے ہیں۔
10. مواصلات
آپ اپنے ارد گرد کے مواصلات پر بات چیت اور توجہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ سب سے اہم ، آپ کیا سنتے ہیں نہیں کہا جا رہا ہے جب مواصلت موجود ہے تو اعتماد اور احترام کی پیروی کریں۔
کوئی بھی معمولی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا؛ ثالثی اس وقت ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ، ان خصلتوں کو سیکھیں جو آپ کو کامیاب بنائیں گے اور ہر دن ان کو زندہ رہنے کا منصوبہ بنائیں گے۔ |
کون سی سکل سیکھ کر نوکری کرنے سے سب سے زیادہ معاوضہ مل سکتا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ نوجوانوں کے لئے پانچ سب سے زیادہ تنخواہ والی نوکریاں کون سی ہیں۔
اول۔ ڈیٹا سائنٹسٹ:
کمپنیوں کے ڈیجیٹل ہونے اور زیادہ ڈیٹا کی وجہ سے ڈیٹا سائنٹسٹ وہ پروفیشنل افراد ہیں جنہیں سب سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا سائنسدانوں کی مانگ میں سالانہ 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تنظیمیں فعال طور پر ڈیٹا سائنسدانوں کو پروگرامنگ، ڈیٹا ویژولائزیشن، اور مشین لرننگ کی مہارتوں کے ساتھ بھرتی کر رہی ہیں تاکہ ڈیٹا پر مبنی کاروباری فیصلے کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔
اس بڑی مانگ کے پیش نظر، پاکستان میں ایک انٹری لیول ڈیٹا سائنٹسٹ سالانہ 5 سے7 لاکھ، درمیانی سطح پر 12 سے 15 لاکھ سالانہ اور سینئر سطح پر 21 سے 25 لاکھ سالانہ تک کما سکتا ہے۔
دوم۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین:
وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کی وجہ سے، ڈیٹا اور ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کی ضرورت آج ایک ترجیح بن گئی ہے۔
ٹیک انڈسٹری نے تمام کمپیوٹیشنل حرکات کو ڈی کوڈ کرنے اور ٹریس کرنے کے لیے مسائل کو حل کرنے، تجزیاتی، اور کمپیوٹر فرانزک مہارتوں کے ساتھ انتہائی ہنر مند سائبر سیکیورٹی پروفیشنل افراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ریکارڈ کیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے پیشہ ور افراد اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ افراد، حکومتیں اور کاروبار ہر قسم کے سائبر خطرات اور حملوں سے محفوظ ہیں۔
اس ڈومین میں پیشہ ور افراد تقریبا انٹری سطح پر 6 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 10 سے 12 لاکھ/سالانہ اور سینئر سطح پر 30-40 لاکھ/سالانہ کماتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں | جانئے آپ پاکستان میں اپنا سٹارٹ اپ کیسے شروع کر سکتے ہیں
سوم۔ کلاؤڈ انجینئرز اور آرکیٹیکٹس:
کلاؤڈ تمام تنظیمی اور صارفین کے کاموں کا مستقبل ہے۔ کلاؤڈ سافٹ ویئر انجینئرز، کلاؤڈ آرکیٹیکٹس، اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر انجینئرز ان ڈیمانڈ رولز ہیں جو انڈسٹری کی بہترین پیشکشوں کو حاصل کر رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ڈگری کے حامل پیشہ ور، پروگرامنگ، ڈیٹا بیس مینجمنٹ اور لینکس کی مہارتوں سے لیس ان کی تنخواہ میں 60 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں پروفیشنل افراد انٹری سطح پر 6-8 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 10-12 لاکھ/سالانہ اور سینئر سطح پر 30 لاکھ/سالانہ کما سکتے ہیں۔
چہارم۔ پروڈکٹ مینیجرز:
پروڈکٹ مینیجرز اکثر اوقات سی ای او کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو پروڈکٹ کی خصوصیات کو لانچ کرنے اور اپ ڈیٹ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
یہ حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ مطلوب کرداروں میں سے ایک ہے۔
پراجیکٹ مینیجرز اپنی کمپنی اور کام کے حساب سے 4 لاکھ سے 15 لاکھ تک کما سکتے ہیں۔
5. فل اسٹیک ڈویلپرز:
حالیہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں فل اسٹیک ڈویلپرز کی مانگ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ ڈیولپمنٹ، ورژن کنٹرول سسٹم، کوڈنگ کی مہارت، کلاؤڈ اور ڈیٹا بیس کی مہارتوں کے ساتھ ساتھ پائتھون، جاوا، سی ایس ایس اور دیگر کوڈنگ زبانوں کے علم سے آراستہ پیشہ ور، سٹارٹ اپس سے زیادہ معاوضہ دینے والی ملازمتوں کی توقع کر سکتے ہیں۔ اور بڑی کمپنیز میں انٹری لیول پر 1 سے 2 لاکھ/سالانہ، درمیانی سطح پر 4 سے 5 لاکھ/سالانہ اور سینئر لیول پر 10-12 لاکھ/سالانہ کما سکتے ہیں۔ |
سعودی عرب نے ایک لاکھ افراد کو روزگار دینے کا اعلان کر دیا – انقلاب
سعودی عرب کے وژن2030 کے تحت حکام ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں رواں سال کے اختتام تک ایک لاکھ افراد کو روزگار دیا جاسکے گا۔
سعودی عرب حکومت کی یہ پیش قدمی ایک بڑے ہدف کی جانب ہے جس کا مقصد سال2030 تک سیاحت کے شعبے میں 10 لاکھ مقامی افراد کو ملازمت فراہم کرنا ہے۔
وزارت سیاحت میں نیشنلائزیشن و ٹریننگ کے جنرل مینیجر بندر السفیر نے میڈیا کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سعودی شہریوں کو سیاحت کے شعبے میں کام کے لیے تیار کرنے کی پارٹنرشپ پروگرام میں ٹریننگ دی جا رہی ہے۔
السفیر نے بتایا کہ اس وقت ٹرانسپورٹیشن، فوڈ، بیوریجز، انٹرٹینمنٹ اور ٹریول ایجنسی کے کورسز جاری ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے آنے سے کچھ ہی عرصہ قبل سعودی عرب نے ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے مملکت کو کھول دیا تھا۔
مملکت میں سیاحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے کئی بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعمیرات اہمیت کی حامل ہیں۔ |
الوقت - داعش کے کچھ سرغنوں نے نام نہاد خلفیہ ابو بکر البغدادی کی بیعت توڑ دی ہے۔
عراق کے صوبہ نینوا کے ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ داعش کے کچھ جنگجوؤں اور سرغنوں نے داعش کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کی بیعت توڑ دی ہے اور خودکش کاروائی کرنے کی مخالفت کی ہے۔،
سومریہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، داعش کے سرغنہ اور نام نہاد خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت کی خبر شائع ہونے کے بعد داعش کے کچھ جنگجوؤں اور سرغنوں نے خلیف کی بیعت توڑ دی ہے اور داعش گروہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ داعش کے شامی جنگجوؤں نے ابو عبد اللہ الشامی نامی سرغنہ کی سربراہی میں جو موصل میں خودکش حملہ آور کے ساتھ جنگ میں مشغول ہے، اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بغدادی کی بیعت توڑ دی ہے۔ ان جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ ایک نامعلوم شخص کی بیعت باطل سمجھی جاتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے بغدادی کے پاس طاقت اور توانائی نہیں ہے۔
اس ذریعے نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ابو بکر البغدادی سے جدا ہونے والےافراد نے صحیح بخاری اور ابن تیمیہ سے روایات ذکر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کی اطاعت جو موجود نہ ہو، یا گمنام ہو اور اس کے پاس توانائی نہ ہو، جائز نہیں ہے۔
شامی نے یہ سوال کیا کہ ہم کس طرح بغدادی کی اپنے خلیفہ کی حیثیت سے بیعت کر سکتے ہیں جب کہ اس کے توانائی نہیں ہے، وہ ہماری زیر قبضہ زمینوں واپس نہیں دلا سکتا، اس کی حفاظت نہیں کر سکتا، وہ ہمارا خلیفہ نہیں ہے۔ |
بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد ، کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد– News18 Urdu
بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد ، کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد
بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔
Last Updated : December 03, 2020, 18:54 IST
بپوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو یہ حادثہ پیش آیا تھا ۔ دو دسمبر کو جولوگ اپنی خواب گاہوں میں سوئے تو یہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس رات کی صبح نہیں ہوگی اور جو اس رات کو قیامت صغرا کے شور سے بیدار ہوئے ، انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی اگلی منزل کہاں ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حادثہ کی رات پندرہ ہزار اموات اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زہریلی گیس کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ کہنے کو اس حادثہ کو چھتیس سال مکمل ہوگئے ہیں اور تین دسمبر کی صبح ستم کی ایک نئی صبح کے ساتھ سینتیسویں سال کا آغاز ہوگیا ۔ ان بیتے چھتیس سالوں پر گیس متاثرین جب نظر ڈالتے ہیں ، تو اپنے کو اپنی ہی حکومتوں کے ذریعہ ٹھگا ہوا پاتے ہیں ۔ ان چھتیس سالوں میں گیس متاثرین پر اتنے ستم ٹوٹے ہیں کہ اپنوں کو یاد کر کے ان کی آنکھیں خشک ہوگئی ہیں ۔
بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔ پروگرام کے پہلے حصے میں سبھی مذاہب کے رہنماؤں نے اپنے مذاہبی عقائد کی روشنی میں گیس ساانحہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ پھر کل مذہبی دعائیہ اجتماع میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے گیس حادثہ کے مہلوکین کو حراج عقید ت پیش کی گئی ۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دعائیہ اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے وہی کہا کہ جو وہ پندرہ سالوں سے کہتے آئے ہیں ۔ ہمیں ترقی اور ماحولیات کے بیچ اعتدال قائم کرنا ہوگا۔ بھوپال حادثہ جو ہوچکا ہے اب یہ نہیں دہرایا جائے اس کے لئے ہمیں انتظام کرنا ہوگا ۔ وزیر اعلی نے گیس متاثرین کی بیواؤں کی دوہزار انیس سے رکی ہوئی پینشن کو جاری کرنے کا اعلان کیا اور تاحیات جاری کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گیس حادثہ کی یاد میں گیس اسمارک بنانے کے لئے گیس راحت وزیر وشواس رانگ کو خاکہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔
وہیں دعائیہ اجتماع میں شریک سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما نے کہا کہ اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا ہے ، کام کرکے دکھانا ہوگا۔ گیس متاثرین اتنے سالوں سے اعلان ہی تو سن رہے ہیں ۔
گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر ایم پی جمیعت علما نے قران خوانی کر کے گیس حادثہ کے شہیدوں کو خرج عقیدت پیش کی ۔ جبکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ، ایم پی سنیکت مورچہ نے چھتیسویں برسی پر احتجاج اور حکومت کا پتلہ ندر آتش کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ جبکہ گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن ،گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی مورچے کے کارکنان نے یونین کاربائیڈ کارخانے کے سامنے انسانی زنجیر بناکر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔
جمعیت علما ایم پی کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ایم پی کے چھتیس سالہ اقتدار میں بی جے پی اور کانگریس ہی کی حکومتیں رہی ہیں اور دونوں ہی پارٹیوں نے گیس متاثرین کے مفاد کو نظر انداز کر کے کمپنی اور ملٹی نیشنل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا کام کیا ہے ۔ راجیو گاندھی نے عدالت کے باہر علاج و معاوضہ کے نام پر ڈاؤ کیمکل سے جو سمجھوتہ کیا تھا ، اس میں تین ہزار موت اور ایک لاکھ دو ہزار زخمیوں کا معاوضہ شامل تھا ۔ جبکہ سپریم کورٹ نے جو فہرست جاری کی تو اس میں اس نے لکھا کہ اس سیاہ رات پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زیریلی گیس سے متاثر ہوئے تھے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت گیس متاثرین کو پانچ گنا معاوضہ دے ۔
وہیں پرمود پردھان کہتے ہیں کہ ہمیں حکومتوں سے نہ پہلے امید تھی اور نہ ہی آج امید ہے ۔ گیس متاثرین کو جو کچھ ملا ہے وہ عدالت کی مداخلت سے ملا ہے۔ آج بھی حکومت نے گھڑیالی آنسو بہاکر رسم ادائیگی کی ہے ، لیکن ہم نے انسانی زنجیر بناکر حکومت کو بتا دیا کہ گیس متاثرین کا اتحاد قائم ہے اور ہم آخری دم تک اپنے حق کے لئے لڑتے رہیں گے۔ |
میرا بلاگ ۔ بازیافت : جس ڈھب سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
جس ڈھب سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
تحریر:- احمد جاوید----
جس وقت میں یہ سطورسپردقلم کررہاہوں، دنیا انقلابی مفکر چے گویراکی سالگرہ منارہی ہے۔14جون ارجنٹائنا کے انقلابی نوجوان،حریت پسندمصنف، جفاکش گوریلارہنما،ڈپلومیٹ اورفوجی نظریہ داں چے کا یوم پیدائش ہے لیکن مجھےاس موقع پر اس کی پیدائش نہیں، موت یادآرہی ہے۔ اس لیے بھی کہ دنیا میں ہردن لاکھوں کروڑوں بچے پیداہوتے ہیں لیکن ان میں سے کتنے ہیں جن کا یوم پیدائش ان کےاپنے قریبی رشتہ داراور والدین بھی یاد رکھتے ہیں،ہاں اس شخص کا یوم پیدائش ضروریاد رکھاجاتا ہے جس کی موت یادگارہوتی ہےیا موت کو گلے لگاتے وقت تک وہ زندگی کوامرکرچکاہو تا ہےیعنی جس ڈھب سے کوئی مقتل میں گیاوہ شان سلامت رہتی ہے/یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں اور اسلیے بھی کہ چے گویراکا قتل انقلاب کی تاریخ کا ایک بڑاعبرتناک واقعہ ہے۔اس انقلابی نوجوان اور گوریلارہنماکو صفحہ ہستی سےمٹانے کے لیے سی آئی اے نے جو طریقہ اپنایا آج دنیا کےمختلف حصوں میں کئی قومیں اورحکومتیں اپنے ناپسندیدہ افراد اور گروہوں کے خلاف وہی طریقےدھڑلے سے استعمال کررہی ہیں۔انقلابیوں کے گروہوں اور معتوب فرقوں اورجماعتوں کے درمیان اپنے ایجنٹ داخل کردینا ، ان کو طرح طرح سے بدنام کرناکرانا اور پھران کواپنی سہولت کے مطابق نشانہ بنانا، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا، ان پراور ان کے اپنے پرایوںپرانسانیت سوزمظالم ڈھانا یاقتل کردینااس زمانے میں اتنا عام نہیں تھا جب بولیویامیں چےکو قتل کیا گیاتھااور اس لیے بھی کہ یہ اسکی صرف 86ویں سالگرہ ہے۔اگرسی آئی اے نے اس کو دردناک طریقہ سے ٹھکانے نہ لگایاہوتا تو عین ممکن ہے کہ وہ آج اپنے چاہنےوالوں کے درمیان کیک کاٹ رہاہوتا لیکن افسوس اس کے چاہنے والے اس کی پیدائش کے صرف 85 سال بعد اس کی 47 ویں برسی منانے کی تیاری کررہے ہیں۔
حال ہی میں حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے سیکوریٹی ایجنسیوں سے ماؤنوازدہشت گردوں کا علاج جاننا چاہاتو آئی بی نےیہ عذر پیش کیاکہ جس طرح دوسری دہشت گردتنظیموں کے اندراس کے ایجنٹ موجودہوتے ہیں اوران کی منٹ منٹ کی نقل و حرکت کی خبریں اسے ملتی رہتی ہیں،ماؤنوازتنظیموں کے اندرنہیں ہیں۔ اگر حکومت اس کی اجازت دےاور اس کے لیے فنڈ مہیاکرائے تو کام آسان ہوجائے گا ۔ہماری نئی حکومت نے فی الفورآئی بی کو اس کی اجازت دے دی ، قوم پرستوں کی اس حکومت سےایجنسی کو اسی کی توقع بھی تھی۔ پھراس نےآناًفاناً پروجیکٹ بنایا اورپاورپوائنٹ کی مددسے وزارت داخلہ کے اعلیٰ افسران اوروزراکے سامنے یہ پروجیکٹ پیش کیا کہ وہ کیا کریں گے،ان کوحکومت سے اس کے لیےکیاکیاچاہیےاور اس میں کتنا سرمایہ درکارہے۔میڈیامیں یہ خبرآئی تومجھے کئی عشرت جہاں، سہراب شیخ،اکشردھام مندرکے حملہ آور، بے گناہ مقتولین، ملزمین ، مالیگاؤں کے بم دھماکےاوربہت سے لفٹننٹ کرنل پروہت بھی یاد آئے اور چے گویرا بھی بہت یاد آیا۔
ارنسٹوگویراعرف چے ارجنٹائنا کے ایک خوشحال گھرانے کاچشم وچراغ تھا۔بچپن سے کھیل کود کا دلدادہ، نوجوانی آتے آتے بہترین ایتھلیٹ اورشطرنج کاماہرکھلاڑی بن چکاتھا۔ اسی کے ساتھ وہ کتابوں کابھی رسیا تھا، خوش قسمتی سے اس کے گھر میں 3000 سے زائدکتابوں کا ذخیرہ موجود تھا، جس سے اس نے اپنے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔وہ بنیادی طور پر میڈیکل کا طالب علم تھا، تعلیمی کیرئر کے دوران ہی اس کے اندر سیاحت کا شوق پیدا ہوا،اور 1950 سے 1953ء تک اس نے جنوبی امریکہ کے ملکوں کی تین بار سیاحت کی ، جس میں پہلے1950 میں اس نے سائیکل پر تنہا4500 کلومیٹر کا سفر براعظم کے جنوب سےشمال کی جانب طے کیا۔ دوسرا سفر اس نے 1951میں موٹر سائیکل پر طے کیا۔جو تقریباًدگنا لمبا یعنی8000 کلومیٹر تھا۔ تیسرا سفر اس نے 1953 میں کیا– تینوں بار اس نےچلی ،پیرو ، ایکواڈور ، کولمبیا ، وینیزویلا ، پانامہ ، برازیل ، بولیویا اور کیوبا جیسے ممالک اور ان کے عوام کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا۔ کیوبا کے انقلاب کے بانیوں میں شامل چے کوان ملکوں کی غربت، بھوک اور بیماری نے اس قدرمتأثر کیاکہ اس نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے حکمرانوں کےاستحصال سے جنوبی امریکی ممالک کونجات دلانے کے لیے اپنی بقیہ زندگی وقف کردی۔
گوئٹے مالا کے صدر جیکبو آربینز نے جب امریکی یونائیٹڈ فروٹ کمپنیکو قومی ملکیت میں لیا اور دیگر سماجی اصلاحات کیں تو سی آئی اے نے ان کا تختہ الٹ دیا اور جیکبو کو قتل کروا دیا۔ ویسے تو یہی وہ واقعہ تھاجس نے امریکی سامراج اور سرمایہ دارانہ نظام سے اس کے ذہن میں نفرت پیدا کردی لیکن دراصل یہ نفرت اس کےدل ودماغ میں برسوں سے پل رہی تھی جواس نازک لمحہ میں ایک بڑے جسارت مندانہ فیصلہ کی صورت میں سامنے آئی۔ اس نےمیکسیکو شہر میں راول کاسترو اور فیڈل کاسترو سے ملاقات کی۔ اس کے بعد کیوبا کی امریکی نواز فل جینی شیئو بیتیستا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ٹھانی۔ چےگویرا نےانقلاب کے بعد کیوباکی انقلابی حکومت میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی اصلاحات کو منظم کیا،ملک کاوزیرصنعت رہا۔تعلیم کے نظام میں جوہری تبدیلی کا محرک بنا،ملک بھر میں تعلیم کے شعبے میں چلائی جانےوالی مہم میں حصہ لیا۔ کیوبا کے نیشنل بینک کا صدر اور کیوبا کی فوج کا انسٹرکشنل ڈائریکٹر رہا، اورکیوبا کی سوشلسٹ حکومت کی بیرون ملک نمایندگی بھی کی۔'' بے آف پگز''کی لڑائی میں امریکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کرنے والی ملیشیا کی مرکزی تربیت کرنے کا کردار چے نے ہی ادا کیاتھا اور 1962 میں کیوبن میزائل بحران کو حل کرنےمیں بھی اس کااہم کردار تھا۔ وہ ایک سیاسی مصنف اور ڈائری لکھنے کے ماہرکی حیثیت سے بھی جانا جاتاہے۔ گوریلا جنگ کےماہر کی حیثیت بھی اس نے غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ سامراج، سرمایہ داری، اجارہ داری اور جدید نو آبادیاتی استحصال کے خلاف جدوجہدکی وہ ایک سب سے بڑی اورسب سے مضبوط علامت ہے۔
1965 میں چے نےعالمی انقلاب کے لیے کیوبا کو چھوڑ دیا۔پھر وہ کانگو، کنشاسہ اور بعد ازاں بولیویا میں گوریلا جنگ لڑتارہا۔ وہیں امریکی ایجنسی سی آئی اے نے ایک مذموم سازش کے تحت اسے قتل کیا۔ جب وہ مر رہا تھاتو زور سے چیختے ہوئے کہا تھا کہ بزدلو دیکھو میں کس بہادری سے مر رہا ہوں۔ اس کو مارنے کے بعد اس کے دونوں ہاتھکاٹ دیے گئے اور اسے زمین میں دبا دیا گیا۔ ارجنٹینا، کیوبا اور بولیویا کی حکومتوں نےاس کا جسد خاکی (ڈھانچہ) 30 برس تک تلاش کیااورتیس سال کے بعد کیوبا کے دارالخلافہ ہواناکے چوراہے پر اس کے باقیات کو دفنایا گیاجہاں اب چے کا دیو قامت مجسمہ کھڑاہے جس کے ہاتھ میں بندوق تھمائی ہوئی ہے۔
8؍اکتوبر1967ء کوسی آئی اے کی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے 'یورو روائن'کے علاقے میں واقع چے گویرا کےگوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیاتھا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے 'لا ہیگویرا'میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔پہلے سی آئی اے نے اسے اذیتیں دیں۔پھراگلے دن دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر چے کو گولی مار دی گئی۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ''کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟''، چے نے جواب دیا ''نہیں! میں انقلاب کی لا فانیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں''۔چے گویرا کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے ''میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ گولی چلاؤ بزدلو!تم صرف ایک انسان کی جان لے رہے ہو!''۔
ہر بڑے انقلابی کی طرح چے گویراکی شخصیت، کردار اور زندگی کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے اصلاح پسند''دانشوروں'' نے بھی کردار کشی کی ان بھونڈی کوششوں میں برابر کے شریک تھے۔دیناکی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلاواقعہ نہیں تھا۔ استحصالی طبقات ہربار انقلابیوں پروحشی کتوں کی طرح ٹوٹ پڑنے کو دوڑتے ہیں،ان کے نظریات کو انتہائی غلاظت اور گندگی میں لتھاڑکر پیش کیا جاتا ہے،بدترین بہتانوں اورذلت آمیز دشنام طرازی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاجاتاہے۔اور جب یہ مرجاتے ہیں توکوششیں شروع کر دی جاتی ہیں کہ ان کو ایک بے ضررقسم کا انسان بنا کر پیش کیاجائے،ان کے بارے اور ان کے حوالے سے اس قسم کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اوران کو کیا سے کیا بناکے پیش کیا جاتا ہے اور وہ بھی اس انداز میں کہ وہ انسان نہیںکچھ اور شے تھے لیکن چے اپنی موت کے بعد سوشلسٹ انقلابی تحریکوں کاہیرو اور جدیدپاپ کلچر کا نمائندہ بن گیا ۔البرٹو کورڈا کے بنائےہوئے چے کے فوٹونے ببے پناہ شہرت و مقبولیت پائی اور دنیا بھر میں ٹی شرٹوں،احتجاجی بینروں پر یہ فوٹو نمایاں ہوتاجارہاہے اور یوں چے گویرا ہمارے عہدکا معتبر و معروف انسان بن چکاہے۔چے گویراکی موت نے ثابت کیا ہے کہ 'انقلاب'آسانی نہیں مرتا اور خون اپنے قاتلوں کا تعاقب کرتاہے۔ |
اسلام آباد ہویائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز،ٹاس رپورٹ،لائیو اپ ڈیٹ | پاکستان ٹرائب اردو
اسلام آباد ہویائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز،ٹاس رپورٹ،لائیو اپ ڈیٹ
دبئی:پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے جانےوالے اہم میچ میں بارش کی وجہ سے ٹاس نہیں کیا جا سکا۔
پاکستان ٹرائب ڈاٹ کام اسپورٹس ڈیسک کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے مابین کھیلے جانے والے میچ کے آغاز کے لیے بارش کے تھمنے کا انتظارکیا جا رہا ہے جب کہ بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
یاد رہے پی ایس ایل میں آج ایونٹ کا اہم میچ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین کھیلا جائے گا کیونکہ کراچی کنگز ہار یا جیت دونوں صورت میں ہی ایونٹ میں آگے جا سکتی ہے لیکن بری طرح ہارنے کے باعث لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف کیلئے کوالیفائی کر سکتی ہے۔
ایونٹ میں پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں پہلے ہی پلے آف راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کر چکی ہیں جبکہ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں نے 3,3 میچ جیت رکھے ہیں۔
گزشتہ روز سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز کو چت کرنے والی کراچی کنگز کی ٹیم کی اوسط بھی بہتر ہوئی جس کے باعث پوائنٹس ٹیبل پر وہ لاہور قلندرز سے آگے نکل چکی ہے تاہم اس کے باوجود بھی پلے آف کیلئے کوالیفائی نہیں کر پائی۔
کراچی کنگز کی ٹیم اگر آج اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ میں فتح سے ہمکنار ہوتی ہے تو یقینی طور پر اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے گی البتہ اگر اسلام آباد کی ٹیم میچ میں 150 رنز بنا کر میچ میں 15 رنز سے فتح حاصل کرتی ہے تو کراچی کی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو جائے گی جبکہ 150 رنز کے ہدف کا حصول 18.2 اوورز میں ہوا تو بھی لاہور قلندرز آگے چلی جائے گی۔ |
یہ سب کچھ تو ہیں، مگرنہیں انسان | قندیل
یہ سب کچھ تو ہیں، مگرنہیں انسان
قندیل نومبر 8, 2018 نومبر 8, 2018 0 تبصرے
یوگی آدتیہ ناتھ اور نریندر مودی نے اردو کا ایک مشہور فقرہ دیوالی کے دن استعمال کیا ،مگر بھول گئے کہ یہ اردو میں استعمال ہوتا ہے ،جسے ہندی والے بھی استعمال کرنے لگے ہیں، یوگی نے مغل سرائے کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے اور الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھ دیا ہے، جبکہ گجرات کے نریندر مودی احمد آباد کانام 'کروناوتی' رکھنا چاہ رہے ہیں۔
یوگی نے فیض آباد کا نام اجودھیا رکھنے کی تجویز بھی دی ہے، اس طرح یہ دونوں مسلم اور اردو ناموں کے پیچھے دیوانے ہوگئے ہیں،انسان کو مخالفت کیسے پاگل بنا دیتی ہے ،کوئی ان دونوں سے سیکھے، ہر وہ چیز جو اردو یا عربی یا مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے ،ان دونوں کو ناپسند ہے، مگر گزشتہ روز (7نومبر) اجودھیامیں یوگی آدتیہ ناتھ نے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ''رام مندر ہم ہندوؤں کے لیے آن بان شان ہے''۔ اسی طرح فوجیوں کے ساتھ دیوالی مناتے ہوئے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی جی نے کہاکہ'' فوج ہماری آن بان شان ہے''۔
ہندی میں بہت سے الفاظ، جو اردو، عربی اور فارسی زبان کے ہیں، استعمال ہوتے ہیں،اب ان دونوں کو چاہیے کہ ان سب کو ہندی سے الگ کر دیں؛ تاکہ ان کی نفرت کی پیاس بجھے اور ان کا کھانا ہضم ہو، ان کی پارٹی میں کچھ لوگ ہیں ،جو مسلمانوں جیسا نام رکھے ہوئے ہیں، جیسے شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی اور مبشر جاوید اکبر، ان تینوں کے نام بھی جس قدر جلدی ہو بدل دینا چاہیے، سید شاہنواز کا نام گھنشیام اور اکبر کا نام پریاگ اور مختار عباس نقوی کو پرساد کردیں ؛کیونکہ ان کے ناموں میں مسلمانیت اور اردو کا شبہ ہوتا ہے۔
مسلمانوں میں اس کے لیے بے چینی نہیں ہے ،جس قدر چاہیں وہ ناموں کو تبدیل کرتے رہیں، اب ان دونوں کے پاس وقت بھی کم ہے؛ کیونکہ ضمنی انتخابات کے نتائج آرہے ہیں ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آن بان شان والے زیادہ دنوں کے مہمان نہیں ہیں، ان کی پارٹی میں بھی اب چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں، جو لوگ پارٹی میں رہ کر باغی ہوگئے ہیں، اب ان کوبھی یہ نکالنے سے رہے۔
یشونت سنہا مودی اور بی جے پی دونوں کے خلاف ہوگئے ہیں،انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار سال پہلے میں نے انتخابی سیاست کو خیر باد کہہ دیا ہے، شتروگھن سنہا نے ساتھ آر جے ڈی اور کانگریس کے جلسہ عام میں پٹنہ میں شرکت بھی کی ہے، ان سب کے باوجود راجستھان یونٹ کے سوشل میڈیا انچارج ہریندر کوشک نے یشونت سنہا کے یوم پیدائش پر مبارکباد دی اور ان کی اچھی صحت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہے، راجستھان میں بی جے پی کی حالت خراب بھی ہے۔
ماہ نامہ ''برہان'' کے ایڈیٹر سعید احمد اکبر آبادی نے کلکتہ کا ایک واقعہ لکھا تھا کہ جب وہ کلکتہ مدرسہ کے پرنسپل تھے، ایک شخص بہتوں کی مخالفت کرتا تھا اور ہر وقت مخالفت میں اپنا منہ کھولے رکھتا تھا، وہ کہتے ہیں کہ کتاب کی ایک دکان میں وہ اکثر آتا تھا، وہ بھی کبھی کبھی وہاں جایا کرتے تھے، ایک دو سال کے بعد وہ پاگل جیسا ہوگیا ،تو اندازہ ہوا کہ حد سے زیادہ مخالفت انسان کو پاگل بنا دیتی ہے، اب یہ دونوں اس قدر اردو، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوگئے ہیں کہ عین ممکن ہے جلدہی ان کا توازن بھی بگڑ جائے ۔
انگریزی روزنامہ' 'دی ٹیلیگراف' 'نے آج اپنی خبر میں تبصرہ کیا ہے کہ ''آن بان شان'' دونوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا؛ کیونکہ یہ اردو فارسی اور عربی کے الفاظ ہیں، میرے خیال سے تہبند اور علی گڑھ پائجامہ بھی مسلم کلچر ہی کی نشانی ہے، یوگی تہبند پہنتے ہیں اور مودی جی پائجامہ، نہ جانے کب یہ دونوں دھوتی پہننا شروع کریں گے، ہندی اور انگریزی کے اخبارات کو دونوں کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرانا چاہیے، دونوں میں بہت سی مشابہت بھی ہے، مگر لباس الگ الگ ہے،دھوتی پہننے سے مشابہت ہوجائے گی اور ہندو کلچر اور ہندو سنسکرتی کا بھی مظاہرہ اور تحفظ ہوگا۔ |
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو بہن آصفہ ان کی آواز بنیں گی – خبر آپ کی انتخاب ہمارا
پیر , 10 مئی , 2021ء
مغربی بلوچستان میں فائرنگ سے ایک اور بلوچ نوجوان جاں بحق گوادر:تاجربرادری کالاک ڈاؤن میں نرمی کے لیےڈی سی ۤآفس کے سامنے دھرنا بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی دیگر خوشیوں سے بڑھ کر ہوتی ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وڈھ ، ٹریفک حادثے میں نوجوان جاں بحق دو افراد زخمی کوئٹہ:ہلکی بارش سے مو سم خوشگوارہو گیا کابل دھماکہ:ہمسایہ ممالک کی مداخلت روکے بغیر دہشتگردی کو روکنا ناممکن ہے،پشتونخوامیپ وسائل سے مالا مال بلوچستان و سندھ کو غذائی بحران کا سامنا ہے، ثنابلوچ پنجگور، گھرمیں آتشزدگی ، چھہ سالہ بچہ جاں بحق لورلائی: دوگروہوں میں تصادم، 2افراد جاں بحق عید کے موقع پر اسلحہ نماکھلونوں کی فروخت پر پابندی لگائی جائے، مابت کاکا زہری:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنمازخمی سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے:رمضان المبارک میں بزدلانہ کارروائیاں امن وامان کو متاثرنہیں کرسکتیں،گہرام بگٹی ایف سی اہلکاروں پر حملہ تکلیف دہ، اداروں کے حوصلے پست نہیں ہوسکتے، نوابزادہ جمال رئیسانی لاک ڈاؤن، تاجروں کی مشکلات پر وفاق سے بات کرینگے، زمرک اچکزئی نااہل اور سلیکٹڈ حکومت ہی بحرانی صورتحال کے ذمہ دار ہے، مولانا واسع
کتاب: افریقہ کے بلوچ
پاکستانی قیادت کیا دے کر آ رہی ہے
ملکہ برطانیہ کے کزن پر پیسوں کے عوض روسی صدر تک رسائی کی پیش کش کے الزامات
صدرعارف علوی سے گورنربلوچستان کی ملاقات
اسلام آباد خاتون سے زیادتی کرنے والے ٹیکسی ڈرائیور باپ بیٹا گرفتار
غلام نبی میمن کو کراچی پولیس چیف کے عہدے سے ہٹادیا گیا
پولیس موبائل پر حملے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردی ہے، ڈی سی مستونگ
مودی نے پاکستان سے آکسیجن در آمد کرنے کی درخواست مسترد کردی
سرکاری نرخوں پر اشیاء ضروریہ کی فراہمی بلوچستان اور سندھ کی کارکردگی بری
بھارت میں کورونا وبا کی بگڑتی ہوئی صورتحال دل دہلادینے والی ہے' امریکی نائب صدر
این سی او سی نے کورونا میں مبتلا 24 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات شروع کردیں
گرفتاری کے وقت مسکرانے والی فلسطینی لڑکی مریم کی ویڈیو وائرل
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو بہن آصفہ ان کی آواز بنیں گی
شیئر کریں فروری 13, 2020 فروری 13, 2020 0 تبصرے
حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی 'گیدڑ بھبکیوں' میں نہیں آئیں گے اور اگر اُنہیں کسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری ان کی آواز ہوں گی۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی 'غیر قانونی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے'۔
جمعرات کو قومی احتساب بیورو میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے جب کراچی میں اعلان کیا کہ اگلے مہینے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی اور موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے تو فوری طور پر اُنھیں نیب میں پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کر دیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ جعلی بینک اکاونٹس کے مقدمے میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اُنھیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کو اس مقدمے میں شامل کرنے پر اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی سرزنش کی تھی اور جے آئی ٹی کے وکیل نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اس مقدمے کی تفتیش میں اُنھیں (بلاول) کو شامل نہیں کرنا چاہیے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کا چیف جسٹس انھیں بےگناہ قرار دے رہا ہے تو پھر اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ اُنھیں اس مقدمے میں کیوں بلایا جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر زرداری گروپ کی کسی دوسرے گروپ کے ساتھ کوئی کاروباری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور یہ دونوں گروپس کا نجی معاملہ ہے تو اس میں نیب کا ملوث ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ |
کرونا ویکسین، آکسفورڈ اور سعودی عرب تعاون - منصور ندیم - Daanish.pk دانش
کرونا ویکسین، آکسفورڈ اور سعودی عرب تعاون — منصور ندیم
By منصور ندیم on اگست 21, 2020 بلاگز, تازہ ترین
پچھلے ماہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے بنائی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزاء آئے تھے۔ یہ بظاہر محفوظ اور انسانی جسم کی مدافعت کے نظام کو بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرونا وائرس کی کاوش میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی نے باہمی تعاون کے ذریعے نئے کورونا وائرس کے اس نئے اور موثرعلاج پر کام کیا ہے، دونوں جامعات نے کووڈ 19 کی کئی موثر دوائیں تیار کرنے کے لیے مشترکہ کلینکل ٹرائلز سٹڈیز بھی کی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کووڈ 19 ویکسین کی تیاری اور اس پر میڈیکل ریسرچ کے سلسلے میں دنیا بھر میں معروف ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن الیوبی کی ہدایت پر دونوں یونیورسٹیوں نے نئے کورونا وائرس تحقیق پر تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ ریسرچ میں شرکت کرنے والی پہلی سعودی اور عرب یونیورسٹی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ 'ملک عبدالعزیز یونیورسٹی عرب دنیا میں سائنسی اور میڈیکل ریسرچ کرنے والی نمایاں ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ یہ کووڈ 19 کےعلاج پر ریسرچ میں آکسفورڈ کے بڑے سائنسدانوں کے ساتھ تعاون کرے گی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان سائنسی تعاون کی قیادت آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کرسٹوفر ایسکوفیلڈ اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں جینیات کے معاون پروفیسر ڈاکٹر ھانی چوہدری کریں گے۔ اس کے علاوہ ادویہ، بائیولوجی، میڈیسن اور وائرس کے امور کے ماہر آکسفورڈ اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے پروفیسر بھی اس میں حصہ لیں گے۔
اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت دسمبر 2019 کے بعد سے کورونا وائرس کی وبا پر مسلسل ریسرچ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جو کورونا وائرس سے متعلق عارضی ہیلتھ گائیڈ بک جاری کی ہے جو دنیا بھر کے سکالرز کی ریسرچ کا مجموعہ ہے۔ اس میں برطانوی جامعات میں پی ایچ ڈی کے سعودی سکالرز کی ریسرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے گائیڈ بک میں دنیا کے مختلف ممالک سے 211 تحقیقی مقالے جمع کیے ہیں۔ ان میں سعودی سکالرز کی ریسرچ کا نمبر سولہواں ہے۔ لندن کالج میں میڈیسن کے سعودی سکالر جابر القحطانی کا مقالہ 211 تحقیقی مقالوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ کورونا سے متعلق 20 ہزار سے زیادہ تحقیقی مضامین پیش کیے گئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے 3 سائنسی رپورٹوں میں سے جابر القحطانی کے تحقیقی مقالے کے نتائج کو بنیاد بنایا ہے۔
مسلم دنیا میں سعودی اسکالر جابر القحطانی کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ان کی ریسرچ کو آگے بڑھایا ہے۔ اعزاز کی بات یہ بھی ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے مقرر قواعد و ضوابط کے عالمی ماہرین نے اس مقالے کو سراہا ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کے سکالرز نے جابر القحطانی کی قیادت میں جو تحقیقی مقالہ تیار کیا اس کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سے سگریٹ نوشوں اور پھیپھڑے کے لاعلاج امراض میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کا تناسب کتنا ہے؟
جابر القحطانی کے ساتھ مزید سعودی اسکالرز عبداللہ الشہرانی، ماطر محمد المحمادی، سعید الغامدی، عبداللہ القحطانی کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہر برطانوی سکالرز بھی شریک رہے تھے۔
'اس ریسرچ کا بنیادی مقصد یہ جاننا اور سمجھانا تھا کہ سگریٹ نوشی کی لمبی تاریخ رکھنے والوں اور پھیپھڑے کے مریضوں پر کووڈ 19 کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جدید ترین طور طریقے آزمائے گئے۔' جابر القحطانی کی ٹیم نے 130 تحقیقی مقالوں کے مطالعہ کی مدد سے یہ مقالہ تیار کیا، 15 تحقیقی مقالوں کے نتائج سکالرز کے نتائج کے مطابق پائے گئے۔ جبکہ 2473 مریضوں پر آزمائشی ضوابط استعمال کیے گئے۔
بلاشبہ سعودی عرب نے اس عالمی وباء کرونا کے مقابلے میں نہ صرف صرف پوری دنیا میں امدادی کارروائیاں بلکہ طبی ریسرچ پر بھی عملی طور پر کام کیا ہے۔ |
پیپلز پارٹی کا کراچی میں ترقیاتی کام محض 'سیاسی پوائنٹ سکورنگ'؟ | Urdu News – اردو نیوز
پیپلز پارٹی کا کراچی میں ترقیاتی کام محض 'سیاسی پوائنٹ سکورنگ'؟
جمعرات 12 اگست 2021 10:26
وسیم اختر کا کہنا ہے کہ 'پیپلز پارٹی والے اتنے ہی مستعد تھے تو میری سبکدوشی کے بعد سال بھر میں کوئی ترقی یا تبدیلی کیوں نہ لے آئے۔' (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مرتضیٰ وہاب بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی عہدہ سنبھالنے کے بعد روزانہ ہی کسی نئے کام کا افتتاح یا کسی پراجیکٹ کی تکمیل کا اعلان کر رہے ہیں، جسے کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے'سیاسی پوائنٹ سکورنگ' قرار دیا ہے۔
وسیم اختر کا کہنا ہے کہ 'پیپلز پارٹی والے اتنے ہی مستعد تھے تو میری سبکدوشی کے بعد سال بھر میں کوئی ترقی یا تبدیلی کیوں نہ لے آئے۔'
Node ID: 588901
Node ID: 589311
واضح رہے کہ الیکشن کے ذریعے بلدیاتی حکومت کی معیاد گذشتہ سال ختم ہونے کے بعد سے صوبائی حکومت ایڈمنسٹریٹرز تعینات کر کے شہر کا انتظام چلا رہی ہے۔ عموماً تمام ایڈمنسٹریٹرز ڈپٹی کمشنر کی سطح کے حکومتی افسران ہوتے ہیں، تاہم حال ہی میں سندھ حکومت نے اپنے ترجمان اور وزیرِاعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا ہے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مرتضیٰ وہاب روزانہ کسی نئے پراجیکٹ کا افتتاح یا اس کی تکمیل کا اعلان کرتے اور شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرتے نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے ان کی جانب سے متعدد ویڈیوز بھی عوام کے لیے شیئر کی جاتی ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں جاری کردہ ان ویڈیوز میں کبھی اولڈ سٹی ایریا میں سڑکوں کی کارپٹنگ، کبھی عائشہ منزل میں اربن فاریسٹ، سی ویو اور منوڑہ کی ساحلی پٹی پر ترقیاتی کام تو کبھی سڑکوں کی مرمت اور سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے کام کی تشہیر کی جاتی ہے۔
سابق میئر کراچی وسیم اختر نے اردو نیوز کو بتایا کہ کسی بھی ترقیاتی پراجیکٹ کو شروع کرنے سے پہلے اس کا بجٹ اور پی سی ون منظور کرنے میں ہی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ سو اگر کوئی بھی پراجیکٹ اب مکمل ہو رہا ہے، سو اس کا واضح مطلب ہے کہ اس کی منصوبہ بندی سال پہلے کی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے یہ اقدامات عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مرتضیٰ وہاب روزانہ کسی نئے پراجیکٹ کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں۔ (فائل فوٹو: مرتضیٰ وہاب فیس بک)
'ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے ابھی اچانک سے پیپلز پارٹی نے شہر کی باگ ڈور سنبھالی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ 12 برسوں سے تمام تر اختیارات پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔' وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ان کے چار سالہ دور کے دوران پیپلز پارٹی نے تمام پراجیکٹس کے بجٹ روکے رکھے اور کسی بھی قسم کے اختیارات میئر کو منتقل نہیں کیے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تو صوبائی حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور ایڈمنسٹریٹر بھی انہی کا ہے، تو کیا ایسے میں اس بات کا زیادہ امکان نہیں کہ پیپلز پارٹی بہتر طریقے سے شہر کی نظامت کر سکے کی، تو وسیم اختر کا کہنا تھا کہ 'یہاں نیت کا فقدان ہے۔'
'پیپلز پارٹی کی سندھ میں کام کرنے کی نیت ہی نہیں، اگر یہ لوگ سندھ سے مخلص ہوتے تو لاڑکانہ، سیہون اور دیگر شہروں میں ہی ترقیاتی کام کروا لیتے، وہاں تو سالہا سال سے ہر سطح پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، پھر بھی وہ شہر شدید پسماندگی کا شکار ہیں، لہٰذا کراچی کے لیے بھی ان سے کچھ توقع رکھنا بے کار ہے۔'
الیکشن کے ذریعے بلدیاتی حکومت کی معیاد گذشتہ سال ختم ہونے کے بعد سے سندھ حکومت انتظام چلا رہی ہے۔ (فائل فوٹو: ان سپلیش)
کراچی کے شہریوں کی دوسری نمائندہ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی بھی شہر میں عوامی نمائندوں کے بجائے صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی پر تحفظات رکھتی ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک آمرانہ اقدام ہے کہ ایک ایسی پارٹی جس کا شہر میں مینڈیٹ نہیں، وہ سیاسی بنیادوں پر اپنے منظورِ نظر ایسے افراد کو شہر کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کر رہی ہے جو یہاں سے جنرل الیکشن بھی نہیں جیت سکا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کراچی کو وڈیرہ شاہی کے طریقے سے چلانا چاہتی ہے اور سیاسی وابستگی والے فرد کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کر کے سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کو ملتوی اور ان کے نتائج پر اثر انداز ہونے کا پلان بنا چکی ہے۔
واضح رہے کہ مرتضیٰ وہاب نے 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 111 کے لیے کراچی کے علاقے کلفٹن سے انتخاب لڑا تھا تاہم ووٹ ڈالنے کے تناسب کے حساب سے ان کا امیدواروں میں پانچواں نمبر رہا۔
بعد ازاں پیپلز پارٹی نے انہیں صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیرِاعلیٰ کے مشیر کا قلمدان سونپ دیا تھا، جو تاحال ان کے پاس ہے۔ اب انہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی اضافی ذمہ داری بھی دے دی گئی ہے۔ |
ثقافت اسلامی رہبر معظم کی نظر میں | welayatnet.com
ہم تہذیب و ثقافت کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ ثقافت یعنی ایک معاشرے اور ایک قوم کی اپنی خصوصیات اور عادات و اطوار، اس کا طرز فکر، اس کا دینی نظریہ، اس کے اہداف و مقاصد، یہی چیزیں ملک کی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو شجاع و غیور اور خود مختار بنا دیتی ہیں اور ان کا فقدان قوم کو بزدل اور حقیر بنا دیتا ہے۔
تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکیں گی اور وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔
ثقافت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ ان امور اور مسائل سے تعلق رکھتا ہے جو ظاہر و آشکار ہیں اور نگاہیں انہیں دیکھ سکتی ہیں۔ ان امور کا قوم کے مستقبل اور تقدیر میں بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ البتہ اس کے اثرات دراز مدت میں سامنے آتے ہیں۔ یہ امور قوم کی اہم منصوبہ بندیوں میں موثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر لباس کیسا ہو، کیسے پہنا جائے اور بدن ڈھانکنے کا کون سا انداز نمونہ عمل قرار دیا جائے؟ یہ چیزیں تہذیب کے ظاہر و آشکار امور میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح کسی علاقے میں معماری کا انداز کیا ہے؟ گھر کس طرح بنائے جاتے ہیں، رہن سہن کا طریقہ کیا ہے؟ یہ سب معاشرے کی ظاہری ثقافت کا آئینہ ہے۔
عوامی ثقافت کا دوسرا حصہ جو پہلے حصے کی ہی مانند ایک قوم کی تقدیر طے کرنے میں موثر ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات فورا ظاہر ہو جاتے ہیں اور انہیں بآسانی محسوس بھی کیا جاتا ہے یعنی یہ ثقافتی امور خود تو نمایاں اور واضح نہیں ہیں لیکن ان کے اثرات معاشرے کی ترقی اور اس کی تقدیر کے تعین میں بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اخلاقیات ہیں، یعنی معاشرے کے افراد کی ذاتی اور سماجی زندگی کا طور طریقہ کیسا ہے؟
عوامی ثقافت میں انسان دوستی، مرد میداں ہونا، خود غرضی اور آرام طلبی سے دور ہونا، قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
بنابریں ثقافت معاشرے کے پیکر میں روح اور جان کا درجہ رکھتی ہے۔ قوموں پر تسلط اور غلبے کے لئے اغیار اپنی تہذیب و ثقافت کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں جو کوئی نیا طریقہ نہیں ہے بلکہ بہت پہلے سے یہ طریقہ چلا آ رہا ہے۔ البتہ پچھلے سو دو سو برسوں سے مغربی ممالک نے جدید وسائل کے استعمال سے اپنے تمام اقدامات کو بہت زیادہ منظم کر لیا ہے۔ اب وہ یہی کام پوری منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں اور وہ ان مقامات اور پہلوؤں کی نشاندہی کر چکے ہیں جہاں انہیں زیادہ کام کرنا ہے۔
دنیا کی تمام بیدار قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم نے اپنی ثقافت کو بیگانہ ثقافتوں کی یلغار کا نشانہ بننے اور تباہ و برباد ہونے دیا تو نابودی اس قوم کا مقدر بن جائے گی۔ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوا جس کی ثقافت غالب رہی ہے۔ تہذیب و ثقافت کا غلبہ بہت ممکن ہے کہ سیاسی، اقتصادی، اور فوجی غلبے کی مانند ہمہ گیر برتری کا پیش خیمہ ہو۔
ثقافتی تسلط، اقتصادی تسلط اور سیاسی تسلط سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر ایک قوم نے دوسری قوم پر ثقافتی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تو قومی تشخص پر سوالیہ نشان لگ جانے کے بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے جدا کر دیا جائے، ان افتخارات کو ذہنوں سے محو کر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تو وہ قوم اغیار کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اب یہ قوم زندگی سے محروم ہو چکی ہے۔ اب اس کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ کوئی عظیم شخصیت پیدا ہو جو اسے اس صورت حال سے باہر نکالے۔ |
اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راه دکھانے والی ہے۔ (2)
جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3)
والذين يؤمنون بما انزل إليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون
اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ (4)
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔ (5)
إن الذين كفروا سواء عليهم اانذرتهم ام لم تنذرهم لا يؤمنون
کافروں کو آپ کا ڈرانا، یا نہ ڈرانا برابر ہے، یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے۔ (6)
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿7﴾
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (7)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں۔ (8)
وه اللہ تعالیٰ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وه خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔ (9)
فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴿10﴾
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (10)
وإذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا إنما نحن مصلحون
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (11)
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ﴿12﴾
الا إنهم هم المفسدون ولكن لا يشعرون
خبردار ہو! یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں، لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے۔ (12)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ﴿13﴾
وإذا قيل لهم آمنوا كما آمن الناس قالوا انؤمن كما آمن السفهاء الا إنهم هم السفهاء ولكن لا يعلمون
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان ﻻئیں جیسا بیوقوف ﻻئے ہیں، خبردار ہوجاؤ! یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں۔ (13)
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ﴿14﴾
اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں۔ (14)
اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔ (15)
أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴿16﴾
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔ (16)
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے۔ (17)
بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وه نہیں لوٹتے۔ (18)
أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ﴿19﴾
او كصيب من السماء فيه ظلمات ورعد وبرق يجعلون اصابعهم في آذانهم من الصواعق حذر الموت والله محيط بالكافرين
یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرنے واﻻ ہے۔ (19)
يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿20﴾
يكاد البرق يخطف ابصارهم كلما اضاء لهم مشوا فيه وإذا اظلم عليهم قاموا ولو شاء الله لذهب بسمعهم وابصارهم إن الله على كل شيء قدير
قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اُچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو بیکار کردے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے۔ (20)
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ (21)
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿22﴾
جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ (22)
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿23﴾
وإن كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله إن كنتم صادقين
ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔ (23)
فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ﴿24﴾
پس اگر تم نے نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکتے تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ (24)
وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿25﴾
وبشر الذين آمنوا وعملوا الصالحات ان لهم جنات تجري من تحتها الانهار كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هذا الذي رزقنا من قبل واتوا به متشابها ولهم فيها ازواج مطهرة وهم فيها خالدون
اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کےنیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل ﻻئے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (25)
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ﴿26﴾
إن الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها فاما الذين آمنوا فيعلمون انه الحق من ربهم واما الذين كفروا فيقولون ماذا اراد الله بهذا مثلا يضل به كثيرا ويهدي به كثيرا وما يضل به إلا الفاسقين
یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔ (26)
الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴿27﴾
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (27)
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿28﴾
كيف تكفرون بالله وكنتم امواتا فاحياكم ثم يميتكم ثم يحييكم ثم إليه ترجعون
تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حاﻻنکہ تم مرده تھے اس نے تمہیں زنده کیا، پھر تمہیں مار ڈالے گا، پھر زنده کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (28)
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿29﴾
وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے۔ (29)
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿30﴾
وإذ قال ربك للملائكة إني جاعل في الارض خليفة قالوا اتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك قال إني اعلم ما لا تعلمون
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے واﻻ ہوں، تو انہوں نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح، حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (30)
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿31﴾
وعلم آدم الاسماء كلها ثم عرضهم على الملائكة فقال انبئوني باسماء هؤلاء إن كنتم صادقين
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ (31)
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴿32﴾
قالوا سبحانك لا علم لنا إلا ما علمتنا إنك انت العليم الحكيم
ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت واﻻ تو تو ہی ہے۔ (32)
قَالَ يَا آدَمُ أَنْبِئْهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴿33﴾
قال يا آدم انبئهم باسمائهم فلما انباهم باسمائهم قال الم اقل لكم إني اعلم غيب السماوات والارض واعلم ما تبدون وما كنتم تكتمون
اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ﴿علیہ السلام﴾ سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ (33)
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴿34﴾
وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس ابى واستكبر وكان من الكافرين
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا۔ (34)
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴿35﴾
اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے۔ (35)
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴿36﴾
فازلهما الشيطان عنها فاخرجهما مما كانا فيه وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الارض مستقر ومتاع إلى حين
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے۔ (36)
فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿37﴾
(حضرت) آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔ (37)
قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿38﴾
ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں۔ (38)
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿39﴾
والذين كفروا وكذبوا بآياتنا اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون
اور جو انکار کرکے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وه جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ (39)
يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واوفوا بعهدي اوف بعهدكم وإياي فارهبون
اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔ (40)
وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴿41﴾
وآمنوا بما انزلت مصدقا لما معكم ولا تكونوا اول كافر به ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا وإياي فاتقون
اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے تمہاری کتابوں کی تصدیق میں نازل فرمائی ہے اور اس کے ساتھ تم ہی پہلے کافر نہ بنو اور میری آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر نہ فروخت کرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ (41)
اور حق کو باطل کے ساتھ خَلط مَلط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے۔ (42)
واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة واركعوا مع الراكعين
اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (43)
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴿44﴾
کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟۔ (44)
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ﴿45﴾
اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ (45)
الذين يظنون انهم ملاقو ربهم وانهم إليه راجعون
جو جانتے ہیں کہ بے شک وه اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (46)
يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واني فضلتكم على العالمين
اے اوﻻد یعقوب! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ (47)
اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ ہی اس کی بابت کوئی سفارش قبول ہوگی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ وه مدد کئے جائیں گے۔ (48)
وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ﴿49﴾
وإذ نجيناكم من آل فرعون يسومونكم سوء العذاب يذبحون ابناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذلكم بلاء من ربكم عظيم
اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی۔ (49)
وإذ فرقنا بكم البحر فانجيناكم واغرقنا آل فرعون وانتم تنظرون
اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا چیر (پھاڑ) دیا اور تمہیں اس سے پار کردیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا۔ (50)
وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ﴿51﴾
وإذ واعدنا موسى اربعين ليلة ثم اتخذتم العجل من بعده وانتم ظالمون
اور ہم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے چالیس راتوں کا وعده کیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کردیا اور ﻇالم بن گئے۔ (51)
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿52﴾
لیکن ہم نے باوجود اس کے پھر بھی تمہیں معاف کردیا، تاکہ تم شکر کرو۔ (52)
اور ہم نے (حضرت) موسیٰ﴿علیہ السلام﴾ کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے۔ (53)
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿54﴾
وإذ قال موسى لقومه يا قوم إنكم ظلمتم انفسكم باتخاذكم العجل فتوبوا إلى بارئكم فاقتلوا انفسكم ذلكم خير لكم عند بارئكم فتاب عليكم إنه هو التواب الرحيم
جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (54)
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ﴿55﴾
وإذ قلتم يا موسى لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة فاخذتكم الصاعقة وانتم تنظرون
اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گری۔ (55)
لیکن پھر اس لئے کہ تم شکرگزاری کرو، اس موت کے بعد بھی ہم نے تمہیں زنده کردیا۔ (56)
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴿57﴾
اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزه چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہم پر ﻇلم نہیں کیا، البتہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔ (57)
وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ﴿58﴾
اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو اور زبان سے حِطّہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرمادیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیاده دیں گے۔ (58)
پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا۔ (59)
وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ﴿60﴾
وإذ استسقى موسى لقومه فقلنا اضرب بعصاك الحجر فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا قد علم كل اناس مشربهم كلوا واشربوا من رزق الله ولا تعثوا في الارض مفسدين
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ (60)
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نَصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ﴿61﴾
وإذ قلتم يا موسى لن نصبر على طعام واحد فادع لنا ربك يخرج لنا مما تنبت الارض من بقلها وقثائها وفومها وعدسها وبصلها قال اتستبدلون الذي هو ادنى بالذي هو خير اهبطوا مصرا فإن لكم ما سالتم وضربت عليهم الذلة والمسكنة وباءوا بغضب من الله ذلك بانهم كانوا يكفرون بآيات الله ويقتلون النبيين بغير الحق ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوسکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجیئے کہ وه ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے، آپ نے فرمایا، بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وه لوٹے یہ اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔ (61)
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿62﴾
إن الذين آمنوا والذين هادوا والنصارى والصابئين من آمن بالله واليوم الآخر وعمل صالحا فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون
مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ (62)
اور جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور پہاڑ ﻻکھڑا کردیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو۔ (63)
ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿64﴾
لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے۔ (64)
اور یقیناً تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے بھی کہہ دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔ (65)
اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنا دیا اور پرہیزگاروں کے لئے وعﻆ ونصیحت کا۔ (66)
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴿67﴾
وإذ قال موسى لقومه إن الله يامركم ان تذبحوا بقرة قالوا اتتخذنا هزوا قال اعوذ بالله ان اكون من الجاهلين
اور (حضرت) موسیٰ﴿علیہ السلام﴾ نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا ہم سے مذاق کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناه پکڑتا ہوں۔ (67)
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ﴿68﴾
انہوں نے کہا اے موسیٰ! دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت بیان کردے، آپ نے فرمایا سنو! وه گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ۔ (68)
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ﴿69﴾
وه پھر کہنے لگے کہ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ فرمایا وه کہتا ہے کہ وه گائے زرد رنگ کی ہے، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے واﻻ اس کا رنگ ہے۔ (69)
وه کہنے لگے کہ اپنے رب سے اور دعا کیجیئے کہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتلائے، اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے۔ (70)
قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ﴿71﴾
آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وه گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وه تندرست اور بےداغ ہے۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا گو وه حکم برداری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وه گائے ذبح کردی۔ (71)
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ﴿72﴾
وإذ قتلتم نفسا فاداراتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون
جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا۔ (72)
فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴿73﴾
ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو، (وه جی اٹھے گا) اسی طرح اللہ مردوں کو زنده کرکے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ (73)
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿74﴾
ثم قست قلوبكم من بعد ذلك فهي كالحجارة او اشد قسوة وإن من الحجارة لما يتفجر منه الانهار وإن منها لما يشقق فيخرج منه الماء وإن منها لما يهبط من خشية الله وما الله بغافل عما تعملون
پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیاده سخت ہوگئے، بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں، اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرگر پڑتے ہیں، اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو۔ (74)
(مسلمانو!) کیا تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ ایماندار بن جائیں، حاﻻنکہ ان میں ایسے لوگ بھی جو کلام اللہ کو سن کر، عقل وعلم والے ہوتے ہوئے، پھر بھی بدل ڈاﻻ کرتے ہیں۔ (75)
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴿76﴾
وإذا لقوا الذين آمنوا قالوا آمنا وإذا خلا بعضهم إلى بعض قالوا اتحدثونهم بما فتح الله عليكم ليحاجوكم به عند ربكم افلا تعقلون
جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ﻇاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وه باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھائی ہیں، کیا جانتے نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس تم پر ان کی حجت ہوجائے گی۔ (76)
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدگی اور ﻇاہرداری سب کو جانتا ہے؟۔ (77)
ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب إلا اماني وإن هم إلا يظنون
ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں کہ جو کتاب کے صرف ﻇاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں اور صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں۔ (78)
فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ﴿79﴾
ان لوگوں کے لئے "ویل" ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل (ہلاکت) اور افسوس ہے۔ (79)
وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴿80﴾
وقالوا لن تمسنا النار إلا اياما معدودة قل اتخذتم عند الله عهدا فلن يخلف الله عهده ام تقولون على الله ما لا تعلمون
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف چند روز جہنم میں رہیں گے، ان سے کہو کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی پروانہ ہے؟ اگر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرے گا، (ہرگز نہیں) بلکہ تم تو اللہ کے ذمے وه باتیں لگاتے ہو جنہیں تم نہیں جانتے۔ (80)
والذين آمنوا وعملوا الصالحات اولئك اصحاب الجنة هم فيها خالدون
اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں وه جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ (82)
وإذ اخذنا ميثاق بني إسرائيل لا تعبدون إلا الله وبالوالدين إحسانا وذي القربى واليتامى والمساكين وقولوا للناس حسنا واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة ثم توليتم إلا قليلا منكم وانتم معرضون
وإذ اخذنا ميثاقكم لا تسفكون دماءكم ولا تخرجون انفسكم من دياركم ثم اقررتم وانتم تشهدون
اورجب ہم نے تم سے وعده لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا (قتل نہ کرنا) اور آپس والوں کو جلا وطن نہ کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے۔ (84)
ثم انتم هؤلاء تقتلون انفسكم وتخرجون فريقا منكم من ديارهم تظاهرون عليهم بالإثم والعدوان وإن ياتوكم اسارى تفادوهم وهو محرم عليكم إخراجهم افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذلك منكم إلا خزي في الحياة الدنيا ويوم القيامة يردون إلى اشد العذاب وما الله بغافل عما تعملون
لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں۔ (85)
اولئك الذين اشتروا الحياة الدنيا بالآخرة فلا يخفف عنهم العذاب ولا هم ينصرون
ولقد آتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل وآتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون
ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے (حضرت) عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وه چیز ﻻئے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلادیا اور بعض کو قتل بھی کرڈاﻻ۔ (87)
یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نے ملعون کردیا ہے، ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے۔ (88)
اور ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کی کتاب کو سچا کرنے والی آئی، حاﻻنکہ پہلے یہ خود (اس کے ذریعہ) کافروں پر فتح چاہتے تھے تو باوجود آجانے اور باوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کافروں پر۔ (89)
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ﴿90﴾
بئسما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما انزل الله بغيا ان ينزل الله من فضله على من يشاء من عباده فباءوا بغضب على غضب وللكافرين عذاب مهين
بہت بری ہے وه چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈاﻻ، وه ان کا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بنده پر چاہا نازل فرمایا، اس کے باعﺚ یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے۔ (90)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿91﴾
وإذا قيل لهم آمنوا بما انزل الله قالوا نؤمن بما انزل علينا ويكفرون بما وراءه وهو الحق مصدقا لما معهم قل فلم تقتلون انبياء الله من قبل إن كنتم مؤمنين
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان ﻻؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حاﻻنکہ اس کے بعد والی کے ساتھ جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے، کفر کرتے ہیں، اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی کتابوں پر ہے تو پھر تم نے اگلے انبیا کو کیوں قتل کیا؟۔ (91)
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ﴿92﴾
تمہارے پاس تو موسیٰ یہی دلیلیں لے کر آئے لیکن تم نے پھر بھی بچھڑا پوجا تم ہو ہی ﻇالم۔ (92)
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿93﴾
وإذ اخذنا ميثاقكم ورفعنا فوقكم الطور خذوا ما آتيناكم بقوة واسمعوا قالوا سمعنا وعصينا واشربوا في قلوبهم العجل بكفرهم قل بئسما يامركم به إيمانكم إن كنتم مؤمنين
جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور کو کھڑا کردیا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور سنو! تو انہوں نے کہا، ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت (گویا) پلا دی گئی بسبب ان کے کفر کے۔ ان سے کہہ دیجیئے کہ تمہارا ایمان تمہیں برا حکم دے رہا ہے، اگر تم مومن ہو۔ (93)
آپ کہہ دیجیئے کہ اگر آخرت کا گھر صرف تمہارے ہی لئے ہے، اللہ کے نزدیک اور کسی کے لئے نہیں، تو آو اپنی سچائی کے ﺛبوت میں موت طلب کرو۔ (94)
وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴿95﴾
لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔ (95)
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴿96﴾
ولتجدنهم احرص الناس على حياة ومن الذين اشركوا يود احدهم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر والله بصير بما يعملون
بلکہ سب سے زیاده دنیا کی زندگی کا حریص اے نبی! آپ انہیں کو پائیں گے۔ یہ حرص زندگی میں مشرکوں سے بھی زیاده ہیں ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے، گویا یہ عمر دیا جانا بھی انہیں عذاب سے نہیں چھڑا سکتا، اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کو بخوبی دیکھ رہا ہے۔ (96)
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴿97﴾
(اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ اتارا ہے، جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے واﻻ ہے۔ (97)
(تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے) جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے۔ (98)
وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ﴿99﴾
ولقد انزلنا إليك آيات بينات وما يكفر بها إلا الفاسقون
اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا۔ (99)
أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴿100﴾
یہ لوگ جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں توان کی ایک نہ ایک جماعت اسے توڑ دیتی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔ (100)
جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے۔ (101)
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴿102﴾
واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر وما انزل على الملكين ببابل هاروت وماروت وما يعلمان من احد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء وزوجه وما هم بضارين به من احد إلا بإذن الله ويتعلمون ما يضرهم ولا ينفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ما له في الآخرة من خلاق ولبئس ما شروا به انفسهم لو كانوا يعلمون
اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔ (102)
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴿103﴾
اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین ﺛواب انہیں ملتا، اگر یہ جانتے ہوتے۔ (103)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿104﴾
يا ايها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب اليم
اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) "راعنا" نہ کہا کرو، بلکہ "انظرنا" کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (104)
مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴿105﴾
نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو (ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے۔ (105)
مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿106﴾
ما ننسخ من آية او ننسها نات بخير منها او مثلها الم تعلم ان الله على كل شيء قدير
جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (106)
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿107﴾
کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (107)
أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴿108﴾
ام تريدون ان تسالوا رسولكم كما سئل موسى من قبل ومن يتبدل الكفر بالإيمان فقد ضل سواء السبيل
کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے پوچھا گیا تھا؟ (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے۔ (108)
وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿109﴾
ود كثير من اهل الكتاب لو يردونكم من بعد إيمانكم كفارا حسدا من عند انفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى ياتي الله بامره إن الله على كل شيء قدير
ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (109)
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿110﴾
واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وما تقدموا لانفسكم من خير تجدوه عند الله إن الله بما تعملون بصير
تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ (110)
وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿111﴾
وقالوا لن يدخل الجنة إلا من كان هودا او نصارى تلك امانيهم قل هاتوا برهانكم إن كنتم صادقين
یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو۔ (111)
بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿112﴾
سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔ (112)
وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ﴿113﴾
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حاﻻنکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کردے گا۔ (113)
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴿114﴾
ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها اولئك ما كان لهم ان يدخلوها إلا خائفين لهم في الدنيا خزي ولهم في الآخرة عذاب عظيم
اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے اس میں جانا چاہیئے، ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔ (114)
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿115﴾
اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے۔ (115)
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ﴿116﴾
وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه بل له ما في السماوات والارض كل له قانتون
یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اوﻻد ہے، (نہیں بلکہ) وه پاک ہے زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کافرمانبردار ہے۔ (116)
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴿117﴾
بديع السماوات والارض وإذا قضى امرا فإنما يقول له كن فيكون
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے۔ (117)
وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴿118﴾
وقال الذين لا يعلمون لولا يكلمنا الله او تاتينا آية كذلك قال الذين من قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم قد بينا الآيات لقوم يوقنون
اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی، ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کردیں۔ (118)
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ﴿119﴾
إنا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسال عن اصحاب الجحيم
ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی۔ (119)
وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴿120﴾
ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم قل إن هدى الله هو الهدى ولئن اتبعت اهواءهم بعد الذي جاءك من العلم ما لك من الله من ولي ولا نصير
آپ سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آجانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اورنہ مددگار۔ (120)
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴿121﴾
الذين آتيناهم الكتاب يتلونه حق تلاوته اولئك يؤمنون به ومن يكفر به فاولئك هم الخاسرون
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے۔ (121)
اے اوﻻد یعقوب! میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تو تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی۔ (122)
اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس کسی نفس کو کچھ فائده نہ پہنچا سکے گا، نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی، نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ (123)
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴿124﴾
وإذ ابتلى إبراهيم ربه بكلمات فاتمهن قال إني جاعلك للناس إماما قال ومن ذريتي قال لا ينال عهدي الظالمين
جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں۔ (124)
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴿125﴾
وإذ جعلنا البيت مثابة للناس وامنا واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى وعهدنا إلى إبراهيم وإسماعيل ان طهرا بيتي للطائفين والعاكفين والركع السجود
ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔ (125)
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ﴿126﴾
وإذ قال إبراهيم رب اجعل هذا بلدا آمنا وارزق اهله من الثمرات من آمن منهم بالله واليوم الآخر قال ومن كفر فامتعه قليلا ثم اضطره إلى عذاب النار وبئس المصير
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔ (126)
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴿127﴾
وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل ربنا تقبل منا إنك انت السميع العليم
ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔ (127)
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿128﴾
ربنا واجعلنا مسلمين لك ومن ذريتنا امة مسلمة لك وارنا مناسكنا وتب علينا إنك انت التواب الرحيم
اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (128)
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴿129﴾
ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلو عليهم آياتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم إنك انت العزيز الحكيم
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (129)
وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴿130﴾
دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔ (130)
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴿131﴾
إذ قال له ربه اسلم قال اسلمت لرب العالمين
جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔ (131)
وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴿132﴾
ووصى بها إبراهيم بنيه ويعقوب يا بني إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وانتم مسلمون
اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔ (132)
أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴿133﴾
ام كنتم شهداء إذ حضر يعقوب الموت إذ قال لبنيه ما تعبدون من بعدي قالوا نعبد إلهك وإله آبائك إبراهيم وإسماعيل وإسحاق إلها واحدا ونحن له مسلمون
کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ (133)
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿134﴾
یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔ (134)
وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿135﴾
یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے۔ (135)
قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ﴿136﴾
قولوا آمنا بالله وما انزل إلينا وما انزل إلى إبراهيم وإسماعيل وإسحاق ويعقوب والاسباط وما اوتي موسى وعيسى وما اوتي النبيون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون
اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔ (136)
فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴿137﴾
اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے۔ (137)
صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴿138﴾
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (138)
قل اتحاجوننا في الله وهو ربنا وربكم ولنا اعمالنا ولكم اعمالكم ونحن له مخلصون
آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں۔ (139)
أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى قُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿140﴾
ام تقولون إن إبراهيم وإسماعيل وإسحاق ويعقوب والاسباط كانوا هودا او نصارى قل اانتم اعلم ام الله ومن اظلم ممن كتم شهادة عنده من الله وما الله بغافل عما تعملون
کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کہ کیا تم زیاده جانتے ہو، یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیاده ﻇالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔ (140)
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿141﴾
یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔ (141)
سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴿142﴾
عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیئے کہ مشرق ومغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وه جسے چاہے سیدھی راه کی ہدایت کردے۔ (142)
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ﴿143﴾
وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا وما جعلنا القبلة التي كنت عليها إلا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب على عقبيه وإن كانت لكبيرة إلا على الذين هدى الله وما كان الله ليضيع إيمانكم إن الله بالناس لرءوف رحيم
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (143)
قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ﴿144﴾
قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره وإن الذين اوتوا الكتاب ليعلمون انه الحق من ربهم وما الله بغافل عما يعملون
ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منھ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔ (144)
وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ﴿145﴾
ولئن اتيت الذين اوتوا الكتاب بكل آية ما تبعوا قبلتك وما انت بتابع قبلتهم وما بعضهم بتابع قبلة بعض ولئن اتبعت اهواءهم من بعد ما جاءك من العلم إنك إذا لمن الظالمين
اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے۔ (145)
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴿146﴾
الذين آتيناهم الكتاب يعرفونه كما يعرفون ابناءهم وإن فريقا منهم ليكتمون الحق وهم يعلمون
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے۔ (146)
الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴿147﴾
آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ (147)
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿148﴾
ولكل وجهة هو موليها فاستبقوا الخيرات اين ما تكونوا يات بكم الله جميعا إن الله على كل شيء قدير
ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (148)
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴿149﴾
آپ جہاں سے نکلیں اپنا منھ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں، یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بےخبر نہیں۔ (149)
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴿150﴾
ومن حيث خرجت فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره لئلا يكون للناس عليكم حجة إلا الذين ظلموا منهم فلا تخشوهم واخشوني ولاتم نعمتي عليكم ولعلكم تهتدون
اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ ره جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ﻇلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راه راست پاؤ۔ (150)
كما ارسلنا فيكم رسولا منكم يتلو عليكم آياتنا ويزكيكم ويعلمكم الكتاب والحكمة ويعلمكم ما لم تكونوا تعلمون
جس طرح ہم نے تم میں تمہی میں سے رسول بھیجا جو ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت اور وه چیزیں سکھاتا ہے جن سے تم بےعلم تھے۔ (151)
فاذكروني اذكركم واشكروا لي ولا تكفرون
اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو۔ (152)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴿153﴾
يا ايها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة إن الله مع الصابرين
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ (153)
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ﴿154﴾
اور اللہ تعالیٰ کی راه کے شہیدوں کو مرده مت کہو وه زنده ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔ (154)
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴿155﴾
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے۔ (155)
الذين إذا اصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون
جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (156)
أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴿157﴾
ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (157)
إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ومن تطوع خيرا فإن الله شاكر عليم
صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں اپنی خوشی سے بھلائی کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے واﻻ ہے۔ (158)
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴿159﴾
إن الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدى من بعد ما بيناه للناس في الكتاب اولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون
جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ (159)
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴿160﴾
إلا الذين تابوا واصلحوا وبينوا فاولئك اتوب عليهم وانا التواب الرحيم
مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں۔ (160)
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴿161﴾
إن الذين كفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله والملائكة والناس اجمعين
یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ (161)
خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ﴿162﴾
جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔ (162)
وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴿163﴾
تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے۔ (163)
إن في خلق السماوات والارض واختلاف الليل والنهار والفلك التي تجري في البحر بما ينفع الناس وما انزل الله من السماء من ماء فاحيا به الارض بعد موتها وبث فيها من كل دابة وتصريف الرياح والسحاب المسخر بين السماء والارض لآيات لقوم يعقلون
آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔ (164)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ﴿165﴾
ومن الناس من يتخذ من دون الله اندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا اشد حبا لله ولو يرى الذين ظلموا إذ يرون العذاب ان القوة لله جميعا وان الله شديد العذاب
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیئے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے واﻻ ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔ (165)
إذ تبرا الذين اتبعوا من الذين اتبعوا وراوا العذاب وتقطعت بهم الاسباب
جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے۔ (166)
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ﴿167﴾
وقال الذين اتبعوا لو ان لنا كرة فنتبرا منهم كما تبرءوا منا كذلك يريهم الله اعمالهم حسرات عليهم وما هم بخارجين من النار
اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوباره جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔ (167)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ﴿168﴾
يا ايها الناس كلوا مما في الارض حلالا طيبا ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (168)
إنما يامركم بالسوء والفحشاء وان تقولوا على الله ما لا تعلمون
وه تمہیں صرف برائی اور بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ (169)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴿170﴾
وإذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما الفينا عليه آباءنا اولو كان آباؤهم لا يعقلون شيئا ولا يهتدون
اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں۔ (170)
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴿171﴾
کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔ (171)
يا ايها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم واشكروا لله إن كنتم إياه تعبدون
اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (172)
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿173﴾
إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل به لغير الله فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم
تم پر مرده اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وه چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہوجائے اور وه حد سے بڑھنے واﻻ اور زیادتی کرنے واﻻ نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشش کرنے واﻻ مہربان ہے۔ (173)
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿174﴾
إن الذين يكتمون ما انزل الله من الكتاب ويشترون به ثمنا قليلا اولئك ما ياكلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ (174)
أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴿175﴾
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خرید لیا ہے، یہ لوگ آگ کا عذاب کتنا برداشت کرنے والے ہیں۔ (175)
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ﴿176﴾
ذلك بان الله نزل الكتاب بالحق وإن الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد
ان عذابوں کا باعﺚ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں۔ (176)
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴿177﴾
ليس البر ان تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب واقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في الباساء والضراء وحين الباس اولئك الذين صدقوا واولئك هم المتقون
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ (177)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴿178﴾
يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى فمن عفي له من اخيه شيء فاتباع بالمعروف واداء إليه بإحسان ذلك تخفيف من ربكم ورحمة فمن اعتدى بعد ذلك فله عذاب اليم
اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے درد ناک عذاب ہوگا۔ (178)
عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس باعﺚ تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔ (179)
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴿180﴾
كتب عليكم إذا حضر احدكم الموت إن ترك خيرا الوصية للوالدين والاقربين بالمعروف حقا على المتقين
تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے، پرہیزگاروں پر یہ حق اور ﺛابت ہے۔ (180)
فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿181﴾
اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناه بدلنے والے پر ہی ہوگا، واقعی اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے۔ (181)
فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿182﴾
فمن خاف من موص جنفا او إثما فاصلح بينهم فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم
ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (182)
اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (183)
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿184﴾
اياما معدودات فمن كان منكم مريضا او على سفر فعدة من ايام اخر وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين فمن تطوع خيرا فهو خير له وان تصوموا خير لكم إن كنتم تعلمون
گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔ (184)
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿185﴾
شهر رمضان الذي انزل فيه القرآن هدى للناس وبينات من الهدى والفرقان فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا او على سفر فعدة من ايام اخر يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر ولتكملوا العدة ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون
ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔ (185)
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴿186﴾
وإذا سالك عبادي عني فإني قريب اجيب دعوة الداع إذا دعان فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون
جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے۔ (186)
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴿187﴾
احل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم هن لباس لكم وانتم لباس لهن علم الله انكم كنتم تختانون انفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم فالآن باشروهن وابتغوا ما كتب الله لكم وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر ثم اتموا الصيام إلى الليل ولا تباشروهن وانتم عاكفون في المساجد تلك حدود الله فلا تقربوها كذلك يبين الله آياته للناس لعلهم يتقون
روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لئے حلال کیا گیا، وه تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیده خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرمالیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وه بچیں۔ (187)
ولا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتاكلوا فريقا من اموال الناس بالإثم وانتم تعلمون
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو۔ (188)
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴿189﴾
لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی واﻻ وه ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (189)
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴿190﴾
لڑو اللہ کی راه میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (190)
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ﴿191﴾
واقتلوهم حيث ثقفتموهم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنة اشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فإن قاتلوكم فاقتلوهم كذلك جزاء الكافرين
انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکاﻻ ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو کافروں کا بدلہ یہی ہے۔ (191)
اگر یہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (192)
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ﴿193﴾
ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے، اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ﻇالموں پر ہی ہے۔ (193)
الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴿194﴾
حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (194)
وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴿195﴾
وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بايديكم إلى التهلكة واحسنوا إن الله يحب المحسنين
اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک واحسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (195)
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴿196﴾
واتموا الحج والعمرة لله فإن احصرتم فما استيسر من الهدي ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك فإذا امنتم فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام في الحج وسبعة إذا رجعتم تلك عشرة كاملة ذلك لمن لم يكن اهله حاضري المسجد الحرام واتقوا الله واعلموا ان الله شديد العقاب
حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرو، ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو، اسے کرڈالو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاه تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے) تو اس پر فدیہ ہے، خواه روزے رکھ لے، خواه صدقہ دے دے، خواه قربانی کرے پس جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے، پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے، جسے طاقت ہی نہ ہو وه تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں، یہ پورے دس ہوگئے۔ یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں، لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے۔ (196)
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴿197﴾
الحج اشهر معلومات فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج وما تفعلوا من خير يعلمه الله وتزودوا فإن خير الزاد التقوى واتقون يا اولي الالباب
حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔ (197)
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ﴿198﴾
ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم فإذا افضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام واذكروه كما هداكم وإن كنتم من قبله لمن الضالين
تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، حاﻻنکہ تم اس سے پہلے راه بھولے ہوئے تھے۔ (198)
ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿199﴾
ثم افيضوا من حيث افاض الناس واستغفروا الله إن الله غفور رحيم
پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (199)
فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴿200﴾
فإذا قضيتم مناسككم فاذكروا الله كذكركم آباءكم او اشد ذكرا فمن الناس من يقول ربنا آتنا في الدنيا وما له في الآخرة من خلاق
پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (200)
اور بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔ (201)
أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴿202﴾
یہ وه لوگ ہیں جن کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے واﻻ ہے۔ (202)
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴿203﴾
واذكروا الله في ايام معدودات فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه ومن تاخر فلا إثم عليه لمن اتقى واتقوا الله واعلموا انكم إليه تحشرون
اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔ (203)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴿204﴾
بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کر دیتی ہیں اور وه اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواه کرتا ہے، حاﻻنکہ دراصل وه زبردست جھگڑالو ہے۔ (204)
وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴿205﴾
وإذا تولى سعى في الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد
جب وه لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ (205)
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿206﴾
وإذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالإثم فحسبه جهنم ولبئس المهاد
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وه بد ترین جگہ ہے۔ (206)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴿207﴾
اور بعض لوگ وه بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (207)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ﴿208﴾
يا ايها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين
ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208)
فإن زللتم من بعد ما جاءتكم البينات فاعلموا ان الله عزيز حكيم
اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیلیں آجانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (209)
هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴿210﴾
هل ينظرون إلا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام والملائكة وقضي الامر وإلى الله ترجع الامور
کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔ (210)
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴿211﴾
بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وه جان لے) کہ اللہ تعالیٰ بھی سخت عذابوں واﻻ ہے۔ (211)
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿212﴾
کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وه ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں، حاﻻنکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔ (212)
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴿213﴾
كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه وما اختلف فيه إلا الذين اوتوه من بعد ما جاءتهم البينات بغيا بينهم فهدى الله الذين آمنوا لما اختلفوا فيه من الحق بإذنه والله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم
دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے۔ (213)
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ﴿214﴾
ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما ياتكم مثل الذين خلوا من قبلكم مستهم الباساء والضراء وزلزلوا حتى يقول الرسول والذين آمنوا معه متى نصر الله الا إن نصر الله قريب
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک تم پر وه حاﻻت نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔ انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ (214)
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴿215﴾
يسالونك ماذا ينفقون قل ما انفقتم من خير فللوالدين والاقربين واليتامى والمساكين وابن السبيل وما تفعلوا من خير فإن الله به عليم
آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔ (215)
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴿216﴾
تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وه تمہیں دشوار معلوم ہو، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو، حاﻻنکہ وه تمہارے لئے بری ہو، حقیقی علم اللہ ہی کو ہے، تم محض بےخبر ہو۔ (216)
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿217﴾
يسالونك عن الشهر الحرام قتال فيه قل قتال فيه كبير وصد عن سبيل الله وكفر به والمسجد الحرام وإخراج اهله منه اكبر عند الله والفتنة اكبر من القتل ولا يزالون يقاتلونكم حتى يردوكم عن دينكم إن استطاعوا ومن يرتدد منكم عن دينه فيمت وهو كافر فاولئك حبطت اعمالهم في الدنيا والآخرة واولئك اصحاب النار هم فيها خالدون
لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑا گناه ہے، لیکن اللہ کی راه سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناه ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے، یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ (217)
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿218﴾
إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله اولئك يرجون رحمت الله والله غفور رحيم
البتہ ایمان ﻻنے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے واﻻ اور بہت مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ (218)
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴿219﴾
يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس وإثمهما اكبر من نفعهما ويسالونك ماذا ينفقون قل العفو كذلك يبين الله لكم الآيات لعلكم تتفكرون
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے ان دونوں میں بہت بڑا گناه ہے اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائده بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناه ان کے نفع سے بہت زیاده ہے۔ آپ سے یہ بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیئے حاجت سے زائد چیز، اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ تم سوچ سمجھ سکو،۔ (219)
فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿220﴾
في الدنيا والآخرة ويسالونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم والله يعلم المفسد من المصلح ولو شاء الله لاعنتكم إن الله عزيز حكيم
دنیا اور آخرت کے امور کو۔ اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ ان کی خیرخواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وه تمہارے بھائی ہیں، بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔ (220)
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴿221﴾
ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن ولامة مؤمنة خير من مشركة ولو اعجبتكم ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا ولعبد مؤمن خير من مشرك ولو اعجبكم اولئك يدعون إلى النار والله يدعو إلى الجنة والمغفرة بإذنه ويبين آياته للناس لعلهم يتذكرون
اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وه ایمان نہ ﻻئیں تم نکاح نہ کرو، ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، وه اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ وه نصیحت حاصل کریں۔ (221)
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴿222﴾
ويسالونك عن المحيض قل هو اذى فاعتزلوا النساء في المحيض ولا تقربوهن حتى يطهرن فإذا تطهرن فاتوهن من حيث امركم الله إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين
آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (222)
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴿223﴾
تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجیئے۔ (223)
وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿224﴾
اور اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا (اس طرح) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے۔ (224)
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴿225﴾
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور بردبار ہے۔ (225)
لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴿226﴾
للذين يؤلون من نسائهم تربص اربعة اشهر فإن فاءوا فإن الله غفور رحيم
جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کے لئے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وه لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ بھی بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ (226)
اور اگر طلاق کا ہی قصد کرلیں تو اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔ (227)
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿228﴾
والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن ان يكتمن ما خلق الله في ارحامهن إن كن يؤمن بالله واليوم الآخر وبعولتهن احق بردهن في ذلك إن ارادوا إصلاحا ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة والله عزيز حكيم
طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا اراده اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت واﻻ ہے۔ (228)
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿229﴾
الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان ولا يحل لكم ان تاخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا ان يخافا الا يقيما حدود الله فإن خفتم الا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فاولئك هم الظالمون
یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں، پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو، اس لئے اگر تمہیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر گناه نہیں یہ اللہ کی حدود ہیں خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرجائیں وه ﻇالم ہیں۔ (229)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴿230﴾
فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما ان يتراجعا إن ظنا ان يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون
پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وه بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناه نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وه جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے۔۔ (230)
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿231﴾
وإذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فامسكوهن بمعروف او سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا آيات الله هزوا واذكروا نعمت الله عليكم وما انزل عليكم من الكتاب والحكمة يعظكم به واتقوا الله واعلموا ان الله بكل شيء عليم
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ﻇلم وزیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ﻇلم کیا۔ تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے، اسے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (231)
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴿232﴾
وإذا طلقتم النساء فبلغن اجلهن فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن إذا تراضوا بينهم بالمعروف ذلك يوعظ به من كان منكم يؤمن بالله واليوم الآخر ذلكم ازكى لكم واطهر والله يعلم وانتم لا تعلمون
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (232)
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿233﴾
والوالدات يرضعن اولادهن حولين كاملين لمن اراد ان يتم الرضاعة وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف لا تكلف نفس إلا وسعها لا تضار والدة بولدها ولا مولود له بولده وعلى الوارث مثل ذلك فإن ارادا فصالا عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما وإن اردتم ان تسترضعوا اولادكم فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف واتقوا الله واعلموا ان الله بما تعملون بصير
مائیں اپنی اوﻻد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا اراده دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جو مطابق دستور کے ہو۔ ہر شخص اتنی ہی تکلیف دیا جاتا ہے جتنی اس کی طاقت ہو۔ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے یا باپ کو اس کی اوﻻدکی وجہ سے کوئی ضرر نہ پہنچایا جائے۔ وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے، پھر اگر دونوں (یعنی ماں باپ) اپنی رضامندی اور باہمی مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کچھ گناه نہیں اور اگر تمہارا اراده اپنی اوﻻد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں جب کہ تم ان کو مطابق دستور کے جو دینا ہو وه ان کے حوالے کردو، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ (233)
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿234﴾
والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشرا فإذا بلغن اجلهن فلا جناح عليكم فيما فعلن في انفسهن بالمعروف والله بما تعملون خبير
تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں، پھر جب مدت ختم کرلیں تو جو اچھائی کے ساتھ وه اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناه نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے خبردار ہے۔ (234)
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴿235﴾
ولا جناح عليكم فيما عرضتم به من خطبة النساء او اكننتم في انفسكم علم الله انكم ستذكرونهن ولكن لا تواعدوهن سرا إلا ان تقولوا قولا معروفا ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب اجله واعلموا ان الله يعلم ما في انفسكم فاحذروه واعلموا ان الله غفور حليم
تم پر اس میں کوئی گناه نہیں کہ تم اشارةً کنایتہً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیده اراده کرو، اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے، لیکن تم ان سے پوشیده وعدے نہ کرلو ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بوﻻ کرو اور عقد نکاح جب تک کہ عدت ختم نہ ہوجائے پختہ نہ کرو، جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے، تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ بخشش اور علم واﻻ ہے۔ (235)
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ﴿236﴾
لا جناح عليكم إن طلقتم النساء ما لم تمسوهن او تفرضوا لهن فريضة ومتعوهن على الموسع قدره وعلى المقتر قدره متاعا بالمعروف حقا على المحسنين
اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناه نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائده دو۔ خوشحال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق دستور کے مطابق اچھا فائده دے۔ بھلائی کرنے والوں پر یہ ﻻزم ہے۔ (236)
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿237﴾
وإن طلقتموهن من قبل ان تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم إلا ان يعفون او يعفو الذي بيده عقدة النكاح وان تعفوا اقرب للتقوى ولا تنسوا الفضل بينكم إن الله بما تعملون بصير
اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کردیا ہو تو مقرره مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وه خود معاف کردیں یا وه شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گره ہے تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ (237)
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴿238﴾
نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔ (238)
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ﴿239﴾
فإن خفتم فرجالا او ركبانا فإذا امنتم فاذكروا الله كما علمكم ما لم تكونوا تعلمون
اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔ (239)
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿240﴾
والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في انفسهن من معروف والله عزيز حكيم
جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وه وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائده اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے، ہاں اگر وه خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناه نہیں جو وه اپنے لئے اچھائی سے کریں، اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔ (240)
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴿241﴾
طلاق والیوں کو اچھی طرح فائده دینا پرہیزگاروں پر ﻻزم ہے۔ (241)
كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ﴿242﴾
اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں تم پر ﻇاہر فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (242)
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ﴿243﴾
الم تر إلى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم إن الله لذو فضل على الناس ولكن اكثر الناس لا يشكرون
کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا مرجاؤ، پھر انہیں زنده کردیا بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل واﻻ ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ (243)
وقاتلوا في سبيل الله واعلموا ان الله سميع عليم
اللہ تعالیٰ کی راه میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سنتا، جانتا ہے۔ (244)
مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴿245﴾
من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له اضعافا كثيرة والله يقبض ويبسط وإليه ترجعون
ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (245)
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴿246﴾
الم تر إلى الملإ من بني إسرائيل من بعد موسى إذ قالوا لنبي لهم ابعث لنا ملكا نقاتل في سبيل الله قال هل عسيتم إن كتب عليكم القتال الا تقاتلوا قالوا وما لنا الا نقاتل في سبيل الله وقد اخرجنا من ديارنا وابنائنا فلما كتب عليهم القتال تولوا إلا قليلا منهم والله عليم بالظالمين
کیا آپ نے (حضرت) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاه بنا دیجیئے تاکہ ہم اللہ کی راه میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راه میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔ (246)
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿247﴾
وقال لهم نبيهم إن الله قد بعث لكم طالوت ملكا قالوا انى يكون له الملك علينا ونحن احق بالملك منه ولم يؤت سعة من المال قال إن الله اصطفاه عليكم وزاده بسطة في العلم والجسم والله يؤتي ملكه من يشاء والله واسع عليم
اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاه بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیاده حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیده کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (247)
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴿248﴾
وقال لهم نبيهم إن آية ملكه ان ياتيكم التابوت فيه سكينة من ربكم وبقية مما ترك آل موسى وآل هارون تحمله الملائكة إن في ذلك لآية لكم إن كنتم مؤمنين
ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ﻇاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وه صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے، فرشتے اسے اٹھا کر ﻻئیں گے۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔ (248)
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ﴿249﴾
فلما فصل طالوت بالجنود قال إن الله مبتليكم بنهر فمن شرب منه فليس مني ومن لم يطعمه فإنه مني إلا من اغترف غرفة بيده فشربوا منه إلا قليلا منهم فلما جاوزه هو والذين آمنوا معه قالوا لا طاقة لنا اليوم بجالوت وجنوده قال الذين يظنون انهم ملاقو الله كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله والله مع الصابرين
جب (حضرت) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے واﻻہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وه میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وه میرا ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وه پانی پی لیا (حضرت) طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وه لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا، بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہیں، اللہ تعالیٰ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (249)
جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے، ﺛابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔ (250)
فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴿251﴾
فهزموهم بإذن الله وقتل داوود جالوت وآتاه الله الملك والحكمة وعلمه مما يشاء ولولا دفع الله الناس بعضهم ببعض لفسدت الارض ولكن الله ذو فضل على العالمين
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو مملکت وحکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے واﻻ ہے۔ (251)
تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ﴿252﴾
یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں۔ (252)
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ﴿253﴾
تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض منهم من كلم الله ورفع بعضهم درجات وآتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس ولو شاء الله ما اقتتل الذين من بعدهم من بعد ما جاءتهم البينات ولكن اختلفوا فمنهم من آمن ومنهم من كفر ولو شاء الله ما اقتتلوا ولكن الله يفعل ما يريد
یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (253)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿254﴾
يا ايها الذين آمنوا انفقوا مما رزقناكم من قبل ان ياتي يوم لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة والكافرون هم الظالمون
اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور شفاعت اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔ (254)
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴿255﴾
الله لا إله إلا هو الحي القيوم لا تاخذه سنة ولا نوم له ما في السماوات وما في الارض من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه يعلم ما بين ايديهم وما خلفهم ولا يحيطون بشيء من علمه إلا بما شاء وسع كرسيه السماوات والارض ولا يئوده حفظهما وهو العلي العظيم
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ (255)
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿256﴾
دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔ (256)
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿257﴾
الله ولي الذين آمنوا يخرجهم من الظلمات إلى النور والذين كفروا اولياؤهم الطاغوت يخرجونهم من النور إلى الظلمات اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون
ایمان ﻻنے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔ (257)
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴿258﴾
الم تر إلى الذي حاج إبراهيم في ربه ان آتاه الله الملك إذ قال إبراهيم ربي الذي يحيي ويميت قال انا احيي واميت قال إبراهيم فإن الله ياتي بالشمس من المشرق فات بها من المغرب فبهت الذي كفر والله لا يهدي القوم الظالمين
کیا تونے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وه ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وه کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ۔ اب تو وه کافر بھونچکا ره گیا، اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (258)
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿259﴾
او كالذي مر على قرية وهي خاوية على عروشها قال انى يحيي هذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه قال كم لبثت قال لبثت يوما او بعض يوم قال بل لبثت مائة عام فانظر إلى طعامك وشرابك لم يتسنه وانظر إلى حمارك ولنجعلك آية للناس وانظر إلى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شيء قدير
یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے مار دیا سو سال کے لئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ﻇاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (259)
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿260﴾
وإذ قال إبراهيم رب ارني كيف تحيي الموتى قال اولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي قال فخذ اربعة من الطير فصرهن إليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا ثم ادعهن ياتينك سعيا واعلم ان الله عزيز حكيم
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زنده کرے گا؟ (جناب باری تعالیٰ نے) فرمایا، کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی، فرمایا چار پرند لو، ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں واﻻ ہے۔ (260)
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿261﴾
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (261)
الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿262﴾
جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وه اداس ہوں گے۔ (262)
قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ﴿263﴾
قول معروف ومغفرة خير من صدقة يتبعها اذى والله غني حليم
نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا رسانی ہو اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے۔ (263)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴿264﴾
يا ايها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والاذى كالذي ينفق ماله رئاء الناس ولا يؤمن بالله واليوم الآخر فمثله كمثل صفوان عليه تراب فاصابه وابل فتركه صلدا لا يقدرون على شيء مما كسبوا والله لا يهدي القوم الكافرين
اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وه شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زوردار مینہ برسے اور وه اسے بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے، ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راه نہیں دکھاتا۔ (264)
وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴿265﴾
ومثل الذين ينفقون اموالهم ابتغاء مرضات الله وتثبيتا من انفسهم كمثل جنة بربوة اصابها وابل فآتت اكلها ضعفين فإن لم يصبها وابل فطل والله بما تعملون بصير
ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہواور زوردار بارش اس پر برسے اور وه اپنا پھل دگنا ﻻوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ (265)
أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ﴿266﴾
ايود احدكم ان تكون له جنة من نخيل واعناب تجري من تحتها الانهار له فيها من كل الثمرات واصابه الكبر وله ذرية ضعفاء فاصابها إعصار فيه نار فاحترقت كذلك يبين الله لكم الآيات لعلكم تتفكرون
کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔ (266)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴿267﴾
يا ايها الذين آمنوا انفقوا من طيبات ما كسبتم ومما اخرجنا لكم من الارض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا ان تغمضوا فيه واعلموا ان الله غني حميد
اے ایمان والو! اپنی پاکیزه کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواه اور خوبیوں واﻻ ہے۔ (267)
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿268﴾
شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعده کرتا ہے، اللہ تعالیٰ وسعت واﻻ اور علم واﻻ ہے۔ (268)
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴿269﴾
يؤتي الحكمة من يشاء ومن يؤت الحكمة فقد اوتي خيرا كثيرا وما يذكر إلا اولو الالباب
وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔ (269)
وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴿270﴾
وما انفقتم من نفقة او نذرتم من نذر فإن الله يعلمه وما للظالمين من انصار
تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے، اور ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ (270)
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿271﴾
اگر تم صدقے خیرات کو ﻇاہر کرو تو وه بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیده پوشیده مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے،۔ (271)
لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴿272﴾
ليس عليك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء وما تنفقوا من خير فلانفسكم وما تنفقون إلا ابتغاء وجه الله وما تنفقوا من خير يوف إليكم وانتم لا تظلمون
انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔ (272)
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴿273﴾
للفقراء الذين احصروا في سبيل الله لا يستطيعون ضربا في الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسالون الناس إلحافا وما تنفقوا من خير فإن الله به عليم
صدقات کے مستحق صرف وه غربا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے واﻻ ہے۔ (273)
جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔ (274)
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴿275﴾
الذين ياكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بانهم قالوا إنما البيع مثل الربا واحل الله البيع وحرم الربا فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وامره إلى الله ومن عاد فاولئك اصحاب النار هم فيها خالدون
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔ (275)
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ﴿276﴾
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔ (276)
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات واقاموا الصلاة وآتوا الزكاة لهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون
بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔ (277)
يا ايها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ (278)
فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴿279﴾
فإن لم تفعلوا فاذنوا بحرب من الله ورسوله وإن تبتم فلكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون
اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ (279)
وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴿280﴾
وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة وان تصدقوا خير لكم إن كنتم تعلمون
اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم میں علم ہو۔ (280)
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴿281﴾
اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (281)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴿282﴾
يا ايها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى اجل مسمى فاكتبوه وليكتب بينكم كاتب بالعدل ولا ياب كاتب ان يكتب كما علمه الله فليكتب وليملل الذي عليه الحق وليتق الله ربه ولا يبخس منه شيئا فإن كان الذي عليه الحق سفيها او ضعيفا او لا يستطيع ان يمل هو فليملل وليه بالعدل واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء ان تضل إحداهما فتذكر إحداهما الاخرى ولا ياب الشهداء إذا ما دعوا ولا تساموا ان تكتبوه صغيرا او كبيرا إلى اجله ذلكم اقسط عند الله واقوم للشهادة وادنى الا ترتابوا إلا ان تكون تجارة حاضرة تديرونها بينكم فليس عليكم جناح الا تكتبوها واشهدوا إذا تبايعتم ولا يضار كاتب ولا شهيد وإن تفعلوا فإنه فسوق بكم واتقوا الله ويعلمكم الله والله بكل شيء عليم
اے ایمان والو! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور لکھنے والے کو چاہئے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے، پس اسے بھی لکھ دینا چاہئے اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گوہوں میں سے پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے اور گواہوں کو چاہئے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی اور شق و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں۔ خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو اور ﴿یاد رکھو کہ﴾ نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (282)
وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴿283﴾
وإن كنتم على سفر ولم تجدوا كاتبا فرهان مقبوضة فإن امن بعضكم بعضا فليؤد الذي اؤتمن امانته وليتق الله ربه ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فإنه آثم قلبه والله بما تعملون عليم
اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے واﻻ نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو، ہاں اگر آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وه اسے ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وه گنہگار دل واﻻ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (283)
لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿284﴾
لله ما في السماوات وما في الارض وإن تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء والله على كل شيء قدير
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ﻇاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (284)
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴿285﴾
آمن الرسول بما انزل إليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير
رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،۔ (285)
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴿286﴾
لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا او اخطانا ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين
اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔ (286) |
مرکزی صفحہ بین الاقوامی خبریںمتحدہ عرب امارات میں قومی دِن کا حد سے زیادہ جشن منانے والوں ..
فجیرہ میں گاڑیوں کے کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 47 منچلوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جرمانے بھی کیے گئے ہیں
فجیرہ : متحدہ عرب امارات میں 48 ویں یومِ وطنی کا جشن اور تقریبات کئی روز تک منائی گئیں۔تاہم اس موقع پر نوجوانوں کی جانب سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اماراتی ریاست فجیرہ میں پولیس نے سڑکوں پر گاڑیوں کے کرتب دکھانے والے نوجوانوں کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور کئی نوجوانوں کو سڑک پر خطرناک کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر اُن کی گاڑیاں ضبط کر لیں ، اس کے علاوہ مختلف رقوم کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
فجیرہ پولیس کے ٹریفک اینڈ پٹرولز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر، بریگیڈیر علی راشد ال یماہی نے بتایا کہ ٹریفک خلاف ورزی اور گاڑیوں کے خطرناک کرتب دکھانے پر 47 نوجوانوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئی ہیں۔ جبکہ ہر ڈرائیور پر اس طرح کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار درہم کا جرمانہ اور بلیک پوائنٹس کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔ ضبط کی گئی گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے ایک مخصوص احاطے میں خلاف ورزی کی نوعیت کے حساب سے خاص مُدت کے لیے بند رکھا جائے گا۔
بریگیڈیر ال یماہی نے بتایا کہ جو گاڑیاں ضبط کی گئیں، ان میں سے کچھ کے انجن اور باڈی میں بہت زیادہ تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اور کئی نوجوانوں نے اپنی گاڑی کو مقرر کردہ حد سے زیادہ سجا بنا رکھا تھا۔ حالانکہ یومِ وطنی کی تقریبات سے قبل ہی پولیس کی جانب سے ٹریفک ضابطہ اخلاق سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔ مگر کئی نوجوانوں نے ان پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث وہ مصیبت میں پھنس گئے اور اُن کی گاڑیاں پندرہ دِن، 20 دِن، 30دِن یا 60 دِن کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
کئی گاڑیوں کے انجن میں ایسی تبدیلی کی گئی تھی جس کی بناء پر اُن سے بہت زیادہ شور پیدا ہو رہا تھا، جس کے باعث لوگوں کو بہت زیادہ ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے پکڑے گئے۔ جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی گنتی ایسی بھی تھی جو سڑکوں پر تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلا کر دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی تھی۔
یومِ وطنی کے موقع پر عوام اور ڈرائیورز کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی خاطر فجیرہ پولیس نے سڑکوں پر ٹریفک پٹرولنگ میں معمول سے کہیں زیادہ اضافہ کر رکھا تھا۔ کئی ڈرائیورز دُوسروں پر فوم کا سپرے کرتے بھی پائے گئے، جبکہ کئی گاڑیوں میں بیٹھے ڈرائیورز اور مسافروں نے تیز رفتاری کے دوران گاڑیوں کی کھڑکیوں اور سن رُوف سے اپنے سر باہر نکال رکھے تھی جو اُن کی زندگیوں کے لیے ایک خطرناک بات تھی۔
انہوں نے بتایا کہ یومِ وطنی کے جشن کے دِنوں میں صرف چند معمولی نوعیت کے حادثات پیش آئے جن کے نتیجے میں دو افراد کو درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔ بریگیڈیر ال یماہی نے تمام ڈرائیورز سے کہا کہ وہ 5 دسمبر سے پہلے پہلے اپنی گاڑیوں پر کی گئی سجاوٹ ہٹا دیں، ورنہ اس تاریخ کے بعد ڈرائیورز پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔ |
خالد بن ابی البکیر - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
خالد بن ابی البکیرابتدائی اسلام لانے والوں یں اور غزوہ بدر میں شامل ہیں۔
یہ 4 بھائی تھے،خالد بن ابی البکیر، ایاس بن ابی البکیر، عاقل بن ابی البکیر اورعامر بن ابی البکیر، ان کے والد کا نام ابی بکیر تھا، ان کا نسب نامہ یہ ہے، خالد بن ابی بکیر بن عبد یالیل بن ناشب بن غیر ہ ابن سعد بن لیث بن بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ کنانی لیثی لکھا ہے۔قبیلہ بنو عدی بن کعب تھا
مدینہ آنے کے بعد چاروں غزوات میں شریک ہوتے رہے، عاقل ان سب میں زیادہ خوش نصیب تھے، انہوں نے بدر میں مالک بن زہیر کے ہاتھوں شہادت حاصل کی، اس کے بعد خالد نے بدر اوراحد کے معرکوں میں شرکت کے بعد سریہ رجیع میں 4ھ میں جام شہادت پیا، عامر،بدر احد اورخندق میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب رہے اور 13ھ میں مرتدوں کی سرکوبی پر مامور ہوئے اوراس سلسلہ کی مشہور جنگ یمامہ میں شہادت حاصل کی، سب سے آخر میں ایاس، بدر ،احد، خندق،خیبر اور دوسری معرکہ آرائیوں میں شریک ہوتے رہے خالد جب شہید ہوئے تو ان کی عمر 34 سال تھی۔[1][2] |
حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا - The Siasat Daily
Home / Top Stories / حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا
حادیہ کیس۔وکیل نے جیسے ہی امیت شاہ او ریوگی کو ذمہ دار ٹھرایا سپریم کورٹ میں سنوائی کے دوران ہنگامہ کھڑ اہوگیا
نئی دہلی۔ کیرالا کی شادی کے حساس مسلئے پر عدالت میں جاری سنوائی کے دوران دوکلا کے درمیان میں تلخ بحث کے پیش نظر سنوائی کو30اکٹوبر تک ملتوی کردیا اور کہاکہ غیر متعلقہ باتوں پر سنوائی کے دوران بحث قابل قبول نہیں ہوگی۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی نگرانی میں سنوائی کررہی بنچ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جب حادیہ کے شوہر شیفان جہاں کی پیروی کررہے سینئر وکیل دوشانت داوے بحث کے دوران بی جے پی صدر امیت شاہ اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ کے ناموں کا حوالہ دیا اور ان کے سیاسی اغراض ومقاصد کا ذکر کیا۔
داوے نے کہاکہ'' یوگی نے کیرالا میں لوجہاد کے متعلق بات کی ۔ اس عدالت کو زمینی حقیقت سے واقف کروانے کی ضرورت ہے''داوے نے مزیدکہاکہ شاہ نے بھی کیرالا کا دورہ کیاہے تاکہ لوجہاد کے موضوع کو اجاگر کیاجاسکے۔بنچ جس میں جسٹس اے ایم خان والکر اور ڈی وائی چندرچوڑ بھی ہیں نے کہاکہ'' جب تک راست طور پر کوئی سیاسی شخصیت اس کیس پر اثر انداز نہیں ہوتی تب تک انہیں اس کیس سے دور ہی رکھیں۔جس کا تعلق اس کیس سے نہیں ہے انہیں اس کیس میں ہمیں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے''۔ منیندر سنگھ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل جو این ائی اے کی جانب سے عدالت میں حاضر ہوئے تھے نے داوے کی بات کی مخالفت کی او رکہاکہ یہ'' سیاست '' ہے اور سینئر وکیل عدالت کو''گمراہ'' کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو '' ناقابل یقین ہے''۔
اس کے بعد بنچ نے جائزہ لیا اور داوے سے کہاکہ '' اس قسم کی بحث عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگی'' دوبارہ اس عدالت میں اس طرح کی بحث نہیں سنی جائے گی۔انہوں نے عدالت سے کہاکہ پہلی درخواست کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیا۔ بعدازاں دوسری درخواست دائر کی گئی جس کو عدالت نے منظور کرتے ہوئے شادی سے پہلے مذہب اسلام قبول کرنے والی لڑکی کی شادی کو ہی نامنظور کردیا۔انہوں نے کیرالا کوہمہ مذہبی معاشرے قراردیتے ہوئے کہاکہ یہاں پر بین مذہبی شادیوں کا رواج عام ہیں جس کو معاشرے میں قبول بھی کیاجاتا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے حالیہ دنوں میں صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کویندکے دئے ہوئے کا بیان کا بھی حوالہ دیا۔پھر اس کے بعد داوے اس کیس کو خود ساختہ سیاسی طور پر طئے کیا جس پر بنچ او راین ائی اے ایجنسی کی کونسل نے اعتراض جتایا ۔
عدالت پہلے اس بات کا حیران ہے کہ کیاہائی کورٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کسی شادی کو نامنظور کرسکتی ہے۔ تاہم لفظوں کی جنگ میں بنچ نے مداخلت کرتے ہوئے اس بات کو دوبارہ دہرانے کی کوشش نہ کرنے کا وکیل دفاع کو ہدایت دی۔ سنوائی پیر کے روز چل رہی تھی۔عدالت نے پوچھا کہ کیا ہائی کور ٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شادی کو نامنظور کرتے ہوئے شوہر او ربیوی کو علیحدہ کرسکتا ہے۔اس دوران مزید بحث بھی دواے او راے ایس جی کے درمیان میں ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلخ تبصرہ کیا۔
شیفان جہاں کی شادی 24کی حادیہ جس کا سابق نام اکھیلااشوکن تھا کے ساتھ 2016ڈسمبر کو انجام پائی تھی اس سے قبل ہی اکھیلا نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا۔ جس کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ حادیہ کو سیریہ مشن کے تحت شیفان جہاں نے گمراہ کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیاہے
Tags Arguments Case Hadiya Hearing Postponed supreme court Ugly
Azaan School victim's father denies support from School Management & City Police https://t.co/SXWgUBgK3e https://t.co/mv29sMVY9K24 mins ago |
آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ - قندیل - Qindeel
Home ستاروں کےدرمیاں آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ
آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ
استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد و ناظم مدرسہ تعلیم القرآن بورابنڈہ حیدرآباد
نہ جانے یہ کیسا وقت آن پڑا کہ ہر طرف سے علماء کی رخصتی کی خبریں سماعتوں سے ٹکرا کر پورے وجود کو نڈھال کئے جارہی ہیں، جن شخصیات کے بارے میں نہ سوچا ،نہ حاشیۂ خیال سیجن کا تصورگزرااور نہ ہی جن کی شدید بیماری کی کوئی اطلاع؛ مگر اچانک ان کے وصال کی خبر ایک صاعقہ بن کرذہن و دماغ کوماؤف سی کرجاتی ہے، حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جب سنا کہ روح گلستاں، علم وعمل کے نیر تاباں، راہ حق کے بے بدل راہنما، قائد سرفروشاں، قدوۂ عالماں، محبوب طالباں، دکھے دلوں کے درماں، علم کے آسماں، عمل میں میرکارواں،جن کا عزم ہردم جواں، جو خدا سے کرتے تھے خوب آہ وفغاں، حق کی شمع فروزاں، باطل پر کوہ گراں، عوام کے نازاں، خواص میں فرحاں، مداح نبی ٔ آخرالزماں، اساتذۂ سبیل میں نمایاں، امت کے لیے ہر لمحہ پریشاں، تربیت و معرفت میں پیر مغاں،جن کی پیاری ومیٹھی زباں، زباں پر ہردم قال اللہ والرسول رَواں، جن کے بیانات پر بن جاتا تھا ایک سماں، جن کو سننے کے لیے لوگ چلے آتے تھے کشاں کشاں،جن کے نام سے باطل کہہ اٹھتا تھا الاماں الاماں،علماء کے نگراں، شفقت میں گویا رحمت باراں، جن کی پیشانی ہمیشہ خنداں،سب پر مہرباں،علوم نبوت کے بحر بیکراں،جرأت کانشاں ، چھوٹوں پرسائباں اور جن کایہی نام زباں زد تھا ہر عام وخاصاں،ہمارے حضرتِ سیف داں(مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ) 13؍مئی؍2021ء کواس دار الفناء سے دار البقاء کی طرف کوچ فرماگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کی پیدائش 22؍جولائی ؍1952ء کوجس گھرانہ میں ہوئی وہ انتہائی دیندار،صفات حسنہ سے متصف اورنہایت پرہیزگار گھرانہ تھا۔ آپ کے والدگرامی شیخ عبدالقادرصاحب اصحاب دعوت میں ایک اہم مقام رکھتے تھے اور دعوت و تبلیغ کی عالی محنت سے وابستہ اور بڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒ کے فداکاروں میں تھے۔
ابتدائی تعلیم اور فراغت
آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ داؤدیہ ایروڈ تامل ناڈو میں ہوئی اور وہیں آپ نے حفظ قرآن مجیدکی تکمیل کی، بعدازاں آپ نے شہر گلستاں بنگلور کی منفرد اور مثالی دینی درس گاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کا رخ کرتے ہوئے فارسی کی جماعت میں داخلہ لیا اور جبال العلم اساتذہ کے چشم فیض تلے سبیلکے چشمۂ صافی سے خوب سیراب ہوئے، علامہ ابوالسعودؒ اور ان کے عالی وقار جانشین امیر شریعت کرناٹک علامہ اشرف علی باقویؒ کے علوم کے امین ہوکر 1971ء میں سند فراغت حاصل کی ، اس کے بعد1972ء میں علم وعمل کے حسین سنگم ، خوابوں کی حسین تعبیرگاہ ام لمدارس دارالعلوم دیوبند میںجماعت فضیلت میں داخل ہوئے، وہاں کچھ ہی مہینوں میں امتیازی طالب علم کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی اور اساتذہ کے مقبول نظر ہوئے ۔
فراغت کے فوری بعد آپ فرائض تدریس کے لیے اپنے مادر علمی مدرسہ داؤدیہ ایروڈ سے وابستہ ہوکرپوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،آپ کا انداز تدریس بہت جلد قبولیت کی پرواز حاصل کرگیا اور پورا علاقہ آپ کے فیض علم سے استفادہ کرنے لگا۔ آپ کی تدریسی قابلیت کا خوب چرچا ہونے لگا اور طلبہ کے مابین آپ نے ایک مقبول استاذ کی حیثیت سے اپنی انفرادی شان قائم فرمالی۔
دارالعلوم سبیل الرشاد میں
1979ء میںبڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒنے آپ کو مادر علمی دارالعلوم سبیل الرشاد طلب کیا تو آپ فوراً اپنے مربی ومرشد کے حکم وایماء پر سبیل چلے آئے اور وہیں کے ہوکر چل بسے۔ دارالعلوم سبیل الرشادنے جن بنیادوں پرمقبولیت کی معراج حاصل کی، ان میں ایک سے قابل اساتذہ کی فراہمی تھی اور ان میں ایک نام حضرت سیف داں کا بھی ہے۔ ان کی تدریسی قابلیت زباں زدخاص وعام تھی،آپ کے مقبول درس نے طلباء کے رخ کو سبیل کی طرف موڑ دیا۔ سبیل الرشاد آپ کی تمام تر کاوشوں کی جولانگاہ تھی۔ آپ سبیل کو محض ایک ادارہ تصور نہیں کرتے تھے؛ بلکہاسے کارخانۂ علم و عمل اور میکدۂ فکر وفنسمجھتے تھے، جہاں آپ علم کے جام رندان سرمست کو بھر بھرکر پلاتے اور وہ آپ کی پلائی ہوئی شرابِ طہور سے مست ہوکروہ حب الہی اور عشق مصطفوی ﷺ میں ڈوب جاتے۔ سبیل کے طلبہ ہمیشہ آپ پر جاں فدا رہتے ،آپ کے گرد پروانوں کی طرح پُرہجوم رہتے ، آپ کی زبان کے ہر بول کو اپنے لیے حرز جاں بنالیتے، طلبہ آپ سے خوب فیض یاب ہوتے اور آپ بھی جی بھر کر ان کوعطا کرتے ۔ آپ طلبہ میں ایک اچھا مستقبل دیکھنا چاہتے تھے ، ہر طالب علم کو اسی اساس پر پروان چڑھاتے تھے اور ان میں خود اعتمادی وخودداری کی وہ مایہ ڈول دیتے کہ آپ کا تربیت یافتہ جہاں بھی چلاجائے وہ اپنے لیے پائے ثبات خودفراہم کرلیتا ۔اس کے اندر اتنی صلاحیت انڈیل دیتے کہ وہ زمانہ کے نشیب وفراز سے ازخود آگاہ ہوجاتا۔ آپ نے اپنی عمر عزیز کی تمام بہاریں سبیل کے لیے قربان کردیں۔ بہت کم ادارے ایسے ہوتے ہیں جہاں اپنے فضلاء کو بلند مقام سے نوازا جاتا ہے، حضرت مولانا سیف الدین صاحب ان سعادت نصیب لوگوں میں تھے جنہیں اللہ نے ہر قدم پر اعزاز واکرام سے نوازا۔ سبیل میں آپ کی شان دیگر تھی۔آپ کی بات مانی جاتی ، آپ کی رائے کو قبول کی نظر سے دیکھا جاتا ، ویسے آپ انتظامی معاملات میں بہت کم خود کو ملوث فرماتے ؛ مگر جب بھی کوئی رائے پیش فرماتے ، اس پر خوب غور کیا جاتا، بسا اوقات تو بلاتوقف اس پر فیصلہ کردیا جاتا، آپ اصولِ سبیل سے سرمو انحراف نہیں فرماتے۔ نہ انتطامیہ سے الجھتے اور نہ ہی کسی قضیہ نامرضیہ سے اپنا تعلق بناتے۔ آپ صاف گو، صاف بدن، صاف دل، صاف زبان اور صاف نیت کے انسان تھے۔ دورخا پن آپ کی شخصیت کا کبھی حصہ نہیں بن سکا۔ آپ اپنے مادر علمی سبیل الرشاد سے خوب محبت فرماتے اور وہاں کی تنظیم وترقی میں خوب معاونت فرماتے، بالخصوص تعلیمی میدان تو آپ کااوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ نے سبیل میں جب تدریس کے لیے پہلا قدم رکھا تو نکلنے کا نام نہیں لیا اوربس آپ کی موت ہی نے آپ کو سبیل سے جدا کیا۔
مثالی طرز تدریس و تربیت
درس کی حاضری کا تو التزام دیدنی تھا، لاکھ اسفار ، بے شمار تقاضے اور سفر کی حددرجہ کلفتوں کو جھیلنے کے باوصف بھی سبق میں ناغہ ہوجائے یہ بات ممکن نہ تھی ،تمام تر مصروفیات کے باوجود نہ درس کا ناغہ ہوتاتھا اورنہ سبق پر کوئی اثر۔ دوران سبق تمام طلبہ پر مضبوط گرفت رکھتے ، ہر ایک پر اپنی نگاہیں جمائے رکھتے ، کسی کو نہ غافل ہونے دیتے اور نہ ہی بے قابو،کسی کی مجال تھی کہ وہ سبق میں غفلت یا لاپرواہی کامظاہرہ کرسکے۔ وہ کرشماتی انسان تھے، خدا نے ان میں خوب صلاحیت ، قوت، زہد، لیاقت، جمال، ندرت، نزاکت، فطری احساس، شفقت، جرأت، بے باکی، مروت، لحاظ ورعایت، الفت ومحبت،ادب ، وجاہت اور وسعت ظرفی جیسی عظیم صفات کو دیعت فرما رکھا تھا۔ موقع شنانی اور مزاج شناسی میں تو بالکل طاق تھے۔انداز تربیت بالکل نرالا تھا۔ شفقت باپ کی طرح کرتے ، سبیل میں طلبہ کو اپنی اولاد جیسی نظر سے دیکھتے تھے، جس کا کھانا بند ہوجاتا اس کو اپنے کمرے لے جاتے اور شفقت کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے اس کو کھلاتے ، نہ جھڑکتے اور نہ ہی طنزیہ لہجہ اختیار فرماتے اور طالب علم کو اس بات کا احساس ہوجاتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، آئندہ احتیاط کرنا چاہیے۔
منفرد مناظرانہ شان
حضرت مولانا سیف الدین صاحب رشادی بڑے درجہ کے مناظر حق تھے۔ان کی مناظرانہ شان بھی بالکل جداگانہ تھی۔ مخالف کو آپ سے مکمل مناظرہ کرنے کی جرأت نہیں ہوپاتی تھی ،فریق مخالف پر اول مرحلہ ہی میں آپ کی جلالت علم کارعب کیا پڑتا کہ وہ اپنا سارا زعم کھوبیٹھتا، دعویٰ ہی ایسا وزن دار پیش کرتے کہ وہ اسی میں الجھ جاتا اور حواس باختہ ہوجاتا۔ آپ کی نظر میں خلاق عالم نے بلا کی تاثیر رکھی تھی؛ اگر محبت سے اٹھتی تو دل موہ لیتی اور اگر جلال یا غضب کا معمولی ذرہ بھی اس میں شامل ہوجائے تو پھر کیا کہنے ، بڑے سے بڑا بھی اس رعبِ نگاہ کے آگے پسر جاتا اور طبیعت پر بلا کی ہیبت طاری ہوجاتی ۔ آپ پکے مناظر تھے اور مسلک حق کے سچے ترجمان تھے، کئی مناظرے فتح کرگئے ؟ مگر کبھی نہ جشن منانا گوارا کیا اور نہ اس کا احساس دوسروں کو ہونے دیا۔
مسلم خطابی شان
حضرت مولانا سیف الدین رشادیؒ تقریری دنیا کے عظیم شنہشاہ تھے، بیان کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔ حالات سے خوب واقفیت رکھتے تھے، علم کے بحربیکراں تھے۔ ہرموضوع پر کامل دسترس حاصل ہونے کے سبب کسی بھی موـضوع کوتشنہ نہیں چھوڑتے تھے۔ تقریر کا ایک خاص انداز تھا اور سب کو بھاتا تھا۔جب وہ بولتے تو محسوس ہوتا تھا کہ اب انھیں ہی بولنے کا حق ہے اور جتنے سامعین ہیں سب خاموش؛ بلکہ سناٹا سا چھا جاتا تھا۔ پورے مجمع پر سنجیدگی ومتانت کی چادر تنجاتی تھی۔فضائیں بھی اسی جانب کا رخ کئے جاتی تھیں۔ ان کی زبان سے الفاظ نہیں بلکہ انمول موتی جھڑتے تھے اور تاثیر کا یہ عالم کہ سارا مجمع اسی وقت عمل کے لیے تیار اور جو بات کہہ دی اس پر جانثار، گویا محسوس ہوتا تھا کہ زبان سے اپنی بات کانوں تک نہیں پہونچارہے ہیں ؛ بلکہ سینے چیر کر دلوں کی تختیوں پر رقم کئے جارہے ہیں،یا دل کے کٹورے میں اپنی بات کا جادو انڈیل رہے ہیں۔ جو ایک مرتبہ ان کی گفتگو سن لیتا وہ بار بار متمنی اور مشتاق رہتا ۔
ہرفن میں درجۂ کمال
مولانا تدریس ، تزکیہ اور تقریر تینوں میدانوں کے بیک وقتبرق رفتار شہسوار تھے۔ ان کی جادوبیانی مسلم تھی۔ جب بولتے تو موتی رولتے ، زبان کی مٹھاس اور لہجہ کی نزاکت بڑی قیامت خیزتھی۔ موضوع کا احاطہ کرنے میں مکمل درک رکھتے تھے۔ گفتگو باکمال کرتے او رحق ادا کردیتے، ان کا طرز تکلم بالکل منفرد اور دل آویز تھا۔ وہ عوام میں ہوتے تو بالکل عوامی اور علماء وخواص میں وہعالمانہ وقارکی گفتگو فرماتے کہ سب پر ان کی شخصیت کا کمال ظاہر ہوجاتا۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کو ہر فن میں درجۂ کمال حاصل تھا، وہ کسی بھی فن اور اس کے اصول سے بیگانہ نہ تھے؛ بلکہ ہر فن کی باریکیوں کا خوب علم رکھتے اور موقع پر اس کو برتتے تھے ۔
حیدرآباد کا ایک تاریخی سفر
حضررت مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ تلنگانہ وآندھرا پردیش کی مؤقر تنظیم مجلس علمیہ کی دعوت پر حیدرآباد تشریف لائے تھے اور علماء و خواص کے مجمع سے خطاب فرمایا تھا ، محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے صرف خطاب ہی نہیںکیا ؛ بلکہ اپنی باتوں اور یادوںکا حسین گلدستہ علماء کو پیش کیا۔ مولانا نے جس انداز سے صحابہؓ کی عظمت اور اسی سے تقلید کی ضرورت کو پیش فرمایا وہ بس انھیں کا حصہ تھا۔ اس خطاب نے سب علماء کے قلوب کواپنی کی جانب مائل کرلئیے اورمولانا ایسی یادگار تقریر فرمائی کہ برسوں گزرگئے ؛ مگر آج بھی اس خطاب کے چرچے علماء میں زندہ ہیں ۔ اگر اس مجمع میں کوئی غیر مقلد ہوتا تو ضرور مقلد ہوجاتا اور مولانا کی گفتگو جو خالص کتاب وسنت کا عطرکشید تھی، اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
رد فرق ضالہ پر مولانا کو مہارت تامہ حاصل تھی، بالخصوص غیر مقلدین کے خلاف تو ہمیشہ سربکف رہتے ۔ ان کے نظریات کو اچھا سمجھتے اور خوب سمجھاتے تھے، ان کے دلائل کا مکمل جائزہ لیتے اور اس کی حقیقت لوگوں کو بتلاتے ۔ مسلکی تصلب مولانا میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا؛ مگر تنفر سے پاک تھے۔ ہرایک کا ادب لحاظ خوب کرتے تھے۔ سبیل الرشاد کی روایتوں کے امین تھے۔
بڑے حضرت اور امیرشریعت سے گہرا لگاؤ
حضرت مولانا سیف الدین صاحب کو بڑے حضرت علامہ ابوالسعود ؒ سے گہرا تعلق اور امیرشریعت ،وقارالعلماء اور عاشق خیرالانبیاء حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ سے عشق کی حد تک محبت اور لگاؤ تھا۔ گویا وہ حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ کی شخصیت کے فداکار تھے،ان پر وہ اپنی شخصیت کو دیوانہ وار قربان کرتے اور اتنا تعلق کہ ہر وقت ان کی شخصیت کی خوشبو سے اپنے دل کو معطر رکھتے ،بڑی محبت کے ساتھ ان کا اسم گرامی لیتے اور ہمہ تن محب بن جاتے ، اتنی ساری فداکاری کے باوصف حدود اعتدال پر ذرہ برابر بھی نقطہ آنے نہیں دیتے اور نہ ہی محبت میں جرمِ غلو کے مرتکب ہوتے ؛ بلکہ ایسی محبوب محبت کرتے کہ اس سے لوگوں کو انداز محبت سیکھنے کے مواقع میسر آجاتے ۔وہ حضرت امیرشریعت کے اصولوں کے ہرلمحہ پابند رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بڑے خوداپنے آداب بجالائیں، چھوٹوں کے سروں سے دست شفقت نہ ہٹائیںاور ان کی حوصلہ افزائی وترقی کی فکر کرتے رہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی ناگواری کا معاملہ نہ کریں تو چھوٹے بھی بڑوںکو پلکوں پربٹھانے سے گریزاں نہیں ہوتے ؛ بلکہ فخریہ ان کی قدر کا اظہار کرنے میں سعادت تصور کرتے ہیں، حضرت امیرشریعت ؒاور حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کا معاملہ یہی رہا۔
اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک
وسعت ظرفی میں آپ ایک عمدہ اسوہ تھے، طلبہ پر آپ کی شفقت کا معاملہ تو آسمان چھوتا تھا۔ آپ میں حلم وبردباری بھی بلا کی تھی۔ کسرنفسی میں آپ ایک مثال تھے۔دوسروں کے معاملات میں الجھنے کی عادت سیئہ کبھی آپ کے مزاج کا حصہ نہ بن سکی۔ فطری شرافت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ نگاہیں اتنی نیچی گویا قدرت کی کاریگری محسوس ہوتی۔ آواز کا سوز وگداز دل کو موہ لینے کے لیے کافی تھا۔ گفتارکی لطافت اظہر من البیان تھی۔ للہیت وخداترسی کا آپ اعلی نمونہ تھے۔ فکر مندی ہمیشہ آپ کے چہرے سے ظاہرہوتی تھی۔کشادہ پیشانی سے نورباطن کا ہروقت ظہور ہوتا تھا، آپ کی تنہائیاں ذکر وفکر سے لبریز او رمجلسیں علمی وقار اور شخصی معیار سے پر کیف ہوتی تھیں، شرافت ووضع داری آپ کی فطرت کالازمہ تھی۔کبر ونخوت سے کوسوں دور تھے، اپنی بڑائی کے احساس سے بالکل خالی تھے۔ کسی کی برائی کرنے کو زندگی بھر پسند نہیں کیا، اسلاف کے پاکیزہ روایتوں کے امین اور قاسم بنے رہے، زندگی باکرامت گزاری، اخلاق اتنے بلند کہ نمونہ بن جائیں۔ بالآخر ایسی باکمال و پر جمال شخصیت قضائے الہی سے 13؍مئی؍2021ء مطابق:30؍رمضان المبارک؍1442ھ کو رحمت الہی کے آغوش میں ہمیشہ کے لیے پردہ پوش ہوگئی۔
خدا بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، امت کو ان کا بدل عطا فرمائے اور ان کی یادوں کے گلستاں کوسدا آباد رکھے۔ |
ممبئی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بالی وڈ ہدایتکار ابھیشیک کپور نے فلم ''کیدارناتھ '' کے آخری شیڈول کی عکسبندی شروع کر دی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہدایتکار ابھیشیک کپور نے بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقے کیدارناتھ کے مندر میں فلم ''کیدارناتھ '' کے آخری شیڈول کی عکسبندی کے موقع پر لی گئی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس میں ابھیشیک کپور مندر میں کھڑے ہیں، فلم میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت اور سارا علی خان مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ یہ فلم سارا علی خان کی پہلی فلم ہو گی۔ |
کولکاتا۔۔۔ ممتابنرجی کے لندن کی اصل تصویر » Roznama Sahara اردو
Home Editorial / Opinion کولکاتا۔۔۔ ممتابنرجی کے لندن کی اصل تصویر
ملک کے سب سے بڑے تھنک ٹینک نیتی آیو گ نے اپنے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ اپنے شہریوں کو ملازمتیں دینے اور معاشی خوشحالی فراہم کرنے میں کولکاتا ہندوستان کا سب سے ناکام ترین شہر ہے۔ ملک کے 56 شہروں کا احاطہ کرتے ہوئے 100 پوائنٹ کے بیرو میٹر پر کیے گئے اس سروے میں ممتابنرجی کے لندن کو فقط 3ہی پوائنٹ حاصل ہوپائے ہیں ۔نیتی آیوگ نے یہ سروے اقوام امتحدہ کے ' پائیدارترقی کے اہداف17'(ایس ڈی جی17) جسے عرف عام میں اہداف17(گول- 17)کہاجاتاہے، کے منصوبوں کے مطابق کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے دنیا سے غربت کے خاتمہ اور مستحکم ترقی و خوشحالی کیلئے یہ منصوبہ2015میں شروع کیاتھا اوراس کے 17 اہداف میں مستحکم اقتصادی ڈھانچہ کا فروغ، روزگار اور عوام الناس کو خوشحالی فراہم کرنا شامل ہے۔ نیتی آیوگ کے سروے میں ماسوا بنگلورو جس نے 100 میں 79اسکور کیا ہے دوسرے تمام شہر اپنے مطلوبہ ہدف کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں ۔ہندوستان کے 56 شہروں میں سے فقط 13 شہروں نے 50سے زیادہ پوائنٹ اسکور کیے ہیں ۔
اس سے قطع نظر کہ دوسرے شہروں میں ترقیات، روزگار اور معاشی خوشحالی کی کیا صورتحال ہے یہ سروے رپورٹ کولکاتا کو شہر نشاط کہنے اور سمجھنے والوں کی آنکھوں پر پڑے پردے کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب روزگار اور کاروبار کیلئے ہندوستان بھر کے لوگ بالخصوص مشرقی ہندوستان اترپردیش اور بہار کے لوگ جوق در جوق کولکاتا کا رخ کرتے تھے، اب یہاں نسلوں سے رہنے والے لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع ختم ہوچکے ہیں ۔بنگال کی معروف جوٹ صنعت اب قصہ پارینہ بن گئی ہے ۔یہاں کی 70 بڑی جوٹ ملوں میں سے معدودے چند ہی کام کررہی ہیں اور ان ملوں سے وابستہ لاکھوں مزدور بے روزگار پھر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ریاست میں روزگار کی شرح 4%فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ فی کس آمدنی میں50فیصد سے زیاد ہ کی کمی واقع ہو گئی ہے ۔
مغربی بنگال کی تقریباً14کروڑ کی آبادی میں 18سے 35 سال کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً نصف ہے ا ور ان میں سے 30 سے40 لاکھ کے درمیان نوجوان مہاجر مزدور ہیں جو دوسری ریاستوں میں جاکر کام کررہے ہیں۔ باقی جو مغربی بنگال میں ہیں، اول تو حکومت انہیں روزگار ہی نہیں دے رہی ہے، دوسرے جو روزگار حاصل ہورہے ہیں، ان میں گھوٹالے اور بھاری رشوت کا بازار گرم ہے ۔اقربا پروری اور رشوت ستانی حکمراں طبقہ کا عمومی مزاج بن گیا ہے۔
2011 کے بعد سے تقریباً ہر تقرری میں سنگین بے ضابطگی اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں لیکن حکومت نے کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ اس کی وضاحت کرتی اور شکایت دورکرنے کی کوئی پہل کرتی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل امیدوار عدالت پہنچ گئے اور بدعنوانی، رشوت ستانی اور گھوٹالے سے پردے اٹھنے لگے۔کلکتہ ہائی کورٹ کے کئی ایک حالیہ فیصلوں کی وجہ سے یہ حقیقت اور بھی آشکار ہوگئی ہے کہ ترنمول کانگریس کی حکومت کے دور میں ایسا شاذو نادر ہی ہوا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں تقرریاں بغیر کسی بدعنوانی کے ہوئی ہوں۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی میں ہوئے گھوٹالہ کی چند یوم قبل ہی سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی حکم کے خلاف حکومت اپیل کررہی ہے اور سی بی آئی تحقیقات کو رکوانے میں لگی ہوئی ہے لیکن عدالت کے اس حکم سے کم از کم یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ بغیر رشوت دیے صرف میرٹ کی بنیاد پر مغربی بنگال میں معمولی سی گروپ ڈی کی ملازمت اور روزگار حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ اسکولوں میں گروپ ڈی کی بھرتی کے معاملے میں تو بدعنوانی کی تمام حدیں ہی پار کردی گئی ہیں۔ اسکول ایجوکیشن بورڈ نے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے بغیر کسی سفارش یا میرٹ لسٹ کے ہزاروں ہزار لوگوں کو ملازمت دے دی ۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جوبحالیاں ہوئی ہیں، اس کی سفارش ہم نے نہیں کی ہے جب کہ بورڈ نے باقاعدہ عدالت میں حلف نامہ دے کر دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسکول سروس کمیشن کی جانب سے ایک پین ڈرائیو ملا تھا جس میں سفارش تھی۔اسکول ایجوکیشن بورڈ اور اسکول سروس کمیشن کی اس سازباز پر عدالت بھی ششدر رہ گئی اور بالآخر اسے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔
کم و بیش یہی صورتحال دوسری ملازمتوں کی بھی ہے۔ پرائمری ٹیچروں کی تقرری کے معاملے میں کئی درجن کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ امتحان پاس کرنے، انٹرویو دے کر میرٹ لسٹ میں آجانے کے باوجود ان کی جگہ پر دوسرے لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اسی طرح کی ایک ملازمت کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے تقریباً 500 کارکنوں کی تنخواہ کی ادائیگی پر روک لگاکر ان کے بحالی عمل کی جانچ کا حکم بھی دیا ہے ۔
فی الحال مغربی بنگال حکومت کے مختلف محکموں میں2لاکھ سے بھی زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن پر حکومت کوئی بحالی نہیں کر رہی ہے جب کہ ریاست کے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میںڈیڑھ لاکھ اساتذہ کی خالی اسامیاں بھی تقرری کا انتظار کررہی ہیں۔ لیکن حکومت ان اسامیوں پر تقرری کے بجائے ٹھیکہ پر کام کراکر پیسے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاست کے ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں تقریباً 4لاکھ بے روزگار اب بھی رجسٹرڈ ہیں، اکیلے سال 2020 میں ایک لاکھ بے روزگاروں نے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے ۔ان میں سے 30 ہزار سے بھی زائد ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں جنہیں مختلف کالجو ں میں اپنی تقرری کا انتظار ہے ۔
کولکاتا کو لندن بنانے کا دعویٰ کرکے 2011سے حکومت کرنے والی ترنمول کانگریس اور اس کے لیڈروں نے پورے مغربی بنگال کوبے روزگاراور مقروض بنادیا ہے ۔جب ترنمول کانگریس نے اقتدار سنبھالا تو ریاست پر 2 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کاقرض تھا جو 10برسوں میں بڑھ کر آج5لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہوچکا ہے۔ آج مغربی بنگال میں ہر بچہ 50 ہزار روپے کے قرض کے ساتھ پیدا ہو رہاہے۔ ممتا بنرجی کی نت نئی اسکیمیں بھی اسی قرض کی رقم سے ہی چلائی جارہی ہیں۔ اس بھاری بھرکم قرض کے باوجود عورتوں کی 'فلاح' 500روپے فی کس نقد رقم بانٹنے کی اسکیم 'لکھی بھنڈار' شروع کی ہے اور یہ اسکیم بھی قرض کی رقم سے چلائی جارہی ہے۔
کولکاتا کی عظمت رفتہ کا بحال ہونا جلد ممکن نہیں لیکن بنگال اور کولکاتا کے نوجوانوںکو خو د کفیل اور برسرروزگار ضرور بنایا جا سکتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ کولکاتا کو لندن بنانے کے خواب میں بنگالیوں کو الجھانے اور قرض کی رقم بانٹ کرلوگوں کو محتاجی کی طرف لے جانے کے بجائے ترنمول حکومت ریاست کے لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنے کا سامان کرے۔
Previous articleIN PIC: Border Security Force (BSF) personnel stand guard at Line of Control (LOC) along the Sunderbani area in Jammu. |
بارشیں برسانے والا اگلاسسٹم پاکستان میں داخل ہونے کیلئے تیار،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی – Pak 92 News
Home/National/بارشیں برسانے والا اگلاسسٹم پاکستان میں داخل ہونے کیلئے تیار،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
Admin November 27, 2020 National Leave a comment 256 Views
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ موسمیات نے آئندہ ماہ دسمبر میں لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے کا سسٹم دسمبر کے پہلے ہفتے پنجاب میں داخل ہوگا۔ جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشیں متوقع ہیں۔
ان بارشوں کی وجہ سے شہر کا درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی جبکہ گزشتہ روز شہر میں ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ ساتھ دھوپ نکلنے سے موسم خوشگوار رہا دوسری جانب سینئرصحافی صابر شاکر نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ فوج میں تقرر و تبادلوں کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بہت اہم ہوگئے ہیں،اگلا آرمی چیف کون ہوگا، کب ہوگا؟اس کی کنجی اور مکمل اختیار جنرل قمرجاوید باجوہ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان سینئر افسران کے تقررتبادلوں کو لے کر بار بار نومبر دسمبر کی بات کررہا تھا۔ن لیگ نے اپنی تقاریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ہدف تنقید بنایا، نواز شریف نے گوجرنوالہ اور کوئٹہ میں تقریر کی، لیکن کراچی اور پشاور میں تقریر نہیں کرنے دی گئی،پشاور میں اے این پی اور کراچی میں پیپلزپارٹی سائیڈ پر ہوگئی۔صابر شاکر نے کہا کہ ان کی بڑی خام خیالی تھی، وہ بار بار کہتے تھے کہ ہم تو صرف دوشخصیات کے خلاف ہیں، صابر شاکر نے کہا کہ یہ لوگ ان سینئر آفیسرزکی جانب دیکھ رہے تھے جنہوں نے 10دسمبر کو ریٹائرڈ ہونا تھا،ان میں اہم ترین کورکمانڈرز شامل ہیں، صابر شاکر نے دعویٰ کیا کہ ان کا خیال تھا کہ ادھر سے سپورٹ ملے گی اور اختلافات پید اہوجائیں گے۔لیکن کور کمانڈرز کانفرنس میں کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک تھا، ترقیاں بھی ہو گئیں، تبادلے بھی ہو گئے اورآئندہ دو تین ہفتوں میں ان ساری چیزوں پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہو جائے گا۔
Previous میرا ایک ارب پتی دوست پیمپر لگا کر سارا دن گھر میں اکیلا بیٹھا رہتا ہے ، چند دن قبل اسے ملنے گیا تو دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا ، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا ۔۔۔۔ جاوید چوہدری کی سبق آموز تحریر |
نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر.... ساغر صدیقی - مجاہد الحسینی
اللہ کے آخری نبی ورسولﷺ کی شانِ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں 1953ءکی تحریکِ ختم نبوت کا آغاز تھا، قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگی رہنماو¿ں کی حصولِ اقتدار کی کشمکش خوب زوروں پر تھی، آزادی ملنے کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت علیا کی گدی پر میاں ممتاز دولتانہ براجمان ہو چکے تھے، تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی سعادت پانے والوں کی تحریک کے ترجمان روزنامہ آزاد لاہور کے دفتر میں خوب رونق رہتی تھی۔ ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس، سرکے بکھرے بال، چہرے پر غربت وافلاس کی سلوٹیں اور عجیب و غریب حالت میں ایک درویش میرے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ میں سمجھتا تھا کہ ابھی اپنی غربت کا رونا روکر مجھ سے بھیک مانگے گا مگر میری حیرت کی انتہا۔۔۔کہ اس نے دعا سلام کے بعد بیٹھتے ہی چائے کی فرمائش کی، میں نے دفتر کے خادم سے چائے لانے کو کہا تو اس نے ساتھ ہی سگریٹ کی ڈبیا لانے کی بھی فرمائش کردی، میں نے ساتھ بسکٹ لانے کا اضافہ کر کے خادم کو روانہ کر دیا، پھر میں نے نووراد کا تعارف اور ضروری معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس نے ساغر صدیقی نام بتاتے ہی اپنے چند اشعار سنائے۔
کلام کی روانی اور بلاغت سے میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو " گودڑی میں لعل" کا مصداق ہے، اب ساغر صدیقی سے دوستی اور تعلقِ خاطر کا رشتہ قائم ہوگیا، وہ چند روز کے وقفے میں قدم رنجہ ہوتے تو حسبِ معمول آتے ہی چائے اور سگریٹ لانے کی فرمائش کرتے ہوئے لکھنے کے لئے کاغذ طلب کرتے اور میرے سامنے بیٹھ کر فی الدیہہ اپنا کلام لکھتے اور سناتے اور دفتری عملے سمیت موجود سامعین سے خوب داد وصول کرتے تھے۔
چنانچہ تحریک ختم نبوتﷺ کی تائید میں ساغر صدیقی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے کاپی رائٹر علامہ لطیف انور، شریف جالندھری، جانباز مرزا، محمود مرزا پشاوری، حفیظ رضا پسروری، سائیں محمد حیات اور دیگر شعراءبھی ہمنوا اور شرکت کیا کرتے تھے،پھر تحریک ختم نبوت? رفتہ رفتہ ہمہ گیر ہوتی گئی اور صورتِ حال کی مناسبت سے سب سے زیادہ حسبِ حال کلام ساغر صدیقی اور علامہ شریف جالندھری کا ہوتا تھا، تحریک ختم نبوتﷺکی شدت پر دولتانہ صاحب نے عشاق عقیدة ختم نبوتﷺکی پکڑ دھکڑ شروع کردی تھی، چنانچہ سرگودھا میں مولانا ثناءاللہ امرتسری مرحوم کے پوتے ذکاءاللہ امرتسری اور صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلومہار شریف کے فرزند خالد حسن کو ختم :نبوتﷺ کے نام سے جلسے کا انتظام کرنے پر گرفتار کر لیا تھا، جس پر علامہ شریف جالندھری نے لکھا تھا |
اقلیتی برادری کی سیکورٹی اور بلدیاتی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، ..
پیر 2 مارچ 2015 - 14:42
حکمران جوڈیشل کمیشن کے قیام میں تاخیر کر کے اپنے لئے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں'سعدیہ سہیل رانا
پیر 2 مارچ 2015 - 14:41
تحریک انصاف (ن) لیگ کو بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیگی' یاسر گیلانی
پاکستان نے کرکٹ ورلڈ کپ میں فتوحات کا آغاز کر دیا ،انشا اللہ یہ سلسلہ جاری رہیگا ' عرفان دولتانہ
عوام کو 8 برسوں سے مقامی حکومتوں سے محروم رکھناحکمرانوں کی آمرا نہ پالیسی کا عکاس ہے' عابد صدیقی
سری لنکانگران حکومتصومالیہنامعلوم افرادعالمی بینکسعودی عرب، سمگلنگآتشزدگیبلاول بھٹو زرداریشوبزمیر گل خان نصیرمولانا فضل الرحمنمنموہن سنگھپیپلز پارٹیآئی سی سیجرمانہسوئی گیسقاسم ضیاءمحمد علی جناحشرجیل میمنسیّد مسعود کوثر
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02مارچ۔2015ء) کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا ہے کہ اقلیتی برادری کی سیکورٹی اور بلدیاتی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات ہیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اقلیتی برادری کی خدمات باقابل فراموش ہیں ، ان کی ملک سے وفاداری اور محبت پر کوئی شک و شہبات نہیں ، تعلیم اور طب کے شعبہ میں گرانقدار خدمات انجام دے رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسٹس ہیلپ لائن کے صدر ندیم شیخ ایڈوکیٹ کی سربراھی میں اقلیتی برادری کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر کیا ، اس موقع پر سینئر نائب صدر آتم پرکاش ، ہیڈ منیارٹی سلیم مائیکل ایڈوکیٹ ، اور ڈائریکٹر میڈیا کمشنر کراچی محمد شبیہ صدیقی بھی موجود تھے ، کمشنر کراچی کو وفد نے وائی ایم سی اے ،مری ماتا مندر اور ہندو جیم خانہ کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس کی خدمات کے پیش نظر کراچی کی کوئی شاہراہ یا پارک ان کے نام سے منسوب کیا جائے ، جسٹس ھیلپ لائن نے بتایاکہ وہ جلدہی جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کرینگے ، کمشنر کراچی نے جسٹس ہیلپ لائن کی درخواست پر موقع پر ہی احکامات جاری کئے اور وفد کو اپنی اور حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گڈ گورننس ہر پاکستانی کیلئے ہے چاہے اسکا تعلق اکثر یتوں سے ہو یا اقلیتوں سے ، حکومت مذہبی تہواروں اور تقاریب کے مواقعوں پر سیکورٹی اور بلدایاتی امور کے حوالے سے جسطرح اکثر یتوں کیلئے انتظامات کرتی ہے اسی طرح اقلیتی برادری کیلئے بھی کرتی ہے ، وفد نے اس موقعہ پر تعاون کی یقین دہانی پر کمشنر کراچی اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ملکی ترقی اور امن کیلئے اقلیتی برادری کی جانب سے حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ۔ |
مرکز افکار اسلامی تعلیم و تربیت مرکز افکارِ اسلامی - مرکز افکار اسلامی
اہمیت تعلیم و تربیت
قوموں کی ترقی و تنزلی کا بنیادی سبب ان کی تعلیم و تربیت ہوتا ہے۔اسلام میں جتنی تاکید تعلیم پر دی گئی ہے اتنی اہمیت کسی اور نظریہ میں نہیں ہے۔
اس فریضہ کی ادائگی کا حکم جہاں سیکھنے والوں کو دیا گیا ہے اس سے زیادہ تاکید اور اجر سکھانے والوں کے بارے نیان ہوا ہے۔اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے مرکز افکارِ اسلامی بھی اپنی ممکنہ توان تک مشغول ہے ۔ قوم کے افراد کے لئے مرکز درج ذیل امور انجام دے رہا ہے۔
1:جامعہ جعفریہ جنڈ
جوان بچوں کے دینی تعلیم و تربیت کے لئے دینی مدرسہ جامعہ جعفریہ جنڈ کی سرپرستی۔جامعہ میں اس وقت پچاس کے قریب طلبا زیر تعلیم ہیں جن کو چار سالہ کورس پڑھایا جاتا ہے اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ طلاب اس مرحلہ کو طے کرنے کے بعد حوزہ علمیہ قم یا مشہد یا نجف اشرف جا سکیں۔الحمد للہ جامعہ کے طلاب کی ایک خاصی تعداد ان حوزوں میں زیر تعلیم ہے۔
2:جامعہ زینبیہ
جوان بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم و تربیت بہت مہم ہے اور حقیقت میں جس قوم کی خواتین کا معیار تعلیم بلند ہوتا ہے وہی قوم ترقی کر سکتی ہے ۔خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کےفریضہ کی ادائگی کے لئے جنڈ کی ایک مومنہ نے پانچ کنا ل جگہ وقف کرائی اور بچیوں کے لئے قائم اس مرکز کو جامعہ زینبیہ کا نام دیا گیا۔جامعہ زینبیہ کی تعمیرات کا سلسلہ شروع ہے ۔دعا ہے یہ مرحلہ جلد مکمل ہو اور یہاں رہائش کا اہتمام ہو اور بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ چل سکے۔
3:مختصر کورسسز
(ا)فرصت کے اوقات کو تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کرنے کے لئے مرکز افکار سال بھر کئی جز وقتی پروگرام ترتیب دیتا ہے۔بچوں اور بچیوں کے لئے شارٹ کورسسز کا اہتمام کیا جاتا ہے جو بچوں کی چھٹیوں کے ایام میں انجا م پاتا ہے۔
(ب)تعلیم کے معیار کے اضافہ میں کتاب خوانی کا ایک بہت مہم کردار ہے۔ترقی کے معیار کو ناپنے کے لئے وہاں کے کتابخانوں کی تعداد اور کتنی مقدار میں لوگ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور کتنی کتابیں پرنٹ ہوتی ہیں ان چیزوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔مرکز افکار اسلامی جہاں کتابیں چھاپنے اور انہیں سستے داموں قوم کے افراد تک پہیچانے کی کوشش کر رہا ہے وہا افارد میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے کتابخوانی کے مقابلے کراتا ہے اور اس میں انعامات کے ذریعہ لوگوں کو تشویق دلائی جاتی ہے۔مرکز کا یہ پروگرام الحمد للہ ملک بھر میں ایک شہرت رکھتا ہے اور خاصی تعداد میں لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں۔
(ج)نئی نسل کو قلم اٹھانے کا شوق دلانے اور مستقبل کے مؤلف و مصنف تربیت کرنے کے لئے مرکز کئی سالوں سے مقالہ نویسی کے مقابلوں اور معقول انعامات کے ذریعہ جوان طلاب کو اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور الحمد للہ سینکڑوں افراد ان مقابلوں کے ذریعہ قلم اٹھاتے ہیں اور مرکز کے پاس بیسیوں موضاعات پر سینکڑوں مقالے موجود ہیں جنہیں کتابی صورت میں نشر بھی کیا جاتا ہے اور ان مقالوں پر مبنی کئی کتابیں مرکز کی طرف سے نشر ہو چکی ہیں۔
4:قرآن سنٹر
تقریبا پندراں سال سے مرکز کی کوشش رہی کی ضلع اٹک کے قرآنی سنٹروں کو زیادہ سے زیادہ فعال کیا جائے اور وہاں کام کرنے والے علماء کے ساتھ تعاون کیا جائے الحمد للہ ضلع بھر کے علماء اور اٹک سے باہر کے بھی چند عماء اس پروگرام میں ساتھ دے رہے ہیں اور یہ کام مناسب انداز سے بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔
5:عمومی دروس
مرکز کی کوشش ہے کہ جوانوں کے ساتھ ساتھ عمومی افراد کے تعلیمی معیار کو بھی بڑھایا جائے ۔اس کے لئے مرکز اتوار کلاسوں کا اہتمام کر رہا ہے اور خواتین و حضرات کے لئے کچھ عمومی دروس کی سعی کی جارہی ہے یہ کام ابھی اپنے ابتدائی ایام میں ہے اور چند کامیاب پروگرام انجام پا چکے ہیں۔
6:عصری تعلیم
دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی عصری تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے مرکز چند پروگرام انجام دے رہا ہے
(ا) جامعہ جعفریہ کے طلاب کے لئے باقاعدہ سکول ٹیچر مہیا کئے جاتے ہیں اور بچے ایف اے تک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور الحمد للہ پچھلے چند سالوں سے بچے اچھے نمبروں سے کامیاب ہو رہے ہیں۔
(ب)تعلیمی وظائف: قوم کے وہ نونہال جو مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے تعلیم سلسلہ کو جاری نہیں رکھ سکتے ان کے ساتھ مالی تعاون کیا جاتا ہے اور ابتدائی کلاسوں سے لے کر ڈگری لیول تک کے طلاب اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
(ج)جامعہ جعفریہ جنڈ کے طلاب کے لئے کمپیوٹر اور کمپیوٹر کا ٹیچر مہیا ہے جو بچوں کو عصری ضرورت کے مطابق کمپیوٹر سکھاتا ہے اور مرکز کی کوشش ہے کہ عام جوان بچے اور بچیاں اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں۔
7:ٹیکنیکل کام
مرکز نے کچھ خواتین کو سلائی مشینین مہیا کی ہیں اور انہیں سکھانے کے لئے اساتذہ کا بھی اہتمام کیا ہے تاکہ خواتین اپنے گذر اوقات کے لئے سلائی کو ذریعہ بنا سکیں ۔دیگر ٹیکنیکل کام سکھانے کی کوشش ہے۔ |
طالبان کی امریکہ کو 7 سے 10 روز کی عارضی سیز فائر کی پیشکش - اسلام ٹائمز
کورونا وائرس کے 94 فیصد مریض صحتیاب ہوئے ہیں، ڈاک
سیکرٹری بلوچستان اسمبلی نے استعفٰی دیدیا
پختونخوا حکومت کی بی آر ٹی منصوبے پر تعمیراتی کام جاری رکھنے کی ہدایت
طورخم سرحد افغان شہریوں کی واپسی کیلئے یکطرفہ طور پر کھول دی گئی
علامہ حمید امامی کی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر شہریار آفریدی سے ملاقات
زلمے خلیل کافی عرصے سے طالبان پر سیز فائر کیلئے زور دے رہے تھے، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ طالبان کی اس پیشکش کے بعد انکے اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوسکے گی یا نہیں، جسکا حتمی مقصد فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہے۔
اسلام ٹائمز۔ افغان طالبان نے امریکا کو افغانستان میں 7 سے 10 روز کی عارضی سیز فائر کی پیشکش کر دی۔ امریکی خبر رساں ایجنسی "اے پی" کے مطابق مذاکرات سے باخبر افغان طالبان کے عہدیداران نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے سیز فائر کی پیشکش کی دستاویز قطر میں افغان امن عمل میں امریکا کے نمائندے زلمے خلیل زاد کے حوالے کی گئی ہے۔ زلمے خلیل کافی عرصے سے طالبان پر سیز فائر کے لیے زور دے رہے تھے، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ طالبان کی اس پیشکش کے بعد ان کے اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت ہوسکے گی یا نہیں، جس کا حتمی مقصد فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہے۔ طالبان کی اس کی پیشکش کو امن معاہدے کی جانب مثبت پیش قدمی کے نئے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے افغانستان میں 18 سال سے جاری طویل جنگ کا خاتمہ اور وہاں سے امریکی فوج کا انخلا ممکن ہوسکے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان کی اس پیشکش پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ آج مثبت پیشرفت ہوئی ہے، طالبان نے تشدد کو کم کرنے کیلئے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہوگی کہ مختلف افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا، تاکہ جنگ کے خاتمے کے بعد کابل کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ اس لائحہ عمل میں کئی اہم معاملات جیسے مستقل سیز فائر، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور طالبان کے ہزاروں جنگجوؤں کے مستقبل جیسے امور پر غور کیا جائے گا۔ تاہم طالبان افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی حکومت سے مذاکرات سے انکار کرتے آئے ہیں۔
افغان حکومت داخلی طور پر بھی اختلافات کا شکار ہے، جہاں 2014ء میں انتخابات کے بعد امریکا کی مداخلت سے اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور دیگر کے درمیان حکومتی عہدے تقسیم کیے گئے تھے، لیکن رواں برس منعقدہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ان کے آپس میں اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اپنے طور پر کامیابی کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ انتخابی نتائج کا اعلان تین مہینوں کے بعد بھی نہیں ہوسکا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ستمبر میں افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد اچانک طے شدہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ زلمے خلیل اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔ تاہم نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ مغربی تہوار "تھینکس گِونگ" کے موقع پر اچانک افغانستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔ دسمبر میں طالبان نے ہفتوں کی مشاورت کے بعد عارضی جنگ بندی کی پیشکش پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ |
افغان کانفرنس: کیا پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا؟ - شفقنا اردو نیوز
جولائی 16, 2021 114 views
افغانستان میں قیامِ امن اور استحکام کے لیے پاکستان نے ایک کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے سابق افغان صدر حامد کرزئی کو ٹیلی فون کرکے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں حامد کرزئی سمیت اعلیٰ افغان قیادت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان پر مجوزہ تین روزہ کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا جس میں پاکستان کے لیے افغانستان کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داؤدزئی، سابق وزیرِ داخلہ ڈاکڑ حضرت عمر زخیلوال، صلاح الدین ربانی، ہزارہ برادری کے سینئر رہنما حاجی محقق، گل بدین حکمت یار اور احمد ولی مسعود کی شرکت متوقع ہے۔ فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں افغانستان کے مسائل کے حل کی نئی امید پیدا ہوگی۔
واضح رہے کہ اس مجوزہ کانفرنس کے لیے تاحال پاکستان کی جانب سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پاکستان نے یہ کانفرنس ایسے وقت میں طلب کی ہے جب افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کے دوراہے پر ہے۔ افغانستان میں مفاہمت اور سیاسی حل کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ خدشات پختہ ہوتے جارہے ہیں کہ افغانستان ایک ایسی تباہی کی طرف جارہا ہے کہ ہم ماضی کی تمام تباہیوں کو بھول جائیں گے۔ نتیجتاً پاکستان کے ساتھ بھی ایسا کچھ غلط ہونے والا ہے کہ جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں۔بلاشبہ قطر مذاکرات جاری ہیں۔ جوبائیڈن نے افغان امن عمل میں بظاہرروس، چین، ایران، انڈیا اور ترکی یعنی علاقائی طاقتوں کو بھی آن بورڈ لیا ہے۔ امریکی افواج کا انخلا تیزی کے ساتھ جاری ہے اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ سیاسی حل کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان حکومت اور طالبان ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کرنے میں رتی بھر سنجیدہ نہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہیں۔
پاکستان نے افغانستان میں سیاسی حکومت کی تشکیل میں ٹھوس کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ افغان طالبان اور عالمی برادری کے ذمے دار ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں ہی کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ اگلے مرحلے میں افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ہونا ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد میں کمی کے باعث تاحال ممکن نہیں ہو پائے۔ کابل حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے افغانستان میں بد امنی و انتشار کی صورت حال پر قابو پانے میں کامیابی نہیں ہو رہی۔ بے یقینی کی اس صورت حال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو بھارت نے افغانستان میں ایسے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ امن کی ہر کوشش ان کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتی، جب تک افغان عوام اور حکومت کو بیرونی سازشوں اور استعماری طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے نجات نہیں مل جاتی، خطے میں پائیدار امن کا قیام مشکوک رہے گا۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا، امن مذاکرات میں تعطل اور بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے پاکستان کی ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو اقتدار کی تقسیم کے انتظامات سے متعلق ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ نامی تھنک ٹینک کی ''پاکستان: افغان امن عمل کی سپورٹ'' نامی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل تیز تر ہوتا ہے یا پوری طرح سے ناکام ہوجاتا ہے کسی بھی صورت میں اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ جب کہ بھارت اس صورتحال سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ امریکہ کسی صورت پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے پہ تیار نہیں ہے حالانکہ امریکہ اور س کے حلیف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان ہی وہ ملک ہے جو افغان انخلا سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔
ایشیا ٹائم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بگرام بیس خالی کرنے سے پہلے سابق امریکی صدور بارک اوباما اور جارج بش سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھیں افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔ان سب معاملات کی روشنی میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی ہے، انھیں نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ دوحہ معاہدے پر اصرار کیے بغیر افغانستان سے جا رہے ہیں۔ بگرام بیس خالی کرنے سے متعلق اطلاع دینے تک کی زحمت نہیں کی گئی۔ وہ بھی اس حال میں جب وہاں واقع جیل میں ہزاروں طالبان قیدی موجود ہیں۔ یہاں پر شکوک وشبہات کا پیدا ہونا لازمی امر ہے کہ کیا امریکی جان بوجھ کر افغانستان کو تباہ کن خانہ جنگی کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟فرض کرلیتے ہیں کہ یہ مفروضہ درست ہے تو پھر پاکستان اس ضمن میں کیا حکمت عملی ترتیب دے گیا ، کیا پاکستان اس صورتحال کا مقابلے کرنے کے لیے چین، روس اور ایران سے رابطہ کرکے اپنی سفارتکاری کے ذریعے افغان متحارب فریقوں کو مفاہمت پر آمادہ کرنے اور امریکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے ایجنڈے کو عملی شکل دے پائے گا، یہ ملین ڈالرسوال ہے ۔
اہسے موقع پر افغانستان امن کانفرنس کا انعقاد پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک بہترین اور شاید آخری کوشش ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس کانفرنس میں تمام مقامی و بین الاقوامی کھلاڑیوں کو مدعو کرے۔ اس وقت بھارت افغانستان کو اسلحے کی فراہمی کے ذریعے حالات کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ جب کہ پاکستان اس وقت سب سے زیادہ مشکل میں ہے اور افغانستان کا مخدوش مستقبل پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ خطی کھلاڑیوں خاص طور پر ایران، چین اور روس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ کیونکہ امریکہ اور بھارت اس وقت پاکستان کو اسی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں جس میں وہ ایک مرتبہ ماضی میں پھنس چکا ہے۔ پس یہ بروقت کانفرنس ایک اہم موقع ہے کہ افغان مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔
جمعتہ المبارک، 16جولائی 2021
ur. Shafaqna.com
افغان طالبانافغانستان کانفرنسامریکی صدر جو بائیڈنبگرام ائیر بیسپاکستان اور افغانستان جنگدوحہ امن معاہدہ |
فاریکس مارکیٹ کی بنیادی باتیں ،AJAX کیا ہے
شیوہ خسرم مہر 2020/10/18 قابلِ اعتماد تجارتی پلیٹ فارمز
اس AJAX کیا ہے بار فلٹرز استعمال کرنے کے ل a ہم ایک مختلف نقطہ نظر استعمال کریں گے۔ قطار کے ہیڈر میں Ctrl + شفٹ + L دبائیں۔ بازار فارکس : این بازار محل خرید و فروش جفت ارزها است یعنی خرید یک ارز و فروش یک ارز دیگر برای مثال یورو(از اتحادیه اروپا) در مقابل دلار آمریکا و یا پوند انگلیس در مقابل ین ژاپن .eur/usd….gbp/jpy مهمترین ارزها مورد داد وستد در این بازار به ترتیب.
چائے بنانے کے لئے پودینہ قدرتی ہے۔ خوشبو اور ذائقہ دونوں متحرک ہیں۔ محض پیپرمنٹ یا اسپیئر مائنٹ کے ساتھ نہ رکیں۔ گلاب ، چاکلیٹ ، اور اورینج سمیت ، ہر ذائقہ کے بارے میں جس میں آپ سوچ سکتے AJAX کیا ہے ہو اس میں منٹ موجود ہیں۔ تازہ پتے سب سے زیادہ ذائقہ حاصل کریں گے ، لیکن جب خشک ہوجائے تو زیادہ تر جڑی بوٹیوں سے بہتر ٹکسال اپنی خوشبو اور ذائقہ دونوں کو تھامے رہتے ہیں۔ صرف کچھ پتیوں سے شروع کریں اور ذائقہ کو ایڈجسٹ کریں۔ دستی طور پر یہ چیک کرنے کے لئے کہ سائٹ نے کیا پیش کش کی ہے ، پر جائیں اسٹور تمام گیمز کو براؤز کریں . اس کے بعد آپ کلیکشن کرکے سائٹ کے مجموعہ کو صرف میک کے موافق ٹائٹلز پر فلٹر کرسکتے ہیں میک کے لئے تمام کھیل .
اگرچہ آپ اعلی پوزیشن میں داخل ہونا چاہتے ہیں AJAX کیا ہے ، لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کچھ دیر انتظار کریں گے کہ پہلے کیا ہوگا۔ اس مثال کے معاملے میں ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اچھ bearا ریچھ کی موم بتی اچانک نمودار ہوتی ہے ، حمایت کو توڑتی ہے اور رجحان کو نیچے کی طرف موڑ دیتا ہے۔ بیا بہ کلبۂ ویران من کہ پنداری.
اسپاٹ مارکیٹ اور ایکسچینجز - AJAX کیا ہے
آفس 365 کو آف لائن استعمال کرنے کے ل you ، آپ کو ونڈوز کے مطابقت پذیر AJAX کیا ہے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر آفس پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا۔ جب آپ پہلی بار سائن اپ کرتے ہیں تو آپ کو آفس پروگرام مقامی طور پر انسٹال کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، لیکن آپ اپنی فعال رکنیت کے دوران کسی بھی وقت ان کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اپنے آفس 365 آن لائن خریداری کو فعال رکھنے اور آف لائن کی جانے والی تبدیلیاں مطابقت پذیر رکھنے کے ل You آپ کو کم سے کم ہر 30 دن بعد کلاؤڈ پر مبنی پروگرام میں سائن ان کرنا ہوگا۔ مائیکروسافٹ آپ کو ایسا کرنے کے لئے کہے گا تاکہ آپ کو یاد رکھنے کی ضرورت نہ رہے۔
یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو ملحقہ دنیا میں ہونے والے تمام واقعات کے بارے میں بریفنگ مل جاتی ہے۔ آپ کو کی گئی تبدیلیوں اور نئے اپ ڈیٹس سے آگا ہی ملتی ہے۔ میں اپنی جمع / واپسی کی درخواست کیسے منسوخ کرسکتا ہوں؟ فاکس میٹریکس ایک ہے واقعہ سے باخبر رہنے کی اور ویب تجزیات کا آلہ اس کا مقصد صارفین کو ان کے آن لائن کاروبار کو چلانے کے لئے تمام معیاری تجزیاتی خصوصیات فراہم کرنا ہے۔ تجزیاتی کمپنیوں کو اس کا احساس ہو گیا ہے AJAX کیا ہے لوگوں کے اعداد و شمار صفحے کے نظارے سے زیادہ بلند آواز میں بولتے ہیں . پلیٹ فارم کی مرکزی توجہ صارفین کی ویب سائٹ پر آنے والے زائرین کے اعمال اور سرگرمیوں پر ہے۔
کچھ برانڈز دنیا بھر کے مقامات پر بکس کرایہ پر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکاگو اور نیویارک کے منتخب اسٹیڈیموں میں میریئٹ کی بڑی موجودگی ہے ، اور آپ سوٹ نشستوں کے لئے پوائنٹس کو چھڑا سکتے ہیں جن میں اکثر مفت کھانا پینا شامل ہوتا ہے۔ آپ کے لئے بلیک آؤٹ کے بہترین رنگوں کو تلاش کرنے کے ل. ان خصوصیات پر فوکس کریں جو اہمیت کا حامل ہے۔ قرض حسنہ: رہا یہ سوال کہ غیر سودی بینک ضرورت مندوں کے لیے غیر پیداواری قرضے، بلا سود کس طرح جاری کرے گا؟ اور اس کا کیا جواز AJAX کیا ہے ہو گا؟ تو جواب یہ ہے کہ خود بینک کو کرنٹ اکاؤنٹ کی مد میں ایک بہت بڑا سرمایہ غیر سودی قرض کی صورت میں حاصل ہوتاہے، جیساکہ پہلے ذکر ہو چکاہے۔ اس رقم میں سے ایک حصہ وہ غیرسودی قرضوں کے طور پر دے سکتا ہے۔ بینک اس رقم سے بلا سود غیر تجارتی قرضے اور قلیل المیعاد قرضے جاری کرے گا۔ اول الذکر غیر تجارتی ہونے کی وجہ سے اور مؤخر الذکر کو قلیل مدت ہونے کی وجہ سے مضاربت کی بنیاد پر دینا ممکن نہ ہو گا، لہٰذا بینک اس قسم کے قرضے بلا سودجاری کرے گا۔ البتہ یہ قرضے جاری کر نے کے لیے ان کے حساب و کتاب کی اجرت لینا جائز ہے۔ مثلاً قرض کی درخواست کے لیے فارم کی قیمت لی جائے وغیرہ۔ |
خود بدلتے نہیں، قرآن کو بد دیتے ہیں
ملک کی عدالت عظمیٰ اور مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بینچ نے دو اہم فیصلوں میں شریعت کی رہنمائی پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ مدورائی بینچ نے ایک مسلم والد کے ذریعہ دائر اپیل پر فیصلہ سنایا ہے۔ والد نے اپنی ۱۸سال سے کم عمر بچی کی شادی مقامی مجسٹریٹ کے ذریعہ رکوانے پر اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا "شریعت میں جو چیز جائز کی گئی ہے اس کا مطلب اس کو کرنے کا حکم نہیں ہے۔ صرف اجازت ہے۔ ۲۰۰۶/ کا قانون تمام پرسنل لاء سے اوپر ہے وہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔" اس فیصلہ پر ہندوستان کے ماہرقانون طاہر محمود صاحب نے انڈین ایکسپریس کی ۱۴/۳/۲۰۱۵/ کی اشاعت میں "یہ دعویٰ کیا کہ الٰہی یا خدائی قوانین ماوراء دستور قوانین ہیں احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہے" موصوف کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لاء کے تحت لڑکا لڑکی کے بلوغ کی عمر ۹-۱۲ سال ہے۔ اگر یہ بعض وجوہات کی بناء پر پہلے نہ ہوجائے تو دونوں کی عمر ۱۵ سال ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ عمروں کا یہ تعین قرآن وحدیث سے نہیں؛ بلکہ اسلام کے شروعاتی دور کی قوانین کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ شریعت کے ذریعہ صرف جائز قرار دی گئی اجازتیں جیسے تعدد ازدواج اور یک طرفہ طلاق کو غیر منصفانہ طریقہ سے الہامی یا کتابی حکم بتایا جاتا ہے۔ اسے بنیاد بناکر مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی اصلاح کی مخالفت کی جاتی ہے، دستور جو ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق عمل کی اجازت دیتا ہے، وہ صرف مذہب کی ضروری بنیادی تعلیمات پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ نہ کہ ان رسومات پر عمل کی بھی آزادی دیتا ہے، جن کو مذہب نے صدیوں پہلے مخصوص ماحول میں جائز قرار دیا تھا۔ یہ دعویٰ کرنا کہ کوئی بھی مزعومہ الہامی قانون دستور سے اوپر ہے، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ (انڈین ایکسپریس دہلی ۱۴/۳/۲۰۱۵/)
اسی طرح فروری ۲۰۱۵/ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دیے گئے ایک فیصلہ میں عدالت نے سرکاری ملازم کے ذریعہ دوسری شادی پر برخاستگی کی اپیل پر فیصلہ میں کہا کہ "ایک سے زیادہ شادی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے نہیں ہے اور ایسا کرنے کا حکم بھی نہیں ہے، صرف اجازت ہے۔ مسلمان جو ایک سے زیادہ شادی کرتا ہے وہ نہ تو اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل کررہا ہوتا ہے نہ اسے اپنا رہا ہوتا ہے، نہ اس کی تبلیغ کررہا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ دفعہ ۲۵ کے تحت دی گئی آزادی کا حقدار نہیں ہوتا۔"
اس پرتبصرہ کرتے ہوئے Nalsar کے وائس چانسلر فیضان مصطفی صاحب کہتے ہیں کہ اس فیصلہ سے مسلم پرسنل لاء میں اصلاح کا عمل فروغ پائے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن وحدیث اسلام کے بنیادی مآخذ ہیں۔ جو رشتوں کو منظم اور مربوط کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ سماجی تعلقات ہیں جوکہ ریاست کی عملداری میں آتے ہیں؛ اس لیے تعدد ازدواج کے مذہبی محرکات نہیں ہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں ترمیم یا منسوخی سے مذہبی آزادی پر حملہ ہوتا ہے، جب یہ مان لیا جائے کہ مسلمانوں کا تہذیبی تشخص صرف پرسنل لاء پر ہی منحصر ہے۔ انڈین مسلم قوانین برائے نکاح، طلاق، تعدد ازدواج قرآنی آیات کی اخلاقیات کے مطابق نہیں ہیں۔ قرآن عدل کی شرط کے ساتھ تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے جو کہ ناممکن ہے؛ مگر ہندوستانی مسلم قانون اس پیشگی شرط کو نظر انداز کرتا ہے؛ جب کہ کثرتِ ازدواج کی عالمی تاریخ میں پیشگی شرط زیادہ اہم ہے، نہ کہ صرف اجازت کا ہونا۔
مندرجہ بالا دواہم فیصلوں پر مسلم ماہرین قانون کی رائے بہت سے سوالات کھڑی کرنے والی ہے:
(۱) قرآن وحدیث کے علاوہ اجماع، قیاس، اجتہاد کو یکسر رد کرنا یا اہمیت دینا
(۲)اسلام کے کچھ احکامات لازمی حصہ ہیں اور کچھ اختیاری
(۳)آپسی تعلقات اور سماجی تعلقات میں الہامی قوانین کا ماننا ضروری نہیں ہے
(۴)اسلامی الہامی قوانین کو دستور سے اوپر ماننا بے وقوفی ہے
شاید الجھن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام کو زندگی کے محدود دائرے میں منحصر کرکے یہ سارے مفروضات قائم کیے جارہے ہیں؛ جب کہ اسلام دین کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کامطلب اور مفہوم سب جانتے ہیں کہ مکمل زندگی میں رہنمائی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس میں بعض کا انکار اور بعض کا اقرار بغیر اضطراری حالت یا مجبوری کے منافقت ہے، اتباع یا اطاعت نہیں ہے۔ اگر ہم نفس پرستی کے ہاتھوں بے عقل اور بے بصیرت نہیں ہوگئے ہیں تو ہمیں انسانی تاریخ کے تجربہ سے دیکھنا ہوگا کہ شریعت کے برعکس قوانین اپناکر انسانیت کے کتنے مسائل ہوئے؟ معاشرہ میں مجموعی طور پر انصاف، حقوق، امن، ترقی کی صورت حال ابتر ہوئی یا بہتر ہوئی؟ کیا یک زوجگی نے عورتوں کے مسائل حل کیے؟ کیا آج بڑھتے ہوئے معیارِ زندگی اور اوسط شرح زندگی بڑھنے کی وجہ سے زیادہ مرد تعدد ازدواج پر عمل نہیں کررہے ہیں؟ ۲۰۱۱/ کی مردم شماری بتارہی ہے کہ ملک میں ۶۶لاکھ عورتیں غیراعلان شدہ شادی میں ہیں اور کتنے کروڑ مرد خفیہ اعلانیہ نکاح کے بندھن کے باہر جنسی تعلقات بنارہے ہیں، اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
مطلب یہ کہ باعزت زندگی اور حقوق کے ساتھ نہیں رہ سکتے، موج مستی کرسکتے ہیں۔ کیا یہ حدیث قابل اعتنا نہیں ہے کہ نماز کا وقت ہونے کے بعد اس کی ادائیگی، انتقال کے بعد تدفین اور رشتہ ملنے کے بعد شادی میں تاخیر نہ کی جائے۔ اس حدیث میں سنِ بلوغت طے کرنے میں کوئی رہنمائی نہیں ہے؟ جہاں تک قوانین یا سہولتوں کے غلط استعمال کی بات ہے تو دنیا کا کونسا قانون یا سہولت ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ مجموعی صورتِ حال پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ قوانین کا غلط استعمال روکنے کے لیے سب سے زیادہ تقویٰ کی صفت پیدا کرنے پر زور دینا چاہیے، اس کے علاوہ کوئی مختصر تدبیر نہیں ہے۔ |
یوکرین کے اسپتالوں پر روسی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے: عالمی ادارہ صحت - Roze News
یوکرین کے اسپتالوں پر روسی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے مطابق روس یوکرین کے اسپتالوں میں حملوں میں اضافہ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ روس یوکرین تنازع میں ماسکو ہر گزرتے دن کے ساتھ اسپتالوں سمیت دیگر صحت کی سہولیات کے مراکز پر حملوں میں اضافہ کررہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق روس کی جانب سے اب تک صرف اسپتالوں، ایمبولینسز اور ڈاکٹروں پر 70 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ صحت سہولیات مراکز پر حملے اب ماڈرن وار اسٹریٹجی کا حصہ بن چکے ہیں جب کہ حال ہی میں 8 مارچ کو خارکیف کے جنوب میں واقع نئے تعمیر شدہ اسپتال پر روسی حملے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہےکہ اس اسپتال پر روسی طیاروں نے شیل برسائے جس کے نتیجے میں اسپتال کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اسپتال کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ خارکیف کے میئر کاکہنا تھا کہ اسپتال پر پہلے روسی حملے سے اس کی کھڑکیاں دروازے باہر نکل کر گر پڑے جب کہ دوسرے حملے میں آپریشن تھیٹرز مکمل تباہ ہوگئے۔
میئر نے کہا کہ اس اسپتال میں بچے اور حاملہ خواتین زیر علاج تھیں جب کہ بمباری سے حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں سمیت عملہ بھی زخمی ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ 24 فروری سے اب تک صحت سہولیات مراکز پر 72 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے جس میں 71 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے جب کہ ان حملوں میں میڈیکل ٹرانسپورٹ، سپلائی اسٹورز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ |
پاکستان کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دوں گی اداکارہ میرا - مکالمہمکالمہ
یہ تحریر 478 مرتبہ دیکھی گئی۔
لالی ووڈ کی معروف اداکارہ میراکا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ ملک کر قبضہ مافیا کے خلاف لڑیں گی-
لاہور پریس کلب میں اداکارہ میرا نے والدہ اور بھائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی،جس میں انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا نے کروڑوں کی پراپرٹی ہتھیانے کے لیے میری والدہ کو قتل کرنے کی کوشش کی پولیس کی برقت کارروائی سے میری ماں کی جان بچ گئی۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے سی سی پی او لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں کی پراپرٹی پر قبضہ ہونے والا تھا، جسے پولیس نے ناکام بنایا اگر پولیس بروقت کارروائی نہ کرتی تو ان کی ماں کو قتل کردیا جاتا۔
پریس کانفرنس کے دوران اداکارہ نے زاروقطار روتے ہوئے کہا کہ پانچ ایف آئی آر درج ہونےکے باوجود ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، وزیر داخلہ شیخ رشید سے درخواست ہے کہ ملزم شاہد محمود کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور میرے گھر والوں کو تحفظ دیا جائے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ 'میرا' ہیں اس لئے ان کی پراپرٹی پر قبضہ نہیں ہوسکا، لیکن اب وہ وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ مل پاکستان میں موجود قبضہ مافیا کے خلاف لڑیں گی اب میں پاکستان کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے حکومت کا ساتھ دوں گی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اداکارہ میرا کے بھائی نے والدہ شفقت زہراپر حملے اورغالب مارکیٹ میں پلازے پر قبضہ کی کوشش کرنے والے ملزمان کيخلاف تھانے میںمقدمہ درج کرایا تھا جس کے بعد اداکارہ میرا نے سی سی پی او لاہور سے ملاقات کی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا |
قائداعظم کا نظریۂ پاکستان | Friday Special
قائداعظم کا نظریۂ پاکستان
قائداعظم کو سیکولرلیڈر اور پاکستان کوسیکولر ملک بنائے جانے کا پروپیگنڈا دراصل بھارت کے 'ہندوتوا' اورپاکستان دشمنوں کی ایک دیرینہ چال ہے
یہ حقیقت ہر پاکستانی فرد کے پیش ِ نظر رہنی چاہیے، چاہے وہ پاکستان میں آباد ہو یا کبھی یہاں یا جنوبی ایشیاکے کسی خطے کا باشندہ رہا ہو، اور اب دنیا کے کسی بھی مغربی یا مشرقی ملک میں جابسا ہو کہ پاکستان ان کے لیے ایسا ملک ہے جو مغربی استعمار سے آزادی کے نتیجے میں استوار ہونے والی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوا ہے، جو بظاہر چند دہائیوں میں سرگرم رہ کر حصول ِ پاکستان کے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے۔ لیکن یہ تحریک صرف چند دہائیوں کا کامیاب نتیجہ نہ تھی، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ہزارسالہ جدوجہد کا ثمر ہے جن میں یہ احساس ابتدا ہی سے موجود رہا ہے کہ وہ یہاں کی آبادی کی اکثریت، یعنی ہندوئوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے قطعی طور پر ایک علیحدہ قوم ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ اپنا ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے کہ جب اس سرزمین پر پہلا مسلمان وارد ہوا تو اس نے اپنے آپ کو یہاں کی ہر قوم کے فرد سے بالکل علیحدہ محسوس کیا۔ چناں چہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک بار کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ ''جب ہندوستان کا پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ اپنی قوم کا فرد نہ رہا، وہ ایک دوسری قوم کا فرد بن گیا''۔ پاکستان کا قیام دراصل مسلمانوں کی اس طویل ہزار سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے تحت مسلمان ہندوستان میں یہاں کی ہندو اکثریت یا 'ہندوتوا'کے مقابلے میں ہر زمانے میں اپنی جداگانہ ہستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کی اس انفرادیت کو مٹانے اور انھیں اپنے اندر ضم کرنے کی غرض سے ہندوئوں نے 'ہندوتوا' کے نام پر ان پر مختلف محاذوں سے حملہ کیا۔
مسلمانوں نے اس صورتِ حال کا ہر موقع پر پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ ان کے لیے یہ مسئلہ نوآبادیاتی عہد میں زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا تھا، کہ انگریز مسلمانوں سے ان کا اقتدار چھیننے کے بعد یہاں کی اکثریت یا ہندوؤں کو اپنا بنانے کے لیے یہ ضروری سمجھتے تھے کہ مسلمان اپنے زوال کی انتہا تک پہنچ جائیں۔ چناں چہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہندوستان میں اسلام ایک مقتدر قوت نہ بن سکے۔ مسلمانوں کے سامنے ہندوئوں اور انگریزوں کے مشترکہ مقاصد پوری طرح نمایاں تھے۔ وہ محض ہندوستان میں بسنے والی ایک قوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے قومی وجود کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس خیال کے تحت انھوں نے اولاً1857ء کی جنگِ آزادی میں بھرپور حصہ لیا، اور پھر انگریز مخالف دیگر مختلف وقتی تحریکوں میں شرکت کی، اور پھر مارچ 1940ء میں قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے تک، بلکہ مارچ 1949ئء میں قراردادِ مقاصد کے متفقہ طور پر منظور ہونے تک، ایک ہی رویہ اور ایک ہی نظریہ مختلف صورتوں اور مختلف تحریکوں میں کارفرما رہا۔ لیکن جنوبی ایشیاکے مسلمانوں کے لیے صرف ایک آزاد اسلامی مملکت کا حصول ہی حتمی اور آخری مقصد نہیں تھا، بلکہ اس کا حصول اس سرزمین پر ایک اسلامی معاشرے کے قیام، شریعتِ اسلامی کے نفاذ اور عدل و انصاف کی ترویج کا ذریعہ تھا۔ پاکستان کی بنیادیں واضح اور ٹھوس نظریاتی اساس پر رکھی گئی تھیں۔ قراردادِ پاکستان سے ان بنیادوں کی نشان دہی ہوتی تھی۔ لیکن قیام ِ پاکستان کے بعد پاکستان کی قومی سیاسیات کو بالکل ابتدا ہی میں بڑے دشوار حالات کا سامنا تھا۔ اس لیے قوم کے دردمند طبقے نے نظریۂ پاکستان اور عام قومی احساسات سے ہم آہنگ آئین مرتب کرنے کے لیے فوری طور پر، قیام پاکستان کے صرف تین ہفتوں بعد ہی، ایک نئی دستور ساز اسمبلی تشکیل دی، جس نے اپنا فریضہ انجام دینا شروع کردیا۔ اس دوران ملک کے اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات نے قومی جذبات کو مسلسل مضطرب اور منتشر رکھا، اور اس دوران قوم کو قائداعظم کی رحلت کے شدید اور المناک سانحے سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ چناں چہ آئین سازی کا فریضہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان (1895ء۔1951ء) کے ذمے آیا، جو قراردادِ پاکستان اور قراردادِ مقاصد کی روح کے مطابق تھا۔
لیکن 'ہندوتوا' کے نظریے سے ہمیشہ سرشار بھارت کو یہ سب کچھ پسند نہ تھا، اور اس کے ہمنوائوں، اس سے فیض یافتہ اور سوشلزم کے نام لیواؤں نے قراردادِ مقاصد، قائداعظم اور دیگر اکابر کے نظریات کو تسلیم نہ کرنا اور ان کی غلط تعبیر کرنا اپنا مقصد بناکر قیام پاکستان کی بنیادوں کو رد کرنا اپنا شعار بنالیا اور مخالفت میں طرح طرح کی تاویلیں گھڑنی شروع کردیں۔ بحالتِ مجبوری اور بادلِ ناخواستہ اُنہوں نے پاکستان کے قیام کو قبول تو کیا لیکن کبھی برداشت نہ کیا۔ چناں چہ روزِ اوّل سے ان سب کی کوشش اس کی مخالفت میں صرف ہورہی ہے۔ ان سب کے پسِ پشت دراصل بھارت ہی ہے جس نے تمام اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کیا۔ کشمیر پر اس کا قبضہ، اور اس قبضے کے لیے کشمیر یا پاکستان پر حملہ، پاکستان کے خلاف اس کا اوّلین قدم تھا۔ پھر سیاسی ریشہ دوانیوں، بیرونی اثرات اور خاموش دراندازی کے ذریعے اس نے سندھ طاس معاہدے کے جال میں پھنساکر پاکستان کو معاشی طور پر کھوکھلا کرنے کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرلی، اور اس کی خاموش دراندازی نے یہاں وہ صورتِ حال پیدا کردی کہ مشرقی پاکستان الگ ہوجائے، اور اب کراچی سے بلوچستان کی آخری شمال مغربی سرحدوں اور گوادر تک کا علاقہ پاکستان سے الگ ہوجائے، کہ جس کے بعد نہ پنجاب آزاد و خودمختار رہ سکتا ہے نہ صوبۂ خیبر پختون خوا۔ یہاں کی ہر بدامنی کے پیچھے اصل ہاتھ بھارت کا تلاش کیا جاسکتا ہے جو یہاں اپنے پیدا کردہ گماشتوںکے ذریعے ویسی ہی کامیابیاں حاصل کررہا ہے جیسی کامیابی اسے مشرقی پاکستان میں میسر آئی تھی۔
پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کے قیام کے تصور اور مقصد سے مختلف سمجھنا اور خصوصاً قائداعظم کو سیکولر نظریات کا حامل سمجھنا محتاط سے محتاط لفظوں میں شدید غلط فہمی، کم علمی یا ارادۃً ہندو سیاسی نظریات کی پیروی کا عمل ہے۔ ایسے افراد کو ان دستاویزات کو بغور پڑھ لینا چاہیے اور اس ضمن میں اگر کہیں قائداعظم کے تعلق سے ایسے بیانات نقل ہوئے ہوں جن میں اُن کے سیکولر خیالات کا اظہار ہوتا ہو، یا اُن کی جانب سے پاکستان کو ایک سیکولر مملکت بنائے جانے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہو تو ان بیانات کو ان کے سیاق و سباق میں رکھ کر اور ان کی پوری جدوجہد اور ان کے مجموعی افکارکی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں مذکورہ دستاویزات نایاب یا کمیاب نہیں، بآسانی دستیاب ہوجاتی ہیں۔ یہی صورت قائداعظم کے خیالات اور بیانات کی بھی ہے، جو ان کی تقاریر، بیانات اور فرمودات کے مجموعوں میں دستیاب ہیں، جن کے متعدد مستند نسخے یا ایڈیشن موجود ہیں۔ چوں کہ ان مجموعوں میں قائداعظم کے متعلقہ بیانات و خیالات مکمل طور پر یکجا صورت میں کسی ایک عنوان کے تحت مرتب نہیں ہیں، اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ محض نمونۃً یہاں چند ایسے اقتباسات پیش کردیے جائیں جن سے قائداعظم کے وہ خیالات سامنے آئیں جن سے ان غلط بیانیوں کی تردید ہوسکے جو اس سلسلے میں الزام کی صورت میں قائداعظم سے منسوب کی جاتی ہیں۔ نظریۂ پاکستان کو سمجھنے اور متعین کرنے کے لیے قائداعظم کے یہ خیالات بنیادی مآخذ میں شمار ہوسکتے ہیں۔ درج ذیل تمام خیالات، قائداعظم کی تقاریر و بیانات کے مستند ترین مجموعے: Speeches and writings of Mr. Muhammad Ali Jinnah. مرتبہ: جمیل الدین احمد، جلد اوّل، لاہور، 1960ء، سے ماخوذ ہیں۔
بقول قائد اعظم:۔
''ہمارے لیے بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ ہم اپنی قوم کو منظم کریں۔ یہ اُس وقت ہوسکتا ہے کہ جب ہم طاقت ور ہوں اور اپنی قوم کی مدد کریں۔ نہ صرف استقلال و آزادی کے لیے، بلکہ اس کو برقرار رکھنے کے لیے اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے۔ پاکستان کا مقصد صرف آزادی و خودمختاری ہی نہیں، بلکہ اسلامی نظریہ ہے، جو ایک بیش قیمت عطیے اور خزانے کی حیثیت میں ہم تک پہنچا ہے…'' (ص366۔ 367)۔
''مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے ضابطۂ حیات، اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں۔ ہمارا مذہب، ہمارا کلچر اور ہماریٍٍ اسلامی نظریات ہی وہ محرکات ہیں جو ہمیں خودمختاری حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھاتے ہیں۔'' (ص 437۔ 442)۔
''آل انڈیا مسلم لیگ کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کے اُن علاقوں میں جہاں مسلمان تعداد کے لحاظ سے اکثریت میں ہیں، ایسی مملکت قائم کریں جہاں وہ اسلامی شریعت کے تحت حکومت کر سکیں۔''(ص 405)۔
ان کے علاوہ:۔
''ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آزادی، اخوت اورمساوات کے اس تصور کو بروئے کار لائیں جو اسلام نے پپش کیا ہے۔'' (ص28)۔
''میرا یہ ایمان ہے کہ ہماری نجات اس میں مضمر ہے کہ ہم ان بیش بہا اصولوں کی پیروی کریں جو ہمارے عظیم المرتبت قانون دہندہ پیغمبرِ اسلام نے ہمارے لیے واضح کردیے ہیں۔ آئیے ہم اپنی مملکت کی اساس سچے اسلامی تصورات اور اصولوں پر قائم کریں۔'' (ص89)۔
''میں ان لوگوں کو نہیں سمجھ سکا ہوں جو جان بوجھ کر فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کے مطابق نہیں بنایا جائے گا۔ اسلامی اصول بے مثال ہیں۔ یہ اصول آج بھی زندگی میں اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ سو سال پہلے تھے۔''(Quaid-e-Azam Speeches,،مرتبہ پبلی کیشن ڈویژن، کراچی۔ص 12)۔
ان واضح الفاظ میں وہ سب کچھ موجود ہے جو قیام پاکستان اور اس کے ایک اسلامی مملکت قرار دیے جانے کے بارے میں کسی بھی قسم کی مخالفت کا جواب دینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ایک ایسی منظم کوشش کو جو مصلحتاً اور ارادۃً نظریۂ پاکستان کی غلط تعبیرو تشریح پر مبنی ہے، پاکستان کے ان حالات میں، جب باہمی اتحاد و اتفاق خطرے کی حدود میں داخل ہوچکا ہے اور ملک مزید تقسیم در تقسیم کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، انتہائی تشویش ناک ہے۔ افسوس کہ ہمارے متعلقہ قومی ادارے ایسی منظم تدابیر اختیار کرنے سے قاصر رہے ہیں جو اس منفی صورتِ حال اور ایسے ناروا پروپیگنڈے کا مؤثر اور مناسب تدارک کرسکیں۔ چناں چہ نظریۂ پاکستان کی تعبیر و تشریح کی اب تک جو مناسب کوششیں ہوئی ہیں وہ بہت سرسری اور تشنہ ہیں، یا غیر معیاری اور غیر صحت مند محرکات و عوامل کی نشان دہی کرتی ہیں۔ |
محرمزادہ صبا 2020/12/20 فاریکس کے ساتھ آغاز کرنا
"کئی لوگ اپنی زبانوں پر جاری کیے ہوئے الفاظ کی وجہ سے جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔"[34] بہت سے مختلف طریقے ہیں جن میں تاجر اسپاٹ ایکسچینج کو انجام دے سکتے ہیں ، خاص کر آن لائن ٹریڈنگ سسٹم کی آمد کے ساتھ۔ تیسری فریق کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے ، تبادلہ دو فریقوں کے مابین براہ راست کیا جاسکتا ہے۔ الیکٹرانک بروکنگ سسٹم بھی استعمال ہوسکتے ہیں ، جہاں ڈیلر خودکار آرڈر ملاپ کے نظام کے ذریعے اپنا کاروبار کرسکتے ہیں۔ تاجر سنگل یا ملٹی بینک ڈیلنگ سسٹم کے ذریعہ الیکٹرانک تجارتی نظام بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ آخر میں ، صوتی بروکر کے ذریعہ ، یا غیر ملکی زرمبادلہ کے بروکر کے ساتھ فون پر تجارت کی جاسکتی ہے۔ 2. درست حصص یافتگان کی مارکیٹ کا خدشہ قیمت کا تعین کرنا.
اب چونکہ بہت ساری جائداد فروخت تصاویر آن لائن پوسٹ کی گئی ہیں ، لہذا ان مارکیٹ کا خدشہ کی طرف دیکھے بغیر جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 5. کتے کو بھیک مانگنے سے کیسے روکا جائے.
- دفتری مارکیٹ کا خدشہ اخراجات ، جیسے فراہمی ، افادیت ، ٹیلیفون ، وغیرہ۔ نمونه سم عقرب و قیمت آنها.
آپ کو یہ بھی ملے گا کہ آپ کے لئے میٹا ٹریڈر 4 تجارتی پلیٹ فارم دستیاب ہے۔ ایم ٹی مارکیٹ کا خدشہ 4 دنیا میں ایک سب سے عام اور موثر تجارتی پلیٹ فارم ہے اور زیادہ تر تاجر اس سے واقف ہیں۔
ایتیرم خریدنے کے لئے سب سے آسان اور سستا طریقہ Coinbase ہو گا (اگر یہ آپ کے ملک میں دستیاب ہے): نقد بمقابلہ مارجن بروکرج اکاؤنٹس 2021. همانطور که مارکیٹ کا خدشہ گفتیم ، برخی از کارگزاران تا حد 1: 500 اهرم به شما پیشنهاد می دهند ، به این معنی که 100 دلار استرالیا 50000 دلار استرالیا می شود. |
دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں بتا دیتی ہے جن کا
دل اور دماغ کی لکیروں کے درمیان ایسی چیز جو تنگ دل اور بڑے دل والے کی وہ باتیں ...
Dec 28, 2017 | 19:07:PM
لاہور(نظام الدولہ)دل اور دماغ کی لکیر کے درمیاں مخصوص فاصلہ سے چوکور بن جاتی ہے اور یہ چوکور کسی بھی انسان کی شخصیت کے بھید کھول دیتی ہے۔اگرچہ چوکور سے مراد چار کونوں والاڈبہ ہوتا ہے لیکن بعض ہاتھوں میں دل اور دماغ کی لکیر اس طرح متوازی چلتی ہیں کہ انہیں بھی چوکور کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔ چوکور میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہونی چاہئیں۔
۱۔ ہموار ۲۔دونوں خطوط متوازی
۳۔چوکور فراخ اور کشادہ ۴۔درمیان میں تنگ
استاد کیرو کا کہنا ہے کہ اندرونی طور پر یہ قدر صاف ہونی چاہئے۔ بہت سے خطوط ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے نکلنے چاہئیں۔ نہ زیادہ خطوط دماغی لکیر سے آئیں اور نہ ہی قلبی لکیر کی طرف سے اس میں داخل ہوں اور دوسروں کو کاٹتے ہوئے گزریں۔ اگر یہ کاٹتے ہوئے زیادہ خطوط سے پاک ہو تو اس میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہوں گی۔
۱۔ طبع ہموار ۲۔بردباری
۳۔فراخ دلی ۴۔کشادہ رو
۵۔ دوسروں سے محبت ۶۔وفاداری
۷۔صاف دلی
یہ چوکور ظاہر کرتی ہے کہ اس قسم کے فرد کا سلوک ذہنی اور عملی طور پر دوسروں سے کیسا ہوگا۔
اگر چوکورتنگ ہو یعنی قلبی لکیر اور دماغی لکیر کے درمیان فاصلہ کم ہو تو سمجھئے ایسا فرد تنگ نظر، چھوٹی فطرت، کمینہ خیالات والا ہو گا اور دوہری طبع کا حامل ہو گا یا متعصب ہو گا۔ خاص کر مذہب اوراخلاق کے سلسلہ میں اس کی خامیاں واضح ہوں گی۔
جن ہاتھوں میں یہ چوکور تکون نما صورت اختیار کرتی نظر آئے گی۔ اس قسم کے افراد تنگ نظر اورمتعصب ہوتے ہیں۔ وہ صورت حال کو بڑی تنگ نظری سے دیکھتے ہیں اور اپنی رائے پر قائم رہنا پسند کرتے ہیں اس قسم کے لوگ تنگ نظر مذہبی لوگوں میں ملیں گے۔ مذہبی تنگ نظر لوگوں میں چوکور تنگ بھی ملتی ہے۔
اگر یہ چوکور بہت فراخ ہو۔ دوسرے نقطوں میں قلبی لکیراور دماغی لکیر کا فاصلہ بہت زیادہ ہو تو ایسا فرد مذہب کے معاملے میں اتنا فراخ دل ہو گا کہ ا س کی فراخ دلی اس کے لئے وجہ مصیبت بن جائے گی۔
اگر چوکور درمیان میں تنگ ہو جائے اور کمر کی سی صورت پیدا ہو جائے تو اس قسم کا فرد دوسروں کے لئے متعصب اور انصاف نہ کرنے والا ہوتا ہے۔
اگر دونوں اطراف برابر ہوں تو اچھی صورت حال ہے۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو اور چوکور سورج کے اْبھار کے نیچے کم ہو تو ایسا فرد اپنے نام، اپنی پوزیشن اور عام شہرت اور ساکھ کی پروانہ کرے گا۔ اس کے برعکس اگر زحل کے نیچے کم ہو، تو وہ اپنی جھوٹی سچی ساکھ کے پیچھے پڑ ا رہے گا۔
اگر چوکور مشتری اور زحل کے نیچے فراخ ہو لیکن دوسرے سرے پر تنگ ہوتی چلی جائے تو ایسا فرد پہلے فراخ دل ہو گا لیکن آہستہ آہستہ اس کی طبع تنگ ہوتی چلی جائے گی۔ وہ تنگ نظر ہوتا جائے گا۔ وہ متعصب ہو جائے گا اور اپنے ساتھیوں سے انصاف نہ کر سکے گا۔
کئی مرتبہ چوکور ضرورت سے زیادہ طویل ہوتی ہے۔ اس قسم کے فرد کی دماغی حالت صحیح نہیں ہوتی۔ وہ اپنے خیالات میں احتیاط کا حامل نہیں ہوتا۔ اْس کی طبع میں کوتاہ اندیشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا۔
اگر چوکور کے اندر لکیریں نہ ہوں یعنی ایسی لکیر یں جو ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی نکل جاتی ہیں تو سمجھئے کہ اس فرد کی طبیعت سکون انگیز ہو گی۔ اس میں حوصلہ اور بردباری ہو گی۔
اگر چوکور میں بے جا ایسی لکیریں ہوں کہ چوکور میں ایک دوسری کو کاٹتی پھرتی ہوں چوکور ان کی وجہ سے جالی سی نظر آتی ہے تو ایسا فرد بڑی آسانی سے غصے میں آجاتا ہے۔ اْس کی طبیعت ہیجان انگیز ہوتی ہے اور مزاج مضطرب اور پریشان۔
چوکور کے اندر اگر ستارہ موجود ہو تو بڑا اچھا نشان سمجھا جاتا ہے۔ بالخصوص جب وہ کسی اچھے اْبھار کے نیچے ہو جیسے مشتری اور سورج کے نیچے۔ اگر مشتری کے نیچے ستارہ ہو تو ایسا فرد اقتدار حاصل کرے گا۔ قوت حاصل کرے گا۔ طاقت اختیار کرے گا۔ اگر زحل کے نیچے ہو تو دنیاوی کاموں میں کامیابی اور کامرانی حاصل کرے گا۔ وہ جن راستوں پر بھی بڑھتا جائے گا۔ کامرانی اْس کے قدم چومے گی۔
سورج کے اْبھار کے نیچے اگر ستارہ ہو گا۔ تو ایسے فرد کو آرٹ ، ادب، فنون لطیفہ کی وجہ سے کامیابی حاصل ہو گی۔ اگر ستارہ عطارد کے نیچے ہو گا تو ایسا فرد سائنس اور تحقیق کی بدولت ترقی کرے گا۔ وہ سائنس اور تحقیق میں دوسروں سے ممتاز ہو گا۔ کامیاب و کامران ہو گا اور دوسروں سے بازی لے جائے گا۔ |
افتخار راجہ (ہم اور ہماری دنیا) | اردو بلاگ ایگریگیٹر
ڈاکٹر راجہ افتخار خان کا اٹلی سےاردو بلاگUnknownnoreply@blogger.comBlogger294125
29 منٹ 25 سیکنڈ قبل
منگل, 12/11/2018 - 03:03
عدلیہ کا کردار بہت کلیدی ہوتا ہے۔ یہ ایسا ادارے ہے جو عدل کی فراہمی کا ضامن ہے۔ اور عدل کرنے والے عادل کہلاتے ہیں۔ جن کو منصف یا جج بھی کہا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں میں۔ اگر ہم دیکھیں تو یہ ایسا محکمہ یا ادارہ ہے جس کے ساتھ زندگی کے ہرشعبے کا تعلق ہوتا ہے تفصیل میں جانے سے پہلے ایک نظر انصاف پر ڈالی جاوے تو عین مناسب ہوگا۔ انصاف کی تعریف تو کوئی وکیل یا جج صاحب ہی بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ لیکن میں بطور لے مین یہ کہہ سکتا ہوں کہ انصاف کا متضاد بے انصافی ہے۔ گویا بے انصافی کو ختم کرنے کےلے انصاف کی ضرورت ہے۔ جیسے اندھیرے کا متضاد روشنی ہے۔ اور روشنی سے ہی اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بے انصافی کیا ہے؟ یہ طے کرنا شاید نسبتاُ آسان ہے۔ جب کسی شخض یا گروہ کا حق مارا جائے تو اسے بے انصافی کہا جاوے گا۔ گویا حق کی بعینہ ادائیگی کو انصاف کہا جاسکتا ہے۔ حق کیا ہے ؟؟ یہ بھی طے کرنا آسان ہے کہ کسی فرد کی ملکیت یا اس کے واجبات کو بروقت اسکے حوالے کردینا ہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کو تسلیم کیا جائے اور متعلقہ فرد یا افراد کے حوالے کر دیا جائے۔ اب حق میں بہت سی جیزیں آجاتی ہین۔ فرد کے اپنے جسم پر اسکا اپنا اختیار۔ اسکی شخصی ازادی سے لیکر اسکے کھانے پینے۔ رہنے سہنے۔ اسائیش و آرام، عزت و تعلیم یہ اسکا حق ہے۔ زندہ رہنا بھی اسکا حق۔ آج کے دور میں بجلی پانی تعلیم تربیت۔ صحت صفائی سب بنیادی حقوق میں آتے ہیں۔ آج کے زمانے میں ان سارے معاملات کو قانون کے ذریعے طے کردیا گیا ہے۔ گویا ایک ترتیب بن گئی ہے ، حق مقرر ہوگیں اور حدود باندھ دی گئی ہیں۔ جب کسی کی حق تلفی ہوتی ہے تو؟؟؟ ایسی صورت میں زوراور شخص تو اپنا حق چھین لے گا اور تنازعہ پیدا ہوگا، اس سے فساد بھیلنے کا شدید اندیشہ بحرحال موجود ہے اور مہذب معاشروں میں اس سے باز رہا جاتا ہے۔ بصورت دیگر تنازعہ کی صورت میں عدلیہ سے رجوع کیا جاوے۔ جج صاحب اپنے علم، اپنی تربیت اور تجربہ کو استعمال میں لاتے ہوئے مروجہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں کہ انصاف کیا ہے اور مظلوم کون ہے اور ظالم کون۔ بے انصافی کی روزمرہ مثالیں، جسمانی تشدد یا مارکٹائی۔ ذہنی تشدد ، گالی گلوچ، دھمکیاں۔ چوری، ڈاکے، فراڈ۔ زمین، مکان کاروبار کا ہتھیا لینا۔ پیسے زیورات ، اغوا، حبس بے جا، وغیرہ۔ اسکے علاوہ لین دین میں ہونے والی بے ایمانیاں۔ کاروباری معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنا۔ اسی طرح سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کا اپنی اعلان شدہ خدمات یا سروسز کو فراہم کرنے سے معذرت کرنا یا معذور کا اظہار کرنا۔ روز مرہ سے کچھ مثالیں جیسا کہ آپ سول ہسپتال جاتے ہیں اپنے علاج کی غرض سے تو اپکا حق ہے کہ آپ کا باقاعدہ چیک اپ ہو، اور آپ کا باقاعدہ علاج کیا جائے۔ دوران علاج آپ کو بستر، کھانا پینا، ادویات، صفائی سب آپ کا حق ہے۔ ڈاکٹرز نرسیں آپ کی دیکھ بھال کی تنخواہ لیتے ہیں۔ اسی طرح پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کی صورت میں۔ آپ کو فیس دینا ہوگی اور ڈاکٹر آپ کا علاج کرے پوری توجہ سے۔ یہ آپ کا حق ہے۔ اگر آپ فیس نہیں دیتے اور علاج کروالیتے ہین، تو آپ نے حق تلفی کی، اور اگر ڈاکٹر نے فیس لی اور پھر آپ کا علاج نہیں کررہا ہے توجہ سے تو اس نے آپ کی حق تلفی کی ہے۔
ایسی صورت میں آپ عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور اپنے لئے انصاف کے طالب ہوتے ہیں۔ اب جج صاحب کا فرض ہے کہ وہ آپ کو فوری انصاف فراہم کریں۔ فوری فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا علاج کریں۔ اپنے قاری صاحب مرحوم کا قول دانا ہے کہ کھروں کی ریاست چل سکتے ہیں مگر ظالموں کی نہیں۔ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا ذمہ سپریم کورٹ کے سر ہے۔ اور اسکے جج صاحبان انصاف کے علمبردار ہیں۔ باوا ریمتے گویا پاکستان میں انصاف کے دیوتا قرار پائے۔ تو میرے صاحبو ، اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں اس وقت 38913 کیسز پینڈنگ ہیں۔ یعنی تقریبا چالیس ہزار افراد کو انصاف دستیاب نہیں ہے۔ یہ تعداد 2016 میں 32744 تھی۔ ان کیسز میں گزشتہ پانچ سات برسوں میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اب عالم یہ ہے کہ ھائی کورٹس اور مقامی عدالتوں میں یہ تعداد لاکھوں میں جائے گی۔ جو کہ ایک انسانی المیہ کو جنم دیتی ہے۔ کوئی کسی کو قتل کردے، گھر چھین لے، زمین قابو کرلے۔ کاربار تباہ کردے۔ مال چھین لے۔ رشوت لے، سفارش کروائے۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم صاحب ڈیم کےلئے فنڈ اکٹھے کررہے ہیں، بچے بند کرنے کی کانفرنس چلا رہے ہیں، میلاد منا رہے ہیں، ہسپتال کی لفٹ ٹھیک کروا رہے ہیں۔ جلسوں میں تقریریں کررہے ہیں۔ اور ریلیوں کی قیادت کررہےہیں۔ لیکن انصاف نہیں کررہے۔ نہ ہی اس نظام کو درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ منصف اعظم سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے پاس انصاف کےلئے وقت نہیں ہے تو یہ کرسی چھوڑ دیں یہ کام کرنے کی ڈیوٹی کسی اور کی لگا دیں۔
جمعہ, 09/07/2018 - 03:02
منگل, 07/17/2018 - 22:01
تو پھر چینی نہیں کھانی چاہئے؟؟ بلکل بھی نہیں۔ وہ کیوں؟؟ پر چینی تو طاقت دیتی ہے۔ اب بندہ چینی نہ کھائے تو کیا کھائے؟؟ بلکل چینی طاقت دیتی ہے، اور مٹھائی کھائیں، پر آپ اس طاقت کا کرتے کیا ہیں؟؟ جواب ندارد ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہمارا طرز زندگی بہت تیزی سے بدل گیا ہے۔ جسمانی مشقت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور خوراک کی دستیابی بہت ہی بڑھ چکی ہے۔
ہمارے دماغ وہی سوچتے ہیں۔ کہ یہ کھالو، یہ بھی کھالو، کھانا پلیٹ میں مت چھوڑو۔ کھانا بچے نہیں۔ یہ سب اس زمانے کی باتیں تھیں جب کھانا کم ملتا تھا اور مشقت زیادہ ہوتی تھی۔ اب اسکے الٹ ہوگیا ہے۔ تو سوچنا بھی الٹ ہوگا۔ کھانے سے پہلے سوچنا ہوگا مجھے بھوک ہے؟؟ کیا میرا پیٹ خالی ہے؟؟ اگر بھوک نہیں ہے تو کھانا مت کھاؤ۔ ناغہ کردو۔ اگر پیٹ خالی نہیں ہے تو کھانے میں دیر کردو۔ مٹھائی کھانی ہے تو 20 کلومیٹر پیدل چلنے کا بھی سوچ لو۔ کوشش کریں کہ آپ کی خوراک ہی آپ کی دوا ہو۔ اس لئے ٹھونسنے کی بجائے کیا کھا رہے ہیں؟؟ اور کیوں ؟؟ کے سوالات اپنے آپ سے کیجئے اور انکے جواب تلاش کیجئے۔
ایک مریضہ سے گفتگو، جسے شوگر، بلڈ پریشر۔ کولیسٹرول اور وزن زیادہ ہونے کے مسائل تھے, یہ سارے مسائل، بسیار خوری، چینی، نمک اور کاربوہائیڈریٹس کے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے ہیں۔ یاد رکھیں، میٹابولک سینڈروم ہمارے آج کا گمبھیر مسئلہ ہے جس پر بگ فارما مال کما رہا ہے اور بات کرنے سے گریزاں ہے۔ کیونکہ اس کا مریض بیک وقت، شوگر کی دوائی۔ کولیسٹرول کی گولی، سٹامک پروٹیکٹر، بلڈپریشر کی گولی۔ وغیرہ کھا رہے ہوتے ہیں۔ پھر نیند کی گولیاں ، وزن کم کرنے کی دوا۔ بھی لینی ہوتی ہے۔ اسکے بعد سردرد اور جسم میں درد بھی شروع ہوتا ہے ، یہ تو عام سی بات ہے اب اسکی دوا بھی لازم ہوتی ہے۔ آپ کے اردگرد نظر دوڑانے سے کتنے ہی ایسے بندے ملیں گے جو اس صورت حال کا شکار ہیں۔ ان کو غور سے دیکھیں۔ اور ان عادات کو ختم کریں، خوراک کو قابو میں لائیں اور گیم وغیرہ شروع کریں۔ بیچ بیچ میں روزے بھی رکھ لیا کریں۔ ثواب کا ثواب اور فائدے کا فائدہ۔
ہاں یاد آیا، کینسر کے خلیات آکسیج کی کمی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اورشوگر انکی خوراک ہوتی ہے۔ پس صبح کی سیر اور چینی کی کمی سے کینسر کے رسک کو بھی کم کرسکتے ہیں۔ پر صبح جاگنا " جوان دی موت اے"۔ ۔ پہلے اپنی۔ پھر اگر ممکن ہو تو انکی بھی مدد کریں۔ ورنہ آپ کو میرے علاوہ اور کس نے یہ باتیں بتانی؟؟ ہیں جی۔ اب اپنی روزی پر لات مارنے کو کس کا دل کرتا ہے؟
اتوار, 05/27/2018 - 16:22
سنیچر, 05/19/2018 - 23:31
میٹابولک سینڈروم اور رمضان المبارک Metabolic syndrome تحریر ڈاکٹر راجہ افتخار خان، ہومیوپیتھ ، کنسلٹنٹ ھیرنگ لیبارٹریز اٹلی۔ رمضان المبارک میں چونکہ سب سے اہم کام جو ہوتا ہے اور ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے وہ ہے کھانے پینے اور خواہشات کو قابو میں کرنا۔ اسی مد میں میٹابولک سینڈروم کو بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔ میٹابولک سینڈروم کیا ہے؟؟ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کے اندر ہونے والی میٹابولک تبدیلیوں کو معمول سے ہٹا کر پیدا کردہ ترتیب دیتے ہوئے جسم کی خود کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو تکلیف دہ اور بعد میں زندگی کےلئے بھی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ وضاحت کے طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کا وزن اچانک بڑھ جائے ، بلخصوص پیٹ پر چربی کا جمع ہوجانا اور گردن موٹی ہوجانا، اور بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول، کا درجہ معمول سے زیادہ ہوجائے تو وہ شخص میٹا بولک سینڈروم میں انتہائی درجہ پر مبتلا ہے۔ اگر ان چاروں فیکٹرز میں سے تین بھی موجود ہوں تو اسکو میٹابولک سینڈروم ہی کہا جاوے گا۔ اگر دو ہوں مثلا، وزن کا بڑھ جانا اور شوگر ، یا کولیسٹرول اور بلڈپریشر کا زیادہ ہونا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میٹابولک سینڈروم کے رستہ پر چل پڑا ہے۔ اگر صرف وزن زیادہ ہوگیا ہو تو اسکو میٹابولک سینڈروم کے راستہ کی طرف جانا کہا جائے گا۔ یعنی یہ بھی الارمنگ ہے۔ بلخصوص اس صورت میں کہ اگر والدین یا موروثیت میں کسی کو اس صورت حال کا سامنا رہا ہو تو۔ چونکہ یہ بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کی خود سے ہی پیدا کردہ صورت حال ہے تو اسکو دوا دے کر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی طریقہ علاج میں اسکا شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اب یہ ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طب یونانی ، اسپاجیریرک میڈیسن یا پھر اکوپنکچر یا سرجری۔ کسی طور پر اسکا فوری اور مکمل علاج ممکن نہیں۔
میٹابولک سینڈروم کیوں ہوتا ہے؟؟ اسکی وجوہات نامعلوم ہیں جو وراثتی بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن اسکےلئے ایک بڑا فیکٹر خوراک میں غیرضروری طور پر چینی کا اضافہ ہے۔ یہ چینی جسم میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ وہ افراد جو محنت مشقت کا کام کررہے ہوتے ہیں یا پروفیشنل کھلاڑی وہ تو اس کو استعمال کرلیتے ہیں، اسکے کے برعکس دفتری کام کاج کرنے والے، یا سہل و آسان زندگی گزارنے والے افرادکےلئے یہ فالتو چینی اور فوری توانائی کسی کام کی نہیں ہوتی بلکہ اسکو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہماری خوراک میں ھائی گلیسیمک انڈیکس (high glycemic index food)کا اچانک اور بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں، چینی، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرینکس، بیکر ی اور مٹھائیاں، روٹی چاول ، پاستہ ، بریڈ اور گندم کے آٹے سے بنی ہوئی دیگر اشیاء، سبزیوں میں آلو، مٹر، پھلوں میں، انگور، تربوز، کیلا، آم وغیرہ ہیں۔ یہ وہ خوراکیں ہیں جنکے کھانے کے پندرہ سے تیس منٹ کے بعد آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار سے بڑھ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ خوراک کی مقدار کا بہت زیادہ ہونا اور بار بار کھانا بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوتاہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب جسم کے اندر گلوکوز کی بڑی مقدار پہنچتی ہے اور فوری طور پر توانائی دستیاب ہونے کی وجہ سے ہم چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ اب اس چستی کو فوری طور استعمال کرلیا جائے، جسمانی مشقت یا فیزیکل ایکٹیویٹیز کے ذریعے تو ٹھیک ہوگیا، ورنہ اس گلوکوز کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے کےلئے جسم انسولین کو پیدا کرتا ہے جس اس شوگر چربی کی صورت دیتا ہے، پھر کولیسٹرول کو خارج کیا جاتا ہے تا کہ اس گھومتی ہوئی چربی (فیٹ) کو کسی مناسب جگہ تک پہنچا کر ٹھکانے لگائے (ڈیپازٹ کرنا)۔ گویا اس ایک چینی یا گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے انسولین، چربی اور کولیسٹرول بیک وقت جسم میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سے خون کا حجم بڑھ جاتا ہے اور بلند فشار خون( ہائی بلڈپریشر ) کا باعث بنتا ہے۔ ممکنہ خطرات میٹابولک سینڈرم کی موجودگی صحت کےلے ذیل کے خطرات کا باعث بن سکتی ہے، ہارٹ اٹیکس(myocardial infraction)، ذیابیطس ٹائپ 2، انسولین کے خلاف قوت مدافعت کا پیدا ہوجانا، شاک (cerobrovescolar disease)۔ جلد موت کا واقع ہوجانا۔
مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے، تو اسکا حل بھی سمجھ آگیا ہوگا؟ جی بلکل، چینی اور ھائی گلیسیمک انڈیکس والی خوراک کا بہت ہی کم استعمال۔ اگر آپ کو شوگر نہیں ہے تو کھانے میں سے، چینی۔ چائے کافی میں، شربت میں۔ جوسز، سافٹ ڈرنکس کولے وغیرہ کو منع کریں بیکری کا سامان اور مٹھائیاں منع کریں روٹی، بریڈ، چاول یا گندم کی دیگر اشیاء سے دور رہیں۔ پھلوں میں سےتربوز، کیلا، آم اور انگور سے پرہیز کریں سبزیوں میں، آلو اور مٹر سے دور رہا جاوے۔ تیل اور بناسپتی گھی کی مقدار بہت ہی کم کردیں۔ اپنے کھانے کی مقدار کم کردیں۔ اب آپ کے دماغ میں آرہا ہوگا کہ کھایا کیا جاوے۔ تو جناب باقی کا سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس گوشت، مچھلی مرغی، انڈے پنیر، دہی دودھ سب ہے۔ اسکے علاوہ پھلوں میں خربوزہ۔ انار، انجیر، چیری، اسٹرابری، خشک میوے، آڑو، سیب خوب کھائیں۔ دالیں کھائیں، سبزیاں کھائیں۔ سبز پتے والی اور زمین پر اگنے والی سبزیاں اور زیرزمین اگنے والی سبزیاں۔ رمضان الکریم برکتوں کا مہینہ ہے اس میں ویسے ہی رک جانے کا حکم ہے تو آپ اوپر دی گئی چیزوں سے رک کر اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت بحال کرسکتے ہیں۔
سحری کا پروگرام ایک پیالہ دلیہ، کارن فلیکس نٹس اور دودھ۔ چائے کی پیالی، پانی کے دو گلاس یا پھر فروٹ ، چائے پانی کے دو گلاس یا پھرآملیٹ، چائے، پانی کے دوگلاس یا کچھ اور جو آپ کو پسند ہو دہی وغیرہ افطار کا پروگرام دوعدد کھجوریں، اس سے زیادہ نہیں۔ پانی کا گلاس اور مغرب کی نماز اسکے بعد، چار پکوڑے یا دو سموسے یا ایک پلیٹ چنا چاٹ، یا پھر گوشت یا دال یا سبزیوں کا سوپ ، کھانا ایک نشت میں نہ کھائیں اور جب بھوک ختم ہوجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ اپنے کھانے بدلی کرتے رہیں۔ مصالہ جات نہ چھوڑیں، چسکا برقرار رہنا چاہئے۔ اس ضمن میں مدد کےلئے اپنے ہومیوپیتھ سے آپ ایناکارڈیم، فیوکس، اینٹی مونیم کروڈ، نامی ادویات ڈسکس کرسکتے ہیں۔ یاد رہے سینڈروم کو قابو کیا جاتا ہے اسکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات کو ختم کرنا ہوتا ہے جو اس سینڈروم کا باعث بنتے ہیں۔ خوراک کا کم استعمال، خوراک کا محتاط استعمال، جسمانی وزش۔ اگر ضروری ہوتو کچھ ادویات بھی معالج کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں۔ |
سورہ الحشر آية 6 | (اردو) - Quran O
سورہ الحشر آية 6
پھیر لایا
دوڑائے تم نے
مسلط کرتا ہے
جس (پر)
اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
اور جوکچھ الله نے اپنے رسول کو ان سے مفت دلا دیا سو تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن الله اپنے رسولوں کو غالب کر دیتا ہے جس پر چاہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے
اور ان کا جو مال اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالٰی اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے (١) اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے۔
٦۔١ بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لئے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسطرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہوگیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لئے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَیْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے یعنی جو مال بغیر لڑے دشمن چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو، اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔
اور اللہ نے ان لوگوں (بنی نضیر) سے جو مال بطور فئے اپنے رسول(ص) کو دلوایا تو تم لوگوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ پس اس میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے لیکن اللہ اپنے رسولوں(ع) کو جس پر چاہتا تسلط دے دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔
مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے۔
فے کس مال کو کہتے ہیں ؟ اس کی صفت کیا ہے ؟ اس کا حکم کیا ہے ؟ یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ فے اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گذر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ انکے دل اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آگئے، اسے " فے " کہتے ہیں اور یہ مال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہوگیا، آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری روایت میں ہے۔ پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور فے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے ؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔ پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے فے کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ بنو نضیر کے مال بطور فے کے خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوگئے تھے آپ اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے (سنن و مسند وغیرہ) ابو داؤد میں حضرت مالک بن اوس سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب نے مجھے دن چڑھے بلایا میں گھر گیا تو دیکھا کہ آپ ایک چوکی پر جس پر کوئی کپڑا وغیرہ نہ تھا بیٹھے ہوئے ہیں، مجھے دیکھ کر فرمایا تمہاری قوم کے چند لوگ آئے ہیں میں نے انہیں کچھ دیا ہے تم اسے لے کر ان میں تقسیم کردو میں نے کہا اچھا ہوتا اگر جناب کسی اور کو یہ کام سونپتے آپ نے فرمایا نہیں تم ہی کرو میں نے کہا بہت بہتر، اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا اے امیر المومنین میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی حضرت علی کا، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا ہاں امیر المومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور انہیں راحت پہنچایئے، حضرت مالک فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چاروں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا، پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لئے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت ( وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ) 59 ۔ الحشر ;6) ، پڑھی اور فرمایا بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور فے کے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا اور اپنی اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کردیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔ پھر فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فوت ہونے کے بعد ابوبکر والی بنے اور تم دونوں خلیفہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، اے عباس تم تو اپنی قرابت داری جتا کر اپنے چچا زاد بھائی کے مال میں سے اپنا ورثہ طلب کرتے تھے اور یہی یعنی حضرت علی اپنا حق جتا کر اپنی بیوی یعنی حضرت فاطمہ کی طرف سے ان کے والد کے مال سے ورثہ طلب کرتے تھے جس کے جواب میں تم دونوں سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے، ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چناچہ اس مال کی ولایت حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کی، آپ کے فوت ہوجانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو ؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کرسکتا، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کرسکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں آپ اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کھجوروں کے درخت وغیرہ دے دیا کرتے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال آپ کے قبضہ میں آئے تو اب آپ نے ان لوگوں کو ان کو دیئے ہوئے مال واپس دینے شروع کئے، حضرت انس کو بھی ان کے گھر والوں نے آپ کی خدمت میں بھیجا کہ ہمارا دیا ہوا بھی سب یا جتنا چاہیں ہمیں واپس کردیں میں نے جا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد دلایا آپ نے وہ سب واپس کرنے کو فرمایا، لیکن یہ سب حضرت ام ایمن کو اپنی طرف سے دے چکے تھے انہیں جب معلوم ہوا کہ یہ سب میرے قبضے سے نکل جائے گا تو انہوں نے آ کر میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور مجھ سے فرمانے لگیں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے یہ نہیں دیں گے آپ تو مجھے وہ سب کچھ دے چکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ام ایمن تم نہ گھبراؤ ہم تمہیں اس کے بدلے اتنا اتنا دیں گے لیکن وہ نہ مانیں اور یہی کہے چلی گئیں، آپ نے فرمایا اچھا اور اتنا اتنا ہم تمہیں دیں گے لیکن وہ اب بھی خوش نہ ہوئیں اور وہی فرماتی رہیں، آپ نے فرمایا لو ہم تمہیں اتنا اتنا اور دیں گے یہاں تک کہ جتنا انہیں دے رکھا تھا اس سے جب تقریباً دس گنا زیادہ دینے کا وعدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تب آپ راضی ہو کر خاموش ہوگئیں اور ہمارا مال ہمیں مل گیا، یہ فے کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہوگا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورة انفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر الحمد اللہ گذر چکی ہے اس لئے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال فے کے یہ مصارف ہم نے اس لئے وضاحت کے ساتھ بیان کردیئے کہ یہ مالداروں کے ہاتھ لگ کر کہیں ان کا لقمہ بن بن جائے اور اپنی من مانی خواہشوں کے مطابق وہ اسے اڑائیں اور مسکینوں کے ہاتھ نہ لگے۔ پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتھوں پر عورتیں سوئی وغیرہ سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیرہ بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ؟ آپ نے فرمایا کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھی دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں اس عورت نے کہا اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۘ) 59 ۔ الحشر ;7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔ فرمایا (قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ممانعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قابل عمل ہیں اب سنو) خود میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا حضرت یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں حضرت معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی، آپ نے فرمایا کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کیا فرمایا تھا (وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ 88) 11 ۔ ھود ;88) یعنی میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں، مسند احمد اور بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے اس عورت پر جو گدوائے اور جو گودے اور جو اپنی پیشانی کے بال لے اور جو خوبصورتی کے لئے اپنے سامنے کے دانتوں کی کشادگی کرے اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی پیدائش کو بدلنا چاہے، یہ سن کر بنواسد کی ایک عورت جن کا نام ام یعقوب تھا آپ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس طرح فرمایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے ؟ اور جو قرآن میں موجود ہے، اس نے کہا میں نے پورا قرآن جتنا بھی دونوں پٹھوں کے درمیان ہے اول سے آخر تک پڑھا ہے لیکن میں نے تو یہ حکم کہیں نہیں پایا، آپ نے فرمایا اگر تم سوچ سمجھ کر پڑھتیں تو ضرور پاتیں کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۘ) 59 ۔ الحشر ;7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے پھر آپ نے وہ حدیث سنائی، اس نے آپ کے گھر والوں کی نسبت کہا پھر دیکھ کر آئیں اور عذر خواہی کی اس وقت آپ نے فرمایا اگر میری گھر والی ایسا کرتی تو میں اس سے ملنا چھوڑ دیتا، بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، نسائی میں حضرت عمر (رض) عنہی اور حضرت ابن عباس (رض) ما سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجوریا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت کی (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم) پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔ |
قومی و صوبائی حکومتوں کے پہلے سال کا عوامی جائزہ: پی ٹی آئی پسندیدہ ترین جماعت قرار - Dunya Pakistan
قومی و صوبائی حکومتوں کے پہلے سال کا عوامی جائزہ: پی ٹی آئی پسندیدہ ترین جماعت قرار
رائے عامہ کا ایک سروے، جس کا اہتمام ہیرالڈ اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے مل کر کیا تھا، نہایت نپے تلے انداز میں ایسے سوالات کے جوابات مرتب کرتاہے جوان دنوں پاکستان بھرکے لوگ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔۔ سروے میں1354لوگوں سے رائے لی گئی۔ لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ وفاقی اور صوبائی دونوں سطوح پر کام کرنے والی حکومتوں کی گزشتہ برس کی کارروائی کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں؟نتائج بتاتے ہیں کہ رائے دہندگان کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں: 77فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو وفاقی حکومت کی کارکردگی کواوسط سے بہتر نہیں سمجھتے۔ جبکہ 68فیصد لوگ اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کے متعلق بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔بلا شبہ، ان نتائج کو کچھ مختلف انداز سے پیش کرنا بھی ممکن ہے: اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ 37فیصد لوگوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کو اوسط قرار دیا، یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ دراصل، عوامی فیصلہ کچھ خاص ملامتی نہیں ہے۔۔۔ بہرحال سروے میں حصہ لینے والوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ یہ سمجھتے ہیں کہ جیسا کہ پی ایم ایل این کی زیر سرکردگی چلنے والی حکومت کی کارکردگی کم ازکم اوسط ہے تو پھر یہ قطعی طور پر کوئی برا سکور نہیں ہے۔
جنوبی ایشیائی سیاسی امور کے فرانسیسی ماہرین ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ کہتے ہیں، ''جیسا کہ سندھ میں متحدہ اور پی پی پی کی طرح ن لیگ کے پاس کہیں کوئی پابند ووٹر نہیں ہیں ، لہٰذا انتخابات کے بعد، اس کے ووٹ بینک پر اندھے ایمان کا کھو جانا، واضح طور پر اگلے انتخابات میں ایک نمایاں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔''
ڈاکٹر لورینٹ گیئراور کرسٹوف جیفری لوٹ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے متعلق عوامی بے اطمینانی کے بارے میں کہتے ہیں، ''نواز شریف اور وفاقی حکومت سے متعلق تیزی سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی، اس یقین کی ایک اور دلیل فراہم کرتی ہے کہ ہر چند کہ نسل یا ثقافت ووٹر کے روئیے پر کچھ اثر ڈالتی ہے لیکن اس کارویہ مفاد پر مبنی سیاست سے منسلک نہیں ہوتا۔''
اس سروے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے58فیصد لوگوں نے شہباز شریف کوسب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے صرف 11فیصد ووٹروں نے سب سے زیادہ مؤثر چیف ایگزیکٹو قرار دیا۔
یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جس وقت وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو پسندیدہ ترین انتخاب قرار دیا گیا، اسی وقت وزیر اعظم نواز شریف نیچے سے دوسرے نمبر پر رہے۔ |
کیا آپ کو کبھی بھی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں اعلی درجہ بندی ہو؟ SEO متک | Martech Zone
SEO متک: کیا آپ کو کبھی بھی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں اعلی درجہ بندی ہو؟
جمعہ، مارچ 5، 2021 جمعہ، مارچ 5، 2021 Douglas Karr
میرے ایک ساتھی نے مجھ سے رابطہ کیا جو اپنے مؤکل کے لئے نئی سائٹ متعین کر رہا تھا اور میرا مشورہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک SEO مشیرt جو کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جن صفحات پر وہ درجہ بندی کر رہے ہیں وہ بدلا نہیں جائے ورنہ وہ اپنی درجہ بندی سے محروم ہوسکتے ہیں۔
یہ بکواس ہے۔
پچھلی ایک دہائی سے میں دنیا کے سب سے بڑے برانڈز کو منتقلی ، تعینات کرنے اور ایسے مواد کی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد کرتا رہا ہوں جس میں نامیاتی درجہ بندی کو امکانات اور سیسہ کے بنیادی چینل کے طور پر شامل کیا گیا ہو۔ ہر منظر میں ، میں نے کلائنٹ کی مدد کی اس وقت متعدد طریقوں سے درجہ بندی کے صفحات اور اس سے وابستہ مواد کو بہتر بنانا:
ضم ہو رہا ہے - ان کے مواد کی تیاری کے طریق کار کی وجہ سے ، مؤکلوں کے پاس اکثر درجہ بندی کے خراب صفحات ہوتے ہیں جو بڑی حد تک ایک ہی مشمولات کے حامل تھے۔ اگر ان کے پاس 12 اہم سوالات ہیں۔ مثال کے طور پر ، کسی عنوان کے بارے میں… وہ 12 بلاگ پوسٹ لکھتے ہیں۔ کچھ کی درجہ بندی ٹھیک ہے ، زیادہ تر نہیں۔ میں اس صفحے کو نئے سرے سے ڈیزائن اور تمام کلیدی سوالات کے ساتھ بہتر ترتیب دینے کے ساتھ ایک منظم جامع واحد مضمون میں تبدیل کردوں گا ، میں اپنے تمام صفحات کو ایک بہترین مقام پر بھیجتا ہوں ، پرانے کو ہٹاتا ہوں ، اور صفحہ کو اسکائروکیٹ کی حیثیت سے دیکھتا ہوں۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو میں نے ایک بار کی ہے… میں گاہکوں کے لئے ہر وقت کرتا ہوں۔ میں واقعتا یہ یہاں پر کرتا ہوں Martech Zone، بھی!
ساخت - میں نے اعلی صارف کے تجربے کے لئے صفحات کو بہتر طریقے سے ترتیب دینے کے لئے صفحہ کی سلگس ، عنوانات ، جرات مندانہ الفاظ اور زور دار ٹیگز کو ہر وقت بہتر بنا دیا ہے۔ SEO کے بہت سارے کنسلٹنٹس ایک پرانے صفحے کی سلگ کو ایک نئے کی طرف بھیجنے میں ناکام رہتے ہیں ، اور یہ کہتے ہوئے کہ اس کا کچھ اختیار کھوئے جب ترمیم کی جائے۔ ایک بار پھر ، میں نے اپنی سائٹ پر بار بار یہ کام کیا جب اس کا احساس ہوا اور جب بھی یہ کام ذہانت سے ہوا ہے ہر بار کام کیا۔
مواد - میں نے مزید مجل ،ہ ، تازہ ترین تفصیلات فراہم کرنے کے لئے سرخی اور مشمولات کو بالکل غلط الفاظ میں لکھا ہے جو زائرین کے لئے زیادہ مشغول ہیں۔ میں بہت کم ہی صفحے پر لفظ کی گنتی کو کم کرتا ہوں۔ اکثر ، میں الفاظ کی گنتی میں اضافہ ، اضافی حصے شامل کرنے ، گرافکس شامل کرنے ، اور ویڈیو کو مواد میں شامل کرنے پر کام کرتا ہوں۔ میں تلاش انجن کے نتائج والے صفحات سے بہتر کلک-تھری ریٹس کی کوشش کرنے اور اس کے لئے ہر وقت صفحات کے لئے میٹا کی وضاحت کی جانچ اور اصلاح کرتا ہوں۔
مجھ پر یقین نہیں ہے؟
کچھ ہفتوں پہلے ، میں نے اس کے بارے میں لکھا تھا SEO کے مواقع کی نشاندہی کریں تلاش کی درجہ بندی کو بہتر بنانے اور بیان کیا کہ میں نے شناخت کیا مواد لائبریری اضافی درجہ بندی کو چلانے کے لئے ایک عظیم موقع کے طور پر۔ میں نے اپنے مضمون کے لئے 9 ویں نمبر پر رکھا۔
میں نے مضمون کا مکمل جائزہ لیا ، مضمون کے عنوان کو اپ ڈیٹ کیا ، میٹا ٹائٹل ، میٹا ڈیسکٹمنٹ ، مضمون کو کچھ تازہ ترین مشوروں اور اعدادوشمار کے ساتھ بڑھایا۔ میں نے اپنے مسابقت کے تمام صفحات کا جائزہ لیا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ میرا صفحہ بہتر ترتیب سے ، جدید ترین ، اور لکھا ہوا ہے۔
نتیجہ؟ میں نے مضمون منتقل کیا رینکنگ 9 ویں سے تیسری رینکنگ!
اس کا اثر یہ ہوا کہ میں صفحے کے نظارے کو دگنا کردیا نامیاتی ٹریفک سے گذشتہ وقت کی مدت کے دوران:
SEO صارفین کے بارے میں ہے ، الگورتھم نہیں
سال پہلے ، یہ تھا الگورتھم کو کھیلنا ممکن ہے اور آپ اپنے درجہ بندی کردہ مواد میں تبدیلی کرکے اپنی درجہ بندی کو ختم کرسکتے ہیں کیونکہ الگورتھم صارف کے سلوک سے کہیں زیادہ پیج کی خصوصیات پر منحصر تھا۔
گوگل تلاش پر غلبہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انہوں نے احتیاط سے دونوں کو باندھا۔ میں اکثر لوگوں سے کہتا ہوں کہ صفحات کو فہرست میں فہرست میں رکھا جائے گا ، لیکن اس کی مقبولیت کی بنیاد پر درجہ بندی کیا جائے گا۔ جب آپ دونوں کرتے ہیں تو ، آپ اپنے درجے کو بلند کرتے ہیں۔
ڈیزائن ، ڈھانچہ ، یا مشمولات خود ہی جمود کا شکار ہوجانا آپ کی درجہ بندی سے محروم ہونے کا یقینی طریقہ ہے کیونکہ مسابقت پذیر سائٹیں زیادہ مشغول مواد کے ساتھ صارف کے بہتر تجربات استوار کرتی ہیں۔ الگورتھم ہمیشہ آپ کے صارفین اور آپ کے صفحے کی مقبولیت کی سمت آگے بڑھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مواد اور ڈیزائن کی اصلاح پر کام جاری رکھنا چاہئے! کسی ایسے شخص کی حیثیت سے جس کو ہر وقت سرچ انجن کی اصلاح کے ساتھ موکلوں کی مدد کے لئے رکھا جاتا ہے ، میں ہمیشہ مواد کے معیار اور الگورتھم کے صارف کے تجربے پر مرکوز رہتا ہوں۔
بے شک ، میں سائٹ اور پیج SEO کے بہترین طریقوں والے سرچ انجنوں کے ل red ریڈ کارپٹ لپیٹنا چاہتا ہوں… لیکن میں اس میں سرمایہ کاری کروں گا صارف کے تجربے کو بہتر بنانا ہر بار خوفزدہ ہوجانے یا درجہ بندی سے محروم رہنے کے صفحات پر کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔
کیا آپ کو کسی ایسے صفحے کو اپ ڈیٹ کرنا چاہئے جس میں سرچ انجن کے نتائج میں اعلی درجہ بندی ہو؟
اگر آپ SEO کے مشیر ہیں جو آپ کے مؤکلوں کو ان کے اعلی درجہ کے مواد کو کبھی اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں… مجھے یقین ہے کہ آپ بہتر کاروباری نتائج چلانے میں ان کی مدد کرنے کے لئے اپنے فرائض میں غفلت برتتے ہیں۔ ہر کمپنی کو اپنے صفحے کے مندرجات کو تازہ ترین ، متعلقہ ، مجبور اور بہتر صارف تجربہ فراہم کرنا چاہئے۔
اعلی صارف کے تجربے کے ساتھ مل کر عمدہ مواد صرف آپ کی مدد نہیں کرے گا بہتر درجہ، یہ بھی ہوگا مزید تبادلوں کو چلائیں. یہ مواد کی مارکیٹنگ اور SEO کی حکمت عملی کا حتمی مقصد ہے… الگورتھم کو مات دینے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔
ٹیگز: مواد کی اصلاحمواد کو بہتر بنانادرجہ بندی کردہ موادکی تلاش کے انجن کی اصلاحSEOSEO متکمواد کو اپ ڈیٹ کرنا |
مریم نواز شریف کی 26مارچ کو نیب میں پیشی ملتوی - Pakistan - SAMAA
مریم نواز شریف کی 26مارچ کو نیب میں پیشی ملتوی
فیصلہ کروناوباء کی تیسری لہر کے تناظر میں کیاگیا، نیب
نیب نے مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو لاہور نیب آفس میں پیشی ملتوی کردی۔ قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس وباء کی تیسری لہر سے متعلق این سی او سی کی جانب سے اٹھائے گئے احتیاطی اقدامات کے پیش نظر ن لیگی رہنماء کی پیشی ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مریم نواز نے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نیب پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو نیب لاہور میں پیشی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری ملک میں کرونا وائرس کی تیسری اور شدید لہر سے متعلق حالیہ ہدایات کا جائزہ لیا گیا۔
نیب کا کہنا ہے کہ این سی او سی نے ملک بھر میں کرونا وائرس کی تازہ صورتحال کے تناظر میں ہر نوعیت کے ہجوم اکٹھا کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے، ان اقدامات کے تناظر میں مریم نواز شریف کی 26 مارچ کو نیب لاہور آفس میں پیشی ملتوی کردی گئی ہے، نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا، اس حوالے سے تمام سیکیورٹی اقدامات ختم کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
نیب کا مزید کہنا ہے کہ مریم نواز کی گزشتہ پیشی پر نیب لاہور کی عمارت پر دانستہ شدید پتھراؤ کیا گیا جو نیب کی تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے جبکہ ملزمان کیخلاف اس غیر قانونی برتاؤ کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔
مزید جانیے: لاہور ہائیکورٹ نے مريم نواز کی 12 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے نیب کی تحقیقات میں عدم تعاون، رخنہ ڈالنے یا گمراہ کرنے کی صورت میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے، ان قانونی اختیارات کے باوجود نیب کی جانب سے تاحال انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ ادارے کو دباؤ میں لانے کیلئے مختلف حربوں کے استعمال جیسے تمام اقدامات کی سختی سے نفی کرتے ہیں، یہ انسداد بدعنوانی کا معتبر ادارہ ہے جس کا جسی سیاسی گروہ یا جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔
مریم نواز شریف نے نیب کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کیلئے آسان شکار نہیں بنوں گی، ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، ظلم کے مٹنے کے دن آگئے ہیں، کرونا میں ملوث ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اجلاس کیا، کرونا میں پکڑنا ہے تو عمران خان کو پکڑنا چاہئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ دنیا جانتی ہے نیب سیاسی، انتقامی ادارہ ہے، سیاسی مخالف کو 6 ماہ جیل میں ڈالنے کیلئے نیب استعمال ہوتا ہے۔ مریم نے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب تمہارا مالک مشکل میں آتا ہے تو اس کی مدد کیلئے پہنچتے ہو، اب یہ سب ہتھکنڈے ناکام ہوچکے ہیں، جس کیس میں بلایا تھا اس میں 48 دن نیب میں رکھا گیا۔
ن لیگی رہنماء نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اداروں کے خلاف بیان بازی کا چوکیدار نیب کو کس نے بنایا، نیب کو مریم نواز اور مسلم لیگ ن پر استعمال نہ کرنا، مریم نواز، مسلم لیگ ن تمہاری نیب اور جیلوں سے نہیں ڈرتی۔
ان کا کہنا ہے کہ نیب اتنی بہادر ہے کہ بار بار نوٹس دیتی ہے، نیب کے سیاسی نوٹس کا عوام نے سختی سے نوٹس لیا، نیب کو وہ نوٹس واپس لینا پڑ گیا۔ |
مسز ڈاکٹر زہرا غیور نجف آبادی 2020/11/10 فوریکس
دینہہ فالکنی کی 1997 میں شائع ہونے والی کتاب ارتھلی جسم اور آسمانی ہیئر کے مطابق سبزیوں میں گلیسرین اکثر قدرتی جلد کی دیکھ بھال کے جزو کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ گلیسرین متبادل میں قدرتی طور پر ماخوذ کیریئر بٹر اور تیل شامل ہیں جو گلیسرین کے لئے اسی طرح کے موئسچرائزنگ اثر رکھتے ہیں۔ اگر آپ کی جلد قدرتی طور پر خشک ہے اور گلیسرین کے ذریعہ سوھاپن بڑھ جاتی ہے تو ، آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ شی ماٹر ، جوجوبا آئل ، کوکو مکھن یا ایوکاڈو آئل موثر متبادل ہیں۔ طاق کو نشانہ بنانے والے ایک اور اختراع کنندہ ، زیم یوگوچوکو نے ٹریول نوئر کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کی جو اس کی تکمیل کرتی ہے رنگ کے لوگ جو سفر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خود ہی گھومنے پھرنے سے ، اس نے دیکھا کہ اکثر ایسی ویب سائٹوں پر سفر کرنے کے لئے وقف کی جاتی ہے جن میں سفید فام لوگ ساحل پر پائے جاتے ہیں ، نشانیوں کی نمائش کرتے ہیں اور عمدہ کھانے سے لطف اندوز مارجن کی سطح کیا ہے ہوتے ہیں۔ پپس کی یہ قیمت فوریکس کے تمام جوڑے سے مماثل ہے جو چار اعشاریہ چار مقامات پر درج ہے۔
پورٹ فولیو استاد مختلف طریقوں سے کارکردگی کا تجزیہ کرتا ہے. ہمہ صفت خلیفہ: حضرت عمرؓ کا اپنی رعایا کے ساتھ محض حاکم ومحکوم کا معاملہ نہ تھا۔ آپ نے محض اپنے جسم کو لوگوں کی خدمت کا خوگر نہ بنا رکھا تھا بلکہ آپ کے قلبی جذبات اور ہمدردی و محبت کے احساسات ہرلمحے آپ کو رعایا کی خدمت اور بھلائی کے لیے سرگرم رکھتے تھے۔ ان کے دُکھ بانٹتے اور مصائب پر انھیں تسلی دے کر صبر کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ بیماروں کی عیادت اور مصیبت زدوں کی اعانت کے لیے ان کے گھروں میں حاضری دیا کرتے تھے۔ کسی فرد کو کوئی حادثہ پیش آجاتا تو سب سے پہلے اس سے اظہارِ ہمدردی کے لیے آنے والا خود خلیفۂ وقت ہوا کرتا تھا۔
کیا آپ اپنا پرانا فون استعمال کرسکتے ہیں؟ اور یہ جتنا پیچیدہ ہے جتنا اس میں اضافہ مارجن کی سطح کیا ہے ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ بٹس تک منتقل ہونے کا مطلب صرف لمبی زنجیر میں زیادہ بھرنے والے شامل ہیں۔
مرحلہ 5: (1) "خریدیں" پر کلک کریں اور جو کرنسی آپ خریدنا چاہتے ہو اسے منتخب کریں (بی ٹی سی کو مثال کے طور پر دکھایا گیا ہے)۔ ڈراپ ڈاؤن میں قیمت اور (2) "ادائیگی" کو فلٹر کریں ، ایک اشتہار منتخب کریں ، پھر (3) "خریدیں" پر کلک کریں۔
یوزر ڈایاگرام پروٹوکول (UDP) cryptocurrency پوزیشن کو کس طرح منظم مارجن کی سطح کیا ہے کریں. یہ ایک موجودہ اثاثہ ہے جو ایک مقررہ وقت میں کسی کمپنی کی دستیاب رقم کی عکاسی کرتا ہے۔
2) ڈوبی بوتلوں کا کاروبار کرنا اور انسان کو پیٹ میں لٹکانا.
. مصنف مختصر فروخت کے نجات دہندہ: اپنے اوپر کی طرف رہن کو دائیں طرف کیسے بنوائیں # 1 ایجنٹ لیون ریل اسٹیٹ ڈاون ٹاؤن: 2013 ، 2014 ، 2015 ، 2016 ، اور 2017 ٹاپ 1 فیصد لیون ایجنٹس: 2012 ، 2014 ، 2015 ، اور 2016.
در آلمان: Bundesanstalt für Finanzdienstleistungsaufsicht (BaFIN) in Germany. نیٹ ورکنگ ایک عجیب چیز ہے ، جتنا آپ نیٹ ورک کرتے ہیں اتنا ہی آسان ہوتا جاتا ہے۔ نیٹ ورک کرتے وقت زیادہ تر کامیاب تاجروں کے پاس آسان انداز ہوتا ہے اور وہ یہ سوچے سمجھے بھی کرتے ہیں۔
مالیاتی ماہر ڈیو رمسی نے ضروری اخراجات کی چار دیواری پر توجہ مارجن کی سطح کیا ہے دینے کی سفارش کی ہے۔ ان بنیادی اخراجات سے زیادہ کچھ بھی قرض کی ادائیگی کی طرف جاتا ہے۔ اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ صرف یہ چاروں چیزیں آپ کو زندہ رہنے اور قرض سے ماورا مستقبل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
درجہ بندی کے بنیادی اصولوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلے گروپ میں معروضی اصول شامل ہیں ، جہاں سائنسز کا ربط خود تحقیقاتی مادے کی زنجیر سے اخذ کیا گیا ہے ، اور ساپیکش اصول جب اس مضمون کی خصوصیات ، یعنی سائنس دان ، کو سائنسی درجہ بندی کی بنیاد پر شامل کیا جاتا ہے۔
آٹو ٹریفک ویب سائٹوں کا استعمال جو مصنوعی طور پر ٹریفک تیار کرتے ہیں اور اس طرح آپ کے اشتہار کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں (جس کو غیر قانونی اور ہرجانہ سمجھا جاتا ہے گوگل کی سروس کی شرائط ) آپ کے اپنے اشتہار پر کلک کرنا اور ان کی کارکردگی کو بڑھانا (جو پچھلے جرم سے ملتا ہے) فیس بک ، انسٹاگرام اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ٹریفک خریدنا (جسے غیر نامیاتی سمجھا جاتا ہے) فورمز اور سوشل میڈیا گروپس میں اپنی سائٹ کے لنکس کا اشتراک آپ کی صنعت سے غیر متعلق ہے (گوگل کے ہدف سازی الگورتھم میں الجھن کا باعث بنتا ہے) نحوۀ معامله در بازار فارکس چگونه است. اس معاملے میں ، دو حل ہیں: آپ سافٹ ویئر کا تازہ ترین ورژن ڈھونڈ رہے مارجن کی سطح کیا ہے ہیں جس کا حوالہ EXE فائل کے ذریعہ دیا گیا ہے ، یا آپ ونڈوز کے مطابقت کے پیرامیٹرز استعمال کررہے ہیں۔
اوسطاً اس میں 10 منٹ سے کم وقت لگتا ہے۔ یہ تغیرات وقت اور تجارت والے اثاثہ پر منحصر ہے۔ جب آپ کو زیادہ وزن اٹھانا پڑتا ہے تو ، ایک گھرنی کام کو مارجن کی سطح کیا ہے آسان بنا سکتی ہے۔ ایک گھرنی جسمانی طبیعیات کی چھ غیر موٹرائیزڈ سادہ مشینوں میں سے ایک ہے - اس معاملے میں ، یہ ایک بوجھ اٹھانے کے لئے ضروری کوشش کو کم کردیتی ہے یا اس سمت میں جہاں بوجھ کو منتقل کرنے کے ل force فورس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے یا یہ ہوسکتا ہے دونوں کام کریں: ضرورت کے ساتھ ساتھ سمت کو بھی کم کریں۔
ایک اچھے 404 صفحے کا مقصد یہ ہے کہ صارفین کو متعلقہ معلومات دے کر اور اچھ .ی طرح سے کام کرنے والے دوسرے صفحات پر تشریف لے جانے میں ان کی مدد کرکے اچھالنے سے روکیں۔ . فارورڈ معاہدے جن کو محض فارورڈز کے نام سے جانا جاتا ہے - فیوچرز کی طرح ہیں ، لیکن تبادلے پر تجارت نہیں کرتے ہیں ، صرف ایک دوسرے کے مقابلہ میں۔ جب فارورڈ کنٹریکٹ بنایا جاتا ہے تو ، خریدار اور بیچنے والے نے مشتق کے ل for شرائط ، سائز اور تصفیے کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق بنا لیا ہو۔ او ٹی سی مصنوعات کی حیثیت سے ، فارورڈ معاہدوں میں خریداروں اور بیچنے والے دونوں کے لئے ہم منصب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ |
مُلا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے دوحا پہنچ گئے | Harpal Pakistan | Harpal Pakistan
Home International مُلا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے دوحا پہنچ گئے
دوحا: افغان طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا عبدالغنی برادر امریکا سے مذاکرات کیلئے قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچ گئے۔
امریکی اخبار کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کا وفد پیر سے دوحا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ یہ اب تک افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی سب سے اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہے۔
پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں گزشتہ 17 برس سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے فریم ورک پر غور کیا جائے گا جس پر گزشتہ ماہ دوحا میں ہی ہونے والے مذاکرات میں اتفاق کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اب تک افغان حکومت کو دور رکھا گیا ہے کیوں کہ افغان طالبان اپنی حکومت سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے کے بعد طالبان کو افغان حکومت سے بات کرنی ہوگی اور باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا ہوگا۔،
مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کریں گے۔
خیال رہے کہ 27 جنوری 2019 کو دوحا میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان گزشتہ 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کیا جائے گا جبکہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔
https://youtu.be/VAwsGqcZGtU
Previous articleMuhammad bin Salman visit to India And Muhammad bin Qasim Attack on sindh
Next articleپنجاب کے دوشہروں ساہیوال اور سرگودھا میں ایک ہفتے کے دوران 188 غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا۔ |
عورتوں کے ساتھ سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ برطانیہ میں احتجاجی مارچ، 25 نومبر 2016
منگل سے دنیا بھر میں عورتوں کے خلاف تشدد کےخاتمے کی16روزہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں عورتوں پر تشدد کے بارے میں اور اس تشدد کی وجہ سے ان کے خاندان اور معاشرے پر منفی اثرات کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔
عورتوں پر تشدد کی روک تھام کا عالمی دن ہر سال25 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پچیس نومبر سے دس دسمبر (انسانی حقوق)کے عالمی دن تک عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد کےخاتمے کے لیے ایک سولہ روزہ مہم چلائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کےخلاف تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے پر ایک مخصوص ہدف شامل ہے۔
اس سال اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی مہم 'یونائٹ ٹو اینڈ وائلینس اگینسٹ وومن'کی طرف سےلوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد کے بغیر ایک روشن مستقبل کی علامت کے طور پر دنیا بھر میں اہم عمارتوں ،یادگاروں، سڑکوں ،اسکولوں اور دیگر اہم مقامات کو اقوام متحدہ کے نامزد اورنج رنگ سے روشن کریں۔
سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ میں خواتین کا احتجاج
عورتوں کےخلاف تشدد کےخاتمے کی مہم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ کےشمالی شہر شیفیلڈ میں خواتین کےحقوق کے لیے کام کرنے والی طلبہ تنظیموں کی طرف سے 'ری کلیم دا نائٹ' کے نام سے شہر میں ایک احتجاجی مارچ کیا گیا۔
یہ مارچ 25 نومبر کی رات کو شہر کے قدیم چرچ شیفیلڈ کیتھیڈرل کے باہر سے شروع کیا گیا جو بعد میں ایک عوامی جلوس کی شکل میں شہر کی اہم سڑکوں اور گلیوں سے گزرتا ہوا شیفیلڈ یونیورسٹی کے ایک کیفے میں جا کر اختتام پذیر ہوا جہاں مقررین نے سولہ روزہ مہم کی اہمیت پر بات کی ۔
شیفیلڈ یونیورسٹی اور شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی طالبات کی طرف سے نکالے جانے والےجلوس میں تمام پس منظر سے تعلق رکھنے والی عورتوں نے شرکت کی جنھوں نے ہاتھوں میں احتجاجی پلے کارڈز اور بینر اٹھارکھے تھے اور وہ شہر کی سڑکوں پر خواتین کو ہراساں اور تشدد کے بغیر چلنے کا حق واپس دلوانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔
سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف شیفیلڈ میں حواتین کا احتجاج
طالبات ڈرم اور ڈھول پیٹ کر شہر کی گلیوں میں چیخ چیخ کر یہ منادی کر رہی تھیں کہ 'اس کی سڑک ہماری بھی ہے ' اور ہم عورتیں متحد ہیں، ہم رات میں سڑکوں پر چلنےکا حق واپس مانگتے ہیں''۔
شیفیلڈ یونیورسٹی کی طالبات کی یونین کی صدر سرینا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان دنوں اجنبیوں کے ساتھ نفرت اور اسلام فوبیا پر مبنی روئیے عام ہوتےجارہے ہیں جبکہ عورتوں کےخلاف تشدد کا رویہ بھی زیادہ تبدیل نہیں ہوا ہے اور آج عورتوں کےخلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر ہم نے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والی بدسلوکیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ہے.
انھوں نے کہا کہ عورتوں کے ساتھ اس بدسلوکی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھیں پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے میں بھی دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج کا مقصد اس شہر کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ جب بھی سڑک پر کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے تو یہ اس کا قصور نہیں ہوتا ہےکیونکہ عورتوں کو اکثر دفتر یا اسکول اور یونیورسٹی کے بعد رات میں گھر جانے کے لیے سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے اور آج ہم اس مہم کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عورتیں بھی دوسروں کی طرح ہیں ۔ انھیں بھی شہر میں خود کو محفوظ محسوس کرنےکا حق ہے اور اس طرح انھیں ہراساں کئے جانے کی وجہ سے خواتین کی آزادی کو محدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔
سڑکوں پر بدسلوکی کے خلاف عورتوں کا شیفیلڈ میں احتجاج
شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی خواتین طلبہ یونین کی صدر ریچا نے کہا کہ ترقی پسند معاشرے میں بھی عورتوں کو جسمانی ،جنسی یا ذہنی تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ خواتین کےخلاف تشدد کے خاتمے کی سولہ روزہ مہم یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کیوں مزید آگے بڑھنا ہےکیونکہ قیادت اور حوصلے کی ایسی تحریکیں کمزور خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔
خواتین کے جلوس میں شامل شیفیلڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم الیکس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان دنوں یونیورسٹی طالبات کے ساتھ اس طرح کے واقعات بڑھ گئے ہیںجس کا عام طور پر رات کے وقت سڑک پر چلنے والی عورت کو ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہوتا ہے ہم اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ شیفیلڈ یونیورسٹی کی طرف سے طالبات کے لیے 'ڈونٹ واک ہوم الون' کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے اور خواتین کے تحفظ کےحوالے سے بس اشتہارات میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ یورک شائر پولیس کے تعاون سے یونیورسٹی کے آس پاس کے علاقوں میں پیدل چلنے والی طالبات کو ریپ الارم دیا گیا ہے۔ |
بلڈ پریشر سے بچاؤ: زیادہ پیدل چلنا خواتین کے لیے مفید قرار
Dec 02, 2020 | 11:14 11:14 AM, December 02, 2020
ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ نصف گھنٹے پیدل چلتی ہیں وہ زائد بلڈ پریشر کے طویل عارضے کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کئی ممالک میں درمیانی اور عمررسیدہ خواتین کے لیے جسمانی مشقت کا معیار اتنا رکھا گیا ہے کہ وہ 30 منٹ میں ایک میل کا سفر طے کرسکیں۔ اگر چلنے کی رفتار اس سے زائد ہو تو مزید بہتر ہوگا۔ یہ تحقیق ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
مطالعے میں درمیانی عمر اور بزرگ خواتین کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 50 سے 79 برس تک ہیں۔ کل 80 ہزار خواتین کو شامل کیا گیا جو سُن یاس ( مینوپاز) سے گزرچکی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فالتو بیٹھے رہنے سے خواتین میں امراضِ قلب کے سنگین مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل بیٹھنے سے اجتناب کریں کیونکہ دن میں 9 گھنٹے سے زائد بیٹھنے سے دل کے امراض بالخصوص ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 42 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس روش کو ختم کرنے کے لیے ماہرین کا اصرار ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے تیز قدموں سے چلا جائے۔
یونیورسٹی آف بفیلو کے ماہر پروفیسر مائیکل لے مونٹے نے دو مقالے پیش کئے ہیں جن کا خلاصہ ہے کہ 'تندرست دل کے لیے دیر تک بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ نصف گھنٹے یا ہفتے میں 150 منٹ کی تیزقدموں سے واک عمررسیدہ خواتین میں بلند بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتی ہے۔ |
قربانی کا فریضہ عید الا ضحی کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم ترین اطاعت خداوندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر اد اکیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اللہ(اللہ کے دوست) کا لقب پانے والے اس حق وصداقت کے علمبر دار پیغمبرؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوںکے بعد پیداہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خدا وندی سے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔
قربانی کا مطلب ہے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا، جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کرنایا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت 10ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور 12ذی الحجہ کی عصر تک رہتا ہے۔نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی۔اس کے لیے تاریخ 10ذی الحج ہی ہے۔عازمین حج مکہ مکرمہ میں یہ قربانی نہیں کرتے ،کیونکہ ان پر عید الاضحی کی نماز نہیں ہے، وہ حج کے دیگر مناسک میںمصروف ہوتے ہیں ،وہ بال کٹوانے کے بعد جو قربانی کرتے ہیں،دوحج کا''دم شکر''کہلاتا ہے۔یہ قربانی ''حج تمتع ''کے لوگ ادا کرتے ہیں۔
دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور ملتا ہے جسے عبادت کادرجہ حاصل ہے۔یہود کی کتاب میںکثرت سے قربانی کا ذکر ملتا ہے اور اس کے اتنے تفصیلی احکام لکھے گئے ہیں کہ کسی اور عبادت کے اتنے احکام نہیں ملتے ۔ان کی قربانیوں میں سوختی قربانی ،گناہ کی قربانی، سلامتی کی قربانی اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کے لئے قربانی ہے۔اور عید فصح کے سات دن کی قربانی کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے۔عیسائیوں کے مذہب کی تو بنیاد ہی قربانی پر ہے،ان کے نزدیک قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔
طلوع اسلام سے قبل مصری قوم بہتے ہوئے دریائے نیل میں ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی کو بنائو سنگھار کر کے نذردریا کردیتے ۔ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر ہم یہ قربانی نہیںکریںگے تودریائے نیل اپنا بہائو کھودے گاجس کی وجہ سے مصر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی اور قحط سالی ہوجائے گی، جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی بعثت کے وقت ہوئی تھی۔ چناںچہ حضرت عمر فاروق ؓمسلمانوں کے خلیفہ دوم مقرر ہوئے تو انہوں نے اس جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے ایک رقعہ لکھ کر دیاکہ اسے دریا میں ڈال دیا جائے اور آئندہ کے لئے فرمان جاری کیا کہ اب کسی بے گناہ بیٹی کی جان اس طرح نہ لی جائے۔ اس طرح رسم بد کا خاتمہ ہوا اور دریائے نیل آج بھی بغیر کسی قربانی کے اسی طرح بہہ رہا ہے۔
اسی طرح جنوبی ایشیا میں ہندوستان ایسا ملک ہے جہاںکی اکثریت ہندو مذہب کی پیر وکار ہے، ان کی معتبر کتابوں میں قربانی کا ذکر ملتا ہے، وہ اپنے دیوتائوںکی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی قربانی (بھینٹ)کرتے تھے۔
قربانی کا تصور بڑا قدیم ہے جو حضر ت آدم علیہ سلام کے وقت سے چلاآرہا ہے۔ان کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا اقلیمہ نامی لڑکی سے شادی پر تنازعہ پھر حضرت آدمؑ کا مشورہ دینا کہ اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرو۔اس وقت جانور کے علاوہ زرعی اور پیداواری ما ل بھی قربانی کے لئے پیش کیا جاتاتھاجو کسی پہاڑی کی چوٹی پر رکھ دیاجاتا تھا۔ایک قدرتی آگ آتی اور وہ مال جلا کر بھسم کرجاتی تھی جس سے ظاہر ہوتاتھا کہ قربانی قبول ہوگئی، البتہ نہ جلنے والا مال قربانی کے لئے نامنظور کہلاتا تھا۔اس طرح ہابیل کا پیش کردہ جانور بھسم ہوگیا اور قابیل کا مال بچ گیا یعنی نہ جلا۔
عید الا ضحی کی قربانی اصل میں اس واقعے عظیم کی یاد کو تازہ کرتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوا یعنی خواب میں فرزند عزیز حضرت اسماعیل ؑکو ذبح کرتے دیکھا تو سچ مچ انہیں قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ہماری مختلف مذہبی کتاب میںحضرت ابراہیم ؑکے اس خواب کا آیاہے جو کہ قربانی سے متعلق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ خواب مسلسل تین رات تک دیکھاتھا۔پہلی رات یعنی آٹھ ذی الحج جسے عشرعی اصطلاح میں''یوم الترویہ''کہا جاتا ہے۔ لغت میں ترویہ کے معنی''سیراب کرنا''پانی فراہم کرنا'معنی اور عرفات میں چونکہ پانی نہیں ہے، اس لئے ایام حج میں یعنی اسی تاریخ کو یہاں بذریعہ ٹینکر پانی سپلائی کیا جاتا ہے جس کی شہادت عازمین حج بھی دیتے ہیں ۔صحیح بخاری میں ''ترویہ کے معنی و مفہوم میں''پانی پلانا'' لکھے ہیں ،لوگ اس دن اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے تھے ۔بعض اہل زبان نے ''ترویہ''کو روایت سے لیا ہے، اس لئے ''دیکھنے کے ''معنی میں لیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی چونکہ خواب دیکھا تھا تو دیکھنے کے معنوں میں ترویہ لیا۔اس کی تو جیہ یہ بھی لکھی ہے کہ اس دن عازمین حج نماز ظہر کے بعد احرام باندھ کر منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور زادِراہ کی خاطر پانی بھی ساتھ رکھتے ہیں ۔ایک اور جگہ اس کے معنی ''سوچ کا دن'' لکھتے ہیں،کیوں کہ رات کے خواب کے بعد دن میں اس کی تعبیر کے بارے میں سوچا تھا،اس لئے اس دن کا نام''یوم الترویہ''پڑگیا۔ اس دن کا تعلق چونکہ ایام حج سے بھی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا جس میں حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی عزیز ترین شے ہماری راہ میں قربان کرو۔ صبح اٹھ کر آپ ؑ نے سوچا کہ کیا چیز قربان کی جائے کہ جس سے منشائے ایزدی پوری ہوجائے۔ آپ نے اونٹ قربان کردیا۔دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ چنانچہ آپؑ نے پھر ایسا ہی کیا۔واضح ہو کہ حجاز کی سرزمین پر سرخ اونٹ شروع ہی سے بڑا قیمتی رہاہے جسے صرف چند مخصوص افراد استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کی قیمت خرید سے باہر ہوتا ہے۔ دوسرے دن آپؑ نے جو قربانی پیش کی وہ''یوم عرفہ'' تھا جس کے معنی''پہچاننے'' کے ہیں۔
علمائے کرام لکھتے ہیں کہ جنت سے نکلنے کے بعد خطہ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حواؑ ایک دوسرے سے بچھڑ چکے تھے اور پھر عرفات کے میدان میں ان کا ملاپ ہوا تھا جہاں دونوں نے ایک دوسرے کویوم عرفہ میں پہچان لیا تھا۔اس لئے اسے ''عرفہ کا دن'' کہا جاتا ہے ۔اس کی دوسری تو جیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس دن حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم ؑکو مناسک حج سکھائے تھے ،ان مناسک کو دیکھنے کے لئے آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی اور ہمیں اپنی عبادتیں(مناسک)سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔''(سورۃ البقرہ آیت :128)
عرفہ ذی الحج کا دن ہوتا ہے، اسی دن تمام عازمین حج عرفات کے میدان میں آتے ہیں جو حج کا رکن اعظم ہے 'یہاں کی حاضری خواہ چند ساعتوں کے لئے ہی سہی' ضروری ہے ورنہ حج نہیں ہوتا۔اس دن عازمین حج اپنے آپ کو رب کائنات کے حضور پیش کر کے اپنے گناہوں کا اعتراف بر ملا کرتے ہیں ۔حضرت ابراہیمؑ نے چونکہ عرفہ والی رات کو بھی یہ خواب دیکھا تھا، اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے اپنے پہلے دن والے خواب کو پہچان لیا تھا کہ یہ وہی خواب ہے جو کل دیکھا تھا۔اسی دن فجر کی نماز سے تیرہویں کی عصر تک تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد خواتین وحضرات پر چاہیے وہ مقیم ہو یا مسافر ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔
تیسری رات کو آپؑ کو پھر وہی خواب دیکھائی دیااور یاد دہانی کروائی گئی کہ اے ابراہیمؑ اپنی عزیز ترین شے کو قربان کرو۔آپؑ نے اس موقع پر اپنے گردو پیش کاجائزہ لیا تو آپؑ کو حضرت اسماعیلؑ نظر آئے تو آپؑ نے بیٹے سے تینوں راتوں کے خواب کا ذکر کیاجس کے بارے میں قرآن حکیم میںبھی ذکر ہوا ہے۔پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچاکہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس نے کہا۔میرے پیارے بیٹے!میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے قربان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے جواب دیا 'والد محترم:جو حکم ہوا ہے اسے بجالائیے ،انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اوراس نے اسے (باپ نے بیٹے )کروٹ کے بل گرادیا۔تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ''یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کردیکھایا۔بے شک، ہم نیکی کرنے والے کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔در حقیقت یہ کھلا امتحان تھا''۔(سورۃ الصافات)
مفسرین کرام ان آیات کی تشریح بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسمعیلؑ کی عمر 13برس تھی۔پیغمبر وں کے خواب بھی وحی الہٰی کا درجہ رکھتے ہیں۔اس لئے بیٹے کے قربانی کے حکم کو وحی الہٰی جانتے ہوئے تسلیم کرلیا اور بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امر الہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے؟اسی بیٹے کو اللہ تعالیٰ مستقبل میں پیغمبروں کے لئے چن چکا تھا،اسی لئے وہ حکم الہٰی کے کیسے خلاف جاسکتے تھے ؟پھر اس سے اگلی آیت میں ارشاد فرمایا:''اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیے میں دے دیا اورہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا 'ابرہیمؑ پر سلام ہو ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے ۔(القرآن)
یہ بڑا ذبیحہ ایک دنبہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے بھیجا'پھر حضرت اسمعیلؑ کی جگہ اسے ذبح کیاگیا اور پھر اسی سنتِ ابراہیمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دیا گیا۔قربانی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ ،لیکن امت مسلمہ ہر سال جو قربانی کرتی ہے'یہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیلؑ کی یادگار ہے۔
حضرت زید بن ارقم ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پرصحابۂ کرامؓ نے عرض کیا''یارسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟رسول اکرم ﷺ نے فرمایا''یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے '' صحابہ ؓ نے عرض کیا'اس میں ہمارے لئے کیا اجر ہے؟حضورﷺ نے فرمایا، قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔
ایام قربانی میں قربانی ایک ایسی نیکی ہے جس کا کوئی اور بدل نہیں ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا''قربانی (10تا12ذی الحجہ)میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میںقربانی کا جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں'بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہو گا اور بلاشبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعا لیٰ کی بارگا ہ میں مرتبہ قبولیت پالیتا ہے۔تو(اے مومنو)خوش دلی سے قربانی کیاکرو۔''(الحدیث) |
مرکزی صفحہ دفاع تشیع شیخین نے فدک غصب کیوں کیا تھا ؟
دفاع تشیعسوال و جوابعقائد و نظریاتفاطمہ زھرا (سلام اللّہ علیھا)معصومین علیہم السلام
شیخین نے فدک غصب کیوں کیا تھا ؟
by admin جنوری 18, 2019
رسول اللہ (ص) نے سن ۷ ہجری میں باغِ فدک بحکمِ خدا اپنی جگر پارہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ہبہ کیا۔ اور تب سے یہ باغ خاتونِ محشرکی ملکیت میں رہا۔ جب رسول اللہ ﷺکی وفات ہوئی تو خلیفۂ اوّل ابوبکرنے فوراً اِس باغ کو اپنی ملکیت میں لے لیا۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے اپنے دعویٰ کی صداقت کے لئے گواہ طلب کئے گئے اور پھر اُن گواہوں کی گواہی کو رد کر دیا گیا۔ جب سیّدہ سلام اللہ علیہا نے اپنی میراث طلب کی تو فرضی حدیث کا سہارا لیا گیا۔ آخر یہ باغ کیوں غصب کیا گیا؟ تاریخ اسلام اور سیاست کے طالب علم کے لئے اس سوال کا جواب ڈھونڈھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس کی چند واضح وجوہات ہیں۔
پہلی اور خاص وجہ
جو فدک کو غصب کرنے کی تھی وہ یہ کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا اور اہل بیت رسولﷺ کو معاشی طور سے کمزور کر دیا جائے۔ مولا علی علیہ السلام، جو جناب زہراسلام اللہ علیہا کے شوہر ہیں، نے اپنی خلافت کو دعویٰ پیش کیا تھا اور ابوبکر کی خلافت کو قبول نہیں کیا تھا۔ فدک کو چھین کر انھیں اقتصادی طور پر کمزور کر دیا جائے۔ اس جانب سے وہ آپ علیہا السلام کی معاشی اور معاشرتی حیثیت پر ایک گہری ضرب لگانا چاہتے تھے۔ یہی راستہ کفّارِ قریش نے رسالتمآبﷺ کے ابتدائی ایّام میں اختیار کیا تھا جس کے ذریعہ انھوں نے مسلمانوں پر ایک طرح کی اقتصادی پابندی لگا دی تھی تا کہ بذاتِ خود آنحضرتﷺ اور اُن کا مشن دونوں کمزور پڑ جائیں۔
یہ تھی کہ فدک کی آمدنی کثیر تھی۔ ابن ابی الحدید معتزلی کے مطابق باغِ فدک کے پیڑوں کی تعداد کوفہ کے پیڑوں کے برابر تھی۔علّامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب کشف المحجہ میں فدک کی سالانہ آمدنی ۲۴۰۰۰ دینار بتائی ہے۔ دوسری روایت میں اسے ۷۰۰۰۰ دینار بتایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی آمدنی سرکاری نظر سے کیسے بچ سکتی تھی، بالخصوص تب جب کہ بنی ہاشم اُس سے فیضیاب ہو رہے ہوں۔
ابوبکر نے اپنی خلافت کا دعویٰ اور اعلان کر تو دیا مگر کچھ نہایت محترم اور باوثوق اصحابِ رسولﷺ اُن کی خلافت کے مخالف ہو گئے جیسے مولا علی علیہ السلام، مالک بن نویرہ، زبیر بن عوام وغیرہ۔ حکومت پر اپنی پکڑ جمانے کے لئے اور مخالفت کو کمزور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اِن بغاوتوں کو کچلا جائے۔ باغِ فدک کا غصب کرنا اور مالک بن نویرہ جیسے جلیل القدر صحابی کا قتل کروا دینا اسی مقصد کا پیش خیمہ تھا۔
باغِ فدک کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ رسول اللہ ﷺمسلمانوں کے فوج کی دیکھ ریکھ پر خرچ کیا کرتے تھے۔ اگر جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا اس ملکیت کی آمدنی کو ابوبکر کو دینے سے انکار کر دیتیں تو اس سے ابوبکر کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو سکتا تھا۔ فوج کے اخراجات کا مسئلہ تو کھڑا ہوتا ہی ساتھ ہی اس کے سبب ابوبکر کی فوج پر گرفت کمزور ہو جاتی۔
پانچویں وجہ
رسول اللہﷺ نے یہ باغ اپنی دختر کو دیا تھا اور اُن کے عامل اس باغ کی دیکھ ریکھ کیا کرتے تھے۔ اس باغ کو چھین کر ابوبکر نے یہ ظاہرکرنا چاہا کہ اب میں حاکم ہوں اور میرا حکم چلے گا۔ یعنی میں اور میرا فیصلہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ میں رسول اللہ ﷺکے فیصلے کو بھی پلٹ سکتا ہوں۔
چھٹی وجہ
یہ تھی کہ یہ غصب فدک سے تمام مدینہ والوں اور اطراف کے علاقوں پر پوری طرح کا قبضہ جمع لینا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ سب جان لیں کہ جب علی و فاطمہ علیہما السلام کی مخالفت کو کچلا جا سکتا ہے تو انصار و مہاجرین کی کیا بساط ہے۔ |
یحییٰ علوی فرد 2020/10/26 تجارتی پلیٹ فارم
اس کہانی کا نکتہ یہ ہے کہ یہ سمجھانا ہے کہ جب آپ اپنے ابتدائی بیسویں سال میں تھے تو آپ جو فیصلے کرتے ہیں وہ آپ کی زندگی بھر کی خالص قیمت پر مستقل اثر ڈال سکتا ہے۔ چونکہ اس وقت ، پورٹ فولیو میں بنیادی اسٹاک ($ 100 کی مارکیٹ قیمت کے ساتھ) اور ایک مختصر کال پر حصہ شامل ہے ، اس کریپٹوکرنسیس کی موجودہ قیمت کے برابر ہونا چاہئے۔
اپنی پسند کے مطابق انٹرنیٹ کے اعداد و شمار اور حقائق کا حوالہ دیں ، اور انھیں سوشل نیٹ ورک پر شیئر کرنے میں بے دریغ بات کریں۔ کم کریں کا مطلب ہے پہلے جگہ پر کم وسائل استعمال کرنا۔ یہ تین روپے اور شروع ہونے والی جگہ میں سب سے زیادہ موثر ہے۔ یہ سب سے مشکل بھی ہے کیونکہ اس کے لئے کچھ بہت ہی اچھے امریکی خیالات کو چھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے ، بشمول یہ کہ بہتر سے زیادہ ، نئے ٹرپس پرانے اور سہولت دینداری کے بعد ہے۔ لیکن آپ کو ایک ساتھ یا مکمل طور پر جانے کی ضرورت نہیں کریپٹوکرنسیس ہے۔ کم کریں ایک تقابلی لفظ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے: جہاں سے اب ہو وہاں کاٹ دو۔ ایک سیب کا کٹر صاف کرنا آسان ہے۔ آپ اسے صابن والے پانی سے دھو سکتے ہیں اور کللا سکتے ہیں۔ اس کے بعد ، اسے صاف نیپکن یا ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کریں۔ اگر مصنوعات ڈش واشر سے محفوظ ہے ، تو آپ اسے صاف کرنے کے لئے اسے اپنے ڈش واشر میں آسانی سے رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان اپنی قومی آمدن کا 88 فیصد خرچ کر لیتا ہے اور اس میں سے صرف بارہ فیصد بچا پاتا ہے جس کی سرمایہ کاری سے صرف تین سے چار فیصد کی شرح سے ترقی ممکن ہے اور اس طرح اسے اپنی آمدن کو دگنا کرنے میں 40 سے 50 برس کریپٹوکرنسیس لگیں گے۔
فاریکس ٹریڈنگ 2021 کے لئے بہترین انتظام شدہ پام اکاؤنٹس ،کریپٹوکرنسیس
وینمو ، جو اب پے پال کی ملکیت میں ہے ، مبینہ طور پر 10 ملین فعال صارف ہیں۔ ایک مائکرو اکاؤنٹ بنیادی طور پر خوردہ سرمایہ کاروں کو پورا کرتا ہے جو غیر ملکی زرمبادلہ (غیر ملکی کرنسی) کی تجارت سے نمائش چاہتا ہے لیکن وہ بہت زیادہ رقم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا ہے۔ مائیکرو اکاؤنٹ کا سب سے چھوٹا معاہدہ ، جسے مائکرو لاٹ بھی کہا جاتا ہے ، ایک ہزار کریپٹوکرنسیس یونٹ کی کرنسی کی پیشگی رقم ہے ، یا ایک معیاری لاٹ کا ایک سو حصہ ہے۔ چھوٹی کمپنیاں ، جو صارفین تک ذاتی نوعیت کی رسائی کے زیادہ امکان کے ساتھ ، اپنے صارفین کو موثر انداز میں نشانہ بنانے کی اہلیت کرسکتی ہیں۔
4. ایس بی اے ورکنگ کیپیٹل (اثاثہ پر مبنی) لائن آف کریڈٹ لون پروگرام. بٹ کوائن پانچ دن کریپٹوکرنسیس میں $ 20،000 سے 11،000 ڈالر تک گر جاتا ہے۔ ترتیبات کے سیکشن میں ، آپ ان پیرامیٹرز کو منتخب کرسکتے ہیں جن کو آپ قابل ، غیر فعال یا تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس عمل کو بنیادی افعال سے شروع کرنا بہتر ہے۔ آئیے گوگل کروم کی مثال استعمال کرتے ہوئے اہم خصوصیات پر غور کریں: |
'پیاری سی پہاڑی لڑکی' اور اٹلی کا لاک ڈاؤن | Independent Urdu
ہوم پیچ » بلاگ » 'پیاری سی پہاڑی لڑکی' اور اٹلی کا لاک ڈاؤن
'پیاری سی پہاڑی لڑکی' اور اٹلی کا لاک ڈاؤن
اٹلی کے لاک ڈاؤن کے دوران آپ کو خوابوں میں دیکھے ہوئے منظر میں وقت گزارنے کا کہا جائے تو کیا کریں گے؟
نوشین حسین
جمعہ 10 اپریل 2020 16:00
ہائیڈی کی کہانی نے دنیا بھر کے بچوں کو متاثر کیا ہے، او راس پر کئی فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں (سٹوڈیو اینیمیشن)
بچپن میں نونہال میگزین میں قسط وار ناول 'پیاری سی پہاڑی لڑکی' پڑھا تھا۔ اس کی مصنف 'یوہانا سپائری' ہیں جبکہ ترجمہ جناب مسعود احمد برکاتی نے کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔
کہانی کا اہم کردارایک چھوٹی بچی 'ہائیڈی' جب اپنے دادا کے گھر جاتی ہے تو اس کے کمرے کی کھڑکی سے قدرت کے حسین نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں اور وہ سبز گھاس کے بستر پر سو کراس کا دیدار کرتی ہے۔ برکاتی صاحب نے اس کا بیان بھی اس اندازسے کیا ہے کہ دل چاہتا ہے انسان ناول کا حصہ بن کر کھڑکی کے سامنے بیٹھ جائے۔ بچپن میں پڑھا تھا اس لیے اس کا ہر منظر ذہن نشین ہے۔
ایسے نظارے آنکھوں کے ساتھ روح کی تسکین کا باعث بھی ہوتے ہیں مگر کراچی جیسے شہر میں بھیڑ، آلودگی، گاڑیوں کے شوراور لوگوں کے ہجوم میں اس ماحول کا کبھی تصور نہیں کیا، ہاں البتہ خواہش ہمیشہ کی۔ ہیدی کے دادا کے گھر جا کر اسی کھڑکی کے ساتھ بیٹھنے کی۔ کراچی میں مصروف رہنے کی شکایت ہر ایک کو ہے۔ آپ کراچی کے کروڑوں باسیوں میں سے کسی سے بات کر لیں، اختتام اس کی مصروفیت کا رونا روتے ہوئے ہو گا اور پھرآپ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے پرمجبور ہوں گے۔
ایسے میں کراچی سے تقریباً ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر دور 'کیتی' میں ایک روز صبح اٹھنے پر وہی 'ہائیڈی' اور اس کی کھڑکی یاد آ جائے اور پھر اس پر حکم ہو کہ اب یہاں سے کہیں نہیں جانا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے بچپن کی کوئی خواہش پوری ہو رہی ہے۔ کیونکہ آج میری کھڑکی کے آگے کا نظارہ بھی خوبصورت ہے۔ پہاڑاور اس پر کہیں کہیں برف، بادل، بارش، سر سبز درخت اوراس پرماحول میں چاشنی بھرتی پرندوں کی چہچہاہٹ۔
یہ ہے کیتی جو 50 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ ایک پہاڑی علاقہ جو اٹلی کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور دارالحکومت روم سے دو گھنٹے کی مسافت پرہے۔ تاریخ کھنگالیں تو یہاں کئی صدیوں تک آباد مختلف قومیں ملیں گی۔ پرانا نام 'ٹیئیٹ' تھا۔ رومی 305 قبل مسیح میں یہاں آباد ہوئے۔ پھر حملہ ہوا اوریوں اجڑنے سنورنے کی داستان چلتی رہی۔ مگر اس وقت کیتی حسین ہے۔ اس کے دو حصے ہیں، قدیم اور جدید۔ راچی سے تعلق رکھنے والے شخص کے لیے قدرے مختلف۔ چھوٹا مگر خوبصورت اور زندگی کی تمام تر ضروریات سے پُر۔
صبح اٹھے، قدرت سے رشتہ جوڑا۔ بالکونی میں کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھا جو یہاں حد نگاہ تک میسر ہے۔ پرندوں کے گیت سنے جو یہ بھرپور انداز میں گنگناتے ہیں۔ جب یہ کورس میں ہر طرح کا سنگیت فضا میں گھولتے ہیں تو کانوں میں ہینڈفری ڈالنے کا جی نہیں چاہتا۔ ایسالگتا ہے ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہیں اور اس میں کسی قسم کا خلل انہیں پسند نہیں۔
شفق کے جتنے رنگ یہاں آسمان پر بکھرتے ہیں، کہیں اور نہیں دیکھے، پہاڑوں کے اوپر کوئی اوررنگ، مکانوں پر کسی اور طرز کا اور جاتے جاتے نجانے کتنے روپ۔ یہاں کی بارش بھی عجیب ہے، اپنے آنے کی اطلاع نہیں دیتی، نہ آسمان کا رنگ تبدیل ہوتا ہے، نہ گھنے بادل، بے وقت ہی شروع ہو جاتی ہے اور برستے برستے یک دم رک بھی جاتی ہے۔ لوگ خوشی سے چیختے چلاتے نہیں۔ اطمینان سے اپنی چھتری کھول لیتے ہیں۔ برسات کو یہ لوگ پسند نہیں کرتے۔ سورج کی کرنوں سے ان کی خاص دوستی ہے۔ طلوع آفتاب کے ساتھ اٹھتے ہیں اورغروب کا وقت ہوتے ہی تھک جاتے ہیں۔
بالکونی سے لوگوں کو دیکھنے کا جی چاہا تو نظریں نیچی کر لیں، کوئی نہ کوئی دِکھ جاتا ہے۔ کوئی بوڑھا شخص اپنے پالتو جانور کو واک کے لیے لے جا رہا ہو گا۔ جانوروں سے ویسے بھی انہیں بہت محبت ہے۔ سپر سٹور میں جائیں۔ جانوروں کی غذا کا باقاعدہ سیکشن بنا ملے گا، جہاں ایک نہیں کئی برانڈ موجود ہوتے ہیں۔
کبھی کوئی نوجوان گھر کے باہر ٹہلتا نظرآ جاتا ہے۔ ان لوگوں کی ورزش کی عادت اس قدر پختہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں بھی گھر کے باہر دروازے تک ہی سہی مگر اپنی سی واک کرتے ضرور ہیں۔ یا تو پھر ہاتھ میں تھیلا لٹکائے کوئی خاتون جا رہی ہوتی ہیں، پتہ چل جاتا ہے کہ سوداسلف لینے جا رہی ہیں۔ یہاں سپر سٹورصبح آٹھ جے کھلتے ہیں اور شام آٹھ جے بند ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ صبح پہلے پہنچ جائے۔ یوں اس بالکونی کے ذریعے زمین اور آسمان دونوں سے ہی رشتہ برقرا ررہتا ہے۔
اٹلی میں لاک ڈاؤن کو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ خود سے ملاقات جو اس وقت میسر ہے، پہلے نہ تھی۔ اپنی صحبت بھی بھلی لگ رہی ہے۔ مجھے مسعود احمد برکاتی کی طرح منظر کشی نہیں آتی، یوہانا سپائری سا تخیل بھی نہیں۔ مگر اس تاریخی جگہ پر میں اورکھڑکی کا یہ حسین منظر، 'خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو! |
شہید قاسم سلیمانی ہر بیدار ضمیر انسان کے ہیرو ہیں، علامہ امین شہیدی - اسلام ٹائمز
Friday 21 Jan 2022 21:21
خانہ فرہنگ سفارت اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کیجانب سے کتاب "صورتِ سلیمانی" کی تقریب رونمائی سے خطاب میں امت واحدہ پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہید قاسم سلیمانی کو محض ایک فوجی جنرل کی نظر سے دیکھنا انکی غیر معمولی شخصیت کیساتھ زیادتی ہے۔ وہ فرزندِ اسلام تھے اور موجودہ امتِ اسلامی کے سب سے بڑے محافظ بھی۔ ہم نے عملی طور پر دیکھا کہ قاسم سلیمانی کا قیام جس سرزمین پر بھی رہا، وہ اسی سرزمین کے باشندے تھے۔
اسلام ٹائمز۔ امتِ واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے خانہ فرہنگ سفارت اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کی جانب سے کتاب "صورتِ سلیمانی" کی تقریب رونمائی میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ انہوں نے"صورتِ سلیمانی" کو شہید جنرل قاسم سلیمانی کے حوالہ سے مفید اور قلوب پر اثر انداز ہونے والی کتاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مترجم نے اس کتاب کے ذریعے پاکستانی قوم کو قاسم سلیمانی سے قریب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ علامہ امین شہیدی نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید محض ایرانی جنرل نہیں تھے۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس ملک کے تصور کے خالق علامہ اقبال ہیں۔ اگر ہم اقبال کی نگاہ سے مردِ مومن اور اسلام کی آفاقی تعلیمات کا جائزہ لیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اگرچہ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہماری شناخت کا ایک پہلو جغرافیائی ہے، لیکن یہ ہماری مکمل شناخت نہیں ہے۔ |
ناخنوں کی ساخت شخصیت کے رازوں سے پردے ہٹاتی ہے - لفظ اُردو
جنوری 5, 2019 ناخنوں کی ساخت شخصیت کے رازوں سے پردے ہٹاتی ہےپر تبصرے بند ہیں دلچسپ و عجیب
ناخنوں کی ساخت شخصیت کے رازوں سے پردے ہٹاتی ہے
اہل دانش کو کسی انسان کی شخصیت جاننے اور سمجھنے کے لیے ناخن یا ہاتھ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اہل دانش کا انسان کی آنکھوں میں چند لمحے دیکھ لینا ہی کافی ہوتا ہے۔اور اہل علم آنکھوں میں دیکھنے کا بھی محتاج نہیں ہوتا کسی ملاقات کا بھی محتاج نہیں ہوتا اہل علم کو صرف آپ کا نام بتا دیا جائے تو بھی وہ آپ کے متعلق سب کچھ جان جاتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر شائد دُکھ ہوگا کہ آپ اپنی شخصیت کے جن اندھیرے حصوں کو چھپاتے ہیں اور ظاہر نہیں ہونے دیتے وہ اہل علم اور اہل دانش ہونے کی شرط کے علاوہ اور بہت سے لوگ بھی جانتے ہوتے ہیں جن میں آپ کے ماں باپ سر فہرست ہیں۔
اب آپ کے ذہن میں جو پہلا معصومانہ سوال اُٹھے گا وہ یہی ہوگا کہ یہ لوگ آپ کی پرائیویسی کا خیال کیوں نہیں رکھتے بغیر بتائے کیوں سب کچھ جانتے ہیں؟۔ اس سوال کا تلخ جواب یہ ہے کہ بحثیت انسان دنیا میں آپ قید کاٹنے آئے ہوئے ہیں اور دو فرشتے تو ہر وقت دائیں اور بائیں کاندھے پر آپ کے ساتھ رہتے ہیں لحاظہ سمجھ جائیں کے ایک قیدی کی کوئی پرائیویسی نہیں ہوتی ۔
اس پوسٹ میں ہم اہل علم کی ہاتھ کی انگلیوں پر ناخنوں کی ساخت سے جڑی شخصیت کے رازوں سے پردہ اُٹھاتی چند پیش گوئیوں کو شامل کریں گے جنہیں پڑھ کر حیران مت ہوئیے گا کیوں کے یہ بات تو آپ سمجھ ہی چکے ہیں کے قیدیوں کی پرائیویسی نہیں ہوتی ۔
1.چوڑے چکور اور لمبے ناخن
طبعیت کے انتہائی تحمل مزاج یہ لوگ کا م کو باتوں کی بجائے عملی طور پر کرنا پسند کرتے ہیں اور عام طور پر کھلے دل والے اور سخی ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کو ایک خاص نقطہ نظر سے گُزارتے ہیں ، ان کے اندر پیدائشی طور پر قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں جن کی بدولت یہ اپنے اردگرد کے لوگوں جہاں رہنمائی کرتے ہیں وہاں ان کے لیے انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں، یہ لوگ محبت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن محبت کرنے کا ان کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے جو کبھی کبھار دوسروں کو سمجھ نہیں آتا۔
2. چھوٹے اور چکور ناخن
اس ناخن کے حامل افراد زمانہ ساز اور انتہائی چالاک ہوتے ہیں ، حسد ، کینہ ، اور غصہ عام لوگوں کی نسبت ان پر زیادہ جلدی ہاوی ہوتا ہے اور اگر یہ ان چیزوں کا شکار بن جائیں تو یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، عام طور یہ افراد دوسروں کے ساتھ گھل مل کر زندگی گزارنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا ان کیساتھ پرسنیلٹی کلیش پیدا کرتا ہے تو یہ افراد محبت اور جنگ میں سب جائز ہے کے قول پر عمل کرتے ہیں۔
3.باریک اور لمبے ناخن
اعداد شمار کا درست حساب رکھنے واے اس ناخن کے حامل افراد کے اندر انا کا تناسب دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے، یہ لوگ اصول پسندانہ زندگی گزارتے ہیں اور اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے چاہے سر کٹانا پڑ جائے، دولت اور آسائش کے دلدادہ یہ افراد سب کی توجہ کا مرکز بنا رہنا پسند کرتے ہیں اور اس توجہ کو حاصل کرنے کے لیے یہ کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں ، ایسے لوگ عام طور پر فیشن کے دلدادہ ہوتے ہیں اور خواتین میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔
4. شارٹ نیل
جلد باز اور جلد غصے میں آنے والے ایسے ناخنوں کے حامل افراد کمال کے حاضر جواب ہوتے ہیں اور دوسروں سے بہت جلد توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جس سے بعد میں تکلیف اُٹھاتے ہیں، عام طور ایسے ناخن کے حامل افراد سازشی نہیں ہوتے اورسازشی عناصر کی ٹھیک سے پہچان بھی نہیں کر پاتے جس کے باعث چالاک لوگ ان سے بہت جلد اپنا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں، یہ افراد عام طور پر سوسائٹی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کو بہت بڑی نیکی سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن کر رہتے ہیں۔
5.بادامی شکل کے ناخن
ایسے ناخن کے حامل افراد طبیعت کے انتہائی نرم مزاج ، لطیف گفتگو کرنے والے اور محبت کرنے والے اور بڑے بڑے خواب دیکھنے والے ہوتے ہیں، یہ افراد اپنی حس لطافت کی وجہ سے اپنے حلقہ احباب میں پہچانے جاتے ہیں اور فنون لطیفہ اور آرٹس کو بہت پسند کرتے ہیں۔
6.تکونی ناخن
فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال اس ناخن کے حامل افراد انتہائی نازک مزاج اور موڈی ہوتے ہیں ان کا موڈ اس قدر تیزی سے بدلتا ہے کہ عام آدمی کو شک ہوجاتا ہے کہ یہ پاگل ہیں لیکن اپنی ایک علیحدہ سوچ اور فکر رکھنے والے یہ لوگ انتہائی محبت کرنے والے واقع ہوتے ہیں اور بہت جلد سب میں اپنی پہچان بنا لیتے ہیں۔ |
سابق وزیراعظم عمران خان کی مسجد نبوی کے واقعے اور فرح خان کی تحقیقات کے بارے میں تازہ ترین پریسر میں گفتگو - BBC URDU PK
سابق وزیراعظم عمران خان کی مسجد نبوی کے واقعے اور فرح خان کی تحقیقات کے بارے میں تازہ ترین پریسر میں گفتگو
شیئر کریں bbcurdu 2022-05-02 2022-05-02 0 تبصرے 26 مناظر
اسلام آباد – پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے مسجد نبوی میں نعرے بازی کے واقعے کا جواب دیتے ہوئے کرپشن کی تحقیقات کے خلاف اپنی اہلیہ کے قریبی دوست کا دفاع کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے اتوار کے روز ملک کے وفاقی دارالحکومت میں ایک پریس سے خطاب کیا اور جمعرات کو مسجد نبوی کے اندر پیش آنے والے ذلت آمیز واقعے سے خود کو الگ کر لیا۔
خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن پوری دنیا میں شب دعا منا رہے تھے جب مقدس مسجد میں افسوسناک مناظر دیکھے گئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دیگر اراکین کے ساتھ مقدمہ درج ہونے کے بعد تنازعہ کا جواب دیا کیونکہ مسجد نبوی میں پاکستانی زائرین نے وزیر اعظم شریف کو دیکھتے ہی نعرے لگانا شروع کر دیے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ لوگوں کے غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ ''پی ڈی ایم قائدین جہاں بھی جائیں گے غضب کا سامنا کریں گے''، انہوں نے پھر خبردار کیا۔
انہوں نے اسے مخلوط حکومت پر 'شہریوں کی طرف سے محسوس کیے جانے والے غصے کا ردعمل' قرار دیا۔
انہوں نے کیس میں اپنی گرفتاری سے متعلق پیش رفت کو بھی احمقانہ اقدام قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ سعودی عرب میں جو کچھ ہوا اس پر پاکستان میں کیس کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کی گرفتاری کی بھی مذمت کی جنہیں وفاقی تفتیش کاروں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تھا۔
خان کا کہنا ہے کہ فرح کے خلاف انکوائری انتقامی کارروائی ہے۔
سابق پاکستانی وزیر اعظم جنہوں نے بطور سیاست دان، مخیر حضرات، اعلیٰ کرکٹر کے طور پر اپنا نام روشن کیا، فرح خان کی دولت میں بڑے پیمانے پر اضافے کا دفاع کیا، جو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی ساتھی ہیں، جو دبئی روانہ ہوئی تھیں جبکہ اینٹی گرافٹ واچ ڈاگ نے ان کے خلاف الزامات پر انکوائری شروع کی تھی۔ معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ غیر قانونی اثاثے جمع کرنا، منی لانڈرنگ۔
انہوں نے کہا کہ فرح خان 'سیاسی انتقام' کا شکار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرح میری بیوی کے ساتھ قربت کی وجہ سے نشانے پر رہی۔
خان نے کہا کہ فرح تقریباً 2 دہائیوں سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں سے پوچھیں کہ پچھلے تین سالوں میں ان کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے اس کیس کے پیچھے سیاسی ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس صرف عوامی عہدے داروں پر لاگو ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اپنی سابق اہلیہ جمائما خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ٹائلوں کی اسمگلنگ کا الزام تھا۔
خان نے مزید کہا کہ جب سیاسی رہنما ان کے بارے میں کچھ تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ خواتین کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ |
پولیس زینب کے قاتل تک کیسے پہنچی، سنسنی خیز انکشاف | The Daily Basharat - روزنامہ بشارت
جنوری 24, 2018 پنجاب Leave a comment 13 دیکھا گیا
لاہور: زینب قتل کیس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس ایک جیکٹ کی مدد سے مبینہ قاتل عمران تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی جب کہ ملزم کی والدہ نے بیٹے کی گرفتاری میں مدد بھی کی۔ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری جمعرات کی شب 7 سالہ زینب کو اغوا کیا گیا اور پھر زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ 23 جنوری کو ملزم عمران علی کو گرفتار کرلیا گیا جس کا ڈی این اے بھی قاتل کے ڈی اے این اے سے میچ ہوگیا ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آئی جس میں بچی قاتل کے ساتھ جارہی تھی اور ملزم نے جیکٹ پہنی تھی جس کے کندھوں پر سامنے کی جانب دو بڑے بٹن لگے تھے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ فوٹیج میں جیکٹ کا رنگ سفید نظر آ رہا ہے جو اس کا اصل رنگ نہیں اور کوئی بھی گہرا رنگ ہو سکتا تھا۔ چھاپے کے دوران عمران علی کے گھر سے ایسی ہی ایک جیکٹ ملی جس کے دونوں بٹنوں کی مدد سے یہ پولیس ملزم کی گردن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔
ملزم سے تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے مطابق ملزم نے بہت زیادہ پس و پیش نہیں کی اور دوسری بات پر ہی اس آنے سارے قتل اور جرائم مان لیے۔ پولیس کے مطابق ملزم زیادہ چالاک اور ہوشیار نہیں تھا بلکہ اگر مقامی تھانے کی پولیس پہلے ہی اس کیس کو سنجیدگی سے لیتی اور درست لائن پر تفتیش کرتی تو شروع میں ہی پکڑا جاتا۔ عمران علی نہ صرف سیریل کِلر یعنی قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈوفائل بھی ہے جو نفسیاتی حد تک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔ |
اہم مسائل - فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا
حامد ابراہیمی 2020/04/24 ٹریڈنگ کے اوزار
قیاس آرائیاں بتاتی ہیں کہ نشیبی آبادی میں کمی تجارت کے بہاؤ کو ٹیکل اور کوپن جیسے بڑے مراکز کی طرف موڑ رہی ہے۔ لیوریجڈ بائ آؤٹ میں واپسی تین مندرجہ فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا ذیل عوامل سے چلتی ہے۔ صرف بازیافت کرنے کے لئے ، ڈومین پلٹانا ایک پیسہ کمانے کا منصوبہ ہے جہاں آپ ڈومین نام خریدتے ہیں ، پھر اسے منافع کے لئے دوبارہ فروخت کریں۔
اس پولیس کارروائی کے نتیجے میں جن چار جرمن شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کی عمریں چالیس سے چونسٹھ برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کو لاطینی امریکی ملک پیراگوئے میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والا ایک شخص اس پلیٹ فارم کا خاصا سرگرم رکن تھا۔ اس نے ساڑھے تین ہزار سے زائد پوسٹس شیئر کی تھیں۔ آف شور کمپنی کو اپنا اکاؤنٹ قائم کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہم اہل متعارف ہیں۔ لہذا ، ہم آپ کو بیرون ملک سفر کرنے کی ضرورت کے بغیر بہت سارے دائرہ کار میں آپ کے لئے اپنا اکاؤنٹ قائم کرسکتے ہیں۔
ماریشس بحر ہند کے جنوبی حص inے میں ایک چھوٹا جزیرہ ہے۔ اگر آپ فطرت کے پرستار ہیں ، اسکوبا ڈائیونگ اور ویران ساحل ، تو آپ کے ل this یہ جگہ ہے۔ اگرچہ پیرس سے 11 گھنٹوں کی دوری بہت دور ہے ، اس مقام کی دور اندیشی کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کو وہاں پہنچنے کے ل your آپ کے نقائص اور میل کا استعمال کرنا ایک بہتر شرط ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ ہم نے نیا بونس فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا لانچ کیا؟ یہ اب بھی سرگرم ہے! اضافی رقم کمانے کے لئے اپنے موقع کو استعمال کریں۔ اپنے اکاؤنٹ پر 70$ مفت حاصل کریں ، مسلسل 20 دن تک ٹریڈنگ کریں اور اپنا منافع حاصل کریں۔ یہ آسان ہے! 🤔
آپ اپنی ترقی کو بھی دیکھ سکتے ہیں واپسی واپسی کے حصے میں. واقعات کے اچانک موڑ کی وجہ سے ، قیمت TP سے ہٹنے سے پہلے ہی گرنا شروع ہوجاتی ہے اور سارا راستہ نیچے آجاتی ہے ، اس طرح سیٹ SL پر آپ کا آرڈر بند ہوجاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا ٹریلنگ اسٹاپ کام آسکتا ہے۔
دوسرے ڈیسک ٹاپ ڈیٹا بیس کے مقابلے میں بہت کم بدیہی ہے۔ پر کلک کریں ونڈوز کی + I کھلا تخصیص .
.اہم مسائل کریپٹوکرنسی سگنل آپ کو حقیقی وقت میں تجارتی تجویزات تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ فراہم کنندہ یا تو ان کے تجارتی اشارے کو انسانی تجزیہ پر مبنی بنائے گا یا خودکار الگورتھم کے ذریعے۔ سابقہ کے بارے میں ، یہ بنیادی اور تکنیکی تجزیہ کا مجموعہ ہوسکتا ہے۔ مختصر مدت کے قرض کی طرح، آن لائن قرض دہندگان سے کریڈٹ کے کاروباری لینکس آپ کے ذاتی کریڈٹ پورٹیبل اور حالیہ کاروباری تاریخ پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں.
مالیاتی خدمات فورٹ . $ 5 کی کوئی جمع بونس - ایک حقیقی اکاؤنٹ پر تمام نئے گاہکوں.
5. اپنے مقام کا نقشہ داخل کریں. مثلث MACD اشارے کے ساتھ بہتر کام کرتے ہیں.
اسلامی مالیات کا خطرہ اور صلہ - فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا
پنگڈوم ٹولس فل پیج ٹیسٹ ایک استعمال میں آسان ویب پر مبنی ٹول ہے جو ویب پیج کے تمام فاریکس پھیلاؤ کو سمجھنا حصوں کی جانچ کرتا ہے جس میں فائل پیج ، بوجھ ٹائم ، ایچ ٹی ایم ایل ، جاوا اسکرپٹ ، سی ایس ایس اور ویب پیج سے منسلک دیگر فائلیں شامل ہیں۔ اسکورنگ 0 سے 100 پوائنٹس کے پیمانے پر کی جاتی ہے ، جتنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
3- اگر کالای خریداری شده، آسیب دیدگی یا ایراد فیزیکی و ظاهری داشته باشد هر گونه آسیب دیدگی یا ایراد فیزیکی بغیر از موارد مربوط به حمل و نقل و موارد مشابه لازم به توضیح است که گارانتی مرجوعی که توضیحات آنرا ملاحظه می فرمایید شامل کالاهائی می باشد که نیازمند تست در محل می باشند گارانتی ، اشکالهای فنی و ظاهری (شکستگی، خط و خش و مانند آن روی بدنه کالا و قطعات تزئینی) که در اثر استفاده نادرست خریدار از کالا ایجاد شود، را شامل نمیشود.
بونس ہتھیار یا کھالیں کسی بھی طرح بارڈر لینڈز 2 کے لئے منفرد نہیں ہیں ، لیکن ان کے گیئر باکس گولڈن گن شاید اس کی بہترین مثال ہیں کہ وہ کسی بھی ملٹی پلیئر گیم میں اچھ dealsے سودے کیوں نہیں کرتے ہیں۔ اس کی کو دبائیں کیا ہوتا ہے؟ + دکھائی گئی تاریخ میں ایک دن جوڑتا ہے۔ – دکھائی گئی تاریخ سے ایک دن جمع کر دیتا ہے۔ t تاریخ کو آج کی تاریخ میں بدل دیتا ہے۔ آپ اسے یاد کر سکتے ہیں کیونکہ t میں پہلا خط ہے آج y تاریخ کو سال میں پہلی تاریخ میں تبدیل کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ y میں پہلا خط ہے سال r سال میں آخری تاریخ میں تاریخ بدل دیتا ہے۔ یاد رکھیں کہ r میں آخری خط ہے سال م ماہ میں تاریخ کو پہلی تاریخ میں بدل دیتا ہے۔ صرف بچانے کے لئے میری مجبوری شخصیت ، مجھے اس کی نشاندہی کرنے کی اجازت دیں م ہے میں پہلا خط مہینہ h ماہ میں تاریخ کو آخری تاریخ میں بدل دیتا ہے۔ ٹھیک ہے ، آخری بار میں ایک میموری ٹول فراہم کروں گا - نوٹ کریں h ہے آخری خط میں مہینہ.
ونڈوز 10 ورژن 1909 32 بٹ انگریزی (3.5 GiB ، 2،871 ہٹ) .اہم مسائل فیویلٹی انوسمنٹ جائزہ پڑھیںمعامل بروکرز جائزہ پڑھیںچیرلز اچھواب جائزہ پڑھیںٹریڈیشن جائزہ پڑھیںٹی ڈی ایریٹری جائزہ پڑھیں.
ہم نے اس سے پہلے کے فرق اور پیٹرن کی اس دوسری موم بتی کے بعد ایک خلا کے بارے میں بھی بات کی۔ وہ خلاء ہوسکتا ہے یا کبھی کبھی اتنا واضح بھی نظر نہیں آتا ہے۔ براہ کرم آگاہ رہیں کہ ان میں سے کسی بھی سروس کو استعمال کرنے کے ل you ، آپ کو اپنی ای بے رجسٹریشن کی معلومات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ متبادل ای میل ایڈریس یا بالکل مختلف ای بے اکاؤنٹ کا استعمال کرنا اچھا ہوگا۔ |
ڈیجیٹل تقسیم کیا ہے؟ یونیسیف کی تازہ رپورٹ سامنے آگئی
07:43 PM, 26 Dec, 2017
نیویارک(24نیوز)دنیا میں ڈیجیٹل تقسیم بھی سامنے آگئی، ڈیجیٹل تقسیم کی وجہ سے پسماندہ ممالک میں محرومیاں فروغ پانے لگیں،آگے بڑھنے کے مواقع ترقی یافتہ ممالک تک محدود ہوکر رہ گئے۔
تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ کے استعمال نے پوری دنیا کو ایک چھوٹا ساگاؤں بنادیا ہے۔ مگرانٹرنیٹ نہ ہونے یا اس کا استعمال نہ کیے جانے کی وجہ سے اب بھی دنیا کی بڑی آبادی اس ڈیجیٹل گاؤں سے باہرہے۔
یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے 81فیصدافراد انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔ اس کے برعکس کم ترقی یافتہ ممالک کے صرف 15فیصد لوگوں کی ہی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ دنیا میں 15سے 24سال تک کی 29فیصد آبادی ایسی ہے جو اب بھی انٹرنیٹ سے دورہے۔اس کے برعکس دنیا میں 15سال سے کم عمربچوں میں سے صرف 30فیصد ہی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 17فیصد لوگ انٹرنیٹ منسلک ہیں۔
رپورٹ میں مزید یہ بات واضح کی گئی ہے کہ 15سال سے کم عمربچے جن کی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں وہ آگے چل کرزندگی کی دوڑمیں پیچھے رہ جاتے ہیں یہ بچے نہ تومناسب مواقع پاتے ہیں اورنہ ہی نئے دوست بناپاتے ہیں حتیٰ کہ اپنی ذات کے اظہارپربھی پوری طرح قادرنہیں ہوپاتے۔
یونیسیف کی رپورٹ سے یہ بات بھی منظر عام پر آئی کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی نگرانی مشکل ہوجانے کےبعد بچے کئی مسائل سے بھی دوچارہیں۔ نگرانی نہ ہونے سے بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکاربھی ہورہے ہیں۔ نامناسب مواد تک بچوں کی رسائی بھی کئی معاشرتی مسائل کوجنم دے رہی ہے۔ |
پنجاب میں بنیادی ضروریات زندگی عوام کی دہلیز پر مہیا کرنے کے لئے پروگرام کی منظوری | APP Video Service
Home General پنجاب میں بنیادی ضروریات زندگی عوام کی دہلیز پر مہیا کرنے کے...
پنجاب میں بنیادی ضروریات زندگی عوام کی دہلیز پر مہیا کرنے کے لئے پروگرام کی منظوری
لاہور،11 اگست (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا، اجلا س میں شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی ضروریات مہیا کرنے کیلئے پروگرام شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس پروگرام پر مجموعی طورپر25ارب روپے خرچ ہوں گے۔ -انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت شہروں میں صفائی کے نظام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی او رسیوریج سسٹم کو بہتر بنایا جائیگا ، غیر فعال واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی کے لئے اقدامات سمیت غیر فعال سیوریج سکیموں کو بھی بحال کیاجائے گا۔انھوں نے بتایا کہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ضروری مشینری خریدی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبے کے ہر شہر اوردیہات کی ترقی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں پنجاب کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے زیادہ فنڈز رکھے گئے ہیں -بنیادی سہولیات بہتر بناکرعوام کو ان کا حق لوٹائیں گے۔انہوں نے پروگرام پر عملدر آمد کے حوالے سے متعلقہ امور جلد طے کرنے کی ہدایت دی ۔ |
صبر و تحمل اور برداشت : میر افضل خان طوری | ہم لوگ
Home / کالم / صبر و تحمل اور برداشت : میر افضل خان طوری
انسان کی سب سے بڑی قوت قوت برداشت ہے۔ انسان کی اصل طاقت کا اندازہ اس کے قوت برداشت سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس انسان میں تکالیف اور مصائب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے وہ دنیا میں ہمیشہ بہت بڑی قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ صبر و تحمل انسان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ صبر و تحمل سے کام لینے والا انسان کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔
مولانا روم اپنی مثنوی میں اس حوالے سے بہت خوبصورت واقعہ نقل کرتا ہے" وہ فرماتے ہیں کہ بنوت سے قبل حضرت موسی علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
ایک دن ایک بکری ریوڑ سے الگ ہو کر کہیں کھو گئی۔ حضرت موسی علیہ السلام جنگل میں آگے پیچھے تلاش کرتے کرتے بہت دور نکل گئے۔ اس سے آپ علیہ السلام کے پاؤں مبارک پر ورم آگئے اور زخمی بھی ہوگئے۔ بکری تھک ہار کر ایک جگہ کھڑی ہوگئی تب جا کر حضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھ آئی۔ آپ علیہ السلام نے اس پر بجائے غصہ اور زدوکوب کرنے کے اس کی گرد جھاڑی اور اس کی پشت اور سر پر ہاتھ پھیرنے لگے، ماں کی ممتا کی طرح اس سے پیار کرنے لگے۔ باوجود اس قدر اذیت برداشت کرنے کے ذرہ برابر بھی اس پر کدورت اور غیط و غضب نہ کیا بلکہ اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپ کا دل رقیق ہو گیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بکری سے کہنے لگے " فرض کیا تجھ کو مجھ پر رحم نہیں آیا، اس لئے تو نے مجھے تھکایا اور پریشان کیا۔ لیکن تجھے اپنے اوپر رحم کیوں نہیں آیا۔ میرے پاوں کے آبلوں اور زخموں پر تجھے رحم نہ آیا۔ کم از کم تجھے اپنے اوپر تو رحم آنا چاہئے تھا"۔
اسی وقت ملائکہ سے حق تعالی نے فرمایا کہ نبوت کیلئے حضرت موسی علیہ السلام زیبا ہیں۔ امت کا غم کھانے اور ان کی طرف سے ایزارسانی کے تحمل کیلئے جس حوصلے اور دل و جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خوبی ان میں موجود ہے"۔
صبر میں اگر اخلاص موجود ہو تو انسان کی روح کو شفافیت ملتی ہے۔ ایک متحمل مزاج آدمی ہی جذبہ تخلیق سے آراستہ ہوتا ہے۔ اسکے برعکس عدم برداشت آدمی کی تخلیقی صلاحیتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا:
ذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ( 134 ) آل عمران – الآية 134
جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے۔
عدم برداشت اور بے صبری یقین اور اطمینان کی قوتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ لوگ دل برداشتہ ہو کر بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ معمولی معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔بہت سے لوگ عدم برداشت کی وجہ سے اپنی جان کو خاتمہ بھی کر دیتے ہیں۔
برداشت اور تحمل نئی امیدوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ امید اور یقین کی قوت سے ہی انسانی معاشرے کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ برداشت معاشرتی ترقی اور رواداری کی نئی راہیں کھول دیتی ہے۔
اس وقت پاکستانی معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت صبر و تحمل اور برداشت کی ہے۔ صبر و تحمل ہی ہمارے امن و سکون اور معاشرتی ترقی کی ضامن ہے۔ |
جنگ کشمیرکا نہیں ناگپور کے جنون کا حل ہے
وزیر مملکت برائے دفاع مسٹر سبھاش بھامرے نے نئی دلّی میں آرمی کے سالانہ سمینار کے موقعہ پریکم مارچ کو وہاں موجود نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ''لائن آف کنٹرول پر بہت ساری باتیں ہورہی ہیں۔کوئی نہیں جانتا کہ کب کوئی معاملہ بگڑ کر تصادم آرائی کی طرف لے جائے ''۔یہ بیان اُس وقت جاری ہوا جب دو دن بعد شدید فائرنگ کے نتیجہ میں چار پاکستانی فوج مارے گئے اور اس طرف دو فوجی اور دو شہری زخمی ہوگئے جبکہ فائرنگ جاری ہے ۔صرف2018میں اب تک چار سو فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جبکہ 2017 میں آرپار فائرنگ کے لگ بھگ 2ہزار وا قعات انجام پذیر ہوئے ۔جب سے نومبر2003میں ہندوپاک کے مابین سرحدی جنگ معاہدہ ہوا ،تب سے ایسے واقعات ہورہے ہیں جنہو ں نے2017سے شدت اور تسلسل کی نوعیت اختیار کی ہوئی ہے۔
جب وزیر دفاع کہتے ہیں کہ سرحد پر بہت کچھ ہورہا ہے ،اس کا صاف اشارہ ہے کہ ''بہت کچھ''میں سے عوام کو سبھی حقائق کا علم نہیںہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔سرحدوں پر عمومی طور پر نئی دلّی کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے جس کا باضابطہ طور پر وہ بار بار اعلان کرچکے ہیں۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے لیکر وزیر دفاع تک بار بار کہتے رہے ہیں کہ دوسری جانب سے ایک گولی کے جواب میں ہم گولی بارود کا حساب نہیں رکھتے اور رکھا بھی نہیں جارہا ہے۔
ایک سال سے زائد عرصہ سے شدید آرپار کی گولہ باری ،سفارتی احتجاجوں،فوجی سطح کی ملاقاتوں ،امن برقرار رکھنے کی اپیلوں کے باوجود سرحدی گولہ باری شدت سے جاری ہے جس میں دونوں اطراف کے شہری بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں۔ایک سال ایک طویل عرصہ ہے تاکہ اس گولہ باری کو روکا جاتا لیکن اس کو روکا نہیں جاتا ہے بلکہ ایک منظم طریقہ پر اس کو سانبہ سے اوڑی اور کرناہ تک وسعت دی جارہی ہے ۔آخر اس ساری گولہ باری اور جنگ جیسی صورتحال کا مقصد کیا ہے؟۔کیا ہندوستان جنگ کرنا چاہتا ہے ؟۔کیا پاکستان جنگ کیلئے آمادہ ہے ؟۔یہ ایسے اہم ترین سولات ہیں جن پر اب کئی بااثر حلقے اپنی رائے ظاہر کررہے ہیں اور یہ ایسے سوالات ہیں جن کا براہ راست تعلق جموں وکشمیر کے عوام کے وجود اور بقاء کے ساتھ ہے۔
اگر ہم پہلے دوسرے پہلو کو لیتے ہیں کہ آیا پاکستان جنگ کیلئے آمادہ ہے تو معروضی حقائق اور علاقائی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بالکل مشکل نہیں ہے کہ جنگ پاکستان کیلئے نہایت ہی گھاٹے کا سودا ہوسکتا ہے ۔جنگ کے ذریعے پاکستان کو کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے ۔ایک طرف ملک کے اندر بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال ،افغانستان کے خطرناک انگارے ،امریکہ کی آئے روز شدید ناراضگی جیسے عناصر کسی بھی طور پر پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ جنگ پر آمادہ نہیں کرسکتے ہیں۔مزید اس صورتحال میں بھی جبکہ ہندوستان غیر معمولی سطح پر ہتھیارو ں کی دوڑ میں لگا ہوا ہے ۔الغرض آپ کسی بھی زاویہ سے دیکھیں ،جنگ پاکستان کیلئے نہ کوئی راستہ ہے اور نہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ !۔
تو کیا جنگ ہندوستان کیلئے فائدہ مند ہے ؟۔کیا ہندوستان جنگ پر آمادہ ہے!۔یوں تو اس سوال کا جواب بھی آسان ہونا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہے ۔یہ بڑ اپیچیدہ معاملہ ہے ۔اصولی طور پر جنگ ہندوستان جیسے آبادی کے اعتبار سے بڑے ملک اور ترقی پذیر معیشت کیلئے ہرگز بھی فائدہ کی بات نہیں ہے ۔مزید یہ کہ وزیراعظم نریندرامودی کبھی کبھار کہتے رہتے ہیں کہ جنگ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اندر سے طبلہ جنگ کی آوازیں جاری ہیں۔سرحدوںپر جنگ بندی کا خاتمہ نریندرا مودی حکومت نے کیا تھااور تب سے جنگ جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔تو کیا ا سکا یہ مطلب سمجھا جائے کہ ہندوستان جنگ کرنے پر آمادہ ہے ؟۔یہ بڑ اہم لیکن پیچیدہ سوال ہے جس کا ایک مطلب یہ ضرور ہے کہ جنگ نہ کرنا ہندوستان کے مفاد میں ہے، لیکن پھر بھی اس کا سیدھا سادھا جواب میسر نہیں ہے ۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہمیں اُن چند اہم بیانات اور تجزیوں کے ذرا اندر جھانکنا پڑے گاجو اب کچھ عرصہ سے سامنے آرہے ہیں جن کا زور اس بات پر ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ ملکی مفاد میں نہیں ہے ۔گزشتہ کچھ عرصہ سے کئی فوجی جرنیل ،دفاعی ماہرین اور سیاسی لیڈران یہ کہہ رہے ہیںکہ جنگ کوئی حل نہیں ہے !۔ریاستی کانگریس کے سابق سربراہ پروفیسر سیف الدین سوز سے لیکر پی ڈی پی کے لیڈر اور وزیر نعیم اختر تک کہہ رہے ہیں کہ اب جنگ کوئی حل نہیں ہے کیونکہ پاکستان اور چین دو نہیں بلکہ واحد بلاک بن چکا ہے ۔نعیم اختر نے حال میں ہی ''انڈین ایکسپریس ''کے معاون مدیر مزمل جلیل کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ چین اور پاکستان ہندوستان کے لئے دو متحارب محاذ ہیں بلکہ یہ ایک ہی محا ذ ہے،اس لئے اب جنگ کے امکانات کے بارے میں سوچنا غلط ہے جبکہ مذاکرات ہی امن اور ترقی کا راستہ ہے ۔
یہ بڑی اچھی بات ہے ۔اگر اس کو تجزیاتی نصیحت کہیں تو اس سے انمول بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔اس طرح کے دو بڑے اہم تجزیاتی مضامین دفاعی رسالہ ''فورس''کے ایڈیٹر مسٹر ساہنی نے بھی لکھے اور یہ بتایا کہ اب جنگ پاکستان کے ساتھ کوئی آپشن نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کیونکہ پاکستان نے اپنی دفاعی پوزیشن چین کی مدد سے کافی مضبوط کی ہے ۔مزید یہ کہ پنجاب اور راجستھان کے سیکٹروں میں اس نے بڑی خاموشی کے ساتھ ٹکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کئے ہیں اور ایسا کرنے والا پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جن کی وجہ سے ہندوستان کے جنگی مقاصد بار آور ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ ''فورس''ہندوستانی فوج کا غیر سرکاری ترجمان جریدہ ہے ۔
جنگ کرنے کے بارے میں یہ سارے تجزئے اس وقت سے ظہور پذیر ہونے لگے ہیں جب جولائی 2017میں انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا کہ وہ چین اور پاکستان کے دو محاذوں پر جنگ لڑنے کیلئے تیار ہیں۔اُس وقت بھوٹان کے خطہ ڈوکلام میں بھارت اور چین کی افواج تصادم آرائی کی صورتحال پر کھڑی تھیں۔اس کے چند ماہ بعدایک اور بار فوجی سربراہ نے کسی ابہام کے بغیر کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے باوجود پاکستان کے خلاف جنگ کرسکتے ہیںاگر ملک کی سیاسی قیادت اس کا حکم دیتی ہے۔یوں فوجی قیادت جنگ کرنے پر آمادگی کا اظہار علی الاعلان کرتی رہی ہے ۔اس حوالے سے مغربی کمانڈ کے موجودہ سربراہ کا ایک اہم بیان بھی یہاں نقل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ کسی امکانی جنگ کا اصل ہدف مغربی کمان کے زیر کنٹرول گجرات،راجستھان اور پنجاب ہی ہوتا ہے ۔
اس مغربی کمان کے موجودہ سربراہ لیفٹنٹ جنرل سریندر سنگھ ،کمانڈ آفیسر ویسٹرن کمانڈ نے پنجاب یونیورسٹی میں ایک خطبہ کے دوران کہا کہ دو محازوں پر جنگ لڑنا بالکل کوئی اچھا خیال نہیں ہے ،یہ قطعی طور پر ٹھیک نہیں لگتا ہے ۔وغیرہ وغیرہ۔گویا جنرل سنگھ اپنے فوجی سربراہ کے خیالات کی نفی کررہے ہیںاور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔
ان سارے بیانات اور تجزیوں کو آپ ایک تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں کہ یہ سارے کیوں کہہ رہے ہیں کہ جنگ کوئی حل نہیں ہے!۔وہ وقت گزاری کیلئے کوئی مضمون نہیںلکھ رہے ہیں ۔سیاست ،صحافت اور فوجی حلقوں کی یہ آراء بالکل صاف بتارہی ہیں کہ کوئی اندر سے کہہ رہا ہے کہ جنگ حل ہے ۔کوئی جنگ پر آمادہ ہے اور یہ سبھی انہی حلقوں کو دراصل کہہ رہے ہیں کہ یہ راستہ اختیار مت کرو۔یہ ساے حلقے کس سے مخاطب ہیںکہ جنگ کی مت سوچو؟۔اگر فوجی سربراہ اعلانیہ کہتا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے باوجود وہ جنگ کرسکتے ہیں، تو ایسا کرنے کے لئے کون کہہ رہا ہے ۔اگر کہیں وزیر دفاع کہتا ہے کہ سرحدوں پر بہت کچھ ہورہا ہے اور کسی بھی وقت تصادم آرائی تک نوبت آسکتی ہے اور پھر سرحدوںپر مکمل جنگی صورتحال ہے۔تو اس سب کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ضرور ہے جو جنگ کو حل سمجھتا ہے۔جو جنگ پر آمادہ ہے ۔جو صورتحال کو دھیرے دھیرے ایسے بگاڑ رہا ہے کہ جنگ کی نوبت آجائے !۔یہ کون ہے ؟۔
یہ دراصل بھارت کی وہ گہری ریاست ہے جس پرناگپور کی آر ایس ایس کا مکمل کنٹرول ہے۔جنگی بیانیہ سے بھارتی فوج کو یہ اہم ترین مقصد حاصل ہورہا ہے کہ فوج کو ملکی پالیسی سازی میں فوقیت حاصل ہورہی ہے ۔سادہ لفظو ں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس جنگ پر آمادہ ہے اور اس کیلئے بھارت کی گہری ریاست ،جس پر آر ایس ایس کا مکمل کنٹرول ہے ،بھی تیار ہے۔عصری حقائق سے اگر صرف نظر بھی کیاجائے کہ وہ جنگ پر کیوں آمادہ ہے،پھر بھی صدی بھر کے تمام تر نظریاتی وجوہات موجود ہیں جو آر ایس ایس کو آمادہ ٔپیکار کرچکے ہیں۔اُن صدی بھر کے تمام تر نظریات اور افکار کو تب تک عملی تعبیر نہیں مل سکتی ہے جب تک نہ وہ پاکستان کے خلاف تہذیبی ،تاریخی اور نظریاتی فتح حاصل کرتے ہیں۔ان کے تمام تر مسلم دشمن افکار و نظریات کے سارے راستے پاکستان کی طرف گھومتے ہیں۔اب جبکہ اُن کے پاس مکمل اقتدار اور اختیار بھی ہے ،تو و ہ اپنے نظریات کو اگلی صدی کیلئے جنگی راستے ریلونٹ کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔اور پھرجنگ اور فسادتو آر ایس ایس کے ڈی این اے میں ہے۔ |
بھوک، نیوکس اور ابنِ خلدون! - عمران خوشحال
Home / سیاسی / بھوک، نیوکس اور ابنِ خلدون!
حال ہی میں پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے بہت کچھ کہا اور سنا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس ایک ایک سو سے زیادہ نیوکلیئر ہیڈز ہیں۔ ان نیوکلیئر ہیڈز کو عرفِ عام میں نیوکس بھی کہا جاتا ہے۔ کل بی بی سی اردو پر ایک خبر آئی کہ پاکستان بھوک سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں گیارہویں نمبر پر آگیا ہے۔ دراصل یہ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق میں واضح ہوا کہ پاکستان 118 ملکوں کی بھوک کی فہرست میں تقریباً ساڑھے 33 پوائنٹس لے کر صرف 10 ملکوں سے پیچھے یعنی گیارہویں نمبر پر رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کی جانب واپس آتے ہیں جہاں آبادی کا تقریباً 30 فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ''پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور 8 اعشاریہ 1 فیصد بچے 5 سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں۔'' |
چیئرمین سینیٹ کاگورنر سندھ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور ..
شاہد اللہ شاہدداعشغزہابراہیم اسماعیل چندریگرچوہدری محمد سرور خانپیپلز پارٹیبم دھماکہپٹھان کوٹ ائیربیس حملہزراعتفلوریڈا نائٹ کلب فائرنگزخمیووٹسنیپ چیٹجام محمد یوسفاسٹیٹ بینک آف پاکستاننیپراطاہر القادرییوسف رضا گیلانیسوئس کیساسامہ بن لادن
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے گورنر سندھ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میںجگہ دے اور لواحقین کو یہ صدمہ برادشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے بھی گورنر سندھ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کی خدمات کو سراہا ،اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ ہر چھ ماہ بعد ایف آئی اے کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں الیکٹرانک کرائم بل 2016ء کے سیکشن 53 کے حوالے سے رولنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ ہر چھ ماہ بعد اس حوالے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے ... مزید |
گمشدہ افراد، گمشدہ وکیل کی بازیابی: ایڈوکیٹ انعام الرحیم کی کہانی - Live Rostrum
گمشدہ افراد، گمشدہ وکیل کی بازیابی: ایڈوکیٹ انعام الرحیم کی کہانی
ملکی تاریخ کا عجب واقعہ۔ لگتا ہے یہاں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی انصاف دیر سہی، لیکن مل تو رہا ہے۔۔۔ لگتا انصاف کی ذمہ داری کسی نے تو لی۔ کیوکہ یہاں لگتا یہ ہے جواپنے یا کسی دوسری کے لیے انصاف کی تلاش میں اگر کلتے ہیں تو انہیں یا تو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا گمشدگی کا۔ اور اگر کبھی مدد ہی گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے ہو اور انصاف دلوانے والا خود ہی اگر گمشدہ ہوجا$ے تو پھر پیچھے کسی کے لیے کیا اُمید باقی رہ جاتی ہے؟
ایڈوکیٹ انعام الرحیم، سابق فوجی افسر، جو ہمارے موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ہی ریجیمنٹ سے تعلق رکھتے تھے، فوج کے ایک اہم رطبے تک اپنے عہدے سے بدظن ہوگئے اور جلد ہی اس سے ریٹائرمنٹ اختیار کرلی۔ وہ شاید جان گئے تھے کے فوج کے اندرونی معملات اتنے گمبیر اور پیچیدہ ہیں کہ اس میں رہ کر نہیں، بلکہ چھوڑ کر وہ ملک اور قوم کی زیادہ خدمت کرسکتے ہیں۔ 2005 سے چند اہم واقعات کے بعد ملک کے حالات اتنے خراب ہوچکے تھے کہ گمشدگیاں اور گمشدہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنا ہر اآئے دن کا معمول بن گیا تھا۔ جبکہ آواز اُٹھانے والا اور ریاست کی ناانصافیوں کے بارے میں انصاف دینے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کو ریاست کی ناانصافیوں کے بارے میں بات کرسکے۔
ایسے میں ڈاکٹر انعام الرحیم نے وکالت کا پیشہ چنا اور ان لاپتا گمشدہ افراد کا مقدمہ لڑا اور کئی مقدمات میں کامیابی بھی حاصل کی۔
اس عمل میں انہیں دھمکیاں، ریاستی دباؤ اور درینہ نقصان کی کئی دھمکیاں ملیں لیکن یہ شاید ان کی سابق فوجی ٹرینگ تھی یا ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون، جس نے انہیں کبھی ہار نہیں ماننے دی۔
پاک فوج میں رہنے اور اس کی باضابطگیوں کو قریب سے دیکھنے کا ان کا تجربہ ایسا تھا کہ کس طرح کیا، کہاں اور کیسے قانون کے خلاف کیا جارہا ہے۔ اور اس کو روکنے کے لیے کون سا قانون اور اآئین استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ پہلے ایڈوکیٹ تھے جنہوں نے مشرف کے بعد آنے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ملنے والی ایکسٹینشن کے خلاف عدالت کا رجوع کیا تھا کیوں فوج کے قانون کے مطابق اآرمی چیف کی مدت ملازمت تو 60 سال کی ہی ہے اس سے آگے جو بھی فوج میں خدمت انجام دے وہ غیر قانونی ہو گی۔
اس مقدمے کی نوعیت کی وجہ سے ان کو اُن کے گھر میں گھس کر نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، لیکن اس عمل نے بھی ان کی ہمت اور حوصؒے کو پس نہیں کیا۔ قصہ کچھ یوں ہی چلتا رہا جب تک دسمبر میں کچھ نامعلوم افراد، جو سادہ لباس میں ملبوث تھے، انھوں نے ایڈوکیٹ انعام الرحیم کو نیند سے بیدار کر کے اغوائ کر کے لے گئے۔
ان کے بیٹے اور ساتھیوں نے علاقے کے تھانے میں گمشدگی اور اغوائ کا مقدمہ درج کروایا اور یوں یہ معاملہ راولپنڈی ہائی کورٹ جا پہنچا۔ کورٹ میں مغوی کے وکیل اور ساتھیوں کی جرع میں سیکٹری دیفنس نے انکشاف کیا کہ انعام الرحیم ان کی حراست میں ہیں اور انہیں آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ انعام ارحیم پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے فوج کے راض کسی تیسرے شخص پر افشاں کیے ہیں۔ اس پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا کہ ایک تو یہ بات واضع نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا بھی ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کسی کو حراست میں لینے کا اور ڈیفینس منسٹری کا تو یہ کام بھی نہیں تھا۔ یہ قرار دیتے ہوئے عدالت نے آج اُن کی فوری بازیابی کا حکم دیا۔
لیکن یہاں سوال یہ بنتا ہے قانون نافذ کروانے والے اداروں کی یہ نااہلی بڑے اور نامور افراد کی باری میں تو عیاں ہو جاتی ہے، لیکن سالوں سے جبراۤ گمشدہ ہونے والے افراد نے ناجانے کتنے ظلم و ستم سہے ہونگے؟ |
شام میں ایک بار پھر تشویش ناک صورت حال میں اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ شام سے اپنی فوجوں کو واپس بلا رہے ہیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب شام میںداعش کا خاتمہ کردیا ہے اس لئے امریکی فوجی اپنا کام ختم کرچکے ہیں۔ دراصل شام کے شمال مشرقی علاقے میں جس کی سرحد ترکی سے ملتی ہے، اس علاقے کے کردوں کو امریکا نے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکی فوجوں کی حمایت کے لئے راضی کیا تھا اور بلاشبہ امریکی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی کے بعد کردوں نے داعش کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ۔
ہزاروں داعش کے جنگجو مارے گئے یا اب شام کی جیلوں میں ہیں۔ کرد علاقے میں واقع جیل اور کیمپوں میں پچاس ہزار سے زائد داعش کے دہشت گرد اور ان کے اہل خانہ قید ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان جیلوں اور کیمپوں کی کرد ملیشیا کے جوان حفاظت کرتے ہیں۔اب جبکہ گزشتہ دنوں امریکی فوجیوں کا انخلا عمل میں آیا ترکی کے صدر طیب اردگان نے فوری طور پر شامی کرد علاقوں پر اپنے لڑاکا طیاروں سے بمباری شروع کردی اس کے دو دن بعد بری فوجی اور آرٹلری بھی وہاں روانہ کردی۔
قبل ازیں طیب اردگان امریکا پر واضح کرچکے تھے کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد ترکی شمال مشرق شامی علاقے میں جہاں کرد آبادی زیادہ ہے اس خطے میںچالیس مرلع میل کے علاقے کی صفائی کرکے وہاں ترکی میں پناہ گزین شامی کو آباد کرے گا۔ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے ترکی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ترکی میں 36لاکھ سے زائد شامی مہاجرین موجود ہیں ،جبکہ ان کو خدشہ ہے، اس کے علاوہ لاکھوں شامی ترکی میں غیرقانونی طور پر بھی رہ رہے ہیں۔
دوسری طرف مغربی ممالک ترکی کے اس اقدام کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں کہ ترک لڑاکا طیاروں کی بمباری اور توپ خانے کی مسلسل گولہ باری سے مزید لاکھوں کرد اور شامی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے، کیونکہ اس علاقے کے دو بڑے قصبے راس العین اور تل ابیض کے لگ بھگ مکانات بمباری کی نذر ہوچکے ہیں ۔ اس علاقے کی اہم شاہراہ پر ترک فوجوں نے قبضہ کرلیا ہے۔
شامی کردوں کی جنگجو تنظیموں نے ترکی کے حملوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کردیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شامی کردوں کی جنگجو تنظیم ''پیش مرگ ملیشیا'' نے امریکی ہتھیاروں اور امداد کی مدد سے خطے میں داعش کا بھرپور مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں داعش کے دہشت گرد پسپا ہوئے بیش تر فرار ہوگئے بہت سے مارے گئے اور پچاس ہزار سے زائد داعش کے دہشت گرد اور ان کے اہل خانہ شامی کردوں کے علاقے کی جیلوں اور کیمپوں میں قید ہیں۔
اس حوالے سے ترکی کو تشویش ہے کہ کردوں کو ملنے والا اسلحہ اب جنوبی ترکی کے سرحدی علاقے میں آباد کردوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے اگر یہ اسلحہ شامی کرد اور ترکی میں آباد کردوں نے استعمال کرنا شروع کیا تو ترکی کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ترکی کے فوجی حملوں میں شدت آتی جارہی ہے ،جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ کردوں کے مزاحمتی گروہ ترک فوجوں سے نبرد آزما ہوتے گئے تو داعش دہشت گرد جن جیلوں اور کیمپوں میں قید ہیں ان کی حفاظت یہی کرد ملیشیا کرتی ہے۔
جاری حالات میں کرد ان جیلوں اور کیمپوں کی حفاظت کے بجائے ترک فوجوں سے مزاحمت کرنے میں مشغول ہوں گے تب ایسے میں داعش کے جنگجو جیلیں اور کیمپ توڑ کر باہر آجائیں گے اور ایک بار پھر اپنی تنظیم کو منظم کرنے کی جدوجہد کریں گے۔
مگر ترکی کردوں کے خلاف جنگ کرکے شامی مہاجرین کا بوجھ اپنے اوپر سے کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ مغربی حلقے داعش کی وجہ سے خدشات کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ دہشت گرد جاری صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شامی کیمپوں اور جیلوں میں قید داعش کے جنگجو کا تعلق زیادہ تر مسلم ممالک سے ایک سو کے قریب جنگجو یورپی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے بار ےمیں امریکہ نے یورپی ممالک سے کہا ہے کہ ان کو اپنے ملک جیلوں میں رکھے مگر یورپی ممالک ان کو واپس لینا نہیں چاہتے،تاہم وسطی ایشیا کی ریاستوں سے شام جاکر داعش کا حصہ بننے والوں کو ان ممالک نے واپس لے لیا ہے اور وہ اب اپنے ممالک کی جیلوں میں قید ہیں، ان ممالک میں ازبکستان، تاجکستان اور قزاقستان شامل ہیں۔ترک حملوں میں اب تک ایک سو سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں اور دو لاکھ افراد کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو پیغام دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بند کرے،ورنہ ترکی کو شدید معاشی پابندیوں سے گزرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ترکی پر پہلے ہی سے کچھ اقتصادی پابندیاں عائد ہیں، جس کی وجہ سے ترکی کی معیشت بہت کمزور ہوچکی ہے۔
امریکی صدر نے مغربی ملکوں کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ کرنے میں جن ملکوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی حامی بھری تھی وہ وعدے انہوں نے تاحال پورے نہیں کئے، جبکہ امریکا شام میں داعش کے خلاف جنگ کرنے کی مہم میں جتنے حصہ کا وعدہ کیا تھا، اس سے زیادہ حصہ ادا کرچکا ہے۔ کرد رہنما کہتے ہیں اسلامی ممالک سے بہت بڑی تعداد شام آکر داعش کی تنظیم کا حصہ بنی ہے، مگر اب اسلامی ممالک بھی خاموش ہیں۔
ترکی کے شہر استنبول میں موجود شامی مہاجرین شدید پریشانیوں اور مصائب سے گزر رہے ہیں۔ شامی مہاجرین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک سیکورٹی فورس ان لوگوں پر ظلم کرتی ہے اور ان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، جبکہ استنبول کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے ان مہاجرین کو پہلے ایک ماہ کا عرصہ دیا تھا کہ وہ شہر چھوڑ کر چلے جائیں مگر وہ نہیں گئے۔
پانچ لاکھ شامی مہاجرین نے یہاں اندراج کردیا ہے جبکہ اتنی ہی تعداد غیرقانونی طور پر شہر میں رہ رہی ہے ،اگر ان پر سختی کی جاتی ہے تو مشہور کرتے ہیں کہ ترک نسل پرست قوم ہے، اپنے مسلم بھائیوں سے ان کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ شامی مہاجرین کی تعداد کے بارے میں ذرائع کہتے ہیں یہ پورے ترکی میں 36لاکھ سے زائد ہیں۔ ترکی اب ان کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔ ترکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔
امریکا کے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ ،ہم نے ترکی کو خبردار کردیا ہے کہ اگر اس نے یہ لڑائی بند نہ کی تو اس کو سنگین معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ کے شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کے فیصلے نے ترکی کو شام پر حملے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکیوں کا خدشہ ہے کہ امریکہ نے داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کیں، ان کو پسپا ہونا پڑا۔ اب ترکی کی شدت پسندی داعش کو آزادی دلا سکتی ہے اور پھر ایک بار یہ خطہ جہنم بن سکتا ہے۔
دوسرے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس میں امریکا کی بھی پرانی دو عملی پالیسی واضح نظر آتی ہے۔ امریکا نے کردوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اسلحہ دے کر داعش اور صدر اسد کی حامی فوجوں کے خلاف استعمال کیا، جب کام پورا ہوا تو اس نے ترکی کو گرین سگنل دے دیا، گویا امریکا ہمیشہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنا چاہتا ہے۔ عراق میں بھی کردوں کے ساتھ امریکا نے یہی کیا تھا۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ، کرد جن کو کردش بھی کہا جاتا ہے،ان کی دنیا میں مجموعی طور پر ساڑھے تین کروڑ سے زائدآبادی ہے اور اتنی بڑی تعداد کے پاس اپنی کوئی ریاست نہیں ہے۔ گزشتہ صدی میں برطانیہ اور فرانس مشرق وسطٰی کے تمام علاقوں کو اپنی نوآبادیات میں شامل کرچکے تھے۔ انہوں نے کردوں کو جان بوجھ کر چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ترکی، ایران، عراق اور شام۔ چاروں ممالک میں کرد ،دو نمبر کے شہری سے بھی کم درجہ پر رہنے پر مجبور ہیں۔
ترکی میں سب سے زیادہ کرد آبادی ہے، جو ایک کروڑ بیتیس لاکھ ہیں،جب کہ ایران میں اسی لاکھ سے زائد کرد آباد ہیں۔ عراق میں پچپن لاکھ اور شام میں ستائیس لاکھ کے قریب ہیں۔باقی کرد آبادی روزگار کی تلاش یا پناہ کی تلاش میں مغربی ممالک میں آباد ہیں، جس میں جرمنی سرفہرست ہے اس کے علاوہ فرانس، برطانیہ، روس، امریکا وغیرہ میں آباد ہیں۔ ترکوں کو سب جگہ مزاحمت کا سامنا رہا ہے ان میں ترکی سرفہرست ہے۔ اس کے بعد عراق میں صدام حسین کی حکومت میں بھی انہیں شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سلطان صلاح الدین کرد نے جب بیت المقدس فتح کیا تھا تب سے عیسائی کردوں کے شدید مخالف رہے ہیں اور صلیبی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا۔ کرد چونکہ ابتداء سے بہادر اور جفاکش قوم تسلیم کی جاتی رہی ہے اس لئے بیشتر ممالک ان سے دبائو میں رہتے تھے۔
کردوں کی ترکی، عراق اور شام مختلف تنظیمیں اور جنگجو گروہ سرگرم رہے ان میں وائی پی جی اور پی کے کے، کے این سی، کے ڈی پی اور پی یو آر وغیرہ ملے جلے کرد سیاسی، مذہبی، لبرل اور جمہوریت پسند گروپ ہیں۔ اپنی شناخت اور آزادی کے لئے کردوں نے بہت قربانیاں دیں، مگر انہیں تاحال کچھ حاصل نہیں ہوا۔
ترکی کی حکومت نے ان پر پابندی لگا دی کہ وہ اپنی زبان نہیں بولیں گے اور خود کو کرد نہیں کہیں گے، بلکہ پہاڑی ترک کہلائیں گے،جبکہ المیہ یہ ہے کہ کردوں کی آبادی ترکی سے آرمینا تک پھیلی ہوئی ہے اور ان کی زبان، کلچر اور سماجی اقدار میں تبدیلیاں آگئی ہیں اس کے علاوہ مسلک میں بھی یہ گروہ زیادہ ہیں اور مختلف سنی، شیعہ، یزدی، زیدی اور وہابی گروہ میں تقسیم ہیں مگر آزادی اور یکجہتی کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ |
18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا گیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے: بلاول بھٹو زرداری – Ejaz News
18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا گیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے: بلاول بھٹو زرداری
نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی صرف اور صرف پی ٹی آئی کو جتوانے کے لیے کی گئی۔ کالعدم تنظیموں کو الیکشن میں لایا گیا تاکہ پی ٹی آئی کو سپورٹ ملے ۔ اکائونٹیبلٹی موجود ہے مگر صرف اپوزیشن کیلئے۔ تین بار منتخب وزیراعظم بیمار جیل میں ہے۔سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہیے،اگر آپ نے کسی کوگرفتار کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر قانون کہتا ہے جہاں جرم ہوگا وہاں پر سزا ہوگی تو یہ پنڈی صرف بھٹوز کے لیے کیوں تیار کیا جاتا ہے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔آپ کالعدم تنظیموں کو حراست میں نہیں لے سکتے۔ سپیکر سندھ اسمبلی کو آمدن سے زائد اثاثوں پر اسلام آباد سے حراست میں لے سکتا ہو۔ کالعدم تنظیموں کے پاس اثاثے کہاں سے آتے ہیں ،کالعدم تنظیموں کا مقابلہ ہم کسی پریشر کی وجہ سے نہیں کر رہے انڈیا یا امریکہ کی دھمکیپر ہم نہیں کر رہے ۔ہماری جدوجہد ہمیشہ سے جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ہم کہتے ہیں نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کریں ۔ حکومت کی نیت پر شک ہو گا،اگر وزیراعظم اپوزیشن کیخلاف بات کر سکتا ہے توکالعدم تنظیموں کیخلاف بات کیوں نہیں کر سکتا۔آپ نے ملک کا وزیراعظم بننا ہے ۔پیپلز پارٹی کیخلاف پراپیگنڈہ بند کیا جائے ۔
دو وزیروں کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ان کے کالعدم تنظیموں کے سے روابط ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی ۔ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ایجنڈے پر عمل کرتا رہوں گا۔ وفاق سندھ کا پیسہ دے ہم اس سے سکول ، ہسپتال کھولیں گے اور روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔پیپلز پارٹی چھوٹے صوبوں کے حقوق کے لیے الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعدسب سے زیادہ آواز پیپلزپارٹی نے اٹھائی۔ ہم نے اس حکومت کو واضح کیا ہے کہ 18ویں ترمیم میں کوئی ردو بدل قبول نہیں ۔اگر 18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو میں خود سڑکوں پر نکلوں گا۔
نیب کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی مشینری ہے ۔مریم نواز کے بارے میں ان کا کہنا تھا وہ اپنے والد کے لیے جتنی جدوجہد کر رہی ہیں مسلم لیگ ن میں کوئی اور اتنی زیادہ جدوجہد نہ کر سکتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دو وزیراعظم نہیں ہر جماعت کے وزیراعظم کو ان کے مدت پوری ہونے سے پہلے ختم کیا گیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر زرداری کیخلاف کتنے کیس بنائے گئے۔ لیکن ہر الزام میں وہ بری ہوئے۔ا س لیے میں اس کو پروپیگنڈہ کہتا ہوں۔پیپلز پارٹی کیخلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔آج تک شوکت عزیز کیخلاف کچھ نہیں ہوا، جونیجو کیخلاف کچھ نہیں ہوا ، مشرف کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے۔ |
سپریم کورٹ یو ٹیوب پر کیوں پابندی لگانا چاہتی ہے اندرونی کہانی کیا ہے؟ شفقنا خصوصی - شفقنا اردو نیوز
سپریم کورٹ یو ٹیوب پر کیوں پابندی لگانا چاہتی ہے اندرونی کہانی کیا ہے؟ شفقنا خصوصی
شفقنا اردو: پاکستان میں سوشل میڈیا کی بندش کا کھیل کئی بار کھیلا جا چکا ہے بلکہ کہا جائے کہ بار بار کھیلا جا چکا ہے تو اس میںکوئی دو آراء نہیںہوں گا۔ پیپلز پارٹی کے دور میںجب رحمان ملک وزیر خارجہ تھے تو یو ٹیوب اور ٹوئٹر کو گستاخانہ اور اخلاق سے عاری مواد نہ ہٹانے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تاہم کچھ عرصے بعد پھر حکومت نے خودہی یو ٹیوب اور ٹوئٹر کو بحال کر دیا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے بارے میںیہ بات درست ہے کہ نزلہ بر عضو ضعیف۔ اسی محاورے کو سامنے رکھتے ہوئے آپ دیکھیںکہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے یو ٹیوب پر پابندی کا عندیہ دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ یوٹیوب پر کوئی چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ آرمی، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہورہا ہے؟ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو بخشا نہیں جاتا۔۔ ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہوگیا۔
معزز چیف جسٹس کا اشارہ یقینا ان صحافیوں کی طرف تھا جو سپریم کورٹ کی رپورٹنگ سے منسلک ہیں اور پھر شام کو اپنے اپنے یو ٹیوب چینل پر بیٹھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہیں تاہم اگر اس تبصرے میںوہ صرف وہی حقائق بیان کریں جو سپریم کورٹمیں سامنے آتے ہیں اور اپنی رائے سے گریز کریں تو شاید معاملہ سنگین نہ ہو۔ تاہم یہ معاملہ صرف ان صحافیوں کا نہیں جو سپریم کورٹ کی رپورٹنگ سے منسلک ہیں بلکہ بہت سارے ایسے صحافی بھی ہیںجو اپنے اپنے وی لاگ کے ذریعے مختلف قومی اداروں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
ایسے بہت سارے صحافی جو مین سٹریم میڈیا پر سامنے نہیں آ سکتے وہ اپنے اپنے یو ٹیوب چینلز سے سازشی تھیوریاں پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ جس سے اداروں اور قومی شخصیات کی کردار کشی ہو رہی ہے۔
وہ معاملہ جس پر سپریم کوآف پاکستان زیادہ برہم ہے دراصل جسٹس قاضی فائز عیسی کا معاملہ ہے جس میںججز کی رائے منقسم پائی گئی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے اپنے اپنے یو ٹیوب چینل پر نہ صرف اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ بعض ججز کو اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار اور غیر جمہوری بھی کہا۔ مزید برآں سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی مخلتف گروہوں میں تقسیم ہیں اور اپنی ذاتی پسند و نا پسند کی وجہ سے ججز کو ان کے فیصلوں پر اپنے اپنے یوٹیوب چینلز پر تختہ مشق بناتے نظر آتے ہیں جس سے ججز کی کردار کشی ہو رہی ہے۔ تاہم ان چند افراد کی وجہ سے یو ٹیوب پر پابندی لگانا ایسے ہی ہے جییسے کہ چند کتب کی وجہ سے پوری لائبریری کو آگ لگا دی جائے۔
ہ یہ تکلیف دہ حد تک واضح ہے کہ جو پاکستان چلا رہے ہیں انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا کیسے کام کرتی ہے۔ 'یوٹیوب جیسی چیز پر پابندی لگا کر عالمی ثقافت میں شمولیت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، یہ ڈیجیٹل معیشت کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان کے اندر گزشہ ایک دو برسوںمیںڈیجیٹل اکانومی کافی حد تک اپنا کردار ادا کرر ہی اور ملک میںسرمایہ لا کر معیشت کو مضبوط کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ بہت سارے لوگ جن کے انٹرٹینمنٹ، کوکنگ اور تعلیمی چینلز ہیں وہ یو ٹیوب سے پیسہ کما کر اپنے ملک میںلا رہے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیںجس سے سپریم کورٹ نابلد نظر آتی ہے۔
جولائی 25, 2020 /0 Comments/by TAK
Tags: ایف آئی اے, جسٹس قاضی امین, سپریم کورٹ, یو ٹیوب
https://ur.shafaqna.com/media/2020/07/you.jpg 450 800 TAK https://ur.shafaqna.com/media/2020/08/shafaqna-ur.jpg TAK2020-07-25 09:29:502020-07-25 09:47:07سپریم کورٹ یو ٹیوب پر کیوں پابندی لگانا چاہتی ہے اندرونی کہانی کیا ہے؟ شفقنا خصوصی |
سوچ زار: مریم مجید ڈار (تبصرہ: بلال حسن بھٹی) - Jaeza
'سوچ زار' مریم مجید ڈار کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اِن سے ابتدائی تعارف پچھلے سال ایک آن لائن ویب سائٹ پر ان کا افسانہ "حرامی" پڑھ کر ہوا تھا۔ اس کہانی کی فضا میں ایک گھٹن تھی۔ جوں جوں کہانی اختتام کی طرف بڑھتی ہے قاری پر طاری وحشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس انداز میں اختتام کی طرف بڑھتی ہے جو اس کی فضا کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ "آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا"۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے "فکشن ہاؤس" نے شائع کیا ہے۔
سوچ زار کا پہلا افسانہ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا کے نام سے ہے۔ بظاہر یہ افسانہ بارگاہ ربی میں ازل کے سب سے بڑے، سنجیدہ اور ناقابل یقین واقعے کے مقدمے کی روداد ہے۔ یہ ایک ایسے ظلم کی داستان ہے جو بظاہر اس سے پہلے کسی مخلوق نے اپنی جان پر نہیں کیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ واقعہ مٹی سے بنی مخلوق کے ہمہ جہت رنگوں کی بنیاد بنا اسی طرح یہ افسانہ اس افسانوی مجموعے میں آنے والے تمام واقعات و حوادث کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ یہ افسانہ آدم و حوا اور ابلیس کی اس تکون کی داستان ہے جو اس دنیا میں ہونے والے حادثات کو مکمل کرتی ہے۔ خلیفہ ربی اور اس کی پسلی سے پیدا کی گئی حوا جب تک جنت میں رہے وہ ہر جگہ ایک ساتھ تھے۔ لیکن بارگاہ رب میں پیش کیے گئے اس مقدمے کے دوران آدم اور حوا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی یکتائی اب دوئی میں بدل گئی تھی۔ اب انہیں ایک فریق نہیں بلکہ الگ الگ فریق کے طور پر اپنا موقف بارگاہ رب میں پیش کرنے کا حکم ملا۔ جس طرح بارگاہ رب میں ہوئے اس مقدمے کے دوران حوا نے اپنے تجسس کے ہاتھوں عزازیل کے فریب میں آنے کا اعتراف کیا اور جس طرح عزازیل نے آدم کے ہاتھوں ہوئی تذلیل کا بدلہ حوا کے تجسس کو جلا دے کر لیا تھا۔ اسی طرح بنت حوا کے ساتھ روا رکھے جانے والا فریب اور تذلیل کو جابجا ان افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسانوں کے کردار ابن آدم کی ازلی معصومیت اور بنت آدم کی متجسسانہ فطرت کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ان کرداروں کے رویے، کارنامے، خیالات اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنائے گئے ہتھکنڈے کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جس طرح ویلز نے اپنی شہرہ آفاق نظم "لیزر" (Leisure) میں دنیا کے حسین رنگوں بارے کہا ہے کہ "وی ہیو نو ٹائم ٹو سٹینڈ اینڈ سٹیر"۔ اور جس طرح وہ اس نظم میں دنیا کے خوبصورت رنگوں اور خوشگوار احساسات سے روشناس کرواتا ہے، اسی طرح فاضل افسانہ نگارنے اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے ان پسے ہوئے، افلاس زدہ، کچلے گئے لوگوں کے دکھوں سے ہمیں متعارف کروایا ہے جو ہمارے آس پاس موجود تو ہیں لیکن رک کر انکے بارے جاننے کی ہمیں زندگی کی ہمہ ہمی میں فرصت نہیں ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔
"بکھی۔ کچھ تلخ سچ" تیسرا افسانہ ہے جو کچی بستی میں رہنے والی بکھی کی کہانی ہے۔ بکھی دن کو بھٹے پر کام کرتی ہے تو رات کو اس کی کھولی میں پھیلی تعفن زدہ فضا شوکے جیسے کچی بستی کے دیگر مزدوروں کے جسمانی تناؤ کو پرسکون کرنے کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ بھٹہ مزدوروں کے تلخ شب و روز کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے بکھی اور اس کی جھونپڑی کو جنسی آلہ کار بنا کر پیش کیا ہے۔ افسانے میں بکھی کا تعارف ان لفظوں میں کروایا گیا ہے " بکھی بھی اسی بھٹہ بستی کا حصہ تھی۔۔۔ کالی سیاہ۔۔۔ مانو کالی کا روپ۔۔۔۔بڑی بڑی کوری آنکھیں، اینٹوں کی تگاری مسلسل سر پہ اٹھانے سے اندر کو دھنستا ماتھا اور مکرانی کنڈل والے چڑے کے گھونسلے سے بال۔۔۔۔ مگر اس کے کالے سیاہ جسم سے جنسی وحشت ایسے بہتی تھی جیسے صحرا میں چشمہ ابلتا ہے۔۔ ناک میں تانبے کا بڑا سا بلاق پہنے، لنگی میں کسا بدن اور جب وہ اینٹیں ڈھوتی تھی تو اس کے کولہوں کی اٹھتی گرتی حرکت کو کم ہی سہار پاتے۔۔۔ آدھوں کے منہ سے رال بہ رہی ہوتی اور کئی اپنی لنگی بھینچ کے رہ جاتے"۔ ایسی تگڑی کاٹھی والی عورت ہی بھٹہ مزدوروں کا بار سہنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن شراب کے نشے میں دھت چار پانچ امیرزادوں کا بار سہارنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ کچی کھولی سے ایک این جی او والے صاحب کے بنگلے تک کا سفر کرنے والی بکھی کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ ان بھٹہ بستیوں میں پھیلی این جی او مافیا اور روزانہ کی روٹی کمانے والے بھٹہ مزدوروں کی سوچ اور زندگیوں میں تفاوت افسانے کو مزید گہرا بناتی ہے۔ پورے افسانے میں بکھی تو ہمارے سامنے کم عرصے کے لیے آتی ہے لیکن بکھی اور اس جیسے تمام بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں ہر سو پھیلی غربت اور بے بسی سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو ہم پورے افسانے میں دیکھ سکتے ہیں-
افسانہ "حرامی" محبت کا شکار بنی ہزاروں لڑکیوں کی داستان ہے لیکن افسانہ نگار نے جس طرح اس افسانے کا اختتام کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قاری کو اختتام پر پہنچتے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ساتھ والے کیبن سے آتی سسکاریوں کی آواز کے بہروپ میں عزازیل کا پھیلایا جال، محبت کی شکار بنت حوا کے تجسس کو جلا بخشتا ہے۔ اس تجسس کی اصلیت جاننے کے لیے بنت حوا ایک ماہر شکاری کا شکار تو ہو جاتی ہے لیکن ممنوع پھل کو چکھنے کی جس سزا سے وہ گزرتی ہے، وہ سزا صدیوں پہلے دی گئی اس سزا کی مانند ہے جو حوا کو دی جاتی ہے۔ جس طرح حوا کو جنت سے محروم کر دیا گیا تھا ویسے ہی بنت حوا کے قدموں تلے بنی جنت سے اس کو محروم کرنے کی داستان ایک سوگوار فضا بنا دیتی ہے۔ اس کہانی کا اختتام ایک بنت حوا کے لیے ایک تنبیہ لیے ہوئے ہے۔ " عین اس لمحے جب کتا اس کے نومولود کا نرخرہ چبا رہا تھا، ماہر حرف ساز اپنے آرام دہ کمرے کی نیم تاریکی میں فون کان سے لگائے اپنی نئی محبوبہ کو سسکیوں والے ریستوران میں ملنے کے لیے رضا مند کر رہا تھا"۔ گو آدم نے سزا ملنے کے بعد بھی حوا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا لیکن آج کی دنیا میں اجتماعی غلطیوں کی سزائیں اور تکلیفیں زیادہ تر بنت حوا کو بھگتنی ہوتی ہیں جبکہ ابن آدم ماہر حرف ساز کی طرح لذت حاصل کرنے کے بعد خاموشی سے اپنا راستہ بدل کر کسی اور کی زندگی تباہ کرنے چل پڑتا ہے۔
آٹھویں افسانے کا نام "پرایا ہاتھ" ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ہیت اور تکنیک کے حوالے سے نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مردانہ ہاتھ کو بنایا گیا ہے۔ وہ ہاتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو چھو سکے۔ وہ ہاتھ جب کسی سیکریٹری کے بدن کو چھوتے ہوئے نئے راز تلاش کر رہا ہوتا ہے تو اس میں قدرے بے باکی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہاتھ جب ساتھ کام کرنے والی جونیر کی کمر کے گرد گھومنے لگتا ہے تو اس کی پیش قدمی جھجھک اور ڈر سے لبریز ہوتی ہے اور یہ ہاتھ اس قدر بے باک ہوتا ہے کہ اپنی مالکن کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ ہاتھ کا یہ تمثیلی استعمال افسانے کو دلچسپ بناتا ہے۔ اس افسانے میں کیا گیا تجربہ مزید گہرا اور وسیع ہو سکتا تھا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے افسانہ نگار افسانے کے مرکزی کردار کی طرح اسے ختم کرنے کی جلدی میں تھیں۔
بھوک اس دنیا پر بسنے والی جانداروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاپی پیٹ کی بھوک کو مٹانے کی خواہش انسان کو کس طرح بے بس، وحشی، بے حس اور مجبور کر دیتی ہے وہ بعض افسانوں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ افسانہ" پیٹ" ایسی ہی غریب اور بے بس ماں کی داستان ہے۔ ماں جو اپنی اولاد کو گرمی اور حبس سے تڑپتی اور ٹھٹھرتی سردیوں میں مرتے نہیں دیکھ سکتی۔ اپنے بچوں کے لیے سڑک پار ایک کچی جھونپڑی ڈالنے کے لیے جس طرح کی محنت وہ کرتی ہے وہ ایک ماں کے ہی شایان شان ہے۔ بھوک اور غربت کی وجہ سے پیدا ہوئی بے بسی افسانہ "لفافے کی موت" میں پہنچ کر سفاکیت میں بدل جاتی ہے۔ یہی غربت اور بےبسی افسانہ " اپنا اپنا جہنم" میں آ کر اس بے حسی میں بدل جاتی ہے۔ سلطان کے ساتھ بیتا حادثہ ہمارے اجتماعی شعور پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ سلطان جیسا محنت کر کے عزت سے جینے والا شخص بس اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا۔ افسانہ "حرامی" انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کی بھوک کے اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس افسانوی مجموعے میں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کی پریشانیاں، غم، بھوک، درد اور تلخیاں بیان کی گئی ہیں، وہاں اس طبقے کی ہمت اور سفاکیت کی ظالمانہ حد کو بہت مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اپنے حرامی نومولود نواسے کے ناک پر ہاتھ رکھ کر قتل کرتی ہوئی نانی اور اپنے معذور بھائی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر شہہ رگ پر زنگ آلود قینچی پھیرتا بڑا بھائی نہ صرف سفاکیت کی انتہا پر ہوتا ہے بلکہ اس کی بے بسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ افسانے اس معاشرے کی فرسودہ اقدار، ظالمانہ روایات اور دوسروں کی زندگیوں کو اپنی لذت کی خاطر تباہ کرنے والوں کے خلاف ایک زبردست مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں عورت کے درد کو اس قدر گہرائی سے دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسانے نسائی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسانے بھوک، غربت اور بے بسی کے رنگوں میں رنگ کر ایک بوجھل، تعفن زدہ اور سوگوار فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ قاری جو خوبصورت انجام اور خوشگوار واقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے کے متمنی ہیں، ان کے لیے پیش لفظ میں انتباہ ہے کہ وہ ان افسانوں سے دور رہیں کیونکہ انہیں مایوسی ہوگی۔
Bilal Hassan Bhatti, Maryam Majeed Dar, بلال حسن بھٹی, سوچ زار, مریم مجید ڈار
سوچ زار: مریم مجید ڈار (تبصرہ: بلال حسن بھٹی)2020-07-032020-07-03http://jaeza.pk/wp-content/uploads/2017/07/jaeza-logo.pngJaezahttp://jaeza.pk/wp-content/uploads/2020/07/028-2.png200px200px |
امام خمینی کا راستہ مسلسل جاری رہے گا: ایرانی صدر - IRNA Urdu
https://ur.irna.ir/news/84206807/
1 فروری 2021 - 11:51
News Code 84206807
1 فروری، 2021 11:51 AM
News Code: 84206807
امام خمینی کا راستہ مسلسل جاری رہے گا: ایرانی صدر
تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ بانی اسلامی انقلاب امام خمینی (رح) کا راستہ مسلسل جاری رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار "حسن روحانی" نے پیر کے روز اسلامی انقلاب کی سالگرہ اور عشرہ فجر کے موقع پر امام خمینی کے مزار پر خطاب کر تے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جب تک عوام نظام کے شانہ بشانہ ہیں اور جب تک عوام یہ مانتے ہیں کہ ہم ان کے خادم ہیں ، ہم سالوں اور دہائیوں اور صدیوں تک امام کی راہ کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
صدر روحانی نے گزشتہ ایک سال کی صورتحال کو کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال فروری سے لے کر اس سال کے فروری تک ، ہمیں مسلط کردہ معاشی جنگ کے دونوں مسائل کرونا وائرس اور اس سے متعلقہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ، لیکن ہم فخر کے ساتھ امام خمینی کے مزار میں اعلان کرسکتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں جب پابندیاں اور کرونا وائرس ہماری قوم پر دباؤ ڈالنے کے لئے متحد ہوگئے ہیں، ہم سب نے ایرانی عوام کے دکھوں کو کم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ، ملک کے معاشی اور صحت کے اشاریے سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قوم اس آزمائش میں کامیاب ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پیارے اور معزز امام نے اسلامی تحریک اور اسلامی انقلاب کے دوران ہمیں ، ایرانی اور اسلامی معاشرے کو بہت ہی قیمتی سبق اور طریقے سکھائے۔ بیشتر تحریکوں اور انقلابات میں ، رہنما عام طور پر سیاسی جماعتوں یا فوجی طاقتوں پر انحصار کرتے تھے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امام خمینی (رح) نے ایسا ہی نہیں کیا انہوں نے غور کیا کہ اصل طاقت عوام کی طاقت سے آتی ہے لہذا انقلاب کے راستے کے لئے عوام کے افکار کو راضی کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم جہاں بھی عوام کے ساتھ ہیں اور جہاں بھی عوام مصروف عمل ہیں ، ہم معاشرے کے تمام مسائل اور مخمصے سے فاتح بن سکتے ہیں۔ |
سپر باؤل کی سڑک اب فریٹوس کے ساتھ لائن میں ہے۔
یہ مہم NFL اور سپر باؤل کے ساتھ دہائیوں پرانے تعلقات میں تازہ ترین ہے، اور ٹھنڈے، تازگی بخش PepsiCo مشروب کے ساتھ لذیذ، کرچی فریٹو-لے اسنیک کا جشن منانے کے لیے سال کے بہترین اوقات میں سے ایک ہے۔
"PepsiCo گیم ڈے دیکھنے کے تجربے کا مترادف ہے، اور کوئی نہیں۔ کمپنی کے مکمل NFL پیکج کے لیے نمکین اور مشروبات اکٹھا کر سکتے ہیں،" گریگ لیونز، SVP اور چیف مارکیٹنگ آفیسر، PepsiCo Beverages North America نے کہا۔ "ہم جانتے ہیں کہ سپر باؤل اتوار کو 90 فیصد گھرانے ایک ساتھ ناشتے اور مشروبات سے لطف اندوز ہوں گے، لیکن اس سال، ہم اپنے کچھ پسندیدہ برانڈز کے ساتھ ایل اے کا سفر تھوڑی جلدی شروع کر رہے ہیں۔"
"ہم پلے آف سیزن کا آغاز ایک پُرجوش، جشن کے انداز میں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہم ایک ہی تفریحی مہم میں افسانوی کھلاڑیوں اور مشہور برانڈز کو پیش کر رہے ہیں،" Rachel Ferdinando، SVP اور چیف مارکیٹنگ آفیسر، Frito-lay North America۔ "سڑک کے سفر کے آغاز سے لے کر گڑھے تک راستے میں رک جاتا ہے، اس سفر کو بہترین نمکین اور مشروبات - گیم ڈے فیورٹ جو کہ صرف PepsiCo فراہم کر سکتا ہے۔"
"روڈ ٹو سپر باؤل" شائقین کو بس میں لے جاتا ہے!
کمرشل میں، میننگز کو بٹیس اور کروز کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جیسا کہ جیروم "دی بس" بٹیس سپر باؤل چیمپئنز کو دی بگ گیم میں واپس لے جانے کے لیے ایک حقیقی بس کا اہتمام کرتا ہے - اور جیسا کہ آپ تصور کریں گے، حرکتیں ہوتی ہیں۔ آدھے گھر کے ساتھ سڑک کو ٹکرانے سے لے کر بس سے ٹکرانے تک، اولیویا روڈریگو کے نمبر ون ہٹ 'گڈ 4 یو' سے لے کر بریڈ شا کو صرف اس کے لیے "خصوصی نشست" میں روڈ ٹرپ میں شامل ہونے تک، یہ جگہ دوستی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ فٹ بال سے لطف اندوز ہونے پر ہو سکتا ہے – اور آپ کے پسندیدہ اسنیکس اور مشروبات۔ مہم کا آغاز آج سے ہوگا اور اتوار کو چیمپئن شپ کے ذریعے سپر وائلڈ کارڈ ویک اینڈ سے ڈیجیٹل اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوگا۔
"اس کمرشل میں یہ سب کچھ ہے - کھلاڑیوں کے درمیان ایک مشترکہ 10 سپر باؤل رِنگز، پیپسی کو بیوریجز اور فریٹو-لے کے بہترین گیم ڈے ڈرنکس اور اسنیکس، اور یقیناً مجھے اپنے بھائی کے ساتھ کام کرنا پڑا،" ایلی میننگ نے کہا۔ "سیزن کے بعد کا وقت ہمیشہ سال کا پرجوش وقت ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس مہم سے مداحوں کو دی بگ گیم کے لیے تیار کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ ہم انہیں اپنے ساتھ سپر باؤل LVI کے راستے پر لے جاتے ہیں۔ اس کمرشل میں ہمارے پاس بہت سی بڑی، مضحکہ خیز شخصیات ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ ہر کوئی اسے دیکھ کر اتنا ہی لطف اندوز ہو گا جتنا ہم نے اسے فلمانے میں پسند کیا۔
NFL تھیم والی Frito-lay کی پیکیجنگ اور Frito-lay اور PepsiCo بیوریج مصنوعات کی ڈسپلے کے ساتھ گیم ڈے کا مزہ جاری ہے جو اب فروری کے وسط تک خوردہ فروشوں پر دستیاب ہے۔ جب صارفین خاص طور پر نشان زدہ مصنوعات میں سے کسی ایک کو اسکین کرتے یا خریدتے ہیں اور کوڈ درج کرتے ہیں، تو ان کے پاس سپر باؤل سنڈے کے لیے تیار ہونے کے لیے NFL گیئر جیتنے کا موقع ہوتا ہے۔
Frito-Lay دو ان گیم اسپاٹس کے ساتھ سپر باؤل LVI اسکرین پر قبضہ کر رہا ہے جس میں Flamin' Hot Products اور Lay's شامل ہیں۔ Flamin' Hot میں Doritos اور Cheetos دونوں برانڈز کے ساتھ ساتھ دیگر دوست بھی شامل ہوں گے جو Flamin' Hot اسپرٹ کو مجسم کرتے ہیں۔ The Lay's Super Bowl LVI مہم کا اعلان اس کی حالیہ گولڈن گراؤنڈز ریلیز کے بعد سامنے آیا ہے، ایک ایسی مصنوعات جو کھیتوں میں اگائے جانے والے آلو سے پاک مٹی کے ساتھ مل کر براہ راست NFL اسٹیڈیم اور کھیتوں سے کھینچی گئی ہے تاکہ سب سے زیادہ پرجوش لوگوں کے لیے چپس کی ایک محدود ایڈیشن لائن بنائی جا سکے۔ فٹ بال کے شائقین کی.
آن اسکرین تفریح کو زندہ کرنے کے لیے، Frito-Lay "Calle de Crunch" کی میزبانی کر رہا ہے، جو LA Live میں سپر باؤل LVI تک کے دنوں میں ایک ذاتی تجربہ ہے۔ مزید برآں، Frito-Lay اور PepsiCo فاؤنڈیشن کم آمدنی والے محلوں تک خوراک کی رسائی فراہم کرنے کے لیے GENYOUth کے ساتھ مسلسل کام کے ذریعے لاس اینجلس کی کمیونٹی پر دیرپا اثر ڈال رہے ہیں۔ Frito-Lay کی سپر باؤل مہمات اور کمیونٹی ورک کے بارے میں مزید معلومات آنے والے ہفتوں میں سامنے آئیں گی۔
پیپسی سپر باؤل LVI ہاف ٹائم شو
اس زلزلہ انگیز اعلان کے بعد کہ ڈاکٹر ڈری، اسنوپ ڈاگ، ایمینیم، میری جے بلیج اور کینڈرک لامر پیپسی سپر باؤل ایل وی آئی ہاف ٹائم شو کی سرخی لگائیں گے، پیپسی ایک بار پھر پیپسی سپر باؤل ایل وی آئی ہاف ٹائم شو موبائل ایپ کے ساتھ داؤ پر لگا رہی ہے۔ ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور۔
رسائی کے بھوکے موسیقی کے چاہنے والوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو بڑے دن کا انتظار نہیں کر سکتے، مفت ایپ شو کے دوران ہی تکمیلی تجربات پیش کرتی ہے اور 12 فروری کو SoFi اسٹیڈیم میں موسیقی میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 13 منٹ تک خصوصی مواد گر جاتا ہے۔
موبائل ایپ شائقین کو جیتنے، دریافت کرنے اور انلاک کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے بشمول:
• جیتنے کا موقع: تحفے - پیپسی سپر باؤل LVI ہاف ٹائم شو سائیڈ لائنز بشمول پروازیں اور ہوٹل، فنکار کے دستخط شدہ فٹ بالز، اور مزید۔
• دریافت کرنے کی ترغیب: حیرت انگیز تخلیقی ڈراپ، بڑے شو کے لیڈ اپ میں منظر عام پر آئے۔
• غیر مقفل کرنے کا موقع: نیا اور خصوصی مواد، دلچسپ AR خصوصیات، اور شائقین کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈیجیٹل تجربات کا ایک مجموعہ۔ |
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا - Punjnud.com
از عظمت علی
جب اس عالم مادہ میں نور اول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمدہو ئی تو نگاہوں کو خیرہ کردینے والے بہت سے واقعات رونما ہوئے جو فطرت انسانی سے بالاتر تھے ۔قصر کسریٰ کے چودہ کنگوروں کازمیں بوس ہوجانا ،آتش کدہ فارس کاگل ہوجانااوردریائے ساوہ کاخشک ہوجاناوغیرہ۔
اس ذات مقدس نےایسے ماحول میں آنکھیں کھولیں جہاں جہالت کا دور دورہ تھا ،بتوں کی پرستش کی جاتی ،ذرا ذراسی باتوں پر چالیس چالیس برس جنگ ہواکرتی ،جگر کے ٹکڑوں کوزندہ در گور کیاجاتا،اپنے علاوہ سب کوعجم (گونگا)سمجھاجاتااور ایسے غیر انسانی افعال انجام دئے جاتے کہ اللہ کی پناہ !
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام بعثت سے پہلے عرب کےحالات کویوں بیان فرماتے ہیں:۔۔۔لوگ ایسے فتنوں میں مبتلاتھے جہاں دین کے بندھن شکستہ ،یقین کے ستون متزلزل ،اصول مختلف اور حالات پراکندہ تھے،نکلنےکی راہیں تنگ اورتاریک تھیں۔ہدایت گمنام اورضلالت ہمہ گیر تھی ۔(کھلے خزانوں )اللہ کی مخالفت اور شیطان کی مدد کی جاتی تھی ۔ایمان بےسہارا تھا ۔چنانچہ اس کے ستون گر گئے ۔اس کےنشان تک پہچاننے میں نہ آتے تھے ۔اس کے راستہ مٹ گئے اورشاہراہیں اجڑ گئیں تھیں ۔وہ شیطان کے پیچھے لگ کر اس کی راہوں پر چلنے لگے اور اس کے گھاٹ پر اتر پڑے ۔انہیں کی وجہ سےان کے پھریرے ہر جگہ لہرانے لگے تھے ایسے فتنوں میں جو انہیں اپنے سمو روندتے اور اپنے کھروں کچلتے تھے اور اپنے پنجوں کے بل مضبوطی سے کھڑے ہوئے تھےتو لوگ ان میں حیران و سرگرداں ،جاہل وفریب خوردہ تھے ۔ایک ایساگھر جو اچھا مگر اس کے بسنے والے برے تھے ۔جہاں نیند کے بجائے بیداری اورسرمہ کی جگہ آنسو تھے ۔اس سرزمین پر عالم کےمنھ میں لگام تھی اور جاہل معزز اور سرفراز تھا۔۔۔(نہج البلاغہ خطبہ 2 ترجمہ مفتی جعفر حسین (
ایسے ناگفتہ حالات میں آپ نے دین الٰہی کی عملی تبلیغ کرنا شروع کی ،لوگوں کو دعوت حق دی اور اعلان نبوت بھی کیا۔یہ خبر بجلی کی رفتار سے اور جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اورگردو نواح میں بسنے والے افراد کے کا نوں سے جاٹکرائی ۔پہلے پہل تولوگ آپ کی دعوت سے کتراتے لیکن جب آپ کوحقیقی نجات دہند ہ پایا تو پہلے تھوڑے تھوڑے اور پھر فوج در فوج دائرہ اسلام میں پناہ لینے لگے اور کارواں بنتاگیا ۔
لوگ ساتھ آتے گئے اورکارواں بنتاگیا
ادھر وحدانیت کےمنکرین کے دلوں میں آگ بھڑک اٹھی ۔وہ قریش کے سردار جناب ابوطالب علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا:اے ابوطالب ! آپ محمد کومنع کر دیجئے کہ وہ ہمارے خداؤں ,ہمارے دین اور ہمارے آبا ءواجداد کو برانہ کہیں اوروہ اپنی تبلیغ سےدستبردار ہوجائیں ۔
جنا ب ابوطالب نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوبلایا اور ساری روداد بیان کردی ۔
اس پر آنحضرت نے اپنے چچا سے فرمایا:خد اکی قسم !اگر یہ لوگ میرے داہنےہاتھ پر سورج اوربائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں اسلام کی تبلیغ سےدستبردار نہیں ہوں گا۔یہاں تک کہ اس راہ میں اپنی جان قربان کردو یا پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ ں ۔
یہ فرماکر آپ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے.
حضرت ابو طالب نے بھتیجےکوآوازدی ،واپس بلایا اور فرمایا:خداکی قسم ! میں تمہاری حمایت سے ہرگزدستبردار نہیں ہوں گااور میں ان لوگوں کومہلت نہیں دوں گا کہ وہ تمہاری
طرف انگلی اٹھاسکیں۔تمہارا دل جو چاہے کہو۔(سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 265اور 266طبع :1375ھ )
ان دونوں شخصیتوں کےجواب سے مشرکین ،قریش سے مکمل طورپر مایوس اور ناامیدہوچکے تھے کہ یہ حضرات تبلیغ دین میں ایک دقیقہ بھی کوتاہی نہیں برتیں گے ۔لہٰذا انہوں نے رسول اسلام اور نو مسلمانو ں کوطرح طرح سے اذیتیں دینا شروع کردیں؛آپ پر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا ،شاعر ،مجنون اورساحر کےنام سے پکاراگیا۔ ۔ڈھیلے پتھر سےجسارت کی گئی ۔راستے میں کانٹے بچھائے گئے اور ایذارسانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر اہل ایمان پہاڑوں کی مانند ثابت قدم اورمستحکم رہے اور اپنے مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے ۔مشرکین عرب کاظلم وستم بڑھتا رہا لیکن تادم حیات ان کے پائہ استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی اور بڑی ہی امانت داری کےساتھ اسلام کونسل جدید کےسپر د کردیا ۔یوں یہ حق وصداقت کاکارواں بڑھتاگیا۔لیکن افسوس کہ درمیان راہ میں کچھ دو چہروں والے افراد جڑ گئے۔
ایسے ہی بہروپیا صفت انسانوں نے دین اسلام کے صاف و شفاف دامن پر بدنمادھبہ لگا دیا ہے ۔دہشت گردی بنام جہاد کاسہارا لے کر کبھی شام کی مقدس سرزمین کو خون آلودہ کیا ،کبھی غزہ سرزمین کو لہو لہان کیا ،کبھی عرا ق میں خون کی ندیاں بہا دیں ،کبھی پاکستان کی سرزمین کو لاشوں سے پاٹ دیا ۔غرض کہ مظلوموں کے لہو سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور اس میں شریک وہ افراد ہیں جنہوں نے صرف طوطے کی طرح کلمہ توحید و رسالت رٹ لیا ہے اور معنی ومفاہیم سے دور دور تک ان کا کوئی رشتہ نہیں اور اسلام اورانسانیت تو انہیں چھوکر بھی نہیں گزری ہے ۔
کیا یہ خون خرابہ بس یوں ہی ہورہاہے ؟!
نہیں ! بالکل ایسا نہیں ۔بلکہ سکوں کی جھنکار سے مسلمانوں کےخون سے خود مسلمانو ں کاہاتھ رنگین کرایا جارہاہے ۔مگر ایک سوال کہ یہ سب مسلمان سے ہی کیوں !؟کیا دشمنان اسلام کے پاس افراد ،طاقت ،اسلحہ اور دولت کی کمی ہےکیا؟!
نہیں ۔۔۔!!!
مسلمانوں کو اپنی سازش کا آلہ کار بنانا شاید دو اسباب کے تحت ہو۔
(1)دورحاضرمیں امت مسلمہ عالم انسانیت کی دوسری سب سے بڑی تعداد شمار کی جاتی ہےاور ساتھ ساتھ ہی لوگوں کاجوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہو نا،یہ سبب بن رہاہے کہ مستقبل میں یہ امت صف اول میں شمارہونے لگے گی ۔لہٰذ ا! سامراجیت اوردشمن عناصر کو اس با ت کاخدشہ ہےکہ کہیں یہ قوم ہم پر سبقت نہ لے جائے ۔
(2)آج عیسائیت اپنے مذہب کی ترویج میں ایڑی چوٹی کازور لگا رہی ہے اور مذہب کو قبول کرنے پر خوش حال زندگی کی ضمانت بھی لے رہی ہے کہ اس میں صلح و آشتی ہے اور قتل و خوں ریزی کاگزر نہیں ۔
ادھر مسلمان اہل اسلام کاخاتمہ کررہا ہے اور دین اسلام کاکردار بھی داغدار ہوا جارہاہے۔اسی طرح بڑھتی ہوئی طاقت کوبھی کمزور کیاجارہاہے اور آنے والی نسل کواسلام سے دور بھی ۔
یہ بھی کوئی مذہب ہےجس میں خو د ایک بھائی اپنے دوسرے برادر دینی کاقتل کرے ۔یہ تو درندگی کا مذہب ہے اور بس!!لہٰذا ،ایسے مذہب کے دامن میں پناہ لوجو صلح و امن کادعویدار ہے۔
کل دشمن کھلے عام دشمن تھا لیکن آج دوستی اورہمدردی کاروپ دھار لیاہے ۔کل دشمن دین اسلام کو جڑ سےاکھاڑ پھیکنے کی کوشش میں تھا لیکن جب اس میں ناکام رہاتو آج اس کےاصول وضوابط کے چہرہ کو مسخ کرنے کےدرپے ہو گیا ہے ۔لیکن |
فقہ حنفی کا مختصر تاریخی ارتقاء - مفتی محمد انوار خان قاسمی بستوی
فقہ حنفی کا مختصر…
فقہ حنفی کا مختصر تاریخی ارتقاء ماہنامہ النخیل شوال 1440
تحریر : مفتی محمد انوار خان قاسمی بستوی
آپ اسے تقریبا 17 منٹ ، 56 سیکنڈ میں پڑھ سکتے ہیں۔
خدائے ذوالجلال نے ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین، جنابِ رسول اللہ ﷺ تک برگزیدہ انسانوں کی ایک مقدس جماعت کو مبعوث فرمایا جو آسمانِ رشد وہدایت کے تابندہ ودرخشندہ کہکشاں تھے۔ ہر دور میں اللہ رب العزت نے ہر نبی کی قوم کے شایانِ شان اور بشری تقاضوں کے مطابق ایک کامل اور جامع دستورِ حیات نازل فرمایا تاکہ اس کی روشنی میں انسانیت خدا کی معرفت حاصل کرسکے اور انبیاء کے لائے ہوئے دین کو حرزِ جان بناسکے۔ کم وبیش تمام انبیاء کے ایسے انصار وحواریین رہے ہیں جنھوں نے ان برگزیدہ ہستیوں کی رہنمائی کے مطابق اپنے دینی اور دنیوی امور کو ڈھالنے کو سعادت سمجھا اور ان کے ایک ایک حکم اور اشارے پر اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ لیکن تمام انبیاء کے دور میں انسانوں کی ایک بڑی جماعت ان کی مخالفت کرتی رہی، ان کی دعوت کو دامے درمے سخنے قدمے نقصان پہونچاتی رہی، اور اس طرح سے شقاوت وبدبختی ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔ یہی نہیں بلکہ انبیاء کی ایک بڑی تعداد کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں قتل تک کیا گیا۔ العیاذ باللہ
انبیاءِ کرام کے اس دارِ فانی سے دارِ جاودانی کی جانب کوچ کرتے ہی متعدد دینی فرقے اور سیاسی جماعتیں اپنا ناپاک ایجنڈا لے کر سماج کے سامنے ظاہر ہوئیں۔ بعض نے ان انبیاء کی مقدس کتابوں میں تحریف کا بیڑا اٹھایا اور کتبِ مقدسہ کو ردوبدل کرکے تختہ مشق بنادیا، جب کہ بعض دیگر فتنہ پردازوں نے انبیاء کے دین میں خرافات واوہام، اور بے سروپا باتوں کو داخل کرکے دین کے ساتھ بد ترین تمسخر کیا، اور اس طرح سےخدا کے ذریعہ یہ بھیجی ہوئی کتابیں تحریف کی نذر ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کے لیے سامانِ زیغ وضلال بن گئیں۔
لیکن اللہ رب العزت نے انسانیت کے لیے اپنے سب سے آخری نبی محمدﷺ کا انتخاب فرمایا اور آپ کو ایسی کتاب عطا کی جس کو ہمیشہ تمام تحریفات اور ردوبدل سے محفوظ رہنے کی خدائی ضمانت دے دی گئی ہے اور جسے کوئی بھی شخص کسی بھی دور میں تختہ مشق نہیں بنا سکتا۔ چنانچہ قرآن جس طرح رسول اللہﷺ کی زندگی میں پورے طور پر محفوظ تھا، بالکل اسی طرح سے یہ مقدس وحی آج بھی امتِ مسلمہ کے سامنے محفوظ ہے جس میں کسی بھی رد وبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چونکہ قرآن تمام سابقہ کتابوں کا نچوڑ، تکملہ اور تتمہ ہے اور تا روزِ قیامت پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے آخری مصدرِ رشد وہدایت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے انتہائی جامع اور مکمل ترین شکل میں آخری وحی کے طور پر بھیجا، اور یہی کتاب مسلمانوں کا سب سے بڑا فقہی اور تشریعی مصدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحابؓ کے اقوال وافعال، ارشادات وہدایات گویا کلام اللہ ہی کی شرح وتوضیح ہیں۔
دورِ نبوی میں خود رسول اللہ ﷺ تمام فقہی، سیاسی، علمی، اور اعتقادی مسائل کا حل اپنے اصحابؓ کے سامنے بقدرِ ضرورت پیش فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو یہ حضرات بارگاہِ رسالت کی جانب رجوع فرماتے اور اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرلیتے۔ لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام دوردراز ممالک میں پھیل گیا اور امت کے سامنے نئے نئے مسائل پیدا ہونے لگے۔ عالمِ اسلام میں بسنے والے مسلمانوں نے مسائل اور استفتاء کے لیے فطری طور پر مستند علماء وفقہاء کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ صحابہؓ میں ایک تعداد ایسی تھی جو مسائل وفتاوی میں شہرت رکھتی تھی جنھیں فقہاءِ صحابہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حافظ ابن حزم ظاہریؒ نے "النبذ في أصول الفقه ''میں اور امام ابن القیمؒ نے "إعلام الموقعين'' میں ان مجتہدین صحابہؓ کی تفصیل پیش کی ہے جن کی خدمت میں حاضر ہوکر صحابہ کرامؓ اور تابعینِ عظامؒ اپنے دینی مسائل کا حل طلب کیا کرتے تھے۔
یقیناً صحابہؓ میں ایک جماعت اجتہاد وفتاوی کی ذمہ داری انجام دیتی تھے لیکن عام طور پر ان کا یہ کام انفرادی ہوا کرتا تھا۔ ان کا کوئی مکتب فکر اور منظم مدرسہ نہیں تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ منظم طور پر فقہ واجتہاد کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے مورخین لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے صحابی جن کو منظم اور اجتماعی انداز سے فقہ وفتاوی کے موضوع پر کام کرنے کا شرف حاصل ہے وہ ہیں معلم الامۃ، استاذ المسلمین، مجتہدِ اعظم، حلال المشکلات، منبع الفقہ والفتیا، خادم الرسول، صحابی جلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ امام ابن جریرؒ فرماتے ہیں:
"لم يكن أحد له أصحاب معروفون حرروا فتياه ومذاهبه في الفقه غير ابن مسعود'' (ابن مسعودؓکے علاوہ (صحابہ میں) کوئی ایسا نہیں گذرا ہے جس کے معروف تلامذہ ہوئے ہوں، اور جس کے فقہی مسائل کو منضبط اور مرتب کیا گیا ہو۔)
(إعلام الموقعين ج۲ ص۳۶-۳۷)
فقہِ حنفی، فقہ عمری وفقہِ مسعودی کا ارتقاء ہے:مورخ ابن جریرؒ کی مذکورہ عبارت کی بنیاد پر ہم بآسانی اس بات کا دعوی کرسکتے ہیں کہ سب سے پہلا اور سب سے مستند فقہی مدرسہ منظم طور پر عالمِ اسلام میں ظہور پذیر ہونے والا عبد اللہ بن مسعودؓ کا قائم کردہ مدرسہ ہے جو سیدنا عمر بن الخطابؓ کی زیر نگرانی سرزمین کوفہ میں وجود میں آیا۔ در اصل فقہِ حنفی اسی متوارث عمری ومسعودی فقہ کا ارتقاء وتوسیع ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے دور میں یہ فقہ آپ کے عبقری تلامذۃ کی بدولت اپنے عروج کو پہونچ گئی اور چار دانگِ عالم میں پھیل گئی اور اسلامی قانون کی شکل اختیار کرلی۔ اس کے بعد کوفہ میں فقہ واجتہاد کا جو سلسلہ جاری ہوا اس کی نظیر تاریخ اسلام میں نہیں ملتی۔ سرزمین کوفہ کے فقہاء نے اپنے حیرت انگیز علمی اور فقہی اجتہادات، استنباطات اور استخراجات، اور قانونی تاصیل وتفریع، اور تحقیق وتدقیق کے ذریعہ فقہِ اسلامی کی جو خدمت کی ہے وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قانونی ذخیرہ ہے۔
فقہِ حنفی کا شیوع:خلافتِ عباسیہ میں امام ابویوسفؓ کو جب قاضی القضاۃ کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا، اسی وقت سے فقہِ حنفی آسمان کی بلندیوں کو پہونچ گئی۔ گویا مذہبِِ حنفی اسلام کا سرکاری مذہب بن گیا۔ اور پورے عالم اسلام میں قضاء کے عہدے سے اسی کو سرفراز کیا جاتا تھا جو مذہبِ حنفی کا ماہر اور متخصص ہوتا۔
خلافتِ عباسیہ کے بعد خلافتِ عثمانیہ میں طویل صدیوں تک مذہبِِ حنفی ہی سرکاری مذہب رہا ہے۔ اس کے علاوہ مغلیہ سلاطین سارے کے سارے مذہبِِ حنفی کے مقلد تھے اور سلطنت کے تمام احکام وفرامین مذہبِِ حنفی ہی کی روشنی میں صادر فرمائے جاتے تھے۔ فتاوی ہندیہ سے آج کون ناواقف ہے؟ اس حیرت انگیز فقہی ذخیرہ کو بعد کی مغلیہ سلطنت کا قانونی دستاویز اور آئین مملکت مانا جاتا تھا۔
خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ، اور سلطنت مغلیہ اسلامی تاریخ کے تین ربع سے زیادہ عرصہ کو محیط ہیں اور اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ یہ تینوں ہی حنفی مذہب پر کاربند رہے ہیں۔ اس مذہب کے شیوع کا سب سے اہم سبب ظاہر ہے اس کے بانیان کا اخلاص اور ان کی للٰہیت، اور ان کا فقہی تعمق اور قانونِ شریعت کا غیر معمولی احاطہ ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس مذہب کے اصولِ استنباط میں وہ طاقت اور لچک ہے جو کسی بھی دور میں فقہِ اسلامی کو درپیش چلنج کا بھرپور جواب دینے کے لیے کافی ہے اور اس تغیر پذیر دنیا میں کسی بھی وقت ان اصولوں کی روشنی میں نت نئے مسائل وحوادث ووقائع ونوازل کا کافی وشافی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ امام ابن حزم ظاہریؒ کا یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے کہ اگر مذہب حنفی کے پیچھے حکومت کارفرما نہ ہوتی تو یہ مذہب نہ پھیلتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومتیں اس مذہب کو اختیار کرنے پر ایک طرح سے مجبور تھیں۔ کسی بھی حکومت کو چلانے کے لیے ایسا قانونی ڈھانچہ چاہئے جو تمام انسانی شعبوں اور دینی ودنیاوی گوشوں کا کامل احاطہ کرتا ہو اور ظاہر ہے یہ خوبی مذہبِ حنفی سے زیادہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔
مذہبِ حنفی کی حیرت انگیز وسعت وجامعیت:جو فقیہ بھی امورِ قضائیہ اور مسائل اجتہادیہ کا بغور مطالعہ کرے گا اور پھر مختلف مذاہب ومسالک کا اصولی وفروعی جائزہ لے گا وہ اس حقیقت کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مذہبِِ حنفی کے اندر واقعی ایسی حیرت انگیز جامعیت وہمہ گیریت ہے جس نے اس مذہب کی مقبولیت کو اوجِ ثریا پر پہونچا دیا اور آج تک تاریخ انسانیت میں اتنا عظیم اور منظم قانونی مذہب اور مسلک کوئی پیش نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مذاہب کے مقلدین بھی نکاح وطلاق، بیوع ومعاملات کے بے شمار مسائل میں فقہِ حنفی کی تقلید کو ترجیح دیتے ہیں۔
مذہبِ حنفی کی اسی حیرت انگیز وسعت وجامعیت کا ذکرکرتے ہوئے فقیہ الادباء، ادیب الفقہاء، علامہ علی طنطاویؒ "رجال من التاريخ'' ص۲۵۳-۲۵۴ میں فرماتے ہیں:
" والمذهب الحنفي اليوم أوسع المذاهب انتشارا، وأوسعها فروعا وأقوالا، وهو أنفع المذاهب في استنباط القوانين الجديدة، والأجتهادات القضائية، يليه في كثر الفروع المذهب المالكي، وقد عرفت ذلك في السنين التي اشتغلت فيها بوضع مشروع قانون الأحوال الشخصية، وسبب ذلك أن المذهب الحنفي صار مذهب دولة مدة العباسيين والعثمانيين، وهي ثلاثة أرباع التاريخ الأسلامي، والمالكي مذهب المغرب طول هذه المدة، فكثرت فيهما الفروع والمناقشات، أما المذهب الشافعي فلم يكن مذهبا رسميا الا حقبة قصيرة أيام الأيوبيين، بينما اقتصر المذهب الحنبلي على نجد والحجاز اليوم''
(مذہبِ حنفی آج پوری دنیا میں تمام مذاہب میں سب سے زیادہ متداول اور شائع مذہب ہے، اور اسی طرح سے فقہی جزئیات واقوال کے اعتبار سے یہ مذہب سب سے زیادہ مالامال ہے۔ نت نئے قوانین وضوابط کے استنباط، اور قضاء سے متعلق اجتہادات میں اس سے زیادہ نافع مذہب کوئی بھی نہیں ہے۔ مذہبِ حنفی کے بعد کثرتِ فروع وجزئیات میں دوسرا مذہب مالکی ہے۔ مجھے اس کا اندازہ ان سالوں میں ہوا جب میں پرسنل لاء کی منصوبہ سازی پر کام کر رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عباسی اور عثمانی خلافتوں کے دوران مذہبِِ حنفی سرکاری مذہب تھا، اور یہ دونوں ہی خلافتیں تاریخِ اسلام کے تین ربع کو محیط ہیں، جب کہ اس پوری مدت میں مالکی مذہب اندلس کا سرکاری مذہب رہا ہے، اسی لیے ان دونوں ہی مذاہب میں فروعی مسائل اور فقہی مناقشات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مذہبِِ شافعی ایوبی سلطنت کے دوران ہی مختصر مدت کے لیے سرکاری مذہب کی حیثیت رکھتا تھا، جب کہ حنبلی مذہب اس وقت نجد اور حجاز میں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔)
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کی شہادت:انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا مستشرقین اور مغربی مصنفین کا عظیم ترین علمی اور ادبی کارنامہ ہے اور اسے انگریزی زبان کا سب سے اہم موسوعہ مانا جاتا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار نے فقہِ حنفی کی ہم آہنگی ، لچک اور وسعت کا اعتراف مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے:
The school of Abū Ḥanīfah acquired such prestige that its doctrines were applied by a majority of Muslim dynasties.
His legal acumen and juristic strictness were such that Abū Ḥanīfah reached the highest level of legal thought achieved up to his time. Compared with his contemporaries, the Kufan Ibn Abī Laylā (d. 765) the Syrian Awzāʿī (d. 774) and the Medinese Mālik (d. 795)his doctrines are more carefully formulated and consistent and his technical legal thought more highly developed and refined.
(انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکاج۱ص۱۹)
(یعنی ابوحنیفہؒ کے مذہب کو اتنا اثر ورسوخ حاصل تھا کہ اکثر اسلامی خلافتیں اور بادشاہتیں اسی مذہب کی پیروکار تھیں۔ ابوحنیفہؒ کی قانونی اور فقہی بصیرت وذکاوت اس زمانہ تک حاصل کی گئی قانونی فکر کے سب سے اعلی معیار تک پہونچی ہوئی تھی۔ اپنے معاصرین ابن ابی لیلیؒ کوفی متوفی ۷۶۵ ء، اوزاعیؒ شامی متوفی ۷۷۴ء، اور مالک مدنیؒ متوفی ۷۹۵ء کے مقابلہ میں آپ کے اصول کی تشکیل زیادہ محتاط انداز سے کی گئی ہے اور اس میں استقلال اور ہم آہنگی زیادہ ہے اور آپ کے علمی اور قانونی افکار وروں کے مقابلہ میں زیادہ معیاری انداز سے مرتب اور منقح کئے گئے ہیں۔)
مذہبِ حنفی اور علماءِ دیوبند: فقہ حنفی کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اس مذہب کو فروغ دینے میں علماءِ عراق کا ہاتھ رہا ہے۔ ظاہر ہے اس مذہب کی تاسیس، اور ترتیب وتدوین کا حیرت انگیز کارنامہ اسی سرزمین کے ایک عظیم اور تاریخی شہر کوفہ کے حصے میں آیا۔ اس کے بعد خلافتِ عباسیہ میں صدیوں تک اس مذہب کے پیروکاروں اور فقہاء ومحدثین نے اس مذہب کی تائید اور تقویت کے لیے متعدد تصانیف لکھیں۔ عباسی دور کے بعد خلافتِ عثمانیہ کا زریں دور شروع ہوتا ہے جس میں فقہِ حنفی پر ہزاروں اہم کتابیں تصنیف کی گئیں اور اس مذہب کو اصولی اور فروعی طور پر نہایت مدلل اور منقح کیا گیا۔
آخری دور میں سر زمینِ ہند کو اللہ نے گوناگوں نعمتوں سے نوازا اور اس ملک میں ایسے عباقرہ اور حیرت انگیز رجالِ کار پیدا کئے جنھوں نے زہد وتصوف میں شبلی وجنید بغدای، اور فکر وفلسفہ میں رازی وغزالی، حدیث ورجال میں ذہبی وابن حجر، فقہ واصول میں مرغینانی وسرخسی، تفسیر میں زمخشری اور جرجانی، اور اسراروحقائق میں حارث محاسبی اور ابن عربی کی یادیں تازہ کردیں اور ایشیاءِ کوچک ان عہد ساز شخصیتوں کے علوم وفنون، مجاہدانہ کارناموں، اور ہو حق کی صداوں سے گونجنے لگا۔ اسی دور میں علماءِ ربانیین کی ایک جماعت نے مجددِ اسلام، امام المتکلمین حضرت نانوتویؒ متوفی۱۲۹۷ھ کی زیرِ قیادت ایشیاء کی عظیم ترین یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔ اس ادارے سے منسلک اور یہاں کے فارغ التحصیل علماء وفقہاء، محدثین ومفسرین، فلاسفہ ومتکلمین، عباد وزہاد، خطباء وواعظین، سیاسی ماہرین ومجاہدین نے برِ صغیر میں ایک علمی اور فکری انقلاب برپا کردیا۔ اسی کاروانِ علم ودانش اور مرکزِ فکر وآگہی سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں نے جہاں دین کے تمام شعبوں میں تجدیدی کارنامہ انجام دیا، وہیں ان حضرات نے مذہبِِ حنفی کی عظیم خدمت کی اور اس مذہب پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئیے اور فقہِ حنفی کی تائید وتقویت میں ان حضرات نے عربی اور اردو زبان میں سیکڑوں ایسی تصانیف رقم کیں جو اس وقت علمی اور فکری تاریخ کا ایک لازوال حصہ بن چکی ہیں اور بر صغیر میں اسلامی علوم وفنون کے بقاء کی ضامن بن چکی ہیں۔ امام المتکلمین، محمد قاسم نانوتویؒ ،سید الطائفہ، فقیہ ومجتہد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، محدثِ کبیر مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ، امامِ حریت، بطلِ جلیل، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، محدثِ ناقد، علامہ ظہیر احسن نیمویؒ، محدثِ عدیم النظیر، امام العصر محمد انور شاہ کشمیری، حکیم الامت المحمدیہ، مجدد الملۃ الاسلامیہ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، محقِّق العصر، امام جلیل، محدث کبیر، شارح ابو داود حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری، متکلمِ اسلام، شارح صحیح مسلم، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الاسلام، مجاہدِ آزادی مولانا حسین احمد مدنیؒ، مفتیِ اعظم، شیخ الحدیث، محققِ ماہر، شیخ کفایت اللہ دہلویؒ، محدثِ کبیر، مولانا عبد العزیز پنجابیؒ، محدثِ جلیل، شیخ مہدی حسن شاہجہاں پوریؒ، محدثِ عظیم، متکلمِ دوراں، مفسر ِبے مثال، شارحِ مشکوۃ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مفسرِ دوراں، علامہ مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، شیخ الحدیث،مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، داعیِ اسلام، امامِ ربانی، عالمِ ملہم شیخ محمد یوسف کاندھلویؒ، محدثِ وقت، علامہ بدرِ عالم میرٹھی، محدثِ ناقد، فقیہِ جلیل، شیخ ظفر احمد عثمانیؒ، محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوریؒ، محدثِ جلیل، شیخ حبیب الرحمن اعظمیؒ، محدثِ ناقد، شیخِ ماہر، علامہ محمد عبد الرشید نعمانیؒ وغیرہ حضرات نے مذہبِ حنفی کی خدمت اور تائید میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں جس کی نظیر تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ ان ائمہ کی تصانیف اور کتابوں میں تقریباً تمام مباحث میں کچھ ایسے علمی نکات ولطائف ملتے ہیں جس کا ذکر قدیم مصنفین وشارحین تک کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ چنانچہ فقہِ حنفی کی تائید میں ان بلند پایہ دیوبندی علماء کی جو عربی اور اردو شروحات وحواشی اور تعلیقات وامالی ہیں ان میں جا بجا ایسی تاویلات وتفسیرات، تشریحات وتوضیحات، جمع وتطبیق، اور توفیق وترجیح کے کچھ ایسے علمی نمونے بیان کئے گئے ہیں جو متقدمین کی کتابوں تک میں دستیاب نہیں ہیں، اور یہ ان اکابر وعظماء کی عبقریت وتبحرِ علمی کابیّن ثبوت ہیں۔
دیوبند حنفیت کا سب سے عظیم مرکز:اس میں کوئی شک نہیں کہ تقریباً پچھلی دو صدی سے اللہ رب العزت نے اہلِ ہند کو اپنی خاص عنایات وتوجہات سے بہرہ مند کیا ہے، اور اس پورے عرصے میں جہاں دیوبند نے پوری دنیا میں اپنے لازوال علمی اور اصلاحی نقوش چھوڑے ہیں، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے اس سرزمین کو مذہبِِ حنفی کا سب سے بڑا مرکز بنادیا ہے۔ دیوبند کے جہاں بہت سارے امتیازات ہیں، وہیں اس مکتب فکر کا ایک اہم امتیاز دفاع عن المذہب الحنفی ہے۔ حنفیت دیوبندیت کا اہم ترین عنصر ہے۔ مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ دیوبندیت کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کتاب "المسلمون في الهند'' ص ۱۱۴ -۱۱۶ میں بجا طور پر فرماتے ہیں:
"وشعارُ دار العلوم ديوبند: التمسّكُ بالدِّين، والتصلُّب في المذهب الحنفي، والمحافظة على القديم، والدّفاعُ عن السُنّة ''
(یعنی دار العلوم دیوبند کا شعار دین کو مضبوطی سے تھامنا، مذہبِ حنفی پر سختی سے کاربند رہنا، اور قدیم روایات کو زندہ رکھنا، اور دفاع عن السنہ ہے۔)
مفکر اسلام مولانا ابوالحسن ندویؒ نے اپنے مورخانہ اور مفکرانہ اسلوب میں چند لفظوں میں دیوبند کی جو نہایت جامع تعریف پیش کی ہے وہ ایک ناقابلِ انکارحقیقت ہے اور تصلب فی المذہب الحنفی واقعی اس مکتب فکر کا نہایت اہم عنصر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے بانیان نے روزِ اول ہی سے اس مذہب کی خدمت کی اور سیدنا عمر بن الخطابؓ، سیدنا علی ابن ابی طالبؓ اور خاص کر سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کی اس متوارث فقہ کی ہر طرح سے حفاظت اور آبیاری کی ہے۔
دیوبند کے ذریعہ مذہبِ حنفی کی اشاعت اور حضرت نانوتویؒ کا خواب:روزِ اول ہی سے کچھ ایسے منامات اور بشارتیں ہمارے علماء نے ذکر کئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی خاص حکمت کی بنا پر حضرت نانوتویؒ کے ذریعہ قائم کردہ اس عظیم یونیورسٹی کو حنفیت کا سب سے عظیم قلعہ بنایا۔ اس سلسلے میں ایک خواب ہمارے علماء بکثرت اپنی کتابوں میں بیان فرماتے ہیں۔ ارواحِ ثلاثہ ص۲۲۱ کی روایت ہے کہ: خاں صاحب نے فرمایا کہ مولانا نانوتویؒ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کسی اونچی شیء پر بیٹھا ہوں اور کوفہ کی طرف میرا منہ ہے اور ادھر سے ایک نہر آتی ہے جو میرے پاوں سے ٹکرا کر جاتی ہے۔ اس خواب کو انہوں نے مولوی محمد یعقوب صاحبؒ برادر شاہ محمد اسحاق صاحبؒ سے اس عنوان سے بیان فرمایا کہ حضرت ایک شخص نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے تو انھوں نےیہ تعبیر دی کہ اس شخص سے مذہبِ حنفی کو بہت تقویت ہوگی اور وہ پکا حنفی ہوگا اور اس کی خوب شہرت ہوگی لیکن شہرت کے بعد اس کا جلدی انتقال ہوجائے گا اور میں نے یہ خواب اور اس کی تعبیر خود مولانا نانوتویؒ سے سنی ہے۔ مولانا کا قاعدہ تھا کہ جب عام لوگوں میں اس خواب کو بیان فرماتے، تو فرماتے ایک شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا لیکن خاص لوگوں سے فرمادیتے تھے کہ یہ خواب میرا ہے۔ جب مولانا نے مجھ سے یہ خواب بیان فرمایا، اس وقت میں اکیلا تھا اور پاؤں دبارہا تھا اور مولاناؒ نے بے تکلف مجھ سے اپنا نام لیا تھا۔''
اگرچہ خواب شریعت میں حجت نہیں ہے لیکن استیناس کے لیے خواب کا ذکر کرنا متقدمین ومتاخرین کے یہاں مستحسن مانا گیا ہےاور اگر کوئی خواب کسی عظیم عالم یا امام کا ہو اور اس خواب کی تعبیر بھی کسی عظیم ہستی کی جانب سے بیان کی جائے، تو پھر خواب کافی با معنی اور اہم ہوجاتا ہے۔ ٍصحیحین کی مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (الرُّؤْيَا الصَّالِحَة جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ) یعنی نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کا وہ خواب تواریخ وطبقات کی کتابوں میں موجود ہے جس کی تعبیر ابن سیرینؒ نے بیان فرمائی تھی۔ حافظ ذہبی ؒ "مناقب أبي حنيفة وصاحبيه'' ص۳۶میں فرماتے ہیں:
"عَنْ أَبِي يُوسُفَ، قَالَ: رَأَى أَبُو حَنِيفَةَ كَأَنَّهُ يَنْبِشُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْخُذُ عِظَامَهُ يَجْمَعُهَا، وَيُؤَلِّفُهَا، فَهَالَهُ ذَلِكَ، فَأَوْصَى صَدِيقًا لَهُ إِذَا قَدِمَ الْبَصْرَةَ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ سِيرَينَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذَا رَجُلٌ يَجْمَعُ سُنَّةَ النَّبِيِّ وَيُحْيِيهَا''
(یعنی ابو یوسفؒ بیان فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ نے خواب دیکھا کہ وہ نبی ﷺ کی قبر کھود رہے ہیں، اور جسم اطہر کی ہڈیاں جمع کر رہے ہیں اور انھیں جوڑ رہے ہیں۔ اس خواب سے آپ بڑے خائف ہوئے اور اپنے ایک دوست سے یہ کہا کہ جب وہ بصرہ جائیں تو ابن سیرینؒ سے اس خواب کی تعبیر دریافت فرمالیں۔ چنانچہ انھوں نے جب ابن سیرینؒ سے سوال کیا، تو ابن سیرینؒ نے جواب دیا: یہ شخص رسول اللہ ﷺ کی سنت کو جمع کرے گا اور اس کا احیاء کرے گا۔)
امام ذہبیؒ اسی کتاب میں علی ابن عاصمؒ کی روایت سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے فرمایا:
"رَأَيْتُ كَأَنِّي نَبَشْتُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَزِعْتُ وَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ رِدَّةً عَنِ الإِسْلامِ ، فَجَهَّزْتُ رَجُلًا إِلَى الْبَصْرَةِ، فَقَصَّ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ الرُّؤْيَا، فَقَالَ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَا هَذَا الرَّجُلِ فَإِنَّهُ يَرِثُ عِلْمَ نَبِيٍّ''
(میں نے خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قبر کھود رہا ہوں، جس کی وجہ سے میں سہم گیا، اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہونے لگا کہ یہ کہیں میرے مرتد ہونے کی جانب اشارہ تو نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے ایک شخص کو بصرہ بھیجا، اور اس نے ابن سیرین ؒ کے سامنے سارا واقعہ سنایا۔ ابن سیرینؒ نے تعبیر دیتے ہوئے فرمایا: اگر اس شخص کا خواب سچا ہے، تو یہ علومِ نبوت کا وارث ہوگا۔)
خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی دو صدی سے دیوبندی مکتب فکر کو عالمی طور پر مذہبِِ حنفی کا سب سے بڑا ترجمان اور عظیم قلعہ کی حیثیت حاصل ہے۔ آج پوری دنیا میں علماءِ دیوبند کی علمی، فکری اور فقہی خدمات سے اہلِ ایمان سیراب ہورے ہیں اور اپنی دینی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔ |
گھوڑے - Qalamkar | قلم کار
08/08/2016 08/08/2016 قلم کار 0 Comment ٹیم، کرکٹ، ہیرو، ماضی، آسٹریلیا، پاکستان،, کھلاڑی، دیوانہ، شیگی، شکست، جیت، گھوڑے،
افسانہ نمبر6 " گھوڑے "
لیاقت علی ، ملتان ۔ پاکستان
آج صبح سے دفتر کے بکھیڑوں میں اُلجھتا میں یہ تک بھول گیا کہ سہ پہر چار بجے تک ہر حال میں مجھے گھر پہنچنا ہے کیوں کہ شیگی بے چینی سے میرا انتظار کررہا ہوگا۔لیکن صد شکر کہ دوپہر کے وقت ہی یاددہانی کے لیے شیگی کی کال آگئی۔
''بابا یاد ہے ناچار بجے میچ ہے۔۔۔؟''
میں نے پنڈولم پر نگاہ دوڑائی دو بج رہے تھے۔
''اوہویار میں تو بھول ہی گیا تھا اچھا کیا مجھے یاد دلا دیا۔''
میں نے جواب دیتے ہوئے کھلی فائلیں سمیٹنا شروع کردیں۔
''چپس کے پیکٹس، چاکلیٹس، جوس اور مونگ پھلیاں لیتے آئیے گا۔ کانٹے کا میچ ہے مزے سے دیکھیں گے''۔
شیگی نے تاکیدکی۔
''اوکے بابا او کے لے آؤں گا۔''
میں نے فون رکھا اور اب تیزی سے بقیہ کام سمیٹنے لگا۔
یہ کرکٹ بھی عجیب خبط ہے جو مجھ سے میرے بیٹے میں منتقل ہوگیا ہے۔ اس کا بھی بھلا کیا قصور، اس نے بچپن سے اپنے باپ کو کرکٹ کے جنون میں مبتلا دیکھا ہے۔ اسے کیسے بھول سکتا ہے کہ جس روز پاکستان کا میچ ہوتا اس کا باپ گھر میں کرفیو نافذ کردیتا۔ کسی کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ ٹی وی پر کوئی اور پروگرام دیکھ سکے یا اس کو گھر سے کسی کام کے لیے باہر بھیج سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شیگی بھی اس بخار میں اسی وقت سے مبتلا ہوگیا تھا کہ جب اسے ڈھنگ سے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کرکٹ میں سکور بنائے جاتے ہیں یا گول کیے جاتے ہیں۔ ہاں مگر میرے چہرے کا تغیر اُسے اطلاع دے دیتا تھا کہ اب ہم جیتنے والے ہیں یا ہارنے ، اور پھر جیت کا نتیجہ یہ نکلتا کہ گھر کا ماحول خوشگوار ہوجاتا۔ معمول کے برعکس اُسے دوستوں جیسا باپ میسر آتا جو نہ صرف اسے مزے مزے کے لطیفے سناتا بلکہ گھمانے پھرانے بھی لے جاتا اور کھلانے پلانے میں بھی روایتی تامّل سے کام نہ لیتا۔ پاکستان کے میچ کے روز اوّل تو میں چھٹی کرلیتا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتا تو وقفے وقفے سے شیگی فون پر مجھے تازہ ترین صورتِ حال سے باخبر رکھتا۔ سو وہ جو بچپن میں کرکٹ کے بنیادی اصولوں سے بھی پوری طرح واقف نہ تھا اور اپنے جذبات کا اظہار محض پاکستان زندہ باد کے نعروں سے کیا کرتا تھا اب خود کرکٹ کا ایسا دیوانہ بنا کر براہِ راست نشر ہونے والے میچ تو ایک طرف رہے اِدھر اُدھر کے نئے پرانے انٹرنیشنل، لوکل ہر طرح کے میچ بھی دیکھنے لگا۔ پاکستان ہی کیا اسے کم و بیش سبھی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے نام ازبر ہوگئے اور گھر میں کرکٹ کے علاوہ کوئی چینل بدلنا گویا فساد کو دعوت دینا بن گیا۔ اس فساد کا بڑا سبب محض چینل کی تبدیلی ہی نہ تھا بلکہ پے در پے پاکستان کی شکست اس کی اہم وجہ تھی جس نے اس کی طبیعت میں بے حد چڑچڑا پن پیدا کردیا تھا۔
ویسے یہ کرکٹ بھی عجیب کھیل ہے۔ بھلے وقتوں میں ہمارے سر فخر سے بلند اور چھاتیاں تنی رہتی تھیں کہ ہم ایک شاندار ٹیم ہیں اور ہمارے کھلاڑی دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ یہ ہمارے قومی ہیرو تھے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کو لوگ دیوانہ وار اسٹیڈیم کا رُخ کرتے اور ان کے آٹوگراف لینے کو بے تاب رہتے۔ مجھے اپنے کالج کا زمانہ یاد آتا ہے جب ہمارے اردو کے استاد لہک لہک کر مجید امجد کی نظم آٹو گراف سناتے اور پھر اس کا پس منظر بتاتے تو تالیوں کی گونج میں وکٹیں گراتا فضل محمود اور ڈھلکے آنچلوں سے بے خبر آٹو گراف ڈائریاں پکڑے دوشیزائیں ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتیں ۔لیکن آج وہی کھیل ہمارے لیے ایک اجتماعی اضطراب بن گیا ہے۔ جب بھی کوئی اہم میچ ہو تیزی سے ترقی کرتا میڈیا جیت کی توقعات کو اس سنسنی خیز انداز میں لوگوں میں منتقل کردیتا ہے کہ لوگ شکست کے کسی امکان سے سمجھو تہ کیے بغیر بے چینی سے جیت کے بگل بجانے لگتے ہیں۔ لیکن ہوتا بالعموم یہ ہے کہ ہم ہار جاتے ہیں اور پھر یہ شکست من حیث القوم سب کو مغمو م کرجاتی ہے۔ اپنی اپنی مصروفیات ترک کرکے گھروں میں اہتمام سے پکوان پکا کر میچ دیکھنے، ایک ایک سکور اور وکٹ پر تبصرے کرنے اور دھڑا دھڑ موبائل میسجز کے ذریعے اپنے تاثرات بانٹنے والے لوگ آخر آخر جھلاتے، اک دوسرے سے الجھتے، ٹی وی بند کرتے سوجاتے ہیں۔ لیکن نیند بھی ڈھنگ سے کہاں آتی ہے۔
عجب بے چینی سی لگی رہتی ہے کہ یوں ہوجاتا تو کیا تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو کیا تھا۔۔۔ ایسا کر لیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔!
نکمے، جاہل، اناڑی۔۔۔ سفارشی نہ ہوں تو۔۔۔!
اگلے روز دفتروں، سکولوں، کالجوں اور نجی محفلوں میں یہ شکست اور اس کے اسباب زیرِ بحث رہتے ہیں اور سبھی اپنے اپنے انداز میں تبصرے نشر کرتے رہتے ہیں۔
شیگی بھی کرکٹ کے اسی جنون میں پل کر بچپن سے لڑکپن میں آیا ہے جب شکست ہمارا مقدر اور جیت ایک نہ پورا ہونے والے خواب بنتی جارہی ہے۔ ہاں کبھی کبھار مقابل ٹیم منہ کا ذائقہ بدلنے کو ہمیں جیت کی خوشی فراہم کردے تو ہمارا اپنی ٹیم ہی نہیں اس کھیل پر بھی اعتبار بحال ہونے لگتا ہے۔ شکست کے اس عہد میں جب میں شیگی کو اپنی ٹیم کی عظیم فتوحات کے شاندار قصّے سناتا ہوں تو وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگتا ہے۔ میں اسے فضل محمود سے جاوید میاں داد تک کتنے ہی عظیم کھلاڑیوں کے واقعات سناتا خود ہی سرشار ہوتا رہتا ہوں مگر وہ میرے ان ہیروز کو اساطیری کردار سمجھ کر یوں سنتا ہے گویا میں اسے کہانیاں سنا رہا ہوں جو اپنی تمام تر دلچسپی کے باوجود سچ بہرحال نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ میں نے اپنی نسل کا رومانس تو اس میں منتقل کردیا ہے مگر اس پر لمحۂ موجود سے کوئی معتبر گواہ پیش کرنے سے قاصر رہا ہوں۔ پھر میں نے اپنے ملال کا حل یہ ڈھونڈا کہ ایک روز مارکیٹ سے وہ ساری سی ڈیز خرید لایا جن میں پاکستانی کرکٹ کی عظیم فتوحات قید تھیں۔ میں نے اسے سی ڈیز کا وہ پلندا تھماتے ہوئے کہا جاؤ دیکھو اب کہ ہم کیا تھا اور کیسے کیسے میچ ہم نے جیتے۔ اس نے یہ سی ڈیز دیکھنا شروع کیں تو میرے لیے یہ بات نہایت باعثِ اطمینان تھی کہ اس میں خوشگوار تبدیلی آنے لگی۔ اس سے پہلے کی صورتحال بہت مختلف تھی۔ وہ براہِ راست میچوں کی غیریقینی سنسنی کا شکار رہتا اور میچ سے کئی دن پہلے سے ایک ایک لمحے کا انتظار کرتا اور پھر میچ کے دوران ہر بال پر تبصرہ نشر کرتا رہتا۔ ٹیم کو بتدریج شکست کی طرف بڑھتے دیکھتا تو بے چینی سے دعائیں مانگتا، جھلّاتا اور مرجھانے لگتا۔ میرا حوصلہ جواب دے جاتا تو میں غصے سے کھلاڑیوں کو بے نطق سناتا چلّا کر کہتا ''چلو لعنت بھیجو ان بھڑووں پے، ٹی وی بند کرو۔'' لیکن وہ آخری گیند تک جیت کے امکان سے دست برداری پر آمادہ نہ ہوتا۔ ایک آس ہمیشہ دل میں رکھتا کہ کیا خبر کب پانسہ پلٹ جائے ۔۔۔۱
لیکن یہ پانسہ ایسے تھوڑا ہی پلٹتا ہے۔ نتیجتاً وہ نہ ڈھنگ سے کھانا کھاتا، نہ سوتا اور نہ ہی پڑھ پاتا۔ بات بے بات سب سے الجھتا اور اس کی پڑھائی شدت سے متاثر ہوتی۔
لیکن اب ان سی ڈیز نے اس پر خوشگوار اثرات مرتب کیے اور وہ ان میچوں کو بھی براہِ راست نشر ہونے والے میچوں ایسی دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ اب وہ بھی ماضی میں پاکستان کے ان مایہ ناز کھلاڑیوں کا مداح بن گیا جو میری نسل کے ہیرو تھے۔ اب جب اس کے کلاس فیلو اسے حالیہ میچوں میں ملنے والی شکست کے ہزیمت بھرے قصّے سناتے تو وہ انہیں ظہیر عباس، جاوید میاں داد اور عمران خان جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے آگاہ کرتا۔ ایسے میں وہ سب اسے یوں دیکھتے گویا جھوٹے قصّے سنارہا ہو۔ ادھرمیں مطمئن تھا کہ اب میرے ہیرو اس کے ہیرو بھی بن گئے تھے۔ لیکن مجھے یہ اطمینان زیادہ عرصہ میسر نہ آیا۔ فتوحات کے قصّے آخر کب تک چلتے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ بار بار یہ سی ڈیز دیکھ دیکھ کر اُکتا گیا اور پھر سے براہِ راست میچوں کے سامنے آن بیٹھا۔ نتیجہ پھر وہی نکلا۔ ہمارا حال، ماضی کی شہادت دینے سے قاصر رہا اور پے در پے شکست نے اس میں پھر سے وہ ساری جھلاہٹ، بے چینی اور بددلی پیدا کردی جو میں کھچ عرصہ کے لیے ان سی ڈیز کے ذریعے ملتوی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
میں اب گہری تشویش میں مبتلا رہنے لگا کیوں کہ اس کی پڑھائی اس حد تک متاثر ہونے لگی تھی کہ کئی بار اس کی ناقص کارکردگی اور رویے کی تحریری شکایت موصول ہوئی۔ پھر ایک روز مجھے ایک اور خیال آیا جس نے مجھے ہارے ہوئے کسی سالار کی مانند ایک آخری چال چلنے پر اُکسایا۔
میں نے شیگی کو بلایااور اطمینان سے پاس بٹھا کر کہا ''شیگی آؤ تمہیں اپنے بچپن کا ایک قصّہ سناتا ہوں۔'' ''سچایا جھوٹا؟'' اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے پیار سے اس کے کان کھینچتے ہوئے کہا:
''ابے اُلو سچ مچ کا قصّہ۔''
اصل میں بچپن میں تمہاری طرح ہم سب کزنوں کو بھی ٹی وی دیکھنے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ ان دنوں ٹی وی پر گھوڑوں کی دوڑ نشر ہوتی تھی اور ہم سب بچے مل کر شو ق سے یہ دوڑ دیکھتے تھے۔ ہمیں قطعی طور پر علم نہ تھا کہ یہ دوڑ کہاں کس ملک میں ہورہی ہے اور نہ ہی ہمیں اس سے سروکار تھا کہ کون سا گھوڑا کس ملک کا ہے۔ اس میں کوئی پاکستانی سوار بھی نہ تھا کہ ہم اس کے لیے اپنی ہمدردیاں مخصوص کرتے۔ بس ہم یہ کرتے تھے کہ اپنی اپنی پسند کے گھوڑے کی نشاندہی کر لیتے اور پھر وہ گھوڑا دوڑ میں ہمارا گھوڑا بن جاتا۔ اب ہماری ساری ہمدردیاں، ساری دعائیں اُسی گھوڑے کے لیے ہوتیں اور یوں ہم پورے انہماک سے اس دوڑ کا حصہ بن جاتے۔ اپنے گھوڑے کے آگے بڑھنے پر خوشی سے کلکاریاں مارتے، تالیاں بجاتے اور اس کے پیچھے رہ جانے پر پریشان ہوجاتے۔ لیکن یہ مستقل پریشانی نہ تھی۔ ایک دو مرتبہ اگر ہمارا گھوڑا مطلوبہ کارکردگی پر پورا نہ اترتا تو ہم اعلان کرتے کہ
''سنو دوستو میں فی الفور اپنا گھوڑا بدل رہا ہوں۔''
یوں جیتنے والا گھوڑا ہمارا گھوڑا بن جاتا اور ہمیں شکست کی ہزیمت سے نجات مل جاتی۔ شیگی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھتا اور سارا قصّہ یوں سنتا رہا جیسے سمجھ نہ پارہا ہو کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ میں نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے پیار سے اس کے گال تھپتھپائے اور کہا:
''شیگی یار کیوں نہ ہم اپنی ٹیم بدل لیں؟''
''ٹیم بدل لیں۔۔۔؟''
وہ یک لخت چونک اٹھا۔
''ایسے ہی جیسے ہم اپنا گھوڑا بدل لیتے تھے۔۔۔!''
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا میں نے اعلان کیا کہ ''بس آج سے ہماری ٹیم آسٹریلیا!''
وہ کچھ دیر عجب حیرت سے مجھے دیکھتا رہا پھر دھیرے دھیرے اس کے چہرے پر اس نئے خیال سے اطمینان بخش مسکراہٹ پھیلی اور اس نے ہتھیلی میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ ''بابا طے ہوگیا آج سے ہماری ٹیم آسٹریلیا!''
میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار تے ہوئے کہا ''بس Done''۔
وہ دن اور آج کا دن شیگی کی ساری جھلّاہٹ جاتی رہی ہے۔ وہ بیشتر جیت کی سرمستی سے سرشار رہتا ہے ا ور یوں اپنے باقی کام بھی مکمل دلجمعی سے کرنے لگا ہے۔
اب اس کی ٹیم میں اگر کچھ عرصہ اس کی مطلوبہ کارکردگی پر پورا نہ اترے تو وہ اسے بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لیتا۔ ہاں شروع شروع میں ٹیم کی تبدیلی کے اس فیصلے سے سمجھوتہ کرتے اسے تھوڑی مشکل ضرور پیش آئی اور وہ کچھ تذبذب کا شکار بھی ہوا۔ خصوصاً ٹیم کے حق میں اللہ سے دعا مانگتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا یہ تو مسلمان نہیں ہیں تو اللہ ان کا ساتھی کیسے ہوسکتا ہے؟
میں نے اسے کہا '' یار شیگی اللہ محنت کرنے والوں کا ساتھی ہے۔'' یہ جواب سن کر وہ مطمئن ہوگیا۔ اب وہ اپنی ٹیم کے لیے بِلا جھجھک دعائیں بھی مانگتا ہے اور ذوق و شوق سے میچ دیکھتا اور جیت سے سرشار بھی رہتا ہے۔
آغاز میں، میں نے اپنی بات شیگی کی اس کال سے شروع کی تھی جو اس نے مجھے دفتر میں یہ یاددہانی کے لیے کی تھی کہ بابا آج کانٹے کا میچ ہے۔ وقت پر آئیے گا اور اس نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں بھی منگوائی تھی۔۔۔۔ تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ وہ کانٹے کا میچ پاکستان اورآسٹریلیا کے درمیان فائنل میچ ہے اور مجھے یقین ہے آج بھی فتح ہماری ٹیم کی ہی ہوگی۔ |
میاں محموداحمد ۔۔۔ شاہ محمد مری – Sangat Academy
Home » پوھوزانت » میاں محموداحمد ۔۔۔ شاہ محمد مری
(27 نومبر1927۔۔۔۔۔۔3جولائی2002)
ابھی ماضی قریب میں پاکستان کے اندر کمیونسٹ سیاست کی مست جوانی دیکھنی ہوتی تو میں آپ کو فیصل آباد جانے کا کہتا۔ وہاں کچہری بازار میں '' گلی وکیلاں'' نام کی ایک تنگ گلی ہے۔ ایک سادہ مگر کشادہ دو منزلہ مکان میں ادھیڑ عمر کا ایک شخص، چھڑا چھانگ رہتا تھا۔اپنی مجرد حالت کو شادی شدہ مرد حضرات کی زن مریدیوں پرمصنوعی قہقہے لگاتا ہوا چھپا دیتا تھا۔یہ شخص اپنے شہر کا مشہور وکیل تھا۔ چھوٹا قد، فربہ جسم، سر تقریباً گنجا، موٹے ہونٹ اور موٹی آنکھیں،چھوٹے ہاتھوں پہ چھوٹی انگلیاں، کلین شیو۔۔۔۔۔۔ سنجیدہ سنجیدہ سا، مگر باوقار طور پر سنجیدہ۔ کم آمیز مگر عام انسانوں کے ساتھ خوش خلق۔ اگر پتلون میں نہ ہوتا تو ہمیشہ سفید موٹی قمیص شلوار میں ہوتا۔ یہ تھا ہمارے انقلاب کا ہیڈ ماسٹر، میاں محمود احمد۔
اور وہ پارٹی ڈسپلن کے بارے میں واقعی ایک ہیڈ ماسٹر تھا۔ وہ مارشل لا اور رجعت کے سخت ترین مخالفوں میں سے تھا۔ غصے میں ہوتا تو اس کا پورا بدن کانپتا ، خوش ہوتا تو گول چہرے پر وسیع مسکراہٹ ، آنکھیں چمک اُٹھتیں ۔وہ بہت ہی کھلے ڈلے دل کا آدمی تھا دوستوں میں ہوتا توخوب چہکتا۔ لطیفے، مسکراہٹیں، قہقہے، بے تکلفیاں۔ تکیہِ کلام تھا '' لالے''۔ یا ، پھر پیار بھرا لفظ'' بے ایمانا'' اور ، یا '' اوئے کمینے''۔ کبھی کبھی '' اوئے ملتانی '' یا '' جااوئے بلوچی'' کہہ ڈالتا ، اِس صورت میں کہ آنکھوں میں چمکدار پانی بھر جاتا، چہرہ ہلکے سرخ رنگ سے منورہوجاتا اور ایک وسیع مسکراہٹ چہرے پر پھیل جاتی ۔۔۔۔۔۔ اِس افق سے اُس افق تک ۔۔۔۔۔۔ میاں محمود احمد۔
وہ طالب علمی کے زمانے میں ہی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوا تھا اور اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک ایک غیر متزلزل کمیونسٹ ہی رہا۔کمیونسٹ تحریک میں وہ ایک اور مستقل دریا،سی آر اسلم کا ایسا دست و بازو رہا کہ یک جان و دوقالب والی بات مکمل طور پر صادق آتی تھی۔
میاں محمود اپنی ساری زندگی مارشل لاؤں کے خلاف جدوجہد میں رہا، میدان خواہ جلسہ ہوتا یا جیل۔ اس کا موقف تھا کہ جس جمہوریت میں ہمیں مبتلا کردیا گیا وہ تو بہت بڑا فراڈ ہے۔ اصل میں آئی ایم ایف اپنے قرضوں کی وصولیابی کے لئے پاکستان میں اپنے نائب مقرر کرتا رہتا ہے۔ کبھی ڈنڈے بردار فوجی نائب اور کبھی ووٹ کا ڈرامہ سجا کر '' منتخب'' نائب۔ میاں محمود نے لیاقت علی خان سے لے کر پرویز مشرف تک سب امریکی نائبوں کو بھگتا۔ وہ ایوبی دور میں جیل گیا، ضیاء الحقی زمانے میں جیل گیا اور بقیہ ادوار میں جسمانی و نظریاتی مصیبتیں جھیلیں۔ حالیہ زمانے میں امریکہ کی نائب بے نظیر بھٹو تھی۔ اس نے امریکہ کے قرض کی وصولی اور اُسے بھجوانے کے فریضے کی تکمیل کے لئے بڑی عرق ریزی اور بڑی جاں فشانی سے محنت کی ۔ اس نے پرائیویٹائزیشن کے نام پر عوامی املاک کی فروخت شروع کی، مگر سود درسود والے قرضوں کی ایک قسط تک ادا نہ ہوسکی ۔ تب آئی ایم ایف نے اس کو برخاست کیا اور دوسرا نائب مقرر کردیا،نواز شریف کے نام کا'تاکہ اس کے قرضوں اورسود کی ادائیگی کی سیوریج لائن کھلی رہے۔ اس نے بھی اس ڈیوٹی کی بجاآوری میں اپنی چالاکی،بازاری مہارت، اور کاروباری تجربات والی ساری صلاحیتیں جھونک دیں مگر ''قرض اتارو ملک سنوارو'' بری طرح ناکام ہوا اورقرض کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ چنانچہ اُسے بھی برطرف کردیا گیا اور جنرل پرویز مشرف عنانِ حکومت پہ قابض ہوا۔ چہرے ایک بار پھر بدل گئے۔ الفاظ،فقرے،اصطلاحات بھی بدل گئیں۔ کرپشن،غنڈہ گردی اور افراتفری کی نوعیت بدل گئی۔ مذہب اور فرقہ کے نام پہ قتل قتال کا سلسلہ کبھی کم کبھی زیادہ ہوتا رہا۔گھٹن اوربنیاد پرستی بھی چلتی رہیں مگر اولین ترجیح وہی کی وہی رہی۔ آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل۔ چنانچہ احتساب شروع ہوا اور احتساب سے حاصل کردہ رقوم کو قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرنے کے اعلانات ہوئے۔ جنرل سیلز ٹیکس نافذ ہوا،بجلی ،پیٹرول،ڈیزل،گھاسلیٹ،گیس اور ٹیلی فون کے ریٹ بڑھے،لاکھوں افراد کو بے روزگار بنایا گیا اورمختلف انتخابی و انتظامی اصلاحات کے اعلان ہوئے۔ یہ سارے اقدامات آئی ایم ایف کے ماحول اور کلچر کی مطابقت میں لئے گئے۔
آئی ایم ایف سے عقل،منطق،استدلال،انسانیت اور دور اندیشی کی کوئی توقع نہیں ہوسکتی۔ قرضوں کی غلامی کا یہ تسلسل میاں محمود کے اس تصور کی ضد تھی جس کے تحت پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہوتا،اور جس کے لئے اس نے زندگی بھر جدوجہد کی۔ اس کا نظریہ تھا کہ پاکستان ہی کو ' یک طرفہ طور پر' قرضوں کی ادائیگی سے انکار کرنا ہوگا۔
میاں محمود احمد کی زندگی اور جدوجہد کا دوسرا بڑا محور کسانوں کی آزادی تھی۔ وہ کسانوں کو منظم کرنے،ان کی کمیٹیاں بنانے، اور ان کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا ہمہ وقتی کام کرتا رہا۔ وہ کسانوں کی زندگی کے مصائب سے بہت واقف تھا اور اس بڑی اکثریت کی نجات اور ترقی کو ملک بھر کی آزادی اور نجات گردانتا تھا۔ اس طرح وہ جاگیرداری نظام کا بدترین مخالف بن گیا جو کسانوں کی لوٹ اور استحصال کی سب سے بڑی وجہ اور سبب ہے ۔ اس کا استدلال تھا کہ سندھ،سرحد،پنجاب اور جنوبی بلوچستان میں ہزاروں ایکڑ نہری زمینوں کے مالک جاگیردار کسی صورت بھی اپنے کسانوں کو آزادی نہیں دیں گے۔ لاکھوں کروڑوں کی یہ آبادی صرف معاشی دست نگری کا ہی شکار نہیں ہے بلکہ یہ تو سماجی اور سیاسی طور پر بھی جاگیردار کے تابع ہے۔ اس طرح جمہوریت کا پورا تصور ان جاگیرداروں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ میاں محمود ان زمینوں پہ بلا معاوضہ قبضہ کرکے انہیں بے زمین کسانوں میں مفت تقسیم کرنا چاہتا تھا ۔ اس طرح وہ جاگیرداری نظام کے معاشی سیاسی اور ثقافتی اثرات سے پاک معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا جہاں کسان آزاد ہو ،اس کا ضمیر آزاد ہواور ضمیر کی رائے آزاد ہو،اس کا ووٹ آزاد ہو۔
وہ جاگیرداری اور سرداری نظام کی موجودگی میں ہر طرح کے الیکشن کو SHAM الیکشن اور SHAM جمہوریت کہتا تھا۔ مشرف کی فوجی حکومت نے جاگیرداری نظام کے بارے میں وہی چپ، سادھ رکھی تھی جو پچھلی فیوڈل حکومتوں نے اپنا رکھی تھی۔ اس حکومت کا خیال تھا کہ جب تک چاقو چھریوں سے لیس ،ہانپتے،غصہ سے لرزتے ہوئے،جنگ پہ آمادہ لوگ جاگیرداری کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتے اور جب تک ان کے مطالبات اور قوت سے حکومت کو خطرہ لاحق نہ ہوجائے اُس وقت تک جاگیرداروں اور ان کے نظام کو کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم یہ حکومت جاگیرداری نظام کو ختم نہیں کرے گی اور نہ ہی بنیادی زرعی اصلاحات کرے گی۔ اور وہ یہ اقدام نہ کرکے ایک اور SHAM اور جعلی جمہوریت قائم کردے گی۔ پاکستانی عوام کے دونوں بنیادی مسئلے یعنی سامراجی بالادستی اور جاگیرداری اسی طرح برقرار رہیں گے۔میاں محمود کی زندگی اُن دو باتوں کے خاتمے پر ہی تو وقف تھی۔
ذاتی زندگی میں بھی وہ مجسم انقلابی انسان تھا ۔ آپ آنکھیں بند کرکے کسی '' سخی'' کا تصور کرلیں، میاں محمود کی تصویر خود بخود اُبھرے گی۔ ایک اچھے انقلابی ہی طرح میاں محمود بھرپور یاری کرتا تھا ۔ شفاف، مکمل، اور استقامت بھری یاری۔۔۔۔۔۔ پیسہ ، محبت وقت، تکلیف سب کچھ جھونک دیتا تھا دوستی میں۔ مگر یار میں اگر اُسے معمولی بھی کھوٹ ، ہلکی سی بھی ملاوٹ نظر آجاتی تو نہ صرف دھڑلے سے دوستی توڑ ڈالتا تھا بلکہ اس شخص سے اتنا دور بھاگتا تھا جتنا کہ ہندو گائے کے گوشت سے۔ پھر خواہ وہ شخص سوچیؔ کاروح افزا پانی سو سال تک بھی پیتا، کریملن کے بڑے شخص سے نیکی کا سرٹیفیکیٹ بھی لاتا اور مست توکلی سے آئندہ کی نیک چلنی کی ضمانت بھی لے آتا، میاں محمود اس شخص کو سچا، اچھا سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ کمیونزم میں تو معمولی سی ملاوٹ کرنے والا بھی اس کا کٹر مخالف ہوتا۔ اپنے نظریے کی بنیادی چوکھٹ پہ کبھی چوٹ لگانے نہیں دیتا تھا ۔ وہ اپنی صفوں میں کسی آزاد خیال، کسی ترمیم پسند کو قبول نہیں کرتا تھا۔ اتنا کھرا، اتنا سچا اور اٹل شخص تھا میاں محمود۔
میاں محمود احمد فیصل آباد میں تین جولائی2002 کو 70برس کی عمر میں انتقال کرگیا ۔وہ لدھیانہ کے وکیل گھرانے میں پیدا ہوا۔ کالج کا زمانہ لدھیانہ میں گزارا اور وہیں انقلابی خیالات سے روشناس ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد میاں محمود احمد کا گھرانہ لائلپور میں آکر آباد ہوگیا۔ یہاں آنے کے بعداس نے یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا۔ قانون کی تعلیم کے حصول کے دوران اس نے طلباء سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر وہ کمیونسٹ پارٹی کے قریب آگیااور1949 میں اس کا ممبر بن گیا۔50سال تک میاں محمود نے بھرپور طور پرانقلابی سیاست کی اور آخری سانس تک عہدِ و فا کو نبھائے رکھا ۔ پارٹی مقاصد کے حصول کے لیے اُس نے نہ کبھی اپنے تن کی پروانہ کی نہ من کا خیال رکھا اور نہ دھن کو بچایا۔ اس کو انقلابی آدرش سے اتنا عشق تھا کہ اس نے اپنا کنبہ بھی نہ بسایا۔وہ کارکنوں کو ہی اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا تھا۔ وہ ایک سچا مارکسسٹ اور عظیم انقلابی تھا اور اسے مارکسی فلسفے کی حقانیت پر آخری دم تک یقین رہا۔
جب 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی تو اُس نے کسان فرنٹ میں زور وشور سے کام جاری رکھا۔1957 میں نیشنل عوامی پارٹی بنی تو وہ اُس کے بنانے والوں میں شامل تھا۔
بیرونی سطح پر وہ اور اُس کے دوست خواہ جس پارٹی میں بھی رہے، انہوں نے کسان فرنٹ اور مزدور فیڈریشن سے اپنی توجہ کبھی نہ ہٹائی۔ کمیونسٹ پارٹی سے نیشنل عوامی پارٹی اور وہاں سے میاں محمود1971 میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی تشکیل کے وقت اُس کے تاسیسی ممبروں میں شامل رہا۔ پارٹی کی تنظیم بنانے اور اسے عوام میں روشناس کرانے کے لیے اُس نے خیبر سے کراچی تک شہر شہر نگر نگر جا کر پارٹی بنائی۔
سی آر اسلم، ملک اسلم، محمد علی بھارا اور میاں محمود ساری زندگی بے چین الیکٹران کی طرح جا بجا بھاگتے پھرتے رہے، پارٹی بناتے رہے، سٹڈی سرکلیں منظم کرتے رہے کسان کانفرنسیں منعقد کرتے رہے، طالب علموں مزدوروں تک رسائی کرتے رہے، کج فہمیاں دور کرتے رہے، انسان کی تکریم والی سیاسی پارٹی منظم کرتے رہے ۔ ملک میں کونسی ایسی کسان کانفرنس تھی جس میں میاں محمود کا وقت، توانائی اور فنڈ شامل نہ رہا۔ مزدوروں کا کوئی ایسی اکٹھ نہ تھی جس میں یہ نظریہ آنے والا شخص محنت نہ کرتا۔
یہ کمال شخص کانفرنس شروع ہونے سے کئی دن قبل ساتھیوں کو ساتھ لے کر اس علاقے چلا جاتا۔ ڈیرے ڈالتا، رابطے کرتا، تیاری کی معمولی سے معمولی باتوں کود دیکھتا، پنڈال سے لے کر حاضرین کے ٹرانسپورٹ کے لیے ٹریکٹر ٹرالیوں کے انتظامات کرواتا، مقرروں کی لسٹوں سے لے کر قراردادوں کے الفاظ تک، حکومتی جبر کے ہتھکنڈوں کے تدارکی راستوں سے لے کر اخراجات کی آخری پائی کی ادائیگی تک سمجھو ہر چیز کا انچارج ہوتا۔ مگر جب جلسہ شروع ہوتا تو سٹیج پہ وہ کبھی بھی نظر نہ آتا۔ دور کہیں غیر اہم جگہ پر چکر لگاتے جلسہ پہ نظر رکھتا۔ دوست دشمن کی حرکتوں سے خبردار رہتا اور یقینی بناتا کہ جلسہ ڈسپلن، پرامن اور کامیاب رہے۔میاں محمود کی سفید رنگ کی ٹویوٹاکار تو سوشلزم کیلئے گدھا گاڑی بن چکی تھی۔کاش پاکستانی انقلاب کے کسی چوک پرمیاں محمود کا ایک مجسمہ ہوتا 'اور فیصل آباد کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی اس کی موٹر کاربھی وہاں رکھ دی جاتی ۔۔۔۔۔۔۔
لاہور کے دل یعنی میکلوڈ روڈ پر ایک عمارت خرید کر انقلابی پارٹی کے بطور وقف کرنا انقلاب کے اسی '' نوذ بندغ'' سخی کی جیب سے عمل میں آیا تھا۔
وہ وکالت میں ٹیکسیشن لاء کی پریکٹس کرتاتھا۔اس کا بنیادی حلقہ اثر فیصل آباد کے مزدور اور ضلع فیصل آباد اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کسان تھے۔ وہ دوبارفیصل آباد کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر بنا۔ پنجاب بار کونسل کا فنانشل سیکرٹری بھی رہا۔
میاں محمود احمد ایک ہر دلعزیز اور محبوب انسان تھا۔ ایثار و قربانی کی یہ مجسم مثال نام و نمود اور شہرت سے بہت دور رہتا تھا۔ وہ دوسرے کامریڈوں سے بھی یہی توقع رکھتا تھا ۔ ہم نے دیکھا تھا کہ اس کی کبھی بھی ان پارٹی لیڈروں سے یاری نہ رہی جو بیوروکریٹک طرز کی لیڈری کرتے تھے۔
اور کارکنوں کی عزت نہ کرتے تھے۔ میاں محمود ایک سچا اور کھرا انسان تھا۔ اس کے یہ سارے اوصاف اس کے نظریات ہی کی بدولت تھے۔ اسے انسان اور بالخصوص غریب انسان سے بے حد وابستگی تھی۔ اس کا شخصی دشمن کوئی تھا ہی نہیں،سوائے ان لوگوں کے جو غریبوں کے دشمن تھے۔ میاں محمود اپنی پارٹی کے ساتھیوں پر تو جان دیتا ہی تھا مگروہ اپنی پارٹی سے باہربھی ہر ترقی پسند جمہوری سیاسی ورکر کا ہر دلعزیز ساتھی تھا ۔ وہ خود دار اورباوقار شخص تھا، اپنے نظریات کی طرح پاکیزہ،منظم،واضح' کھلا ڈالا اور اٹل انسان۔
میاں محمود جیسا خوش خوراک شخص شاید ہی کوئی ہوگا۔ مگر وہ خوش خوراک صرف اُس وقت تھا جب کوئی مہمان ساتھ ہوتا۔۔۔۔۔۔ اور بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ بغیر مہمان کے ہو۔ خواہ لاہور کے چوبر جی والا'' خان بابا'' ہوٹل ہو، لاہور کے چائنیز ہوں یا پھر لاہور میں پنجابی کلچر کا شاہکار ولیج ہوٹل ہو، میاں محمود اپنے دوستوں کے جلو میں یہاں نظر نہ آتا تو سمجھیں وہ لاہور آیا ہی نہیں ہوا۔
ضیاء الحق کمیونسٹوں سے سخت چڑتا تھا ۔ سختیاں ، مار کُٹائی، کوڑے، جیلیں، موت ۔۔۔۔۔۔ یہ سب چھکے چوکے ضیاء مارتا رہا، دائیں بائیں ، افغانستان میں ،ایران میں، کشمیر میں اور خود پاکستان میں۔۔۔۔۔۔ اور اس پورے دور میں جتنے بھی کمیونسٹ اجتماعات ہوئے، جتنی بھی کسان کانفرنسیں ہوئیں، جتنے بھی ٹریڈ یونین جلسے ہوئے، جتنے بھی افغان ثور انقلاب کی حمایت اورمارشل لاء کی مخالفت میں میٹنگیں ، جلوس اور ریلیاں ہوئیں، ان سب کے پیچھے میاں محمود ہی کا کھڑ پیچ والا رول ہوتا تھا۔
پارٹی اور اُس کی عوامی تنظیموں کی کانفرنسوں میں میاں محمود ضرور بالضرور موجود ہوتا ۔چنانچہ پارٹی کے منچلوں کا یہ نعرہ بہت مقبول ہوا تھا '' ہر جگہ موجود۔۔۔۔۔۔ میاں محمود، میاں محمود''۔
میاں صاحب واقعتاً عالمی سوشلسٹ انقلاب کا ہول ٹائمر تھا ۔ شہرت کے لیے باؤلا ہونے والے لیڈروں والے ملک میں اتنی '' بے لیڈری'' سے بھرپور شخصیت صرف اور صرف میاں محمود احمد کی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ضیاء الحق کے مارشل لاء دورمیں دوسرے پارٹی لیڈروں کے ساتھ اُسے بھی پابند سلاسل کیا گیاتھا ۔ جیل میں رہ کر بھی اسے پارٹی کارکنوں اوران کی بہبود کا خیال رہتا تھا۔ وہ نوجوان سیاسی کارکنوں کو ہمیشہ انسپائر کرتا اور انہیں ڈسپلن کی پابندی سکھاتا۔ وہ ان کی ہر طرح سے دلجوئی بھی کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کارکنوں میں بہت ہردلعزیز تھا۔
اسی زمانے میں سوویت یونین سے اپنی ہی خوشحالی آبادی دیکھی نہ جاسکی اور بلا کسی وجہ کے محنت کرنے والے انسانوں کی حکومت والے اس اخلاقی سپر پاور نے خودکشی کرلی۔ میاں محمود احمد کو سوویت یونین کے ختم ہوجانے کا بہت صدمہ ہوا ۔ وہ بہت دلبرداشتہ اور نڈھال ہوگیا اور سچی بات یہ ہے کہ وہ پھر کبھی سنبھلا ہی نہیں۔ محبوب نہ رہے تو زندگی کی رمق ختم ہی ہوجاتی ہے۔
پھر ایک اور بم اُس پر گرا۔ آرگنائزیشن پر جان نچھاور کرنے والے اس شخص کی اپنی پارٹی میں اچانک پیٹی بورژوا رحجانات ابھرے اورخود پرست '' آئی ایم'' کے مارے ہوئے تقریر چیوں کی جانب سے لفاظی کا مینہ برسا ۔وہ اور اُس کی ٹاپ لیڈر شپ مغلظات کا شکار ٹھہرے۔ پریس ریلیزیں، بیانات، مسودے الغرض دائیں بائیں جو بھی کیچڑی الزامات اُس وقت میسر تھے وہ اِن پاک متحرک و فعال انسانوں پہ لیپ دیے گئے۔ اور باقاعدہ پارٹی توڑ دی گئی۔
ایک طرف سوویت یونین مرگیا اور دوسری طرف اس کی زندگی بھر کی پونجی، پاکستان سوشلسٹ پارٹی ٹوٹ گئی۔ شادی ، بچے، جائیداد سب کچھ تو اُس کی پارٹی تھی۔ جن پیٹی بورژوا رحجانات کے خلاف وہ ساری عمر لڑتا رہا، آج وہی رحجان خود اُس سے لڑچکا تھا۔
گو کہ کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان سوشلسٹ پارٹی سے بچھڑا گروہ بغیر کسی وجہ کے دوبارہ اصل سے مل گیاکہ اور راہ نہ تھی۔مگر نقصان تو پہنچ چکا تھا۔ایک فیملی کے اندر '' آئی ایم'' کا نرگسیت بھرا بھینسا گھس کر سارے برتن توڑ چکا تھا۔
اِن دو بڑے جھٹکوں کے نتیجے میں یا اِن کے ساتھ ساتھ میاں محمود احمد عمر کے آخری حصے میں بہت بیماریوں کا شکار رہا ۔ وہ عرصے سے بلڈ پریشر اور شوگر کا مریض تھا ۔ پھر گردے فیل ہوگئے ، اور پھربرین ٹیومبر تشخیص ہوئی۔
بستر مرگ پر بھی وہ ہر وقت پارٹی اور اس کے کارکنوں کی بہبود کے بارے میں فکر مند رہتا ۔اس لکھ پتی وکیل کے بنک میں ٹکہ تک نہ تھا۔ لیڈر لیڈری کرتے رہے اور وہ ہسپتال میں پڑا موت کی دہلیز پر پارٹی پارٹی کررہا تھا۔ مگر سلیم بھٹہ جیسے کالے موٹے اکھڑورکر چوبیس گھنٹہ ساتھ رہ کر موت کے ڈائنٹر کو ہر مل کا دھواں دیتے رہے۔ غفور جیسا ورکر گھر کا آخری روپیہ بھی اپنے کامریڈ پر خرچ کر چکا۔ احسان یوسف '' اللہ رکھی ٹرسٹ'' کے سارے بٹوے نذر کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر حسین زندگی پر کوجھی موت بالآخر کالا پردہ ڈال گئی۔3 جولائی2002 میں میاں محمود فوت ہوگیا۔
میاں محمود احمد ، اب فیصل آباد میں نہ رہا ، کسی کسان کانفرنس میں محنت و محبت و مال لٹا کر جلسے سے دور کھڑے انتظامات کے دیکھنے کو پختہ انتظام کار موجود نہ رہا ، بے تکلف مزدور یاروں کے مزاح و مذاق کا نشانہ بنا شرماتا ہوا میاں محمود اب طویل خاموشی کی دنیا میں منتقل ہوگیا۔۔۔۔۔۔ آزادخیالی، بے ڈسپلنی اور لفاظی بواسیری بیماری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہٹ گئی۔
اتنا بڑا صدمہ '' یار رکھنے والوں '' کو نہ ملے شالا۔ بے برکت دھرتی کے اُجاڑ شہروں میں سے، ایک آئیڈیل فوت ہوگیا ۔ کس یار نے اپنے دو آنسو اُس پہ نہیں وارے ہوں گے( کسی نے مجمعے میں، کسی نے کونے میں، کسی نے دل کی گہرائی میں)۔ یہ آنسو ، یہ بزدلی، یہ ماتم انہی لوگوں کے حصے میں آئی جو میاں محمودکے پیروکار تھے۔ جس دوست کو بھی اس کی موت کی خبر ہوئی، ایک وقت کا چولہا نہیں جلا اُس کے گھر ، اُس پہر کا کھانا نہیں گزرا اُس کے حلق سے۔ کون کس سے تعزیت کرے؟۔ کون کہاں فاتحہ پڑھے، کہ محمود تو ہر گھر کا فرد تھا، ہر شخص اُس کے غمناک گھرانے ہی کا تو تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ جس شخص نے بغیر ڈگمگائے، بغیر پھسلے، بغیر'' اگر مگر'' ، اور بغیر '' میں میں'' کہے اپنی زندگی کے مسلسل60 برس انسان کی خیر خواہی کے نظریے کی نذر کردیے ہوں، اُس بڑے انسان کی فاتحہ ایک شخص، ایک گھر،اور ایک فیملی میں ہوبھی نہیں سکتی، پورے سماج ، پوری آبادی کے ساتھ تعزیت کی جائے۔ لہٰذا مزدورو کسانو، جمہوریت پسند و، آزادی کے متوالو! ہماری طرف سے میاں محمود کی تعزیت قبول کرو۔۔۔۔۔۔ تمہاری طرف سے ہم قبول کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمارا سانجھا چلتن پہاڑگرگیا۔۔۔۔۔۔ بڑے انسان مرکر بڑی خلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم زندگی بھر ہر برس اُس کی برسی منائیں گے۔
ہاں، مگر کوئی کہے کہ اُس کی موت سے کوئی خوش نہ ہوا ہوگا، غلط ہے۔ طبقاتی دشمنوں کا تو پتہ ہے، مگر بعد میںیسوع کے اپنے تعزیتی جلسے میں غم کی تصویر بنے حواری مقرروں کے دل میں پھوٹتے لڈو بھی منوں کے وزن سے موجود تھے۔
میاں محمود احمد کی مقدس یادیں اس کے شاندار نظریات کی طرح ابدی ہیں۔ ایسے بے لوث لوگوں کی یاد انقلابی عمل کے لئے ایک قوت متحرکہ ہوتی ہے۔ اس کے دوست ،اُس کے پیروکار اُسے بھولے نہیں ہیں۔ اورایمانداری کی بات یہ ہے کہ جب بھی اس کی یاد ڈنگ مارتی ہے تو اس کے دوست سامراجی زور آوری اور جاگیرداری نظام کے خلاف اپنی جدوجہد تیز ترکرتے ہیں۔ جی ہاں ،یہی کرتے ہیں میاں صاحب کے ساتھ وفا اور دوستی نبھائے رکھنے کی قسم کھائے ہوئے لوگ۔
میاں محمود کی پیداکردہ خالی جگہ شاید ایک دو افراد سے بھری نہ جاسکے۔ ایک مجمع، ایک اجتماع پیدا کرنا ہوگااہلیانِ فیصل آباد کو ہماری اس جائز خواہش کی تکمیل کے لیے کہ ۔۔۔۔۔۔ مزدوروں، کسانوں، انقلابی دانشوروں اور انسان دوست انسانوں کو میاں محمود چاہیے، فیصل آبادہی سے ۔۔۔۔۔۔ ۔ہاں، وہی میاں محمود جو ڈاک سے موصول شدہ '' سنگت'' رسالے کا نیا شمارہ پڑھ کر کوئٹہ فون کرکے شفقت سے بھری ، مگر ہیڈ ماسٹری والی آواز میں کہے'' اے کی لکھیائی کمینے'' ، یا پھر مسرت سے مرتعش آواز میں کہے'' بہت اچھا شمارہ ہے، لالے''۔ |
واٹس ایپ میں اس نئے فیچر کا آپ کو علم ہوا؟ اب آپ کسی کے میسجز سے تنگ ہوں تو بلاک کیے بنا کیسے اپنی مرضی سے اس کو ہینڈل کر سکتے ہیں ؟ جانیے - وطن نیوز
Home/Featured/واٹس ایپ میں اس نئے فیچر کا آپ کو علم ہوا؟ اب آپ کسی کے میسجز سے تنگ ہوں تو بلاک کیے بنا کیسے اپنی مرضی سے اس کو ہینڈل کر سکتے ہیں ؟ جانیے
admin January 13, 2021 Featured Leave a comment 135 Views
آل ویز میوٹ نامی اس فیچر پر گزشتہ کئی ماہ سے کام ہورہا تھا اور اب اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے۔اس فیچر کی مدد سے صارفین کسی بھی کانٹیکٹ یا گروپ کے نوٹیفکیشن کو ہمیشہ کے لیے میوٹ کرسکیں گے۔اس سے پہلے واٹس ایپ کی جانب سے کسی گروپ یا کانٹیکٹ کے مسلسل نوٹیفکیشن سے پریشان صارفین کو میوٹ کے 3 آپشنز دیئے جاتے تھے ، جن کی مدد سے نوٹیفکیشن کو 8 گھنٹے، ایک ہفتے یا ایک سال کے لیے میوٹ کیا جاسکتا تھا۔مگر اب کسی بھی چیٹ کو ہمیشہ کے لیے میوٹ کرنا ممکن ہے۔
ایک ٹوئٹ میں واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کیا، جس کا واضح مقصد صارفین میں یہ احساس بڑھانا ہے کہ انہیں اپنے پیغامات بھیجتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے ورنہ ان کا دوست یا جاننے والا اسے ہمیشہ کے لیے میوٹ کرسکتا ہے۔اس نئے فیچر میں ایک سال کے آپشن کی جگہ ہمیشہ یا آل ویز نے لے لی ہے۔اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس اوپن کرکے مطلوبہ چیٹ کو کچھ دیر تک دبا کر رکھنا ہوگا جس کے بعد اوپر بار میں میوٹ آئیکون کو سلیکٹ کرنا ہوگا۔ایسا کرنے پر 8 گھنٹے، ایک ہفتہ اور آل ویز کے آپشنز نظر آئیں گے، جس میں سے اپنی پسند کا انتخاب کرکے اوکے کو کلک کرنا ہوگا۔
ایسا کرنے کے بعد اس مخصوص چیٹ کے نوٹیفکیشنز ہمیشہ کے لیے میوٹ کیے جاسکیں گے۔تاہم صارف اگر بحال کرنا چاہے تو اس چیٹ کو دوبارہ کچھ دیر دبا کر ان میو یا اسپیکر آئیکون پر کلک کرنا ہوگا۔ویسے اگر آپ لوگوں کی جانب سے واٹس ایپ گروپس میں ایڈ کیے جانے پر پریشان ہیں تو گروپ پرائیویسی سیٹنگز میں ایک فیچر کو ان ایبل کرکے طے کرسکتے ہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی کسی نئے گروپ میں آپ کو ایڈ کرسکیں۔اس فیچر کو ان ایبل کرنے پر صارفین کو کسی گروپ کے لیے دعوت نامہ ملے گا اور انہیں براہ راست ایڈ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ اوپن کرکے سیٹنگز میں جائیں، وہاں اکاؤنٹ اور پھر پرائیویسی آپشن میں گروپس میں جائیں اور وہاں ایوری ون، مائی کانٹیکٹس یا مائی کانٹیکٹس ایکسیپٹ میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب کریں۔
Previous پنجاب کا بڑا نام (ق) لیگ میں شامل، چوہدری برادران نے بڑی وِکٹ اُڑا دی
Next بریکنگ نیوز: اب اگر یہ کام کیا تو خود استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا ،ورنہ میں خود نکال دونگا ۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان نے وزراء کو وارننگ جاری کردی |
دو روزہ تنظیمی و تربیتی ورکرز کنونشن - تحریک منہاج القرآن
دو روزہ تنظیمی و تربیتی ورکرز کنونشن
مورخہ: 14 اکتوبر 2009ء
منہاج القرآن ویمن لیگ کے تحت مورخہ 14 ,15 اکتوبر 2009ء دو روزہ تنظیمی و تربیتی دورہ کیا گیا۔ اس دوران ڈسکہ، سیالکوٹ، اور سنمبڑیال کا دورہ کیا گیا۔ جس میں مرکز کی جانب سے فاطمہ مشہدی صدر منہاج القرآن ویمن لیگ، ساجدہ صادق مرکزی نائب ناظمہ ویمن لیگ، اور انیلہ الیاس ڈوگر مرکزی ناظمہ تربیت نے شرکت کی۔
ڈسکہ اور سیالکوٹ میں عظیم الشان ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں تحصیلی سطح اور Ucs سے ذمہ داران، کارکنان اور وابستگان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ مشہدی نے تحریک کے مقاصد، قائد کی مجددانہ خدمات اور قائد اور کارکن کے رشتے کی اہمیت سے شرکاء کنونشن سے آگاہ کیا۔ محترمہ ساجدہ صادق نے ورکنگ پلان کی اہمیت اور مقاصد بیان کیے۔ نیز سال 10-2009 کی ترجیحات اور اہداف سے بھی ذمہ داران کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پلاننگ کی اہمیت اور تقاضوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ محترمہ انیلہ الیاس ڈوگر نے تربیت کی اہمیت و ضرورت کو شرکاء پر واضع کیا نیز تربیت کے پراجیکٹس، زاد سفر اور سی ڈی ایکسچینج کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ کنونشن کے اختتام پر ڈسکہ کی تنظیم نو بھی کی گئی۔
اسی طرح سمبڑیال میں بھی تنظیمی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ذمہ داران اور وابستگان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محترمہ فاطمہ مشہدی نے گفتگو کرتے ہوئے ویمن لیگ کی ورکنگ اور کارکن کی فضیلت بیان کی۔ محترمہ ساجدہ صادق نے ویمن لیگ کی ورکنگ، سٹرکچر اور اشاعت دین میں صحابیات کے کردار کے موضوع پر گفتگو کی۔ محترمہ انیلہ الیاس ڈوگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدمت دین کی توفیق فضل اللہ ہے اور اولیاء اللہ کی نسبت کے بغیر ایمان کی سلامتی ناممکن ہے انہی کی صحبت سے تزکیہ نفس ممکن ہے بعد ازاں سنمبڑیال میں تنظیم سازی کی گئی۔ |
جمعرات : 18 نومبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں - ۔آئی بی سی اردو
Posted By: ٹیم آئی بی سی اردو نیوزon: November 18, 2021 In: دنیا
امریکا پیچھے رہ گیا، چین دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا
چین امریکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا۔امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق عالمی دولت دو دہائیوں میں 156 کھرب سے بڑھ کر 514 کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے جس میں سے چین کی دولت 120 کھرب ڈالرز اور امریکا کی دولت 90 کھرب ڈالرز ہے۔بلوم برگ کے مطابق دنیا بھر کی دولت کا دوتہائی حصہ صرف 10 فیصد اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ عالمی دولت کا 68 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک ہے۔
بھارت: فضائی آلودگی بڑھنے سے بچوں میں سانس کی بیماریوں میں 3 گنا اضافہ
نئی دہلی میں فضائی آلودگی بڑھنے سے بچوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث بچوں میں دمے سمیت سانس کی دائمی بیماریاں بڑھ گئی ہیں۔مقامی ڈاکٹرز کے مطابق 10 دنوں میں سانس کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی تعداد میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔فضائی آلودگی کی وجہ سے نئی دہلی میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی فضائی آلودگی کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔
جرمنی میں ایک دن میں پینسٹھ ہزار کورونا انفیکشنز کا نیا ریکارڈ
جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید پینسٹھ ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ابھی چند روز قبل ہی پچاس ہزار سے زائد انفیکشنز کا نیا یومیہ ریکارڈ بنا تھا، جو اب ٹوٹ گیا ہے۔ متعدی امراض کی روک تھام کے نگران جرمن ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ لوتھار ویلر کے مطابق نئی یومیہ انفیکشنز کی حقیقی تعداد پینسٹھ ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس وقت جرمنی میں فی ایک لاکھ آبادی میں نئے کورونا کیسز کی ہفتہ وار اوسط تین سو سے بھی زیادہ ہے۔ لوتھار ویلر کے بقول ممکن ہے کہ ملک میں نئی کورونا انفیکشنز کی اصل تعداد معلوم ڈیٹا سے دو یا تین گنا زیادہ تک ہو۔
بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ
بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق فضائیہ کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر ریاست ارونا چل پردیش میں لینڈنگ کے دوران گر کر تباہ ہو ا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں 2 پائلٹس اور 3 کریو ممبرز موجود تھے تاہم تمام محفوظ رہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع جنرل لائڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ نئے نیوکلیئر معاہدے کے حامی ہیں۔امریکی وزیر دفاع جنرل لائڈ آسٹن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے خطے میں سکیورٹی کے خطرات درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران کی کارروائیوں اور رویے پر تشویش ہے جبکہ ہم ایرا ن کے امریکی اور اتحادیوں کے مفادات ک خلاف اقدامات کا جواب دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی مفادات کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں،ایران جن مفادات کو نقصان پہنچاسکتا ہے اس کی تشویش اتحادیوں کو بھی ہے۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ صدربائیڈن ایران کے ساتھ نئے نیوکلیئر معاہدے کے حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اگلے ہفتے بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کروں گا جس میں اتحادیوں سے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات ہوگی۔
امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث جیکب چانسلی کو ساڑھے 3 برس قید کی سزا
امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث جیکب چانسلی کو ساڑھے 3 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق سینگھوں والی ٹوپی پہنے جیکب چانسلی 6 جنوری کو کانگریس پر حملے میں پیش پیش تھا۔
جیکب چانسلی پر کار سرکار میں خلل ڈالنے کا جرم ثابت ہونے پر انہیں 41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست پر ان کے انتہا پسند حامیوں نے کانگریس پر دھاوا بول دیا تھا۔جیکب نے کانگریس پر حملے کو غلطی تسلیم کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا تھا۔
ٹرمپ فوج کو ذاتی غنڈوں کے اسکواڈ میں بدلنے کا ارادہ رکھتے تھے، امریکی صحافی
امریکی صحافی نے اپنے مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج کو ذاتی غنڈوں کے اسکواڈ میں بدلنے کا ارادہ رکھتے تھے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں صحافی میکس بوٹ کا ایک کالم شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کیے گئے چند فیصلوں کو بنیاد بناکر یہ کہا ہے کہ اگر انہیں دوسری بار صدارت مل جاتی تو شاید وہ فوج کو اپنے ذاتی اسکواڈ میں تبدیل کردیتے۔مضمون میں ABC نیوز کے ایک رپورٹر جوناتھن کارل کے حاصل کردہ میمورنڈم کا حوالہ دیا گیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈائریکٹر برائے صدارتی افسران جانی میک اینٹی کی جانب سے ٹرمپ کو بھیجا گیا تھا۔ اس میمو میں میک اینٹی نے ٹرمپ کو 14 وجوہات بتائیں جن کی بنیاد پر انہیں وزیر دفاع مارک ایسپر کو برطرف کردینا چاہیے۔
منسک حکومت اپنی جارحانہ اور استحصالی مہم بند کرے، جی سیون کا مطالبہ
جی سیون گروپ کے وزرائے خارجہ نے آج جمعرات کے روز مطالبہ کیا کہ بیلاروس پولینڈ کے ساتھ اپنی سرحد پر تارکین وطن کے موجودہ بحران کو جلد از جلد ختم کرے۔ دنیا کے سات صنعتی ترقی یافتہ ممالک نے بیلا روس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یورپ کو تارکین وطن کے ایک نئے بحران سے دوچار کرنے کی کوشش میں ہے۔ ان وزارء نے کہا کہ بیلاروس کے صدر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے ان تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا پر مشتمل جی سیون کے وزراء نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ منسک حکومت اپنی جارحانہ اور استحصالی مہم فوراﹰ بند کرے۔
ایتھوپیا کی جنگ ملکی دارالحکومت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، امریکا
امریکا نے انتباہ کیا ہے کہ ایتھوپیا میں جاری جنگ ملکی دارالحکومت ادیس ابابا کے قریب تک پہنچ گئی ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ مصروف ترین افریقی ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے ادیس ابابا ایئر پورٹ سے آنے جانے والی پروازوں کے پائلٹوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ ممکنہ طور پر زمینی ہتھیاروں سے کیے گئے حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایتھوپیا کی سکیورٹی فورسز اور شمالی تیگرائی کے علاقے کے جنگجوؤں کے مابین شدید جھڑپیں ادیس ابابا ایئر پورٹ کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ امریکا نے اسی ہفتے ایتھوپیا میں اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی تھی۔
روسی اور امریکی سکیورٹی حکام کی ٹیلی فون پر گفتگو
روس اور امریکا کے سکیورٹی حکام نے آپس میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ یہ بات آج جمعرات کے روز کریملن کی طرف سے بتائی گئی۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نکولائی پاتروشیف اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے آپس میں ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ پیسکوف کے مطابق اس گفتگو میں سائبر سکیورٹی، یوکرائن کی صورت حال اور تارکین وطن کے بحران جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن نے کہا ہے کہ یہ بات چیت روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کی آئندہ دنوں ہونے والی سربراہی ملاقات کی تیاریوں کا حصہ تھی۔ پوٹن بائیڈن سمٹ کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔
یبلاروس سے پولینڈ میں داخلے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ
پولینڈ نے کہا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ سرحد پار کر کے پولینڈ میں داخلے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں پھنسے ہزاروں تارکین وطن سخت سردی میں برف سے ڈھکے جنگلات میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین میں سے بہت سے عراقی شہری ہیں، جنہیں پولینڈ میں داخلے سے روکا جا رہا ہے اور واپس بیلاروس کے دیگر علاقوں کی طرف لوٹنے سے بھی۔ کئی عراقی باشندوں کو ممکنہ طور پر پہلی بار آج جمعرات کے روز یبلاروس کے دارالحکومت منسک سے ایک مسافر ہوائی جہاز کے ذریعے واپس عراق بھیجا جا رہا پے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق دو سو سے لے کر تین سو تک تارکین وطن، جن میں اکثریت مردوں کی ہے اور ان کے ساتھ کم سن بچے بھی ہیں، کُزنیچا برُوزگی کی سرحدی گزرگاہ کے قریب عارضی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یوکرائن کو روسی حملے کا خطرہ ہے، جرمنی متعینہ یوکرائنی سفیر کا موقف
یوکرائن کے برلن متعینہ سفیر نے روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ آندرچ مَیلنک نے یہ بیان یوکرائن کی سرحد پر روسی دستوں کی تازہ ترین نقل و حرکت کے تناظر میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں مشرقی یوکرائن اور کریمیا کے کچھ حصوں پر روسی قبضے کے بعد سے روس کے یوکرائن پر حملے کا خطرہ کبھی اتنا شدید نہیں تھا جتنا اس وقت۔ یوکرائن کے علاوہ مغربی ممالک کے خفیہ اداروں نے بھی کہا ہے کہ یوکرائنی سرحد پر روسی فوجی تعیناتی میں بڑے پیمانے پر اضافہ نظر آ رہا ہے۔ یوکرائن کی مشرقی سرحد پر اور روسی سرحد سے متصل یوکرائن کے مقبوضہ صنعتی علاقے ڈونباس میں ایک لاکھ چودہ ہزار روسی فوجی تعینات ہیں۔ یوکرائنی سفیر نے کہا کہ جرمنی کو ان حالات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔
'فیوچر پرائز 2021ء' بائیو این ٹیک کے نام
جرمن شہر مائنز کی دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کے کورونا ویکسین تیار کرنے والے سائنسدانوں کو جرمنی کے اعلیٰ ترین سائنسی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ بائیو این ٹیک کے بانی جوڑے اُوئزلِم تُوریچی اور اُوگُور شاہین کی قیادت میں کام کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کو یہ 'فیوچر پرائز 2021ء' وفاقی جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے پیش کیا۔ بائیو این ٹیک کے ماہرین کو یہ اعزاز بہت مختصر مدت میں کورونا ویکسین ایجاد کرنے پر دیا گیا۔ جرمنی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ اعزاز 1997ء سے دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ڈھائی لاکھ یورو کی نقد رقم بھی دی جاتی ہے۔
نائجر میں مشتبہ جہادیوں کے تازہ حملے میں درجنوں ہلاکتیں
افریقی ملک نائجر کی وزرات داخلہ کے مطابق مالی کے ساتھ سرحد سے متصل شہر باکورات میں مشتبہ جہادیوں کے ایک حملے میں کم از کم پچیس افراد مارے گئے۔ آج جمعرات کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ نائجر کے صحرائی علاقے تاہوا میں منگل کے روز کیا گیا۔ رواں سال کے آغاز سے ہی نائجر میں مشتبہ جہادیوں کے عام شہریوں پر خونریز حملے کافی زیادہ ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ اورداعش سے روابط رکھنے والے مسلح گروہ تین افریقی ممالک نائجر، برکینا فاسو اور مالی کے سرحدی علاقوں پر مشتمل جغرافیائی مثلث میں 2017ء سے اپنی خونریز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یورپ چین سے روابط اور تعاون منقطع نہ کرے، انگیلا میرکل
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپ کو تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون منقطع نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم میرکل کے مطابق حقوقِ املاکِ دانش کا تحفظ ابھی تک ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہونے والی جرمن چانسلر میرکل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کے ساتھ کشیدگی کے باوجود جرمنی اور یورپ کے لیے تحقیق و ترقی کے شعبے میں چینی اداروں کے ساتھ تعاون کی اپنی اہمیت ہے۔ میرکل نے کہا کہ چین کی جانب سے جرمن اداروں میں جاسوسی اور ٹیکنالوجی کی چوری جیسے امور پر خدشات کے باوجود چین سائنسی اور صنعتی شعبوں میں جرمنی اور یورپ کا اہم پارٹنر ملک ہے۔
بیلجیم میں ایک بار پھر سخت کورونا ضوابط کا نفاذ
بیلجیم کی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کی تازہ ترین لہر کو روکنے کے لیے سخت تر ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ دس سال سے زائد عمر کے تمام شہریوں کے لیے حفاظتی ماسک پہننا لازمی کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عام کارکنوں پر زیادہ سے زیادہ حد تک گھروں سے کام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ آئندہ پیر سے عام کارکنوں کو ہفتے میں کم از کم چار دن گھروں سے کام کرنا ہو گا۔ ان اقدامات کا اعلان وزیر اعظم الیکسانڈر دے کرُو نے برسلز میں کیا۔ عام شہریوں کے لیے دوران سفر، بازاروں، ریستورانوں اور عوامی تقریبات میں ماسک پہننا بھی لازمی کر دیا گیا ہے۔ بیلجیم میں کورونا وائرس اس وقت اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے، جتنی گزشتہ ایک سال میں نظر نہیں آئی تھی۔
سوڈان میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کے شرکاء پر کریک ڈاؤن
سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں کے شرکاء پر فائر کھول دیا۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم پندرہ افراد کو گولی مار دی گئی۔ جمہوریت کی حامی ڈاکٹرز یونین کے مطابق دارالحکومت خرطوم کے شمال میں ایسے مظاہروں کے دوران سکیورٹی دستوں کی فائرنگ سے درجنوں مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔ گزشتہ ماہ سوڈان میں فوج کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کل بُدھ خونریز ترین دن ثابت ہوا۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ رابطوں کی معطلی کے باوجود پورے خرطوم میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔
جرمن پارلیمان میں 'کورونا انفیکشن پروٹیکشن ایکٹ' پر بحث
جرمنی میں 'کورونا انفیکشن پروٹیکشن ایکٹ' کی وجہ سے سیاسی تنازعے میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین نے اس قانونی مسودے کو پارلیمانی ایوان بالا میں مسترد کر دینے کی دھمکی دی ہے۔ یہ قانونی بل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی، گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹس کی جماعت ایف ڈی پی نے مل کر تیار کیا ہے۔ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر اعلیٰ ہینڈرِک وُؤسٹ نے ایک خط میں اس مسودہ قانون کو کورونا کی وبا کی موجودہ ڈرامائی صورت حال کے پیش نظر 'ناقابل توثیق' قرار دیا ہے۔ ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے ممکنہ طور پر آئندہ چانسلر اولاف شولس نے ہینڈرک وُؤسٹ کے اس موقف کو 'سیاسی چال بازی' کا نام دیا ہے۔ اس مسودے پر آج جمعرات کو وفاقی پارلیمان میں بحث ہو رہی ہے جبکہ اس پر ایوان بالا میں رائے شماری کل جمعے کو ہو گی۔ |
کرائسس انٹروینشن | کراچی اور مری میں نشے کے علاج کے بہترین مراکز
صداقت آجکل
تباہ کن اثرات
ایسے حالات میں جب مریض کی زندگی خطرے میں ہو یا مریض کے رویوں سے اہل خانہ پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہوں تو ''کرائسز انٹروینشن'' کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ کرائسز انٹروینشن میں ''ماہر انسدادِ منشیات'' اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مریض تک پہنچتا ہے اور اسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔
کرائسز انٹروینشن کے پسِ پردہ یہ نظریہ ہے کہ جب کسی گھر میں آگ لگی ہو تو''دیکھنے اور انتظار کرنے'' کی پالیسی ظالمانہ ہو گی۔ خاص طور پر پاکستان میں جہاں نشہ کرنا جرم بھی ہے اور اس جرم کی کڑی سزا مقرر ہے۔ علاج کیلئے مریض کی مرضی کا انتظار مناسب نہ ہو گا۔ نشے کی بیماری میں مریض تو نشہ کر کے دکھ پاتا ہی ہے باقی اہل خانہ بلا وجہ سزا بھگتتے ہیں۔ روم جل رہا ہو تو نیرو بیٹھا بانسری بجاتا رہے؟
ہمارے مذہب، معاشرے، خاندانی نظام اور حکومت میں کسی فرد کو کسی بھی حالت میں کسی بھی مقدار میں نشہ کرنے کی اجازت نہیں، کجا حالات ایسے ہوں کہ کوئی شخص اندھا دھند نشہ کر کے اپنی زندگی خطرے میں ڈالے ہوئے ہو اور اہل خانہ کو بھی جسمانی، نفسیاتی، معاشی اور روحانی طور پر نقصان پہنچا رہا ہو۔ ایسے میں کوئی سمجھدار انسان مریض کو گھر پھونک کر تماشہ دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ کرائسز انٹروینشن جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کرائسز کی صورت میں کی جاتی ہے۔ اہل خانہ مریض کے حد سے زیادہ بگڑے ہوئے حالات ماہرانسدادِ منشیات کے سامنے رکھتے ہیں اور اسے اپنی ٹیم کے ہمراہ باقاعدہ انٹروینشن کی اجازت دیتے ہیں۔
ماہرانسدادِ منشیات حالات کی تصدیق کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کرائسز انٹروینشن کا محرک محض مریض کے لئے نشے سے نجات ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور ناجائز مقاصد نہیں ہیں۔ کرائسز انٹروینشن خاص طورپر ان مریضوں کیلئے مناسب سمجھی جاتی ہے جو جسمانی طور پر انتہائی کمزور ہو چکے ہوں، خطرناک اور غیر قانونی حرکات میں ملوث ہوں، تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوں، اثاثے بیچ رہے ہوں اور علاج سے انکاری ہوں۔
ماہرانسدادِ منشیات تفصیلی منصوبہ بندی کے تحت اس کے قد بت، طاقت اور اکھڑ پن کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے، سونے جاگنے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا ہے، اس کی عادت اورخصائل کے بارے میں جان کاری حاصل کرتا ہے، نشے کی مقدار اور قسم کا پتہ چلاتا ہے، اس کے پرتشد د رویوں کا تجزیہ کرتا ہے، مریض کی طرف سے دیگر خطرات کو پہلے سے بھانپتا ہے اور مریض کے بارے میں ان معلومات کو مناسب ترتیب دیتا ہے۔
ان سب پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرانسدادِ منشیات پانچ افراد پر مبنی ٹیم تشکیل دیتا ہے جو تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد پرمشتمل ہوتی ہے جنہیں اس کام کا طویل تجربہ ہوتا ہے اس میں دو افراد بحال شدہ مریض ہوتے ہیں، دو افراد نشے کی بیماری پر معقول معلومات رکھتے ہیں ٹیم کا سربراہ ایک ڈاکٹر ہوتا ہے جو نشے کی بیماری اور مریض کی فطرت اور مرض کی نوعیت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ یہ ٹیم اہل خانہ کے تعاون سے اس وقت مریض کے گھر پہنچتی ہے جب وہ سو رہا ہوتا ہے اوراسے نشہ کئے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہوں۔ اہل خانہ ٹیم کی مریض تک راہنمائی کرتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ٹیم کے افراد کمرے کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ہیں، خاموشی سے ایسی چیزیں منظر سے ہٹا دیتے ہیں جن سے کوئی مشکل پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اُس کے بعد ٹیم کے ارکان مریض کے اردگرد ترتیب سے بیٹھ جاتے ہیں۔
اہل خانہ حسب ہدایت مخل نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کام میں کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ صبرسے کرائسز انٹروینشن کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ مریض محفوظ ہاتھوں میں ہے اور اگر مریض کو نشے کے زہریلے اثرات سے بچانا ہے تو دل کو مضبوط رکھنا ہو گا۔ کرائسز انٹروینشن میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔ اس موقع پر جذباتی افراد کو گھر سے بھیج دیا جاتا ہے۔ بچے اُس وقت سو رہے ہوں تو بہتر ہے۔ اگر گھر میں نشے کا کوئی اور مریض بھی ہو تو اسے اس منصوبے کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی جاتی ورنہ وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔
پہلا رد عمل
ٹیم کا سربراہ ملائمت سے مریض کو جگاتا ہے، احترام کے ساتھ اپنا تعارف کرواتا ہے اور آمد کا مقصد بیان کرتا ہے۔ ایک لمحے کو مریض ہکا بکا نظر آتا ہے لیکن جلد ہی وہ گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ اپنا پہلا رد عمل دیتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل میں سے ایک ہوتا ہے ۔
* یہ دیکھتے ہوئے کہ فیصلے کی قوت اُس کے پاس نہیں ہے فوری طور پر ساتھ جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔
* مریض چاہتا ہے کہ اسے قائل کیا جائے۔ ٹیم کے ارکان خاص طور پر بحال شدہ افراد اپنی مثال کے حوالے سے اسے قائل کرتے ہیں۔ مریض تھوڑی بہت کج بحثی کرتا ہے۔ علاج کی ضرورت سے انکار کرتا ہے۔ پھر اچانک قائل ہو جاتا ہے۔
* مریض بغاوت پر اتر آتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے کون لے جا سکتا ہے، اپنے گھر والوں کو برا بھلا کہتا ہے اور اُ نہیں بلانے پر اصرار کرتا ہے۔ ایسے میں ٹیم کے ارکا ن اتنی مہارت سے انجیکشن دیتے ہیں کہ اسے پتا بھی نہیں چلتا اور انجیکشن لگ چکا ہوتا ہے۔ انجیکشن لگنے کے بعد مریض مزاحمت چھوڑ دیتا ہے۔ انجیکشن کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اُس کی بغاوت اور غصہ سرد ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ تبادلہ خیال پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اگر مستقل مزاجی سے اسے قائل کرتے رہیں تو وہی مریض جو تھوڑی دیر پہلے منہ سے آگ نکال رہا تھا ملائمت سے بات کرنے لگتا ہے اور رضا مند ہو جاتا ہے۔
تباہ کن واقعات
کرائسز انٹروینشن میں بھی عام انٹروینشن کی طرح اصرار کے ساتھ ساتھ نشے کے تباہ کن واقعات کو دہرایا جاتا ہے۔ یہ تباہ کن واقعات منصوبہ بندی کے دوران اہل خانہ سے معلوم کئے جاتے ہیں اور کرائسز انٹروینشن کے دوران ناقابل تردید شواہد کے ساتھ ترتیب وار مریض کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔کرائسز انٹروینشن میں کامیابی کی شرح 100 فیصد ہے بشرطیکہ تمام احتیاطوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ اکثر لوگ فکر مند ہوتے ہیں کہ اگر مریض رضا مند ہی نہ ہو تو علاج میں کامیابی کیسے ممکن ہو گی؟
علاج کے ابتدائی حصے میں مریض کی رضا مندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ابتدائی چند دنوں میں مریض کی تکلیفوں کا علاج کرتے ہوئے معالج کے پاس کافی موقع ہوتا ہے کہ وہ خدمت اور مہارت کے ذریعے مریض کا دل جیت لے۔ نشے کا مریض ذہین انسان ہوتا ہے۔ وہ ہمدرد رویوں کو پہچانتا ہے اور اُن کی قدر کرتا ہے۔ نشے کے مضر اثرات ختم ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کے خیالات میں تبدیلی آتی ہے۔ جس اسٹیج پر مریض کی رضا مندی کی ضرورت ہوتی ہے اس سے بہت پہلے مریض مائل ہو چکا ہوتا ہے۔ تمام ذہنی تحریک ایک بیرونی عمل ہے۔ ماہرین جانتے ہیں کہ مریض میں تبدیلی کا عمل کیسے برپا کیا جاتا ہے؟کرائسز انٹروینشن کے دوران ٹیم کا برتاؤ بھی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ بعد ازاں مریض تعاون کرے گا یا نہیں۔ اگرمریض کو یہ تاثر نہ دیا جائے کہ اسے فتح کیا جا رہا ہے تو مریض نہ صرف بعد میں تعاون کرتا ہے بلکہ دل سے ممنون ہوتا ہے کہ جو فیصلہ میں خود اپنے لئے نہ کر سکا وہ کچھ دردِ دل رکھنے والوں نے میرے لئے کیا۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جس مریض کو اُس کی مرضی کے خلاف گھر سے لایا گیا وہی چند دن میں پورے جوش و جذبہ سے بحالی کی منزلیں طے کرتا ہے اور وہ مریض جو خود اپنی مرضی سے ''توبہ توبہ'' کرتا آیا تھا علاج میں آنے کے 24 گھنٹے بعد ہی حیلے بہانے چھٹی کرنا چاہتا ہے۔ عام دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مریض جس مدت کیلئے رضامندی سے کلینک میں آتا ہے تو وہ مدت پوری نہیں کرنا چاہتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نشہ کرتے ہوئے مریض کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے اور نشہ چھوڑتے ہوئے کچھ اور۔ ایک ''حالت'' کا فیصلہ دوسری ''حالت'' پر لاگو نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو مریض بحالی کی شمع روشن کئے ہوتے ہیں اُن میں کثیر تعداد اُن مریضوں کی ہے جو شروع میں مرضی کے خلاف گھر سے لائے گئے تھے۔ |
مرکزی صفحہ/ لکھاری/ شاکر حسین شاکر/مردہ قوم کی زندہ تاریخ ۔۔ شاکر حسین شاکر
یہ تاریخ اُس قوم کی ہے جس نے کبھی بھی زندہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ جی! مَیں ذکر کر رہا ہوں جاوید ہاشمی کی تیسری کتاب کا جس کا نام اُنہوں نے "زندہ تاریخ" رکھا ہے۔ یہ تاریخ جولائی 2006ءسے جولائی 2007ءتک کی جیل ڈائری پر مشتمل ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے ہمیں وہ واقعات بھی یاد آ گئے جن کو ہم فراموش کر چکے لیکن جاوید ہاشمی کی کتاب نے ایک مرتبہ پھر ہمیں وہ سب کچھ یاد دلا دیا جو مشرف کے دور میں پاکستان کے ساتھ ہوتا رہا۔ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے وہ تقریب یاد آ گئی جس میں اُس وقت کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد نے جاوید ہاشمی کی تند و تیز تقریر کے بعد اپنے خطاب میں اُن کو پابندِ سلاسل ہونے کی "نوید" سنا دی تھی۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کسی کو بے گناہ قید کرنے کی خبر 'نوید' کیسے ہو سکتی ہے؟ میرے لیے تو جاوید ہاشمی کے قید ہونے کی خبر اس لیے 'نوید' ٹھہری کہ انہوں نے جیل میں رہ کر تین کتابیں لکھ ڈالیں۔ پہلی کتاب "ہاں مَیں باغی ہوں" دوسری کتاب "تختہ¿ دار کے سائے تلے" اور تیسری "زندہ تاریخ" دسمبر 2016ءمیں شائع ہوئی۔ اگر جاوید ہاشمی معمول کے مطابق اپنی سیاست کر رہے ہوتے تو کتابوں سے محبت کرنے والوں کو یہ کتابیں کہاں میسر آتیں۔ جاوید ہاشمی زندہ تاریخ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ "یہ وہ قلم برداشتہ تحریر ہے جسے لکھتے ہوئے مَیں نے اُردو کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھا ہے نہ اُسے اُردوئے معلی کی تحریر بنایا ہے۔ جب مَیں تکلیف سے گزرتا یا بے بسی کا سامنا کر رہا ہوتا، مایوسی کی بجائے اُس کیفیت کو مثبت انداز میں لیتا۔ جس کی وجہ سے مزاح کا رنگ بھی آ گیا ہے۔ مَیں نے پانچ سال تک جیل حکام سے جنگ لڑی، جہاں کاغذ اور قلم رکھنا بھی جرم تھا مَیں نے اپنے تمام ممکن ذرائع استعمال کیے اور پانچ کتابیں لکھنے میں کامیاب ہو گیا۔ قوم سے سیاسی رابطہ بھی ٹوٹنے نہیں دیا۔ کبھی جیل کے احکام کے مطابق جیل کی ڈیوڑھی کو استعمال کیا، کبھی عدالت کے احاطے کو ٹیلیفون استعمال کرنے کے اور کبھی ہسپتال کی انتظارگاہ کو۔"
یہ دیباچہ پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ابھی جاوید ہاشمی کی پٹاری میں دو کتابیں اور بھی موجود ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ انہوں نے بہت سا ایسا سچ بھی تحریر کر دیا جو عام حالات میں کوئی اور شخص تحریر نہ کرتا۔ مثال کے طور پر اس کتاب میں انہوں نے چوہدری نثار کے بارے میں جو تحریر کیا وہ ملاحظہ فرمائیں "ایک دن مجھے اطلاع ملی چوہدری نثار علی ملاقات کے لیے جیل کے باہر پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں میرے سامنے چوہدری نثار کی چشمِ تصور میں وہ تصویر آئی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ اُن کے گا¶ں کے لوگ اُن کے والد صاحب سے کہا کرتے تھے آپ کا بیٹا فوجی بننے کے قابل تھا آپ نے اس کو سیاست میں کیوں ڈال دیا۔ میرا اُن کی اس رائے سے اختلاف ہے۔ چوہدری نثار علی ایک زیرک، ذہین اور موقع شناس سیاسی کردار ہیں۔ اپنے ہوں یا پرائے اُنہیں اپنی راہ میں حائل ہوتے ہوئے نظر آئیں تو انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے گُر آزمانے کا فن جانتے ہیں۔ مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد اُن کو نظربند کیا تو انہوں نے اپنی رہائی کے لیے تگ و دو نہیں کی اور نہ ہی کسی فورم پر اپیل دائر کی۔ تین سال تک خاموش رہے پھر جدہ اور لندن چلے گئے۔ جونہی انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا واپس آ گئے۔ پارٹی کا پارلیمانی لیڈر بننا چاہتے تھے۔ میری بدقسمتی کہ وہ مجھے اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھے۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ مَیں تو اسی دن جھاگ کی طرح بیٹھ جا¶ں گا جب نواز شریف پاکستان پہنچیں گے۔چوہدری نثار علی یہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ میاں صاحبان کو فوجی اور غیر فوجی حلقوں میں متعارف کروانے کا سہرا بھی اُن کے سر ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نثار علی کی صلاحیتیں میاں صاحبان کے لیے وقف تھی جس وجہ سے وہ چوہدری نثار علی کی جائز و ناجائز خواہشات کے آگے خاموش تھے۔ مَیں چوہدری نثار کا جیل میں کئی دن سے انتظار کر رہا تھا۔ چوہدری نثار نے چھوٹتے ہی کہا مَیں تو ملنے کے لیے نہیں آ رہا تھا میاں صاحب نے مجبور کیا تو مَیں آ گیا۔ مَیں نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہا مَیں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ نہ ملنے کی وجہ کیا تھی۔ اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور مَیں نے بھی کوئی اصرار نہ کیا۔" اسی طرح جب موجودہ صدر ممنون حسین اُن سے ملاقات کے لیے جیل آتے ہیں تو وہ آ کر جاوید ہاشمی کو بتاتے ہیں کہ میرا جی تو بہت چاہتا ہے کہ مَیں آپ سے ہر ماہ ملاقات کے لیے آ¶ں لیکن میرے مالی مسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ مَیں آپ سے باقاعدگی سے ملاقات کے لیے آ¶ں۔
بظاہر یہ کتاب جیل کی ڈائری پر مشتمل ہے لیکن اس کو پڑھتے ہوئے یہ بھی احساس رہتا ہے کہ جاوید ہاشمی نے اپنی خودنوشت لکھ دی ہے۔ خاص طور پر ڈائری کے وہ اوراق جو انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر لکھے ہیں وہ نثر کا شاہکار نمونہ ہیں۔ ایک باپ کی طرف سے ہر وقت اپنی بیٹیوں کی صحت کے بارے میں فکرمند رہنا بھی اس کتاب کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ جاوید ہاشمی روایتی جاگیردار سیاستدان کی بجائے ایک شفیق باپ کے طور پر دکھائی دیئے جو ہر لمحے جیل میں رہنے کے باوجود اپنے خاندان کے دکھ سکھ کے فکر میں غلطاں رہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں یہ ڈائری اُس زمانے کی ہے جب مشرف نے انہیں قید کیا اور میاں صاحبان معاہدے کے تحت سعودی عرب میں مقیم تھے۔ مسلم لیگ میں اختلافات جس طریقے سے اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ انہی اختلافات کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ کے عروج کے دنوں میں کیوں خیرباد کہا۔
کتاب کے آغاز میں جاوید ہاشمی نے جب یہ لکھا کہ جیل نے مجھے پانچ کتابیں تحفے میں دیں جس میں سے تین کتابیں شائع ہو کر سامنے آ گئی ہیں۔ اب میری اُن سے گزارش ہے کہ وہ ایک کتاب "صبح کا بھولا ہوا شام کو …………" کے متعلق بھی لکھیں کہ آخر وہ کونسی وجوہات تھیں جس پر وہ ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ اور پھر دھرنے کے دنوں میں پی ٹی آئی کو کیوں خیرباد کہا۔ یہ سب کچھ ابھی تک پوشیدہ ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف ایک اچھے ووٹ بینک کے ساتھ ملکی سیاست میں سرگرم ہے۔ جاوید ہاشمی کا عمران خان کو عروج کے زمانے میں چھوڑ جانا، اس بارے میں جاننا بھی تو پاکستان کی عوام کا حق ہے جسے اب سامنے آنا چاہیے۔ جاوید ہاشمی آج کل آزاد پنچھی کے طور پر ملتان کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ اُن کے آبائی حلقے مخدوم رشید پر مسلم لیگ ن سے ایک ایسا شخص ایم این اے منتخب ہوا جس کی تعلیمی قابلیت کو کسی نے چیلنج کیا ہوا ہے۔ شاہ محمود قریشی بھی وہ حلقہ چھوڑ کر ملتان شہر میں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جاوید ہاشمی کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے لیے کسی سیاسی جماعت کا انتخاب کریں تاکہ اس مُردہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ اُس کے لیے زندہ تاریخ لکھنے والا اپنی پارٹی کو کیوں چھوڑ کر گیا۔ اس کتاب کی نثر بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اقتباسات بھی دے دیئے جاتے تو کالم کا پیٹ بھر سکتا تھا لیکن جاوید ہاشمی نے جیل میں لکھے گئے تکلیف دہ لمحات کو جس انداز میں قلمبند کیا وہ انہوں نے من و عن شائع کروا لیے کیونکہ اس بات کا مَیں عینی شاہد ہوں کہ اس کتاب کا مسودہ انہوں نے کمپوز کروا کر کم و بیش تین سال پہلے میرے حوالے کیا تھا اب جب کتاب شائع ہو کر سامنے آئی تو مجھے حیرت ہوئی کہ موجودہ حکمرانوں کے بارے میں بھی اُن کا کلمہ حق موجود ہے شاید اسی لیے انہوں نے اس کتاب کا نام بھی 'زندہ تاریخ' رکھا لیکن مُردہ قوم کے لیے۔ |
سماجوادی پارٹی سے پریشان مسلمانوں پر بی ایس پی کی نظر | Chauthi Duniya Urdu News Website
Home سیاست سماجوادی پارٹی سے پریشان مسلمانوں پر بی ایس پی کی نظر
اتر پردیش کا اقتدارکھونے کے بعد بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے 2013میں کوئی خاص دھماکہ نہیں کیا۔ ان کی طرف سے مخالفین پر ہلکے پھلکے انداز میں حملے ضرور کئے گئے، لیکن یہ صرف رسم الادائیگی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مایاوتی خامو ش تھیں تو ان کے سپہ سالاروں نے بھی بیشتر موقعوں کو چھوڑ کر اپنا منھ بند ہی رکھا۔ یہ سلسلہ نومبر، دسمبر میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے وقت بھی جاری رہا، جس کا پارٹی کو خمیازہ بھی اٹھانا پڑا۔ مایاوتی کی خاموشی پر سیاسی پنڈتوں نے وقتاً فوقتاً خوب تبصرے کئے ۔ کسی نے کہا کہ بہن جی یو پی کی کرسی جانے کے صدمے سے باہر نہیں نکل پارہی ہیں ، تو کسی نے کہا کہ نریندر مودی کی مقبولیت سے بی ایس پی کا دلت ووٹر بی جے پی کی طرف چلا گیا ہے۔ یو پی تو ان سے چھن ہی گئی تھی، دہلی میں بھی بی ایس پی کے مقابلہ سماجوادی لیڈر پورے سال سرخیوں میں بنے رہے۔ اس دوران بی ایس پی نے اگر کچھ خاص کیا تو بس اتنا کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے امیدواروں (لوک سبھا حلقہ کا انچارج بنا کر) کے ناموں کااعلان کر دیا۔ یہ بات دیگر ہے کہ بدلتے سیاسی ماحول کے درمیان انہیں اپنے کئی امیدواروں کو بدلنا پڑ رہا ہے۔ مایاوتی خاموش رہیں تو سماجوادی حکومت بھی انہیں لے کر خاموش رہی، لیکن جیسے ہی مایاوتی نے منھ کھولا، سماجوادی حکومت نے بھی ان کے خلاف ہلا بول دیا۔ سال کے پہلے ہی دن مایاوتی کی ٹیم کے کئی ممبران جو سابقہ حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں ، کے خلاف بدعنوانی سمیت کئی معاملوں میں مقدمہ درج ہو گیا۔ وجیلنس ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل اے ایل بنرجی کی ہدایت پر راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر تھانہ میں اسمارک گھوٹالہ میں 19لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا کہ انتخابی موسم آتے ہی بی ایس پی اور سماجوادی کو پرانی دشمنی یاد آنے لگتی ہے۔
بہر حال ، 2013میں بی ایس پی نے بھلے ہی کوئی بڑا سیاسی دھماکہ نہیں کیا ہو، لیکن 2014کا آغاز مایاوتی دھماکہ دار طریقہ سے کرنے جا رہی ہے۔ اس کے لئے انھوں نے 15جنوری کا دن طے کیا ہے۔ 15جنوری یعنی مایاوتی کا یوم پیدائش ۔ اس دن مایاوتی لکھنؤ میں ''ساودھان وشال ریلی'' کرنے جا رہی ہیں۔ اس میں پورے ملک سے بی ایس پی حامی آئیں گے۔ ریلی میدان پرانا والا (رما بائی امبیڈ کر میدان) ہی رہے گا ، جہاں ریلی کرنے کی جرأت مایاکے علاوہ کوئی نہیں کر پاتا ہے۔ ریلی کو کامیاب بنانے کے لئے مایاوتی گزشتہ کئی دنوں سے لکھنؤ میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ ریلی میں ہر اسمبلی حلقہ سے پانچ ہزار اور لوک سبھا حلقہ سے 25ہزار لوگ لانے کو بی ایس پی لیڈروں سے کہا گیا ۔ لوگوںکو ریلی کے مقام تک پہنچانے کے لئے بسوں اور چھوٹی چھوٹی گاڑیوں کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ درجن ریلوں میں بھی بکنگ کرائی گئی ہے۔ بی ایس پی سے ٹکٹ کی خواہش رکھنے والوں اور جن کو ٹکٹ مل گیا ہے، انہیں اپنا ٹکٹ بچائے رکھنے کے لئے ہر حالت میں بھیڑ جمع کر کے مایاوتی کو متاثر کرنا ہوگا۔ وام سیف کے کارکنان اس بات پر نظر رکھیں گے کون لیڈر کتنی بھیڑ لے کر آیاہے۔ مغربی اتر پردیش کے لیڈروں اور کارکنان کو خصوصی طور پر زیادہ سے زیادہ بھیڑ جمع کرنے کے لئے آگاہ کیا گیا ہے۔ بھیڑ میں بھی مسلمانوں کی تعداد اچھی رہے، اس کے لئے خاص تاکید کی جا رہی ہے۔ کوششیں تو یہ بھی جا رہی ہے کہ مایاوتی کی ریلی گزشتہ دنوں ہوئی بی جے پی اور سماجوادی کی ریلیوں سے ہر معنی میں بے جوڑ ثابت ہو۔ بھیڑ کے اعداد و شمار مودی، ملائم کی ریلی سے دوگنے رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مایا وتی اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے کسانوں، مسلمانوں اور دلتوں پر خصوصی توجہ دے سکتی ہیں۔
ایک طرف بی ایس پی کے حکمت عملی ساز بھیڑ جمع کرنے کا ریکارڈ بنانے کو بے تاب ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی ، کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف بی ایس پی سپریم کو ان مدعوں پر آڑے ہاتھوں لیں گی جو لوک سبھا انتخابات کے وقت مخالفین کو گھیرنے کے کام آئیں گے۔ ریاست کے خراب قانونی نظام کے علاوہ بی ایس پی کی کوشش ان مسلمانوں کو اپنے پالے میں پھر سے کرنے کی ہے، جو 2012کے اسمبلی انتخابات میں ان سے دور چلا گیا تھا۔ اس کے لئے بی ایس پی مظفر نگر فسادوں کی سیاست کو آگے بڑھائے گی۔ وہ چاہیں گی کہ کسی بھی طرح سے ملائم اینڈ کمپنی کو مسلم مخالف قرار دے دیا جائے۔ اسی لئے فسادکے وقت سماجوادی حکومت کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کیا جائے گا۔ راحت کیمپوں میں رہ رہے لوگوں کو بلڈورز چلا کر ہٹائے جانے اور ان کے خلاف (فساد متاثرین) ملائم کے بے تکے بیان کو بی ایس پی ہوا دے گی۔ اس کے علاوہ مایاوتی نے اپنے لیڈروں سے کہہ دیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف جہاں بھی سماجوادی حکومت پریشانیوں اور خوف کا ماحول بنا رہی ہے، وہاں ایسے مدعوں کو سنجیدگی سے اٹھایا جائے۔ بی ایس پی سپریمو کی کوشش ہے کہ مظفر نگر فساد کے بہانے ملائم کو بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے مدمقابل کھڑا کر دیا جائے۔ اپنی بات ثابت کرنے کے لئے مایاوتی گزشتہ دنوں اترپردیش کی سماجوادی حکومت اور سماجوادی سپریمو ملائم سنگھ یادو پر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے نقش قدم پر چلنے کا الزام بھی لگاچکی ہیں۔انھوں نے یہ کہہ کر سماجوادی پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا کہ ٹھٹھرتی سردی میں راحت کیمپوں میں بلڈوزر چلا کر ان کے زخموں پر ویسے ہی نمک پاشی کا کام سماجوادی حکومت نے کیا ، جیسا کہ بی جے پی کی گجرات حکومت مسلمانوں کے ساتھ کرتی آئی ہے۔
بی ایس پی نے مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ عوام میں سماجوادی پارٹی کی شبیہ بی جے پی کے ساتھ ایک سکے کے دو پہلو جیسی بنا دی جائے ۔ یہ ایسا مدعا ہے، جس کے سہارے بی ایس پی اپنے تمام مخالفین کانگریس، سماجوادی ، بی جے پی اور آر ایل ڈی کو ایک ساتھ گھیر سکتی ہے۔ حالانکہ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ مایاوتی جب اقلیتوں پر ہوئے مظالم کی سیاست کو ہوا دیں گی تو ان کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا ہوگا کہ ان کی حکومت نے بھی تو مسلمانوں کی نہیں سنی تھی، آج بھی ان کا یہی نظریہ ہے۔ اسی لئے تو وہ فساد متاثرین سے اظہار ہمدردی کرنے مظفر نگر نہیں گئیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وضاحت وہ ''ساودھان ریلی'' میں دیں۔ دیگر تمام جماعتوں کے علاوہ تیزی سے ابھر رہی عام آدمی پارٹی کے بارے میں کیا سوچ ہے، اس کا جواب بھی عوام ان سے سننا چاہے گی۔
اتر پردیش میںگزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے بی ایس پی واحد جماعت ہے، جو سماجوادی پارٹی کو چیلنج کرتی رہی ہے۔ اسی لئے مایاوتی کی ''ساودھان ریلی'' پر دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کے علاوہ سماجوادی لیڈر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی ابھی سے ریلی کی ہوا نکالنے کی تیاری میں بھی مصروف ہو گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ مخالف پارٹی راحت کیمپوں میں سیاست کر رہی ہیں۔ ان کے بڑے لیڈر وہاں کا دورہ کرتے ہیں، لیکن مشورہ مانگوں تو نہیں دیتے ہیں۔ بلکہ اپنے دوروں کی خبرضرور چلواتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ریاستی ترجمان راجندر چودھری نے بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ وہ (مایاوتی) دوبارہ پہلے کی طرح اپنے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی اور لیڈروں سے جنم دن کی چندہ وصولی میں لگ گئی ہیں۔ جس میں کئی کی جانیں جا چکی ہیں۔ بی ایس پی، سماجوادی ، بی جے پی کو ''ایک ہی تھالی کا بینگن'' بتارہی ہیں، تو سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے الزام عائد کیا ہے کہ مظفر نگر کے مسلمانوں کے لئے جھوٹی ہمدردی دکھا کر بی ایس پی ، بی جے پی کی بی ٹیم کا فرض ادا کرنے جا رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات قریب ہیں اور عوام کو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا جو انسانی بربادی کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی سازشوں سے باز نہیں آتے ہیں۔ |
چین: پہلی انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (ڈاکٹر مرتضیٰ مغل) » CPEC Updates
Home›آرٹیکلز›سی پیک آرٹیکلز›چین: پہلی انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (ڈاکٹر مرتضیٰ مغل)
چین: پہلی انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (ڈاکٹر مرتضیٰ مغل)
وزیرِاعظم پاکستان عمران خان چین کے 5 روزہ دورے پر یکم نومبر کو روانہ ہوئے۔ وہ تادم تحریر بیجنگ میں موجود ہیں۔ دورے کے دوران انہوں نے اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ وہ چین میں ہونے والی ترقی کے پس پردہ مساعی سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے متعدد چینی تھنک ٹینکس کا دورہ بھی کیا۔ عمران خان کا دورہِ چین پاکستان کے لیے سفارتی، اندرونی سیاست، معیشت اور انسانی ترقی جیسے معاملات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم معاملہ چین کے ساتھ تجارت کے توازن کو بہتر بنانے پر گفت و شنید تھی۔ دورے کے مفید اور مثبت متوقع نتائج کے تناظر میں امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان چین کے تجارتی مرکز شنگھائی میں چین کی پہلی در آمدی نمائش چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں وزیرِاعظم کی شرکت بھی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس نمائش میں چین نے پاکستان کو مہمانِ خصوصی (Guest of Honor) کا درجہ دیا۔ اس در آمدی نمائش میں چین کی گارمنٹس اور ٹیکسٹائل کی صنعت کے منتقل کرنے کے حوالے سے بھی ابتدائی بات چیت کی جائے گی۔ چین کی جانب سے در آمدی نمائش کا یہ قدم دنیا بھر میں چین کی بطور ایک سنجیدہ، مخلص اور طویل مدتی شراکت دار کی حیثیت کو اجاگر کرے گا۔ یہ نمائش پاکستان کے لیے بھی ایک موقع ہے جس کے ذریعے پاکستان چینی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کو متعارف کروا سکے گا اور اس طرح چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو قابو میں کرنے کے عمل کا آغاز کر سکے گا۔ مگر اس حوالے سے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گی اور گھبرا کر پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی مصنوعات کو اس قدر معیاری بنانا ہو گا کہ وہ دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں۔
سی پیک، چند اہم سوالات۔۔۔ پڑھنے کے لیے اس لائن کے اوپر کلک کریں
ماہرین کاکہنا ہے کہ اس حوالے سے چینی دنیا میں ایک ایسی نرالی ہی قوم ہے جو ساری دنیا میں اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ چین اپنی درآمدی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اور دیگر ملکوں کو اپنی مصنوعات چین میں فروخت کرنے پر قائل کرنے کے لیے نمائش منعقد کر رہا ہے۔ چین کے تجارتی مرکز شنگھائی میں چین کی پہلی در آمدی نمائش چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو چین کی پہلی در آمدی نمائش ہے۔ چین تیزی سے ترقی کرتے ہوئی دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور دنیا میں ایندھن کا دوسرا بڑا خریداری بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق'' افریقا، جہاں مغربی ملکوں نے سازشوں کے تحت قبائلی جھگڑوں کی ذریعے خانہ جنگی کے الاؤ بھڑکا رکھے ہیں، وہاں بھی چین نے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ چین اپنی فوجی قوت کے بجائے اپنی کاروباری صلاحیت کے ذریعے افریقی اور ایشیائی ملکوں میں معاشی ترقی کے ثمرات بانٹ رہا ہے مگر چین کے خلاف امریکا اور مغربی ممالک بھی اسی تیزی سے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ چین کے بڑھتے ہوئے برآمدی حجم کے خلاف مغربی ملکوں کا پروپیگنڈا جاری ہے، تو دوسری طرف امریکا نے چین پر تجارتی پابندیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو چین کے خلاف تجارتی عدم توازن کا واویلا کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ چین سالانہ 2260 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات اور خدمات دنیا بھر کو فروخت کرتا ہے جبکہ دنیا بھر سے 1840 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے، امریکا چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، چین اور امریکا کے درمیان تجارتی خسارہ سال 2016ء میں 385 ارب ڈالر تھا، اگر پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کی بات کی جائے تو صورت حال بہت زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے، پاکستان چین کو سالانہ 1 ارب 38 کروڑ ڈالر مالیت کی برآمدات کرتا ہے جبکہ چین سے سالانہ 9 ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کرتا ہے، اس طرح چین کے ساتھ تجارت میں سالانہ 8 ارب 32 کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔
باخبر مبصرین کے مطابق 'اس نمائش کے انعقاد کا اعلان چینی صدر شی جن پنگ نے 2017ء کے بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون میں کیا تھا۔ اس نمائش کا مقصد دیگر ملکوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ چین ان کے ساتھ طویل مدتی تجارتی شراکت کا خواہاں ہے اور چین فوجی نہیں بلکہ اقتصادی طاقت کے ذریعے مغرب کے استحصال کی شکار اقوام کو عالمی ترقی میں شامل کرنا چاہتا ہے، اپنے خلوص کو اقوامِ عالم کے سامنے پیش کرنے کے لیے چینی حکام نے اس نمائش کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس نمائش میں 100 ملکوں اور اقتصادی خطوں کے کاروباری افراد شرکت کر رہے ہیں، چین نے ڈیڑھ لاکھ مقامی خریداروں کو بھی مدعو کیا ہے، چین کی مقامی معیشت میں طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تقریباً 6 سال میں مصنوعات اور خدمات کی طلب دگنی ہو گئی ہے، سال 2011ء میں چین کی ریٹیل سیلز کا حجم 2898 ارب ڈالر تھا جو سال 2016ء میں بڑھ کر 5 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، شنگھائی کے ایکسپو سینٹر میں دوست ملکوں کو اپنا پویلین بنانے کے لیے مفت جگہ فراہم کی گئی ہے، نمائش میں شامل کمپنیوں کو 2 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، خدمات کا زمرہ الگ ہو گا جس میں سیاحت، ایمرجنگ ٹیکنالوجیز، ثقافت، تعلیم، تخلیقی ڈیزائننگ اور آؤٹ سورسنگ شامل ہیں جبکہ مصنوعات کا زمرہ الگ ہو گا جہاں جدید آلات، الیکٹرانک مصنوعات، آٹو موبائل، ملبوسات، عام استعمال کی اشیاء، اشیائے خور و نوش، زرعی پیداوار اور طبی آلات کی نمائش کی جائے گی۔
بینک آف چائنا نے پاکستان میں در آمدی نمائش کے حوالے سے بہت فعال کردار ادا کیا ہے اور 10 کے قریب خریداروں سے ان کی میٹنگرز کا وقت طے ہو گیا ہے جبکہ بینک آف چائنا والے مترجم بھی فراہم کریں گے۔ بینک آف چائنا نے نمائش میں شرکت کے خواہش مند تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ قریبی تعلق کو قائم کیا۔ اس نمائش میں تاجروں کی کاروباری ملاقاتوں کے لیے ایک خصوصی پورٹل تیار کیا گیا تھا۔ س پر ہر شریک سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کس قسم کے کاروبار میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کس شعبے کی چینی کمپنی یا حکام سے ملنا چاہیں گے۔ مسعود نقی ڈینم ٹیکسٹائل سے وابستہ ہیں اور کورنگی ایسوسی ایشن برائے تجارت و صنعت کے سابق چیئرمین بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دراآمدی نمائش میں ایک بڑا اسٹال لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کب تک امریکا اور یورپ کے پیچھے چلتے رہے گے، وہاں تجارت سے زیادہ سیاست ہے، مغرب میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کی لابی بھی اپنی سیاست کر رہی ہے، اس وجہ سے پاکستان مشرقِ وسطیٰ کا بیک یارڈ بن کر رہ گیا ہے، چین کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ کرنسی بھی آزاد ہے، چین میں یورپی امریکا جیسی سیاست کا بھی سامنا نہیں ہے۔ چین ایک اچھی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں لوگوں کے پاس دولت بھی ہے اور نئی اشیاء کی طلب بھی ہے۔ چین نہ صرف بڑے پیمانے پر مصنوعات اور خدمات کا خریدار ہے بلکہ وہ اپنی صنعتوں کو کم ترقی یافتہ ملکوں میں منتقل کر رہا ہے، کیونکہ چین اب ہائی ٹیک صنعت کی جانب جا رہا ہے، اس لیے صرف ویتنام میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی چینی صنعت منتقل ہوئی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش اور ہندوستان میں بھی چین نے اپنی صنعتوں کو منتقل کیا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک چینی صنعت کی منتقلی نہیں ہوئی ہے۔ |
مسلمانوں سے بدسلوکی کا الزام، امریکا نے 28 چینی کمپنیاں بلیک لسٹ کر دیں - دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز
مسلمانوں سے بدسلوکی کا الزام، امریکا نے 28 چینی کمپنیاں بلیک لسٹ کر دیں
in بین الاقوامی October 9, 2019 Comments Off on مسلمانوں سے بدسلوکی کا الزام، امریکا نے 28 چینی کمپنیاں بلیک لسٹ کر دیں 3 Views
واشنگٹن: امریکہ نے چین میں مسلمانوں سے بدسلوکی کے الزام پر چین کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا۔
دوسری جانب امریکا کے اس اقدام پر چین نے اپنے شدید تحفظات اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور عالمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو چین کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا، اس اعلان کے بعد یہ کمپنیاں وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر امریکی کمپنیوں سے مصنوعات کی خرید و فروخت نہیں کرسکیں گی۔
سیکریٹری خزانہ ولبور روز نے کہا ہے کہ امریکہ چین میں اقلیتوں پر ہونے والی بدسلوکی کو نہ تو برداشت کر سکتا ہے اور نہ اسے برداشت کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے جن چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے ان میں نگرانی کے آلات بنانے والی کمپنی ہک ویژن، مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں میگوی ٹیکنالوجی اور سینس ٹائمز شامل ہیں۔
Previous: گلگت بلتستان کے عوام کو غدار بنانے کی کوشش، 92 نیوزاور معید پیرزادہ کے خلاف جی بی کے عوام سراپہ احتجاج |
مریم نواز مقبول ہیں لیکن الیکشن نہیں جیت سکتیں، سہیل وڑائچ | Siasat.pk Forums
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سیاست میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں، آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی جیت کیلئے بھی پرامید ہیں، لیکن مریم نواز کے حوالےسے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز مقبول ضرور ہیں لیکن وہ انتخابات جیت حاصل نہیں کرسکتیں۔
سہیل وڑائچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے بیانیے سے مریم نواز خوب مقبول ہوئیں لیکن وہ اس کے باوجود الیکشن نہیں جیت سکتیں کیونکہ وہ لیگی کارکنوں کو تو اپنے گرد اکٹھا کر رہی ہیں لیکن غیر جانبدار ووٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نظر نہیں آتی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام 'نقطہ نظر' میں مریم نواز کے حوالے سے گفتگو میں سہیل وڑائچ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن میں نقطہ نظر اور حکمت عملی کا اختلاف ہے، جس نے ماضی میں تو پارٹی کو بہت فائدہ پہنچایا، کیونکہ وہ مزاحمتی بیانیے سے تقریریں کر کے تنظیم کو مضبوط اور عوام کو اکٹھا کر لیتے تھے اور پھر مفاہمتی بیانیے سے مذاکرات کو بھی ممکن بنالیتے تھے۔
سینیئر صحافی نے کہا کہ لیکن اب مسلم لیگ ن کو بیانیے کے اس تضاد سے نکلنا ہو گا کیونکہ مزاحمتی بیانیہ الیکشن میں کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا،الیکشن میں کامیابی کے لیے انتخابی وعدے کرنے پڑتے ہیں جیسے جیسے انتخاب کا دور چلے گا مسلم لیگ ن میں بیانیے کا تضاد ختم ہو جائے گا،کیونکہ سب جاتے ہیں ہے کہ الیکشن میں جیت متحد ہوکر ہی ممکن ہے،اور اس جیت کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ضروری ہیں۔
دوسری جانب مریم نواز کا کہنا ہے کہ ان کی اور حمزہ شہباز کی سوچ مختلف ہے لیکن پارٹی کے سربراہ نوازشریف ہی ہیں، کنٹونمنٹ الیکشنز میں ڈکٹیٹرشپ دور سے بھی برے حربے استعمال کیے گئے لیکن ن لیگ کو بڑی کامیابی ملی، ن لیگ میں سوچ اور نظریات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن آخری فیصلہ نوازشریف کا ہی قبول ہوگا۔
https://i.imgur.com/mN57uKv.jpg
اِس بیمار ڈھولتی مَجھ جیسے جسامت والےے درباری کو
صرف رنڈیوں، اور کنجریوں کے بیڈ رومز میں مائیک، اور کیمرہ لیکر گُھسنا جچتا ہے
، ، ، شکل ، اور عمر سے تو ویسےبھی مُودا کنجر ہی لگتا ہے
Bhai Bohot Maqbool hain ... lekin Video banany or leak karny mein.
Warraich ki aaj tak koi baat sach saabit hoi hai?
on payrole... They are paid to make sharif family hot topic ... so they remain in spotlight ...basic human psycological tactics ....... hahaha....yeh sb mill ky *** bna rhy hae..
Listen u retarded pimp and confirmed munhoosss shakull.. She is famous among sexully deprived walker of Heera Mundee. Chuttiyaa. |
نیشنل بینک آپ پاکستان کو امریکہ میں ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ - MARDAN TIMES
نیشنل بینک آپ پاکستان کو امریکہ میں ساڑھے 5 کروڑ ڈالر جرمانہ
نیویارک: امریکہ نے نیشنل بینک آف پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین پر پوری طرح پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے عائد کی ہے.
مردان ٹائمز کے مطابق امریکہ فنانشل سروسز اتھارٹیز نے پاکستان نیشنل بینک نیویارک برانچ پر 5 کروڑ اور 54 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے. اس بات کی تصدیق اسٹیٹ بینک کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھی کی ہے.
اسٹیٹ بینک حکام نے مزید بتایا کہ امریکہ میں نیشنل بینک آف پاکستان کو اس حوالے سے وارننگ بھی دی گئی تھی. امریکی فنانشل اتھارٹیز نے کہا ہے کہ پاکستان نیشنل بینک اس حوالے سے تحریری پلان بھی دیا جائے اور اس کے علاوہ انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین پر پوری طرح عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے. اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نیشنل بینک مشکوک سرگرمیوں کی مکمل مانیٹرنگ سمیت رپورٹنگ کا عمل بھی درست بنائے.
واضح رہے کہ پاکستان نیشنل بینک پر جرمانہ امریکہ مرکزی بینک اور امریکی فنانشل سروسز اتھارٹیز کی جانب سے لگایا گیا ہے. اس جرمانے میں 2 کروڑ ڈالر کا جرمانہ امریکہ کے مرکزی بینک کی طرف سے لگایا گیا ہے جبکہ 3 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کا جرمانہ امریکہ فنانشل سروسز اتھارٹیز کی جانب سے لگایا ہے. نیشنل بینک کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس جرمانے کو دو قسطوں میں ادا کرے.
امریکہ کی جانب سے پاکستان نیشنل بینک پر جرمانہ ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب پاکستان کے عمران خان روس کے دورے پر وہاں موجود تھے اور فیٹف ایکشن پلان پرعملدرآمد کے حوالے سے پاکستان سے متعلق جائز اجلاس بھی جاری ہے. |
عشرت حسین کی بریفنگ، وزیراعظم عمران خان اداروں کی اصلاحات میں تاخیر پر نالاں
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے مشیر عشرت حسین نے کابینہ کو اداروں میں اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان حکومت کے ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود اداروں میں اصلاحات لانے میں تاخیر پر نالاں ہوگئے۔
وزیراعظم نے عشرت حسین کی بریفنگ پر عدم اطمینان کااظہار کیا اور کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود اداروں اور گورننس میں اصلاحات نہیں آسکیں۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم نے عدلیہ میں اصلاحات کے لیے وزارت قانون کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔
گورننس میں تاحال اصلاحات نہ لائے جانے کے معاملے پر کابینہ اراکین بھی بول پڑے ہیں اور استفسار کیا کہ اصلاحات کے لیے کیا کیا گیا؟ کیا اُن کا احتساب ہوگا؟
ذرائع کے مطابق پر وزیراعظم نے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ اپنی اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور میڈیا کے سامنے انہیں درست انداز میں پیش کریں۔
وزیراعظم عمران خان کی وزیروں کو وارننگ، پالیسی کی خلاف ورزی پر گھر جائیں
وزیراعظم عمران خان نے وزرا ء پر واضح کردیا ہےکہ وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر گھر جائیں گے۔
عشرت حسین نے بریفنگ میں بتایا کہ اس وقت تک 100 وفاقی ادارے ختم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے عشرت حسین اور شفقت محمو کو ٹو دی پوائنٹ نکات بتانے کی ہدایت کی اور کہا کہ عوام کو سمجھانےکے لیے مختصر اور جامع رپورٹ دی جائے۔
عمران خان نے کابینہ اجلاس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کو اے جی پی میں نیا ڈیجیٹل سسٹم لانے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ |
یمن میں اسکول بس پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ - Newsone Urdu
یمن میں اسکول بس پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
ریاض : سعودی اتحادی افواج نے کہا ہے کہ یمن میں اسکول بس پر حملے کو افسوس ناک قرار دینے ہوئے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
سعودی اتحادی افواج کی جانب سے گزشتہ ماہ یمن میں اسکول بس پر کیے گئے حملے کی غلطی کا اعتراف کرلیا ہے اور کہا ہے ہے حملے کے زمہ داروں کے خلاف جلد ایکشن لیا جائےگا۔
سعودی حکام کی جانب سے تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر بس پر حملہ کیا گیا تھا۔ اطلاعات تھیں کہ بس میں دہشت گرد سوار ہیں۔ حدف میں تاخیر کے باعث دہشت گرد حملے سے پہلے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم انٹیلی جنس روپورٹ میں بس پر حملے کا نہیں کہا گیا تھا۔
ہم شہریوں کی جاننے ضائع ہونے پر سعودی اتحادی افواج کو بین الااقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 9 اگست کو سعودی اتحادی افواج کی جانب سے یمن میں ایک اسکول بس کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں ایک 29 طلبہ جان بحق ہوگئے تھے۔ |
فاریکس ٹریڈنگ کی حکمت عملی - فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ
اصغری معین 2020/12/12 تکنیکی اشارے
هڪ مربوط فاریکس حڪمت عملي لازمي طور تي چار نقطا شامل آهن: دوسرا ، آپ اپنی ویب سائٹ فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ پر بینرز آویزاں کرسکتے ہیں۔ تقریبا all تمام ملحق پروگرام آپ کو ان کے برانڈ کے بینرز اور دیگر تشہیری سامان دیتے ہیں۔ آپ اسے اپنی ویب سائٹ پر استعمال کرسکتے ہیں یا ان کے لنک کو اپنی سائٹ کے فوٹر یا ہیڈر میں سرایت کرسکتے ہیں۔ آپ بھی استعمال کرسکتے ہیں کوپن کوڈ ڈسکاؤنٹ آپ کے زائرین کو ہوسٹنگ سروس کا انتخاب کرنے کی ترغیب دینے کیلئے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ ٹرائیٹ معلوم ہوتا ہے ، لیکن فری لانس ڈیزائنرز ممکنہ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا ایک سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس عمل میں اپنی انفرادیت پسندانہ شخصیات کی قربانی دیتے ہوئے تحریری اسلوب کو اپناتے ہیں جس کے خیال میں وہ زیادہ کاروبار پسند ہیں۔ قدرتی طور پر ، پھر ہر طرح سے ، اپنی مارکیٹنگ اور پروموشنل کوششوں میں یہ اظہار کریں۔ سوماترا حکومت کے کنٹرول میں ہے. لیکن کیا ہم کسی ایسی چیز کا جواز پیش کرسکتے ہیں جس کے بارے میں ہمارے پاس واضح نظریات نہیں ہیں؟
ثالثی حکمت عملی کے خطرات ،فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ
ایک چیز کو یقینی طور پر دھیان میں رکھنا ہے کہ جب تجارت کی بات ہوتی ہے تو بہت سے اثاثوں جیسی کرپٹو کرنسیوں میں ان کی upside اور downside ہوتی ہے لہذا گائیڈ بھی ان امور پر تبادلہ خیال کرے گا اور یہ کہ کس طرح کرپٹو پیش کرتا ہے اس میں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ 2010 میں فوڈ اینڈ وائن کے بہترین نیو شیفس میں سے ایک کے نام سے منسوب ، رائے چوئی نے امریکی معتبر کھانے کے ساتھ کوریائی باربی کیو کے ذائقوں کو عبور کیا تاکہ اپنے معزز کوگی بی بی کیو فوڈ ٹرک کا آغاز کریں۔ کوگی سلائیڈر میٹھی رولوں پر آتے ہیں جس میں کیریمیلاج شارٹ پسلی ، ٹاسٹڈ تل میو ، سالسا روزہ اور چیڈر اور جیک پنیر- علاوہ ایک گوبھی سبز پیاز سلوا چلی سویا وینی گریٹی میں پھینک دیا گیا تھا۔ kogibbq.com.
کلیدی نقد انعامات کو ان جذبات سے جوڑنا ہے جو ملازمین کو اپنے کام میں مصروف رکھتے ہیں۔
یہاں دو ، تین ، اور چار سالہ وظائف دستیاب ہیں۔ اسکالرشپ کو مختلف مانیٹری لیول پر دیا جاتا ہے۔ کچھ اسکولوں میں ، ایک آر او ٹی سی اسکالرشپ worth 80،000 تک ہے ، جو ٹیوشن اور تعلیمی فیس کی طرف جاتا ہے۔ نیز ، اسکالرشپ جیتنے والوں کو ایک سال میں 500 1،500 تک کا الاؤنس ملتا ہے۔ آر او ٹی سی اسکالرشپ مالی ضرورت پر مبنی نہیں ہیں۔ اس کے بجائے ، انہیں میرٹ پر نوازا گیا ہے۔ تعلیمی کامیابی اور غیر نصابی سرگرمیوں جیسے کھیلوں ، طلباء کی حکومت یا فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ پارٹ ٹائم ورک میں میرٹ کی نمائش کی جاتی ہے۔ سب سے بڑا سوال عام طور پر دوبارہ مالی اعانت کا خیال ہے۔ اگرچہ آپ کے طلباء کے قرضوں پر دوبارہ مالی اعانت کرنے سے آپ کو رقم کی بچت اور آپ کا قرض جلد ادا کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اس پر غور کرنے کے لئے کچھ خامیاں ہیں ، خاص کر اگر آپ کے پاس طلباء کے وفاقی قرضے ہیں۔ اگر آپ پنی فنڈ کریڈٹ یونین کی حیثیت سے دوبارہ مالی معاونت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ، پھر بھی خریداری کرنا اور دوسرے قرض دہندگان سے نرخوں اور شرائط کا موازنہ کرنا دانشمندانہ ہے۔ آپ کو شروع کرنے میں مدد کے ل we ، ہم نے 2021 کی اعلی طلباء لون ری فنانس کمپنیوں کی نشاندہی کی۔ این همچنین بدان معنی است که شما باید یک استراتژی تجاری اثبات شده با نرخ برنده خوب (70٪ یا بیشتر) داشته باشید. باید همراه با نظم و صبر باشد. در عین حال ، شما باید تمام موارد مربوط به احساسات مانند اضطراب ، نگرانی ، حرص و طمع و غیره را دور بریزید.
XM کے پاس صرف تجارتی مقاصد کیلیے نان اسٹاپ بونس کیساتھ بونس پروگرام ہے۔ تاہم، بونس سے حاصل ہونیوالا منافع کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔
کسی کمپنی کے مالی وسائل کا انتظام اس کی بقا کے لئے ایک بنیادی سرگرمی ہے سامان اور / یا خدمات کے حصول یا معاہدے کی اجازت دیں ، جن میں سے بہت سے پیداواری آلات کو شروع کرنے کے لئے ضروری ہوں گے ، جیسے مشینیں ، خام مال یا اہل اہلکار۔ فنگر پل ٹیب اتنے موثر نہیں ہیں جتنا کسی کی توقع ہوگی۔
اس مقام پر ، یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ وقت فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ کے ساتھ کرنسی کے ارتباط میں مسلسل بدلاؤ آتا رہتا ہے۔ اگر پہلے کسی جوڑے کا مثبت ارتباط ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ جوڑی مستقبل میں بھی مثبت ارتباط کی نمائش کرتی رہے گی۔ در حقیقت ، ارتباط وقت کے ساتھ ساتھ مثبت سے منفی میں بھی بدل سکتا ہے ، حالانکہ یہ بہت کم ہی ہوتا ہے۔
فاریکس میں کس طرح پھیلاؤ کا حساب لگایا جاتا ہے؟ ،فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ
ایک بار جب آپ تین یا زیادہ انسانی کھلاڑیوں کو پہی andے بازی کرنے اور چلانے کے ل. مل جاتے ہیں تو یہ کھیل اپنے آپ میں آجاتا ہے ، جو کم و بیش مطلوبہ تجربہ ہوتا ہے۔ در حقیقت ، کھیل کے ڈیلکس ایڈیشن میں خاص طور پر کھیل کے لئے ایک تحفہ کلید شامل ہوتی ہے ، لہذا آپ اسے ایک دوست کو دے سکتے ہیں اور ان کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ اگر آپ مقامی نیٹ ورک گیم مرتب کرتے ہیں ، یا کسی آن لائن برادری کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہیں تو ، یہ شام یا ہفتے کے آخر میں گزارنے کا نسبتا non عدم تشدد کا مزہ ہے۔
مرحلہ 5: کم تجارت درج کریں. د ګټې سلنه اندازه به په نهایت کې د پایلو په توپیرونو پورې اړه ولري. د مثال په توګه ، اجازه راکړئ ووایاست چې تاسو د خامو تیلو کې بائنری اختیارونو تجارت کولو په لټه کې یاست. د سوداګرۍ په وخت کې ، د تیلو بیره په rel 25 ډالرو بیه ده. د بائنری اختیارونو بروکر په ټولیزه توګه د څلور اعتصاب نرخونه وړاندیز کوي - دوه د هغه چا لپاره چې لنډ تیریدل غواړي ، او دوه د اوږدې مودې لپاره.
ایک روایتی سٹاک مارکیٹ کے برعکس، غیر ملکی کرنسی مارکیٹ تک رسائی کی سطحوں میں تقسیم کیا جاتا ہے. سب سے اوپر بین بینک مارکیٹ ہے، جو سب سے بڑا تجارتی بینکوں اور سیکیوریزیز ڈیلروں سے بنا ہے. بینکوں کے بینکوں کے اندر، سپریڈز، جس میں بولی اور مختلف کرنسی کے جوڑوں کے لئے قیمتوں سے پوچھا ہے، اس سے زیادہ تیز ہیں اور اعلی درجے کے باہر سرمایہ کاروں کو دستیاب اسپریڈ سے بڑے پیمانے پر مختلف ہوتی ہیں. زیادہ سے زیادہ نقصان بنیادی اسٹاک کی قیمت خرید کے برابر ہے جو کم وصول شدہ پریمیم ہے۔
مواد کی مارکیٹنگ میں تخلیقی کیریئر سے تجزیات کی طرف جانے کی بریڈن کی کہانی اتنی کم ہی نہیں ہے جتنی کہ یہ محسوس ہوتی ہے۔ ایجا فراسٹ حب اسپاٹ میں سینئر SEO اسٹراٹیجسٹ بننے سے پہلے ، وہ حب اسپاٹ سیلز بلاگ کی ایڈیٹر تھیں۔ تجاویز، ذاتی نوعیت کا مواد اور تلاش کے حسب ضرورت نتائج فراہم کرنے کیلئے، ہم آپ کے بچے کی معلومات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کے بچے کی ترتیبات کی بنیاد پر، Google Play اسے پسند آ سکنے والی نئی ایپس تجویز کرنے کیلئے آپ کے بچے کی انسٹال کردہ ایپس جیسی معلومات استعمال کر سکتا ہے۔
کمپنی کا دعوی ہے کہ وہ صارفین کی براؤزنگ سرگرمی کے بارے میں کوئی معلومات ذخیرہ نہیں کرتی ہے۔ کمپنی آپ کا IP ایڈریس آپ کو بہترین VPN سرور سے ملانے کے لlects جمع کرتی ہے ، لیکن یہ معلومات استعمال کے دوران خفیہ ہوجاتی ہے اور آپ کے VPN سیشن کے اختتام پر حذف ہوجاتی ہے۔ کمپنی کا دعوی ہے کہ اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ کسی سرور پر سرگرمی کو اس سرور کو استعمال کرنے والے کسی خاص شخص سے مربوط کرے۔ یہ دوسرے VPNs سے بہتر عمل ہے۔ ۲۰۰۵ء میں حامد کر زئی نے اپنے دورِ صدارت کے آخری زمانے میں امریکا کےساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس میں امریکی افواج کو پانچ مستقل اڈے دینے کی بات کی گئی تھی۔تاہم، بعد میں آنے والے صدر اشرف غنی نے اپنے دور کے آغاز میں ہی امریکی دباؤ پر دستخط کر دیے تھے۔ کچھ ذرائع جو میں استعمال کرتا ہوں؛ Strapworks cdwplus لیکن واضح طور پر، آپ کے مقامی کپڑوں کی دکان میں فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ ویب سائٹس حاصل کرنے کے لئے آسان ہے اور کپڑوں کی دکانوں میں سے زیادہ بھی ہارڈ ویئر فروخت کرتے ہیں.
اسی طرح ، ایک سے زیادہ سیل مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کرکومین ہوسکتا ہے: تمام غیر متعلقہ KFU 1 طلبا (کل وقتی طلبا) کو یونیورسٹی کے ایک ہاسٹلری میں ایک بستر فراہم کیا جاتا ہے۔ کیتھلین: کیا آپ مجھے اس کے فاریکس ٹریڈر ڈیسک ٹاپ بارے میں کچھ اور بتا سکتے ہیں؟ کیا اس خاص آواز کی کوئی خاص حکمت عملی تھی؟ |
ووٹ دو راشن لو - BBC News اردو
ووٹ دو راشن لو
شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ غازی خان
https://www.bbc.com/urdu/pakistan/2010/08/100827_dikhan_floods.shtml
Image caption امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں
جنوبی پنجاب کے علاقوں ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ شریف میں شدید سیلاب سے متاثرہ افراد کو بلا امتیاز امداد کی فراہمی میں ان علاقوں کا سرداری نظام سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس اپنے اپنے علاقوں کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی یا علاقے کے وڈیرے کی پرچی ہے اُن کو تو نہ صرف حکومتی راشن مل جاتا ہے بلکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے امداد مل جاتی ہے لیکن جن افراد کے پاس کوئی سفارشی پرچی نہیں ہے وہ سورج نکلنے سے پہلے جہاں جہاں امداد ملتی ہیں وہاں پر پہنچ جاتے ہیں اور شام گئے خالی ہاتھ واپس گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔
ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کے علاقےمحمد پور دیوان کے رہائشی حضور بخش کہتے ہیں کہ وہ گُزشتہ پندرہ روز سے صبح پانچ فُٹ گہرا پانی کراس کرکے اپنے بچوں کے لیے راشن لینے کے لیے لائن میں لگ جاتا ہے لیکن سرکاری اہلکار پہلے اُسے یہ کہتے رہے کہ متعلقہ پٹوری سے لکھوا کرلاو کہ تم اسی علاقے کے رہنے والے ہو تب ہم تمہیں راشن دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکار اُس کے شناختی کارڈ کو بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔ حضور بخش کے مطابق دو دن تو وہ متعلقہ پٹورای کو ڈھونڈتا رہا نہ ملنے پر وہ اپنے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی کے پاس گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کرکوئی امداد یا سفارشی رقعہ دینے سے انکار کردیا کہ سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اُن کے خاندان نے اُن کی مخالفت کی تھی لہذا اب وہ اُن کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔
دریائےسندھ کے کنارے پر واقع ڈیرہ غازی خان کے علاقے غازی گھاٹ کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں ہے یہاں پر بھی صرف اُنہی متاثرہ افراد کو امداد مل رہی ہے جن کا تعلق یا تو کھوسہ اور یا پھر لغاری قبیلے سے ہے۔
ان افراد کے پاس ان قبیلوں کے اہم افراد کی چٹیں ہوتی ہیں جن کو دیکھا کہ وہ نہ صرف خشک راشن لے رہے ہیں بلکہ اس کے علاوہ وہ اپنے اپنے گھروں کے قریب ٹینٹ لگا کر بھی دے رہے ہیں۔
فضلو بلوچ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو قریبی علاقے سے ہی امداد مل رہی ہے لیکن اُس کا شناختی کارڈ دیکھ کر سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ اُن کا شناختی کاررڈ دوسرے علاقے سے بنا ہوا ہے اس لیے وہ اپنے علاقے میں جاکر امداد لیں۔
فضلو بلوچ کے مطابق مظفر گڑھ کے علاقوں سے بڑی تعداد میں سیلاب سے متاثرہ افراد اُن کے علاقے میں آئے ہیں جنہیں مقامی سرکاری اہلکار اُنہیں راشن اور ٹینٹ بھی فراہم کررہے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ یہ افراد لغاری یا کھوسہ قبیلے سے ہے۔
ڈیرہ غازی خان میں کھوسہ اور لغاری قبلیوں کا ہولڈ ہے۔ سابق صدر فاروق احمد خان لغاری اور سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کا تعلق اس علاقے سے ہے جبکہ ضلع راجن پور میں لغاری اور مزاری قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں۔
تونسہ شریف میں خواجگان اور قیصرانی قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ضلعے مظفر گڑھ میں کھر، دستی، قریشی اور ہنجرا شامل ہیں۔ مظفر گڑھ کا ڈیرہ غازی خان سے ابھی تک زمینی رابطہ بحال نہیں ہے جس کی وجہ سے حکام کے مطابق ان علاقوں میں امدادی سامان بہت کم آرہا ہے۔
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں جن افراد کےپاس مقامی بااثر افراد کی پرچیاں نہیں ہیں اُن کی کچھ نہ کچھ امداد مخیر حضرات اور یا پھر غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔
راجن پور کی تحصیل رُجحان مزاری کے ایک سیلاب سے متاثرہ شخص نور الدین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلےسرکاری امداد علاقے کے منتخب نمائندوں اور باثر افراد کے ڈیروں پر جاتی ہے جہاں پر سب سے پہلے اُن افراد کو امداد دی جاتی ہے جو اُن کے حمایتی ہیں یا انتخابات کے دوران اُن کے لیے کام کرتے ہیں۔
Image caption اس قیامت میں بھی سیاست پوری طرح جاری ہے
انہوں نے کہا جو امدادی اشیاء بچ جاتی ہیں وہ مختلف جگہوں پر کیمپ لگا کر دو سے تین سو افراد میں تقسیم کردی جاتی ہیں۔ نوالدین کا کہنا تھا کہ ان امدادی کممپوں میں بھی ان افراد کے حمایت یافتہ لوگ موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں اور آٹے کے تین تین اور چار چار تھیلے لیکر جاتے ہیں جبکہ دیگر افراد جن میں بچے ،بوڑھے ، خواتین اور مرد بھی شامل ہیں وہ خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔
نورالدین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیلاب سے متاثرہ ایسا شخص اُن کے رکن قومی اسبملی کے پاس چلا جائے جو اُن کے حلقے کا ہو اور وہ اُسے شناخت نہ کرتا ہو تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اُس کے خاندان کے ووٹ کتنے ہیں اگر اُس کے خاندان میں ووٹ کے اہل پانچ افراد ہیں تو اُس کو اس یقین دہانی کے بعد راشن کی پرچی دی جاتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اُسے ووٹ دے گا۔
ان علاقوں سے منختب ہونے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رویے سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں شدت پسندی کو رجحان وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ فروغ پاتا جارہاہے اور ان علاقوں میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ لوگوں نے نہ صرف امدادی اشیاء کے ٹرک راستے میں ہی لوٹ لیے بلکہ اُن افراد کو بھی مارا پیٹا جو یہ امدادی اشیاء لیکر آرہے تھے۔ راجن پور کی تحصیل جام پور کے سیلاب سے متاثرہ افراد نے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی شیر علی گورچانی کے خلاف نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ انڈس ہائی وے کو بھی بلاک کردیا۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ مزکورہ رکن صوبائی اسمبلی نے نہ تو اُن کی کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ سے متاثرین کے لیے امدادی اشیاءلینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس کے خلاف جوابی کارروائی کی جس کے بعد پولیس آرام سے ایک طرف ہٹ گئی۔
سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے سیلاب آیا ہے اُس وقت سے لیکر آج تک کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی امداد دینا تو دور کی بات اُن کو تسلی دینے بھی نہیں آیا۔
راجن پور کے لوگ جوسابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کو بھتار (سردار ) کہتے ہیں اور اُن کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے انہوں نے بھی اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اُن کے بھتار اب اُن کا خیال نہیں رکھتے اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں مہرے والہ، شیرو، کوٹلہ شیر محمد، کوٹلہ اندرون، داجل اور دریائے سندھ کے کچے علاقہ جو تونسہ سے شروع ہوکر گُڈو بیراج تک جاتا ہے اُن علاقوں میں ایسے ہزاروں افراد ابھی تک حکومت اور دیگر اداروں کی امداد کے منتظر ہیں۔ |
کوبانی کی فاتح جنگجو خواتین – طبقاتی جدوجہد (آرکائیوز)
مغرب کی نام نہاد جمہوریت ''جنسی برابری'' کی بڑی دعویدار ہے لیکن کردمسلح اور سیاسی تنظیموں میں خواتین کی نمائندگی کے سامنے سرمائے کی اس طبقاتی جموریت کا کھوکھلا پن واضح ہوجاتا ہے۔ کرد مسلح ملیشیاؤں کے زیر کنٹرول علاقوں میں تمام علاقائی منظم کاروں کے دوعہدے ہوتے ہیں جن میں ایک خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ مثال کے طور پر وہاں شہر کے ''کو میئر'' یعنی شریک میئر کی دو نشستیں ہیں ایک مرد اور دوسری خاتون کے لیے۔ |
گردن مخلوق و بازوئے قاتل -Daily Jang-Today's Column-Hassan Mujtaba
گزشتہ دنوں کراچی میں دو جواں سال نوجوان قتل ہوگئے۔ ایک جواں سال شاہ زیب اور دوسرا جاوید عزیز میمن۔ مبینہ طور پر سندھ کے دو وڈیروں کے بگڑے ہوئے بدمست بیٹوں کے ہاتھوں ایک ڈی ایس پی پولیس کے اکلوتے بیٹے شاہ زیب تو اپنے ہائی پروفائل کیس اور میڈیا کی توسط کی وجہ سے اب ہر گھر کا نام بن چکا ہے لیکن دوسرے مقتول جاوید عزیز کو آپ نہیں جانتے۔ جاوید عزیز میمن جسے کراچی سائیٹ کی حبیب بنک چورنگی پر اپنے بنک سے جہاں وہ کام کرتے تھے،کار میں گھر واپس آتے ہوئے گولی مار دی گئی۔ کہتے ہیں وہ سندھ کے مشیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے کزن تھے۔ یہ کوئی اہم بات نہیں کہ اس سے جاوید عزیز میمن کو انصاف مل جائے گا! وہ حکومت جو اپنی پانچ سالہ میعاد حکومت کے اختتام کے دنوں تک اپنی پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکی (اب تو یہ ایک محاورہ بن چکا ہے) وہ شرجیل انعام میمن کے کزن کے قاتلوں کو کیا ڈھونڈ نکالے گی؟ وہ حکومتی پارٹی تو صف دشمناں کو یہ خبر کرنے اور قاتلوں کو نوید دینے آئی ہے کہ قومی مصالحت سب کیلئے۔ ایک ایسا ملک ، شہر و صوبہ جہاں ایسے لیڈر جن کی پارٹیوں کے قاتل جتھے شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہوں وہ بھی اپنی تقاریر میں فیض کی نظم 'دعا' سے یہ شعر پڑھ رہے ہوتے ہیں
جن کے سر منتظر تیغ
جفا ہیں ان کو
شہر کراچی جہاں دست قاتل عیاں اور قاتل "نامعلوم"۔ تو"نامعلوم قاتلوں" نے اس نوجوان جاوید عزیز کو قتل کردیا۔ جاوید عزیز اپنی زمانہ طالب علمی سے ایک ذہین، محنتی اور اعلیٰ دماغ اور درویش دل کا حامل نوجوان تھا، اس بجھا دیئے گئے چشم و چراغ کا تعلق ٹنڈوجام کے اس سندھی میمن خاندان سے تھا جنہوں نے سندھ میں زمانوں اور دہائیوں سے علم، ادب، آگہی و شعور کے میدانوں میں بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے بڑوں نے حافظ کو سندھی میں ترجمہ کیا، بھٹائی کے شاعری کے شارح تھے۔ ممتاز سندھی دانشور اور مصنف سراج الحق میمن کا یہ خاندان سندھ میں پہلا غیر روایتی مڈل کلاس سمجھا جاتا ہے جس نے صحیح معنوں میں سندھ میں سماجی و علمی شعور کو آگے بڑھایا، زندگی کے ہر شعبے میں نام پیدا کیا اور جن کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ گھروں سے باہر نکل کر زندگی کے ہر شعبے میں آگے آئیں۔ اپنے بھائی سراج الحق میمن کی طرح ان کی بہن فہمیدہ حسین بھی سندھی کی لسانیات کی ماہر ہیں۔ وہ کئی برسوں جامعہ کراچی کے شعبے میں پڑھاتی رہیں۔ اس خاندان سے کئی بیوروکریٹس، جج اور وکلاء، اداکار، مصنف و دانشور، ڈاکٹر اور زرعی سائنسدان نکلے ہیں۔ کئی انتہائی پڑھے لکھے سابقہ نوجوان ہیں جن کا سندھ میں یہ جو 1960ء کے عشرے سے1980ء اور 90ئکے عشرے تک سیاسی و ادبی شعور تھا اس کے پھیلانے میں بھی بشمول جاوید عزیز جیسے نوجوانوں اور ان کی اگلی نسل کا بڑا کردار رہا تھا۔ بڑے بڑے ادبی میلے ہوں کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کی جدوجہد اس خاندان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آگے آگے رہے تھے۔
ہم تو ٹھہرے ناستک، بے یقین لوگ جبکہ جاوید عزیز صوم و صلوٰة کا اتنا پابند کہ اس عمر میں بھی اس کی پیشانی پر محراب بن گیا تھا۔ اب پتہ نہیں کہ "نامعلوم قاتلوں" نے اسے اس کی پیشانی پر محراب اور داڑھی کی وجہ سے نشانہ بنایا یا اس کے بنے اس سر کی وجہ سے جو سندھی مائیں شیر خواری کے زمانے میں اپنے بچوں کے ایسے سر بٹھانے اور بنانے پر بڑی محنت کرتی ہیں۔ لسانی فسادات کے زمانے میں سندھیوں کے بیٹھے ہوئے سر بھی "نامعلوم بندوق بازوں یا ٹرگر ہیپی یوتھ" کو متوجہ کرنے کے موجب بنے رہے تھے لیکن کراچی میں تو اب کوئی لسانی فساد بھی نہیں چل رہا۔ اب تو بغیر کسی امتیاز کے خونریزی جاری ہے۔ اب سندھ کے اس غیر روایتی مڈل کلاس کے چشم و چراغ کو لگنے والی گولی سندھ کے شعور کو لگنے والی گولی ہے جس کے مارنے والے سب کو معلوم ہوتے ہوئے بھی "نا معلوم قاتل" ہیں۔ نہیں معلوم کہ قاتل اجرتی تھے کہ خود کو مڈل کلاس کہلانے والے شہری وڈیروں کے جیالے۔اب اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر شاہ زیب کے مبینہ قاتلوں نے ایسی واردات اندرون سندھ کی ہوتی جیسا کہ لاڑکانہ اور سکھر کے کئی لوگ گواہ ہیں کا ان کے باپ دادا بھی ایسی کئی وارداتیں کرتے رہے تھے تو شاید ان کو سندھی میں کہتے ہیں کہ جواں سال شاہ زیب کا کیس "پھب" جاتا (ہضم ہوجاتا) شاید اب یہ ہضم نہ ہو سکے۔ ڈی ایس پی کا بیٹا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ مجھے1960ء یا 70ء کی دہائی میں ایک ڈی ایس پی کے بیٹے کا ہالا میں قتل یاد آ رہا ہے جس کا انصاف شاید اب تک نہ مل سکا ہو کہ اس کے بیگناہ خون کے کھرے بااثر لوگوں کی بڑی حویلیوں تک جاتے تھے۔ یہ لوگ حکمران پارٹیوں کے کور کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔لیکن شاہ زیب کے مبینہ قاتلوں کے برعکس جاوید عزیز کے قاتل ایک تو "نا معلوم" ہیں اور پھر ان کے والد نہ صدر آصف علی زرداری کے قریبی بتائے جاتے ہوں گے، نہ ان کی جیب میں پی پی پی کے وفاقی و صوبائی وزراء ہوں گے اور نہ ہی ان کو روہڑی سیمنٹ فیکٹری پرائیویٹائیزیشن کی نیلامی میں ملی ہوگی کہ جس کی پیشگی رقم جتنی تو کمیشن تھی جو اس زمانے کے مسٹر ٹین پرسینٹ کی جیب میں جانی تھی اور نہ پھر وہ ایک ایسے ٹی وی چینل کے مالک ہوں گے جس نے اسی شہر اجل میں رینجرز کے ہاتھوں مارے ہوئے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل کی کوریج کی تھی تو سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں اور میڈیا جاوید عزیز کو انصاف دلانے کیلئے بھی میدان میں نکلتے۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اتنا ہائی لائٹ ہو کر جاوید عزیز کا خون بھی ہائی پروفائل بنتا۔
شاہ زیب ہو کہ جاوید عزیز یا وہ سب کے سب ماؤں کی آنکھوں کے تارے بیٹے اور بیٹیاں جن کو کراچی کی روشن و تاریک راہوں پہ مارا گیا یا کہ جن کے لاشے کراچی سے اندرون سندھ، پختونخوا، پنجاب ہو کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچے (یہاں تک کہ بگٹی خواتین کے بھی) وہ سب شاہ زیب و جاوید عزیز تھے۔ بقول پروین شاکر
آنسوؤں میں کٹ کٹ کر خواب کتنے گرتے ہیں
ایک جوان کی میت آ رہی ہے گاؤں میں
لیکن گاؤں بھی تو اب علی گل پیر کے گانے کی طرح "وڈیرے کا بیٹا" بنے ہوئے ہیں کہ جہاں سائیں تو سائیں، سائیں کا کتا بھی سائیں والی بات ہے۔ جہاں پیر، میر، وڈیرے اور کٹھ ملا گردن مخلوق پر ہمہ تن سوار ہیں۔
اک گردن مخلوق ہے سو ہر حال میں خم ہے
اس کی ایک مثال سماجی میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیو ہے جس میں مبینہ طور پر ایک پیر ایک پندرہ سولہ سالہ نوجوان کو ننگا کر کے اس پر ڈنڈے سے تشدد کر رہا ہے۔ خود عدالت اور جج بن کر اس غریب بچے سے موبائل فون کی چوری منوانے کی آڑ میں اس پیر کے پیٹ کا اصل درد اس بچے کی ماں ہے جس کے اتے پتے اور ازدواجی حیثیت معلوم کرنے کیلئے وہ بچے پر بے پناہ تشدد کر رہا ہے۔ وہ بچے کے جسم کے نازک حصوں پر ڈنڈے برسا کر پوچھتا ہے کہ اس کی ماں فلاں شخص کے ساتھ رہ رہی ہے تو نکاح کے ساتھ رہ رہی ہے یا اس نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لی ہے کہ نہیں! یہ سندھ کے لوگ ہیں کہ عظیم روسی ناول نگار دوستووسکی کے ناول "ذلتوں کے مارے لوگ" کے کردار۔ طاقتوروں کے آگے کیڑے مکوڑے سمجھے جانے والے لوگ۔
سندھ جو صوفیانہ کلچر کی حامل سرزمین سمجھی جاتی تھی وہاں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایک انسان کو پلال (ایک طرح کا خشک گھانس) میں رکھ کر اس کو جلا دیا جائے گا۔ یہ پچھلے دنوں سب کچھ دادو ضلع کے سیتا ولیج گاؤں میں ہوا۔ ایک شخص کو قرآن کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں لوگوں نے گاؤں کی میمن مسجد سے پکڑ کر مقامی پولیس کے حوالے کیا۔ یہ کافی تھا کہ قانون اپنا کام کرتا، فیصلہ عدالتیں کرتی لیکن دوسرے روز21دسمبر کی صبح جب سندھ میں سندھی میڈیا "سندھی کلچر ڈے" منا رہا تھا مسجد سے حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیرے کے بیٹے نے مبینہ طور اعلان کرکے لوگوں کو اشتعال دلایا اور پھر دو ہزار لوگوں کی مجمع نے تھانے پر حملہ کر کے لاکپ توڑ کر اس شخص کو نکال کر سنگسار کر کے ادھ موا کرنے کے بعد اسے آگ لگادی۔ اس تمام مجمع کے تشدد کی سیل فونوں پر بنی وڈیو سوشل میڈیا پر جرثومے کی طرح پھیلی۔ اس وڈیو میں لوگ مقدس نعرے بھی لگا رہے ہیں تو ایک قوم پرست پارٹی کے سرخ پرچم بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ جلایا جانے والا شخص مخبوط الحواس تھا تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اصل میں پنجابی بولنے والا یہ شخص اناج کا آڑھتی تھا جو مقامی وڈیروں کی طرف اپنی رقم وصول کرنے آیا تھا۔ اب شاید حقائق کبھی معلوم نہ ہوسکیں ۔ |
خلیج عرب اور بحراومان میں نیا 'فتنہ' کھڑا کرنے کی ایرانی سازش
العربیہ ڈاٹ نیٹ - صالح حمید
پہلی اشاعت: 13 فروری ,2018: 12:00 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 14 فروری ,2018: 07:44 دن GST
ایران کی نیول فورس کے سربراہ علی فدوی نے خلیج عرب اور بحر اومان میں عالمی جہاز رانی کی راہ میں ایک نئی رخنہ اندازی کی سازش کا دعویٰ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اڈمرل علی فدوی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ خلیج عرب اور بحر اومان میں ایرانی بحری جہازوں کے گذرنے کے لیے مخصوص راستہ بنا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ علاقے میں جہازوں کی سلامتی کو ایک نئے خطرے سے دوچار کرنے اور بحری ٹریفک میں ایک نئی کشیدگی پیدا کرنے کی جانب تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے'ارنا' کے مطابق علی فدوی نے ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ کونسل خلیج عرب کے پانیوں اور بحراومان میں ایک نئی آبی گذرگاہ کو متعین کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور اس کے مقرب دیگر چھ ممالک بھی اسی آبی گذرگاہ کو جہازوں کو گذارنے کے پابند ہوں گے۔
ایرانی عہدیدار نے دھمکی دی کہ غیرملکی بحری جہازوں کو متوازی آبی گذرگاہوں کے استعمال اور ایران کے مقرر کردہ مقامات سے ہٹ کر جہازوں کو خالی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھارت کے ایک بحری جہازکو متوازی مقامات پر پانی کے ٹینک خالی کرنے کے الزام میں روکا گیا تھا۔ جب کہ خود بھارت نے بھی مخصوص آبی گذرگاہ کو استعمال نہ کرنے پر دو سال تک ایک ایرانی بحری جہاز کو روکے رکھا تھا۔
ایرانی نیوی کے عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ عرصے کے دوران خلیجی پانیوں میں ایرانی کشتیوں اور بحری جہازوں کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی رہی ہے۔ کئی بار ایرانی عملے اور دوسرے ملکوں کے حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
گذشتہ برس 13 جون کو خلیج عرب کے پانیوں میں ایران اور امریکا کے جہازوں کےدرمیان مڈ بھیڑ ہوگئی تھی جس میں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی۔ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے ایران کی ہرمز بندرگاہ کے قریب ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ کی تھی۔ |
بھارت تو پہنچ گیا، پاکستان کا کیا ہو گا؟ | کھیل | DW | 11.06.2017
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ بی کے ایک اہم میچ میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ کیا سیمی فائنل کھیلنے کی خاطر پاکستان بھی سری لنکا کو گروپ میچ میں ہرا سکے گا؟
لندن کے اوول گراؤنڈ میں گیارہ جون کو کھیلے گئے گروپ بی کے ایک اہم میچ میں بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم نے عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان جنوبی افریقہ کی ٹیم کو ہر شعبے میں مات دے دی۔ جنوبی افریقی کھلاڑی ایک اور اہم ٹورنامنٹ میں اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور دباؤ نے انہیں کُھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔
بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقی اوپنرز ہاشم املہ اور ڈی کوک نے ابتدا میں محتاط انداز میں اسکور بنانا شروع کیے تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ہاشم کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈوپلیسی نے ڈی کوک کے ساتھ مل کر اچھی شراکت داری کی لیکن ڈی کوک کیا آؤٹ ہوئے، یوں لگا کہ جنوبی افریقی ٹیم پریشانی ہی میں گِھر گئی۔
مایہ ناز بلے باز اور کپتان اے بی ڈویلیئرز دباؤ کے باعث انتہائی بھدّے طریقے سے رن آؤٹ ہوئے لیکن ساتھ ہی ڈوپلیسی اور ملر کے مکس اپ کا نتیجہ بھی ایک اور رن آؤٹ کی صورت میں نکلا۔ اس بار پویلین جانے والے کھلاڑی ملر تھے۔ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقی کھلاڑی اس مرتبہ بھی ایک اہم میچ میں دباؤ کا سامنا کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اس طرح کی غلطیاں دیکھی گئیں۔ اس میچ میں جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔
اوول کی وکٹ اتنی خراب نہیں تھی، جتنی خراب کارکردگی جنوبی افریقی بلے بازوں نے دکھائی۔ بڑے میچ کے اسی پریشر کے باعث پوری ٹیم 191 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ بھارت کی طرف سے بھونیشور کمار اور جسپریت بمرا نے دو دو جبکہ ایشون، پانڈیا اور جدیجہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
اس آسان ہدف کے تعاقب میں بھارتی بلے بازوں نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا۔ اگرچہ روہت شرما اس تیزی کی وجہ سے بارہ رنز پر آؤٹ ہو گئے لیکن دوسری طرف سے شیکھر دھون اور کپتان ویراٹ کوہلی نے جارحانہ انداز اختیار کیے رکھا۔ دھون جب 78 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے تو اس وقت بھارت کا مجموعی اسکور ایک سو اکاون ہو چکا تھا۔
بعد ازاں بائیں بازو سے کھیلنے والے یوراج سنگھ نے کوہلی کا ساتھ دیا اور اڑتیس اوورز میں ہی 193 رنز بنا کر سیمی فائنل کے لیے اپنی جگہ پکی بنا لی۔ کوہلی 76 جبکہ سنگھ تئیس کے انفرادی اسکورز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ میچ کا بہترین کھلاڑی بمرا کو قرار دیا گیا۔
گروپ بی میں بھارت تو آگے جانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن ابھی ایک دوسری ٹیم کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بارہ جون کو پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلے جانے والے میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میچ کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ گروپ اے سے انگلینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔
برمنگھم کے یخ بستہ اور سرمگیں موسم میں اتوار کو ہونے والے پاک بھارت میچ کی الٹی گنتی سات سمندر پار دونوں ملکوں میں جون کے درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت تقریباً سوا دو سال بعد آمنے سامنے آ رہی ہیں۔ (03.06.2017) |
غریب طلبہ کا کیا حال ہے ای پی آئی رپورٹ – Urdu Only
غریب طلبہ کا کیا حال ہے ای پی آئی رپورٹ
Home/تازہ ترین/غریب طلبہ کا کیا حال ہے ای پی آئی رپورٹ
میری بہن اور میں ایک ہی آدمی کی رکھیل ہوں ….
ایجوکیشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سٹڈی میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ غریب ترین طلبہ جی سی ایس ای ایس کرتے وقت اپنے امیر ہم جماعتوں سے دو سال پیچھے ہیں۔ یہ بچے سیکنڈری سکول میں اپنے80فیصد وقت کے لئے فری سکول میلز کے حق دار ہیں۔</p>
<p>ایجوکیشن سیکرٹری نے سوشل موبیلٹی ایمرجنسی کی وارننگ دی ہے۔ حال ہی میں ایک تقریر میں جسٹن گریننگ نے اس مسئلے کو اجاگر کیا تھا اور ای پی آئی رپورٹ ''کلوزنگ دی گیپ'' میں تسلیم کیا گیا ہے کہ تعلیمی نظام میں نسلوں کے لئے بڑا فرق موجود ہے اور حکومتوں نے اس سے نمٹنے کی کوشش کی تھی اور ریسرچ کرنے والوں نے انکشاف کیا ہے کہ فرق گزشتہ عشرے کے دوراں 0.3ماہ سے بڑھ کر24.3ہوگیا ہے بہرحال یہ کم ہو رہا ہے تاہم بہت ہی کم شرح سے کمی آرہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمایاں سرمایہ کاری اور ٹارگٹڈ انٹرونیشن پروگراموں کے باوجود16 سالہ طلبہ کیلئے فرق 2007اور2016کے درمیان صرف 3ماہ کم ہوا ہے 2016میں قومی فرق سیکنڈری سکول کے اختتام تک19.3اہ تھا درحقیقت غرب طلبہ اپنے امیر ہم جماعتوں سے ہر سال سیکنڈری سکول کے کورس میں تقریباً2ماہ پیچھے ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو فرق اندازے کے مطابق50سال میں ختم ہوگا، لندن جنوبی انگلینڈ اور مشرق انگلینڈ میں16تا18ماہ ہے جب کہ ایسٹ مڈلینڈز، ہیمبر شمالی انگلینڈ اور جنوب مغربی انگلینڈ میں زیادہ ہے یعنی22ماہ جبکہ آئل آف وائٹ میں یہ29ماہ تک ہے ڈارلنگٹن، ڈربی، لوٹن، سائوتھ ٹائن سائڈ اور تھروک میں بھی زیادہ ہے حالانکہ اس کے خاتمے کے لئے متواتر کوششیں کی گئی ہیں موجودہ حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ یہ ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور جسے دور کرنے کی ضرورت پائی جاتی ہے۔</p>
<p>نیشنل یونین آف ٹیچرز کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری ایسوس گلمور نے کہا ہے کہ جب تک سرمایہ کاری اور درست مداخلت نہیں کی جاتی فرق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لوکل اتھارٹیز اور سکولوں کو کیش میں قلت کا سامنا ہے جس سے بہت ساری سپورٹ سروسز بند یا کم ہوگئیں، این اے ایس یو ڈبلیوٹی کے جنرل سیکرٹری کرس کیٹس نے کہا ہے کہ فرق کا سبب چائلڈ پاورٹی، غیر محفوظ ہائوسنگ خراب صحت اور ملازمت میں عدم تحفظ ہے حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات بھی اضافے کا ایک سبب ہیں۔ محکمہ تعلیم نے کہا ہے کہ وہ اس سال غریب طلبہ کو آگے بڑھانے کے لئے سکولوں کی مدد کی خاطر پیوپل پریمیم کے ذریعے تقریباً ڈھائی ارب پونڈ ٹارگٹ کر رہی ہے۔</p> |
کوئٹہ میں نیٹو ٹرمینل پر حملہ، دو افراد ہلاک | Dawn Urdu
کوئٹہ میں نیٹو ٹرمینل پر حملہ، دو افراد ہلاک
فائر بریگیڈ کے اہلکار نیٹو کنٹینرز میں لگی آگ کو بجھا رہے ہیں ۔ فوٹو اے ایف پی۔۔۔
کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد نے نیٹو ٹرمینل پر راکٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں متعد ٹینکرز تباہ اور دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں آج بھی سریاب روڑ پر معمولی نوعیت کا دھماکہ ہوا۔
ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے میں نامعلعم مسلح افراد نے نیٹو کنٹینرز پر راکٹ فائر کیے جس کے نتیجے میں متعدد ٹینکرز تباہ ہو گئے۔
ابتدائی رپورٹس میں مطابق راکٹ حملوں میں افغانستان میں نیٹو افواج کیلیے اشیائے خور و نوش لے جانے والے ہپانچ کنٹینر بھی تباہ ہو گئے جبکہ واقعے میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے۔
مقامی سینئر پولیس آفیشل حامد شکیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ 12 نامعلوم افراد نے ٹرمینل پر حملہ کیا اور راکٹ فائر کیے، راکٹ فائر کیے جانے سے بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور وہاں پر کھڑے دس میں سے پانچ ٹینکرز تباہ ہو گئے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر آج بھی ایک دھماکہ ہوا تاہم رہورٹس کے مطابق دھماکہ معمولی نوعیت کا تھا۔
واقعہ صوبائی دارالحکومت کے علاقے سریاب میں ڈبل روڑ پر واقع کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی(کیو ڈی اے) کے پرانے دفتر کے قریب پیش آیا ۔
شہر شٹر ڈاؤن ہرٹال کے باعث دکانیں اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے کوئی بھی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ بم سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا۔
سiکیورٹی اہل کاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی کوئٹہ شہر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پانچ بم دھماکوں سے پورا شہر لرز اٹھا تھا۔
شام چار بجے کے قریب باچا خان چوک پر سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو سیکیورٹی اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب علمدار روڈ پر دو بم دھماکوں میں اسنوکر کلب کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 81 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکے میں سو کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
balochistan, balochistan crisis, balochistan violence, blast in quetta, Dawn, Dawn News, Dawn Newspaper, dawn urdu, dawn urdu news. ڈان اردو, Dawn website, Dawn.com, DawnNews, urdu.dawn.com, مسئلہ بلوچستان, ڈان, ڈان نیوز, ڈان ویب سائٹ, ڈان ڈاٹ کام, ڈان اخبار, ڈان اردو, ڈان اردو خبریں, ڈان.کام, کوئٹہ میں دھماکہ, بلوچستان, بلوچستان بد امنی |
کرنسی ہیجنگ کیا ہے؟ | FBS لغت
کرنسی ہیجنگ سرمایہ کاروں کو کرنسی کی شرح تبادلہ میں غیر متوقع تبدیلیوں سے سرمائے کی حفاظت میں مدد کرتی ہے۔ ہیجنگ ایک انشورنس پالیسی کی طرح ہے جو مالی مارکیٹوں پر غیر ملکی کرنسی کے خطرے کے اثرات کو محدود کرتی ہے۔
سرمایہ کار اپنی لیکویڈیٹی کو متاثر کیے بغیر مستقبل کے نرخوں کو لاک کرنے والے معاہدے خرید کر اپنے سرمائے کو ہیج کرتے ہیں۔
ہیجنگ کے مختلف میکانزم بنیادی سے لے کر انتہائی پیچیدہ تک ہیں۔ ہیجنگ کی حکمت عملی پر غور کرتے وقت، سب سے زیادہ محتاط پہلا قدم ممکنہ کرنسی کے خطرات کو سمجھنا ہوگا اور اس کی بنیاد پر، اس بات کا اندازہ کریں کہ کون سے اہداف مقرر کیے جائیں اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔
کرنسی سویپ کیسے کام کرتی ہے۔
کرنسی ہیجنگ کے سب سے مشہور ٹولز میں سے ایک "کرنسی سویپ" ہے۔ یہ ایک مالیاتی انسٹرومنٹ ہے جس میں ایک کرنسی کا دوسری کرنسی میں سود کا تبادلہ شامل ہوتا ہے۔
کرنسی سویپ میں معاہدے کے آغاز اور اختتام پر دو ادائیگیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ان ادائیگیوں کا تعین اصل رقم کے علاوہ شرح سود کی ادائیگی کے طور پر کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایک اصل رقم کبھی ادا نہیں کی جاتی ہے۔ یہ سخت نظریاتی ہے۔ پرنسپل کو صرف ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر کرنسی کے تبادلے میں شرح سود کی ادائیگیوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔
کرنسی سویپ کی مثالیں اور اسکی کیلکولیشن
اگر ہم مختلف ممالک کی دو کمپنیوں پر غور کریں تو ان کی ادائیگیاں اور تبادلہ مختلف شکلوں میں ہو سکتا ہے۔
ایک امریکی کمپنی سپین میں 5€ ملین ڈالر کا پلانٹ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں اس کے قرضے لینے کے اخراجات یورپ میں گھر سے زیادہ ہیں۔ 1.2 EUR/USD کی شرح تبادلہ فرض کرتے ہوئے، کمپنی یورپ میں %4 پر €5 ملین یا امریکہ میں %2 پر 6 ملین ڈالر قرض لے سکتی ہے۔ کمپنی %2 پر $6 ملین ادھار لیتی ہے اور پھر ڈالر کے قرض کو یورو میں تبدیل کرنے کے لیے تبادلہ کرتی ہے۔ اسپین کی ایک کمپنی، ایک ہسپانوی کمپنی کو سویپ کرنے کی ہم منصب ہے جس کے لیے 6 ملین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح، ہسپانوی کمپنی بیرون ملک کے مقابلے میں مقامی طور پر سستی قرضے کی شرح حاصل کر سکے گی۔ آئیے فرض کریں کہ یہ ملک کی سرحدوں کے اندر موجود بینکوں سے %1.5 پر قرض لے سکتا ہے۔ معاہدے کے شروع میں، ہسپانوی کمپنی امریکی کمپنی کو اس منصوبے کے لیے درکار €5 ملین یورو دیتی ہے، اور اس کے بدلے میں، امریکی کمپنی انہیں 6 ملین ڈالر فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد، یہ دونوں کمپنیاں اگلے دو سالوں (معاہدے کی لمبائی) کے لیے ہر چھ ماہ بعد ادائیگیوں کا تبادلہ کریں گی۔ ہسپانوی فرم امریکی کمپنی کو وہ رقم ادا کرتی ہے جو کہ 6 ملین ڈالر (امریکی کمپنی کی طرف سے ہسپانوی فرم کو ابتدائی طور پر ادا کی گئی تصوراتی رقم) کا نتیجہ ہے، 2٪ (متفقہ طے شدہ شرح) سے ضرب، ایک مدت کے دوران 0.5 (180 دن ÷ 360 دن)۔ یہ ادائیگی $60،000 ($6 میلن x 2% x 0.5) ہوگی۔ امریکی کمپنی 5€ ملین یورو (ہسپانوی کمپنی کی طرف سے امریکی کمپنی کو شروعات کے وقت ادا کی گئی تصوراتی رقم)، 1.5 فیصد (متفقہ طے شدہ شرح) سے ضرب اور 0.5 (180 دن ÷ 360 دن) کا نتیجہ کی رقم ادا کرتی ہے )۔ یہ ادائیگی €37،500 (€5 ملین یورو ضرب 1.5% ضرب 0.5) ہوگی۔ دونوں فریق ہر چھ ماہ بعد ان مقررہ دو رقموں کا تبادلہ کریں گے۔ آخرکار، معاہدہ کے آغاز کے دو سال بعد، یہ دونوں فریق تصوراتی اصل رقم کا تبادلہ کریں گے۔ اس کے مطابق، امریکی کمپنی ہسپانوی کمپنی کو €5 ملین یورو ادا کرے گی، اور ہسپانوی کمپنی امریکی کمپنی کو 6 ملین ڈالر ادا کرے گی۔
امریکی کمپنی ایک مقررہ شرح ادا کرتی ہے۔ ہسپانوی کمپنی کسی دوسری کرنسی پر فلوٹنگ ریٹ ادا کرتی ہے (پہلے سے طے شدہ بینچ مارک ریٹ کی بنیاد پر، جیسے LIBOR یا فیڈ فنڈ ریٹ)۔ کرنسی کے تبادلے کے معاہدوں میں یہ ترامیم عام طور پر انفرادی جماعتوں کے مطالبات، فنڈنگ کی ضروریات کی اقسام، اور کمپنیوں کے لیے دستیاب قرض کے بہترین امکانات پر مبنی ہوتی ہیں۔ |
سید مودودیؒ کا نظریۂ تعلیم سید مودودیؒ کا نظریۂ تعلیم
بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,
ڈاکٹرابوذراصلاحی
سید مودودیؒ آج کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ بیسویں صدی میں عالمی پیمانے پر آپ وہ پہلے اسلامی مفکر ہیں جنہوں نے اسلام کو بحیثیت نظام حیات کے طور پر پیش کرکے ساری دنیا کے سامنے ایک ایسا سوالیہ نشان کھڑا کردیا کہ اغیار بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہواٹھے۔
مثال کے طور پر ''کنیڈا'' کا ایک عیسائی پروفیسر'' ولفرڈ کینئویل اسمتھ''اپنی ایک کتاب"Islam in Modern History"(اسلام دور حاضر میں) میں لکھتا ہے۔
مودودی صاحب کا نمایا ں ترین امتیاز ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات کو آہستہ آہستہ اور بڑے تسلسل سے ایک مربوط ومنظم اور پرکشش نظام حیات کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مودودی صاحب عصر حاضر میں اسلام کے متعلق بڑے منظم اور بااصول انداز میں سوچنے والے مفکر معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو ایک نظام کی شکل میں متشکل کردیا ہے ۔۔۔۔ مودودی صاحب پہلے آدمی ہیں جو اس قانون کو ز مانۂ حاضر کا ایک مثبت اور قابل عمل نظام بناکر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو ایک ایسے نظام حیات کی صورت میں پیش کیا ہے جس نے آج سے صدیوں پہلے بنی نوع انسان کو ہر زمانہ میں پیش آنے والے مختلف مسائل کے متعین جوابات فراہم کررکھے ہیں۔''
یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ پہلے تو بحث اسلام بحیثیت مذہب کے ہوا کرتی تھی لیکن سید مودودی نے اس رخ کو پھیر کر ادھر کردیا کہ آج اسلام پر بحث بحیثیت نظام عالم کے ہوا کرتی ہے۔
آنجناب نے ہر چیز کے تعلق سے خواہ وہ سیاسی رہا ہو، سائنسی رہا ہو،معاشی رہا ہو،معاشرتی رہا ہو، اخلاقی رہا ہو یا ادبی رہا ہو الغرض کہ تمام امو رپر بحث کرکے بتایا کہ اسلام ہر چیز کے تعلق سے اپناایک ضابطہ رکھتا ہے۔ اسی طرح سے تعلیم کے تعلق سے بھی علامہ مرحوم نے بتایا کہ اس میں بھی اسلام اپنی ایک نظریہ رکھتا ہے۔ میرے مطالعہ کی حد تک برِّ صغیر میں تعلیم کے ایک انقلابی نظریہ دینے والے سب سے پہلے سید مودودی ہیں۔ آپ نے ایک جدید نظریہ تمام رائج نظامہائے تعلیم پر تنقید کرکے خواہ وہ اسلامی رہا ہو یا غیر اسلامی اس امت کو بتادیا کہ جس نصاب تعلیم کو لے کر آپ چل رہے ہیں وہ اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ اس کے اندر دم ہی نہیں ہے کہ و ہ آپ کو دنیا کی امامت کا نقشہ دے سکے۔ البتہ آپ کو مقلّد(Confromist)ضرور بناکر رکھے گا۔ اس کے بعد آپ نے ایک جدید تعلیمی اسکیم پیش کی اور بتایا کہ یہی وہ نسخہ ہے جس کے بل پر آپ دنیا کو اپنا مقلد بناسکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ جمود نے ہمیں آج تک اس پر کام کرنے کی مہلت ہی نہ دی۔
اس زمین پر تعلیم انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ پہلا ذریعہ ہے جس سے انسان کی ذہنی وفکری نشوونما ہوتی ہے اور پھر اس سے انسان اپنا ایک نصب العین متعین کرتاہے لیکن سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ آخر وہ تعلیم ہو کون سی جو انسان کو انسانیت سے بیزار نہ کرے بلکہ اسے صحیح نظریہ فراہم کرے۔ راہ مستقیم پر چلائے، تمام معاملات دنیا کو اس فطری نظر سے دیکھے جو خالق کو مطلوب ہے۔ تو ایسی تعلیم اس روئے زمین پر صرف وہی ہے جو مالک نے اپنے بندوں کے پاس اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجی ہے۔ صرف یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو اس معراج کی طرف لے جائے گی جو قدرت کو مطلوب ہے ۔انسان کے بنائے ہوئے نظام تعلیم فزکس، میتھ مٹکس،باٹنی،اناٹومی،اسٹرا نومی،زولوجی،بایو لوجی،فزیالوجی الغرض کہ اس طرح کے جتنی بھی نمومیاں اور لوجیاں ہیں وہ انسان کو ٹاپ کا مادّہ پرست تو بناسکتی ہیں لیکن ان کے اندر اتنا مادہ نہیں ہے کہ وہ انسان کو خدا پرست بناسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس طرح کے علوم انسان کو ذہنی عیاشی،ضمیر فروشی،فحش پسند،ہوس پرستی الغرض کہ ہر اس پرستی میں مبتلا کردیتے ہیں جس سے انسان تمام طرح کے اس اخلاقی کوڑھ کے مرض میں گرفتار ہوجاتا ہے جو انسانیت کا قاتل ہے۔ اور اس کے پیش نظرصرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیارِ زندگی بلند کرلے خواہ معیار انسانیت کی ادنیٰ بھی رمق اس کے اندر باقی رہے نہ رہے۔ آخر ایسی تعلیم کا مقصد؟ اگر اپنا پیٹ بھر نا ہے تو یہ بھی جان لیجئے کہ آپ نے کوئی ترقی نہیں کی ہے کیونکہ جانور تو بے تعلیم ہی کے اپنا پیٹ بھرلیتے ہیں۔
اس طرح کی ذہنیت صرف ایک بات کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس ہدایت،اس قانون،اس سراپا علم کو بالائے طاق رکھ دیا جس میں ہر طرح کی گمراہیوں سے بچنے کے نسخے درج تھے اور خود ساختہ نظام تعلیم کو لے کر مختلف تعریفوں کے ساتھ اس کے ہالے میں اس طرح بیٹھ گئے کہ گویا یہی پل صراط پار کرانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
کسی کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض یہ ٹھہرا کہ بہترین شہری پیدا کیا جائے۔ تو کسی کے نزدیک یہ ہوا کہ گزری ہوئی نسل کے سرمائے کو آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کیا جائے۔ تو کوئی یہ تعریف لے کر نمودار ہوا کہ نسل کو اس طرح تیار کیا جائے جو ملک کے مسائل کو بہتر طریقے سے چلا سکے۔ تو کوئی یہ آواز لے کر برآمد ہوا کہ آزادانہ تعلیم دی جائے تاکہ انسانی ذہن ہر چیز کو آزاد نظر سے دیکھے اور آزاد ذہن سے اس کے متعلق فیصلہ کرلے۔ تو کوئی یہ لکچر لے کر کھڑا ہوا کہ جو روایات وتجربات موجود ہیں انہیں جوں کا توں لیا جائے اور معروضی مطالعہ کے ذریعہ سے زندگی کی گاڑی کو چلا یا جائے۔ الغرض کہ تمام منقولات(Traditionally)سے اسی جیسے خلاصے برآمد ہوتے ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ناقص علم وفہم کا ماحصل ہیں۔ یہ تمام تعریفیں جڑ نہیں بلکہ شاخ ہیں۔ اس کی اصل یہ ہے کہ خدا نے جو علم بھیجا ہے اس کی روشنی میں سب سے پہلے انسان بنا جائے پھر پوری دنیا کو انسان بنانے کی سعی کی جائے تاکہ ہر طرح کے Corruptionسے زمین پاک رہے اور انسانی پھلے پھولے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد ہی یہی تھا۔ اس بات کو ہم ہی نہیں بلکہ یہودی، عیسائی اور صابئی بھی بخوبی جانتا ہے کہ تمام انبیاء پروفیسر کے لئے نہیں بلکہ انسان کو اس کے خالق کے مطالبات کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے۔ اسی مطالبات کو سمجھنا اور سمجھانا اصل تعلیم ہے۔ لیکن ہمارے ماہرینِ تعلیم نے کہیں کا قبلہ کہیں بنادیا۔
سید مودودی تعلیم کے مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ:۔
''بعض لوگوں کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو بالکل غیر جانبدارانہ تعلیم دی جانی چاہئے تاکہ وہ زندگی کے مسائل اور معاملات اور حقائق کا بالکل معروضی مطالعہ کریں۔ اور آزادانہ نتائج اخذ کرسکیں۔ لیکن میںکہتا ہوں کہ اس طرح کا معروضی مطالعہ صرف کیمرے کیا کرتے ہیں انسان نہیںکرسکتے ۔ انسان ان آنکھوں کے پیچھے ایک دماغ بھی رکھتا ہے ۔ جو ہر حال اپنا نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ وہ مسائل،معاملات اور حقائق کے متعلق سوچنے کا ایک طرز اور ایک فکر رکھتا ہے اور اسی فکر پر وہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے جسے ہم کلچر کہتے ہیں۔ اور ایک قدم کے لئے جس کے اپنے کچھ عقائد ہوں،اپنا نظریۂ زندگی ہو،اپنا اصول ہو، لازم ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس غرض کے لئے تیار کریں کہ وہ اس کے کلچر کو سمجھیں،زندہ رکھیں اور آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔
دوسری چیز جو کسی نظام تعلیم میں بنیادی حیثیت کی حامل ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ دین ودنیا کی تفریق مٹا دی جائے۔ ایسے نظام تعلیم کے مطابق لازم ہے کہ انسان دنیا کو سمجھے اور دنیا کے سارے کام چلانے کے قابل ہو اور اپنی تعلیم کو ایسے سانچے میں ڈھال سکے کہ کسی مرحلے پر بھی دین اور دنیا میںٹکرائو کی صورت پیدا نہ ہوسکے۔ اور جب کبھی ایسا مسئلہ در پیش ہو تو دنیا کو دین کے نقطۂ نظر سے سمجھاجائے۔''(مولانا مودودی کے انٹرویو۔ص 91)
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے نزدیک تعلیم کا مقصد روٹی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم تعلیم اس کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے اورآنے والی نسلوں کو اس میں ڈھالنے اور اس سے روشناس کرانے کے لئے حاصل کریں جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ کہ یہ جو جہالت دین ودنیا کی تعلیمی تفریق کی چل رہی ہے جسے مغرب نے بنایا ہے کہ مذہبی تعلیم صرف کلیسا کے لئے ہے کیونکہ انہیں مذہب کو چلانا ہے تو دنیاوی تعلیم سیاسی حضرات کے لئے ہے کیونکہ انہیں دنیا کو چلانا ہے اور یہی بے دینی اصول ہمارے ہاں بھی رواج پارہا ہے کہ دینی تعلیم ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں نکاح وجنازہ پڑھانا ہے اور کانونٹی ومانیٹری تعلیم ان لوگوں کے لئے جنہیں دنیا کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ حالانکہ دنیا کے مسائل کو بہتر طریقے سے وہی لوگ حل کرسکیں گے جو دین میں بصیرت کی نگاہ رکھنے والے ہوں۔ تو اس تخصیص (Peculiarity) کو ختم کیا جائے اور ایسا نظام تعلیم تشکیل دیا جائے جس میں دین اور دنیا دونوں ہوں۔ اور انسان جہاںکہیں بھی الجھن محسوس کرے اسے آزاد خیالی سے نہیں بلکہ دینی نقطۂ نظر سے سلجھائے۔
قرآن کی رو سے تعلیم کا اصل مقصد خدا کو پہچاننا، اس کے احکامات پر غور کرنا، صالحین، صادقین اور مصلحین کی صفات پیدا کرنا، کافرین، فاسقین اور منافقین کے نقش قدم سے بغاوت کرنا اور اپنی زندگی کا ایک صحیح نصب العین متعین کرنا ہے اس لئے دینی تعلیم تمام علوم پر مقدم ہے۔ بلکہ اور علوم تو انسان کو گمراہ کررہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے خدا ہیں۔ ان کی بحث صرف مادّے سے ہوتی ہے۔ مادے کے بنانے والے سے نہیں۔ لیکن الٰہی تعلیم سب سے پہلے انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر انسانیت بھرتی ہے ،اسے خدا پرست بناتی ہے۔ مقصد زندگی بتاتی ہے اور اس کی دنیا پرستی میں بھی خدا پرستی کی سوچ شامل کرتی ہے۔ اس لئے علم کا اصل منبع وحی ہے۔ باقی علوم کا شمار جزئیات میں ہے۔
سید مودودیؒ اس کے تعلق سے بڑی قیمتی تجاویز پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی یہ تجاویز مغربی ماہرین تعلیم کی طرح سے دنیاوی نظام کو چلانے کے لئے معاشیات، سیاسیات، قوانین اور شیئربازاری کا علم نہیں ہے۔ بلکہ خدا کے مطالبات کا علم،اس کی وحی کے متعلق واقفیت، آفاق وانفس میں اس کی آیات پر غور یہی حقیقی علم ہے۔ اس کے برعکس جو کسی اور علمی دنیا میں رہتاہے خواہ وہ کتنا ہی روشن خیال(Broad minded) ہو وہ روشنی میں نہیں بلکہ تاریکی میں رہتاہے جسے اصل علم اور معرفت بھی نہیں مل سکتی۔
''درحقیقت علم سے مراد فلسفہ وسائنس اور تاریخ وریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہیں۔ بلکہ صفاتِ الٰہی کا علم ہے۔ قطعِ نظراس سے کہ آدمی خواندہ ہو یا ناخواندہ۔ جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ علامۃ دہر بھی ہو تو اس علم کے لحاظ سے جاہل محض ہے۔''(تفہیم القرآن ۔ چہارم۔ ص۲۳۲)
''سید مودوی ''علم کا مقصد معرفت ِ الٰہی کو قرار دیتے ہیں ۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ ہمیں یہ معرفت انبیاء ہی کی لائی ہوئی تعلیم سے مل سکتی ہے ۔ اب اگر کوئی اس اصل علم کو پسِ پشت ڈالتا ہے تو وہ ضلالت میں ضرور جا گرے گا جیسا کہ علمی دنیا کے ہزاروں ، لاکھوں بابائے آدم کہے جانے والے کہیں سولن کی شکل میں، کہیں فیثا غورث کی شکل میں، کہیں گلیلیوکی شکل میں ، کہیں کوپر نیکس کی شکل میں، تو کہیں ہابز ، والیئر، روسو، حیوم ، ڈارون ، کانٹ، ہیگل، اور مارکس وغیرہ کی شکل میں ضلالت سے بچ نہیں پائے ہیں ۔ اس علم کو ٹھکرا کر انہوں نے اپنے کوجاہلین میں لاکھڑا کرلیاہے۔
''سید مودودی ؒ'' کہتے ہیں :۔
''علم کی بنیاد قرآن ہے ۔ اس کتاب پاک میں وہ تمام اصول اور قوانین بیان کردیے گئے ہیں جن پر اسلام کا مدار ہے ۔ علم کادوسرا سرچشمہ رسول اللہ کی زندگی ہے ۔ آپ نے ایک نبیؐ کی حیثیت سے ۲۳ سال تک جو کچھ کیا اورجو کچھ کہا ہے وہ سب قرآن کی تفسیر ہے ۔ علم کا تیسرا سرچشمہ صحابہ ٔ کرام کی زندگی ہے ۔ انہوںنے قرآن کو خود حاصل قرآن سے سمجھا ہے ۔۔۔۔ جولوگ ان تینوں سرچشموں سے استفادہ کرکے اسلام کے اصول اور زندگی کے جزئی مسائل پر ان کو منطبق کرنے کے طریقوں کو اچھی طرح سمجھ لیں ان میں یہ قابلیت پیدا ہوجاتی ہے کہ زندگی کے عام معاملات میں جو ہر ملک اورہرزمانے میں نئے ڈھنگ اور نئے طور سے پیش آتے ہیں ۔ اصول اسلام کے مطابق احکام اورقوانین بنا سکیں''۔
سید مودودی کے یہی وہ پیش کردہ نقوش ہیں جو انسان کو مقصد علم، مقصدِ زندگی اورخدا کی حقیقی معرفت تک لے جائیں گے۔اس کے علاوہ انسان کے دیے ہوئے خطوط جو اداروں میں پڑھائے جاتے ہیں وہ انسان کی رہنمائی کے لیے ناکافی ہیں ۔ انسان کو صحیح فکر، صحیح عقل، صحیح علم اور زمین پر بھیجنے کا مقصد صرف دو چیزیں دے سکتی ہیں ۔ ایک کتاب اللہ اور دوسرے سنت ِ رسول اللہ ۔ اس الہٰی اور پیغمبری علم سے لاعلم ہوکر کسی اور طرح سے مصنوعی علوم پر ایمان رکھنا جاہلیت کی تعریف میںآتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دنیا میں کوئی نبیؐ اور رسول الجبرا، کمیا، فلسفہ یا سائنس کی تعلیم دینے نہیں آیاتھا بلکہ وہ خدا کو پہنچانوانے اورانسان کو خالص اس کا بندہ بنانے کے لیے آیاتھا۔لیکن افسوس کہ جدید دنیا نے ایک ایسا حادثہ کیا کہ اس اصل علم کو ٹھکراکر اپنے بنائے ان علوم کے گرد کلیۃً منڈلانا شروع کردیا جو خدا کی ضد تھے۔ ہمارے ہاں مغربی تعلیم میں پروردہ حضرات اٹھے توان بیچاروں نے اپنے کوقرآن کی ہواہی نہیں لگنے دی کہ جس سے سمجھ سکیں کہ تعلیم کا اصل مقصد کیاہے، مسلمانوں کامطلب کیا ہے، اور اصل تعلیم کہتے کسے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ ہر مرض کا علاج جدید تعلیم کو سمجھنے لگے۔ انجام کا ر! ذہنی اعتبار سے اس قدر غریب ہوگئے کہ نہ کوئی نصب العین بناپائے، نہ ہی مسلمان کا مقصد سمجھ پائے، نہ ہی اسلام کا تقاضا سمجھ سکے۔ سمجھے بھی توصرف پیٹ کہ اسے کس طرح سے بھرا جائے۔ اب کیا تھا مغرب سے جو کچھ برآمد ہو جائے اس کی اقتداء میں ترقی ہے باقی سب کچھ تنزلی ہے۔
''سید مودودی '' کا درد سنئے، آنجناب فرماتے ہیں:۔
''اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی حالت دیکھ کر میرا سر چکر انے لگتاہے ۔ میں حیران ہوکر سوچنے لگتاہوں کہ اس نظام تعلیم کو کس نام سے یاد کروں۔ جو پندرہ بیس سال کی مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بناتا کہ وہ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کامقصود معین کرسکے۔ بلکہ زندگی کے لیے کسی نصب العین کی ضرورت محسوس کرسکے۔ یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی۔ بے مقصد زندگی بسرکرنا تو حیوانات کا کام ہے۔'' (خطبۂ تقسیم اسناد۔ ص ۱۱)
ایسا ہی کچھ حال ہمارے اسلامی اداروں کا ہے ۔ وہاں بھی دماغ چند چیزوں کے دائرے میں قید ہوکر رہ جاتی ہے ۔ بچوں کے اندر یہ سلیقہ ہی نہیں آپاتا کہ جس تعلیم کوہم حاصل کررہے ہیں اس کا اصل مقصد کیا ہے ۔ کشادہ ذہنی، تدبر، تحقیق، اجتہاد اور انقلاب کہتے کسے ہیں۔ انہیں خود پتہ نہیں ہے کہ قرآن پر کیسی محققانہ تعلیم، حدیث پر کیسا غائرانہ مطالعہ اور تاریخ اسلام پر کیسا مجتہدانہ درس نئے علوم کی روشنی میں دیا جائے اور بچوں کے اندر کس طرح سے اجتہادی اور تنقیدی حس بیدار کی جائے۔ البتہ چھ سو سال پرانی فقہ پر اتنا زور دیا جاتاہے کہ طالب علم سمجھتاہے کہ اصل قیمتی شے بس یہی ہے ۔ اسلامی ترتیب تو پہلے قرآن پھر حدیث ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں کے ذہن گندے ہوئے ، انہیں بلند فکری ملنا بند ہوگئی۔ ان کا کوئی معیار ایسا نہیں رہ گیا کہ جسے دیکھ کر لوگ متاثر ہوں۔ فقہ کے ذریعہ سے ذہن تربیت پر توزور خوب دیاگیا۔ لیکن قرآن کے ذریعہ سے اخلاقی تربیت کونظر انداز (Disregard) کردیا گیا اور بالآخر وہی ہوا جوخدا کی سنت چھوڑنے کے بعد ہواکرتاہے۔
اسی دنیا نے ایک دور یہ بھی دیکھا کہ یہی قرآن تھاجس کی بدولت ہم دنیا کی گاڑی ہانک رہے تھے، ہم جو کہہ دیں وہی لوگوں کے لیے سند بن جایا کرتی تھی۔ حتیٰ کہ موجودہ دور کی دنیا کے امام تسلیم کئے جانے والے براعظم ہمارے علم کے غلام ہوا کرتے تھے۔ یہ صرف قرآن کااثر تھاکہ جب تک ہم اس پر عمل اور تحقیق کرتے رہے تب تک ثریٰ سےثریا تک راستہ بناتے رہے۔ اس قرآن نے ایک سے ایک فلسفی، سائنٹسٹ ، حکیم اور مورخ کہیں ابن بیکار کی شکل میں ، کہیں جابر بن حیان کی شکل میں، کہیںزکریا رازی کی شکل میں ، کہیں قاسم زہراوی کی شکل میں تو کہیں الفارابی ، ابن مسکویہ ، ابن سینا، المسعودی، الطبری اور الغزالی وغیرہم کی شکل میں پیدا کئے۔ جس کا اعتراف اغیار بھی کرتے ہیں۔
ایک مورخ''جارج سارٹن'' (Gorge Sorton) لکھتاہے:۔
'' عالم انسانیت کا اہم کام مسلمانوں نے انجام دیا۔ سب سے بڑا فلسفی الفارابی مسلمان تھا۔ سب سے بڑے ماہر ریاضی ابو کامل اور ابراہیم بن سنان مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں المسعودی مسلمان تھا۔ اور سب سے بڑا مورخ الطبری بھی مسلمان ہی تھا۔''
(History of Science- v-i P. 624)
لیکن جب ہم نے قرآن کے اسرارو رموز پر غور کرنا بند کردیا، اس کی سائنس اور سیاسی حکمت پر دیدے کھپانا ختم کردیا اور اس کے ان علوم وفنون کی رفتار کو جواپنے اندر انقلابی پہلو رکھتے تھے منجمد (Frozen)کردیا تو ڈھنگ کا ایک عالم بھی پیدا ہونا بندہوگیا۔کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے قرآن کے ان علوم کو نظر انداز کرکے جو دنیا پر پڑے ہوئے بہت سے پردے کو اٹھاکر انسانیت کو مبہوت کرنیوالے تھے، ان بحوث نظم ِ قرآن ، قسم قرآن، ادبِ قرآن ، قرأتِ قرآن وغیرہ کو مرکزِ توجہ بناکر سارا زور اس طرح کھپا ڈالا کہ ایک وقت میں وہی قرآن کا اصل مغز ثابت ہوگئے تب سے ایسے مفکریں کی گردش تھم گئی جودین اوردنیا دونوں کی امامت کررہے تھے۔ اور دوسرے لوگ ان علوم پر غور کرکے دنیا کی گاڑی ہانکنے اورانھیں قبلہ بناتے۔
''پروفیسر فلپ کے حتی'' اپنی تاریخ میں لکھتاہے:۔
''قرآن صرف ایک مذہب کادل اور آسمانی بادشاہت کا راستہ دکھانے والا ہی نہیں ، بلکہ وہ علوم وفنون اورسائنس وحکمت کانچوڑ اورایک ایسی سیاسی دستاویز ہے جس میں ارضی بادشاہت کے قوانین بھی پیش کیے گئے ہیں۔'' (تاریخ عرب۔ ص۳۶۔ فلپ کے حتی)
یہ ہے ان لوگوں کا تاثر قرآن کے بارے میں جوحقیقی دین کے تعلق سے ٹھوکر کھارہے ہیں۔ اور ہم ہر طرح کا راستہ رکھنے کے بعد بھی بجائے اس پر چلنے کے اس میں تصوف، تقلید، کشف، رفع یدین، خوابوں کی تعبیر اور زیارتِ قبور وغیرہ جیسے مہمل مسائل پر فکر ونظر کا زیاں کررے ہیں۔ اسی وجہ سے قحط الرجال کاشکار ہیں۔
اسی پر ''سید مودودی'' کہتے ہیں:۔
''دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے۔ اس کو اب الٹے پاؤں ان منازل کی طرف واپس لے جانا ممکن نہیں ہے ۔ جن سے وہ چھ سوبرس پہلے گذر چکی ہے۔ علم وعمل کے میدان میں رہنمائی وہی کرسکتاہے جو دنیا کوآگے کی جانب چلائے نہ کہ پیچھے کی جانب۔ لہذا اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتاہے تواس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکر و نظر اور تحقیق واکتشاف کی قوت سے ان بنیادوں کو ڈھادیںجن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہوئی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکر ونظر پر آثار کے مشاہدے اورحقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنیاد رکھیں جوخالص اسلامی فکر کانتیجہ ہو ۔ ایک نئی حکمتِ طبیعی (Natural Scince)کی عمارت اٹھائیںجو قرآن کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اٹھے۔'' (تنقیحات۔ ص ۱۷)
اس لئے اب ہمیں چاہئے کہ ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کریںجو دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کو عروج بخشے۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے قرآن کی تعلیم جدید علوم کی روشنی میں اس طرز سے دی جائے کہ بچوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ علم کا اصل منبع یہی ہے۔ آج تحقیق تعلیم نہ دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری قوم کے کم ازکم اسی۸۰ فیصد افراد اپنے ذہن میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ قرآن عبادات کا مجموعہ ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کی تعلیم اخلاق سے لے کر عذاب وثواب اور جنت وجہنم تک محدود ہے ۔ سب سے پہلے بچوں کے ذہن میں اس غلط تصور کو نکالا جائے کہ قرآن کی بحث محض عبادت، ریاضت ، حلال وحرام اوربہشت و نار تک موقوف ہے ۔ بلکہ اس کی بحث جب سے قرآن آیا ہے تب سے لے کر قیامت تک رونما ہونے والی سبھی مسائل سے ہے ۔ اس میں سیاسیات بھی ہے، سائنسیات بھی ہے ، معاشیات بھی ہے ، اخلاقیات بھی ہے، عملیات بھی ہے، تہذیب ومعاشرت بھی ہے، ادب و آر ٹ بھی ہے، الغرض کہ کوئی ایسا علمی شعبہ اورانسانی مسئلہ نہیں ہے جس کے متعلق وہ رہنمائی نہ فرماتا ہو۔ نیز نہ ہی کوئی ایسا دنیاوی میدان ہے جس میں انسان قرآن کے دیے ہوئے خاکے پر عمل کرکے کامیابی کے منازل طے نہ کرسکتاہو۔ یہ توصرف کہاوت ہے کہ مغربی تعلیم ہی روٹی دے سکتی ہے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیجئے کہ اس قرآن کو سمجھنے کے لیے اس کی سب سے پہلی، سب سے مستند اور سب سے پائیدار تفسیر حدیث ہے۔
جس دن آپ تعلیم سے طلبا ء کے دماغ میں اور تقریر سے قوم کے دماغ میں یہ بات اتار دیں گے تو قسم بخدا وہ انقلاب پھر سے شروع ہوجائے گا جو حضرت عمرؓسے لے کر خالد بن ولید تک اٹھا تھا۔ اور پھر سے وہ انقلابی شخصیات پیدا ہونی شروع ہوجائیں گی جو آج تاریخ کے صفحات میں عبداللہ بن عباس، خالد بن یزید، ابواسحاق، جابر بن سنان، ابن الہیثم اورامام رازی وغیرہم کی شکل میں ثبت ہیں۔
اور ہمیں ایسے نصاب کو مرتب کرنے کے لیے کہیں کا سفر نہیں کرنا ہے ، بلکہ تھوڑا سا سید مودودی کے تعلیمی نظریات کی طرف دماغ کو سفر کرانا پڑے گا جس میں آپ کو ہر طرح کے نقوش اورتمام طرح کی حائل پریشانیوں کے حل مل جائیں گے۔
لادینی تعلیم :۔
مغرب کی بے خدا تعلیم نے بڑے پیمانے پر دنیا کواس قدر تباہ کردیاہے کہ ہر انسان پر مادیت کا دورہ پڑنے لگاہے ۔ اورانسان روحانیت کو بھول بیٹھا ہے ۔ اگر اس نے اپنی تعلیم میں خدا کو جگہ دے دی ہوتی تویہ دنیا کی اتنی بڑی خدمت ہوتی کہ انسان تو کیا فرشتے بھی عش عش کرنے لگتے ۔ لیکن اس نے انسان کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا کہ اس کی نظر کو خدا پرستی سے ہٹا کر نفس پرستی پر لاکر مرکوز کردی۔ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ایک ایسی مخلوق بن گیا جس کا کام صرف معبودِ نفس کے چرنوں میں اٹھنا اور جھکنا ہو اٹھا۔ ایسے میںغیروں کا تباہ ہونا توایک فطری چیز تھی۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی ہدایت موجود نہ تھی۔ لیکن مسلم دنیا کا تباہ ہونا یہ اتنا بڑا معجزہ اور مضحکہ کہئے کہ جسکا کاکوئی تصور نہیں ۔ کیونکہ ہم توایک حقیقی الٰہی شریعت کے حامل تھے۔
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں مغربی تعلیم کا مخالف ہوں ۔ نہیں۔ میری اس تعلیم سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ بلکہ دشمنی اس کے اس فاسد اصول سے ہے جوالٰہی فطرت سے ہٹ کر آزادانہ فطرت پر قائم کیا گیاہے۔ جن میں کسی علیم وخبیر، کسی حشر ونشر اور کسی عدالت کا وجود نہیں ہے ۔ اس تعلیم کی خرابی کا اصل سبب یہی ہے ۔ آج دنیا میں بگاڑ اسی وجہ سے ہے کہ انسان ان چیزوں کی طرف تیزی سے لپکتاہے جس میں اسے فائدہ نظر آتاہے۔ اور اخلاق وتہذیب ، شرافت و دیانت کو وہ کتابی باتیں سمجھتاہے ۔ ساری دنیا حیران ہے کہ کیوں انسان کے اندر سے رحم، صداقت اور خلوص ختم ہوتا جارہاہے اور بڑے پیمانے پر اس کے اندر بے رحمی، مفاد پرستی اور ہر طرح کی نفس پرستی کا غلبہ فروغ پارہاہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس کی تعلیم اورمزاج میں خدا سے بے خوفی ہو تواس طرح کی حیوانیت کا آنا عین اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اور جس کی فطرت میں یہ شامل ہو جائے وہ اس زمین کا سب سے بڑا بھیڑیا ہے۔
آج تمام ائمۂ فرنگ محسوسات (Sensations) کے غلام اور معقولات کے دشمن ہیں۔ ہماری عداوت کا اصل سبب یہی بے دینی اور خالص عقل اور مادّہ ہے جس کا آخرت سے کوئی تعلق نہیں۔ اوریہ ایسی مصیبت ہے کہ اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر بھی شبخوں مارکر چھوڑے گی۔ بلکہ غیروں کا تو کم جائے گا لیکن ہمارا سب کچھ چلاجائے گا۔
''سید مودودی'' کہتے ہیں :۔
''جدید تعلیم وتہذیب کے مزاج اوراس کی طبیعت پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اسلام کے مزاج اور اس کی طبیعت کے بالکل منافی ہے ۔ اگرہم اس کو بجنسہ لے کر اپنی نوخیز نسلوں میں پھیلائیں گے توان کو ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے کھودیں گے ۔ آپ ان کووہ فلسفہ پڑھاتے ہیں جو کائنات کے مسئلے کو خدا کے بغیر حل کرنا چاہتاہے ۔ آپ ان کو وہ سائنس پڑھاتے ہیں جو معقولات سے منحرف اور محسوسات کا غلام ہے ۔ آپ ان کوتاریخ ، سیاسیات ، معاشیات، قانون اور تمام علوم عمرانیہ کی وہ تعلیم دیتے ہیں جواپنے اصول سے لے کر فروع تک اورنظریات سے لے کر عملیات تک اسلام کے نظریات اور اصول عمران سے یکسر مختلف ہے ۔ آپ ان کی تربیت تمام تر ایسی تہذیب کے زیر اثر کرتے ہیں جواپنی روح اور اپنے مقاصد اور اپنےمناہج کے اعتبار سے کلیۃ'' اسلامی تہذیب کی ضد واقع ہوئی ہے ۔ اس کے بعد کسی بنا ء پر آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی نظراسلامی نظر ہوگی۔ ان کی سیرت اسلامی سیرت ہوگی۔'' (تعلیمات۔ ص ۱۷)
یہ ہے ہمارا تعلیمی ڈھانچہ۔ اسی کو ترقی پسندی اور روشن خیالی سمجھا جارہاہے ۔ جو بے چارہ اپنے بچوں کواس طرح کی بے خدا تعلیم سے دور رکھنا چاہے اسے بوڑھی سوچ کاطعنہ دیا جاتاہے، اور جب گدھا کھیت چَر چگتاہے تب سمجھ میں آتاہے کہ ہم نے اس کی آبیاری کے لیے جو گود منتخب کی تھی وہ گو د تھی یا گور (Grave)۔
اب اگر ہم اس سسٹم کو بدلیں گے نہیں تو قطعاً ہمارے بچوں کے اندر اسلامی کلچر کے آثار ونقوش ملیں گے نہیں اور وہ انگریز اور مسلمان سے ہٹ کر ایک ایسی تیسری جنس کا نمونہ بنیں گے جن کی دوڑ صرف بے دردی ، نفس کی غلامی اور دنیا پرستی تک سمٹ کر رہ جائے گی۔
''سیّدمودودی'' کہتے ہیں:۔
''اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسلامی کلچرپھر سے جوان ہوجائے اورزمانے کے پیچھے چلنے کے بجائے آگے چلنے لگے تو اس ٹوٹے ہوئےربط کو پھر سے قائم کیجئے۔مگر اس کو قائم کرنے کی صورت میں یہ نہیں ہے کہ دینیات کے نصاب کو جسم کی تعلیم کی گردن کا قلادہ یاکمر کا پشتارہ بنادیا جائے۔ نہیں اس کوپورے نظام تعلیم وتربیت میں اس طرح اتار دیجئے کہ وہ اس کا دورانِ خون، اس کی روحِ رواں، اس کی بینائی وسماعت ، اس کا احساس وادراک ، اس کا شعور وفکر بن جائے۔ اورمغربی علوم وفنون کے تمام صالح اجزاء کواپنے اندر جذب کرکے اپنی تہذیب کا جز بناتا چلاجائے۔ اس طرح آپ مسلمان فلسفی، مسلمان سائنسداں ، مسلمان ماہرین معاشیات ، مسلمان مقنن ، مسلمان مدبرین غرض تمام علوم وفنون کے مسلمان ماہر پیدا کرسکیں گے۔ جوزندگی کے مسائل کواسلامی نقطۂ نظر سے حل کریں گے، تہذیب حاضر کے ترقی یافتہ اسباب وو سائل سے تہذیب اسلامی کی خدمت لیںگے۔۔۔ یہاں تک کہ اسلام از سرنوعلم وعمل کے ہر میدان میں اسی امامت ورہمنائی کے مقام پر آجائے گا جس کے لیے درحقیقت دنیا میں پیدا کیا گیاہے۔'' (تعلیمات ، ص ۲۷۔۲۸)
'' ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم رائج کرنا چاہئے جوایسے افراد تیار کرے جوہماری قومی تہذیب کو جو دین کے سواکچھ نہیں اچھی طرح سمجھتے ہوں… اور یہ نظام تعلیم ایسا ہو جوآنے والی نسلوں کواگر سول سروس کے امتحان کے لیے تیار کرے تو ساتھ ساتھ انہیں امام، مفتی اور علمائے دین بھی بنا سکے۔
یاد رکھئے جب تک آپ قرآن وحدیث کا دامن نہیں تھامتے بچوں میں اسلامی روح پیدا کرنے سے قاصر ہیں جواسلامی زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے کسی طوربھی قومی قیادت کرنے کے قابل نہیں بن سکتے۔ وہ اس طرح رشوتیں کھائیں گے ، اسی طرح بددیانتی اور خیانت کریں گے جیسا کہ آج ہورہاہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ علوم حاضرہ کو چھوڑدیں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ ان تمام علوم کواپنایئے جوآج دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے پڑھانے سے قبل بچے کے ذہن کواسلامی اقدار، اسلامی عقائد اوراسلامی اخلاقیات پر اس قدر پختہ کردیجئے کہ اسکا ذہن کسی مرحلے پر بھی شک وشبہہ کا شکار نہ ہوسکے۔'' (مولانا مودودی کے انٹرویو۔ ص ۹۰ و ۹۳)
یہ ہیں سید مودودیؒ کے تعلیمی نظریات جن میں آنجناب کسی تخصیص (Specialization) کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی تنقید کا مدعا یہ ہے کہ لادینی علوم وفنون کو ہم بند آنکھوں نہ لیں۔ بلکہ انہیں اسلامی تعلیم میں رنگ دیں، اسلامی سوچ سے وابستہ کردیں۔ تاکہ سارے علوم مسلمان ہوجائیں۔
اب جب تک ہم اس طرح کے طرزِ تعلیم کواپنائیں گے تب تک ہمیں غلامی سے نجات نہیں ملے گی اورنہ ہی کسی میدان میں رہنمائی کے لائق بنیںگے۔ خواہ ہم لاکھوں حافظ، لاکھوں قاری اور لاکھوں مفتی پیدا کرلیں۔ |
پولیس فورس کے مختلف رینک کے کانسٹیبلز کی اپ گریڈیشن اور شہدا ءکا مراعاتی پیکج بڑھانے کی درخواست کی ہے.انسپکٹرجنرل آف پولیس – DailyChitral
پولیس فورس کے مختلف رینک کے کانسٹیبلز کی اپ گریڈیشن اور شہدا ءکا مراعاتی پیکج بڑھانے کی درخواست کی ہے.انسپکٹرجنرل آف پولیس
فروری 8, 2017 فروری 8, 2017
انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان درانی نے صوبائی حکومت کو ایک مراسلہ کیا ہے جس میں پولیس فورس کے مختلف رینک کے کانسٹیبلز کی اپ گریڈیشن اور شہدا ءکا مراعاتی پیکج بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس صوبے میں دہشت گردی کےخلاف فرنٹ فورس کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس جنگ میں اب تک فورس کے1200سے زائد افسروں و جوانوں نے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ہر فورم پر انکی بے مثال کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ بے پناہ قربانیوں کے باوجود پولیس دہشت گردوں کے خلاف اسی جوش و جذبے سے بر سرپیکار ہے اور عوام کے وابستہ توقعات پر پوری اتررہی ہے۔ چھٹی میں یہ بھی لکھا گیاہے کہ خیبر پختونخوا پولیس فورس میں کانسٹیبلز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے تاہم پنجاب پولیس کی طرح ان کی اپ گریڈیشن نہیں ہو ئی ہے ۔آئی جی پی نے خط میں صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ منتخب نمائندوں اور متعلقہ محکموں کے افسروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائیں تاکہ وہ کانسٹیبل کا بنیادی پے سکیل5سے بڑھا کر 7 اور ہیڈ کانسٹیبل کا7 سے بڑھا کر 9 اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کا 9سے بنیادی پے سکیل 11 تک بڑھانے سے متعلق اپنی سفارشات دو ہفتوں کے اندر اندر پیش کر سکیں ۔ اس متعلقہ کمیٹی پولیس شہداءکے ورثا ءکے لیے مراعاتی پیکج بڑھا کر پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے برابر لانے کی سفارشات بھی پیش کر سکیں۔ دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر بہادری سے لڑنے کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار دوسرے محکموں کے بنیادی پے اسکیل کے 5 گریڈ کے ملازمین سے ہر حوالے سے بہتر زیادہ تعلیمی یا فتہ اور اہل ہیں اور یوں کہ انکا سلیکشن بھی صاف ،شفاف سسٹم کے ذریعے ہو اہے۔مراسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کا شہداءپیکج پنجاب پولیس کے شہداءپیکج سے بہت کم ہے۔ |
تربیت اور تجزیہ :سادہ حکمت عملی
سارہ امینی اکبرآبادی 2020/11/5 فاریکس کیسے کام کرتا ہے
پھل اور سبزیاں وٹامنز اور اینٹی آکسیڈینٹ کی اعلی سطح کی وجہ سے ایک اچھا ضمیمہ سادہ حکمت عملی ہیں۔ سٹرابیری کے معاملے میں ، اس کی ترکیبیں 92 water پانی ہیں ، جو تربوز کے ساتھ ساتھ درجہ بندی میں سب سے آگے ہیں۔ بےچینی ، خوف ، لالچ اور دیگر جذبات بالآخر اپنے اختتام پذیر ہونے والے تجارت کے طور پر سنبھال لیں گے۔ اس پر توجہ دینا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک بار حراستی ختم ہوجانے کے بعد ، بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ کی تجارتی کارکردگی خراب ہوجائے گی۔
سی ای ایس خبروں اور مصنوعات کا سیلاب ہے ، جن میں سے بہت سے کبھی بھی جاری نہیں ہوں گے یا کچھ وقت کے لئے بھی جاری نہیں ہوں گے۔ یہ سب دلچسپ نہیں ہیں۔ کیا آپ دس مختلف اسمارٹ ڈاگ کالر دیکھنا چاہتے ہیں جو آپ کے پالتو جانوروں کی فٹنس سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں؟ کیا آپ الیکساکا سے چلنے والے کچن ٹونٹ چاہتے ہیں تاکہ کمانڈ بول کر آپ پانی کو آن اور آف کرسکیں؟ کیا آپ کو ابھی ایک اور سمارٹ اسسٹنٹ ، سیلفی لاٹھیوں کا ایک گروپ ، یا ایک خودمختار ڈرون چاہئے؟ بنیادی طور پر ایک جیسے اسمارٹ ٹی وی کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں کیا ، جن میں سے کچھ فائر فاکس او ایس کو کسی وجہ سے چلاتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کسی سمارٹ ردی کی ٹوکری میں دلچسپی رکھتے ہو ، یا ایک بہت بڑی اور مہنگی لانڈری فولڈنگ روبوٹ؟ ہم نے وہ ساری چیزیں CES پر دیکھی ہیں۔ بندرگاہ ناشتے کے لئے ٹہلنے یا رکنے کے ل to ایک خوشگوار علاقہ ہے۔ بہت سے ریستوراں اور کیفے سمندر کے کنارے کی ترتیب سے لطف اندوز ہونے کے لئے بیرونی بیٹھنے کے ساتھ موجود ہیں۔ بندرگاہ سے ، سیاح بھی موناکو کے آس پاس ایک کشتی کروز لے کر خیالی ساحل کا نظارہ کرسکتے ہیں۔
فاریکس لین دین کی مثال :سادہ حکمت عملی
'ہماری شادی 15 اور 16 مارچ کو طے تھی اور ہر کسی کی طرح مجھے اور میرے گھر والوں کو بھی اس کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ ہم کئی مہینوں سے اس کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔ لیکن جمعہ کے روز مائیوں کی رسم کے لیے گھر پر آئے میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آج سے تمام اجتماعات، جن میں شادی کی تقاریب بھی شامل ہیں پر تین ہفتوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔' قیاس آرائیوں کے بارے میں جاری بحث و مباحثے کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ جب قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ لوگ جو بازاروں میں قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ ڈیلٹا کے سی ای او کی حیثیت سے ، ان کا استدلال ہے کہ سادہ حکمت عملی قیاس آرائی کرنے والے حتمی خریدار ، صارف کے لئے قیمتوں کو اور بھی بڑھاتے ہوئے خام مال کو زیادہ مہنگا کردیتے ہیں۔ تاہم ، جب قیمتیں کم ہوجاتی ہیں ، مارکیٹوں میں قیاس آرائی کی موجودگی اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ قیمتوں میں کمی کے بعد ، قیاس آرائی کی سرگرمیاں عارضی طور پر قیمتوں کو اس سے بھی کم قیمت کا درجہ دے سکتی ہیں جو دراصل پروڈیوسروں کے خرچ پر صارفین کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔
حداکثر ۸ قطره از روغن ضروری را در یک روغن حامل انتخابی ترکیب کرده و سپس آن را به آب درون وان حمام اضافه کنید. بسیاری از افرادی که از ورید های واریسی رنج می برند روش های جایگزین را جهت درمان این شرایط دنبال میکنند.
آئی فون ایکس کے لئے ڈیجیجی بیٹری. مارکیٹ شیئر کا تخمینہ لگانے اور بیچنے والی قیمت سادہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے ، کل آمدنی کا حساب لگائیں ، اسے ماہ ، سہ ماہی اور سال کے حساب سے توڑ دیں۔ اس مسئلے پر حکومت کے مؤقف کے بارے میں بھی تنقیدیں ہو رہی ہیں ، کیونکہ موجودہ ضابطہ کو سختی سے نافذ نہیں کیا گیا ہے۔
تجارتی توازن ادائیگیوں کے توازن کا ایک جزو ہے ، اور یہ سب سے اہم ہے ، کیونکہ یہ ملک کے تجارتی کام کا اشارہ ہے۔ مہاسوں کے داغوں کے لئے مائکرو نڈلنگ: پہلے اور بعد میں۔ تصاویر بشکریہ: لام فشیل پلاسٹک: DR SAM LAM ، کسی بلٹ جریدے میں صفحہ نمبر کی ضرورت پر غور کرتے ہوئے ، کچھ بوجو مالکان نوٹ بک کو ترجیح دیتے ہیں جس میں پہلے نمبر والے اشاریے ہوتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم یہ دریافت کریں کہ تجارتی عمل کیسے چلتا ہے ، ہمیں پہلے تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے کہ اصل میں کیا اختیارات سادہ حکمت عملی ہیں۔ مختصر طور پر ، اختیارات آپ کو فوری طور پر ملکیت لینے کے بغیر کسی اثاثہ کی مستقبل کی سمت پر قیاس آرائی کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے بجائے ، اختیارات آپ کو ٹھیک ہے ، لیکن ذمہ داری نہیں ، بعد کی تاریخ میں اثاثہ خریدنا یا بیچنا۔ یہ مستقبل کے بالکل خلاف ہے ، کیونکہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد آپ کو قانونی طور پر ملکیت لینے کی ضرورت ہے۔
Olymp Trade کے ساتھ ابتدائی افراد کے لئے فاریکس ٹریڈنگ گائیڈ :دن ٹریڈنگ کی حکمت عملی
جب آپ کسی دوست کے ساتھ مل کر ، کام کی جگہ تنازعات آپ کی ذاتی زندگی اور اس کے برعکس لے جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے ساتھ ہوجاتے ہیں تو ، چیزیں بہت زیادہ آرام دہ اور پرسکون ہوسکتی ہیں ، جس سے کاروباری نمو میں رکاوٹ پڑسکتی ہے۔ مزید یہ کہ ، آپ کو ایماندارانہ رائے دینے اور اہم فیصلے کرنے میں دشواری سادہ حکمت عملی محسوس ہوسکتی ہے جو آپ کے دوست یا رشتہ دار کو متاثر کرسکتی ہے۔ درحقیقت ، آپ اپنی پسند کے مطابق کوئی بھی زمرہ شامل کرسکتے ہیں۔ تجارتی جریدہ ایک ذاتی چیز ہے لہذا آپ کو اسے اپنی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔ کچھ تاجر مذکورہ بالا نکات میں سے کچھ کے بغیر اچھا کرتے ہیں ، دوسروں کو اور بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس معلومات سے شروعات کریں اور دیکھیں کہ یہ کیسے چلتا ہے۔ آپ کا تجارتی جریدہ آپ کے تجربے کے ساتھ تیار ہوگا۔ وقت کے ساتھ ، آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے لئے کیا مناسب ہے۔ TeraFX ایک OTC ٹریڈنگ پلیٹ فارم اپنے کسٹمرز کو پیش کرتا ہے - اسکے ذریے ہمارے کسٹمرز قیاس آرائی کے لئے بھی استمال کرتے ہیں ٹکے انہیں پتا چلے کے کرنسی کس سمت میں حل رہا ہے - اس پر ہم اپنے کسٹمر کو مارجن ٹریڈنگ ، leveraged اکاؤنٹس اور ہمارے کلائنٹس پوری قیمت جامعہ کیے بغیر ٹریڈ پوری کر سکتی ہیں- یہ اپنے کلائنٹس کو ٤MT4 سافٹ ویئر فرہم کرتا ہے.
بل کے مطابق اگر سیکریٹری داخلہ نے حکم جاری کیا ہو تو پھر تحقیقاتی کمیٹی میں سیکریٹری داخلہ خود چیئرمین اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)، کسٹمز کے اراکین، ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈی جی، ڈی جی انسداد منشیات فورس سمیت انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے نمائندے بطور ممبر شامل ہوں گے. .تربیت اور تجزیہ مڈویسٹ کا ایک کسان فیوچر مارکیٹ میں اپنی مکئی کو پہلے سے فروخت کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر مکئی کی قیمتوں میں پودے لگانے کے درمیان کمی واقع ہوجائے اور جب وہ مارکیٹ میں فراہمی کے لئے تیار ہو تو اس کا دیوالیہ پن نہیں بنے گا کیونکہ اس کے پاس اجناس خریدار کو فروخت کرنے کا معاہدہ پہلے سے موجود ہے۔ ایک ائرلائن فیوچر معاہدے کا استعمال کرتے ہوئے مقررہ نرخ پر ایندھن خریدتی ہے تاکہ خام تیل اور پٹرول کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے بچا جاسکے۔ ایک کمپنی جو کافی شاپ چینز کی مالک ہے اپنی برانڈیڈ کافی تیار کرنے میں مستقبل میں استعمال کے ل huge بھاری مقدار میں کچی کافی خریدتی ہے۔ خریداری آج کی قیمتوں پر کی گئی ہے ، جس سے کمپنی کو اپنی پیداواری لاگت مستحکم کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
13. بوہو سرپوشوں کو ڈریشو کریں. تاہم ، کچھ ETFs ، خاص طور پر وہ جو مشتقات کو بھاری استعمال کرتے ہیں ، جانچ پڑتال کرنے میں قدرے پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان معاملات میں ، ای ٹی ایف کی اصل کارکردگی ، اہداف اور تاریخی منافع جیسے اعداد و شمار پر تحقیق کرنا خود تعمیرات کا تجزیہ کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔
بناوٹ کی لکیریں بہت گھماؤ پھراؤ والی ہیں ، تو آئیے انھیں ایک خوبصورت سایہ دیں۔ یہ آسانی سے خدا کے ساتھ ہو گیا ہے پینٹ بالٹی کا آلہ کے ساتھ ملحق بند کر دیا گیا (بشرطیکہ بناوٹ کی لکیروں کا رنگ ایک انفرادیت کا حامل ہو… بصورت دیگر آپ ہر اس چیز کا رنگ تبدیل کردیں گے جس نے اسی پرت / انتخاب میں ایک جیسے سائے کا اشتراک کیا ہو)۔ .تربیت اور تجزیہ مالی بھگدڑ آپ کو روند سکتی ہے۔ جیسے ہی کچھ رجحان رونما ہونا شروع ہوتا ہے ، مالیاتی سرمایہ کار اس رجحان کی جلد از جلد پیروی کرنا شروع کردیتے ہیں ، اکثر یہ جاننے کے بغیر کہ کیوں۔ رویے کی بے ضابطگیوں کی کچھ دوسری شکلوں کی طرح ، اس بھگدڑ کا منظر نامہ کی معلومات کی نامکمل تقسیم سے متاثر ہوتا ہے۔
خدمت کے ذریعے آسمانی باپ کے بچوں کو فیض یاب کریں۔ مثال کے طور پر ، اگر آپ اجناس کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ سونے چاندی کا انتخاب کرسکتے ہیں ، اگر آپ کرنسیوں کو ترجیح دیتے ہیں تو ، آپ صرف کچھ جوڑے منتخب کرسکتے ہیں۔ کیوں؟ تجارت کے ل a چند بازاروں کا انتخاب آپ کو ان کے مطالعے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ |
دوسرے سیارے کے دو افراد کی خیالی تصویر ۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا -مکالمہ
دوسرے سیارے کے دو افراد کی خیالی تصویر ۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا
یہ تحریر 934 مرتبہ دیکھی گئی۔
ایک پوسٹ گردش میں ہے جس میں دوسرے سیارے کے دو افراد کی خیالی تصویر ہے۔ ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ یہ زمین والے تہوار کیا منا رہے ہیں۔ دوسرا جواب دیتا ہے کہ ان کے سیارے نے اپنے ستارے کے گرد ایک اور طواف آج مکمل کر لیا ہے۔ پہلا کہتا ہے،" دیکھا، میں نے کہا تھا نا کہ زمینی مخلوق ذہین نہیں ہے "۔۔۔ بات کوئی اتنی غلط بھی نہیں کہی دوسرے سیارے کے خیالی فرد نے۔ اسے شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ زمینی مذاہب نے تو اپنے اپنے مقدس دن بھی طے کیے ہوئے ہیں کسی نے اتوار تو کسی نے ہفتہ اور کسی نے جمعہ۔
مگر بات یہ ہے کہ کسی بھی شئے کو ناپنا تو ہوتا ہے چاہے وہ ہوا کا جھکڑ ہو جسے طوالت کے لیے طے اکائی سے ماپا جائے یا بدن کی تپش جسے فضا کی حرارت ناپنے والے آلے سے۔۔ ایک زمانہ تھا جب گھڑیاں کم ہوا کرتی تھیں۔ گرمیوں میں میری ماں دیوار کے سائے سے نماز کے وقت کا تعین کرتی تھی کیونکہ تب لاوڈ سپیکر نہیں ہوتے تھے اور دور سے کہی اذان کان نہ پڑتی تھی۔
یوں ہم نے گھنٹے، دن، مہینے، سال طے کیے ہوئے ہیں اپنے لیے۔ وقت تو ساکت ہے ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے۔ آگے ہماری زندگی چلتی ہے اپنے خیال میں وقت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے۔ وقت کو ہم اپنی زندگی کے اطمینان یا بے اطمینانی کے دورانیے کو آنکنے کی خاطر یا وابستہ لوگوں کی زندگیوں، شہر، ملک یا دنیا میں ہوئے واقعات، ترقی یا ابتذال کو جاننے کی خاطر ناپتے ہیں۔
آج ایک اور سال جسے ہم نے 2021 جانا گذر جانے کو ہے۔ یہ سال بھی عالمی وبا سے بچتے بچاتے گذرا۔ اس برس بھی اس عالمی وبا سے لاکھوں لوگ اس جہاں سے چلے گئے۔ بیشتر وہ جو وبا کو مانتے ہی نہیں۔ مانتے ہیں تو سازش کے طور پر۔ کل ہی نیدرلینڈ کے کورونا مخالف گروپ کا ایک اگوان کورونا ہی سے لقمہ اجل بنا ہے۔
البتہ اس برس مختلف طرح کی کورونا مخالف ویکسینیں آ گئیں جن کے استعمال سے بہت سوں کا بھلا ہوا۔ ایسا نہیں کہ ویکسین استعمال کرنے والے مریض نہیں ہوئے یا مرے نہیں مگر وہ جنہوں نے بوسٹر ڈوز نہیں لی تھی کیونکہ پہلے ویکسینوں کو ایک سال کے لیے موثر کہا گیا تھا جو بعد میں معلوم ہوا کہ موثر پن پانچ ماہ گذرنے پر خاصا ماند پڑ جاتا ہے۔
ذاتی طور پر میرا یہ سال بستر پر دراز ہوئے لیپ ٹاپ پہ فلم دیکھتے یا کچھ پڑھتے بیتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ صبح چھ سات کلو میٹر کی سیر کر لی یا جمعہ پڑھنے مسجد چلا گیا یا شاذ و نادر ہوئی کسی تقریب میں شرکت کر لی۔
بستر دراز شخص کے ساتھ ارد گرد کے لوگ اچھا، بھلا کیا پیش آئیں گے۔ بچے آخر بچے ہیں، شور کریں گے ، لڑیں گے، کھیلیں گے۔ مجھ سے بچوں کا شور تب بھی برداشت نہیں ہوتا تھا جب میں خود بچہ تھا۔۔۔ بے حد سنجیدہ بچہ۔۔۔۔ چنانچہ بچوں اور بچوں کی ماں کے ساتھ اختلاف کم کیسے ہوتے؟
بچوں کی یاد میں گذشتہ برس کی یکم اکتوبر کو بیوی بچوں کے ہاں آ دھمکا تھا۔ مختلف المزاجی کے سبب بیشتر وقت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کے مصداق رہا ایسے جیسے اللہ کی طرف سے آزمائش ہو۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ اللہ امتحان میں ڈالتا ہے تو کٹھنائی سہنے کی ہمت اور صبر بھی عطا کرتا ہے جسے دنیاوی حوالے سے ڈھٹائی کہا جائے گا۔
کچھ دوست اس برس دنیا چھوڑ گئے بلکہ ایک مہربان عابد عمیق تو رات ہی اس جہان سے گذرے ہیں۔ بہت بھلے آدمی تھے اگرچہ ملاقات ہوئے عشرے بیتے۔ پاکستان میں لوگوں کے حالات خراب سے خراب تر ہوئے۔ ایک تو دنیا پر وبا کے سبب اضمحلال دوسرے ہمارے حکمران کی وہی رٹ کہ گھبرانا نہیں، چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔ باوجود دشوار حالات کے بہت سے لوگ اب بھی عمران خان کے حامی ہیں۔ کیوں اور کس لیے؟ میری سمجھ میں تو شخصیت پرستی کا اسطورا ہی آتا ہے۔
افغانستان کے حالات خراب سے خراب تر ہوئے۔ امریکہ نے سرد جنگ کے زمانے کی اپنی ذہنیت سے چھٹکارا حاصل نہ کیا یوں پھر سے روس کے خلاف کمر بستہ ہے اور روس بھی خم ٹھونک کے کھڑا ہوا ہے۔ ہندوستان میں بنیاد پرستی اسی طرح زیادہ ہو رہی ہے جس طرح مسلمانوں کے ہمسایہ ملکوں میں اپنی طرح کی بنیاد پرستی۔ چین معاشی طور پر مسلسل ترقی کر رہا ہے جبکہ یورپ کو اگر روس کی گیس پہنچنے میں بندش آ جائے تو وہاں ترقی کا پہیہ سست پڑ سکتا ہے یہ یورپ کو روس امریکہ مخاصمت کے بڑھنے سے خدشہ ہے۔ |
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.