text stringlengths 240 131k |
|---|
دسواں سالانہ جشن عید میلادالنبی کا پروگرام 19 دسمبر کی شام منعقد کیا جائے گا۔ ملک امین اعوان | Geo Urdu
دسواں سالانہ جشن عید میلادالنبی کا پروگرام 19 دسمبر کی شام منعقد کیا جائے گا۔ ملک امین اعوان
ویانا (محمد اکرم باجوہ) منہاج القرآن آسٹریا کے صدر حاجی ملک امین اعوان نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جشن عید میلادالنبیۖ کے سلسلہ میں 19 دسمبر بروز ہفتہ شام چار بجے پروقار دسواں سالانہ زکرنعت محفل کا انعقاد اعوان ہاوس نیدر آسٹریا میں کیا جائے گا۔
سالانہ زکر محفل میں مقامی نعت خواں کے علاوہ مہمان خصوصی قدیر احمد خان آف سپین اور سپیشل مہمان کے طور پر علامہ حاجی عبدالحفیظ الزہری امام نور اسلامک سنٹر ویانااور علامہ مدثر حسین اعوان آف ویاناشرکت کریں گے۔ نظامت کے فرائض حافظ مدثر باجوہ آف فرینکفورٹ جرمن ادا کریں گے۔
دسواں سالانہ جشن عید میلادالنبیۖ پروگرام کے آرگنائزر حاجی ملک امین اعوان نے مذید کہا کہ پروگرام میں شرکت کی دعوت عام ہے اور وقت کی پابندی کو مدنظر رکھا جائے۔
حکمران عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، چودھری مظہر گوندل کراچی میں قتل و غارت گری کے مجرموں کو عبرتناک سزاوں کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، میاں امجد |
پاک ایران تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ انویسٹ کرتے ہیں، سید ابرار رضوی - اسلام ٹائمز
Thursday 25 Oct 2012 16:58
پاک ایران تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ انویسٹ کرتے ہیں، سید ابرار رضوی
اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی کے رہنماء کا ''اسلام ٹائمز'' کیساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہم ایران سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں، وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ ہماری قیادت تعلقات کے فروغ میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ جہاں تک تعلق پاک ایران گیس لائن کا ہے تو ہماری قیادت اس حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے چاہے امریکہ کا پریشر بھی ہے، میں اس سے انکاری نہیں ہوں۔ لیکن پریشر کو فیس کیا جاتا ہے نہ کہ اس سے منصوبوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو امریکہ کی مرضی کے مطابق چلاتے تو ہمارا وجود ختم ہوچکا ہوتا۔ ہم اپنی پالیسز کو خود بہتر سمجھتے ہیں۔
معروف سیاستدان اور رکن فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی سید ابرار علی رضوی کا تعلق لاہور سے ہے، آپ بانی پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے درینہ ساتھی ہیں۔ آپ ابتدائی دور میں ہی ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو تیار کرنے میں پیش پیش رہے۔ آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا، اور ان کی رحلت کے بعد دور حاضر کی پی پی قیادت صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ آپ ویسے تو بزرگ ہیں، لیکن پیپلز پارٹی آپ کو اپنا ورثہ سمجھتی ہے اور آپ سے مختلف امور پر مشاورت لی جاتی ہے۔ ابرار رضوی نے پاکستان کے مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دیں۔ ''اسلام ٹائمز'' نے سید ابرار علی رضوی کے ساتھ سیاسی حوالے سے چند اہم نکات پر گفتگو کی۔ جو آپ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)
اسلام ٹائمز: آپ کا سیاست میں کیسے آنا ہوا اور کتنے عرصہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، کیا خاص وجہ تھی کہ آپ نے اس جماعت کا انتخاب کیا۔؟
سید ابرار علی رضوی: سیاست میں لانے والے میرے والد صاحب تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی میرے والد صاحب مجھے ہر پروگرام میں ساتھ لے جایا کرتے تھے، جہاں سے میں نے جلسے جلوسوں میں شرکت کی اور بہت کچھ وہاں سے سیکھا۔ میں نے ساری تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ پاکستان بننے کے بعد ایک تنظیم ڈیموکریٹک پارٹی معرض وجود میں آئی تھی، جس پر ایوب خان نے پابندی بھی لگائی تھی، اس تنظیم کا سرگرم کارکن رہا ہوں۔ ذہانت مجھے ورثہ میں ملی تھی، میں بچپن سے ہی علمائے کرام اور تمام سیاستدانوں کی تقاریر سنتا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ساہیوال چلا گیا۔ میرے جارحانہ انداز نے مجھے پنجاب بار کونسل کا ممبر بنا دیا اور میری یہ بڑی خوش نصیبی تھی۔ میں شروع سے ہی جاگیردارانہ نظام کے خلاف تھا۔ میرے ذہن کے مطابق جاگیردار اور سرمایہ دار لوگ عوام کو کچھ نہیں دیتے، بلکہ عوام سے لیتے ہی ہیں۔ وہ انفرادی محنت کا صلہ تو ضرور دیتے ہیں لیکن اجتماعی فائدہ وڈیروں کو ہی ہوتا ہے۔ اس وقت کے حکمران جاگیردارانہ نظام چاہتے تھے، جو 1947ء سے پہلے تھا، تاکہ سرمایہ دار کی سلامی ہوتی رہے۔
اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو ببانگ دہل ظالموں، جاگیرداروں سے ٹکرا سکے اور مارشل لاء سے ٹکرا سکے، جو سینہ تان کر جاگیردار کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالٰی نے ایک فرعون کے مقابلے میں ایک موسٰی کو پیدا کیا۔ اس زمانے کے موسٰی کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے۔ اس موسٰی زمان کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اس کی نظریں عقابی نظریں تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے زمانے کو پہنچاتے تھے، انہیں پتہ تھا کہ جب میں آواز بلند کروں گا تو سندھ و دیگر علاقوں سے کون کون سے لوگ مجھے سپورٹ کریں گے۔ سندھ میں ایسے لوگ موجود تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ زندگی بھر کیا نسل در نسل چل رہے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کو بہت پذیرائی ملی۔
آپ نے دیکھا بھی ہوگا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے حکمرانوں سے اعلان بغاوت کیا تو وہ خود بخود عوام کا محبوب بن گیا۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ عام لوگوں کو یہ حق نہیں تھا کہ سیاست پر کوئی بات چیت کر سکیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو میدان میں آئے تو انہوں نے خاموش طبقے کو بیدار کیا، مظلوموں کو ساتھ ملایا اور پرہجوم اجتماعات کیے۔ ابتدائی زمانے کے تین چار سال کبھی بھی نہیں بھلائے جا سکتے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے چار سال میں انقلاب برپا کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967ء کو انقلاب کی بنیاد رکھی۔ میں بھی اسی سوچ کا حامل شخص تھا، میں ابتدائی دور سے ہی ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور پھر ان کی شہادت کے بعد محترمہ کے ساتھ اور اب آصف علی زرداری کے ساتھ، میں نے پیپلز پارٹی کے تمام ادوار دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جو مزدور کے قوانین بنائے تھے، آج تک وہ ختم نہیں ہوسکے، البتہ روز بروز ان قوانین میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو صاحب پانچ سال اور زندہ رہتے تو آج پاکستان کی صورتحال کچھ اور ہی ہوتی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی آمریت کے خلاف جنگ لڑی اور عوام میں شعور بیدار کیا کہ فوجی ڈکٹیٹر شپ کو سر نہ اٹھانے دیا جائے۔
اسلام ٹائمز: روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دہشتگردی سمیت بہت سے مسائل نے عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے، عوام پیپلز پارٹی کی چار سالہ کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے، آنے والا الیکشن کیسے جیتیں گے۔؟
سید ابرار علی رضوی: میرے خیال میں ان چار سالوں میں جتنا پیپلزپارٹی نے کام کیا ہے، اتنا کسی اور جماعت نے نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے ضرورت کی بنیاد پر صوبوں میں ترقیاتی کام کروائے۔ جیسا کہ صوبہ بلوچستان کم آمدنی والا علاقہ ہے، لیکن اس کے باوجود اس علاقے میں بہت کام ہوا۔ صوبہ خیبرپختونخوا کا پہلا نام سرحد تھا جبکہ سرحد تو باؤنڈری کو کہتے ہیں، لہٰذا یہ کوئی نام نہیں ہے۔ پس پیپلزپارٹی نے صوبہ سرحد کو اپنے نام کی شناخت دی۔ اسی طرح آپ شمالی علاقہ جات کو دیکھ لیں، جن کو خود اپنے اوپر حکومت کرنے کا اختیار نہیں تھا، ان کو پیپلزپارٹی نے اختیار دیا اور اس علاقے کو گلگت بلتستان کا نام دیا۔ ہم نے 22 سرکاری اداروں میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ افراد کو ملازمت نہیں بلکہ اس کا شراکت دار بنایا۔ ہم نے حکومت میں ساڑھے چار سال اسی لیے گزار لیے ہیں کہ ہم نے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ اگر ہم پانچ سال پورے کر لیتے ہیں تو ہماری تاریخ کا سب سے پہلا واقعہ ہوگا کہ کسی جمہوری حکومت نے اپنی دانش اور اپنی عقل کے ذریعے اپنی حکومت کا پانچ سالہ دور خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا۔
حالانکہ اپنے ہی لوگوں نے زخم دیئے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق 50 لاکھ افراد کو تقریباً 1 ہزار سے زیادہ رقم ہر ماہ ملتی ہے اور جن افراد کو کاروبار کے لیے 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ کیا یہ لوگ پیپلزپارٹی کو بھول جائیں گے اور کیا 22 اداروں کے 6 لاکھ افراد پیپلزپارٹی کو بھول جائیں گے، جنہیں ان کے لیے کاروبار میں شریک بنایا۔ سابقہ دور حکومت میں بھی ہم نے بہت سی یونیورسٹیاں بنائیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں کیا کیا۔؟ جنرل پرویز مشرف نے کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی، بلکہ موجودہ اداروں کو پرموٹ کرکے اور ان کی شناخت ختم کرکے یونیورسٹی بناد ی، جبکہ ہم نے پورے پاکستان میں یونیورسٹیز کی لائنیں لگا دیں۔ اگر میں اپنی کارکردگی رپورٹ سنانے لگ جاؤں تو بات بہت دور تک چلی جائے گی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم انشاءاللہ اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر الیکشن جیتیں گے۔
اسلام ٹائمز: پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ تقریباً التواء کا شکار ہے، کیا امریکہ کی خوشنودی کے لئے اس کو التواء کا شکار کیا جا رہا ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: ہم ایران سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں، وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ آپ نے دیکھا بھی ہوگا ہماری قیادت تعلقات کے فروغ میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ جہاں تک تعلق پاک ایران گیس لائن کا ہے تو ہماری قیادت اس حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے چاہے امریکہ کا پریشر بھی ہے، میں اس سے انکاری نہیں ہوں۔ لیکن پریشر کو فیس کیا جاتا ہے نہ کہ اس سے منصوبوں کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو امریکہ کی مرضی کے مطابق چلاتے تو ہمارا وجود ختم ہو چکا ہوتا۔ ہم اپنی پالیسز کو خود بہتر سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے ذمہ داران کی میٹگز بھی ہوچکی ہیں۔ اور ایران نے اس منصوبے کے لئے انویسمینٹ کی بھی آفر کی ہے۔ ہم اس پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ہم ایران کے اس رویہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد اس حوالے سے آپ کو پیش رفت نظر آئے گی، کیونکہ روز بروز توانائی کے بحران نے ملک کے اندر بہت سے مسائل پیدا کر دئیے ہیں، ان کو حل کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ ہے۔
اسلام ٹائمز: صوبہ بلوچستان ہو، گلگت بلتستان، کراچی ہو یا ملک کے دیگر علاقے ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں صرف ایک ہی مکتب کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس قتل و غارت گری میں کون لوگ ملوث ہیں، حکومت بے بس کیوں ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: میں گلگت بلتستان کا دورہ بھی کرچکا ہوں۔ ضیاء دور میں گلگت کے ایک گاؤں جلالہ آباد پر حملہ کیا گیا۔ جس سے پورے کے پورے علاقے کو ختم کر دیا گیا۔ علاقہ خون سے نہا گیا، لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وہ والے حالات نہیں ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ اہل تشیع کو بھی ایک مقصدیت کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک چیز دیکھنے کی ہے کہ اگر آپ کا دشمن سامنے ہو تو آپ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی طاقت کے مطابق تیاری کرتے ہیں، لیکن ایک دشمن جو گھات لگائے بیٹھا ہو اور چُھپ کر وار کرے تو اس کا کیا کیا جا سکتا ہے۔
آپ کے سامنے ملالہ کا کیس ہے۔ جس طرح ملالہ سکول سے واپس گھر آرہی تھی تو راستے میں دہشت گردوں نے گاڑی روک کر پوچھا ملالہ کون ہے تو ملالہ کی شناخت ہونے کے بعد اس کو ٹارگٹ کیا گیا، ایسی حالت میں آپ کیا کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ایک ایک گاڑی کے ساتھ فوج کی گاڑی ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم دہشت گردوں کے ساتھ کبھی بھی مصالحت نہیں کریں گے۔ ہم عوام کی مدد سے ہر اس جگہ پر آپریشن بھی کریں گے، جہاں بھی دہشت گرد موجود ہوئے اور پاکستان کو اس دہشتگردی کی لعنت سے پاک کریں گے۔
اسلام ٹائمز: شام کے معاملے سے واضح ہوگیا ہے کہ دنیا میں دو بلاک بنتے دکھائی دے رہے ہیں، کیا پاکستان کا روس کے ساتھ تعلقات کا فروغ امریکہ سے جان چھڑوانے کے لئے ہے۔؟
سید ابرار علی رضوی: زیادہ تر قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ پاکستان مضبوط ہو۔ جیسا کہ بھارت اور کچھ ہمارے ہمسایہ ممالک نہیں چاہتے، اسی طرح کچھ ممالک یہ نہیں چاہتے کہ گوادر پورٹ بنے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ چائنہ نے تو ہمیں سٹیل مل دی، لیکن آپ بتائیں کہ امریکہ نے ہمیں کیا دیا ہے۔؟ میں کوئی جذباتی سیاستدان نہیں ہوں، میری زندگی گزر گئی لیکن اب زندگی کچھ اور سوچتی ہے، کچھ تبدیلی دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد حکمرانوں نے ہمیں امریکہ کی گود میں ڈال دیا۔ پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو گیٹ وے ہے۔ پاکستان سنٹرل ایشیاء اور مڈل ایسٹ کے لیے گیٹ وے ہے۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کبھی ٹوٹے۔ صدر آصف علی زرداری نے رشیاء کا دورہ کیا اور طلبہ کے فورم میں انہوں نے اظہار خیال کیا اور کوشش کی کہ روس کی عوام اور حکومت کے ساتھ اعتماد کی فضاء پیدا ہو۔
پاک روس دوستی سے ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوں گے، جیسا کہ ہمارے زرعی مسائل اور اسی طرح کے دیگر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ میں نے جیسے پہلے عرض کیا کہ ہمیں شروع سے ہی امریکہ کی جھولی میں ڈالا دیا گیا اور اب ہم چاہنے کے باوجود بھی اس سے نکل نہیں پا رہے۔ اس کے لئے ہمیں ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو کہ امریکہ سے ہماری جان چھڑوانے میں مدد کرسکے۔ حقیت تو یہ ہے کہ چین کے علاوہ ہمیں کسی ملک نے کیا دیا۔؟ ہم نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا، لیکن وہ ڈومور ڈومور کی رٹ چھوڑ ہی نہیں رہا۔
دہشت گردی میں ہم نے کتنی قیمتی جانیں دیں، ہم نے اپنی قیادت تک قربان کر دی، لیکن ہمیں اس حد تک فائدہ نہیں ہوا، جس حد تک ہمارا حق بنتا تھا۔ بلکہ یوں کہوں کہ ہمارا ملک غیر مستحکم ہوا ہے۔ رشیاء کے ساتھ تعلقات میں ہمیں فائدہ ہے، اور وہ بھی تعلقات کے فروغ میں دلچسپی لے رہا ہے، بس اعتماد کی فضاء کو بحال ہونے کی ضرورت ہے۔ رشیاء کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرنا کافی حساس ہے۔ انڈیا کو ہمارے تعلقات پر شدید تحفظات ہیں، لیکن وہ وقت دور نہیں کہ ہم امریکہ کی غلامی سے نکل جائیں گے۔
اسلام ٹائمز: ویسے تو پیپلز پارٹی کی خارجہ پالیسی دیگر حکومتوں سے بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ تعلقات اس حد تک خوشگوار اور وسیع نہیں جس حد تک پاکستان کے ہونے چاہیں، اس کی وجہ بتائیں گے۔؟
سید ابرار علی رضوی: دیکھیں پھر وہی بات آجاتی ہے امریکہ اور پاکستان میں امریکہ نواز افراد چاہے وہ امریکہ سے ڈریکٹ یا انڈاریکٹ مثلاً سعودی عرب کے ذریعے ہدایات لیتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات کو بڑھائیں۔ اس کے لئے امریکہ اور سعودی عرب پیسہ بھی انوسٹ کرتے ہیں، افراد اور حکومتوں کو بھی خریدتے ہیں۔ تو آپ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ تعلقات سست روی کا شکار تو ہوں گے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جائے، اور پاک ایران گیس منصوبہ سمیت مختلف منصوبوں پر کام کرنا تعلقات کے فروغ کا باعث بھی بنیں گے اور یہ واضع ثبوت بھی ہیں۔ |
راولپنڈی:کورونا کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو ڈینگی کا کیوں نہیں، شیخ رشید - SAAFBAATNEWSNETWORK
راولپنڈی:کورونا کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو ڈینگی کا کیوں نہیں، شیخ رشید
ستمبر 14, 2021 October 14, 2021 0 تبصرے 110 مناظر
راولپنڈی:(صاف بات) وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کورونا جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو ڈینگی پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکتا۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے ڈینگی وارڈ کا معائنہ کیا، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے وزیر داخلہ کو ڈینگی مرض سے متعلق بریفنگ دی۔
اس موقع پر شیخ رشید نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ڈینگی کے مرض سے بچنے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی مرض پیدا کرنے والے عوامل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ضلعی انتظامیہ اور صحت کے اداروں سے مل کر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔واضح رہے کہ ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ |
یوپی اسمبلی انتخابات: مودی آج گورکھپور کو ایمس اور کھاد فیکٹری کا تحفہ دیں گے
وزیر اعظم نریندر مودی اسمبلی انتخابات سے قبل یوپی کے دورے کرتے ہوئے کئی اعلانات کر رہے ہیں، اسی ضمن میں آج وہ گورکھپور پہنچ رہے ہیں جہاں وہ 9600 کروڑ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو عوام کے نام وقف کریں گے
Published: 07 Dec 2021, 9:49 AM
گورکھپور: وزیر اعظم نریندر مودی آج 9600 کروڑ روپے سے زیادہ کے کچھ دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے، جن میں گورکھپور میں ہندوستان فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکل لمیٹڈ کی کھاد فیکٹری اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) شامل ہیں۔
خیال رہے کہ آئندہ انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی یکے بعد دیگرے اتر پردیش کے دورے کر رہے ہیں اور مختلف اعلانات بھی کر رہے ہیں۔ ادھر، کانگریس اور سماجوادی پارٹی سمیت دوسری پارٹیاں بھی لگاتار انتخابی ریلیوں سے حکومت کی ناکامیوں کا شمار کرتے ہوئے عوام سے بی جے پی کو ہرانے کی اپیل کر رہے ہیں۔
اتر پردیش حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی موجودگی میں کھاد فیکٹری اور ایمس کے علاوہ وہ آئی سی ایم آر کے علاقائی میڈیکل ریسرچ سینٹر کا بھی افتتاح کریں گے۔ یہ تمام پروجیکٹ آتم نربھر بھارت کو اجناس اور صحت کی حفاظت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
تقریباً 598 ایکڑ میں لگائی گئی کھاد فیکٹری کی لاگت 8,603 کروڑ روپے ہے۔ اس پلانٹ کی صلاحیت یومیہ 2,200 میٹرک ٹن مائع امونیہ اور 3,850 میٹرک ٹن نیم کوٹیڈ یوریا پیدا کرنے کی ہے۔ یہ فرٹیلائزر کارخانہ سالانہ 12.7 لاکھ میٹرک ٹن پرلڈ نیم کوٹیڈ یوریا تیار کرے گی۔ مودی نے منگل کو ٹویٹ کیا کہ 30 سال سے بند گورکھپور کھاد فیکٹری کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پلانٹ کے شروع ہونے سے ملک کو کھاد کی پیداوار میں خود کفیل بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم کے گورکھپور دورے کے مطابق مودی دوپہر 12:30 بجے گورکھپور پہنچیں گے۔ ہوائی اڈے سے وہ دوپہر ایک بجے پنڈال پہنچیں گے۔ یہاں وہ دوپہر 2:20 بجے ایمس اور کھاد فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ وزیر اعظم تین بجے گورکھپور سے دہلی کے لیے روانہ ہوں گے۔ |
یہ کیوں گھوسٹ پرانی خبریں کہا جاتا ہے ؟ ماضی کی طرح اس کی وجہ یہ ممکنہ اسپیم بوٹس کا پتہ لگانے اور بلاک کرنے کے لئے پس منظر میں خاموشی سے کام کر رہے ہیں ، ایک پوشیدہ طاقت ہے. جی ہاں، گھوسٹ پرانی خبریں اس کے اپنے معیاری کیپچا ٹیسٹ کے ساتھ آتا ہے ، لیکن مشکوک براؤزنگ کی سرگرمی کا پتہ چلا ہے کے بعد یہ صرف ایک آخری حربے کے طور پر دکھائے جاتے ہیں.
کیوں صرف ایک آخری حربے کے طور پر کیپچا ٹیسٹ ڈسپلے ؟ کیپچا ٹیسٹ پریشان کن ہیں. انہوں نے کہا کہ میں لاگ ان یا کچھ پوسٹنگ سے پہلے انسان ہیں ثابت کرنا ہوگا جو مشتبہ افراد کے طور پر تمام صارفین کے علاج کرتے ہیں. بہت سے لوگ خاص طور پر آنکھ کی مسائل اور دیگر معذوریوں کے حامل افراد کے لئے ، کو بھرنے کے لئے مشکل اور ناقابل رسائی ہیں. کوئی تعجب نہیں کوڈ مسجد اور دیگر Envato سائٹس حال ہی میں کیپچا ٹیسٹ، آپ کے اور میرے جیسے اس کے تمام حقیقی صارفین کے لئے ایک بڑا ریلیف کے لئے تمام ہٹا دیا .
تو، کس طرح تو آپ کیپچا کے بغیر وہاں پر اسپیم بوٹس اور دیگر درنساوناپورن پروگراموں سے آپ کی ویب سائٹ کو محفوظ رکھنے کے ہے ہمیشہ کیپچا ٹیسٹ کی نمائش ؟ bots سے انسانوں کو الگ کرنے کے لئے صارفین کے رویے کی نگرانی کی طرف سے کام کرتا ہے جو گھوسٹ پرانی خبریں ، کا استعمال کریں. یہ honeypot تکنیک (https://en.wikipedia.org/wiki/Honeypot_ ٪ 28computing ٪ 29 ')کا ایک مرکب استعمال کرتا ہے. اور وقت کی نگرانی bots سے انسانوں کو علیحدہ کرنے کے لئے . یہ سب کچھ اس پس منظر میں خاموشی سے کام کیا اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کا پتہ چلا ہے ، اگر گھوسٹ پرانی خبریں تو ایک عام کیپچا ٹیسٹ بوجھ ہے. اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ، آپ حقیقی صارفین کی سب سے زیادہ شاید ہی کبھی کبھی ایک کیپچا test.With گھوسٹ پرانی خبریں دیکھ یا حل کرنے کی ضرورت ہو گی ، آپ اب کوئی spammers کو مسدود کرنے اور پریشان کن اپنے حقیقی صارفین کے درمیان منتخب کرنے کے لئے ہے.
تبصرے، لاگ ان ، رجسٹر اور پاس ورڈ کھو دیا : یہ پلگ ان ورڈپریس کے تمام معیاری فارم کے ساتھ کام کرتا ہے. ہر فارم کے لئے ترتیبات tweaked اور انفرادی طور پر ترتیب دیا جا سکتا ہے.
ورڈپریس لاگ ان, ورڈپریس رجسٹریشن, فارم سیکورٹی, ماضی کیپچا, honeypot کیپچا, غیر متعلقہ, غیر متعلقہ بیوٹی پتہ لگانے, سپیم کنٹرول, سپیم فلٹر, سپیم کی حفاظت, ورڈپریس کیپچا, ورڈپریس تبصرے, ورڈپریس پلگ ان, ورڈپریس سیکورٹی, worpress فارم |
چوہدری نثارنے مشکل وقت میں پیٹھ میں چھراگھونپا، میں اٹل فیصلہ کرچکا ہوں، نواز شریف
اسلام آباد : نااہل وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ چوہدری نثارنےمشکل وقت میں پیٹھ میں چھراگھونپا،ن لیگ چوہدری نثار نہیں میری وجہ سے قائم ہے، میں اٹل فیصلہ کرچکا ہوں جبکہ شہباز شریف نے کہا چوہدری نثار کو ایک موقع دینا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کو ن لیگ کی سی ای سی اجلاس میں نہ بلانے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کونواز شریف کی ہدایت پر اجلاس میں نہیں بلایا گیا، شہباز شریف،ایازصادق اورسعد رفیق نےمنانے کی کوشش کی۔
نوازشریف نے جواب میں کہا کہ چوہدری نثار سے سیاسی راستے جدا ہیں، ن لیگ میں انکی جگہ نہیں، چوہدری نثارنے مشکل وقت میں پیٹھ میں چھراگھونپا ، چوہدری نثاربیانیے پر ساتھ دیتے تو اداروں سے مطالبات منواسکتے تھے۔
سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کےمؤقف میں نرمی آئی ہے جبکہ شہباز شریف نے کہا کہ چوہدری نثار کو ایک موقع دینا چاہیے۔
نااہل وزیر اعظم نے کہا کہ مریم کےحوالے سے چوہدری نثار کا بیان قابل قبول نہیں، ن لیگ چوہدری نثار نہیں میری وجہ سے قائم ہے، اعتزاز احسن کی قومی اسمبلی میں تقریر سچ لگ رہی ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار سے متعلق اٹل فیصلہ کرچکا ہوں۔
مزید پڑھیں : شہبازشریف مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام صدر اور نوازشریف تاحیات قائد منتخب
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شہبازشریف کو مسلم لیگ(ن) کا بلامقابلہ قائم مقام صدر منتخب کرلیا جبکہ نوازشریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دیدی۔ |
''سنجو'' کا روپ دھارنے کیلیے رنبیر کپور کی ٹریننگ کی ویڈیو وائرل – پاکستانی شخصیت خبریں اور گپ شپ
July 6, 2018 by ویب ڈیسک
ممبئی : بالی ووڈ کے چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور کی فلم 'سنجو' کے مختلف روپ دھارنے کے لیے شوٹنگ کے دوران کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
بالی ووڈ میں بابا کے نام سے پہچانے جانے والے اداکار سنجے دت کی حقیقی زندگی دیگر اداکاروں سے بے پناہ مختلف رہی جس نے نامور ہدایت کار راج کمار ہیرانی کو اداکار کی زندگی پر فلم بنانے پر مجبور کیا جب کہ سنجو کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ومشکلات اور خاص کر ان کے نشے کی عادت کی وجہ سے ان میں بہت تیزی سے جسمانی تبدیلی آتی رہی یہی وجہ ہے کہ فلم 'سنجو' میں ان کے متعدد روپ دکھائے گئے ہیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ عامر خان کی وزن میں اضافے اورکمی کی ویڈیو نے دھوم مچادی
بالی ووڈ میں مختلف روپ دھارنے کے حوالے سے مسٹرپرفیکشسنٹ عامر خان شہرت رکھتے ہیں اور وہ فلم 'دنگل'، منگل پانڈے، تھری ایڈئٹس اور رواں سال ریلیز ہونے والی فلم 'ٹھگ آف ہندوستان' میں یہ بخوبی ثابت کرچکے ہیں تاہم ایک ہی فلم میں سنجے دت کے مختلف روپ دھارنا اور ہوبہو بابا جیسی ادکاری کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن ہدایت کار راج کمار ہیرانی اور رنبیر کپور نے ناممکن کو ممکن کردکھایا جب کہ خود رنبیر کپور نے یہ اعتراف کیا کہ یہ ان کی زندگی کی پہلی فلم ہے جس کے لیے انہوں نے وزن بڑھایا اور کم کیا۔
فلم 'سنجو' کی ٹیم نے شوٹنگ کے دوران کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں سنجے دت کے مختلف روپ دھارنے کے لیے رنبیرکپور اور پوری ٹیم کی محنت کو دکھایا گیا ہے جب کہ خود رنبیر کپور نے بھی وزن بڑھانے کے لیے بھرپور محنت کی۔ سنجو بننے کے لیے رنبیر کپور کی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بے حد پسند کیا جارہا ہے اور بہت تیزی سے اس ویڈیو کی شیئرنگ میں اضافہ ہورہا ہے۔
واضح رہے فلم 'سنجو' نے صرف 7 روز میں 200 کروڑ کا بزنس کرکے فلمی پنڈتوں کو حیران کردیا جب کہ فلم نے عامر خان کی تھری ایڈیٹس کا ٹوٹل بزنس سمیت متعدد ریکارڈ پاش پاش کردیے اور یہ 2 سو کروڑ کلب میں شامل ہونے والی رنبیر کپور کی واحد فلم بھی ہے۔
The post ''سنجو'' کا روپ دھارنے کیلیے رنبیر کپور کی ٹریننگ کی ویڈیو وائرل appeared first on ایکسپریس اردو. |
فروری 6, 2020 222 Views
تحریر:ثاقب اکبر
ہمارا ایک اجتماعی احساس تھا کہ ایرانی قوم جس جذبے، لگن اور یکسوئی سے تمام میدانوں میں پیشرفت کر رہی ہے، وہ تمام عالم اسلام کیلئے نمونے اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس ماندہ قومیں آج کے ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ اگر چند اسلامی ممالک ملکر فیصلہ کر لیں کہ ہم نے آزاد خارجہ پالیسی اور باہمی تعاون و اشتراک کیساتھ استعماری قرضوں اور پابندیوں سے نجات حاصل کرنا ہے تو ایسا کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اکیلا ایران یہ سب کچھ کرسکتا ہے تو چند ممالک ملکر تو تیز رفتار معجزے برپا کرسکتے ہیں۔ شاید کوالالمپور کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے پاکستان نے ایک ایسی ہی پیشرفت کا موقع ضائع کر دیا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل کا وفد جو 14 جنوری 2020ء کو لاہور سے مشہد پہنچا تھا، 22 جنوری کو تہران سے لاہور کے لیے روانہ ہوگیا۔ آخری ملاقات شہید اسلام جنرل قاسم سلیمانی کے خاندان سے تہران میں ان کے گھر میں ہوئی۔ پاکستانی وفد کی طرف سے جناب لیاقت بلوچ نے گفتگو کی اور شہید کی شہادت کو عالم اسلام کا نقصان قرار دیا۔ شہید کے خاندان کی طرف سے ان کی بڑی صاحبزادی فاطمہ نے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کے خون کا انتقام لینے کے لیے جو سب سے بڑا زخم ہم اپنے دشمنوں کو لگا سکتے ہیں، وہ اتحاد امت ہے۔ اس لیے کہ ہمارے دشمنوں کے لیے سب سے بڑا ضربہ ہمارا اتحاد ہی ہے۔ جب ہم شہید کے گھر میں داخل ہوئے تو محترمہ فاطمہ پر راقم کی نظر پڑی تو میں نے سمجھا کہ یہی شہید کی وہ بیٹی زینب ہیں، جن کی مختلف ویڈیوز ہم پاکستان میں دیکھ چکے ہیں۔ شہید سلیمانی کی تہران میں نماز جنازہ کے موقع پر انہوں نے ہی اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ شہادت کے فوری بعد کی ایک ویڈیو بھی نظر پڑی تھی، جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ میرے عمّو حسن نصراللہ میرے بابا کا انتقام لیں گے۔ جب میں نے فاطمہ سے کہا کہ ہم آپ کی ویڈیوز دیکھ چکے ہیں اور آپ کی گفتگو سن چکے ہیں تو انہوں نے وضاحت کی کہ وہ میری چھوٹی بہن زینب کی ویڈیوز ہیں۔ مجھے دونوں بہنوں کی اتنی شباہت و مماثلت پر بڑی حیرت ہوئی۔ |
سرجانی ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، چار دہشت گرد ہلاک، -
سرجانی ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، چار دہشت گرد ہلاک،
کراچی : قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا،تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاؤن کے سیکٹر دس میں پولیس اور رینجرز نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کی ۔
اس دوران ملزمان اور رینجرز کے درمیان فائرنگ کے دو طرفہ تبادلے میں چار دہشت گرد مارے گئے اور دواہلکار زخمی ہوگئے۔ترجمان رینجرز کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں ۔
ایک دہشت گرد کی شناخت عابد چھوٹا کے نام سے کرلی گئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب بلدیہ ٹاؤن میں حساس ادارے نے کارروائی کرکے کالعدم تنظیم کے آٹھ کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
گرفتار ملزمان کے قبضے بھاری مقدار میں بارود ،اسلحہ اور دو موٹر سائیکل برآمد ہوئیں ۔انچارچ سی ٹی ڈی علی رضا کے مطابق چھاپہ کالعدم تنظیم کے امیر کی موجودگی کی اطلاع پر مارا گیا تھا اطلاع تھی کہ ملزمان دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہے تھے ۔ |
مینٹل ہسپتال میں 100بستروں پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ شعبہ منشیات کے عادی مریضوں کے علاج کیلئے قائم ..
لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18فروی 2015ء)صوبائی وزیر سماجی بہبود سید ہارون احمد سلطان بخاری نے کہا ہے کہ حکومت خصوصی افراد کو علاج معالجے سے ٹھیک کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے متعلقہ اداروں کو گرانٹ فراہم کر رہی ہے اس سلسلے میں غیرسرکاری اداروں اور این جی اوز کو بھرپور تعاون فراہم کیاجا رہا ہے،دماغی امراض کے اداروں اور ہسپتالوں کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جارہے ہیں،حکومت کی ترجیح تعلیم اور صحت ہیں اور ان کے لئے حکومت نے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ہمیں اپنے مذہب سے راہنمائی اور ثقافتی روایات پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام کو فروغ دینا چاہیے تاکہ خصوصی افراد کا گھر کے دوسرے لوگ خیال رکھ سکیں کیونکہ ایسے افراد اپنا خود خیال نہیں رکھ سکتے ۔
غیر سرکاری فلاحی تنظیم کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ایسے افراد و ادارے قوم کا اثاثہ ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ بیماروں خصوصاً دماغی امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے مختص کر رکھا ہے ۔
سید ہارون احمد سلطان بخاری نے کہا کہ دماغی امراض کے علاج معالجہ کے ادارے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں موجودہ حکومت نے نیا جدید ایمرجنسی بلاک تعمیر کیا ہے جس میں ماڈرن تشخیصی سنٹر، پیتھالوجی لیب، میڈیکل آلات، ریڈیالوجی، الٹرا سونو گرافی ، سی ٹی سکین اور ای ای جی کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں جبکہ تمام مریضوں کو مکمل صحت یات ہونے تک بلا معاوضہ ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں 100بستروں پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ شعبہ منشیات کے عادی مریضوں کے علاج کے لئے قائم کیاہے اور منشیات کے عادی مریضوں کو علاج معالجہ کی جدید سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ انہیں صحت یاب کر کے معاشرے کا مفید شہری بنایا جاسکے۔ |
سعودی شہری نے زندہ بچھو کھا کر ریکارڈ توڑ د - General Knowledge - URDU FUN CLUB
سعودی شہری نے زندہ بچھو کھا کر ریکارڈ توڑ د
سعودی شہری نے 50 زندہ بچھو کھا کر امریکی ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا۔
یہ بات بہت سے لوگوں کے لئے ناپسندیدگی و کراہیت کا باعث ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیت ہے کہ سعودی شہری ماجد المالکی ایک ہی بار 50 زندہ بچھو نگل سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ محیر العقول شخص سانپ، چھوٹے مگرمچھ اور چھپکلیاں بھی کھانے کے طور پر کھاتا ہے۔ ماجد المالکی نے کہا کہ اسے ان حشرات اور جانوروں کا زہر نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے سب سے زیادہ زہریلے پیلے بچھو کھانے میں زیادہ مزا آتا ہے۔ ماجد المالکی نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر "گینیز بک آۡف ورلڈ ریکارڈ" کی ویب سائٹ پر موجود متعدد ویڈیو کلپ اور تصاویر بھی العربیہ۔نیٹ کو دکھائیں کہ جن میں اسے ایسے حشرات کو نگلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔ المالکی کا نام گذشتہ مہینے "گینیز بک" میں اس وقت شامل کیا گیا کہ جب اس نے سعودی عرب کے دارلحکومت میں 22 بچھو کھا کر ایک امریکی شہری ڈین شیلڈن کا ایک نشت میں 21 بچھو کھانے کا ریکارڈ توڑا۔
ماجد المالکی نے کہا کہ اس کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے کی تقریب ریاض میں منعقد ہوئی، جس کے دوران اس نے 20 سیکنڈز میں 22 بچھو نگل لئے جبکہ اس سے پہلے ایک امریکی شہری کا نام گینیز بک میں 21 بچھو کھانے پر درج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہی نشت میں 50 بچھو کھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انتالیس سالہ ماجد المالکی سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں سرکاری ملازم ہیں۔ ان کا وزن 70 کلوگرام ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ وہ صرف بچھو ہی نہیں بلکہ سانپ بھی کھا سکتے ہیں۔ ایک نشت میں دس تک سانپ کھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ چھوٹے مگر مچھ، چھیکلیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چھوٹے بڑے بچھوؤں کی تمام اقسام کھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ زہریلا "پیلا بچھو" بھی کھا لیتے ہیں۔ یاد رہے پیلا بچھو اپنے ہلاکت خیز زہر کی وجہ سے "فلسطینی" کے نام سے مشہور ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ماجد المالکی نے کہا کہ " کہ میں 22 برس سے یہ کام کر رہا ہے، مجھے ایک مرتبہ بھی ان زہریلے حشرات کھانے سے زہر خورانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچھو کھاتے ہوئے اس کے ڈنگ والے حصے کو تھوڑا توڑ لیتا ہوں تاکہ یہ منہ کی جلد میں نہ پیوست ہو۔ انہوں نے کہا میں ایسے حشرات کھانے سے پہلے ان کا ڈنگ نہیں نکالتا۔ کسی بچھو کے ڈسنے پر مجھ پر زہر اثر نہیں کرتا۔ ماجد المالکی نے کہا کہ بچھو کے ڈسنے سے انسان مرتا نہیں، لیکن ایسی صورت میں کوئی شکار اگر خوف میں مبتلا ہو جائے تو وہ شدید بخار کیوجہ سے فوری طور پر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ "بچھو سے ڈسے جانے والوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ پرسکون رہیں کیونکہ ایسی صورت میں خوف ہی خطرناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کے معدے یا دانتوں میں السر نہیں تو بچھو کا زہر خطرناک نہیں ہوتا۔ محیر العقول سعودی شہری کا کہنا تھا کہ کہ وہ ایسے دنگ کر دینے والے "کارناموں" کے ذریعے صرف اپنا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نہیں لکھوانا چاہتا تھا بلکہ اس کا مقصد سنہ 2004ء سے امریکی شہری کے ریکارڈ کو توڑ کر اس کی جگہ اپنی شناخت درج کرانا چاہتا تھا۔ اس سوال کہ ان کے حشرات کھانے کے فعل کو سعودی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں ماجد نے بتایا کہ بہت سے لوگ اس پر تنقید کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اسے عام بات سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ان کا ایک امریکی پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا معاہدہ ہوا تھا مگر نائن الیون کے بعد اس پر عمل درامد نہ ہو سکا۔ |
ایک مسیحی ایماندار کو دولت کے بارے میں کیا نقطہ نظر رکھنا چاہیے ؟
دولت کے بارے میں مسیحی نقطہ نظر صحائف سے اخذکردہ ہونا چاہیے۔ پرانے عہد نامے میں متعدد ایسے اوقات مذکور ہیں جب خدا نے اپنے لوگوں کو دولت بخشی تھی ۔ سلیمان سے دولت کا وعدہ کیا گیا تھااور وہ زمین کے تمام بادشاہوں میں امیرترین بادشاہ بن گیا تھا ( 1سلاطین 3باب 11-13آیات؛ 2تواریخ 9باب 22آیت)؛ 1تواریخ 29باب 12آیت میں داؤد نے کہا تھا : " دَولت اور عزّت تیری طرف سے آتی ہیں اور تُو سبھوں پر حکومت کرتا ہے "۔ ابرہام ( پیدایش 17-20ابواب)، یعقوب ( پیدایش 30-31ابواب)، یو سف ( پیدایش 41باب )، یہوسفط بادشاہ ( 2تواریخ 17باب 5آیت ) اور دیگر بہت سے لوگوں کو خدا کی طرف سے دولت سے نوازا گیا تھا ۔ تاہم وہ خدا کے چُنے ہوئے لوگ تھے جن کے ساتھ زمینی برکات اور اَجر کے وعدے کئے گئے تھے ۔ انہیں ایک سرزمین اور اُس میں موجود تمام دولت بخشی گئی تھی ۔
نئے عہد نامے میں ایک مختلف معیار پایا جاتا ہے۔ کلیسیا سے کبھی کسی سرزمین یا دولت کا وعدہ نہیں کیا گیا ۔ افسیوں 1باب 3آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جس نے ہم کو مسیح میں آسمانی مقاموں پر ہر طرح کی رُوحانی برکت بخشی"۔ یسوع مسیح نے متی 13باب 22آیت میں خدا کے کلام کے بیج کے جھاڑیوں میں گرنے کے تعلق سے بات کی ہے جب "دُنیا کی فِکر اور دَولت کا فریب اُس کلام کو دبا دیتا ہے اور وہ بے پھل رہ جاتا ہے" یہ نئے عہد نامے میں دنیاوی دولت کا پہلا حوالہ ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مثبت تصویر نہیں ہے۔
مرقس 10باب 23آیت میں " یسوع نے چاروں طرف نظر کر کے اپنے شاگردوں سے کہا دَولت مندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کَیسا مُشکل ہے!"۔یہ ناممکن نہیں تھا –کیونکہ خدا میں تمام باتیں ممکن ہیں – لیکن یہ " مشکل" ہو گا ۔ لوقا 16باب 13آیت میں یسوع نے مَیمن ( " دولت " کےلیے استعمال ہونے والے ایک ارامی لفظ )کے بارے میں بات کی ہے :"کوئی نَوکر دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے"۔ ایک بار پھر یہاں دولت کی تصویر کشی ایسی چیز کے طور پر کی گئی ہے جو رُوحانیت پر منفی اثر ڈالتی اور جو ہمیں خدا سے دُور رکھ سکتی ہے ۔
رومیوں 2باب 4آیت میں خدا اُس حقیقی دولت کا ذکر کرتا ہے جو وہ آج ہماری زندگی میں مہیاکرتا ہے : "یا تُو اُس کی مہربانی اور تحمل اور صبر کی دَولت کو ناچیز جانتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ خُدا کی مہربانی تجھ کو تَوبہ کی طرف مائِل کرتی ہے؟"یہ وہ دولتیں ہیں جو ابدی زندگی لاتی ہیں ۔رومیوں 9باب 23آیت میں اسے ایک بار پھر واضح کیا گیا ہے:"اور یہ اِس لئے ہوا کہ اپنے جلال کی دَولت رَحم کے برتنوں کے ذریعہ سے آشکارا کرے جو اُس نے جلال کے لئے پہلے سے تیّار کئے تھے"۔ اور افسیوں 1باب 7آیت میں بھی کہ : "ہم کو اُس میں اُس کے خُون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی قصُوروں کی معافی اُس کے اُس فضل کی دَولت کے مُوافق حاصل ہے"۔ خدا کے بے حد رحم کا ذکر کرتے ہوئے پولس رومیوں 11باب 13آیت میں خدا کی حمد و ستایش کرتا ہے : "واہ! خُدا کی دَولت اور حکمت اور عِلم کیا ہی عمیق ہے! اُس کے فیصلے کس قدر اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں کیا ہی بے نِشان ہیں!" نئے عہد نامے کا زور ِ بیان ہماری زندگیوں میں موجود خدا کی دولت پر ہے :"اور تمہارے دِل کی آنکھیں رَوشن ہو جائیں تاکہ تُم کو معلوم ہو کہ اُس کے بُلانے سے کیسی کچھ اُمّید ہے اور اُس کی میراث کے جلال کی دَولت مقدّسوں میں کیسی کچھ ہے" ( افسیوں 1باب 18آیت)۔ خدا درحقیقت آسمان پر ہمارے اندر اپنی دولت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے : "اور مسیح یسوع میں شامِل کر کے اُس کے ساتھ جِلایا اور آسمانی مقاموں پر اُس کے ساتھ بِٹھایا۔ تاکہ وہ اپنی اُس مہربانی سے جو مسیح یسوع میں ہم پر ہے آنے والے زمانوں میں اپنے فضل کی بے نہایت دَولت دِکھائے" ( افسیوں 2باب 6-7آیات)۔
وہ دولت جو خدا ہمارے لیے چاہتا ہے: "کہ وہ اپنے جلال کی دَولت کے موافق تمہیں یہ عِنایت کرے کہ تُم اُس کے رُوح سے اپنی باطِنی اِنسانیت میں بہت ہی زورآور ہو جاؤ" (افسیوں3باب 16آیت) ۔ دولت کے حوالے سے نئے عہد نامے کے ایمانداروں کے لیے سب سے شاندار آیت فلپیوں 4 باب 19آیت : "میرا خُدا اپنی دَولت کے موافق جلال سے مسیح یِسُوع میں تمہاری ہر ایک اِحتیاج رَفع کرے گا"۔ یہ بیان پولس کی طرف سے لکھا گیا تھا کیونکہ فلپی کی کلیسیا کے ایماندار وں نے پولس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محبت بھرے تحائف بھیجے تھے۔
1تیمتھیس 6باب 17آیت دولت مند لوگوں کو تنبیہ کرتی ہے : "اِس مَوجُودہ جہان کے دَولت مندوں کو حکم دے کہ مغرور نہ ہوں اور ناپائیدار دَولت پر نہیں بلکہ خُدا پر اُمید رکھیں جو ہمیں لُطف اُٹھانے کے لئے سب چیزیں اِفراط سے دیتا ہے "۔ یعقوب 5باب 1-3آیات غلط طریقوں سے حاصل کی گئی دولت کے خلاف تنبیہ کرتی ہیں :"اَے دَولت مندو ذرا سُنو تو! تم اپنی مصیبتوں پر جو آنے والی ہیں روؤ اور واوَیلا کرو۔ تمہارا مال بِگڑ گیا اور تمہاری پوشاکوں کو کیڑا کھا گیا۔ تُمہارے سونے چاندی کو زنگ لگ گیا اور وہ زنگ تُم پر گواہی دے گا اور آگ کی طرح تُمہارا گوشت کھائے گا۔ تُم نے اخیر زمانہ میں خزانہ جمع کِیا ہے۔"بائبل میں دولت کا آخری بارذکر مکاشفہ 18باب 17آیت میں ہوا ہے جب بابل کی بڑی تباہی کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے : "گھڑی ہی بھر میں اُس کی اِتنی بڑی دَولت برباد ہو گئی ۔"
خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل کو زمین پر خدا کے برگزیدہ لوگوں کی حیثیت سے زمینی برکتیں اور اجر بخشے گئے تھے ۔ اُن کے وسیلہ سے خدا نے بہت سی مثالیں اور کردار اور سچائیاں پیش کی تھیں ۔ بہت سے لوگ اُن کی برکتیں لینا چاہتے ہیں لیکن اُن کی لعنتیں نہیں۔ تاہم الہام کے تسلسل میں خدا نے یسوع مسیح کے ذریعہ سے نہایت عمدہ خدمت عیاں کی ہے: "مگر اب اُس نے اِس قدر بہتر خدمت پائی جس قدر اُس بہتر عہد کا درمیانی ٹھہرا جو بہتر وعدوں کی بنیاد پر قائم کِیا گیا ہے" ( عبرانیوں 8باب 6آیت)۔
خدا دولت مند ہونے پر کسی کی مذمت نہیں کرتا ۔ لوگوں کے پاس دولت بہت سے ذرائع سے آتی ہے لیکن وہ اُن لوگوں کو سخت تنبیہات کرتا ہے جو خدا کی تلاش سے بڑھکر دولت کی تلاش کرتے ہیں اور خدا سے زیادہ دولت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ خُدا کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے ہم اپنے دِلوں کو زمینی چیزوں کی بجائے آسمانی چیزوں پر مرکوز کریں ۔ یہ بہت زیادہ بُلند اور نا قابلِ حصول معلوم ہو سکتا ہے مگر پولس نے لکھا ہے کہ "جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں" ( فلپیوں 4باب 13آیت)۔ اس عمل کا راز مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر جاننا اور رُوح القدس کویہ اجازت دینا ہے کہ وہ ہمارے دل و دماغ کو اُس کے موافق بنائے ( رومیوں 12باب 1-2آیات)۔ |
سمندطور کی اردو دنیا: October 2015
برکھا رت میں ایک یادگار ملاقات
کالم شمار دو سو باون
اکتوبر پچیس، دو ہزار پندرہ
سڈنی اوپرا ہائوس کو تین اطراف سے آپ دور و قریب سے دیکھ سکتے ہیں مگر چوتھی طرف یعنی سمندر کی کھونٹ سے اس عمارت کو کچھ فاصلے سے دیکھنے کے لیے کشتی کی سواری کرنا پڑتی ہے۔
سڈنی بندرگاہ ایسی قدرتی آبگاہ ہے جو خشکی کے اندر نہر کی صورت آتی ہے۔ سڈنی میں رکنے والے بحری جہاز کھلے سمندر کی تغیانی سے دور آکر اسی آبگاہ میں لنگر انداز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس آبگاہ کے دونوں طرف آبادی ہے اور آبگاہ کے ایک طرف موجود محلے سے دوسرے محلے تک پہنچنے کے لیے سب سے تیزرفتار سواری کشتی کی ہے۔ یہ کشتیاں سڈنی ہاربر، ڈارلنگ ہاربر، اور دوسرے مقامات سے چلتی ہیں اور مختلف جگہ رک کر مسافروں کو اتارتی چڑھاتی ہیں۔ ہماری کشتی سڈنی ہاربر کے وہارف شمار چار سے واٹسن بے کے لیے چلی تو ذرا سی دیر میں یخ بستہ ہوائوں نے اسے گھیر لیا۔ زیادہ تر مسافر سردی سے بچنے کے لیے کشتی کے اندر چلے گئے مگر سڈنی اوپرا ہائوس کے اچھے نظارے کے لیے باہر کھلے میں کھڑے رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔ سردی کی وہ تکلیف کچھ دیر کی تھی مگر اس دید کا تجربہ عمر بھر کا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمارے قریب سے کیپٹن کک سیاحتی ادارے کی ایک کشتی سیاحوں سے لدی پھندی گزری۔ ہم نے کسی قدر ترس کھاتے ہوئے ان ڈرپورک سیاحوں کی طرف دیکھا جو نئے شہر سے خوف زدہ شہر کے رہنے والے عام لوگوں کی طرح روزمرہ کی کشتی کی سواری کرنے کے بجائے سیاحتی کشتی میں ٹور بک کراتے ہیں اور اپنے جیسے سیاحوں کے درمیان رہ کر ہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
کشتی کی سواری سے واپس پلٹے تو مغرب ہوچلی تھی۔ بارش جو اب تک وقفے وقفے سے ہورہی تھی اب تواتر سے ہونے لگی۔ ہمیں نوشی گیلانی اور سعید خان سے ڈارلنگ ہاربر پہ ملنا تھا۔ وہ جگہ سڈنی ہاربر سے کچھ ہی فاصلے پہ تھی۔ ہم دکانوں کے چھجوں کا سایہ لیتے، بارش سے بچتے ڈارلنگ ہاربرکی طرف پیدل چل پڑے۔
ڈارلنگ ہاربر وسیع و عریض جگہ تھی اور ہم اس کے جغرافیے سے ناآشنا تھے اس لیے بہت دیر تک فون اور ٹیکسٹ کے ذریعے سعید خان سے ملاقات کی اس جگہ کا تعین کرتے رہے جو گردونواہ کی چمکدار نشانیوں سے ہمیں سمجھ میں آجائے۔ سعید خان اپنے دفتر سے وہاں پہنچ رہے تھے جب کہ نوشی گیلانی ٹرین سے گھر سے آرہی تھیں۔ کچھ ہی دیر کے انتظار کے بعد نوشی گیلانی اور سعید خان ایک چھتری تلے آدھے آدھے بھیگتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ گو کہ سعید خان سے ہماری فیس بک کے ذریعے واقفیت ایک عرصے سے تھی مگر ان سے بالمشافہ وہ پہلی ملاقات تھی۔ سعید خان وسیع دل کے مالک ہیں؛ وہ ہم سے اس تپاک سے ملے جیسے وہ ہمیں برسوں سے جانتے ہوں۔
ڈارلنگ ہاربر پہ موجود جارجیوز نوشی گیلانی اور سعید خان کا پسندیدہ ریستوراں ہے۔ یہ دونوں ہمیں لے کر ادھر ہی چلے۔ شدید بارش کے باوجود ریستوراں گاہکوں سے بھر ہوا تھا۔ اندر کوئی میز خالی نہ تھی، باہر بھی لوگ وسیع چھجے کے نیچے بیٹھے تھے۔ باہر بیٹھنے والوں کی سہولت کے لیے برقی انگیٹھیاں موجود تھیں۔ ایسی ہی چار انگیٹھیاں ہماری میز کے چاروں کونوں پہ لگا دی گئیں۔ ان برقی انگیٹھیوں سے ذرا سی دیر میں سردی کا احساس جاتا رہا۔ سعید خان کو جارجیوز ریستوراں کا مینیو ازبر تھا۔ انہوں نے انواع و اقسام کے کھانے منگوا لیے۔
نوشی گیلانی بہت عرصہ شمالی کیلی فورنیا میں مقیم رہی ہیں اور اس علاقے کو بجا طور پہ اپنا گھر سمجھتی ہیں۔ مجھے خیال ہوا کہ سعید خان مجھے اپنا سسرالی سمجھ کر میری خاطر تواضع کررہے ہیں۔ مگر جلد ہی مجھے اندازہ ہوا کہ سعید خان فطری طور پہ ایک یارباش شخص ہیں جن کے اندر مانسہرہ کی مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ سعید نے اس قدر زیادہ کھانا آرڈر کردیا تھا کہ ہم جیسے فاقہ مستی والے مسافر شدید پرخوری کے باوجود کھانا ختم نہ کر پائے اور بچ جانے والا کھانا اگلے روز میلبورن کے راستے میں ختم ہوا۔
اس شام بے مثال مہمان نوازی کا مقابلہ خوش کلام گفتگو سے تھا۔ بارش اور سردی کی شدت کے باوجود ہم نوشی گیلانی اور سعید خان کی محبت کی گرمی سے پگھلے جاتے تھے۔ اور باتیں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھیں۔ سان فرانسسکو بے ایریا کی وہ محفلیں یاد کی گئیں جن میں نوشی کے ساتھ ہم بھی شریک تھے۔ اس خاص محفل کو یاد کیا گیا جو تاشی ظہیرصاحب کی قیادت میں اردو اکیڈمی شمالی کیلی فورنیا نے مشہور اردو عالم شان الحق حقی کے اعزاز میں منعقد کی تھی۔ نوشی نے فینکس میں ہونے والی جڑواں محفل کا حال بھی سنایا۔ افتی نسیم کو بہت یاد کیا گیا۔ احمد فراز سے عینی اختر کے گھر آخری ملاقات کو یاد کیا گیا۔ نوشی گیلانی نے وہ واقعہ سنایا جب انہوں نے فیض صاحب کے دربار میں پہلی بار فیض کی شاعری کے پنجابی ترجمے کے ساتھ حاضری دی تھی۔
اگلے دن ہمیں سویرے ہی میلبورن کے لیے روانہ ہونا تھا اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی دیر رات نوشی گیلانی اور سعید خان سے رخصت لی۔ جارجیوز ریستوراں کے بحیرہ روم علاقوں کے مخصوص کھانے ایسے مزیدار تھے کہ آپ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔ ہم نے ریستوراں چھوڑنے سے پہلے باورچی خانے کے اندر جھانک کر کھانا بنانے والے یونانی دیوتا کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ یونانی کھانے بنانے والا دیوتا وہاں ضرور موجود تھا مگر وہ یونانی نہ تھا، فرزند کنفیوشس تھا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ یورپ، امریکہ، اور آسٹریلیا لاکھ دم لگائیں آخر میں جیت چین کی ہی ہوگی۔
ڈارلنگ ہاربر سے واپس اپنے ہوٹل کی طرف پلٹتے میں سوچ رہا تھا کہ کہیں آسٹریلیا پہنچ کر نوشی گیلانی اکیلی تو نہیں پڑ گئیں۔ بہت زمانے سے ہمارے لوگ جنوبی ایشیا سے شمالی امریکہ نقل مکانی کررہے ہیں۔ اسی وجہ سے شمالی امریکہ میں اردو سمجھنے، بولنے، اور اس زبان میں نثر و شعر لکھنے اور ان سخن وروں کو سراہنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ جب کہ آسٹریلیا میں اس قبیلے کے اتنے لوگ نہیں ہیں۔ شعرا کو ایسے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جو ان کے کلام کو سمجھیں۔ ایسے میں موجودہ عہد کی اردو کی مقبول ترین شاعرہ کی آسٹریلیا میں فکری تنہائی سمجھ میں آتی ہے۔ مگر اس خیال کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر قسم کے آرٹسٹ کے لیے اپنے مداحوں تک پہنچنا چنداں مشکل نہیں۔ نوشی گیلانی کی شاعری کو سراہنے والے فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پہ موجود ہیں۔ نوشی گیلانی یقینا ہر دفعہ کمپیوٹر کھولنے پہ اس مجمع کو اپنے سامنے پاکر یہ اطمینان کرتی ہوں گی کہ ان کے اور ان کے مداحوں کے درمیان فاصلہ محض چند کلک کا ہے۔
# posted by Cemendtaur @ 10:00 AM 0 comments
آئرز چٹان اور نوشی گیلانی
کالم شمار دو سو اکیاون
اکتوبر اٹھارہ، دو ہزار پندرہ
نقل کرنا سود مند ہوتا ہے۔ نقل کرنے کے بہت سے فوائد میں سب سا بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ سوچنے سمجھنے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔ دوسروں کی نقل کرتے جائیے اور آگے بڑھتے جائیے۔ ایک زمانے میں پاکستان سے بھارت جانے والے کسی سیانے مسافر سے جب پوچھا گیا کہ وہ بھارت کیوں جارہا ہے تو اس نے کہا کہ وہ بھارت جا کر تاج محل اور دلیپ کمار کو دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک تاریخی عمارت اور ایک فلمی اداکار کو یوں ایک جملے میں ساتھ ملانے کی بذلہ سنجی یار لوگوں کو بہت پسند آئی۔ چنانچہ بہت عرصے تک بھارت یاترا کرنے والے اہم لوگوں کے اخبارات میں شائع شدہ انٹرویو میں یہ بات شامل ہوتی کہ موصوف تاج محل اور دلیپ کمار کو دیکھنے سرحد پار گئے تھے یا جائیں گے۔ سڈنی پہنچ کر جب میں نے معروف شاعرہ نوشی گیلانی کو فون کیا تو ذہن میں یہی تیاری کی کہ اگر نوشی پوچھیں گی کہ آسٹریلیا کس لیے آئے ہو تو کہہ دوں گا کہ آئرز چٹان اور نوشی گیلانی کو دیکھنے آسٹریلیا آیا ہوں۔ مگر قربان جائیے نوشی گیلانی کی سادگی پہ کہ انہوں نے یہ سوال پوچھا ہی نہیں۔ ان کے لیے بس اتنا کافی تھا کہ میں آسٹریلیا آیا تھا اور ان سے ملنا چاہتا تھا۔ چند فیس بک اور فون ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ ہوا اور طے ہوگیا کہ ہم رات کے کھانے کے لیے ڈارلنگ ہاربر پہ ملیں گے۔ سڈنی کے مہنگے علاقے ڈارلنگ ہاربر پہ اس لیے کیونکہ نوشی گیلانی کے شوہر سعید خان اسی جگہ کام کرتے ہیں۔
ہمارا ہوٹل جس علاقے میں واقع تھا اسے ڈارلنگ ہرسٹ کہتے ہیں۔ اب نوشی گیلانی سے ڈارلنگ ہاربر پہ ملنا تھا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ان جگہوں کے ناموں میں بار بار یہ پیار بھرا لفظ ڈارلنگ کیوں آتا ہے۔ دراصل سڈنی کے یہ خاص مقامات اس علاقے کے ایک پرانے گورنر رالف ڈارلنگ کے نام سے منسوب ہیں۔ اپنے پیار بھرے نام کے باوجود رالف ڈارلنگ کی شہرت کوئی بہت اچھی نہیں ہے۔
پرانے وقتوں میں تاریخوں کے بجائے موسم سے خاص واقعات کو یاد رکھا جاتا تھا۔ خاندان کے کسی پرانے شخص سے پوچھیے کہ منجھلے دادا کی شادی کب ہوئی تھی تو وہ فورا بتائے گا کہ منجھلے دادا کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب ساون میں پانچ دن کی جھڑی لگی تھی۔ نوشی گیلانی اور سعید خان سے ملاقات بھی ایسے ہی ایک بھیگے موسم میں ہوئی تھی۔ بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ چھجوں اور چوباروں کے کونوں سے پانی تیز دھار سے گر رہا تھا۔ شہر کی طرف سے نکاسی آب کا اچھا نظام ہونے کے باوجود پانی کے چھوٹے بڑے جوہڑ جا بجا نظر آتے تھے۔ بارش کی موٹی موٹی بوندیں ان چھوٹے چھوٹے تیلابوں میں گرتیں تو تڑپ کر پھر اٹھتیں اور پھر ریزہ ریزہ بکھر کر واپس پانی میں گر کر اس کا حصہ بن جاتیں۔ جون کا وسط تھا۔ اس وجہ سے بارش کے ساتھ سردی بہت بڑھ گئی تھی۔
مگر یہ تو دو دن بعد کی بات ہے۔ نوشی گیلانی سے ملاقات سے ایک روز پہلے بونڈائی جانے کا موقع ملا۔ سڈنی کا بونڈائی ساحل مشہور تفریحی مقام ہے۔ ہم نے نقشہ دیکھا تو معلوم ہوا کہ بونڈائی ہمارے ہوٹل سے محض تین سے چار میل کے فاصلے پہ تھا۔ یہ دوری بھی کوئی دوری تھی، یہ سوچ کرہم بونڈائی ساحل کے لیے پیدل نکل پڑے۔ بونڈائی ساحل تک پہنچنے میں کئی گھنٹے گزر گئے۔ گرمیوں میں اس ساحل کی ریت نیم برہنہ جسموں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے مگر سردیوں کے اس روز بونڈائی ساحل بھائیں بھائیں کررہا تھا۔ ہم ساحل کے ساتھ ایک کونے سے چلنا شروع ہوئے اور دیر تک ساحل پہ سر پٹکتی موجوں سے بچ کر چلتے رہے۔ ہم نے گنتی کے ان چند سورمائوں کو حیرت و تحسین سے دیکھا جو اس سردی میں بھی وہاں سرفنگ کررہے تھے۔ اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا اس موسم میں سرفنگ کا حوصلہ ہم میں تھا۔ جواب نفی میں آیا۔ انسان کی زندگی میں جسمانی ارتفاع کا وقت بہت جلد گزر جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان شدید جسمانی مشقت کرسکتا ہے، مقابلے کے کھیلوں میں شرکت کرسکتا ہے، اولمپکس میں حصہ لے سکتا ہے۔ جسمانی ارتفاع کا موقع گزر جانے کے باوجود ذہنی ارتفاع کا وقت اور امکان قائم رہتا ہے۔ ذہنی ارتفاع کا وقت وہ ہوتا ہے جب انسان ذہنی تخلیقات کر سکے۔ جب نئے نئے خیالات اس پہ وارد ہوں اور وہ ان خیالات کو دنیا کے سامنے پیش کرسکے۔ عمر ڈھلنے کے ساتھ ذہنی ارتفاع کا وقت بھی گزر جاتا ہے۔ بونڈائی ساحل پہ چلتے ہوئے میں نے پلٹ کر اپنے قدموں کے نشانات کو دیکھا۔ گیلی ریت پہ قدموں کےکچھ نشانات موجود تھے اور کچھ پانی نے ختم کردیے تھے۔ اس وقت مجھے ایک خوف آیا۔ کیا میری زندگی میں ذہنی ارتفاع کا وقت بھی گزر چکا تھا؟
Labels: Australia, Ayers Rock, Bondi Beach, Noshi Gilani, Sydney
# posted by Cemendtaur @ 12:08 AM 1 comments
کالم شمار دو سو پچاس
اکتوبر دس، دو ہزار پندرہ
وہ آسٹریلیا میں ہمارا دوسرا دن تھا۔ ہم دور تک پیدل چلے کہ پیدل چل کر کسی نئے شہر سے واقفیت حاصل کرنا اچھا تجربہ ہوتا ہے۔ دوسرے دن کے مشاہدات سے ہمیں سڈنی یورپ کا ہی کوئی شہر محسوس ہوا۔ وہ مشاہدات کیا تھے؟ یہ داستان سنیے۔
اپنے اس سفر میں نہ صرف یہ کہ ہم شمال سے جنوب پہنچے تھے بلکہ مغرب کی طرف چلتے ہوئے ہم نے بین الاقوامی خط تاریخ پار کی تھی اور اب ہم کیلی فورنیا سے قریبا اٹھارہ گھنٹے آگے ہوگئے تھے۔ اسی وجہ سے سڈنی پہنچنے پہ جہاں رات کو جلدی نیند آئی وہیں صبح فجر سے پہلے آنکھ کھل گئی۔ کم خرچ سفر کرنے والے مسافر ایسے کھانے کم کھاتے ہیں جن میں انہیں خدمت [سروس] کے پیسے دینے ہوں۔ ہمارا شمار بھی انہیں کنجوس مکھی چوس مسافروں میں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے رات ہوٹل کی طرف پلٹتے ہوئے ہم نے اگلی صبح کے ناشتے کا انتظام کر لیا تھا۔ صبح کے تین بجے بیدار ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھا تو آسمان تاریک تھا۔ سڑکیں سنسان تھیں اور پست و قدآور عمارتوں میں شبینہ قمقمے جل رہے تھے۔ اس تاریکی میں ہوٹل سے نکل کر باہر جانا مناسب نہ تھا۔ ہم نے کمرے میں ناشتہ کیا اور ساتھ ہی ٹی وی لگا دیا۔ ٹی وی پہ سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ انڈونیشیا نے آسٹریلیا پہ الزام لگایا تھا کہ آسٹریلیا کے حکام رشوت ستانی میں ملوث ہیں؛ غیرقانونی افراد سے بھری کشتیاں جو انڈونیشیا سے نکل کر آسٹریلیا کا رخ کرتی ہیں، آسٹریلیا کے حکام ان کشتیوں کے ناخدائوں کو رشوت دے کر کشتی واپس لوٹانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ اس ساری بحث میں میرے لیے دلچسپی کی بات یہ تھی کہ دنیا میں کتنے زیادہ ممالک اور علاقے ایسے ہیں جہاں سیاسی عدم استحکام ہے اور جہاں سے نکل کر لوگ پرامن جگہوں کا رخ کررہے ہیں۔ آخر سیاسی استحکام مغربی دنیا کا ہی خاصہ کیوں ہے؟ آخر مغربی دنیا کے لیے ہی یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک سے نکل بھاگنے والوں کو اپنی پناہ میں لے لے؟ نوآبادیاتی دور ختم ہونے کے بعد آخر پرانی نوآبادی سے تعلق رکھنے والے یہ ممالک کب سیاسی استحکام حاصل کرپائیں گے؟ یہ سوالات ایک عرصے سے میرے ذہن میں ہیں۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ اگر میں اپنی موت سے پہلے اس بہت بڑے مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں اپنا کوئی چھوٹا سا کردار ادا نہ کرپایا تو میں ایک نہایت یاسیت بھری موت مروں گا۔ آسٹریلیا کے اسی سفر میں بہت بعد میں مجھے ایسے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جو پاکستان سے جان بچا کر بھاگے تھے اور انڈونیشیا پہنچنے کے بعد کشتی سے آسٹریلیا پہنچے تھے، مگر ان کے تجربات میں آپ کو اس سفر نامے کی اگلی اقساط میں سنائوں گا۔
کچھ دیر میں باہر روشنی پھیلی تو ہم ایک بار پھر اس نئے شہر سے روشناس ہونے کے لیے نکلے۔ گزری رات کی بارش کے بعد ہر چیز دھلی صاف ستھری نظر آرہی تھی۔ ہوٹل سے کچھ دور چل کر ہم بڑی سڑک پہ آگئے۔ وہاں خوب رونق تھی۔ لوگ سردیوں کے گرم کپڑے پہنے تیز تیز قدموں سے چلے جارہے تھے۔ ہمیں وہاں بڑی تعداد میں چینی خدوخال کے لوگ نظر آئے۔ اور یہ خیال ہوا کہ بس چند دہائیوں کی بات ہے، چینی نسل کے لوگ پوری دنیا پہ چھا جائیں گے اور لوگ پرانی تصاویر میں دیکھا کریں گے کہ کسی زمانے میں چینی شکل کے علاوہ شکلوں کے لوگ بھی اس دنیا میں ہوا کرتے تھے۔
ہم اوپرا ہائوس کی طرف چلتے ہوئے ایک اسکول کے قریب سے گزرے۔ اسکول سے دس گیارہ سال کے لڑکے نیلے کوٹ اور لال نک ٹائی پہنے نکل رہے تھے۔ وہ منظر انگلستان کے کسی پبلک اسکول کا بھی ہوسکتا تھا۔ ہمیں خیال ہوا کہ گو آسٹریلیا کی طرح امریکہ کا تعلق بھی انگلستان سے بہت گہرا ہے مگر امریکہ پہ انگلستان کا ایسا اثر نہیں ہے جیسا اثر انگلستان کا آسٹریلیا پہ ہے۔ آسٹریلیا تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انگلستان کا چھوٹا جزیرہ اپنے علاقے سے نکل کر ایک بڑے جزیرے پہ پھیل گیا ہو۔ مگر ہم جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ عہد رفتہ سے تعلق رکھنے والا آخری آخری منظر تھا۔ آسٹریلیا کے اطراف سے لوگوں کے جوق در جوق آسٹریلیا آنے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ آسٹریلیا اپنے علاقے کے حقائق سے قریب تر ہوجائے گا۔
سڈنی کے اوپرا ہائوس کا شمار دنیا کی ان چند عمارات میں ہوتا ہے جو اپنے شہر کی نمائندہ شکل بن گئی ہیں۔ سڈنی ہاربر پہ سمندر کے ساتھ سیپیوں کی شکل میں بنایا گیا یہ اوپرا ہائوس ستر کی دہائی میں بن کر مکمل ہوا مگر اپنے اچھوتے ڈیزائن کی وجہ سے ذرا سی دیر میں سڈنی کا سب سے معروف سیاحتی مقام بن گیا۔ وہ کام کا دن تھا مگر اوپرا ہائوس پہ سیاحوں کا ہجوم تھا۔ قریبا ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ اور کئی کے پاس سیلفی اسٹک تھی جس سے لوگ اپنی تصاویر اس عالمی شہرت کی عمارت کے ساتھ بنا رہے تھے۔ ان سیاحوں میں سے کئی یقینا ان تصاویر کو ہاتھ کے ہاتھ فیس بک پہ بھی چڑھا رہے ہوں گے۔اصل میں یہی لوگ تو سوشل میڈیا کی جان ہیں۔ ان ہی کے دم سے سوشل میڈیا کی کائنات حرکت میں ہے۔ یہ سوشل میڈیا کے شہزادے اور شہزادیاں اپنے آپ سے متعلق پل پل کی خبریں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ دیکھیے، یہ ہے وہ آملیٹ جو میں نے ناشتے میں کھایا۔ میں جس ٹرین میں سفر کررہا ہوں اس کے باہر کا منظردیکھیے۔ واہ، دوستوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کا کیا خوب مزا آرہا ہے۔ یہ دیکھیےسورج ڈوبنے کا منظر کتنا اچھا ہے۔ غرض کہ یہ لوگ جو بھی کر رہے ہوتے ہیں، فیس بک کے ذریعے اس کام کی خبر ہر خاص و عام تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ پھر فیس بک کے چند ایسے صارفین ہیں جو فیس بک پہ آتے ہیں، صبح و شام کچھ نہ کچھ ڈالتے ہیں، اور پھر ایک روز اچانک منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ وہ اتنے متحرک ہونے کے باوجود اس طرح ایک دن کیوں غائب ہوگئے تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ فیس بک ان کا بہت زیادہ وقت لے رہی تھی۔ نہ جانے وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ فیس بک آپ کا صرف اتنا ہی وقت لے سکتی ہے جتنا وقت آپ خود اس کو دیں۔ فیس بک کے زیادہ تر صارفین ان تماش بینوں میں شمار ہوتے ہیں جو فیس بک پہ دل بہلانے کو جاتے ہیں۔ وہ فیس بک میں لاگ ان ہوتے ہیں اور اپنے دوستوں اور اقارب کے تازہ ترین احوال، ان کی تازہ تصاویر، اور ان کے سیاسی اور مذہبی خیالات دیکھنے کے بعد چپ چاپ وہاں سے کھسک لیتے ہیں۔ اور پھر فیس بک کے یقینا ایسے بھی صارفین ہیں جو فیس بک کو اپنے مذہبی یا سیاسی خیالات کے پرچار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ایسے ہی ایک دوست ہیں کہ پاکستان سے چاہے کیسی بھی خبر کیوں نہ آئے کہ وہاں مسلمانوں نے اقلیتوں کا جینا کیسے دوبھر کررکھا ہے وہ اپنی نظر فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پہ رکھتے ہیں۔ |
برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح ایک درجے کو کم کر کے 'کافی' کر دی گئی – Jaun News
برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح ایک درجے کو کم کر کے 'کافی' کر دی گئی
1644440301458391600
بدھ، 2022-02-09 15:45
لندن: بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے برطانیہ کے سرکاری خطرے کی سطح بدھ کو "کافی" کر دی گئی، یعنی حملے کا امکان ہے۔
یہ پہلے "شدید" پر کھڑا تھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ برطانیہ کے انٹیلی جنس حکام نے حملے کا بہت زیادہ امکان سمجھا ہے۔
ہوم سکریٹری پریتی پٹیل نے کہا کہ "خطرے کی سطح میں کوئی بھی کمی مثبت ہے لیکن اس سے ہمیں کبھی مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔"
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ "پیچیدہ، غیر مستحکم اور غیر متوقع ہے۔"
خطرے کی سطح کو شدید تک بڑھا دیا گیا تھا، جو کہ پانچ نکاتی پیمانے پر دوسرا سب سے زیادہ تھا، نومبر میں اس وقت جب عراق میں پیدا ہونے والے ایک شخص نے لیورپول کے ایک ہسپتال کے باہر خود کو گھر میں بنائے گئے بم سے اڑا لیا۔
مشتبہ بم بنانے والا، عماد السوالمین، اس وقت ہلاک ہو گیا جب یہ آلہ ٹیکسی کے اندر پھٹ گیا۔ ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
پچھلے مہینے کنزرویٹو قانون ساز ڈیوڈ ایمس کو اس وقت چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جب پولیس نے کہا تھا کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔
برطانیہ نے گذشتہ برسوں میں داعش سے منسلک اور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے حملوں کا تجربہ کیا ہے، جن میں مئی 2017 میں مانچسٹر میں آریانا گرانڈے کے کنسرٹ میں خودکش بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مشترکہ دہشت گردی کا تجزیہ مرکز اندرون اور بیرون ملک بین الاقوامی دہشت گردی کے بارے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر خطرے کی سطح کا تعین کرتا ہے۔ یہ 2014 کے بعد سے زیادہ تر وقت پر شدید رہا ہے، جو 2017 میں پرتشدد حملوں کے دوران مختصر طور پر "تنقیدی" کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ڈیوڈ ایمس
برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو 'شدید' تک بڑھا دیا گیا ماہر: 'پائپ لائن میں' سابق قیدیوں کے ذریعے برطانیہ میں دہشت گردی کے حملے |
ایران بحر روم میں "فارسی شہنشاہیت" قائم کرنا چاہتا ہے: منصور ہادی
پہلی اشاعت: 14 اکتوبر ,2018: 12:00 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 14 اکتوبر ,2018: 09:56 رات GST
یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران بحر روم کے اطراف میں "فارسی شہنشاہیت" قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمنی قوم اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق صدر ہادی نے 14 اکتوبر کے انقلاب کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ یمن کے شمالی حصے میں جاری شورش کو جنوبی یمن میں نہیں پھیلنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی قوم کے دشمن عوام کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ ہم کسی صورت میں جنوبی یمن کے عوام کو آپس میں الجھنے نہیں دیں گے۔
یمنی صدر کا کہنا تھا کہ ایران بحیرہ احمر کے کنارے فارسی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن میں لڑائی کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کےجنگجو بھی پکڑے گئے ہیں۔ان گرفتار ایرانی جنگجوؤں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کی فارسی شہنشاہیت کے قیام کے لیے لڑ رہے ہیں اوراس کا منصوبہ ایران نے تیار کیا ہے۔ |
بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟؟ ۔۔۔تحریر: شہاب ثنا۔۔۔۔ - Chitral Express
بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟؟ ۔۔۔تحریر: شہاب ثنا۔۔۔۔
ماں کے بغیر تو .کوئی دن ہی نہیں ہوتا
تیرے ہاتھوں کی کرامت کی تو پھر کیا ہی بات ہے ماں۔۔
مجھ کو تو تیرے قدموں کی مٹی بھی سکون دیتی ہے۔۔
آج "ماں"سے محبت کے اظہار کا دن ہے۔۔
میری "ماں" میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔
"ماں" کہنے کو تو تین لفظوں کا مجموعہ ہے مگر اپنے اندر کل کائنات کو سمیٹے ہوئے ہیں ماں کی عظمت پر کچھہ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔۔لفظ "ماں" دنیا کے جتنی زبانیں ہیں جس زبان میں بھی بولا جائے ماں کے لفظ میں مٹھاس ہے ۔ماں شفقت،خلوص،بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔۔ماں تپتی دھوپ میں بادنسیم کے جھونکوں کے مانند ہے ۔۔ابر برآں میں قوس قزاح کے رنگوں کی مانند ہے۔۔جس گھر میں ماں جیسی ہستی موجود ہے وہ گھر کسی جنت سے کم نہیں ہے۔۔ماں وہ ہستی ہے جس کی دعاؤں سے انسان دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی خدمت کرنے سے آخرت بھی سنور جاتی ہے۔۔ماں کے پیروں تلے باری تعالیٰ نے جنت رکھی ہے تو اس سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ماں کا کیا مقام ہے؟؟ارے ماں تو وہ ہستی ہے جو جب اپنے بچے کو پیدا کرتی ہے تو موت کے منہ میں جاکر بھی ہنستی ہے کہ میرے بچے کو دنیا میں آنکھ کھولنے میں تکلیف نہ ہو نہ شکوہ اور نہ شکایت کرتی ہے اور کبھی کبھی خوشی خوشی موت کو گلے لگا لیتی ہے۔۔ماں لفظ ہی بہت خوبصورت ہے جو محبت ، فروزاں،زعم سے مل کر بنتا ہے۔۔ماں خود قانع میں رہ لیتی ہے مگر اپنے بچے کے لیے تمام آسائشیں کا مطالبہ کرتی ہے ۔ماں کی زبان پر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ دعائی کلمات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کی بخت میں تبدیلی آجاتی ہیں انسان فقیر سے بادشاہت تک پہنچ جاتا ہے۔۔
اس دنیا میں ہر چیز کا پیمانہ موجود ہے جیسے سورج، چاند،دن رات،زمین آسمان کے درمیان ہر چیز کا پیمانہ موجود ہے ۔۔۔مگر۔۔۔ماں کی محبت کا اپنی اولاد کے لیے کوئی آلہ آنے والے وقتوں میں ایجاد ہو جو ماں کی محبت کا حساب لگا سکے۔ماں کی محبت اپنے اولاد کے لیے بے حساب ہوتی ہے
روایت میں ہے !!کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ایک شخص نے دریافت کیا!!"یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم!! میرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق کون ہے؟؟رسول اللّٰہ نے فرمایا تیری ماں۔۔پھر پوچھا کون ہے؟؟پھر فرمایا تیری ماں۔۔تین بار رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہی جواب دیا۔۔چوتھی بار پوچھنے پر ارشاد فرمایا "تیرا باپ
ماں اللّٰہ پاک کی نصیحت عظیم،عقل و شعور کی پہلی درسگاہ ،خلوص کا سر چشمہ اور ایسا باغ جہاں ہر وقت اولاد کے لیے پھولوں کی پتوں کی طرح نرمی ہی نرمی ہے ۔۔ماں کی عظمت و تکریم کہ اس کے سخت اور تکلیف والے رویے پر بھی اولاد کو لفظ آف بھی کہنا ان کے مرتبے کے خلاف اور بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔اس لیے ان کے ساتھ بد اخلاقی،گستاخی اور بدسلوکی سے پیش نہ آیا کرے۔۔
ہم پر کچھ قرض ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں ہم چاہ کر بھی زندگی بر ادا نہیں کر سکتے۔۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کو ماں کی محبت کی چھاؤں نصیب نہیں ہوتی ۔لیکن ماں چاہے پاس ہو یا دور اسے محبت کم نہیں ہو سکتی ۔۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے خود اس دنیا اس جنت کو اپنے سے دور کیے رکھا ہے۔۔لیکن جب تک اس کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اللّٰہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔
آخر میں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے حضور دعا ہے جن کی مائیں حیات ہیں اللّٰہ پاک انھیں اچھی صحت اور زندگی دے اور جن کی مائیں وفات پا گئی اللّٰہ پاک انھیں صبر دے آمین بس اتنا ہی قلم نے ساتھ دیا۔ |
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدے کی تردید - ایکسپریس اردو
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اور معاہدہ کی خبر بے بنیاد ہے، وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب
اسلام آباد: حکومت اور تحریک انصاف دونوں نے ایک دوسرے سے معاہدہ طے پانے کی تردید کردی۔
وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اور معاہدہ کی خبر بے بنیاد ہے، پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے مسلح جتھے کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب عمران خان نے بھی حکومت کے ساتھ کسی معاہدہ کا امکان مسترد کردیا ہے۔
علاوہ ازیں پرویز خٹک سمیت مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں نے ذمہ دار حلقوں سے رابطہ کرکے کہا کہ مارچ کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے میں مدد کی جائے۔ ذمہ دار حلقوں نے جواب دیا کہ حکومت سے بات کریں اور سپریم کورٹ میں جاری کارروائی پر ہی توجہ رکھیں۔ |
تحریک انصاف – Lahore TV Blogs
Home / Tag Archives: تحریک انصاف
Tag Archives: تحریک انصاف
نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کیساتھ گھروں سے باہرنہ نکلیں، ریاست مدینہ دعویدار جواب دیں کہ سانحہ ساہیوال کا ذمہ دار کون ہے
اسلا م آباد (آن لائن )پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب کوپولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا۔سانحہ ساہیوال پیغام ہے کہ نئے پاکستان میں شہری بال بچوں کیساتھ گھروں سے باہرنہ نکلیں۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ساہیوال واقعے پر ردعمل دیتے ...
عمران خان کی حکومت کا یہ منصوبہ ورلڈ ریکارڈ ہوگا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر کی تحریک انصاف کی حکومت کو شاباش، کس منصوبے کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا نے پاکستان کو خوبصورت ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستان میں 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ یقیناً ورلڈ ریکارڈ ہوگا، پاکستان کا قدرتی آفات کو کم کرنے ...
سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طالبات کیلئے خوشخبری،ماہانہ کتنے ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، حکومت نے شاندار اعلان کردیا
لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طالبات کا وظیفہ بڑھا دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو دئے جانے والی وظیفے کی رقم میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد اب سرکاری اسکولوں میں زیر ...
غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی،کوئی برادر ملک ترس کھاکر چار پیسے لگادے تو ٹھیک ورنہ۔۔۔ حسن نثار حکومت کیخلاف پھٹ پڑے
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف تجزیہ کار حسن نثار نے ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا ۔انکا کہنا تھا کہ عمران خان کی ساری زندگی داو پر لگ چکی ہے۔یہ جو ماجھے ساجھے اکٹھے ہو گئے ہیں انکا کیا ہے ۔ان میں سے کوئی 2 ...
تحریک انصاف سوگ میں ڈوب گئی، اہم رکن اسمبلی انتقال کرگئے
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن مظہر عباس راں انتقال کر گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مظرہ عباس راں کو گذشتہ روز صحت کی خرابی پر پنجاب اسمبلی سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ وزیر قانون پنجاب کا کہنا ...
لعنت ہے مجھ پرکہ میں نے پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ کیا، حکومتی کارکردگی پر حسن نثار پھٹ پڑے، بہت کچھ کہہ دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف اور سینئرصحافی و تجزیہ کار حسن نثار نے کہا کہ حکومت کے یہ جو پہلے پانچ ماہ ہیں اگر آپ میری عمر میں آئیں گے تو آپ کو یہ پانچ ماہ پندرہ ماہ لگیں گے۔ انہوں نے ...
تحریک انصاف اپنا ممبر نکال کر مجھے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل کرے کیونکہ۔۔شیخ رشید نے وزیراعظم سے بڑامطالبہ کردیا
لاہور (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ سوموارکوعمران خان کوخط لکھوں گاکہ مجھے بھی پی اے سی میں شامل کیا جائے، پی ٹی آئی اپنے کسی بندے کو ڈراپ کرکے مجھے شامل کرے، کیونکہ میں ایک پارٹی کی نمائندگی کرتا ہوں، شہبازشریف کیخلاف سپریم کورٹ جارہاہوں ...
تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود علیمہ خان مشکل میں، وزیراعظم کی بہن کیخلاف بڑا قدم اٹھالیا گیا
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خانم کیخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروادی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ علیمہ خان کی امریکا میں جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے، جائیدادیں علیمہ خان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتیں،علیمہ خان کی جائیداد کی تحقیقات کی جائیں۔میڈیا ...
یو پی ایس خرید لیں جی! کیونکہ اس بار ن لیگ نہیں بلکہ تحریک انصاف کی حکومت ہے، سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات شیئر ہونے لگے کہ تحریک انصاف والے شرم سے منہ چھپانے لگے
لاہور( نیوز ڈیسک ) گرمیوں کے بعد پاکستانی قوم کو اب سردیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ شدید دھندسے سسٹم ٹرپ کرنے کے باعث بد ترین لوڈ شیڈنگ سے عوام کے معمولات زندگی اور کاروباری اور صنعتی سر گرمیاں بری طرح متاثر ہیں ، ...
ن لیگ اور پیپلزپارٹی حکومتوں کو دن رات تنقید کا نشانہ بنانے والی تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 5مہینوں میں پاکستان کو مزید کتنا مقروض کردیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بڑھتی ہوئی عالمی ادائیگیاں،پی ٹی آئی حکومت نےپانچ ماہ کے دوران 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کا نیا قرض لیا۔ پاکستان پر کل واجب الادا بیرونی قرضے 95 ارب ڈالر تک پہنچ گئے.اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران حکومت نے 1 ارب 80 کروڑ ... |
عشرت جہاں فرضی انکاونٹر کیس کے درخواست گذار کی سڑک حادثے میں موت - The Siasat Daily
گوپی ناتھ پلائی دراصل2014میں پیش گجرات فرضی انکاونٹر میں عشرت جہاں اور دیگر دولوگوں کے ساتھ ہونے والے پرنیش پلائی عرف جاوید شیخ کے والد ہیں۔
کیرالا۔ گجرات فرضی انکاونٹر کیس میں ایک درخواست گذار گوپی ناتھ پلائی کی کیرالامیں سڑک حادثے کی وجہہ سے موت واقعہ ہوگئی۔گوپی ناتھ پلائی دراصل2014میں پیش گجرات فرضی انکاونٹر میں عشرت جہاں اور دیگر دولوگوں کے ساتھ ہونے والے پرنیش پلائی عرف جاوید شیخ کے والد تھے۔ مہلوک پلائی کی بیوی کا کہنا ہے کہ الپوزہ ہائی وے پر پلائی کی کارحادثے کا شکار ہوگئی جب وہ اسپتال سے اپنا ہلت چیک آپ کرانے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔
جانکاری کے مطابق حادثے کے وقت پلائی کے بھائی کار چلارہے تھے جبکہ وہ بازو کی سیٹ پر بیٹھے تھے ' اسی دوران ان کی کار دوسری کار سے ٹکرائی ۔ ٹکر کی وجہہ سے دیگر گاڑیاں بھی آپس میں ٹکرائی ۔ نیم بیہوشی کے عالم میں پلائی اور ان کے بھائی کو اسپتال لے جایاگیا ۔ پلائی کی اسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد موت ہوگئی ۔
ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ کئی فریکچر اور سسٹم کی ناکامی کے سبب موت واقعہ ہوئی ہے۔ ان کے بھائی کی حالت ٹھیک ہے۔ پلائی حکومت اور گجرات پولیس کے ان دعوؤں کا سختی کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے جس میں ان کے بیٹے کو دہشت گرد قراردیاگیاہے۔
انیس سال کی ممبئی نژاد عشرت جہاں' جاوید شیخ عرف پرنیش پلائی' امجد علی رانا اور ذیشان جوہرکو شہر کے مضافات میں 15جون سال2004کو گجرات پولیس نے انکاونٹر میں ہلاک کردیا۔
پولیس نے جو دعوی پیش کیاتھا اس کے مطابق چاروں اس وقت کے گجرات چیف منسٹر نریندر مودی کو قتل کرنے کی تیاری کررہے تھے۔
گجرات ہائی کورٹ کی تشکیل شدہ ایس ائی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاتھا کہ انکاونٹر حقیقی نہیں ہے کیونکہ چاروں کو پہلے تحویل میں لیاگیاتھا' انہیں غیر قانونی طریقے سے رکھا گیا پھر اس کے بعد سفاکی کے ساتھ قتل کردیاگیا۔
پولیس کے ہاتھوں دہشت گرد قراردیتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل پر پلائی نے میڈیا سے بارہا یہ کہاتھا کہ ''میرا بیٹا کبھی دہشت گردنہیں بن سکتا تھا''۔انہوں نے کہاتھا کہ '' پرنیش نے مذہب تبدیل اس لئے نہیں کیاتھا کہ اس کو اسلام سے محبت ہے بلکہ اس کے لئے اپنی پسند کی شادی کرنے کے واسطے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچاتھا'' |
سوال نمبر: 7091
مجھے اپنی بھانجی زینب (جو کہ جوہانسبرگ میں رہتی ہے) کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ سال 2005میں اس کو اس کی بہن ممتاز کی جانب سے (جوکہ کیپ ٹاؤن میں رہتی ہے) ایک ای میل موصول ہوا کہ ممتاز نے اسلام کو چھوڑ کرکے عیسائیت مذہب قبول کرلیا ہے۔ زینب نے ٹیلیفون سے جواب دیا اورممتاز سے پوچھا کہ جوکچھ اس نے ای میل میں ذکر کیا ہے وہ حقیقت ہے یا مذاق ہے؟ ممتاز نے زینب کو بتایا کہ وہ واقعی مرتد ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے زینب نے ممتاز کے ساتھ تمام بندھن منقطع کرلیے۔ تاہم ان کے والد عبدالرحمن جوکہ زینب کے ساتھ رہتے ہیں یکساں طور پر ممتاز کے ساتھ رشتہ منقطع کرنے سے انکار کردیا ہے اوراس کے ساتھ مسلسل تعلق قائم کیا ہے۔ اس مہینہ کے شروع میں (جون 2008) میں،مجھے عبدالرحمن کی طرف سے ایک فون موصول ہوا کہ وہ کیپ ٹاؤں میں آئے ہیں اور یہ درخواست کررہے ہیں کہ میں ان کوچند دن اپنے یہاں ٹھہراؤں۔ میں نے ان کو ٹھہرایا۔ چند راتوں کے بعد مجھے ان کی طرف سے ایک فون موصول ہوا کہ وہ میرے گھر پہنچنے سے معذور ہیں اور اگلے دن آئیں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ رات کہاں ٹھہریں گے؟ انھو ں نے بتایا کہ وہ ممتاز کے گھر پر ہے اوروہاں سوئے گا۔ اس طرح سے ان نے اس بات کو یقینی بنادیا کہ وہ اب بھی ممتاز کے ساتھ ربط میں ہے۔ تین دن کے اندر میں نے تین مختلف عالموں سے رابطہ قائم کیا۔ ان سبھوں نے کہا کہ ممتاز سے تعلق ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں عبدالرحمن سے بھی تعلق ختم کرلینا چاہیے۔ میں نے فقہ کی دو کتابوں میں بھی دیکھا یعنی امام نووی کی منہاج العابدین اور موٴطا امام مالک ۔ جس دن عبدالرحمن جوہانسبرگ لوٹ رہا تھا میں نے اس کے ہاتھ میں قرآن دیا اور اس سے قسم کھانے کو کہا کہ کیا ممتاز اب بھی مرتد ہے تواس نے قسم کھایا کہ ہاں ممتاز اب بھی مرتد ہے۔ میں ا س کے بعد گھر والوں سے یہ حالات بتانے کے لیے گیا۔ تاہم گھر کے ایک ممبر نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے عبدالرحمن اپنی مرتد لڑکی سے اس لیے تعلق قائم کئے ہوئے ہے تاکہ اس کو واپس اسلام میں لاسکے۔ میں فوراًگھروالوں کواطلاع دینے سے رک گیا اور مزید تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے خیال کے مطابق مرتد کو اسلام میں واپس ہونے کا تین دن کا وقت دیا جاتا ہے، اورخاندان اورجماعت کے لوگوں کواس کے اوپر اثر ڈالنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس قانون کی بنیاد ہے۔ یہاں تک اس پر برقرار رہنے کی صورت میں (مرتد کو موت کی سزا دی جائے گی)۔اور اگر یہ نہ ہوسکے تو اس کی علامتی شکل اس سے رشتہ کا منقطع کرلینا ہے۔ اس وقت کی مدت میں کوئی اضافہ اس قانون کی تضحیک ہوگی۔ اگر آپ اس معاملہ میں ہماری رہنمائی کریں تو بہت مناسب ہوگا۔اگر آپ اس کا حوالہ قرآن سے دیں تو برائے کرم سورہ اور آیت نمبر بھی بتائیں ۔اور اگر حدیث کا حوالہ دیں تو اس کا درجہ (متواتر، حسن وغیرہ) بتادیں۔
جواب نمبر: 709101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت
فتوی: 1056=1023/ د
جس شخص کا مرتد ہونا اس کے اقرار یا شرعی شہادت سے ثابت ہوجائے اس کے لیے حکم یہ ہے کہ تین دن کی اسے مہلت دی جائے گی اور اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے گا، اگر اسے کچھ شبہات لاحق ہوگئے ہوں تو ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی، اگر توبہ نہیں کرتا ہے تو اسے قتل کردینے کا حکم ہے: قال في من ارتد عرض الحاکم علیہ استحباباً وتکشف شبہتہ ویحبس ثلاثة أیام إن استھل (شامي، ج۳ ص۳۱۲) یہ حکم اسلامی حکومت کے حاکم وقت کے لیے ہے، قتل کرنے کا اختیار اسی کو ہے لیکن عام مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ ایسے شخص سے تعلقات منقطع کرلیں، ان سے دوستی رکھنا یا تعلقات قائم کرنا حرام ہے قال في المرقاة إن ھجرة أھل الأہواء والبدع واجبة علی مر الأوقات ما لم یظھر منہ التوبة والرجوع إلی الحق (مرقاة المفاتیح باب ما ینھی من التھاجر والتقاطع) سورہٴ مائدہ آیت: 54-57 میں مرتد کا حکم اور اس سے دوستی کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔ تفسیر معارف القرآن جلد سوم کا مطالعہ فرمالیں۔
Q. غیراللہ سے کیا کیا مانگ نہیں سکتے اگر ہر قسم کا مانگنا دوسروں سے حرام ہے؟ 988 مناظر
Q. حضور کو علم غیب ہے یا نہیں؟ 503 مناظر
Q. کیا حنفی اور دیوبندیوں کے عقائد ایک ہیں ؟ 486 مناظر
Q. ایمان آباؤ اجداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم كے بارے میں كیا عقیدہ ہے؟ 565 مناظر
Q. نکاح پر نکاح ایک ہی انسان سے جائز ہے؟ 574 مناظر
Q. "نہ روزہ کام آئے گا نہ صدقہ کام آئے گا، قیامت میں محمد کا وسیلہ کام آئے گا"۔ براہ کرم، بتائیں کہ یہ جملہ صحیح ہے یا نہیں؟ایسا کہنے والے کے ساتھ کیا حکم ہوگا؟ 424 مناظر
Q. شوہر كے لاپتہ ہوجانے کی صورت میں عورت کا دوسرا نکاح 334 مناظر
Q. وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے؟ 461 مناظر
Q. لاحق کی نماز کے مسائل 761 مناظر
Q. مفتی صاحب!آپ نے( حضرت ) علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگنے کو شرک کہا ہے ، میں آپ کی بات سے متفق ہوں مگر علمائے دیوبند کے پیر کلیات امدادیہ ․․ صفحہ․․90-91 میں لکھا ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد بھی مانگ رہے ہیں اور مشکل کشائی کے لیے پکار رہے ہیں تو کیا آپ اپنے پیر صاحب کو (نعوذ باللہ ) مشر ک کہیں گے؟ 632 مناظر |
دو ٹرینوں میں تصادم، کم از کم بیس افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 03.11.2016
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو ریل گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ کراچی کے قائد آباد اسٹیشن پر آج بدھ کی صبح پیش آیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاہور سے آنے والی فرید ایکسپریس قائد آباد اسٹیشن پر رُکی ہوئی تھی کہ ملتان سے آنے والی ذکریا ایکسپریس تیز رفتاری کے ساتھ اُس سے جا ٹکرائی۔ امدادی کارکنوں نے فوری طور پر لوگوں کو متاثرہ ٹرینوں سے نکالنے کا کام شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لیے دھات کو کاٹنے والی مشینوں اور کرینوں کو جائے حادثہ پر پہنچا دیا گیا جبکہ فوج اور پولیس بھی امدادی کاموں میں شریک ہو گئی۔
عینی شاہدوں کے مطابق ایک ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ کراچی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر ناصر نذیر کے مطابق فوری طور پر نقصانات کا درست اندازہ نہیں ہے مگر دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار کے قریب مسافر سوار تھے۔
کراچی کے جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کے ہسپتال میں 50 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا۔
دھات کو کاٹنے والی مشینوں اور کرینوں کو جائے حادثہ پر پہنچا دیا گیا
کراچی کے ایک رہائشی عجب گُل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بتایا کہ وہ کام پر جا رہا تھا جب اس کے سامنے یہ حادثہ پیش آیا: ''اچانک ایک ٹرین تیز رفتاری سے آئی اور اسٹیشن پر پہلے سے کھڑی ٹرین میں جا ٹکرائی جس سے انتہائی زور دار دھماکا ہوا۔''
عجب گُل کا مزید کہنا تھا، ''دھماکے کے بعد وہاں غبار اور دھوئیں کے بادل پھیل گئے اور گاڑیوں میں سوار لوگوں کی چیخ وپکار کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔'' اس کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود لوگ فوری طور پر مدد کے لیے پہنچے اور لوگوں کو بوگیوں سے نکالا مگر بہت سے لوگ ایسے تھے جو بُری طرح پھنسے ہوئے تھے۔
اس حادثے کے بعد کراچی کا ملک کے دوسرے حصوں سے ریل کا رابطہ کٹ گیا ہے۔ انتہائی پرانے ریلوے نظام کے سبب پاکستان میں ٹرینوں کے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ آج ہونے والے حادثہ رواں برس فرید ایکسپریس کے ساتھ پیش آنے والا دوسرا حادثہ ہے۔ رواں برس جنوری میں یہ ٹرین پاکستانی صوبہ پنجاب میں ایک پھاٹک پر ایک ویگن سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں دو ٹرینوں میں تصادم, کم از کم 17 افراد ہلاک, کراچی, حادثہ, قائد آباد |
زندگی کوشش کا دوسرا نام – جویریہ سعید – Nauk e Qalam
زندگی کوشش کا دوسرا نام – جویریہ سعید
شیئر کریں admin اگست 2, 2020 August 2, 2020 0 تبصرے 83 مناظر
آپ سب کا بہت شکریہ کہ اپنے احساسات، درد، تجربات، دانشمندی کی باتیں شئر کیں۔ دل سے دعائیں بھی نکلتی رہیں۔ آپ سب کو سننا تھا۔ کسی کا جائزہ لینا یا صحیح اور غلط کا تعین کرنا مقصود نہ تھا۔ انسان خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر دوسروں سے بھی سیکھتا ہے تو فائدہ ہوتا ہے۔ آپ سب نے بھی ایک دوسرے کو سنا ۔ امید ہے فائدہ ہوا ہو گا۔
باقاعدہ ضرر پہنچانے والوں کی بات نہیں کی گئی تھی۔ بات صرف عدم توجہی، عدم دلچسپی یا تھوڑی بہت ناپسندیدگی کی تھی۔ اس فرق کو بہرحال ملحوظ رکھیے۔ جیسا کہ عرض کیا تھا کہ نارمل کی حدود بہت وسیع ہیں۔ اس لیے ان معاملات میں کوئی ایک درست یا غلط جواب نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا معاملہ الگ ہے اور نارمل بھی ہوسکتا ہے۔ کسی کی طرف سے نظر انداز کیا جانا یا دوری تکلیف دہ ہوتی ہے کجا کہ ناپسند کیا جانا۔ جو کہتا ہے کہ اسے فرق ہی نہیں پڑتا۔ اس کی بات دلچسپ لگی۔ گو کہ درد محسوس کرنا فطری ہے مگر دیکھنا چاہیے کہ ہم اسے مینج کیسے کرتے ہیں۔ درد ہماری شخصیت کی تعمیر و تخریب کرسکتا ہے۔ دیکھتے رہیے کہ یہ ہمیں مضبوط بنارہاہے یا کمزور تر کررہا ہے۔ چڑچڑاپن، شکایتیں، آدم بےزاری، بے اعتباری، سب کے بارے میں منفی رائے رکھنا، بد زبانی، طنز و طعن، ناخوش رہنا، لہجے کی کڑواہٹ، احساس کمتری اور مسلسل احساس محرومی کمزوری کی علامات ہیں۔ جو جتنا قریبی ہے، اس کی بے اعتنائی یا عدم توجہی کو جھیلنا اتنا ہی مشکل۔
خصوصا شریک زندگی کے معاملے میں یہ عدم توجہی اور فاصلہ ایک بالکل الگ موضوع ہے۔ کیونکہ یہ تو ساری زندگی کے پل پل کے ساتھ کا معاملہ ہے۔ اس کو الگ رکھتے ہیں۔ رشتہ داروں خصوصا سسرال والوں سے تائید اور ستائش کے چکر میں مرد اور خصوصاً بہت ساری خواتین ہلکان ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی صرف ایک یا دو لوگوں کی بے رخی کی اذیت انہیں بے قرار رکھتی ہے۔ مشکل تو ہے مگر یہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ہر ایک کو راضی نہیں کرسکتے۔ شاید یہی کافی ہو کہ ہم سے کسی کو ضرر نہ پہنچے اور مقدور بھر ذمہ داریاں ادا ہوتی رہیں۔ اس سے بڑھ کر خواہشات رکھنا، اور خود کو تھکانا خود ہمیں بے چین رکھتا ہے۔ جب اندازہ ہوجایے کہ دوسری طرف امکانات نہیں تو دھیان بانٹنے اور اہداف بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس پر کسی نے بہت اچھی باتیں لکھیں۔ ان شاءاللہ شئر کریں گے۔
اس پر ضرور چیک ہو کہ کہیں ہر ایک سے تائید اور ستائش اور توجہ کی طلب تو نہیں ہوتی جارہی۔ مثلا جہاں کوئی پسند آیا، جہاں کہیں کسی کی تعریف ہوئی یا جہاں کسی کو آپس میں ہنستے بولتے دیکھا فورا سے دل مچلنے لگا کہ ہمیں بھی یہ سب ملے، ہم سے بھی دوستی ہو۔ نہ ملے تو رنجیدہ اور خفا ہونے لگے۔ احساس کمتری اور احساس محرومی پیدا ہونے لگا۔ شکوے بڑھنے لگے۔ مان لیجیے یہ ممکن نہیں اور ٹھیک بھی نہیں۔ خود کو سنبھالنا چاہیے۔ (اس مسئلے کو ہلکا نہ جانیے۔ بہت سے شکوہ کناں اور ناخوش لوگ کا احساس محرومی اور غصہ غیر حقیقی توقعات کی وجہ سے ہوتا ہے۔) اس دنیا کا ایک نقص بہرحال یہ ہے کہ ہمیشہ نہیں مگر عام طور پر انسانوں کو ان کی ظاہری خصوصیات کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ درحقیقت آپ کسی دوسرے شخص سے زیادہ اچھے ہوں مگر پسندیدگی اور رفاقت کا اعزاز آپ کو نہ مل سکے۔
خیر بانٹتے رہنا اور اجر کی امید اللہ سے رکھنا ، بڑا اچھا سودا ہے۔ دنیا میں جو ملا وہ تو بس بونس ہے۔ کسی کے ساتھ طبیعت کے مل جانے میں بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ مختلف مزاج کے حامل افراد بھی بہترین دوست بن جاتے ہیں اور ایک جیسی خصوصیات رکھنے والے بھی ایک دوسرے سے بے زار ہوسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ میں کوئی کمی یا عیب ہو۔ خود کو کم تر نہ جانیے۔ اس کا اندازہ آپ کو ہوگا اگر کوئی آپ کے ساتھ "مبتلا" ہوجایے اور آپ کا دل آمادہ نہ ہو۔ آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے بہت اچھے جواب دیے۔ جو جتنا میچور ہوتا جاتا ہے، اس کی طبیعت میں اتنا اطمینان اور وسعت قلبی آتی جاتی ہے۔ اچھا یہ بھی سوچیے کہ چھوڑ تو دیتے ہیں۔۔۔ مگر کیا دل میں بھی اتنی وسعت آجاتی ہے کہ خوش دلی سے قبول کرلیں کہ بھئی اب ہر ایک تو ہم سے متفق نہیں ہوسکتا،
ہر ایک کو تو ہم پسند نہیں آسکتے
ہر ایک کی رفاقت تو نہیں مل سکتی۔
راستہ الگ کریں۔ دل میں کچھ دیر کو رنج تو ہو، مگر دوسرے کے لیے کڑواہٹ نہ آئے۔ یہ مشکل ہے نا۔۔۔ مگر اس سے سکینت ملتی ہے۔ زندگی آسان ہوتی ہے۔ شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس کو دراصل غنی اور بے نیازی کہتے ہیں۔ جس کی دعائیں مانگنے کی ہدایت حدیث میں بھی ملتی ہے۔ اور مجھے تو عشق وشق کے بارے میں سارا کچھ پڑھ کر یہی سمجھ آیا کہ عشق مجازی سے حقیقی کا سفر "انگور کھٹے ہیں" قسم کی چیز نہیں۔
بلکہ دل کی سکینت اور قناعت کے ساتھ انسانوں کے لیے وسعت قلبی پیدا کرنے کا عمل ہے۔ یہ سب مشکل ہے۔ مگر زندگی کوشش کا دوسرا نام ہے۔ سب نے الگ الگ بہت سی اچھی باتیں لکھی تھیں۔ آپ اس مسئلے پر فکر مند ہیں تو ان کومنٹس کو ضرور پڑھیے۔ |
ٹرمپ کی ایک بار پھر میڈیا سے جھڑپ، ریڈیو کو انٹرویو اچانک ختم کر دیا
پہلی اشاعت: 14 جنوری ,2022: 11:50 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 14 جنوری ,2022: 11:56 دن GST
امریکی ریڈیو چینلNPR کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینل کے ساتھ جاری ٹیلی فونک انٹرویو اچانک ختم کر دیا۔ انٹرویو لینے والے صحافی نے ٹرمپ پر اُن کے اس بار ہا دہرائے جانے والے دعوے کے حوالے سے دباؤ ڈالا تھا یہ 2020ء میں ٹرمپ کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ اس پر ٹرمپ نے گفتگو کا سلسلہ ختم کر دیا۔
مذکورہ ریڈیو چینل کا کہنا ہے کہ وہ 6 برس سے ٹرمپ کا انٹرویو لینے کی کوشش کر رہا تھا تاہم سابق صدر مسلسل انکار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ منگل کی شام انہوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ انٹرویو کو 15 منٹ تک جاری رہنا تھا تاہم ٹرمپ نے 9 منٹ کی گفتگو پر ہی انٹرویو ختم کر دیا۔ اس کی وجہ میزبان صحافی کی جانب سے 2020ء کے انتخابات میں مینڈیٹ کے چوری ہونے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے اور 6 جنوری 2021ء کو کانگریس کی عمارت پر ہنگامہ آرائی کے حوالے سے چبھتے ہوئے سوالات تھے۔
چینل کے مطابق جب ٹرمپ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا انتخابات میں جعل سازی کے حوالے سے سابق صدر کا دعوی ہی کانگریس کی عمارت (کیپیٹول) پر حملے کا محرک بنا ،،، تو اس پر ٹرمپ نے فوری طور پر فون کال ختم کر دی۔
ریڈیو چینل کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے اچانک ختم کرنے سے قبل ٹرمپ اس بات کو کوئی ثبوت ذکر نہ کر سکے کہ 2020ء کے انتخابات میں ووٹنگ میں وسیع پیمانے پر جعل سازی ہوئی تھی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین بیسکی نے ایرانی رہبر اعلی کی ویب سائٹ پر جاری وڈیو کلپ کی مذمت کرنے یا اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس وڈیو ... مشرق وسطی |
ساہیوال :15 شادیاں کرنے اور لڑکیوں کی زندگی خراب کرنے والا فراڈیا بے نقاب - Siasat.pk Urdu News - Latest Pakistani News around the clock
پنجاب کے شہر ساہیوال کا فراڈیا شادیاں کر کے سسرالیوں کو لوٹنے کا ماہر نکلا، پندرہویں شادی نے بھانڈا پھوڑ دیا،بیوی نے شک کی بنیاد پر پولیس کو اطلاع دی اور معاملہ سامنے آگیا، جس پر شادی کرنے والا فراڈیا تو فرار ہوگیا، بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا،پولیس نے گزشتہ روز ملزم کے بیٹے کے خلاف اس کی 15ویں بیوی کی شکایات پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا تھا،مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے۔
ساہیوال کا شہری سفید پوش خاندانوں میں شادی کرکے خواتین کو بلیک میل کرکے طلائی زیورات اور لاکھوں روپے نقدی ہتھیانے کا ماہر تھا،معاملہ سامنے آنے پر پولیس نے کارروائی کی اور مرکزی مفرور ملزم فیصل حسن کے بیٹے کو گرفتار کرلیا،پولیس کے مطابق مرکزی ملزم فیصل حسن نے 15 سے زائد خواتین سے شادی کرکے ان سے رقم زیورات ہتھیا کر طلاق دے دی تھی۔
پولیس نے انکشاف کیا کہ ملزم کے ساتھ اس کی پہلی بیوی اور بیٹا عبدالاحد بھی شامل ہیں، ملزم فیصل حسن خود کو کنوارہ یا طلاق یافتہ ظاہر کرکے درجن سے زائد لڑکیوں سے شادی کرکے ان کی زندگیاں برباد کرچکا ہے،ملزم کے خلاف لاہور، شیخوپورہ، مریدکے، راولپنڈی اور ساہیوال میں ایف آئی آر درج ہیں، اور متعدد تھانوں کا اشتہاری بھی ہے۔
ساہیوالشادیاںفراڈیا
اگست 4, 2021 وقت 5:53 شام
اس حرامزادے کی ساری جائیداد بیچ کر ان لڑکیوں میں بانٹ دی جاے اور اسے ساری عمر کیلئے جیل کی لیٹرینیں صاف کرنے کی ڈیوٹی پر لگا دیا جاے |
روہت شرما ہندوستانی ٹیم کے نئے کپتان مقرر، نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی-20 سیریز میں اویس خان کو ملا موقع
چیتن شرما کی زیرقیادت قومی سلیکشن کمیٹی نے آج یہاں نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ گھریلو ٹی۔20 سیریز کے لیے روہت شرما کو کپتان اور لوکیش راہل کو نائب کپتان منتخب کیا۔
Published: 09 Nov 2021, 11:40 PM
نئی دہلی: وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم نے کئی تاریخ رقم کی، اور اب ٹیم کی کپتانی روہت شرما کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔ ساتھ ہی نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ 17 نومبر سے شروع ہونے والی ٹی-20 سیریز کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ روہت شرما کی کپتانی والی اس 16 رکنی ٹیم میں آئی پی ایل 2021 کے اسٹار کھلاڑی رتوراج گائیکواڈ، وینکٹیش ایر، ہرشل پٹیل اور اویس خان کو جگہ ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اگستا ویسٹ لینڈ کے ساتھ 'خفیہ معاہدہ' کو عام کرے: کانگریس
چیتن شرما کی زیرقیادت قومی سلیکشن کمیٹی نے آج یہاں نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ گھریلو ٹی۔20 سیریز کے لیے روہت شرما کو کپتان اور لوکیش راہل کو نائب کپتان منتخب کیا۔ آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو انعام سے نوازا گیا ہے۔ ساتھ ہی روہت اور راہل کے ساتھ روی چندرن اشون اور بھونیشور کمار جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ہاردک پانڈیا، جو ٹی-20 ورلڈ کپ 2021 کے دوران انجری کا سامنا کرتے ہوئے نظر آئے تھے، کو ٹیم میں جگہ نہیں ملی ہے۔ ہندوستان کے سابق کپتان وراٹ کوہلی نے سیریز سے آرام مانگا تھا اور سلیکٹرز نے ان کا مطالبہ مان لیا ہے۔ وراٹ کے علاوہ تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور محمد سمیع اور آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کو بھی آرام دیا گیا ہے۔
ہندوستانی ٹی-20 ٹیم: روہت شرما (کپتان)، لوکیش راہل (نائب کپتان)، رتوراج گائیکواڈ، شریئس ایر، سوریہ کمار یادو، رشبھ پنت (وکٹ کیپر)، ایشان کشن (وکٹ کیپر)، وینکٹیش ایر، یجویندر چہل، روی چندرن اشون، اکشر پٹیل، اویس خان، بھونیشور کمار، دیپک چاہر، ہرشل پٹیل، محمد سراج۔ |
ہر چیز درست نہیں لیکن حکومت کوشش کر رہی ہے: وفاقی وزیر قانون - Daily Ittehad
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر چیز درست نہیں ہے لیکن حکومت کوشش کر رہ ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا جب حکومت میں آئے تو معاشی حالات بہت خراب تھے، ماضی کے قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف سے پیکیج لینا پڑا لیکن اب معاشی اعشاریے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے اعتراف کیا کہ ملک میں ہر چیز درست نہیں ہے لیکن حکومت کوشش کر رہی ہے، افواہیں پھیلانے والے نہیں چاہتے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو۔
خالد مقبول صدیقی کے استعفے سے متعلق سوال پر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ خالد مقبول نے وزارت صرف کراچی کے مسائل کے حل کے لیے چھوڑی۔
ملک میں آنے اور چینی کے بحران سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ آٹا اور چینی مافیاز کے خلاف کارروائی ہو گی، کسی نے اگر کرپشن کی ہے تو اسےکوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
سزائے موت کو ختم کرنے سے متعقلق بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا میں نے یہ نہیں کہا کہ پھانسی کی سزا ختم ہونی چاہیے بلکہ ہم نے فیصلہ وہ کرنا ہے جو قانون میں درج ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1994 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ کہتا ہے سرعام پھانسی شریعت اور آئین کے خلاف ہے، میں نےکہا ایسا کوئی قانون نہیں بناؤں گا جو شریعت، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہو۔
ان کا کہنا تھا کوئی میری بات سے اختلاف کرتا ہے تو سپریم کورٹ جائے، 1994 کا فیصلہ ریویو کرا لے۔
سوشل میڈیا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے سوشل میڈیا کے حوالے سےکوئی سمری نہیں پیش کی بلکہ وزارت آئی ٹی کی جانب سے یہ سمری آئی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ تمام حکومتی اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے متعلق بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان سے باہر گئے ہیں تو حکومت نے نہیں عدالت نے آرڈر پاس کیا، حکومت قانون کے مطابق کام کرے گی اور حکومت عدالتی احکامات کی تعمیل کرتی ہے۔
مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق فروغ نسیم کا کہنا تھا مریم نواز کو ہائیکورٹ سے لندن جانے کی اجازت ملی تو سپریم کورٹ میں رجوع کریں گے، جس گراؤنڈ پر نام ای سی ایل سے نکالنےکی بات کی جا رہی ہے قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ |
زمینی پانی کے تحفظ کیلئے واٹر ایکٹ 2018ء کا مسودہ تیار – نیوزلائن فیصل آباد
فیصل آباد(نیوز لائن) حکومت پنجاب نے فیصل آباد سمیت پانچ بڑے شہروں کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیز کو بااختیار بنانے کیلئے میونسپل واٹر ایکٹ 2018ء کا مسودہ قانون تیار کر لیا۔جس کے تحت تمام سرکاری و نجی اداروں کو زمینی پانی کے حصول کیلئے پرمٹ حاصل کرنا لازم ہو گا۔ فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، لاہور اور گوجرانوالہ کے آبی اداروں کو میونسپل واٹر، گراؤنڈ واٹر، بارشیپانی اور سر فس واٹر کا مکمل محافظ بنا دیا جائیگا۔ آبی سرگرمیوں کو کنٹرول و مانیٹرنگ کیلئے صوبائی سطح پر واٹر کمیشن کی تشکیل کی جائیگی۔ جس کی پیشگی اجازت حاصل کئے بغیر کمرشل، زرعی اور انڈسٹریل مقاصد کیلئے پانی حاصل کرنے سے قبل نہ تو کنواں کھودا جائیگا اور نہ ہی ٹیوب ویلز کیلئے بورنگ کی جا سکے گی۔گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کئے بغیر ندی نالوں اور دریاؤں میں ڈالنے کی اجازت نہ ہو گی۔ ایکٹ کے نفاذ کے بعد تمام ضلعی حکومتیں تین سال کے اندر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ماسٹر پلان بنانے کی پابند ہوں گی۔ نجی واٹر کمپنیوں کو کاروبار کرنے سے قبل منظوری فارم حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ پانی کے نرخوں کی وصولی کا تعین واٹر کمیشن کریگا۔ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 50ہزار جرمانہ اور ایک سال کی سزا ہو گی۔ |
دبئی میں مقیم تین سالہ پاکستانی بچہ مالی امداد کا منتظر – ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar
دبئی میں مقیم تین سالہ پاکستانی بچہ مالی امداد کا منتظر
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہری نے اپنے تین سالہ بچے کے لیے لوگوں سے مدد کی اپیل کردی، حسان کی طبیعت شدید ناساز ہے اور ڈاکٹرز نے اسے فوری بون میرو کا مشورہ دیا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری حفیظ خان کے تین سالہ صاحبزادے محمد حسان کی طبیعت شدید ناساز ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
والد کے مطابق بچے کے ٹرانسپلانٹ اور علاج کے لیے 48 کروڑ روپے (1لاکھ 14 ہزار درہم) کی ضرورت ہے جس میں حسان کی دو کیمو تھراپیز اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوگا۔ محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ بچے کا ٹرانسپلانٹ یا مزید علاج پاکستان میں کرانا چاہتے ہیں۔
حسان کو 17 اکتوبر 2018 کو شدید بخار اور جسم میں درد کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ٹیسٹ کرانے کے بعد معمول کی دوائیاں دے کر اُسے گھر لے جانے کا مشورہ دیا البتہ جب رپورٹس سامنے آئیں تو Acute Myeloid Leukaemia (کینسر کے مرض) کی تشخیص ہوئی۔
محمد حفیظ کے مطابق انہوں نے اکتوبر 2018 سے ہی بچے کا علاج شروع کرادیا تھا البتہ اُس کی طبیعت دن بہ دن خراب ہورہی ہے جس کے بعد اب ڈاکٹرز نے فوری طور پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری دبئی کی کمپنی میں بطور انجینئر ملازمت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 'حسان پہلا بیٹا ہے جس کی جان بچانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں'۔
محمد حفیظ نے دنیا بھر کےلوگوں سے مالی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تعاون سے علاج اور ٹرانسپلانٹ ممکن ہوگا کیونکہ میرے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہے۔ |
مدت ملازمت میں ایک گھنٹے کی بھی توسیع نہیں چاہوں گا، چیئرمین نیب
اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ مدت ملازمت میں ایک گھنٹےکی بھی توسیع نہیں چاہوں گا اور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کسی نے دھیلے کی کرپشن نہیں کی بلکہ کروڑوں اور اربوں کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے متاثرین کو رقوم کی واپسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا عوامی شکایات کے ازالےکیلئے کوشاں ہیں ، بطور چیئرمین نیب شہنشاہ نہیں ہوں، لوگوں کے مسائل سننے کیلئے ہرماہ کےآخری جمعرات کا دن مقرر کیا، ہر ماہ کے آخری جمعرات کو سائلین سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ دنیامیں کوئی غلط کام کریں گے تو قیامت کا انتظار نہیں کرناپڑتا، دنیا میں غلط کام کا حساب اللہ دنیا میں ہی لیتا ہے ، قدرت کا نظام ہے آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب شفاف احتساب کے عمل پر یقین رکھتا ہے ، ملک سے کرپشن کا خاتمہ ادارے کی اولین ترجیح ہے ، نیب راولپنڈی کی کارکردگی کو سراہتاہوں ، عرفان مانگی اور دیگر افسران نے بہترین کارکردگی دکھائی ، نیب میں کسی بےگناہ کیخلاف کوئی کرپشن کا کیس درج نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر کیس کا مکمل تجزیے کے بعدفیصلہ کرتاہوں، کبھی ایسا نہیں ہواکسی معصوم شخص کےخلاف کارروائی ہوئی ہو، یکطرفہ احتساب صرف ان لوگوں کو نظر آتا ہے جن کی آنکھوں پر پٹی ہے، نیب فیس کے بجائے کیس دیکھتا ہے اور کیس کی پالیسی پر کام کرتاہے ، نیب کو کسی قسم کا کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔
چیئرمین نیب نے کہا تنقید کرنیوالے تنقید کرتے ہیں میں نے کبھی برا نہیں مانا، نیب کی کامیابیوں کا سہرا افسران اور اہلکاروں کو جاتا ہے ، عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے رہنمائی لیتے ہوئے قوانین مرتب کئے ہیں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ہر کیس کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیکر میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ کوئی ادارہ یا شخص اپنی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرسکتا، قانون پڑھے بغیر تنقید کرنیوالوں پر افسوس ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ چند دن پہلے ایک سیاستدان نے نیب کو مناظرےکاچیلنج کیا ، نیب تو اپنی ناک سے ایک مکھی بھی نہیں اڑاسکتا، نیب نے کبھی ناک پر مکھی بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں دی ، تنقید کرنیوالوں کا بھی مشکور ہوں کم از کم نیب کو یاد تو رکھا۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا زیادہ کرپشن ہوگی تو زیادہ کیسز رجسٹرڈ ہوں ، ضمانتیں ہونابڑی بات نہیں یہ قتل کیسز میں بھی ہوجاتی ہیں، چیف جسٹس پاکستان کے فیصلوں نے گائیڈ لائن دی، ان کی رہنمائی کے نتیجے میں نیب کے جو رولز تیس سال میں نہ بن سکے وہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ میں اپنی مدت ملازمت میں ایک گھنٹے کی بھی توسیع نہیں چاہوں گااور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کسی نے دھیلے کی کرپشن نہیں کی بلکہ کروڑوں اور اربوں کی ہے۔ |
مرجعیت کی شان میں الشرق الاوسط کی گستاخی ناقابل برداشت :: خیبر صهیون تحقیقاتی ویب گاه
مرجعیت کی شان میں الشرق الاوسط کی گستاخی ناقابل برداشت
Sunday, 5 July 2020، 12:15 AM
بقلم سید نجیب الحسن زیدی
لندن سے چھپنے والے سعودی اخبار «الشرق الاوسط» نے جمعہ کے دن آیت اللہ سیستانی کا ایک اہانت آمیز خاکہ شائع کیا ، جسکی مخالفت میں عراق میں شدید رد عمل سامنے آیا۔
عراق کے پارلمانی محاذ کے سربراہ ہادی العامری " نے اس سعودی اخبار کی جانب سے آیت اللہ سیستانی مد ظلہ العالی کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی مذمت کی، علاوہ از ایں عراقی پارلمان کے ایک نمائندے نے"احمد الاسدی" بھی سعودی عرب کے روزنامہ کی جانب سے اس اقدام کے سلسلہ سے اس بات کا اظہار کیا مراجع کرام کے سلسلہ سے اس طرح کی باتوں سے سعودی عرب پر حکم فرما فکر کا پتہ چلتا ہے کہ وہاں کس قسم کی گھٹیا فکر حاکم ہے ۔
تحریک نجباء کے رسمی ترجمان نصر الشمری نے بھی ٹوئٹر پر دئے گئے اپنے میسج کے ذریعہ اس بات کی طرف اشاہ کیا کہ آل سعود اور امریکہ و اسرائیل کے مزدوروں کی جانب سے شیعت کے خلاف اس طرح کی محاذ آرائیاں کوئی نئی و عجیب بات نہیں ہے یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کے خون سے زمین کو سرخ کیا ہے اور ہمیشہ خون ناحق سے انکی آستینیں سنی نظر آتی ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا: مرجعیت کے بارے میں اہانت کا ایک واضح سبب مرجعیت کے حکیمانہ و مستحکم موقف و اقدام کے مقابل انکی شکست کا تلخ احساس ہے، ایسا موقف و اقدام جس نے تکفیریوں کے تمام تر حربوں اور انکی چالوں کو ناکام بنا دیا ۔
چنانچہ نجباء تحریک کی شورای کے سربراہ ''علی الاسدی'' نےسعودی روزنامہ الشرق الاوسط کی جانب سے مرجعیت کے خلاف اس اہانت کا سبب مرجعیت کی جانب سے اٹھایا گیا وہ قدم بیان کیا جس کے سبب حشد الشعبی کا وجود سامنے آیا ۔ اسدی نے اس اخبار کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کیس دائر کر کے اسکا محاکمہ کرنے کی اور اس کے عراق میں موجود دفتر کو بند کرنے کی بات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرجعیت نے عراق کی سالمیت کی خاطر ایسا فتوی دیا جس نے تکفیریوں اور انکے امریکی و صہیونی حامیوں کی عراق کے سلسلہ سے دیکھے گئے خواب کی تعبیر کو ناکام بنا دیا اور عراق کی مٹی کی حفاظت کرتے ہوئے تکفیریوں کی سیاست پر پانی پھیر دیا ۔
شک نہیں ہے کہ مرجعیت ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ گاہے بہ گاہے دشمنان اسلام کی جانب سی مرجعیت کے خلاف توہین آمیز اقدامات ہوتے رہتے ہیں، ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم مرجعیت کی طاقت کو محسوس کریں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جو ہمارے دشمنوں کی خوشی کا سبب ہو ، افسوس کا مقام ہے کہ دشمن اپنی تمام تر کینہ توزیوں کے ساتھ مرجعیت کی طاقت کو سمجھتا ہے اور اس کے خلاف سر گرم عمل ہے لیکن ہم اپنے اس سرمایہ سے غافل ہے اور بسا اوقات ہمارے درمیان سے ہی مرجعیت کے خلاف باتیں بلند ہوتی نظر آتی ہیں۔
یہ معاملہ صرف عراق کا نہیں ہے اسکا تعلق ہم سب سے ہے لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر لندن سے نکلنے والے سعودی روزنامے کی شدید طور پر مذمت کریں تاکہ مرجعیت کے مقابل اپنے کمترین حق کو ادا کر سکیں ۔ |
پاکستان مسلم لیگ ن پی پی 21 کے ٹکٹ تقسیم کر دیئے گئے | Geo Urdu
پاکستان مسلم لیگ ن پی پی 21 کے ٹکٹ تقسیم کر دیئے گئے
میانی اڈا(نامہ نگار) پاکستان مسلم لیگ ن پی پی 21 کے ٹکٹ تقسیم کر دیئے گئے صوبائی وزیر فخرے پنجاب ملک تنویر اسلم اعوان کے نعرئے گونجتے رہے پی پی 21 کی ذمہ داری شیرونہار ملک اسلم اعوان کے کندھوں پر رہی اور ہمیشہ کی طرح انہوں نے یہ ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دی علاقہ ونہار سے بھی پارٹی ورکروں کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ موجود تھی۔
سیکرٹری سیتھی ہاوس امجد حسین تحصیل صدر یوتھ ونگ ملک اشتیاق اعوان ملک عاطف احسان سیتھی ملک صفدر بربری چیرمین کے امیدوار ملک ریاض بوچھال کلان حاجی نواز ملک عبدالقیوم ملک ناصر منیر جھامرہ ملک اشتیاق سرکلان اور یوتھ کے ورکرزملک اسلم اعوان کی قیادت میں پرجوش نظر آئے۔
پی پی 21کے ٹکٹوں کی اناونسمنٹ بھی ملک اسلم اعوان نے یوتھ صدر ملک اشتیاق کے ذمہ کی اورپی پی 21کی تمام یو سی کے ٹکٹ انہوں نے خود تقسیم کیے مسلم لیگ ن کی تمام قیادت اس موقع پر موجود تھی ضلعی صدر چوہدری لیاقت علی خان عبدالمجید ملک میجر طاہر اقبال چوہدری حیدر سلطان چوہدری شہریار سلطان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
ملک اشتیاق اعوان 03325908962
شمع مسلم انوی ٹیشن فٹ بال ٹورنامنٹ میں شہباز گرین نے ماڑی پور بلوچ کو شکست دیدی جھنگ کی خبریں 2/10/2015 |
💉 حاملہ برے آپ جلد ہی چاہتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں - آپ کا ڈاکٹر 2019
حاملہ برے آپ جلد ہی چاہتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں
Life health doctor آپ کا ڈاکٹر 2018 حاملہ برے آپ جلد ہی چاہتے ہیں کہ آپ چاہتے ہیں
ہم ان اشیاء کو مصنوعات کی معیار پر مبنی منتخب کریں اور آپ کو اس بات کا تعین کرنے میں ہر ایک کے پیشہ اور قواعد کی فہرست درج کریں جو آپ کے لئے بہترین کام کریں گے. ہم ان کمپنیوں کے ساتھ شراکت دار ہیں جو ان مصنوعات کو فروخت کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ نیچے دیئے گئے لنکس کے استعمال سے کچھ خریدتے وقت ہیلتھ لائن آمدنی کا ایک حصہ حاصل کرسکتے ہیں.
حمل کے اپنے آٹھواں ہفتہ سے 12 ہفتے (یا جلد ہی، ہم میں سے کچھ)، آپ کے جسم کو صرف پیٹ علاقے سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے.
آپ کے سینوں گندے، مکمل اور توجہ پر زور دیتے ہیں. زچگی کی چولی کے ساتھ تیار رہیں. workouts کے لئے، باہر جانے کے لئے، اور یہاں تک کہ نیند کے لئے - آپ کی مدد کی ضرورت ہے.
آپ کی زچگی براس برش سے مختلف ہو سکتی ہے جو آپ عام طور پر پہنتے ہیں. لگتا ہے کہ
وسیع پٹا
نرم کپ کے تحت چلے جانے کی مخالفت
کمر رکھنے کے لئے کپاس اور سانس لینے والے کپڑے کم از کم تین ہک بندش
ان حملوں میں سے ایک سے زائد افراد کو، جیسا کہ آپ کے حمل کو تیار ہوسکتا ہے اس کے مطابق
ذہن میں رکھنے کے لئے دو اہم چیزیں ہیں.
اشتہار اہم یاد دہانیوں کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح سائز پہنے ہوئے ہیں.
آپ کی حمل کے دوران آپ کو نرسنگ پیڈ کی ضرورت ہوسکتی ہے.
زیادہ سے زیادہ خواتین کو صحیح چولی کا سائز نہیں ہے. نصب ہو جاؤ وکٹوریہ کے راز اور نورڈسٹرسٹ کی طرح اسٹور مفت کیلئے یہ کریں گے.
آپ کے بچے سے پہلے بھی آپ کو نرسنگ پیڈ کی ضرورت ہوسکتی ہے. آپ کا دودھ اندر آ رہا ہے اور آپ کو حمل کی ترقی میں اضافہ ہو سکتا ہے. حفاظت کے لۓ آپ کی چولی میں پیڈ پھنس سکتے ہیں. کچھ ڈسپوزایبل ہیں، یا آپ دھو سکتے ہیں خرید سکتے ہیں.
یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو آپ کوشش کر سکتے ہیں.
روزانہ چولی
آپ کو اس کے کام کے لئے، رات کے کھانے کے لئے، یا آپ کے دن کے بارے میں منتقل کے طور پر لڑکیوں کو مشتمل کرنے کی ضرورت ہے. لیس اور بنیادی طور پر پائپنگ سے، یہاں آپ کے پیشہ ورانہ یا ماں یونیفارم کے تحت پہننے کے لئے چند چنے ہیں.
دیوی آرام زون نرسنگ چولی - $ 48 ایمیزون پر. بغیر مائیکرو فائیبر اور اضافی سپورٹ فراہم کرنے کے لئے اندرونی کپ فریم کا کام. سائز ڈی اور صرف
ابدی نرسنگ چولی - $ 49. گرم، شہوت انگیز گرم، شہوت انگیز گرم، شہوت انگیز لیڈی نرم اور ہموار کپ ہر روز پہننے کے لئے یہ مثالی بناتے ہیں، خاص طور پر کپڑے اور اوپر کے ساتھ، سامنے کے نچلے حصے کی وجہ سے.
فیشنےبل نرسنگ چولی - $ 59. گرم، شہوت انگیز گرم، شہوت انگیز گرم، شہوت انگیز لیڈی یہ مکمل کپ لیس چولی ہاتھی، جامنی اور ندی میں دستیاب ہے. کپاس کے کھینچنے والی کپ ترقی کے لئے اجازت دینے کے لئے سب سے اوپر پھیل جاتی ہیں.
کھیلے چولی
ہر ممکنہ طور پر کم از کم 30 منٹ کے اعتدال پسند مشق کی حامل حاملہ حملوں کے دوران ماں کی صحت کو فائدہ پہنچانے کے لئے ریاستہائے متحدہ کے معدنیات اور امراض کے ماہرین کے کالج.
چاہے آپ نرم یوگا معمول کو چلاتے ہو یا کر رہے ہو، آپ کی زچگی کی لچکدار کی ضرورت ہوتی ہے جب آپ کے جسم کو آگے بڑھنے اور پسینے میں منتقل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے. یہاں کچھ اختیارات ہیں.
زلزلے کے تحت انوائائر چولی - $ 9 میں عنوان نو. اس کے تحت کام کرتا ہے. اندھیرے کو الگ کر دیتا ہے اور مصیبت رکھتا ہے
فیونا - $ 39 ایمیزون پر. وسیع فرنٹ پینل اور وی کے سائز کے پیچھے آپ کام کرنے کے دوران ابھی تک ٹھنڈا رکھنے کے لئے بہت اچھا ہیں. وسیع پٹا والکلرو کے ذریعے حملوں کے ذریعے آسان ایڈجسٹمنٹ اور ممکنہ طور پر نرسنگ کے لئے پیش کرتی ہے. تمام جسم کی اقسام پر کام کرتا ہے.
اینیل ہائی امپیکٹ سپورٹس برا - ایمیزون پر $ 79. سپر محفوظ ورزش چولی یہاں ہے. اینیل کی نمی-ویک کپڑے آپ کو ٹھنڈا رکھتی ہے، اور 10 سامنے ہک بندش آپ کے ارد گرد شیخی کے خلاف آپ کی حفاظت کرتے ہیں.
نیند چوری
کچھ عورتیں "ahhhh" لمحے کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ چولی لے جاتے ہیں اور بستر پر چڑھ جاتے ہیں. دوسروں کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے سینوں کو اب بھی کمر کے دوران محفوظ ہے.
ایما زچگی اور نرسنگ نیند چولی - $ 18. 99 ہدف میں. کپاس، نایلان، اور اسپینڈیکس کی مدد میں ایک بنیادی (خیال: کوئی کلاسیپس) اور ورسٹائل چولی پیدا ہوتی ہے جو آپ سوتے ہیں.
اموینا کی طرف سے فریسس نرم کپ کپاس آرام دہ اور پرسکون - 33 $ نورڈسٹرسٹ میں. چار سامنے ہکس اور نمی واٹ کپڑے نیند یا لوننگ کے لئے یہ مثالی بناتے ہیں. سائز بڑھانے کے لئے چھوٹا سا چھوٹا ہے.
شمالی سوٹل نیند براس $ 9. 99 NorthStyle میں دو کے ایک سیٹ کے لئے. یہ چولی آرام دہ اور پرسکون ہے. کوئی پختہ نہیں، وسیع پٹے اور نرم کپ کے ساتھ.
دوہری استعمال زچگی اور نرسنگ چولی
بعد میں حمل میں، آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ساتھ چیزیں کیسے چل رہی ہیں. بچے کی آمد کے بعد کثیر استعمال شدہ چولی کلیدی ہوسکتی ہے، نرسنگ، پمپنگ اور مجموعی طور پر آرام.
انڈر کمانڈ نرسنگ چولی - $ 9 میں عنوان نو میں $ 4. پولکا ڈاٹ کام یہ چولی کرتے ہیں. لیکن یہ بھی سامنے تک رسائی اور سایڈست کپ اور پٹا ہے!
سٹارٹر نرسنگ چولی - $ 3 ایمیزون پر. یہ آپ کے سینوں کے ارد گرد وسیع، آرام دہ اور پرسکون کپاس کی وجہ سے ایک نرسنگ اور نیند چولی کے طور پر ڈبل کر سکتے ہیں. یہ دو سائز سے زیادہ سایڈست ہے اور نرسنگ کے لئے مکمل رسائی کے ساتھ ایک اندرونی گلاب ہے.
جذبہ مسالا ایل ایل نرسنگ چولی - $ 28. 95 ماں ماں 4 زندگی میں. مائکرو فائیبر کپڑے، پیتل پائپنگ، اور گندے ہوئے پٹا اس چولی میں سرمایہ کاری کے قابل بناتے ہیں. |
جرمن بچہ کنڈرگارٹن میں بم لے آیا | معاشرہ | DW | 05.07.2017
جرمن بچہ کنڈرگارٹن میں بم لے آیا
جرمن پولیس کے مطابق یہ بچہ جو بم اپنی کلاس میں لے کر آ گیا تھا، وہ دراصل دوسری عالمی جنگ کے دوران پھینکا گیا ایک بم تھا۔ جرمنی کے مغربی شہر ڈارم اشٹٹ میں پولیس کی ایک ترجمان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''چھوٹے بچے کو جنگل میں چلتے ہوئے یہ بم ملا تھا اور وہ اسے اٹھا کر کنڈرگارٹن لے آیا تھا۔''
بتایا گیا ہے کہ بچے نے یہ بم لا کر ایک ایسی الماری میں رکھ دیا تھا، جہاں بچے معمول کے مطابق اپنی چیزیں رکھتے ہیں۔ پھر جب ایک ٹیچر کی اس 'عجیب چیز' پر نگاہ پڑی، تو وہ فوری طور پر تمام بچوں کو کنڈرگارٹن سے نکال کر باہر کھیل کے میدان میں لے گئیں اور پولیس کو اطلاع کر دی گئی۔
چند ہی منٹ بعد بم ڈسپوزل ٹیم کے اراکین کنڈرگارٹن پہنچ گئے اور اس بم کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد تمام بچوں کو دوبارہ کنڈرگارٹن میں لوٹنے کی اجازت دے دی گئی۔ پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے نے حفاظتی اقدامات کے تحت جنگل کے اس علاقے کی بھی چھان بین کی، جہاں سے بچے کو یہ بم ملا تھا۔ تاہم جدید آلات سے چیک کرنے کے بعد اس علاقے کو اب محفوظ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔
جرمنی بھر میں پولیس کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ جنگلات، کھیتوں یا پھر گھروں کی تعمیر یا لان میں سے اگر کوئی بھی مشتبہ چیز ملے تو فوری طور پر حکام کو اطلاع دی جائے۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس قدر شدید بمباری کی گئی تھی کہ جنگ کے خاتمے کے ستر برس سے زائد عرصے بعد بھی جرمنی کے مختلف علاقوں سے ابھی تک ایسے بم ملتے رہتے ہیں، جو تب نہیں پھٹے تھے۔
گزشتہ برس کرسمس کے موقع پر جرمن شہر آؤگسبُرگ میں ایک بڑا برطانوی بم ملا تھا، جس کے بعد 54 ہزار شہریوں کو ان کے گھروں سے عارضی طور پر نکال لیا گیا تھا۔ اسی طرح مئی میں ہینوور شہر میں بھی ایسا ہی ایک بم ملنے کے بعد 50 ہزار کے قریب شہریوں کو مختصر وقت کے لیے محفوظ مقامات پر جانے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔
اکتیس مئی 1942ء کو جب جرمنی کے شہر کولون میں کارپٹ بمبنگ شروع کی گئی تو برطانیہ نے اسے 'آپریشن ملینیم' کا نام دیا۔ کولون کے شہری اسے 'ہزار بموں کی رات' کا نام دیتے ہیں۔ دو گھنٹوں کے اندر ہی شہر کا چہرہ بدل گیا تھا۔ (31.05.2017)
ایک یا ایک سے زیادہ کلیدی الفاظ درج کریں جرمنی, کنڈر گارٹن, بم
پیرما لنک https://p.dw.com/p/2fzl9
جرمنی میں ایک مسلم کنڈرگارٹن بند کرنے کا حکم 27.03.2019
جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں قائم 'النور' اکلوتے مسلم کنڈر گارٹن کو بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس ڈے کیئر سینٹر میں نامناسب مواد تقسیم کیے جانے پر کیا گیا ہے۔
'جرمنی میں دھمکی آمیز پیغامات، شبہ نیو نازیوں پر' 14.03.2019
حالیہ کچھ عرصے کے دوران جرمن سیاستدانوں، صحافیوں اور نمایاں شخصیات کو ایک سو سے زائد دھمکی آمیز ای میلز ملیں۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ان ای میلز کے پس پردہ نیو نازی ہو سکتے ہیں۔ |
عاشق نوجوان، ہندو لڑکی، گمراہ مولوی اور مجبور باپ - ہم سب
عاشق نوجوان، ہندو لڑکی، گمراہ مولوی اور مجبور باپ
13/04/2018 14/04/2018 ڈاکٹر شیر شاہ سید 41,013 Views
مجھے پھانسی مل جاتی تو اچھا تھا۔ اس نے بڑے دکھ سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
اس کے لہجے میں سارے جہاں کا درد اور اس کی آنکھوں میں بلا کی اُداسی تھی۔ ایسی بھرپور اُداسی جسے دیکھ کر دیکھنے والا بھی اُداس ہوجائے
وہ اپنے باپ کے ساتھ آیا تھا۔ وہ مجھے سیدھے سادے سے آدمی لگے تھے، دُبلے پتلے، سر پر جالی والی سفید ٹوپی، چھوٹی اور تمیز سے تراشی ہوئی داڑھی اورآنکھوں پر قیمتی عینک کا فریم۔ انہوں نے قیمتی سی گھڑی بھی پہنی ہوئی تھی۔ مجھے ڈاکٹر حمید نے فون کرکے ان کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ اسے لے کرآئیں گے۔ حمید کا شمار شہر کے ان گِنے چُنے ان ڈاکٹروں میں ہوتا تھا جو نہ صرف یہ کہ علاج کرتے ہیں بلکہ مریض اور مریض کے خاندان کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات بھی رکھتے ہیں ۔ پورا خاندان حمید کامریض تھا۔ کھاتے پیتے لوگ تھے وہ، کراچی کی سبزی منڈی میں سبزی کی آڑھتی کرتے تھے سلمان نے کسی ہندو لڑکی کا اغوا کیا تھا، اس سے شادی کی تھی جس کے بعد ایک بچی کی پیدائش ہوئی پھر وہ لڑکی ایک دن بھاگ گئی تھی۔
میں نے قصہ تو سن لیا تھا لیکن میرا خیال تھا کہ میں مریض اوراس کے خاندان کی زبان سے ہی ساری باتیں دوبارہ سے سنوں توبہتر ہوگا، مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ پورا خاندان کس قسم کے زبردست دباﺅ کا شکار ہوگا۔
وہ سب ہی دباﺅ کے شکار تھے، ان دونوں کو بلانے سے قبل میں اس کے باپ کوپہلے سے بلا کر ان کی باتیں سن چکا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ کئی دفعہ خودکشی کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ اب اسے ہر وقت کسی نہ کسی کے زیرنگرانی رکھنا پڑتا ہے۔ گھر میں بھی اس پر نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں وہ باورچی خانے سے چھری نکال کر اپنے آپ پر وار نہ کرڈالے۔ کمروں کے دروازوں کی چٹخنیاں نکال دی گئی ہیں کہ مبادا وہ کسی کمرے میں بند ہوکر اپنے آپ کو پھانسی نہ دے لے۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایک ملازم رہتا ہے۔ اکلوتا بیٹا اور اس کا یہ حشر کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ ماں اور بہنیں ہر وقت آنسو بہاتی رہتی ہیں ۔ نہ جانے کس کی بددُعا یا کسی کی نظر لگی ہے کہ یہ سب کچھ ہو گیا ہمارے ساتھ۔ انہوں نے بڑے درد بھرے الفاظ میں مکمل کہانی سنائی تھی۔
وہ مشرقی پاکستان سے لُٹے پٹے کراچی آئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں اچھا کاروبارتھا۔ بہار سے وہ لوگ مغربی پاکستان کے بجائے ڈھاکہ چلے آئے تھے۔ وہاں ہی ان کے باپ نے محنت کی اور آہستہ آہستہ کرکے کاروبار جمایا تھا۔ کم عمری سے ہی وہ اپنے والد کے ساتھ ان کا ہاتھ بٹانے لگے تھے۔ دیکھتے دیکھتے ہی انہوں نے وہ سب کچھ حاصل کرلیا تھا جس کی ہرآدمی کوشش کرتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں سب کچھ مِلا تھا ہم لوگوں کو۔
بڑی محنت کی تھی ہمارے خاندان نے صبح سے شام تک کام کرتے تھے اور اﷲ نے اس کا پھل بھی دیا۔ اچھے پیسے کمائے، دوست عزیز، رشتہ دار سب کی مدد بھی کی۔ مکان بھی بنایا اور سوچا بھی نہ تھا کہ رُت ایسے بدلے گی کہ سب کچھ ختم ہوجائے گا۔
بنگلہ دیش تو ایک بڑا دیش بنا مگر نہ جانے کتنے چھوٹے چھوٹے دیش تباہ و برباد ہوگئے۔ بچے یتیم ہوئے، بیویاں بیوہ ہوگئیں اوراپنے جوان بچوں کی موتوں کا ماتم کرتے ہوئے مائیں اپنا آپ کھوبیٹھیں ۔ بہن بھائیوں کو یاد کرتی ہیں اوربھائی اپنی بچھڑی ہوئی بہنوں کے بارے میں ڈراﺅنے خواب دیکھ دیکھ کر نہ جانے کیسے زندگی گزاررہے ہیں ، کیوں ہوتا ہے ایسا۔کچھ سالوں کے بعد وہی کہانی دُھرائی جاتی ہے۔ ان کے لہجے میں بڑا کرب تھا۔
شکر ہے ہمارے خاندان کی دونوں جوان لڑکیاں میری دونوں بہنیں اغواءنہیں ہوئیں بلکہ گولی کا نشانہ بن کر مرگئیں ۔ میں ، میری ماں اورمیرے والد ان کے لیے فاتحہ پڑھ لیتے تھے، انہیں یاد کرکے رولیتے تھے، اب میں بھی انہیں یاد کرتا ہوں تو یہی سوچتا ہوں کہ وہ کہیں جنت میں سکون سے آرام سے رہ رہی ہوں گی۔ میں ان کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان نہیں ہوتا ہوں ۔
مجھے اس قسم کی کہانیاں سننے کا شوق تھا، میرا خیال تھا کہ مریضوں اور مرض کو سمجھنے کے لیے اور اس کے بعد علاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام تصیلات کو جمع کیا جائے، ان کی چھان پھٹک کی جائے تو بہت ساری ذہنی گروہوں کو کھولنے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ذہنی مریضوں کا علاج ان گتھیوں کو کھولے بغیر ممکن نہیں ہے۔
مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر انہوں نے پھر کہنا شروع کیا تھا کہ جوکچھ بھی ہُوا دونوں جانب ہُوا، کیا بہاری کیا بنگالی، کیا فوجی اورکیا مکتی باہنی، کوئی بھی انسان نہیں رہا تھا۔ وحشت، دہشت، درندگی اور ظلم کے درجے نہیں ہوتے ہیں ، ڈاکٹر صاحب جیسے چوری اوربے ایمانی کے درجے نہیں ہوتے ہیں چور کو جانتے بوجھتے ہوئے چور نہ سمجھنا، بے ایمان کی بے ایمانی کی حمایت کرنا، چوری اور بے ایمانی سے زیادہ بڑے جرم ہیں ۔ جرم چاہے بڑا ہو یا چھوٹا جرم تو جرم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ظلم وستم، وحشت، دہشت، درندگی کی حمایت کسی بھی وجہ سے کی جائے وہ بھی وحشت، دہشت، درندگی ہی کہلائے گی۔ نہ جانے کیا ہوگیا تھا لوگوں کو۔ پاکستان کو بچانے کے لیے ایک بھی بنگالی کا قتل نہیں ہونا چاہیے تھا اوربنگلہ دیش بنانے کے لیے ایک بھی بہاری کو مارنا نہیں چاہیے تھا۔ کاش کسی لڑکی کی عزت نہ لوٹی جاتی، کاش کسی کو بھی ذبح نہیں کیا جاتا، کیا ضرورت تھی ان سب چیزوں کی۔ ان کی بات میں وزن تو بہت تھا مگر حقیقی دنیا میں توایسا نہیں ہوتا ہے۔ ایسا ہُوا بھی نہیں ہے اورشاید ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔
لوگ بالادستی کے لیے لڑیں گے، قومیں ایک دوسرے کا گلا کاٹیں گی، ایک دوسرے کی ماﺅں بہنوں کی حرمتوں کوپامال کریں گی، کبھی قومیت کے نام پر کبھی مذہب کے نام پر کبھی ملک بچانے کے لیے اور کبھی اپنی اناﺅں کی تسکین کے لیے۔ انسان تو یہی کرتے رہے ہیں ۔ ہزاروں سال کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے، میرے ذہن میں بھی اسی قسم کے خیالات آتے رہتے تھے۔
دو بہنوں کا دکھ لے کر اورسب کچھ ڈھاکہ میں چھوڑ کر میں اپنے خاندان کے ساتھ نیپال کے راستے کراچی پہنچ گیا تھا اور کراچی کے اورنگی ٹاﺅن میں زندگی ویسے ہی شروع کردی تھی جیسے میرے باپ نے ڈھاکے میں شروع کی تھی۔ وہاں میں ان کا ہاتھ بٹاتا تھا، یہاں انہوں نے میرا ہاتھ بٹایا۔ یہاں بہت جلد اﷲ کی مہربانی سے ہم لوگوں کو سب کچھ مل گیا۔ میں نے وہی کام یہاں کی سبزی منڈی میں شروع کردیا تھا۔ یہی ایک کام مجھے آتا تھا جو میں اچھے طریقے سے کرسکتاتھا پھر اورنگی ٹاﺅن چھوڑ کر گلشن اقبال جا بسنے میں بہت دیر نہیں لگی ہم لوگوں کو۔ |
عامر خان بیوی کی توہین پر کینیڈین باکسر پر ٹوٹ پڑے – Daily Hareef
Home / کھیل کود / عامر خان بیوی کی توہین پر کینیڈین باکسر پر ٹوٹ پڑے
Admin January 31, 2018 کھیل کود Leave a comment 153 Views
لندن: پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے ان کی بیوی فریال مخدوم اور نجی زندگی کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے پر پریس کانفرنس کے دوران سب کے سامنے کینیڈین باکسر فل لو گریکو کے منہ پر پانی کا گلاس دے مارا۔
گزشتہ روز باکسر عامر خان اور ان کے حریف باکسر فل لو گریکو کے درمیان ایک پریس کانفرنس کے دوران اس وقت بدمزگی ہوگئی جب گریکو نے سب کے سامنے نہ صرف عامر خان کی نجی زندگی کے بارے میں بولنا شروع کردیا بلکہ ان کی بیوی فریال مخدوم اور اینتھنی جوشوا کے تعلقات کے بارے میں بھی نازیباکلمات کہنے شروع کردئیے۔ پہلے تو عامر خان گریکو کی بات پر مسکراتے رہے تاہم جب معاملہ ان کی برداشت سے باہر ہوگیا تو انہوں نے ٹیبل پر رکھا ہوا پانی کا گلاس گریکو کے منہ پر دے مارا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق باکسر عامر خان تقریباً 2 سال بعد ایک بار پھر رنگ میں اتر رہے ہیں اور ان کی پہلی فائٹ 33 سالہ کینیڈین باکسر فل لو گریکو کے ساتھ 21 اپریل کو ہوگی۔ دونوں اسی حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں شریک تھے جب گریکو نے عامر خان کی نجی زندگی کو نشانہ بنانا شروع کردیاجسے سن کر عامر خان سخت اشتعال میں آگئے اور سامنے رکھا پانی کا گلاس گریکو کے منہ پر دے مارا جس کے جواب میں گریکو نے عامر خان پر حملہ کردیا.تاہم موقعے پر موجود دیگر افراد اور پروموٹرز نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا اس طرح یہ لڑائی مزید بڑھنے سے پہلے رک گئی۔ دونوں کے درمیان لڑائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ برس عامر خان اور ان کی اہلیہ فریال مخدوم اپنی گھریلو زندگی اور تنازعات کے باعث ساراسال خبروں کی زینت بنے رہے تھے۔ فریال مخدوم نے عامر خان کے گھروالوں پر الزام لگایا تھا کہ ان کے سسرالیوں اک رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے بعد ازاں عامر خان نے فریال کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے واپس لیتے ہوئے انہوں نے سب کچھ ٹھیک ہونے کا اعلان کیا۔ |
کرونا کے سبب پاکستان نئی مشکلات سے دوچار - Pakistan Times Online Pakistan Times | Pakistan Times Urdu | Weekly Pakistan Times | Pakistan Times Toronto | Pakistan Times Chicago
دنیا بھر کی طرح کرونا وائرس نے پاکستان کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اموات اور متاثرین مریضوں کے مطابق نئی رپورٹ سامنے آرہی ہے۔ جو پاکستان کے لئے اس طرح تیزی سے اموات ہونا کسی خطرے سے کم نہیں ہیں۔ پہلے ہی پاکستان اپنے اندرونی مسائل کے معاملات میں بہت سی مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ جس کے سبب پاکستان کی موجودہ حکومت کسی ایک ادارے میں درست کام کرنے کے لئے مشکلات کا شکار ہے۔ اب کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بہت بدترین حالات سے دوچار ہونا ہوگا۔ پہلے کے مقابلے اور بے روزگاری بڑھ جائے گی اور اس کی سبب غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے امکان ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں لاک ڈاﺅن ہونے کی وجہ سے پاکستان کی ساٹھ فیصد غریب آبادی سخت پریشان ہے۔ ان ساٹھ فیصد لوگوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو روز کماتے اور روز کھانے والے لوگ ہیں۔ لہذا اس وبا سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ اس وبا نے خوف و دہشت، معاشی بحران، بھوک و افلاک کے واقعات کو جم دے دیا ہے۔ ان تمام صورت حال میں پاکستان کے ساتھ اور بھی ملک شامل ہیں، ایسا لگتا ہے اس وبا کو دیکھ کر کہ جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے سخت ناراضی کا اظہار ہو۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس میں پاکستان کے دو بڑے شہر کراچی اور پنجاب جو آبادی اور معیشت کے لحاظ سے پاکستان کے اہم شہر اور صوبہ کہلاتے ہیں ان کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک متاثرین مریضوں کی تعداد 21 ہزار ہو گئی ہے جب کہ اموات پانچ سو کے قریب ہو چکی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 20 مئی تک ملک میں کرونا کیسز میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ 15 سے 20 مئی تک کیس بڑھیں گے۔ جس کی وجہ سے اسپتالوں پر دباﺅ میں اضافہ ہو گا تاہم اگلے مہینے تک ہم کرونا سے لڑنے کے لئے مزید تیاری کر لیں گے۔ ہو سکتا ہے ایسی صورت پر لاک ڈاﺅن میں سختی کی جائے۔ لاک ڈاﺅن میں کمزور طبقے کو زیادہ پریشانی پیش آتی ہے جو حکومت کے لئے اہم اور بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ پاکستان میں غریب لوگ کورونا سے زیادہ بھوک سے مرنے کے خوف کے ڈر کا شکار ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ غریب آدمی لاک ڈاﺅن کرنے کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہا ہے۔ اپنے طور سے موجودہ حکومت بہتر سے بہتر اقدامات انجام دے رہی ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین میں 44 ارب سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے جو کہ 7 دن میں 144 ارب 19 کروڑ روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈوس ادھانوم گھیبریوس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مزید اقدامات نہ کئے گئے تو جولائی کے وسط تک کرونا مریضوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کرونا وائرس پاکستان کے 115 اضلاع تک پھیل چکا ہے اور صوبہ پنجاب اور سندھ میں متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے نظام صحت پر نمایاں دباﺅ آرہا ہے اس تمام تر صورت حال میں پاکستان کو سماجی و اقتصادی اور غذائی کمی سے پیدا ہونے والے اثرات پر توجہ دینی چاہئے جب کہ ایسے حالات میں پاکستان کو ہر وقت مزید مالی معاونت کی ضرورت ہے ان ہی تمام تر کوشش کے پیش نظر پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سکھر میں دنیا کا سب سے بڑا سفید پرچم لہرایا گیا۔ کرونا کے خلاف جنگ لڑنے والے قومی ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے 300 فٹ بلند 48 فٹ لمبا اور 56 فٹ چوڑا دنیا کا سب سے بڑا سفید پرچم لہرایا گیا۔
دوسری طرف پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو رمضان المبارک میں مساجد عبادات بند کرنے پر لوگوں کی طرف سے شدید غصہ کا اظہار تھا جس کی وجہ سے حکومت اور علمائے اکرام کے درمیان رمضان المبارک میں تراویح، نمازوں اور اعتکاف کے حوالے سے مشروط اتفاق ہوا جس کے بعد 20 نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے اس کانفرنس میں ڈاکٹر عارف علوی کی سربراہی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں سے جید علماءو مشائخ اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ جس میں رمضان المبارک میں کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، صوبائی گورنر کے ساتھ ساتھ مفتی منیب الرحمن، مفتی تقی عثمانی، پیر امین الحسنات، علامہ راجا ناصر عباس، پیر چراغ الدین شاہ، علامہ عارف واحدی، مفتی گلزار نعیمی، علامہ امین شہیدی، ڈاکٹر ساجد الرحمن، پیر نقیب الرحمن سمیت دیگر علماءو مشائخ شریک ہوئے۔ علماءکے مشاورتی اجلاس کے بعد اعلامیہ میں 20 نکات پر اتفاق کیا گیا ہے جو نکات یہ ہیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی۔ صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی اگر فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے۔ جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہئیں وہ ایسا ضرور کریں، نماز سے بیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے۔ جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز پڑھائی جائے۔ 50 سال سے زائد عمر کے لوگ، نابالغ بچے اور کھانسی، نزلہ زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں۔ مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رہے۔ مسجد امام بارگاہ انتظامیہ یا ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکے۔ وضو گھر سے کرکے مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں۔ صابن سے 20 سکینڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔ لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں۔ کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں۔ اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔ گھر واپسی آنے کے بعد ہاتھ لازمی دھوئیں۔ موجودہ صورتحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر ہی اعتکاف کیا جائے۔ کرونا وائرس سے جاں بحق مریضوں کی تدفین پر بھی ایک مسئلہ درپیش آیا۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے جاں بحق مریضوں کی تدفین کا انکشاف ہوا جس کے بعد پاکستان اسٹیل نے 80 ایکڑ اراضی پر قائم قبرستان غیر قانونی قرار دے دیا۔ کراچی میں کرونا وائرس سے ہلاک افراد کی تدفین کے لئے قائم قبرستان سے متعلق تنازع کھڑا ہو گیا۔ جاں بحق مریضوں کی تدفین پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی پر کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اسٹیل نے سندھ بورڈ آف ریونیو کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ ارسال کیا۔ جس میں پاکستان اسٹیل کی ٹاﺅن شپ کی 80 ایکڑ اراضی پر قائم قبرستان غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ہی کراچی کے علاقے بن قاسم میں ایک نیا قبرستان بنایا گیا یہ قبرستان 80 ایکڑ پر محیط تھا جہاں پہلے شخص کی تدفین بھی کردی گئی جو کرونا وائرس کا مریض تھا اور اس کی عمر 74 سال تھی۔ اس سے قبل کراچی میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین کے لئے 5 قبرستان مختص کئے گئے تھے۔ جن میں محمد شاہ، مواچھ گوٹھ، کورنگی، اورنگی ٹاﺅن، گلشن ضیاءاور سرجانی کے قبرستان شامل تھے۔ اس تنازع کا تا حال ابھی کوئی حل حکومت کی جانب سے سامنے نہیں آیا۔ تمام تر صورتحال کے معاملات پر حکومت اپنی پوری کوشش کررہی ہے ان کو با آسانی حل کیا جا سکے پر افسوس کی با تو یہ ہے کہ اس خطرناک وبا سے نمٹنے کے موقع پر بھی پاکستان میں کچھ سیاسی رہنما انسانیت سے نہیں بلکہ سیاست سے کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں موجود کرپٹ نظام میں اس وباءسے پیش ہونے والے مسئلے نئی حکومت کے لئے ایک سخت امتحان ہے۔ |
ابوحنیفه، امام اعظم اهل سنت، قبر امام صادق علیه السلام کے جاروکش تھے - UrduLib اردو لائبریری | Islamic book
ابوحنیفه، امام اعظم اهل سنت، قبر امام صادق علیه السلام کے جاروکش تھے
اسلامامام جعفر صادق علیه السلام
امام ابوحنیفہ، مفتی اعظم اہل سنت، امام صادق علیہ السلام کی مستقل زیارت کے لئے جاتے تھے اور آنحضرت کی قبر سے ہمیشہ مدد طلب کرتے تھے۔
مفتی عبد الغیور کے بیٹے مفتی محمود، کتاب «رد وهابی» صفحہ نمبر ۳۴ میں جو حجہ الاسلام کے نام سے مشہور ہے اس میں لکھتے ہیں:
اسی طرح سے استاد المحدثین مایه افتخار سید المرسلین علیه الصلوه من رب العلمین عنی حضرت امام اعظم نے بعض ائمہ ہدی کی قبر سے مدد طلب کی ہے۔ |
محبت کریں پاگل نہ بنیں - انشائیہ - تعلیم کہانی
محبت کریں پاگل نہ بنیں – انشائیہ
filza majeed>
Post author:filza majeed
زندگی کے بہت سے مرحلوں سے گزرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ محبت بھی ہوش و حواس میں رہ کر کرنی چاہیے کسی ایک شخص یا کسی ایک چیز کے پیچھے پاگل نہیں بننا چاہیے۔
اکثر لوگ اپنے محبوب کے پیچھے یوں دیوانے ہو جاتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ اِنکی زندگی کا بس ایک یہی مقصد رہ گیا ہے، ان میں سے بہت سے لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کئی ناکام ہو جاتے ہیں، اور جو ناکام ہو جاتے ہیں ان میں سے کوئی شرابی بن جاتا ہے کوئی پاگل ہو جاتا ہے اور کچھ لوگ ایسے سمجھدار بھی ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ " چلو یہ نہیں تو کوئی اور سہی" ایسے لوگ مجھے بہت پسند ہیں۔
ویسے تو انسان کو اپنی پہلی آرزو یا پہلی محبت کو بھولنا نہیں چاہیے کیوں کے اس کے لیے اس نے بہت سے خواب سجائے ہوتے ہیں۔ لیکن پہلی محبت میں ناکامی کو اپنی زندگی کی ناکامی سمجھنا بھی پاگل پن ہی ہے۔
کچھ تو ایسے نادان بھی ہیں جو اپنی ناکامی پہ خودکشی کرنے کا سوچ لیتے ہیں، کئی خودکشی کر بھی لیتے ہیں۔ مثلاً ، اگر کسی کی بچپن سے یہی آرزو ہو کہ وہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا لیکن اسے میڈیکل کالیج میں داخلہ نہیں ملتا تو وہ خودکشی کا سوچ لیتا ہے، بندہ پوچھے ارے بھئی خدا کے بندے کیا اس دنیا میں بس یہی کام رہ گیا ہے۔
بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص میری محبت ہے لیکن اس فلاں شخص سے ان کی کوئی شناسائی بھی نہیں ہوتی اور پھر ایسے لوگ سبزی کی ٹوکڑی اٹھا کر اس فلاں شخص کے گھر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ آئے گا اور مجھ سے سبزی خریدے گا اور وہ شخص جب باہر آتا ہے تو اس سبزی والے کو دیکھے بغیر ہی گزر جاتا ہے اور وہ سبزی کی ٹوکڑی اٹھا کر گھر چلا جاتا ہے کہ اگر اُس نے سبزی نہیں خریدی تو کسی کو بھی فروخت نہیں کروں گا، ارے بھئی خدا کے بندے اگر تو گھر سے سبزی فروخت کرنے ہی آیا ہے تو اُسے نہیں تو کسی اور کو ہی فروخت کر کے جا۔
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ انسان کو ایک مقصد میں ناکامی کے بعد اس سے بھی اچھا مقصد ڈھونڈ لینا چاہیے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ناکامی کے بعد اس سے بھی بڑی کامیابی آپ کی دہلیز پہ ہو اور آپ پہلی ناکامی کے غم میں ڈوبے ہوں اور وہ دہلیز پہ آئی کامیابی بھی وہاں سے رخصت ہو جائے۔
اور بقول آتش
"یہ جنس مکرر اک نظر اس کو دکھا دیں گے
جو کوئی مشتری بازار عالم میں حسیں آیا"
اور میں بھی کسی خوبصورت منزل کی تجسس میں ہوں اور ہونا بھی چاہیے، کیوں کے جو لوگ اپنی ایک تمنّا کی خاطر اپنی زندگی برباد کر دیں تو وہ پھر جہالت ہی ہوئی اور ایسی جہالت کو نام محبت کا دے دیتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ناکامی کے بعد اپنے محبوب کو نقصان پہنچانے لگ جاتے ہیں کہ اگر میرا نہیں تو کسی کا نہیں، ارے بھئی محبت تو وہ ہوتی ہے جس میں عاشق اپنے محبوب کی خوشی کی خاطر محبوب کے محبوب کے لیے دعا مانگتا ہے۔ |
سال نو کی رات واٹس ایپ پر کتنے ارب پیغامات کا تبادلہ
سال نو کی رات واٹس ایپ پر کتنے ارب پیغامات کا تبادلہ ہوا جان کرسوچ میں پڑ جائیں گے
05:23 PM, 9 Jan, 2017
نیو یارک: واٹس ایپ نے کہا ہے کہ سال نو کی رات اس کے صارفین کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کی مجموعی تعداد 63 ارب تک پہنچ گئی جو واٹس ایپ ایپلی کیشن کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔
واٹس ایپ ایپلی کیشن کے ذریعے لوگ تحریری پیغامات ، تصاویر اور وڈیوز کے تبادلے کے علاوہ آڈیو اور وڈیو کال سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ 63 ارب پیغامات میں تقریبا 7.9 ارب تصاویر اور 2.4 ارب کے قریب وڈیوز شامل ہیں ۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ ایپلی کیشن کے مالکانہ حقوق رکھنے والی کمپنی فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زوکربرگ نے گزشتہ برس اپریل میں بتایا تھا کہ واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر ان دو ایپلی کیشنوں کے ذریعے روزانہ بھیجے جانے والے پیغامات کی مجموعی تعداد 60 ارب کے قریب ہے۔
اس کے مقابل ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے صارفین روزانہ 15 ارب پیغامات بھیجتے ہیں۔فیس بک نے 2014 میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ کے عوض واٹس ایپ کمپنی کو خرید لیا تھا اور اب دنیا بھر میں واٹس ایپ ایپلی کیشن کو استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 1 ارب سے زیادہ ہے۔ |
پی ٹی آئی کامشترکہ طور پر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے فیصلہ
اسلام آباد، 11 اپریل (یو این آئی) پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل اور نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے پیش رفت دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 تاریخ کو آپ کو غیر ملکی مراسلہ موصول ہوتا ہے اور 8 تاریخ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے، اگر کوئی اسمبلی میں بیٹھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا یہ آپ اس سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی بھی بیرونی طاقت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور حکومتیں توڑنے میں کردار ادا کرے، عمران خان دنیا اور امریکہ کو 'ایبسلوٹلی نوٹ' کہہ چکے ہیں۔
اپوزیشن کے حوالے سے مراد سعید نے کہا کہ پاکستانی قوم نے انہیں مسترد کردیا ہے، یہ پہلے بھی کرپٹ تھے اب بھی کرپٹ ہیں، پہلے بھی بین الاقوامی سازشوں کا حصہ تھے اور اب بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سیمستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بعدازاں ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں مراد سعید نے کہا کہ جن کی حرصِ زر، ہوس اقتدار نے میری قوم کو"بھکاری"بنایا ان کو ملک کا سربراہ نہیں مانوں گا۔اس سلسلے میں فرخ حبیب نے بھی ٹوئٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے'۔
پارٹی کے فیصلے کے بعد فواد چوہدری نے بھی مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادی کے لیے لڑیں گے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکاء نے عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کروائی۔اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جارحانہ سیاست پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ استعفوں سے متعلق عمران خان جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جو بھی وزیر اعظم حکومت سے باہر نکلتا ہے تو اُس پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں الحمد اللہ عمران خان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں۔
اجلاس میں موجود کچھ اراکین نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں جمہوری لڑائی کی تجویز بھی پیش کی۔اس موقع پر فواد چوہدری، حماد اظہر، شیخ رشید، علی اعوان مستعفی ہونے کے حق میں تھے جبکہ شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، فخر امام سمیت اکثریتی ارکان مستعفی نہ کی تجویز پیش کی تھی۔تاہم پارٹی کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی اراکین نے اسمبلی کی رکینیت سیاستعفیٰ دینے شروع کردیے ہیں۔
سعودی عرب : مساجد میں بھیک مانگنے پر4 گرفتار
MPCC Urdu News 11 April 22
کشمیر(پاکستان) پریمیئرلیگ کا کوہلی کو لیگ کھیلنےکی دعوت دینےکا اعلان
حج سیزن کی تیاریاں : مشاعر مقدسہ میں کُولنگ اور پانی کی فراہمی کے ترقیاتی منصوبے
ہاردک پٹیل نے گجرات الیکشن سے چند ماہ قبل کانگریس استعفیٰ دے دیا، پارٹی کو بڑا جھٹکا : بی جے پی میں شمولیت ممکن |
نائیجیریا میں جلوس عزا پر دہشت گردانہ حملے میں کم سے کم بیس عزادار شہید اور زخمی
News ID : 88323
Published : 28/11/2015 18:30
نائیجیریا میں جلوس عزا کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں کم سے کم بیس عزادار شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ محمد توری نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ داکا سوئے نامی گاؤں میں اس وقت ہوا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد عزاداری کے جلوس میں شریک تھی۔ بتایا گیا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں مجموعی طور پر بیس افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ نے شھید والوں کی صحیح تعداد کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر کہا کہ ایک خودکش حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے۔ جس نے اعتراف کیا کہ اسے بوکو حرام نے اغوا کر کے خودکش دھما کے کی تربیت دیکر بھیجا ہے۔
نائیجیریا میں اس سے پہلے بھی متعدد بار، شیعہ مسلمانوں اور عزاداری کی مجالس پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ تکفیری دہشت گردوں کا گروہ بوکو حرام نائیجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک میں سرگرم ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق بوکوحرام کی دہشت گردانہ کارر وائیوں میں سترہ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ |
2010 | میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ What Am I
بدلہ جانوروں سے ؟ ؟ ؟
ميں پہلے بدلہ انسانوں سے لکھ چکا ہوں جس ميں اس سلسلہ ميں اللہ کا فرمان نقل کر چکا ہوں ۔ ہم لوگ اتنے خود پسند اور خود غرض ہو چکے ہيں کہ بے زبان جانوروں کو بھی معاف نہيں کرتے ۔ انسان بول سکتے ہيں بدلہ لے سکتے ہيں مگر جانور جو ايسا نہيں کر سکتے ہمارا رويّہ اُن کے ساتھ بہتر ہونے کی بجائے ظالمانہ ہوتا ہے
پرانے زمانہ ميں لوگ اپنے گھر کی چھتوں پر يا برآمدے ميں محراب کی چوٹی سے دو برتن لٹکا ديا کرتے تھے اور روزانہ ايک ميں دانہ اور ايک ميں پانی ڈالا کرتے تھے ۔ يہ کام صرف مالدار نہيں کم مايہ لوگ بھی کرتے تھے اور کئی اب بھی کرتے ہيں ۔ پرندے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی حمد کرتے ہيں کيا وہ انسانوں کيلئے خير کی دعا نہيں کر سکتے ؟
ميں نے بچپن ميں چيوٹيوں کی لمبی قطار لگی ديکھی تو اپنے گھر والوں کو مطلع کيا ۔ کہا گيا "ديکھو چيونٹياں کہاں سے آ رہی ہيں ۔ وہاں ايک مُٹھی آٹا ڈال دو"۔ ميں نے تعميل کی اور چيونٹيوں کا جائزہ لينے لگا ۔ کچھ ہی دير ميں سب چيونٹياں آٹا اپنے بِل ميں ليجا رہی تھيں ۔ اس کے بعد گھر ميں کوئی چيونٹی نظر نہ آئی
ہم نے اساتذہ اور بزرگوں سے سنا تھا کہ ايک درخت کاٹا جائے يا فالتو پانی بہايا جائے تو اس کا بھی روزِ محشر حساب دينا ہو گا ۔ بدلہ لينے کے سلسلہ ميں اللہ کا فرمان ہے بے زبان سے کيا بدلہ لينا جسے اس بات کی سمجھ ہی نہيں کہ وہ اپنا رزق تلاش کرتے ہوئے کسی کی نازک طبع پر گراں گذر رہا ہے
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالٰی ظالموں سے محبت نہیں کرتا
This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on December 30, 2010 by افتخار اجمل بھوپال.
اے تے فير ہے
مسلم لیگ [نواز] کے سینیٹر ظفر علی شاہ نے عدالتِ عظمٰی ميں پٹیشن دائر کر دی ہے جس ميں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 101 کے مطابق صدر نے وزیراعظم کی مشاورت سے گورنرز کا تقرر کرنا ہوتا ہے جبکہ موجودہ چاروں گورنرز کا تقرر مشرف دور میں ہوا جو اب غیرآئینی ہوچکا ہے لہٰذا چاروں گورنرز کو کام کرنے سے روکا جائے اور گورنرز کے تقرر کے احکامات غیر آئینی قرار دیئے جائیں ۔ ظفرعلی شاہ نے اپنی پٹیشن میں وفاق ۔ صوبائی حکومتوں اور گورنرز کو فریق بنایا ہے
This entry was posted in خبر, روز و شب on December 29, 2010 by افتخار اجمل بھوپال.
ایٹم بم بنانے کا بنیادی کام کس نے کیا ؟
تعلیم یافتہ لوگوں نے تو انشقاق یا انفجار [Fission] کا نام سنا ہو گا اور کچھ ایٹمی ہتھیار بنانے میں اس عمل کی اہمیت سے واقف ہوں گے لیکن عوام اس کی تاریخ یا اہمیت سے زیادہ واقف نہیں
1932ء میں انگریز سائنسدان جیمز چیڈوِک [James Chadwick] نے ایٹم کے قلب [Nucleus] میں ایک نیوٹرل یعنی غیر برقی چارج والا ذرّہ [Neutron] دریافت کیا تھا یہ پہلے سے وہاں مثبت چارج والے ذرّہ پروٹون [Proton] کے علاوہ تھا۔اس ذرّہ کی موجودگی کی پیشگوئی دوسرے انگریز سائنسدان رَدرَفورڈ [Rutherford] نے 1920ء میں کر دی تھی لیکن اسی رَدرَفورڈ نے ایٹمی قوت کے سول مقاصد کے استعمال کے نظریہ کو احمقانہ خیال قرار دیا تھا
اس دریافت کے بعد یورپ و امریکہ میں سائنسدانوں نے مختلف اقسام کے ایٹموں پر نیوٹران مارنے اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا
اٹلی کے مشہور نوبل انعام یافتہ فرمی[Fermi]نے یورینیم کے ایٹم پر جب نیوٹران مارے تو معلوم ہوا کہ کئی دوسرے اقسام کے ایٹم [دھات] بن جاتے ہیں اس نے غلطی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یورینیم خود سے زیادہ بھاری دھات میں تبدیل ہو گیا ہے لیکن اسی وقت برلن میں اْوٹوہان [Otto Hahn]جس کو 1944ء میں نوبل انعام ملا تھا اور اس کے ساتھی شٹراسمن [Strassmann]نے نہایت جامع اور صحیح کیمیائی طریقے سے معلوم کیا کہ بیریم [Barium] دھات بن گئی تھی اور فرانس میں ایرینے جولیو کیوری [Irene Joliot-Curie] نے ایسے ہی تجربہ میں لنتھالم [Lanthalum] دھات دریافت کی
اسی دوران اْوٹوہان کی پرانی طویل رفیقہءِ کار لیزے مائٹنر [Lize Meitner] اور اس کا بھانجا اْوٹو فِرِش [Otto Frisch] ہٹلر کی یہود نسل کشی پالیسی سے ڈر کرسوئیڈن اور ڈنمارک بھاگ گئے تھے
اْوٹوہان نے اپنے تجربوں کے نتائج سے لیزے مائٹنر کو آگاہ کیا ۔ چند دن بعد ہی کرسمس کی تعطیل میں اْوٹوفِرِش اپنی خالہ کے پاس گیا تو دونوں نے ان نتائج پر غور شروع کر دیا اور فوراً اس اہم نتیجے پر پہنچے کہ نیوٹران کے ٹکراؤ سے یورینیم کا قلب تقریباً دو برابر ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا [جو مختلف دھاتیں تھیں] اور ان کا مجموعی وزن یورینیم کے قلب کے اصل وزن سے 20 فیصد کم تھا دونوں نے نہایت اہم نتیجہ اخذ کیا کہ یہ غائب شدہ وزن قوت یعنی انرجی میں تبدیل ہو گیا تھا جو بہت زیادہ تھی ۔ لیزے مائٹنر نے یہ بھی فوراً حساب لگا کر معلوم کر لیا کہ یہ تقریباً دو سو ملین الیکٹران وولٹ [Mev 200] کے برابر ہوتی ہے
بس یوں سمجھ لیں کہ یہیں سے ایٹمی دور شروع ہوا تھا۔ اْوٹوہان اور شٹراسمن کے تجربے اور نتائج سے واقف ہو کر ایک اور مشہور جرمن خاتون سائنسدان ایڈانوڈک[Ida Noddak] نے فوراً یہ تشریح پیش کی کہ ہان اور شٹراسمن نے غالباً یورینیم کے قلب کو نیوٹران سے دولخت کر دیا ہے یہ 1934ء کی بات ہے
جرمنوں کی بدقسمتی اور مغربی ممالک کی خوش قسمتی تھی کہ ہان اور شٹراسمن اور دوسرے جرمنوں نے اس صحیح تشخیص پر دھیان نہیں دیا اگر وہ اس کو سمجھ کر کام شروع کرتے تو دوسری جنگ عظیم سے پہلے یا اس کے شروع ہونے تک جرمن سائنسدان ہائزین برگ [Heisinberg] اور اس کے ساتھی ایٹم بم بنا لیتے
یہاں یہ بات زيرِنظر رہے کہ اْوٹو فِرِش نے ایٹم کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کو انشقاق [Fission] کا نام دیا تھا انہوں نے یہ تشبیہ بیالوجی میں ایک سیل [Cell] کے دو حصوں میں بٹ جانے سے مستعار لی تھی۔ اوٹو فِرِش نے امریکہ میں ایٹم بم کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا اور بعد میں انگلینڈ میں پروفیسر کے فرائض انجام دیئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی اوٹو فِرِش اور ایک اور جرمن مہاجر سائنسدان پروفیسر روڈولف پائیرلس[Rudolf Peierls] نے حساب لگا کر سب سے پہلے ایٹم بم کی تیاری کے امکان پر ایک رپورٹ حکومت برطانیہ کو کوڈ نام [Maud Report] سے پیش کی تھی جس کے بعد ہی حکومت نے سنجیدگی سے اس اہم کام پر کام شروع کر دیا تھا۔
اوٹوفِرِش 1933ء میں بذریعہ ٹرین برلن سے ماسکو جا رہے تھے جہاں انہیں ایک کانفرنس میں شرکت کرنا تھی ۔ اسی ڈبہ میں ہومی بھا بھا جو بعد میں انڈین اٹامک کمیشن کے چیئرمین بنے، بھی بیٹھے تھے ۔ راستے میں جان پہچان ہو گئی اور انہوں نے ماسکو میں ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا۔ ایک روز بھا بھا نے اوٹو فِرِش کو بتلایا کہ وہ واپس لندن جا کر ہندوستان روانہ ہو جائے گا جہاں وہ ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا سربراہ بنے گا، ساتھ ہی اس نے پوچھا کہ کیا فِرِش
اس کو گائگر کاؤنٹر [Geiger Counter] استعمال کرنا سکھا سکتا ہے ؟ فِرِش کے تعجب کی انتہا نہ رہی کہ کیمبرج یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری والا
ایک چھوٹا سا آلہ استعمال کرنا نہیں جانتا ۔ یہ آلہ تابکار شعاعوں [Radioactivity] یا ذرات کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے اور کوٹ کی جیب میں رکھا جا سکتا ہے۔
This entry was posted in تاریخ, معلومات on December 24, 2010 by افتخار اجمل بھوپال.
خاموش سازش ؟
مُجرم جُرم کرتا ہے ۔ مُجرم کا تو کام ہی جُرم کرنا ہے ۔ مُجرم سازش نہيں کرتا
سازشی وہ ہيں جو جُرم کی منصوبہ بندی کرتے ہيں
وہ ہيں جو جُرم ہوتے ديکھتے ہيں اور جُرم کو روکتے نہيں
طالب علمی کے زمانہ ميں ايک استاذ نے بتايا تھا کہ کہ اگر کوئی جُرم ہوتا ديکھے اور اسے نہ روکے تو وہ جُرم ميں 10 فيصد حصہ دار بن جاتا ہے
آج سوچتا ہوں کيا فلسفہ تھا اس فقرے ميں ۔ ۔ ۔
اسی سلسلہ ميں مندرجہ ذيل ربط پر کلک کر کے ايک سير حاصل مضمون پڑھيئے
This entry was posted in تجزیہ, ذمہ دارياں, روز و شب, سیاست, طور طريقہ on December 23, 2010 by افتخار اجمل بھوپال. |
وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ترقیاتی کونسل تشکیل،آرمی چیف بھی رکن - Jasarat News Urdu
وزیراعظم کی سربراہی میں قومی ترقیاتی کونسل تشکیل،آرمی چیف بھی رکن
وزیراعظم عمران خان نے قومی ترقیاتی کونسل کے قیام کی منظوری دے دی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کونسل کے رکن ہونگے۔
تفصیلات کے مطابق قومی ترقیاتی کونسل 13 ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت وزیر خارجہ، مشیر خزانہ، وزیرمنصوبہ بندی، مشیر تجارت، وزیراعظم کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری منصوبہ بندی اور سیکرٹری خزانہ شامل ہیں۔
وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل قومی ترقی کے لیے پالیسیاں اور حکمت عملی اور پالیسیزبنائے گی، کونسل تیز تر اقتصادی ترقی کے حصول کے لئے پالیسیز پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
کونسل علاقائی اور قومی رابطوں کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی منظوری دے گی، قومی اقتصادی کونسل علاقائی تعاون کے لئے رہنما اصول فراہم کرےگی۔ |
ویڈیو سبق :تجارتی اکاونٹس کی اقسام
غلام حسین کیشورزی 2020/12/1 ایک حکمت عملی کا انتخاب
اورعلما ء کے لیے تو اردو میں بہت ساری تفاسیر ہیں er بیوکوف ٹپ: ایک کریڈٹ کارڈ جو ڈپارٹمنٹ اسٹورز پر انعامات پیش کرتا ہے تجارتی اکاونٹس کی اقسام اس میں آن لائن اور اسٹور میں خریداری کے ل different مختلف شرائط ہوسکتی ہیں۔ اپنے انعامات کو سمجھنے کے ل your اپنے کارڈ کی شرائط کا جائزہ لیں۔ اگر آپ زیادہ آن لائن ڈپارٹمنٹ اسٹور شاپر ہیں تو آن لائن شاپنگ کے لئے نیرڈ واللیٹ کے بہترین کریڈٹ کارڈز پر ایک نظر ڈالیں۔
تغیرات کا مارجن تجارت کو مارجن کی سطح کو یقینی بنانے کے لئے درکار فنڈز کی مقدار سے مراد ہے۔ یہ متعدد عوامل پر منحصر ہے ، جس میں متوقع قیمت کی نقل و حرکت ، اثاثہ کی قسم ، اور مارکیٹ کے حالات شامل ہیں۔ یہ بیلٹ کمر کی چوٹ کے واقعات کو کم کرتے ہیں ، جو دیکھ بھال کرنے والے نااہل مریض کی منتقلی کے دوران تجربہ کرسکتے ہیں۔ گیت بیلٹ چمڑے ، کپاس ، نایلان یا کینوس سے بنے ہیں۔
اسٹاک / انڈیکس یا فاریکس / اجناس / فیوچر پر ایک اختیاری معاہدہ کو بنیادی حیثیت سے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ مختلف امریکی تنظیمیں ان قسموں کو باقاعدہ کرتی ہیں۔ اسٹاک / انڈیکس کے مابین تمام آپشن معاہدوں کی نگرانی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور فنانشل انڈسٹری ریگولیٹری اتھارٹی (فنرا) کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ کموڈٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن (سی ایف ٹی سی) اور نیشنل فیوچر ایسوسی ایشن (این ایف اے) کے ذریعہ غیر ملکی کرنسی / اجناس / مستقبل سے متعلق اختیارات کے معاہدوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ زیادہ پروٹین کا استعمال گردوں اور جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور آسٹیوپوروسس کا سبب بن سکتا ہے ، ایسی حالت میں جہاں لوگ کھوکھلی ، چھل bonesے ہڈیوں کی نشوونما کرتے ہیں (24)۔
WooCommerce روزمرہ کے 11 حالات کے لیے تیار شدہ سانچے فراہم کرتا ہے ای میلز جواب دے سکتی ہیں۔ انہیں دیکھنے اور ترتیب دینے کے لیے ، اپنے ورڈپریس انسٹالیشن پر جائیں ، WooCommerce.
سب سے پہلے اور یہ کہ آپ کو اس طرح کے پھیلاؤ کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ بروکر چارج کرتا ہے۔ لاعلم افراد کے ل this ، یہ ایک خاص فاریکس جوڑی کی 'خرید' اور 'فروخت' قیمت میں فرق ہے۔ مثال کے طور پر ، ہم کہتے ہیں کہ GBP / USD پر خرید کی قیمت '1.3117' ہے ، اور فروخت کی قیمت '1.3120' ہے۔ آپ کو اپنے رضاکارانہ وقت یا عطیات کے قابل بہت سارے تجارتی اکاونٹس کی اقسام وجوہات مل سکتے ہیں۔ رضاکاروں کے مواقع دریافت کرنے کے لئے رضاکارانہ میچ چیک کریں۔ اگر آپ فوج کے ممبروں کا شکریہ کے طور پر کچھ عطیہ کرنا چاہتے ہیں تو ، نیشنل ملٹری فیملی ایسوسی ایشن دیکھیں۔ (فوجی لوگ اس سائٹ کو مختلف قسم کے فوائد کے بارے میں جاننے کے ل to استعمال کرسکتے ہیں۔)
بہت مشکل کے بغیر وہ تین آسکر حاصل کرنے میں کامیاب رہے.
.ویڈیو سبق آئی آر اے اور دوسرے اکاؤنٹ جن میں آپ ریٹائرمنٹ کے لئے بچت کررہے ہیں وہ بعض اوقات آپ کو تجارت کے اختیارات کی اجازت دیتے ہیں ، لیکن مارجن ٹریڈنگ کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ حدود آپ کے تحفظ کے ل are ہیں کہ آپ اپنی طویل مدتی سرمایہ کاری میں بڑے نقصانات کے خطرہ سے بچیں جو کبھی بھی اتنے اعلی خطرہ پر نہیں ڈالنا چاہئے۔ داخلی محصول کے کوڈ کے ذریعہ ہر سال جو سب ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس میں آپ حصہ ڈال سکتے ہیں وہ محدود ہے۔ یہ حیرت کی بات ہوسکتی ہے ، لیکن آپ retracement کی سطح کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے صرف ایک موم بتی کا استعمال کرسکتے ہیں ، جو اصل میں کام کرے گا۔ جب آپ کو چارٹ پر لمبی دم والا پن بار یا ہتھوڑا موم بتی دکھائی دیتا ہے تو ، آپ بازار کے آدھے حصے کی سطح پر مارکیٹ میں داخل ہونے پر غور کرسکتے ہیں ، موم بتیاں کم کرتے ہوئے اسٹاپ لاس کو بھی رکھ سکتے ہیں ، اور پھر پہلا منافع لیں۔ اونچی سلاخوں پر اور پھر دوسرا اور تیسرا برابر وقفوں پر مزید منافع لیں۔ چاہے آپ اسٹاک ٹریڈنگ اور مختلف تجارتی اسلوبوں پر تحقیق کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ، یا اگر آپ اپنا تجارتی سفر شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ آپ کس قسم کے تاجر ہیں ، تو آپ صحیح جگہ پر ہیں۔ اس مضمون میں ، ہم آپ کے ساتھ دو عمومی قسم کے تاجروں کا تبادلہ کریں گے - ایک سوئنگ تاجر اور ایک دن کا تاجر۔ آپ یہ جاننے میں مدد کرنے کے علاوہ کہ آپ کس قسم کے تاجر ہیں ، ہم کچھ ایسے طریقے یا حکمت عملی بھی پیش کریں گے جو آپ کے مخصوص انداز کی بنیاد پر آپ کے لئے بہترین کام کرتے ہیں۔ کمپنی کی تفصیل: تعلیم اور جدت کے رہنما کی حیثیت سے ، Indian River State College اعلی معیار کی ، سستی اور قابل رسائی تعلیم کی پیش کش سے زندگیوں کو تبدیل کرتا ہے۔ IRSC ایک جامع کالج ہے جس میں بکلوریٹی ڈگری ، ایسوسی ایٹ ڈگری ، اور کیریئر اور تکنیکی سرٹیفکیٹ دینے کے لئے تسلیم کیا گیا ہے۔ ایک اور زبردست نسخہ اس کا Evernote انضمام ہے ، جو خود بخود محفوظ کردہ مضامین کو فیڈلی سے Evernote نوٹوں میں بدل دیتا ہے۔ شمع روشنی کا نمونہ کسی اسٹاک کے بارے میں کچھ جانکاری تحمیم سے پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ خاص طور پر ، یہ کسی مقررہ مدت کے دوران اسٹاک کے لئے کھلی ، اعلی ، کم اور قریبی قیمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں متعدی برسائٹس کی علامات میں سے ایک اعصابی نظام کو پہنچنے والا نقصان ہے ، جب ترکی اپنے پیروں پر اچھی طرح سے کھڑا نہیں ہوتا ہے ، گرتا ہے یا اپنے پنجوں پر بیٹھتا ہے۔ آپ کو مرغیوں کا علاج کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ، اس بیماری کا علاج تیار نہیں کیا جاسکا ہے۔ تمام بیمار مرغیوں کو فوری طور پر ذبح کردیا جاتا ہے۔ میٹا ٹریڈر 4 (MT4) کے بہت سے فوائد ہیں۔ یہ ٹرمینل 10 سال قبل مارکیٹ میں نمودار ہوا تھا لیکن فاریکس تاجر سال بہ سال اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اس مضمون میں ، ہم آپ کو ان اہم وجوہات کے بارے میں بتائیں گے کہ آپ کو اس آلے کو کیوں آزمانا چاہئے۔ اسے دیکھنے کے لئے دو اور طریقے یہ ہیں: یہ منصوبہ وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوسکتا ہے.
سکرینیں لیس ہیں ایکٹو ڈیجیٹائزر دوسری طرف ، یہ ایک سے زیادہ دباؤ کی سطح کے ساتھ حساسیت کے ساتھ ، تحریری طور پر نمایاں طور پر اعلی صحت سے متعلق پیش کرتا ہے ، جو اسکرین پر لکھنے کو ہموار بنا دیتا ہے ، کاغذ کے مقابلے میں تقریبا موازنہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ، وہ آپ کو اجازت دیتے ہیں لکھنا اپنی ہتھیلی کو اس پر رکھتے ہوئے ، بغیر کسی غیر ارادی رابطے کو اسٹائلس میں مداخلت کا خطرہ بنائے (جس کی خصوصیت کہا جاتا ہے) کھجور کو مسترد کرنا ).
بدر نے تاکید سے کہا کہ 'مواد کیا بنانا ہے یا کیا نہیں یہ سب سائنٹیفک بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ مفروضوں یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر۔ سائنٹیفک ڈیٹا ہے جو آپ کو بتائے گا کہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں اور سرچ کر رہے ہیں۔ اس کے مطابق اگر آپ مواد بنائیں گے تو آپ کی کامیابی کا راستہ کم ہو جاتا ہے۔' PKM ٹریڈر کے نام سے جانا جاتا.
کیا آپ اپنی سرمایہ کاری کی تحقیق کے ل a مختلف انداز اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ، اس کا ایک حالیہ جائزہ یہاں ہے بس وال اسٹریٹ پلیٹ فارم پر پن بار کینڈلز اور سپورٹ/ مزاحمت کا استعمال کرتے ہوئے تجارتی اکاونٹس کی اقسام رحجان پلٹنے کی تجارت کے متعلق بیان کرتی ہے۔
ہر اثاثے کی لاگت کی بنیاد آفت سے پہلے اور بعد میں ہر اثاثہ کی منصفانہ مارکیٹ کی قیمت ہر اثاثہ کے لئے آپ کی بیمہ کمپنی کی طرف سے رقم کی واپسی کی رقم. سلامتی تجارتی اکاونٹس کی اقسام اور لین دین کی جوازیت: اگرچہ مارکیٹ میں کام کرنے کے ل more زیادہ شرکاء اہم ہیں ، اسی مارکیٹ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام شرکاء کی توثیق ہوجائے اور وہ ضروری قواعد و ضوابط کے مطابق رہیں ، فریقین میں سے کسی کے ذریعہ ڈیفالٹ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ مزید برآں ، اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ مارکیٹ میں کام کرنے والی تمام وابستگیوں کو بھی قواعد پر عمل پیرا ہونا چاہئے ، اور ریگولیٹر کے ذریعہ دیئے گئے قانونی فریم ورک کے تحت کام کرنا چاہئے۔ اگر تازه وارد این بازار شدهاید، ممکن است ویژگیهایی مانند منابع آموزشی پایه، واژه نامههای جامع، دسترسی آسان به کارکنان پشتیبانی و توانایی انجام معاملات آزمایشی (حساب دمو) قبل از شروع معامله با پول واقعی را در اولویت قرار دهید.
یوزگت کے قریب "ہاتوشا"کے آثار ملتے ہیں جو کہ حتی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ یہاں کے آثار سے پتھر کی سل پر لکھا ہوا ایک تحریری معاہدہ دریافت ہوا ہے جو کہ حتیوں کے بادشاہ اور فرعون مصر کے درمیان تھا۔ یہاں بعض ایسی سلیں بھی ملی ہیں جن پر ملک کا قانون درج تھا۔ غالباً عوام کی اطلاع کے لئے یہ سلیں تجارتی اکاونٹس کی اقسام کسی مرکزی چوک وغیرہ میں نصب کی جاتی ہوں گی۔ حتیوں نے اپنے دور میں ایک جاگیردارانہ معاشرہ قائم کیا جس میں غلامی تہہ در تہہ موجود تھی۔ آقا کو غلام کے جسم و روح پر مکمل اختیار حاصل ہوا کرتا تھا۔ جب کافی تعداد میں واپسی کی بات آتی ہے تو ، کمپنی تصدیق کی درخواست کرسکتی ہے (صحابہ کی توثیق صحابہ کی صوابدید پر کی جاتی ہے) ، اسی وجہ سے اپنے حقوق کی تصدیق کے ل individ اپنے لئے انفرادی طور پر اکاؤنٹ کا اندراج کرنا بہت ضروری ہے۔ کسی بھی وقت. اگر آپ کسی خاص مضمون میں مہارت رکھتے ہیں تو ، کیمسٹری یا حیاتیات کہتے ہیں ، آپ ہائی اسکول کے طلباء کی تدریس شروع کرسکتے ہیں اور گھر سے اضافی رقم کما سکتے ہیں۔
براؤزر ڈیفالٹس پر ایک نوٹ. ایک مخالف مختلف طریقوں سے آپکے کوائف کو خطرہ پہنچا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مخالف جیسے ہی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرتا ہے تو وہ آپکے ذاتی مراسلات پڑھ سکتا ہے یا وہ اسےمٹا سکتا ہے یا آپکے کوائف کو بگاڑ سکتا ہے۔ حتٰی کہ ایک مخالف تجارتی اکاونٹس کی اقسام آپکو آپکے کوائف تک رسائی سے محروم کر سکتا ہے۔ . ذیل میں کینیا میں 2021 میں شروع ہونے والے غیر استعمال شدہ کاروباری خیالات کی ایک فہرست ہے۔
غیر متعینہ دوئبرووی خرابی کی شکایت. ریفیکسنگ خدمات اور سامان خریدنا. ایس ای پی-آئرا سے تقسیمات قابل ٹیکس ہیں اور اس کی تقسیم on٪ / 2 before سے پہلے کی تقسیم پر ٪t فیصد سرفیکس کے تابع ہوسکتی ہے۔ |
میرا پالتو جانوروں کی تاریخ » 5 taboos کے ملنہ آپ کو توڑنے کی اور سے دور چلانا چاہئے
کیوں ایک ڈیٹنگ ٹیبوز کی طرف سے فنس کیا جانا چاہئے? اکثر ان پابندیوں کو صحیح وقت پر صحیح شخص کے اس پار آنے سے لوگوں کو روکنے کے; تقسیم اتار طلاقوں کی طرح اضافہ کی شرح کے ساتھ, یہ تو صرف ناقابل معافی ہے. تاکہ, آپ کو ایک تاریخ پر باہر جانے سے پہلے کیا کرنا چاہئے پہلی بات یہ ہے کہ ان پابندیوں کو توڑ رہا ہے. یہاں آپ میں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے کچھ ڈیٹنگ taboos ہیں.
1 اوہ! وہ آدمی اچھا لگ رہا ہے, لیکن میرے مقابلے میں بہت کم ہے.
اونچائی میں کیا ہے? مرد عورت سے کم ہے صرف اس وجہ سے ہے کہ کس طرح ایک رشتہ غلط جا سکتے ہیں? اس کی بجائے ایک انسان کی اونچائی پر جانچ پڑتال کی, تم نے اس کی صحت کے لئے زیادہ توجہ دینا چاہئے, شخص, تعلیم اور عقل. یقینا آپ کو اچھا لگتا ہے اور جیورنبل کی طرح زیادہ سطحی خصوصیات لئے جا سکتے ہیں (ہاں ان لوگوں شرارتی اوقات کے لئے), لیکن ایک آدمی کی اونچائی پر مبنی فیصلے کرتے یہ صرف قابل نہیں ہے.
2 میں پہل کرنے سے ایک ہو جائے کبھی نہیں ہونا چاہئے.
یہ بھی سب سے ہوشیار اور بہترین عورتوں میں سے کچھ رکاوٹ ہے کہ ایک ڈیٹنگ ممنوع ہے. یہ ممنوع اصل میں عورتوں پر اعتماد ملنہ ترجیح دیتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ ایک تصور سے حاصل ہوتی ہے, گو دلواتے ہیں اور مردوں کو ان کے مضبوط محسوس کرتے ہو جو خواتین کی طرف زیادہ آسانی سے enticed کر رہے ہیں جو مضبوط مرد, پر اعتماد اور گو مل رہا ہے. یہ صرف بیکار ہے.
یہ تمام مرد ایک جیسے ہیں کہ فرض کرنا بالکل غلط ہے. بہت سے ہیں, اور ہاں وجہ سے مسترد کرنے کی شدید خوف سے کبھی باہر نہیں عورتوں سے دعا گو بہت سے ہیں جو; خواتین ہمیشہ یہ ان کے باہر یا جنس سے پوچھ پہلی پہل کرنے کے لئے دو کی ضرورت ہے. یہ, تاہم, کسی بھی طریقے سے اس طرح کے مردوں عظیم زندگی شراکت داروں یا نہیں ہو سکتا ہے کہ حقیقت یہ قائم (آپ اتنی دور نہیں دیکھ رہے ہو، اگر) ڈیٹنگ کے ساتھی.
3 انہوں نے کہا کہ بل کو تقسیم کرنے کے لئے مجھ سے پوچھ رہا ہے; انہوں نے خواتین کے لئے حقیقی احترام ہونا ضروری ہے.
ضروری نہیں کہ; ان کی دیکھ بھال خود کو ظاہر کرنے کا موقع لاپتہ کے علاوہ دیگر, بل مردوں کو تقسیم کرنے کی خواہش ایک اندرونی بخل کا مظاہرہ ختم ہو جاتی ہے کی طرف سے. اس طرح مردوں سے دور رہو.
4 یہ صرف ہماری پہلی تاریخ ہے; کس طرح جنسی ہو سکتا ہے?
یہ خوفناک ڈیٹنگ ممنوع طرف سے فکر مند عورتوں کو مردوں پہلی رات ہی مباشرت حاصل کرتے ہیں جو خواتین کا احترام کبھی نہیں اور اس طرح ان کے ساتھ محبت میں گر کبھی نہیں کر سکتے ہیں کہ فرض.
ان عورتوں عظیم رشتے کو ایک فوری طور چنگاری یا کیمسٹری کے بارے میں اکثر ہیں یاد رکھنا چاہئے. آپ کی پہلی تاریخ پر جنسی تھا صرف اس وجہ سے, آپ کو آسان نہیں ہو جاتے. پہلی تاریخ پر جنسی اچھی طرح سے آپ اور آپ کے نئے ڈیٹنگ ساتھی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ واقعی سے gelling رہے ہیں اس حقیقت کے ایک اشارے سے ہو سکتا ہے.
5 اس لڑکے کو خوبصورت وہ لباس ہے, لیکن انہوں نے اپنے ساتھی ہے.
ممنوع ساتھیوں کے درمیان رومانی تعلقات کی وجہ سے اکثر حسد کی وجہ سے ممکن الپجیوی ہیں کہتا ہے کہ, تباہی, پکشپات اور گپ شپ. وہ ایک ٹوٹنے ان کے لئے بالکل دکھی کام کی جگہ پر زندگی بنانے کے ڈر ہے کہ کئی کے طور پر بھی دور اس طرح کے تعلقات سے دور شرم.
آپ workmate میں آپ کو ایک کامل زندگی کے ساتھی تلاش کر سکتے طور پر جتنی جلدی ممکن ہو اس ممنوع سے چھٹکارا حاصل کریں. اس طرح کے تعلقات کے بارے میں سب سے اچھی بات تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت کی ایک بہت خرچ کرنے کے لئے مل جائے گا ہے; آپ کے لئے اور کام سے ایک دوسرے کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں, آپ کو ایک ساتھ آپ کا کھانا ہو سکتا ہے, تو دفتر حاصل- togethers میں حصہ لینے اور. صرف یقین ہے کہ کہ آپ کی ذاتی فرق پڑے (جب وہاں کوئی بھی) کام کو متاثر نہیں کرتے.
کسی پر فیصلے کرتے وقت ان پابندیوں کو بڑا کردار ادا کرنے کی اجازت کبھی نہیں. ایسا کرنے کو صرف آپ کو آپ کی روح ساتھی کے لئے زیادہ انتظار کر دے گا. |
"روزہ کھولنے کی اداکاری!"
پاکستان میں پہلا روزہ۔ 11جولائی کو ،متوقع ہے ۔غریب غُرباءپریشان ہیں ،ا ِس لئے کہ روزے تو،سال میں ایک مہینے کے ہوتے ہیں اور اُن کا ثواب بھی مِلتا ہے ،لیکن ہر روز بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے ، اُن کے باقی گیارہ مہینے بھی تو ،فاقہ کشی میں گُزرتے ہیں۔ اور فاقہ کشی کا ، ثواب بھی نہیں مِلتا ۔اولیائے کرامؒ ۔ اپنی مرضی سے ، فاقہ کشی اِس لئے کرتے تھے کہ ،رات کو نیند کم آئے اوروہ زیادہ وقت، یادِ الہیٰ میں گُزار سکیں ۔متحدہ ہندوستان میں ،افغان اور پھر مُغل بادشاہوں نے ، اولیائے کرامؒ کی درگاہوں کے لئے، زرعی زمینیں وقف کر رکھی تھیں ،جِن کی آمدن سے،اُن درگاہوں کے لنگر چلتے تھے،جہاں سے ہر شخص کو، مُفت کھانا مِل جاتاتھا ۔چشتیہ سِلسلے کے ولی ، بابا فرید شکر گنج ؒکے بھانجے اور خلیفہ ۔( بھارت میں)۔ کلئیر شریف کے ، حضرت علاﺅ اُلدّین صابرؒ کا لنگر چل رہا تھا ۔لوگ انواع و اقسام کے کھانے کھا رہے تھے اور لنگر خانے سے کچھ دُور۔ حضرت علاﺅ اُلدّین صابر ؒ ۔پانی کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے ۔ایک شخص نے حضرت صابرؒ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے، لنگر کے مُنتظم سے کہا ۔" دیکھو!۔ وہ بزُرگ ،پانی سے روٹی کھا رہے ہیں۔ آپ اُنہیں بھی، اچھی چیزیں کھانے کو کیوں نہیں دیتے؟"۔ لنگر کے مُنتظم نے کہا ۔"یہ لنگر انہی بزُرگ کی طرف سے تقسیم کِیا جا رہا ہے اور وہ اپنی مرضی سے، پانی کے ساتھ روٹی کھا رہے ہیں !" ۔
اولیائے کرامؒ کے وِصال کے بعد، کچھ مُدّت تک اُن کی درگاہوں پر لنگر کا نظام جاری رہا ۔پھر اُن کے صاحبزدگان اور خُلفاءنے، درگاہوں کے لئے، وقف کی گئی زمینوں کو، اپنی ذاتی ملکیت بنا لِیا ۔مسلمان بادشاہوں، کی طرف سے، غریبوں کے لئے ،ہر شہر میں سرکاری خرچ پر، چنے کی دال کی کھچڑی کی دیگیں پکتی تھِیں۔مُغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی تو خوراک ہی کھچڑی تھی ۔ ایک دِن اورنگ زیب عالمگیر کے ایک مصاحب نے ،جان کی امان پا کر عرض کِیا ۔" جہاں پناہ!۔ میری بیٹی کی شادی ہے ۔کچھ مدد فرمائیں !"۔ بادشاہ نے کہا ۔" تمہیں سرکاری خزانے سے کچھ دوں گا تووہ، خیانت ہو گی اور میں کہاں سے مدد کروں کہ، میں تو، خود ٹوپیاں سی کر اور اُنہیں فروخت کر کے، گُزر اوقات کرتا ہوں!"۔ پھر بادشاہ کو مصاحب پر ترس آگیا اور اُس نے کہا ۔" تم کل مجھے میرے ۔" مطبخ "۔ ( باورچی خانے ) ۔میں مِلو!"۔ اگلے روز مصاحب۔ بادشاہ کے مطبخ پہنچا تو بادشاہ اُس کا منتظر تھا ۔ کھچڑی کے چند تھال ، سادہ سے رومالوں سے ڈھکے پڑے تھے اور اُنہیں، اُٹھانے کے لئے، اُتنے ہی خادم۔ بادشاہ نے مصاحب سے کہا کہ۔" فلاں فلاں پنج ہزاری اور دس ہزار ی کے پاس، کھچڑی کے یہ تھال لے جاﺅ!۔ اور کہو کہ۔ عالمگیر بادشاہ نے، تمہارے لئے کھچڑی بھجوائی ہے اور ساتھ ہی اپنی ضرورت بھی بیان کر دینا!"۔ مصاحب نے ایسا ہی کِیا ۔ہر پنج ہزاری اور دس ہزاری نے ، شکریے کے ساتھ،بادشاہ کی طرف سے،بھجوائی گئی کھچڑی قبول کر لی اور مصاحب کو مالا مال کر دِیا ۔
جمہوری دَور میں ایسا نہیں ہوتا ۔ کوئی بھی صدر یا وزیرِاعظم ۔ریاست کے مختلف شہروں میں،غریب، غرباءکی بھُوک مٹانے کے لئے،سرکاری خرچ سے کھچڑی کی دیگیں نہیں پکواتا ۔خود بھی کھچڑی نہیں کھاتا اور نہ ہی اُس کے پاس، اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ ٹوپیاں سینے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرے ۔ پھر امورِ مملکت کون انجام دے گا ؟۔ خلیفہءدوم حضرت عُمر بِن خطابؓ نے، اپنی مملکت کے تمام انسانوں کے لئے روزگار اور ضروریات ِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، دریائے فرات کے کنارے پر کھڑے یا بیٹھے کتّے کو خوراک فراہم کرنا بھی، ریاست کی ذمہ داری قرار دیا۔ سندھ ، چناب اور جہلم دریاﺅں کے اردگرد آباد انسانوں اور اِن دریاﺅں پر کھڑے ، بیٹھے یا لیٹے کتّوں کی کفالت تو، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ قرآنِ پاک میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا گیا ہے۔" تُم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ،جِس طرح تم سے پہلے قوموں پر، فرض کئے گئے تھے "۔تمام مذاہب کے لوگ، اپنے اپنے عقیدے کے مطابق روزے رکھتے ہیں۔حضرت گوتم بدھ۔انسانوں میں مساوات کے علمبردار تھے ۔ہندوﺅں کے اوتار۔ شری کرشن جی مہاراج نے، کہا تھا کہ۔" جو لوگ اکیلے کھاتے ہیں اور کھانے میں دوسروں کو شریک نہیں کرتے وہ پاپ (گناہ) کھاتے ہیں "۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ۔ "اونٹ ۔سوئی کے ناکے میں سے گُزر سکتا ہے ،لیکن خدا کی راہ میں ( غریبوں پر) ۔خرچ نہ کرنے والا دولت مند خُدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو گا"۔قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہ۔" جو لوگ سونا ،چاندی جمع کرتے ہیں اور خُداکی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،قیامت کے دِن، اُسی سونے اور چاندی کو آگ میں، تپا تپا کر ،اُن کی پیشانیوں اور پُشتوں کو داغا جائے گا "۔سِکھّ مذہب کے بانی۔بابا گرُو نانک جی نے کہا تھاکہ۔"میرے سِکھّوں کو ، بانٹ کر کھانا چاہیئے"۔ امریکہ اور یورپی مُلکوں میں، کرسمس ، ایسٹر اور عیسائیوں کے دوسرے تہواروں سے پہلے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں ۔یوں بھی اُن مُلکوں میں،کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں، دس دس سال اور پندہ پندہ سال تک بڑھنے نہیں دی جاتیں ، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ماہِ رمضان میں۔" تھوک فروش برادران ِاسلام "۔مصنوعی مہنگائی کا ایسا چکر چلاتے ہیں کہ۔درمیانے اور غریب طبقے کی زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔ حکومت سے تو خیر، وہ ڈرتے ہی نہیں،لیکن ۔" عُلمائے اسلام"۔ بھی ایسے لوگوں کو ،خُداکے عذاب سے ڈرانے کے لئے وقت نہیں نکال سکتے،کیا مصنوعی طور پر پیدا کی گئی مہنگائی کے خلاف آواز بُلند کرنا،عُلمائے اسلام کا مسئلہ نہیں ۔
مختلف نیوز چینلوں پر ،عُلما دِین کے بارے میں عوام کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں ۔ اچھی بات ہے۔لیکن یہ کیا ہو رہا ہے کہ۔ ماہِ رمضان سے ایک مہینہ پہلے ہی ۔ کوکنگ آئلز ،مشروبات و ماکولات ، تیار کرنے والی کمپنیوںکے اشتہارات میں بھی، ماہِ رمضان کی فضیلت اور برکات کو، انوکھے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے؟ ۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ، زرق برق کپڑے پہنے بزُرگ اور جوان مرد و خواتین اور بچوں کے سامنے ،بچھے دستر خوان پر، انواع و اقسام کی نعمتیں سجی ہیں اور وہ، بڑے۔" خشوع خضوع "۔سے روزہ افطار کر رہے ہیں ۔کئی اشتہاروں میں روزہ افطار کے بعد ۔( مرد ،خواتین اور بچوں ) ۔ کو نماز پڑھتے ہُوئے بھی دِکھایا جاتا ہے ۔پس منظر میں ،قوالی بھی سُنائی جا تی ہے ۔ شاید عُلمائے کرام، نیوز چینلوں پر، صِرف اپنے ہی ریکارڈ کئے گئے پروگرام دیکھتے ہونگے کہ اُنہوں نے۔اِس۔"بدّت"۔ کا نوٹس نہیں لیا۔ میں عام مُسلمان کی حیثیت سے سوچتا ہوں کہ، ماہِ رمضان سے ایک ماہ قبل، نیوز چینلوں پر، بزرگ اور جوان مردوں ، عورتوں اور بچوں سے روزہ کھولنے کی اداکاری کیوں کرائی جا رہی ہے؟۔ اُن کے دسترخوان پر سجی نعمتوں کو دیکھ کر، اُن مفلُوک اُلحال مسلمانوں کے دِ لوں پر کیا گُزر تی ہو گی ، جو عیدین پر بھی ،اُن کے نصیب میں نہیں ہوتیں۔ کیا فرماتے ہیں ، عُلمائے دِین۔ بیچ اِس مسئلے کے؟۔ |
الناز ماجدزادہ 2019/02/2 ٹریڈنگ پلیٹ فارم
اس عام منظر نامے سے ، پہلی جگہ پر آپ کو غور کرنا ہوگا کہ عوامی فروخت کی پیش کشوں کا اجرا کس طرح ہوتا ہے۔ کیونکہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ، اس سے بہت دور ہے ، لیکن وہ ان خصوصیات پر حکمرانی کرتے ہیں جو ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ یہ آئی پی او کا ایک مقصد ہے جس کے لئے آپ ان عین لمحوں میں سے انتخاب کر رہے ہیں۔ دیگر تکنیکی خیالات سے بالاتر اور شاید ایک بنیادی نقطہ نظر سے بھی۔ جہاں آپ کے احکامات کو روکیں فیصلوں میں سختی ایکویٹی منڈیوں میں اس قسم کی کارروائیوں میں کامیابی حاصل کرنے کے ل the آپ کے لئے ایک سب سے زیادہ متعلقہ کلید ہونی چاہئے۔ ترجیحی بورڈنگ لاؤنجز میں (کچھ راستوں کے دوران ، سبھی نہیں) ایئر لائن کی حیثیت کے لئے تیز قابلیت. اضافی معلومات میں درج ذیل حصے شامل ہیں:
آئی پی ایس ٹکنالوجی فی الحال انتہائی بہتر ہے ، اور تقریبا کسی بھی مقصد کے لئے اعلی معیار کے پینلز کی حامل ہے ، کسی بھی چیز کے لئے نہیں یہ پیشہ ورانہ ڈیزائن اور گیمنگ کے لئے بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اسکرین ہے۔ اس کے لئے ہم گھوسٹنگ کی تقریبا total مکمل عدم موجودگی کو شامل کرتے ہیں ، اگرچہ کچھ پینلز میں خون بہہ جانے والے دشواری اب بھی واضح ہیں اور بیک لائٹ کے ل local مقامی ایل ای ڈی ڈمنگ ٹکنالوجی کا استعمال کرنے والوں میں تھوڑا سا اصلاح بھی ہے۔ جنوبی افریقہ میں اعلی آن لائن جوئے بازی کے اڈوں کے جائزوں کو دیکھنے والے کو پتہ چل جائے گا کہ کسی بھی آپریٹر کے لئے گیمنگ لائسنس بہت ضروری ہے۔ اس میں وہ فراہم کنندہ شامل ہیں جو صرف فایٹ کرنسی پیش کرتے ہیں اور وہ لوگ جو کریپٹو میں توسیع کرتے ہیں۔ گیمنگ لائسنس اس بات کی تصدیق ہے کہ ہر چیز قانون کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جوئے بازی کے اڈوں میں اس مالی پلیٹ فارم پر تمام فاتحوں کو ادا کرنے کے لئے کافی مالی احاطہ حاصل ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، Ichimoku اشارے کے ساتھ ، مشاہدہ کرنے پر یہ بہتر توجہ ہے۔
تکنیکی تجزیہ (ٹی اے) کیا ہے؟ - احکامات کو روکیں
اس نئے انسٹرومنٹ میں تجارت کے انتظار مت کریں #NTDOY ! آپ کی تجارتی باورچی خانے سے اتنی خراب ہوا نکلنے کے بعد ، ممکن ہے کہ آپ کے باورچی خانے میں اتنی اچھی کوالٹی کی ہوا داخل نہ ہو جو فرق پیدا کرسکے۔ مکینیکل میک اپ ایئر سسٹم کی تجارتی کاروائیوں کے ل highly انتہائی سفارش کی جاتی ہے ، لیکن اس کو کشش ثقل نظام بھی فراہم کرسکتا ہے۔
آپ کے سمارٹ ایئر پلس ٹی ایم کنیکٹ پیوریفائر فلٹر کو نیچے دیئے گئے وقت کے فریموں میں تبدیل کرنا چاہئے۔
آئرن احکامات کو روکیں کنڈور کی حکمت عملی میں ، تاجر اسی ریفل کال کے ساتھ پھیلا ہوا ریچھ کال کو جوڑتا ہے ، جس کی امید ہے کہ وہ اتار چڑھاؤ میں پسپائی کا فائدہ اٹھائے گا جس کے نتیجے میں اختیارات کی زندگی کے دوران اسٹاک ٹریڈنگ ایک تنگ رینج میں ہوگی۔ ڈومین ناموں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟
1. Mercantile System Mercantilism : تجارتی نظام Tijarati Nizam : (noun) an economic system (Europe in 18th century) to increase a nation's wealth by government regulation of all of the nation's commercial interests. حرکت پذیر ہونے یا گھومتے وقت وژن کے جرمانے کو متحرک کرنے میں کم وقت ، جب حرکت کرتے وقت مجموعی طور پر وژن کے معاوضے کو کم کرتا ہے۔ مکمل وژن ختم ہونے سے پہلے نقل و حرکت کا وقت اب 6 سیکنڈ (2.5 سیکنڈ سے اوپر) کا ہے۔ گھومنے کے وقت جس رفتار سے وژن کا جرمانہ لگایا جاتا ہے اس کو بھی سست کردیا گیا ہے۔ زرمبادلہ مارکیٹ جہاں آپ یورو اور امریکی ڈالر (EUR / USD) جیسی کرنسیوں کی تجارت کررہے ہو وہاں کم سے کم سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کم سے کم with 50 کے ساتھ شروعات کرسکتے ہیں ، حالانکہ زیادہ سے شروع کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ کچھ خاص تجارت فیوچر مارکیٹ شروع کرنے کے لئے صرف $ 1،000 کی ضرورت ہوسکتی ہے. تجارت کے لئے مستقبل میں وسیع حصortہ بھی دستیاب ہے۔ یہ اکثر اجناس یا اشاریوں پر مبنی ہوتے ہیں جیسے خام تیل ، سونا ، یا SP 500 کی نقل و حرکت۔ دن تجارت اسٹاک کم سے کم ،000 25،000 کی ضرورت ہے ، جس سے یہ ایک اور زیادہ سرمایہ فراہم کرے گا۔
رفتار سکے کی تعداد مارکیٹ کیپ.
آپ کی ایگزیکٹو ٹیم توقع رکھتی ہے کہ مارکیٹنگ کچھ خاص کام انجام دے گی۔ مارکیٹنگ ٹیم برانڈ ، مواصلات ، مواد ، مصنوع کو فروغ دینے اور متعدد سرگرمیوں اور کوششوں کے لئے ذمہ دار ہے جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سودے جیتنے میں فروخت کو قابل بنائے گی۔ سی سوٹ میں آپ کے اعلی افراد شاید یہ فرض کریں کہ جب ہر سہ ماہی میں سیلز ٹیم اپنے کوٹے سے ٹکرا جاتی ہے تو سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ اگرچہ آج یہ بات سچ ہوسکتی ہے ، لیکن ایسی کمپنیاں جو اختراع نہیں کرتی ہیں وہ بالآخر مرجاتی ہیں یہ B2B مارکیٹنگ اور سیلز ٹیموں کے لئے سچ ہے۔
کیا چنے کا گلائسیمک انڈیکس ، ذیابیطس کے مریضوں کے ل eat ، مفید خصوصیات ، غذائیت کے اصولوں کا کھانا ممکن ہے؟ جب حرامی نمونہ ناکام ہوجاتا ہے۔ ہککے پیٹرن کو Binarium پر سیکھیں. موبائل فوڈ وینڈنگ پرمٹ کے علاوہ احکامات کو روکیں اور کیا مواقع ہیں؟
یہ خودمختارانہ ماحولی نظام درج ذیل خصوصیات رکھتا ہے: آئی فون منی، قیمت احکامات کو روکیں 699 ڈالر. آپ کو پڑھنا بھی پسند ہوسکتا ہے:
تمہارا بابا کرنسی نوٹوں پر اپنی تصویر کی بہتات سے گھبرانے لگا کیوں کہ یہ نوٹ اب غریبوں کے بس میں نہیں رہے۔ ان نوٹوں سے وہ کھیل رہے ہیں جن کا احکامات کو روکیں کھیل '' بابا'' کے پاکستان کے لئے نقصان دہ ہے۔ مگر تم گھبرانا نہیں اور ہو سکے تو ایک چکر پاکستان کا ضرور لگا لینا جہاں تمہاری ماں اپنی ڈبڈباتی آنکھوں سے دروازے پر تمہارے مخصوص دستک کی منتظر ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ شاید آج بھی تم رات کے دو بجے ضرور دستک دو گے اور ہولے سے کہو گے '' ا می سورۃ یٰسین ختم ہونے سے پہلے آپ کا یٰسین آ گیا ہے '' جلدی آ کر مل لو کہ اب تو تمہارے دل میں بسنے والی تہذیب صرف قبرستانوں میں ملنے لگی ہے۔ نوزائیدہ خرگوش کی جوڑی کے ساتھ شروع ہوکر ، ایک ماہ میں خرگوش کے کتنے جوڑے ہوں گے؟ 2 ، 3 ، اور 4 ماہ کے بعد کتنے جوڑے خرگوش ہوں گے؟ اور 6 ماہ کے بعد کتنے ہوں گے؟ تم ہو ایک Olymp Trade نائجیریا Tradeبینک میں پیسہ لے کر اور اپنے ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں براہ راست جمع کرنا چاہتے ہو؟ آپ سب کی ضرورت بینک کارڈ کی ہے اور آپ اسے رقم جمع کروانے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں .
پائپر جعفر ریسرچ کے تجزیہ کار کے مطابق، پیش نظارہ WSJ آرٹیکل میں، تین شعبوں کی سب سے بڑی اداروں میں مجموعی طور پر اس شعبے میں 95 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے. مندرجہ بالا سرکٹ کو بنانے کے لئے آپ کو احکامات کو روکیں کوئی اوزار نہیں، الیکٹرانکس کا بنیادی علم اور مندرجہ ذیل حصوں / لائبریریوں کی ضرورت ہوتی ہے؛ حب اسپاٹ CRM میں مندرجہ ذیل اسٹینڈ آؤٹ خصوصیات شامل ہیں: |
مسز ڈاکٹر زہرا غیور نجف آبادی 2018/01/18 ٹریڈنگ پلیٹ فارم
پلائیووڈ لے جانے کا طریقہ. یہ ہر ایک لائن ہیں جو اثاثے ، واجبات ، دارالحکومت اور دیگر بناتے ہیں۔ آپ بھی کمائیں گے ہر ڈالر کے لئے پانچ پوائنٹس آپ مختلف قسموں میں خرچ کرتے ہیں جو ہر مہینے گھومتے ہیں۔ پوائنٹس چیس کے سفری شراکت داروں میں منتقل ہوسکتے ہیں ، جن میں ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز ، یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ہیئٹ ہوٹلوں شامل ہیں ، یا آپ انہیں گفٹ کارڈ یا میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ نقد رقم کے عوض چھڑا سکتے ہیں۔
یہ سیکیورٹی کی خلاف ورزی نہیں ہے ، لیکن یہ ان میں سے ایک ہے بٹ کوائن نیٹ ورک کی سب سے خطرناک کمزوریاں . جب ایک فرد یا افراد کا ایک گروپ بٹ کوائن نیٹ ورک میں کمپیوٹنگ طاقت کا 50 فیصد سے زیادہ کا مالک ہوتا ہے تو ، نیٹ ورک کو کسی کے امکان کے لئے کھول دیا جاتا ہے 51٪ حملہ - کمپیوٹنگ طاقت میں فائدہ استعمال کیا جاسکتا ہے مرکزی ٹرانزیکشن بلاکچین کو کانٹا اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کریں بشمول اس سے پہلے تبادلہ خیال کردہ ڈبل اخراجات۔ ہمارے ساتھ اپنے خیمے بک کرو - ٹام - اور کین خیموں کی کمپنی . اضافی طور پر ، ایس بی اے 7 (ا) قرض کے لئے اہل ہونے کے ل you ، آپ کو عام طور پر ان کم سے کم تقاضوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہوگی۔
تھرومبوسس کا خطرہ ، جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ، یہ بھی ایک نقصان ہے۔ - ایک فنکارانہ تصویر یار. ہم جیسے زمرے کے لئے خصوصی توجہ دینا چاہئے اس کے میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ پیشوں میں شامل ہیں کے لئے بچوں اور بڑوں کے تقریبا اسی حد تک کے لئے موزوں ہیں. لیبر کا مرکزی موضوع ایک تخلیقی انداز، اس کے قیام کے طریقوں ہے. ہم تمیز کر سکتے ہیں مندرجہ ذیل بنیادی تقریب: .. اداکار، ادبی کارکن، ایک موسیقار، ڈیزائنر، stonecutter وغیرہ پیشے اس قسم میں شامل ہیں:
زیڈ ہوائی جہاز کے قطب صفر جیومیٹری سے تعدد کا جواب دیکھیں. نحوه انجام معاملات در فارکس به این صورت است که از طریق انجام شدن تراکنش شرکتهای کارگزاری این کار انجام میشود میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ و از طریق یک کانال بین بانکی تراکنشها به یکدیگر متصل خواهد شد.
جب آپ مختصر ہوجاتے ہیں تو ، آپ کا منافع اس رقم تک محدود ہوتا ہے جو آپ نے ابتدائی طور پر فروخت پر وصول کیا تھا۔ آپ کا خطرہ ، اگرچہ ، لامحدود ہے کیونکہ قیمت rise 10 ، $ 50 ، یا اس سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ بعد کے منظر نامے کا مطلب ہے کہ آپ کو حصص کو خریدنے کے لئے، 4،500 کی کمی سے $ 5،000 ادا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ چونکہ دن کے تاجر تمام تجارتوں پر رسک کو سنبھالنے کے لئے کام کرتے ہیں ، لہذا یہ منظر عام طور پر دن کے تاجروں کے لئے کوئی تشویش نہیں ہے جو مختصر عہدوں پر فائز ہیں (امید ہے)۔ خاندانی کاروبار وہ ہے جہاں کمپنی اور کنبہ کے مابین کوئی واضح حدود نہیں ہیں ، اختیار والدین کا اختیار ہے اور بڑے بھائی کو عورت سے زیادہ چھوٹے یا مرد بچے سے زیادہ طاقت حاصل ہے ، جہاں ہر کوئی سب کچھ کرتا ہے اور ذمہ داریاں روح پر منحصر ہوتی ہیں۔ واضح اور ٹھوس ذمہ داریوں میں سے ہر ایک کا ساتھی۔ 3۔ تین نقطے اونچے درجے کے اثر کی خبر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سے ذیادہ غیر یقینی صورتحال پیدا ہونی چاہئے جو کہ کچھ دیر تک رہ سکتی ہے.
%99.35 کی تمام میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ تجارت 1 سیکنڈ سے کم میں تکمیل ھوتی ھيں۔
یا دیگر افراد پر چینی علاقے. سب سے زیادہ اکثر ہیں ، مقدمات سے متعلق کاروبار تنازعات ، جہاں ایک مناسب قانونی مدد اور مشورے غور کیا جانا چاہئے. ہمارے مشیر فراہم کر سکتے ہیں اس طرح کے قانونی خدمات مالک کی جانب سے یا ادارے کی مدد کے ساتھ ایک اٹارنی کی طاقت ہے.
دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملے میں 140 سے زائد بچوں کی شہادت کے بعد حالات تبدیل ہو گئے۔ چند روز بعد، وفاقی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی کے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے اطلاق میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ کے احکامات جاری کیے۔ فرد ان ٹوکن کو حاصل کرتا ہے جب وہ مطلوبہ سلوک کا اخراج کرتے ہیں ، جب تک کہ اس کی ترغیب نہ ملنے تک اس طرز عمل کے اخراج کے درمیان عارضی پل کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ ہری پتیوں کو ختم کرنا عام طور پر بہت زیادہ پانی کی علامت ہوتی ہے۔ پانی کی تعدد کو کم کرنا اس کی مرمت کا ایک طریقہ ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مٹی اس میں ترمیم کرکے زیادہ سے زیادہ پانی نکال دے گی۔
به میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ صورت کلی، موسسات، اشخاص حقوقی و حقیقی به ۳ روش به معامله در بازار فارکس میپردازند. عائشہ نے کہا 'میں نے اپنی دوستوں کو کہہ دیا تھا کہ مجھ پر رحم نہ کھائیں۔ مجھ سے ویسا ہی رویہ رکھیں جیسا کہ باقی لوگوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔' آرٹچین اپنے صارفین کو زیادہ سے زیادہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے :
عام طور پر ، میرے بارے میں صفحہ ایک طویل فارم سیلز پیج کی طرح ہوتا ہے جس پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی آپ کے ساتھ بات چیت یا کام کرکے فائدہ حاصل کرے گا۔ اس کے بارے میں اپنی اصل کہانی کی طرح سوچیں۔ آپ کہاں سے آئے ہیں ، اب آپ کہاں ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟ اگر آپ کو جلدی ہے تو ، آپ ذیل میں جیسا ایک مختصر میرے بارے میں صفحہ تشکیل دے میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ سکتے ہیں۔ - اشاعت میں گرافک ڈیزائنر - پری پرنٹنگ ٹیکنیشن - گرافک ڈیزائنر - لے آؤٹ ٹیکنیشن - بیان کرنے والا - ویب سائٹ بنانے والا - خدمت کے دفاتر میں ٹیکنیشن - خود ملازمت کرنے والا. لیو انگر جی ایکس 178 ڈائمنڈ ویڈنگ بینڈ.
مقبولیت میں اضافے کے علاوہ ، سرمایہ کار ہر روز نئی کرنسیوں کی پروفائلنگ کرنے والی اس صنعت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ 2009 میں ، بٹ کوائن ایک واحد کرنسی تھی جو تاجروں کے لئے دستیاب تھی۔ آج ، آپ 5000 سے زیادہ کریپٹو کرنسیوں کا کاروبار کر سکتے ہیں۔ تاجر ، کمپنیاں ، اور حکومتیں طوفان کی زد میں آکر مالی بازار لے رہی ہیں۔ فاریکس تاجر عام طور پر دن کی تجارتی حکمت عملیوں کا استعمال کریں گے ، جیسے فائدہ اٹھانے کے ساتھ اسکیلپنگ ، اپنی واپسی کو بڑھاوا دیں۔ اچھا یہ احاطہ کریں کہ اس مضمون میں بعد میں وہ کس طرح میں آن لائن ETF بروکر کے ساتھ کیسے سرمایہ کاری کروں؟ کام کرتا ہے۔ چونکہ قبرص میں اندراج برطانیہ یا امریکہ میں رجسٹرڈ بروکروں کی طرح طرح کی نگرانی اور اکاؤنٹ تحفظ فراہم نہیں کرتا ہے یہ تجارت ڈاٹ کام کے لئے ایک خرابی ہے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جب اکاؤنٹ ہولڈرز کو تحفظ فراہم کرنے کی بات آتی ہے تو قبرص میں خصوصی طور پر رجسٹرڈ فاریکس ڈیلرز کے پاس ٹریک کا بہترین ریکارڈ نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ کچھ کمپنیوں کے ساتھ ناانصافی ہوسکتی ہے (اور یہ سچ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی اپنی پریشانیوں کا اپنا حصہ ہے) تاجروں کو اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔ اگر ٹریڈ ڈاٹ کام ڈیفالٹ ہوجاتا ہے تو ، € 20،000 تک کے فنڈز میں کسی قسم کی کمی کا انویسٹر انکمپنسیس فنڈ (ICF) کے تحت معاوضہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ |
بھارت بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ، پاکستان کی کوششوں سے دنیا بھر میں امن قائم ہوا: خواجہ آصف – Subh.e.Pakistan Layyah
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو جنوبی ایشیائکی سٹریٹجی میں بھارتی کردار اور بلوچستان میں عدم استحکام کی غرض سے کوششوں پر گہرے تحفظات ہیں، جنوبی ایشیاءسٹریٹجی کے اعلان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات نے نئی کروٹ لی ہے، نئی دہلی بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ، پاکستان کی کوششوں سے دنیا بھر میں امن قائم ہوا ہے۔ ہم نے اپنے حصہ کا کام کر کے دہشت گردوں اور ریاست مخالف عناصر کے ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں۔
واشنگٹن میں امریکی اور غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے تو پاکستان خطے میں اپنے جائز سیکورٹی خدشات کو تسلیم کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں حقیقی معنوں میں جنوبی ایشیاءسٹریٹجی میں بھارتی کردار اور بلوچستان میں عدم استحکام کی غرض سے بھارتی کوششوں پر گہرے تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیاء سٹریٹجی کے اعلان کے بعد ٹیلرسن کیساتھ ملاقات اہم رابطہ تھا۔پاکستان امریکہ کیساتھ سات دہائیوں پر محیط تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم باہمی عزت و احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک سیاسی اور سفارتی سطح پر مسلسل اورمنظم رابطوں کے ذریعے جنوبی ایشیاءمیں امن ، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کیلئے ملکر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں کامیابیوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جب تک افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں کیا جاتا خطے میں پائیدار امن و استحکام ممکن نہیں،اس مقصد کے حصول کیلئے امریکہ اور پاکستان کو مل کرکام کرنے کہ ضرورت ہے۔ |
رضا بابک 2020/10/4 فاریکس انڈیکیٹرز
اب مزاحمت کی سطح کو دیکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں ، قیمت مندی میں تھی۔ لیکن ہر اچھال کے بعد ، یہ ایک ہی علاقے میں متعدد بار توڑنے میں ناکام رہا۔ مزاحمت کی Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن سطح تشکیل دی گئی ہے کیونکہ بیل (خریدار) مارکیٹ پر کنٹرول حاصل کرنے اور قیمت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں قاصر تھے ، جس کی وجہ سے شہر کا مرکز بدستور جاری رہا۔ سائیکوپیتھولوجیکل مظاہر سے ان کی توجہ اس کی وجہ سے انھیں ایک مضمون شائستگی میں کویتس میں شائع کرنے پر مجبور کیا۔ 1895 میں۔ اس میں فرائیڈ کی توجہ آگئی۔ اس نے اسے یقین دلایا کہ اسٹیل بدیہی ، بہت ذہین ، اور ایک طاقتور مصنف تھا۔ آپ اپنے گٹ میں جان سکتے ہو کہ آپ اسٹاک سے کس طرح کی واپسی دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ موجودہ حصص کی قیمت کی بنیاد پر واپسی کی اصل شرح کیا ہے۔ یہ فارمولا ہے:
در پاکت آپشن برای بازکردن حساب دمو نیاز نیست که اطلاعات خود را وارد کنید و یا در کنار آن حساب واقعی داشته باشید. انجام معامله به صورت غیرواقعی در پاکت آپشن بسیار آسان است. یک کلیک ساده و شروع معامله در پلتفرم دمو! 11 مارچ 2020 کو، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا کہ وبائی بیماری کووڈ-19 جس کی پہلی بار ووہان، چین میں دسمبر 2019 میں نشاندہی ہوئی تھی، عالمی وباء کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ وباء کے ''پھیلاؤ اور سنگینی کے تشویشناک خدشات کا اظہار کرتے ہوئے''، ڈبلیوایچ او نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور بھرپور کاروائی کریں۔
روبوٹ Martingale :Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن
4- تشخيص جهت بازار up trend و down Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن trend. جب ڈی این اے میں ایک یا ایک سے زیادہ اڈے حذف ہوجاتے ہیں تو ، اس سے حذف کی تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ مثال کے طور پر ، AUG جی GACGA AGGACGA بن جاتا ہے۔ جی بیس وسط سے حذف ہوجاتی ہے۔
سیفٹی اور ٹریکنگ کی خصوصیات.
جب یہ فنڈ کی سلامتی کے لۓ آتا ہے، تو تاجروں کو قابل اعتماد اور محفوظ بروکر کے ساتھ رجسٹرڈ کرنے کا یقین باقی ہوسکتا ہے. ان کے نقصانات مالیاتی خدمات معاوضہ کے منصوبے سے 50،000 ڈالر تک احاطہ کرتا ہے. حدیثِ قدسی: اللہ سبحان تعالیٰ ان دونوں شراکت Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن داروں کو اپنا دوست رکھتا ہے اُس وقت تک جب تک وہ خیانت اور دھوکہ دہی میں عملی طور پر ملوث نہ ہوجائیں۔ امریکی بیورو آف لیبر شماریات کی پیش گوئی ہے کہ اس پیشے میں ملازمت کی نمو 2016 سے لے کر 2026 تک تقریبا 4 فیصد تک محدود رہے گی ، جو مجموعی طور پر پیشوں کے لئے اوسط سے بھی کم ہے۔ بی ایل ایس وفاقی بجٹ کی رکاوٹوں کی وجہ سے تحقیق کے کم مواقع کی پیش گوئی کرتا ہے ، حالانکہ ماہر بشریات اب بھی مختلف ثقافتی گروہوں کی مارکیٹ تجزیہ کے لئے ایک اہم جز فراہم کریں گے۔ عمارت اور تعمیراتی مقامات کی وفاقی تعمیل کو یقینی بنانا انہیں ابھی بھی ضروری ہوگا۔
حاملہ طبیب کیا طریقہ کار انجام دیتے ہیں؟ دانشمندانہ انداز میں فیڈ فیصلے کے اجراء کے بدھ کے روز دوپہر 2 بجے شام کوئی کھلی پوزیشن حاصل کرنا نہیں ہے۔
تلاش کے عمل کو شروع کرنے کے لئے میری Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن ایپل واچ تلاش کریں کو منتخب کریں۔
با عرض سلام در خصوص واردات کالاهای پزشکی از چین اینکه هزینه واردات به چه صورت خواهد بود؟
علاقائی پابندیاں : FXTM برانڈ امریکہ، جاپان، البرٹا برٹش کولمبیا، کیوبیک، سسکیچیوان، ہیٹی، سورینام، عوامی جمہوریہ کوریا،برازیل، پورٹو ریکو اور قبرص کے مقبوضہ علاقوں کے رہائشیوں کو خدمات پیش نہیں کرتا ہے۔ ہمارے عمومی سوالات کے سیکشن ضوابط میں مزید تلاش کریں۔ حصص گر رہے ہیں ، بٹ کوائن گر رہا ہے!
پیرک کا کہنا ہے کہ ، الرجی کے ماہرین سے الرجی ٹیسٹ کروانا اچھا خیال ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بتا سکتا ہے کہ ، بالکل ، کیا آپ کو دوا یا الرجی شاٹس (امیونو تھراپی) سے الرجی ہے اور آپ کا علاج کیا جاتا ہے۔ پیرک کا کہنا ہے کہ ، بہت سارے طریقے ہیں جن سے ہم آپ کو [الرجی] کے بارے میں بے عزت کرسکتے ہیں۔ یہ بہترین صورت حال ہے ، کیوں کہ پھر آپ کو محرک سے الرجی نہیں ہوگی۔ ہر ایک بڑا مثلث تین گرڈ اونچائی اور تین گرڈ چوڑا ہے ، جس میں 9 انچ مربع تیار سائز ہوتا ہے۔ 9-7 / 8 انچ کے کٹ سائز کے لئے سیون الاؤنس کے لئے تیار شدہ سائز میں 7/8 انچ شامل کریں۔ ایک بار جب آپ نے درخواست قبول کی ہے، تو ذیل میں کریں: بالوں کی نمو بڑھانے والا ماسک: آخر میں IBM 1401 ڈیمو لیب (بدھ اور ہفتہ) 1950 کی دہائی کے آخر سے ایک بزنس کمپیوٹر سنٹر کی رونق افزائی کرتا ہے۔ کھونے نئے گاہک اور فاریکس بروکریج کمپنیوں کے ابتدائی گھنٹے میں اس کو دیا پیسے beginners فراہم کرتے ہیں طاقتور معلومات اعانت سے بچنے کے لئے.
چیری موبائل بھڑک اٹھنا XL Plus مئی 2016 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس آلے میں 5.5 انچ کی IPS اسکرین ہے جس کی سکرین ریزولوشن 1280 x 720 پکسلز ہے۔ اس میں میڈیا ٹیک MT6592M پروسیسر کے ساتھ 2 جی بی ریم بھی دی گئی ہے۔ فون میں 16 جی بی کی اندرونی میموری شامل ہے جس میں مائکرو ایسڈی کارڈ کے ذریعہ 64 جی بی کے قابل توسیع اسٹوریج میڈیم ہیں۔ چیری موبائل بھڑک اٹھنا XL Plus کیمرا 13MP کا پیچھے والا کیمرہ ہے جس میں ڈوئل-ایل ای ڈی ڈوئل ٹون فلیش اور سیلفیز کے ل for 8MP کا فرنٹ کیمرا ہے۔ اس کی حمایت ایک 2،300 ایم اے ایچ لتیم پولیمر بیٹری کی ہوگی۔ ،تصویر کا ذریعہ Twitter/@DrRekha99.
اگرچہ مستقبل قریب میں ہرشی کے حصص کم ہوسکتے ہیں ، لیکن اس چینل کے وقفے سے رجحان میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔ ہوشیار چارٹ کے نگاہ رکھنے والے کوکو کی قیمت پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کیا اس کی قیمت ہرشی شیئر کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی سے مماثل ہے۔ اس طرح کے مربوط اقدام سال کے اختتام سے قبل ایک عمدہ تجارت یا سرمایہ کاری کے مواقع کو ظاہر کرسکتے ہیں۔ اوسطا THC رال کا مواد بہت کم تھا ، 6.3٪ پر ، اگرچہ یہ جیل میں پائے جانے والے 1 نمونے میں کوئی سمجھدار THC سے 29٪ تک مختلف تھا۔ اوسط طاقت 2005 کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی ، جب اوسط THC حراستی 3.7٪ تھی۔
"بہت اچھ ،ا ، یادگار ، پرورش کرنے والا ، سوچا جانے والا سوچ - آپ کا شکریہ" . کیا آپ گوگل دستاویزات میں مارجن لاک کرسکتے ہیں؟
کس طرح ایک مضبوط Zillow ایجنٹ پروفائل بنائیں [+10 مثالیں] - اکاؤنٹنگ - 2021. چونکہ کسی پیشے یا تجارت کا انتخاب شخصیت کی نشوونما کے حصول میں ایک اہم اہمیت کا لمحہ ہے ، اس تک پہنچنے کے ل the ، فرد کو لازمی طور پر اسے اپنی ممتاز تعمیر Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن کی تیاری کے عمل سے گزرنا چاہئے جس کی وجہ سے وہ اسے بالغ ، ذمہ دار اور قابل بناتا ہے۔ خود ارادیت. بیگ ، 195 ڈالر؛ دور ٹریول ڈاٹ کام۔
۔(2)۔ دورکعت نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ(7) بار پڑھے۔ سلام کے بعد (7) مرتبہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ پڑھے تو اپنی جگہ سے نہیں اٹھے گا کہ اس پر اور اس کے والدین پر رحمتِ خدا برسنی شروع ہوجائے گی۔ (تفسیر یعقوب چرخی)۔ اگر آپ نقشے پر اپنے آلے کا مقام دیکھنے کے قابل ہیں تو ، یہ خصوصیت انتہائی مفید ہے۔ ظاہر کردہ مقام قریب قریب ہے ، جس کا مطلب ہے کہ اس سے آپ کو آلہ کے عین مطابق نقاط نہیں دکھائے جاتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اس علاقے میں پہنچ جائیں تو ، آپ صرف ایک بٹن کے پریس کے ذریعہ ڈیوائس کو رنگین کرسکتے ہیں ، جو آپ کو بہت تیزی سے تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر آلہ چوری ہوا تو Olymp Trade بمقابلہ IQ آپشن آواز بھی چور کو بے نقاب کرے گی۔ اینڈروئیڈ ایپ کے ذریعہ اکاؤنٹ رجسٹر کریں. |
سردی Archives - lahorenama.com
اسلام آباد (صباح نیوز) محکمہ موسمیات نے بدھ کے روزبالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری جبکہ پہاڑوں پر برفباری مزید پڑھیں |
پی ایس ایل سیزن 4: امارات کی چند خوبصورت یادیں - Opinions - Dawn News
فہد کیہراپ ڈیٹ 06 مارچ 2019
4 سال قبل جب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا آغاز ہوا تو توقعات صفر تھیں اور امتحان بہت بڑا، لیکن چوتھے سیزن کی شروعات بہت زیادہ امیدوں کے ساتھ ہوئی اور درحقیقت بوجھ بہت زیادہ، ایک تو 'نئے پاکستان' کی وجہ سے اور دوسرا 3 سال کی کامیابیوں کی بدولت۔ پھر 'سر منڈاتے ہی اولے پڑے' کے مصداق ایک، ایک کرکے مصیبتیں ٹوٹنا شروع ہوگئیں۔
دنیائے کرکٹ کی 10 میں سے 8 ٹیمیں انہی ایام میں مصروف تھیں کہ جن میں پی ایس ایل 4 طے شدہ تھی، یعنی بیشتر کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کا غم سہنا پڑا۔ نہ عمران طاہر نظر آئے، نہ ایلکس ہیلز، ایون مورگن، جیسن روئے، سیم بلنگز، نہ تھیسارا پیریرا، نہ راشد خان، نہ تمیم اقبال، شکیب الحسن اور نہ ہی جیسن ہولڈر۔ اس کے بعد جو کمی رہ گئی تھی وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے پلوامہ حملے نے پوری کردی جس کا نتیجہ پاک-بھارت تعلقات میں تناؤ کی صورت میں نکلا اور یہ اتنا بڑھ گیا کہ بھارتی براڈکاسٹر نے ابتدائی دنوں میں ہی پی ایس ایل کی کوریج سے ہاتھ کھینچ لیے۔
یہ بہت نازک مرحلہ تھا کیونکہ اب نشریات کے ساتھ ساتھ لیگ کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی۔ یہاں انتظامیہ بہت ذمہ داری اور خوبی کے ساتھ اس مصیبت سے نکلی اور صرف 2 دن میں بہترین متبادل انتظام کیا، وہ بھی ویسا ہی جدید ترین یعنی پرانی اور نئی براڈکاسٹنگ کمپنی کی نشریات میں ذرا فرق دکھائی نہ دیا۔
پھر جیسے جیسے لیگ کے مقابلے اہم ترین مرحلے میں داخل ہوتے گئے، پاک-بھارت کشیدگی بھی بڑھتے بڑھتے سرحدی حملوں تک پہنچ گئی۔ پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرکے یہاں بمباری کرنے سے لے کر پاکستان کی جوابی دفاعی کارروائی، بھارتی لڑاکا طیارے کی تباہی اور اس کے پائلٹ کی گرفتاری، رہائی اور اس کے بعد جنگی صورت حال نے سب کو پریشان کردیا لیکن اس سارے ہنگامے سب سے دُور متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر پی ایس ایل 4 کے میچز جاری رہے اور کیا کمال کے میچز دیکھنے کو ملے۔
اب امارات میں ہونے والا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور پہلی بار پاکستان میں 8 میچز کھیلے جائیں گے۔ سرحدی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے لاہور میں ہونے والے میچز بھی کراچی منتقل کردیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے کے آخری 4 مقابلے اور ان کے بعد پلے آف اور فائنل میچز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہوں گے جو تزئین و آرائش کے بعد اپنے نئے رنگ و روپ میں ان مقابلوں کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس بار بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی سب سے پہلے پلے آف مرحلے تک پہنچے ہیں اور 3 ٹیمیں دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کی دوڑ اب بھی جاری ہے۔ ان 3 میں سے ایک ٹیم باہر ہوگی اور وہ ملتان سلطانز کی طرح تماشائی بن کے میچز دیکھے گی۔
ویسے تمام تر کشیدہ اور سنگین حالات کے باوجود ہمیں پی ایس ایل جنون میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ اتنے ہی شاندار میچز ہوئے جتنے ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں ہونے والے پہلے مرحلے کے آخری چاروں میچز میں سخت مقابلہ دیکھنے کی امید ہے۔
سلطانز بمقابلہ قلندرز
متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مرحلے کی کئی یادیں ایسی ہیں جو کافی عرصے تک برقرار رہیں گی جیسا کہ ملتان سلطانز کے خلاف لاہور قلندرز کا 201 رنز کا ہدف حاصل کرنا۔ صرف ایک دن پہلے 78 رنز پر آل آؤٹ ہونے والے قلندرز نے اس میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈیوڈ ویزے کی ناقابلِ یقین کارکردگی کی بدولت کامیابی حاصل کی۔ جب 43 گیندوں پر 93 رنز کی ضرورت تھی تو انہی دونوں نے میدان سنبھالا اور آخری گیند پر ویزے کے چھکے کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔
اسی دن ہم نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو پشاور زلمی پر قابو پاتے ہوئے دیکھا۔ ایک مرتبہ کیرون پولارڈ کی دھواں دار اننگز کے سامنے بند باندھنے کے بعد یونائیٹڈ کے باؤلرز مقابلے پر چھا گئے۔ آخری اوور میں محمد سمیع کی ہیٹ ٹرک کے ذریعے یونائیٹڈ نے میچ کا خاتمہ کردیا۔
یہی نہیں اگلے دن کوئٹہ نے لاہور قلندرز کے خلاف وہی کیا، جو پچھلے دن اس نے ملتان کے مقابلے میں کیا تھا، یعنی آخری گیند پر چھکا! اس مرتبہ ہیرو تھے سرفراز احمد۔ صرف 144 رنز کے تعاقب میں کوئٹہ کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ اس کی 5 وکٹیں صرف 81 رنز پر گرگئیں۔ یہاں سرفراز احمد نے میدان سنبھالا اور قسمت کے بل بوتے پر چلتے چلے گئے یہاں تک کہ آخری گیند پر چھکا لگا کر میچ کا فیصلہ کردیا۔ یہ چھکا انہی ڈیوڈ ویزے کو لگا جنہوں نے پچھلے دن چھکا لگا کر میچ جیتا تھا۔
قلندرز بمقابلہ کنگز
کوئٹہ لاہور سے تو بچ گیا لیکن حیران کن طور پر کراچی سے نہیں بچ پایا، وہ بھی 186 رنز بنانے کے باوجود۔ یہ بہت شاندار مقابلہ تھا کہ جس میں کراچی 187 رنز کے تعاقب میں صرف 4 رنز پر 2 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا۔ تب کولن انگرام نے میدان سنبھالا اور ایسی باری کھیلی جسے ہم پی ایس ایل 4 کی سب سے شاندار اننگز کہہ سکتے ہیں۔ 59 گیندوں پر 12 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 127 رنز۔ یہ مکمل طور پر وَن مین شو تھا کیونکہ دوسرے اینڈ سے کسی بیٹسمین نے 20 رنز بھی نہیں بنائے۔
کوئٹہ پہلی بار تو بچ گیا لیکن دوسری مرتبہ لاہوریوں کے ہتھے چڑھ گیا اور اس بار صرف 106 رنز پر ڈھیر ہوا۔ لاہور نے باآسانی یہ مقابلہ جیتا لیکن لاہور کی کامیابی سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پورے سیزن میں اب تک کوئٹہ نے 9 میں سے صرف 2 میچز ہارے ہیں اور دونوں ان ٹیموں سے جو پوائنٹس ٹیبل پر نیچے نیچے رہیں، یعنی کراچی اور لاہور سے۔
ایک اور دلچسپ مقابلہ اسلام آباد اور پشاور زلمی کا تھا کہ جہاں آل راؤنڈر لیام ڈاسن نے آخری گیند پر پشاور کی نیّا پار لگائی۔ 177 رنز کا ہدف معمولی نہیں تھا، وہ بھی اس وقت جب سامنے اسلام آباد کا باؤلنگ اٹیک ہو۔ 84 رنز پر پانچ آؤٹ ہو جائیں تو اچھی بھلی ٹیم کا دم نکل جاتا ہے تب لیام ڈاسن اور کپتان ڈیرن سیمی نے میدان سنبھالا اور چھٹی وکٹ پر 89 رنز کا اضافہ کیا یہاں تک کہ معاملہ آخری گیند تک پہنچ گیا۔ آخری 3 گیندوں پر 10 رنز درکار تھے جو گھٹتے گھٹتے آخری گیند پر 4 رنز رہ گئے۔ یہاں ڈاسن نے محمد سمیع کو چوکا رسید کرکے میچ کا فیصلہ کیا، انہی سمیع کے خلاف جنہوں نے آخری پشاور-اسلام آباد مقابلے میں آخری 3 گیندوں پر ہیٹ ٹرک کی تھی۔ یعنی بدلہ لیا، پورے کا پورا!
قلندرز بمقابلہ زلمی
گزشتہ روز لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کا مقابلہ بھی ایسا ہی دلچسپ تھا۔ اس میں رنز تو زیادہ نہیں بنے لیکن یہ 'لو-اسکورنگ تھرلر' تھا۔ لاہور پہلے کھیلتے ہوئے صرف 124 رنز بنا پایا۔ لگ تو یوں رہا تھا جیسے پشاور باآسانی جیت جائے گا لیکن یہ کیا؟ صرف 20 رنز پر پشاور کی 5 وکٹیں گرگئیں۔ لاہور کی کامیابی اب یقینی تھی لیکن راہ میں حائل ہوگئے مصباح الحق اور ڈیرن سیمی۔ مصباح نے سیزن میں محض دوسرا میچ کھیلا تھا اور ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ 'مردِ بحران' ہیں۔ ایک اینڈ سے جہاں سیمی نے 36 گیندوں پر 46 رنز بنائے وہیں مصباح نے 55 گیندوں پر 59 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی اور آخری اوور میں میچ کا فیصلہ کیا۔ اس کارکردگی پر نہ صرف انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا بلکہ پورے زلمی اسکواڈ کی جانب سے شاندار سلیوٹ بھی۔
پہلے مرحلے آخر چند اہم ترین مقابلے
اب پہلے مرحلے میں کراچی اور لاہور کے 2، 2 میچز باقی ہیں۔ لاہور کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کا مقابلہ کرنا ہے جبکہ کراچی کا امتحان بہت بڑا ہے کہ جس کے آخری دونوں میچز مضبوط ترین ٹیموں کوئٹہ اور پشاور کے خلاف ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ کراچی کے پوائنٹس لاہور سے زیادہ ہیں جس نے 8 میچز میں 8 پوائنٹس سمیٹے ہیں جبکہ لاہور کے اتنے ہی مقابلوں میں صرف 6 پوائنٹس ہیں۔ اسلام آباد کا صرف ایک میچ باقی ہے اور اس نے 8 پوائنٹس حاصل کر رکھے ہیں یعنی کہ ان تینوں کے درمیان زبردست رسہ کشی دیکھنے کو ملے گی۔
امارات میں چاہے جتنے شاندار میچز ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو ماحول ہمیں نیشنل اسٹیڈیم میں دیکھنے کو مل سکتا ہے، وہ شاید کہیں نہیں ہوگا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پاک-بھارت کشیدگی کی وجہ سے اس مرتبہ لاہور میزبانی سے محروم رہے گا، لیکن امید ہے کہ لاہور قلندرز اپنی کارکردگی سے لاہوریوں کو خوش کردیں گے۔ |
جنوری 9, 2019 371 Views
پینسلوانیہ(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا میں ایک 19 سالہ رضاکار فائر فائٹر پر حال ہی میں مجرمانہ فعل اور دو مکانات کی آتشزدگی کا الزام عائد کیا گیا ہے بقول مجرم اس نے بوریت دور کرنے کے لیے ان دو مکانات کو نذرِ آتش کیا تھا۔پٹسبرگ سے جنوب مشرق میں واقع ایک علاقے میں ریان لوبہام پر الزام ہے کہ اس نے تین سے 10 دسمبر کے درمیان دو گھروں کو آگ لگائی۔ پولیس نے چشم دید گواہوں اور سی سی ٹی وی ویڈیو کے بعد کہا ہے کہ دونوں معاملات میں ریان ملوث ہے جو حقیقت میں ایک فائرفائٹر ہے اور کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکتاہٹ محسوس کررہا تھا۔ |
شام میں غیر ملکی جنگجو کس نے بھیجے؟
پہلی اشاعت: 25 نومبر ,2015: 12:00 دن GST آخری اپ ڈیٹ: 25 نومبر ,2015: 09:13 دن GST
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے شام میں اپنے ملک کی مسلح مداخلت کے دفاع میں کچھ عرصہ قبل یہ دلیل دی کہ ایران نے اس وقت مسلح دستے شام بھیجے جب باغی دمشق سے محض ۲۰۰ میٹر دور پہنچ چکے تھے۔ میرا آج کا موضوع شام میں ایرانی مداخلت نہیں ہے کیونکہ ان عزائم سے پوری دنیا پہلے ہی واقف ہے، میرا موضوع شامی باغی ہیں جو غیر ملکی جنگجووں کے شام میں داخل ہونے سے بہت پہلے ہی دمشق پہنچ چکے تھے۔
دو سال پہلے تک شامی باغیوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی اور ان کی اکثریت جنوبی علاقوں میں عراقی سرحد کے قریب تھی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایک عرصہ تک درا اور دمشق میں پر امن مظاہروں کے بعد ۲۰۱۱ میں بشار مخالف آزاد شامی فوج یا فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کا قیام عمل میں آیا تاکہ حکومتی مظالم کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایف ایس اے جلد ہی حلب، حماہ اور دوسرے علاقوں تک پھیل گئی مگر اس نے کوئی مذہبی اور فرقہ پرست نعرہ بلند نہیں کیا اور اس کے مطالبات سیاست اور حب الوطنی تک محدود رہے۔ اس میں شامل ہونے والوں کی غالب اکثریت مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے شامی شہریوں پر مشتمل تھی۔ ان کا بنیادی مقصد دہشت اور ظلم کی علامت بن جانے والے سیکیورٹی اداروں سے نجات حاصل کرنا اور صدر بشار الاسد کے قریبی حلقے اور اعلیٰ عہدیداران کے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا تھا۔
دو سال کے عرصہ میں ایف ایس اے نے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس مدت کے دوران ایف ایس اے اور اس کے حامیوں کے خلاف زبردست میڈیا پروپیگنڈا کیا گیا جس میں اس کی قیادت کی حب الوطنی پر شک و شبہات کھڑے کیے گئے اور مغربی ممالک سے اس کی وفاداری اور فنڈنگ کا پرچار کیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ ایف ایس اے کو اسلحہ اور امداد ان مقامات سے فراہم کی گئی جن کو 'ملٹری رومز' کہا جاتا ہے، ان میں مغربی ممالک کے نمائندے شامل تھے اور اس امر سے بین الاقوامی برادری آگاہ تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس دوران دو اہم واقعات ایسے ہوئے جن سے اقتدار کی کشمکش کا نقشہ ہی بدل گیا۔
ایک حزب مخالف کی تشکیل
شریک کھلاڑیوں کے سطحی مفادات، مسابقتی محرکات، اور یہ خوش گمانی کہ سقوط دمشق بس قریب آ چکا ہے، ایسے عوامل تھے جن کے باعث کھلاڑیوں کے مابین مسابقت اور اس کھیل کی تیزی میں بے انتہا اضافہ ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے شام میں اپنی وفادار حزب اختلاف قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مقامی انتہا پسند گروپوں کی تشکیل میں مدد کی اور غیر ملکی جنگجووں کو شام میں جا کر لڑنے کے لئے ترغیبات دیں۔ جب ایران نے ایف ایس اے کو دمشق کے قریب آتے دیکھا تو اس نے بھی حزب اللہ ملیشیا کو بھیج دیا اور ایرانی انقلابی گارڈز کے جرنیلوں کی ڈیوٹی لگائی کو وہ عراقی، افغانی اور دیگر ممالک سے حزب اللہ جیسے انتہا پسند گروپ تشکیل دے کر شام میں لڑنے کے لئے بھیجیں۔ اس طرح شام خطے میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی جنگ کا میدان بن گیا۔
ایسے میں بشار حکومت کی فوج اور ایرانی ملیشیاٗوں کے خلاف لڑنے والے انتہا پسند گروپوں سے کسی قسم کا تعاون بھی ایک بھاری غلطی تھا کیونکہ داعش ان تمام قوتوں کو اپنا دشمن سمجھتی تھی اور اس نے بشار کی فوج کے مقابلے میں ایف ایس اے کے خلاف زیادہ شدت سے لڑائی کی تھی۔ انتہا پسندوں کی مدد کرنے والوں کا خیال تھا کہ داعش اور النصرہ فرنٹ بشار کے خلاف تباہ کن اور موثر ہتھیار تھے اور ایف ایس اے کے پیچھے پیچھے دمشق میں داخل ہونے کا آسان ذریعہ بھی۔
بدقسمتی سے یہی حکمت عملی لیبیا میں بھی اپنائی گئی اور انتہا پسندوں پر اسی مقصد کے لئے انحصار کیا گیا، اور یہی نتیجہ برآمد ہوا۔ کسی بلا کی کمر پر سوار ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ بلا تابع ہو گئی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں جو شامی عوام سے ہمدردی رکھتی تھیں اس خطرے کو پہلے ہی بھانپ چکی تھیں اور انہوں نے ایف ایس اے اور شامی نیشنل کولیشن، جس میں تمام فرقوں اور نسلوں کے لوگ تھے، کی قیادت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔
آج خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کے دوبارہ ابھرنے کے خطرات صرف شام ہی کو نہیں بلکہ مصر، سعودی عرب، اردن اور دیگر ممالک کو بھی لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ ریاض نے شام جانے والے شہریوں کو سنگین خطرات کی وارننگ دی ہے اور سینئر علماء اور مفتی صاحبان سے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں سے کی جانے والی جہاد کی اپیلوں کو واپس لے لیں۔ ذرائع کے مطابق خدشات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ سعودی عرب نے ترک حکام سے کہا کہ وہ ایسے سعودی شہریوں کو گرفتار کر لیں جو شمال کی جانب ۳۶ ویں عرض البلد سے آگے کی طرف گزر جائیں کیونکہ اس جانب کوئی تفریحی اور تجارتی مقام نہیں ہے اور ایسے افراد غالباً شام کے شمالی علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہوں۔
بشار الاسد حکومت کی بقا اور بحالی اب ناممکن ہو چکی ہے اور ایک مشکل امکان بن چکی ہے۔ تاہم بشار حکومت ایک چیز میں کامیاب ہو گئی ہے اور وہ ہے بشار الاسد کے بعد کے شام کی تباہی۔ صرف بشار الاسد حکومت کو ہی مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا، بلکہ وہ تمام قوتیں جو غلط فہمیوں شکار تھیں اور وہ جو غیر حقیقی اور غیر منطقی تصورات کا تعاقب کرنے والے مفاد پرستوں کی پیروی کر رہی تھیں وہ بھی برابر کی مجرم ہیں۔ |
تھپڑ کے ایک عرصہ بعد فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کیلئے پیغام جاری کردیا
Jul 06, 2020 | 10:31:AM
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایک سال قبل جون میں تھپڑ مارنے کے واقعے کے بعدوفاقی وزیر فواد چودھری نے پہلی بار ان کے لیے مثبت الفاظ استعمال کیے ہیں۔
گزشتہ برس 15جون کو خبریں سامنے آئی تھیں کہ فواد چودھری نے ایک شادی کی تقریب میں سمیع ابراہیم کو تکرار کےبعد تھپڑ جڑ دیا۔
اس بار فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کے بارے مثبت جذبات کااظہارکیا ہے۔سماجی روابط کی ویبب سائٹ پر فواد چودھری نے کہا کہ "مجھے بتایا گیا ہے کہ بول ٹی وی کے CEO سمیع ابراھیم کرونا وباء کا شکار ہیں اور ان کی طبیعت صحیح نہیں، آللہ ان کا حامی و ناصر ہو اور جلد صحت عطا کرے۔۔۔ خدا اس وباء سے ہم سب کو محفوظ رکھے آمین"۔
فواد کے ٹویٹ پر صارفین نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا ہے۔ ایک صارف شہباز حسین نے ردعمل دیا کہ "پرائیویٹ میں تھپڑ اور دنیا کے سامنے اچھے بننے کی کوشش"۔
پرائیویٹ میں تھپڑ اور دنیا کے سامنے اچھے بننے کی کوشش
— Shahbaz Hussain ( stay home????) (@Shahbaz59714060) July 6, 2020
شہزاد نے لکھا کہ "آمین بس آپ خیریت دریافت کرنے خود تشریف نا لے کر جانا!!!! دونوں کو خطرہ ھوگا "
بس آپ خیریت دریافت کرنے خود تشریف نا لے کر جانا!!!! دونوں کو خطرہ ھوگا????????????
— ????Åß Shåhżåd???? (@ranashzhad) July 6, 2020
نویان نے لکھا "اللہ پاک سمع ابراھیم کو جلد صحت یاب کرے اور جلد کسی ولیمہ پر آپکی سلیم صافی سے ملاقات کا اہتمام کرے۔ آمین یا رب العالمین"
اللہ پاک سمع ابراھیم کو جلد صحت یاب کرے اور جلد کسی ولیمہ پر آپکی سلیم صافی سے ملاقات کا اہتمام کرے۔ آمین یا رب العالمین
— نویان (@Im_Noyaan) July 6, 2020
عبدالصمد نے لکھا کہ "سر مبشرلقمان کو بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے"
سر مبشرلقمان کو بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے
— Abdul Samad (@AbdulSa08448051) July 6, 2020
خیال رہے فواد چودھری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دوران تکرار وہ اشتعال میں آگئے تھے اس لیے سمیع کو تھپڑ دے ماراا جب کہ سمیع ابراہیم نے فواد چودھری کی اس حرکت پر ان کے خلاف فیصل آباد تھانے میں درخواست دائر کردی تھی۔
ٹی وی اینکر سے جھگڑے کا پس منظر بتاتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'میں نے حکومتی اشتہارات کو سٹریم لائن کیا اور رییٹنگز کے مطابق A,B, C اورD کیٹیگیز بنائیں۔ اس تبدیلی سے حکومتی اشتہارات کے اخراجات میں 70 فیصد کمی آئی۔ اب چینلز میں دوڑ تھی کہ ہمیں A یا B کیٹیگری میں رکھیں۔ سمیع ابراھیم نے مجھے کہا کہ ہم نے آپ کی بہت خدمت کی ہے ہماری کیٹگری A کریں اور ساتھ ہی دو کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی کہا۔ میرے انکار کے بعد ایک مستقل مہم میرے خلاف شروع کر دی گئی جو بلیک میلنگ کی شکل اختیار کرگئی تھی۔'
ادھر سمیع ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک شادی کی تقریب کے دوران فیصل آباد سے تحریک انصاف کے ایم این اے فرخ حبیب، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، دو صحافی رؤف کلاسرا اور ارشد شریف کے ساتھ کھڑے گپ شپ کر رہے تھے۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے بحث کے دوران سمیع ابراہیم کو جو تھپڑ مارا ہے وہ صحافت کے منہ پر نہیں بلکہ زرد صحافت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا جس پر انھوں نے مقامی پولیس کو ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ 'تاہم پولیس نے مجھے بتایا ہے کہ درخواست پر فوری کارروائی ممکن نہیں ہے۔' |
صدف حسین : متاثر کن کارکردگی کے باوجود مسلسل نظرانداز -
صدف حسین : متاثر کن کارکردگی کے باوجود مسلسل نظرانداز
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سلیکٹرز کی جانب سے ہمیشہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مگر ایسے کئی نوجوان ہیں، جو ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کے باوجود آج بھی موقع کے منتظر ہیں۔ صدف حسین بھی ایک ایسا ہی نام ہے۔
بائیں ہاتھ کا یہ فاسٹ بالر ایک عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں زیر بحث ہے۔ گو اسے اب تک پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا، مگر اس کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
اس 28 سالہ کرکٹر کو ڈومیسٹک کرکٹ کے پانچ بہترین بالرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ صدف حسین 73 میچز میں 353 وکٹیں اپنے نام کر چکے ہیں۔ اُنھوں نے 24 بار پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا، جبکہ پانچ بار انھوں نے دس وکٹیں اپنے نام کیں۔ اس قابل تعریف ریکارڈ کے باوجود یہ امر حیرت انگیز ہے کہ صدف کو اپنی ریجنل ٹیم راولپنڈی کی نمائندگی کا بھی تسلسل سے موقع نہیں ملا۔
یہ دراز قد کھلاڑی اس ناانصافی کے اسباب سے یکسر لاعلم ہے۔ اے آروائی اسپورٹس سے بات کرتے ہوئے صدف نے کہا: "ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کے باوجود سلیکٹرز کی جانب سے موقع نہ ملنا مایوس کن ہے، مجھے خبر نہیں کہ مجھے کیوں نظرانداز کیا گیا، شاید سلیکٹرز اس مسئلے پر زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں''۔
کچھ حلقوں کی جانب سے صدف کی فٹنس اور رفتار پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بیش تر افراد نے صدف کو لائیو یا ٹی وی پر کھیلتے ہوئے نہیں دیا۔
صدف حسین کے نزدیک اس کی فٹنس اور رفتار سے متعلق سوال اٹھایا جانا ناقابل فہم ہے۔ اگر وہ فٹ نہیں، تو ڈومیسٹک کرکٹ میں اتنی اچھی پرفارمنس کیسے دی ؟ اتنی وکٹیں کیسے اپنے نام کر لیں؟صدف کے بقول،"میں اس وقت 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہا ہوں، جو بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کے عین مطابق ہے''۔
اپنے متاثر کن مگر بے ثمر کیریر میں صدف کو کئی کٹھن لمحات دیکھنے پڑے۔ ایک زمانے میں وہ کرکٹ چھوڑنے سے متعلق سنجیدگی سے سوچنے لگے تھے۔ اس موقع پر صدف کے والد نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور آگے بڑھنے کی تحریک دی۔
ناانصافیوں کے باوجود باوجود صدف حسین کو امید ہے کہ وہ اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر جلد پاکستانی ٹیم میں جگہ بنا لیں گے۔ صدف کے مطابق فاسٹ بولر کے کیریر کی عمر مختصر ہوتی ہے۔ بیٹسمین اور اسپنر کے برعکس اس کا کیریر مختصر ہوتا ہے، اسی لیے ان کی خواہش ہے کہ انھیں جلد اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جائے۔
صدف کا کہنا ہے کہ سینئر اور ریٹائر کھلاڑی ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، مگر سلیکٹرز اب تک اُن کی جانب متوجہ نہیں ہوئے۔ یہ امر بھی دل چسپ ہے کہ صدف کو اب تک کرکٹ کے مقبول ترین فارمیٹ یعنی ٹی 20 میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع نہیں ملا اور اس کی وجوہات بھی غیرواضح ہیں۔ |
اداکارہ ڈیمی لواٹو کی زندگی اورموت کےدرمان 10 منٹ کا فاصلہ – Khouj News
اداکارہ ڈیمی لواٹو کی زندگی اورموت کےدرمان 10 منٹ کا فاصلہ
ابتدائی طورپریہ خبریں بھی سامنےآئی تھیں کہ انہیں ساتھی ڈانسرزوگلوکاراؤں نےحد سےزیادہ نشہ دیا تھا
امریکی اداکارہ، گلوکارہ ونغمہ نگار 28 سالہ ڈیمی لواٹو نےانکشاف کیا ہےکہ 2018 میں جب وہ حد سےزیادہ منشیات استعمال کرنےکی وجہ سےبےہوش ہوگئی تھیں،تب ڈاکٹرزنےان کےلیےکہا تھا کہ وہ بس مزید 5 منٹ تک زندہ رہیں گی۔ ڈیمی لواٹوکوجولائی 2018میں امریکا میں اپنی رہائش گاہ پربےہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا اورانہیں تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ڈیمی لواٹو 2 سے 4 ہفتوں تک ہسپتال میں رہی تھیں اورابتدائی 4 دن تک وہ غنودگی کی حالت میں تھیں اورانہیں شدید بخار،الٹیاں اوربارباربےہوشی کےدورے پڑرہےتھے۔
ابتدائی طورپریہ خبریں بھی سامنےآئی تھیں کہ انہیں ساتھی ڈانسرزوگلوکاراؤں نےحد سےزیادہ نشہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں گلوکارہ نےخود اعتراف کیا تھا کہ وہ چند سال سےنشےکرنےکی عادی ہیں۔ ہسپتال سےڈسچارج کیےجانےکےبعد ڈیمی لواٹوکوبحالی سینٹرمیں رکھا گیا تھا اور وہ چند ماہ تک موسیقی وشوبزکی دنیا سےدورتھیں اورگزشتہ برس پہلی بارانہوں نےموسیقی کی دنیا میں دوبارہ قدم رکھا تھا۔
جس وقت جولائی 2018 میں ڈیمی لواٹوکوہسپتال منتقل کیا گیا تھا اوروہ چاردن تک بےہوشی کی حالت میں تھیں،تب زیادہ ترشوبزشخصیات کولگ رہا تھا کہ وہ بچ نہیں پائیں گی۔ اوراب خود انہوں نےاس وقت کی اپنی صحت سمیت زندگی کےتمام مسائل پرپہلی بارکھل کربات کی۔ خبر رساں ادارے کےمطابق ڈیمی لواٹوکی جلد ریلیزہونےوالی دستاویزی فلم 'ڈانسنگ ود ایول' کا ٹریلرجاری کردیا گیا،جسےآئندہ ماہ 23 مارچ کوریلیزکردیا جائےگا۔ تین منٹ سےکم دورانیےکےٹریلرمیں ڈیمی لواٹوسمیت متعدد گلوکاروں،موسیقاروں،اداکاراؤں اوران کےقریبی افراد کو بھی ان کی زندگی پربات کرتےہوئےدکھایا گیا ہے۔
دستاویزی فلم کے ٹریلر میں ڈیمی لواٹو کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیے جانے سمیت میڈیا کی خبریں بھی دکھائی گئی ہیں اور ان کی صحت پر تبصرہ کرنے والے افراد کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ٹریلر میں ڈیمی لواٹو بچپن سے خود کو پیش آنے والے طبی مسائل پر بات کرتی دکھائی دیں اور ساتھ ہی انہوں نے 2018 میں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بھی کھل کر بات کی۔ ڈیمی لواٹو نے مختصر ٹریلر میں بتایا کہ جب انہیں جولائی 2018 میں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تھا، تب انہیں دوران علاج ایک دل کا دورہ پرا تھا جب کہ ان پرتین فالج کے اور دماغ کا ایک حملہ بھی ہوا تھا۔
ڈیمی لواٹو نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹرز کی جانب سے مطلع کیا گیا تھا کہ گلوکارہ کے پاس زندہ رہنے کے لیے مزید 5 سے 10 منٹ ہیں۔ ٹریلر میں گلوکارہ نے بتایا کہ وہ موت کے منہ سے بچ نکلیں اور انہوں نے دوبارہ زندگی کو جینا شروع کیا اور اب ان کی منگنی ہوچکی ہے، تاہم ساتھ ہی وہ انگوٹھی کو دیکھتے ہوئے خاموش بھی ہوگئیں۔ ڈیمی لواٹو نے صحت یابی کے بعد جولائی 2020 میں دیرینہ بوائے فرینڈ میکس ارچ سے منگنی کی تھی، تاہم دونوں کی منگنی محض دو ماہ بعد ستمبر 2020 ہی ختم ہوگئی تھی۔ ڈیمی لواٹو نے منگنی ختم کرنے کے حوالے سے واضح طور پر کوئی بیان نہیں دیا تھا، تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ 23 مارچ کو ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم میں وہ اس پر بھی کھل کر بات کریں گی۔
ڈیمی لواٹو ماضی میں ہی اعتراف کر چکی ہیں کہ انہوں نے انتہائی کم عمری یعنی 17 برس کی عمر سے 'کوکین' سمیت دیگر نشے کا استعمال کردیا تھا اور انہیں 18 برس کی عمر میں ہی بحالی سینٹر بھیجا گیا تھا۔ گلوکارہ ماضی میں ہی کہہ چکی ہیں کہ بچپن کے واقعات کی وجہ سے انہیں نشے کی لت لگی اور بعض اوقات وہ بیک وقت متعدد نشوں کا استعمال بھی کرتی رہی ہیں، جس وجہ سے ان کی زندگی ختم ہوتے ہوتے بھی بچی ہے۔
خیال رہے کہ ڈیمی لواٹو نے بطور چائلڈ آرٹسٹ ہی اپنا کیریئر شروع کیا، انہوں نے پہلے پہل ٹیلی وژن پر اداکاری کی، بعد ازاں انہوں نے گلوکاری اور شاعری میں بھی قسمت آزمائی۔ اب تک ڈیمی لواٹو 9 سے زائد فلموں اور 2 درجن سے زائد ڈراموں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ ڈیمی لواٹو اب تک 6 میوزک ایلبم ریلیز کرنے سمیت درجنوں گانے بھی ریلیز کر چکی ہیں۔ |
پاکستان کا وہ علاقہ جہاں رات کے وقت خواتین کا راج چلتاہے ، کوئی بھوکانہیں سوتا – Urdu Falak
Home / حالات حاضرہ / خبریں / پاکستان کا وہ علاقہ جہاں رات کے وقت خواتین کا راج چلتاہے ، کوئی بھوکانہیں سوتا
مغربی اور بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا ہر وقت جاری رکھتاہے جس کی وجہ سے بیرونی دنیامیں پاکستان کا امیج زیادہ اچھانہیں لیکن اِسی ملک میں امن وامان ، معاشرتی انصاف اور بھائی چارے کی ایسی مثالیں بھی ہیں جس کی مہذب دنیا میں مثال نہیں مل سکتی ، سب سے زیادہ جرائم سے متاثرہ سمجھے جانیوالے کراچی کا ایک علاقہ ایسابھی ہے جہاں رات کی تاریکی میں گلیوں میں خواتین کی حکمرانی ہوتی ہے ، جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور 20ہزار کی آبادی میں کوئی شخص بھوکانہیں سوتا، کسی بھی غیرشخص کا علاقے میں گھسنا ہی ناممکن ہے جبکہ شادی بیاہ کی عمومی رسومات ہفتے کی شام کوہی ہوتی ہیں ،علاقے میں نئے آنیوالے شخص سے عزت سے پیش آتے ہیں لیکن آنے کا مقصد اور شناخت مشکوک ہونے کے بعد اجتماعی اقدام بھی ہوسکتاہے ، ایسا ہی کچھ ایک سیاسی جماعت کے کارکنان کے ساتھ بھی ہواجو زبردستی کھالیں لیناچاہتے تھے لیکن پھر اُنہیں دم دبا کر بھاگنا پڑا، کسی کو خون کی ضرورت ہوتو مسجد میں اعلان ہوتاہے اور محلے کا ہرنوجوان ہسپتال پہنچتاہے ۔
ڈان نیوز کے مطابق چائے کیساتھ لطیفے سنانے اور ہنسنے ہنسانے میں مصروف خواتین رات کے پہر گلیوں پر حکمرانی کرتی ہیں، بغیر کسی ڈر یا ملامت کے، کوئی مرد یا بچہ ان کے امن کو متاثر نہیں کرتا اور وہ اپنا فرصت کا وقت بھرپور مزے کے ساتھ گزارتی ہیں، اس علاقے کے رہائشیوں کے لیے یہ برسوں پرانی ایک عام چیز ہے۔
یہاں کی مرکزی شاہراہ متعدد گلیوں سے منسلک ہے جن کے پرانے نام ابھی تک برقرار ہیں جیسے پیرو بدھا سٹریٹ، کلیان جی اسٹریٹ، کسی کو بھی معلوم نہیں کہ کس زمانے میں ان کا قیام عمل میں آیا،ہر گلی کے آغاز پر لکڑی کی بینچ ہر کونے میں رکھی ہیں جہاں ہمیشہ ہی لوگ موجود ہوتے ہیں اور بھیل پوری سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو کہ اس علاقے کی خاصیت ہے
ان کی جماعت بھی موجود ہے جس کے ایک رکن سلمان گزدرنے ڈان نیوز کو بتایاکہ تمام امور پر غور اور فیصلہ مشاورت کمیٹی کرتی ہے، اب چاہے وہ گھریلو تشدد کا معاملہ ہو طلاق یا چوری کا، ایک تیرہ رکنی ٹیم کا انتخاب مختلف امور جیسے کھیل، صحت، تعلیم اور مقامی مساجد وغیرہ کے لیے ہوتا ہے۔ جماعت کا اپنا آئین ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ برادری کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے، ہمارے اپنے شناختی کارڈز بھی ہیں جو قومی شناختی کارڈز سے ملتے جلتے ہیں، علاقے میں جرائم کی شرح بہت کم ہے اور یہاں کی گلیوں میں مقامی رہائشی لوٹ مار کے ڈر سے آزاد ہوکر آزادی سے گھومتے ہیں۔ |
دابھولکر قتل معاملہ: جلگاؤں سے گیراج مالک گرفتار | ساحل آن لائن
دابھولکر قتل معاملہ: جلگاؤں سے گیراج مالک گرفتار
Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th September 2018, 10:23 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |
ممبئی،07؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر کے سرخیوں میں چھائے دابھولکر قتل معاملہ میں ریاستی اے ٹی ایس نے جمعرات کی شب جلگاؤں ضلع میں واقع یاول سے گیراج مالک وشا ل عرف سکھدیو بھگوان سوریہ ونشی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے ٹی ایس نے سوریہ ونشی کے گھر کی تلاشی لی اور کاغذات برآمد کئے ہیں۔معلومات کے مطابق اندھ شردھانرمولن سمیتی کے بانی ڈاکٹر نریندر دابھولکر کاقتل 20 اگست 2013 کو نامعلوم حملہ آوروں نے پنے میں کیا تھا۔اس معاملہ کی تحقیقات کر رہی اے ٹی ایس نے گزشتہ رات یاول واقع گیراج کے مالک وشال سوریہ ونشی کو گرفتار کیا ہے۔ وشال بنیادی طور پر مکتائی نگر کا باشندہ ہے اور اس کے والد گزر چکے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں سے وہ اپنی والدہ اور دادی کے ساتھ یاول میں رہتا ہے۔ گزشتہ رات یہاں اے ٹی ایس کی دو ٹیم آئی تھی اور گھر کی دو گھنٹے تک تلاشی لی۔بعد میں وشال کو گرفتار کر لیا۔ اس معاملہ میں، سی بی آئی نے امول کالے اور شردکلسکر سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اے ٹی ایس کو ملی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اے ٹی ایس نے وشال کوگرفتار کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ دابھولکر قتل میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل کے تار وشال سے ہی جڑے ہیں۔ اے ٹی ایس نے اس معاملہ میں کچھ بھی بولنے سے فی الحال انکار کیا ہے۔ |
سعودی لڑکی شاپنگ مال میں شرمناک حرکت کرنے والے نوجوان پر چڑھ دوڑی وائرل ہونے والی ویڈیو میں لڑکے نے لڑکی کوزور سے دھکا دیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا
سعودی لڑکی شاپنگ مال میں شرمناک حرکت کرنے والے نوجوان پر چڑھ دوڑی
وائرل ہونے والی ویڈیو میں لڑکے نے لڑکی کوزور سے دھکا دیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا
محمد عرفان ہفتہ 19 ستمبر 2020 18:15
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19 ستمبر2020ء) سعودی عرب میں خواتین پر جنسی حملوں اور ہراسگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چند روز قبل بھی ایک سعودی شاپنگ مال میں چند نوجوانوں کی جانب سے لڑکیوں کے ساتھ بے ہودہ حرکات اور ان کی مار پیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ایسا ہی ایک اور ریاض کے ایک اور شاپنگ مال میں بھی پیش آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ریاض میں ایک نوجوان کی جانب سے جنسی ہراسگی کی شرمناک حرکت پر لڑکی نے اس پر حملہ کر دیا۔
اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ سعودی ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ریاض کے ایک شاپنگ مال میں پیش آیا جہاں لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئی ہوئی تھی۔نوجوان کی جانب سے کوئی شرمناک حرکت کی گئی۔ جس کے بعد لڑکی نے اس پر حملہ کر دیا۔
دونوں نے ایک دوسرے پر مُکے بھی برسانے کی کوشش کی۔اس دوران نوجوان نے زور سے لڑکی کو دھکادے کر نیچے گرانے کی کوشش کی تاہم لڑکی نے سنبھل کرلڑکے کے دوبارہ پاس آنے کی کوشش کی۔
جب اچانک وہاں موجود لوگوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کے درمیان آ کر دونوں کو ایک دوسرے سے پرے کر دیا۔ سعودی لڑکی کی جانب سے نوجوان کو کھری کھری سُنائی گئیں۔ وہ لڑکے کو یہ کہتے سُنی گئی "کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی تمہاری جرات کیسے ہوئی؟" لڑائی ختم ہونے کے بعد بھی سعودی لڑکی نے نوجوان کو بُرا بھلا کہنا جاری رکھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
جس کے بعد صارفین نے بدتمیز نوجوان کی شرمناک حرکات اور لڑکی کو دھکا دے کر گرانے پر اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سارے معاملے کی تحقیقات کرانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ لڑائی کی یہ ویڈیو پولیس کو بھی رپورٹ کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد واضح امکان ہے کہ لڑکی سے پوچھ گچھ کے بعد نوجوان کو جنسی ہراسگی اور تشدد کے الزام میں گرفتار کر لیا جائے گا۔
حملہپولیسسعودی عربسوشل میڈیاریاضسعودی
فرانس میں جامع مسجد کے نمازیوں کو قتل کی دھمکیوں سے بھرا خط موصول
رسول اللہ ﷺ کی توہین، ساری امت مسلمہ کی توہین ہے، حسن روحانی
مغربی ممالک دوبارہ صلیبی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں
ترکی نے مسلسل گستاخانہ و شرانگیز حرکتیں کرنے والے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبدو کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا |
2019ء کے اقبالیاتی ادب کا سرسری جائزہ - پروفیسر مہر سخاوت حسین - Daanish.pk دانش
2019ء کے اقبالیاتی ادب کا سرسری جائزہ —— پروفیسر مہر سخاوت حسین
By دانش ڈیسک on فروری 27, 2020 تازہ ترین, علم و ادب, کتابوں پر تبصرے
علامہ محمد اقبال محض ایک شاعر یا مفکر نہیں بلکہ ایک دبستان، تحریک اور عہد کا نام ہیں۔ ان پر اب تک اندرون و بیرون ملک ہزاروں کتب لکھی جا چکی ہیں اور ان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہاہے۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو کے کسی اور شاعر یا ادیب پر اتنی کتب نہیں لکھی گئیں جتنی اقبال پر لکھی گئی ہیں۔ یہاں ہم 2019 ء کے دوران علامہ محمد اقبال پر لکھی گئی چند ایک کتب کا سرسری جائزہ پیش کریں گے۔ گزشتہ سال کے دوران ان پر جو مضامین و مقالات لکھے گئے ان کا جائزہ ہم اگلے مضمون میں لیں گے۔
سری نگر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز لون جو اقبال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور سے بھی وابستہ ہیں کی کتاب Iqbal, Ali Shariati and Islamic Sociology ایک وقیع کام ہے۔ اس کتاب کا تحقیقی معیار بلند ہے۔
حمید ہاتف نے دو قلندر گفت کے نام سے جوکتاب لکھی ہے اس میں اقبال اور رحمان بابا کے فکری مماثلات پر بحث کی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمد رفیق خان کی کتاب اقبال، فیض اور ہم بھی اہم ہے۔ اس میں انھوں نے اقبال اور فیض کے ذہنی روابط پر بعض فکر انگیز نکات پیش کیے ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا شہباز کی کتاب ذکر ِ زن : علامہ اقبال کی شاعری میں خواتین کا تذکرہ بھی اس موضوع پہ اچھا کام ہے۔ عنایت علی پیشے کے لحاظ سے انجینئیر ہیں اور اقبالیات کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اقبال: بچوں اور نوجوانوں کے لیے کے نام سے ایک اچھی کاوش ہے۔ در برگ لالہ وگل میں افضل رضوی نے کلام اقبال میں موجود پھولوں اور دیگر نباتات کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب اچھی تحقیق اور عمدہ طباعت کا نمونہ ہے۔ ریاض احمد لارنس کالج گھوڑا گلی میں اردو کے استاد ہیں ان کی کتاب معترضین اقبال اور ایوب صابر بھی ایک عمدہ تحقیقی کام ہے۔ تفاخر محمود گوندل کی اقبال اہل بیت کے حضور بھی عمدہ تحقیق کا نمونہ ہے۔ اسما انصاری کی اقبال دشمنی کا ایک پوشیدہ باب بھی گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اچھی کتاب ہے۔ حمیرا جمیل احمد نے کلیات اقبال کی سادہ اور مختصر شرح لکھنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ عام قارئین کلام اقبال کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ گزشتہ سال ان کی اس سلسلے کی ایک کتاب شرح بال جبریل شائع ہوئی ہے۔ نوید مرزا کی ایک کتاب اقبال کہانی (استاد کا احترام) بھی گزشتہ سال شائع ہوئی اس میں انھوں نے بچوں کے لیے بہت سبق آموز کہانی تحریر کی ہے۔ بچوں میں اقبالیات کے فروغ کے لیے اس قسم کی کتب بہت ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ محمد الیاس کی اقبال کا ایوان دل، شجاع الدین کی اقبال مزاح کی زد میں، بابر جاوید کی اقبال کا تصور اخلاق، خالد سردار کی کولونیل ازم، محکومیت اقبال کی نظر میں بھی اقبالیاتی ادب میں اچھے اور لائق مطالعہ اضافے ہیں۔ |
گلوکارہ مومنہ مستحسن دنیا کی 100 متاثرکن خواتین میں شامل واحد پاکستانی
Sep 28, 2017 | 11:12:AM
لندن (ویب ڈیسک) معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن کو بی بی سی نے 2017ء کی 100 متاثرکن خواتین میں شامل کیا ہے۔
اس فہرست میں دنیا بھر سے سو خواتین کا انتخاب کیا گیا اور مومنہ مستحسن پاکستان سے منتخب ہونے والی واحد خاتون ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ' رواں برس اس فہرست میں شامل خواتین 100 ویمن چیلنج کا حصہ ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں خواتین کو درپیش مسائل کے خلاف جدوجہد کی'۔ مومنہ مستحسن کے علاوہ ناسا کی خلاء باز پیگی وائٹسن، لائبیریا کی صدر ایلن جونسن شیرلیف اور انگلش فٹبالر اسٹیف ہوفٹن بھی شامل ہیں۔
یہ پانچواں سال ہے جب بی بی سی نے سو بااثر اور متاثرکن خواتین کی فہرست کا اجراء کیا ہے اور اس سال سو خواتین کو آج کی خواتین کو درپیش چار بڑے مسائل سے نمٹنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ ان مسائل میں خواتین میں شرح تعلیم کی کمی، عوامی مقامات پر ہراساں کیا جانا، کھیلوں میں صنفی امتیاز اور کسی شعبے میں آگے بڑھنے سے روکنے والی غیراعلانیہ رکاوٹ۔
مومنہ مستحسن نے اس حوالے سے کہا کہ ایک قول نے انہیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دی اور وہ بھی ڈپریشن سے لڑتے ہوئے ایک بسکٹ پر انہوں نے دیکھا تھا جس نے انہیں ذہنی طور پر بیدار کردیا۔ اس فہرست میں مزید چالیس نام شامل کئے جائیں گے اور اس کی مکمل فہرست اکتوبر میں جاری کی جائے گی۔ |
سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم 'دل بیچارہ' ریلیز کردی گئی - Dailyaftab
سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم 'دل بیچارہ' ریلیز کردی گئی
ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم 'دل بیچارہ' ریلیز کردی گئی ہے، فکم ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار پر ریلیز کی گئی۔
فلم دل بیچارہ ہالی ووڈ فلم 'دی فالٹ ان آر اسٹار' کا ہندی ریمیک ہے، اس فلم میں سوشانت کے ہمراہ سنجنا سانگھی مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، سنجنا نے اس فلم کے ساتھ بالی ووڈ میں بطور مرکزی کردار اپنا ڈیبیو کیا ہے۔
فلم دل بے چارہ کے ڈائریکٹر مکیش چھابڑا ہیں جو بطور ڈائریکٹر ا ن کی پہلی فلم ہے، مرکزی کردار ادا کرنے والی سنجنا سانگھی پہلے راک اسٹار اور ہندی میڈیم جیسی فلموں میں چھوٹے کرداروں میں نظر آچکی ہیں۔
دل بیچارہ' کو ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار پر مقرر وقت سے دس منٹ پہلے ریلیز کردیا گیا ہے، پہلے فلم شام ساڑھے سات بجے ریلیز ہونے والی تھی۔سوشانت اور سنجنا کی کیمسٹری کو بڑے شاندار طریقے سے دکھایا گیا ہے، فلم میں جذبات دکھائے گئے ہیں ہے جو دل کو چھو جاتے ہیں۔
فلم میں سوشانت سنگھ راجپوت کی اداکاری شاندار لگ رہی ہے اس کے ساتھ ہی سنجنا نے بھی کافی بہتر طریقہ سے کیزی کی کردار کو ادا کیا ہے۔سوشانت سنگھ کی موت کو ڈیڑھ مہینے سے زیادہ کا وقت گزر گیا ہے لیکن ابھی بھی اداکار کے مداح ان کی موت کے صدمہ سے باہر نہیں آسکے ہیں۔
مداحوں کو 'دل بیچارہ' کا بے صبری سے انتظار تھا۔واضح رہے کہ فلم 'دل بیچارہ' پہلے مئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی لیکن کورونا وائرس کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ |
آپ کے موٹاپے کی پریشانی ختم ہو جائے گی
اور اس سے نہ صرف انسان بد ہیئت لگتا ہے بلکہ بڑھا ہوا پیٹ امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر کئی امراض کا پیش خیمہ بھیہوسکتا ہےطبِ مشرق اور آیورویدک طریقہ علاج میں بڑھتے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کی کئی تدابیر موجود ہیں جن پر عمل کرکے پیٹ اور سینے کو ایک حد تک ایک ہی سطح پر لایا جاسکتا ہے۔
لیکن اس میں مستقل مزاجی اور صبر کی ضرورت ہے کیونکہ پیٹ نہ ایک ہفتے میں بڑھتا ہے اور نہ ہی ایک ہفتے میں کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے طبِ مشرق کی یہ 8 تدابیر بہت فائدہ مند ہوسکتی ہے پانی کا زیادہ استعمال:اگر آپ کمر کی چوڑائی کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو زیادہ پانی پینا بھی اس کا ایک بہترین ٹوٹکا ہے،
پانی خون میں شامل ہوتا ہے اور چکنائی کے سالمات کوگھلاتا ہے جب کہ زیادہ پانی پینے سے بدن کے زہریلے مرکبات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اب ہم دوستو آج کے ٹوپک کی طرف آتے ہیں ایک قرآنی سورۃ بتائیں گے جس سے آپ کے موٹاپے کی پریشانی ختم ہو جائے گی یہ وظیفہ پڑھتے ہی پڑھتے پیٹ کی چربی پگل جائے گی
وہ وظیفہ یہ ہے اس عمل کی اجازت عام ہے کسی بھی وقت باوضو ہو کر پہلے پانچ دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھیں اور پھر ایک دفعہ سورۃ لرعد پڑھیں اور یہ عمل موٹاپاختم ہونے تک جاری رکھیں انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں پیٹ کی چربی پگل جائے گی
اس وظیفہ کو شیئر ظرور کریں طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اوریونانی سسٹم آف میڈیسن میںصدیوں سے استعمال ہونے والی دوا کلونجی پردنیا بھر میں ہزاروں مطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزہورہے ہیں ۔اب ماجہ اور بخاری شریف میں خالد بن سعد سے روایت ہے کہ ہم لوگ سفر میں تھے۔
ہمارے ساتھ غالب بن الجبر بھی تھے۔ وہ راستے میں بیمار ہو گئے۔ ہم لوگ مدینہ پہنچے تو وہ اس وقت بھی بیمار تھے۔ابنِ ابی عتیق ( عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰنبن ابو بکرؓ) ان کی عیادت کے لئے آئے تو ہم سے فرمایا
"تم کالا دانہ استعمال کرو۔ اس کے پانچ سات دانے کر پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ان کی ناک میں چند قطرے اس طرف ڈالو اور چند قطرے اس طرف ڈالو |
وزن کم کرنے والے فوڈوں کے لئے 37 بہترین صحتمند ناشتہ - وزن میں کمی
اہم اداکار ، ماڈل اداکار ، ڈیزائنر
وزن میں کمی کے لئے 37 بہترین صحتمند ناشتے کا کھانا
صبح کھانے سے آپ پتلا رہنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے خیالات کے ل these ان صحتمند ناشتے کے ساتھ صبح سویرے اپنی سلم ڈاون ترقی کو فروغ دیں۔
دبلے پتلے لگنے اور اپنے دن کو دائیں پیر سے شروع کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ وزن میں کمی کے لئے صحتمند ناشتہ کھایا جائے۔ یہ ایک غیر متناسب حقیقت ہے ، ایک کے مطابق کارنیل یونیورسٹی کا مطالعہ . جب محققین نے 147 پتلے لوگوں کا سروے کیا جن کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی بھی اپنے وزن سے جدوجہد نہیں کرنی ہوگی ، تو انھوں نے پایا کہ ان میں سے 96 فیصد نے تقریبا breakfast ہر دن ناشتہ کھایا۔ لیکن یہ صرف ان لوگوں کے فٹ نہیں ہے جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ناشتہ ان کے روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے ، یہ وہ لوگ بھی ہیں جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ حیرت زدہ اعدادوشمار ہے: اہل افراد کے 78٪ وزن کم کریں اور اسے دور رکھیں ہر دن ناشتہ کھائیں . یہ رب کی تلاش میں سے ایک ہے نیشنل ویٹ کنٹرول رجسٹری : ایک جاری تحقیقی پروجیکٹ جو 25 سال سے ڈیٹا اکٹھا کررہا ہے اس پر کہ لوگ اپنا وزن کیسے کم کرتے ہیں اور اسے کیسے دور رکھتے ہیں۔
ٹھیک ہے ، لہذا اب جب ہم جانتے ہیں کہ ناشتہ کھانا ضروری ہے — چاہے آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہو یا نہیں — لیکن وزن میں کمی کے لئے صحتمند ناشتے میں در حقیقت کیا ہے؟ ہم آپ کے ساتھ صحتمند ناشتے کھانے کی فہرست تیار کرتے ہیں جو آپ کے صبح کے کھانے میں جگہ کے مستحق ہوتے ہیں نیز ناشتے کی ترکیبیں جو آپ ان میں استعمال کرسکتے ہیں۔
صحت مند ناشتے کے خیالات
ایک بار جب آپ ذیل میں تیار کردہ بہترین صحتمند ناشتے کھانے کا ذخیرہ کرتے ہیں تو آپ کو انہیں کھانے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے! اس کے لئے ، ہمارے پاس ایک ماسٹر لسٹ ہے وزن کم کرنے کے لئے بہترین صحت مند ناشتے کی ترکیبیں اس کے ساتھ ساتھ آسان ناشتے کی ترکیبیں . لیکن حوصلہ افزائی کے لئے — تیز رفتار your اپنے وزن میں کمی کے ناشتے کے خیالات کے ساتھ اپنا تخلیقی جوس بہائیں جس میں کم از کم دو صحتمند ناشتے کھانے کی خصوصیات ہیں۔
یونانی یا آئس لینڈی دہی ، بیر اور گرینولا
دلیا ، سیب ، مونگ پھلی مکھن ، فلیکسیڈ
جنوب مغرب سے متاثر ہوکر انڈے ، کالی پھلیاں ، ایوکاڈو ، ٹماٹر سالسا
سالمن ٹوسٹ ، یونانی دہی پھیل گیا ، ٹماٹر ، ککڑی ، اعلی فائبر کی روٹی
گراؤنڈ ٹرکی اور انڈے کا ہیش میٹھے آلو کے ساتھ
وزن میں کمی ہموار مونگ پھلی کے مکھن ، اسٹرابیری ، پروٹین پاؤڈر کے ساتھ
کیلے کے ساتھ بادام مکھن ٹوسٹ
بروکولی ، انڈا ، ترکی بیکن ، اور پنیر کی کوکی
پروٹین کافی
بیر ، پودینہ ، اخروٹ اور دہی کے ساتھ پوری گندم کے پینکیکس
چیا کا کھیر
وزن کم کرنے کے ل breakfast ناشتے میں کیا کھانوں کا کھانا ہے
بہترین ناشتے صحت مند ناشتا کھانے سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ کھانوں کی بنیاد — اگر آپ بنائیں گے — عمارت کے بلاکس ہیں the اس کھانے کے لئے جو آپ کے پورے دن کی نوید سنانے والا ہے۔
یہ صحت مند کھانے میں پروٹین زیادہ ہے ، غیر صحت مند چربی میں کم ، فائبر سے مالا مال اور کیلوری کی مقدار کم ہے۔
اس مضمون کو بُک مارک کریں تاکہ جب آپ اپنی گروسری کی فہرست تیار کرتے ہو تو آپ ہمیشہ اس کا حوالہ دے سکتے ہیں۔
وزن کم کرنے کے لئے 9 بہترین ناشتے کے پروٹین
نامیاتی پروٹین پاؤڈر
پروٹین ، 2 اسکوپس: 34–48 جی
پروٹین پاؤڈر پٹھوں میں بلڈر غذائیت کا سب سے زیادہ ورسٹائل اور غذائی اجزاء والا گھنے ذریعہ ہے ، جو اسے ہماری فہرست میں ایک اعلی مقام حاصل کرتا ہے۔ اسے بنانے کے لئے استعمال کریں اعلی پروٹین ہموار ، پروٹین کی گنتی کو بڑھانے کے لئے اسے دلیا میں شامل کریں ، گھریلو تغذیہ بار بنانے کے لئے اس کا استعمال کریں ، اس کو پینکیک مکس میں مکس کریں یہ اختیارات واقعی لامتناہی ہیں۔ ایک ٹب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟ خوش قسمتی سے ، ہم نے 10 پروٹین پاؤڈر کا تجربہ کیا اور ایک بہترین مل گیا!
وائلڈ سالمن
پروٹین ، فی 3 آانس: 17 جی
کہتے ہیں ، 'سالمن میں پائے جانے والے پروٹین اور اومیگا 3 صحت مند چربی کی صحت بخش خوراک آپ کو ساری صبح مطمئن اور تندرست رکھتی رہے گی ،' یئدنسسٹین کارلوسی ہیسی ، آر ڈی این۔ 'مجھے دن بھر تیز سگریٹ نوشی سے شروع ہونے والے سالمین ٹوسٹ پر تمباکو نوشی والے سالمن اور ایوکاڈو کو توڑنے ، یا انکوائری والے سالمن اور سبزیوں کے پائے جانے والے دوبار بازوں سے محبت ہے۔' صرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر آپ کا وزن کم ہونا آپ کا مقصد ہے تو آپ کھیتی ہوئی قسموں سے پرہیز کریں۔ وزن کم کرنے کے مزید نکات کے ل these ، ان کو مت چھوڑیں آپ کے تحول کو فروغ دینے کے بہترین طریقہ .
پروٹین ، ہر دو بڑے انڈے: 12 جی
انڈے پروٹین اور دیگر صحت مند غذائی اجزاء کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جن میں چربی جلانے والی چولین بھی شامل ہے مارتھا میک کِٹٹرک ، آرڈی ، سی ڈی این ، سی ڈی ای۔ چولین ، جو دبلی پتلی گوشت ، سمندری غذا اور کولارڈ گرینوں میں بھی پائی جاتی ہے ، جین کے طریقہ کار پر حملہ کرتی ہے جو آپ کے جسم کو آپ کے جگر کے گرد چربی جمع کرنے کے لئے متحرک کرتی ہے۔
بادام مکھن
پروٹین ، فی 2 چمچوں میں: 7-8 جی
میک کِٹرک کا کہنا ہے کہ 'بادام کے مکھن میں پروٹین ، فائبر ، اینٹی آکسیڈینٹ ، اور مونوزاسٹریٹڈ چربی زیادہ ہوتی ہے۔' 'مطالعے سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ گری دار میوے کھاتے ہیں ان سے بچنے والے افراد کے مقابلے میں ان کا وزن زیادہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے ، امکان ہے کہ اس سے آپ کو لمبا لمبا لمبا محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے۔' ناشتے کے وقت فوائد حاصل کرنے کے ل Mc ، میک کِٹٹرک تجویز کرتا ہے کہ نٹ مکھن کو سارا گرین ٹوسٹ پر پھیلائیں یا ایک چمچ کو دلیا یا ہموار چیزیں شامل کریں۔
زمینی ترکی
پروٹین ، فی 4 آانس: 22 جی
اگر آپ اپنی صبح کی پروٹین کی مقدار بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنے انڈوں میں زمینی ترکی (کچھ پیاز ، گھنٹی مرچ ، اور مشروم) کے ساتھ شامل کرنے پر غور کریں۔ یہ مرکب کافی سوادج اور کسی حد تک غیر متوقع ہے ، جس سے یہ تھکاوٹ ذائقہ کی کلیوں کے ل for بہترین انتخاب ہوتا ہے۔ بونس: گوشت ڈی ایچ اے اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کا ایک بنیادی ذریعہ ہے ، جو دماغ کے فنکشن اور موڈ کو بہتر بنانے اور چربی کے خلیوں کو بڑھنے سے روکنے کے لئے دکھایا گیا ہے۔
تمام قدرتی مونگ پھلی کا مکھن
کارروائی کے دوران مونگ پھلی کے تیل سے تیار کردہ مکھن چینی اور کمر کو چوڑا کرنے والے تیل سے بھرا ہوا ہے ، اصل چیزیں صرف دو اجزاء سے تیار کی گئی ہیں: مونگ پھلی اور نمک۔ یہ پھلکا دل سے صحت مند مونوسریٹریٹڈ چربی اور جینسٹین سے بھرا ہوا ہے ، یہ ایک ایسا مرکب ہے جو چربی کے جینوں کو گھٹا دیتا ہے۔ غذائیت پسند اور ذاتی ٹرینر کرسٹن ریسرسنجر ، ایم ایس ، آرڈی ، سی ایس ایس ڈی ، صحتمند چربی کا استعمال صبح کے اوقات میں کرنا چاہتے ہیں۔ 1 کپ بنا ہوا بادام کا دودھ لیں اور اس میں آپ کے پسندیدہ پروٹین پاؤڈر ، 1/2 کیلے اور 1 چمچ مونگ پھلی کا مکھن ملا دیں۔ ریزنگر کا کہنا ہے کہ 'یہ مشروبات صحت مند چکنائی ، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ کے کامل توازن کے ساتھ گلائکوجن اسٹوروں کو بھرنے اور پٹھوں کی نشوونما کو فروغ دینے کے لئے ایک آسان طریقہ ہے جس میں وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لئے کیلوری کی حد سے زیادہ رقم لائی جاتی ہے۔'
پروٹین ، فی ½ کپ: 7 جی
گھلنشیل ریشہ سے بھرے — پیٹ میں ایک طاقتور چربی لڑاکا — پھلیاں نہ صرف آپ کو گھنٹوں بھر کر دیتی ہیں بلکہ آپ کو دبانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ ویک فارسٹ بپٹسٹ میڈیکل سینٹر محققین نے پایا کہ روزانہ استعمال ہونے والے گھلنشیل ریشہ میں ہر 10 گرام اضافے کے لئے ، مطالعہ کے شرکاء کے پیٹ کی چربی میں پانچ سالوں میں 3.7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ناشتہ کے لئے جادوئی پھل کھانے کے لئے ، کالی پھلیاں ، سالسا ، اور غیر دودھ والا پنیر سے بھرا ہوا ایک جنوب مغربی حوض آملیٹ بنائیں۔
پروٹین ، فی 4 آانس: 19 جی
چکن ہوسکتا ہے کہ آپ کا اوسط ناشتہ کھانا نہ ہو ، لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ ہونا چاہئے۔ 'کچھ صبح ، دہی یا انڈے صرف اسے کاٹ نہیں سکتے ہیں ،' کہتے ہیں لیزا ماسکوٹز ، آر ڈی ، سی ڈی این ، سی پی ٹی ، نیو یارک نیوٹریشن گروپ کے بانی۔ 'اپنے ناشتہ کو مصالحہ کرنے کے ل I'll ، میں کچھ بچا ہوا کھانا کھاؤں گا ، جس میں اکثر فائبر سے بھرپور ویجیز اور بھوک مچانے والے دبلی پتلی پروٹین ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غذائی اجزاء کا یہ بہترین مجموعہ گھنٹوں تک مجھے بھر پور اور متحرک رکھتا ہے۔ اور خالص ترین پروٹین کی فہرست کے ل these ، ان کو مت چھوڑیں وزن میں کمی کے لئے بہترین پروٹین !
نائٹریٹ اور نائٹریٹ فری کینیڈین بیکن
پروٹین ، 3 سٹرپس: 18 جی
گوشت کو نقصان دہ بیکٹیریا سے پاک رکھنے کے لئے بیکن کے بہت سارے برانڈز میں سوڈیم نائٹریٹ اور نائٹریٹ ہوتے ہیں۔ کچھ شرائط کے تحت ، سوڈیم نائٹریٹ اور نائٹریٹ امینو ایسڈ کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتے ہیں تاکہ کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کو نائٹروسامینز کہتے ہیں۔ اور سوڈیم نائٹریٹ کو شوگر پر عمل کرنے کی جسم کی قدرتی صلاحیت میں مداخلت کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم ، اگر آپ صحیح طرح کے ساتھ رہتے ہیں تو ، بیکن آپ کے صبح کے کھانے کا ایک صحت مند ، پتلا حصہ ہوسکتا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ جاؤ۔
ناشتے کے لئے 12 بہترین پھل اور سبزیاں
ایوکاڈوس
چینی ، فی 1⁄4 پھل: 0.33 جی
فائبر ، فی 1⁄4 پھل: 3.5 جی
میک کِٹرک کا کہنا ہے کہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے کے لئے دکھایا گیا ہے کہ اولیک فیٹی ایسڈ سمیت ، سیارے میں وزن میں کمی کا ایک بہترین غذا ہے۔ ہر خدمت میں تقریبا 20 وٹامنز اور معدنیات ہوتے ہیں۔ ایوکاڈوس فائبر اور چربی کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہیں۔ میک کِٹٹرک کا مشورہ ہے کہ 'ایوکاڈو ٹوسٹ بنانے کے لئے سبز پھلوں کا استعمال کریں یا ایوکاڈو کے آدھے حصے میں انڈا سینکیں۔ دیکھو ، سارے چربی خراب نہیں ہیں۔
چینی ، فی 1-2 کپ:< 1 g
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 2 جی
کہتے ہیں ، '' پالک میں کیلوری کی مقدار کم ہوتی ہے لیکن فائبر زیادہ ہوتا ہے ، جو آپ کو بھرنے میں مدد کرتا ہے ٹورے ارمول ، ایم ایس ، آرڈی ، ایل ڈی ، رجسٹرڈ ڈائٹشن۔ یہ پودوں پر مبنی اومیگا 3s اور فولیٹ کا ایک بھرپور ذریعہ بھی ہے ، جو دل کی بیماری ، فالج اور آسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بھی ہماری ایک ہے کالی سے زیادہ صحت بخش غذا . اپنے آملیٹ ، ہموار اور انڈے کے سینڈویچ کی غذائی کثافت کو بڑھانے کے لئے اس کا استعمال کریں۔
چینی ، فی 1-2 کپ: 5 جی
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 5 جی
شوگر میں زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے تربوز کبھی کبھی خراب ریپ کا شکار ہوجاتا ہے ، لیکن پھل سے کچھ متاثر کن صحت کے فوائد ہوتے ہیں۔ میں تحقیق کی گئی کینٹکی یونیورسٹی اس سے ظاہر ہوا کہ تربوز کھانے سے لپڈ پروفائلز اور چربی کی مقدار کو کم ہوسکتا ہے۔
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 1 جی
دن کی شروعات پکی ہوئی یا کچی ویجیوں کے ساتھ کرنا اس بات کا یقین کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے کہ آپ کو سخت استعمال کرنے والے غذائی اجزاء کی صحت مند خوراک مل جاتی ہے ، لیبی ملز ، ایم ایس ، آر ڈی این ، ایل ڈی این ، فند۔ 'چاہے ہموار ، ایک آملیٹ ، یا کھلی چہرہ برائل کم چکنائی والی پنیر سینڈویچ پر ، برکولی ، مشروم ، ٹماٹر اور پیاز جیسی سبزیوں میں فائبر لاد ہوتا ہے — ایسا غذائیت جو آپ کو صبح کے سارے مصروف گھنٹے آپ کو بھر پور رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے ، 'ملز کی وضاحت کرتا ہے۔
جلپینوس
چینی ، فی کالی مرچ: 0.6 جی
فائبر ، فی مرچ: 0.4 جی
رجسٹرڈ ڈائیٹشین اسابیل اسمتھ ، ایم ایس ، آرڈی ، سی ڈی این اپنے صبح کے کھانے کی مصالحہ پسند کرتی ہیں good اور اچھی وجہ کے ساتھ: 'ان کے کیپساسین مواد کی بدولت ، مسالے دار کالی مرچ تحول کو بحال کرسکتی ہے اور اس سے بھی تپش کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔' سمتھ نے مشورہ دیا کہ 'انڈے کی ڈش یا ایوکاڈو ٹوسٹ میں جالپیو یا ایک اور مسالہ کالی مرچ ڈالنے کی کوشش کریں۔
چینی ، فی 1-2 کپ: 1 جی
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 0.8 جی
سبز ، سرخ یا پیلا ، تازہ یا منجمد ، کالی مرچ کبھی بھی آپ کے انڈوں کا برا ساتھی نہیں ہوتا ہے۔ ویجیوں کے اعلی وٹامن سی مواد کی بدولت ، ان کو کھانے سے ذخیرہ شدہ چربی جلانے اور کاربس کو ایندھن میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مطالعات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وٹامن سی پٹھوں کو کارٹین نامی فیٹی ایسڈ پر کارروائی کرنے میں مدد کرتا ہے جو پٹھوں کی نشوونما اور بحالی کے لئے ضروری ہے۔ کٹی ہوئی کالی مرچ کا محض ایک چوتھائی کپ —— اس کے بارے میں جو آپ آملیٹ میں شامل کریں گے the دن کی تجویز کردہ انٹیک کا 150 فیصد مہیا کرتا ہے۔
چینی ، فی 1-2 کپ: 7 جی
متحرک ٹبروں کو اچھی وجہ سے سپر فوڈ کہا جاتا ہے: وہ غذائی اجزاء سے بھرے ہیں اور آپ کو چربی جلانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ میٹھے آلو میں ریشہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس میں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ وہ آہستہ آہستہ جذب ہوجاتے ہیں اور آپ کو زیادہ لمبا محسوس کرتے رہتے ہیں۔ ڈائیٹشین لارین میونخ ، ایم پی ایچ ، آر ڈی این ، سی ڈی این انھیں میٹھے آلو ہیش کو کوڑا کرنے کے لئے استعمال کرنا پسند کرتا ہے۔ 'مجھے اس ڈش میں کسی قسم کی تغیر پسند ہے کیونکہ اس میں سبزی خور غذائیت سے بھرپور وٹامنز ، معدنیات اور فائبر مہیا ہوتا ہے۔ یہ بہت بھر رہی ہے ، جو دن گزرتے ہی بھوک اور حصوں کو قابو میں رکھنے میں مدد کرتا ہے ، 'وہ کہتی ہیں۔
چینی ، فی 1-2 کپ: 6.5 جی
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 1.25 جی
موٹے چوہوں پر ایک تحقیق میں ، شدید چیری دل کی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی وزن کو فائدہ پہنچانے کے ل. دکھایا گیا ہے۔ ایک 12 ہفتہ مشی گن یونیورسٹی کی طرف سے مطالعہ پتہ چلا ہے کہ چوہوں نے اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور ٹارٹ چیریوں کو کھلایا ہے ، چوہوں نے 9 فیصد پیٹ میں چربی کی کمی کو کھلایا ہے جس سے ایک 'مغربی غذا' کھلایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ محققین نے نوٹ کیا کہ چیری کی کھپت میں چربی کے جین کے اظہار کو تبدیل کرنے کی گہری صلاحیت ہے۔
شوگر ، فی 1⁄2 کپ: 3–7 جی
فائبر ، فی 1⁄2 کپ: 2–4 جی
بیری ناشتے کے لئے بہترین پھل میں سے ایک ہے ، نیچے ہاتھ ہے۔ ارمول کا کہنا ہے کہ نہ صرف وہ 'دل سے صحت مند اینٹی آکسیڈینٹس سے مالا مال ہیں ، بلکہ وہ سخاوت کرنے والی ریشہ اور وٹامن سی اور کے کی ایک فراوانی مقدار بھی مہیا کرتے ہیں۔' بیری میں پولیفینول بھی موجود ہیں ، قدرتی طور پر پائے جانے والے کیمیائی مادے جو وزن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور چربی کو تشکیل دینے سے روکتے ہیں۔ ان کو اناج ، دلیا ، وزن میں کمی کے ہلانے سے شامل کریں ، ان کو مونگ پھلی کے مکھن ٹوسٹ پر میش کریں یا ان پر سیدھے سادہ نشان دیں۔
شوگر ، فی 1⁄2 کپ: 8 جی
اپنے ناشتے کے بھوکے ہونے کی طرح چکوترا (چربی کے خاتمے کے لئے ایک بہترین پھل میں سے ایک) کے بارے میں سوچئے۔ 'یہاں تک کہ اگر آپ نے اپنی غذا کے بارے میں اور کچھ نہیں بدلا ، ہر کھانے سے پہلے آدھے انگور کھانے سے آپ کو ایک ہفتہ میں ایک پاؤنڈ وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ،' پیٹریسیا بینن ، ایم ایس ، آر ڈی این۔ 'محققین نے محسوس کیا کہ جب موٹے افراد ہر کھانے سے پہلے آدھے انگور کھاتے تھے تو ، انہوں نے 12 ہفتوں میں اوسطا 3.5 3.5 پاؤنڈ گرا دیا تھا۔' یہ کیسے کام کرتا ہے؟ تنگ پھل انسولین کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے ، جو ایک چربی ذخیرہ کرنے والا ہارمون ہے۔ یہ بھی 90 فیصد پانی ہے ، لہذا یہ آپ کو بھر دیتا ہے لہذا آپ کم کھاتے ہیں ، بنن نے وضاحت کی۔
شوگر ، فی پھل: 14 جی
فائبر ، فی پھل: 3 جی
'نہ صرف کیلے کے سپر اسٹار جب پوٹاشیم کی بات آتی ہے بلکہ وہ بھرنے والے ریشہ اور پانی بھی مہیا کرتے ہیں۔' ایلیسا نے زیڈ کیا ، ایم ایس ، آر ڈی این ، سی ڈی این۔ وہ پیلے رنگ کے پھلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے ٹکڑے بغیر کچلنے والی دلیا میں ڈالنے کی تجویز کرتی ہے۔ کچھ نٹ مکھن کے ساتھ بدبودار سلائسین ایک اور بات ہے چربی لڑائی کوشش کرنے کے قابل مجموعہ۔
چینی ، فی درمیانی پھل: 19 جی
فائبر ، فی درمیانی پھل: 4.4 جی
سیب ریشہ کے سب سے بہترین پھلوں کے ذرائع میں سے ایک ہیں ، جو ، جیسا کہ ہم نے کالی لوبوں کے بارے میں کہا ہے ، پیٹ کی چربی کو اڑانے کی کلید ہے۔ چلتے پھرتے ایک تغذیہ بار اور کم چینی دہی کے ساتھ اپنے بیگ میں ایک سیب پھینکیں۔
5 صحت مند ناشتے کارب اور اناج
صحت مند کاربس کیا موجود ہے۔ یہ ، واقعی ، اگر آپ کے کاربس میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور شوگر کی مقدار کم ہوتی ہے۔ یہ وہ کاربس ہیں جو بل کے مطابق ہوتے ہیں۔
سادہ دلیا
فائبر فی کپ ، پکایا: 4 جی
پروٹین فی کپ ، پکایا: 6 جی
چینی فی کپ ، پکایا: 1.1 جی
دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے ل O جسم اور فائبر کو ایندھن دینے کے لئے دلیا - پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جم وائٹ ، آر ڈی این۔ وہ نیل بیریوں ، اخروٹ اور بادام کے دودھ کو بھرنے ، غذائیت سے بھرپور صبح کے کھانے کے لئے جوٹیل جوڑی بنانے کا مشورہ دیتا ہے۔
اسٹیل کٹ دلیا
فائبر فی کپ: 3 جی
پروٹین فی کپ: 5 جی
فی کپ شوگر: 6 جی
اسٹیل کٹ جئ فائبر میں زیادہ ہوتے ہیں اور جئ کی دیگر اقسام کے مقابلے میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتے ہیں ، جو کھانے کے بعد پیٹ کو مکمل اور مطمئن گھنٹوں میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ چونکہ معیاری اسٹیل کٹ جئ بیشتر دوسری اقسام کے مقابلے میں کھانا پکانے میں زیادہ وقت لیتے ہیں ، لہذا ہم ہفتے کے آغاز میں ایک بہت بڑا بیچ بنانے کی تجویز کرتے ہیں اور پھر اسے ایک ہی خدمت میں بانٹ دیتے ہیں۔ اس کے بعد ، آپ کو صرف اسے مائکروویو میں زپ کرنا ہے اور اسے اسی طرح کھانا ہے - پانی شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
انکر ٹوٹے ہوئے دانوں کا ٹوسٹ
پروٹین ، 2 سلائسیں: 8 جی
فائبر ، 2 سلائسیں: 6 جی
چربی ، 2 سلائسین: 1 جی
تمام روٹی کی روٹیاں کارب بم نہیں ہیں جو آپ کے وزن میں کمی کے اہداف کو توڑنے کے منتظر ہیں اور انکر ٹوسٹ ہیں جو اس کی بہترین مثال ہیں۔ اس غذائی اجزاء سے بھرنے والی روٹی میں فولیٹ سے بھرے ہوئے دال ، پروٹین اور آپ کے لئے اچھے دانے اور جو جیسے بیج اور جوار شامل ہیں۔ اس کے سلائسس کے ذائقہ کو بڑھانے کے لئے ، رجسٹرڈ ڈائیٹیشن ماریسا مور ، آرڈی ، توڑے ہوئے ایوکاڈو اور تمباکو نوشی والے سالمن کی مدد سے اس کا اعزاز حاصل کرنا پسند کرتا ہے۔ دو دیگر کھانے کی اشیاء جنہوں نے اس ناشتے کے بہترین کھانے کی فہرست بنائی ہے! مور نے وضاحت کی ، 'ایوکاڈو اور سالمن میں صحت مند چربی دل کو پرورش کرتی ہے جبکہ فائبر اور پروٹین بھوک کو خلیج میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں ،' مور کی وضاحت کرتی ہے۔
پروٹین فی کپ ، پکایا: 8 جی
فائبر فی کپ ، پکایا: 5.2 جی
فی کپ فی چربی ، پکایا: 3.5 جی
اگرچہ روایتی طور پر یہ جدید قدیم اناج ناشتے کے کھانے کے طور پر نہیں سوچا جاتا ہے ، لیکن صبح کے وقت اسے کھانے سے آپ کا دن ٹھیک شروع ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ آپ پکے ہوئے اناج کو آملیٹ کے ساتھ ٹماٹر ، پالک ، پیاز (ایک ویجی جو چربی کو ذخیرہ کرتے ہیں) ، اور زیرہ کا ایک چھڑک شامل کرسکتے ہیں۔ متبادل کے طور پر ، راتوں رات جئی بنانے کے لئے کوئنو کا استعمال کریں۔ یہاں ریجنجر کی جانے والی ترکیب ہدایت ہے: 1 کپ پکا ہوا کوئنو ، 1/2 کپ غیر سویٹ شدہ بادام کا دودھ ، 1/4 کپ نان فائیٹ یونانی دہی ، 1 کھانے کا چمچ چیا کے بیج ، اور 1 چائے کا چمچ ونیلا نچوڑ۔ میسن جار یا ڈھانپے ہوئے پیالے میں رات بھر فریجریٹ کریں۔ صبح کے اوپری میں 1/2 کپ بیر کے ساتھ یا کٹے ہوئے کیلے کا آدھا حصہ۔
ریسنگر کا کہنا ہے کہ 'دن کو شروع کرنے کا یہ ایک کم کم شوگر کا زبردست طریقہ ہے۔ متبادل اناج کو کوئونا میں زیادہ سے زیادہ پروٹین کے ل For ، اس فہرست کو دیکھیں آپ نے کبھی نہیں سنا ہے !
کرسپی براؤن رائس
فائبر فی کپ: 1 جی
پروٹین فی کپ: 2 جی
فی کپ شوگر: 1 جی
یقین ہے کہ وہ 'سنیپ ، کریکل ، پاپ ،' کرسکتے ہیں لیکن یہ 100 فیصد سارا اناج ، گلوٹین فری پفس اس برانڈ کے مقابلے میں زیادہ غذائیت پسندانہ انتخاب ہیں جس کے بارے میں آپ سوچ رہے ہیں۔ چینی کی یہ کم چینی میں تھوڑا سا نٹٹھا ذائقہ ہے اور اسٹرابیری اور رسبری دونوں کے ساتھ جوڑ جوڑ ہے۔ یہ پھل بھوک لگی فائبر فراہم کرتے ہیں بصورت دیگر غذائیت مند اناج کی کمی ہوتی ہے ، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ دوپہر کے کھانے تک تسکین حاصل کریں گے۔ اگرچہ آپ کے باورچی خانے میں کرکرا براؤن چاول ایک بنیادی ہونا چاہئے ، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی پینٹری صاف ہے سیارے پر غیر صحتمند اناج .
وزن میں کمی کے ل breakfast 7 بہترین ناشتہ اجزاء ، ٹاپنگز ، اور اضافے
ان اجزاء کو ان کی استراحت کے ساتھ ساتھ ان کی مجموعی تغذیہ اور صحت سے متعلق فوائد کے لئے پسند کیا جاتا ہے۔ وزن کم کرنے کی کوششوں کو سپرچارج کرنے کے ل these ان کھانے کو اپنی ناشتہ کی ترکیبیں میں شامل کریں۔
ان الٹرا طاقتور بیجوں میں سے صرف ایک چمچ میں تقریبا 55 گرام پیٹ بھرنے والا ریشہ صرف 55 کیلوری میں کام کرتا ہے۔ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ، فلیکس سیڈ اومیگا 3 چربی کا سب سے امیر پودوں کا ذریعہ ہیں ، جو سوزش کو کم کرنے ، موڈ کے جھولوں کو روکنے اور دل کی بیماریوں اور ذیابیطس سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ میک کِٹٹرک کا کہنا ہے کہ وہ ہموار ، دہی ، دلیا ، یا ٹوسٹ میں ایوکاڈو یا نٹ مکھن کے ساتھ ٹاپ ٹاپ میں ایک خوش آئند بحران کا اضافہ کرتے ہیں۔
'چیا کے بیجوں میں گھلنشیل ریشہ موجود ہوتا ہے جو پیٹ میں ایک جیل بناتے ہیں ،' اسمتھ کا کہنا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ جیل ہاضمے کو سست کرتی ہے اور ترغیب کو فروغ دیتی ہے ، جس سے ڈائیٹرز کو ان کی مجموعی کیلوری کی کھپت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چیا کے بیجوں کو آپ کے صبح کی دلیا ، دہی ، یا ہموار میں شامل کریں۔
سالم کے مقابلے میں دل سے صحت مند اومیگا 3s سے مالا مال ، سرخ شراب سے زیادہ سوزش والی پولیفینولس سے بھری ہوئی ، اور چکنائی کی طرح پٹھوں میں زیادہ سے زیادہ پروٹین تیار کرنا ، اخروٹ کو فرانکین فوڈ کی طرح لگتا ہے ، لیکن یہ درختوں پر بڑھتا ہے۔ دیگر گری دار میوے ان تینوں خصوصیات میں سے صرف ایک یا دو خصوصیات کا امتزاج کرتے ہیں۔ زیڈ انہیں ٹھنڈا اناج کی کٹوری ، دلیا اور دہی میں شامل کرنا پسند کرتا ہے۔ زیڈ نے نوٹ کیا ، 'ایک چھوٹی سی رقم کھانے کو بہت ذائقہ اور بناوٹ مہیا کرتی ہے۔ ون آونس کی خدمت (جو سات گری دار میوے کے بارے میں ہے) آپ کو درکار ہے۔
'ادرک میں سوزش کی خصوصیات ہیں اور کچھ کے ل weight وزن میں کمی اور مجموعی صحت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔' وہ گاجر اور سیب کے ساتھ ایک انچ ادرک ملا کر تجویز کرتی ہے تاکہ تازہ دم ناشتے کا جوس بنایا جاسکے۔ اگر جوسنگ آپ کی چیز نہیں ہے تو ، ادرک کی جڑ ہموار ، پینکیک ، مفن یا دلیا ترکیبوں میں شامل کریں۔
نہ صرف یہ بہت اچھا ذائقہ ہے ، بلکہ مطالعات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ دار چینی پیٹ کی چربی جمع ہونے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ 'تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ آرام دہ مسالا ہائی بلڈ شکر اور بلڈ پریشر میں مدد فراہم کرسکتا ہے ،' موسکوز نے مزید کہا۔ وہ اسے جئ ، دہی یا گرم کافی میں شامل کرنے کی تجویز کرتی ہے۔ یہ ہموار اور گھر سے تیار پینکیکس میں بھی اچھی طرح سے کرایہ پر لیتا ہے۔
ایک غیر ملکی چھٹی کی طرح کی بو آ رہی ہے اور آپ کی کمر کو کسی بھی دوسرے کھانے سے زیادہ تیزی سے سکڑ سکتا ہے؟ ناریل کا تیل! اشنکٹبندیی چربی درمیانے چین سنترپت چربی لوری ایسڈ سے بھری ہوتی ہے ، جو دوسری قسم کی چربی کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے توانائی میں بدل جاتی ہے ، جو بالآخر وزن میں کمی کی مدد کرتی ہے۔ یقین نہیں آتا؟ اس پر غور کریں: جریدے میں 30 مردوں کا مطالعہ دواسازی پتہ چلا ہے کہ ہر کھانے سے ہر دن آدھے گھنٹہ سے صرف 2 چائے کا چمچ ناریل کا تیل کھانے سے کمر کے طواف میں ایک ماہ کے دوران اوسطا 1.1 انچ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسمتھ آپ کو اپنے انڈے کے کڑاہی کو چکنائی کے ل using استعمال کرنے یا چائے کا چمچ یا دو کو ایک ہموڈی میں شامل کرنے کی تجویز کرتا ہے۔
پائپرین ، ایک طاقتور مرکب جو کالی مرچ کو اپنی خاصی حرارت اور ذائقہ دیتا ہے ، وہ صدیوں سے مشرقی طب میں سوزش اور پیٹ کی تکلیف سمیت متعدد صحت کے حالات کا علاج کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اور حالیہ جانوروں کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ کمپاونڈ میں نئے چربی کے خلیوں کی تشکیل کو روکنے کی صلاحیت بھی ہوسکتی ہے — ایک رد عمل جس کو ایڈیپوجنسیس کہا جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں کمر کے سائز ، جسم میں چربی اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آپ کے آملیٹ ، ناشتے کے سینڈویچ ، اور ایوکاڈو ٹوسٹ کو کچھ پیسوں کے ساتھ موسم دیں۔ آپ کی کمر آپ کا شکریہ ادا کرے گی۔
وزن کم کرنے کے ل. بہترین ناشتہ
کوئی چیز پئے بغیر پورے کام کے دن میں رہنے کا تصور کریں۔ اچھی رات کی نیند کے بعد یہی کچھ ہو رہا ہے — آپ پانی کی کمی سے بیدار ہوجاتے ہیں ، اور جو کچھ آپ پیتے ہیں اسے دن کا پہلا اہم فیصلہ بناتا ہے۔ کیا ٹیکس لگائیں اس کے لئے ہمارے اوپر چار چنیں ہیں۔
اسموتیاں
ٹرم لوگ ان سے محبت کرتے ہیں پروٹین لرز جاتی ہے see اور یہ دیکھنا آسان ہے کہ کیوں: ان کے اعلی پروٹین مواد کی بدولت ، وہ کیلوری جلانے اور ترپتی کو بڑھاوا دینے اور دبلی پتلی پٹھوں کو محفوظ کرکے وزن کی بحالی میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن جب فلیٹ پیٹ حاصل کرنا آپ کا مقصد ہوتا ہے تو ، صحیح پروٹین پاؤڈر کا انتخاب اہم ہے۔ یقینی بنائیں کہ آپ ان میں سے کسی ایک کو چن رہے ہیں بہترین پروٹین پاؤڈر آپ کے لئے اور بدترین سے بچنے کے لئے۔ ان کو ملاؤ آسان اور مزیدار ہموار وزن کم کرنے کے لئے ایک سادہ اور صحتمند ناشتہ کے لئے۔
ہم نے دنیا میں وزن کم کرنے کا ایک مؤثر ترین آلہ دریافت کیا ہے — ایک ایسا ہتھیار جس میں ہر ایک کے لئے کام ہوتا ہے ، ایک دن میں صرف ایک پیسہ خرچ آتا ہے ، کسی بھی گروسری کی دکان پر دستیاب ہے ، پسینہ یا دباؤ کی ضرورت نہیں ہے ، اور گھر پر ، کام پر ، یا کہیں بھی یہ آسان ہے۔ چائے کے پودوں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈینٹس کے گروپ ، کیٹیچنز کے صحت سے متعلق فوائد کی دستاویز کرنے کے لئے مطالعے کی بہتات کی گئی ہے۔ اور تمام کیٹچین میں سب سے زیادہ طاقت ور ، ایک کمپاؤنڈ جس میں ایپیگلوکیٹچن گلیٹ ، یا ای جی سی جی کہا جاتا ہے ، تقریبا خصوصی طور پر گرین چائے میں پایا جاتا ہے۔ مطالعہ اس سے جوڑ دیا ہے اینٹی آکسیڈینٹ وزن میں کمی کو فروغ دینے کے لئے.
سپا پانی
یہ کوئی راز نہیں ہے کہ سادہ H2O chugging محرک سے کم ہوسکتی ہے ، لیکن اس صحتمند عادت کو اپنے گھر کا کام کم کرنے کے ل fun تفریحی طریقے موجود ہیں۔ کچھ پھل — جیسے انگور ، لیموں اور ککڑی کے گوشت اور چھلکے میں ڈاٹ آکسائفنگ خصوصیات ہوتے ہیں۔ فوائد حاصل کرنے کے ل them ان کو پورے پانی میں کاٹ لیں اور ذائقہ کی مقدار میں اپنے پانی کی مقدار کوٹہ پر لگائیں۔
پتلی لوگوں کا پتلا رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ فریپچینو سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر ملکی طریقہ ہے کہ آپ یہ کہہ سکتے ہو کہ آپ دو آئس کریم شنک 'قیمتی کیلوری پی رہے ہیں جبکہ کیفیئن بز کو پکڑ رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس بالکل صبح کی بازگشت ہونا ضروری ہے تو ، خود سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے بجائے وزن کم کرنے کے ل healthy اپنا صحتمند ناشتا جوڑیں۔ اور اگر آپ کا میٹھا دانت مطمئن ہونا ضروری ہے تو ، اپنے بارسٹا سے پوچھ لیں کہ آپ اپنے پسندیدہ ذائقہ دار شربت کے دو پمپ اپنے کپ میں فرپ کے چار کے بجائے (ہمیں کیریمل پسند کریں) شامل کریں۔ یہ آسان تبادلہ آپ کو 400 سے زیادہ کیلوری اور پوری طرح 53 گرام میٹھی چیزیں بچائے گا۔ یہ اس سے زیادہ چینی ہے جس سے آپ کو تین اسٹاربکس چاکلیٹ کروسینٹ مل جائیں گے۔ |
اب میں ٹماٹر کس سے لوں گی؟ سعدیہ نعمان - Daleel.Pk
اب میں ٹماٹر کس سے لوں گی؟ سعدیہ نعمان
وہ دن خواب ہوئے جب ہم ایک دوسرے سے بوقت ضرورت بلا تکلف ٹماٹر لے لیا کر تے تھے۔
ایک ٹماٹر ہی کیا، کچھ بھی ضرورت آن پڑتی تو ہمسائے ماں جائے ہی کام آتے۔
واہ کینٹ میں گزرے ان چھ سالوں میں وہاں کے پیارے لوگوں نے اتنی محبتیں نچھاور کیں کہ مالک مکان اور کرایہ دار کی کوئی تفریق نہ تھی، اور ہم سب آپس میں یوں گھل مل گئے گویا کہ پرانی عزیز داری ہو۔
صفدر انکل اور آنٹی کے ہاں جب اوپر کے حصہ میں رہائش تھی تو آنٹی نے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
خولہ کی پیدائش کے بعد بےشمار صحت کے مسائل میں ہمیں دن رات کسی بھی وقت ہسپتال دوڑنا پڑتا تو ماؤں کی طرح باقی تین چھوٹے بچوں کا خیال رکھتیں۔
ملتان واپس آنے پہ بھی اکثر انھی کا فون آتا۔
اپنے نرم اور دھیمے لہجے میں بے تابی لیے گویا ہوتیں،
"سعدیہ بیٹے کیا حال ہے؟ بہت دن ہو گئے، سوچا اپنی بیٹی کا حال پوچھ لوں۔"
اور "سعدیہ بیٹی" شرمندہ ہی ہو جاتی کہ ہر دفعہ ارادہ کرنے کے باوجود پہل نہ کر پاتی۔
پھر جب آنٹی نے بڑے بیٹے کی شادی کے بعد انھیں اوپر شفٹ کیا تو ہم چند گھر کے فاصلے پہ جاوید ذکاء اور فرحانہ ذکاء کے اوپر کے حصہ میں شفٹ ہوگئے۔
چار چھوٹے بچے خوب ہنگامہ بپا رکھتے، ٹرائی سائیکل چلاتے، دروازے بجاتے، باوجود احتیاط کے اتنی چھوٹی عمر کے بچوں پہ ہمہ وقت کنٹرول رکھنا مشکل ہو جاتا، بلکہ یوں کہیے کہ ہم تو خود بچوں کے ہر کھیل میں برابر کے شریک ہوتے۔
اور یقینا ہم دونوں بھی اب اتنے خاموش نہ تھے، چھٹی کے دن تو ذرا لڑنا بھڑنا بھی ایک فرض کی سی حیثیت رکھتا تھا۔ سنا ہے محبت کی نشانی ہوتا ہے۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں ہمیں محسوس ہوا کہ نیچے سے دو عدد چھوٹے بچوں اور ایک عدد میاں کے باوجود فرحانہ کی کبھی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی نہ ہی ذکاء صاحب ہی کی کوئی للکار کانوں میں پڑی،
اتنی خاموشی تو صرف اقبال کی نظم کی خواہش ہی ہو سکتی ہے
لیکن حقیقت میں تو محض وہم ہو سکتا ہے۔ پھر ہم نے دن بھر کان لگا کے سننے کی بہتیری کوشش کی کہ شاید ہمیں اپنے مشن میں کامیابی ہو سکے اور کبھی کوئی بچوں سے چیخنے یا آپس میں الجھنے کی صدا آئے تو ہماری تسلی ہو کہ ہم تنہا نہیں ہیں اس میدان میں۔ اگرچہ ایسا کرتے ہوئے ضمیر نے دبا دبا سا احتجاج تو کیا کہ یوں کان لگانا اور تجسس کرنا غلط ہے لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔
کئی دن کی جدوجہد میں ناکامی کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ نیچے جا کے فرحانہ سے معذرت کرنی چاہیے کہ بھئی آپ لوگ بھی سوچتے ہوں گے، یہ کن لوگوں کو سر پہ بٹھا لیا ہے کہ ہمہ وقت شور شرابا بچے خاموش ہوتے ہیں تو یہ دونوں شروع ہو جاتے ہیں اور آپ لوگ اتنے کول اور اتنے مہذب ہیں کہ بس۔ شرمندہ شرمندہ ہم فرحانہ سے ملنے چل دیے۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی کہنے کے بعد ہم مدعا کی جانب آنے ہی والے تھے کہ فرحانہ نے انتہائی تشکر آمیز لہجہ میں ہمیں مخاطب کیا اور کہنے لگیں کہ سعدیہ آپ لوگ سوچ نہیں سکتے آپ کا یہاں آنا ہمارے لیے کتنا مبارک ثا بت ہوا ہے، بڑا بیٹا طلحہ ساڑھے تین سال کا ہوگیا ہے، بالکل نہیں بولتا تھا، آپ کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے تو اب اس نے باتیں کرنا اور بولنا شروع کر دیا ہے، بس بہت ہی خوش ہیں ہم تو۔
دل کا بوجھ اتر گیا اور ہم کچھ کہے بنا اطمینان بھرے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے واپس لوٹ آئے۔
ایک دن بچوں کو سکول بھیج کے کچھ بکھری چیزیں سمیٹیں، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بیٹھے ہی تھے کہ فرحانہ بھی چائے لیے اوپر آ گئیں۔
اف اب فرحانہ نجانے کیا محسوس کرے؟
آخر گھر اتنی محنت سے بنتے ہیں، ہم پنسل سے دیواروں پہ بنے آرٹ کے نمونوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگے۔
بظاہر ہنستے ہوئے خوش آمدید کہتے کرسی پیش کرتے ہماری نظریں بار بار اس قد آدم ڈرائنگ کی جانب اٹھ رہی تھیں جو سامنے کی دیوار پہ کل ہی اسد صاحب نے نجانے کس وقت موقع پا کر بنا ڈالی تھی، لیکن فرحانہ نے تو جیسے ایک لمحہ کو بھی تجزیاتی نگاہ نہ ڈالی نہ ہی کوئی ہلکی سی ناگواری اس کے لہجہ سے ظاہر ہوئی۔
کچھ دیر گپ شپ لگا کے وہ چلی گئی۔
بس اس دن ہمیں فرحانہ کے بڑے پن کا یقین ہوگیا اور پھر فرحانہ بھی ہماری ان سہیلیوں میں شمار ہوگئی جن سے دوستی وقتی یا ضرورتا نہیں بلکہ پختہ ہوتی ہے۔
اچھے دوستوں کی بات چلی ہے تو سعدیہ عبدالقادر کا کچھ ذکر ہو جائے۔
دبلی پتلی اور چلبلی سی سعدیہ، خالص کراچی کا زبان و بیاں اور لہجہ اور خالص کراچی والی عادات، جن میں رات دیر تلک جاگنا اور صبح بچوں اور شوہر کو رخصت کر کے دوبارہ دیر تلک سونا نمایاں تھا، لیکن شکل و صورت سرحد والی یعنی گوری رنگت بھورے بال نیلگوں جھیل جیسی آنکھیں۔ یہ ناک نقشہ تینوں بیٹیوں کا بھی تھا اور ہم اسی پہ کافی عرصہ حیرت زدہ رہے، پھر اللہ کی کاریگری جان کر مطمئن ہو گئے۔
اور ہماری ہم نام ہونے کی بنا پہ ہم سے بہت قریب تھیں، پھر جب پانی کے مسائل بڑھے اور ہم نے فرحانہ کے ہاں سے کچھ گھر دور شفٹنگ کی تو سعدیہ نیچے اور ہم پھر اوپر، بچیوں کی کلاس اور سکول مشترکہ ہونے سے ہمارا ساتھ مزید گہرا ہو گیا۔ بس پھر کیا ٹماٹر، کیا دہی، کیا سرخ مرچ تو کیا دھنیہ پیاز، سب مشترک ہی ہو گیا۔ کوئی مہمان اچانک آ جاتا تو سعدیہ کے ہاتھ کے بنے چکن ویجیٹیبل چیز رول فریزر سے برآمد کروا لیے جاتے، اس کی بریانی اور ہماری طرف کا آلو گوشت اور پلاؤ ایک دوسرے کو بھجوائے بنا حلق سے نہ اترتے۔ رمضان میں سعدیہ کی بھجوائی ہوئی افطار ٹرے کا انتظار اور مزا کبھی نہیں بھول سکتا، واہ کینٹ میں رکشہ ٹیکسی یا عام سواری میسر نہیں ہوتی تھی تو بڑے بچوں کی سکول میٹنگ ہو، یا چھوٹے بچوں کی ویکسینیشن، میں اور سعدیہ بچوں کو پرام میں ڈال کے بہت لمبا ٹریک بھی پیدل چلتے رہتے، تھکاوٹ ہوتی نہ ہی بوریت۔
ہماری یہ محبتیں اتنی مضبوط اور پایئدار نہ ہو پاتیں اگر یہ کسی ذاتی غرض کی بنا پہ ہوتیں، لیکن اللہ کے فضل سے یہ دائمی اور زندہ و جاوید محبت کے تابع ہو گئیں جب ہم نے قرآن سمجھ کے پڑھنے کا فیصلہ کیا، واہ کینٹ کی اس شاہ ولی کالونی کے چند گھر۔
اب یہاں ایک کردار ہماری سب کی خورشید باجی کا ہے۔ خورشید باجی اسم بامسمی تھیں اور ان کی پارہ جیسی تڑپ انہیں ایک جگہ چین سے بیٹھنے کیا کھڑے بھی نہ ہونے دیتی۔ بس سمجھیے اس شعر کی عملی تفسیر تھیں
جہاں میں اہل ایماں صورت "خورشید" جیتے ہیں
وہ سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے پھرتیں، ہنستی مسکراتی خالص پوٹھوہاری لہجہ میں بات کرتیں، ایک ہاتھ میں نور اور بتول میگزین تھامے وہ ہر گھر میں دین کی دعوت پھیلانے کے لیے کمر بستہ رہتیں۔ بس ہماری ہفتہ وار کلاس کی روح رواں تھیں، سب کا بے پناہ خیال رکھنے والی۔
ایک دفعہ سعدیہ کی سب سے چھوٹی بیٹی ایمان کو بخار نے آ لیا، رات بھر وہ بچی تکلیف سے روتی رہی، صبح ہم نے گھبرا کر خورشید باجی کو فون پہ صورتحال بتائی، علامات سنتے ہی انھیں اندازہ ہو گیا کہ نمونیہ کی شکایت ہے۔ ایک ٹوٹکہ بتایا سمجھایا جس میں دیسی انڈا استعمال ہونا تھا۔
فون بند کرنے سے پہلے احتیاطا پوچھنے لگیں دیسی انڈا تو ہے نا،
نہیں خورشید باجی وہ تو نہیں ہے،
ہم نے عاجزی سے جواب دیا تو کہنے لگیں کوئی حال نہیں تمہارا بھی، اچھا میں آتی ہوں،
پھر کچھ منٹ بعد خورشید باجی آئیں تو ان کے عبایہ کی جیب میں دو دیسی انڈے بھی تھے۔
خورشید باجی اپنے میاں صاحب کے بارے میں بے پناہ حساس تھیں، وہ ایک بجے دوپہر لنچ بریک کے لیے گھر آتے تھے۔ خورشید باجی کہیں بھی کسی بھی کام میں مصروف ہوتیں، گھڑی کی سوئیاں بارہ چالیس پہ آتیں تو گویا خورشید باجی کو پر لگ جاتے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے گھر کی راہ لیتیں کہ میاں صاحب کے لیے گرم روٹی اتارنی ہے۔
قرآن کلاس میں ہماری خوب محفل جمتی،
ایک دن بحث چھڑ گئی،
اپنے یونیورسٹی کے کسی مشاہدے کی بنا پر فرحانہ کا خیال تھا کہ پردے والی عورتیں اور ڈاڑھی والے مرد کوئی اتنے شریف نہیں ہوتے
سعدیہ کے گویا دل پہ لگی،
اپنے کراچی کے مخصوص لہجہ میں بےساختہ بول اٹھی
"ارے نہیں ایسا تو نہ کہو، میرے میاں تو داڑھی کے ساتھ شریف ہیں"
غرض بڑی ہی بے لوث محبتیں تھیں، جو اب تک دلوں میں سمائے ہوئے ہیں، اور ان یادوں کے دیپ اکثر جلتے ر ہتے ہیں، اللہ کریم ان ہستیوں کو خوش اور آباد رکھے۔ |
وزارت تعلیم کاپرائیویٹ اداروں کی 20فیصد فیسوں میں کمی کااعلان - Top Pakistani News
وزارت تعلیم کاپرائیویٹ اداروں کی 20فیصد فیسوں میں کمی کااعلان
باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا
وزارت تعلیم نے پرائیویٹ اداروں کی اپریل اور مئی کی فیسوں میں 20فیصد کمی کا اعلان کردیا۔
کرونا کی تیسری لہر اور عوام کی پریشانی کے پیش نظر وزارت تعلیم کا ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، وفاقی وزارت تعلیم نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 20فیصد کمی کا اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
کیمبرج سمیت تمام امتحانات 15جون تک منسوخ
نوٹیفکیشن کے مطابق اپریل اور مئی کے فیسوں میں 20فیصد کمی کی جائے گی تاہم فیسوں میں کمی کا اطلاق 8ہزار سے زیادہ فیسوں والے اداروں پر ہوگا۔
سندھ کےتمام اسکولز،کالجزاورجامعات غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا فیصلہ
قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کرونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کےبعد ملک بھر میں تمام امتحانات 15جون تک منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل بلوچستان حکومت نے اسکولز کو 27اپریل سے عید تک بند رکھنے جبکہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے باعث تمام اسکولز، کالجز اور جامعات غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فیصل آباد اورکوئٹہ کافضائی آپریشن متاثر نہیں ہوگا،پی آئی اے
ملتان: ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی، 50ہزار بوری گندم برآمد
The news on وزارت تعلیم کاپرائیویٹ اداروں کی 20فیصد فیسوں میں کمی کااعلان, first appeared on ournaijanews.com |
تبلیغی جماعت کے غیر ملکی شہری 57 کیسے رہا ہوئےباقی کیوں پھنس گئے | Sada Today
Home مزید تہذیب و ثقافت تبلیغی جماعت کے غیر ملکی شہری 57 کیسے رہا ہوئےباقی کیوں پھنس...
تبلیغی جماعت کو لیکر اس لاک ڈاون میں جو ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا پورا الزام لگایا گیا ۔تبلیغی جماعت کو جس طرح بدنام کیا گیا وہ جگ ظاہر ہے گزشتہ 2 جولائی کو ایک طرف جہاں یہ بُری خبر آئی کہ سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کے 2000 کے قریب غیر ملکی افراد کے مستقبل کو غیر یقینی بنادیا ہے وہیں دوسری طرف 4 جولائی کوایک اچھی خبر یہ آئی کہ (مغربی اترپردیش کے شہر) سہارنپورمیں کم وبیش چار ماہ سے مشکلات سے دوچار تبلیغی جماعت کے 16انڈونیشیائی شہری آج اندرا گاندھی ہوائی اڈہ سے گروڈا کی خصوصی فلائٹ نمبر 8250 پرسوار ہوکراپنے ملک کے لئے روانہ ہوگئے۔واضح رہے کہ ایک انڈونیشیائی ممبئی میں تھا اور اس کو بھی وزارت خارجہ کے ایک فہرست نما خط کے مطابق ان 16کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی گئی۔۔۔
اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں:
1- یہ اتنے سارے غیر ملکی کیسے پھنسے رہ گئے اور
2- سہارنپور میں پھنسے ہوئے 57غیر ملکیوں میں سے 16انڈونیشیائی کیسے رہا ہوکر انڈونیشیا کیلئے روانہ ہو گئے؟۔
پہلے سوال کا جواب بہت تکلیف دہ اورتشویش ناک ہے۔وہ جنہوں نے مظلوموں کی دکھ بھری داستانوں کواپنی "شہرت"کا ذریعہ بنالیا ہے اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔
دوسرے سوال کا جواب بہت راحت بخش اورتابناک ہے۔وہ جنہیں اپنی عاقبت کی فکر ہے' جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے اور جنہیں جاہ ومال اور نام ونمود کی خواہش نہیں ہے'57غیر ملکیوں کی گلو خلاصی کا ذریعہ بن گئے ۔۔
اب لمبی تحریریں لوگ پڑھتے نہیں۔ورنہ سہارنپور کے جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت کا فیصلہ ایسا ہے کہ اسے من وعن ترجمہ کرکے پیش کیا جائے۔جس طرح ملک بھر میں بتاتے ہیں کہ 2100 کے قریب غیر ملکی جماعتی ہیں ان میں سے یوپی میں 737 موجود ہیں۔ان میں سے صرف سہارنپور میں ہی 57 غیر ملکی پائے گئے تھے…
سہارنپور میں ان جماعتی افراد کو پہلے پولیس تھانوں'پھر کورنٹائن سینٹروں اور پھر جیلوں میں وقت گزارنا پڑا۔۔دو مہینوں کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ان 57 افراد کو سہارنپور کی عدالت نے 10جون کو ایک شاندار فیصلہ تحریر کرکے بری کردیا تھا۔13جون سے یہ افراد سہارنپور کے ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن اور ان کے داماد اوصاف (گڈو) کے مہمان ہیں۔دراصل سہارنپور کی عدالت میں انہی لوگوں نے ان پریشان حال اللہ والوں کا مقدمہ لڑاتھا۔۔۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حاجی فضل الرحمن اور اوصاف (گڈو) کے وکلاء نے عدالت سے یہ استدعا نہیں کی کہ انہیں ضمانت پر رہا کردیا جائے۔بلکہ عدالت میں براہ راست یہ استدلال کیا کہ ا ن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنتا اور انہیں باعزت بری کیا جائے۔عدالت سے یہ بھی کہا گیا کہ اگرانہیں دفعہ 188 کی خلاف ورزی کا مرتکب مان بھی لیا جائے تب بھی ان کی سزا ایک مہینہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔جبکہ وہ جیلوں اور کورنٹائن سینٹروں میں پہلے ہی مشکلات سے بھرے دو مہینے کاٹ چکے ہیں۔
پولیس نے انہیں مسجدوں سے گرفتار کیا تھا اور بتایا تھا کہ ان سب کو کورونا ہے۔ان پر چارج شیٹ میں یہ الزام بھی عاید کیا گیا تھا کہ وہ یہاں کورونا پھیلانے کا سبب بھی بنے۔پولیس نے ان کے خلاف بہت مضبوط معاملہ بنانے کی بھرپور کوشش کی۔اپنی بات میں دم پیدا کرنے کے لئے سرکاری وکیلوں نے دلائل کے دوران مختلف ہائی کورٹوں سمیت سپریم کورٹ کے بھی کئی فیصلوں کا ذکر کیا۔ ان پر دفعہ 14, 188, 269, 271 اور ڈزاسٹر مینجمنٹ کی دفعہ تین میں الزامات عاید کئے گئے۔ان دفعات میں سزا تو محض پانچ سال کی ہوتی لیکن اگر انہیں ضمانت پر رہا کرالیا جاتا تو مقدمہ فیصل ہونے تک برسوں لگ جاتے۔ظاہر ہے کہ اتنے عرصہ تک یہ لوگ کہاں رہتے'کس طرح رہتے؟جبکہ حکومت نے ان کے ویزا منسوخ کرکے ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کرلئے تھے۔۔۔
لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کی رپورٹ Nagative آئی۔یعنی انہیں کورونا نہیں تھا۔اور جن کی رپورٹ Positive آئی تھی وہ بھی بہت جلد شفایاب ہوگئے۔اس دوران کورنٹائن سینٹروں اور پھرجیلوں میں ان کا رویہ بہت اچھا رہا۔انہوں نے کسی کو پریشان نہیں کیا۔وہ سہارنپور کی سڑکوں پر گھومے نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں ان کے اس رویہ کا بھی ذکر کیا۔عدالت نے یہ بھی لکھا کہ جب اچانک پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہوگیا تو آخر یہ لوگ کہاں جاتے؟ عدالت نے ان کی یہ دلیل بھی تسلیم کرلی کہ ان کے خلاف زیادہ سے زیادہ دفعہ 188کے تحت معاملہ بنتا ہے جس کی سزا وہ پہلے ہی بھگت چکے ہیں۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر ملکی شہریوں کے لئے وضع ویزا قوانین کی خلاف ورزی کی۔ عدالت میں ان کے وکلاء نے بتایا کہ حکومت ہند کے جاری کردہ پالیسی کے ضابطہ نمبر 15کے تحت یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے ویزا کے حامل غیر ملکی کے کسی بھی مذہبی مقام پر جانے اور عام مذہبی سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔۔۔ لیکن مذہبی مقامات میں تقریر کرنے اورآڈیواور پمفلٹ وغیرہ تقسیم کرنے کو ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی مانا جائے گا۔عدالت نے کہا کہ چونکہ چارج شیٹ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ان لوگوں نے کس طرح ویزا قوانین کی خلاف ورزی کی اس لئے ان پر ویزا قوانین کے تحت لگائی گئی دفعات بے بنیاد ہیں۔
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ جائز ویزا لے کر ہندوستان آئے تھے اور چونکہ 22 مارچ کے بعد سبھی مذہبی مقامات'ہوٹل'ریسٹورینٹ'لاج اور سرائے وغیرہ بند کردی گئی تھیں'ان لوگوں کے پاس مسجد ہی ایک ایسی متبادل جگہ رہ گئی تھی جہاں وہ یہ وقت گزار سکتے تھے۔۔۔ انہوں نے مسجدوں میں قیام کے دوران انتظامیہ کو اطلاع دی' اپنی ڈاکٹری جانچ ایف آئی آر ہونے سے پہلے کرائی'ان کی رپورٹ درست یعنی کورونا منفی آئی'وہ پوری طرح صحت مند پائے گئے'۔اس کے علاوہ انہوں نے ڈزاسٹر مینجمنٹ کے تحت عاید کی گئی شرائط کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔انہیں پولس نے مسجد کے اندر سے گرفتار کیا کسی عوامی جگہ سے نہیں۔ لہذا ان کے خلاف ڈزاسٹر مینجمنٹ کے تحت عاید کی گئی دفعات بھی بے بنیاد ہیں۔
اسی طرح عدالت نے تسلیم کیا کہ جس وقت انہیں مسجدوں سے گرفتار کرکے جیل لے جایاگیا اس وقت تک ان کے ویزا Valid تھے اور وہ ایک ضابطہ کے تحت جائز ویزا لے کر جائز طورپر ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔اسی طرح وہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی ان مسجدوں میں آگئے تھے اور لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد وہ ان مسجدوں سے باہر نہیں نکلے۔
عدالت نے یہ ذکر بھی کیا کہ غیر ملکی شہریوں کے لئے جاری پالیسی اور ضوابط میں ایس کوئی پابندی نہیں ہے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کے مطابق عبادت نہیں کرسکتے۔اور یہ لوگ اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق عبادت گزاری کے لئے ہی مسجدوں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔عدالت نے لکھا کہ اس سلسلہ میں انتظامیہ نے جو الزامات عاید کئے ہیں بادی النظر میں وہ درست تو کیا ہوں گے بلکہ ملزمین پر شک کرنے کے لایق بھی نہیں ہیں. ۔عدالت نے یہ بھی لکھا کہ چونکہ ملزمین غیر ملکی شہری ہیں اس لئے اس معاملہ میں احتیاط اوران کے تحفظ اور غیر ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات کی حساسیت کے عناصر بھی نہاں ہیں۔۔۔اس لئے کسی کو من مانے طریقہ پر ماخوذ کرنا انتہائی غیر منصفانہ عمل ہوگا۔
انتظامیہ کے وکیلوں نے عدالت کے سامنے مختلف ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کے ذریعہ وقتاً فوقتاً دی گئی رولنگس کا بھی ذکر کیا۔چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے اس ضمن میں لکھا کہ میں نے بصد احترام ان تمام رولنگس کا مطالعہ کیا ہے اور میں نے پایا ہے کہ مذکورہ افراد پر ان رولنگس کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔آخر میں عدالت نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ان تمام 57 افراد کوجیل سے فی الفور رہا کیا جائے اور انہیں بحفاظت ان کے ملکوں کوواپس بھیجنے کے انتظامات کئے جائیں۔
10 جون کے اس فیصلہ کے بعد سہارنپور انتظامیہ نے کچھ لیت ولعل کے بعد ان تمام افراد کو 13 جون کو جیلوں سے رہا کرکے اوصاف گڈو کے حوالہ کردیا۔انہوں نے Imperial Resort میں ان تمام افراد کے رہنے اور کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا۔اس ضمن میں یہ بتانا ضروری ہے کہ کافی کوشش کی گئی کہ ضلع انتظامیہ عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرے لیکن مقامی ممبر پارلیمنٹ اور ان کے نمائندے کی کوششوں سے ضلع انتظامیہ اس عمل سے باز رہا۔
اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پورے ملک میں'جہاں جہاں بھی تبلیغی جماعت کے یہ افراد پھنسے ہوئے ہیں'وہاں کی عدالتوں میں بلکہ صوبوں کی ہائی کورٹوں میں سہارنپور کی عدالت کے اس فیصلہ کو نظیر کے طورپر پیش کرکے ان تمام ماخوذ افراد کو اسی طرح رہا کرانے کی کوشش کی جاتی۔۔۔۔لیکن افسوس یہ ہے کہ بعض انجمنوں'جماعتوں اور وکیلوں نے عدالتوں سے محض ان کی ضمانت کی استدعا کی۔۔۔۔ یہی نہیں جو دلائل سہارنپور کے وکیل جاں نثار نے عدالت کے سامنے رکھے انہیں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ان دلائل کی وجہ سے ہی سہارنپور کی عدالت نے ایک ایک کرکے تمام دفعات کو کالعدم اور بے بنیاد قرار دیا۔
رہی سہی کسر سپریم کورٹ میں ان کا معاملہ لے جاکر پوری کردی گئی۔۔۔2 جولائی سے پہلے تک مختلف افراد'وکیلوں'انجمنوں اور جماعتوں نے اردو اخبارات میں لمبی چوڑی خبریں شائع کرائیں اور اس یقین کی خوب تشہیر کی کہ سپریم کورٹ سے جلد ہی یہ غیر ملکی تبلیغی چھوٹ جائیں گے۔لیکن جیسے ہی 2 جولائی کو سپریم کورٹ نے ہاتھ کھڑے کئے اور اسی لائن کی تصدیق کردی جس پر مرکزی حکومت چل رہی تھی تو یہ سب منظر نامہ سے غائب ہوگئے۔۔۔
میرے سامنے نوح (ہریانہ) کی مقامی عدالت کا فیصلہ بھی موجود ہے اور تامل ناڈو ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کا بھی فیصلہ موجود ہے۔نوح کی عدالت نے بھی کم وبیش ایسا ہی فیصلہ دیا اور ملزمین پر ایک ایک ہزار روپیہ کا جرمانہ عاید کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔مدورائی بنچ کا فیصلہ بھی کسی حد تک اچھا ہے لیکن اس میں بھی وکلاء نے وہ دلائل نہیں دئے جن کی ضرورت تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں بعض ایسی باتیں بھی آگئی ہیں جو تبلیغی جماعت کے لئے بہت خطرناک' قابل اعتراض اور نقصان دہ ہیں۔۔۔(مدورائی بنچ کے فیصلہ کا جائزہ پھر کسی وقت)…
اب اس صورتحال میں چند سوالات سامنے آتے ہیں:
1- کیا ان تمام غیر ملکی افراد کے مقدمات ضلعی یا صوبائی سطح پر تبلیغی جماعت کی مرکزی قیادت کو ایک ہی لائن اختیار کرکے نہیں لڑنے چاہئیں تھے؟
2- کیا جماعت کی مرکزی قیادت کو سینئر وکیلوں کا ایک پینل بناکر مقامی وکیلوں کی رہنمائی نہیں کرنی چاہئے تھی؟
3- آخر یہ کون لوگ تھے جو مختلف اضلاع یا صوبوں میں ان پریشان حال لوگوں کے مقدمات ختم کرانے کی کوشش کی بجائے انہیں محض ضمانت پر رہا کرانے کی کوشش کر رہے تھے؟
4- آخر ایسے لوگوں کے پاس ان غیر ملکیوں کو ٹھہرانے'ان کے کھانے پینے اور ان کی دیگر ضروریات کے اخراجات کے کیا منصوبے تھے؟
5- پھر سپریم کورٹ میں انتہائی کمزور بنیادوں پر اس معاملہ کو کیوں لے جایا گیا؟
6- کیوں مرکزی حکومت کے ویزا منسوخ کرنے کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا اور کیوں وہ دلائل نہیں رکھے گئے جن کی بنیاد پر سہارنپور کی عدالت نے 57 غیر ملکی افراد کو باعزت رہا کردیا تھا؟
7- یہ سوال حق بجانب ہے کہ آخر تبلیغی مرکز کا اصل مجاز وکیل کو ن ہے؟ کیوں درجنوں وکیل مرکز کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں اور کیوں مرکز کی طرف سے کوئی واضح بات سامنے نہیں آتی؟
8- آخر مرکز کی نمائندگی کا دعوی کرنے والے ان ڈھیروں وکیلوں کی فیس کون ادا کر رہا ہے؟ اگر یہ کوئی پیسہ نہیں لے رہے ہیں تو پھر انہیں کیا لالچ ہے؟ آخر ناکامی کی صورت میں وہ کس کو جواب دہ ہیں ۔۔۔؟
ان تمام سوالات کے جوابات کا آنا بے حد ضروری ہے۔اس لئے کہ وکیلوں'انجمنوں'جماعتوں اور'خیر خواہوں کے اس جھرمٹ نے معاملہ کی اصل تصویر کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے اورمعاملہ |
فیس بک نے میانمار کی فوج سے مربوط تمام اکاؤنٹ بند کر دیے | Asal Media اصل میڈیا
Posted on February 26, 2021 By Majid Khan اہم ترین, بین الاقوامی خبریں
میانمار (اصل میڈیا ڈیسک) سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک نے میانمار کی فوج اور اس کے ذیلی اداروں کو اپنے پلیٹ فارم استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ فیس بک کی جانب سے اس پابندی کا اعلان کیا گیا۔
فیس بک کی طرف سے لگائی گئی اس پابندی کے بعد میانمار کی فوج کے ساتھ ساتھ اس کی نگرانی میں چلنے والی تمام کمپنیاں انسٹاگرام کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پابندی کی بنیادی وجہ یکم فروری کو ملکی فوج کی طرف سے جمہوری حکومت کا ختم کیا جانا اور میانمار میں اقتدار پر قبضہ بنا۔
فیس بک کے مطابق یکم فروری کے بعد عوامی مظاہروں کے شرکاء پر کیا جانے والا تشدد بھی اس پابندی کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ پابندی کے اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام کے ملکی فوج اور اس سے منسلک اداروں کی طرف سے استعمال کا بڑا خطرہ ہے۔
اس پابندی کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا ہے۔ قبل ازیں فیس بک نے میانمار کی فوج کے پیجز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔
فیس بک اور میانمار کے جرنیل
سن 2018 میں فیس بک نے میانمار کی فوج کے سینیئر ترین جنرل من آنگ ہلینگ اور دیگر اعلیٰ افسران کے اکاؤنٹ منجمد کر دیے تھے۔ رواں برس یکم فروری کو آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت قومی لیگ برائے جمہوریت کی جمہوری طور پر منتخب شدہ حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں بھی جنرل من آنگ ہلینگ ہی سب سے نمایاں ہیں۔
جنرل ہلینگ موجودہ فوجی حکومت کے سربراہ بھی ہیں۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد فوجی حکومت نے ملک میں فیس بک کو بلاک کرنے کی کوشش بھی کی تھی، جو ناکام رہی تھی۔
فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کی صورت حال کو ختم کرنے کے لیے سفارتی عمل شروع ہو چکا ہے۔ انڈونیشیی وزیر خارجہ رتنو مارسودی نے بدھ چوبیس فروری کو میانمار کی خاتون وزیر خارجہ سے ان کے ملک کی بحرانی صورت حال پر گفتگو کی۔
یہ بات چیت تھائی لینڈ میں ہوئی۔ مشرقِ بعید کے ملک انڈونیشیا اور اسی خطے کے ممالک کی تنظیم آسیان بھی میانمار کا بحران حل کرنے کی کوششوں میں ہے۔ انڈونیشی وزیر خارجہ مارسودی کا کہنا ہے کہ بحرانی حالات کے تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں تا کہ حالات پرتشدد نہ ہو جائیں۔ مغربی اقوام بھی میانمار کے بحران کے سفارتی حل کی حامی ہیں۔
دوسری جانب میانمار کے عوام جمہوری حکومت کی بحالی کی حمایت میں ینگون سمیت کئی شہروں میں اپنے پرامن مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج جمعرات کو بھی کئی بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ان مظاہروں میں فوج کی حکومت سے دستبرداری اور سوچی حکومت کی بحالی کے لیے آوازیں بلند کی گئیں۔
رواں ہفتے کے دوران پیر کے روز بھی فوجی حکومت کے سخت انتباہ کے باوجود ملک گیر ہڑتال کے دوران بڑی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ فوجی حکومت ایک سال بعد نئے پارلیمانی الیکشن کرانے کا اعلان کر چکی ہے۔ |
سی پیک میں بھارت کی شمولیت! چین نے یہ کیا اعلان کر دیا ؟ - JavedCh.Com
پیر 21 مئی 2018 لاسٹ اپ ڈیٹڈ : 17:50
سی پیک میں بھارت کی شمولیت! چین نے یہ کیا اعلان کر دیا ؟
پیر 20 مارچ 2017 | 16:28
بیجنگ (آئی این پی ) چین نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارت کے اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کے لئے کشمیر کا مسئلہ کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا کیونکہ یہ منصوبہ علاقوں کو ایک دوسرے سے ملانے اور جنوبی ایشیاء کے سب لوگوں کی خوشحالی کا منصوبہ ہے، پاکستان اور چین کو چینی صدر کے ون بیلٹ و ن روڈ منصوبے کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار چین کے سرکاریاخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔دریں اثنا وزارت خارجہ کے
ترجمان ہوا چن ینگ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے ، پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ مسئلہ تاریخی ورثہ ہے ، اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات اور صلاح و مشورے کے ذریعے مناسب انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں پیشرفت کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف کو متاثر نہیں کرتی ۔گلوبل ٹائمز کے مطابق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے حال ہی میں علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی مزید کوششوں پر زوردیا ہے جن میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی ترقی بھی شامل ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرنے والا یہ عظیم الشان منصوبہ ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی تائید ون بیلٹ و ن روڈ صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے ،نئی دہلی نے ابھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر دستخط کرنے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے ون بیلٹ ون روڈ کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے گزرنے پر خود مختاری کے مسائل موجود ہیں تاہم بھارت کی طرف سے ان خدشات کے باوجود اس منصوبے کو بین الاقوامی ممالک کی طرف سے وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہورہیہے، اس سلسلے میں چین پہلی ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس کی مئی میں میزبانی کررہا ہے جس میں 20 ملکوں اور حکومتوں کے سربراہان اور 50سے زیادہ بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ اس بیجنگ کانفرنس میں شرکت کریں گے ، یہ بات خاص طورپر قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے اثرات کو روک نہیں سکتا ، اگر بھارت اس وقت اس منصوبے سے باہر رہنا چاہتا ہے جب اسے بین الاقوامی برادری کی طرف سےوسیع حمایت حاصل ہورہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چین کی ابھرتی ہوئی عالمی شہرت اور اہمیت کو دیکھ نہیں رہا ۔ شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جیمز وول سے نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی امریکہ کی طرف سے مخالفت حکمت عملی کی غلطی ہو گی ۔توقع ہے کہ بھارت امریکہ سے سبق حاصل کرے گا اور وہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی طرف عملیرویہ اختیار کرے گا ، اگر نئی دہلی دوسری اقوام کو اس منصوبے کو روکنے میں ناکام ہوتی ہے تو اسے اس منصوبے میں شامل ہو جانا چاہئے تا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی تکمیل میں پیشرفت کی جا سکے کیونکہ یہ بھارت کے مفاد میں ہے، چین اور بھارت کے درمیان بنیادی ڈھانچے سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اگر نئی دہلی کو سی پیک کے عظیم منصوبے اوبی او آر پر خدشات ہیں کہ تو بھارت کو اسمنصوبے میں شامل ہو کر چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہئے اور اس منصوبے کو ممکنہ حد تک اپنی طرف منتقل کر لینا چاہئے کیونکہ زیادہ سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں معاشی ترقی اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس منصوبے کا خیر مقدم کررہے ہیں اور اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں ، بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ مسئلے سے بڑی احتیاط کے ساتھ نمٹنا چاہئے ، کشمیر کے مسئلے پر پاکستاناور بھارت کے درمیان تنازعے نے نئی دہلی کو عادتاً بڑے پیمانے پر علاقے میں ہونے والی غیر ملکی ممکنہ سرمایہ کاری کے خلاف حساس بنادیا ہے لیکن اس کے لئے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ عام تجارتی سرمایہ کاری اور دوسری سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں امتیاز کرے جو بھارتی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتی ہیں ، ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک اقتصادی منصوبے ہیں ۔امید ہے کہ ان فوائد کو دیکھتے ہوئےبھارت کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ ان منصوبوں میں شمولیت کے لئے ایک کھلا رویہ اختیار کرے گا ۔ |
معروف آل راؤنڈر سہیل تنویر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا - Daily Aitadal – No.1 Urdu Newspaper from DI Khan
کولمبو: سری لنکا میں پریمیئر لیگ کھیلنے کے لیے موجود آل راونڈر سہیل تنویر بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے اُن کا کوویڈ ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سہیل تنویر نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کولمبو کے لیے روانگی کے وقت پاکستان میں 17 اور 18 نومبر کو کرائے گئے کوویڈ ٹیسٹس منفی آئے تھے تاہم سری لنکا پہنچنے پر 19 نومبر کو دوبارہ ٹیسٹ ہوا جو مثبت آگیا۔ مداحوں سے دعاؤں کی درخواست ہے۔
آل راؤنڈر سہیل تنویر کا مزید کہنا تھا کہ کوویڈ ٹیسٹ مثبت آنے پر حیرانی ہوئی ہے کیوں کہ دو بار ٹیسٹ منفی آچکا تھا اور مجھ میں ابھی تک کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوئی ہے تاہم ٹیم انتظامیہ کی ہدایت پر ایک ہفتے کے لیے خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں۔
معروف کھلاڑی نے امید ظاہر کی کہ اگلی بار ٹیسٹ نیگیٹو آئے گا۔ سری لنکا میں ہونے والے پریمیئرلیگ میں ہماری ٹیم کا میچ 26 نومبر کو ہے اور تب تک وائرس کو شکست دیدوں گا اس لیے زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ |
علمائے اکرام کے تعاون کے بغیرمحرم میں امن کا تصورناممکن ہے، کور کمانڈر کراچی karachi
علما کے تعاون کے بغیر محرم میں قیام امن ممکن نہیں، کور کمانڈر کراچی
کراچی: کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل مرزا شاہد بیگ نے کہا ہے کہ مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام کا شہریوں کا اداروں سے تعاون ناگزیر ہے جس کے بغیر قیام امن کا تصور ناممکن ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہیڈ کوارٹرز کراچی میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مرزا شاہد بیگ کی زیر صدارت اجلاس میں محرم کے مہینے میں سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ لی اور جلوس و مجالس کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تشکیل دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی جہاں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل مراز شاہد بیگ نےامن وامان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی اداروں کی کوششوں کوسراہا۔
کور کمانڈر کراچی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں، مجالس اور جلوس کے راستوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں جس کے لیے سیکیورٹی ادارے باہمی رابطوں کو مزید مربوط کریں اور بدلتی صورت حال پر کڑی نظر رکھیں۔
انہوں نے علمائے کرام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام مذہبی منافرت پر مبنی مواد اور اشتعل انگیز تقاریر کر کے لوگوں کے جذبات کو بڑھکانے والے عناصر پر نظر رکھیں اور فوری طور پر اس کی اطلاع سیکیورٹی اداروں کو دیں۔ |
شوال کی فضیلت | ITDarasgah.com - Pakistani Urdu Forum for IT Education & Information
شوال کی فضیلت
شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: "سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے"۔ مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی:
شوّال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: "سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے"۔ اْردو دائر ہ معارف اسلامیہ (جلد 11، صفحہ نمبر 518) کے مطابق مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں۔ چنانچہ شوّال حج کے مہینوں میں ہے جن کا ذکر قرآن پاک میں آیاہے۔
ان چار مہینوں میں عرب اپنے ملک میں بغیر کسی قسم کے حملے بلا خوف چل پھر سکتے تھے۔ اس کا ذکر سورت توبہ کی آیت نمبر 5 میں آیا ہے۔ شوّال کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مسرت و انبساط کا مڑدہ سناتا ہے۔ خالق حقیقی ایک سخی دریا بن کر صحرا صحرا عصیاں کو سیراب کردیتا ہے۔ گناہوں کے صحراؤں میں جب گردباد کی سیٹیاں بجتی ہیں اور جب عصیاں کے وسیع و عریض صحرا کے باسی جھلستے ہیں تو تھکے ہارے ہانپتے گناہگاروں اور خطا کاروں کے احساس ندامت کو دیکھ کر خالق حقیقی کی بے کراں شفقت جوش مارتی ہے۔
پیاس کے صحرا میں پھر انہیں یزداں زمزم پلاتا ہے۔ بقول سید ضمیر جعفری
وقت کے ماتھے پہ جس کی روشنی لکھی گئی
وہ رُخ زیبا ہے ترا وہ ید بیضا تو ہی
کس نے تھاما رات کے ڈوبے ہوئے سورج کا ہاتھ
روشنی کو صبح کی چوکھٹ پہ لے آیا تو ہی
کون ہے تیرے سوا، دکھیا دلوں کا داد رس
خلق کا مولا تو ہی ملجا تو ہی ماوا توہی
مولانا محمد جونا گڑھی و مولانا صلاح الدین یوسف، قرآن حکیم مع ترجمہ و تفسیر، مطبوعہ شاہ فہد قرآن حکیم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ، مطبوعہ 1419 ہجری کے صفحہ نمبر 506 پر تحریر فرماتے ہیں کہ چار مہینے ایسے ہیں جو حرمت والے ہیں: (1) رجب، (2) ذوالقعدہ، (3) ذوالحجہ اور (4) محرم
شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔
سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے:
فسیحوا فی الارض اربعة اشھر
"پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک چل پھر لو۔"
یہاں 9ہجری کا ذکر ہے جس میں چار مہینوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عرب اپنے ملک کے اندر بغیر کسی قسم کے حملے کے خوف کے چل پھر سکتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک شوّال بھی حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔ حدیث کے مطابق شوال حج کے مہینوں میں سے ہے۔
(ملاحظہ ہو: البخاری، کتاب الحج، باب 33، 37)
اسلام سے پہلے عرب شوّال کے مہینے کو شادیوں کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہ خیال غلط ہے۔ حضور اکرمﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے شوّال میں ہی شادی کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: الترمذی، کتاب النکاح، باب 10) اس مہینے کی اسلام میں بڑی فضیلت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور ان کے ساتھ چھ روزے شوّال کے بھی رکھے، وہ گویا صائم الدھر (یعنی ہمیشہ ر وزہ رکھنے والا) ہے۔
(مسلم، کتاب الصیام، حدیث 203)
اردو دائرہ معارف اسلامیہ (جلد 11) کا انگریز مقالہ نگار A.J. WENSINCK صفحہ نمبر 816 پر رقمطراز ہے: "ان چھوٹے دنوں کو "چھوٹے تہوار" (العید الاصغر) میں شامل ہونے کی مقدس حیثیت حاصل ہے۔ شوال المکرم ہے۔ یعنی شوّال کا مہینہ قابل احترام ہے۔" سرخیل علماء و عارفین حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف 'غنیة الطالبین' میں اس مہینے کی بڑی فضیلت تحریر فرمائی ہے۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوّال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہوگا۔ (بحوالہ صحیح مسلم)۔ رسالہ فضائل الشہود میں لکھا ہے کہ ماہ شوّال میں نوافل پڑھنے کا بھی بہت ثواب ہے۔ نوافل کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد زیادہ سورة اخلاص اور سلام پھیرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بے حساب ثواب ہے۔
اگر رمضان المبارک کے کوئی روزے خدانخواستہ رہ جائیں تو یہ روزے قضا ادا کرنے کے بعد ہی شوال کے چھ مسنون روزے رکھے جائیں۔ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ شوّال کی پہلی رات فرشتے نازل ہوکر آواز دیتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ کے بندو! تمہیں خوشخبری ہوکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لیے بخش دیا کہ تم نے رمضان کے روزے رکھے۔
جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺ غسل فرماتے اور صاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔
روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ راستے میں چلتے وقت آہستہ تکبیر فرماتے۔ حضور اکرم ﷺ مسجد نبوی کے باہر میدان میں تشریف لے آتے جو عید گاہ تھی۔ نبی اکرم ﷺ نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے
Likes: Derwaish, Doctor and Sabih Tariq
ہمارے ساتھ اشتراک کرنے کا بے حد شکریہ
شوال کے چھ روزے: فضائل ومسائل
مفتی محمد صادق حسین قاسمی
رمضان المبارک کے مہینہ کے بعدشوال کا مہینہ آتا ہے ،رمضان میں ایک مہینہ تک مسلسل روزوں کا اہتما م کیا جاتا ہے،اور چوں کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس لئے ہر کوئی ہر ممکن رکھنے کی پوری کوشش بھی کرتا ہے ۔رمضان کے گزرنے کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ نفل روزے رکھے جاتے ہیں ،جن کو '' ستۂ شوال '' کہاجاتا ہے ،یعنی شوال کے چھ روزے ۔عام طور پر ہمارے پاس رمضان المبارک کا جو نظام الاوقات چھپتا ہے اس میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے بھی سحر و افطار کے اوقات درج ہوتے ہیں ،اور اللہ کے کچھ بندے ان چھ روزوں کے رکھنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔تو آئیے مختصراً ان روزوں کی حقیقت ،فضیلت او ر ان سے متعلق ضروری مسائل جانتے ہیں ،تاکہ ہمیں ان روزوں کی حقیقت اور حیثیت معلوم ہوجائے۔
چھ روزوں کی فضیلت:
شوال کے مہینہ میں رکھے جانے والے ان روزوں کی فضیلت میں مختلف حدیثیں وارد ہوئی ہیں ،جن میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مَنْ صَاْمَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہ'سِتّاًمِنْ شَوَّالٍ کَاْنَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ۔( مسلم : حدیث نمبر؛689)یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے ساری عمر روزے رکھے۔حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ایک حدیث یہ ہے :مَنْ صَاْمَ رَمَضَاْنَ،وَسِتّاًمِنْ شَوَّالٍ،فَکَاَنَّمَاْصَاْمََ السَّنَۃَ کُلَّھَا ۔( مسند احمد: حدیث نمبر؛14014)یعنی آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے ، تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔حضرت ثوبانؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ:صِیَامُ شَھْرِ رَمَضَانَ بِعَشْرَۃِاَشْھُرٍوَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ِ بشَھْرَیْنِ،فَذٰلِکَ صِیَامُ سَنَۃٍ ۔( السنن الکبری للنسائی:حدیث نمبر؛2816)یعنی رمضان کے مہینہ کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں ،پس یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہیں۔ان احادیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں ان چھ روزوں کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے منقو ل ہیں۔
چھ روزں کی خصوصیت:
احادیث میں خود نبی کریم ﷺ سے یہ منقول ہے کہ رمضان المبارک کے تیس روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا گویا پورا سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا اور سال بھر روزے رکھنے کا اجر وثواب ملے گا۔علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ مسلم کی شرح ''فتح المہلم ''میں حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:وَاِنَّمَاکَانَ ذٰلِکَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ،ِ لاَنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرَ اَمْثَالِہَا،فَرَمَضَان بِعَشْرَۃِ اَشْھُرٍ وَالِستَّۃُ بِشَھْرَیْنِ ۔( فتح الملھم : 6/258،دار الضیا ء کویت)ان روزوں کی وجہ سے عمر بھر روزے رکھنے کی طرح ہوگیا ،اس لئے کہ ہر نیکی کا اجر دس گناہ ہے ، پس رمضان کے تیس روزے دس مہینے ( یعنی تین سو دن )کے برابر ہوگئے ،اور چھ روزے دو مہینے ( یعنی ساٹھ دن ) کے برابر ہوگئے اس طرح پورا سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔حکیم الاسلام قاری محمد طیب ؒ بھی اس کی اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ماہِ رمضان کے دنوں کو دیکھئے تو ان میں 30 روزے رکھے گئے ہیں اور شریعت کی بخششیں بے کراں نے ایک نیکی کو دس نیکی کے برابر شمار کیا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ۔ اس اصول پر یہ 30 روزے 300 ہوجاتے ہیں،اور ادھر عید کے بعد شش عید جو بطور تتمہ و توابع رمضان کے ساتھ لاحق کئے گئے ( گو بوجہ تسہیل و رحمت انہیں اختیاری رکھا گیا ،اور جزو رمضان نہیں بنایا گیا) اصولِ مذکورہ پر 60 ہوجاتے ہیں تو رمضان کے اصل اور ملحقہ روزوں کا مجموعہ بھی وہی 360 ہوجاتا ہے جو سال کے دنوں کی تعداد ہے ،اور اس کا حاصل بھی وہی نکلا کہ رمضان کے یہ انعامی 360 روزے سال بھر کے پورے 360 دنوں کے مساوی ہیں اور رمضان کے یہ اصل اور توابع روزے پورے کردینے والا سال کے تمام روزے رکھنے والا بن کر ''صائم الدھر'' بن جاتا ہے ۔( خطبات حکیم الاسلام:9/108)
چھ روزوں کے مسائل:
*شوال کے یہ روزے لگاتار رکھنا ، یا عید کے اگلے دن سے فوراً رکھنا ضروری نہیں بلکہ شوال کے مہینے میں عید کا دن چھوڑ کر جب اور جس طرح سے چاہیں رکھ سکتے ہیں ،بس اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال کے مہینے میں مکمل ہوجانی چاہیے ۔( شوال و عید الفطر : فضائل واحکام:418)
*رمضان کے روزے فرض ہیں ،شوال کے چھ روزے نفل ہیں ،لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنادرست نہیں ،اس طرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔( روزے کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا:131)
*شوال کے روزے جائز اور مستحب ہیں ،نہ فرض ہیں اور نہ واجب ، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزوں کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے ،درست نہیں ہے۔( کتاب الفتاوی :3/442)
*عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر عید کے بعد سے لگاتا رہے تو یہ افضل ہے۔( الفقہ الاسلامی وادلتہ :2/589)
*بعض لوگ عید الفطر گزرنے کے بعد شوال کی آٹھ تاریخ کو ایک اور عید مناتے ہیں ،جب کہ بعض لوگ شوال کے چھ روزوں سے فارغ ہو کر یہ عید مناتے ہیں اور بعض لوگ اس عید کو '' عیدِ ابرار'' کانام دیتے ہیں،اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں اور اس کو عید قراردینا شرعاً غلط ہے ۔( شوال و عید الفطر کے فضائل واحکام:422)
شوال کے چھ روزوں سے متعلق یہ چند اہم اور ضروری باتیں پیش کی گئیں ،شوال کے چھ روزے نفل ہیں لہذا اگر رکھیں تو اجر وثواب حاصل ہوگا ،لیکن اگر کوئی نہ رکھے تواس کو برُا بھی سمجھنا چاہیے ،اور بطور خاص چھ روزے ہونے کے بعد جو عید کا تصور ہے اس کو ختم کرنا چاہیے،ہمارا ہر عمل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے ،نہ اپنی طرف سے کسی قسم کی کمی ہو اور نہ ہی زیادتی تو پھر ہر چھوٹا عمل بھی اپنے اثرات وبرکات ظاہر کرے گا۔ |
کیا دہلی کے جماعت اسلامی ہند کی مسجد میں کھولا گیا کووڈ سینٹر؟
اس ہفتے سوشل میڈیا پر مسجد کی دو تصاویر خوب شیئر کیا گیا۔ جس میں یوزر کا دعویٰ تھا کہ جماعت اسلامی ہند نے دہلی میں واقع اپنے مرکزی مسجد کے اشاعت الاسلام کے ہال کو کرونا مریضوں کے لئے وقف کردیا ہے۔ بھارت کے مسلمانوں نے مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے باوجود اپنے وطن کے شہریوں کی خیر خواہی میں مساجد کے دروازے انسانی مدد کے لئے کھول دئیے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وائرل تصاویر ایک سال پرانی ہے اور ان تصاویر کا دہلی کے جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مسجد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بلکہ یہ تصاویر پونے کے اعظم کالج آف ایجوکیشن کے کیمپس میں بنی مسجد کی ہے، جسے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر یتی نرسمہانند سرسوتی کا ایک ویڈیو گردش کر رہا ہے۔ جس میں وہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یوزر کا دعویٰ ہے کہ پولس نے آخر کار گستاخ رسولﷺ نرسمہانند سرسوتی کو گرفتار کرہی لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نرسمہانند سرسوتی کی گرفتاری والا وائرل ویڈیو کم از کم 8 مہینے پرانا ہے۔ مذکورہ سبھی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی پولس نے نرسمہانند کو جلد سے جلد حاضر ہونے کا سمن بھیجا ہے۔ لیکن ان کی گرفتاری اب تک نہیں ہوئی ہے۔
فیس بک یوزر کا دعویٰ ہے کہ 5 جی نیٹورک ٹیسٹنگ کی وجہ سے کرونا وائرل کی دوسری لہر آئی ہے۔ جبکہ حقیقت اس سے پرے ہے۔ 5 جی نیٹورک ٹیسٹنگ کے حوالے سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ بھارت میں ابھی 5 جی ٹیسٹنگ کی شروعات نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ بھارت میں کروناوائرس کی دوسری لہر 5 جی ٹیسٹنگ کی وجہ سے آئی ہے۔
طریقہ کار : ویڈیو پلے کر کے پہلے اے تک سانس اندر لیں اور اس کے بعد سانس کو بی تک رو ک لیں۔ جبکہ حقیقت یہ کہ 10 سیکینڈ سانس روک کر آکسیجن لیول چیک کرنے کا دعویٰ سراسر فرضی ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر فرضی ویڈیو شیئر کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر 30 سیکینڈ کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں آکسیجن ٹینکر ٹرین پر نظر آرہا ہے۔ یوزر کا دعویٰ ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے آکسیجن ٹینکر مدد کے طور پر بھیجا جا رہا ہے۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہا آکسیجن ٹینکر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ 7 خالی ٹینکروں کو مہاراشٹر سے وشاخاپٹنم آکسیجن کے لئے آکسیجن ایکسپریس سے 19 اپریل 2021 کو بھیجا گیا تھا۔ |
بھارت نے افغانستان کو 11 رنز سے شکست دے دی – VideoCam urdu
بھارتی جیت میں جہاں اس کی مضبوط فیلڈنگ نے اہم کردار ادا کیا وہیں آخری وکٹیں بہت تیزی سے اور پےدر پہ گرتی چلی گئیں جس سے جیت بھی افغانستان سے دور ہوتی چلی گئی۔
ورلڈ کپ 2019 کے تحت افغانستان اور بھارت کے درمیان ساوتھ ہمپٹن میں کھیلے گئے میچ کے چند آخری اوورز میں سنسی خیزی چھائی رہی۔ بھارت کے بعد افغانستان نے 225 رنز کے ہدف کے لئے جدوجہد کی لیکن افغانستان مقررہ 50 اوورز میں ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اس کی پوری ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 213 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی یوں بھارت نے یہ میچ گیارہ رنز سے جیت لیا۔
اسکور ابھی 64 رنز ہی ہوا تھا کہ ہارک پانڈیا نے گلبدین نائب کو 17 رنز پر وجے شنکر کے ہاتھوں کیچ کرادیا اور یوں افغانستان کو کم اسکور پر دوسری وکٹ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
گلبدین کی جگہ حشمت اللہ شاہدی بیٹنگ کرنے آئے جبکہ بھارت کو افغانستان کی تیسری وکٹ کے لئے کافی لمبا انتظار کرنا پڑا۔ 29 ویں اوور میں رحمت شاہ بومرہ کی بال پر 36 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔
حشمت کی جگہ اصغر افغان کھیلنے آئے تھے مگر وہ صرف 8رنز بناکر چہل کی بال پر بولڈ ہوگئے، اگلے بیٹسمین نجیب اللہ زدان تھے۔ مگر وہ زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے اور ہاردک پانڈیا 21 رنز پر ان کی وکٹ لے اڑے۔
اب بیٹنگ کرنے کی باری راشد خان کی تھی لیکن وہ 14رنز سے آگے نہ بڑھ سکے۔
راشد خان کے بعد پے درپے وکٹیں گرنا شروع ہوئیں۔ آفتاب عالم اور مجیب الرحمٰن کوئی رنز نہ بناسکے جبکہ اگرم خیل 7 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
بھارت کے پاس اچھی بیٹنگ لائن ہونے کے باوجود آج اس کا ایک بھی کھلاڑی سنچری نہیں کرسکا۔
افغانستان کو پہلی زبردست کامیابی روہت شرما کی وکٹ کی صورت میں ملی۔ انہیں مجیب الرحمٰن نے ایک رن پر کلین بولڈ کردیا۔ روہت شرما کی وکٹ بھارت کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا۔
روہت شرما کے بعد ویراٹ کوہلی بیٹنگ کے لئے آئے۔ انہوں نے راہول کے ساتھ مل کر میدان کے تقریباً چاروں طرف شارٹس لگائے لیکن اسی دوران راہول کو 30 رنز کے انفرادی اور 64 رنز کے مجموعی اسکور پر محمد نبی نے آؤٹ کردیا۔
تیسری وکٹ وجے شنکر کی گری جو آؤٹ ہونے تک 29 رنز بناچکے تھے۔ انہیں رحمت شاہ نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا جبکہ بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی 67 رنز پر محمد نبی کی بال پر رحمت شاہ کو کیچ دے بیٹھے۔
ایم ایس دھونی اور کیدر شرما نے ملکر پانچویں وکٹ کے طور پر بیٹنگ کی۔ دھونی اچھا کھیل رہے تھے لیکن راشد خان کو یہ منظور نہ ہوا اور وہ 28 رنز پر دھونی کی وکٹ لے اڑے یوں بھارت کی آدھی ٹیم آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئی۔
49 ویں اوور تک بھارت 6 وکٹ کے نقصان پر 217 رنز بناچکا تھا۔ کیدر جادیو نے 48 رنز بنائے جبکہ ہارک پانڈیا 7 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ ان کی جگہ محمد شامی بیٹنگ کرنے آئے لیکن وہ ایک رن پر ہی کلین بولڈ ہوگئے۔ ان کی وکٹ گلبدین نائب نے لی جبکہ پانڈیا کو آفتاب عالم نے آؤٹ کیا تھا۔
بھارت نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹ کے نقصان پر 224 رنز بنائے۔اس طرح افغانستان کو یہ میچ جیتنے کے لئے نسبتاً آسان ہدف ملا ہے اور اس کے بیٹسمین کوشش کریں تو بھارت سے یہ میچ چھین سکتے ہیں۔
حضرت اللہ زازئی، گلبدین نائب، رحمت شاہ، حشمت اللہ شاہدی،اصغر افغان، محمد نبی، نجیب اللہ زدران،اکرام علی خیل،راشد خان،آفتاب عالم،مجیب الرحمٰن ۔
افغانستان اب تک پانچ میچز کھیل چکا ہے اور تمام میچز میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ادھر بھارت چار میچ کھیل چکا ہے جس میں سے تین میں اسے کامیابی ملی اور چوتھا بارش کی نذر ہوا۔ اس لحاظ سے وہ اب تک ان بیٹ ایبل ہے یعنی کسی سے نہیں ہارا۔ پوائنٹس ٹیبل پر ر وہ چوتھےاور افغانستان دسویں نمبر پر ہے۔ |
نیگین موتازیڈی 2020/07/12 فاریکس ٹریڈنگ کے طریقے
تاہم ، جو رابطے تخلیق شدہ گروپوں کا حصہ ہیں وہ آپ کے بنائے ہوئے گروپوں میں چیٹنگ آئی کیو آپشن ڈیپازٹ جاری رکھنے کے اہل ہوں گے اور وہ چیٹس میں موجود پیغامات کی اپنی کاپی تک رسائی حاصل کرسکیں گے ، بشمول آپ کے پیغامات۔ قیمت کو چھوٹے اور چھوٹے علاقے تک ہی محدود رکھا جارہا ہے ، لیکن یہ نیچے کی ہر حرکت پر اسی طرح کے نچلے مقام پر پہنچ رہا ہے۔ ایک نزول کرنے والا مثلث ایک بار دو سوئنگ اونچائیوں اور دو سوئنگ لوز کو ٹرین لائن کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں ، مصنف ایک اشرافیہ کی سیاست کے حامی ہے۔ تاہم ، اسی طرح سے وہ بہت زیادہ مساوات پسندانہ پالیسیوں کی بنیاد پر معاشرتی اختلافات کو دور کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ صبح اور رات آئی کیو آپشن ڈیپازٹ کے وقت اس سلسلے کی ترتیب کی پیروی کریں: ایک منٹ کے لئے چل Childڈز کا فعال پوز رکھیں اور 2 منٹ اسٹینڈنگ فارورڈ فولڈ رکھیں۔ اس کے بعد ، 5 منٹ تک کیٹ گائے کریں۔ اس نقل و حرکت کی ترتیب ریڑھ کی ہڈی میں شعور اجاگر کرنے میں مدد ملے گی ، جو کم سے کم کامل کرنسی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔
AMD Ryzen 5 3600 ایک حیرت انگیز ڈیسک ٹاپ پروسیسر ہے۔ اگر آپ اسے آئی کیو آپشن ڈیپازٹ زیادہ چوری کرنے سے نہیں ڈرتے ہیں تو ، آپ اس کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ کچھ حالات میں ، یہ AMD Ryzen 5 3600X کے مقابلے میں تیز ہے ، جبکہ دوسروں میں ، یہ اسی طرح کی کارکردگی پیش کرتا ہے۔
کیا آپ کو فاریکس یا اسٹاک کی تجارت کرنی چاہئے ،ماہر آپشن کیا ہے؟
ٹیلیگرام میں کمائی کے اختیارات. اس عمل میں ، ہر معاشرے اور ہر ثقافت کو کچھ عالمی سمجھا جاتا آئی کیو آپشن ڈیپازٹ ہے۔ یہ عمل ایک متحرک تبدیلی کے بارے میں ہے جو معاشرے ہی خود انجام دیتا ہے ، ثقافتی ترمیم کی ایک سیریز کے ساتھ اور قانونی میدان میں بھی (قوانین میں تبدیلی ، فرمانوں کی منظوری . ) جو ان تبدیلیوں کے مطابق ہیں۔ تینوں خدمات بہت ساری خصوصیات پیش کرتی ہیں۔ پہلے ، آئیے ایک نظر ڈالیں کہ وہ کس طرح کے ہیں۔ |
ڈاکٹر علی کرمانجانی 2018/01/24 فاریکس ٹریڈنگ کا طریقہ کار
ڈاونٹا سان سان جوس سے جنوب کی طرف سفر کرنا آپ شہر کے کیمپبل سے گذریں گے ، یہ شہر کاؤنٹی آف سانٹا کلارا اور ٹاؤن آف لاس گیٹوس کے فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد زیر انتظام ہے۔ جب ایک سرمایہ کار ایک فکس اور فلیپ پراپرٹی فروخت کرتا ہے تو، آپ کے تمام اخراجات کو جاننا ضروری ہے، لہذا آپ کو معلوم ہے کہ معاہدے پر آپ کتنا پیسہ کماتے ہیں. کچھ عرصے سے کسی گھر کی فروخت کرتے وقت اخراجات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، ریکارڈنگ فیس فروخت، منتقلی ٹیکس، گھر وارنٹی، استحکام، اور عنوان انشورنس. - کارنیلیلس چارلس، شریک مالک، خواب ہوم جائیداد کے حل، LLC.
ایک بار پھر ، یہ مثال دکھا رہی ہے کہ یہ شخص کس کی مدد کرتا ہے ، وہ ان کی مدد کے لئے کیا کرتا ہے ، اور اس کا طریقہ کار۔ اب ، آپ کی باری ہے: لازمی طور پر دیگر موبائل ایپس کے ل the ، معلوم شدہ لیکن آسان آئی فون ایپس پر ایک نظر ڈالیں۔ یہ جامع رپورٹ جغرافیائی اڈوں پر چھوتی ہے اور اس میں کئی دیگر قسموں کے بیعانہ اور درجہ بندی کا احاطہ کرتا ہے۔ رپورٹ میں زمرے اور فلٹرز شامل ہیں جنہیں توڑا جاسکتا ہے اور SEO کی بہتری کے لئے بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
فاریکس فارورڈ ٹرانزیکشنز :فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد
پلیٹ فارم نئی خصوصیات کو نافذ کرنے کے لئے مستقل طور پر کام کر رہا ہے جو بٹ کوائن اور دیگر اعلی کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت کو تیزی سے آسان بنا دیتا ہے۔ نوٹ کریں کہ جب آئی ایم آئی مخصوص سوالات کا جواب دے رہی تھی ، ان میں سے کئی ہاں / نہیں تھے۔ پڑھنے کی اہلیت کو بڑھانے کے ل respon ، جوابات متعلقہ عنوانات کے تحت جمع کیے گئے ہیں۔
NYC OpenData کے ذریعہ فراہم کردہ.
اکاؤنٹنگ اور فنانس دونوں ہر کاروباری تنظیم کے لئے ناگزیر اور اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ دونوں ہی تنظیموں کی کامیابی کے حالیہ اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم ایروکول لڑکوں کو ان کے تجزیہ کے ل the مصنوعات پر اعتماد کرنے پر ان فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
یہ شیئر ہولڈر بننے ، کردار ادا کرنے ، نتائج کا مطالبہ کرنے اور کاروباری نمبروں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں "کھیل" کے بارے میں ہے۔
ویب سائٹ اچھی طرح سے منظم اور نیویگیٹ کرنے میں آسان ہے. 11. اجتماع کی جگہ: تلسا کا ریور فرنٹ پارک. لیون سعودی ریال 11 جون 2021 پر تبادلہ کی شرح کا چارٹ ہمارے پر پیش کیا گیا ہے ویب سائٹ لیون سے سعودی ریال مؤثر طریقے سے فاریکس پر نگرانی کرنے کے لئے ، ہم اسے گراف پر دکھاتے ہیں۔ چارٹ پر عین وقت کا انتخاب کرنے کے لئے ماؤس کا استعمال کریں اور اس وقت فاریکس پر لیون کی شرح تبادلہ معلوم کریں۔ لیون میں سعودی ریال میں تبدیلیوں کا گراف مستقل طور پر اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔
میں MT5 پلیٹ فارم تک کسطرح رسائی حاصل کر سکتا ھوں :فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد
معاشی نقطہ نظر کے برخلاف نچلا اپ نقطہ نظر انفرادی اسٹاک پر مرکوز ہے۔ اس میں کسی ایسے اسٹاک کا تجزیہ کرنا شامل ہے جو ممکنہ داخلے اور خارجی راستوں کے ل fund بنیادی طور پر دلچسپ ظاہر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ، کوئی سرمایہ کار نیچے کی قیمت میں کم قیمت کا اسٹاک تلاش کرسکتا فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد ہے اور مخصوص داخلے کے مقام کی نشاندہی کرنے کے لئے تکنیکی تجزیہ کا استعمال کرسکتا ہے جب اسٹاک ختم ہوسکتا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں قدر کی تلاش کرتے ہیں اور اپنے کاروبار پر طویل مدتی قول رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرسٹ سکور تجارت ،فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد
7. اپنی سائٹ میں آؤٹ لائن مارک اپ شامل کریں.
بالکل غیر معمولی HTML5 سرچ فارم ٹیمپلیٹ ، ارف فارم وزرڈ ہے کہ آپ کو اس میں بہت مزہ آئے گا۔ آپ کے ویب ڈیزائن.
سالوینسی اور لیکویڈیٹی دونوں شرائط ہیں جو انٹرپرائز کی مالی صحت کی حالت کا حوالہ دیتی ہیں ، لیکن کچھ قابل ذکر اختلافات کے ساتھ۔ سالوینسی سے مراد کسی انٹرپرائز کی اپنی طویل مدتی مالی وعدوں کو پورا کرنے کی گنجائش ہے۔ لیکویڈیٹی سے مراد کسی انٹرپرائز کی قلیل مدتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس اصطلاح میں نقد رقم جمع کرنے کے لئے کمپنی کے اثاثوں کو جلدی فروخت کرنے کی صلاحیت سے بھی مراد ہے۔ معروف مینوفیکچررز ، سپلائرز اور چین میں مکینیکل مصنوعات کے برآمد کنندگان میں سے ایک کے طور پر ، ہم کم کرنے والے ، سپروکیٹس ، صنعتی اور کنویر چین ، بیلٹ ، پلنی ، گیئرز ، ریک ، گیئر باکسز ، موٹرز ، پی ٹی او شافٹس ، ٹیپر لاک بشنگ ، ویکیوم پمپ ، سکرو ہوا پیش کرتے ہیں۔ کمپریسرز اور بہت ساری دیگر مصنوعات۔
نیوزی لینڈ اس سلسلے میں قانون سازی کرنے والا ایک اور ملک بن گیا ہے اور یہاں کی پارلیمان نے اس قانون کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ اس کے مطابق زندگی کے کسی بھی مرحلے پر حمل ضائع ہونے یا مردہ بچے کی پیدائش کے بعد تین روز کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جائے گی۔ بطور معاہدہ ہولڈر اپنے حقوق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے: اس کا مطلب ہے کہ آپ اختیار استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے لئے آپ کے بروکر سے رابطہ کرنا اور مشق کی ہدایات جمع کروانا ضروری ہے۔ مناسب استعمال کے ساتھ 10 سیکنڈ میں تیز زبانی اور ملاشی کے درجہ حرارت کی پیمائش۔ آخری درجہ حرارت کے لory میموری ڈسپلے۔ انتہائی حساس یونٹ ، تیز زبانی یا ملاشی کی پیمائش کے ل best بہترین۔ ڈیجیٹل LCD (مائع کرسٹل ڈسپلے) پڑھنے میں آسان ہے۔ کومپیکٹ ، درست اور پائیدار LSI (بڑے پیمانے پر انضمام) یونٹ۔ درجہ حرارت زبانی طور پر یا باقاعدگی سے لیا جا سکتا ہے۔ اگر درجہ حرارت استحکام کے بعد تھرمامیٹر نادانستہ طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو ، یہ خود بخود تقریبا فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد about 3 منٹ میں بند ہوجائے گا۔ چھوٹا ، ہلکے وزن کا یونٹ۔ پورے خاندان کے لئے آفاقی استعمال۔ خاص طور پر بچوں کے لئے مثالی۔ ٹوٹے ہوئے پارے / شیشے کے ترمامیٹر کے مقابلے میں اے بی ایس رال کا جسم کوئی خطرہ نہیں پیش کرتا ہے۔ بیٹری کا کم اشارے: جب "0" علامت ظاہر ہوتی ہے تو ، بیٹری کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ یونٹ پانی مزاحم ہے۔
مینیجر سے ، اہم شراکت دار سے ، یا تو ای-میل کے ذریعے یا اسکائپ کے ذریعے دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کرنے کے لئے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ تکنیکی معاونت کے معیار میں دوسرا مقام یہ ہے کہ: ای میل کے ذریعہ مواصلت ، بعض اوقات مینیجر موبائل فون کے ذریعہ ساتھی سے رابطہ کرسکتا ہے ، موجودہ مسائل کے بارے میں پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بروکر پر ، باقیوں سے قدرے خراب۔ تکنیکی مدد سے رابطہ کرنا مشکل ہے ، اور آپ کو جواب حاصل کرنے کے لئے طویل انتظار کرنا ہوگا۔ یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ فونز کو کریڈٹ کارڈ ریڈروں میں تبدیل کرنے کا طریقہ. اس کے بارے میں فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد مزید پڑھیں کہ شراکت داری انکم ٹیکس کی ادائیگی کیسے کرتی ہے۔
ٹھیک ہے اگر آپ کو زندگی میں کامیابی کے بغیر ہر دن گزارنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ، لیکن اگر آپ کچھ بہتر تلاش کر رہے ہیں فاریکس ٹریڈ کرنے کے کلیدی فوائد تو ، اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ کسی کو ہارنا پسند نہیں ہے۔ اور اصلی رقم ضائع کرنا شاید بدترین قسم کا نقصان ہے۔ جب آپ کو بہت سارے کھوئے ہوئے کاروبار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تب ہی یہ فطری ہے کہ آپ خوفزدہ ہوجائیں۔ آپ صرف انسان ہیں ، اور جب معاملات منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتے ہیں تو خوف زدہ ہونا ایک انسانی رجحان ہے۔ بات یہ ہے کہ ، جب ہم خوفزدہ ہوجاتے ہیں ، تب ہی جب ہم سب سے زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔ چترا 7 رولر کارڈنگ سسٹم کا اسکیمیٹک آریگرام.
آرمی کی شاخوں کو نیچے جدول میں درجہ بندی کیا گیا ہے۔ کچھ شاخیں ایک سے زیادہ زمرے میں آسکتی ہیں جیسا کہ اے آر 600-3 ، پیراگراف 32 میں لکھا گیا ہے۔ . این ایس بروکر کے ذریعہ ، جب آپ کسی تجارتی سیشن میں ہوتے ہو تو آپ ان کے تمام تجارتی اوزار استعمال کرسکیں گے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آپ اپنے تجارت سے زیادہ سے زیادہ منافع کرتے ہوئے ٹھوس اور بھرپور ٹریڈنگ کا فیصلہ کریں۔ |
میڈیکل ملازمتیں جہاں آپ کو میڈیکل ڈگری کی ضرورت نہیں ہے
ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لئے صحت کی معاوضہ معاوضہ تربیت اور تعلیم
میڈیکل انڈسٹری میں کام کرنے کے لئے مجھے کالج کی درکار کی ضرورت ہے؟
ایلیڈ ہیلتھ ملازمتوں میں انتظامی اور معاون رولز سے
میڈیکل انڈسٹری میں کام کرنے کے لئے مجھے کالج کی ڈگری کی ضرورت ہے؟ اگر نہیں، کسی ایسے شخص کے لئے کس قسم کی ملازمت دستیاب ہیں جو بیچلر کی ڈگری نہیں رکھتے ہیں؟
طبی صنعت میں بہت سے مختلف قسم کے کیریئر ہیں جو کالج کی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے. تاہم، اگر آپ اپنے پیشے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا قیادت یا انتظامی کردار میں فروغ دینا چاہتے ہیں تو، آپ اپنے کیریئر کے اختیارات اور مواقع کو بڑھانے کے لۓ اپنے کالج کی ڈگری کی طرف کام کرنا شروع کر سکتے ہیں.
اگر آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ کالج کے لئے ٹیوشن کس طرح خرچ کرنا ہے، تو اس طرح ٹیوشن کی قیمتوں کو کم کرنے یا مالی امداد حاصل کرنے کے بہت سے طریقے موجود ہیں. کچھ نرسوں کو بھی ٹیوشن کی مدد فراہم کرنی پڑتی ہے، لہذا آپ شاید اس کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ وہ نرس کا انتخاب کرتے وقت.
انتظامی اور سپورٹ رولز
انتظامی اہلکاروں کے طبی عملے کے دستاویزات، بلنگ، اور تنظیم کے ساتھ کلینرز کی مدد کرتے ہیں. انتظامیہ یا سپورٹ پیشہ ور کسی بھی قسم کی مریض کی دیکھ بھال نہیں کرتے - دوسرے الفاظ میں، ان کا کردار غیر کلینیکل ہے. بہت سے سپورٹ کردار میز ملازمتیں ہیں. زیادہ تر انتظامی اور سپورٹ پوزیشن ہائی اسکول کے گریجویٹز کے لئے دستیاب ہیں یا کم کالج کے نصاب کے ساتھ دستیاب ہیں، اور بعض ایک خاص کورس میں ایک سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو آن لائن یا مقامی پیشہ ورانہ اسکول میں لیا جا سکتا ہے اور ہفتوں کے معاملے میں مکمل ہوسکتا ہے. انتظامی اور معاون کردار کے کچھ مثالیں یہ ہیں:
میڈیکل سیکرٹری
طبی ٹرانسمیشنسٹ
میڈیکل بلڈر یا کوڈر
طبی مترجم
متحد ہیلتھ کیریئرز
اتحادی صحت کی دیکھ بھال کی نوکری کلینیکل کردار ہیں جو ڈاکٹر یا نرس نہیں ہیں لیکن تشخیصی جانچ، یا علاج کی دیکھ بھال فراہم کرکے ڈاکٹروں اور نرسوں کی مدد کرتے ہیں. جبکہ بہت سے اتحادی کرداروں کو کچھ کالج کے نصاب کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ متحرک کرداروں کو چار سالہ گریجویٹ ڈگری کی ضرورت نہیں ہے.
اس کے بجائے، اتحادی صحت کی دیکھ بھال میں زیادہ سے زیادہ ملازمت پیشہ ورانہ یا کمیونٹی کالج سے صرف ایک ایسوسی ایٹ کی ڈگری (کالج کے دو سال کالج) کی ضرورت ہوتی ہے. متعدد طبی معاون، طبی تکنیکی ماہرین اور تکنیکی ماہرین کی صحت کی دیکھ بھال کے چھتری کے تحت گر جاتے ہیں. متحد پیشہ ور افراد کو تشخیصی (ٹیسٹنگ) یا علاج (علاج) مقاصد کے مریضوں کے ساتھ براہ راست بات چیت ہے، لہذا انہیں کلینیکل کردار تصور کیا جاتا ہے.
کچھ نرسنگ کردار کالج کی ڈگری کے بغیر دستیاب ہیں، جیسے لائسنس یافتہ پیشہ ور نرسوں ، یا ایل وی این (جو لائسنس یافتہ عملی نرسوں یا ایل پی اینز کے نام سے بھی مشہور ہیں). تاہم، زیادہ سے زیادہ رجسٹرڈ نرسنگ (آر این) کے عہدوں اور کسی بھی اعلی درجے کی پریکٹس نرسوں کے طور پر اعلی ادائیگی کی نرسنگ کردار اب بیچلر کی ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے.
ایک مصدقہ نرسنگ اسسٹنٹ، یا سی این اے، کسی آر این یا ایل پی این کی نگرانی کے تحت مریضوں یا گاہکوں کی صحت کی ضروریات کے ساتھ مدد کرتا ہے. ایک سی اے اے کو نرسنگ اسسٹنٹ (این اے) ایک مریض کی دیکھ بھال کے اسسٹنٹ (پی سی اے) یا ایک ریاست کے تجربہ کردہ نرس ایڈ (STNA) کے طور پر بھی جانا جاتا ہے. ذمہ داری اور قانونییت کے مسائل مخصوص طریقوں کو انجام دینے سے سی این اے کو روکنے کے لئے. نرسنگ اسسٹنٹ نوکری حاصل کرنے کے لئے، سی.ا. اکثر اکثر کم از کم ایک ہائی اسکول ڈپلوما یا جی ای ڈی کی ضرورت ہوتی ہے. طلباء عام طور پر ایک کورس لیتے ہیں اور ان کے سرٹیفیکیشن کے لئے ایک امتحان پاس کرنے کی ضرورت ہے. |
نوازشریف واپس نہیں آتے تو شہباز شریف کو جواب دینا پڑے گا: علی محمد خان - A1TV
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ نواز شریف علاج کرائیں اور واپس آئیں، نوازشریف واپس نہیں آتے تو شہباز شریف کو جواب دینا پڑے گا، سٹیٹس کو جماعتیں ملک میں تبدیلی نہیں چاہتی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شہباز شریف نے نواز شریف کی شخصی ضمانت دی تھی، جس کی شخصی ضمانت دی ہو یا تو اسے واپس لانا ہوتا ہے یا شہبازشریف خود کو پیش کریں گے، شہباز شریف نے عدالت کو ضمانت دی تھی کہ نواز شریف واپس آئیں گے، نواز شریف کو چاہیےعدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے سرنڈر کریں۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا پارٹی فنڈنگ کیس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے، ن لیگ، پیپلز پارٹی نے پارٹی اکاؤنٹس ٹی ٹیز اور منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیے، ایف اے ٹی ایف کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ اپنے اکاؤنٹس میں شفافیت لائیں، جو ماضی میں ہوتا رہا اس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں، چاہتے ہیں تمام جماعتوں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال ہو، اپوزیشن چاہتی ہے پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جائے، اپوزیشن حکومت کو ایف اے ٹی ایف قوانین پر بلیک میل کرتی ہے۔ |
آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے
آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے جائے گی،خلاف ورزی کی مرتکب فلور ملز کو بند کر دیا جائے: اعظم سلیمان
آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنائے جائے گی،خلاف ورزی کی ...
Jan 13, 2020 | 00:07:AM 12:07 AM, January 13, 2020
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں آٹے کی حکومتی نرخوں پر ٖفراہمی ہر صورت یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کی مرتکب پائی جا نے والی فلور ملز کو بند کر دیا جائے،تمام فیلڈ افسران فلور ملز پر ڈسپیچنگ سسٹم اور آٹے کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کریں۔
یہ ہدایات انہوں نے صوبائی وزیر انڈسٹریز میاں اسلم اقبال کے ہمراہ کیمپ آفس لاہور میں ایک اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔اس موقع پر چیف سیکرٹری نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بھی ہدایا ت جاری کیں اور کہا کے مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹنے کے لیئے اپناکردار ادا کریں۔ اجلاس میں تمام فیلڈ افسران کو کہا گیا کہ دیگر اشیائے خوردونوش، پھلوں، سبزیوں، چینی، دالوں اور گھی کی حکومتی نرخوں پرفراہمی کو بر قرار رکھنے کے لئے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور منڈیوں کے عہدیداران کے ساتھ قریبی روابط رکھیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف منظم کاروائیاں کریں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم ہو سکے۔چیف سیکرٹری کے استفسار پر سیکرٹری خوراک نے بتایا کہ منڈیوں میں پھلوں اور سبزیوں کے گریڈنگ سسٹم کے متعارف ہونے سے صارف کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔کیونکہ اس سسٹم کے آنے سے صارف کو غیر ضروری اور اضافی ناپ تول کی قیمت کی ادائیگی سے نجات مل گئی ہے۔ اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کی ہوم ڈیلیوری سروس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری انڈسٹریز نے بتایا کہ آن لائن ہوم ڈیلیوری سسٹم تین شہروں راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد میں فعال کر دیا گیا ہے۔جبکہ لاہور اور گوجرانوالہ میں بھی جلد یہ سروس شروع کر دی جائے گی۔اجلاس میں آنے والے کرشنگ سیزن کے پیش نظر شوگر ملزکی فعالیت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک شوگر مل کو ہر صورت فعال رکھا جائے اور اگر کوئی مل کسی بھی وجہ سے فعال نہیں ہے تو فیلڈ افسران دو دن میں انہیں فعال کر کے رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ پنجاب میں اس وقت 35 شوگر ملز کام کر رہی ہیں جبکہ مزید 04 شور ملز کو اگلے دو دنوں میں فعال کر کے رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔
لاہور میں چیف سیکریٹری پنجاب میجر (ریٹائرڈ)اعظم سلیمان خان کی افسران سے میٹنگ کے دوران اہم ہدایا ت:
صوبےمیں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، غذائی اجناس کی سمگلنگ کی روک تھام، منڈیوں میں گریڈنگ سسٹم اور ہوم ڈیلیوری کی سروس کی کار کردگی پر غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے. pic.twitter.com/dqS1Z8iCfy |
دہلی میں SEO مارکیٹنگ ایجنسی | دہلی میں SEO مارکیٹنگ کمپنی | دہلی میں SEO خدمات
موجودہ حالات میں جب SEO کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے تو ، یہ جانچنا اہم ہوجاتا ہے کہ آیا آپ کی SEO مارکیٹنگ ایجنسی آپ کی خدمت کر رہی ہے جس کی اصل میں ضرورت ہے۔ ایک انٹرپرائز کے طور پر آپ SEO کی ایجنسی پر آپ کے ذریعہ رکھی ہوئی مکمل اعتماد کی سرمایہ کاری کرتے ہیں ، لیکن کیا اس رقم اور اعتماد کی قیمت جس پر ایجنسی قیمت لگتی ہے یا آپ صرف ایک اور مؤکل ہیں جو آس پاس بیوقوف بنایا جارہا ہے؟ لہذا ایجنسی کی کوششوں کے ذریعہ آپ کو موصولہ نتائج پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آیا آپ کی ایجنسی آپ کی مدد کر رہی ہے یا آپ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان میں سرمایہ کاری آپ کو کچھ واپس نہیں کر رہی ہے تو سمجھدارانہ عمل کریں۔ اپنی ایجنسی کو تبدیل کریں۔
اس مضمون میں ہم نے فہرست دی ہے 7 وجوہات کیوں آپ کو آپ کی موجودہ SEO مارکیٹنگ ایجنسی کو دوبارہ بند کرنا چاہئے:
ایکس این ایم ایکس ایکس ڈیلیورینس: درجہ بندی یا ٹریفک میں بہتری راتوں رات نہیں ہوتی ہے لیکن آپ کی SEO ایجنسی کو آپ کو ان کے ذریعہ اختیار کردہ حکمت عملی کی پیشرفت ظاہر کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ آپ کے ذریعہ آپ کی ایجنسی کو ادا کی جانے والی رقم کو موصول ہونے والی فراہمی کے ذریعہ جائز قرار دیا جانا چاہئے۔ SEO ایجنسی کو کم سے کم آپ کو اپنی سائٹ کا آڈٹ فراہم کرنا چاہئے یا وہ طریقے جس نے سائٹ کے مواد کو بہتر بنانے کے ل implemented نافذ کیا ہے۔
2.کوئی سوال نہیں پوچھا گیا: SEO ایجنسی کو بھرتی کرنے کے مہینوں بعد بھی ، وہ آپ سے تنظیم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں پوچھنے کے خواہشمند نظر نہیں آتے ہیں یا ہدف کے مطلوبہ الفاظ کو سمجھنے کے لئے آپ سے مدد طلب کرتے ہیں یا آپ سے اپنے سی ایم تک رسائی کے لئے بھی پوچھ سکتے ہیں۔
3. نامکمل رپورٹنگ: اگر سائٹ کی پیشرفت کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے موجودہ SEO ایجنسی آپ کے ساتھ شفاف نہیں ہو رہی ہے یا سائٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ل implement لاگو کرنے کے لئے درکار تبدیلیاں تجویز کرنے پر ملکیت نہیں لیتی ہے ، تو یقینی طور پر اب وقت ملنے کا ہے۔ اپنے موجودہ کو چھڑانا SEO مارکیٹنگ ایجنسی.
ایکس این ایم ایکس ایکس ۔میرے رازداری: آپ نے جو SEO ایجنسی کی خدمات حاصل کی ہیں وہ آپ کی سائٹ کی درجہ بندی کے لئے کام کررہی ہے لہذا آپ کو ان سے ہونے والی پیشرفت اور حکمت عملی سے متعلق سوالات پوچھنے کا پورا پورا حق ہے جس کی وہ عمل درآمد کرتے ہیں۔ اگر ایجنسی آپ کے سوال کا جواب دینے سے انکار کرتی ہے یا آپ سے پوچھے گئے سوالات کے لئے آپ کو مبہم جوابات دیتی ہے اور ان کی کوششوں کو ظاہر کرنے میں رازداری کو اجاگر کرتی ہے تو ، وقت پھر سوچنے کا ہے۔
5. ٹرافی ڈراپ: اگر آپ کی سائٹ کے لئے ٹریفک مستقل طور پر گر رہا ہے تو ، چیک کریں کہ سائٹ میں حالیہ تبدیلیاں کیا تھیں جن کی وجہ سے تعداد کم ہو رہی ہے۔ متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کریں اور زوال کے پیچھے اسباب کی صحیح تصویر حاصل کریں۔
6.Ranking قطرے: آپ کی صفحہ کی درجہ بندی یہ جانچنے کا ایک طریقہ ہے کہ آپ کی SEO ایجنسی آپ کے لئے کتنی موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ صفحہ کی درجہ بندی میں کمی متعدد وجوہات کی بناء پر ہوسکتی ہے لیکن اگر یہ مستقل ہے تو آپ کی SEO ایجنسی اس کی دیکھ بھال کے ل enough خاطر خواہ کوششیں نہیں کررہی ہے۔
7. سوشل میڈیا شمولیت کو رد کرتا ہے: سوشل میڈیا اور SEO آپس میں مل کر چل رہے ہیں اور اگر آپ کی موجودہ ایجنسی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مضبوط وجود کی اہمیت کا ادراک نہیں ہے تو یقینا it اب وقت آگیا ہے کہ ایجنسی سے چھٹکارا پائیں اور بہتر نتائج کی انجام دہی کرنے والے ادارے کی طرف جائیں۔ . |
باندہ میں پولیس والوں کو گاؤں والوں نے دوڑا دوڑا کر مارا - Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
باندہ؍لکھنو :(ایجنسی)
یوپی کے باندہ میں نوٹس دینے گئی پولیس ٹیم پر دبنگوں نے جان لیوا حملہ کردیا۔ جوانوں کو اینٹ، پتھر اور لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کرپورے گاؤںمیں دوڑا گیا۔ زخمی جوانوں نے کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ اس واقعے میں چار میں سے دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے، دونوں کو علاج کے لیے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ بعد ازاں متعدد تھانوں کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور فرار حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔ غور طلب ہے کہ اسی طرح کا واقعہ 2020 میں بیکارو میں بھی پیش آیا تھا۔ جب وکاس دوبے کو گرفتار کرنے گئی پولیس پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔
آج تک کی خبر کے مطابق ضلع کے ببرو تھانہ علاقے کے پڑری گاؤں میں 5 لوگوں کے خلاف کوتوالی ببرو میں فسادات سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی نوٹس رسیو کرانے 4 پولیس اہلکاروں کی ٹیم گاؤں پہنچی تھی ۔
حملہ آور، جو پہلے سے ہی پولیس ٹیم کے انتظار میں گھات لگائے بیٹھے تھے، نے سپاہیوں پر اینٹوں، پتھروں، لاٹھیوں سے حملہ کردیا اور انہیں پورے گاؤں دوڑا دوڑا کر پیٹا۔ تمام سپاہی کسی طرح جان بچا کر وہاں سے بھاگ نکلے اور گرام پردھان کے گھر پہنچ کر اپنی جان بچائی ۔
دو کانسٹیبل کو شدید چوٹیں آئی ہیں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ کانسٹیبلوں کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، حملہ آور فی الحال موقع سے فرار بتائے جارہے ہیں۔ لیکن پولیس نے 4 پریوار کے کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے پکڑ اہے۔
ببرو کوتوالی کی سیمونی چوکی میں تعینات سپاہی سکھبیر سنگھ، برجیش بائیک سے پڑری گاؤں میں کیشو یادو کے گھر ہنگامے سمیت دیگر معاملوں میں نوٹس تعمیل کرانے گئے تھے ، وہاں ٹیوب ویل میں کیشو اور اس کا پریوار اینٹ کی پتھائی کا کام کررہے تھے ، جس میں دبنگ پریوار نے نوٹس ملتے ہی پولیس پر گالی گلوچ کرنا شروع کردیا ۔
سپاہیوں کی مخالفت کرنے پر دبنگ پریوار نے حملہ بول دیا۔ سپاہی سکھبیر سنگھ شدید زخمی ہے۔ بعد میں سپاہیوں نے گاؤں میں موجود دو سپاہیوں کو بھی بلایا جس پر دبنگوں نے سبھی کو دوڑایا اور ان کی پٹائی شروع کردی۔
ببرو کے ایس ایچ او ارون کمار پاٹھک نے بتایا کہ 4 کانسٹیبل پڑری گاؤں میں نوٹس دینے گئے تھے، جن پر اینٹ پتھروں سے حملہ کردیا گیا، جس میں 2 سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔ جن کا علاج کرایا جا رہا ہے۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ 4 خواتین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ جاری ہے ۔ |
جعلی مقابلے ہوں یا پھر ملزمان کو گمنام رکھنا دونوں غلط ہیں، مفتی محمد نعیم | Geo Urdu
جعلی مقابلے ہوں یا پھر ملزمان کو گمنام رکھنا دونوں غلط ہیں، مفتی محمد نعیم
کراچی : معروف مذہبی اسکالر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس و شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ فوری انصاف کی عدم فراہمی جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ ہے، مبینہ جعلی پولیس مقابلے پولیس کی بدنامی کا باعث ہیں، راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث ہے تو کڑی سزا دی جائے، نقیب جیسے درجنوں نوجوان مارے گئے ہیں سب کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
ہفتہ کو جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں مفتی محمدنعیم نے کہاکہ راؤ انوار کے پولیس مقابلوں پر عوام میں پہلے سے تشویش پائی جاتی رہی ہے اس کے باوجود سندھ حکومت نے اس کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کی جس سے جعلی مقابلوں کے حوالے سے اہل اقتدار کا کردار بھی مشکوک نظرآتاہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب سمیت ملک بھر میں جعلی پولیس مقابلوں میں بہت سے بے گناہ قوم کے بچے مارے گئے ہیں،سب کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ قانون کی بالادستی اورماورائے عدالت قتل کے سدباب کیلئے حکومت کوعملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔کسی بھی ملزم یا مجرم کی گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے حبس بے جا یاماورائے عدالت قتل کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے اور نہ ہی ملکی قانون ،انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے بچے قانون نافذکرنے والے اداروں کی تحویل میں طویل عرصہ سے ہیں جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف عوام میں شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں اس پر بھی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے،کسی بھی ملزم کے ناکردہ گناہوں کی سزا اس کے والدین اور ورثاء کو نہیں دینی چاہیے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے قانونی اورآئینی تقاضے پورے کریں۔مفتی محمدنعیم نے مطالبہ کیاکہ جعلی مقابلوں کا سدباب کرکے پولیس کے نظام میں مزید بہتری لائی جائے۔
سکول اساتذہ بہترین قوم کی تعمیر اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سجاد علی شاکر چوہدری نثار علی خان پارٹی کا فخر ہیں انھوں نے ہر موڑ پر پارٹی کے وقار اور فعالیت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ شیخ زیشان |
عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں ہوگا؟ - BBC News اردو
عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں ہوگا؟
https://www.bbc.com/urdu/entertainment/2013/05/130521_booker_international2013_zz
عالمی بکر انعام کے دس فائنلسٹوں کے بارے میں اور ان کی تحریروں کے نمونے ، کتابی سلسلہ دنیازاد نے اپنی حالیہ کتاب 38 میں جمع کردی ہیں۔اگر اس کتاب میں فلپ روتھ کی تحریریں اور انٹرویوز بھی شامل ہوتے تو عالمی مین بُکر انعام کے حوالے سے یہ کتاب ایک مکمل دستاویز بن جاتی۔
عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں
دنیا زاد 38 میں عالمی بُکر انعام کے فائنلسٹوں کے بارے میں کیا کیا ہے، اس کی بہت سی تفصیل دنیا زاد 38 میں جمع کر دی گئی ہے۔ کتاب 38 کو آصف نے 'افسانے کا زمانہ' قرار دیا ہے۔
اس کتاب پر تبصرے کے ساتھ مناسب یہی لگا کہ اس میں سے کچھ تفصیلات میں پڑھنے کو یہاں بھی شریک کر لیا جائے تا کہ جب ان تک اس ادیب کا نام پہنچے جس کے مقدر میں 2013 کا عالمی بکر ہے تو وہ ان کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں۔
اس کتاب میں ولادی میر سوروکن سے ایک گفتگو اور خود سوروکن کی تین تحریں شامل ہیں جن کے ترجمے آصف فرخی اور نجم الدین احمد نے کیے ہیں۔ سوروکن اگست 1955 میں پیدا ہوے۔
ان کا شمار مابعد جدید اسلوب کے ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ ماسکو کے زیر زمین ادیبوں میں بھی سرگرم رہے۔ ان کی کتابوں کا بیس کے لگ بھگ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی معروف ترین کتاب 'ڈے آف دی اوپری چنک' قرار دی جاتی ہے۔ میں نے جب اپنے روسی ادیب دوستوں سے سوروکن کے بارے میں پوچھا تو ان سب کا کہنا تھا کہ وہ مقبول بھی ہیں اور محترم لکھنے والے بھی۔
لیڈیا ڈیوس 1947 میں پیدا ہوئیں۔ انھوں زیادہ نام اور احترام فرانسیسی سے فلابیئر اور پروست کے ترجموں سے کمایا۔
انھوں نے بہت بڑی تعدادمختصر ترین افسانے لکھے اور امریکی افسانے کو ایک نیا پیرایہ دیا۔
ایہرن ایپل فیلڈ
اسرائیلی ادیب ایہرن ایپل فیلڈ اب 80 کے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مشکل ترین اور انتہائی غیر محفوظ بچپن گذرا۔ ان کی والدہ نازیوں کے ہاتھوں ماری گئیں، وہ نازیوں کے نظر بندی کیمپ سے فرار ہوئے تو والد سے بچھڑ گئے جو انھیں بیس سال بعد ملے۔ وہ عبرانی میں لکھتے ہیں جو انھوں نے جوان ہونے کے بعد سیکھی۔
ان کے افسانے کم سے کم محض ایک سطر کے اور زیادہ سے زیادہ چار صفحے کے ہوتےہیں۔ انھیں خود اپنے ہی ایجاد کردہ انداز کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو اور بیس افسانے ہیں جنھیں آصف فرخی، نجم الدین احمد، مبشر علی زیدی اور خود میں نے اردو میں کیا ہے۔
فلپ روتھ کے لفظوں میں وہ بے خانماں فکشن کے بے خانما ادیب ہیں۔ اس کتاب ان کے دو انٹرویو ہیں، جن میں سے ایک فلپ روتھ نے کیا ہے، جس کا ترجمہ کاشف رضا نے کیا ہے جب کہ ان کی طویل کہانی سے ایک اقتباس کو اردو میں نکہت حسن نے منتقل کیا ہے۔
سوئس ناول نگار پیٹر سٹام گذشتہ جنوری میں 50 کے ہو چکے ہیں۔ وہ مقامی سوئس زبان میں لکھنے کی بجائے جرمن زبان میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور افسانوں کے ساتھ ساتھ ریڈیو ڈرامے بھی لکھتے ہیں۔
انھوں نے اکاؤنٹس کی تعلیم حاصل کی اور پانچ سال تک اکاؤنٹنٹ رہے بھی۔ لیکن اب وہ صرف لکھنے تک محدود ہیں۔
ان کی سب سے زیادہ مشہور کتابیں 'غیر تشکیل شدہ منظر 'اور 'سات سال' ہیں۔ اس کتاب میں ان سے دو گفتگوئیں ایک کہانی شامل ہے جن کے ترجمے آصف فرخی اور سید سعید نقوی نے کیے ہیں۔
امریکی مصنفہ میریلین روبنسن نومبر میں 70 کی ہونے والی ہیں۔ انھوں نے تین ناول لکھے ہیں جن میں سے دو پلٹزر کے لیے نام زد ہوئے اور ایک 2005 میں پلٹزر حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔
ان کے تیسرے ناول 'گھر داری' کو اورنج انعام مل چکا ہے۔ وہ امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں سے منسلک رہ چکی ہیں۔ ان کا ایک انٹرویو، ان کے بارے میں ایک مضمون اور خود ان کی تحریروں کے دو ترجمے اس کتاب میں شامل ہیں۔ تراجم نجم الدین احمد، مبشر علی زیدی اور آصف فرخی نے کیے ہیں۔
1956 میں پیدا ہونے والے جوزف نواکووچ نے سربیا میں دواؤں کی تعلیم حاصل کی۔ پھر امریکہ منتقل ہوئے اور کنیڈین شہری ہیں۔ ان کے افسانو کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور انھیں خاص طور پر تشدد اور یوگوسلاویہ کی جنگ اور اس کی غارت گری کے بیان سے شہرت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں نواکووچ کی دو کہانیاں اور دو انٹرویو ہیں جو نجم الدین احمد، کاشف رضا اور آصف فرخی نے ترجمہ کیے ہیں۔
سو فیصد آزادی حاصل ہو جاتی تو
چینی مصنف یان لیان کے 1958 میں پیدا ہوئے۔ تیس سال پر محیط ادبی زندگی کے دوران وہ بہت سے انعامات حاصل کر چکے ہیں۔وہ انتہائی تیکھے اور طنزیہ انداز کے لکھنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر ہمیں سو فیصد آزادی حاصل ہو جاتی توہم کچھ بھی نہ لکھ پاتے'۔ اس کتاب میں ان سے انٹرویو کے ترجمے آصف فرخی نے کیے ہیں جب کہ ان کی تحریروں کے ترجمے تنویر انجم اور دانیال شیرازی نے کیے ہیں۔
چینی مصنف یان لیان کے 1958 میں پیدا ہوئے۔ تیس سال پر محیط ادبی زندگی کے دوران وہ بہت سے انعامات حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے لکھنے کی ابتدا تب کی جب وہ فوج میں بھرتی ہوئے۔
ان کا پہلا ناول 'سورج ڈوبتا ہے' حکومتی اجازت کے بغیر انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ ان کےچار ناول اور کہانیوں دس جلدیں شائع ہوئی ہیں۔ ان کے ناول 'عوام کی خدمت' اور 'گاؤں ڈنگ کے خواب' پر پابندی لگی ، یہی ناول ان کے انتہائی مقبول بھی ہوئے اور ان پر انھیں انعام اور اعزاز بھی پیش کیے گئے۔
وہ انتہائی تیکھے اور طنزیہ انداز کے لکھنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر ہمیں سو فیصد آزادی حاصل ہو جاتی توہم کچھ بھی نہ لکھ پاتے'۔ اس کتاب میں ان سے انٹرویو کے ترجمے آصف فرخی نے کیے ہیں جب کہ ان کی تحریروں کے ترجمے تنویر انجم اور دانیال شیرازی نے کیے ہیں۔
فرانسیسی ادیبہ اور فائنلسٹوں میں آنے والی سب سے کم عمر ماری این جائے، 1967 میں پیدا ہوئیں ، بارہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور ان کا پہلا ناول سترہ سال کی عمر میں شائع ہوا۔ ان کے اس ناول کو فرانس کے ادبی انعام ملا وہ اب تک فکشن کی گیارہ کتابوں کے علاوہ چار ڈرامے ، بچوں کے لیے متعدد ناول اور ایک فلم بھی لکھ چکی ہیں۔
ان کا تازہ ترین ناول 'تین طاقت ور عورتیں' 2012 میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو اور ایک کہانی ہے۔ کہانی کا ترجمہ معروف افسانہ نگار خالدہ حسین نے کیا ہے۔
یو آر آننتھ مورتی گذشتہ دسمبر میں 80ویں سالگرہ منا چکے ہیں۔ وہ ہندوستان کے شہر میسور کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔
فرانسیسی ادیبہ
وہ کنّڑ زبان میں لکھتے ہیں جو ہندوستان کی بڑی زبانوں میں سے نہیں ہے۔ ان کے اب تک پانچ ناول، ایک ڈرامہ، افسانوں کے آٹھ اور شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
ان کی کتابیں ہندوستان کی کئی زبانوں ، انگریزی اور کئی بیورپی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انھیں اخبار 'ہندو' کے ادبی انعام کے علاوہ جنوبی ایشیائی ادب کا انعام بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ ان کے فکشن کی طاقت آفاقی تصورات کو مقامی سانچے میں بروئے کار لانے میں مضمر بتائی جاتی ہے۔ اس کتاب میں ان کا ایک انٹرویو ہے اور ایک کہانی ہے 'سورج کا گھوڑا'۔ کہانی کا ترجمہ حیدر جعفری سید نے کیا ہے۔
انتظار حسین اردو میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ بلاشبہ اس وقت اردو کےاہم ترین افسانہ نگار ہیں۔اس کتاب میں ان کے بارے میں کئی تحریریں جمع کر دی گئی ہیں جو محمد سلیم الرحمٰن ، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد کی ہیں لیکن ایک تفصیلی انٹرویو آصف فرخی کا کیا ہوا ہے، جو کم و بیش انتظار حسین کے سارے کام کا بڑی حد تک احاطہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شروع ہی میں انتظار حسین کا وہ خطبہ بھی ہے جو انھوں نے چوتھے کراچی لٹریچر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں دیا تھا۔
دنیازاد38، عالمی بُکر انعام کی دستاویز
نام کتاب: کتابی سلسلہ: دنیا زاد 38
www.scheherzad.com
کتابی سلسلہ دنیازاد کے دو شمارے 37 اور 38، کوئی ہفتے عشرے کے وقفے سے آگے پیچھے آئے۔ شمارہ 38 ایک خاص شمارہ یا کتاب ہے اور عالمی مین بُکر پرائز 2013 سے متعلق ہے۔
اس بار اس انعام کے لیے جو دس ادیب فائنل مقابلے میں موجود ہیں ان میں اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار ادیب انتظار حسین بھی شامل ہیں۔ اس لیے اردو ادب پڑھنے والوں اور پاکستانیوں کو کل یعنی بدھ 22 مئی کو ہونے والے فیصلے سے نسبتاً زیادہ دلچسپی ہو گی۔
اسی لیے مناسب یہی لگا کہ دنیازاد 38 کو نہ صرف دنیازاد 37 پر بلکہ 'آج 75 '، اثبات ممبئی کے فحاشی نمبر اور اسالیب کے دو جلدوں پر مشتمل خصوصی نمبر پر بھی ترجیح دی جائے۔
دنیا زاد38 میں عالمی بکر کے تمام فائنلسٹوں کا نفصیلی تعارف ہے۔ کئی ایک کے انٹرویوز کے تراجم ہیں اور تمام تحریروں کے تراجم ادیبوں نے کیے ہیں اور سب سے زیادہ تو خود آصف فرخی نے ہی کیے ہیں۔
امریکی فلپ روتھ کی کمی
اس کتاب میں یہ سب دیکھنے اور پڑھنے کے بعد 2011 میں عالمی بُکر حاصل کرنے والے، امریکی فلپ روتھ کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب بلاشبہ ایک دستاویز کہلانے کے لائق ہے لیکن اگر اس میں فلپ روتھ کی تحریریں اور انٹرویو زبھی شامل ہوتے تو عالمی مین بُکر انعام کے حوالے سے یہ کتاب ایک مکمل دستاویز بن جاتی۔
اس کے علاوہ رابرٹ میک کرم کا ایک اہم مضمون ہے جس میں انھوں نے کتابوں کے لیے ادبی انعامات کی ضرورت پر بات کی ہے۔ پھر بکر انعامات اور بکر عالمی یا انٹرنیشنل انعام کے بارے میں بھی مضمون ہیں۔
انتظار حسین کے علاوہ نو فائنلسٹ ادیبوں میں یوآرآننتھ مورتی(انڈیا)، اہرن ایپل فیلڈ (اسرائیل)، لیڈیا ڈیوس (امریکہ)، یان لیانکے (چین)، ماری این جائے(فرانس)، جوزف نواکوچ(کینیڈا)، میریلین روبنسن(امریکہ)، ولادی میر سوروکن(روس) اور پیٹر سٹام (سوئٹزر لینڈ) شامل ہیں۔
ان میں میریلین روبنسن واحد ہیں جو اس سے پہلے بھی اسی انعام کے لیے نام زد ہو چکی ہیں۔ باقیوں میں سے بھی تقریباً سبھی نے اپنے ملکوں کے یا دوسرے کئی انعام اور اعزاز حاصل کیے ہوے ہیں۔ ان میں چینی یان لیانکے اور روسی سوروکن ایسے ہیں جن کی کتابوں پر ان کے ملکوں میں پابندیاں بھی لگ چکی ہیں۔ یہ اور ایسی بہت سی مزید تفصیلات آپ دنیا زاد کے اس کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔
البانوی اسمائیل کادرے پہلے ناول نگار اور شاعر تھے جنھیں 2005 میں مین بکر کا عالمی اعزاز پیش کیا گیا۔ ان کے بعد 2007 میں نائجیریا کے چنوا اچیبے کو، 2009 میں کنیڈین افسانہ نگار ایلس منروکو اور 2011 میں امریکی ناول نگار فلپ روتھ کو یہ اعزاز پیش کیے گئے۔
اس کے علاوہ اس کتاب میں اسماعیل کادرے کی تخلیقات، چنوا اچیبے کی تحریریں، ایلس منرو کی تحریر اور ان سب کے انٹرویو اور ان کے بارے میں انتظار حسین، ناڈین گورڈیمر، فاروق سردار اور بینا شاہ کی تحریں ہیں، جو مل کر اس کتاب کو ایک یادگار اور اول تا آخر پڑھی جانے کتاب بناتی ہیں۔
ایک اور اہم تحریر اردو کے ایک اہم ترین ناول اور کہانی کار حسن منظر کا ، ناول کے آج اور کل کے بارے میں مضمون ہے۔ |
ہنگورہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
ہنگورہ ایک مسلم کمیونٹی ہے جو گجرات ریاست اور پاکستان میں سندھ کے صوبے میں پائی جاتی ہےیہ کچھ کے علاقے بینی کے مالدہاری کی ایک کمیونٹی ہے[1]
3 ہنگورہ کمیوٹیز(نخ)
ہنگوروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک عظیم سما راجپوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو ایک راجپوت بادشاہت تھی جس نے کچھ، سورشٹرا اور سندھ پر راج کیا۔ اور پنجاب اور بلوچستان کے حصوں پر 1351ء-1524ء تک حکومت کی۔سما سلطنت کے بادشاہ کے سات بیٹے تھے جس میں سب سے بڑے کا نام ہنگورہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہنگوروں نے اسلام قبول کیا اور پھر ابڈاسا تعلقہ میں کھیرساڑا والا گاوؑں میں حجرت کر گئے جو کچھ میں واقع ہے۔
یہ کمیونٹی کچھ کے اضلاع بھج،ابداسا اور منڈوی اور گجرات کے جام نگر،جوناگڑہ،پوربندر اور سندہ کے بدین،تھرپارکر اور کراچی کے علاقے لیاری میں آباد ہیں۔یہ کچھی زبان بولتے ہیں جو سندھی سے مشابہت رکھتی ہے۔اس کمیونٹی میں اندرون زمرہ شادی کا اصول ہے،لیکن دوسرے سما کمیونٹی جیسے ہنگورجا کے ساتھ شادی کرتے ہیں[2]
ہنگورہ پیشہ ورانہ کسان ہیں اور نجی کاروبار میں دلچسپی اور شہرت رکھتے ہیں
ہنگورہ کمیوٹیز(نخ)[ترمیم]
Kundra (کندرہ)
Samwani (ساموانی)
↑ People of India Gujarat Volume XXI Part Two edited by R.B Lal, P.B.S.V Padmanabham, G Krishnan & M Azeez Mohideen pages 505-508 |
فاریکس سبق ،آپشن مارکیٹ
ابراہیم حمیدی 2020/12/1 تکنیکی تجزیہ
مثال کے طور پر ، آپٹ منمسٹر سائٹ پر متعدد تعریفوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ تعریفیں مختلف صنعتوں سے خطاب کرتی ہیں ، جس کی مدد سے وہ اپنے سماجی ثبوت کو ظاہر کرسکتے ہیں اور اپنے سامعین کے مختلف طبقات پر فتح حاصل کرسکتے ہیں۔ "حد مکمل ہے۔ کسی بھی مدد کے ل essential ، یا دوبارہ ملنے کے لئے برش " کھوپڑی کی تراشی کرتے وقت یہ چھینی اور گیج سے جاتا ہے ۔ ان میں زیادہ کلاسک کے اوزار کے علاوہ، نئی ٹیکنالوجی ہمیں کیا چکھنے کر رہے ہیں دیکھنے کے لئے "نقطہ نظر بینیں ذریعے آپشن مارکیٹ کام پر محسوس کر رہے ہیں اور یہ کس طرح اثر انداز، بالائے بنفشی روشنی ہم دور کرنے کے پاس کتنی وارنش ہم نکال دیا گیا ہے اور کتنا دیکھنے کے لئے کیمرے روشنی ، رطوبت چیمبرز ، مکینیکل لیمینیٹرز … "، وہ فہرست میں ہے۔ "بچانے والی ہر چیز کو محفوظ کر لیا گیا ہے ، لیکن بنیادی اوزار برش ، اسکیلپل ، ایک فولڈر (ہڈی ، ٹیفلون یا لکڑی سے بنی ایک معاون انگلی ہے تاکہ کام کو براہ راست ہاتھ نہ لگائے) اور بہت اچھی لائٹنگ ہے۔"
مختلف سائیکل ہیں جو ، ان کی خصوصیات کی بنیاد پر ، واقعات کی ترتیب ، مدت اور تکرار کی بنا پر ، مختلف شعبوں میں مطالعہ کیا جاتا ہے تاکہ دوسروں کے درمیان قدرتی ، معاشی ، ثقافتی ، معاشرتی مظاہر کے بہت سے عمل کو سمجھا جاسکے۔ اگر یہ آپ کی پہلی بار بلیٹ جریدے کے اشاریہ جات کے بارے میں سن رہا ہے تو ، آپ مزید معلومات کے ل the اگلے حصے کو پڑھنا چاہیں گے۔ تاہم ، اگر آپ ان سے پہلے ہی واقف ہیں تو ، آپ براہ راست انڈیکس خیالات اور مثالوں کے آج کے مجموعہ میں جا سکتے ہیں۔ کرایہ کی خصوصیات کو اشتہار دیں کرایہ کی ادائیگی جمع کریں مقامی مکان مالک / کرایہ دار اور رئیل اسٹیٹ بورڈ ملازمتوں کی تعمیل کو یقینی بنائیں چھٹیوں کے کرایے کی فہرست ، شو اور لیز پر دیں نگرانی یا ٹھیکیدار کا کام معمول کی صفائی اور روک تھام کی بحالی کے کام انجام دیں کرایہ داروں کو اہل بنائیں.
آن لائن پیسہ کس طرح کمانا ہے اس آج کی پوسٹ میں ، میں آپ کو بطور شراکت آپشن مارکیٹ دار ویوسا میں رجسٹریشن کے عمل اور مشمک صارف کے طور پر ویوساسا خدمات کو سبسکرائب کرنے کے عمل کے ذریعہ لے جاؤں گا۔ کے ساتھ شروع: - کیسے؟ اپنے چارٹ میں RSI اشارے شامل کرکے۔
اعرافی جایگزینی با رئیسی را تکذیب کرد.
یہ حقیقت کہ کاروباری رپورٹ ایک دستاویز ہے صرف اس کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ اگرچہ آپ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتے تھے کہ سہ ماہی کے دوران حاصل ہونے والے اثاثوں سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کریں ، اس کے دوران اور اس کے بعد ، آپ کے پاس کاروباری رپورٹ ہوگی جس کا حوالہ دیا جائے ، اور آپ حاضری والوں کو ایک کاپی بھی تقسیم کرسکیں۔ اسکول میں آپ کو خوفناک کتاب کی رپورٹس کرنا پڑیں؟ کتاب پڑھنا پہلا قدم تھا ، پھر آپ کو جو پڑھتا تھا اس کا خلاصہ لکھنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی ، آپ کو اپنی رپورٹ پوری کلاس کے سامنے پیش کرنا پڑتی۔ لیکن آپ کی مدد کرنے کے لئے ، حوالہ دینے کے لئے آپ کے ہاتھ میں ٹھوس رپورٹ تھی۔ رپورٹ کتنی اہم ہے۔ در ادامه صادق الحسینی ضمن اعلام موافقت خود با آردم، خاطر نشان کرد: به نظر میرسد آقای جلیلی در این ۴سال مطالعه داشته و حرفهایش حرفهای فکرشدهای است که اقتصاددانها بارها گفتند ولی سیاستگذاران توجه نکردند. از جمله این طرحها میتوان به طرح وان اشاره کرد آپشن مارکیٹ که در آن یارانههای انرژی در سبدی به مردم داده شود. در حوزه بورس هم ایشان بررسیهای خود را کرده و برنامههای منسجمی در خصوص اقتصاد دارد.
حکمت عملی کی عمر : تخلیق کی تاریخ سے شروع ہونے والی ، حکمت عملی ہر 30 دن میں 1 کا عنصر حاصل کرے گی جو وہ فعال رہتی ہے۔ اگر حکمت عملی کا تجربہ ختم ہوجائے تو وزن 0 پر دوبارہ آجائے گا۔ حکمت عملی فراہم کی جاتی توثیق کی حیثیت : 2 حیثیت، موجود یا تو مکمل طور پر توثیق شدہ یا مکمل طور پر تصدیق نہیں اور یہ بالترتیب 2 اور 0.5 میں بارت رہے ہیں. ہم اس گاڑی کے شورومز میں آتے ہی اس کے معیار کے بارے میں جانیں گے اور تبصرہ کریں گے۔ اس لیے ہمارے ساتھ رہیے گا۔ اپنے کریڈٹ کارڈ کو فائل پر رکھنا.
جب آپشن مارکیٹ سے اضافی قوانین نے ایس ای سی کو اپنے مشن میں مدد فراہم کی ہے:
ایک اہم تصویر تمام مصنوعات کے لئے ضروری ہے نقشے سفید رنگ کے پس منظر پر ہونے چاہئیں۔ یہ لازمی نہیں ہے ، لیکن تجویز کردہ ہے مصنوعات کے اگلے زاویے کی سفارش کی جاتی ہے ، لیکن مناسب متبادل زاویہ قابل قبول ہیں تصاویر پر کوئی بارڈرز ، ٹیکسٹ اوورلیز ، واٹر مارکس ، یا پروموشنل پیغامات نہیں ہیں.
آپ کس طرح تجربہ کریں۔ دوسرے الفاظ میں ، تنوع نہ صرف پرجاتیوں کی تعداد کے لحاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ دیگر ٹیکسومونک اور ماحولیاتی سطحوں پر بھی تغیر پذیری کا اثر ہے ، جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے۔ سڈنی مارکیٹ کے اوقات اکثر کم سے کم غیر مستحکم سمجھے جاتے ہیں ، اور اس وجہ سے قلیل مدتی تاجروں کے لئے مثالی نہیں جو اسکالپنگ اور اس طرح کے معاملات میں ملوث رہنا چاہتے ہیں۔ سولو خواتین مسافروں کو اضافی چوکس رہنے کی ضرورت ہے.
اوسط ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور اکثر متجاوز، یہ ہے کہ، ایک واضح فلیٹ نہیں ہے.
سب سے اوپر 17 کریپٹو کارنسیس اور بٹ کوائن کے درمیان باہمی تعاون کے طور پر بی ٹی سی اضافے۔ ساتھی ہم منصب میٹا ٹریڈر 5 (ایم ٹی 5) آپ کو غیر ملکی تجارت کے بازار میں تکنیکی تجارتی کارروائیوں اور تجزیہ کرنے کی اجازت دے گا۔ ایم ٹی 5 کو ابتدا میں اپنے تاجروں کو اسٹاک ، فیوچر اور سی ایف ڈی تک رسائی فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ لیورز اور لیوریج کا حساب کتاب کیسے کریں.
صالح پور تاکید کرد: در صورت نبود تشخیص راننده و سرنشین از فاصله ۳ متری، شیشه دودی غیر مجاز محسوب و ضمن صدور قبض جریمه، راننده ملزم به رفع اثر شیشه دودی میشود. سیدھ ٹکنالوجی کے چارٹ نے جون اور ستمبر کے مابین سب سے اوپر کا نمونہ تشکیل دیا اور اس کے بعد سے چوتھی سہ ماہی کی توقع سے کم آمدنی کی رہنمائی اور حصص یافتگان کی جانب سے دائر طبقاتی کارروائی کا مقدمہ جو مادی معلومات کو ظاہر کرنے میں مبینہ ناکامی سے متعلق ہے اس کی وجہ سے اس سال کے فوائد کو ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ 25 اکتوبر کو قیمت کم ہونے کے بعد حصص کی قیمت 30 پوائنٹس پر اترتے چینل میں ڈھل رہی ہے جو خطرہ / بدلہ کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔ اوپری چینل کے ٹرینڈ لائن پر مزاحمت کے ل the نچلے چینل کے رجحان کی حمایت کے ل d ڈپس پر لمبی پوزیشن کھولنے اور ریلیاں مختصر کرنے پر غور کریں۔ profit 30 کے منافع والے ہدف کے ساتھ $ 10 اسٹاپ استعمال کرنے کا ارادہ کریں ، جو خطرہ / انعام کا تناسب 1: 3 فراہم کرتا ہے۔
فنانشل انڈسٹری ریگولیٹری اتھارٹی. یہ مشق بازوؤں کو ٹن کرنے کے لئے سب سے مشہور اور مؤثر ہے۔ اس کے لئے دو وزن کی ضرورت ہوتی ہے جو گھر میں تیار ہوسکتے ہیں (پانی کی دو بوتلیں یا دو بوتلیں ریت سے بھری ہوئی) ، اور یہ ضروری ہے کہ وہ اس کی طاقت اور تجربے کے مطابق وزن کا ہو۔ بھاری وزن آپ کے بازوؤں کو تیز کرنے میں مدد نہیں دے گا ، اور آپ خود کو سنگین طور پر زخمی کرسکتے ہیں۔
بچوں کو اپنے سوشل سیکیورٹی نمبر کو کبھی بھی آن لائن شیئر نہ کرنے کی تعلیم دیں۔ یوروسڈ: (1 * 100،000 * 1.21892) / 1،000،000 * 20 * 2 = 4.88 USD. اگر آپ مذکورہ بالا آپشن مارکیٹ لنکس کے ساتھ رجسٹریشن کر رہے ہیں جو آپ کو 50٪ سے 100٪ ڈپازٹ بونس کا حقدار بناتا ہے تو ، آپ کو زیادہ سے زیادہ 5000 $ 5،000 تک کی جمع شدہ رقم کا 50٪ سے 100٪ موصول ہوگا۔
اگرچہ ڈپارٹمنٹ اسٹورز پر انعامات کی شرح اچھی ہے ، لیکن صرف امریکی محکمہ کے کچھ اسٹور اہل ہیں۔ جب تک کہ آپ کارڈ کے دوسرے انعامات والے زمرے کا پورا فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں ، آپ فلیٹ ریٹ والے کریڈٹ کارڈ سے بہتر ہوسکتے ہیں جس سے آپ جہاں بھی خریداری کرتے ہو اتنے ہی انعامات حاصل ہوجاتے ہیں۔ .فاریکس سبق خدمات مفت اور رازدارانہ ہیں۔ کسی بھی عمر، آمدنی، جنسی رجحان، صنفی شناخت، ترک وطن کی حیثیت یا بولی جانی والے زبان کے لوگوں کا خیر مقدم ہے۔ |
سوال و جواب : حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کی قربانی پر کانٹ کا اعتراض ۔ ابویحییٰ - ادارہ انذار
سوال و جواب : حضرت ابراہیم کی اپنے بیٹے کی قربانی پر کانٹ کا اعتراض ۔ ابویحییٰ
By ابویحییٰ Last updated جولائی 11, 2019 930
السلام علیکم سر ابویحیٰ
حضرت ابراہیم کےحوالے سے آپ کی پوسٹ پر درج ذیل دو سوالات کیے گئے ہیں۔ قارئین کی درخواست ہے کہ مہربانی کرکے ان کا جواب دے دیں۔
1۔ اس سب میں کانٹ کے اشکال کا جواب کہاں ہے؟ معلوم ہوتا ہے صاحب پوسٹ کو کانٹ کے فلسفہ اخلاق اور اس سے برآمد ھونے والے اشکال کی نوعیت کی بابت خبر نہیں۔ خیر اسے چھوڑئے ایک طرف کہ یہ مستقل مضمون ہے، کیا ایک تیرہ چودہ سال کے بیٹے کو پوچھ کر اسے قتل کرنے کا ارادہ و کوشش کرنا اخلاقا درست ہوگا؟ کانٹ کے فلسفہ اخلاق میں بھی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ انہوں نے بیٹے سے پوچھا تھا یا نہیں۔
2۔ پھر کیا یہ بات درست نہیں کہ اصلاحی صاحب کے یہاں اس مقام پر "عنداللہ" اور "عندالرسول" مراد میں فرق تھا؟ اگر ہاں، تو اسے تعبیری لغزش کے سواء اور کیا کہا جائے؟
کانٹ کا فلسفہ اخلاق کیا ہے اور اس کے اشکال کا کتنا جواب قرآن مجید کی بات میں ہے، وہ تو یہ فقیر اس وقت بتائے گا جب یہ سوال کانٹ کا کوئی نمائندہ اس سے پوچھے گا۔ سردست تو یہ عاجز صرف سائل کے سوال کے جواب تک خود کو محدود رکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک تیرہ چودہ سال کے بیٹے کو پوچھ کر اسے قتل کرنا اخلاقا درست ہوگا؟ جواب یہ ہے کہ قرآن مجید اس معاملے کو کسی تشریعی امر کے طور پر پیش نہیں کر رہا کہ اخلاقیات کا کوئی سوال پیدا ہو۔ یہ ایک نبی کے ذریعے سے سرانجام پانے والا تکوینی معاملہ تھا۔ تکوینی معاملات رب العالمین کی قدرت و حکمت کا ظہور ہوتے ہیں۔ اس تکوینی پہلو سے، مثال کے طور پر، صبح و شام دنیا میں معصوم لوگ مرتے ہیں۔ ان سے بغیر پوچھے ان کی جان لے لی جاتی ہے۔ کوئی اخلاقی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں قرآن کی روشنی سے محروم کچھ فلسفی سوالات ضرور اٹھاتے ہیں۔ اس عاجز نے اپنی متعدد تصانیف میں ان فلسفیوں کے سوالات کے جوابات قرآن مجید کی روشنی میں دیے ہیں۔ مگر قرآن مجید کا کوئی مومن ان تکوینی معاملات پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔
یہی اصل چیز ہے جو قرآن یہاں بیان کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کوان کی امت میں جاری کرنے کے لیے کوئی تشریعی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ خواب کے ذریعے سے دکھایا جانے والا ایک امر الہی تھا۔ پیغمبر ہونے کی بنا پر وہ خود اس تکوینی امر میں آلہ کار بننے کے لیے تیار تھے۔ لیکن بیٹے کی منشا پوچھنا اس لیے ضروری تھا کہ فیصلے کا نفاذ اس پر ہونا تھا۔ اس لیے یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ بیٹے کے سامنے بات رکھ دی جاتی۔ نبی اللہ کے نبی بیٹے نے جو نبوت سے قبل بھی صدیق تھا، ان کے خواب کو خدا کا حکم سمجھا۔ اور اس کے حکم کے سامنے جان دینے کو دل و جان سے قبول کیا۔
یہیں سے اس مسئلے کے ممکنہ انسانی پہلو کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ انسانی جان پ ردو بنیادی اور ایک ثانوی اخلاقی حق قائم ہوتا ہے۔ ایک زندگی دینے والے خدا کا، دوسرا اس شخص کا جس کو زندگی دی گئی ہو۔ تیسرا حق ولی کا ہوتا ہے۔ اس خاص معاملے میں خدا کا فیصلہ باپ نے سنا دیا تھا اور اپنا حق بیٹے نے خود چھوڑ دیا۔ باپ خود ہی بیٹے کا ولی تھا اور اللہ کے سامنے پہلے ہی سر تسلیم خم کرچکا تھا۔ اس کے بعد کسی اور کی کیا حیثیت ہے کہ وہ پیغمبر علیہ السلام پر انسانی یا اخلاقی پہلو سے سوال اٹھائے؟
تاہم اس بحث سے قطع نظر ایک اور پہلو بہت اہم ہے۔ وہ یہ کہ اگر سائل کے سوال کو لے کر اس کے بارے میں یہ گفتگو کر دی جائے کہ اس نے پیغمبر علیہ السلام کو قتل کا مجرم ٹھہرا دیا ہے۔ پیغمبر کو اخلاقی طور پر غلط کاموں میں مبتلا قرار دے دیا ہے، اس نے وحی الہی پر اعتراض کر دیا ہے تو ہمارے اس رویے کو بدنیتی کے سوا کیا نام دیا جائے گا۔ اس بدنیتی کے ساتھ کسی بھی عالم، محقق، مفسر کو کفر، گستاخی، شرک، تجدد پسندی، بدعت غرض ہر دینی جرم کا مرتکب ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ کہنے ولا نکتہ آفرینی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یہیں سے یہ عاجز سائل کے دوسرے سوال کی طرف آتا ہے۔ یعنی سائل کے نزدیک اصلاحی صاحب کے یہاں اس مقام پر "عنداللہ" اور "عندالرسول" مراد میں فرق تھا اور اسی لیے ان کے نزدیک اصلاحی صاحب نے ابوالانبیاء کو تعبیری لغزش کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ یہ کیا رویہ ہے؟ اصلاحی صاحب نے کس مقام پر میرے آقا ابراہیم کے حوالے سے کسی تعبیر یا سوئے تعبیر کا ذکر کیا ہے؟ اس خاکسار نے اصلاحی صاحب کا پورا نقطہ نظر جو سلیس اردو میں لکھا ہوا تھا بیان کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی بلا دلیل ایک سوال اٹھا دینا نکتہ آفرینی کے سوا کیا ہے۔ مگر یہ کر دیا ہے تو پڑھیے اصلاحی صاحب کیا لکھتے ہیں۔
''اگرچہ یہ ہدایت خواب میں ہوئی تھی اور خواب کی بات محتاج تاویل و تعبیر ہوتی ہے اس لیے حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو اس کی کوئی تاویل کر لیتے لیکن وہ ایک صداقت شعار اور وفادار بندے تھے اس وجہ سے اس کی کوئی تعبیر نکالنے کے بجائے وہ اس کی من و عن تعمیل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔''
اصلاحی صاحب ''عندالرسول'' تعبیر بیان نہیں کر رہے۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ آقا ابراہیم نے من و عن حکم کی تعمیل کر دی تھی۔ یہ بیان تعبیر نہیں ہے، ان کا بیانِ اسلام ہے، امتثال امر کی وضاحت ہے۔ اطاعت الہی کے جذبے کا بیان ہے۔
میں اس گفتگو کو مزید طول نہیں دینا چاہتا۔ نہ آئندہ اپنے اُس قلم کو اہل علم کے دفاع کے لیے فارغ کرنا چاہتا ہوں جو شیطان کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس لیے بڑے اہل علم پر اس طرح کی تہمتیں لگانے والے تمام لوگوں سے دو چار گزارشات ہیں۔ ایک یہ کہ آگر آپ لوگ سلیس اردو میں لکھی ہوئی عبارتیں نہیں سمجھ سکتے، اور کسی کا نقطہ نظر پوری طرح سمھجنے کے لیے نہ اس کی کتاب کھول کر دیکھنے کا وقت ہے، نہ خالص فنی چیزیں سمجھنے کی صلاحیت تو اللہ کے بندو! آپ سے کس نے کہا ہے کہ اتمام حجت، قطعی الدلالۃ اور ان جیسے انتہائی مشکل فنی مباحث میں چھلانگ لگا دو۔ اور اگر یہ کام کرنے کا شوق ہی ہے تو کیا ضروری ہے کہ اپنے ناقص اور سطحی علم کے ساتھ بڑے اہل علم کی نیت پر حملہ کیا جائے، ان پر سنگین الزامات لگائے جائیں، ان کو متجدد اور استعمار کا ایجنٹ قرار دیا جائے۔ کیوں اپنی آخرت کو اتنا سستا بیچ رہے ہو؟ کیوں اپنی لگام شیطان کے ہاتھ میں دیتے ہو؟ کسی چیز کو غلط سمجھ کر تنقید کرنا آپ کا حق ہے۔ مگر خدارا یہ کرنے سے قبل اپنے اندر اس کام کی صلاحیت تو پیدا کریں۔ یہ کریں گے تو تنقید سے سب کو فائدہ ہوگا۔ ہمارے جیسے طالب بھی کچھ سیکھ لیں گے۔ ورنہ باخدا بہت سی تنقیدیں دیکھ کر صرف رونا آتا ہے کہ بڑے لوگ جب ہمارے جیسے چھوٹے لوگوں میں پیدا ہوجائیں تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
تاہم اس کے بعد بھی لوگ اپنی روش نہیں بدلتے تو ہمارا کام بس سمجھانا ہی ہے۔ جب انسان اپنا مقدمہ پیش کرنا بند کر دیتے ہیں تو فرشتے ان کا مقدمہ تیار کرنے لگتے ہیں۔ پھر یہ مقدمہ اس ہستی کی بارگاہ میں پیش ہوگا جو سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والی ہے۔ اس بارگاہ میں بدنیتی کے ساتھ نکتہ آفرینی کرنا کسی کو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ خدا کے نام پر کھڑے ہوئے کتنے ہی لوگ ہیں جو خدا کی پکڑ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اگر جان لیں تو لکھنا چھوڑ دیں گے۔ اگر جان لیں تو بولنا چھوڑدیں گے۔ |
منگلور میں پانی کے مسائل حل کرنے کی طرف پہل جاری : یوٹی قادر | FikroKhabar
منگلور میں پانی کے مسائل حل کرنے کی طرف پہل جاری : یوٹی قادر
منگلورو 20/ مئی 2019(فکروخبر نیوز) شہر میں پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس جانب قدم بڑھائے ہیں۔ آج جنوبی کنیرا کے انچارج منسٹر یوٹی قادر نے کہا کہ شہر میں عوام کو ہورہے پانی کے مسائل سے چھٹکارا دلانے کے لیے ہماری کوشش جاری ہے۔ منگلور سٹی کارپوریشن کی جانب سے پندرہ ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔، اسی طرح اب تک چودہ کنوؤں کی صفائی کرکے اسے قابلِ استعمال بنایا جاچکا ہے اور انیس بورویل کھودنے کا بھی منصوبہ بنایا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سے خصوصی میٹنگ کے بعد ہم مزید بور ویل کھودنے والے ہیں۔ ضلع کے مشہور سیاحتی مقام دھرمستھلا میں بھی پانی کی قلت ہے جس کو دور کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یوٹی قادر نے مزید کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اس کے لیے تمام تر انتظامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ روزانہ استعمال کرنے کے لیے سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے اسی طرح جھیلوں کی بحالی کے لیے بھی غوروخوض کرنے والے ہیں۔ |
ايقاظ - اہل کتاب کو اُن کے تہواروں پر مبارکباد دینا مذاہب اربعہ کے نزدیک حرام ہے
اہل کتاب کو اُن کے تہواروں پر مبارکباد دینا مذاہب اربعہ کے نزدیک حرام ہے
نوٹ: مضمون میں دیے گئے حواشی ہمارے دیے ہوئے ہیں۔ مضمون کا انٹرنٹ لنک:
http://www.saaid.net/mktarat/aayadalkoffar/45.htm
(۱) آپ کا کسی کو یہ کہنا کہ ''مبارک ہو'' دراصل دعائیہ کلمات ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ''خدا کرے اس میں برکت آئے''۔ پس یہ (مبارکباد) درحقیقت برکت کی دعا ہوتی ہے۔
(۲)یہاں جو ساری بحث ہے وہ کفار کے تہواروں پر مبارکباد دینے سے متعلق ہے۔ رہ گئی انفرادی امور میں مبارکباد، مثلاَ کاروبار، ملازمت، بچے کی پیدائش وغیرہ ایسے مواقع پر تہنیتی کلمات کہنا، یا کسی غمی کے موقع پر تعزیتی کلمات کہنا تو یہ بلاشبہ فقہاء کے ہاں محل اختلاف ہے اور راجح رائے یہی ہے کہ یہ جائز ہے۔ کچھ لوگ چالاکی سے فقہاء کی ایسی عبارتیں نکالتے ہیں جس میں مبارکباد دینے کے جواز کا ذکر آتا ہے (اور جوکہ فقہاء نے عام خوشی غمی کے حوالے سے بیان کیا ہوتا ہے) مگر یہ اس کو کفار کے تہواروں پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کفار کے تہواروں پر تہنیت کی حرمت پر فقہاء نے صریح کلام کر رکھا ہے۔
(۳)فقہائے مالکیہ کا یہ بیان ایک طرح سے اسلامیانِ اندلس کا ''نوحہ'' بھی ہے! ابن رشد (الجد) رحمۃ اللہ علیہ جن کا ابن الحاج اوپر کے اقتباس میں باربار حوالہ دیتے ہیں اور خود ابن الحاج رحمۃ اللہ علیہ دونوں چھٹی صدی ہجری کے مالکی فقیہ ہیں اور سرزمین اندلس کے فرزند۔ اندلس جہاں اسلام اور صلیب کے معرکے پر ایک سے ایک بڑھ کر سنسی خیز موڑ آیا.. اور بالآخر وہاں سے اسلام کا پودا ہی اکھاڑ پھینکا گیا۔ چنانچہ فقہائے مالکیہ یہاں مسلم عوام کا بھی رونا رو رہے ہیں، مسلم حکمرانوں کا بھی اور اپنی 'اسلامی قیادتوں' کا بھی جن کو __ بالآخر __ اِس نام نہاد ''رواداری'' نے بھولی بسری داستان بنا ڈالا۔
داستانِ اندلس کا یہ کم ازکم حق ہے کہ ہمارا ہر دور اور ہر خطہ اِس ''آئینے'' میں اپنی صورت دیکھتا رہے!
عقیدہ ''ولاء و براء'' مسلم تاریخ میں جہاں کہیں بھی نظرانداز ہوا مسلمانوں کو اپنی تاریخ کے بدترین دن دیکھنا پڑے۔ خود ہند میں ہماری عزت اور سیادت کے دن اِسی ''رواداری'' کی نذر ہوئے؛ کفار کے ساتھ قربت باہمی اور 'وحدتِ ادیان' ایک جانب برصغیر کی صوفی شاعری (جوکہ ان آخری صدیوں میں عروج پر تھی) کا مرکزی مضمون رہا، اور دوسری جانب اُدبائے زندقہ کا ترجیحی موضوع۔ اور ہر دو کی اصل زد شریعت پر! مغل سلاطین، الحاد کی اِس ہرد دجہت کی سرپرستی فرماتے رہے۔ اِس کی طرح اکبر اپنے ہاتھ سے ڈال کر گیا جوکہ چند وقفوں کو چھوڑ کر نہ صرف جاری رہی بلکہ عروج بھی پاتی رہی۔ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ہمارے عقیدہ ''ولاء وبراء'' اور ''اقامتِ شریعت'' کا وہ آخری منارہ ہے جسے ہند کے شرق و غرب کو روشن کرنا نصیب ہوا؛ اور اس کے بعد گھپ اندھیرا ہوتا چلا گیا۔ تاآنکہ جب مسلم اقتدار کا چراغ ہی گل کر دیا گیا۔۔۔ تو یہاں مسلمانوں میں دو رجحان تقویت پانے لگے: ایک وہ جو انگریز کے ہاں عزت تلاش کر رہا تھا (أیَبْتَغُؤنَ عَنْدَہُمُ الْغِزَّۃَ ؟) اور انہی کے اصولوں میں ہدایت۔ دوسرا ہندو کے ہاں عزت وشان کا متلاشی ہوا۔ البتہ اب جا کر اِن پر کھلا کہ یہ عزت و شان انگریز اور ہندو ہردو کے ہاں تلاش کرنے میں کیا عیب ہے! بلکہ اپنے دین کو چھوڑ کر کہیں بھی ڈھونڈنے میں کیا حرج ہے!
سبحان اللہ۔ چند ہزار نفوس پر مشتمل ایک قوم جو اپنی موحدانہ شان کے بل پر اور اپنے عقیدہ ''ولاء وبراء'' کے دم سے پورے ہند کو اپنی مٹھی میں رکھتی ہے.. اپنی اس دولت سے محروم ہوتی ہے تو کروڑوں میں ہوکر ہندو سے جوتے کھاتی اور 'محفوظ خطوں' میں پناہ ڈھونڈتی ہے؛ اور ذلت ہے کہ مسلسل اس کا پیچھا کرتی ہے! |
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال خان قتل کیس کی سماعت حکومت کی جانب سے جواب جمع نہ کرنے کے باعث 28مئی تک ملتوی کردی ہے۔
دوران سماعت مشال خان کے ورثاء کی جانب سے بیرسٹرعامرخان چمکنی عدالت میں پیش ہوئے اور کوبتایاکہ مرکزی ملزم عارف اور دیگردوملزمان کاکیس بھی پشاورمنتقل کیاجائے ملزمان نے ایبٹ آباداے ٹی سی میں ضمانت کیلئے درخواست دی ہے عدالت سے استدعاکی گئی کہ ملزمان کی جانب سے دائر درخواست اورکیس پر ٹرائل پشاور منتقل کیاجائے فاضل عدالت نے حکومت کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے کے باعث سماعت ملتوی کردی۔ |
لاہور میں بھارت ناٹیم – Niazamana
September 2, 2015 1:23 pm · 3 comments
گذشتہ ماہ لاہور میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ اچانک رت بدل گئی اور صحرامیں پھول کھلنے لگے۔ لاہور صحرا نہیں تھا مگر سیاسی نظریہ سازوں نے اپنے طبقاتی مفادات کی خاطر اس کو بانجھ کر دیا اور ہمیں یقین دلادیا کہ پاکستان میں صرف رسومات اور تعزیرات ہیں۔ علم و ثقافت تاریخ اور ترقی یہاں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ پاکستان موسیقی کانفرنس کے میر کارواں نے بتایا کہ فلاں روز الحمرا ہال میں بھارت ناٹیم کا رقص دکھایا جائے گااور اس میں گورنربھی مدعو ہیں۔ اس دعوت نامے سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس کام میں حکومت کی رضا بھی شامل ہے اور اس کے بغیر بھارت ناٹیم جیسے کافرانہ رقص کی اجازت نہ ملتی۔
ہمارے ہاں قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد یہی سکھایا گیا ہے کہ کتھک ناچ یا بھارت ناٹیم ناچ یا منی پور ی یا کتھا کلی ناچ یا اسی قسم کے دوسرے ناچ جو ہندوستان میں مروج ہیں حرام ہیں۔ ہندوستان کی ثقافت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم کبھی اس کا حصہ بھی نہ تھے۔ یہ سب کچھ حرام ہے کیونکہ اس سے ہمارا اسلامی تشخص مجروح ہوتا ہے اور ہمارے اخلاق بگڑتے ہیں۔ مگر مجرا جائز ہے چاہے وہ ہیرا منڈی میں ہو چاہے فلم سٹوڈیو میں۔ پکاگانا بھی حرام ہے مگر کوٹھے کی گائیکی میں اسلام کاکچھ نہیں بگڑتا۔
دعوت نامہ پا کر یہ فقیر ہال میں پہنچا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہال میں ایک کرسی بھی خالی نہیں تھی۔ اگرچہ میرے خیال میں ہال میں شاید ہی کوئی شخص ہے جس نے بھارت ناٹیم دیکھا ہو۔ وہ اس طرح جھوم کر اس لیے آئے کہ یہاں ایک پھول کھلنا ہے جس کے بارے میں انھوں نے بہت کچھ سنا ہے۔مگر یہ بھارت ناٹیم پیش کرنے والی کون تھی؟ کیا کوئی جنوبی ہندوستانی ہندو لڑکی ؟ پاکستان میں تو اس کا وجود نہیں ہو سکتا۔ پیدا ہوتی تو زندہ دفن کر دی جاتی۔
پردہ اٹھا تو میں نے دیکھا کہ ایک سترہ اٹھارہ سال کی خوبصورت بچی ہے جیسے موتیے کا پاکیزہ پھول ہوا میں لہرائے۔ صوفیہ نام کی یہ بچی ہمارے انتہائی قابل احترام استادوں کے استاد، گارڈن کالج راولپنڈی کے ریٹائرڈ پرنسپل خواجہ مسعود کی پوتی ہے جو ان ونوں لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس کی طالبعلم ہے۔ ہمارے یہاں خیال پایا جاتا ہے کہ بھارت ناٹیم یا کتھک ناچ صرف ہندو رومانٹک تصورات اور ان کے بیان تک محدود ہے۔ نہیں جناب ان کے ذریعے حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی کیا جا سکتا ہے، سیاسی پیغامات بھی دیئے جا سکتے ہیں اور آپ کی میری ذاتی مصیبتوں کا احوال بھی سنایا جا سکتا ہے۔ ہندو رومان ان کی بنیادی اور لازمی تھیم نہیں ہوتی اور اتنی بھی نہ ہوتی جتنی کہ ہے اگر ہندوستان کا مسلم معاشرہ ان پڑھ مولویوں کے زیر اثر نہ ہوتا اور اجازت دیتا کہ رقص کے لیے اسلامی تصورات کی تصویر کشی بھی جائز ہے۔
اس پر لمبی بات ہو سکتی ہے مگر مجھے تو اس سفید تتلی کے رقص کا ذکر کرنا ہے جس نے پاکستانی ثقافت کو ووبارہ دریافت کرنے کی کوشش کی۔ اس تجدید عہد کی سلامی مسز اندو مٹھا کے نام ہے جو ہمارے ریٹائرڈ جرنیل مٹھا کی بیگم ہیں انھوں نے رقص کے جگنو کو پچاس سال اپنی مٹھی میں بند رکھا اور زندہ رکھا۔ وہ غالبا خود زہرہ سہگل کی شاگرد ہیں ( اف ! کیسے زمانے یاد آگئے)۔ پاکستان کی تخلیق سے پہلے جب اس غریب شہر کا لڑکپن تھا تو اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کھاتا تو ایمپریس روڈ پر زہرہ سہگل کا ڈانس سکول تھا۔ان کی بہن عذرا ابھی تک بقید حیات اور لاہور میں مقیم ہیں۔میں نے انھیں شباب میں پرتھوی راج کے ساتھ ہیروئن کے روپ میں دیکھا تھا۔ وہ بوڑھی ہو چکی ہیں مگر اجوکا تھیٹر کے ڈراموں میں کام کرتی ہیں۔ ہندوستان کی مشہور ڈانسر کرن سہگل غالباً زہرہ کی بیٹی ہیں اور کوئی بیس برس پہلے لاہور میں رقص کر گئی ہیں۔
تو اس پیاری بچی کو اندو مٹھا نے ناچ سکھایا۔ اسی نے چھ آئٹم پیش کیے اور مختلف تالوں میں پیش کیے۔ اس پروگرام میں مختلف کیفیات پیش کی گئیں۔ جن میں سے مجھے صرف ایک آئٹم یاد رہ گئی ہے جس کا عنوان تھا ''میں دکھی ہوں'' اور دکھ کی جو شکلیں صوفیہ نے پیش کیں اس سے اندو مٹھا کے طرز احساس کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کے کمال فن کا ظہور بھی ہوتا ہے۔ وہ خود ایک باکمال ڈانسر ہیں۔ مگر اب زیادہ تر بچیوں کو سکھاتی ہیں۔ ویسے بھی پچھلے پچاسی برس کے اندھیرے میں کسی چاند کے چمکنے کی کوئی صورت بھی نہ تھی۔ اے اندو مٹھا تیرا شکریہ۔ مگر اصل داد کے مستحق ہمارے دیرپا دوست خواجہ مسعود ہیں۔ جنہوں نے راولپنڈی میں عزیزوں رشتہ داروں اور دوستوں کے تعصبات کی پرواہ نہ کی اور پاکستان میں ثقافت کو تازہ خون دیا۔ صوفیہ کو بھی شاباش جس نے اتنی محنت کی اور ابھی اور کرے گی اور کھلے گی۔
یہ عاجز یہ گیان نہیں رکھتااور رقص کی باریکیاں بھی نہیں سمجھتا ۔ میں بھی اک چھوٹے قصبے کے مڈل کلاس روایتی گھرانے کا فرد ہوں۔ مگر جب میں نے صوفیہ کا رقص دیکھا اور اس سے پہلے اودھے شنکر ، گورورام چند اور لاہور میں پنڈت امرناتھ کے رقص دیکھے تو معلوم ہوا کہ کلاسیکی رقص اور راگداری عبادت کی طرح پاکیزہ ہوتے ہیں ان میں جسم کا ہر حصہ پوری طرح ڈھکا ہوتا ہے خدوخال چھپائے جاتے ہیں ۔ کوئی ٹھمکا نہیں لگایا جاتا۔ کوئی ایسا بھاؤ نہیں دکھایا جاتا جس سے دھیان رذالت کی طرف جائے ۔ ان کے بھید بھاؤبڑے بامعنی ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے محبت کے پیغام بھی دیئے جا سکتے ہیں مگر وہ دیکھنے والے کی سمجھ میں نہیں آتے۔ القصہ میں اسے ایک تاریخی موڑ سمجھتا ہوں۔
گورنر خالد مقبول نے آنے کا وعدہ کیاتھا۔مگر غالباً وہ جرات نہیں کر سکے کہ مولویوں کے اخبار پیچھے پڑ جائیں گے اور ان کو کام میں دقت ہوگی مگر خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی اخبار نے گلا نہیں کھنکارا۔ گویا دل میں سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ثقافت جاندار ہونی چاہیے اور ہم لاکھ بچوں سے چھپائیں کہ کبھی اشوک ہمارا بادشاہ تھا۔ ہم نے مہاین بدھ مت کے ضابطے ٹیکسلا میں مرتب کیے ۔ چانکیہ کوٹلیہ پنجابی تھا۔ پولیٹکل سائنس کی پہلی کتاب ارتھ شاستر پاکستان کا افتخار ہے اور ہم کبھی ہندوستان کا تاریخی اور ثقافتی حصہ تھے مگر حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ آج دنیا ہندوستان کی ثقافتی عظمت کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہے۔ کیا اس عظمت کا غالب حصہ مسلمان تہذیب اور ہندو عوامی کلچر کا امتزاج نہیں۔
ہمارے آنے سے پہلے ہندو کو تو لباس پہننا بھی نہ آتا تھا۔ باغات فوارے اور گھروں کی تعمیرات مسلمانوں نے ایجاد ہیں۔ راگ رنگ کو منظم کیا اور اس میدان میں ہم نے ایسے کارنامے کیے کہ دنیا انگشت بدنداں ہے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ ٹیکسلا ہمارا، موہنجوڈارو، ہڑپہ راگ رنگ سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ صوفیاکی حیثیت تو ا س کے بغیر عرفان الہی حاصل نہ کر سکتے تھے۔ تاریخ نویسی ہم نے ہندوؤں کو سکھائی۔ اب ہم تاریخ سے منکر ہیں اور بچوں کو مطالعہ پاکستان کے نام سے جو کچھ پڑھاتے ہیں۔اس کا مقصد بھی اس کے کچھ اور نہیں کہ ہندوستان کو ہندوؤں کا ملک اور ہندوستانی ثقافت کوہندوؤں کی ثقافت قرار دے کر اس سے فاصلہ بڑھایا جائے۔
مگر ۱۹۴۷ تک تو ایسا نہ تھا۔ بھارت ناٹیم بنیادی طور پر جنوبی ہند کا ناچ ہے مگر لاہور میں اس کا سکول چلتا تھا اور سیکھنے والے سارے کے سارے پنجابی تھے۔ بھارت ناٹیم میں گریس بہت ہے۔ گریس کا اردو ترجمہ میرے لیے مشکل ہے۔ نفاست کہوں؟ توازن کہوں؟ حسن کہوں تسلی نہیں ہوتی ۔یہ صحیح معنوں میں اعصابی شاعری ہے۔ یہ جنوبی ہندسے مخصوص ہے۔ مگر یہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ہندوؤں کے لیے مخصوص ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پہلے توہندوستان کو لے سر راگ ، راگنی کاپتہ نہ تھا۔ لے کاری تو ناچ کی بنیاد ہے وہ تو راگوں کے بغیر دریافت نہیں ہو سکتی تھی۔
اس لیے یہ کہنا کہ یہ ناچ بھارت کے قدیم مندروں میں رواج پایا تاریخی طور پر غلط ہے۔ بھارت ناٹیم اور کتھک ناچ دونوں ہی سٹائل اٹھارویں صدی میں منظم ہوئے جب مغلیہ سلطنت کی مرکزیت زوال پذیر ہوئی اور علاقوں کو آزادی اظہار کا موقعہ ملا۔ یہ جو غاروں میں بت موجود ہیں ان کے آسن ڈانس کے آسن نہیں بلکہ یوگا کے آسن ہیں اور یوگا اورآیورویدک طریق علاج اور بام واری عقیدہ تصوف جس میں وارث شاہ یقین رکھتا تھا سب پنجاب یعنی پاکستان کی دین ہیں۔
پاکستان سے پہلے لاہور میں کتھک کے استاد پنڈت امرناتھ تھے۔ کتھک بنیادی طور پر ازبکستان کا فوک ڈانس تھا جسے مرد سپاہی اور کسان خوشی کے موقعے پر ناچتے تھے۔ بابر کے ساتھ یہ ڈانس ہندوستان میں آیا اور ہندوستان کی فضا میں اس کی شکل بدلنی شروع ہوئی۔ پھر جب مغل اپنی حسن پرستی میں محو ہو گئے ، تعمیرات بنا چکے۔ مصوروں کو کمال فن کی داد دے چکے، گویوں کے منہ موتیوں سے بھر چکے تو کتھک ناچ عورتوں نے سیکھ لیا اور اس میں نئے نئے انگ بھاؤ نکالے۔ جن میں شوخی اور مستی ابھر آئی مگر تہذیبی رکھ رکھاؤ برقرار رہا اور اس میں جب مرد عورت مل کر بھی ناچتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے۔ لباس جسموں کے بھید چھپا کر رکھتا ہے۔ کہانی کہی جاتی ہے مگر نہایت راز داری کے ساتھ۔ اس کی حرکات میں کچھ بھی اخلاق سے گرا ہوا نہیں ہوتا۔
جن زمانوں میں اس فن نے ترقی کی ان میں جے پور، لکھنو اور لاڑکانہ اس کے مراکز تھے۔ لاڑکانہ کی ڈانسر مہتاب کاذکر رچرڈ برٹن نے بڑے چاؤ سے کیا ہے ۔ اس فن کے آخری بڑے ماہر نواب واجد علی شاہ تھا۔ پھر یہ فن کیسے ہندواور اجتناب کے لائق ہو گیا۔ جب مجرے پر کوئی مولوی ناک بھوں نہیں چڑھاتا جو ہے ہی پست اور رذیل،جذبات کو ابھارنے والا۔
ایک اور ناچ منی پوری ہے جس میں لباس نہایت کھلا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ اس کا تعلق مشرقی ہندوستان کے علاقے منی پور سے ہے۔ جب تک مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہیں ہوا تھا اس کا رواج رہا اور اس عاجز نے جو ناکام فلم بنائی اس میں اس کے مناظر بھی ہیں۔ یہ عورتوں کا ناچ ہے اور وہ زیادہ تر چکر کاٹتی گھاگھروں کے گھیروں کو لہراتی اور ہاتھوں اور انگلیوں سے دلوں کے بھید بتاتی ہیں۔ مگر کوئی سفلی حرکت اس ناچ کو گوارا نہیں۔ مجیرا اس میں خاص طور پر بجتا ہے۔
ہم نے جو کچھ دیکھ لیا آپ نہ دیکھیں گے۔ مگر لوٹ کر اپنی صورت تو دیکھیے۔آپ ایک عظیم ورثے کے مالک ہیں۔آپ تاریخ اور ثقافت سے منہ نہ موڑیئے۔ پچھلے پچاس برس میں جب تاریخ اور ثقافت سے انکار شروع ہوا۔آپ نے کیاپیدا کیاہے۔ پینٹنگ میں اللہ رسول کے ناموں کی کتابت اور مصوری ۔ مگر گویے سازندے بھوکے مر گئے۔ کچھ ملک چھوڑ گئے ایک بڑے خاندان کا بڑا قابل گویا امریکہ کے ایک ہوٹل میں بیرا ہے۔ سارنگی نواز موت کی نیند سو گئے۔ اور بڑے گویوں کے بیٹے پاپ میوزک میں پڑ گئے کیونکہ بے توفیق امیر زادیاں فورا تالی بجانے لگتی ہیں اور پیسہ مل جاتا ہے۔ پہلوان ختم ہوگئے۔ کتھک ناچنے والی ناہید صدیقی ملک بدر ہے۔ اندو مٹھا چھپ چھپ کر چراغ جلاتی ہے۔ شیماکرمانی کراچی میں سوگوار کھڑی ہے۔
بھارت ناٹیم کا شو بہار کی آمد ہے شاید ہماری نیم مردہ زمین شاداں ہو جائے۔ اے صوفیہ تم ایک نیا پھول ہو ۔ تم کھلو تو یہ ملک بھی کھلے۔ اے خواجہ مسعود اپنی روح کو تابندہ رکھنا۔ |
عمران خان نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کو این آر او دیا، شہباز شریف - بريڪنگ نيوز پاڪستان
Home Breaking News عمران خان نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کو این آر او دیا، شہباز شریف
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کو این آر او دیا جب کہ آج تک مجھ پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت نہیں دیئے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ چین ان چند ممالک میں شامل ہے جو ہر حال میں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہتا ہے۔ سی پیک کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی.
شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان آیا کہ یوٹرن لینا بڑے لیڈرز کی حکمت عملی ہے، انہوں نے ہٹلر کا نام بھی لیا، اگر یوٹرن لینا بڑے لیڈر کی نشانی ہے توجوہری ملک کے بارے میں دنیا کیا سوچے گی، کون سا ملک ہم پر اعتبار کرے گا کہ یہ تو معاہدے کرکے یوٹرن لے لیں گے، شاہ محمود قریشی کل کو کسی ملک کے ساتھ معاہدہ کرکے آئیں اور وزیراعظم کہے یہ کالعدم ہے.
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ وزیراعظم کے یوٹرن پرموقف سے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، ان کے ہاتھ میں 22 کروڑ عوام کا مستقبل ہے اب تو وہ سمجھداری کا ثبوت دیں.
شہباز شریف نے کہا کہ جب وزیراعظم غیر ذمہ دارانہ بات کریں گے تو ایوان میں بات ہو گی ، کوالالمپور میں وزیراعظم نے بیان دیا کہ پوری اپوزیشن جیل جائے گی، آپ ڈکٹیٹر نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں،آپ دھونس جماتے ہیں۔ ہمیں دھمکیاں نہ دی جائیں، ہم ان گلیوں سے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں، مشکل وقت کا سامنا کرنا جانتے ہیں۔ ہم نے آمروں کا مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کی قیادت نے تو کوڑے کھائے اور شہادتیں دیں۔ مجھ پر ملتان میٹرو اور دیگر منصوبوں میں کرپشن کےالزامات لگائے گئے، آج تک ان الزامات کے ثبوت نہیں دیئے گئے، میں نے کہا تھا کہ عمران خان کو کس نے این آر او کے بارے میں کہا، این آر او تو عمران خان نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خانم کو دیا. |
سودی لین دین پر مشتمل کار فائینانسنگ کے ذریعہ گاڑی خریدنے کا حکم | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سودی لین دین پر مشتمل کار فائینانسنگ کے ذریعہ گاڑی خریدنے کا حکم
کار فائینانسنگ (car financing) کے متعلق ہے، کار کمپنی ایک فیصد سود لے رہی ہے، جب کہ ڈیلر کہہ رہا ہے کہ وہ پورا سود ہمیں واپس کردے گا انسٹالمنٹ (اقساط) ختم ہونے کے بعد، مگر ہمیں ہر مہینے سود دینا ہوگا اور آخر میں ڈیلر سارا سود واپس کردے گا، تو یہ کار فائینانسنگ جائز ہے یا نہیں؟
آپ کے سوال میں پوری بات اور طریقہ کار مکمل طور پر واضح نہیں ہے، البتہ اتنی بات سمجھ میں آرہی ہے کار فائینانسنگ کے مذکورہ طریقہ کار میں ابتدا میں آپ کو سود دینا پڑے گا اور پھر بعد میں وہ سود آپ کو واپس مل جائے گا، چوں کہ کار فائینانسنگ کا مذکورہ طریقہ سودی معاہدہ اور سودی لین دین پر مشتمل ہے ( چاہے بعد میں واپس ہی کیوں نہ مل جاتا ہو) اور سودی معاہدہ و لین دین قرآن و حدیث کی رو سے حرام ہے؛ اس لیے کار فائینانسنگ کا مذکورہ طریقہ جائز نہیں ہے۔
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴾ [البقرة: 278، 279]
صحيح البخاري (3/ 59)
"حدثنا آدم، حدثنا ابن أبي ذئب، حدثنا سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «ليأتين على الناس زمان، لا يبالي المرء بما أخذ المال، أمن حلال أم من حرام»".
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اس کی پرواہ نہیں کریں گے کہ حلال یا حرام کس ذریعہ سے مال حاصل کیا ہے۔
مذکورہ معاملے اور ایگریمنٹ کی مکمل تفصیل ارسال کردی جاتی تو بہترتھا۔ بہرحال اگر معاملہ اس سے مختلف ہے جو ذکر ہوا تو دوبارہ تفصیلی سوال بھیج کر جواب معلوم کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم |
سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ترقی کی راہ پر گامزن | Urdu Leaks
سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ترقی کی راہ پر گامزن
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملت اسلامیہ ہندیہ کاایسا متحدہ پلیٹ فارم ہے، جو شریعت اسلامی کے تحفظ اوروحد ت کلمہ کی بنیاد پر تمام مسالک اور مکاتب فکر کومتحد کرنے اور رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بورڈ جہاں مسلم عائلی قوانین (مسلم پرسنل لا) کی حفاظت کے لئے حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے وہیں خود مسلمانوں میں پھیل رہی سماجی و اخلاقی برائیوں اور احکام شریعت سے بے راہ روی کو دور کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔
اپنے انہیں مقاصد کے حصول کے لیے بورڈ نے مختلف شعبے قائم کیے ہیں۔ موجودہ دور میں بورڈ نے سوشل میڈیا کی افادیت اور اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ایک شعبہ "سوشل میڈیا ڈیسک"کے عنوان سے قائم کیا ہے، جس کی ذمہ داری بحکم صدر بورڈ حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب مدظلہ، سکریٹری بورڈ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کے سپرد کی گئی ہے۔ اس شعبہ کا مقصد سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے ذریعے اسلام دشمن عناصر کی طرف سے شرعی قوانین سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مسلم معاشرے میں شریعت اسلامی پر عمل کے جذبے کو بیدار کرنا ہے۔ اس شعبہ کی افادیت کو عام کرنے کی غرض سے سب سے پہلا ورکشاپ جنرل سکریٹری بورڈ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی صدارت میں بھوپال شہر میں منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں آئی.ٹی ایکسپرٹس اور سوشل میڈیا ماہرین نے شرکت کی تھی۔اسی طرح لکھنؤ میں بھی ایک ورکشاپ منعقد ہوچکاہے۔ الحمدللہ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی سرپرستی میں روز اول سے یہ شعبہ پوری تندہی کے ساتھ بحسن وخوبی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے اور اس قلیل مدت میں اس کی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہوچکا ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس شعبے سے جڑ کر استفادہ کررہے ہیں۔ اس شعبے کے تحت مختلف سوشل سائٹس(وہاٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، ٹیلی گرام اور انسٹا گرام) پر بورڈ کے آفیشیل اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں متعددمتحرک فعال احباب کوسوشل میڈیاڈیسک کے فروغ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ذیل میں ان تمام سلسلوں کی تفصیلات درج ہیں جو متعینہ وقفے کے ساتھ بورڈ کے اکاؤنٹس پر جاری کیے جاتے ہیں۔
۱- بورڈ کا پیغام: روزانہ بورڈ کا پیغام کے عنوان سے اکابرین بورڈ کی تقریروں اور تحریروں سے موجودہ حالات کےپیش نظر اور وقت کی ضرورت کے اعتبار سےمختصر اقتباسات امیج کی شکل میں جاری کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ان کا ہندی، رومن اردو میں ترجمہ اور آڈیو بھی بھیجا جاتا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ سلسلہ انگریزی میں بھی شروع ہو۔
۲۔ اصلاحی مضامین: معاشرے میں پھیل رہی سماجی و اخلاقی برائیوں اور معاشرے میں شرعی احکامات سے متعلق پھیلائے جانے والے غلط پروپیگنڈوں کے پیش نظر اکابرین بورڈ کے اہم اصلاحی مضامین جاری کئے جاتے ہیں۔
۳۔ نصیحتیں: روزانہ اخلاقی و معاشرتی آداب سے متعلق مختصر حدیث یا آیت قرآنی امیج کی شکل میں جاری کیے جاتے ہیں۔
۴۔ تکبیر مسلسل: ملک کے مختلف مسالک و مکاتب فکر کے مشہور و معروف علماء کی تقریروں اور تحریروں کے ایسے مختصر اقتباسات جاری کیے جاتے ہیں جن میںمسلمانوں کے لیے موجودہ حالات کے اعتبار سے رہنمائی موجود ہوتی ہے۔
۵۔ بیانات: ملک کے مختلف حصوں میں منعقدہ پروگراموں میں اکابرین بورڈ کی کیجانے والی تقاریر کی اہم موضوعات پر مختصر کلپس بورڈ کے آفیشیل یوٹیوب چینل پراپلوڈ کی جاتی ہیں۔
۶۔ خطبہ جمعہ: ائمۂ مساجد کے لیے ہر ہفتہ حالات حاضرہ، اخلاقی و معاشرتی اور فرقہ پرست عناصر کی اسلام مخالف سازشوں کے پیش نظر آسان اور عام فہم زبان میں مفصل و مدلل خطبہ جمعہ جاری کیا جاتا ہے۔
۷۔ اسلامی آداب: اسلامی تعلیمات اور طریقہ زندگی کو عام کرنے کے لیے قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں موجود اخلاقی و معاشرتی آداب جاری کیے جاتے ہیں۔
۸۔ پریس ریلیز: ہنگامی حالات سے متعلق اکابرین بورڈ کے اخباری بیانات اور پریس ریلیز بھی ارسال کی جاتی ہے۔
۹۔ ملی مسائل کے سلسلے میں رہنمائی: ملی مسائل کے سلسلے میں کسی تحریر، تقریر یابیان کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیاجاتاہے۔
مسلمانان ہند سے درخواست ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی سوشل میڈیا ڈیسک سے جڑ کر استفادہ کریں۔ جو حضرات سوشل میڈیا ڈیسک سے جڑناچاہتے ہیں وہ مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں ۔9834397200
بورڈ کے آفیشیل اکاؤنٹس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
1- وہاٹس ایپ گروپ (Whatsapp groups)میں شامل ہونے کے لیے اس نمبر پر میسیج کریں: 9834397200
2- ٹیلی گرام چینل (Telegram Channel)سے جڑنے کے لیے اس لنک کا استعما کریں:
https://www.t.me/AIMPLB_Official
3- یوٹیوب چینل (Youtube Channel)سے جڑنے کے لیے اس لنک کا استعما کریں:
https://youtube.com/channel/UCWVMdXRur6_fxfAS9XSO6Ew
4- فیس بک پیج (Facebook Page)سے جڑنے کے لیے اس لنک کا استعما کریں:
5- ٹویٹراکاؤنٹ (Twitter account)سے جڑنے کے لیے اس لنک کا استعما کریں:
https://twitter.com/AIMPLB_Official
سوشل میڈیا ڈیسک کی طرف سے جاری کئے جانے والے تمام سلسلے حاصل کرنے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک اصلاح معاشرہ کمیٹی پر وزٹ کریں: www.aimpb.co.in |
ن لیگ، ایم ایم اے، پی پی اور دیگر سیاسی جماعتیں آج سرجوڑ کر بیٹھیں گی
اسلام آباد (92 نیوز) عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں دھاندلی کے حوالےسے مسلم لیگ ن ،ایم ایم اے ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں آج سر جوڑ کر بیٹھیں گی ۔ مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کے درمیان رابطے تیز جبکہ آل پارٹیز کانفرنس آج ہو گی۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ شہباز شریف اور مولانا فض الرحما ن کی زیر صدارت الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگانے والی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس آج اسلام آباد میں ہو گی۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما ء مشاہد حسین سید نے ایم ایم اے کے سربراہ مولان فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا ہے جس میں دھاندلی کاالزام عائد کرنے والی دیگر جماعتوں سے رابطے اور کانفرنس کے مقام کا تعین کرنے کیلئے مشاورت کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مشاہد حسین سید اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آل پارٹیر کانفرنس میں شرکت کیلئے پیپلز پارٹی، ایم کیوایم پاکستان ،اے این پی شیر پاؤ اور پی ایس پی کو دعوت دی گئی ہے ۔ |
اللہ کی طرف سے جب آزمائش آتی ہے تو اس پر صبر کرنا زمین کی خوبصورتی ہے، خطبہ حج - World - Dawn News
اللہ کی طرف سے جب آزمائش آتی ہے تو اس پر صبر کرنا زمین کی خوبصورتی ہے، خطبہ حج
ویب ڈیسکاپ ڈیٹ 19 جولائ 2021
شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا — فوٹو: بشکریہ حرمین ٹوئٹر
شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے مسجد نمرہ میں 9 ذی الحج 1442 ہجری کو خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جب آزمائش آتی ہے تو اس پر صبر کرنا زمین کی خوبصورتی ہے۔
سعودی عرب میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے لیے عازمین میدان عرفات میں پہنچے تھے، جہاں روح پرور خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے حدیث بیان کی اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ گویا تم اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور ایسا ممکن نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'احسان کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اطاعت اختیار کرو اور اسی کی اطاعت میں جھکو، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، مسلمان اللہ ہی کی عبادت کرے، اسی سے مدد طلب کرے اسی سے دعا مانگے'۔
انہوں نے کہا کہ 'اللہ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور اسی کے لیے قربانی کریں، اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی عبادت کریں اور اس نے جو کچھ اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے اس کی اطاعت کریں'۔
مزید پڑھیں: اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کا علاج نہ ہو، خطبہ حج
ان کا کہنا تھا کہ 'آج یومِ عرفہ کے حوالے سے قرآن مجید میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ آج کے دن تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لیے دینِ اسلام کے لیے راضی ہوگیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'اپنی نمازوں سے عبادت کرو، بالخصوص نماز عصر کی حفاظت کرو اور اللہ کی بارگاہ میں انتہائی عاجزی کے ساتھ حاضر رہو، بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور ہر شے پر سبقت لے جانے والی ہے'۔
خطبہ حج دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'تم میں سے جو کوئی ماہ رمضان پائے اسے چاہیے کہ وہ ماہ رمضان کے روزے رکھے اور حج اسلام کا پانچواں ستون ہے، جس کی استطاعت ہو اسے چاہیے کہ وہ حج ادا کرے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اللہ پر ایمان لائیں، اللہ کے فرشتوں پر ایمان لائیں، اللہ کی کتابوں پر ایمان لائیں، اللہ کی تقدیر پر ایمان لائیں اور ہر اچھی بری تقدیر کو تسلیم کریں'۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی عبادت بجا لائیں، اللہ کی اطاعت کریں اور اسی سے مدد مانگیں، قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ تمارے لیے مسخر کردیا ہے جسے تم حکم الہیٰ سے آسانی سے تسخیر کرسکتے ہو'۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے اللہ نے تمہیں آنکھیں، دل اور عقل دی ہے جس کے ذریعے تم کائنات کو مسخر کرسکتے ہو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اللہ نے قرآن مجید میں اس کا ارشاد یوں فرمایا کہ ہم نے اہل ایمان پر احسان فرمایا کہ ان میں ان ہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ہماری آیات پڑھ کر انہیں سناتا ہے، حکمت کی باتیں سکھاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے کہا کہ اللہ کے احکامات میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کرو، بھلائی کے ساتھ پیش آؤ، آپس میں مساوات اور ہمدردی کے تعلقات قائم کرو۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ احسان کے مستحق والدین ہیں، قرآن پاک میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو، اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرو، اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو خواہ وہ پڑوسی تمہارے قریب کے ہوں یا دور کے، بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا اور اللہ کے احکامات میں یہ بھی ہے کہ اپنے درمیان یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے ساتھ احسان کرو۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے اللہ کے احکامات میں یہ بھی حکم دیا گیا کہ جو تم وعدہ کرو اسے پورا کرو، کہا گیا کہ اے ایمان والوں اپنے وعدے اللہ کے لیے پورا کرو۔
ان کا کہنا تھا کہ احسان کے حوالے سے قرآن مجید اور احادیث میں بار بار تاکید آئی ہیں، فرمایا گیا کہ تم اپنے باہمی امور میں احسان زیادہ اختیار کرو اور معاشرے کے معاملات میں احسان کو قائم و دائم رکھو۔
انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نیکی کا اجر ہے، جب تم جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو کہ اسے تکلیف کم سے کم پہنچے۔
خطبہ حج دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب انسان دوسروں کے ساتھ احسان کرتا ہے تو اللہ اس کی برکت سے لوگوں کو آفات سے محفوظ فرماتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خطبہ حج کے روح پرور مناظر
ان کا کہنا تھا کہ اور جب تم احسان کرتے ہو تو اللہ تم پر بھلائی نازل فرماتا ہے، تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہے، تمہارے خطاؤں کو درگزر کرتا ہے لہذا چاہیے کہ تم احسان کو اپنائے رکھو۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ آپس میں عداوت اور نفرت کو ختم کرنا چاہیے کہ جب آپس میں عداوت پائی جائیں تو اس سے معاشرے کی بنیادیں ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس کسی نے اللہ کی رضا کے لیے قرض حسنہ دیا تو آخرت میں اللہ اسے دوگنا کرکے عطا فرمائے گا۔
شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ نے کہا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے انداز سے پیش آؤ، بہترین انداز سے کلام کرو، نرم انداز سے گفتگو کرو، ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرو بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے احسان دعوت کا ذریعے ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم کسی کو اسلام کی دعوت دو تو اسے احسن انداز سے بلاؤ، عمدہ انداز سے گفتگو کرو، عمدہ نصیحت پیش کرو جس سے اس کے اندر اسلام کی محبت پیدا ہو اور وہ اسلام کی طرف آجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ساتھ احسان یہ ہے کہ لوگوں کی طرف سے آنے والے مصائب اور تکالیف پر صبر کرو، اللہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ صبر کیجیئے جیسے آپ سے قبل رسولوں نے صبر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مصائب پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اللہ نے اپنے پاک کلام میں حضرت محمد ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ اے نبی آپ بھی ان کی دی ہوئی مصائب پر صبر کیجیئے، پھر اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے موت اور زندگی کو اسی لیے پیدا کیا تاکہ تمہیں جانچ سکے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ زمین کی خوبصورتی اس بات میں ہے کہ ہم لوگوں کی طرف دیے جانے والے تکلیف پر صبر کریں اور ان کے مصائب پر صبر کے ساتھ پیش آئیں، اچھے انداز سے بات کریں، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جب آزمائش آتی ہے تو اس آزمائش پر صبر کرنا یہ زمین کی خوبصورتی ہے۔
مزید پڑھیں: کورونا وبا کے دوران دوسرا محدود حج، عازمین منیٰ پہنچنا شروع
انہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ تم احسان کرو، اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، اللہ نے فرمایا کہ ایمان والوں کو بشارت دو کہ اللہ کی رحمت بہت قریب ہے، جنہوں نے احسان کیا اللہ انہیں قیامت کے دن اور زیادہ عطا فرمائے گا، یہی احسان کرنے والے لوگ حقیقی معنوں میں جنت والے ہیں۔
خطبہ حج دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میں جو احسان کرے گا تو اللہ آخرت میں اس کا بہت بھلا فرمائے گا اور ان کے لیے بہترین جگہ ہے اور اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں جو بھی احسان کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو تو اللہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق اجر عطا فرمائے گا۔
حدیث بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی احسان کرتا ہے تو اللہ اسے دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی احسان فرماتا ہے، بھلائی کرتا ہے، دوسروں کا احساس کرتا ہے، خیال کرتا ہے اللہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دیتا ہے۔
کلام پاک بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک نیکیاں بدی کو کھا جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طریقے سے بھی شریعت میں بھی احسان ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ہم شرعی معاملات میں بھی لوگوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آئیں، شریعت میں احسان یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پش آیا جائے، جس طرح حج میں حجاج میدان عرفات میں تشریف لائے ہیں، ان کے ساتھ بھی احسان کیا جائے، انہیں سہولتیں، آسانیاں فراہم کی جائیں۔
حدیث بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون پھیل گیا ہے تو اس علاقے کی طرف نہ جاؤ اور وہاں رہنے والے اس طاعون کی جگہ سے باہر نہ نکلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اے اللہ کے گھر کی زیارت کرنے کے لیے آنے والے حجاج کرام، آپ اپنے مناسک حج بہترین طریقے سے ادا کریں جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ اپنا حج اور عمرہ ادا کرو۔
مزید پڑھیں: خواتین کو محرم کے بغیر حج درخواستیں جمع کرانے کی اجازت
آخر میں انہوں نے کہا کہ 'حجاج کرام دعا کریں تو اپنے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ممالک و شہروں کے لیے بھی دعا کریں کیونکہ آپ جب دعا کرتے ہیں تو آسمان اور زمین کے فرشتے فخر کرتے ہیں۔
خطبہ حج کے اختتام پر اللہ کی حمدو ثنا، مناسک حج کو بیان کرنے کے بعد اذان ظہر دی گئی۔
واضح رہے کہ رواں سال خادم حرمین شریفین نے شیخ بندر بن عبد العزيز بليلہ کو عرفات کا خطبہ دینے کے لیے مقرر کیا۔
خیال رہے کہ ہرسال تقریباً 25 لاکھ عازمین حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں تاہم دو برس سے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کورونا وائرس کی وبا کے باعث بہت محدود تعداد میں سعودی عرب میں ہی مقیم مختلف ممالک کے افراد فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔
سعودی حکومت کی جانب سے عازمین کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا کہ رواں سال ویکسین لگوانے والے تقریباً 60 ہزار تک عازمین حج ادا کرسکیں گے۔
مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے۔
8 ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں۔
9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔
عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔
10 ذی الحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جاکر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں۔
11 اور 12 ذی الحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔ |
بلاول میں ناپختگی، سیاسی تربیت میں وقت لگے گا، شاہ محمود قریشی Sindh Rights March
بلاول کی سیاسی تربیت میں وقت لگے گا،شاہ محمود قریشی
نواب شاہ: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھی اور اردو بولنے والوں میں خلیج پیدا کی، یہ توڑنے والے ہیں اور ہم جوڑنے والے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سندھ حقوق مارچ اور سیاسی صورتحال سے متعلق جاری بیان میں کہا کہ بلاول ملتان جاناچاہتےہیں توضرورجائیں ،یہ ان کاحق ہے، میں آج سانگھڑ اور میرپورخاص جاؤں گا، سندھ میں رابطہ مہم ہماراحق ہے۔
شاہ محمودقریشی نے کہا کہ رات کو بدین میں جلسہ ہوگا،کل عمر کوٹ، تھرپارکر جاؤں گا، کل رات میں نے ان کے والد کےحلقےنوابشاہ میں جلسہ کیا،عوام نے اپنا فیصلہ سنایا، اب سانگھڑ،میرپور،عمرکوٹ میں بھی ہمارا خیر مقدم دیکھ لینا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلاول میں ناپختگی ہے،سیاسی تربیت میں وقت لگے گا، بلاول بھٹو کی بچگانہ گفتگو کا ہمیں فائدہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: "جہانگیر ترین پہلے کہتے تھے عمران خان کے ساتھ ہوں مگر اب خاموش ہیں"
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ کل چوہدری برادران نے وزیر اعظم کیساتھ تائید کا اعادہ کیا، ہمارے حلیف ہمارے ساتھ ہیں، ایم کیو ایم حلیف جماعت ہے، خالد مقبول اور ان کے رفقا باقاور لوگ ہیں، ایم کیوایم نےہر مشکل میں ہمارا ساتھ، ہم ان کاساتھ دیں گے، ہم آئندہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں گے، ہمیں ملکر کراچی کی تقدیر بدلنا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ایسا بلدیاتی قانون نفاذ کیا جس پر تمام جماعتیں سراپا احتجاج ہیں، پیپلزپارٹی نےکراچی کو برباد کر دیاہے،15سال میں کراچی کی کیاحالت کردی ؟انہوں نےسندھی اور اردو بولنے والوں میں خلیج پیدا کی، یہ توڑنے والے ہیں اور ہم جوڑنے والے ہیں۔ |
زبانی تاریخ (ایران) :: آپریشن کے بعد کے ایام
ڈاکٹر سید رضا مرتضویان سے بات چیت
آپریشن کے بعد کے ایام
احمد رضا امیری سامانی
ڈاکٹر سید رضا مرتضویان اس وقت اصفہان کے شہید آیت اللہ صدوقی ہسپتال کے سربراہ ہیں۔ وہ ایسے ڈاکٹر ہیں جن کے پاس دفاع مقدس کے زمانے کے بہترین واقعات ہیں اور وہ جنگ کے کٹھن ایام میں چوئبدہ صحرائی (نہر اورند کے پاس) اور علی ابن ابی طالبؑ (آبادان میں) نامی دو ہسپتالوں کے منیجر رہے ہیں۔ وہ دفاع مقدس کے پورے عرصے میں ملک کے جنوبی اور مغربی جنگی علاقوں میں حاضر رہے اور اُن کا یہی حاضر ہونا اس بات کا باعث بنا کہ وہ یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کی فیلڈ کو خیر باد کہہ دیں اور میڈیکل فیلڈ کو اختیار کرلیں۔ اُن کے ذہن میں جنگ کے مختلف واقعات موجود ہیں۔ نجات اور حیات سے مربوط واقعات، نہ موت اور آگ سے مربوط واقعات جو جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز اورمیڈیکل ٹیم ، نجات دینے والے ہاتھ ہیں جنہوں نے خود جنگ میں زخم کھائے ہیں۔ انھوں نے بھی زخمی ہونے کے بعد پہلے ہی گام پر سپاہیوں کی بدترین اور ایمرجنسی ترین وضعیت کا مشاہدہ کیا تھا۔ اسی تجربہ کی وجہ سے صحت ہسپتال کا ایک رضا کار سپاہی دو ہسپتالوں کے مدیر میں بدل گیا اور اسی تجربہ کے ذریعہ میڈیکل فیلڈ میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر سید رضا مرتضویان نے اصفہان یونیورسٹی سے بی ہوش کرنے اور خصوصی نگہداشت کی مہارت کی ڈگری حاصل کی اور سن ۱۹۹۹ء میں ایک ڈاکٹر اور ہسپتال کے سربراہ کے عنوان سے، خوزستان اور اصفہان کے صوبوں میں ڈیوٹی انجام دی ہے۔ میں نے انٹرویو کے پیرائے میں ڈاکٹر صاحب سے بہت سے واقعات سنے ہیں؛ انٹرویو کے کچھ حصے کو میں نے ایران کی زبانی تاریخ کی سائٹ کے مخاطبین کیلئے تیار کیا ہے۔
سب سے پہلے اپنا تعارف کروائیں۔
خدایا تیری مدد سے شروع کرتا ہوں، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میں ۱۶ اپریل سن ۱۹۶۳ والے دن شہر اصفہان کے ایک محلہ میں پیدا ہوا، جس کا پرانا نام کوی کارگران (حالیہ نام شاہراہ سعادت آبادہے) تھا۔ میں نے ایسے گھرانے میں پرورش پائی جو کافی حد تک مذہبی گھرانہ تھا اورمیرے والد صاحب وطن ابریشم کارخانہ میں کام کرتے تھے۔ دس بچوں سے بھرا ہوا ایک گھرانہ کہ جس کا میں آخری بچہ تھا۔ میں اصلیت میں کردی ہوں اور میرے نام کے آخری میں خاندانی نام دھکردی آتا ہے، لیکن میرے والد صاحب دس سال کی عمر میں اصفہان آگئے تھے۔ میں نے اُسی محلے میں تعلیم حاصل کی اور انٹر کیا۔
آپ نے یونیورسٹی کی پڑھائی کب شروع کی؟
سن ۱۹۸۳ء تھا جب میں نے اصفہان کی ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں جنرل مکینکل فیلڈ میں داخل لیا۔ جب دو سمسٹر گزر گئے، وہ وقت بدر آپریشن کا زمانہ تھا۔ مجھے انفنٹری فورس کے عنوان سے زید چیک پوسٹ کے علاقے میں بھیجا گیا۔ سن ۱۹۸۴ء میں مارچ کے مہینے کے آغاز سے دو یا تین اپریل تک میں وہاں رہا۔ میں آخری دن زخمی ہوگیا۔ البتہ یونیورسٹی جانے سے پہلے، سن ۱۹۸۱ء میں بھی میں نے بستان کو آزاد کرانے والے آپریشن طریق القدس میں انفنٹری فورس کے عنوان سے شرکت کی تھی اور میرا کان اور دونوں ہاتھ زخمی ہوئے تھے ۔ لیکن ۱۹۸۴ء کے اپریل میں ہمارا بعثی افواج سے دوبدو مقابلہ ہوا تھا۔ بم دھماکے کے لہر سے میرے حواس بھی باختہ ہوگئے تھے اور میرے جسم کی مختلف جگہوں پر بم کے ٹکڑے بھی لگے تھے۔ بم دھماکے کی لہر کی وجہ سے کافی عرصے تک میری نفسیاتی حالت خراب رہی اور میں تناؤ کا شکار رہنے لگا ، اس کے باوجود کہ یونیورسٹی کو میری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن میں نے خود ہی یونیورسٹی کو چھوڑ دیا۔
میں اپنی حالت بہتر ہوجانے کے بعد، سپاہ کے صحت سینٹر میں چلا گیا۔ کچھ مہینوں بعد نئے بننے والے ہسپتال یعنی شہید آیت اللہ صدوقی ہسپتال میں مجھے اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے نوکری مل گئی۔ میں یہاں پر اکاؤنٹنٹ اور مریضوں کے داخلے کے کاموں کو بھی انجام دیتا اور سپاہ کے صحت سینٹر کی طرف سے امدادی کارکن کے عنوان سے جنگی علاقوں میں بھی جاتا۔ جب میں پہلی دفعہ گیا تھا تو تقریباً دس مہینے تک جنگی علاقے میں رہا اور میرا یہ رہ جانا ہی باعث بنا کہ میں میڈیکل فیلڈ کی طرف قدم بڑھاؤں۔ میں آبادان میں ٹھہرا ہوا تھا۔ جنوب میں فوجی میڈیکل سینٹر کے کمانڈر سردار فتحیان، جب وہ مجھ سے پہلی دفعہ ملے تو انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں تمہاری آبادان کے جنوب میں ایک صحرائی ہسپتال میں ڈیوٹی لگادوں۔ میں نے سوچا کہ شاید مجھے ایک معمولی فوجی کے عنوان سے مثلاً کسی دفتر میں یا کسی جانشین کے عنوان سے کام کرنے کیلئے بھیج رہے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ میں راضی ہوگیا اور چوئبدہ میں حضرت فاطمہ زہرا (س) ہستپال پہنچ گیا، نہر اروند کے پاس۔ لیکن میں جیسے ہی وہاں پہنچا، مجھے ہسپتال کے منیجر کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ میں نے کہا: مجھے بالکل بھی ہسپتال چلانے اور ان کاموں کا علم نہیں ہے! انھوں نے کہا: ہم تصور کرلیں گے کہ آپ کو کام آتا ہے۔ آٹھویں و الفجر آپریشن کے بعد کے ایام تھے اور ہسپتال پر بھی اُس سے تقریباً دس دن پہلے بمباری ہوچکی تھی۔ سراسیمگی کا ماحول تھا۔ اتفاق سے اُس عرصے میں جب میں ہسپتال پہنچا تھا، نہ تو ہسپتال کا کوئی منیجر تھا اور نہ کوئی سربراہ۔ مجھ سے پہلے، ڈاکٹر عوض حیدر پور ہسپتال کے سربراہ تھےجو وہیں پر کیمیائی بمباری کی وجہ سے زخمی ہوکر واپس چلے گئے تھے۔ میں بن گیا ہسپتال کا منیجر، بغیر کسی سربراہ کے۔ ہسپتال کی ذمہ داریوں کا بوجھ میرے کندھوں پر آگیا اور میں مجبوراً مختلف وارڈوں میں گھومنے لگا اور کاموں سے آشنا ہونے لگا۔ یہی وہ پہلا قدم تھا جس نے مجھے صحت اور علاج کے راستہ پر گامزن کردیا۔
ہسپتال کے سربراہ اور منیجر میں کیا فرق ہے؟
سربراہ عام طور سے اُسے کہا جاتا ہے جو خصوصی کاموں اور میڈیکل کے کاموں پر نظارت کرتا ہے۔ مثلاً آپریشن تھیٹر کیلئے سرجن کا انتظام کرے اور ایمرجنسی وارڈ کیلئے ڈاکٹر کو معین کرے اور آپریشن تھیٹر کیلئے میڈیکل مشینوں کا آرڈر دے، خود ڈاکٹروں پر نظر رکھے و۔۔۔ خود بھی ڈاکٹر ہو۔ منیجر کا زیادہ تر کام ہسپتال کو چلانا ہوتا ہے۔ کام کرنے والے عملہ کو دیکھنا، سہولیات، خوارک، بجلی، پانی، گیس اور ایمبولینسوں کا آنا جانا اور یہ سب کام منیجر کے ذمہ ہوتے ہیں۔ مگر ایسے مواقع پر کہ جب سربراہ نہیں ہوتا تو منیجر کو اُس کے کاموں میں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ میرے آنے کے تقریباً بیس دن بعد، ہسپتال کا ایک سربراہ بھی آگیا۔
ہسپتال کتنا بڑا تھا؟ اس میں کیا وسائل تھے؟
کنکریٹ سے بنا پہلا صحرائی ہسپتال تھا۔ اُس سے پہلے ایک دو صحرائی ہسپتال جیسے امام رضا (ع) ہسپتال اور خاتم الانبیاء (ص) ہسپتال کو فلزی پائپوں سے بنایا گیا تھا ۔ اُن کی چھتیں فلزی شیٹ کی بنی ہوئی تھیں کہ جس پر مٹی ڈال دیتے تھے۔ بہت ضعیف اور کمزور تھے۔ لیکن حضرت زہرا (س) ہسپتال کنکریٹ کے پلروں اور گارڈروں سے بنا ہوا تھا کہ جن کا منہ پانچ سے چھ میٹر چوڑا تھا۔ میرے خیال سے ہمارے پاس چھ یا آٹھ آپریشن تھیٹر تھے۔ مربع شکل کے فریموں کو ایک ساتھ لایا گیا تھا اور ایک سرنگ سی بن گئی تھی جو آپریشن تھیٹر تک جاتی تھی۔ راہداریوں اور مختلف ذیلی راستوں کو بھی انہی فریموں سے بنایا گیا تھا۔ حتی اسٹاف کے آرام کرنے اور کھانے وغیرہ کی جگہ بھی تھی۔ لاجسٹک سامان کیلئے کچھ انبار بھی موجود تھے جو ہسپتال سے الگ تھے؛ جیسے ڈیزل کااسٹور اور کھانے پینے کی چیزوں کا اسٹور وغیرہ۔ کنکریٹ کے ٹکڑوں کو بہت ہی مخفیانہ انداز میں نصب کیا گیا اور اُن کے اوپر تقریباً دس میٹر مٹی ڈالی گئی تھی۔ اس طرح سے کہ ایک دفعہ ایک بہت ہی جاندار بمب ہسپتال کی چھت پر گرا، چھت ٹوٹ گئی، لیکن کسی کو زیادہ نقصان نہیں ہوا ، صرف کچھ لوگوں کی دھماکے کی لہر کی وجہ سے حالت خراب ہوئی تھی۔
آپ فاو سے نزدیک تھے؛ یہ بات صحیح ہے؟
ہمارا ہسپتال فاو سے ۲۴ یا ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ ہم نہر اروند کے اس پار تھے اور فاو، اروند کے اُس پار تھا۔ حال ہی میں فاو کو آزاد کرایا تھا اور عراق کی اصلی جوابی کاروائیاں کم ہوگئی تھیں۔ لیکن ابھی بھی جھڑپیں جاری تھیں۔ بمباری ہو رہی تھی اور آپریشن کے لحاظ سے علاقے میں سرگرمی تھی۔ جب ہم نے پوزیشنیں سنبھال لی تو اُس کے بعد الامیہ اور البکر جیٹیوں کو آزاد کرانے کیلئے کربلائے ۳ آپریشن کا آغاز ہوا اور ہم نے تیزی کے سا تھ زخمیوں کیلئے ہسپتال کو تمام چیزوں سے بھر دیا۔ الحمد للہ زیادہ زخمی نہیں ہوئے تھے لیکن ہر اعتبار سے دریائی جنگ تھی اور تیراکی کرنے والے اور کشتی پر بیٹھنے والے افراد جو بمب یا مارٹر کی وجہ سے پانی کے اندر زخمی ہوگئے تھے ، اُن کو ہمارے ہسپتال میں لایا جاتا۔ ہم بھی ضروری علاج اور جراحیوں کو انجام دیکر انہیں پیچھے کی طرف واپس بھیج دیتے۔ تین چار مہینے بعد، زندگی کیلئے جدوجہد کرنے والے ادارے کے افراد نے نہر اروند پر پل بعثت بنانا شروع کردیا۔ ایک بہت طولانی اور خطرے سے بھرپور پروجیکٹ۔ عراق بھی جو نہیں چاہتا تھا کہ یہ پل پایہ تکمیل تک پہنچے، ہر روز وہاں پر بمباری کرتا۔ کوئی ایسا دن نہیں تھا کہ جس دن ہمارے ہسپتال میں کوئی نیا مریض نہیں آتا ہو۔ خاص طور سے سپاہ کے ٹیکنیکل اور انجینئر حضرات کہ جن پر بمباری ہوتی تھی اور وہ اروند کے اُس گہرے پانی میں گر جاتے تھے۔
وہاں کی صورت حال اور سہولیات کیسی تھیں؟
ہمارے پاس اچھی خاصی سہولیات تھیں۔ جس زمانے میں کوئی جنگی آپریشن ہوتا تھا آپریشن کرنے والی دو تین مکمل ٹیمیں (سرجن، بے ہوش کرنے کا ماہر، آپریشن تھیٹر کے ٹیکنیشن، بے ہوش کرنے کے ٹیکنیشن) وہاں آجاتی تھیں اور آپریشن تھیٹرز مسلسل خالی ہو رہے ہوتے تھے اور بھر رہے ہوتے تھے۔ لیکن دفاعی پوزیشنوں کے وقت کہ جب محاذ کی صورت حال معمولی ہوتی تھی، اُس وقت ہمارے پاس آپریشن کیلئے صرف ایک ٹیم ہوتی تھی کہ جس میں ایک سرجن، ایک آرتھوپیڈک، ایک بے ہوش کرنے والا ماہر، اور اُن کا اسٹاف ہوتا تھا۔ ہر دفعہ یہ ٹیمیں بھی کسی ایک شہر سے آتی تھیں؛ ایک دفعہ مشہد سے، ایک دفعہ شیراز، ایک دفعہ تہران سے اور ۔۔۔
مجھے یاد ہے کہ کربلائے ۳ آپریشن میں ہم نے مریضوں کو تیار کیا ہوا تھا۔ اس زمانے میں، میرے ایک اور دوست، جناب ڈاکٹر مہر داد معمار زادہ بھی ہسپتال کے سربراہ کے عنوان سے ہمارے ساتھ شامل ہوگئے تھے۔ میں نے ان سے بہت سی چیزوں کو سیکھا۔ آپریشن کا معمول یہ تھا کہ افراد رات کے ایک ، دو بجے کے قریب دشمن پر حملہ کرتے۔ صبح کے وقت زخمیوں کو لانا شروع کرتے تھے۔ ہم نے ہسپتال کا ایک چکر لگایا اور تمام چیزوں کو چیک کرلیا۔ لیکن رات کے دو بجے کا وقت تھا کہ بتایا گیا: آپریشن تھیٹر کا گٹر اُبل گیا ہے اور آپریشن تھیٹر آلودہ ہوگیا ہے! ہمیں اس بات پر تعجب تھا کہ ہم نے تمام چیزوں کی تحقیق کرلی تھی، ہم آپریشن تھیٹر کی طرف دوڑے اور ہم نے انتظامی امور کے افراد کو جمع کیا۔ دو گھنٹے کام کرنے کے بعد ہمیں پتہ چل کہ متاسفانہ کسی نے خراب کاری کی ہے اور پتہ نہیں تھا کہ کس نے گٹر کی لائن میں ایک ڈرپ کو گھسیڑ دیا تھا۔ جی ہاں اُس زمانے میں مخالف اور منافق گروپس، خراب کاری کرنے والے افراد بھی تھے جو ہر طریقے سے کوئی نہ کوئی مشکل کھڑی کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے افراد اُس آپریشن تھیٹر میں صبح تک کام کرتے رہے اور واقعاً یہ ا فراد آپریشن میں شرکت کرنے والے افراد سے زیادہ تھک گئے تھے۔ صبح تک آپریشن تھیٹر میں گٹر کے پائپ کی تعمیر کا کام ہوگیا۔ ہم نے کمرے کو دھویا اور جراثیم سے پاک کردیا۔ اب ہم تھک ہار کر آرام کرنا چاہتے تھے کہ زخمیوں کو لیکر آنا شروع ہوگئے۔
کس حالت میں آتے تھے؟
ہمارے پاس ایسے زخمی آتے تھے کہ جنہیں مثلاً بمب کا کوئی ٹکڑا لگ گیا ہو اور اُن کا کوئی عضو پھٹ جاتا تھا، اور ایسے بھی تھے جن کی حالت بری ہوتی تھی اور اُنہیں کوما کی حالت میں لایا جاتا تھا۔ لیکن سب کا جوش و جذبہ بہت زبردست تھا۔ ہم زخمیوں سے اکثر کہا کرتے تھے: آپ کو آپریشن تھیٹر میں جانا چاہیے یا اس وقت ہم تمہیں واپس بھیج رہے ہیں، وہ رونے لگتا اور کہتا کہ مجھے پٹی باندھ دو تاکہ میں دوبارہ محاذ پر چلا جاؤں۔ اس چیز سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کے اندر بہادری اور جوش و جذبہ تھا۔
سہولیات کی کمی کے بارے میں بتائیں؟ کمی تھی؟ مثلاً ٹانکے لگانے کا دھاگہ، گیس، بے ہوش کرنے والی دوا وغیرہ
نہیں۔ واقعاًہمیں ہر طرح کی حمایت حاصل تھی اور ہر چیز کا انتظام ہوتا تھا۔
ٹھنڈا اور گرم کرنے کا سسٹم کیسا تھا؟
چلر لگے ہوئے تھے۔ رہائش اور شہر سازی کے افراد اور سپاہ کے انجینئرز افراد نے بہت کام کئے تھے۔ ہسپتال کے د و حصوں میں دو چلر لگے ہوئے تھے۔ وہاں کا موسم خراب تھا۔ کبھی کبھار ہمارے جنریٹرز خراب ہوجاتے یا اُنہیں بمب کا کوئی ٹکڑا لگ جاتا، اُس گرم اور مرطوب موسم میں ہسپتال کا بیسمنٹ (تہہ خانہ) جہنم کی طرح ہوجاتا تھا۔ ہمارے پاس اف – ایکس ٹیلی فون بھی تھے کہ جن سے ہم براہ راست اصفہان فون کرتے تھے۔
جس زمانے میں آپ وہاں تھے کیا ہسپتال پر براہ راست حملہ نہیں ہوا؟
نہیں بھئی۔ حملے، مجھ سے پہلے تھے۔ (ہنس رہے ہیں)۔ مجھے وہاں گئے ہوئے دس مہینے ہوئے تھے کہ کربلائے چار آپریشن کیلئے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ہم متوجہ تھے کہ طے ہے کہ کوئی بہت بڑا آپریشن شروع ہونے والا ہے۔ آبادان کے نزدیک علی ابن ابی طالب (ع) نامی ایک جنگی ہسپتال بنا رہے تھے۔ اُس زمانے میں، ہم اہواز جاتے ہوئے کبھی کبھار وہاں کا چکر لگا لیتے تھے۔ وہ ہسپتال فاطمہ زہرا (س) ہسپتال سے بہت بڑا تھا۔ جناب ڈاکٹر معمار زادہ آہستہ آہستہ فاطمہ زہرا (س) ہسپتال سے جدا ہوگئے اور اُس ہسپتال میں چلے گئے تاکہ اُس کو جنگی آپریشن کیلئے تیار کریں۔ میں بھی جب کسی کام کیلئے وہاں پر جانا ضروری سمجھتا تو وہاں کا چکر لگالیتا اور وہاں کے ماحول اور وسائل وغیرہ کے بارے میں تجویز دےدیتا۔ جب اُس کی عمارت بن گئی، ہم اصفہان گئے اور جناب ڈاکٹر معمار زادہ کے ساتھ اصفہان یونیورسٹی میں میڈیکل سائنسز کی فیکلٹی کی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں شرکت کی اور ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اس ہسپتال کو تیار کریں؛ چاہے وہ ملازمین کی بھرتی ہو ، چاہے وہ وسائل کے لحاظ سے مدد کرنا ہو۔ اُس زمانے میں، ڈاکٹر احمد اکبری یونیورسٹی کے ہیڈ تھے۔ انھوں نے اُس میٹنگ میں اعلان کیا کہ جو ہماری توان میں ہوگا ہم اُس سلسلے میں مدد کریں گے، لیکن ہمارے پاس زیادہ سرمایہ نہیں ہے۔ مجھے ڈاکٹر معمار زادہ نے وسائل اورسامان جمع کرنے کا انچارج بنا دیا۔ ڈاکٹر اکبری نے بھی ڈاکٹر محمدی کو ایک لیٹر لکھ کر میرا تعارف کروایا جو اصفہان یونیورسٹی میں میڈٰکل سامان اور دوائیوں کے انچارج تھے۔ طے یہ تھا کہ ہمیں کچھ مختصر سا سامان دیا جائے کہ میرے زور دینے اور ڈاکٹر محمدی کی مدد سے ہم سامان سے بھرے چھ ٹریلر اور ٹرک لیکر آبادان پہنچے۔ حتی ہمارے وسائل میں ریڈیولوجی مشین اور لیبارٹری ریفریجریٹر بھی تھا۔ الحمد للہ آبادان کے جنگی ہسپتال کا دو تہائی حصہ انہی وسائل سے بھر گیا۔
اس کام میں کتنا وقت لگا؟
بارہ سے تیرہ دن لگے ہوں گے اور بعد میں ہم دوبارہ چوئبدہ کے فاطمہ زہرا (س) ہسپتال لوٹ گئے، تاکہ رات میں آپریشن شروع ہو، شام سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ آپریشن ہونا ہے۔
کربلائے چار آپریشن؟
جی۔ شام کے پانچ یا چھ بجے کا وقت تھا۔ ابھی دن کا اُجالا باقی تھا۔ سردار نصر اللہ فتحیان (سپاہ کے فوجی میڈیکل کمانڈر)کے ایک جانشین نے مجھے اہواز سے فون کرکے کہا: "سید ہم میڈیکل ٹیم بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ کام اس وقت ہونا چاہیے جب آپریشن شروع ہوچکا ہو۔ ہمارا کہیں سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے اور لائنیں بھی کٹ چکی ہیں۔ آپ جاکر دیکھیں کہ آپریشن شروع ہوا یا نہیں؟ اگر شروع ہوگیا ہو تو ہمیں بتائیں۔" میں چوئبدہ سے آبادان کی طرف چل پڑا۔ ہمیشہ اس راستے کو ۴۵ منٹ – اس چیز پر منحصر تھا کہ اُس طرف دشمن حملہ کر رہا ہے یا نہیں – میں طے کرتے تھے۔ میں مغرب سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے آبادان پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ پورا آسمان روشن ہو رہا ہے۔ آپریشن کا بھانڈا پھوٹ گیا تھا اور لائٹیں روشن کی ہوئی تھیں۔ جب تک میں ہسپتال واپس پہنچتا، ڈھائی گھنٹے لگ گئے۔ طیارے ہر جگہ پر بمباری کر رہے تھے؛ ہائی وے سے لیکر جنگی محاذ سے تک۔
حتماً بہت زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہوں گے۔
بہت زیادہ۔ جب ہم پہنچے، ہم نے دیکھا کہ وہ آپریشن جس کے زخمیوں کو عام طور سے صبح کے وقت لایا جاتا تھا، ابھی اُسے ایک گھنٹہ نہیں گزرا تھا، ایمبولینسیں اُسی طرح زخمیوں کو لیکر آرہی ہیں۔ میں نے وہیں سے اہواز خبر پہنچائی اور مدد کرنے کیلئے یہیں پر ٹھہر گیا ۔ کام کے شروع میں ہی، مجھے ایمبولینسوں کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ ہمارے پاس بس ایمبولینس بھی تھی۔ (ایسی بسیں کہ جن کی سیٹوں کو اکھاڑ لیا گیا تھا اور اُن کی زمین پر روئی کے گدے رکھ دیئے تھے۔) جن زخمیوں کی حالت تھوڑی بہتر تھی میں اُنہیں بس کے ایک کونے پر بٹھا دیتا اور بقیہ افراد کہ جن کی حالت زیادہ خراب تھیں اُنہیں گدّوں پر لیٹا دیتا۔ ہم بسوں کے اندر عام طور سے لیٹے ہوئے دس سے چودہ زخمی اور بیٹھے ہوئے دس سے بیس زخمیوں کو رکھ سکتے تھے۔ ہر ایمبولینس میں بھی دو یا زیادہ سے تین زخمی بھیجتے تھے۔ جب ہلکا اُجالا اور ہلکا اندھیرا رہ گیا، ہیلی کاپٹرز بھی زخمیوں کو اِدھر سے اُدھر لے جانے کیلئے مدد کرنے آجاتے۔ آپ تصور کریں، ہسپتال کا احاطہ ایسے زخمیوں سے بھرا ہوا تھا جنہیں ہم نے لٹایا ہوا تھا اور وہ کسی سواری اور ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہوتے تھے۔ اور اُدھر سے ہسپتال کے آٹھوں آپریشن تھیٹر سرگرم عمل تھے۔ ایسے زخمی جن کی حالت زیادہ خراب ہوتی اُن کا آپریشن ایمرجنسی وارڈ میں ہی کردیتے تھے۔ باقیوں کو لے جاکر آپریشن تھیٹر کے باہر رکھ دیتے تھے۔ وہاں پر واقعاً ایسے ڈاکٹرز تھے جو ۳۶ گھنٹوں سے ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں سوئے تھے اور ایک کے بعد ایک آپریشن کر رہے تھے۔ نرسیں، ٹیکنشنز اور بے ہوش کرنے والے ماہرین کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔ ہمارے پاس ایک گروپ تھا جسے انصار الحسین (ع) کہا جاتا تھا۔ وہ زخمیوں کی مدد کرنے والا گروپ تھا۔ اُن کا کا م یہ تھا کہ وہ زخمیوں کو اسٹریچر کے ذریعے جا بجا کرتے تھے؛ اب چاہے آپریشن تھیٹر کے سامنے لانا ہو یا لیبارٹری یا ہیلی کاپٹر یا ایمبولینس کے پاس لانا ہو۔ ان کی حالت بالکل خراب ہوچکی تھی۔ اس طرح ہوگیا تھا کہ صبح آٹھ یا ۹ بجے جب یہ اسٹریچر اٹھانا چاہتے تھے، گھٹنا لگا کر اٹھاتے تھے۔ آخر میں میرا کام یہ ہوگیا تھا کہ میں بھاگ کر اُن کی پیٹھ تھپتھپاتا اور کہا کرتا: "بھاگو پہلوان، ماشاء اللہ ۔۔۔ تمہارے بازؤں پر قربان جاؤں ۔۔۔ یا علی ۔۔۔ تھکنا نہیں ۔۔۔" میں اس طرح انہیں حرکت میں لاتا کہ وہ دو زخمیوں کو لے جائیں ، البتہ میں خود بھی ان کی مدد کرتا تھا۔ خود جناب فتحیان جب دو تین افراد کے ساتھ جنگی علاقے سے وہاں واپس آئے اور جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی انھوں نے آرام کا خیال ذہن سے نکال دیا اور انھوں نے خود بھی زخمیوں کو اٹھانا شروع کردیا۔ جب ان لوگوں نے کام کرنا شروع کیا تو انصار گروپس کے افراد نے دوبارہ سے حوصلہ اور ہمت پکڑی۔ آپریش کے دوسرے دن ظہر تک یہ صورت حال چلتی رہی۔
آپ کے ہسپتال میں زخمیوں کو لانے کا راستہ تھا؟
جی۔ ہر ڈویژن یابریگیڈ کا اپنا ایک ایمرجنسی اور طبی امداد کا بڑا سا ہال اور مورچہ تھا کہ اگر جس کو بھی آپریشن کی ضرورت ہوتی، پہلے اُسے وہاں لےجاتے اور اُس کے خون بہنے کو روکتے، بعد میں ایمبولینس کے ذریعے اُسے علی ابن ابی طالب (ع) ہسپتال میں لے آتے۔ آپریشن تھیٹرز کے علاوہ ہمارے پاس دو سرجن ڈاکٹر بھی تھے کہ جنہوں نے اپنے سامان کو اپنی بیلٹ کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور وہ داخل ہونے والے زخمیوں کے درمیان گھومتے رہتے اور زندگی بخشنے والے کام انجام دیتے۔ مثلاً کسی کے پھیپھڑے پر بمب کا کوئی ٹکڑا لگ جاتا اور وہ مرنے کے نزدیک ہوتا، یہ جلدی سے اُس کے پھیپھڑے میں ایک سوراخ بناتے کہ خون نکل اور زخمی سانس لے سکے۔ خدمت انجام دینے والے افراد کہ جن کا کام صفائی کرنا تھا، وہ بھی مشینوں کی طرح کام کرتے تھے۔ زخمی آتے۔ اُن کے بیڈ کے نیچے خون بھر جاتا۔ ہم جب تک اُن کی پٹی کرتے اور انہیں ایمبولنس میں رکھتے، ہم دیکھتے کہ وہ جگہ صاف ہوچکی ہے۔ خونی چادریں، کپڑے، روئی کے بنڈل اور خونی پٹیاں وغیرہ ، ان سب کو بیڈ کے نیچے ڈال دیتے تھے ، ہر جگہ گندی ہوجاتی، لیکن ۳۰ سیکنڈ بعد دیکھتے کہ صاف ہے۔ اُن کا ایک انچارج تھا جو شیراز کا رہنے والا تھا۔ وہ مخصوص لہجے اورانداز میں اُن کو ہدایات دیتا تھا؛ حسن حسین تیسرا بیڈ، حسین ساتواں بیڈ، محمود جواد پانچواں بیڈ۔ دو منٹ بعد پانچواں بیڈ بعد والے زخمی کیلئے تیار ہوتا تھا۔ وہاں اور بھی خوبصورت کام انجام پاتے۔ شام اور مغرب کے وقت، جب زخمی کم ہوتے تھے، وہ افراد جو امدادی کام کیا کرتے تھے، وہ بیٹھ کر پٹیوں اور بینڈجوں کو تیار کرتے۔ چونکہ اُن کا استعمال بہت زیادہ تھا۔ مثلاً ہم دن میں شاید اُن کے دس ہزار سے زیادہ بنڈل استعمال کرلیتے تھے۔
جب آپریشن ختم ہوا اور زخمیوں کو منتقل کردیا گیا، آپ واپس آگئے یا ہسپتال میں ہی رہے؟
کربلائے چار آپریشن کے بعد، ہم تقریباً چودہ دنوں تک ہسپتال میں رہے۔ اُس کے بعد اصفہان چلے گئے اور ایک دو دن آرام کیا کہ پھر ڈاکٹر معمار زادہ نے ہمیں خبر دی کہ اُسی علاقے میں آپریشن (کربلائے پانچ) ہے اور ہم آبادان واپس آگئے۔ |
واشنگٹن کا ACLU: سیئٹل کے چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی 'پابندی' گمراہ کن ، ناکافی ، - Latest News And Best Informative Articles
(سیئٹل فوٹو / ڈان ولسن کا بندرگاہ)
سیٹل کے بندرگاہ پر یہ وعدے کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہ وہ یہ وعدہ نہیں کرسکتا ہے ، امریکی شہری لبرٹیز یونین نے بندرگاہ سے چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اپنی سالمیت اور پالیسیوں دونوں کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
خاص طور پر ، ACLU پورٹ کمیشن کے حالیہ اعلان کی وضاحت کرتا ہے کہ اس نے چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی سمیت بایومیٹرک نگرانی پر مؤثر طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ کمیشن سیئٹل اور سیئٹل-ٹیکوما بین الاقوامی ہوائی اڈ .ے کے لئے پورٹ آف پالیسی کو باقاعدہ اور مقرر کرتا ہے۔
"بندرگاہ امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن کے اشتراک سے کام کرتی ہے جو داخلے اور روانگی کے ل technology ٹکنالوجی کا استعمال کرتی ہے ،" جیکفر لی ، اے سی ایل یو کے واشنگٹن باب میں ٹیکنالوجی اور آزادی پروجیکٹ کے منیجر نے گیک وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ "اس کا سی پی بی پر صفر اثر ہے۔"
دوسرے لفظوں میں ، اس نے کہا ، یہ واقعی اس پر پابندی نہیں لگاسکتی ہے کہ وہ واقعتا control قابو نہیں رکھتی ہے۔ اور اس کا مطلب ہے پابندی ، 13 جولائی کو اعلان کیاانہوں نے کہا کہ اس نے رازداری سے زیادہ بندرگاہ تعلقات عامہ کیلئے زیادہ کام کیا۔ انہوں نے کہا ، "بندرگاہ کو سی پی بی کے کاموں کے لئے کور فراہم نہیں کرنا چاہئے۔" "یہ اس پر دوستانہ چہرہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔"
پابندی سے عین قبل حالیہ سماعت میں ، پورٹ آف سیئٹل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیو میٹروک نے اعتراف کیا کہ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ بندرگاہ بائیو میٹرک مانیٹرنگ اسکیم جہاں سے ہونی چاہئے تھی ختم کردی گئی ہے ، لیکن اس نے اعتراف کیا کہ عوام کی رازداری کے خدشات کو بندرگاہ کے ذریعہ بہت حد تک بڑھاوا دیا گیا ہے۔ اعمال
انہوں نے کہا ، "ان پالیسیوں کے لئے ہمارے دو وسیع اہداف تھے۔ "سب سے پہلے ، ہم اپنی اقدار اور بائیو میٹرکس کے مطابق رہنا چاہتے تھے۔" اصول کمیشن دسمبر 2019 میں منظور ہوا۔ ہمیں اپنی سہولیات پر آنے والے مسافروں ، کارکنوں اور زائرین کے حقوق اور تجربات پر ہمیشہ اور سب سے زیادہ توجہ دینی چاہئے۔
انہوں نے کہا ، "ہمیں یقین ہے کہ بائیو میٹرک ٹکنالوجی کے کچھ استعمال سے ان اقدار کی خلاف ورزی ہوگی۔" "دوسرا ، جہاں ہمیں یقین ہے کہ کچھ استعمال مناسب ہیں ، ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ٹکنالوجی مضبوط حفاظتی اقدامات کی جگہ پر چلائے۔"
اور وہ ، میٹروک اور پورٹ کمشنرز نے کہا ، نئی بندرگاہ پالیسی کا خلاصہ ہے: جہاں اجازت دی جائے وہاں پابندی لگائیں اور ریلنگ لگائیں۔ 13 جولائی کو ووٹ دیں بائیو میٹرک ٹکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کریں شہر کی بندرگاہ اور سی ٹیک بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت تمام بندرگاہ کی خصوصیات پر حکومت اور قانون کے نفاذ کے ذریعہ نگرانی اور حفاظتی مقاصد کے ل.۔
اس پابندی میں ، جو بندرگاہ کو وفاقی مینڈیٹ سے منسلک کرتا ہے ، میں چہرے کی رضاکارانہ شناختی نظام شامل نہیں ہے ظاہر ہے جو سی-ٹی اے سی مسافروں کو بائیو میٹرک اسکینوں کا استعمال کرتے ہوئے ہوائی اڈ securityی سیکیورٹی کے ذریعے فوری راہداری کی اجازت دیتا ہے۔ کلیئر ایک نجی ، ادا شدہ خدمت ہے جو بنیادی طور پر ہوائی اڈوں اور اسٹیڈیموں میں استعمال کی جاتی ہے۔
سیٹل کا بندرگاہ قومی سطح پر پہلا پورٹ اتھارٹی ہے جس نے نگرانی کے لئے بایومیٹرک ٹکنالوجی کے استعمال کو محدود کیا ہے۔
لیکن ، لی نے جواب دیا ، جبکہ بندرگاہ فیڈرل امیگریشن کے عہدیداروں کو اپنی پراپرٹی پر ٹکنالوجی کے استعمال سے نہیں روک سکتی ہے ، لیکن ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بندرگاہ نے فیڈرل بائیو میٹرک نگرانی کو آگے بڑھانے میں مدد کے ل millions اپنے لاکھوں خرچ کیے ہیں۔
انہوں نے کہا ، "ہم بندرگاہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ (یو ایس کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن) تعاون کو رد کرے۔"
اس بندرگاہ نے قومی رجحان کی پیروی کی جس نے نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایمیزون اور مائیکرو سافٹ حال ہی میں اس طرح کی ٹکنالوجی کی فروخت پر پابندی کی تجدید کی ہے گھریلو قانون کے نفاذ کے لئے۔ اوکلینڈ اور سان فرانسسکو نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعہ اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ نیویارک اس پر غور کر رہا ہے.
پورٹ لینڈ نے حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والے چہرے کی شناخت پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ سیئٹل شہر نے اس طرح کی پابندی پر غور کیا ہے۔
'کچھی اور خرگوش' کی کہانی ابھی VC – TechCrunch میں چل رہی ہے۔
سکروڈر کو نشان زد کریں شراکت دار مارک کا منیجنگ پارٹنر۔ ایم…
رائپ لاکر (دائیں سے دائیں) لیڈ سسٹم انجینئر ایرک لاوی ، سافٹ…
یو ڈبلیو اسپن آؤٹ آپٹاسٹ نے آلہ کی جانچ کرنے کے لئے 6 4.6M کی سرزمین کی ہے جو عضو کی ناکامی کی ابتدائی علامات کو جلد پتہ لگاتا ہے |
کورونا وبا کے باعث تعلیمی سال متاثر ہونے کے خدشے نے طلبہ اور والدین کو فکر مند کر رکھا ہے۔
برطانیہ میں کوویڈ 19 پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے، وہاں کی حکومت نے ویزے اور نئی کلاسز سے متعلق نئی پالیسی بھی جاری کردی ہے۔
برطانوی یونیورسٹیز نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے شرائط میں نرمی کردی ہے۔
رواں سال برطانوی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب ماہر تعلیم اظہر عابدی نے جیو نیوز سے گفتگو میں دیا اور بتایا کہ برطانیہ میں داخلہ ٹیسٹ میں بھی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں تعلیم کے لیے تیار طلبا اپنے ملک سے ہی پروگرام کا آغاز کرسکیں گے اور پھر ویز ا ملنے پر برطانیہ پہنچ کر یونیورسٹی جوائن کرسکیں گے۔
اظہر عابدی نےکہا کہ برطانیہ کی کئی یونیورسٹیز نے کلاسز جوائن کرنے کی ڈیڈ لائن کو 4 سے 6 ہفتے تک بڑھادیا ہے، پروگرام کے اختتام پر دو سال برطانیہ میں قیام کا موقع بھی بحال رکھا گیا ہے۔
کراچی میں 24 گھنٹے ویکسین کہاں کہاں لگائی جارہی ہے؟
حکومتِ سندھ نے کراچی میں 24گھنٹے کام کرنےوالے مزید11ویکسین سینٹرز قائم کردیے۔
ڈاؤ یونیورسٹی نے پہلے تینوں PSIMRA تحقیقی ایوارڈ جیت لیے
کراچی سے تعلق رکھنے والے تینوں ڈاکٹروں کو غیر معمولی تحقیق کرنے پر بالترتیب 2 لاکھ ایک لاکھ اور 75 ہزار روپے کے کیش انعام سے بھی نوازا گیا۔ |
Subsets and Splits
No community queries yet
The top public SQL queries from the community will appear here once available.